داستان ایمان فروشوں
)جب زکوئی سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی(
پہال حصہ ،،،،،،قسط 1
"تم پرندوں سے دل بہالیا کرو .سپاہ گری اس انسان کے لیے ایک خطرناک کھیل ہے جو عورت اور شراب کا دلدادہ ہو"
یہ تاریخی الفاظ سلطان صالح الدین نے اپنے چچا زاد بھائی خلیفہ الصالح کے ایک امیر سیف الدین کو لکھے تھے ،ان دونوں
نے صلیبوں کو درپردہ مدد زر و جواھرات کا اللچ دیا اور صالح الدین ایوبی کو شکست دینے کی سازش کی ،امیر سیف الدین
اپنا مال و متاع چھوڑ کر بھاگا ،اسکے ذاتی خیمہ گاہ سے رنگ برنگی پرندے ،حسین اور جوان رقاصائیں اور گانے والیاں ساز
اور سازندے شراب کے مٹکے برآمد ہوئے ،سلطان نے پرندوں گانے والیوں اور سازندوں کو آزاد کردیا اور امیر سیف الدین کو
اس مضمون کا خط لکھا
تم دونوں نے کفار کی پشت پناہی کر کہ ان کے ہاتھوں میرا نام و نشان مٹانے کی ناپاک کوششیں کیں مگر یہ نہ سوچا کہ"
تمھاری یہ ناپاک کوششیں عالم اسالم کا بھی نام و نشان مٹا سکتی تھیں۔ تم اگر مجھ سے حسد کرتے ھو تو مجھے قتل
کرادیا ھوتا ،تم مجھ پر دو قاتالنہ حملے کرا چکے ھو۔ دونوں ناکام ھوئے اب ایک اور کوشش کر کہ دیکھ لو ،ھو سکتا ھے
کامیاب ھو جاؤ۔ اگر تم مجھے یقین دال دو کہ میرا سر میرے تن سے جدا ھو جائے تو اسالم اور زیادہ سر بلند رھے گا تو
رب کعبہ کی قسم میں اپنا سر تمھارے تلوار سے کٹواؤں گا اور تمھارے قدموں میں رکھنے کی وصیت کرونگا میں صرف تمھیں
یہ بتادینا چاھتا ھوں کہ کوئی غیر مسلم مسلمان کا دوست نہیں ھو سکتا ،تاریخ تمھارے سامنے ہے اپنا ماضی دیکھو ،شاہ
فرینک اور ریمانڈ جیسے اسالم دشمن تمھارے دوست اس لیئے ہیں کہ تم نے انھیں مسلمانوں کے خالف جنگ میں اترنے کی
شہ اور مدد دی ھے۔ اگر وہ کامیاب ھو جاتے تو انکا اگال شکار تم ھوتے اور اس کے بعد ان کا یہ خواب بھی پورا ھوجاتا کہ
اسالم صفہ ھستی سے مٹ جائے۔
تم جنگجو قوم کے فرد ھو۔ فن سپاہ گری تمہارا قومی پیشہ ھے ہر مسلمان اللہ کا سپاھی ھے مگر ایمان اور کردار بنیادی
شرط ھے۔ تم پرندوں سے دل بہالیا کرو سپاہ گری اس انسان کے لیے ایک خطرناک کھیل ھے جو عورت اور شراب کا دلدادہ
ھو میں تم سے درخواست کرتا ھوں کہ میرے ساتھ تعاون کرو اور میرے ساتھ جہاد میں شریک ہوجاو ،اگر یہ نہیں کرسکو تو
"میری مخالفت سے باز آجاو ،میں تمھیں کوئی سزا نہیں دونگا۔۔۔۔اللہ تمھارے گناہ معاف کرے۔۔۔۔۔(صالح الدین ایوبی)
ایک یورپی مؤرخ لین پول لکھتا ھے
صالح الدین کے ہاتھوں جو مال غنیمت لگا اسکا کوئی حساب نہیں تھا ،جنگی قیدی بھی بے اندازہ تھے ،سلطان نے تمام "
تر مال غنیمت تین حصوں میں تقسیم کیا ،ایک حصہ جنگی قیدیوں میں تقسیم کر کہ انکو رہا کردیا ،دوسرا حصہ اپنے سپاھیوں
اور غرباء میں تقسیم کیا ،اور تیسرا حصہ مدرسہ نظام الملک کو دے دیا ،اس نے اسی مدرسے سے تعلیم حاصل کی تھی۔ نہ
خود کچھ رکھا اور نہ اپنے کسی جرنیل کو کچھ دیا ،اس کا نتیجہ یہ ھوا کہ جنگی قیدی جن میں بہت سے مسلمان تھے اور
باقی غیر مسلم ،رہا ھوکر سلطان کے کیمپ میں جمع ھوگئے اور سلطان کی اطاعت قبول کر کہ اپنی خدمات فوج کے لیے
پیش کردیں ایوبی کی کشادہ ظرفی اور عظمت دور دور تک مشہور ھوگئی
اس سے پہلے حسب بن صباح کے پراسرار فرقے فدائی جنہیں یورپین مورخین نے قاتلوں کا گروہ لکھا ھے صالح الدین ایوبی
پر دو بارہ قاتالنہ حملے کرچکے تھے لیکن اللہ نے اس عظیم مرد مجاھد سے بہت کام لینا تھا دونوں بار ایک معجزہ ھوا
جس میں یہ مرد مجاھد بال بال بچ گیا سلطان پر تیسرا قاتالنہ حملہ اس وقت ھوا جب وہ اپنے مسلمان بھائیوں اور صلیبیوں
کی سازش کی چٹان کو شمشیر سے ریزہ ریزہ کرچکا تھا۔ امیر سیف الدین میدان جنگ سے بھاگ گیا تھا مگر وہ سلطان کے
خالف بغض اور کینہ سے باز نہیں آیا۔ اس نے حسن بن صباح کے قاتل فرقے کی مدد حاصل کی۔
حسن بن صباح کا فرقہ اسالم کی آستین میں سانپ کی طرح پل رھا تھا۔ اس کا تفصیلی تعارف بہت ہی طویل ہے ،مختصر
یہ کہ جس طرح زمین سورج سے دور ہوکر گناہوں کا گہوارہ بن گئی ہے ،اسی طرح ایک حسن بن صباح نامی ایک شخص نے
اسالم سے الگ ہوکر نبیوں اور پیغمبروں والی عظمت حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا وہ اپنے آپکو مسلمان ہی کہالتا رہا اور ایسا
گروہ بنالیا جو طلسماتی طریقوں سے لوگوں کا اپنا پیروکار بناتا ،اس مقصد کے لیے اس گروہ نے نہایت حسین لڑکیاں نشہ آور
جڑی بوٹیاں ھیپناٹائزم اور چرب زبانی جیسے طریقے اپنائے ،بہشت بنائی جس میں جاکر پتھر بھی موم ھو جاتے تھے اپنے
مخالفین کو قتل کرانے کے لیے ایک گروہ تیار کیا ،قتل کے طریقے خفیہ اور پر اسرار ھوتے تھے ،اس فرقے کے افراد اس قدر
چالک ذہین اور نڈر تھے کہ بھیس بدل کر بڑے بڑے جرنیلوں کے باڈی گارڈ بن جاتے تھے اور جب کوئی پراسرار طریقے سے
قتل ہوجاتا تو قاتلوں کو سراغ ھی نہیں مل پاتا ،کچھ عرصہ بعد یہ فرقہ "قاتلوں کا گروہ" کے نام سے مشہور ھوا
یہ لوگ سیاسی قتل کے ماھر تھے زہر بھی استعمال کیا کرتے تھے ،جو حسین لڑکیوں کے ہاتھوں شراب میں دیا جاتا تھا
بہت مدت تک یہ فرقے اسی مقصد کے لیے استعمال ھوتا رھا۔۔ اس کے پیروکار "فدائی" کہالتے تھے۔
سلطان صالح الدین ایوبی کو نہ تو لڑکیوں سے دھوکہ دیا جاسکتا تھا اور نہ ھی شراب سے۔ وہ ان دونوں سے نفرت کرتا تھا
،سلطان کو اس طریقے سے قتل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس کو قتل کرنے کا یہی ایک طریقہ تھا کہ اس پر قاتالنہ حملہ کیا
جائے ،اس کے محافظوں کی موجودگی میں اس پر حملہ نہیں کیا جاسکتا تھا ،دو حملے ناکام ھو چکے تھے۔ اب جبکہ
سلطان کو یہ توقع تھا کہ اسکا چچازاد بھائی الصالح اور امیر سیف الدین شکست کھا کر توبہ کر چکے ھونگے انھوں نے انتقام
.کی ایک اور زیر زمین کوشش کی
داستان ایمان فروشوں کی ۔۔
)جب زکوئی سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی (
قسط نمبر 2
صالح الدین نے اس فتح کا جشن منانے کے بجائے حملے جاری رکھے اور تین قصبوں کو قبضے میں لیا ،ان میں غازہ کا
مشہور قصبہ تھا ،اسی قصبے کے گردونواح میں ایک روز سلطان صالح الدین ایوبی ،امیر جاواالسدی کے خیمے میں دوپہر کے
وقت غنودگی کے عالم میں سستا رھے تھے ،سلطان نے وہ پگڑی نھیں اتاری تھی جو میدان جنگ میں سلطان کے سر کو
صحرا کی گرمی اور دشمن کے تلوار سے بچا کر رکھتی تھی۔ خیمے کے باہر اس کے محافظوں کا دستہ موجود اور چوکس تھا،
باڈی گاڈز کے اس دستے کا کمانڈر زرا سی دیر کے لیے وہاں سے چال گیا ،ایک محافظ نے سلطان کے خیمے میں گرے ھوئے
پردوں میں سے جھانکا ،اسالم کے عظمت کے پاسبان کی آنکھیں بند تھیں اور پیٹھ کے بل لیٹا ھوا تھا ،اس محافظ نے باڈی
گارڈز کی طرف دیکھا ،ان میں سے تین چار باڈی گارڈز نے اس کی طرف دیکھا ،محافظوں نے اپنی آنکھیں بند کر کہ کھولیں
(ایک خاص اشارہ)
تین چار محافظ اٹھے اور دو تین باقی باڈی گارڈز کو باتوں میں لگالیا ،محافظ خیمے میں چال گیا۔۔۔ اور خنجر کمر بند سے
نکاال۔۔۔دبے پاؤں چال اور پھر چیتے کی طرح سوئے ھوئے سلطان صالح الدین ایوبی پر جست لگائی۔ خنجر واال ھاتھ اوپر
اٹھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عین اسی وقت سلطان نے کروٹ بدلی ،یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ حملہ آور خنجر کہاں مارنا چاھتا تھا ،دل میں یا سینے
میں۔۔۔ مگر ہوا یوں کہ خنجر سلطان کی پگڑی کے باالئ حصے میں اتر گیا ،اور سر بال برابر جتنا دور رہا اور پگڑی سر سے
،اتر گئی
سلطان صالح الدین بجلی کی سی تیزی سے اٹھا ،اسے سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ یہ سب کیا ھے ۔اس پر اس سے
پہلے دو ایسے حملے ھو چکے تھے۔ اس نے اس پر بھی اظہار نہیں کیا کہ حملہ آور خود اس کے باڈی گارڈ کی وردیوں میں
تھے ،جسے اس نے خود اپنے باڈی گارڈز کے لیے منتخب کیا تھا ،اس نے ایک سانس برابر بھی اپنا وقت ضایع نہ کیا ۔
حملہ آور اپنا خنجر پگڑی سے کھینچ رھا تھا۔ ایوبی کا سر ننگا تھا۔۔ اس نے بھر پور طاقت سے ایک گھونسہ حملہ آور کی
تھوڑی پر دے مارا۔ ہڈی ٹوٹنے کی آواز آئی۔ حملہ آور کا جبڑا ٹوٹ چکا تھا ،وہ پیچھے کی طرف گرا اور اسکے منہ سے
ھیبتناک آواز نکلی۔اسکا خنجر ایوبی کی پگڑی میں رہ گیا تھا ،ایوبی نے اپنا خنجر نکال لیا تھا ،اتنے میں دو محافظ اندر آئے
،ان کے ھاتھوں میں تلواریں تھیں ،سلطان صالح الدین نے انھیں کہا کہ ان کو زندہ پکڑو۔
لیکن یہ دونوں محافظ سلطان صالح الدین پر ٹوٹ پڑے ،سلطان صالح الدین نے ایک خنجر سے دو تلواروں کا مقابلہ کیا۔ یہ
مقابلہ ایک دو منٹ کا تھا۔ کیونکہ تمام باڈی گارڈز اندر داخل ھوچکے تھے ،سلطان صالح الدین یہ دیکھ کر حیران تھا کہ
اسکے باڈی گارڈز دو حصوں میں تقسیم ھوکر ایک دوسرے کو لہولہان کر رھے تھے ،اسے چونکہ معلوم ہی نہ تھا کہ اس میں
اسکا دوست کون ھے اور دشمن سو وہ اس معرکہ میں شامل ھی نہیں ھوا ،کچھ دیر بعد باڈی گارڈز میں چند مارے گیے کچھ
بھاگ گیے کچھ زخمی ہوئے ،تو انکشاف ھوا کہ یہ جو دستہ سلطان صالح الدین کی حفاظت پر مامور تھا اس میں سات
فدائی( انکا ذکر پہلے حصے میں کیا جا چکا ھے کہ یہ کون تھے کسی کو سمجھ نہیں آئی ھو تو وہ پہال حصہ پڑھ لیں
شکریہ۔۔ ) تھے جو سلطان صالح الدین کو قتل کرنا چاھتے تھے ،انھوں نے اس کام کے لیے صرف ایک فدایئ کو اندر خیمے
میں بھیجا تھا ،اندر صورت حال بدل گئی تو دوسرے بھی اندر چلے گئے ،اصل محافظ بھی اندر چلے گئے وہ صورت حال
سمجھ گئے ،سو سلطان صالح الدین بچ گیا۔ سلطان صالح الدین نے اپنے پہلے حملہ آور ہونے والے کی شہ رگ پر تلوار
رکھ کر پوچھا ،کہ وہ کون ھے اور اسکو کس نے بھیجا ھے۔ سچ کہنے پر سلطان نے اسکے ساتھ جان بخشی کا وعدہ کیا۔
اس نے کہا کہ وہ " فدائی " ھے اور اسکو کیمیشتکن (جسے بعض مورخین نے گمشتگن بھی لکھا ھے) نے بھیجا ھے
کیمیشتکن الصالح کے قلعے کا ایک گورنر تھا
داستان ایمان فروشوں کی ۔۔
)جب زکوئی سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی (
قسط 3
سلطان صالح الدین ایوبی نے مدرسہ نظام الملک میں تعلیم حاصل کی ،یاد رھے کہ نظام الملک دنیائے اسالم کے ایک وزیر
تھے یہ مدرسہ انھوں نے تعمیر کیا ،جس میں اسالمی تعلیم دی جاتی تھی ،اور بچوں کو اسالمی تاریخ اور نظریات سے بہرور
کیا جاتا ۔
ایک مورخ ابن االطہر کے مطابق نظام الملک حسن بن صباح کے فدائیوں کا پہال شکار ھوے تھے کیونکہ وہ رومیوں کی توسیع
پسندی کی راہ میں چٹان بنے ھوئے تھے رومیوں نے ٩١ہ ١میں انھیں فدائیوں کے ہاتھوں قتل کردیا۔ ان کا مدرسہ قائم رھا،
اور سلطان صالح الدین ایوبی نے وہیں تعلیم حاصل کی۔ اسی عمر میں سپاہ گری کی تربیت اپنے خاندان کے بڑوں سے لی۔
نورالدین زنگی نے ان کو جنگی چالیں سکھائیں ،ملک کے انتظامات کے سبق سکھائے اور ڈیپلومیسی میں مہارت دی ،اس تعلیم
و تربیت نے اسکے اندر وہ جذبہ پیدا کیا جس نے آگے چل کر صلیبیوں کے لیے سلطان کو بجلی بنادیا۔ جوانی میں ہی اس
نے وہ مہارت ذہانت اور اہلیت حاصل کی تھی جو ایک ساالر عظیم کے لیے اھم ھوتے ھیں۔ سلطان صالح الدین نے فن حرب
و ضرب میں جاسوس گوریال اور کمانڈو آپریشنز کو خصوصی اھمیت دی۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ صلیبی جاسوسی کی میدان
میں آگے نکل گیے تھے اور وہ مسلمانوں کے نظریات پر نہایت کارگر حملے کر رھے تھے۔ سلطان صالح الدین نظریات کے
محاذ پر لڑنا چاھتا جس میں تلوار استعمال نہیں ھوتی تھی۔ ان واقعات میں آپ چل کر دیکھیں گے کہ سلطان صالح الدین
کی تلوار کا وار تو گہرا ھوتا ھی تھا لیکن اسکی محبت کا وار تلوار سے بھی زیادہ مارتا تھا ،اس کے لیے تحمل اور بردباری
کی ضرورت ھوتی تھی جو سلطان صالح الدین نے جوانی میں ہی خود کے اندر پیدا کر لی تھی۔ سلطان صالح الدین کو جب
مصر کا وائسراۓ بنا کر بھیجا گیا تو وہاں پر سینئر عہدیداروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا کیونکہ وہ سب اس عہدے کی آس
لگائے بیٹھے تھے۔
انکی نظر میں سلطان صالح الدین طفل مکتب تھا ،لیکن جب سلطان صالح الدین نے انکا سامنا کیا اور باتیں سنی تو ان کا
احتجاج سرد پڑ گیا۔
یورپین مورخ لین پول کے مطابق سلطان صالح الدین ڈسپلن کا بہت ہی سخت ثابت ہوا ۔
اس نے تفریح عیاشی اور آرام کو اپنے لیے اور فوج کے لیے حرام قرار دیا۔ اس نے اپنی تمام جسمانی اور ذہنی قوت صرف
اس میں خرچ کی کہ ملت اسالمیہ کو پھر سے ایک کر سکیں اور صلیبیوں کو یہاں کی سرزمین سے نکال سکیں۔ سلطان
صالح الدین فلسطین پر ہر قیمت سے قبضہ کرنا چاہتا تھا ۔ اور یہی مقاصد سلطان صالح الدین نے اپنی فوج کو دیئے مصر کا
وائسراۓ بن کر سلطان نے کہا۔۔۔۔۔۔۔
"،اللہ نے مجھے مصر کی سرزمین دی ھے اور اللہ ھی مجھے فلسطین بھی عطا کرے گا "
مگر مصر پہنچ کر سلطان پر انکشاف ہوا کہ اس کا مقابلہ صرف صلیبیوں سے نہیں ہے بلکہ اس کے اپنے مسلمان بھائیوں نے
اسکی راہ میں بڑے بڑے حسین جال بنا رکھے ہیں جو صلیبیوں کے عزائم اور جنگی قوتوں سے زیادہ خطرناک تھے تو یہ تھا
ہلکہ سا تعارف
مصر میں جن زعما نے سلطان کا استقبال کیا ان میں ایک ناجی نامی ساالر بلت اہمیت کا حامل تھا ،سلطان نے سب کو
سر سے پاؤں تک دیکھا۔ سلطان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور زبان پر پیار کی چاشنی تھی۔ بعض پرانے افسروں نے سلطان کو
ایسی نظروں سے دیکھا جن میں طنز اور تمسخر تھا۔ وہ صرف سلطان صالح الدین ایوبی کے نام سے واقف تھے یا یہ کہ یہ
ایک شاہی خاندان کا فرد ھے اور اپنے چچا کا جانشین ھے ،وہ یہ بھی جانتے تھے کہ نورالدین زنگی کے ساتھ سلطان صالح
الدین ایوبی کا کیا رشتہ ھے ،ان سب کی نگاہوں میں سلطان صالح الدین ایوبی کی اہمیت بس اس کے خاندان بیک گراونڈ
کی وجہ سے تھی یا صرف یہ کہ وہ مصر کا وائسراۓ بن کر آیا تھا اس کے سوا انہوں نے سلطان صالح الدین ایوبی کو کوئی
"وقعت نہ دی ،ایک بوڑھے افسر نے اپنے ساتھ کھڑے افسر کے کان میں کہا
"،بچہ ہے۔۔۔۔۔ اسے ہم پال لینگے"
اس وقت کے مورخ یہ نہیں لکھ پائے کہ آیا سلطان صالح الدین ایوبی نے انکی نظریں بھانپ لی تھیں کہ نہیں۔ وہ استقبال
کرنے والے اس ہجوم میں بچہ لگ رھا تھا ،البتہ جب وہ ناجی کے سامنے ہاتھ مالنے کے لیے رکا تو اس کے چہرے پر
تبدیلی آگئی۔ وہ ناجی سے ھاتھ مالنا چاھتا تھا لیکن ناجی جو اس کے باپ کے عمر کا تھا سب سے پہلے درباری
خوشامدیوں کی طرح جھکا پھر ایوبی سے بغل گیر ھوگیا اس نے ایوبی کی پیشانی کو چوم کر کہا۔
"میری خون کا آخری قطرہ بھی آپکی حفاظت کے لیے ھوگا۔ تم میرے پاس زنگی اور شردہ کی امانت ھو"
میری جان عظمت اسالم سے زیادہ قیمتی نہیں محترم اپنے خون کا ایک ایک قطرہ سنبھال کر رکھیں ،صلیبی سیاہ گھٹاؤں "
کی طرح چھا رھے ھیں۔" سلطان نے کہا۔
،ناجی جواب میں مسکرایا جیسے سلطان نے کوی لطیفہ سنایا ھو
سلطان صالح الدین اس تجربہ کار ساالر کی مسکراہٹ کو غالبًا نھییں سمجھ سکا۔ ناجی فاطمی خالفت کا پروردہ ساالر تھا ،وہ
مصر میں باڈی گارڈز کا کمانڈر اینچیف تھا۔جس کی نفری پچاس ھزار تھی اور ساری کی ساری نفری سوڈانی تھی۔ یہ فوج اس
وقت کے جدید ہتھیاروں تیاروں سے لیس تھی اور یہی فوج ناجی کا ہتھیار بن گئی تھی جس کے زور پر ناجی بے تاج بادشاہ
بن گیا تھا ،وہ سازشوں اور مفاد پرستوں کا دور رھا ،اسالمی دنیا کی مرکزیت ختم ھوگئی تھی ،صلیبیوں کی بھی نہایت
دلکش تخزیب کاریاں شروع رہیں۔ زر پرستی اور تعیش کا دور دورہ تھا۔ جس کے پاس ذرا سی بھی طاقت تھی وہ اس کو
دولت اور اقتدار کے لیے استعمال کرتا تھا۔ سوڈانی باڈی گارڈ فوج کا کمانڈر ناجی مصر میں حکمرانوں اور دیگر سربراہوں کے
لیے دھشت بنا ھوا تھا۔ اللہ نے اسکو سازش ساز دماغ دیا تھا۔ناجی کو اس دور کا بادشاہ ساز کہا جاتا تھا بنانے اور بگاڑنے
میں خصوصی مہارت رکھتا تھا۔ اس نے سلطان صالح الدین کو دیکھا تو اسکے چہرے پر ایسی مسکراھٹ آئی جیسے ایک
کمزور اور خفیف بھیڑ کو دیکھ کر ایک بھیڑیئے کے دانت نکل آتے ہیں ،سلطان صالح الدین اس زہر خندہ کو سمجھ نہیں
سکا۔۔ سلطان صالح الدین کے لیے سب سے زیادہ اہم آدمی ناجی ہی تھا۔ کیونکہ وہ پچاس ھزار باڈی گارڈز کا کمانڈر رھا۔ اور
سلطان صالح الدین کو فوج کی بہت اشد ضرورت تھی۔ سلطان صالح الدین سے کہا گیا کہ حضور بڑی لمبی مسافت سے
،تشریف الئے ہیں پہلے آرام کر لیں تو سلطان صالح الدین نے کہا
میرے سر پر جو دستار رکھی گئی ہے میں اس کے الئق نہ تھا اس دستار نے میری نیند اور آرام ختم کردی ہے کیا آپ "
"حضرات مجھے اس چھت کے نیچھے لے کر نہیں جائینگے جس کے نیچے میرے فرائض میرا انتظار کر رہے ہیں۔
کیا حضور کام سے پہلے طعام لینا پسند کرینگے" اس کے نائب نے کہا"
سلطان صالح الدین نے کچھ سوچا اور اسکے ساتھ چل پڑا۔۔ لمبے تڑنگے باڈی گارڈز اس عمارت کے سامنے دو رویہ دیوار بن
کر کھڑے تھے جس میں کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔
سلطان صالح الدین نے فوجیوں قد بت اور ہتھیار دیکھے تو اس کے چہرے پر رونق آگئی۔لیکن دروازے میں قدم رکھتے ھی یہ
رونق ختم ھوئی وہاں چار نوجوان لڑکیاں جن کے جسموں میں زھد شکن لچک اور شانوں پر بکھرے ھوئے ریشمی بالوں میں
قدرت کا حسن سمویا ھوا تھا ھاتھوں میں پھولوں کی پتیوں سے بھری ھوئی ٹوکریاں لیے کھڑی تھیں۔انھوں نے سلطان صالح
الدین کے قدموں میں پتیاں پھینکنا شروع کیں اور اسکے ساتھ دف کی تال پر طاوس درباب اور شہنایئوں کا مسحور کن نغمہ
ابھرا۔ سلطان صالح الدین نے راستے میں پھولوں کی پتیاں دیکھ کر قدم پیچھے کر لیے ،ناجی اور اسکا نائب سلطان صالح
الدین کے دائیں بائیں تھے۔ وہ دونوں جھک گئے اور سلطان صالح الدین کو آگے بڑھنے کی دعوت دی۔۔ یہ وہ انداز تھا جو
،مغلوں نے ھندوستان میں رائج کیا تھا
صالح الدین پھولوں کی پتیاں مسلنے نہیں آیا" ایوبی نے ایسی مسکراہٹ سے کہا جو لوگوں نے بہت ھی کم کسی کے "
ہونٹوں پر دیکھی تھی۔
ھم حضور کے قدموں میں آسمان سے تارے بھی نوچ کر بچھا سکتے ہیں" ناجی نے کہا "
اگر میری راہ میں کچھ بچھانا ہی چاھتے ہو تو وہ ایک ھی چیز ھے جو مجھے بہت بھاتی ھے۔" سلطان صالح الدین نے کہا
آپ حکم دیں ۔۔ وہ کونسی چیز ھے جو سلطان کے دل کو بھاتی ہے" ناجی کے نائب نے کہا۔"
صلیبیوں کی الشیں۔۔۔سلطان صالح الدین نے مسکرا کر کہا۔ مگر جلد ہی یہ مسکراہٹ ختم ھو گئئ۔ اس کے آنکھوں سے "
"شعلے نکلنے لگے۔ اس نے دھیمی آواز میں جس میں غضب اور عتاب چھپا ھوا تھا۔کہا۔۔۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔۔
)جب زکوئی سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی (
قسط 4
مسلمانوں کی زندگیاں پھولوں کی سیج نہیں ،جانتے نہیں ہو صلیبی سلطنت ملت اسالمیہ کو چوہوں کی طرح کھا رہی ہے اور"
جانتے ہو کہ وہ کیوں کامیاب ھو رہے ہیں
صرف اس لیئے کہ ھم نے پھولوں کی پتیوں پر چلنا شروع کیا۔ ھم نے اپنی بچیوں کو ننگا کر کہ انکی عصمتیں روند ڈالیں۔
میری نظریں فلسطین پر لگی ھوئی ہیں تم میری راہ میں پھول ڈال کر مصر سے بھی اسالمی جھنڈا اتروا دینا چاھتے ہو
کیا۔۔؟ سلطان صالح الدین نے سب کو ایک نظر سے دیکھا اور دبدبے سے کہا۔ اٹھا لو یہ پھول میرے راستے سے ،میں نے
ان پر قدم رکھا تو میری روح چھلنی ھو جائے گی ،ہٹا دو ان لڑکیوں کو میری آنکھوں سے ایسا نہ ہو کہیں میری تلوار ان
"کی زلفوں میں الجھ کر بیکار ہو جائے
"حضور کی جاہ حشمت"
مجھے حضور نہ کہو" سلطان صالح الدین نے بولنے والے کو یوں ٹوک دیا جیسے تلوار سے کسی کی گردن کاٹ دی ہو "
سلطان صالح الدین نے کہا " حضور وہ ہے جن کے نام کا تم کلمہ پڑھتے ہو ،جن کا میں غالم بے دام ہوں۔ میری جان فدا
ہو اس حضور پر جن کے مقدس پیغام کو میں نے سینے پر کندہ کر رکھا ہے میں یہی پیغام لیکر مصر آیا ہوں۔ صلیبی مجھ
"سے یہ پیغام چھین کر بحیرہ روم میں ڈبو دینا چاھتے ہیں ،شراب میں ڈبو دینا چاھتے ہیں ،میں بادشاہ بن کر نہیں آیا۔
لڑکیاں کسی کے اشارے پر پھولوں کی پتیاں اٹھا کر وہاں سے ہٹ گئی تھیں ،سلطان تیزی سے دروازے کے اندر چال گیا۔ ایک
وسیع کمرہ تھا جس میں ایک لمبی میز رکھی گی تھی ،جس پر رنگا رنگ پھول رکھے ھوئے تھے ان کے بیچ روسٹ کیے
گئے بکروں کے بڑے بڑے ٹکڑے سالم مرغ اور جانے کیا کیا رکھا گیا تھا ،سلطان صالح الدین رک گیا اور اپنے نائب سے کہا
"کہ " کیا مصر کا ہر ایک باشندہ ایسا ہی کھانا کھاتا ھے
نہیں حضور غریب تو ایسے کھانے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے "،نائب نے کہا "
تم کس قوم کے فرد ہو سلطان صالح الدین نے کہا کیا ان لوگوں کی قوم الگ ہے جو ایسے کھانوں کا خواب بھی نہیں "
دیکھ سکتے۔" کسی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا
اس جگہ جتنے مالزم ہیں اور جتنے سپاھی ڈیوٹی پر ہیں ان سب کو بالوؤ اور یہ کھانا ان کو دے دو۔" سلطان صالح "
الدین نے ایک روٹی اٹھائی اس پر دو تین بوٹیاں رکھیں ،نہایت تیزی سے روٹی کھا کر پانی پیا اور باڈی گارڈز کے کمانڈر
،ناجی کو ساتھ لیکر اس کمرے میں چالگیا جو وائسراۓ کا دفتر تھا
گھنٹے بعد ناجی دفتر سے نکال دوڑ کر اپنے گھوڑے پر سوار ھوا ایڑ لگائی اور نظروں سے اوجھل ھوا۔ رات ناجی کے دو 2
" کمانڈر جو اس کے ھمراز تھے بیٹھے اسکے ساتھ شراب پی رھے تھے ،ناجی نے کہا
جوانی کا جوش ہے تھوڑے دنوں میں ٹھنڈا کرا دونگا ،کم بخت جو بھی بات کرتا ہے کہتا ہے رب کعبہ کی قسم۔۔ صلیبیوں کو
"ملت اسالمیہ سے باہر نکال کر ہی دم لونگا۔
صالح الدین ایوبی" ایک کمانڈر نے طنزیہ کہا۔ " اتنا بھی نہیں جانتا کہ ملت اسالمیہ کا دم نکل چکا ھے اب سوڈانی "
"حکومت کرینگے
کیا آپ نے اسے بتایا نہیں کہ یہ پچاس ھزار کا لشکر سوڈانی ہے اور یہ لشکر جسے وہ اپنی فوج سمجھتا ہے صلیبیوں کے "
خالف نہیں لڑے گا۔" دوسرے کمانڈر نے ناجی سے پوچھا
تمہارا دماغ ٹھکانے ہے اوروش ۔۔۔؟ میں اسے یقین دال آیا ہوں کہ یہ 50ھزار سوڈانی شیر صلیبیوں کے پرخچے اڑا "
دینگے ۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔ " ناجی چھپ ھوکر سوچ میں پڑ گیا
"لیکن کیا "
اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ مصر کے باشندوں کی ایک فوج تیار کرو۔ اس نے کہا ھے کہ ایک ہی ملک کی فوج ٹھیک "
نہیں ھوتی اس نے بوال کہ مصر کی فوج بنا کر ان میں شامل کردو" ناجی نے کہا
"تو آپ نے کیا جواب دیا۔؟ "
،میں نے کہا کہ حکم کی تعمیل ھوگی لیکن میں اس حکم کی تعمیل نکیں کرونگا ،ناجی نے جواب دیا "
مزاج کا کیسا ھے" اوروش نے کہا
ضد کا پکا معلوم ھوتا ھے" ناجی نے کہا "
آپکے دانش اور تجربے کے آگے تو وہ کچھ بھی نہیں لگتا نیا نیا امیر مصر بن کر آیا ہے کچھ روز یہ نشہ طاری رھے گا" "
دوسرے کمانڈر نے کہا
میں یہ نشہ اترنے نہیں دونگا اسی نشے میں ہی بدمست کر کہ مارونگا" ناجی نے جواب دیا۔ "
بہت دیر تک وہ سلطان کے خالف باتیں کرتے رھے اور اس مسلئے پر غور کرتے رھے کہ اگر سلطان نے ناجی کی بے تاج
بادشاھی کے لیے خطرہ پیدا کردیا تو وہ کیا کرینگے ،ادھر سلطان اپنے نائب کو سامنے بٹھائے یہ بات ذہن نشین کرا رہا تھا
کہ وہ یہاں حکومت کرنے نہیں آیا اور نہ ہی کسی کو حکومت کرنے دے گا اس نے انہیں کہا کہ اس کو جنگی طاقت کی
ضرورت ہے اور اس نے یہ بھی کہا کہ اس کو یہاں کا فوجی ڈھانچہ بلکل پسند نہیں آیا 50ھزار باڈی گارڈز سوڈانی ہیں،
ہمیں ملک کے ہر باشندے کو یہ حق دینا چاھیے کہ وہ ھمارے فوج میں سے آۓ اپنے جوھر دکھائے اور مال غنیمت میں سے
اپنا حصہ وصول کرے یہاں کے عوام کا معیار زندگی اسی طرح بلند ھوسکتا ھے میں نے ناجی کو کہہ دیا ھے کہ وہ عام
بھرتی شروع کردیں۔
کیا آپکو یقین ھے کہ وہ آپکے حکم کی تعمیل کرے گا" ایک ناظم نے اس سے پوچھا۔ "
"کیا وہ حکم کی تعمیل سے گریز کرے گا "
وہ حکم کی تعمیل سے گریز کر سکتا ھے وہ حکم کی تعمیل نہیں اپنی منواتا ہے فوجی امور اس کے سپرد ھے " ناظم "
نے جواب دیا
سلطان ایوبی خاموش ہوا جیسے اس پر کچھ اثر ہوا ہی نہیں ہو۔ اس نے سب کو رخصت کردیا اور صرف علی بن سفیان کو
اپنے ساتھ رکھا ،علی بن سفیان جاسوس اور جوابی جاسوسی کا ماہر تھا ،اسے سلطان بغداد سے اپنے ساتھ الیا تھا ،وہ ادھیڑ
عمر آدمی تھا اداکاری چرب زبانی بھیس بدلنے کا ماہر تھا ،اس نے جنگوں میں جاسوسی کی بھی اور جاسوسوں کو پکڑا بھی
تھا ،اسکا اپنا ایک گروہ تھا جو آسمان سے تارے بھی توڑ السکتا تھا ،سلطان کو جاسوسی کی اھمیت سے واقفیت تھی۔ فنی
،مہارت کے عالوہ علی بن سفیان میں وہی جذبہ تھا جو سلطان ایوبی میں تھا
"تم نے سنا علی یہ لوگ کہتے ہیں کہ ناجی کسی سے حکم نہیں لیتا اپنی منواتا ہے "
صالح الدین نے کہا
ہاں میں نے سن لیا ہے اگر میں چہرے پہچاننے میں غلطی نہیں کرتا تو میری راۓ میں باڈی گارڈز کا یہ کمانڈر جس کا "
نام ناجی پے ناپاک ذہنیت کا مالک ھے اس کے مطابق میں پہلے سی ہی کچھ جانتا ھوں یہ فوج جو ھمارے خزانے سے
تنخواہ لے رھی ھے دراصل ناجی کی ذاتی فوج ھے اس نے حکومتی حلقوں میں ایسی ایسی سازشیں کی ہیں جس نے
حکومتی ڈھانچے کو بے حد کمزور کردیا ھے ،آپکا یہ فیصلہ بلکل بجا ھے کہ فوج میں ہر خطے کے سپاھی ھونے چاھئیں میں
آپکو تفصیلی ریپورٹ دونگا۔ مجھے شک ھے کہ سوڈانی فوج اسکی وفادار ہے ھماری نہیں۔ آپکو اس فوج کی ترتیب اور تنظیم
بدلنی پڑے گی۔ یا ناجی کو سبگدوش کرنا پڑے گا" علی بن سفیان نے کہا
میں اپنے ھی صفوں میں اپنے دشمن پیدا نہیں کرنا چاھتا ناجی اپنے گھر کا بھیدی ہے اسکو سبکدوش کرکے دشمن بنالیا "
دانشمندی نہیں ھماری تلواریں غیروں کے لیے ہیں اپنوں کے خون بہانے کے لیے نہیں میں ناجی کی ذہنیت کو پیار اور محبت
سے بدل سکتا ہوں تم اس فوج کی ذہنیت معلوم کرنے کی کوشش کرو اور مجھے ٹھیک رپورٹ دو کہ فوج کہاں تک ھماری
وفادار ھے۔" سلطان صالح الدین نے کہا۔
مگر ناجی اتنا کچا نہیں تھا اسکی ذہنیت پیار اور محبت کے بکھیڑوں سے آزاد تھی اسے اگر پیار تھا تو اپنے اقتدار اور
شیطانیات کے ساتھ ،اس لحاظ سے وہ پتھر تھا ،مگر جیسے وہ اپنے جال میں پھنسا لینا چاھتا تھا اسکے سامنے موم بن جاتا
تھا اس نے سلطان صالح الدین کے سامنے یہی رویہ اختیار کیا یہاں تک کہ وہ سلطان صالح الدین کے سامنے بیٹھتا بھی نہیں
،ہاں میں ہاں مالتا چال جاتا ،اس نے مصر کے مختلف حصوں سے سلطان صالح الدین کے حکم کے مطابق فوج کے لیے
عام بھرتی شروع کی تھیں اگر چہ یہ کام اسکے مرضی کے خالف تھا ،دن گزرتے گیے سلطان صالح الدین اسے کچھ کچھ
پسند کرنے لگا تھا ناجی نے سلطان صالح الدین کو یقین دالیا تھا کہ سوڈانی فوج اس کے حکم کی منتظر ھے اور یہ قوم کی
توقعات پر پورا اترے گی ناجی دو تین بار سلطان صالح الدین کو کہہ چکا تھا کہ سوڈانی فوج باڈی گارڈز کی طرف سے اسے
دعوت دینا چاھتا ھے اور فوج اس کے اعزاز میں جشن منانے کو بیتاب ھے لیکن سلطان صالح الدین یہ دعوت مصروفیات کی
وجہ سے قبول نہیں کر سکا۔۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔۔
)جب زکوئی سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی(
قسط 5
رات کا وقت تھا ناجی اپنے کمرے میں دو جونیئر کمانڈروں کے ساتھ بیٹھا شراب پی رہا تھا دو ناچنے والیاں ہلکی ہلکی
موسیقی پر مستی میں آئی ھوئی ناگنوں کی طرح مسحور کن اداؤں سے رقص کر رہی تھیں ،انکے پاؤں میں گھنگروں نہیں
تھے ،انکے جسموں پر کپڑے صرف اس قدر تھے کہ ان کے ستر ڈھکے ھوئے تھے اس رقص میں خمار کا تاثر تھا۔۔۔۔
دربان اندر آیا اور ناجی کے کان میں کچھ کہا ناجی جب شراب اور رقص کے نشے میں محو ہوتا تھا تو کوئی اندر آنے کی
جرأت نہیں کر سکتا تھا ،صرف ناجی کو معلوم تھا کہ وہ کونسا کام ہے جس کے لیے ناجی شراب و شباب کے محفل سے
اٹھا کرتا ہے ورنہ وہ اندر آنے کی جرأت نہیں کرتا تھا اسکی بات سنتے ہی ناجی باہر نکل گیا وہاں سوڈانی لباس میں
ملبوس ایک اڈھیڑ عمر کا آدمی تھا اسکے ساتھ ایک جوان لڑکی تھی ناجی کو دیکھ کر وہ اٹھی ،ناجی اس کے چہرے کی
دلکشی اور قد کاٹھ دیکھ کر ٹھٹک گیا وہ عورتوں کا شکاری تھا اسے عورتیں صرف عیاشی کے لیے درکار نہیں تھیں ان سے
وہ اور بھی کئی کام لیا کرتا تھا جن میں سے ایک یہ تھا کہ وہ ان میں سے بہت ہی خوبصورت اور عیار لڑکیوں کے ذریعے
بڑے بڑے افسروں کو اپنی مٹھی میں رکھتا تھا اور ایک کام یہ بھی کہ وہ انہیں امیروں اور حکمرانوں کو بلیک میل کرنے کے
لیے استعمال کیا کرتا تھا اور ساتھ میں ان سے جاسوسی بھی کرالیا کرتا تھا ،جس طرح قصاب جانور کو دیکھ کر بتاتا ہے کہ
اسکا گوشت کتنا ہے اس طرح ناجی بھی لڑکی کو دیکھ کر بتاتا کہ یہ لڑکی کس کام کے لیے موزوں ہے لڑکیوں کے بیوپاری
اور بردہ فروش اکثر مال ناجی کے پاس ہی الیا کرتے تھے۔
یہ آدمی بھی ایسے ہی بیوپاریوں میں سے ہی لگتا تھا لڑکی کے متعلق اس نے بتایا کہ لڑکی تجربہ کار ہے ناچ بھی سکتی
ہے اور پتھر کو زبان کے میٹھے پن کی وجہ سے پانی میں تبدیل بھی کر سکتی ہے ناجی نے اسکا تفصیلی انٹرویو لیا وہ اس
فن کا ماہر تھا اس نے راۓ قائم کی کہ جس کام کے لیے وہ اس لڑکی کو تیار کر رہا ہے تھوڑی سی ٹرینگ کے بعد یہ
لڑکی اس کام کے لیے موزوں ہوگی ،بیوپاری قیمت وصول کر کہ چالگیا ناجی اس لڑکی کو اپنے کمرے میں لیکر چال گیا جہاں
اس کے ساتھی رقص اور شراب سے دل بہال ریے تھے ،اس نے لڑکی کو نچانے کے لیے کہا ،اور جب لڑکی نے اپنا چغہ
اتار کر اپنے جسم کو دو بل دیئے تو ناجی اور اس کے ساتھی تڑپ اٹھے پہلے ناچنے والیوں کے رنگ پیلے پڑ گئے کیونکہ ان
کی قیمت کم ہو گئی تھی ناجی نے اس وقت محفل برخاست کردی ،اور لڑکی کو پاس بٹھا کر سب کو باہر نکال دیا لڑکی
،سے نام پوچھا تو اس نے زکوئی بتایا ،ناجی نے اس سے کہا
زکوئی تم کو یہاں النے والے نے بتایا ہے کہ تم پتھر کو پانی میں تبدیل کر سکتی ہو میں تمہارا یہ کمال دیکھنا چاہتا "
"ہوں
وہ پتھر کون ھے " زکوئی نے سوال کیا "
"نیا امیر مصر" ناجی نے کہا وہ ساالر اعظم بھی ہے "
سلطان صالح الدین ایوبی" زکوئی نے پوچھا "
"،ہاں اگر تم اسکو پانی میں تبدیل کردو تو میں اس کے وزن جتنا سونا تمہارے قدموں میں رکھ دونگا "
وہ شراب تو پیتا ہوگا " زکوئی نے پوچھا
نہیں شراب ناچ گانا تفریح سے وہ اتنی ہی نفرت کرتا ہے جتنی ایک مسلمان خنزیر سے کرتا ہے" ناجی نے کہا
میں نے سنا تھا آپکے پاس تو لڑکیوں کا ایک طلسم ہے جو نیل کی روانی کو روک لیتا ہے تو کیا وہ طلسم ناکام "
ہوا۔۔۔۔۔۔۔؟" زکوئی نے پوچھا
میں نے ابھی تک ان کو آزمایا نہیں ہے یہ کام تم کر سکتی ہو میں تم کو سلطان کی عادتوں کے بارے میں بتا دیتا ہوں "
" ناجی نے کہا
کیا آپ اسے زہر دینا چاھتے ہیں" زکوئی نے پوچھا"
نہیں ابھی نہیں میری اس کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں میں بس یہ چاہتا ہوں کہ وہ ایک بار کسی تم جیسی لڑکی کے "
جال میں پھنس جائے پھر میں اسے اپنے پاس بیٹھا کر شراب پال سکوں اگر اسکو قتل کرنا مقصود تھا تو میں یہ کام
حشیشن سے آسانی کے ساتھ کر سکتا تھا " ناجی نے جواب دیا۔۔۔
یعنی آپ سلطان سے دشمنی نہیں دوستی کرنا چاہتے ہو" زکوئی نے کہا اتنا برجستہ جملہ سن کر ناجی لڑکی کو چند "
لمحے غور سے دیکھتا رہا لڑکی اسکے توقع سے زیادہ ذہین تھی۔
ہاں زکوئی" ناجی نے اسکے نرم و مالئم بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا میں اسکے ساتھ دوستی کرنا چاہتا ہوں ایسی "
دوستی کہ وہ میرا ہمنوا اور ہم پیالہ بن جائے آگے میں جانتا ہوں کہ مجھے اس سے کیا کام لینا ھے " ناجی نے کہا اور
ذرا سوچ کر بوال " لیکن میں تمہیں یہ بھی بتا دو کہ ایک جادو سلطان کے ہاتھوں میں بھی ہے اگر تمھارے حسن پر اسکے
ہاتھ کا جادو چل گیا تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا اگر تم نے مجھے دھوکہ دیا تو تم ایک دن سے زیادہ زندہ نہیں رہ
سکو گی صالح الدین تم کو موت سے بچا نہیں سکے گا تمھاری زندگی اور موت میرے ہاتھوں میں ہے تم مجھے دھوکہ نہیں
دے سکو گی ،اس لیئے میں نے تمھارے ساتھ کھل کر بات کی ہے ورنہ میری حیثیت اور رتبے کا انسان ایک پیشہ ور لڑکی
" سے پہلی مالقات میں ایسی باتیں نہیں کرتا
یہ آپکو آنے واال وقت بتائے گا کہ کون کس کو دھوکہ دیتا ہے زکوئی نے کہا " مجھے یہ بتائیں کہ میری سلطان تک رسائی
"کیسے ہوگی
میں اسے ایک جشن میں بال رہا ہوں ،ناجی نے کہا اور اسی رات میں ہی آپ کو اس کے خیمے میں داخل کردونگا۔ میں "
"نے تمہیں اسی مقصد کے لیے بالیا ہے
باقی میں سنبھال لونگی " زکوئی نے کہا
وہ رات گزر گئی پھر اور کئی راتیں گزر گئیں ،سلطان صالح الدین ایوبی انتظامی اور فوج کی نئی بھرتی میں اتنا مصروف تھا
کہ ناجی کی دعوت قبول کرنے کا وقت نھیں نکال سکا علی بن سفیان نے سلطان صالح الدین ایوبی کو ناجی کے مطابق جو
ریپورٹ دی تھی اس نے سلطان کو پریشان کردیا تھا ۔ سلطان نے علی سے کہا
اس کا مطلب یہ ہے کہ ناجی صلیبیوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے یہ سانپ ہے جیسے مصر کی امارات آستین میں پال "
"رہی ہے
علی بن سفیان نے ناجی کی تخزیب کاری کی تفصیل بتانی شروع کردی کہ ناجی نے کس طرح بڑے بڑے عہدیداروں کو ہاتھ
میں لیا اور انتظامیہ میں من مانی کرتا رہا۔ اور کہا "اور جس سوڈانی سپاہ کا وہ سپہ ساالر ہے وہ ہماری بجائے ناجی کی
"وفادار ہے کیا آپ اسکا کوئی عالج سوچ سکتے ہیں
صرف سوچ ہی نہیں سکتا عالج شروع بھی کر چکا پوں ،مصر سے جو سپاہ بھرتی کیئے جا رہے یں وہ سوڈانی باڈی گارڈز "
میں گڈ مڈ کردونگا پھر یہ فوج نہ سوڈانی ہوگی اور نہ مصری ،ناجی کی یہ طاقت بکھر کر ہماری فوج میں جذب ہوجائے
گی۔ ناجی کو میں اسکے اصل ٹھکانے پر لیں آونگا۔" سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا
اور میں یہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ناجی نے صلیبیوں کے ساتھ بھی گٹھ جوڑ رکھا ہے علی بن سفیان نے کہا آپ "
ملت اسالمیہ کو ایک مضبوط مرکز پر الکر اسالم کو وسعت دینا چاھتے ہیں مگر ناجی آپکے خوابوں کو دیوانے کا خواب بنا
"رہا ہے
تم اس سلسلے میں کیا کر رہے ہو۔" سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا
"
یہ مجھ پر چھوڑ دیں" علی نے کہا میں جو کرونگا وہ آپکو ساتھ ساتھ بتاتا رہونگا آپ مطمئن رہیں میں نے اس کو
جاسوسوں کی ایسی دیوار میں چن دیا ہے جس کے آنکھ بھی ہیں کان بھی اور یہ دیوار متحرک بھی ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ
"میں نے اسکو اپنے جاسوسی کے قلعے میں قید کرلیا ہے
سلطان صالح الدین ایوبی کو علی بن سفیان پر اس قدر بھروسہ تھا کہ اس نے علی سے اسکے درپردہ کاروائی کی تفصیل نہ
پوچھی ،علی نے سلطان سے پوچھا" معلوم ہوا ہے وہ آپکو جشن پر بالنا چاہتا ہے اگر یہ ٹھیک بات ہے تو اسکی دعوت
" اس وقت قبول کرلیں جب میں آپکو کہونگا
ایوبی اٹھا اور اپنے ہاتھ پیچھے کر کہ ٹہلنے لگا اسکی آہ نکلی وہ رک گیا اور بوال " بن سفیان ۔۔!! زندگی اور موت اللہ
کے ہاتھ میں ہے بے مقصد زندگی سے بہتر نہیں کہ انسان پیدا ہوتے ہی مر جائے۔؟ کبھی کبھی یہ بات دماغ میں آتی ہے
کہ وہ لوگ کتنے خوش نصیب ہیں جن کی قومی حس مردہ ہوچکی ہوتی ہے اور جن کا کوئی کردار نہیں ہوتا بڑے مزے سے
"جیتے ہیں اور اپنی آئی پر مر جاتے ہیں
وہ بد نصیب ہے امیر محترم " علی بن سفیان نے کہا
ہاں بن سفیان میں جب انہیں خوش نصیب کہتا ہوں تو پتہ نہیں کون میرے کانوں میں یہ بات ڈال دیتا ہے جو تم نے "
کہی مگر سوچتا ہوں کہ اگر ہم نے تاریخ کا دھارا اس موڑ پر نہ بدلہ تو ملت اسالمیہ صحراؤں وادیوں میں گم ہو جائے گا
ملت کی خالفت تین حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے امیر من مانی کر رہے ہیں اور صلیبیوں کا آلہ کار بن رہے ہیں مجھے اس
بات کا ڈر بھی ہے کہ اگر مسلمان زندہ بھی رہے تو وہ ھمیشہ صلیبیوں کے غالم اور آلہ کار بنیں گے وہ اسی پر خوش
ھونگے کہ وہ زندہ ہیں مگر قوم کی حیثیت سے وہ مردہ ھونگے زرا نقشہ دیکھو علی۔۔۔! آدھی صدی میں ھماری سلطنت کا
نقشہ کتنا سکڑ کر رہ گیا ہے وہ خاموش ھوگیا اور ٹہلنے لگا اور پھر سر جھٹک کر علی کو دیکھنے لگا
جب تباہی اپنے اندر سے ہو تو اسے روکنا محال ھوتا ہے اگر ھماری خالفتوں اور امارتوں کا یہی حال رھا تو صلیبیوں کو "
ھم پر حملہ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ،،وہ آگ جس میں ھم اپنا ایمان اپنا کردار اپنی قومیت جال رہے ہیں اس
میں صلیبی آھستہ آھستہ تیل ڈالتے رہیں گے ،انکی سازشیں ہمیں آپس میں لڑاتی رہیں گی ،میں شاید اپنا عزم پورا نہ کر
سکوں۔ میں شاید صلیبیوں سے شکست بھی کھا جاؤں لیکن میں قوم کے نام ایک وصیت چھوڑنا چاھتا ہوں وہ یہ ہے کہ
کسی غیر مسلم پر کبھی بھروسہ نہیں کرنا ،انکے خالف لڑنا ہے تو لڑ کر مر جانا ،کسی غیر مسلم کے ساتھ کوئی سمجھوتہ
"کوئی معاہدہ نہ کرنا
آپکا لہجہ بتا رہا ہے کہ جیسے آپ اپنے عزم سے مایوس ہوگیے ہیں" علی بن سفیان نے کہا "
مایوس نہیں جذباتی۔۔۔۔ علی۔۔۔ میرا ایک حکم متعلقہ شعبہ تک پہنچاؤ بھرتی تیز کردو اور کوشش کرو کہ فوج کے لیے "
ایسے آدمی زیادہ سے زیادہ بھرتی کرو جن کو جنگ و جدل کا پہلے سے تجربہ ھو۔ ھمارے پاس اتنی لمبی تربیت کا وقت
نہیں ،بھرتی ھونے والوں کے لیے مسلمان ہونا الزمی قرار دو ،اور تم اپنے لیے ذھن نشین کردو کہ ایسے جاسوسوں کا دستہ تیار
کرو جو دشمن کے عالقے میں جا کر جاسوسی بھی کریں۔ اور شب خون بھی ماریں یہ جانبازوں کا دستہ ھوگا ،انھیں
خصوصی تربیت دو ،ان میں یہ صفات پیدا کرو کہ وہ اونٹ کی طرح صحرا میں زیادہ سے زیادہ عرصہ پیاس برداشت کر
سکیں۔ انکی نظریں عقاب کی طرح تیز ہوں۔ ان میں صحرائی لومڑی کی مکاری ھو اور وہ دشمن پر چیتے کی طرح جھپٹنے
کی مہارت طاقت کے مالک ہوں ان میں شراب اور حشیش کی عادت نہ ھو اور عورت کے لیے وہ برف کی طرح یخ ہوں ،،
.بھرتی تیز کرا دو علی سفیان۔۔۔۔۔۔۔۔اور یاد رکھو
داستان ایمان فروشوں کی ۔۔
)جب زکوئی سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی(
پہال حصہ ،،،،،،قسط 6
میں ہجوم کا قائل نہیں ،مجھے لڑنے والوں کی ضرورت ہے خواہ تعداد تھوڑی ہو ،ان میں قومی جذبہ ہو اور وہ میرے عزم
،،کو سمجھتے ہوں ،کسی کے دل میں یہ شبہ نہ ہو کہ اسے کیوں لڑایا جا رہا ہے
٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭
اگلے دس دنوں میں ھزارہا تربیت یافتہ سپاھی امارت مصر کی فوج میں آگئے اور ان دس دنوں میں ذکوئی کو ناجی نے
ٹرینئنگ دے دی کہ وہ سلطان کو کون کون سے طریقے سے اپنے حسن کی جال میں پھنسا کر اسکی شخصیت اور اسکا کردار
کمزور کر سکتی ہے ۔ ناجی کے ہمراز دوستوں نے جب ذکوئی کو دیکھا تو انہوں نے کہا کہ مصر کے فرعون بھی اس لڑکی
کو دیکھ لیتے تو وہ جدائی کے وعدے سے دستبردار ہو جاتے ،ناجی کے جاسوسی کا اپنا نظام تھا ،بہت تیز اور دلیر ،،وہ
معلوم کر چکا تھا کہ علی بن سفیان سلطان کا خاص مشیر ہے۔ اور عرب کا مانا ہوا سراغ رساں ،اس نے علی کے پیچھے
اپنے جاسوس چھوڑ دیئے تھے اور علی کو قتل کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا تھا ۔ ذکوئی کو ناجی نے سلطان صالح الدین
ایوبی کو اپنے جال میں پھسانے کے لیے تیار کیا تھا ،لیکن وہ محسوس نہیں کر سکا کہ مراکش کی رہنے والی یہ لڑکی خود
اسکے اپنے اعصاب پر سوار ہو گئی ہے ،وہ صرف شکل و صورت ہی کی دلکش نہیں تھی ،اسکی باتوں میں ایسا جادو تھا
کہ ناجی اسکو اپنے پاس بٹھا کر باتیں ہی کیا کرتا تھا اس نے دو ناچنے گانے والیوں سے نگاہیں پھیر لیں ،جو اسکی منظور
نظر تھیں ،تین چار راتوں سے ناجی نے ان لڑکیوں کو اپنے کمرے میں بالیا بھی نہیں تھا ،ناجی سونے کے انڈے دینے والی
مرغی تھی جو انکے آغوش سے ذکوئی کی آغوش میں چلی گی تھی ،انھوں نے ذکوئی کو راستے سے ہٹانے کی ترکیبیں شروع
کردیں ،وہ آخر اس نتیجے پر پہنچے کہ اسے قتل کیا جائے ،لیکن اسکو قتل کرنا اتنا آسان نہ تھا ،کیونکہ ناجی نے اسے
جو کمرہ دیا تھا اس پر دو محافظوں کا پہرہ ہوا کرتا تھا ،اسکے عالوہ یہ دونوں لڑکیاں اس مکان سے بال اجازت نہیں نکل
سکتی تھیں جو ناجی نے انہیں دے رکھا تھا ،انہوں نے حرم کی خادمہ ) نوکرانی ( کو اعتماد میں لینا شروع کیا ،وہ
اسکے ھاتھوں ذکوئی کو زہر دینا چاہتی تھیں۔۔
علی بن سفیان نے سلطان صالح الدین ایوبی کا محافظ دستہ بدل دیا ،یہ سب امیر مصر کے پرانے باڈی گارڈز تھے ،اسکی
جگہ علی نے ان سپاہیوں میں باڈی گارڈز کا دستہ تیار کیا جو نئے آئے تھے ،یہ جانبازوں کا نیا دستہ تھا جو سپاہ گری
میں بھی تاک تھا ،اور جذبے کے لحاظ سے ہر سپاہی اس دستے کا اصل میں مرد مجاہد تھا ۔ ناجی کو یہ تبدیلی بلکل
بھی پسند نہیں تھی۔۔ لیکن اس نے سلطان صالح الدین ایوبی کے سامنے اس تبدیلی کی بے حد تعریف کی ،اور اسکے ساتھ
ہی درخواست کی کہ سلطان صالح الدین ایوبی اسکی دعوت کو قبول کریں ،سلطان صالح الدین ایوبی نے اسکو جواب دیا کہ
وہ ایک آدھ دن میں اسکو بتائے گا کہ وہ کب ناجی کی دعوت قبول کرے گا ۔ ناجی کے جانے کے بعد سلطان صالح الدین
ایوبی نے علی سے مشورہ کیا کہ وہ دعوت پر کب جائے ۔ علی نے مشورہ دیا کہ اب وہ کسی بھی روز دعوت کو قبول
کریں۔۔
دوسرے دن سلطان صالح الدین ایوبی نے ناجی کو بتایا کہ وہ کسی بھی رات دعوت پر آسکتا ہے ،ناجی نے سلطان صالح
الدین ایوبی کو تین دن کے بعد کی دعوت دی اور بتایا کہ یہ دعوت کم اور جشن زیادہ ہوگا اور یہ جشن شہر سے دور صحرا
میں مشغلوں میں منایا جائے گا ،ناچ گانے کا انتظام ہوگا ،باڈی گارڈز کے گھوڑے اپنا کرتب دکھائیں گے ،،شمشیر زنی اور
بغیر تلوار کے لڑائیوں کے مقابلے ھونگے اور سلطان صالح الدین ایوبی کو رات وہیں قیام کرنا پڑے گا ،رہائش کے لیے خیمے
نصب ہونگے ،سلطان صالح الدین ایوبی پروگرام کی تفصیل سنتا رہا اس نے ناچنے گانے پر اعتراض نہیں کیا تھا ،ناجی نے
ڈرتے اور جھجکتے ہوئے کہا " فوج کے بیشتر سپاھی جو مسلمان نہیں یا جو ابھی نیم مسلمان ہیں کبھی کبھی شراب پیتے
" ہیں ،وہ شراب کے عادی نہیں لیکن وہ اجازت چاھتے ہیں کہ جشن میں انہیں شراب پینے کی اجازت دی جاۓ
آپ ان کے کمانڈر ہو آپ چاہے ان کو اجازت دے دیں نہ چاہیں تو میں آپ پر اپنا حکم مسلط نہیں کرنا چاہتا " سلطان "
صالح الدین ایوبی نے کہا
سلطان صالح الدین ایوبی کا اقبال بلند ہوں میں کون ہوتا ہوں اس کام کی اجازت دینے واال جس کو آپ سخت ناپسند ؔ
کریں " ناجی نے کہا
انہیں اجازت دے دیں کہ جشن کی رات ھنگامہ آرائی اور بدکاری کے سوا سب کچھ کر سکتے ہیں اگر شراب پی کر کسی "
"نے ہلہ گلہ کیا تو اس کو سخت سزا دی جائے گی
سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا ۔
یہ خبر جب سلطان صالح الدین ایوبی کے سپاھیوں تک پہنچی کہ ناجی سلطان صالح الدین ایوبی کے اعزاز میں جشن منعقد
کر رہا ہے اور اس میں ناچ گانا بھی ہوگا شراب بھی ہوگی اور سلطان صالح الدین ایوبی نے اس جشن کی دعوت ان سب
خرافات کے باوجود بھی قبول کی ہے تو وہ ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہے ۔ کسی نے کہا کہ ناجی جھوٹ بولتا ہے اور
دوسروں پر اپنا رعب ڈالنا چاھتا ہے اور کسی نے کہا ناجی کا سلطان صالح الدین ایوبی پر بھی چل گیا ۔یہ راۓ ناجی کے
ان افسروں کو بھی پسند آی جو ناجی کے ھم نوا اور ھم پیالہ تھے ،سلطان صالح الدین ایوبی نے چارج لیتے ہی ان کی
عیش و عشرت شراب اور بدکاری حرام کردی تھی ،سلطان صالح الدین ایوبی نے ایسا سخت ڈسپلن رائج کیا کہ کسی کو
بھی پہلے کی طرح اپنے فرائض سے کوتاہی کی جرأت نہیں ہوتی تھی ،وہ اس پر خوش تھے کہ نئے امیر مصر نے ان کو
رات کی شراب کی اجازت دی تھی تو کل وہ بھی خود ان سب چیزوں کا رسیا ہو جائے گا ،،صرف علی بن سفیان تھا
جسے معلوم تھا کہ سلطان نے ان سب خرافات کی اجازت کیوں دی تھی ۔
جشن کی شام آگئی ،ایک تو چاندنی رات تھی ،صحرا کی چاندنی اتنی شفاف ھوتی ہے کہ ریت کے ذرے بھی نظر آجاتے
ھیں ،دوسرے ہزارہا مشغلوں نے وہاں کی صحرا کو دن بنایا تھا ،باڈی گارڈز کا ہجوم تھا جو ایک وسیع میدان کے گرد
دیواروں کی طرح کھڑا تھا ،ایک طرف جو مسند سلطان صالح الدین ایوبی کے لیے رکھی گی تھی وہ کسی بھت بڑے بادشاہ
کا معلوم ہوتا تھا ،اسکے دائیں بائیں بڑے مہمانوں کے لیے نشستیں رکھی گئی تھیں ،اس وسیع و عریض تماش گاہ سے
تھوڑی دور مہمانوں کے لیے نہایت خوبصورت خیمے نصب تھے ،ان سے ہٹ کر ایک بڑا خیمہ سلطان صالح الدین ایوبی کے
لیے نصب کیا گیا تھا جہاں اسے رات بسر کرنی تھی۔ ۔ علی بن سفیان نے صبح سورج غروب ہونے سے پہلے وہاں جاکر
محافظ کھڑے کردیئے تھے ۔ جب علی بن سفیان وہاں محافظ کھڑے کر رھا تھا تو ناجی ذکوئی کو آخری ھدایات دے رھا تھا۔
اس شام ذکوئی کا حسن کچھ زیادہ ہی نکھر آیا تھا ۔ اسکے جسم سے عطر کی ایسی بھینی بھینی خوشبو اٹھ رھی تھی۔
جس میں سحر کا تاثر تھا اس نے بال عریاں کندھوں پر پھیال دیے تھے ۔ سفید کندھوں پر سیاہی مائل بھورے بال زاھدوں
کی نظروں کو گرفتار کرتے تھے۔ اسکا لباس اتنا باریک تھا کہ اسکے جسم کے تمام نشیب و فراز دکھائی دیتے تھے ،اسکے
،،ہونٹوں پر قدرتی تبسم ادھ کھلی کلی کی طرح تھی
ناجی نے اسکو سر سے پاؤں تک دیکھا " تمھارے حسن کا شاید سلطان صالح الدین ایوبی پر اثر نہ ہو تو اپنی زبان
استعمال کرنا ،وہ سبق بھولنا نہیں جو میں اتنے دنوں سے تمھیں پڑھا رہا ہوں۔ اور یہ بھی نہ بھولنا کہ اسکے پاس جا کر
اسکی لونڈی نہ بن جانا ۔ انجیر کا وہ پھول بن جانا جو درخت کی چوٹی پر نظر آتا ہے مگر درخت پر چڑھ کر دیکھو تو
غائب ۔ اسے اپنے قدموں میں بٹھا لینا میں تمہیں یقین دالتا ہوں کہ تم اس پتھر کو پانی میں تبدیل کرسکتی ھو ۔ اس
سرزمین میں قلوپطرہ نے سینرز جیسے مرد آہن کو اپنے حسن و جوانی سے پھگال کر مصر کے ریت میں بہا دیا قلوپطرہ تم
سے زیادہ خوبصورت نہیں تھی میں نے تم کو جو سبق دیا ہے وہ قلو پطرہ کی چالیں تھیں ،عورت کی یہ چالیں کبھی ناکام
نہیں ھو سکتیں۔" ناجی نے کہا۔ذکوئی مسکرا رہی تھی اور بڑے غور سے سن رہی تھی مصر کی ریت نے ایک اور حسین
قلوپطرہ کو حسین ناگن کی طرح جنم دیا تھا مصر کی تاریح اپنے آپ کو دہرانے والی تھی سورج غروب ہوا تو مشعلیں جل
گئیں
سلطان صالح الدین ایوبی گھوڑے پر سوار آگیا ۔ سلطان کے آگے پیچھے دائیں بائیں اس کے محافظ دستے کے گھوڑے تھے جو
علی بن سفیان نے منتحب کیئے تھے ،اسی دستے میں سے ہی اس نے دس محافظ شام سے پہلے ہی یہاں الکر سلطان
صالح الدین ایوبی کے خیمے کے گرد کھڑے کردیئے تھے ،سازندوں نے دف کی آواز پر استقبالیہ دھن بجائی اور صحرا" امیر
مصر سلطان صالح الدین ایوبی زندہ باد " کے نعروں سے گونجنے لگا ناجی نے آگے بڑھ کر استقبال کیا اور کہا" آپ کے
جانثار عظمت اسالم کے پاسبان آپکو بسیروچشم خوش آمدید کہتے ہیں ان کی بے تابیاں اور بے قراریاں دیکھیں آپ کے اشارے
پر کٹ مریں گے۔" اور خوشآمد کے لیے اسکو جتنے الفاظ یاد آئے ناجی نے کہہ دیئے۔
جونہی سلطان صالح الدین ایوبی اپنی شاہانہ نشست پر بیٹھا۔ سر پٹ دوڑتے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں
گھوڑے جب روشنی میں آئے تب اس نے دیکھا کہ چار گھوڑے دائیں سے اور 4بائیں سے آرہے تھے ہر ایک پر ایک ایک
سوار تھا اور ان کے پاس ہتھیار نہیں تھے وہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آرہے تھے صاف ظاہر تھا کہ وہ ٹکرا جائینگے
کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کرینگے وہ ایک دوسرے کے قریب آئے تو سوار رکابوں میں پاؤں جمائے کھڑے ھوئے پھر
انھوں نے لغامیں ایک ایک ہاتھ میں تھام لیں اور دوسرے بازو پھیال دیئے دونوں اطراف کے گھوڑے بلکل آمنے سامنے آگئے اور
سواروں کی دونوں پارٹیاں ایک دوسرے سے الجھ گئیں۔ سواروں نے ایک دوسرے کو پکڑنے اور گرانے کی کوشش کی سب
گھوڑے جب آگے نکل گئے تو دو سوار جو گھوڑوں سے گر گئے تھے ریت پر قالبازیاں کھا رھے تھے ،ایک طرف کے ایک
سوار نے دوسری طرف کے ایک سوار کو ایک بازو میں جکڑ کر اسے گھوڑے سے اٹھا لیا تھا اور اسے اپنے گھوڑوں پر الد کر
لے جا رہا تھے ،ہجوم نے اس قدر شور برپا کیا تھا کہ اپنی آواز خود کو سنائی نہیں دے رہی تھی۔ یہ سوار اندھیرے میں
غائب ھوئے تو دونوں اطراف سے اور چار چار گھڑ سوار آئے اور مقابلہ ہوا اس طرح آٹھ مقابلے ھوئے اور اسکے بعد شتر سوار
آئے پھر گھڑ سواروں اور شتر سواروں نے کئی کرتب دکھائے ۔ اسکے بعد تیغ زنی اور بغیر ہتھیاروں کے لڑائی کے مظاہرے
ھوئے جن میں کئی ایک سپاھی زخمی ہوئے سلطان صالح الدین ایوبی شجاعت اور بہادری کے ان مقابلوں میں جذب ہوکر رہ
گیا تھا اسے ایسے ہی بہادر فوج کی ضرورت تھی سلطان صالح الدین ایوبی نے علی بن سفیان کے کان میں کہا " اگر اس
"فوج میں اسالمی جذبہ بھی ہو میں اسی فوج سے ہی صلیبیوں کو گھٹنوں بٹھا سکتا ھوں
علی بن سفیان نے وہی مشورہ دیا جو اس نے پہلے دیا تھا
اگر ناجی سے کمان لی جاۓ تو جذبہ بھی پیدا کیا جا سکتا ہے " علی بن سفیان نے کہا مگر سلطان صالح الدین ایوبی "
ناجی جیسے ساالر کو سبکدوش نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ سدھار کر راہ حق پر النا چاھتا تھا۔ وہ اس جشن میں اپنی آنکھوں
یہی دیکھنے آیا تھا کہ یہ فوج اخالقیات کے لحاظ سے کیسی ہے اس کو ناجی کے اس بات سے ہی مایوسی ہوئی تھی کہ
ناجی کے کمانڈر اور سپاھی شراب پینا چاھتے ہیں اور ناچ گانا بھی ھوگا سلطان صالح الدین ایوبی نے اس درخواست کی
منظوری صرف اس وجہ سے دی تھی کہ وہ دیکھنا چاھتا تھا کہ یہ فوج کس حد تک عیش و عشرت میں ڈوبی ھوئی ھے۔
بہادری شجاعت شاھسواری تیغ زنی تلوار زنی میں تو یہ فوج جنگی معیار پر پوری اترتی تھی لیکن جب کھانے کا وقت آیا تو
یہ فوج بدتمیزیوں بالنوشوں اور ھنگامہ پرور لوگوں کا ہجوم بن گئی کھانے کا انتظام وسیع و عریض میدان میں کیا گیا تھا اور
ان سے زرا دور سلطان صالح الدین ایوبی اور دیگر مہمانون کے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا سینکڑون سالم دنبے اور بکرے
اونٹوں کی سالم رانیں اور ہزاروں مرغ روسٹ کیے گئے تھے دیگر لوازمات کا کوئی شمار نہ تھا اور سپاھیوں کے سامنے شراب
کے چھوٹے چھوٹے مشکیزے اور صراحیاں رکھ دی گئی تھیں ،سپاھی کھانے اور شراب پر ٹوٹ پڑے اور غٹاغٹ شراب چڑھانے
لگے اور معرکہ آرائی ھونے لگی سلطان صالح الدین ایوبی یہ منظر دیکھ رھا تھا اور خاموش تھا اسکے چہرے پر کوئی تاثر نہ
تھا جو یہ ظاھر کرتا کہ وہ کیا سوچ رھا ھے اس نے ناجی سے صرف اتنا کہا " پچاس ھزار فوج میں آپ نے یہ آدمی کس
"طرح منتخب کیئے کیا یہ آپکے بدترین سپاھی ہیں؟
نہیں امیر مصر !،،،یہ دو ہزار عسکری میرے بہترین سپاہی ہیں آپ نے انکے مظاہرے دیکھے ان کی بہادری دیکھی کے "
میدان جنگ میں جس جانبازی کا مظاہرہ کرینگے وہ آپکو حیران کردے گی آپ انکی بدتمیزی کو نہ دیکھیں یہ آپکے اشارے پر
جانیں قربان کردینگے میں انھیں کبھی کبھی کھلی چھٹی دے دیا کرتا ہوں کہ مرنے سے پہلے دنیا کے رنگ و بو کا پورا مزا
اٹھا لیں " ناجی نے غالمانہ لہجے میں کہا
سلطان صالح الدین ایوبی نے اس استدالل کے جواب میں کچھ نہیں کہا ناجی جب دوسرے مہمانوں کی طرف متوجہ کوا تو
سلطان صالح الدین ایوبی نے علی بن سفیان سے کہا " میں جو دیکھنا چاھتا تھا وہ دیکھ لیا ہے یہ سوڈانی شراب اور
ہنگامہ آرائی کے عادی ہیں ،تم کہتے ہو ان میں جذبہ نہیں یے میں دیکھ رہا ہوں ان میں کردار بھی نہیں ہے ۔ اس فوج
کو اگر تم لڑنے کے لیے میدان جنگ میں لے گئے تو یہ لڑنے کی بجائے اپنی جان بچانے کی فکر کریں گے اور مال غنیمت
" لوٹیں گے اور مفتوح کی عورتوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کریں گے
اس کا عالج یہ ہے کہ آپ نے جو فوج مصر کے مختلف خطوں سے بھرتی کی ہے اسکو ناجی کے 50ھزار فوج میں "
مدغم کرلیں برے سپاہی اچھے سپاہیوں کے ساتھ مل کر اپنی عادتیں بدل دیا کرتے ہیں " علی بن سفیان نے کہا ۔ سلطان
صالح الدین ایوبی مسکرایا اور کہا " تم یقینا میرے دل کا راز جانتے ہو میرا منصوبہ یہی ہے جو میں ابھی تمہیں نہیں بتانا
" چاہ رھا تھا ،تم اسکا ذکر کسی سے نہںی کرنا
علی بن سفیان میں یہی وصف تھی کہ وہ دوسرے کے دل کا راز جان لیتا تھا اور غیر معمولی طور پر ذہین تھا وہ کچھ اور
کہنے ہی لگا تھا کہ ان کے سامنے مشعلیں روشن ہوئیں ،زمین پر بیش قیمت قالینیں بچھے ھوئے تھے ،شہنائی اور سارنگ
کا ایسا میٹھا نغمہ ابھرا کہ مہمانوں پر سناٹا چھا گیا ایک طرف سے ناچنے والیوں کی قطار نمودار ہوئی ،بیس لڑکیاں ایسے
باریک اور نفیس لباس میں چلی آرہی تھیں کہ ان کے جسموں کا انگ انگ نظر آرہا تھا ہر ایک کا لباس باریک چغہ سا تھا
جو شانوں سے ٹخنوں تک تھا ان کے بال کھلے ھوئے تھے اور اسی ریشم کا حصہ نظر آرہے تھے جس کا انہوں نے لباس پہنا
ہوا تھا صحرا کی ہلکی ہلکی ھوا سے اور لڑکیوں کی چال سے یہ ڈھیال ڈھاال لباس ہلتا تھا تو یوں لگتا تھا جیسے پھولدار
پودوں کی ڈالیاں ھوا میں تیرتی ھوئی آرہی ہوں ھر ایک کے لباس کا رنگ جدا تھا ھر ایک کی شکل و صورت ایک دوسرے
سے مختلف تھی لیکن حس جسم کی جھلک میں ساری ایک ہی جیسی تھیں انکے مرمریں بازو عریاں تھے وہ چلتی آرہی
تھیں لیکن قدم اٹھتے نظر نہیں آرہی تھی وہ ھوا کی لہروں کی مانند تھیں وہ نیم دائرے میں ہوکر رہ گئیں سلطان صالح
الدین ایوبی کی طرف منہ کر کہ تعظیم کے لیے جھکیں سب کے بال سرک کر شانوں پر آگے سازندوں نے ان ریشمی بالوں
اور جسموں کے جادو میں طلسم پیدا کردیا تھا دو سیاہ فام دیو ھیکل حبشی جن کے کمر کے گرد چیتوں کی کالی تھی ایک
بڑا سا ٹوکرہ اٹھائے تیز تیز قدم چلتے آئے اور ٹوکرا نیم دائرے کے سامنے رکھ دیا ساز سپیروں کے بین کی دھن بجانے
لگے ،حبشی مست سانڈوں کی طرح پھنکارتے ہوئے غائب ھوئے ٹوکری میں سے ایک بڑی کلی اٹھی اور پھول کی طرح کھل
گئی ،اس پھول میں سے ایک لڑکی کا چہرہ نمودار ہوا اور پھر وہ اوپر کو اٹھنے لگی یوں لگنے لگا جیسے یہ سرخ بادلوں
میں ایک چاند نکل رہا ہو یہ لڑکی اس دنیا کی معلوم نہیں ہوتی تھی اسکی مسکراہٹ بھی عارضی نہیں تھی اسکی آنکھوں
کی چمک بھی مصر کی کیسی لڑکی کے آنکھوں کی چمک نہیں لگتی تھی اور جب لڑکی نے پھولوں کی چوڑی پتیوں میں
سے باہر قدم رکھا تو اسکے جسم کی لچک نے تماشائیوں کو مسحور کردیا ،علی بن سفیان نے سلطان صالح الدین ایوبی کی
طرف دیکھا اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی ۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اسکے کانوں میں کہا " علی ۔۔ مجھے توقع
" نہیں تھی کہ یہ اتنی خوبصورت ھوگی
داستان ایمان فروشوں کی ۔۔
)جب زکوئی سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی(
،،،،،،پہال حصہ
قسط 7 #
ناجی نے سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس آکر کہا " امیر مصر کا اقبال ہوں ۔۔۔ اس لڑکی کا نام زکوئی ہے اسے میں نے
آپکی خاطر اسکندریہ سے بلوایا ہے ،یہ پیشہ ور رقاصہ نہیں یہ طوائف بھی نہیں اسکو رقص سے پیار ہے شوقیہ ناچتی ہے
کسی محفل میں نہیں جاتی میں اسکے باپ کو جانتا ہوں ساحل پر مچھلیوں کا کاروبار کرتا ہے ۔ یہ لڑکی آپکی عقیدت مند
ہے آپکو پیغمبر مانتی ہے میں اتفاق سے اسکے گھر اس کے باپ سے ملنے گیا تو اس لڑکی نے استدعا کی کہ سنا ہے
سلطان صالح الدین ایوبی امیر مصر بن کر آئے ہیں اللہ کے نام پر مجھے اس سے ملوا دو۔ میرے پاس اپنی جان اور رقص
کے سوا کچھ بھی نہیں جو میں اس عظیم ھستی کے پاؤں میں پیش کرسکوں۔۔قابل صد احترام امیر میں نے آپ سے رقص اور
" ناچ کی اجازت اس لیے مانگی تھی کہ میں اس لڑکی کو آپکے حضور پیش کرنا چاھتا تھا
کیا آپ نے اسے بتایا تھا کہ میں کسی لڑکی کو رقص یا عریانی کی حالت میں اپنے سامنے نہیں دیکھ سکتا یہ لڑکیاں "
جسے آپ ملبوس الئے ہیں بلکل ننگی ہیں" سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا ۔۔ " عالی مقام میں نے بتایا تھا کہ امیر مصر
رقص کو ناپسند کرتے ہیں لیکن یہ کہتی تھی کہ امیر مصر میرا رقص پسند کرینگے کیونکہ اس میں گناہ کی دعوت نہیں یہ
ایک باعصمت لڑکی کا رقص ھوگا میں ایوبی کے حضور اپنا جسم نہیں اپنا رقص پیش کرونگی اگر میں مرد ہوتی تو سلطان کی
جان کی حفاظت کے لیے محافظ دستے میں شامل ہو جاتی" ناجی نے کھسیانہ ہوکر کہا
آپ کیا کہنا چاھتے ہیں اس لڑکی کو اپنے پاس بال کر خراج تحسین پیش کروں کہ تم ھزاروں لوگوں کے سامنے اپنا جسم "
ننگا کر کہ بہت اچھا ناچتی ہو ؟ اسے اس پر شاباش دوں کہ تم نے مردوں کے جنسی جذبات بھڑکانے میں خوب مہارت
حاصل کی ہے۔۔؟ سلطان صالح الدین ایوبی نے پوچھا ۔۔۔
نہیں امیر مصر میں اسے اس واعدے پر یہاں الیا ہوں کہ آپ اسے شرف بازیابی بخشیں گے یہ بڑی دور سے اسی امید "
پر آئی ہے ،ذرا دیکھیئے اسے۔۔ اسکی رقص میں پیشہ ورانہ تاثر نہیں خود سپردگی ہے۔۔۔۔ دیکھیئے وہ آپکو کیسی نظروں
سے دیکھ رہی ہے بیشک عبادت صرف اللہ کی کی جاتی ہے لیکن یہ رقص کی اداؤں سے عقیدت سے آپکی عبادت کر رہی
ھے ،آپ اسے اپنے خیمے میں اندر آنے کی اجازت دیں ،تھوڑی سی دیر کے لیے ۔ اسے مستقبل کی وہ ماں سمجھیں
جس کی کوکھ سے اسالم کے جانباز پیدا ہونگے یہ اپنے بچوں کو فخر سے بتایا کرے گی کہ میں سلطان صالح الدین ایوبی
سے تنہائی میں باتیں کرنے کا شرف حاصل کیا تھا" ناجی نے نہایت پر اثر اور خوشامدی لہجے میں سلطان صالح الدین
ایوبی سے منوالیا کہ یہ لڑکی جسے ناجی نے ایک بردہ فروش سے خریدا تھا شریف باپ کی باعصمت بیٹی ہے ناجی نے
سلطان صالح الدین ایوبی سے کہلوا لیا کہ " اچھا اسے میرے خیمے میں بھیج دینا " زکوئی نہایت آھستہ آھستہ جسم کو بل
دیتی اور بار بار سلطان صالح الدین ایوبی کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی ،باقی لڑکیاں تتلیوں کی طرح جسے اسکے آس
پاس اڑ رہی تھیں ،یہ اچھل کود واال رقص نہیں تھا ،شغلوں کی روشنی میں کبھی تو یوں لگتا تھا جیسے ہلکے نیلے شفاف
پانی میں جل پریاں تیر رھی ہوں
چاندنی کا اپنا ایک تاثر تھا سلطان صالح الدین ایوبی کے متعلق کوئی نہیں بتا سکتا تھا کہ وہ بیٹھ کر کیا سوچ رہا تھا
ناجی کے سپاہی جو شراب پی کر ھنگامہ کر رہے تھے وہ بھی جیسے مر گئے تھے ،زمین اور آسمان پر وجد طاری تھا
ناجی اپنی کامیابی پر بہت مسرور تھا اور رات گزرتی جا رہی تھی۔۔۔۔٭٭٭٭٭٭
٭٭٭٭
نصف شب کے بعد سلطان صالح الدین ایوبی اپنے خیمے میں داخل ہوا جو ناجی نے نصب کیا تھا اندر اس نے قالین بچھا
دیئے تھے پلنگ پر چیتے کی کھال کی مانند پلنگ پوش تھا فانوس جو رکھوایا تھا اسکی ہلکی نیلی روشنی صحر کی شفاف
چاندنی کی مانند تھی اور اندر کی فضا عطر بیز تھی خیمے کے اندر ریشمی پردے آویزاں تھے ناجی سلطان صالح الدین ایوبی
کے ساتھ خیمے میں اندر گیا اور کہا " اسے ذرا سی دیر کے لیے بھیج دو
میں وعدہ خالفی سے بہت ڈرتا ہوں " ،،،،،بھیج دو " سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا
اور ناجی ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتا خیمے سے باہر گیا ،تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے محافظوں
نے ایک رقاصہ کو اسکے خیمے کی طرف آتے دیکھا
خیمے کی ہر طرف مشعلیں روشن تھیں روشنی کا یہ انتظام علی بن سفیان نے کرایا تھا کہ رات کے وقت محافظ گرد وپیش
میں اچھی طرح سے دیکھ سکے رقاصہ قریب آئی تو انہوں نے اسے پہچان لیا انہوں نے اسے رقص میں دیکھا تھا یہ ولی
لڑکی تھی جو ٹوکرے میں سے نکلی تھی وہ زکوئی تھی وہ رقص میں لباس میں تھی یہ لباس توبہ شکن تھا ،محافظوں کے
کمانڈروں نے اسے روک لیا زکوئی نے بتایا کہ اسے امیر مصر نے بلوایا ہے کمانڈر نے اسے بتایا کہ یہ ان امیروں میں سے
نہیں کہ یہ تم جیسی فاحشہ لڑکیوں کے ساتھ راتیں گزاریں " آپ ان سے پوچھ لیں میں بن بالیے آنے کی جرأت نہیں کر
" سکتی
انکا بالوا تم کو کس نے دیا " کمانڈر نے پوچھا "
ساالر ناجی نے کہا کہ تمہیں امیر مصر بال رہے ہیں آپ کہتے ہو تو میں چلی جاتی ہوں امیر نے جواب طلبی کی تو تم "
خود بھگت لینا " زکوئی نے کہا کمانڈر تسلیم نہیں کر سکتا تھا کہ امیر مصر نے ایک رقاصہ کو اپنے خیمے میں بلوایا ہے وہ
ایوبی کے کردار سے واقف تھا وہ اسکے اس حکم سے بھی واقف تھا کہ ناچنے گانے والیوں سے تعلق رکھنے والے کو 100
درے بھی مارے جائیں گے ،کمانڈر شش و پنج میں پڑ گیا ۔ سوچ سوچ کر اس نے ھمت کی اور سلطان صالح الدین ایوبی
کے خیمے میں اندر چال گیا ایوبی اندر ٹہل رہا تھا کمانڈر نے ڈرتے ڈرتے کہا " باہر ایک رقاصہ کھڑی ہے کہتی ہے کہ حضور
نے اسے بلوایا ہے " اسے اندر بھیج دو" سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا ۔ کمانڈر باہر نکال اور زکوئی کو اندر بھیج دیا ۔۔۔
سپاہیوں کو توقع تھی کہ ان کا امیر اور ساالر اس لڑکی کو باہر نکال دے گا وہ سب سلطان صالح الدین ایوبی کی گرجدار
آواز سننے کے لیے تیار ہوئے تھے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا رات گزرتی جارہی تھی اندر سے دھیمی دھیمی باتوں کی آوازیں
آرہی تھی ،محافظ دستے کا کمانڈر بے قراری کے انداز میں ٹہل رہا تو ایک سپاہی نے کہا" کیا یہ حکم صرف ہمارے لیے
" ہے کہ کسی فاحشہ کے ساتھ تعلق رکھنا جرم ہے
ہاں حکم صرف ماتحتوں اور قانون صرف رعایا کے لیے ہوتا ہے " کمانڈر نے کہا "
"'امیر مصر کو درے نہیں لگائے جا سکتے۔۔؟
بادشاہوں کا کوئی کردار نہیں ہوتا سلطان صالح الدین ایوبی شراب بھی پیتا ہوگا ہم پر جھوٹی پارسائی کا رعب جمایا جاتا "
ہے" کمانڈر نے کہا
انکی نگاہوں میں صالح الدین کا جو بت تھا وہ ٹوٹ گیا تھا اس بت میں سے ایک عربی شہزادہ نکال جو عیاش تھا پارسائی
کے پردے میں گناہ کا مرتکب ہو رہا تھا ،،ناجی بہت خوش تھا ،سلطان صالح الدین ایوبی کی خوشنودی کے لیے اس نے
شراب سونگھی بھی نہیں تھی وہ اپنے خیمے میں بیٹھا مسرت سے جھوم رہا تھا اسکے سامنے اسکا نائب ساالر اوروش بیٹھا
ہوا تھا " اسے گئے بہت وقت ہو گیا ہے معلوم ہوتا ہے ہمارا تیر سلطان صالح الدین ایوبی کے دل میں اتر گیا ہے "
اوروش نے کہا۔۔۔۔" ہمارا تیر خطا کب گیا تھا اگر خطا جاتا بھی تو اب تک ہمارے آجاتا" ناجی نے قہقہ لگا کر کہا ' تم
ٹھیک کہتے ہو ۔ زکوئی انسان کے روپ میں ایک طلسم ہے معلوم ہوتا ہے یہ لڑکی حشیشن کے ساتھ رہی ہے ورنہ سلطان
صالح الدین ایوبی جیسا بت کبھی نہیں توڑ سکتی۔" اوروش نے کہا
میں نے اسے جو سبق دیئے تھے وہ حشیشن کے کبھی وہم و گمان میں بھی نہ آئے ہونگے اب سلطان صالح الدین ایوبی "
کے حلق سے شراب اتروانی باقی رہ گئی ہے " ناجی نے کہا ۔ ناجی کو باہر آہٹ سنائی دی ناجی نے دور سے سلطان
صالح الدین ایوبی کے خیمے کی طرف دیکھا ،پردے گرے ہوئے تھے اور سپاہی کھڑے تھے اس نے اندر جا کر اوروش سے
کہا" اب میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میری زکوئی نے بت توڑ ڈاال ہے"٭٭٭٭٭٭٭
رات کا آخری پہر تھا جب زکوئی سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے سے باہر نکلی ناجی کے خیمے میں جانے کے بجائے
وہ دوسری طرف چلی گئی راستے میں ایک آدمی کھڑا تھا جو سر سے پاؤں تک ایک ہی لبادے میں چھپا ہوا تھا اس نے
دھیمی سی آواز میں زکوئئ کو پکارا وہ اس آدمی کے پاس چلی گئی وہ اسکو خیمے میں لے گیا بہت دیر بعد وہ اس خیمے
سے نکلی اور ناجی کے خیمے کا رخ کیا ناجی اس وقت تک جاگ رہا تھا اور کئی بار سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے
کی طرف باہر نکل کر دیکھ چکا تھا کہ زکوئی نے سلطان صالح الدین ایوبی کو پھانس لیا ہے اور اسے آسمان کی بلندیوں
سے گھسیٹ کر ناجی کی پست ذھنیت میں لے آئی "،،،اوروش رات بہت ہوگئی ہے وہ ابھی تک واپس نہیں آئی" ناجی نے
کہا ۔۔۔۔۔" وہ اب آئے گی بھی نہیں ،ایسے ھیرے کو کوئی شہزادہ واپس نہیں کرتا وہ اسے اپنے ساتھ لے جائے گا تم نے
اس پر بھی غور کیا ہے۔۔؟" اوروش نے کہا
نہیں میں نے اپنی چال کا یہ پہلو تو سوچا ہی نہیں تھا " ناجی نے کہا "
کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ امیر مصر زکوئی کے ساتھ شادی کر لیں اس صورت میں لڑکی ہمارے کام کی نہیں رہے گی" اوروش نے
کہا ۔" وہ ہے تو ھوشیار ۔۔۔ مگر رقاصہ کا کیا بھروسہ ،،وہ رقاصہ کی بیٹی ہے اور تجربہ کار بھی۔۔۔۔ دھوکہ بھی دے
سکتی ہے۔۔" ناجی نے کہا ،،،وہ گہرئ سوچ میں تھا کہ زکوئی خیمے میں داخل ہوئی،اس نے ہنس کر کہا " اپنے امیر مصر
"کا وزن کرو الؤ اتنا سونا آپ نے میرا یہی انعام مقرر کیا تھا نا۔۔؟
داستان ایمان فروشوں کی ۔۔
)جب زکوئی سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی(
قسط 8
پہلے بتاو ہوا کیا" ناجی نے بے قراری سے کہا ۔۔۔۔۔ " جو آپ چاہتے تھے ۔۔ آپکو یہ کس نے بتایا کہ صالح الدین پتھر "
ہے فوالد ہے اور وہ مسلمانوں کے لیے اللہ کا سایہ ہے " اس نے زمین پر پاؤں کا ٹھڈ مار کر کہا " وہ اس ریت سے زیادہ
" بےبس ہے جس کو ہوا کے جھونکے اڑاتے پھرتے ہیں" زکوئی نے کہا۔۔۔۔۔۔۔
"تمہارے حسن کے جادو اور زبان کے طلسم نے اسے ریت بنایا ورنہ یہ کمبخت چٹان ہے
اوروش نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔"ہاں چٹان تھا لیکن اب رتیال ٹیال بھی نہیں " زکوئی نے کہا
میرے متعلق کوئی بات ہوئی"؟ ناجی نے کہا ۔۔۔۔۔۔" ہاں پوچھ رہا تھا کہ ناجی کیسا انسان ہے میں نے کہا کہ مصر میں "
اگر آپ کو کسی پر بھروسہ کرنا چاکیے تو وہ ناجی ہے اس نے کہا کہ تم کس طرح ناجی کو جانتی ہو میں نے کہا کہ وہ
میرے باپ کے گہرے دوست ہیں ہمارے گھر گئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ میں سلطان صالح الدین ایوبی کا غالم ہوں مجھے
سمندر میں کودنے کا حکم دینگے تو میں کود جاؤنگا پھر اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم باعصمت لڑکی ہو ،میں نے کہا میں
آپکی لونڈی ہوں آپکا ہر حکم سر آنکھوں پر ۔ کہنے لگا کہ کچھ دیر میرے پاس بیٹھو میں بیٹھ گئی ،پھر وہ اگر پتھر تھا تو
موم بن گیا اور میں نے موم کو اپنے سانچے میں ڈھال لیا ،اس سے رخصت ہونے لگی تو اس نے مجھ سے معافی مانگی ،
کہنے لگا میں نے زندگی میں پہال گناہ کیا ہے ،میں نے کہا یہ گناہ نہیں آپ نے میرے ساتھ کوئی دھوکہ نہیں کیا زبردستی
نہیں کی مجھے بادشاہوں کی طرح حکم دے کر نہیں بلوایا ،میں خود آئی تھی اور پھر بھی آؤنگی۔" زکوئی نے ہر بات اس
طرح کھل کر سنائی جس طرح اس کا جسم عریاں تھا ناجی نے جوش مسرت سے اسے اپنے بازوؤں میں لے لیا اوروش زکوئی
کو خراج تحسین اور ناجی کو مبارک باد دے کر خیمے سے نکل گیا ۔
٭٭٭ ا؎؎؎؎ا٭٭٭
صحرا کی اس پراسرار رات کی کوکھ سے جس صبح نے جنم لیا وہ کسی بھی صحرائی صبح سے مختلف نہیں تھی مگر اس
صبح کے اجالے نے اپنے تاریک سینے میں ایک راز چھپا لیا تھا جس کی قیمت اس سلطنت اسالمیہ جتنی تھی جس کے
قیام اور استحکام کا خواب سلطان صالح الدین ایوبی نے دیکھا اور اس کی تعبیر کا عزم لیکر جوان ہوا ،گزشتہ رات اس
صحرا میں جو واقعہ ہوا اس کے 2پہلو تھے ایک پہلو سے ناجی اور اوروش واقف تھے دوسرے سے سلطان صالح الدین ایوبی
کا محافظ دستہ واقف تھا اور سلطان صالح الدین ایوبی اس کا سراغ رساں اور جاسوس علی بن سفیان اور زکوئی تین ایسے
افراد تھے جو اس واقعے کے دونوں پہلوں سے واقف تھے ،سلطان صالح الدین ایوبی اور اس کے سٹاف کو ناجی نے نہایت
ہی شان اور عزت کے ساتھ رخصت کیا ،سوڈانی فوج دو قطاروں میں کھڑی " سلطان صالح الدین ایوبی زندباد" کے نعرے لگا
رہی تھی ،سلطان صالح الدین ایوبی نے نعروں کے جواب میں ہاتھ لہرانے مسکرانے اور دیگر تکلفات کی پرواہ نہیں کی ناجی
سے ہاتھ مالیا اور اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اسکے پیچھے اپنے محافظ اور دیگر سٹاف کو بھی اپنے گھوڑے دوڑانے پڑے اپنے
مرکزی دفتر پہنچ کر وہ علی بن سفیان اور اپنے نائب کو اندر لے گیا اور دروازہ بند کردیا وہ سارا دن کمرے میں بند رہے
سورج غروب ہوا تاریکی چھا گئی کمرے کے اندر کھانا تو دور پانی بھی نہیں گیا ،رات خاصی گزر چکی تھی جب وہ تینوں
کمرے سے نکلے اور اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے علی بن سفیان ان سے الگ ہوا تو محافظ دوستوں کے ایک کمانڈر نے
اسے روکا اور کہا۔۔۔
محترم ۔۔! ہمارا فرض ہے کہ حکم مانیں اور زبانیں بند رکھیں لیکن میرے دستے میں ایک مایوسی پھیل گئی ہے خود میں "
"بھی اس کا شکار ہوا ہوں
کیسی مایوسی " علی بن سفیان نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ "
کمانڈر نے کہا "محافظ کہتے ہیں کہ فوج کو اگر شراب پینے کی اجازت ہے تو ہمیں اس سے کیوں منع کیا گیا ہے اگر آپ
میری شکایت کو گستاخی سمجھیں تو سزا دے دیں لیکن میری شکایت سنیں ہم اپنے امیر کو اللہ کا برگزیدہ انسان
"،،،،،،سمجھتے تھے اور اس پر دل و جان سے فدا تھے مگر رات
مگر رات کو اسکے خیمے میں ایک رقاصہ گئی" علی بن سفیان نے کمانڈر کی بات مکمل کرتے ہوئے کہا " تم نے کوئی "
گستاخی نہیں کی ،گناہ امیر کریں یا غالم ,سزا میں کوئی فرق نہیں ،گناہ بہرحال گناہ ھہے میں یقین دالتا ہوں آپ کو کہ
امیر مصر اور رقاصہ کے پچھلی رات کی مالقات میں گناہ کا کوئی عنصر نہیں کوئی تعلق نہیں ،،یہ کیا تھا۔۔؟ ابھی میں تم
کو نہیں بتاؤنگا آہستہ آہستہ وقت گزرتے ہوئے تم سب کو پتہ چل جائے گا کہ رات کو کیا کوا تھا " علی بن سفیان نے
کمانڈر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا میری بات غور سے سنو عامر بن صالح ۔ تم پرانے عسکری ہو اچھی طرح جانتے
ہو کہ فوج اور فوج کے سربراہوں کے کچھ راز ہوتے ہیں جن کی حفاظت ہم سب کا فرض ہے رقاصہ کا امیر مصر کے خیمے
میں جانا بھی ایک راز ہے اپنے جانبازوں کو شک میں نہ پڑنے دو اور کسی سے ذکر تک نہ ہو کہ رات کو کیا ہوا تھا"
علی بن سفیان نے کہا
یہ کمانڈر پرانا تھا اور علی بن سفیان کی قابلیت سے آگاہ تھا سو اس نے اپنے دستے کے تمام شکوک رفو کیئے اگلے روز
سلطان صالح الدین ایوبی دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے کہ سلطان صالح الدین ایوبی کو اطالع دی گئی کہ ناجی آئے ہیں ،
سلطان صالح الدین ایوبی کھانے سے فارغ ہوکر ناجی سے ملے ،ناجی کا چہرہ بتا رہا تھا کہ غصہ میں ہے اور گھبرایا ہوا
ہے اس نے ہکالتے ہوئے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قابل صدا احترام امیر مصر۔۔۔کیا یہ حکم آپ نے جاری کیا کے کہ سوڈانی فوج کی پچاس ہزار نفری مصر کی اس فوج میں "
" مدغم کردی جائے جو حال ہی میں تیار ہوئی ہے
ہاں ناجی میں نے کل سارا دن اور رات کا کچھ حصہ صرف کر کہ اور بڑی گہری سوچ و بچار کے بعد یہ فیصلہ تحریر کیا "
ہے کہ جس فوج کے تم ساالر ہو اسے مصر کی فوج میں اس طرح مدغم کردیا جائے کہ ہر دستے میں سوڈانیوں کی نفری
صرف دس فیصد ہو اور تمہیں یہ حکم بھی مل چکا ہوگا کہ اب تم اس فوج کے ساالر نہیں ہوگے تم فوج کے مرکزی دفتر
،میں آجاؤگے " سلطان صالح الدین ایوبی نے تحمل سے جواب دیا
عالی مقام مجھے کس جرم کی سزا دی جارہی ہے" ناجی نے کہا "
اگر تمہیں یہ فیصلہ پسند نہیں تو فوج سے الگ ہو جاؤ" سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا "
معلوم ہوتا ہے میرے خالف سازش کردی گئی ہے آپ کو بلند دماغ اور گہری نظر سے چھان بین کرنی چاہیے مرکز میں "
میرے بہت سے دشمن ہیں" ناجی نے کہا
میرے دوست میں نے یہ فیصلہ صرف اس لیئے کیا کہ میری انتظامیہ اور فوج سے سازشوں کا خطرہ ہمیشہ کے لیے نکل "
ادنی کیوں نہ ہو وہ
جاۓ اور میں نے یہ فیصلہ اس لیئے کیا ہے کہ کسی کا عہدہ کتنا ہی کیوں نہ بلند ہو اور کتنا ہی
ٰ
شراب نہ پیئے ھلڑ بازی نہ کرے اور فوجی جشنوں میں ناچ گانے نہ ہوں" صالح الدین ایوبی نے کہا۔
لیکن عالی جاہ۔۔۔ میں تو حضور سے اجازت لی تھی" ناجی نے کہا "
میں نے شراب اور ناچ گانے کی اجازت صرف اس لیئے دی تھی کہ اس فوج کی اصل حالت میں دیکھ سکوں جسے تم "
ملت اسالمیہ کا فوج کہتے ہو ،میں پچاس ہزار نفری کو برطرف نہیں کر سکتا مصری فوج میں اس کو مدغم کر کہ اسکے
کردار کو سدھار لونگا اور یہ بھی سن لو کہ ہم میں کوئی مصری سوڈانی شامی عجمی نہیں ہے ہم سب مسلمان ہیں ہمارا
جھنڈا ایک اور مذہب ایک ہے " سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا
امیر عالی مرتبت نے یہ تو سوچا ہوتا کہ میری کیا عزت رہ جائے گی" ناجی نے کہا "
جس کے تم اہل ہو ،اپنی ماضی پر ہی نظر ڈالو ضروری نہیں کہ اپنی کارستانیوں کی داستانیں مجھ سے لی سنو فورا ً واپس "
جاؤ اور اپنی فوج کی نفری سامان جانور سامان خوردونوش وغیرہ کے کاغزات تیار کر کہ میرے نائب کے حوالے کرو سات دن
کے اندر اندر میرے حکم کی تعمیل ضروری ہونی چاھیے" سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا
.............ناجی نے کچھ کہنا چاہا لیکن سلطان صالح الدین ایوبی مالقات کے کمرے سے باہر نکل گئے
یہ بات ناجی کے خفیہ حرم میں پہنچ گئی تھی کہ زکوئی کو شاہ مصر نے رات بھر شرف بازیابی بخشا ہے ،زکوئی کے
خالف حسد کی آگ پہلے ہی پھیلی ہوئی تھی ،اسے آئے ابھی تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا لیکن آتے ہی ناجی نے اس کو اپنے
پاس رکھا تھا ،اسے زرا سی دیر کے لیے بھی اس حرم میں جانے نہیں دیتا جہاں ناجی کی دلچسپ ناچنے والی لڑکیاں رہتی
تھیں زکوئی کو اس نے الگ کمرہ دیا تھا ،انہیں یہ تو معلوم نہ تھا کہ ناجی زکوئی کو صالح الدین کو موم کرنے کی ٹرینگ
دے رہا ہے اور کس بڑے تخریبی منصوبے پر کام کر رہا ہے ،یہ رقاصائیں بس یہی دیکھ کر جل بھن گئی تھیں کہ زکوئی نے
ناجی پر قبضہ کرلیا تھا ،اور ناجی کے دل میں ان کے خالف نفرت پیدا کردی گئی ہے ،حرم کی دو لڑکیاں زکوئی کو ٹھکانے
لگانے کی سوچ رہی تھیں ،اب انہوں نے دیکھا کہ زکوئی کو امیر مصر نے بھی رات بھر اپنے خیمے میں رکھا تو وہ پاگل ہو
گئیں ،اس کو ٹھکانے لگانے کا واحد طریقہ قتل تھا ،قتل کے دو ہی طریقے ہو سکتے تھے زہر یا کرائے کے قاتل۔ جو زکوئی
کو سوتے ہوئے ہی قتل کردیں ،دونوں ہی طریقے ناممکن لگ رہے تھے کیونکہ زکوئی باہر نہیں نکلتی تھی اور اندر جانے تک
،اسکو رسائی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا
ان دونوں نے حرم کی سب سے زیادہ ہوشیار چاالک مالزمہ کو اعتماد میں لیا تھا ،اسے انعام و اکرام دیتی رہتی تھیں ،جب
حسد کی انتہا نے انکی آنکھوں میں خون اتار دیا تو انہوں نے اس مالزمہ کو منہ مانگا انعام دے کر اپنا مدعا بیان کیا ،یہ
مالزمہ بڑی خرانٹ اور منجھی ہوئی عورت تھی ،اس نے کہا کہ ساالر کی رہائشگاہ میں جاکر زکوئی کو زہر دینا مشکل نہیں،
موقعہ محل دیکھ کر اسکو خنجر سے قتل کیا جاسکتا ہے اس کے لیے وقت چاھیے اس نے وعدہ کیا کہ وہ زکوئی کی نقل
وحرکت پر نظر رکھے گی ہوسکتا ہے کوئی موقعہ مل جائے ،اس جرائم پیشہ عورت نے یہ بھی کہا کہ اگر موقعہ نہیں مال
تو حشیشن ) ذکر پہلے ہو چکا ہے) بلیٹ کی مدد لی جا سکتی ھے مگر وہ معاوضہ بہت زیادہ لیتے ہیں دونوں لڑکیوں نے
،اسکو یقین دالیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ معاوضہ دے سکتی ہیں
ناجی اپنے کمرے میں بہت غصے کے عالم میں ٹہل رہا تھا زکوئی اس کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اس کا
،غصہ مزید بڑھتا چال جا رہا تھا
آپ مجھے اسکے پاس جانے دیں میں اس کو شیشے میں اتار لونگی" زکوئی نے کہا "
بیکار ہے ،،،،،،وہ کمبخت حکم نامہ جاری کرچکا ہے ،جس پر عمل بھی ہوچکا ہے مجھے اس نے کہیں کا نہیں رہنے دیا "
،اس پر تمہارا جادو نہیں چل سکا مجھے معلوم ہے میرے خالف سازش کرنے والے لوگ کون ہیں وہ میری ابھرتی ہوئی
حیثیت سے حسد محسوس کر رہے ہیں میں امیر مصر بننے واال تھا ،یہاں کے حکمرانوں پر میں نے حکومت کی ہے حاالنکہ
میں معمولی سا ساالر تھا اب میں ساالر بھی نہیں رہا "،ناجی نے دربان کو بال کر کہا کہ اوورش کو بالئے ،اس کا ہمراز اور
نائب آیا تو اس نے بھی اسی موضوع پر بات کی اسے وہ کوئی نئی خبر نہیں سنا رہا تھا ،اوورش کے ساتھ وہ صالح الدین
کے نئے حکم نامے پر تفصیلی تبادلہ خیال کرچکا تھا مگر دونوں اسکے خالف کوئی تفصیلی کاروائی نہیں سوچ سکے تھے اب
" ناجی کے دماغ میں جوابی کاروائی آگئی تھی اس نے اوورش کو کہا " میں نے جوابی کاروائی سوچ لی ہے
کیا " اوورش نے کہا "
بغاوت " ناجی نے کہا اور اوورش اسکو چپ چاپ دیکھتا رہا۔ ناجی نے اس کو کہا " تم حیران ہو گئے ہو کیا تمہیں "
شک ہے کہ یہ 50ہزار سوڈانی فوج ہماری وفادار نہیں۔۔۔؟ کیا سلطان کے مقابلے میں مجھے اور تمھیں اپنا ساالر اور خیر
خواہ نہیں سمجھتی ۔۔؟ کیا تم اس فوج کو یہ کہہ کر بغاوت پر آمادہ نہیں کر سکتے کہ تمہیں مصر کا غالم بنایا جا رہا ہے
" مصر تمہارا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
میں نے اس اقدام پر غور نہیں کیا تھا بغاوت کا انتظام ایک اشارے پر ہو سکتا ہے لیکن مصر کی نئی فوج بغاوت کو دبا "
سکتی ہے اور اس نئی فوج کو کمک بھی مل سکتی ہے ،حکومت سے ٹکر لینے سے پہلے ہمیں ہر پہلو پر غور کرنا
چاہیے" اوورش نے کہا
میں غور کرچکا ہوں میں عیسائی بادشاھوں کو مدد کے لیے بال رہا ہوں ،تم دو پیامبر تیار کرو انہیں بہت دور جانا لے آؤ "
میری بات بہت غور سے سنو ،،زکوئی تم اپنے کمرے میں چلی جاؤ " ناجی نے کہا زکوئی اپنے کمرے میں چلی گئی اور وہ
دونوں ساری رات اپنے کمرے میں بیٹھے رھے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
داستان ایمان فروشوں کی ۔۔
)جب زکوئی سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی (
قسط ،،،،،، 9
سلطان صالح الدین ایوبی نے دونوں فوجوں کو مدغم کرنے کا دورانیہ 7دن رکھا تھا ،کاغذی کاروائی ہوتی رہی ناجی پوری
طرح سے تعاون کرتا رھا 7روز گزر چکے تھے ناجی ایک بار پھر سلطان صالح الدین ایوبی سے مال لیکن کوی شکایت نہیں
کی ،تفصیلی ریپورٹ دے کر کہا کہ سات دن میں دونوں فوجیں ایک ہوجائیں گی ،سلطان صالح الدین ایوبی کے نایئبین نے
بھی یقین دالیا کہ ناجی ایمانداری سے تعاون کر رہا ھے مگر علی بن سفیان کی رپورٹ کسی حد تک پریشان کن تھی ،
اسکے انٹیلیجنس نے رپورٹ دی تھی کہ سوڈانی فوج میں کسی حد تک بے اطمینانی اور ابتری پائی جا رہی ہے وہ مصری
فوج میں مدغم ہونے پر خوش نہیں ان میں یہ افواہیں پھیالئی جا رہی تھیں کہ مصری فوج میں مدغم ہوکر انکی حیثیت
غالموں جیسی لو جائے گی ،انکو مال غنیمت بھی نہیں ملے گا اور ان سے بردباری کا کام لیا جائے گا اور سب سے بڑی
بات کہ انکو شراب نوشی کی اجازت نہیں ہوگی علی بن سفیان نے سلطان صالح الدین ایوبی تک یہ خبریں پہنچا دیں ،،
ایوبی نے اسے کہا کہ یہ لوگ طویل وقت سے عیش کی زندگی بسر کر رہے ہیں انکو یہ تبدیلی پسند نلیں آئے گی ،مجھے
،امید ھہے کہ وہ نئے حاالت اور ماحول کے عادی کوجائینگے
اس لڑکی سے مالقات ہوئی کہ نہیں " سلطان صالح الدین ایوبی نے پوچھا "
نہیں اس سے مالقات ممکن نظر نہیں آرہی میرے آدمی ناکام ہوچکے ہیں ناجی نے اسکو قید کر کہ رکھا ہے " علی بن "
سفیان نے کہا
اس سے اگلی رات کا ہے رات ابھی ابھی تاریک ہوئی تھی زکوئی اپنے کمرے میں تھی ناجی اور اوورش ساتھ والے کمرے
میں تھے اسے گھوڑوں کے قدموں کی آوازیں سنائی دیں اس نے پردہ لٹادیا ،باہر کے چراغوں کی روشنی میں اس کو دو گھوڑ
سوار دکھائی دیئے ۔ لباس سے وہ تاجر معلوم ہورھے تھے گھوڑوں سے اتر کر وہ ناجی کے کمرے کی طرف بڑھے تو انکی
چال بتا رہی تھی کہ یہ تاجر نہیں اتنے میں اوورش باہر نکال دونوں گھوڑ سوار اسکو دیکھ کر رک گیے اور اوورش کو سپاہیوں
کے انداز سے سالم کیا ،اوورش نے ان کے گرد گھوم کر انکا جائزہ لیا اور پھر کہا کہ اپنے ہتھیار دکھاؤ دونوں نے پھرتی سے
چغے کھولے اور ہتھیار دکھا دیئے انکے پاس چھوٹی چھوٹی تلواریں اور ایک ایک نیزہ تھا اوورش انکو کمرے کے اندر لیے گیا
دربان باہر کھڑا تھا
زکوئی گہری سوچ میں پڑ گئی وہ کمرے سے نکلی اور ناجی کے کمرے کی طرف بڑھ گئی
مگر دربان نے اس کو دروازے پر لی روکا اور کہا کہ اسے حکم مال ہے کہ کسی کو اندر جانے نہ دیں زکوئی کو وہاں ایسی
حیثیت حاصل ہوئی تھی کہ وہ کمانڈروں پر بھی حکم چالیا کرتی تھی ۔ دربان کے کہنے سے وہ سمجھ گئی کہ کوئی خاص
بات لے اسے یاد آیا کہ ناجی نے اسکی موجودگی میں اوورش سے کہا تھا میں عیسائی بادشاہوں کو مدد کے لیے بال رہا ہوں
،تم دو پیامبر تیار کرو انھیں بہت دور جانا ھے آؤ میری بات بہت غور سے سنو اور پھر اس نے زکوئی کو اندر جانے کا کہا
اور ناجی پھر بغاوت کی باتیں کرنے لگا۔ یہ سب سوچ کر وہ اپنے کمرے میں واپس چلی گئی اسکے اور ناجی کے خاص
کمرے کے درمیان ایک دروازہ تھا جو دوسری طرف سے بند تھا اس نے اسی دروازے کے ساتھ کان لگا دیئے ،ادھر کی آوازیں
سنائی دے رھی تھیں پہلے تو اسے کوئی بات سمجھ نہیں آرہی تھی لیکن بعد میں اسکو ناجی کی آواز بڑی صا ٖف سنائی دے
رھی تھی
آبادیوں سے دور رہنا اگر کوئی شک میں پڑے تو سب سے پہلے اس پیغام کو غائب کرنا ،جان پر کھیل جانا جو بھی "
تمھارے راستے میں حائل ہو اس کو راستے سے ہٹا دینا تمھارا سفر 4دنوں کا ہے 3دن میں پہچنے کی کوشش کرنا سمت
یاد کرلو " " شمال مشرق" ناجی کہہ رہا تھا
دونوں آدمی باہر نکلے زکوئی بھی باہر نکلی اس نے دیکھا کہ دونوں سوار گھوڑوں پر سوار ہو رھے تھے ،ناجی اور اوورش
بھی باہر نکلے تھے وہ شاید ان کو الوادع کہنے کے لیے باہر کھڑے تھے گھڑ سوار بہت تیزی سے روانہ ہوئے ناجی نے زکوئی
کو بال کر کہا کہ میں باہر جا رہا ھوں ،کام بہت لمبا ہے دیر لگے گی تم آرام کر لو اگر اکیلے دل نہ لگے تو گھوم پھر
" لینا
ہاں جب سے آئی ہوں باہر ہی نہیں نکلی" زکوئی نے کہا "
ناجی اور اوورش بھی چلے گئے زکوئی نے چغہ پہنا کمر میں خنجر اڑسا اور حرم کی طرف چل پڑی وہ جگہ کچھ سو گز دور
تھی وہ ناجی پر یہ ظاہر کرانا چاہتی تھی کہ وہ حرم کے اندر ہی جا رہی ہے دربان کو بھی اس نے یہی بتایا حرم کے اندر
جب زکوئی داخل ہوئی تو حرم والیاں اسکو دیکھ کر حیران ہوئیں وہ پہلی بار وہاں آئی تھی سب نے اسکا استقبال کیا اور
اسکو پیار کیا ،ان دونوں لڑکیوں نے بھی اسکو
خوش آمدید کہا جو زکوئی کو قتل کرنا چاہتی تھیں زکوئی سب سے ملی اور سب کے ساتھ باتیں کیں پھر حرم سے باکر
نکلی وہ خرانٹ مالزمہ بھی وہیں تھی جس نے زکوئی کو قتل کرنا تھا اس نے زکوئی کو بڑے غور سے دیکھا اور زکوئی باہر
نکل گئی
حرم والے مکان اور ناجی کے رہائش گاہ کا درمیانی عالقہ اونچا نیچا تھا اور ویران ،زکوئی حرم سے نکلی تو ناجی کی
رھائشگاہ کے بجائے بہت تیز تیز دوسری سمت کی طرف چل پڑی ،ادھر ایک پگڈنڈی بھی تھی لیکن زکوئی ذرا اس سے دور
جا رہی تھی ،زکوئی سے 15۔ 20قدم دور ایک سایہ بھی چال جا رہا تھا وہ کوئی انسان ہو سکتا تھا لیکن سیاہ لبادے
میں لپٹے ہونے کی وجہ سے کوئی بھوت ہی لگ رہا تھا زکوئی کی رفتار تیز ہوئی تو اس بھوت نے بھی اپنی رفتار اور تیز
کردی ،آگے گھنی جھاڑیاں تھیں زکوئی ان میں سے روپوش ہوئی ،سیاہ بھوت بھی جھاڑیوں سے روپوش ہوگیا ۔ وہاں سے
کوئی اڑھائی 300سو گز دور سلطان صالح الدین کی رھائشگاہ تھی جس کے اردگرد فوج کے اعلی رتبوں کے افراد رھتے تھے
زکوئی کا رخ ادھر ہی تھا ،وہ جھاڑیوں سے نکلی ہی تھی کہ بائیں طرف سے سیاہ بھوت اٹھا چاندنی بڑی صاف تھی لیکن
پھر بھی اسکا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا اسکے پاؤں کی آہٹ بھی نہیں تھی بھوت کا ہاتھ اوپر اٹھا چاندنی میں خنجر چمکا اور
بجلی کی سی تیزی سے زکوئی کے بائیں کندھے اور گردن کے درمیان اتر گیا زکوئی کی کوئی چیخ نہیں نکلی ،خنجر اسکے
کندھے سے نکال دیا گیا ۔ زکوئی نے اتنا گہرا وار کھا کر اپنے کمر بند سے اپنا بھی خنجر نکاال ،بھوت نے اس پر دوسرا وار
کیا تو زکوئی نے اسکے خنجر والے بازو کو اپنے بازو سے روک کر اپنا خنجر بھوت کے سینے میں اتار دیا ۔ زکوئی کو چیخ
سنائی دی جو کسی عورت کی تھی۔ زکوئی نے اپنا خنجر کھینچ کر دوسرا وار کیا جو اسکے پیٹ میں پورا خنجر اتر گیا ۔
اسکے ساتھ ہی زکوئی کے اپنے پہلو میں بھی خنجر لگا لیکن وہ اتنا گہرا نہیں تھا ۔ اسکے ساتھ ہی حملہ کرنے والی عورت
چکرا کر گر گئی۔
زکوئی نے یہ نہیں دیکھا کہ اس پر حملہ کرنے واال کون تھا ۔ وہ دور پڑی اسکے جسم سے خون تیزی سے بہہ رہا تھا
سلطان صالح الدین کا مکان اسکو چاندنی میں نظر آنے لگا ،آدھا فاصلہ طے کر کہ زکوئی کو چکر آنے لگے اسکی رفتار سست
ھو گئی اس نے چالنا شروع کیا
"علی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایوبی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" علی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایوبی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "
سلطان صالح الدین ایوبی کے اس عظیم جاسوس زکوئی کے کپڑے خون سے سرخ ہونے لگے ،وہ بہت مشکل سے اپنے قدم
گھسیٹنے لگی تھی ،اس عظیم جاسوس کی منزل تھوڑی بہت ہی قریب تھی لیکن اس تک پہنچنا ممکن نظر نہیں آرہا تھا ،
زکوئی نے سلطان صالح الدین ایوبی کے لیے ایک قیمتی راز حاصل کیا تھا وہ مسلسل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔علی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایوبی کہہ کر
پکار رہی تھی ،قریب ہی ایک گشتی سنتری پھر رہا تھا اسے آواز سنائی دی تو وہ دوڑ کر وہاں پہنچ گیا ،زکوئی اس پر گر
پڑی اور کہا
"مجھے امیر مصر سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس پہنچا دو ۔۔۔۔۔۔۔۔جلدی۔۔۔۔۔بہت جلدی "
سنتری نے جب اسکا خون دیکھا تو اسکو پیٹھ پر الد کر دوڑ پڑا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سلطان صالح الدین ایوبی اپنے کمرے میں بیٹھا علی بن سفیان سے رپورٹ لے رہا تھا
اسکے دو نائب بھی موجود تھے یہ رپورٹیں کچھ اچھی نہیں تھیں ،علی بن سفیان نے بغاوت کے خدشے کا اظہار کیا تھا
جس پر غور ہورہا تھا ،اتنے میں دربان دوڑتا کوا آیا کہ ایک سپاہی ایک زخمی لڑکی کو اٹھاۓ باہر کھڑا ھے ،کہتا ھے یہ
لڑکی امیر مصر سے ملنا چاھتی ھے۔ یہ سنتے ہی علی بن سفیان کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح باہر دوڑا ،سلطان
صالح الدین ایوبی نے بھی جب یہ الفاظ سنے تو وہ بھی علی کے پیچھے دوڑا ،اتنے میں لڑکی کو اندر الیا گیا سلطان صالح
الدین ایوبی نے چیخ کر کہا " طبیب اور جراح کو جلدی سے بالؤ" لڑکی کو سلطان صالح الدین ایوبی نے اٹھا کر اپنے پلنگ
پوش پر لٹا دیا تھوڑے ہی وقت میں پلنگ پوش بھی خون سے سرخ ہو رھا تھا
کسی کو نا بالؤ میں اپنا فرض ادا کر چکی ہوں " لڑکی نے نخیف سی آواز میں کہا "
تمہیں زخمی کس نے کیا ہے زکوئی :علی نے کہا "
پہلے میری بات سن لو شمال مشرق کی طرف سوار دوڑا دو ،دو سوار جاتے نظر آئینگے دونوں کے چغے بادامی رنگ کے "
ہیں ،ایک کا گھوڑا بادامی اور دوسرے کا سیاہ ہے وہ تاجر لگتے ہیں ان کے پاس ساالر ناجی کا تحریری پیغام ہے جو
عیسائی بادشاہ فرینک کو بھیجا گیا ہے ۔ ناجی کی یہ سوڈانی فوج بغاوت کرے گی مجھے اور کچھ نہیں معلوم ،سلطان
آپکی سلطنت صحت خطرے میں ہے ان دو سواروں کو راستے میں ہی پکڑ لو۔ تفصیل ان کے پاس ہے " بولتے بولتے زکوئی
پر غشی طاری ہو گئی
دو طبیب آگئے انھوں نے خون بند کرنے کی کوشش کی زکوئی کے منہ میں دوائیاں ڈالیں جن کے اثر سے زکوئی پھر سے
بولنے کے قابل ہوئی ،مثال کے طور پر ناجی نے اوورش کے ساتھ کیا باتیں کیں ناجی نے زکوئی کو کیسے اپنے کمرے میں
جانے کو کہا ناجی کا غصہ اور بھاگ دوڑ دو سواروں کا آنا جانا وغیرہ ،پھر اس نے بتایا کہ اسکو یہ علم نہیں کہ اس پر
حملہ کرنے واال کون تھا ،وہ موقعہ موزوں دیکھ کر ادھر ہی آرہی تھی کہ پیچھے سے کسی نے خنجر گھونپ دیا اس نے اپنا
خنجر نکال کر اس پر حملہ کیا۔ حملہ آور کی چیخ بتا رہی تھی کہ وہ کوئی عورت تھی اس نے جگہ بتا دی تو اسی وقت
فوجی وہاں دوڑا دیئے گئے زکوئی نے کہا کہ وہ انسان زندہ نہیں ہوگا کیونکہ میں نے وار اسکے سینے اور پیٹ پر کیئے تھے
زکوئی کا خون نہیں رک رھا تھا زیادہ تر خون پہلے بہہ گیا تھا سلطان صالح الدین کا یہ جاسوس اپنی آخری سانسیں لے رہا
تھا اپنے فرض پر اپنی زندگی قربان ہو رہی تھی ،زکوئی نے امیر مصر سلطان صالح الدین کا ہاتھ پکڑا اور چوم کر کہا
اللہ آپکو اور آپکی سلطنت کو سالمت رکھے آپ شکست نہیں کھا سکتے ،مجھ سے زیادہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ سلطان "
ایوبی کا ایمان کتنا پختہ ہے " ،پھر اس نے علی بن سفیان سے کہا " علی۔۔۔۔! میں نے کوتاہی تو نہیں کی۔۔؟ آپ نے
جو فرض دیا تھا وہ میں نے پورا کردیا
تم نے اس سے زیادہ پورا کیا ہے ھمارے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ناجی اتنی خطرناک حد تک کاروائی کر "
سکتا کے اور تمھیں جان کی قربانی دینی پڑے گی میں نے تم کو صرف مخبری کے لیے وہاں بھیجا تھا" علی بن سفیان نے
کہا
اے کاش۔۔۔۔۔۔! میں مسلمان ہوتی ۔۔۔۔۔ زکوئی نے کہا اس کے آنسو نکل آئے" میرے اس کام کا جو بھی معاوضہ بنتا ہے "
" وہ میرے اندھے باپ اور صدا بیمار ماں کو دینا جن کی مجبوریوں نے مجھے بارہ سال کی عمر میں رقاصہ بنادیا
زکوئی کا سر ایک طرف ڈھلک گیا آنکھیں آدھی کھلی ھوئی تھیں اور اسکے ہونٹ نیم مسکرا رہے تھے طبیب نے نبض پر
ہاتھ رکھا اور سلطان کی طرف دیکھ کر سر ہال دیا زکوئی کی روح اسکے زخمی جسم سے آزاد ہوگئی تھی ،ایک غیر مسلم نے
اسالم کی عظمت اور سلطان سے وفاداری کی خاطر جان قربان کردی۔
سلطان صالح الدین نے کہا" یہ کسی بھی مذہب سے تھی زکوئی کو پورے اعزاز کے ساتھ دفن کرو اس نے اسالم ہی کے
" لیے جان قربان کی ہے اگر چہ یہ ہمیں دھوکہ بھی دے سکتی تھی
دربان نے اندر آکر کہا کہ باہر ایک عورت کی الش آگئی ہے جا کر دیکھا گیا تو وہ ایک ادھیڑ عمر عورت کی الش تھی جاۓ
وقوعہ سے دو خنجر ملے تھے اس عورت کو کوئی نہیں پہچانتا تھا یہ ناجی کے حرم کی ایک مالزمہ تھی جس کو انعام کی
اللچ نے زکوئی پر حملہ کرنے پر مجبور کیا رات کو ہی زکوئی کو فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا اور مالزمہ کی
الش گھڑا کھود کر دفنا دی گئی ،دونوں کو نہایت خفیہ انداز سے دفنا دیا گیا ،جب تدفین ہو رہی تھی تو سلطان صالح
الدین نے نہایت اعلی قسم کے آٹھ جوان گھوڑے منگواۓ آٹھ جوان منگوائے گئے ان کو علی بن سفیان کی کمان میں ناجی
کے ان دو گھڑ سواروں کے پیچھے دوڑا دیا گیا جو ناجی کا تحریری پیغام عیسائی بادشاہ کو پہنچا رھے تھے۔۔۔۔۔۔۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زکوئی کون تھی۔۔۔۔؟ وہ مراکش کی ایک رقاصہ تھی کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ اسکا مذہب کیا تھا وہ مسلمان نہیں
تھی وہ عیسائی بھی نہیں تھی۔۔
جیسا کہ کہا گیا ہے کہ علی بن سفیان سلطان کے انٹیلیجنس ) جاسوسی اور سراغ رسانی ( کا سربراہ تھا اور اسے
دوسروں کے راز معلوم کرنے کے کئی ڈھنگ اختیار کرنے پڑتے تھے ،صالح الدین اسکو اپنے ساتھ مصر الیا تھا یہاں آکر معلوم
ھوا کہ یہاں کا ساالر ناجی نہایت ہی شیطان اور سازشی ہے اسکے اندرونی حاالت معلوم کرنے کے لیے علی نے جاسوسوں کا
ایک جال بچھا دیا ۔۔ اس اقدام سے علی بن سفیان کو ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ ناجی حشیشن ) پہلے ذکر ہوا ہے بلیٹ
( کی طرح اپنے مخالفین کو زہر اور حسین لڑکیوں سے پھنساتا اور اپنا گرویدہ بناتا اور مرواتا ہے ،علی بن سفیان نے تالش و
بسار کے بعد کسی کی مدد سے زکوئی کو مراکش سے حاصل کیا اور خود بردہ فروش کا روپ دھار کر ناجی کے ہاتھ بیچ دیا
زکوئی میں ایسا جادو تھا کہ ناجی اسکو سلطان کے پھنسانے کے لیے استعمال کرنا چاھتا تھا لیکن ناجی خود اس لڑکی کے ،
دام میں پھنس گیا اور پھنسا بھی ایسا کہ زکوئی کے سامنے وہ اپنے ساالر سے تمام باتیں کیا کرتا تھا ،ناجی نے زکوئی کو
جشن کی رات سلطان صالح الدین کے خیمے میں بھیج دیا اور اپنی اس فتح پر بہت خوش ہورھا تھا کہ اس نے صالح الدین
کا بت تھوڑ دیا ھے ،اب وہ اس لڑکی کے ہاتھوں شراب پال سکے گا اور سلطان کو اپنا گرویدہ بنا لے گا مگر ناجی کے تو
فرشتوں کو بھی علم نہیں ہوسکا کہ زکوئی سلطان کی جاسوسہ تھی ،زکوئ سلطان کو اسی رات رپورٹیں دیتی رہی اور سلطان
سے ہدایت لیتی رہی زکوئی سلطان کے خیمے سے نکل کر دوسری طرف چلی گئی تھی جہاں زکوئی کو سر منہ کپڑے میں
لپیٹا ایک آدمی مال تھا وہ آدمی علی بن سفیان تھا جس نے زکوئی کو مزید کچھ اور ہدایت دی تھیں ۔ اسکے بعد زکوئی
ناجی کے گھر سے باہر نہ نکل سکی جس کی وجہ سے وہ علی کو کوئی رپورٹ نہ دے سکی ۔ آخر کار اسکو اسی رات
موقع مل گیا اور وہ ایسی رپورٹیں لیکر پہنچی جس کا علم صرف اللہ ہی کو تھا ۔ یہ زکوئی کی بدنصیبی تھی کہ زکوئی کے
خالف حرم میں صرف اس لیئے سازش ہوئی کہ اس نے ناجی پر قبضہ جمایا لے یہ سازش کامیاب رہی اور زکوئی قتل ھوگئی
لیکن مرنے سے پہلے وہ تمام اطالع سلطان تک پہنچانے میں کامیاب رہی ۔
زکوئی کے مرنے کے کچھ عرصہ بعد وہ معاوضہ جو علی بن سفیان نے زکوئی کے ساتھ طے کیا تھا ۔ سلطان کی طرف سے
انعام اور وہ رقم جو علی بن سفیان نے ناجی سے بردہ فروش کی صورت میں ناجی سے وصول کی تھی ،مراکش میں زکوئی
کے معذور والدین کو ادا کردی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موت کے اس رات کے ستارے ٹوٹ گیے اور جب صبح ہوئی تو علی بن سفیان آٹھ سواروں کے ساتھ انتہائی تیز رفتاری سے
شمال مشرق کی طرف جا رہا تھا ،آبادیاں دور پیچھے ہٹتی جا رہی تھیں۔ علی کو معلوم تھا کہ شاہ فرینک کے ھیڈ کوارٹر
تک پہنچنےکا راستہ کونسا ہے ۔ رات انھوں نے گھوڑوں کو آرام دیا ۔ یہ عربی گھوڑے تھے جو تھکے ہوئے بھی تازہ دم لگتے
تھے ۔ دور کجھور کے چند درختوں میں علی کو 2گھوڑے جاتے نظر آئے ،علی نے اپنے دستے کو راستہ بدلنے اور اوٹ میں
ہونے کے لیے ٹیلوں کے ساتھ ساتھ ہو جانے کو کہا ،علی صحرا کا راز دان تھا بھٹکنے کا کوئی خدشہ نہ تھا ،علی نے
رفتار اور تیز کردی ،اگلے دو سواروں اور اس دستے کے بیچ کوئی 4میل کا فاصلہ رہ گیا ۔ یہ فاصلہ تو طے ہوا لیکن
گھوڑے تھک گئے تھے ،وہ جب کھجوروں کے درختوں تک پہنچے تو دو سوار کوئی دو میل دور مٹی کے ایک پہاڑی کے ساتھ
ساتھ جا رھے تھے ،ان کے گھوڑے بھی شاید تھک گئے تھے دونوں سوار اترے اور نظروں سے اوجھل ہوگئے
وہ پہاڑیوں کے اوٹ میں بیٹھ گئے ہیں" علی نے کہا اور راستہ بدل دیا ۔ فاصلہ کم ھوتا گیا اور جب فاصلہ کچھ سو گز "
رہ گیا تو وہ دونوں بندے اوٹ سے باہر آئے ،انہوں نے گھوڑوں کے سرپٹ دوڑنے کا شور سن لیا تھا ۔ وہ دوڑ کر غائب
ہوئے علی بن سفیان نے گھوڑے کو ایڑی لگائی ۔ تھکے ھوۓ گھوڑے نے وفاداری کا ثبوت دیا اور اپنی رفتار تیز کردی ۔ باقی
گھوڑے بھی تیز ھوگئے وہ جب پہاڑی کے اندر گئے تو دونوں سوار نکل چکے تھے مگر زیادہ دور نہیں گئے تھے ۔ وہ شاید
گھبرا بھی گئے تھے آگے ریتیلی چٹانیں بھی تھیں ۔ انھیں راستہ نہیں مل رھا تھا کبھی دائیں جاتے کبھی بائیں ۔علی بن
سفیان نے اپنے گھوڑے ایک صف میں پھیال دئے اور بھاگنے والوں سے ایک سو گز دور جا پہنچا ۔ ایک تیر انداز نے دوڑتے
ہوئے گھوڑے سے تیر چالیا جو ایک گھوڑے کے ٹانگ میں جا لگا ۔ گھوڑا بے لگام ہوا۔ تھوڑی سی اور بھاگ دوڑ کے بعد وہ
دونوں گھیرے میں آگئے تھے اور انھوں نے ہتھیار ڈال دیئے ،سوال جواب پر انکوں نے جھوٹ بوال اور اپنے آپ کو تاجر ظاھر
کرنے لگے ،لیکن جیسے ہی تالشی لی گئی تو وہ تحریری پیغام مل گیا جو ناجی نے انکو دیا۔ ان دونوں کو حراست میں
لیا گیا۔ گھوڑوں کو آرام کا وقت دیا گیا ۔ اور پھر یہ دستہ واپس آگیا۔
سلطان صالح الدین ایوبی بڑی بے چینی سے ان کا انتظار کر رھا تھا ،دن گزر گیا رات بھی گزرتی جا رہی تھی۔ آدھی رات
گزر گئی ،ایوبی لیٹ گیا ۔ اور اسکی آنکھ لگ گئی۔ سحر کے وقت دروازے پر ہلکے سے دستک پر ایوبی کی آنکھ کھل
گئی دوڑ کر دروازہ کھوال تو علی بن سفیان کھڑا تھا اسکے پیچھے آٹھ سوار اور وہ دو قیدی کھڑے تھے ۔ علی اور قیدیوں کو
سلطان نے اپنے سونے کے کمرے میں ہی باللیا علی سلطان کو ناجی کا پیغام سنانے لگا ۔ پہلے تو سلطان کے چہرے کا
رنگ ہی پیال پڑھ گیا پھر جیسے خون جوش مار کر سلطان کے چہرے اور آنکھوں میں چڑھ آیا ہو۔ ناجی کا پیغام خاصا طویل
تھا ناجی نے صلیبیوں کے بادشاہ فرینک کو لکھا تھا کہ وہ فالں دن اور فالں وقت یونانیوں رومیوں اور دیگر صلیبیوں کی بحریہ
سے بحیرہ روم کی طرف سے مصر میں فوجیں اتار کر حملہ کردیں ،حملے کی اطالع ملتے ہی 50ہزار سوڈانی فوج بھی امیر
مصر کی خالف بغاوت کردے گی ،مصر کی نئی فوج ایک ہی وقت میں بغاوت اور حملے کے جواب کی قابل نہیں ،اس کے
عوض ناجی نے تمام تر مصر یا مصر کے ایک بڑے حصے کی بادشاہت کی شرط رکھی تھی۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے
دونوں پیغام لیکر جانے والوں کو قید خانے میں ڈال دیا ،اور اسی وقت نئی مصری فوج سے ایک دستہ بھیج کر ناجی اور
ناجی کے نایئبین کو ان کے گھروں میں ہی نظر بند کردیا ۔ ناجی کے حرم کی تمام کی تمام لڑکیاں آزاد کردی گئیں ،ناجی
کے تمام خزانے کو سرکاری خزانے میں ڈال کر سرکاری خزانہ بنادیا گیا اور یہ تمام کاروائی خفیہ رکھی گئی ،سلطان صالح
الدین ایوبی نے علی کی مدد سے اس خط میں جو پکڑا گیا تھا حملے کی تاریخ مٹا کر اگلی تاریخ لکھ دی۔ دو ذہین فوجیوں
کو شاہ فرینک کی طرف روانہ کیا گیا ،ان دونوں فوجیوں کو یہ ظاھر کرنا تھا کہ وہ ناجی کے پیامبر ہیں ۔ سلطان صالح
،الدین ایوبی نے انکو روانہ کر کہ سوڈانی فوج کو مصری فوج میں مدغم کرنے کا حکم روک دیا
آٹھویں روز وہ دونوں پیامبر واپس آگئے اور شاہ فرنک کا جوابی خط جو اس نے ناجی کے نام لکھا تھا سلطان صالح الدین
ایوبی کو دیا ،شاہ فرنک نے لکھا تھا کہ حملے کی تاریخ سے دو دن قبل سوڈانی فوج بغاوت کردے ،تاکہ سلطان صالح
الدین ایوبی کو صلیبیوں کا حملہ روکنے کا ہوش تک نہ رھے ،علی بن سفیان نے ان دو پیامبروں کو سلطان صالح الدین
ایوبی کی اجازت سے نظر بند کردیا ،یہ نظربندی باعزت تھی ،جس میں دونوں کے آرام اور بہترین کھانوں کا خاص خیال رکھا
گیا ،یہ ایک احتیاطی تدابیر تھی کہ یہ اہم راز فاش نہ ہو ،سلطان صالح الدین ایوبی نے بحیرہ روم کے ساحل پر اپنی فوج
کو چھپا لیا جہاں صلیبیوں نے لنگرانداز ہوکر اپنی فوجیں اتارنی تھیں ،حملے میں ابھی کچھ دن باقی تھے۔۔
ایک مورخ سراج الدین نے لکھا ھے کہ سوڈانی فوج نے شاہ فرینک کے حملے سے پہلے ھی بغاوت کردی تھی ،جو سلطان
صالح الدین ایوبی نے طاقت سے نہیں بلکہ پیار ڈپلومیسی اور اچھے حسن سلوک سے بدل لی تھی ،بغاوت کی ناکامی کی
ایک وجہ یہ بھی تھی کہ باغیوں کو اپنا ساالر ناجی کہی بھی نظر نہیں آیا اور اسکا کوئی نائب بھی سامنے نہیں آیا ،،،،،وہ
،،سب تو قید میں تھے
مگر ایک اور مورخ ہیتاچی لکھتا ہے " سوڈانی فوج نے حملے کے وقت بغاوت کی تھی " تاہم یہ دونوں مورخ باقی تمام
واقعات پر متفق نظر آتے ہیں دونوں نے لکھا ہے کہ سلطان صالح الدین ایوبی نے ناجی اور اسکے نایئبین کو سزا میں موت
" کی سزا دے کر رات میں ہی گمنام قبروں میں دفن کرادیا
ان دونوں مؤرخوں اور ایک اور مؤرخ " لین پول" نے بھی صلیبیوں کے بحریہ کے اعداد و شمار ایک جیسے ہی لکھے ہیں وہ
لکھتے ہیں کہ خط میں دی ہوئی تاریخ کے عین مطابق صلیبیوں کی بحریہ جس میں فرینک کی یونان کی روم کی اور سسلی
کی بحریہ شامل تھی ،متحدہ کمان میں بحریہ روم میں نمودار ہوئی ،مورخین کے مطابق اس بحریہ میں جنگی جہازوں کی
تعداد 150تھی ،اسکے عالوہ 1جنگی جہاز بہت بڑا تھا ان میں مصر میں اتارنے کے لیے فوجیں تھیں اس فوج کا صلیبی
کمانڈر ایمئرک تھا جن بادبانی کشتیوں میں رسد تھی اسکی ٹھیک تعداد کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا ،جہاز دو قطاروں میں آرہے
تھے۔۔۔
سلطان صالح الدین ایوبی نے دفاع کی کمانڈ اپنے پاس رکھی ،سلطان صالح الدین ایوبی نے صلیبیوں کے بحریہ کو مزید قریب
آنے دیا دام بچھایا جا چکا تھا۔ سب سے پہلے بڑے جہاز لنگر انداز ہوئے ہی تھے کہ ان پر اچانک آگ برسنے لگی ،یہ
منجنیقوں سے پھینکے ہوئے شعلے تھے اور آگ کے گولے اور ایسے تیر بھی جن کے پچھلے حصے جلتے ہوئے شعلے کی مانند
تھے ،مسلمانوں کے اس برسائی ہوئی آگ نے صلیبیوں کے جہازوں کے بادبانوں کو آگ لگا دی ،جہاز لکڑی کے تھے جو فورا
جل اٹھے ،ادھر سے مسلمانوں کے چھپے ہوئے جہاز آگئے انھوں نے بھی آگ ہی برسائی ،یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے
بحیرہ روم جل رہا ھو ،صلیبیوں کے جہاز موڑ کر ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے اور ایک دوسرے کو خود ہی آگ لگانے لگے
جہازوں سے صلیبی فوج سمندر میں کھو رہی تھی ان میں سے جو سپاہی زندہ ساحل پر آرہے تھے وہ سلطان صالح الدین
ایوبی کے فوجیوں کے تیروں کا نشانہ بن رہے تھے
ادھر شیر اسالم نورالدین زنگی نے فرینک کی سلطنت پر حملہ کردیا فرینک نے اپنی فوج مصر خشکی کے ذریعے روانہ کردی
تھی ،فرینک اس وقت سمندر میں جنگی بیڑے کے ساتھ تھا جب اسکو اپنی سطنت پر حملے کی اطالع ملی تو وہ بڑی
،،،مشکل سے اپنی جان بچا کر بھاگ گیا لیکن جب وہ وہاں پہنچا تو ،وہاں کی دنیا بدل گئی تھی
بحیرہ روم میں صلیبیوں کا متحدہ بیڑہ تباہ ہوچکا تھا اور فوج جل اور ڈوب کر ختم ہورہی تھی ،صلیبیوں کا ایک کمانڈر
ایملرک بچ گیا اس نے ہتھیار ڈال کر صلح کی درخواست کی جو بہت بڑی رقم کے عوض منظور کی گئی ،یونانیوں اور سسلی
کے کچھ جہاز بچ گئے تھے ،سلطان صالح الدین ایوبی نے انکو جہاز واپس لے جانے کی اجازت دی مگر راستے میں ہی ایسا
طوفان آیا کہ تمام بچے کچھے جہاز وہیں غرق ہوئے
١٩دسمبر ١١٦٩کے روز صلیبیوں نے اپنی شکست پر دستخط کئے اور ،سلطان صالح الدین ایوبی کو تاوان ادا کردیا بیشتر
مؤرخین اور ماہرین حرب و ضرب نے ،سلطان صالح الدین ایوبی کے اس فتح کا سہرہ ،سلطان صالح الدین ایوبی کے
انٹیلیجنس کے سر باندھا ہے ،رقاصہ زکوئی کا ذکر اس دؤر کے ایک مراکشی واقعہ نگار اسد السدی نے کیا ہے ،اور علی بن
سفیان کا تعارف بھی اسی وقعہ نگار کی تحریر سے ہوا ہے ،یہ ایک ابتدا ہے۔ ،سلطان صالح الدین ایوبی کی زندگی اب
پہلے سے بھی زیادہ خطروں میں گھر رہی ہے۔۔۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔۔
قسط 10
ساتویں لڑکی
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
صلیبیوں کے بحری بیڑے اور افواج کو بحیرئہ روم میں غرق کر کے صالح الدین ایوبی ابھی مصر کے ساحلی عالقے میں ہی
موجود تھا ۔ سات دن گزر گئے تھے ۔ صلیبیوں سے تاوان وصول کیا جا چکا تھا ،مگر بحیرئہ روم میں ابھی تک بچے کچے
بحری جہازوں ،کشتیوں کو نگل اور انسانوں کو اُگل رہا تھا۔ صلیبی مالح اور سپاہ جلتے جہازوں سے سمندر میں کود گئے
تھے ۔ دور سمندر کے وسط میں سات روز بعد بھی چند ایک جہازوں کے بادبان پھڑپھڑاتے نظر آتے تھے ۔ ان میں کوئی
انسان نہیں تھا ۔ پھٹے ہوئے بادبانوں نے جہازوں کو سمندر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا ۔ صالح الدین ایوبی نے اِن کی
تالشی کیلئے کشتیاں روانہ کر دی تھیں اور ہدایت دی تھی کہ اگر کوئی جہاز یا کشتی کام کی ہو تو وہ رسوں سے گھسیٹ
الئیں اور جو اس قابل نہ ہوں ،اِ ن میں سے سامان اور کام کی دیگر چیزیں نکال الئیں ۔ کشتیاں چلی گئیں تھیں اور جہازوں
سے سامان الیا جا رہا تھا۔ ان میں زیادہ تر اسلحہ اور کھانے پینے کا سامان تھا یا الشیں ۔
سمندر میں الشوں کا یہ عالم تھا کہ لہریں انہیں اُٹھا ا ُٹھا کر ساحل پر پٹخ رہی تھیں ۔ ان میں کچھ تو جلی ہوئی تھیں اور
کچھ مچھلیوں کی کھائی ہوئی۔ بہت سی ایسی تھیں جن میں تیر پیوست تھے۔ صال ح الدین ایوبی نے صلیبیوں کے تیروں،
نیزوں ،تلواروں اور دیگر اسلحہ کا معائنہ بڑی غور سے کیا تھا اور انہیں اپنے اسلحہ کے ساتھ رکھ کر مضبوطی اور مار کا
مقابلہ کیا تھا زندہ لوگ بھی تختوں اور ٹوٹی ہوئی کشتیوں پر تیرتے ابھی سمندر سے باہر آرہے تھے ۔ ان بھوکے ،پیاسے ،
تھکے اور ہارے ہوئے لوگوں کو لہریں جہاں کہیں ساحل پر ال پھینکتی تھیں ،وہ ہیں نڈھال ہو کر گر پڑتے اور مسلمان انہیں
پکڑ التے تھے ۔ ساحل کی میلوں لمبائی میں یہی عالم تھا ۔ صالح الدین ایوبی نے اپنی سپاہ کو مصر کے سارے ساحل پر
پھیال دیا تھا اور انتظام کیا تھا کہ جہاں بھی کوئی قیدی سمندر سے نکلے ،اسے وہیں خشک کپڑے اور خوراک دی جائے اور
جو زخمی ہوں ان کی مرہم پٹی بھی وہیں کی جائے ۔ اس احتمام کے بعد قیدیوں کو ایک جگہ جمع کیا جا رہا تھا ۔
صالح الدین ایوبی گھوڑے پر سوار ساحلی عالقے میں گھوم پھر رہا تھا ۔ وہ اپنے خیمے سے کوئی دو میل دور نکل گیا
تھا ۔ آگے چٹانی عالقہ آ گیا ۔ چٹانوں کی ایک سمت اور عقب میں صحرا تھا ۔ یہ سر سبز صحرا تھا جہاں کھجور کے
عالوہ دوسری اقسام کے صحرائی درخت اور جھاڑیاں تھیں ۔ صالح الدین ایوبی گھوڑے سے اُترا اور پیدل چٹانوں کے دامن میں
چل پڑا ۔ محافظ دستے کے چار سوار اس کے ساتھ تھے ۔ اس نے اپنا گھوڑا محافظوں کے حوالے کیا اور انہیں وہیں ٹھہرنے
رفیق خاص بہاوالدین شداد بھی تھا ۔وہ اس معرکے سے ایک ہی روز
کو کہا۔ اس کے ساتھ تین ساالر تھے ۔ ان میں اس کا
ِ
پہلے عرب سے اس کے پاس آیا تھا ۔انہوں نے بھی گھوڑے کو محافظوں کے حوالے کیا اور سلطان کے ساتھ ساتھ چلنے لگے
۔ موسم سرد تھا ۔ سمندر میں تالطم نہیں تھا ۔ لہریں آتی تھیں اور چٹانوں سے دور ہی سے واپس چلی جاتی تھیں ۔ ایوبی
ٹہلتے ٹہلتے ُد ور نکل گیا اور محافظ دستے کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ۔ اس کے آگے ،پیچھے اور بائیں طرف اونچی نیچی
چٹانیں اور دائیں طرف ساحل کی ریت تھی۔ وہ ایک چٹان پر کھڑا ہوگیا ،جس کی بلندی دو اڑھائی گز تھی ۔ اس نے
بحیرئہ روم کی طرف دیکھا ۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے سمندر کی نیالہٹ سلطان ایوبی کی آنکھوں میں اُتر آئی ہو ۔ اس
کے چہرے پر فتح و نصرت کی مسرت تھی اور اس کی گردن کچھ زیادہ ہی تن گئی تھی ۔
اس نے ناک سکیڑ کر کپڑا ناک پر رکھ لیا ۔ بوال '' کس قدر تعفن ہے '' ............اس کی اور ساالروں کی
نظریں ساحل پر گھومنے لگیں ۔ پھڑپھڑانے کی آواز سنائی دی۔ پھر ہلکی ہلکی چیخیں سنائی دیں ۔ اوپر سے تین چار گدھ
پر پھیالئے اُترتے دکھائی دئیے اور چٹان کی اوٹ میں جدھر ساحل تھا ،اُترتے گئے ۔ ایوبی نے
کہا '' ....................الشیں ہیں'' ................اُدھر گیا تو پندرہ بیس گز دور گدھ تین الشوں
کو کھا رہے تھے ،ایک گدھ ایک انسانی کھوپڑی پنجوں میں دبوچ کر اُڑا اور جب فضا میں چکر کاٹا تو کھوپڑی اس کے
پنجوں سے چھوٹ گئی اور صالح الدین ایوبی کے سامنے آن گری۔ کھوپڑی کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں جیسے صالح الدین
ایوبی کو دیکھ رہی ہوں ۔ چہرے اور بالوں سے صاف پتہ چلتا تھا کہ کسی صلیبی کی کھوپڑی ہے۔ ایوبی کچھ دیر کھوپڑی کو
دیکھتا رہا۔ پھر اس نے اپنے ساالروں کی طرف دیکھا اور کہا '' ...............ان لوگوں کی کھوپڑی مسلمانوں کی
کھوپڑیوں سے بہتر ہیں ۔ یہ ان کھوپڑیوں کا کمال ہے کہ ہماری خالفت عورت اور شراب کی ندر ہوتی جا رہی ہے ''۔
ِ
سلطنت اسالمیہ کو ہڑپ کرتے چلے جارہے ہیں '' ۔ ایک ساالر نے کہا ۔''
صلیبی چوہوں کی طرح
اور ہمارے بادشاہ انہیں جزیہ دے رہے ہیں '' ...........شداد نے کہا '' ..........فلسطین پر صلیبی ''
قابض ہیں ۔
سلطان! کیا ہم اُمید رکھ سکتے ہیں کہ ہم فلسطین سے انہیں نکا ل سکیں گے ''۔
خدا کی ذات سے مایوس نہ ہو شداد '' ............صالح الدین ایوبی نے کہا ۔ ''
ہم اپنے بھائیوں کی ذات سے مایوس ہو چکے ہیں '' ............ایک اور ساالر بوال ۔ ''
تم ٹھیک کہتے ہو '' .........سلطان ایوبی نے کہا '' .........حملہ جو باہر سے ہوتا ہے ،اسے ہم ''
روک سکتے ہیں ۔ کیا تم میں سے کوئی سوچ بھی سکتا تھا کہ کفار کے اتنے بڑے بحری بیڑے کو تم اتنی تھوڑی طاقت سے
نذر آتش کر کے ڈبو سکو گے ؟ تم نے شاید اندازہ نہیں کیا کہ اس بیڑے میں جو لشکر آرہا تھا ،وہ سارے مصر پر مکھیوں
ِ
کی طرح چھا جاتا ۔ اللہ نے ہمیں ہمت دی اور ہم نے کھلے میدان میں نہیں بلکہ صرف گھات لگا کر اس لشکر کو سمندر
کی تہہ میں گم کر دیا ،مگر میرے دوستو ! حملہ جو اندر سے ہوتا ہے اسے تم اتنی آسانی سے نہیں روک سکتے ۔ جب
تمہارا اپنا بھائی تم پر وار کرے گا تو تم پہلے یہ سوچو گے کہ کیا تم پر واقعی بھائی نے وار کیا ہے ؟ تمہارے بازو میں
اسکے خالف تلوار اُٹھانے کی طاقت نہیں ہوگی ۔ اگر تلوار اُٹھاو گے اور اپنے بھائی سے تیغ آزمائی کرو گے تو دشمن موقع
غنیمت جان کر دونوں کو ختم کر دے گا ''۔
وہ آہستہ آہستہ ساحل پر چٹان کے ساتھ ساتھ جا رہا تھا ۔ چلتے چلتے ُرک گیا۔ جھک کر ریت سے کچھ اُٹھایا اور ہتھیلی
پر رکھ کر سب کو دکھایا ۔ یہ ہتھیلی جتنی بڑی صلیب تھی جو سیاہ لکڑی کی بنی ہوئی تھی ۔ اُس کے ساتھ ایک مضبوط
دھاگہ تھا ۔ ا ُس نے ان الشوں کے بکھرے ہوئے اعضاء کو دیکھا ،جنہیں گدھ کھا رہے تھے ۔ پھر کھوپڑی کو دیکھا جو گدھ
کے پنجوں سے اُس کے سامنے گری تھی ۔ وہ تیز تیز قدم اُٹھاتا کھوپڑی تک گیا ۔ تین گدھ کھوپڑی کی ملکیت پر لڑ رہے
تھے ۔ صالح الدین ایوبی کو دیکھ کر پرے چلے گئے ۔ سلطان ایوبی نے صلیب کھوپڑی پر رکھ دی اور دوڑ کر اپنے ساالروں
سے جا مال ۔ کہنے لگا ''........میں نے صلیبیوں کے ایک قیدی افسر سے باتیں کی تھیں۔ اس کے گلے میں بھی
صلیب تھی ۔ اس نے بتایا کہ صلیبی لشکر میں جو بھی بھرتی ہوتا ہے اس سے صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا جاتا ہے کہ
وہ صلیب کے نام پر جان کی بازی لگا کر لڑے گا اور وہ روئے زمین سے آخری مسلمان کو بھی ختم کر کے دم لے گا ۔ اس
حلف کے بعد ہر لشکری کے گلے میں صلیب لٹکا دی جاتی ہے ۔ یہ صلیب مجھے ریت سے ملی ہے۔ معلوم نہیں کس کی
تھی ۔ میں نے اس کھوپڑی پر رکھ دی ہے تا کہ اس کی روح صلیب کے بغیر نہ رہے ۔ اس نے صلیب کی خاطر جان دی
ہے۔ سپاہی کو سپاہی کے حلف کا احترام کرنا چاہیے ''۔
سلطان !'' …… شداد نے کہا …… '' یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ صلیبی یروشلم کے مسلمان باشندوں کا کتنا کچھ احترام''
کر رہے ہیں ۔ وہاں سے مسلمان بیوی بچوں کو ساتھ لے کر بھاگ رہے ہیں۔ ہماری بیٹیوں کی آبرو لوٹی جا رہی ہے ۔
ہمارے قیدیوں کو انہوں نے ابھی تک نہیں چھوڑا ۔ مسلمان جانوروں کی سی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ کیا ہم ان عیسائیوں
سے انتقام نہیں لیں گے ؟
انتقام نہیں '' ............صالح الدین ایوبی نے کہا '' .........ہم فلسطین لیں گے مگر فلسطین کے راستے ''
میں ہمارے اپنے حکمران حائل ہیں '' .....وہ چلتے چلتے ُرک گیا اور بوال '' .......کفار نے صلیب پر ہاتھ رکھ
ِ
سلطنت اسالمیہ کے خاتمے کا حلف ا ُٹھایا ہے ۔ میں نے اپنے اللہ کے حضور کھڑے ہو کر اور ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر
کر
ِ
سلطنت اسالمیہ کی سرحدیں اُفق تک لے جائوں گا مگر میرے رفیقو! مجھے اپنی
قسم کھائی ہے کہ فلسطین ضرور لوں گا اور
تاریخ کا مستقبل کچھ روشن نظر نہیں آتا ۔ ایک وقت تھا کہ عیسائی بادشاہ تھے اور ہم جنگجو۔ اب ہمارے بزرگ بادشاہ
بنتے جارہے ہیں اور عیسائی جنگجو۔ دونوں قوموں کا رحجان دیکھ کر میں کہہ رہا ہوں کہ ایک وقت آئے گا جب مسلمان
بادشاہ بن جائیں گے ،مگر عیسائی ان پر حکومت کریں گے ۔ مسلمان اسی میں بد مست رہیں گے کہ ہم بادشاہ ہیں ،آزاد
ہیں مگر وہ آزاد نہیں ہوں گے ۔ میں فلسطین لے لوں گا مگر مسلمانوں کا رحجان بتا رہا ہے کہ وہ فلسطین گنوا بیٹھیں
گے ۔ عیسائیوں کی کھوپڑی بڑی تیز ہے .....پچاس ہزار سوڈانی لشکر کون پال رہا تھا ! ہماری خالفت اپنی آستین میں
ناجی نام کا سانپ پالتی رہی ہے ۔ میں پہال امیر مصر ہوں جس نے دیکھا ہے کہ یہ لشکر ہمارے لیے نہ صرف بیکار ہے ،
بلکہ خطرناک بھی ہے ۔ اگر ناجی کا خط پکڑا نہ جاتا تو آج ہم سب اس لشکر کے ہاتھوں مارے جا چکے ہوتے یا اس کے
'' ........قیدی ہوتے
اچانک ہلکا سا زناٹہ سنائی دیا اور ایک تیر صالح الدین ایوبی کے دونوں پائوں کے درمیان ریت میں لگا ۔جدھر سے تیر آیا
.........تھا ،اِس طرف سلطان ایوبی کی پیٹھ تھی
ساالروں میں سے بھی کوئی اُدھر نہیں دیکھ رہا تھا ۔ سب نے بِدک کر اس طرف دیکھا ،جدھر سے تیر آیا تھا ۔ اُدھر .
نوکیلی چٹانیں تھیں ۔تینوں ساالر اور صالح الدین ایوبی دوڑ کر ایک ایسی چٹان کی اوٹ میں ہوگئے جو دیوار کی طرح عمودی
تھی ۔ انہیں توقع تھی کہ اور بھی تیر آئیں گے ۔ تیروں کے سامنے میدان میں کھڑے رہنا کوئی بہادری نہیں تھی ۔ شداد نے
منہ میں انگلیاں رکھ کر زور سے سیٹی بجائی ۔ محافظ دستہ تھوڑی دور تھا ۔ان کے گھوڑوں کے سرپٹ ٹاپوں کی آواز سنائی
دی ۔ اس کے ساتھ ہی تینوں ساالر اس طرف دوڑ پڑے جس طرف سے تیر آیا تھا۔ وہ بکھر کر چٹانوں پر چڑھ گئے ۔ چٹانیں
زیادہ اونچی نہیں تھیں ۔ صالح الدین ایوبی بھی ان کے پیچھے گیا۔ ایک ساالر نے اسے دیکھ لیا اور کہا '' .......
سلطان ! آپ سامنے نہ آئیں '' مگر سلطان ایوبی ُرکا نہیں ۔
محافظ پہنچ گئے ۔ صالح الدین ایوبی نے انہیں کہا '' ...........ہمارے گھوڑے یہیں چھوڑدو اور چٹانوں کے پیچھے
جائو ۔اُدھر سے ایک تیر آیا ہے ،جو کوئی نظر آئے اسے پکڑ الئو ''۔
سلطان ایوبی چٹان کے اوپر گیا تو اُسے اونچی نیچی چٹانیں ُدور ُدور تک پھیلی ہوئی نظر آئیں ۔ وہ اپنے ساالروں کو ساتھ
لیے پچھلی طرف ا ُتر گیا اور ہر طرف گھوم پھر کر اور چٹانوں پر چڑھ کر دیکھا ۔ کسی انسان کا نشان تک نظر نہ آیا ۔
محافظ چٹانی عالقے کے اندر ،اوپر اور اِدھر اُدھر گھوڑے دوڑا رہے تھے ۔ صالح الدین ایوبی نیچے اُتر کے وہاں گیا جہاں
ریت میں تیر گڑھا ہوا تھا ۔ اس نے اپنے رفیقوں کو بالیا اور تیر پر ہاتھ مارا ،تیر گر پڑا ۔ سلطان ایوبی نے
کہا ُ '' ........د ور سے آیا ہے اس لیے پائوں میں لگا ہے ،ورنہ گردن یا پیٹھ میں لگتا ۔ ریت میں بھی زیادہ نہیں
اُترا '' ...اس نے تیر ا ُٹھا کر دیکھا اور کہا '' ...صلیبیوں کا ہے ،حشیشین کا نہیں ''۔
سلطان کی جان خطرے میں ہے '' .........ایک ساالر نے کہا ۔''
اور ہمیشہ خطرے میں رہے گی '' ............صالح الدین ایوبی نے ہنس کر کہا ''.. ......میں بحیرئہ روم ''
میں کفار کی وہ کشتیاں دیکھنے نکال تھا جو مالحوں کے بغیر ڈول رہی ہیں ،مگر میرے عزیز دوستو! کبھی نہ سمجھنا کہ
صلیبیوں کی کشتی ڈول رہی ہے ،وہ پھر آئیں گے ۔ گھٹائوں کی طرح گرجتے آئیں گے اور برسیں گے بھی ،لیکن وہ زمین
کے نیچے سے اور پیٹھ کے پیچھے سے بھی وار کریں گے ۔ ہمیں اب صلیبیوں سے ایسی جنگ لڑنی ہے جو صرف فوجیں
فن حرب و ضرب کا نیا باب ہے ۔ اسے جاسوسوں کی
نہیں لڑیں گی ۔ میں جنگی تربیت میں ایک اضافہ کر رہا ہوں ۔ یہ ِ
جنگ کہتے ہیں ''۔
سلطان صالح الدین ایوبی تیر ہاتھ میں لیے گھوڑے پر سوار ہوگیا اور اپنے کیمپ کی طرف چل پڑا ۔ اس کے ساالر بھی
گھوڑوں پر سوار ہوگئے ۔ ان میں سے ایک نے سلطان کے دائیں طرف اپنا گھوڑا کر دیا ،ایک نے بائیں کو اور ایک نے اپنا
گھوڑا اس کے بالکل پیچھے اور قریب رکھا ،تا کہ کسی بھی طرف سے تیر آئے تو صالح الدین ایوبی تک نہ پہنچ سکے
صالح الدین ایوبی نے اس تیر پر ذرا سی بھی پریشانی کا اظہار نہ کیا جو کسی نے اسے قتل کرنے کیلئے چالیا تھا ۔اپنے
رفیق ساالروں کو اپنے خیمے میں بٹھائے ہوئے وہ بتا رہا تھا کہ جاسوس اور شب خون مارنے والے دستے کس قدر نقصان کرتے
ہیں ۔ وہ کہہ رہا تھا '' ..........میں علی بن سفیان کو ایک ہدایت دے چکا ہوں ،لیکن اس پر عمل درآمد نہیں
ہوسکا ،کیونکہ فورا ً ہی مجھے اس حملے کی خبر ملی اور عمل درآمد دھرا رہ گیا ۔ تم سب فوری طور پر یوں کرو کہ اپنے
سپاہیوں اور ان کے عہدے داروں میں سے ایسے افراد منتخب کرو جو دماغی اور جسمانی ًلحاظ سے مضبوط اور صحت مند ہوں
۔ باریک بین ،دور اندیش ،قوت فیصلہ رکھنے والے جانباز قسم کے آدمی چنو۔ میں نے علی کو ایسے آدمیوں کی جو صفات
بتائیں تھیں وہ سب سن لو ۔ اُن میں اونٹ کی مانند زیادہ سے زیادہ ِدن بھوک اور پیاس برداشت کرنے کی قوت ہو ۔ چیتے
کی طرح جھپٹنا جانتے ہوں ،عقاب کی طرح ان کی نظریں تیز ہوں ،خرگوش اور ہرن کی طرح دوڑ سکتے ہوں۔ مسلح دشمن
سے ہتھیار کے بغیر بھی لڑ سکیں ۔ ان میں شراب اور کسی دوسری نشہ آور چیز کی عادت نہ ہو۔ کسی اللچ میں نہ
آئیں ۔ عورت کتنی ہی حسین مل جائے اور زر و جواہرات کے انبار ان کے قدموں میں لگا دئیے جائیں ،وہ نظر اپنے فرض
.........پر رکھیں
داستان ایمان فروشوں کی ۔۔
ساتویں لڑکی
قسط 11
اپنے دوستوں اور ان کے کمان داروں کو خاص طور پر ذہن نشین کرائیں کہ عیسائی بڑی ہی خوب صورت اور جوان لڑکیوں کو
جاسوسی کے لیے اور فوجوں میں بے اطمینانی پھیالنے کے لیے اور عسکریوں کو جذبے کے لحاظ سے بیکار کرنے کے لیے
استعمال کر رہے ہیں .میں نے مسلمانوں میں یہ کمزوری دیکھی ہے کہ عورت کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔ میں مسلمان
عورت کو اس مقاصد کے لیے دشمن کے عالقے میں کبھی نہیں بھیجوں گا ۔ہم عصمتوں کے محافظ ہیں ,عصمت کو ہتھیار
نہیں بنائیں گے۔ علی بن سفیان نے چند ایک لڑکیاں رکھی ہوئی ہیں ،لیکن وہ مسلمان نہیں اور وہ عیسائی بھی نہیں ،مگر
میں عورت کا قائل نہیں''۔
محافظ دستے کا کمانڈر خیمے میں آیا اور اطالع دی کہ محافظ کچھ لڑکیوں اور آدمیوں کو ساتھ الئے ہیں۔ سلطان ایوبی باہر
نکال۔ اس کے تینوں ساالر بھی تھے۔ باہر پانچ آدمی کھڑے تھے ،جن کے لمبے چغے ،دستاریں اور ڈیل ڈول بتا رہی تھی کہ
تاجر ہیں اور سفر میں ہیں ۔ان کے ساتھ سات لڑکیاں تھیں۔ ساتوں جوان تھیں اور ایک سے ایک بڑھ کر خوب صورت۔ ان
محافظوں میں سے ایک نے جو سلطان پر تیر چالنے والے کی تالش میں گئے تھے بتایا تھا کہ انہوں نے تمام عالقہ چھان
مارا ،انہیں کوئی آدمی نظر نہیں آیا۔ دور پیچھے گئے تو یہ لوگ تین اونٹوں کے ساتھ ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے ۔
کیا ان کی تالشی لی ہے؟'' ایک ساالر نے پوچھا۔''
لی ہے '' ....محافظ نے جواب دیا '' ..یہ کہتے ہیں کہ تاجر ہیں۔ ان کا سارا سامان کھلوا کر دیکھا ہے۔ جامہ ''
تالشی بھی لی ہے۔ ان کے پاس ان خنجروں کے سوا اور کوئی ہتھیار نہیں '' اس نے پانچ خنجر سلطان ایوبی کے قدموں
میں رکھ دئیے ۔
ہم مراکش کے تاجر ہیں '' .ایک تاجر نے کہا '' .سکندریہ تک جائیں گے۔ دو روز گزرے ہمارا قیام یہاں سے دس ''
کوس پیچھے تھا ۔ پرسوں شام یہ لڑکیاں ہمارے پاس آئیں ۔ ان کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ِسسلی کی
رہنے والی ہیں ۔ انہیں عیسائی فوج کا ایک کماندار گھروں سے پکڑ کر ساتھ لے آیا اور ایک بحری جہاز میں سوار کیا ۔ ان
کے ماں باپ غریب ہیں ۔یہ کہتی ہیں کہ بے شمار جہاز اور کشتیاں چل پڑیں ۔ لڑکیوں والے جہاز میں چند اور کماندار قسم
کے آدمی تھے اور ا ُن کی فوج بھی تھی ۔ وہ سب ان لڑکیوں کے ساتھ شراب پی کر عیش و عشرت کرتے رہے ۔ اس
ساحل کے قریب آئے تو جہازوں پر آگ کے گولے گرنے لگے۔ تمام لوگ جہازوں سے سمندر میں کودنے لگے ۔ ان لڑکیوں کو
انہوں نے ایک کشتی میں بٹھا کر جہاز سے سمندر میں اُتار دیا ۔ یہ بتاتی ہیں کہ انہیں کشتی چالنی نہیں آتی تھی ۔ کشتی
سمندر میں ڈولتی اور بھٹکتی رہی ۔ پھر ایک روز خود ہی ساحل سے آ لگی ۔ ہمارا قیام ساحل کے ساتھ تھا ۔ یہ ہمارے
پاس آگئیں ۔ بہت ہی بُ ری حالت میں تھیں ۔ ہم نے انہیں پناہ میں لے لیا ۔ انہیں ہم دھتکار تو نہیں سکتے تھے ۔ ہمیں
کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ان کا کیا کریں ۔ پچھلے پڑائو سے یہاں تک انہیں ساتھ الئے ہیں ۔ یہ سوار آگئے اور ہمارے
امیر مصر
سامان کی تالشی لینے لگے ۔ ہم نے ان سے تالشی کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ سلطان صالح الدین ایوبی
ِ
کا حکم ہے ۔ ہم نے ان کی منت سماجت کی کہ ہمیں اپنے سلطان کے حضور لے چلو ۔ ہم عرض کریں گے کہ ان لڑکیوں
'' کو اپنی پناہ میں لے لیں ۔ ہم سفر میں ہیں ۔ انہیں کہاں کہاں لیے پھیریں گے
لڑکیوں سے پوچھا تو وہ ِس سلی کی زبان بول رہی تھیں ۔ وہ ڈری ڈری سی لگتی تھیں ۔ ان میں سے دو تین اکٹھی ہی
بولنے لگیں ۔ صالح الدین ایوبی نے تاجروں سے پوچھا کہ ان کی زبان کون سمجھتا ہے ؟ ایک نے بتایا کہ صرف میں
سمجھتا ہوں ۔ یہ التجا کر رہی ہے کہ سلطان انہیں پناہ میں لے لے ۔ کہتی ہیں کہ ہم تاجروں کے قافلے کے ساتھ نہیں
جائیں گی ،کہیں ایسا نہ ہو کہ راستے میں ڈاکو ہمیں اُٹھا کر لے جائیں ۔ اِدھر جنگ بھی ہو رہی ہے ۔ ہر طرف عیسائیوں
اور مسلمانوں کے سپاہی بھاگتے دوڑتے پھر رہے ہیں ۔ ہمیں سپاہیوں سے بہت ڈر آتا ہے ۔
ایک لڑکی نے کچھ کہا تو اس کی زبان جاننے والے تاجر نے سلطان ایوبی سے کہا ''........یہ کہتی ہے کہ ہمیں
مسلمانوں کے بادشاہ تک پہنچا دو ۔ ہو سکتا ہے اس کے دل میں رحم آجائے''۔
ایک اور لڑکی بول پڑی ۔ اس کی آواز رندھیائی ہوئی تھی۔ تاجر نے کہا ''.......یہ کہتی ہے کہ ہمیں عیسائی سپاہیوں
کے حوالے نہ کیا جائے ۔ میں مسلمان ہو جائوں گی ،بشرطیکہ کوئی اچھی حیثیت واال مسلمان میرے ساتھ شادی کر لے ''
۔
دو تین لڑکیاں پیچھے کھڑی منہ چھپانے کی کوشش کر رہی تھیں ۔ ان کے چہروں پر گھبراہٹ تھی ۔ بات کرتے شرماتی یا
ڈرتی تھیں۔
صالح الدین ایوبی نے تاجر سے کہا ''............انہیں کہو کہ یہ عیسائیوں کے پاس نہیں جانا چاہتیں ۔ ہم انہیں
اسالم قبول کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے ۔ یہ لڑکی جو کہہ رہی ہے کہ مسلمان ہو جائے گی ،بشرطیکہ کوئی مسلمان اس
کے ساتھ شادی کر لے ،اسے کہو کہ میں اس کی پیشکش قبول نہیں کر سکتا ،یہ خوف اور مجبوری کے عالم میں اسالم
قبول کرنا چاہتی ہے ۔ انہیں بتاو کہ انہیں مجھ پر اعتماد ہے تو میں انہیں اسالم کی بیٹیوں کی طرح پناہ میں لیتا ہوں ۔
اپنے دارالحکومت میں جا کر یہ انتظام کردوں گا کہ انہیں عیسائی راہبوں یا کسی پادری کے پاس بجھوادوں گا ۔
پادری یروشلم میں ہوں گے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جب عیسائی قیدیوں کو آزادکیا جائے گا تو میں کوشش کروں گا کہ ان
قابل اعتماد اور اچھی حیثیت کے قیدیوں کے ساتھ کردوں۔ انہیں یہ بھی بتادو کہ کسی مسلمان کو ان سے ملنے
کی شادیاں
ِ
کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ انہیں اجازت ہوگی کہ کسی مسلمان سے ملیں ۔ ان کی ضروریات اور عزت کا خیال رکھا جائے
گا''۔
تاجر نے لڑکیوں کو ان کی زبان میں سلطان ایوبی کی ساری باتیں بتائیں تو ان کے چہروں پر رونق آگئی۔ وہ ان شرائط پر
رضا مند ہوگئیں۔ تاجر شکریہ ادا کر کے چلے گئے ۔ صالح الدین ایوبی نے لڑکیوں کے لیے الگ خیمہ لگانے اور خیمے کے
باہر ہر وقت ایک سنتری موجود رہنے کا حکم دیا ۔ وہ خیمے کی جگہ بتانے ہی لگا تھا کہ چھ صلیبی سلطان ایوبی کے
سامنے الئے گئے ۔ وہ بہت ہی بُ ری حالت میں تھے ۔ان کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے ۔ کپڑوں پر خون بھی تھا ،ریت بھی۔
بےسدھ پڑے تھے ۔ وہ ٹوٹی ہوئی
ان کے چہرے الشوں کی مانند تھے ۔ ان کے متعلق بتایا گیا کہ ڈیڑھ دو میل دور ساحل پر
ُ
کشتی پر تیر رہے تھے ۔ ایک دن کشتی پانی بھرجانے سے ڈوب گئی ۔ یہ سب تیر کر ساحل تک پہنچے ۔ کشتی میں
بائیس آدمی سوار ہوئے تھے ۔ صرف یہ چھ زندہ بچے ۔ ان سے چال نہیں جاتا تھا ۔ یہ صلیبی لشکر کے سپاہی تھے ۔ وہ
سب ڈھڑام سے بیٹھ گئے۔ ان میں سے ایک چہرے مہرے سے لگتا تھا کہ معمولی سپاہی نہیں ہے ،وہ کراہ رہا تھا ۔ اس
کے کپڑوں پر خون کا ایک دھبہ بھی نہ تھا ،مگر زخمیوں سے زیادہ تکلیف میں معلوم ہوتا تھا۔ اس نے ساتوں لڑکیوں کو غور
سے دیکھا اور پھر کراہنے لگا ۔
یہ صالح الدین ایوبی کا حکم تھا کہ ہر ایک قیدی اسے دکھایا جائے ،چونکہ قیدی ابھی تک سمندر سے بچ بچ کر نکل رہے
تھے ،اس لیے ہر ایک قیدی سلطان ایوبی کے سامنے الیا جاتا تھا۔ اس نے قیدیوں کو بھی دیکھا۔ کسی سے کوئی بات نہ
کی البتہ اس قیدی کو جو سب سے زیادہ کراہ رہا تھا اور جس کے جسم پر کوئی زخم بھی نہ تھا ،سلطان نے غور سے
دیکھا اور آہستہ سے اپنے ساالروں سے کہا '' ....علی بن سفیان ابھی تک نہیں آیا ۔ ان تمام قیدیوں سے جو اب تک
ہمارے پاس آچکے ہیں ،بہت کچھ پوچھنا ہے ۔ ان سے معلومات لینی ہیں ''۔اس نے اس قیدی کی طرف دیکھ کر
کہا '' ....یہ آدمی کماندار معلوم ہوتا ہے ۔ اسے نظر میں رکھنا اور جب بھی علی بن سفیان آئے تو اسے کہنا کہ اس
سے تفصیلی پوچھ گچھ کرے۔ معلوم ہوتا ہے اسے اندر کی چوٹیں آئی ہیں ۔شاید پسلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں ...........
انہیں فورا ً زخمی قیدیوں کے خیموں میں پہنچا دو ۔ انہیں کھالئو اور ان کی مرہم پٹی کرو ''۔
قیدیوں کو اس طرف لے جایا گیا جس طرف زخمی قیدیوں کے خیمے تھے ۔ لڑکیاں انہیں جاتا دیکھتی رہیں ،پھر ان لڑکیوں کو
بھی لے گئے ۔ فوج کے خیموں سے تھوڑی دور لڑکیوں کے لیے خیمہ نصب کیا جارہا تھا ،وہاں سے کوئی سو قدم دور زخمی
قیدیوں کے خیمے تھے ،وہاں بھی ایک خیمہ گاڑا جارہا تھا اور چھ نئے زخمی قیدی زمین پر لیٹے ہوئے تھے ۔ لڑکیاں ان کی
طرف دیکھ رہی تھیں۔ دونوں خیمے کھڑے ہو گئے۔ لڑکیاں اپنے خیمے میں چلی گئیں اور زخمیوں کے اُن کے اپنے خیمے میں
لے گئے ۔ ایک سنتری لڑکیوں کے خیمے کے باہر کھڑا ہو گیا ۔ لڑکیوں کے لیے کھانا آگیا جو انہوں نے کھا لیا ۔ پھر ایک
لڑکی خیمے سے نکل کر اس خیمے کی طرف دیکھنے لگی جس میں نئے چھ زخمی قیدیوں کو لے رکھا گیا تھا ۔ اس کے
چہرے پر اب گھبراہٹ اور خوف کا کوئی تاثر نہیں تھا ۔سنتری نے اسے دیکھا اور اسے نے سنتری کو دیکھا ۔ لڑکی نے
ُم سکرا کر اشارہ کیا کہ وہ زخمیوں کے خیمے کی طرف جانا چاہتی ہے ۔ سنتری نے سر ہال کر اسے روک دیا ۔ لڑکیوں کو
خیمے سے ُد ور جانے یا کسی سے ملنے کی اجازت نہیں تھی ۔لڑکیوں اور چھ زخمیوں کے خیموں کے درمیان بہت سے درخت
تھے ۔ بائیں طرف مٹی کا ایک ٹیال تھا جس پر جھاڑیاں تھیں ۔
سورج غروب ہوگیا ۔ پھر رات تاریک ہونے لگی ۔ کیمپ کے غل غپاڑے پر نیند غالب آنے لگی اور پھر زخمیوں کے کراہنے
کی آوازیں رات کے سکوت میں کچھ زیادہ ہی صاف سنائی دینے لگیں۔ دور پرے بحیرئہ روم کا شور دبی دبی مسلسل گونج
کی طرح سنائی دے رہا تھا ۔ صالح الدین ایوبی کے اس جنگی کیمپ میں جاگنے والوں میں چند ایک سنتری تھے یا وہ
زخمی قیدی جنہیں زخم سونے دیتے تھے یا صالح الدین ایوبی کے خیمے کے اندر ِدن کا سماں تھا ،وہاں کسی کو نیند نہیں
آئی تھی ۔ سلطان ایوبی کے تین ساالر اس کے پاس بیٹھے تھے اور باہر محافظ دستہ بیدار تھا۔
سلطان ایوبی نے ایک بار پھر کہا ''...علی بن سفیان ابھی تک نہیں آیا '' .....اس کے لہجے میں تشویش تھی ۔
اس نے کہا ''...اس کا قاصد بھی نہیں آیا''۔
اگر کوئی گڑبڑ ہوتی تو اطالع آچکی ہوتی '' ..ایک ساالر نے کہا '' ...معلوم ہوتا ہے وہاں سب ٹھیک ہے ''۔''
ا ُمید تو یہی رکھنی چاہیے '' ...صالح الدین ایوبی نے کہا '' ..لیکن پچاس ہزار کے لشکر نے بغاوت کردی تو ''
سنبھالنا مشکل ہو جائے گا ۔ وہاں نفری ڈیڑھ ہزار سوار اور دو ہزار سات سو پیادہ ہیں ۔ان کے مقابلے میں سوڈانی بہتر اور
تجربہ کار عسکری ہیں اور تعداد میں بہت زیادہ ''۔
ناجی اور اس کے سازشی ٹولے کے خاتمے کے بعد بغاوت ممکن نظر نہیں آتی ''۔ ایک اور ساالر نے کہا ۔ '' قیادت ''
کے بغیر سپاہی بغاوت نہیں کریں گے ''۔
پیش بندی ضروری ہے '' ..صالح الدین ایوبی نے کہا '' ...لیکن علی آجائے تو پتہ چلے گا کہ پیش بندی کس ''
قسم کی کی جائے ''۔
صلیبیوں کو روکنے کیلئے تو سلطان ایوبی خود آیا تھا لیکن دارالحکومت میں سوڈانی فوج کی بغاوت کا خطرہ تھا۔ علی بن
سفیان کو سلطان ایوبی نے وہیں چھوڑ دیا تھا ،تاکہ وہ سوڈانی لشکر پر نظر رکھے اور بغاوت کو اپنے خصوصی فن سے دبانے
کی کوشش کرے ۔اسے اب تک صالح الدین ایوبی کے پاس آکر وہاں کے احوال و کوائف بتانے تھے مگر وہ نہیں آیا تھا ۔
جس سے سلطان ایوبی بے چین ہوا جارہا تھا ۔
ِ
صورت حال کے متعلق باتیں کر رہا تھا ،اس کا تمام کیمپ گہری نیند سو چکا تھا
وہ جب اپنے ساالروں کے ساتھ قاہرہ کی
مگر وہ ساتوں لڑکیاں جاگ رہی تھیں ،جنہیں سلطان ایوبی نے پناہ میں لے لیا تھا۔ ایک بار سنتری نے خیمے کا پردہ اُٹھا
کر دیکھا ،اندر دیا جل رہا تھا ۔ پردہ ہٹتے ہی لڑکیاں خراٹے لینے لگیں ۔ سنتری نے دیکھا وہ پوری سات ہیں اور سو رہی
ہیں تو اس نے پردہ گرایا اور خیمے کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا ۔ خیمے کے پردے کے ساتھ جو لڑکی تھی اس نے نیچے سے
پردہ ذرا اوپر ا ُٹھایا ۔ پردہ آہستہ سے چھوڑ کر اس نے ساتھ والی کے کان میں کہا ' '.......بیٹھ گیا ہے
'' ............ساتھ والی نے اگلی لڑکی کے کان میں کہا ' '.......بیٹھ گیا ہے '' ............اور اس
طرح کانوں کانوں میں یہ اطالع ساتوں لڑکیوں تک پہنچ گئی کہ سنتری بیٹھ گیا ہے۔ ایک لڑکی جو خیمے کے دوسرے دروازے
کے ساتھ تھی آہستہ سے ا ُٹھ کر بیٹھی اور بستر سے نکل گئی ۔ بستر زمین پر بچھے تھے ۔ اس لیے اوپر لینے والے کمبل
اس طرح بستر پر ڈال دئیے جیسے ان کے نیچے لڑکی لیٹی ہوئی ہے ۔
وہ پائوں پر سرکتی خیمے کے دروازے تک گئی ۔ پردہ ہٹایا اور باہر نکل گئی ۔ باقی چھ لڑکیوں نے آہستہ آہستہ خراٹے لینے
شروع کر دئیے ۔ سنتری کو معلوم تھا کہ یہ سمندر سے بچ کر نکلی ہیں پناہ گزین لڑکیاں ہیں ،کوئی خطرناک قیدی تو
نہیں ۔ وہ بیٹھ کر اونگھتا رہا ۔ لڑکی دبے پائوں ایسے ُرخ پر ٹیلے کی طرف چلتی گئی جس ُرخ سے اس کے اور سنتری کے
درمیان خیمہ حائل رہا ۔ٹیلے کے پاس پہنچ کر اس نے اُس خیمہ کا ُرخ کر لیا جس میں چھ نئے قیدی رکھے گئے تھے ۔
رات تاریک تھی ،وہاں کچھ درخت تھے ۔ سنتری اب ا ُدھر دیکھتا بھی تو اسے لڑکی نظر نہ آتی ۔ لڑکی بیٹھ گئی اور پائوں
سے سرک سرک کر آگے بڑھنے لگی ۔ آگے ریت کی ڈھیریاں سی تھیں ۔ وہ اُن کی اوٹ میں سرکتی ہوئی خیمے کے قریب
پہنچ گئی ،مگر وہاں ایک سنتری ٹہل رہا تھا۔ لڑکی ایک ڈھیری کے پاس لیٹ گئی ۔ سنتری اسے سیاہ سائے کی طرح نظر
آرہا تھا ۔
وہ اب دو سنتریوں کے درمیان تھی ۔ ایک اس کے اپنے خیمے کا اور دوسرا زخمیوں کے خیمے کا ۔ اسے ڈر یہ تھا کہ
زخمیوں کا سنتری اس کی طرف آگیا تو وہ پکڑی جائے گی ۔
بہت دیر انتظار کے بعد سنتری دوسرے زخمیوں کی طرف چال گیا ۔ لڑکی ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چلتی خیمے تک پہنچ
گئی اور پردہ ا ُٹھا کر اندر چلی گئی ۔ اندر اندھیرا تھا ۔ دو تین زخمی آہستہ آہستہ کراہ رہے تھے ۔ شاید ان میں سے کسی
نے خیمے کا پردہ ا ُٹھتا دیکھ لیا تھا ۔ اس نے نحیف آواز میں پوچھا'' ......کون ہے '' ...لڑکی نے منہ سے
''ششش '' کی لمبی آواز نکالی اور سرگوشی میں پوچھا '' ....رابن کہاں ہے؟ '' .....اسے جواب مال .....
''اُدھر سے تیسرا'' ........لڑکی نے تیسرے آدمی کے پائوں ہالئے تو آواز آئی ''کون ہے '' ....لڑکی نے جواب
دیا'' ....موبی '' ۔
رابن ا ُٹھ بیٹھا ۔ ہاتھ لمبا کرکے لڑکی کو بازو سے پکڑا سنتری نہ آجائے ،میرے پاس رہو '' .....اس نے لڑکی کو اپنے
ساتھ لگا لیا اور کہا '' ......میں اس اتفاق پر حیران ہو رہا ہوں کہ ہماری مالقات ہوگئی ہے ۔ یہ ایک معجزہ ہے جس
سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدائے یسوع مسیح کو ہماری کامیابی منظور ہے ۔ ہم نے بہت بُری شکست کھائی ہے ،لیکن یہ سب
دھوکا تھا '' ......یہ وہی زخمی قیدی تھا جو دوسروں سے الگ تھلگ اور چہرے مہرے سے جسم سے معمولی سپاہی
اعلی رتبے کا لگتا تھا ۔ صالح الدین ایوبی نے بھی کہا تھا کہ یہ کوئی معمولی سپاہی نہیں ،اس پر نظر رکھنا ،
نہیں بلکہ
ٰ
علی بن سفیان اس سے تفتیش اور تحقیقات کرے گا۔
''کتنے زخمی ہو؟'' لڑکی نے اس سے پوچھا '' .....کوئی ہڈی تو نہیں ٹوٹی؟ ''
میں بالکل ٹھیک ہوں'' ...رابن نے جواب دیا '' ....خراش تک نہیں آئی ۔ انہیں بتایا ہے کہ اندر کی چوٹیں ''
ہیں اور سینے کے اندر شدید درد ہے ،لیکن میں بالکل تندرست ہوں ''۔
پھر یہاں کیوں آ گئے؟'' .....لڑکی نے پوچھا ۔ ''
میں نے بہت کوشش کی کہ مصر میں داخل ہوجائوں اور سوڈانی لشکر تک پہنچ سکوں لیکن ہر طرف اسالمی فوج پھیلی ''
ہوئی ہے ۔ کوئی راستہ نہیں مال ۔ ان پانچ زخمیوں کو اکٹھا کیا اور ان کے ساتھ زخمی بن کر یہاں آگیا ۔ اب فرار کی
کوشش کروں گا جو ابھی ممکن نظر نہیں آتی '' ......اس نے ذرا غصے سے کہا ''.....مجھے دو سوالوں کا جواب
دو ۔ ایوبی کو میں نے زندہ دیکھا ہے ،کیوں؟ کیا تیر ختم ہوگئے تھے یا وہ حرام خور بزدل ہوگئے ہیں؟اور دوسرا سوال یہ
''ہے کہ تم سات کی سات لڑکیاں مسلمانوں کی قید میں کیوں آگئیں؟ کیا وہ پانچوں مر گئے ہیں یا بھاگ گئے ہیں؟
وہ زندہ ہیں رابن ! '' ...موبی نے کہا ''....تم کہتے ہو کہ خدائے یسوع مسیح کو ہماری کامیابی منظور ہے لیکن ''
میں کہتی ہوں کہ ہمارا خدا ہمیں کسی گناہ کی سزا دے رہا ہے ۔ صالح الدین ایوبی اسے لیے زندہ ہے کہ تیر اس کے
پائوں کے درمیان ریت میں لگا تھا '' ۔
''کیا تیر کسی لڑکی نے چالیا تھا؟'' ......رابن نے پوچھا '' .....کرسٹوفر کہاں تھا؟ ''
''.....اُسی نے تیر چالیا تھا مگر''
کرسٹوفر کا تیر خطا گیا؟'' ......رابن نے حیرت سے تڑپ کر پوچھا '' .....وہ کرسٹوفر جس کی تیر اندازی نے ''
شاہ آگسٹسن کو حیران کر دیا اور اس کی ذاتی تلوار انعام میں لی تھی ،یہاں آکر اس کا نشانہ اتنا چوک گیا کہ چھ فٹ
لمبا اور تین فٹ چوڑا صالح الدین ایوبی اس کے تیر سے بچ گیا؟ بد بخت کے ہاتھ ڈر سے کانپ گئے ہونگے ''۔
فاصلہ زیادہ تھا '' .....موبی نے کہا '' .....اور کرسٹوفر کہتا تھا کہ تیر کمان سے نکلنے ہی لگا تھا کہ کھلی ''
ہوئی آنکھ میں مچھر پڑ گیا۔ اسی حالت میں تیر نکل گیا ''۔
''پھر کیا ہوا؟''
جو ہونا چاہیے تھا '' ....موبی نے کہا ''......صالح الدین ایوبی ساحل پر گیا تھا تو اس کے تین کمانڈر تھے ''
اور چار محافظوں کا دستہ تھا۔ وہ ہر طرف پھیل گئے ۔ یہ تو ہماری خوش قسمتی تھی کہ عالقہ چٹانی تھا ،کرسٹوفر بچ
کے نکل آیا اور پھر ہمیں اتنا وقت مل گیا کہ ترکش اور کمان ریت میں دبا کر اوپر اونٹ بٹھا دیا ۔ سپاہی آگئے تو کرسٹوفر
نے انہیں بتایا کہ وہ پانچوں مراکش کے تاجر ہیں اور یہ لڑکیاں سمندر سے نکل کر ہماری پناہ میں آئی ہیں۔ مسلمان سپاہیوں
نے ہمارے سامان کی تالشی لی ۔ انہیں تجارتی سامان کے سوا کچھ بھی نہ مال ۔ وہ ہم سب کو سلطان ایوبی کے سامنے
لے گئے ۔ ہم نے یہ ظاہر کیا کہ ہم سسلی زبان کے سوا اور کوئی زبان نہیں جانتیں ۔ کرسٹوفر نے ایوبی سے کہا کہ وہ
ہماری زبان جانتا ہے ۔ ہم ساتوں لڑکیوں نے چہروں پر گھبراہٹ اور خوف پیدا کر لیا ''۔
موبی نے رابن کو وہ ساری باتیں سنائیں جو سلطان ایوبی کے ساتھ ہوئی تھیں ۔ یہ سات لڑکیاں اور پانچ آدمی جو مراکشی
تاجروں کے بھیس میں تھے ،حملے سے دو روز پہلے ساحل پر اُتر گئے تھے۔ پانچوں آدمی صلیبیوں کے تجربہ کار جاسوس اور
کمانڈو تھے اور لڑکیاں بھی جاسوس تھیں۔ جاسوسی کے عالوہ ان کے ذمے یہ کام بھی تھا کہ مسلمان ساالروں کو اپنے جال
میں پھانسیں ۔ وہ خوبصورت تو تھیں ہی ،انہیں جاسوسی اور ذہنوں کی تخریب کاری کی خاص ٹریننگ دی گئی تھی۔ اس
ٹریننگ میں اداکاری خاص طور پر شامل تھی ۔ پانچ مردوں کا یہ مشن تھا کہ صالح الدین ایوبی کو ختم کرنا اور ناجی کے
ساتھ رابطہ رکھنا ۔ یہ لڑکیاں مصر کی زبان روانی سے بول سکتی تھیں ،لیکن انہوں نے ظاہر نہیں ہونے دیا ۔ رابن اس
شعبے کا سربراہ تھا ۔ اسے ناجی تک پہنچنا تھا ،مگر صالح الدین ایوبی اور علی بن سفیان کی چال نے یہاں کے حاالت
کا ُرخ ہی اُلٹا کر دیا ۔
کیا تم صالح الدین ایوبی کو جال میں نہیں پھانس سکتیں ؟''.....رابن نے پوچھا ۔''
ابھی تو یہاں پہلی رات ہے '' .......موبی نے کہا '' .......اس نے ہمارے متعلق جو فیصلہ دیا ہے ،اگر وہ ''
سچے ِدل سے دیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مرد نہیں پتھر ہے ،اگر اُسے ہمارے ساتھ کوئی دلچسپی ہوتی تو کسی
ایک لڑکی کو اپنے خیمے میں بال لیتا......اسے قتل کرنا بھی آسان نہیں ۔ وہ ایک ہی بار ساحل پر آیا تھا ،مگر تیر
خطا گیا۔ وہ ساالروں اور محافظوں کے نرغے میں رہتا ہے ۔ اِدھر ایک سنتری ہمارے سر پر کھڑا ہے اور محافظوں کے پور ے
دستے نے صالح الدین ایوبی کے خیمے کو گھیر رکھا ہے ''۔
وہ پانچوں کہاں ہیں ؟'' .........رابن نے پوچھا ۔''
تھوڑی دور ہیں ؟'' .......موبی نے جواب دیا ''...وہ ابھی یہیں رہیں گے ''۔ ''
سنو موبی !'' ....رابن نے کہا '' ....اس شکست نے مجھے پاگل کر دیا ہے ۔ میرے ضمیر پر اتنا بوجھ آپڑا ''
ہے ،جیسے اس شکست کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے ۔ صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلف تو سب سے لیا گیا ہے ،لیکن
ایک سپاہی کے حلف میں اور میرے حلف میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ میرے رتبے کو سامنے رکھو۔ میرے فرائض کو
دیکھو ۔ آدھی جنگ مجھے زمین کے نیچے اور پیٹھ کے پیچھے سے وار کر کے جیتنی تھی ،مگر میں اور تم سات اور وہ
پانچ اپنا فرض ادا نہیں کر سکے ۔ مجھ سے یہ صلیب جواب مانگ رہی ہے '' .......اس نے گلے میں ڈالی ہوئی
صلیب ہاتھ میں لے کرکہا '' .....میں اسے اپنے سینے سے جدا نہیں کر سکتا '' ......اس نے موبی کی صلیب
ہاتھ میں لے لی اور کہا '' .....تم اپنے ماں باپ کو دھوکہ دے سکتی ہو ،اس صلیب سے آنکھیں نہیں ُچرا سکتیں۔
اس نے جو فرض تمہیں سونپا ہے ،وہ پورا کرو۔ خدا نے تمہیں جو ُحسن دیا ہے ،وہ چٹانوں کو پھاڑ کر تمہیں راستہ دے
دے گا ۔ میں تمہیں پھر کہتا ہوں کہ ہماری اچانک اور غیر متوقع مالقات اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے۔
ہمارے لشکر بحیرئہ روم کے ا ُس پار اکٹھے ہو رہے ہیں ۔ جو مرگئے ،سو مر گئے ،جو زندہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ
شکست نہیں دھوکا تھا۔ تم اپنے خیمے میں واپس جائو اور ان لڑکیوں سے کہو کہ خیمے میں نہ پڑی رہیں ۔ بار بار صالح
الدین ایوبی سے ملیں ۔ اس کے ساالروں سے ملیں ۔ بے تکلفی پیدا کریں۔ مسلمان ہونے کا جھانسہ دیں ۔ آگے وہ جانتی ہیں
کہ انہیں کیا کرنا ہے ''۔
سب سے پہلے تو یہ معلوم کرنا ہے یہ ہوا کیا ہے ؟'' ....موبی نے کہا '' ...کیا سوڈانیوں نے ہمیں دھوکہ دیا ''
ہے ؟'' ۔
میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا '' .....رابن نے کہا '' ....میں نے حملے سے بہت پہلے مصر میں ''
پھیالئے ہوئے اپنے جاسوسوں سے جو معلومات حاصل کیں تھیں ،وہ یہ ہیں کہ صالح الدین ایوبی کو سوڈانیوں کے پچاس
ہزار محافظ لشکر پر بھروسہ نہیں ،حاالنکہ یہ مسلمانوں کے وائسرائے مصر کی اپنی فوج ہے۔ ایوبی نے آکر مصری فوج تیار
کرلی ہے ۔ سوڈانی اس میں شامل نہیں ہونا چاہتے ۔ ان کے کمانڈر ناجی نے ہم سے مدد طلب کی تھی ۔ میں نے اس کا
خط دیکھا تھا اور میں نے تصدیق کی تھی کہ یہ خط ناجی کا ہی ہے اور اس میں کوئی دھوکہ نہیں مگر ہمارے ساتھ تاریخ
کا سب سے بڑا دھوکہ ہوا ہے ۔ مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ یہ کیسے ہوا ؟ کس نے کیا ؟ میں یہ چھان بین کیے بغیر
واپس نہیں جا سکتا ۔ شاہ آگسٹسن نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ میں مسلمانوں کے گھروں کے اندر کے بھید معلوم کر کے
ان کی بنیادیں ہال دوں گا ۔ اب تصور کرو موبی ! شہنشاہ کے ِدل پر کیا گزر رہی ہوگی ۔ وہ مجھے سزائے موت سے کم
کیا سزا دے گا ! صلیب کا قہر مجھ پر الگ نازل ہوگا ''۔
میں سب جانتی ہوں '' ......موبی نے کہا '' ....جذباتی باتیں نہ کرو ،عمل کی بات کرو ،مجھے بتاو میں ''
کیا کروں ''۔
رابن کے اعصاب پر اپنا فرض اور شکست کا احساس غالب تھا رابن نے موبی کے بالوں کے لمس کو ذرا سا محسوس کیا
اور کہا ''.......موبی ! تمہارے یہ بال ایسی مظبوط زنجیریں ہیں جو صالح الدین ایوبی کے گرد لپٹ گئیں تو وہ تمہارا
غالم ہو جائے گا ،لیکن تمہیں سب سے پہال جو کام کرنا ہے وہ یہ ہے کہ کرسٹوفر اور اس کے ساتھیوں سے کہو کہ وہ
تاجروں کے بھیس میں ناجی کے پاس پہنچیں اور معلوم کریں کہ اس کے لشکر نے بغاوت کیوں نہیں کی اور یہ راز فاش کس
طرح ہوا کہ اس سے فائدہ ا ُٹھا کر صالح الدین ایوبی نے گنتی کے چند ایک دستے گھات میں بٹھا کر ہماری تین افواج کا
بیڑہ غرق کر دیا اور انہیں یہ بھی کہو کہ معلوم کریں کہ ناجی صالح الدین ایوبی سے ہی تو نہیں مل گیا؟ اور اس نے ہمارا
یہی حشر کرانے کیلئے ہی تو خط نہیں لکھا؟ اگر ایسا ہی ہوا ہے تو ہمیں اپنے جنگی منصوبوں میں ردو بدل کرنا ہوگا ۔
مجھے یہ یقین ہو گیا ہے کہ اسالمیوں کی تعداد کتنی ہی تھوڑی کیوں نہ ہوں ،انہیں ہم آسانی سے شکست نہیں دے سکتے
۔ ضروری ہو گیا ہے کہ ان کے حکمرانوں کا اور عسکری قیادت کا جذبہ ختم کیا جائے ۔ ہم نے تم جیسی لڑکیاں عربوں کے
حرموں میں داخل کر دی ہیں '' ۔
تم نے بات پھر لمبی کر دی ہے '' .......موبی نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا '' .......ہم اپنے گھر میں ایک ''
بستر پر نہیں لیٹے ہوئے کہ بڑے مزے سے ایک دوسرے کو کہانیاں سناتے رہیں ۔ ہم دشمن کے کیمپ میں قید اور پابند
ہیں ۔ باہر سنتری پھر رہے ہیں ،رات گزرتی جا رہی ہے ۔ ہمارے پاس لمبی باتوں کا وقت نہیں ۔ ہمارا مشن تباہ ہو چکا
ہے ۔ اب بتاو کہ ان حاالت میں ہمارا مشن کیا ہونا چاہیے۔ ہم سات لڑکیاں اور چھ مرد ہیں ۔ ہم کیا کریں ۔ ایک یہ کہ
ناجی کے پاس جائیں اور اس کے دھوکے کی چھان بین کریں ،پھر کسے اطالع دیں؟ تم کہاں ملو گے ؟'' ۔
میں یہاں سے فرار ہوجاوں گا '' ......رابن نے کہا '' ......لیکن فرار سے پہلے اس کیمپ ،اس کی نفری اور ''
ایوبی کے آئندہ عزائم کے متعلق تفصیل معلوم کروں گا ۔ اس شخص کے متعلق ہمیں بہت چوکنا رہنا ہوگا ۔ اس وقت اسالمی
قوم میں یہ واحد شخص ہے جو صلیب کیلئے خطرہ ہے ،ورنہ اسالمی خالفت ہمارے جال میں آتی چلی جا رہی ہے ۔ شاہ
ایملرک کہتا تھا کہ مسلمان اتنے کمزور ہو گئے ہیں کہ اب ان کو ہمیشہ کیلئے اپنے پاوں میں بٹھانے کیلئے صرف ایک پل
کی ضرورت ہے ،مگر اس کا یہ عزم محض خوش فہمی ثابت ہوا ۔ مجھے یہاں رہ کر ایوبی کی کمزور رگیں دیکھنی ہیں اور
تمہیں پانچ آدمیوں کے ساتھ مل کر سوڈانی لشکر کو بھڑکانا اور بغاوت کرانی ہے ۔ نہایت ضروری یہ ہے کہ ایوبی زندہ نہ
رہے ،اگر وہ زندہ رہے تو ہمارے اس قید خانے میں زندہ رہے ،جہاں وہ عمر کے آخری گھڑی تک سورج نہ دیکھ سکے اور
رات کو آسمان کا اسے ایک بھی تارہ نظر نہ آئے ....تم پہلے اپنے خیمے میں جاو اور اپنی چھ لڑکیوں کو ان کا کام
سمجھا دو۔ انہیں خاص طور پر ذہن نشین کرادو کہ اُس آدمی کا نام علی بن سفیان ہے جسے اِن ریشمی بالوں ،شربتی آنکھوں
اور اتنے دلکش جسموں سے ایسے بیکار کرنا ہے کہ صالح الدین ایوبی کے کام کا نہ رہے اور اگر ہو سکے تو اس کے اور
صالح الدین ایوبی کے درمیان ایسی غلط فہمی پیدا کرنی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں ۔ تم سب اچھی طرح
جانتی ہو کہ دو مردوں میں غلط فہمی اور دشمنی کس طرح پیدا کی جاتی ہے ..............جاو اور لڑکیوں کو
مکمل ہدایت دے کر کرسٹوفر کے پاس پہنچو ۔ اسے میرا سالم کہنا اور یہ بھی کہنا کہ تیرے تیر کو ایوبی پر آکر ہی خطا
ہونا تھا؟ اب اس گناہ کا کفارہ ادا کرو اور جو کام تمہیں سونپا گیا ہے ،وہ سو فیصد پورا کرو '' ۔
رابن نے موبی کے بالوں کو چوم کر کہا ''.....تمہیں صلیب پر اپنی عزت بھی قربان کرنا پڑے گی ،لیکن خدائے یسوع
مسیح کی نظروں میں تم مریم کی طرح کنواری رہو گی ۔ اسالم کو جڑ سے اُکھاڑنا ہے ۔ ہم نے یروشلم لے لیا ہے ۔ مصر
بھی ہمارا ہوگا
موبی رابن کے بستر سے نکلی اور خیمے کے پردے کے پاس جا کر پردہ اُٹھایا ،باہر جھانکا ،اندھیرے میں اسے کچھ بھی
نظر نہ آیا ۔ وہ باہر نکل گئی اور خیمے کی اوٹ سے دیکھا کہ سنتری کہاں ہے۔ اسے دور کسی کے گنگنانے کی آواز سنائی
دی ۔ یہ سنتری ہی ہو سکتا تھا۔ موبی چل پڑی ۔ درختوں سے گزرتی قدم قدم پر پیچھے دیکھتی وہ ٹیلے تک پہنچ گئی
اور اپنے خیمے کا ُر خ کر لیا ۔ نصف راستہ طے کیا ہوگا کہ اسے دو آدمیوں کی دبی دبی باتوں کی آوازیں سنائی دینے
لگیں ۔یہ آوازیں اس کے خیمے کے قریب معلوم ہوتی تھیں ۔ اسے یہ خطرہ نظر آنے لگا کہ سنتری نے معلوم کر لیا ہے کہ
ایک لڑکی غائب ہے اور وہ کسی دوسرے سنتری یا اپنے کمانڈر کو بال الیا ہے۔ اس نے سوچا کہ خیمے میں جانے کی بجائے
ان پانچ ساتھیوں کے پاس چلی جائے جو مراکشی تاجروں کے بھیس میں کوئی ڈیڑھ ایک میل دور خیمہ زن تھے مگر اسے یہ
خیال بھی آگیاک ہ اس کی گمشدگی سے باقی لڑکیوں پر مصیبت آجائے گی ۔ وہ تھیں تو چاالک ،پھر بھی ان پر پابندیاں
سخت ہونے کا خطرہ تھا اور کوئی چارہ کار بھی نہ تھا ۔ موبی ذرا اور آگے چلی گئی تا کہ ان دو آدمیوں کی باتیں سن
سکے۔ ان کی زبان وہ سمجھتی تھی ۔ یہ تو اس نے دھوکا دیا تھا کہ وہ سسلی کی زبان کے سوا اور کوئی زبان نہیں
.سمجھتی
داستان ایمان فروشوں کی
قسط 12
وہ آدمی خاموش ہوگئے ۔ موبی دبے پائوں آگے بڑھی۔ اسے بائیں طرف قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ اس نے چونک کر دیکھا ۔
درختوں کے درمیان اسے ایک سیاہ سایہ جو کسی انسان کاتھا ،جاتا نظر آیا ۔ اس نے رخ بدل لیا اورٹیلے کی طرف آنے لگا
۔ موبی کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتی تھی ۔ وہ ٹیلے پر چڑھنے لگی۔ ٹیال اونچا نہیں تھا ۔ فورا ہی اوپرچلی گئی ۔ وہ
تھی تو بہت ہوشیار ،لیکن ہر انسان ،ہر قدم پر پوری احتیاط نہیں کر سکتا ۔ وہ ٹیلے کی چوٹی پر کھڑی ہوگئی۔ اس کے
پس منظر میں ستاروں سے بھرا ہوا آسمان تھا ۔ سمندر اور صحرا کی فضا رات کو آئینے کی طرح شفاف ہوتی ہے ۔ درختوں
میں جاتے ہوئے آدمی نے ٹیلے کی چوٹی پر ٹنڈ منڈ درخت کے تنے کی طرح کا ایک سایہ دیکھا ۔ موبی نے پہلو اس آدمی
کی طرف کردیا ۔ اس کے بال کھلے ہوئے تھے ،جنہیں اس نے ہاتھ سے پیچھے کیا۔ اس کی ناک کا ابھار اور لمبا لبادہ
تاریکی میں بھی راز کو فاش کرنے لگا ۔ یہ آدمی سنتریوں کا کماندار تھا ۔ وہ آدھی رات کے وقت کیمپ کے گشت پر نکال
اور سنتریوں کو دیکھتا پھر رہا تھا ۔ یہ سنتریوں کی تبدیلی کا وقت تھا ۔ کماندار اس لیے زیادہ چوکس تھا کہ سلطان ایوبی
تین ساالروں کے ساتھ کیمپ میں موجود تھا ۔ سلطان ڈسپلن کا بڑا ہی سخت تھا ۔ ہر کسی کو ہر لمحہ خطرہ لگا رہتا تھا
کہ سلطان رات کو اٹھ کر گشت پر آجائے گا ۔ کماندار سمجھ گیا کہ ٹیلے پر کوئی لڑکی کھڑی ہے ۔ اسی شام کمان داروں
کو خبردار کیا گیا تھا کہ صلیبیوں نے جاسوسی اور تخریب کاری کیلئے لڑکیوں کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے ۔ یہ لڑکیا ں
صحرائی خانہ بدوشوں کے بہروپ میں بھی ہو سکتی ہیں اور ایسی غریب لڑکیوں کے بھیس میں بھی جو فوجی کیمپوں میں
کھانے کی بھیگ مانگنے آتی ہیں اور یہ لڑکیاں اپنے آپ کو مغویہ اور مظلوم ظاہر کر کے پناہ مانگ سکتی ہیں ۔ کمانداروں
کو بتایا گیا تھا کہ آج رات سات لڑکیاں سلطان کی پناہ میں آئی ہیں ،جنہیں بظاہر رحم کرکے مگر انہیں مشتبہ سمجھ کر
پناہ میں لے لیا گیا ہے ۔ اس کے کماندار نے یہ احکام سن کر اپنے ایک ساتھی سے کہا تھا ''........اللہ کرے ایسی
کوئی لڑکی مجھ سے پناہ مانگے'' ........اور وہ دونوں ہنس پڑھے تھے ۔ اب آدھی رات کے وقت جب ساراکیمپ سو
رہاتھا ،اسے ٹیلے پر ایک لڑکی کا ہیوال نظر آرہا تھا۔ پہلے تو وہ ڈرا کہ یہ چڑیل یا جن ہو سکتا ہے ۔ اس نے نئے سنتری
کو لڑکیوں کے خیمے پر کھڑا کرکے اسے بتایا تھا کہ اندر سات لڑکیاں ہیں ۔ اس نے پردہ اُٹھا کر دیکھا تو دئیے کی روشنی
میں اسے سات بستر نظر آئے تھے۔ ہر لڑکی نے منہ بھی کمبلوں میں ڈھانپ رکھا تھا ۔ سردی زیادہ تھی ۔ اس نے اندر جا
کر یہ نہیں دیکھا کہ ساتواں بستر خالی ہے اور اس پر کمبل اس طرح رکھے گئے ہیں جیسے ان کے نیچے لڑکی سو ئی ہوئی
ہو۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ ساتویں لڑکی ٹیلے پر اس کے سامنے کھڑی ہے ۔ وہ کچھ دیر سوچتارہا کہ اسے آواز دے یا اس
تک خود جائے یا اگر و ہ جن یاچڑیل ہے تو اس کے غائب ہونے کا انتظار کرے ۔ تھوڑی سی دیر کے انتظار کے بعدبھی
لڑکی غائب نہ ہوئی ،بلکہ وہ تین قدم آگے چلی اور پھر پیچھے کو چل پڑی اور پھر ُرک گئی۔ کماندار جس کا نام فخر
المصری تھا ،آہستہ آہستہ ٹیلے تک گیا اور کہا ''......کون ہو تم ؟ نیچے آئو''۔ لڑکی نے ہرن کی طرح چوکڑی بھری
اور ٹیلے کی دوسری طرف ا ُتر گئی۔ فخر کو یقین آگیاکہ کوئی انسان ہے ،جن چڑیل نہیں ۔ وہ تنومند مرد تھا ۔ ٹیال اونچا
نہیں تھا ۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ٹیلے پر چڑھ گیا ۔ اُدھر بھی اندھیرا تھا ۔ رات کی خاموشی میں اسے لڑکی کے قدموں
کی آہٹ سنائی دی ۔ وہ ٹیلے سے دوڑتا ا ُترا اور لڑکی کے پیچھے گیا ۔ لڑکی اور تیز دوڑ پڑی ۔ فاصلہ بہت کم تھا لیکن
فخر مرد تھا ،فوجی تھا ،چیتے کی رفتا ر سے دوڑرہا تھا
۔ ٹیلے کے پیچھے ا ُونچی نیچی زمین خشک جھاڑیاں اور کہیں کہیں کو ئی درخت تھا ۔ بہت سا دوڑ کر فخر المصری نے
محسوس کیا کہ اس کے آگے تو کوئی بھی نہیں ۔ اِس نے ُرک کر اِدھر اُدھر دیکھا ۔ اسے اپنے پیچھے بائیں کو لڑکی کے
قدموں کی آہٹ سنائی دی ۔ وہ تربیت یافتہ لڑکی تھی ،جہاں اسے ُحسن اور شباب کے استعمال کی تربیت دی گئی تھی ،
وہا ں اسے فوجی ٹریننگ بھی دی گئی تھی اور خنجر زنی کے دائو پیچ بھی سکھائے گئے تھے۔ وہ ایک درخت کی اوٹ
میں چھپ گئی تھی ۔ فخر آگے گیا تو وہ دوسری طرف دوڑ پڑی ۔ یہ تعاقب آنکھ مچولی کی مانند تھا۔ فخر کو
اندھیراپریشان کر رہا تھا۔ موبی کے قدم خاموش ہوجاتے تو وہ ُرک جاتا ۔ قدموں کی آواز سنائی دیتی تو وہ دوڑ پڑتا ۔ غصے
سے وہ باوال ہوا جارہاتھا ۔ اس نے یہ جان لیا تھا کہ یہ کوئی جوان لڑکی ہے ،اگر بڑی عمر کی ہوتی تو اتنی تیز اور اتنا
زیادہ نہ بھاگ سکتی ۔ تعاقب میں فخر دو میل فاصلہ طے کر گیا ۔ موبی نے جھاڑیوں اور اونچی نیچی زمین سے بہت فائدہ
ا ُٹھایا ۔ اس کے مرد ساتھیوں کا ڈیرہ قریب آگیاتھا۔ وہ دوڑتی ہوئی وہاں تک جا پہنچی ۔ اس نے اپنے آدمیوں کو آوازیں دیں
۔ و ہ گھبرا کر جاگے اور خیمے سے باہر آئے ۔ ایک نے مشعل جاللی ۔ یہ ڈنڈے کے سرے پر لپٹے ہوئے کپڑے تھے۔ ان
کی آگ کی روشنی بہت زیادہ تھی ۔ فخر نے تلوار سونت لی اور ہانپتا کانپتا ان کے سامنے جا کھڑا ہوا
اس نے دیکھا کہ یہ پانچ آدمی لباس سے سفری تاجر نظر آتے ہیں اور مسلمان لگتے ہیں۔ لڑکی ان میں سے ایک کی ٹانگوں
کو دونوں بازوئوں میں مضبوطی سے پکڑے بیٹھی ہوئی تھی ۔ مشعل کے ناچتے شعلے میں اس کے چہرے پر گھبراہٹ اور
خوف نظر آ رہا تھا ۔ اس کا سینہ اُبھراور بیٹھ رہا تھا ۔ اس کی سانسیں بُری طرح اُکھڑ ی ہوئی تھیں ۔''یہ لڑکی میرے
حوالے کر دو''.............فخر المصری نے حکم کے لہجے میں کہا ۔''یہ ایک نہیں'' .............ایک
آدمی نے التجا کے لہجے میں جواب دیا ''.............ہم نے تو سات لڑکیاں آپ کے سلطان کے حوالے کی ہیں ۔
آپ اسے لے جا سکتے ہیں''۔''نہیں'' .... .............موبی نے اس کی ٹانگوں کو اور مضبوطی سے پکڑتے
ہوئے ،روتے ہوئے اور خوف زدہ لہجے میں کہا ''...........میں اس کے ساتھ نہیں جاوں گی ۔ یہ لوگ عیسائیوں
سے زیادہ وحشی ہیں ۔ ان کا سلطان انسان نہیں سانڈ ہے ،درندہ ہے ۔ اس نے میری ہڈیاں بھی توڑ دی ہیں ۔ میں اس
سے بھاگ کر آئی ہوں''۔''کون سلطان؟'' ...... .......فخر نے حیران سا ہو کر پوچھا ۔''وہی جسے تم صالح
الدین ایوبی کہتے ہو''... ...........موبی نے جواب دیا ۔ وہ اب مصر کی زبان بول رہی تھی ۔''یہ لڑکی جھوٹ
بول رہی ہے'' ..........فخر نے کہا اور پوچھا ''...........یہ ہے کو ن ؟ تمہاری کیا لگتی ہے ؟''۔''اندر
آجاو دوست ! باہر سردی ہے'' ..........ایک آدمی نے فخر سے کہا ''...........تلوار نیام میں ڈال لو ۔ ہم
تاجر ہیں ۔ ہم سے آپ کو کیاخطرہ ۔ آئو۔ اس لڑکی کی بپتا سن لو'' .......اس نے آہ بھر کر
کہا ''..........میں آ پ کے سلطان کو مر ِد مومن سمجھتا تھا مگر ایک خوبصورت لڑکی دیکھ کر وہ ایمان سے ہاتھ
دھو بیٹھا ۔ وہ باقی چھ لڑکیوں کا بھی یہی حشر کر رہا ہوگا''۔''ان کا یہ حشر دوسرے ساالروں نے کیا
ہے'' .. .............موبی نے کہا ''........شام کو ان بے چاریوں کو اپنے خیمے میں لے گئے تھے اور انہیں
بے ُس دھ کر کے خیمے میں ڈال دیا ۔ وہ خیمے میں بے ہوش پڑی ہیں''۔ فخرالمصری تلوار نیام میں ڈال کر ان کے ساتھ
خیمے میں چال گیا ۔ اندر جا کر بیٹھے تو آدمی نے آگ جال کر قہوے کے لیے پانی رکھا اور اس میں جانے کیا کچھ ڈالتا
رہا ۔ دوسرے آدمی نے فخر سے پوچھا کہ اس کا ُرتبہ کیا ہے ۔ اس نے بتایا کہ وہ کمان دار اور عہدے دارہے ۔انہوں نے اس
کے ساتھ بہت سی باتیں کیں جن سے انہوں نے اندازہ کر لیا کہ یہ شخص عام قسم کا سپاہی نہیں اور ذمہ دار فرد ہے ۔
ذہین اور دلیر بھی ہے ۔ ان لوگوں میں سے ایک (کرسٹوفر تھا) فخر کو سات لڑکیوں کی بالکل وہی کہانی سنائی جو انہوں
نے صالح الدین ایوبی کو سنائی تھی ۔ انہوں نے فخر کو یہ بھی بتایا کہ سلطان ایوبی نے ان کے متعلق کیا کہا تھا ۔ ان
لڑکیوں نے سلطان کو پیشکش بھی کی تھی کہ وہ اپنے گھروں کو تو واپس نہیں جا سکتیں اور عیسائیوں کے پاس بھی نہیں
جانا چاہتیں ،اس لیے وہ مسلمان ہونے کو تیار ہیں ،بشرطیکہ کوئی اچھے رتبوں والے عسکری اُن کے ساتھ شادی کر لیں ۔
ہم نے سنا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کردار کے لحاظ سے پتھر ہے ۔ ہم ہر روز سفر پر رہنے والے تاجر ہیں ،انہیں
کہاں ساتھ لیے لیے پھرتے ۔ ا ُنہیں سلطان کے حوالے کر دیا گیا ،مگر سلطان نے اس لڑکی کے ساتھ جو سلوک کیا ،وہ اس
کی زبانی سن لو
فخر المصری نے لڑکی کی طرف دیکھا تو لڑکی نے کہا ……''ہم بہت خوش تھیں کہ خدا نے ہمیں ایک فرشتے کی پناہ دی
ہے ۔ سورج غروب ہونے کے بعد سلطان کا ایک محافظ آیا اور مجھے کہا کہ سلطان بالرہا ہے ۔ میں باقی چھ لڑکیوں کی
نسبت ذرا زیادہ خوبصورت ہوں ۔ مجھے توقع نہیں تھی کہ تمہارا ایوبی بُری نیت سے بال رہا ہے ،میں چلی گئی ۔ سلطان
ایوبی نے شراب کی صراحی کھولی ۔ ایک پیالہ اپنے آگے رکھا اور ایک مجھے دیا ۔ میں عیسائی ہوں ،شراب سو بار پی
ہے ۔ بحری جہاز میں عیسائی کمان داروں نے میرے جسم کو کھلونہ بنائے رکھا ہے ۔ صالح الدین ایوبی بھی میرے جسم کے
ساتھ کھیلنا چاہتا تھا۔ لیکن ایوبی کو میں فرشتہ سمجھتی تھی ۔ میں اس کے جسم کو اپنے ناپاک جسم سے دور رکھنا
چاہتی تھی ،مگر وہ ان عیسائیوں سے بدتر نکال ،جو مجھے بحری جہاز میں الئے تھے اور جب اُن کا جہاز ڈوبنے لگا تو
انہوں نے ہمیں ایک کشتی میں ڈال کر سمندر میں ا ُتار دیا ۔ ان میں سے کسی نے ہمارا ساتھ نہ دیا۔ ہمارے جسم چچوڑے
ہوئے اور ہڈیاں چٹخی ہوئی تھیں ……''خدانے ہمیں بچالیا اور اس آدمی کی پناہ میں پھینک دیا جو فرشتے کے روپ میں
درندہ ہے ۔ مجھے سلطان نے ہی بتایاتھا کہ میرے ساتھ کی باقی چھ لڑکیاں اس کے ساالروں کے خیموں میں ہیں ۔ میں
نیت سلطان کے پاوں پکڑ کر کہا کہ میرے ساتھ شادی کرلو۔ اس نے کہا اگر تم مجھے پسند کرتی ہوتو شادی کے بغیر تمہیں
اپنے حرم میں رکھ لوں گا…اس نے میرے ساتھ وحشیوں کا برتاو کیا ۔ شراب میں بد مست تھا۔ ،جوں ہی اس کی آنکھ لگی
۔ میں وہاں سے بھاگ آئی ۔ اگر میری بات کا اعتبار نہ آئے تو اس کے محافظوں سے پوچھ لو''۔ اس دوران ایک آدمی نے
فخر کو قہوہ پالیا۔ ذراسی دیر بعد فخر کا مزاج بدلنے لگا۔ اس نے نفرت سے قہقہہ لگایا اور کہا…''ہمیں حکم دیتے ہیں کہ
عورت اور شراب سے دور رہو اور خود شراب پی کر راتیں عورتوں کے ساتھ گزارتے ہیں''۔ فخر محسوس ہی نہ کر سکا کہ
لڑکی کی کہانی محض بے بنیاد ہے اور نہ ہی وہ محسوس کر سکا کہ اس کا مزائج کیوں بدل گیاہے۔اُسے حشیش پالدی گئی
تھی ۔ اس پر ایسا نشہ طاری ہوچکاتھا جسے وہ نشہ نہیں سمجھتا تھا۔ وہ اب اپنے تصوروں میں بادشاہ بن چکاتھا۔ لڑکی کے
چہرے پر مشعل کے شعلے کی روشنی ناچ رہی تھی ۔ اس کے بکھرے ہوئے سیاہی مائہل بھورے بال چمک رہے تھے ۔وہ
فخر کو پہلے سے زیادہ حسین نظر آنے لگی ۔ اس نے بے تاب ہوکر کہا……''تم اگر چاہوتو میں تمہیں'پناہ میں
لیتاہوں''۔''نہیں''…لڑکی ڈر کر پیچھے ہٹ گئی اور بولی …''تم بھی میرے ساتھ اپنے سلطان جیسا سلوک کرو گے۔ تم
مجھے اپنے خیمے میں لے جاوگے اور میں ایک بار پھر تمہارے سلطان کے قبضے میں آجاوں گی''۔''ہم تو اب دوسری چھ
لڑکیوں کو بھی بچانے کی سوچ رہے ہیں''……ایک تاجر نے کہا……''ہم ان کی عزت بچانا چاہتے تھے مگر ہم سے بھول
ہوئی''۔ فخر المصری کی نگاہیں لڑکی پر جمی ہوئی تھیں۔ اس نے اتنی خوب صورت لڑکی کبھی نہیں دیکھی تھی ۔خیمے
میں خاموشی طاری ہوگئی ،جسے کرسٹو فرنے توڑا ۔ اس نے کہا۔''تم عرب سے آئے ہویا مصری ہو؟''''مصری''……فخرنے
کہا……''میں دو جنگیں لڑچکاہوں۔اسی لیے مجھے یہ عہدہ دیاگیاہے ۔''''سوڈانی فوج کہاں ہے ،جس کا ساالرناجی
ہے؟''……کرسٹوفر نے پوچھا۔''ا ُس فوج کا ایک سپاہی بھی ہمارے ساتھ نہیں آیا''……فخر نے جواب دیا۔''جانتے ہو ایسا
کیوں ہواہے ؟……کرسٹو فرنے کہا ……''سوڈانیوں نے صالح الدین ایوبی کی امارات اور کمان کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ فوج اپنے
آپ کو آزاد سمجھتی ہے ۔ناجی نے سلطان ایوبی کو بتادیاتھا کہ وہ مصر سے چلے جائیں ،کیونکہ وہ غیر ملکی ہیں ۔اسی
لیے ایوبی نے مصریوں کی فوج بنائی اور لڑانے کے لیے یہاں لے آیا۔ اس نے تم لوگوں کو شرافت اور نیکی کا جھانسہ دیا اور
مال غنیمت مالہے ؟……اگر تمہیں مال بھی تو سونے چاندی کے دو دو ٹکڑے مل جائیں گے ۔
خود عیش کررہاہے ۔ کیا تمہیں
ِ
صلیبیوں کے جہازوں سے بے بہا خزانہ سلطان ایوبی کے ہاتھ آیاہے ۔ وہ سب رات کے اندھیرے میں سینکڑوں اونٹوں پر الد کر
قاہراہ روانہ کردیاگیاہے ،جہاں سے دمشق اور بغداد چالجائے لگا۔سوڈانی لشکر کو سلطان نہتہ کر کے غالموں میں بدل دینا
.چاہتا ہے ،پھر عرب سے فوج آجائے گی اور تم مصری بھی غالم ہوجائوگے
اس عیسائی کی ہر ایک بات فخر المصری کے دل میں ا ُتر تی جارہی تھی ۔ اثر باتو ں کا نہیں ،بلکہ موبی کے حسن اور
حسن بن صباح کے حشیشین سے سیکھا تھا۔موبی کو بالکل توقع نہیں تھی کہ یہ
حشیش کا تھا۔ عیسائیوں نے یہ حربہ
ِ
ِ
صورت حال پیدا ہوجائے گی کہ ایک مصری اس کے تعاقب میں اس کے دام میں آجائے گا۔انہیں معلوم ہوگیا کہ فخر مصر کی
زبان کے سوا اور کوئی زبان نہیں جانتا ۔موبی نے اپنے پانچوں ساتھیوں کو سنانا شروع کردیا کہ رابن زخمی ہونے کا بہانہ
کرکے زخمیوں کے خیمے میں پڑا ہے اور اس نے کہا ہے کہ ناجی سے مل کر معلوم کروکہ اس نے بغاوت کیوں نہیں کی یا
اس نے عقب سے صالح الدین ایوبی پر حملہ کیوں نہیں کیا اور یہ بھی معلوم کرو کہ اس نے ہمیں دھوکہ تو نہیں دیا؟ وہ
باتیں کررہی تھی تو فخر نے پوچھا ……''یہ کیا کہہ رہی ہے ؟'' ''یہ کہہ رہی ہے ''……ایک نے جواب دیا……''اگر یہ
شخص یعنی تم صالح الدین کی فوج میں نہ ہوتے تو یہ تمہارے ساتھ شادی کرلیتی ۔یہ مسلمان ہونے کو بھی تیار ہے ،لیکن
کہتی ہے کہ اسے اب مسلمانوں پر بھروسہ نہیں رہا''۔ فخر نے بے تابی سے لپک کر لڑکی کو بازو سے پکڑا اور اپنی طرف
گھسیٹ کر کہا '' اگر میں بادشاہ ہوتا تو خدا کی قسم تمہاری خاطر تخت اور تاج قربان کردیتا ۔اگر شرط یہی ہے کہ میں
صالح الدین ایوبی کی دی ہوئی تلوار پھینک دوں تو یہ لو'' ……اس نے کمر بند سے تلوار کھولی اور نیام سمیت لڑکی کے
قدموں میں رکھ دی ۔ کہا ……''میں اب سے ایوبی کا سپاہی اور کمان دار نہیں ہوں ''۔ ''مگر ایک شرط اور بھی ہے
''……لڑکی نے کہا ……''میں اپنا مذہب تمہاری خاطر ترک کردیتی ہوں ،لیکن صالح الدین ایوبی سے انتقام ضرور لوں گی
''۔ ''کیا اسے میرے ہاتھ سے قتل کرانا چاہتی ہو؟''فخر نے پوچھا ۔ لڑکی نے اپنے آدمیوں کی طرف دیکھا ۔ سب نے
ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ آخر کرسٹوفر نے کہا……''ایک صالح الدین ایوبی نہ رہا تو کیا فرق پڑے گا؟ایک اور سلطان
آجائے گا۔ وہ بھی ایساہی ہوگا ۔ مصریوں کو آخر غالم ہی ہونا پڑے گا۔ تم ایک کام کرو۔ سوڈانیوں کے ساالرناجی کے پاس
پہنچو اور یہ لڑکی اس کے سامنے کر کے اسے بتاو کہ سلطان صالح الدین ایوبی اصل میں کیا ہے اور اس کے ارادے کیا ہیں
؟'' ان لوگوں کویہ تو علم تھا کہ ناجی کا صلیبیوں کے ساتھ رابطہ ہے اور موبی اس کے ساتھ بات کرے گی ،لیکن انہیں
یہ علم نہیں تھا کہ ناجی اور اس کے معتمد ساالر خفیہ طریقے سے مروائے جاچکے ہیں ۔ اس تک لڑکی کوہی جانا تھا۔ اس
لہذا اسی کو استعمال کرنے کا فیصلہ ہوگیا۔ یہ آدمی
کا اکیلے جانا ممکن نہیں تھا۔ اتفاق سے انہیں فخر المصری مل گیا۔ ٰ
چونکہ سلطان ایوبی کی نظر میں آگئے تھے ،اس لیے بھی اس کی نظر میں رہنا چاہتے تھے ۔ اس کے عالوہ انہوں نے
موبی سے سن لیاتھا کہ ان کے شعبہ جاسوسی اور تخریب کاری کا سربراہ رابن اسی کیمپ میں ھے اور فرار ہوگا ،اس لیے
وہ اسے مدد دینے کے لیے بھی وہاں موجود رہنا چاہتے تھے ۔ان کے ارادے معلوم نہیں کیا تھے ۔ صالح الدین ایوبی پر چالیا
ہوا اِ ن کاتیر خطا گیا تو انہیں سلطان ایوبی کے سامنے لے جایا گیا تھا۔ ان کا بہروپ اور ڈرامہ کا میاب رہا ،لیکن ان کا
ِ
صورت حال اور اتفاقات سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کررہے تھے ۔ فخر المصری
لہذا اب وہ بدلی ہوئی
مشن تباہ ہوگیا تھا۔ ٰ
حسن اور حشیش کے جال میں آگیا تھا۔اس نے واپس کیمپ میں نہ جانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
اسکو یہ مشورہ دیاگیا کہ وہ لڑکی کولے کر روانہ ہوجائے ،ا ُن لوگوں نے اسے اپنا ایک اونٹ دے دیا۔ پانی کا ایک مشکیزہ دیا
اور تھیلے میں کھانے کا بہت ساراسامان ڈال دیا۔ ان اشیاء میں کچھ ایسی تھیں جن میں حشیش ملی ہوئی تھی ۔ موبی کو
ان کا علم تھا۔ فخر کو ایک لمبا چغہ اور تاجرروں والی دستار پہنادی گئی ۔ لڑکی اونٹ پر سوار ہوئی ۔ اس کے پیچھے فخر
سوار ہوگیا اور اونٹ چل پڑا ۔ فخر گرد و پیش سے بے خبر تھا اور وہ اپنے ماضی سے بھی بے خبر ہوگیاتھا۔صرف یہ
احساس اس پر غالب تھا کہ روئے زمین کی حسین ترین لڑکی اس کے قبضے میں ہے ،جس نے سلطان کو ٹھکرا کر اسے
پسند کیا ہے ۔ موبی نے کہا……''تم عیسائی کمان داروں اور اپنے سلطان کی طرح وحشی تو نہیں بنوگے ؟میں تمہاری ملکیت
ہوں ۔ ''۔ ''کہو تو میں اونٹ سے ا ُتر جاتاہوں ''۔ فخر نے کہا……''مجھے صرف یہ بتادو کہ تم مجھے دل سے
چاہتی ہو یا محض مجبوری کے عالم میں میری پناہ لی ہے ؟'' ''پناہ تو میں ان تاجروں کی بھی لے سکتی تھی ''۔
موبی نے جواب دیا……''لیکن تم مجھے اتنے اچھے لگے کہ تمہاری خاطر مذہب تک چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا''……اس نے
جذباتی باتیں کرکے فخر کے اعصاب پر قبضہ کر لیا اور رات گزرتی چلی گئی ۔ سفر کم و بیش پانچ دنوں کا تھا ،لیکن فخر
گہری نیند سوگئی ۔اونٹ
المصری عام راستوں سے ہٹ کر جارہاتھا ،کیونکہ وہ بھگوڑا فوجی تھا۔ موبی کو نیند آنے لگی ۔
چلتارہا ،فخر جاگتارہا
…داستان ایمان فروشوں کی
…ساتویں لڑکی
#قسط 13
صالح الدین ایوبی صبح کی نماز پڑھ کر فارغ ہوا ہی تھا کہ دربان نے اطالع دی کہ علی بن سفیان آیاہے ۔ سلطان دوڑ کر
''باہر نکال۔ اس کے منہ سے علی بن سفیان کے سالم کے جواب سے پہلے یہ الفاظ نکلے ……''اُدھر کی کیا خبر ہے ؟
ابھی تک خیریت ہے ''……علی بن سفیان نے جواب دیا ……''مگر سوڈانی لشکر میں بے اطمینانی بڑھتی جارہی ہے ۔میں''
نے اس لشکر میں اپنے جو مخبر چھوڑے تھے ،ان کی اطالع سے پتہ چلتاہے کہ ان کے ایک بھی کماندار نے قیادت سنبھال
لی تو بغاوت ہوجائے گی ۔'' صالح الدین ایوبی اسے اپنے خیمے میں لے گیا۔علی بن سفیان کہہ رہاتھا……''ناجی اور اس
کے سرکردہ ساالروں کو تو ہم نے ختم کردیا ہے ،لیکن وہ مصری فوج کے خالف سوڈانیوں میں نفرت کا جوزہر پھیال گئے
تھے ،اس کا اثر ذرہ بھر کم نہیں ہوا۔ ان کی بے اطمینانی کی دوسری وجہ اُن کے ساالروں کی گمشدگی ہے ۔ میں نے اپنے
امیر محترم !مجھے
مخبروں کی زبانی یہ خبر مشہور کرادی ہے کہ ا ُن کے ساالر بحیرۂ روم کے محاذ پر گئے ہوئے ہیں ،مگر
ِ
شک ہوتاہے کہ سوڈانیوں میں شکوک اور شبہات پائے جاتے ہیں ۔ جیسے انہیں علم ہوگیاہے کہ ان کے ساالروں کو قید
کرلیاگیاہے اور مار بھی دیاگیاہے ''۔ ''اگر بغاوت ہوگئی تو مصر میں ہمارے جو دستے ہیں ،وہ اسے دباسکیں گے؟''۔صالح
الدین ایوبی نے پوچھا……''کیا وہ پچاس ہزار تجربہ کار فوج کا مقابلہ کر سکیں گے ؟……مجھے شک ہے ''۔ ''مجھے یقین
ہے کہ ہماری قلیل فوج سوڈانیوں کا مقابلہ نہیں کر سکے گی ''۔علی بن سفیان نے کہا……''میں اس کا بندوبست کر آیاہوں
۔میں نے عالی مقام نور الدین زنگی کی طرف دو تیز رفتار قاصد بھیج دئیے ہیں ۔ میں نے پیغام بھیجا ہے کہ مصر میں
بغاوت کی فضا پیدا ہورہی ہے اور ہم نے جو فوج تیار کی ہے ،وہ تھوڑی ہے اور اس میں سے آدھی فوج محاذ پر ہے ۔
متوقع بغاوت کو دبانے کے لیے ہمیں مدد بھیجی جائے ''۔ ''مجھے اُدھر سے مدد کی اُمید کم ہے ''۔سلطان ایوبی نے
کہا……'' پر سوں ایک قاصد یہ خبر الیاتھا کہ زنگی نے فرینکوں پر حملہ کردیا تھا۔ یہ حملہ انہوں نے ہماری مدد کے لیے کیا
تھا۔ فرینکوں کے ا ُمراء اور فوجی قائدین بحیرۂ روم میں صلیبیوں کے اتحادی بیڑے میں تھے اور فرینکوں کی کچھ فوج مصر
میں داخل ہوکر عقب سے حملہ کرنے اور ہمارے سوڈانی لشکر کی پشت پناہی کے لیے مصر کی سرحد پر آگئی تھی ۔
محترم زنگی نے ان کے ملک پر حملہ کر کے اُن کے سارے منصوبے کو ایک ہی وار میں برباد کردیاہے اور شاہ فرینک کے
بہت سے عالقے پر قبضہ کرلیا ہے ۔ انہوں نے صلیبیوں سے کچھ رقم بھی وصول کی ہے ''۔ صالح الدین ایوبی خیمے کے
اندر ٹہلنے لگا۔ جزباتی لھجے میں بوال……''سلطان زنگی کے قاصد کی زبانی وہاں کے کچھ ایسے حاالت معلوم ہوئے ہیں
جنہوں نے مجھے پریشان کررکھا ہے ''۔ ''کیا اب صلیبی اُدھر یلغار کریں گے ؟''علی بن سفیان نے پوچھا ۔ ''مجھے
صلیبیوں کی یلغار کی ذرہ بھر پروا نہیں ''۔ سلطان ایوبی نے جواب دیا……''پریشانی یہ ہے کہ کفار کی یلغار کو روکنے والے
شراب کے مٹکوں میں ڈوب گئے ہیں ۔اسالم کے قلعے کے پاسبان حرم میں قید ہوگئے ہیں۔عورت کی زلفوں نے انہیں پابہ
زنجیر کردیاہے ۔ علی !چچا اسد الدین شیر کوہ کو اسالم کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکے گی۔ کاش وہ آج زندہ ہوتے ۔
میدان جنگ میں مجھے وہی الئے تھے ۔ ہم نے دستے کی کمان کی ہے ۔ میں اُن کے ساتھ صلیبیوں محاصرے میں تین
ِ
مہینے رہاہوں ۔ مجھے شیر کوہ ہمیشہ سبق دیا کرتے تھے کہ گھبراہٹ اور خوف سے بچنا۔ تائید ایزدی اور رضائے ال ٰہی کا
قائل رہنا اور اسالم کا علم بلند رکھنا ۔ میں شیر کوہ کی کمان میں مصریوں اور صلیبیوں کی مشترک فوج کے خالف بھی
لڑاہوں ۔ سکندر یہ میں محاصرے میں رہاہوں ۔شکست میرے سر پر آگئی تھی ۔ میرے مٹھی بھر عسکری بد ِدل ہوتے جارہے
تھے ۔ میں نے کس طرح ا ُن کے حوصلے اور جذبے تروتازہ رکھے ؟یہ میراخداہی بہتر جانتا ہے ۔ چچا شیر کوہ نے حملہ آور
ہوکر محاصرہ توڑا……تم یہ کہانی اچھی طرح جانتے ہو۔ ایمان فروشوں نے کفار کے ساتھ مل کر ہمارے لیے کیسے کیسے طوفان
کھڑے کیے ،مگر میں گھبرایا نہیں ۔ ِد ل نہیں چھوڑا''۔ ''مجھے سب کچھ یاد ہے سلطان !''……علی بن سفیان نے
کہا……''اس قدر معرکہ آرائیوں اور قتل و غارت کے بعد توقع تھی کہ مصری را ِہ راست پر آجائیں گے ،مگر ایک غدار
مرتاہے تو ایک اور اس کی جگہ لے لیتا ہے ۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ غدار کمزور خالفت کی پیداوار ہوتے ہیں ۔ اگر فاطمی
ِ
سلطنت اسالمیہ
خالفت حرم میں گم نہ ہوجاتی تو آج آپ صلیبیوں سے یورپ میں لڑرہے ہوتے ،مگر ہمارے غدار بھائی انہیں
سے باہرنہیں جانے دے رہے ۔ جب بادشاہ عیش و عشرت میں پڑجائیں تو رعایا میں سے بھی کچھ لوگ بادشاہی کے خواب
دیکھنے لگتے ہیں ۔ وہ کفار کی طاقت اور مدد حاصل کرتے ہیں ۔ ایمان فروشی میں وہ اس قدر اندھے ہوجاتے ہیں کہ کفار
کے عزائم اور اپی بیٹیوں کی عصمتوں تک کو بھالدیتے ہیں ''۔ '' مجھے ہمیشہ انہی لوگوں سے ڈرآتاہے ''۔ صالح الدین
ایوبی نے کہا۔'' اللہ نہ کرے ،اسالم کانام جب بھی ڈوبا مسلمانوں کے ہاتھوں سے ڈوبے گا۔ ہماری تاریخ غداروں کی تاریخ
بنتی جارہی ہے ۔ یہ رجحان بتارہاہے کہ ایک روزمسلمان جو برائے نام مسلمان ہوں گے ،اپنی سرزمین کفار کے حوالے کردیں
گے ۔ اگر اسالم کہیں زندہ رہاتو وہاں مسجدیں کم اور قحبہ خانے زیادہ ہوں گے ۔ ہماری بیٹیاں صلیبیوں کی طرح بال کھلے
چھوڑ کر بے حیا ہوجائیں گی ۔ کفار انہیں اسی راستے پر ڈال رہے ہیں ،بلکہ ڈال چکے ہیں ……اب مصر سے پھر وہی طوفان
ا ُٹھ رہاہے ۔ علی !تم اپنے محکمے کو اور مضبوط اور وسیع کرلو۔ میں نے اپنے رفیقوں سے کہہ دیاہے کہ دشمن کے عالقوں
میں جاکر شب خون مارنے اور خبریں النے کے لیے تنو مند اور ذہین جوانوں کا انتخاب کرو۔ صلیبی اس محاذ کو مضبوط اور
پُ ر اثر بنارہے ہیں ،تم فوری طور پر جاسوسی کرو ،جنگ کی تیاری کرو……فوری طور پر کرنے واال کام یہ ہے کہ سمندرسے
کئی ایک صلیبی بچ کر نکلے ہیں۔ ان میں زیادہ تر زخمی ہیں اور جو زخمی نہیں ،وہ کئی کئی ِدن سمندر میں ڈوبنے اور
تیر نے کی وجہ سے زخمیوں سے بد تر ہیں ۔ ان سب کا عالج معالجہ ہورہاہے ۔میں نے سب کو دیکھا ہے ،تم بھی انہیں
دیکھ لو اور اپنی ضرورت کے مطابق ان سے معلومات حاصل کرو''۔
سلطان ایوبی نے دربان کو بال کر ناشتے کے لیے کہا اور علی بن سفیان سے کہا……''کل کچھ زخمی اور کچھ بھلی لڑکیاں
میرے سامنے الئی گئی تھیں ۔ چھ تو سمندر سے نکلے ہوئے قیدی ہیں ۔ ان میں ایک پر مجھے شک ہے کہ وہ سپاہی نہیں
۔رتبے اور عہدے واال آدمی ہے ۔ سب سے پہلے اسے ملو ،پانچ تاجر سات عیسائی لڑکیوں کو ساتھ الئے تھے''……اس نے
علی بن سفیان کو لڑکیوں کے متعلق وہی کچھ بتایا جو تاجروں نے بتایاتھا۔ سلطان ایوبی نے کہا……''میں نے لڑکیوں کو
دراصل حراست میں لیا ہے ،لیکن انہیں بتایا ہے کہ میں انہیں پناہ میں لے رہاہوں۔لڑکیوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ غریب
گھرانوں کی لڑکیاہیں اور پھر ان کا یہ بیان کہ انہیں ایک جلتے ہوئے جہاز میں سے کشتی میں بٹھا کر سمندر میں اُتارا گیا
اور کشتی انہیں ساحل پر لے آئی ۔ مجھے شکوک میں ڈال رہاہے ۔ میں نے انہیں الگ خیمے میں رکھا ہے اور سنتری کھڑا
کر دیاہے ۔ تم ناشتے کے فورا ً بعد اس قیدی اور ان لڑکیوں کو دیکھو''۔
آ خر میں صالح الدین ایوبی نے ُمسکراکر کہا……''کل ِد ن کے وقت ساحل پر ٹہلتے ہوئے مجھ پر ایک تیر چالیا گیاتھا ،جو
میرے پائوں کے درمیان ریت میں لگا''……اس نے تیر علی بن سفیان کو دے کر کہا ……''عال قہ چٹانی تھا۔ محافظ تالش
اور تعاقب کے لیے بہت دوڑے ،مگر انہیں کوئی تیر انداز نظر نہیں آیا۔ اس عالقے سے انہیں یہ پانچ تاجر ملے ،جنہیں
محافظ میرے پاس لے آئے ۔ انہوں نے یہ سات لڑکیاں بھی میرے حوالے کیں اور چلے گئے ''۔
''اور وہ چلے گئے ؟''علی بن سفیان نے حیرت سے کہا……''آپ نے انہیں جانے کی اجازت دے دی ؟''
محافظون نے ان کے سامان کی تالشی لی تھی ''… سلطان ایوبی نے کہا……''اُن سے ایسی کوئی چیز برآمد نہیں ہوئی ''
جس سے اُن پر شک ہوتا''۔
علی بن سفیان تیر کو غور سے دیکھتا رہا اور بوال……''سلطان اور سراغ رساں کی نظر میں بڑا فرق ہو تاہے ۔ میں سب
سے پہلے ان تاجروں کو پکڑنے کی کوشش کروں گا''۔
علی بن سفیان صالح الدین ایوبی کے خیمے سے باہر نکال تو دربان نے اسے کہا ……''یہ کمان دار اطالع الیا ہے کہ کل
سات عیسائی لڑکیاں قید میں آئی تھیں ۔ا ُن میں سے ایک الپتہ ہے ۔کیا سلطان کو یہ اطالع دینا ضروری ہے ؟۔یہ کوئی اہم
واقعہ تو نہیں کہ سلطان کو پریشان کیا جائے ''۔
علی بن سفیان گہری سوچ میں پڑگیا۔ کمان دار جو اطالع دینے آیاتھا ،اس نے علی بن سفیان کے قریب آکر آہستہ سے
کہا…… ایک عیسائی لڑکی کا الپتہ ہوجانا تو اتنا اہم واقعہ نہیں ،مگر اہم یہ ہے کہ فخر المصری نام کا کماندار بھی رات سے
الپتہ ہے ۔رات کے سنتریوں نے بتایا ہے کہ وہ لڑکویں کے خیمے تک گیاتھا ،وہاں سے زخمیوں کے خیموں کی طرف گیا اور
پھر کہیں نظر نہیں آیا ۔ رات وہ گشت پر نکالتھا ''۔
علی بن سفیان نے ذرا سوچ کر کہا……''یہ اطالع سلطان تک ابھی نہ جائے ۔ رات کے اُس وقت کے تمام سنتریوں کو اکٹھا
کرو ،جب فخر گشت پر نکال تھا''…… اس نے سلطان ایوبی کے محافظ دستے کے کمان دار سے کہا کہ کل سلطان کے ساتھ
جو محافظ ساحل تک گئے تھے ،انہیں الو۔ وہ وہیں تھے ۔ چاروں سامنے آگئے تو علی بن سفیان نے انہیں کہا……''کل
جہاں تم نے تاجروں اور لڑکیوں کو دیکھا تھا ،وہاں فورا ً پہنچو۔ اگر وہ تاجر ابھی تک وہیں ہیں تو انہیں حراست میں لے لو
اور وہیں میرا انتظار کرو اور اگر جاچکے ہوں تو فورا ً واپس آو''۔
محافظ روانہ ہوگئے تو علی بن سفیان لڑکیوں کے خیمے تک گیا۔ چھ لڑکیاں باہر بیٹھی تھی اور سنتری کھڑا تھا۔ علی نے
''لڑکیوں کو اپنے سامنے کھڑا کر کے عربی زبان میں پوچھا …… ''ساتویں لڑکی کہاں ہے ؟
لڑکیوں نے ایک دوسری کے منہ کی طرف دیکھا اور سر ہالئے ۔ علی بن سفیان نے کہا…''تم سب ہماری زبان سمجھتی
ہو''۔
لڑکیاں اسے حیران سا ہوکے دیکھتی رہیں ۔علی ا ُن کے چہروں اور ڈیل ڈول سے شک میں پڑگیا تھا۔وہ لڑکیوں کے پیچھے جا
کھڑا ہوا اور عربی زبان میں کہا……''ان لڑکیوں کے کپڑے اُتار کر ننگا کردو اور بارہ وحشی قسم کے سپاہی بال الو''۔
تمام لڑکیاں بدک کر پیچھے کو ُم ڑیں ۔ دو تین نے بیک وقت بولنا شروع کردیا ،وہ عربی زبان بول رہی تھیں……''لڑکیوں کے
ساتھ تم ایسا سلوک نہیں کر سکتے ''……ایک نے کہا…… ''ہم تمہارے خالف نہیں لڑیں''۔
علی بن سفیان کی ہسنی نکل گئی ۔اس نے کہا……''میں تمہارے ساتھ بہت اچھا سلوک کروں گا۔ تم نے جس طرح ایک ہی
دھمکی سے عربی بولنی شروع کردی ہے ،اب بغیر کسی دھمکی کے یہ بتا دو کہ ساتویں لڑکی کہاں ہے''……سب نے العلمی
کا اظہار کیا ۔علی نے کہا……''میں اس سوال کا جواب لے کر رہوں گا۔ تم نے سلطان پر ظاہر کیا ہے کہ تم ہماری زبان
نہیں جانتیں ،اب تم ہماری زبان ہماری طرح بول رہی ہو۔ کیا میں تمہیں چھوڑدوں گا؟''……اس نے سنتری سے
کہا……''انہیں خیمے کے اندر بٹھا دو''۔
رات کے سنتری آگئے تھے ۔ فخر المصری کی گشت کے وقت کے سنتریوں سے علی بن سفیان نے پوچھ گچھ کی ۔ آخر
لڑکیوں کے خیمے والے سنتری نے بتایا کہ فخر رات ا ُسے یہاں کھڑا کر کے زخمیوں کے خیموں کی طرف گیا تھا۔ تھوڑی دیر
بعد اسے اس کی آواز سنائی دی ……''کون ہوتم ؟نیچے آو''……سنتری نے اُدھر دیکھا تو اندھیرے میں اسے کچھ بھی نظر نہ
آیا ۔ سامنے مٹی کے ٹیلے پر اُسے ایک آدمی کا سایہ نظر آیا اور وہ سایہ وہیں غائب ہوگیا۔
علی بن سفیان فورا ً وہاں گیا۔ یہ ٹیلہ ساحل کے قریب تھا۔ اس کی مٹی ریتلی تھی ۔ ایک جگہ سے صاف پتہ چل رہاتھا
کہ وہاں کوئی اوپر گیا ہے ۔ وہاں زمین پر دو قسم کے پائوں کے نشان تھے ۔ ایک نشان تو مرد کا تھا ،جس نے فوجیوں واال
جو تا پہن رکھا تھا۔ دوسرا نشان چھوٹے جوتے کا تھا اور زنانہ لگتا تھا۔ زمین کچی اور ریتلی تھی تھی۔ زنانہ نشان جدھر
سے آیاتھا ،علی بن سفیان اُدھر کو چل پڑا۔یہ نشان اُسے اس خیمے تک لے گئے جہاں موبی رابن سے ملی تھی ۔ اس نے
خیمے کا پردہ اُٹھا یا اور اندر چال گیا۔
اس کی چہرہ شناس نگاہوں نے زخمی قیدیوں کو دیکھا۔سب کے چہرے بھانپے ۔ رابن بیٹھا ہوا تھا۔اس نے علی بن سفیان کو
دیکھا اور فورا ً ہی کر اہنے لگا،جیسے اسے دردکا اچانک دورہ پڑا ہو۔علی نے اسے کندھے سے پکڑ کر اُٹھا لیا اور خیمے سے
باہر لے گیا۔ اس سے پوچھا……''رات کو ایک قیدی لڑکی اس خیمے میں آئی تھی ،کیوں آئی تھی ؟''……رابن اسے ایسی
نظروں سے دیکھنے لگا جن میں حیرت تھی اور ایسا تاثر بھی جیسے وہ کچھ سمجھا ہی نہ ہو۔ علی بن سفیان نے اُسے
آہستہ سے کہا……'' تم میری زبان سمجھتے ہو دوست!میں تمہاری زبان سمجھتا ہوں ۔بول سکتاہوں ،لیکن تمہیں میری زبان
میں جواب دینا ہوگا''……رابن اس کا منہ دیکھتا رہا۔علی نے سنتری سے کہا۔''اسے خیمے سے باہر رکھو''۔
علی بن سفیان خیمے کے اندر چالگیا اور قیدیوں سے اُن کی زبان میں پوچھا ۔ ''رات کو لڑکی اس خیمے میں کتنی دیر
رہی تھی ؟اپنے آپ کو اذیت میں نہ ڈالو''۔
سب چپ رہے ،مگر ایک اور دھمکی سے ایک زخمی نے بتادیا کہ لڑکی خیمے میں آئی تھی اور رابن کے پاس بیٹھی یا لیٹی
رہی تھی ۔ یہ زخمی سمندر سے جلتے جہاز سے کودا تھا۔اس نے آگ کا بھی اور پانی کا بھی قہر دیکھا تھا۔ وہ اتنا زخمی
نہیں ،جتنا خوف زدہ تھا۔ وہ کسی اور مصیبت میں پڑنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس نے بتا یا کہ اسے یہ معلوم نہیں کہ
رابن اور لڑکی کے درمیان کیا باتیں ہوئیں اور لڑکی کون تھی ۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ رابن کا عہدہ کیا ہے ۔ وہ
اس کے صرف نام سے واقف تھا۔ا س نے یہ بھی بتادیا کہ رابن اس کیمپ میں آنے تک بالکل تندرست تھا۔ یہاں آکر وہ اس
طرح کراہنے لگا ،جیسے اُسے اچانک کسی بیماری کا دورہ پڑگیا ہو۔
علی بن سفیان ایک محافظ کی راہنمائی میں ا ُن پانچ آدمیوں کو دیکھنے چالگیا جو تاجروں کے بہروپ میں کچھ ُدور خیمہ زن
تھے ۔محافظوں نے انہیں الگ بٹھا رکھا تھا۔علی کو انہوں نے پہلی اطالع یہ دی کہ اُن کے پاس کل دو اونٹ تھے ،مگر آج
ایک ہی ہے ۔ یہی اشارہ کافی تھا۔ وہ اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے کہ دوسرا اونٹ کہاں ہے ۔
تمہاراجرم معمولی چوری چکاری نہیں ہے ۔تم
دوسرے اونٹ کے پائوں کے نشان مل گئے ۔ علی بن سفیان نے انہیں کہا……''
ُ
ایک پوری سلطنت اور اس کی تمام ترآبادی کے لیے خطرہ ہو۔ا سلیے میں تم پر ذرہ بھر رحم نہیں کروں گا۔ کیا تم تاجر
''ہو؟
ہاں''……سب نے سر ہال کر کہا……''ہم تاجر ہیں جناب ! ہم بے گناہ ہیں ''۔''
علی بن سفیان نے کہا……''اپنے ہاتھوں کی اُلٹی طرف میرے سامنے کرو''۔ پانچوں نے ہاتھ اُلٹے کر کے آگے کردئیے ۔علی
نے سب کے بائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور شہادت کی اُنگلی کی درمیانی جگہ کو دیکھا اور ایک آدمی کو کالئی سے پکڑ کر
گھسیٹ لیا ۔اسے کہا……''کمان اور ترکش کہاں چھپا رکھی ہے؟'' اس آدمی نے معصوم بننے کی بہت کوشش کی ۔علی نے
سلطان ایوبی کے ایک محافظ کو اپنے پاس بال کر اس کے بائیں ہاتھ کی اُلٹی طرف اسے دکھائی ۔اس کے انگوٹھے کے اُلٹی
طرف ا ُس جگہ جہاں انگوٹھا ہتھیلی کے ساتھ ملتا ہے ،یعنی جہاں جوڑ ہوتاہے ،وہاں ایک نشان تھا۔ ایسا نشان اس آدمی
کے انگوٹھے کے جوڑ پر بھی تھا۔علی نے اسے اپنے محافظ کے متعلق بتایا……''یہ سلطان ایوبی کا بہترین تیر انداز ہے اور
یہ نشان اس کا ثبوت ہے کہ یہ تیر انداز ہے ''۔ اس کے انگوٹھے کی اُلٹی طرف ایک مدھم سانشان تھا ،جیسے وہاں بار بار
کوئی چیز رگڑی جاتی رہی ہو۔ یہ تیروں کی رگڑ کے نشان تھے ۔تیر دائیں ہاتھ سے پکڑا جاتا ہے ۔کمان بائیں ہاتھ سے پکڑی
جاتی ہے ،تیر کا اگال حصہ بائیں ہاتھ کے انگوٹھے پر ہوتاہے اور جب تیر کمان سے نکلتا ہے تو انگوٹھے پر رگڑ کھا جاتا
ہے ۔ایسا نشان ہر ایک تیر انداز کے ہاتھ میں ہوتاتھا۔ علی بن سفیان نے کہا…… ''ان پانچ میں تم اکیلے تیر انداز ہو۔کمان
اور ترکش کہاں ہے؟''…… پانچوں چپ رہے ۔علی نے ان پانچ میں سے ایک کو پکڑ کر محافظوں سے کہا…… ''اس کو اُس
درخت کے ساتھ باند ھ دو''۔ اسے کھجور کے درخت کے ساتھ کھڑا کرکے باندھ دیاگیا۔علی نے اپنے تیر انداز کے کان میں
کچھ کہا۔ تیر انداز نے کندھے سے کمان ا ُتار کر اس میں تیر رکھا اور درخت سے بندھے ہوئے آدمی کا نشانہ لے کر تیر
چھوڑا ۔ تیر اس آدمی کی دائیں آنکھ میں اتر گیا ۔وہ تڑپنے لگا۔ علی نے باقی چار سے کہا……''تم میں کتنے ہیں جو
صلیب کی خاطر اس طرح تڑپ تڑپ کر جان دینے کو تیار ہیں ؟اس کی طرف دیکھو''……انہوں نے دیکھا۔ وہ آدمی چیخ
رہاتھا ،تڑپ رہاتھا ،اس کی آنکھ سے خون بُری طرح بہہ رہاتھا۔ ''میں تم سے وعدہ کرتاہوں ''…… علی بن سفیان نے
کہا…… ''کہ باعزت طریقے سے تم سب کو سمندر پار بھیج دوں گا……''دوسرے اونٹ پر کون گیا ہے ؟کہاں گیا ہے ؟''
'' تمہارا اپنا ایک کمان دار ہمارا ایک اونٹ ہم سے چھین کر لے گیا ہے ''……ایک آدمی نے کہا۔ ''اور ایک لڑکی بھی
''۔ علی بن سفیان نے کہا۔ تھوڑی ہی دیر بعد علی بن سفیان کے فن نے اُن سے اعتراف کروالیا کہ وہ کون ہیں اور کیا
ہیں ،مگر انہوں نے یہ جھوٹ بوال کہ لڑکی رات خیمے سے بھاگ آئی تھی اور اس نےبتایا کہ صالح الدین ایوبی نےرات
اسے اپنے ٰخ مے میں رکھا تھا ،اس نے شراب پی رکھی تھی اور لڑکی کو بھی پالئی تھی اور لڑکی گھبراہٹ اور خوف کے
عالم میں آئی تھی ۔ اس کے تعاقب میں فخر المصری نام کا ایک کمان دار آیا اور اس نے جب لڑکی کی باتیں سنیں تو
اسے ہمارے اونٹ پر بٹھا کر زبردستی لے گیا۔ انہوں نے وہ تمام بہتان علی بن سفیان کو سنائے جو لڑکی نے سلطان ایوبی
پر لگائے تھے ۔ علی نے ُم سکراکر کہا ……''تم پانچ تربیت یافتہ عسکری اور تیر انداز اور ایک آدمی تم سے لڑکی بھی لے
گیا اور اونٹ بھی ''……اس نے انہی کی نشاندہی پر زمین میں دبائی ہوئی کمان اور ترکش بھی نکلوالی ۔ ان چاروں کو خیمہ
گاہ میں بھجوادیا گیا۔ پانچواں آدمی تڑپ تڑپ کر مرچکا تھا۔ اونٹ کے پاوں کے نشان صاف نظر آرہے تھے ۔ علی بن سفیان
نے نہایت سرعت سے دس سوار بالئے اور انہیں اپنی کمان میں لے کر اس طرف روانہ ہوگیا ،جدھر اونٹ گیاتھا ،مگر اونٹ
کی روانگی اور اس کے تعاقب میں علی بن سفیان کی روانگی میں ،چودہ پندرہ گھنٹوں کا فرق تھا ،اونٹ تیز تھا اور اسے
آرام کی بھی زیادہ ضرورت نہیں تھی ۔اونٹ ،پانی اور خوراک کے بغیر چھ سات ِدن تروتازہ رہ سکتا ہے ۔ا سکے مقابلے
میں گھوڑوں کو راستے میں کئی بار آرام ،پانی اور خوراک کی ضرورت تھی ۔ان عناصر نے تعاقب ناکام بنادیا۔اونٹ نے چودہ
پندرہ گھنٹوں کا فرق پورا نہ ہونے دیا۔ فخر المصری نے تعاقب کے ِ
پیش نظر قیام بہت کم کیاتھا۔ علی بن سفیان کو راستے
میں صرف ایک چیز ملی ،یہ ایک تھیال تھا۔ اس نے ُرک کر تھیال اُٹھایا ،کھول کر دیکھا ،اس میں کھانے پینے کی چیزیں
تھیں ۔ اسی تھیلے میں ایک اور تھیال تھا۔ اس میں بھی وہی چیزیں تھیں ۔علی بن سفیان کے سونگھنے کی تیز حس نے
اسے بتادیا کہ ان اشیاء میں حشیش ملی ہوئی ہے ۔راستے میں اُسے دوجگہ ایسے آثار ملے تھے ،جن سے پتہ چلتا تھا کہ
یہاں اونٹ ُر کا ہے اور سوار یہاں بیٹھے ہیں ۔کھجوروں کی گٹھلیاں ،پھلوں کے بیج اور چھلکے بھی بکھرے ہوئے تھے ۔تھیلے
نے اسے شک میں ڈال دیا۔ اس کے ذہن میں یہ شک نہ آیا کہ فخرالمصری کو حشیش کے نشے میں لڑکی اپنے محافظ کے
طور پر ساتھ لے جارہی ہے ۔تاہم اس نے تھیال اپنے پاس رکھا ،مگر تھیلے کی تالشی اور قیام نے وقت ضائع کردیاتھا۔ ٭ ٭
٭
فخر المصری اور موبی منزل پر نہ بھی پہنچتے اور راستے میں پکڑے بھی جاتے تو کوئی فرق نہ پڑتا ۔سوڈانی لشکر میں
ناجی ،اوروش اور ان کے ساتھی جو زہر پھیال چکے تھے وہ اثر کر گیا تھا۔ فاطمی خالفت کے وہ فوجی سربراہ جو برائے نام
جرنیل اور دراصل حاکم بنے ہوئے تھے ،سلطان صالح الدین ایوبی کو ایک ناکام امیر اور بے کار حاکم ثابت کرنا چاہتے تھے ۔
مسلمان حکمران حرم میں ا ُن لڑکیوں کے اسیر ہوگئے تھے ۔حکومت کا کاروبار خود ساختہ افسر چالرہے تھے ،من مانی اور
عیش و عشرت کررہے تھے ۔وہ نہیں چاہتے تھے کہ صالح الدین ایوبی جیسا کوئی مذہب پسند اور قوم پرست قائد قوم کو
جگا دے اور حکمرانوں اور سلطانوں کو حرم کی جنت سے باہر الکر حقائق کی ُدنیا میں لے آئے ۔ سلطان ایوبی کے پہلے
معرکوں سے جو اس نے اپنے چچا شیر کوہ کی قیادت میں لڑے تھے ،یہ لوگ جان چکے تھے کہ اگر یہ شخص اقتدار میں
لہذا انہوں نے ہروہ داو کھیال جو سلطان ایوبی کو
آگیا تو اسالمی سلطنت کو مذہب اور اخالقیات کی پابندیوں میں جکڑلے گا۔ ٰ
چاروں شانے چت گرا سکتا تھا۔ انہوں نے درپردہ صلیبیوں سے تعاون کیا اور ان کے جاسوسوں اور تخریب کاروں کے لیے زمین
ہموار کی اور اس کے راستے میں چٹانیں کھڑی کیں ۔اگر نور الدین زنگی نہ ہوتا تو آج نہ صالح الدین ایوبی کا تاریخ میں نام
..ہوتا ،نہ آج نقشے پر اتنے زیادہ اسالمی ممالک نظر آتے
نور الدین زنگی نے ذراسے اشارے پر بھی سلطان ایوبی کو مدد بھیجی ۔صلیبیوں نے مصری فوج کے سوڈانیوں کے بالوے پر
بحیرۂ روم سے حملہ کیا تو نورالدین زنگی نے اطالع ملتے ہی خشکی پر صلیبیوں کی ایک مملکت پر حملہ کر کے اُن کے
اس لشکر کو مفلوج کردیا جو مصر پر حملہ کرنے کے لیے جارہاتھا۔یہ تو سلطان ایوبی کا نظا ِم جاسوسی ایسا تھا کہ اس نے
صلیبیوں کا بیڑہ غرق کردیا۔ اب علی بن سفیان نے زنگی کی طرف برق رفتار قاصد یہ خبر دینے کے لیے دوڑادئیے تھے کہ
سوڈانیوں کی بغاوت کا خطرہ ہے اور ہماری فوج کم بھی ہے ،دوحصوں میں بٹ بھی گئی ہے ۔قاصد پہنچ گئے تھے اور
نورالدین زنگی نے خاصی فوج کو مصرکی طرف کوچ کا حکم دے دیاتھا۔ بعض مورخین نے اس فوج کی تعداد دوہزار سوار اور
پیادہ لکھی ہے اور کچھ اس سے زیادہ بتاتے ہیں ۔بہر حال زنگی نے اپنی مشکالت اور ضروریات کی پروانہ کرتے ہوئے سلطان
ایوبی کی مشکالت اور ضروریات کو اہمیت اور اولیت دی ،مگر اس کی فوج کو پہنچنے کے لیے بہت ِدن درکار تھے ۔
مسلمان نام نہاد فوجی اور دیگر سرکردہ شخصیتوں نے دیکھا کہ مصر میں سلطان ایوبی کے خالف بے اطمینانی اور بغاوت
پھوٹ رہی ہے تو انہوں نے اسے ہوادی ۔ در پردہ سوڈانیوں کو اُکسایا اور اپنے مخبروں کے ذریعے یہ بھی معلوم کرلیا کہ
سوڈانیوں کے ساالروں کو مرواکر خفیہ طریقے سے دفن کردیاگیاہے ۔ سوڈانی لشکر کے کم رتبے والے کمان دار ساالر بن گئے اور
صالح الدین ایوبی کی اس قلیل فوج پر حملہ کرنے کے منصوبے بنانے لگے ،جو مصر میں مقیم تھی ۔ وہ سلطان ایوبی کی
آدھی فوج اور سلطان کی دار الحکومت سے غیر حاضری سے فائدہ اُٹھانا چاہتے تھے ۔ منصوبہ ایسا تھا کہ جس کے تحت
پچاس ہزار سوڈانی فوجی سیاہ گھٹا کی طرح مصر کے آسمان سے اسالم کے چاند کو روپوش کرنے والی تھی ۔
علی بن سفیان قاہرہ پہنچ گیا۔ وہ جن کے تعاقب میں گیاتھا ،اُن کا اُس سے آگے کوئی سراخ نہیں مل رہاتھا۔ اس نے اپنے
ا ُن جاسوسوں کو بالیاجو اس نے سوڈانی ہیڈ کوارٹر اور فوج میں چھوڑ رکھے تھے ۔ان میں سے ایک نے بتایا کہ گزشتہ رات
ایک اونٹ آیاتھا۔ اندھیرے میں جو کچھ نظر آسکا ،وہ دوسوار تھے ،ایک عورت اور ایک مرد ۔جاسوس نے یہ بھی بتایاکہ وہ
ِ
سلطنت
کون سی عمارت میں داخل ہوئے تھے ۔علی بن سفیان کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ وہاں چھاپہ مارتا۔ سوڈانی فوج
اسالمیہ کی فوج تھی ،کوئی آزاد فوج نہیں تھی ،مگر علی نے اس خدشے کے پیش نظر چھاپہ نہ مارا کہ یہ جلتی پر تیل
کاکام کرے گا۔ اس کا مقصد صرف یہ نہیں تھا کہ موبی اور فخر المصری کو گرفتار کرنا ہے ،بلکہ اصل مقصد یہ تھا کہ سوڈانی
قیادت کے عزائم اور آئندہ منصوبے معلوم کیے جائیں ،تاکہ پیش بندی کی جاسکے ۔ اس نے اپنے جاسوسوں کو نئی ہدایات
جاری کیں۔جاسوسوں میں غیر مسلم لڑکیا ں بھی تھیں ،جو عیسائی یا یہودی نہیں تھیں۔ یہ قحبہ خانوں کی بڑی ذہین اور تیز
طرار لڑکیا ں تھیں ،مگر علی بن سفیان نے ان پر کبھی سو فیصد بھروسہ نہیں کیاتھا ،کیونکہ وہ دوغال کھیل بھی کھیل سکتی
تھیں ۔ ان لڑکیوں سے بھی اُس لڑکی )موبی (کا سراغ نہ مل سکا جس کے تعاقب میں علی آیا تھا۔
...داستان ایمان فروشوں کی
...ساتویں لڑکی
#قسط 14
چار روز علی بن سفیان دارالحکومت سے باہر مارامارا پھر تارہا۔ اس کا دائرہ کار سوڈانی فوجی قیادت کے ارد گرد کا عالقہ
تھا۔ پانچویں رات وہ باہر کھلے آسمان تلے بیٹھا اپنے دوجاسوسوں سے رپورٹ لے رہاتھا۔ اس کے تمام آدمیوں کو معلوم
ہوتاتھا کہ کس وقت وہ کہاں ہوتا ہے ۔اُس کے گروہ کا ایک آدمی ایک آدمی کو ساتھ لیے اُس کے پاس آیا اور کہا……''یہ
اپنا نام فخر ی المصری بتاتا ہے ،جھاڑیوں میں ڈگمگاتا ،گرتا اور اُٹھتا تھا۔ میں نے اس سے بات کی تو کہنے لگا کہ مجھے
میری فوج تک پہنچا دو۔ اس سے اچھی طرح بوال بھی نہیں جاتا''……اس دوران فخر المصری بیٹھ گیاتھا۔ ''تم وہی کمان دار
ہو جو محاذ سے ایک لڑکی کے ساتھ بھاگے ہو؟'' ۔علی بن سفیان نے اُس سے پوچھا ۔ ''میں سلطان کی فوج کا بھگوڑا
ہوں ''……فخر نے ہکالئی لڑکھڑاتی زبان میں کہا……''سزائے موت کا حق دار ہوں ،لیکن میری پوری بات سن لیں ،ورنہ تم
سب کو سزائے موت ملے گی ''۔ علی بن سفیان اُس کے لب و لہجے سے سمجھ گیا کہ یہ شخص نشے میں ہے یا نشے
کی طلب نے اس کا یہ حال کررکھا ہے ۔وہ اسے اپنے دفتر میں لے گیا اور اسے وہ تھیال دکھایا جو اسے راستے میں پڑا
مالتھا۔ پوچھا ……''یہ تھیال تمہارا ہے؟اور تم اس سے یہ چیزیں کھاتے رہے ہو؟'' ''ہاں ''……فخر المصری نے جواب
دیا……''وہ مجھے اسی سے کھالتی تھی ''۔ اس کے سامنے وہ تھیال بھی پڑاتھا جو تھیلے کے اندرسے نکال تھا۔علی نے
اس میں سے چیزیں نکال کر سامنے رکھ لی تھیں ۔فخر نے یہ چیزیں دیکھیں تو جھپٹ کر مٹھائی کی قسم کا ایک ٹکڑا اُٹھا
لیا۔ علی نے جھپٹ کر اس کے ہاتھ پر اپناہاتھ رکھ دیا۔ فخر نے بے تابی سے کہا……''خدا کے لیے مجھے یہ کھانے دو۔
میری جان اور روح اسی میں ہے ''……مگر علی نے اُس سے وہ ٹکڑا چھین لیا اور اسے کہا……''مجھے ساری واردات سناو،
پھر یہ ساری چیزیں ا ُٹھا لینا''۔ فخر المصری نڈھال اور بے جان ہواجارہاتھا۔ علی بن سفیان نے اُسے ایک سفوف کھالدیا جو
حشیش کا توڑ تھا۔ فخر نے اسے تمام تر واقعہ سنادیا کہ وہ کیمپ سے لڑکی کے تعاقب میں کس طرح گیاتھا۔ تاجروں نے
اُسے قہوہ پالیا تھا،جس کے اثر سے وہ کسی اور ہی ُدنیا میں جاپہنچا تھا۔ تاجروں )صلیبی جاسوسوں (نے اُس سے جو باتیں
کی تھیں ،وہ بھی ا س نے بتائیں اور پھر لڑکی کے ساتھ اس نے اونٹ پر جو سفر کیا تھا ،وہ اس طرح سنایا کہ وہ
مسلسل چلتے رہے ۔اونٹ نے بڑی اچھی طرح ساتھ دیا۔رات کو وہ تھوڑی دیر قیام کرتے تھے۔ لڑکی اسے کھانے کو دوسرے
تھیلے میں سے چیزیں دیتی تھی۔وہ اپنے آپ کو باد شاہ سمجھتاتھا۔ لڑکی نے اسے اپنی محبت کا یقین دالیا اور شادی کا
وعدہ کیاتھا اور شرط یہ رکھی تھی کہ وہ اسے سوڈانی کمان دار کے پاس پہنچادے۔ فخری نے محسوس تک نہ کیا کہ لڑکی
اسے حشیش اور اپنے حسن و شباب کے قبضے میں لیے ہوئے ہے ۔تیسرے پڑاو میں جب انہوں نے کھانے پینے کے لیے اونٹ
روکا تو تھیال غائب پایا جو اونٹ کے دوڑ نے سے کہیں گر پڑا تھا۔ لڑکی نے اسے کہا کہ واپس چل کر تھیال ڈھونڈ لیتے ہیں
،لیکن فخر المصری نے کہا کہ وہ بھگوڑا فوجی ہے ،خدشہ ہے کہ اس کا تعاقب ہورہاہوگا۔ لڑکی ضد کرنے لگی کہ تھیال ضرور
ڈھونڈیں گے۔ فخر نے اسے یقین دالیا کہ بھوکا مرنے کا کوئی خطرہ نہیں ،راستے میں کسی آبادی سے کچھ لے لیں گے ،
مگر لڑکی آبادی کے قریب جانا نہ چاہتی تھی اور کہتی تھی کہ واپس چلو۔ فخر المصری نے اُسے زبردستی اونٹ پر بٹھالیا
اور اس کے پیچھے بیٹھ کر اونٹ کو ا ُٹھایا اور دوڑا دیا۔ وہ سفر کی تیسری رات تھی ۔اگلی شام وہ شہر سے باہر سوڈانیوں
کے ایک کمان دار کے ہاں پہنچ گئے ،مگر فخر المصری اپنے سر کے اندر ایسی بے چینی محسوس کرنے لگا ،جیسے کھوپڑی
میں کیڑے رینگ رہے ہوں۔ آہستہ آہستہ وہ حقیقی ُدنیا میں آگیا۔ وہ سمجھ نہ سکا کہ یہ حشیش نہ ملنے کا اثر ہے ۔اُس کی
تصوراتی بادشاہی اور ذہہن میں بسائی ہوئی جنت تھیلے میں کہیں رہ گزار میں گرگئی تھی ۔ لڑکی نے اُس کے سامنے کمان
دار کو صلیبیوں کا پیغام دیا اور اسے بغاوت پر اُکسایا۔ فخر پاس بیٹھا سنتا رہا اور اُس کے ذہہن میں کیڑے بڑے ہوکر تیزی
سے رینگنے لگے ۔ نشہ اتر چکا تھا ۔چناچہ ا ُس نے بے خوف و خطر کمان دار سے یہ بھی کہہ دیا کہ سلطان ایوبی اور
علی بن سفیان کے درمیان یہ غلط فہمی پیدا کرنی ہے کہ وہ ظاہری طور پر نیک بنے پھر تے ہیں مگر عورت اور شراب کے
دلدادہ ہیں۔ ا ُن کی اس طویل گفتگو میں بغاوت کی باتیں بھی ہوئیں۔ اس وقت تو فخر المصری پوری طرح بیدار ہو چکاتھا،
لیکن سر کے اندر کی بے چینی اسے بہت پریشان کررہی تھی ۔لڑکی نے کمان دار سے کہا کہ اگر بغاوت کرنی ہے تو وقت
ضائع نہ کریں۔ سلطان ایوبی محاذ پر ہے اور ا ُلجھا ہواہے ۔لڑکی نے یہ جھوٹ بوال کہ صلیبی تین چار دنوں بعد دوسرا حملہ
کرنے والے ہیں۔سلطان ایوبی کو یہاں سے بھی فوج محاذ پر بالنی پڑے گی۔ کمان دار نے لڑکی کو بتایا کہ چھ سات دنوں
تک سوڈانی لشکر یہاں کی فوج پر حملہ کردے گا۔ فخر یہ ساری گفتگو سنتارہا۔ آدھی رات کے بعد اُسے الگ کمرے میں
بھیج دیاگیا جہاں ا ُس کے سونے کا انتظام تھا۔ لڑکی اور کمان دار دوسرے کمرے میں رہے ۔درمیان میں دروازہ تھا جو بند
کردیاگیا ۔اسے نیند نہیں آرہی تھی۔اُس نے دروازے کے ساتھ کان لگائے تو اُسے ہنسی کی آزوازیں سنائی دیں،پھر لڑکی کے یہ
الفاظ سنائی دئیے……''اسے حشیش کے زور پر یہاں تک الئی ہوں اور اس کی محبوبہ بنی رہی ہوں۔مجھے ایک محافظ کی
ضرورت تھی ۔حشیش کا تھیال راستے میں گر پڑاہے۔ اگر صبح اسے ایک خوراک نہ ملی تو یہ پریشان کرے گا''…… اس کے
بعد فخر نے دوسرے کمرے سے جو آوازیں سنیں ،وہ اسے صاف بتارہی تھیں کہ شراب پی جارہی ہے اور بد کاری ہورہی
ہے۔ بہت دیر بعد ا ُسے کمان دار کی آواز سنائی دی……''یہ آدمی اب ہمارے لیے بے کار ہے ۔ اسے قید میں ڈال دیتے ہیں
یا ختم کرادیتے ہیں ''……لڑکی نے اس کی تائید کی ۔ فخر المصری پوری طرح بیدار ہوگیا اور وہاں سے نکل بھاگنے کی
سوچنے لگا۔رات کا پچھال پہر تھا۔ وہ اس کمرے سے نکال۔ اس کا دماغ ساتھ نہیں دے رہاتھا۔ کبھی تو دماغ صاف ہوجاتا،
مگر زیادہ دیر ماو ف رہتا۔ صبح کی روشنی پھیلنے تک وہ خطرے سے ُدور نکل گیا تھا ۔ اسے اب دوہرے تعاقب کا خطرہ
تھا ۔ دونوں طرف اسے موت نظر آرہی تھی ۔ اپنی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوجاتا تو بھی مجرم تھا اور اگر سوڈانی پکڑ لیتے
تو فورا ً قتل کر دیتے ۔ وہ دن بھر فرعونوں کے کھنڈروں میں چھپا رہا ۔ حشیش کی طلب ،خوف اور غصہ اُس کے جسم و
دماغ کو بے کا ر کر رہا تھا ۔ رات تک وہ چلنے سے بھی معذور ہو ا جا رہا تھا ۔ پھر اُسے یہ بھی احساس نہ رہا کہ ِدن
ہے یا رات اور وہ کہاں ہے ۔ اس کے دماغ میں یہ اِرادہ بھی آیا کہ اس عیسائی لڑکی کو جا کر قتل کر دے ۔ یہ سوچ
بھی آئی کہ اونٹ یا گھوڑا مل جائے اور وہ محاز پر سلطان ایوبی کے قدموں میں جا گرے ۔ مگر جو بھی سوچ آتی تھی ،
اس پر اندھیرا چھا جاتا تھا جو ا ُس کی آنکھوں کے سامنے ہر چیز تاریک کر دیتا تھا ۔ اسی حالت میں اسے یہ آدمی مال ۔
وہ چونکہ جاسوس تھا ،اس لیے تربیت کے مطابق ا ُس نے فخرالمصری کے ساتھ دوستی اور ہمدردی کی باتیں کیں اور اسے
علی بن سفیان کے پاس لے آیا ۔
تصدیق ہو گئی کہ سوڈانی لشکر حملہ اور بغاوت کرے گا اور یہ کسی بھی لمحے ہو سکتا ہے ۔ علی بن سفیان سوچ رہا تھا
کہ مقامی کمانڈروں کو فورا ً چوکنا کرے اور سلطان ایوبی کو اطالع دے ،مگر وفت ضائع ہونے کا خطرہ تھا ۔ اتنے میں اسے
پیغام مالکہ صالح الدین ایوبی بال رہے ہیں ۔ وہ حیران ہو کر چل پڑا کہ سلطان کو تو وہ محاظ پر چھوڑ آیا تھا ۔
وہ حیران ہو کر چل پڑا کہ سلطان کو تو وہ محاظ پر چھوڑ آیا تھا ۔ وہ سلطان ایوبی سے مال تو سلطان نے بتایا … ''
مجھے اطالع مل گئی تھی کہ ساحل پر صلیبی جاسوسوں کا ایک گروہ موجود ہے اور اُن میں سے کچھ اِدھر بھی آگئے ہوں
گے ۔ محاظ پر میرا کوئی کام نہیں رہ گیا تھا ۔ میں کمان اپنے رفیقوں کو دے کر یہاں آگیا ۔ ِدل اس قد ر بے چین تھا کہ
میں یہاں بہت بڑا خطرہ محسوس کر رہا تھا ۔ یہاں کی کیا خبر ہے ؟'' علی بن سفیان نے اُسے ساری خبر سنا دی اور
کہا …'' اگر آپ چاہیں تو میں زبان کا ہتھیار استعمال کر کے بغاوت کو روکنے کی کوشش کروں یا سلطان زنگی کی مدد آنے
تک ملتوی کرادوں ۔ میں جاسوسوں کو ہی استعما ل کر سکتا ہوں ۔ ہماری فوج بہت کم ہے ۔ حملے کو نہیں روک سکے
گی ''۔ سلطان ایوبی ٹہلنے لگا ۔ ا ُس کا سر جھکا ہوا تھا ۔ وہ گہری سوچ میں کھو گیا تھا اور علی بن سفیا ن اسے
دیکھ رہا تھا ۔ سلطان نے ُر ک کر کہا …… '' ہاں علی !تم اپنی زبان اور اپنے جاسوس استعمال کرو ،لیکن حملے کو
روکنے کیلئے نہیں ،بلکہ حملے کے حق میں ۔ سوڈانیوں کو حملہ کرنا چاہیے ،مگر رات کے وقت جب ہماری فوج خیموں
میں سوئی ہوئی ہوگی '' ۔ علی بن سفیان نے حیرت سے سلطان کو دیکھا ۔ سلطان نے کہا ……'' یہاں کے تمام کمانداروں
کو بلوالو اور تم بھی آجاو '' …… سلطان ایوبی نے علی بن سفیان کو یہ ہدایت بڑی سختی سے دی …… '' یہ سب کو
بتا دینا کہ میرے متعلق ا ُس کے سوا کسی کو معلوم نہ ہو سکے کہ میں محاظ سے یہاں آگیا ہوں ۔ سوڈانیوں سے میری یہاں
موجودگی کو پوشیدہ رکھنا بے حد ضروری ہے۔ میں بڑی احتیاط سے خفیہ طریقے سے آیا ہوں ''۔ تین راتیں بعد …… قاہر ہ
تاریک رات کی آغوش میں گہری نیند میں سویا ہوا تھا ۔ ایک روز پہلے قاہرہ کے لوگوں نے دیکھا تھا کہ اُن کی فوج جو
مصر سے تیا ر کی گئی تھی ،شہر سے باہر جا رہی تھی ۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ فوج جنگی مشقوں کیلئے شہر سے با ہر
گئی ہے ۔ نیل کے کنارے جہاں ریتلی چٹانیں اور ٹیلے ہیں وہاں دریا اور ٹیلوں کے درمیان فوج نے جا کر خیمے گاڑ دئیے
تھے ۔ فوج پیادہ بھی تھی ،سوار بھی …… رات کا پہال نصف گزر رہا تھا کہ قاہرہ کے سوئے ہوئے باشندوں کو ُدور قیامت کا
شور سنائی دیا ۔ گھوڑوں کے سرپٹ بھاگنے کی آوازیں سنائی دیں ۔ سوئے ہوئے لوگ جاگ اُٹھے ،وہ سمجھے کہ فوج جنگی
مشق کر رہی ہے ،مگر شور قریب آتا اور بلند ہوتا گیا ۔ لوگوں نے چھتوں پر چڑھ کر دیکھا ۔ آسمان الل سرخ ہو رہا تھا ۔
بعض نے دیکھا کہ دور دریائے نیل سے آگ کے شعلے ا ُٹھتے اور تاریک رات کا سینہ چاک کر تے خشکی پر کہیں گرتے تھے
۔ پھر شہر میں سینکڑوں سرپٹ دوڑتے گھوڑوں کے ٹاپ سنائی دئیے۔ شہر والوں کو ابھی معلوم نہیں تھا کہ یہ جنگی مشق
نہیں ،باقاعدہ جنگ ہے اور جو آگ لگی ہوئی ہے ،اس میں سوڈانی لشکر کا خاصا بڑا حصہ زندہ جل رہا ہے ۔ یہ سلطان
صالح الدین ایوبی کی ایک بے مثال چال تھی ۔ اس نے دارالحکومت میں مقیم قلیل فوج کو دریائے نیل جو ریتلے ٹیلوں کے
درمیان وسیع میدان میں خیمہ زن کر دیا تھا ۔ علی بن سفیان نے اپنے فن کا مظاہر ہ کیا تھا ۔ ا س نے سوڈانی لشکر
میں اپنے آدمی بھیج کر بغاوت کی آگ بھڑکا دی تھی اور اس کے کمانداروں سے یہ فیصلہ کروالیا تھا کہ رات کو جب سلطان
کی فوج گہری نیند سوئی ہوئی ہوگی ،اس پر سوڈانی فوج حملہ کر دے گی اور صبح تک ایک ایک سپاہی کا صفایا کر کے
دارالحکومت پر بے خوف و خطر قابض ہوجائے گی اور سوڈانی فوج کا دوسرا حصہ بحیرئہ روم کے ساحل پر مقیم فوج پر حملہ
کرنے کیلئے روانہ کر دیا جائے گا …… اس فیصلے اور منصوبے کے مطابق سوڈانی فوج کا ایک حصہ نہایت خفیہ طریقے سے
رات کو بحیرئہ روم کے محاظ کیطرف روانہ کر دیا گیا اور دوسرا حصہ دریائے نیل کے کنارے خیمہ زن فو ج پر ٹوٹ پڑا ۔
اس فوج نے سیالب کی طرح ایک میل میں پھیلی ہوئی خیمہ گاہ پر ہال بول دیا اور بہت ہی تیزی سے اس عالقے میں
پھیل گی ۔ اچانک خیموں پر آگ اور تیل کے بھیگے ہوئے کپڑوں کے جلتے گولے برسنے لگے۔ نیل بھی آگ برسا نے لگا ۔
خیموں کو آگ لگ گئی اور شعلے آسمان تک پہنچنے لگے ۔ سوڈانی فوج کو خیموں میں سلطان ایوبی کی فوج کا نہ کوئی
سپاہی مال ،نہ گھوڑا ،نہ کوئی سوار۔ اس فوج کو وہاں تمام خیمے خالی ملے ۔ کوئی مقابلے کیلئے نہ اُٹھا اور اچانک آگ
ہی آگ پھیل گئی ۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ سلطان ایوبی نے رات کے پہلے پہر خیموں سے اپنی فوج نکال کر ریتلے ٹیلوں
کے پیچھے چھپا دیا تھا اور خیموں میں خشک گھاس کے ڈھیر لگوا دئیے تھے ۔ خیموں پر اور اندر بھی تیل چھڑک دیا
تھا ۔ اس نے کشتیوں میں چھوٹی منجنیقیں رکھوا کر شام کے بعد ضرورت کی جگہ بجھوا دی تھیں ۔ جونہی سوڈانی فوج
خیمہ گاہ میں آئی سلطان کی چھپی ہوئی فوج نے آگ والے تیر اور نیل سے کشتیوں میں رکھی ہوئی منجنیقوں نے آگ کے
گولے پھینکنے شروع کر دئیے۔ خیموں کو آگ لگی تو گھاس اور تیل نے وہاں دوزخ کا منظر دیا ۔ سوڈانیوں کے گھوڑے اپنے
پیادہ سپاہیوں کو روندنے لگے ۔ سپاہیوں کے لیے آگ سے نکلنا ناممکن ہو گیا ۔ چیخوں نے آسمان کا جگر چاک کر دیا ۔
اس قدر آگ نے رات کو ِد ن بنا دیا ۔ سلطان ایوبی کی مٹھی بھر فوج نے آگ میں جلتی سوڈانیوں کی فوج کو گھیرے میں
لے لیا ،جو آگ سے بچ کر نکلتا تھا ،وہ تیروں کا نشانہ بن جاتا تھا ،جو فوج بچ گئی ،وہ بھاگ نکلی ۔ اُدھر سوڈانیوں
کی جو فوج محاظ کی طرف سلطان کی فوج پر حملہ کرنے جا رہی تھی ،اُس کا بھی صالح الدین ایوبی نے انتظام کر رکھا
تھا ۔ چند ایک دستے گھات لگا ئے بیٹھے تھے۔ اِن دستوں نے اُس فوج کے پچھلے حصے پر حملہ کر کے ساری فوج میں
بھگڈر مچادی ۔ یہ دستے ایک حملے میں جو نقصان کر سکتے تھے ،کر کے اندھیرے میں غائب ہو گئے ۔ سوڈانی فوج سنبھل
کر چلی تو پچھلے حصے پر پھر ایک اور حملہ ہوا ۔ یہ برق رفتار سوار تھے جو حملہ کر کے غائب ہو گئے ۔ صبح تک
اس فوج کے پچھلے حصے پر تین حملے ہوئے ۔ سوڈانی سپاہی اسی سے بدل ہو گئے۔ انہیں مقابلہ کرنے کا تو موقع ہی
نہیں ملتا تھا ۔ دن کے وقت کمانداروں نے بڑی مشکل سے فوج کا حوصلہ بحال کیا ،مگر رات کو کوچ کے دوران اُن کا پھر
وہی حشر ہوا ۔ دوسری رات تاریکی میں ا ُن پر تیر بھی برسے ۔ انہیں اندھیرے میں گھوڑے دوڑنے کی آوازیں سنائی دیتی
تھیں جو ا ُن کی فوج کے عقب میں گشت و خون کرتی دور چلی جاتی تھیں ۔ تین چا ر یورپی مورخوں نے جن میں لین
قابل ذکر ہیں ،لکھا ہے کہ دشمن کی کثیر نفری پر رات کے وقت چند ایک سواروں سے عقبی
پول اور ولیم خاص طور پر
ِ
حصے پر شب خون مارنا اور غائب ہو جانا سلطان ایوبی کی ایسی جنگی چال تھی جس نے آگے چل کر صلیبیوں کو بہت
نقصان پہنچایا۔ اس طرح سلطان ایوبی دشمن کی پیش قدمی کی رفتار کو بہت سست کر دیتا تھا اور دشمن کو مجبور کر دیتا
تھا کہ وہ ا ُ س کی پسند کے میدان میں لڑیں جہاں سلطان ایوبی نے جنگ کا پانسہ پلٹنے کا انتظام کر رکھا ہوتا تھا ۔ ان
مورخین نے سلطان ایوبی کے ان جانبازسواروں کی جرأ ت اور برق رفتاری کی بہت تعریف کی ہے ۔ آج کے جنگی مبصر ،
جن کی نظر جنگوں کی تاریخ پر ہے ،رائے دیتے ہیں کہ آج کے کمانڈو اور گوریال آپریشن کا موجد صالح الدین ایوبی ہے ۔
وہ اس طریقہ جنگ سے دشمن کے منصوبے درہم برہم کر دیا کرتا تھا ۔ سوڈانیوں پر اس نے یہی طریقہ آزمایا اور صرف دو
راتوں کے بار بار شب خون سے اس نے سوڈانی سپاہیوں کا لڑنے کا جذبہ ختم کر دیا ۔ ان کی قیادت میں کوئی دماغ نہ تھا
۔ یہ قیادت فوج کو سنبھال نہ سکی ۔ اس فوج میں علی بن سفیان کے بھی آدمی سوڈانی سپاہیوں کے بھیس میں موجود
تھے ۔ انہوں نے یہ افواہ پھیالدی کہ عرب سے ایک لشکر آرہا ہے جو انہیں کاٹ کر رکھ دے گا ۔ انہوں نے بددلی اور فرار
کا رحجان پیدا کرنے میں پوری کامیابی حاصل کی ۔ فوج غیر منظم ہو کر بکھر گئی۔ نیل کے کنارے اس فوج کا جو حشر ہوا
،وہ عبرت ناک تھا ……یہ افواہ غلط ثابت نہ ہوئی کہ عرب سے فوج آرہی ہے ۔ نورالدین زنگی کی فوج آگئی جس کی
نفری بہت زیادہ نہیں تھی ۔ بعض مورخین نے دو ہزار سوار اور دس ہزار پیادہ لکھی ہے ۔ بغض کے اعدادو شمار اس کے
کچھ زیادہ ہیں ۔ تا ہم صالح الدین ایوبی کو سہارا مل گیا اور اُس نے فورا ً اس فوج کی قیادت سنبھال لی ۔ اس کیفیت میں
جب کہ سوڈانیوں کا پچاس ہزار لشکر سلطان ایوبی کے آگ کے پھندے میں اور اُدھر صحرا میں شب خون کی وجہ سے بد
نظمی کا شکار ہو گیا تھا ،یہ تھورڑی سی فوج بھی کافی تھی ۔ سلطان ایوبی اس فوج سے اور اپنی فوج سے سوڈانیوں کا
قتل عام کر سکتا تھا ،لیکن ا ُس نے ڈپلو میسی سے کام لیا ۔ سوڈانی کمان کے کمانداروں کو پکڑا اور انہیں ذہن نشیں کرایا
ِ
کہ ا ُن کے لیے تباہی کے سوا کچھ نہیں رہا ،لیکن وہ انہیں تباہ نہیں کرے گا ۔ کمانداروں نے اپنا حشر دیکھ لیا تھا ۔ وہ
اب سلطان کے عتاب اور سزا سے خائف تھے ،لیکن سلطان نے انہیں بخش دیا اور سزا دینے کی بجائے سوڈانیوں کی بچی
کچھی فوج کو سپاہیوں سے کاشت کاروں میں بدل دیا ۔انہیں زمینیں دیں اور کھیتی باڑی میں انہیں سرکاری طور پر مدد دی
اور پھر انہیں یہ اجازت بھی دے دی کہ ان میں سے جو لوگ فوج میں بھرتی ہونا چاہتے ہیں ،ہو سکتے ہیں ۔ سوڈانیوں کو
یوں دانشمندی سے ٹھکانے لگا کر صالح الدین ایوبی نے نورالدین زنگی کی بھیجی ہوئی فوج اور اپنی فوج کو یکجا کرکے اس
میں وفادار سوڈانیوں کو بھی شامل کر کے ایک فوج منظم کی اور صلیبیوں پر حملے کے منصوبے بنانے لگا ۔اس نے علی بن
سفیان سے کہا کہ وہ اپنے جاسوسوں اور شب خون مارنے والے جانبازوں کے دستے فورا ً تیار کرے۔ اُدھر صلیبیوں نے بھی
جاسوسی اور تخریب کاری کا انتظام مستحکم کرنا شروع کردیا ۔
صالح الدین ایوبی کے دور کے واقع نگاروں کی تحریروں میں ایک شخص سیف اللہ کا ذکر ان الفاظ میں آتا ہے کہ اگر کسی
ِ
دست راست بہاوالدین
انسان نے سلطان ایوبی کی اعطاعت کی ہے تو وہ سیف اللہ تھا۔ سلطان ایوبی کے گہرے دوست اور
شداد کی اس ڈائری میں جو آج بھی عربی زبان میں محفوظ ہے ،سیف اللہ کا ذکر ذرا تفصیل سے ملتا ہے ۔ یہ شخص جس
کا نام کسی باقاعدہ تاریخ میں نہیں ملتا ،صالح الدین ایوبی کی وفات کے بعد سترہ سال زندہ رہا ۔واقع نگار لکھتے ہیں کہ
ا س نے عمر کے یہ آخری سترہ سال سلطان ایوبی کی قبر کی مجاوری میں گزارے تھے۔ اس نے وصیت کی تھی کہ وہ مر
جائے تو اسے سلطان کے ساتھ دفن کیا جائے ،مگر سیف اللہ کی کو ئی حیثیت نہیں تھی ۔ وہ ایک گمنام انسان تھا ،
جسے عام قبرستان میں دفن کیا گیا اور وہ وقت جلدی ہی آگیا کہ اس قبرستان پر انسانوں نے بستی آباد کر لی اور قبرستان
کا نام و نشان مٹا ڈاال ۔
تاریخی لحاظ سے سیف اللہ کی اہمیت یہ تھی کہ وہ سمندر پار سے صالح الدین ایوبی کو قتل کرنے آیا تھا ۔ اُس وقت اس
کا نام میگناناماریوس تھا ۔ ا ُس نے اسالم کا صرف نام سنا تھا ۔ اسے کچھ علم نہیں تھا کہ اسالم کیسا مذہب ہے ۔
قابل نفرت فرقہ ہے جو
قابل نفرت مذہب اور مسلمان ایک
صلیبیوں پے پروپیگنڈے کے مطابق اسے یقین تھا کہ اسالم ایک
ِ
ِ
لہ ذا میگناناماریوس جب کبھی مسلمان کا لفظ سنتا تھا تو وہ نفرت
عورتوں کا شیدائی اور انسانی گوشت کھانے کا عادی ہے ۔ ٰ
سے تھوک دیا کرتا تھا ۔ وہ بے مثال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جب صالح الدین ایوبی تک پہنچا تو میگناناماریوس قتل
ہو گیا اور اس کے ُمردہ وجود سے سیف اللہ نے جنم لیا ۔
تاریخ میں ایسے حکمرانوں کی کمی نہیں ،جنہیں قتل کیا گیا یا جن پر قاتالنہ حملے ہوئے ،لیکن سلطان صالح الدین ایوبی
تاریخ کی ا ُن چند شخصیتوں میں سے ہے ،جسے قتل کرنے کی کوششیں دشمنوں نے بھی کیں اور اپنوں نے بھی ،بلکہ
داستان ایمان افروز
اپنوں نے اسے قتل کرنے کی غیروں سے زیادہ سازشیں کیں۔ یہ امر افسوس ناک ہے کہ سلطان ایوبی کی
ِ
کے ساتھ ساتھ ایمان فروشوں کی کہانی بھی چلتی ہے۔ اسی لیے صالح الدین ایوبی نے بارہا کہا تھا ۔ '' تاریخ اسالم وہ
وقت جلدی دیکھے گی ،جب مسلمان رہیں گے تو مسلمان ہی لیکن اپنا ایمان بیچ ڈالیں گے اور صلیبی ان پر حکومت کریں
گے ''۔
آج ہم وہ وقت دیکھ رہے ہیں ۔
نذر آب و
سیف اللہ کی کہانی ا ُس وقت سے شروع ہوتی ہے ،جب سلطان ایوبی نے صلیبیوں کا متحد بیڑہ بحیرئہ روم میں ِ
آتش کیا تھا۔ ان کے کچھ بحری جہاز بچ کر نکل گئے تھے ۔ سلطان ایوبی بحیرئہ روم کے ساحل پر اپنی فوج کے ساتھ
موجود رہا اور سمندرمیں سے زندہ نکلنے والے صلیبیوں کو گرفتار کرتا رہا ۔ ان میں سات لڑکیاں بھی تھیں جن کا تفصیلی ذکر
آپ پڑھ چکے ہیں ۔ مصر میں سلطان کی سوڈانی سپاہ نے بغاوت کر دی جسے سلطان نے دبا لیا ۔ اُسے سلطان زنگی کی
بھیجی ہوئی فوج بھی مل گئی ۔ وہ اب صلیبیوں کے عزائم کو ختم کرنے کے منصوبے بنانے لگا۔
بحیرئہ روم کے پار روم شہر کے مضافات میں صلیبی سربراہوں کی کانفرنس ہو رہی تھی ۔ ان میں شاہ آگسٹس تھا،شاہ ریمانڈ
اور شہنشائی ہفتم کا بھائی رابرٹ بھی ۔ اس کانفرنس میں سب سے زیادہ قہر و غضب میں آیا ہوا ایک شخص تھا جس کا
نام ایملرک تھا ۔ وہ صلیبیوں کے اس متحدہ بیڑے کا کمانڈر تھا جو مصر پر فوج کشی کے لیے گیا تھا مگر صالح الدین ایوبی
ان پر ناگہانی آفت کی طرح ٹوٹ پڑا اور اس بیڑے کے ایک بھی سپاہی کو مصر کے ساحل پر قدم نہ رکھنے دیا ۔ مصر کے
ساحل پر جو صلیبی پہنچے ،وہ سلطان ایوبی کے ہاتھ میں جنگی قیدی تھے۔صلیبیوں کی کانفرنس میں ایملرک کے ہونٹ
کانپ رہے تھے۔ اس کا بیڑہ غرق ہوئے پندرہ ِد ن گزر گئے تھے۔ وہ پندرہویں دن اٹلی کے ساحل پر پہنچا تھا ۔ سلطان ایوبی
کے آتشیں تیر اندازوں نے اس کے جہاز کے بادبان اور مستول جال ڈالے تھے۔ یہ تو اس کی خوش قسمتی تھی کہ اس کے
مالحوں اور سپاہیوں نے آگ پر قابو پا لیا تھا اور وہ جہاز کو بچا لے گئے تھے مگر بادبانوں کے بغیر جہاز سمندر پر ڈولتا
رہا۔ پھر طوفان آگیا۔اس کے بچنے کی کوئی صورت نہیں رہی تھی ۔ بہت سے بچے کھچے جہاز اور کشتیاں اس طوفان میں
غرق ہوگئی تھیں ۔ یہ ایک معجزہ تھا کہ ایملرک کا جہاز ڈولتا ،بھٹکتا ،ڈوب ڈوب کر اُبھرتا اٹلی کے ساحل سے جا لگا ۔
اس میں اس کے مالحوں کابھی کمال شامل تھا ۔ انہوں نے چپوئوں کے زور پر جہاز کو قابومیں رکھاتھا ۔
ساحل پر پہنچتے ہی اس نے ان تمام مالحوں اور سپاہیوں کو بے دریغ انعام دیا ۔ صلیبی سربراہ وہیں اس کے منتظر تھے۔
وہ اس پر غور کرنا چاہتے تھے کہ انہیں دھوکہ کس نے دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ شک سوڈانی ساالر ناجی پر ہی ہو سکتا تھا ۔
اسی کے خط کے مطابق انہوں نے حملے کے لیے بیڑہ روانہ کیا تھا مگر ان کے ساتھ ناجی کا تحریری رابطہ پہلے بھی موجود
تھا ۔ انہوں نے ناجی کے اس خط کی تحریرپہلے دو خطوں سے مالئی تو انہیں شک ہوا کہ یہ کوئی گڑبڑ ہے ۔ انہوں نے
قاہرہ میں جاسوس بھیج رکھے تھے مگر ان کی طرف سے بھی کوئی اطالع نہیں ملی تھی ۔ انہیں یہ بتانے واال کوئی نہ تھا
کہ سلطان صالح الدین ایوبی نے ناجی اور اس کے سازشی ساالروں کو خفیہ طریقے سے مروا دیا اور رات کی تاریکی میں
گمنام قبروں میں دفن کر دیا تھا اور صلیبی سربراہوں اور بادشاہوں کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ
جس خط پر انہوں نے بیڑہ روانہ کیا تھا ،وہ خط ناجی کا ہی تھا ،مگر حملے کی تاریخ سلطان ایوبی نے تبدیل کر کے
لکھی تھی ۔ جاسوسوں کو ایسی معلومات کہیں سے بھی نہیں مل سکتی تھیں۔
یہ کانفرنس کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی ۔ ایملرک کے منہ سے بات نہیں نکلتی تھی ۔ وہ شکست خوردہ تھا ۔ غصے میں
بھی تھا اور تھکا ہوا بھی تھا ۔ کانفرنس اگلے روز کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی ……رات کے وقت یہ تمام سربراہ شکست
قابل اعتماد
کا غم شراب میں ڈبو رہے تھے ۔ایک آدمی اس محفل میں آیا ۔ اسے صرف ریمانڈ جانتا تھا ۔ وہ ریمانڈ کا
ِ
جاسوس تھا ۔ وہ حملے کی شام مصر کے ساحل پر ا ُترا تھا ۔ اس سے تھوڑی ہی دیر بعد صلیبیوں کا بیڑہ آیا اور اس کی
آنکھوں کے سامنے یہ بیڑہ سلطان ایوبی کی قلیل فوج کے ہاتھوں تباہ ہوا تھا ۔
یہ جاسوس مصر کے ساحل پر رہا اور اس نے بہت سی معلومات مہیا کر لی تھیں ۔ ریمانڈ نے اس کا تعارف کرایا تو سب
اس کے گرد جمع ہو گئے ۔ اس جاسوس کو معلوم تھا کہ صلیبی سربراہوں نے سلطان ایوبی کو قتل کرانے کیلئے رابن نام کا
ایک ماہر جاسوس سمندر پار بھیجاتھا اور اس کی مدد کے لیے پانچ آدمی اور سات جوان اور خوبصورت لڑکیاں بھیجی گئی
تھیں ۔ اس جاسوس نے بتایا کہ رابن زخمی ہونے کا بہانہ کر کے صالح الدین ایوبی کے کمیپ میں پہنچ گیا تھا ۔
اس کے پانچ آدمی تاجروں کے بھیس میں تھے۔ ان میں کرسٹوفر نام کے ایک آدمی نے ایوبی پر تیر چالیا مگر تیر خطا
گیا ۔ پانچوں آدمی پکڑے گئے اور ساتوں لڑکیاں بھی پکڑی گئیں۔ انہوں نے کہانی تو اچھی گھڑلی تھی ۔ سلطان ایوبی نے
لڑکیوں کو پناہ میں لے لیا اور پانچوں آدمی کو چھوڑ دیا تھا ،مگر ایوبی کا ماہر سراغ رساں جس کا نام علی بن سفیان ہے
،اچانک آگیا ۔ اس نے سب کو گرفتار کر لیا اور پانچ میں سے ایک آدمی کو سب کے سامنے قتل کر اکے دوسروں سے
اقبال جرم کروالیا۔ جاسوس نے کہا ……'' میں نے اپنے متعلق بتایا تھا کہ ڈاکٹر ہوں ،اس لیے سلطان نے مجھے زخمیوں کی
ِ
مرہم پٹی کی ڈیوٹی دے دی ۔ وہیں مجھے یہ اطالع ملی کہ سوڈانیوں نے بغاوت کی تھی جو دبالی گئی ہے اور سوڈانی
افسروں اور لیڈروں کو ایوبی نے گرفتار کر لیا ہے ۔ رابن ،چارآدمی اور چھ لڑکیاں ایوبی کی قید میں ہیں ،لیکن ابھی تک
ساحل پر ہیں ۔ ساتویں لڑکی جو سب سے زیادہ ہوشیار ہے ،الپتہ ہے ۔ اُس کا نام موبینا ارتالش ہے ،موبی کہالتی ہے ۔
ایوبی بھی کیمپ میں نہیں ہے اورر اس کا سراغ رساں علی بن سفیان بھی وہاں نہیں ہے ۔میں بڑی مشکل سے نکل کر آیا
ہوں ۔ بڑی زیادہ ا ُجرت پر تیز رفتار کشتی مل گئی تھی ۔ میں یہ خبر دینے آیا ہوں کہ رابن ،اس کے آدمی اور لڑکیاں
موت کے خطرے میں ہیں ۔ مردوں کی فکر ہمیں نہیں کرنا چاہیے ،لڑکیوں کا بچانا الزمی ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ سب
جوان ہیں اور چنی ہوئی خوبصورت ہیں ۔ مسلمان ان کا جو حال کر رہے ہوں گے ،اس کا آپ تصور کر سکتے ہیں ''۔
ہمیں یہ قربانی دینی پڑے گی ''……شاہ آگسٹس نے کہا۔''
اگر مجھے یقین دال دیا جائے کہ لڑکیوں کو جان سے مار دیا جائے گا تو میں یہ قربانی دینے کیلئے تیاری ہوں ''…… ''
ریمانڈ نے کہا…… '' مگر ایسا نہیں ہوگا ،مسلمان اس کے ساتھ وحشیوں کا سلوک کر رہے ہوں گے ۔ لڑکیاں ہم پر لعنت
بھیج رہی ہوں گی ،میں انہیں بچانے کی کوشش کروں گا ''۔
یہ بھی ہو سکتا ہے ''……رابرٹ نے کہا …… '' کہ مسلمان ان لڑکیوں کے ساتھ اچھا سلوک کر کے ہمارے خالف ''
جاسوسی کیلئے استعمال کرنے لگیں ۔ بہر حال ہمارا یہ فرض ہے کہ انہیں قید سے آزاد کروائیں ۔ میں اس کے لیے آپنا آدھا
خزانہ خرچ کرنے کے لیے تیار ہوں ''۔
یہ لڑکیاں صرف اس لیے قیمتی نہیں کہ یہ لڑکیاں ہیں ''…… جاسوس نے کہا…… '' وہ دراصل تربیت یافتہ ہیں ۔ اتنے ''
خطرناک کام کے لیے ایسی لڑکیاں ملتی ہی کہاں ہیں ۔ آپ کسی جوان لڑکی کو ایسے کام کیلئے تیار نہیں کر سکتے کہ وہ
دشمن کے پاس جا کر اپنا آ پ دشمن کے حوالے کر دے۔دشمن کی عیاشی کا ذریعہ بنے اور جاسوس اور تخریب کاری
کرے ۔ اس کام میں عزت تو سب سے پہلے دینی پڑتی ہے اوریہ خطرہ توہروقت لگا رہتا ہے کہ جوں ہی دشمن کو پتہ چلے
زر
گا کہ یہ لڑکی جاسوس ہے تو اسے اذیتیں دی جائیں گی ،پھر اسے جان سے مار دیا جاگے گا ۔……ان لڑکیوں کو ہم نے ِ
کثیر صرف کرکے خاص کیا ۔ پھر ٹریننگ دی تھی اور انہیں بڑی محنت سے مصر اور عرب کی زبان سکھائی تھی ۔ ایک ہی
بار تجربہ کار لڑکیوں کو ضائع کرنا عقل مندی نہیں ''۔
کیا تم کہہ سکتے ہو کہ لڑکیوں کو ایوبی کے کیمپ سے نکاال جا سکتا ہے ؟'' ……آگسٹس نے پوچھا ۔ ''
جی ہاں !''…… جاسوس نے کہا…… '' نکاالجا سکتا ہے ؟''…… اس کے لیے غیر معمولی طور پر دلیر اور پختہ کار ''
آدمیوں کی ضرورت ہے مگر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ایک دو دنوں تک رابن ،اس کے چار آدمیوں اور لڑکیوں کے قاہرہ جا
ئیں ۔وہاں سے نکالنا بہت ہی مشکل ہوگا ۔ اگر ہم وقت ضائع نہ کریں تو ہم انہیں کیمپ میں ہی لے جائیں گے ۔ آپ
مجھے بیس آدمی دے دیں۔ میں ان کی رہنمائی کروں گا ،لیکن آدمی ایسے ہوں جو جان پر کھیلنا جانتے ہوں ''۔
ہمیں ہر قیمت پر ان لڑکیوں کو واپس النا ہے ''…… ایملرک نے گرج کر کہا ۔ اس پر بحیرئہ روم میں جو بیتی تھی '' ،
اس کا وہ انتقام لینے کو پاگل ہوا جا رہا تھا ۔ وہ صلیبیوں کے متحدہ بیڑے اور اس بیڑے میں سوار لشکر کا سپریم کمانڈر بن
کراس ا ُمید پر گیاتھا کہ مصر کی فتح کا سہرا اس کے سر بندھے گا ،مگر صال ح الدین ایوبی نے اسے مصر کے ساحل کے
قریب بھی نہ جانے دیا ۔ وہ جلتے ہوئے جہاز میں زندہ جل جانے سے بچا تو طوفان نے گھیر لیا ۔ اب بات کرتے اس کے
ہونٹ کانپتے تھے اور وہ زیادہ تر باتیں میز پر مکے مار کر یا اپنی ران پرزورزور سے ہاتھ مار کر اپنے جذبات کااظہار کر رہا
تھا ۔ اس نے کہا ……'' میں لڑکیوں کو بھی الئوں گا اور صالح الدین ایوبی کو قتل بھی کرواوں گا ۔ میں ان ہی لڑکیوں کو
مسلمانوں کی سلطنت کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے استعمال کروں گا ''۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔۔
ساتویں لڑکی
قسط 15
میں سچے دل سے آپ کی تائید کرتا ہوں شاہ ایملرک !''…… ریمانڈ نے کہا …… '' ہمیں تربیت یافتہ لڑکیوں کو اتنی ''
آسانی سے ضائع نہیں کرنا چاہیے نہ ہم کریں گے۔ آپ سب کواچھی طرح معلوم ہے کہ شام کے حرموں میں ہم کتنی لڑکیاں
داخل کر چکے ہیں ۔ کئی مسلمان گورنر اور امیر ان لڑکیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ بغداد میں یہ لڑکیاں اُمراء کے
ہاتھوں ایسے متعدد افراد کو قتل کراچکی ہیں جو صلیب کے خالف نعرہ لے کر اُٹھے تھے۔ مسلمانوں کی خالفت کو ہم نے
عورت اور شراب سے تین حصوں میں تقسیم کر دیا تھا ۔ ان میں اتحاد نہیں رہا۔ وہ عیش و عشرت میں غرق ہوتے جارہے
ہیں ۔ صرف دو آدمی ہیں جو اگر زندہ رہے تو ہمارے لیے مستقل خطرہ بنے رہیں گے ۔ ایک نورالدین زنگی اور دوسرا صالح
الدین ایوبی ۔ اگر ان دونوں میں سے ایک بھی زیادہ دیر تک زندہ رہا تو ہمارے لیے اسالم کو ختم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اگر
صالح الدین ایوبی نے سوڈانیوں کی بغاوت دبالی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ شخص اُس حد سے زیادہ خطرناک ہے ،
میدان جنگ سے ہٹ کر تخریب کاری کا محاذ بھی کھولنا پڑے گا ۔
جس حد تک ہم اسے سمجھتے رہے ہیں ۔ ہمیں
ِ
مسلمانوں میں تفرقہ اور بے اطمینانی پھیالنے کے لیے ہمیں ان لڑکیوں کی ضرورت ہے ''۔
ہمیں اپنے کامیاب تجربوں سے فائدہ اُٹھانا چاہیے ''…… لوئی ہفتم کے بھائی رابرٹ نے کہا……'' عرب میں ہم ''
مسلمانوں کی کمزوریوں سے فائدہ ا ُٹھا چکے ہیں ۔ مسلمان عورت ،شراب اور دولت سے اندھا ہو جاتا ہے۔ مسلمان کو مارنے
کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے مسلمان کے ہاتھوں مرواو۔ مسلمان کو ذہنی عیاشی کا سامان مہیا کردو تو وہ اپنے دین اور
ایمان سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ تم مسلمان کا ایمان آسانی سے خرید سکتے ہو ''……اس نے عرب کے کئی امراء اور وزراء
کی مثالیں دیں جنہیں صلیبیوں نے عورت ،شراب اور دولت سے خرید لیا تھا اور انہیں اپنا درپردہ دوست بنا لیا تھا ۔
✔✔✔
کچھ دیر مسلمانوں کی کمزوریوں کے متعلق باتیں ہوئیں پھر لڑکیوں کو آزاد کرانے کے عملی پہلوئوں پر غور ہوا۔ آخریہ طے پا
یا کہ بیس نہایت دلیر آدمی اس کام کے لیے روانہ کیے جائیں اور وہ اگلی شام تک روانہ ہوجائیں ۔ اسی وقت چار پانچ
کمانڈروں کو بال لیاگیا ۔ انہیں اصل مقصد او مہم بتا کر کہا گیاکہ بیس آدمی منتخب کریں۔ کمانڈروں نے تھوڑی دیر اس مہم
کے خطروں کے متعلق بحث مباحثہ کیا ۔ ایک کمانڈر نے کہا …… '' ہم پہلے ہی ایک ایسی فورس تیار کر رہے ہیں جو
مسلمانوں کے کیمپوں پر شب خون مارا کرے گی اور ان کی متحرک فوج پر بھی رات کو حملے کر کے پریشان کرتی رہے
گی۔ اس فورس کے لیے ہم نے چند ایک آدمی منتخب کیے ہیں ''۔
قابل اعتماد ہونے چاہئیں ''… آگسٹس نے کہا ۔'' وہ ہماری تمہاری نظروں سے اوجھل ہو کر ''
لیکن یہ آدمی سو فیصد
ِ
ہی کام کریں گے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کچھ نہ کریں اور واپس آ کر کہیں کہ وہ بہت کچھ کر کے آئے ہیں ''۔
آپ یہ سن کر حیران ہوں گے'' …… ایک کمانڈر نے کہا ……'' کہ ہماری فوج میں ایسے سپاہی بھی ہیں جنہیں ہم نے ''
جیل خانوں سے حاصل کیا ہے ،یہ ڈاکو ،چور اور رہزن تھے۔ انہیں بڑی بڑی لمبی سزائیں دی گئی تھیں ۔ انہیں جیل خانوں
میں ہی مرنا تھا ۔ ہم نے ان سے بات کی تو وہ جو ش و خروش سے فوج میں آگئے ۔ آپ کو شاید یہ معلوم کرکے بھی
حیرت ہو کہ ناکام حملے میں ان سزایافتہ مجرموں نے بڑی بہادری سے کئی جہاز بچائے ہیں …… میں لڑکیوں کو مسلمانوں
سے آزاد کرنے کی مہم میں ایسے تین آدمی بھیجوں گا ''۔
مورخوں نے لکھا ہے کہ مسلمانوں میں عیش و عشرت کا رحجان بڑھ گیا اور اتحاد ختم ہو رہا تھا ۔ عیسائیوں نے مسلمانوں
کو اخالقی تباہی تک پہنچانے میں ذہنی عیاشی کا ہر سامان مہیا کیا …… اب انہیں یہ توقع تھی کہ مسلمانوں کو ایک ہی
حملے میں ختم کر دیں گے ،چنانچہ ان کے خالف عیسائی ُدنیا میں نفرت کی طوفانی مہم چالئی گئی اور ہر کسی کو اسالم
کے خالف جنگ میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی ۔ اس کے جواب میں معاشرے کے ہر شعبے کے لوگ صلیبی لشکر
میں شامل ہونے لگے۔ ان میں پادری بھی شامل ہوئے اور عادی مجرم بھی گناہوں سے توبہ کر کے مسلمانوں کے خالف مسلح
ہو گئے ۔ بعض ملکوں کے جیل خانوں میں جو مجرم لمبی قید کی سزائیں بھگت رہے تھے ،وہ بھی فوج میں بھرتی ہوگئے
۔ ان مجرموں کے متعلق عیسائیوں کا تجربہ غالبا ً اچھا تھا ،جس کے پیش نظر ایک کمانڈر نے لڑکیوں کو آزاد کرانے اور
صالح الدین ایوبی کو قتل کرنے کے لیے قیدی مجرموں کا انتخا ب کیا تھا ۔
صبح تک بیس انتہائی دلیر اور ذہین آدمی چن لیے گئے ۔ ان میں میگناناماریوس بھی تھا جسے روم کے جیل خانے سے الیا
گیا تھا ۔ اس جاسوس کوجو ڈاکٹر کے بہروپ میں سلطان ایوبی کے کیمپ رہا اور فرار ہو کر آیا تھا ،اس کمانڈو پارٹی کا
کمانڈر اور گائیڈ مقرر کیا گیا ۔ ا س پارٹی کو یہ مشن دیاگیا کہ لڑکیوں کو مسلمانوں کی قید سے نکالنا ہے ۔ اگر رابن اور
اس کے چار ساتھیوں کو بھی آزاد کرایا جا سکے تو کرالینا ،ورنہ ان کے لیے کوئی خطرہ مول لینے کی ضرورت نہیں ۔ دوسرا
مشن تھا ،صال ح الدین ایوبی کا قتل۔ اس پارٹی کو کوئی عملی ٹریننگ نہ دی گئی ۔ صرف زبانی ہدایات اور ضروری ہتھیار
دے کر اسی روز ایک بادبانی کشتی میں ماہی گیروں کے بھیس میں روانہ کر دیا گیا ۔
جس وقت یہ کشتی اٹلی کے ساحل سے روانہ ہوئی۔صالح الدین ایوبی سوڈانیوں کی بغاوت مکمل طور پر دبا چکا تھا ۔
سوڈانیوں کے بہت سے کماندار مارے گئے یا زخمی ہو گئے تھے اور بہت سے سلطان ایوبی کے دفترکے سامنے کھڑے تھے ۔
انہوں نے ہتھیار ڈال کر شکست اور سلطان ایوبی کی اطاعت قبول کر لی تھی ۔ وہ سلطان کے حکم کے منتظر تھے۔ سلطان
اندر بیٹھا اپنے ساالروں کو احکام دے رہا تھا۔علی بن سفیان بھی موجود تھا۔ اس فتح میں اس کا بہت عمل دخل تھا۔
صلیبیوں کو شکست دینے میں بھی اس کے نظا ِم جاسوسی نے بہت کام کیا تھا ،بلکہ یہ دونوں کامیابیاں جاسوسی کے نظام
کی ہی کامیابیاں تھیں۔ سلطان ایوبی کو جیسے اچانک کچھ یاد آگیا ہو۔ اس نے علی بن سفیان سے کہا ……''علی ! ہمیں
ان جاسوس لڑکیوں اور ا ُن کے ساتھیوں کے متعلق سوچنے کا وقت ہی نہیں مال ۔ وہ ابھی تک ساحل پر قیدی کیمپ میں
ہیں ۔ ان سب کو فورا ً یہاں النے کا بندوبست کرو اور تہ خانے میں ڈال دو ''۔
میں ابھی پیغام بھجوا دیتا ہوں '' … علی بن سفیا ن نے کہا ……'' ان سب کہ یہاں پہرے میں بلوا لیتا ہوں …سلطان ''
! آپ شاید ساتویں لڑکی کو بھول گئے ہیں ۔ وہ سوڈانیوں کے ایک کماندار بالیان کے پاس تھی ۔ اسی لڑکی سے جاسوسوں
اور بغاوت کا انکشاف ہوا تھا ۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ بالیان ان کمانداروں میں نہیں ہے جو باہر موجود ہیں اور وہ زخمیوں
میں بھی نہیں ہے اور وہ مرے ہوئوں میں بھی نہیں ہے ۔ مجھے شک ہے کہ ساتویں لڑکی جس کانام فخرالمصری نے موبی
بتایا تھا ،بالیان کے ساتھ کہیں روپوش ہوگئی ہے ''۔
اپنا شک رفع کروعلی ''… سلطان ایوبی نے کہا …'' یہاں مجھے اب تمہاری ضرورت نہیں ہے۔ بالیان الپتہ ہے تو وہ ''
بحیرئہ روم کی طرف نکل گیا ہوگا ۔ صلیبیوں کے سوا اسے اور کون پناہ دے سکتا ہے ۔ بہر حال ان جاسوسوں کو تہہ خانوں
میں ڈالو اور اپنے جاسوس فورا ً تیار کرکے سمندر پار بھیج دو ''۔
زیادہ ضرورت یہ ہے کہ اپنے جاسوس اپنے ہی ملک میں پھیال دئیے جائیں ''۔ یہ مشورہ دینے واال سلطان نورالدین ''
زنگی کی بھیجی ہوئی فوج کا سپہ ساالر تھا ۔ اس نے کہا … '' ہمیں صلیبیوں کی طرف سے اتنا خطرہ نہیں ،جتنا اپنے
مسلمان امراء سے ہے ۔ اپنے جاسوس ان کے حرموں میں داخل کر دئیے جائیں تو بہت سی سازشیں بے نقاب ہوں گی ''۔
ا ُس نے تفصیل سے بتایا کہ یہ خود ساختہ حکمران کس طرح صلیبیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ سلطان زنگی اکثر
پریشان رہتے ہیں کہ باہر کے حملوں کو روکیں یا اپنے گھر کو اپنے ہی چراغ سے جلنے سے بچائیں ۔
صالح الدین ایوبی نے یہ روائیداد غور سے سنی اور کہا …'' اگر تم لوگ جن کے پاس ہتھیار ہیں ،دیانت دار اور اپنے
مذہب سے مخلص رہے تو باہر کے حملے اور اندر کی سازشیں قوم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں ۔ تم اپنی نظریں سرحدوں سے
مذہب
دور آگے لے جاو ۔ سلطنت اسالمیہ کی کوئی سر حد نہیں ۔ تم نے جس روز اپنے آپ کو اور خدا کے اس عظیم
ِ
اسالم کو سرحدوں میں پابند کرلیا اور اس روز سے یوں سمجھو کہ تم اپنے ہی قید خانے میں قید ہوجاو گے ۔ پھر تمہاری
سرحدیں سکڑنے لگیں گی۔ اپنی نظریں بحیرئہ روم سے آگے لے جائو۔ سمندر تمہارا راستہ نہیں روک سکتے ۔ گھر کے چراغوں
سے نہ ڈرو ،یہ تو ایک پھونک سے گل ہو جائیں گے ۔ ان کی جگہ ہم ایمان کے چراغ روشن کریں گے''۔
سلطان محترم !''… ساالر نے کہا … '' ہم مایوس نہیں ''۔ ''
ہمیں اُمید ہے کہ ہم ایمان فروشی روک لیں گے،
ِ
صرف دو لعنتوں سے بچو میرے عزیز رفیقوں!'' سلطان ایوبی نے کہا …'' مایوسی اور ذہنی عیاشی ۔ انسان پہلے ''
مایوس ہوتا ہے ،پھر ذہنی عیاشی کے ذریعے را ِہ فرار اختیار کرتا ہے ''۔
اس دوران علی بن سفیان جا چکا تھا ۔ اس نے فورا ً ایک قاصد بحیرئہ روم کے کیمپ کی طرف اس پیغام کے ساتھ روانہ کر
دیا کہ رابن ،اس کے چار ساتھیوں اور لڑکیوں کو گھوڑوں یا اونٹوں پر سوار کر کے بیس محافظوں کے پہرے میں دارالحکومت
کو بھیج دو … قاصد کو روانہ کر کے اس نے اپنے ساتھ چھ سات سپاہی لیے اور کماندار بالیان کی تالش میں نکل گیا ۔ ان
نے ان سوڈانی کمانداروں سے جو باہر بیٹھے تھے ،بالیان کے متعلق پوچھ لیا تھا ۔ سب نے کہا تھا کہ اسے لڑائی میں کہیں
بھی نہیں دیکھا گیاتھا اور نہ ہی وہ اس فوج کے ساتھ گیا تھا جو بحیرئہ روم کی طرف سلطان کی فوج پر حملہ کرنے کے
لیے بھیجی گئی تھی ۔ علی بن سفیان بالیان کے گھر گیا تو وہاں اس کی بوڑھی خادمائوں کے سوا اور کوئی نہ تھا ۔ انہوں
نے بتایا کہ بالیان کے گھر میں پانچ لڑکیاں تھیں ۔ ان میں جس کی عمر ذرا زیادہ ہوجاتی تھی ،اسے وہ غائب کر دیتا اور
اس کی جگہ جوان لڑکی لے آتا تھا ۔ ان خادمائوں نے بتایا کہ بغاوت سے پہلے اس کے پاس ایک فرنگی لڑکی آئی تھی جو
غیر معمولی طور پر خوبصورت اور ہوشیارتھی ۔ بالیان اس کا غالم ہو گیا تھا ۔ بغاوت کے ایک روز بعد جب سوڈانیوں نے
ہتھیار ڈال دئیے تو بالیان رات کے وقت گھوڑے پر سوار ہوا ،دوسرے گھوڑے پر اس فرنگی لڑکی کو سوار کیا اور معلوم نہیں
دونوں کہاں روانہ ہوگئے ۔ ان کے ساتھ سات گھوڑ سوار تھے۔ حرم کی لڑکیوں کے متعلق بوڑھیوں نے بتایا کہ وہ گھر میں جو
ہاتھ لگا اُٹھا کر چلی گئی ہیں ۔
علی بن سفیان وہاں سے واپس ہوا توایک گھوڑا سرپٹ دوڑتا ہوا آیا اور علی بن سفیان کے سامنے ُرکا۔ اس پر فخرالمصری
سوار تھا۔ کود کر گھوڑے سے ا ُترا اور ہانپتی کانپتی آواز میں بوال … '' میں آپ کے پیچھے آیا ہوں ۔ میں بھی اسی
بدبخت بالیان اور اس کافر لڑکی کو ڈھونڈ رہا تھا ۔ میں ان سے انتقام لوں گا ۔ جب تک ان دونوں کو اپنے ہاتھوں قتل
نہیں کرلوں گا ،مجھے چین نہیں آئے گا ۔ میں جانتا ہوں کہ وہ کدھر گئے ہیں ۔ میں نے ان کا پیچھا کیا ہے لیکن ان کے
ساتھ سات مسلح محافظ تھے ،میں اکیال تھا ۔ وہ بحیرئہ روم کی طرف جا رہے ہیں ،مگر عام راستے سے ہٹ کر جارہے
ہیں ''… اس نے علی بن سفیان کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ '' خدا کے لیے مجھے صرف چار سپاہی دے دیں ،میں
ان کے تعاقب میں جائوں گا اور انہیں ختم کرکے آئوں گا ''۔
علی بن سفیان نے اسے اس وعدے سے ٹھنڈا کیا کہ وہ اسے چار کی بجائے بیس سوار دے گا ۔ وہ ساحل سے آگے اتنی
جلدی نہیں جا سکتے ۔ میرے ساتھ رہو۔ علی بن سفیان مطمئن ہوگیا کہ یہ تو پتہ چل گیاہے کہ وہ کسطرف گئے ہیں ۔
٭ ٭ ٭
ا ُس وقت بالیان اسی صلیبی لڑکی کے ساتھ جس کا نام موبی تھا ،ساحل کی طرف جانے والے عام راستے سے ہٹ کر دور
جا چکا تھا ۔ان عالقوں سے وہ اچھی طرح واقف تھا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ سوڈانی فوج اور اس کے کمانداروں کو صالح
الدین ایوبی نے معافی دے دی ہے ۔ ایک تو وہ سلطان کے عتاب سے بھاگ رہا تھا اور دوسرے یہ کہ وہ موبی جیسی حسین
لڑکی کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ دنیا کی حسین لڑکیاں صرف مصر اور سوڈان میں ہی ہیں مگر اٹلی کی
اس لڑکی کے حسن اور ِدل کشی نے اسے اندھا کر دیا تھا ۔ اس کی خاطر وہ اپنا ُرتبہ ،اپنا مذہب اور اپنا ملک ہی چھوڑ
رہا تھا لیکن ا ُسے یہ معلوم نہیں تھا کہ موبی اس سے جان چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی ۔ وہ جس مقصد کے لیے آئی
تھی ،وہ ختم ہو چکا تھا ۔ گو مقصد تباہ ہوگیا تھا ،تاہم موبی اپنا کام کر چکی تھی ۔ اس کے لیے اس نے اپنے جسم اور
اپنی عزت کی قربانی دی تھی ۔ وہ ابھی تک اپنی عمر سے ُدگنی عمر کے آدمی کی عیاشی کاذریعہ بنی ہوئی تھی ۔
بالیان اس خوش فہمی میں مبتال تھا کہ موبی اسے بُری طرح چاہتی ہے مگر موبی اس سے نفرت کرتی تھی ۔ وہ چونکہ
مجبور تھی ،اسی لیے اکیلی بھاگ نہیں سکتی تھی ۔ وہ اس مقصد کے لیے بالیان کو ساتھ لے ہوئے تھی کہ اسے اپنی
حفاظت کی ضرورت تھی ۔ اسے بحیرئہ روم پار کرنا تھا یا رابن تک پہنچنا تھا ۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ رابن اور اس کے
ساتھ جو تاجروں کے بھیس میں تھے ،پکڑے جا چکے ہیں ۔ اس مجبوری کے تحت وہ بالیان کے ہاتھ میں کھلونا بنی ہوئی
تھی ۔ وہ کئی بار اسے کہہ چکی تھی کہ تیز چلو اور پڑائو کم کرو ورنہ پکڑے جائیں گے لیکن بالیان جہاں اچھی جگہ دیکھتا
ُرک جاتا ۔ اس نے شراب کا ذخیرہ اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔
ایک رات موبی نے ایک ترکیب سوچی ۔ اس نے بالیان کو اتنی زیادہ پالدی کہ وہ بے سدھ ہوگیا ۔ ان کے ساتھ جو سات
محافظ تھے ،وہ کچھ دیر ہوے سو گئے تھے ۔ موبی نے دیکھا تھا کہ ان میں سے ایک ایسا ہے جو جوان ہے اور سب پر
چھایا رہتا ہے۔ بالیان زیادہ تر اسی کے ساتھ ہر بات کرتا تھا ۔ موبی نے اسے جگایا اور تھوڑی دور لے گئی ۔ اسے کہا
…'' تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں کون ہوں ،کہاں سے آئی ہوں اور یہاں کیوں آئی تھی ۔ میں تم لوگوں کے لیے مدد
الئی تھی تا کہ تم صالح الدین ایوبی جیسے غیر ملکیوں سے آزاد ہو سکو مگر تمہارا یہ کماندار بالیان اس قدر عیاش آدمی
ہے کہ اس نے شراب پی کر بد مست ہو کر میرے جسم کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا ۔ بجائے اس کے کہ وہ عقل مندی
سے بغاوت کا منصوبہ بناتا اور فتح حاصل کرتا ،اس نے مجھے اپنے حرم کی لونڈی بنا لیا اور اندھا دھند فوج کو دو حصوں
میں تقسیم کر کے ایسی الپرواہی سے حملہ کروایا کہ ایک ہی رات میں تمہاری اتنی بڑی فوج ختم ہوگئی۔
تمہاری شکست کا ذمہ دار یہ شخص ہے ۔ اب یہ میرے ساتھ صرف عیاشی کے لیے جا رہا ہے اور مجھے کہتا ہے کہ ''
میں اسے سمندر پار لے جائوں ،اسے اپنی فوج میں ُرتبہ دالئوں اور اس کے ساتھ شادی کر لوں ،مگر مجھے اس شخص
سے نفرت ہے ۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر مجھے شادی کرنی ہے اور اپنے ملک میں لے کر جانا ہے اسے فوج میں
ُر تبہ دالنا ہے تو مجھے ایسے آدمی کا انتخاب کرنا چاہیے جو میرے دل کو اچھا لگے ۔ وہ آدمی تم ہو ،تم جوان ہو ،دلیر
ہو ،عقل مند ہو ،میں نے جب سے تمہیں دیکھا ہے ،تمہیں چاہ رہی ہوں۔ مجھے اس بوڑھے سے بچائو۔ میں تمہاری ہوں۔
سمندر پار لے چلو ۔ فوج کا ُر تبہ اورمال و دولت تمہارے قدموں میں ہوگا مگر اس آدمی کو یہیں ختم کر دو۔ وہ سویا ہوا ہے
،اسے قتل کردو اور آئو نکل چلیں ''۔
اس نے محافظ کے گلے میں باہیں ڈال دیں ۔ محافظ اس کے حسن میں گرفتار ہوگیا ۔ موبی اس جادوگری میں ماہر تھی ۔
وہ ذرا پرے ہٹ گئی۔ محافظ اس کی طرف بڑھا تو عقب سے ایک برچھی اس کی پیٹھ میں اُتر گئی۔ اس کے منہ سے ہائے
نکلی اور وہ پہلو کے بل لڑھک گیا ۔ برچھی اس کی پیٹھ سے نکلی اور اسے آواز سنائی دی …''نمک حرام کو زندہ رہنے
کا حق نہیں ''۔ لڑکی کی چیخ نکل گئی ۔ وہ ا ُٹھی اور اتنا ہی کہنے پائی تھی کہ تم نے اسے قتل کر دیا ہے کہ پیچھے
سے ایک ہاتھ نے اس کے بازو کو جکڑ لیا اور جھٹکا دے کر اپنے ساتھ لے گیا ۔ اسے بالیان کے پاس پھینک کر کہا …''
ہم اس شخص کے پالے ہوئے دوست ہیں ۔ ہماری زندگی اسی کے ساتھ ہے ۔ تم ہم میں سے کسی کو اس کے خالف گمراہ
نہیں کر سکتی ۔ جو گمراہ ہوا اس نے سزا پا لی ہے ''۔
بالیان شراب کے نشے میں بے ہوش پڑا تھا ۔
تم لوگوں نے یہ بھی سوچا ہے کہ تم کہاں جا رہے ہو؟''…موبی نے پوچھا۔ ''
سمندر میں ڈوبنے ''… ایک نے جواب دیا …'' تمہارے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے ،جہاں تک بالیان جائے گا ،ہم ''
وہیں تک جائیں گے ''… اور وہ دونوں جا کر لیٹ گئے ۔
دوسرے دن بالیان جاگا تو اسے رات کا واقعہ بتایا گیا ۔موبی نے کہا کہ وہ مجھے جان کی دھمکی دے کر اپنے ساتھ لے گیا
تھا ۔ بالیان نے اپنے محافظوں کو شاباش دی ،مگر ان کی یہ بات سنی ا َن سنی کر دی کہ یہ لڑکی اسے گمراہ کر کے لے
گئی تھی اور انہوں نے اس کی باتیں سنی تھیں ۔ وہ موبی کے حسن اور شراب میں مدہوش ہو کر سب بھول گیا۔ موبی نے
اسے ایک بار پھر کہا کہ تیز چلنا چاہیے مگر بالیان نے پروا نہ کی ۔ وہ اپنے آپ میں نہیں تھا۔ موبی اب آزاد نہیں ہو
سکتی تھی ۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ یہ لوگ اپنے دوستوں کو قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
علی بن سفیان نے نہ جانے کیا سوچ کر ان کا تعاقب نہ کیا ۔ بغاوت کے بعد کے حاالت کو معمول پر النے کے لیے وہ
سلطان ایوبی کے ساتھ بہت مصروف ہو گیا تھا ۔
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر16#
ساتویں لڑکی
ساحل کے کیمپ سے رابن ،اس کے چاروں ساتھیوں اور چھ لڑکیوں کو پندرہ محافظوں کی حفاظت میں قاہر ہ کے لیے روانہ
کر دیا گیا۔ قاصد ان سے پہلے روانہ ہو چکا تھا ۔ قیدی اونٹوں پر تھے اور گارڈ گھوڑوں پر۔ وہ معمول کی رفتار پر جارہے
تھے اور معمول کے مطابق پڑاو کر رہے تھے ۔وہ بے خوف و خطر جا رہے تھے وہاں کسی دشمن کے حملے کا ڈر نہیں تھا۔
قیدی نہتے تھے اور ان میں چھ لڑکیاں تھیں ۔ کسی کے بھاگنے کا ڈر بھی نہیں تھا ،مگر وہ یہ بھول رہے تھے کہ یہ قیدی
تربیت یافتہ جاسوس ہیں بلکہ لڑاکے جاسوس تھے۔ ان میں جو تاجروں کے بھیس میں پکڑے گئے تھے وہ چنے ہوئے تیر انداز
اور تیغ زن تھے اور لڑکیاں محض لڑکیاں نہیں تھیں جنہیں وہ کمزور عورت ذات سمجھ رہے تھے ۔ ان لڑکیوں کی جسمانی
ِد لکشی ،یورپی رنگت کی جاذبیت ،جوانی اور ان کی بے حیائی ایسے ہتھیار تھے جو اچھے اچھے جابر حکمرانوں سے ہتھیار
ڈلوا لیتے تھے ۔
محافظوں کا کمانڈر مصری تھا۔ اس نے دیکھا کہ ان چھ میں سے ایک لڑکی اس کی طرف دیکھتی رہتی ہے اور وہ جب
اسے دیکھتا ہے لڑکی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے ۔یہ مسکراہٹ اس مصری کو موم کر رہی تھی ۔ شام کے وقت
انہوں پہال پڑاو کیا تو سب کو کھانا دیا گیا ۔ اس لڑکی نے کھانا نہ کھایا ۔ کمانڈر کو بتایاگیا تو اس نے لڑکی کے ساتھ بات
کی ۔ لڑکی اس کی زبان بولتی اور سمجھتی تھی ۔ لڑکی کے آنسو نکل آئے۔ اس نے کہا کہ وہ اس کے ساتھ علیحدگی میں
بات کرنا چاہتی ہے ۔
رات کو جب سو گئے تو کمانڈر ا ُٹھا۔ اس نے لڑکی کو جگایا اور الگ لے گیا ۔ لڑکی نے اسے بتایا کہ وہ ایک مظلوم لڑکی
ہے ،اسے فوجیوں نے ایک گھر سے اغوا کیا اور اپنے ساتھ رکھا ۔پھر اسے جہاز میں اپنے ساتھ الئے ۔ دوسری لڑکیوں کے
متعلق اس نے بتایا کہ ان کے ساتھ اس کی مالقات جہاز میں ہوئی تھی ۔ انہیں بھی اغوا کرکے الیا گیا تھا ۔ اچانک
جہازوں پر آگ برسنے لگی اور جہاز جلنے لگے۔ ان لڑکیوں کو ایک کشتی میں بٹھا کر سمندر میں ڈال دیا گیا ۔ کشتی انہیں
ساحل پر لے آئی ،جہاں انہیں جاسوس سمجھ کر قید میں ڈال دیا گیا ۔
یہ وہی کہانی تھی جو تاجروں کے بھیس میں جاسوسوں نے ان لڑکیوں کے متعلق صالح الدین ایوبی کو سنائی تھی ۔ مصری
گارڈ کمانڈر کو معلوم نہیں تھا ۔ وہ یہ کہانی پہلی بار سن رہا تھا ۔اسے تو حکم مال تھا کہ یہ خطرناک جاسوس ہیں۔ انہیں
قاہرہ لے جاکر سلطان کے ایک خفیہ محکمے کے حوالے کرنا ہے ۔ اس حکم کے پیش نظر وہ ان لڑکیوں کی یا اس لڑکی کی
کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا ۔اس نے لڑکی کو اپنی مجبوری بتادی ۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ لڑکی کی ترکش میں ابھی بہت
تیر باقی ہیں ۔ لڑکی نے کہا ۔ '' میں تم سے کوئی مدد نہیں مانگتی ،تم اگر میری مدد کر و گے تومیں تمہیں روک دوں
گی ،کیونکہ تم مجھے اتنے اچھے لگتے ہو کہ میں اپنی خاطر تمہیں کسی مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتی ۔ میرا کوئ غم
خوار نہیں ۔ میں ان لڑکیوں کو بالکل نہیں جانتی اور ان آدمیوں کو بھی نہیں جانتی۔ تم مجھے رحم ِدل بھی لگتے ہو اور
میرے ِدل کو بھی اچھے لگتے ہو ،اس لیے تمہیں یہ باتیں بتا رہی ہوں ''۔
اتنی خوبصورت لڑکی کے منہ سے اس قسم کی باتیں سن کر کون سا مرد اپنے آپ میں رہ سکتا ہے ۔ یہ لڑکی مجبور بھی
تھی۔ رات کی تنہائی بھی تھی ۔ مصری کی مردانگی پگھلنے لگی۔ ۔لڑکی نے ایک اور تیر چالیا اور صالح الدین ایوبی کے
کردار پر زہر ا ُگلنے لگی۔ اس نے کہا …'' میں نے تمہارے گورنر صالح الدین ایوبی کو مظلومیت کی یہ کہانی سنائی تھی۔
مجھے ا ُمید تھی کہ وہ میرے حال پر رحم کرے گا ،مگر اس نے مجھے اپنے خیمے میں رکھ لیا اور شراب پی کر میرے
ساتھ بدکاری کرتا رہا۔ اس وحشی نے میرا جسم توڑ دیا ہے ۔ شراب پی کر وہ اتنا وحشی بن جاتا ہے کہ اس میں انسانیت
رہتی ہی نہیں ''۔
مصر ی کا خون کھولنے لگا ۔ اس نے بدک کر کہا …'' ہمیں کہا گیا تھا کہ صالح الدین ایوبی مومن ہے ،فرشتہ ہے ،
شراب اور عورت سے نفرت کرتا ہے ''۔
مجھے اب اسی کے پاس لے جایا جا رہا ہے ''… لڑکی نے کہا … '' اگر تمہیں یقین نہ آئے تو رات کو دیکھ لینا کہ ''
میں کہاں رہوں گی ۔ وہ مجھے قید خانے میں نہیں ڈالے گا ،اپنے حرم میں رکھ لے گا ۔ مجھے اس آدمی سے ڈر آتا ہے
' …اس قسم کی بہت سے باتوں سے لڑکی نے اس مصری کے دل میں صالح الدین ایوبی کے خالف نفرت پیدا کر دی اور وہ
پوری طرح مصری پر چھا گئی۔ اس کے دل اور دماغ پر قبضہ کر لیا ۔ مصری کو معلوم نہیں تھا کہ یہی ان لڑکیوں کا ہتھیار
ہے ۔ لڑکی نے آخر میں کہا … '' اگر تم مجھے اس ذلیل زندگی سے نجات دال دو تو میں ہمیشہ کیلئے تمہاری ہو جائو ں
گی اور میرا باپ تمہیں سونے کی اشرفیوں سے ماال مال کر دے گا …'' میرے ساتھ سمندر پار بھاگ چلو۔ کشتیوں کی کمی
نہیں ۔ میرا باپ بہت امیر آدمی ہے ۔ میں تمہارے ساتھ شادی کر لوں گی اور میرا باپ تمہیں نہایت اچھا مکان اور بہت
سی دولت دے گا ۔ تم تجارت کر سکتے ہو ''۔
مصری کو یہ یاد رہ گیا کہ وہ مسلمان ہے۔ اس نے کہا کہ وہ اپنا مذہب ترک نہیں کر سکتا ۔ لڑکی نے ذرا سوچ کر کہا
…'' …'' میں تمہارے لیے اپنا مذہب چھوڑ دوں گی
اس کے بعد وہ فرار اور شادی کا پروگرام بنانے لگے ۔لڑکی نے اسے کہا … '' میں تم پر زور نہیں دیتی ،اچھی طرح سوچ
لو ۔ میں صرف جاننا چاہتی ہوں کہ میرے دل میں تمہاری جو محبت پیدا ہوگئی ہے ،اتنی تمہارے دل میں بھی پیدا ہوئی
ہے یا نہیں۔ اگر تم مجھے قبول کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہو تو سوچ لو اور کوشش کرو کہ قاہر ہ تک ہمارا سفر لمبا ہوجائے۔
ہم ایک بار وہاں پہنچ گئے تو پھر تم میری بو بھی نہیں سونگھ سکو گے ''۔
لڑکی کا مقصد صرف اتنا سا تھا کہ سفر لمبا ہو جائے اور تین دنوں کی بجائے چھ دن راستے میں ہی گزر جائیں ۔ اس کی
وجہ یہ تھی کہ رابن اور اس کے ساتھی فرار کی ترکیبیں سوچ رہے تھے۔ وہ اس کوشش میں تھے کہ رات کو سوئے ہوئے
محافظوں کے ہتھیار اُٹھا کر انہیں قتل کیا جائے ۔ جو نا ممکن سا کام تھا یا اُن کے گھوڑے چرا کر بھاگا جائے۔ ابھی تو
پہال ہی پڑائو تھا۔ ا ُن کی ضرورت یہ تھی کہ سفر لمبا ہو جائے تا کہ اطمینان سے سوچ سکیں اور عمل کر سکیں ۔ اس
مقصد کے لیے انہوں نے اس لڑکی کو استعمال کیا ،وہ محافظوں کے کمانڈر کو قبضے میں لے لے ۔ لڑکی نے پہلی مالقات
میں ہی یہ مقصد حاصل کر لیا اورمصری کو منہ مانگی قیمت دے دی ۔ مصری ایسا بڑا ُرتبے واال آدمی نہیں تھا ۔ معمولی
سا عہدے دار تھا۔ اس نے کبھی خواب میں بھی اتنی حسین لڑکی نہیں دیکھی تھی ۔ کہاں ایک جیتی جاگتی لڑکی جو اس
کے تصوروں سے بھی زیادہ خوبصورت تھی ،اس کی لونڈی بن گئی تھی ۔ وہ اپنا آپ ،اپنا فرض اور اپنا مذہب ہی بھول گیا
۔ وہ ایک لمحے کے لیے بھی لڑکی سے الگ نہیں ہونا چاہتا تھا۔
لہذا آج سفر نہیں ہوگا ۔ محافظوں
اس پاگل پن میں اُس نے صبح کے وقت پہال حکم یہ دیا کہ جانور بہت تھکے ہوئے ہیں ٰ ،
اور شتربانوں کو اس حکم سے بہت خوشی ہوئی ۔ وہ محاذ کی سختیوں سے اُکتائے ہوئے تھے۔ انہیں منزل تک پہنچنے کی
کوئی جلدی نہیں تھی ۔ وہ دن بھر آرام کرتے رہے۔گپ شپ لگاتے رہے اور انکاکمانڈر اس لڑکی کے پاس بیٹھا بدمست ہوتا
رہا۔ دن گزر گیا ،رات آئی اور جب سب سو گئے تو مصر ی لڑکی کو ساتھ لیے ُدور چال گیا ۔ لڑکی نے اُسے آسمان پر
پہنچا دیا ۔
صبح جب یہ قافلہ چلنے لگا تو مصری کمانڈر نے راستہ بدل دیا ۔ اپنے دستے سے اس نے کہا کہ اس طرف اگلے پڑائو کے
لیے بہت خوبصورت جگہ ہے ۔ قریب ایک گائوں بھی ہے جہاں مرغیاں اور انڈے مل جائیں گے۔ اس کا دستہ اس پر بھی
خوش ہوا کہ کمانڈر انہیں عیش کرا رہا ہے ۔ البتہ اس دستے میں دو عسکری ایسے بھی تھے جوکمانڈر کی ان حرکتوں سے
خوش نہیں تھے ۔ انہوں نے اسے کہا کہ ہمارے پاس خطرناک قیدی ہیں ۔ یہ سب جاسوس ہیں ۔ انہیں بہت جلدی حکومت
کے حوالے کر دینا چاہیے ۔ بالوجہ سفر لمبا کرنا ٹھیک نہیں ۔ مصری نے انہیں یہ کہہ کر چپ کروادیا کہ یہ میری ذمہ داری
ہے کہ جلدی پہنچوں یا دیر سے۔ جواب طلبی ہوئی تو مجھ سے ہوگی۔ دونوں خاموش ہوگئے ،لیکن وہ الگ جا کر آپس میں
کھسر پسر کرتے رہے ۔
٭
دوپہر کے بعد انہیں ُدور آگے بہت سے گدھ اُڑتے اور اُترتے نظر آئے ۔ یہ اس کی نشانی تھی کہ وہاں کوئی ُمردار ہے۔وہ
عالقہ مٹی اور ریت کے ٹیلوں کا تھا۔ صحرائی درخت بھی تھے۔ چلتے چلتے وہ ان ٹیلوں میں داخل ہوگئے ۔ راستہ اوپر ہوتا
گیا اور ایک بلند جگہ سے انہیں ایک میدان نظر آیا جہاں ِگد ھوں کے غول اُترتے ہوئے شور برپا کر رہے تھے ۔ ذرا اور آگے
گئے تو نظر آیا الشیں ہیں ،بدبو بھی تھی ۔ یہ ا ُن سوڈانیوں کی الشیں تھیں جو بحیرئہ روم کے ساحل پر مقیم سلطان
ایوبی کی فوج پر حملہ کرنے چلے تھے۔سلطان ایوبی کے جانباز سواروں نے راتوں کو ان کے عقبی حصے پر حملے کر کے یہ
کشت و خون کیا اور سوڈانی فوج کو تتر بتر کر دیا تھا۔یہاں سے آگے میلوں وسعت پر الشیں بکھری ہوئی تھیں ۔ سوڈانیوں
کو اپنی الشیں ا ُٹھانے کی مہلت نہیں ملی تھی ۔ قیدیوں اور محافظوں کا قافلہ چلتا رہا اور ذرا سا ُرخ بدل کر الشوں اور
گدھوں سے ہٹ گیا ۔
قافلہ جب وہاں سے گزر رہا تھا تو انہوں نے دیکھا کہ الشوں کے اردگرد اُن کے ہتھیار بھی بکھرے ہوئے تھے ۔ ان میں
کمانیں اور ترکش تھے۔ بر چھیاں ،تلواریں اور ڈھالیں بھی تھیں ۔ قیدیوں نے یہ ہتھیار دیکھ لیے ۔ انہوں نے آپس میں باتیں
کیں اور رابن نے اس لڑکی سے کچھ کہا جس نے مصری کمانڈر پر قبضہ کر رکھا تھا ۔ الشیں اور ہتھیار ُدور ُدور تک پھیلے
ہوئے تھے۔ دائیں طرف ٹیلوں کے قریب سر سبز جگہ تھی ۔ پانی بھی نظر آرہا تھا ۔ سبزہ ٹیلوں کے اوپر تک گیا ہوا تھا ۔
لڑکی نے کمانڈر کو اشارہ کیا تو وہ اس کے قریب چال گیا ۔ لڑکی نے کہا …'' یہ جگہ بہت اچھی ہے ۔ یہیں ُرک جاتے
ہیں ''…مصری نے قافلے کا ُر خ پھیر دیا اور سر سبز ٹیلے کے قریب پانی کے چشمے پر جا روکا۔ رات یہیں بسر کرنی تھی
۔سب گھوڑوں اور اونٹوں سے ا ُترے ،جانور پانی پر ٹوٹ پڑے۔ رات گزارنے کے لیے اچھی جگہ دیکھی جانے لگی ۔ دو ٹیلوں
کے درمیان جگہ کشادہ بھی تھی اور وہاں سبزہ بھی تھا ۔ یہی جگہ منتخب کر لی گئی ۔
جب رات کا اندھیرا گہرا ہوا تو سب سو گئے ۔ مصری جاگ رہا تھا اور لڑکی بھی جاگ رہی تھی ۔اس رات اسے خاص طور
پر جاگنا اور مصری کمانڈر کو پوری طرح مدہوش کرنا تھا ۔ اسے جب خراٹوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں تو وہ مصری کے
پاس چلی گئی ۔ اسی لڑکی کی خاطر وہ سب سے الگ اور ُدور ہٹ کر لیٹا تھا ۔ لڑکی اسے ٹیلے کی اوٹ میں لے گئی
اورر وہاں سے اور زیادہ ُد ور جانے کی خواہش ظاہر کی ۔ مصری اس کی خواہشوں کا غالم ہو گیا ۔ اسے احساس تک نہ ہوا
کہ آج رات لڑکی ا ُسے ایک خاص مقصد کے لیے دور لے جارہی ہے ۔ وہ اس کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور لڑکی اسے تین
ٹیلوں سے بھی پرے لے گئی ۔
ا ُدھر رابن نے جب دیکھا کہ کمانڈر جا چکا ہے اور دوسرے محافظ گہری نیند سوئے ہوئے ہیں تو اس نے لیٹے لیٹے اپنے ایک
ساتھی کو جگا یا۔ اس نے ساتھ والے کو جگایا ۔ اس طرح رابن کے چاروں ساتھی جاگ اُٹھے … محافظ اُن سے ذرا ُدور
سوئے ہوئے تھے ۔ مصری کمانڈر کو لڑکی نے اتنا بے پروا کر دیا تھا کہ رات کو وہ سنتری کھڑا نہیں کرتا تھا ۔ پہلے رابن
پیٹ کے بل رینگتا ہوا محافظوں سے دور چال گیا ۔ اس کے بعد اس کے چاروں ساتھی بھی چلے گئے ۔ ٹیلے کی اوٹ میں
ہو کر وہ تیز تیز چلنے لگے اور الشوں تک پہنچ گئے ۔ ٹٹول ٹٹول کر انہوں نے تین کمانیں اور ترکش اُٹھائے اور ایک ایک
برچھی ا ُٹھالی ۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے لڑکی سے کہا تھا کہ وہ کمانڈر سے یہی کہے کہ یہاں پڑائو کیا جائے ۔ وہ
ہتھیار لے کر واپس ہوئے ،اب وہ اکٹھے تھے ۔
وہ سوئے ہوئے محافظوں کے قریب جا کھڑے ہوئے ۔ رابن نے ایک محافظ کے سینے میں برچھی مارنے کے لیے برچھی ذرا
اُوپر ا ُٹھائی ۔ باقی چاربھی ایک ایک محافظ کے سر پر کھڑے تھے ۔ یہ نہایت کامیاب چال تھی۔ وہ بیک وقت چار محافظوں
کو ختم کر سکتے تھے اور باقی گیارہ کے سنبھلنے تک انہیں بھی ختم کرنا مشکل نہیں تھا۔ پیچھے تین شتربان تھے اور
مصری کمانڈر ۔ وہ آسان شکار تھے ۔ رابن نے جونہی برچھی اُوپر اُٹھائی ،زناٹہ سا سنائی دیا اور ایک تیر رابن کے سینے
میں ا ُتر گیا ۔ اس کے ساتھ ہی ایک تیر رابن کے ساتھی کے سینے میں لگا ،وہ ڈولے ۔ ان کے تین ساتھی ابھی دیکھ ہی
رہے تھے کہ یہ کیا ہوا ہے کہ دو تیر اور آئے اور دو اور قیدی اوندھے ہوگئے ۔ آخری قیدی بھاگنے کے لیے پیچھے کو ُمڑا تو
ایک تیر اس کے پہلو میں ا ُترگیا ۔ یہ کام اتنی خاموشی سے ہوگیا کہ ان محافظوں میں سے کسی کی آنکھ ہی نہ کھلی جن
کے سروں پر موت آن کھڑی ہوئی تھی ۔
تیر انداز آگے آگئے ۔انہوں نے مشعلیں روشن کیں۔ یہ دو محافظ تھے جنہوں نے اپنے کمانڈر سے کہا تھا کہ انہیں منزل پر
پہنچنا چاہیے۔وہ دیانت دار تھے ۔وہ سوئے ہوئے تھے ،جب چاروں قیدی ان کے قریب سے گزرے تو اُن میں سے ایک کی
آنکھ کھل گئی تھی ۔ اس نے اپنے ساتھی کو جگایا اور قیدیوں کا تعاقب دبے پائوں کیا ۔ انہوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ اگر
قیدیوں نے بھاگنے کی کوشش کی تو انہیں تیروں سے ختم کر دیں گے ،مگر اس سے پہلے وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ یہ کیا
کرتے ہیں ۔ اندھیرے میں انہیں جو کچھ نظر آتا رہا ،وہ دیکھتے رہے ۔ قیدی ہتھیار اُٹھا کر واپس آئے تو دونوں محافظ آکر
ٹیلے کے ساتھ چھپ کر بیٹھ گئے ۔ جونہیں قیدیوں نے محافظوں کو برچھیاں مارنے کے لیے برچھیاں اُٹھائیں ،انہوں نے تیر
چال دئیے ۔ پھر چاروں کو ختم کر دیا ۔ انہوں نے اپنے کمانڈر کو آواز دی تو اسے ال پتہ پایا۔ اس آواز سے لڑکیاں جاگ
ا ُٹھیں اور باقی محافظ بھی جاگے۔ لڑکیوں نے اپنے آدمیوں کی الشیں دیکھیں۔ ہر ایک الش میں ایک تیر اُترا ہوا تھا۔ لڑکیاں
خاموشی سے الشوں کو دیکھتی رہیں۔ انہیں معلوم تھا کہ یہ آدمی آج رات کیا کریں گے ۔
مصری کمانڈر وہاں نہیں تھا اور ایک لڑکی بھی غائب تھی ۔
محافظوں کو معلوم نہیں تھا کہ جب ان قیدی جاسوسوں کے سینوں میں تیر داخل ہوئے تھے ،بالکل اسی وقت اُن کے
مصری کمانڈر کی پیٹھ میں ایک خنجر اُتر گیا تھا ۔ اُس کی الش تیسرے ٹیلے کے ساتھ پڑی تھی اس رات صحرا کی ریت
خون کی پیاسی معلوم ہوتی تھی ۔ مصری کمانڈر اپنے محافظ دستے اور قیدیوں سے بے خبر اس لڑکی کے ساتھ چال گیا اور
لڑکی اسے خاصا دور لے گئی تھی ۔ اسے معلوم تھا کہ اس کے ساتھی ایک خونی ڈرامہ کھیلیں گے ۔ لڑکی مصری کو ایک
ٹیلے کے ساتھ لے کے بیٹھ گئی ۔
اسی ٹیلے سے ذرا پرے بالیان اور اس کے چھ محافظوں نے پڑائو ڈال رکھا تھا ۔ اُن کے گھوڑے کچھ دور بندھے ہوئے تھے ۔
بالیان موبی کو ساتھ لیے ٹیلے کی طرف آگیا ۔ اس کے ہاتھ میں شراب کی بوتل تھی ۔ موبی نے نیچے بچھانے کے لیے
دری اُٹھا رکھی تھی ۔ بالیان محافظوں سے ُد ور جا کر عیش و عشرت کرنا چاہتا تھا۔ اس نے دری بچھا دی اور موبی کو
اپنے ساتھ بٹھا لیا ۔ وہ بیٹھے ہی تھے کہ رات کے سکوت میں انہیں قریب سے کسی کی باتوں کی آواز یں سنائی دیں ۔
وہ چونکے اور دم سادھ کر سننے لگے ۔آواز کسی لڑکی کی تھی ۔ بالیان اور موبی دبے پائوں اس طر ف آئے اور ٹیلے کی
اوٹ سے دیکھا ۔ انہیں دو سائے بیٹھے ہوئے نظر آئے ۔ صاف پتہ چلتا تھا کہ ایک عورت اور ایک مرد ہے ۔ موبی اور زیادہ
قریب ہوگئی اور غور سے باتیں سننے لگی ۔ مصری کمانڈر کے ساتھ اس لڑکی نے ایسی واضح باتیں کیں کہ موبی کو یقین
ہوگیا کہ یہ اس کی ساتھی لڑکی ہے اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ اسے قاہرہ لے جایا جارہا ہے ۔
مصر ی نے جو باتیں کیں ،وہ تو بالکل ہی صاف تھیں ۔ کسی شک کی گنجائش نہیں تھی ۔ موبی جان گئی تھی کہ یہ
مصری اس لڑکی کو اس کی مجبوری کے عالم میں عیاشی کا ذریعہ بنا رہا ہے۔ موبی نے یہ بالکل نہ سوچا تھا کہ اردگرد
کوئی اور بھی ہوگا اور اس نے جو ارادہ کیا ہے ،اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ اس نے پیچھے ہٹ کر بالیان کے کان میں کچھ کہا
…… '' یہ مصری ہے اور یہ میرے ساتھ کی ایک لڑکی کے ساتھ عیش کر رہا ہے ۔ اس لڑکی کو بچالو۔ یہ مصری تمہارا
دشمن ہے اور لڑکی تمہاری دوست ''…… اس نے بالیان کو اور زیادہ بھڑکانے کے لیے کہا ۔'' یہ بڑی خوبصورت لڑکی ہے ،
اسے بچالو اور اپنے سفری حرم میں شامل کرلو
بالیان شراب پئے ہوئے تھا ۔ اس نے کمر بند سے خنجر نکاال اور بہت تیزی سے آگے بڑھ کر خنجر مصری کمانڈر کی پیٹھ
میں گھونپ دیا۔ خنجر نکال کر اسی تیزی سے ایک اور وار کیا ۔ لڑکی مصری سے آزاد ہو کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔ موبی دوڑی
اور ا ُسے آواز دی ۔ وہ دوڑ کر موبی سے لپٹ گئی۔ موبی نے اس سے پوچھا کہ دوسری کہاں ہیں ۔ اس نے رابن اور دوسرے
ساتھیوں کے متعلق بھی بتایا اور یہ بھی کہا کہ وہ پندرہ محافظوں کے پہرے میں ہیں ۔ بالیان دوڑتا گیا اور اپنے چھ ساتھیوں
کو بال الیا۔ ا ُن کے پاس کمانیں اور دوسرے ہتھیار تھے۔ اتنے میں قیدیوں کے محافظوں میں سے ایک اپنے مصری کمانڈر کو
آوازیں دیتا اِ دھر آیا۔ بالیان کے ایک ساتھی نے تیر چالیا اور اس محافظ کو ختم کر دیا ۔ وہ لڑکی انہیں اپنی جگہ لے جانے
کے لیے آگے آگے چل پڑی ۔
بالیان کو آخری ٹیلے کے پیچھے روشنی نظر آئی ۔ اس نے ٹیلے کی اوٹ میں جا کر دیکھا ۔ وہاں بڑی بڑی دو مشعلیں جل
رہی تھیں۔ ان کے ڈنڈے زمین میں گڑھے ہوئے تھے ۔ اس کے اوپر والے سروں پر تیل میں بھیگے ہوئے کپڑے لپٹے ہوئے تھے
،جو جل رہے تھے ۔ بالیان اپنے ساتھیوں کے ساتھ اندھیرے میں تھا ۔ اسے روشنی میں پانچ لڑکیاں الگ کھڑی نظر آرہی
تھیں اور محافظ بھی دکھائی دے رہے تھے۔ ان کے درمیان پانچ الشیں پڑی تھیں ،جن میں تیر اُترے ہوئے تھے ۔ موبی اور
دوسری لڑکی کی سسکیاں نکلنے لگیں۔ موبی کے ا ُکسانے پربالیان نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ تمہارا شکار ہے ،تیروں
سے ختم کر دو ۔ ان کی تعداد اب چودہ تھی ۔ یہ اُن کی بد قسمتی تھی کہ وہ روشنی میں تھے۔
بالیان کے ساتھیوں نے کمانوں میں تیر ڈالے۔ تمام تیر ایک ہی بار کمانوں سے نکلے ۔ دوسرے ہی لمحے کمانوں میں چھ اور
تیر آچکے تھے۔ ایک ہی بار قیدیوں کے چھ محافظ ختم ہو گئے ۔ باقی ابھی سمجھ نہ سکے تھے کہ یہ تیر کہاں سے آئے
ہیں ۔ چھ اور تیروں نے چھ اور محافظوں کو گرا دیا ۔ باقی دو رہ گئے تھے۔ اُن میں سے ایک اندھیرے میں غائب ہوگیا ۔
دوسرا ذرا سست نکال اور وہ بھی سوڈانیوں کے بیک وقت تین تیروں کا شکار ہو گیا ۔ تین شتربان رہ گئے تھے ،جو سامنے
نہیں تھے۔ وہ اندھیرے میں کہیں اِدھر ا ُدھر ہوگئے ۔ مشعلوں کی روشنی میں اب الشیں ہی الشیں نظر آرہی تھیں۔ ہر الش
ایک ایک تیر لیے ہوئے تھی اورء ایک میں تین تیر پیوست تھے۔ موبی دوڑ کر لڑکیوں سے ملی ۔ اتنے میں ایک گھوڑے کی
سرپٹ دوڑنے کی آوازیں سنائی دی ،جو دور نکل گئیں ۔ بالیان نے کہا …… ''یہاں ُرکنا ٹھیک نہیں ۔ ان میں ایک بچ کر
نکل گیا ہے ۔ وہ قاہرہ کی سمت گیا ہے ،فورا ً یہاں سے نکلو ''۔
انہوں نے محافظوں کے گھوڑے کھولے اور اپنی جگہ لے گئے ،وہاں جا کر دیکھا ایک گھوڑا بمع زین غائب تھا ۔ اسے بچ کر
نکل جانے واال محافظ لے گیا تھا ۔ وہ اپنے گھوڑوں تک نہیں جا سکا تھا ۔ چھپ کر اُدھر چالگیا ،جہاں اسے آٹھ گھوڑے
بندھے نظر آئے ۔ زینیں پاس ہی پڑی تھیں ۔ ا ُس نے ایک گھوڑے پر زین کسی اور بھاگ نکال ۔ بالیان نے چودہ گھوڑوں پر
زینیں کسوائیں ۔ سامان دو گھوڑوں پر الدا اور باقی گھوڑے ساتھ لیے اور روانہ ہو گئے ۔ لڑکیوں نے موبی کو سنایا کہ اُن پرکیا
بیتی ہے اور انہیں کہاں لے جایا رہا تھا ۔ ا ُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ رابن اور اس کے ساتھی الشوں کے ہتھیار اُٹھا نے گئے
تھے ،مگرمعلوم نہیں کہ وہ کس طرح مارے گئے ۔
موبی نے کہا …… '' ایوبی کے کیمپ میں میری اور رابن کی مالقات اچانک ہوگئی تھی ۔ اس نے کہا تھا کہ مجھے یو ں
ِ
خالف توقع نہ ملتے۔ آج ہماری مالقات بالکل
نظر آرہا تھا کہ یسوع مسیح کو ہماری کامیابی منظور ہے ،ورنہ ہم اس طر ح
ِ
خالف توقع ہوگئی ہے ،لیکن میں یہ نہیں کہوں گی کہ یسوع مسیح کو ہماری کامیابی منظور ہے ۔خدائے یسوع مسیح ہم سے
ناراض معلوم ہوتا ہے ۔ ہم نے جس
کام میں ہاتھ ڈاال وہ چوپٹ ہوا ۔ بحیرئہ روم میں ہماری فوج کو شکست ہوئی اور مصر میں ہماری دوست سوڈانی فوج کو
شکست ہوئی ۔ اِ دھر رابن اور کرسٹوفر جیسے دلیر اور قابل آدمی اور ان کے اتنے اچھے ساتھی مارے گئے ۔ معلوم نہیں ،
ہمارا کیا انجام ہوگا ''۔
ہمارے جیتے جی تمہیں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا ''۔ بالیان نے کہا ……'' میرے شیروں کا کمال تم نے دیکھ لیا ہے ''
''۔
٭ ٭ ٭
جس وقت قیدیوں کا قافلہ الشوں کے پاس ٹیلوں میں ُرکا تھا ۔ اُس وقت ساحل پر سلطان ایوبی کی فوج کےکیمپ میں تین
آدمی داخل ہوئے ۔ وہ اٹلی کی زبان بولتے تھے۔ ان کا لباس بھی اٹلی کے دیہاتیوں جیسا تھا ،ان کی زبان کوئی نہیں
سمجھتا تھا ۔ اٹلی کے جنگی قیدیوں سے معلوم کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اٹلی سے آئے ہیں اور اپنی لڑکیوں کو
ڈھونڈتے پھر رہے ہیں ۔ یہ یہاں کے ساالر سے ملنا چاہتے ہیں ۔ انہیں بہائوالدین شداد کے پاس پہنچا دیا گیا ۔ صالح الدین
ایوبی کی غیر حاضری میں شداد کیمپ کمانڈر تھا ۔ اٹلی کا ایک جنگی قیدی بالیا گیا ۔ وہ مصر کی زبان بھی جانتا تھا ۔
اس کی مدد سے ان آدمیوں کے ساتھ باتیں ہوئیں ۔ اِن تین آدمیوں میں ایک ادھیڑ عمر تھا اور دو جوان تھے۔ تینوں نے
ایک ہی جیسی بات سنائی ۔ تینوں کی ایک ایک جوان بہن کو صلیبی فوجی اُن کے گھروں سے اُٹھا الئے تھے۔ انہیں کسی
نے بتایا تھا کہ وہ لڑکیاں مسلمانوں کے کیمپ میں پہنچ گئی ہیں ۔ یہ اپنی بہنوں کی تالش میں آئے ہیں
انہیں بتایا گیا تھا کہ یہاں سات لڑکیاں آئی تھیں ۔انہوں نے یہی کہانی سنائی تھی مگر ساتوں جاسوس نکلیں ۔ ان تینوں نے
کہا کہ ہماری بہنوں کا جاسوسی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ہم توغریب اور مظلوم لوگ ہیں ۔کسی سے کشتی مانگ کر
اتنی دور آئے ہیں۔ ہم غریبوں کی بہنیں جاسوسی کی جرٔات کیسے کر سکتی ہیں۔ ہمیں اِن سات لڑکیوں کا کچھ پتہ نہیں ۔
معلوم نہیں ،وہ کون ہوں گی ۔ ہم تو اپنی بہنوں کو ڈھونڈ رہے ہیں ۔
ہمارے پاس اور کوئی لڑکی نہیں ''۔ شداد نے بتایا ۔'' یہی سات لڑکیاں تھیں ،جن میں سے ایک الپتہ ہو گئی تھی ''
اور باقی چھ کو پرسوں صبح یہاں سے روانہ کر دیا گیا ہے ۔ اگر انہیں دیکھنا چاہتے ہو تو قاہرہ چلے جائو ۔ ہمارا سلطان
رحم ِدل انسان ہے ،تمہیں لڑکیاں دکھا دے گا ''۔
نہیں '' ۔ایک نے کہا ……'' ہماری بہنیں جاسوس نہیں ۔ وہ سات کوئی اورہوں گی۔ ہماری بہنیں سمندر میں ڈوب گئی ''
ہوں گی یا ہمارے ہی فوجیوں نے انہیں اپنے پاس رکھا ہوا ہوگا ''۔
بہائو الدین شداد نیک خصلت انسان تھا۔ اُس نے ان دیہاتیوں کی مظلومیت سے متا ثر ہو کر اُن کی خاطر تواضع کی اور
انہیں عزت سے رخصت کیا ۔ اگر وہاں علی بن سفیان ہوتا تو ان تینوں کو اتنی آسانی سے نہ جانے دیتا۔ اس کی سراغ
رساں نظریں بھانپ لیتیں کہ یہ تینوں جھوٹ بول رہے ہیں …… تینوں چلے گئے ۔ کسی نے بھی نہ دیکھا کہ وہ کہاں گئے
ہیں ۔ کیمپ سے ُد ور کوئی خطرہ نہ تھا ،وہ چٹانوں کے اندر چلے گئے ۔ وہاں ان جیسے اٹھارہ آدمی بیٹھے ان کا انتظار کر
رہے تھے۔ ان تینوں میں جو ا ُدھیڑ عمر تھا ،وہ میگنا ناماریوس تھا ۔ یہ صلیبیوں کی وہ کمانڈو پارٹی تھی جسے لڑکیوں کو
آزاد کرانے اور اگر ممکن ہو سکے تو سلطان ایوبی کو قتل کرنے کا مشن دیا گیا تھا ۔ان تینوں نے کیمپ سے کچھ اور
ضروری معلومات بھی حاصل کرلی تھیں ۔ یہ بھی معلوم کر لیا تھا کہ صالح الدین ایوبی یہاں نہیں قاہرہ میں ہے ۔ شداد کے
ساتھ باتیں کرتے ،جہاں انہیں یہ معلوم ہوگیا تھا کہ لڑکیاں قاہرہ کو روانہ کر دی گئی ہیں ،وہاں انہوں نے یہ بھی معلوم
کر لیا تھا کہ ان کے ساتھ پانچ مرد قیدی بھی ہیں ۔
یہ پارٹی ایک بڑی کشتی میں آئی تھی ۔ انہوں نے کشتی ساحل پرایک ایسی جگہ پر باندھ دی تھی جہاں سمندر چٹان کو
کاٹ کر اندر تک گیا ہوا تھا ۔ ان لوگوں کو اب قاہرہ کے لیے روانہ ہونا تھا ،مگر سواری نہیں تھی ۔ یہ تین آدمی جو
کیمپ میں گئے تھے ،یہ بھی دیکھ آئے تھے کہ اس فوج کے گھوڑے اور اونٹ کہاں بندھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی
دیکھاتھا کہ کیمپ سے جانور چوری کرنا آسان نہیں ۔ اکیس گھوڑے یااونٹ چوری نہیں کیے جاسکتے تھے۔ ابھی سورج طلوع
ہونے میں بہت دیر تھی ۔ وہ پیدل ہی چل پڑے ۔ اگر انہیں سواری مل جاتی تو وہ قیدیوں کو راستے میں ہی جا لینے کی
کوشش کرتے ۔ اب وہ یہ سوچ کر پیدل چلے کہ قاہر میں جا کر قیدیوں کو چھڑانے کی کوشش کریں گے۔ سب جانتے تھے
کہ یہ زندگی اور موت کی مہم ہے ۔ صلیبی فوج کے سربراہوں اور شاہوں نے انہیں کامیابی کی صورت میں جو انعام دینے کا
وعدہ کیا تھا ،وہ اتنا زیادہ تھا کہ کوئی کام کیے بغیر اپنے کنبوں سمیت ساری عمر آرام اور بے فکری کی زندگی بسر کر
سکتے تھے ۔
میگناناماریوس کو جیل خانے سے الیا گیا تھا ۔ اُسے ڈاکہ زنی کے جرم میں تیس سال قید کی سزا دی گئی تھی ۔ اس
کے ساتھ دو اور قیدی تھے جن میں ایک کی سزا چوبیس سال اور دوسرے کی ستائیس سال تھی ۔ اُس زمانے میں قید خانے
قصاب خانے ہوتے تھے ۔ مجرم کو انسان نہیں سمجھا جاتا تھا ۔ بڑی ظالمانہ مشقت لی جاتی اور میویشیوں کی طرح کھانے
کو بے کار خوراک دی جاتی تھی ۔ قیدی رات کو بھی آرام نہیں کر سکتے تھے ۔ایسی قید سے موت بہتر تھی ۔ ان تینوں
کو انعام کے عالوہ سزا معاف کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔۔ صلیب پرحلف لے کر انہیں اس پارٹی میں شامل کیا گیا تھا ۔
جس پادری نے ا ُن سے حلف لیا تھا ،اس نے انہیں بتایا تھا کہ وہ جتنے مسلمانوں کو قتل کریں گے ،اس سے دس گناہ ان
کے گناہ بخشے جائیں گے اور اگر انہوں نے صالح الدین ایوبی کو قتل کیا تو اُن کے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے اور اگلے
جہان خدائے یسوع مسیح انہیں جنت میں جگہ دیں گے ۔
یہ معلوم نہیں کہ یہ تینوں قید خانے کے جہنم سے آزاد ہونے کے لیے موت کی اس مہم میں شامل ہوئے تھے یا اگلے جہاں
جنت میں داخل ہونے کے لیے یا انعام کا اللچ انہیں لے آیا تھا یا وہ نفرت جو اُن کے ِدلوں میں مسلمانوں کے خالف ڈالی
گئی تھی ۔ بہر حال وہ عزم کے پختہ معلوم ہوتے تھے اور ا ُن کا جوش و خروش بتا رہا تھا کہ وہ کچھ کر کے ہی مصر
سے نکلیں گے یا جانیں قربان کردیں گے ۔ باقی اٹھارہ تو فوج کے منتخب آدمی تھے ۔ انہوں نے جلتے ہوئے جہازوں سے
جانیں بچائی تھیں اور بڑی مشکل سے واپس گئے تھے۔ یہ مسلمانوں سے اس ذلت آمیز شکست کا انتقام لینا چاہتے تھے۔
انعام کا اللچ تو تھا ہی …… یہی جذبہ تھا جس کے جوش سے وہ ا َ ن دیکھی منزل کی سمت پیدل ہی چل پڑے ۔
دوپہر کے وقت ایک گھوڑا سوار صالح الدین ایوبی کے ہیڈ کواٹر کے سامنے جا ُرکا ۔ گھوڑے کا پسینہ پھوٹ رہا تھا اور سوار
کے منہ سے تھکن کے مارے بات نہیں نکل رہی تھی ۔ وہ گھوڑے سے اُترا تو گھوڑے کاسارا جسم بڑی زور سے کانپا ۔ گھوڑا
گر پڑا اور مر گیا ۔ سوار نے اسے آرام دئیے بغیر اور پانی پالئے بغیر ساری رات اور آدھا دن مسلسل دوڑایا تھا ۔ سلطان
ایوبی کے محافظوں نے سوار کو گھیرے میں لے لیا ۔ ا ُسے پانی پالیا اور جب وہ بات کرنے کے قابل ہوا تو اس نے کہا کہ
کسی ساالر یا کماندار سے مال دو …… سلطان ایوبی خود ہی باہر آگیا تھا ۔ سوار اُسے دیکھ کر اُٹھا اور سالم کرکے کہا
……'' سلطان کا اقبال بلند ہو ۔ بُری خبر الیا ہوں ''…… سلطان ایوبی اسے اندر لے گیا اور کہا ……'' خبر جلدی سے سنا
و ''۔
قیدی لڑکیاں بھاگ گئی ہیں ۔ ہمارا پورا دستہ مارا گیا ہے '' ۔ اس نے کہا ……'' مرد قیدیوں کو ہم نے جان سے مار ''
دیا ہے۔ میں اکیال بچ کر نکال ہوں ۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ حملہ آور کون تھے ۔ ہم مشعلوں کی روشنی میں اور وہ
اندھیرے میں ۔ اندھیرے سے تیر آئے اور میرے تمام ساتھی ختم ہوگئے ''۔
یہ قیدیوں کے محافظوں کے دستے کا وہ آدمی تھا جو اندھیرے میں غائب ہو گیا تھا اور سوڈانیوں کا گھوڑا کھول کر بھاگ آیا
تھا ۔ اس نے گھوڑے کو بالروکے سرپٹ دوڑایا تھا اور اتنا طویل سفر آدھے سے بھی تھوڑے وقت میں طے کر لیا تھا ۔
سلطان صالح الدین ایوبی نے علی بن سفیان اور فوج کے ایک نائب ساالر کو بالیا ۔ وہ آئے تو اس آدمی سے کہا کہ وہ اب
ساری بات سنائے۔ ا ُس نے کیمپ سے روانگی کے وقت سے بات شروع اور اپنے کمانڈر کے متعلق بتایا کہ وہ ایک قیدی لڑکی
کے ساتھ ِد ل بہالتا رہا اور قیدیوںبسے الپروا ہو گیا ،پھر راستے میں جو کچھ ہوتا رہا اور آخر میں جو کچھ ہوا ،اُس نے
سنا دیا ،مگر وہ یہ نہ بتا سکا کہ حملہ آور کون تھے ۔
سلطان ایوبی نے علی بن سفیان اور نائب ساالرسے کہا ……'' اس کامطلب یہ ہے کہ صلیبی چھاپہ مار مصر کے اندر موجو
دہیں ''۔
ہو سکتا ہے '' ۔ علی بن سفیان نے کہا ……'' یہ صحرائی ڈاکو بھی ہو سکتے ہیں ۔ اتنی خوبصورت چھ لڑکیاں ڈاکوئوں ''
کے لیے بہت بڑی کشش تھی ''۔
تم نے اس کی بات غور سے نہیں سنی ''۔ سلطان ایوبی نے کہا …… '' اس نے کہا ہے کہ مرد قیدی الشوں کے ''
ہتھیار ا ُٹھا الئے تھے اور محافظوں کو قتل کرنے لگے تھے۔ محافظوں میں سے دو نے انہیں تیروں سے ہالک کر دیا ۔ اس کے
بعد ا ُن پر حملہ ہوا ۔ اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے صلیبی چھاپہ مار اُن کے تعاقب میں تھے ''۔
سلطان محترم !'' نائب ساالر نے کہا ۔ '' فوری طور پر کرنے واال کام یہ ہے کہ اس عسکری کو ''
وہ کوئی بھی تھے
ِ
راہنمائی کے لیے ساتھ بھیجا جائے اور کم از کم بیس گھوڑا سوار جو تیز رفتار ہوں ،تعاقب کے لیے بھیجے جائیں۔ یہ بعد
کی بات ہے کہ وہ کون تھے ''۔
میں اپنے ایک نائب کو ساتھ بھیجوں گا '' ۔ علی بن سفیان نے کہا ۔ ''
اس عسکری کو کھانا کھالئو ''…… سلطان ایوبی نے کہا …… '' اسے تھوڑی دیر آرام کرلینے دو۔ اتنی دیر میں بیس سوار''
تیار کرو اور تعاقب میں روانہ کر دو۔ اگر ضرورت سمجھو تو زیادہ سوار بھیج دو ''۔
میں نے جہاں گھوڑا کھوال تھا ،وہاں آٹھ گھوڑے بندھے ہوئے تھے ''۔ محافظ نے کہا ……'' وہاں کوئی انسان نہیں ''
تھا ۔حملہ آور وہی ہو سکتے ہیں ،اگر گھوڑے آٹھ تو وہ بھی آٹھ ہی ہوں گے ''۔
چھاپہ ماروں کی تعداد زیادہ نہیں ہو سکتی ''۔ نائب ساالر نے کہا …… '' ہم انشاء اللہ انہیں پکڑ لیں گے ''۔
یہ یاد رکھو کہ وہ چھاپہ مار ہیں ''۔ سلطان ایوبی نے کہا …… '' اور لڑکیاں جاسوس ہیں ،اگر تم ایک جاسوس یا ''
چھاپہ مار کو پکڑ لو تو سمجھ لو کہ تم نے دشمن کے دو سو عسکری پکڑ لیے ہیں ۔ میں ایک جاسوس کو ہالک کرنے کے
لیے دشمن کے دو سو عسکریوں کو چھوڑ سکتا ہوں ۔ ایک عورت کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی مگر ایک جاسوس اور
تخریب کار عورت اکیلی پورے ملک کا بیڑہ غرق کر سکتی ہے ۔ یہ لڑکیاں بے حد خطرناک ہیں ،اگر وہ مصر کے اندر رہ
گئیں تو تمہارا پورے کا پورا لشکر بے کار ہو جائے گا ۔ ایک جاسوس یا جاسوسہ کو پکڑنے یا جان سے مارنے کے لیے اپنے
ایک سو سپاہی قربان کر دو ۔ یہ سودا پھر بھی سستا ہے ۔ چھاپہ مار اگر نہ پکڑے جائیں تو مجھے پروا نہیں اِن لڑکیوں کو
ہر قیمت پر پکڑنا ہے ۔ ضرورت سمجھو تو تیروں سے انہیں ہالک کر دو ۔ زندہ نکل کر نہ جائیں ''۔
ایک گھنٹے کے اندر اندر بیس تیز رفتار سوار روانہ کر دئیے گئے ۔ اس کا راہنما یہ محافظ تھا اور کمانڈر علی بن سفیان کا
ایک نائب زاہدین تھا ۔ ان سواروں میں فخرالمصری کو علی بن سفیان نے خاص طور پر شامل کیا تھا ۔ یہ فخر کی خواہش
تھی کہ اسے بالیان کے تعاقب کے لیے بھیجا جائے۔ یہ تو نہ علی بن سفیان کو علم تھا ،نہ فخر المصری کو کہ جن کے
تعاقب میں سوار جا رہے ہیں ،وہ بالیان ،موبی اور ان کے چھ وفادار ساتھی ہیں ۔
ادھر سے یہ بیس سوار روانہ ہوئے جن میں اکیسواں ان کا کمانڈر تھا ۔ ان کا ہدف لڑکیاں تھیں اور انہیں چھڑا کر لے جانے
والے ۔ ادھر سے صلیبیوں کے بیس کمانڈو آرہے تھے جن میں اکیسواں ا ُن کا کمانڈر تھا ۔ ان کا بھی ہدف یہی لڑکیاں تھیں ،
مگر ان کی کمزوری یہ تھی کہ وہ پیدل آرہے تھے ۔ دونوں پارٹیوں میں سے کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ جن کے تعاقب
میں وہ جا رہے ہیں ،وہ کہاں ہیں ۔
صلیبیوں کی کمانڈو پارٹی اگلے روز سورج غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے خاصہ فاصلہ طے کر چکی تھی ۔ راستہ اُوپر چڑھ رہا
تھا ،وہ عالقہ نشیب و فراز کا تھا ۔ یہ لوگ بلندی پر گئے تو انہیں دور ایک میدان میں جہاں کھجور کے بہت سے درختوں
کے ساتھ دوسری قسم کے درخت بھی تھے ،بے شمار اُونٹ کھڑے نظر آئے ۔ انہیں بٹھا بٹھا کر اُن سے سامان اُتارا جا رہا
تھا ۔ بارہ چودہ گھوڑے بھی تھے۔ ان کے سوار فوجی معلوم ہوتے تھے ،باقی تمام شتر بان تھے ۔ یہ اکیس صلیبی ُرک
گئے ۔ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ،جیسے انہیں یقین نہ آرہا ہو کہ وہ اونٹ اور گھوڑے ہیں ۔ یہی ان کی
ضرورت تھی ۔ ا ُن کے کمانڈر نے پارٹی کو روک لیا اور کہا ……''ہم سچے دل سے صلیب پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا کر آئے
ہیں ۔ وہ دیکھو صلیب کا کرشمہ …… یہ معجزہ ہے ۔ خدا نے آسمان سے تمہارے لیے سواری بھیجی ہے ۔ تم میں سے جس
کے ِد ل میں کسی بھی گناہ کا یا فرض سے کوتاہی کا یا جان بچا کر بھاگنے کا خیال ہے ،وہ فورا ً نکال دو ۔ خدا کا بیٹا
جو مظلوموں کا دوست اور ظالموں کا دشمن ہے ،تمھاری مدد کے لیے آسمان سے اُتر آیا ہے ۔
سب کے چہروں پر تھکن کے جو آثارتھے ،وہ غائب ہو گئے اور چہروں پر رونق آگئی ۔ انہوں نے ابھی اس پہلو پر غور ہی
نہیں کیا تھا کہ اتنے میں بے شمار اونٹوں اور گھوڑوں میں سے جن کے ساتھ اتنے زیادہ فوجی اور شتر بان ہیں ،وہ اپنی
ضرورت کے مطابق جانور کس طرح حاصل کریں گے ۔
یہ ایک سو کے لگ بھگ اونٹوں کا قافلہ تھا جو محاذ پر فوج کے لیے راشن لے جا رہا تھا ۔ چونکہ ملک کے اندر دشمن
کا کوئی خطر ہ نہیں تھا ،اس لیے قافلے کی حفاظت کا کوئی خاص اہتمام نہیں کیا گیا تھا ۔ صرف دس گھوڑا سوار تھا
بھیج دئیے گئے تھے ۔ شتر بان نہتے تھے۔ ابھی چھاپہ مار اور شب خون مارنے والے میدان میں نہیں آئے تھے ۔ صلیبیوں
کے یہ اکیس آدمی پہلے چھاپہ مار تھے یا اس سے پہلے صالح الدین ایوبی نے شب خون کا وہ طریقہ آزمایا تھا جس میں
تھوڑے سے سواروں نے سوڈانیوں کی فوج کے عقبی حصے پر حملہ کیا اور غائب ہو گئے تھے ۔
اس '' وار کرو اور بھاگو '' کے طریقہ جنگ کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے سلطان ایوبی نے تیز رفتار ،ذہین اور جسمانی
لحاظ سے غیر معمولی طور صحت مند عسکریوں کے دستے تیار کرنے کا حکم دے دیا تھا اور دشمن کے ملک میں لڑاکا
جاسوس بھیجنے کی سکیم بھی تیار کر لی تھی ،لیکن صلیبیوں کو ابھی شب خون اور چھاپوں کی نہیں سوجھی تھی ۔کسی
نجی قافلے کو ڈاکو بعض اوقات لوٹ لیا کرتے تھے ۔ سرکاری قافلے ہمیشہ محفوظ رہتے تھے ۔ اسی لیے فوجیوں کے رسد
کے قافلے بے خوف و خطر رواں دواں رہتے تھے ۔ اس سے پہلے بھی اسی محاذ کے لیے دو بار رسد کے قافلے جا چکے
لہذا حفاظتی اقدامات کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی تھی ۔
تھے اور اسی عالقے سے گزرے تھے ۔ ٰ
یہ قافلہ بھی خطروں سے بے پروا محاذ کو جا رہا تھا اور رات کے لیے یہاں پڑائو کر رہا تھا ۔ اس سے تھوڑی ہی دور
قافلے کے لیے بہت بڑا خطرہ آرہا تھا ۔ صلیبی کمانڈر نے اپنی پارٹی کو ایک نشیب میں بٹھا لیا اور دو آدمیوں سے کہا کہ
وہ جا کر یہ دیکھیں کہ قافلے میں کتنے ا ُونٹ ،کتنے گھوڑے ،کتنے مسلح آدمی اور خطرے کیاکیا ہیں۔ پھر وہ رات کو حملہ
کرنے کی سکیم بنانے لگا ۔ ا ُن کے پاس ہتھیاروں کی کمی نہیں تھی ۔ جذبے کی بھی کمی نہیں تھی ۔ ہر ایک آدمی جان
پر کھیلنے کو تیا ر تھا ۔
نصف شب سے بہت پہلے وہ دو آدمی واپس آئے جو قافلے کو قریب سے دیکھنے گئے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ قافلے کے
ساتھ دس مسلح سوار ہیں جو ایک ہی جگہ سوئے ہوئے ہیں ۔ گھوڑے الگ بندھے ہوئے ہیں ۔ شتربان ٹولیوں میں بٹ کر
سوئے ہوئے ہیں ۔ سامان میں زیاد ہ تر بوریاں ہیں ۔ شتر بانوں کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ۔
یہ بڑی اچھی معلومات تھیں ۔ کام مشکل نہیں تھا ۔
قافلے والے گہری نیند سوئے ہوئے تھے ۔ دس عسکریوں کی آنکھ بھی نہ کھلی کہ تلواروں اور خنجروں نے انہیں کاٹ کر رکھ
دیا ۔ صلیبی چھاپہ ماروں نے یہ کام اتنی خاموشی اور آسانی سے کر لیا کہ بیشتر شتربانوں کی آنکھ ہی کھلی اور جن کی
آنکھ کھلی و ہ سمجھ ہی نہ پائے کہ یہ کیا ہو رہا ہے ،جس کے منہ سے آواز نکلی وہ اس کی زندگی کی آخری آواز ثابت
ہوئی ۔ چھاپہ ماروں نے شتربانوں کو ہراساں کرنے کے لیے چیخنا شروع کر دیا ۔ سوئے ہوئے شتر بان گھبرا کر ہڑ بڑا کر
قتل عام شروع کر دیا ۔ بہت تھوڑے بھاگ سکے ۔ صلیبی
اُٹھے ۔ اُونٹ بھی بدک کر اُٹھنے لگے ۔ صلیبیوں نے شتربانوں کا
ِ
کمانڈر نے چال کر کہا …… '' یہ مسلمانوں کا راشن ہے ،تباہ کر دہ ۔ اونٹوں کوبھی ہالک کر دو '' ……انہوں نے اونٹوں
کے پیٹوں میں تلواریں گھونپنی شروع کر دیں ۔ اونٹوں کے واویلے سے رات کانپنے لگی ۔ کمانڈر نے گھوڑے دیکھے ۔
بارہ تھے ،دس سواروں کے لیے دو فالتو ۔ اُس نے نو اُونٹ الگ کر لیے ۔
سورج طلوع ہوا تو پڑائو کا منظر بڑا بھیانک تھا ۔ بے شمار الشیں بکھری ہوئی تھیں ۔ بہت سے اونٹ مر چکے تھے ۔ کئی
تڑپ رہے تھے ۔ کچھ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے ۔ آٹا اور کھانے کا دیگر سامان خون میں بکھرا ہوتا تھا ۔ بارہ کے بارہ
گھوڑے غائب تھے اور وہاں کوئی زندہ انسان موجود نہیں تھا ۔ چھاپہ مار ُدور نکل گئے تھے۔ اس کی سواری کی ضرورت
پوری ہو گئی تھی ۔ اب وہ تیز رفتاری سے اپنے شکار کو ڈھونڈ سکتے تھے ۔
٭ ٭ ٭
شکار ُد ور نہیں تھا ۔ بالیان کا دماغ پہلے ہی موبی کے حسن و جوانی اور شراب نے مائوف کر رکھا تھا ۔ اب اس کے پاس
سات حسین اور جوان لڑکیاں تھیں ۔ وہ خطروں کو بھول ہی گیا تھا ۔ موبی اس کوبار بارکہتی تھی کہ اتنا زیادہ کہیں ُرکنا
ٹھیک نہیں ،جتنی جلدی ہو سکے ،سمندر تک پہنچنے کی کوشش کرو ،ہمارا تعاقب ہو رہا ہوگا ،مگر بالیان بے فکرے
بادشاہوں کی طرح قہقہ لگا کر اس کی بات سنی ا َن سنی کر دیتا تھا ۔ لڑکیوں کو جس رات آزاد کرایا گیا تھا ،اس سے
اگلی رات وہ ایک جگہ ُر کے ہوئے تھے۔ بالیان نے موبی سے کہا کہ ہم سات مرد ہیں اور تم سات لڑکیاں ہو۔ میرے ان چھ
دوستوں نے میرے ساتھ بڑی دیانت داری سے ساتھ دیا ہے ۔ میں ا ُن کی موجودگی میں تمہارے ساتھ رنگ رلیاں مناتا رہا ،پھر
بھی وہ نہیں بولے ۔ اب میں انہیں انعام دینا چاہتا ہوں۔ تم ایک ایک لڑکی میرے ایک ایک دوست کے حوالے کر دو اور
انہیں کہو کہ یہ تمہاری وفاداری کا تحفہ ہے۔
یہ نہیں ہو سکتا '' ……موبی نے غصے سے کہا ……'' ہم فاحشہ نہیں ہیں ۔ میری مجبوری تھی کہ میں تمہارے ہاتھ ''
میں کھلونا بنی رہی ۔ یہ لڑکیاں تمہاری خریدی ہوئی لونڈیاں نہیں ہیں ''۔
میں نے تمہیں کسی وقت بھی شریف لڑکی نہیں سمجھا''۔ بالیان نے کہا ……''تم سب ہمارے لیے اپنے جسموں کا ''
تحفہ الئی ہو ۔ یہ لڑکیاں معلوم نہیں کتنے مردوں کے ساتھ کھیل چکی ہیں۔ ان میں ایک بھی مریم نہیں ''۔
ہم اپنا فرض پورا کرنے کے لیے جسموں کا تحفہ دیتی ہیں ''۔ موبی نے کہا …… '' ہم عیاشی کے لیے مردوں کے ''
پاس نہیں جاتیں ۔ ہمیں ہماری قوم اور ہمارے مذہب نے ایک فرض سونپاہے ۔ اس فرض کی ادائیگی کے لیے ہم اپنا جسم ،
اپنا حسن اور اپنی عصمت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں ۔ ہمارا فرض پورا ہو چکا ہے ۔ اب تم جو کچھ کہہ رہے
ہو ،یہ عیاشی ہے جو ہمیں منظور نہیں ۔ جس روز ہم عیاشی میں اُلجھ گئیں ،اس روز سے صلیب کا زوال شروع ہو جائے
گا ۔
19:12
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔ 17ساتویں لڑکی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
صلیب ٹوٹ جائے گی ۔ ہم اپنی عصمت کے شیشے توڑ دیتی ہیں تاکہ صلیب نہ ٹوٹے۔ ہمیں ٹریننگ دی گئی ہے کہ ایک
کار ثواب ہے ۔ مسلمانوں کے ایک
مسلمان سربراہ کو تباہ کرنے کے لیے دس مسلمانوں کے ساتھ راتیں بسر کرنا جائز اور ِ
کار خیر سمجھتی ہیں ۔
مذہبی پیشوا کو اپنے جسم سے ناپاک کرنے کو ہم ایک عظیم ِ
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم صلیب کی بقاء کے لیے مجھے استعمال کر رہی ہو '' ۔ بالیان کے احساسات آہستہ ''
''آہستہ جاگنے لگے……''کیا تم مجھے صلیب کا محافظ بنانا چاہتی ہو ؟
''کیا تم ابھی تک شک میں ہو ؟'' موبی نے کہا …… '' تم نے صلیب کے ساتھ کیوں دوستی کی ؟ ''
صالح الدین ایوبی کی حکمرانی سے آزاد ہونے کے لیے ''۔ بالیان نے کہا …… '' صلیب کی حفاظت کے لیے نہیں ۔ ''
میں مسلمان ہوں ،لیکن اس سے پہلے میں سوڈانی ہوں ''۔
میں سب سے پہلے صلیبی ہوں ''۔ موبی نے کہا …… '' میں عیسائی ہوں اور اس کے بعد اُس ملک کی بیٹی ہوں ''
جہاں میں پیدا ہوئی تھی ''۔ موبی نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا ……'' اسالم کوئی مذہب نہیں ۔ اسی لیے تم
اپنے ملک کو اس پر ترجیح دے رہے ہو۔ یہ تمہاری نہیں ،تمہارے مذہب کی کمزوری ہے۔ تم میرے ساتھ سمندر پار چلو تو
میں تمہیں اپنا مذہب دکھائوں گی ۔ تم اپنے مذہب کو بھول جاو گے ''۔
میں اس مذہب پر لعنت بھیجوں گا جو اپنی بیٹیوں کو غیر مردوں کے ساتھ راتیں بسر کرنے اور شراب پینے کو ثواب کا ''
کام سمجھتا ہے ''۔ بالیان اچانک بیدار ہوگیا ۔ اس نے کہا ……'' تم نے اپنی عصمت مجھ سے نہیں ل ُٹائی ،بلکہ میری
عصمت لوٹی ہے۔ میں نے تمہیں نہیں ،بلکہ تم نے مجھے کھلونا بنائے رکھا ہے ''۔
ایک مسلمان کا ایمان خریدنے کے لیے عصمت کوئی زیادہ قیمت نہیں ''۔ لڑکی نے کہا …… '' میں نے تمہاری عصمت ''
نہیں لوٹی ،تمہارا ایمان خریدا ہے ،مگر تمہیں راستے میں بھٹکتا ہوا چھوڑ کر نہیں جاو ں گی ۔ تمہیں ایک عظیم روشنی
کی طرف لے جا رہی ہوں ،جہاں تمہیں اپنا مستقبل اور اپنی عاقبت ہیروں کی طرح چمکتی نظر آئے گی ''۔
میں اس روشنی میں نہیں جاو ں گا ''۔ بالیان نے کہا ۔ ''
دیکھو بالیان ! '' موبی نے کہا ……'' مرد ،جنگجو وعدے اور سودے سے نہیں پھرا کرتے ۔ تم میرا سودا قبول کر ''
چکے ہو۔ میں نے تمہارا ایمان خرید کر شراب میں ڈبو دیا ہے اورتمہیں منہ مانگی قیمت دی ہے۔ اتنے ِدنوں سے میں تمہاری
لونڈی اور بنی ہوئی ہوں ۔ اس سودے سے پھرو نہیں ۔ ایک کمزور لڑکی کو دھوکہ نہ دو ''۔
تم نے مجھے وہ عظیم روشنی یہیں دکھا دی ہے جو تم مجھے سمندر پار لے جا کر دکھانا چاہتی ہو ''۔ بالیان نے کہا ''
……'' مجھے اپنا مستقبل اور اپنی عاقبت ہیروں کی طرح چمکتی نظر آنے لگی ہے ''…… موبی نے کچھ کہنے کی کوشش
'' کی تو بالیان گرج کر بوال ۔
خاموش رہو لڑکی ! صالح الدین ایوبی میرا دشمن ہو سکتا ہے ،لیکن میں اس رسول ۖ کا دشمن نہیں ہو سکتا جس کا
صالح الدین ایوبی بھی نام لیوا ہے۔ میں اس رسول ۖ کے نام پر مصر اور سوڈان قربان کر سکتا ہوں ۔ اس کے عظیم اورمقدس
نام پر میں صالح الدین ایوبی کے آگے ہتھیار ڈال سکتا ہوں ''۔
میں تم کو کئی بار کہہ چکی ہوں کہ شراب کم پیا کرو ''۔ موبی نے کہا …… '' ایک شراب اور دوسرے رات بھر ''
جاگنا اور میرے جسم کے ساتھ کھیلتے رہنا ۔ دیکھو تمہارا دماغ با لکل بے کار ہو گیا ہے ۔ تم یہ بھی بھول گئے ہو کہ میں
تمہاری بیوی ہوں ''۔
''
میں کسی فاحشہ صلیبی کا خاوند نہیں ہو سکتا '' ۔ اس کی نظر شراب کی بوتل پر پڑی ،اس نے بوتل اُٹھا کر
پھینک دی اور ا ُٹھ کھڑا ہوا ۔ اس نے اپنے دوستوں کو بالیا ۔ وہ دوڑتے ہوئے آئے ۔ اُس نے کہا ۔ '' یہ لڑکیاں اور یہ لڑکی
بھی تمہاری قیدی ہیں ،انہیں واپس قاہرہ لے چلو ''۔
''قاہرہ ؟ '' ایک نے حیران ہو کرکہا ۔ ''آپ قاہر ہ جانا چاہتے ہیں ؟ ''
ہاں !''اس نے کہا …… '' قاہرہ ! حیران ہونے کی ضرورت نہیں ۔ اس ریگستان میں کب تک بھٹکتے رہو گے ؟ کہاں ''
جاو گے ؟ چلو ۔ گھوڑوں پر زینیں کسو اور ہر لڑکی کو ایک ایک گھوڑے کی پیٹھ پر باندھ کر لے چلو ''۔
٭ ٭ ٭
صحرا میں اونٹ کا سفر بے آواز ِپا ہوتا ہے۔گھوڑوں کے پاوں کی ہلکی ہلکی آوازیں سنائی دیتی ہیں ،لیکن اونٹ کے پاوں خدا
نے ایسے بنائے ہیں کہ ہلکی سی آواز بھی پیدا نہیں ہوتی ۔ بالیان جس وقت موبی کے ساتھ باتیں کر رہا تھا ،اسے
محسوس تک نہ ہوا کہ ایک اونٹ ایک چھوٹے سے ریتلے ٹیلے کی اوٹ میں کھڑا اِن دونوں کو اور چھ لڑکیوں کو اور چھ
آدمیوں کو دیکھ رہا ہے ۔ وہ صلیبی کمانڈو پارٹی کا ایک آدمی تھا ۔ اس پارٹی کا کمانڈر عقل مند آدمی تھا ۔ بالیان کے
ڈیرے سے تقریبا ً نصف میل ُدور اس نے پڑاو کیا تھا ۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کا شکار اُس سے نصف
میل ُد ور ہے ۔ اس نے فوجی دانش مندی سے کام لیتے ہوئے رات کو تین آدمیوں کو یہ ڈیوٹی دی تھی کہ وہ اونٹوں پر سوار
ہو کر ُدور ُد ور تک گھو م آئیں اور جہاں انہیں کوئی خطرہ یا کام کی کوئی چیز نظر آئے ،آکر اطالع کریں ۔ اس کام کے
لیے اونٹ ہی موزوں سواری تھی ،کیونکہ اس کے پاوں کی آواز نہیں ہوتی ۔ تینوں سوار مختلف سمتوں کو چلے گئے تھے ۔
یہ سارا عالقہ ایسا تھا کہ پڑاو کے لیے نہایت اچھا تھا ،اس لیے کمانڈر نے سوچا تھا کہ یہاں کسی اورنے بھی ڈیرے ڈال
رکھے ہوں گے۔
ایک شتر سوار کو روشنی سی نظر آئی تو و اس طرف چل پڑا ۔ یہ ایک چھوٹی مشعل تھی جو بالیان کے عارضی کیمپ
میں جل رہی تھی ۔ شتر سوا رآگے گیا تو ایک ٹیلے کے پیچھے ہو گیا ۔ یہ اتنا ہی اونچا تھا کہ اونٹ پر سوار ہو کر آگے
دیکھا جا سکتا تھا ۔ اونٹ اور سواراس کے پیچھے چھپ گئے تھے ۔ اسے ہلکی ہلکی روشنی میں لڑکیاں نظر آئیں جو بالیان
کے فوجی دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگا رہی تھیں ۔ اُن سے کچھ ُدور ایک اور لڑکی ایک آدمی کے ساتھ باتیں کر تی نظر
آئی ۔ ذرا پرے بہت سے گھوڑے بندھے ہوئے تھے ۔ ان میں وہ گھوڑے بھی تھے جو اِن لوگوں نے قیدیوں کے محافظوں کو
قتل کر کے حاصل کیے تھے۔
صلیبی شتر سوا ر نے اونٹ کو موڑا ۔ کچھ ُد ور تک آہستہ آہستہ چال اور پھر اونٹ دوڑا دیا ۔ اونٹ کے لیے نصف میل کا
فاصلہ کچھ بھی نہیں تھا ۔ سوار نے اپنی پارٹی کو خوش خبری سنائی شکار ہمارے قدموں میں ہے ۔ کمانڈر نے ایک لمحہ
بھی ضائع نہ کیا ۔ شتر سوار سے ہدف کی تفصیل پوچھی اور پارٹی کو پیدل چال دیا ۔ گھوڑوں کے قدموں کی آواز سے شکار
کے چوکنا ہوجانے کا خطرہ تھا …… جس وقت یہ پارٹی بالیان کے ڈیرے تک پہنچی ،بالیان حکم دے چکا تھا کہ ایک ایک
لڑکی گھوڑے کی پیٹھ پر باندھ دو ۔ اس کے دوست حیرت ذدہ ہو کہ بالیان کو دیکھ رہے تھے کہ اس کا دماغ خراب ہو گیا
ہے ۔ انہوں نے اس کے ساتھ بحث شروع کر دی اور وقت ضائع ہوتا رہا ۔ بالیان نے انہیں بڑی مشکل سے قائل کیا وہ جو
کچھ کہہ رہا ہے ،ہوش ٹھکانے رکھ کر کہہ رہا ہے اور قاہرہ چلے جانے میں ہی عافیت اور مصلحت ہے ۔
لڑکیاں پریشانی کے عالم میں اسے دیکھ رہی تھیں۔بالیان کے آدمیوں نے گھوڑوں پر زینیں ڈالیں اور لڑکیوں کو پکڑ لیا ۔ اچانک
ا ُن پر آفت ٹوٹ پڑی ۔بالیان نے بلند آواز سے بار بار کہا ……'' ہم ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں ۔ لڑکیوں کو قاہر ہ لے جا رہے
ہیں ''……وہ حملہ آوروں کو سلطان ایوبی کے فوجی سمجھ رہا تھا ،لیکن ایک خنجر نے اس کے ِدل میں اُتر کر اُسے
خاموش کر دیا ۔ اس کے دوست اتنے زیادہ آدمیوں کے ایسے اچانک حملے کا مقابلہ نہ کر سکے ۔ سنبھلنے سے پہلے ہی
ختم ہو گئے ۔ صلیبیوں کا چھاپہ کامیاب تھا ۔ لڑکیاں آزاد ہو چکی تھیں۔ چھاپہ مار انہیں فورا ً اپنی جگہ لے گئے ۔ انہوں
نے کمانڈر کو پہچان لیا ۔ وہ بھی ان کی پارٹی کا جاسوس تھا ۔ انہوں نے رات وہیں بسر کرنے کا فیصلہ کیا اور پہرے کے
لیے دو سنتری کھڑے کر دئیے جو ڈیرے کے ارد گرد گھومنے لگے ۔
سلطان ایوبی کے بھیجے ہوئے سوار ،اس جگہ سے ابھی ُد ور تھے ،جہاں قیدی لڑکیاں بالیان کے آدمیوں نے رہا کرائیں تھیں
۔ رات کو بھی چلے جا رہے تھے ۔ وہ تعاقب میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ راہنما اُن کے ساتھ تھا ۔ وہ راستہ
اور جگہ بھوال نہیں تھا ۔ وہ انہیں اس جگہ لے گیا جہاں ا ُن پر حملہ ہوا تھا ۔ ایک مشعل جال کردیکھا گیا ،وہاں رابن اور
اس کے ساتھیوں کی الشیں اور ا ُن کے محافظوں کی الشیں پڑی تھیں ۔ یہ چیر پھاڑی اور کھائی ہوئی تھیں ۔ اُس وقت بھی
صحرائی لومڑیاں اور گیڈر انہیں کھا رہے تھے ۔ سواروں کو دیکھ کر یہ درندے بھاگ گئے۔ دن کے وقت انہیں گدھ کھاتے رہے
تھے ۔ محافظ اپنے کمانڈر کو ا ُس جگہ لے گیا جہاں سے اس نے گھوڑا کھوال تھا ۔ وہاں سے مشعل کی روشنی میں زمین
دیکھی گئی تھی۔ گھوڑوں کے قدموں کے نشان نظر آرہے تھے اور سمت کی نشان دہی کر رہے تھے ،جدھر یہ گئے تھے ،
مگر رات کے وقت ان نشانوں کو دیکھ دیکھ کر چلنا بہت مشکل تھا ۔ وقت ضائع ہونے کا اور بھٹک جانے کا ڈر تھا ۔ رات
کو وہیں قیام کیا گیا۔
صلیبی پارٹی کے کیمپ میں سب جاگ رہے تھے ۔ وہ بہت خوش تھے ۔ کمانڈر نے فیصلہ کیا تھا کہ سحر کی تاریکی میں
بحیرئہ روم کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔ اس وقت میگناناماریوس نے کہا کہ مقصد ابھی پورا نہیں ہوا ۔ صالح الدین ایوبی کو
قتل کرنا باقی ہے۔ کمانڈر نے کہا کہ یہ ا ُس صورت میں ممکن تھا کہ وہ لڑکیوں کے پیچھے قاہرہ چلے جاتے ۔ اب وہ قاہرہ
سے بہت دور ہیں ،اس لیے قتل کی مہم ختم کی جاتی ہے ۔
یہ میری مہم ہے ،جسے موت کے سوا کوئی ختم نہیں کر سکتا ''۔ میگنا ناماریوس نے کہا …… ' ' میں نے صالح ''
الدین ایوبی کو قتل کرنے کا حلف ا ُٹھایا تھا۔ مجھے ایک ساتھی اور ایک لڑکی کی ضرورت ہے ''۔
یہ فیصلہ مجھے کرنا ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے '' …… کمانڈر نے کہا …… '' سب پر فرض ہے کہ میرا حکم مانیں ''
''۔
میں کسی کے حکم کا پابند نہیں '' ۔ میگنا ناماریوس نے کہا ۔'' تم سب خدا کے حکم کے پابند ہو ''۔ ''
کمانڈر نے اُسے ڈانٹ دیا ۔ میگنا ناماریوس کے پاس تلوار تھی ۔ و ہ اُٹھ کھڑا ہوا اور کمانڈر پر تلوار تان لی ۔
ا ُن کے ساتھی درمیان میں آگئے ۔ میگنا ناماریوس نے کہا …… ' ' میں خدا کا دھتکارا ہوا انسان ہوں ۔ میں گناہ اور بے
انصافی کے درمیان بھٹک رہا ہوں ۔ کیا تم جانتے ہو ،مجھے تیس سالوں کے لیے قید خانے میں قید کیوں کیا گیا تھا ؟ پانچ
سال گزرے میری ایک بہن جس کی عمر سولہ سال تھی ،اغوا کر لی گئی تھی ۔ میں غریب آدمی ہوں ،میرا باپ مر چکا
ہے ،ماں اندھی ہے ،میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ،محنت مشقت کر کے میں ان سب کا پیٹ پالتا تھا ۔ میں نے
گرجے میں صلیب پر لٹکے ہوئے یسوع مسیح کے بت سے بہت دفعہ پوچھا تھا کہ میں غریب کیوں ہوں ؟میں نے کبھی گناہ
نہیں کیا ۔ میں دیانت داری سے اتنی محنت کرتا ہوں ،مگر میرے کنبے کے پیٹ پھر بھی خالی رہتے ہیں ۔ میری ماں کو
خدا نے کیوں اندھا کیا ہے ؟ یسوع مسیح نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا اور جب کنوری بہن اغوا ہو گئی تو میں نے گرجے
میں جا کر کنواری مریم کی تصویر سے پوچھا تھا کہ میری کنواری بہن کے کنوارے پن پر تجھے ترس کیوں نہیں آیا ؟وہ
معصوم تھی ۔ اس پر خدا نے یہ ظلم کیا تھا کہ اسے خوبصورتی دے دی تھی ۔ مجھے یسوع مسیح نے بھی کوئی جواب
نہیں دیا ۔مجھے کنواری مریم نے بھی کوئی جواب نہیں دیا ۔
ایک روز مجھے ایک بہت ہی امیر آدمی کے نوکر نے بتایا کہ تمہاری بہن اس امیر آدمی کے گھر میں ہے۔ وہ عیاش ''
آدمی ہے ۔ کنواریوں کو اغوا کرتا ہے ،تھوڑے دن اُس کے ساتھ کھیلتا ہے اور انہیں کہیں غائب کر دیتا ہے ،لیکن وہ آدمی
بادشاہ کے دربار میں بیٹھتا ہے ۔ لوگ اس کی عزت کرتے ہیں ۔ بادشاہ نے اُسے ُرتبے کی تلوار دی ہے ۔ گناہ گار ہوتے
ہوئے خدا اس پر خوش ہے ۔ ُدنیا کا قانون ا ُس کے ہاتھ میں کھلونا ہے ……میں اس کے گھر گیا اور اپنی بہن واپس مانگی۔
اس نے مجھے دھکے دیکر اپنے محل سے نکال دیا۔میں پھر گرجے میں گیا ۔یسوے مسیح کے بت اور کنواری مریم کی تصویر
کے آگے رویا ۔خدا کو پکارا ۔مجھے کسی نے جواب نہیں دیا ۔میں گرجے میں اکیال تھا۔ پادری آگیا۔اس نے مجھے ڈانٹ کر
گرجے سے نکال دیا ۔کہنے لگا ...........یہاں سے دو تصویریں چوری ہو چکی ہیں ،نکل جاو ،ورنہ پولیس کے حوالے
کر دوں گا ..........میں نے حیران ہوکر اس سے پوچھا .........کیا یہ خدا کا گھر نہیں
ہے ؟ ............اس نے جواب دیا .............تم مجھ سے پوچھے بغیر خدا کے گھر میں کیسے آئے ۔اگر
گناہوں کی معافی مانگنی ہے تو میرے پاس آو ۔اپنا گناہ بیان کرو ۔میں خدا سے کہوں گا کہ تمہیں بخش دے ۔تم خدا سے
برا ِہ راست کوئی بات نہیں کرسکتے ۔جاونکلو یہاں سے ...........اور میرے دوستو !مجھے خدا کے گھر سے نکال دیا
گیا ۔
وہ ایسے لہجے میں بول رہا تھا کہ سب پر سناٹا طاری ہوگیا ۔لڑکیوں کے آنسو نکل آئے ۔صحرا کی رات کے سکوت میں اس
کی باتوں کا تاثر سب پر طلسم بن کر طاری ہو گیا ۔
وہ کہہ رہا تھا ……'' میں پادری کو ،یسوع مسیح کے بت کو ،کنواری مریم کی تصویر کو اور اُس خدا کو جو مجھے گرجے
میں نظر نہیں آیا ،شک کی نظروں سے دیکھتا نکل آیا ۔ گھر گیا تو اندھی ماں نے پوچھا ۔ '' میری بچی آئی یا نہیں ؟
میری بیوی نے پوچھا ،میرے بچوں نے پوچھا ۔میں بھی بت اور تصویر کی طرح چپ رہا ،مگر میرے اندر سے ایک طوفان
ا ُٹھا اور میں باہر نکل گیا۔ میں سارا دن گھومتا پھرتا رہا۔ شام کے وقت میں نے ایک خنجرخریدا اور دریا کے کنارے ٹہلتا
رہا۔ رات اندھیری ہوگئی اور بہت دیر بعد میں ایک طرف چل پڑا ۔ مجھے اس محل کی بتیاں نظر آئیں جہاں میری بہن قید
تھی ۔ میں بہت تیز چل پڑا اور اس محل کے پچھواڑے چال گیا ۔ میں اتنا چاالک اور ہو شیار آدمی نہیں تھا ،لیکن مجھ
میں چاالکی آ گئی ۔ میں پچھلے دروازے سے اندر چال گیا۔ محل کے کسی کمرے میں شور شرابا تھا ۔ شاید کچھ لوگ شراب
پی رہے تھے ۔ میں ایک کمرے میں داخل ہوا تو ایک نوکر نے مجھے روکا ۔ میں نے خنجر اس کے سینے میں رکھ دیا اور
اپنی بہن کا نام بتا کر پوچھا کہ وہ کہاں ہے ۔ نوکر مجھے اندرکی سیڑھیوں سے اوپر لے گیا اور ایک کمرے میں داخل کرکے
…… کہا کہ یہاں ہے۔ میں اندر گیا تو میرے پیچھے دروازہ بند ہوگیا۔ کمرہ خالی تھا
دروازہ کھال اور بہت سے لوگ اندر آگئے۔ ا ُن کے پاس تلواریں اور ڈنڈے تھے ۔ میں نے کمرے کی چیزیں اُٹھا اُٹھا کر اُن ''
پر پھینکنی شروع کر دیں۔ بہت توڑ پھوڑ کی ۔ انہوں نے مجھے پکڑ لیا ۔ مجھے مارا پیٹا اور میں بے ہوش ہو گیا ۔ ہوش
میں آیا تو میں ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا ۔ میرے خالف الزام یہ تھے کہ میں نے ڈاکہ ڈاال ،بادشاہ کے درباری
کا گھر برباد کیا اور تین آدمیوں کو قتل کی نیت سے زخمی کیا۔ میری فریاد کسی نے نہ سنی اور مجھے تیس سال قید
کی سزا دے کر قید خانے کے جہنم میں پھینک دیا ۔ ابھی پانچ سال پورے ہوئے ہیں ۔ میں انسان نہیں رہا۔ تم قید خانے
کی سختیاں نہیں جانتے ۔ دن کے وقت مویشیوں جیسا کا م لیتے ہیں اور رات کوکتوں کی طرح زنجیر ڈال کر کوٹھریوں میں
بند کر دیتے ہیں ۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میر ی اندھی ماں زندہ ہے یا مر چکی ہے ۔ بیوی بچوں کا بھی کچھ پتہ
…… نہیں تھا ۔ مجھے خطرناک ڈاکو سمجھ کر کسی سے ملنے نہیں دیا جاتا تھا
میں ہر رقت سوچتا رہتا تھا کہ خدا سچا ہے یا میں سچا ہوں۔ سنا تھا کہ خدا بے گناہوں کو سزا نہیں دیتا ،مگر ''
مجھے خدا نے کس گناہ کی سزادی تھی ؟ میرے بچوں کو کس گنا ہ کی سزا دی تھی ؟ میں پانچ سال اسی اُلجھن میں
مبتال رہا ۔ کچھ ِد ن گزرے ،فوج کے دو افسر قید خانے میں آئے ۔ وہ اس کا م کے لیے جس میں ہم آئے ہوئے ہیں ،آدمی
تالش کر رہے تھے ۔ میں اپنے آپ کو پیش نہیں کرنا چاہتا تھا ،کیونکہ یہ بادشاہوں کی لڑائی جھگڑے تھے۔ مجھے کسی
بادشاہ کے ساتھ دلچسپی نہیں تھی ،لیکن میں نے جب سنا کہ چند ایک عیسائی لڑکیوں کو مسلمانوں کی قید سے آزاد کرانا
قابل نفرت قوم ہے۔ میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں
ہے تو میرے دل میں اپنی بہن کاخیال آگیا۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ مسلمان
ِ
عیسائی لڑکیوں کو مسلمانوں کی قید سے آزاد کراوں گا تو خدا اگر سچا ہے تو میری بہن کو اُس ظالم عیسائی کی پنجے سے
چھڑا دے گا ،پھر فوجی افسروں نے کہا کہ ایک مسلمان بادشاہ کو قتل کرنا ہے تو میں نے اسے جزا کا کام سمجھا اور
اپنے آپ کو پیش کر دیا ،مگر شرط یہ رکھی کہ مجھے اتنی رقم دی جائے جو میں اپنے کنبے کو دے سکوں ۔ انہوں نے
رقم دینے کا وعدہ کیا اور یہ بھی کہا کہ اگر تم سمندر پار مارے گئے تو تمہارے کنبے کو اتنی زیادہ رقم دی جائے گی کہ
ساری عمر کے لیے وہ کسی کے محتاج نہیں رہیں گے ''۔
اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف اشارہ کرکے کہا …… '' یہ دو میرے ساتھ قیدخانے میں تھے۔ انہوں نے بھی اپنے آپ کو
پیش کر دیا ۔ ہم سے سینکڑوں باتیں پوچھیں گئیں ۔ ہم تینوں نے انہیں یقین دالدیا کہ ہم اپنی قوم اور اپنے مذہب کو دھوکہ
نہیں دیں گے۔ میں نے دراصل اپنے کنبے کے لیے اپنی جان فروخت کر دی ہے ۔ قید خانے سے نکلنے سے پہلے ایک پادری
نے ہمیں بتایا کہ مسلمانوں کا قتل عام تمام گناہ بخشوا دیتا ہے اور عیسائی لڑکیوں کو مسلمانوں کی قید سے آزاد کراو گے
تو سیدھے جنت میں جاو گے ۔ میں نے پادری سے پوچھا کہ خدا کہاں ہے ؟اس نے جو جواب دیا ،اس سے میری تسلی نہ
ہوئی ۔ میں نے صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلف ا ُٹھایا۔ہمیں باہر نکاال گیا ،مجھے میرے گھر لے گئے ۔ میرے گھر والوں کوانہوں
نے بہت سی رقم دی ۔ میں مطمئن ہو گیا۔ اب میرے دوستو ! مجھے اپنا حلف پورا کرنا ہے ۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ
میرا خدا کہاں ہے ۔ کیاایک مسلمان بادشاہ کو قتل کر کے خدا نظر آ جائے گا ''۔
تم پاگل ہو '' کمانڈر نے کہا ۔''تم نے جتنی باتیں کی ہیں ،ان میں مجھے عقل کی ذرا سی بھی بو نہیں آئی ''۔ ''
اس نے بڑی اچھی باتیں کیں ہیں ''۔اس کے ایک ساتھی نے کہا ۔''میں اس کا ساتھ دوں گا ''۔ ''
مجھے ایک لڑکی کی ضرورت ہے '' ۔ میگنا نا ماریوس نے لڑکیوں کی طرف دیکھ کر کہا ۔'' میں لڑکی کی جان اور ''
عزت کا ذمہ دار ہوں ۔ لڑکی کے بغیر میں صالح الدین ایوبی تک نہیں پہنچ سکوں گا ۔ میں جب سے آیا ہوں ۔ سوچ رہا
ہوں کہ صالح الدین ایوبی کے ساتھ تنہائی میں کس طرح مل سکتا ہوں ''۔
موبی ا ُٹھ کر اس کے ساتھ جا کھڑی ہوئی اور بولی … … '' میں اس کے ساتھ جاوں گی ''۔
ہم تمہیں بڑی مشکل سے آزاد کرا کے الئیں ہیں موبی !'' کمانڈر نے کہا …… '' میں تمہیں ایسی خطرناک مہم پر ''
جانے کی اجازت نہیں دے سکتا ''۔
مجھے اپنی عصمت کا انتقام لینا ہے ''۔ موبی نے کہا …… '' میں صالح الدین ایوبی کی خواب گاہ میں آسانی سے ''
داخل ہو سکتی ہوں ۔ مجھے معلوم ہے کہ مسلمان کا ُرتبہ جتنا اونچا ہوتا ہے ،وہ خوبصورت لڑکیوں کا اتنا ہی شیدائی ہو
جاتا ہے ۔ صالح الدین ایوبی کو محسوس تک نہ ہوگا کہ وہ اپنی زندگی میں آخری لڑکی دیکھ رہا ہے ''۔
بہت دیر بحث اور تکرار کے بعد میگنا نا ماریوس اپنے ایک ساتھی اور موبی کے ساتھ اپنی پارٹی سے رخصت ہوا ۔ سب نے
انہیں دعائوں کے ساتھ الوداع کہا ۔انہوں نے دو اونٹ لیے ۔ ایک پر موبی سوار ہوئی اور دوسرے پر دونوں مرد ۔ اُن کے پاس
مصر کے سکے تھے اور سونے کی اشرفیاں بھی ۔ دونوں مردوں نے چغے اوڑھ لیے تھے ۔ میگنا نا ماریوس کی داڑھی خاصی
لمبی ہو گئی تھی ۔ قید خانے میں دھوپ میں مشقت کر کرکے اس کا رنگ اٹلی کے باشندوں کی طرح گورا نہیں رہا تھا ۔
سیاہی مائل ہوگیا تھا ۔اس سے اس پر یہ شک نہیں کیا جا سکتا تھا کہ وہ یورپی ہے ۔ بھیس بدلنے کے لیے انہیں کپڑے
دے کر بھیجا گیا تھا ،مگر ایک رکاوٹ تھی جس کا بظاہر کوئی عالج نہیں تھا ۔ وہ یہ کہ میگناناماریوس اٹلی کی زبان کے
سوا اور کوئی زبان نہیں جانتا تھا ۔ موبی مصر کی زبان بول سکتی تھی ۔ دوسرا جو آدمی ان کے ساتھ گیاتھا ،وہ بھی مصر
کی زبان نہیں جانتا تھا ۔ انہیں اس کا کو ئی عال ج کرنا تھا ۔
وہ رات کو ہی چل پڑے ۔ موبی راستے سے واقف ہو چکی تھی ۔ وہ قاہر ہ سے ہی آئی تھی ۔ میگنا نا ماریوس نے اس
پر بھی ایک چغہ ڈال دیا اور اس کے سر پر دوپٹے کی طرح چادر اوڑھ دی ۔
٭ ٭ ٭
صبح کی روشنی میں سلطان ایوبی کے اُن سواروں کا دستہ جو ا ُن کے تعاقب میں گیاتھا ،گھوڑوں کے کھرے دیکھ کر روانہ
ہوگیا ۔ یہ بہت سے گھوڑوں کے نشان تھے ،جو چھپ ہی نہیں سکتے تھے ۔ صبح سے پہلے صلیبیوں کے پارٹی لڑکیوں کو
ساتھ لے کر چل پڑی ۔ا ُن کی رفتار خاصی تیز تھی ۔ ان کے تعاقب میں جانے والوں کا سفر ُرک گیا ،کیونکہ رات کے وقت
وہ زمین کو دیکھ نہیں سکتے تھے ،مگر صلیبیوں نے سفر جاری رکھا ۔ وہ آدھی رات کے وقت پڑاو نہیں کر نا چاہتے تھے
،وہ بہت جلدی میں تھے ۔
صبح کی دھند میں صلیبی جو آدھی رات کے وقت ُرکے تھے ،چل پڑے ۔ اُن کے تعاقب میں جانے والوں کی پارٹی صبح کی
روشنی میں روانہ ہوئی ۔ میگناناماریوس نے عقل مندی کی تھی کہ وہ اونٹوں پر گیا تھا ۔ اونٹ بھوک اور پیاس کی پرواہ
نہیں کرتا ۔ ُر کے بغیر گھوڑے کی نسبت بہت زیادہ سفر کر لیتا ہے ۔ اس سے میگناناماریوس کا سفر تیز ی سے طے ہو رہا
تھا ۔
سورج غروب ہونے میں ابھی بہت دیر تھی ،جب انہیں الشیں نظر آئیں ۔ علی بن سفیان کے نائب نے بالیان کی الش
پہچان لی ۔ اُس کا چہرہ سالمت تھا ۔ اُس کے قریب اس کے چھ دوستوں کی الشیں پڑی تھیں ۔ ِگدھوں اور درندوں نے
زیادہ تر گوشت کھا لیا تھا ۔ سوار حیران تھے کہ یہ کیا معاملہ ہے ۔ خون بتا تا تھا کہ انہیں مرے ہوئے زیادہ ِدن نہیں
گزرے ۔ اگر یہ بغاوت کی رات مرے ہوتے تو خون کا نشان تک نہ ہوتا اور ا ُ ن کی صرف ہڈیاں رہ جاتیں ۔ یہ ایک معمہ
تھا جسے کوئی نہ سمجھ سکا ،وہاں سے پھر گھوڑوں کے نشان چلے ۔ سواروں نے گھوڑے دوڑا دئیے ۔ نصف میل تک گئے
تو اونٹوں کے پاوں کے نشان بھی نظر آئے ۔ وہ بڑھتے ہی چلے گئے ۔ سورج غروب ہوا تو بھی نہیں ُرکے ،کیونکہ اب مٹی
کے اونچے نیچے ٹیلوں کا عالقہ شروع ہو گیا تھا ،جس میں ایک راستہ بل کھاتا ہوا گزرتا تھا ۔ اس کے عالوہ وہا ں سے
گزرنے کا اور کوئی راستہ نہیں تھا ۔
صلیبی اسی راستے سے گزرے تھے اور بحیرئہ روم کی طر ف چلے جا رہے تھے ۔ ٹیلوں کا عالقہ ُدور تک پھیال ہوا تھا ،
وہاں سے تعاقب کرنے والے نکلے تو ُرک گئے ،کیونکہ آگے ریتال میدان آ گیا تھا ۔
صبح کے وقت چلے تو کسی نے کہا کہ سمندر کی ہوا آنے لگی ہے ۔ سمندر ُدور نہیں تھا مگر صلیبی ابھی تک نظر نہیں
آئے تھے ۔ راستے میں ایک جگہ کھانے کے بچے کھچے ٹکڑوں سے پتہ چال کہ رات یہاں کچھ لوگ ُرکے تھے ۔ گھوڑے بھی
یہاں باندھے گئے تھے ۔ پھر یہ گھوڑے وہاں سے چلے ۔ زمین کو دیکھ کر تعاقب کرنے والوں نے گھوڑوں کوایڑ یں لگا دیں۔
سورج اپنا سفر طے کرتا گیا اور آگے نکل گیا ۔ گھوڑوں کو ایک جگہ آرام دیا گیا ۔ پانی پالیا اور یہ دستہ روانہ ہو گیا ۔
سمندر کی ہوائیں تیز ہوگئی تھیں اور ان میں سمندر کی بُو صاف محسوس ہوتی تھی ۔ پھر ساحل کی چٹانیں نظر آنے لگیں۔
زمین بتا رہی تھی کہ گھوڑے آگے آگے جا رہے ہیں اور یہ بے شمار گھوڑے ہیں ۔
ساحل کی چٹانیں گھوڑوں کی رفتار سے قریب آرہی تھیں ۔ تعاقب کرنے والوں کو ایک چٹان پر دو آدمی نظر آئے ۔ وہ اس
طرف دیکھ رہے تھے ۔ وہ تیزی سے سمندر کی طرف ا ُتر گئے ۔ گھوڑے اور تیز ہو گئے ۔ چٹانوں کے قریب گئے تو انہیں
گھوڑے روکنے پڑے ،کیونکہ کئی جگہوں سے چٹانوں کے پیچھے جایا جا سکتا تھا ۔ایک آدمی کو چٹان پر چڑھ کر آگے
دیکھنے کو بھیجا گیا ۔ وہ آدمی گھوڑے سے ا ُتر کر دوڑتا گیا اور ایک چٹان پر چڑھنے لگا ۔ اوپر جا کر اس نے لیٹ کر
دوسری طرف دیکھا اور پیچھے ہٹ آیا ۔ وہیں سے اس نے سواروں کو اشارہ کیا کہ پیدل آو ۔ سوار گھوڑوں سے اُترے اور
دوڑتے ہوئے چٹان تک گئے ۔ سب سے پہلے علی بن سفیان کا نائب اوپر گیا ۔ اس نے آگے دیکھا اور دوڑ کر نیچے اُترا۔
اس نے اپنے دستے کو بکھیر دیا اور انہیں مختلف جگہوں پر جانے کو کہا ۔
دوسری طرف سے گھوڑوں کے ہنہنانے کی آوازیں آرہی تھیں ۔ صلیبی وہاں موجود تھے ۔ یہ وہ جگہ تھی ،جہاں سمندر چٹانوں
کو کاٹ کر اندر آجاتا تھا ۔ اس پارٹی نے اپنی کشتی وہاں باندھی تھی ۔وہ گھوڑوں سے اُتر کر کشتی میں سوار ہو رہے تھے
۔ کشتی بہت بڑی تھی ۔ لڑکیاں کشتی میں سوار ہو چکی تھیں ۔ گھوڑے چھوڑ دئیے گئے تھے ۔ اچانک اُن پر تیر برسنے
لگے ۔ تمام کو ہالک نہیں کرنا تھا ۔ انہیں زندہ پکڑنا تھا ۔ بہت سے کشتی سے کود گئے اور کشتی کے چپو مارنے لگے ۔
پیچھے جو رہ گئے وہ تیروں کا نشانہ بن گئے تھے ۔ کشتی میں جانے والوں کو للکارا گیا ،مگر وہ نہ ُرکے ،وہاں سمندر
گہرا تھا ۔ کشتی آہستہ آہستہ جاری تھی ۔ اِدھر سے اشارے پر تیر اندازوں نے کشتی پر تیر برسا دئیے ۔ چپوئوں کی حرکت
بند ہو گئی ۔ تیروں کی دوسری باڑ گئی ،پھر تیسری اور چوتھی باڑ الشوں میں پیوست ہوگئی ۔ اُن میں اب کوئی بھی زندہ
نہیں تھا ۔ کشتی وہیں ڈولنے لگی ۔ سمندر کی موجیں ساحل کی طرف آتیں اور چٹانوں سے ٹکڑا کر واپس چلی جاتی
تھیں ۔ ذرا سی دیر میں کشتی ساحل پر واپس آگئی ۔ سوارو ں نے نیچے جا کر کشتی پکڑ لی ،وہاں صرف الشیں تھیں ،
بعض کو دو دو تیر لگے تھے ۔
کشتی کو باندھ دیا گیا اور سواروں کا دستہ محاذ کی طرف روانہ ہوگیا ۔ کیمپ ُدور نہیں تھا ۔
میگنا نا ماریوس قاہرہ کی ایک سرائے میں قیام پذیر تھا ۔ اس سرائے کا ایک حصہ عام اور کمترمسافروں کے لیے تھا اور
دوسرا حصہ امراء اور اونچی حیثیت کے مسافروں کے لیے ۔ اس حصے میں دولت مند تاجر بھی قیام کرتے تھے ۔ اُن کے لیے
شراب اور ناچنے گانے والیاں بھی مہیا کی جاتی تھیں ۔ میگنا نا ماریوس اسی خاص حصے میں ٹھہرا ۔ موبی کو اُس نے
اپنی بیوی بتایا اور اپنے ساتھی کو معتمد مالزم ۔ موبی کی خوبصورتی اور جوانی نے سوائے والوں پر میگنا نا ماریوس کا
رعب طاری کر دیا ۔ ایسی حسین اور جوان بیوی کسی بڑے دولت مند ہی کی ہو سکتی تھی ۔ سرائے والوں نے اس کی
طرف خصوصی توجہ دی ۔ موبی نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے صالح الدین ایوبی کے گھر اور دفتر کے متعلق معلومات
حاصل کر لیں ۔ اس نے یہ بھی معلوم کر لیا کہ سلطان ایوبی نے سوڈانیوں کو معافی دے دی ہے اور سوڈانی فوج توڑ دی
ہے ۔ اسے یہ بھی پتہ چل گیاکہ سوڈانی ساالروں اور کمانداروں وغیرہ کے حرم خالی کر دئیے گئے ہیں اور یہ بھی کہ انہیں
زرعی زمینیں دی جارہی ہیں ۔
یہ میگنا نا ماریوس کی غیر معمولی دلیری تھی یا غیر معمولی حماقت کہ وہ اس ملک کی زبان تک نہیں جانتاتھا ۔ پھر
بھی انتے خطرناک مشن پر آگیا تھا ۔ ا ُسے اس قسم کے قتل کی اور اتنے بڑے رتبے کے انسان تک رسائی حاصل کرنے کی
کوئی ٹریننگ نہیں دی گئی تھی ۔ وہ ذہنی لحاظ سے انتشار اور خلفشار کا مریض تھا ،پھر بھی وہ صالح الدین ایوبی کو
قتل کرنے آیا ،جس کے اردگرد محافظوں کا پورا دستہ موجود رہتا تھا۔ اس کے دستے کے کمانڈر نے اسے کہا تھا کہ تم پاگل
ہو ،تم نے جتنی باتیں کی ہیں ۔ ان میں ذرا سی بھی عقل کی بو نہیں آئی ۔ باظاہر میگنا نا ماریوس پاگل ہی تھا ۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بڑے آدمیوں کو قتل کرنے والے عموما ً پاگل ہوتے ہیں ۔ اگر پاگل نہیں تو اُن کے ذہنی توازن
میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہوتی ہے ۔ یہی کیفیت اٹلی کے اس سزا یافتہ آدمی کی تھی ۔ اس کے پاس ایک ہتھیار ایسا
تھا جو ڈھال کا کام بھی دے سکتا تھا ۔ موبی مصر کی صرف زبان ہی نہیں جانتی تھی ،بلکہ اُسے اور اس کی مری ہوئی
چھ ساتھی لڑکیوں کو مصری اور عربی مسلمانوں کے رہن سہن ،تہذیب و تمدن اور دیگر معاشرتی اونچ نیچ کے متعلق لمبے
عرصے کے لیے ٹریننگ دی گئی تھی ۔ وہ مسلمان مردوں کی نفسیات سے بھی واقف تھی ۔ اداکاری کی ماہر تھی اور سب
سے بڑی خوبی یہ کہ وہ مردوں کو انگلیوں پر نچانا جانتی تھی ۔
یہ تو کوئی بھی نہیں بتا سکتا کہ بند کمرے میں میگنا نا ماریوس ،موبی اور ان کے ساتھی نے کیاکیا باتیں کیں اور کیا
منصوبہ بنایا ۔ البتہ ایسا ثبوت پرانی تحریروں میں ملتا ہے کہ تین چار روزسرائے میں قیام کے بعد میگنا نا ماریوس باہر نکال
،تو اس داڑھی ُد ھلی دھالئی تھی ۔ اس کے چہرے کا رنگ سوڈانیوں کی طرح گہرا بادامی تھا ،جو مصنوعی ہو سکتا تھا ،
لیکن مصنوعی لگتا نہیں تھا ۔ اس نے معمولی قسم کا چغہ اور سر پر معمولی قسم کا رومال اورعمامہ باند ھ رکھا تھا ۔
موبی سر سے پاوں تک سیاہ برقعہ نما لبادے میں تھی اور اس کے چہرے پر باریک نقاب اس طرح پڑا تھا کہ ہونٹ اور
ٹھوڑی ڈھکی ہوئی تھی پیشانی تک چہرہ ننگا تھا۔ پیشانی پر اس کے بھورے ریشمی بال پڑے ہوئے تھے اور اس کا حسن
ایسا نکھرا ہوا تھاکہ راہ جاتے لوگ ُر ک کر دیکھتے تھے۔ ان کا ساتھی معمولی سے لباس میں تھا ،جس سے پتہ چلتا تھا
اعلی نسل کے گھوڑے کھڑے تھے ۔ یہ سرائے والوں نے میگنا نا ماریوس کے لیے
کہ نوکر ہے۔ سرائے کے باہر دو نہایت
ٰ
اُجرت پر منگوائے تھے ،کیونکہ ا ُس نے کہا تھا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ سیر کے لیے جانا چاہتا ہے ۔ میگنا نا ماریوس اور
موبی گھوڑوں پر سوار ہوگئے اور جب گھوڑے چلے تو ان کاساتھی نوکروں کی طرح پیچھے پیچھے چل پڑا ۔
صالح الدین ایوبی اپنے نائبین کو سامنے بٹھائے سوڈانیوں کے متعلق احکامات دے رہا تھا ۔ وہ یہ کام بہت جلدی ختم کرنا
چاہتا تھا ،کیو نکہ ا ُس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ سلطان زنگی کی بھیجی ہوئی فوج ،مصر کی نئی فوج اور وفادار سوڈانیوں کو
ساتھ مال کر ایک فوج بنائے گا اور فوری طور پر یروشلم پر چڑھائی کرے گا ۔ بحیرئہ روم کی شکست کے بعد ،جبکہ سلطان
زنگی نے فرینکوں کو بھی شکست دے دی تھی ،ایک لمبے عرصے تک صلیبیوں کے سنبھلنے کا کوئی امکان نہیں تھا ۔ ان
کے سنبھلنے سے پہلے ہی سلطان ایوبی ان سے یروشلم چھین لینے کا منصوبہ بنا چکا تھا ۔ اس سے پہلے وہ سوڈانیوں کو
زمینوں پر آباد کر دینا چاہتا تھا ،تا کہ کھیتی باڑی میں اُلجھ جائیں اور ان کی بغاوت کا امکان نہ رہے ۔
نئی فوج کی تنظی ِم نو اور ہزار سوڈانیوں کو زمینوں پر آباد کرنے کا کام آسان نہیں تھا ۔ ان دونوں کاموں میں خطرہ یہ تھا
اعلی افسر موجود تھے جو اُسے مصر کی امارت کے سرابراہ کی حیثیت
کہ سلطان ایوبی کی فوج اوراپنی انتظامیہ میں ایسے
ٰ
سے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ سوڈانیوں کی فوج کو توڑ کربھی سلطان ایوبی نے اپنے خالف خطرہ پیدا کر لیا تھا ۔ اس فوج
اعلی حکام زندہ تھے ۔ انہوں نے سلطان ایوبی کی اطاعت قبول کر لی تھی ،مگر علی بن سفیان کی انٹیلی
کے چندایک
ٰ
جنس بتا رہی تھی کہ بغاوت کی راکھ میں ابھی کچھ چنگاریاں موجود ہیں ۔
انٹیلی جنس کی رپورٹ یہ بھی تھی کہ ان باغی سربراہوں کی اپنی شکست کا اتنا افسوس نہیں ،جتنا صلیبیوں کی شکست
کا غم ہے ،کیونکہ وہ بغاوت دب جانے کے بعد بھی صلیبیوں سے مدد لینا چاہتے تھے اور مصرکی انتظامیہ اور فوج کے دو
اعلی حکام کو سوڈانیوں کی شکست کا افسوس تھا ،کیونکہ وہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ صالح الدین ایوبی مارا جائے گا
تین
ٰ
یا بھاگ جائے گا ۔ یہ ایمان فروشوں کا ٹولہ تھا ،لیکن سلطان ایوبی کاایمان مضبوط تھا ۔ اس نے مخالفین سے واقف ہوتے
ہوئے بھی اُن کے خالف کوئی کاروائی نہ کی ۔ ا ُن کے ساتھ نرمی اورخلوص سے پیش آتا رہا۔ کسی محفل میں اُس نے ان
کے خالف کوئی بات نہ کی اورجب کبھی اس نے ماتحتوں سے اور فوج سے خطاب کیا توایسے الفاظ کبھی نہ کہے کہ میں
اپنے مخالفین کو مزہ چکھادوں گا۔ کبھی دھمکی آمیز یا طنزیہ الفاظ استعمال نہیں کیے ۔ البتہ ایسے الفاظ اکثر اس کے منہ
سے نکلتے تھے ……'' اگر کسی ساتھی کو ایمان بیچتا دیکھو تو اُسے روکو ۔ اسے یاد دالو کہ وہ مسلمان ہے اور اس کے
ساتھ مسلمانوں جیسا سلوک کرو تاکہ وہ دشمن کے اثر سے آزاد ہوجائے '' …… لیکن در پردہ مخالفین کی سر گرمیوں سے
زیر زمین سیاست کی اطالعیں
باخبر رہتا تھا ۔ علی بن سفیان کا محکمہ بہت ہی زیادہ مصروف ہوگیا تھا ۔ سلطان ایوبی کو ِ
باقاعدگی سے دی جارہی تھیں ۔
اب اس محکمے کی ذمہ داری اور زیادہ بڑھ گئی تھی۔ محافظوں اور شتربانوں کے قتل کی اطالع بھی قاہرہ آچکی تھی ۔ اس
سے پہلے جاسوسوں کا گروہ جس میں لڑکیاں بھی تھیں ۔ محافظوں سے نا معلوم افراد نے آزاد کرالیا تھا ۔ ان دو واقعات نے
یہ ثابت کر دیا تھا کہ ملک میں صلیبی جاسوس اور چھاپہ مار موجود ہیں اور یہ بھی ظاہر ہوتا تھا کہ انہیں یہاں کے
باشندوں کی پشت پناہی اور پناہ حاصل ہے ۔ ابھی یہ اطالع نہیں پہنچی تھی کہ چھاپہ مار وں اور لڑکیوں کو عین اس وقت
ختم کر دیا گیا ہے ،جب وہ کشتی میں سوار ہو رہے تھے ۔ چھاپہ ماروں کی سرگرمیوں کوروکنے کے لیے فوج کے دو دستے
سارے عالقے میں گشت کے لیے گزشتہ شام روانہ کر دئیے گئے اور انٹیلی جنس کے نظام کو اور زیادہ وسیع کر دیاگیاتھا ۔
صالح الدین ایوبی قدرے پریشان بھی تھا ۔ وہ کیا عزم لے کر مصر میں آیاتھا اور اب سلطنت اسالمیہ کے استحکام اور وسعت
کے لیے اس نے کیا کیا منصوبے بنائے تھے ،مگر اُس کے خالف زمین کے اوپرسے بھی اور زمین کے نیچے سے بھی ایسا
طوفان اُٹھا تھا کہ اسکے منصوبے لرزنے لگے تھے ۔ اُسے پریشانی یہ تھی کہ مسلمان کی تلوار مسلمان کی گردن پر لٹک رہی
تھی ۔ ایمان نیالم ہونے لگا تھا ۔سلطنت اسالمیہ کی خالفت بھی سازشوں کے جال میں اُلجھ کر سازشوں کا حصہ اور آلہ
کار بن گئی تھی ۔ زن اور زر نے عرب سر زمین کو ہالڈاالتھا ۔ سلطان ایوبی اس سے بھی بے خبر نہیں تھا کہ اسے قتل
کرنے کی سازششیں ہو رہی ہیں ،لیکن اس پر وہ کبھی پریشان نہیں ہواتھا ۔ کہا کرتا تھا کہ میری جان اللہ کے ہاتھ میں
ِ
گا۔لہذا اس نے اپنے طور پر اپنی حفاظت کی
ذات باری کوجب زمین پرمیرا وجود بیکار لگے گاتو مجھے اُٹھالے
ہے ۔ اس کی
ٰ
کبھی فکر نہیں کی تھی۔ یہ تو ا ُس کی فوجی انتظامیہ کا بندو بست تھا کہ اسکے گرد محافظوں کے دستے اور انٹیلی جنس
کے آدمی موجود رہتے تھے اور علی بن سفیان تو اس معاملے میں بہت چوکس تھا ۔ایک تو یہ اُس کی ڈیوٹی تھی ،دوسرے
یہ کہ وہ سلطان ایوبی کو اپنا پیرو ُمرشد سمجھتا تھا ۔
19:12
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔18۔ ساتویں لڑکی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دوسرے یہ کہ وہ سلطان ایوبی کو اپنا پیرو ُم رشد سمجھتا تھا ۔اس روز سلطان ایوبی نائبین کو احکامات اور ہدایات دے رہا
پررکے۔ انہیں محافظوں کے کمانڈر نے روک لیا تھا۔ سوار
تھا ،جب دو گھوڑے اس کے محافظ دستے کی بنائی ہوئی حد
ُ
میگناناماریوس اور موبی تھے ۔وہ گھوڑے سے ا ُترے تو گھوڑوں کی باگیں ان کے ساتھی نے تھام لیں ۔ موبی نے کمانڈر سے کہا
کہ وہ اپنے باپ کو ساتھ الئی ہے۔ سلطان ایوبی سے ملنا ہے ۔ کمانڈر نے میگناناماریوس سے بات کی اور مالقات کی وجہ
پوچھی ۔ میگناناماریوس نے جیسے اس کی بات سنی ہی نہ ہو۔ وہ یہ زبان نہیں سمجھتا تھا۔ موبی نے اپنا نام اسالمی
بتایا تھا ۔ اس نے کمانڈر سے کہا …… '' اس سے بات کرنا بے کار ہے ،یہ گونگا اور بہرہ ہے …… مالقات کا مقصد ہم
سلطان ایوبی کو یااس کے کسی بڑے افسر کو بتائیں گے ''۔
علی بن سفیان باہر ٹہل رہاتھا ۔ اس نے میگناناماریوس اورموبی کو دیکھا تو ان کے پاس آگیا۔ اس نے اسالم و علیکم کہا تو
موبی نے وعلیکم السالم کہا۔ کمانڈر نے اسے بتایا کہ یہ سلطان سے ملنا چاہتے ہیں ۔ علی بن سفیان نے میگناناماریوس سے
مالقات کی وجہ پوچھی تو موبی نے اسے بتایا کہ یہ میرا باپ ہے ،گونگا اور بہرہ ہے۔ علی بن سفیان نے انہیں بتایاکہ
سلطان ابھی بہت مصروف ہیں ،فارغ ہو جائیں گے تو اُن سے مالقات کا وقت لیا جائے گا ۔ اس نے کہا ……'' آپ مالقات
کا مقصد بتائیں ۔ہو سکتا ہے کہ آپ کا کا م سلطان سے ملے بغیر ہو جائے ۔ سلطان چھوٹی چھوٹی شکایتوں کے لیے
مالقات کاوقت نہیں نکال سکتے۔ متعلقہ محکمہ از خود ہی شکایت رفعہ کر دیتا ہے ''۔
کیا سلطان ایوبی اسالم کی ایک مظلوم بیٹی کی فریاد سننے کے لیے وقت نہیں نکا ل سکیں گے ؟''…… موبی نے کہا ''
……''مجھے جو کچھ کہنا ہے ،وہ میں انہی سے کہوں گی ''۔
مجھے بتائے بغیر آپ سلطان سے نہیں مل سکیں گی ''…… علی بن سفیان نے کہا ۔'' میں سلطان تک آپ کی فریاد ''
پہنچاوں گا ۔ وہ ضروری سمجھیں گے تو آپ کو اندر بال لیں گے'' …… علی بنی سفیان انہیں اپنے کمرے میں لے گیا ۔
موبی نے شمالی عالقے کے کسی قصبے کا نام لے کرکہا ……''دو سال گزرے سوڈانی فوج وہاں سے گزری ۔ میں بھی لڑکیوں
کے ساتھ فوج دیکھنے کے لیے باہر آگئی ۔ ایک کماندار نے اپنا گھوڑا موڑا اورمیرے پاس آکر میرا نام پوچھا ۔ میں نے بتایا
تو اس نے میرے باپ کو بالیا ۔ اسے پرے لے جا کر کوئی بات کی ،کسی نے کماندار سے کہا کہ یہ گونگا اور بہرہ ہے ۔
کماندار چال گیا ۔ شام کے بعد چار سوڈانی فوجی ہمارے گھر آئے اور مجھے زبردستی اُٹھا کر لے گئے اور کماندار کے حوالے
کردیا ۔اس کا نام بالیان تھا ۔ وہ مجھے اپنے ساتھ لے آیا او ر حرم میں رکھ لیا ۔ اُس کے پاس چار اور لڑکیاں تھیں۔میں
نے اسے کہاکہ میرے ساتھ باقاعدہ شادی کرلے ،لیکن اس نے مجھے شادی کے بغیر ہی بیوی بنائے رکھا ۔ دوسال اس نے
مجھے اپنے پاس رکھا ۔ سوڈانی فوج نے بغاوت کی تو بالیان چال گیا ۔ معلوم نہیں مارا گیا ہے یا قید میں ہے ۔ آپ کی
…… فوج اس کے گھر میں آئی اور ہم سب لڑکیوں کو یہ کہہ کر گھر سے نکال دیا تم سب آزاد ہو
میں اپنے گھر چلی گئی۔ میرے باپ نے شادی کرنی چاہی تو سب نے مجھے قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔ کہتے ہیں کہ یہ
حرم کی چچوڑی ہوئی ہڈی ہے ،وہاں لوگوں نے میرا جینا حرام کر دیا ہے ۔ ہم سرائے میں ٹھہرے ہیں۔ سنا تھا کہ سلطان
سوڈانیوں کو زمینیں اور مکان دے رہے ہیں ۔ مجھے آپ بالیان کی داشتہ یا اس کی بیوی سمجھ کہ یہاں زمین اور مکان دے
دیں ،تا کہ میں ا ُس قصبے سے نکل آوں۔ ورنہ میں خود کشی کر لوں گی یا گھر سے بھاگ کر کہیں طوائف بن جاوں گی
''۔
اگر آپ کو زمین سلطان سے ملے بغیر مل جائے تو سلطان سے ملنے کی کیا ضرورت ہے ؟''…… علی بن سفیان نے ''
کہا۔
ہاں! ''…… موبی نے کہا ……''پھر بھی ملنے کی ضرورت ہے ۔ اُسے آپ عقیدت بھی کہہ سکتے ہیں ۔ میں سلطان کو''
صرف یہ بتانا چاہتی ہوں کہ اس کی سلطنت میں عورت کھلونا بنی ہوئی ہے ۔ دولت مندوں اور حاکموں کے ہاں شادی کا
رواج ختم ہو گیا ہے۔ خدا کے لیے عورت کی عصمت کو بچاو اور عورت کی عظمت کو بحال کرو ۔ سلطان سے یہ کہہ کر
شاید میرے دل کو سکون آجائے گا ''۔
میگناناماریوس اس طرح خاموش بیٹھا رہا ،جیسے اس کے کان میں کوئی بات نہیں پڑ رہی۔ علی بن سفیان نے موبی سے کہا
کہ سلطان کو اجالس سے فارغ ہونے دیں پھر ان سے مالقات کی اجازت لی جائے گی ۔ یہ کہہ کر علی بن سفیان باہر نکل
گیا ۔ وہ بہت دیر بعد آیااور کہا کہ وہ سلطان سے اجازت لینے جا رہا ہے ۔ وہ سلطان ایوبی کے کمرے میں چال گیا
اورخاصی دیر بعد آیا۔ اس نے موبی سے کہا کہ اپنے باپ کو سلطان کے پاس لے جاو ۔ اس نے انہیں سلطان ایوبی کا کمرہ
دکھا دیا ۔ کمرے میں داخل ہونے سے پہلے دونوں نے باہر کی طرف دیکھا ۔ وہ غالبا ً قتل کے بعدوہاں سے نکلنے کا راستہ
دیکھ رہے تھے ۔
٭ ٭ ٭
سلطان کمرے میں اکیال تھا ۔ اس نے دونوں کو بٹھایا اور موبی سے پوچھا ۔'' کیا تمہار باپ پیدائشی گونگا اور بہرہ
''ہے ؟
سلطان محترم !''…… موبی نے جواب دیا ……''یہ اس کا پیدائشی نقص ہے ''۔''
ہاں
ِ
سلطان ایوبی بیٹھا نہیں ،کمرے میں ٹہلتا رہا اور بوال …… ''میں نے تمہاری شکایت اور مطالبہ سن لیا ہے۔ مجھے تمہارے
ساتھ پوری ہمدردی ہے ۔ میں تمہیں یہاں زمین بھی دوں گا اور مکان بھی بنوا دوں گا ۔ سنا ہے تم کچھ اور بھی مجھ سے
کہنا چاہتی ہو ''۔
اللہ آپ کا اقبال بلند کرے !''…… موبی نے کہا……'' آپ کو بتا دیا گیا ہوگا کہ میرے ساتھ کوئی آدمی شادی نہیں ''
کرتا ۔ لوگ مجھے حرم کی چچوڑی ہوئی ہڈی ،فاحشہ اور بدکار کہتے ہیں اور میرے باپ کو کہتے ہیں کہ اس نے بیٹی بیچ
ڈالی تھی ۔ آپ مجھے زمین اور مکان تو دے دیں گے ،لیکن مجھے ایک خاوند کی ضرورت ہے ،جو میری عزت کی
رکھوالی کرے ''…… اس نے جھجک کر کہا ……'' میں ایسی بات کہنے کی جرٔا ت نہیں کر سکتی ،لیکن اپنی ماں کی
عرض آپ تک پہنچانا چاہتی ہوں کہ آپ اگر میری شادی نہیں کرا سکتے تو مجھے اپنے حرم میں رکھ لیں ۔ آپ میری
عمر ،میری شکل و صورت اور میرا جسم دیکھیں ۔ کیا میں آپ کے قابل نہیں ہوں ؟'' یہ کہہ کر اس نے میگناناماریوس کے
کندھے پرہاتھ رکھ کر دوسرا ہاتھ اپنے سینے پر رکھا اور سلطان ایوبی کی طرف اشارہ دیا ۔ یہ اشارہ شاید پہلے سے طے شدہ
تھا ۔ میگناناماریوس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر سلطان ایوبی کی طرف کیے اور پھر موبی کے ہاتھ پکڑ کر سلطان ایوبی کی طرف
بڑھایا ،جیسے وہ یہ کہہ رہا تھا کہ میری بیٹی قبول کر لو ۔
میرا کو ئی حرم نہیں لڑکی !'' …… سلطان ایوبی نے کہا …''میں ملک سے حرم ،قحبہ خانے اور شراب ختم کر رہا ''
ہوں '' …… بات کرتے کرتے اس نے اپنی جیب سے ایک سکہ نکاال اورہاتھ میں اُچھالنے لگا ۔ اس نے کہا …… '' میں
عورت کی عزت کا محافظ بنناچاہتاہوں ''…… یہ کہتے کہتے وہ دونوں کے
پیٹھ پیچھے چال گیا اور سکہ ہاتھ سے گرا دیا ۔
ٹن کی آواز آئی تو میگناناماریوس نے چونک کر پیچھے دیکھا اور پھر فورا ً ہی سامنے دیکھنے لگا ۔
صالح الدین ایوبی نے تیزی سے اپنے کمر بند سے ایک فٹ لمبا خنجر نکا ل کر اس کی نوک میگناناماریوس کی گردن پر
رکھ دی اور موبی سے کہا ۔
یہ شخص میری زبان نہیں سمجھتا ۔ اس سے کہو کہ اپنے ہاتھ سے اپنا ہتھیار پھینک دے ۔اس نے ذرا سی پس و پیش ''
کی تو یہاں سے تم دونوں کی الشیں اُٹھائی جائیں گی ''۔
موبی کی آنکھیں حیرت اور خوف سے کھل گئیں ۔ اس نے اداکاری کا کمال دکھانے کی کوشش کی اور کہا ……''میرے باپ
کو ڈرا دھمکا کر آپ مجھ پر کیوں قبضہ کرنا چاہتے ہیں ۔ میں تو خود ہی اپنے آپ کو پیش کر رہی ہوں ''۔
تم جب محاظ پر میرے سامنے آئیں تھیں تو تم میری زبان نہیں بولتی تھیں ''۔ سلطان ایوبی نے کہا اورخنجر کی نوک ''
میگناناماریوس کی گردن پر رکھے رکھی ۔ اُس نے کہا ……'' کیا تم اتنی جلدی یہاں کی زبان بولنے لگی ہو ؟ …… اس
سےکہو کہ ہتھیار فورا ً باہر نکال دے ''۔
موبی نے اپنی زبان میں میگناناماریوس سے کچھ کہا تو ا ُس نے چغے کے اندر ہاتھ ڈال کر خنجر باہر نکاال جو اتنا ہی لمبا
تھا جتنا سلطان ایوبی کا تھا ۔ سلطان نے اس کے ہاتھ سے خنجر لے لیا اور اپنا خنجر اس کی گردن سے ہٹا کر کہا ……''
باقی چھ لڑکیاں کہاں ہیں ؟''۔
آپ نے مجھے پہچاننے میں غلطی کی ہے ''…… موبی نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا ……'' میرے ساتھ اورکوئی لڑکی ''
''نہیں ہے ۔ آپ کون سی چھ لڑکیوں کی بات کر رہے ہیں ؟
مجھے خدا نے آنکھیں دی ہیں '' …… سلطان ایوبی نے کہا …… '' اور خدا نے مجھے ذہن بھی دیا ہے ،جس میں ''
وہ چہرے نقش ہو جاتے ہیں جنہیں ایک بار آنکھ دیکھ لیتی ہے ۔ تمہارا چہرہ جو آدھا نقاب میں ہے ،میں نے پہلے بھی
دیکھا ہے …… تمہیں اور تمہارے اس ساتھی کو خدا نے اتنا ناقص ذہن دیا ہے کہ جس کام کے لیے تم آئے تھے ،تم اس
قابل نہیں ۔ سرائے میں تم دونوں میاں اور بیوی تھے ۔ یہاں آکر تم باپ اوربیٹی بن گئے ،مگر تم ہو کچھ بھی نہیں اور
تمہارا ایک ساتھی باہر گھوڑوں کے پاس کھڑا ہے ،وہ تمہارا نوکر نہیں ۔ اسے گرفتار کر لیا گیا ہے ''۔
یہ کمال علی بن سفیان کا تھا ۔ اسے موبی نے بتایا تھا کہ وہ سرائے میں ٹھہرے ہوئے ہیں ۔ وہ ان دونوں کو اپنے کمرے
میں بٹھا کر باہر نکل گیا اور گھوڑے پر سوار ہو کر سرائے میں چال گیا تھا۔ سرائے والوں سے اُس نے ان کے حلیے بتا کر
پوچھا تو اسے بتایا گیا تھا کہ وہ میاں بیوی ہیں اور ان کے ساتھ ان کا نوکر ہے ۔ اسے یہ بھی بتایا گیا کہ انہوں نے بازار
سے کچھ کپڑے بھی خریدے تھے ،جن میں لڑکی کا برقعہ نما چغہ اور جوتے بھی تھے ۔انہوں نے علی بن سفیان سے کہا
تھا کہ وہ میاں بیوی ہیں۔اس نے اور کوئی تفتیش نہیں کی ۔ ان کے کمرے کا تاال توڑ کر ان کے سامان کی تالشی لی ۔
اس سے چند ایسی اشیاء برآمد ہوئیں جنہوں نے شک کو یقین میں بدل دیا ۔ علی بن سفیان سمجھ گیا کہ سلطان ایوبی
اعلی نسل کے تیز رفتار گھوڑے
سے ان کا تنہائی میں ملنے کا مطلب کیا ہوسکتا ہے ۔ اس نے ان کے گھوڑے دیکھے تھے ۔
ٰ
تھے ۔ سرائے والے سے ان کے گھوڑوں کے متعلق پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ یہ تینوں مسافر اونٹوں پر آئے تھے اور یہ
گھوڑے لڑکی نے یہ کہہ کر منگوائے تھے کہ نہایت اچھے ہوں اور تیز رفتار ہوں ۔ سرائے والوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ لڑکی
کا خاوند گونگا معلوم ہوتا ہے ،وہ کسی سے بات نہیں کرتا ۔ دراصل وہ یہاں کی زبان نہیں جانتا تھا ۔
علی بن سفیان نے واپس آکر دیکھا کہ اجالس ختم ہو گیاہے تو وہ سلطان ایوبی کے پاس چال گیا۔ اسے ان کے متعلق بتایا
اور وہ کہانی بھی سنائی جو لڑکی نے اسے سنائی تھی ۔ پھر سرائے سے معلومات اس نے حاصل کی تھیں اور ان کے
سامان سے جو مشکوک چیزیں برآمد کیں تھیں ،وہ دکھائیں اور اپنی رائے یہ دی کہ آپ کو قتل کرنے آئے ہیں ۔ آپ سے
تنہائی میں ملنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے یہ منصوبہ بنایا ہوگا کہ آپ کو قتل کرکے نکل جائیں گے ۔ جتنی دیر میں کسی کو
پتہ چلے گا ،اتنی دیر میں وہ تیز رفتار گھوڑوں پر سوار ہو کر شہر سے ُدور جا چکے ہوں گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے یہ
لوگ آپ کو اتنی خوبصورت لڑکی کے چکر میں ڈال کر خواب گاہ میں قتل کرنا چاہتے ہوں گے۔
سلطان ایوبی سوچ میں پڑ گیا ۔ پھر کہا …… '' انہیں ابھی گرفتار نہ کرو ۔ میرے پاس بھیج دو ''۔
علی بن سفیان نے انہیں اندر بھیج دیا اور خود سلطان ایوبی کے کمرے کے دروازے کے ساتھ لگا کھڑا رہا ۔اس نے محافظ
دستے کے کمانڈر کو بال کر کہا …… '' ان دونوں گھوڑوں کو اپنے گھوڑوں کے ساتھ باندھ دو اور زینیں اُتار دو اور ان کے
ساتھ جو آدمی ہے ،اسے حراست میں بٹھا لو ۔ اس کی تالشی لو ۔ اس کے کپڑوں کے اندر خنجر ہوگا ۔ وہ اس سے لے
لو ''۔
ان احکام پر عمل ہوگیا ۔ میگناناماریوس کا ساتھی گرفتار ہو گیا ۔ اس سے ایک خنجر برآمد ہوا ۔ گھوڑوں پر بھی قبضہ کر
لیا گیا۔
اور جب انہیں سلطان ایوبی کے کمرے میں داخل کیا گیا تو باتوں باتوں میں سلطان نے ایک سکہ فرش پر پھینک کر یقین
کر لیا کہ یہ شخص بہرہ نہیں ۔ سکے کی آواز پر اس نے فورا ً پیچھے ُمڑ کر دیکھا تھا ۔
صالح الدین ایوبی نے لڑکی سے کہا ……'' اسے کہو کہ میری جان صلیبیوں کے خدا کے ہاتھ میں نہیں ،میرے اپنے خدا کے
ہاتھ میں ہے ''۔
موبی نے اپنی زبان میں میگناناماریوس سے بات کی تو اس نے چونک کر کچھ کہا ۔ موبی نے سلطان ایوبی سے کہا ……''
''یہ کہتا ہے ،کیا آپ کا خدا کوئی اور ہے اور کیامسلمان بھی خدا کو مانتے ہیں ؟
اسے کہو کہ مسلمان اس خدا کو مانتے ہیں جو سچا ہے اور سچے عقیدے والوں کو عزیز رکھتا ہے ''…… سلطان ایوبی ''
نے کہا …… '' مجھے کس نے بتایا ہے کہ تم دونوں مجھے قتل کرنے آئے ہو ؟ …… میرے خدا نے ،اگر تمہارا خدا سچا
ہوتا تم تمہارا خنجر مجھے ہالک کر چکا ہوتا ۔ میرے خدا نے تمہارا خنجر میرے ہاتھ میں دے دیا ہے ''۔ اس نے ایک
تلوار کہیں سے نکالی اور چند اشیاء انہیں دکھا کر کہا ……'' یہ تلوار اور چیزیں تمہاری ہیں ۔ یہ تمہارے ساتھ سمندر پار
سے آئی ہیں ۔ تم سے پہلے یہ مجھ تک پہنچ گئی ہیں ''۔
میگناناماریوس حیرت سے اُٹھ کھڑا ہوا ۔ اس کے آنکھیں اُبل کر باہر آگئیں ،جتنی باتیں ہوئیں ،وہ موبی کی مدد سے ہوئیں۔
میگناناماریوس نے بولنا شروع کر دیا اور وہ صرف اپنی زبان بولتا اور سمجھتا تھا ۔ خدا کے متعلق یہ باتیں سن کر اس نے
کہا…… '' یہ شخص سچے عقید ے کا معلوم ہوتاہے ۔ میں اس کی جان لینے آیا تھا ،لیکن اب میری جان اس کے ہاتھ
میں ہے ۔ اسے کہو کہ تمہارے سینے میں ایک خدا ہے ،وہ مجھے دکھائے ۔ میں اس خدا کو دیکھنا چاہتا ہوں ،جس نے
اسے اشارہ دیا ہے کہ ہم اسے قتل کرنے آئے ہیں ''۔
سلطان ایوبی کے پاس اتنی لمبی چوڑی باتوں کا وقت نہیں تھا ۔ اُسے چاہیے تھا کہ ان دونوں کو جالد کے حوالے کر دیتا،
لیکن اس نے دیکھا کہ یہ شخص بھٹکا ہوا معلوم ہوتا ہے ،اگر یہ پاگل نہیں تو یہ ذہنی طو پر گمراہ ضرور ہے ،چنانچہ
اس نے اس کے ساتھ دوستانہ انداز میں باتیں شروع کر دیں ۔ اس دوران علی بن سفیان اندر آگیا ۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ
سلطان خیریت سے تو ہیں ،سلطان ایوبی نے ُمسکرا کر کہا ۔ '' سب ٹھیک ہے علی ! میں نے ان سے خنجر لے لیا
ہے '' …… علی بن سفیان سکون کی آہ بھر کر باہر چال گیا ۔
میگناناماریوس نے کہا ……'' پیشتر اس کے کہ سلطان میری گردن تن سے جدا کردے ،میں اپنی زندگی کی کہانی سنانے کی
مہلت چاہتا ہوں''۔
سلطان ایوبی نے اجازت دے دی ۔ میگناناماریوس نے بالکل وہ کہانی جورات صحرا میں اس نے اپنے پارٹی کمانڈر اور اپنے
عیسی علیہ
ساتھیوں کو سنائی تھی ،من و عن سلطان ایوبی کو سنا دی ۔ اب کے اس نے صلیب پر لٹکتے ہوئے حضرت
ٰ
السالم کے بُت ،کنواری مریم کی تصویر اور پادریوں کے اُس خدا سے جس سے وہ پادری کی اجازت کے بغیر با ت بھی
نہیں کر سکتا تھا ،بیزاری کا اظہار اور زیادہ شدت سے کیا اور کہا ……'' مرنے سے پہلے مجھے خدا کی ایک جھلک دکھا
دو ۔ میرے خدا نے بچوں کو بھوکا مار دیا ہے ،میری ماں کو اندھا کر دیا ہے ،میری بہن کو شرابی وحشیوں کا قیدی بنا
دیا ہے اور مجھے تیس سالوں کے لیے قید خانے میں بند کر دیا ہے ،میں وہاں سے نکال تو موت کے منہ میں آپڑا ۔
سلطان ! میری جان تیرے ہاتھ میں ہے ،مجھے سچا خدا دکھا دے ،میں اس سے فریاد کروں گا ،اس سے انصاف مانگوں
گا ''۔
تیری جان میرے ہاتھ میں نہیں ''۔سلطان ایوبی نے کہا …… '' میرے خدا کے ہاتھ میں ہے ،اگر میرے ہاتھ میں ہوتی ''
تو اس وقت تک تم میرے جالد کے پاس ہوتے ،میں تمہیں وہ سچا خدا دکھا دوں گا ،جو تیری گردن مارنے سے مجھے
روک رہا ہے ،لیکن تجھے اس خدا کا سچا عقیدہ قبول کرنا ہوگا ،ورنہ خدا تمہاری فریاد نہیں سنے گا اور انصاف بھی نہیں
ملے گا ''……سلطان ایوبی نے اس کا خنجر اس کی گود میں پھینک دیا اور خود اس کے پاس جا کر اس کی طرف پیٹھ کر
کے کھڑا ہوگیا ۔ موبی سے کہا …… '' اسے کہو میں اپنی جان اس کے حوالے کرتا ہوں ۔ یہ خنجر میری پیٹھ میں گھونپ
دے ''۔
میگناناماریوس نے خنجر ہاتھ میں لے لیا ۔ اسے غور سے دیکھا ۔ سلطان ایوبی کی پیٹھ پر نگاہ دوڑائی ۔ اُٹھا اور سلطان کے
سامنے چال گیا ۔ اسے سر سے پاوں تک دیکھا ۔ یہ سلطان صالح الدین ایوبی کی جاللی شخصیت کا اثر تھا یا سلطان کی
آنکھوں کی چمک میں ا ُسے سچا خدا نظر آگیا کہ اس کے ہاتھ کانپے ۔ اس نے خنجر سلطان ایوبی کے قدموں میں رکھ دیا ۔
وہ دوزانو بیٹھ گیا اور سلطان کے ہاتھ چوم کر زارو قطار رونے لگا ۔ ……موبی سے کہا……'' اسے کہو کہ یا تو یہ خود خدا
ہے یا اس نے خدا کو اپنے سینے میں قید کر رکھا ہے ۔ اسے کہو مجھے اپنا خدا دکھا دو ''۔
سلطان ایوبی نے اُسے ا ُٹھایا اور سینے سے لگا کر اپنے ہاتھ سے اس کے آنسو پونچھے ۔
وہ تو بھٹکا ہوا انسان تھا ۔ اس کے دل میں مسلمانوں کے خالف نفرت بھر دی گئی تھی اور اسال م کے خالف زہر ڈاال
گیاتھا ۔ پھر حاالت نے اسے اپنے مذہب سے بیزا ر کیا۔ یہ ایک قسم کا پاگل پن تھا اور ایک تشنگی تھی جو اسے ایسی
خطرناک مہم پر لے آئی تھی ۔ سلطان ایوبی ا ُسے بے گناہ سمجھتا تھا ،لیکن اسے آزاد بھی نہ کیا ،بلکہ اپنے پاس رکھ
لیا ۔ موبی باقاعدہ ٹریننگ لے کر آئی تھی اور مفرور جاسوسہ تھی ۔ یہ وہ ساتویں لڑکی تھی جس نے صلیبیوں کا پیغام
سوڈانیوں تک پہنچایا اور بغاوت کرائی تھی ۔ وہ ملک کی دشمن تھی ۔ اسے اسالمی قانون نہیں بخش سکتا تھا ۔ سلطان
اقبال جرم کر لیا اور یہ بھی بتا
نے ا ُسے اور اس کے ساتھی کو علی بن سفیان کے حوالے کر دیا ۔ تفتیش میں دونوں نے
ِ
دیا کہ رسد کے قافلے کو انہوں نے ہی لوٹا تھا اور لڑکیوں کو بھی انہوں نے آزاد کرایااور محافظ دستے کو ہالک کیا تھا اور
بالیان اور اس کے ساتھیوں کو بھی انہوں نے ہالک کیا تھا ۔
یہ تفتیش تین دن جاری رہی ۔ اس دوران میگناناماریوس کا دماغ روشن ہو چکا تھا ۔ ایک بار اس نے سلطان ایوبی سے
''پوچھا ……'' کیا آپ نے اس لڑکی کو مسلمان کر کے اپنے حرم میں رکھ لیا ہے ؟
آج شام کو اس کا جواب دوں گا ''…… سلطان ایوبی نے جواب دیا ۔''
شام کے وقت سلطان ایوبی نے میگناناماریوس کو ساتھ لیا اور کچھ ُدور جا کر ایک احاطے میں لے گیا ۔لکڑی کے دو تختے
پڑے تھے ۔ ان پر سفید چادریں پڑی ہوئی تھیں۔ سلطان ایوبی نے چادروں کو ایک طرف سے اُٹھایا اور میگناناماریوس کو دکھایا
،اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا ۔ اس کے سامنے موبی کی الش پڑی تھی اور دوسرے تختے پر اس کے ساتھی کی الش
تھی ۔ سلطان ایوبی نے موبی کے سر پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کھینچا ،گردن کندھے سے جدا تھی ۔ اس نے میگناناماریوس
سے کہا ……'' میں اسے بخش نہیں سکتا تھا ،تم اسے اپنے ساتھ الئے تھے کہ میں اس کے حسن اور جسم پر فدا ہوجاوں
گا ،مگر اس کا جسم مجھے ذرا بھر اچھا نہیں لگا ،یہ ناپاک جسم تھا ۔ یہ اب مجھے اچھا لگ رہا ہے ۔ جب جبکہ اس
جسم سے اتنی حسین شکل و صورت جدا ہوچکی ہے ۔ مجھے یہ بہت اچھی لگ رہی ہے ۔ اللہ اس کے گنا ہ معاف کرے
''۔
''سلطان!''…… میگناناماریوس نے پوچھا …… ''آپ نے مجھے کیوں بخش دیا ؟''
اس لیے کہ تم مجھے قتل کرنے آئے تھے ''……سلطان ایوبی نے جواب دیا ……'' مگر یہ میری قوم کے کردار کو قتل ''
کرنے آئی تھی اورر تمہارا یہ ساتھی بھی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بہت سے لوگوں کا قاتل بنا اور تم نے میرا خون
بہا کر خدا کو دیکھنا چاہا تھا ''۔
چند ِد نوں بعد میگناناماریوس سیف اللہ بن گیا جو بعد میں سلطان ایوبی کے محافظ دستے میں شامل ہوا اور جب سلطان
خالق حقیقی سے جا مال ،تو سیف اللہ نے زندگی کے آخری سترہ برس سلطان صالح الدین ایوبی کی قبر پر گزار
ایوبی
ِ
دئیے۔ آج کسی کو بھی معلوم نہیں کہ سیف اللہ کی قبر کہاں ہے۔
19:13
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
قسط نمبر۔19۔ دوسری بیوی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
طرف ریت کے ٹیلے اور باقی ہر طرف صحرا ریت کے سمندر کی مانند اُفق تک پھیال
قاہرہ سے ڈیڑھ دومیل دور جہاں ایک
ٍ
ہواتھا ،انسانوں کے سمندر تلے دب گیا تھا۔ یہ الکھوں انسانوں کا ہجوم تھا۔ ان میں شتر سوار بھی تھے اور گھوڑا سوار
بھی ۔ بہت سے لوگ گدھوں پر بھی سوار تھے ۔ تعداد ان کی زیادہ تھی ،جن کے پاس کوئی سواری نہیں تھی ۔ التعداد
ہجوم چار پانچ دنوں سے صحرا کی اس وسعت میں جمع ہونا شروع ہوگیا تھا۔ قاہرہ کے بازاروں میں بھیڑ اور رونق زیادہ
ہوگئی تھی ۔ سرائے بھر گئی تھی ۔ یہ لوگ دور دور سے اس سرکاری منادی پر آئے تھے کہ چھ سات روز بعد قاہرہ کے
مضافاتی ریگستان میں مصر ی فوج گھوڑ سواری ،شتر سواری ،دوڑتے گھوڑوں اور اونٹوں سے تیر اندازی اور بہت سے جنگی
کماالت کا مظاہرہ کرے گی ۔منادی میں یہ اعالن بھی کیاگیاتھا کہ غیرفوجی لوگ بھی ان مظاہروں میں جس کسی کو چاہیں
تیغ زنی ،ک ُشتی ،دوڑتے گھوڑوں کی لڑائی اور تیر اندازی وغیرہ کے لیے للکار کر مقابلہ کرسکتے ہیں ۔
یہ منادی صالح الدین ایوبی نے کرائی تھی ۔ اس کے دومقاصد تھے ۔ ایک یہ کہ لوگوں کو فوج میں بھرتی ہونے کی ترغیب
ملے گی اور دوسرے یہ کہ جولوگ ابھی تک سلطان کو فوجی لحاظ سے کمزور سمجھتے ہیں ،ان کے شکوک رفع ہوجائیں ۔
سلطان ایوبی کو جب یہ اطالع ملنے لگیں کہ لوگ چھ روز پہلے ہی تماشہ گاہ میں جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں تو وہ بہت
خوش ہوا مگر علی بن سفیان پریشان سا نظر آتاتھا۔ اس نے سلطان کے آگے اس پریشانی کا اظہار کربھی دیاتھا۔ سلطان ایوبی
نے مسرت سے ا ُسے کہاتھا……''اگر تماشائیوں کی تعداد الکھ ہوجائے تو ہمیں پانچ ہزار سپاہی تو مل ہی جائیں گے ''۔
محترم امیر!''علی بن سفیان نے کہا…''میں تماشائیوں کے ہجوم کو کسی اور زاویے سے دیکھ رہاہوں ۔ میرے اندازے کے''
مطابق اگر تماشائیوں کی تعداد ایک الکھ ہوئی تو اس میں ایک ہزار جاسوس ہوں گے ۔ دیہات سے عورتیں بھی آرہی ہیں ۔ان
میں زیادہ تر سوڈانی ہیں ۔ان میں اکثر کا رنگ اتنا گوراہے کہ عیسائی عورت ان میں چھپ سکتی ہے ''۔
میں تمہاری اس مشکل کو اچھی طرح سمجھتا ہوں علی ! ''سلطان نے کہا……''لیکن تم جانتے ہوکہ میں نے جس میلے''
کا انتظام کیاہے ،وہ کیوں ضروری ہے۔ تم اپنے محکمے کو اور زیادہ ہوشیار کردو''۔
میں اس کے حق میں ہوں !'' ……علی بن سفیان نے کہا……''یہ میلہ بہت ہی ضروری ہے ۔ میں نے اپنی پریشانی آپ''
کو پریشان کرنے کے لیے نہیں بتائی ،صرف یہ اطالع پیش کی ہے کہ یہ میلہ اپنے سات کیا خطرہ الرہاہے ۔ قاہرہ میں
عارضی قحبہ خانے کھل گئے ہیں جو ساری رات شائقین سے بھرے رہتے ہیں ۔تماشائیوں میں سے بعض نے شہر کے باہر
خیمے نصب کر لیے ہیں ۔میرے گروہ نے مجھے اطالع دی ہے کہ ان میں بھی قمار بازوں اور عصمت فروشوں کے خیمے
موجود ہیں ۔کل میلے کا دن ہے ۔ ناچنے گانے والیوں نے تماشائیوں سے دولت کے ڈھیر اکٹھے کر لیے ہیں ''۔
میلہ ختم ہوجائے گا تو یہ غالظت بھی ہجوم کے ساتھ ہی صاف ہوجائے گی ''۔سلطان ایوبی نے کہا……''میں اس پر ''
پابندی عائد نہیں کرنا چاہتا ۔ مصر کی اخالقی حاالت اچھی نہیں ۔ رقص اور عصمت فروشی ایک دو دنوں میں ختم نہیں کی
جاسکتی ۔ ابھی مجھے زیادہ سے زیادہ تماشائیوں کی ضرورت ہے ۔مجھے فوج تیار کرنی ہے اور تم جانتے ہو علی ! ہمیں
بہت زیادہ فوج کی ضرورت ہے ۔ میں نے فوج اور انتظامیہ کے سربراہوں کے اجالس میں یہ ضرورت وضاحت سے بیان کردی
تھی ''۔
میں آپ کو اس وضاحت سے روک نہیں سکاتھا ،امیر محترم !''……علی بن سفیان نے کہا……''میری سراغ رساں نگاہوں ''
میں ان سربراہوں میں نصف ایسے ہیں جو ہمارے وفادار نہیں ۔آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان میں کچھ ایسے ہیں جو آپ
گدی پر نہیں دیکھنا چاہتے اور باقی جو ہیں اُن کی دل چسپیاں سوڈانیوں کے ساتھ ہیں ۔میں نے ان میں سے ہر
کو اس ّ
ایک کے پیچھے ایک ایک آدمی چھوڑ رکھاہے ۔ میرے آدمی مجھے ان کی سرگرمیوں سے آگاہ کرتے رہتے ہیں ''۔
کسی کی کوئی خطرناک سرگرمی سامنے آئی ہے ؟سلطان ایوبی نے پوچھا۔''
نہیں ۔ ''علی بن سفیان نے جواب دیا……''سوائے اس کے ،کہ یہ لوگ اپنی حیثیت اور رتبوں کو فراموش کرکے راتوں ''
کو مشکوک خیموں میں اور ا ُن مکانوں میں جاتے ہیں جو عارضی قحبہ خانے اور رقص گاہیں بن گئے ہیں ۔دونے تو ناچنے
والی لڑکیوں کو گھروں میں بھی بالیا ہے …… ان سے زیادہ میرا دماغ اُن دوبادبانی کشتیوں پر گھوم رہاہے جو دس روز گزرے ،
بحیرٔہ روم کے ساحل کے ساتھ دیکھی گئی تھیں''۔
اُن میں کیاخاص بات تھی ؟''…… سلطان ایوبی نے پوچھا ۔''
اس وقت تک بحیرٔہ روم کے ساحل سے فوج کو واپس باللیاگیاتھا ،وہاں ڈھکی چھپی جگہوں پر دودو فوجی سمندر پر نظر
رکھنے کے لیے بٹھا دئیے گئے تھے ۔علی بن سفیان نے ماہی گیروں اور صحرائی خانہ بدوشوں کے لباس میں ساحلی پر انٹیلی
جنس کے چند آدمی مقرر کردئیے تھے ۔ یہ اہتمام ایک تو اس لیے کیاگیا تھا کہ صلیبی اچانک حملہ نہ کردیں اور دوسرے
اس لیے کہ ادھر سے صلیبیوں کے جاسوس نہ آسکیں ،مگر ساحل بہت لمبا تھا۔ کہیں کہیں چٹانیں بھی تھیں ،جہاں سمندر
اندر آجاتا تھا۔ سارے ساحل پر نظر نہیں رکھی جاسکتی تھی ۔دس روز گزرے ایسی ہی ایک جگہ سے جہاں سمندر چٹانوں کے
اندر آیاہوا تھا ،دو باد بانی کشتیاں نکلتی دیکھی تھیں ۔ وہ شاید رات کو آئی تھیں۔
انہیں جاتا دیکھ کر سلطان کے دو سوار سر پٹ گھوڑے دوڑاتے اس جگہ پہنچے ،جہاں سے کشتیاں نکل کر گئی تھیں ۔ وہاں
کچھ بھی نہ تھا۔کوئی انسان نہیں تھا اور کشتیاں سمندر میں دور چلی گئی تھی کشتیوں اور بادبانوں کی ساخت بتاتی تھی کہ
یہ مصر کے ماہی گیروں کی نہیں ۔ سمندر پار معلوم ہوتی تھیں۔ سوار تھوڑی ُدور تک صحرا میں گئے ۔ انہیں کسی انسان کا
سراغ نہیں مال۔انہوں نے قاہرہ اطالع بھجوادی تھی کہ ساحل کے ساتھ دو مشکوک کشتیاں دیکھی گئی ہیں ۔ علی بن سفیان
کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ ریگستان میں انہیں ڈھونڈ لیتا جو کشتیوں میں سے اُترے تھے ۔ اطالع پہنچتے پہنچتے تین ِدن
گزرگئے تھے ۔یہ بھی یقین نہیں تھا کہ کشتیوں سے کون اُترا ہے ۔
علی بن سفیان نے سلطان ایوبی کے اس سوال کے جواب میں کہ ان کشتیوں میں کیا خاص بات تھی،یہ وضاحت کردی اور
کہا……''ہم میلے کی منادی ڈیڑھ مہینے سے کرارہے ہیں۔ ڈیڑھ مہینے میں خبریورپ کے وسط تک پہنچ سکتی ہے اور وہاں
سے جاسوس آسکتے ہیں ۔ مجھے یقین کی حد تک شک ہے کہ تماشائیوں کے ساتھ صلیبیوں کے جاسوس میلے میں آگئے
ہیں ۔قاہرہ میں اس وقت لڑکیاں عارضی طور پر نہیں ،مستقل طور پر فروخت ہورہی ہیں ۔ سلطان سمجھ سکتے ہیں کہ ان
کے خریدار معمولی حیثیت کے لوگ نہیں ہوسکتے ۔ ان خریداروں میں قاہرہ کے تاجر ،ہماری انتظامیہ اور فوج کے سربراہ اور
نامی گرامی بردہ فروش شامل ہیں ۔بکنے والی لڑکیوں میں صلیبیوں کی جاسوس لڑکیاں ہوسکتی ہیں اور یقینا ہوں گی''۔
سلطان ایوبی ان اطالعوں سے پریشان نہ ہوا۔ بحیرٔہ روم میں صلیبیوں کو شکست دئیے تقریبا ًایک سال گزر گیاتھا۔ علی بن
قابل اعتماد نہیں تھا۔ تاہم یہ اطالع مل گئی تھی
سفیان نے سمندر پار جاسوسی کا انتظام کررکھاتھا جو مضبوط اور سوفیصد
ِ
کہ صلیبیوں نے مصر میں جاسوس اور تخریب کار بھیج رکھے ہیں ۔ ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ مصر کے متعلق ان کے
منصوبے کیا ہیں ۔ بغداد اور دمشق سے آنے ولی اطالعوں سے پتہ چالتھا کہ صلیبیوں نے زیادہ تر دباو ادھر ہی رکھا ہواہے ۔
وہاں خصوصا ً شام میں ،وہ مسلمان ا ُمرا کو عیاشیوں اور شراب میں ڈبوتے چلے جارہے تھے ۔سلطان نور الدین زنگی کی
موجود گی میں صلیبی ابھی برا ِہ راست ٹکرلینے کی جرٔات نہیں کررہے تھے ۔بحیرٔہ روم میں جب صالح الدین ایوبی نے اُن کا
بیڑہ بمع لشکر غرق کردیاتھا ،ا ُدھر عرب میں سلطان زنگی نے صلیبیوں کی مملکت پر حملہ کرکے انہیں صلح پر مجبور کیا
اور جزیہ وصول کرلیاتھا۔ اس معرکے میں بہت سے صلیبی سلطان زنگی کی قید میں آئے تھے ۔جن میں رینالٹ نام کا ایک
صلیبی ساالر بھی تھا۔ سلطان زنگی نے ان قیدیوں کو رہا نہیں کیا تھا ،کیونکہ صلیبیوں نے مسلمان جنگی قیدیوں کو شہید
کردیاتھا۔ اس کے عالوہ صلیبی عہد شکنی بھی کرتے تھے ۔
ِ
سلطنت اسالمیہ کی پاسبانی کررہاہے ،پھر بھی وہ فوج تیار کررہاتھا تاکہ
سلطان ایوبی کو اطمینان تھا کہ اُدھر سلطان زنگی
صلیبیوں سے فلسطین لیاجائے اور عرب کی سر زمین کو کفار سے پاک کیا جائے ۔ اس کے ساتھ ہی وہ مصر کا دفاع مضبوط
کرنا چاہتاتھا۔ بیک وقت حملے اور دفاع کے لیے بے شمار فوج کی ضرورت تھی ۔ مصر میں بھرتی کی رفتار سلطان ایوبی کے
عزائم کے مطابق سست تھی ۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ سوڈانیوں کی جو فوج توڑ دی گئی تھی ،اس کے کماندار اور
عہدے دار دیہات میں سلطان ایوبی کے خالف پروپیگنڈا کرتے پھر رہے تھے ۔ اس فوج میں سے تھوڑی سی تعداد سلطان کی
فوج میں وفاداری کا حلف ا ُٹھا کر شامل ہوگئی تھی۔ کچھ فوج مصر سے تیار کرلی گئی تھی اور کچھ سلطان زنگی نے بھیج
دی تھی ۔ مصر کے لوگوں نے ابھی یہ فوج نہیں دیکھی تھی ،نہ ہی انہوں نے سلطان ایوبی کو دیکھا تھا ۔سلطان ایوبی نے
اس میلے کا عالن کرکے اپنے فوجی سربراہوں اور ا ُن کے ماتحت کمان داروں وغیرہ کو ہدایت دی تھی کہ وہ باہر سے آئے
ہوئے لوگوں سے ملیں اور پیار و محبت سے ان کا اعتماد حاصل کریں ۔ انہیں باور کرائیں کہ وہ انہی میں سے ہیں اور ہم
سب کا مقصد یہ ہے کہ خدا اور رسول ۖ کی سلطنت کو ُدور ُدور تک پھیال نا اور ا سے صلیبی فتنے سے پاک کرنا ہے ۔
امیر محترم !
میلے سے ایک روز پہلے علی بن سفیان ،سلطان کو جاسوسوں کے خطرے سے آگاہ کررہاتھا۔اس نے کہا…… '' ِ
مجھے جاسوسوں کا کوئی ڈر نہیں ،دراصل خطرہ اپنے ان کلمہ گو بھائیوں سے ہے جو کفار کے اس زمین دوز حملے کو
کامیاب بناتے ہیں ۔اگر ان کا ایمان مضبوط ہوتو جاسوسوں کا پورا لشکر بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ میلے کے تماشائیوں میں جو
ناچنے والی لڑکیا ں نظر آرہی ہیں ۔وہ صلیبیوں کا جال ہیں ،تاہم میرا گروہ ِدن رات مصروف ہے''۔
اپنے آدمیوں سے یہ کہہ دو کہ کسی جاسوس کو جان سے نہ ماریں ''……سلطان ایوبی نے کہا…''زندہ پکڑو ۔ جاسوس ''
دشمن کے لیے آنکھ اور کان ہوتاہے ،لیکن ہمارے لیے وہ زبان ہے ۔وہ تمہیں اُن کی خبریں دے گا ،جنہوں نے اُسے بھیجاہے
''۔
٭ ٭ ٭
میلے کی صبح طلوع ہوئی ۔ وہ میدان بہت ہی وسیع تھا جس کے تین اطراف تماشائیوں کا ہجوم تھا،جس طرف ریت کے
ٹیلے تھے ادھر کسی کو نہیں جانے دیاگیاتھا۔ جنگی دف بجنے لگے ۔گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں اس طرح سنائی دیں ،
جیسے سیالبی دریا آرہاہو۔ گرد آسمان کی طرف ا ُٹھ رہی تھی ۔ یہ دو ہزار سے زیادہ گھوڑے تھے۔ پہال گھوڑا سوار میدان میں
داخل ہوا۔یہ صالح الدین ایوبی تھا ۔ اس کے دونوں طرف علم بردار تھے اور پیچھے سواروں کا دستہ تھا ۔ گھوڑوں پر پھول
دار چادری ڈالی گئی تھیں ۔ہر سوار کے ہاتھ میں برچھی تھی ۔ بر چھی کے چمکتے ہوئے پھل کے ساتھ رنگین کپڑے کی
چھوٹی سی جھنڈی تھی۔ ہر سوار کی کمر سے تلوار لٹک رہی تھی ۔ گھوڑے ُدلکی چال آرہے تھے ۔ سوار گردنیں تانے اور
سینے پھیالئے بیٹھے تھے ۔ ا ُن کے چہروں پر جاللی تاثر تھا۔ یوں معلوم ہوتاتھاجیسے یہ تماشائیوں کے دم بخو د ہجوم سے
علی و برتر ہوں ۔ا ُن کی آن بان دیکھ کر تماشائیوں پر خاموشی طاری ہوگئی تھی ۔ ان پر رعب چھا گیا تھا ۔
ا
ٰ
تماشائی نیم دائرے میں کھڑئے تھے ۔ ان کے پیچھے تماشائی گھوڑوں پر بیٹھے تھے اور ان کے پیچھے کے تماشائی اونٹوں پر
بیٹھے تھے۔ ایک ایک گھوڑے اور ایک ایک اونٹ پر دودو تین تین آدمی بیٹھے تھے ۔ ان کے آگے ایک جگہ شامیانہ لگایا گیا
تھا ،جس کے نیچے کر سیاں رکھی تھی۔ یہاں اونچی حیثیت والے تماشائی بیٹھے تھے۔ ان میں تاجر بھی تھے ۔ سلطان کی
حکومت کے افسر اور شہر کے معززین بھی ۔ان میں قاہرہ کی مسجدوں کے امام بھی بیٹھے تھے۔ انہیں سب سے آگے بٹھایا
گیا تھا،کیونکہ سلطان ایوبی مذہبی پیشوائوں اور علماء کا اس قدر احترام کرتاتھا کہ ان کی موجودگی میں ان کی اجازت کے
بغیر بیٹھتا نہیں تھا۔ ان میں سلطان کے وہ افسر بھی بیٹھے تھے جو انتظامیہ کے تھے ،لیکن ان کا تعلق فوج سے تھا۔
سلطان نے انہیں خاص طور پر کہا تھا کہ ان درمیان بیٹھ کر ان کے ساتھ دوستی پیدا کریں ۔ان میں خادم الدین البرق تھا ۔
علی بن سفیان کے بعد یہ دوسرا آدمی تھا جو سلطان ایوبی کے خفیہ منصوبوں ،مملکت اور فوج کے ہر راز سے واقف تھا۔
اس کاکام ہی ایسا تھا اور اس کا عہدہ ساالر جتنا تھا۔ جنگ کے منصوبے اور نقشے اسی کے پاس ہوتے تھے ۔ اس کی عمر
چالیس سال کے قریب تھی۔ وہ عرب کے مردانہ حسن اور جالل کا پیکر تھا۔ جسم توا نا اور چہرہ ہشاش بشاش تھا۔
البرق کے ساتھ ایک لڑکی بیٹھی تھی ۔ بہت ہی خوب صورت لڑکی تھی۔ وہ نوجوان تھی ۔لڑکی کے ساتھ ایک آدمی بیٹھا
تھا جس کی عمر ساٹھ سال سے کچھ زیادہ تھی۔ وہ کوئی امیر کبیر لگتاتھا۔البرق کئی بار اس لڑکی کی طرف دیکھ چکاتھا۔
ایک بار لڑکی نے بھی اسے دیکھا تو مسکرادی ۔ پھر اس نے بوڑھے کی طرف دیکھا تو اس کی ُمسکراہٹ غائب ہوگئی۔
گھوڑے تماشائیوں کے سامنے سے گزرگئے تو شتر سوار آگئے ۔ اونٹوں کو گھوڑوں کی طرح رنگ دار چادروں سے سجایا گیا
تھا۔ ہر سوار کے ہاتھ میں ایک لمبا نیزہ اور اس کے پھل سے ذرانیچے تین تین انچ چوڑے اور ڈیڑ ھ ڈیڑھ فٹ لمبے دورنگے
کپڑے جھنڈیوں کی طرف بندھے ہوئے تھے۔ ہوا میں وہ پھڑ پھڑ اتے بہت ہی خوب صورت لگتے تھے ۔ہر سوار کے کندھوں
سے ایک کمان آویزاں اور اونٹ کی زین کے ساتھ رنگین ترکش بندھی تھی۔ اونٹوں کی گردنیں خم کھا کر اوپر کو اُٹھی ہوئیں
اور سر جیسے فخر سے اونچے ہوگئے تھے ۔ سواروں کی شان نرالی تھی ۔گھوڑ سواروں کی طرح ہر شتر سوار سامنے دیکھ
رہاتھا۔ ا ُن کی آنکھیں بھی دائیں بائیں نہیں دیکھتی تھیں۔ یہ اونٹ انہی اونٹوں جیسے تھے جن پر تماشائی بیٹھے ہوئے تھے،
لیکن فوجی ترتیب ،فوجی چال اور فوجی سواروں کے نیچے وہ کسی اور جہان کے لگتے تھے۔
البرق نے اپنے پاس بیٹھی ہوئی لڑکی کو ایک بار پھر دیکھا ۔اب کے لڑکی نے اسے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا ۔اس
کی آنکھوں میں ایسا جادو تھاکہ البر ق نے اپنے آپ میں بجلی کا جھٹکا محسوس کیا۔
لڑکی کے ہونٹوں پر شرم و حیا کا تبسم آگیا اور اس نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے بوڑھے کو دیکھا تو اس کا تبسم نفرت میں
بدل گیا۔ البرق کی ایک بیوی تھی ،جس سے اُس کے چار بچے تھے۔ وہ شاید اس بیوی کو بھول گیاتھا۔ وہ لڑکی کے اس
قدر قریب بیٹھا تھا کہ لڑکی کا اُٹھا ہوا ریشمی نقاب ہوا سے اُڑ کر کئی بار البرق کے سینے سے لگا۔ ایک بار ا س نے
نقاب ہاتھ سے پرے کیا تو لڑکی نے شرما کر معذرت کی ۔البرق مسکرایا ،منہ سے کچھ نہ کہا۔
شتر سواروں کے پیچھے پیادہ فوج آرہی تھی۔ ان میں تیر اندازوں اور تیغ زنوں کے دستے تھے۔ا ُ ن کی ایک ہی جیسی
چال ،ایک ہی جیسے ہتھیار اور ایک ہی جیسا لباس تماشائیوں پر وہی تاثر طاری کررہاتھا۔ جو سلطان ایوبی کرنا چاہتا تھا۔
سپاہیوں کے چہروں پر تندرستی اور توانائی کی رونق تھی اور وہ خوش و خرم اور مطمئن نظر آتے تھے ۔یہ ساری فوج نہیں ،
صرف منتخب دستے تھے ۔ ان کے پیچھے منجنیقیں آرہی تھیں ،جنہیں گھوڑے گھسیٹ رہے تھے ۔ ہر منجنیق دستے کے
پیچھے ایک ایک گھوڑا گاڑی تھی جس میں بڑے بڑے پتھر اور ہانڈیوں کی قسم کے برتن رکھے تھے ۔ ان میں تیل جیسی
کوئی چیز بھری ہوئی تھی جو منجنیقوں سے پھینکی جاتی تھی ۔ جہاں یہ برتن گرتاتھا وہ کئی ٹکڑوں میں ٹوٹ کر سیال
مادے کو بہت سی جگہ پر بکھیر دیتا تھا۔ اس پر آتشیں تیر چالئے جاتے تو سیال مادہ شعلے بن جاتاتھا ۔
سلطان ایوبی کی قیادت میں یہ سوار اور پیادہ دستے ،نیم دائرے میں کھڑے اور بیٹھے ہوئے تماشائیوں کے آگے سے ُدور آگے
نکل گئے ۔ صالح الدین ایوبی راستے میں سے واپس آگیا۔ ا ُس کے گھوڑے کے آگے علم برداروں کے گھوڑے ،دائیں ،بائیں اور
پیچھے محافظو ں کے گھوڑے اور ا ُن کے پیچھے نائب ساالروں کے گھوڑے تھے۔ سلطان نے گھوڑا روک لیا ،کود کر اُترا اور
تماشائیوں کو ہاتھ ہوا میں لہرا لہرا کر سالم کرتا شامیا نے کے نیچے چالگیا،وہاں بیٹھے ہوئے تمام لوگ اُٹھ کھڑے ہوئے ۔
سلطان ایوبی نے سب کو سالم کیا اور اپنی نشست پر بیٹھ گیا۔
سوار اور پیادہ دستے ُد ور آگے جاکر ٹیلوں کے عقب میں چلے گئے ۔ میدان خالی ہوگیا۔ ایک گھوڑا سوار سرپٹ گھوڑا دوڑ اتا
آیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں گھوڑے کی لگام اور دوسرے میں اونٹ کی رسی تھی ۔ اونٹ گھوڑے کی رفتار کے ساتھ دوڑتا
آرہاتھا۔میدان کے وسط میں آکر گھوڑسوار گھوڑے پر کھڑا ہوگیا۔ اس نے باگیں چھوڑدیں ۔ وہ اُچھل کر اونٹ کی پیٹھ پر کھڑا
ہوگیا ،وہاں سے کود کر گھوڑے پر سوار ہوا۔گھوڑے اور اونٹ کی رفتار میں کوئی فرق نہیں آیاتھا۔ گھوڑے کی پیٹھ سے وہ اونٹ
کی پیٹھ پر چال گیااور ُدور آگے جاکر غائب ہوگیا۔
خادم الدین البرق دائیں کو ذراساجھکا۔ ا ُس کے منہ اور لڑکی کے سر کے درمیان دو تین انچ کا فاصلہ رہ گیاتھا۔ لڑکی نے
اسے دیکھا ۔البرق ُمسکرایا۔ لڑکی شرماگئی ۔بوڑھے نے دونوں کو دیکھا۔ اس کے بوڑھے ماتھے کے ِشکن گہرے ہوگئے ۔
اچانک ٹیلوں کے پیچھے سے ہانڈ یوں کی طرح کے مٹی کے وہ برتن جو گھوڑا گاڑیوں پر لدے ہوئے تھے ،اوپر کو جاتے ،
آگے آتے اور میدان میں گرتے نظر آئے ۔بر تن ٹوٹتے تھے تو تیل اچھل کر بکھر جاتاتھا۔کم و بیش ایک سو برتن گرے اور اُن
سے نکال ہوا مادہ تقریباٍ ایک سو گز لمبائی اور اسی قدر چوڑائی میں بکھر گیا۔ایک ٹیلے پر چھ تیر انداز نمودار ہوئے ۔انہوں
نے جلتے ہوئے فلیتوں والے تیر چالئے جو سیال مادے والی جگہ گرگئے ۔ فورا ً وہ تمام جگہ ایک ایسا شعلہ بن گئی جو
گھوڑے کی پیٹھ تک بلند اور کوئی ایک سو گز تک پھیال ہواتھا۔ ایک طرف سے چار گھوڑ سوار گھوڑے پوری رفتار سے دوڑتے
آئے ۔ شعلے کے قریب آکر وہ ُر کے نہیں ۔رفتار کم بھی نہ کی ۔ چاروں شعلے میں چلے گئے ۔ تماشائی دم بخود تھے کہ
وہ جل جائیں گے مگر وہ اتنے وسیع شعلے میں دوڑتے نظر آرہے تھے ۔آخر وہ چاروں شعلے میں سے نکل گئے ۔تماشائیوں
نے داد و تحسین کا وہ شور بلند کیا کہ آسمان پھٹنے لگا۔ دوسواروں کے کپڑوں کو آگ لگی ہوئی تھی ۔ دونوں بھاگتے گھوڑوں
سے ریت پر گرے اور تھوڑی دور لڑھکنیاں کھاتے گئے ۔ان کے کپڑوں کی آگ بجھ گئی۔
البرق اس شور و غل اور سواروں کے کماالت سے نظریں پھیرے ہوئے لڑکی کودیکھ رہاتھا۔لڑکی اس کی طرف دیکھتی اور ذراسا
مسکراکر بوڑھے کو دیکھنے لگتی تھی۔ بوڑھا ا ُٹھ کر جانے کیوں چالگیا۔ لڑکی اسے جاتا دیکھتی رہی ۔البر ق کو معلوم تھاکہ
لڑکی بوڑھے کے ساتھ آئی ہے ۔ اس نے لڑکی سے پوچھا۔
''تمہارے والد صاحب کہاں چلے گئے ہیں؟''
یہ میرا باپ نہیں ''……لڑکی نے جواب دیا……''میرا خاوند ہے ''۔''
''خاوند؟''……البرق نے حیرت سے پوچھا……''کیا یہ شادی تمہارے والدین نے کرائی ہے ؟''
اس نے مجھے خریداہے ''……لڑکی نے اُداس لہجے میں کہا۔''
وہ کہاں گیاہے ؟''……البرق نے پوچھا۔''
'' ناراض ہوکر چالگیاہے ''…لڑکی نے جواب دیا…''اسے شک ہوگیاہے کہ میں آپ کو دلچسپی سے دیکھتی ہوں''
کیا تم واقعی مجھے دلچسپی سے دیکھتی ہو؟''……البر ق نے رومانی انداز سے پوچھا۔''
لڑکی کے ہونٹوں پر شرمیلی سی ُمسکراہٹ آگئی ۔دھیمی سی آواز میں بولی ۔ ''میں اس بوڑھے سے تنگ آگئی ہوں۔اگر
کسی نے مجھے اس سے نجات نہ دالئی تو میں خود کشی کرلوں گی''۔
میدان میں سوار اور پیادہ فوجی حیران کن کرتب دکھارہے تھے اور حرب و ضرب کے مظاہرے کرہے تھے ۔ تماشائیوں نے
جنگی مظاہرے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ انہوں نے صرف سوڈانی فوج دیکھی تھی جو خزانے کے لیے سفید ہاتھی بنی
ہوئی تھی ۔ اس کے کمان دار بادشاہوں کی طرف باہر نکلتے تھے ۔ ان کے ساتھ اگر فوج کا دستہ ہوتو وہ دیہات کے لیے
مصیبت بن جاتے تھے۔ مویشی تک کھول کر لے جاتے تھے ۔ کسی کے پاس اچھی نسل کا اونٹ ،گھوڑا دیکھتے تو زبردستی
لے جاتے تھے۔ لوگوں کے ِد ل میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ فوج رعایا پر ظلم و تشدد کرنے کے لیے رکھی جاتی ہے ،لیکن
سلطان کی فوج بہت مختلف تھی ۔ایک تو وہ دستے تھے جو مظاہرے میں شریک تھے ۔باقی فوج کو سلطان کی ہدایات کے
مطابق تماشائیوں میں پھیالدیاگیا تاکہ وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل کر ان پر یہ تاثر پیدا کریں کہ فوجی ان کے بھائی ہیں اور
انہی میں سے ہیں ۔بد تمیزی یا بد اخالقی کرنے والے فوجی کے لیے بڑی سخت سزا مقرر کی گئی تھی۔
خادم الدین البرق جو سلطان ایوبی کی جنگی مشاورتی محکمے کا سربراہ اور راز داں تھا ،سلطان کی ہدایات اور میلے کے شور
و غل سے بالکل ہی التعلق ہوگیاتھا۔ لڑکی ایک جادو بن کر اس کی عقل پر غالب آگئی تھی ۔اس نے لڑکی میں دلچسپی کا
اظہار کیا ،اسے لڑکی نے قبول کرلیاتھا۔ اس سے دونوں کے لیے سہولت پیدا ہوگئی ۔ البرق نے کہیں ملنے کو کہا تو لڑکی نے
جواب دیا کہ وہ خریدی ہوئی لونڈی ہے اور بوڑھے نے اسے قید میں رکھا ہواہے ۔وہ اس پر ہر وقت نظر رکھتا ہے ۔لڑکی نے
یہ بھی بتایا کہ بوڑھے کے گھر چار بیویاں ہیں … البرق نے اپنے ُرتبے کو فراموش کردیا۔ عشق باز نوجوان کی طرح اُس نے
مالقات کی وہ جگہیں بتانی شروع کردیں جہاں آوارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہیں جاتا تھا۔ ان جگہوں میں ایک جگہ لڑکی کو
پسند آگئی۔ یہ شہر سے باہر قدیم زمانے کاکوئی کھنڈر تھا۔ البرق نے لڑکی سے یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ اسے بوڑھے سے آزاد
..کرانے کی کوشش کرے گا
تیسری رات البرق گھر سے نکال وہ حاکموں کی شان سے گھر سے نکالکرتاتھا،مگراس رات وہ چوروں کی طرح باہر نکال۔ اِدھر
ا ُدھر دیکھا اور ایک طرف چل پڑا ۔ قاہرہ پر سکوت طاری تھا۔ فوجی میلہ ختم ہوئے دو ِدن گزرگئے تھے ۔ باہر سے آئے
ہوئے تماشائی جاچکے تھے۔ سرکاری حکم کے تحت عارضی قحبہ خانے اٹھا دئیے گئے تھے۔ علی بن سفیان کا محکمہ اب یہ
سراغ لگاتا پھر رہاتھا کہ باہر سے آئی ہوئی کتنی لڑکیا ں اور کتنے مشکوک لوگ شہر یا مضافاتی دیہات میں رہ گئے ہیں ۔
میلے کا مقصد پورا ہوگیا تھا۔ دوہی دنوں میں چار ہزار جوان فوج میں بھرتی ہوگئے تھے اور مزید بھرتی کی توقع تھی۔
البرق شہر سے نکل گیا اور اس نے اُس کھنڈر کا ُرخ کیا جہاں لڑکی کو آناتھا۔ صحرائی گیدڑوں کے سوا زمین و آسمان گہری
نیند سوگئے تھے ۔ لڑکی نے البرق سے کہاتھا کہ وہ بوڑھے کی قیدی ہے اورو ہ اُس پر ہر وقت نظررکھتا ہے ،پھر بھی
البرق اس ا ُمید پر جارہاتھا کہ لڑکی ضرور آئے گی ۔ممکنہ خطروں سے نمٹنے کے لیے اس کے پاس ایک خنجر تھا۔ عورت
ایسا جادو ہے کہ جس پر طاری ہوجائے وہ کسی کی پرواہ نہیں کیا کرتا ۔عقل و دانش اس کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں ۔ البرق
پختہ عمر کا آدمی تھا مگر وہ نادان نوجوان بن گیا تھا،اسے اندھیرے میں کھنڈر کے قریب ایک تاریک سایہ ،سر سے پائوں
تک لبادے میں لپٹا ہوا نظر آیا اور کھنڈر کے کھڑے سیاہ بھوت میں جذب ہوگیا تو وہ تیز تیز چلتا کھنڈر میں پہنچا گری
ہوئی دیوار کے شگاف سے وہ اندر آگیا۔ آگے اندھیرہ کمرہ تھا۔ چھت میں بڑی زور سے کوئی بہت بڑا پرندہ پھڑ پھڑا یا۔
البرق نے ہوا کے تیز جھونکے محسوس کیے اور اچانک اس کے منہ پر تھپڑ پڑا اس کے ساتھ ہی اسے ''چی چی''کی
آوازیں سنائی دینے لگیں۔ وہ جان گیا کہ یہ بڑے چمگادڑ ہیں جن کے پنجے اس کا منہ نوچ ڈالیں گے۔ وہ بیٹھ گیا اور پائوں
پر سر کتا کمرے سے نکل گیا ۔ کمرہ اڑتے چمگادڑوں سے بھر گیا تھا۔
آگے صحن تھا ،جس کے ارد گرد گول برآمدہ تھا۔ البرق نے یہ بھی نہ سوچا کہ ایک خریدی ہوئی قیدی لڑکی جس پر ہر
وقت نظر رکھی جاتی ہے،اس ہیبت ناک کھنڈر میں کیسے آئے گی ،مگر برآمدے میں اس کے قدموں کی دبی دبی آہٹ نے
اسے بتادیاکہ یہاں کوئی موجود ہے ۔اس نے کمر سے خنجر نکال کر ہاتھ میں لے لیا۔ اس کے سر پر چمگادڑ اُڑ رہے تھے،
پھڑ پھڑانے کی آوازیں ڈرائونی تھیں ۔ البرق نے آہستہ سے پکارا……''آصفہ!''…… لڑکی نے اُسے اپنانام بتادیا تھا اور میلے
میں یہ بھی بتادیاتھا کہ وہ کس طرح فروخت ہوئی ہے ۔
آپ آگئے ؟''……اسے آصفہ کی آواز سنائی دی۔ وہ برآمدے میں سے دوڑتی آئی اور البرق کے ساتھ چپک گئی ۔کہنے ''
لگی…… '' آپ کی خاطر جان کو خطرے میں ڈال کر آئی ہوں ۔مجھے جلدی واپس جانا ہے ۔بوڑھے کو شراب میں نیند کا
سفوف پالآئی ہوں ۔وہ جاگ نہ اُٹھے ''۔
کیا تم اُسے شراب میں زہر نہیں پالسکتی ؟''……البرق نے پوچھا۔''
میں نے کبھی قتل نہیں کیا''…… آصفہ نے کہا……''میں نے تو کبھی یہ بھی نہیں سوچاتھا کہ اس طرح کسی غیر مرد ''
''سے ملنے اس ڈرائونے کھنڈر میں آوں گی۔
اچانک ان کے پیچھے برآمدہ روشن ہوگیا ،جس کمرے میں سے البرق گزر کر آیاتھا ،اس میں سے دومشعلیں نکلیں ۔یہ لکڑیوں…
کے سروں پر تیل بھیگے ہوئے کپڑے لپیٹ کر بنائی گئی تھیں۔ اُن کے شعلے خاصے بڑے تھے۔ البرق نے آصفہ کو اپنے
پیچھے کرلیا۔ اس کے ہاتھ میں خنجر تھا۔ کیا یہ کھنڈر میں رہنے والی بدروحیں تھیں ؟یا لڑکی کے تعاقب میں اس کا خاوند
آگیاتھا؟… البرق ابھی سوچ ہی رہاتھا کہ ایک آواز گرجی …''دونوں کو قتل کردو''۔
مشعلیں قریب آئیں تو ا ُن کے ناچتے شعلوں میں البرق اور آصفہ کو چار آدمی نظر آئے ۔ایک کے ہاتھ میں برچھی اور تین
کے پاس تلواریں تھیں ۔ انہوں نے مشعلیں زمین میں گاڑ دیں۔ کھنڈر کا صحن روشن ہوگیا۔ چاروں آدمی البرق کے گرد بھوکے
بھیڑیوں کی طرح آہستہ آہستہ چکر میں چلنے لگے۔ آصفہ اس کے پیچھے تھی۔ برآمدے میں سے ایک اور آواز آئی…… ''مل
گئے ؟زندہ نہ چھوڑنا''……یہ لڑکی کے بوڑھے خاوند کی آواز تھی۔
آصفہ البرق کے عقب سے آگے آگئی ۔ اس نے حقارت اور غصے میں بوڑھے سے کہا……''آگے آو اور مجھے قتل کردو۔ میں
'' تم پر لعنت بھیجتی ہوں ۔میں اپنی مرضی سے یہاں آئی ہوں
چاروں مسلح آدمی اِ ن کے گرد کھڑے تھے ۔برچھی والے نے برچھی آہستہ آہستہ آصفہ کی طرف کی اور اس کی نوک اس کے
پہلو لگا کر کہا……''مرنے سے پہلے برچھی کی نوک دیکھ لو،لیکن تم سے پہلے یہ شخص تڑپ تڑپ کر تمہارے سامنے مرے
گا ،جس کی خاطر تم یہاں آئی ہو''۔
آصفہ نے جھپٹا مار کر برچھی پکڑلی اور جھٹکادے کر برچھی چھین لی۔ آصفہ البرق سے الگ ہوگئی اور للکار کر کہا……''آو،
آگے آو۔ میں دیکھتی ہوں کہ تم مجھ سے پہلے اس آدمی کو کس طرح قتل کرتے ہو''۔
البرق خنجر آگے کیے اس کے سامنے آگیا۔ لڑکی نے برچھی سے اس پروار کیا جس سے اس نے برچھی چھینی تھی۔وہ آدمی
پیچھے کو بھاگا۔ اس کے ساتھیوں نے البرق پر حملہ کرنے کی بجائے صرف پینترے بدلے ۔وہ البرق کو آسانی سے قتل کر
سکتے تھے ،مگر وہ بڑھ کر حملہ نہیں کررہے تھے ۔آصفہ کی للکار گرج رہی تھی ۔ وہ بڑھ کروار کرتی تھی ،مگر وار خالی
جاتاتھا۔ البرق نے ایک آدمی پر خنجر سے حملہ کیا تو دو آدمی اس کے پیچھے آئے ۔آصفہ ایک ہی جست میں اس کے
پیچھے ہوگئی ۔ا ُس کے ہاتھ میں لمبی برچھی تھی جو تلوار کا مقابلہ کر سکتی تھی ۔ خنجر تلوار کے مقابلے میں کچھ بھی
نہیں تھا۔ بوڑھا ایک طرف کھڑا اپنے آدمیوں کو للکاررہاتھا۔ تھوڑی سی دیر انہوں نے البر ق اور آصفہ پر حملے کیے۔ آصفہ اُن
پر ٹوٹ پڑتی تھی ۔ البرق وار بچاتا تھا اور خنجر سے وار کرنے کی کوشش کرتاتھا ،مگر عجیب امر یہ تھا کہ لڑکی کے
حملوں کے باوجود کوئی زخمی نہیں ہوا۔ بوڑھے کے آدمیوں نے بھی تیغ زنی کے جوہر دکھائے ،مگر البرق اور آصفہ کو خراش
تک نہ آئی ۔ اتنے میں بوڑھ نے کہا '' ُرک جاو''……اور لڑائی بند ہوگئی ۔
میں ایسی بے وفا لڑکی کو گھر میں نہیں رکھنا چاہتا''……بوڑھے نے کہا……''مجھے معلوم نہیں تھاکہ یہ اتنی دلیر اور ''
بہادر ہے ،اگر اسے میں زبردستی لے بھی گیا تو یہ مجھے قتل کردے گی''۔
میں تمہیں اس کی پوری قیمت دوں گا''……البرق نے کہا……''کہو ،تم نے اسے کتنے میں خریدا تھا''۔''
بوڑھا ہاتھ بڑھا کر آگے بڑھا اور البرق سے ہاتھ مال کر بوال……''میرے پاس دولت کی کمی نہیں ۔ میں یہ لڑکی تمہیں بخش
دیتا ہوں ۔اسے تمہارے ساتھ اتنی محبت ہے کہ تمہاری خاطر اتنے سارے آدمیوں کے مقابلے میں آگئی ہے ۔ میں اسے اس
لیے بھی تمہارے حوالے کرتاہوں کہ یہ جنگجو نسل کی لڑکی ہے ۔ میں تاجر اور سودا گرہوں ۔یہ کسی تم جیسے جنگجو کے
گھر میں اچھی لگے گی ۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ تم سلطان صالح الدین ایوبی کی حکومت کے حاکم ہو۔ میں سلطان کا وفادار
اور مرید ہوں ۔ میں تمہیں ناراض نہیں کرناچاہتا ،جاو۔ میں نے اسے طالق دی اور اسے تم پر حالل کردیا……چلو ،دوستو! انہیں
اکیال چھوڑ دو''……وہ مشعلیں اُٹھا کر چلے گئے ۔
البرق کی حیرت کی انتہا یہ تھی کہ اس کے پاوں تلے زمین ہلنے لگی ۔اسے یقین نہیں آرہاتھا ۔وہ اسے بوڑھے کا فریب
سمجھ رہاتھا۔ اسے یہ خطرہ نظر آرہاتھا کہ یہ لوگ راستے میں گھات لگاکر ان دونوں کو قتل کریں گے ۔ آصفہ کے ہاتھ میں
برچھی تھی ،وہ البرق نے لے لی اور کچھ دیر بعدکھنڈر سے نکلے ۔ وہ دائیں بائیں اور پیچھے دیکھتے تیز تیز چلنے لگے۔
ذراسی آہٹ سنائی دیتی تو وہ چونک کر ُرک جاتے ۔ ہر طرف اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کرتے اور آہستہ آہستہ چل
پڑتے ۔ شہر میں داخل ہوئے تو ان کی جان میں جان آئی ۔ آصفہ نے رک کر بازو البرق کے گلے میں ڈال دئیے اور
پوچھا۔''آپ کو مجھ پر اعتماد ہے یا نہیں ؟…… لڑکی نے اسے بے دام خرید لیاتھا۔اسے یہ تو اب پتہ چال تھا کہ لڑکی اسے
کیسی دیوانگی سے چاہتی ہے اور کتنی بہادر ہے ۔دراصل وہ لڑکی کے حسن پر مر مٹا تھا۔اُس کی بیوی اس کی ہم عمر تھی
۔آصفہ کو دیکھ کر اس نے محسوس کیا کہ وہ بیوی اس کے کام کی نہیں رہی ۔
ا ُس دور میں جب عورت فروخت ہوتی تھی ،گھر میں بیوی کی کوئی حیثیت نہیں تھی ۔ بیک وقت چار بیویاں تو خاوند اپنا
حق سمجھتا تھا ،لیکن جو پیسے والے تھے ،وہ دو دو چار خوب صورت لڑکیاں بغیر نکاح کے رکھ لیتے تھے ۔ مسلمان اُمراء
کو عورت نے ہی تباہ کیاتھا۔ ان کے ہاں یہ بھی رواج تھا کہ ایک آدمی کی بیویاں خاوند کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے
ڈھونڈ ڈھونڈ کر خوب صورت لڑکیاں خاوند کو بطور تحفہ پیش کرتی تھیں ۔
البرقی جب آصفہ کو ساتھ لیے گھر میں داخل ہواتو سب سوئے ہوئے تھے ۔صبح اس کی بیوی نے اپنے خاوند کے پلنگ پر
اتنی حسین لڑکی دیکھی تو اسے ذرہ بھر محسوس نہ ہوا کہ اس کا سہاگ اُجڑ گیاہے ،بلکہ وہ خوش ہوئی کہ اس کے اتنے
اچھے خاوند کو اتنی خوب صورت لڑکی مل گئی ہے ۔ اسکے آجانے سے وہ کچھ فرائض سے سبکدوش ہوئی تھی ۔البرق کی
حیثیت ایسی تھی کہ وہ ایسی ایک اور بیوی یا داشتہ رکھ سکتا تھا۔
صالح الدین ایوبی مسلمانوں کو عورت سے اور عورت کو مسلمانوں سے آزاد کرناچاہتا تھا۔ وہ ایک خاوند ایک بیوی کا حکم
نافذ کرنا چاہتاتھا ،مگر ابھی وہ ہر ا ُس امیر اور وزیر کو دشمن بنانے سے ڈرتاتھا جس نے کئی کئی لڑکیوں کوگھروں میں
رکھاہوا تھا۔عورت کے خریدار یہی لوگ تھے۔ انہی کی دولت سے عورت کھلی منڈی میں نیالم ہوتی تھی ۔اغوا کی وارداتیں
ہوتی تھیں ۔قتل اور خون خرابے ہوتے تھے اور ا ُمراء اور حاکموں کی زن پرستی کا ہی نتیجہ تھا کہ عیسائیوں اور یہودیوں نے
ِ
سلطنت اسالمیہ کی جڑوں میں زہر بھردیاتھا۔ اس کے عالوہ سلطان ایوبی کو یہ احساس بھی پریشان کیے
لڑکیون کی مدد سے
رکھتا تھا کہ یہی عورت مردوں کے دوش بدوش کفار کے خالف لڑاکرتی تھی ،مگر اب یہ عورت جہاد میں مرد کے لیے آدھی
قوت تھی ،مرد کی تفریح اور عیاشی کا ذریعہ بن گئی ہے ۔ اس سے صرف یہ نہیں ہوا کہ قوم کی آدھی جنگی قوت ختم
ہوگئی ہے ،بلکہ عورت ایک ایسا نشہ بن گئی ہے جس نے قوم کی مرادنگی کو بیکار کردیاہے ۔
سلطان ایوبی عورت کی عظمت بحال کرنا چاہتا تھا ۔اُس نے ایک منصوبہ تیار کررکھا تھا جس کے تحت وہ غیر شادی شدہ
لڑکیوں کو باقاعدہ فوج میں بھرتی کرنا چاہتا تھا۔ اسی کے تحت حرم بھی خالی کرنے تھے ،مگر ایسے احکام وہ اسی
صورت میں نافذ کرسکتاتھا کہ سلطنت کی خالفت یا امارت اس کے ہاتھ آجائے ۔ یہ مہم بڑی دشوار تھی ۔ اس کے دشمنوں
میں اپنو ں کی تعداد زیادہ تھی اور وہ جانتا تھا کہ قوم میں ایمان فروشوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ۔ اسے یہ معلوم نہیں
ہواتھا کہ اس کا ایک خاص بندہ اور حکومت کے رازو ں کا رکھواال ،خادم الدین البرق بھی ایک نوجوان حسینہ کو گھر لے
آیاہے اور یہ لڑکی اس کے اعصاب پر ایسی بُری طرح چھا گئی ہے کہ وہ اب فرائض سلطنت سے بے پرواہوسکتاہے ۔
فوجی میلے میں مصر کے لوگ سلطان ایوبی کی فوجی طاقت سے مرعوب نہیں ہوئے ،بلکہ اسے اسالمی اور مصری فوج
سمجھ کر اس سے متاثر ہوئے تھے ۔سلطان ایوبی تقریر یں کرنے واال حاکم نہیں تھا ،لیکن اس دن اتنے بڑے اجتماع سے اس
نے خطاب کرنا ضروری سمجھا۔ اس نے کہا کہ یہ فوج قوم کی عصمت کی محافظ اور اسالم کی پاسبان ہے ۔ اس نے
صلیبیوں کے عزائم تفصیل سے بیان کیے اور مصریوں کو بتایا کہ عرب میں مسلمان اُمراء اور حاکموں کی تعیش پرستی کی
وجہ سے صلیبیوں نے وہاں مسلمان کا جینا حرام کررکھا ہے ۔ وہ قافلوں کو لوٹ لیتے ہیں ،مسلمان لڑکیوں کو اغوا کرکے بے
آبرو کرتے ،پھر انہیں بیچ ڈالتے ہیں ……سلطان ایوبی نے لوگوں کو قومی جذبے سے آگاہ کرکے انہیں کہا کہ وہ فوج میں بھرتی
ہوکر اپنی بیٹیوں کی عصمت اور اسالم کی عظمت کی پاسبانی کریں۔ سلطان کی تقریر میں جوش تھا اور ایسا تاثر کہ
تماشائیوں کے دلوں میں ہلچل مچ گئی اور اسی روز جوان آدمی فوج میں بھرتی ہونے لگے۔
دس روز تک بھرتی ہونے والوں کی تعداد چھ ہزار ہوگئی ۔اس میں کم و بیش ڈیڑھ ہزار جوان اپنے اونٹ ساتھ الئے اور ایک
ہزار کے قریب گھوڑوں اور خچروں سمیت آئے ۔ سلطان نے انہیں جانوروں کا معاوضہ فوری طور پر اداکردیا اور فوج نے ان کی
ٹریننگ شروع کردی ۔
……میلے کے تین ماہ بعد
19:13
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
قسط نمبر20.۔ دوسری بیوی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
……میلے کے تین ماہ بعد
سلطان کی فوج میں تین جرائم کی رفتار بڑھنے لگی ……چوری ،جواء بازی اور رات کی غیر حاضری……یہ جرائم اس سے پہلے
بھی ہوتے تھے ،لیکن نہ ہونے کے برابر تھے ۔ فوجی میلے کے بعد یہ وبا کی صورت اختیار کرنے لگے۔ ان تینوں کی بنیاد
جواء بازی تھی ۔چوری کی وارداتیں اسی تک محدود تھیں کہ سپاہی سپاہی کی کوئی ذاتی چیز چرا کر بازار میں بیچ ڈالتا
تھا ،مگر ایک رات فوج کے تین گھوڑے غائب ہوگئے ۔سواروں اور سپاہیوں کی تعداد پوری تھی ۔کوئی بھی غیر حاضر نہیں
اعلی حکام تک رپورٹ پہنچی ۔انہوں نے
تھا ،اگر اس نقصان کو نظر انداز کردیاجاتا تو اگلی بار دس گھوڑے چوری ہوجاتے ۔
ٰ
فوجیوں کو تنبیہ کی ،سزاسے ڈرایا ،خدا سے ڈرایا مگر یہ تینوں جرائم بڑھتے گئے۔
ایک رات ایک سپاہی پکڑا گیا۔ وہ کہیں سے کیمپ میں آرہاتھا۔ اس سے پہلے رات کو غیر حاضر ہونے والے سپاہی چوری
چھپے سنتریوں سے بچ کر نکل جاتے اور بچتے بچاتے آجاتے تھے ،لیکن یہ سپاہی لڑکھڑاتا آرہاتھا ۔ سنتری نے اسے دیکھ لیا
اور اُسے پکارا ۔ سپاہی ُرک گیا اور گر پڑا ۔ سنتری نے دیکھا کہ یہ خون میں نہایا ہواتھا۔ اسے اُٹھا کر اپنے عہدے دار کے
پاس لے گیا۔ اس کی مرہم پٹی کی گئی ،مگر وہ زندہ نہ رہ سکا۔ مرنے سے پہلے اس نے بتایا کہ وہ اپنے ایک ساتھی
سپاہی کو قتل کر آیا ہے اور اس کی الش کیمپ سے نصف کوس دور ایک خیمے میں پڑی ہے ۔اس کے بیان کے مطابق وہاں
تین خیمے تھے ۔وہ لوگ خانہ بدوش تھے ۔ان کے پاس خوب صورت عورتیں تھیں ۔ وہ ان عورتوں کی نمائش فوجیوں میں
کرتے تھے ۔ رات کو سپاہی وہاں تک پہنچ جاتے تھے ،وہ دوسروں کو بتاتے تو وہ بھی چلے جاتے ۔
وہ خانہ بدوش صرف عصمت فروش نہیں تھے ۔ ان کی ہر عورت اپنے ہر فوجی گاہک کو یہ تاثر دیتی تھی کہ وہ اس پر
فدا ہے اور اس کے ساتھ شادی کر لے گی ۔بعد کی تحقیقات سے پتہ چال کہ انہوں نے سپاہیوں میں رقابت پیدا کردی تھی۔
اسی کا نتیجہ تھا کہ یہ دوسپاہی خانہ بدوشوں کے خیمے میں لڑپڑے ۔ ایک مارا گیا اور دوسرا زخمی ہوکر آیا اور بیان دے
کر مرگیا۔
دوسرے سپاہی کی الش النے کے لیے آدمی روانہ کردئیے گئے ۔ ان کے ساتھ ایک کمان دار بھی تھا۔ مرنے والے سپاہی نے
راستہ اور جگہ بتادی تھی ۔ وہاں گئے تو دیکھا کہ سپاہی کی الش پڑی ہے ۔ خیمے نہیں ہیں ،وہاں کے نشان بتارہے تھے
کہ یہاں سے خیمے اُکھاڑے گئے ہیں ۔ رات کے وقت اُن کی تالش ممکن نہیں تھی ۔ سپاہی کی الش اُٹھاالئے ۔اس حادثے
کی رپورٹ سلطان ایوبی کو دی گئی اور یہ بھی بتایا گیا کہ فوج میں جرائم بڑھ گئے ہیں اور تین گھوڑے بھی چوری ہوچکے
ہیں ۔سلطان نے علی بن سفیان کو بال کر کہا کہ وہ سپاہیوں کے بھیس میں اپنے سراغ رساں فوج میں شامل کرکے معلوم
کرے کہ یہ جرائم کیوں بڑھ گئے ہیں ۔سلطان نے اس سلسلے میں البرق کو بھی حکم دیا۔
اس ''کیوں ''کا جواب شہر کے اندر موجود تھا ،جہاں تک علی بن سفیان کے سراغ رساں کی رسائی محال تھی ۔ یہ
ایک بہت بڑا قلعہ نما مکان تھا۔ مصریوں کا ایک کنبہ نہیں ،بلکہ پورا خاندان اس میں رہتاتھا۔ اس مکان اور مکینوں کو شہر
میں عزت حاصل تھی ،کیونکہ یہاں خیرات بہت تقسیم ہوتی تھی ۔ناداروں کو یہاں سے مالی مدد ملتی تھی ۔فوجی میلے
میں اس خاندان نے سلطان ایوبی کو اشرفیوں کی دو تھیلیاں فوج کے لیے پیش کی تھی ۔ یہ سودا گر خاندان تھا۔ مصرمیں
سلطان ایوبی کے آنے سے پہلے یہ مکان سوڈانی فوج کے بڑے رتبے والوں اور انتظامیہ کے حاکموں کی مہمان گاہ بنارہاتھا۔
سوڈانیوں کو سلطان ایوبی نے آکر ختم کردیا تو اس خاندان کی وفاداریاں حکومت کے ساتھ رہیں اور یہ سلطان ایوبی کا وفادار
ہوگیا۔
جس روز سلطان ایوبی نے البرق اور علی بن سفیان کو حکم دیا کہ وہ فوج میں جرائم کی وبا کی وجوہات معلوم کریں ،اس
سے اگلی رات اس مکان کے ایک کمرے میں دس بارہ آدمی بیٹھے تھے ۔شراب کا دور چل رہاتھا۔ کمرے میں ایک بوڑھا
آڈمی داخل ہوا۔اسے دیکھ کر سب اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ا سکے ساتھ ایک بڑی خوب صورت لڑکی تھی جس کا آدھا چہرہ نقاب
میں تھا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی دروازہ بند کردیاگیا اور لڑکی نے نقاب اُٹھادیا ۔وہ بوڑھے کے ساتھ بیٹھ گئی ۔
امیر مصر تک اطالع پہنچ گئی ہے کہ فوج میں جوئے بازی اور بدکاری بڑھ گئی ہے ''۔ بوڑھے نے کہا……''ہماری آج''
کل
ِ
کی یہ نشست بہت اہم ہے ۔امیر نے سپاہیوں کے بھیس میں فوج میں سراغ رساں شامل کرنے کا حکم دے دیاہے ۔ ہمیں ان
سراغ رسانوں کو ناکام کرنا ہے ۔تازہ اطالع بڑی ہی ا ُمید افزاہے ۔ دومصری سپاہیوں نے ایک عورت پر لڑ کر ایک دوسرے کو
''قتل کردیاہے ،یہ ہمای کامیابی کی ابتدا ہے ۔
تین مہینوں میں صرف ایک مسلمان سپاہی نے دوسرے کو قتل کیا اور خود بھی قتل ہواہے ''۔ ایک آدمی نے بوڑھے کی''
بات کاٹ کر کہا……''کامیابی کی یہ رفتار بہت سست ہے۔ کامیابی ہم اسے کہیں گے جب ایوبی کا کوئی نائب ساالر اپنے
ساالر کو قتل کردے گا''۔
میں کامیابی اسے کہوں گا کہ جب کو ئی ساالر یا نائب ساالر صالح الدین ایوبی کو قتل کرد ے گا ''۔ بوڑھے نے کہا ''
……'' مجھے معلوم ہے کہ ایک ہزار سپاہی قتل ہوجائیں تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمارامقصد نظر ایوبی کا قتل ہے ۔آپ
سب کو پچھلے سال کے دونوں واقعات یاد ہوں گے۔ساحل پر سلطان ایوبی پر تیر چالیا گیا اور وہ خطا گیا۔ روم سے آدمی
آئے ،وہ ایسے ناکام ہوئے کہ سب کے سب مارے گئے اور ایک بد بخت مسلمان ہوگیا۔ اس سے کیا ظاہر ہوتاہے ؟……یہ کہ
سلطان کو قتل کرنا آسان نہیں جتنا آپ لوگ سمجھتے ہیں ۔یہ بھی ہوسکتاہے کہ ایوبی قتل ہوجائے تو اس کا جانشین اس
سے زیادہ سخت اور کٹر مسلمان ثابت ہو۔ اس لیے یہ طریقہ زیادہ بہتر ہے کہ اس کی فوجوں کو اس خوب صورت تباہی کے
راستے پر ڈال دو ،جس پر صلیب کے پرستاروں نے بغداد اور دمشق کے مسلمان اُمراء اور حاکموں کو ڈال دیاہے ''۔
صلیب کے پرستاروں اور سوڈا نیوں کو شکست کھائے ایک سال گزر گیاہے ''۔ ایک نے کہا……''اس ایک سال میں آپ ''
نے کیاکیاہے؟……محترم !آپ بڑا لمبا راستہ اختیار کررہے ہیں ۔دو آدمیوں کا قتل بے حد الزمی ہے ۔ایک صالح الدین ایوبی ،
دوسرا علی بن سفیان ''۔
اگر علی بن سفیان کو ختم کردیاجائے تو ایوبی اندھا اور بہرہ ہوجائے گا''۔ ایک اور نے کہا۔''
میں نے وہ آنکھیں حاصل کرلی ہیں جو سلطان ایوبی کے سینے کے ہر ایک راز کو دیکھ سکتی ہیں''۔ بوڑھے نے کہااور ''
اس لڑکی کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا جو اس کے ساتھ آئی تھی ۔بوڑھے نے کہا……''یہ ہیں وہ آنکھیں ۔دیکھ لو اِن آنکھوں میں
کیا جادو ہے ۔تم سب نے صالح الدین ایوبی کے ایک حاکم خادم الدین البرق کانام سنا ہوگا۔تم میں سے بعض نے اسے دیکھا
بھی ہوگا۔ صرف دو آدمی ہیں جو صالح الدین ایوبی کے سینے میں دیکھ سکتے ہیں ۔ایک علی ،دوسرا البرق ۔علی بن
سفیان کو قتل کرنا حماقت ہوگی ،میں نے جس طرح البرق پر قبضہ کر لیاہے ،اسی طرح علی پر بھی کرلوں گا''۔
البرق آپ کے قبضے میں آچکاہے ؟……ایک نے پوچھا ۔''
ہاں! ''بوڑھے نے لڑکی کے ریشمی بالوں کو ہاتھ سے چھیڑ کر کہا……''میں نے اسے اِن زنجیروں میں جکڑ لیاہے ۔ میں''
نے آج آپ سب کو چند اور باتیں بتانے کے عالوہ یہ خوش خبری بھی سنانے کے لیے بالیاہے ۔ہمیں جلدی برخاست
ہوناہے ،کیونکہ ہم سب کا ایک جگہ اکٹھا ہونا ٹھیک نہیں ۔اس لڑکی کو تم سب شاید جانتے ہو۔ مجھے بالکل اُمید نہیں تھی
کہ یہ اتنی ا ُستادی سے یہ ڈرامہ کھیل لے گی۔اس کی عمر دیکھئے ،پختہ نہیں ہے ۔ میں پورے ایک سال ایسے موقع کی
تالش میں مارا مارا
پھر تارہا کہ علی بن سفیان یا البرق کو یادونوں کو پھانس سکوں ۔میں ان سے مال کبھی نہیں ،کیونکہ میں ان کی شناخت
میں نہیں آنا چاہتاتھا تھا۔ فوجی حکام کو سلطان شہریوں سے دور رکھتا تھا۔آخر اس نے فوجی میلے کا اعالن کیا اور مجھے
پتہ چل گیا کہ اس نے اپنے فوجی کمان داروں ،ساالروں اور عہدے داروں سے کہاہے کہ میلے میں وہ شہریوں میں بیٹھیں اور
ان سے باتیں کریں اور ان پر اپنا رعب نہیں ،بلکہ اعتماد پیدا کریں ۔ مجھے علی بن سفیان کہیں نظر نہیں آیا۔ اس لڑکی
کو میں ساتھ لے گیا تھا ،البرق نظر آگیا۔ اس کے ساتھ دوکرسیاں خالی تھیں ۔ میں نے لڑکی کو اس کے پاس بٹھادیا۔ اسے
میں آٹھ مہینوں سے استادی طریقے سکھارہاتھا۔ مجھے اپنا بوڑھا خاوند اور اپنے آپ کو خرید ی ہوئی مظلوم لڑکی بتاکر اس
نے البرق جیسے مومن کو اپنی خوب صورتی میں گرفتار کرلیا۔ مالقات کا وقت اور جگہ طے کرلی ۔ میں نے اسے بتایا کہ
اسے کھنڈر میں کیاناٹک کھیلناہے ۔لڑکی کھنڈر میں چلی گئی ۔میں چار آدمیوں کے ساتھ وہاں موجود تھا۔ دوآدمی اس وقت
یہاں موجود ہیں ۔دوکو آپ سب نہیں جانتے ۔ وہ ہمارے گروہ کے آدمی ہیں۔اس نے البرق پر ثابت کردیا کہ یہ اس کی خاطر
جان دے دے گی۔ ہمارے چاروں ساتھیوں نے البرق پر اور اس پر تلواروں سے حملے کیے ۔ اس نے برچھی کے وار کیے ۔یہ
ناٹک اس قدر حقیقی معلوم ہوتاتھا کہ البرق کو شک تک نہ ہوا۔ کم بخت کے دماغ میں یہ بھی نہ آئی کہ تلواروں کے اور
برچھی کے اتنے وار ہوئے ،مگر کوئی زخمی تک نہ ہوا۔میں نے یہ کہہ کر یہ کھیل ختم کیا کہ یہ لڑکی اتنی بہادر ہے کہ
کسی بہادر کے پاس ہی اچھی لگتی ہے ۔ میں نے اسے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے البرق کے حوالے کردیا''۔
میں نے اسے اپنا نام آصفہ بتارکھاہے ''۔ لڑکی نے کہا……''میں حیران ہوں کہ اتنی پختہ عمر کا حاکم اتنی آسانی سے ''
میرے جال میں پھنس گیاہے ۔میں نے اسے شراب کا عادی بنادیاہے ۔اس نے کبھی نہیں پی تھی ۔ پہلی بیوی اسی گھر میں
رہتی ہے ۔ا سکے بچے بھی ہیں ،لیکن وہ سب کو جیسے بھول گیاہے ''……لڑکی نے محفل کو تفصیل سے بتایا کہ اس نے
کیسے کیسے طریقوں سے سلطان ایوبی کے اس معتمد خاص کی عقل کو اپنی مٹھی میں لے رکھا ہے ۔
ان تین مہینوں میں یہ لڑکی مجھے صالح الدین ایوبی کے کئی قیمتی راز دے چکی ہے ''۔بوڑھے نے کہا…… ''سلطان ''
ایوبی بہت زیادہ فوج تیار کررہاہے ۔ اس میں سے وہ آدھی مصر میں رکھے گا اور باقی نصف کو اپنی کمان میں عیسائی باد
شاہوں کے خالف لڑانے کے لیے جائے گا۔ اس کی نظر یروشلم پر ہے ،لیکن البرق سے اس لڑکی نے جو راز لیے ہیں ،وہ
یہ ہیں کہ سلطان سب سے پہلے اپنے مسلمان حکمرانوں اور قلعہ داروں کو متحد کرے گا ۔ ان کے اتحاد کو صلیب کے
پرستاروں نے بالکل اسی طرح بکھیر دیاہے جس طریقے سے ہم نے البرق کو اپنے قبضے میں لیاہے ''۔
تو کیا ہم یہ سمجھیں کہ البرق اب ہمارے گروہ کافرد ہے؟''……ایک آدمی نے پوچھا۔''
نہیں ''۔بوڑھے نے جواب دیا۔ ''وہ سچے ِد ل سے ایوبی کا وفادار ہے ۔ وہ اتناہی وفادار اس لڑکی کا بھی ہے۔یہ لڑکی ''
سلطان ،قوم اور اسالم کی وفاداری کا اظہار ایسے والہانہ طریقے سے کرتی ہے کہ البرق اسے ،قوم کی جانباز بیٹی سمجھتا
ہے
اس لڑکی کے حسن و جوانی اور محبت کے عملی اظہار کا جادو الگ ہے ۔ البرق کو ہم اپنے ساتھ نہیں مالسکتے ۔ ضرورت
ہی کیا ہے ۔وہ پوری طرح ہمارے ہاتھوں میں کھیل رہاہے ''۔
سلطان ایوبی اور کیا کرنا چاہتاہے؟''۔اس گروہ کے ایک ُرکن نے پوچھا۔''
ِ
سلطنت اسالمیہ ہے ''۔ بوڑھے نے کہا۔''وہ صلیب کی سلطنت میں اسالم کا جھنڈا گاڑنے کا منصوبہ ''
اس کے ذہن میں
بناچکاہے ۔ہمارے ان جاسوسوں کو جو سمند رپار سے آئے ہیں ،ایوبی نے گرفتار اور بے کار کرنے کے لیے علی بن سفیان کی
نگرانی میں ایک بہت بڑا گروہ تیار کیاہے۔ البرق سے حاصل کی ہوئی اطالعات کے مطابق اس نے جانبازوں کی ایک الگ
فوج تیار کی ہے ،جسے وہ صلیبی ملکوں میں بھیج کر جاسوسی اور تباہی کرائے گا۔ اس فوج کی ٹریننگ شروع ہوچکی
ہے ۔صالح الدین ایوبی کے منصوبے بہت خطرناک ہیں ۔ انہی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اس نے فوجی میلے کا ڈھونگ
رچایا اور چھ سات ہزار جوان بھرتی کر لیے ہیں ۔لوگ ابھی تک بھرتی ہورہے ہیں ۔بھرتی ہونے والوں میں سوڈانی بھی
ہیں ۔مجھے اوپر سے جو ہدایات ملی ہیں ،وہ یہ ہیں کہ ایوبی کی فوج میں بدکاری کے بیج بونے ہیں ۔ اس کا طریقہ یہ ہے
کہ ان کے دلوں میں عورت اور جواء داخل کردو''۔
بوڑھے نے بتایا کہ اس نے فوجی میلے کے فورا ً بعد اپنے آدمی بھرتی کرادئیے تھے ۔انہوں نے بڑی خوبی سے فوج میں جواء
شروع کرادیاہے ۔جواء اور عورت ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو چوری اور قتل تک لے جاتی ہیں ۔اس نے دوسرا طریقہ یہ
بتایا کہ عصمت فروش عورتوں کو ٹریننگ دے کر فوجی کیمپوں کے ارد گرد چھوڑدیاگیاہے ،جو یہ ظاہرنہیں ہونے دیتیں کہ وہ
پیشہ ور ہیں ۔انہوں نے سلطان کے فوجیوں کو بدی کے راستے پر ڈالنے کے ساتھ ساتھ ان میں رقابت بھی پیدا کردی ہے ۔
بوڑھے نے کہا……''اس کی کامیابی پر سوں سامنے آئی ہے۔دوسپاہی ایک عورت کے خیمے میں بیک وقت پہنچ گئے ۔دونوں
لڑپڑے اور ایک دوسرے کو بُ ری طرح زخمی کردیا۔ایک تو خیمے میں ہی مرگیا۔ دوسرے کے متعلق پتہ چال کہ کیمپ میں جاکر
مرگیاہے ……یہ رپورٹ سلطان ایوبی تک پہنچ گئی ہے۔ اس نے علی بن سفیان اور البرق کو حکم دیاہے کہ فوجوں میں اپنے
ہے۔لہذا آپ سب ان تمام
سراغ رساں بھیج کر معلوم کریں کہ جواء بازی ،چوری چکاری اور بدکاری کیوں بڑھتی جارہی
ٰ
عورتوں سے جو اسی کام میں مصروف ہیں ،کہہ دیں کہ کیمپوں کے قریب نہ جائیں ''۔
اسی مجلس میں یہ بھی بتایا گیا کہ آصفہ جس کا اصلی نام کچھ اور تھا ،پانچویں ،چھٹی رات اس بوڑھے کو اطالع دینے
جاتی ہے جو وہ البرق سے حاصل کرتی ہے ،جس رات اُسے باہر نکلنا ہوتاہے ،وہ البرق کو شراب میں ایک خاص سفوف
گھول کر پالدیتی ہے۔ا سکے اثر سے صبح تک اس کی آنکھ نہیں کھل سکتی ۔ مجلس میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ مصرکے
شہریوں اور قصبوں میں خفیہ قحبہ خانے اور قمار خانے قائم کردئیے گئے ہیں ۔ان کے اثرات اُمید افزا ہیں ۔تربیت یافتہ
عورتیں اچھے اچھے گھرانوں کے نوجوانوں کو بدکاری کے راستے پر ڈالتی جارہی ہیں ۔اب کوشش یہ کی جائے گی کہ مسلمان
لڑکیوں میں بھی بے حیائی کا رجحان پیدا کیا جائے۔
یہ محفل جو جاسوسوں کا ایک خفیہ اجالس تھا ،برخاست ہوئی ۔ وہ سب اکٹھے باہر نہ نکلے ۔ایک آدمی باہر جاتاتھا۔ دس
پندرہ منٹ بعد دوسرا آدمی نکلتاتھا۔ بوڑھا بھی چالگیاتھا۔ صرف آصفہ اور ایک آدمی رہ گیا ۔آصفہ نے نقاب میں چہرہ چھپایا
اور اس آدمی کے ساتھ نکل گئی ۔
البرق نے آصفہ کو ایک راز بناکے رکھا ہواتھا۔ اس نے ابھی کسی کونہیں بتایا تھا کہ اس نے دوسری شادی کرلی ہے ۔دوسری
شادی معیوب نہیں تھی ،لیکن وہ ڈرتاتھا کہ دوست مذاق کریں گے کہ اتنا عرصہ ایک بیوی کے ساتھ گزار کر چالیس سال کی
عمر میں نوجوان لڑکی کے ساتھ شادی کرلی ،مگر یہ بھید چھپ نہ سکا۔ علی بن سفیان نے شہر میں اور فوجی کیمپوں کے
ارد گرد اپنے جاسوس پھیالرکھے تھے ۔اسے یہ اطالع مل رہی تھی کہ فوجی میلے کے بعد شہر میں بھی جواء اور بدکاری
بڑھ رہی ہے۔ ایک روز ایک سراغ رساں نے علی بن سفیان کو یہ رپورٹ دی کہ گزشتہ تین مہینوں میں اس نے چار بار
دیکھا ہے کہ خادم الدین البرق کے گھر سے رات اُس وقت جب سب سوجاتے ہیں ،ایک عورت سیاہ لبادے میں لپٹی ہوئی
نکلتی ہے۔وہ تھوڑی دور جاتی ہے تو ایک آدمی اس کے ساتھ ہوجاتاہے ۔سراغ رساں نے بتایا کہ دوبار اس نے یہیں تک
دیکھا ،تیسری بار اس نے اس عورت کا پیچھا کیا ،وہ اس آدمی کے ساتھ ایک مکان میں چلی گئی ۔وہاں سے کچھ دیر بعد
نکلی اور اُس آدمی کے ساتھ واپس چلی گئی۔
اس سراغ رساں نے بتایا کہ اس نے اس عورت کو گزشتہ رات گھر سے نکلتے ،ایک آدمی کے ساتھ جاتے دیکھا تو تعاقب
کیا۔وہ اسی مکان میں داخل ہوگئی ۔ذراسی دیر بعد وہ ایک آدمی کے ساتھ مکان سے نکلی ۔وہ دونوں شہر کے ایک بہت
بڑے مکان میں داخل ہوگئے ۔سراغ رساں مکان سے ُدور ُد ور رہا۔بہت ساوقت گزرجان کے بعد اس مکان سے ایک ایک کرکے
گیارہ آدمی نکلے ۔ آخر میں وہ عورت ایک آدمی کے ساتھ نکلی ۔سراغ رساں اندھیرے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ان کے تعاقب
میں گیا۔ البرق کے مکان سے کچھ ُد ور آدمی ایک اور طرف چال گیااور عورت البرق کے مکان میں داخل ہوگئی۔
سراغ رساں البرق جیسے حاکم کے گھر کے متعلق کوئی بات کہنے کی جرٔات نہیں کرسکتاتھا ،لیکن علی بن سفیان کی ہدایات
اور احکام بڑے ہی سخت تھے۔ اس نے اپنے جاسوسوں ،مخبروں اور سراغ رسانوں سے کہہ رکھاتھا کہ وہ سلطان ایوبی کی
کسی حرکت کو شک سے دیکھیں تو بھی اسے بتائیں اور وہ کسی کے رتبے کا لحاظ نہ کریں ،جہاں انہیں کسی قسم کا شک
ہو،خواہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو،وہ علی بن سفیان کو تفصیل سے بتائیں ۔یہ سبق جاسوسی کی ٹریننگ میں شامل تھا کہ
جاسوسی کی کامیابی کا دارومدار ایسی ہی حرکتوں اور با توں سے ہوتاہے ،جنہیں بے معنی سمجھ کر نظر انداز کردیاجاتاہے۔
اس سراغ رساں نے چار مرتبہ جو مشاہدہ کیاتھا ،وہ علی بن سفیان کے لیے اہم تھا ،وہ البرق کی بیوی ک اچھی طرح
جانتاتھا ،وہ ایسی عورت نہیں تھی کہ راتوں کو کسی غیر مرد کے ساتھ باہر جائے ۔البرق کی کوئی جوان بیٹی بھی نہیں
تھی۔ یہ تو کسی کو بھی علم نہ تھا کہ البرق نے ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ شادی کر لی ہے ۔اس نے اس مسئلے پر بہت
غور کیا ،اُسے یہ خیال بھی آگیا کہ البرق اس کا دوست بھی ہے ۔اُسے حق پہنچتا تھاکہ اس کے دوست کے گھر میں کوئی
گڑبڑہے اس کے لیے کچھ کرے ،مگر اس کے ذہن میں جوسوچ غالب تھی ،وہ یہ تھی کہ شہر میں مشکوک عورتوں کا ریال سا
آگیاتھا۔ کہیں ایسا تونہیں کہ البرق کسی بدکار عورت کے چکر میں آگیاہو؟ایک طریقہ اس کے دماغ میں آگیا۔ اس نے اپنے
محکمے کی ایک عورت کو اس روپ میں البرق کے گھر میں بھیجا کہ وہ ایک مظلوم عورت ہے ۔ا س کا خاوند مرگیاہے اور
لہذا اس کی مدد کی جائے ۔
اس کے بیٹے آوارہ ہوگئے ہیں ٰ ،
ہدایت کے مطابق یہ عورت ا ُس وقت البرق کے گھر میں گئی جب وہ گھر میں نہیں تھا۔ دوسری ہدایت کے مطابق و ہ سارے
گھر میں پھری تو ا ُسے آصفہ نظر آگئی۔ یہ عورت البرق کی پہلی بیوی سے ملی ۔اپنی ''فریاد'' پیش کی اور کہا کہ وہ )
البرق کی پہلی بیوی( البرق سے اس کی سفارش کرے ۔باتوں باتوں میں اس نے کہا ……''آپ کی بیٹی کی شادی ہوگئی ہے
یا ابھی کنواری ہے؟'' ……اسے جواب مال ……''یہ میری بیٹی نہیں ،میرے خاوند کی دوسری بیوی ہے ۔تین مہینے ہوئے
انہوں نے شادی کی ہے''۔
علی بن سفیان کے لیے یہ اطالع حیران کن تھی۔اس کے دل میں یہی شک پیدا ہوگیا کہ رات کو باہر جانے والی اس کی
نئی بیوی ہوسکتی ہے ۔علی نے ایک اور عورت کے ہاتھ البرق کی پہلی بیوی کو پیغام بھیجاکہ وہ اُسے کہیں باہر ملنا چاہتا
ہے ،مگر البرق کو پتہ نہ چلے ،اس نے یہ بھی کہال بھیجا کہ ان کے گھر کے متعلق کوئی بہت ہی ضروری بات کرنی
ہے۔ علی نے مالقات کے لیے ایک جگہ بھی بتادی اور وقت وہ بتا دیا جب البر ق دفتر میں مصروف ہوتاتھا…… وہ آگئی ۔
علی بن سفیان کے دل میں اس معزز عورت کا بہت ہی احترام تھا ۔اس نے البرق کی بیوی سے کہا کہ اسے معلوم ہوا ہے
کہ البرق نے دوسری شادی کرلی ہے ۔بیوی نے جواب دیا……''خدا کا شکر ہے کہ اس نے دوسری شادی کی ہے ۔چوتھی اور
پانچویں نہیں کی''۔
''باتیں کرتے کرتے علی بن سفیان نے پوچھا ۔''وہ کیسی ہے؟
بہت خوب صورت ہے ''۔بیوی نے جوا ب دیا۔''
شریف بھی ہے ؟''…… علی بن سفیان نے پوچھا ……''آپ کو اس پر کسی قسم کا شک تو نہیں؟…… کچھ دیر تک وہ ''
گہری سوچ میں پڑی رہی ۔علی نے کہا……''اگر میں یہ کہوں کہ وہ کبھی کبھی رات کو باہر چلی جاتی ہے تو آپ بُرا تو
''نہ جانیں گی ؟
وہ ُم سکرائی اور کہنے لگی……''میں خود پریشان تھی کہ یہ بات کس سے کروں ۔ میرے خاوند کا یہ حال ہے کہ اس کا
غالم ہوگیاہے ۔ مجھ سے تو اب بات بھی نہیں کرتا۔ میں اس لڑکی کے خالف خاوند کے ساتھ بات کروں تو وہ مجھے گھر
سے نکال دے ۔وہ سمجھے گا کہ میں حسد سے شکایت کررہی ہوں ۔یہ لڑکی صاف نہیں ۔ ہمارے گھر میں شراب کی بو
بھی کبھی نہیں آئی تھی ۔ اب وہاں مٹکے خالی ہوتے ہیں ''۔
''شراب ؟'' علی بن سفیان نے چونک کر پوچھا……''البرق شراب بھی پینے لگاہے ؟''
صرف پیتا نہیں ''۔بیوی نے کہا ……''بد مست اور مدہوش ہوجاتا ہے۔میں نے چھ بار اس لڑکی کو رات کے وقت باہر ''
جاتے اور بہت دیر بعد آتے دیکھا ہے ۔میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جس رات لڑکی کو باہر جاناہوتا ہے ،ا س رات البرق بے
ہوش ہوتاہے ۔صبح بہت دیر سے اُٹھتا ہے ۔ لڑکی بدمعاش ہے ۔اسے دھوکہ دے رہی ہے''۔
لڑکی بدمعاش نہیں''۔ علی بن سفیان نے کہا…''وہ جاسوس ہے۔و ہ البرق کو نہیں ،قوم کو دھوکہ دے رہی ہے''۔''
جاسوس ؟'' بیوی نے چونک کر کہا……''میرے گھر میں جاسوس ؟'' وہ اُٹھ کھڑی ہوئی ۔دانت پیس کر بولی……''آپ ''
جانتے ہیں کہ میں شہید کی بیٹی ہوں ۔البرق پکا مسلمان تھا ۔ اس نے زندگی اسالم کے نام پر وقف کررکھی تھی۔میں بچوں
کو جہاد کے لیے تیار کرہی ہوں اور آپ کہتے ہیں کہ میرے بچوں کا باپ ایک جاسوس لڑکی کے قبضے میں آگیا ہے۔ میں
اپنے بچوں کے باپ کو قربان کرسکتی ہوں ،قوم اور اسالم کو قربان ہوتا نہیں دیکھ سکتی ۔ میں دونوں کو قتل کردوں
گی''۔
علی بن سفیان نے اسے بڑی مشکل سے ٹھنڈا کیا اور اسے سمجھا یا کہ ابھی یہ یقین کرنا ہے کہ یہ لڑکی جاسوس ہے اور
یہ بھی دیکھنا ہے کہ البرق بھی جاسوسوں کے گروہ میں شامل ہوگیاہے یا اسے شراب پال کر صرف استعمال کیاجارہاہے ۔
اس عورت کو یہ بھی بتایا گیا کہ جاسوسوں کو قتل نہیں ،گرفتار کیا جاتاہے اور ان کے دوسرے ساتھیوں کے متعلق پوچھا
جاتاہے ۔ علی بن سفیان نے اسے کچھ ہدایات دیں اور اُسے کہا کہ وہ لڑکی کی ہر حرکت پر نظر رکھے ……یہ عورت چلی
گئی ۔یوں معلوم ہوتاتھا جیسے علی بن سفیان کی ہدایات پر ٹھنڈے دل سے عمل کرے گی ،مگر اس کی چال اور اسکے
انداز سے یہ بھی معلوم ہوتاتھا کہ کسی بھی وقت بے قابوہوجائے گی ۔ وہ حرم کی عورت نہیں تھی ،وہ خاوند کی وفادار
بیوی اور ملک و ملت پر جان نثار کرنیوالی قوم کی بیٹی تھی۔
٭ ٭ ٭
خادم الدین البرق اور علی بن سفیان صرف رفیق کار ہی نہیں تھے۔ ان کی گہری دوستی بھی تھی۔وہ ہم عمر تھے ۔ انہوں
نے اکٹھے معرکے لڑے تھے۔ دونوں سلطان ایوبی کے پرانے ساتھی تھے ۔ اتنی گہری دوستی کے باوجود البرق نے علی بن
سفیان سے دوسری شادی چھپا رکھی تھی ۔علی کو معلوم ہواتو اس نے البرق کے ساتھ اس ضمن میں کوئی بات نہیں کی۔
وہ اس کی بیوی کی مدد سے اس کے گھر کا معمہ حل کرنے کی کوشیشوں میں لگا ہواتھا۔ اس نے البر ق کے مکان اور اُس
مکان کے درمیان اپنے جاسوسوں میں اضافہ کردیا تھا ،جہاں البرق کی نئی بیوی رات کو جایا کرتی تھی ۔البرق کی پہلی بیوی
کے ساتھ باتیں کیے دو راتیں گزر گئی تھیں ۔ لڑکی باہر نہیں نکلی تھی۔ جاسوس پوری پوری رات بیدار رہے تھے۔
تیسری رات ،نصف شب سے ذرا پہلے علی بن سفیان گہری نیند سویا ہوا تھا۔ اس نے اپنے عملے اور اپنے مالزموں سے کہہ
رکھا تھا کہ وہ جب چاہیں اسے جگا سکتے ہیں۔وہ ان حاکموں سے مختلف تھا جو کسی کو آرام میں مخل ہونے کی اجازت
نہیں دیتے تھے ۔ا ُس رات علی کو مالزم نے گہری نیند سے بیدار کیا اور کہا……''عمرآیا ہے،گھبرایا ہواہے''۔
علی بن سفیان کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح کمرے سے نکال ،صحن دوتین چھالنگوں میں عبور کیا اور ڈیوڑھی سے باہر
نکل گیا۔ اس کے عملے کا ایک آدمی باہر کھڑا تھا۔اس نے کہا …… ''مال زم کو دوڑائیں ۔دس بارہ سوار فورا ً منگوائیں۔ اپنا
گھوڑا جلدی تیار کریں،پھر آپ کو بتاتا ہوں کہ کیا ہواہے''۔
علی بن سفیان نے مالز کو چودہ مسلح سوار اور اپنا گھوڑا اور تلوار النے کو دوڑا یا اور عمر سے پوچھا…''کہو کیا بات
ہے''۔
عمر اور آذر نام کے دوجاسوس آصفہ کو دیکھنے کے لیے متعین تھے۔ علی بن سفیان نے انہیں حکم دے رکھا تھا کہ لڑکی
گھر سے نکل کر کہیں جائے تو اسے فورا ً اطالع دی جائے ۔ عمر بڑی خطرناک اطالع لے کر آیا۔ اس نے بتایا کہ تھوڑی دیر
گزری ،البرق کے گھر سے سیاہ چادر میں سر سے پائوں تک لپٹی ہوئی ایک عورت نکلی ۔پچاس ساٹھ گز آگے گئی تو
البرق کے گھر سے اسی لباس میں ایک اور عورت نکلی ۔وہ بہت تیز تیز اگلی عورت کے پیچھے چلی گئی۔جب اُس سے ذرا
ُدور رہ گئی تو اگلی عورت ُرک گئی۔ دونوں جاسوس چھپے ہوئے تھے۔ انہیں کوئی دیکھ نہ سکا۔ وہ تعاقب بھی چھپ کر
کرتے تھے دونوں عورتوں میں نہ جانے کیا بات ہوئی۔ ان میں سے ایک نے تالی بجائی ،کہیں قریب سے ایک آدمی نکال ۔
اس نے بعد میں آنے والی عورت کو پکڑنا چاہا۔ عورت نے اس پر کسی ہتھیار کا وار کیا جو اندھیرے میں نظر نہیں آتا تھا۔ا
س آدمی نے بھی اس پر کسی ہتھیار سے وار کیا۔
جو عورت پہلے آئی تھی ،اس کی آواز سنائی دی……''اِسے اُٹھا کر لے چلو''……دوسری عورت نے اس پر وار کیا۔ اس کی
چیخ سنائی دی۔ دوسری عورت نے اس پر ایک اور وار کیا اور آدمی کا وار بچایا بھی ۔ دونوں عورتیں زخمی ہوگئیں تھیں ۔
عمر علی بن سفیان کو اطالع دینے دوڑ پڑا۔آذر وہیں چھپا رہا۔اُسے یہ دیکھنا تھا کہ یہ لوگ کہاں جاتے ہیں۔
علی بن سفیان نے اس قسم کے ہنگامی حاالت کے لیے تیز رفتار اور تجربہ کار لڑا کا سواروں کا ایک دستہ تیار رکھا ہوا تھا۔
یہ سوار اپنے گھوڑوں کے قریب سوتے تھے ۔ زینیں اور ہتھیار اُن کے پاس رہتے تھے ۔ انہیں یہ مشق کرائی جاتی تھی کہ
رات کے وقت ضرورت پڑنے پر وہ چند منٹوں میں تیار ہوکر ضرورت کی جگہ پہنچیں ۔وہ اس قدر تیز ہوگئے تھے کہ علی بن
سفیان کے مالزم نے دستے کے کمان دار کو اطالع دی کہ چودہ سوار بھیج دو تو وہ علی بن سفیان کے کپڑے بدلنے اور اس
کا گھوڑا تیار ہونے تک پہنچ گئے ۔
علی بن سفیان کی قیادت اور عمر کی راہنمائی میں وہ واردات کی جگہ پہنچے ۔دوسواروں کے ہاتھوں میں ڈنڈوں کے ساتھ
تیل میں بھیگے ہوئے کپڑوں کی مشعلیں تھیں ،وہاں دو الشیں پڑی تھیں ۔علی بن سفیان نے گھوڑے سے اُتر کر دیکھا ،ایک
البرق کی پہلی بیوی تھی ،دوسرا آذر تھا ،عمر کا ساتھی۔دونوں زندہ تھے اور خون میں ڈوبے ہوئے تھے ۔آذر نے بتایا کہ وہ
البرق کی بیوی کو پھینک کر چلے گئے تو وہ اس کے پاس گیا۔ اچانک پیچھے سے کسی نے اُس پر خنجر کے تین وار کیے۔
وہ سنبھل نہ سکا،حملہ آور بھاگ گیا۔ آذر نے بتایا کہ دوسری عورت البرق کے گھر کی طرف نہیں گئی ،بلکہ اُدھر گئی ہے،
جہاں وہ پہلے جایا کرتی تھی ۔عمر کو اس گھر کا علم تھا۔
علی بن سفیان نے دو سواروں سے کہا کہ وہ دونوں زخمیوں کو فورا ً جراح کے پاس لے جائیں اور ان کا خون روکنے کی
کوشش کریں ۔ باقی سواروں کو وہ عمر کی راہنمائی میں اُس مکان کی طرف لے گیا ،جہاں آصفہ پہلے کئی بار جاتے دیکھی
گئی تھی ۔ وہ پرانے زمانے کا بڑا مکان تھا۔ اس سے ملحق کئی اور مکان تھے۔ پچھواڑے سے گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز
آئی ۔علی نے اپنے سواروں کو مکان کے دونوں طرف سے پیچھے بھیجا۔دوسواروں کو مکان کے سامنے کھڑا کردیا اور کہا کہ
کوئی بھی اندر سے نکلے تو اسے پکڑ لو ،بھاگنے کی کوشش کرے تو پیچھے سے تیر مارو اور ختم کردو۔
سوار ابھی چکر کاٹ کر پچھواڑے کی طرف جاہی رہے تھے کہ دوڑتے گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دینے لگے۔ علی بن سفیان نے
ایک سوار سے کہا…''سر پٹ جائو ،اپنے کمان دار سے کہو کہ اس مکان کو گھیرے میں لے کر اندر داخل ہو جائیں ،اندر
کے تمام افراد کو گرفتار کرلے''… سوار کیمپ کی طرف روانہ ہوگیا۔علی بن سفیان نے بلند آواز سے اپنے جاسوسوں کو حکم
دیا…''ایڑ لگائو ،تعاقب کرو۔ ایک دوسرے کو نظر میں رکھو''۔…اور اس نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی ۔یہ رسالے کے چنے
خراج تحسین حاصل کرچکے تھے ۔مفرور بھی شاہ سوار معلوم
ہوئے گھوڑے تھے اور ان کے سوار سلطان ایوبی سے کئی بار
ِ
ہوتے تھے ۔ا ُن کے گھوڑوں کے ٹاپو بتاتے تھے کہ اچھی نسل کے بہت تیز دوڑنے والے گھوڑے ہیں۔یہ شہر کا عالقہ تھا ،جہاں
مکان کی رکاوٹیں تھیں ۔گلیاں تھیں ،جو گھوڑوں کی دوڑ کے لیے کشادہ نہیں تھیں ،اِن سے آگے کھال میدان تھا۔
اندھیرے میں گھوڑے نظر نہیں آتے تھے ۔ ا ُن کی آوازوں پر تعاقب ہورہاتھا۔ وہ جب کھلے میدان میں گئے تو اُن کا چھپنا
مشکل ہوگیا ۔ا ُفق کے پس منظر میں وہ سایوں کی طرح صاف نظر آنے لگے۔وہ چار تھے۔ انہوں نے کم و بیش ایک سو گز کا
فاصلہ حاصل کرلیاتھا۔ وہ پہلو بہ پہلو جارہے تھے ۔علی بن سفیان کے حکم پر دوسواروں نے اسی رفتار سے گھوڑے دوڑآتے
ہوئے تیر چالئے ۔تیر شاید خطا گئے تھے ،بھاگنے والے دانش مند معلوم ہوتے تھے ۔تیر ان کے قریب سے یا درمیان سے گر
ے تو انہوں نے گھوڑے پھیالدئیے۔وہ اکٹھے جارہے تھے ۔ان کے گھوڑے کھلنے لگے۔ نہایت اچھے طریقے سے گھوڑے ایک
دوسرے سے خاصے دور ہٹ گئے ۔ علی بن سفیان کا دستہ بہت تیز تھا ،فاصلہ کم ہوتا جارہاتھا،مگر بھاگنے والوں کے گھوڑے
اور زیادہ ایک دوسرے سے ہٹتے جارہے تھے۔ آگے کھجور کے پیڑو ں کا جھنڈ آگیا۔اُن کے گھوڑے وہاں اس طرح ایک دوسرے
سے دورہٹ گئے کہ دو دائیں طرف اور دو کھجوروں کے بائیں طرف ہوگئے ۔یہ جگہ اونچی تھی ،گھوڑے اوپر اُٹھے اور غائب
ہوگئے ۔
تعاقب کرنے والے بلند ی پر گئے تو انہیں آگے جو بھاگتے سائے نظر آئے ،وہ ایک دوسرے سے بہت ہی ُدور ہوگئے تھے ۔پھر
وہ اتنی دور دور ہوگئے کہ ان کے ُر خ ہی بدل گئے ۔علی بن سفیان جان گیا کہ وہ اس کے سواروں کو منتشر کرنا چاہتے ہیں
۔ علی نے بلند آواز سے کہا…'' ہر سوار کے پیچھے تقسیم ہوجائو۔ ایک دوسرے کو بتادو۔ ایڑ لگاو ،فاصلہ کم کرو ،کمانوں میں
تیر ڈال لو''۔
سوار تقسیم ہوگئے ۔سب نے کندھوں سے کمانیں ا ُتار کر تیر ڈال لیے اور تقسیم ہوکر ایک ایک گھوڑے کے پیچھے گئے ۔ ان
کے گھوڑوں کی رفتار اور تیز ہوگئی ۔ٹاپوئوں کے شور و غل میں کمانوں سے تیر نکلنے کی آوازیں سنائی دیں ۔ کسی نے
للکار کر کہا……'' ایک کو مارلیا ،گھوڑا بے قابو ہوگیاہے ''……ادھر علی بن سفیان کے ساتھ جو دوسوار تھے ،انہوں نے بیک
وقت تیر چالئے ۔ اندھیرے میں تیر خطاجانے کاڈر تھا اور تیر خطا جابھی رہے تھے ۔ پھر بھی انہوں نے ایک اور گھوڑے کو
نشانہ بنالیا۔ یہ گھوڑا بے قابو ہوکر اور گھوم کر پیچھے کو آیا ۔ ایک سوار نے اس کی گردن میں برچھی ماری ۔ دوسرے نے
اپنے گھوڑے سے جھک کر اس کے پیٹ میں برچھی داخل کردی ،مگر گھوڑا توانا تھا ،گرانہیں۔سوار زندہ پکڑ ناتھا۔ علی کے
ایک سوار نے بازو بڑھا کر ایک سوار کی گردن جکڑ لی نیچے گھوڑا زخمی تھا۔ وہ ُرکتے ُرکتے رک گیا۔ اس پر ایک آدمی
سوار تھااور ایک لڑکی جسے سوار نے آگے بٹھا رکھا تھا۔ لڑکی شاید بے ہوش تھی۔
صحرا کی تاریک رات میں اب کسی سر پٹ دوڑ تے گھوڑے کے ٹاپو نہیں سنائی دیتے تھے ۔سواروں کی آوازیں اور ُدلکی
چلتے گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دیتے تھے۔ سوار ایک دوسرے کو پکار رہے تھے ۔ان کی آوازوں سے پتہ چلتاتھا کہ انہوں نے
بھاگنے والوں کو پکڑ لیاہے۔ علی بن سفیان نے سب کو اکٹھا کرلیا۔ بھاگنے والے پکڑے گئے تھے۔ ان کے دوگھوڑے زخمی
تھے۔ ان گھوڑوں کو مرنے کے لیے صحرامیں چھوڑدیاگیا۔ بھاگنے والے پانچ تھے۔ چار آدمی اور ایک لڑکی۔ لڑکی گر پڑی
تھی ۔ بھاگنے والوں میں سے ایک نے کہا……''ہمارے ساتھ تم لوگ جو سلوک کرنا چاہوکر لو ،مگر یہ لڑکی زخمی ہے۔ہم
َ''اُمید رکھیں گے کہ تم اسے پریشان نہیں کروگے
ایک گھوڑے کی زین کے ساتھ مشعل بندھی ہوئی تھی ۔کھول کر جالئی گئی ۔لڑکی کو دیکھا گیا۔ بہت ہی خوب صورت اور
نوجوان لڑکی تھی ۔اس کے کپڑے خون سے سرخ ہوگئے تھے۔ اس کے کندھے پر ،گردن کے قریب ،خنجر کا گہرا زخم تھا۔ اس
سے اتناخون نکل گیا تھا کہ لڑکی کا چہرہ الش کی طرح سفید اور آنکھیں بند ہوگئی تھیں۔ علی بن سفیان نے زخم میں ایک
جراح تک پہنچے ۔ وہاں
کپڑا ٹھونس کر اوپر ایک اور کپڑا باندھ دیا اور اُسے ایک گھوڑے پر ڈال کر سوار سے کہا کہ جلدی
ّ
جلدی کا تو سوال ہی نہیں تھا،وہ شہر سے میلوں ُدور نکل گئے تھے ۔قیدیوں میں ایک بوڑھا تھا۔
یہ قافلہ جب قاہرہ پہنچا تو صبح طلوع ہورہی تھی ۔ سلطان کو رات کے واقعہ کی اطالع مل گئی تھی ۔علی بن سفیان
ہسپتال گیا ۔جراح اور طبیب قیدی لڑکی کی مرہم پٹی میں اور ہوش میں النے میں مصروف تھے ۔سوار نے اسے تھوڑی دیر
پہلے پہنچا دیاتھا۔ البرق کی پہلی بیوی اور آذر ہوش میں آگئے تھے،مگر اُن کی حالت تسلی بخش نہیں تھی۔سلطان ایوبی
ہسپتال میں موجود تھا۔ اس نے علی بن سفیان کو الگ کرکے کہا۔''میں بہت دیر سے یہاں ہوں۔میں نے البرق کو بالنے کے
لیے دو آدمی بھیجے تو اس نے عجیب بات بتائی ہے۔وہ کہتاہے کہ البرق ہوش میں نہیں ۔اس کے کمرے میں شراب کے
پیالے اور صراحی پڑی ہے ۔کیا وہ شراب بھی پینے لگاہے؟اُسے اتنا بھی ہوش نہیں کہ اس کی بیوی گھر سے باہر زخمی پڑی
ہے۔میں نے اس کی بیوی سے ابھی کوئی بات نہیں کی ۔طبیب نے منع کردیاہے''۔
اس کی ایک نہیں ،دوبیویاں زخمی ہیں''……علی بن سفیان نے کہا ……''یہ لڑکی جسے ہم نے صحرا سے جا کر پکڑا ہے''،
البرق کی دوسری بیوی ہے۔ذرازخمیوں کو بولنے کے قابل ہونے دیں۔ہم نے بہت بڑا شکار ماراہے''۔
البرق سورج نکلنے کے بعد جاگا۔ مالزم کے بتانے پر وہ دوڑتا آیا۔اس کی دونوں بیویاں زخمی پڑی تھیں ۔ اسے چاروں جاسوس
دکھائے گئے۔ وہ بوڑھے کو دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ اسے وہ آصفہ کا بوڑھا خاوند سمجھتارہاتھا۔ سلطان ایوبی نے یہ واردات
اپنی تحویل میں لے لی ،کیونکہ یہ جاسوسوں کے پورے گروہ کی واردات تھی اور اس میں اس کا معتمد ملوث تھا جسے فوج
کے تمام راز اور آئندہ منصوبے معلوم تھے۔
جوں ہی زخمی بیان دینے کے قابل ہوئے ،ان سے بیان لیے گئے ۔ان سے یہ کہانی یوں بنی کہ البرق کی پہلی بیوی کو
جب علی بن سفیان نے بتایا کہ اس کے خاوند کی دوسری بیوی مشتبہ چال چلن کی ہے اور وہ جاسوس معلوم ہوتی ہے تو
وہ سخت غصے کے عالم میں گھر چلی گئی۔ وہ اپنے خاوند کو اور آصفہ کو قتل کردینا چاہتی تھی ،لیکن علی بن سفیان نے
ا ُسے کہاتھا کہ جاسوسوں کو زندہ پکڑا جاتاہے،تاکہ ان کے چھپے ہوئے ساتھیوں کا سراغ لیاجاسکے۔ اس نے اپنے آپ پر قابو
پایا اور آصفہ پر گہری نظر رکھنے لگی۔ اس نے رات کا سونا بھی ترک کردیا تھا
موقع دیکھ کر اس نے ان کے سونے والے کمرے کے اس دروازے میں چھوٹا سا سوراخ کرلیا جو دوسرے کمرے میں کھلتاتھا۔
رات کو اس سوراخ میں سے انہیں دیکھتی رہتی تھی۔دو راتیں تو اس نے یہی دیکھا کہ لڑکی البرق کو شراب پالتی تھی اور
عریانی کا پورا مظاہرہ کرتی تھی ۔ وہ سلطان ایوبی کی باتیں ایسے انداز سے کرتی تھی جیسے وہ اس کا پیر اور مرشد ہو۔
صلیبیوں کو بُ را بھال کہتی اور وہی باتیں کرتی جو سلطان ایوبی کے جنگی منصوبے میں شامل تھیں۔البرق اسے بتاتا تھا کہ
سلطان کیا کررہاہے اور کیا سوچ رہا ہے ۔
19:14
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
قسط نمبر21.۔ دوسری بیوی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سلطان کیا کررہاہے اور کیا سوچ رہاہے
البرق کی پہلی بیوی نے دوراتیں یہی کچھ دیکھا اور سنا ۔تیسری رات وہ ناٹک کھیالگیا جس کا البرق کی پہلی بیوی کو بے
تابی سے انتظار تھا۔ آصفہ نے البرق کو شراب پالنی شروع کی اور اسے بالکل حیوان بنادیا۔ آصفہ دونوں پیالے اُٹھا کر اور یہ
کہہ کر دوسرے کمرے میں چلی گئی…''دوسری التی ہوں''…وہ واپس آئی تو پیالوں میں شراب تھی۔اس نے ایک پیالہ البرق
کودے دیا ۔ دوسرا خود منہ سے لگا لیا۔ اس کے بعد اس نے البرق کو آہستہ آہستہ بالیا۔ وہ نہ بوال ،پھر اسے ہالیا۔ ہاتھ
سے اس کے پپوٹے اوپر کیے،مگر ااس کی آنکھیں نہ کھلیں ۔اس نے پیالے دوسرے کمرے میں لے جا کر شراب میں بے ہوش
کرنے والی کوئی چیز البرق کے پیالے میں مالدی تھی۔
آصفہ نے کپڑوں کے اوپر سیاہ چادر اس طرح لے لی کہ سر سے پائوں تک چھپ گئی ۔ آدھی رات ہونے کوتھی۔ اس نے
قندیل بجھائی اور باہر نکل گئی۔پہلی بیوی آگ بگولہ ہوگئی۔ اس نے خنجر اُٹھایا۔ اوپر لباد اوڑھا ،وہ کمرے سے نکلنے لگی تو
دیکھا کہ آصفہ ایک مالزمہ کے ساتھ ک ُھسر پُھسر کررہی تھی۔ اس سے پتہ چال کہ مالزمہ کو اس نے ساتھ مالرکھاتھا۔ آصفہ
باہر نکل گئی ۔مالزمہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔پہلی بیوی بڑے دروازے سے باہر نکل گئی ۔ وہ تیزتیز چلتی آصفہ کے تعاقب
میں گئی۔وہ اس کے قدموں کی آہٹ پر جارہی تھی۔وہ صرف یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ کہاں جارہی ہے۔آصفہ کو شاید اس
کے قدموں کی آہٹ سنائی دی تھی۔ وہ ُرک گئی۔پہلی بیوی اندھیرے میں اچھی طرح دیکھ نہ سکی ۔وہ آصفہ کے قریب چلی
گئی اور ُر ک گئی۔ اچانک آمنے سامنے آجانے سے پہلی بیوی فیصلہ نہ کر سکی کہ کیا کرے ۔ اس کے منہ سے نکل
گیا…''کہاں جارہی ہوآصفہ؟
پہلی بیوی کو معلوم نہ تھا کہ لڑکی کی حفاظت کے لیے آدمی چھپ چھپ کر اس کے ساتھ جاتاہے جو کسی کو نظر نہیں
آتا۔ آصفہ نے اپنے ہاتھ پر پاتھ مارا اور البرق کی پہلی بیوی سے ہنس کر کہا…'' آپ میرے پیچھے آئی ہیں یا کہیں جارہی
ہیں؟''…اتنے میں پیچھے سے کسی نے پہلی بیوی کو بازوئوں میں جکڑ لیا ،مگر اس عورت نے گرفت مضبوط ہونے سے پہلے
ہی جسم کو زور سے جھٹکادیا اور آزاد ہوگئی ۔اس نے تیزی سے خنجر نکال لیا۔ اس کے سامنے ایک آدمی تھا۔ عورت نے
اس پر وار کیا جو وہ بچاگیا۔ آدمی نے ایسا وار کیا کہ خنجر عورت کے پہلو میں اُترگیا۔ اس آدمی نے دیکھ لیاتھا کہ عورت
کے پاس خنجر ہے۔وہ فورا ً پیچھے ہٹ گیا۔ پہلی بیوی نے آصفہ پر حملہ کیا اور خنجر اس کی گردن اور کندھے کے درمیان
ا ُتاردیا۔لڑکی نے زور سے چیخ ماری۔ آدمی نے پہلی بیوی پر وار کیا جو یہ عورت پھرتی سے بچاگئی ۔ اس نے وار کیاتو اس
آدمی نے اس کابازو اپنے بازو سے روک لیا ۔
آصفہ گرپڑی تھی ۔البرق کی پہلی بیوی کوبھی گہرا زخم آیاتھا جو پہلو سے پیٹ تک چالگیا تھا۔ وہ ڈگمگانے لگی ۔وہ آدمی
آصفہ کو ا ُٹھا کر کہیں چال گیا۔ علی بن سفیان کے دوجاسوس عمر اور آذر چھپ کر دیکھ رہے تھے ۔انہیں معلوم نہیں تھا کہ
دوسری عورت کون ہے ۔عمر اس آدمی کے پیچھے چھپ چھپ کر گیا جو آصفہ کو اُٹھالے گیاتھا۔ وہ اسی مکان میں لے گیا
جہاں وہ جایا کرتی تھی ۔وہاں سے عمر علی بن سفیان کو اطالع دینے چالگیا۔آذر نے بتایا کہ وہ وہیں چھپا رہا۔ زخمی
عورت وہیں پڑی تھی وہاں اور کوئی نہ تھا۔ آذر اس عورت کے پاس جاکر بیٹھ گیاپیچھے سے کسی نے اس پر خنجر سے
تین وار کیے اور حملہ آور بھاگ گیا۔ آذر وہیں بے ہوش ہوگیا۔
شام تک البرق کی پہلی بیوی اور آذر کی حالت بگڑ گئی ۔جراحوں اور طبیبوں نے بہت کوشش کی ،مگر وہ زندہ نہ رہ سکے۔
البرق کی بیوی نے علی بن سفیان سے کہاتھا کہ میں اپنے خاوند کو قربان کرسکتی ہوں اسالم اورقوم کی عزت کو قربان ہوتا
نہیں دیکھ سکتی ۔اس نے قوم کے نام پر جان دے دی۔
سلطان ایوبی کے حکم سے خادم الدین البرق کو قید خانے میں ڈال دیاگیا ۔اس نے یقین دالنے کی ہر ممکن کوشش کی کہ
اس نے یہ جرم دانستہ نہیں کیا۔وہ ان لوگوں کے ہاتھوں میں بے وقوف بن گیاتھا ،مگر یہ ثابت ہوچکاتھا کہ اس نے حکومت
اور فوج کے راز شراب اور حسین لڑکی کےنشے میں دشمن کے جاسوسوں تک پہنچائے ہیں ۔سلطان ایوبی قتل کا جرم بخش
سکتاتھا ۔شراب خوری اور عیاشی کا اور دشمن کو راز دینے کے جرم نہیں بخشا کرتاتھا۔
آصفہ سے اس روز کوئی بیان نہ لیاگیا۔ اس پر زخم کا اتنا اثر نہیں تھا ،جتنا خوف کا تھا۔وہ جاسوس لڑکی تھی ۔ سپاہی
نہیں تھی ۔ا سے شہزادی کے روپ میں شہزادوں سے بھید لینے کی ٹریننگ دی گئی تھی ۔ اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ
اس کا یہ حشر بھی ہوسکتاہے ۔اس پر زیادہ خوف اس کا تھا کہ وہ مسلمانوں کی قیدی ہے اور مسلمان اسے بہت خراب
کریں گے۔ ایک خطرہ یہ بھی اسے نظر آیاتھا کہ مسلمان اس کے زخم کا عالج نہیں کریں گے۔
ا س نے اس خطرے کا اظہار ہر ا ُس آدمی سے کیا جو س کے قریب گیا۔ وہ ڈرے ہوئے بچے کی طرح روتی تھی ۔ علی بن
سفیان نے اسے بہت تسلی دی کہ اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو کسی مسلمان زخمی عورت کے ساتھ کیاجاتاہے ،
مگر وہ سلطان ایوبی سے ملنا چاہتی تھی ۔ آخر سلطان کو بتایا گیا۔
سلطان ایوبی اس کے پاس اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ اس حالت میں وہ اسے اپنی بیٹھی سمجھتا ہے ۔
میں نے سناتھا کہ سلطان ایوبی تلوار کا نہیں ،دل کا بادشاہ ہے''……آصفہ نے روتے ہوئے کہا……''اتنا بڑا بادشاہ جسے ''
شکست دینے کے لیے عیسائیوں کے سارے بادشاہ اکٹھے ہوگئے ہیں ۔ایک مجبور لڑکی کو دھوکا دیتے اچھا نہیں لگتا ……ان
لوگوں سے کہو کہ مجھے فور ا ً زہر دے دیں۔ میں اس حالت میں کوئی اذیت برداشت نہیں کرسکوں گی''۔
کہو تو میں ہروقت تمہارے پاس موجود رہوں گا''…… سلطان ایوبی نے کہا۔''میں تمہیں دھوکہ بھی نہیں دوں گا ،اذیت ''
بھی نہیں دوں گا ،مگر وعدہ کرو کہ تم بھی مجھے دھوکہ نہیں دوگی ،تم ذرا اور بہتر ہولو ،طبیب نے کہاہے کہ تم ٹھیک ہو
جاوگی۔ اگر تمہیں اذیت دینی ہوتی تو میں اسی حالت میں قید خانے میں ڈال دیتا ۔تمہارے زخم پر نمک ڈاال جاتا۔ تم چیخ
چیخ اور چالچال کر اپنے جرم اور اپنے ساتھیوں سے پردے اُٹھاتیں ،مگر ہم کسی عورت کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیاکرتے۔
البرق کی بیوی مرگئی ہے،لیکن تمہیں زندہ رکھنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے''۔
میں ٹھیک ہوجاوں گی تو میرے ساتھ کیا سلوک کروگے؟''اس نے پوچھا۔''
یہاں تمہیں کوئی مرد اس نظر سے نہیں دیکھے گا کہ تم ایک نوجوان اور خوب صورت لڑکی ہو''……سلطان ایوبی نے ''
کہا……''تم یہ خدشہ دل سے نکال دو۔ تمہارے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو اسالمی قانون میں لکھاہے''۔
اس مکان کی تالشی لی گئی تھی جہاں آصفہ جایا کرتی تھی ۔ وہ کسی کا گھر نہیں تھا۔ جاسوسوں کا اڈہ تھا۔ اندر اصطبل
بناہواتھا ۔ اندر سے پانچ آدمی برآمد ہوئے تھے ،انہیں گرفتار کرلیاگیا تھا۔ان پانچ نے ان چاروں نے جنہیں تعاقب میں پکڑا
گیاتھا ،جرم کا اعتراف کرنے سے انکار کردیا۔ آخر انہیں اس تہہ خانے میں لے گئے جہاں پتھر بھی بول پڑتے تھے۔بوڑھے نے
تسلیم کرلیا کہ اس نے اس لڑکی کو دانے کے طور پر پھینک کر البرق کو پھانسا تھا۔ اس نے سارا ناٹک سنادیا۔دوسروں نے
بھی بہت سے پردے ا ُٹھائے ا ور اس مکان کا راز فاش کیا ،جسے شہر کے لوگ احترام کی نگاہوں سے دیکھتے تھے ۔اس
مکان میں بہت سی لڑکیاں رکھی گئی تھیں جو دومقاصد کے لیے استعمال ہوتیں۔ایک جاسوسی کے لیے اور حاکموں اور اونچے
گھرانے کے مسلمان نوجوانوں کے اخالق تباہ کرنے کے لیے وہ جاسوسوں اور تخریب کاروں کا اڈہ تھا۔
ان جاسوسوں نے یہ بھی بتایا کہ سلطان ایوبی کی فوج میں انہوں نے اپنے آدمی بھرتی کرادئیے ہیں ،جنہوں نے سپاہیوں میں
جوئے بازی کی عادت پیدا کردی ہے ۔وہ ہاری ہوئی بازی جیتنے کے لیے ایک دوسرے کے پیسے چراتے اور چور بنتے جارہے
ہیں ۔ شہر میں انہوں نے پانچ سو سے کچھ زیادہ فاحشہ عورتیں پھیالدی ہیں جو نوجوانوں کو پھانس کر انہیں عیاشی کی راہ
پر ڈال رہی ہیں ۔خفیہ قمار خانے بھی کھول دئیے گئے ہیں ۔ان لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ اُن سوڈانیوں کو سلطان کے خالف
بھڑ کایا جارہاہے ،جنہیں فوج سے نکال دیاگیاتھا۔ سب سے اہم انکشاف یہ تھا کہ انہوں نے چھ ایسے مسلمان افسروں کے نام
بتائے جو سلطان ایوبی کی حکومت میں اہم حیثیت رکھتے تھے مگر سلطان ایوبی کے خالف کام کررہے تھے ۔ آصفہ عیسائی
لڑکی تھی اس کانام فلیمنگو بتایا گیا۔ وہ یونانی تھی ۔اسے تیرہ سال کی عمر سے اس کام کی ٹریننگ دی جارہی تھی۔ اسے
مصر کی زبان سیکھائی گئی ۔ایسی سینکڑوں لڑکیاں مسلمان عالقوں میں استعمال کرنے کے لیے تیار کی گئی تھیں ،جنہیں
چوری چھپے اِدھر بھیجا گیاتھا۔
اس لڑکی نے بھی کچھ نہ چھپایا۔ پندرہ روز بعد اس کا زخم ٹھیک ہوگیا۔اسے جب بتایا گیا کہ اُسے سزائے موت دی جارہی
ہے تو اس نے کہا……''میں خوشی سے یہ سزاقبول کرتی ہوں ۔میں نے صلیب کا مشن پورا کردیا ہے''……اسے جالد کے
حوالے کردیاگیا۔
دوسروں کی ابھی ضرورت تھی ۔ان کی نشاند ہی پر چند اور لوگ پکڑے گئے ،جن میں چند ایک مسلمان بھی تھے۔ان سب
کو سزائے موت دی گئی ۔البرق کو ایک سو بید کی سزادی گئی جو وہ برداشت نہ کرسکا اور مرگیا۔ا سکے بچوں کو سلطان
ایوبی نے سرکاری تحویل میں لے لیا۔ ان کے لیے سرکاری خرچ پر مالزمہ اور اتالیق مقرر کیے گئے ۔وہ البرق کے بچے
نہیں ،ایک مجاہدہ کے بچے تھے ۔ان کی ماں شہید ہوگئی تھی۔
.دوسری بیوی کا قصہ یہیں تمام ہوتا ہے
19:15
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
"قسط نمبر22.۔ "ام عرارہ کا اغواہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جون ١١٧١ء کا وہ دن مصر کی گرمی سے جل رہاتھا ،جس دن خلیفہ العاضد کے قاصد نے آکر صالح الدین ایوبی کوپیغام دیا
کہ خلیفہ یاد ّفرمارہے ہیں۔ سلطان ایوبی کے تیور بدل گئے۔اس نے قاصد سے کہا……''خلیفہ کو بعد از سالم کہنا کہ کوئی بہت
ضروری کام ہے توبتادیں میں آجاوں گا۔اس وقت مجھے ذراسی بھی فرصت نہیں۔ انہیں یہ بھی کہنا کہ میرے سامنے جو کام
پڑے ہیں ،وہ حضور کے دربار میں حاضری دینے کی نسبت زیادہ ضروری اور اہم ہیں''۔
قاصد چالگیا اور سلطان ایوبی بے چینی سے کمرے میں ٹہلنے لگا۔ وہ فاطمی خالفت کا دور تھا۔ مصر میں اس خالفت کا
خلیفہ العاضد تھا۔ ا ُس دور کا خلیفہ بادشاہ ہوتاتھا۔ جمعہ کے خطبے میں ہر مسجد میں خدا اور رسول ۖ کے بعد خلیفہ کانام
لیاجاتا تھا۔ عیش و عشرت کے سوا ان لوگوں کے پاس کوئی کام نہ تھا۔ اگر نورالدین زنگی اور صالح الدین ایوبی نہ ہوتے
ِ
سلطنت اسالمیہ کو بیچ
یاوہ بھی دوسرے امراء وزراء کی طرح خوشامدی اور ایمان فروش ہوتے تو اس دور کے خلیفوں نے تو
کھایا تھا۔العاضد ایسا ہی ایک خلیفہ تھا۔صالح الدین ایوبی مصر میں گور نر بن کر آیا تو ابتداء میں خلیفہ نے اسے کئی بار
بالیاتھا۔سلطان ایوبی سمجھ گیا کہ خلیفہ اسے صرف اس لیے بالتا ہے کہ اُسے یہ احساس رہے کہ حاکم ایوبی نہیں ،خلیفہ
ہے۔وہ سلطان ایوبی کا احترام کرتاتھا۔اسے اپنے ساتھ بٹھاتاتھا،مگر اس کا انداز شاہانہ اور لب و لہجہ آمرانہ ہوتاتھا۔۔اس نے
سلطان ایوبی کو جب بھی بالیا،بالمقصد بالیا اور رخصت کردیا۔ صلیبیوں کو بحیرٔہ روم میں شکست دے کر اور سوڈانی فوج کی
بغاوت کو ختم کرکے صالح الدین ایوبی نے خلیفہ کو ٹالنا شروع کردیاتھا۔
اس نے خلیفہ کے محل میں جو شان و شوکت دیکھی تھی ،اس نے اس کے سینے میں آگ لگارکھی تھی۔محل میں زر و
جواہرات کا یہ عالم تھا کہ کھانے پینے کے برتن سونے کے تھے۔ شراب کی صراحی اور پیالوں میں ہیرے جڑے ہوئے تھے۔
حرم لڑکیوں سے بھراپڑاتھا۔ ان میں عربی ،مصری ،مراکشی ،سوڈانی اور تُرک لڑکیوں کے ساتھ ساتھ عیسائی اور یہودی لڑکیاں
بھی تھیں ۔یہ اس قوم کا خلیفہ تھا جسے ساری ُدنیا میں اللہ کا پیغام پھیالنا تھا اور جسے ُدنیائے کفر کی جنگی قوت کا
سامنا تھا۔ سلطان ایوبی کو خلیفہ کی کچھ اور باتیں بھی کھائے جارہی تھیں ۔ایک یہ کہ خلیفہ کا ذاتی حفاظتی دستہ سوڈانی
حبشیوں اور قبائلیوں کاتھا جن کی وفاداری مشکوک تھی۔دوسرے یہ کہ خلیفہ کے دربار میں سو ڈان کی باغی اور برطرف کی
ہوئی فوج کے کمان دار اور نائب ساالر خصوصی حیثیت کے مالک تھے۔
قصر خالفت میں نوکروں ااور اندر کے دیگر کام کرنے والوں کے بھیس میں
صالح الدین ایوبی کی ہدایت پر علی بن سفیان نے
ِ
اپنے جاسوس بھیج دئیے تھے۔ خلیفہ کے حرم کی دو عورتوں کو بھی اعتماد میں لے کر جاسوسی کے فرائض سونپے گئے
تھے۔ ان جاسوسوں کی اطالعوں کے مطابق ،خلیفہ سوڈانی کماند داروں کے زیر اثر تھا۔ وہ ساٹھ پینسٹھ سال کی عمر کا بوڑھا
تھا ،لیکن خوب صورت عورتوں کی محفل میں خوش رہتاتھا۔ اس کی اسی کمزوری سے صالح الدین ایوبی کے مخالفین فائدہ
اُٹھا رہے تھے۔ ١١٧١ء کے دوسرے تیسرے مہینے میں خلیفہ کے حرم میں ایک جوان اور غیر معمولی طور پر حسین لڑکی کا
اضافہ ہواتھا۔ حرم کی جاسوس عورتوں نے علی بن سفیان کو بتایا تھا کہ تین چار آدمی آئے تھے جو عربی لباس میں تھے۔
وہ اس لڑکی کو الئے تھے۔ان کے پاس بہت سے تحفے بھی تھے۔ لڑکی بھی تحفے کے طور پر آئی تھی۔ اس کانام ا ُ ِم عرارہ
بتایا گیا تھا۔ اس میں خوبی یہ تھی کہ خلیفہ العاضد پر اس نے جادو ساکر دیاتھا۔ بہت ہی چاالک اور ہوشیار لڑکی تھی ۔
قصر خالفت کی ان تمام خرافات کا علم تھا مگر حکومت پر اس کی گرفت ابھی اتنی مضبوط نہیں ہوتی
سلطان ایوبی کو
ِ
تھی……کہ وہ خلیفہ کے خالف کو ئی کاروائی کرسکتا۔ اس سے پہلے کے گورنر اور امیر خلیفہ کے آگے جھکے رہتے تھے ۔اسی
لیے مصر بغاوتوں کی سرزمین بن گیا تھا۔ وہاں اسالمی خالفت تو تھی ،مگر اسالم کا پر چم سرنگوں ہوتاجارہاتھا۔ فوج
ِ
سلطنت اسالمیہ کی تھی ،مگر سوڈانی جرنیل شہر ی حکومت کی باگ ڈور ہاتھ میں لیے ہوئے تھے۔ اور ان کا رابطہ صلیبیوں
کے ساتھ تھا۔ انہی کی بدولت قاہرہ اور اسکندریہ میں عیسائی کنبے آباد ہونے لگے تھے۔ ان میں جاسوس بھی تھے۔ صالح
الدین ایوبی نے سوڈانی فوج کو تو ٹھکانے لگادیاتھا ،لیکن ابھی چند ایک سوڈانی جرنیل موجود تھے جو کسی بھی وقت خطرہ
قصر خالفت میں اثر و رسوخ پیدا کررکھا تھا۔
بن کر اُبھر سکتے تھے۔ انہوں نے
ِ
گد ی کو اس ڈر سے نہیں چھیڑ نا چاہتاتھا کہ خالفت کے متعلق کچھ لوگ جذباتی
سلطان ایوبی خالفت کی تعیش پر ست ّ
اعلی حکام بھی تھے جو مصر
تھے اور کچھ حامی تھے۔ ان میں خوشامدیوں کے ٹولے کی اکثریت تھی۔اس اکثریت میں وہ
ٰ
کی امارت کی توقع لگائے بیٹھے تھے مگر یہ حیثیت صالح الدین ایوبی کو مل گئی ۔ سلطان ایوبی ان حاالت میں جہاں
ادنی حکام کو اپنا
اعلی اور
ملک جاسوسوں اور غداروں سے بھرا پڑا تھا اور صلیبیوں کے جوابی حملے کا خطرہ بھی تھا،ان
ٰ
ٰ
دشمن نہیں بنانا چاہتا تھا جو خالفت کے پروردہ تھے ،مگر جون ١١٧١ء کے ایک روز جب خلیفہ نے اسے بالیا تو اس نے
اسے صاف انکار کردیا۔
عیسی الہکاری فقہیہ اور الناصر کو میرے پاس جلدی بھیج دو''۔
اس نے دربان سے کہا……''علی بن سفیان ،بہائوالدین شداد،
ٰ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ چاروں سلطان ایوبی کے خصوصی مشیر اور معتمد تھے ۔ سلطان ایوبی نے انہیں کہا……''ابھی ابھی خلیفہ کا قاصد مجھے
بالنے آیاتھا۔ میں نے جانے سے انکار کردیاہے ۔میں نے آپ کو یہ بتانے اور رائے لینے کے لیے بالیا ہے کہ میں جمعہ کے
خطبہ سے خلیفہ کانام نکلوارہاہوں ''۔
یہ اقدام ابھی قبل ازوقت ہوگا''……شداد نے کہا……''خلیفہ کو لوگ پیغمبر سمجھتے ہیں ۔رائے عامہ ہمارے خالف ہوجائے''
گی''۔
ابھی تو لوگ اسے پیغمبر سمجھتے ہیں ''……سلطان ایوبی نے کہا……''تھوڑے ہی عرصے بعد وہ اسے خدا سمجھنے لگیں''
گے۔ اسے پیغمبری اور خدائی دینے والے ہم لوگ ہیں ،جو خطے میں اس کانام خدا اور رسول اکرم ۖ کے ساتھ لیتے ہیں ۔
عیسی فقیہہ !آپ کیا مشورہ دیتے ہیں؟
''کیوں
ٰ
عیس ی الہکاری فقہیہ نے جواب دیا……''کوئی بھی مسلمان خطبے میں کسی انسان کانام ''
میں آپ کی تائید کرتاہوں''…… ٰ
برداشت نہیں کرسکتا۔انسان بھی ایسا جو شراب ،عورت اور ہر طرح کے گناہ کا شیدائی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ صدیوں سے
خلیفہ کو پیغمبر وں کا درجہ دیاجارہاہے ،میں چونکہ شہری اور مذہبی امور کا ذمہ دار ہوں ۔اس لیے یہ نہیں بتا سکتاکہ
کاردعمل کیا ہوگا''۔
سیاسی اور فوجی لحاظ سے آپ کے فیصلے
ّ
رد عمل شدید ہوگا''…… بہائوالدین شداد نے کہا……''اور ہمارے خالف ہوگا۔ اسکے باوجود میں یہی مشورہ دوں گا کہ یہ ''
ّ
بدعت ختم ہونی چاہیے یا خلیفہ کو پکا مسلمان بناکر لوگوں کے سامنے الیا جائے جو مجھے ممکن نظر نہیں آتا''۔
رائے عامہ کو مجھ سے بہتر اور کون جان سکتاہے ''……علی بن سفیان نے کہا جو جاسوسی اور سراغ رسانی کے شعبے ''
کا سربراہ تھا۔ اس نے ملک کے اندر جاسوسوں اور مخبروں کا جال بچھا رکھا تھا۔ اس نے کہا……''عام لوگوں نے خلیفہ کی
کبھی صورت نہیں دیکھی ۔وہ العاضد کے نام سے نہیں صالح الدین ایوبی کے نام سے واقف ہیں ۔میرے محکمے کی مصدقہ
دور امارت میں لوگوں کی ایسی ضروریات پوری ہوگئی ہیں جن کے
اطالعات نے مجھے یقین دالیا ہے کہ آپ کے دو سالہ
ِ
متعلق انہوں نے کبھی سو چا بھی نہ تھا۔ شہروں میں ایسے مطب نہیں تھے ،جہاں مریضوں کو داخل کرکے عالج کیاجاسکتا ۔
لوگ معمولی معمولی بیماریوں سے مرجاتے تھے۔اب سرکاری مطب کھول دئیے گئے ہیں ،درس گاہیں بھی کھولی گئی ہیں،
تاجروں اور دکان داروں کی لوٹ کھسوٹ ختم ہوگئی ہے ،جرائم بھی کم ہوگئے ہیں اور اب لوگ اپنی مشکالت اور فریادیں آپ
تک برا ِہ راست پہنچا سکتے ہیں ۔آپ کے یہاں آنے سے پہلے لوگ سرکاری اہل کاروں اور فوجیوں سے خوف زدہ رہتے
تھے ۔ آپ نے ان کے حقوق بتا دئیے ہیں اور وہ اپنے آپ کو ملک و ملت کا حصہ سمجھنے لگے ہیں ۔خالفت سے انہیں
بے انصافی اور بے رحمی کے سوا کچھ نہیں مال۔ آپ نے انہیں عدل و انصاف اور وقار دیاہے ۔میں وثوق سے کہہ سکتاہوں کہ
قوم خالفت کی بجائے امارت کے فیصلے کو قبول کرے گی''۔
میں نے قوم کو عدل و انصاف اور وقار دیاہے یا نہیں ''……سلطان ایوبی نے کہا……''میں نے قوم کے حقوق اسے دئیے ''
ہیں یا نہیں ،میں نہیں جانتا ۔میں قوم کو ایک انتہائی بیہودہ روایت نہیں دینا چاہتا۔ میں قوم کو شرک اور کفر نہیں دینا
چاہتا ۔ضروری ہوگیاہے کہ اس روایت کو توڑ کر ماضی کے کوڑے کرکٹ میں پھینک دیاجائے جو مذہب کا حصہ بن گئی ہے ۔
اگر یہ روایت قائم رہی تو یہ بھی ہوسکتاہے کہ کل پرسوں میں بھی اپنانام خطبے میں شامل کردوں ۔ دئیے سے دیا جلتا ہے
قصر خالفت بدکاری کا اڈہ بناہواہے۔ خلیفہ
،لیکن میں اس دئیے کو بجھادینا چاہتاہوں جو شرک کی روشنی کو آگے چالرہاہے۔
ِ
ا ُس رات بھی شراب پئے ہوئے حرم کے حسن میں بدمست پڑا تھا جس رات سوڈانی فوج نے ہم پر حملہ کیاتھا ،اگر میری
چال ناکام ہوجاتی تو مصر سے اسالم کا پرچم ا ُتر جاتا۔جب اللہ کے سپاہی شہید ہو رہے تھے ،اس وقت بھی خلیفہ شراب
پئے ہوئے تھا۔میں اسے احکام کے مطابق یہ بتانے گیا کہ سلطنت پر کیا طوفان آیاتھااور ہماری فوج نے اس کا دم خم کس
طرح توڑ اہے تو اس نے مست سانڈکی طرح جھوم کر کہا تھا……''شاباش !ہم بہت خوش ہوئے ۔ہم تمہارے باپ کو خصوصی
قاصد کے ہاتھ مبارک باد اور انعام بھیجیں گے''……میں نے اسے کہا کہ یا خلیفة المسلمین!میں نے اپنا فرض اداکیاہے ۔ میں
نے یہ فرض اپنے باپ کی خوشنودی کے لیے نہیں ،اللہ اور اس کے رسولۖ کی خوشنودی کے لیے اد اکیاہے ۔
اس بڈھے خلیفہ نے کہا……''صالح الدین ایوبی !تم ابھی بچے ہو ،مگر کام تم نے بڑوں واال کردکھایاہے''۔
اس نے میرے ساتھ اس طرح بات کی تھی جیسے وہ مجھے اپنا غالم اور اپنے حکم کا پابند سمجھتا ہے ۔یہ بے دین ''
انسان قومی خزانے کے لیے سفید ہاتھی بناہواہے ''……سلطان ایوبی نے ایک خط نکال کر سب کو دکھایا اور کہا……چھ سات
دن گزرے نور الدین زنگی نے مجھے یہ پیغام بھیجا ہے ۔انہوں نے لکھا ہے کہ خالفت تین حصوں میں بٹ گئی ہے ۔بغداد
کی مرکزی خالفت کا دونوں ماتحت خلیفوں پر اثر ختم ہوچکاہے۔ آپ یہ خیال رکھیں کہ مصر کا خلیفہ خود مختار حاکم نہ
بن جائے۔وہ سوڈانیوں اور صلیبیوں سے بھی ساز باز کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ میں سوچ رہاہوں کہ خالفت صرف بغداد
میں رہے اور ذیلی خلیفے ختم کردئیے جائیں ،لیکن میں ڈرتاہوں کہ ان لوگوں نے ہمارے خالف سازشیں تیار کررکھی ہیں ۔اگر
آپ مصر کے خلیفہ کی بادشاہی اس کے محل کے اندر ہی محدود رکھنے کی کوشش کریں گے تو میں آ پ کو فوجی اور
مالی امداد دوں گا ۔احتیاط کی بھی ضرورت ہے کیونکہ مصر کے اندرونی حاالت ٹھیک نہیں ۔مصر میں ایک بغاوت اور بھی
ہوگی۔سوڈانیوں پر کڑی نظر رکھیں''۔
سلطان ایوبی نے خط پڑھ کر کہا……''اس میں کیا شک ہے کہ خالفت سفید ہاتھی ہے۔کیا آپ دیکھتے نہیں کہ خلیفہ العاضد
دورے پر نکلتا ہے تو آپ کی آدھی فوج اس کی حفاظت کے لیے ہر طرف پھیالدی جاتی ہے؟لوگوں کو مجبور کیا جاتاہے کہ
وہ خلیفہ کے راستے میں چادریں اور قالین بچھائیں۔خلیفہ کا حفاظتی دستہ دورے سے پہلے لوگوں کو دھمکیاں دے کر مجبور
کردیتا ہے کہ ان کی عورتیں اور جوان بیٹیاں خلیفہ پر پھولوں کی پتیاں پھینکیں ۔اس کے دوروں پر خزانے کی وہ رقم تباہ کی
ِ
سلطنت اسالمیہ کے دفاع اور توسیع کے لیے اور قوم کی فالح و بہبود کے لیے درکار ہے۔اس کے عالوہ
جاتی ہے جو ہمیں
اس پہلو پر بھی غور کروکہ ہمیں مصری عوام پر،یہاں کے عیسایویں اور دیگر غیر مسلموں پر یہ ثابت کرنا ہے کہ اسالم
شہنشاہوں کا مذہب نہیں۔ یہ عرب کے صحرائوں کے گڈریوں ،کسانوں اور شتر بانوں کا سچامذہب ہے اور یہ انسان کو انسانیت
کا وہ درجہ دینے واال مذہب ہے جو خدا کو عزیزہے''۔
یہ بھی ہوسکتاہے کہ خلیفہ کے خالف کا روائی کرنے سے آپ کے خالف یہ بہتان تراشی ہونے لگے کہ خلیفہ کی جگہ آپ''
خود حا کم بننا چاہتے ہیں ''شداد نے کہا……''آج جھوٹ اور باطل کی جڑیں صرف اس لیے مضبوط ہوگئی ہیں کہ مخالفت
رد عمل سے ڈر کر لوگوں نے سچ بولنا چھوڑ دیاہے ۔حق کی آواز سینوں میں دب کررہ گئی ہے۔ شاہانہ دوروں نے
اور مخالفانہ ّ
طرز امتیاز تھا۔ عوام کو
اور شہنشاہیت کے اظہار کے اوچھے طریقوں نے رعایا کے دلوں سے وہ وقار ختم کردیاہے جو قوم کا
ِ
بھوکا رکھ کر اور ان پر زبردستی اپنی حکمرانی ٹھونس کر انہیں غالمی کی ان زنجیروں میں باندھا جارہاہے ،جنہیں ہمارے
رسول اکرم ۖ نے
توڑا تھا۔ ہمارے بادشاہوں نے قوم کو اس پستی تک پہنچا دیاہے کہ یہ بادشاہ اپنی عیاشیوں کی خاطر صلیبیوں سے دوستانہ
ِ
سلطنت اسالمیہ پر قابض ہوتے چلے جارہے ہیں آپ نے شداد !
کررہے ہیں ،ان سے پیسے مانگتے ہیں اور صلیبی آہستہ آہستہ
مخالفت کی بات کی ہے ۔ہمیں مخالفت سے نہیں ڈرناچاہیے''۔
میدان جنگ ''
قابل احترا ِم امیر!'' سلطان ایوبی کے نائب ساالر الناصر نے کہا''ہم مخالفت سے نہیں ڈرتے ۔آپ نے ہمیں
ِ
ِ
میں دیکھا ہے۔ہم اس وقت بھی نہیں ڈرے تھے ،جب ہم محاصرے میں لڑے تھے۔ ہم بھوکے اور پیاسے بھی لڑے تھے ۔
صلیبیوں کے طوفان ہم نے اس حالت میں بھی روکے تھے ،جب ہماری تعداد کچھ بھی نہیں تھی ،مگر میں آپ کو آپ کی
ہی کہی ہوئی ایک بات یاد دالناچاہتاہوں ۔آپ نے ایک بار کہاتھا کہ حملہ جو باہر سے آتا ہے اُسے ہم قلیل تعداد میں بھی
روک سکتے ہیں ،لیکن حملہ جو اندر سے ہوتاہے اور جب حملہ آور اپنی قوم کے افراد ہوتے ہیں تو ہم ایک بار چونک اُٹھتے
امیر مصر ! جب ملک کے حاکم ملک کے دشمن ہوجائیں
قابل احترام
اور ُسن ہوجاتے ہیں کہ یا خدائے ذو الجالل یہ کیاہوا۔
ِ
ِ
تو آ پ کی تلوار نیام کے اندر تڑپتی رہے گی ،باہر نہیں آئے گی''۔
آپ نے درست کہا الناصر!''…… سلطان ایوبی نے کہا……''میری تلوار نیام میں تڑپ رہی ہے۔ یہ اپنے حاکموں کے خالف''
باہر نہیں آنا چاہتی ۔میرے دل میں قوم کے حکمرانوں کا ہمیشہ احترام رہاہے ۔ملک کا حکمران قوم کی عظمت کا نشان
ہوتاہے ،قوم کے وقار کی عالمت ہوتاہے ،لیکن آپ سب غور کریں کہ ہمارے حکمرانوں میں کتنی کچھ عظمت اور کتنا کچھ
وقار رہ گیاہے۔میں صرف خلیفہ العاضد کی بات نہیں کررہا۔علی بن سفیان سے پوچھو ۔اس کا محکمہ موصل ،حلب ،دمشق ،
مکہ اور مدینہ منورہ کی جو خبریں الیا ہے وہ یہ ہیں کہ خالفت کی تعیش پرستی کی وجہ سے جہاں جہاں کوئی امیرحاکم
ِ
سلطنت اسالمیہ ٹکڑوں میں بٹتی جارہی ہے۔خالفت اس قدر کمزور ہوگئی ہے کہ اس
مختار ک ُل بن گیا ہے۔
ہے ،وہ وہاں کا
ِ
نے ا ُمرا اور حکام کو ذاتی سیاست بازیوں کے لیے استعمال کرنا شروع کردیاہے۔ میں اس خطرے سے بے خبر نہیں کہ قوم
کے بکھرے ہوئے شیرازے کو ہم جب یکجا کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ اور بکھرے گا۔ ہمارے سامنے پہاڑ کھڑے ہو جائیں
گے ،لیکن میں گھبرائوں گا نہیں اور مجھے ا ُمید ہے کہ آپ بھی نہیں گھبرائیں گے۔ میں آپ کے مشوروں کا احترام کروں
گا،لیکن میں آئندہ خلیفہ کے بالوے پر صرف اس صورت میں جاوں گا ،جب کوئی ضروری کام ہوگا۔ فوری طور پر میں خطبے
سے خلیفہ کا نام اور ذکر نکلوارہاہوں''۔
سب نے سلطان ایوبی کے اس اقدام کی حمایت کی اور اسے اپنی پوری مدد اور ہرطرح کی قربانی دینے کا یقین دالیا۔ خلیفہ
العاضد اس وقت اپنے ایک خصوصی کمرے میں تھا ۔ جب قاصد نے اسے بتایا کہ صالح الدین ایوبی نے کہا ہے کہ اگر کوئی
ضروری کام ہے تو میں آسکتاہوں،ورنہ میں بہت مصروف ہوں۔ خلیفہ آگ بگولہ ہوگیا۔اس نے قاصد سے کہا کہ رجب کو میرے
پاس بھیج دو۔ رجب اس کے حفاظتی دستے کا کمان دار تھا جس کا عہدہ نائب ساالر جتنا تھا۔ وہ مصر ی فوج کا افسر تھا۔
قصر خالفت اور خلیفہ کے حفاظتی دستوں میں ُچن ُچن کر
اسے خلیفہ کے باڈی گارڈز کی کمان دی گئی تھی۔ اس نے
ِ
سوڈانی حبشیوں کو رکھا تھا۔ وہ سلطان ایوبی کے مخالفین میں سے اور خلیفہ کے خوشامدیوں میں سے تھا۔
اُس وقت خلیفہ کے اس خصوصی کمرے میں ا ُ ِم عرارہ موجود تھی جب قاصد صالح الدین ایوبی کا جواب لے کے آیاتھا۔ اس
نے خلیفہ سے کہا……''صالح الدین ایوبی آپ کا نوکر ہے ،آپ نے اسے سر پر چڑھا رکھاہے،آپ کیوں نہیں اسے معزول کردیتے
''ہیں ؟کیوں نہیں اپنے سپاہی بھیج کر اسے حراست میں یہاں بلوالیتے ؟
اس لیے کہ اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے''……خلیفہ نے غصے کے عالم میں کہا……''فوج اس کی کمان میں ہے ،وہ''
میرے خالف فوج استعمال کرسکتاہے''……اتنے میں رجب آگیا۔اس نے جھک کر فرشی سالم کیا۔ العاضد نے غصے سے کانپتی
ہوئی آواز میں اسے کہا……''میں پہلے ہی جانتاتھا کہ یہ کم بخت خود سر اور سرکش آدمی ہے……یہ صالح الدین ایوبی ……
میں نے اسے بالیا تو یہ کہہ کر آنے سے انکار کردیاہے کہ کوئی ضروری کام ہے تو آئوں گا ،ورنہ آپ کا بالوا میرے لیے کوئی
معنی نہیں رکھتا ،کیونکہ میرے سامنے ضروری کام پڑے ہیں ''۔
غصے میں بولتے بولتے اسے ہچکی آئی ،پھر کھانسی ا ُٹھی اور اس نے دل پر ہاتھ رکھ لیا ۔اس کا رنگ زرد ہوگیا۔اس حالت
میں کمزور سی آواز میں کہا ……''بد بخت کو یہ بھی احساس نہیں کہ میں بیمار ہوں ۔میرا دل مجھے لے بیٹھے گا۔ میرے
لیے غصہ ٹھیک نہیں ۔مجھے اپنی صحت کا غم کھائے جارہاہے اور اسے اپنے کا موں کی پڑی ہے''۔
آپ نے اسے کیوں بالیا تھا؟''……رجب نے پوچھا ……''مجھے حکم دیجئے''۔''
میں نے اسے صرف اس لیے بالیا تھا کہ اسے احساس رہے کہ اس کے سر پر ایک حاکم بھی ہے''……خلیفہ نے ِدل پر ''
ہاتھ رکھے ہوئے کراہتی ہوئی آواز میں کہا……''تم ہی نے مجھے بتایا تھا کہ کہ صالح الدین خود مختار ہوتا جارہا ہے۔میں
اسے بار بار یہاں بالنا چاہتا ہوں،تاکہ اسے اپنے پاوں کے نیچے رکھوں ۔یہ ضروری اُم عرارہ نے شراب کا پیالہ اس کے ہونٹوں
سے لگا کر کہا……''آپ کو سوبار کہاہے کہ غصے میں نہ آجایا کریں۔آپ کے ِدل اور اعصاب کے لیے غصہ ٹھیک نہیں''……
اس نے سونے کی ایک ڈبیہ میں سے نسواری رنگ کے سفوف میں سے ذراسا خلیفہ کے منہ میں ڈاال اور پانی پالدیا۔ خلیفہ
نے اس کے بکھرے ہوئے ریشمی بالوں میں انگلیاں ا ُلجھا کر کہا……''اگر تم نہ ہوتی تو میرا کیا ہوتا۔ سب کو میری دولت اور
رتبے سے دلچسپی ہے ۔میری ایک بھی بیوی ایسی نہیں جسے میری ذات کے ساتھ دلچسپی ہو ۔ تم تو میرے لیے فرشتہ
…… ''ہو
خلیفة المسلمین ''!…… رجب نے کہا……''آپ بڑے ہی نرم دل اور نیک انسان ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ صالح الدین ایوبی ''
نے یہ گستاخی کی ہے ۔ آپ نے یہ بھی فراموش کردیاہے کہ وہ عربی نسل سے نہیں۔ وہ آپ کی نسل سے نہیں۔ وہ
ک ُردہے ،میں حیران ہوں کہ اسے اتنی بڑی حیثیت کس نے دے دی ہے ،اگر اس میں کچھ خوبی ہے تو صرف یہ ہے کہ وہ
میدان جنگ کا استاد ہے ،لڑنا بھی جانتاہے اور لڑانا بھی جانتا ہے مگر یہ وصف اتنا اہم نہیں کہ اسے مصر
اچھا عسکری ہے۔
ِ
کی امارت سونپ دی جاتی ……ا ُس نے سوڈان کی اتنی بڑی اور اتنی تجربہ کار فوج یوں توڑ کر ختم کردی ہے،جس طرح بچہ
کوئی کھلونہ توڑدیتاہے ۔آپ ذرا غور فرمائیں کہ جب یہاں سوڈانی باشندوں کی فوج تھی ،ناجی اور ادروش جیسے ساالر تھے
تو رعایا آپ کے کتوں کے آگے بھی سجدے کرتی تھی۔ سوڈانی لشکر کے ساالر آپ کی دہلیز پر حاضر رہتے تھے۔ اب یہ
حال ہے کہ آپ اپنے ایک ماتحت کو بالتے ہیں تو وہ آنے سے انکار کردیتا ہے''۔
رجب!'' خلیفہ نے اچانک گرج کر کہا…… ''تم ایک مجرم ہو''۔''
رجب کا رنگ پیال پڑگیا۔ا ُم عرارہ بدک کر العاضد سے الگ ہوگئی ۔العاضد نے اسے پھر بازو کے گھیرے میں لے کر اپنے ساتھ
لگالیا اور پیار سے بوال……''کیا میں نے تمہیں ڈرادیاہے؟میں رجب سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ آج دوسال بعد مجھے بتارہاہے
کہ ہماری پرانی فوج اور اسکے ساالر اچھے تھے اور صالح الدین ایوبی کی بنائی ہوئی فوج خالفت کے حق میں اچھی نہیں ۔
امیر مصر اپنی جڑیں مضبوط کر چکاہے ،مجھے
کیوں رجب! تم یہ بات پہلے بھی جانتے تھے؟چپ کیوں رہے؟اب جب کہ یہ
ِ
بتارہے ہوکہ وہ خالفت کا باغی اور سرکش ہے''۔
میں حضورکے عتاب سے ڈرتاتھا''……رجب نے کہا……'سلطان ایوبی کا انتخاب بغداد کی خالفت نے کیا تھا۔ یہ آپ کے ''
امیر مصر کی
مشورے سے ہی ہواہوگا۔ میں خالفت کے انتخاب کے خالف زبان کھولنے کی جرٔات نہیں کرسکتا تھا۔ آج
ِ
زیر اثر آپ کے دل کے دورے نے مجھے مجبور کردیاہے کہ زبان کھولوں۔ میں کب سے دیکھ رہاہوں کہ
گستاخی اور اس کے ِ
صالح الدین ایوبی کئی بار آپ کے حضور گستاخی کر چکاہے۔ میرا فرض ہے کہ آپ کو خطروں سے آگاہ کروں اور بچائوں ''۔
روز قیامت جب مجھے جنت میں بھیجیں گے تو میں خدا سے کہوں گا کہ مجھے کوئی حور نہیں چاہیے ،مجھے ا ُ ِم ''……
ِ
عرارہ دے دو''۔
ا ُ ِم عرارہ صرف حسین ہی نہیں ''……رجب نے کہا……''یہ بہت ہوشیار اور ذہین بھی ہے۔حضور کا حرم سازشوں کا گھر ''
بناہوا تھا۔ اس نے آکر سب کو لگام ڈال دی ہے۔اب کسی کی جرٔا ت نہیں کہ کوئی عورت کسی عورت کے خالف یا کوئی
قصر خالفت میں ذراسی بھی گڑ بڑکرے''۔
اہل کار
ِ
جب صالح الدین ایوبی کے متعلق بات کررہے تھے''…… ا ُ ّم عرارہ نے کہا۔''ان کی باتیں غور سے سنیں اور صالح الدین ''
ایوبی کو لگام ڈالیں ''۔
تم کیا کہہ رہے تھے رجب!'' ……خلیفہ نے پوچھا ۔''
امیر مصر کے خالف کوئی بات خالفت کو گوارہ نہ ''
میں یہ عرض کررہاتھا کہ میں نے اس ڈر سے زبان بندرکھی کہ
ِ
ہوگی''……رجب نے کہا……''صالح الدین ایوبی قابل ساالر ہوسکتاہے ''۔
میدان جنگ میں وہ اسالم کا پرچم سرنگوں نہیں ہونے دیتا''خلیفہ نے کہا ''
مجھے اس کا صرف یہی وصف پسند ہے کہ
ِ
ِ
میدان جنگ میں قائم رکھیں''۔
خالفت اسالمیہ کا وقار
……''ہمیں سلطان ایوبی جیسے ہی ساالروں کی ضرورت ہے جو
ِ
میں گستاخی کی معافی چاہتاہوں خلیفة المسلمین !''…… رجب نے کہا……''خالفت نے ہمیں میدان ِ جنگ میں نہیں آزمایا''
ِ
خالفت اسالمیہ کے وقار کے لیے نہیں لڑتا ،بلکہ اپنے
۔ صالح الدین ایوبی کے متعلق میں یہ کہنے کی جرٔات کروں گا کہ وہ
وقار کے لیے لڑتا ہے ۔آپ فوج کے ساالر سے ہی پوچھ لیں۔ صالح الدین ایوبی انہیں یہ سبق دیتا رہتاہے کہ وہ ایسی
ِ
سلطنت اسالمیہ کے قیام کے لیے لڑیں ،جس کی سرحدیں المحدودہوں۔ صاف ظاہر ہے کہ وہ ایسی سلطنت کے خواب دیکھ
رہاہے،جس کا بادشاہ وہ خود ہوگا۔نور الدین زنگی اس کی پشت پناہی کرہاہے ۔اس نے صالح الدین ایوبی کے ہاتھ مضبوط کرنے
کے لیے دوہزار سواروں اور اتنے ہی پیادہ عسکریوں کی فوج بھیجی تھی۔ کیا اس نے خلیفٔہ بغداد کی اجازت سے یہ فوج
بھیجی تھی؟کیا خالفت کا کوئی ایلچی آپ سے مشورہ لینے آیاتھا کہ مصر میں فوج کی ضرورت ہے یا نہیں ؟جو کچھ ہوا
خالفت سے باالتر ہوا''۔
تم ٹھیک کہتے ہو''……خلیفہ نے کہا……''مجھ سے نہیں پوچھا گیا تھا اور مجھے خیال آیاہے کہ اُدھر سے آئی ہوئی اتنی''
زیادہ کمک واپس نہیں بھیجی گئی''۔
واپس اس لیے نہیں بھیجی گئی کہ یہ کمک مصر پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی اور اسی لیے یہاں رکھی''
گئی ہے''……رجب نے کہا……''مصر کی پرانی فوج کے سپاہیوں کو کسان اور بھکاری بنانے کے لیے یہ کمک آئی تھی۔ ناجی،
ادروش ،کاکیش ،عبدیزدان ،ابی آذر اور ا ُن جیسے آٹھ اور ساالر کہاں ہیں؟حضور نے کبھی سوچانہیں ۔ان سب کو صالح الدین
ایوبی نے خفیہ طور پر قتل کرادیاتھا۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ صالح الدین ایوبی سے زیادہ قابل ساالر تھے۔یہ قتل کس
کی گردن پر ہے؟صالح الدین ایوبی نے حاکموں کی مجلس میں کہاتھا کہ خلیفٔہ مصر نے ان سب کو غداری اور بغاوت کے
جرم میں سزائے موت دے دی ہے''۔
جھوٹ ''……خلیفہ نے بھڑک کر کہا……''سفید جھوٹ ۔مجھے صالح الدین ایوبی نے بتایاتھا کہ یہ سب غدا ر ہیں ۔میں ''
نے اسے کہاتھا کہ گواہ الو اور مقدمہ چالو۔
اس نے مقدمہ چالئے بغیر وہ فیصلہ خود کیا جو خالفت کی ُمہر کے بغیر بے کار ہوتاہے ''……رجب نے کہا……''ان بد ''
قسمت ساالروں کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے صلیبی بادشاہ سے رابطہ قائم کیاتھا۔ان کا مقصد کچھ اور تھا ،وہ یہ تھا کہ
صلیبیوں سے بات چیت کرکے جنگ و جدل ختم کیا جائے اور ہم اپنے ملک اور رعایا کی خوشحالی اور فالح و بہبود کی
طرف توجہ دے سکیں ۔ آپ شاید تسلیم نہ کریں ،مگر یہ حقیقت ہے کہ صلیبی ہمیں اپنا دشمن نہیں سمجھتے ۔ وہ ہمارے
خالف جنگی طاقت صرف اس لیے تیار رکھتے ہیں کہ نور الدین زنگی اور شیر کوہ جیسے مسلمانوں سے انہیں حملے کا خطرہ
رہتاہے ۔ شیر کوہ مرگیا تو صالح الدین ایوبی کو اپنی جگہ چھوڑ گیا۔ یہ شخص شیر کوہ کا پروردہ ہے۔اس نے ساری عمر
عیسائی قوم سے لڑتے اور اسالم کے دشمن پیدا کرتے اور دشمنوں میں اضافہ کرتے گزاری ہے۔ اگرصالح الدین ایوبی کی جگہ
مصر کا امیر کسی اور کو مقرر کیاجاتا تو آج عیسائی بادشاہ آپ کے دربار میں دوستوں کی طرح آتے،قتل و غارت نہ ہوتی،
اتنے پرانے اور تجربہ کار ساالر قتل ہوکر گمنام نہ ہوجاتے ''۔
''مگر رجب!'' …… خلیفہ نے کہا……'' صلیبیوں نے بحیرٔہ روم سے حملہ جو کیا تھا ؟ ''
صالح الدین ایوبی نے ایسے حاالت پیداکیے تھے کہ صلیبی اپنے دفاع کے لیے حملے میں پہل کرنے پر مجبور ''
ہوگئے''…… رجب نے کہا……''صالح الدین ایوبی کو معلوم تھا کہ حملہ آرہاہے،کیونکہ حاالت اسی نے پیدا کیے تھے۔اس لیے
اس نے حملہ روکنے یعنی دفاع کا انتظام پہلے ہی کررکھاتھا۔ یہ شخص فرشتہ تو نہیں تھا کہ اسے غیب کا حال معلوم
ہوگیاتھا۔ اس نے ایک ایسا ناٹک کھیالتھا جس میں ہزار ہا بچے یتیم اور ہزار ہا عورتیں بیوہ ہوگئیں۔اس پر آپ نے اسے
خراج تحسین پیش کیا۔پھر اس نے سوڈانی فوج کو جو آپ کی وفادار تھی،جنگی مشق کے بہانے رات کو
میری موجود گی میں
ِ
باہر نکاال اور اندھیرے میں اس پر اپنی نئی فوج سے حملہ کردیا۔مشہور یہ کیا کہ ناجی کی فوج نے بغاوت کردی تھی۔اس پر
خراج تحسین پیش کیا ۔آپ اتنے سادہ ِدل اور مخلص ہیں کہ آپ اس چال اور اس دھوکے کو سمجھ نہ
بھی آپ نے اسے
ِ
سکے''۔
اس دوران ا ُ ِم عرارہ جو عرب کے حسن کا شاہکار تھی ۔خلیفہ العاضدکے ساتھ ''بڑی معصومیت'' شراب پالتی رہی کہ
العاضد پر شراب کا نشہ ُد گناہوگیا۔ اس کی ذہنی کیفیت اس لڑکی کے قبضے میں تھی ۔رجب کی باتیں اور دلیلیں اُس کے
دماغ میں اُترتی جارہی تھیں۔اُس کی زیادہ تر توجہ ا ُ ِم عرارہ پر مرکوز تھی۔ رجب کی باتیں تو وہ ضمنی طور پر ُسن رہاتھا۔
رجب نے صالح الدین ایوبی پر ایک انتہائی بے ہودہ وار کیا ۔ اس نے کہا……''اُس نے ایک اور فریب کاری شروع کررکھی
ہے۔کسی خوب صورت اور جوان لڑکی کو پکڑ کر اس کی آبرو ریزی کرتاہے اور چند دن عیش کرکے اسے یہ کہہ کر مروادیتا
ہے کہ یہ جاسوس ہے۔عیسائیوں کے خالف قوم میں نفرت پیدا کرنے کے لیے اس نے فوج اور عوام میں یہ مشہور کر رکھاہے
کہ صلیبی اپنی لڑکیوں کو مصر میں جاسوسی کے لیے بھیجتے ہیں اور وہ بدکار عورتوں کو بھی یہاں بھیجتے ہیں جو قوم کا
اخالق تباہ کرتی ہیں۔میں اسی ملک کا باشندہ ہوں۔یہاں جتنے قحبہ خانے ہیں،وہاں مصری اور سوڈانی عورتیں ہیں ،اگر کوئی
عیسائی عورت ہے تو وہ کسی کی جاسوس نہیں ،یہ اس کا پیشہ ہے''۔
مجھے حرم کی تین چار لڑکیوں نے بتایا ہے کہ سلطان ایوبی نے انہیں اپنے گھر بالیا اور خراب کیاتھا''…ا ُ ِم عرارہ نے ''
کہا۔
خلیفہ بھڑک ا ُٹھا اور کہا……''میرے حرم کی لڑکیاں ؟تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا''۔
اس لیے کہ آپ کی بیماری میں یہ خبر آپ کے لیے اچھی نہیں تھی''……ا ُ ِم عرارہ نے کہا……''اب بھی یہ بات میرے ''
منہ سے بے اختیار نکل گئی ہے۔ میں نے ایسا انتظام کردیاہے کہ اب کوئی لڑکی کسی کے بالنے پر باہر نہیں جاسکتی''۔
میں ا ُ سے ابھی بالکر ُد ّر ے لگوائوں گا''…… خلیفہ نے کہا……''میں انتقام لوں گا''۔''
انتقام لینے کے طریقے اور بھی ہیں ''……رجب نے کہا……''اس وقت عوام صالح الدین ایوبی کے ساتھ ہیں ۔یہ لوگ آپ ''
کے خالف ہوجائیں گے''۔
تو کیا میں اپنی یہ توہین برداشت کرلوں ؟''……خلیفہ نے کہا۔''
نہیں ''…… رجب نے کہا……''اگر آپ مجھے اجازت دیں اور میری مدد کریں تو میں صالح الدین ایوبی کو اسی طرح غائب''
کردوں گا جس طرح اس نے مصر کی پرانی فوج کے ساالروں کو گ ُم کردیاہے''۔
تم یہ کام کس طرح کروگے ؟''……خلیفہ نے پوچھا۔''
حشیشین یہ کام کردکھائیں گے '' ……رجب نے کہا……''وہ رقم بہت زیادہ طلب کرتے ہیں ''۔''
رقم کا مطالبہ جس قدر ہوگا ،وہ میں دوں گا''……خلیفہ نے کہا……''تم انتظام کرو''۔''
عیس ی الہکاری فقہیہ نے کہہ دیا تھا کہ خطبے میں خلیفہ کانام نہ
دو روزبعد جمعہ تھا۔قاہرہ کی جامعہ مسجد کے خطیب کو
ٰ
لیا جائے ۔ یہ خطیب تُ رک تھے ،جن کاپورا نام تاریخ میں محفوظ نہیں ۔وہ امیر العالم کے نام سے مشہور تھے ۔اس دور کے
دستاویزی ثبوت ایسے بھی ملے ہیں جن کے مطابق خطیب امیر العالم نے کئی بار اس بدعت کو ختم کرنے کے عزم کا اظہار
کیا تھا اوریہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ خلیفہ کا نام خطبے سے حذف کیاگیا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ صالح الدین
عیسی
ایوبی کو امیر العالم نے ہی مشورہ دیا تھا کہ اس بدعت کے خاتمے کے احکام جاری کریں اور دو وقارنگار اس کا سہرا
ٰ
عیسی الہکاری فقہیہ کے
الہکاری فقہیہ کے سر باندھتے ہیں ۔ہوسکتاہے یہ منصوبہ خطیب امیر العالم اور مذہبی امور کے مشیر
ٰ
ِ
پیش نظر بھی ہو ،لیکن صالح الدین ایوبی کی گفتگو کی جو دستاویر ات مل سکی ہیں،اُن سے پتہ چلتاہے کہ یہ دلیرانہ اقدام
سلطان ایوبی کا ہی تھا۔ بہر حال اس میں کوئی شک نہیں رہتا کہ اُس وقت سچے مسلمان موجود تھے۔
خطیب امیر العالم نے خطبے میں خلیفہ کانام نہ لیا۔ جامع مسجد میں صالح الدین ایو بی درمیانی صفوں میں موجود تھا۔علی
بن سفیان اس سے تھوڑی ُد ور کسی صف میں بیٹھا تھا۔سلطان ایوبی کے متعدد دیگر مشیر اور معتمد بکھر کر عوام میں بیٹھے
تھے تاکہ ان کا رد عمل بھانپ سکیں ۔علی بن سفیان کے مخبروں کی بہت بڑی تعداد مسجد میں موجود تھی۔ خلیفہ کانام
خطبے میں سے غائب کرنا ایک سنگین اقدام نہیں ،بلکہ خالفت کے احکام کے مطابق سنگین جرم تھا ۔اس کا ارتکاب
کردیاگیا۔ سربراہوں میں سے اگر کوئی مسجد میں نہیں تھا تو وہ خلیفہ العاضد تھا۔
نماز کے بعد سلطان ایوبی ا ُٹھا ۔ خطیب کے پاس گیا۔ ان سے مصافحہ کیا ۔ان کے چغے کا بوسہ لیا اور کہا……''اللہ آپ کا
حامی و ناصر ہے''۔ خطیب امیر العالم نے جواب دیا……''یہ حکم صادر فرماکر آپ نے جنت میں گھر بنالیا ہے''……واپس
چند قدم چل کر سلطان ایوبی ُر ک گیا اور خطیب کے قریب جاکر کہا……''اگر آپ کو خلیفہ کا بالوا آجائے تو اس کے پاس
جانے کے بجائے میرے پاس آجانا۔ میں آپ کے ساتھ چلوں گا''۔
امیر مصر گستاخی نہ سمجھیں ''……امیر العالم نے کہا……''تو عرض کروں کہ باطل اور شرک کے خالف عمل اور حق ''
اگر
ِ
گوئی اگر جرم ہے تو اس کی سزامیں اکیال بھگتوں گا۔میں آپ کا سہارا نہیں ڈھونڈوں گا۔ خلیفہ نے بالیا تو اکیال جاوں گا۔
میں نے خلیفہ کے نام کو آپ کے حکم سے نہیں ،خدا کے حکم سے حذف کیا ہے ۔ میں آپ کو مبارک باد پیش کرتاہوں
''۔
شام کے بعد صالح الدین ایوبی علی بن سفیان ،بہاوالدین شداد اور چند ایک اور مشیروں سے دن کی رپورٹ لے رہاتھا۔
سارے شہر میں شہریوں کے بھیس میں مخبر اور جاسوس پھیالدئیے گئے تھے ،جنہوں نے لوگوں کی رائے معلوم کر لی تھی ۔
علی بن سفیان نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ کہیں سے بھی اسے ایسی اطالع نہیں ملی ،جہاں کسی نے یہ کہا ہو کہ خطبے
میں خلیفہ کانام نہیں لیاگیا تھا۔علی بن سفیان کے بعض آدمیوں نے دو تین جگہوں پر یہ بھی کہا کہ جامع مسجد کے خطیب
نے آج خطبے میں خلیفہ کانام نہیں لیا تھا ،یہ اُس نے بہت بُرا کیا ہے ۔اس پر کچھ آدمی اس طرح حیران ہوئے جیسے انہیں
معلوم ہی نہیں کہ خطبے میں خلیفہ کانام لیاگیا تھا یا نہیں ۔ ان میں سے چار پانچ نے اس قسم کے خیاالت کا اظہار کیا کہ
اس سے کیا فرق پڑ تا ہے ۔خلیفہ خدایا پیغمبر تو نہیں ۔ ان اطالعات سے سلطان ایوبی کو اطمینان ہوگیا کہ عوام کے جس
ردعمل سے اسے ڈرایاگیا تھا ،اس کا کہیں بھی اظہار نہیں ہوا۔
ِّ
صالح الدین ایوبی نے اسی وقت سلطان نو رالدین زنگی کے نام پیغام لکھا ،جس میں اسے اطالع دی کہ اس نے جمعے کے
ہواہے۔لہذا آپ بھی مرکزی خالفت کو
رد عمل کا اظہار
خطبے میں سے خلیفہ کانام نکلوادیا ہے۔عوام کی طرف سے اچھے ِ ّ
ٰ
خطبے سے خارج کردیں ۔ اب ل ُِب لباب کا طویل پیغام لکھ کر اُس نے حکم دیا کہ قاصد کو علی الصبح روانہ کردیاجائے جو
یہ پیغام نور الدین زنگی کو دے کر واپس آجائے ۔اس کے بعد اس نے علی بن سفیان سے کہا کہ خلیفہ کے محل میں
جاسوسوں کو چوکنا کردیاجائے۔وہاں ذراسی بھی مشکوک حرکت ہوتو فورا ً اطالع دیں ۔رجب کو سلطان ایوبی جانتاتھا۔ اسے یہ
بھی معلوم تھا کہ رجب خلیفہ کا منہ چڑھانائب ساالر ہے ۔سلطان ایوبی نے علی بن سفیان سے کہا……''رجب کے ساتھ ایک
آدمی سائے کی طرح لگا رہنا چاہیے ''۔
ا ُس رات خلیفہ کی محفل عیش و طرب میں رجب نہیں تھا۔ وہ سلطان ایوبی کے قتل کا انتظام کرنے چالگیا تھا۔ اسے حسن
بن صباح کے حشیشین سے ملنا تھا۔ خلیفہ روز مرہ کی طرح باہر کی ُدنیا سے بے خبر اور ا ُ ِم عرارہ کے طلسماتی حسن اور
ناز و ادا میں گم تھا۔ اسے کسی نے بتایا ہی نہیں تھا کہ خطبے میں سے اس کا نام حذف ہوچکا ہے ۔وہ خوش تھاکہ صالح
الدین ایوبی کے قتل کا انتظام ہونے واال ہے ۔ ا ُ ِم عرارہ نے اسے جلدی سال نے اور بے ہوش کرنے کے لیے زیادہ شراب
پالدی اور شراب میں خواب آور سفوف بھی مالدیا ۔ اس بوڑھے سے جلدی چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے وہ یہی نسخہ
استعمال کیا کرتی تھی۔ا ُسے سال کر اور قندیلیں بجھاکر وہ کمرے سے نکل گئی ۔وہ اپنے مخصوص کمرے کی طرف جارہی تھی
جس میں رجب رات کو چوری چھپے اس کے پاس آیا کر تا تھا
19:16
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
"قسط نمبر23۔ "ام عرارہ کا اغواہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
رجب رات کو چوری چھپے اس کے پاس آیا کرتاتھا۔
وہ کمرے میں داخل ہوئی ہی تھی کہ دروازے کے پیچھے سے کسی نے اس پر کمبل پھینکا ۔اس کی آواز بھی نہ نکلنے پائی
تھی کہ اس کے منہ پر جہاں پہلے ہی کمبل لپٹ گیاتھا ،ایک اور کپڑا باندھ دیاگیا ۔ اسے کسی نے کندھوں پر ڈال لیا اور
کمرے سے نکل گیا۔ یہ دو آدمی تھے ۔وہ محل کی بھول بھلیوں اور چور راستوں سے واقف معلوم ہوتے تھے ۔ وہ اندھیری
سیڑھیوں پرچڑھ گئے ۔اوپر سے انہوں نے رسہ باندھ کر نیچے لٹکا یا۔ لڑکی کو کندھوں پر ڈالے ہوئے وہ آدمی رسے سے نیچے
اُتر گئے ۔اس کے پیچھے دوسرا ا ُترا اور دونوں اندھیرے میں غائب ہوگئے ۔ کچھ دور چار گھوڑے کھڑے تھے اور ان کے پاس
دوآدمی بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے اپنے ساتھیوں کو اندھیرے میں آتے دیکھا اور یہ بھی دیکھ لیا کہ ایک نے کندھے پر کچھ
ا ُٹھا رکھاہے۔وہ گھوڑوں کو آگے لے گئے ۔سب گھوڑوں پر سوار ہوگئے ایک سوار نے لڑکی کو اپنے آگے ڈال لیا۔ ان میں سے
کسی نے کہا……''گھوڑوں کو ابھی دوڑانا نہیں ۔ٹاپوں سے سارے شہر کو جگادیں گے''……گھوڑے آہستہ آہستہ چلتے گئے اور
شہر سے نکل گئے ۔
یہ صالح الدین ایوبی کاکام ہے''۔''
امیر مصر کے سو ا ایسی جرٔات اور کوئی نہیں کرسکتا''۔''
ِ
اس کے سوا اور ہو ہی کون سکتا ہے''۔''
قصر خالفت میں یہی شور و غوغا بپاتھا کہ ا ُ ِّم عرارہ کو صالح الدین ایوبی نے اغوا کرایا ہے۔ رجب واپس آگیا تھا۔ محل کے
ِ
کونے کونے کی تالشی لی جاچکی تھی۔ محافظ دستہ کمان داروں کے عتاب کا نشانہ بناہواتھا۔ خود کمان دار بھی سپاہیوں کی
طرح تھر تھر کانپ رہے تھے۔ ایک لڑکی کا اغوا معمولی واردات نہیں تھی اور لڑکی بھی ایسی جسے خلیفہ حرم کا ہیرا
رسہ لٹک رہاتھا۔ زمین پر پاوں کے نشان تھے ۔ جو تھوڑی ُدور جا کر گھوڑوں کے
سمجھتاتھا ۔ محل کے پچھواڑے سے ایک ّ
رسے سے اُتارا گیا ہے ۔ اس شک کا اظہار بھی کیاگیا
کو
لڑکی
کہ
گیاتھا
مل
ثبوت
نشانات میں ختم ہوگئے تھے ۔ان سے یہ
ّ
کہ لڑکی اپنی مرضی سے کسی کے ساتھ گئی ہے۔خلیفہ نے اس شک کو مسترد کردیاتھا ۔ وہ کہتاتھا کہ ا ُ ِّم عرارہ اس پر جان
چھڑکتی تھی۔
قصر خالفت میں ہر کسی کی زبان پر یہی الفاظ ہیں''
یہ صالح الدین ایوبی کاکام ہے ''……رجب نے العاضد سے کہا……''
ِ
کہ اس کے سوا اور کوئی بھی ایسی جرٔات نہیں کرسکتا''۔
ہر کسی کے کانوں میں یہ الفاظ رجب نے ہی ڈالے تھے۔اسے جونہی ا ُ ِّم عرارہ کی گمشدگی کی اطالع ملی تھی ،اس نے
سارے محل میں گھوم پھر کر ہر کسی سے لڑکی کے متعلق پوچھا اور ہر کسی سے کہاتھا……''یہ سلطان ایوبی کاکام ہے
ادنی مالزم تک انہی الفاظ کو دہرائے چلے جارہے تھے اور رجب یہ الفاظ خلیفہ العاضد
اعلی حاکم سے
قصر صدارت کے
''…… ِ
ٰ
ٰ
کے کانوں میں پڑے تو ا ُس نے ذرہ بھر سوچنے کی ضرورت نہ سمجھی کہ یہ الزام بے بنیاد ہوسکتاہے ۔اس کے کانوں میں یہ
تو پہلے ہی ڈاال جاچکاتھا کہ سلطان ایوبی عورتوں کا شیدائی ہے۔ ا ُ ِّم عرارہ نے اسے یہ بتایاتھا کہ صالح الدین ایوبی حرم کی
امیر مصر کے پاس جاو اور
چار لڑکیوں کو خراب کر چکاہے۔خلیفہ نے اسی وقت اپنے خصوصی قاصد کو بالیا اور اُسے کہا کہ
ِ
اسے کہوکہ پردے میں لڑکی واپس کردو،میں کوئی کاروائ نہیں کرونگا
جس وقت خلیفٔہ قاصد کو یہ پیغام دے رہاتھا ،اس وقت قاہرہ سے دس بارہ میل ُدور تین شتر سوار قاہرہ کی طرف خراماں
خراماں آرہے تھے ۔ وہ مصرکی فوج کے گشتی سنتری تھے۔مصر کے سیاسی حاالت چونکہ اچھے نہیں تھے۔جاسوسوں اور
تخریب کاروں کی سرگرمیاں ُر کنے کی بجائے بڑھتی جارہی تھیں ۔سلطان ایوبی کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ملک میں غداری
اور بغاوت کی چنگاریاں بھی سلگ رہی ہیں ۔ اُس سوڈانی فوج کی طرف سے جسے اُس نے بر طرف کردیاتھا ،خطرہ پوری
طرح ٹالنہیں تھا۔ اس فوج کے کمان دار ،عہدے دار اور سپاہی تجربہ کار عسکری تھے۔کسی بھی وقت ملک کے لیے خطرہ
بن سکتے تھے ۔ سب سے بڑا خطرہ تو یہ تھا کہ سلطان ایوبی کے مخالفین نے صلیبیوں سے دوستانہ کر رکھاتھا۔ان کے
جاسوسوں کو وہ پناہ ،اڈہ اور مدد مہیا کرتے تھے ۔ان خطرات کے ِ
پیش نظر دار الحکومت سے بہت ُدور ُدور اور ہر طرف
فوج کے چند ایک دستے رکھے گئے تھے۔ان کے گشتی سنتری دن رات صحرائوں اور ٹیلوں ٹیکریوں کے عالقوں میں گھوڑوں اور
اونٹوں پر گشت کرتے رہتے تھے ،تاکہ آنے والے خطرے کی اطالع قبل ازوقت دی جاسکے۔
وہ تین شتر سوار انہی دستوں کے گشتی سنتری تھے جو اپنی ذمہ داری کے عالقے میں گشت کرکے واپس آرہے تھے۔آگے مٹی
اور پتھروں کی پہاڑیوں اور چٹانوں کا وسیع عالقہ تھا۔وہ ایک وادی میں سے گزررہے تھے ،انہیں کسی عورت کی آہ و زار
سنائی دی۔ مردانہ آوازیں بھی سنائی دیں ۔ان سے صاف پتہ چلتاتھا کہ لڑکی پر زبردستی کی جارہی ہے۔ ایک شتر سوار اُترا
اور اس چٹان پر چڑھ گیا ،جس کی دوسری طرف آوازیں آرہی تھی اس نے چھپ کر دیکھا،اُدھر چار گھوڑے کھڑے تھے اور
چار آدمی بھی تھے۔ چاروں سوڈانی حبشی تھے……ایک بڑی ہی خوب صورت لڑکی تھی ،جو دوڑی جارہی تھی۔ ایک حبشی نے
اسے پکڑلیا اور اسے بازوں میں دبوچ کر اُٹھا لیا اور ا ُسے اپنے ساتھیوں کے درمیان کھڑا کرکے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل
ہوگیا۔ اس نے اپنے سینے پر ہاتھ باندھ کرکہا''تم مقدس لڑکی ہو۔اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر ہمیں گناہ گار نہ کرو۔
دیوتاوں کا قہر ہمیں جال ڈالے گا یا ہمیں پتھر بنادے گا''۔
میں مسلمان ہوں''……لڑکی نے چال کر کہا……''تمہارے دیوتائوں پر لعنت بھیجتی ہوں ،مجھے چھوڑ دو ورنہ میں تم سب ''
کو خلیفہ کے کتوں سے بوٹی بوٹی کرادوں گی''۔
تم اب خلیفہ کی ملکیت نہیں ''……ایک حبشی نے اسے کہا……''اب تم اس دیوتا کی ملکیت ہو جس کے ہاتھ میں ''
آسمان کی بجلیوں کا قہر ،ناگوں کا زہر اور شیروں کی طاقت ہے ۔اس نے تمہیں پسند کرلیاہے۔ اب جوکوئی تمہیں اس سے
چھیننے کی کوشش کرے گا ،اسے صحرا کی ریت جال کر راکھ کردے گی''۔
ایک حبشی نے دوسرے سے کہا……''میں نے تمہیں کہاتھا کہ یہاں نہ رکو ،مگر تم آرام کرنا چاہتے تھے۔ اسے بندھا ہوا چلے
چلتے اور شام سے پہلے پہلے منزل پر پہنچ جاتے''۔
کیا ہمارے گھوڑے تھک نہیں گئے تھے؟''……حبشی نے جواب دیا……''ہم ساری رات کے جاگے ہوئے نہیں تھے؟اسے پھر ''
باندھ لو اور چلو''۔
اس نے لڑکی کو دبوچ لیا۔اچانک اس کی پیٹھ میں ایک تیر اُتر گیا۔اُس کی گرفت لڑکی سے ڈھیلی ہوگئی ۔لڑکی اُسے دھکادے
کر بھاگنے لگی تو دوسرے آدمی نے اسے پکڑ کر گھسیٹا اور گھوڑوں کی اوٹ میں ہوگیا۔ ایک اور تیر آیا جو ایک آدمی کی
گردن میں لگا۔ وہ آدمی بُ ری طرح تڑپنے لگا،جس آدمی نے لڑکی کو پکڑا تھا ،و ہ گھوڑے کی باگ پکڑ کر لڑکی اور گھوڑے کو
نشیبی جگہ لے گیا ،جو بالکل قریب تھی۔ایک حبشی اور بھی رہ گیاتھا ،وہ بھی دوڑ کر نشیب میں اُترگیا……یہ تیر اُس شتر
سوار سنتری نے چالئے تھے جو چٹان پر چڑھ گیا تھا ۔اس نے بعد میں جو بیان دیا ،اس میں اس نے کہاتھا کہ وہ دیوتائوں
کے نام سے ڈر گیا تھا ،لیکن لڑکی نے جب یہ کہا کہ میں مسلمان ہوں اور میں دیوتائوں پر لعنت بھیجتی ہوں تو سنتری کا
ایمان بیدار ہوگیا۔ لڑکی نے جب خلیفہ کانام لیا تو سنتری سمجھ گیا کہ یہ حرم کی لڑکی ہے۔اس کالباس ،اس کی شکل و
صورت اور اس کی ڈیل ڈول بتارہی تھی کہ یہ معمولی درجے کی لڑکی نہیں ،اسے اغوا کیا جارہاہے اور اسے سوڈان میں لے
جاکر فروخت کیاجائے گا۔ سنتری کو یہ معلوم تھا کہ تھوڑے دنوں بعد سوڈانی حبشیوں کا ایک میلہ لگنے واال ہے ،جس میں
لڑکیوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔
فوج کو سلطان ایوبی نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ عورت کی عزت کی حفاظت کی جائے گی ۔ایک عورت کی عزت کو
بچانے کے لیے ایک درجن آدمیوں کے قتل کی بھی اجازت تھی۔ سنتری نے یہ ساری باتیں سامنے رکھ کر فیصلہ کرلیا کہ اس
لڑکی کو بچانا ہے۔اس نے دو تیر چالئے اور دو حبشی مار ڈالے ۔اس نے غلطی یہ کی کہ باقی دو حبشیوں کو پکڑنے کے لیے
نیچے ا ُتر آیا۔اپنے اونٹ پر سوار ہوا ،اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ بردہ فروشوں کا تعاقب کرنا ہے۔وہ تینوں اونٹوں کو دوڑاتے
دوسری طرف گئے مگر انہیں چٹان کا چکر کاٹ کر جانا پڑا۔ اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ اونٹ گھوڑے کا تعاقب کر سکتاہے
یا نہیں۔ان تینوں میں سے تیر کمان صرف اسی سنتری کے پاس تھا ۔باقی دو کے پاس برچھیا ں اور تلواریں تھیں ۔
وہ اس جگہ پہنچے جہاں لڑکی اور حبشیوں کو دیکھا گیا تھا تو وہاں دو الشوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ سوڈانی حبشی لڑکی
کو بھی لے گئے اور اپنے مرے ہوئے ساتھیوں کے گھوڑوں کو بھی ۔شتر سواروں نے تعاقب میں اونٹ دوڑائے لیکن وہ ٹیلوں
اور چٹانوں کا عالقہ تھا۔راستہ گھومتا اور مڑتا تھا۔ انہیں بھاگئے گھوڑوں کے ٹاپ سنائی دے رہے تھے جو دورہوتے گئے اور
خاموش ہوگئے ۔شتر سواروں نے دونوں الشیں اونٹوں پر الدیں اور واپس آگئے ۔انہیں معلوم تھا کہ یہ الشیں کس کی ہیں۔یہ عام
قسم کے بردہ فروشوں کی بھی ہوسکتی تھیں،انہیں ا ُٹھا النا ضروری نہ تھا،لیکن لڑکی خلیفہ کی معلوم ہوتی تھی۔ اس لیے
.الشیں ا ُٹھانا ضروری سمجھا گیا تا کہ یہ معلوم ہوسکے کہ اغو ا کرنے والے کون ہیں
صالح الدین ایوبی پریشانی اور غصے کے عالم میں ٹہل رہاتھا۔کمرے میں اس کے مشیر اور معتمد بیٹھے تھے۔یہ اس کے
دوست بھی تھے ۔وہ سرجھکائے بیٹھے تھے۔ سلطان ایوبی اپنے آپ کو ہمیشہ قابو میں رکھتاتھا۔ وہ کبھی جذباتی نہیں
ہواتھا،وہ غصہ پی جایا کرتاتھا اور ذہن کو پوری طرح قابو میں رکھ کر سوچا اور فیصلہ کیا کرتاتھا۔ایسے حاالت نے بھی اسے
آزمایاتھا ،جن میں جابر جنگجو بھی ہتھیار ڈال دیا کرتے تھے ۔ وہ محاصروں میں بھی لڑا تھا اور اس حال میں بھی محاصرے
میں رہاتھا کہ اس کے سپاہیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے تھے ،قلعے میں کھانے پینے کے لیے بھی کچھ نہ رہاتھااور سپاہیوں کے
ترکش بھی خالی ہوگئے تھے۔ اس کے سپاہی اس انتظار میں تھے کہ وہ ہتھیار ڈال کر انہیں اس اذیت اور موت سے بچالے
گا ،لیکن سلطان ایوبی نے صرف اپنا حوصلہ ہی مضبوط نہ رکھابلکہ سپاہیوں میں بھی نئی روح پھونک دی ،مگر اس روز
سلطان ایوبی کو اپنے اوپر قابو نہیں رہاتھا ،چہرے پر غصہ بھی تھا اور گھبراہٹ بھی ۔ یہی وجہ تھی کہ سب خاموش بیٹھے
تھے ۔
آج پہلی بار میرا دماغ میرا ساتھ چھوڑ گیا ہے ''…… اس نے کہا۔''
کیا یہ ممکن نہیں کہ آپ خلیفہ کے اس پیغام کو نظر انداز کردیں ؟''…… اس کے نائب ساالر الناصر نے کہا۔''
میں اسی کوشش میں مصروف ہوں ''……سلطان ایوبی نے کہا……''لیکن الزام کی نوعیت دیکھو جو مجھ پر عائد ''
کیاگیاہے ۔ میں نے اس کے حرم کی ایک لڑکی اغوا کروائی ہے۔ استغفر اللہ ۔اللہ مجھے معاف کرے۔اس نے میری توہین میں
کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔پیغام بلکہ دھمکی قاصد کی زبانی بھیجی ہے،وہ مجھے بال لیتا ،میرے ساتھ برا ِہ راست بات کرتا''۔
میں پھر بھی یہی مشورہ دوں گا کہ اپنے آپ کو ٹھنڈا کیجئے ''……بہائوالدین شداد نے کہا۔''
میں سوچ یہ رہاہوں کہ کیا واقعی حرم سے کوئی لڑکی اغوا ہوئی ہے''……سلطان ایوبی نے کہا……''یہ جھوٹ معلوم ''
ہوتاہے ،اسے پتہ چل گیا ہوگا کہ میں نے خطبے سے اس کانام نکلوادیاہے۔اس کے جواب میں اس نے مجھ پر یہ الزام لگایا
عیسی الہکاری
کر کہ میں نے اس کے حرم کی ایک لڑکی اغواکرائی ہے،انتقام لینے کی کوشش کی ہے''……سلطان ایوبی نے
ٰ
فقیہہ سے کہا ……''ایک حکم نامہ مصرکی تمام مسجدوں کے نام جاری کردو کہ آئندہ کسی مسجد میں خطبے میں خلیفہ کا
ذکر نہیں کیا جائے گا۔
آپ اس کے ہاں چلے جائیں اور اس سے بات کریں''……الناصر نے کہا……''اسے صاف الفاظ میں بتادیں کہ خلیفہ قوم کی''
ِ
صورت حال میں جب حاالت جنگی ہیں اور دشمن کا
عزت کا نشان ہوتاہے ،لیکن اس کا حکم نہیں چل سکتا ،خصوصا ً اس
خطرہ باہر سے بھی ہے اور اندر سے بھی موجود ہے ۔میں تو یہاں تک مشورہ دوں گا کہ اس کے محافظ دستے کی نفری کم
کردیں ۔سوڈانی حبشیوں کی جگہ مصری دستہ رکھیں اور اس کے محل کے اخراجات کم کردیں ۔ میں اس کے نتائج سے آگاہ
ہوں ،ہمیں مقابلہ کرنا ہی پڑے گا ،ہمیں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے''۔
میں نے ہمیشہ اپنے اللہ پر بھروسہ کیاہے''……سلطان ایوبی نے کہا……''خدائے ذوالجالل مجھے اس ذلت سے بھی بچالے ''
گا''۔
دربان اندر آیا ،سب نے اس کی طرف دیکھا ۔اس نے کہا۔ ''صحرا کے گشتی دستے کا کمان دار اپنے تین سپاہیوں کے ساتھ
آیاہے ۔وہ سوڈانیوں کی الشیں الئے ہیں ''۔
سب نے دربان کی مداخلت کو اچھی نظر سے نہ دیکھا ۔اس وقت سلطان ایوبی بڑے ہی اہم اور خفیہ اجالس میں مصروف
تھا ،لیکن سلطان نے دربان سے کہا۔''انہیں اندر بھیج دو''……سلطان ایوبی نے اپنے دربان سے کہہ رکھا تھا کہ جب بھی
اسے کوئی ملنے آئے ،وہ اسے اطالع دے اور اگر رات اسے جگانے کی ضرورت محسوس ہوتو فورا ً جگا لے۔ سلطان کوئی بات
اور کوئی مالقات التوا میں نہیں ڈاال کرتاتھا۔
عہدے دار اندر آیا۔ اس کا چہرہ گرد سے اٹا ہوا اور تھکا تھکا نظر آتاتھا۔سلطان ایوبی نے اسے بٹھایا اور دربان سے کہاکہ اس
کے لیے پینے کے لیے کچھ لے آئو۔عہدے دار نے سلطان کو بتایا کہ اس کے گشتی سنتریوں نے چار سوڈانی حبشیوں سے ایک
مغویہ لڑکی کو چھڑانے کی کوشش میں دو کو تیروں سے مار ڈاال ہے اور وہ لڑکی کو اُٹھا کر بھاگ گئے ہیں۔عہدے دار نے
بتایا کہ سنتریوں کے بیان کے مطابق لڑکی خانہ بدوش یا کسی عام گھرانے کی نہیں تھی۔ وہ بہت ہی امیر لگتی تھی اور اس
نے کہاتھا کہ وہ خلیفہ کی ملکیت ہے۔
معلوم ہوتاہے ''……سلطان ایوبی نے کہا……''خدائے ذوالجالل میری مدد کو آگیاہے''……وہ باہر نکل گئے ۔کمرے میں بیٹھے''
ہوئے سب حاکم اس کے پیچھے چلے گئے ۔
باہر زمین پر دو الشیں پڑی تھیں ۔ایک الش پیٹ کے بل تھی۔اس کی پیٹھ میں تیر اُترا ہواتھا۔ دوسری الش کی گردن میں
اعلی بھی تھا ،شاید پہلی بار دیکھا تھا۔وہ
امیر مصرکو جو اُن کا ساالر
تیر پیوست تھا۔ پاس تین سپاہی کھڑے تھے۔انہوں نے
ِ
ٰ
فوجی انداز سے سالم کرکے پرے ہٹ گیا۔ سلطان ایوبی نے ان کے سالم کا صرف جواب ہی نہیں دیا ،بلکہ ان سے ہاتھ مالیا
اور کہا……''یہ شکار کہاں سے مار الئے ہو مومنو؟'' ……اس سنتری نے جس نے چٹان سے تیر چال کر دو آدمیوں کو مارا تھا
۔سلطان ایوبی کو سارا واقعہ پوری تفصیل سے سنادیا۔
کیا یہ ممکن ہوسکتاہے کہ وہ لڑکی خلیفہ کی ہی داشتہ ہو؟''……سلطان ایوبی نے اپنے مشیروں سے پوچھا۔''
معلوم یہی ہوتاہے ''……علی بن سفیان نے کہا……''ان کے خنجر دیکھئے ''۔ اس نے دو خنجر سلطان ایوبی کو
دکھائے ،جس وقت سپاہی واقعہ سنارہاتھا۔ علی بن سفیان الشوں کی تالشی لے رہاتھا۔ انہوں نے سوڈان کا قبائلی لباس پہن
رکھاتھا۔ کپڑوں کے اندر ان کے کمربندتھے ،جن کے ساتھ ایک ایک خنجر تھا۔یہ خلیفہ کے حفاظتی دستے کے خاص ساخت
قصر خالفت کی مہریں لگی ہوئی تھی۔ علی بن سفیان نے کہا……''اگر انہوں نے یہ
کے خنجر تھے ۔ ان کے دستوں پر
ِ
قصر خالفت کے حفاظتی دستے کے سپاہی ہیں۔ یہ کہاجاسکتاہے کہ لڑکی وہی ہے جو
خنجر چوری نہیں کیے تو یہ دونوں
ِ
خلیفہ کے حرم سے اغواہوئی ہے اور اغوا کرنے والے خلیفہ کے محافظوں میں سے ہیں ''۔
الشیں اُٹھوائو اور خلیفہ کے پاس لے چلو''……سلطان ایوبی نے کہا ۔''
پہلے یقین کرلیاجائے کہ یہ واقعی خلیفہ کے محافظوں میں سے ہیں ''۔علی بن سفیان نے کہا اور وہاں سے چالگیا۔''
قصر خالفت کا ایک کمان دار آگیا۔ اسے دونوں الشیں دکھائی گئیں۔ اس
زیادہ وقت نہیں گزراتھا کہ علی بن سفیان کے ساتھ
ِ
نے فورا ً پہچان لیا اور کہا……''یہ دونوں محافظ دستے کے سپاہی ہیں ،گزشتہ تین روز سے ُچھٹی پر تھے ۔ ان کی ُچھٹی
سات دن رہتی تھی''۔
کو ئی اور سپاہی بھی ُچھٹی پر ہے ؟''……سلطان ایوبی نے پوچھا۔''
دو اور ہیں ''۔''
''کیا وہ اِن کے ساتھ ُچھٹی پر گئے تھے؟''
اکٹھے گئے تھے'' ۔کمان دار نے جواب دیا اور ایک ایسا انکشاف کیا جس نے سب کو چونکادیا۔اس نے کہا……''یہ سوڈان ''
کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو خون خواری میں مشہور ہے۔ ان میں فرعونوں کے وقت کی کچھ رسمیں چلی آرہی ہیں ۔
یہ قبیلہ ہر تین سال بعد ایک جشن مناتا ہے ۔یہ ایک میلہ ہوتاہے جو تین دن اور تین راتیں رہتاہے۔دن ایسے مقرر کرتے ہیں
کہ چوتھی رات چاند پوراہوتاہے ۔میلے میں وہ لوگ بھی جاتے ہیں جن کا اس قبیلے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔وہ صرف
عیاشی کے لیے جاتے ہیں ۔میلے میں لڑکیوں کی خرید و فروخت کے لیے باقاعدہ منڈی لگتی ہے ۔اس میلے سے ایک ماہ
پہلے ہی اِ رد گرد ،بلکہ قاہرہ تک کے لوگ جن کی بیٹیاں جوان ہوگئی ہیں ،ہوشیار اور چوکس ہوجاتے ہیں ۔ وہ لڑکیوں کو
باہر نہیں جانے دیتے ۔ ان دنوں خانہ بدوش بھی اس عالقے سے دور چلے جاتے ہیں۔ لڑکیاں اغواہوتی ہیں اور اس میلے میں
فروخت ہوجاتی ہیں ۔ یہ چاروں سوڈانی اسی میلے کیلئے ُچھٹی پر گئے تھے ۔ میلہ تین روز بعد شروع ہورہاہے ''۔
کیا ان کے متعلق یہ کہاجاسکتاہے کہ خلیفہ کے حرم کی لڑکی انہوں نے اغوا کی ہوگی؟''……علی بن سفیان نے پوچھا۔''
میں یقین سے نہیں کہہ سکتا ''۔ کمان دار نے جواب دیا ……''یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان دنوں میں اس قبیلے کے لوگ ''
جان کا خطرہ مول لے کر بھی لڑکیا ں اغوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ خون خوار اتنے ہیں کہ اگر کسی لڑکی کے
وارث میلے میں چلے جائیں اور اپنی لڑکی لینے کی کوشش کریں تو انہیں قتل کردیاجاتا ہے۔لڑکیوں کے گاہکوں میں مصرکے
امیر ،وزیر اور حاکم بھی ہوتے ہیں ۔ میلے میں ایسے قحبہ خانے بھی کھل جاتے ہیں ،جہاں جواء ،شراب اور عورت کے
شدائی دولت ل ُٹاتے ہیں ۔ اس جشن کی آخری رات بڑی پُر اسرار ہوتی ہے۔ کسی خفیہ جگہ ایک نوجوان اور غیر معمولی
طور پر حسین لڑکی کو قربان کیا جاتاہے ۔ یہ کسی کو بھی معلوم نہیں کہ لڑکی کو کہاں اور کس طرح قربان کیاجاتاہے ۔یہ
کام ان کا ایک مذہبی پیشوا ،جسے حبشی خدابھی کہتے ہیں ،کرتاہے ۔ اس کے ساتھ بہت تھوڑے سے خاص آدمی اور چار
پانچ لڑکیاں ہوتی ہیں ۔ لوگوں کو لڑکی کا کٹاہوا سر اور خون دکھایا جاتاہے ،جسے دیکھ کر یہ قبیلہ پاگلوں کی طرح ناچتا
اور شراب پیتاہے ۔
٭ ٭ ٭
خلیفہ نے محافظ دستے کے ناک میں دم کررکھا تھا۔تمام تر محافظ دستہ دھوپ میں کھڑا تھا۔ سورج غروب ہونے میں کچھ
دیر باقی تھی ۔ اس دستے کو صبح کھڑا کیا گیاتھا۔ کمان داروں اور عہدے داروں کو بھی کھانے کی اجازت دی گئی تھی،نہ
پانی پینے کی ۔رجب بار بار آتا اور اعالن کرتا تھا کہ لڑکی محافظوں کی مدد کے بغیر اغواء نہیں کی جاسکتی تھی۔جس
کسی نے اغوا میں مدددی ہے ،وہ سامنے آجائے ،ورنہ تمہیں یہیں بھوکا اور پیاسا مار دیاجائے گا۔ اگر لڑکی خود باہر گئی ہوتی
تو تم میں سے کسی نہ کسی نے ضرور دیکھی ہوتی ……ان دھمکیوں کا کچھ اثر نہیں ہورہاتھا۔ سب کہتے تھے کہ وہ بے گناہ
ہیں ۔
خلیفہ رجب کو ٹکنے نہیں دے رہاتھا۔ اس نے رجب سے کہاتھا۔ ''مجھے لڑکی کا افسوس نہیں ،پریشانی یہ ہے کہ جو اتنے
کڑے پہرے سے لڑکی کو اغوا کر سکتے ہیں ،وہ مجھے بھی قتل کرسکتے ہیں ۔مجھے یہ ثبوت چاہیے کہ لڑکی کو صالح
الدین ایوبی نے اغوا کرایا ہے ''۔
رجب نے ہی اغواکا بہتان سلطان ایوبی کے سر تھوپا تھا ،مگر خلیفہ اسے کہہ رہاتھا کہ ثبوت الو،رجب ثبوت کہاں سے
التا،اس کی جان پر بن گئی تھی۔وہ ایک بار پھر محافظ دستے کے سامنے گیا ،غصے سے وہ بائوال ہوا جارہاتھا۔ وہ کئی بار
امیر
دی ہوئی دھمکی ایک بار پھر دینے ہی لگا تھا کہ دروازے پر کھڑے سنتریوں نے دروازے کھول دئیے اور اعالن کیا……'' ِ
مصر تشریف الرہے ہیں''۔
بڑے دروازے میں سلطان ایوبی کا گھوڑا داخل ہوا۔ اس کے آگے وہ محافظ سواروں کے گھوڑے تھے۔آٹھ سوار پیچھے تھے ۔
ایک دائیں اور بائیں تھا۔ ان کے پیچھے سلطان ایوبی کے حاکم اور مشیر تھے ۔ ان میں علی بن سفیان بھی تھا۔ رجب نے
خلیفہ کو اطالع بھیج دی کہ صالح الدین ایوبی آیاہے ۔ سب نے دیکھا کہ سلطان ایوبی کے اس جلوس کے پیچھے چار پہیوں
والی ایک گاڑی تھی۔جس کے آگے دو گھوڑے ُج تے ہوئے تھے ۔گاڑی پر دوالشیں پڑی تھیں ۔ ایک سیدھی اور دوسری اُلٹی ۔تیر
ابھی تک الشوں میں ا ُترے ہوئے تھے ۔ ان الشوں کے ساتھ وہ تین شترسوار تھے ،جنہوں نے ان حبشیوں کو مارا تھا۔
خلیفہ باہر آگیا۔ سلطان ایوبی اور اس کے تمام سوار گھوڑوں سے اُترے ۔ سلطان ایوبی نے اسی احترام سے خلیفہ کو سالم کیا
جس احترام کا وہ حق دار تھا۔ جھک کر اس سے مصافحہ کیا اور ہاتھ چوما۔
مجھے آپ کا پیغام مل گیاتھا کہ میں آپ کے حرم کی لڑکی واپس کردوں ''۔ سلطان ایوبی نے کہا……''میں آپ کے دو''
محافظوں کی الشیں الیاہوں ۔یہ الشیں مجھے بے گناہ ثابت کردیں گی اور میں حضور اقدس میں یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتا
ہوں کہ صالح الدین ایوبی آپ کی فوج کا سپاہی نہیں ہے ،جس خالفت کی آپ نمائندگی کررہے ہیں ،وہ اس کا بھیجا
ہواہے''۔
خلیفہ نے صالح الدین ایوبی کے تیور بھانپ لیے۔اس فاطمی خلیفہ کا ضمیر گناہوں کے بوجھ سے کراہ رہاتھا۔ وہ سلطان ایوبی
کی بارعب اور پُ ر جالل شخصیت کا سامنا کرنے کے قابل نہیں تھا۔اس نے سلطان ایوبی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر
کہا……''میں تمہیں اپنے بیٹوں سے زیادہ عزیز سمجھتا ہوں ،صالح الدین ایوبی اندر آو''۔
میری حیثیت ابھی ملزم کی ہے ''۔سلطان ایوبی نے کہا……''مجھے ابھی صفائی پیش کرنی ہے کہ میں اغوا کا ملزم نہیں''
ہوں ۔ خدائے ذوالجالل نے میری مددفرمائی ہے اور دوالشیں بھیجی ہیں ۔یہ الشیں بولیں گی نہیں ،ان کی خاموشی اور ان
قصر خالفت میں سرزد ہوا ہے۔میں
میں ا ُترے ہوئے تیر گواہی دیں گے کہ صالح الدین ایوبی اس جرم کا مجرم نہیں ہے ،جو
ِ
جب تک اپنے آپ کو بے گناہ ثابت نہ کرلوں گا ،اندر نہیں جاوں گا''……وہ الشوں کی طرف چل پڑا۔
خلیفہ کھچا ہوا اُس کے پیچھے پیچھے گیا۔ تھوڑی ُد ور چار ساڑھے چار سو نفری کا محافظ دستہ کھڑا تھا ۔سلطان ایوبی نے
الشیں ا ُٹھوا کر اس دستے کے سامنے رکھ دیں اور بلند آواز سے کہا …… ''آٹھ آٹھ سپاہی آگے آئو اور الشوں کو دیکھ کر
بتاوکہ یہ کون ہیں ؟'' …… پہلے کمان دار اور عہدے دار آئے ۔انہوں نے الشیں دیکھ کر ان کے نام بتائے اور کہا…… ''یہ
ہمارے دستے کے سپاہی تھے''……ان کے بعد آٹھ سپاہی آئے ،انہوں نے بھی الشوں کو دیکھ کر کہا کہ یہ ان کے ساتھی
تھے ۔آٹھ اور سپاہی آئے ،پھر آٹھ اور آئے ۔اسی طرح آٹھ آٹھ سپاہی آتے رہے اور بتاتے رہے کہ یہ الشیں ان کے فالں فالں
ساتھیوں کی ہیں ۔
قصر خالفت کے دو محافظوں کی ہیں ۔میں ''
صالح الدین ایوبی !'' ……خلیفہ نے کہا……''میں نے مان لیاہے کہ یہ الشیں
ِ
اس سے آگے سننا چاہتاہوں کہ انہیں کس نے ہالک کیا ہے ''۔
صالح الدین ایوبی نے اس گشتی سنتری سے ،جس نے انہیں ہالک کیا تھا ،کہا کہ اپنا بیان دہرائے ۔اُس نے سارا واقعہ خلیفہ
کو سنادیا۔ وہ ختم کرچکا تو سلطان ایوبی نے خلیفہ سے کہا……''لڑکی میرے پاس نہیں الئی گئی ۔وہ سوڈانی حبشیوں کے
میلے میں فروخت ہونے کے لیے گئی ہے''۔
خلیفہ کھسیانہ ہوا جارہاتھا۔ اس نے سلطان ایوبی سے کہا کہ وہ اندر چلے ۔سلطان ایوبی نے اندر جانے سے انکار کردیا اور
کہا……''میں اس لڑکی کو زندہ یا مردہ بر آمد کرکے آپ کے حضور حاضری دوںگا ۔ابھی میں اتنا ہی کہوں گا کہ حرم کی
ایک ایسی لڑکی اغوا ہوئ جو تحفے کے طور پر آئی تھی اور جو آپ کی منکوحہ بیوی نہیں داشتہ تھی ،میرے لیے ذرہ بھر
تعالی نے مجھے اس سے اہم فرائض سونپے ہیں ''۔
اہمیت نہیں رکھتی ۔خداوند
ٰ
میری پریشانی یہ نہیں کہ ایک لڑکی اغواہوگئی ہے ''۔ خلیفہ نے کہا……''اصل پریشانی یہ ہے کہ اس طرح لڑکیاں اغوا ''
ہونے لگیں تو ملک میں قانون کا کیا حشر ہوگا''۔
ِ
سلطنت اسالمیہ اغواہورہی ہے ''۔۔سلطان ایوبی نے کہا……''آپ زیادہ پریشان نہ ہوں ۔میرا ''
اور میری پریشانی یہ ہے کہ
شعبہ سراغ رسانی لڑکی کو برآمد کرنے کی پوری کوشش کرے گا''۔
خلیفہ سلطان ایوبی کو ذراپرے لے گیا اور کہا……''صالح الدین ! میں ایک عرصے سے دیکھ رہاہوں کہ تم مجھ سے کھچے
کھچے رہتے ہو۔ میں نجم الدین ایوب ) سلطان صالح الدین ایوبی کے والد محترم (کا بہت احترام کرتاہوں ،مگر تمہارے دل
میں میرے لیے ذرہ بھر احترام نہیں ہے اور مجھے آج بتایا گیا ہے کہ جامع مسجد کے خطیب امیر العالم نے یہ گستاخی کی
ہے کہ خطبے سے میرا نام ہٹادیاہے ۔مجھے رجب نے بتایا ہے کہ میں اسے اس گستاخی کی سزا دے سکتاہوں ۔ میں تم سے
''پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس نے تمہای شہ پر تو ایسا نہیں کیا؟
میری شہہ پر نہیں ،میرے حکم پر اس نے خلیفہ کانام خطبہ سے حذف کیاہے ''۔ سلطان ایوبی نے کہا……''صرف آپ ''
کانام نہیں ،بلکہ ہر اس خلیفہ کانام خطبے سے ہٹادیاگیاہے جو آپ کے بعد آئے گا اور جو اُس کے بعد آئے گا''۔
کیا یہ حکم فاطمی خالفت کمزور کرنے کے لیے جاری کیاگیاہے ؟''خلیفہ نے پوچھا……''مجھے شک ہے کہ یہاں عباسی ''
خالفت الئی جارہی ہے''۔
حضور بہت بوڑھے ہوگئے ہیں ''۔سلطان ایوبی نے کہا ……''قرآن نے شراب کو اسی لیے حرام کہاہے کہ اس سے دماغ ''
مائوف ہوجاتاہے ''……سلطان نے ذرا سوچ کر کہا……''میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کل سے آپ کے محافظ دستے میں ردوبدل
ہوگا اور رجب کو میں واپس لے کر آپ کو نیا کمان داردوں گا''۔
لیکن میں رجب کویہاں رکھنا چاہتا ہوں '' خلیفہ نے کہا۔''
میں حضور سے درخواست کرتاہوں کہ فوجی معامالت میں دخل دینے کی کوشش نہ کریں ۔ سلطان ایوبی نے کہا اور علی ''
بن سفیان کی طرف متوجہ ہوا جو پانچ حبشی محافظو کو ساتھ لیے آرہاتھا۔
یہ پانچوں ا ُسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں '' علی بن سفیان نے کہا…… ''میں نے اس دستے سے مخاطب ہو کر کہا ''
کہ اس قبیلے کے کوئی آدمی یہاں ہوں تو باہر آجائیں ۔یہ پانچ صفوں سے باہر آگئے ۔ ان کے متعلق مجھے ان کے کمان دار
نے بتایا ہے کہ پرسوں سے ُچ ھٹی پر جا رہے تھے ۔ میں انہیں اپنے ساتھ لے جارہاہوں ۔لڑکی کے اغوا میں ان کا ہاتھ
ہوسکتاہے ''۔
صالح الدین ایوبی نے رجب کو بال کر کہا…… ''کل یہاں دوسرا کمان دار آرہاہے ،آپ میرے پاس آجائیں گے ۔ میں آپ کو
منجنیقوں کی کمان دینا چاہتا ہوں۔
رجب کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
ا ُ ّ ِم عرارہ کو گھوڑے پر ڈالئے ہوئے جب وہ دو حبشی اتنی ُدور نکل گئے ،جہاں انہیں تعاقب کا خطرہ نہ رہاتو انہوں نے
گھوڑے روک لیے ۔لڑکی ایک بار پھر آزاد ہونے کو تڑپنے لگی۔ حبشیوں نے اسے کہا کہ اس کا تڑپنا بے کار ہے۔اب اگر اُسے
وہ آزاد بھی کردیں تو وہ اس ریگستان سے زندہ نہیں نکل سکے گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اسے بے آبرو نہیں کرنا
چاہتے ۔ اگر ا ُن کی نیت ایسی ہوتی تو وہ اس کے ساتھ وحشیوں جیسا سلوک کر چکے ہوتے۔ ا ُ ِّم عرارہ حیران تھی کہ انہوں
نے اسے چھیڑا تک نہیں تھا۔ انہیں تو جیسے احساس ہی نہیں تھا کہ اتنی دلکش لڑکی ان کے رحم و کرم پر ہے۔ ان میں
سے ایک نے جو مارا جا چکاتھا ،مرنے سے پہلے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر التجا کی تھی کہ وہ تڑپ تڑپ کر
اپنے آپ کو اذیت میں نہ ڈالے۔ا ُ ِّم عرارہ نے ان سے پوچھا کہ اسے کہاں لے جایا جارہاہے تو اسے جواب دیاگیا کہ وہ اسے
آسمان کے دیوتاکی ملکہ بنانے کے لیے لے جارہے ہیں۔
انہوں نے لڑکی کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور ا ُٹھا کر گھوڑے پر بٹھا دیا ۔اس نے آزاد ہونے کی کوشش ترک کر دی۔ اس
نے دیکھ لیا تھا کہ یہ کوشش بے سود ہے ۔گھوڑے چل پڑے اورا ُ ِّم عرارہ ایک حبشی کے آگے گھوڑے پر بیٹھی محسوس کیا
کہ رات ہوگئی ہے ۔گھوڑے ُر ک گئے ۔اس وقت تک اس نازک لڑکی کا جسم مسلسل گھوڑ سواری سے ٹوٹ چکا تھا۔ دہشت
سے اس کا دماغ بے کار ہوگیاتھا۔ اسے گھوڑے ُرکتے ہی اپنے ارد گرد تین چار مردوں اور تین عورتوں کی ملی جلی آوازیں
سنائی دینے لگیں۔ یہ زبان اس کی سمجھ سے باال تھی۔ یہی حبشی راستے میں اس کے ساتھ عربی زبان میں باتیں کرتے
تھے۔ ان کا لہجہ عربی نہیں تھا۔
ابھی اس کی آنکھوں سے پٹی نہیں کھولی گئی تھی۔ اس کی تو جیسے زبان بھی بند ہوگئی تھی۔ اُسے کسی نے اُٹھا کر
کسی نرم چیز پر بٹھا دیا۔ یہ پالکی تھی ۔پالکی اوپر کو ا ُٹھی اور اس کا ایک اور سفر شروع ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی دف
کی ہلکی ہلکی گونج دار تھاپ سنائی دینے لگی اور عورتیں گانے لگیں۔اس گانے کے الفاظ تو وہ نہ سمجھ سکتی تھی ،اس
کی ل َے میں جادو کا اثر تھا ۔یہ اثر ایسا تھا ،جس نے ا ُ ِّم عرارہ کے خوف میں اضافہ کردیا ،لیکن اس خوف میں ایسا تاثر
بھی پیدا ہونے لگا جیسے اس پر نشہ یا خمار طاری ہورہاہو۔ رات کی خنکی خمار میں لذت سی پیدا کررہی تھی۔ ا ُ ِّم عرارہ
نے یہ چاہتے ہوئے کہ وہ پالکی سے کود جائے اور بھاگ اُٹھے اور یہ لوگ اُسے جان سے ماردیں،اس نے ایسی جرٔات نہ
کی ۔وہ محسوس کررہی تھی کہ وہ ان انسانوں کے قبضے میں نہیں بلکہ کوئی اور ہی طاقت ہے جس نے اس پر قابو پالیا
ہے اور اب وہ اپنی مرضی سے کوئی حرکت نہیں کر سکے گی۔
وہ محسوس کرنے لگی کہ پالکی بردار سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں ،وہ چڑھتے گئے ۔کم و بیش تیس سیڑھیاں چڑھ کر وہ ہموار
چلنے لگے اور چند قدم چل کر ُرک گئے ۔پالکی زمین پر رکھ دی گئی۔ا ُ ِّم عرارہ کی آنکھوں سے پٹی کھول کر کسی نے اس
کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے۔تھوڑی دیر بعد ان ہاتھوں کی انگلیاں کھلنے لگی اور لڑکی کو روشنیاں دکھائی دینے لگی۔ آہستہ
آہستہ ہاتھ ا ُس کی آنکھوں سے ہٹ گئے ۔ وہ ایک ایسی عمارت میں کھڑی تھی جو ہزاروں سال پرانی نظر آتی تھی۔ گول
ستون اوپر تک چلے گئے تھے ۔ایک وسیع ہال تھا جس پر فرش روشنیوں میں چمک رہاتھا ۔دیواروں کے ساتھ ڈنڈے سے لگے
ہوئے تھے اور ڈنڈوں کے سروں پر مشعلو ں کے شعلے تھے ۔اندر کی فضا میں ایسی خوشبو تھی جس کی مہک اس کے لیے
نئی تھی۔ دف کی ہلکی ہلکی تھاپ اور عورتوں کا گیت اسے سنائی دے رہاتھا۔ یہ تھاپ اور یہ ل َے ہال میں ایسی گونج پیدا
کررہی تھی ،جس میں خواب کا تاثر تھا۔
ا ُس نے سامنے دیکھا ۔ایک چبوترہ تھا جس کی آٹھ دس سیڑھیاں تھیں ۔چبوترے پر پتھر کے بُت کا منہ اور سر تھا۔اس کی
ٹھوڑی کے نیچے تھوڑی سی گردن تھی۔ٹھوڑی سے ماتھے تک یہ پتھر کا چہرہ قد آور انسان سے بھی ڈیڑھ دو فٹ اونچا تھا۔
منہ کھالہوا تھا جو اتنا چوڑا تھا کہ ایک آدمی ذراسا جھک کر اس میں داخل ہوسکتا تھا۔ منہ میں سفید دانت بھی تھے۔یوں
لگتا تھا جیسے یہ چہرہ قہقہے لگا رہاہو۔ اس کے دونوں کانوں سے ڈنڈے نکلے ہوئے تھے،جن کے باہر والے سروں پر مشعلیں
جل رہی تھی۔اچانک اس کی آنکھیں جو کم و بیش گز گز بھر چوڑی تھیں ،چمکنے لگیں ۔ان سے روشنی پھوٹنے لگی ۔
عورتوں کے گیت کی ل َے بدل گئی ۔ دف کی تھاپ میں جوش پیدا ہوگیا ۔ پتھر کے منہ کے اندر روشنی ہوگئی ۔لمبے لمبے
سفید چغے پہنے ہوئے دو آدمی جھک کر منہ سے باہر آئے۔منہ سے باہر آکر ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف کھڑا ہوگیا۔
اس کے بعد پتھر کے منہ میں سے ایک اور آدمی نمودار ہوا۔وہ بھی جھک کر باہر آیا۔وہ ذرا بوڑھا لگتا تھا۔ اس کا چغہ سرخ
رنگ کاتھا اور اس کے سر پر تاج تھا۔ ایک سانپ جو مصنوعی تھا اسکے دائیں کندھے پر کنڈلی مارے اور پھن پھیالئے بیٹھا
تھا اور ایک بائیں کندھے پر ۔ دونوں سانپوں کے رنگ سیاہ تھے۔ ا ُ ِّم عرارہ پر ایسا رعب طار ی ہوا کہ وہ ُسن ہوکے کھڑی
رہی ۔یہ آدمی جو اس قبیلے کا مذہبی پیشوا یا پروہت تھا ،چبوترے کی سیڑھیاں اُتر آیا۔ وہ آہستہ آہستہ ا ُ ِّم عرارہ تک آیا اور
دونوں گھٹنے فرش پر رکھ کر اس نے لڑکی کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر چوم لیے۔ اس نے لڑکی سے عربی زبان
میں کہا……''تم ہو وہ خوش نصیب لڑکی جسے میرے دیوتا نے پسند کیا ہے۔ہم تمہیں مبارک باد پیش کرتے ہیں ''۔
ا ُ ِّم عرارہ بیدار ہوگئی ۔اس نے روتے ہوئے کہا……''میں کسی دیوتا کو نہیں مانتی ،اگر تم دیوتائوں کو مانتے ہوتو میں تمہیں
انہی کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ مجھے چھوڑ دو ۔مجھے یہاں کیوں الئے ہو''۔
یہاں جو بھی آتی ہے ،یہی کہتی ہے ''۔ پروہت نے کہا……''لیکن اُس پر اس مقدس جگہ کا راز کھلتا ہے تو کہتی ہے ''
کہ میں یہاں سے جانا نہیں چاہتی ۔میں جانتاہوں تم مسلمانوں کے خلیفہ کی محبوبہ ہو ،مگر جس نے تمہیں پسند کیا ہے،،اس
کے آگے دنیا کے خلیفے اور آسمانوں کے فرشتے سجدے کرتے ہیں ۔تم جنت میں آگئی ہو''۔ اس نے چغے کے اندرسے ایک
پھول نکاال اور ا ُ ِّم عرارہ کی ناک کے ساتھ لگادیا۔ ا ُ ِّم عرارہ حرم کی شہزادی تھی۔اس نے ایسے ایسے عطر سونگے تھے جو
اس جیسی شہزادیوں کے سوا اور کوئی خواب میں بھی نہیں سونگ سکتاتھا ،مگر اس پھول کی بو اس کے لیے انوکھی تھی۔
یہ بو اسکی روح تک ا ُتر گئی ۔اس کی سوچوں کا رنگ ہی بدل گیا۔اس کی نظروں کے زاویے ہی بدل گئے ۔پروہت نے
کہا……''یہ دیوتا کا تحفہ ہے''…… اور اس نے پھول اس کی ناک سے ہٹالیا۔
ا ُ ِّم عرارہ نے ہاتھ آہستہ آہستہ آگے کیا اور پروہت کا پھول واال ہاتھ پکڑ کر اپنی ناک کے قریب لے آئی۔پھول سونگھ کر خمار
''آلود آواز میں بولی۔''کتنا دل نشین تحفہ ہے۔آپ یہ مجھے دیں گے نہیں ؟
کیا تم نے تحفہ قبول کرلیاہے؟'' ۔پروہت نے پوچھا ۔اس کے ہونٹوں پر ُمسکراہٹ تھی۔''ہاں ا ُ ِّم عرارہ نے جواب ''
دیا……''میں نے یہ تحفہ قبول کرلیاہے ''……اس نے پھول کو ایک بار پھر سونگھا اور اس نے آنکھیں بند کرلیں جیسے مہک
کو ا پنے وجود میں جذب کرنے کی کوشش کررہی ہو۔
''دیوتانے بھی تمہیں قبول کرلیاہے''۔ پروہت نے کہا اور پوچھا……''تم اب تک کہاں تھیں ؟''
لڑکی سوچ میں پڑگئی جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کررہی ہو۔سر ہال کر بولی……''میں یہیں تھی……نہیں ۔میں ایک اورجگہ
تھی ……مجھے یاد نہیں کہ میں کہاں تھی''۔
''تمہیں یہاں کون الیاہے؟''
''کوئی بھی نہیں ''……ا ُ ِّم عرارہ نے جواب دیا……''میں خود آئی ہوں''
''تم گھوڑے پر نہیں آئی تھیں؟''
نہیں ''۔لڑکی نے جواب دیا……''میں اُڑتی ہوئی آئی ہوں''۔''
''کیا راستے میں صحرا اور پہاڑ اور جنگل اور ویرانے نہیں تھے؟''
نہیں تو!''۔ لڑکی نے جواب دیا……''ہر طرف سبزہ زار اور پھول تھے''۔''
''تمہای آنکھوں پر کسی نے پٹی نہیں باندھی تھی؟''
پٹی ؟……نہیں تو'' ۔لڑکی نے جواب دیا……''میری آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور میں نے رنگ برنگ پرندے دیکھے تھے،پیارے''
''پیارے پرندے۔
پروہت نے اپنی زبان میں بلند آواز سے کچھ کہا۔ا ُ ِّم عرارہ کے عقب سے چار لڑکیاں آئیں تمہیں دیوتا کے پسند کے کپڑے
پہنا ئے جائیں گے''……لڑکیوں نے اس کے کندھوں پر چادر سی ڈال دی جو اتنی چوڑی تھی کہ کندھوں سے پائوں تک اس
کا جسم مستور ہوگیا۔
جاری ھے
19:17
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
"قسط نمبر24.۔ "ام عرارہ کا اغواہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس چادر کے کناروں پر رنگ دار رسیوں کے ٹکڑے تھے۔چادر آگے کرکے ان ٹکڑوں کا گانٹھیں دے دی گئیں اور چادر نہایت
موزوں چغہ بن گئی۔ ا ُ ِّم عرارہ کے بال ریشم جیسے مالئم اور سیاہی مائل بھور ے تھے۔ایک لڑکی نے اس کے بالوں میں
کنگھی کرکے اس کے شانوں پر پھیال دئیے ۔اسکا حسن اور زیادہ بڑھ گیا۔
پروہت نے اسے ُمسکراکر دیکھا اور گھوم کر پتھر کے مہیب چہرے کی طرف چل پڑا۔دولڑکیوں نے ا ُ ِّم عرارہ کے ہاتھ تھام لیے
اور پروہت کے پیچھے پیچھے چل پڑیں ۔ا ُ ِّم عرارہ شہزادیوں کی طرح چل پڑی ۔ اس نے اِدھر اُدھر نہیں دیکھاکہ ماحول کیسا
ہے۔اس کی چال میں اور ہی شان تھی۔عورتوں کاراگ اسے پہلے سے زیادہ طلسماتی اور پُر سوز معلوم ہونے لگا۔وہ پروہت کے
پیچھے ،ہاتھ لڑکیوں کے ہاتھوں پر رکھے چبوترے کی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ پروہت پتھر کے پہاڑ جیسے چہرے کے منہ میں
داخل ہوگیا۔ ا ُ ِّم عرارہ بھی تین سیڑھیاں چڑھ کر بُت کے منہ میں جھک کر داخل ہوگئی۔ دونوں لڑکیاں وہیں کھڑی رہیں ۔ا ُ ِّم
عرارہ کا ہاتھ پروہت نے تھام لیا۔ منہ کی چھت اتنی اونچی تھی کہ وہ سیدھے چل رہے تھے ۔ حلق میں پہنچے تو آگے
سیڑھیاں تھیں۔ وہ سیڑھیاں ا ُتر گئے۔یہ ایک تہہ خانہ تھا جہاں قندیلیں روشن تھیں۔ایک کمرے میں بھی مہک تھی۔یہ کمرہ
کشادہ نہیں تھا،چھت اونچی نہیں تھی۔اس کی دیوار یں اور چھت درختوں کے پتوں اور پھولوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ فرش پر
مالئم گھاس اور گھاس پر پھول بچھے ہوئے تھے۔ایک کونے میں خوشمنا صراحی اور پیالے رکھے تھے۔ پروہت نے صراحی سے
دو پیالے بھرے ۔ایک ا ُ ِّم عرارہ کو دیا ،دونوں نے پیالے ہونٹوں سے لگائے اور خالی کردئیے۔
دیوتا کب آئے گا؟'' ا ُ ِّم عرارہ نے پوچھا۔''
''تم نے ابھی اسے پہچانا نہیں ؟'' پروہت نے کہا……''تمہارے سامنے کون کھڑ اہے ؟''
ا ُ ِّم عرارہ اس کے پاوں میں بیٹھ گئی اور بولی……''ہاں ! میں نے اسے پہچان لیا ہے۔تم وہ نہیں ہو جسے میں نے اوپر
''دیکھا تھا۔ تم نے مجھے قبول کرلیا ہے؟
ہاں !'' پروہت نے کہا ……''آج سے تم میری دلہن ہو''۔''
٭ ٭ ٭
میں آپ کو اور کچھ نہیں بتاسکتا ۔میرے باپ نے مجھے بتایا تھا کہ پروہت لڑکی کو پھول سونگھاتا ہے جس کی خوشبو ''
سے لڑکی کے ذہن سے نکل جاتاہے کہ وہ کیا تھی ،کہاں سے آئی ہے اور کس طرح الئی گئی ہے۔وہ پروہت کی لونڈی بن
جاتی ہے اور اسے ُد نیا کی گندی چیز یں بھی خوب صورت دکھائی دیتی ہیں ۔پروہت تین راتیں اسے اپنے ساتھ تہہ خانے
میں رکھتا ہے''۔
یہ انکشاف ان پانچ سوڈانی حبشیوں میں سے ایک علی بن سفیان کے سامنے بیان کررہاتھا ،جنہیں اس نے خلیفہ کے محافظ
دستے میں سے نکاالتھا۔ یہ پانچوں اسی قبیلے میں سے تھے ،جس قبیلے کے وہ چاروں تھے،جنہوں نے ا ُ ِّم عرارہ کو اغوا
کیاتھا۔ اپنے ساتھ لے جاکر علی بن سفیان نے ان پانچوں سے کہاتھا کہ چونکہ وہ اسی قبیلے کے ہیں جو تیسرے سال کے
آخر میں جشن مناتاہے اور وہ ُچ ھٹی پر جارہے تھے۔ اس لیے انہیں معلوم ہوگا کہ لڑکی کس طرح اغوا ہوئی ہے۔ ان پانچوں
نے کہا کہ انہیں اغوا کا علم ہی نہیں ۔علی بن سفیان نے انہیں یہ اللچ بھی دیا کہ وہ سچ بتادیں گے تو انہیں کوئی
سزانہیں دی جائے گی ،پھر بھی وہ العلمی کا اظہار کرتے رہے ۔یہ قبیلہ وحشیانہ مزاج اور خون خواری کی وجہ سے مشہور
ذر ہ بھر ڈرنہ تھا۔ پانچوں بہت دلیری سے انکار کررہے تھے۔ آخر علی بن سفیان کو وہ طریقے آزمانے پڑے
تھا۔ا نہیں سزا کا ّ
جو پتھر کو بھی پگھالدیتے ہیں ۔
پانچوں کو الگ الگ کرکے علی بن سفیان انہیں اس جگہ لے گیا جہاں چیخیں اور آہ و بکا کوئی نہیں سنتاتھا۔ مسلسل اذیت
اور تشدد سے کوئی ملزم مرجائے تو کسی کو پروانہیں ہوتی تھی۔ یہ پانچوں سوڈانی بڑے ہی سخت جان معلوم ہوتے تھے۔ وہ
رات بھر اذیت سہتے رہے۔علی بن سفیان رات بھر جاگتا رہا ۔آخر انہیں اس امتحان میں ڈاال گیا جو آخری حربہ سمجھا جاتا
تھا ،یہ تھا''چکر شکنجہ ''۔ رہٹ کی طرح چوڑے اور بہت بڑے پہئے پر ملزم کو اُلٹا ل ُٹا کر ہاتھ رسیوں سے چکر کے
ساتھ باندھ دئیے جاتے اور پائوں ٹخنوں سے رسیاں ڈال کر فرش میں گاڑے ہوئے کیلو ں سے کس دئیے جاتے تھے۔ پہئے کو
ذراسا آگے چالیا جاتا تو ملزم کے بازو کندھوں سے اور ٹانگیں کولہوں سے الگ ہونے لگتی تھیں۔ بعض اوقات ملزم کو کھینچ
کر پہئے کو ایک جگہ روک لیاجاتاتھا۔ اذیت کا یہ طریقہ ملزموں کو بے ہوش کر دیتا تھا۔
سحر کے وقت ایک ادھیڑ عمر حبشی نے علی بن سفیان سے کہا……''میں سب کچھ جانتاہوں ،لیکن دیوتا کے ڈر سے نہیں
بتایا۔ دیوتا مجھے بہت بُری موت ماریں گے''۔
کیا اس سے بڑھ کر کوئی بُری موت ہوسکتی ہے ،جو میں تمہیں دے رہاہوں؟''علی بن سفیان نے کہا……''اگر تمہارے ''
دیوتا سچے ہوتے تو وہ تمہیں اس شکنجے سے نکال نہ لیتے ؟تم اگر مرنے سے ڈرتے ہوتو موت یہاں بھی موجود ہے ۔تم
بات کرو۔ میرے ہاتھ میں ایک ایسا دیوتا ہے جو تمہیں تمہارے دیوتا سے بچالے گا''۔
یہ سوڈانی حبشی کئی باربے ہوش ہوچکاتھا۔ اسے دیوتا نہیں موت صاف نظر آرہی تھی۔علی بن سفیان نے اس کی زبان کھول
لی۔ اسے شکنجے سے کھول کر کھالیا اور پالیا اور آرام سے لٹا دیا۔اس نے اعتراف کیا کہ ا ُ ِّم عرارہ کو ا ُ ن کے قبیلے کے
چار آدمیوں نے اغوا کیا تھا۔ وہ چاروں ُچ ھٹی پر چلے گئے تھے۔انہوں نے اغوا کی رات اور وقت بتادیاتھا ۔یہ پانچ حبشی جو
علی بن سفیان کے قبضے میں ،ا ُس رات پہرے پر تھے۔اغوا کرنے والوں میں سے دو کو اندر آناتھا۔انہیں بڑے دروازے سے داخل
کرنے کا انتظام انہوں نے کیا تھا اور انہیں اغوا اور فرار میں پوری مدد دی تھی ۔اس حبشی نے بتایا کہ اس لڑکی کو دیوتا
کی قربان گاہ پر قربان کیا جائے گا۔ہر تین سال بعد ان کا قبیلہ چار روزہ جشن مناتا ہے ،لیکن لڑکی اپنے قبیلے کی نہیں
ہوتی۔شرط یہ ہے کہ لڑکی غیر ملکی ہو ،سفید رنگ کی ہو،اونچے درجے کے خاندان کی اور اتنی خوب صورت ہو کہ لوگ
دیکھ کر ٹھٹھک جائیں ''۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر تین سال بعد تمہارا قبیلہ باہر سے ایک خوب صورت لڑکی اغوا کرکے التاہے''۔ علی بن ''
سفیان نے پوچھا۔
نہیں ۔یہ غلط ہے''۔ سوڈانی حبشی نے جواب دیا……''تین سال بعد صرف میلہ لگتا ہے ۔لڑکی کی قربانی پانچ میلوں کے''
بعد یعنی ہر پندرہ سال بعد دی جاتی ہے۔مشہور یہی ہے کہ ہر تین سال بعد لڑکی قربان کی جاتی ہے''۔
اس نے اپنے باپ کے حوالے سے وہ جگہ بتائی جہاں قربانی دی جاتی تھی۔ پروہت کو وہ دیوتا کا بیٹا کہتاتھا،جہاں میلہ لگتا
تھا ،اس سے ڈیڑ ھ ایک میل جتنی ُد ور ایک پہاڑی عالقہ تھا ،جہاں جنگل بھی تھا۔یہ عالقہ زیادہ وسیع اور عریض نہیں
تھا۔اس کے متعلق مشہور تھا کہ وہاں دیوتا رہتے ہیں اور ان کی خدمت کے لیے جن اور پریاں بھی رہتی ہیں۔لوگ اس لیے
یہ باتیں مانتے تھے کہ ہر طرف صحرا اور اس میں جزیرے کی طرح کچھ عالقہ پہاڑی اور سر سبز تھاجو قدرت کا ایک
عجوبہ تھا۔یہ دیوتائوں کا مسکن ہی ہوسکتا تھا۔ اس عالقے میں فرعونوں کے وقتوں کے کھنڈر تھے،وہاں ایک جھیل بھی تھی
جس میں چھوٹے مگر مچھ رہتے تھے۔
قبیلے کا کوئی آدمی سنگین جرم کرے تو اسے پروہت کے حوالے کردیاجاتاتھا۔ پروہت اسے زندہ جھیل میں پھینک دیتا ،جہاں
مگر مجھ اسے کھاجاتے تھے۔پروہت انہی کھنڈروں میں رہتا تھا۔وہاں ایک بہت بڑا پتھر کا سر اور منہ تھا جس میں دیوتا رہتا
تھا۔ ہر پندرھویں سال کے آخری دنوں میں باہر سے ایک لڑکی اغوا کرکے الئی جاتی جو پروہت کے حوالے کردی جاتی تھی
پروہت لڑکی کو ایک پھول سونگھاتاتھا جس کی خوشبو سے لڑکی کے ذہن سے نکل جاتاتھاکہ وہ کیا تھی،کہاں سے آئی تھی
اور اسے کون الیا تھا۔اس پھول میں کوئی نشہ آور بوڈالی جاتی تھی ،جس کے اثر سے وہ پروہت کو دیوتا اور اپنا خاوند
سمجھ لیتی تھی۔اسے وہاں کی گندی چیزیں بھی خوب صورت دکھائی دیتی تھیں۔
لڑکی کی قربانی انہی کھنڈرات میں دی جاتی تھی۔لڑکی کو پروہت تہہ خانے میں اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ اس جگہ چار مرد اور
چار خوب صورت لڑکیاں رہتی تھیں۔ ان کے سوا اور کسی کو پہاڑوں کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔لڑکی کو جب قربان
گاہ پر لے جایا جاتا تو اسے احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ اس کی گردن کاٹ دی جائے گی۔وہ فخر اور خوشی سے مرتی
تھی۔ اس کا دھڑ مگر مچھوں کی جھیل میں پھینک دیاجاتا اور بال کاٹ کر قبیلے کے ہر گھر میں تقسیم کر دئیے جاتے
تھے۔ ان بالوں کو مقدس سمجھا جاتا تھا۔لڑکی کا سر خشک ہونے کے لیے رکھ دیاجاتا تھا ،جب گوشت ختم ہوکر صرف
کھوپڑی رہ جاتی تو ا ُسے ایک غار میں رکھ دیاجاتاتھا۔ لڑکی کسی کو دکھائی نہیں جاتی تھی۔
پندرہ سال پورے ہورہے ہیں ۔اب کے لڑکی کی قربانی دی جائے گی''……اس حبشی نے کہا……''ہم نو آدمی مصرکی فوج ''
میں بھرتی ہوئے تھے۔ہمیں چونکہ نڈر اور وحشی سمجھا جاتاہے۔اس لیے ہمیں خلیفہ کے محافظ دستے کے لیے منتخب
کرلیاگیا۔دو مہینے گزرے ہم نے اس لڑکی کو دیکھا۔ایسی خوب صورت لڑکی ہم نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ہم سب نے فیصلہ کر
لیا کہ اس لڑکی کو ا ُٹھالے جائیں گے اور قربانی کے لیے پیش کریں گے۔ہمارے ایک ساتھی نے جو کل ماراگیاہے۔اپنے گائوں
جاکر قبیلے کے بزرگ کو بتادیاتھاکہ اس بار قربانی کے لیے ہم لڑکی الئیں گے۔ ہم نے لڑکی کو اغوا کرلیاہے''۔
یہ قصہ صالح الدین ایوبی کو سنایا گیا تو وہ گہری سوچ میں کھوگیا۔علی بن سفیان اس کے حکم کا منتظر تھا۔سلطان ایوبی
نے نقشہ دیکھا اور کہا……''اگر جگہ یہ ہے تو یہ ہماری عمل داری سے باہر ہے۔تم نے شہر کے پرانے لوگوں سے جو
معلومات حاصل کی ہیں ،ان سے یہ ثابت ہوتاہے کہ فرعون تو صد یاں گزریں مرگئے ہیں ،لیکن فرعونیت ابھی باقی ہے۔
بحیثیت مسلمان ہم پر فرض عائد ہوتاہے کہ ہم اگر ُد ور نہ پہنچ سکیں تو قریبی پڑوس سے تو کفر اور شرک کا خاتمہ کریں۔
آج تک معلوم نہیں کتنے والدین کی معصوم بیٹیاں قربان کی جاچکی ہیں اور اس میلے میں کتنی بیٹیاں اغوا ہوکر فروخت
ہوجاتی ہیں۔ہمیں دیوتائوں کا تصور ختم کرنا ہے ۔لوگوں کو دیوتائوں کا تصور دے کر نام نہاد مذہبی پیشوا لڑکیاں اغوا کرواکے
بدکاری اور عیاشی کرتے ہیں''۔
میرے مخبروں کی اطالعات نے یہ بے ہودہ انکشاف کیا ہے کہ ہماری فوج کے کئی کمان دار اور مصر کے پیسے والے لوگ''
اس میلے میں جاتے اور لڑکیاں خریدتے یا چند دنوں کے لیے کرائے پر التے ہیں''……علی بن سفیان نے کہا……''کردار کی
تباہی کے عالوہ یہ خطرہ بھی ہے کہ سوڈانیوں کی برطرف فوج کے عسکری اس میلے میں زیادہ تعداد میں جاتے ہیں۔ہماری
فوج اور ہمارے دوسرے لوگوں کا سوڈانی سابقہ فوجیوں کے ساتھ ملنا جلنا اور جشن منانا ٹھیک نہیں۔یہ مشترکہ تفریح ملک
کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے''……علی بن سفیان نے ذراجھجک کر کہا……''اور لڑکی کو قربان ہونے سے پہلے بچانا اور
خلیفہ کے حوالے کرنا ،اس لیے بھی ضروری ہے کہ اسے معلوم ہوجائے کہ اس نے آپ پر اغوا کا جو الزام عائد کیاہے،وہ کتنا
بے بنیاد اور لغو ہے''۔
مجھے اس کی کوئی پروانہیں علی!''……سلطان ایوبی نے کہا……''میری توجہ اپنی ذات پر نہیں ۔مجھے کوئی کتنا ہی ''
حقیر کہے،میں اسالم کی عظمت کے فروغ اور تحفظ کو نہیں بھول سکتا ۔میری ذات کچھ بھی نہیں اور تم بھی یاد رکھو
علی!اپنی ذات سے توجہ ہٹا کر سلطنت کے استحکام اور فالح و بہبود پر مرکوز کردو۔اسالم کی عظمت کا امین خلیفہ ہوا
کرتاتھا ،مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خلیفہ اپنی ذات میں گم ہوتے گئے اور اپنے نفس کا شکار ہوگئے ۔اب ہماری خالفت
اسالم کی بہت بڑی کمزوری بن گئی ہے۔صلیبی ہماری اس کمزوری کو استعمال کررہے ہیں ۔اگر تم کامیابی سے اپنے فرائض
نبھانا چاہتے ہوتو اپنی ذات اور اپنے نفس سے دست بردار ہوجائو…… خلیفہ نے مجھ پر جو الزام عائد کیاہے ،اسے میں نے
بڑی مشکل سے برداشت کیاہے ۔میں اوچھے وار کا جواب دے سکتاتھا ،مگر میرا وار بھی اوچھا ہوتا۔پھر میں ذاتی سیاست
ِ
ملت اسالمیہ کسی دور میں جاکر اپنے ہی حکمرانوں کی ذاتی سیاست
بازی میں اُلجھ جاتا ۔مجھے خطرہ یہی نظر آرہاتھا کہ
بازیوں،خود پسندی ،نفس پرستی اور اقتدار کی ہوس کی نذر ہوجائے گی''۔
گستاخی کی معافی چاہتاہوں محترم امیر!''……علی بن سفیان نے کہا……''اگر آپ اس لڑکی کو قربان ہونے سے بچانا ''
چاہتے ہیں تو حکم صادر فر مائیے۔وقت بہت تھوڑا ہے ۔ پرسوں سے میلہ شروع ہورہاہے ''۔
فوج میں یہ حکم فورا ً پہنچا دو کہ اس میلے میں کسی فوجی کو شریک ہونے کی اجازت نہیں ''……سلطان ایوبی نے ''
نائب ساالر کو بالکر کہا……''خالف ورزی کرنے والے کو اس کے عہدے اور رتبے سے قطع نظر پچاس کوڑے سر عام لگائے
جائیں گے''۔
اس حکم کے بعد سکیم بننے لگی۔متعلقہ حکام کو سلطان ایوبی نے باللیاتھا۔ اس نے سب سے کہاتھا کہ ہمارا مقصد یہ ہے
زیر بحث آئی جو اس وجہ
کہ اس طلسم کو توڑنا ہے ۔ یہ جگہ فرعونیت کی آخری نشانی معلوم ہوتی ہے……پہلے فوج کشی ِ
سے خارج از بحث کردی گئی کہ اسے اس قبیلے کے لوگ اپنے اوپر باقاعدہ حملہ سمجھیں گے۔لڑائی ہوگی جس میں میلہ
دیکھنے والے بے گناہ لوگ بھی مارے جائیں گے اور عورتوں اور بچوں کے مارے جانے کا خطرہ بھی ہے۔یہ حل بھی پیش
کیاگیا کہ اس سوڈانی حبشی کو ساتھ لے جانا پسند نہیں کیا ،کیونکہ دھوکے کا خطرہ تھا۔اس وقت تک سلطان ایوبی کے حکم
کے مطابق چھاپہ ماروں اور شب خون مارنے والوں کا ایک دستہ تیار کیاجاچکاتھا۔ اسے مسلسل جنگی مشقوں سے تجربہ کار
بنادیا گیاتھا کہ وہ جانبازوں کا دستہ تھا ،جنہیں جذبے کے لحاظ سے اس قدر پختہ بنادیاگیا تھا کہ وہ اس پر فخر محسوس
کرنے لگے کہ انہیں جس مہم پر بھیجاجائے گا ،اس زندہ واپس نہیں آئیں گے۔
نائب ساالر الناصر اور علی بن سفیان کے مشوروں سے یہ طے ہوا کہ صرف بارہ چھاپہ مار اس پہاڑی جگہ کے اندر جائیں گے
،جہاں پروہت رہتاہے اور لڑکی قربان کی جاتی ہے ۔حبشی کی دی ہوئی معلومات کے مطابق اس رات میلے میں زیادہ رونق
ہوتی ہے،کیونکہ وہ میلے کی آخری رات ہوتی ہے ۔قبیلے کے لوگوں کے سوا کسی اور کو معلوم نہیں ہوتاکہ لڑکی قربان کی
جارہی ہے ،جسے معلوم ہوتاہے وہ یہ نہیں جانتا کہ قربان گاہ کہاں ہے ۔ان معلومات کی روشنی میں یہ طے کیاگیا کہ پانچ
سو سپاہی میلہ دیکھنے والوں کے بھیس میں تلواروں وغیر ہ سے مسلح ہوکر اس رات میلے میں موجود ہوں گے۔ان میں سے
دوسو کے پاس تیر کمان ہوں گے۔ا ُس زمانے میں ان ہتھیاروں پر پابندی نہیں تھی۔چھاپہ ماروں کے ذہنوں میں واضح تصور کی
صورت میں جگہ نقش کردی جائے گی۔ وہ برا ِہ راست حملہ نہیں کریں گے۔ چھاپہ ماروں کی طرح پہاڑی عالقے میں داخل
ہوں گے ۔پہرہ داروں کو خاموشی سے ختم کریں گے اور اصل جگہ پہنچ کر اس وقت حملہ کریں گے جب لڑکی قربان گاہ
میں الئی جائے گی۔ اس سے قبل حملے کا یہ نقصان ہوسکتاہے کہ لڑکی کو تہہ خانے میں ہی غائب یا ختم کردیاجائے گا۔
یہ معلوم ہوگیا تھا کہ قربانی آدھی رات کے وقت پورے چاند میں ہی دی جاتی ہے۔پانچ سوسپاہیوں کو اس وقت سے پہلے
قربان گاہ والی پہاڑیوں کے اِ رد گرد پہنچنا تھا۔چھاپہ ماروں کے لیے گھیرے میں آجانے یا مہم ناکام ہونے کی صورت میں یہ
ہدایت دی گئی کہ وہ فلیتے واال ایک آتشیں تیراوپر کو چالئیں گے۔اس تیر کا شعلہ دیکھ کر یہ پانچ سو نفری حملہ کردے گی
۔
اسی وقت بارہ جانباز منتخب کر لیے گئے اور اس فوج میں سے جو دوسال پہلے نور الدین زنگی نے سلطان ایوبی کی مدد
کے لیے بھیجی تھی،پانچ سوذہین اور بے خوف سپاہی ،عہدے دار اور کمان دار منتخب کر لیے گئے ۔یہ لوگ عرب سے آئے
تھے ،مصر اور سوڈان کی سیاست بازیوں اور عقائد کا ان پر کچھ اثر نہ تھا۔وہ صرف اسالم سے آگاہ تھے اور یہی ان کا
عقیدہ تھا۔وہ ہر اس عقیدے کے خالف ا ُٹھ کھڑے ہوتے تھے ،جسے وہ غیر اسالمی سمجھتے تھے۔انہیں بتایا گیا کہ وہ ایک
باطل عقیدے کے خالف لڑنے جارے ہیں اور ہوسکتاہے کہ انہیں اپنے سے زیادہ نفری سے مقابلہ کرنا پڑے اور لڑائی خونریز ہو
اور یہ بھی ہوسکتاہے کہ ا ُن کے سامنے کوئی ٹھہر ہی نہ سکے اور بغیر لڑائی کے مہم سر ہوجائے ۔انہیں سکیم سمجھادی
گئی اور ان کے ذہنوں میں پہاڑی عالقے کا اور ان پہاڑویوں کی بلندی ،جو زیادہ نہیں تھی اور ان میں گھر ی ہوئی قربان گاہ
کا تصور بٹھادیا گیا۔بارہ جانبازوں کو بھی ان کے ہدف کا تصور دیاگیا۔انہیں ٹریننگ بڑی سختی سے دی گئی تھی۔پہاڑیوں پر
چڑھنا اور ریگستانوں میں دوڑنا،بھوک اور پیاس اونٹ کی طرح برداشت کرنا ،اُن کے لیے مشکل نہیں تھا۔
قربانی کی رات کو چھ روز باقی تھے ۔تین دن اور تین راتیں چھاپہ ماروں اور پانچ سوسپاہیوں کو مشق کرائی گئی۔ چوتھے
روز چھاپہ ماروں کو اونٹوں پر روانہ کردیاگیا۔اونٹوں کی میانہ چال سے ایک دن اور آدھی رات کا سفر تھا۔شتر بانوں کو حکم
دیاگیا تھا کہ چھاپہ ماروں کو پہاڑی عالقے سے ُدور جہاں وہ کہیں اُتار کر واپس آجائیں ۔پانچ سوکے دستے کو تماشائیوں کے
بھیس میں دو دو چارچار ٹولیوں میں گھوڑوں اور اونٹوں پر روانہ کیا گیا۔ انہیں جانور اپنے ساتھ رکھنے تھے۔ ان کے ساتھ ان
کے کمان دار بھی اسی بھیس میں چلے گئے ۔
٭ ٭ ٭
میلے کی آخری راتھی۔
پورا چاند ا ُبھر تا آرہاتھا ۔صحرا کی فضا شیشے کی طرح شفاف تھی ۔میلے میں انسانوں کے ہجوم کا کوئی شمار نہ تھا۔کہیں
نیم برہنہ لڑکیاں رقص کررہی تھیں اور کہیں گانے والیوں نے مجمع لگارکھا تھا۔سب سے زیادہ بھیڑ اس چبوترے کے اِردگرد تھی
،جہاں لڑکیاں نیالم ہورہی تھیں ۔ایک لڑکی کو چبوترے پر الیا جاتا ۔گاہک اسے ہر طرف سے دیکھتے ۔اس کا منہ کھول کر
دانت دیکھتے ،بالوں کو ا ُلٹا پلٹا کر دیکھتے ،جسم کی سختی اور نرمی محسوس کرتے اور بولی شروع ہوجاتی ۔وہاں جواء بھی
۔دور ُدور سے آئے ہوئے لوگوں کے خیمے میلے کے
تھا ،شراب بھی تھی ،اگر وہاں نہیں تھا تو قانون نہیں تھا۔پوری آزادی تھی ُ
اِ رد گرد نصب تھے ۔تماشائی مذہب اور اخالق کی پابندیوں سے آزاد تھے ۔انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان سے تھوڑی ہی ُدور جو
پہاڑیاں ہیں ،ان میں ایک خوب صورت لڑکی کو ذبح کرنے کے لیے تیار کیاجارہاہے اور وہاں ایک انسان دیوتا بناہواہے۔وہ
اتناہی جانتے تھے کہ ان پہاڑیوں میں گھراہوا عالقہ دیوتائوں کا پایٔہ تخت ہے،جہاں جن اور بھوت پہرہ دیتے ہیں اور کوئی
انسان وہاں جانے کی سوچ بھی نہیں سکتا۔
انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ ان کے درمیان اللہ کے پانچ سو سپاہی گھوم پھر رہے ہیں اور بارہ انسان دیوتائوں کے پایٔہ تخت کی
حدود میں داخل ہوچکے ہیں ……صالح الدین ایوبی کے بارہ چھاپہ ماروں کو بتایا گیا تھا کہ پہاڑیوں کے اندرونی عالقے میں
داخل ہونے کا راستہ کہاں ہے ،لیکن وہاں سے وہ داخل نہیں ہوسکتے تھے ،کیونکہ وہاں پہرے کا خطرہ تھا۔انہیں بہت دشوار
راستے سے اندر جاناتھا۔انہیں بتایا گیا تھا کہ پہاڑوں کے اِرد گرد کوئی انسان نہیں ہوگا ،مگر وہاں انسان موجود تھے ،جس کا
مطلب یہ تھا کہ اس حبشی نے علی بن سفیان کو غلط بتایاتھا کہ اس عالقے کے گرد کوئی پہرہ نہیں ہوتا۔ پہاڑیوں کا خطہ
ایک میل بھی لمبا نہیں تھا اور اسی قدر چوڑا تھا۔وہ چونکہ تربیت یافتہ چھاپہ مارتھے ۔ اس لیے وہ بکھر کر اور احتیاط
سے آگے گئے تھے ۔ایک چھاپہ مار کو اتفاق سے ایک درخت کے قریب ایک متحرک سایہ نظر آیا۔چھاپہ مار چھپتا اور رینگتا
اس کے عقب میں چالگیا۔ قریب جاکر اس پر جھپٹ پڑا۔ اس کی گردن بازو کے شکنجے میں لے کر خنجر کی نوک اس کے
ِد ل پر رکھ دی ۔ گردن ڈھیلی چھوڑ کر اس سے پوچھا کہ تم یہاں کیا کررہے ہو اور یہاں کس قسم کا پہرہ ہے؟
وہ حبشی تھا۔چھاپہ مار عربی بول رہاتھا جو حبشی سمجھ نہیں سکتا تھا۔اتنے میں ایک اور چھاپہ مار آگیا۔اس نے بھی خنجر
حبشی کے سینے پر رکھ دیا،انہوں نے اشاروں سے پوچھا تو حبشی نے اشاروں میں جواب دیا ،جس سے شک ہوتاتھا کہ یہاں
پہرہ موجود ہے ۔اس حبشی کی شہ رگ کاٹ دی گئی اور چھاپہ مار اور زیادہ محتاط ہوکر آگے بڑھے ۔یکلخت جنگل آگیا۔
آگے پہاڑی تھی۔چاند اوپر ا ُٹھتا آرہاتھا ،لیکن درختوں اور پہاڑیوں نے اندھیرا کررکھا تھا۔وہ پہاڑی پر ایک دوسرے سے ذرا ُدور
اوپر چڑھتے گئے ۔
اندر کے عالقے میں جہاں لڑکی کو پروہت کے حوالے کیاگیا تھااور ہی سرگرمی تھی۔ پتھر کے چہرے کے سامنے چبوترے پر
ایک قالین بچھا ہواتھا۔ اس پر چوڑے پھل والی تلوار رکھی تھی ۔ اس کے قریب ایک چوڑا برتن رکھاتھا اور قالین پر بھول
بکھرے ہوئے تھے ۔اس کے قریب آگ جل رہی تھی ۔ چبوترے کے چاروں کناروں پر دئیے جال کر چراغاں کیاگیا تھا۔وہاں چار
لڑکیاں گھوم پھر رہی تھیں ،ان کا لباس دودو چوڑے پتے تھے اور باقی جسم برہنہ ۔چار حبشی تھے ،جنہوں نے کندھوں سے
ٹخنوں تک سفید چادریں لپیٹ رکھی تھی۔ ا ُ ِّم عرارہ تہہ خانے میں پروہت کے ساتھ تھی ۔پروہت اس کے بالوں سے کھیل
رہاتھا اور وہ مخمور آواز میں کہہ رہی تھی ……''میں انگوک کی ماں ہو ،تم انگوک کے باپ ہو،میرے بیٹے مصر اور سوڈان
کے بادشاہ بنیں گے۔میرا خون انہیں پالدو۔میرے لمبے لمبے سنہری بال ان کے گھروں میں رکھ دو ۔
انگوک غالبا ً اس قبیلے کانام تھا۔ایک عربی لڑکی کونشے کے خمار نے اس قبیلے کی ماں اور پروہت کی بیوی بنادیاتھا۔ وہ
قربان ہونے کے لیے تیار ہوگئی تھی ۔ پروہت آخری رسوم پوری کررہاتھا۔
بارہ چھاپہ مار رات کے کیڑوں کی طرح رینگتے ہوئے پہاڑیوں پر چڑھتے ،اُترتے اور ٹھوکریں کھاتے آرہے تھے ۔بہت ہی دشوار
گزار عالقہ تھا۔بیشتر جھاڑیاں خاردار تھیں ۔چاند سر پر آگیاتھا۔انہیں درختوں میں سے روشنی کی کرنیں دکھائی دینے لگیں ۔ان
کرنوں میں انہیں ایک حبشی کھڑا نظر آیا ،جس کے ایک ہاتھ میں برچھی اور دوسرے میں لمبوتری ڈھال تھی ۔وہ بھی
دیوتائوں کے پایٔہ تخت کا پہرہ دار تھا۔اسے خاموشی سے مارنا ضروری تھا ۔وہ ایسی جگہ کھڑا تھا،جہاں اس پر عقب سے
حملہ نہیں کیا جاسکتاتھا۔ آمنے سامنے کا مقابلہ موزوں نہیں تھا۔ ایک چھاپہ مار جھاڑیوں میں چھپ کر بیٹھ گیا ۔ دوسرے نے
اس کے سامنے ایک پتھر پھینکا ،جس نے گر کر اور لڑھک کر آواز پیدا کی ۔حبشی بدکا اور اس طرف آیا۔وہ جوں ہی
جھاڑی میں چھپے ہوئے چھاپہ مار کے سامنے آیا ،اُس کی گردن ایک بازو کے شکنجے میں آگئی اور ایک خنجر اس کے ِدل
میں اُترگیا۔ چھاپہ مار کچھ دیر وہاں ُرکے اور احتیاط سے آگے چل پڑے ۔
ا ُ ِّم عرارہ قربانی کے لیے تیار ہوچکی تھی۔پروہت نے آخری بار اسے اپنے سینے سے لگایا اور اس کا ہاتھ تھام کر سیڑھیوں
کی طرف چل پڑا ۔باہر کے چار حبشی مردوں اور لڑکیوں کو پتھر کے سر اور چہرے کے منہ میں روشنی نظر آئی تو وہ منہ
کے سامنے سجدے میں گرگئے ۔پروہت نے اپنی زبان میں ایک اعالن کیا اور منہ سے اُترآیا ۔ا ُ ِّم عرارہ اس کے ساتھ تھی۔
اسے وہ قالین پر لے گیا۔مرد اور لڑکیا ں اس کے اِرد گرد کھڑی ہوگئیں ۔ا ُ ِّم عرارہ نے عربی زبان میں کہا……''میں انگوک کے
بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے اپنی گردن کٹوارہی ہوں ۔ میں ان کے گناہوں کا کفارہ ادا کررہی ہوں ۔میری گردن کاٹ دو۔ میرا سر
انگوک کے دیوتا کے قدموں میں رکھ دو۔ دیوتا اس سر پر مصر اور سوڈان کا تاج رکھیں گے''……چاروں آدمی اور لڑکیاں ایک
بار پھر سجدے میں گر گئیں ۔پروہت نے ا ُ ِّم عرارہ کو قالین پر دوزانو بٹھا کر اس کا سر آگے ُجھکا دیا اوروہ تلوار
اُٹھالی ،جس کا پھل پورے ہاتھ جتنا چوڑا تھا۔
ایک چھاپہ مار جو سب سے آگے تھا ُ ،رک گیا۔اس نے سر گوشی کرکے پیچھے آنے والے کو روک لیا۔پہاڑی کی بلندی سے
انہیں چبوترہ اور پتھر کا سر نظر آیا……چبوترے پر ایک لڑکی دو زانو بیٹھی تھی ۔جس کا سر جھکاہواتھا۔شفاف چاندنی ،
چراغاں اور بڑی مشعلوں نے سورج کی روشنی کا سماں بنارکھاتھا۔ لڑکی کے پاس کھڑے آدمی کے ہاتھ میں تلوار تھی۔ لڑکی
ماردور تھے اور بلندی پر بھی
دوزانو بیٹھی ہوئی تھی۔اس کے جسم کا رنگ بتارہاتھا کہ حبشی قبیلے کی لڑکی نہیں ۔چھاپہ
ُ
تھے ،وہاں سے تیر خطاجانے کا خطرہ تھا ،مگر وہ جس پہاڑی پر تھے ۔اس کے آگے ڈھالن نہیں تھی ،بلکہ سیدھی دیوار
تھی ،جس سے ا ُتر ناناممکن تھا۔وہ جان گئے کہ لڑکی قربان کی جارہی ہے اور اسے بچانے کے لیے وقت اتنا تھوڑاہے کہ وہ
ا ُڑ کر نہ پہنچے تو اسے بچانہیں سکیں گے ۔ انہوں نے چوٹی سے نیچے دیکھا۔چاندنی میں انہیں ایک جھیل نظر آئی ۔انہیں
بتایاگیا تھا کہ وہاں ایک جھیل ہے جس میں مگر مجھ رہتے ہیں ۔
دائیں طرف ڈھالن تھی ،لیکن وہ بھی تقریبا ً دیوار کی طرح تھی ۔وہاں جھاڑیاں اور درخت تھے ۔ انہیں پکڑ پکڑ کر اور ایک
دوسرے کے ہاتھ تھام کر دوہ ڈھالن ا ُترنے لگے ۔ان میں سے آخری جانباز نے اتفاق سے سامنے دیکھا۔چاندنی میں سامنے کی
چوٹی پر اسے ایک حبشی کھڑا نظر آیا۔اس کے ایک ہاتھ میں ڈھال تھی اور دوسرے ہاتھ میں برچھی ،جو اس نے تیر کی
طرح پھینکنے کے لیے تان رکھی تھی۔چھاپہ ماروں پر چاندنی نہیں پڑرہی تھی ۔حبشی ابھی شک میں تھا۔آخری چھاپہ مارنے
کمان میں تیر ڈاال ۔رات کی خاموشی میں کمان کی آواز سنائی دی ۔تیر حبشی کی شہ رگ میں لگا اوروہ لڑھکتا ہوا،نیچے
آرہا۔چھاپہ مار ڈھالن اُترتے گئے ۔گرنے کاخطرہ ہر قدم پر تھا۔
٭ ٭ ٭
پروہت نے تلوار کی دھار ا ُ ِّم عرارہ کی گردن پر رکھی اور اوپر اُٹھائی۔لڑکیوں اور مردوں نے سجدے سے اُٹھ کردو زانوں بیٹھتے
ہوئے پُ ر سوز اور دھیمی آواز میں کوئی گانا شروع کردیا۔یہ ایک گونج تھی جو اس ُدنیا کی نہیں لگتی تھی ۔ پہاڑیوں میں
گھری ہوئی اس تنگ سی وادی میں ایسا طلسم طاری ہوا جارہاتھا جو باہر کے کسی بھی انسان کو یقین ِدال سکتا تھا کہ یہ
انسانوں کی نہیں ،دیوتائوں کی سرزمین ہے ……پروہت تلوار کو اوپر لے گیا۔اب تو ایک دوسانسوں کی دیر تھی ۔تلوار نیچے کو
آنے ہی لگی تھی کہ ایک تیر پروہت کی بغل میں دھنس گیا۔اس کا تلوار واال ہاتھ ابھی نیچے نہیں گراتھا کہ تین تیر بیک
وقت اس کے پہلو میں ا ُتر گئے ۔لڑکیوں کی چیخیں سنائی دیں ۔مرد کسی کو آواز دینے لگے ۔تیروں کی ایک اور باڑ آئی جس
نے دو مردوں کو گرادیا۔لڑکیاں جدھر منہ آیا ،دوڑ پڑیں ۔ ا ُ ِّم عرارہ اس شور و غل اور اپنے ارد گرد تڑپتے ہوئے اور خون میں
ڈوبے ہوئے جسموں سے بے نیاز سر جھکائے بیٹھی تھی۔
چھاپہ مار بہت تیز دوڑتے آئے ۔چبوترے پر چڑھے اورا ُ ِّم عرارہ کو ایک نے اُٹھا لیا۔وہ ابھی تک نشے کی حالت میں باتیں
کررہی تھی۔ایک جانباز نے اپنا کرتہ ا ُتا ر کر اسے پہنا دیا ۔اسے لے کر چلے ہی تھے کہ ایک طرف سے بارہ حبشی برچھیاں
اور ڈھالیں ا ُٹھائے دوڑتے آئے ۔چھاپہ مار بکھرگئے ۔ان میں چار کے پاس تیر کمانیں تھیں ۔انہوں نے تیر برسائے ۔باقی چھاپہ
مار ایک طرف چھپ گئے اور جب حبشی آگے آئے تو عقب سے ان پر حملہ کردیا۔ایک تیر انداز نے کمان میں فلیتے واال تیر
نکاال ۔فلیتے کو آگ لگائی اور کمان میں ڈال کر اوپر کو چھوڑدیا۔تیر ُدور اوپر جاکر ُرکا تو اس کا شعلہ جو رفتا ر کی وجہ
سے دب گیاتھا ،رفتار ختم ہوتے ہی بھڑکا اور نیچے آنے لگا۔
میلے کی رونق ابھی ماند نہیں پڑی تھی ۔تماشایوں میں سے پانچ سو تماشائی میلے سے الگ ہوکر اس پہاڑی خطے کی طرف
دیکھ رہے تھے۔ انہیں ُد ور فضا میں ایک شعلہ سا نظر اآیا جو بھڑک کر نیچے کو جانے لگا۔ وہ گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار
ہوئے ۔ان کے کمان دار ساتھ تھے ۔پہلے تو وہ آہستہ آہستہ چلے تاکہ کسی کو شک نہ ہو ۔ذرا ُدور جاکر انہوں نے گھوڑے
دوڑادئیے ۔ تماشائی میلے میں شراب ،جوئے اور ناچنے گانے والی لڑکیوں اور عصمت فروش عورتوں میں اتنے مگن تھے کہ
کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ ان کے دیوتائوں پر کیا قیامت ٹو ٹ پڑی ہے ۔
چھاپہ مارنے اس خطرے کی وجہ سے آتشیں تیر چالدیاتھا کہ حبشیوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ،مگر فوج وہاں پہنچی تو وہاں
بارہ تیرہ الشیں حبشیوں کی اور دو الشیں چھاپہ مار شہیدوں کی پڑی تھیں ۔وہ برچھیوں سے شہید ہوئے تھے۔کمان داروں نے
وہاں کاجائزہ لیا ۔پتھر کے منہ میں گئے اور تہہ خانے میں جاپہنچے ،وہاں انہیں جو چیزیں ہاتھ لگیں ،وہ اُٹھالیں۔اُن میں ایک
پھول بھی تھا جو قدرتی نہیں ،بلکہ کپڑے سے بنایا گیا تھا۔احکام کے مطابق فوج کووہیں رہنا تھا،لیکن پہاڑیوں میں چھپ
کر ۔چھاپہ ماروں نے ا ُ ِّم عرارہ کو گھوڑے پر ڈاال اور قاہرہ کی طرف روانہ ہوگئے۔
صبح طلوع ہوئی ۔
میلے کی رونق ختم ہوگئی تھی ۔بیشتر تماشائی رات شراب پی پی کر ابھی تک مدہوش پڑے تھے ۔دوکاندار جانے کے لیے مال
اسباب باندھ رہے تھے ۔لڑکیوں کے بیوپاری بھی جارہے تھے ۔صحرا میں روانہ ہونے والوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں ۔ میلے
کے قریب جو گاوں تھا وہاں کے لوگ بے تابی سے اس لڑکی کے بالوں کا انتظار کررہے تھے ،جسے رات قربان کیاگیاتھا۔اس
جود ور دراز دیہات کے رہنے والے تھے ،پہاڑی جگہ سے دور کھڑ ے دیوتائوں کے مسکن کی طرف دیکھ رہے
قبیلے کے لوگ
ُ
تھے۔ ان کے بڑے بوڑھے انہیں بتارہے تھے کہ ابھی پروہت آئے گا۔ وہ دیوتائوں کی خوشنودی کا پیغام دے گا اور ان میں بال
تقسیم کرے گا ،مگر ابھی تک کوئی نہیں آیا تھا۔ دیوتاوں کے مسکن پر سکوت طاری تھا۔ اس منتظر ہجوم کو معلوم نہ تھا کہ
وہاں فوج مقیم ہے اور اب وہاں سے دیوتائوں کا کوئی پیغام نہیں آئے گا……دن گزرتاگیا۔قبیلے کے جن نوجوانوں نے قربانی کی
باتیں سنی تھیں ،انہیں شک ہونے لگا کہ یہ سب جھوٹ ہے ۔ ِد ن گزر گیا۔ سورج انہی پہاڑیوں کے پیچھے جا کر ڈوب گیا۔
کسی میں اتنی جرٔات نہیں تھی کہ وہ وہاں جاکر دیکھتا کہ پروہت کیوں نہیں آیا۔
٭ ٭ ٭
طبیب کو بالالئو''……سلطان ایوبی نے کہا……''لڑکی پر نشے کا اثر ہے ''۔''
ا ُ ِّم عرارہ اس کے سامنے بیٹھی تھی اور کہہ رہی تھی ……''میں انگوک کی ماں ہوں ۔تم کون ہو؟تم دیوتا نہیں ہو۔ میرا شوہر
کہاں ہے ۔میرا سرکا ٹو اور دیوتا کو دے دو۔مجھے میرے بیٹوں پر قربان کردو''……وہ بولے جارہی تھی ،مگر اب اس پر
غنودگی بھی طاری ہورہی تھی ۔اس کا سرڈول رہاتھا۔
طبیب نے آتے ہی اس کی کیفیت دیکھی اور اسے کوئی دوائی دے دی ۔ذراسی دیر میں اس کی آنکھیں بند ہوگئیں ۔ اسے لٹا
دیاگیااور وہ گہری نیند سوگئی ۔سلطان ایوبی کو تفصیل سے بتایا گیا کہ پہاڑی خطے میں کیا ہوا اور وہاں سے کیا مالہے ۔اس
نے اپنے نائب ساال رالناصر اور بہائوالدین شداد کو حکم دیا کہ پانچ سوسوارلے جائیں ،ضروری سامان لے جائیں اور اس بُت کو
مسمار کردیں ،مگر اس جگہ کو فوج کے گھیرے میں رکھیں ۔حملے کی صورت میں مقابلہ کریں ۔اگر وہ لوگ دب جائیں اور
لڑنہ سکیں تو انہیں وہ جگہ دکھا کر پیار اور محبت سے سمجھائیں کہ یہ محض ایک فریب تھا۔
شداد نے اپنی ڈائری میں جو عربی زبان میں لکھی گئی تھی،اس واقعہ کو یوں بیان کیا ہے کہ وہ پانچ سو سواروں کے ساتھ
وہاں پہنچا ۔راہنمائی اس فوج کے کمان دار نے کی جو پہلے ہی وہاں موجود تھا۔سینکڑوں سوڈانی حبشی ُدور ُدور کھڑے تھے۔ان
میں سے بعض گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار تھے ۔ان کے پاس برچھیاں ،تلواریں اور کمانیں تھیں ۔ہم نے اپنے تمام تر سواروں
کو اس پہاڑی جگہ کے اِ رد گرد اس طرح کھڑا کردیا کہ ان کے منہ باہر کی طرف اور ان کی کمانوں میں تیر تھے اور جن کے
پاس کمانیں نہیں تھیں ،ان کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں ۔خطرہ خون ریز لڑائی کاتھا۔ میں الناصر کے ساتھ اندر گیا۔بُت
کودیکھ کر میں نے کہا کہ فرعونوں کی یاد گار ہے ۔حبشیوں کی الشیں پڑی تھیں ۔ہر جگہ گھوم پھر کر دیکھا ،دو پہاڑیوں کے
درمیان ایک کھنڈر تھا ،جوفرعونوں کے وقتوں کی خوشنما عمارت تھی ۔دیواروں پر اُس زمانے کی تحریریں تھیں ۔ الفاظ لکیروں
والی تصویروں کی مانند تھے ۔کوئی شبہہ نہ رہاکہ یہ فرعونوں کی جگہ تھی ……دیوار جیسی ایک پہاڑی کے دامن میں جھیل
تھی ،جس کے اندر اور باہر دو دو قدم لمبے مگر مچھ تھے ۔جھیل کا پانی پہاڑی کے دامن کو کاٹ کر پہاڑی کے نیچے
چالگیاتھا۔ پانی کے اوپر پہاڑی کی چھت تھی ۔جگہ خوف ناک تھی ۔ہمیں دیکھ کر بہت سارے مگر مچھ کنارے پر آگئے اور
ہمیں دیکھنے لگے۔
میں نے سپاہیوں سے کہا،حبشیوں کی الشیں جھیل میں پھینک دو ،یہ بھوکے ہیں ۔وہ الشیں گھسیٹ کر الئے اور جھیل میں
پھینک دیں ،مگر مچھوں کی تعداداکا اندازہ نہیں ،پوری فوج تھی ۔الشوں کے سر باہر رہے اور یہ سر پانی میں دوڑتے پہاڑی
کے اندر چلے گئے ۔پھر پروہت کی الش آئی ۔اس نے دوسرے انسانوں کو مگر مچھوں کے آگے پھینکا تھا ،ہم نے اسے بھی
جھیل میں پھینک دیا……وہ سپاہی چار سوڈانی لڑکیوں کو الئے ۔وہ کہیں چھپی ہوئی اور تھیں۔کمرکے ساتھ ایک پتہ آگے اور
پیچھے بندھاہواتھا۔میں نے اور الناصر نے منہ پھیر لیے ۔سپاہیوں سے کہاکہ انہیں مستور کرو۔ جب ان کے جسم کپڑوں میں
چھپ گئے تو دیکھا کہ وہ بہت خوب صورت تھیں ۔روتی تھیں ،ڈرتی تھیں۔ہمارے ترجمان کو انہوں نے وہاں کاحال اپنی زبان
میں بیان کیا جو بہت شرم ناک تھا۔مسلمان کو عورت ذات کا یہ حال برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ عورت اپنی ہو،کسی اور کی
ہو،کافر ہو ،اسالم اسے بیٹی کہتاہے ۔ان چار لڑکیوں کا بیان ظاہر کرتاتھا کہ وہ فرعونوں کو خدامانتی ہیں ۔ان کا قبیلہ انسان
کو خدامانتا ہے ۔
یہ جگہ خوش نما تھی ۔سارے صحرا میں سر سبز تھی ۔اندر پانی کا چشمہ تھا،جس نے جھیل بنائی ،درخت تھے،جنہوں نے
سایہ دیا۔کسی فرعون کو یہ مقام پسند آیا تو اسے تفریح کا مقام بنایا ۔اپنی خدائی کے ثبوت میں یہ بُت بنایا۔ اس میں تہہ
خانہ رکھا اور یہاں عیش کی ۔آسمان نے کوئی اور رنگ دکھایا۔ سورج اُدھر سے اِدھر ہوگیا۔فرعونوں کے ستارے ٹوٹ گئے اور
'' ال ٰہ االاللہ '' ُسنا اور خدا کے حضور
ال
مصر میں دوسرے باطل مذہب آئے ۔ آخر میں حق کی فتح ہوئی اور مصرنے کلمہ
سرخرو ہوا،لیکن کسی نے نہ جاناکہ باطل ان پہاڑیوں میں زندہ رہا۔الحمد للہ ،ہم نے خدائے عز وجل سے راہنمائی لی ۔ باطل
کا یہ نقش بھی اُکھاڑا اور اس کو پاک کیا۔
19:17
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
"قسط نمبر25.۔ "ام عرارہ کا اغواہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
باطل کا یہ نقش بھی اُکھاڑا اور اس جگہ کو پاک کیا۔
اس جگہ کو سواروں کے گھیرے میں لے کر فوج نے پتھر کے اس ہیبت ناک بُت کو مسمار کردیا ،چبوترہ بھی گرادیا ،تہہ خانہ
ملبے سے بھر دیا۔باہر سینکڑوں حبشی حیران اور خوف زدہ کھڑے تھے کہ یہ کیا ماجرہ ہے ۔ان سب کو بالکر اندر لے جایا
گیا کہ یہاں کچھ بھی نہیں تھا۔چاروں لڑکیاں ا ُن کے حوالے کی گئیں ۔چاروں کے باپ اور بھائی وہاں موجود تھے۔ انہوں نے
اپنی اپنی لڑکی لے لی ۔انہیں بتایا گیا کہ یہاں ایک بد کار آدمی رہتاتھا ،وہ مگر مچھوں کو کھالدیاگیاہے ۔ان سینکڑوں حبشیوں
کو اکٹھا بٹھا کر ان کی زبان میں وعظ دیاگیا۔ وہ سب خاموش رہے ۔انہیں اسالم کی دعوت دی گئی ۔وہ پھر بھی خاموش
رہے ۔ کبھی کبھی شک ہوتاتھا ،جیسے ان کی آنکھوں میں خون اُتر آیاہے ۔ انہیں یہ الفاظ دھمکی کے لہجے میں کہے
گئے……'' اگر تم سچے خدا کو دیکھنا چاہتے ہوتو ہم تمہیں دکھائیں گے ۔اگر تم اسی جگہ کو جہاں تم بیٹھے ہو،اپنے جھوٹے
خدائوں کا گھر کہتے رہو گے تو ہم ان پہاڑوں کو بھی ریزہ ریزہ کرکے ریت کے ساتھ مالدیں گے ،پھر تم دیکھو گے کہ کون
سا خدا سچاہے''۔
ا ُ دھر قاہرہ میں ا ُ ِّم عرارہ ہوش میں آچکی تھی ۔وہ اپنی داستان سناچکی تھی ،جو اوپر بیان کی گئی ہے ۔کبھی وہ کہتی
تھی کہ اس نے کوئی خواب دیکھا ہے ۔ا ُسے ساری باتیں یاد آگئیں تھیں ۔اس نے بتایا کہ پروہت اسے ِدن رات بے آبرو کرتا
تھا اور پھول کئی بار اس کی ناک کے ساتھ لگاتاتھا۔ ا ُ ِّم عرارہ کو بتایا گیا کہ اس کی گردن کٹنے والی تھی ،اگر چھاپہ مار
بروقت نہ پہنچ جاتے تو اس کا سر غار میں اور جسم مگر مچھوں کے پیٹ میں ہوتا۔نازک سی ،یہ حسین لڑک خوف سے
کانپنے لگی۔ اس کے آنسو نکل آئے اس نے سلطان ایوبی کے ہاتھ چوم لیے اور کہا……''خدانے مجھے گناہوں کی سزادی
ہے ،میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا چاہتی ہوں ۔خدا کے لیے مجھے پناہ میں لے لیں ''……اس کی ذہنی کیفیت بہت ہی
بُری تھی ۔
اس نے شام کے ایک دولت مند تاجر کانام لے کر کہا کہ وہ اس کی بیٹی ہے ۔یہ مسلمان تاجر تھا ۔اس کا دوستانہ شام کے
امیروں کے ساتھ تھا۔ا ُس وقت کے امیر ایک ایک شہر یا تھوڑے تھوڑے رقبے کے خطوں کے حکمران ہواکرتے تھے ،جو مرکزی
امارت کے ماتحت تھے ۔مرکزی امارت ،مرکزی وزارت اور خالفت کے ماتحت ہوتی تھی ۔یہ امراء دسویں صدی کے بعد پوری
طرح عیاشیوں میں ڈوب گئے تھے ۔بڑے تاجروں سے دوستی رکھتے تھے ،ان کے ساتھ کاروبار بھی کرتے اور رشوت بھی لیتے
تھے ۔ ان کے حرموں میں لڑکیوں کی افراط رہتی اور شراب بھی چلتی تھی ۔ ا ُ ِّم عرارہ ایسے ہی ایک دولت مند تاجر کی
بیٹی تھی جو اپنے باپ کے ساتھ بارہ تیرہ سال کی عمر میں امراء کی رقص و سرور کی محفلوں میں جانے لگی تھی۔ باپ
غالبا ً دیکھ رہاتھا کہ لڑکی خوب صورت ہے ،اس لیے وہ اسے لڑکپن میں ہی امراء کی سوسائٹی کا عادی بنانے لگاتھا۔ ا ُ ِّم
عرارہ نے بتایا کہ وہ چودہ سال کی ہوئی تو امراء نے اس میں دلچسپی لینی شروع کردی تھی ۔دونے اسے بڑے قیمتی تحفے
بھی دئیے ۔وہ گناہوں کی اسی ُدنیا کی ہوکے رہ گئی۔
عمر کے سولہویں سال وہ باپ کو بتائے بغیر ایک امیر کی در پردہ داشتہ بن گئی ،مگر رہتی اپنے گھر میں تھی ۔ وہ دولت
میں جنی پلی تھی ،شرم و حیا سے آشنا نہیں تھی۔ دو تین سال بعد وہ باپ کے ہاتھ سے نکل گئی اور آزادی سے دو اور
امراء سے تعلقات پیدا کر لیے ۔ اس نے خوب صورتی ،چرب زبانی اور مردوں کو انگلیوں پر نچانے میں نام پیدا کرلیا ۔باپ
نے اس کے ساتھ سمجھوتہ کرلیا۔گذشتہ چھ سال سے اسے ایک اور ہی قسم کی ٹریننگ ملنے لگی تھی ۔ یہ تین امراء نے
مل کر سازش کی تھی،جس میں اس کا باپ بھی شریک تھا۔اسے خالفت کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی ٹریننگ دی جارہی
تھی ۔آگے چل کر اس سازش میں ایک صلیبی بھی شامل ہوگیا۔یہ امراء خود مختار حاکم بننے کے خواب دیکھ رہے تھے ۔
صلیبیو ں کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہ تھا۔ ا ُ ِّم عرارہ کو نورالدین زنگی اور خالفت کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کے
لیے بھی استعمال کیاگیا تھا۔ صلیبیوں نے اس مہم میں تین عیسائی لڑکیاں شامل کرکے ایک زمین دو محاذ بنالیا۔
انہوں نے جب دیکھا کہ مصر میں صالح الدین ایوبی نے نام پیدا کرلیاہے اور اس نے دو ایسے کارنامے کر دکھائے ہیں ،جس
نے اسے مصر کا وزیر اور امیر نہیں ،بلکہ بادشاہ بنادیاہے تو ا ُ ِّم عرارہ کو خلیفہ العاضدکی خدمت میں تحفے کے طور پر
بھیجاگیا۔اسے مہم یہ دی گئی کہ خلیفہ کے ِدل میں صالح الدین ایوبی کے خالف دشمنی پیدا کرے اور سابق سوڈانی فوج کے
جو چند ایک حکام فوج میں رہ گئے ہیں ،انہیں العاضد کے قریب کرکے سوڈانیوں کو ایک اور بغاوت پر آمادہ کرے۔اسے
دوسری مہم یہ دی گئی تھی کہ خلیفہ العاضد کو آمادہ کرے کہ سوڈانی جب بغاوت کریں تو انہیں ہتھیاروں اور ساز و سامان
سے مدد دے اور اگر ممکن ہوسکے تو صالح الدین ایوبی کی فوج کا کچھ حصہ باغی کرکے سوڈانیوں سے مالدے ۔خلیفہ اور
کچھ نہ کرسکے تو اپنا محافظ دستہ سوڈانیوں کے حوالے کرکے خود سلطان ایوبی کے پاس جاپناہ لے اور اسے کہے کہ اس کے
محافظ باغی ہوگئے ہیں ۔مختصر یہ کہ صالح الدین ایوبی کے خالف ایسا محاذ قائم کرنا تھا جو اُسے مصر سے بھاگنے پر
مجبور کردے اور باقی عمر گمنامی میں گزاردے ۔
ا ُ ِّم عرارہ نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ وہ مسلمان کے گھر پیدا ہوئی تھی ،لیکن باپ نے اسے مسلمانوں کی ہی جڑیں کاٹنے
ِ
سلطنت اسالمیہ کے ا ُمراء نے اپنے دشمنوں کے ساتھ مل کر اپنی ہی سلطنت کو تباہ کرنے کی کوشش کی
کی تربیت دی اور
۔اس لڑکی نے خلیفہ العاضد کا دماغ اپنے قبضہ میں لے لیااور سلطان ایوبی کے خالف کردیاتھا۔ رجب کو وہ سازش میں شریک
کرچکی تھی ۔رجب نے دو اور فوجی حکام کو اپنے ساتھ ماللیاتھا۔ رجب نے اس سلسلے میں یہ کام کیا کہ خلیفہ کے محافظ
دستے میں وہ مصریوں کی جگہ سوڈانی رکھتا جارہاتھا۔ ا ُ ِّم عرارہ کو خلیفہ کے پاس الئے ابھی دو اڑھائی مہینے ہوئے تھے ،وہ
قصر خالفت پر غالب آگئی تھی اور حرم کی ملکہ بن گئی تھی ۔اس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ خلیفہ سلطان ایوبی کو قتل
ِ
کرانا چاہتا ہے اور رجب نے حشیشین سے مل کر قتل کا انتظام کردیاہے ۔
یہ محض اتفاق کی بات ہے کہ سلطان ایوبی نے خلیفہ کے بے کار وجود اور عیش پرستی سے تنگ آکر اس کے خالف
کاروائی شروع کردی تھی اور یہ بھی اتفاق تھا کہ ا ُ ِّم عرارہ کو وہی لوگ اغوا کرکے لے گئے ،جنہیں وہ سلطان ایوبی کے
خالف لڑا نا چاہتی تھی اور یہ اتفاق تو بڑاہی اچھا تھا کہ سلطان ایوبی نے رجب سے محافظ دستے کی کمان لے لی اور
وہاں اپنی پسند کا ایک نائب ساالر بھیج دیا تھا ،مگر ان اتفاقات نے حاالت کا دھارا موڑ کر سلطان ایوبی کے لیے ایک خطرہ
پیدا کردیا۔سلطان ایوبی نے ا ُ ِّم عرارہ کو اپنی پناہ میں رکھا۔لڑکی بُری طرح پچھتا رہی تھی اور گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتی
تھی۔ قدرت نے ایک ایسا دھچکہ دے کر اس کا دماغ درست کردیاتھا۔ سلطان ایوبی ٹھنڈے ِدل سے سوچنے لگا کہ اس سازش
میں جو حکام شامل ہیں ،ان کے ساتھ وہ کیا سلوک کرے۔
دوسرے دن النا صر اور بہائوالدین شداد فرعونوں کا آخری نشان مٹاکر فوج واپس لے آئے
.
……آٹھ ِدنوں بعد
رات کا پچھال پہر تھا۔سلطان ایوبی کے جاگنے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی ۔ اُسے مالزم نے جگادیااور کہا کہ الناصر،علی بن
سفیان اور دو اور نائب آئے ہیں ۔سلطان اُچھل کر ا ُٹھا اور مالقات کے کمرے میں چالگیا۔ان حکام کے ساتھ ان دستوں میں
سے ایک کا کمان دار بھی تھا ،جو شہر سے ُد ور گشت کرتے رہتے تھے ۔ سلطان ایوبی کو بتایاگیا کہ کم و بیش چھ ہزار
سوڈانی جن میں برطرف سوڈانی فوج کے افراد ہیں اور اس وحشی قبیلے کے بھی جس کے عقیدے کو ملیا میٹ کیاگیا تھا۔
مصرکی سرحد میں داخل ہوکر ایک جگہ پڑاو کیے ہوئے ہیں ۔اس کمان دار نے یہ عقل مندی کی کہ عام لباس میں دوشتر
سوار یہ معلوم کرنے کے لیے بھیجے کہ اس لشکر کا کیا ارادہ ہے ۔ان شتر سواروں نے اپنے آپ کو مسافر ظاہر کیا اور معلوم
کرلیا کہ یہ لشکر قاہرہ پر حملہ کرنے جارہاہے۔ شتر سواروں نے لشکر کے سربراہوں سے مل کر صالح الدین ایوبی کے خالف
باتیں کیں اور کہا کہ وہ بہت سے آدمیوں کو اس لشکر میں شامل کرنے کے لیے الئیں گے۔ یہ کہہ کر وہ رخصت ہوآئے ۔ ان
کی اطالع کے مطابق یہ لشکر اِدھر ا ُدھر سے مزید نفری کا منتظر تھا اور اسے اگلے روز وہاں سے کوچ کرناتھا۔
سلطان ایوبی نے پہال حکم یہ دیا کہ خلیفہ کے محافظ دستے میں صرف پچاس سپاہی اور ایک کمان دار رہنے دو۔باقی تمام
دستے کو چھائونی میں باللو۔ اگر خلیفہ احتجاج کرے تو کہہ دینا کہ یہ میرا حکم ہے ۔سلطان نے علی بن سفیان سے کہاکہ
اپنے شعبے کے کم از کم سو آدمی جو سوڈانی زبان اچھی طرح بول سکتے ہیں ۔ سوڈانی باغیوں کے بھیس میں اس کمان
دار کے ساتھ ابھی روانہ کردو۔ کمان دار سے کہا کہ یہ سوآدمی ان دو شتر سواروں کے ساتھ سوڈانیوں کے لشکر میں شامل
ہوں گے ۔یہ دو شتر سوار سنتری بتائیں گے کہ وہ وعدے کے مطابق مدد الئے ہیں ۔ان کے لیے ہدایات یہ دیں کہ وہ لشکر
کی پیش قدمی کے متعلق اطالع دیں گے اور یہ دیکھیں گے کہ رات کے وقت اس لشکر کے جانور اور رسد کہاں ہوتی ہے۔
سلطان ایوبی نے الناصر سے کہا کہ تیز رفتار گھوڑ سوار چھاپہ ماروں اور منجنیقوں کے دستے تیار رکھو۔
میں نے سوچاتھا کہ سیدھی ٹکر لے کر سوڈانیوں کو شہر سے دور ہی ختم کیاجائے ''۔الناصر نے کہا۔''
نہیں !'' ۔سلطان ایوبی نے کہا……''یاد رکھنا الناصر !اگر دشمن کو پہلو سے لو ۔عقب سے لو ،ضرب لگائواور بھاگو'' ،
دشمن کی رسد تباہ کرو ،جانور تباہ کرو ،دشمن کو پریشان کرو ،اس کے دستے بکھیر دو ،اُسے آگے آنے کی مہلت نہ دو ،اسے
دائیں بائیں پھیل جانے پر مجبور کردو،اگر سامنے سے ٹکر لینا چاہتے ہوتو یہ نہ بھولوکہ یہ صحرا ہے ۔سب سے پہلے پانی
کی جگہ پر قبضہ کو۔ سورج اور ہوا کے ُر خ کو دشمن کے خالف رکھو ۔اسے پریشان کرکے اپنی پسند کے میدان میں الئو۔میں
تمہیں عملی سبق دوں گا ۔اس لشکر کی یہ خواہش میں پوری نہیں ہونے دوں گا کہ وہ قاہرہ تک پہنچے یا میری فوج اس
کے آمنے سامنے جا کر لڑے ''……اس نے علی بن سفیان سے کہا……''تم جن ایک سو آدمیوں کو لشکر میں شامل ہونے کے
لیے بھیجو گے،انہیں کہنا کہ وہ سوڈانیوں میں یہ افواہ پھیالدیں کہ چھ ساتھ دنوں تک صالح الدین ایوبی فلسطین پر حملہ
کرنے کے لیے جارہاہے ۔ اس لیے قاہرہ پر حملہ ،اس کی غیر حاضری میں کیاجائے گا''۔
ایسی بہت سی ہدایات اور احکام دے کر سلطان ایوبی نے انہیں بتایا کہ وہ آج شام سے قاہرہ میں نہیں ہوگا۔اس نے انہیں
قاہرہ سے بہت ُد ور ایک جگہ بتائی ۔وہ اپنا ہیڈکوار ٹر دشمن کے قریب رکھنا چاہتا تھاتاکہ جنگ اپنی نگرانی میں لڑا سکے۔
سب نے مالقات کے کمرے میں ہی صبح کی نماز پڑھی اور سلطان ایوبی کے احکام پر کاروائی شروع ہوگئی۔
سلطان ایوبی تیاری کے لیے اپنے کمرے میں چالگیا۔
٭ ٭ ٭
سوڈانیوں کے لشکر میں اضافہ ہوتا جارہاتھا۔ دوسال گزرے ،ان کی ایک بغاوت بُری طرح ناکام ہوچکی تھی۔ دوسری کوشش کی
تیاریاں اسی وقت شروع ہوگئی تھیں ۔صلیبیوں نے مدد کا وعدہ کررکھاتھا اور جاسوسوں کی بہت بڑی تعداد مصر میں داخل
کردی تھی۔سوڈانیوں کا حملہ ایک نہ ایک روز آنا ہی تھا،لیکن یہ اچانک آگیا۔وجہ یہ تھی کہ سلطان ایوبی نے ایک سوڈانی
قبیلے کے مذہب پر فوجی حملہ کیااور اس کے دیوتائوں کا مسکن تباہ کردیاتھا۔یہ وجہ معمولی نہیں تھی۔مصر میں جو سلطان
صالح الدین ایوبی کے مخالفین تھے ،انہوں نے اس کے اس اقدام کو اس کے خالف استعمال کیا ۔سوڈانی فوج کے برطرف کیے
ہوئے باغی کمان داروں کو بھی موقع مل گیا۔یہ فورا ً حرکت میں آگئے ۔ان میں مصری مسلمان بھی تھے ۔انہوں نے اُس قبیلے
کے مذہبی جذبات کو بھڑکایا اور انہیں کہاکہ ان کا مذہب سچاہے اور اگر وہ سلطان ایوبی کے خالف اُٹھیں گے تو ان کے
دیوتا اپنی توہین کا انتقام لینے کے لیے ان کی مدد کریں گے۔انہوں نے پانچ سات دنوں میں لشکر جمع کرلیاور قاہرہ پر حملے
کے لیے چل پڑے ۔جوں جوں اِدھر ا ُدھر کے لوگوں کو پتہ چلتاتھا ،وہ اس لشکر میں شامل ہوتے جاتے تھے ۔
دوشتر سواروں کے ساتھ جب ایک سو مسلح آدمی اس لشکر میں شامل ہوئے ،یہ لشکر سرحد سے آگے آگیاتھااور ایک جگہ
پڑائو کیے ہوئے تھے۔ سلطان ایوبی رات کے وقت اتنا آگے چالگیا ،جاں اسے اس لشکر کی نقل و حرکت کی اطالع جلدی مل
سکتی تھی ۔ ان سو آدمیوں نے حملہ آوروں کے سربراہوں کو بتایا کہ صالح الدین ایوبی چند دنوں تک فلسطین کی طرف کوچ
کررہاہے۔ سربراہ بہت خوش ہوئے ۔انہوں نے یہ پڑائو دو دن اور بڑھادیا۔ اگلی رات سلطان ایوبی کو اس لشکر کی پہلی اطالع
ملی ۔
اس سے اگلی رات اس نے پچاس سوار اور پانچ منجنیقیں بھیجیں ،جن کے ساتھ آتش گیر مادے والی ہانڈیاں تھیں۔ انہیں ایک
گھوڑا کھینچتا تھا۔آدھی رات کے وقت جب سوڈانی لشکر سویا ہوا تھا،ان کے اناج کے ذخیرے پر ہانڈیاں گرنے لگیں ۔ معا ً بعد
آتشیں تیر اآئے اور مہیب شعلے ا ُٹھنے لگے ۔لشکر میں بھگدڑ مچ گئی ۔منجنیقوں کو وہاں سے فورا ً پیچھے بھیج دیا گیا۔
پچاس سواروں نے تین چار حصوں میں تقسیم ہوکر گھوڑے سرپٹ دوڑائے اور لشکر کے پہلوئوں کے آدمیوں کو کچلتے اور
برچھیوں سے زخمی کرتے غائب ہوگئے ۔ لشکریوں کو سنبھلنے کا موقعہ نہ مال۔آگ کے شعلوں سے جہاں اناج کا ذخیرہ جل
رہاتھا ،وہاں اونٹ اور گھوڑے بدک کر اِدھر ا ُدھر بھاگنے لگے۔سلطان ایوبی کے سوار ایک بار پھر آئے اور تیر برساتے گزر
گئے ۔ وہ اس کے بعد نہیں آئے۔
دوسرے دن اطالع ملی کہ سوڈانیوں کے کم و بیش چار سو آدمی آگ سے ،گھوڑوں اور اونٹوں کی بھگدڑ سے اور چھاپہ مار
سواروں کے حملوں سے مارے گئے ہیں ۔تمام تر اناج جل گیا اور تیروں کا ذخیرہ بھی نذر آتش ہوگیاتھا۔ لشکر نے وہاں سے
کوچ کیا اور رات ایسی جگہ پڑائو کیا،جہاں اِدھر ا ُدھر مٹی کے ٹیلے تھے ۔اس جگہ شب خون کا خطرہ نہیں تھا۔اب رات کو
گشتی دستے بھی پڑائوسے ُدور ُد ور گشت کرتے رہے ،مگر حملہ پھر بھی ہوا۔اس کا انداز بھی گزشتہ رات جیسا تھا۔لشکر کے
سربراہوں کو معلوم نہیں تھا کہ ان کے دوگشتی دستے سلطان ایوبی کے چھاپہ ماروں کی گھات میں آگئے تھے اور مارے گئے
ہیں ۔تیر اندازوں نے ٹیلوں سے آتشیں تیر چالئے اور غائب ہوگئے ۔سحر کا دھند لکہ نکھر نے تک یہ شب خون جاری رہے۔
ان سے گزشتہ رات کی نسبت زیادہ نقصان ہوا۔
شام کو علی بن سفیان نے سلطان ایوبی کو اپنے جاسوسوں کی الئی ہوئی یہ اطالع دی کہ کل دن کے وقت سوڈانی لشکر
اس انداز سے پیش قدمی کرے گا کہ شب خون مارنے والوں کا ٹھکانہ معلوم کرکے اسے ختم کیاجائے ۔ سلطان ایوبی نے اپنے
قریب کچھ فوج رکھی تھی ۔اس نے رات کے وقت حملہ نہ کرایا۔ اسے معلوم تھا کہ اب دشمن چوکنا ہوگا۔ اگلے روز اس نے
چار سو پیادہ سپاہی سوڈانیوں کے لشکر کے دائیں طرف نصف میل دور بھیج دئیے اور چار سو بائیں طرف ۔انہیں یہ ہدایت
دی کہ وہ آگے کو چلتے جائیں ۔دونوں دستے جنگی ترتیب میں سوڈانیوں کے پہلو سے گزرے تو سوڈانیوں نے اس خطرے کے
پیش نظر اپنے پہول پھیالدئیے کہ یہ دستے پہلو پر یا عقب سے حملہ کریں گے ۔ سلطان ایوبی کی ہدایت کے مطابق اُس کے
کماندار اپنے دستوں کو پرے ہٹاتے گئے ۔سوڈانی دھوکے میں آگئے ۔ انہوں نے اپنے لشکر کو دائیں بائیں پھیالدیا۔اچانک سلطان
اعلی کمان تھی۔
ایوبی کے پانچ سو سواروں نے ٹیلوں کی اوٹ سے نکل کر سوڈانیوں کے وسط میں ہلہ بول دیا۔یہاں ان کی
ٰ
گھوڑ سواروں کا یہ حملہ اچانک اور بے حد شدید تھا۔سارے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی۔پہلوئوں سے پیادہ تیر اندازوں نے تیر
برسانے شروع کردئیے ۔اس طرح صرف تیرہ سو نفری کی فوج نے کم و بیش چھ ہزار لشکر کو بھگدڑ میں مبتال کرکے ایسی
شکست دی کہ صحرا الشوں سے ا َٹ گیا اور سوڈانی قید میں بھی آئے اور بھاگے بھی۔بھاگنے والوں کی تعداد تھوڑی تھی۔
یہ سوڈانیوں کی دوسری بغاوت تھی جو سلطان ایوبی نے انہی کے خون میں ڈبو دی۔ اب کے سلطان ایوبی نے ڈپلومیسی سے
کام نہیں لیا۔ اس نے جنگی قیدیوں سے معلومات حاصل کرکے ان تمام کمان داروں اور دیگر حکام کو قید میں ڈال دیا جو در
پردہ بغاوت کی سازش میں شریک تھے۔ تخریب کاروں کی بھی نشاندہی ہوگئی ۔انہیں سزائے موت دی گئی۔رجب جیسے نائب
ساالروں کو ہمیشہ کے لیے قید خانے میں ڈال دیاگیا۔ سلطان ایوبی حیران اس پر ہوا کہ بعض ایسے حکام اس سازش میں
شریک تھے،جنہیں وہ اپنا وفادار سمجھتاتھا۔ اس نے اپنے معتمد ساالروں اور دیگر حکام سے کہہ دیا کہ مصر کے دفاع اور
سلطنت کے استحکام کے لیے سوڈان پر حملہ اور قبضہ ضروری ہوگیاہے۔
ِ
خالفت عباسیہ کے تحت
اس نے خلیفہ العاضد سے محافظ دستہ واپس لے کر اسے معزول کردیا اور اعالن کر دیا کہ اب مصر
ہے اور یہ بھی کے خالفت کی گدی بغداد میں ہوگی۔ سلطان ایوبی نے ا ُ ِّم عرارہ کو آٹھ محافظوں کے ساتھ نورالدین زنگی کے
حوالے کرنے کے لیے روانہ کردیا۔
٭ ٭ ٭
ام عرارہ کا اغوا کا قصہ بھی یہی ختم ھوا۔
19:18
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
قسط نمبر26.
"لڑکی جو فلسطین سے آئ تهی
سلطان صالح الدین ایوبی نے کمرے میں ٹہلتے ہوئے آہ بھری اورکہا ……''قوم متحد ہو سکتی ہے اور ہو بھی جاتی ہے ۔ قوم
کا شیرازہ امراء اور حکام بکھیرا کرتے ہیں یا وہ خود ساختہ قائد جو امیر ،وزیر یا حاکم بننا چاہتے ہیں ۔ تم نے دیکھ لیا ہے
علی ! مصر کے لوگوں کی زبان پر ہمارے خالف کوئی شکایت نہیں ۔ غداری اور تخریب کاری صرف بڑے لوگ کر رہے
ہیں ۔ ان بڑے لوگوں کو میری ذات کے ساتھ کوئی عداوت نہیں ۔ میں انہیں اس لیے برا لگتا ہوں کہ میں اس گدی پر بیٹھ
گیا ہوں جس کے وہ خواب دیکھ رہے تھے ''۔
سلطان ایوبی اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا ۔ علی بن سفیان اور بہاو الدین شداد بیٹھے ُسن رہے تھے ۔ وہ ستمبر کے پہلے
ہفتے کی ایک شام تھی ۔جون اور جوالئی میں سلطان ایوبی نے سوڈانیوں کی بغاوت کو کچال اور اس کے فورا ً بعد العاضد کو
خالفت کی گدی سے ہٹایا تھا ۔ اس سے پہلے اس نے سوڈانیوں کی بغاوت کو نہایت اچھی جنگی حکمت عملی سے دبا کر
سوڈانی فوج توڑ دی تھی ۔ مگر بغاوت کرنے والے کسی بھی قائد ،کمانڈر یا عسکری کو سزا نہیں دی تھی ۔ ڈپلومیسی سے
کام لیاتھا ۔اس طرح اس کی جنگی اہمیت کی بھی دھاک بیٹھ گئی تھی اور ڈپلومیسی کی بھی ۔اب کے سوڈانیوں نے پھر
میدان جنگ میں سوڈانیوں کی الشوں
سر ا ُٹھایا تو سلطان ایوبی نے اس سر کو ہمیشہ کے لیے کچل دینے کے لیے پہلے تو
ِ
کے انبار لگا ئے ،پھر جو بھی پکڑا گیا ،اس کے عہدے اور ُرتبے کا لحاظ کیے بغیر اسے انتہائی سخت سزا دی ۔ اکثریت
کو تو جالد کے حوالے کیا ،باقی جو بچے انہیں لمبی قید میں ڈال دیا یا ملک بدر کر کے سوڈان کی طرف نکال دیا ۔
آج دو مہینے ہو گئے ''……سلطان ایوبی نے کہا ……''میں سلطنت کے انتظام اورقوم کی فالح و بہبود کی طرف توجہ نہیں''
دے سکا ۔ مجرم الئے جا رہے ہیں اور میں سوچ بچار کے بعد انہیں سزائے موت دیتا چال جا رہا ہوں ۔ یوں دل کو تکلیف
ہو رہی ہے جیسے میں قتل عام کررہاہوں ۔ میرے ہاتھوں مرنے والوں کی اکثریت مسلمانوں کی ہے ''۔
محترم امیر!''…… بہائو الدین شداد نے کہا ۔ '' ایک کافر اور ایک مسلمان ایک ہی قسم کے گناہ کریں تو زیادہ ''
سزامسلمان کو ملنی چاہیے کیو نکہ اس تک اللہ کے سچے دین کی روشنی پہنچی پھر بھی اس نے گناہ گیا ۔ کافر تو عقل
کا بھی اندھا ہے ،مذہب کا بھی اندھا۔ آپ اس پر غم نہ کریں کہ آپ نے مسلمانوں کو سزا دی ہے۔ وہ غدار تھے۔ سلطنت
اسالمیہ کے باغی تھے ،انہوں نے اسالم کا نام مٹی میں مالنے کے لیے کافروں سے اتحاد کیا ''۔
✔
میرا اصل غم یہ ہے شداد !''…… سلطان ایوبی نے کہا ……''کہ میں حکمران بن کے مصر نہیں آیا ۔ اگر مجھے ''
حکومت کرنے کا نشہ ہوتا تو مصر کی موجودہ فضا میرے لیے سازگار تھی ۔ جنہیں صرف امارت کی گدی سے پیار ہوتا ہے ،
وہ سازشی ذہن کے حاکموں کو زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ وہ قوم کو کچھ دئیے بغیر لوگوں کو دلکش مگر جھوٹے رنگوں کی
تصویریں دکھاتے رہتے ہیں ۔ اپنے ذاتی عملے میں شیطانی خصلت افراد کو رکھتے ہیں ۔ وہ اپنے ماتحت حاکموں کو شہزادوں
کا درجہ دئیے رکھتے ہیں۔اورخود شہنشاہ بن جاتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ مجھ سے یہ گدی لے لو لیکن مجھ سے وعدہ کرو
کہ میرے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ ہو ۔ میں جو مقصد لے کر گھر سے نکال ہوں وہ مجھے پورا کر لینے دو ۔
نورالدین زنگی نے ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر اور دریائے نیل کوعرب کے مجاہدوں کے خون سے سرخ کرکے شام اور مصر
کا اتحاد قائم کیا ہے ۔ مجھے اس متحد سلطنت کو وسعت دینی ہے ۔ سوڈان کو مصر میں شامل کرنا ہے ۔ فلسطین کو
صلیبیوں سے چھڑانا ہے ۔صلیبیوں کو یورپ کے وسط میں لے جا کر کسی گوشے میں گھنٹوں بیٹھانا ہے اور مجھے یہ فتوحات
اپنی حکمرانی کے لیے نہیں اللہ کی حکمرانی کے لیے حاصل کرنی ہیں مگر مصر میرے لیے دلدل بن گیا ہے ۔ وہ کون سا
گوشہ ہے جہاں سازش ،بغاوت اور غداری نہیں ''۔
ان تمام سازشوں کے پیچھے صلیبی ہیں ''……سلطان ایوبی نے کہا ……'' میں حیران ہوں کہ وہ کس بے دردی سے ''
اپنی جوان لڑکیوں کو بے حیائی کی تربیت دے کر ہمارے خالف استعمال کر رہے ہیں ۔ان لڑکیوں کی خوبصورتی کا اپنا جادو
ہے ،ان کا طلسم ان کی زبان میں ہے ''۔
زبان کا وار تلوار کے وار سے گہرا ہوتا ہے ''……سلطان ایوبی نے کہا ……'' وہ عقل جو تمہاری کمزوریوں کو بھانپ ''
سکتی ہے علی ! وہ اپنی زبان سے ایسے انداز سے اور ایسے موقع پر ایسے الفاظ کہلوائے گی کہ تم اپنی تلوار نیام میں
ڈال کر دشمن کے قدموں میں رکھ دو گے۔ صلیبیوں کے پاس دو ہی تو ہتھیار ہیں ،الفاظ اور حیوانی جذبہ جسے انسانی جذبے
پر غالب کرنے کے لیے وہ اپنی جوان اور خوبصورت لڑکیوں کو استعمال کر رہے ہیں ۔ انہوں نے مسلمان امراء اور حکام کے
دلوں سے مذہب تک نکال دیا ہے ''۔
صرف حکام نہیں امیر محترم !''…… علی بنی سفیان نے کہا ……'' مصر کے عام لوگوں میں بدکاری عام ہوگی ہے ۔ ''
یہ صلیبیوں کاکمال ہے۔ دولت مند مسلمانوں کے گھروں میں بھی بے حیائی شروع ہوگئی ہے ''۔
یہی سب سے بڑا خطرہ ہے '' …… علی بن سفیان نے کہا ……''میں صلیبیوں کے سارے لشکر کا مقابلہ کر سکتا ہوں ''
اور کیا ہے مگر میں ڈرتا ہوں کہ صلیبیوں کے اس وار کو نہیں روک سکوں گا اور جب میری نظریں مستقبل میں جھانکتی ہیں
،تو میں کانپ ا ُٹھتا ہوں۔مسلمان برائے نام مسلمان رہ جائیں گے ۔ ان میں بے حیائی صلیبیوں والی ہوگی اور ان کے تہذیب
و تمدان پر صلیبی رنگ چڑھا ہوا ہوگا ۔میں مسلمانوں کی کمزوریاں جانتا ہوں ۔ مسلمان اپنے دشمن کو نہیں پہچانتے ۔ اس
کے بچھائے ہوئے خوبصورت جال میں پھنس جاتے ہیں ۔میں صلیبیوں کی کمزوریاں بھی جانتا ہوں وہ بے شک مسلمان کے
خالف متحد ہو گئے ہیں لیکن ان کے اندر سے دل پھٹے ہوئے ہیں ۔ فرانسیسی اور جرمن ایک دوسرے کے خالف ہیں ۔
برطانوی اور اطالوی ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے ۔وہ مسلمان کو مشترک دشمن سمجھ کر اکھٹے ہیں لیکن ان میں عداوت
کی حد تک اختالف ہیں ۔ ان کا شاہ آگسٹس دوغال بادشاہ ہے ۔ باقی بھی ایسے ہی ہیں مگر انہوں نے مسلمان امراء کو
عورت کے حسن اور زرو جواہرات کی چمک دمک سے اندھا کر رکھا ہے ۔ اگر مسلمان امراء متحد ہو جائیں تو صلیبی چند
دنوں میں بکھر جائیں۔ اب فاطمی خالفت کو ختم کر کے میں نے اپنے دشمنوں میں اضافہ کر لیا ہے ۔ فاطمی اپنی گدی کی
بحالی کے لیے سوڈانیوں اور صلیبیوں کے ساتھ ساز باز کر رہے ہیں ''۔
ان کے شاعر کو کل سزائے موت دے دی گئی ہے '' …… علی بن سفیان نے کہا ۔ ''
جس کا مجھے بہت افسوس ہے ''…… سلطان ایوبی نے کہا ……'' عمارتہ المینی کی شاعری نے میرے دل پر بھی گہرا ''
اثر کیاتھا۔ مگر اس نے الفاظ اور ترنم کو چنگاریاں بنا کر اسالم کے خرمن کو جالنے کی کوشش کی ہے ''۔
عمارةالمینی اس دور کامشہور شاعر تھا۔اس دور میں اور اس سے پہلے بھی لوگ شاعروں کو پیروں اور پیغمبروں جتنا درجہ
دیتے تھے ۔ شاعر الفاظ اور ترنم سے فوجوں میں جذبے کی نئی روح پھونک دیا کرتے تھے ۔یہی درجہ اس مسلمان شاعر کو
حاصل تھا ۔ اس نے لوگوں جو مقام پیدا کر رکھا تھا ،اسے اس نے اس طرح استعمال کرنا شروع کر دیا تھا کہ ایک طرف
وہ لوگوں میں جہاد کا جذبہ پختہ کرتا تھا اور ساتھ ہی فاطمی خالفت کی عظمت کی دھاک لوگوں کے دلوں میں بٹھاتا تھا ۔
اسے فاطمی خالفت کی اتنی پشت پناہی حاصل تھی کہ اس نے سلطان ایوبی کے خالف زہر اگلنا شروع کر دیا تھا۔ اس کے
آخری اشعار یہ تھے ……'' مجھے فاطمی خالفت کی محبت کا طعنہ دینے والو ! مجھ پر لعنت بھیجو ۔ میں تمہیں لعنت
کے الئق سمجھتا ہوں …… فاطمی محالت کی ویرانی پر آنسو بہائو ۔ ان میں رہنے والوں کو میرا پیغام دو کہ میں نے تمہارے
لیے جو زخم کھائے ہیں وہ کبھی مندمل نہ ہوں گے ''۔
اس کے گھر اچانک چھاپہ مارا گیا تھا۔ وہاں سے دستاویزی ثبوت مال تھا کہ وہ صرف فاطمی خالفت کا ہی خیر خواہ نہیں
بلکہ صلیبیوں کا وظیفہ خوار بھی ہے ۔ صلیبی اسے اس مقصد کے لیے وظیفہ دیتے تھے کہ وہ مصریوں کے دلوں پر فاطمی
خالفت کوغالب کرے اور سلطان ایوبی کے خالف نفرت پیدا کرتارہے۔ اسے سزائے موت دے دی گئی تھی ۔
جس قوم کے شاعر بھی دشمن کے وظیفہ خوار ہوں ،اس قوم کے لیے ذلت و رسوائی ہے ''…… سلطان ایوبی نے کہا۔ ''
دربان اندر آیا اور کہا کہ معزول خلیفہ العاضد کا قاصد آیا ہے ۔ سلطان ایوبی کے ماتھے کے شکن گہرے ہو گئے ۔ اس نے
کہا ……'' خالفت کے سوا یہ بوڑھا مجھ سے اور کیا مانگ سکتا ہے '' …… دربان سے کہا ……'' اسے اندر بھیج دو ''۔
العاضد کا قاصد اندر آیا اور کہا ……''خلیفہ کا سالم پیش کرتا ہوں ''۔
وہ خلیفہ نہیں ہے ''…… سلطان ایوبی نے کہا……'' دو مہینے ہو گئے ہیں اسے معزول ہوئے ۔ وہ اپنے محل میں قید ہے''
''۔
معافی چاہتاہوں قابل صد احترام امیر !''…… قاصد نے کہا …… ''عادت کے تحت منہ سے نکل گیا ہے ۔ العاضد نے ''
بعد از سالم کہا ہے کہ بیماری نے بستر پر ڈال دیا ہے اٹھنا محال ہے ۔ ملنے کی خواہش ہے ۔ اگر امیر محترم تشریف ال
سکیں تو احسان ہوگا ''۔
سلطان ایوبی نے بے قراری سے کہا اپنی ران پر ہاتھ مارا اور کہا ……'' وہ مجھے بال رہاہے کیونکہ وہ ابھی تک اپنے آپ
کو خلیفہ سمجھتا ہے ''۔
نہیں امیر مصر !''…… قاصد نے کہا ……'' ان کی حالت بہت خراب ہے ۔ محل کے طبیب نے خطرے کااظہار کیاہے ۔ ''
یہ ان کا دیرینہ مر ض ہے جو غم اور غصے میں تیز ہو جاتا ہے ،اب تو وہ اٹھنے سے معذور ہوگئے ہیں '' …… قاصد نے
ذرا جھجک کر کہا ۔……''انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ اکیلے تشریف الئیں ۔ راز کی دو چار باتیں ہیں جو کسی دوسرے
کی سامنے نہیں کی جاستکیں ''۔
انہیں بعد از سالم کہنا صال ح الدین ایوبی راز کی سب باتیں جانتا ہے '' …… سلطان ایوبی نے کہا ……''اب راز کی ''
باتیں خدا سے کہنا ۔ اللہ آپ کو معاف کرے ''۔
قاصد مایوس ہو کر چال گیا ۔ سلطان ایوبی نے دربان کو بال کر کہا کہ طبیب کو بالو ۔ اس نے علی بن سفیان اور بہائو
الدین شداد سے کہا ……'' اس نے مجھے اکیال آنے کو کہا ہے ۔ کیا اس میں کوئی چال نہیں ؟ کیا میرا خدشہ غلط ہے کہ
مجھے محل میں بال کر میرا کام تمام کرنا چاہتاہے ؟ اسے مجھ پر اوچھا وار کرنا چاہیے ۔ اسے حق حاصل ہے ''۔
آپ نے اچھا کیا نہیں گئے ''…… شداد نے کہا اور علی بنی سفیان نے تائید کی ۔''
طبیب آگیا تو سلطان ایوبی نے اسے کہا ……''آپ العاضد کے پاس چلے جائیں۔ میں جانتا ہوں وہ بہت مدت سے بیمار ہے۔
معلوم ہوتاہے کہ اس کا طبیب مایوس ہوگیا ہے۔ آپ جاکر دیکھیں اور اس کا عالج کریں ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بیمار نہ
ہو ،اگر ایسا ہے تو مجھے بتائیں ''۔
سابق خلیفہ العاضدکو اسی محل میں رہنے کی اجازت دے دی گئی تھی جو اس کی خالفت کی گدی تھی ۔ اس محل کو
اس نے جنت بنا رکھا تھا۔ حرم دیس دیس کی خوبصورت عورتوں سے پُر رونق تھا ۔ لونڈیوں کا ہجوم الگ تھا ۔ سینکڑوں
محافظوں کا دستہ مستعد رہتا تھا ۔ فوجی کماندار حاضری میں کھڑے رہتے تھے ۔ سلطان ایوبی کے الئے ہوئے انقالب نے اس
محل کی دنیا ہی بدل ڈالی تھی ۔ خلیفہ اب خلیفہ نہیں تھا۔ محل میں عیش و عشرت کاتمام سامان جوں کا توں رہنے دیا
گیا ،فوجی کمانداروں اور محافظ دستے کو وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا ۔ فوج کاایک دستہ اب بھی وہاں نظر آتا تھا ۔ مگر یہ
العاضد کا محافظ نہیں پہرہ دار تھا ۔ خالفت کامحل چونکہ سازشوں کامرکز تھا ،اس لیے وہاں اب پہرہ لگا دیا گیا تھا ۔
العاضد اب اپنے محل میں قید ی تھا ۔ وہ بوڑھا تھا اور دل کے مرض کا مریض تھا۔ خالفت چھن جانے کا غم ،بڑھاپا ،شراب
اور عیش و عشرت نے اسے بستر پر ڈال دیا تھا ۔
چند دنوں میں وہ الش کی مانند ہوگیا تھا ۔ اس کی تیمارداری کے لیے دو ادھیڑ عمر عورتیں اور ایک خادم اس کے کمرے
میں موجود تھا ۔ العاضد آنکھیں کھولتا ،انہیں دیکھتا اور آنکھیں بند کر لیتا تھا ۔ محل کا طبیب اسے دوائی پال گیاتھا ۔ دو
جوان لڑکیاں کمرے میں آئیں ۔ یہ العاضدکے حرم کی رونق تھیں ۔ ان میں سے ایک نے خلیفہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور
اس پر جھک کر صحت کا حال احوال پوچھا ۔ دوسری نے العاضد کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر اسے صحت یابی کی
دعا دی ۔ دونوں لڑکیوں نے ایک دوسری کی آنکھوں میں دیکھا اور ایک نے کہا ……'' آپ آرام فرمائیں ۔ ہم آپ کو بے آرام
نہیں کریں گی ''……دوسری نے کہا ……'' ہم ہر وقت ساتھ والے کمرے میں موجود رہتی ہیں ۔ بال لیا کریں ''۔ اور دونوں
کمرے سے نکل گئیں ۔
العاضد نے کراہ کر لمبی آہ بھری اور اپنے پاس کھڑی ادھیڑ عمر عورتوں سے کہا ……''یہ دونوں لڑکیاں میری تیمارداری کے
لیے نہیں آئی تھیں ۔ یہ دیکھنے آئی تھیں کہ میں کب مر رہاہوں ۔ میں جانتا ہوں انہوں نے اپنی دوستیاں لگا رکھی ہیں ۔
یہ گدھ ہیں ۔ میرے مرنے کا انتظار کر رہی ہیں ۔ ان کی نظر میرے مال اور دولت پرہے۔ تم تینوں کے سوا یہاں میرا ہمدرد
کون ہے ؟ …… کوئی نہیں ۔کوئی بھی نہیں ۔ فاطمی خالفت کے نعرے لگانے والے کہاں گئے !'' ۔ اس نے دل پر ہاتھ رکھ
لیا اور کروٹ بدل لی ۔ وہ تکلیف میں تھا ۔
اتنے میں قاصد کمرے میں آیا اورکہا ……''امیر مصر نے آنے سے انکار کر دیا ہے ''۔
اوہ بد نصیب صالح الدین !''…… العاضد نے کراہنے والے لہجے میں کہا ……'' میرے مرنے سے پہلے ایک بار تو آجاتا ''
''…… صدمے نے اس کی تکلیف میں اضافہ کر دیا ۔ اس نے نحیف آواز میں ُرک ُرک کر کہا ……''اب تو میری لونڈیاں بھی
میرے بالنے پر نہیں آتیں ۔ امیر مصر کیوں آئے گا …… مجھے گناہوں کی سزا مل رہی ہے۔ میرے خون کے رشتے بھی ٹوٹ
گئے ہیں ۔ ان میں سے بھی کوئی نہیں آیا ۔ وہ میرے جنازے پر آئیں گے اور محل میں جو ہاتھ لگا اُٹھا کر چلے جائیں گے
''۔
وہ کچھ دیر کراہتا رہا ۔ دونوں تیمادار عورتیں پریشانی کے عالم میں اس کی باتیں سنتی رہیں ۔ ان کے پاس تسلی اور حوصلہ
افزائی کے لیے بھی جیسے کوئی الفاظ نہیں رہے تھے ۔ ان کے چہروں پر خوف سا طاری تھا ،جیسے وہ خدا کے اس قہر
سے ڈر رہی تھیں ۔ جو بادشاہ کو گدا اور امیر کو فقیر بنا دیتا ہے۔
دونوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا۔ ایک سفید ریش بزرگ کھڑا تھا ۔ وہ ذرا ُرک کر اندر آیا اور العاضد کی نبض پر
ہاتھ رکھ کر کہا ……'' السالم و علیکم ۔ میں امیر مصر کا طبیب خاص ہوں ۔ انہوں نے مجھے آپ کے عالج کے لیے بھیجا
ہے ''۔
کیا امیر مصر میں اتنی سی بھی مروت نہیں رہی کہ آکے مجھے دیکھ جاتا ؟'' …… العاضد نے کہا ……''میرے بالنے پر ''
بھی نہ آیا ''۔
اس کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا ''۔ طبیب نے کہا …… ''انہوں نے مجھے آپ کے عالج کے لیے بھیجا ہے ۔ ''
میں یہ کہنے کی جرأت نہیں کروں گا کہ اتنے بڑے واقعہ کے بعد جس میں باقاعدہ جنگ ہوئی اور ہزاروں جانیں ضائع ہوگئیں
،امیر مصر شاید یہاں نہیں آئیں گے ۔ انہیں آپ کی صحت کی فکرضرور ہے ۔ ایسا نہ ہوتا تو وہ مجھے آپ کے عالج کا
حکم نہیں دیتے ۔ اس حالت میں آپ ایسی کوئی بات ذہن میں نہ الئیں جو آپ کے دل کو تکلیف دیتی ہے ورنہ عالج نہیں
ہوسکے گا ''۔
میرا عالج ہوچکا ''…… العاضد نے کہا ……''میرا ایک پیغام غور سے سن لو ۔ صالح الدین کو لفظ بہ لفظ پہنچا دینا ۔ ''
میری نبض سے ہاتھ ہٹا لو ۔ میں اب دنیا کی حکمت اور تمہاری دوائیوں سے بے نیاز ہوچکا ہوں ۔ سنو طبیب ! صالح
الدین سے کہنا کہ میں تمہارا دشمن نہ تھا ۔ میں تمہارے دشمنوں کے جال میں آگیاتھا ۔ یہ بدقسمتی میر ی ہے یا صالح
الدین کی کہ میں اپنے گناہوں کا اعتراف اس وقت کر رہا ہوں ۔ جب میں ایک گھڑی کا مہمان ہوں …… صالح الدین سے
کہنا کہ میرے دل میں ہمیشہ تمہاری محبت رہی ہے اور تمہاری محبت کو ہی دل میں لیے دنیا سے رخصت ہو رہا ہوں ۔
میرا جرم یہ ہے کہ میں زر و جواہرات اور حکمرانی کی محبت بھی اپنے دل میں پیدا کرلی ۔ جو اسالم کے احترام پر
غالب آگئی۔ آج سب نشے ا ُتر گئے ہیں۔ وہ لوگ جو میرے پاوں میں بیٹھا کرتے تھے ،وہ بیگانے ہوگئے ہیں ۔ وہ لونڈیاں
بھی میرے مرنے کی منتظر ہیں جو میرے اشاروں پر ناچا کرتی تھیں ۔ میرے دربار میں عریاں رقص کرنے والی لڑکیاں مجھے
نفرت کی نگاہوں سے دیکھتی ہیں …… انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انسان کسی انسان کے گناہوں کابوجھ اُٹھا
سکتا ۔ ان کم بختوں نے مجھے خدا بنا ڈاال مگر آج جب حقیقی خدا کا بالواآیا ہے تو مجھ پر یہ حقیقت روشن ہوئی ہے
''۔
میں نے اس کو نجات کاذریعہ سمجھا ہے کہ اپنے گناہوں کااعتراف کر لوں اور صالح الدین کو ایسے خطروں سے خبردار ''
کرتاجاوں جن سے شاید وہ واقف نہیں ۔ اسے کہنا کہ میرے محافظ دستے کا ساالر رجب زندہ ہے اور سوڈان میں کہیں روپوش
ہے ۔ وہ مجھے بتا کر گیا تھا کہ فاطمی خالفت کی بحالی کے لیے سوڈانیوں اور قابل اعتماد مصریوں کی فوج تیار کرے گا
اور وہ صلیبیوں سے جنگی اور مالی امداد لے گا …… صالح الدین سے کہنا کہ اپنے محافظ دستے پر نظر رکھے ۔ اکیال باہر نہ
جائے ۔ رات کو زیادہ محتاط رہے کیونکہ رجب نے فدائیوں کے ساتھ ایوبی کے قتل کا منصوبہ بنالیاہے ۔ اسے کہنا کہ مصر
تمہارے لیے آگ ا ُگلنے واال پہاڑ ہے۔ تم جنہیں دوست سمجھتے ہو وہ بھی تمہارے دشمن ہیں اور وہ جو تمہاری آواز کے ساتھ
آواز مال کر وسیع سلطنت اسالمیہ کے نعرے لگاتے ہیں ،ان میں صلیبیوں کے پالے ہوئے سانپ موجود ہیں ''۔
19:20
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
""قسط نمبر" 27.لڑکی جو فلسطین سے آئ تهی
تمہارے جنگی شعبے میں فیض الفاطمی بڑا حاکم ہے مگر تم نہیں جانتے کہ وہ تمہارے مخالفین میں سے ہے۔ وہ رجب کا''
دست راست ہے۔ تمہاری فوج میں ترک ،شامی اور دوسرے عربی نسل کے جو کماندار اور سپاہی ہیں ان کے سوا کسی پر
بھررسہ نہ کرنا ۔ یہ سب تمہارے وفادار اور اسالم کے محافظ ہیں ۔ مصری فوجیوں میں قابل اعتماد بھی ہیں اور بے وفا بھی
۔ تم نہیں جانتے کہ تم نے جب سوڈانی لشکر پر فیصلہ کن حملہ کیاتھا تو حملہ آور دستوں میں دو دستوں کے کماندار
تمہاری چال کو ناکام کرنے لیے تمہاری ہدایات اور احکام پر غلط عمل کرنا چاہتے تھے لیکن تمہارے ترک اور عرب سپاہیوں
میں جوش اور جذبہ ایسا تھا کہ اپنے کماندار کے حکم کا انتظار کیے بغیر وہ سوڈانیوں پر قہر بن کر ٹوٹے ،ورنہ یہ دو
کماندار جنگ کا پانسہ پلٹ کر تمہیں ناکام کردیتے ''۔
العاضد مری مری آواز میں ُرک ُرک کر بولتا رہا۔ طبیب نے اسے ایک دو مرتبہ بولنے سے روکا تو اس نے ہاتھ کے اشارے
سے اسے چپ کرادیا ۔ اس کے چہرے پر پسینہ اس طرح آگیا تھاجیسے کسی نے پانی چھڑک دیا ہو۔ دونوں عورتوں نے اس
کا پسینہ پونچھا لیکن پسینہ چشمے کی طرح پھوٹتا آرہا تھا۔اس نے چند ایک اور انتظامیہ اور فوج کے حکام کے نام بتائے جو
سلطان ایوبی کے خالف سازشوں میں مصروف تھے۔ ان میں سے زیادہ خطرناک فدائی تھے جن کا پیشہ پُر اسرار قتل تھا ۔
وہ اس فن کے ماہر تھے۔ العاضد نے مصر میں صلیبیوں کے اثر و رسوخ کی بھی تفصیل سنائی اور کہا ……''انہیں مسلمان نہ
سمجھنا ۔ یہ ایمان فروخت کر چکے ہیں …… صالح الدین سے کہنا کہ اللہ تمہیں کامیاب کرے اور سرخرو کرے ،لیکن یہ یاد
رکھنا کہ ایک تو وہ لوگ ہیں جو چوری چھپے تمہیں دھوکہ دے رہے ہیں اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو خوشامد سے تمہیں خدا
کے بعد کا درجہ دے دیں گ۔ یہ ان لوگوں سے زیادہ خطرناک ہیں جو چوری چھپے دھوکہ دیتے ہیں …… اس سے کہنا کہ
دشمنوں کو زیر کر کے جب تم اطمینان سے حکومت کی گدی پر بیٹھو گے تو میری طرح دونوں جہاں کے بادشاہ نہ بن
جانا ۔ سدا بادشاہی اللہ کی ہے۔ اسی مصر میں فرعونوں کے کھنڈر دیکھ لو ۔ میرا انجام دیکھ لو ۔ اپنے آپ کو اس انجام
سے بچانا ''۔
اس کی زبان لڑکھڑانے لگی ۔ اس کے چہرے پر جہاں کاکرب کاتاثر تھا ۔ وہاں سکون سا بھی نظر آنے لگا ۔ اس نے بولنے
کی کوشش کی مگر حلق سے خراٹے سے نکلے ۔ اس کا سر ایک طرف لڑھک گیا اور وہ ہمیشہ کے لیے خاموش گیا۔
یہ واقعہ ستمبر ١١٧١ء کا ہے ۔
طبیب نے سلطان ایوبی کو اطالع بجھوائی ۔ محل میں العاضد کی موت کی خبر پھیل گئی ۔ محل کے کسی گوشے سے رونا
تو دورکی بات ہے ہلکی سی سسکی بھی نہ سنائی دی ۔ صرف ان دو عورتوں کے آنسو بہہ رہے تھے ۔ جو آخری وقت اس
کے پاس تھیں …… سلطان ایوبی چند ایک حکام کے ساتھ فورا ً محل میں آگیا۔ اس نے دیکھا کہ وہاں برآمدوں اور غالم
گردشوں میں کچھ سرگرمی سی تھی ۔ اسے شک ہوا۔ اس نے محافظ دستے کے کماندار کو بال کر حکم دیاکہ محل کے تمام
کمروں میں گھوم جاو۔ تمام مردوں ،عورتوں اور لڑکیوں کوکمروں سے نکا ل کر باہر صحن میں بٹھا دو اور کسی کو باہر نہ
جانے دو ۔ کسی کو کیسی ہی ضرورت کیوں نہ ہو ،اصطبل سے کوئی گھوڑا نہ کھولے ۔سلطان ایوبی نے محل پر قبضہ کرنے
کا حکم دیا ۔ اس نے عجیب چیز یہ دیکھی کہ العاضد جو اپنے آپ کو بادشاہ بنائے بیٹھا تھا اور جس نے شراب اور عورت
کو ہی زندگی جانا تھا ،اس کی میت پر رونے واال کوئی نہ تھا۔ محل مردوں اور عورتوں سے بھراپڑا تھا ۔ مگر کسی کے
چہرے پر اداسی کا تاثر بھی نہیں تھا۔
طبیب سلطان ایوبی کو الگ لے گیا اور اسے العاضد کی آخری باتیں سنائیں۔ اس نے اپنی رائے ان الفاظ میں دی کہ آپ کو
آخری وقت میں اس کے بالوے پر آجانا چاہیے تھا ۔ سلطان ایوبی نے اسے بتایا کہ وہ اس خدشے کے ِ
پیش نظر نہیں آیاکہ
اس شخص کا کچھ بھروسہ نہ تھا اوردوسری وجہ یہ تھی کہ اسے ایمان فروشوں سے نفرت تھی مگر اب طبیب کی زبانی
العاضد کا آخری پیغام سن کر سلطان ایوبی کو سخت پچھتاوا ہونے لگا تھا ۔ وہ بہت بے چین ہوگیا تھا اور اس نے کہا
……''اگر میں آجاتا تو اس کے منہ سے کچھ اور راز کی باتیں نکلوا لیتا ۔ وہ کوئی راز سینے میں نہ لے گیا ہو ''۔
متعدد مورخین نے اپنی تحریروں میں لکھا ہے کہ العاضد بے شک عیاش اور گمراہ تھا ،اس نے سلطان ایوبی کے خالف
سازشوں کی پشت پناہی بھی کی لیکن اس کے دل میں سلطان ایوبی کی محبت بہت تھی ۔ دو مورخین نے یہ بھی لکھا ہے
کہ اگر سلطان ایوبی العاضد کے بالوے پرچال جاتا تو العاضد اسے اوربھی بہت سی باتیں بتاتا۔ بہرحال تاریخ ثابت کرتی ہے کہ
العاضد کے بالوے میں کوئی فریب نہ تھا ۔ اس نے اپنی روح کی نجات کے لیے اور سلطان ایوبی کی محبت کے لیے گناہوں
کی بخشش مانگنے کا یہ طریقہ اختیار کیا تھا ۔ بہت مدت تک سلطان ایوبی تاسف میں رہ گیا کہہ وہ آخری وقت العاضد کی
باتیں نہ سن سکا ۔بعد میں ان تمام افراد کے خالف الزامات صحیح ثابت ہوئے تھے جن کی العاضد نے نشاندہی کی تھی ۔
سلطان ایوبی نے ان تمام افراد کے نام علی بن سفیان کو دے کرحکم دیا کہ ان سب کے ساتھ اپنے جاسوس اور سراغرساں
لگا دو لیکن کسی کو مکمل شہادت اور ثبوت کے بغیر گرفتار نہ کرنا ۔ ایسے طریقے اختیار کرو کہ وہ عین موقعہ پر پکڑے
جائیں ،کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی کے ساتھ بے انصافی ہوجائے ۔ یہ احکام دے کر اس نے کفن دفن کے انتظامات کرائے۔
اسی شام العاضد عام قبرستا ن میں دفن کر دیا گیا جہاں تھوڑے ہی عرصے بعد قبر کا نام و نشان مٹ گیا ۔ سلطان ایوبی
نے محل کی تالشی لی ۔ وہاں سے اس قدر سونا ،جواہرت اور بیش قیمت تحائف نکلے کہ سلطان ایوبی حیران رہ گیا ۔
اس نے حرم کی تمام عورتوں اور جوان لڑکیوں کوعلی بن سفیان کے حوالے کر دیا اور حکم دیا کہ معلوم کروکون کہاں کی
رہنے والی ہے۔ ان میں سے جو اپنے گھروں کو جانا چاہتی ہیں انہیں اپنی نگرانی میں گھروں تک پہنچا دو اور ان میں جو
غیر مسلم اور فرنگی ہیں ان کے متعلق پوری طرح چھان بین کرکے معلوم کرو کو وہ کہاں سے آئی تھیں اور ان میں مشتبہ
کون کون سی ہیں ۔ مشتبہ کو آزاد نہ کیاجائے بلکہ اس سے معلومات حاصل کی جائیں۔
سلطان ایوبی نے محل سے برآمد ہونے واال مال و دولت ان تعلیمی اداروں ،مدرسوں اور ہسپتالوں میں تقسیم کر دیا جو اس
نے مصر میں کھولے تھے ۔
٭ ٭ ٭
العاضد نے مرنے سے پہلے اپنے محافظ دستے کے ساالر رجب کے متعلق بتایا تھا کہ وہ سوڈان میں روپوش ہے جہاں وہ
سلطان ایوبی کے خالف فوج تیار کر رہا ہے اور وہ صلیبیوں سے بھی مدد لے گا۔ علی بن سفیان نے چھ ایسے جانباز منتخب
کیے جو لڑاکا جاسوس تھے ۔ ان کا کماندار رجب کو پہچانتا تھا ۔ انہیں تاجروں کے بھیس میں سوڈان روانہ کر دیا گیا ۔
انہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ ممکن ہو سکے تو اسے زندہ پکڑ الئیں ورنہ وہیں قتل کر دیں ۔
جس وقت یہ پارٹی سوڈان کو روانہ ہوئی اس وقت رجب سوڈان میں نہیں بلکہ فلسطین کے ایک مشہور اور مضبوط قلعے
شوبک میں تھا ۔ فلسطین پر صلیبیوں کا قبضہ تھا ۔ انہوں نے اس خطے کو اڈہ بنا لیا تھا ۔ مسلمانوں پر انہوں نے عرصہ
حیات تنگ کر رکھا تھا ۔ مسلمان وہاں سے کنبہ در کنبہ بھاگ رہے تھے ۔ وہاں کسی مسلمان کی عزت محفوظ نہیں تھی ۔
صلیبی ڈاکووں کی صورت بھی اختیار کرتے جا رہے تھے ۔ وہ مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹ کر فلسطین میں آجاتے تھے ۔
لڑکیوں کو بھی اغواکر کے التے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ سلطان ایوبی سب سے پہلے فلسطین کو فتح کرنا چاہتا تھاتا کہ
مسلمانوں کے جان و مال اور آبرو کو محفوظ کیا جا سکے ۔ اس سے بھی بڑی وجہ یہ تھی کہ قبلہ اول پر صلیبی قابض تھے
،مگر مسلمان امراء کا یہ عالم تھا کہ و ہ صلیبیوں کے ساتھ دوستی کرتے پھرتے تھے ۔ رجب بھی ایک مسلمان فوجی
سربراہ تھا ۔ وہ سلطان کے خالف مدد حاصل کرنے کے لیے صلیبیوں کے پاس پہنچ گیا تھا ۔
اس کے اعزاز میں قلعے میں رقص کی محفل گرم کی گئی تھی ۔ رجب نے یہ دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی کہ
برہنہ ناچنے والیوں میں زیادہ تعداد مسلمان لڑکیوں کی تھی جنہیں صلیبیوں نے کمسنی میں اغوا کر لیا اور رقص کی تربیت
دی تھی ۔ اپنی قوم کی بیٹیوں کو وہ کافر کے قبضے میں ناچتا دیکھتا رہا اور ان کے ہاتھوں شراب پیتا رہا تھا ۔ اس کے
ساتھ وہ مسلمان کماندار بھی تھے ۔ رات بھر وہ شراب اور رقص میں بدمست رہے اور صبح صلیبیوں کے ساتھ بات چیت کے
لیے بیٹھے ۔ اس اجالس میں صلیبیوں کے مشہور بادشاہ گائی لوزینان اور کونارڈ موجود تھے ۔ ان کے عالوہ چند ایک صلیبی
فوج کے کمانڈر بھی تھے ۔ رات کو رجب انہیں بتا چکا تھا کہ سلطان ایوبی نے سوڈانیوں کے حبشی قبیلے کے مبعد کو
مسمار کر کے ان کے پروہت کو ہالک کر دیا ہے ۔ اس پر سوڈانیوں نے حملہ کیا جسے سلطان ایوبی نے پسپا کیا اور اس
نے خلیفہ العاضد کی خالفت ختم کر کے عباسی کا اعالن کر دیا مگر مصر میں کوئی خلیفہ نہیں رہے گا۔ رجب نے انہیں
بتایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سلطان ایوبی مصر کا خود مختار حکمران بننا چاہتا ہے ۔ رجب نے صلیبیوں کو اس اجالس
میں بتایا کہ وہ ان سے جنگی اور مالی مدد لینے آیا ہے اور وہ سوڈان جا کر فوج تیا ر کرے گا ۔ مصر میں بد نظمی او
ابتری پھیالنے کے لیے بھی اس نے صلیبیوں سے مدد مانگی ۔
فوری طور پر دو پہلو سامنے آتے ہیں جن پر ہمیں توجہ مرکوز کرنی چاہیے ''…… کونارڈ نے کہا ……''جس حبشی قبیلے ''
کے مذہب میں صالح الدین ایوبی نے ظالمانہ دخل اندازی کی ہے اسے انتقام کے لیے بھڑکایا جائے ۔ اس کے ساتھ سارے
سوڈان میں جتنے بھی عقیدے اور مذہب ہیں ان کے پیرو کاروں کو صالح الدین کے خالف یہ کہہ کو مسلح کیا جائے کہ یہ
مسلمان بادشاہ لوگوں کی عبادت گاہیں اور اور ان کے دیوتائوں کے بت توڑتاپھر رہا ہے۔ پیشتر اس کے کہ وہ کسی اور عقیدے
پر حملہ آور ہو اسے مصر میں ہی ختم کردیا جائے ۔ اس طرح لوگوں کے مذہبی جذبات مشتعل کر کے انہیں مصر پر حملے
کے لیے آسانی سے تیار کیا جاسکتا ہے ''۔
ہم مصر کے مسلمانوں تک کو صالح الدین کے خالف کھڑا کر سکتے ہیں ۔ ''……ایک صلیبی کمانڈر نے کہا ……''اگر ''
محترم رجب برا نہ مانیں تو میں انہی کے فائدے کی بات کہہ دوں ۔مسلمان میں مذہبی جنون پیدا کر کے مسلمان کو مسلمان
کے ہاتھوں مروا دینا کوئی مشکل نہیں ۔ جس طرح ہمارے مذہب میں بعض پادریوں نے اپنے آپ کو گرجوں کا حاکم بنا کر
اپنا وجود انسان اور خدا کے درمیان کھڑا کر دیا ہے ،بالکل اسی طرح اسالم میں بھی بعض اماموں نے مسجد پر قبضہ کر کے
اپنے آپ کو خدا کا ایجنٹ بنا لیاہے ۔ ہمارے پاس دولت ہے جس کے ذور پر ہم مسلمان مولوی تیار کرکے مصر کی مسجدوں
میں بٹھا سکتے ہیں ۔ ہمارے پاس ایسے عیسائی بھی موجود ہیں جو اسالم اور قرآن سے بڑی اچھی طرح واقف ہیں ۔ انہیں
ہم مسلمان اماموں کے روپ میں استعمال کریں گے ۔ صالح الدین کے خالف کسی مسجد میں کوئی کہنے کی ضرورت نہیں ۔
ان مولویوں کی زبان سے ہم مسلمانوں میں ایسی توہم پرستی پیدا کریں گے کہ ان کے دلو ں میں صالح الدین کی وہ عظمت
'' مٹ جائے گی جو اس نے پیدا کر رکھی ہے
یہ مہم فورا ً شرع کردینی چاہیے ''…… رجب نے کہا ……''سلطان ایوبی نے مصر میں مدرسے کھول دئیے ہیں جہاں ''
بچوں اور نوجوانوں کو مذہب کے صحیح ُرخ سے روشناس کیا جارہاہے ۔ اس سے پہلے وہاں کوئی ایسا مدرسہ نہیں تھا ۔ لوگ
مسجد میں خطبے سنتے تھے ،جن میں خلیفہ کی مدح سرائی زیادہ ہوتی تھی ۔ صالح الدین نے خطبوں سے خلیفہ کاذکر
ختم کرادیاہے۔ اگر لوگوں میں علم کی روشنی اور مذہبی بیداری پیدا ہوگئی تو ہمارا کام مشکل ہو جائے گا ۔ آپ جانتے ہیں
کہ حکومت کے استحکام کے لیے لوگوں کو ذہنی طور پر پسماندہ اور جسمانی طور پر محتاج رکھنا الزمی ہے ''۔
محترم رجب !''…… ایک صلیبی کمانڈر ُمسکرا کربوال ……''آپ کو اپنے ملک کے متعلق بھی علم نہیں کہ وہاں درپردہ ''
کیاہو رہاہے ۔ ہم نے یہ مہم اسی روز شروع کردی تھی جس روز صالح الدین نے ہمیں بحیرئہ روم میں شکست دی تھی ۔ ہم
کھلی تخریب کاری کے قائل نہیں ۔ ہم ذہنوں میں تخریب کاری کیا کرتے ہیں ۔ ذرا غور فرمائیں محترم! دو سال پہلے قاہرہ
میں کتنے قحبہ خانے تھے اور اب کتنے ہیں ؟ کیا ان میں بے پناہ اضافہ نہیں ہوگیا ؟ کیا دولت مند مسلمان گھرانوں میں
لڑکوں اور لڑکیوں میں قابل اعتراض معاشقے شروع نہیں ہوگئے ؟ ہم نے وہاں جو عیسائی لڑکیاں بھیجی تھیں وہ مسلمان
لڑکیوں کے روپ میں مسلمان مردوں کے درمیان رقابت پیدا کرکے خون خرابے کراچکی ہیں ۔ قاہرہ میں ہم نے نہایت دلکش
جواء بازی رائج کردی ہے دو مسجدوں میں ہمارے بھیجے ہوئے آدمی امام ہیں ۔ وہ نہایت خوبی سے اسالم کی شکل و
صورت بگاڑ رہے ہیں ۔ وہ جہاد کے معنی بگاڑ رہے ہیں ۔ ہم نے وہاں عالموں اور فاضلوں کے بھیس میں بھی کچھ آدمی
بھیج رکھے ہیں جو مسلمانوں کو جنگ و جدل کے خالف تیار کر رہے ہیں ۔ وہ دوست اور دشمن کا تصور بھی بدل رہے ہیں
۔ مجھے ذاتی طور پر یہ توقع ہے کہ مسلمان چند برسوں تک اس ذہنی کیفیت میں داخل ہو جائیں گے جہاں وہ اپنے آپ
کو بڑے فخر سے مسلمان کہیں گے مگران کے ذہنوں پر ان کے تہذیب و تمدن پر صلیب کا اثر ہوگا ''۔
صالح الدین کا جاسوسی کا نظا م بہت ہوشیار ہے ''…… رجب نے کہا …… ''اگر اس کے شعبہ جاسوس اور سراغرسانی''
کے سربراہ علی بن سفیان کو قتل کر دیا جائے تو صالح الدین اندھااور بہرہ ہوجائے ''۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ خود کچھ بھی نہیں کر سکتے ''…… کونارڈ نے کہا …… ''آپ ایک حاکم کو قتل بھی نہیں''
کرا سکتے ۔ اگر آپ عقل کے لحاظ سے اتنے کمزور ہیں تو آپ ہمارے آدمیوں کو بھی پکڑوا کر مروائیں گے اور ہماری دولت
بھی برباد کر دیں گے ''۔
یہ کام میں خودکر الوں گا ''…… رجب نے کہا ……''میں نے فدائیوں سے بات کرلی ہے ۔ وہ تو صالح الدین ایوبی کے ''
قتل کے لیے بھی تیا ر ہیں ''۔
٭ ٭ ٭
آپ سوڈان کی طرف سے مصر کی سرحد پر بد امنی پیدا کرتے رہیں '' ۔ کونارڈ نے کہا ……''ملک کے اندر ہم ذہنی ''
اور دیگر اقسام کی تخریب کاری کر تے رہیں گے۔ ادھر عرب میں کئی ایک مسلمان امراء ہمارے قبضے میں آگئے ہیں ۔ ان
میں سے بعض کو ہم نے اس قدر بے بس کر دیا ہے کہ ان سے ہم جزیہ وصول کرتے ہیں ۔ ہم چھوٹے چھوٹے حملے کر کے
ان کی تھوڑی تھوڑی زمین پر قبضہ کرتے چلے جارہے ہیں ۔ آپ سوڈان کی طرف سے یہی چال چلیں ۔ مسلمانوں میں صرف
دو شخص رہ گئے ہیں ۔ نورالدین زنگی اور صالح الدین ایوبی ۔ان کے ختم ہوتے ہی اسالمی دنیا کا سورج غروب ہوجائے گا۔
بشرطیکہ آپ لوگ ثابت قدم رہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ مصر آپ کا ہوگا '' ۔
اس قسم کی بنیادی گفت و شنید کے بعد بہت دیر تک ان میں طریقہ کار اور الئحہ عمل پر بحث ہوتی رہی ۔ آخر کار
رجب کو تین بڑی ہی دلکش اور بے حد چاالک لڑکیاں او سونے کے ہزار ہا سکے دئیے گئے ۔ اسے قاہرہ کے دو آدمیوں کے
پتے دئیے گئے ۔ ان میں کسی ایک تک ان لڑکیوں کو خفیہ طریقے سے پہنچانا تھا ۔ ان دو آدمیوں میں سے ایک سلطان
ایوبی کے جنگی شعبے کا ایک حاکم فیض الفاطمی تھا ۔ رجب کو یہ نہیں بتایا گیا کہ لڑکیوں کو کس طرح استعمال کیا جائے
گا ۔ اسے اتنا ہی بتایا گیا کہ فیض الفاطمی کے ساتھ ان کا رابطہ ہے ۔ وہ لڑکیوں کا استعمال جانتا ہے اور لڑکیوں کو بھی
معلوم ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے ۔یہ تینوں عرب اور مصر کی زبان روانی سے بول سکتی تھیں ۔
اسی روز تینوں لڑکیاں اور دس محافظ رجب کے ساتھ کرکے اسے روانہ کر دیا گیا۔ اسے سب سے پہلے سوڈان کے اسی پہاڑی
خطے میں جانا تھا جہاں لڑکی کی قربانی دی جاتی تھی اور جہاں سلطان ایوبی کے جانبازوں نے ا ُ ِّم عرارہ کو حبشیوں سے
چھڑا کر پروہت کو ہالک کیا اور فرعونوں کے وقتوں کی عمارتیں تباہ کی تھیں ۔ رجب نے سوڈانیوں کی شکست اور العاضد
کی خالفت سے معزولی کے بعد بھاگ کر اسی جگہ پناہ لی اور اسی جگہ کو اپنا اڈہ بنا لیا تھا ۔ اسے نے اپنے گرد
حبشیوں کا وہ قبیلہ جمع کر لیا تھا جس کے پروہت کو سلطان ایوبی نے ہالک کرایا تھا ۔ یہ لوگ ابھی تک اس جگہ کو
دیوتائوں کا مسکن کہتے تھے اور پہاڑیوں کے اندر نہیں جاتے تھے ۔ اندر صرف چار بوڑھے حبشی جاتے تھے ۔ ان میں ایک
اس قبیلے کا مذہبی پیشوا تھا ۔ اس نے اپنے آپ کو مرے ہوئے پروہت کا جانشیں بنالیا تھا ۔اس نے تین آدمی اپنے محافظوں
کے طور پر منتخب کر لیے تھے ۔ جو اس کے ساتھ پہاڑیوں کے اندر جاتے تھے ۔ رجب نے اسی چھوٹے سے خطے کے ایک
ڈھکے چھپے گوشے کو اپنا گھر بنا لیا تھا ۔فرار ہو کر وہاں گیا اور پھر مصر میں مقیم کسی صلیبی ایجنٹ کے ساتھ فلسطین
چال گیا تھا ۔
19:21
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
""قسط نمبر"28.لڑکی جو فلسطین سے آئ تهی
حبشیوں کا یہ قبیلہ جو انگوک کہالتا تھا ،خوفزدہ تھا ۔ ایک تو ان کے دیوتا کی قربانی پوری نہیں ہوئی ،دوسرے ان کا
پروہت مارا گیا ،تیسرے ان کے دیوتاکا بت اور مسکن ہی تباہ کر دیا گیا اور چوتھی مصیبت یہ نازل ہوئی کہ قبیلے کے
سینکڑوں جوان دیوتا کی توہین کا انتقام لینے گئے تو انہیں شکست ہوئی اور زیادہ تر مارے گئے ۔ اس قبیلے کے گھر گھر
میں ماتم ہورہا تھا ۔ان میں سے بعض لوگ یہ بھی سوچنے لگے تھے کہ جس نے ان کا دیوتا کا بت توڑا ہے وہ کوئی بہت
ہی بڑا دیوتا ہوگا ۔ مرے ہوئے پروہت کے جانشیں نے جب اپنے قبیلے کا یہ حال دیکھا تو اس نے پہلے یہ کہا کہ دیوتا کے
مگر مچھ بھوکے ہیں ،ان کے پیٹ بھرو۔ حبشیوں نے کئی ایک بکریاں مگر مچھوں کے لیے بھیج دیں ۔ ایک نے تو اونٹ
پروہت کے حوالے کر دیا ۔یہ جانور کئی دن تک مگر مچھوں کی جھیل میں پھینکے جاتے رہے مگر قبیلے سے خوف کم نہ
ہوا ۔
ایک رات نئے پروہت نے قبیلے کو پہاڑی جگہ سے باہر جمع کیا اور اس نے دیوتائوں تک رسائی حاصل کی ہے ۔ دیوتائوں
نے یہ اشارہ دیا ہے کہ چونکہ وقت پر لڑکی کی قربانی نہیں ہوئی اس لیے قبیلے پر یہ مصیبت نازل ہوئی ہے ۔ دیوتائوں نے
کہا کہ اب بیک وقت دو لڑکیوں کی قربانی دی جائے گی تو مصیبت ٹل سکتی ہے ۔ ورنہ دیوتاسارے قبیلے کو چین نہیں لینے
دیں گے ۔ پروہت نے یہ بھی کہا کہ لڑکیاں انگوک نہ ہوں اور سوڈان کی بھی نہ ہوں ۔ ان کا سفید فام ہونا ضروری ہے ……
اتنا سننا تھا کہ قبیلے کے بہت سے دلیر اور نڈر آدمی اٹھ کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ مصر سے دو فرنگی یا مسلمان
لڑکیاں اٹھا الئیں گے ۔
ادھر سے رجب فلسطین سے تین صلیبی لڑکیاں دس محافظوں کے ساتھ ال رہا تھا ۔ اس کا سفر بہت لمبا تھا اور یہ سفر
خطرناک بھی تھا ۔ وہ سلطان ایوبی کی فوج کا بھگوڑا اور باغی ساالر تھا ۔ اسے معلوم تھا کہ سرحد کے ساتھ ساتھ سلطان
ایوبی نے کشتی پہرے کا انتظام کر رکھا ہے ،اس لیے وہ اپنے قافلے کو دور کا چکر کاٹ کر ال رہا تھا ۔ اس کے قافلے میں
تین اونٹ تھے جن پر پانی ،خوراک اور صلیبیوں کا دیا ہوا بہت سارا سامان لدا ہوا تھا ۔ باقی سب گھوڑوں پر سوار
تھے ۔ کئی دنوں کی مسافت کے بعد وہ دیوتائوں کے پہاڑی مسکن میں پہنچ گئے ۔ اس سے ایک ہی روز پہلے قبیلے کے
پروہت نے کہا تھا کہ وہ سفید فام اور سوڈان کے باہر کی لڑکیوں کی قربانی دینی ہے ۔ رجب سب سے پہلے پروہت سے
مال۔ پروہت نے اس کے ساتھ تین سفید فام اور بہت ہی حسین لڑکیاں دیکھیں تو اس کی آنکھیں چمک اُٹھیں ۔ یہ لڑکیاں
قربانی کے لیے موزوں تھیں ۔ اس نے رجب سے لڑکیوں کے متعلق پوچھا تو رجب نے اسے بتایا کہ انہیں وہ خاص مقصد کے
لیے اپنے ساتھ الیا ہے ۔
رجب لڑکیوں کو پہاڑیوں کے اندر ایک ایسی جگہ لے گیا جو سر سبز اور خوشنما تھی او ر تین اطراف سے پہاڑیوں میں
گھری ہوئی تھی ۔ وہاں رجب نے خیمے گاڑ دئیے تھے ۔ لڑکیوں کو چوری چھپے موقع محل دیکھ کر قاہرہ میں ان دو آدمیوں
کے حوالے کرنا تھا ۔ جن کے اتے پتے اسے صلیبیوں نے دئیے تھے ۔ لڑکیوں کے آرام و آسائش کا پورا انتظام تھا ۔ رجب
نے وہاں شراب کا بھی انتظام کر رکھا تھا ۔ رات اس نے سفر سے کامیاب لوٹنے کی خوشی میں جشن منایا ۔ صلیبی
محافظوں کو بھی شراب پالئی ۔ لڑکیوں نے بھی پی ۔
آدھی رات کے بعد جب محافظ اور اس کے چند ایک ساتھی جو پہلے ہی وہاں موجود تھے سوگئے تو رجب ایک لڑکی کو
بازو سے پکڑکر اپنے خیمے میں جانے لگا ۔ لڑکی اس کی نیت پھانپ گئی ۔ اس نے اسے کہا ……'' میں طوائف نہیں
ہوں ۔ میں یہاں صلیب کا فرض لے کر آئی ہوں ۔ میں آپ کے ساتھ شراب پی سکتی ہوں مگر بدی قبول نہیں کروں گی
''۔
رجب نے اسے ہنستے ہوئے اپنے خیمے کی طرف گھسیٹا تو لڑکی نے اپنا بازو چھڑا لیا ۔ رجب نے دست درازی کی تو لڑکی
دوڑ کر اپنی ساتھی لڑکیوں کے پاس چلی گئی ۔ وہ دونوں بھی باہر آگئیں ۔ انہوں نے رجب کو سمجھانے کی کوشش کی کہ
وہ انہیں غلط نہ سمجھے ۔
رجب کو غصہ آگیا ۔اس نے کہا …… '' میں جانتا ہوں تم کتنی پاک بازہو۔ بے حیائی تمہارا پیشہ ہے ''۔
اس پیشے کا استعمال ہم وہاں کرتی ہیں جہاں اپنے فرض کے لیے ضروری ہوتاہے ''۔ لڑکی نے کہا ……''ہم عیاشی کی ''
خاطر عیاشی نہیں کیا کرتیں ''۔
رجب ان کی کوئی بات نہیں سمجھنا چاہتاتھا ۔ آخر لڑکیوں نے اسے کہا ……''ہمارے ساتھ دس محافظ ہیں ۔ وہ ہماری
حفاظت کے لیے ساتھ آئے ہیں ۔ انہیں کل واپس چلے جانا ہے ۔اگر ہم نے ان کی ضرورت محسوس کی تو ہم انہیں یہاں
روک سکتی ہیں یا خود یہاں سے جاسکتی ہیں ''۔
رجب چپ ہوگیا مگر اس کے تیور بتا رہے تھے کہ وہ لڑکیوں کو بخشے گا نہیں۔ وہ رات گزر گئی ۔ دوسرے دن رجب نے
فلسطین سے ساتھ الئے ہوئے محافظوں کو رخصت کر دیا …… دن گزر گیا۔ شام کے وقت رجب لڑکیوں کے ساتھ بیٹھا ادھر
ادھر کی باتیں کر رہا تھا کہ پروہت اپنے چارحبشیوں کے ساتھ آگیا۔اس نے سوڈانی زبان میں رجب سے کہا ……''ہمارے
دیوتاہم سے ناراض ہیں ۔ انہوں نے دو فرنگی یامسلمان لڑکیوں کی قربانی مانگی ہے۔ یہ لڑکیاں قربانی کے لیے موزوں ہیں ۔
ان میں سے دو لڑکیاں ہمارے حوالے کر دو ''۔
رجب چکر اگیا ۔ اس نے جواب دیا ……''یہ لڑکیاں قربانی کے لیے نہیں ہیں ۔ ان سے ہمیں بہت کام لینا ہے اور انہی کے
ہاتھوں ہمیں تمہارے دیوتائوں کے دشمن کو مروانا ہے ''۔
تم جھوٹ بولتے ہو ''…… پروہت نے کہا …… ''تم ان لڑکیوں کو تفریح کے لیے الئے ہو ''۔ ہم ان میں سے دو لڑکیوں''
کو قربان کریں گے ''۔
رجب نے بہت دلیلیں دیں مگر پروہت نے کسی ایک بھی دلیل کو قبول نہ کیا ۔ اس کے دماغ پر دیوتا سوار تھے۔ اس نے
ا ُٹھ کر دو لڑکیوں کے سروں پر باری باری ہاتھ رکھے اور کہا …… ''یہ دونوں دیوتا کے لیے ہیں ۔ انگوک کی نجات ان دو
لڑکیوں کے ہاتھ میں ہے ''…… یہ کہہ کر وہ چال گیا ۔ ُرک کر رجب سے کہا ……''لڑکیوں کو ساتھ لے کر بھاگنے کی
کوشش نہ کرنا ۔ تم جانتے ہو کہ ہم تمہیں فورا ً ڈھونڈ الئیں گے ''۔
لڑکیاں سوڈان کی زبان نہیں سمجھتی تھیں ۔حبشی پروہت نے ان کے سروں پر ہاتھ رکھا ۔ رجب کو پریشان دیکھا تو انہوں
نے رجب سے پوچھا کہ یہ حبشی کیا کہہ رہا تھا۔ رجب نے انہیں صاف صاف بتا دیا کہ وہ انہیں قربانی کے لیے مانگتا
ہے ۔ لڑکیوں کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ تمہارے سر کاٹ کر خشک ہونے کے لیے رکھ دیں گے اور جسم جھیل میں
پھینک دیں گے مگر مچھ جسموں کو کھا جائیں گے ۔ لڑکیوں کے رنگ فق ہوگئے ۔ انہوں نے رجب سے پوچھا کہ اس نے
انہیں بچانے کے لیے کیا سوچا ہے۔ رجب نے جوا ب دیا ……''میں نے اسے سمجھانے کی ساری دلیلیں دے ڈالی ہیں مگر
اس نے ایک بھی نہیں سنی ۔ میں ان لوگوں کے رحم و کرم پر ہوں ۔ میں تو انہیں ساتھ مالنا چاہتا ہوں ۔ یہ میری فوج
میں شامل ہونے کے لیے تیا ر ہیں ۔ لیکن اپنے عقیدے کے اتنے پکے ہیں کہ پہلے دیوتائوں کو خوش کریں گے ،پھر میری
بات سنیں گے ''۔
رجب کی باتوں اور انداز سے لڑکیوں کو شک ہو گیا کہ وہ انہیں بچا نہیں سکے گا ۔ یا انہیں خوش کرنے کے لیے بچانے
کی کوشش نہیں کرے گا ۔ انہوں نے گزشتہ رات رجب کی نیت کی ایک جھلک دیکھ بھی لی تھی ۔ اس لیے وہ اس سے
مایوس ہوگئی تھیں ۔ رجب نے انہیں رسمی طور پر بھی تسلی نہ دی کہ وہ انہیں بچا لے گا ۔ لڑکیاں خیمے میں چلی گئیں
ِ
صورت حال پر غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچیں کہ وہ یہاں رجب کی عیاشی کا ذریعہ بننے یا حبشیوں کے
۔ انہوں نے
دیوتا کی بھینٹ چڑھنے کے لیے نہیں آئیں ۔ وہ بے مقصد موت نہیں مرنا چاہتی تھیں ۔ انہوں نے وہاں سے فرار کا ارادا کیا
۔ فرار ہو کر فلسطین خیریت سے پہنچنا آسان کام نہ تھا مگر کوئی چارہ کار بھی نہ تھا ۔ یہ لڑکیاں صرف خوبصورت اور
دلکش ہی نہیں تھیں ،گھوڑ سواری اور سپاہ گری کی بھی انہیں تربیت دی گئی تھی تا کہ ضرورت پڑے تو اپنا بچاو خود کر
سکیں ۔ انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ یہاں سے بھاگ کر فلسطین چلی جائیں گی ۔
وہ رات خیریت سے گزر گئی ۔ دوسرے دن لڑکیوں نے اچھی طرح دیکھا کہ رات کو گھوڑے کہاں بندھے ہوتے ہیں اور وہاں
سے نکلنے کا راستہ کون سا ہے۔ حبشی پروہت دن کے وقت بھی آیا او رجب کے ساتھ باتیں کر کے چال گیا ۔ لڑکیوں نے
اس سے پوچھا کہ و کیا کہہ گیا ہے۔ رجب نے انہیں بتایا کہ وہ کل رات تمہیں یہاں سے لے جائیں گے ۔ وہ مجھے دھمکی
دے گیا ہے کہ میں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو وہ مجھے قتل کر کے مگر مچھوں کی جھیل میں پھینک دیں گے ۔
لڑکیوں نے اسے یہ نہیں بتایا کہ وہ فرار کا فیصلہ کر چکی ہیں کیونکہ انہیں رجب کی نیت پر شک ہوگیا تھا ۔ وہ غیر
معمولی طور پر ذہین لڑکیاں تھیں ۔ انہوں نے رجب کے ساتھ ایسی باتیں کیں اور ایسی باتیں اس کے منہ سے کہلوائیں جن
سے پتہ چلتا تھا جیسے وہ انہیں بچانے کی بجائے حبشیوں کو خوش کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اسے وہیں چھپائے رکھیں اور اسے
سلطان ایوبی کے خالف فوج تیار کرنے میں مدد دیں ۔ لڑکیوں کو یہ بھی شک ہوا کہ رجب انہیں ایسی قیمت کے عوض
بچانے کی کوشش کرے گا جو وہ اسے دینا نہیں چاہتیں تھیں ۔
سارا دن اسی شش و پنچ میں گزر گیا ۔ رجب کو شک نہ ہواکہ لڑکیاں بھاگ جائیں گی ۔ اسے اس وقت بھی شک نہ
ہوا ۔ جب لڑکیوں نے اسے کہا کہ ایسے جہنم نما صحرا میں ایسا سر سبز خطہ قدرت کا عجوجہ ہے ،آو ذرا اس کی سیر
کرا دو ۔ رجب انہیں گھمانے پھرانے لگا ۔ آگے وہ بھیانک جھیل آگئی جس کے کنارے پر پانچ چھ مگر مچھ بیٹھے تھے۔
جھیل کا پانی غلیظ اور بدبودار تھا ۔ایک لڑکی نے کہا کہ یو معلوم ہوتا ہے جیسے پہاڑی کے اندر چشمہ ہے ۔ جب اس
نےپہاڑی کی اندر دیکھا تو ایک لڑکی کی چیخ نکل گئی ۔ پانی پہاڑی کے اندر ایک وسیع غار بنا چال گیا تھا ۔ رجب نے
کہا …… ''یہ ہیں وہ مگر مچھ جو یہاں کے مجرموں کو اور قربان کی ہوئی لڑکیوں کے جسموں کو کھاتے ہیں ''……ایسا
ہولناک منظر دیکھ کر لڑکیوں کے دلوں میں فرار کا ارادہ اور زیادہ پختہ ہوگیا ۔ انہوں نے سیر کے بہانے فرار کا راستہ اچھی
طرح دیکھ لیا اور ایسی نرم زمین دیکھ لی جس پر گھوڑوں کے قدموں کی آواز پیدا نہ ہو ۔ ان کی سیر کی خواہش کے
پیچھے یہی مقصد تھا ۔
ادھر حبشی پروہت قریبی بستی میں بیٹھا قبیلے کو یہ خوش خبری سنا رہا تھا کہ قربانی کے لیے لڑکیاں مل گئی ہیں اور
قربانی آج سے چوتھی رات دی جائے گی جو پورے چاند کی رات ہوگی ۔ اس نے کہا کہ قربانی دیوتائوں کے مسکن اور معبد
کے کھنڈروں پر دی جائے گی ۔ اس کے بعد ہم یہ معبد خود تعمیر کریں گے اور جب یہ معبد تعمیر ہوجائے گا تو ہم اس
قوم سے انتقام لیں گے جنہوں نے ہمارے دیوتا کی توہین کی ہے ۔
نصف شب کا وقت تھا ۔ رجب اور اس کے ساتھیوں کو لڑکیوں نے اپنے خصوصی فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اتنی شراب پالدی
تھی کہ ان کی بیداری کا خطرہ ہی ختم ہوگیا تھا۔ وہ بے ہوش پڑے تھے۔ لڑکیوں نے سفر کے لیے سامان باندھ لیا ۔تین
گھوڑوں پر زینیں کسیں ،سوار ہوئیں اور اس نرم زمین پر گھوڑوں کو ڈال دیا جو انہوں نے دن کے وقت دیکھی تھی ۔ اس
خطے کے ایک حصے میں چار حبشی موجو د تھے لیکن وہ سوئے ہوئے تھے اور دور تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ یہاں سے کوئی
بھاگنے کی جرأت نہیں کر سکتا ۔ اگر بھاگے گا تو صحرا اسے راستے میں ہی ختم کردے گا ،مگر لڑکیاں اس سرسبز ،خوشنما
اور ہولناک قید خانے سے نکل گئیں ۔ وہ اسی راستے سے فلسطین جانا چاہتی تھیں جس راستے سے رجب انہیں الیا تھا ۔
وہ تھیں تو غیر معمولی طور پر ذہین اور انہیں عسکری تربیت بھی دی گئی تھی مگر انہیں یہ علم نہیں تھا کہ صحرا میں
اس قدر فریب چھپے ہوئے ہیں جو دانش مندوں کو بھی عقل کا اندھا کردیا کرتے ہیں ۔ اتنے طویل صحرائی سفر پر لوگ
قافلوں کی صورت میں نکال کرتے تھے اور ان کے پاس صحراکی ہر آفت کا مقابلہ کرنے کا اہتمام ہوتا تھا ۔
رات کے وقت سو صحرا سرد تھا ۔ تینوں لڑکیوں نے اس جگہ سے کچھ دور تک گھوڑوں کو آہستہ آہستہ چالیا،پھر ایڑ لگا دی
۔ گھوڑے سرپت دوڑنے لگے۔ بہت دور جا کر انہوں نے گھوڑوں کی رفتار کم کر دی ۔ باقی رات گھوڑے اسی رفتار پر چلتے
رہے ۔ صبح طلوع ہوئی اور جب سورج اوپر آیا تو لڑکیوں کے اردگرد ریت کے گول گول ٹیلے تھے اور ان سے آگے ریتلی مٹی
کی اونچی اونچی پہاڑیاں کھڑی تھیں ۔ کوئی راستہ نہ تھا ۔ انہوں نے سورج سے اپنی سمت کا اندازہ کیا اور ٹیلوں کی بھول
بھلیوں میں داخل ہوگئیں ۔ گھوڑے پیاسے تھے۔ ہر گھوڑے پر پانی کا ایک ایک چھوٹا مشکیزہ تھا جو ایک دن کے لیے بھی
کافی نہیں تھا۔ گھوڑوں کو کہاں سے پانی پالیا جاتا ۔ لڑکیاں کسی نخلستان کی تالش میں چلتی چلی گئیں۔ سورج اوپر اُٹھتا
گیا اور صحرا کو دوزخ بناتا گیا ۔ نخلستان کا کہیں نشان اور تصور بھی نظر نہیں آتاتھا۔
رجب اور اس کے ساتھی سورج طلوع ہونے پر بھی نہ جاگے ۔ وہ تو بیہوشی کی نیند سوئے ہوئے تھے۔ پروہت اپنے تین
حبشیوں کے ساتھ آیا۔ اس نے سب سے پہلے لڑکیوں کے خیمے دیکھے ۔ خیمہ خالی تھا ۔ اس نے رجب کو جگایا اورکہا
''دونوں لڑکیاں میرے حوالے کر دو ''…… رجب ہڑبڑا کر ا ُٹھا اور پروہت کو قائل کرنے کی کوشش کرنے لگا کہ وہ ان لڑکیوں
کو ضائع نہ کرے۔ اس نے اسے تفصیل سے بتایا کہ ان لڑکیوں سے کیا کام لینا ہے مگر پروہت نے اس کی ایک بھی نہ
''مانی ۔ رجب نے اپنے ساتھیوں کو جگانا چاہا تو حبشیوں نے اسے پکڑ لیا ۔ پروہت نے پوچھا ……''لڑکیاں کہا ں ہیں ؟
رجب نے وہیں سے لڑکیوں کو پکارا تو اسے کوئی جواب نہ مال ۔ خیمے میں جا کر دیکھا۔ انہیں ادھر ادھر دیکھا ۔ وہ کہیں
نظر نہ آئیں ۔ اچانک نظر زینوں پر پڑی ۔ تین زینیں غائب تھیں۔ گھوڑے دیکھے تو تین گھوڑے غائب تھے۔ رجب نے پروہت
سے کہا …… ''وہ تمہارے ڈر سے بھاگ گئی ہیں ۔ تم نے بڑے کام کی لڑکیاکیوں کو بھگا دیا ہے ''۔
انہیں تم نے بھگایا ہے ''…… پروہت نے کہا اور اپنے تین حبشیوں سے رجب کے متعلق کہا ……'' اسے لے جا کر باندھ''
دو ۔ اس نے انگوک کے دیوتا کو پھر ناراض کر دیا ہے ۔ اچھے سواروں کو بالئو اور لڑکیوں کا پیچھا کرو ۔ وہ دور نہیں جا
سکتیں ''۔
رجب کے احتجاج اور منت سماجت کو نظر انداز کرتے ہوئے حبشی اسے اپنے ساتھ لے گئے اور ایک درخت کے ساتھ اس
طرح باندھ دیا کہ اس کے ہاتھ پیٹھ پیچھے بندھے ہوئے تھے ۔ اس کے سوئے ہوئے ساتھیوں کے ہتھیار اُٹھا لیے گئے ،پھر
انہیں جگا کر دھمکی دی گئی کہ وہ یہاں سے ہلے تو قتل ہوجائیں گے …… تھوڑی دیر بعد چھ گھوڑ سوار اور شتر سوار آگئے
۔ انہیں لڑکیوں کے تعاقب میں روانہ کر دیا گیا ۔ریت پر تین گھوڑوں کے قدموں کے نشان صاف تھے۔ اسی سمت کو یہ
حبشی سوار انتہائی رفتار سے روانہ ہوگئے ۔ لڑکیوں کو پکڑنا آسان نہیں تھا کیونکہ فرار اور تعاقب میں آٹھ دس گھنٹوں کا
فرق تھا ۔ حبشی سواروں کہ یہ سہولت حاصل تھی کہ و ہ صحرا کے بھیدی تھے اور مرد تھے۔ سختیاں جھیل سکتے تھے ۔
آگے جا کر انہیں یہ مشل پیش آئی کہ ہوا چل رہی تھی جس نے ریت اُڑاُڑا کر گھوڑوں کے قدموں کے نشان غائب کر دئیے
تھے ۔ پھر بھی وہ اندازے پر چلتے گئے ۔
تین چار گھنٹوں کے تعاقب کے بعد انہیں ایک طرف سے آسمان پر اُفق کے کچھ اُوپر تک مٹیالی سرخی دکھائی دی جو اُوپر
کو ا ُٹھتی اور آگے بڑھتی آرہی تھی ۔ سواروں نے گھبرا کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا ،گھوڑوں اور اونٹوں کو پیچھے کی
طرف موڑ کر سرپٹ دوڑا دیا ۔ یہ صحرا کی وہ آندھی تھی جو بڑے بڑے ٹیلوں کو ریت کے ذروں میں بدل کر اُڑا لے جاتی
ہے۔ کوئی انسان یا جانور کہیں ُرک کر کھڑا رہے یا بیٹھ جائے تو ریت اس کے جسم کے ساتھ ُرک ُرک کر اسے زندہ دفن کر
دیتی ہے اور اس پر ٹیال کھڑا ہو جاتا ہے ۔ وہاں آندھی سے بچنے کے لیے کوئی مضبوط ٹیال نہیں تھا ۔ وہ بھاگ کر اپنے
پہاڑی خطے تک پہنچنا چاہتے تھے جو بہت ہی دور تھا ……وہاں تک آندھی پہنچ گئی تھی ۔ اسے خطے کے درخت دوہرے ہو
ہو کر چیخ رہے تھے۔ جھیل کے مگر مچھ پہاڑی کے آبی غار میں جا چھپے تھے۔ پروہت ایک جگہ زمین پر گھٹنے ٹیکے
ہوئے ہاتھ ہوا میں بلند کرتا اور زور زور سے زمین پر مارتا تھا ۔ ہر بار بلند آواز سے کہتا تھا ……''انگوک کے دیوتا ! اپنے
قہر کو سمیٹ لے ۔ ہم دو بہت ہی خوبصورت لڑکیاں تیرے قدموں میں پیش کر رہے ہیں ''…… وہ اس آندھی کو دیوتا کا
قہر سمجھ رہا تھا ۔ صحرا اور آندھی کا چولی دامن کا ساتھ تھا ،لیکن سرخ اور ایسی تیز و تند آندھی کبھی کبھی چال
کرتی تھی ۔ و ہ حبشیوں کے خطرے سے تو بہت دور نکل گئی تھیں مگر صحرا کے ایسے خطرے میں آگئیں جو ان کے لیے
جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا ۔ ان کے لیے دوسری مصیبت یہ آئی کہ ریت کے بوچھاڑوں اور آندھی کے زناٹوں سے گھبرا کر
تینوں گھوڑے منہ زور اور بے لگام ہو کر دوڑ پڑے۔ وہ چوں کہ اکھٹے بدکے تھے ،اسے لیے اکھٹے ہی دوڑتے جا رہے تھے۔
اس سے یہ فائدہ تو ہوا کہ ریت میں دب جانے کا خطرہ نہ رہا مگر یہ معلوم نہیں تھا کہ بے لگا م گھوڑے کہاں جا رکیں
گے اور وہ جگہ اصل راستے سے کتنی دور ہوگی ۔ لڑکیوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ گھوڑوں کو قابومیں کر لیتیں اور
گھوڑوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ زیادہ دوڑ سکتے۔ وہ پیاسے تھے اور آدھی رات سے مسلسل چل رہے تھے۔
تھکن اور پیاس گھوڑوں کے بے حال کرنے لگی۔ ایک گھوڑا منہ کے بل گرا ۔ اس کی سوار لڑکی ایسی گری کہ گھوڑا اُٹھا اور
جب پھر گرا تو لڑکی اس کے نیچے آگئی۔ اسے مرنا ہی تھا ۔ کچھ اور آگے گئے تو ایک گھوڑے کا تنگ ڈھیال ہوگیا ……
زین ایک طرف لڑھک گئی اس کی سوار اسی پہلو پر گری مگر بایاں پائوں رکاب میں پھنس گیا ۔ لڑکی زمین پر گھسیٹی
جانے لگی۔ تیسری لڑکی اس کی کوئی مدد نہیں کر سکتی تھی ۔ اس کا اپنا گھوڑا بے قابو تھا ۔ وہ اپنی ساتھی کی چیخیں
سنتی رہی۔ پھر چیخیں خاموش ہوگئیں اور وہ لڑکی کی الش کو گھوڑے کے ساتھ زمین پر جاتا دیکھتی رہی ۔ اس پر دہشت
طاری ہوگئی ۔ وہ کتنی ہی دلیر کیوں نہ تھی ،آخر لڑکی تھی ۔ زور سے رونے لگی۔ ڈھیلی زین واال گھوڑا یکلخت ُرک
گیا ۔ تیسری لڑکی اپنا گھوڑا نہ روک سکی ۔ اس نے پیچھے دیکھا ۔ آندھی میں اسے کچھ نظر نہ آیا کہ اس گھوڑے کا کیا
حشر ہوا۔ لڑکی تو یقینا مر چکی تھی ۔
تیسری لڑکی اکیلی رہ گئی۔ اس نے رکابوں سے پائوں پیچھے کر لیے۔ اس کی دہشت زدگی کا یہ عالم تھا کہ اس نے گھوڑے
کی لگام چھوڑ کر ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا کرجوڑ دئیے اور گال پھاڑ کر خدا کو پُکارنے لگی ……''میرے عظیم خدا! آسمانوں
کے خدا! میرے گناہ معاف کردے۔ میں گناہگار ہوں ۔ میرا بال بال گناہگار ہے ۔ میں گناہ کرنے آئی تھی ۔ میں نے گناہوں
میں پرورش پائی ہے۔ میرے خدا! میں اس وقت بہت چھوٹی تھی جب مجھے بڑوں نے گناہوں کے راستے پر ڈاال تھا۔ انہوں
نے مجھے گناہوں کے سبق دیتے جوان کیا اور کہا کہ جائو مردوں کو اپنے ُحسن اور اپنے جسم سے گمراہ کرو۔ ان کے ہاتھوں
انسانوں کو قتل کروائو۔ جھوٹ بولو۔ فریب دو اور بدکار بن جائو۔ انہوں نے بتایا تھا کہ یہ صلیب کا فرض ہے۔ تم پورا کرو
گی تو جنت میں جائو گی ''……وہ پاگلوں کی طرح چال رہی تھی اور اس کے گھوڑے کی رفتار گھٹتی جا رہی تھی ۔ زارو
قطار روتے ہوئے اس نے خدا سے کہا ۔ ''تیرا جو مذہب سچا ہے ،مجھے اسی کا معجزہ دکھا ''۔
اس کے عقیدے متز لزل ہوگئے تھے ۔گناہوں کے احساس نے اس کے دماغ پر قابوپالیا تھا ۔ موت کے خوف نے اسے فراموش
کرادیا تھا کہ اس کا مذہب کیا ہے ۔ اسے اپنا ماضی گناہوں میں ڈوبا ہوا نظر آرہا تھا او اس کے دل میں یہ احساس بیدار
ہوتا جا رہا تھا کہ وہ مردوں کے استعمال کی چیز ہے اور اسے دھوکے اور فریب کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور اب سزا
صرف اس اکیلی کو مل رہی ہے ۔
اسے غشی کی لہر آئی اور گزر گئی۔ اس نے دھاڑ ماری اور سر کو جھٹک کر بلند آواز سے کہا …… ''میری مدد کرو میرے
خدا! میں ابھی مرنا نہیں چاہتی ''……اور اس کے ساتھ ہی اسے یاد آگیا کہ وہ یتیم بچی ہے ۔ موت کے سامنے انسان
ماضی کی طرف بھاگتا ہے جو انسانی فطرت کا قدرتی عمل ہے۔ اس جوان لڑکی نے بھی ماضی میں پناہ لینے کی کوشش کی
مگروہاں کچھ بھی نہ تھا ۔ ماں نہیں تھی ،باپ نہیں تھا ،کوئی بہن بھائی نہیں تھا ،اسے کچھ یادآیا کہ صلیبیوں نے اسے
پاال اس راہ پہ ڈاال ہے جہاں وہ ایک بڑاہی حسین دھوکہ بن گئی تھی ۔ اسے اپنے آپ سے نفرت ہونے لگی۔ وہ اب بخشش
چاہتی تھی ،اسے غشی آنے لگی ،گھوڑے کی رفتار سست ہو گئی تھی کہ وہ بمشکل چل رہا تھا اور اس کے ساتھ آندھی
.بھی تھمنے لگی تھی ۔ لڑکی ہوش کھو بیٹھی تھی
19:22
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
""قسط نمبر" 29.لڑکی جو فلسطین سے آئ تهی
سلطان ایوبی نے سرحد کے ساتھ ساتھ گشتی پہرے کا انتظام کر رکھا تھا۔ ان میں سے تین دستوں کا ہیڈ کواٹر سوڈان اور
مصر کی سرحد سے چار پانچ میل اندر کی طرف تھا ۔ ہیڈ کواٹر کے خیمے ایسی جگہ نصب کیے گیے تھے جہاں آندھیوں
سے بچنے کی اوٹ تھی مگر اس آندھی نے ان کے خیمے ا ُکھاڑ پھینکے تھے ۔ گھوڑوں اور اونٹوں کو سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا
۔ آندھی ُر کی تو سپاہی خیمے وغیرہ سنبھالنے میں مصروف ہو گئے ۔ ان تین دستوں کا کمانڈر ایک تُرک احمد کمال تھا ۔
وہ ایک خوبرو اور گورے رنگ کا تنو مند مرد تھا ۔ وہ بھی آندھی ُرکتے ہی باہر آگیا اور ساز و سامان اور جانوروں کا جائزہ
لے رہا تھا۔ فضا گرد سے صاف ہوگئی تھی ۔ ایک سپاہی نے ایک طرف اشارہ کر کے اسے کہا …… ''کماندار! وہ گھوڑا اور
……''سوار ہمارا تو نہیں ؟
ہم نے ابھی لڑکیوں کو فوج میں شامل نہیں کیا''۔ احمد کمال نے جواب دیا …… وہ لڑکی معلوم ہوتی ہے۔ بال بکھرے ''
ہوئے صاف نظر آرہے تھے ۔
وہ اسی سپاہی کو ساتھ لے کر دوڑ پڑا ۔ ایک گھوڑا سر نیچے کیے نہایت ہی آہستی آہستی آرہا تھا ۔ اسے چارے کی بو
آئی تو ہیڈ کواٹر کے گھوڑوں کی طرف چل پڑا۔ گھوڑے پر ایک لڑکی اس طرح سوار تھی کہ اس کے بازو گھوڑے کی گردن
کے ادھر ادھر تھے اور لڑکی آگے کو اس طرح جھکی ہوئی تھی کہ اس کاسر گھوڑے کی گردن سے ذرا پیچھے تھا ۔ لڑکی کے
بال بکھر کر آگے آگئے تھے۔ احمد کمال کے پہنچنے تک گھوڑا وہاں بندھے ہوئے گھوڑوں کے پاس جا کر ان کا چارہ کھانے
لگا تھا ۔ احمد کمال نے لڑکی کے پائوں رکابوں سے نکا لے اور اسے گھوڑے سے اتار کر بازوں پر اُٹھا لیا ۔ سپاہی نے کہا
……'' زندہ ہے ۔ فرنگی معلوم ہوتی ہے ۔ اس کے گھوڑے کو پانی پالو ''…… وہ لڑکی کو اپنے خیمے میں لے گیا۔ لڑکی کے
بال ریت سے اٹے ہوئے تھے۔ احمد کمال نے اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے پھر منہ میں پانی کے قطرے ٹپکانے لگا
۔
لڑکی نے آنکھیں کھول دیں ۔ دو چار لمحے احمد کمال کو حیرت سے دیکھتی رہی اور اچانک اُٹھ کر بیٹھ گئی ۔ احمد کمال
کا رنگ گورا دیکھ کر اس نے انگریز ی میں پوچھا …… ''میں فلسطین سے ہوں ؟''…… احمد کمال نے سر ہال کر اسے
''سمجھانا چاہا کہ میں یہ زبان نہیں سمجھتا ۔ لڑکی نے عربی زبان میں پوچھا …… ''تم کون ہو ؟ میں کہا ں ہوں ؟
میں اسالمی فوج کا معمولی سا کماندار ہوں ''۔ احمد کمال نے جواب دیا ……''اور تم مصر میں ہو ''۔''
لڑکی کی آنکھیں ا ُبل پڑیں اور وہ اس قدر گھبرائی جیسے پھر بے ہوش ہوجائے گی ۔ احمد کمال نے کہا …… '' ڈرو نہیں ۔
سنبھالو اپنے آپ کو ''…… اس نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور کہا ……''میں جان گیا ہوں کہ تم فرنگی ہو ۔
میری مہمان ہو ۔ ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ''…… اس نے ایک سپاہی کو بالیا اور لڑکی کے لیے پانی اور کھانا منگوایا۔
لڑکی نے لپک کر پانی کا پیالہ ا ُٹھا لیا اور منہ سے لگا کر بے صبری سے پینے لگی۔ احمد کمال نے پیالہ اس کے ہونٹوں
سے ہٹا کر کہا ……''آہستہ ۔ پہلے کھانا کھا لو ۔ پانی بعد میں پینا ''…… لڑکی نے گوشت کا ایک ٹکڑا اُٹھالیا۔ پھر وہ
کھانا کھاتی رہی او پانی پیتی رہی ۔ ا س کے چہرے پر رونق واپس آگئی ۔
احمد کمال نے ایک خیمہ الگ لگوا رکھا تھا جو اس کا غسل خانہ تھا ۔ وہاں پانی کی کمی نہیں تھی ۔ خیمہ گاہ ایک
نخلستان کے قریب تھی ۔ احمد کمال نے کھانے کے بعد لڑکی کو غسل والے خیمے میں داخل کر کے پردے باندھ دئیے۔ لڑکی
نے غسل کرلی لیکن وہ بہت ہی خوف زدہ تھی کیونکہ وہ اپنے دشمن کی پناہ میں آگئی تھی جہاں اسے اچھے سلوک کی
توقع نہیں تھی ۔ اس کے ذہن میں بچپن سے یہ ڈاال جاتا رہا تھا کہ مسلمان وحشی ہوتے ہیں اور عورت کے لیے تو وہ
درندے ہیں ۔ اس خوف کے ساتھ اس پر حبشیوں کا ،مگر مچھوں کا اور صحرائی آندھی کا خوف طاری تھا۔ اپنے ساتھ کی
دونوں لڑکیوں کی موت اور و ہ بھی ایسی بھیانک موت ،اس کے رونگٹے کھڑے کر رہی تھی۔ اس نے غسل کرتے ہوئے بڑی
شدت سے محسوس کیا تھا کہ وہ اپنے ناپاک وجود کو دھونے کی کوشش کر رہی ہے جسے دنیا کا پانی پاک نہیں کر سکتا ۔
اس نے کسمپرسی کی حالت میں تنگ آ کر اپنے آپ کو صورت حال کے حوالے کر دیا ۔
احمد کمال نے دیکھ لیا تھا کہ ایسے حسن اور ایسے دلگداز جسم والی لڑکی معمولی لڑکی ۔ مصر کے اس حصے میں ایسی
فرنگی لڑکی کیسے آسکتی تھی ؟ اس نے لڑکی سے پوچھا تو لڑکی نے جواب دیا کہ وہ قافلے سے بچھڑ گئی ہے۔ آندھی
میں گھوڑا بے لگام ہوگیا تھا۔ احمد کمال ایسے جواب سے مطمئن نہیں ہوسکتا تھا ۔اس نے تین چار اور سوال کیے تو لڑکی
کے ہونٹ کانپنے لگے ۔ احمد کمال نے کہا ……''اگر تم یہ کہتی کہ تم اغوا کی ہوئی لڑکی ہو اور آندھی نے تمہیں چھڑا دیا
ہے تو شاید میں مان جاتا ۔ تمہیں جھوٹ بولنا نہیں آتا ''۔
اتنے میں اس سپاہی نے جو احمد کمال کے ساتھ تھا ۔ خیمے کا پردہ اُٹھایا اور ایک تھیال اور ایک مشکیزہ احمد کمال کو
دے کر کہا کہ یہ اس لڑکی کے گھوڑے کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔ احمد کمال تھیال کھولنے لگا تو لڑکی نے گھبرا کر تھیلے
پر ہاتھ رکھ لیا ۔ اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا ۔ احمد کمال نے تھیال اسے دے کر کہا …… ''لو اسے خود کھول کر
دکھاو''۔
لڑکی کی زبان جیسے گنگ ہوگئی تھی ۔ اس نے بچوں کے انداز سے تھیال پیٹھ پیچھے کر لیا ۔ احمد کمال نے کہا ''یہ تو
ہو نہیں سکتا کہ میں تمہیں کہہ دوں کہ جاو چلی جاو ۔ مجھے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ تمہیں روکوں ،لیکن ایک ایسی
لڑکی کو آبادیوں سے دور اکیلی گھوڑے پر بے ہوشی کی حالت میں بھٹکتی ہوئی پائی گئی ہے اسے میں اکیال نہیں چھوڑ
سکتا ۔ یہ میرا انسانی فرض ہے ۔ مجھے اپنا ٹھکانہ بتادو۔ میں تمہیں اپنے سپاہیوں کے ساتھ حفاظت سے پہنچادوں گا ۔ اگر
نہیں بتاو گی تو تمہیں متشبہ لڑکی سمجھ کر قاہرہ اپنی حکومت کے پاس بھیج دوں گا۔ تم مصر ی نہیں ہو۔ تم سوڈانی بھی
نہیں ہو ''۔
لڑکی کے آنسو بہنے لگے۔ وہ جس مصیبت سے گزر کر آئی تھی اس کی دہشت اور ہولناکی اس پر پہلے ہی غالب تھی ۔
اس نے تھیال احمد کمال کے آگے پھینک دیا ۔ احمد نے تھیال کھوال تو اس میں سے کچھ کھجوریں ،دو چار چھوٹی موٹی
عام سی چیزیں نکلیں اور ایک تھیلی نکلی۔ یہ کھولی تو اس میں سے سونے کے بہت سے سکے اور ان میں سونے کی
باریک سی زنجیر کے ساتھ چھوٹی سی سیاہ لکڑی کی صلیب نکلی ۔ احمدکمال اس سے یہی سمجھ سکا کہ لڑکی عیسائی
ہے ۔ اسے غالبا ً معلوم نہیں تھا کہ جو عیسائی مسلمانوں کے خالف لڑنے کے لیے صلیبی لشکر میں شامل ہوتا ہے وہ ایک
صلیب پر حلف ا ُٹھاتا ہے اور چھوٹی سی ایک صلیب ہر وقت اپنے پاس رکھتا ہے ۔ احمد کمال نے اسے کہا کہ اس تھیلے
میں میرے سوال کا جواب نہیں ہے ۔
اگر میں یہ سارا سونا تمہیں دے دوں تو میری مدد کرو گے ؟''لڑکی نے پوچھا ۔ کیسی مدد ؟''
مجھے فلسطین پہنچا دو ''۔ لڑکی نے جواب دیا ……''اور مجھ سے کوئی سوال نہ پوچھو''۔''
میں فلسطین تک بھی پہنچا دوں گا لیکن سوال ضرور پوچھوں گا ''۔''
اگر مجھ سے کچھ بھی نہ پوچھو تو اس کا الگ انعام دوں گی ''۔''
''وہ کیا ہوگا ؟''
گھوڑا تمہیں دے دوں گی ''۔ لڑکی نے جواب دیا…… ''اور تین دنوں کے لیے مجھے اپنی لونڈی سمجھ لو ''۔''
احمد کمال نے اس سے پہلے ہاتھ میں کبھی اتنا سونا نہیں اُٹھایا تھا اور اس نے ایسا حیران کن حسن اور جسم بھی نہیں
دیکھا تھا ۔ اس نے اپنے سامنے پڑے ہوئے سونے کے چمکتے ہوئے ٹکڑوں کو دیکھا پھر لڑکی کے ریشمی بالوں کو دیکھا جو
سونے کی تاروں کی طرح چمک رہے تھے ،پھر اس کی آنکھوں کو دیکھا جن میں وہ طلسماتی چمک تھی جو بادشاہوں کو
ایک دوسرے کا دشمن بنادیا کر تی ہے ۔ وہ تنو مند مرد تھا کماندار تھا۔ ان دستوں کا حاکم تھا جو سرحد پر پہرہ دے رہے
تھے۔ اسے روکنے ،پوچھنے اور پکڑنے واال کوئی نہ تھا مگر اس نے سکے تھیلی میں ڈالے ،صلیب بھی تھیلی میں رکھی اور
تھیلی لڑکی کی گود میں رکھ دی ۔
''کیوں ؟''لڑکی نے پوچھا ……''یہ قیمت تھوڑی ہے؟''
بہت تھوڑی ''۔ احمد کمال نے کہا ……''ایمان کی قیمت خدا کے سوا کوئی نہیں دے سکتا ''……لڑکی نے کچھ کہنا ''
چاہا لیکن احمد کمال نے اسے بولنے نہ دیا اور کہا …… ''میں اپنا فرض اور اپنا ایمان فروخت نہیں کر سکتا ۔ سارا مصر
میرے اعتماد پر آرام کی نیند سوتا ہے ۔ تین مہینے گزرے سوڈانیوں نے قاہرہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی ۔ اگر میں
یہاں نہ ہوتا اور اگر میں ان کے ہاتھ اپنا ایمان فروخت کر دیتا تو یہ لشکر قاہرہ میں داخل ہو کر تباہی برپا کر دیتا ۔ تم
''مجھے اس لشکر سے زیادہ خطرناک نظر آتی ہو ۔ کیا تم جاسوس نہیں ہو ؟
''! نہیں''
تم یہی بتا دو کہ تمہیں آندھی نے کسی ظالم کے پنجے سے بچایا ہے یا تم آندھی سے بچ کر نکلی ہو ؟''……لڑکی نے ''
بے معنی سا جواب دیا تو احمد کمال نے کہا ……''مجھے تمہارے متعلق یہ جاننے کی ضرورت نہیں کہ کون ہو اور کہاں سے
آئی ہو ۔ میں تمہیں کل قاہرہ کے لیے روانہ کر دوں گا ۔ وہاں ہمارا جاسوسی اور سراغرسانی کا ایک محکمہ ہے وہ جانے
اور تم جانو ۔ میرا فرض پورا ہوجائے گا ''۔
اگر اجازت دو تو میں اس وقت ذرا آرام کرلوں ''۔ لڑکی نے کہا ……''کل جب قاہرہ کے لیے مجھے روانہ کرو گے تو ''
شاید تمہارے سوالوں کا جواب دے دوں''۔
لڑکی رات بھر کی جاگی ہوئی اور دن کے ایسے خوفناک سفر کی تھکی ہوئی تھی ۔ لیٹی اور سو گئی ۔ احمد کمال نے
دیکھا کہ وہ نیند میں بڑبڑاتی تھی۔ بے چینی میں سر ادھر ادھر مارتی تھی اور ایسے پتہ چلتا تھا جیسے خواب میں رو رہی
ہو ۔ احمد کمال نے اپنے ساتھیوں کو بتادیا کہ ایک مشکوک فرنگی لڑکی پکڑی گئی ہے جسے کل قاہرہ بھیجا جائے گا۔ اس
کے ساتھی احمد کمال کے کردار سے واقف تھے ۔ کوئی بھی ایسا شک نہیں کر سکتا تھا کہ اس نے لڑکی کو بد نیتی سے
اعلی نسل کا تھا اور جب اس نے
اپنے خیمے میں رکھا ہے۔ اس نے لڑکی کا گھوڑا دیکھا تو وہ حیران رہ گیا کیونکہ گھوڑا
ٰ
زین دیکھی تو اس کے شکوک رفع ہوگئے ۔ زین کے نیچے مصر کی فوج کا نشان تھا ۔ یہ گھوڑا احمد کمال کی اپنی فوج کا
تھا ۔
حبشیوں نے آندھی کی وجہ سے تعاقب ترک کردیا تھا ۔ وہ واپس زندہ پہنچ گئے تھے۔ پروہت نے فیصلہ دے دیا تھا کہ
لہ ذا تعاقب میں کسی کو بھیجنا بیکار ہے۔ وقت بھی بہت گزر گیا تھا ۔ لیکن رجب
لڑکیاں آندھی میں ماری گئی ہوں گی ۔ ٰ
پر آفت نازل ہو رہی تھی ۔ اس سے حبشی بار بار یہی ایک سوال پوچھتے تھے ۔ ''لڑکیاں کہاں ہیں ؟''…… اور قسمیں
کھا کھا کر کہتا تھا کہ مجھے معلوم نہیں ۔ حبشیوں نے اسے اذیتیں دینی شروع کردیں ۔ تلوار کی نوک سے اس کے جسم
میں زخم کرتے اور اپنا سوال دہراتے تھے۔ حبشیوں نے اس کے ساتھیوں کو بھی درختوں کے ساتھ باندھ دیا اور ان کے ساتھ
بھی یہی ظالمانہ سلوک کر نے لگے۔ رجب کو خدا اپنی قوم اور ملک سے سے غداری کی سزا دے رہا تھا ۔رات کو بھی
اسے نہ کھوال گیا ۔ اس کا جسم چھلنی ہوگیا تھا ۔
احمد کمال کے خیمے میں لڑکی سوئی ہوئی تھی ۔ وہ سورج غروب ہونے سے پہلے جاگی تھی ۔ احمد کمال نے اسے کھانا
کھالیا تھا ۔ اس کے بعد وہ پھر سو گئی تھی ۔ اس سے دو تین قدم دور احمد کمال سویا ہوا تھا۔ رات گزرتی جا رہی تھی
۔ خیمے میں دیا جل رہا تھا ۔ اچانک لڑکی کی چیخ نکل گئی ۔ احمد کمال کی آنکھ کھل گئی۔ لڑکی بیٹھ گئی تھی ۔ اس
کا جسم کانپ رہا تھا ۔ چہرے پر گھبراہٹ تھی ۔ احمد کمال اس کے قریب ہوگیا ۔ لڑکی تیزی سے سرک کر اس کے ساتھ
لگ گئی اور روتے ہوئے بولی ……''ان سے بچائو ۔ وہ مجھے مگر مچھوں کے آگے پھینک رہے ہیں ۔ وہ میرا سر کاٹنے
لگے ہیں ''۔
''کون؟''
وہ بھدے حبشی ''۔لڑکی نے ڈرے ہوئے لہجے میں کہا ……''وہ یہاں آئے تھے''۔ احمد کمال کو حبشیوں کی قربانی کا ''
علم تھا ۔اسے شک ہوا کہ اسے شاید قربانی کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔ اس نے لڑکی سے پوچھا تو لڑکی نے بازو احمد
کمال کے گلے میں ڈال دئیے ۔ کہنے لگی۔ '' مت پوچھو ۔ میں خواب دیکھ رہی تھی '' …… احمد کمال دیکھ رہا تھا کہ
وہ تو بہت ہی ڈری ہوئی تھی ۔اس نے اسے تسلیاں دیں اور یقین دالیا کہ یہاں سے اسے اُٹھانے کے لیے کوئی نہیں آئے
گا ۔ لڑکی نے کہا …… '' میں سو نہیں سکوں گی ۔ تم میرے ساتھ باتیں کرسکتے ہو ؟ میں اکیلی جاگ نہیں سکوں گی ۔
میں پاگل ہو جائوں گی ''۔
احمد کمال نے کہا …… ''میں تمہارے ساتھ جاگتا رہوں گا ''…… اس نے لڑکی کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا ……''جب تک
میرے پاس ہو تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ''۔ اس نے اس پر عمل بھی کر کے دکھا دیا ۔ لڑکی کے ساتھ اس نے حبشیوں
کے معتلق یا اس کے متعلق کوئی بات نہ کی نہ پوچھی ۔ اس ترکی اور مصر کی باتیں سناتا رہا ۔ لڑکی اس کے ساتھ لگی
بیٹھی تھی ۔ احمد کمال کا لب و لہجہ شگفتہ تھا اس نے لڑکی کا خوف دور کر دیا اور لڑکی سو گئی۔
لڑکی کی آنکھ کھلی تو صبح طلوع ہو رہی تھی ۔ ان نے دیکھا کہ احمد کمال نماز پڑھ رہا تھا۔ وہ اسے دیکھتی رہی احمد
کمال نے دعا کے لیے ہاتھ ا ُٹھائے اور آنکھیں بند کرلیں ۔ لڑکی اس کے چہرے پر نظریں جمائے بیٹھی رہی ۔ احمد کمال فارغ
''ہوا تو لڑکی نے پوچھا ……''تم نے خدا سے کیا مانگا تھا ؟
بدی کے مقابلے کی ہمت!''احمد کمال نے جواب دیا ۔''
''تم نے خدا سے کبھی سونا اور خوبصورت بیوی نہیں مانگی ؟''
یہ دونوں چیزیں خدا نے مانگے بغیر مجھے دے دی تھیں ''…… احمد کمال نے کہا ''لیکن ان پر میرا کوئی حق ''
نہیں ۔ شاید خدا نے میرا امتحان لینا چاہا تھا ''۔
''تمہیں یقین ہے کہ خدا نے تمہیں بدی کا مقابلہ کرنے کی ہمت دے دی ہے ؟''
تم نے نہیں دیکھا ؟''…… احمد کمال نے جواب دیا ۔ ''تمہارا سونا اور تمہارا حسن مجھے اپنی راہ سے ہٹا نہیں ''
سکے ۔ یہ میری کوشش اور اللہ کی دین ہے ''۔
کیا خدا گناہ معاف کردیا کرتا ہے ؟''لڑکی نے پوچھا ۔''
ہاں !ہمارا خدا گناہ معاف کر دیا کرتا ہے ''۔ احمد کمال نے جواب دیا ……''شرط یہ ہے کہ گناہ بار بار نہ کیا جائے ''
''۔
لڑکی نے سر جھکا لیا ۔ احمد کمال نے اس کی سسکیاں سنیں تو اس کا چہرہ اوپر اُٹھایا ۔ وہ رو رہی تھی ۔ لڑکی نے
احمد کمال کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے کئی بار چوما۔ احمد کمال نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا ۔ لڑکی نے کہا…… ''آج ہم جدا
ہوجائیں گے ۔ تم مجھے قاہرہ بھیج دو گے ۔ میں اب آزادنہیں ہو سکوں گی ۔ میرا دل مجبور کر رہا ہے کہ تمہیں بتا دوں
کہ میں کون ہوں اور کہاں سے آئی ہوں ۔ پھر تمہیں بتاوں گی کہ اب میں کیا ہوں ''۔
٭ ٭ ٭
19:22
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
""قسط نمبر" 30.لڑکی جو فلسطین سے آئ تهی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پھر تمہیں بتاوں گی کہ اب میں کیا ہوں ''۔
ہماری روانگی کا وقت ہوگیا ہے ''۔ احمد کمال نے کہا ……'' میں خود تمہارے ساتھ چلوں گا ۔ میں اتنی نازک اور اتنی''
خطرناک ذمہ داری کسی اور کو نہیں سونپ سکتا ''۔
یہ نہیں سنو گے کہ میں کون ہوں اور کہاں سے آئی ہوں ''۔''
ا ُٹھو !''احمد کمال نے کہا ……''یہ سننا میرا کام نہیں''……وہ خیمے سے باہر نکل گیا ۔''
٭ ٭ ٭
کچھ دیر بعد قاہرہ کی سمت چھ گھوڑے جارہے تھے ۔ ایک پر احمد کمال تھا ۔ اس کے پیچھے دوسرے گھوڑے پر لڑکی تھی
۔ اس کے پیچھے پہلو بہ پہلو چار گھوڑے محافظوں کے تھے اور ان کے پیچھے ایک اونٹ جس پر سفر کا سامان ،پانی اور
خوراک وغیرہ جارہاتھا ۔ قاہرہ تک کم و بیش چھتیس گھنٹوں کا سفر تھا ۔ لڑکی نے دو مرتبہ اپنا گھوڑا اس کے پہلو میں کر
لیا اور دونوں مرتبہ احمد کمال نے اسے کہا کہ وہ اپنا گھوڑا اس کے اور محافظوں کے درمیان رکھے۔ اس کے سوا اس نے
لڑکی کے ساتھ کوئی بات نہ کی ۔ سورج غروب ہونے بعد احمد کمال نے قافلے کو روک لیا اور پڑاوکا حکم دیا ۔
رات لڑکی کو احمدکمال نے اپنے خیمے میں سالیا ۔ اس نے دیا جلتا رکھا ۔ وہ گہری نیند سویا ہوا تھا ۔ ا س کی آنکھ
کھل گئی ۔ کسی نے اس کے ماتھے پر ہاتھ پھیرا تھا ۔ اس نے لڑکی کو اپنے پاس بیٹھے دیکھا ۔ لڑکی کا ہاتھ اس کے
ماتھے پر تھا۔ احمد کمال تیزی سے اُٹھ کر بیٹھ گیا ۔ اس نے دیکھا کہ لڑکی کے آنسو بہہ رہے تھے۔ اس نے احمد کمال کا
ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا اور اسے چوم کر بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگی۔ احمد کمال اسے دیکھتا رہا۔ لڑکی
نے آنسو پونچھ کر کہا ……''میں تمہاری دشمن ہوں ۔ تمہارے ملک میں جاسوسی کے لیے اور تمہارے بڑے بڑے حاکموں کو
آپس میں لڑوانے کے لیے اور صالح الدین ایوبی کے قتل کا انتظام کرنے کے لیے فلسطین سے آئی ہوں ،لیکن اب میرے دل
سے دشمنی نکل گئی ہے ''۔
کیوں ؟''احمد کمال نے کہا …… ''تم بزدل لڑکی ہو ۔ اپنی قوم سے غداری کر رہی ہو ۔ سولی پر کھڑے ہو کر بھی ''
کہو کہ میں صلیب پر قربان ہو رہی ہوں ''۔
اس کی وجہ سن لو ''۔ اس نے کہا …… ''تم پہلے مرد ہو جس نے میرے حسن اور میری جوانی کو قابل نفرت چیز ''
سمجھ کر ٹھکرایا ہے ۔ ورنہ کیا اپنے کیا بیگانے ،مجھے کھلونہ سمجھتے رہے ۔ میں نے بھی اسی کو زندگی کا مقصد
سمجھا کہ مردوں کے ساتھ کھیلو ،دھوکے دو اور عیش کرو۔ میری تربیت ہی اسی مقصد کے تحت ہوئی تھی۔ جسے تم لوگ
بے حیائی کہتے ہو وہ میرے لیے ایک فن ہے ،ایک ہتھیار ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ مذہب کیا ہے اور خدا کے کیا احکام
ہیں ۔ صرف صلیب ہے جس کے متعلق مجھے بچپن میں ذہن نشین کرایا گیا تھا کہ یہ خدا کی دی ہوئی نشانی ہے اور یہ
عیسائیت کی عظمت کی عالمت ہے اور یہ کہ ساری دنیا پر حکمرانی کا حق صرف صلیب کے پجاریوں کو حاصل ہے اور یہ
مسلمان صلیب کے دشمن ہیں ۔ انہیں اگر زندہ رہنا ہے تو صلیبیوں کے قدموں میں رہ کر زندہ رہیں ……ورنہ انہی چند ایک
باتوں کو مذہب کے بنیادی اصول سمجھتی رہی ۔ مجھے مسلمانوں کی جڑیں کاٹنے کی تربیت دی گئی تو اسے بھی مذہبی
فریضہ کہا گیا ''۔
کیا تم اپنے ساالر رجب کو جانتے ہو ؟'' لڑکی نے پوچھا ۔''
وہ خلیفہ کے محافظ دستوں کا ساالر ہے ''۔ احمد کمال نے کہا ۔ ''وہ بھی سوڈانیوں کے حملے والی سازش میں شامل''
تھا ''۔
''اب کہاں ہے؟''
معلوم نہیں '' ۔ احمد کمال نے کہا …… ''مجھے صرف یہ حکم مال ہے کہ رجب فوج سے بھگوڑا ہوگیا ہے ۔ جہاں کہیں''
نظر آئے اسے پکڑ لو اور بھاگے تو تیر مارو اور اسے ختم کر دو ''۔
میں بتائوں وہ کہا ں ہے ؟''لڑکی نے کہا …… ''وہ سوڈان میں حبشیوں کے پاس ہے ۔ وہاں ایک خوشنما جگہ ہے ۔ ''
جہاں حبشی ،لڑکیوں کو دیوتا کے آگے قربان کرتے ہیں۔ رجب وہاں ہے۔ میں جانتی ہوں وہ فوج کا بھگوڑا ہے۔ ہم تین لڑکیاں
اس کے ساتھ فلسطین سے آئی تھیں ''۔
''باقی دو کہاں ہیں ؟''
لڑکی نے آہ بھری اور کہا …… ''وہ مر گئی ہیں ۔ انہی کی موت نے مجھے بدل ڈاال ہے ''…… لڑکی نے احمد کمال کو
ایک لمبی کہانی کی طرح سنایا کہ وہ کس طرح فلسطین سے رجب کے ساتھ آئی تھیں ۔ کس طرح حبشیوں نے ان میں سے
دو لڑکیوں کو دیوتا کے نام پر ذبح کرنا چاہا ،رجب انہیں بچا نہ سکا ،کس طرح وہ وہاں سے بھاگیں اور راستے میں دو
لڑکیاں کس طرح آندھی میں ماری گئیں ۔ اس نے کہا ……''میں اپنے آپ کو شہزادی سمجھتی تھی ۔ میں نے بادشاہوں کے
دلوں پر حکمرانی کی ہے ۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ خدا بھی ہے اور موت بھی ہے ۔ مجھے گناہوں میں ڈبویا
گیا اور میں ڈوبتی چلی گئی ۔ عجیب لذت تھی اس ڈوبنے میں ،مگر مجھے وہ مگر مچھ دکھائے گئے جن کے آگے ذبح کی
ہوئی لڑکیوں کے جسم پھینکے جاتے ہیں ۔ مگر مچھ پانی کے کنارے سوئے ہوئے تھے ۔ ان کے بھدے اور مردہ جسم دیکھ کر
میں کانپ گئی ۔ وہ میر ے اس جسم کو جس نے بادشاہوں کے سرجھکائے تھے ،ان مگر مچھوں کی خوراک بنانا چاہتے
تھے ۔ میں نے وہ بدصورت ،سیاہ کالے حبشی دیکھے جو میرا سر میرے جسم سے الگ کرنے کے لیے آگئے تھے ۔ موت
کے پروں کی آواز مجھے سنائی دینے لگی تھی ۔ میری رگ رگ بیدار ہوگئی ۔ میرے اندر سے مجھے آواز سنائی دی ۔ اپنے
حسن اور اتنے دل نشین جسم کا انجام دیکھ …… ہم جان کی بازی لگاکر اپنے گھر سے نکلی تھیں ۔ ہمیں یہ کہہ کر رجب
کے ساتھ فلسطین سے بھیجا گیا تھا کہ یہ شخص ہماری حفاظت کرے گا لیکن اس شخص نے میرے ساتھ دست درازی کی
……''
ہم وہاں سے بھاگیں ۔ آندھی میں گھوڑے بے قابو ہوکر بھاگ اُٹھے ۔ ہمارے لیے صحرا میں کوئی پناہ نہیں تھی ۔ ہم ''
آندھی اور گھوڑوں کے رحم و کرم پر تھیں ۔ پہلے ایک لڑکی گری ۔ میں نے اسے گھوڑے کے نیچے آتے دیکھا۔ پھر دوسری
لڑکی گھوڑے سے گری تو پاوں رکاب میں پھنس جانے کی وجہ سے گھوڑے نے اسے دو میل سے زیادہ فاصلے تک گھسیٹا ۔
اس کی چیخیں میرا جگر چاک کر رہی تھیں ۔ میں اب بھی اس کی چیخیں سن رہی ہوں ۔جب تک زندہ رہوں گی ،یہ
چیخیں سنتی رہوں گی۔ پھر وہ لڑکی الش بن گئی ۔ میرا گھوڑا ساتھ ساتھ دوڑ تا آرہا تھا ۔ مگر میرے قابومیں نہیں تھا ۔وہ
لڑکی بھی اپنے گھوڑے کے ساتھ پیچھے رہ گئی ۔ میں اب اکیلی تھی ۔ مجھے خدا نے ان دو لڑکیوں کو مار کر بتا دیا تھا
کہ میرا انجام کیا ہوگا ۔ وہ مجھ سے بھی زیادہ خوبصورت اور شوخ تھیں۔ ان میں حسن کا غرور بھی تھا ۔ انہوں نے بھی
بادشاہوں کو انگلیوں پر نچایا تھا مگر ایسی بھیانک موت مریں کہ کسی کو خبر تک نہیں ہوئی ۔ اب وہ ریت کی گمنام
قبروں میں دفن ہو گئی ہیں ۔ میں اکیلی رہ گئی ۔ آندھی کے زناٹے موت کے قہقہے بن گئے ۔ مجھے اپنے سر کے اوپر ،
آگے ،پیچھے ،دائیں اور بائیں چڑیلیں ،بدروحیں ،بھوت اور موت کے قہقہے سنائی دے رہے تھے ۔ میں بدھو اور بیوقوف لڑکی
نہیں ہوں ۔ دماغ روشن ہے۔ میں نے جان لیاکہ خدا مجھے گناہوں کی سزا دے رہا ہے۔ ایسی ہیبت ناک موت اور ہولناک
آندھی ۔ وہ تم نے بھی دیکھی ہے۔ مجھے خدا یاد آگیا ۔میں نے خدا کو بلندآواز سے پکارا۔ رو رو کر گناہوں سے توبہ کی
……'' اور معافی مانگی ،پھر میں بے ہوش ہوگئی
اور جب ہوش میں آئی تو میں تمہارے قبضے میں تھی ۔ تمہاری گوری رنگت دیکھ کر خوش ہوئی ہوں کہ تم یورپی ہو اور''
میں فلسطین میں ہوں ۔اسی دھوکے میں میں نے اپنی زبان میں پوچھا تھا کہ کیا میں فلسطین میں ہوں ۔ جب مجھے پتہ
چال کہ میں مسلمانوں کے قبضے میں ہوں تو میرا دل بیٹھ گیا ۔ میں آندھی سے بچ کر اپنے دشمن کے قبضے میں آگئی تھی
۔ مسلمانوں کے متعلق مجھے بتا دیا گیا تھا کہ عورتوں کے ساتھ درندوں جیسا سلوک کرتے ہیں لیکن تم نے میرے ساتھ وہ
سلوک کیا جس کی مجھے توقع نہیں تھی ۔ تم نے سونا ٹھکرادیا اور تم نے مجھے بھی ٹھکرادیا ۔ میں اس قدر خوف زدہ
تھی کہ میں کہتی تھی کہ خواہ کوئی مل جائے ،وہ مجھے پناہ دے دے اور مجھے سینے سے لگا لے ۔ تمہارے متعلق
مجھے ابھی تک یقین نہیں آیا تھا کہ تمہارا کردار پاک ہے ۔ مجھے یہ توقع تھی کہ رات کو تم مجھے پریشان کرو گے ۔
میں خواب میں بھی مگر مچھوں ،حبشیوں اور آندھی کی دہشت دیکھتی رہی ۔ میں ڈر کر اٹھی تو تم نے مجھے سینے سے
لگا لیا اور بچوں کی طرح مجھے کہانیاں سنا کر میرا خوف دور کر دیا اور جب رات گزر گئی تو میں نے جاگتے ہی تمہیں
خدا کے آگے سجدے میں دیکھا۔ تم نے جب دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے اور آنکھیں بند کر لی تھیں اس وقت تمہارے چہرے پر
مسرت ،سکون اور نور تھا ۔ میں اس شک میں پڑ گئی کہ تم انسان نہیں فرشتہ ہو ،کوئی انسان سونے اور مجھ جیسی لڑکی
…… سے منہ نہیں موڑ سکتا
میں نے تمہارے چہرے پر جو سکون اور مسرت دیکھی تھی اس نے میرے آنسو نکال دئیے ۔ میں تم سے پوچھنا چاہتی ''
تھی کہ یہ سکون تمہیں کس نے دیا ہے ۔ میں تمہارے وجود سے اتنی متاثر ہوئی کہ میں نے تمہیں دھوکے میں رکھنا بہت
بڑا گناہ سمجھا۔ میں تمہیں یہ کہنا چاہتی تھی کہ میں تمہیں اپنے متعلق ہر ایک بات بتا دوں گی ۔ اس کے عوض مجھے
یہ کردار اور یہ سکون دے دو اور میرے دل سے وہ دہشت اُتار دو جو مجھے بڑی ہی تلخ اذیت دے رہی ہے مگر تم نے
میری بات نہ سنی ،تمہیں فرض عزیز تھا ''…… اس نے احمد کمال کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے اور کہا ……''تم شاید اسے
بھی دھوکہ سمجھو ،لیکن میرے دل کی بات سن لو ۔ میں تم سے جدا نہیں ہو سکوں گی ۔ میں نے کل تمہیں گناہ کی
دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے اپنی لونڈی سمجھو ،مگر اب میں ساری عمر کے لیے تمہارے قدموں میں بیٹھی رہوں گی
۔ مجھے اپنی لونڈی بنا لو اور اس کے عوض مجھے وہ سکون دے دو جو میں نے نماز کے وقت تمہارے چہرے پر دیکھا تھا
''۔
میں تمہیں بالکل نہیں کہوں گا کہ تم مجھے دھوکہ دے رہی ہو''۔ احمد کمال نے کہا ۔ ''میری مجبوری یہ ہے کہ میں''
اپنی قوم کو اور اپنی فوج کو دھوکہ نہیں دے سکتا ۔ تم میرے پاس امانت ہو ،میں خیانت نہیں کر سکتا ۔ میں نے تمہارے
ساتھ جو سلوک کیا وہ میرا فرض تھا ۔ یہ فرض اس وقت ختم ہوگا جب میں تمہیں متعلقہ محکمے کے حوالے کر دوں گا اور
وہ مجھے حکم دے گا کہ احمد کمال تم واپس چلے جائو ''۔
وہ اسے دھوکہ نہیں دے رہی تھی ۔ اس نے روتے ہوئے کہا ……''تمہارے حاکم جب مجھے سزائے موت دیں گے تو تم میرا
ہاتھ پکڑے رکھنا ۔ اب یہی ایک خواہش ہے ۔ میں تمہیں ایسی بات نہیں کہوں گی کہ مجھے فلسطین پہنچا دو ۔ میں
تمہارے فرض کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنوں گی ۔ مجھے صرف اتنا کہہ دو کہ میں نے تمہارا پیار قبول کر لیا ہے ،میں
یہ بھی نہیں کہوں گی کہ مجھے اپنی بیوی بنا لو کیونکہ میں ایک ناپاک لڑکی ہو ں۔ مجھے تربیت دینے والوں نے پتھر بنا
دیا تھا ۔ میں یہ بھی سمجھتی تھی کہ میرے اندر انسانی جذبات نہیں رہے لیکن خدا نے مجھے بڑے ہی ُپر ہول طریقے سے
سمجھا دیا کہ انسان پتھر نہیں بن سکتا اور وہ ایک نہ ایک دن مجبور ہو کر کسی سے پوچھتا ہے کہ سیدھا راستہ کون سا
ہے ''۔
رات گزرتی جا رہی تھی اور وہ دونوں باتیں کر رہے تھے ۔ احمد کمال نے اس سے پوچھا ……''تم جیسی لڑکیوں کو ہمارے
ملک میں بھیج کر ان سے کیا کام لیا جاتا ہے ''۔
بہت سے کام کرائے جاتے ہیں ''۔ لڑکی نے جواب دیا ۔ ''بعض کو مسلمان امراء کے حرموں میں مسلمان کے روپ میں''
داخل کر دیا جاتا ہے جہاں وہ تربیت کے مطابق امراء اور وزراء پر غالب آجاتی ہیں ۔ ان سے صلیبیوں کی پسند کے افراد کو
عہدے دالتی ہیں ۔ جو حاکم صلیبیوں کے خالف ہو اس کے خالف کروائیاں کراتی ہیں ۔ مسلمان لڑکیاں اتنی چاالک نہیں
ہوتیں۔ انہیں خوبصورتی پر ناز ہوتا ہے ۔ وہ حرموں کے لیے منتخب تو ہوجاتی ہیں لیکن ایک عیسائی یا یہودی لڑکی انہیں
بیکار کر کے اپنا غالم بنا لیتی ہے ۔ اس وقت تک اسالمی حکومت کے امیروں اور وزیروں اور قلعہ داروں کی آدمی تعداد کے
فیصلے میری قوم کے حق میں ہوتے ہیں …… لڑکیوں کا ایک گروہ اوربھی ہے۔ یہ لڑکیاں اسالمی نام سے مسلمانوں کی بیویاں
بن جاتی ہیں ۔ ان کا کام یہ ہے کہ اچھے درجے کے مسلمان گھرانوں کی لڑکیوں کے دماغ اور کردار خراب کرتی ہیں ۔ ان
کے لڑکوں کو بدی کے راستے پر ڈالتی اور شریف گھرانوں کی لڑکیوں اور لڑکوں کے معاشقے کراتی ہیں ۔ مجھ جیسی صلیبی
لڑکیاں چوری چھپے تمہارے ایسے حاکموں کے پاس آتی ہیں جو ہمارے ہاتھ میں کھیل رہے ہوتے ہیں ۔ ان حاکموں کو سونے
کے سکے کی صورت میں معاوضہ ملتا رہتا ہے۔ وہ مجھ جیسی لڑکیوں کو حفاظت میں ایسے طریقے سے رکھتے ہیں ،جن
اعلی درجے کے حاکموں کے درمیان رقابت اور غلط فہمیاں پیدا کرتی اور صالح
سے ان پر ذرا سا شک نہیں ہوتا ۔ یہ لڑکیاں
ٰ
الدین ایوبی اور نورالدین زنگی کے خالف نا پسند یدگی پیدا کرتی ہیں ۔ مجھے دو لڑکیوں کے ساتھ اسی کام کے لیے رجب
کے حوالے کیا گیا تھا ''۔
وہ اس صلیبیوں کی درپردہ کاروائیوں اور مسلمانوں کی ایمان فروشی کی تفصیل سناتی رہی ۔ احمد کمال سنتا رہا ۔
دوسرے دن سورج غروب ہونے سے بہت پہلے یہ قافلہ قاہرہ پہنچ گیا ۔ احمد کمال علی بن سفیان کے پاس گیا اور اسے
لڑکی کے متعلق تمام رپورٹ دے کر لڑکی اس کے حوالے کر دی ۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ رجب حبشیو ں کے پاس ہے اور
اس نے اس جگہ کو اڈہ بنا رکھا ہے ۔جہاں حبشی لڑکی کی قربانی دیا کرتے تھے ۔ احمد کمال نے یہ بھی کہا کہ اگر اسے
حکم دیا جائے تووہ رجب کو زندہ یامردہ وہاں سے ال سکتا ہے ۔ علی بن سفیان نے ایسا حکم نہ دیا کیونکہ اس مقصد کے
لیے اس کے پاس تربیت یافتہ فوجی تھے ۔ احمد کمال نے وہ طریقہ بتا دیا جس سے رجب تک پہنچا جا سکتا تھا ۔ اس
نے یہ طریقہ لڑکی کی سنائی ہوئی باتوں کے مطابق سوچا تھا ۔ علی بن سفیان پہلے ہی ایک پارٹی سوڈان بھیج چکا تھا ۔
اس نے لڑکی سے تفتیش کرنے سے پہلے چار نہایت ذہین کماندار بالئے اور انہیں احمد کمال کے حوالے کرکے حکم دیا کہ اس
کے مطابق وہ فورا ً سوڈان چلے جائیں اور رجب کو النے کی کوشش کریں ۔ اس نے احمد کمال کو واپسی سے پہلے آرام کے
لیے بھیج دیا اور لڑکی کو اپنے پاس بال یا۔
لڑکی سے اس نے پہال سوال کیا تو لڑکی نے جواب دیا ۔ ''احمد کمال میرے سامنے بیٹھا رہے گا تو جو پوچھو گے بتا دوں
گی ورنہ زبان نہیں کھولوں گی خواہ جالد کے حوالے کر دو ''۔
علی بن سفیان نے احمد کمال کو بال کر اس کے سامنے بٹھا دیا ۔ لڑکی نے مسکرا کر بولنا شروع کر دیا ۔ اس نے کچھ
بھی نہ چھپایا اور آخر میں کہا ۔''مجھے سزا دینی ہے تو میری ایک آخری خواہش پوری کر دو ۔ میں احمد کمال کے ہاتھ
سے مرنا چاہتی ہوں ''۔ اس نے تفصیل سے سنا دیا کہ وہ احمد کمال کی مرید کیوں بن گئی ہے ۔
علی بن سفیان نے لڑکی کو قید میں ڈالنے کی بجائے احمد کمال کی تحویل میں رہنے دیا اور سلطان ایوبی کے پاس چال گیا
۔ اسے لڑکی کا سارا بیان سنایا ۔ ا س نے کہا ……''آپ کا معتمد فیض الفاطمی ہمارا دشمن ہے ۔ لڑکیوں کو اس کے پاس
آنا تھا ''…… سلطان ایوبی کا فوری رد عمل یہ تھا ……''وہ جھوٹ بکتی ہے ۔ تمہیں گمراہ کر رہی ہے ۔ فیض الفاطمی
ایسا حاکم نہیں ''۔
امیر محترم !'' آپ بھول گئے ہیں کہ وہ فاطمی ہے ؟…… علی بن سفیان نے کہا ……''آپ شاید یہ بھی بھول گئے ہیں''
کہ فاطمی اور فدائیوں کا گہرا رشتہ ہے ۔ یہ لوگ آپ کے وفادار ہو ہی نہیں سکتے ''۔
سلطان ایوبی گہری سوچ میں کھو گیا ۔ وہ غالبا ً سوچ رہا تھا کہ کس پر بھروسہ کرے ۔ کچھ دیر بعد اس نے کہا ……''علی
! میں تمہیں یہ اجازت نہیں دوں گا کہ فیض الفاطمی کو گرفتار کر لو ۔ کوئی ایسی ترکیب کرو کہ وہ جرم کرتا ہوا پکڑا جائے
۔ میں اسے موقع پر پکڑنا چاہتا ہوں اور یہ موقع پیدا کرنا تمہارا کام ہے ۔ وہ جنگ جیسے اہم شعبے کا حاکم ہے ۔
سلطنت کے جنگی راز اس کے پاس ہیں ۔ مجھے بہت جلدی یہ ثبوت چاہیے کہ وہ ایسے گھنائونے جرم کا مجرم ہے یا نہیں
''۔
علی بن سفیان سراغرسانی کا ماہر تھا ۔ خدا نے اسے دماغ ہی ایسا دیا تھا ۔ اس نے ایک ترکیب سوچ لی اور سلطان
ایوبی سے کہا ……''لڑکی جن مراحل سے گزر کر آئی ہے ان کی دہشت نے اس کا دماغ ماوف کر دیا ہے اور وہ احمد کمال
کے لیے جذباتی ہو گئی ہے کیونکہ اس شخص نے اسے دہشت سے بچایا اور ایسا سلوک کیا ہے کہ لڑکی اس کے بغیر بات
ہی نہیں کرتی۔ مجھے امید ہے کہ میں اس لڑکی کو استعمال کر سکوں گا ''۔
کوشش کر دیکھو ''۔سلطان ایوبی نے کہا …… ''لیکن یاد رکھو ،میں واضح ثبوت اور شہادت کے بغیر اجازت نہیں دوں ''
گا کہ فیض الفاطمی کو گرفتار کر لو ۔ مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا کہ وہ بھی دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے ''۔
علی بن سفیان لڑکی کے پاس گیا اور اسے اپنا مدعا بتایا ۔ لڑکی نے کہا ……''احمد کمال کہے تو میں آ گ میں بھی
کود جاوں گی ''…… احمد کمال نے اسے کہا ……''جیسے یہ کہتے ہیں ویسے کردو ۔ اس کی بات سمجھ لو ''۔
اس کا مجھے کیا انعام ملے گا ؟''…… لڑکی نے پوچھا ۔''
تمہیں پوری حفاظت کے ساتھ فلسطین کے قلعہ شوبک میں پہنچا دیا جائے گا ''…… علی بن سفیان نے کہا …… ''اور ''
یہاں تمہیں پوری حفاظت سے رکھا جائے گا ''۔
نہیں !'' ……لڑکی نے کہا ……''یہ انعام بہت تھوڑا ہے ۔ مجھے منہ مانگا انعام دو ۔ میں اسالم قبول کرلوں گی اور ''
احمد کمال میرے ساتھ شادی کر لے ''۔
احمدکمال نے صاف انکار کر دیا ۔ علی بن سفیان اسے باہر لے گیا ۔ احمد کمال نے اسے کہا کہ یہ بے شک اسالم قبول
کر لے لیکن میں اسے پھر بھی اسالم کا دشمن ہی سمجھوں گا ۔ علی بن سفیان نے اسے کہا …… ''ملک اورقوم کی
سالمتی کی خاطر تمہیں یہ قربانی دینی ہوگی ''……احمد کمال مان گیا ۔ اس نے اندر جا کر لڑکی سے کہا ……''میں تمہیں
چونکہ ابھی تک بے اعتبار لڑکی سمجھ رہا ہوں اس لیے شادی سے انکار کیا ہے ۔ اگر تم ثابت کر دو کہ تمہارے دل میں
میرے مذہب کے لیے قربانی کا جذبہ ہے تو میں تمام عمر تمہارا غالم رہوں گا ''۔
لڑکی نے علی بن سفیان سے کہا …… ''کہو مجھے کیا کرنا ہے ۔ میں بھی دیکھ لوں گی کہ مسلمان اپنے وعدے کے کتنے
پکے ہوتے ہیں ۔ میری ایک شرط یہ بھی ہے کہ احمد کمال میرے ساتھ رہے گا ''۔
علی بن سفیان نے اس کی یہ شرط بھی مان لی اور اپنے ایک اہلکار کو بال کر احمد کمال اور لڑکی کے لیے رہائش کے
انتظام کا حکم دے دیا ۔ اس نے دروازہ بند کر لیا اور لڑکی کو احمد کمال کی موجودگی میں بتانے لگا کہ اسے کیا کرنا
ہے ۔
٭ ٭ ٭
تیسرے دن علی بن سفیان کے بھیجے ہوئے آدمی حبشیوں کی اس مقدس جگہ پہنچ گئے جہاں سے لڑکیاں بھاگی تھیں اور
جہاں رجب حبشیوں کا قیدی تھا۔ یہ چھ آدمی تھے اور سب اونٹوں پر سوار تھے۔ انہوں نے بھیس نہیں بدال تھا ۔ وہ مصری
فوج کے لباس میں تھے ۔ ان کے پاس برچھیاں ،تیر و کمان اور تلواریں تھیں ۔ انہیں احمد کمال نے لڑکیوں کی روئیداد
سنادی تھی ۔ اس کے مطابق علی بن سفیان نے انہیں طریقہ کار سمجھا دیا تھا ۔ وہ پہاڑی خطے کے اندر گئے جسے پہاڑیوں
نے قلعہ بنا رکھا تھا ۔ ایک برچھی نہ جانے کہاں سے آئی اور زمین میں گڑ گئی ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ُرک جائو ،تم
گھیرے میں ہو ۔ وہ ُر ک گئے ۔ حبشی پروہت سامنے آیا ۔ اس کے ساتھ تین حبشی تھے جن کے پاس برچھیاں تھیں ۔
حبشی نے انہیں خبردار کیا کہ وہ اس کے چھپے ہوئے تیر اندازوں کی زد میں ہیں ۔ اگر انہوں نے کوئی غلط حرکت کی تو
ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا ۔
سب نے اپنے ہتھیار حبشیوں کے آگے پھینک دئیے اور اونٹوں سے اُتر آئے ۔ ان کے قائد نے حبشی پروہت سے ہاتھ مال کر
کہا ……''ہم تمہارے دوست ہیں ۔ محبت لے کر آئے ہیں ،تمہاری محبت لے کے جائیں گے …… کیا تم نے تینوں لڑکیوں کی
……''قربانی دے دی ہے ؟
ہم مصری فوج کے باغی ہیں ''…… جماعت کے قائد نے جواب دیا ……''ہم تمہاری اس فوج کے سپاہی ہیں جو مسلمانوں''
سے تمہارے دیوتا کی توہین کا انتقام لے گی ۔ ہمیں تمہارے آدمیوں نے بتایا تھا کہ انہیں شکست اس لیے ہوئی ہے کہ لڑکی
کی قربانی نہیں دی جا سکی ۔ ہم رجب کے ساتھ تھے ۔ ہم نے اسے کہا کہ ہم تین فرنگی لڑکیاں اغوا کر کے لے آئیں گے
اور ایک کی بجائے تین لڑکیاں قربان کریں گے اور دیوتا کے مگر مچھوں کو کھالئیں گے۔ ہم بڑی دور سے تین لڑکیاں ورغال
کر اور بہت سے اللچ دے کر لے آئے اور رجب کے حوالے کر دی تھیں ۔ وہ انہیں یہاں لے آیا تھا ۔ ہم یہ دیکھنے آئے ہیں
کہ لڑکیوں کی قربانی دی جاچکی ہے یا نہیں ''۔
حبشی پروہت دھوکے میں آگیا ۔ اس نے کہا ……''رجب نے ہمارے ساتھ کمینگی کی ہے ۔ وہ لڑکیاں لے آیا تھا مگر اس کی
نیت خراب ہو گئی تھی ۔ اس نے لڑکیوں کو یہاں سے بھگا دیا لیکن ہم نے اسے بھاگنے نہیں دیا ۔ اسے پوری سزا دی ہے
۔ لڑکیاں ہمارے ہاتھ سے نکل گئی ہیں ۔ کیا تم دو لڑکیوں کا بندوبست کر سکتے ہو؟ دیوتاوں کا قہر سخت ہوتا جا رہا ہے
''۔
ہم ضرور بندوبست کریں گے ''……قائد نے کہا …… ''تھوڑے دنوں تک ہم دو لڑکیاں لے آئیں گے ۔ہمیں رجب کے پاس لے''
''چلو ۔ ہم اس سے پوچھیں گے وہ لڑکیاں کہاں ہیں ؟
حبشی پروہت سب کو اپنے ساتھ لے گیا ۔ ایک جگہ مٹی کا ایک چوڑا اور گول برتن رکھا تھا جو ایسے ہی ایک برتن سے
ڈھکا ہوا تھا ۔ پروہت نے اوپر واال برتن ا ُٹھا کر نیچے والے برتن میں ہاتھ ڈاال۔ جب اس نے ہاتھ باہر نکاال تو اس کے ہاتھ
میں رجب کا سر تھا ۔ چہرے کا ہر ایک نقش بالکل صحیح اور سالمت تھا ۔ آنکھیں آدھی کھلی ہوئی تھیں ۔ منہ بند تھا۔
یہ سر اور چہرہ گردن سے کاٹ کر جسم سے الگ کر دیاگیا تھا ۔ اس سے پانی ٹپک رہاتھا۔ یہ کوئی دوائی تھی جس میں
حبشیوں نے سر ڈاال ہواتھا تا کہ خراب نہ ہو ۔پروہت نے کہا …… ''اس کا جسم مگر مچھوں کو کھال دیا گیا ہے ۔ اس کے
ساتھیوں کو ہم نے زندہ جھیل میں پھینک دیا تھا ۔ مگر مچھ بھوکے تھے ''۔
اگر ہمیں یہ سر دے دو تو ہم اپنے ساتھیوں کو دکھائیں گے ''۔ایک نے کہا …… ''اور انہیں بتائیں گے کہ جو انگوک کے''
دیوتا کی توہین کرے گا اس کا یہ انجام ہوگا ''۔
تم اس شرط پر لے جا سکتے ہو کہ کل سورج غروب ہونے سے پہلے واپس لے آئو گے ''……پروہت نے کہا ……''یہ ''
انگوک کے دیوتا کی ملکیت ہے ۔ اگر واپس نہیں الئوگے تو تمہارا سر جسم سے جدا ہوجائے گا ''۔
٭ ٭ ٭
تیسرے روز رجب کا سر سلطان صالح الدین ایوبی کے قدموں میں پڑا تھا اور سلطان ایوبی گہری سوچ میں کھویا ہوا تھا ۔
اسی رات کا واقعہ ہے …… احمد کمال اور لڑکی اس مکان کے برآمدے میں سوئے ہوئے تھے جو انہیں رہائش کے لیے دیا گیا
تھا ۔ اس مکان میں رہتے ہوئے انہیں چھ روز گزر گئے تھے ۔ اس دوران لڑکی احمد کمال سے کہتی رہی تھی کہ وہ فورا ً
مسلمان ہونے کو تیار ہے اور احمد کمال اس کے ساتھ شادی کر لے ،لیکن احمد کمال ایک ہی جواب دیتاتھا …… ''پہلے
فرض پورا کریں گے ''……لڑکی نے دو تین بار اس خدشے کا اظہار بھی کیا تھا کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوگا ۔ احمد کمال
اسے ابھی ایک ہاتھ دور ہی رکھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ اس دوران لڑکی کے دل سے دہشت اُتر گئی تھی اور اب وہ
ہوشمندی سے سوچنے کے قابل ہو گئی تھی ۔
اس رات وہ اور احمد کمال برآمدے میں سوئے ہوئے تھے ۔ باہر ایک سپاہی پہرے پر کھڑا تھا ۔ آدھی رات سے کچھ دیر
پہلے پہرہ دار مکان کے اردگرد گھومنے کے لیے آہستہ آہستہ چال تو کسی نے پیچھے سے اس کی گردن بازو میں جکڑ لی ۔
فورا ً بعد اس کے منہ پر کپڑا باندھ دیا گا۔ ہاتھ اور پاوں بھی رسیوں میں جکڑے گئے۔ وہ چار آدمی تھے ۔ مکان کا دروازہ
اندر سے بند تھا ۔ ایک آدمی دیوار سے پیٹھ لگا کر کھڑا ہوگیا دوسرا اس کے کندھوں پر چڑھ کر دیوار پھالنگ گیا ۔ اندر
سے اس نے دروازہ کھول دیا ۔ باقی تین آدمی بھی اندر چلے گئے ۔ ایک جو سب سے زیادہ قوی ہیکل تھا ،اس نے لڑکی
کے منہ پر کپڑا باندھ دیا ۔ لڑکی کے جاگنے تک اس نے لڑکی کو دبوچ لیا اور اُٹھا کر کندھے پر ڈال لیا ۔ تین آدمیوں نے
احمد کمال کو رسیوں سے جکڑ کر اور منہ پر کپڑا باندھ کر پلنگ پر ہی پڑا رہنے دیا ۔ اسے مزاحمت کی مہلت ہی نہ ملی
۔ باہر جا کر انہوں نے لڑکی پر کمبل ڈال دیا تا کہ کوئی دیکھ لے تو اسے پتہ نہ چل سکے کہ اس آدمی کے کندھوں پر
لڑکی ہے ۔
شہر سے چار میل دور فرعونوں کے وقتوں کی ایک وسیع و عریض اور بھول بھلیوں جیسی عمارت کے کھنڈر تھے۔ ان کے
متعلق لوگ بہت سی ڈرائونی باتیں کیا کرتے تھے کہ عمارت کے اندر ایک بلند چٹان ہے ۔ اس چٹان کو کاٹ کر بہت سے
کمرے اور ان کمروں کے نیچے بھی کمرے بنے ہوئے تھے ۔ان کے اندر وہی جا کر واپس آ سکتا تھا جو ان سے واقف تھا ۔
بہت مدت سے کسی نے ان کھنڈروں کے اندر جانے کی جرٔات نہیں کی تھی ۔ مشہور ہو گیا تھا کہ اندر جنوں بھوتوں کا
بسیرا ہے۔ اندر سانپوں کا بسیرا تو ضرور ہی تھا ۔ سانپوں کے ڈر سے کوئی اس کھنڈر کے قریب سے بھی نہیں گزرتا تھا ۔
بڑی خوفناک کہانیاں سنائی جاتی تھیں۔ اس کے باوجود یہ چار آدمی جو لڑکی کو اغوا کر کے لے گئے تھے ۔ ان کھنڈروں
میں داخل ہوگئے اور داخل بھی اس طرح ہوئے جیسے یہی ان کا گھر ہے ۔
وہ غار نما کمروں گردشوں او ر اندھیری گلیوں میں سے بغیر رکے گزرتے گئے ۔ آگے مشعلوں کی روشنی تھی ۔ ان کے
قدموں کی آہٹوں سے چمگاڈر ا ُڑتے اور پھڑ پھڑاتے تھے ۔ چھپکلیاں اور رینگنے والی کئی چیزیں ادھر ادھر بھاگتی پھر رہی
تھیں ۔ اندر مکڑیوں کے جالے اور کائی بھی تھی ……وہ چٹان میں بنے ہوئے ایک کمرے میں داخل ہوگئے۔ وہاں ایک آدمی
مشعل لیے کھڑا رہا تھا جو ان کے آگے آگے چل پڑا ۔ آگے سیڑھیاں تھیں جو نیچے اُترتی تھیں۔ وہ سب نیچے اُتر گئے اور
ایک طرف مڑ کر ایک وسیع کمرے میں داخل ہوگئے ۔ وہاں فرش پر بستر بچھا تھا ۔ اس کے ساتھ بڑی خوشنما دری تھی ۔
کمرہ سجا ہوا تھا ۔ لڑکی کو بستر پر ڈال کر اس کے منہ سے کپڑا کھول دیا گیا ……لڑکی غصے سے بولی ……''میرے ساتھ
یہ سلوک کیوں کیا گیا ہے ؟ میں مرجاوں گی کسی کو اپنے قریب نہیں آنے دوں گی ''۔
اگر تمہیں وہاں سے ا ُٹھوا نہ لیا جاتا تو کل صبح تمہیں جالد کے حوالے کر دیا جاتا ''۔ ایک آدمی نے کہا ……''میرا ''
نام فیض الفاطمی ہے ۔ تمہیں میرے پاس آنا تھا ۔ باقی دو کہاں ہیں ؟ تم اکیلی کیسے پکڑی گئی ہو ؟ رجب کہاں
ہے ؟''۔
لڑکی مطمئن ہوگئی اور بولی …… '' میں خدا کا شکر بجا التی ہوں جس نے مجھے بڑی بڑی خوفناک مصیبتوں سے بچا
لیا ۔ میں منزل پر پہنچ گئی ہوں'' …… اس نے فیض الفاطمی کو رجب ،حبشیوں ،آندھی ،دولڑکیوں کی موت اور احمد
کمال کے ہتھے چڑھ جانے کی ساری روئیداد سنا دی ۔ فیض الفاطمی نے اسے تسلی دی اور ان چار آدمیوں کو جو لڑکی کو
ا ُٹھا الئے تھے ،سونے کے چھ چھ ٹکڑے دئیے اور کہا …… ''تم اب اپنی اپنی جگہ سنبھال لو ۔ میں تھوڑی دیر بعد چال
جاوں گا ۔ یہ لڑکی تین چار روز یہیں رہے گی ۔ میں رات کو آیا کروں گا ۔باہر جب اس کی تالش ختم ہو جائے گی تو
میں اسے لے جاوں گا ''۔
چاروں آدمی چلے گئے اور کھنڈر کے چاروں طرف ایسی جگہوں پر بیٹھ گئے جہاں سے باہر نظر رکھی جا سکتی تھی ۔ فیض
الفاطمی کے ساتھ ایک ہی آدمی اندر رہ گیا جو مصری فوج کا کماندار تھا ۔ اندر فیض الفاطمی اپنی کامیابی پر بہت خوش
تھا اور دو لڑکیوں کی موت کا اسے غم بھی تھا ۔ اسے رجب کے انجام کا بھی علم نہیں تھا ۔ اس نے کہا ……''رجب کو
وہاں سے نکالنا ضروری ہے ۔ اس نے علی بن سفیان اور صالح الدین ایوبی کے قتل کا کچھ انتظام کیا تھا جس کا مجھے
علم نہیں کہ کیا تھا ۔ اس نے غالبا ً فدائیوں سے معاملہ طے کیا ہے ۔ یہ دونوں قتل اب بہت ضروری ہوگئے ہیں ۔ اب ہمیں
کوئی نیا منصوبہ بنانا ہے ۔ میں دوسرے ساتھیوں سے بات کر کے تمہیں کل بتاوں گا ۔ ابھی آرام کرو۔ مجھے واپس جانا ہے
''۔
صالح الدین ایوبی کو آپ پر اعتماد ہے ؟'' ……لڑکی نے پوچھا ۔''
اتنا زیادہ کہ اپنی ذاتی باتوں میں بھی مجھ سے مشورہ لیتا ہے ''……فیض الفاطمی نے جواب دیا ۔''
اعلی حکام میں صالح الدین ایوبی کے وفاداروں کی تعداد بہت زیادہ ہے ''…… لڑکی نے کہا ''
مجھے پتہ چال ہے کہ
ٰ
……''اور فوج بھی اس کی وفادار ہے ''۔
یہ صحیح ہے ''……کماندار جووہاں موجود تھا بوال ……''اس کا سراغ رسانی کا محکمہ بہت ہوشیار ہے جہاں کوئی سر ''
اعلی حکام میں دو اور ہیں جو صالح الدین ایوبی کے خالف کام کر رہے ہیں ۔
اُٹھاتا ہے ۔ اس کی نشاندہی ہوجاتی ہے ۔
ٰ
ان کے نام آپ کو محترم فیض الفاطمی بتا سکیں گے ''۔
اعلی سطح پر ہی کام کرنا ہے ۔ صرف دو
فیض الفاطمی نے دونوں نام بتا دئیے اور مسکرا کر لڑکی سے کہا ……''تمہیں
ٰ
حکام کے درمیان چپقلش پیدا کرنی ہے اور دو کو زہر دینا ہے جو تم آسانی سے دے سکو گی مگر اب مشکل یہ پیدا ہوگئی
ہے کہ تمہیں کسی محفل میں نہیں لے جاسکیں گے۔ تم پر دہ نشین مسلمان لڑکی کے بھیس میں کام کرو گی ،ورنہ پکڑی
جاو گی۔ ہو سکتا ہے میں تمہیں واپس فلسطین بھیج دوں اور کسی اور لڑکی کو بال لوں جسے یہاں کوئی پہچان نہ سکے۔
میرا گروہ بہت ذہین اور سرگرم ہیں ۔ یہ ساالروں سے نیچے کمانداروں کی سطح کا گروہ ہے ۔ یہ چار آدمی جو تمہیں اتنی
دلیری سے ا ُٹھا الئے ہیں ،اسی گروہ کے افراد ہیں ۔ ہم نے ایوبی کی فوج میں بے اطمینانی پھیالنی شروع کر دی ہے ۔
قوم اور فوج کو ایک دوسرے سے منتظر کرنا ضروری ہے ۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ شامی اور ترک فوجی مصری عوام
میں اپنے اچھے سلوک ،کردار اور لڑنے کے جذبے کی بدولت بہت مقبول ہیں اور عزت کی
نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔ سوڈانیوں کو شکست دے کر انہوں نے شہریوں کے دلوں میں عزت کا اضافہ کر لیا ہے ۔ ہمیں
فوج کی اس عزت کو مجروح کرنا ہے۔ ساالروں اور دیگر فوج حکام کو رسوا کرنا ہے ۔ اس کے بغیر ہم صلیبیوں اور سوڈانیوں
کی کوئی مدد نہیں کر سکتے ۔ باہر کا حملہ ناکام رہے گا ۔ فوج اسے کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔قوم فوج کا ساتھ دے گی
۔ اگر اس وقت ایک طرف سے صلیبی اور دوسری طرف سے سوڈانی حملہ کردیں تو قوم اور فوج مل کر قاہرہ کو ایسا قلعہ
بنا دے گی جسے فتح کرنا ناممکن ہوگا ۔ قاہرہ کو فتح کرنے کے لیے ہمیں زمین ہموار کرنی ہوگی ۔ لوگوں کے ذہنوں میں
وہم اور وسوسے اور نوجوانوں کے کردار میں جنس پرستی اور آوارگی پیدا کرنی ہوگی ''۔
مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ کام دو سال سے ہورہا ہے ''……لڑکی نے کہا ۔''
خاصی کامیابی بھی ہوئی ہے ''……فیض الفاطمی نے کہا ……''بدکاری میں اضافہ ہوگیا ہے مگر صالح الدین ایوبی نے ایک''
تو نئے مدرسے کھول دئیے ہیں ،دوسرے مسجدوں میں خطبے سے خلیفہ کا نام نکال کر کوئی اور ہی رنگ پیدا کر دیا ہے
اور لڑکوں کو عسکری تعلیم دینی شروع کر دی ہے ''۔
٭ ٭ ٭
بات یہی تک پہنچی تھی کہ ان چار آدمیوں میں سے ایک آیا اور فیض الفاطمی سے کہا …… ''ابھی باہر نہ جانا کچھ گڑبڑ
ہے ''۔
فیض الفاطمی گھبرایا ۔ اس آدمی کے ساتھ باہر چال گیا ۔ ایک اونچی جگہ چھپ کر دیکھا ۔ آدھی رات کے پورے چاند نے
باہر کے ماحول کو روشن کر رکھا تھا۔ اس نے کہا ……''تم لوگوں نے بے احتیاطی کی ہے ۔ یہ تو فوجی معلوم ہوتے ہیں ۔
گھوڑے بھی ہیں ۔ تم چاروں طرف سے دیکھو ،میں کدھر سے نکل جاوں ''۔
میں دیکھ چکا ہوں''……اس آدمی نے جواب دیا …… ''یوں نظر آتا ہے جیسے ہم مکمل گھیرے میں ہیں ۔ آپ وہیں چلے''
جائیں ۔مشعلیں بجھا دیں ۔ وہاں سے نکلنے کی غلطی نہ کریں ۔ وہاں تک کوئی نہیں پہنچ سکے گا ''۔
فیض الفاطمی کھنڈروں میں غائب ہوگیا اور یہ آدمی جو پہرہ دے رہا تھا ۔ بلند جگہ سے اُتر کر اندر کو جانے کی بجائے
دیواروں کے ساتھ ساتھ چھپتا باہر نکل گیا ۔ باہر کا یہ عالم تھا کہ پچاس کے قریب پیادہ فوجی تھے اور بیس پچیس گھوڑوں
پر سوار تھے ۔ انہوں نے سارے گھنڈر کو گھیرے میں لے لیا تھا ۔ یہ پہرہ دار ان تک گیا اور ایک فوجی سے پوچھا
……''علی بن سفیان کہاں ہیں ؟''……اسے بتایا گیا تو وہ دوڑتا ہوا گیا ۔ اس دستے کی کمان علی بن سفیان خود کر رہا
تھا ۔ اس کے ساتھ احمد کمال تھا ۔ پہرہ دا ر نے انہیں کہا ……''اندر کوئی ایسا خطرہ نہیں۔ آپ کے ساتھ دو آدمی بھی
کافی ہیں ۔ میرے ساتھ آئیں ''……یہ پہرہ دار ان چار آدمیوں میں سے تھا جنہوں نے لڑکی کو اغوا کیا تھا ۔
علی بن سفیان نے دو مشعلیں روشن کرائیں۔ احمد کمال اور چار عسکریوں کو ساتھ لیا۔ دو کے ہاتھوں میں مشعلیں دیں ۔
سب نے تلواریں نکال لیں اور اس آدمی کے ساتھ کھنڈر میں داخل ہوگئے ۔ انہوں نے دیکھا کہ کوئی آدمی کسی طرف سے
آیا اور دوڑتا ہوا اندر کی طرف چال گیا ہے …… علی بن سفیان کے راہنما نے کہا ……''یہ ان کا آدمی ہے وہ اندروالوں کو
خبردار کرنے چال گیاہے ۔ آپ تیز چلیں ''……وہ سب دوڑ پڑے ۔ اگر یہ لوگ راہنما کے بغیر ہوتے تو ان بھول بھلیوں میں
بھٹک جاتے یا ڈر کر وہاں سے بھاگ آتے ۔ راہنما کے ساتھ وہ بڑی اچھی رفتار سے جارہے تھے ۔ کسی طرف سے ایک اور
آدمی دوڑتا آیا ۔ اس کی انہیں یہ آواز سنائی دی ……''میں ادھر جارہا ہوں۔ تیز چلو ''……یہ راہنما کا ساتھی تھا ۔
وہ اس چٹانی کمرے میں پہنچ گئے جس سے سیڑھیاں نیچے اُترتی تھیں ۔ نیچے سے انہیں آوازیں سنائی دیں ۔ ''ہمارے
ساتھ دھوکہ ہوا ہے ۔ یہ دونوں ان کے آدمی ہیں ''……پھر تلواریں ٹکڑانے کی آوازیں سنائی دیں اور یہ بھی آواز آئی ……
''اسے بھی ختم کر دو ۔ یہ گواہی نہ دے سکے ''۔
علی بن سفیان اور احمدکمال مشعل برداروں کے پیچھے دوڑتے پھالنگتے نیچے اُترے۔ اس کمرے میں پہنچے تو وہاں خون بہہ
رہا تھا ۔ لڑکی پیٹ پر دونوں ہاتھ رکھے ہوئے بیٹھی ہوئی تھی۔ فیض الفاطمی کے ساتھی جو کماندار تھا وہ اور ایک اور
آدمی فیض الفاطمی اور ایک پہرہ دار سے لڑ رہے تھے ۔ علی بن سفیان نے فیض الفاطمی کو للکارا ۔ فیض الفاطمی نے جب
اپنے خالف بہت سی تلواریں دیکھیں تو اس نے تلوار پھینک دی ۔ احمد کمال نے دوڑ کر لڑکی کو سنبھاال ۔ اس کا پیٹ
چاک ہو چکا تھا ۔ احمد کمال نے فرش پر بچھے ہوئے بستر سے چادر اُٹھا کر لڑکی کے پیٹ پرکس کر باندھ دی اور علی
بنی سفیان سے کہا ……''مجھے اجازت ہو تو اسے باہر لے جائوں ؟''…… علی بن سفیان نے اسے اجازت دے دی۔ احمد
کمال نے لڑکی کو بازوں پر ا ُٹھا لیا ۔ وہ سخت تکلیف میں تھی ۔ پھر بھی اس نے مسکرا کر احمد کمال سے کہا ……''میں
نے فرض پورا کر دیا ہے ۔ تمہارے مجرم پکڑوا دئیے ہیں ''۔
فیض الفاطمی اور لڑکی کو اغوا کرنے والے چار میں سے دو آدمیوں کو گرفتار کر لیا گیا باقی دو آدمی اور ایک کماندار جو
فیض الفاطمی کے ساتھ تھے ،علی بن سفیان کے آدمی تھے ۔ یہ ایک ڈرامہ تھا جو فیض الفاطمی کو موقعہ پر گرفتار کرنے
کے لیے کھیال گیا تھا ۔ لڑکی نے پورا پورا تعاون کیا لیکن زخمی ہو گئی ۔ یہ ڈرامہ اس طرح تیار کیا گیا تھا کہ لڑکی سے
وہ خفیہ الفاظ معلوم کیے گئے جو اس کے گروہ کو ایک دوسرے کو پہچاننے کے لیے استعمال کرنے تھے ۔ لڑکی نے یہ بھی
بتا دیا کہ اسے فیض الفاطمی کے پاس جانا تھا ۔ علی بن سفیان نے اپنے تین ذہین جاسوس استعما ل کیے جن میں ایک
کماندار کے عہدے کا تھا ۔
19:25
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
""قسط نمبر31.۔ "لڑکی جو فلسطین سے آئ تهی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جاسوسوں کو کہا گیا کہ وہ فیض الفاطمی سے کہیں کہ لڑکی فالں مکان میں قید ہے جہاں سے اس نکاال جا سکتا ہے ۔
انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ وہ فیض الفاطمی کو رجب کا جھوٹا پیغام دیں کہ اس لڑکی کو بچائو اور اپنی کاروائیاں تیز کردو۔
ان جاسوسوں نے تین دنوں کے اندر فیض الفاطمی تک رسائی حاصل کر لی اور اس پر ثابت کر دیا کہ وہ اس کے زمین دوز
گروہ کے افراد ہیں ۔ فیض الفاطمی کو یہ خطرہ بھی تھا کہ لڑکی چونکہ قیدمیں ہے اس لیے اذیت کے زیر اثر بتا دے گی کہ
لہذا اس نے لڑکی کے اغوا کا منصوبہ بنایا۔ اس
وہ بھی اس کے ساتھ ہے ۔ فیض الفاطمی کے لیے اپنا تحفظ ضروری تھا ۔ ٰ
میں اس نے کماندر کو اپنے ساتھ رکھا ۔دو آدمی علی بن سفیان کے بھیجے ہوئے اور دو اپنے مال کر ان کے سپرد یہ کام دیا
کہ وہ لڑکی کو ا ُٹھا الئیں گے اور کھنڈر میں پہنچا دیں ۔ اس کھنڈر کو انہوں نے کچھ عرصے سے اپنا خفیہ اڈہ بنا رکھا تھا۔
منصوبہ بن گیا تو علی بن سفیان تک پہنچ گیا ۔ پانچ چھ مردوں میں احمدکمال اورلڑکی کو بتایا گیا کہ وہ برآمدے میں
سوئیں گے اور رات کے وقت لڑکی اغوا ہوگی جس کے خالف وہ مزاحمت نہیں کریں گے۔ مکان کے باہر ہر وقت ایک سپاہی
پہرے پر رہتاتھا ۔ اس رات جو آدمی پہرے پر تھا وہ سپاہی نہیں بلکہ علی بن سفیان کے محکمے کا جاسوس تھا ۔ اسے
معلوم تھا کہ رات کو اس پر حملہ ہوگا اور حملہ کس طرح کا ہوگا ،حملہ کرنے واال علی بن سفیان کا آدمی تھا ۔ اگر فیض
الفاطمی کا آدمی ہوتا تو وہ اسے خنجر مار کر ہالک کردیتا ۔
اس رات فیض الفاطمی اور کماندار کھنڈر میں چلے گئے ۔ مقررہ وقت پر پہرے دار پرحملہ ہوا ۔ دیوار پھالنگی گئی۔ اس وقت
احمد کمال جاگ رہا تھا ۔ اس نے دیکھا کہ لڑکی کو ا ُٹھا لیا گیا ہے لیکن وہ آنکھیں بند کر کے لیٹا رہا ۔ اس نے تڑپنا اس
وقت شروع کیا جب وہ رسیوں میں بندھ چکا تھا ۔ لڑکی کو کھنڈر میں پہنچا دیا گیا ۔ یہ ڈرامہ اس لیے کھیال گیا تھا کہ
فیض الفاطمی نے اغوا کا منصوبہ بنایا اور اس میں اپنے دو آدمی شامل کر دئیے تھے۔ ان پر یہ ظاہرکرنا تھا کہ یہ حقیقی
اغواء ہے اور اس میں کوئی دھوکہ فریب نہیں ۔ آخر دم تک شک نہ ہوا ۔ اغواء کے بعد علی بن سفیان نے پہرہ دار اور
احمد کمال کی رسیاں کھولیں ۔ پیادہ سپاہی اور سوار تیارتھے ۔ تھوڑے سے وقفے کے بعدوہ کھنڈر کی طرف روانہ ہوگئے اور
کھنڈر کو گھیرے میں لے لیا ۔
انہیں سب سے پہلے علی بن سفیان کے ہی ایک آدمی نے دیکھا جس نے فیض الفاطمی کو جا کر اطالع دی ۔ اسے باہر ال
کر گھیرا دکھایا اور یہ مشورہ دیا کہ وہ اسی کمرے میں چال جائے ۔ اس ادھر بھیج کر یہ آدمی باہر نکل گیا اور علی بن
سفیان اور احمد کمال کو اندر لے گیا ۔ یہ اس آدمی کی دانشمندی تھی کہ اس نے فیض الفاطمی کو اسی کمرے میں چھپے
رہنے پر قائل کر لیا تھا۔ اگر وہ کھنڈر کے بھول بھلیوں جیسے کمروں ،برآمدوں ،گلیوں اور تہہ خانوں میں نکل جاتا تو اسے
پکڑنا آسان نہ ہوتا ۔ کھنڈربہت وسیع اور پیچیدہ تھا ۔ باہر تو چاندنی تھی لیکن اندر تاریکی تھی جس میں تعاقب کیا جاتا
تو اپنے آدمیوں کے مارے جانے کا بھی خطرہ تھا ۔ بالکل آخری وقت فیض الفاطمی کو پتہ چال کہ کماندار اور دو آدمی اس
کے ساتھی نہیں بلکہ اسے دھوکے میں یہاں الئے ہیں۔ لڑکی سے یہ غلطی ہوئی کہ اس کے منہ سے کچھ ایسے الفاظ نکل
گئے جس سے ظاہر ہوگیا کہ یہ بھی اس دھوکے میں شریک ہے ۔ فیض الفاطمی کے دو ساتھی اس کے پاس پہنچ گئے ۔دھوکہ
بے نقاب ہوگیا اورلڑائی شروع ہوگئی۔ فیض الفاطمی نے لڑکی کے پیٹ میں نوک کی طرف سے تلوار ماری اور اس کا پیٹ
چاک کر دیا۔ اس نے لڑکی کو غالبا ً اس لیے بھی قتل کرناضروری سمجھا تھا کہ وہ اس کے خالف گواہی دینے کے لیے بھی
زندہ نہ رہے۔
فیض الفاطمی اور اس کے ساتھیوں کو قید میں ڈال دیا گیا۔ علی بن سفیان نے تینوں کو الگ الگ قید میں رکھا اور تینوں کو
رجب کا سر دکھا کر کہا ……'' اپنے دوست کا انجام دیکھ لو ۔ اگر تمہیں یہ توقع ہے کہ تمہیں فورا ً سزا دے دی جائے گی
تو یہ خیال دماغوں سے نکال دو۔ جب تک اپنے پورے گروہ کو سامنے نہیں الو گے تمہیں چکر شکنجے میں باندھے رکھوں گا
۔ جینے بھی نہیں دوں گا مرنے بھی نہیں دوں گا ''۔
لڑکی کی حالت اچھی نہیں تھی ۔ طبیبوں اور جراحوں نے اسے بچانے کی پوری کوشش کر ڈالی مگر کٹی ہوئی انتڑیوں کا
کوئی عالج نہ ہو سکا۔ وہ پھر بھی مطمئن تھی جیسے اسے پیٹ کے مہلک زخم کی پروا ہی نہیں تھی ۔ اس کا ایک ہی
مطالبہ تھا کہ احمد کمال کو میرے پاس بیٹھا رہنے دو۔ سلطان ایوبی بھی اس کی عیادت کے لیے آیا ۔ احمد کمال امیر مصر
اعلی کو دیکھ کر تعظیم کے لیے اُٹھا تو لڑکی نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیا۔ احمد
اور اپنی فوج کے ساالر
ٰ
کمال سلطان ایوبی کی موجودگی میں بیٹھ نہیں سکتا تھا ۔ آخر سلطان نے اسے لڑکی کے پاس بیٹھنے کی اجازت دے دی ۔
سلطان ایوبی نے لڑکی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور شفقت سے صحت یابی کی دعا دی ۔
تیسری رات احمد کمال لڑکی کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا ۔ لڑکی نے انوکھے سے لہجے میں پوچھا …… ''احمد! تم نے میرے
ساتھ شادی کر لی ہے نا! …… میں نے اپنا وعدہ پورا کیا ،تم نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے ۔ خدا نے میرے گناہ بخش
دئیے ہیں ''…… اس کی زبان لڑکھڑانے لگی ۔ اس نے احمد کمال کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں مظبوطی سے پکڑ لیا مگر
گرفت فورا ً ڈھیلی پڑگئی ۔احمد کمال نے کلمہ شریف پڑھا اور لڑکی کوخدا کے سپرد کر دیا ۔ دوسرے دن سلطان ایوبی کے
حکم کے مطابق لڑکی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔
فیض الفاطمی نے اور اس کے ساتھیوں نے صرف دو دن اذیتیں سہیں اور اپنے گروہ کی نشاندہی کر دی ۔ ان لوگوں کو بھی
پکڑ لیا گیا ۔ مراکشی واقعہ نگار اسد اال سدی نے سلطان ایوبی کے وقت کے ایک کاتب کے حوالے سے لکھاہے کہ سلطان
ایوبی نے جب فیض الفاطمی کی سزائے موت پر دستخط کیے تو سلطان زار و قطار رونے لگے تھے ۔
.اس کے ساتهہ ہی قصہ"لڑکی جو فلسطین سے آئ تهی" یہیں تمام ہوتا ہے
19:26
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
"قسط نمبر "32.جب زہر نے زہر کو کاٹا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ واقعہ ١١٧١ء کا ہے۔ "
قاہرہ میں ایک مسجد تھی جو اتنی بڑی نہیں تھی کہ لوگ وہاں جمعہ کی نماز پڑھتے اور اتنی چھوٹی بھی نہیں تھی کہ
نمازیوں کی کمی ہوتی ۔ یہ قاہرہ کے اس عالقے میں تھی جو شہر کا قریبی مضافات یا شہر کے باہر کا عالقہ تھا جہاں
درمیانے اور اس سے کم درجے کے لوگ رہتے تھے ۔ مذہب کا احترام انہی لوگوں کے دلوں میں رہ گیا تھا مگر ان کی بد
نصیبی یہ تھی کہ تعلیم سے بے بہرہ تھے ۔ جذباتی استدالل اور دلکش الفاظ سے فورا ً متاثر ہوتے اور انہیں قبول کرلیتے تھے
۔صالح الدین ایوبی نے مصر میں آکر جو نئی فوج تیار کی تھی اس میں ان کنبوں کے افراد زیادہ بھرتی ہوئے تھے جس کی
دو وجوہات تھیں ۔ ایک تو یہ ذریعہ معاش تھا ۔ سلطان ایوبی نے فوج کی تنخواہ میں کشش پیدا کی تھی اور متعدد سہولتیں
بھی تھیں ۔ دوسری وجہ یہ کہ یہ لوگ جہاد کو فرض سمجھتے تھے ۔وہ اسالم کے نام پرجان اور مال قربان کرنے کو تیار
رہتے تھے ۔اس دور میں اس جذبے کی شدید ضرورت تھی ۔ سرکاری طور پر انہیں بتایا گیاتھا کہ صلیبی دنیا عالم اسالم کا
نام و نشان مٹانے کے لیے اپنے تمام تر ذرائع اور ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے ۔
چھ سات مہینوں سے یہ گمنام سی مسجد مشہور ہوگئی تھی ۔ یہ شہرت نئے امام کی بدولت تھی جو عشاء کی نماز کے
بعد درس دیا کرتا تھا ۔ پہال پیش امام صرف تین روز پہلے ایسی بیماری سے مر گیا تھا جسے کوئی حکیم اور سیانا سمجھ
ہی نہیں سکا ۔ وہ پیچش کے درد اور آنتوں کی سوزش کی شکایت کرتا تھا ۔ اسی روگ سے مر گیا۔ وہ عام سا ایک
مولوی تھا جو صرف نماز باجماعت پڑھاتا تھا ۔ اس کی وفات کے اگلے ہی روز سرخ و سفید چہرے اور بھوری داڑھی واال
ایک مولوی آیا جس نے امامت کے فرائض اپنے ذمے لینے کی پیشکش کی ۔لوگوں نے اسے قبول کر لیا ۔ و ہ کہیں جھونپڑے
میں رہتا تھا ۔ اس کی دو بیویاں تھیں ۔ اس نے لوگوں کو بتایا تھا کہ وہ علم کا شیدائی اور مذہب کے سمندر کا غوطہ خور
ہے۔ وہ خاطر و مدارت کا لوگوں سے نذرانے وصول کرنے کا قائل نہیں تھا ۔ اس کی ضرورت صرف یہ تھی کہ اسے کشادہ
اور اچھا مکان مل جائے جہاں وہ دو بیویوں کے ساتھ عزت سے اور پردے میں رہ سکے۔
لوگوں نے مسجد کے قریب ہی اسے ایک مکان خالی کر ادیا جس کے کئی ایک کمرے تھے ۔ لوگوں نے دیکھا ک وہ دونوں
بیویوں کے ساتھ اس مکان میں آیا۔ بیویاں سیاہ برقعوں میں مستور تھیں ۔ ان کے ہاتھ بھی نظر نہیں آتے تھے۔ پاوں تک
چھپے ہوئے تھے ۔ اسے لوگوں نے ضروری سامان وغیرہ دے کر آباد کر دیا ۔ لوگ ایک تو اس کی ظاہری شخصیت سے متاثر
ہوئے لیکن جس جادو نے انہیں اس کا گرویدہ کیا وہ اس کی آواز کا جادو تھا۔ اس مسجد میں اس نے پہلی اذان دی تو جہاں
جہاں تک اس کی آواز پہنچی سناٹا سا طاری ہوگیا ۔ ایک مقدس ترنم زمین و آسمان پر وجد طاری کر رہا تھا ۔ یہ ایک
طلسم تھا جو ان لوگوں کو بھی مسجد میں لے گیا جو گھروں میں نماز پڑھتے یا پڑھتے ہی نہیں تھے ۔ اسی رات اس نے
عشاء کی نماز کے بعد نمازیوں کو پہال درس دیا اور انہیں کہا کہ وہ ہر رات درس دیا کرے گا ۔ چھ سات مہینوں میں اس
نے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ بعض لوگ تو اس کے مریدبن گئے ۔اس مسجد میں جمعہ کی نماز نہیں پڑھی جاتی تھی۔ اس
پیش امام نے جو دراصل عالم تھا ۔ وہاں جمعہ کی نماز بھی شروع کر دی ۔
چھ سات مہینوں بعد اس مسجد اور اس پیش امام کی شہرت دور دور تک پہنچ گئی۔ شہرکے بھی کچھ لوگ اس کے درس
میں جانے لگے ۔ وہ اسالم کے جن بنیادی اصولوں پر زیادہ زور دیتا تھا وہ تھے عبادت اور محبت ۔ وہ لڑائی جھگڑے اور
جنگ و جدل کے خالف سبق دیتا تھا ۔ اس نے لوگوں کے ذہنوں میں یہ عقیدہ پختہ کر دیا تھا کہ انسان اپنی تقدیر خود
نہیں بنا سکتا ۔ جو کچھ ہے وہ خدا کے ہاتھ میں ہے ۔ انسان کمزور سا ایک کیڑہ ہے ۔ اس عالم کا انداز بیان بڑا ہی پر
اثر ہوتا تھا ۔ وہ قرآن ہاتھ میں لے کر ہر بات قرآن کی کسی نہ کسی آیت سے واضح کرتا تھا ۔ صالح الدین ایوبی کی وہ
بے حد تعریف کیا کرتا اور اکثر کہا کرتا تھا کہ یہ مصر کی خوش بختی ہے کہ اس ملک کی امارت اسالم کے ایسے شیدائی
کے ہاتھ میں ہے ۔ اس نے جہاد کا فلسفہ اور مفہوم بھی پیش کیا تھا جو لوگوں کے لیے نیا تھا لیکن انہوں نے بال حیل و
حجت اسے تسلیم کر لیا۔
ایک رات عشاء کی نماز کے بعد وہ اپنا درس شروع کرنے لگا تو ایک آدمی نےاُٹھ کر عرض کی ……''عالم عالی مقام !
خدا آپ کے علم کی روشنی جنات تک اور اس مخلوق تک بھی پہنچائے جو ہمیں نظر نہیں آتی ۔ میں اپنے آٹھ دوستوں کے
ساتھ بہت دور سے آیا ہوں۔ ہم آپ کے علم کی شہرت سن کر آئے ہیں ۔ اگر گستاخی نہ ہو اور عالم عالی مقام کی خفگی
کا باعث نہ بنے تو ہمیں جہاد کے متعلق کچھ بتائیں ۔ ہم شک میں ہیں ۔ لوگوں نے بتایا ہے کہ ہمیں جہاد کا مطلب غلط
بتایا جا رہا ہے ''۔
سات آٹھ آوازیں سنائی دیں …… ''ہم نے یہ درس نہیں سنا تھا ''۔
ایک نے کہا …… ''یہ وقت کی آواز ہے جو ہمارے کانوں میں بگاڑ کر ڈالی گئی ہے ۔ ہم صحیح بات سننا چاہتے ہیں ''۔
عالم نے کہا …… ''یہ قرآن کی آواز ہے جسے کوئی نہیں بگاڑ سکتا ۔ میرا فرض ہے کہ صحیح آواز کو ایک ہزار بار دہراؤں
تا کہ یہ ہر ایک کان میں پہنچ جائے …… جہاد کا مطلب یہ نہیں کہ دوسروں کی زمین پر قبضہ کرنے کے لیے ان کی گردنیں
کاٹو ۔ جہاد کا مطلب قتل و غارت نہیں ،خون خرابہ نہیں ''۔ اس نے قرآن میں سے ایک آیت پڑھی اور اس کی تفسیر
یوں بیان کی ۔ ''یہ میرا علم نہیں ،یہ فرمان خداوندی ہے کہ تم بدی اور گناہ کے خالف لڑتے ہو تو اسے جہاد کہتے ہیں
جو ہم سب پر فرض کر دیا گیا ہے ۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ اسالم تلوار کے زور سے نہیں بلکہ پیار کے زور سے پھیال ہے
؟ جہاد کی شکل بعد میں آکر بگڑی ہے اور یہ انہوں نے بگاڑی ہے جو بادشاہی کے دلدادہ ہیں۔ عیسائی بھی دوسروں کے
ملکوں کو اپنی سلطنت بنانے کے لیے جنگ و جدل کو مقدس جنگ کہتے ہیں اور مسلمان بھی اسی ارادے سے قتل و غارت
کو جہاد کہتے ہیں ۔ یہ صرف حکومتیں اور بادشاہیاں قائم کرنے کے ڈھنگ ہیں ۔ لوگوں کو مذہب کے نام بھڑکاکر لڑایا جاتا
ہے اور اس طرح بادشاہوں کی بنیادیں مضبوط کی جاتی ہیں ''۔
تو کیا امیر مصر صالح الدین ایوبی ہمیں گمراہ کرکے لڑا رہا ہے ؟''اس آدمی نے پوچھا جس نے جہاد کا صحیح مطلب ''
سمجھنا چاہا تھا ۔
نہیں !''عالم نے جوا ب دیا ۔ ''صالح الدین ایوبی پر اللہ کی رحمت ہو ۔ ا سے بڑوں نے جو بتایا ہے وہ سچے ''
مسلمان کی حیثیت سے پوری نیک نیتی سے اس پر عمل کر رہاہے۔ اس کے دل میں عیسائیوں کے خالف نفرت ڈالی گئی
ہے ۔ وہ اس کے مطابق عمل کر رہاہے ذرا غور کروکہ عیسائی اور مسلمان میں کیا فرق ہے۔ دونوں کا نبی مشترک ہے۔ آگے
موسی محبت اور امن کا پیغام الئے تھے۔ ہمارے رسول صلی اللہ علی وسلم بھی
آکر ذرا اختالف پیدا ہوگیا ہے ۔ حضرت
ٰ
محبت کا پیغام دے گئے ہیں۔ پھر تلوار اور زرہ بکتر کہاں سے آگئی ؟ یہ ان لوگوں کی الئی ہوئی چیزیں ہیں جو خدا کی
اتنی پیاری زمین پر جس پر صرف اسی کی ذات باری کی حکمرانی ہے ،وہ اپنی حکومت قائم کرتے اور خدا کے بندوں کو
اپناغالم بناتے ہیں ……میں امیر مصر کے دربار میں حاضری دوں گا اور اس کی خدمت اقدس میں جہاد کا صحیح نقطہ واضح
کروں گا ۔ امیر مصر صالح الدین ایوبی نے صحیح جہاد شروع کر رکھا ہے جو جہالت اور بے علمی کے خالف ہے ۔اس نے
خطبے سے خلیفہ کا نام نکال کر بہت بڑاجہاد کیا ہے۔ اس نے مدرسے کھول کر بھی جہاد کیا ہے لیکن مدرسوں میں یہ
خرابی ہے کہ جہاں مذہب اور معاشرت کی تعلیم دی جاتی ہے وہاں عسکری تربیت بھی دی جاتی ہے ۔ بچوں کو خدا کے
نام پر غارت گری کے سبق دئیے جاتے ہیں ۔ انہیں تیغ زنی اور تیر اندازی سکھائی جاتی ہے ۔ جب تم اپنے بچوں کے
ہاتھوں میں تلوار اور تیر کمان دو گے تو انہیں یہ بھی بتاو گے کہ ان سے وہ کیسے ہالک کریں ۔ ظاہر ہے کہ تم انہیں کچھ
انسان دکھاو گے اور کہو گے کہ وہ تمہارے دشمن ہیں انہیں ہالک کردو ''۔
عالم کی آواز میں ایسا تاثر تھا اور اس کے دالئل میں اتنی کشش تھی کہ سننے والے مسحور ہوتے جارہے تھے ۔ اس نے کہا
……''اپنے بچوں کو دوزخ کی آگ سے بچاو۔ ان کے ساتھ تم بھی دوزخ میں جائو گے کیونکہ اپنے بچوں کو غلط راستے میں
ڈالنے والے تم تھے ۔ تمہیں جنت میں اپنے بادشاہ اورفوجوں کے ساالرنہیں لے جائیں گے ،پیش امام اور وہ عالم دین لے
جائیں گے جن کے ہاتھ میں مذہب اور علم کی قندیل تھی ۔ تم دنیا میں ان کے پیچھے چلو گے تو وہ روز قیامت بھی
تمہیں اپنے پیچھے جنت میں لے جائیں گے۔ روز قیامت جس کے ہاتھ انسان کے خون سے الل ہوں گے اسے ساری عمر کے
زکو ة کو بیت
اچھے اعمال اور ساری عمر کی نمازوں کے باوجود دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ ایک نقطہ اور سمجھ لو ۔ تم
ٰ
زکو ة غریبوں اور ناداروں کا حق ہے ۔ حاکم وقت غریب اورنادار نہیں
المال کو دیتے ہو۔ بیت المال وقت کا حاکم ہوتا ہے۔
ٰ
زکو ة جو بیت المال میں جاتی ہے اس سے گھوڑے اور ہتھیار خریدے جاتے ہیں جو انسانوں کو ہالک کرنے کے
ہوتا۔ تمہاری
ٰ
لہذا
ہو۔
بناتے
ٹھکانا
میں
دوزخ
تم
بھی
اداکرکے
فرض
وہ
ہو
جاسکتے
میں
جنت
تم
کے
کر
ادا
فرض
جو
ذا
۔لہ
ہیں
کام آتے
ٰ
ٰ
زکوة بیت المال میں نہ دو ''۔
ٰ
عالم نے موضوع بدال اورکہا ……''بہت سی باتیں عام ذہن کے انسانوں کی سمجھ میں نہیں آتیں ۔ انہیں بتاتا بھی کوئی نہیں
۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ تمہارے اندرایک حیوانی جذبہ ہے؟ کیا تم عورت کی ضرورت محسوس نہیں کرتے؟ کیا یہی جذبہ
نہیں جو تمہیں بدکاری کے اڈوں پر لے جاتا ہے ؟……یہ جذبہ خدا نے خود پیدا کیا ہے ۔ یہ کسی انسان کا پیدا کردہ نہیں ۔
تم اس کی تسکین کر سکتے ہو۔ اسی لیے تمہیں خدا نے حکم دیا ہے کہ بیک وقت گھر میں چار بیویاں رکھو۔ اگر تم غریب
ہو اور ایک بیوی بھی نہیں ال سکتے تو کسی عورت کو اجرت دے کر اس حیوانی جذبے کی تسکین کر سکتے ہو جو تم میں
خدانے پیدا کیا ہے اور انسان اسی جذبے کی پیداوار ہے ،مگر بدی سے بچو۔ایک ایک دو دو ،تین تین ،چار چار بیویاں گھر
میں رکھو۔ ان بیویوں کو اور اپنی بیٹیوں کو گھروں میں چھپا کر رکھو۔ میں دیکھ رہاہوں کہ جوان لڑکیوں کو بھی عسکری
تربیت دی جارہی ہے اور انہیں بھی گھوڑ سواری اور شتری سواری سکھائی جا رہی ہے۔ زنانہ مدرسوں میں انہیں زخمیوں کی
میدان جنگ کے زخمیوں کو سنبھالیں اور اگر ضرورت
مرہم پٹی اور انہیں سنبھالنے کے طریقے سکھائے جارہے ہیں تا کہ وہ
ِ
پڑے تو لڑیں بھی ……یہ ایک بدعت ہے۔ اپنی لڑکیوں کو اس بدعت سے بچاو ۔ یہ باتیں اپنے ان دوستوں اور پڑوسیوں کو
بھی سناو جو مسجد میں نہیں آتے ۔ خدا کے احکام اور کارناموں میں مت دخل دو۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے.عالم نے درس ختم
کیا توسامعین جن کی تعداد اتنی ہو گئی تھی کہ بہت سے لوگ پیچھے کھڑے تھے ،مسجد میں بیٹھنے کو جگہ نہ تھی ،
ا ُٹھ کر عالم سے ہاتھ مالنے اور جانے لگے۔ بعض نے اس کے ہاتھ چومے ۔ جھک کر مصافحہ تو ہر کسی نے کیا ۔ ایک
ایک کر کے سب لوگ چلے گئے۔ صرف دو آدمی عالم کے سامنے بیٹھے رہے۔ ان میں سے ایک وہ آدمی تھا جس نے کہا
تھا کہ مجھے جہاد کے متعلق بتائیے ۔ اس آدمی نے لمبا چغہ پہن رکھا تھا ۔ سر پر چھوٹی سی پگڑی اور اس پر چوڑا
پھولدار رومال پڑا ہواتھا ۔ اس کی داڑھی لمبی اور سیاہ اور مونچھیں گھنی تھیں۔ لباس سے وہ درمیانہ درجے کا آدمی معلوم
ہوتا تھا ۔ اس کی ایک آنکھ پر ہرے رنگ کا پٹی نماکپڑا تھا جو دودھاگوں کی مدد سے اس کے سر کے ساتھ بندھا تھا ۔
اس کپڑے نے اس کی ایک آنکھ ڈھانپ رکھی تھی ۔ عالم کے پوچھنے پر اس نے بتایا تھا کہ اس کی یہ آنکھ خراب ہے ۔
دوسرے آدمی کا لباس بھی معمولی سا تھا۔ اس کی بھی داڑھی لمبی اور گھنی تھی ۔ مسجد میں عالم کے پاس یہی دو آدمی
رہ گئے تھے۔ ان کے ساتھ چھ اور آدمی تھے جوجہاد کا درس لینے آئے تھے ۔ وہ مسجد کے دروازے کے باہر کھڑے تھے ۔
شاید اپنے ساتھیوں کے انتظار میں تھے ۔
کیوں تمہارا شک ابھی رفع نہیں ہوا؟''……عالم نے مسکرا کر ان دونوں سے پوچھا ۔''
میرا خیال ہے شک رفع ہوگیا ہے ''۔ آنکھ کی ہری پٹی والے نے جوا ب دیا ۔ ''ہم شاید آپ ہی کی تالش میں ''
ہیں ۔ ہم نے آدھا مصر چھان مارا ہے ۔ ہمیں مسجد کا محل و قوع اور نشانیاں غلط بتائی گئی تھیں''۔
''کیا آدھے مصر میں تمہیں مجھ سے بہتر کوئی عالم نہیں مال ؟''
تالش جو صرف آپ کی تھی ''۔اس آدمی نے جواب دیا ……''کیا ہم صحیح جگہ آگئے ہیں ؟ آپ کا درس بتاتا ہے کہ ''
ہم آپ کی ہی تالش میں تھے ''۔
''! عالم نے باہرکی طرف دیکھا اور بے توجہی کے اندازسے بوال ……''معلوم نہیں موسم کیسا رہے گا
بارش آئے گی ''۔ہری پٹی والے نے جواب دیا ۔''
آسمان بالکل صاف ہے ''عالم نے کہا ۔''
ہم گھٹائیں الئیں گے ''۔ہری پٹی والے نے کہا اور قہقہہ لگایا ۔''
''عالم مسکرایا اور رازداری سے پوچھا ۔''کہاں سے آئے ہو؟
ایک مہینے سے ہم سکندریہ میں تھے ''۔اس آدمی نے جواب دیا ۔ ''اس سے پہلے شوبک میں تھے ''۔''
''مسلمان ہو ؟''
فدائی ''۔ہری پٹی والے نے کہا ……''ابھی مسلمان ہی سمجھو ''…… اور وہ اپنے ساتھی کے ساتھ بڑی زور سے ہنسا ۔''
میں آپ کو اس فن کا استاد مانتا ہوں ''۔دوسرے نے عالم سے کہا ……''مجھے بالکل یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ آپ ہیں''
۔ آپ ناکام نہیں ہو سکتے ''۔
اور کامیابی آسان بھی نہیں ''۔ عالم نے کہا ۔ ''صالح الدین ایوبی کوشاید تم نہیں جانتے ۔ بے شک میں نے ان تمام ''
لوگوں کے دلوں میں جہاد اور اس کے متعلق اسالمی نظریات کے خالف شکوک پیدا کر دئیے ہیں لیکن صالح الدین ایوبی نے
جو مدرسے کھولے ہیں وہ شاید ہماری کوششوں کو آسانی سے کامیاب نہ ہونے دیں ۔
''اس نے پوچھا۔ ''تم نے مجھے یہ کیوں کہاں تھا کہ میں جہاد پر درس دوں ؟
شوبک میں ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ آپ کی سب سے بڑی نشانی یہی ہے ''…… ہری پٹی والے نے جواب دیا ……''یہ ''
تمام الفاظ جو آپ نے درس میں بولے ہیں ہمیں وہاں بتائے گئے تھے ۔ ہمیں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ آپ جہاد کے بعد
.جنسی جذبے کا ذکر ضرور کریں گے۔ آپ نے اپنا سبق بڑی محنت سے یاد کیا ہے
میرا نام کیا ہے''؟عالم نے پوچھا۔''
کیا آپ ہمارا امتحان لینا چاہتے ہیں ؟…… اس آدمی نے جواب دیا ۔''کیا آپ کو ہم پر شک ہے؟ہمیں ایک دوسرے کا نام''
نہیں صرف نشانیاں بتائی جاتی ہیں ''۔
تم کس کام سے آئے ہو ؟''……عالم نے پوچھا ۔''
فدائی کس کام سے آیا کرتے ہیں ؟''……ہری پٹی والے نے پوچھا ۔''
تمہیں میرے پاس کیوں بھیجا گیا ہے ؟''……عالم نے کہا ۔''
ایک اونٹنی کے لیے ''۔اس آدمی نے جواب دیا……''آپ کے پاس دو ہیں ۔ ہمیں آپ کے پاس نہ بھیجا جاتا مگر آپ کو''
اطالع مل گئی ہو گی کہ صالح الدین ایوبی کے ایک نائب ساالر رجب کے ساتھ شوبک سے تین اونٹنیاں روانہ کی گئی تھیں
۔ ان میں سے ایک ہمارے مقصد کے لیے تھی مگر معلوم نہیں کہ کیا ہوا کہ تینوں ماری گئی ہیں ۔ رجب کی کھوپڑی اور
ایک سب سے زیادہ خوبصورت اونٹنی صالح الدین کے پاس پہنچ گئی اوروہ بھی ختم ہوگئی ''۔
ہاں ''……عالم نے آہ بھر کر کہا ……''ہمیں بہت بڑا نقصان ہوا ہے …… صالح الدین ایوبی کا ایک بڑا ہی کارآمد ساالر ''
جو ہمارے قبضے میں تھا ،جالد کی نذر ہوگیا …… اندر چلو …… یہ جگہ محفوظ نہیں ہے ''۔
وہ دونوں عالم کے ساتھ ا ُٹھے اور باہر نکل گئے ۔ باہر جو چھ آدمی کھڑے تھے وہ اندھیرے میں بکھر گئے ۔
٭ ٭ ٭
وہ اب عالم کے گھر میں داخل ہوئے ۔ صاف ستھرا گھر تھا ۔ کئی کمرے تھے ۔ دو تین کمروں میں سے گزر کر وہ ایسے
کمرے میں چلے گئے جو زمین پر ہی تھا لیکن زیر زمین معلوم ہوتا تھا ۔ اس کے سامنے کوڑا کباڑ بکھرا ہوا تھا ۔ دروازے
کے باہر تاال لگا ہوا تھا ۔ صاف پتہ چلتا تھا کہ یہ دروازہ برسوں سے نہیں کھوال گیا اور کھوال بھی نہیں جائے گا ۔ اس کے
پہلو میں کھڑکی تھی ۔ اسے ہاتھ لگایا تو کھل گئی ۔ عالم اندر گیا ۔ اس کے پیچھے یہ دونوں آدمی اندر چلے گئے ۔ اندر
عیسی کی دستی
سے کمرہ خوب سجا ہوا تھا ۔ دیوار کے ساتھ سنہری صلیب لٹک رہی تھی ۔ اس کے ایک طرف حضرت
ٰ
تصویر اور دوسری طرف حضرت مریم کی تصویر تھی ۔ عالم نے کہا ……''یہ میرا گرجا ہے اور پناہ گا ہ بھی ''۔
خطرے کی صورت میں آپ کے پاس کیا انتظام ہے ؟''آنکھ کی ہری پٹی والے نے پوچھا اور مشورہ دیا ……''آپ کو ''
صلیب اور یہ تصویریں اس طرح سامنے نہیں رکھنی چاہیے ''۔
یہاں تک کسی کے آنے کا خطرہ نہیں ''۔ عالم نے جواب دیا اور ہنس کر کہا …… ''مسلمان بڑی سیدھی اور جذباتی ''
قوم ہے ۔ یہ قوم جذباتی الفاظ اور سنسنی خیز دالئل پر مرتی ہے ۔ جنس انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ میں ان
لوگوں میں یہ کمزوری ا ُبھار رہا ہوں ۔ انہیں یہ سبق دے رہا ہوں کہ چار شادیاں فرض ہیں ۔ آہستہ آہستہ انہیں بدکاری کی
طرف راغب کر رہا ہوں ۔ مذہب کے نام پر تم مسلمان سے بدی بھی کرا سکتے ہو نیکی بھی ۔ ہاتھ میں قرآن رکھ کر بات
کرو تو یہ لوگ احمقانہ باتوں کے بھی قائل ہو جاتے ہیں اور جھوٹ کو بھی سچ مان لیتے ہیں ۔ میرا تجربہ کامیاب ہے۔
میں یہاں اپنے جیسا ایک گروہ پیدا کر لوں گا جو مسجد میں بیٹھ کر اور قرآن مجید ہاتھ میں لے کر ان لوگوں کے جذبہ
جہاد کو اور کردار کو قتل کردے گا ۔ عورت کے متعلق میں ان لوگوں کے نظریات بدل رہا ہوں ۔ صالح الدین ایوبی نے
عورتوں کو بھی عسکری تربیت دینی شروع کر دی ہے ۔ میں انہیں بتا رہا ہوں کہ عورت کو گھر میں قید رکھو ۔ میں اس
قوم کی نصف آبادی کو بیکار کردوں گا ''۔
فوج کے خالف نفرت پیدا کرنا ضروری ہے ''۔ہری پٹی والے کے ساتھی نے کہا …… ''صالح الدین ایوبی نے یہی کمال ''
کر دکھایا ہے کہ قوم اور فوج کو ایک کر دیا ہے ۔ وہ اس وقت اعالن کر دے کہ یروشلم فتح کرنا ہے تو مصر کی ساری
آبادی اس کے ساتھ چل پڑے گی ''۔
لیکن وہ ایسا اعالن نہیں کرے گا ''۔عالم نے کہا ……وہ دانشمند ہے ۔ وہ جذباتی لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔ وہ صرف ایک''
تربیت یافتہ سپاہی کو ایک سو غیر تربیت یافتہ جوشیلے آدمیوں پر ترجیح دیتا ہے ۔ وہ کھوکھلے نعروں سے قوم کو بھڑکاتا
نہیں ۔ حقیقت کی بات کرتا ہے ۔ یہ ہمارا کام ہے کہ اس کی قوم کو حقیقت اور تربیت سے دور رکھیں اور اسے جذباتی
بنادیں ۔ اس قوم میں شعور کی بجائے جوش رہ جائے ۔ وہ جو ش جس میں حقیقت پسندی اور دانشمندی نہ ہو ،دشمن کے
پہلے تیر سے ہی ٹھنڈا پڑ جاتا ہے ۔ خواہ تیر قریب سے گزر جائے ۔ ہم ان میں صرف جوش رہنے دیں گے ۔ تم نے سنا
ہے کہ میں اپنے درس میں
صال ح الدین ایوبی کی بہت تعریفیں کر رہا تھا ''۔
یہ باتیں تو ہم بعد میں کر لیں گے ''۔اس آدمی نے جواب دیا …… ''دونوں اونٹنیاں دکھا دیں اور یہ بتائیں کہ ہمیں یہاں''
کس وقت اور کس طرح پناہ مل سکتی ہے اور یہاں اپنا کوئی اور آدمی رہتا ہے یانہیں ''۔
نہیں !''……عالم نے جواب دیا …… ''یہاں اورکوئی نہیں رہتا ''۔''
ان کے درمیان کوئی شک و شبہ نہیں رہا تھا ۔ وہ خفیہ الفاظ میں ایک دوسرے کو پہچان چکے تھے ۔ عالم کمرے سے نکل
گیا ۔ واپس آیا تو اس کے ساتھ دو بڑی ہی خوبصورت اور جوان لڑکیاں تھیں ۔ یہی وہ دو لڑکیاں تھیں جن کے متعلق اس نے
لوگوں کو بتایا تھا کہ اس کی بیویاں ہیں۔ انہیں وہ سر سے پاوں تک برقعے میں چھپا کر الیا تھا ۔ مگر ان دو آدمیوں کے
سامنے وہ بے پردہ آئیں ۔ عالم نے ان کا تعارف دونوں آدمیوں سے کرایا اور الماری میں سے شراب کی بوتل نکا لی ۔ ایک
لڑکی گالس لے آئی ۔ شراب گالسوں میں ڈالی گئی ۔ ان دونوں آدمیوں نے شراب کو ہاتھ کو نہ لگایا۔
پہلے کام کی باتیں کر لیں ''۔ ہری پٹی والے نے کہا ۔''
ہمیں دو آدمیوں کو قتل کرنا ہے ''۔ دوسرے نے کہا ……''صالح الدین ایوبی کو اور علی بن سفیان کو ۔ ہماری مجبوری ''
''یہ ہے کہ ہم نے دونوں آدمیوں کو نہیں دیکھا ہمیں دونوں آدمی دکھا دیں ۔ کیا آپ نے انہیں دیکھا ہے ؟
اتنا دیکھا ہے کہ دونوں کو اندھیرے میں بھی پہچان سکتا ہوں ''۔عالم نے کہا …… ''میں نے جو مہم شروع کر رکھی ''
ہے اس کے لیے ضروری تھا کہ دونوں کو اچھی طرح پہچان لوں ۔ علی بن سفیان اتنا ذہین اور گھاگ ہے کہ اپنے کسی
جاسوس کو یہاں بھیجنے کی بجائے خود یہاں آ سکتا ہے ۔ اگر وہ بھیس بدل کر میرے سامنے آئے تو بھی اسے پہچان لوں
گا ''۔
اور صالح الدین ایوبی کے متعلق کیا خیال ہے ؟''…… ہری پٹی والے نے کہا ۔''
اسے بھی خوب پہچانتا ہوں ''۔عالم نے جواب دیا۔''
ہری پٹی والے نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی کنپٹیوں پر رکھے۔ داڑھی کو پکڑا اور ہاتھوں کو نیچے کو جھٹکا دیا ۔ اس لمبی داڑھی
اور گھنی مونچھیں اس کے چہرے سے الگ ہوگئیں ۔ پیچھے چھوٹی سی داڑھی رہ گئی جو نہایت اچھی طرح تراشی ہوئی
تھی ۔ مونچھیں بھی تراشیدہ تھیں ۔ لمبی داڑھی اور گھنی مونچھیں مصنوعی تھیں ۔جو اب اس نے ہاتھ میں لے رکھی
تھیں۔ اس نے آنکھ سے ہری پٹی بھی نوچ کرپرے پھینک دی ۔ عالم جہاں تھا وہیں بت بن گیا ۔ اس کی آنکھیں ٹھہر گئیں
اور اس کا منہ کھل گیا ۔ دونوں لڑکیاں حیران و ششدر کبھی اس آدمی کو دیکھتیں جس نے اپنا بہروپ اتار دیا تھا ،کبھی
عالم کو دیکھتیں جس کا رنگ الش کی طرح کا ہو گیا تھا ۔ عالم کے منہ سے حیرت اور گھبراہٹ میں ڈوبی ہوئی سرگوشی
''نکلی …… ''صالح الد ین ایوبی ؟
ہاں دوست !''اسے جواب مال …… ''میں صالح الدین ایوبی ہوں ۔ تمہاری شہرت سن کر تمہارا درس سننے آیا تھا ''
''…… سلطان ایوبی نے اپنے ساتھی کی داڑھی کو مٹھی میں لے کر جھٹکا دیا تواس کی داڑھی چہرے سے الگ ہوگئی ۔ اس
''نے عالم سے کہا …… ''آپ اسے بھی پہچانتے ہوں گے ؟
پہچانتا ہوں ''عالم نے ہارے ہوئے لہجے میں کہا …… ''علی بن سفیان ''۔''
علی بن سفیان کی صرف تھوڑی پر داڑھی تھی ۔ اچانک لڑکیاں اور عالم پیچھے کو دوڑے اور الماری میں سے چھرا نما
تلواریں نکال لیں ۔ مگر ادھر کو گھومے تو ان کی تلواریں جھک گئیں کیونکہ صالح الدین ایوبی اور علی بن سفیان نے چغوں
کے اندر سے اسی قسم کی تلواریں نکال لیں تھیں ۔ لڑکیوں کو تیغ زنی کی مشق تو کرائی گئی تھی لیکن دو پشہ ور تیغ
زنوں کے مقابلے میں نہ آسکیں ۔ ان سے تلواریں رکھوا لی گئیں ۔ علی بن سفیان باہر نکل گیا۔ ذرا سی دیر میں چھ آدمی
جو باہر کھڑے تھے اسی سائز کی تلواریں سونتے کھڑکی میں سے کود کر آگئے ۔
دوسرے دن مسجد کے سامنے اس عالقے کے لوگوں کا ہجوم تھا۔ وہاں چند ایک سرکاری اہل کار بھی تھے جو لوگوں کو باری
عیسی اور حضرت مریم کی تصویریں آویزاں تھیں ۔
باری عالم کے اس خفیہ کمرے میں لے جا رہے تھے جہاں صلیب ،حضرت
ٰ
لوگوں کو شراب کی بوتلیں بھی دکھائی گئیں ۔ اہل کار لوگوں کو عالم کی اصلیت بتا رہے تھے اور وہ جہاد کا جو نظریہ
پیش کرتا رہتاتھا ،اس کی وضاحت کر رہے تھے
سلطان ایوبی کی ہدایت پر علی بن سفیان نے سارے ملک میں جاسوسوں کا جال بچھا دیا تھا کیونکہ یہ ثابت ہوگیا تھا کہ
ملک میں ،خصوصا ً قاہر ہ میں صلیبیوں نے بہت سے جاسوس اور تخریب کار بھیج دئیے ہیں ۔ صلیبیوں نے مسلمانوں کے
کردار کشی کی جو زمین دوز مہم چالئی تھی وہ سلطان ایوبی کو زیادہ پریشان کر رہی تھی۔ اسے جب علی بن سفیان نے
اطالع دی تھی کہ ایک مسجد کا پیش امام ہر رات درس دیتا ہے اور اسالمی نظریات کو بگاڑ کر پیش کر رہا ہے تو سلطان
ایوبی نے فورا ً ہی یہ حکم نہیں دیا تھا کہ اس عالم کو گرفتار کر لو ۔ اس نے کہا تھا …… ''علی ! مذہب میں فرقہ بندی
شروع ہوگئی ہے ۔ یہ پیش امام کسی فرقے کا ہوگا ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ قرآن کی اپنی تفسیریں پیش کر رہا ہو۔ میں
مذہب میں دخل نہیں دینا چاہتا ۔ میں حاکم ہوں عالم نہیں ہوں۔ اگر تم سمجھتے ہو کہ وہ کوئی تخریب کار ہے ،تو
گرفتاری سے پہلے اچھی طرح چھان بین کر لو ۔ پیش امام کا درجہ مجھ سے بہت زیادہ بلندہے ''۔
علی بن سفیان خود اس مسجد میں درس سننے نہیں گیا تھا کیونکہ اسے شک تھا کہ اگر یہ پیش امام واقعی دشمن کا بھیجا
ہوا تخریب کا ر ہے تو اسے پہچانتا ہوگا۔ اس نے اپنے ذہین سراغرساں مسجد میں بھیجے تھے ۔ جو دس بارہ مرتبہ وہاں
گئے اور انہوں نے جو درس سنے وہ من وعن علی بن سفیان کو سنادئیے۔ آخر ایک رات اس صلیبی ''عالم'' نے جہاد پر
درس دیا اور تاویل یہ پیش کی جو صالح الدین ایوبی نے بھی سنی ۔ سراغ رسانوں نے یہ درس علی بن سفیان کو سنایا تو
کوئی شک نہ رہا ۔ علی نے سلطان ایوبی کو بتایا اور یہ رائے دی کہ اگر یہ شخص صلیبیوں کا جاسوس اور تخریب کار نہیں
تو بھی اسے پکڑنا یا روکنا ضروری ہے کیونکہ وہ جہاد کا ایسا نظریہ پیش کر رہا ہے جو صرف وہ آدمی پیش کر سکتا ہے جو
دشمن کا آدمی ہو یا اس کا دماغ چل گیا ہو ۔
سلطان ایوبی نے یہ رپورٹ بڑی ہی غور سے سنی اور کہا کہ معاملہ بہر حال مذہب ،مسجد اور پیش امام کا ہے ۔ اس نے
فیصلہ کیا کہ وہ علی بن سفیان کے ساتھ خود بہروپ میں درس سننے جائے گا اور خود یقین کرے گا کہ پیش امام کی نیت
اور اصلیت کیا ہے ۔ جہاد کے ساتھ حیوانی جذبے کے ذکر نے سلطان ایوبی کے کان کھڑے کر دئیے تھے ۔ اس نے علی بن
سفیان سے ساتھ صالح مشورہ کر کے یہ بہروپ تیار کرایا تھا جس میں وہ مسجد میں گئے تھے ۔
علی بن سفیان جاسوسی اور جاسوسی کے خالف دفاع کے فن کا ماہر تھا ۔ اس نے سلطان ایوبی کو اپنی ایک اور کامیابی
سے آگاہ کر دیا تھا ۔ وہ یہ تھی کہ فیض الفاطمی کو جس صلیبی لڑکی نے موقعہ پر گرفتار کرایا اور احمد کمال کے نام کے
ایک کماندار کی خاطر اسالم قبول کرنے اور اس کے ساتھ شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی مگر ماری گئی تھی ۔ اس نے وہ
خفیہ الفاظ اور اشارے بتائے تھے جو صلیبی جاسوس ایک دوسرے کو پہچاننے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس کی نشاندہی پر
چند ایک مسلمان بھی پکڑے گئے تھے جو صلیبیوں سے زر و جواہرات اور خوبصورت لڑکیاں لے کر ان کے لیے جاسوسی کرتے
تھے ۔ انہوں نے بھی علی بن سفیان کے تہہ خانے میں تصدیق کی تھی کہ یہ الفاظ اور اشارے استعمال ہوتے ہیں ۔ اشارے
یہ تھے کہ جاسوس جو ایک دوسرے سے پہلی بار ملتے اور ایک دوسرے کے متعلق یقین کرنا چاہتے تھے ان میں سے ایک
آسمان کی طرف دیکھ کر کہتا تھا ……''معلوم نہیں موسم کیسا رہے گا ''…… وہ ایسی بے پروائی کے سے لہجے میں کہتا
تھا جیسے یونہی اسے موسم کا خیا ل آگیا ہو۔
دوسرا کہتا تھا ……''بارش آئے گی''…… اسے جواب ملتا تھا ۔ ''آسمان بالکل صاف ہے ''…… دوسرا کہتا تھا ……''ہم
گھٹائیں الئیں گے''…… اور وہ قہقہہ لگاتا تھا ۔ قہقہے کی ضرورت یہ ہوتی تھی کہ یہ مکالمہ کوئی اور سن لے یا دوسرا آدمی
جاسوس نہ ہو تو وہ سمجھے کہ اس آدمی نے مذاق کیا ہے ۔ علی بن سفیان کو بتایا گیا تھا کہ یہ خفیہ مکالمہ اس وقت
بوال جائے گا جب یہ ظاہر ہوجائے گا ۔دوسری بات جو علی بن سفیان نے معلوم کی تھی وہ یہی تھی کہ جاسوس ایک
دوسرے کو اپنا نام نہیں بتاتے تھے ۔ ان کا ہیڈ کوارٹر فلسطین کا ایک قصبہ شوبک تھا جو ایک قلعہ تھا ۔ یہ صلیبیوں کا
جاسوسی کا مرکز تھا ۔
ان انکشافات کے سہارے سلطان ایوبی اور علی بن سفیان بہروپ میں مسجد میں چلے گئے ۔ انہوں نے جہاد کے درس کی
خواہش ظاہر کی تو عالم نے خواہش پوری کر دی ۔ پھر وہ اس کے پاس اکیلے رہ گئے اور ان خفیہ مکالموں کو بے نقاب کر
دیا ۔ اس نے بعد میں بیان دیا تھا کہ وہ اتنا کچا جاسوس نہیں تھا کہ وہ اجنبی آدمیوں کے آگے اپنا آپ ظاہر کر دیتا۔ اسے
اعلی درجے کا
ان خفیہ الفاظ نے پھنسایا ،کیونکہ یہ مکالمہ ہر ایک جاسوس کو بھی معلوم نہیں ہوتا ۔ یہ جاسوسوں کے
ٰ
مکاملہ ہے ۔ اس سے نیچے اس سے کوئی جاسوس واقف نہیں ہوتا ۔ اس مکالمے کے بعد کا قہقہہ خاص طور پر قابل ذکر
تھا ۔ اس کے بغیر ایک دوسرے پر اپنا راز فاش نہیں کیا جاتا تھا ۔ سلطان ایوبی نے قہقہہ لگایا تھا ۔ وہ اپنے ساتھ چھ
جانبازوں کو بھی لے
گیا تھا کہ بوقت ضرورت مدد دیں۔
علی بن سفیان نے اس جاسوس کو اور دونوں لڑکیوں کو اپنے تہہ خانے میں بند کر دیا اور سب سے پہلے اس عالقے میں
جا کر تفتیش کی کہ یہ شخص اس مسجد پر قابض کس طرح ہوا اور اسے سے پہلے وہ جس جھونپڑے میں رہتا تھا وہ اسے
کس نے دیا تھا ۔ وہاں کے مختلف لوگوں نے جو بیان دئیے ان سے پتہ چال کر یہ شخص دو بیویوں کے ساتھ اس آبادی میں
آیا ۔ پہلے ایک آدمی کے گھر مہمان رہا ۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ یہ تو کوئی عالم فاضل ہے تو انہوں نے اسے جھونپڑا
دے دیا ۔ وہ اس میں مسجد میں نماز پڑھنے جایا کرتا تھا۔ وہاں بہت مدت سے ایک پیش امام تھا ۔ یہ شخص پیش امام کا
مرید بن گیا ۔ پندرہ سولہ روز بعد پیش امام نے مسجد میں پیٹ درد کی شکایت کی۔ یہ شکایت اتنی تیزی سے بڑھی کہ
اس کے بعد پیش امام مسجد میں نہ آسکا ۔ حکیموں نے گھر جا کر دیکھا۔ دوائیاں دیں مگر و ہ تیسرے روز مر گیا ۔اس کے
بعد اس عالم نے لوگوں سے بات کر کے مسجد سنبھال لی۔ اس نے ایسا تاثر پیدا کیا کہ لوگ اس کے عقیدت مند ہوگئے اور
اس کی ضرورت کے مطابق اسے مکان دے دیا ۔
علی بن سفیان کے پوچھنے پر لوگوں نے اسے بتا یا کہ انہوں نے کئی بار اس شخص کو پیش امام کے لیے کھانا لے جاتے
دیکھا تھا ۔ علی بن سفیان جان گیا کہ پیش امام کو اس آدمی نے زہر دیا ہے اور اسے راستے سے ہٹا کر مسجد پر قبضہ
کیا تھا ۔ اس جاسوس کے گھر کی تالشی میں بہت سے ہتھیار برآمد ہوئے تھے۔ جو مختلف جگہوں میں چھپائے ہوئے تھے۔
وہاں زہر بھی برآمد ہوا ۔ وہ ایک کتے کو دیا گیا تو کتا تین دن بے چین رہا اور گرتا رہا اور اُٹھتا رہا ۔تیسرے دن شام کے
بعد کتا مر گیا ۔
علی بن سفیان نے اپنی تفتیش سلطان ایوبی کے آگے رکھی تو سلطان نے اسے کہا ……''ان تینوں کو قید میں خوب پریشان
کرو اور انہیں خوفزدہ کیے رکھو ،لیکن میں انہیں جالد کے حوالے نہیں کروں گا اور انہیں قید میں بھی نہیں ڈالوں گا ''۔
پھر آپ کیا کریں گے ؟''…… علی بن سفیان نے پوچھا ۔''
میں انہیں حفاظت اور عزت سے واپس بھیج دوں گا ''۔ علی بن سفیان نے حیرت زدہ ہو کر سلطان ایوبی کے منہ کی ''
طرف دیکھا ۔ سلطان نے کہا …… ''میں ایک جوا کھیلنا چاہتا ہوں علی ! ابھی مجھ سے کچھ نہ پوچھنا ۔ میں سوچ رہا
ہوں کہ یہ بازی لگائوں یا نہیں '' …… اس نے ذرا توقف سے کہا …… ''کل دوپہر کے کھانے کے بعد نائب ساالروں ،مشیروں
اعلی کمانداروں اور انتظامیہ کے ہر شعبے کے سربراہ کو میرے پاس لے آنا۔ تمہاری موجودگی بھی ضروری ہے
' ،
ٰ
علی بن سفیان نے اس رات پہلی بار اس ''عالم '' سے تفتیش کی لیکن وہ بڑا سخت آدمی نکال ۔ اس نے کہا ……
''غور سے میری بات سن لو علی بن سفیان ! ہم دونوں ایک ہی میدان کے سپاہی ہیں ۔ تم میرے ملک میں کبھی پکڑے
گئے تو مجھے امید ہے کہ تم جان دے دو گے ،اپنے ملک اور اپنی قوم کو دھوکہ نہیں دوگے ۔ تم یہی توقع مجھ سے رکھو
۔ مجھے معلوم ہے میرا انجام کیا ہوگا ۔ اگر میں تمہیں وہ ساری باتیں بتادوں جو تم مجھ سے پوچھنا چاہتے ہو تو بھی تم
لوگ مجھے بخشو گے نہیں۔ مجھے اس تہہ خانے میں مرنا ہے خواہ تم جالد سے مروادو خواہ اذیت میں ڈال کر مار دو ۔
پھر میں کیوں اپنی قوم کو دھوکہ دوں ''۔
مجھے امید ہے تم اپنا ارادہ بدل دو گے ' '…… علی بن سفیان نے کا …… ''کیا تم ان دو لڑکیوں کی عزت بچانے کی'''
''خاطر یہ پسند نہیں کرو گے کہ میں جو پوچھوں وہ مجھے بتا دو ؟
تم ''کیسی عزت؟''…… اس نے جوا ب دیا …… ''ان لڑکیوں کے پاس صرف حسن اور ناز نخرے ہیں یا وہ استادی ہے
جس سے وہ پتھر کو بھی موم کر لیتی ہیں ۔ ان کے پاس عزت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ یہی تو انہیں سکھالیا جا تا ہے
کہ اپنی عزت سے دستبردار ہوجاو۔ ہم لوگ اپنی جان اور عزت بہت دور پھینک آتے ہیں۔ تم ان لڑکیوں کے ساتھ جیسا بھی
سلوک کرنا چاہو کرلو ۔
19:27
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
"قسط نمبر33.۔" جب زہر نے زہر کو کاٹا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جیسا بھی سلوک کرنا چاہو کرلو ۔ انہیں میرے سامنے ذلیل کرلو ،میں تمہیں کچھ نہیں بتائوں گا ۔ لڑکیاں بھی تمہیں کچھ
نہیں بتائیں گی ''۔
جاسوس لڑکیوں کو ہم سزائے موت د ے دیا کرتے ہیں انہیں ذلیل کبھی نہیں کیا ''۔ علی بن سفیان نے کہا ……''ہمارا ''
مذہب عورت کواذیت میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیتا ''۔
میرے دوست !'' جاسوس نے کہا ……''تم پیار کا حربہ استعمال کرو یا اذیت کا ہم میں سے کوئی بھی اپنے اس ''
ساتھیوں کی نشاندہی نہیں کرے گا جو تمہاری سلطنت کی جڑوں میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ تم نے لڑکیوں کے ساتھ اچھا سلوک
کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ میں اس کے عوض تمہیں یہ بتا دیتا ہوں کہ یہ میری اور تمہاری جنگ نہیں صلیب اور چاند تارے
کی جنگ ہے ۔ میں ان معمولی جاسوسوں میں سے نہیں ہوں جو ادھر کی خبریں ادھر بھیجتے اور تمہارے آئندہ کے ارادے
معلوم کرتے رہتے ہیں ۔ اس شعبے میں میرا ُرتبہ بہت اونچا ہے ۔میں عالم ہوں ۔ اپنے مذہب کا مطالعہ اتنا ہی گہرا کیا
جتنا تمہارے مذہب کا ۔ انجیل اور قرآن کی تہہ تک پہنچا ہوں۔میں اعتراف کرتا ہوں کہ تمہار امذہب بہتر اور سادہ ہے ۔ یہ
ہر انسان کا مذہب ہے جس میں کوئی پیچیدگی نہیں۔ اس کی مقبولیت کی وجہ بھی یہی ہے ،مگر میں تمہیں بتا دینا چاہتا
ہوں کہ تمہارے دشمنوں نے تمہارے مذہب کی اصلیت کو بگاڑ دیا ہے تا کہ اس کی مقبولیت ختم ہوجائے ۔ یہودیوں نے
مسلمان علماء کے بھیس میں اس میں بے شمار بے بنیاد روایات شامل کر دی ہیں ۔اسالم توہمات کے خالف تھا مگر اس
وقت سب سے زیادہ توہم پرست مسلمان ہیں ۔ میں نے چاند گرہن اور سورج گرہن کے وقت مسلمانوں کو سجدے کرتے اور
……'' نذرانے دیتے دیکھا ہے اور ایسی کئی ایک بدعتیں تمہارے مذہب میں شامل کر دی گئی ہیں
ہم ایک لمبی مدت سے تمہارے اصل نظریات کو بگاڑ رہے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ دنیا میں صرف دو مذہب رہ جائیں''
گے ۔ ایک عیسائیت ،دوسرا اسالم ،اور یہ دونوں اس وقت تک معرکہ آراء رہیں گے جب تک دونوں میں سے ایک ختم نہیں
ہو جاتا ۔ کسی بھی مذہب کو تیروں اور تلواروں سے ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ کسی مذہب کو تبلیغ سے بھی ختم نہیں کیا
جا سکتا ۔ اس کایہی ایک طریقہ ہے جو میں نے اختیار کیا تھا ۔ میں تمہیں یہ بتا دیتا ہوں کہ اس مہم میں ،میں اکیال
نہیں ۔ پورا ایک گروہ تمہارے نظریات پر حملہ آور ہوا ہے ''۔
علی بن سفیان اس کے سامنے ٹہل رہا تھا اور اس کی باتیں غور سے سن رہا تھا ۔ اس نے عالم جاسوس کے پاوں میں
بیڑیاں اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال رکھی تھیں ۔ اس کا ارادہ تو یہ تھا کہ اس جاسوس کو بھی ہر جاسوس کی طرح اذیتوں
کے اسی مرحلے میں سے گزارے گا جہاں کسی بھی لمحے جاسوس سارے راز اُگل دیتے ہیں لیکن اس نے قید خانے کے ایک
محافظ کو بال کر اس آدمی کی بیڑیاں اور ہتھکڑیاں کھلوادیں اور اس کے لیے پانی اور کھانا منگوایا۔ اس نے کہا ……''میرے
اس سلوک کو ا ُگلوانے کا حربہ نہ سمجھنا ۔ ہم عالموں کی قدر کیا کرتے ہیں خواہ وہ کسی بھی مذہب کے ہوں۔ میں تم
سے کچھ نہیں پوچھوں گا ۔ جو کچھ بتانا پسند کرتے ہو بتا دو ''۔
اور میں تمہاری قدر کرتا ہوں علی !''…… عالم جاسوس نے کہا …… ''میں نے تمہاری بہت تعریف سنی ہے ۔ تم میں ''
فن کاکمال بھی ہے اور جذبے کی حرارت بھی ۔ تمہارے لیے سب سے بڑا اعزاز اور کیا ہو سکتا ہے کہ صلیبی بادشاہ تمہیں
قتل کرانا چاہتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم صالح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی کے ہم پلہ ہو …… میں تمہیں بتا رہا
تھا کہ میں نے علم سے یہ حاصل کیا ہے کہ کسی قوم کے تہذیب و تمدن اور مذہب کو بگاڑ دو تو فوجوں کے حملے اور
جنگ و جدل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ کسی قوم کو مارنا ہو تو اس میں جنسی آگ بھڑکادو ۔ یقین نہ آئے تو اپنے
مسلمان حکمرانوں کی حالت دیکھ لو ۔ تمہارے رسول ۖ نے کہا تھا کہ نفس کو مارو کہ یہی تباہی کی جڑ ہے ۔ تمہاری قوم
نے اس پر کب تک عمل کیا ؟ رسول ۖ کی زندگی تک۔ یہودیوں نے اپنی حسین لڑکیوں سے تمہاری قوم کو بھڑکایا۔ آج تمہاری
قوم نفس کی غالم ہو گئی ہے۔ تم میں جس کے پاس دولت آجاتی ہے تو وہ سب سے پہلے حرم کو عورتوں سے بھرتا
ہے ۔ ہر مسلمان خواہ وہ غریب ہی ہو ،چار بیویاں ضرور رکھنا چاہتا ہے ۔یہودیوں کے روپ میں تمہارے نظریات میں جنسیت
ڈال دی ۔ اگر اپنے رسول ۖ کی ہدایت پر مسلمان عمل پیرا رہتے تو میں یہ یقین سے کہتا ہوں کہ آج دنیا کا تین چوتھائی
حصہ مسلمان ہوتا ،مگر اب یہ حال ہے کہ تین چوتھائی مسلمان برائے نام مسلمان ہیں اور تمہاری سلطنت سکڑتی سمٹتی
چلی جا رہی ہے ۔ تم نہیں سمجھتے کہ یہ اس حملے کا نتیجہ ہے جو مجھ جیسے عالموں نے تمہارے مذہب اور تہذیب و
تمدن پر کیا ہے ''۔
میرے دوست !یہ حملے جاری رہیں گے۔ میں پیشین گوئی کر سکتا ہوں کہ ایک روز اسالم اس دنیا میں نہیں رہے گا ۔ ''
اگر ہوگا تو ایک فرسودہ نظریے کی شکل میں موجود رہے گا اور اس کے پیروکار جنسی لذت میں مست ہوں گے۔ ہر کوئی
صالح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی نہیں بن سکتا ۔ انہیں کل پرسوں مر جانا ہے۔ ان کے بعد جو آئیں گے ،انہیں ہم نفس
پرستی میں مبتال کر دیں گے۔ مجھے قتل کر دو ۔میری مہم کو قتل نہیں کر سکوگے ۔ انسانوں کے مر جانے سے مقاصد نہیں
مر جا یا کرتے ۔ میر جگہ کوئی اور آئے گا ۔ ہم اسالم کو ختم کر کے اپنا غالم بنا کر دم لیں گے …… اب چاہو تو مجھے
جالد کے حوالے کر سکتے ہو ۔ میں اور کچھ نہیں بتائوں گا ''۔
علی بن سفیان نے اس سے اور پوچھا بھی کچھ نہیں ۔ وہ غالبا ً سوچ رہا تھا کہ اس کا کام کس قدر دشوار اور کتنا نازک
ہے۔ اس صلیبی تخریب کار نے جو کچھ کہا ۔ سچ تھا ۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ قوم میں اخالقی تباہی کے جراثیم پیدا ہوچکے
تھے۔ عرب کے امراء وزراء تو پوری طرح تباہ ہوچکے تھے۔ صالح الدین ایوبی میدان جنگ میں صلیبیوں کو شکست دے کر
سلطنت اسالمیہ کو وسیع تر کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا مگر صلیبیوں نے ایسے پہلو سے حملہ کیا تھا جسے روکنا سلطان
ایوبی کے بس سے باہر نظر آتا تھا …… علی بن سفیان عالم جاسوس کی کوٹھری بند کراکے ان کوٹھڑیوں کے سامنے جا کھڑا
ہوا جن میں لڑکیاں قید تھیں ۔ وہ ایک کوٹھڑی کے اندر چال گیا ۔ لڑکی فرش پر بیٹھی تھی ۔ اسے دیکھ کر اُٹھ کھڑی ہوئی
۔ عالی اسے خاموشی سے دیکھتا رہا اور کچھ کہے بغیر باہر نکل آیا ۔
٭ ٭ ٭
اگلے روز دوپہر کے کھانے کے بعد فوج اور انتظامیہ کے تمام حاکم اور عہد یدار اس کمرے میں جمع تھے جہاں صالح الدین
ایوبی انہیں احکامات اور ہدایات دیا کرتا تھا ۔ اس سب کو پتہ چل چکا تھا کہ ایک جاسوس اور دو لڑکیوں کے ہمراہ پکڑا
گیا ہے۔ وہ آپس میں چہ میگو ئیاں کر رہے تھے کہ سلطان ایوبی آگیا ۔ اس نے سب کو گہری نظر سے یو ں دیکھا جیسے
ان میں سے کسی کو تالش کر رہا ہو۔
میرے عزیز ساتھیو !''اس نے کہا ……''آپ نے سن لیا ہوگا کہ ہم نے ایک مسجد سے ایک صلیبی کو پکڑا ہے جو وہاں''
باقاعدہ امام بنا ہوا تھا ''۔ اس نے تفصیل سے بتایا کہ اسے کس طرح پکڑا گیا ہے ۔ پھر انہیں وہ باتیں سنائیں جو
جاسوس نے علی بن سفیان کے ساتھ قید خانے میں کی تھیں ۔علی بن سفیان یہ باتیں سلطان ایوبی کو سنا چکا تھا ۔
صالح الدین ایوبی نے کہا ……''میں نے آپ کو یہ وعظ سنانے کے لیے نہیں بالیا کہ جاسوسوں اور تخریب کاروں سے بچو۔
میں آپ کو یہ بھی نہیں کہوں گا کہ اسالم دشمنوں کے ساتھ دوستی کرنے واال جہنم میں جائے گا ۔ میں صرف یہ کہوں گا
کہ کفار کے ساتھ دوستی کرنے والے کے لیے میں یہ دنیا جہنم بنا دوں گا ۔ میں اب کسی غدار کو سزائے موت نہیں دوں گا
۔ موت نجات کاذریعہ ہے ۔میں نے اب غدار کی یہ سز امقررکی ہے کہ اس کے گلے میں رسی ڈال کر ایک تختی آگے اور
ایک پیچھے لٹکا کر اسے ہر روز بازاروں میں گھما پھرا کر چوک میں کھڑا کر دیا جائے گا ۔ تختیوں پر لکھا ہوگا ……'میں
غدار ہوں ' …… اسے ہر روز صبح سے شام کھڑا رکھا جائے گا تا کہ وہ بھوکا پیاسا مر جائے گا اور اس کی الش شہر سے
باہر پھینک دی جائے گی۔ اس کے لواحقین کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ اس کا جنازہ پڑھیں یا اسے دفن کریں ''۔
لیکن میرے عزیز دوستو! اس سے دشمن کا کچھ نہیں بگڑ جائے گا ۔ وہ ایک اور غدار پیدا کرلے گا ۔جب تک اس کے ''
پاس عورت کے بے حیائی اور زروجواہرات کی فروانی اور ہمارے پاس ایمان کی کمی ہے ،وہ غدار پیدا کرتا رہے گا ۔ کیا یہ
آپ کی غیرت کے لیے چیلنج نہیں کہ آپ کا دشمن آپ کی مسجد میں بیٹھ کر آپ کا قرآن ہاتھ میں لے کر آپ کے رسولۖ
کے فرمان کو مسخ کرے؟ اس پہلو پر بھی غور کریں کہ صلیبی جو لڑکیاں یہاں جاسوسی کے لیے اور ہماری قوم کی کردار
کشی کے لیے بھیج رہے ہیں ،ان میں بہت سی لڑکیاں مسلمانوں کی بچیاں ہیں جنہیں ان کفار نے قافلوں سے اغوا کیا اور
انہیں بدکاری کے شرمناک تربیت دے کر جاسوسی کے لیے تیا ر کیا ہے ۔ فلسطین کفار کے قبضے میں ہے ۔ وہاں مسلمانوں
پر جو ظلم و تشدد ہو رہا ہے ۔وہ مختصرا ً یہ ہے کہ صلیبی ان کے گھروں کو لوٹتے رہتے ہیں۔ وہ فریاد کرتے ہیں تو قید
خانوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ان کی کمسن بچیوں کو غائب کر دیا جاتا ہے ۔ ان میں جو غیر معمولی طور پر خوبصورت
ہوتی ہیں ان کے ذہنوں سے مذہب اور قومیت نکا ل دی جاتی ہے اور انہیں بے حیائی کی تربیت دے کر مردوں کو انگلیوں
پر نچانا سکھا کر انہیں مسلمانوں کے عالقوں میں جاسوسی اور تخریب کاری کے لیے بھیج دیا جاتا ہے ۔ اس گروہ میں ان
کی اپنی لڑکیاں بھی ہوتی ہیں۔ ان میں تو شرم و حجاب اور عصمت کی کوئی قدر ہی نہیں ۔ وہ مسلمان بچیوں کو بھی
……'' بدی کے لیے استعمال کرتے ہیں
انہوں نے جب فلسطین پر قبضہ کیا تو وہ وہاں سب سے بڑا جو انقالب الئے وہ یہ تھا کہ انہوں نے مسلمانوں کے لیے ''
جینا حرام کر دیا ۔ ان کا قتل عام کیا ،ان کے گھروں کو لوٹ لیا ،مسجدوں کو اصطبلوں اور گرجوں میں بدل دیا ،مسلمان
بچیوں کا اغوا کر کے انہیں قحبہ خانوں میں بٹھا دیا گیا ،جو خوبصورت نکلیں انہیں تخریب کاری اور بدکاری کی تربیت دے
کر ہمارے امیروں اور وزیروں کے حرموں میں داخل کر دیا اور انہیں ہمارے خالف بھی استعمال کیا ۔ مسلمان گھرانوں کی
بچیوں کے گلوں میں انہوں نے صلیب لٹکا دی ۔ مسلمان جو فلسطین سے بھاگے اور ہمارے پاس پناہ لینے کے لیے قافلہ در
قافلہ چلے انہیں راستے میں شہیدکر دیا گیا۔ ہماری بہنوں اور بیٹیوں کی آبروریزی سرعام ہوئی اور میرے کلمہ گو بھائیو ! یہ
سلسلہ رکا نہیں۔ ابھی تک جاری ہے۔ صلیبیوں کا مقصد صرف یہ ہے کہ اسالم کا کوئی نام لیوا زندہ نہ رہے اور مسلمان
لڑکیاں عیسائیوں کو جنم دیں ۔ ہم سب پر اللہ کی لعنت برس رہی ہے کہ ہم اپنے ان مسلمان بھائیوں اور ان کی بچیوں کو
فراموش کیے بیٹھے ہیں جو وہاں ذلت اور مظلومیت کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ اس سے بڑا گناہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ
ہم ان شہیدوں کو بھی فراموش کیے بیٹھے ہیں جو صلیبیوں کی بربریت کا شکا ر ہوئے …… میں آپ کو کوئی حکم دینے سے
پہلے آپ سے پوچھتا ہوں کہ اس صورت حال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے ۔ آپ میں تجربہ کاری فوجی ہیں اور انتظامیہ کے
حاکم بھی ''۔
پرانی عمر کا ایک کماندار ا ُٹھا ۔ اس نے کہا ……''امیر مصر ! ہمیں آپ کے حکم کی ضرورت ہی کیا ہے ۔ یہ حکم
خداوندی ہے کہ تمہارے پڑوس میں مسلمان نسل پر ظلم ہو رہا ہو اور وہاں کے مسلمان خدا کو مدد کے لیے پکا ر رہے ہوں
تو ہم پر فرض عائد ہوتا ہے کہ اس ملک پر فوج کشی کر کے اپنے کلمہ گو بھائیوں کو نجات دالئیں۔ ہمیں فلسطین پر فوج
کشی کرنی چاہیے ''۔
نائب ساالر کے رتبے کے ایک اور شخص نے ا ُٹھ کر جوش سے کہا ……''کفار پر فوج کشی سے پہلے آپ ان مسلمان حاکموں
اور امراء پر فوج کشی کریں جو در پردہ کفار کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں ۔ ہمارے لیے یہ صورت حال باعث شرم ہے کہ
ہماری صفوں میں غدار بھی ہیں ۔ فیض الفاطمی کے رتبے کا آدمی غدار ہو سکتا ہے تو چھوٹے عہدوں پر کیا بھروسہ کیا جا
سکتا ہے ۔ ایک مسلمان بچی کی آبروریزی کا انتقام لینے کے لیے ساری قوم کو فنا ہو جانا چاہیے مگر یہاں ہماری ایک
پوری نسل کی آبروریزی ہو رہی ہے اور ہم سوچ رہے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ صلیبیوں نے ہماری بچیوں کو بدکاری کے
لیے تیار کیا اور ہم سے ان کے ساتھ بدکرای کرا رہے ہیں۔ محترم امیر ! اگر میں جذباتی نہیں ہو گیا تو مجھے یہ تجویز
پیش کرنے کی
اجا زت دیں کہ ہمیں فلسطین لینا ہے ۔ صلیبیوں نے ہمارے قبلہ اول کو بدی کا مرکز بنا رکھا ہے ''۔
ایک اور آدمی ا ُٹھا لیکن سلطان ایوبی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بٹھا دیا اور کہا ……''میں یہی سننا چاہتا تھا ۔ آپ میں
سے جو میرے قریب رہتے ہیں جانتے ہیں کہ میرا اولین ہدف فلسطین ہے ۔ میں مصر کی امارت کے فرائض سنبھالتے ہی
فلسطین پر حملہ کرنا چاہتا تھا مگر دو سال سے زیادہ عرصہ گزرگیا ہے ،ایمان فروشوں نے مجھے مصر میں ایسا اُلجھایا ہے
جیسے میں دلدل میں پھنس گیا ہوں۔ ذرا ان دو سالوں کے واقعات پر غور کریں۔ آپ صلیبی تخریب کاروں اور غداروں کے
خالف لڑ رہے ہیں ۔ سوڈانیوں کہ ہمارے خالف لڑانے والے ہم میں سے ہی ہیں۔ سوڈانی حبشیوں سے مصر پر حملہ کرانے
والے ہمارے اپنے ساالر اور کماندار تھے ۔ وہ اس قومی خزانے سے تنخواہ لیتے تھے جس میں قوم کا پیسہ ہے اور جس میں
زکو ة کا پیسہ ہے۔ میں نے اس امید پر دو سال گزار دئیے ہیں کہ میں جاسوسوں ،انہیں پناہ اور مدد
خدا کے نام پر دی ہوئی
ٰ
دینے والوں اور ایمان فروشوں کو ختم کر کے فلسطین پر حملہ کروں گا ،لیکن میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ تخریب کاری
کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا ۔ کیوں نہ اس چشمے کو جا کر بند کیا جائے جہاں اسالم دشمنی کے سامان پیدا کیے جاتے
……'' ہیں ۔ ہم صلیبیوں کو خود موقع دے رہے ہیں کہ وہ ہماری صفوں میں غدار پیدا کریں
میں نے آج آپ کو اس لیے بالیا ہے کہ فلسطین پر حملے میں اب زیادہ تاخیر نہیں ہوگی۔ فوج کی جنگی مشقیں اور ''
تربیت تیز کردو۔ مجاہدین کو لمبے عرصے کا محاصرہ کرنے کی مشق کرائو۔ مجھے ترک اور شامی دستوں پر پورا اعتماد ہے ۔
مصریوں اور وفادار سوڈانیوں میں جذبہ اور پختہ کرو اور انہیں بتاو کہ وہ تمہاری ہی بہنیں اور بیٹیاں ہیں جو صلیبیوں کی
…… درندگی کا شکا ر ہو رہی ہیں
آپ میں انتظامیہ کے جو حضرات ہیں ان کے ذمے یہ فرض ہے کہ وہ مسجدوں کے پیش اماموں سے کہیں کہ لوگوں کو جہاد
کی غرض و غائیت واضح کریں اور نو عمر لڑکوں میں عسکری خیاالت پیدا کریں۔ کوئی بھی پیش امام یا خطیب اسالمی
نظریات کو غلطی سے یا دانستہ غلط رنگ میں پیش کرتا ہے تو اسے امامت کے فرائض سے سبکدوش کر دیں ۔ اگر کردار
مضبوط ہو تو کوئی کشش گمراہ نہیں کر سکتی۔ ذہنوں کو فارغ نہ رہنے دیں ،کھال نہ چھوڑیں۔ ورنہ دشمن انہیں استعمال
کرے گا …… فوجوں کے کوچ کے احکامات آپ کو جلدی مل جائیں گے ۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو
عالم جاسوس اور دونوں لڑکیوں کو سلطان ایوبی نے مالقات کے لیے بالیا ۔ انہیں الیا گیا تو سلطان ایوبی نے کہا انہیں دوسرے
کمرے میں بٹھا دو۔ ان کے پاو ں میں بیڑیاں اور ہاتھوں میں زنجیر یں تھیں۔انہیں جس کمرے میں بٹھایا گیا وہ سلطان ایوبی
کے خاص کمرے کے ساتھ تھا ۔ دونوں کا ایک دروازہ تھا ،جس کا ایک کواٹر کھال ہوا تھا ۔ سلطان ایوبی کمرے میں ٹہل
رہا تھا ۔ اس نے ٹہلتے ٹہلتے کہا ……''میں فوری طور پر کرک پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر چکا ہوں ''۔
کرک فلسطین کا ایک قلعہ نما قصبہ تھا ۔ دوسرا مشہورقلعہ شوبک تھا ۔یہ بھی ایک مضبوط قلعہ تھا ۔ شوبک کو صلیبیوں
اعلی کمانڈرشوبک میں ہی اکھٹے ہوا کرتے تھے۔ یہیں صلیبیوں کی انٹیلی جنس کا
نے مرکز بنا رکھا تھا۔ صلیبی بادشاہ اور
ٰ
ہیڈ کوارٹر تھا اور یہ جاسوسوں کا ٹریننگ کیمپ تھا ۔ سلطان ایوبی کے فوجی اور شہری انتظامیہ کے حلقوں میں خیال یقین
کی حد تک تھا کہ سلطان ایوبی سب سے پہلے شوبک پر حملہ کرے گا کیونکہ اس جگہ کی اہمیت ہی ایسی تھی ۔ اگر
اس مضبوط اڈے کو سر کر لیا جاتا تو صلیبیوں کی کمر توڑی جا سکتی تھی ۔ مگر سلطان ایوبی کہہ رہا تھا کہ پہلے کرک
پر حملہ کیا جائے گا ۔ یہ تو ثانوی اہمیت کی جگہ تھی ۔ایک نائب ساالر نے کہا ……''محترم ! آپ کا حکم سر آنکھوں
پر ،میری ناقص رائے یہ ہے کہ پہلے شوبک سر کر لیا جائے۔ دشمن کی مرکزی کمان ختم کرنا ضروری ہے۔ اگر ہم نے
شوبک لے لیا تو کرک لینا کوئی مشکل نہ ہوگا اور اگر ہم نے کرک پر طاقت ضائع کردی تو شوبک لینا نا ممکن ہوجائے گا
''۔
دوسرے کمرے میں جاسوس بیٹھے تھے۔ درمیانی دروازے کا ایک کواڑ کھال تھا ۔ سلطان ایوبی کے کمرے کی آوازیں اس کمرے
میں صاف سنائی دے رہی تھیں ۔ عالم جاسوس کے کان کھڑے ہوئے ۔ وہ آہستہ آہستہ سرک کر دروازے کے ساتھ ہوگیا ۔ اس
وقت سلطان ایوبی کہہ رہاتھا ……''میں درجہ بدرجہ پیش قدمی کرنا چاہتا ہوں۔ کرک شوبک کی نسبت آسان شکار ہے ۔ میں
اس پر قبضہ کرکے اسے اڈہ بنا لوں گا ۔ کمک منگوا کر اور فوج کو کچھ عرصہ آرام دے کر پوری تیاری کے بعد شوبک پر
حملہ کروں گا ۔اس قصبے کا دفاع ہمارے جاسوسوں کے کہنے کے مطابق ،اتنا مضبوط ہے کہ ہمیں لمبے عرصے تک اسے
محاصرے میں رکھنا پڑے گا ۔ میرا خیال ہے کہ کرک پر ہماری زیادہ طاقت ضائع نہیں ہوگی۔ ہمیں پہلے ایک اڈا چاہیے اور
اایسی رسد گاہ جہاں سے ہمیں فوری طور پر رسد ملتی رہے ''۔
عالم جاسوس دروازے کے ساتھ بیٹھا سن رہا تھا ۔ دونوں لڑکیاں بھی اس کے پاس آ بیٹھیں۔ علی بن سفیان نے بھی دھیان
نہ دیا کہ ایسی راز کی باتیں جاسوسوں کے کانوں میں پہنچ رہی ہیں ۔ ہو سکتا ہے سلطان ایوبی اور علی بن سفیان نے اس
لیے احتیاط نہ کی ہو کہ ان جاسوسوں کو شوبک واپس تھوڑی ہی جانا تھا۔انہیں تو ساری عمر قید میں گزارنی تھی یا جالد
کے ہاتھوں مرنا تھا۔ عالم جاسوس نے لڑکیوں سے سرگوشی میں کہا ……'' کاش ،ہم میں سے کوئی ایک یہاں سے نکل سکے
اور صالح الدین ایوبی کے اس ارادے کی اطالع شوبک اور کرک تک پہنچا دے۔ یہ کتنا قیمتی راز ہے ،اگر پہلے ہی وہاں
پہنچا دیا جائے تو مسلمان کی فوج کو کرک کے راستے میں ہی لڑائی میں اُلجھا کر اس کی طاقت ختم کی جاسکتی ہے۔ ان
کا حملہ کرک سے دور ہی پسپائی میں بدال جا سکتا ہے ''۔
ہمیں مکمل رازداری کی ضرورت ہے ''…… سلطان ایوبی اپنے کمرے میں ٹہلتے ہوئے کہہ رہا تھا ……''اگر صلیبیوں کو ''
ہمارے حملے کی خبر قبل از وقت ہوگئی تو ہم کرک تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ وہ ہمیں راستے میں ہی روک لیں گے ۔
ہمارے لیے خطرہ یہ ہے کہ صلیبیوں کے مقابلے میں ہماری فوج بہت کم ہے۔ صلیبیوں کی نفری زیادہ ہونے کے عالوہ ان کے
گھوڑے اور ہتھیار ہم سے بہتر ہیں ۔ان کے خول لوہے کے ہیں او وہ زرہ بکتر بھی پہنتے ہیں ۔ اس سے ہمارے تیر انداز
بیکار ثابت ہوئے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ صلیبیوں کو بے خبری میں جالوں تا کہ انہیں کھلے میدان میں لڑنے کا موقعہ نہ
ملے۔ اگر وہ کھلے میدان میں لڑے تو ہمارے عقب میں آکر وہ ہماری رسد کا نظام روک دیں گے ۔ اس کا نتیجہ پسپائی اور
شکست کے سوا کچھ نہ ہوگا ۔ میں وہ راستہ اختیار کروں گا جو جاریب کے ٹیلوں میں سے گزرتا ہے۔ یہ بڑا وسیع اور
عریض عالقہ ہے ۔ مجھے خطرہ صرف یہ نظر آرہا ہے کہ صلیبی راستے میں آکر لڑے تو ہمیں شکست کے لیے تیار رہنا
چاہیے ''۔
اس کا عالج یہ ہے کہ فوج کو تین چار حصوں میں تقسیم کر کے صرف رات کے وقت کوچ کرایا جائے ۔ دن کے وقت ''
کوئی حرکت نہ کی جائے ''… علی بن سفیان نے کہا …… ''''راستے میں کوئی بھی اجنبی آدمی یا قافلہ نظر آئے تو
اسے روک لیا جائے اور کرک تک پہنچنے تک اسے اپنے ساتھ رکھا جائے ۔ جاسوسی کے خالف یہی اقدام کارگر ہوسکتا ہے
''۔
اس وقت جب عالم جاسوس اور دو لڑکیاں سلطان ایوبی کی زبان سے اس قدر نازک اور اہم منصوبہ سن رہی تھیں ،شوبک
کے قلعے میں صلیبیوں کی اہم شخصیتوں اور کمانڈروں کی کانفرنس بیٹھی ہوئی تھی ۔ وہ لوگ پریشان سے تھے۔ ان میں
حاتم االکبر نام کا ایک مصری مسلمان بھی بیٹھا تھا ۔ وہ انہیں یہ خبریں تفصیل سے سنا چکا تھا کہ خلیفہ العاضد معزولی
کے بعد مر چکا تھا ۔ مصر اب بغداد کے خلیفہ کے تخت تک آگیا تھا ۔ صلیبیوں کا وفادار مسلمان نائب ساالر رجب پر
اسرار طریقے سے مارا جا چکا تھا ۔ وہ جن تین لڑکیوں کو شوبک سے لے گیا تھا وہ ماری جا چکی ہیں اور صلیبیوں کا
ایک اور وفادار مسلمان فوجی حاکم فیض الفاطمی بھی جالد کے ہاتھوں مروا دیا گیا ہے۔ اب حاتم االکبر نے انہیں یہ خبر
بدسنائی کہ جس عالم جاسوس کو دو لڑکیوں کے ساتھ قاہرہ بھیجا گیا تھا وہ عین اس وقت لڑکیوں سمیت گرفتار ہوگیا ہے
جس وقت اس کا مشن کامیاب ہو رہا تھا ۔
یہ ثبوت ہے کہ صالح الدین ایوبی کا سراغرسانی کا نظام بہت ہوشیار ہے '' …… کونارڈ نے کہا …… کونارڈ صلیبیوں کا ''
مشہور حکمران اور فوجی کمانڈر تھا ۔ اس نے کہا ……''ان لڑکیوں کو وہاں سے آزاد کرانا ممکن نہیں ۔ نہایت اچھی لڑکیاں
ضائع ہوتی جا رہی ہیں ''۔
صلیب کی خاطر ہمیں یہ قربانی دینی پڑے گی ''…… صلیبیوں کے ایک اور بادشاہ اور فوجی کمانڈر گے آف لوزینان نے کہا''
……''ہمیں بھی مرنا ہے ۔ ہمارے جو آدمی پکڑے گئے ہیں انہیں بھول جاو۔ ان کی جگہ اور آدمی بھیجو۔ یہ دو لڑکیاں کہاں
''سے آئی تھیں ؟''…… اس نے پوچھا ……''اور وہ تین لڑکیاں کون تھیں جو رجب کے ساتھ ماری گی تھیں ؟
ان میں دو عیسائی تھیں ''…… ان کے انٹیلی جنس کے سربراہ نے جواب دیا ……''دونوں اطالوی تھیں اور تین مسلمان ''
تھیں ۔ انہیں بچپن میں اغوا کیا گیا تھا ۔ بہت خوبصورت تھیں ،جوانی تک انہیں یاد نہیں رہا تھا کہ وہ مسلمان
تھیں۔ ہم نے انہیں بچپن میں ہی اس فن کی تربیت دینی شروع کر دی تھی ۔ یہ شک بھی کیا جا سکتا ہے انہیں چونکہ
معلوم تھا کہ وہ مسلمان ہیں اس لیے انہوں نے ہمیں دھوکہ دیا ''۔
مسلمان تھیں تو کیا ؟''……کونارڈ نے کہا اور حاتم االکبر کی طرف اشارہ کر کے کہا ……''ہمارا پیارا دوست حاتم بھی تو ''
مسلمان ہے۔ کیا اسے اپنے مذہب کا پاس نہیں ؟''…… اس نے شراب کا گالس حاتم کے ہاتھ میں دے کر کہا ……''حاتم
جانتا ہے کہ صالح الدین ایوبی مصر کو غالمی کی زنجیروں میں جکڑنا چاہتا ہے اور وہ اسالم کے نام پر کھیل رہا ہے۔ ہم
مصر کو آزاد کرانا چاہتے تھے۔ اس کا طریقہ یہی ہے کہ صالح الدین ایوبی کو مصر میں چین سے بیٹھنے نہ دیا جائے ''۔
حاتم االکبر صلیبیوں کی شراب میں بدمست اس کی تائید میں سر ہال رہا تھا ۔ اس نے کہا …… ''میں اب وہاں ایسا انتظام
کروں گا کہ آپ کا کوئی آدمی وہاں پکڑا نہیں جائیگا ''۔
اگر ہم مصر میں یہ زمین دوز گڑبڑ جاری نہ رکھتے تو صالح الدین ایوبی ہم پر کبھی کا حملہ کر چکا ہوتا ''…… ایک ''
صلیبی کمانڈر نے کہا ……''یہ ہماری کامیابی ہے کہ ہم اس کی طاقت اس کے اپنے آدمیوں پر ضائع کر رہے ہیں''۔
کیا اس کے اور علی بن سفیان کے خاتمے کا ابھی کوئی انتظام نہیں ہوا؟''…… کونارڈ نے پوچھا ۔''
کئی بار ہوچکا ہے ''…… انٹیلی جنس کے سربراہ نے کہا ……''لیکن کامیابی نہیں ہوئی ۔ناکامی کی وجہ یہ ہے دونوں ''
پتھر قسم کے انسان ہیں ۔ نہ وہ شراب پیتے ہیں جو عورت کو پسند کرتے ہیں ۔ اس لیے نہ انہیں شراب میں کچھ دیا جا
سکتا ہے نہ عورت کے ہاتھوں مروایا جا سکتا ہے ۔اب کامیابی کی توقع ہے۔ ایوبی کے باڈی گارڈز میں چار آدمی فدائی
ہیں ۔ انہیں میں نے بڑی چابکدستی سے وہاں تک پہنچایا ہے ۔ جب بھی موقع مال وہ دونوں کو یا ایک کو ختم کر دیں
گے''۔
کیا ہمارے ہاں ایوبی کے بھیجے ہوئے جاسوس ہیں ؟''…… گے آف لوزینان نے پوچھا ۔''
یقینا ہیں ''……انٹیلی جنس کے سربراہ نے جوا ب دیا……''جب ہم نے مصر میں اور ادھر شام میں جاسوسی اور تباہ ''
کاری کا سلسلہ شروع کیا ہے صالح الدین نے بھی اپنے جاسوس ہمارے ہاں بھیج دئیے ہیں۔ ان میں سے دو پکڑے گئے ہیں ۔
وہ اذیتوں سے مر گئے ہیں مگر اپنے کسی تیسرے ساتھی کی نشاندہی نہیں کی ''۔
''ان کی کامیابی کس حد تک ہے ؟''
بہت حد تک ''……دوسرے نے جواب دیا……''کرک میں ہماری رسد کو جو آگ لگی تھی جس میں آدھی رسد جل گئی ''
اور گیارہ گھوڑے زندہ جل گئے تھے وہ ایوبی کے تباہ کار جاسوسوں کا کام تھا۔ میں آپ کو یہ بھی بتا سکتا ہوں کہ ہماری
جنگی کیفیت اور اہلیت کی پوری معلومات صالح الدین ایوبی کو ملتی رہتی ہے۔ اس کے جاسوسوں کو خراج تحسین پیش کرتا
ہوں کہ جان پر کھیل جاتے ہیں اور کام پوری دیانت داری سے کرتے ہیں ''۔
ان میں بہت دیر اس مسئلے پر بحث ہوتی رہی کہ مصر اور شام میں تخریبی کاروائیوں کو کس طرح تیز اور مزید تباہ کن کیا
جا سکتا ہے۔ حاتم اال کبر انہیں سلطان ایوبی کی حکومت کی کمزور رگیں اور مضبوط پہلو دکھا رہا تھا ۔ آخر فیصلہ ہوا کہ
حاتم االکبر کو کچھ آدمی اور دو تین لڑکیاں دی جائیں ۔
اس وقت سلطان ایوبی اپنے دو نائبین اور علی بن سفیان کے اپنے اس منصوبے سے آگاہ کر رہا تھا کہ وہ کرک پر حملہ
کرے گا ۔ اس نے بیس روز بعد کا دن بتایا جب اسے فوجوں کو کوچ کرانا تھا ۔ یہ تمام تر منصوبہ عالم جاسوس اور لڑکیاں
ساتھ والے کمرے میں سن رہی تھیں۔ عالم نے ایک بار پھر لڑکیوں کے ساتھ افسوس کا اظہار کیا کہ انہیں ایک راز معلوم
ہوگیا ہے مگر وہ اسے شوبک تک نہیں پہنچا سکتے ۔ ایک لڑکی نے کہا ۔ ''میں کوشش کروں گی کہ صالح الدین ایوبی
مجھے پسند کر لے۔ اگر تھوڑی سی دیر کے لیے بھی وہ مجھے اپنے ساتھ تنہائی میں رکھ لے تو میں اس سے رہا ئی پالوں
گی۔ مجھے امید یہ ہے کہ میں اس کی عقل پر قبضہ کر لوں گی''۔
معلوم نہیں اس نے ہمیں کیوں بالیا ہے ؟''…… عالم جاسوس نے کہا …… ''تم دونوں یاد رکھو۔ اگر وہ تمہیں اکیلے اکیلے''
بالئے تو دونوں یہ کوشش کرنا کہ اسے حیوان بنا سکو ۔ اگر وہ شراب پیئے تو تم جانتی ہو کہ اسے کتنی پال کر بے ہوش
کیا جاسکتا ہے۔ وہ بیہوش ہوجائے تو فرار کا طریقہ تم جانتی ہو اور دونوں کو معلوم ہے تمہیں کس کے پاس پہنچنا ہے۔ اس
کا گھر مسجد کے با لمقابل ہے ''۔
میں جانتی ہوں ''……ایک لڑکی نے کہا …… ''مہدی ابادان''۔''
ہاں !''…عالم جاسوس نے کہا ……''اگر تم مہدی تک پہنچ گئیں تو وہ تمہیں شوبک تک پہنچا دے گا۔ میرے فرار تو ''
سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ تم نے ایوبی کا منصوبہ سن لیا ہے ۔ کوچ کی تاریخ یاد رکھو۔ راستہ یاد کرلو۔ کوچ رات کے وقت
ہوا کرے گا۔ دن کے وقت اس کی فوج کوئی حرکت نہیں کرے گی ۔ حملہ کر ک پر ہوگا ۔ مجھے اُمید ہے کہ یہ اطالع
قبل از وقت پہنچ گئی تو ہماری فوج ایوبی کو راستے میں روک لے گی۔ ایوبی اسی صورت حال سے ڈرتا ہے ۔ شوبک میں
جا کر یہ خاص طور پر بتانا کہ ایوبی کھلے میدان میں آمنے سامنے نہیں لڑنا چاہتا کیونکہ اس کے پاس فوج کم ہے''۔
سلطان ایوبی کے کمرے سے ایسی آوازیں آئیں جیسے اجالس ختم ہوگیا ہو اور نائبین باہر جارہے ہیں ۔ عالم اور لڑکیاں فورا ً
اس جگہ سرک گئیں جہاں انہیں بٹھایا گیا تھا ۔ عالم کے کہنے پر انہوں نے سر گھٹنوں میں دے لیے جیسے انہوں نے کچھ
بھی نہیں سنا اور گردو بیش کا کوئی ہوش نہیں ۔ انہیں اپنے کمرے میں قدموں کی آوازیں سنائی دی تو بھی انہوں نے اوپر
نہ دیکھا۔ عالم نے اس وقت اوپر دیکھا جب کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا ……''اُٹھو۔ میرے ساتھ آئو ''……
وہ علی بن سفیان تھا ۔ علی نے لڑکیوں کو بھی اُٹھایا اور انہیں سلطان ایوبی کے کمرے میں لے گیا ۔
میں تمہارے علم اور تمہاری ذہانت کی داد دیتا ہوں''…… سلطان ایوبی نے عالم جاسوس سے کہا ……''ان کی زنجیریں ''
کھول دو …… تم تینوں بیٹھ جائو ''۔ علی بن سفیان باہر نکل گیا ۔ سلطان ایوبی نے عالم سے کہا ……''لیکن تم علم کو
کس شیطانی کام میں استعال کر رہے ہو۔ اس کی بجائے تم یہاں آکر اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے تو میں تمہاری قدر دل کی
گہرائیوں سے کرتا کہ تم اپنے مذہب اور اپنے نبی کی خدمت کر رہے ہو۔ کیا تمہارے مذہب میں یہ روا ہے کہ تم دوسرے
عیسی
مذہب کی عبادت گاہ میں اس کے مذہب میں جھوٹ شامل کرو ؟ کیا تمہارے دل میں اپنی مقدس صلیب کا ،حضرت
ٰ
''کا اور کنواری مریم کا یہ احترام ہے کہ جھوٹ اور ابلسیت جیسے کبیرہ گناہ کرکے تم ان کی عبادت کرتے ہو؟
یہ جھوٹ میرے فرائض میں شامل ہے ''…… عالم نے کہا …… ''میں نے جو کچھ کیا مقدس صلیب کے لیے کیا ''۔''
تم کہتے ہو کہ تم نے انجیل اور قرآن کا گہرا مطالعہ کیا ہے''…… سلطان ایوبی نے کا ۔ ''کیا ان دونوں میں سے کسی''
ایک کتاب میں بھی انسان کو اس کی اجازت دی گئی ہے کہ اس قسم کی نوخیز لڑکیوں کو بدکاری کی راہ پر ڈالو اور غیر
مردوں کے پاس بھیج کر اپنی مطلب براری کرو؟ کیا انجیل نے تمہیں کہا ہے کہ صلیب کی خاطر اپنی قوم کی بیٹیوں کی
عظمت دوسروں کے حوالے کر دو ؟ کیا تم نے کسی مسلمان لڑکی کو قرآن اور اسالم کے نام پر اپنی عصمت غیر مردوں کے
''حوالے کرتے کبھی دیکھا ہے ؟
اسالم کو میں عیسائیت کا دشمن سمجھتا ہوں''…… عالم نے کہا …… ''مجھے جو زہر ہاتھ آئے گا اسالم کی رگوں میں ''
ڈالوں گا''۔
تم اتنے میٹھے زہر سے چند ایک مسلمانوں کے کردار کو ہالک کرسکتے ہو''……سلطان ایوبی نے کہا …… ''اسالم کاتم ''
کچھ نہیں بگاڑ سکو گے ''……اس نے لڑکیوں سے کہا ……''تم کس خاندان کی بیٹیاں ہو ؟ معلوم ہے تمہیں ؟ اپنی اصلیت
جانتی ہو تو مجھے بتائو ؟ ''…… دونوں خاموش رہیں ۔سلطان ایوبی نے کہا ……''تم نے اپنی پاکیزگی ختم کرالی ہے ۔ اب
''بھی تم کسی باعزت گھر کی قابل احترام بیویاں بن سکتی ہو؟
میں قابل احترام بیوی بننا چاہتی ہوں ''……ایک لڑکی نے کہا ……''کیا آپ مجھے قبول کریں گے ؟ اگر نہیں تو مجھے ''
کوئی باعزت خاوند دے دیں ۔ میں اسالم قبول کرکے گناہوں سے توبہ کر لوں گی''۔
سلطان ایوبی مسکرایا اور ذرا سوچ کر کہا ……''میں نہیں چاہتا کہ اس عالم کا علم جالد کی تلوار سے خون میں ڈوب جائے
اور میں نہیں چاہتا کہ تم دونوں کی جوانی اور حسن میرے قید خانے میں گلتا سڑتا رہے …… سنو لڑکی ! تم اگر واقعی
گناہوں سے توبہ کرنا چاہتی ہو تو میں تمہیں تمہارے ملک بھیج دیتا ہوں ،لیکن وہ تمہارا نہیں ،ہمارا ملک ہے ۔ میں ایک
نہ ایک دن اپنا ملک تمہارے بادشاہوں سے لے لوں گا۔ تم جائو اورکسی کی بیوی بن جائو …… میں تم تینوں کو رہا کرتاہوں
''۔
تینوں یوں بدکے جیسے انہیں سوئیاں چبھودی گئی ہوں۔ اتنے میں علی بن سفیان لوہار کے ساتھ کمرے میں آیا اور تینوں کی
زنجیریں کھول دی گئیں۔ سلطان نے کہا ……''علی! میں نے انہیں رہا کر دیا ہے''…… علی بن سفیان کا رد عمل بھی وہی
تھا ۔ وہ کتنی ہی دیر سلطان ایوبی کے منہ کی طرف دیکھتا رہا …… سلطان نے کہا ……''انہیں تین اونٹ دو اور چار مسلح
محافظ ساتھ بھیجو جو گھوڑ سوار ہوں۔ نہایت ذہین اور دلیر محافظ جو انہیں شوبک کے قلعے میں چھوڑ کر واپس آجائیں ۔
راستے کے لیے سامان ساتھ دو اور آج ہی انہیں روانہ کر دو ''…… اس نے عالم سے کہا ……''وہاں جا کر یہ غلط فہمی نہ
پھیال دینا کہ صالح الدین ایوبی جاسوسوں کو بخش دیا کرتا تھا ۔ میں انہیں دانے کی طرح چکی میں پیس پیس کر مارا کرتا
ہوں۔ تمہیں صرف اس لیے رہا کر رہا ہوں کہ تم عالم ہو ۔ تمہیں موقع دے رہا ہوں کہ علم کا روشن پہلو دیکھو۔ تمہاری
نجات اسی میں ہے ''۔
سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا جب انہیں انٹوں پر سوار کرکے چار محافظوں کے ساتھ روانہ کر دیا گیا ۔ محافظ خاص طور پر
منتخب کیے گئے تھے ۔ اس انتخاب کی دو وجوہات تھیں ۔ ایک یہ کہ راستے میں ڈاکوئوں کا خطرہ تھا ۔ دوسری وجہ یہ
کہ انہیں صلیبی کمانڈروں کے سامنے جانا تھا ۔ وہ خوبرواور وجیہہ تھے ۔ اونٹ اور گھوڑے بھی نہایت اچھی قسم کے بھیجے
گئے تھے ،مگر سب حیران تھے کہ سلطان ایوبی نے یہ فیاضی کیوں کی ہے ۔ دشمن کو بخش دینا اس کا شیوہ نہیں تھا ۔
علی بن سفیان نے اس سے پوچھا تو اس نے اتنا ہی کہا …… ''علی ! میں نے تمہیں کہا تھا کہ میں ایک جواء کھیلنا
چاہتا ہوں ۔ اگر میں بازی ہارگیا تو صرف اتنا ہی نقصان ہوگا جو میں پہلے ہی اُٹھا چکا ہوں کہ دشمن کے تین جاسوس
میرے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ اس سے زیادہ کوئی نقصان نہیں ہوگا ''……علی بن سفیان نے اس جوئے کی وضاحت چاہی
لیکن سلطان ایوبی نے اسی پر بات ختم کردی کہ وقت آنے پر بتاوں گا ۔
باقی سب تو حیران تھے مگر رہا ہونے والے خوشی سے بائولے ہوئے جا رہے تھے ۔خوشی صرف رہائی کی نہیں تھی ۔ اصل
خوشی اس راز کی تھی جو وہ اپنے ساتھ لے جا رہے تھے۔ وہ قاہرہ شہر سے دورنکل گئے تھے ۔ ان کے اونٹ پہلو بہ پہلو
جا رہے تھے ۔ دو محافظ آگے تھے اور دو پیچھے ۔ عالم نے ان سے پوچھا تھا کہ وہ ان کی زبان سمجھتے ہیں ؟چاروں
اپنی زبان کے سوا اور کوئی زبان نہیں جانتے تھے ۔ عالم اور لڑکیاں ان کی زبان بڑی روانی سے بولتی تھیں ۔ یہ انہیں خاص
طور پر سکھائی گئی تھی۔
عالم نے لڑکیوں سے اپنی زبان میں کہا ……''خدائے یسوع مسیح نے معجزہ دکھایا تھا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے
ہمارے ساتھ پیار ہے اور اسے ہماری فتح منظور ہے ۔ یہ سچے مذہب کی نشانی ہے ۔ صالح الدین ایوبی اور علی بن سفیان
جیسے دانائوں کو خدا نے عقل کا ایسا اندھا کیا ہے کہ انتہائی خطرناک راز ہمارے کانوں میں ڈال کر ہمیں رہا کر دیا ہے ۔
ہم اپنی فوج کو ان کا سارا منصوبہ سنائیں گے اور ہماری فوج ایوبی کو صحرا میں گھیر کر ختم کردے گی ۔ اسے کرک تک
پہنچنے کی مہلت ہی نہیں ملے گی ۔ مجھے ا ُمید ہے کہ ہمارے کمانڈر جنگ کو حملے تک محدود نہیں رکھیں گے۔ وہ مصر
پر ضرور چڑھائی کریں گے ۔ مصر فوجوں سے خالی ہوگا ۔ یہ فتح بڑی آسان ہوگی ''۔
آپ عالم ہیں ،تجربہ کار ہیں ''…… ایک لڑکی نے کہا ……''مگر آپ جسے معجزہ کہہ رہے ہیں وہ مجھے ایک خطرہ ''
دکھائی دے رہا ہے …… خطرہ یہ چار محافظ ہیں ۔ کہیں آگے جا کر یہ ہمیں قتل کر کے واپس چلے جائیں گے ۔ صالح
الدین ایوبی نے ہمارے ساتھ مذاق کیا ہے ۔ جالد کے حوالے کرنے کی بجائے ہمیں ان کے حوالے کر دیا ہے ۔ یہ ہمیں جی
بھر کے خراب کریں گے اور قتل کر دیں گے''۔
اور ہم نہتے ہیں ''…… عالم نے یوں کہا جیسے اس کے ذہن سے خوش فہمیاں نکل گئی ہوں ۔ اس نے کہا …… ''تم ''
نے جو کہا ہے وہ درست ہو سکتا ہے ۔ کوئی حکمران اپنے دشمن کے جاسوس کو بخش نہیں سکتا اور مسلمان اس قدر
جنس پرست ہیں کہ تم جیسی حسین لڑکیوں کو چھوڑ نہیں سکتے ''۔
ہمیں راتوں کو چوکنا رہنا پڑ ے گا ''…… دوسری لڑکی نے کہا ……''رات کو یہ سوجائیں تو انہیں انہی کے ہتھیاروں سے''
ختم کر دیا جائے ۔ ذرا ہمت کی ضرورت ہے ''۔
ہمیں یہ ہمت کرنی پڑے گی ''……عالم نے کہا ……''یہ کام آج ہی رات ہوجائے تو اچھا ہے۔ صبح تک ہم بہت دور نکل''
جائیں گے ۔
19:32
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
"قسط نمبر34.۔" جب زہر نے زہر کو کاٹا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دو محافظ آگے اور دو پیچھے اپنی گپ شپ لگاتے چلے جارہے تھے ۔ ان کے انداز سے ظاہر ہوتا تھا جیسے انہیں معلوم ہی
نہیں کہ دو اتنی دلکش لڑکیاں ان کی تحویل میں ہیں ۔ سورج غروب ہو رہا تھا ۔ ایک نے عالم سے کہا کہ ہم ابھی ُرکیں
گے نہیں۔رات کا پہال پہر چلتے گزاریں گے …… وہ چلتے گئے اور صحرا کی رات تاریک ہوتی گئی۔ عالم اور لڑکیاں اونٹوں کو
قریب کر کے محافظوں کے قتل کا منصوبہ بنا رہی تھیں۔ بہت دیر بعد ایک سر سبز جگہ آگئی۔ محافظ ُرک گئے اور وہیں
پڑاو کیا ۔ انہوں نے دیکھا کہ تین محافظ لیٹ گئے تھے اور ایک ٹہل رہا تھا ۔ عالم لڑکیوں کے ساتھ محافظوں سے کچھ دور
لیٹا رہا ۔ ان تینوں کی نظریں محافظوں پر تھیں۔ وہ چوتھے محافظ کو دیکھتے رہے۔ وہ پڑاو کے اردگرد ٹہلتا رہا ۔ ایک کھٹکا
سا ہوا ۔ وہ دوڑ کر ادھر گیا اور اچھی طرح دیکھ بھال کرکے آگیا ۔
تقریبا ً دو گھنٹے گزر گئے ۔ اس نے اپنے ایک اور ساتھی کو جگایا اور خود اس کی جگہ لیٹ گیا ۔ جو جاگا تھا وہ پڑاو کے
اردگرد ٹہلنے لگا ۔ کبھی جانوروں کے پاس جاکر انہیں دیکھتا اور کبھی سوئے ہوئے انسانوں کو دیکھتا ۔ عالم نے لڑکیوں سے
کہا …… ''ہم کامیاب نہیں ہو سکیں گے ۔ یہ کمبخت پہرہ دے رہے ہیں ،جو ہوگا ہو کے رہے گا ،سو جائو ''۔
رات گزر گئی ۔ صبح ابھی دھندلی تھی جب محافظوں نے انہیں جگایا اور روانہ ہونے کے لیے کہا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ پھر
اسی ترتیب میں چلے جا رہے تھے ۔ جس میں ایک روز پہلے تھے ۔ تین اونٹ پہلو بہ پہلو ،دو محافظ آگے اور دو اونٹوں
کے پیچھے ۔ وہ ایک بار پھر لڑکیوں سے ال تعلق ہوگئے ۔ انہوں نے کوئی ایسی بات بھی نہیں کی تھی جس سے شک ہوتا
کہ یہ لوگ اوباش یا بدمعاش ہیں۔ سورج ا ُبھرتا آیا ۔ پھر یہ قافلہ ٹیلوں کے عالقے میں داخل ہوگیا ۔ مٹی اور ریت کی
پہاڑیاں دیواروں کی طرح کھڑی تھیں ۔ ان میں گلیاں سی تھیں اور ان پر پہاڑیوں کا سایہ تھا ۔ لڑکیاں ڈرنے لگیں ۔ ڈر ان
کے چہرے سے ظاہر ہو رہا تھا ۔ ان کی نگا ہ میں یہ جگہ جرم اور قتل وغیرہ کے لیے موزوں تھی مگر محافظ ان کی
طرف دیکھ نہیں رہے تھے ۔
اس سے کہو کہ ہمارے ساتھ باتیں کریں ''…… ایک لڑکی نے عالم سے کہا …… ''ان کی خاموشی اور ال تعلقی مجھے ''
ڈرا رہی ہے ۔ انہیں کہو کہ ہمیں مارنا چاہتے ہیں توفورا ً مار دیں ۔ میں موت کا انتظار نہیں کر سکتی ''۔
عالم خاموش رہا ۔ وہ لڑکیوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا ۔ وہ تینوں ان محافظوں کے رحم و کرم پر تھے …… سورج سر
پر آگیا تو وہ ان ٹیلوں کے اندر ایسی جگہ ُرک گئے جہاں ریت کے سلوں والے ٹیلے تھے اور اُوپر جا کر آگے کو جھکے ہوئے
تھے ۔ ان کے سائے میں انہوں نے قیام کیا ۔ کھانے کے دوران عالم نے محافظوں سے پوچھا ……''تم لوگ ہمارے ساتھ باتیں
''کیوں نہیں کرتے ؟
جو باتیں ہمارے فرض میں شامل نہیں وہ ہم نہیں کیا کرتے ''…… محافظوں کے کمانڈر نے جواب دیا اور پوچھا ……''اگر ''
تم لوگ کوئی خاص بات کرنا چاہتے ہو تو ہم سنیں گے اور جواب دیں گے ''۔
کیا تمہیں معلوم ہے کہ ہم کون ہیں ؟'' عالم نے پوچھا ۔''
تم تینوں جاسوس ہو''……محافظ نے جواب دیا …… ''یہ لڑکیاں بدکار ہیں ۔ یہ ان آدمیوں کے استعمال کے لیے ہیں ''
جنہیں تم لوگ ہمارے خالف استعمال کرنا چاہتے ہو۔ امیر مصر ،اللہ اس کے نیک ارادوں میں برکت دے ،تمہیں معلوم نہیں
کیوں بخش دیا ہے ۔ ہمیں حکم مال ہے کہ تمہیں قلعہ شوبک میں چھوڑ آئیں ۔ تم امانت ہو …… تم نے یہ بات مجھ سے
''کیوں پوچھی ہے؟
تمہارے ساتھ باتیں کرنے کو جی چاہ رہا تھا ''……عالم نے جواب دیا …… ''اتنا لمبا سفر اس التعلق اور بیگانگی سے بڑا''
کھٹن ہو رہا ہے ۔ ہمارے ساتھ باتیں کرتے چلو''۔
ہم ہمسفر ہیں ''……محافظ نے کہا …… ''لیکن ہماری منزلیں جدا ہیں ۔ دو روز بعد ہم جدا ہوجائیں گے ''۔''
عالم جاسوس نے جیسے محافظ کا جواب سنا ہی نہ ہو ۔ اس کی آنکھیں کسی دور کی چیز کو دیکھ رہی تھیں ۔ وہ صحرا
سے اچھی طرح واقف تھا ۔ صحرا کے خطروں سے واقف تھا ۔ اس کی آنکھیں حیرت اور اورغالبا ً ڈر سے پھٹی جا رہی تھیں
۔ محافظ نے اس طرف دیکھا جس طرف عالم دیکھ رہا تھا ۔ محافظ کی بھی آنکھیں کھل گئیں …… کوئی دو سو گز دور ایک
بلند جگہ دو اونٹ کھڑے تھے۔ ان پر دو آدمی سوار تھے جن کے چہروں اور سروں پر پگڑیاں لپٹی ہوئی تھیں ۔ اونٹوں کی
ٹانگیں نظر نہیں آرہی تھیں ۔ وہ بلندی کے پیچھے تھیں۔ سوار خاموشی سے کھڑے محافظوں اور جاسوسوں کے قافلے کو دیکھ
رہے تھے ۔ ان کا انداز اور لباس بتا رہا تھا کہ وہ کون ہیں ۔
جانتے ہو یہ کون ہیں ''…… محافظوں کے کمانڈر نے عالم سے پوچھا ۔''
صحرائی ڈاکو ''……عالم نے جواب دیا ۔ ''معلوم نہیں کتنے ہوں گے ''۔''
دیکھا جائے گا''……محافظ نے کہا ۔ اس نے اُٹھتے ہوئے اپنے ایک ساتھی سے کہا ……''میرے ساتھ آو ''۔''
وہ دونوں گھوڑوں پر سوار ہو کر ڈاکووں کی طرف چلے گئے ۔ ان کے پاس تلواروں کے عالوہ برچھیاں بھی تھیں ۔ انہیں اپنی
طرف آتا دیکھ کر شتر سوار بلندی کے پیچھے غائب ہوگئے ۔دومحافظ جو پیچھے رہ گئے تھے ۔ قریب کے ٹیلے پر چڑھ گئے
۔ عالم نے لڑکیوں سے کہا……''میرا خیال ہے تمہارا خدشہ صحیح ثابت ہورہا ہے ۔ یہ ڈاکو نہیں ۔ یہ صالح الدین ایوبی کے
بھیجے ہوئے آدمی معلوم ہوتے ہیں ورنہ یہ محافظ اتنی دلیری سے ان کی طرف نہ چلے جاتے ۔ ایوبی تم دونوں کو بہت
زیادہ ذلیل کرانا چاہتا ہے ۔ میرے لیے تو موت لکھی ہوئی ہے۔ تمہیں بڑی خوفناک سزا دی جائے گی ''۔
اس کامطلب یہ ہے کہ ہم آزاد نہیں''…… ایک لڑکی نے کہا …… ''ہم ابھی تک قیدی ہیں ''۔''
یہی معلوم ہوتاہے ''……دوسری لڑکی نے کہا۔''
دونوں محافظ واپس آگئے تھے ۔ ان کے ساتھی اور جاسوس ان کے گرد جمع ہوگئے ۔ محافظ کے کمانڈر جس کا نام حدید تھا
انہیں بتانے لگا……''وہ صحرائی قزاق ہیں ۔ ہم ان سے مل آئے ہیں ۔ انہوں نے مجھے کہا ہے کہ تم فوج کے آدمی اور
مسلمان معلوم ہوتے ہو لیکن یہ لڑکیاں مسلمان نہیں ۔ یہ دونوں لڑکیاں ہمارے حوالے کردو ،ہم تمہیں پریشان نہیں کریں گے ۔
میں نے انہیں کہا ہے کہ یہ لڑکیاں کسی بھی مذہب کی ہوں ،ہمارے پاس امانت ہیں۔ ہم جیتے جی تمہارے حوالے نہیں کریں
گے ۔ وہ مجھے سمجھانے کی کوشش کرتے رہے کہ ہم اپنی جانیں ضائع نہ کریں ۔ میں انہیں کہہ آیا ہوں کہ پہلے ہماری
جانیں ضائع کرو پھر لڑکیوں کو لے جانا ''…… اس نے عالم اور لڑکیوں سے پوچھا ……''تم کوئی ہتھیار استعمال کر سکتے
ہو؟''۔
ان لڑکیوں کو ہر ایک ہتھیار چالنے کی تربیت دی گئی ہے ''۔عالم نے کہا ……''تمہارے پاس برچھیاں ہیں ،تلواریں بھی''
ہیں اور تیر کمان بھی ہیں ۔ ان میں سے ایک ایک ہتھیار ہمیں دے دو ''۔
ابھی نہیں ''……حدید نے سوچ کرکہا ……''میں قبل ازوقت تمہیں ہتھیار نہیں دے سکتا ۔ اگر ڈاکووں سے ٹکر ہوگئی تو ''
اس وقت دے دوں گا ……ہمیں اس عالقے سے فورا ً نکل جانا چاہیے ۔ ان سے گھوڑوں اوراونٹوں پر لڑائی ہوگئی تو یہ عالقہ
موزوں نہیں گھوڑے گھما پھرا کر لڑنے کے لیے یہ جگہ خراب ہے ''۔
وہ فورا ً وہاں سے چل پڑے۔ محافظوں نے کمانیں ہاتھوں میں لے لیں اور ترکش کھول لیے۔ حدید آگے تھا ۔ اسے اس کے
ساتھی نے کہا …… ''ان جاسوسوں کو ہتھیار دینا ٹھیک نہیں ۔ آخر ہمارے دشمن ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ ڈاکوئوں کے ساتھ
مل کر ہمیں مار ڈالیں ''۔
عالم لڑکیوں سے کہہ رہا تھا ……''ان لوگوں کی نیت ٹھیک نہیں ،انہوں نے ہمیں ہتھیار دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ڈاکووں
ان کے اپنے آدمی ہیں۔ یہ تم دونوں کو ان کے حوالے کر دیں گے اور مجھے مروا دیں گے ''۔
دونوں کو ایک دوسرے پربھروسہ نہیں تھا اور دونوں پر ڈاکووں کا ڈر سوار ہوگیا تھا ۔ حدید نے اپنے محافظوں سے کہہ دیا تھا
کہ کوئی نقاب پوش نظر آئے تو مجھے بتائے بغیر اس پرتیر چال دو۔ ان کے ساتھ ضرور ٹکر ہوگی۔ دیکھنا یہ ہے کہ کب
ہوگی اور کہاں ہوگی …… وہ تیز رفتاری سے چلتے گئے ۔ گھوڑوں اور اونٹوں کو آرام ،چارہ اور پانی ملتا رہا تھا ،اس لیے
تھکن کا ان پر کوئی اثر نہیں تھا ۔ ٹیلوں کا عالقہ بہت دور چال گیاتھا ۔ کئی جگہوں پر قافلہ اونچے ٹیلوں کے درمیان آجاتا
تھا ۔ حدید کو ڈریہ تھا کہ ڈاکو اوپر سے تیرنہ برسا دیں ۔ اس نے گھوڑوں کو ایڑ لگانے کو کہا اور جاسوسوں سے کہا کہ وہ
بھی اونٹوں کو گھوڑوں کی رفتار پر کر لیں اور اوپرکودیکھتے رہیں ۔
وہ اس عالقے سے نگل گئے ۔ کوئی ڈاکو نظر نہیں آیا ۔سورج نیچے جانے لگا تھا ۔ ایک بار دو اونٹ اسی سمت پر جاتے
نظر آئے ،جدھر یہ قافلہ چلتارہا ۔ راستے میں ایک جگہ پانی مل گیا ۔ انہوں نے جانوروں کو پانی پالیا ،خود بھی پیا اورپل
پڑے۔ سورج نیچے جاتا رہا اور ا ُفق کے پیچھے چالگیا ۔ شام تاریک ہوئی تو حدید نے قافلے کو روک لیا ۔ کہنے لگا ……''یہ
جگہ لڑائی کے لیے اچھی ہے کیونکہ اردگرد کوئی رکاوٹ نہیں ''…… اس نے گھوڑوں کی زینیں کھولی نہیں ،تاکہ ضرورت کے
وقت گھوڑے تیارملیں۔ اونٹوں کو بٹھا دیاگیا۔ کھانا کھا کر حدید نے لڑکیوں کو اپنے درمیان لٹایا اور انہیں کہا کہ وہ ہوشیار رہیں
.۔ محافظوں سے کہا کہ وہ کمانیں تیار رکھیں۔ سوئیں نہیں ،لیٹے رہیں ۔ اسے یقین تھا کہ رات کوحملہ ضرور ہوگا
رات آدھی گزر گئی تھی ۔ صحرا پر سکون اور خاموش رہا ۔ پھر اچانک ان کے گرد سیاہ بھوتوں جیسے بڑے بڑے سائے
دوڑنے لگے ۔ اونٹوں کے قدموں کی دھمک دھمک سنائی دے رہی تھی اور زمین دہل رہی تھی۔ اونٹوں کی تعداد دس سے
زیادہ معلوم ہوتی تھی ۔ ان پر ایک ایک سوا رتھا ۔ وہ محافظوں وغیرہ کو دہشت زدہ کرنے کے لیے ان کے اردگرد اونٹوں کو
دوڑا رہے تھے ۔ تین چا ر چکر پورے کرکے ایک نے للکارا ……'' لڑکیاں ہمارے حوالے کردو۔ تم سے کچھ اور لیے بغیر ہم
چلے جائیں گے ''۔
اس کے جواب میں حدید نے لیٹے لیٹے پہال تیر چالیا۔ جسے تیر لگا اس کی بڑی زور کی آواز سنائی دی ۔ دوسرے محافظوں
نے بھی لیٹے لیٹے ایک ایک تیر چالیا ۔ دو اونٹ بلبال کر بولے اوربے قابو ہوگئے ۔ حدید نے لڑکیوں سے کہا …… ''بھاگنا
نہیں ہمارے ساتھ رہنا''۔
شتر سواروں میں سے کسی نے کہا ……''ٹوٹ پڑو ۔ کسی کو زندہ نہ چھوڑو۔ لڑکیوں کو اُٹھالو''۔
صحرا کی رات اتنی شفاف ہوتی ہے کہ چاندنی نہ ہو تو بھی کچھ دور تک نظر آجاتا ہے۔ شتر سوار اونٹوں سے کود آئے ۔
پھر تلواریں اور برچھیاں ٹکرانے کااور دونوں فریقوں کی للکار کا شور رات کا جگر چاک کرنے لگا ۔ کسی کو ایک دوسرے کا
ہوش نہ رہا۔ حدید اورمحافظ نے لڑکیوں کو اس طرح اپنے درمیان کر لیا تھا کہ محافظوں کی پیٹھیں لڑکیوں کی طرف تھیں ۔
''…… لڑکیوں نے کئی بار کہا کہ ہمیں بھی کچھ دو ۔ حدید نے کہا
میر ی تلوار نکال لو '' …… وہ خود برچھی سے لڑ رہا تھا ۔ ایک لڑکی نے اس کی نیام سے تلوار نکال لی اور دونوں
محافظوں کے درمیان سے نکل گئی۔ حدید نے اسے کہا …… ''ہم سے جدا نہ ہونا لڑکی ''…… ڈاکوئوں کا زیادہ ہلہ لڑکیوں
پر تھا۔ عالم کی کوئی آواز سنائی نہ دی ۔
یہ معرکہ بہت دیر لڑاجاتا رہا ۔ آدمی بکھرتے چلے گئے ۔ محافظ ایک دوسرے کو پکارتے رہے پھر ان کی پکار ختم ہوگئی۔
معرکے کا شور بھی کم ہوتا گیا۔ حدید نے اپنے ساتھیوں کو پکارا لیکن اسے کوئی جواب نہیں مل رہا تھا ۔ اسے ایک لڑکی
کی آواز سنائی دی ۔ وہ اسے پکار رہی تھی ۔ اس کے ساتھ ہی ایک گھوڑے کے سرپٹ دوڑنے کی آواز سنائی دی ۔ حدید
سمجھ گیا کہ کوئی ڈاکو ایک لڑکی کو اونٹ کی بجائے کسی محافظ کے گھوڑے پر ڈال کر لے گیا ہے ۔ وہ دوڑ کر ایک
گھوڑے تک پہنچا ۔ زین کسی ہوئی تھی۔ وہ گھوڑے پر سوار ہوا اور بھاگنے والے گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز پرتعاقب میں
گیا ۔ دوسری لڑکی کے متعلق اسے معلوم نہیں تھا کہ کہاں ہے۔ اس نے گھوڑے کو ایڑ لگائی۔ صحرا میں کوئی رکاوٹ ،کوئی
ندی نالہ نہیں تھا۔ گھوڑا ہوا سے باتیں کرنے لگا ۔ اگال گھوڑا بھی اچھی نسل کا تھا ۔ فرق یہ کہ اس گھوڑے پر دو سوا
رتھے ۔
کوئی ایک میل بعد حدید کو اگلے گھوڑے کا سایہ نظر آنے لگا ۔ اس نے تعاقب جاری رکھا ۔ فاصلہ کم ہو رہا تھا۔ حدید نے
محسوس کیا کہ اس کے پیچھے بھی ایک گھوڑا آرہا ہے جس کا سوار محافظ بھی ہو سکتا تھا اور ڈاکوبھی ۔ اس نے گھوم
کر دیکھا ۔ پچھال گھوڑا قریب آگیا تھا ۔ حدید نے پکارا ……''کون ہو ؟''…… اسے جواب نہ مال۔ اسنے تعاقب جاری رکھا
اور گھوڑے کو اور زیادہ تیز کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔ اگال گھوڑا سیدھا جا رہا تھا ۔ اس کی باگ شاید لڑکی کے ہاتھ میں
آگئی تھی کیونکہ حدید دیکھ رہا تھا کہ وہ گھوڑا دائیں بائیں ہو رہا تھا اور اس کی رفتار بھی گھٹتی جا رہی تھی …… وہ اس
تک پہنچ گیا ۔ اس کے پاس برچھی تھی ۔ اس نے اگلے سوار کو پہلو پر جاکر برچھی کا وار کیا لیکن وہ گھوڑا ایک طرف
ہوگیا۔ سوار تو بچ گیا برچھی گھوڑے کو لگی۔ حدید نے گھوڑا روکا اور گھمایا ۔ دوسرا سوار بھی گھوڑنے کو گھمانے کی کوشش
کر رہا تھا لیکن لڑکی جو اس کے آگے بیٹھی تھی ،باگیں ادھر ادھر کرکے گھوڑے کا رخ صحیح نہیں ہونے دیتی تھی۔ حدید
نے لڑکی کو پکارا تو لڑکی اورزیادہ دلیر ہوگئی۔
سوار لڑکی کو ساتھ لیے گھوڑے سے ا ُتر آیا اور اس نے اپنے گھوڑے کو ڈھال بنا لیا ۔ حدید اپنے گھوڑے کوگھما گھما کر التا
مگر جدھر سے بھی وار کرنے آتا ڈاکو لڑکی کو ساتھ لیے اپنے گھوڑے کی اوٹ میں ہوجاتا ۔ آخر حدید گھوڑے سے اُتر آیا۔
اتنے میں دوسرا سوار بھی آگیا۔ وہ محافظ نہیں ڈاکو تھا۔ وہ بھی گھوڑے سے اُتر آیا ۔ حدید نے انہیں للکارا۔ ''لڑکی کو
نہیں لے جاسکو گے ''…… ایک ڈاکو نے لڑکی کو دبوچے رکھا اور دوسرا حدید سے لڑنے لگا ۔ لڑکی کے پاس اب تلوار نہیں
تھی ۔ دوسرے ڈاکو نے لڑکی کو چھوڑ دیا اور وہ حدید پر ٹوٹ پڑا ۔ حدید نے لڑکی کو پکار کرکہا …… ''تم گھوڑے پر بیٹھو
اور شوبک کی طرف نکل جائو ۔ میں ان دونوں کو تمہارے پیچھے نہیں آنے دوں گا ''…… مگر لڑکی وہیں کھڑی رہی ۔
حدید نے دونوں کا خوب مقابلہ کیا ۔ ڈاکوں نے اسے بار بار کہا ……''ایک لڑکی کے لیے اپنی جان مت گنوائو '' …… حدید
نے ہر بار یہی جواب دیا …… ''پہلے میری جان لو پھر لڑکی کو لے جا نا''…… اور اس نے کئی بار لڑکی سے کہا……''تم
یہاں کیوں کھڑی ہو ۔ بھاگو یہاں سے ''آخر لڑکی نے کہا ……''میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جائوں گی ''…… حدید زخمی
ہونے لگا ۔ اس نے ایک بار پھر لڑکی سے کہا ……''میں زخمی ہو گیا ہوں ۔ میرے مرنے سے پہلے نکل جائو ''۔
ایک ڈاکو لڑکی کی طرف گھوما ۔ حدید کو موقع مل گیا۔ اس نے برچھی اس کے پہلو میں اُتار دی ،لیکن اس وقت دوسرے
ڈاکو کی تلوار اس کے کندھے پرلگی۔ لڑکی نے ایک ڈاکو کو گرتے دیکھ لیا تھا ۔ اس نے دوڑکر اس کی تلوار لے لی اور
پیچھے سے آکر دوسرے ڈاکو کی پیٹھ میں برچھی کی طرح اُتار دی ۔ وہ سنبھلنے لگا تو آگے سے حدید کی برچھی اس کے
سینے میں ا ُتر گئی۔ وہ ڈاکو بھی ختم ہوگیا مگر اس کے ساتھہی حدید بھی کھڑا رہنے کے قابل نہ رہا۔ لڑکی نے اسے سہارا
دیا تواس نے کہا …… ''تم ٹھیک ہونا ؟مجھے چھوڑدو۔ گھوڑے پر بیٹھو اور فورا ً شوبک کو روانہ ہوجائو ۔ اللہ تمہیں خیریت
سے پہنچا دے گا ۔ شوبک دور نہیں ۔ اپنے ساتھیوں کی طرف نہ جانا ۔ وہاں شاید کوئی زندہ نہیں ہوگا ''۔
زخم کہا ہیں؟''لڑکی نے اس سے پوچھا ۔''
مجھے مرنے دو لڑکی !''حدید نے کہا …… ''تم نکل جائو ۔ خداکے لیے میرا فرض تم خود ہی پورا کردو ۔ کہیں ایسا نہ''
ہو کہ کوئی اور قزاق ادھر آنکلے ''۔
لڑکی کی غلط فہمی اور شکوک رفع ہوچکے تھے۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ اس شخص نے اس کی خاطر جان خطرے میں ڈالی
ہے۔ اس نے اسے اکیال چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا ۔ دوڑ کرگئی۔ گھوڑے کی زین کے ساتھ بندھی ہوئی پانی کی چھاگل
کھول الئی اور حدید کے منہ سے ساتھ لگا دی ۔ اسے پانی پال کر چھاگل گھوڑے کے ساتھ باندھ دی اور اس سے پوچھنے
لگی کہ
اس کے زخم کہا ں ہیں ۔ حدید نے اسے زخم بتائے تواس نے اپنے پکڑے پھاڑے اور کچھ ٹکڑے حدید کے لباس سے پھاڑے۔
انہیں پانی میں بھگوکر اس نے حدید کے زخموں پرباندھ دیا۔ اسے اس کام کی ٹریننگ دی گئی تھی ۔ اس نے حدید کو سہارا
دے کر ا ُٹھایا اور گھوڑے تک لے گئی۔ بڑی مشکل سے اسے گھوڑے پر بٹھایا ۔ خود دوسرے گھوڑے پر بیٹھنے لگی تو حدید
نے کہا ۔ ''میں اکیال گھوڑے پر نہیں بیٹھ سکوں گا ''۔وہاں تین گھوڑے تھے۔ لڑکی نے یہ دانشمندی کی کہ گھوڑے ضائع
کرنے مناسب نہ سمجھے۔ دو گھوڑوں کی باگیں ایک گھوڑے کی زین کے پیچھے باندھ دیں اور خود حدید کے پیچھے سوار
ہوگئی۔ اس نے حدید کی پیٹھ اپنے سینے سے لگالی اور اس کا سر اپنے کندھے پر ڈال لیا۔
شوبک کی سمت بتاسکتے ہو؟ ''…… لڑکی نے پوچھا۔''
حدید نے آسمان کی طرف دیکھا۔ ستارے دیکھے اور ایک طرف اشارہ کرکے کہا ……اس رخ کو چلو …… پھر اس نے لڑکی سے
کہا ……'' میں شاید زندہ نہیں رہ سکوں گا ۔ خون نکل رہا ہے۔ جہاں کہیں میری جان نکل جائے مجھے وہیں دفن کر دینا
اور اگر تمہیں میری نیت پر کوئی شبہ تھا تو وہ دل سے نکال کر مجھے بخش دینا۔ میں نے امانت میں خیانت نہیں کی ۔
خدا تمہیں زندہ و سالمت اپنے ٹھکانے پر پہنچا دے''۔
گھوڑا چال جا رہا تھا اور رات گزرتی جا رہی تھی ۔
٭ ٭
صبح طلوع ہوئی تو حدید بے ہوشی کی حالت میں تھا اور اپنے آپ کوہوش میں رکھنے کی سرتوڑ کوشش کر رہا تھا ۔ اس
کا خون ُر ک گیا تھا لیکن زیادہ ترخون بہہ جانے سے اس کا جسم بے جان ہوگیا تھا ۔ لڑکی نے اسے چھوٹے سے نخلستان
میں ا ُتارا ،اسے پانی پالیا۔ گھوڑوں کے ساتھ کچھ کھانے کی چیزیں بندھی ہوئی تھیں ،وہ حدید کوکھالئیں ۔ اس سے اس کا
دماغ صاف ہونے لگا۔ اسے پہال خیال یہ آیا کہ وہ اس لڑکی کامحافظ تھا اب اس کا قیدی ہے۔ لڑکی نے اسے لٹادیا ۔ وہ
رات بھر گھوڑے پر سوار رہے تھے۔ کچھ دیر کے آرام سے حدید کا جسم ٹھکانے آگیا۔ اس نے لڑکی سے کہا …… ''شوبک
دور نہیں شاید ایک دن کی مسافت ہے۔ تم ایک گھوڑا لو اور اسے بھگاتی لے جائو ،جلدی پہنچ جائو گی۔ میں واپس چال
'' جائوں گا
تم زندہ واپس نہیں پہنچ سکو گے ''۔ لڑکی نے کہا…… ''اگر یہیں سے واپس جانا ہے تو مجھے ساتھ لے چلو ۔ تم نے ''
مجھے اکیال نہیں چھوڑا ،میں تمہیں اکیال نہیں چھوڑوں گی''۔
میں مرد ہوں ''۔ حدید نے کہا …… ''میرادل نہیں مان رہا کہ ایک لڑکی میری حفاظت کرے اس سے بہتر ہے کہ میں''
مر جائوں ''۔
میں ان معمولی سی لڑکیوں میں سے نہیں ہوں جو گھروں میں پڑی رہتی ہیں ''…… لڑکی نے کہا …… ''اور جو مرد کی''
حفاظت کے بغیر ایک قدم نہیں چل سکتیں ۔مجھے ایک فوجی مرد سمجھو ۔ فرق صرف یہ ہے کہ میرا ہتھیار میری
خوبصورتی ،میری جوانی اور میری چرب زبانی ہے ۔ میں تمہاری طرح سختیاں برداشت کر سکتی ہوں ۔ میں شوبک تک
پیدل پہنچ سکتی ہوں ''۔
میں تمہارے جذبے کی قدر کرتا ہوں ''…… حدید نے کہا …… ''ڈاکو ہم دونوں کو کتنا قریب لے آئے ہیں مگر ہم ایک ''
دوسرے کے دشمن ہیں ۔ تم میرے ملک کی بنیادیں ہالنے کی کوشش کر رہی ہو اور ایک دین میں تمہارے ملک پر حملہ
کرنے آئوں گا ''۔
لیکن اس وقت میری دوستی قبول کر لو ''۔ لڑکی نے کہا …… ''دشمنی کی باتیں اس وقت سوچیں گے ۔ جب تم ''
تندرست ہو کر اپنے ملک چلے جائو گے''۔ اس نے حدید کی گردن کے نیچے بازو کر کے اسے اُٹھایا۔ حدید اب اُٹھ سکتا
تھا ۔ وہ ا ُٹھا اور آہستہ آہستہ چلتا گھوڑے تک پہنچ گیا ۔ لڑکی نے اس کا پائوں اُٹھا کر رکاب میں رکھا اور اُسے سہارا دے
کر گھوڑے پر سوار کر دیا ۔ لڑکی بھی اسی گھوڑے پر سوارہونے لگی تو حدید نے ہاتھ آگے کر کے اسے روک دیا اور کہا ……
''تم اب دوسرے گھوڑے پر بیٹھو میں اکیال سواری کر سکوں گا ''۔
اس کے باوجود میں اسی گھوڑے پر بیٹھوں گی ''……لڑکی نے کہا …… ''تمہیں اپنے ساتھ لگائے رکھوں گی ''۔''
حدید کی ضد کے باوجود لڑکی اس کے پیچھے سوار ہوگئی اور جب ایک بازو اس کے سینے پر رکھ کر اسے اپنے ساتھ لگانے
لگی تو حدید نے مزاحمت کرتے ہوئے کہا ……''مجھے ذرا اپنے سہارے بیٹھنے دو ''…… لڑکی نے اسے زبردستی اپنے ساتھ
لگا کر اس کا سر اپنے کندھے پر ڈال دیا ۔ اس نے حدید سے پوچھا …… ''میں جانتی ہوں تم مجھے بدکار لڑکی سمجھ کر
مجھ سے دور رہنے کی کوشش کر رہے ہو ''۔
نہیں '' ۔ حدید نے کہا …… ''میں تمہیں صرف لڑکی سمجھ کر دور رہنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اگر تمہیں اپنے قریب ''
کرنے کر خواہش ہوتی تو دو راتیں تم بے بسی کی حالت میں میری قید میں رہی ہو۔ میں تمہیں اپنی لونڈی بنا سکتا تھا
لیکن میں نے اپنے اوپر شیطان کا غلبہ نہیں ہونے دیا تھاتو ۔ اب تو مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے میں امانت میں
خیانت کر رہا ہوں۔ میرے اندر گناہ کا احساس پیدا ہو رہا ہے ''۔
تم پتھر تو نہیں ہو؟'' لڑکی نے اس سے پوچھا ……''مجھے تو جس مرد نے بھی دیکھا ہے بھوکی نظروں سے دیکھا ''
ہے ۔ میں نے صرف اتنی سی قیمت دے کر تمہاری قوم کے دو مومنوں کے ایمان خرید لیے تھے ''۔
کتنی قیمت؟ ''…… حدید نے پوچھا ۔''
صرف اتنی سی کہ انہیں پاس بٹھایا اور سر اپنے کندھے پر رکھ لیا تھا ''۔''
ان کے پاس ایمان تھا ہی نہیں ''۔ حدید نے کہا ۔''
جو کچھ بھی تھا ''۔ لڑکی نے کہا …… ''وہ میں نے ان سے لے لیا تھا ۔ اس کی جگہ ان کے دلوں میں اپنی قوم ''
کے خالف غداری ڈال دی تھی ''۔
وہ کون ہیں ؟…… حدید نے پوچھا ۔''
ابھی نہیں بتائوں گی ''۔ لڑکی نے جواب دیا ……''جس طرح تم اپنے فرض کے پکے ہو اسی طرح مجھے بھی اپنا فرض''
عزیز ہے ''۔
حدید خاموش ہوگیا ۔ وہ لڑکی کے جسم کی حرارت اور ہلکی ہلکی بو محسوس کر رہا تھا ۔ لڑکی کے کھلے ہوئے ریشمی سے
بال ہوا سے لہرا کر اس کے گالوں پر پڑ رہے تھے اور گالوں کو سہال رہے تھے ۔ اسے اونگھ آگئی۔ گھوڑا چلتا رہا ۔ بہت
دور جا کر حدید کی آنکھ کھلی تو سورج سر پر آچکا تھا ۔ اس نے کہا …… ''گھوڑے کو ایڑ لگائو ۔ مجھے اُمید ہے کہ ہم
''سورج غروب ہونے کے بعد شوبک پہنچ جائیں گے ۔
لڑکی نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور صحرا تیزی سے پیچھے ہٹنے لگا ۔
٭ ٭ ٭
سورج غروب ہو چکا تھا۔ شوبک کے قلعے کے اس کمرے میں جہاں صلیبی حاکموں اور کمانڈروں کے اجالس ہوا کرتے تھے ،
وہاں حاکم اور کمانڈر بیٹھے تھے ۔ ان میں عالم جاسوس بھی بیٹھا تھا ۔ وہ کہہ رہا تھا ……''میں یہ نہیں بتا سکتا کہ
دونوں لڑکیوں کا کیا حشر ہوا یا ہورہا ہے ۔ میں نے انہیں بچانے بلکہ انہیں دیکھنے کی بھی کوشش نہیں کی کیونکہ ان سے
زیادہ قیمتی یہ راز تھا جو مجھے آپ تک پہنچانا تھا ۔ جیسا کہ میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ ڈاکووں نے حملہ کیا تو میں
موقع دیکھ کر ایک طرف ہوگیا اور گھوڑے تک پہنچ گیا ۔ ایک تو میری رہائی معجزہ ہے۔ دوسرا معجزہ یہ ہوا کہ میں اتنے
خونریز معرکے میں سے صاف بچ کرنکل آیا ۔ کوئی بھی میرے پیچھے نہیں آیا ۔ میرا خیال ہے کہ وہ ڈاکو نہیں تھے ،
سلطان صالح الدین ایوبی کے بھیجے ہوئے آدمی تھے ۔ یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ اس نے ہم تینوں کو خود سزائے موت کیوں
نہ دی اور لڑکیوں کو خراب کرانے کا یہ طریقہ کیوں اختیار کیا ۔ یہ ایک ڈھونگ تھا ۔ لڑکیاں اب ان لوگوں کے قبضے میں
ہوں گی اور ظالمانہ اذیتیں برداشت کر رہی ہوں گی''۔
انہیں چھڑانے کا ہم کوئی طریقہ نہیں سوچ سکتے''۔ایک صلیبی حاکم نے کہا ۔ ''یہ قربانیاں تو دینی پڑتی ہیں ۔ ہمارے''
پاس لڑکیوں کی کمی نہیں ۔ ہمارا یہ طریقہ کامیاب ہے۔ اسے جاری رکھنے کے لیے اور لڑکیاں تیار کرو …… سب آگئے ہیں ۔
اب وہ راز بتائو جو تم اپنے ساتھ الئے ہو ''۔
عالم جاسوس انہیں سنا چکا تھا کہ وہ قاہرہ کی ایک مسجد سے کس طرح گرفتار ہوا تھا ۔ قید خانے میں اس کے ساتھ اور
لڑکیوں کے ساتھ کیا سلوک ہوا اور سلطان ایوبی نے انہیں کس طرح خالف توقع رہا کیا۔ اس نے یہ بھی سنایا کہ یہ راز
سلطان ایوبی نے اسے کس طرح دیا ہے۔ اس نے تاریخ بتا کر کہا ……''صالح الدین ایوبی اس روز اپنی فوج کو کوچ کرائے گا
۔ وہ کرک پر حملہ کرے گا۔ نائب ساالر کہہ رہے تھے کہ شوبک کو پہلے لینا چاہیے کیونکہ یہ مضبوط قلعہ ہے لیکن صالح
الدین شوبک پر اپنی طاقت نہیں ضائع کرنا چاہتا ۔وہ کرک کو کمزور سمجھ کر پہلے اسے لیناچاہتا ہے۔ وہاں وہ اپنی فوج اور
رسد وغیرہ کا اڈہ بنائے گا ۔ رسد جمع کر کے وہ کمک بالئے گا اور فوج کو کافی آرام دے کر شوبک پر حملہ کرے گا ۔
اس نے یہ خاص طور پر کہا تھا کہ وہ ہمیں بے خبری میں لینا چاہتاہے۔ اس کی وجہ اس نے یہ بتائی ہے کہ اس کی فوج
کم ہے اور ہماری فوج زیادہ بھی ہے اور ہمارے پاس گھوڑے بھی بہتر ہیں اور ہمارے پاس خود اور زرہ بکتر ہیں ۔ اس نے
صاف الفاظ میں کہا ہے کہ اگر صلیبی فوج نے اسے راستے میں روک لیا تواسے شکست کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا ۔ وہ
کھلے میدان میں لڑنے سے ڈرتا ہے ''…… عالم جاسوس نے وہ تمام باتیں بتائیں جو اس نے سلطان ایوبی کی زبان سے سنی
تھیں ۔
اتنے قیمتی اور اہم راز کی تفصیل سن کر لڑکیوں کو سب بھول گئے اور اس مسئلے پر تبادلہ خیاالت کرنے لگے۔ وہ اس
نتیجے پر پہنچے کر سلطان ایوبی غیرمعمولی طور پر دانشمند جنگجو ہے۔ اس نے کرک پر حملے کا جو پالن بنایا ہے اس
میں اس کی جنگی فہم و فراست کا پتہ ملتاہے۔ راستے میں نہ لڑنے کا فیصلہ بھی اس کی دانائی کی دلیل ہے۔ وہ راستے
میں طاقت ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔ یہ خدائے یسوع مسیح کا خاص کرم ہے کہ اس کے پالن کاعلم ہوگیا ہے ،ورنہ وہ کرک کو
لے کر شوبک جیسے مضبوط دفاع کے لیے خطرہ بن سکتا تھا …… انہوں نے اسی وقت سلطان ایوبی کے پالن کے مطابق اپنی
فوجوں کی نقل و حرکت اور اوردفاع کا پالن بنانا شروع کر دیا ۔ پالن میں یہ اقدامات طے پائے۔
صلیبی افواج کی متحدہ مرکزی کمان شوبک میں ہی رہے گی۔ رسد گاہ بھی وہیں رکھی جائے گی۔ جنگ کو شوبک سے ہی
کنٹرول کیا جائے گا۔
کرک کی قلعہ بندی کواور زیادہ مضبوط کیا جائے گا ۔ کچھ اور فوج کرک منتقل کردی جائے گی۔
ایوبی کو کرک سے دور اس کی اپنی سرحد کے اندر کسی دشورا گزار عالقے میں روکا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے زیادہ سے
زیادہ فوج بھیجی جائے گی۔ اس فوج میں گھوڑ سوار اور شتر سوار زیادہ ہوں گے۔ کوشش کی جائے گی کہ ایوبی کی فوج کو
گھیرے میں لے لیا جائے۔ پانی کے چشموں پر پہلے سے قبضہ کر لیا جائے۔
ان اقدامات پر فوری طور پر عمل درآمد کے احکامات نافد کردئیے گئے۔ ہر کوئی خوش تھا۔ یہ پہال موقعہ تھا کہ سلطان
ایوبی کا کوئی راز قبل از وقت معلوم ہوگیا تھا ورنہ اس نے صلیبیوں کو ہمیشہ آڑے ہاتھوں لیا تھا ۔ اس پر حیرت کا بھی
اظہار کیا گیا کہ سلطان ایوبی جیسے آدمی سے یہ لغزش سردز ہوئی کہ ان جاسوسوں کو دوسرے کمرے میں بٹھا کر جنہیں وہ
رہاکرنے کا فیصلہ کر چکا تھا ایسی نازک باتیں بلند آواز سے کیں جو اسے شکست فاش سے دو چار کر سکتیں تھیں۔ انہوں
نے ایک اہتمام یہ بھی کیا کہ فرانس کی فوج جو وہاں سے بہت دور تھی ۔ یہ پیغام بھیج دیا کہ فالں دن سے پہلے پہلے
ایسے مقام پرپہنچ جائے جہاں نورالدین زنگی کی بھیجی ہوئی کمک کو روکاجا سکے۔
اتنے میں ایک صلیبی افسر اندر آیا اور انٹیلی جنس کے سربراہ کے کان میں کچھ کہا ۔ اس سربراہ نے سب کو بتایا کہ ان
دو میں سے ایک لڑکی جو ڈاکووں کے گھیرے میں آگئی تھی ابھی ابھی آئی ہے۔ اطالع ملی ہے کہ اس کے ساتھ ایک زخمی
مسلمان محافظ ہے۔ عالم جاسوس سب سے پہلے کمرے سے نکل گیا۔ اس کے پیچھے دوسرے لوگ بھی باہر چلے گئے۔ حدید
کو لڑکی نے برآمدے میں لٹادیا تھا اور خود اس کے پاس بیٹھی تھی ،گھوڑے کی اتنی لمبی سواری اور تیز رفتاری نے حدید
کے زخم کھول دئیے تھے۔ اس کا خون جو صبح بند ہو گیا تھا پھر بہنے لگا تھا اور اس پر غشی طاری ہوئی جا رہی تھی ۔
صلیبی کمانڈروں نے حدید کی طرف کوئی توجہ نہ دی کیونکہ انہیں بتایا گیاتھا کہ ڈاکوئوں کاحملہ ایک ڈھونگ تھا ۔ انہوں نے
لڑکی کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اسے اندر چلنے کو کہا۔ وہ بڑی قیمتی لڑکی تھی لیکن اس نے اس وقت تک اندر جانے کاارادہ
ملتوی کر دیا۔ جب تک حدید کی مرہم پٹی نہیں ہوجاتی ۔
انٹیلی جنس کا سرابراہ ہرمن نام کا جرمن تھا ۔ اس نے لڑکی کو پرے لے جاکر کہا …… ''کس سانپ کے بچے کی تم مرہم
پٹی کرانا چاہتی ہو۔ یہ تو تمہاری قسمت اچھی تھی کہ بچ کر آگئی ہو ،ورنہ یہ درندے تمہیں ان وحشیوں کے حوالے کرنا
چاہتے تھے جو ڈاکو بن کر آئے تھے ''۔
یہ جھوٹ ہے ''۔لڑکی نے جھنجھال کر کہا ۔ ''پہلے ہمیں بھی یہی شک تھا لیکن اس شخص نے میرے سارے شکوک ''
رفع کر دئیے ہیں۔ اس نے دو ڈاکوئوں کو ہالک کرکے مجھے بچایا ہے ''۔ اس نے ہرمن کو ساراواقعہ سنادیا اور یہ بھی بتایا
کہ یہ شخص اسے بار بار کہتاتھا کہ مجھے یہیں مرنے دو اور تم چلی جائو ۔
صلیبیوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خالف نفرت اتنی گہری اُتری ہوئی تھی کے اتنے زیادہ افسروں میں سے کسی ایک نے
بھی نہیں کہا کہ اس زخمی کی مرہم پٹی کرو۔ عالم جاسوس تک نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔ لڑکی ان کے ساتھ اندر
نہیں جارہی تھی ۔ آخر کسی نے کہا کہ زخمی کو کمرے میں لے چلو اور فورا ً مرہم پٹی کرو۔ اسے اُٹھوا کر لے گئے اور
لڑکی اپنے افسروں کے ساتھ چلی گئی۔ اسے کہا گیا کہ وہ بیان کرے کہ کس طرح زندہ بچی ہے۔ اس نے سب تفصیل سے
سنا دیا ۔ اس دوران وہیں کھانا اور شراب آگئی۔ اس نے کہا ……''اگر زخمی کو کھاناکھالیا جا چکا ہے تو میں کھائوں
گی ۔ میں ذرا اسے دیکھ آئوں ''……وہ جانے کے لیے اُٹھی ۔
ٹھہرو لوزینا!''……ہرمن نے اسے بڑے رعب سے کہا …… ''تم دوسری بار صلیب کی فوج کے احکامات کی خالف ورزی ''
کر رہی ہو۔ پہلے تمہیں اندر چلنے کو کہا گیا تو تم نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ پہلے زخمی کو اُٹھائو ۔ اب تو بالاجازت
اعلی احکام ہیں اور یہاں دو صلیبی حکمران بھی بیٹھے ہیں۔جانتی
اور بدتمیزی سے باہر جارہی ہو۔ یہ سب صلیبی فوج کے
ٰ
ہوں اس حکم عدولی اور بدتمیزی کی سزاکیا ہے ؟…… دس سال سزائے قید …… اور جب تم یہ حکم عدولی دشمن کے ایک
معمولی سے عہدیدار کی خاطر کر رہی ہو ،تو تمہیں سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے''۔
کیا صلیبی حکمران اور کانڈر اس انسان کو اس کا صلہ نہیں دیں گے کہ اس نے ان کی ایک تجربہ کار جاسوسہ کی جان ''
اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچائی ہے ؟'' لڑکی نے کہا …… ''میں جانتی ہوں کہ وہ میرے دشمن کی فوج کا عہدیدار
ہے لیکن میں اسے دشمن اس وقت کہوں گی جب وہ اپنی فوج میں واپس چال جائے گیا ''۔
دشمن ہر حال میں اور ہر جگہ دشمن ہے ''……ایک صلیبی کمانڈر نے چال کر کہا ……''فلسطین میں ہم نے کتنے ''
مسلمانوں کو زندہ رہنے دیا ہے؟ اس کی نسل ہم کیوں ختم کرر ہے ہیں ؟ اس لیے کہ وہ ہمارے دشمن ہیں بلکہ اس لیے کہ
وہ ہمارے مذہب کے دشمن ہیں ۔ دنیا پر صرف صلیب کی حکمرانی ہوگی۔ ایک زخمی مسلمان ہمارے لیے کوئی حیثیت نہیں
رکھتا ۔ بیٹھ جائو ''۔ لڑکی بیٹھ گئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
اگلی صبح سے شوبک میں ایک نئی سرگرمی شروع ہوگئی۔ یہ فوجی نوعیت کی سرگرمی تھی شوبک کے شہر کے لوگ اس
سرگرمی سے بے نیاز اپنے کام کاج میں مصروف ہوتے جا رہے تھے۔ قلعے سے فوجیں نکل رہی تھیں۔ سامان بھی ادھر ادھر
کیا جا رہا تھا ۔ باہر سے آنی والی فوج کی عارضی خیمہ گاہ کے لیے جگہ خالی کی جا رہی تھی ۔ رسد اکٹھی کرنے کے
لیے اونٹوں کی قطاریں آرہی تھیں۔ فوجی ہیڈ کوارٹر میں بھی بھاگ دوڑ تھی۔ یہ ساری تیاری صالح الدین ایوبی کا حملہ
روکنے کے لیے کی جا رہی تھی اور ان احکامات پر عمل درآمد شروع ہوگیا تھا جو گزشتہ رات کے پالن کے مطابق دئیے
گئے تھے ۔ ہر ایک افسر اس افراتفری میں مصروف تھا۔ چند ایک بڑے افسر کرک روانہ ہوگئے تھے۔
صرف ایک لڑکی تھی جو اس سرگرمی اور بھاگ دوڑ سے ال تعلق تھی۔ یہ وہی لڑکی تھی جو زخمی حدید کو الئی تھی ۔
اس کے افسر نے اسے لوزینا کے نام سے پکارا تھا ۔ رات اسے کانفرنس کے کمرے سے آدھی رات کے بعد فراغت ملی تھی
۔ وہ جاسوسی کے خصوصی شعبے سے تعلق رکھتی تھی اس لیے کانفرنس میں اس کی ضرورت تھی ۔ اس سے قاہرہ کے ان
افراد کے متعلق رپورٹیں لینی تھیں جن کے پاس وہ جاتی رہی تھی ۔ آدھی رات کے بعد نیند اور گھوڑ سواری کی تھکن نے
اسے نڈھال کر دیا تھا ۔ کانفرنس کے بعد ایک افسر نے اسے کہا تھا …… ''اسے ڈاکٹر کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔ تمہیں
اس کی اتنی زیادہ پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔ تمہاری ڈیوٹی ایسی ہے جس میں ایسے جذبات کامیاب نہیں ہونے دیا کرتے
''…… اور اس کے اپنے شعبے کے بڑے افسر ،ہرمن نے اسے کہا تھا ……''اگر آج رات میں نہ ہوتا تو نارڈ اور گے آف
لوزینان جیسے بادشاہ کسی کو بخشا نہیں کرتے تمہیں قید میں ڈال دیتے ۔ تمہارے محافظ کا انتظام کر دیا گیاہے اور تمہارے
لیے یہ حکم ہے کہ اسے تم نہیں ملو گی ''۔
''کیوں؟ '' …… لوزینا نے حیرت اور مایوسی سے پوچھا …… ''کیا میں اس کا شکریہ بھی ادا نہ کر سکوں گی؟''
نہیں ''۔ہرمن نے کہا …… ''کیونکہ وہ دشمن کا فوجی ہے۔ تم اپنا شعبہ جانتی ہو کیا ہے۔ ہم تمہیں اس سے ملنے کی''
اجازت نہیں دے سکتے ۔ تمہیں دشمن کے ساتھ ایسی وابستگی کی اجازت نہیں دی جا سکتی ''۔
آپ مجھے صرف اتنا سا یقین دال دیں کہ اس کی مرہم پٹی ہوگئی ہے ''۔ لوزینا نے کہا ……''اور اسے صحیح و سالمت''
واپس بھیج دیا جائے گا ''۔
لوزینا !'' ہرمن نے جھنجھال کر کہا …… ''میں تمہیں یقین دالتا ہوں کہ تمہاری یہ خواہش پوری کر دی جائے گی اور ''
سنو۔ تم بڑے مشکل اور خطرناک مشن سے واپس آئی ہو اور تمہارا سفر زیادہ خطرناک تھا ۔ تمہیں آرام کے لیے دس دن
چھٹی دی جاتی ہے۔ مکمل آرام کرو ''۔
یہ باتیں رات کو ہوئی تھیں۔ وہ اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔ جاسوس لڑکیوں کی رہائش ہائی کمان کے مین کوارٹر سے
اعلی درجے کی جاسوس لڑکیاں نہایت اچھے کمروں میں رہتی تھیں۔ جہاں انہیں شہزادیوں جیسی
بہت دور تھی۔ اس جیسی
ٰ
سہولتیں اور عیاشی میسر تھی۔ ان کی ڈیوٹی ایسی تھی کہ انہیں مسلمان ملکوں میں بھیجا جاتا تھا ۔جہاں پکڑے جانے کی
صورت میں انہیں ہر قسم کے اذیت اورذلت میں ڈاال جا سکتا تھا ۔ موت یا سزائے موت تو یقینی تھی ۔ ایسی ڈیوٹی کا
تقاضا تھا کہ ان لڑکیوں کو دنیا کی ہر آسائش مہیا کی جائے۔ لوزینا کمرے میں جاتے ہی سو گئی تھی۔ دوسرے دن اس کا
جسم ٹوٹ رہا تھا ۔ وہ اُٹھنا نہیں چاہتی تھی لیکن وہ ا ُٹھی او ر ناشتہ کرکے باہر نکل گئی۔ اس کے ساتھ والے کمرے میں
لڑکیاں آگئیں ۔ وہ اس سے قاہرہ کی باتیں سننا چاہتی تھیں۔ اس نے بہت ہی مختصر سی بات سنا کر انہیں ٹال دیا اور
ہسپتال کی طرف چل پڑی۔
٭ ٭ ٭
19:34
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
"قسط نمبر35.۔" جب زہر نے زہر کو کاٹا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وہ تھوڑی ہی دور گئی تھی کہ اس کی ایک ساتھی لڑکی جو اس کی ہمراز سہیلی تھی پیچھے سے جا ملی اور پوچھا ……
'' لوزینا !کہاں جارہی ہو ؟ اور تم پریشان ہو۔ یہ تھکن کا اثر ہے یا کو ئی خاص واقعہ ہوگیا ہے ؟ تمہیں چھٹی نہیں
''ملی؟
چھٹی مل گئی ہے ''۔اس نے جواب دیا …… ''ایک خاص واقعہ ہوگیا ہے جس نے مجھے پریشان کر دیا ہے''…… وہ ''
سہیلی کو ساتھ لیے ایک درخت کے نیچے جا بیٹھی اور اسے تمام واقعہ سنادیا ۔ اسے اپنے افسروں نے جو دھمکیاں دی
تھیں وہ بھی سنائیں اور اس نے کہا …… ''میں حدید سے ملنا چاہتی ہوں ۔ مجھے ڈر ہے کہ اس کی مرہم پٹی نہیں ہوئی
اورشہر سے نکال دیا گیا ہے یا اسے مرنے کے لیے کسی کوٹھری میں بند کر دیا گیا ہے ''۔
تم نے بتایا ہے کہ تمہیں اس سے ملنے سے منع کر دیا گیا ہے''۔ سہیلی نے اسے مشورہ دیا …… ''یہ خطرہ مول نہ ''
''لو ۔ تم اگر پکڑی گئیں تو جانتی ہو کہ کیا سزا ہے ؟
اس شخص کے لیے میں سزائے موت بھی قبول کر لوں گی''۔لوزینا نے کہا …… ''میں تمہیں سنا چکی ہوں کہ اس نے ''
میری خاطر اپنی جان خطرے میں ڈالی ہے ۔میری جان کو تو کوئی خطرہ نہ تھا۔ ڈاکو مجھے لے بھی جاتے تو چند دن
مجھے خراب کرکے کسی امیر کبیر کے ہاتھ فروخت کردیتے ۔ حدید میرے اس انجام سے آگاہ تھا ۔ ا س نے میری عزت کی
خاطر اپنی جان کی بازی لگا دی تھی۔ ڈاکوئوں نے کہا بھی تھا کہ لڑکیاں ہمیں دے دو اور چلے جائو۔ وہ یہ بھی جانتا تھا
کہ میں پاکباز لڑکی نہیں مگر اس نے مجھے امانت سمجھا ''۔
''تم اس کے لیے جذباتی ہوگئی ہو؟''
ہاں !'' لوزینا نے جواب دیا …… ''میں جذبات کااظہار ہرمن کے آگے نہیں کر سکتی تھی ،اپنا دل تمہارے آگے رکھ ''
سکتی ہوں۔ تم میری سہیلی ہو اور عورت کا دل رکھتی ہو۔ ہماری زندگی کیا ہے ؟ ہم ایک خوبصورت خنجر اور میٹھا زہر
ہیں ۔ ہمارا جسم مرد کی تفریح اورفریب کے لیے استعمال ہوتاہے۔ میں نے یہ باتیں پہلے کبھی نہیں سوچی تھیں۔ اپنے وجود
کو جذبات سے خالی سمجھا تھا مگر اس آدمی کے جسم کو میں نے اپنے جسم کے ساتھ لگایا تو میرے وجود میں وہ سارے
جذبات بیدار ہوگئے۔ جو میں سمجھتی تھی مجھ میں نہیں ہیں۔ میں ایک ہی بار ماں ،بہن ،بیٹی اور کسی کو چاہنے والی
لڑکی بن گئی۔ یہ شاید اس کااثر تھا کہ اپنے آپ کومیں بادشاہوں کے دلوں پر حکمرانی کرنے والی شہزادی سمجھتی تھی
……''
مجھ میں اتنی تخریب کاری ڈالی گئی ہے کہ جابر حکمرانوں کو بھی انگلیوں پر نچا سکتی ہوں۔مگر ڈاکوئوں نے مجھے ''
بکنے والی چیز بنا دیا۔ مجھے اس سطح پر لے آئے جہاں مجھ جیسی لڑکیاں ہررات نئے گاہک کے ہاتھ فروخت ہوتی ہیں یا
کسی مسلمان امیر یا حاکم کے ہاتھ فروخت ہو کر اس کے حرم کی لونڈیاں بن جاتی ہیں۔اس آدمی جس کا نام حدید ہے،
مجھے اس سطح سے اُوپر ا ُٹھالیا۔ اس سے پہلے میں اس کی قیدی تھی۔ ا س نے مجھے قابل نہیں سمجھا کہ مجھے تفریح
کا ذریعہ بناتا۔ وہ ایسا کرسکتا تھا۔ اس نے مجھے نظر انداز کیا پھر اس نے میری عزت بچانے کے لیے اپنا جسم کٹوالیا تو
میں نے بے قابو ہو کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور اس سطح کی لڑکی بن گئی جس سے مجھے گرا دیا گیا ہے۔ مجھے
صالح الدین ایوبی کی بات یاد آئی۔ اس نے مجھے کہا کہ تم کسی باعزت آدمی کے ساتھ شادی کیوں نہیں کر لیتی؟ میں نے
دل میں کہا تھا کہ یہ مسلمان احمق ہے۔ میں اب محسوس کر رہی ہوں کہ ہمارے دشمن نے کتنی عظیم بات کہی تھی ……
میں تمہیں صاف بتا دیتی ہوں کہ میں اب جاسوسی نہیں کر سکوں گی۔ میرے دماغ میں بچپن سے جو سبق ڈالے گئے تھے
وہ صحرا کی خوفناک رات نے ڈاکوئوں کے خطرے نے اور حدید کے جسم کی حرارت اور اس کے خون کی بو نے زائل کر
دئیے ہیں ''۔
تم اتنی لمبی بات نہ کرتی تو بھی جان گئی تھی کہ تم کیا محسوس کر رہی ہو ''۔ اس کی سہیلی نے کہا ……''لیکن''
میں حقیقت سے آگاہ کرنا ضروری سمجھتی ہوں ۔ اسے چلے جانا ہے۔ تم اس کے ساتھ نہیں جا سکو گی۔ وہ اگر یہاں
تکلیف میں ہے تو حکم ہے کہ تم اسے نہیں مل سکتیں۔ اگر پکڑی گئیں تو اپنے ساتھ اسے بھی مروائو گی''۔
تو تم میری مدد کرو''۔لوزینا نے منت کی ۔ ''یہ معلوم کروکہ وہ کہاں ہے۔ مجھے صرف یہ معلوم ہوجائے کہ وہ ٹھیک ''
ہوگیا ہے اور تندرستی کی حالت میں چالگیا ہے تو میرے دل کو چین آجائے گا ''۔
ہاں!'' سہیلی نے کہا …… ''میں یہ کام کر سکتی ہوں ۔ تم کمرے میں چلی جائو ۔ وہ کمرے میں چلی گئی اور اس ''
کی سہیلی کسی اور طرف نکل گئی ''۔
٭ ٭ ٭
قاہرہ میں بھی فوجوں میں بہت سرگرمی تھی ۔ فوج کی جنگی مشقیں کرائی جا رہی تھیں۔ چند ایک دستے الگ کر لیے
گئے تھے۔ انہیں شب خون مارنے ،تھوڑی تعداد میں دشمن کی کوئی گنا زیادہ نفری پرحملہ کرنے اور ''ضرب لگائواور
بھاگو'' کی مشقین اس طرح کرائی جارہی تھیں کہ رات کو بھی دستے چھاونی سے باہررہتے تے۔ سلطان ایوبی ذاتی طور پر
اعلی کمانڈروں اور دستوں کے کمانداروں تک کو لکچر دیتا اورانہیں نقشوں اور
یہ مشقیں دیکھتا تھا ۔ وہ تیسرے چوتھے روز
ٰ
خاکوں کی مدد سے جنگی چالیں سکھاتا تھا ۔ اس نے اس ٹریننگ کا بنیادی اصول یہ رکھا تھا …… ''کم تعداد سے دشمن
کا زیادہ نقصان کرنا۔ ہتھیار سے زیادہ عقل کو استعمال کرنا۔ آمنے سامنے کے معرکے سے گریز کرنا۔ سامنے سے حملہ نہ
کرنا۔دس بارہ آدمیوں کے شب خون سے اتنا نقصان کرنا جتنا ایک سو آدمی دن کے وقت ُدو بدو معرکے میں کر سکتے ہیں
''۔
اس کے عالوہ دشمن کے کسی قلعے یا شہر کو لمبے محاصرے میں رکھنے کے طریقے بتاتا اور قلعوں کی دیواروں میں نقب
لگانے کے سبق دیتا تھا ۔ اس نے تمام اونٹوں ،گھوڑوں اور خچروں کا معائنہ کر لیا تھا ۔ کمزور یا عمر خورد جانوروں کو
اس نے الگ کر دیا تھا …… حملے کی تاریخ طے ہوچکی تھی ۔ سلطان ایوبی نے فلسطین کی فتح کا جو منصوبہ بنایا تھا اس
کے پہلے مرحلے میں کامیابی سے داخل ہونے کی تیاری زور و شور سے کر رہا تھا ۔ ادھر اسے راستے میں ہی روکنے کے
اہتمام ہو رہے تھے۔
دونوں فوجوں کی تیاریاں ایسی تھیں جیسے ایک دوسرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں گے۔ صلیبیوں کی تیاری کا دائرہ
شوبک سے کرک تک اور مصر کی سرحدوں تک تھا ۔ وہ اس وسیع دائرے کو سلطان ایوبی کے لیے ایسا پھندہ بنا رہے تھے
جس میں سے اس کے لیے ساری عمر نکلنے کا کوئی امکان نظر نہ آتا تھا ۔ ان کی تیاریاں سلطان ایوبی کے اس منصوبے
کی اس روشنی میں ہو رہی تھیں جو ان تک قبل از وقت پہنچ گیا تھا ۔
ان وسیع تیاریوں کے اندر شوبک میں ایک سرگرمی اور بھی تھی ،جس کا تعلق جنگ سے نہیں جذبات سے تھا اور یہ ایک
خفیہ سرگرمی تھی۔ لوزینا اپنے کمرے میں پڑی حدید کے لیے بے قرار ہو رہی تھی اور اس کی سہیلی دو روز سے حدید کو
ڈھونڈ رہی تھی ۔ وہ افسروں کے ہسپتال میں بھی نہیں تھا او وہ سپاہیوں کے ہسپتا ل میں بھی نہیں تھا ۔ وہ جاسوس لڑکی
تھی ۔ بڑے بڑے افسر بھی اس کی عزت کرتے تھے۔ لوزینا کو اور ہر جاسوس لڑکی کو وہاں اہمیت حاصل تھی ۔ اس کے
باوجود یہ سہیلی جس سے بھی پوچھتی کہ لوزینا کے ساتھ جو زخمی مسلمان آیا تھا وہ کہاں ہے تو اسے یہی ایک جواب
ملتا …… ''میں نے تو اسے نہیں دیکھا ''……تیسرے دن ایک افسر نے اسے رازداری سے بتایا کہ اس کی مرہم پٹی کر دی
گئی تھی اور اسے مسلمانوں کے کیمپ میں بھیج دیا گیا تھا ۔
سہیلی نے جب یہ خبر لوزینا کو سنائی تو اس پر سکتہ طاری ہوگیا …… ''مسلمانوں کا کیمپ ''ایک خوفناک جگہ تھی ۔
اس میں پہلی جنگوں کے مسلمان قیدی بھی تھے اور وہ مسلمان بچے بھی جنہیں کسی جرم کے بغیر صلیبیوں نے اپنے
مقبوضہ عالقے سے پکڑا تھا ۔ یہ مسلمان زیادہ تر ان قافلوں میں سے پکڑے جاتے تھے جنہیں صلیبی لوٹتے تھے۔ یہ کیمپ
قیدخانہ نہیں تھا ،یہ جنگی قیدی کیمپ کہالتا تھا ۔ یہ ایک بیگار کیمپ تھا جس پر کوئی ایسا کڑہ پہرا نہ تھا جیسا قید
خانوں میں ہوتا ہے۔ ان بد نصیب قیدیوں کا کوئی باقاعدہ ریکارڈبھی نہ تھا ۔ یہ لوگ مویشی بنا دئیے گئے تھے ۔ جہاں
ضرورت ہوتی ان میں سے بہت سے آدمی ہانک کر لے جائے جاتے اور ان سے کام لیا جاتا تھا ۔ انہیں خوراک صرف اتنی
سی دی جاتی جس سے وہ زندہ رہ سکتے تھے۔ وہ خیموں میں رہتے تھے ۔ ان میں جو بیمار پڑ جاتا اس کا عالج اسی
صورت میں کیا جاتا تھا کہ بیماری معمولی ہو۔ اگر بیماری فورا ً زور پکڑلے تو اسے زہر دے کر مار دیا جاتا تھا ۔ یہ بد نصیب
مسلمانوں کا ایک گروہ تھا جو صرف اس جرم کی سزا بھگت رہے تھے کہ وہ مسلمان ہیں۔ سلطان ایوبی کو اس کے
جاسوسوں نے اس بیگار کیمپ کے متعلق خبریں دے رکھی تھیں ۔
حدید کو بھی کیمپ میں بھیج دیا گیا تھا ۔ لوزینا کے لیے حکم تھا کہ اسے نہ ملے ۔ ہرمن کو شک ہوگیا تھا کہ ایک
جذباتی وابستگی ہے ،لیکن لوزینا نے اس حکم کو قبول نہیں کیا تھا ۔ اس نے جب سنا کہ حدید ''مسلمانوں کے کیمپ''
میں ہے تو اس نے سہیلی سے کہا کہ وہ اسے آزاد کرائے گی۔ سہیلی نے اس کی جذباتی حالت دیکھ کر مدد کا وعدہ کیا
اور دونوں نے پالن بنالیا ۔
وہ اسی شہر میں گئی اور ایک پرائیویٹ ڈاکٹر سے ملی ۔ اسے کہا کہ وہ ایک زخمی کو ال رہی ہے جس کا عالج اسے اس
شرط پر کرنا پڑے گا کہ اس کے متعلق کسی کو کچھ نہ بتائے۔ ڈاکٹر نے اس رازداری کی وجہ پوچھی تو لوزینا نے کہا ……
''وہ ایک غریب سا مسلمان ہے جس نے میرے خاندان کی بہت خدمت کی ہے ۔ وہ کہیں لڑائی جھگڑے میں زخمی ہوگیا
ہے ۔ اس کے پلے کچھ بھی نہیں اس لیے کوئی ڈاکٹر اس کا عالج نہیں کرتا ۔ چونکہ یہاں تمام ڈاکٹر عیسائی ہیں اس لیے
وہ کسی مسلمان کا عالج بال اجرت نہیں کرتے ۔ رازداری کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر شہر کے منتظم تک یہ خبر پہنچ
گئی کہ ان مسلمانوں میں لڑائی جھگڑا ہوا ہے تو وہ اسی کو بہانہ بنا کر انہیں مسلمانوں کے کیمپ میں بھیج دے گا ۔ انہیں
تو بہانہ چاہیے ۔ میں اس آدمی کو اس خدمت اور ایثار کا صلہ دینا چاہتی ہوں۔ جو اس نے میرے خاندان کے لیے کیا ہے ۔
میں اسے رات کے وقت الئوں گی ۔
آپ کتنی اُجرت لیں گے۔ میں رازداری کی بھی اُجرت دوں گی ''۔
اس دوران ڈاکٹر اسے سر سے پائوں تک دیکھتا رہا ۔ لوزینا نے اسے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ کون ہے۔ یہی بتایا تھا کہ وہ
ایک معزز گھرانے کی لڑکی ہے۔ لڑکی کا غیر معمولی حسن دیکھ کر ڈاکٹر جو اُجرت لینا چاہتا تھا ،اسے وہ زبان پر نہیں ال
رہا تھا ۔ لوزینا اس میدان اور اس فن کی ماہر تھی ۔ و ہ مردوں کی نظریں پہنچانتی تھی ۔ اس نے اپنے فن کو استعمال
کیا تو ڈاکٹر موم ہوگیا ۔ لوزینا نے سونے کے چار سکے اس کے آگے رکھ دئیے اور جب ڈاکٹر نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں
لے کر کہا کہ تم سے زیادہ قیمتی سکہ نہیں تو لوزینا نے مخصوص مسکراہٹ سے کہا …… ''آپ جو قیمت مانگیں گے دوں
گی۔ میرا کام کردیں ''۔
ڈاکٹر یہ سمجھ گیا کہ معاملہ خطرناک اور پر اسرار معلوم ہوتا ہے لیکن لوزینا کو دیکھ کر اس نے خطرہ قبول کر لیا اور کہا
…… ''لے آئو ۔ آج رات ،کل رات ،جب چاہو لے آئو۔ اگر میں سویا ہوا ملوں تو جگا لینا ''…… اس نے ایک ہاتھ میں
سونے کے سکے اور دوسرے ہاتھ میں لوزینا کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
٭ ٭ ٭
اس مہم کا سب سے زیادہ نازک اور پر خطرہ مسئلہ تو یہ تھا کہ حدید کو کیمپ سے نکاال کس طرح جائے ۔ رات کو وہاں
پہرہ برائے نام ہوتا تھا ۔ ان بدنصیب قیدیوں میں بھاگنے کی سکت ہی نہیں تھی ۔ صبح سورج نکلنے سے پہلے انہیں مشقت
پر لگایا جاتا اور سورج غروب ہونے کے بعد کیمپ میں الیا جاتا ۔ان کی تعداد ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ تھی۔ لوزینا کی سہیلی
نے کیمپ کے متعلق کچھ معلومات حاصل کرلیں جن میں ایک یہ بھی تھی کہ زخمی اور بیمار قیدیوں کو معمولی سی ایک
ڈسپنسری میں ہر روز بھیجا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ صرف ایک پہرہ دار ہوتا ہے ۔ دوسرے دن لوزینا اپنی سہیلی کے ساتھ
وہاں پہنچ گئی جہاں مریض قیدیوں کو لے جایا جا تا تھا۔ اسے زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا۔ پچیس تیس مریضوں کی ایک پارٹی
نہایت آہستہ آہستہ چلتی آرہی تھی اور پہرہ دار ہاتھ میں الٹھی لیے انہیں مویشیوں کی طرح ہانکتا ال رہا تھا ۔ جو تیز نہیں
چل سکتے تھے انہیں وہ الٹھی سے دھکیل دھکیل کر الرہا تھا ۔
دونوں لڑکیاں آگے چلی گئیں۔ ان کا انداز ایسا تھا جیسے تماشہ دیکھ رہی ہوں۔ جب مریضوں کا ٹولہ ان کے قریب سے گزر
رہا تھا تو وہ ہر ایک کو دیکھنے لگتیں۔ اچانک لوزینا کو دھچکا لگا۔ حدید اسے قہر بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔ اس کے
اچھی طرح چال نہیں جا رہا تھا ۔ اس کے چہرے سے وہ رونق اور رمق بجھ گئی تھی جو لوزینا نے زخمی ہونے سے پہلے
دیکھی تھی ۔ حدید کے کندھے جھک گئے تھے۔ اس کے کپڑے خون سے الل تھے۔ خون خشک ہو چکا تھا ۔ لوزینا کی
آنکھوں میں آنسو آگئے مگر حدید کی آنکھوں میں نفرت تھی ۔ اس نے منہ پھیر لیا …… یہ مریض ٹولہ آگے نکل گیا تو لوزینا
اور اس کی سہیلی پہرہ دار سے باتیں کرنے لگیں جن میں ان مسلمان مریضوں کے خالف نفرت تھی ۔ انہوں نے زبان کے
جادو سے پہرہ دار کواپنا گرویدہ کرلیا اور کہا کہ وہ ازراہ مذاق ان قیدیوں کے ساتھ باتیں کرنا چاہتی ہیں ۔
ڈسپنسری میں دوسرے مریض بھی تھے۔ خاصا ہجوم تھا۔ قیدیوں کو ایک طرف بٹھادیا گیا ۔ لوزینا ان کے قریب چلی گئی اور
اس کی سہیلی نے پہرہ دار کوباتوں میں ا ُلجھا لیا۔ حدید دیوار کے سہارے بیٹھ گیا تھا ۔ اس کی حالت اچھی نہیں تھی ۔
لوزینا نے آنکھ کے اشارے سے اسے پرے بالیا ۔ وہ جب اس کے قریب گیا تو لوزینا نے آہستہ سے کہا …… ''مجھے حکم
مال ہے کہ تم سے کبھی نہ ملوں۔ بیٹھ جائو ۔ ہم یہ ظاہر نہیں ہونے دیں گے کہ ہم باتیں کر رہے ہیں ''۔
میں لعنت بھیجتا ہوں تم پر اور تمہارے حکم دینے والوں پر ''۔ حدید نے نحیف مگر غضبناک آواز میں کہا …… ''میں ''
نے تمہیں کسی صلے کے اللچ میں ڈاکوئوں سے نہیں بچایا تھا ۔ وہ میرا فرض تھا۔ کیا تم فرض ادا کرنے والوں کے ساتھ یہ
''سلوک کرتے ہو ؟
چپ رہو حدید !''……لوزینا نے رندھیائی ہوئی آواز میں کہا …… ''یہ باتیں بعد میں ہوں گی ۔ مجھے بتائو کہ رات تم ''
کس جگہ ہوتے ہو۔ آج رات تمہیں وہاں سے نکالنا ہے ''۔
حدید اس سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لوزینا نے اسے آنسوئوں سے اور بڑی مشکل سے یقین دالیا کہ وہ اسے دھوکہ نہیں
دے رہی ۔ حدید نے بتایا کہ وہ رات کو کہاں سوتا ہے ،وہاں سے نکلنا مشکل نہیں لیکن نکل کر وہ جائے گا کہاں ؟……
انہوں نے جلدی جلدی فرار کا منصوبہ بنالیا۔
٭ ٭ ٭
مسلمانوں کا کیمپ'' ایسی نیند سویاہوا تھا جیسے یہ الشوں کی بستی ہو۔ پہرہ دار بھی سو گئے تھے۔ یہاں سے کبھی ''
کوئی بھاگا نہیں تھا ۔ بھاگ کر کوئی جاتا بھی کہاں ! اس کے عالوہ پہرہ داروں کو یہ بھی معلوم تھا کو کوئی ایک آدھا
بھاگ بھی گیا تو کون جواب طلبی کرے گا۔ رات پہال پہر ختم ہورہا تھا کہ پھٹے پرانے ایک خیمے سے ایک آدمی پیٹ کے
بل رینگتا ہوا خیموں کی اوٹ میں وہاں تک چال گیا۔ جہاں اسے کوئی پہرہ دار نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ آگے اسے اندھیرے میں
بھی کھجور کا درخت نظر آنے لگا جہاں تک اسے پہنچنا تھا ۔ ایک سایہ سر سے پائوں تک موٹے کپڑوں میں لپٹا ہوا کھڑا
تھا۔ رینگنے واال ا ُٹھ کھڑا ہوا اور کھجور کے تنے تک پہنچ گیا۔ وہ حدید تھا ۔ لوزینا اس کی منتظر تھی ۔
تیز چل سکو گے''…… لوزینا نے پوچھا۔''
کوشش کروں گا''…… حدید نے جواب دیا ۔''
وہ کیمپ سے دور نکل گئے۔ آگے وسیع عالقہ غیر آباد تھا ۔ مشکل یہ تھی کہ حدید تیز نہیں چل سکتا تھا ۔ لوزینا نے
اسے سہارا دے کر تیز چالنے کی کوشش کی اور اسے بتاتی گئی کہ اسے کیسے کیسے حکم اوردھمکیاں ملی ہیں۔ اس نے
حدید کی غلط فہمی رفع کردی ۔ آگے شہر کی گلیاں آگئیں اور پھر ڈاکٹر کا گھر آگیا۔ تین چار بار دستک دینے سے ڈاکٹر
باہر آگیا اور انہیں فورا ً اندر لے گیا۔ اس نے حدید کے زخم کھول کر دیکھے تو کہا کہ کم از کم بیس روز مرہم پٹی ہوگی۔ یہ
سن کر لوزینا کے سامنے ایک بہت ہی پیچیدہ مسئلہ آگیا ۔ و ہ یہ تھا کہ اتنے دن حدید کو چھپائے گی کہاں؟ اسے بیگار
کیمپ میں واپس تو نہیں لے جانا تھا ۔ اس کی عقل جواب دے گئی۔ ڈاکٹر مرہم پٹی کر چکا تھا ،اس نے کہا کہ اسے
نہایت اچھی اور مقوی غزا کی ضرورت ہے۔
لوزینا اسے پرے لے گئی اورکہا …… ''یہ جہاں رہتا ہے وہاں اسے اچھی غذا نہیں مل سکتی ۔ میں گھر میں اسے اپنے پاس
نہیں رکھ سکتی۔ آپ اسے یہیں رکھیں اورجو چیز اس کے لیے فائدہ مند ہو و ہ کھالئیں۔ مجھ سے آپ جتنی قیمت اور
اُجرت مانگیں گے دوں گی ''۔
ڈاکٹر نے جو ا ُجرت بتائی وہ بہت ہی زیادہ تھی ۔ لوزینا نے کم کرنے کو کہا تو ڈاکٹر نے کہا ……''تم مجھ سے بہت ہی
خطرناک کام کرا رہی ہو۔ میں جانتا ہوں کہ یہ شخص مسلمانوں کے کیمپ سے الیاگیا ہے۔ اور یہ مصری فوج کا سپاہی ہے ۔
تمہارا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ مجھے منہ مانگی ا ُجرت دو گی تو تمہارا یہ راز میرے گھر سے باہر نہیں جائے گا ''۔
مجھے منظور ہے''……لوزینا نے کہا …… ''اور یہ بھی سن لو ڈاکٹر! اگر یہ راز فاش ہوگیا تو آپ زندہ نہیں رہیں گے''۔''
ڈاکٹر نے حدید کو ایک کمرے میں لٹا دیا اور اسے بتایا کہ وہ ٹھیک ہونے تک یہیں رہے گا ۔ اس نے اندر سے اسے دودھ
اور پھل الدئیے اور لوزینا کوایک اور کمرے میں لے گیا …… دوسرے دن لوزینا اور اس کی سہیلی نے کیمپ کی جاسوسی کی ۔
ڈسپنسری میں گئیں۔ مریض قیدی وہاں لے جائے گئے ۔ دونوں لڑکیوں نے پہرہ دار کے ساتھ گپ شپ لگا ئی اور اپنے
خصوصی ڈھنگ سے باتیں کرکے معلوم کرلیا کہ حدید کی گمشدگی سے کیمپ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہاں کوئی ہلچل
نہیں ۔
دن گزرتے گئے۔ ڈاکٹر کو چونکہ منہ مانگی قیمت اور اُجرت مل رہی تھی ،اس لیے اس نے حدید کو چھپائے بھی رکھا اور
اس کا عالج پوری توجہ سے کرتا رہا۔ اسے مقوی غذا بھی دیتا رہا ۔ لوزینا شام کے بعد وہاں جاتی۔ کچھ دیر حدید کے
ساتھ بیٹھتی اور بہت دیر ڈاکٹر کے کمرے میں گزارتی ۔ اس روز مرہ کے معمول میں بیس روز گزر گئے اور حدید کے زخم
ٹھک ہو گئے۔ اس کی صحت بحال ہوگئی۔ لوزینا نے ڈاکٹر سے کہا کہ وہ کل رات کسی بھی وقت حدید کو لے جائے گی۔
دوسرے دن اس نے اپنی سہیلی کو استعمال کیا۔ چھوٹے عہدے کا ایک افسراس کی سہیلی کے پیچھے پڑا رہتا تھا۔ سہیلی نے
اس افسر کو جھانسہ دیا اور لوزینا نے اس کے ٹرنک سے اس کی وردی نکال لی جو اس نے حدید کو پہنادی۔گھوڑے کا انتظام
مشکل نہ تھا ۔ وہ بھی ہوگیا۔ یہ اہتمام اس لیے کیا جا رہا تھا کہ شہر کے اردگرد مٹی کی بہت اونچی دیوار تھی ۔ اس
کے چار دروازے تھے جو رات بند رہتے تھے۔ ان دنوں دن کے وقت یہ دروازے کھلے رکھے جاتے تھے کیونکہ سلطان ایوبی کے
آنے والے حملے کے لیے فوجوں اور ان کے سامان کی آمدو رفت جاری رہتی تھی ۔
سورج غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے قلعے کے ایک بڑے دروازے کی طرف ایک صلیبی افسر گھوڑے پر جا رہا تھا ۔ اس کی
کمر سے لٹکی ہوئی تلوار مسلمانوں کی طرح ٹیڑھی نہیں سیدھی تھی اور اس کا دستہ صلیب کی شکل کا تھا۔ و ہ ہر لحاظ
سے صلیبی تھا۔ دروازہ کھال ہوا تھا جس سے اونٹوں کا ایک کارواں رسد سے لدا ہوا باہر جارہا تھا۔ ظاہر یہی ہو تا تھا
جیسے یہ گھوڑ سوار افسر اس کارواں کے ساتھ جارہا ہو۔ وہ کہیں باہر سے آرہا تھا ۔ اس نے افسر کو دیکھا اور مسکرایا ،
مگر اس افسر نے مسکراہٹ کا جواب مسکراہٹ سے نہ دیا۔ ہرمن چند قدم اندر کو آیا تو اس نے گھوڑا روک لیا۔ اسے دو
تین سو قدم دور لوزینا کھڑی نظر آئی جس نے ہرمن کو دیکھا تو وہاں سے تیز ی سے اپنے ٹھکانے کی طرف چلی گی۔
علی بن سفیان ک طرح ہرمن بھی جاسوس اور سراغرساں تھا۔ اس نے فورا ً گھوڑا دروازے کی طرف گھمایا اور ایڑ لگادی ۔ وہ
اپنا شک رفع کرنا چاہتاتھا۔ اس نے گھوڑے کوایڑ لگائی تو گھوڑا دوڑ پڑا۔ باہر جا کر ہرمن نے دیکھا کہ جو افسر اس کے پاس
سے گزرا تھا وہ اتنی دور نکل گیا تھا کہ اس کے تعاقب میں جانا بیکار تھا۔ اس گھوڑ سوار نے دروازے سے نکلتے ہی
گھوڑے کو ایڑ لگادی تھی ۔ گھوڑا بہت تیز رفتار تھا۔ ہرمن اسے دیکھتا رہا اور صحرا کی وسعت میں گم ہو گیا …… لوزینا نے
حدید کو آزاد کراکے صلہ دے دیا تھا ۔
٭ ٭ ٭
ہرمن نے اپنا گھوڑا موڑا اور تیزی سے اندر گیا ۔ وہ سب سے پہلے مسلمانوں کے کیمپ میں گیا اور وہاں کے انچارج سے
حدید کی نشانیاں بتا کر پوچھا کہ وہ کہاں ہے۔ کچھ پتہ نہ چال۔ جس خیمے میں حدید کو رکھا گیا تھا وہاں کے رہنے والوں
نے بتایا کہ ایک صبح وہ یہاں سے غائب تھا۔ وہ سمجھے کہ اسے ادھر ادھرکر دیا گیا ہے۔ ہرمن کا شک یقین میں بدل
گیا۔ وہ حدید ہی تھا جسے اس نے صلیبی فوج کی وردی میں دروازے سے نکلتے دیکھا تھا ۔ وہ مزیدتفتیش سے پہلے لوزینا
کے کمرے میں گیا ۔ وہ سر ہاتھوں میں تھامے رو رہی تھی ۔
کیا تم نے اسے بھگایا ہے''……ہرمن نے گرج کر کہا۔ لوزینا نے آہستہ سے سر اُٹھایا۔ ہرمن نے کہا …… ''جھوٹ بولو گی''
تو میں تفتیش کرکے ثابت کردوں گا کہ اسے تم نے فرار میں مدد دی ہے ''۔
نہ آپ کو تفتیش کی ضرورت ہے نہ مجھے جھوٹ بولنے کی ضرورت''…… لوزینا نے کہا …… ''میری زندگی ایک شاہانہ ''
جھوٹ اور میرا وجود ایک خوبصورت دھوکہ ہے۔ اپنی روح کی نجات کے لیے میں سچ بول کر مر رہی ہوں ''۔ اس کی آواز
میں غنودگی تھی جو بڑھتی چلی جارہی تھی ۔ وہ ا ُٹھی تو اس کی ٹانگیں لڑکھڑا ئیں۔ اس کے قریب ایک گالس پڑا تھا
جس میں چند قطرے پانی تھا۔ اس نے گالس ا ُٹھا کر ہرمن کی طرف بڑھا کر کہا …… ''میں اپنے آپ کو سزائے موت دے
رہی ہوں ۔ اس گالس میں پانی کے چند قطرے گواہی دیں گے کہ میں نے اپنے ناپاک جسم کو سزائے موت اس لیے نہیں دی
کہ اپنی قوم سے غداری کی اور دشمن کو قید سے بھگادیا ہے بلکہ میرا جرم یہ تھا کہ میں ان انسانوں کو دھوکے دینے گئی
تھی جن کے ہاں کوئی دھوکہ اور فریب نہیں ۔ ان میں چار انسانوں نے میری عزت بچانے کے لیے جو میرے پاس تھی ہی
نہیں ،دس ڈاکوئوں کامقابلہ کیا۔ پھر ایک انسان نے مجھے اپنا جسم کٹوا کر ڈاکوئوں سے چھینا۔ مجھے نیکی اور بدی ،
'' محبت اور نفرت کا فرق معلوم ہوگیا تھا۔ میں سچ بول کر مر رہی ہوں ۔ یہ پر سکون موت ہے۔
وہ گرنے لگی تو ہرمن نے اس کے ہاتھ سے گالس لے کر اسے تھام لیا۔ لوزینا نے اپنے جسم کو جھٹکا دیا اور ہرمن کے
بازوئوں سے نکل کر پر ے ہوگئی۔ اونگھتی ہوئی آواز میں بولی …… ''میرے جسم کو ہاتھ نہ لگائو۔ یہ اب تمہارے کام کا
نہیں رہا۔ اس زہر نے اس میں سچ داخل کر دیا ہے۔ تمہیں ناپاک جسموں کی ضرورت ہے…… میں نے اسے بھگا یاہے۔ اسے
میں نے بیس روز چھپائے رکھا تھا۔ اسے میں نے فرنینڈس کی وردی چرا کر پہنائی تھی ۔ اسے میں نے گھوڑا دیا تھا۔ میں
اس کے ساتھ نہیں جا سکتی تھی۔ میں اس کے بغیر رہ بھی نہیں سکتی تھی ،اس لیے میں نے زہر پی لیا ۔ اگر تم مجھے
پکڑ نہ لیتے تو بھی میں زہر پی لیتی ''…… وہ پلنگ پر لڑھک گئی ۔ ہرمن کو اس کی آخری سرگوشی سنائی دی ……
''سچ بول کر مرنے میں کتنا سکون ہے ''…… اس نے آخری سانس اس طرح لی جیسے سکون سے آہ بھری ہو۔
اسے جب دفن کرچکے تو اک افسر نے پوچھا …… ''اس کا کوئی خاندان تھا تو انہیں اس کی موت کی اطالع دے دو ''۔
اس کا خاندان ہم ہی تھے'' …… ہرمن نے جواب دیا …… ''اسے دس گیارہ سال کی عمر میں کسی قافلے سے اغوا ''
کرکے الئے تھے''۔
صالح الدین ایوبی کی فوج کو کوچ کیے تیسرا دن تھا۔ صلیبیوں نے اسے راستے میں روکنے کے لیے فوج بھیج دی تھی ۔
حملہ چونکہ کرک پر آرہا تھا ،اس لیے صلیبیوں نے شوبک سے زیادہ تر فوج کرک بھیج دی تھی ۔ اس کا ایک حصہ شام
کی طرف بھیج دیا گیا تھا تا کہ نورالدین زنگی مدد کے لیے آئے تو اسے کرک سے کچھ دور روکا جا سکے اور اس فوج کا
کچھ حصہ سلطان ایوبی کو راستے میں روکنے والی فو ج کو دیا گیا تھا ۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنی فوج کو تین
حصوں میں تقسیم کرکے کوچ کرایا تھا اور تینوں کو دوردور رکھا تھا ۔ وہ جب اس مقام پر پہنچ گیا جہاں صلیبیوں سے ٹکر
ہونی چاہیے تھی ،اس نے تینوں حصوں کے کمانڈروں اور ان کے ماتحت کمانڈروں کو اپنے خیمے میں بالیا۔
ہم اس مقام پر آگئے ہیں جہاں راز فاش کردینا چاہیے ''…… سلطان ایوبی نے کہا …… ''تم شاید حیران ہور ہے ہوگے کہ''
میں تمہیں یہ بتاتا رہا ہوں کہ میں کرک پر حملہ کروں گا مگر میں تمہیں کسی اور طرف لے آیا ہوں ۔ میں کرک پر حملہ
نہیں کر رہا ۔ ہماری منزل شوبک ہے۔ ایک سوال تم سب کو پریشان کر رہاہے کہ میں نے ان تین جاسوسوں کو جن میں
ایک عالم تھا اور دو لڑکیاں ،کیوں رہا کر دیا تھا اور انہیں محافظ کیوں دئیے تھے۔ اس سوال کا جواب سن لو ۔ میں نے
انہیں اپنے ساتھ والے کمرے میں بٹھا کر درمیان کا دروازہ کھال رکھا اور علی بن سفیان اوردو نائبین کو یہ بتانا شروع کردیا کہ
میں فالں تاریخ کو کرک پر حملہ کررہا ہوں۔ میں جانتا تھا کہ جاسوس سن رہے تھے۔ میں نے ان کے کانوں میں یہ بھی
……'' ڈاال کہ میں صلیبیوں سے کھلے میدان کی جنگ سے ڈرتا ہوں
اس قسم کی باتیں ان کے کانوں میں ڈال کر انہیں رہا کردیا اور انہیں محافظ دئیے تا کہ وہ صحیح و سالمت شوبک پہنچ ''
جائیں۔ مجھے اطالع ملی ہے کہ راستے میں ایک حادثہ ہوگیا ہے۔ ڈاکوئوں نے تین محافظوں اور ایک لڑکی کو مار ڈاال ہے۔
چوتھا محافظ کل رات شوبک سے واپس آگیا ہے۔ وہاں ہمارے جو جاسوس ہیں انہوں نے اطالع دی ہے کہ عالم جاسوس زندہ
شوبک پہنچ گیا تھا جس نے میرا دھوکہ کامیاب کردیا ہے۔ صلیبیوں نے اپنی فوج میری مرضی کے مطابق تقسیم کردی ہے۔ اس
وقت تمہاری فوج کا بائیں واال حصہ صلیبیوں کی بہت بڑی فوج کے بائیں پہلو سے چار میل دور ہے ''۔
اس نے بائیں حصے کے کمانڈر سے کہا …… ''آج سورج غروب ہونے کے بعد تم اپنے تمام گھوڑ سوار دستے سیدھے آگے دو
میل لے جائو گے۔ وہاں سے اپنے بائیں کو ہوجانا۔ چار میل سیدھا جانا پھر بائیں کو جانا اور دو میل پر تمہیں دشمن آرام
کی حالت میں ملے گا۔ حملہ کرنا تم جانتے ہو۔ یہ تیز ہلہ ہوگا۔ راستے میں جو کچھ آئے اسے کچلتے ہوئے نکل آئو اور
اپنی اسی جگہ پر آجائو جہاں سے چلے تھے۔ دوسرا حصہ شام کے بعد سیدھا آگے بڑھے گا۔ آٹھ نو میل جاکر بائیں کو
ہوجائے گا۔ تمہیں دشمن کی رسد اور قافلے ملیں گے۔ اس کے عالوہ تم دشمن کے عقب میں ہوگے۔ دن کے وقت دشمن
بائیں والے کے تعاقب میں آئے گا لیکن تم سامنے کی ٹکر نہیں لو گے ۔ دن کو بہت پیچھے آجائو گے۔ رات کو پھر حملہ
کرو گے اور رکو گے نہیں۔ صلیبی آگے بڑھیں گے تو درمیان واال حصہ عقب سے حملہ کرے گا اور دشمن کے سنبھلنے تک
بکھر جائے گا ۔ تیسرا حصہ جو میرے ساتھ ہے ،آج رات کوچ کر رہا ہے۔ ہم کل دوپہر تک شوبک کا محاصرہ کر چکے ہوں
گے۔ باقی دو حصے صلیبیوں کو ان طریقوں سے جن میں تمہیں مشق کراتا رہا ہوں ،دشمن کو صحرا میں پریشان کیے رکھیں
گے۔ اس تک رسد نہیں پہنچنے دیں گے ۔وہ جوں ہی پانی کے چشمے سے ہٹے گا تم چشموں پر قبضہ کرلوگے۔ حملہ ہمیشہ
پہلو سے کروگے اور لڑنے کے لیے رکو گے نہیں ۔ جانباز دستے ہر رات دشمن کے مویشیوں پر آگ پھینکیں گے ''۔
یہ ١١٧١ء کے آخری دن تھے جب کرک والوں کو سلطان ایویبی کے لیے انتظار کے بعد پتہ چال کہ شوبک جیسا اہم قلعہ
سلطان ایوبی کے محاصرہ میں آگیا ہے جب کہ زیادہ ترفوج کرک میں اکھٹی کرلی گئی ہے اور صحرا میں بھیج دی گئی ہے۔
شوبک کو وہ کوئی مدد نہیں دے سکتے تھے۔ صحرا میں جو فوج گئی تھی ،مسلمان اس کا برا حشر کر رہے تھے۔ صلیبیوں
کی پریشانی یہ تھی کہ مسلمان سامنے آکر نہیں لڑتے تھے۔ وہ گوریال اور کمانڈو طرز کے حملے سے ان کا نقصان کر رہے
تھے۔ انہوں نے رسد روک لی تھی ۔ پانی پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا تھا۔ صلیبیوں کی یہ فوج نہ لڑنے کے قبل رہی تھی نہ
پیچھے ہٹ کر شوبک کو بچانے کے لیے پہنچ سکتی تھی۔
شوبک میں صلیبیوں نے قلعے اور شہر کی دیواروں سے تیروں اور برچھیوں سے بہت مقابلہ کیا لیکن سلطان ایوبی کے نقب
زن دستوں نے دیواریں توڑ لیں۔ یہ محاصرہ تقریبا ً ڈیڑھ مہینہ جاری رہا ۔ آخر سلطان ایوبی شوبک میں داخل ہوگیا۔ وہ سب
سے پہلے بیگار کیمپ میں گیا ،جہاں کے بدنصیب قیدیوں نے شکرکے سجدے کیے۔ صلیبیوں کی صحرا والی فوج بے ترتیبی
میں پسپا ہو کر کرک کے قلعے میں چلی گئی جہاں بہت سی فوج بیکار بیٹھی صالح الدین ایوبی کا انتظار کر رہی تھی ۔
19:35
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
"قسط نمبر36.۔" جب ایونا عائشہ بنی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
١١٧٢ء کا دوسرا مہینہ گزر رہا تھا ۔ شوبک کا قلعہ تو سر ہو چکا تھا لیکن شہر میں ابھی بدنظمی اور افراتفری تھی ۔
عیسائی اپنے کنبوں سمیت وہاں سے بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ کچھ بھاگ بھی گئے تھے۔ انہیں ڈر یہ محسوس ہو
رہا تھا کہ جس طرح انہوں نے شوبک کے مسلمان باشندوں پر ظلم و تشدد روا رکھا تھا ،اسی طرح اب مسلمان ان کا جینا
حرام کردیں گے۔ اس انتقامی کاروائی سے وہ اتنے خوفزدہ ہوئے کہ انہوں نے جب اپنی فوج کو قلعے سے بھاگتے ،سلطان
ایوبی کے تیر اندازوں کے تیروں سے مرتے اور ہتھیار ڈالتے دیکھا تو بال بچوں کو لے کر گھروں سے نکلنے لگے۔ مسلمان
سپاہ نے انہیں جانے نہیں دیا تھا۔ ساالروں اور کمانداروں نے اپنے طور پر حکم دے دیا تھا کہ شہر سے کسی شہری کو کہیں
جانے نہ دیا جائے ۔ چنانچہ سپاہی بھاگنے والے عیسائیوں کو ریگستان کے ُدور دراز راستوں ،گوشوں اور ٹیلوں کے عالقوں سے
روک روک کر واپس بھیج رہے تھے۔
یہ لوگ دراصل اپنے اور اپنے حکمرانوں کے گناہوں کی سزا سے بھاگ رہے تھے۔ انہوں نے یہاں کے مسلمانوں کو کیڑے
مکوڑے بنا رکھا تھا ۔ ''مسلمانوں کا کیمپ '' اس کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔سلطان ایوبی کو اس کیمپ کا علم تھا ۔ وہ
شوبک میں داخل ہوتے ہی اس کیمپ میں پہنچا تھا ۔ ایک اندازے کے مطابق وہاں دو ہزار کے قریب مسلمان قید تھے۔ یہ
دو ہزار الشیں تھیں۔ ان سے مویشیوں کی طرح کام لیا جاتا تھا۔ ان سے غالظت تک اُٹھوائی جاتی تھی ۔ ان میں بہت سے
ایسے بھی تھے جو یہاں جوانی میں الئے گئے تھے اور بوڑھے ہو چلے تھے۔ وہ بھول گئے تھے کہ وہ انسان ہیں ۔ ان میں
پہلی لڑائیوں کے جنگی قیدی بھی تھے اور ان میں ا ُن بد نصیبوں کی تعداد زیادہ تھی جنہیں صلیبیوں نے قافلوں سے اور شہر
سے پکڑ کر کیمپ میں ڈاال تھا۔ یہ امیر کبیر تاجر تھے یا خوبصورت لڑکیوں کے باپ تھے۔ ان سے دولت ،مال اور لڑکیاں
چھین لی گئی تھیں ۔ ان میں شہر کے وہ مسلمان بھی تھے جن کے خالف یہ الزام تھا کہ وہ سلطنت اسالمیہ کے وفادار
اور صلیب کے دشمن ہیں ۔ شہر میں جو مسلمان رہتے تھے وہ نماز اور قرآن گھروں میں چھپ چھپ کر پڑھتے تھے ،وہ
بھی اس طرح کہ آواز باہر نہ جائے …… وہ معمولی حیثیت کے عیسائیوں کو بھی جھک کر سالم کرتے تھے۔ اپنی جوان
بیٹیوں کو تو وہ پردے میں رکھتے ہی تھے۔ اپنی معصوم بچیوں کو بھی وہ باہر نہیں نکلنے دیتے تھے۔ عیسائی خوبصورت
بچیوں کو اغوا کرلیتے تھے۔
سلطان ایوبی نے جب ان دوہزار زندہ الشوں کو دیکھا تو اس کے آنسو نکل آئے تھے۔ اس نے کہا تھا …… ''ان مظلوموں کو
آزاد کرانے کے لیے میں پوری کی پوری سلطنت اسالمیہ کو داو پر لگا سکتا ہوں ''…… اس نے ان کی غذا اور اُن کی
صحت کے لیے فوری احکامات جاری کر دئیے تھے اور کہا تھا کہ ابھی انہیں اسی جگہ رکھا جائے اور انہیں بستر مہیا کیے
جائیں ۔ اس کے پاس ابھی ان کی کہانیاں سننے کے لیے وقت نہیں تھا۔ اسے ابھی باہر کی کیفیت کو قابو میں النا تھا۔
باہر کا یہ عالم تھا کہ جنگ ابھی جاری تھی جس کی نوعیت کھلی جنگ کی سی نہیں تھی ۔ صورت یہ تھی کہ صلیبی
فوج جو سلطان ایوبی کے دھوکے میں آکر کرک اور شوبک سے دور اُس فوج کو روکنے کے لیے چلی گئی تھی وہ بکھر کر
پسپا ہو رہی تھی ۔ مسلمان دستے اُس پر شب خون مار مار کر اور زیادہ بُرا حال کر رہے تھے ۔ سلطان ایوبی کو اطالعات
مل رہی تھیں کہ بعض جھڑپوں میں اس کے دستے گھیرے میں آکر نقصان اُٹھا رہے تھے۔ یہ خطرہ بھی تھا کہ کرک کے
قلعے میں جو صلیبی فوج ہے ،وہ صحرا میں پھنسی اور بکھری ہوئی اپنی فوج کی مدد کے لیے بھیج دی جائے گی ۔
اس صورت حال کے لیے سلطان ایوبی کے پاس فوج کی کمی تھی ۔ مصر سے وہ کمک نہیں منگوانا چاہتا تھا کیونکہ وہاں
کی سازشیں دبی نہیں تھیں۔ معزول کی ہوئی فاطمی خالفت کے حامی درپردہ سازشوں میں مصروف تھے۔ سوڈانی حبشی الگ
طاقت جمع کر رہے تھے۔ ان دونوں کو صلیبی مدد
د ے کر سلطان ایوبی کے خالف متحد کر رہے تھے۔ سب سے بڑا خطرہ یہ تھا کہ متعدد مسلمان سیاسی اور فوجی سربراہ
بھی سلطان ایوبی کے خالف درپردہ کاروائیوں میں مصروف تھے۔ یہ ایمان فروشوں کا ٹولہ تھا جواقتدار کے حصول کے لیے
اسالم کے دشمنوں کے ساتھ سازباز کر رہاتھا ۔ انہوں نے حشیشین کے پیشہ ور قاتلوں کی خدمات بھی حاصل کر لی تھیں ،
جنہوں نے سلطان ایوبی کے قتل کا منصوبہ بنالیاتھا۔
صالح الدین ایوبی نے کئی بار کہا تھا کہ صلیبیوں کی یہ کتنی بڑی کامیابی ہے کہ وہ میرے ہاتھوں مسلمانوں کو قتل کرارہے
ہیں۔ وہ بیشک ایمان فروش ہیں جنہیں میں نے غداری کی پاداش میں سزائے موت دی ہے لیکن وہ مسلمان تھے ،کلمہ گو
تھے ،کاش ،یہ لوگ اپنے دشمن کو پہچان لیتے
اب جب کہ شوبک کا قلعہ اس کے قدموں میں تھا اور وہ قلعے کی دیوار پر اپنے فوجی مشیروں وغیرہ کے ساتھ گھوم رہا
تھا اسے شہر کے مسلمان باشندے گروہ در گروہ ناچتے اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتے نظر آرہے تھے۔ اونٹوں پر شہیدوں کی
ِ
دست راست بہائوالدین شداد اپنی
الشیں اور زخمی الئے جا رہے تھے ،سلطان ایوبی گہری سوچ میں کھویا ہوا تھا۔ اس کا
یاداشتوں میں لکھتا ہے …… ''صالح الدین ایوبی کے چہرے پر فتح و نصرت کا کوئی تاثر نہیں تھا۔ خوشیاں منانے والے
شوبک کے مسلمانوں کا ایک گروہ دف اور شہنائی کی تال پر ناچتا اس دیوار کے دامن میں آن رکا جہاں ہم کھڑے تھے۔صالح
الدین ایوبی انہیں دیکھتا رہا۔ لوگ اسے دیکھ کر پاگلوں کی طرح ناچنے لگے۔ ایوبی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تک نہ آئی۔ اس
نے ان لوگوں کے لیے ہاتھ تک نہیں ہالیا۔ بس دیکھ رہا تھا۔ گرہ میں سے کسی نے بلند آواز سے کہا …… صالح الدین بن
نجم الدین ! تم شوبک کے مسلمانوں کے لیے پیغمبر بن کر اُترے ہو …… وہ لوگ عربی نسل کے تھے۔ ایک دوسرے کو باپ
کے نام سے پہچانتے اور پکارتے تھے۔ اس لیے ان میں بیشتر صالح الدین ایوبی کو بن ایوب یا بن نجم کہتے تھے۔ سلطان
……'' ایوبی ک ُرد نسل سے تھا
ناچنے والوں میں کسی نے نعرہ لگایا …… ک ُر کے بچے ! ہم تیری پیغمبری کو سجدہ کرتے ہیں…… صالح الدین ایوبی ''
یکلخت بیدار ہوگیا۔ تڑپ کر بوال۔ انہیں کہو مجھے گناہگار نہ کریں۔ میں پیغمبروں کا غالم ہوں۔ سجدے کے الئق صرف اللہ
کی ذات ہے…… میں نے سلطان کے ایک محافظ سے کہا ،بھاگ کر جائو اور ان لوگوں سے کہو کہ ایسے نعرے نہ لگائیں
…… آرام سے کہنا۔ ان کا دل نہ دکھانا۔ انہیں ناچنے دو انہیں گانے دو۔ انہوں نے جہنم سے نجات حاصل کی ہے۔ میری
زندگی ان لوگوں کی خوشیوں کے لیے وقف ہے …… وہ اور کچھ نہیں کہہ سکا کیونکہ اس کی آواز بھرا گئی تھی ۔ یہ جذبات
کا غلبہ تھا ۔ اس نے منہ پھیر لیا ،،وہ ہم سب سے اپنے آنسو چھپا رہا تھا ۔ کچھ دیر بعد اس نے ہم سب کی طرف
دیکھا اور کہا …… ہم ابھی فلسطین کی دہلیز پر پہنچے ہیں ۔ ہماری منزل بہت ُدور ہے۔ ہمیں شمال میں وہاں تک جانا ہے
جہاں سے بحیرئہ روم کا ساحل گھوم کر مغرب کو جاتا ہے۔ ہمیں سرزمین عرب سے آخری صلیبی کو دھکیل کر بحیرئہ روم
میں ڈبونا ہے ''۔
وہیں سلطان ایوبی نے اپنے متعلقہ مشیر کو حکم دیا کہ سارے شہر میں منادی کرادو کہو کہ کوئی غیر مسلم اس خوف سے
شہر سے نہ بھاگے کہ مسلمان انہیں پریشان کریں گے۔ کسی کو کسی مسلمان فوجی یا شہری سے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ
قلعے کے دروازے پر شکایت کرے۔ اس کا ازالہ کیا جائے گا۔ اس نے زوردے کر کہا کہ ہم کسی کے لیے تکلیف اور مصیبت کا
نہیں پیار اور محبت کا پیغام لے کر آئیں ہیں۔ اگر کسی نے اسالمی حکومت کے خالف کوئی بات یا حرکت کی تو اسے
اسالمی قانون کے تحت سزا دی جائے گی جو بہت سخت ہوگی اور یاد رکھو کہ اسالمی قانون سے نہ کوئی غیر مسلم بچ
سکتا ہے نہ مسلمان …… اس کے ساتھ ہی اس نے حکم دیا کہ شہر میں اگر کوئی صلیبی فوجی یا جاسوس چھپا ہوا ہے یا
اسے کسی نے اپنے گھر میں پناہ دے رکھی ہے تو وہ فورا ً اپنے آپ کو مسلمان فوج کے حوالے کردے۔
سلطان ایوبی کی فوج قلعے کی ایک دیوار توڑ کر اندر گئی تھی۔ اس نے حکم دے رکھا تھا کہ قلعے کے اس حصے پر فورا ً
قبضہ کیا جائے جہاں صلیبیوں کا محکمہ جاسوسی کا مرکز تھا۔ اس کے جاسوسوں نے اسے اس مرکز کے متعلق بہت سی
معلومات دے رکھی تھیں اور راہنمائی بھی کی تھی مگر صلیبی اتنے اناڑی نہیں تھے۔ انہوں نے سب سے پہلے اسی حصے کو
خالی کیا اور دستاویزات نکال لے گئے تھے۔ ان کی جاسوسی کا سربراہ ،ہرمن اور اس کے دیگر ماہرین وہاں سے غائب
ہوچکے تھے۔ البتہ آٹھ لڑکیاں پکڑی گئیں تھیں جو علی بن سفیان کے حوالے کر دی گئی تھیں۔ وہ ان سے معلومات لے رہا
تھا ۔ ان لڑکیوں نے بتایا تھا کہ کم و بیش بیس لڑکیاں وہاں سے نکل گئی ہیں۔ وہ سب اپنے طور پر بھاگی تھیں۔ ان کے
ساتھ کوئی مرد نہیں تھا۔ مرد جاسوس بھی نکل گئے تھے۔ ان آٹھ لڑکیوں میں سے ایک نے اپنی ساتھی لڑکی ،لوزینا کے
— متعلق بتایا تھا کہ اس نے ایک مسلمان فوجی )حدید( کو قلعے سے فرار کراکے خود کشی کر لی تھی ۔
شوبک میں امن اورشہری انتظامات بحال کرنے کی سرگرمیاں تھیں اور کرک میں شوبک پر حملے اور اسے سلطان ایوبی سے
چھڑانے کی اسکیمیں بن رہی تھیں لیکن صلیبی حملے کے لیے اتنی جلدی تیار نہیں ہو سکتے تھے جتنا وہ سمجھتے تھے۔
ان کے سامنے پہال سوال تو یہ تھا کہ ان کے عالم جاسوس نے بڑی پکی اطالع دی تھی کہ سلطان ایوبی کرک پر حملہ کرے
ناقابل تردید اطالعیں دی تھیں کہ سلطان
گا۔ اس کی فوجیں کرک کی طرف آرہی تھیں۔ ان کے قاہرہ کے جاسوسوں نے بھی
ِ
ایوبی کی فوج کرک پرحملہ کرے گی جس کی کمان وہ خود کرے گا مگر آدھے راستے سے اس کی فوجوں نے ُرخ بدل دیا
اور ایسی چالیں چلیں کہ صلیبی فوج جو مسلمانوں کو روکنے کے لیے گئی تھی ،شب خونوں کی زد میں آگئی اور سلطان
ایوبی نے کرک سے اتنی زیادہ ُدور شوبک پر حملہ کر دیا۔
اعلی افسر اور صلیبی حکمران موجود تھے۔ ان کے
یہ سوال ایک کانفرنس میں پیش کیا گیا تھا جس میں صلیبی فوج کے
ٰ
محکمہ جاسوسی کا سربراہ ،جرمن نژاد ہرمن اور عالم جاسوس جسے سلطان ایوبی نے قاہرہ سے گرفتار کرکے رہا کردیاتھا،
ملزموں کی حیثیت سے کانفرنس میں پیش کیے گئے تھے۔عالم جاسوس شوبک کے قلعے سے بھاگنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
اسے کانفرنس میں ہتھکڑیوں میں پیش کیا گیاتھا۔ اس پر الزام یہ تھا کہ اس نے غلط اطالع دے کر مسلمانوں کو فائدہ پہنچایا
اور ان کی فتح کا باعث بنا ہے۔ اس نے ایک بار پھر بیان دیا کہ اسے یہ اطالع کس طرح ملی تھی کہ سلطان ایوبی کرک
پر حملہ کرے گا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اگر اس کی اطالع میں کوئی شک تھا تو متعلقہ محکمے کو اس کے مطابق عمل
نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اس کے اس بیان پر ہرمن سے پوچھا گیا کہ اس نے جاسوسی کے ماہر کی حیثیت سے کیوں تسلیم کر
لیا تھا کہ اس جاسوس کی الئی ہوئی اطالع بالکل صحیح ہے۔
دعوی کر سکتا ہوں کہ میں جاسوسی اور ''
مجھے اس ضمن میں بہت کچھ کہنا ہے ''…… ہرمن نے کہا …… ''میں یہ
ٰ
سراغرسانی کا ماہر ہوں مگر کئی مواقع ایسے آئے ہیں جن میں میری مہارت اور میرے جاسوسوں کی محنت اور قربانی کو
نظر انداز کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میری مہارت فوج کی مرکزی کمان کے حکم یا کسی بادشاہ کے حکم کی نذر
اعلی کمانڈر بھی موجود ہیں اور جبکہ ہم اتنی
ہوگئی۔ اس کانفرنس میں تین حکمران موجود ہیں اور ان کی متحدہ کمان کے
ٰ
بڑی شکست سے دوچار ہوئے ہیں جس میں شوبک جیسا قلعہ ہاتھ سے نکل گیا ہے ،اس کے ساتھ میلوں وسیع عالقے پر
مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا ہے ،سال بھر کی رسد اور دیگر سازوسامان دشمن کے ہاتھ لگا ہے اور شوبک کی پوری آبادی
مسلمانوں کی غالم ہوگئی ہے ،میں آپ کی خامیاں اور احمقانہ حرکتیں آپ کے سامنے رکھنا اپنا فرض سمجھتا ہوں اور میں
آپ سب کوبصد احترام یاد دالتاہوں کہ ہم نے صلیب پر حلف ا ُٹھایا ہے کہ صلیب کے وقار کے لیے اپنا آپ قربان کردیں گے۔
اگر آپ میں سے کسی کے ذاتی وقا ر کو ٹھیس پہنچے تو اسے صلیب کا وقار ِ
پیش نظر رکھنا چاہئے''۔
ہرمن کی حیثیت ایسی تھی کہ نارڈ ،گے آف لوزینان اور شاہ آگسٹس جیسے خود سر بادشاہ بھی اس کی بات رد کرنے کی
جرٔات نہیں کرتے تھے۔ جاسوسی کا تمام تر نظام اس کے ہاتھ میں تھا۔ ان میں تباہ کار جاسوس بھی تھے۔ ہرمن کسی بھی
حکمران کو خفیہ طریقے سے قتل کرانے کی ہمت اور اہلیت رکھتا تھا۔ اسے اجازت دے دی گئی تھی کہ وہ اپنا تجزیہ پیش
کرے۔
میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ دشمن کے راز معلوم کرنے کے لیے اور اس کی کردار کشی کے لیے صرف لڑکیوں پر ''
کیوں بھروسہ کیا جا رہا ہے ''۔اُس نے پوچھا۔
اس لیے کہ عورت انسان کی بہت بڑی کمزوری ہے ''…… کسی حکمران نے کہا …… ''کردار کشی کا بہترین ذریعہ عورت''
ہے ،خواہ وہ تحریر میں یا گوشت پوست کی صورت میں ہو۔ کیا تم اس سے انکار کر سکتے ہو کہ عرب میں بہت سے
''مسلمان امراء قلعہ داروں اور وزراء کو ہم نے عورت کے ہاتھوں اپنا غالم بنا لیا ہے ؟
لیکن آپ یہ نہیں سوچ رہے کہ اس وقت مسلمانوں کی حکومت فوج کے ہاتھ میں ہے ''۔ ہرمن نے کہا ۔ ''اُن کا ''
خلیفہ اپنا حکم نہیں منوا سکتا۔ فوجی امور میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ۔ صالح الدین ایوبی کی مصر میں حیثیت ایک
گورنر کی سی ہے لیکن اس نے وہاں کے خلیفہ کو معزول کر دیا ہے ۔ اِدھر نورالدین زنگی ہے جس کی حیثیت ایک ساالر
لہذا یہ ِ
پیش
اور وزیر کی ہے لیکن جنگی امور میں اسے بغداد کے خلیفہ سے حکم اور اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ٰ
نظر رکھیے کہ آپ نے چند ایک امیروں ،وزیروں اور قلعہ داروں کو ہاتھ میں لے لیا ہے تو ان کی حیثیت چند ایک غداروں
کی ہے۔ وہ آپ نے اپنے ملک کا ایک انچ عالقہ بھی نہیں دے سکتے۔ اسالمی سلطنت کے اصل حکمران فوجی ہیں۔
نورالدین زنگی اور سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنی فوجوں کی تربیت ایسی کی ہے کہ آپ لڑکیوں سے اس فوج کا کردار
خراب نہیں کرسکتے اور نہ ہی کر سکیں گے ۔ اس فوج کے لیے شراب پینا سنگین جرم ہے۔ اسالم میں ہر کسی کے لیے
شراب حرام ہے۔ اس پابندی کا اثر یہ ہے کہ مسلمان فوجی ہو یا شہری وہ اپنے ہوش ٹھکانے رکھتا ہے۔ اگر صالح الدین
ایوبی شراب کا عادی ہوتا تو آج مصر ہمارا ہوتا اور صالح الدین ایوبی شوبک کے قلعے کا فاتح نہ ہوتا بلکہ اس قلعے میں
ہمارا قیدی ہوتا ''۔
ہرمن!'' …… ایک کمانڈر نے اسے ٹوک کر کہا …… ''اپنی بات لڑکیوں تک رکھو۔ ہمارے پاس مسلمانوں کے اوصاف ''
سننے کے لیے وقت نہیں ہے ''۔
میں یہ کہنا چاہتا ہوں ''…… ہرمن نے کہا …… ''کہ جاسوسی کے لیے لڑکیوں کا استعمال ناکام ہوچکا ہے ۔ گزشتہ دو ''
برسوں میں ہم بڑی قیمتی لڑکیاں مصر میں بھیج کر مسلمان فوجیوں کے ہاتھوں مروا چکے ہیں ۔ لڑکی کے معاملے میں یہ
بھی یاد رکھیے کہ عورت ذات جذباتی ہوتی ہے۔ آپ لڑکیوں کو کتنی ہی سخت ٹریننگ کیوں نہ دیں ،وہ مردوں کی طرح
پتھر نہیں بن سکتیں۔ ہم انہیں خطروں میں پھینک دیتے ہیں ۔ خطرہ بہر حال خطرہ ہوتا ہے اور دل و دماغ پر اثر کرتا
ہے ۔ بعض اوقات حاالت بہت ہی بگڑ جاتے ہیں ۔ ان حاالت میں مسلمان فوجی ہماری لڑکیوں کو تفریح کا ذریعہ بنانے کی
بجائے انہیں پناہ میں لے لیتے ہیں اور ان کے جسموں کو اپنے اوپر حرام کر لیتے ہیں ۔ لڑکیاں جذبات سے مغلوب ہو کے
رہ جاتی ہیں۔ حال ہی میں ہماری ایک لڑکی کو صالح الدین ایوبی کے ایک کمانڈر نے ڈاکوئوں سے بچایا اور زخمی ہوگیا۔
لڑکی اسے شوبک میں لے آئی۔ ہم نے اسے مسلمانوں کے کیمپ میں پھینک دیا ۔ لڑکی نے اسے ہماری فوج کے ایک افسر
کی وردی پہنا کر قلعے سے نکال دیا۔ اسے گھوڑا بھی دیا۔ میں نے لڑکی کو پکڑ لیا۔ لڑکی نے زہر کھا کر خود کشی کرلی۔
اس نے سزا کے خوف سے خود کشی نہیں کی تھی۔ اس نے محسوس کر لیا تھا کہ وہ گناہگار ہے اور اپنے جسم کو دھوکے
……'' کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ یہ احساس اتنا شدید تھا کہ اس نے زہر پی لیا
لڑکیوں کے خالف میں ایک دلیل اور بھی دینا چاہتا ہوں۔ ہمارے پاس جو لڑکیاں ہیں ،ان میں زیادہ تعداد ان کی ہے جنہیں''
ہم نے بچپن میں مسلمانوں کے قافلوں سے یا ان کے گھروں سے اغوا کیا تھا۔ انہیں ہم نے اپنا مذہب دیا اور اپنی ٹریننگ
دی ۔ وہ جوان ہوئیں اور اپنا بچپن اور اپنی اصلیت بھول گئیں۔ انہیں یاد بھی نہ رہا کہ وہ مسلمانوں کی بیٹیاں ہیں مگر ہم
نے صرف نام بدلے ،ان کا مذہب اور ا ُن کا کردا بدال ،ان کے خون کو نہ بدل سکے۔ میں انسانی نفسیات کو سمجھتا ہوں۔
لیکن یہ میرا تجربہ ہے کہ مسلمان کی نفسیات دوسرے مذاہب کے انسانوں سے مختلف ہے۔ یہ لڑکیاں جب کسی مسلمان کے
سامنے جاتی ہیں تو جیسے انہیں اچانک یاد آجاتا ہے کہ ان کی رگوں میں بھی مسلمان باپ کا خون ہے۔ مسلمان کے خون
سے اس کامذہب نہیں نکلتا''۔
تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ کسی لڑکی کو جاسوسی کے لیے نہ بھیجا جائے ؟'' ایک کماندار نے اس سے پوچھا۔''
کسی ایسی لڑکی کو نہ بھیجا جائے جو کسی مسلمان کے گھر پیدا ہوئی تھی ''…… ہرمن نے جواب دیا …… ''اگر آپ ''
لڑکیوں کو میرے محکمے سے نکا ل ہی دیں تو صلیب کے لیے بہتر رہے گا۔ آپ مسلمان اُمراء کے حرموں میں لڑکیاں بھیجتے
میدان جنگ نہیں دیکھا۔
رہیں۔ آ پ انہیں پھانس سکتے ہیں ۔ وہ آسانی سے آپ کے ہاتھ میں آجاتے ہیں کیونکہ انہوں نے
ِ
ان کی تلواریں ہماری تلوار سے نہیں ٹکرائی۔۔ ہمیں ان کی صرف فوج پہچانتی ہے۔ دشمن کو صرف فوج جانتی ہے۔ اس لیے
وہ ہمارے جھانسے میں نہیں آسکتی''۔
صلیبیوں کا شاہ آگسٹس انتہا درجے کا شیطان فطرت حکمران تھا جو اسالم کی دشمنی کو عبادت سمجھتا تھا۔ اس نے کہا
……''ہرمن ! تمہاری نگاہ محدود ہے۔ تم صرف صالح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی کو دیکھ رہے ہو۔ ہم اسالم کو دیکھ رہے
ہیں ۔ ہمیں اس مذہب کی بیج کنی کرنی ہے۔ اس کے لیے کردار کشی اور نظریات میں شکوک پیدا کرنا الزمی ہے۔ مسلمانوں
میں ایسی تہذیب رائج کرو جس میں کشش ہو۔ ضروری نہیں کہ ہم اپنا مقصد اپنی زندگی میں حاصل کرلیں …… ہم یہ کام
اپنی اگلی نسل کے سپرد کردیں گے۔ کچھ کامیابی وہ حاصل کرے گی اور یہ مہم اس سے اگلی نسل ہاتھ میں لے لے گی
…… پھر ایک دور ایسا آہی جائے گا جب اسالم کانام و نشان نہیں رہے گا۔ اگر اسالم زندہ رہا بھی تو یہ مذہب کسی اور
صالح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی کو جنم نہیں دے گا۔ میں وثوق سے کہتا ہوں کہ مذہب مسلمانوں کااپنا ہوگا۔ لیکن یہ
مذہب ہماری تہذیب میں رنگا ہوا ہوگا۔ ہرمن ! آج سے سو سال بعد پر نظر رکھو۔ فتح اور شکست عارضی واقعات ہیں۔ ہم
شوبک پر دوبارہ قبضہ کرلیں گے۔ تم مصر میں سازشوں کو مضبوط کرو ،فاطمیوں اور سوڈانی حبشیوں کو مدد دو۔ حشیشین کو
استعمال کرو''۔
کانفرنس کے کمرے میں ایک صلیبی افسر داخل ہوا۔گرد سے اٹاہوا اور تھکا ہوا تھا۔وہ اس فوج کے کمانڈروں میں سے تھا جو
ریگستان میں چلی گئی تھی اور آہستہ آہستہ کرک کی طرف پسپا ہو رہی تھی ۔وہ بہت پریشان تھا ۔اس نے کہا ……''فوج
کی حالت اچھی نہیں ۔میں یہ تجویز لے کے آیا ہوں کہ کرک کی تمام تر فوج کے ساتھ کافی کمک مال کر شوبک پر حملہ
کر دیا جائے اورمسلمانوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ آمنے سامنے کی جنگ لڑیں۔اس وقت جنگ کی کیفیت یہ ہے کہ ہمارے
دستے مرکزی کمان کے حکم کے مطابق کرک کی طرف پیچھے ہٹ رہے ہیں ۔مسلمانوں کے شب خون مارنے والے دستے
تھوڑی سی نفری سے رات کو عقبی حصے پر شب خون مارتے اور غائب ہو جاتے ہیں دن کے وقت ان کے تیر انداز چند
ایک تیر برسا کر نقصان کرتے اور غائب ہو جاتے ہیں ۔وہ نشانہ گھوڑے یا اونٹ کو بناتے ہیں ۔جس جانور کو تیر لگتا ہے،وہ
بھگدڑ مچا دیتا ہے ۔اسے دیکھ کر دوسرے گھوڑے اور اونٹ بھی ڈرتے اور بے قابو ہو جاتے ہیں ۔ہم نے رک کر ادھر ادھرکے
دستے اکٹھے کیے اور جوابی حملہ کرنے کی کوشش کی ،لیکن مسلمان آمنے سامنے نہیں آتے۔ہمارے کچھ دستون کو انہوں نے
صرف اس لیے مارا ہے کہ مسلمان انہیں اپنی مرضی کے میدان میں جا کر لڑاتے ہیں ۔سپاہ میں لڑنے کا جذبہ ماند پڑگیا ہے
۔جزبے کو بیدار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک شدیدجوابی حملہ کیا جائے''۔
اس مسئلے پر بحث شروع ہوگئی ۔صلیبیوں کے لیے مشکل یہ پیدا ہو گئی تھی کہ ان کی فوج کا بڑا حصہ جسے بہترین لڑاکا
سمجھا جاتا تھا ۔کرک سے دور ریگزار میں بکھر گیا تھا ۔سلطان ایوبی کی چال کامیاب تھی ۔اس کے کماندار اور دستوں کے
عہدیدار اس کی چال کو خوش اسلوبی سے عملی رنگ دے رہے تھے ۔وہ پانی پر قبضہ کر لیتے تھے۔بلندیوں پر پہنچ جاتے
تھے۔ٹیلوں کے عالقوں میں گھات لگاتے تھے اور دن کے وقت اگر ہوا تیز ہو تو ہوا کے رخ سے حملہ کرتے تھے ۔اس سے
یہ فائدہ ہوتا تھا کہ ہوا اور گھوڑوں کی اڑائی ہوئی ریت صلیبیوں کی آنکھوں میں پڑتی اور انہیں اندھا کرتی تھی۔سلطان ایوبی
کے پاس اتنی نفری نہیں تھی کہ وہ شوبک کو بچا سکتا ۔اس نے جنگی فہم و فراست سے کام لیااور صلیبیوں پر اپنا رعب
قائم کر دیا تھا ۔شوبک کے شمال مشرق میں صلیبیوں کی خاصی نفری بیکار بیٹھی تھی ۔اسے اس لیے واپس نہیں بالیا جا
رہا تھا کہ نور الدین زنگی سلطان ایوبی کو کمک بھیج دے گا۔
صلیبی حکمران اور کمانڈرکرک کے قلعے میں بیٹھے ہوئے پیچ و تاب کھا رہے تھے ۔شوبک میں ایوبی کو یہ مسئلہ پریشان کر
رہا تھا کہ صلیبیوں نے حملہ کر دیا تو وہ کس طرح روکے گا۔
اس نے عیسائیوں کے بھیس میں اپنے جاسوس کرک بھجوادئیے تھے۔تاکہ صلیبیوں کے عزائم اور منصوبوں سے آگاہ کرتے رہیں ۔
اس نے ایسا انتظام کر رکھا تھا کہ اسے محاذکی خبریں تیزی سے مل رہی تھیں ۔اس نے شوبک سے اور گرد نواح کے
عالقے سے فوج کے لیے بھرتی شروع کر دی اور حکم دیا کہ قلعے میں فوری طور پر ان کی ٹریننگ شروع کر دی جائے۔
صلیبیوں کے بہت سے گھوڑے اور اونٹ قلعے میں رہ گئے تھے۔
باہر کے دستوں کو اس نے حکم بھیج دیا تھا کہ دشمن کے جانوروں کو مارنے کی بجائے انہیں پکڑیں اور قلعے میں بھیجتے
رہیں۔نئی بھرتی کی ٹریننگ کے سلسلے میں اس نے یہ حکم جاری کیا کہ انہیں شب خون مارنے کی اور متحرک جنگ لڑنے
کی ٹریننگ دی جائے۔
کرک میں جو کانفرنس ہو رہی تھی اس میں ہرمن کی اس تجویز کو رد کر دیا گیا تھا کہ جاسوسی کے لیے لڑکیوں کو
استعمال نہ کیا جائے ۔البتہ عالم جاسوس کو چھوڑ دیا گیا اور اسے یہ حکم دیا گیا کہ وہ مسلمانوں پر نظریاتی حملہ کرنے
کے لیے آدمی تیار کرے۔اس کے بعد یہ پوچھا گیا کہ شوبک میں کتنی جاسوس لڑکیاں اور مرد رہ گئے ہیں اور لڑکیوں کو وہاں
سے نکاال جا سکتا ہے؟ ہرمن نے انہیں بتایا کہ چند ایک لڑکیاں مسلمانوں کی قیدمیں ہیں۔کچھ نکل آئی ہیں اور کچھ الپتہ
ہیں ۔مرد جاسوسوں کے متعلق اس نے بتایا کہ چند ایک قیدہو گئے ہیں اور بہت سے وہیں ہیں ۔انہیں اطالع بھیج دی گئی
ہے کہ وہی رہیں اور اب مسلمان بن کر اپنا کام کریں…… ایک صلیبی حکمران نے کہا کہ جو لڑکیاں وہاں قید میں ہیں انہیں
نکاللنا شاید آسان نہ ہو لیکن ہو سکتا ہے کہ کچھ لڑکیاں وہاں عیسائیوں کے گھروں میں روپوش ہو گئی ہوں ۔انہیں وہاں سے
نکالنا الزمی ہے۔
تھوڑی دیر کے بحث مباحثے کے بعد یہ طے ہوا کہ ایک ایسا گروہ تیار کیا جائے جو سلطان ایوبی کے شب خون مارنے والے
آدمیوں کی طر ح جان پر کھیلنا جانتا ہو ۔اس گروہ کا ہر ایک آدمی ذہین اور پھرتیال ہو۔عربی یا مصری زبان بول سکتا ہو ۔
اس گروہ کو ایسے مسلمانوں کے بھیس میں شوبک بھیجا جائے جس سے پتہ چلے کہ کرک کے عیسائیوں کے ظلم وتشدد سے
بھاگ کر آئے ہیں۔نہیں یہ کام دیا جائے کہ شوبک میں رہ کر لڑکیوں کا سراغ لگائیں اور انہیں وہاں سے نکالیں۔اس کام کے
لیے جرائم پیشہ آدمی موزوں رہیں گے جنہیں ان کی خواہش کے مطابق جیلوں سے نکال کر فوج میں لیا گیا ہے۔فوج میں
پیشہ ور مجرموں کو تالش کرو اور انہیں چند دن کی ٹریننگ دے کرشوبک بھیج دو لیکن یہ خیال رکھو کہ ان میں وہی سپاہی
ہوں جو شوبک میں رہ چکے ہیں اور وہاں کے گلی کوچوں اور لوگوں سے واقف ہیں …… یہاں یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ یہ جرائم
پیشہ آدمی اس خطے کی زبان نہیں جانتے۔اس کا یہ حل پیش کیا گیا کہ زیادہ تر ایسے آدمی بھیجے جائیں جو وہاں کی زبان
جانتے ہوں ۔
متعدد مؤر خین نے شوبک کی فتح کو کئی ایک رنگ دئیے ہیں ۔ان میں صاف گو قسم کے مؤر خین نے جو ولیم آف ٹائر
کی طرح عیسائی ہیں ،صلیبیوں پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ ان کے حکمران خوبصورت لڑکیوں کے ذریعے
مسلمان عالقوں میں جاسوسی،تخریب کاری اور کردار کشی پر زیادہ توجہ دیتے تھے۔اس سے ان کے اپنے کردار کا پتہ ملتا ہے
کہ کیا تھا ۔یہ درست ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے چند ایک غیر فوجی سربراہوں کو اپنے زیر اثر لے لیا تھا لیکن ان کے
دماغ میں یہ نہ آئی کہ مسلمانوں کی ایک قوم بھی ہے اور ایک فوج بھی ہے ۔کسی قوم اور اس کی فوج کے قومی جذبے
کو مارنا آسان کام نہیں ہوتا اور اس صورت میں جب کہ صلیبیوں نے مسلمانوں کے نہتے قافلے لوٹے تھے،ا ن کی بچیاں اغوا
کی تھیں،مفتوحہ عالقوں میں وسیع پیمانے پر آبروریزی کی ،قتل عام کیا اور مسلمانوں کو بیگار کیمپوں میں ٹھونس کر جانور
بنا دیا ۔مسلمان قوم اور فوج کے جذبے کو مجروح کرنا ممکن ہی نہیں تھا۔انہوں نے مسلمانوں کے دلوں میں انتقام کا جذبہ
پید اکر دیا تھا ۔اسالم کی صفوں میں چند ایک غدارپیدا کرلینے سے اس مذہب کی عظمت کو مجروح نہیں کیا جا سکتا تھا۔
مؤر خین نے لکھا ہے کہ اس وقت جب شوبک پر حملے کی ضرورت تھی اور جب صالح الدین ایوبی جنگی لحاظ سے کمزور
تھا،صلیبیوں نے شوبک سے چند ایک لڑکیوں کو نکا ل النے پر توجہ مرکوز کر لی اور اس مہم کے لیے جانبازوں کا گروہ تیار
ہونے لگا ۔وہ لکھتے ہیں کہ صالح الدین ایوبی کی جنگی فہم و فراست کی داد دینی پڑتی ہے کہ اس نے صلیبیوں پر رعب
طاری کر دیا تھا کہ اس نے ان کی فوج کو بکھیر دیا ہے ۔صلیبیو ں نے اس تاثر کو قبول کر لیا تھا ۔انہوں نے اس طرف
توجہ نہ دی کہ ایوبی کی اپنی فوج دستہ دستہ ٹو لہ ٹولہ ہو کے بکھر گئی ہے اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ
سلطا ن ایوبی اس صورت حال سے کچھ پریشان بھی تھا ۔اس کے مشیر خاص شداد نے اس کی جس پریشانی کا ذکر کیا ہے
وہ یہی ہو سکتی ہے کہ اس کے دستے صلیبیوں کے تعاقب میں بکھر گئے تھے۔اس سے مرکزیت ختم ہو گئی تھی ۔یہ بھی
صحیح ہے کہ اس کے دستے ذاتی اور قومی جذبے کے تحت لڑ رہے تھے ۔ایسی مثالیں بھی ملی ہیں کہ بعض مسلمان دستے
صحرائی بھول بھلیوں میں بھٹک گئے اور خوراک اور پانی سے محروم رہے لیکن وہ ہر حال اور ہر کیفیت میں لڑتے رہے۔
یہ جذبے کی جنگ تھی جس سے صلیبی سپائی عاری تھے ۔انہوں نےاپنے کمانڈروں کو پسپا ہوتے دیکھاتو ان میں لڑنے کاجذبہ
ختم ہو گیا ۔اگر صلیبی ادھر توجہ دیتے تو ایوبی کی بکھرتی ہوئی فوج پر قابو پا سکتے تھے مگر وہ ذرا ذرا سی باتوں پر
اتنی زیادہ توجہ دیتے تھے جتنی اہم جنگی امور پر دی جاتی ہے۔
یہاں ایک اور وضاحت ضروری ہے ۔اس دور کے صلیبی و قائع نگاروں کے حوالے سے دو تین غیر مسلم مورخین نے اس قسم
کی غلط بیانی کی ہے کہ صالح الدین ایوبی نے مسلسل دو سال شوبک کومحاصرے میں رکھااور ناکام لوٹ گیا ۔انہوں نے
اسکی وجہ یہ بیان کی ہے کہ نور الدین زنگی اور صالح الدین ایوبی کے درمیان غلط فہمی پیدا ہو گئی تھی ۔زنگی کو اس
کے مشیروں نے خبردار کیا تھا کہ ایوبی مصر کو اپنے ذاتی تسلط میں رکھ کر فلسطین کا بھی خود مختار حکمران بننا چاہتا
ہے ۔وہ فلسطین پر قبضہ کر کے زنگی کو معزول کر دے گا۔یہ مورخین لکھتے ہیں کہ نور الدین زنگی نے اس بہانے شوبک کو
اپنی فوج روانہ کر دی کہ یہ سلطان ایوبی کے لیے کمک ہے لیکن اس نے اپنے کمانڈروں کو خفیہ ہدایت دی تھی کہ وہ
شوبک کے جنگی امور اپنے قبضے میں لے لیں چنانچہ یہ فوج آئی۔سلطان ایوبی سے کسی نے کہا کہ نور الدین زنگی نے یہ
فوج اس کی مدد کے لیے نہیں بھیجی بلکہ اس کی مرکزی کمان پر قبضہ کرنے کے لئے بھیجی ہے۔یہ سن کر سلطان ایوبی
دل برداشتہ ہو گیا اور وہ شوبک کا محاصرہ اٹھا کر مصر کوچ کر گیا ۔
عیسائی مؤر خین نے زنگی اور ایوبی کی اس مفروضہ چپقلش کو بہت اچھاال ہے لیکن ان
مؤر خین کی تعداد زیادہ ہے جنہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ سلطان ایوبی نے ڈیڑھ ماہ کے محاصرے کے بعد شوبک کا قلعہ
لے لیا تھا ۔البتہ یہ پتہ بھی ملتا ہے کہ صلیبی تخریب کاروں نے نور الدین زنگی کو سلطان ایوبی کے خالف بھڑکانے کی
کوشش کی تھی جو کامیاب نہیں ہو سکی۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ سلطان ایوبی کے والد نجم الدین ایوبی لمبی مسافت طے کر
کے شوبک پہنچے ۔انہیں شک ہو گیا تھا کہ ان کا بیٹا ایسی حماقت پر اتر ہی نہ آیا ہواور کہیں ایسا نہ ہو کہ تخریب کار
اس کے کان زنگی کے خالف بھر دیں۔
بہاالدین شداد اپنی یادداشتوں میں اقمطراز ہے ……اپنے والد بزرگوار کو دیکھ کر ایوبی بہت حیران ہوا۔ان کے گھٹنے چھو کر
مصافحہ کیا اور سمجھا کہ محترم والد اسے فتح کی مبارکباد دینے آئے ہیں مگر انہوں نے بیٹے کو پہلے الفاظ یہ کہے
……''کیا نور الدین زنگی جاہل ہے جس نے مجھ جیسے گمنام اور غریب آدمی کے بیٹے کو مصر کا حکمران بنا ڈاالہے ؟کیا
مجھے یہ سننا پڑے گا کہ تیرا بیٹا ذاتی اقتدار کی خاطر سلطنت اسالمیہ کے محافظ نورالدین زنگی کا دشمن ہو گیا ہے؟……جا
''اور زنگی سے معافی مانگو
بات کھلی تو معلوم ہوا کہ سلطان ایوبی کا ذہن صاف ہے اور وہ نور الدین زنگی سے کمک مانگنے واال ہے۔ نجم الدین ایوب
مطمئن ہو گئے اور واضح ہو گیا کہ یہ صلیبوں کو تخریب کاری اور عیاری ہے ۔سلطان ایوبی نے اپنے خصوصی قاصد اور معتمد
عیس ی الہکاری کو اپنے والدمحترم کے ساتھ رخصت کیا ور الہکاری کو نور الدین زنگی کے نام ایک تحریری پیغام دیا ۔
فقیہہ
ٰ
اس کے ساتھ شوبک کے کچھ تحفے بھی بھیجے۔اس نے لکھا۔''بیش قیمت تحفہ شوبک کا قلعہ ہے جو میں آپ کے قدموں
میں بیش کرتا ہوں ۔اس کے بعد خدائے عزو جل کی مدد سے کرک کا قلعہ پیش کروں گا''۔
اس پیغام میں سلطان ایوبی نے واضح کیا تھا کہ صلیبیوں کی تخریب کاری سے خبردار رہیں اور یہ نہ بھولیں کہ کچھ مسلمان
امرابھی اس تخریب کاری اور سازشوں میں صلیبیوں کا ہاتھ بٹارہے ہیں ۔ان کی سرکوبی کی جائے۔اس پیغام میں سلطان ایوبی
نے شوبک کی اس وقت کی صورت حال اور اپنی فوج کی کیفیت تفصیل سے لکھی اور کچھ انقالبی تجاویز پیش کیں۔اس نے
میدان جنگ میں ہمارے خالف سرگرم ہے
زنگی کو لکھا کہ ان حاالت میں جب دشمن ہماری سرزمین پر قلعہ بند ہے اور وہ
ِ
اور زمین دوز کاروائیوں سے بھی ہمارے درمیان غدارا پیدا کر رہا ہے،میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہماری غیر فوجی قیادت
ِ
سلطنت اسالمیہ کے لئے خطرہ بن گئی ہے ۔ہم گھر سے دور بے رحم صحرا میں دشمن سے
نہ صرف ناکام ہو گئی ہے بلکہ
بر سر ِپیکار ہیں ۔ہمارے مجاہد لڑتے اور مرتے ہیں ۔وہ بھوکے اور پیاسے بھی لڑتے ہیں۔انہیں کفن نصیب نہیں ہوتے ۔ان کی
الشیں گھوڑوں کے تلے روندی جاتی اور صحرائی لومڑیوں اور گدھوں کی خوراک بنتی ہیں۔اسالم کی عظمت اور قوم کے وقار کو
جتنا وہ سمجھتے ہیں اتنا اور کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ ہمارے غیر فوجی حکام اور سربراہوں کے خون کا ایک قطرہ نہیں گرتا۔
میدان جنگ سے بہت دور محفوظ بیٹھے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وہ عیش و عشرت کے عادی ہوگئے ہیں ۔دشمن انہیں
وہ
ِ
نہایت حسین اور چلبلی لڑکیوں اور یورپ کو شراب سے اپنا مرید بنا لیتا ہے ۔ہم دین اور ایمان کی سر بلندی کے لیے مرتے
ہیں اور وہ ایمان کو دشمن کے ہاتھ بیچ کر عیش کرتے اور اس کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں۔
سلطان ایوبی نے لکھا کہ اب جبکہ میں فلسطین کی دہلیز پر آگیا ہوں اور میں نے فلسطین لیے بغیر واپس نہ جانے کاتہہ کر
لیا ہے،میں ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ) نور الدین زنگی (غیر فوجی قیادت پر کڑی نظر رکھیں۔امیر العلماء سے کہیں کہ وہ
ِ
سلطنت اسالمیہ کا صرف ایک خلیفہ ہے اور یہ بغداد کی خالفت ہے۔ہر مسلمان پر
مساجد میں اور ہر جگہ اعالن کر دے کہ
اس واحد خالفت کی اطاعت فرض ہے لیکن خطبے میں اور کسی مسجد میں خلیفہ کا نام نہیں لیا جائے گا۔عظیم نام صرف
اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے ۔یہ حکم بھی جاری کیا جائے کہ آئندہ جب خلیفہ یا کوئی حاکم کسی
دورے یا معائنے کے لیے باہر نکلے گا تو اس کے محافظ دستے کے سوا کوئی جلوس اس کے ساتھ نہیں ہوگااورلوگ راستے میں
رک کر اور جھک جھک اسے سالم نہیں کریں گے ……سلطان ایوبی نے سب سے زیادہ اہم بات یہ لکھی کہ شیعہ سنی تفرقہ
بڑھتا جا رہا ہے ۔فاطمی خالفت کی معزولی نے اس تفرقے میں اضافہ کر دیا ہے۔یہ تفریق ختم ہونی چاہیے۔بے شک خالفت
اور حکومت سنی ہے لیکن کسی سنی حاکم یا اہل کار کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ شیعوں کو اپنا غالم سمجھے۔حکومت اور
فوج میں شیعوں کو پوری نمائندگی دی جائے۔
اس قسم کی کچھ اور بھی انقالنی تجاویز تھیں جو سلطان ایونی نے نورالدین زنگی کو بھیجیں۔ مؤر خین اس پر متفق ہیں کہ
زنگی نے ان پر فوری طور پر عمل کیا ۔اپنے ہاں بھی سلطان ایوبی نے شیعہ سنی تفرقہ پیار ومحبت اور عقل و دانش سے
مٹانا شروع کر دیا ۔
٭ ٭ ٭
کرک میں صلیبی سلطان ایوبی پر جوابی وار کرنے پر غور کر رہے تھے۔ان کو مرکزی کمان نے قاصدوں کے زریعے اپنی بکھری
ہوئی فوج کو احکام بھیج دئیے کہ مسلمانوں سے لڑنے کوشش نہ کریں بلکہ نکلنے کی ترکیب کریں تاکہ جوابی
حملے کے لیے زیادہ سے زیادہ فوج بچ جائے۔ان احکام سے ساتھ ہی انہوں نے چالیس جانبازوں کا ایک گروہ تیار کر لیا جسے
مظلوم مسلمانوں کے بہروپ میں شوبک میں داخل ہوناا ور لڑکیوں کو وہاں سے نکالنا تھا ۔صلیبی حکمرانوں نے اس خیال سے
کہ سلطان ایوبی مصر سے غیر حاضر ہے وہاں اپنے تخریب کاروں میں اضافہ کر نے کا بھی فیصلہ کر لیا۔وہ سوڈانیوں اور
فاطمیوں کو جلد از جلد متحد کر کے قاہرہ پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔
شوبک اور کرک کے درمیانی عالقے میں بہت خون بہہ رہا تھا۔ وہ سارا عالقہ ہموار ریگستان نہیں تھا۔ کئی جگہوں پر مٹی
اور ریتلی ِسل ّوں کے ٹیلے تھے اور کہیں ریت کی گول گول ٹکریاں تھیں جن میں کوئی داخل ہوجائے تو باہرنکلنے کا راستہ
نہیں ملتا تھا ۔ ایسے عالقوں میں صلیبی بھی مر رہے تھے اور سلطان ایوبی کے مجاہدین بھی …… اور وہاں شوبک کے وہ
عیسائی بھی مر رہے تھے جو مسلمانوں کے ڈر سے شہر سے کرک کی سمت بھاگ اُٹھے تھے۔ فضا میں گدھوں کے غول اُڑ
رہے تھے ۔ ان کے پیٹ انسانی گوشت سے بھرے ہوئے تھے ۔
19:35
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
"قسط نمبر37.۔" جب ایونا عائشہ بنی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ان کے پیٹ انسانی گوشت سے بھرے ہوئے تھے ۔ صحرائی درندے الشوں کو چیرپھاڑ رہے تھے اور معرکہ آرائی کا یہ عالم تھا
جیسے اُفق سے ا ُفق تک انسان ایک دوسرے کا کشت و خون کر رہے ہوں۔ اس وسیع ریگزار میں کہیں کہیں نخلستان بھی
تھے جہاں پانی مل جاتا تھا۔ تھکے ہارے انسان ،زخمی انسان اور پیاس کے مارے ہوئے انسان وہاں جا جا کر گرتے تھے۔
عماد ہاشم سلطان ایوبی کی فوج کے ایک چھوٹے سے دستے کا کمانڈر تھا۔ وہ شامی باشندہ تھا۔ اسی لیے وہ اپنا نام عماد
شامی بتایا کرتا تھا۔ صلیبیوں کے خالف جو جذبہ ہر مسلمان سپاہی کے دل میں تھا ،وہ عماد شامی میں بھی تھا لیکن اس
کے جذبے میں انتقام کا قہر اور غضب زیادہ تھا ۔ اس کے متعلق سب جانتے تھے کہ وہ یتیم ہے اور اس کا سگا عزیز رشتہ
دار کوئی نہیں لیکن ا ُسے یہ یقین نہیں تھا کہ وہ یتیم ہے یا نہیں کیونکہ اس کا باپ اس کی آنکھوں کے سامنے نہیں مرا
تھا ۔ وہ تیرہ چودہ سال کی عمرمیں گھر سے بھاگا تھا ۔ اُس وقت اس کا گھر شوبک میں تھا۔ اُسے اچھی طرح یاد تھا کہ
اس کے بچپن میں شوبک پر صلیبیوں کا قبضہ ہو اتھا اور انہوں نے مسلمانوں کا کشت و خون شروع کر دیا تھا۔ اس کا بچپن
صلیبیوں کی دہشت میں گزرا تھا ۔ اس نے مسلمان جنگی قیدی بھی دیکھے جنہیں مار مار کر الیا جا رہا تھا اور اس کے
سامنے دو قیدیوں کے سر کاٹ دئیے گئے تھے کیونکہ وہ زخموں کی وجہ سے چل نہیں سکتے تھے۔ اس نے مسلمان گھروں
سے لڑکیاں اغوا ہوتے دیکھی تھیں اور اس نے مسلمانوں کو بیگار میں جاتے بھی دیکھا تھا ۔ شوبک کے مسلمان کہا کرتے
تھے کہ جب شہر میں عیسائی مسلمانوں کو بال وجہ پکڑ پکڑ کر کیمپ میں لے جانا شروع کریں اور ان کے گھروں پر حملے
کرنے لگیں تو سمجھ لو کہ انہیں مسلمانوں کے ہاتھوں کہیں شکست ہوئی ہے۔
عماد شامی کا گھر بھی محفوظ نہ رہا ۔ اُس کی ایک بہن تھی جس کی عمر سات آٹھ سال تھی ۔ اُسے وہ بہن یاد تھی ۔
بہت خوبصورت اور گڑیا سی بچی تھی ۔ گھر میں اس کا باپ تھا ،ماں تھی اور ایک بڑا بھائی تھا ۔ ایک روز عماد کی
گڑیا سی بہن باہر نکل گئی اور ال پتہ ہوگئی۔ باپ نے تالش کی مگر کہیں نہ ملی ۔ ایک مسلمان پڑوسی نے اسے بتایا کہ
اسے عیسائی اٹھا کر لے گئے ہیں ۔ باپ شہرکے حاکم کے پاس فریاد لے کر گیا۔ جونہی اس نے بتایا کہ وہ مسلمان ہے،
حاکم اس پر برس پڑا او ر اس پر الزام عائد کیا کہ وہ حکمران قوم پراتنا گھٹیا الزام تھوپ رہا ہے
گھر آکر باپ نے اور عماد کے بڑے بھائی نے عیسائیوں کے خالف شور شرابا کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رات کو ان کے
گھر پر حملہ ہوا۔ عماد نے اپنی ماں اور بڑے بھائی کو قتل ہوتے دیکھا۔ وہ باہر بھاگ گیا اور ایک مسلمان کے گھر جا
چھپا۔ اس کے بعد وہ اپنے گھر نہیں گیا کیونکہ اس مسلمان نے اس ڈر سے اُسے باہر نہ نکلنے دیا کہ عیسائی اسے بھی
قتل کر دیں گے ۔
تھوڑے دنوں بعد اس مسلمان نے اسے ایک اور آدمی کے حوالے کر دیا جو اسے چوری چھپے شہر سے باہر لے گیا۔ صبح کے
وقت وہ ایک قافلے کے ساتھ جا رہا تھا۔ بہت دنوں کی مسافت کے بعد وہ شام پہنچا۔ وہاں اُسے ایک امیر کبیر تاجر کے
گھر نوکری مل گئی۔ اب اس کی یہی زندگی تھی کہ نوکری کرے اور زندہ رہے۔ وہ ذہنی طور پر بالغ اور بیدار ہوگیا ۔ یہ
انتقام کا جذبہ تھا۔ اسی جذبے کے زیر اثر اسے فوجی اچھے لگتے تھے۔ اس نے تاجر کی نوکری چھوڑ کر کسی فوجی حاکم
کے گھر میں نوکری کرلی۔ عماد نے اسے بتایا کہ اس پر کیا بیتی ہے اور یہ بھی بتایا کہ وہ فوج میں بھرتی ہونا چاہتا ہے۔
اس حاکم نے اس کی پرورش کی اور سولہ سال کی عمر میں اسے شام کی فوج میں بھرتی کرادیا۔ وہ انتقام کیلئے بے تاب
تھا۔ اسے تین چار معرکوں میں شریک ہونے کا موقع مال جن میں اس کے جوہر سامنے آگئے۔ گیارہ بارہ سال بعد اُسے اس
فوج کے ساتھ مصر روانہ کر دیا گیا جو نورالدین زنگی نے سلطان ایوبی کے مدد کیلئے بھیجی تھی ۔ دو سال مصر میں گزر
گئے۔ پھر خدا نے اس کی یہ مراد بھی پوری کی کہ وہ شوبک پر حملہ کرنے والی شوج کے ساتھ گیا لیکن اُسے اُس فوج
میں رکھا گیا جسے ریگزار میں صلیبیوں کی فوج پر حملے کرنے تھے۔
وہاں وہ صلیبیوں کے لیے قہر بنا ہوا تھا ۔ اس کا چھاپہ مار دستہ مشہور ہوگیا تھا۔ عماد شامی اپنے سواروں کو ساتھ لیے
صحرا میں صلیبیوں کی مشک لیتا پھرتا اور بھیڑیوں اور چیتوں کی طرح ان پر چھپٹا تھا مگر اس کے سینے میں جو آگ لگی
ہوئی تھی وہ سرد نہیں ہوتی تھی …… ایک ماہ بعد اس دستے میں کل چار سوار رہ گئے تھے ،باقی سب شہید ہو گئے ……
ایک رات اس نے ان چار سواروں سے صلیبیوں کے کم و بیش پچاس افراد کے دستے پر حملہ کر دیا۔ وہ سارا دن چھپ
چھپ کر اس کا پیچھا کرتا رہا تھا ۔ دن کے وقت وہ چار سپاہیوں سے پچاس سپاہیوں پر حملہ نہیں کر سکتا تھا۔ اُن کے
تعاقب میں وہ بہت دور نکل گیا ۔ رات کو صلیبی ُرک گئے اور انہوں نے پڑائو کیا لیکن بہت سے سنتری بیدار رکھے۔ عماد
نے آدھی رات کے وقت گھوڑوں کو ایڑ لگائی اور سوئے ہوئے صلیبیوں کے درمیان سے اس طرح گزرا کہ برچھی سے دائیں
بائیں وار کرتا گیا۔ اس کے چاروں جانبازوں کا بھی یہی انداز تھا ۔
انہیں جو چیز ہلتی نظر آئی اس پر برچھیوں یا تلواروں کے وار کرتے اندھیرے میں غائب ہوگئے۔ کئی سوئے ہوئے صلیبی ان
کے گھوڑوں تلے روندے گئے ۔ سنتریوں نے تاریکی میں تیر چالئے جو خطا گئے۔ آگے جا کر عماد نے اپنے جانباز سواروں کو
روکا اور انہیں وہاں سے آہستہ آہستہ پیچھے الیا۔ اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ دشمن بیدار ہوچکا ہے۔ وہ گھوڑسواروں کو پھر
قریب لے گیا اور ایڑ لگانے کا حکم دے دیا ۔ اندھیرے میں اُسے سائے گھومتے پھرتے نظر آرہے تھے ۔ پانچوں گھوڑے سرپٹ
دوڑتے ان کے درمیان سے گزرے مگر اب وہ دشمن پر وار کرکے آگے گئے تو وہ پانچ کی بجائے تین تھے۔ دو کو صلیبی تیر
اندازوں نے گرالیا تھا ۔
عماد کا خود او ر زیادہ جوش میں آگیا ۔ اس نے اپنے مجاہدوں سے کہا …… ''ابھی انتقام لیں گے ''…… یہ اس کی
حماقت تھی ۔ ا ُس نے اپنے دونوں مجاہدوں کو موڑا اور صلیبیوں کے قریب آہستہ آہستہ آکر حملے کا حکم دے دیا ۔ اب کے
وہ دشمن میں سے نکال تو اس کے ساتھ اپنے دو ساتھیوں کی بجائے دو صلیبی تھے جو اس کا تعاقب کر رہے تھے ۔
اندھیرے میں اس نے انہیں ان کی للکار سے پہچانا۔ورنہ وہ انہیں اپنے ساتھی سمجھ رہا تھا ۔
وہ اس کے سر پر پہنچ گئے ۔ انہوں نے اس پر تلواروں سے حملہ کیا ۔ اس کے پاس لمبی برچھی تھی ۔ دوڑتے گھوڑے سے
اس نے دونوں کا مقابلہ کیا ۔ گھوڑا گھما کر آمنے سامنے آکر معرکہ لڑا۔ لڑائی خاصی لمبی ہوگئی اور وہ دور ہٹتے چلے گئے۔
آخر عماد نے دونوں صلیبیوں کو مار لیا اور دونوں کے گھوڑے شوبک بھیجنے کیلئے پکڑ لیے۔ ان کی تلواریں بھی لے لیں مگر
اسے یہ خیال نہ رہا کہ کہاں تک جا پہنچا ہے۔ اس نے گھوڑے کو اور اپنے آپ کو آرام دینے کے لیے ایک جگہ قیام کیا
لیکن وہ سونے سے ڈرتا تھا کیونکہ کسی بھی وقت اور کہیں بھی وہ دشمن کے نرغے میں آسکتا تھا ۔ اس نے رات جاگتے
گزار دی ۔ ستارے دیکھ کر اس نے یہ معلو م کر لیا کہ شوبک کس طرف اور کرک کس طرف ہے اور اسے صحرا میں کون
سی جگہ جانا ہے جہاں اسے اپنا کوئی دستہ مل جائے گا ۔
صبح ہوتے ہی وہ چل پڑا۔ وہ صحرائوں میں پلہ تھا۔ بھٹکنے کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ تجربہ کارچھاپہ مار تھا ،خطرے کو
دور سے سونگھنے کی اہلیت رکھتا تھا۔ اسے دور دور صلیبی چار چار یا پانچ پانچ کو ٹولیوں میں جاتے نظر آئے۔ اگر اس کے
پاس دو فالتو گھوڑے نہ ہوتے تو کسی ٹولی پر حملہ کر دیتا ۔ وہ بچتا بچاتا اپنی راہ چلتا گیا۔ راستے میں اسے کئی جگہ
گھوڑوں اور اونٹوں کے مردار اور صلیبی سپاہیوں کی الشیں پڑی نظر آئیں۔ جنہیں گدھ اور لومڑیاں کھا رہی تھیں۔ ان میں اس
کے اپنے ساتھیوں کی الشیں بھی ہوں گی۔ وہ چلتا گیا اور سورج اُفق پر چال گیا ۔ آگے ٹیلوں کا عالقہ آگیا جس میں راستے
ہر چند قدم پر گھومتے تھے۔ یہاں ڈر تھا کہ صلیبیوں کی کوئی ٹولی رات کے لیے قیام کرے گی۔ وہ سورج غروب ہونے سے
پہلے وہاں سے نکل جانا چاہتا تھا ۔ یہ ڈر بھی تھا کہ کسی ٹیلے پرکوئی تیر انداز نہ بیٹھا ہو۔ وہ ہر طرف اور اوپر دیکھتا
چلتا گیا ۔
٭ ٭
آگے راستہ دو ٹیلوں کے درمیان سے مڑتا تھا۔ وہاں سے وہ مڑا تو اچانک اسے کسی کے دوڑتے قدموں کی آہٹ سنائی دی ۔
کوئی آدمی ساتھ والے ٹیلے کے پیچھے چھپ گیا تھا ۔ اس نے گھوڑے کی باگ کو جھٹکا دیا اور ایڑ لگائی۔ تیز رفتار سے وہ
ٹیلے کے پیچھے گیا تو آگے راستہ ایک اور ٹیلے نے بند کر رکھا تھا۔ یہ جگہ ایک وسیع کھڈ بنی ہوئی تھی ۔ عماد سے
کوئی بیس قدم دور میلے کچیلے سے چغے واال ایک آدمی ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل ٹیلے پر چڑھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
عماد کی طرف اس کی پیٹھ تھی ۔ اس آدمی کا سرڈھکا ہوا تھا ۔ وہ آدمی نہتہ معلوم ہوتا تھا ۔ عماد نے اسے للکارا مگر
وہ ٹیلے پر چڑھنے کی کوشش کرتارہا۔ ٹیال مشکل قسم کا تھا۔ عماد آگے چال گیا۔ اس آدمی نے ایک کوشش اور کی مگر
کہیں ہاتھ نہ جما سکا۔ وہ نڈھال ہو چکا تھا ۔ ٹیلے سے اس کی گرفت ڈھیلی ہوگئی اور وہ لڑھکتا ہوا عماد کے گھوڑے کے
قدموں میں آن پڑا۔ اس کے سر سے چغے کی اوڑھنی واال حصہ اترگیا۔ عماد یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ ایک جوان لڑکی
تھی اور خوبصورت اتنی جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
عماد گھوڑے سے اترا۔ لڑکی خوفزدہ تھی ۔ اس کی رہی سہی قوت بھی خوف نے ختم کر دی ۔ وہ اٹھی مگر بیٹھ گئی ۔
عماد نے اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے ؟ اس نے جوا ب دیا …… ''پانی پالئو ''…… عماد نے ایک گھوڑے سے پانی کی
چھاگل کھول کر اسے دے دی ۔ اس نے بے تابی سے پانی پیا اور اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔ عماد نے اسے کھانے کے
لیے کچھ دیا جو اس کے پیٹ میں گیا تو اس کے چہرے پر زندگی کے آثار نظر آنے لگے۔ عماد نے اسے کہا …… ''مجھ
''سے ڈرو نہیں ،بتائو کو ن ہو ؟
شوبک سے اپنے خاندان کے ساتھ چلی تھی ''۔ اس نے تھکی ہاری زبان میں کہا …… ''سب مارے گئے ہیں ۔ میں ''
اکیلی رہ گئی ہوں ۔ مسلمانوں نے راستے میں حملہ کر دیا تھا ''۔
مجھے سچ کیوں نہیں بتا دیتی کہ تم کون ہو ؟''…… ''تم نے جو کچھ کہا ہے جھوٹ کہا ہے ''۔''
جھوٹ ہی سہی ''۔اس نے خوفزدہ لہجے میں کہا …… ''مجھ پر رحم کرو اور مجھے کرک تک پہنچا دو''۔''
شوبک تک ''۔ عماد نے کہا …… ''میں تمہیں شوبک لے جا سکتا ہوں۔ کرک نہیں۔ تم دیکھ رہی ہو کہ میں مسلمان ''
ہوں۔ میں راستے میں عیسائی فوج کے ہاتھوں مرنا نہیں چاہتا ''۔
پھر مجھے ایک گھوڑا دے دو''۔ لڑکی نے کہا…… ''میں لڑکی ہوں۔ اگر راستے میں کسی کے قبضے میں آگئی تو جانتے ''
ہو کہ میرا انجام کیا ہوگا ''۔
میں تمہیں گھوڑا بھی نہیں دے سکتا۔ تمہیں یہاں سے اکیلے روانہ بھی نہیں کر سکتا ۔ عماد نے کہا …… یہ میرا فرض ''
ہے کہ تمہیں اپنے ساتھ شوبک لے جائوں ''۔
''وہاں مجھے کس کے حوالے کرو گے ؟''
اپنے حاکموں کے حوالے کروں گا ''۔ عماد نے کہا اور اسے تسلی دی …… ''تمہارے ساتھ وہ سلوک نہیں ہوگا جس کا ''
تمہیں ڈر ہے''۔
لڑکی کرک جانے کی ضد کررہی تھی۔ عماد نے اسے بتایا کہ انہیں حکم مال ہے کہ شوبک کے کسی عیسائی باشندے کو وہاں
سے بھاگنے نہ دیا جائے۔ اس کے عالوہ اس نے لڑکی کو خبردار کیا کہ وہ کرک تک نہیں پہنچ سکے گی۔ وہ چونکہ گوری
رنگت کی خوبصورت لڑکی تھی اس لیے لڑکی کو یہ ڈر تھا کہ یہ مسلمان فوجی اسے بے آبرو کرے گا۔ اس نے سوچا کہ
کیوں نہ اس کے ساتھ آبرو کا ہی سودا کرکے اسے کہا جائے کہ وہ اسے گھوڑا دے دے۔ لڑکی نے اپنا رویہ بدل لیااور عماد
سے کہا ……''میں بہت تھکی ہوئی ہوں۔ آج رات یہیں قیام کیا جائے ۔ صبح شوبک کو روانہ ہوجائیں گے ''۔ عماد بھی
تھکا ہوا تھا ۔ گھوڑوں کا بھی یہی حال تھا۔ وہ لڑکی کی حالت بھی دیکھ رہا تھا ۔ اس نے وہیں رکنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس
سے پہلے لڑکی نے اسے غور سے نہیں دیکھاتھا ۔ اس نے یہی دیکھا کہ یہ بڑھی ہوئی داڑھی واال مسلمان فوجی ہے جو جسم
کی ساخت اور گرد سے اٹے ہوئے چہرے سے وحشی لگتا ہے۔ اس سے اسے رحم کی اُمید نہیں تھی ۔ اب جبکہ اس نے
کچھ اور ہی سوچ لیا تھا ،اس نے عماد کو گہری نظروں سے دیکھا ۔
اس وقت عماد بھی اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہاتھا کہ اس قدر حسین لڑکی کا اس صحرا میں اکیلے رہ
جانا جہاں صلیبی اور اسالمی سپاہی لمبے عرصے سے بھوکے بھیڑیوں کی طرح بھاگتے دوڑتے پھر رہے ہیں اس کے لیے کتنا
خطرناک ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس لڑکی پر سپاہی یا کماندار آپس میں ہی لڑ مریں۔ وہ خود بھی فرشتہ نہیں تھا۔
اس نے لڑکی کی آنکھوں میں جھانکا۔ اس وقت لڑکی اسے دیکھ رہی تھی ۔ عماد نے کوشش کی کہ وہ لڑکی سے نظریں
پھیر لے مگر لڑکی کی آنکھوں نے اس کی آنکھوں کو گرفتار کر لیا ۔ اس نے اپنے جسم کے اندرکوئی ایسا جذبہ محسوس کیا
جو اس کے لیے اجنبی تھا ۔ اس نے ایک بار نظریں جھکالیں مگر آنکھیں اپنے آپ اوپر اُٹھ گئیں اور وہ بے چین ساہونے
لگا۔ لڑکی کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔ عماد نے آہستہ سے کہا …… ''شاید تم کنواری ہو''۔
ہاں'' لڑکی نے جواب دیا اور ذرا سا بھی سوچے بغیر کہہ دیا …… ''میرادنیا میں کوئی نہیں رہا ۔ اگر میرے ساتھ کرک''
چلے چلو تومیں تمہارے ساتھ شادی کرلوں گی ''۔
عماد بیدار سا ہوگیا۔ اس نے کہا …… ''پھر تم مجھے کہو گی کہ اپنا مذہب تبدیل کرلو ،جو میں نہیں کر سکوں گا۔ تم
شوبک چل کر میرے ساتھ شادی کرو اور مسلمان ہوجائو ''۔
مجھے بہرحال کرک جانا ہے ''۔لڑکی نے کہا …… ''اگر میرے ساتھ وہاں تک چلو گے تو تمہاری دنیا بدل جائے گی''۔''
لڑکی نے سودا بازی شروع کردی تھی لیکن عماد کچھ اور ہی سوچ رہا تھا ۔ یہ سوچ ایسی تھی جسے وہ سمجھ نہیں سکتا
تھا ۔ وہ بار بار لڑکی کے چہرے ،ا س کے ریشمی بالوں اور آنکھوں کو دیکھتا اور سر جھکا کر سوچ میں کھو جاتا تھا۔
لڑکی کی جیسے وہ کوئی بات سن ہی نہیں رہا تھا ۔ تھوڑی دیر بعد لڑکی کا چہرہ گہری شام کی تاریکی میں چھپ گیا۔
اس نے گھوڑے کے ساتھ بندھے ہوئے تھیلے میں سے کھانے کی دو تین چیزیں نکالیں۔ لڑکی کو دیں اور خود بھی کھائیں۔ اس
کا جسم اس قدر نڈھال تھا کہ جونہی لیٹا اس کی آنکھ لگ گئی۔
٭ ٭ ٭
آدھی رات کے بہت بعد لڑکی نے کروٹ بدلی اور اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے عماد کو دیکھا۔ وہ خراٹے لے رہا تھا ۔ ان
سے چند قدم دور گھوڑے کھڑے تھے ،رات کے پچھلے پہر کا چاند ٹیلوں کے اوپر آگیا تھا ۔ صحرائی چاندنی آئینے کی طرف
شفاف تھی ۔ لڑکی نے گھوڑوں کو دیکھا ،عماد کو اتنا ہوش بھی نہ تھا کہ سونے سے پہلے گھوڑوں کی زینیں اتار دیتا۔ لڑکی
نے گھوڑے تیار دیکھے ،عماد کو گہری نیند سوئے دیکھا اور یہ بھی محسوس کیا کہ پیٹ میں خوراک اور پانی جانے اس کا
جسم تروتازہ ہوگیا ہے تو اس نے اپنے چغے کے اندر ہاتھ ڈاال۔ اس کا ہاتھ باہر آیا تو اس کی اتنی دلکش انگلیوں نے ایک
خنجر کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا ۔ چاندنی میں اسے عماد کا چہرہ نظر آرہا تھا ۔ وہ تو بیہوشی کی نیند سویا ہواتھا۔
لڑکی نے چاندنی میں چمکتے ہوئے خنجر کو دیکھا اور ایک بار پھر عماد کے چہرے پر نظر ڈالی۔ عماد آہستہ سے کچھ
بڑبڑایا۔ وہ نیند میں بول رہا تھا ۔ لڑکی یہی سمجھ سکی کہ وہ گھر والوں کو یاد کر رہا ہے۔
لڑکی نے عماد کے سینے کو غور سے دیکھا اور اندازہ کیا کہ اس کا دل کہاں ہے؟ وہ ایک سے دوسرا وار نہیں کرنا چاہتی
تھی ۔ یہ وار دل پر ہونا چاہیے تھا تا کہ عماد فورا ً مر جائے ورنہ وہ مرتے مرتے بھی اسے مار ڈالے گا۔ لڑکی نے خنجر کو
اور زیادہ مضبوطی سے پکڑ لیا اور گھوڑوں کو دیکھا ۔ اس نے دل ہی دل میں پوراعمل دہرایا ۔ وہ خنجر دل میں اتار دے گی
اور بھاگ کر ایک گھوڑے پر سوار ہوجائے گی اور گھوڑے کو ایڑ لگا دے گی۔ وہ سپاہی نہیں تھی ورنہ وہ بال سوچے سمجھے
خنجر مار کر عماد کو ختم کردیتی۔ یہی وجہ کافی تھی کہ عماد مسلمان ہے اور اس کا دشمن ،مگر وہ بار بار عماد کے
چہرے پر نظریں گاڑ لیتی تھی اور جب اسے قتل کرنے کے لیے خنجر مضبوطی سے پکڑتی تھی تو اس کا دل دھڑکنے لگتا
تھا۔ عماد ایک بار پھر بڑبڑایا۔ اب کے اس کے الفاظ ذرا صاف تھے۔ وہ خواب میں اپنے گھر پہنچا ہوا تھا۔ اس نے ماں کا
نام لیا ،بہن کو بھی یاد کیا اور کچھ ایسے الفاظ کہے جیسے انہیں قتل کر دیا گیا اور عماد قاتلوں کو ڈھونڈتا رہا تھا۔
کوئی احساس یا جذبہ لڑکی کا ہاتھ روک رہا تھا ۔ خوف بھی ہو سکتا تھا۔ یہ قتل نہ کرنے کا جذبہ بھی ہو سکتا تھا ۔
لڑکی بے چین ہوگئی ۔ اس نے یہ ارادہ کیا کہ قتل نہ کرے ۔ آہستہ سے اُٹھے۔ گھوڑے پر بیٹھے اور آہستہ آہستہ اس کھڈ
سے نکل جائے ۔ وہ ا ُٹھی اور خنجر ہاتھ میں لیے گھوڑے کی طرف چل پڑی مگر ریت نے اس کے پائوں جکڑ لیے ۔ اس
کے رک کر عماد کو دیکھا تو اچانک اس کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اس مرد نے اتنی بھی پرواہ نہیں کی کہ اسے ایک
جوان لڑکی تنہائی میں مل گئی ہے اور اس نے یہ بھی نہیں سوچا کو یہ لڑکی عیسائی ہے جو اسے سوتے میں قتل کر
سکتی ہے اور اس نے گھوڑے کی زینیں بھی نہیں اتاریں اور اس نے اپنی برچھی اور تلوار بھی احتیاط سے نہیں رکھی ۔
کیوں ؟ کیا اسے مجھ پر بھروسہ تھا ؟ کیا یااتنا ہی بے حس ہے کہ میری جوانی اس کے اندر کوئی جذبہ بیدار نہیں کر
سکی ؟ ……اسے ایسے محسوس ہونے لگا جیسے اس آدمی نے اسے گھوڑے سے زیادہ قیمتی نہیں سمجھا ۔ وہ آہستہ آہستہ
ایک گھوڑے تک پہنچی ۔ گھوڑا ہنہنایا۔ لڑکی نے گھبرا کر عماد کو دیکھا ۔ گھوڑے کی آواز پر بھی اس کی آنکھ نہ کھلی ۔
وہ تین گھوڑوں کی اوٹ میں کھڑی ایک گھوڑے پر سوار ہونے کا ارادہ کر رہی تھی کہ اسے اپنے عقب سے آواز سنائی دی۔
''کون ہو تم ؟''…… لڑکی نے چونک کر پیچھے دیکھا ۔ ایک آدمی نے منہ سے وسل بجائی اور کہا …… ''ہماری یہ
……''قسمت ؟
و ہ دو تھے ۔ دوسرا ہنسا۔ لڑکی زبان سے پہچان گئی کہ یہ صلیبی ہیں ۔ ایک نے لڑکی کو بازو سے پکڑا اور اپنی طرف
کھینچا۔ لڑکی نے کہا …… ''میں صلیبی ہوں ''…… دونوں آدمی ہنس پڑے اور ایک نے کہا …… ''پھر تو تم سالم ہماری ہو
۔ آئو ''۔
ذرا ٹھہرو اور میری بات سنو ''…… اس نے کہا ……''میں شوبک سے فرار ہو کر آئی ہوں ۔ میرا نام ایونا ہے ۔ میں ''
جاسوسی کے شعبے کی ہوں۔ کرک جا رہی ہوں۔ وہ دیکھو ایک مسلمان سپاہی سویا ہوا ہے۔ اس نے مجھے پکڑ لیا تھا۔ میں
اسے سوتا چھوڑ کر بھاگ رہی ہوں۔ میری مدد کرو۔ یہ گھوڑے سنبھالو اور مجھے کرک پہنچا ئو''۔ اس نے انہیں اچھی طرح
سمجھایا کہ وہ صلیبی فوج کے لیے کتنی قیمتی اور کارآمد لڑکی ہے۔
ایک صلیبی نے اسے وحشیوں کی طرح بازوئوں میں جکڑ لیا اور کہا …… ''جہاں کہو گی پہنچا دیں گے ''۔ دوسرے نے ایک
بیہودہ بات کہہ دی اور دونوں اسے ایک طرف دھکیلنے لگے ۔ وہ صلیبی فوج کے پیادہ سپاہی تھے۔ جو مسلمان چھاپہ ماروں
سے بھاگتے پھر رہے تھے۔ رات کو وہ چھپ کر ذرا آرام کرنا چاہتے تھے۔ ایسی خوبصورت لڑکی نے انہیں حیوان بنا دیا ۔
لڑکی نے جب دیکھا کہ انہیں صلیب کا بھی کوئی خیال نہیں تو اس نے اس اُمید پر بلند آواز سے بولنا شروع کر دیا کہ
عماد جاگ اُٹھے گا۔ اسے سپاہیوں نے گھسیٹنا شروع کردیا۔
اچانک ایک نے گھبرائی ہوئی آواز میں اپنے ساتھی کا نام لے کر کہا …… ''بچو ''……مگر اس کے بچنے سے پہلے ہی
عماد کی برچھی اس کی پیٹھ میں اتر چکی تھی ۔ دوسرے نے تلوار سونت لی ۔ اس وقت لڑکی نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ
میں خنجر ہے۔ اس نے خنجر صلیبی سپاہی کے پہلو میں گھونپ دیا ۔ یکے بعد دیگرے دو اور وار کیے اور چال چال کر کہا
…… ''تمہیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ تم صلیب کے نام پر غلیظ داغ ہو''۔
جب دونوں صلیبی ٹھنڈے ہوگئے تو لڑکی بے قابو ہو کر رونے لگی۔ عماد نے اسے بہالیا اور کہا …… ''اب یہاں ُرکنا ٹھیک
نہیں ۔ ہو سکتا ہے زیادہ سپاہی ادھر آنکلیں۔ ہم ابھی شوبک کو روانہ ہوجاتے ہیں ''۔ اس نے لڑکی سے پوچھا ……
''''انہوں نے تمہیں جگایا تھا ؟
نہیں ''۔لڑکی نے جواب دیا …… ''میں جاگ رہی تھی اور گھوڑوں کے پاس کھڑی تھی ''۔''
''وہاں کیوں ؟''
گھوڑے پر سوار ہو کر بھاگنے کے لیے ''۔لڑکی نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ۔ ''میں تمہارے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی ''
''۔
''تم نے خنجر کہاں سے لیا ؟''
میرے پاس تھا ''۔لڑکی نے جواب دیا …… ''میں نے پہلے ہی ہاتھ میں لے رکھا تھا ''۔''
پہلے ہی ہاتھ میں کیوں لے رکھا تھا ؟'' عماد نے پوچھا …… ''شاید اس لیے کہ میں جاگ اُٹھوں تو تم مجھے قتل کر''
دو ''۔
لڑکی نے جواب نہ دیا ۔ عماد کو دیکھتی رہی ۔ کچھ دیر بعد بولی …… ''میں تمہیں قتل کرکے بھاگنا چاہتی تھی۔ پیشتر
اس کے کہ تم مجھے قتل کرو ،میں تمہیں بتا دینا چاہتی ہوں کہ میں نے یہ خنجر تمہیں قتل کرنے کیلئے کھوال تھا لیکن
ہاتھ ا ُٹھا نہیں ۔ میں یہ نہیں بتا سکتی کہ میں نے تمہارے دل میں خنجر کیوں نہیں اُتارا۔ تمہاری زندگی میرے ہاتھ میں تھی
۔ میں بزدل نہیں ۔ پھر بھی میں تمہیں قتل نہ کر سکی۔ میں کوئی وجہ بیان نہیں کر سکتی ۔ شاید تم کچھ بتا سکو ''۔
زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ''۔عماد نے کہا ……''تمہارا ہاتھ میرے خدا نے روکا تھا اور تمہاری عزت خدا نے ''
بچائی ہے ۔ میرا وجود تو ایک بہانہ اور سبب تھا …… کسی گھوڑے پر سوار ہوجاو اور چلو ''۔
لڑکی نے خنجر عماد کی طرف بڑھا کر کہا ……''میرا خنجر اپنے پاس رکھ لو ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گی ''۔
تم میری تلوار بھی اپنے پاس رکھ لو ''۔ عماد نے کہا …… ''تم مجھے قتل نہیں کر سکو گی ''۔ یہ مذاق نہیں تھا ۔''
دونوں پر سنجیدگی طاری تھی ۔ وہ گھوڑوں پر سوار ہوئے اور تیسرا گھوڑا ساتھ لے کر چل پڑے ۔
سورج نکلنے تک وہ اس عالقے میں پہنچ چکے تھے جہاں کوئی صلیبی سپاہی نظر نہیں آتا تھا ۔ عماد کی اپنی فوج کے
چند سپاہی اسے نظر آئے جن کے ساتھ کچھ باتیں کیں اور چلتے گئے۔ اپریل کا سورج بہت ہی گرم تھا ۔ وہ منہ اور سر
لپیٹے ہوئے چلتے گئے۔ دور سے ریت پانی کے سمندر کی طرح چمکتی نظر آتی تھی اور بائیں سمت ریتلی سلوں کی پہاڑیاں
نظر آرہی تھیں۔ سفر کے دوران وہ آپس میں کوئی بات نہ کر سکے۔ گرمی کے عالوہ ان الشوں نے بھی ان پر خاموشی طاری
کر رکھی تھی۔ جو انہیں ادھر ادھر بکھری ہوئی نظر آرہی تھیں ۔ کوئی ایک الش سالم نہیں تھی ۔ گدھوں اور درندوں نے ان
کے اعضاء الگ الگ کر دئیے تھے۔ بعض الشوں کی صرف ہڈیاں اور کھوپڑیاں رہ گئی تھیں۔ عماد نے لڑکی سے کہا …… ''یہ
تمہاری قوم کے سپاہی ہیں ۔ یہ ان بادشاہوں کی خواہشوں کا شکار ہوگئے ہیں جو اسالمی سلطنت اسالمی کو ختم کرنے
برطانیہ ،فرانس ،جرمنی ،اٹلی اور نہ جانے کہاں کہاں سے آئے ہیں''۔
لڑکی خاموش رہی ۔ وہ بار بار عماد کو دیکھتی تھی اور آہ بھر کر سر جھکا لیتی تھی۔ عماد نے سلوں کی پہاڑیوں کا رخ
کرلیا۔ اسے معلوم تھا کہ وہاں پانی ضرور ہوگا اور سایہ بھی ۔ سورج ان کے پیچھے جانے لگا تو وہ پہاڑیوں میں پہنچ گئے۔
تالش کے بعد انہیں ہری جھاڑیاں اور گھاس نظر آگئی۔ ایک جگہ سے پہاڑی کا دامن پھٹا ہوا تھا۔وہاں پانی تھا وہ گھوڑوں
سے ا ُترے۔ پہلے خود پانی پیا پھر گھوڑوں کو پانی پینے کے لیے چھوڑ دیا اور سائے میں بیٹھ گئے۔
''تم کون ہو؟''…… لڑکی نے اس سے پوچھا …… ''تمہارا نام کیا ہے ؟ کہاں کے رہنے والے ہو؟''
میں مسلمان ہوں ''۔ عماد نے جواب دیا …… ''میرا نام عماد ہے اور میں شامی ہوں''۔''
''رات خواب میں تم کسے یاد کر رہے تھے ؟''
یاد نہیں رہا '' ۔عماد نے کہا …… ''میں شاید خواب میں بول رہا ہوں گا۔ میرے ساتھی مجھے بتایا کرتے ہیں کہ میں ''
خواب میں بوال کرتا ہوں''۔
تمہاری ماں ہے؟بہن ہے ؟'' لڑکی نے پوچھا اور کہا …… ''تم شاید انہیں یاد کر رہے تھے ''۔''
تھیں کبھی !'' عماد نے آہ بھر کر کہا …… ''اب انہیں خواب میں دیکھا کرتا ہوں''۔''
لڑکی نے اس سے ساری بات پوچھنے کی بہت کوشش کی لیکن عماد نے اور کچھ نہیں بتایا۔ اس نے لڑکی سے کہا ……
'' تم نے اپنے متعلق جھوٹ بوال تھا ۔ مجھے پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ تم کون ہو۔ میں تمہیں متعلقہ حاکم کے
حوالے کرکے واپس آجائوں گا۔ اگر سچ بول سکو تو اپنے متعلق کچھ بتا دو لیکن یہ نہ کہنا کہ تم ان صلیبی لڑکیوں میں سے
نہیں ہو جو ہمارے ملک میں جاسوسی کے لیے آتی ہیں ''۔
تم ٹھیک کہتے ہو ''۔ لڑکی نے کہا …… ''میں جاسوس لڑکی ہوں ۔ میرا نام ایونا ہے ''۔''
تمہارے ماں باپ کو معلوم ہے کہ تمہارا کام کس قسم کا ہے ؟''عماد نے پوچھا۔''
میرے ماں باپ نہیں ہیں ''۔ایونا نے جواب دیا …… ''میں نے ان کی صورت بھی نہیں دیکھی ۔ میرا محکمہ میری ماں''
اور اس محکمہ کا حاکم ہرمن میرا باپ ہے ''…… اس نے یہ بات یہیں ختم کر دی اور کہا …… ''میری ایک ساتھی لڑکی
نے ایک مسلمان سپاہی کو بچانے کے لیے زہر پی لیا تھا۔ میں اس وقت بہت حیران ہوئی تھی کہ کوئی صلیبی لڑکی ایک
مسلمان کے لیے اتنی بڑی قربانی کر سکتی ہے؟ میں آج محسوس کر رہی ہوں کہ ایسا ہو سکتا ہے ۔ پتہ چال تھا کہ اس
مسلمان سپاہی نے بھی تمہاری طرح اس لڑکی کو ڈاکوئوں سے لڑکر بچایا ،خود زخمی ہوگیا اور لڑکی کو شوبک تک
پہنچایاتھا۔ تمہاری طرح اس نے بھی دھیان نہیں دیا تھا کہ وہ لڑکی کتنی خوبصورت ہے ۔ لوزینا بہت خوبصورت لڑکی تھی ۔
میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ میں تمہاری خاطر اپنی جان قربان کردوں گی''۔
میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے ''۔ عماد نے کہا …… ''ہم لوگ حکم کے پابند ہوتے ہیں ''۔''
شاید یہ جذبات کا اثر ہے کہ میں ایسے محسوس کرتی ہوجیسے میں نے پہلے بھی تمہیں کہیں دیکھا ہے ''۔''
دیکھا ہوگا''۔ عماد نے کہا …… ''تم مصر گئی ہوگی ۔ وہاں دیکھا ہوگا''۔''
میں مصر ضرور گئی ہوں ''۔لڑکی نے کہا …… ''تمہیں نہیں دیکھا تھا ''۔اس نے مسکرا کر پوچھا …… ''میرے متعلق ''
تمہارا کیا خیال ہے ؟ کیا میں خوبصورت نہیں ہوں ''۔
تمہاری خوبصورتی سے میں انکار نہیں کر سکتا ''۔عماد نے سنجیدگی سے کہا …… ''میں سمجھ گیا ہوں تم نے یہ سوال''
کیا ہے۔ تم ضرور حیران ہوگی کہ میں نے تمہارے ساتھ وہ سلوک کیوں نہیں کیا ہے جو تمہاری صلیب کے دو سپاہیوں نے
تمہارے ساتھ کرنا چاہا تھا۔ ہو سکتا ہے تمہارے دل میں میرے لیے یہ خوف ابھی تک موجود ہو کہ میں تمہیں دھوکہ دے رہا
ہوں اور تمہیں شوبک لے جا کر خراب کروں گا یا تمہارے ساتھ تمہاری مرضی کے خالف شادی کر لوں گا یا تمہیں بیچ ڈالوں
گا۔ میں تمہارا یہ خوف دور کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ لڑکی میرے مذہب کی ہو یا کسی دوسرے مذہب کی میں کسی لڑکی کو
بری نظر سے دیکھ ہی نہیں سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں جب تیرہ چودہ سال کا تھا تو میری ایک چھوٹی سی بہن
اغوا ہوگئی تھی۔ اس کی عمر چھ سات سال تھی ۔ سولہ سال گزر گئے ہیں۔ اسے شوبک کے عیسائی اٹھا لے گئے تھے ۔
میں نہیں جانتا کہ وہ زندہ ہے یا مر گئی ہے۔ اگر زندہ ہے تو کسی امیر کے حرم میں ہوگی یا تمہاری طرح جاسوسی کرتی
پھر رہی ہوگی۔ میں جس لڑکی کو دیکھتا ہوں اسے اپنی بہن سمجھ لیتا ہوں۔ اسے بری نظر سے اس لیے نہیں دیکھتا کہ وہ
میری گمشدہ بہن ہی نہ ہو۔ میں تمہیں صرف اس لیے شوبک لے جا رہا ہوں کہ محفوظ رہو۔ میں جانتا تھا کہ صحرا میں
اکیلے جانے اور پیدل چلنے سے تمہارا کیا حشر ہوتا اور تم کسی کے ہاتھ چڑھ جاتیں تو تمہارا حال وہی ہوتا جو تمہارے اپنے
صلیبی بھائی کرنے لگے تھے۔ مجھے اپنی خوبصورتی کا احساس نہ دالئو۔ میں اس احساس کے لحاظ سے مردہ ہوں۔ مجھے
لذت ان صحرائوں میں صلیبیوں کے تعاقب میں گھوڑا دوڑاتے اور ان کا خون بہاتے ملتی ہے ''۔
لڑکی اسے عجیب سی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔ اس کی آنکھوں میں پیار کا تاثر تھا ۔اس کے ساتھ ایسی باتیں کسی نے
نہیں کی تھیں۔ اسے بے حیائی اور عیاری کے سبق دئیے گئے تھے اور اس کی باتوں اور چال ڈھال میں بڑی محنت سے
جنسی کشش پیدا کی گئی تھی۔ اسے ایک بڑا ہی خوبصورت فریب بنایاگیا تھا۔ اس پر حسن اور شراب کانشہ طاری کیا گیا
تھا ۔ اسے عصمت کے موتی سے محروم رکھا گیا تھا اور وہ اس ٹریننگ کے بعد اپنی ساتھی لڑکیوں کی طرح اپنے آپ کو
مردوں کے دلوں پر راج کرنے والی شہزادی سمجھنے لگی تھی۔ اسے یہ بھی یاد نہیں رہا تھا کہ اس کا گھر کہاں ہے اور اس
کے ماں باپ کیسے تھے۔ عماد کی جذباتی باتوں نے اس کی ذات میں ایک عورت کے جذبات بیدار کردئیے۔ وہ گہری سوچ
کے عالم میں کھو گئی۔ جیسے و ہ بے تکلف ہوگئی ہو۔
اس نے گہری سوچ کے عالم میں کہا …… ''ایک ڈرائونے خواب کی طرح یاد آتا ہے کہ مجھے ایک گھر سے اُٹھایا گیا تھا۔
مجھے یاد نہیں آرہا کہ اس وقت میری عمرکیا تھی ''۔ اس نے اپنے بالوں میں دونوں ہاتھ پھیرے اور بالوں کو دونوں مٹھیوں
میں لے کر جھنجھوڑا جیسے پرانی یادوں کو بیدار کرنے کی کوشش کررہی ہوں۔ اس نے اُکتا کرکہا …… ''کچھ یاد نہیں آتا۔
میرا ماضی شراب اور عیش و عشرت اور حسین عیاریوں میں گم ہوگیا ہے۔ میں نے کبھی بھی نہیں سوچا کو میرے والدین
کون تھے اورکیسے تھے۔ مجھے کبھی ماں باپ کی ضرورت محسوس ہوئی ہی نہیں۔ میرے اندر جذبات تھے ہی نہیں۔ مجھے
معلوم ہی نہیں کہ مرد باپ اور بھائی بھی ہو سکتا ہے ۔ مرد مجھے اپنی تفریح کے استعمال کی چیز سمجھتے ہیں لیکن
میں مردوں کو استعمال کیا کرتی ہوں۔ جس پر میری خوبصورتی اور میری جوانی کانشہ طاری ہو اسے میں حشیش اور شراب
سے اپنا غالم بنا لیا کرتی ہوں ۔ مگر اب تم نے جو باتیں کیں ہیں انہوں نے مجھ میں وہ حسیں بیدار کردی ہیں جوماں،
باپ ،بہن اور بھائی کا پیار مانگتی ہیں ''۔
اس کی بے چینی بڑھتی گئی ۔ وہ رک رک کر بولتی رہی پھر بالکل ہی چپ ہوگئی۔ کبھی عماد کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے
لگتی اور کبھی اپنے سر پرہاتھ رکھ کر اپنے بال مٹھی میں لے کرجھنجھوڑنے لگتی۔ وہ دراصل گم گشتہ ماضی اور حال کے
درمیان بھٹک گئی تھی ۔ عماد نے جب اسے کہا کہ ا ُٹھو چلیں ،تو وہ بھولے بھالے معصوم سے بچے کی طرح اس کے ساتھ
چل پڑی ۔ ان کے گھوڑے انہیں پہاڑی عالقے سے بہت دور لے گئے تو بھی وہ عماد کو دیکھ رہی تھی ۔ صرف ایک بار اس
نے ہنس کرکہا …… ''مرد کی باتوں اور وعدوں پرمیں نے کبھی اعتبار نہیں کیا ۔ میں سمجھ نہیں سکتی کہ میں کیوں
محسوس کر رہی ہوں کہ مجھے تمہارے ساتھ جانا چاہیے'' …… عماد نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرادیا۔
٭ ٭ ٭
وہ جب شوبک کے دروازے پرپہنچے تو اگلے روز کا سورج طلوع ہو رہاتھا ۔ وہ صحرا میں ایک اوررات گزار آئے تھے۔ عماد
لڑکی کو جہاں لے جانا چاہتا تھا اس جگہ کے متعلق پوچھ کر وہ چل پڑا۔ گھوڑے شہر میں سے گزر رہے تھے ۔ لوگ ایونا
کو رک رک کر دیکھتے تھے۔ چلتے چلتے عماد نے ایک مکان کے سامنے گھوڑا روک لیا اور بند دروازے کو دیکھنے لگا۔ ایونا
نے اس سے پوچھا …… ''یہاں کیوں ُرک گئے؟'' ……اس نے جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ دروازے کے قریب جا کر گھوڑے پر
بیٹھے بیٹھے اس نے دروازے پر آہستہ آہستہ ٹھوکریں ماریں۔ ایک بزرگ صورت انسان نے دروازہ کھوال۔
یہاں کون رہتا ہے ؟'' عماد نے عربی زبان میں پوچھا۔''
کوئی نہیں '' ۔ بوڑھے نے جواب دیا …… ''عیسائیوں کا ایک خاندان رہتا تھا۔ ہماری فوج آگئی تو پورا خاندان بھاگ گیا ''
ہے ''۔
''اب آپ نے اس پر قبضہ کر لیا ہے؟''
بوڑھا ڈر گیا ۔ اس نے دیکھا کہ یہ سوار فوجی ہے اور اس سے باز پرس کررہا ہے کہ عیسائی کے مکان پر اس نے کیوں
قبضہ کر لیا ہے جبکہ سلطان ایوبی نے منادی کے ذریعے حکم جاری کیا ہے کہ کسی مسلمان کی طرف سے کسی عیسائی کو
کوئی تکلیف نہ پہنچے ورنہ سخت سزا دی جائے گی۔ بوڑھے نے کہا …… ''میں نے قبضہ نہیں کیا ۔ اس کی حفاظت کے
لیے یہاں آگیا ہوں ۔
میں اسے بالکل بند کردوں گا۔ اس کا مالک زندہ ہے ۔ وہ مسلمان ہے اور پندرہ سولہ سال سے بیگار کیمپ میں پڑا ہے
''۔
کیا امیرمصر نے انہیں کیمپ سے رہا نہیں کیا ؟'' عماد نے پوچھا۔''
وہاں کے سب مسلمان آزاد ہیں مگر ابھی کیمپ میں ہی ہیں ''۔ بوڑھے نے جواب دیا …… ''اس سب کی حالت اتنی ''
بری ہے کہ قابل احترام ساالر اعظم ایوبی نے ان کے لیے دودھ ،گوشت ،دوائیوں اور نہایت اچھے رہن سہن کا انتظام وہیں کر
دیا ہے ۔ بہت سے طبیب ان کی دیکھ بال کررہے ہیں ۔ ان میں جس کی صحت بحال ہوجاتی ہے اسے گھر بھیج دیا جاتا
ہے۔ وہاں جو رہتے ہیں انہیں ان کے رشتہ داروہیں ملنے جاتے ہیں۔ اس مکان کا مالک بھی وہیں ہے۔ ایک تو اس کابڑھاپا
ہے اور دوسرے کیمپ کی پندرہ سولہ سالوں کی اذیتیں۔ بے چارہ صرف زندہ ہے۔ میں اسے دیکھنے جایا کرتا ہوں۔ اُمید ہے
صحت یاب ہوجائے گا۔ میں نے اسے بتا دیا تھا کہ اس کا مکان خالی ہوگیا ہے''۔
اس کے رشتہ دار کہاں ہیں؟''عماد نے پوچھا ۔''
کوئی بھی زندہ نہیں ہے '' ۔ بوڑھے نے جواب دیا اور تین چار گھر چھوڑ کر ایک مکان کی طرف اشارہ کرکے کہا…… ''
''وہ میرا ذاتی مکان ہے۔ میں ان لوگوں کا صرف پڑوسی تھا ۔ آپ مجھے ان کا رشتہ دار بھی کہہ سکتے ہیں''۔
عماد یہ پوچھ کر کہ اندر مستورات نہیں ہیں ،گھوڑے سے ا ُتر کر اندر چالگیا۔ کمروں میں گیا۔ دیواروں پر ہاتھ پھیرا۔ ا َیونا بھی
اندر چلی گئی۔ اس نے عماد کو دیکھا وہ آنسو پونچھ رہاتھا ۔ ا َیونا نے آنسوئوں کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا ……
''اپنے بچپن کو ڈھونڈ رہا ہوں۔ میں اس گھر سے بھاگا تھا۔ یہ میرا گھر ہے '' …… اس کے آنسو بہنے لگے۔ اس نے
''بوڑھے سے پوچھا …… ''ان کے رشتے دار مر گئے ہیں ؟ ان کی کوئی اوالد بھی تھی ؟
صرف ایک لڑکا بچا تھا ،جو عیسائی ڈاکوئوں سے بچ کر میرے گھر آگیا تھا''۔ بوڑھے نے جواب دیا …… ''اسے میں نے''
شام کو روانہ کر دیا تھا ،اگر یہاں رہتا تو مارا جاتا''۔
عماد کو وہ رات یاد آگئی جب وہ اس گھر سے بھاگ کر پڑوسی کے گھر جا چھپا تھا ۔ وہ یہی پڑوسی تھا مگر اس نے
بوڑھے کو بتایا نہیں کہ وہ لڑکا جسے اس نے شوبک سے شام کو روانہ کر دیا تھا ،وہ یہی جوان ہے ،جسے وہ یہ کہانی سنا
رہا ہے۔ عماد کے لیے جذبات پر قابوپانا محال ہوگیالیکن وہ سخت جان فوجی تھا۔ اس نے بوڑھے سے کہا …… ''میں اس
مکان کے مالک سے ملنا چاہتا ہوں۔ مجھے ان کا نام پتا بتادو''۔ بوڑھے نے اس کے باپ کا نام بتا دیا ۔ عماد کو اپنے
باپ کا نام اچھی طرح سے یاد تھا۔
اس لڑکے کی ایک بہن تھی ''۔ بوڑھے نے کہا …… ''بہت چھوٹی تھی ۔ اسے عیسائیوں نے اغوا کر لیا تھا۔اسی ضمن''
میں اس گھر کے سارے افراد عیسائیوں کے ہاتھوں قتل ہوگئے ''۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
19:37
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
"قسط نمبر38.۔" جب ایونا عائشہ بنی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
''ا َیونا!''۔ عماد نے لڑکی سے کہا …… ''اپنی مقدس صلیب کے پرستاروں کی کرتوت سن رہی ہو؟''
ا َیونا نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ چھت کو دیکھنے لگی۔ اُس نے کمرے کے دروازے کے ایک کواڑ کو بند کیا اور اس کی اُلٹی
طرف دیکھنے لگی۔ کواڑ پر تین چار چھوٹی چھوٹی اور گہری لکیریں کھدی ہوئی تھیں۔ وہ بیٹھ کر ان لکیروں کو بڑی غور
سے دیکھنے لگی۔ عماد اسے دیکھ رہا تھا۔ ا َیونا لکیروں پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ وہ اُٹھی اور دوسرے کمرے میں چلی گئی ۔
''وہاں بھی کواڑوں پر ہاتھ پھیر کر کچھ ڈھونڈنے لگی۔ عماد نے جاکر اس سے پوچھا…… ''کیادیکھ رہی ہو؟
لڑکی ُم سکرائی اور بولی …… ''تمہاری طرح میں بھی اپنا بچپن ڈھونڈ رہی ہوں''۔ اس نے عماد سے پوچھا …… ''یہ تمہارا
''گھر تھا ؟ تم یہیں سے بھاگے تھے؟
یہیں سے''۔ عماد نے جواب دیا اور اسے سنا دیا کہ کس طرح اُن کے گھر پر عیسائیوں نے حملہ کیا اور اس کی ماں ''
اور بڑھے بھائی کو قتل کر دیاتھا۔ عماد بھاگ گیا اور وہ آج تک یہ سمجھتا رہا کہ اس کا باپ بھی قتل ہوگیا ہے لیکن یہ
بوڑھا بتارہا ہے کہ باپ کیمپ میں زندہ ہے۔
''تم نے اس بوڑھے کو بتادیا ہے کہ وہ لڑکے تم ہی ہو جسے اس نے پناہ دی تھی؟''
میں بتانا نہیں چاہتا''۔اس نے تذبذب کے عالم میں کہا ۔''
ا َیونا ا ُسے بڑی غور سے دیکھنے لگی اور بوڑھا ان دونوں کو دیکھ دیکھ کر حیران ہو رہا تھا کہ یہ دونوں یہاں کیا دیکھ رہے
''ہیں ۔ عماد بچپن کی یادوں میں گم ہوگیا تھا ۔ بوڑھے نے پوچھا …… ''میرے لیے کیا حکم ہے ؟
عماد چونکا اور حکم دینے کے لہجے میں بوال …… ''اس مکان کو اپنی نگرانی میں رکھیں۔ یہ آپ کی تحویل میں ہے ''۔
اس نے ا َیونا سے کہا …… ''آو چلیں ''۔
کیا تم اپنے باپ سے نہیں ملو گے؟'' ۔ ایونا نے اس سے پوچھا۔''
پہلے اپنا فرض ادا کرلوں'' ۔ عماد نے جواب دیا …… ''مجھے ریگستان میں میرا کماندار ڈھونڈ رہا ہوگا۔ وہ مجھے مردہ ''
قرار دے چکے ہوں گے ۔ وہاں میری ضرورت ہے ،آو میرے ساتھ آو۔ میں یہ امانت کسی کے حوالے کردوں''۔
لڑکیاں ،لڑکیاں ،لڑکیاں''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے شگفتہ سے لہجے میں علی بن سفیان سے کہا …… ''کیایہ ''
کمبخت صلیبی میرے راستے میں لڑکیوں کی دیوار کھڑی کرنا چاہتے ہیں ؟ کیا وہ لڑکیوں کو میرے سامنے نچاکر مجھ سے
''شوبک کا قلعہ لے لیں گے؟
امیر محترم!'' علی بن سفیان نے کہا …… ''آپ اپنی ہی باتوں کی تردید کر رہے ہیں۔ یہ لڑکیاں دیوار نہیں بن سکتیں۔''
دیمک بن چکی ہیں اور دیمک کا کام کر رہی ہیں ۔ آپ کے اور محترم نورالدین زنگی کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنیکی
کوشش لڑکیوں کے ہاتھوں کرائی گئی ہے اور ان لڑکیوں نے حشیش اور شراب کے ذریعے ہمارے مسلمان حکام اور امراء کو
استعمال کیا ہے ''۔
یہ وہی موضوع ہے جس پر ہم سو بار بات کر چکے ہیں ''۔سلطان ایوبی نے کہا …… ''مجھے ان لڑکیوں کے متعلق ''
کچھ بتاو ۔ یہ تو معلوم ہوچکا ہے کہ یہ آٹھوں جاسوس ہیں۔ انہوں نے اب تک کوئی نیا انکشاف کیا ہے یا نہیں ''۔
انہوں نے بتایا ہے کہ شوبک میں صلیبی جاسوس اور تخریب کار موجود ہیں ''۔ علی بن سفیان نے جواب دیا …… ''
'' لیکن ان میں سے کسی کی بھی نشاندہی نہیں ہوسکتی ،کیونکہ ان کے گھروں اور ٹھکانوں کا علم نہیں ۔ ان میں سے تین
مصر میں کچھ وقت گزار کر آئی ہیں۔ وہاں انہوں نے جو کام کیا ہے وہ آپ کو بتا چکا ہوں''۔
کیا وہ قید خانے میں ہیں؟''سلطان ایوبی نے کہا۔''
نہیں ''۔علی بن سفیان نے جواب دیا …… ''وہ اپنی پرانی جگہ رکھی گئی ہیں۔ ان پر پہرہ ہے ''۔''
اتنے میں دربان اندر آیا۔ اس نے کہا …… ''عماد شامی نام کاایک عہدیدار ایک صلیبی لڑکی کو ساتھ الیا ہے۔ کہتاہے کہ
اسے اس نے کرک کے راستے پر پکڑا ہے اور یہ لڑکی جاسوس ہے''۔
دونوں کو اندر بھیج دو''۔ سلطان ایوبی نے کہا ۔''
دربان کے جاتے ہی عماد اور ایونا اندر آئے۔ سلطان ایوبی نے عماد سے کہا ۔ ''معلوم ہوتا ہے بہت لمبی مسافت سے آئے
'' ہو۔ تم کس کے ساتھ ہو؟
میں شامی فوج میں ہوں'' ۔ عماد نے جواب دیا …… ''میرے کماندار کا نام احتشام ابن محمدہے اور میں البرق دستے کا ''
عہدیدار ہوں''۔
البرق کس حال میں ہے ؟'' سلطان ایوبی نے پوچھا اور علی بن سفیان سے کہا …… ''البرق فی الواقع برق ہے۔ ہم نے''
جب سوڈانیوں پر شب خون مارے تھے تو البرق قیادت کر رہا تھا۔ صحرائی چھاپوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی ''۔
ساالر اعظم!'' عماد نے کہا …… ''آدھا دستہ اللہ کے نام پر قربان ہوچکا ہے ۔ میرے گروہ میں سے صرف میں رہ گیا ''
ہوں''۔
تم نے اتنی جانیں ضائع تو نہیں کیں؟ سلطان ایوبی نے سنجیدگی سے پوچھا۔ مرجانے اور قربان ہونے میں بہت فرق ہے ''
''۔
نہیں ساالر اعظم!'' عماد نے جواب دیا …… ''خدائے ذوالجالل گواہ ہے کہ ہم نے ایک ایک جان کے بدلے بیس بیس ''
جانیں لی ہیں۔ اگر صلیبیوں کی فوج اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئی ہے تو وہ صرف چند ایک زخمی ہوں گے۔ فلسطین کی ریت
کو ہم نے صلیبیوں کے خون سے الل کر دیا ہے ۔ ہمارے دستوں نے بھی دشمن پرپورا قہر برسایا ہے۔ دشمن میں اب اتنا دم
نہیں رہاکہ وہ تھوڑے سے عرصے میں اگلی جنگ کے لیے تیارہوجائے ''۔
'' اورتم؟'' سلطان ایوبی نے لڑکی سے پوچھا …… ''کیا تم پسند کروگی کہ اپنے متعلق ہمیں سب کچھ بتا دو؟''
سب کچھ بتادوں گی''۔ ا َیونا نے کہا اور اس کے آنسو بہنے لگے۔''
عماد شامی !'' سلطان ایوبی نے عماد سے کہا …… ''فوجی آرام گاہ میں چلے جاو۔ نہاو دھوو۔ آج کے دن اور آج کی ''
رات آرام کرو۔ کل واپس اپنے جیش میں چلے جانا ''۔
میں دشمن کے دو گھوڑے بھی الیا ہوں ''۔عماد نے کہا…… ''ان کی تلواریں بھی ہیں ''۔''
گھوڑے اصطبل میں اور تلواریں اسلحہ خانے میں دے دو''۔ سلطان ایوبی نے کہا اور ذرا سوچ کر کہا …… ''اگر ان ''
''گھوڑوں میں کوئی تمہارے گھوڑے سے بہتر ہو تو بدل لو۔ باہر کے محاذ پر گھوڑے کی کیا حالت ہے؟
کوئی پریشانی نہیں '' ۔عماد نے بتایا …… ''اپنا ایک گھوڑا ضائع ہوتا ہے تو ہمیں صلیبیوں کے دو گھوڑے مل جاتے ہیں ''
''۔
عماد سالم کرکے باہر نکل گیا۔ اس نے امانت صحیح جگہ پہنچا دی تھی ۔ ادھر سے تووہ فارغ ہوگیا لیکن اس کے دل پر
بوجھ تھا۔ یہ جذبات کا بوجھ تھا۔ یہ بچپن کی یادوں کا بوجھ تھااور یہ اس باپ کی محبت کا بوجھ تھا جو کیمپ میں پڑا
تھا۔ وہ تذبذب میں مبتال تھا۔ جنگ ختم ہونے تک وہ باپ سے ملنا نہیں چاہتا تھا۔ ڈرتاتھا کہ باپ کی محبت اور دل کے
پرانے زخم اس کے فرض کے راستے میں حائل ہوجائیں گے …… وہ اپنے گھوڑے کے پیچھے دو گھوڑے باندھے اصطبل کی طرف
جارہا تھا۔ اسے ماحول کاکوئی ہوش نہیں تھا۔ گھوڑا اسے ایک گھاٹی پر لے گیا۔ اس نے سامنے دیکھا۔ شوبک کا قصبہ اسے
نظر آرہا تھا۔ وہ ُر ک گیا اور اس قصبے کو دیکھنے لگا جہاں وہ پیدا ہوا تھا اور جہاں سے جال وطن ہوا تھا۔ اس پر جذبات
نے رقت طاری کردی ۔
راستے سے ہٹ کر ُر کو سوار!'' اسے کسی کی آواز نے چونکا دیا۔ اس نے گھوم کردیکھا۔ پیچھے ایک گھوڑا سوار دستہ ''
آرہا تھا ۔ اس نے گھوڑے ایک طرف کر لیے ۔ جب دستے کا اگال سوار اس کے قریب سے گزرا توعماد سے پوچھا ……
''''باہر سے آئے ہو وہاں کی کیا خبر ہے ؟
اللہ کا کرم ہے دوستو!'' …… اس نے جواب دی …… ''دشمن ختم ہو رہا ہے ۔ شوبک کو کوئی خطرہ نہیں ''۔''
دستے آگے چال گیا تو عماد دائیں طرف چل پڑا۔
٭ ٭ ٭
میں نے آپ سے کچھ بھی نہیں چھپایا ''۔ا َیونا سلطان ایوبی اور علی بن سفیان کے سامنے بیٹھی کہہ رہی تھی۔ وہ بتا ''
چکی تھی وہ جاسوس ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ وہ قاہر میں ایک مہینہ رہ چکی ہے۔ اس نے وہاں کے چند ایک
سرکردہ مسلمانوں کے نام بھی بتائے تھے جو سلطان ایوبی کے خالف سرگرم تھے اور اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ صلیبیوں کی
طرف سے سوڈانیوں کو بہت مدد مل رہی ہے اور صلیبی فوج کے تجربہ کار کمانڈر سوڈانیوں کو شب خون مارنے کی ٹریننگ
دے رہے ہیں …… ایونا نے کسی استفسار کے بغیرہی اتنی زیادہ باتیں بتا دیں جو جاسوس اذیتوں کے باوجود نہیں بتایا کرتے
کیونکہ ان میں ان کی اپنی ذات بھی ملوث ہوتی ہے۔ اس سے علی بن سفیان شک میں پڑ گیا۔
ایونا!''علی بن سفیان نے کہا…… ''میں بھی تمہارے فن کا فنکار ہوں۔میں تمہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں کو تم ''
اونچے درجے کی فنکار ہو۔ ہمارے تشدد اور قید خانے سے بچنے اور ہمیں گمراہ کرنے کا تمہارا طریقہ قابل تعریب ہے مگر
''میں اس دھوکے میں نہیں آسکتا
آپ کا نام؟''…… ایونا نے پوچھا۔''
علی بن سفیان''۔ علی نے جواب دیا …… ''تم نے شاید ہرمن سے میرا نام سنا ہوگا''۔''
ایونا ا ُٹھی اور آہستہ آہستہ علی بن سفیان کے قریب جا کر دوزانو بیٹھ گئی۔ اس نے علی بن سفیان کا دایاں ہاتھ اپنے ہاتھ
میں لیا اور ہاتھ چوم کر بولی …… ''آپ کو زندہ دیکھ کر مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ آپ کے متعلق مجھے بہت کچھ بتایاگیا
تھا۔ ہرمن کہا کرتا تھا کہ علی بن سفیان مر جائے تو ہم مسلمانوں کی جڑوں میں بیٹھ کر انہیں جنگ کے بغیر ختم کرسکتے
ہیں ''…… لڑکی ا ُٹھ کر اپنی جگہ بیٹھ گئی …… ''میں نے قاہرہ میں آپ کو دیکھنے کی بہت کوشش کی تھی مگر دیکھ نہ
سکی ۔ میری موجودگی میں آپ کے قتل کا منصوبہ تیار ہوا تھا۔ پھر مجھے نہیں بتایا گیا کہ یہ منصوبہ کامیاب ہوا تھا یا
نہیں۔ مجھے شوبک بال لیا گیا تھا''۔
ہم کس طرح یقین کرلیں کہ تم نے جو کچھ کہاہے سچ کہا ہے ؟''……علی بن سفیان نے پوچھا۔''
آپ مجھ پر اعتبار کیوں کرتے ؟''لڑکی نے جھنجھالکر کہا۔''
اس لیے کہ تم صلیبی ہو''۔ سلطان ایوبی نے کہا ۔''
اگر میں آپ کو یہ بتادوں کہ میں صلیبی نہیں مسلمان ہوں تو آپ کہیں گے کہ یہ بھی جھوٹ ہے''۔ لڑکی نے کہا …… ''
''میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ۔ سولہ سترہ سال گزرے ،میں اسی قصبے سے اغوا ہوئی تھی۔ یہاں آکر مجھے پتہ چال کہ
میرا باپ کیمپ میں ہے '' ۔ اس نے اپنے باپ کا نام بتایا اور یہ بھی بتایا کہ اسے اپنے باپ کا نام اب معلوم ہوا ہے۔
اس نے سنایا کہ عماد نے اسے کس طرح صحرا سے بچایا تھا اور وہ رات کو اسے قتل کرنے لگی مگر اس کا خنجر واال ہاتھ
ا ُٹھتا ہی نہیں تھا ۔ اس نے کہا …… ''میں نے دن کے وقت اس کے چہرے پر اور اس کی آنکھوں میں نظر ڈالی تو میرے
دل میں کوئی ایسا احساس بیدار ہوگیا جس نے مجھے شک میں ڈال دیا کہ میں عماد کو پہلے سے جانتی ہوں یا اسے کہیں
دیکھا ضرور ہے ۔ مجھے یاد نہیں آرہا تھا ۔ میں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا ایسے نہیں ہو سکتا …… رات کو دو
صلیبی سپاہیوں نے مجھ پر حملہ کر دیا تو عماد جاگ ا ُٹھا۔ اس نے ایک کو برچھی سے مار دیا۔ میں اس وقت تک اپنے
آپ کو صلیبی سمجھتی تھی۔ میری ہمدردیاں صلیبیوں کے ساتھ تھیں مگر میں نے دوسرے صلیبی سپاہی کو خنجر سے ہالک
کردیا اور مجھے خوشی اس پر نہیں ہوئی کہ میں نے ان سے اپنی عزت بچائی ہے بلکہ اس پر ہوئی کہ میں نے عماد کی
……'' جان بچائی ہے
اور جب راستے میں عماد نے میرے ساتھ اپنے متعلق کچھ جذباتی باتیں کیں تو زندگی میں پہلی بار میرے سینے میں بھی '
جذبات بیدار ہوگئے۔ میں تمام سفر عماد کو دیکھتی ہی رہی۔ مجھے صرف اتنا یاد آیا کہ مجھے بچپن میں اغوا کیا گیا تھا۔
مگر یہ یاد بھی ذہن میں دندھلی ہوگئی۔ آپ کو معلوم ہے کہ مجھ جیسی لڑکیوں کو کس طرح تیار کیا جاتا ہے ۔ بچپن کی
یادیں اور اصلیت ذہن سے ا ُتر جاتی ہے ۔ یہی میرا حال ہوا۔ لیکن مجھے یقین ہونے لگا کہ عماد کو میں جانتی ہوں۔ یہ
خون کی کشش تھی ۔ آنکھوں نے آنکھوں کو اور دل نے دل کو پہچان لیا تھا۔ شاید عماد نے بھی یہی کچھ محسوس کیا ہو
اور شاید اسی احساس کا اثر تھا کہ اس نے مجھ جیسی دلکش لڑکی کو اس طرح نظر انداز کیے رکھا جیسے میں اس کے
ساتھ تھی ہی نہیں۔ اس نے مجھے گہری نظروں سے بہت دفعہ دیکھا ضرورتھا''۔
ایونا نے تفصیل سے سنایا کہ شوبک میں داخل ہو کر عماد ایک مکان کے آگے ُرک گیااور ہم دونوں اندر چلے گئے …… اس
نے کہا ……''یہ گھر اندر سے دیکھ کر میری یادیں بیدار ہونے لگیں ۔ مجھے ذہن پر دبائو ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں
ہوئی۔ ذہن اپنے آپ ہی مجھے اس گھر میں گھمانے پھرانے لگا۔ میں نے ایک کواڑ کی الٹی طرف دیکھا۔ وہاں مجھے خنجر
کی نوک سے کھدی ہوئی لکیریں نظر آئیں۔ یہ میں نے بچپن میں بڑے بھائی کے خنجر سے کھودی تھیں۔ میرا ذہن مجھے
ایک اور کواڑ کے پیچھے لے گیا ۔ وہاں بھی ایسی ہی لکیریں تھیں۔ پھر میں نے عماد کو اور زیادہ غور سے دیکھا ۔ داڑھی
کے باوجود اس کی سولہ سترہ سال پرانی صورت یاد آگئی ۔ میں نے اپنے آپ کو بڑی مشکل سے قابو میں رکھا۔ میں نے
عماد کو بتایا نہیں کہ میں اس کی بہن ہوں۔ وہ اتنا پاک فطرت انسان اور میں اتنی ناپاک لڑکی۔ وہ اتنا غیرت مند اور میں
اتنی بے غیرت۔ اگر میں اسے بتادیتی تو معلوم نہیں وہ کیا کر گزرتا''۔
اس دوران علی بن سفیان نے کئی بار سلطان ایوبی کی طرف دیکھا ۔ وہ لڑکی کو ابھی تک شک کی نگاہوں سے دیکھ رہے
تھے۔ لیکن لڑکی کی جذباتی کیفیت ،اس کے آنسو اور بعض الفاظ کے ساتھ اس کی سسکیاں دونوں پر ایسا اثر طاری کر رہی
تھیں جیسے لڑکی کی باتیں سچ ہیں۔ لڑکی نے آخر انہیں اس پر قائل کر لیا کہ اس کے متعلق وہ چھان بین کریں۔ اس نے
کہا …… '' آپ مجھ پر اعتبار نہ کریں ،مجھے قید خانے میں ڈال دیں ،جو سلوک کرنا چاہتے ہیں کریں ،مجھے اور کچھ نہیں
چاہیے۔ میں اب زندہ نہیں رہنا چاہتی۔اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے کچھ کر کے مرنا چاہتی
ہوں''۔
کیا کرسکتی ہو؟''سلطان ایوبی نے پوچھا۔''
اگر آپ مجھے کرک تک پہنچا دیں تو میں صلیب کے تین چار بادشاہوں اور اپنے محکمے کے سربراہ ہرمن کو قتل کر ''
سکتی ہوں''۔
ہم تمہیں کرک تک پہنچا سکتے ہیں ''۔سلطان ایوبی نے کہا …… ''لیکن اس کام سے نہیں کہ تم کسی کو قتل کرو۔ ''
میں تاریخ میں اپنے متعلق یہ تہمت چھوڑ کر نہیں مرنا چاہتا کہ صالح الدین ایوبی نے اپنے دشمنوں کو ایک عورت کے
ہاتھوں مروا دیا تھا اور شوبک میں فوج لے کے بیٹھا رہا۔ اگر مجھے پتہ چلے گا کہ صلیبیوں کا کوئی بادشاہ کسی العالج
مرض میں مبتال ہے تومیں اس کے عالج کے لیے اپنے طبیب بھیجوں گا اور پھر ہم تم پرایسا بھروسہ کر بھی نہیں سکتے۔
البتہ تمہاری اس خواہش پر غورکر سکتے ہیں کہ تمہیں معاف کرکے کرک بھیج دیں ''۔
نہیں ''۔ایونا نے کہا…… ''میرے دل میں ایسی کوئی خواہش نہیں ۔ میں یہیں مروں گی ۔ میری اس خواہش کا ضرور ''
خیال رکھیں کہ عماد کو یہ نہ بتائیں کہ میں اس کی بہن ہوں۔ میں کیمپ اپنے باپ کو ضرور دیکھنے جائوں گی۔ لیکن اسے
بھی نہیں بتاوں گی میں اس کی بیٹی ہوں''۔وہ زاروقطار رونے لگی۔
علی بن سفیان نے اپنی ضرورت کے مطابق اس سے بہت سی باتیں پوچھیں پھر سلطان ایوبی سے پوچھا کہ اسے کہاں بھیجا
جائے۔ سلطان ایوبی نے سوچ کر کہا کہ اسے آرام اور احترام سے رکھو۔ فیصلہ سوچ کر کریں گے۔
علی بن سفیان اسے اپنے ساتھ لے گیا اور ان کمروں میں سے ایک اسے دے دیا جہاں جاسوس لڑکیاں رہا کرتی تھیں۔ لڑکی
نے وہاں رہنے سے انکار کر دیا اور کہا …… ''ان کمروں سے مجھے نفرت ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ مجھے اس گھر میں
''رکھا جائے جہاں سے میں اغوا ہوئی تھی ؟
''نہیں !''…… علی بن سفیان نے کہا …… ''کسی کے جذبات کی خاطر ہم اپنے قواعد و ضوابط نہیں بدل سکتے ۔''
وہاں کے پہرہ داروں اور مالزموں کو کچھ ہدایات دے کر علی بن سفیان لڑکی کو وہاں چھوڑ گیا ۔
عماد فوجی آرام گاہ میں گیا اور نہا کر سوگیا مگر اتنی زیادہ تھکن کے باوجود اس کی آنکھ کھل گئی۔ کوشش کے باوجود وہ
سو نہ سکا۔ اس کے ذہن میں یہی ایک سوال کلبالرہا تھا کہ باپ سے ملے یانہ ملے۔ تھک ہار کر وہ اُٹھا اور اس جگہ کی
طرف چل پڑا جو شوبک میں مسلمانوں کے کیمپ کے نام سے مشہور تھی ۔ وہاں پہنچ کر اس نے اپنے باپ کا نام لیا اور
پوچھتا پوچھتا باپ تک پہنچ گیا۔ اس کے سامنے ایک بوڑھا لیٹا ہوا تھا۔ عماد نے اس سے ہاتھ مالیا اور اپنے آپ کو قابو
میں رکھا۔ اس کاباپ ہڈیوں کا پنجرہ بن چکا تھا۔ اسے اچھی خوراک ،دوائیاں دی جارہی تھیں۔ عماد نے اپنا تعارف کرائے
بغیر اس سے حال پوچھا تو اس نے بتایا کہ سولہ برسوں کی اذیت ناک مشقت ،قید اور بچوں کے غم نے اس کا یہ حال
کردیا ہے کہ اتنی اچھی غذا اور اتنی اچھی دوائیں اس پرکوئی اثر نہیں کر رہیں ۔
باپ دھیمی آواز میں عماد کو اپنا حال سنا رہا تھا لیکن عماد سولہ سترہ سال پیچھے چال گیا تھا ۔ اسے باپ کی صورت
اچھی طرح یاد تھی۔ اب اس کے سامنے جو باپ لیٹا ہوا تھا اس کے چہرے کی ہڈیاں باہر نکل آئی تھیں۔ پھر بھی اسے
پہچاننے میں عماد کو ذرہ بھر دقت نہ ہوئی۔ اس نے کئی بار سوچا کہ اسے بتادے کہ وہ اس کا بیٹا ہے؟ اس نے عقل
مندی کی کہ نہ بتایا۔ اس نے دو خطرے محسوس کیے تھے۔ ایک یہ کہ باپ یہ خوشگوار دھچکہ برداشت نہیں کر سکے گا۔
دوسرا یہ کہ اس نے برداشت کرلی تو اس کے لیے رکاوٹ بن جائے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ محاذ پر جانے لگے تو
یہ صدمہ اسے لے بیٹھے …… وہ باپ سے ہاتھ مال کر چال گیا۔
آدھی رات کا وقت ہوگا۔ ایونا بستر سے ا ُٹھی۔ اس وقت تک اسے نیند نہیں آئی تھی۔ اس نے علی بن سفیان کے رویے سے
محسوس کر لیا تھاکہ اس پر اعتبار نہیں کیاگیا اور اب نہ جانے اس کا انجام کیاہوگا ۔وہ سوچ رہی تھی کہ وہ کس طرح یقین
دالئے کہ اس نے جو آپ بیتی سنائی ہے وہ جھوٹ نہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس کا خون انتقام کے جوش سے کھول رہا تھا۔
عمادکے ساتھ اپنے گھر میں جا کر اس نے ذہن میں بچپن کی یادیں ازخود جاگ اُٹھی تھیں اور خواب کی طرح اسے بہت
سی باتیں یاد آگئی تھیں۔ اسے یہ بھی یاد آگیا کہ اسے اغوا کے بعد بے تحاشا پیار ،کھلونوں اور نہایت اچھی خوراک سے یہ
روپ دیا گیا تھا ۔ پھر اسے وہ گناہ یاد آئے جو اس سے کرائے گئے تھے اور وہ سراپا گناہ بن گئی تھی۔ وہ انتقام لینے کو
بیتاب ہوئی جا رہی تھی۔ اس جذباتی حالت نے اسے سونے نہیں دیا تھا۔ اس ذہنی کیفیت میں باپ سے ملنے کی خواہش
بھی شدت اختیار کرتی جا رہی تھی ۔ وہ باہر نہیں نکل سکتی تھی ۔ باہر دو پہرے دار ہر وقت ٹہلتے رہتے تھے ۔ اس کا
دماغ اب سوچنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ وہ اب جذبا ت کے ذیر اثر تھی۔
اس نے دروازہ ذرا سا کھول کر دیکھا۔ اسے باتوں کی آوازیں سنائی دیں۔ دائیں طرف کوئی بیس گز دور اسے دونوں پہرہ دار
باتیں کرتے ہوئے سائے کی طرح نظر آئے۔ لڑکی دروازے میں سے سر نکالے انہیں دیکھتی رہی۔ پہرے دار وہاں سے ذرا پرے
ہٹ گئے۔ لڑکی دبے پائوں باہر نکلی اور عمارت کی اوٹ میں ہوگئی۔ آگے گھاٹی اُترتی تھی۔ وہ بیٹھ گئی اور پائوں پر
سرکتی ہوئی گھاٹی ا ُتر گئی۔ اب اسے پہرہ دار نہیں دیکھ سکتے تھے۔ اسے معلوم تھا کہ مسلمانوں کاکیمپ کہاں ہے اور
اسے یہ بھی معلوم ہوچکا تھا کہ اب یہ کیمپ قید خانے سے مہمان خانہ بن گیا ہے۔ اس لیے اسے یہ خطرہ نہیں تھا کہ
وہاں سے کوئی سنتری اسے روک لے گا۔ وہ باپ کو ملنے جارہی تھی جس کا اسے صرف نام معلوم تھا۔ وہ تیز تیز جارہی
تھی کہ اسے پیچھے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ اس نے پیچھے دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا۔ اس آہٹ کو وہ اپنے
قدموں کی آہٹ سمجھ کر چل پڑی لیکن یہ کسی اور کی آہٹ تھی۔ ایک تنومند آدمی وہیں سے اس کے پیچھے چل پڑا تھا
،جہاں سے وہ گھاٹی اُتری تھی۔
ایونا کو یہ آہٹ ایک بار پھر سنائی دی ۔ وہ ُرکی ہی تھی کہ اس کے سر اور منہ پر کپڑا آن پڑا۔ پلک جھپکتے کپڑا بندھ
گیا اور دو مضبوط بازوئوں نے اسے جکڑ کر ا ُٹھالیا۔ وہ تڑپی مگر تڑپنا بیکار تھا۔ رات تاریک تھی اور یہ عالقہ غیر آباد تھا ۔
ذرا آگے جا کر اسے ایک کمبل میں لپیٹ کر گٹھڑی کی طرح اُٹھالیا گیا۔ وہ ایک نہیں دو آدمی تھے …… نصف گھنٹے کے
بعد اسے اتار کر کھوال گیا ۔ وہ ایک کمرے میں تھی جس میں دو دئیے جل رہے تھے۔ وہاں چار آدمی تھے۔ اس نے سب
''کو باری باری حیرت سے دیکھا اورکہا …… ''تم لوگ ابھی یہاں ہو؟…… اور آپ گیرالڈ؟ آپ بھی یہیں ہیں ؟
ہم جاکر آئے ہیں ''…… گیرالڈ نے جواب دیا …… ''تم سب کو یہاں سے نکالنے کے لیے۔ اچھا ہوا کہ تم مل گئیں ''۔''
یہ وہ چار صلیبی تھے جنہیں کرک سے اس کام کے لیے بھیجا گیا تھا کہ جاسوس لڑکیاں جو مسلمانوں کے قبضے میں رہ
گئی ہیں انہیں وہاں سے نکالیں اور شوبک میں اپنے جو جاسوس رہ گئے ہیں انہیں وہاں منظم کریں اور اگر ممکن ہو تو وہاں
تخریب کاری بھی کریں۔ تخریب کاری میں ایک یہ کام بھی شامل تھا کہ اصطبل میں داخل ہو کر جانوروں کے چارے میں
زہر مالئیں ،رسد کو آگ لگائیں اور فوجیوں کے لنگر خانے میں بھی زہر
مال نے کی کوشش کریں۔ اس گروہ کا کمانڈر گیرالڈ نام کا ایک برطانوی تھا جو تباہ کار جاسوسی کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔
ایونا اسے بہت اچھی طرح جانتی تھی ۔ اسے دیکھ کر ایونا کاخون نفرت اور انتقام کے جوش سے کھول اُٹھا لیکن وہ فورا ً
سنبھل گئی۔ یہ موقع نفرت کے اظہار کا نہیں تھا۔ گیرالڈ تو ایسا گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایونا بالکل بدل گئی ہے۔
اس نے ایونا سے پوچھا کہ وہ کہاں جا رہی تھی؟ ایونا نے کہا کہ اسے فرار کا موقع مل گیا تھا۔ اس لیے وہ فرار ہو رہی
تھی ۔
گیرالڈ نے اسے بتایا کہ وہ چھاپہ مار جاسوسوں کا ایک گروہ کرک کے مظلوم مسلمانوں کے بہروپ میں یہاں الیاہے۔ ان دنوں
شوبک کے حاالت ایسے تھے کہ یہ گروہ آسانی سے ایک ہی گروہ کی صورت میں شہر میں آگیا تھا۔ جنگ کی وجہ سے
لوگ آ جارہے تھے ۔ اردگرد کے دیہات کے مسلمان بھی شہر میں آرہے تھے ۔ اسی دھوکے میں یہ گروہ بھی آگیا ۔ شہر میں
پہلے سے جاسوس موجود تھے۔ انہوں نے پورے گروہ کو پس پردہ کر لیا۔ گیرالڈ نے ایونا کو بتایا کو وہ دو راتوں سے اس
مکان کودیکھ رہا ہے جس میں لڑکیاں ہیں۔ اس جگہ سے وہ اچھی طرح واقف تھا۔ یہ انہی کی بنائی ہوئی تھی۔ رات کو وہ
دیکھنے جاتا تھا کہ پہرہ داروں کی حرکات اور معمول کیاہے۔ یہ بڑا اچھا اتفاق تھا کہ اسے ایونا مل گئی ۔ ایونا نے اسے
بتایا کہ لڑکیوں کو نکالنا آسان نہیں ،تاہم نکاال جا سکتا ہے ۔
رات کو ہی سکیم تیار ہوگئی ۔ ایونا نے گیرالڈ کو بتایا کہ لڑکیاں کھلے کمروں میں ہیں جو قید خانہ نہیں۔ پہرہ دار صرف دو
ہیں۔ اس قسم کی اور بھی بہت سی تفصیالت تھیں جو ایونا نے انہیں بتائیں۔ یہ بھی طے ہوگیا کہ لڑکیوں کو نکالنے کے لیے
کتنے آدمی جائیں گے اور باقی آدمی کون سے مکان میں جمع ہوں گے۔ اس سکیم کے بعد ایونا نے یہ تجویز پیش کی کہ
اسے واپس چلے جانا چاہیے ۔ کیونکہ اس کی گمشدگی سے لڑکیوں پر پہرہ سخت کر دیا جائے گا جس سے یہ مہم ناممکن
ہوجائے گی۔ گیرالڈ کو ایونا کی یہ تجویز پسند آئی اور اسے اپنے ساتھ لے جا کر اس کی رہائش گاہ کے قریب چھوڑ دیاگیا۔
ایونا کو باہر سے آتے دیکھ کر پہرہ داروں نے اس کی باز پرس کی ۔ اس نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ وہ دور نہیں گئی تھی۔
پہرہ دار اس لیے چپ ہوگئے کہ یہ ان کی الپرواہی تھی لڑکی نکل گئی تھی ۔
دوسرے دن علی بن سفیان کسی اورکام میں مصروف تھا ۔ایونا نے پہرہ داروں سے کہا کہ وہ اسے علی بن سفیان کے پاس
لے چلیں۔ انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہاں اس کے بالنے پر کو ئی نہیں آئے گا بلکہ اس کی جب ضرورت ہوگی تو
اسے بالیا جائے گا۔ ایونا نے بڑی مشکل سے پہرہ داروں کو قائل کیا کہ وہ کسی اور کو بتائے بغیر مرکزی کمان کے کسی فرد
تک یہ پیغام پہنچا دیں کہ نہایت اہم اور نازک بات کرنی ہے۔ اس نے پہرہ داروں سے کہا کہ اگر انہوں نے اس کا پیغام نہ
پہنچایا تو اتنا زیادہ نقصان ہوگا کہ پہرہ دار اس کوتاہی کی سزا سے بچ نہیں سکیں گے …… پہرہ داروں نے پیغام بجھوانے کا
بندوبست کردیا۔ علی بن سفیان نے پیغام ملتے ہی لڑکی کو بال لیا۔ اس کے بعدلڑکی کمرے میں واپس نہیں آئی ۔
رات کو جب شوبک کی سرگرمیاں سوگئیں اور شہر پر خاموشی طاری ہوگئی تو اس عمارت کے اردگرد آٹھ دس سائے سے
حرکت کرتے نظرآئے جہاں لڑکیوں کو رکھا گیا تھا ۔ عجیب بات یہ تھی کہ دونوں پہرہ دار غائب تھے۔ آٹھ دس چھاپہ مار
خوش ہونے کی بجائے حیران ہوئے ہوں گے کہ پہرہ دار نہیں ہیں۔ وہ آٹھوں پیٹ کے بل رینگ کر آگے آئے۔ ایونا نے انہیں
بتادیا تھا کہ لڑکیاں کون کون سے کمرے میں ہیں ۔ کمروں کے دروازوں اورکھڑکیوں سے یہ لوگ واقف تھے۔ دو چھاپہ مار ایک
کمرے میں داخل ہوئے ۔ باقیوں نے پرواہ نہیں کی کہ وہاں پہرہ دار ہیں یا نہیں ۔ انہیں یہ بتایا گیا تھا کہ پہرہ دار صرف دو
ہوتے ہیں۔ دو پردس کا قابو پانا مشکل نہیں تھا۔ وہ سب لڑکیوں کے کمروں میں گھس گئے مگر ان میں سے باہر کوئی بھی
نہ نکال ۔
گیرالڈ اسی مکان میں تھا جہاں وہ گذشتہ رات ایونا کو لے گیا تھا۔ اس مکان میں سکیم کے مطابق بیس آدمی تھے۔ باقی
کسی اور عیسائی کے گھر میں چھپے ہوئے تھے۔ گیرالڈ بے صبری سے لڑکیوں کا انتظار کر رہا تھا۔ اب تک انہیں اس کے
آدمیوں کے ساتھ پہنچ جانا چاہیے تھا ۔ آخر دروازے پر دستک ہوئی۔ دستک کا یہ طے شدہ خاص انداز تھا۔ گیرالڈ نے خود
جا کر دروازہ کھوال ۔ یہ مکان پرنے دور کی قلعہ نما حویلی تھی جس میں ایک امیر کبیر عیسائی رہتا تھا۔ گیرالڈ نے جوں
ہی دروازہ کھوال اسے کسی نے باہر گھسیٹ لیا۔ فوجیوں کا ایک ہجوم دروازے میں داخل ہوا۔ اس کے ہاتھوں میں لمبی
برچھیاں تھیں ۔ فوجی تیز اور تند سیالب کی طرح اندر چلے گئے ۔ ایک وسیع کمرے میں بیٹھے ہوئے صلیبی چھاپہ مار
جاسوسوں کو سنبھلنے کا موقع نہ مال۔ ان سے ہتھیار لے لیے گئے اور انہیں گھر کے مالک اور اس کے کنبے سمیت باہر لے
گئے۔
ایسا ہی ہلہ اس کمان پر بھی بوال گیا جہاں باقی صلیبی چھاپہ مار تیار بیٹھے تھے۔ یہ دونوں چھاپے بیک وقت مارے گئے۔
اسی رات دس گیا رہ مکانوں پر چھاپے مارے گئے۔ یہ سرگرمی رات بھر جاری رہی۔ مکانوں کی تالشی لی گئی اور صبح کے
وقت علی بن سفیان نے سلطان ایوبی کے سامنے جو لوگ کھڑے کئے ان میں ایک تو گیرالڈ اور اس کے چالیس چھاپہ مار
تھے اور تقریبا ً اتنی ہی تعداد ان جاسوس اور تخریب کاروں کی تھی جنہیں دوسرے مکانوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان مکانوں
سے جو سامان برآمد ہوا اس میں بے شمار ہتھیار ،زہر کی بہت سی مقدار ،تیروں کا ذخیرہ ،آتش گیر مادہ اور بہت سی نقدی
برآمدہوئی۔ یہ کارنامہ ایونا کا تھا۔ اس نے گیرالڈ کے ساتھ سکیم بنائی تھی اور اس سے ان تمام جاسوسوں کے ٹھکانے معلوم
کر لیے تھے جو شوبک میں چھپے ہوئے تھے ۔ گیرالڈ کو اس پر اعتماد تھا۔ ایونا رات کو ہی واپس آگئی اور صبح اس نے
تمام تر سکیم علی بن سفیان کو بتادی اور جاسوسوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی بھی کردی ۔ علی بن سفیان کے جاسوس دن
کے وقت سارے ٹھکانے دیکھ آئے تھے۔ شام کے وقت سلطان ایوبی کے خصوصی چھاپہ مار دستوں کو ان ٹھکانوں پر چھاپے
مارنے کے لیے باللیا گیاتھا۔ لڑکیوں کو کمروں سے نکال کر کہیں اور چھپا دیا گیاتھا۔ ان کی جگہ ہر کمرے میں تین تین
چھاپہ ماروں نے انہیں پکڑ لیا۔ اس طرح شوبک میں صلیبیوں کے تقریبا ً تمام جاسوس اور چھاپہ مار پکڑے گئے ۔ ان میں سب
سے زیادہ قیمتی گیرالڈ تھا۔ تمام کو تفتیش اور اس کے بعد سزا کے لیے قید خانے میں ڈال دیا گیا۔
ایونا نے ان تمام مسلمان سرکردہ شخصیتوں کی بھی نشاندہی کر دی جو قاہرہ میں سلطان ایوبی کے خالف سرگرم تھے۔
حشیشین کے ہاتھوں سلطان ایوبی اور علی بن سفیان کو قتل کرنے کا جو منصوبہ تیار کیا گیا تھا وہ بھی ایونا نے بے نقاب
کیا اور سلطان ایوبی سے کہا …… ''اب تو آپ کو مجھ پر اعتبار آجانا چاہیے ''۔
وہ بڑا ہی جذباتی اور رقت انگیز تھا جب عماد کو بتایا گیا کہ ایونا اس کی بہن ہے اور جب بہن بھائی کو ان کے باپ کے
سامنے کھڑا کیا گیا تو جذبات کی شدت سے بوڑھا باپ بے ہوش ہوگیا ۔ ہوش میں آنے کے بعد اس نے بتایا کہ اس کی
بیٹی کانام عائشہ ہے۔ سلطان ایوبی نے اس خاندان کے لیے خاص وظیفہ مقرر کیا اور علی بن سفیان کے محکمے کے لیے
حکم جاری کیا کہ تمام جاسوس لڑکیوں کے متعلق چھان بین کی جائے۔ صلیبیوں نے دوسری لڑکیوں کو بھی مسلمان گھرانوں
سے اغوا کیا ہوگا۔
سلطان ایوبی کی فوج بہت بڑے خطرے سے محفوظ ہوگئی …… شوبک سے دورمحاذ کی خبریں اُمید افزا تھیں لیکن فوری
ضرورت یہ تھی کہ بکھرے ہوئے دستوں کو یک جا کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے سلطان ایوبی نے شوبک کا فوجی نظام اپنے
معاونوں کے حوالے کرکے اپنا ہیڈ کوارٹر شوبک سے دور صحرا میں منتقل کرلیا۔ اس نے برق رفتار قاصدوں کی ایک فوج اپنے
ساتھ رکھ لی۔ اس کے ذریعے اس نے ایک ماہ میں بکھرے ہوئے دستے ایک دوسرے کے قریب کرلیے۔ اس کے بعد انہیں تین
حصوں میں تقسیم کرکے شوبک کا دفاع اسی طرح منظم کردیا جس طرح قاہرہ کا کیا تھا۔ سب سے دور سرحدی دستے تھے
جس کے سوار گشت کرتے تھے۔ ان سے پانچ چھ میل دور فوج کا دوسرا حصہ خیمہ زن کردیا اور تیسرے حصے کو متحرک
رکھا۔
کرک میں اکٹھی ہونے والی فوج کی کیفیت ایسی تھی کہ فوری حملے کے قابل نہیں تھی۔ ادھر سلطان ایوبی نے بھرتی کی
رفتار تیز کردی اور نئی بھرتی کی ٹریننگ کا انتظام کھلے صحرا میں کردیا ،اس نے علی بن سفیان سے کہا کہ وہ کرک
میں اپنے جاسوس بھیجے جو وہاں کی اطالع النے کے عالوہ یہ کام بھی کریں کہ وہاں کے رہنے والے مسلمان نوجوانوں کو
کرک سے نکلنے اور یہاں آکر فوج میں شامل ہونے کی ترغیب دیں ۔
جب ایونا عائشہ بنی کا قصہ یہی اختتام پزیر ہوا
19:38
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
"قسط نمبر39.۔" قاھرہ میں بغاوت اورسلطان ایوبی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
فلسطین ابھی صلیبیوں کے پائوں تلے کراہ رہا تھا۔ یروشلم صلیب پر لٹکا ہوا تھا۔ اس مقدس شہر سے خون ِرس رہا تھا ،
وہاں کے مسلمان جو صلیبیوں کے ظالمانہ شکنجے میں آئے ہوئے تھے ،پس رہے تھے ،تڑپ رہے تھے اور صالح الدین ایوبی
کا انتظار کررہے تھے۔ ا ُن تک یہ اطالعات پہنچ چکی تھیں کہ سلطان صالح الدین ایوبی فلسطین کی سرزمین میں داخل ہو
چکا ہے اور شوبک کاقلعہ مسلمانوں کے قبضے میں ہے۔یہ ان کے لیے خوشخبری تھی مگر یہ خوش خبری پیغا ِم اجل ثابت
ہوئی۔ صلیبیوں نے شوبک کی شکست کا انتقام یروشلم اور دیگر شہروں اور قصبوں کے مسلمانوں سے لینا شروع کردیا تھا۔ وہ
مسلمانوں کو مردہ کردینا چاہتے تھے تا کہ وہ جاسوسی نہ کر سکیں اور حملے کی صورت میں صالح الدین ایوبی کی مدد
کرنے کی جرٔات نہ کریں۔سب سے زیادہ مظالم کرک کے مسلمانوں پر توڑے جا رہے تھے۔ شوبک کے بعد کرک ایک بڑا قلعہ
تھا جس پر صلیبیوں کو بہت ناز تھا۔ ایسا ہی ناز انہیں شوبک پر بھی تھا ،مگر اُس کے ناز کو سلطان صالح الدین ایوبی کی
نہایت اچھی چال اور اس کے مجاہدین کی شجاعت نے ریت کے ذروں کی طرح بکھیر دیا تھا۔ اب صلیبی کرک کو مضبوط کر
رہے تھے ،وہاں کے مسلمان باشندوں پر تشدد ایک احتیاطی تدابیر تھی۔ صلیبیوں کو یہ وہم ہوگیا تھا کہ مسلمان جاسوسی
کرتے ہیں۔ چنانچہ یہاں بھی انہوں نے شوبک کی طرح مشتبہ مسلمانوں کو بیگار کیمپ میں پھینکنا شروع کردیا تھا۔
فلسطین کی فتح ہمارا ایک عظیم مقصد ہے مگر کرک سے مسلمانوں کو نکالنا اس سے بھی عظیم تر مقصد ہونا چاہیے''۔''
جاسوسوں کے ایک گروہ کا سربراہ سلطان صالح الدین ایوبی کو بتا رہا تھا ۔ وہ طلعت چنگیز نام کا ایک تُرک تھا جو چھ
جاسوسوں کو شوبک سے بھاگے ہوئے عیسائی باشندوں کے بہروپ میں کرک لے گیا تھا۔ وہ تین مہینوں بعد واپس آیا تھا۔
سلطان صالح الدین ایوبی کو علی بن سفیان ِکی موجودگی میں وہاں کے حاالت بتا رہا تھا۔ صلیبی فوج جو بھاگ کر کرک
پہنچی تھی ،اس کے متعلق اس نے بتایا کہ خاصی بُری حالت میں ہے اور فوری طور پر لڑنے کے قابل نہیں۔ اس ہاری ہوئی
فوج نے کرک میں جاتے ہی مسلمانوں کا جینا حرام کردیا۔ اندھا ُد ھند گرفتاریاں شروع ہوگئیں۔ مسلمانوں عورتوں نے باہر نکلنا
چھوڑ دیا ہے ،جہاں کسی مسلمان پر ذرا سا شک ہوتا ہے ،اُسے پکڑ کر بیگار کیمپ میں لے جاتے ہیں ،جہاں انسان ایسا
مویشی بن جاتا ہے جو بو ل نہیں سکتا۔ صبح کے اندھیرے سے رات کے اندھیرے تک کام کرتا ،سوکھی روٹی اور پانی پر
زندہ رہتا ہے …… ''ہم نے وہاں زمین دوز مہم چالئی ہے کہ جتنے مسلمان جوان ہیں یا لڑنے کی عمرمیں ہیں ،وہ یہاں
سے نکل کر شوبک پہنچیں اور فوج میں بھرتی ہوجائیں ،تاکہ کمک کا انتظار کیے بغیر کرک پرحملہ کیا جاسکے ''……
چنگیز تُ ر ک نے کہا…… ''ہماری موجودگی میں کچھ لوگ وہاں سے نکل آئے تھے لیکن یہ کام ایک تو اس لیے مشکل ہے
کہ ہر طرف صلیبی فوج پھیلی ہوئی ہے اور دوسری مشکل یہ ہے کہ اپنے کنبوں ،خصوصا ً عورتوں کو وہ عیسائیوں کے رحم
وکرم پر چھوڑ کر نہیں آسکتے ۔ فوری ضرورت یہ ہے کہ کرک پر حملہ کیا جائے اور مسلمانوں کو نجات دالئی جائے''۔
اس سے پہلے ایک اور جاسوس یہ اطالع دے چکا تھا کہ صلیبیوں کی اسکیم اب یہ ہے کہ سلطان صالح الدین ایوبی کرک کا
محاصرہ کرے گا تو صلیبیوں کی ایک فوج ،جو ایک صلیبی حکمران ریمانڈ کے زیر کمان ہے ،عقب سے حملہ کرے گی ۔
ِ
صورت
سلطان صالح الدین ایوبی نے پہلے ہی اپنے فوجی سربراہوں سے کہہ دیا تھا کہ صلیبی عقب سے حملہ کریں گے۔ اس
حال کے لیے ا ُسے زیادہ فوج کی ضرورت تھی ۔ اسنے چنگیز کو رخصت کرکے علی بن سفیان سے کہا …… ''جذبات کا
تقاضا یہ ہے کہ ہمیں فورا ً کرک پر حملہ کر دینا چاہیے۔ میں اچھی طرح اندازہ کرسکتا ہوں کہ وہاں کے مسلمان کس جہنم
میں پڑے ہوئے ہیں ،لیکن حقائق کا تقاضا یہ ہے کہ اپنی صفوں کو مستحکم کیے بغیر ایک قدم آگے نہ اُٹھائو ،ضرب اُس وقت
لگائو ،جب تمہیں یقین ہوکہ کاری ہوگی۔ ہم ان عورتوں اوربچوں کو نہیں بھول سکتے جو دشمن کے ہاتھوں ذلیل وخوار اور
قتل ہو رہے ہیں ۔ یہ ہمارے گمنام شہید ہیں ،یہ قوم کی عظیم قربانی ہے۔ میں انہی کی آبرو وقار کے لیے فلسطین لینا
چاہتاہوں ،اگر میرا مقصد یہ نہ ہو تو جنگ کا مقصد ڈاکہ اور لوٹ مار رہ جاتا ہے۔ وہ قوم جو اپنی اُن بچیوں اور بچوں
کوبھول جائے جو دشمن کے اقتدار میں ذلیل وخوار اورقتل ہوئے ،وہ قوم ڈاکوئوں اور رہزنوں کا گروہ بن جاتی ہے ۔ اس قوم
کے افراد دشمن سے انتقام لینے کی بجائے ایک دوسرے کو لوٹتے ،ایک دوسرے کودھوکہ اور فریب دیتے ہیں۔ اُن کے حاکم قوم
کو لوٹتے اورعیش و عشرت کرتے ہیں اور جب دشمن انہیں کمزور پا کر اُن کے سر پر آجاتا ہے تو کھوکھلے نعرے لگا کر
قوم کو بے وقوف بناتے ہیں اور دشمن کے ساتھ درپردہ سودا بازی کرتے ہیں۔وہ اپنے ملک کا کچھ حصہ اور اس حصے کی
آبادی نہایت راز دارانہ طریقے سے دشمن کے حوالے کرکے باقی ملک میں اپنی حکمرانی قائم رکھتے ہیں ،پھر وہ اورزیادہ
لہذا قوم
عیش اور لوٹ کھسوٹ کرتے ہیں ،کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ دشمن انہیں بخشے گا نہیں …… یہ عیش چند روزہ ہے ٰ
کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ بھی جلدی جلدی نچوڑ لو ''۔
سلطان صالح الدین ایوبی نے ایسی متعدد قوموں کے نام لیے اور کہا …… ''وہ توسیع پسند تھے ۔ اُن کے سامنے اس کے
سوا کوئی مقصد نہ تھا کہ ساری دنیا پر بادشاہی کریں اور ُدنیا بھر کی دولت سمیٹ کر اپنے قدموں میں ڈھیر لگا لیں۔ انہوں
نے دوسری قوموں کی عصمت دری کی اور ا ُن کی اپنی بیٹیاں اور بہنیں دوسروں کے ہاتھوں بے آبرو ہوئیں۔ ان قوموں کے
حکمران پرائی زمین پر ہالک ہوئے اور ا ُن کانام و نشان کس نے مٹایا؟ ان قوموں نے ،جو غیرت مند تھیں اور جنہیں احساس
تھا کہ اُن کی زمین کو اور ا ُن کی عصمت کو دشمن نے ناپاک کیا ہے اور اس کا انتقام لیناہے۔ ہم بھی حملہ آور ہیں ،
صلیبی بھی حملہ آور ہیں لیکن ہم میں فرق ہے۔ وہ دور دراز ملکوں سے ہمارے مذہب کا نام و نشان مٹانے آئے ہیں ۔ وہ
اس لیے آئے ہیں کہ مسلمان عورتوں کو اپنی گرفت میں لے کر ان کے بطن سے صلیبی پیدا کریں۔ ہم اُن کی آبرو کے دفاع
کے لیے حملہ آور ہوئے ہیں ۔ اگر ہم کفر کے طوفان کونہ روکیں تو ہم بے غیرت ہیں اور ہم مسلمان نہیں اور اگر اسالم کا
دفاع اس انداز سے کریں کہ دشمن کے انتظار میں گھر بیٹھے رہیں اور جب وہ حملہ آور ہو تو اپنے گھر میں اُس کے خالف
لڑیں اورپھر فخر سے کہیں کہ ہم نے دشمن کا حملہ پسپا کردیا ہے تو یہ ثبوت ہے ہماری بزدلی کا۔ دفاع کا طریقہ یہ ہوتا
ہے کہ دشمن تمہیں مارنے کے لیے نیام سے تلوار نکالنے لگے توتمہاری تلوار اُس کی گردن کاٹ چکی ہو۔ وہ کل حملے کے
لیے آنے واال ہو تو آج اُس پر حملہ کردو ''۔
میرے پاس اس کا ایک ہی عالج ہے کہ محترم نورالدین زنگی سے کمک مانگی جائے''۔ علی بن سفیان نے کہا …… ''
''اور کرک پر حملہ کر دیا جائے ''۔
یہ بھی نقصان دہ ہوگا ''……سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا …… ''زنگی کے پاس اتنی فوج موجود رہنی چاہیے کہ ''
صلیبی اگر ہمارے عقب پر حملہ کریں تو زنگی ا ُن کے عقب پر حملہ کر سکے۔ میں مدد مانگنے کا قائل نہیں۔ اس کی
بجائے میں یہ بھی کر سکتا ہوں کہ کرک میں چھاپہ مار دستے بھیج کر صلیبیوں کا جینا حرام کیے رکھوں ۔ مجھے اُمید ہے
کہ ہمارے جاسوس چھاپہ مار صلیبیوں کی جڑیں چوہوں کی طرح کاٹتے رہیں گے مگر اس کی سزا وہاں کے بے گناہ مسلمان
باشندوں کو ملے گی۔ چھاپہ مار تو اپنا کام کرکے اِدھر اُدھر ہوجائیں گے ۔ وہ ہر قسم کی سختی اور مصیبت جھیل سکتے
ہیں ۔ ہمارے نہتے بہن بھائی کچلے جائیں گے ۔ البتہ اس تجویز پرغور کرو کہ وہاں سے مسلمان کنبوں کو نکالنے کا کوئی
خفیہ انتظام کیا جائے۔ حملے میں کچھ وقت لگے گا۔ ہمیں خاصی بھرتی مل گئی ہے۔ کرک کے جوان بھی آگئے ہیں اور
آرہے ہیں ''۔
٭ ٭ ٭
میں محسوس کرنے لگا ہوں کہ ہمیں یہاں کے باشندوں کے متعلق اپنی پالیسی میں تبدیلی کرنے پڑے گی''۔ صلیبیوں کے ''
محکمہ جاسوسی اور سراغرسانی کے سربراہ ہرمن نے کہا۔ قلعہ کرک میں چند ایک صلیبی بادشاہ ،اُن کے فوجی کمانڈر اور
انتظامیہ کے حکام جمع تھے۔ وہ جوں جوں اپنی ہاری ہوئی فوج کو دیکھ رہے تھے ،ان کی عقل پر غصہ اور انتقام غالب
آتا جا رہاتھا۔وہ شکست کوبہت جلدی فتح میں بدلنا چاہتے تھے۔ا ُن میں ان کی انٹیلی جنس کا سربراہ ہرمن ،واحد آدمی تھا
جو ٹھنڈے ِد ل سے سوچتا اور عقل کی بات کرتاتھا۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ اس کے صلیبی بھائی کرک کے مسلمان باشندوں کے
ساتھ کیسا وحشیانہ سلوک کر رہے ہیں۔ اس نے کہا …… ''آپ نے یہی سلوک شوبک کے مسلمانوں کے ساتھ روارکھا تھا۔
اس کا نتیجہ یہ تھا کہ انہوں نے وہاں ''مسلمانوں کے کیمپ''سے اُس مسلمان فوجی کو بھگا دیا جسے ہم نے خطرناک
جاسوس سمجھ کر قید میں ڈال دیا تھا ۔ مجھے یقین ہے کہ اُسے وہاں کے مسلمانوں نے پناہ دی تھی ۔ وہ قلعے کے
اندرونی حاالت اور دفاع کو دیکھ کر گیا تھا۔ اسکے عالوہ صالح الدین ایوبی نے ہمارے قلعے کی دیوار جوتوڑی تھی ،اس میں
اندر کے مسلمانوں کا بھی ہاتھ تھا۔ وہ آپ کے سلوک سے اس قدر تنگ آئے ہوئے تھے کہ انہوں نے جان کی بازی لگا کر
مسلمان فوج کی مدد کی اور جب فوج کا ہر ّاول دستہ اندر آیا تو مسلمانوں نے اس کی رہنمائی کی ''۔
اس لیے ہم کرک کے مسلمانوں کا دم خم توڑ رہے ہیں کہ اُن میں جذبہ اور ہمت ہی نہ رہے ''…… ایک صلیبی ساالر ''
نے کہا ۔
اس کی بجائے اگر آپ انہیں اپنا دوست بنا لیں تو وہ آپ کی مدد کریں گے ''۔ ہرمن نے کہا …… ''اگر آپ مجھے ''
اجازت دیں تو میں پیار اور محبت سے انہیں ا ُن کا مذہب تبدیل کیے بغیر صلیب کا گرویدہ بنالوں گا۔ میں انہیں مسلمانوں کو
مسلمانوں کے خالف لڑادوں گا''۔
تم بھول رہے ہو ہرمن!''ایک مشہور صلیبی بادشاہ ریمانڈ نے کہا …… ''تم چند ایک مسلمانوں کو اللچ دے کر انہیں غدار''
بنا سکتے ہو ،مگر ہرایک مسلمان کو اسالمی فوج کے خالف نہیں کر سکتے۔ پوری قوم غدار نہیں ہوسکتی۔ ہرمن! تم ان
لوگوں پر اتنا بھروسہ نہ کرو ،ہم انہیں دوست نہیں بنانا چاہتے۔ ہم ان کی نسل ختم کر نا چاہتے ہیں۔ کوئی بھی غیرمسلم
کسی مسلمان کے ساتھ محبت کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسالم سے محبت کرتا ہے ،جبکہ ہمارا مقصد اسالم کا
خاتمہ ہے۔ کرک میں ،یروشلم میں ،عقہ اور عدیسہ میں جہاں بھی صلیب کی حکمران ہیں ،مسلمانوں کو اس قدر پریشان کرو
کہ وہ مر جائیں یا وہ صلیب کے آگے گھٹنے ٹیک دیں ''۔
مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ صالح الدین ایوبی کو باقاعدہ معلوم ہوتا جارہا ہے۔ ''ہرمن نے کہا …… ''آپ ''
اسے ا ُکسا رہے ہیں کہ وہ کرک پر جلدی حملہ کرے۔ آپ یہ بھول رہے ہیں کہ ہماری فوج فوری حملے کے آگے ٹھہرنے کے
قابل نہیں ''۔
اس کا حل یہ نہیں کہ ہم مسلمان باشندوں کو سر پر بٹھالیں ''۔ فلپ آگسٹس نے کہا …… ''آپ لوگ مسلمان جنگی ''
''قیدیوں کو ابھی تک پال رہے ہیں۔ انہیں قتل کیوں نہیں کردیتے؟
اس لیے کہ ایوبی ہمارے قیدیوں کو قتل کردے گا''۔ گے آف لوزینان نے جواب دیا …… ''ہمارے پاس مسلمانوں کے کل ''
تین سواِکسٹھ جنگی قیدی ہیں۔ مسلمانوں کے پاس ہمارے بارہ سو پچہتر قیدی ہیں''۔
کیاہم ایک مسلمان کو مارنے کے لیے چار صلیبی نہیں مروا سکتے؟'' …… آگسٹس نے کہا …… ''ہمارے وہ قیدی جو صالح''
الدین ایوبی کے پاس ہیں ،بزدل تھے ،وہ لڑنے کی بجائے قید ہوئے۔ وہ زندہ رہنا چاہتے تھے۔ وہ مسلمانوں کے ہاتھوں مرجائیں
تو اچھا ہے ،تم اطمینان سے مسلمان قیدیوں کو ختم کردو''۔
کیا مسلمان باشندوں کے ساتھ درنوں جیسا سلوک کرکے اور مسلمان جنگی قیدیوں کو قتل کرکے تم صالح الدین ایوبی کو ''
شکست دے دو گے؟'' ساالر کے عہدے کے ایک صلیبی نے کہا …… ''اس وقت فوج کے سامنے یہ مسئلہ ہے کہ صالح
الدین ایوبی اگر پیش قدمی کر آیا تو اُسے کس طرح روکیں گے اور اُسے شوبک کا قلعہ واپس کس طرح لیا جاسکتا ہے۔ کرک
کے تمام مسلمانوں کو قتل کردو۔ پھر کیا ہوگا ؟ صالح الدین ایوبی کی طرح تم اپنی نظر میں وسعت پیدا کیوں نہیں کرتے۔
''کیا ہرمن بتا سکتا ہے کہ مصرمیں اس زمین دوزکاروائیاں کیا ہیں اور کامیابی کتنی ہے؟
توقع سے زیادہ'' ۔ہرمن نے جواب دیا۔ ''علی بن سفیان صالح الدین ایوبی کے ساتھ شوبک میں ہے۔ میں نے قاہرہ میں ''
اس کی غیرحاضری سے بہت فائدہ ا ُٹھایا ہے۔ قاہرہ کے نائب ناظم مصلح الدین کو فاطمیوں نے اپنے ساتھ ماللیا ہے۔ مصلح
الدین ایوبی کا معتمد خاص ہے ،لیکن اب ہمارے ہاتھ میں ہے۔ فاطمیوں نے در پردہ اپنا ایک خلیفہ مقرر کردیا ہے۔ وہ قاہرہ
کے اندر سے بغاوت اور سوڈانیوں کے حملے کا انتظار کرہے ہیں۔ ہمارے فوجی افسر سوڈان کی فوج تیارکرہے ہیں۔ قاہرہ میں
صالح الدین ایوبی جو فوج چھوڑ آیا ہے ،اس کے دو نائب ساالر ہمارے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں ،اُدھر سے سوڈانی فوج حملہ
کریں گے۔ قاہرہ میں بغاوت ہوگی اور فاطمی اپنی خالفت کا اعالن کردیں گے''۔
مجھے سو فیصد ا ُمید ہے کہ قاہرہ میں جواس کی فوج ہے ،وہ اس کے کام نہیں آسکے گی ''۔ ہرمن نے کہا …… ''
مال غنیمت سے
''میرے آدمیوں نے فوج میں اس قسم کے شکوک پیدا کر دئیے ہیں کہ انہیں قاہرہ میں پیچھے چھوڑ کر
ِ
محروم کر دیا گیا ہے اور یہ بھی شوبک کی سینکڑوں عیسائی لڑکیاں صالح الدین ایوبی کے ہاتھ آئی ہیں جو اُس نے وہاں
فوج کے حوالے کردی ہیں۔ میری کامیابی یہ ہے کہ میں نے مسلمان فوجی حکام کے ہی منہ میں یہ افواہیں ڈال کر اُن کی
فوج میں پھیالئی ہیں۔ میں نے ایسے حاالت پیدا کر دئیے ہیں کہ قاہرہ کی تمام فوج سوڈانیوں کا ساتھ دے گی اور صالح
الدین ایوبی کو بغاوت کرنے کے لیے یہاں سے تمام فوج لے جانی پڑے گی ،مگر یہ فوج اُس وقت وہاں پہنچے گی جب
قاہرہ ایک بار پھر فاطمی خالفت کی گدی بن چکا ہوگا اور وہاں سوڈان کی فوج قابض ہوگی۔ ضروری نہیں کہ ہم یہاں صالح
الدین ایوبی پر حملہ کریں اور اُسے روکیں ۔ ہم اُسے بھٹکنے کے لیے کھال چھوڑ دیں گے۔ ہم اُسے مسلمانوں کے ہاتھوں
مروائیں گے''۔ ہرمن نے زور دے کر کہا…… ''آپ ابھی تک مسلمان کی نفسیات نہیں سمجھ سکے۔ یہی وجہ کہ آپ میری
بعض کارگر باتیں نظر انداز کردیتے ہیں ۔ مسلمان اگر فوجی ہو اور اس کے دماغ میں ٹریننگ کے دوران یہ بٹھا دیا جائے کہ
وہ ملک اور قوم کا محافظ ہے تو وہ ملک اور قوم کی خاطر جان قربان کر دیتا ہے۔ ُدنیا کی بادشاہی اس کے قدموں میں
رکھ دو ،وہ سپاہی رہنا پسند کرے گا ،قوم سے غداری نہیں کرے گا ۔ اگر اسی فوجی میں جنسی لذت ،شراب نوشی اور
عہدوں کی خواہش پیدا کردو تو وہ اپنا مذہب بھی دائو پر لگا دیتا ہے۔ ہم نے جن مسلمان فوجی حکام کو اپنے ساتھ مالیا
……'' ہے ،اُن میں یہی خامیاں پیدا کی تھیں اور کر رہے ہیں
مگر فوجی کو غدار بنانا آسان نہیں جتنا انتظامیہ کے حکام کو اپنے ہاتھ میں لینا آسان ہے''۔ ہرمن نے کہا …… ''
'' انتظامیہ کے ہر حاکم میں امراء اور وزراء کی صف میں آنے کی شدید خواہش ہوتی ہے۔ ان لوگوں پر بادشاہ بننے کا خبط
سوار ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ دیکھیں۔ اس کے رسول )صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کے بعد یہ لوگ خالفت پر ایک دوسرے
سے لڑتے رہے۔ ان کے جرنیلوں نے نہایت دیانت داری سے اپنا کام جاری رکھا۔ وہ دوسرے ملکوں کو بے تیغ کرتے رہے اور
اسالمی سلطنت کو وسیع کرنے کی کوشش کرتے رہے ،لیکن ا ُن کے خلیفوں نے جہاں دیکھا کہ فالح جرنیل ایسا مقبول ہوگیا
ہے کہ اس کی فتوحات کی بدولت اُسے قوم خلیفہ سے زیادہ مقام دینے لگی ہے تو خلیفہ اور اُس کے حواریوں نے جرنیل کو
غلط احکام دے کر اُسے ذلیل اور ُر سوا کردیا۔ خود خلیفہ کی گدی مخالفین سے محفوظ نہ رہی ۔ مخالفین کی نگاہ اسالمی
سلطنت کی وسعت سے ہٹ کر خالفت کے حصول پر مرکوز ہوگئی۔ جرنیل ہارتے چلے گئے۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم
عرب میں بیٹھے ہیں ۔ صالح الدین ایوبی انہیں جرنیلوں میں سے ہے جو سلطنت کو اُنہی سرحدوں تک لے جانا چاہتا ہے
جہاں یہ پہلے جرنیلوں نے پہنچائی تھیں۔ اس شخص میں خوبی یہ ہے کہ انتظامیہ اور خالفت کی پرواہ نہیں کرتا۔ اس نے
مصر کی خالفت کو اپنے ارادوں کے سامنے رکاوٹ بنتے دیکھا تو خلیفہ کو ہی معزول کردیا۔ یہ دلیرانہ قدم اس نے فوجی
طاقت اور اپنی فہم و فراست کے بل بوتے پر اُٹھایا تھا''۔
ہرمن بولتا جا رہا تھا۔ تمام حکمران اور صلیبی کمانڈر انہماک سے ُسن رہے تھے۔ وہ کہہ رہا تھا …… ''صالح الدین ایوبی
اپنی قوم کی اس کمزوری کو سمجھ گیا ہے کہ غیر فوجی قیادت گدی کی خواہش مند ہے اور یہ خواہش ایسی ہے کہ جوزن
اور زرپرستی اور شراب نوشی جیسی عادتیں پیدا کرتی ہے۔ ہم نے صرف اُن فوجی افسروں کو ہاتھ میں لیا ہے جو اقتدار کے
خواہش مند ہیں۔ اسی لیے ہم زیادہ تر اثر انتظامیہ کے سربراہوں پر ڈال رہے ہیں ۔ فوج کو کمزور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ
اسے لوگوں کی نظروں میں رسوا کردیا جائے۔ یہ کام میرا ہے جو میں کر رہا ہوں۔ آپ شاید میری تائید نہ کریں ،لیکن میں
میدان جنگ میں آسانی سے شکست نہیں دے سکتے۔ وہ صرف لڑنے
آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ آپ صالح الدین ایوبی کو
ِ
کے لیے نہیں لڑتا۔ اس کے عزم کی بنیاد ایک ایسے منصوبے پر ہے جسے اس کی ساری فوج سمجھتی ہے۔ اس کی بنیادی
خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے خلیفہ سے یا غیر فوجی قیادت سے حکم نہیں لیتا۔ وہ کٹر مسلمان ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ میں خدا
اور قرآن پاک سے حکم لیتا ہوں۔ میرے جو جاسوس بغداد میں ہیں ،انہوں نے اطالع دی ہے کہ صالح الدین ایوبی نے نورالدین
زنگی کو ساتھ مالکر یہاں سے انقالبی تجاویز بھیجی ہیں جن پر عمل درآمد شروع ہوگیا ہے۔ ایک یہ ہے کہ امیر العلماء سے
فتوی صادر کرایا گیا ہے کہ خالفت صرف ایک ہی ہوگی اور یہ بغداد کی خالفت ہوگی۔ یہ خالفت دوسرے ممالک کے
یہ
ٰ
اعلی فوجی قیادت سے منظوری لے گی۔ جنگی امور
پہلے
سے
کرنے
چیت
بات
کی
سمجھوتوں
اور
کرنے
نافذ
احکام
متعلق
ٰ
فوجی حکام کے ہاتھ میں ہوں گے ۔ خلیفہ دور دراز عالقوں میں لڑنے والے جرنیلوں کو کوئی حکم نہیں بھیج سکتا۔ تیسرے یہ
کہ خلیفہ کا نام خطبے میں نہیں لیا جائے گا اور خالفت کا اثرورسوخ ختم کرنے کے لیے صالح الدین ایوبی نے حکم جاری
کرادیا ہے کہ خلیفہ یا اس کے نائب یا کوئی قلعہ دار وغیرہ جب دورے وغیرہ کے لیے باہر نکلیں گے تو لوگوں کو راستے
میں کھڑے ہونے ،نعرے لگانے اور سالم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی''۔
صالح الدین ایوبی نے سب سے اہم کام یہ کیا ہے کہ '' ُسنی شیعہ تفرقہ مٹا دیا ہے''۔'ہرمن نے کہا …… ''اُس نے ''
شیعوں کو فوج اور انتظامیہ میں پوری نمائندگی دے دی ہے اور نہایت پُر اثر طریقوں سے شیعہ علماء کو قائل کر لیا ہے کہ
وہ ایسی رسمیں ترک کردیں جو اسالم کے منافی ہیں ''…… صالح الدین ایوبی کے یہ انقالبی اقدامات ہمارے لیے نقصان دہ
ہیں۔ ہم مسلمانوں کی انہی خامیوں کو استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔ اب ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے جو دراصل جاری ہے کہ
مسلمانوں کی انتظامی قیادت کو صالح الدین ایوبی اور اس کی فوج کے خالف کیا جائے ''۔
صرف آج نہیں ،ہمیشہ کے لیے '' ۔ فلپ آگسٹس جو مسلمانوں کا کٹر دشمن تھا بوال ۔ ''ہماری عداوت صرف صالح الدین''
ایوبی سے نہیں ۔ ہماری جنگ اسالم کے خالف ہے۔ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ایوبی مرجائے تو یہ قوم کوئی دوسرا
ایوبی پیدا نہ کرسکے ۔ اس قوم کو عقیدوں ،غلط اور
بے بنیاد عقیدوں کے ہتھیاروں سے مارو۔ ان میں بادشاہ بننے کا جنون طاری کردو۔ انہیں عیاش بنادو اور ایسی روایات پیدا
کردو کہ یہ لوگ خالفت کی گدی پر آپس میں لڑتے رہیں ،پھر اس خالفت کو اس کی فوج پر سوار کردو۔ میں یقین سے کے
ساتھ کہتا ہوں کہ یہ قوم ایک نہ ایک دن صلیب کی غالفم ہوجائے گی۔ اس کا تمدن اور اس کا مذہب صلیب کے رنگ میں
رنگا ہوا ہوگا۔ وہ بادشاہی اور خالفت کے حصول کے لیے آپس میں دست و گریباں ہوں گے اور اپنے مخالفین کو دبانے کے
لیے ہم سے پناہ مانگیں گے۔ ا ُس وقت ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہ ہوگا۔ ہماری روحیں دیکھیں گی کہ میں نے جو پیشین
گوئی کہ ہے ،وہ حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی ہے۔ اسالم کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے یہودی تمہیں اپنی لڑکیاں پیش
کر رہے ہیں ،انہیں استعمال کرو۔ یہودیوں کو اس لیے اپنا دشمن سمجھو کہ وہ یروشلم کو اپنا مقدس شہر اور فلسطین کو اپنا
گھر سمجھتے ہیں۔ انہیں کہو کہ فلسطین تمہارا ہے۔ آخر میں یہ خطہ ہم تم کو ہی دیں گے ،ابھی ہمارا ساتھ دو ،لیکن یہ
احتیاط ضرور کرنا کہ یہودی بہت چاالک قوم ہے۔ ا ُسے جب تمہاری طرف سے خطرہ نظر آیا تو تمہارے ہی خالف ہوجائے گی۔
اس کی دولت اور اس کی لڑکیاں استعمال کرو اور اس کے عوض انہیں فلسطین پیش کرو''۔
٭ ٭ ٭
قلعہ شوبک اور قلعہ کرک کے بہت دور ایک ایسا وسیع خطہ تھا جو مٹی ،ریت اور ِسلوں کی پہاڑیوں اور اونچی نیچی چٹانوں
میں گھرا ہوا تھا ۔ یہ خطہ کم و بیش ڈیڑھ ایک میل وسیع اور چوڑا تھا ۔ اس میں بہت سا عالقہ ریتال میدانی تھا اور اس
میں کھڈ بھی تھے اور کم اونچی ٹیکریاں بھی۔ جب صلیبی حکمران اور کمانڈر اسالم کے خالف منصوبے بنا رہے تھے اور
میدان جنگ بنا ہوا تھا۔ ہزاروں پیادہ عسکری ،گھوڑ
نہایت پُر کشش اور خطرناک طریقے وضع کر رہے تھے ،صحرا کا یہ خطہ
ِ
سوار اور شتر سوار بھاگ دوڑ رہے تھے۔ تلواریں اور پرچھیاں چمک رہی تھیں۔ گھوڑوں اور اونٹوں کی دوڑ سے گرد گہرے
بادلوں کی طرح آسمان کی طر ف اُٹھ رہی تھی ۔ اس گرد میں برچھیاں بھی اُڑ رہی تھیں ،تیر بھی۔ پیادہ سپاہی گھوڑوں
سے آگے نکل جانے کی رفتار سے دوڑنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ ایک پہاڑی کے دامن میں آگ کے شعلے اُڑتے او پہاڑی
سے ٹکڑا کر بھڑکتے اور بجھ جاتے تھے۔ شوروغل آسمان کو ہال رہا تھا ۔ ایک پہاڑی کے دامن میں آگ کے شعلے اُڑتے اور
پہاڑی سے ٹکڑا کر بھڑکتے اور بجھ جاتے تھے۔ شوروغل آسمان کو ہال رہا تھا۔
صالح الدین ایوبی گھوڑے پر سوار ایک بلند چٹان پر کھڑا یہ نظارہ انہماک سے دیکھ رہا تھا ۔ وہ بہت دیر سے اس میدان
کے اردگرد چٹانوں پر گھوم رہا تھا۔ اس کے ساتھ اس کے دو نائب تھے۔
میں آپ کو یقین دال سکتا ہوں کہ جس رفتار سے سکھالئی ہو رہی ہے۔ نئے سپاہی چند دنوں میں تجربہ کار ہو جائیں ''
گے ''۔ ایک نائب نے کہا ۔ ''آپ نے جن سواروں کو اتنا چوڑا کھڈ پھالنگتے ہوئے دیکھا تھا ،وہ سب کرک سے آئے
ہوئے سوار ہیں۔ میں انہیں اناڑی سمجھتا تھا ،تیر اندازوں کا معیار بھی اچھا ہو رہاہے''۔
میدان جنگ کا یہ منظر دراصل ٹریننگ تھی ،جس کے متعلق صالح الدین ایوبی نے بڑے سخت احکامات جاری کیے تھے۔
ِ
اردگرد سے بہت سے جوان فوج میں بھرتی کیے گئے تھے اور کرک سے بھی بہت سے مسلمان چوری چھپے نکل آئے تھے۔
یہ سلطان ایوبی کے جاسوسوں کا کمال تھا کہ کرک سے بھی جوان حاصل کر لیے تھے۔ شوبک کے وہ مسلمان جنہوں نے
صلیبیوں کا ظلم و تشدد برداشت کیا تھا ،جوش و خروش سے صالح الدین ایوبی کی فوج میں شامل ہوئے تھے۔ ان کی ٹریننگ
کا انتظام وہیں کر دیا گیا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی اس میں ذاتی دلچسپی لے رہا تھا۔ اُسے اُس کے نائب یقین دال رہے
تھے کہ وہ نئی بھرتی کو تھوڑے سے عرصے میں پختہ کار بنادیں گے۔
سپاہی صرف ہتھیاروں کے استعمال اور جسمانی پھرتی سے تجربہ کار نہیں بن سکتا''۔ سلطان ایوبی نے کہا …… ''عقل ''
اور جذبے کا استعمال ضروری ہے۔ مجھے ایسی فوج کی ضرورت نہیں جو اندھا ُدھند دشمن پر چڑھ دوڑے اور صرف ہالک
کرے۔ مجھے ایسی فوج چاہیے ،جسے معلوم ہو کہ اس کا دشمن کون ہے اور اس کے عزائم کیا ہیں ؟ میری فوج کو علم
ہونا چاہیے کہ یہ خدا کی فوج ہے اور خدا کی راہ میں لڑ رہی ہے۔ جوش و خروش ،جو میں دیکھ رہا ہوں ،بہت ضروری
ہے مگر مقصد واضح نہ ہو ،اپنی حیثیت واضح نہ ہو تو یہ جو ش جلدی ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ انہیں بتاواور ذہن نشین کراوکہ ہم
فلسطین کیوں لینا چاہتے ہیں۔ انہیں بتائو کہ غداری کتنا بڑا جرم ہے۔ انہیں سمجھاو کہ تم صرف فلسطین کے لیے نہیں ،
بلکہ اسالم کے تحفظ اور فروغ کے لیے لڑ رہے ہو اور تم آنے والی نسلوں کے وقار کے لیے لڑ رہے ہو۔ عملی سکھالئی کے
بعد انہیں وعظ دو اور ان پر ان کی قومیت واضح کرو ''۔
ساالر اعظم!'' ایک نائب نے کہا …… ''ہم انہیں صرف درندے اور وحشی نہیں بنا ''
انہیں ہر شام وعظ دئیے جاتے ہیں ،
ِ
رہے''۔
اور یہ خیال رکھو کہ ان کے دلوں میں قوم کی وہ بیٹیاں نقش کردو جو کفار کے ہاتھوں اغوا اور بے آبرو ہوئی ہیں اور ہو''
رہی ہیں ''۔ سلطان ایوبی نے کہا …… ''انہیں قرآن پاک کے وہ ورق یاد دالتے رہنا ،جنہیں صلیبیوں نے پائوں تلے مسال
تھا اور انہیں وہ مسجدیں یاد دالتے رہنا ،جن میں کفار نے گھوڑے اور مویشی باندھے تھے اور باندھ رہے ہیں۔ بیٹی کی عزت
اور مسجد کا احترام مسلمان کی عظمت کے نشان ہوتے ہیں ۔ انہیں بتاو کہ جس روز تم عصمت اور مسجدکو ذہن سے اُتار دو
گے ،اُس روز تم اپنے لیے اس ُد نیا کو جہنم بنالوگے اور آخرت میں جو عذاب ہے اس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے ''۔
پہاڑیوں پر جو دو دو چار چار سپاہی گھوم پھر رہے تھے ،وہ پہرہ دار تھے۔ صلیبیوں کے جوابی حملے کا خطرہ موجود تھا ۔
دور آگے تک فوج موجود تھی ،پھر بھی ٹریننگ کے اس عالقے کے گرد پہرے کی ضرورت تھی۔ ان پہرہ داروں میں سے دو
ایک چوٹی پر جارہے تھے ،وہ ُرک گئے ۔ انہیں نیچے ایک ٹیکری پر صالح الدین ایوبی کھڑا نظر آرہا تھا۔ اُن کی طرف اس
کی پیٹھ تھی۔ فاصلہ دو اڑھائی سو گز تھا۔ ایک پہرہ دار نے کہا …… ''کم بخت کی پوری پیٹھ ہمارے سامنے ہے ،اگر یہا ں
''سے تیر چالئوں تو اس کے دل کے پار کر سکتا ہوں ۔ کیا خیا ل ہے؟
پھر بھاگ کر کہاں جاو گے؟'' اس کے ساتھی نے پوچھا۔''
ہاں!'' دوسرے نے کہا …… ''تم ٹھیک کہتے ہو۔ اگر یہ لوگ ہمیں پکڑ کر جان سے مار ڈالیں توبات نہیں۔ وہ زندہ پکڑ''
کر ایسے شکنجے میں جکڑیں گے کہ ہمیں اپنے تمام ساتھیوں کے نام بتانے پڑیں گے''۔
یہ کام اس کے محافظوں کو کرنے دو''۔ اس کے ساتھی نے کہا …… ''اگر صالح الدین ایوبی کوقتل کرنا اتنا آسان ہوتا تو''
یہ اب تک زندہ نہ ہوتا''۔
یہ کام اب ہوجانا چاہیے''۔ دوسرے نے کہا …… ''سنا ہے فاطمی کہتے ہیں کہ تم کچھ کیے بغیر ہم سے منہ مانگی رقم''
لیتے جا رہے ہو''۔
مجھے ا ُمید ہے کہ یہ کام جلدی ہوجائے گا''۔ اس کے ساتھی نے کہا …… ''سنا تھا کہ حشیشین بہت دلیر ہیں۔ قتل ''
کرنے کے لیے جان پر کھیل جاتے ہیں۔ ابھی تک انہوں نے کچھ کرکے تونہیں دکھایا۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ایوبی کے
محافظ دستے میں تین حشیشین ہیں۔ یہ تو ان کا کمال ہے کہ محافظ دستے تک پہنچ گئے ہیں اور کسی کو اُن کی اصلیت
کا علم نہیں ہوا ،مگر وہ قتل کب کریں گے؟ کم بخت ڈرتے ہیں''۔
وہ باتیں کرتے آگے چلے گئے ۔
٭ ٭ ٭
مؤرخین لکھتے ہیں کہ مصر سے صالح الدین ایوبی کی غیر حاضری سے وہاں مخالفین کی زمین دوز سرگرمیاں اُبھر آئیں تو
ِ
صورت حال ایسی پیدا کر دی گئی جسے صرف معجزہ سنبھال سکتا تھا۔یہ ایک سازش تھی جو فاطمی خالفت کو معزول اور
تخریب کاروں کی گرفتاری کے بعد بظاہر دب گئی تھی ،لیکن راکھ میں دبی ہوئی چنگاری کی طرح دہکتی رہتی تھی۔ اس کی
پشت پناہی کرنے والے صلیبی تھی اور اسے عملی جامہ پہنانے والے وہ مسلمان ُزعما تھے جن پر سلطان ایوبی کو بھروسہ
تھا۔ صلیبیوں نے یہودی لڑکیاں حاصل کر لی تھیں جو عرب اور مصر کی زبان روانی سے بولتی اور اپنے آپ کو ہر رنگ میں
ڈھال سکتی تھیں ۔ مصر کی انتظامیہ کے متعدد احکام اقتدار میں حصے یا ک ُلی طور پر خود مختاری کے خواہش مند تھے۔ ان
میں قومی وقار اور جذبہ ختم ہو چکا تھا۔ وہ حرموں کے بادشاہ تھے۔ ان لوگوں کا آلہ کار بنانے والوں میں فاطمیوں نے دانش
مندی کا ثبوت دیا اور انہوں نے حسن بن صباح کے حشیشین کی خدمات بھی حاصل کرلیں۔
ا ُس وقت کے واقعہ نگاروں نے جن میں اسد اال سدی ،ابن االثیر ،ابی الضر اور ابن الجوزی خاص طور پر قابل ذکر ہیں ،
لکھتے ہیں کہ صلیبیوں نے سوڈانیوں کو مدد دے کر انہیں مصر پر حملے کے لیے تیار کر لیا تھا۔ مصر میں تھوڑی سی فوج
تھی ،وہ بغاوت کے لیے تیارکردی گئی تھی۔ صالح الدین ایوبی کے حامی سخت پریشان تھے کہ وہ قبل از وقت نہ پہنچا تو
مصر ہاتھ سے نکل جائے گا ۔ ان واقعہ نگاروں اور دو گمنام کاتبوں کی تحریروں سے ایک کہانی کی کڑیاں ملتی ہیں ۔ ان
میں قاہرہ کے محکمہ مالیات کے ایک بڑے ناظم خضر الحیات کا ذکر ملتاہے۔ وہ خزانے کا بھی ذمہ دار تھا ۔ دوسرے عالقوں
ِ
نظامت مصر کا تمام تر
زکو ة ،سزا کے طور پر وصول ہونے والے جرمانے ،عطیات اور
کی جزئیے اور تاوان وغیرہ کی رقمیں ،
ٰ
حساب کتاب اور پیسہ مالیات کے محکمے میں آتا اور خرچ ہوتا تھا۔ یہ بڑا ہی اہم اور نازک محکمہ تھا۔ اس کے ناظم کا
قابل اعتماد ہونا بہت ضروری تھا۔ یہ سلطان صالح الدین ایوبی کی خوش نصیبی تھی کہ ناظم خضر الحیات دیندار مسلمان تھا۔
ایک رات وہ باہر سے آیا۔ گھرمیں داخل ہوا تو اندھیرے کو چیرتا ہوا ایک تیر آیا جو خضر الحیات کی پیٹھ میں اُترا اور دل
تک پہنچا۔ ا ُس کی کربناک آواز سن کر مالزم باہر آیا ،پھر گھرکے افراد باہر آئے۔ مشعل کی روشنی میں خضر کو اوندھے منہ
پڑے دیکھا۔ اتفاق سے کسی نے دیکھ لیا کہ خضر کے دائیں ہاتھ کی انگلی زمین پر تھی اور مٹی پر اس انگلی سے اس نے
کچھ لکھا تھا ،وہ مر چکا تھا ۔ زمین پر اس نے انگلی سے لکھا تھا …… ''مصلح ''……''ح'' پوری نہیں ہوتی تھی۔
اس حرف کی گوالئی کے نصف میں جا ن نکل گئی تھی ۔ ال ش اُٹھا لی گئی اور اس لفظ کو محفوظ رکھا گیا ۔ ایک آدمی
کو کوتوال غیاث بلبیس کو بالنے دوڑادیا گیا۔ یہی کہا جا سکتا تھا کہ خضر نے مرتے مرتے مٹی پر اپنے قاتل کا نام لکھا
اعلی بھی ۔ یہ بھی صالح الدین ایوبی کا قابل اعتماد
ہے۔ غیاث بلبیس کوتوال بھی تھا اور مصر کی تمام تر پولیس کا حاکم
ٰ
حاکم تھا۔ علی بن سفیان کی طرح شہری جرائم کا ماہر سراغرساں تھا۔
بلبیس نے آتے ہی زمین لکھے ہوئے لفظ ''مصلح'' کو غور سے دیکھا۔ اتنے میں شہر کا نائب ناظم مصلح الدین خضر کے
قتل کی خبر سن کر آگیا۔ بلبیس نے اُسے دیکھتے ہی زمین پر پائوں رگڑ کر ''مصلح'' کا لفظ مٹادیا۔ مصلح الدین چونکہ
شہر کا نائب تھا۔ اس لیے کوتوالی کا محکمہ اس کے ماتحت تھا۔ اس نے بلبیس کو حکم کے لہجے میں کہا …… ''قاتل کا
سراغ صبح سے پہلے مل جانا چاہیے۔ میں زیادہ انتظار نہیں کروں گا''…… بلبیس نے اُسے یقین دالیا کہ قاتل کو جلدی پکڑ
لیا جائے گا۔ وہ وہاں سے چال گیا ۔ رات کو ہی بلبیس نے خضر الحیات کے نائب معاون اور اس کے دفتر میں اُن افراد کو
بال لیا جو مقتول کے قریب رہتے تھے اور بتا سکتے تھے کہ قتل کے روز ان کی سرگرمیاں کیا رہیں۔ اِن لوگوں سے اُسے پتا
اعلی کا ایک اجالس تھا جس میں فوج کا کوئی نمائندہ نہیں تھا۔ خضر کا نائب اس کی
چال کہ آج شہری انتظامیہ کے حکا ِم
ٰ
مدد کے لیے اجالس میں شریک تھا۔ اجالس میں مالیات کے سلسلے میں فوج کے اخراجات زیربحث آئے تو خضر نے کہا کہ
مصر میں بعض اخراجات روکنے پڑیں گے ،کیونکہ امیر مصر صالح الدین ایوبی نے شوبک میں بہت سی فوج بھرتی کی ہے
جس کے لیے کثیر رقم کی ضرورت ہے۔
نائب ناظم مصلح الدین نے اس کی مخالفت کی اورکہا فوج کے اخراجات غیر ضروری ہیں۔ مزید فوج بھرتی کرنے کی بجائے
ہمیں توجہ اس فوج کے مسائل کی طرف دینی چاہیے جو پہلے ہی ہمارے لیے ایک مہنگا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ اُس نے بتایا
مال غنیمت ہاتھ آیا ہے ،اس
کہ مصر میں جو فوج ہے ،اس میں بے اطمینانی اور بدامنی پائی جاتی ہے۔ شوبک سے جو
ِ
میں سے اس فوج کے لیے کوئی حصہ نہیں بھیجا گیا ۔ خضر الحیات نے کہا …… ''کیا آپ کو معلوم نہیں کہ امیر مصر نے
مال غنیمت کے اللچ سے لڑنے والی فوج کا
مال غنیمت تقسیم کرنے کی بدعت ختم کردی ہے؟ یہ نہایت اچھا فیصلہ ہے ۔
ِ
ِ
کوئی قومی جذبہ اور مذہبی نظریہ نہیں ہوتا''۔
اس مسئلے پر بحث ترش کالمی میں بدل گئی ۔ مصلح الدین نے یہاں تک کہہ دیا کہ امیر مصر مصری سپاہیوں کے ساتھ اتنا
اچھا سلوک نہیں کر رہا ،جتنا شامی اور ترک سپاہیوں کے ساتھ کرتا ہے۔ اُس نے غصے میں کچھ اور نادرا باتیں کہہ دیں ،
جن کے جواب میں خضر نے کہا …… ''مصلح! تمہاری زبان سے صلیبی اور فاطمی بول رہے ہیں '' …… اس پر اجالس نے
ہنگامے کی صورت اختیار کر لی اور برخاست ہوگیا۔ خضرالحیات نے معاون اور نائب نے بتایا کہ اجالس کے بعد مصلح الدین
خضرالحیات کے دفتر میں آیا ،وہاں پھر ان میں گرما گرمی ہوئی۔ مصلح الدین خضر کواس پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا
تھا کہ مصری فوج مطمئن نہیں ۔ ا ُس نے پھر وہی باتیں دہرائیں جو اس نے اجالس میں کہی تھیں۔ خضرالحیات نے کہا ……
''اگر ایسا ہی ہے تو میں یہ مسئلہ تمہاری طرف سے امیر مصر کے آگے رکھ دوں گا ،لیکن میں یہ ضرور لکھوں گا کہ تم
نے اجالس میں تمام شرکاء کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ امیر مصر مصری فوج میں امتیازی سلوک کر رہا ہے اور
یہ میں یہ بھی لکھوں گا کہ تم نے ہمیں یہ یقین دالنے کی بھی کوشش کی کہ صالح الدین ایوبی نے شوبک کا مال غنیمت
شامیوں اور ترکوں میں تقسیم کر دیا ہے اور میں یہ را ئے ضرور دوں گا تم نے جو الزامات عائد کیے ہیں ،انہیں سچ ثابت
کرنے کی بھی کوشش کی ہے اور فوج میں جو افواہیں دشمن پھیال رہاہے ،ان کے متعلق تم نے کہا ہے کہ یہ افواہیں نہیں ،
بلکہ سچ ہے ''۔
خضرالحیات کے نائب نے بیان دیا کہ مصلح الدین جب خضر کے کمرے سے نکال تو اس کے منہ سے یہ الفاظ سنے گئے تھے
…… ''اگر تم زندہ رہے تو سب کچھ لکھ کر صالح الدین ایوبی کے آگے رکھ دینا''۔
غیاث بلبیس نے فوری طور پر مصلح الدین سے کچھ پوچھنا مناسب نہ سمجھا۔ ایک تو اس کی حیثیت بہت اونچی تھی اور
دوسرے یہ کہ بلبیس اس کے خالف مزید شہادت جمع کرنا چاہتا تھا۔ اسے ڈر یہ تھا کہ اگر اس نے مصلح الدین پر بغیر
ٹھوس شہادت کے ہاتھ ڈاال تو یہ اقدام اس کے اپنے لیے مصیبت بن جائے گا ،اگر صالح الدین ایوبی قاہرہ میں موجود ہوتا تو
بلبیس اس کی پشت پناہی حاصل کرلیتا۔ وہ اتنا سمجھ گیا تھا کہ یہ قتل ذاتی رنجش کا نتیجہ نہیں۔ خضر الحیات ذاتی
رنجش رکھنے واال حاکم نہیں تھا۔ رات کو اس نے چند ایک لوگوں کے دروازے کھٹکھٹائے اور تفتیش میں لگا رہا۔ اپنے خفیہ
آدمیوں کو بھی سرگرم کر دیا ،لیکن اُسے کوئی کامیابی نہ ہوئی۔
19:38
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
"قسط نمبر40.۔" قاھرہ میں بغاوت اورسلطان ایوبی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
لیکن ا ُسے کوئی کامیابی نہ ہوئی۔بعد کی شہادتوں اور واقعات سے جو واردات سامنے آئی ،وہ کچھ اس طرح بنتی ہے کہ
قتل کی رات سے اگلی رات مصلح الدین اپنے گھر گیا تو پہلی بیوی نے اُسے کمرے میں بالیا۔ اُس نے بیس اشرفیاں مصلح
الدین کے آگے کرتے ہوئے کہا …… ''خضر الحیات کا قاتل یہ بیس اشرفیاں واپس کر گیا ہے اور کہہ گیا ہے کہ تم نے پچاس
اشرفیاں اور سونے کے دو ٹکڑے کہے تھے۔ میں نے تمہارا کام کر دیا تو تم نے صرف بیس اشرفیاں بھیجی ہیں۔ یہ میں
تمہاری بیوی کو واپس دے چال ہوں ۔ تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے۔ اب ایک سو اشرفیاں اور سونے کے دو ٹکڑے لوں گا ،اگر
دو دن تک مال نہ پہنچا تو ویسا ہی تیر جو خضر کے دل میں اُترا ہے ،تمہارے دل میں بھی اُتر جائے گا''۔
مصلح الدین کا رنگ ا ُڑگیا ،سنبھل کر بوال …… ''تم کیا کہہ رہی ہو؟ کون تھا وہ؟ میں نے کسی کو خضر الحیات کے قتل
''کے لیے یہ رقم نہیں دی تھی ؟
تم خضر کے قاتل ہو''۔ بیوی نے کہا …… ''مجھے معلوم نہیں کہ قتل کی کیا وجہ ہے ۔ اتنا ضرور معلوم ہے کہ تم نے''
اُسے قتل کرایا ہے''۔
یہ مصلح الدین کی پہلی بیوی تھی۔ ا ُس کی عمر زیادہ نہیں تھی ۔ بمشکل تیس سال کی ہوگی ۔ خاصی خوبصورت عورت
تھی۔ کوئی ایک ماہ قبل وہ گھر میں ایک غیر معمولی طور پر خوبصورت اور جوان لڑکی لے آیا تھا۔ ایک خاوند کے لیے دو
بیویوں کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ اُس زمانے میں زیادہ بیویاں رکھنے کارواج تھا۔ کوئی بیوی دوسری بیوی سے حسد
نہیں کرتی تھی ،مگر مصلح الدین نے پہلی بیوی کو بالکل نظر انداز کر
د یا تھا۔ جب سے نئی بیوی آئی تھی اُس نے پہلی بیوی کے کمرے میں جانا ہی چھوڑ دیا تھا …… بیوی نے اُسے کئی بار
بالیا تو بھی وہ نہ گیا۔ بیوی کے اندر انتقامی جذبہ پیدا ہوگیاتھا۔ یہ آدمی جو اُسے بیس اشرفیاں دے گیا تھا۔ غالبا ً مصلح
الدین سے بڑاہی سنگین بدلہ لینا چاہتا تھا۔ اسی لیے اس نے اس کی پہلی بیوی کو بتا دیا تھا کہ خضر الحیات کو مصلح
الدین نے قتل کرایا تھا۔
تم اپنی زبان بند رکھنا''۔ مصلح الدین نے بیوی کو بارعب لہجے میں کہا …… ''یہ میرے کسی دشمن کی چال ہے۔ وہ ''
میرے اور تمہارے درمیان دشمنی پیدا کرنا چاہتا ہے''۔
تمہارے دل میں میری دشمنی کے سوا اور رہا ہی کیا ہے؟'' بیوی نے پوچھا ……۔''
''میرے دل میں تمہاری پہلے روز والی محبت ہے''۔ مصلح الدین نے کہا …… ''کیا تم اس آدمی کو پہچانتی ہو؟''
ا ُس نے چہرے پر نقاب ڈال رکھا تھا''۔ بیوی نے کہا …… ''مگر تمہارا نقاب اُتر گیا ہے۔ میں نے تمہیں پہچان لیا ''
ہے''…… مصلح الدین نے کچھ کہنے کی کوشش کی ،مگر بیوی نے اُسے بولنے نہ دیا۔ اُس نے کہا …… ''مجھے شک ہے تم
نے بیت المال کی رقم ہضم کی ہے ،جس کا علم خضرالحیات کو ہوگیا تھا۔ تم نے کرائے کے قاتل سے اُسے راستے سے ہٹا
''دیا ہے؟
''مجھ پر جھوٹے الزام عائد نہ کرو''…… مصلح الدین نے کہا …… ''مجھے رقم ہضم کرنے کی کیا ضرورت ہے؟''
تمہیں نہیں ،ا ُس فرنگن کو رقم کی ضرورت ہے ،جسے تم نے نکاح کے بغیر گھر رکھا ہوا ہے''۔ بیوی نے جل کر کہا ''
…… '' تمہیں شراب کے لیے رقم کی ضرورت ہے۔ اگر یہ الزام جھوٹا ہے تو بتاو کہ یہ چار گھوڑوں کی بگھی کہاں سے آئی
ہے؟ گھر میں آئے دن ناچنے والیاں جو آتی ہیں ،وہ کیا مفت آتی ہیں؟ شراب کی جو دعوتیں دی جاتی ہیں ،اُن کے لیے
''رقم کہاں سے آتی ہے؟
خدا کے لیے چپ ہوجاو''۔ مصلح الدین نے غصے اورپیار کے ملے جلے لہجے میں کہا …… ''مجھے معلوم کرلینے دو '' ،
وہ آدمی کون تھا جو یہ خطرناک چال چل گیا ہے ۔ اصل حقیقت تمہارے سامنے آ جائے گی''۔
میں جب چپ نہیں رہ سکوں گی''۔ بیوی نے کہا …… ''تم نے میرا سینہ انتقام سے بھر دیا ہے۔ میں سارے مصر کو ''
بتائوں گی کہ میرا خاوند قاتل ہے۔ ایک مومن کا قاتل ہے۔ تم میری محبت کے قاتل ہو۔ اس قتل کا انتقام لوں گی''۔
مصلح الدین منت سماجت کرکے اُسے چپ کرانے لگا اور ا ُسے قائل کر لیا کہ وہ صرف دو روز چپ رہے ،تاکہ و اس آدمی
کو تالش کرکے ثابت کرسکے کہ وہ قاتل نہیں ہے۔ اُس نے بیوی کو یہ بھی بتایا کہ غیاث بلبیس نے چند ایک مشتبہ افراد
پکڑ لیے ہیں اور قاتل بہت جلدی پکڑا جائے گا۔
رات گزر گئی۔ اگال دن بھی گزر گیا۔ مصلح الدین گھر سے غائب رہا۔ اس کی دوسری بیوی یاداشتہ بھی کہیں نظر نہیں آئی۔
شام کے بعد مصلح الدین گھر آیا اور پہلی بیوی کے کمرے میں چالگیا۔ اُس کے ساتھ پیار محبت کی باتیں کرتا رہا۔ بیوی اُس
کے فریب میں نہیں آنا چاہتی تھی ،مگر پیار کے دھوکے میں آگئی۔ مصلح الدین نے اُسے کہا کہ وہ اس آدمی کو ڈھونڈرہا
ہے ،جو بیس اشرفیاں دے گیا تھا …… کچھ دیر بعد بیوی سو گئی۔ اُس رات مصلح الدین نے مالزموں کو چھٹی دے دی تھی۔
گھر میں ایسی خاموشی تھی جو پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ مصلح الدین بہت دیر سوئی ہوئی بیوی کے کمرے میں رہا ،پھر
اُٹھ کر کمرے سے نکل گیا۔
آدھی رات کا وقت تھا ۔ ایک آدمی اس گھر کی باہر والی دیوارکے ساتھ پیٹھ لگا کر کھڑا ہوگیا۔ ایک آدمی اُس کے کندھوں
پر چڑھ گیا ۔ تیسرا آدمی ان دونوں کو سیڑھی بنا کر اوپر گیا اور دیوار سے لٹک کر اندرکی طرف کود گیا۔ اس نے اندر سے
بڑا دروازہ کھول دیا۔ اس کے دونوں ساتھی اندر آگئے۔ اس گھر میں رکھوالی کتا ہر رات کھال رہتا تھا ،اس رات وہ بھی ڈربے
میں بند تھا۔ شاید مالزم جاتے ہوئے بھول گئے تھے کہ ا ُسے کھال رہناہے۔ تینوں آدمی برآمدے میں چلے گئے۔ اندھیرا گہرا
تھا۔ وہ دبے پاوں چلتے گئے۔ گھپ اندھیرے میں ایک دوسرے کے پیچھے چلتے ایک نے اُس کمرے کے دروازے پر ہاتھ رکھا ،
جس میں مصلح الدین کی پہلی بیوی جسے وہ فاطمہ کے نام سے بالیا کرتا تھا ،سوئی ہوئی تھی۔ کواڑ کھل گیا۔ کمرہ تاریک
تھا۔ تینوں آدمی اندر گئے اور اندھیرے میں ٹٹولتے ہوئے فاطمہ کے پلنگ تک پہنچ گئے۔ ایک آدمی کا ہاتھ فاطمہ کے منہ پر
لگا تو اس کی آنکھ کھل گئی۔ وہ سمجھی کہ مصلح الدین کا ہاتھ ہے۔ اس نے ہاتھ پکڑ لیا اور پوچھا …… ''کہا جارہے ہیں
''آپ؟
اس کے جواب میں ایک آدمی نے اس کے منہ پر کپڑا رکھ کر اس کا کچھ حصہ اُس کے منہ میں ٹھونس دیا۔ فورا ً بعد تینوں
نے ا ُسے بازوئوں میں جکڑلیا۔ ایک نے منہ پر ایک اور کپڑا کس کر باندھ دیا ۔ ایک نے ایک بوری کی طرح کا تھیال کھوال۔
دوسرے دو آدمیوں نے فاطمہ کو دہرا کرکے رسیوں سے اُس کے ہاتھ اور پائوں باندھے اور اُسے تھیلے میں ڈال کر تھیلے کا
منہ بند کردیا۔ انہوں نے تھیال ا ُٹھایا اور باہر نکل گئے۔ بڑے دروازے سے بھی نکل گئے۔ گھرمیں کوئی مرد مالزم نہیں تھا۔
خادمائیں بھی اس رات چھٹی پر تھیں۔ تھوڑی دور ایک درخت کے ساتھ گھوڑے بندھے ہوئے تھے۔ تینوں آدمی گھوڑوں پر سوار
ہوئے۔ ایک نے تھیال اپنے آگے رکھ لیا۔ تینوں گھوڑے قاہرہ سے نکل گئے اور سکندریہ کا ُرخ کر لیا۔
صبح مالزم آگئے ۔ صلح الدین نے فاطمہ کے متعلق پوچھا ،دو خادمائوں نے اسے تالش کرکے بتایا کہ وہ گھر میں نہیں ہے۔
بہت دیر تک جب اس کا کوی سراغ نہ مال تو مصلح الدین ایک خادمہ کو الگ لے گیا۔ بہت دیر تک اُس کے ساتھ باتیں
کرتا رہا ،پھر وہ اسے غیاث بلبیس کے پاس لے کر چال گیا۔ اُسے کہا کہ اُس کی بیوی الپتہ ہوگئی ہے۔ اس نے اس شک کا
اظہار کیا کہ خضرالحیات کو فاطمہ نے قتل کرایا ہے اور خضر مرتے مرتے انگلی سے ''مصلح ''جو لکھا تھا ،وہ دراصل
مصلح کی بیوی لکھنا چاہتا تھا ،لیکن موت نے تحریر پوری نہ ہونے دی ۔ اس کے ثبوت میں اُس نے اپنی خادمہ سے کہا کہ
وہ بلبیس کو اس آدمی کے متعلق بتائے۔ خادمہ نے بیان دیا کہ پرسوں ایک اجنبی آیا ،جس کے چہرے پر نقاب تھا۔ اُس
وقت مصلح الدین گھر پر نہیں تھا۔ ا ُس آدمی نے دروازے پر دستک دی تو یہ خادمہ باہر گئی۔ اجنبی نے کہا کہ وہ فاطمہ
سے ملنا چاہتا ہے۔ خادمہ نے کہا کہ گھر میں کوئی مرد نہیں ،اس لیے وہ فاطمہ سے نہیں مل سکتا۔ اس نے کہا کہ فاطمہ
سے یہ کہہ دو کہ وہ اشرفیاں واپس کرنے آیا ہے ،کہتا ہے کہ میں پوری رقم لوں گا۔ خادمہ نے فاطمہ کو بتایا تو اُس نے اس
آدمی کو اندر بال لیا۔
خادمہ نے بیان میں کہا کہ فاطمہ نے ا ُسے برآمدے میں کھڑا رہنے کوکہا اوریہ ہدایت دی کہ کوئی آجائے تو میں اسے خبردار
کردوں۔ خادمہ کمرے کے دروازے کے ساتھ کھڑ ی رہی۔ اندرکی باتیں جو اُسے سنائی دیں،ان میں اس آدمی کا غصہ اور فاطمہ
کی منت سماجت تھی۔ ان باتوں سے صاف پتا چلتا تھا کہ فاطمہ نے اس آدمی سے کہا تھا کہ علی بن سفیان کے نائب
حسن بن عبداللہ کو قتل کرنا ہے ،جس کے عوض وہ اسے پچاس اشرفیاں اور دو ٹکڑے سونا دے گی۔ خادمہ کو یہ معلوم نہیں
ہوسکا کہ فاطمہ نے اس آدمی کو بیس اشرفیاں کس وقت اور کہاں بھیجی تھیں اور کون لے گیا تھا۔ وہ پوری پچاس اشرفیاں
مانگ رہا تھا۔ فاطمہ اُسے کہہ رہی تھی کہ اُس نے غلط آدمی کو قتل کیاہے۔ یہ نقاب پوش اجنبی کہہ رہا تھا کہ تم نے
یقین کے ساتھ بتایا تھا کہ حسن بن عبداللہ فالں وقت خضر الحیات کے گھر جائے گا۔ وہ گھات میں بیٹھ گیا۔ اُس نے ایک
آدمی کو خضر کے گھر کے دروازے کے قریب جاتے دیکھا۔ اُس کا قد بت حسن بن عبد اللہ کی طرح تھا۔ قتل کرتے وقت
اتنی مہلت نہ ملی کہ شکار کو اچھی طرح دیکھ کر یقین کر لیا جائے۔ تم نے جو وقت بتایا تھا ،یہ وہی وقت تھا۔ میں نے
تیر چال دیا اور وہاں سے بھاگنے کی کی ۔
وہ فاطمہ سے پچاس اشرفیاں مانگ رہا تھا۔ فاطمہ نے پہلے تو منت سماجت کی ،پھر وہ بھی غصے میں آگئی اور کہا کہ
اصل آدمی کو قتل کرو گے تو ان بیس اشرفیوں کے عالوہ پچاس اشرفیاں اور سونے کے دو ٹکڑے دوں گی۔ اس آدمی نے کا
کہ میں نے کام کر دیا ہے ،اس کی پوری ا ُجرت لوں گا۔ فاطمہ نے انکار کردیا۔ وہ آدمی بڑے غصے میں یہ کہہ کر چال گیا
کہ میں پوری ا ُجرت وصول کرلوں گا ۔ فاطمہ نے خادمہ کو سختی سے کہا کہ وہ اس آدمی کے متعلق کسی سے ذکر نہ
کرے۔ ا ُس نے خادمہ کو دو اشرفی انعام دیا۔ آج صبح وہ اس کے کمرے میں گئی تو فاطمہ وہاں نہیں تھی۔ اُسے شک ہے کہ
اس آدمی نے انتقاما ً اسے اغوا کر لیا ہے۔
غیاث بلبیس نے کچھ سوچ کر مصلح الدین کو باہر بھیج دیا اور خادمہ سے پوچھا …… ''ٍ یہ بیان تمہیں کس نے پڑھایا ہے؟
''فاطمہ یا مصلح الدین نے ؟
فاطمہ تو یہاں نہیں ہے''۔ اُس نے کہا …… ''یہ میرا اپنا بیان ہے''۔''
مجھے سچ بتا دو''۔ بلبیس نے کہا …… ''فاطمہ''
کہا ں ہے؟ وہ کس کے ساتھ گئی ہے؟'' خادمہ گھبرانے لگی۔ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکی ۔ بلبیس نے کہا ……
''کوتوالی کے تہہ خانے میں جانا چاہتی ہو؟ اب تم واپس نہیں جاسکو گی''۔
وہ غریب عورت تھی ۔ ا ُسے معلوم تھا کہ کوتوالی کے تہہ خانے میں جا کر سچ اور جھوٹ الگ الگ ہوجاتے ہیں اور اس
سے پہلے جسم کے جوڑ بھی الگ الگ ہوجاتے ہیں۔ وہ رو پڑی اور بولی…… ''سچ کہتی ہوں تو آقا سزا دیتا ہے،جھوٹ
بولتی ہوں تو آپ سزا دیتے ہیں ''…… بلبیس نے اس کی حوصلہ افزائی کی اور اُسے تحفظ کا یقین دالیا۔ خادمہ نے کہا ……
'' میں نے قتل کے دوسرے روز صرف اتنا دیکھا تھا کہ ایک نقاب پوش آیا تھا۔ آقا مصلح الدین گھر نہیں تھے۔ نقاب پوش
نے فاطمہ کو باہر بالیا تھا۔ و ہ بڑے دروازے کے باہر اور فاطمہ اندر تھی ۔ وہ اس کے سامنے نہیں ہوئی۔ مالزموں نے اُسے
دیکھا تھا ،لیکن کسی نے بھی قریب جا کر نہیں سنا کہ ان کے درمیان کیا باتیں ہوئیں۔ نقاب پوش چال گیا تو فاطمہ اندر
آئی۔ اُس نے چھوٹی سی ایک تھیلی ا ُٹھا رکھی تھی ۔ فاطمہ کا سر جھکا ہوا تھا ۔ وہ کمرے میں چلی گئی تھی ……
دوسری شام مصلح الدین نے چاروں مالزموں اور سائیس کو رات بھر کی چھٹی دے دی تھی۔ چار مالزموں میں دو مرد اور دو
عورتیں ہیں''۔
اس سے پہلے مالزموں کو کبھی رات بھر کے لیے چھٹی دی گئی ہے؟''…… بلبیس نے پوچھا۔''
کبھی نہیں''۔ اس نے جواب دیا…… ''کوئی ایک مالزم کبھی چھٹی لے لیتا ہے ،سب کو کبھی چھٹی نہیں دی گئی''۔''
خادمہ نے سوچ کر کہا …… ''عجیب بات یہ ہے کہ آقا نے کہا تھا کہ آج رات کتے کو بندھا رہنے دینا۔ اس سے پہلے ہر
رات کتاکھال رکھا جاتا تھا۔ بڑا خون خوار کتا ہے۔ اجنبی کی بُو پر چیر پھاڑنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے''۔
مصلح الدین کے تعلقات فاطمہ کے ساتھ کیسے تھے ؟''غیاث بلبیس نے پوچھا۔''
بہت دن ہوئے''۔ خادمہ نے بتایا…… ''آقا ایک بڑی خوبصورت اورجوان لڑکی الیا ہے جس نے آقا کو اپنا غالم بنا لیاہے۔ ''
فاطمہ کے ساتھ آقا کی بول چال بھی بند ہے''۔
غیاث بلبیس نے خادمہ کو الگ بٹھا کر مصلح الدین کو اندر بال لیا اور باہر نکل گیا۔ واپس آیا تو اس کے ساتھ دو سپاہی
تھے۔ انہوں نے مصلح الدین کو دائیں اور بائیں بازووں سے پکڑلیا اور باہر لے جانے لگے۔ مصلح الدین نے بہت احتجاج کیا ۔
بلبیس یہ حکم دے کر باہر نکل گیا کہ اسے قید میں ڈال دو۔ اُس نے دوسرا یہ حکم دیا کہ مصلح الدین کے گھر پر پہر ہ
کھڑا کردو ،کسی کو باہر نہ جانے دو۔
٭ ٭ ٭
اُس وقت فاطمہ قاہرہ سے بہت ُدور شمال کی طرف ایک ایسی جگہ پہنچ چکی تھی جہاں اِرد ِگرد اونچے ٹیلے ،سبزہ اور
پانی بھی تھا۔ یہ جگہ عام را ِہ گزر سے ہٹی ہوئی تھی۔ وہاں وہ سورج نکلنے کے وقت پہنچی تھی ،گھوڑے ُرک گئے ۔ اُسے
تھیلے سے نکاالگیا ،ا ُس کے منہ سے کپڑا ہٹا دیا گیا اور ہاتھ پاوں بھی کھول دئیے گئے۔ اُس کے ہوش ٹھکانے نہیں تھے۔ وہ
تین نقاب پوشوں کے نرغے میں تھی۔ تین گھوڑے کھڑے تھے۔ فاطمہ چیخنے چالنے لگی۔ نقاب پوشوں نے اُسے پانی پالیا اور
کچھ کھانے کو دیا۔ وہ ہاتھ نہیں آرہی تھی۔ ا ُس کے پیٹ میں پانی اورکھانا گیا اور تازہ ہوا لگی تو جسم میں طاقت آگئی۔ وہ
اچانک اٹھی
اور دوڑ پڑی۔ تینوں بیٹھے دیکھتے رہے۔ کوئی بھی اس کے تعاقب میں نہ گیا۔ ُدور جا کروہ ایک ٹیلے کی اوٹ میں چلی
گیء تو ایک نقاب پوش گھوڑے پر سوارہوا۔ ایڑ لگائی اور فاطمہ کو جا لیا۔ وہ دوڑ دوڑ کر تھک گئی ،لیٹ گئی۔ نقاب پوش
نے اُسے ا ُٹھا کر گھوڑے پر ڈال لیا اور خود اس کے پیچھے سوار ہوکر واپس اپنے ساتھیوں کے پاس لے گیا۔
بھاگو''۔ایک نے ا ُسے تحمل سے کہا۔ ''کہاں تک بھاگو گی۔ یہاں سے توکوئی تنومند مرد بھی بھاگ کر قاہرہ نہیں پہنچ''
سکتا''۔ فاطمہ روتی ،چیختی اور گالیاں دیتی تھی۔ ایک نقاب پوش نے اُسے کہا…… ''اگر ہم تمہیں قاہرہ واپس لے چلیں تو
بھی تمہارے لیے کوئی پناہ نہیں ۔ تمہیں تمہارے خاوند نے ہمارے حوالے کیا ہے''۔
یہ جھوٹ ہے''۔ فاطمہ نے چال کر کہا ۔''
یہ سچ ہے''۔ اس نے کہا ۔ ''ہم نے تمہیں اُجرت کے طور پر لیا ہے۔ تم نے مجھے پہچانا نہیں۔ میں تمہارے ہاتھ میں''
بیس اشرفیوں کی تھیلی دے آیا تھا۔ تم نے خاوند سے کہہ دیا کہ تم قاتل ہو اور تم نے بے وقوفی یہ کی کہ اُسے یہ بھی
کہہ دیا کہ تم کوتوال کو بتادوگی۔ وہ تم سے پہلے ہی تنگ آیاہوا تھا۔ اُس کی داشتہ نے اُس کے دل اور اس کی عقل پر
قبضہ کر لیا تھا۔ میں تمہیں یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ لڑکی کون ہے اور کہاں سے آئی ہے اورکیا کرنے آئی ہے۔ دوسرے دن
تمہارا خاوند ہمارے ٹھکانے پر آیا۔ ایسا بے ایمان آدمی ہے کہ اس نے ہمیں خضرالحیات کے قتل کے عوض پچاس اشرفی اور
سونے کے دو ٹکڑے دینے کا وعدہ کیا تھا ،مگر کام ہوگیا تو صرف بیس اشرفی بھیجی۔ میں نے تمہیں استعمال کیا اور یہ
رقم تمہارے ہاتھ میں دے دی ،تا کہ تمہیں بھی اس راز کا علم ہوجائے۔ ہمارا تیر نشانے پر بیٹھا۔ دوسرے دن وہ ہمارے
ٹھکانے پر آیا اور پچاس اشرفیاں دینے لگا۔ سونے کے ٹکڑے پھر بھی ہضم کر رہاتھا۔ میرے ان ساتھیوں نے کہا کہ اب ہم
بہت زیادہ ا ُجرت لیں گے۔ اگر وہ نہیں دے گا تو ہم کسی نہ کسی طرح کوتوال تک خبر پہنچا دیں گے۔ اسے اب خطرہ یہ
نظر آرہا تھا کہ تمہیں بھی پتا چل گیا تھا کہ قاتل وہی ہے اس کا عالج اس نے یہ سوچا کہ ہمیں کہا تم میری بیوی کو
ا ُٹھا لے جائو۔ میں تمہارے لیے راستہ صاف کردوں گا۔ ہم جان گئے کہ وہ اپنی داشتہ کے زیر اثر تم سے جان چھڑانا چاہتا
ہے اور اب وہ اس لیے تمہیں غائب کرنا چاہتاتھا کہ تم اس کے جرم کی گواہ بن گئی ہو اور اُسے کہہ بھی چکی ہو کہ تم
کوتوال کوخبر کردوں گی''۔
فاطمہ کے آنسو خشک ہو چکے تھے۔ وہ حیرت زدہ ہو کر اُن تینوں کو باری باری دیکھتی تھی۔ اُن کی صرف آنکھیں نظر آتی
تھیں۔ یہ آنکھیں ڈرائونی اور خوفناک تھیں۔ اُن کی زبان میں مٹھاس اور اپنائیت کی جھلک ضرور تھی ۔ انہوں نے اُسے
دھمکی نہیں دی ،بلکہ سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اس کا تڑپنا ،رونا اور بھاگنا بے کار ہے۔
میں نے تمہیں دیکھا تھا''۔ نقاب پوش نے اُسے کہا …… ''جب مصلح الدین نے کہا کہ میری بیوی کو اُجرت کے طور پر''
ا ُٹھالے جائو تو میں نے سکندریہ کی منڈی کے بھاو سے تمہاری قیمت کا اندازہ کیا۔ تم ابھی جوان ہو اور خوبصورت بھی ہو۔
تم بڑے اچھے داموں بک سکتی ہو۔ ہم مان گئے۔ اگر تمہارا خاوند ہمیں اتنی زیادہ اُجرت نہ دیتا توہم نے اسے بتا دیا تھا کہ
ا ُسے زندہ نہیں رہنے دیا جائے گا اور اس کی داشتہ کو اغوا کر لیا جائے گا۔ اُس نے ہمیں بتایاکہ آج رات اُس کے گھر میں
کوئی مالزم نہیں ہوگا۔ کتا بھی بندھا ہوا ہواگا۔ البتہ بڑا دروازہ اندر سے بند ہوگا کہ تم دیکھ لو تو شک نہ کرو …… ہم تینوں
نے ایک دوسرے کے اوپڑ کھڑے ہو کر تمہارے گھر کی دیوار پھالنگی ۔ ہم نے ہاتھوں میں خنجر لے رکھے تھے اورہم سنبھل
سنبھل کر چل رہے تھے ،کیونکہ تمہارے خاوند پر بھروسہ نہیں تھا۔ وہ ہمیں مروا سکتا تھا ،لیکن ایسا نہ ہوا۔ ہمارے لیے
راستہ واقعی صاف تھا ۔ تمہیں اُٹھایا اور لے آئے''۔
اِ س نے یہ کہانی تمہیں اس لیے سنائی ہے کہ تم اپنے خاوند کے گھر کو دل سے نکال دو''…… دوسرے نقاب پوش نے ''
کہا …… ''ہم تمہیں یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ ہم تین آدمی اکیلی عورت کی مجبوری کا فائدہ نہیں اُٹھائیں گے۔ ہم بیوپاری
ہیں۔ کرائے کا قتل اور اغوا ہمارا پیشہ ہے۔ ہم تمہارے جسم کے ساتھ کھیل کر خوش ہونے والے نہیں۔ تین مرد ایک عورت
کو اغوا اور مجبور کرکے تفریح کریں تو یہ کوئی فخر والی بات نہیں ''۔
تم سکندریہ کے بازار میں بیچو گے ؟''فاطمہ نے بے بسی کے لہجے میں پوچھا …… ''میری قسمت میں اب عصمت ''
''فروشی لکھی ہے؟
نہیں'' ۔ ایک نقاب پوش نے جواب دیا…… ''عصمت فروشی کے لیے جنگلی اور صحرائی لڑکیاں خریدی جاتی ہیں۔ تم ''
حرم کی چیز ہو۔ کسی باعزت امیر کے پاس جاو گی۔ ہمیں بھی تو اچھی قیمت چاہیے۔ ہم تمہیں مٹی میں نہیں پھینکیں
گے۔ تم اب رونا اور غم کرنا چھوڑ دو ،تاکہ تمہارے چہرے کی دلکشی اور رونق قائم رہے ،ورنہ تم عصمت فروشی کے قابل
رہ جاو گی ۔ تھوڑی دیر کے لیے سوجاو''۔
٭ ٭ ٭
یہ دیکھ کر ان لوگوں نے اس کے ساتھ کوئی بے ہودہ حرکت نہیں کی ،دست درازی نہیں کی ،فاطمہ کو کچھ سکون سا
محسوس ہوا۔ رات بھر وہ اذیت میں بھی رہی تھی ۔ تھیلے میں دہری کرکے اسے بند کیا گیاتھا ،جسم درد کر رہا تھا۔ وہ
لیٹی اور اس کی آنکھ لگ گئی۔ تھوڑی ہی دیر بعد اُس کی آنکھ کھل گئی۔ اُس کا دل خوف اور گھبراہٹ کی گرفت میں
تھا۔ اس صورت حال کو وہ قبول نہیں کر سکتی تھی۔ ا ُس نے دیکھا کہ تینوں نقاب پوش سوئے ہوئے ہیں۔ وہ بھی رات بھر
کے جاگے ہوئے تھے۔ فاطمہ نے پہلے تو یہ سوچا کہ کسی ایک کا خنجر نکال کر تینوں کو قتل کردے ،لیکن اتنی جرٔا ت
نہیں کر سکی۔ تینوں کو قتل کرنا آسان نہیں تھا۔ اُس نے گھوڑے دیکھے۔ ان لوگوں نے زینیں نہیں اُتاری تھیں۔ وہ آہستہ سے
ا ُٹھی اور دبے پائوں ایک گھوڑے تک پہنچی۔ سورج ٹیلوں کے پیچھے جاتا رہا تھا اور فاطمہ کو معلوم ہی نہ تھا کہ وہ قاہرہ
سے کسی طرف اور کتنی دورہے۔ اس نے یہ خطرہ مول لے لیا اور صحرا کی وسعت میں بھٹک بھٹک کر مرجائے گی ،ان
لوگوں کے ہاتھوں سے ضرور نکلے گی۔
ا ُسے نے گھوڑے پرسوارہوتے ہی ایڑ لگا دی ۔ ٹاپوئوں نے نقاب پوش کو جگادیا۔ انہوں نے فاطمہ کو ٹیلے کی اوٹ میں جاتے
دیکھ لیا تھا۔ دو نقاب پوش گھوڑوں پر سوار ہوئے اور تعاقب میں گھوڑے سرپت بھگا دئیے۔ فاطمہ کے لیے مشکل یہ تھی کہ
ا ُسے ٹیلوں کے قید خانے سے نکلنے کا راستہ معلوم نہیں تھا ۔ صحرائی ٹیلے بھول بھلیوں جیسے ہوتے ہیں ۔ صرف صحرا
کے بھیدی ان سے واقف ہوتے ہیں۔ فاطمہ ایسے ُرخ ہولی جہاں آگے ایک اور ٹیلے نے راستہ روک رکھا تھا۔اُس نے وہاں جا
کر پیچھے دیکھا تو نقاب پوش تیزی سے اس کے قریب آرہے تھے۔ اس نے گھوڑے کو ٹیلے پر چڑھایا اور ایڑ مارتی گئی،
گھوڑا اچھا تھا۔ اوپر جا کر پرے ا ُتر گیا۔ وہ ایک طرف کو گھوڑا موڑ لے گئی۔ آگے راستہ مل گیا۔ نقاب پوش بھی پہنچ گئے۔
فاصلہ کم ہو رہا تھا۔ فاطمہ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا ،جب اُس نے اپنے سامنے سمندر کی طرح کھال صحرا اور چار
شتر سوار اپنی سمت آتے دیکھے۔ اُس نے چالنا شروع کر دیا …… ''بچاو ،ڈاکوئوں سے بچائو''…… وہ اُن تک پہنچ گئی۔
ا ُس کے پیچھے دونوں نقاب پوشوں کے گھوڑے باہر آئے۔ شتر سواروں کو دیکھ کر انہوں نے گھوڑوں کی باگیں کھینچیں اور
گھوڑے موڑے بھی۔ شتر سواروں نے اونٹ دوڑادئیے۔ ایک نے کمان میں تیر رکھ کر چھوڑا تو تیر ایک گھوڑے کی گردن میں
اُتر گیا ۔ گھوڑا درد سے تڑپا ،ا ُچھال اور بے قابو ہوگیا۔ سوار کود گیا۔ شتر سواروں نے انہیں للکارا تو دوسرے نے گھوڑا روک
لیا۔ انہیں معلوم تھا کہ چار شتر سوار تیر اندازوں کی زد میں ہیں۔ فاطمہ نے انہیں بتایا کہ ان کا ایک ساتھی اندرہے۔ ان
دونوں کو پکڑ لیا گیا…… یہ چاروں سلطان ایوبی کی فوج کے کسی گشتی دستے کے سپاہی تھے۔ سلطان ایوبی نے سارے صحرا
میں گشتی پہرے کا انتظام کر رکھا تھا ،تا کہ اچانک حملے کا خطرہ نہ رہے اور صلیبی تخریب کار مصر میں داخل نہ ہو
سکیں۔ ان گشتی دستوں کا بہت فائدہ تھا۔ انہوں نے کئی مشتبہ لوگ پکڑے تھے۔ اب یہ نقاب پوش اُن کے پھندے میں آگئے
۔ فاطمہ نے انہیں بتایا کہ اُسے کس طرح یہاں تک الیا گیا ہے ،وہ کس کی بیوی ہے۔ اُس نے یہ بھی بتایا کہ ناظم مالیات
خضرالحیات قتل ہوگیا ہے۔ قتل اس کے خاوند مصلح الدین نے کرایا ہے ،جو شہر کا ناظم ہے اور قاتل ان تینوں میں سے
ایک ہے۔
تیسرے نقاب پوش کو بھی پکڑ لیا گیا۔ ا ُن سے خنجر لے لیے گئے۔ ہاتھ پیٹھ پیچھے باندھ دئیے گئے۔ ان کاایک گھوڑا تیر
لگنے سے بھاگ گیا تھا۔ ایک گھوڑے پر دو نقاب پوشوں کو اور تیسرے پر ایک کو بٹھا کر سپاہی اپنے کمانڈر کے پاس لے
چلے۔ فاطمہ کو انہوں نے اونٹ پر بٹھالیا۔ اس اونٹ کا سوار اپنے ایک ساتھی کے پیچھے سوار ہوگیا۔ اس قافلے کے سامنے
چار میل کی مسافت تھی جو انہوں نے سورج غروب ہونے تک طے کرلی۔ وہ ایک نخلستان تھا ،جہاں خیمے بھی نصب
تھے۔ یہ اس دستے کا ہیڈ کواٹر تھا۔ فاطمہ کو اس کمان دار کے سامنے پیش کیا گیا۔ تینوں نقاب پوشوں کو پہرے میں بٹھا
دیا گیا ۔ انہیں اگلے روز قاہرہ بھیجنا تھا۔
٭ ٭ ٭
صلیبیوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ کرک میں بیٹھے بیٹھے صالح الدین ایوبی کا انتظار نہیں کریں گے۔ انہوں نے فوج کو
تقسیم کرنا شروع کردیا۔ فرانس کی فوج کو انہوں نے سلطان ایوبی کی فوج کو راستے میں روکنے کے لیے تیاری کا حکم دیا ۔
ریمانڈ کی فوج مسلمانوں کی فوج پر عقب سے حملے کے لیے مقرر ہوئی۔ کرک کے قلعے کے دفاع کے لیے جرمنی کی فوج
تھی ،جس کے ساتھ فرانس اور انگلستان کے کچھ دستے تھے۔ انہیں جاسوسوں نے بتا دیا تھا کہ سلطان ایوبی نئی فوج تیار
کر رہا ہے۔ صلیبی حکمرانوں نے اس اقدام کا جائزہ لیا کہ وہ صالح الدین ایوبی کے ٹریننگ کیمپ پر حملہ کرکے پیچھے ہٹ
آئیں ،لیکن ا ُن کی انٹیلی جنس نے اس تجویز کی مخالفت کی۔ دلیل یہ دی کہ سلطان صالح الدین ایوبی نے دفاع کی تین
تہیں بنا رکھی ہیں ،جن میں ایک تہہ متحرک ہے۔ اس کے عالوہ اس کے دیکھ بھال کے دستے دور دورتک گھومتے پھرتے
ہیں اور صحرا میں ہلتی ہوئی ہر چیز کو قریب جا کر دیکھتے ہیں۔ ان دفاعی انتظامات کو دیکھ کر صلیبیوں نے اس حملے کا
خیال دل سے نکال دیا۔
ایک امریکی مصنف انٹینی ویسٹ نے متعدد مؤرخوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ صلیبیوں کے پاس صالح الدین ایوبی کی نسبت
چار گناہ فوج تھی ،جس میں زرہ پوش پیادہ اور سوار دستوں کی بہتات تھی۔ اگر یہ فوج صالح الدین ایوبی پر برا ِہ راست
حملہ کردیتی تو مسلمان زیادہ دیر جم نہ سکتے ،مگر صلیبی فوج کو شوبک کی شکست میں جو نقصان اُٹھانا پڑا ،اس کی
میدان جنگ سے بھاگے ہوئے فوجیوں پر طاری تھی۔ صلیبیوں کامورال متز لزل تھا ،جس کی ایک
ایک دہشت بھی تھی جو
ِ
وجہ تو یہ تھی کہ شوبک کو وہ لوہے کا قلعہ سمجھتے تھے۔ وہ اپنی فوج کو صحرا میں بھیج کر اس خوش فہمی میں مبتال
ہوگئے تھے کہ سلطان ایوبی کو قلعوں سے دور ہی ختم کردیں گے۔ وہ کرک کے دفاع میں بیٹھے رہے اور ایوبی نے شوبک
لے لیا اور صحرا میں صلیبیوں کو آمنے سامنے کی جنگ کا موقع دئیے بغیر انہیں چھاپہ ماروں سے مروا دیا ۔ اس کی ''آگ
کی ہانڈیوں'' نے گھوڑوں اور اونٹوں کو اتنا دہشت زدہ کیا کہ خاصے عرصے تک جانور معمولی سی آگ دیکھ کر بھی بدک
جاتے تھے۔ انٹینی ویسٹ نے یہ ثبوت بھی مہیا کیا ہے کہ صلیبی فوج مختلف بادشاہوں اور ملکوں کی مرکب تھی جوبظاہر
اعلی کمانڈر ملک گیری اور بادشاہی کی توسیع
متحد تھی ،لیکن یہ اتحاد برائے نام تھا کیونکہ ہر بادشاہ او اس کی فوج کا
ٰ
کا خواہش مند تھا۔ ان میں صرف یہ جذبہ مشترکہ تھا کہ مسلمان کو ختم کرنا ہے ،مگر ان کے دلوں میں جو اختالفات تھے،
وہ اُن کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے تھے۔
مورخ لکھتے ہیں کہ صلیبی سازشوں کے ماہر تھے اور مسلمانوں کے جس عالقے پر قابض ہوجاتے تھے ،وہاں قتل عام اور
آبروریزی شروع کردیتے تھے۔ اس کے برعکس صالح الدین ایوبی محبت اور اخالقی قدروں کو ایسی خوبی سے استعمال کرتا تھا
کہ دشمن بھی اس کے گرویدہ ہوجاتے تھے۔ اس کے عالوہ اُس نے اپنی فوج میں یہ خوبی پیدا کردی تھی کہ دس سپاہیوں کا
چھاپہ مار دستہ ایک ہزار نفری کے فوجی کیمپ کو تہس نہس کرکے غائب ہوجاتا تھا۔ یہ لوگ جان قربان کرنے کو معمولی
میدان جنگ میں تھوڑی سی فوج کو ترتیب دیتا تھا ،وہ
سی قربانی سمجھتے تھے۔ سلطان صالح الدین ایوبی جس اندازسے
ِ
بڑی سے بڑی فوج کو بھی بے بس کردیتی تھی۔ شوبک اور کرک کے میدان میں بھی اس نے اسی جنگی دانشمندی کامظاہرہ
کیا تھا۔ صلیبیوں نے اس کا جائزہ لیا ،اپنی فوج کی جسمانی اور جذباتی کیفیت دیکھی تو انہوں نے براہ راست حملے کا
خیال چھوڑ دیا اور کوئی دوسرا ڈھونگ لیا ،لیکن اس ڈھنگ کے متعلق بھی انہیں شک تھا۔ اس کاعالج انہوں نے یہ کیا کہ
مصر میں بغاوت بھڑکانے اور سوڈانیوں کو مصر پر حملہ کرنے پر اُکسانے کا اہتمام کرلیا۔
مصر کے نائب ناظم امور شہری مصلح الدین کی طرف سے انہیں اُمید افزا رپورٹیں مل رہی تھیں ،وہاں ابھی یہ اطالع نہیں
پہنچی تھی کہ مصر کا ناظم خضرالحیات قتل ہوگیا ہے اور مصلح الدین پکڑا گیا ہے۔ کرک تک یہ اطالع پہنچنے کے لیے کم
از کم پندرہ دن درکار تھے ،کیونکہ راستے میں سلطان صالح الدین کی فوج تھی۔ قاصد بہت ُدور کا چکر کاٹ کر اور قدم
پھونک پھونک کر کر ک جاسکتے تھے۔ بہت دنوں کا چال ہواایک قاصد اُس رات وہاں پہنچا ،جس رات فاطمہ اغوا ہوئی
تھی۔ ا ُس نے رپورٹ دی کہ بغاوت کے لیے فضا سازگار ہے ،لیکن سوڈانی ابھی حملے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے ہاں
گھوڑوں کی کمی ہے ،ان کے پاس اونٹ زیادہ ہیں۔ انہیں کم و بیش پانچ سو اچھے گھوڑوں کی ضرورت ہے۔ اتنی ہی زینیں
درکار ہیں۔ فرانسیسی فوج کے کمانڈر نے کہا کہ پانچ سو گھوڑے فورا ً روانہ کر دئیے جائیں اور ان کے ساتھ صلیبی فوج کے
پانچ سات افسروں کو بھی بھیج دیا جائے جو سوڈانیوں کی جنگی اہلیت اور کیفیت کا جائزہ لے کرحملہ کرائیں۔
صلیبیوں کے پاس گھوڑوں کی کمی تھی ۔ انہوں نے کرک میں اعالن کردیاکہ مصر پر حملے کے لیے پانچ سو گھوڑوں کی
فوری ضرورت ہے۔ عیسائی باشندوں نے تین دنوں میں گھوڑے مہیا کردئیے جو ایسے راستے سے روانہ کر دئیے گئے ،جس کے
متعلق یقین تھا کہ پکڑے نہیں جائیں گے۔ اس کا راہنما وہی جاسوس تھا جو گھوڑے مانگنے آیاتھا۔ وہ سوڈانی تھا اور تین
سال سے جاسوسی کر رہا تھا۔ ان گھوڑوں کے ساتھ آٹھ صلیبی فوج کے افسر تھے ،جنہیں سوڈانی حملے کی قیادت کرنی
تھی۔ انہیں یقین دالیا گیاتھا کہ صالح الدین ایوبی کی فوج کویہاں سے نکلنے نہیں دیاجائے گا…… سلطان صالح الدین ایوبی کو
صرف یہ معلوم تھا کہ مصر کے حاالت ٹھیک نہیں ،لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ حاالت آتش فشاں پہاڑ بن چکے ہیں
جو پھٹنے واال ہے۔ علی بن سفیان نے اسے یہ تسلی دے رکھی تھی کہ اُس نے جاسوسی کا جو جال بچھایا ہے ،وہ خطروں
سے قبل از وقت خبردار کردے گا۔ انہیں خضرالحیات کے قتل اور مصلح الدین کی گرفتاری کا بھی علم نہیں تھا۔ غیاث بلبیس
کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ سلطان صالح الدین ایوبی کو اطالع بجھوادے ،لیکن اُس نے یہ کہہ کر اس مشورے پر عمل نہیں
کیا تھا کہ تفتیش مکمل کرکے اصل صورت حال سے سلطان ایوبی کو آگاہ کرے گا۔
فاطمہ کو گشتی دستے کے کمانڈر نے رات الگ خیمے میں رکھا۔ سحر کا ُدھندلگا ابھی صاف نہیں ہوا تھا۔ اب اُسے اور تینوں
نقاب پوشوں کو آٹھ محافظوں کے ساتھ قاہرہ کے لیے روانہ کر دیا گیا۔ یہ قافلہ سورج غروب ہونے کے بعد قاہرہ پہنچا اور
سیدھا کوتوالی گیا۔ غیاث بلبیس اس واردات کی تفتیش میں مصروف تھا۔ اُس وقت وہ تہہ خانے میں تھا۔ اُس نے مصلح الدین
کے گھر کی تالشی لی اور وہاں سے ا ُس کی داشتہ کو برآمد کیاتھا۔ وہ اپنے آپ کو ازبک مسلمان بتاتی تھی۔ اُس نے بلبیس
کو گمراہ کرنے کی بہت کوشش کی۔ اس کے جواب میں بلبیس نے اُسے اُس کوٹھری کی جھلک دکھائی ،جہاں بڑے بڑے
سخت جان مرد بھی سینے کے راز ا ُگل دیا کرتے تھے۔ لڑکی نے اعتراف کرلیا کہ وہ یروشلم سے آئی ہے اورعیسائی ہے۔ اُس
نے اعتراف کے ساتھ بلبیس کو اپنے جسم اوردولت کے اللچ دینے شروع کردئیے۔ بلبیس نے مصلح الدین کے گھرکی تالشی میں
جو دولت برآمد کی تھی ،اس نے ا ُس کا دماغ ہال دیا تھا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ مصلح الدین کیوں صلیبیوں کے جال میں
پھنس گیا تھا۔ خود لڑکی اس قدر پر کشش اورچرب زبان تھی کہ اُسے ٹھکرانے کے لیے پتھر دل کی ضرورت تھی۔
بلبیس نے اپنا ایمان ٹھکانے رکھا۔ ا ُس نے دیکھ لیا تھا کہ یہ تو کوئی بہت بڑی سازش تھی جس کی کڑیاں یروشلم سے جا
ملتی ہیں۔ ا ُس نے لڑکی سے کہاکہ وہ ہر ایک بات بتا دے۔ لڑکی نے جواب میں کہا …… ''میں جو کچھ بتا سکتی تھی ،
بتا دیا ہے۔ اس سے آگے کچھ بتائوں گی تو یہ صلیب کے ساتھ دھوکا ہوگا۔ میں صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلف اُٹھا چکی ہوں
کہ اپنے فرض کی ادائیگی میں جان دے دوں گی۔ میرے سا تھ جو سلوک کرنا چاہو کرلو ،کچھ نہیں بتائوں گی۔ اگر مجھے
آزاد کرکے یروشلم یاکرک پہنچا دو گے تو منہ مانگی دولت تمہارے قدموں میں رکھ دی جائے گی۔ مصلح الدین تمہاری قید میں
ہے۔ اس سے پوچھ لو ،وہ تمہارا بھائی ہے۔ شاید کچھ بتا دے''۔
بلبیس نے ا ُس سے مزید کچھ بھی نہ پوچھا۔ وہ مصلح الدین کے پاس چال گیا۔ مصلح الدین بڑی بری حالت میں تھا۔ اسے
چھت کے ساتھ اس طرح لٹکایا گیا تھا کہ رسہ کالئیوں سے بندھا تھا اوراس کے پائوں فرش سے اوپر تھے۔ بلبیس نے جاتے
ہی ا ُس سے پوچھا …… ''مصلح دوست! جو پوچھتا ہوں ،بتادو۔ تمہاری بیوی کہاں ہے؟ اور اسے کس نے اغوا کرایا ہے؟
اب تمہیں کچھ اور باتیں بھی بتانی پڑیں گی۔ تمہاری داشتہ اپنے آپ کو بے نقاب کرچکی ہے''۔
کھول دے مجھے ذلیل انسان!''…… مصلح الدین نے غصے اور درد سے دانت پیس کر کہا …… ''امیر مصر کو آنے دے۔ ''
میں تیرا یہی حشر کراوں گا''۔
اتنے میں بلبیس کے ایک اہل کار نے آکر اس کے کان میں کچھ کہا۔ حیرت سے اُس کی آنکھیں ٹھہر گئیں۔ وہ دوڑتا ہوا تہ
خانے سے نکال اور اوپر چال گیا۔ وہاں مصلح الدین کی بیوی اور اُسے اغوا کرنے والے تین آدمی بیٹھے تھے۔ فاطمہ نے اُسے
بتایا کہ وہ کس طرح اغوا ہوئی اور تینوں کس طرح پکڑے گئے ہیں۔ بلبیس فاطمہ اور تین مجرموں کو تہ خانے میں لے گیااور
مصلح الدین کے سامنے جا کھڑا کیا۔ مصلح الدین نے انہیں دیکھا اور آنکھیں بند کرلیں۔ بلبیس نے پوچھا …… ''ان تینوں میں
سے قاتل کون ہے؟''…… مصلح الدین خاموش رہا۔ بلبیس نے تین دفعہ پوچھا۔ وہ پھربھی خاموش رہا۔ بلبیس نے تہ خانے کے
ایک آدمی کواشارہ کیا۔ وہ آدمی آگے گیا اور مصلح الدین کی کمر کے گرد بازو ڈال کراس کے ساتھ لٹک گیا۔ اس آدمی کاوزن
مصلح الدین کی کالئیاں کاٹنے لگا جو رسے سے بندھے ہوئی تھیں۔ اُس نے درد سے چیختے ہوئے کہا …… ''درمیان واال''۔
بلبیس تینوں کو الگ لے گیا اور انہیں کہا کہ وہ بتادیں کہ وہ کون ہیں اور یہ سارا سلسلہ کیا ہے ،ورنہ یہاں سے زندہ نہیں
نکل سکیں گے۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور بولنے پر رضا مند ہوگئے۔ بلبیس نے انہیں الگ الگ کر دیا اور فاطمہ کو
اوپر لے گیا۔ فاطمہ نے اُسے وہی بات سنائی جو سنائی جا چکی ہے۔ اُس نے اپنے متعلق یہ بتایا کہ اس کی ماں سوڈانی
اورباپ مصر ی ہے۔ تین سال گزرے ،وہ اپنے باپ کے ساتھ مصر آئی۔ مصلح الدین نے اُسے دیکھ لیا اور اس کے باپ کے
پاس آدمی بھیجے۔ اسے یہ معلوم نہیں کہ رقم کتنی طے ہوئی۔ اب اسے مصلح الدین کے گھر چھوڑا گیا اور ایک تھیلی لے
کر چال گیا۔ مصلح الدین نے ایک عالم اور چند ایک آدمیوں کو بال کرباقاعدہ نکاح پڑھوایا اور وہ اس کی بیوی بن گئی۔ اُسے
شک تھاکہ باپ اُسے یہاں بیچنے کے لیے ہی الیاتھا۔ مصلح الدین کے خالف اُسے کبھی بھی شک نہیں ہوا تھا کہ وہ اتنا برا
آدمی ہے۔ وہ شراب نہیں پیتا تھا۔ اس کی باہر کی سرگرمیوں کے متعلق فاطمہ کو کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔
صالح الدین ایوبی نے شوبک کی طرف کوچ کیا تواس کے فورا ً بعد مصلح الدین میں ایک تبدیلی آئی ۔ وہ رات بہت دیر تک
باہر رہنے لگا۔ ایک رات فاطمہ نے دیکھا کہ وہ شراب پی کر آیاہے۔ فاطمہ کا باپ شرابی تھا۔ وہ شراب کی بواور شرابی کو
پہچان سکتی تھی ۔ ا ُس نے مصلح الدین کی محبت کی خاطر یہ بھی برداشت کیا۔ پھر گھر میں رات کے وقت اجنبی سے
آدمی آنے لگے۔
٭ ٭ ٭
داستان ایمان فروشوں کی 19:39
قسط نمبر41.۔
"قاھرہ میں بغاوت اورسلطان ایوبی "
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پھر گھر میں رات کے وقت اجنبی سے آدمی آنے لگے۔ مصلح الدین نے ایک رات فاطمہ کو اشرفیوں کی دو تھیلیاں اور سونے
کے چند ایک ٹکڑے دکھا کر گھرمیں رکھ لیے اور ایک رات جب وہ شراب میں بدمست ہو کر آیا تو اُس نے فاطمہ سے کہا
…… ''اگر مصر کا شمالی عالقہ جو بحیرئہ روم کے ساحل کے ساتھ ملتا ہے ،مجھے مل جائے تو تم پسند کروگی یا سوڈان
کی سرحد کے ساتھ کا عالقہ؟ تم جو پسند کرو اس کی تم ملکہ ہوگی اور میں بادشاہ''…… فاطمہ اتنے اونچے دماغ کی لڑکی
نہیں تھی کہ اس سلسلے میں اس کے کچھ پوچھتی۔ وہ سمجھی کہ اس کا خاوند زیادہ شراب پی کر بہک گیاہے۔ ہوش میں
وہ ایسی باتیں نہیں کرتا تھا ،پھر ایک روز ایک بڑی حسین لڑکی اس کے گھر الئی گئی۔ ساتھ دو آدمی تھے ۔ یہ لڑکی اس
کے گھر میں ہی رہی۔ نکاح نہیں پڑھایا گیا۔ اس لڑکی نے فاطمہ کو دوست بنانے کی بہت کوشش کی ،لیکن اُسے اس لڑکی
سے نفرت ہوگئی۔ اس لڑکی نے اُس سے ا ُس کا خاوند چھین لیا۔ اس کے بعد خضرالحیات کے قتل کا واقعہ ہوا۔
تینوں نقاب پوشوں نے بلبیس کو غلط باتیں بتانے کی کوشش کی ،لیکن بلبیس انہیں راستے پر لے آیا۔ تینوں نے الگ الگ جو
بیان دئیے ،ان سے یہ انکشاف ہوا کہ تینوں حشیشین کے گروہ کے آدمی ہیں۔ انہیں صلیبیوں کی طرف سے مصلح الدین کے
ساتھ لگایا گیا تھا۔ مصلح الدین کو بے شمار دولت ،ایک عیسائی لڑکی دی گئی تھی اور یہ وعدہ کہ صالح الدین ایوبی کے
خالف بغاوت کامیاب کرادے تو مصر کی سرحد کے ساتھ اسے ایک الگ ریاست بناکردی جائے گی ،جس کی حکمرانی اس کے
اعلی حکام کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کردیا تھا،
ہاتھ میں اور اس عیسائی لڑکی کے ہاتھ میں ہوگی۔ مصلح الدین نے
ٰ
مگرخضرالحیات اس کے ہاتھ میں نہیں آرہاتھا۔ مالیات اور بیت المال پر قبضہ ضروری تھا جو خضرالحیات کی موجودگی میں
ممکن نہ تھا۔ خزانے کا محافظ دستہ جانبازوں کا منتخب گروہ تھا۔ مصلح الدین خضرالحیات کو قتل کروا کے اس دستے کو
تبدیل کرانا چاہتاتھا۔ اس میں باغی افراد رکھنے تھے اور دو حشیشین ۔ ان تینوں کے ذمے ہر اُس حاکم کا قتل تھا جس کا
فیصلہ مصلح الدین کو کرنا تھا۔ انہیں اس کا م کی اُجرت صلیبیوں کی طرف سے باقاعدہ مل رہی تھی۔ وہ چونکہ یہ کام
کاروبار اور پیشے کے طور پر کرتے ہیں ،اس لیے فالتواُجرت لینے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے مصلح الدین
سے پچاس اشرفیاں اور سونا الگ مانگا جو اُس نے خضرالحیات کے قتل کے بعد انہیں نہیں دیا۔ اُس نے کہا تھا کہ تمہیں
پوری ا ُجرت مل رہی ہے۔انہوں نے اسے قتل کی دھمکی دی تو اس نے انہیں اپنی بیوی پیش کی اورکہا کہ تمہیں اس کی
اچھی قیمت مل جائے گی۔ فاطمہ اس کے ساتھ تعاون نہیں کررہی تھی۔
مصلح الدین ابھی تک چھت کے ساتھ لٹکاہوا تھا۔ اُسے بیان لینے کے لیے اُتارا گیا تو وہ بے ہوش ہوچکا تھا۔ جاسوس لڑکی
کی کوٹھڑی میں گئے تو وہ مری پڑ ی تھی۔ اُس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی ۔ طبیبوں نے آکر دیکھا اورکہا کہ اس نے
زہر کھا لیاہے۔ اس کے پاس چھوٹا سا ایک کپڑا پڑا ہوا تھا ،صاف پتا چلتا تھا کہ اس میں زہر بندھان ہواتھا جو لڑکی نے
اپنے کپڑوں میں کہیں چھپا رکھا تھا…… بہت دیر بعد مصلح الدین ہوش میں آیا ،لیکن وہ بہکی بہکی باتیں کرتا تھا۔ بولتے
بولتے چپ ہوجاتا اور پھٹی پھٹی نظروں سے سب کو دیکھنے لگتا۔ پھر بے معنی باتیں شروع کردیتا۔ طبیبوں نے اسے دوائیاں
کھالئیں ،لیکن اس کا دماغ اذیت اور پکڑے جانے کے صدمے سے بگڑ گیا تھا۔
ا ُسی رات غیاث بلبیس کے پاس ایک معزز شخصیت آئی۔ اس کانام زین الدین علی بن نجاالواعظ تھا۔ اس نے بلبیس سے کہا
کہ ا ُسے پتا چال ہے کہ کچھ جاسوس اور تخریب کار پکڑے گئے ہیں اور وہ بھی کچھ انکشاف کرنا چاہتا ہے۔زین الدین مذہب،
سیاست اور معاشرت کے میدان کا بزرگ قائد تھا۔ وہ پیرومرشد تو نہیں تھا لیکن بڑے بڑے حاکم بھی اس کے مرید تھے۔
چھوٹے سے چھوٹا آدمی بھی اسے پیروں کی طرح مانتا تھا۔ ا ُسے حاکموں اور معاشرت میں اونچی حیثیت کے دو چار افراد
سے پتا چال تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی اور اس کی فوج کی غیر حاضری سے دشمن فائدہ اُٹھا رہا ہے اور ایسی
چابکدستی سے سازش اور بغاوت کا زہر پھیال رہا ہے کہ کسی کو پکڑنا آسان نہیں۔ زین الدین نے غیاث بلبیس اور علی بن
سفیان کے نائب حسن بن عبداللہ کو بتانے کی بجائے اپنے طور پر اس تخریب کاری کی جاسوسی شروع کردی تھی۔ فوج کے
چھوٹے بڑے افسر بھی اس کی محفل میں آتے تھے۔ اُس نے ان سے بہت سی باتیں معلوم کرلی تھیں اور متعدد زمہ دار
افراد کے نام اور ان کی سرگرمیاں بھی معلوم کر لی تھیں۔ اُس نے دراصل ذاتی طور پر تخریب کاروں کے خالف اپنا ایک
گروہ تیا ر کر لیا تھا ،جس نے نہایت نازک راز حاصل کر لیے تھے۔
ایک مصری وقائع نگار محمد فرید ابو حدید نے اپنی تصنیف ''سلطان صالح الدین ایوبی'' میں سازش اور بغاوت کے انکشاف
کا سہرا زیان الدین علی کے سر باندھا ہے اور تین چار مؤرخین کے حوالے دئیے ہیں ،لیکن اُس دور کی جو تحریریں محفوظ
ہیں ،ان سے پتا چلتا ہے کہ محکمہ مالیات کے ناظم کے قتل سے صلیبیوں کی یہ سازش بے نقاب ہوئی تھی ،جس کے آلہ
کار وہ مسلمان تھے جن پر سلطان صالح الدین ایوبی کو اعتماد تھا۔ بہرحال اس بزرگ شخصیت کی ذاتی کاوش اور اس کا
خراج تحسین پیش کیاہے۔ اس نے بلبیس
جو حاصل تھا ،وہ قومی سطح کا ایسا کارنامہ تھا جسے مؤرخین نے بجا طور پر
ِ
سے کہا کہ وہ ابھی کچھ دن اور اپنی جاسوسی جاری رکھنا چاہتاتھا تاکہ ہر ایک سازشی کی نشاندہی ہوجائے،لیکن ان تخریب
کاروں کی گرفتاری کی خبر شہر میں مشہور ہوگئی ہے ،جس سے ان کے ساتھی روپوش ہوجائیں گے۔ اُس نے نام اور پتے
وغیرہ بتا دئیے۔ اپنے آدمی بھی بلبیس کے حوالے کر دئیے۔ حسن بن عبد اللہ کو بال لیا گیا۔
حسن اوربلبیس نے فیصلہ کیا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کو فوری طور پر اطالع دے دی جائے۔ اس کے لیے زین الدین کو
ہی منتخب کیا گیا اور اُسی روز ا ُسے بارہ سواروں کے محافظ دستے کے ساتھ شوبک روانہ کردیا گیا۔
تیسری شام یہ قافلہ شوبک پہنچ گیا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے جب زین الدین کو دیکھا تو حیران بھی ہوا اور خوش بھی
۔ وہ اس شخصیت سے واقف تھا۔ بغل گیر ہو کر مال۔ زین الدین نے کہا …… ''میں کوئی اچھی خبر نہیں الیا۔ ناظم مالیات
خضرالحیات قتل ہوچکا ہے اور اس کا قاتل آپ کا نائب مصلح الدین کوتوالی پاگل ہوگیا ہے''…… سلطان کا رنگ پیال پڑ
گیا۔ زین الدین نے اُسے تسلی دی اور تفصیالت بتائیں۔ اُس فوج کے متعلق جو مصر میں تھی ،اُس نے بتایا کہ اس میں بے
اطمینانی پھیالدی گئی ہے۔ اس قسم کی افواہیں پھیالئی گئی ہیں کہ شوبک کو سر کرنے والی فوج کو سونے چاندی سے ماال
مال کردیا گیا ہے اور اسے عیسائی لڑکیاں بھی دی گئی ہیں۔ مصر والی فوج میں یہ دہشت بھی پیدا کردی گئی ہے کہ
سوڈانیوں کا بہت بڑا لشکر مصر پر حملہ کرنے واال ہے ،جسے مصر کی یہ تھوڑی سی فوج نہیں روک سکے گی۔ اس فوج کے
ہر ایک سپاہی کو قتل کردیا جائے گا اور صالح الدین ایوبی چاہتا ہی یہی ہے کہ یہ فوج قتل ہوجائے۔ اس کے عالوہ یہ افواہ
بھی پھالئی گئی ہے کہ سلطان صالح الدین ایوبی محاذ پر شدید زخمی ہوگیا ہے ،شاید زندہ نہیں رہے گا۔ اس کے کمانڈر
وہاں من مانی کر رہے ہیں۔ زین الدین نے تایا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے زخمی ہونے کی خبر پر یقین کر لیا گیاہے ۔
اسی لے مصلح الدین جیسے حاکم مصر کو صلیبیوں کی مدد سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنے اور اپنی اپنی خود
مختار ریاستوں کے قیام کے انتظامات کر رہے ہیں۔
سلطان ایوبی نے وقت ضائع کیے بغیر برق رفتار قاصد بالیا اور نورالدین زنگی کے نام ایک پیغام میں مصر کے یہ سارے حاالت
لکھے اور اس سے فوجی مدد مانگی۔ ا ُس نے لکھا کہ میں یہاں رہتا ہوں تو مصر ہاتھ سے جاتا ہے ،چال جاتا ہوں تو شوبک
کی فتح شکست میں بدل جائے گی۔ لیا ہوا عالقہ کسی قیمت پرواپس نہیں دیا جائے گا۔ میں ابھی فیصلہ نہیں کر سکا کہ
یہاں رہوں یا مصر چال جائوں …… اُس نے قاصد سے کہا کہ وہ ِد ن اوررات گھوڑا بھگاتا رہے۔ گھوڑا تھک جائے تو جو کوئی
سوار سامنے آئے ،اس سے گھوڑا بدل لے۔ کوئی انکار کرے تواُسے قتل کردے۔ رفتار کم نہ ہو اور اُسے یہ ہدایت بھی دی کہ
اگر وہ دشمن کے گھیرے میں آجائے تو نکلنے کی کوشش کرے اور اگر پکڑا جائے تو پیغام منہ میں ڈال کر نگل لے ۔ دشمن
کے ہاتھ پیغام نہ لگے۔ قاصد روانہ ہوگیا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے ایسا ہی ایک اور قاصد بالیا اور اُسے اپنے بھائی تقی
الدین کے نام پیغام لکھ کر ا ُسے وہی ہدایات دیں جو پہلے قاصد کو دی تھیں۔ اس پیغام میں اُس نے بھائی کو لکھا کہ
تمہارے پاس جوکچھ بھی ہے ،جتنے لڑاکا آدمی اکھٹے کر سکتے ہو ،گھوڑوں پر سوار ہوجائو اور قاہرہ پہنچو۔ راستے میں بال
ضرورت ُر کنا نہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ میں تمہیں کہاں ملوں گا۔ ملوں گا بھی یا نہیں۔ اگر قاہرہ میں ہماری مالقات نہ ہو
ِ
اماررت مصر سنبھال لینا۔ مصر بغداد کی خالفت کی مملکت ہے اور خدائے ذوالجالل نے اس
سکی اور اگر میں زندہ نہ رہا تو
مملکت کی ذمہ داری ایوبی خاندان کو سونپی ہے۔ روانگی سے قبل قبلہ والد محترم )نجم الدین ایوب( کے آگے جھکنا
اورانہیں کہنا کہ وہ تمہاری پیٹھ پر ہاتھ پھیریں ،پھر محترمہ والدہ کی قبر پر فاتحہ پڑھ کر اُن کی روح سے دعائیں لے کر
آنا۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ میں جہاں ہوں ،وہاں اسالم کا پرچم سرنگوں نہیں ہوگا۔ تم مصر میں اس پرچم کو سر بلند رکھو۔
یہ قاصد بھی روانہ ہوگیا۔
ان دونوں میں سے جو قاصد نورالدین زندگی کے پاس پہنچا ،اس کی جسمانی حالت یہ تھی کہ اس کا بایاں بازو تلواروں کے
زخموں سے قیمہ بنا ہوا تھااور اس کی پیٹھ میں ایک تیر ا ُترا ہوا تھا۔ وہ زنگی کے قدموں میں گرا۔ اتنا ہی کہہ سکا کہ
راستے میں دشمن مل گیا تھا ۔ اس حال میں پیغام لے کے نکال ہوں۔
ا ُس نے پیغام زنگی کے ہاتھ میں دیا اور شہید ہوگیا۔ نورالدین زنگی کی فوج جب شوبک کے قریب پہنچی تو قلعے اور شہر
میں اعالن ہوگیا کہ صلیبیوں کا بہت بڑا حملہ آرہا ہے۔ گرد آسمان تک جارہی تھی۔ پتا نہیں چلتا تھا کہ گرد میں کیا
ہے،امکان یہی ہے کہ یہ صلیبی فوج ہے۔ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر شوبک کی فوج مقابلے کے لیے تیار ہوگئی ،لیکن گرد میں
جو جھنڈے نظر آئے۔ وہ اسالمی تھے ،پھر گرد میں تکبیر کے نعرے سنائی دئیے۔قلعے سے سلطان صالح الدین ایوبی کے نائبین
استقبال کے لیے آگے چلے گئے۔
٭ ٭ ٭
تین چار روز بعد صبح سویرے قاہرہ میں جو فوج تھی ا ُسے میدان میں جمع ہونے کا حکم مال۔ فوجی چہ میگوئیاں کرنے لگے
کہ انہیں تیاری کا حکم مال ہے۔ بعض نے کہا کہ بغاوت ہوگی۔ کسی نے کہا کہ سوڈانیوں کا حملہ آرہا ہے ۔ ان کے کمانڈروں
تک کو علم نہیں تھا کہ اس اجتماع کا مقصد کیا ہے؟یہ حکم فوج کی مرکزی کمان سے جاری ہوا تھا…… جب تمام فوج اپنی
ترتیب سے میدان میں آگئی تو ایک طرف سے چھ سات گھوڑے دوڑتے آئے۔ سب دیکھ کر حیران رہ گئے کہ سب سے آگے
صالح الدین ایوبی تھا۔سب جانتے تھے کہ وہ شوبک میں ہے۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے ایک عجیب حرکت کی۔ اُس نے
تہ بند کے سوا تمام کپڑے ا ُتار کر پھینک دئیے۔ سر بھی ننگا کر دیا اور فوج کی تمام صفوں کے سامنے سے گھوڑا ُدلکی چال
چالتا گزرگیا۔ پھر سامنے آکر بلندآواز سے کہا …… ''میرے جسم پر کسی نے کوئی زخم دیکھا ہے؟ کیا میں زندہ ہوں یا
''مردہ؟
امیر مصر کا اقبال بلندہو''…… ایک شترسوار نے کہا…… ''ہمیں بتایا گیا تھا کہ آپ زخمی ہیں او جانبر نہیں ہوسکیں ''
گے''۔
اگر یہ خبر جھوٹی ہے تو وہ افواہیں بھی جھوٹی ہیں جو تمہارے کانوں میں ڈالی گئی ہیں''…… سلطان صالح الدین ایوبی''
نے اتنی بلند آواز سے کہا کہ آخری صف تک اس کی آواز پہنچتی تھی۔ اُس نے کہا …… ''جن مجاہدین کے متعلق تمہیں
بتایا گیاہے کہ وہاں سونا اور چاندی لوٹ رہے ہیں اور عیسائی لڑکیوں کے ساتھ عیش کر رہے ہیں۔ وہ ریگستان میں اگلہ قلعہ
اور اس کے اگال قلعہ اور اس سے اگال قلعہ سرکرنے کی تیاریوں میں پاگل ہو رہے ہیں ۔ وہ کیوں بھوکے پیاسے مررہے ہیں ؟
صرف اس لیے کہ تمہاری مائوں ،بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتوں کو صلیبی درندوں سے بچا سکیں۔ شوبک میں ہم نے مسلمان
بچیوں اوران کی مائوں اور ان کے باپوں کا یہ حال دیکھا ہے کہ بچیاں عیسائیوں کے پاس اور ان کی مائیں اور اُن کے باپ
عیسائیوں کی بیگار کر کرکے مر رہے تھے۔ اب کرک ،یروشلم اور فلسطین کی ہر بستی میں جو عیسائیوں کے قبضے میں ہے۔
،مسلمانوں کایہی حال ہو رہا ہے۔ مسجدیں اصطبل بنا دی گئی ہیں اور قرآن کے مقدس ورق گلیوں میں عیسائیوں کے قدموں
تلے مسلے جا رہے ہیں''۔
یہ تقریر اتنی جوشیلی اور سنسنی خیز تھی کہ ایک کمان دار نے چال کر کہا …… ''پھر ہم یہاں کیاکر رہے ہیں ؟ ہمیں
''بھی محاذ پر کیوں نہیں لے جایا جاتا؟
تمہیں یہاں اس لیے بٹھایا گیا ہے کہ دشمن کی پھیالئی ہوئی افواہیں سنو اور ان پریقین کرو''۔ سلطان صالح الدین ایوبی''
نے کہا …… '' تم یہاں اپنے پرچم کے تلے بغاوت کرو ،تاکہ سوڈانیوں کے ساتھ صلیبی اس سرزمین پر قبضہ کرلیں اور تمہاری
بیٹیوں کی عصمت دری کریں۔ تم قرآن کے ورق اپنے ہاتھوں باہر کیوں نہیں بکھیر دیتے؟ کیا تم قرآن کی توہین صلیبیوں سے
کرانا چاہتے ہو؟ تم جو اپنے ایمان کی حفاظت نہیں کرسکتے ،قوم کی آبرو کی کیا حفاظت کیا کرو گے''…… تمام فوج میں
ہلچل سی پیدا ہوگئی۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا …… ''تمہیں چند ایک کمان دارنظر نہیں آرہے۔ وہ میں تمہیں دکھاتا
ہوں''۔
ا ُس نے اشارہ کیا تو ایک طرف سے دس گیارہ آدمی گردنوں میں رسیاں پڑی ہوئی اور ہاتھ پیٹھ پیچھے بندھے ہوئے ،آگے الئے
گئے۔ انہیں صفوں کے آگے سے گزارا گیا ۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اعالن کیا …… ''یہ تمہارے کماندار تھے ،لیکن یہ
ا ُس قوم کے دوست ہیں جو تمہارے رسول ۖ اور تمہارے قرآن کی دشمن ہے۔ یہ پکڑے گئے ہیں ''…… سلطان صالح الدین
ایوبی نے فوج کو خضرالحیات کے قتل اور مصلح الدین کی گرفتاری کا پورا واقعہ سنایا اور مصلح الدین کو سامنے الیا گیا۔ وہ
ابھی تک پاگل پن کی حالت میں تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی گزشتہ رات کوتوالی کے تہہ خانے میں اُسے دیکھ آیا تھا۔
ا ُس نے سلطان صالح الدین ایوبی کو نہیں پہچانا تھا۔ وہ اپنی ریاست اور خود مختارحکمرانی کی باتیں کر رہا تھا۔ اب سلطان
صالح الدین ایوبی نے ا ُسے گھوڑے پر بٹھا کر فوج کے سامنے کھڑا کردیا۔ اس نے فوج کو دیکھا اور بلند آواز سے بوال ……
'' یہ میری فوج ہے ۔ مصر کی حکومت کے خالف بغاوت کردو۔ میں تمہارا بادشاہ ہوں۔ صالح الدین ایوبی مصر کادشمن ہے۔
تم اُسے قتل کردو''۔
وہ بولے جا رہا تھا ۔ ا ُس کے منہ سے پاگل پن کی جھاگ نکل رہی تھی۔ فوج کی صفوں سے ''پنگ'' کی آواز آئی اور
ایک تیر مصلح الدین کی شہہ رگ میں اُتر گیا۔ وہ گر رہا تھا ،جب کئی اور تیراس کے جسم میں اُتر گئے۔ سلطان صالح
الدین ایوبی نے چال کر تیر اندازوں کو روکا۔ کمان داروں نے تیر چالنے والوں کو آگے آنے کو کہا۔ اُن میں سے ایک نے کہا
…… ''ہم نے غدار کو مارا ہے۔ اگر یہ قتل ہے تو گردنیں حاضر ہیں''…… سلطان صالح الدین ایوبی نے انہیں معاف کردیا۔
اُس کے جسم پر ابھی تک صرف تہ بند تھا۔ باقی جسم ننگا تھا۔ اُس نے جالد کو وہیں بالیا اور ان غداروں کو جنہیں فوج
کے سامنے الیا گیا تھا ،جالد کے حوالے کرکے اُن کے سر جسموں سے الگ کرادئیے۔
اُس نے ایک اور حکم دے کر سب کو حیران کر دیا ۔ اُس نے حکم دیاکہ یہ فوج یہیں سے محاذ کو کوچ کرے گی۔ تمہارا
ذاتی اور دیگر سازوسامان اور رسد تمہارے پیچھے آئے گی …… فوج کوچ کر گئی جس کا مطلب یہ تھا کہ مصر فوج کے بغیر
رہے گا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے غداروں کے کٹے ہوئے سر دیکھے ۔ وہ کسی سے کوئی بات کرنے لگا تو اسے ہچکی
سی آئی اور اس کے آنسو بہہ نکلے ۔ ا ُس نے کپڑے پہنے اور ایک سمت چل پڑا۔ اس نے اپنے ساتھ کے حکام سے کہا ……
''مجھے خطرہ یہ نظر آرہا ہے کہ دشمن ملت اسالمیہ میں اسی طرح غدار پیدا کرتارہے گا اور وہ ِدن آجائے گا ،جب
غداروں کی گردنیں مارنے والے بھی دشمن کو دوست کہنے لگیں گے۔ میرے دوستو! اسالم کو سر بلند دیکھنا چاہتے تو دوست
اور دشمن کو پہچانو''۔
مصرکے جن حاکموں کو معلوم نہیں تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی نے فوج کو کیوں کوچ کرادیا ہے ،انہیں اُس نے بتایا کہ
یہ فوج یہاں فارغ بیٹھی تھی ۔میں یہ حکم دے گیا تھا کہ اسے فارغ نہ رہنے دیاجائے۔ جنگی مشقین جاری رہیں اور شہر
سے ُدور لے جاکر اس فوج کو وقتا ً فوقتا ً جنگی حالت میں رکھا جائے اور ذہنی تربیت بھی جاری رہے ،مگر میرے حکم پر
عمل نہیں کیا گیا۔ میں نے دو ذمہ دار حاکموں کو سزائے موت دے دی ہے۔ انہوں نے ایک سازش کے تحت فوج کو فارغ
رکھا۔سپاہی جوئے اور نشے سے دل بہالنے لگے اور ان کے ذہن افواہوں کو قبول کرنے لگے۔ تم شاید سوچ رہے ہو کہ مصرمیں
فوج نہیں رہی ۔ گھبرائو نہیں۔ فوج آرہی ہے ،جس فوج نے شوبک فتح کیا ہے ،وہ قاہرہ میں داخل ہو چکی ہے۔ اُس نے
میرے پیچھے پیچھے کوچ کیا تھا۔ وہ فوج دشمن کو اور دشمن کے گناہوں کو بہت قریب سے دیکھ کر آئی ہے۔ اسے کوئی
باغی نہیں کر سکتا۔ اس کے سپاہی شہیدوں کو دھوکہ نہیں دیں گے اور یہ فوج جو یہاں سے جارہی ہے ۔ یہ کرک پر حملہ
کرے گی یا دشمن اس پر حملہ کرے گا۔ پھر یہ بھی دشمن کو جان جائے گی ،جو سپاہی ایک بار دشمن کی آنکھوں میں
آنکھیں ڈال کر لڑے ،اُسے کوئی اللچ غداری پر آمادہ نہیں کر سکتا۔
یہ انقالب اس طرح آیا ھتا کہ نورالدین زنگی اور اپنے بھائی تقی الدین کی طرف قاصد بھیج کر سلطان صالح الدین ایوبی
خفیہ طور پرقاہرہ کے لیے روانہ ہوگیا تھا۔ اپنے نائبین کو کمان دے کر اُس نے سخت ہدایت دی تھی کہ اُس کی غیرحاضری
کی کسی کو خبر نہ ہو۔ا ُس نے کہا کہ زنگی مدد ضرور بھیجے گا۔ جونہی اس کی مدد آئے ،اتنی ہی اپنی فوج یہاں سے
قاہرہ بھیج دی جائے ،لیکن راستے میں پڑائو زیادہ نہ کرے۔ اس سے سلطان صالح الدین ایوبی کے دومقاصد تھے۔ ایک یہ کہ
اگر مصر کی فوج باغی ہو گئی تو محاذ سے آنے والی فوج بغاوت فرد کرے گی اور اگر حاالت ٹھیک ہوئے تومصر کی فوج
محاذ پر آجائے گی اور محاذ کی فوج مصر میں رہے گی۔ سلطان صالح الدین ایوبی قاہرہ پہنچا تو اس کی موجودگی خفیہ
رکھی گئی۔ رات ہی رات ا ُس نے زین الدین کی نشاندہی کے مطابق تمام غداروں کوسوتے ہی پکڑوادیا۔ کئی اور جگہوں پر
چھاپے پڑوائے۔ تین حشیشین نے بھی بعض افراد کے نام بتائے تھے۔ انہیں بھی پکڑا گیا ۔ کسی کے عہدے اور ُرتبے کا لحاط
نہ کیا گیا۔
فاطمہ کو سلطان صالح الدین ایوبی کے حکم کے مطابق زین الدین کے حوالے کر دیا گیا اور اُسے کہا گیا کہ کسی موزوں جگہ
اس کی شادی کردی جائے ۔ اب سلطان صالح الدین ایوبی تقی الدین کا انتظار کرنے لگا۔ اُسے تین دن انتظار کرنا پڑا ۔ تقی
الدین کم و بیش دوسو سواروں کے ساتھ آگیا۔ سلطان ایوبی نے اُسے مصر کے حاالت اور واقعات اور آئندہ الئحہ عمل بتا کر
قائم مقام امیر مصر مقرر کر دیا اور یہ اجازت بھی دی کہ وہ سوڈان پر نظر رکھے اور جب ضرورت سمجھے حملہ کردے
یہ ہدایات اور احکامات دے کر سلطان صالح الدین ایوبی شوبک کو روانہ ہونے لگا تو علی بن سفیان جو اُس کے ساتھ آیا تھا
،بوال …… ''کرک کے صلیبیوں نے آپ کے لیے ایک تحفہ بھیجا ہے۔ اگرکچھ دیر اور انتظار کریں تو تحفہ دیکھتے
جائیں''…… علی بن سفیان ،سلطان صالح الدین ایوبی کو حیرت میں چھوڑ کر باہر نکل گیا۔ اس نے سلطان ایوبی کو باہر
چلنے کو کہا۔
سلطان صالح الدین ایوبی گھوڑے پر سوار ہو کرعلی بن سفیان کے ساتھ چال گیا۔ تھوڑی ُدور میدان میں پانچ سو گھوڑے کھڑے
تھے۔ ہر گھوڑے پر زین تھی ۔ ان گھوڑوں سے ذرا پرے سات آٹھ صلیبی رسیوں سے بندھے ہوئے کھڑے تھے اور اپنی فوج کا
ایک سرحدی دستہ بھی مستعد کھڑا تھا۔ سلطان ایوبی نے پوچھا کہ یہ گھوڑے کہاں سے آئے ہیں ؟ علی بن سفیان نے ایک
آدمی کو بال کر سلطان کے سامنے کھڑا کردیا اور کہا …… ''یہ میرا جاسوس ہے۔ یہ تین سال سے صلیبیوں کے لیے جاسوسی
کر رہاہے۔یہ صلیبیوں اور سوڈانیوں کے درمیان رابطے کا کام کرتاہے۔ وہ اسے اپنا جاسوس سمجھتے ہیں ،لیکن یہ میرا جاسوس
ہے۔ یہ کر ک گیا تھا اور صلیبی بادشاہوں کو سوڈانیوں کا یہ پیغام دیا تھا کہ انہیں پانچ سو گھوڑوں اور زینوں کی ضرورت
ہے۔ انہوں نے گھوڑے دے کر اپنے یہ فوجی افسر بھی بھیج دیئے۔ یہ اُس سوڈانی فوج کی قیادت کرنے جارہے تھے ،جسے
مصر پر حملے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ میرا شیر انہیں شمال کی طرف سے گھما کر ایک پھندے میں لے آیا او اپنے اس
سرحدی دستے کوبال لیا ۔ اپنی شناخت بتائی اور یہ دستہ پانچ سو گھوڑوں اور ان صلیبی فوجی افسروں کو قاہرہ ہانک الیا''۔
صلیبی افسروں کو معلومات حاصل کرنے کے لیے علی بن سفیان نے اپنے نایئب حسن بن عبداللہ کے حوالے کردیا اور خود
سلطان کے ساتھ شوبک کو روانہ ھوگیا۔
اسکے ساتھ ھی قاہرہ میں بغاوت اور سلطان ایوبی کا قصہ بھی ختم ھوا۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
داستان ایمان فروشوں کی 19:40
قسط نمبر42.۔
" کھنڈروں کی آواز "
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سازش اور غداری کے مجرموں کا خون قاہرہ کی ریت نے ابھی اپنے اندر جذب نہیں کیا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کا
بھائی تقی الدین ا ُس کے بالوے پر دو سو منتخب سواروں کے ساتھ قاہرہ پہنچ گیا۔ سازش کے مجرموں کی گردنیں کاٹی جا
چکی تھیں اور یوں نظر آتا تھا جیسے قاہرہ کی ریت ان مرے ہوئے مسلمانوں کا خون اپنے اندر جذب کرنے سے گزیز کر رہی
ہے جو صلیبیوں کے ساتھ مل کر سلطنت اسالمیہ کے پرچم کو سرنگوں کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔سلطان صالح
الدین ایوبی نے ان سب کی الشیں دیکھیں۔ ان کے کٹے ہوئے سر ان کے بے جان جسموں کے سینوں پر رکھ دئیے گئے تھے۔
صرف ایک الش تھی جو سب سے بڑے غدار کی تھی اور جس پر سلطان صالح الدین ایوبی کو کلی طور پر اعتماد تھا۔ اس
الش کا سر اس کے ساتھ ہی تھا۔ ایک تیر ا ُس کی شہہ رگ میں داخل ہو کر دوسری طرف نکال ہوا تھا۔ یہ قاہرہ کا نائب
مصلح الدین تھا۔ فوج کے سامنے جب اس کاجرم سنایا جا رہا تھا تو ایک جوشیلے اور محب اسالم سپاہی نے کمان میں تیر
ڈال کر مصلح الدین کی شہہ رگ سے پار کردیا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے سپاہی کی اس غیر قانونی حرکت کو
ڈسپلن کے خالف تھی ،صرف اس لیے نظر انداز کرکے معاف کر دیا تھا کہ کوئی بھی صاحب ایمان اسالم کے خالف غداری
برداشت نہیں کرسکتا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے ہی اپنی فوج میں ایمان کی یہ قوت پیدا کی تھی۔
ان الشوں کو دیکھ کر سلطان ایوبی کے چہرے پر ایسی خوشی کی ہلکی سی بھی جھلک نہیں تھی کہ اُس کی صفوں اور
نظام حکومت میں سے اتنے زیادہ غدار اور سازشی پکڑے گئے اور انہیں سزائے موت دے دی گئی ہے۔ اُس کے چہرے پر
ا ُداسی اور آنکھیں گہری سرخ تھیں ،جیسے وہ آ نسو روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ غصہ تو تھا ہی جس کا اظہار اس نے ان
الفاظ میں کیا …… ''ان میں سے کسی کا جنازہ نہیں پڑھایا جائے گا۔ ان کی الشیں ان کے رشتہ داروں کو نہیں دی جائیں
گی ،تا کہ انہیں کفن بھی نہ پہنائے جائیں۔ رات کے اندھیرے میں انہیں ایک ہی گہرے گڑھے میں پھینک کر مٹی ڈال دو اور
زمین ہموار کر دو۔ اس ُدنیا میں ان کانشان بھی باقی نہ رہے''۔
امیر محترم !'' …… سلطان صالح الدین ایوبی کے ایک رفیق اور معتمد خاص بہائوالدین شداد نے سلطان صالح الدین ایوبی''
سے کہا …… '' کوتوال اور شاہدوں کے بیان اور قاضی کا فیصلہ تحریر میں الکردستاویز میں محفوظ کرلینا ضروری ہیں ،تاکہ یہ
اعتراض نہ رہے کہ یہ فیصلہ صرف ایک فرد کا تھا۔ آپ کا فیصلہ برحق ہے۔ انصاف کر دیا گیا ہے ،مگر قانون کا تقاضا کچھ
اورہے''۔
دین ال ٰہی کی جڑیں کفار کے ساتھ مل کر کاٹنے والے کو یہ حق دیا جائے کہ وہ قانون ''
کیا قرآن نے یہ حکم دیا ہے کہ
ِ
کے سامنے کھڑا ہو کردین داروں سے اللہ و رسول ۖ کی عظمت کے پاسبانوں کو جھوٹا ثابت کرے '' …… سلطان صالح الدین
ایوبی نے ایسے تحمل سے کہا جس میں ایک دین دار مسلمان کا عتاب صاف جھلک رہاتھا۔ اُس نے ان تمام حاکموں کو جو
وہاں موجود تھے ،مخاطب ہو کرکہا …… ''اگر میں نے بے انصافی کی ہے تو مجھے اتنے زیادہ انسانوں کے قتل کے جرم
میں سزائے موت دے دو اور میری الش شہر سے ُد ور پھینک دو ،جہاں صحرائی لومڑیاں اور گدھ میری کوئی ہڈی بھی اس زمین
پر نہ رہنے دیں ،لیکن میرے رفیقو! مجھے سزا دینے سے پہلے قرآن پاک الف الم میم سے والناس پڑھ لینا ،اگر قرآن مجھے
سزا دیتا ہے تو میری گردن حاضر ہے''۔
بے انصافی نہیں ہوئی ساالر اعظم؟''…… کسی اور نے کہا …… ''قاضی شداد کا مقصد یہ ہے کہ قانون کی بے حرمتی نہ ''
ہو''۔
میں سمجھ گیا ہوں''…… سلطان ایوبی نے کہا …… ''ان کا مقصد آئینے کی طرح صاف ہے۔ میں آپ سب کو صرف یہ ''
بتانا چاہتا ہوں کہ حاکم وقت ذاتی طور پرجانتا ہے کہ جسے غداری کے جرم میں سامنے الیاگیا ہے ،وہ غداری کا مجرم ہے
تو حاکم وقت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ شہادتوں اور قانون کے دیگر جھمیلوں میں پڑے بغیر غدار کو وہیں سزا دے ،
جس کا وہ حق دار ہے ،اگر وہ سزادینے سے گریز کرتا ،ڈرتا ،ہچکچاتا ہے تو وہ حاکم وقت خود بھی غدار ہے یا کم از کم
نا اہل اور بے ایمان ضرورہے۔ وہ ڈرتا ہے کہ قاضی کے سامنے جاکر مجرم اُسے بھی مجرم کہہ دیں گے۔ میرا سینہ صاف
رب کعبہ کے نور
ہے۔ مجھے غداروں کی صف میں کھڑا کردو۔ خدا کا ہاتھ مجھے اُس سے الگ کردے گا۔ اگر تمہارے سینے ِ
سے منور ہیں تومجرموں کا سامنا کرنے سے مت ڈرو۔ تا ہم میرے عزیز دوست بہائو الدین شداد نے جو مشورہ دیا ہے اس
پرعمل کرو۔ کاغذات تیارکرکے محترم قاضی سے فیصلہ تحریر کرالو۔ ظاہر ہے کہ یہ فیصلہ ان کا نہیں ہوگا۔ تحریر کر دیا جائے
اعلی بھی ہے ،نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان مجرموں کو سزائے موت
افواج مصرکا ساالر
کہ امیر مصر جو
ِ
ٰ
دی ہے ،جن کا جرم بالشک و شبہہ ثابت ہوگیا تھا''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنے بھائی تقی الدین کی طرف دیکھا۔
وہ بڑے لمبے سفر سے آیاتھا ،تھکا ہوا تھا۔ سلطا ن ایوبی نے اسے کہا …… ''میں تمہارے چہرے پر تفکر اور تھکن دیکھ
رہاہوں ،لیکن تم آرام نہیں کر سکو گے۔ تمہارا سفر ختم نہیں ہوا ،بلکہ شروع ہوا ہے۔ مجھے شوبک جلدی جانا ہے تمہارے
ساتھ کچھ ضروری باتیں کرکے چال جاوں گا''۔
جانے سے پہلے ایک حکم اور صادر فرماجائیے'' …… ناظم شہر نے کہا …… ''جنہیں سزائے موت دی گئی ہے ،ان کی ''
بیوائوں اور بچوں کا کیا بنے گا''۔
ان کے لیے بھی میرے اسی حکم پر عمل کرو جو میں ان سے پہلے غداروں کے اہل و عیال کے متعلق دے چکا ہوں ''
''…… سلطان ایوبی نے کہا …… ''بیوائوں کے متعلق یہ چھان بین کرلو کہ اپنے خاوندوں کی طرح اُن میں سے کسی کا
تعلق دشمن کے ساتھ نہ ہو۔ ہمارے َز ن پرستی نے بھی غدار پیدا کیے ہیں۔ آپ نے دیکھ لیا ہے کہ صلیبیوں نے ہمارے
بھائیوں کو خوبصورت لڑکیاں دے کر ان کے عوض ان کا ایمان خریدا ہے۔ ان میں سے جو بیوائیں نیک اورمومن ہیں ،ان کی
شادیاں ان کی منشا کے مطابق کردو۔ کسی پر اپنا فیصلہ ٹھونسنے کی کوشش نہ کرنا۔ خیال رکھنا کہ کوئی عورت بے سہارا نہ
رہے اور باعزت روٹی سے محروم نہ رہے اور اس میں محتاجی کا احسا س نہ پیدا ہو۔ یہ بھی خیال رکھنا کہ ان کے کانوں
میں کو ئی یہ نہ پھونک دے کہ ان کے خاوندوں کو بے گناہ سزائے موت دی گئی ہے انہیں ذہن نشین کرادو کہ تم خوش
قسمت ہو کہ ایسے گناہ گار خاوندوں سے نجات مل گئی ہے اور اُس کے بچوں کی تعلیم و تربیت خصوصی انتظامات کے
تحت کرو۔ تمام اخراجات بیت المال سے لو۔ غداروں کے بچے غدار نہیں ہوا کرتے ،بشرطیکہ ان کی تعلیم و تربیت صحیح
ہو۔ یہ سب مسلمانوں کے بچے ہیں ۔ ان کی تعلیم و تربیت ایسی ہو کہ ان میں محرومی کا احساس پیدا نہ ہو ،کہیں ایسا
نہ ہو کہ باپ کے گناہ کاکفارہ بچے کو ادا کرنا پڑے''۔
٭ ٭ ٭
سلطان ایوبی کو واپسی کی جلدی تھی ،ا ُسے فکر یہ تھی کہ اس کی غیر حاضری میں صلیبی کوئی جنگی کاروائی نہ کردیں۔
نورالدین زنگی کی بھیجی ہوئی کمک تو وہاں )کرک اورشوبک کے عالقہ میں(پہنچ گئی تھی ۔ قاہرہ کی فوج ابھی اُدھر
جارہی تھی ،لیکن ان دونوں فوجوں کو اس عالقے سے روشناس کرانا تھا۔ اُس نے اپنے دفتر میں جا کر اپنے بھائی تقی
الدین ،علی بن سفیان ،اس کے نائب حسن بن عبدا للہ ،کوتوال غیاث بلبیس اورچند ایک نائبین اور حکام کو باللیا ،وہ
زیادہ تر ہدایات تقی الدین کو دینا چاہتا تھا۔ اُس نے اجالس میں اعال ن کیا کہ اُس کی غیر حاضری میں اُس کا بھائی تقی
اعلی ہوگا اور اسے اتنے ہی اختیارات حاصل ہوں گے جو سلطان ایوبی کے
الدین قائم مقام امیر مصر اوریہاں کی فوج کا ساالر
ٰ
اپنے تھے۔
تقی الدین !''…… سلطان ایوبی نے اپنے بھائی سے کہا …… ''آج سے دل سے نکال دو کہ تم میرے بھائی ہو۔ نااہلی ''،
بددیانتی ،کوتاہی ،غداری یا سازش اور بے انصافی کا ارتکاب کرو گے تو اُسی سزا کے مستحق سمجھے جائو گے جو شریعت
کے قانون میں درج ہے''۔
میں اپنی ذمہ داریوں کواچھی طرح سمجھتا ہوں ،امیر مصر!''…… تقی الدین نے کہا …… ''اور ان خطرات سے بھی آگاہ ''
ہوں جومصر کو درپیش ہیں''۔
صرف مصر کو نہیں''……سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا …… ''یہ خطرے سلطنت اسالمیہ کو درپیش ہیں اور اسالم کے ''
فروغ اور سلطنت کی توسیع کے لیے بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ ہمیشہ یادرکھو کہ کوئی بھی خطہ ،جو سلطنت اسالمیہ کہالتا ہے،
وہ کسی ایک فرد یا گروہ کی جاگیر نہیں ۔ وہ خدائے عزوجل کی سرزمین ہے اور تم سب اس کے پاسبان اور امین ہو۔ اس
مٹی کا ذرہ ذرہ تمہارے پاس امانت ہے۔اس کی مٹی بھی جب اپنے کام میں النا چاہو تو سوچ لو کہ تم کسی دوسرے انسان
کاحق تونہیں مار رہے؟ خدا کی امانت میں خیانت تو نہیں کر رہے؟…… میری باتیں غور سے سنو لو تقی الدین ! اسالم کی
سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ اس کے پیروکاروں میں غداروں اورسازش پسندوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ کسی قوم نے اتنے
غدار پیدا نہیں کیے ،جتنے مسلمانوں نے کیے ہیں۔ یہاں تک کہ ہماری تاریخ جو جہاد اور اللہ کے نام پر جنگ و جدل کی
قابل فخر تاریخ ہے ،غداری کی بھی تاریخ بن گی ہے اور اپنی قوم کے خالف سازش گری ہماری روایت بن گی ہے …… علی
ِ
بن سفیان سے پوچھو تقی ! ہمارے وہ جاسوس جو صلیبیوں کے عالقوں میں سرگرم رہتے ہیں ،بتاتے ہیں کہ صلیبی حکمران،
مذہبی پیشوا اور دانش ور اسالم کی اس کمزوی سے واقف ہیں کہ مسلمان َزن ،زر اور اقتدارکے اللچ میں اپنے مذہب ،اپنے
ملک اور اپنی قوم کا تختہ اُلٹ دینے سے بھی گریز نہیں کرتا''۔
سلطان صالح الدین ایوبی نے اجالس کے شرکاء پر نگاہ دوڑائی اور کہا …… ''ہمارے جاسوسوں نے ہمیں بتایا ہے کہ صلیبیوں
نے اپنے جاسوسوں کو ذہن نشین کرایا ہے کہ مسلمان کی تاریخ جتنی فتوحات کی ہے ،اتنی ہی غداری کی تاریخ ہے۔
مسلمانوں نے اتنی فتوحات حاصل نہیں کیں ،جتنے غدار پیدا کیے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے
فورا ً بعد مسلمان خالفت پرایک دوسرے کے خالف لڑنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے اقتدار کی خاطر ایک دوسرے کو
قتل کیا۔ ایک خلیفہ یا امیر مقرر ہوا تو خالفت اور امارت کے دوسرے امیدواروں نے اُس کے خالف یہاں تک
سازشیں کیں کہ اسالم کے دشمنوں تک سے درپردہ مدد لی اور جس کے ہاتھ میں خالفت اورامارت آگئی ،اُس نے ہر اُس
قائد کو قتل کرایا جس سے اقتدار کو خطرہ محسوس ہوا۔ قومی وقار ختم ہوتا گیا اور ذاتی اقتدار رہ گیا۔ پھر تحفظ اسی کا
ہوتا رہا۔ سلطنت کی توسیع ختم ہوئی ،پھر سلطنت کا دفاع ختم ہوا اور پھر سلطنت سکڑنے لگی۔ صلیبی ہماری اس تاریخی
کمزوری سے آگاہ ہیں کہ ہم لوگ ذاتی اقتدار کے تحفظ اور استحکام کے لیے سلطنت کا بہت بڑا حصہ بھی قربان کرنے کو
تیار ہوجاتے ہیں۔ یہی ہماری تاریخ بنتی جارہی ہے''۔
تقی الدین اور میرے رفیقو! میں جب ماضی پر نگاہ ڈالتا ہوں اور جب اپنے موجودہ دور میں غداروں کی بھرمار اور ''
سازشوں کے جال کو دیکھتا ہوں تو یہ خطرہ محسوس کرتا ہوں کہ ایک وقت آئے گا کہ مسلمان تاریخ کی تحریروں کے ساتھ
بھی غداری کریں گے۔ وہ قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک کر لکھیں گے کہ وہ بہادر ہیں اور انہوں نے دشمن کو ناک چنے
چبوا دئیے ہیں ،مگر درپردہ دشمن کو دوست بنائے رکھیں گے۔ اپنی شکستوں پرپردے ڈالے رکھیں گے۔ سلطنت اسالمیہ سکڑتی
چلی جائے گی اور ہمارے خود ساختہ خلیفے اس کا الزام کسی اور پر تھوپیں گے۔ مسلمانوں کی ایک نسل ایسی آئے گی
جس کے پاس صرف نعرہ رہ جائے گا ''اسالم زندہ باد''۔ وہ نسل اپنی تاریخ سے آگاہ نہیں ہوگی۔ اس نسل کو یہ بتانے
واال کوئی نہ ہوگا کہ اسالم کے پاسبان اور علم بردار وہ تھے جو وطن سے ُدور ریگزاروں میں ،پہاڑوں میں ،وادیوں میں اور
اجنبی ملکوں میں جا کر لڑے۔ وہ دریا اور سمندر پھالنگ گئے۔ انہیں کڑکتی بجلیاں ،آندھیاں اور اولوں کے طوفان بھی نہ
روک سکے۔ وہ ا ُن ملکوں میں لڑے جہاں کے پتھر بھی ان کے دشمن تھے۔ وہ بھوکے لڑے ،پیاسے لڑے ،ہتھیاروں اور گھوڑوں
کے بغیر بھی لڑے۔ وہ زخمی ہوئے تو کسی نے ان کے زخموں پر مرہم نہ رکھا ،وہ شہید ہوگئے تو ان کے رفیقوں کو ان کے
ایوان خالفت میں شراب بہتی
لیے قبریں کھودنے کی مہلت نہ ملی۔ وہ خون بہاتے گئے ،اپنا بھی اوردشمن کا بھی۔ پیچھے
ِ
رہی۔ برہنہ لڑکیوں کے ناچ ہوتے رہے۔ یہودی اور صلیبی سونے سے اور اپنی بیٹیوں کے حسن سے ہمارے خلیفوں اور ہمارے
امیروں کو اندھا کرتے گئے۔ جب خلیفوں نے دیکھا کہ قوم ان تیغ زنوں کی پجاری ہوتی جا رہی ہے ،جنہوں نے یورپ اور
مجاہدین اسالم پر لوٹ مار اور زناکاری جیسے الزام تھوپنے
ہندوستان میں اسالم کے جھنڈے گاڑدئیے ہیں تو خلیفوں نے ان
ِ
شروع کردئیے۔ انہیں کمک اور رسد سے محروم کردیا۔ مجھے قاسم اور وہ کمسن اور خوبرو بیٹا یاد آتا ہے ،جس نے اس حال
میں ہندوستان کے ایک طاقتور حکمران کو شکست دی اور ہندوستان کے اتنے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا تھا کہ اُس نے کمک
نہیں مانگی ،رسد نہیں مانگی۔ مفتوحہ عالقوں کا ایسا انتظام کیا کہ ہندو اُس کے غالم ہوگئے اور اُس کی شفقت سے متاثر ہو
کر مسلمان ہوگئے۔ مجھے جب یہ لڑکا یاد آتا ہے تو دل میں درد اُٹھتا ہے۔ اُس وقت کے خلیفہ نے اس کے ساتھ کیا
سلوک کیا تھا؟ ا ُس پر زنا کا الزام عائد کیا اور مجرم کی حیثیت سے واپس بالیا'' …… سلطان صالح الدین ایوبی کو ہچکی
سے آئی اور وہ خاموش ہوگیا۔
بہائو الدین شداد اپنی یاداشتوں میں لکھتاہے …… ''میرا عزیز دوست صالح الدین ایوبی اپنی فوج کے سینکڑوں شہیدوں کی
الشیں دیکھتا تو اس کی آنکھوں میں چمک اور چہرے پر رونق آجایا کرتی تھی ،مگر صرف ایک غدار کو سزائے موت دے کر
جب ا ُس کی الش دیکھتا تو اس کا چہرہ بجھ جاتا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے تھے''…… محمد بن قاسم کا ذکر کرتے
کرتے ا ُسے ہچکی آئی اور وہ خاموش ہوگیا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ وہ آنسو روک رہا ہے۔ کہنے لگا …… ''دشمن اُس کا کچھ
نہ بگاڑ سکا۔ اپنوں نے اسے شہید کر دیا۔ دشمن نے اُسے فاتح تسلیم کیا۔ اپنوں نے اُسے زانی کہا…… صالح الدین ایوبی نے
زیاد کے بیٹے طارق کا بھی ذکر کیا اور ا ُ س روز وہ اتنا جذباتی ہوگیاتھا کہ اس کی زبان رکتی ہی نہیں تھی ،حاالنکہ وہ کم
گو تھا۔ حقیقت پسند تھا۔
ہم سب پر خاموشی طاری تھی اور ہم سب جسم کے اندر عجیب سا اثر محسوس کر رہے تھے۔ صالح الدین ایوبی بالشک و
شبہ عظیم قائد تھا ۔ وہ ماضی کو نہیں بھولتا تھا۔ حال کے خطروں اور تقاضوں سے نبردآزما رہتا اور اُس کی نظریں صدیوں
بعد آنے والے مستقبل پر لگی رہتی تھیں ''۔
صلیبیوں کی نظریں ہمارے مستقبل پر لگی ہوئی ہیں''…… سلطان ایوبی نے کا …… ''صلیبی حکمران اور فوجی حکام کہتے''
ہیں کہ وہ اسالم کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں گے۔ وہ ہماری سلطنت پر قابض نہیں ہونا چاہتے۔ وہ ہمارے دلوں کو نظریات
کی تلوار سے کاٹنا چاہتے ہیں۔ میرے جاسوسوں نے مجھے بتایا ہے کہ صلیبیوں کا سب سے زیادہ اسالم دشمن بادشاہ فلپ
آگسٹس کہتاہے کہ انہوں نے اپنی کو ایک مقصد دے دیا ہے اور ایک روایت پیدا کر دی ہے ۔ اب صلیبیوں کی آنے والی
نسلیں اس مقصد کی تکمیل کے لیے سرگرم رہیں گی۔ ضروری نہیں کہ وہ تلوار کے زور سے اپنا مقصدحاصل کریں گے۔ان کے
پاس کچھ حربے اوربھی ہیں …… تقی الدین !جس طرح ان کی نظر مستقبل پرہے ،اسی طرح ہمیں بھی مستقبل پر نظر رکھنی
چاہیے ،جس طرح انہوں نے ہم میں غدار پیدا کرنے کی روایت قائم کی ہے ،اسی طرح ہمیں ایسے ذرائع اختیار کرنے چاہئیں
کہ غداری کے جراثیم ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں۔ غداوں کو قتل کرتے چلے جانا کوئی عالج نہیں ،غداری کا رحجان ختم
ب رسول ۖ پیدا کرنی ہے۔ یہ اسی صورت میں پیدا ہوسکتی ہے کہ قوم کی آنکھوں میں
کرنا ہے۔اقتدار کی ہوس ختم کرکے ُح ِّ
رسول ۖ کے دشمن کا تصور موجود ہو۔ مسلمانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ صلیبیوں کی تہذیب میں ایسی بے حیائی ہے ،جو پُر
کشش ہے۔ قوم ان کی تہذیب میں جذب ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اُن کے ہاں شراب بھی جائز ہے ،عورتوں کا غیر مردوں کے
ساتھ ناچنا ،کودنا اورتنہا رہنا بھی جائز ہے۔ہمارے اور ا ُن کے درمیان یہی سب سے بڑا فرق ہے کہ ہم عصمتوں کے پاسبان
ہیں اوروہ عصمتوں کے بیوپاری۔ یہی وہ فرق ہے جو ہمارے مسلمان بھائی مٹادیتے ہیں۔ تقی الدین ! تمہارا ایک محاذ زمین
کے اوپر ہے ،دوسرا زمین کے نیچے۔ ایک محاذ دشمن کے خالف ہے اور دوسرا اپنوں کے خالف۔ اگر اپنوں میں غدار نہ
ہوتے تو ہم اس وقت یہاں نہیں یورپ کے قلب میں بیٹھے ہوئے ہوتے اور صلیبی ہمارے خالف اپنی حسین بیٹیوں کی بجائے
کوئی بہتر ہتھیار استعمال کرتے اور اچھی قسم کی جنگی چالیں چلتے۔ ایمان کی حرارت تیز ہوتی تو اس وقت تک صلیب
ایندھن کی طرح جل چکی ہوتی''۔
مجھے آپ کی بہت سی دشواریوں کا یہاں آکر علم ہوا ہے''…… تقی الدین نے کہا …… ''محترم نورالدین زنگی بھی ''
پوری طرح آگاہ نہیں کہ مصرمیں آپ غداروں کی ایک فوج کے گھیرے میں آئے ہوئے ہیں ۔ آپ اُن سے کمک مانگ لیتے۔
انہیں مدد کے لیے کہتے''۔
تقی بھائی!''…… سلطان ایوبی نے جواب دیا…… ''مدد صرف اللہ سے مانگی جاتی ہے۔ مدد اپنوں سے مانگی جائے یا ''
غیروں سے ،اپنا ایمان کمزور کر دیتی ہے۔ صلیبیوں کی فوج زرہ بکتر میں ہے۔ میرے سپاہی معمولی سی کپڑوں میں ملبوس
ہیں ،پھر بھی انہوں نے صلیب کو شکست دی ہے۔ ایمان لوہے کی طرح مضبوط ہو تو زرہ بکتر کی ضرورت نہیں رہتی۔ زرہ
بکتر اور خندقیں تحفظ کا احساس پیدا کرتی ہیں اور سپاہی کو اپنے اندرقید کر لیتی ہیں ۔ یاد رکھو ،میدان میں خندق سے
باہر رہو ،گھوم پھر کر لڑو ،دشمن کے پیچھے نہ جائو۔ اسے اپنے پیچھے الئو۔ مرکز کو قائم رکھو ،پہلوئوں کو پھیالدو اور دشمن
کو دونوں بازوئوں میں جکڑ لو۔ محفوظ وہاں رکھوجہاں سے وہ دشمن کے عقب میں جا سکے۔ چھاپہ ماروں کے بغیر کبھی
جنگ نہ لڑنا۔ چھاپہ ماروں سے دشمن کی رسد تباہ کرائو۔ وہ رسد جو پیچھے سے آئے اور وہ بھی جو دشمن اپنے ساتھ
رکھے۔ چھاپہ ماروں کو دشمن کے
جانوروں کو مارنے یا ہراساں کرنے کے لیے استعمال کرو۔ آمنے سامنے کی ٹکڑ سے بچو۔ جنگ کو طول دو۔ دشمن کو پریشان
کیے رکھو…… میں جو فوج چھوڑ چالہوں ،یہ محاذ سے آئی ہے۔ اس میں جان پر کھیل جانے والے چھاپہ مار دستے بھی ہیں۔
اسے صرف اشارے کی ضرورت ہے۔ میں نے اس فوج میں ایمان کی حرارت پیدا کر رکھی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اپنے
آپ کو بادشاہ سمجھ کر اس فوج کا ایمان سرد کردو۔ ہم پر جو حملہ ہو رہاہے ،وہ ہمارے ایمان پر ہورہا ہے۔ صلیبی تمدن
کے اثرات بڑی تیزی سے مصر میں آرہے ہیں''۔
سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنے بھائی تقی الدین کو پوری تفصیل سے بتایا کہ سوڈان میں مصر پر حملے کی تیاریاں ہورہی
ہیں۔ سوڈانیوں میں اکثریت وہاں کے حبشیوں کی ہے ،جو مسلمان ہیں ،نہ عیسائی۔ ان میں مسلمان بھی ہیں ،جن میں مصر
کی ا ُس فوج کے بھگوڑے بھی ہیں ،جسے بغاوت کے جرم میں توڑ دیا گیا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا ……
'' لیکن گھر بیٹھے دشمن کا انتظار نہ کرتے رہنا۔ جاسوس تمہیں خبر دیتے رہیں گے۔ حسن بن عبد اللہ تمہارے ساتھ ہے،
جہاں محسوس کرو کہ دشمن کی تیاری مکمل ہو چکی ہے اور وہ اب حملے کے لیے اجتماع کر رہا ہے ،تم وقت ضائع کیے
بغیر حملہ کردو اور دشمن کوتیاری کی حالت میں ہی ختم کردو ،لیکن پیچھے کے انتظامات مضبوط رکھنا۔ قوم کو محاذ کے
حاالت سے بے خبر نہ رکھنا۔ اگر خدانخواستہ شکست ہوجائے تو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو تسلیم کرلینا اور قوم کو بتادینا
کہ شکست کے اسباب کیا تھے۔ جنگ قوم کے خون اور پیسے سے لڑی جاتی ہے۔ بیٹے قوم کے شہید اور اپاہج ہوتے ہیں ۔
لہ ذا قوم کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ جنگ کو بادشاہوں کا کھیل نہ سمجھنا۔ یہ ایک قومی مسئلہ ہے۔ اس میں قوم کو
ٰ
اپنے ساتھ رکھنا …… میں نے جس فاطمی خالفت کو معزول کیاتھا ،اس کے حواری ہمارے خالف سرگرم ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ
انہوں نے درپردہ خلیفہ مقرر کر رکھا ہے۔ ان کا خلیفہ العاضد تو مر گیا ہے ،لیکن وہ خالفت کو اس اُمید پر زندہ رکھے
ہوئے ہیں کہ سوڈانی مصر پر حملہ کریں گے۔ ہماری فوج بغاوت کرے گی اور صلیبی چپکے سے اندر آکر فاطمی خالفت بحال
کردیں گے۔ فاطمیوں کو حسن بن صباح کے قاتل گروہ کی حمایت حاصل ہے۔ میں علی بن سفیان کے اپنے ساتھ لے جا رہا
ہوں۔ اس کا نائب حسن بن عبداللہ اور کوتوال غیاث بلبیس تمہارے ساتھ رہیں گے۔ یہ اس زمین دوز گروہ پر نظر رکھیں
گے…… فوج کی بھرتی تیزکر دو اورانہیں جنگی مشقیں کراتے رہو ''۔
تھوڑے ہی عرصے سے ہمیں اطالعات مل رہی ہیں کہ مصر کے جنوب مغربی عالقے سے فوج کے لیے بھرتی نہیں مل ''
رہی ''……حسن بن عبد اللہ نے کہا …… ''یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہاں کے لوگ فوج کے خالف ہوتے جارہے ہیں ''۔
معلوم کرایا ہے کہ باعث کیا ہے؟'' …… علی بن سفیان نے پوچھا۔''
میرے دو مخبر اس عالقے میں قتل ہو چکے ہیں''…… حسن بن عبد اللہ نے کہا …… ''وہاں سے خبر لینا آسان نہیں ''،
تاہم میں نے نئے مخبر بھیج دئیے ہیں''۔
میں اپنے ذرائع سے معلوم کر رہا ہوں''……غیاث بلبیس نے کہا …… ''مجھے شک ہے کہ اس وسیع عالقے کے لوگ نئے''
وہم میں مبتال ہو گئے ہیں۔ یہ عالقہ دشوار گزار ہے۔ لوگ سخت جان ہیں ،لیکن عقیدوں کے ڈھیلے اور توہمات پرست
ہیں''۔
توہم پرستی بہت بڑی لعنت ہے''…… سلطان ایوبی نے کہا …… ''اُس عالقے پر نظر رکھو اور وہاں کے لوگوں کو توہمات''
سے بچائو''۔
٭ ٭ ٭
تین چار روز بعد کرک کے قلعے میں بھی ایک اجالس منعقد ہوا۔ وہ صلیبی حکمرانوں میں اور فوج کے اعلی کمانڈروں کا
اجالس تھا۔ انہیں یہ تو معلوم تھا کہ صالح الدین ایوبی فلسطین کاایک قلعہ )شوبک( لے چکا ہے اور اب کرک پر حملہ
کرے گا۔ انہیں اس احساس نے پریشان کررکھا تھا کہ اگر مسلمانوں نے کرک کو بھی شوبک کی طرح فتح کرلیا تو یروشلم کو
بچانا مشکل ہوجائے گا۔ صلیبی جان گئے کہ سلطان صالح الدین ایوبی سنبھل سنبھل کر آگے بڑھ رہا ہے۔ وہ ایک جگہ لیتا
ہے فوج کی کمی نئی بھرتی سے پوری کرتا ہے اسے پوری فوج کے ساتھ ٹریننگ دیتا ہے اور جب اسے یقین ہوجاتا ہے کہ
وہ اگلی ٹکر لینے کے قابل ہوگیا ہے تو آگے بڑھتا ہے۔ چنانچہ وہ کرک کے دفاع کو مضبوط کررہے تھے اور باہر آکر لڑنے کی
بھی سکیم بنا چکے تھا مگر اس اجالس میں انہیں اپنی سکیم میں ردوبدل کی ضرورت محسوس ہورہی تھی کیونکہ ان کے
انٹیلی جنس کے سربراہ ہرمن نے انہیں سلطان ایوبی اس کی فوج اور مصر کے تازہ حاالت کے متعلق انقالبی خبریں دی تھیں۔
صلیبی جاسوسوں نے بہت ہی تھوڑے وقت میں کرک میں ایہ اطالع پہنچا دی تھی کہ سلطان صالح الدین ایوبی اس فوج کو
قاہرہ لے گیا ہے جو اس محاذ پر لڑی اور شوبک کا قلعہ لیا تھا اور قاہرہ میں جو فوج ہے اسے عجلت میں محاذ پر بھیج
دیا گیا ہے اور نورالدین زنگی نے اپنی بہترین فوج کی کمک اس محاذ پر بھیج دی ہے اور سلطان ایوبی کا بھائی تقی الدین
دمشق سے قاہرہ پہنچ گیا ہے جہاں وہ سلطان ایوبی کا قائم مقام ہوگا اور سلطان ایوبی قاہرہ چال گیا ہے۔ جہاں وہ سازشیوں
کو سزائے موت دے کر محاذ کی طرف روانہ ہوگیا ہے۔ صلیبیوں کے لیے یہ خبر اچھی نہ تھی کہ قاہرہ کا نائب ناظم مصلح
الدین بھی پکڑا گیا اور غداری کے جرم میں مارا گیا ہے۔ مصلح الدین صلیبیوں کا کارآمد اور اہم ایجنٹ تھا۔ صلیبی نظام
جاسوسی کا سربراہ ہرمن اجالس کو ان تبدیلیوں سے آگاہ کررہا تھا۔ اس نے کہا… ''مصلح الدین کے مارے جانے سے ہمیں
نقصان تو ہوا ہے لیکن تقی الدین کا تقرر ہمارے لیے امید افزا ہے۔ وہ بے شک صالح الدین ایوبی کا بھائی ہے لیکن وہ
سلطان ایوبی نہیں ہے ،میرے تخریب کار جاسوس اسے چکر دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ یہ بھی امید افزا ہے کہ صالح
الدین ایوبی اور علی بن سفیان قاہرہ سے غیر حاضر ہیں''۔
میں حیران ہوں کہ تمہارے حشیشین کیا کررہا ہے؟''… ریمانڈ نے پوچھا… ''کیا وہ دوہرا کھیل تو نہیں کھیل رہے؟ ''
کمبخت ابھی تک صالح الدین ایوبی کو قتل نہیں کرسکے۔ ہم بہت رقم ضائع کرچکے ہیں''۔
رقم ضائع نہیں ہورہی'… ہرمن نے کہا… ''مجھے امید ہے کہ صالح الدین ایوبی محاذ تک نہیں پہنچ سکے گا۔ اس کے ''
ساتھ چوبیس باڈی گارڈ قاہرہ گئے ہیں۔ ان میں چار حشیشین ہیں ان کے لیے موقع آگیا ہے۔ میں نے انتظام کردیا ہے۔ وہ
صالح الدین کو راستے میں قتل کردیں گے''۔
ہمیں خوش فہمیوں میں مبتال نہیں رہنا چاہیے''… فلپ آگسٹس نے کہا… ''یہ فرض کرکے سوچو کہ صالح الدین ایوبی ''
قتل نہیں ہوسکا اور وہ زندہ سالمت محاذ پر موجود ہے۔ اس کے پاس اب تازہ دم فوج ہے۔ اس نے نئی بھرتی کو ٹریننگ
لہذا اب
دے لی ہے اور اسے نورالدین زنگی کی کمک مل گئی ہے۔ اس نے شوبک جیسا مضبوط اڈہ بھی حاصل کرلیا ہے۔ ٰ
اس کی رسد قاہرہ سے نہیں آئے گی۔ شوبک میں اس نے بے شمار رسد جمع کرلی ہے۔ اس صورت میں ہمیں کیا کرنا
چاہیے؟ میں اسے موقع نہیں دینا چاہتاکہ وہ کرک کا محاصرہ کرلے اور ہم محاصرے میں لڑیں''۔
اب ہم محاصرے تک نوبت نہیں آنے دیں گے''… ایک اور صلیبی حکمران نے کہا… ''ہم باہر لڑیں گے اور اس انداز سے''
لڑیں گے کہ شوبک کا محاصرہ کرلیں''۔
صالح الدین ایوبی لومڑی ہے'' … فلپ آگسٹس نے کہا… ''اسے صحرا میں شکست دینا آسان نہیں۔ وہ ہمیں شوبک کے ''
محاصرے کی اجازت دے دے گا مگر ہمارا محاصرہ کرلے گا۔ میں اس کی چالیں سمجھ چکا ہوں اگر تم اسے آمنے سامنے الکر
لڑا سکتے ہوتو تمہیں فتح کی ضمانت میں دے سکتا ہوں مگر تم اسے سامنے نہیں السکو گے''۔۔
بہت دیر کے بحث ومباحثے کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ نصف فوج کو قعلے سے باہر بھیج دیا جائے اور سلطان صالح الدین
ایوبی کی فوج کے قریب خیمہ زن کردیا جائے اور اس کی فوج کی نقل وحرکت پر گہری نظر رکھی جائے۔ اس سکیم میں
باہر لڑنے والی فوج کی تعداد کے متعلق فیصلہ کیا گیا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج سے تین گنا نہ ہوتو دگنی ضرور
ہو۔ عقب سے حملے کے لیے الگ فوج مقرر کی گئی اور پالن میں یہ بھی شامل کیا گیا کہ مسلمان فوج کی کمک اور رسد
لہ ذا شوبک اور مسلمان کے درمیانی فاصلے کو چھاپہ مار وں کی زد میں رکھنے کا انتظام کیا جائے۔
شوبک سے آئے گی۔ ٰ
فوجی کمانڈروں نے کہا کہ سامنے اتنی زیادہ قوت سے حملہ کیا جائے کہ صالح الدین ایوبی جم کر لڑنے پر مجبو رہوجائے۔
صلیبیوں کو دراصل اپنی بکتر فوج پر بھروسہ تھا۔ ان کی بیشتر فوج زرہ پوش تھی ،سروں پر آہنی خود تھے ،پیشیانیوں سے
ناک اور منہ تک چہرے آہنی خودوں کے مضبوط نقابوں میں ڈھکے ہوئے تھے۔ انہوں نے اونٹوں کو بھی زرہ پوش کرلیا تھا،
اونٹوں کے سروں پر آہنی غالف چڑھا دئیے گئے تھے اور پہلوئوں کے ساتھ لوہے کی پتریاں لٹکتی تھیں جو تیروں کو روک
لیتی تھیں۔ انہوں نے کوشش کی تھی کہ بہتر قسم کے گھوڑے حاصل کرسکیں۔ یورپی ممالک سے الئے ہوئے گھوڑے صحرا میں
جلدی تھک جاتے اور پیاس سے بے حال ہوجاتے تھے۔ صلیبیوں نے عربی عالقوں سے گھوڑے خریدے تھے مگر ان کی تعداد
اتنی زیادہ نہیں تھی۔ انہوں نے مسلمانوں کے قافلوں سے گھوڑے چھیننے شروع کردیئے تھے۔ گھوڑے چرائے بھی تھے ،سلطان
ایوبی کے گھوڑے بہتر تھے۔ عربی نسل کے یہ صحرائی گھوڑے پیاس سے بے نیاز میلوں بھاگ سکتے تھے۔
ان جنگی تیاریوں اور اہتمام کے عالوہ صلیبیوں نے نظریاتی جنگ کا محاذ جو کھوال تھا ،اس کے متعلق ان کے انٹیلی جنس
کے ڈائریکٹر ،ہرمن نے رپورٹ پیش کی کہ صالح الدین ایوبی کو مصر کے جنوب کے سرحدی عالقے سے بھرتی نہیں ملے گی۔
یہ وہی عالقہ تھا جس کے متعلق سلطان صالح الدین ایوبی کی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ حسن بن عبداللہ نے رپور ٹ
دی تھی کہ وہاں کے لوگ اب فوج میں بھرتی نہیں ہوتے بلکہ بعض لوگ فوج کے خالف بھی ہوگئے ہیں۔ یہ جفاکش اور
جنگجو قبائل کا عالقہ تھا جس نے سلطان ایوبی کو نہایت اچھے سپاہی دیئے تھے مگر اب ہرمن کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا
تھا کہ صلیبی تخریب کار اس عالقے میں پہنچ گئے ہیں ،وہاں نوبت یہاں تک پہنچی ہوئی تھی کہ حسن بن عبداللہ نے یہ
معلوم کرنے کے لیے اس عالقے کے لوگ فوج کے خالف کیوں ہوگئے ہیں ،دو مخبر بھیجے تھے ،دونوں قتل ہوگئے تھے۔ ان
کی الشیں نہیں ملی تھیں۔ پراسرار سی ایک اطالع ملی تھی کہ ہمیشہ کے لیے غائب کردیئے گئے ہیں۔ وہ عالقہ جو بہت
وسیع وعریض تھا ،جاسوسوں اور مخبروں کے لیے بہت ہی مضبوط قلعہ بن گیا تھا ،وہاں سے کوئی معلومات حاصل ہوتی ہی
نہیں تھی ،اتنا ہی پتہ چال تھا کہ وہاں کے لوگ ہیں تو مسلمان لیکن تو ہم پرست اور عقیدے کے بہت ڈھیلے ہیں۔
ہرمن نے تفصیالت بتائے بغیر کہا کہ اس کا تجربہ کامیاب رہا ہے۔ وہ اب مصر کے تمام سرحدی عالقے میں اس طریقے کار
کو پھیالئے گا۔ پھر ان اثرات کو مصر کے اندر لے جانے کی کوشش کرے گا۔ اس نے امید ظاہر کی کہ وہ مصر کے قصبوں اور
شہروں کو بھی اپنے اثر میں لے لے گا۔ اس نے کہا … ''میں مسلمانوں کی ایک ایسی خامی کو ان کے خالف استعمال
کررہا ہوں ،جسے وہ اپنی خوبی سمجھتے ہیں۔ مسلمان درویشوں ،فقیروں ،وظیفے اور چلے کرنے والوں عاملوں اور
مولویوں اور کٹیا میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرتے رہنے والے مجذوب قسم کے لوگوں کے فورا ً مرید بن جاتے ہیں۔ درویشوں وغیرہ کا
یہ گروہ اسالمی فوج کے ان ساالروں کے خالف ہے جنہوں نے ہمارے خالف جنگیں لڑ کر شہرت حاصل کی ہے۔ یہ درویش
اپنے متعلق لوگوں کو یقین دالتے ہیں کہ خدا ان کے ہاتھ میں ہے اور وہ خدا کے خاص بندوں میں سے ہیں۔ وہ صرف نام
لہذا وہ گھر بیٹھے وہی شہرت حاصل کرنا
پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں میدان جنگ میں جانے کی ہمت اور جرأت نہیںٰ ،
چاہتے ہیں جو ساالروں نے جہاد میں حاصل کی ہے۔ اگر دیانت داری اور غیر جانب داری سے دیکھا جائے تو مسلمانوں کے
یہ فوجی لیڈر جن میں صالح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی بھی شامل ہیں۔ قابل تحسین انسان ہیں۔ ان میں سے جنہوں نے
یورپ تک اسالم پھیال دیا اور سپین کو اپنی سلطنت میں شامل کرلیا تھا ،بجا طور پر حق رکھتے ہیں کہ قوم اپنی عبادت
میں بھی ان کا نام لے مگر ان کے خلیفوں نے اپنا نام عبادت میں شامل کرکے فوجی لیڈروں کی اہمیت گھٹا دی… اس کے
ساتھ مسلمانوں میں نام نہاد عالموں اور اماموں کا ایک گروہ پیدا ہوا جو عمل سے گھبراتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہیں
وہ عالم اور امام ہیں۔ یہ گروہ خلیفوں کی آڑ میں جہاد کے معنی مسخ کررہا ہے تاکہ لوگ جہاد میں جانے کے بجائے ان کے
گرد جمع ہوں اور انہیں خدا کے برگزیدہ انسان مانیں۔ ان کے پاس پراسرار سی باتیں اور باتیں کرنے کا ایسا طلسماتی انداز ہے
کہ لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان برگزیدہ انسانوں کے سینے میں وہ راز چھپا ہوا ہے جو خدا نے ہر بندے کو نہیں بتایا۔
چنانچہ سیدھے سادھے مسلمان ان کے جال میں پھنستے جارہے ہیں۔ میں مسلمانوں کو اسالم کی ہی باتیں سنا سنا کر اسالم
کی بنیادی روح سے دور لے جارہا ہوں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہودیوں نے نظریاتی تخریب کاری کرکے اسالم کو کافی حد تک
''کمزور کردیا ہے۔ میں انہی کے اصولوں پر کام کررہا ہوں۔
یہی وہ محاذ تھا جس کے متعلق سلطان صالح الدین ایوبی پریشان رہتا تھا۔ پریشانی کا اصل باعث یہ تھا کہ اس محاذ پر
اپنی ہی قوم کے افراد اس کے خالف لڑ رہے تھے اور یہ محاذ اسے نظر نہیں آتا تھا۔
٭ ٭ ٭
تقی الدین اور اپنے ان حکام کو جنہیں قاہرہ میں رہنا تھا ،ہدایات دے کر سلطان صالح الدین ایوبی محاذ کی طرف روانہ
ہوگیا۔ اس کے ساتھ چوبیس ذاتی محافظوں کا دستہ تھا۔ صلیبیوں کو باڈی گارڈز کی نفری کا علم تھا اور انہیں یہ بھی علم
تھا کہ اس دستے میں چار حششین ہیں جو نہایت کامیاب اداکاری سے اور بہادری کے کارناموں سے محافظ دستے کے لیے
منتخب ہوگئے تھے۔ ان کا مقصد صالح الدین ایوبی کا قتل تھا لیکن انہیں موقع نہیں مل رہا تھا کیونکہ محافظ دستے کی
نفری چوبیس سے کہیں زیادہ رہتی اور ان کی ڈیوٹی بدلتی رہتی تھی ،کبھی بھی ایسا نہ ہوا کہ ان چاروں کی ڈیوٹی اکٹھی
لگی ہو۔ محافظوں کے کمانڈر بہت ہوشیار اور چوکس رہتے تھے۔ انہیں یہ تو علم تھا کہ ان کے درمیان قاتل بھی موجود ہیں،
وہ بیدار رہتے تھے کہ کوئی محافظ کوتاہی نہ کرے۔ اب سلطان ایوبی سفر میں تھا۔ اس نے خود ہی کہا تھا کہ وہ محافظوں
کی پوری فوج کو ساتھ نہیں رکھے گا ،چوبیس کافی ہیں ،حاالنکہ راستے میں صلیبی چھاپہ ماروں کا خطرہ تھا۔
سلطان ایوبی قاہرہ سے دن کے پچھلے پہر روانہ ہوا تھا۔ آدھی رات سفر میں اور باقی آرام میں گزری۔ سحر کی تاریکی میں
اس نے کوچ کا حکم دیا۔ دوپہر کا سورج گھوڑوں کو پریشان کرنے لگا تو ایک ایسی جگہ یہ قافلہ رک گیا جہاں پانی بھی تھا،
درخت بھی اور ٹیلوں کا سایہ بھی تھا۔ ذرا سی دیر میں سلطان ایوبی کے لیے خیمہ نصب کردیا گیا۔ اس کے اندر سفر ی
چارپائی اور بستر بچھا دیا گیا۔ کھانے پینے سے فارغ ہوکر سلطان ایوبی اونگھنے کے لیے لیٹ گیا۔ دو محافظ خیمے کے آگے
اورپیچھے کھڑے ہوگئے۔
دستے کے باقی محافظ قریب ہی سایہ دیکھ کر بیٹھ گئے۔ کچھ گھوڑوں کو پانی پالنے کے لیے لے گئے۔ علی بن سفیان اور
دیگر حکام جو سلطان صالح الدین ایوبی کے ساتھ تھے ،ایک درخت کے نیچے جاکر لیٹ گئے۔ انہوں نے خیمے نصب نہیں
کرائے تھے۔ اس جگہ کے خدوخال ایسے تھے کہ سلطان صالح الدین ایوبی کا خیمہ ان کی نظروں سے اوجھل تھا۔ صحرا کا
سورج زمین وآسمان کو جال رہا تھا جس کسی کو جہاں چھائوں ملی وہاں بیٹھ یا لیٹ گیا۔
یہ پہال موقعہ تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے پر جن دو محافظوں کی ڈیوٹی لگی ،وہ دونوں حشیشین تھے ،جو
ایک عرصہ سے ایسے ہی موقع کی تالش میں تھے۔ اس موقع کو پوری طرح موزوں بنانے کے لیے یہ صورت پیدا ہوگئی کہ
محافظوں کی زیادہ تر نفری گھوڑوں کو پانی پالنے چلی گئی تھی۔ پانی ایک ٹیلے کے دوسری طرف تھا۔ قافلے کا سامان
اٹھانے والے اونٹوں کے شتربان بھی اونٹوں کو پانی کے لیے لے گئے تھے جو محافظ ڈیوٹی والوں کے عالوہ پیچھے رہ گئے
تھے۔ ان میں دو اور حشیشین تھے۔ انہوں نے اشاروں اشاروں میں طے کرلیا۔ صالح الدین ایوبی کے خیمے کے سامنے کھڑے
محافظ نے خیمے کا پردہ ذ را سا ہٹا کر اندر دیکھا اور باہر والوں کو اشارہ کیا۔ سلطان صالح الدین ایوبی اس حالت میں
گہری نیند سویا ہوا تھا کہ اس کے پیٹھ خیمے کے دروازے کی طرف تھی۔ محافظ دبے پائوں اندر چال گیا۔ اس نے خنجر نہیں
نکاال ،تلوار نہیں نکالی ،بلکہ اس کے ہاتھ میں جو برچھی تھی وہ بھی اس نے خیمے کے باہر رکھ دی تھی۔ ہر محافظ کی
طرح وہ قوی ہیکل جوان تھا۔ دیکھنے میں وہ سلطان ایوبی کی نسبت دگنا نہیں تو ڈیڑھ گنا طاقتور ضرور تھا۔
داستان ایمان فروشوں کی 19:40
قسط نمبر43.۔
" کھنڈروں کی آواز "
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دیکھنے میں وہ سلطان ایوبی کی نسبت دگنا نہیں تو ڈیڑھ گنا طاقتور ضرور تھا۔وہ دبے پائوں سلطان ایوبی تک گیا اور بجلی
کی تیزی سے سلطان کی گردن دونوں ہاتھوں میں جکڑ لی۔ سلطان ایوبی جاگ اٹھا۔ اس نے کروٹ بھی بدل لی لیکن جس
شکنجے میں اس کی گردن آگئی تھی اس سے گردن چھڑانا ممکن نہیں تھا۔ اسالم کے اس جری جرنیل کی زندگی صرف دو
منٹ رہ گئی تھی۔ وہ اب پیٹھ کے بل پڑا تھا۔ حملہ آور نے اس کے پیٹ پر گھٹنہ رکھ کر ایک ہاتھ اس کی گردن سے ہٹا
دیا ،دوسرے ہاتھ سے سلطان صالح الدین ایوبی کی شہ رگ کو دبائے رکھا۔ اس نے اپنے کمر بند سے ایک پڑیا سی نکالی۔
اسے ایک ہی ہاتھ سے کھوال اور صالح الدین ایوبی کے منہ میں ڈالنے لگا۔ وہ سلطان کو زہر دے کر مارنا چاہتا تھا کیونکہ
گال دبا کر مارنے سے صاف پتا چل جاتا ہے کہ گال دبایا گیا ہے۔ سلطان ایوبی بے بس تھا۔ پیٹ پر اتنے قوی ہیکل جوان کا
گھٹنہ اور بوجھ تھا۔ شہ رگ دشمن کے شکنجے میں تھی اور سانس رک گیا تھا۔ اس کا منہ کھال ہوا تھا جو اس نے پڑیا
دیکھ کر بند کرلیا۔ اس نے ہوش ٹھکانے رکھے ،موت سر پر آگئی تھی۔ سلطان ایوبی نے اپنے کمر بند سے تلوار نما خنجر
نکال لیا جو وہ زیور کی طرح اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ حملہ آور اس کے منہ میں زہر ڈالنے کی کوشش میں مگن تھا ،دیکھ نہ
سکا کہ سلطان نے خنجر نکال لیا ہے۔ سلطان ایوبی نے خنجر اس کے پہلو میں اتار دیا۔ کھینچا اور ایک بار پھر خنجر حملہ
آور کے پہلو میں اتر گیا۔ حملہ آور سانڈ جیسا آدمی تھا۔ اتنی جلدی مر نہیں سکتا تھا۔ سلطان ایوبی سپاہی تھا ،وہ خنجر
کے وار اور ہدف سے آگاہ تھا۔ اس نے خنجر حملہ آور کے پہلو سے نکاال نہیں ،وہیں خنجر کو گھمایا اور نیچے کو جھٹکا
دیا۔ حملہ آور کی انتڑیاں اور پیٹ کا اندروں حصہ باہر آگیا۔
حملہ آور کے ہاتھ سے سلطان صالح الدین ایوبی کی گردن چھوٹ گئی۔ دوسرے ہاتھ سے زہر کی پڑیا گر پڑی۔ سلطان صالح
الدین ایوبی نے جسم کو جھٹکا دیا ،حملہ آور کو دھکا دیا اور حملہ آور چار پائی سے نیچے جاپڑا۔ وہ اب اٹھنے کے قابل
نہیں تھا۔ یہ معرکہ بمشکل آدھے منٹ میں ختم ہوگیا مگر خیمے سے باہر دوسرا محافظ کھڑا تھا۔ اسے نے اندر دھمک سی
سنی تو پردہ اٹھا کر جھانکا وہاں کچھ اور ہی نقشہ دیکھا۔ وہ تلوار سونت کر آیا اور سلطان صالح الدین ایوبی پروار کیا مگر
سلطان خیمے کے درمیانی بانس کے پیچھے ہوگیا۔ تلوار بانس پر لگی ،صالح الدین ایوبی تو جیسے پیدائشی تیغ زن تھا۔ ادھر
تلوار بانس میں لگی ادھر
سلطان صالح الدین ایوبی نے جھپٹا مارنے کے انداز سے حملہ آور پر خنجر کا وار کیا۔ حملہ آور بھی لڑاکا تھا۔ اسی لیے تو
وہ محافظ دستے کے لیے چنا گیا تھا۔ وہ وار بچا گیا۔ اس کے ساتھ ہی سلطان صالح الدین ایوبی نے محافظ دستے کے کمانڈر
کو آواز دی۔ حملہ آور نے دوسرا وار کیا تو سلطان صالح الدین ایوبی آگے سے ہٹ گیا مگر ایسا ہٹا کہ حملہ آور کے پہلو
میں چال گیا۔ اب کے حملہ آور سلطان کے خنجر کے وار سےنہ بچ سکا۔ سلطان ایوبی کی پکار پر دو محافظ خیمے میں آئے۔
دونوں نے سلطان ایوبی پر حملہ کردیا۔ اتنے میں سلطان ایوبی دوسرے محافظ کو بھی زخمی کرچکا تھا مگر وہ ابھی تک لڑ
رہا تھا۔ اس کے دو اور ساتھی آگئے تھے۔
سلطان صالح الدین ایوبی نے حوصلہ قائم اور دماغ حاضر رکھا۔ اللہ نے مدد کی کہ دستے کا کمانڈر اندر آگیا۔ اس نے دوسرے
محافظوں کو آوازیں دیں اور سلطان صالح الدین ایوبی کے کہنے پر وہ حملہ آور سے الجھ گیا۔ اتنے میں چار پانچ محافظ
آگئے۔ ادھر سے علی بن سفیان اور دوسرے حکام بھی شور سن کر آگئے۔ خیمے میں دیکھا تو ان کے رنگ اڑ گئے چار
محافظ لہولہان ہوکے پڑے تھے ،دو مرچکے تھے۔ تیسرا مر رہا ،وہ ہوش میں نہیں تھا۔ اس کا پیٹ اوپر سے نیچے تک پھٹا
ہوا اور سینے پر دو گہرے زخم تھے۔ چوتھے کے پیٹ میں ایک زخم تھا اور دوسرا زخم ران پر۔ وہ زمین پر بیٹھا ہاتھ جوڑ
کر چال رہا تھا… میں زندہ رہنا چاہتا ہوں ،مجھے میری بہن کے لیے زندہ رہنے دو'' …سلطان ایوبی نے اپنے محافظوں کو
روک دیا۔ محافظ اتنے بھڑکے ہوئے تھے کہ انہوں نے تیسرے محافظ کو بے ہوشی میں سانس لیتے دیکھا تو اس کی شہ رگ
کاٹ دی۔ چوتھے کو سلطان ایوبی نے بچا لیا۔ یہ رحم کا جذبہ بھی تھا اور یہ ضرورت بھی کہ اس سے بیان لینے تھے اور
اس سازش کی کڑیاں بھی مالنی تھیں۔
صالح الدین ایوبی کا طبیب بھی اس کے قافلے کے ساتھ تھا۔ وہ جراح بھی تھا ،ہر جگہ اس کے ساتھ رہا کرتا تھا۔ سلطان
صالح الدین ایوبی نے اسے کہا کہ اس زخمی کو ہر قیمت پر زندہ رکھنے کی کوشش کرے۔ سلطان صالح الدین ایوبی کو
خراش تک نہیں آئی تھی ،وہ ہانپ رہا تھا لیکن جذباتی طور پر بالکل مطمئن تھا۔ غصے کا شائبہ تک نہ تھا۔ اس نے مسکرا
کرکہا… ''میں حیران نہیں ہوا ایسا ہونا ہی تھا''… علی بن سفیان کی جذباتی حالت بگڑی ہوئی تھی۔ یہ اس کی ذمہ داری
تھی کہ محافظ دستے کے لیے جسے منتخب کیا جائے ،اس کے متعلق چھان بین کرے کہ وہ قابل اعتماد ہے۔ اب یہ دیکھنا
تھا کہ دستے کے باقی سپاہیوں میں کوئی ان کا ساتھی رہ گیا ہے یا باقی دیانت دار ہیں… سلطان صالح الدین ایوبی کے بستر
پر وہ پڑیا پڑی ہوئی تھی جو حملہ آور اس کے منہ میں ڈالنا چاہتا تھا۔ ایک سفید سا سفوف تھا جس میں سے کچھ بستر
پر بکھر گیا تھا۔ طبیب نے یہ سفوف دیکھا اور جب سنا کہ یہ سلطان صالح الدین ایوبی کے منہ میں ڈ اال جارہا تھا تو
طبیب کا رنگ اڑ گیا۔ اس نے بتایا کہ یہ ایسا زہر ہے کہ جس کا صرف ایک ذرہ بھی حلق سے نیچے اتر جائے تو تھوڑی
سی دیر میں انسان نہایت اطمینان سے مرجاتا ہے۔ وہ تلخی محسوس نہیں کرتا اور نہ وہ اپنے اندر کوئی اور تبدیلی محسوس
کرتا ہے۔ طبیب نے سلطان صالح الدین ایوبی کا بستر اٹھوا کر باہر بھجوایا اور صاف کرادیا۔
سلطان صالح الدین ایوبی نے زخمی کو اٹھوا کر اپنے بستر پر لٹا دیا۔ اس کے پیٹ میں تلوار لگی تھی اور دوسرا زخم ران پر
تھا۔ پیٹ کا زخم مہلک نظر نہیں آتا تھا ،ترچھا تھا۔ ران کا زخم لمبا تھا اور گہرا بھی ،وہ ہاتھ جوڑ کر سلطان صالح الدین
ایوبی سے زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا۔ سلطان کے خالف اس کے دل میں کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ کوئی نظریاتی
عداوت بھی نہیں تھی۔ وہ کرائے کا قاتل تھا۔ اپنی شکست کے ساتھ اسے اپنی ایک غیرشادی شدہ بہن کا غم کھائے جارہا
تھا۔ وہ بار بار اس کا نام لیتا اور کہتا تھا کہ میں مسلمان ہوں ،میرا گناہ بخش دو ،ایک مسلمان بہن کی خاطر مجھے بخش
دو۔
زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے''… سلطان ایوبی نے ایسے لہجے میں کہا کہ جس میں تحمل تھا مگر رعب اور ''
جالل بھی تھا۔ سلطان نے کہا… ''تم نے دیکھ لیا ہے کہ کون مارتا اور کون زندہ رکھتا ہے لیکن میرے دوست اس وقت
تمہاری جان جس کے ہاتھ میں ہے تم اسے دیکھ رہے ہو۔ اپنا گناہ دیکھو ،اپنی بے بسی دیکھو میں تمہیں تمہارے ساتھیوں
کی الش کے ساتھ زندہ باہر صحرا میں پھینک دوں گا۔ صحرا کی لومڑیاں اور بھیڑئیے تمہیں اس حال میں نوچ نوچ کر کھائیں
گے کہ تم زندہ رہو گے ،ہوش میں ہوگے مگر بھاگ نہیں سکو گے۔ بوٹی بوٹی ہوکر مرو گے اور اپنے گناہ کی سزا پائو
گے''۔
زخمی تڑپ اٹھا ،اس نے سلطان صالح الدین ایوبی کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے اور دھاڑیں مارمار کر رونے لگا… سلطان ایوبی نے
پوچھا… '' تم کون ہو؟کہاں سے آئے ہو؟ میرے ساتھ تمہاری کیا دشمنی ہے؟''۔
میں فاطمیوں کا آدمی ہوں''… اس نے جوا ب دیا… ''ہم چاروں حشیشین تھے ،کوئی دو سال اور کوئی تین سال پہلے ''
آپ کی فوج میں بھرتی ہوا تھا ،ہمیں سکھایا گیا تھا کہ آپ کے محافظ دستے میں کس طرح پہنچا جاسکتا ہے''۔ اس نے
بولنا شروع کردیا اور راز کی باتیں بتانے لگا ،اس نے بتایا کہ محافظ دستے میں یہی چار قاتل تھے۔ اس کے بیان کے دوران
سلطان صالح الدین ایوبی نے طبیب سے کہا کہ وہ اس کی مرہم پٹی کرتا رہے۔ طبیب نے اسے ایک دوا پال دی اور خون
روکنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس نے زخمی کو تسلی دی کہ وہ ٹھیک ہوجائے گا۔ زخمی انکشاف کرتا گیا۔ اس نے معزول
فاطمی خالفت اور حشیشین کے معاہدے کو بے نقاب کیا۔ فاطمیوں نے صلیبیوں سے جو مدد لی تھی اور لے رہے تھے ،اس
کی تفصیل بتائی… خاصا وقت صرف کرکے طبیب نے اس کی مرہم پٹی مکمل کردی۔ اصل مرہم تو سلطان ایوبی کی شفقت
تھی جس میں انتقام کا ذرا سا بھی شک نہیں ہوتا تھا۔
سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا کہ الشیں باہر پھینک دو اور اس زخمی کے متعلق اس نے علی بن سفیان سے کہا کہ وہ
وہیں سے اسے قاہرہ لے جائے اور اس نے جو نشاندہیاں کی ہیں ان کے خالف کارروائی کرے۔ زخمی نے نہایت کارآمد سراغ
دیئے ،جن میں کچھ ایسے خطرناک تھے جن کی تفتیش علی بن سفیان ہی اچھی طرح کرسکتا تھا۔ اسے اسی وقت اونٹ پر
خاص طریقے سے لٹا کر علی بن سفیان واپسی کے سفر پر چل پڑا۔
صالح الدین ایوبی پر متعدد بار قاتالنہ حملے ہوئے تھے ،تاریخ میں ان تمام کا ذکر نہیں آیا۔مندرجہ باال طرز کے دو حملوں کا
ذکر ملتا ہے۔ ایک بار ایک فدائی قاتل نے سلطان صالح الدین ایوبی پر اسی طرح سوتے میں خنجر کا وار کیا تھا۔ خنجر
پگڑی میں لگا اور سلطان ایوبی جاگ اٹھا تھا۔ یہ قاتل سلطان ایوبی کے ہاتھوں مارا گیا اور اس کے محافظ دستے کے چند
ایسے محافظ پکڑے گئے تھے جو کرائے کے قاتل تھے۔
٭ ٭ ٭
مصر کے جنوب مغربی عالقے میں جو سوڈان کی سرحد کے ساتھ ملتا تھا صدیوں پرانی کسی پیچ در پیچ عمارت کے کھنڈر
تھے۔ اس زمانے میں مصر کی سرحد کچھ اور تھی۔ صالح الدین ایوبی کہا کرتا تھا کہ مصر کی کوئی سرحد ہے ہی نہیں۔ تاہم
سوڈانیوں نے ایک خیالی سی سرحد بنا رکھی تھی۔ کھنڈروں کے اردگرد کا عالقہ دشوار گزار تھا۔ غالبا ً فرعونو ں کے وقتوں
میں یہ عالقہ سرسبز تھا اور وہاں پانی کی بہتات تھی۔ خشک جھیلیں اور دو ندیوں کے گہرے اور خشک پاٹ بھی تھے۔
ریتیلی چٹانیں بھی تھیں اور ریتیلی مٹی کے ٹیلے بھی۔ ان کی شکلیں کسی بہت بڑی عمارت کے کھنڈروں کی مانند تھیں،
کہیں ٹیلہ ستون کی طرح دور اوپر تک چال گیا تھا اور کہیں ٹیلے دیواروں کی طرح کھڑے تھے ،جہاں جہاں جگہ ہموار تھی،
لہذا درخت تھے اور وہاں
وہاں ریت تھی۔ چٹانیں اونچی بھی تھیں ،نیچی بھی۔ اس عالقے کے اردگرد کہیں کہیں پانی تھاٰ ،
کے رہنے والے کھیتی باڑی کرتے تھے۔ کم وبیش چالیس میل لمبا اور دس بارہ میل چوڑا یہ عالقہ آباد تھا۔ یہ آبادی مسلمان
تھی۔ ان میں کچھ لوگ مسلمان نہیں تھے۔ ان کے عجیب وغریب سے عقیدے تھے۔
فرعونوں کی عمارت کے کھنڈروں سے لوگ ڈرا کرتے تھے۔ ان کے اردگرد کا عالقہ بھی ایسا تھا کہ دیکھنے والے پر ہیبت
طاری ہوجاتی تھی ،وہاں سے کوئی گزرتا ہی نہیں تھا ،لوگ کہتے تھے کہ وہاں فرعونوں کی بدروحیں رہتی ہیں جو دن کے
دوران بھی جانوروں کی صورت میں گھومتی پھرتی رہتی ہیں اور کبھی اونٹوں پر سوار سپاہیوں کے بھیس میں اور کبھی
خوبصورت عورتوں کے روپ میں نظرآتی ہیں اور رات کو وہاں سے ڈرائونی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ کوئی ایک سال سے
یہ کھنڈر لوگوں کی دلچسپیوں کا مرکز بن گیا تھا۔ اس سے پہلے سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج کے لیے بھرتی کی مہم
شروع ہوئی تھی تو بھرتی کرنے والے اس عالقے کے ارد گرد بھی گھومتے پھرتے رہے تھے۔ وہاں کے باشندوں نے انہیں
خبردار کیا تھا کہ وہ ٹیلوں کے اندر نہ جائیں ،انہیں پراسرار آوازوں ،ڈرائونی چیزوں اور بدروحوں کی کہانیاں سنائی گئی تھیں۔
اس عالقے سے فوج کو بہت بھرتی ملی تھی ،مگر اس کے بعد بھرتی کرنے والے گئے تو لوگوں کا رحجان بدال ہوا تھا۔
سرحد پر گشت کرنے والے دستوں نے رپورٹ دی تھی کہ گشتی سنتری بھی اس عالقے کے اندر نہیں جایا کرتے تھے اور
انہوں نے کبھی کسی انسان کو ادھر جاتے نہیں دیکھا تھا مگر اب وہ لوگوں کو اندر جاتا دیکھتے ہیں اور وہاں سے آنے والے
ڈرے ہوئے نہیں ہوتے بلکہ مطمئن سے نظر آتے ہیں۔ اس کے بعد یہ اطالع ملی کہ ہر جمعرات کے روز رات تک اندر میلہ
سا لگتا ہے اور اس کے بعد اس قسم کا واقعہ ہوا کہ سرحدی دستوں کے چار پانچ سپاہی الپتہ ہوگئے۔ ان کے متعلق یہ
رپورٹ دی گئی تھی کہ بھگوڑے ہوگئے ہیں۔
سلطان صالح الدین ایوبی نے جہاں دشمن کے ملکوں میں جاسوس بھیج رکھے تھے وہاں اس نے اپنے ملک میں بھی
جاسوسوں کا جال بچھا رکھا تھا۔ غیر مسلم مورخوں نے سلطان صالح الدین ایوبی کو خاص طور پر خراج تحسین پیش کیا ہے
کہ اس نے آج کے انٹیلی جنس نظام اور کمانڈر وطریقۂ جنگ کو خصوصی اہمیت دے کر ٹرینگ کے نئے طریقے دریافت کیے
اور یہ ثابت کردیا تھا کہ صرف دس افراد سے ایک ہزار نفری کی فوج کا کام لیا جاسکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلمان
ہونے کی وجہ سے یورپی مورخوں نے سلطان صالح الدین ایوبی کے اس فن کو تاریخ میں اتنی جگہ نہیں دی جتنی دینی
چاہیے تھی لیکن اس دور کے وقائع نگاروں نے جو تحریریں قلمبند کی ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ اسالم کا یہ عظیم پاسبان
انٹیلی جنس ،گوریال اور کمانڈو آپریشن کا کس قدر ماہر تھا۔ اندرون ملک اس کی انٹیلی جنس گوشے گوشے پر نظر رکھتی اور
اعلی کارکردگی کا ثبوت تھا کہ مصر کے دور دراز کے
فوج کی مرکزی کمان کو رپورٹیں دیتی رہتی تھی۔ یہ اسی نظام کی
ٰ
ایسے عالقے کی سرگرمیوں کی بھی اطالع مرکز کو پہنچا دی گئی تھی جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ اس چھوٹے سے خطے
کو تو خدا نے بھی فراموش کررکھا ہے مگر مخبروں نے وہاں کے لوگوں کی صرف ذہنی تبدیلی دیکھی اور اس کی اطالع دی
تھی ،انہیں ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ اندر کیا ہوتا ہے۔ اس اطالع کے بعد دو مخبر قتل یا الپتہ ہوگئے تھے۔
وہاں کے لوگوں نے نہ صرف ٹیلوں کے ڈرائونے عالقے کے اندر جانا شروں کردیا ،بلکہ وہ فرعونوں کی اس پیچ درپیچ عمارت
کے کھنڈروں میں بھی جانے لگے تھے ،جہاں جانے کے تصور سے ہی ان کے رونگٹے کھڑے ہوجایا کرتے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے
اس کی ابتداء اس طرح ہوئی تھی کہ ایک گائوں میں ایک شتر سوار آیا۔ یہ اجنبی مسلمان اور مصری تھا ،اس کا اونٹ اچھی
نسل کا اور تندرست تھا ،اس مسافر نے گائوں والوں کواکٹھا کرکے یہ قصہ سنایا کہ وہ غربت سے تنگ آچکا تھا۔ اب وہ
رہزنی اور چوری کے ارادے سے گھر سے نکل کھڑا ہوا ،وہ پیدل تھا ،وہ اس امید پر اس عالقے میں آگیا کہ یہاں کوئی آبادی
نہیں ہے اس لیے رہزنی کرتے پکڑا نہیں جائے گا۔ وہ بہت دن پیدل چلتا رہا مگر اسے کوئی شکار نہ مال۔ آخر ٹیلوں کے اس
عالقے میں جہاں کوئی نہیں جاتا ،وہ جاکر گر پڑا۔ اس کے جسم میں طاقت نہیں رہی تھی۔ اس نے آسمان کی طرف ہاتھ
بلند کرکے خدا سے مدد مانگی۔ اسے ایک گونج دار آواز سنائی دی… ''تم خوش قسمت ہو کہ تم نے ابھی گناہ نہیں کیا،
گناہ کی صرف نیت کی ہے۔ اگر تم کسی کو لوٹ کر یہاں آتے تو تمہارا جسم ہڈیوں کا پنجر بن جاتا اور شیطان کے چھوڑے
ہوئے درندے تمہارا گوشت جو تمہارے سامنے پڑا ہوا ہوتا ،تمہیں دکھا دکھا کر کھاجاتے''۔
اس آواز نے اجنبی پر غشی طاری کردی۔ اس نے محسوس کیا کہ کوئی اسے اٹھا رہا ہے ،اس نے آنکھیں کھولیں تو وہ بیٹھا
ہوا تھا اور اس کے سامنے ایک سفید ریش بزرگ کھڑا تھا جو دودھ کی مانند سفید اور آنکھوں سے نور شعاعیں نکلتی تھیں۔
وہ جان گیا کہ یہ آواز جو اس نے سنی تھی ،اسی بزرگ کی تھی۔ اجنبی کی زبان بند ہوگئی اور وہ کانپنے لگا۔ بزرگ نے
اسے اٹھا کر کہا… ''مت ڈر مسافر ،یہ سب لوگ جو یہاں آنے سے ڈرتے ہیں ،بدنصیب ہیں۔ انہیں شیطان ادھر آنے نہیں
موسی علیہ السالم کی مملکت ہے۔
دیتا۔ تم جائو اور لوگوں سے کہو کہ یہاں اب فرعونوں کی خدائی نہیں رہی۔ یہ حضرت
ٰ
عیسی علیہ السالم بھی یہیں آسمان سے اترنے والے ہیں۔ اب اسالم کی قندیلیں اسی کھنڈر سے روشن ہوں گی۔ جن
حضرت
ٰ
کی روشنی ساری دنیا کو منور کردے گی۔ جائو لوگوں کو ہمارا پیغام دو ،انہیں یہاں الئو''… اجنبی نے کہا کہ وہ اٹھ نہیں
سکتا ،چل نہیں سکتا ،جسم سوکھ گیا ہے۔ سفید ریش بزرگ نے کہا… '' تم اٹھو اور پچاس قدم شمال کی طرف جائو۔
پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا ،ڈرنا نہیں۔ لوگوں تک پیغام پہنچا دینا ورنہ نقصان اٹھائو گے۔ تمہیں ایک اونٹ بیٹھا ہوا نظر آئے گا۔
اس کے ساتھ کھانا اور پانی ہوگا اور اس کے ساتھ جو کچھ ہوگا وہ تمہارا ہوگا''۔
اجنبی نے گائوں والوں کو سنایا کہ وہ اٹھ کر چلنے لگا تو اس کے جسم میں طاقت آگئی تھی۔ وہ ڈر رہا تھا کہ یہ کسی
فرعون کی بدروح ہے۔ اس نے پیچھے نہیں دیکھا۔ بدروح کے ڈر سے قدم گنتا رہا اور راستہ گھوم گیا۔ پچاس قدم پر یہ اونٹ
بندھا ہوا تھا ،اس کے ساتھ کھانا بندھا ہوا تھا جو اس نے کھا لیا اور پانی پی لیا۔ اس کے جسم میں ایسی طاقت آگئی جو
پہلے اس کے جسم میں نہیں تھا۔ اس نے لوگوں کو ایک تھیلی کھول کر دکھائی جس میں سونے کی اشرفیاں تھیں۔۔ یہ
تھیلی اونٹ کے ساتھ بندھی ہوئی تھی ،اجنبی اونٹ پر سوار ہوا اور اس گائوں میں آگیا جس میں بیٹھا وہ قصہ سنا رہا تھا۔
اس کے بعد اس نے گائوں والوں کو سفید ریش بزرگ کا پیغام دیا اور چال گیا۔ اس کا سنانے کا انداز ایسا پراثر تھا کہ لوگوں
کے دلوں میں ٹیلوں کے عالقے میں جانے کا اشتیاق پیدا ہوگیا لیکن گائوں کے بوڑھوں نے کہا کہ یہ اجنبی انسان نہیں بلکہ
کھنڈر کے شرشرار کا حصہ ہے… انسانی فطرت میں یہ کمزوری ہے کہ چھپے ہوئے کو بے نقاب کرنے کی اور بھید کو پالینے
کی کوشش کرتی ہے جن جسموں میں جوانی کا خون ہوتا ہے وہ خطرے مول لے لیتے ہیں۔ گائوں کے جوانوں نے ارادہ کرلیا
کہ وہ وہاں جائیں گے۔ اشرفیوں کا جادو بڑا سخت تھا جس سے وہ لوگ بچ نہیں سکتے تھے۔
٭ ٭ ٭
اس چالیس میل لمبے اور دس میل چوڑے خطے میں جتنے گائوں تھے ،ان سب سے اطالع ملی کہ ایک اجنبی مسافر یہی
قصہ سنا گیا ہے۔ کچھ لوگ تذبذب میں تھے اور کچھ تذبذب اور فیصلے کے درمیان بھٹک رہے تھے مگر ادھر جانےسے ڈرتے
تھے ،بعض آدمی گئے بھی لیکن ٹیلوں کے پراسرار عالقے کو دور سے دیکھ کر واپس آگئے۔ کچھ روز بعد دو جوان شتر سوار
تمام عالقے میں گھوم گئے۔ انہوں نے بھی ایسا ہی قصہ سنایا جو ذرا مختلف تھا۔ وہ بہت دور کے سفر پر گھوڑوں پر جارہے
تھے۔ ان کے ساتھ دو ٹٹو تھے جن پر قیمتی مال تھا۔ یہ تجارت کا مال تھا جو وہ سوڈان لے جارہے تھے۔ راستے میں انہیں
ڈاکوئوں نے لوٹ لیا۔ مال کے ساتھ گھوڑے اور ٹٹو بھی چھین لیے اور انہیں زندہ چھوڑ دیا۔ یہ دونوں ٹیلوں کے عالقے میں
آکر تھکن ،بھوک ،پیاس اور غم سے گر پڑے۔ انہیں بھی سفید ریش بزرگ نظر آیا۔ اس نے انہیں وہی پیغام دیا اور کہا…
'' تمہیں شیطان کے درندوں نے لوٹا ہے ،تم اللہ کے نیک بندے ہو ،جائو تمہیں پچاس قدم پر دواونٹ کھڑے ملیں گے اور ان
کے ساتھ جو کچھ بندھا ہوگا وہ تمہارا ہوگا لیکن مال وزر دیکھ کر آپس میں لڑ نہ پڑنا ورنہ ہمیشہ کے لیے اندھے ہوجائو
گے''… انہیں بھی اس بزرگ نے کہا کہ گائوں گائوں جا کر لوگوں کو پیغام دیں کہ ان کھنڈروں سے ڈریں نہیں۔
اس کے بعد ایسی ہی بہت سی روائتیں سنی اور سنائی جانے لگیں۔ ان میں ڈر اور خوف کا کوئی تاثر نہیں تھا بلکہ ایسی
کشش تھی کہ لوگوں نے ٹیلوں کے اردگرد پھرنا شروع کردیا۔ انہوں نے بعض لوگوں کو اندرونی عالقے سے باہر جاتے اور آتے
بھی دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ اندر ایک درویش بزرگ ہے جو غیب کا حال بتاتا اور آسمانوں کی خبر دیتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا
عیسی علیہ السالم کہتا تھا۔ ایک
موسی علیہ السالم ہیں اور کوئی حضرت
کہ وہ امام مہدی ہے۔ کسی نے کہا کہ حضرت
ٰ
ٰ
بات وثوق سے کہی جاتی تھی کہ وہ جو کوئی بھی ہے ،خدا کا بھیجا ہوا ہے اور گناہ گاروں سے نہ ملتا ہے ،نہ انہیں نظر
آتا ہے۔ اس کے پاس جانے کے لیے نیت صاف ہونی چاہیے۔ یہ بھی کہا گیا کہ وہ مردوں کو بھی زندہ کرتا ہے… یہ طلسماتی
اور پراسرار روائتیں اور حکائتیں لوگوں کو اندرونی عالقے میں لے جانے لگیں۔ آگے جاکر انہوں نے پہلی بار وہ کھنڈر دیکھے
جن سے وہ ڈرتے تھے۔ وہ ان کے اندر بھی گئے۔ یہ کمروں ،غالم گردشوں اور غاروں جیسے راستوں کی بھول بھلیاں تھیں۔
ایک کمرہ بہت ہی وسیع اور اس کی چھت اونچی تھی۔ جالے لٹک رہے تھے اور ماحول پر ہیبت طاری تھی لیکن وہاں
خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ کہیں سیڑھیاں فرش سے نیچے جاتیں اور تہہ خانوں میں جاکر ختم ہوتی تھیں۔
یہ عمارت ان فرعونوں کی تھی جو اپنے آپ کو خدا کہتے تھے۔ وہ کسی کسی کو نظر آتے تھے۔ لوگوں کو اس عمارت میں
اکٹھا کرلیا کرتے اور لوگوں کو ان کی صرف آواز سنائی دیتی تھی۔ یہ آواز ایسی سرنگوں میں سے گزر کر آتی تھی جن کے
دہانے بڑے کمرے میں تھے مگر نظر نہیں آتے تھے بولنے واال سرنگ کے دوسرے سرے پر ہوتا تھا جس کے متعلق کوئی جان
نہیں سکتا تھا کہ کہاں ہے۔ وہ اسے خدا کی آواز سمجھتے تھے جو عام آدمی کو نظر نہیں آتا۔ ان بڑے کمروں میں روشنیوں
کا ایسا انتظام ہوا کرتا تھا کہ مشعلیں نظر نہیں آتی تھی ،کمرے ر وشن رہتے تھے۔ آئینے کی طرح چمکیلی دھات کی چادریں
استعمال کی جاتی تھیں جن سے چھپی ہوئی مشعلوں کی روشنی منعکس ہوتی تھی… وہ تو صدیوں پرانی بات تھی۔ اب
صالح الدین ایوبی کے دور میں اس عمارت میں پھر وہی آوازیں گونجنے لگیں ،جنہیں لوگ خدا کی آوازیں سمجھا کرتے تھے۔
ذرا سے وقت میں لوگوں کے دلوں سے کھنڈروں کی ہیبت نکل گئی۔ وہ جب بڑے کمرے میں جاتے تو اس سے پہلے انہیں
اندھیری اور فراغ سرنگوں میں سے گزرنا پڑتا تھا۔ آگے بہت ہی فراغ اور اونچی چھت واال کمرہ آجاتا ،جس میں روشنی ہوتی
مگر کوئی مشعل نظر نہیں آتی تھی۔ وہاں گونج کی طرح آواز آتی تھی… ''ہم نے تمہیں اندھیروں میں سے نکال کر روشنی
موسی
دکھائی ہے۔ کو ِہ طور کی روشنی ہے۔ اس نور کو دلوں میں داخل کرلو۔ فرعونوں کی بدروحیں بھی مرگئی ہیں۔ اب یہاں
ٰ
عیسی علیہ السالم اور زیادہ منور کرے گا۔ خدا کو یاد کرو ،کلمہ پڑھو''۔ اور لوگ
علیہ السالم کا نور ہے اور اس نور کو
ٰ
حیرت سے منہ کھولے آنکھیں پھاڑے ایک دوسرے کو دیکھتے اور کلمہ طیبہ گنگنانا شروع کردیتے تھے۔ اگر اس آواز میں خدا،
عیسی علیہ السالم اور کلمہ طیبہ کا ذکر نہ ہوتا تو لوگ شاید اس کا یہ اثر قبول نہ کرتے
موسی علیہ السالم حضرت
حضرت
ٰ
ٰ
جو وہ کررہے تھے۔ وہ سب مسلمان تھے۔ اپنے مذہب کے نام پر وہ اس اثر کو قبول کرتے تھے… اور جب انہیں یہ آواز
سنائی دی… '' رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدا نے غار حرا کے اندھیرے میں رسالت عطا کی تھی۔ تمہیں بھی
ان غاروں کے اندھیرے میں خدا کا نور نظر آئے گا''… تو لوگوں نے سرجھکا لیے اور اس آواز کو جس کی گونج میں
طلسماتی اثر تھا ،اپنے دل پر نقش کرلیا لیکن لوگ اس ہستی تک پہنچنا چاہتے تھے جس کی یہ آواز تھی اور جو مسافروں
کو اونٹ ،کھانا ،پانی اور اشرفیاں دیتی اور مردوں کو زندہ کرتی تھی۔ لوگوں کی بیتابیاں بڑھتی جارہی تھیں۔ وہ اپنے گھروں کو
جاتے تو انہیں عورتیں بتاتیں کہ ایک اجنبی آیا تھا جو کھنڈر والے درویش کی کرامات سنا گیا ہے۔ وہ کہتا تھا کہ اس نے
درویش کی زیارت کی ہے۔ ایک روز ان دیہات میں جو سب سے بڑا گائوں ہے ،وہاں کی مسجد کے پیش امام سے لوگوں نے
استفسار کیا۔ اس نے کہا… ……وہ مقدس انسان ہے صرف نیک لوگوں سے ملتا ہے ،نیک وہ ہوتا ہے جو خون خرابہ نہ کرے،
عیسی علیہ السالم کا پیغام الیا ہے۔ اس پیغام میں محبت ہے،
صلح اور امن کی زندگی بسر کرے۔ یہ مقدس درویش حضرت
ٰ
جنگ وجدل نہیں۔ اس پیغام میں یہ نصیحت ہے کہ کسی کو زخمی نہ کرو بلکہ زخمی کے زخموں پر مرہم رکھو… اگر تم
لوگ ان اصولوں پر زندگی بسر کرو گے تو یہ درویش تمہاری کایا پلٹ دے گا''۔
جب ایک امام مسجد نے بھی اس مقدس درویش کو اور اس کی آواز کو برحق کہہ دیا تو کسی شک و شبے کی گنجائش نہ
رہی۔ لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ کھنڈروں میں جانے لگے تو اعالن ہوا کہ ہر جمعرات کے روز اندر جانے کی اجازت ہوگی اور
شام کو میلہ لگا کرے گا۔ چنانچہ اس روز سے جمعرات کا دن مخصوص ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی عورتوں کو بھی وہاں جانے
کی اجازت مل گئی۔ اب کھنڈروں کے اندر اپنی مرضی سے کوئی نہیں جاسکتا تھا۔ جمعرات کے روز ان کے اردگرد میلے کا
سماں ہوتا تھا۔ دوردور سے لوگ اونٹوں ،گھوڑوں اور خچروں پر اور پیدل بھی آتے اور شام کو کھنڈروں میں جانے کے وقت کا
انتظار کرتے تھے… اندر کی سنسنی خیز دنیا میں انقالب آگیا ،وہاں اب لوگوں کو گناہ اور نیکی کے ،تاریکی اور روشنی کے
تصورات ایسی صورت میں نظر آتے تھے کہ لوگ انہیں مجسم اور متحرک صورت میں دیکھتے اور حیرت زدہ ہوتے تھے۔ کسی
کو کوئی الٹا سیدھا سوال اور شک کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی وہ کسی سوال اور شک کی ضرورت محسوس
کرتے تھے۔
سورج غروب ہوتے ہی اندھیری سرنگ کا منہ کھل جاتا جو اندر لے جاتی تھی۔ یہ دراصل اس عمارت کے درمیان سے گزرنے
واال راستہ تھا۔ اس کی دیواریں بہت بڑے بڑے بالکوں کی تھیں۔ اوپر ایسی ہی چھت تھی۔ یہ سرنگ ہر دس بارہ قدموں بعد
دائیں یا بائیں کو مڑتی تھی۔ اس کے دروازے یا دہانے سے باہر چند ایک آدمی کھڑے ہوتے تھے۔ ان کے پاس کھجوروں کے
انبار لگے ہوتے تھے۔ یہ کھجوریں لوگوں کی الئی ہوئی ہوتی تھیں ،جسے نذرانہ کہا جاتا تھا۔ زائرین کھجوریں ایک جگہ ڈھیر
کردیتے تھے۔ کھجوروں کے پاس پانی کے مشکیزے رکھے ہوتے تھے۔ شام کو جب زائرین کو اندر جانے کی اجازت ملتی تھی
تو دروازے پر ہر ایک کو تین کھجوریں کھال کر چند گھونٹ پانی پالیا جاتا اور اندر بھیج دیا جاتا۔ تاریک سرنگ سے گزر کر
جب یہ لوگ روشن ہال کمرے میں پہنچتے تو وہاں انہیں آوازیں سنائی دیتیں… ''کلمہ طیبہ پڑھو ،اپنے اللہ کو یاد کرو،
عیسی علیہ السالم کا ظہور ہونے واال ہے۔ دل سے بدی اور دشمنی
موسی علیہ السالم تشریف لے آئے ہیں ،حضرت
حضرت
ٰ
ٰ
نکال دو ،لڑائی جھگڑا ختم کردو اور دیکھو ان کا حشر جنہیں جنت کا دھوکہ دے کر لڑایا گیا تھا''۔
اس آواز کے ساتھ ہی لوگوں کی آنکھوں میں نہایت تیز روشنی پڑتی۔ انہیں ایک طرف منہ کرکے کھڑا کیا جاتا تھا۔ ان کی
آنکھیں خیرہ ہونے لگتیں تو روشنی ذرا مدھم ہوجاتی۔ اس کے بعد روشنی کبھی تیز ہوتی ،کبھی مدھم اور لوگوں کے سامنے
والی دیوار پر ستارے چمکتے نظر آتے۔ ان ستاروں میں جنبش ہوتی اور انتہائی مکروہ اور بھدی شکلوں والے انسان جاتے نظر
آتے۔ گونج دار آواز سنائی دیتی… ''یہ سب تمہاری طرح جوان اور خوبصو رت تھے۔ انہوں نے خدا کا پیغام نہ سنا۔ یہ کمر
کے ساتھ تلواریں سجا کر گھوڑوں پر سوار ہوئے اور اپنے جیسے خوبصورت جوانوں کو قتل کیا۔ انہیں دھوکہ دیا گیا کہ تم لڑو،
مرجائو گے تو جنت میں جائوں گے۔ دیکھ لو ان کا انجام ،خدا نے انہیں شیطان کے درندے بنا کر کھال چھوڑ دیا ہے''… ان
آوازوں کے ساتھ بادل کی گرج اور بجلی کی کڑک سنائی دیتی ،کچھ اور آوازیں بھی سنائی دیتیں جو مختلف درندوں کی معلوم
ہوتی تھیں۔ روشنی اتنی تیز ہوجاتی کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں چندھیا جاتیں ،پھر لمبے لمبے دانتوں والے درندے دائیں سے
بائیں جاتے نظر آتے۔ یہ بھی انسان تھے لیکن ان کی شکلیں بڑے ہی ڈرائونے بھیڑیوں جیسی تھیں۔ انہوں نے بازوئوں پر برہنہ
لڑکیاں اٹھا رکھی تھیں۔ یہ لڑکیاں جوان اور خوبصورت تھیں ،لڑکیاں تڑپتی تھیں ،بادل کی گرج اور زیادہ بلند سنائی دیتی اور
آواز آتی… ''انہیں اپنے حسن پر ناز تھا ،انہوں نے خدا کے حسن کو ناپاک کیا تھا''… ان ڈرائونی اور بھیانک شکلوں کے
بعد بڑے ہی خوبرو مرد اور خوبصورت عورتیں گزرتیں ،یہ سب ہنستے کھیلتے جاتے تھے ،یہ نیک اور پاک لوگ تھے جن کے
متعلق بتایا جاتا تھا کہ انہوں نے کبھی لڑائی جھگڑے کی بات نہیں کی تھی۔ وہ سراپا محبت ،پیار اور خلوص تھے۔
اس کے بعد زائرین کو ایک تہہ خانے میں لے جایا جاتا ،جہاں انسانی ہڈیوں کے پنجر ےبھی تھے اور خوبصورت لڑکیاں بھی
عیسی علیہ السالم کا ظہور
گھومتی پھرتی اور مسکراتی نظر آتی تھیں۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد آواز سنائی دیتی… ''حضرت
ٰ
ہونے واال ہے… جنگ وجدل اور خون خرابہ دل سے نکال دو''… تہہ خانے کا ایک راستہ اور تھا جس سے لوگوں کو باہر
نکال دیا جاتا۔ لوگوں پر ایسا تاثر طاری ہوتا تھا جیسے وہ سو گئے تھے اور انہوں نے بڑا ہی عجب خواب دیکھا ہو ،جو
ڈرائونا تھا اور خوبصورت بھی۔ وہ ایک بار پھر اندر جانے کو بے تاب ہوتے تھے لیکن کسی کو اس طرف جانے نہیں دیا جاتا
تھا ،جدھر سے لوگ اندر جاتے تھے ،وہ اپنے گھروں کو واپس نہیں جانا چاہتے تھے۔ رات وہیں کھنڈروں کے قریب ہی گزار
دیتے تھے۔ وہاں کچھ لوگ ان کے پاس بیٹھ کر انہیں اندر کے راز بتاتے تھے۔ ایک راز یہ تھا کہ اندر جس کی آواز سنائی
عیسی علیہ السالم دنیا میں آرہے ہیں اور خلیفہ العاضد
دیتی ہے وہ خدا کی طرف سے یہ پیغام لے کر آیا ہے کہ حضرت
ٰ
بھی دنیا میں واپس آگیا ہے۔
العاضد فاطمی خالفت کا خلیفہ تھا جس کی گدی مصر میں تھی۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اسے معزول کرکے مصر کو
بغداد کی خالفت عباسیہ کے تحت کردیا تھا۔ العاضد اس کے فورا ً بعد مرگیا تھا۔ یہ وہ اڑھائی سال پہلے کا واقعہ تھا۔
فاطمیوں نے صلیبیوں اور حشیشین کے ساتھ سازباز کرکے ایک سازش تیار کی تھی جس کے تحت سلطان صالح الدین ایوبی کا
تختہ الٹنا اور مصر میں فاطمی خالفت بحال کرنا تھا۔ اس سازش کی کامیابی کے لیے سوڈانیوں کو تیار کیا جارہا تھا کہ وہ
مصر پر حملہ کردیں۔
کھنڈر کے مریدوں کی تعداد میں اور اس کی عقیدت مندی میں اضافہ ہوتا جارہا تھا اور جنوب مغربی عالقے کے لوگ قائل
عیسی علیہ السالم خلیفہ العاضد کو واپس بھیج چکے ہیں اور خود بھی واپس آرہے ہیں۔ ان
ہوتے جارہے تھے کہ حضرت
ٰ
لوگوں نے فوج میں بھرتی ہونے سے توبہ کرلی تھی۔ کیونکہ وہ جنگ وجدل کو گناہ سمجھنے لگے تھے۔ صالح الدین ایوبی کو
ایک گناہ گار بادشاہ قرار دے دیا گیا تھا جو اپنی بادشاہی کو وسعت دینے کے لیے جوانوں کو یہ دھوکہ دے کر فوج میں
بھرتی کرتا تھا کہ وہ شہید ہوں گے اور سیدھے جنت میں جائیں گے۔ کھنڈر وں کے اندر کی دنیا لوگوں کے لیے عبادت گاہ
بن گئی تھی۔
بعض نے تو ٹیلوں کے عالقے میں ہی ڈیرے ڈال دیئے تھے ،وہ اس مقدس درویش کی زیارت کے لیے بے قرار رہتے تھے ،جس
کی آواز کھنڈروں میں سنائی دیتی تھی ،مگر وہ انہیں نظر نہیں آتا تھا۔ ایک نیا فرقہ جنم لے رہا تھا۔
اس زخمی حشیش کو جو سلطان صالح الدین ایوبی پر قاتالنہ حملے میں زخمی ہوا تھا ،علی بن سفیان قاہرہ لے گیا ،جہاں
اسے ایک الگ تھلگ مکان میں رکھا گیا۔ سلطان صالح الدین ایوبی کے حکم کے مطابق اس کے عالج کے لیے ایک جراح
مقرر کردیا گیا۔ وہ آخر مجرم تھا ،اسے جس مکان میں رکھا گیا اس کے دروازے پر ایک سنتری کھڑا رہتا تھا۔ وہ ابھی بھاگنے
کے قابل نہیں تھا ،کھنڈروں کی نشاندہی اسی نے کی تھی۔ فیصلہ ہوا تھا کہ یہ ٹھیک ہوجائے تو اس کی رہنمائی میں
جاسوس بھیج کر کھنڈروں کے اندر کے حاالت دیکھے جائیں گے۔ ہوسکتا تھا کہ یہ زخمی جھوٹ بول رہا ہو۔ علی بن سفیان
نے قاہرہ آتے ہی اپنے نائب حسن بن عبداللہ اور کوتوال غیاث بلبیس سے کہہ دیا تھا کہ وہ اس عالقے میں اپنا کوئی مخبر
اور جاسوس نہ بھیجیں جس کے متعلق انہیں رپورٹ ملی ہے کہ وہاں کے لوگ فوج کے خالف ہوگئے ہیں۔ علی کو کسی بہت
بڑے اور کارآمد انکشاف کی توقع تھی۔
زخمی کو معلوم نہیں کیوں یہ وہم ہوگیا تھا کہ وہ زندہ نہیں رہے گا۔ وہ روتا تھا اور باربار اپنے گائوں کا نام بتا کر کہتا تھا
کہ میری بہن کو بال دو میں اسے دیکھ نہیں سکوں گا۔ علی بن سفیان اس کی اسی کمزوری کو اس سے مزید راز اگلوانے
کے لیے استعمال کررہا تھا۔ زخمی اپنی بہن کے متعلق غیر معمولی طور پر جذباتی تھا۔ علی کو جب یقین ہوگیا کہ زخمی
کے سینے میں اب اور کوئی بات نہیں رہ گئی تو اس نے دو پیامبر بال کر انہیں زخمی کا گائوں اور عالقہ بتایا اور کہا کہ
اس کی بہن کو اپنے ساتھ لے آئیں۔ یہ عالقہ مصر کے جنوب مغرب میں ہی تھا… پیامبر اسی وقت روانہ ہوگئے۔
سلطان صالح الدین ایوبی محاذ پر پہنچ گیا اور شوبک کے قلعے میں چال گیا۔ اس کے چہرے پر قاتالنہ حملے کا کوئی تاثر
نہیں تھا ،جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ اس کے محافظ دستے کا کمانڈر اور دیگر حکام جو اس کے ساتھ تھے بہت پریشان اور
شرمسار تھے۔ وہ ڈرتے بھی تھے کہ سلطان صالح الدین ایوبی کسی نہ کسی مقام پر ان پر برس پڑے گا اور جواب طلبی بھی
کرے گا مگر اس نے اس طرف اشارہ بھی نہیں کیا۔ البتہ اپنی مرکزی کمان کے فوجی حکام سے کہا… ''آپ نے دیکھ لیا
ہے کہ میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ،آپ میری جنگی چالیں غور سے دیکھتے رہا کریں۔ دشمن نے جو دوسرا محاذ کھول
رکھا ہے اس پر گہری نظر رکھیں اور تخریب کاروں کی پکڑ دھکڑ اور سرکوبی کرتے رہیں''… اس نے کسی سے اتنا بھی نہ
کہا کہ محافظ دستے کی چھان بین کی جائے۔ اس نے اتنے بڑے حاد ثے کا کوئی اثر ہی نہ لیا۔ شوبک کے قلے میں پہنچا
اور سب سے پہلے پوچھا کہ کوئی جاسوس واپس آیا ہے یا نہیں؟ اسے بتایا گیا کہ دو جاسوس کارآمد معلومات الئے ہیں۔ اس
نے دونوں کو باللیا اور صلیبیوں کے ارادوں کے متعلق رپورٹیں لیں۔ اسے تقریبا ً وہ تمام پالن بتا دیا گیا جو صلیبیوں نے تیار
کیا تھا۔ اس نے نورالدین زنگی کی بھیجی ہوئی کمک کے ساالر اور مصر سے آئی ہوئی فوج کے ساالر اور دونوں کے نائبین کو
بال بھیجا اور گہری سوچ میں کھو گیا۔
چوتھے روز زخمی حشیش کی بہن آگئی۔ اس کے ساتھ چار آدمی تھے جن کے متعلق بتایا گیا کہ زخمی کے چچا اور تایا زاد
بھائی ہیں۔ بہن جوان اور پرکشش تھی اور اپنے بھائی کے لیے بہت ہی پریشان تھی۔ زخمی اس کا اکیال بھائی تھا۔ ان کے
ماں باپ مرچکے تھے ،اسے اور اس کے ساتھ آئے ہوئے چار آدمیوں کو زخمی کے پاس لے جانے کے لیے علی بن سفیان کی
اجازت کی ضرورت تھی۔ علی بن سفیان نے بہن کو اجازت دے دی ،اس کے ساتھ آئے ہوئے آدمیوں کو نہ ملنے دیا۔ انہوں
نے منت سماجت کی اور کہا کہ وہ اتنی دور سے آئے ہیں ،انہیں صرف اتنی اجازت دی جائے کہ زخمی کو دیکھ لیں۔
وہ کوئی بات نہیں کریں گے۔ علی بن سفیان نے اس طرح اجازت دی کہ خود ان کے ساتھ ہوگا اور انہیں فورا ً باہر نکال دے
گا۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ اسی وقت ان سب کو زخمی کے پاس لے گیا۔ بہن نے بھائی کو دیکھا تو اس کے اوپر گر پڑی۔
بھائی کا منہ چومنے لگی اور زاروقطار رونے لگی۔
داستان ایمان فروشوں کی 19:41
قسط نمبر44.
" کھنڈروں کی آواز "
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دوسرے آدمیوں کے متعلق علی بن سفیان نے زخمی سے کہا کہ ان سے ہاتھ مال لو ،یہ واپس جارہے ہیں۔ اس نے چاروں سے
ہاتھ مالیا تو علی بن سفیان نے انہیں باہر چلے جانے کو کہا اور یہ بھی کہہ دیا کہ وہ آئندہ اسے نہیں مل سکیں گے ،وہ
چلے گئے۔
بہن نے علی بن سفیان کے قدموں میں بیٹھ کر اس کے پائوں پکڑ لیے اور رو رو کر منت کی کہ اسے بھائی کی خدمت کے
لیے وہیں رہنے دیا جائے۔ علی بن سفیان ایک بہن کی ایسی جذباتی التجا کو ٹھکرا نہ سکا۔ اس نے لڑکی کی جامہ تالشی
کی اور اسے وہیں رہنے کی اجازت دے دی اور وہاں سے چال گیا۔
بہن بھائی اکیلے رہ گئے تو بہن نے بھائی سے پوچھا کہ اس نے کیا کیا ہے؟ بھائی نے بتا دیا۔ بہن نے پوچھا کہ اس کے
ساتھ کیا سلوک ہوگا؟ بھائی نے جواب دیا… ''امیر مصر پر قاتالنہ حملے کا جرم بخشا تو نہیں جائے گا اگر ان لوگوں نے
مجھ پر رحم کیا تو سزائے موت نہیں دیں گے ،ساری عمر کے لیے تہہ خانے کی قید میں ڈال دیں گے''۔
پھر میں ساری عمر تمہیں نہیں دیکھ سکوں گی؟'' بہن نے پوچھا۔''
نہیں شارجا''… بھائی نے رندھیائی ہوئی آواز میں کہا… ''پھر میں مر بھی نہیں سکوں گا۔ جی بھی نہیں سکوں گا ،وہ ''
جگہ بڑی خوفناک ہے ،جہاں ہمیشہ کے لیے قید کردیں گے''۔
بہن جس کا نام شارجا تھا ،بچوں کی طرح بلبال اٹھی۔ اس نے کہا …''میں نے تمہیں اس وقت بھی روکا تھا کہ ان لوگوں
کے چکر میں نہ پڑو مگر تم نے کہا کہ صالح الدین ایوبی کا قتل جائز ہے ،تم اللچ میں آگئے تھے ،تم نے میری بھی پروا نہ
کی ،میرا کیا بنے گا؟ تم نہ ہوئے تو میرا آسر ا کون ہوگا؟''۔
زخمی بھائی کا ذہن تقسیم ہوگیا تھا ،کبھی وہ پچھتاوے کی باتیں کرتا اور کہتا کہ وہ ان لوگوں کے جھانسے میں آگیا تھا ،اس
نے یہ بھی کہا… ''صالح الدین ایوبی انسان نہیں ،خدا کا بھیجا ہوا فرشتہ ہے۔ ہم چار ہٹے کٹے جوان مل کر اتنا بھی نہ
کرسکے کہ اس کے جسم پر خنجر کی نوک سے خراش ہی ڈال دیتے۔ اس پر زہر نے بھی اثر نہیں کیا۔ اس اکیلے نے تین
کو جان سے مار دیا اور مجھے موت کے منہ میں ڈال دیا''۔
یہ کہنے والے جھوٹ تو نہیں کہتے تھے کہ صالح الدین ایوبی کا ایمان اتنا مضبوط ہے کہ اسے کوئی گناہ گار قتل نہیں ''
کرسکتا''۔ بہن نے کہا… ''تم چاروں مسلمان تھے ،اتنا بھی نہ سوچا کہ وہ بھی مسلمان ہے؟''۔
اس نے خدا کے خلیفہ کی گدی کی توہین کی ہے''۔ زخمی بھائی کا دماغ الٹی طرف چل پڑا ،اس نے جوشیلے لہجے ''
میں کہا… ''تم نہیں جانتی کہ خلیفہ العاضد خدا کے بھیجے ہوئے خلیفہ تھے''۔
جو کوئی جوکچھ بھی تھا'' … بہن نے کہا… ''میں یہ جانتی ہوں کہ تم میرے بھائی ہو اور مجھ سے ہمیشہ کے لیے ''
''جدا ہورہے ہو۔ کیا تمہارے بچنے کی کوئی صورت پیدا ہوسکتی ہے؟
شاید پیدا ہوجائے''۔ بھائی نے جواب دیا… ''میں نے اس شرط پر انہیں سارے راز بتا دیئے ہیں کہ میرا گناہ بخش دیں ''
مگر میرا گناہ اتنا سنگین ہے جو شاید نہ بخشا جائے''۔
اس وقت زخمی کو سوجانا چاہیے تھا اور اسے اتنا زیادہ بولنا نہیں چاہیے تھا کیونکہ پیٹ کے زخم کھل جانے کا ڈر تھا مگر
وہ بولتا جارہا تھا اور بہن رو رہی تھی۔ بولتے بولتے اسے پیٹ کے زخم میں ٹیسیں محسوس ہونے لگیں اور وہ بے حال ہوگیا
اس نے بہن سے کہا … ''شارجا باہر جائو ،کوئی آدمی ملے تو اسے کہو کہ طبیب یا جراح کو بال دے۔ میں مر رہا ہوں''۔
شارجا دوڑتی باہر گئی ،باہر سنتری کھڑا تھا۔ اس نے اسے بھائی کی حالت بتائی تو اس نے شارجا کو اس جراح کے گھر کا
راستہ بتا دیا جسے زخمی کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ اسے سختی سے حکم دیا گیا تھا کہ دن ہو یا رات،
زخمی کو زندہ رکھنے کی پوری کوشش کرے۔ وہ شاہی جراح تھا۔
شارجا دوڑتی گئی ،جراح کا گھر بالکل قریب تھا۔ شارجا نے جراح کو بھائی کی حالت بتائی تو وہ بھاگم بھاگ آیا اور زخمی
کو دیکھا۔ اس کے پیٹ کی پٹی خون سے الل ہوگئی تھی۔ جراح نے فورا ً پٹی کھولی۔ خون بند کرنے کے لیے اس میں
سفوف ڈالے اور بہت سا وقت صرف کرکے پٹی باندھی ،خون بند ہوگیا۔ اس نے زخمی کو دوائی پال دی جس کے اثر سے
اسے نیند آگئی اور وہ سوگیا۔ شارجا اس جواں سال جراح کو حیرت اور دلچسپی سے دیکھتی رہی۔ اسے توقع نہیں تھی کہ
اتنی رات گئے کوئی اس کے مجرم بھائی کو دیکھنے آجائے گا لیکن جراح دوڑتا آیا اور اس نے اتنے انہماک سے زخمی کی
مرہم پٹی کی کہ شارجا کو حیران کردیا۔ زخمی کی آنکھ لگ گئی تو جراح نے آنکھیں بند کرکے اور ہاتھ اوپر اٹھا کر
سرگوشی کی… '' زندگی اور موت تیرے ہاتھ میں ہے ،میرے خدا! اس بدنصیب کے حال پر کرم کرو ،اسے زندگی عطا کرو،
خدائے عزوجل''۔
شارجا کے آنسو نکل آئے ،اس پر جراح کا تقدس طاری ہوگیا۔ اس نے جراح کے قریب دو زانو ہوکر اس کا ایک ہاتھ پکڑا اور
چوم لیا۔ جراح کے پوچھنے پر شارجا نے بتایا کہ وہ زخمی کی بہن ہے۔ اس نے جراح سے پوچھا… ''کیا آپ کے دل میں
اتنا زیادہ رحم ہے کہ میرے بھائی کو آپ تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے یا اسے اس لیے زندہ رکھنا چاہتے ہیں کہ یہ آپ کو
''راز کی ساری باتیں بتا دے؟
مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ اس کے پاس کوئی راز ہے یا نہیں''۔ جراح نے کہا… ''میرا فرض ہے کہ اسے ''
زندہ رکھوں اور اس کے زخم بالکل ٹھیک کردوں۔ میری نگاہ میں مومن اور مجرم میں کوئی فرق نہیں''۔
آپ کو شاید معلوم نہیں کہ اس کا جرم کیا ہے''۔ شارجا نے کہا… ''اگر معلوم ہوتا تو آپ اس کے زخم پر مرہم رکھنے''
کے بجائے اس میں نمک بھر دیتے''۔
مجھے معلوم ہے''۔ جراح نے جواب دیا… ''لیکن میں اسے زندہ رکھنے کی پوری کوشش کروں گا''۔''
شارجا اتنی متاثر ہوئی کہ اس نے جراح کے ساتھ اپنی باتیں شروع کردیں۔ اسے بتایا کہ اس کے ماں باپ بچپن میں مرگئے
تھے۔ اس وقت اس کا بھائی دس گیارہ سال کا تھا۔ اس نے شارجا کو پاال پوسا اور جوان کیا اگر اس کا بھائی نہ ہوتا تو
کوئی نہ کوئی اسے اغوا کرکے لے جاتا۔ بھائی نے زندگی بہن کے لیے وقف کردی تھی۔ جراح انہماک سے اس کی باتیں سنتا
رہا اور اسے اس خیال سے باہر صحن میں لے گیا کہ زخمی کی آنکھ نہ کھل جائے۔ جراح ایسے انداز سے شارجا کی باتیں
سن رہا تھا جیسے وہ رات یہیں گزارے گا مگر وہ جانے لگاتو شارجا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا… ''آپ چلے جائیں گے تو
مجھے ڈر آئے گا''… جراح نے اسے بتایا کہ وہ اسے اپنے ساتھ نہیں لے جاسکتا اور اس کے ساتھ بھی نہیں رہ سکتا۔ جراح
گھر میں اکیال رہتا تھا۔ وہ شارجا کی خاطر کچھ دیر اور رک گیا اور رات کے پچھلے پہر گیا… دوسرے دن کا سورج ابھی
طلوع نہیں ہوا تھا کہ وہ زخمی کو دیکھنے آگیا۔ اس نے رات والے انہماک سے اس کی مرہم پٹی کی۔ زخمی کو دودھ پالیا
اور ایسا کھانا دیا جو شارجا نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا۔
اس دوران علی بن سفیان آیا،زخمی کی حالت دیکھ کر چال گیا لیکن جراح نہ گیا۔ وہ شارجا کے ساتھ باتیں کرتا
اوراس کی باتیں سنتا رہا۔ اس روز شام تک وہ تین بار زخمی کو دیکھنے آیا۔ حاالنکہ وہ صرف دوپہر کو آیا کرتا تھا۔ شام
کو وہ چال گیا تو زخمی نے اپنی بہن سے کہا… ''شارجا! میری ایک بات غور سے سن لو ،میری زندگی اس جراح کے ہاتھ
میں ہے لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں دیکھ کر یہ میرا عالج پہلے سے زیادہ اچھے طریقے سے کرنے لگا ہے۔ میں موت
قبول کرلوں گا مگر اسے اتنی زیادہ قیمت نہیں دوں گا جو اس نے دل میں رکھ لی ہے… مجھے شک نہیں یقین ہے کہ یہ
مجھے زندہ رکھنے کے لیے تمہاری عزت کا نذرانہ لینا چاہتا ہے''۔
میں تو اسے فرشتہ سمجھتی ہوں''۔ شارجا نے کہا… ''اس نے ابھی تک کوئی ایسا اشارہ بھی نہیں کیا اور میں بچی ''
بھی تو نہیں لیکن میں اسے ایسا سمجھتی نہیں''۔
شارجا کا اندازہ ایسا تھا جس نے بھائی کو شک میں ڈال دیا کہ وہ جراح میں دلچسپی لیتی ہے۔
٭ ٭ ٭
اس رات جراح آیا ،زخمی سوگیا تھا ،شارجا جاگ رہی تھی۔ وہ جراح کے ساتھ صحن میں چلی گئی۔ کچھ دیر باتیں ہوتی
رہیں ،جراح نے اسے کہا کہ اس کا بھائی دوائی کے اثر سے اتنی گہری نیند سو گیا ہے کہ صبح تک اس کی آنکھ شاید نہیں
کھلے گی۔ آئو میرے گھر چلو… شارجا کچھ جھجکی لیکن جراح کی پیشکش ٹھکرانہ سکی۔ اس کے ساتھ چلی گئی۔ یہ خوبرو،
جواں سال اور حلیم طبع جراح اکیال رہتا تھا۔ شارجا بالغ دماغ لڑکی تھی۔ اسے توقع تھی کہ آج رات یہ آدمی اس کے
سامنے بے نقاب ہوجائے گا مگر ایسا نہ ہوا۔ وہ اس کے ساتھ ہمدرد دوستوں کی طرح باتیں کرتا رہا۔ لڑکی کو اس کے اتنے
مشفقانہ سلوک نے پریشان کردیا۔ اس نے بے اختیار اس سے پوچھا… ''میں صحرا کے دور دراز عالقے کی غریب سی لڑکی
ہوں اور ایک ایسے مجرم کی بہن ہوں جس نے مصر کے بادشاہ پر قاتالنہ حملہ کیا ہے۔ اس کے باوجود آپ میرے ساتھ ایسا
سلوک کیوں کررہے ہیں جس کی میں حق دار نہیں ہوں''… جراح نے مسکراہٹ کے سوا کوئی جواب نہ دیا۔ لڑکی نے صاف
کہہ دیا… ''مجھ میں اس خوبی کے سوا اور کچھ بھی نہیں کہ میں جوان لڑکی ہوں اور شاید میری شکل
وصو رت بھی اچھی ہے''۔
تم میں ایک خوبی اور بھی ہے جس کا تمہیں علم نہیں''۔ جراح نے کہا… ''تمہاری عمر اور تمہاری ہی شکل وصورت ''
کی میری ایک بہن تھی جس طرح تم بہن بھائی اکیلے ہو ،اسی طرح میں اور میری بہن اکیلے رہ گئے تھے۔ میں نے تمہارے
بھائی کی طرح اپنی بہن کو پاال پوسا اور اپنی زندگی اور ساری خوشیاں اس کے لیے وقف کردی تھیں۔ وہ بیمار ہوئی اور
میرے ہاتھوں میں مرگئی۔ میں اکیال رہ گیا۔ تمہیں دیکھا تو شک ہوا کہ جیسے میری بہن مجھے مل گئی ہے اگر تم اپنے
آپ کو جوان اور خوبصورت لڑکی سمجھتی ہو اور میری نیت پر شک ہے تو اس کا یہی عالج ہے کہ میں تم میں ایسی
دلچسپی کا اظہار نہیں کروں گا جو اب تک کیا ہے۔ تمہارے بھائی میں پوری دلچسپی لیتا رہوں گا ،اسے ٹھیک کرنا میرا فرض
ہے''۔
شارجا رات دیر سے وہاں سے واپس آئی ،جراح اس کے ساتھ تھا۔ لڑکی کے شکوک رفع ہوچکے تھے۔ دوسرے دن جراح زخمی
کو دیکھنے آیا۔ اس نے شارجا کے ساتھ کوئی بات نہ کی۔ وہ جانے لگا تو شارجا نے باہر جاکر اسے روک لیا ،وہ رو رہی
تھی۔ اسے ڈر تھا کہ جراح اس سے ناراض ہوکر چال گیا ہے۔ جراح نے اسے بتایا کہ وہ ناراض نہیں لیکن وہ اسے کسی اور
شک میں نہیں ڈالنا چاہتا… رات کو جب زخمی سو گیا تو شارجا وہاں سے نکل گئی اور جراح کے گھر چلی گئی۔یہ اس کی
بیتابی تھی جس پر وہ قابو نہ پاسکی۔ بہت دیر تک جراح کے پاس رہی۔ اس کے ذہن میں کچھ گانٹھیں پڑی ہوئی تھیں
''جنہیں وہ کھولنا چاہتی تھی۔ اس نے جراح سے پوچھا… ''کیا خلیفہ خدا کے بھیجے ہوئے ہوتے ہیں؟
خلیفہ انسان ہوتا ہے''۔ جراح نے جواب دیا… ''خدا کے بھیجے ہوئے نبی اور پیغمبر تھے ،یہ سلسلہ رسول اکرم صلی ''
اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہوگیا ہے''۔
صالح الدین ایوبی خدا کا بھیجا ہوا ہے؟'' لڑکی نے پوچھا۔''
نہیں'' ۔ جراح نے جواب دیا… ''وہ بھی انسان ہے لیکن عام انسانوں سے اس کا رتبہ بلند ہے کیونکہ وہ خدا اور خدا ''
کے بھیجے ہوئے آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم پیغام کو دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچانا چاہتا ہے''۔
ایسے اور بہت سے سوال تھے جو شارجا نے پوچھے اور جراح نے اس کے شکوک رفع کیے ،اس نے کہا …''پھر میرا بھائی
بہت بڑا گناہ گار ہے اگر اسے کوئی یہ باتیں بتا دیتا جو آپ نے مجھے بتائی ہیں تو وہ اس گناہ سے بچا رہتا۔ اب تو اس
کی جاں بخشی نہیں ہوگی''۔
ہوجائے گی'' جراح نے اسے بتایا… ''اگر صالح الدین ایوبی نے کہہ دیا ہے کہ اسے زندہ رکھنے کی کوشش کرو تو اس ''
کا مطلب یہ ہے کہ اسے سزا نہیں دی جائے گی۔ اسے چاہیے کہ گناہوں سے توبہ کرلے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اسے کوئی
سزا نہیں دی جائے گی''۔
میں ساری عمر صالح الدین ایوبی کی اور آپ کی خدمت میں گزار دوں گی''۔شارجا نے روتے ہوئے کہا… ''اور میرا ''
بھائی آپ سب کا غالم رہے گا''… وہ جذباتی ہوگئی۔ اس نے جراح کے ہاتھ پکڑ کر کہا… ''آپ مجھ سے جو قیمت وصول
کرنا چاہیں میں دوں گی۔ آپ مجھے اپنی لونڈی بنا لیں ،اس کے عوض میرے بھائی کو ٹھیک کردیں اور اسے سزا سے
بچالیں''۔
قیمت اللہ سے وصول کی جاتی ہے''۔ جراح نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا… ''بھائی کے گناہ کی سزا بہن کو ''
نہیں دی جائے گی اور بھائی کی صحت کی قیمت بہن سے وصول نہیں کی جائے گی۔ سب کا پاسبان اللہ ہے۔ اس کی ذات
باری نے مجھے تمہاری عصمت کی پاسبانی اور تمہارے بھائی کی صحت کی ذمہ داری سونپی ہے۔ دعا کروکہ میں اس امانت
میں خیانت نہ کروں۔ بہن کی دعا عرش کو بھی ہال دیا کرتی ہے۔ دعا کرو… دعا کرو… اس خدا کی عظمت کو یاد رکھو
جس کے خالف تمہیں گمراہ کیا جارہا ہے''۔
جراح نے اس لڑکی پر طلسم طاری کردیا ،ایک تو باتیں ہی ایسی تھیں جو جراح نے اسے بتائی تھیں۔ تاثر تو جراح کے
سلوک نے پیدا کیا تھا۔ جراح کے متعلق تو اسے کچھ اور ہی شک ہوگیا تھا لیکن وہ کچھ اور نکال۔ اسے جیسے احساس ہی
نہیں تھا کہ ایسی تنہائی میں اور رات کے وقت اتنی حسین اور جوان لڑکی اس کے رحم وکرم پر ہے… رات آدھی گزر گئی
تھی ،جراح نے اسے کہا… ''اٹھو تمہیں وہاں تک چھوڑ آئوں اور تمہارے بھائی کو بھی دیکھ آئوں''۔
دونوں گھر سے نکلے اور آہستہ آہستہ چل پڑے۔ رات تاریک تھی ،وہ دونوں مکان کے پچھواڑوں کے درمیان سے گزر رہے تھے۔
یہ چھوٹی سی ایک گلی تھی جس میں گزرتے ہی وہ مکان آجاتا تھا جہاں زخمی حشیش قید میں پڑا تھا اور اس کے دروازے
پر سنتری کھڑا رہتا تھا وہ دونوں اس گلی میں داخل ہوئے ہی تھے کہ پیچھے سے دونوں کو مضبوط بازوئوں میں جکڑ لیا گیا۔
دونوں کے منہ کپڑوں میں بندھ گئے۔ ان کی آواز بھی نہ نکل سکی ،جراح جسمانی لحاذ سے کمزور نہیں تھا مگر وہ بے
خبری میں جکڑا گیا تھا۔ حملہ آور چار پانچ معلوم ہوتے تھے۔ انہوں نے دونوں کو اٹھا لیا اور تاریکی میں غائب ہوگئے۔ کچھ
دور گھوڑے کھڑے تھے۔ جراح کے ہاتھ پائوں رسیوں سے باندھ دیئے گئے اور اسے گھوڑے پر ڈال کر ایک آدمی
گھوڑے پر سوار ہوگیا۔ اسے کسی کی آواز سنائی دی جو شارجا سے مخاطب تھی… ''شور نہ کرنا شارجا! تمہارا کام ہوگیا
ہے۔ گھوڑے پر سوار ہو جائو۔ یہ تمہارے لیے الئے ہیں''۔
شارجا کے منہ سے کپڑا اتار دیا گیا تھا ،جراح کو اس کی آواز سنائی دی… ''اسے چھوڑ دو ،اس کا کوئی قصور نہیں ،یہ
بہت اچھا آدمی ہے''۔
اس کی تو ہمیں ضرورت ہے'' کسی نے کہا۔''
شارجا!''… کسی نے حکم کے لہجے میں کہا… 'خاموشی سے اپنے گھوڑے پر سوار ہوجائو''۔''
''اوہ!'' شارجا کی آواز سنائی دی۔ ''یہ تم ہو؟''
سوار ہوجائو'' کسی نے پھر حکم دیا۔ ''وقت ضائع نہ کرو''۔''
اور گھوڑے سرپٹ دوڑ پڑے۔ ذرا سی دیر میں قاہرہ سے نکل گئے۔ شارجا نہایت اچھی سوار تھی۔
٭ ٭ ٭
صبح سنتری بدلنے کا وقت ہوا ،نیا سنتری آیا تو رات واال سنتری وہاں نہیں تھا۔ اس نے اندر جاکے دیکھا تو وہاں زخمی سویا
ہوا تھا۔ اس کے اوپر کمبل پڑا ہوا تھا ،اس کا منہ بھی ڈھکا ہوا تھا۔ نیا سنتری باہر والے دروازے پر جاکر کھڑا ہوگیا۔ اسے
معلوم تھا کہ ابھی جراح زخمی کو دیکھنے آئے گا اور علی بن سفیان بھی آئے گا۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ زخمی کی
بہن زخمی کے ساتھ رہتی ہے اور اس کے سوا اندر جانے کی کسی کو اجازت نہیں مگر بہن بھی اسے کہیں نظر نہیں آئی
تھی۔ سورج طلوع ہوا تو علی بن سفیان آیا۔ اس نے سنتری سے پوچھا کہ جراح آچکا ہے یا زخمی کو دیکھ کر چال گیا ہے؟
سنتری نے اسے بتایا کہ جراح نہیں آیا۔ پہال سنتری یہاں نہیں تھا اور اندر زخمی کی بہن بھی نہیں ہے۔ علی بن سفیان یہ
سوچ کر اندر گیا کہ زخمی کی تکلیف بڑھ گئی ہوگی اور اس کی بہن جراح کو بالنے چلی گئی ہوگی۔ علی بن سفیان کے
لیے ہی نہیں ،یہ زخمی سلطنت اسالمیہ کے لیے مصر جتنا قیمتی تھا۔ اس کے صحت یاب ہونے کا انتظار تھا اور ایک بڑی
خطرناک سازش کے بے نقاب ہونے کی توقع تھی۔
وہ تیزی سے اندر گیا ،زخمی کے سر سے پائوں تک کمبل پڑا تھا۔ علی بن سفیان کو تازہ خون کی بو محسوس ہوئی۔ اس
نے زخمی کے منہ سے کمبل ہٹایا تو یوں بدک کر پیچھے ہٹ گیا جیسے وہ زخمی نہیں اژدہا تھا۔ اس نے وہیں سے باہر
کھڑے سنتری کو آواز دی۔ سنتری دوڑتا ہوا اندر گیا۔ علی بن سفیان نے اسے زخمی کا چہرہ دکھاتے ہوئے پوچھا… ''یہ رات
واال سنتری تو نہیں؟''… نئے سنتری نے چہرہ دیکھ کر حیرت اور گھبراہٹ سے بوجھل آواز میں کہا… ''یہی تھا ،یہ اس
''بستر میں کیوں سویا ہوا ہے حضور؟ … زخمی کہاں ہے؟
یہ سویا ہوا نہیں''۔ علی بن سفیان نے اسے کہا… ''مرا ہوا ہے''۔''
اس نے کمبل اٹھا کر پرے پھینک دیا۔ بستر خون سے الل تھا۔ وہ زخمی حشیش نہیں بلکہ رات والے سنتری کی الش تھی۔
علی بن سفیان نے دیکھا ،الش کے دل کے قریب خنجر کے دو زخم تھے۔ زخمی حشیش غائب تھا۔ علی بن سفیان نے کمرے
میں ،صحن میں اور باہر زمین کو غور سے دیکھا۔ کہیں خون کا قطرہ بھی نظر نہ آیا۔ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ سنتری کو
زندہ اٹھا کر اندر الیا گیا اور بستر پر لٹا کر اس کے دل میں خنجر مارے گئے۔ اسے تڑپنے نہیں دیا گیا ورنہ خون کے چھینٹے
بکھرے ہوئے ہوتے۔ وہ مر گیا تو اس پر کمبل ڈال دیا گیا اور قاتل زخمی قیدی کو اٹھا کر لے گئے اور اس کی بہن کو بھی
لے گئے۔ صاف ظاہر تھا کہ زخمی کی بہن نے زخمی کے فرار میں مدد دی ہے۔ وہ جوان اور حسین لڑکی تھی۔ اس نے
سنتری کو پھانس لیاہوگا۔
اسے اندر لے گئی ہوگی ،لڑکی کے ساتھیوں نے سنتری کو بے خبری میں پکڑ لیا ہوگا علی بن سفیان کو اپنی اس غلطی پر
تاسف ہوا کہ اس نے زخمی کے چار ساتھیوں کو زخمی سے ملنے کی اجازت دی تھی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ زخمی کے
چچا زاد اور تایا زاد بھائی ہیں۔ وہ اندر آکر دیکھ گئے تھے کہ یہاں کے حفاظتی اقدامات کیا ہیں۔ اسے بہن کو بھی یہاں
رہنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی۔ اس نے یہ بھی یقین نہیں کیا تھا کہ یہ لڑکی زخمی کی بہن تھی یا اس گروہ کی
فرد تھی۔
علی بن سفیان کو غصہ آیا اور وہ اپنی بھول پر پچھتایا بھی لیکن اس نے دل ہی دل میں زخمی اور اس کے ساتھیوں کے
اتنے کامیاب فرار کو سراہا۔ علی بن سفیان جیسے سراغ رساں کو دھوکہ دینا آسان نہیں تھا۔ وہ لوگ اسے بھی دھوکہ دے
گئے تھے۔ اس نے نئے سنتری سے کچھ باتیں پوچھیں تو اس نے بتایا کہ اس سے پہلے وہ رات کو بھی پہرے پر کھڑا رہ
چکا ہے۔ اس نے لڑکی کو جراح کے ساتھ اس کے گھر جاتے اور رات بہت دیر بعد دونوں کو واپس آتے دیکھا تھا۔ اس سے
علی بن سفیان کو شک ہوا کہ لڑکی نے جراح کو بھی اپنے حسن وجوانی کے زیر اثر کرلیا تھا۔ علی نے سنتری سے کہا کہ
دوڑ کر جائے اور جراح کو بال الئے۔ سنتری کے جانے کے بعد وہ سراغ ڈھونڈنے لگا۔ باہر گیا۔ زمین دیکھی۔ اسے پائوں کے
نشان نظر آئے لیکن نشان اس کی مدد نہیں کرسکتے۔ زخمی شہر میں تو روپوش نہیں ہوسکتا تھا۔ ایک ہی طریقہ رہ گیا تھا،
زخمی کے گائوں پر جہاں سے اس کی بہن کو الیا گیا تھا ،چھاپہ مارا جائے۔ وہ گائوں بہت دور تھا۔
سنتری نے واپس آکر بتایا کہ جراح گھر نہیں ہے۔ علی بن سفیان اس کے گھر گیا۔ اس کے مالزم نے بتایا کہ جراح رات
بہت دیر بعد ایک لڑکی کے ساتھ باہر نکال تھا ،پھر واپس نہیں آیا۔ اس لڑکی کے متعلق اس اس نے بتایا کہ پہلے بھی جراح
کے ساتھ آچکی ہے اور دونوں بہت دیر تک اندر بیٹھے رہے تھے۔ علی بن سفیان کو یقین ہوگیا کہ جراح بھی زخمی کے فرار
میں شریک ہے اور یہ لڑکی کے حسن کے جادو کا کمال ہے۔ علی نے اپنے محکمے کے سراغ رسانوں کو بالیا اور انہیں فرار
کے متعلق بتایا۔ وہ سب ادھر ادھر بکھر گئے۔ ایک جگہ انہیں بہت سے گھوڑوں کے کھروں کے نشان نظر آئے۔ اردگرد کے
رہنے والوں میں سے تین چار آدمیوں نے بتایا کہ رات انہوں نے بہت سے گھوڑے دوڑنے کی آوازیں سنی تھیں ۔ سراغ رساں
کھروں کو دیکھتے شہر سے نکل گئے مگر آگے جانا بے کار تھا۔ رات کے بھاگے ہوئے گھوڑوں کو اب کھرے دیکھ دیکھ کر
پکڑنا کسی پہلو ممکن نہیں تھا۔ انہیں صرف اتنا پتا چال کہ مفرور اس سمت کو گئے ہیں۔ علی بن سفیان کے کرنے کا کام
اب یہی رہ گیا تھا کہ قائم مقام امیر مصر تقی الدین کو اطالع دے دے کہ زخمی حشیش کو اس کے ساتھی اغوا کر کے لے
گئے ہیں۔ اسے یہ خیال بھی آیا کہ زخمی نے راز کی جو باتیں بتائی تھیں وہ بے بنیاد تھیں اور اس نے اپنی جان بچانے
اور فرار کا موقع پیدا کرنے کے یے یہ چال چلی تھی۔ وہ سلطان صالح الدین ایوبی کو بھی علی بن سفیان کو بھی الو بنا
گیا تھا۔
آدھا دن گزر گیا تھا جب علی بن سفیان تقی الدین کو اطالع دینے کے لیے چال گیا۔ اس وقت اس کا زخمی قیدی جو کھڑا
ہونے کے بھی قابل نہیں تھا ،وہ قاہرہ سے بہت دور ایک ویرانے میں پہنچ چکا تھا مگر وہ زندہ نہیں تھا۔ جراح کے ہاتھ
پائوں بندھے ہوئے تھے اور وہ ایک گھوڑے پر بے جان چیز کی طرح پڑا تھا۔ اس کی ٹانگیں گھوڑے کے ایک طرف اوپر کا
دھڑ اور بازو دوسری طرف تھے۔ رات بھر وہ اسی حالت میں رہا تھا۔ صبح کا اجاال صاف نہیں ہوا تھا جب گھوڑے رکے۔
جراح کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔ اسے پٹی باندھنے واال آدمی نظر نہ آسکا کیونکہ اس کا سر نیچے تھا۔ پٹی بندھ
جانے کے بعد اس کے پائوں کھول دیئے گئے اور اسے گھوڑے پر بٹھا دیا گیا۔ اس کے ہاتھ بندھے رہے۔ اس کے پیچھے ایک
آدمی گھوڑے پر سوار ہوگیا اور گھوڑے ذرا سے آرام کے بعد پھر چل پڑے۔ اسے اتنا ہی پتا چل سکتا تھا کہ اس کے پیچھے
…چند اورگھوڑے آرہے ہیں اور سوار آہستہ آہستہ باتیں کررہے ہیں
گھوڑے چلتے گئے اور سورج اوپر اٹھتا گیا پھر جراح نے محسوس کیا کہ گھوڑا چڑھائی چڑھ رہا ہے۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر
دائیں بائیں مڑ رہا ہے۔ یہ نیچے اتر رہا ہے۔ اس سے وہ اندازہ کررہا تھا کہ یہ عالقہ ٹیلوں اور کھائیوں کا ہے۔
بہت دیر بعد جب سورج سر پر آگیا تھا ،اسے پیچھے سے بلند آوازیں سنائی دیں جن سے اسے پتا چال کہ کوئی سوار گر پڑا
ہے۔ اس کا گھوڑا رک گیا اور پیچھے کو مڑا۔ اسے اس طرح کی آوازیں سنائی دیں… ''اٹھا لو… سائے میں لے چلو ،بے ہوش
ہوگیا ہے ،اوہ خدایا اس کا خون بہہ رہا ہے''… اسے شارجا کی گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی… جراح کی آنکھیں اور ہاتھ
کھول دو۔ وہ خون روک لے گا ورنہ میرا بھائی مر جائے''گا… یہ زخمی حشیش تھا جو گھوڑے سے گر پڑا تھا۔ رات بھر کی
گھوڑ سواری سے اور گھوڑا اتنی تیز بھگانے سے اس کے پیٹ کا زخم کھل گیا تھا اور ران کے زخم سے بھی خون جاری
ہوگیا تھا۔ وہ درد کو برداشت کرتا رہا تھا ،خون نکلتا رہا۔ آخر یہاں آکر خون اتنا نکل گیا کہ اس پر غشی طاری ہوگئی اور
وہ گھوڑے سے گر پڑا۔ اسے اٹھا کر ایک ٹیلے کے سائے میں لے گئے اس کے منہ میں پانی ڈاال لیکن پانی حلق سے نیچے
نہ گیا۔ اس کے کپڑے خون سے تر ہوگئے تھے۔
جراح کی آنکھیں کھول دی گئی اور اسے کہا گیا کہ وہ ادھر ادھر نہ دیکھے۔ اس نے اپنی پیٹھ میں خنجر کی نوک محسوس
کی۔ وہ آگے آگے چل پڑا۔ ٹیلے کے دامن میں زخمی پڑا تھا اور شارجا اس کے پاس بیٹھی تھی۔ اس نے جراح سے کہا…
''خدا کے لیے میرے بھائی کو بچائو''… جراح نے سب سے پہلے زخمی کی نبض پر ہاتھ رکھا۔ اس کے لیے حکم تھا کہ
وہ ادھر ادھر نہ دیکھے۔ وہ بیٹھ گیا تھا اور زخمی کی نبض دیکھ رہا تھا۔ اس کی پیٹھ میں خنجر کی نوک چبھ رہی تھی،
زخمی کی نبض محسوس کرکے وہ تیزی سے اٹھا اور پیچھے کو مڑا ،اس کے سامنے چار آدمی کھڑے تھے جن کے چہرے سیاہ
نقابوں میں تھے۔ ان کی صرف آنکھیں نظر آتی تھیں۔ ان میں سے ایک کے ہاتھ میں خنجر تھا۔ جراح نے غصے سے کہا…
''تم سب پر اللہ کی لعنت برسے۔ تم نے اسے بچانے کے بجائے اس کی جان لے لی ہے۔ تم سب اس کے قاتل ہو۔ یہ
مر چکا ہے۔ ہم نے اسے چارپائی سے ہلنے بھی نہیں دیا تھا اور تم اسے گھوڑے پر بٹھا کر الئے۔ اس کے زخم کھل گئے اور
جسم کا تمام خون ضائع ہوگیا'۔
شارجا بھائی کی الش پر گر پڑی اور چیخیں مار مار کر ر ونے لگی۔ نقاب پوشوں اور جراح کو شارجا کے رونے اور چالنے کی
جگر سوز آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ جراح کے گھوڑے پر جو سوار تھا اس سے جراح نے کہا کہ یہ زخمی بالکل ٹھیک ہوسکتا
تھا مگر تم لوگوں نے اسے مار دیا۔ اسے کوئی سزا نہ ملتی ،سوار نے کہا… ''ہم اسے زندہ رکھنے کے لیے نہیں الئے تھے،
ہم نے دراصل وہ راز اغوا کیا ہے جو اس کے پاس تھا۔ اس کے مرنے کا ہمیں کوئی غم نہیں ،ہم خوش ہیں کہ تم اور
تمہاری حکومت اس راز سے بے خبر ہے جو اس کے سینے میں تھا''۔
مجھے تم لوگ کس جرم کی سزا دے رہے ہو؟'' جراح نے پوچھا۔''
ہم تمہیں پیغمبروں کی طرح رکھیں گے''۔ سوار نے جواب دیا… ''تمہیں گرم ہوا بھی نہیں لگنے دی جائے گی۔ ہم تمہیں''
اس لیے الئے تھے کہ راستے میں زخمی کو تکلیف ہوگئی تو اس کی مرہم پٹی کرو گے مگر ہم نے یہ نہیں سوچا کہ تمہارے
پاس نہ کوئی دوائی ہے نہ مرہم۔ تمہیں اغواء کی دوسری وجہ یہ تھی کہ ہم اس لڑکی کو بھی ساتھ النا چاہتے تھے۔ ہم
اسے ہی التے تو تم جو اس کے ساتھ تھے ہمارے تعاقب میں پوری فوج بھگا دیتے۔ اس لیے تمہیں بھی اٹھا النا ضروری تھا۔
تیسری وجہ یہ
ہے کہ ہمیں ایک جراح کی ضرورت ہے۔ تمہیں ہم اپنے ساتھ رکھیں گے''۔
میں ایسے کسی آدمی کا عالج نہیں کروں گا جو میری حکومت کے خالف ہوگا''… جراح نے کہا… ''تم سب صلیبیوں اور''
سوڈانیوں اور فاطمیوں کے دوست ہو اور ان کے اشاروں پر سلطنت اسالمیہ کے خالف تخریب کاری کررہے ہو ،میں تمہارے
کسی کام نہ آسکوں گا''۔
پھر تم قتل ہوجاو گے''۔ سوار نے کہا۔''
یہ میرے لیے بہتر ہوگا''۔ جراح نے جواب دیا۔''
پھر ہم تمہارے ساتھ وہ سلوک کریں گے جو تمہارے لیے بہتر نہیں ہوگا''… سوار نے جواب دیا… ''پھر تم ہمارا ہر حکم ''
مانو گے لیکن میں تمہیں یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ برے سلوک کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ تم نے صالح الدین ایوبی کی
بادشاہی دیکھی ہے۔ ہماری بادشاہی دیکھو گے تو اپنی زبان سے کہو گے کہ میں یہیں رہنا چاہتا ہوں ،یہ تو جنت ہے اگر تم
نے ہماری جنت کو ٹھکرا دیا تو ہم تمہیں اپنا جہنم دکھائیں گے''۔
گھوڑے چلتے رہے ،جراح آنکھوں پر بندھی ہوئی پٹی کے اندھیرے میں اپنے مستقبل کو دیکھنے کی کوشش کرتا رہا۔ وہ فرار
کی ترکیبیں بھی سوچتا رہا۔ اسے باربار شارجا کا خیال آتا مگر وہ یہ سوچ کر مایوس ہوجاتا تھا کہ یہ لڑکی بھی اسی گروہ
کی ہے وہ اس کی مدد نہیں کرے گی۔
٭ ٭ ٭
ان کا سفر اتنا لمبا نہیں تھا لیکن سرحدی دستوں اور ان کے گشتی سنتریوں کے ڈر سے مجرموں کا یہ قافلہ بچ بچ کر،
چھپ چھپ کر اور بڑی دور کا چکر کاٹ کر جارہا تھا۔ شام کے بعد بھی یہ قافلہ چلتا رہا اور رات گزرتی رہی۔ آدھی رات
سے ذرا پہلے قافلہ رک گیا۔ جراح کو گھوڑے سے اتار کر اس کے ہاتھ کھول دئیے اور چونکہ اندھیرا تھا اس لیے اس کی
آنکھوں سے پٹی بھی کھول دی گئی۔ اسے کھانے کو کچھ دیا گیا ،پانی بھی پالیا گیا۔ اس کے بعد اس کے ہاتھ بھی باندھ
دیئے گئے اور پائوں بھی اور اسے سوجانے کو کہا گیا۔ سوار تھکے ہوئے تھے ،اس سے ایک رات پہلے کے جاگے ہوئے تھے۔
لیٹے اور سوگئے۔ گھوڑوں کو زینیں اتار کر ذرا پرے باندھ دیا گیا تھا۔ جراح کے بھاگنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ وہ
بندھا ہوا تھا وہ بھی سوگیا۔
کچھ دیر بعد اس کی آنکھ کھل گئی وہ سمجھا کہ اسے روانگی کے لیے جگایا جارہا ہے لیکن کوئی اس کے پائوں کی رسی
کھول رہا تھا۔ وہ چپ چاپ پڑا رہا۔ وہ مرنے کے لیے بھی تیار ہوگیا ،اسے یہ بھی توقع تھی کہ اسے قتل کرکے پھینک
جائیں گے لیکن پائوں کی رسی کھلنے کے بعد جب یہ سایہ اس کے ہاتھوں کی رسی کھولنے لگا تو اس نے جھک کر جراح
کے کان میں کہا… ''میں نے دو گھوڑوں پر زینیں کس دی ہیں ،خاموشی سے میرے پیچھے آئو ،میں تمہارے ساتھ چلوں گی۔
وہ بے ہوشی کی نیند سوئے ہوئے ہیں''… یہ شارجا کی آواز تھی۔
جراح آہستہ سے اٹھا اور شارجا کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ ریت پر پائوں کی آہٹ پیدا ہی نہیں ہوتی تھی۔ آگے دو گھوڑے
کھڑے تھے۔ ایک پر شارجا سوار ہوگئی ،دوسرے پر جراح سوار ہوگیا۔ شارجا نے کہا…'' اگر تم اچھے سوار نہیں ہو تو ڈرنا
نہیں ،گروگے نہیں ایڑی لگائو اور لگام ڈھیلی چھوڑ دو۔ گھوڑے دائیں کو دائیں بائیں موڑنا تو جانتے ہوگے''… جراح نے جواب
دیئے بغیر گھوڑے کو ایڑی لگائی۔ شارجہ کا گھوڑا بھی اس کے ساتھ ہی دوڑا۔ دوڑتے گھوڑے سے شارجا نے کہا…''میرے
پیچھے رہو۔ میں راستہ جانتی ہوں۔ اندھیرے میں مجھ سے الگ نہ ہوجانا''۔
سرپٹ بھاگتے گھوڑوں نے مجرموں کو جگا دیا لیکن تعاقب آسان نہیں تھا۔ انہیں پہلے تو دیکھنا تھا کہ یہ کس کے گھوڑے
ہیں ،انہیں شارجا کے بھاگنے کا خطرہ ہی نہیں تھا۔ کچھ وقت دیکھنے میں لگ گیا کہ وہ کون تھے اور ذرا دیر بعد ہی انہیں
پتا چال کہ شارجا اور جراح بھاگ گئے ہیں۔ پھر انہیں اپنے گھوڑوں پر زینیں ڈالنی تھیں۔ اس میں اتنا وقت صرف ہوگیا کہ
بھاگنے والے دو اڑھائی میل دور نکل گئے … شارجا اور جراح نے باربار پیچھے دیکھا ،آوازیں سننے کی بھی کوشش کی۔ انہیں
یقین سا ہورہا تھا کہ ان کے تعاقب میں کوئی نہیں آرہا۔ وہ ابھی گھوڑوں کی رفتار کم کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے
تھے۔ اس لیے ایڑی لگاتے چلے گئے۔ آخر وہ حد آگئی جہاں گھوڑے خود ہی آہستہ ہونے لگے لیکن وہ بہت دور نکل گئے
تھے۔ جراح نے شارجا سے کہا کہ یہاں کہیں نہ کہیں کوئی سرحدی دستہ ہونا چاہیے مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ کہاں ہوگا۔
شارجا کو بھی معلوم نہیں تھا اس نے جراح کو بتایا کہ وہ ان دستوں سے بچنے کے لیے دور کے راستے سے گئے تھے ورنہ
اس کا گائوں دور نہیں تھا۔ اس نے اسے یہ یقین دالیا کہ وہ قاہرہ کی صحیح سمت کو جارہے ہیں اور قاہرہ دور نہیں۔
اگال دن آدھا گزر گیا تھا جب علی بن سفیان قائم مقام امیر مصر تقی الدین کے سامنے بیٹھا تھا۔ تقی الدین کہہ رہا تھا…
''میں اس پر حیران نہیں کہ آپ جیسے تجربہ کار حاکم نے یہ غلطی کی تھی کہ مشکوک لڑکی کو زخمی قیدی کے پاس
رہنے کی اجازت دے دی اور چار مشکوک افراد کو بھی زخمی کے پاس لے گئے۔ میں اس پر حیران ہوں کہ یہ گروہ اتنا زیادہ
دلیر اور منظم ہے۔ زخمی کو اٹھالے جانا ،سنتری کو قتل کرکے زخمی کے بستر پر ڈال جانا ،دلیرانہ اقدام بھی ہے اور یہ ایک
منظم جرم ہے''۔
میرا خیال ہے کہ اس جرم کو جراح اور لڑکی نے آسان بنایا ہے''۔ علی بن سفیان نے کہا… ''اس جرم میں بھی ہماری''
قوم کی اسی کمزوری نے کام کیا ہے جس کے متعلق صالح الدین ایوبی پریشان رہتے ہیں اور کہا کرتے ہیں کہ عورت اور
اقتدار کا نشہ ملت اسالمیہ کو لے ڈوبے گا۔ جراح کو میں نیک اور صاحب کردار سمجھتا تھا مگر ایک لڑکی نے اسے بھی
اندھا کردیا۔ بہرحال زخمی قیدی کے گائوں کا پتا چل گیا ہے میں نے ایک دستہ روانہ کردیا ہے''۔
اور جنوب مغربی عالقے کے جس کھنڈر کا زخمی قیدی نے ذکر کیا تھا اس کے متعلق آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟'' تقی ''
الدین نے پوچھا۔
مجھے شک ہے کہ اس نے جھوٹ بوال تھا''… علی بن سفیان نے جواب دیا۔ ''اس نے اپنی جان بچانے کے لیے یہ بے''
بنیاد قصہ گھڑا تھا ،تاہم اس عالقے کی سراغ رسانی کی جائے گی''۔
وہ اسی مسئلے پر باتیں کررہے تھے کہ دربان نے اندر آکر ایسی اطالع دی جس نے دونوں کو سن کردیا۔ انہوں نے ایک
دوسرے کی طرف دیکھا ،ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے ان کی زبانیں بولنے سے معذور ہوگئی ہوں۔ علی بن سفیان اٹھا اور یہ
کہہ کر باہر نکل گیا۔ ''کوئی اور ہوگا''… اس کے پیچھے تقی الدین بھی باہر نکل گیا مگر وہ کوئی اور نہیں ان کا اپنا
جراح ان کے سامنے کھڑا تھا اور اس کے ساتھ زخمی قیدی کی بہن شارجا تھی۔ ان کے گھوڑے بری طرح ہانپ رہے تھے،
جراح اور شارجا کے چہرے اور سر گرد سے اٹے ہوئے تھے۔ ہونٹ خشک اور منہ کھلے ہوئے تھے۔ علی بن سفیان نے ذرا
غصے سے پوچھا… '' قیدی کو کہاں چھوڑ آئے؟''… جراح نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ہمیں ذرا دم لینے دو۔ دونوں کو اندر لے
گئے۔ ان کے لیے پانی اور کھانا وغیرہ منگوایا گیا۔
جراح نے تفصیل سے بتایا کہ وہ کس طرح اغوا ہوا تھا اور سفر میں زخمی قیدی مرگیا ہے۔ اسے بالکل علم نہیں تھا کہ
زخمی قیدی کو بھی اغوا کیا گیا ہے۔ یہ اسے اگلے روز سفر میں پتا چال جب زخمی گھوڑے سے گرا اور زخم کھل جانے کی
وجہ سے مرگیا۔ جراح کو جس طرح شارجا نے آزاد کرایا اور اس کے ساتھ بھاگی وہ بھی تفصیل سے سنایا… شارجا نے اپنا
بیان دیا تو علی بن سفیان جان گیا کہ یہ صحرائی لڑکی ہے ،اجڈ اور دلیر ہے اور یہ اتنی چاالک نہیں جتنا سمجھا گیا تھا۔
اس نے بتایا کہ وہ اپنے بھائی کے سہارے اور اسی کی خاطر زندہ تھی۔ اس بھائی کی خاطر وہ جان دینے کے لیے بھی تیار
رہتی تھی۔ جراح نے جس خلوص سے اس کے بھائی کا عالج کیا اس سے وہ اتنی متاثر ہوئی کہ اس کی مرید بن گئی۔
جراح کو وہ فرشتہ سمجھنے لگی۔ پہلے روز اس کے ساتھ جو چار آدمی آئے تھے وہ اس کے کچھ نہیں لگتے تھے۔ وہ اس
اعلی حاکموں کو قتل
کے چچا اور تایا زاد بھائی نہیں تھے۔ وہ اسی گروہ کے آدمی ہیں جو صالح الدین ایوبی کو اور اس کے
ٰ
کرنا چاہتا ہے۔ جب علی بن سفیان کے آدمی شارجا کے گائوں سے اسے ساتھ النے گئے تھے اس وقت یہ چاروں آدمی گائوں
میں تھے۔ انہیں پتا چال کہ شارجا کا بھائی زخمی ہوکر قید ہوگیا ہے تو وہ اس ارادے سے ساتھ چل پڑے کہ زخمی کو اغوا
کریں گے۔ انہیں ڈر یہ تھا کہ زخمی کے پاس جو راز ہے وہ فاش نہ ہو۔ وہ جانتے تھے کہ زخمی کہاں اور کس کارروائی میں
زخمی ہوا ہے۔
شارجا کے بیان کے مطابق اس کا ارادہ بھی یہی تھا کہ بھائی کو اغوا کرائے گی۔ اس نے بھائی کے پاس رہنے کی جو التجا
کی تھی اس سے اس کے دو مقصد تھے۔ ایک یہ کہ بھائی کی خدمت اور دیکھ بھال کرے گی اور دوسرا یہ کہ موقع مال تو
اسے اغوا کرائے گی۔ وہ چاروں آدمی زخمی سے مل کر واپس نہیں گئے بلکہ قاہرہ میں ہی رہے تھے۔ وہ شارجا کے اشارے
کے منتظر تھے لیکن جراح نے لڑکی کو اتنا متاثر کیا کہ اس کی سوچ ہی بدل گئی۔ جراح نے اسے یقین دالیا کہ اس کے
بھائی کو کوئی سزا نہیں ملے گئی۔ اس کے عالوہ جراح نے اسے ایسی باتیں بتائیں جو اس نے پہلے کبھی نہیں سنی تھیں۔
اعلی کردار کا مظاہرہ کرکے اسے اپنا مرید بنا لیا تھا۔ وہ ہر
جراح نے اس کے اندر اسالم کی عظمت بیدار کردی تھی اور
ٰ
وقت جراح کے پاس بیٹھ کر اس کی باتیں سننے کے لیے بیتاب رہنے لگی۔ ایک روز وہ جراح کے گھر جارہی تھی تو اسے
ان چاروں میں سے ایک آدمی راستے میں مل گیا۔ اس نے شارجہ سے کہا کہ زخمی کے اغوا میں اب دیر نہیں ہونی
چاہیے۔ شارجا نے اسے کہا کہ وہ ارادہ بدل چکی ہے۔ اس کا بھائی یہیں رہے گا۔ اس آدمی نے شارجا سے کہا کہ اگر اس
نے شہر میں آکر اپنا دماغ خراب کرلیا ہے تو اسے قتل کردیا جائے گا۔
داستان ایمان فروشوں کی 19:41
قسط نمبر45.۔
" کھنڈروں کی آواز "
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس کا بھائی یہیں رہے گا۔ اس آدمی نے شارجا سے کہا کہ اگر اس نے شہر میں آکر اپنا دماغ خراب کرلیا ہے تو اسے قتل
کردیا جائے گا۔ زخمی یہاں نہیں رہے گا۔
شارجا کو توقع نہیں تھی کہ یہ چاروں اتنی دلیری سے اس کے بھائی کو اغوا کرلیں گے۔ اس نے انہیں فیصلہ سنا دیا کہ وہ
ان کی کوئی مدد نہیں کرے گی۔ اس آدمی نے اسے کہا… ''ہم تمہاری ہر ایک حرکت کو دیکھ رہے ہیں۔ ہم سمجھ رہے
''تھے کہ تم نے جراح کو پھانس لیا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ تم خود اس کے جال میں پھنس گئی ہو۔
شارجا نے اسے دھتکار دیا۔ اسے چونکہ توقع نہیں تھی کہ وہ لوگ اتنی دلیری کا مظاہرہ کرسکیں گے۔ اس لیے اس نے ''
جراح کے ساتھ بھی ذکر نہ کیا کہ اس کے زخمی بھائی کے اغواء کا خطرہ ہے۔ اسی رات شارجا اور جراح ان چاروں کے
چنگل میں آگئے۔ انہیں جب گھوڑوں پر سوار کرانے کے لیے اٹھالے گئے تو اس نے دیکھا کہ ایک گھوڑے پر اس کا زخمی
بھائی بیٹھا تھا۔ اس وقت وہ کچھ خوش ہوئی کہ اس کا بھائی آزاد ہوگیا ہے۔ وہ فرار پر آمادہ ہوگئی لیکن جراح کو ان
لوگوں کی قید میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ اس نے انہیں کہا بھی کہ اسے چھوڑ دو لیکن وہ نہ مانے۔ اس کے ہاتھ اور پائوں
باندھ کر گھوڑے پر ڈال لیا۔ راستے میں شارجا کو بتایا گیا کہ اس کے بھائی کو کس طرح اغواء کیا گیا ہے۔ وہاں صرف دو
آدمی گئے تھے۔ ایک نے سنتری سے کہیں کا راستہ پوچھنے کے بہانے اسے باتوں میں لگا لیا دوسرے نے پیچھے سے اس
کی گردن جکڑلی اور دونوں اسے اٹھا کر اندر لے گئے۔
زخمی انہیں دیکھ کر اٹھ بیٹھا ،اس کے بستر پر سنتری کو لٹا دیا گیا اور اس کے دل پر خنجر کے دو گہرے وار کرکے اسے
ختم کردیا گیا پھر اس پر کمبل ڈال دیا گیا۔ دونوں نے زخمی قیدی کو اٹھایا اور نکل گئے۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ شارجا
جراح کے گھر میں ہے۔ انہیں ڈر تھا کہ وہ نہیں مانے گی اور اغواء ناکام بنا دے گی لیکن اسے بھی وہاں سے غائب کرنا
ضروری تھا کیونکہ اس کے پاس بھی ایک راز تھا۔ دو آدمی گھات میں بیٹھے تھے جونہی جراح اور شارجا تنگ اور تاریک
گلی میں آئے تو انہیں جکڑ لیا گیا اور اغواء کامیاب ہوگیا۔
٭ ٭ ٭
علی بن سفیان جیسا گھاگھ سراغ رساں کوئی اور تجربہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے جراح اور شارجا کے بیان پر فوری
اعتبار نہ کیا۔ یہ بھی سازش کی ایک کڑی ہوسکتی تھی۔ اس نے دونوں کو الگ کردیا اور ان سے اپنے انداز سے پوچھ گچھ
کی۔ جراح دانشمند آدمی تھا ،اس نے علی بن سفیان کو قائل کرلیا کہ اس نے جو بیان دیا ہے وہ لفظ بہ لفظ درست ہے۔
اس نے کہا کہ ایک تو جذباتی پہلو تھا ،اس لڑکی کی شکل وصورت اس کی مری ہوئی بہن سے ملتی جلتی تھی ،اس لیے
وہ اسے اچھی لگی اور وہ اسے اپنے گھر بھی لے جاتا اور زخمی کے مکان میں بھی اس کے ساتھ زیادہ وقت بیٹھا رہتا تھا۔
جراح نے بتایا کہ اس کے اس سلوک سے لڑکی اتنی متاثر ہوئی کہ اس نے اپنے کچھ شکوک اس کے سامنے رکھ دئیے۔ یہ
اس لڑکی کا دوسرا پہلو تھا جس پر جراح نے زیادہ توجہ دی۔ لڑکی مسلمان تھی لیکن معلوم ہوتا تھا کہ اس پر بڑے ہی
خطرناک اثرات جو باہر سے آئے تھے ،کام کررہے تھے۔ جراح نے اس کے ذہن سے یہ اثرات صاف کردئیے۔ لڑکی چونکہ
پسماندہ ذہن کی تھی ،صحرا کے دوردراز گوشے کی رہنے والی تھی اس لیے اس کے ذہن میں جو کچھ ڈاال گیا وہ اسی کو
صحیح سمجھتی تھی۔ اس کی باتوں سے یہ انکشاف ہوا کہ اس عالقے میں اسالم کے منافی اثرات اور صالح الدین ایوبی کے
خالف تخریب کاری زورشور سے اور بال روک ٹوک جاری ہے۔
شارجا سے علی بن سفیان نے کوئی بیان نہیں لیا ،اس پر سوال کرتا رہا اور اس کے جوابوں سے ایک بیان مرتب ہوگیا۔ اس
نے فرعونوں کے اس کھنڈر کے متعلق وہی انکشاف کیا جو بیان کیا جاچکا تھا۔ وہ بھی اس کھنڈر کے اس پراسرار آدمی کی
معتقد تھی جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ گناہ گاروں کو نظر نہیں آتا اور اس کی صرف آواز سنائی دیتی ہے۔ شارجا نے بتایا
کہ اس کا بھائی فوج میں تھا اور وہ گھر میں اکیلی رہتی تھی۔ اسے گائوں کے کچھ لوگوں نے کہا تھا کہ وہ اس کھنڈر میں
چلی جائے کیونکہ وہ مقدس انسان خوبصورت کنواریوں کو بہت پسند کرتا ہے۔ شارجا پر علی بن سفیان کی ماہرانہ جرح سے
لڑکی کے سینے سے یہ راز بھی نکل آیا کہ اس کے گائوں کی تین کنواری لڑکیاں اس کھنڈر میں چلی گئیں تھیں پھر واپس
نہیں آئیں۔ ایک بار اس کا بھائی گاوں آیا تھا ،شارجا نے اس سے پوچھا کہ وہ کھنڈر چلی جائے؟ بھائی نے اسے منع کردیا
تھا۔ شارجا اچھی طرح بیان تو نہ کرسکی لیکن یہ پتا چل گیا کہ مصر کے جنوب مغربی عالقے میں کیا ہورہا ہے۔ جراح کے
متعلق لڑکی نے بتایا کہ اسے اگر گاوں میں لے جاتے اور قید میں ڈ ال دیتے تو وہاں سے بھی وہ اسے اپنی جان کی بازی
لگا کر آزاد کرادیتی۔ اس کا جب بھائی مر گیا تو اس نے گاوں تک جانے کا ارادہ ترک کردیا اور تہیہ کرلیا کہ وہ جراح کو
یہیں سے آزاد کرائے گی۔ ان چاروں مجرموں کو وہ اپنا ہمدرد سمجھا کرتی تھی لیکن جراح نے اسے بتایا تھا کہ یہ اللہ کے
بہت بڑے مجرم ہیں۔ ان کے متعلق اسے یہ بھی پتا چل گیا تھا کہ انہیں اس کے بھائی کیساتھ ہمدردی نہیں بلکہ اس راز
سے دلچسپی تھی جو اس کے پاس تھا۔ اسی لیے انہوں نے اسے مار دیا۔
علی بن سفیان نے اس سے پوچھا کہ وہ اب کیا کرنا چاہتی ہے اور اپنے متعلق اس نے کیا سوچا ہے۔
اس نےجواب دیا کہ وہ ساری عمر جراح کے قدموں میں گزار دے گی اور اگر جراح اسے آگ میں کود جانے کو کہے گا تو وہ
کود جائے گی۔ اس نے اس پر رضامندی کا اظہار کیا کہ وہ کھنڈر تک جانے والوں کی رہنمائی کرے گی اور اپنے عالقے کے
ہر اس فرد کو پکڑوائے گی جو مصر کی حکومت کے خالف کام کررہا ہے۔
اعلی حکام کا اجالس بالیا گیا اور صورت حال تقی الدین کے سامنے
علی بن سفیان کے مشورے پر فوج اور انتظامیہ کے
ٰ
رکھی گئی۔ سب کا یہ خیال تھا کہ تقی الدین مصر میں نیا نیا آیا ہے اور اتنی بڑی ذمہ داری بھی اس کے سر پر پہلی بار
پڑی ہے ،اس لیے وہ محتاط فیصلے کرے گا اور شاید کوئی خطرہ مول نہ لینا چاہے۔ اجالس میں بیشتر حکام نے اس پر اتفاق
کیا کہ چونکہ اتنے وسیع عالقے کی اتنی زیادہ آبادی گمراہ کردی گئی ہے ،اس لیے اس آبادی کے خالف کارروائی نہ کی
جائے۔ مسئلہ یہ تھا کہ کھنڈرات کے اندر کے جو حاالت معلوم ہوئے تھے ان سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہاں سے ایک نیا عقیدہ
لہ ذا یہ لوگ اپنے معبد اورعقیدے پر فوجی حملہ برداشت نہیں کریں گے۔ اس کا
نکال ہے جسے لوگوں نے قبول کرلیا ہے۔ ٰ
حل یہ پیش کیا گیا کہ اس عالقے میں اپنے معلم ،عالم اور دانشور بھیجے جائیں جو لوگوں کو راہ راست پر الئیں۔ ان کے
جذبات کو مجروح نہ کیا جائے… اجالس میں ایک مشورہ یہ بھی پیش کیا گیا کہ سلطان ایوبی کو صورت حال سے آگاہ کیا
جائے اور ان سے حکم لے کر کارروائی کی جائے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ انسانوں سے ڈرتے ہیں''… تقی الدین نے کہا… ''اور آپ کے دل میں خدا اور اس کے ''
اعلی کو خبر
رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ڈر نہیں جن کے سچے مذہب کی وہاں توہین ہورہی ہے۔ امیر مصر اورساالر
ٰ
تک نہیں دی جائے گی کہ مصر میں کیا ہورہا ہے۔ کیا آپ اس سے بے خبر ہیں کہ وہ میدان جنگ میں کتنے طاقتور دشمن
کے مقابلے میں سینہ سپر ہیں؟ کیا آپ صالح الدین ایوب کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ہم سب دوچار ہزار گناہ گاروں اور
دشمنان دین سے ڈرتے ہیں؟ میں براہ راست کارروائی کا اور بڑی ہی سخت کارروائی کا قائل ہوں''۔
گستاخی معاف امیر محترم!''… ایک نائب ساالر نے کہا…'' صلیبی ہم پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ اسالم تلوار کے زور''
سے پھیالیا گیا ہے۔ ہم اس الزام کی تردید عملی طور پر کرنا چاہتے ہیں۔ ہم پیار اور خلوص کا پیغام لے کر جائیں گے''۔
تو پھر اپنی کمر کے ساتھ تلوار کیوں لٹکائے پھرتے ہو؟'' …تقی الدین نے طنزیہ لہجے میں کہا… ''فوج پر اتنا خرچ ''
کیوں کررہے ہو؟ کیا اس سے یہ بہتر نہیں کہ ہم فوج کو چھٹی دے دیں اور ہتھیار دریائے نیل میں پھینک کر مبلغوں کا ایک
گروہ بنا لیں اور درویشوں کی طرح گائوں گائوں ،قریہ قریہ دھکے کھاتے پھریں؟'' … تقی الدین نے جذباتی لہجے میں کہا۔
''اگر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کے خالف صلیب کی تلوار نکلے گی تو اسالم کی شمشیر نیام میں نہیں
پڑی رہے گی اور جب شمشیر اسالم نیام سے نکلے گی تو ہر اس سر کو تن سے جدا کرے گی جو کلمہ رسول صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہے ،وہ ہر اس زبان کو کاٹے گی جو کلمہ حق کو جھٹالتی ہے۔ صلیبی اگر
یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ ہم نے اسالم تلوار کے زور پر پھیالیا ہے تو میں ان سے معافی مانگنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔
سلطنت اسالمیہ کیوں سکڑتی چلی آرہی ہے؟ خود مسلمان کیوں اسالم کے دشمن ہوئے جارہے ہیں؟ صرف اس لیے کہ صلیبیوں
نے عورت اور شراب سے ،زروجواہرات اور ہوس اقتدار سے اسالم کی تلوار کو زنگ آلود کردیا ہے۔ وہ ہم پر جنگ پسندی اور
تشدد کا الزام عائد کرکے ہماری عسکریت روایات کو ختم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے خالف لڑ نہیں سکتے۔ ان کے بری
لشکر اور بحری بیڑے ناکام ہوگئے ہیں۔ وہ ہمارے درمیان تخریب کاری کررہے ہیں ،اللہ کے سچے دین کی جڑیں کاٹ رہے ہیں
اور آپ کہتے ہیں کہ ان کے خالف تلوار نہ اٹھائو۔
غور سے سنو میرے دوستو! صلیبی اور آپ کے دوسرے دشمن آپ کو محبت کا جھانسہ دے کر آپ کے ہاتھ سے تلوار لینا''
چاہتے ہیں۔ وہ آپ کی پیٹھ پر وار کرنا چاہتے ہیں ،ان کا یہ اصول محض ایک فریب ہے کہ کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ
مارے تو دوسرا گال آگے کردو۔ کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جسے یہ معلوم نہیں کہ کرک میں وہ مسلمان آبادی کا کیا حشر
کررہے ہیں؟ کیا آپ نے شوبک فتح کرکے وہاں مسلمانوں کا بیگار کیمپ نہیں دیکھا تھا؟ وہاں مسلمان عورتوں کی جو انہوں
،نے عصمت دری کی ،وہ نہیں سنی تھیں؟ مقبوضہ فلسطین میں مسلمان خوف اور ہراس کی
بے آبر وئی اور مظلومیت کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ صلیبی مسلمانوں کے قافلے لوٹتے اور عورتوں کو اغوا کرکے لے جاتے
ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ اسالم کے نام پر تلوار اٹھانا جرم ہے۔ اگر یہ جرم ہے تو میں اس جرم سے شرمسار نہیں۔
صلیبیوں کی تلوار نہتوں کو کاٹ رہی ہے ،صرف اس لیے کہ وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام لیوا ہیں۔
صلیب اور بتوں کے پجاری نہیں… تمہاری تلوار صرف وہاں ہاتھ سے گر پڑنی چاہیے ،جہاں سامنے نہتے ہوں اور ان تک خدا
کا پیغام نہ پہنچا ہو۔ ہمیں اس اصول کا قائل نہیں ہونا چاہیے کہ لوگوں کے جذبات پر حملہ نہ کرو۔ میں نے دیکھا ہے کہ
عرب میں چھوٹے چھوٹے مسلمان حکمران اور نااہل امراء لوگوں کو خوش کرنے کے لیے بڑے دلکش اور دلوں کو موہ لینے والے
الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ ان کے غلط جذبات اور احساسات کو اور زیادہ بھڑکا کر انہیں خوش رکھتے ہیں تاکہ لوگ انہیں
عیش وعشرت سے اور غیر اسالمی طرز زندگی سے روک نہ سکیں۔ ان امراء کا طریقہ کار یہ ہے کہ انہوں نے خوشامدیوں کا
ایک گروہ پیدا کرلیا ہے جو ان کی ہر آواز پر لبیک کہتا ہے اور رعایا میں گھوم پھر کر ثابت کرتا رہتا ہے کہ ان کے امیر
نے جو بات کہی ہے وہ خدا کی آواز ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ کے بندے ،بدکار اور عیاش انسانوں کے غالم ہوتے
چلے جارہے ہیں۔ قوم حاکم اور محرم میں تقسیم ہوتی چلی جارہی ہے''۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ دشمن ہماری جڑیں کاٹ رہا ہے اور ہماری قوم کے ایک حصے کو کفر کی تاریکیوں میں لے جارہا ہے''
اگر ہم نے سخت رویہ اختیار نہ کیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم کفر کی تائید کررہے ہیں۔ میرے بھائی صالح الدین ایوبی
نے مجھے کہا تھا کہ غداری ہماری روایت بنتی جارہی ہے لیکن میں یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ یہ بھی روایت بنتی جارہی ہے
کہ ایک ٹولہ حکومت کیا کرے گا اور قوم محکوم ہوگی۔ حکمران ٹولہ قوم کا خزانہ شراب میں بہائے گا اور قوم پانی کے
گھونٹ کو بھی ترسے گی۔ میرے بھائی نے ٹھیک کہا تھا کہ ہمیں قوم اور مذہب کے مستقبل پر نظر رکھنی ہے۔ ہمیں قوم
میں وقار اور کردار کی بلندی پیدا کرنی ہے۔ آنے والی نسلیں ہماری قبروں سے جواب مانگیں گی۔ اس مقصد کے لیے ہمیں
ایسی کارروائی سے گریز نہیں کرنا چاہیے جو ملک اور مذہب کے لیے سود مند ہو اگر یہ برحق اقدام قوم کے چند ایک افراد
کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے تو ہمیں اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ ہم قوم کا مفاد اور وقار چند ایک افراد کی
خوشنودی پر قربان نہیں کرسکتے۔ ہم ملک کے ایک اتنے بڑے حصے کو صرف اس لیے دشمن کی تخریب کاری کے سپرد نہیں
کرسکتے کہ وہاں کے لوگوں کے جذبات مجروح ہوں گے۔ تم دیکھ رہے ہو کہ وہاں کے لوگ سیدھے سادے اور بے علم ہیں۔
انہیں اپنے وہ مسلمان بھائی جو قبیلوں کے سردار ہیں اور مذہب کے اجارہ دار ہیں ،دشمن کا آلۂ کار بن کر گمراہ رہے
ہیں''۔
اجالس میں کسی کو توقع نہیں تھی کہ تقی الدین کا ردعمل اتنا شدید اور فیصلہ اتنا سخت ہوگا۔ اس نے جو دالئل پیش
کیے ،ان کے خالف کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ کوئی مشور ہی پیش کرتا۔ اس نے کہا …''مصر میں جو فوج ہے ،یہ محاذ
سے آئی ہے اور اس سے پہلے بھی لڑ چکی ہے۔ اس فوج کے صرف پانچ سو گھوڑ سوار ،دو سو شتر سوار اور پانچ سو پیادہ
آج شام اس عالقے کی طرف روانہ کردو جہاں وہ مشکوک کھنڈرات ہیں۔ یہ فوج اس عالقے سے اتنی دور رہے گی کہ ضرورت
پڑے تو فوری طور پر محاصرہ کرسکے۔ میرے ساتھ دمشق سے جو دو سو سوار آئے ہیں ،وہ عالقے کے اندر جاکر کھنڈروں پر
حملہ کریں گے۔ ایک چھاپہ مار دستہ کھنڈروں کے اندر جائے گا ،دوسو سوار کھنڈروں کو محاصرے میں رکھیں گے۔ اگر باہر
سے حملہ ہوا یا مزاحمت ہوئی تو فوج کا بڑا حصہ مقابلہ کرے گا اور محاصرہ تنگ کرتا جائے گا۔ اس کارروائی میں فوج کو
سختی سے حکم دیا جائے کہ کسی نہتے کو نہیں چھیڑا جائے گا''۔
اس فیصلے کے فورا ً بعد فوجی حکام کوچ ،حملے اور محاصرے وغیرہ کا منصوبہ تیار کرنے میں مصروف ہوگئے۔
٭ ٭ ٭
سلطان ایوبی مصر کی تازہ صورت حال سے بے خبر کرک اور شوبک قلعوں کے درمیان میل ہا میل وسیع صحرا میں جہاں
ریتلی چٹانوں ،ٹیلوں اور گھاٹیوں کے عالقے بھی تھے اور جہاں کسی کسی جگہ پانی اور سائے کی بھی افراط تھی ،صلیبیوں
کے نئے جنگی منصوبے کے مطابق اپنی افواج کی صف بندی کررہا تھا۔ جاسوسوں نے اسے بتایا تھا کہ صلیبی دگنی طاقت
سے جو زیادہ تر زرہ پوش اور بکتر بند ہوگی۔ قلعے سے باہر آکر حملہ کریں گے۔ یہ فوج سلطان ایوبی کی فوج کو آمنے
سامنے کی جنگ میں الجھالے گی اور دوسری فوج عقب سے حملے کرے گی۔ سلطان ایوبی نے اپنی فوج کو دور دور تک
پھیال دیا۔ سب سے پہال کام یہ کیا کہ جہاں جہاں پانی اور سبزہ تھا ،وہاں فورا ً قبضہ کرلیا۔ ان جگہوں کے دفاع کے لیے اس
نے بڑے سائز کی کمانوں والے تیر انداز بھیج دیئے۔ ان کے تیر بہت دور تک جاتے تھے۔ وہاں منجنیقیں بھی رکھیں جو آگ
کی ہانڈیاں پھینکتی تھیں۔ یہ اہتمام اس لیے کیا گیا تھا کہ دشمن قریب نہ آسکے۔ بلندیوں پر بھی قبضہ کرلیا گیا۔ سلطان
ایوبی نے تمام دستوں کو حکم دیا کہ دشمن سامنے سے حملہ کرے تو وہ اور زیادہ پھیل جائیں تاکہ دشمن بھی پھیلنے پر
مجبور ہوجائے۔ اس نے اپنی فوج کو ایسی ترتیب میں کردیا کہ دشمن یہ فیصلہ ہی نہیں کرسکتا تھا کہ مسلمان فوج کے پہلو
کدھر اور عقب کس طرف ہے۔
داستان ایمان فروشوں کی 19:43
قسط نمبر46.۔
" کھنڈروں کی آواز "
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سلطان ایوبی نے فوج کا ایک بڑا حصہ ریزرو میں رکھ لیا تھا ،ایک حصے کو اس طرح متحرک رکھا کہ جہاں کمک کی
ضرورت پڑے ،فورا ً کمک دے سکے۔ اس کا سب سے زیادہ خطرناک ہتھیار اس کے چھاپہ مار دستے تھے اور اس سے زیادہ
خطرناک اس کا جاسوسی کا نظام تھا جو اسے صلیبیوں کی نقل وحرکت کی خبریں دے رہا تھا۔ شوبک کا قلعہ سلطان ایوبی
سرکرچکا تھا۔ صلیبیوں کے منصوبے میں یہ بھی تھا کہ ان کے لیے حاالت سازگار ہوئے تو وہ شوبک کو محاصرے میں لے کر
فتح کرلیں گے۔ انہیں توقع تھی کہ ان کا اتنا زیادہ لشکر سلطان ایوبی کی قلیل تعداد فوج کو صحرا میں ختم کردے گا یا اتنا
کمزور کردے گا کہ وہ شوبک کو باہر سے مدد نہیں دے سکے گی۔ ان کے اس منصوبے کے پیش نظر سلطان ایوبی نے شوبک
کی وہ طرف جس طرف سے صلیبی اس قلعے پر حملہ کرسکتے تھے ،خالی چھوڑ دی۔ اس نے صلیبیوں کے لیے موقعہ پیدا
کردیا کہ وہ راستہ صاف دیکھ کر شوبک پر حملہ کریں۔ اس طرف سے اس نے دیکھ بھال والی چوکیاں بھی ہٹا دیں اور دور
دور تک عالقہ خالی کردیا۔
صلیبیوں کے جاسوسوں نے کرک میں فورا ً اطالع پہنچائی کہ سلطان ایوبی نے صلیبیوں کے ساتھ صحرا میں لڑنے کے لیے فوج
شوبک سے دوراکٹھی کرلی ہے اور شوبک کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ صلیبیوں نے فورا ً اپنی اس فوج کو جو سلطان ایوبی کے
سامنے سے حملہ کرنے کے لیے باہر نکالی تھی ،حکم دے دیا کہ رخ بدل کر شوبک کی طرف چلی جائے۔ چنانچہ یہ فوج
ادھر کو ہولی۔ اس کے پیچھے رسد کے ذخیرے جارہے تھے ،فوج جب شوبک سے چار میل دور رہ گئی تو اسے روک لیا گیا۔
یہ اس فوج کا عارضی پڑائو تھا۔ رسد کی گھوڑا گاڑیاں ،اونٹ اور خچر ہزاروں کی تعداد میں چلے آرہے تھے۔ انہیں کوئی
خطرہ نہ تھا کیونکہ مسلمانوں کی فوج کا دور دور تک نام ونشان نہ تھا۔ صلیبی حکمران بہت خوش تھے۔ انہیں شوبک کا
قلعہ اپنے قدموں میں پڑا نظر آرہا تھا مگر رات کو انہیں اپنے پیچھے پانچ چھ میل دور آسمان الل سرخ نظر آیا۔ شعلے اتنے
بلند تھے کہ اتنی دور سے بھی نظر آئے تھے ،صلیبیوں نے سوار دوڑادیئے۔ جہاں سے شعلے اٹھ رہے تھے ،وہاں ان کی رسد
تھی۔ سوار وہاں پہنچے تو انہیں صحرا میں بے لگام گھوڑے اور بے مہار اونٹ ہر طرف دوڑتے بھاگتے نظر آئے۔
یہ تباہی سلطان ایوبی کے ایک چھاپہ مار دستے کی بپا کی ہوئی تھی ،رسد میں گھوڑوں کے لیے خشک گھاس سے لدی ہوئی
سینکڑوں گھوڑا گاڑیاں تھیں۔ انہیں رسد کے کیمپ کے اردگرد کھڑا کیا گیا تھا۔ صلیبی خوش فہمیوں میں مبتال تھے۔ انہیں
معلوم نہیں تھا کہ ان کی ہر ایک حرکت پر سلطان ایوبی کی نظر ہے۔ رات کو جب رسد کا کیمپ سو گیا تو مسلمان چھاپہ
ماروں نے اونٹوں پر جاکر خشک گھاس میں آتشیں فلیتوں والے تیر چالئے۔ گھاس فورا ً جل اٹھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کیمپ
شعلوں کے گھیرے میں آگیا۔ ان کے نرغے میں آئے ہوئے انسان جانیں بچانے کے لیے ادھر ادھر دوڑے تو ان میں سے بہت
سے تیروں کا شکار ہوگئے جو جانور رسیاں توڑ سکے وہ تو بھاگ گئے اور جو کھل نہ سکے وہ زندہ جل گئے۔ دور دور تک
پھیال ہوا کیمپ جہنم بن گیا۔ چھاپہ ماروں نے کئی ایک اونٹ اور گھوڑے پکڑ لیے اور واپس چلے گئے۔
صبح طلوع ہوئی۔ صلیبی کمانڈروں نے جاکر رسد کا کیمپ دیکھا ،وہاں کچھ نہیں بچا تھا۔ ان کی ایک ماہ کی رسد تباہ
ہوچکی تھی۔ وہ سمجھ گئے کہ شوبک کا راستہ جو صاف تھا ،یہ سلطان ایوبی کی ایک چال تھی۔ انہوں نے بغیر دیکھے کہہ
دیا کہ کرک سے شوبک تک ان کی رسد اور کمک کا راستہ محفوظ نہیں۔ چنانچہ انہوں نے شوبک کا محاصرہ ملتوی کردیا۔
رسد کے بغیر محاصرہ ناممکن تھا اور جب انہیں اطالع ملی کہ گزشتہ رات اس فوج کی بھی رسد تباہ ہوگئی ہے جو سلطان
ایوبی کی فوج پر سامنے سے حملہ کرنے کے لیے جمع تھی تو انہوں نے اپنے تمام تر جنگی منصوبے پر نظرثانی کرنے کا
فیصلہ کرلیا۔ انہیں کہیں بھی سلطان ایوبی کی فوج نظر نہیں آرہی تھی۔ انہیں جاسوس یہ بھی نہیں بتا سکے تھے کہ
مسلمانوں کی فوج کا اجتماع کہاں ہے۔ دراصل یہ اجتماع کہیں بھی نہیں تھا۔
سلطان ایوبی کو اطالع ملی کہ صلیبیوں نے دونوں محاذوں پر پیش قدمی روک دی ہے تو اس نے اپنے کمانڈروں کو بال کر
کہا… ''صلیبیوں نے جنگ ملتوی کردی ہے لیکن ہماری جنگ جاری ہے۔ وہ دونوں فوجوں کے آمنے سامنے کے تصادم کو
جنگ کہتے ہیں۔ میں چھاپوں اور شب خونوں کو جنگ کہتا ہوں۔ اب چھاپہ مارو کو سرگرم رکھو۔ صلیبی دونوں طرف سے
پیچھے ہٹ رہے ہیں ،انہیں اطمینان سے پیچھے نہ ہٹنے دو۔ انتہائی عقب یا پہلو پر شب خون مارو اور غائب ہوجائو۔ صلیبی
آپ کو اپنے سامنے الکر لڑنا چاہتے ہیں لیکن میں آپ کو اس میدان میں ان کے سامنے لے جائوں گا جو آپ کی مرضی کا
ہوگا اور جہاں کی ریت بھی آپ کی مدد کرے گی''۔
سلطان ایوبی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ،وہ اپنے عملے اور محافظ دستے کے ساتھ خانہ بدوش تھا ،کسی ایک جگہ نہ ٹھہرنے
کے باوجود معلوم ہوتا تھا ،جیسے ہر جگہ موجود ہے۔
٭ ٭ ٭
مصر میں سلطان ایوبی کا بھائی تقی الدین صلیبیوں کے دوسرے محاذ پر حملہ آور ہورہا تھا ،یہ مصر کا جنوب مغربی عالقہ
عیسی علیہ السالم آسمان سے واپس آنے والے
تھا ،جہاں کے ڈرائونے ٹیلوں کے اندر فرعونوں کے ہولناک کھنڈرات میں حضرت
ٰ
تھے۔ تمام تر عالقہ ایک نئے عقیدے کا پیرو کار ہوگیا تھا… جمعرات کی شام تھی۔ زائرین کا ہجوم کھنڈر کے غار نما دروازے
میں داخل ہورہا تھا۔ اندر بڑے کمرے میں پراسرار آواز گونج ر ہی تھی۔ لوگوں کو دیوار پر گناہ گار اور نیکو کارجاتے نظر آرہے
تھے۔ وہاں وہی سماں تھا جو ہر جمعرات کے روز ہوا کرتا تھا۔ اچانک اس پراسرار مقدس انسان کی آواز خاموش ہوگئی جس
کے متعلق مشہور تھا کہ گناہ گاروں کو نظر نہیں آتا۔ اس کے بجائے ایک اور آواز سنائی دی۔ ''گمراہ انسانو! آج کی رات
گھروں کو نہ جانا۔ کل صبح تم پر وہ راز فاش ہوجائے گا جس کے لیے تم بیتاب ہو۔ یہاں سے فورا ً باہر نکل جائو۔ حضرت
عیسی علیہ السالم تشریف الرہے ہیں۔ اس کھنڈر سے دور جاکر سوجائو''… بڑے کمرے میں حیرت زدہ لوگوں کو دیوار پر جو
ٰ
چمکتے ہوئے ستارے نظر آتے تھے ،وہ ماند پڑگئے۔ اس وقت ان ستاروں میں سے حسین لڑکیاں اور خوبرو مرد ہنستے کھیلتے
گزر رہے تھے۔ لوگوں نے دیکھا کہ فوجی قسم کے کچھ آدمی انہیں پکڑ پکڑ کر لے جارہے ہیں۔ کہیں سے چیخیں بھی سنائی
دے رہی تھیں۔ بادل جو گرجتے تھے وہ بھی خاموش ہوگئے ،لوگوں کے لیے یہ جگہ بڑی ہی مقدس تھی۔ وہ خوف زدہ ہوکے
باہر کو بھاگے اور کھنڈر خالی ہوگیا۔
یہ انقالب تقی الدین اور علی بن سفیان الئے تھے۔ ان کے ساتھ فوج کی وہی نفری تھی جو تقی الدین نے اپنے حکم میں
بتائی تھی۔ یہ دستے شام کے بعد ٹیلوں والے عالقے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ ان کی رہنمائی شارجا کررہی تھی جو گھوڑے
پر سوار تھی۔ وہ انہیں جمعرات کی شام وہاں لے گئی تھی کیونکہ اس روز وہاں میلہ لگتا تھا اور دور دور سے لوگ آتے
تھے۔ فوج کے بڑے حصے کو جس میں پانچ سو گھوڑ سوار ،دوسو شتر سوار اور پانچ سو پیادہ تھے۔ اس عالقے سے ذرا دور
رکھا گیا تھا۔ انہیں نہتے لوگوں کے خالف استعمال نہیں کرنا تھا۔ ان کے ذمہ یہ فرض تھا کہ سوڈان کی سرحد پر نظر رکھیں
چونکہ کھنڈروں کے اندر کی تخریب کاری صلیبیوں اور سوڈانیوں کی پشت پناہی پر ہورہی تھی۔ اس لیے یہ خطرہ تھا کہ وہاں
فوجی کارروائی کی گئی تو سوڈانی حملہ کردیں گے۔ تقی الدین نے اس عالقے کے قریب کے سرحدی دستوں کو جو سرحدوں
کی حفاظت کے لیے وہیں رہتے تھے قریب بال کر اپنے تحت کرلیا تھا۔
دوسو گھوڑ سوار جو تقی الدین کے ساتھ دمشق سے آئے تھے وہ وہاں کے چنے ہوئے اور دیوانگی کی حد تک دلیر سوار تھے۔
دوڑتے گھوڑوں سے تیر اندازی ان کا خصوصی کمال تھا۔ پیادہ سپاہیوں میں سلطان ایوبی کے اپنے ہاتھوں تیار کیے ہوئے چھاپہ
مار بھی تھے۔ انہیں ایسی ٹریننگ دی گئی تھی کہ انتہائی دشوار ٹیلوں اور درختوں پر حیران کن رفتار سے چڑھتے اور اترتے
تھے۔ چند گز پھیلی ہوئی آگ سے گزر جانا ان کا معمول تھا۔ ان چھاپہ مار جانبازوں کو اس وقت کھنڈر کی طرف روانہ کیا
گیا ،جب لوگ اندر جارہے تھے ،وہاں تک انہیں شارجا لے گئی تھی۔ علی بن سفیان ان کے ساتھ تھا۔ تیز رفتار قاصد بھی
ساتھ تھے ،تاکہ پیغام رسانی میں تاخیر نہ ہو۔ کھنڈر کے دروازے کے باہر دو آدمی کھڑے اندر جانے والوں کو تین تین کھجوریں
کھال رہے تھے۔ دروازے کے اندر گپ اندھیرا تھا۔ اس اندھیرے سے لوگ گزر کر اندر روشن کمرے میں جاتے تھے ،باہر صرف
ایک مشعل جل رہی تھی جس کی روشنی معمولی سی تھی۔
چھ آدمی جن کے سر چادروں میں ڈھکے ہوئے تھے ،زائرین کے ساتھ دروازے تک گئے اور ہجوم سے ہٹ کر کھجوریں کھالنے
والوں کے پیچھے جا کھڑے ہوئے۔ انہیں کہا گیا کہ وہ سامنے سے گزریں لیکن وہ سن ہوکے رہ گئے کیونکہ ان کی پیٹھوں
میں خنجروں کی نوکیں رکھ دی گئی تھیں۔ یہ چھ آدمی چھاپہ مار تھے۔ انہوں نے ایک ایک آدمی کے پیچھے ہو کر خنجر
ان کی پیٹھوں سے لگا کر آہستہ سے کان میں کہا تھا… ''زندہ رہنا چاہتے ہوتو یہاں سے باہر چلے جائو ،تم سب فوج کے
گھیرے میں ہو'' … کھجوریں کھالنے اور پانی پالنے والے آدمی ذرا سی بھی مزاحمت کے بغیر باہر نکل گئے۔ چھاپہ ماروں
نے خنجر اس طرح چغوں میں چھپالیے کہ لوگوں میں سے کوئی دیکھ نہ سکا۔ یہ چار آدمی جونہی باہر کو آئے ،وہاں دس
بارہ چھاپہ مار دیہاتیوں کے لباس میں کھڑے تھے۔ انہوں نے چاروں کو گھیر لیا اور دھکیلتے ہوئے دور لے گئے۔ وہاں انہیں
رسیوں سے باندھ دیا گیا۔ چھ چھاپہ مار جو کھجوروں اور پانی کے مشکیزوں کے پاس رہ گئے تھے ،انہوں نے اندر جانے والے
لوگوں سے کہنا شروع کردیا کہ کھجوروں اور پانی کے بغیر اندر جائو کیونکہ اندر سے نیا حکم آیا ہے۔ سیدھے سادے دیہاتی
اندر جاتے رہے۔
ان کے ساتھ اب چھاپہ مار بھی اندر جارہے تھے اور مشعلیں بھی اندر جارہی تھیں۔ لوگ حیران تھے کہ مشعلیں کیوں لے
جائی جارہی ہیں۔ کم وبیش پچاش مشعلیں اور دو سو چھاپہ مار اندر چلے گئے۔ وہ روشن کمرے میں نہ گئے بلکہ ان تاریک
راستوں اور غالم گردشوں میں چلے گئے جن میں باہر کے لوگ نہیں جاسکتے تھے۔ ان میں سے بعض کے پاس خنجر اور
خنجر نما تلواریں تھیں اور بعض کے پاس چھوٹی کمانیں۔ اس دروازے سے بھی جس سے لوگ باہر نکلتے تھے ،چھاپہ مار
داخل ہوگئے۔ وہ ہدایت کے مطابق تاریک بھول بھلیوں میں جارہے تھے۔ تقی الدین کے دو سو گھوڑے سوار آگے گئے اور انہوں
نے پورے کھنڈر کو گھیرے میں لے گیا۔ ان کے ساتھ پیادہ دستہ بھی تھا جس کے سپاہیوں نے اندر سے نکلنے والوں کو روک
کر ایک طرف اکٹھا کرنا شروع کردیا۔ چھاپہ مار مشعل برداروں کے ساتھ اندر گئے تو انہیں ایسے محسوس ہونے لگا جیسے
کسی کے پیٹ میں چلے گئے ہوں۔ اندر کے راستے اور کمرے انتڑیوں کی مانند تھے… یہ راستے انہیں ایک ایسے طلسم میں
لے گئے جسے دیکھ کر چھاپہ مار بدک کرر ک گئے۔ یہ ایک بہت کشادہ کمرہ تھا جس کی چھت تو اونچی تھی ،اندر بہت
سے مرد اور عورتیں تھیں۔ ان میں کچھ ایسے تھے جن کے چہرے بھیڑیوں کی طرح تھے بعض تھے تو انسان لیکن وہ اس
قدر بدصورت اور بھیانک چہروں والے تھے کہ دیکھ کر ڈر آتا تھا ،وہ جن اور بھوت لگتے تھے اور ان کے درمیان خوبصورت اور
جوان لڑکیاں بھڑکیلے اور چمکیلے کپڑے پہنے ہنس کھیل رہی تھیں۔ ایک طرف دیوار کے ساتھ چند ایک خوبصورت لڑکیاں
خوبرو مردوں کے ساتھ مٹک مٹک کر چل رہی تھیں۔ ادھر چھت سے فرش تک پردے لٹکے ہوئے تھے جو دائیں بائیں ہٹتے،
کھلتے اور بند ہوتے تھے۔ دوسری طرف آنکھوں کو خیرہ کردینے والی روشنی چمکتی اور بجھتی تھی۔
اگر چھاپہ ماروں کو یہ یقین نہ دالیا گیا ہوتا کہ کھنڈر کے اندر جو کوئی بھی ہے اور جس حلیے میں بھی ہے وہ انسان ہوگا
اور اندر کوئی بدروح ،روح یا بھوت پریت نہیں ،تو چھاپہ مار وہاں سے بھاگ جاتے۔ وہاں خوبصورت لڑکیاں اور خوبرو مرد تھے،
…وہ بھی ڈرائونے لگتے تھے
اس عجیب وغریب مخلوق نے جب مشعل بردار چھاپہ ماروں کو دیکھا تو انہیں ڈرانے کے لیے ڈرائونی آوازیں نکالنے لگے جو
آدمی بدصورت ،چڑیلوں اور بھیڑیوں کے چہروں والے تھے ان کی آوازیں زیادہ خوفناک تھیں۔ اس دوران ایک دو آدمیوں نے شاید
ڈر کر اپنے چہرے بے نقاب کردیئے۔ یہ بھیڑیوں کے چہرے تھے جو انہوں نے اتارے تو اندر سے انسانوں کے چہرے نکلے۔
چھاپہ ماروں نے سب کو گھیر کر پکڑ لیا اور سب کے نقاب اتار دیئے ،وہاں شراب بھی پڑی تھی۔ ان سب کو باہر لے گئے۔
کھنڈر کے دوسرے حصوں کی تالشی میں ایک آدمی پکڑا گیا جو ایک تنگ سی سرنگ کے منہ میں منہ ڈالے بھاری آواز میں
عیسی علیہ السالم آنے والے ہیں…'' اور ایسے کئی الفاظ تھے جو وہ بول رہا
کہہ رہا تھا …''گناہوں سے توبہ کرو ،حضرت
ٰ
تھا۔ یہ سرنگ گھوم پھر کر اس روشن کمرے میں جاتی تھی ،جہاں زائرین کو یہ پراسرار ،ڈرائونی اور خوبصورت مخلوق دکھا
کر حیرت زدہ کیا جاتا تھا۔ اس آدمی کو وہاں سے ہٹا کر چھاپہ ماروں کے ایک کمان دار نے سرنگ میں منہ ڈال کر کہا کہ
اے گمراہ لوگوں آج رات گھروں کو نہ جانا کل صبح تم پر وہ راز فاش ہوجائے گا جس کے لیے تم بیتاب ہو۔
کھنڈرات کے اندر کسی نے بھی مزاحمت نہ کی۔ خنجروں اور تلواروں کے آگے سب اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کرتے
چلے گئے۔ چھاپہ مار ان آدمیوں کی نشاندہی پر جنہیں گرفتار کرلیا گیا تھا ان جگہوں تک پہنچے جہاں بجلی کی طرح
چمکنے والی روشنیوں کا انتظام تھا۔ ڈھکی چھپی جگہوں میں مشعلیں جل رہی تھی۔ ان کے پیچھے لکڑی کے تختے تھے جن
پر ابرق چپکایا ہوا تھا۔ ان تختوں کے زاویے بدلتے تھے تو ابرق کی چمک لوگوں کی آنکھوں میں پڑتی اور چندھیا دیتی تھی۔
کمرہ تاریک کرنے کے لیے مشعلوں کو پیچھے کرلیا جاتا تھا۔ بادل گرجنے کی آوازیں دھات کی چادروں کو جھٹکے دے کر پیدا
کی جاتی تھی۔ پردوں پر جگہ جگہ ابرق کے ٹکڑے چپکا دیئے گئے تھے جن پر روشنی پڑتی تو ستاروں کی طرح چمکتے
تھے۔ اس طرف پردوں کا رنگ ایسا تھا کہ کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ یہ کپڑا ہے۔ وہ اسے پھٹی ہوئی دیوار سمجھتے تھے۔
عقل اور ہوش والے انسان کے لیے یہ کوئی معمہ نہیں تھا۔ بے شک یہ روشنیوں کے خاص انتظام کا جادو تھا جو لوگوں کو
مسحور کرلیتا تھا لیکن اندر جو جاتا تھا اس کی عقل اور ہوش پر اس کا کوئی اختیار نہیں ہوتا تھا۔ انہیں اندر جاتے وقت
دروازے پر جو تین کھجوریں کھالئی جاتی اور پانی پالیا جاتا تھا ،ان میں نشہ آور آمیزش ہوتی تھی۔ اس کا اثر فورا ً ہوجاتا
تھا۔ اس اثر کے تحت زائرین کے ذہنوں پر جو بھی تصور بٹھایا جاتا اور کانوں میں جو بھی آوازیں ڈالی جاتی ،وہ اسے سو
فیصد صحیح اور برحق سمجھ لیتے تھے۔ اسی نشے کا اثر تھا کہ لوگ باہر جاکر دوبارہ اندر آنے کی خواہش کرتے تھے۔ انہیں
معلوم نہیں تھا کہ یہ اس عقیدے کا تاثر نہیں بلکہ اس نشے کا اثر ہے جو انہیں کھجوروں اور پانی میں د یا جاتا ہے۔
کھجوروں کے انبار اور پانی کے مشکیزوں پر بھی قبضہ کرلیا گیا تھا۔ اندر پکڑ دھکڑ اور تالشی کا سلسلہ جاری تھا۔ باہر دو
سو سپاہیوں نے کھنڈروں کا محاصرہ کررکھا تھا۔ ہر طرف مشعلوں کی روشنی تھی ،فوج کا بڑا حصہ اور دو سرحدی دستے
سوڈان کی سرحد کے ساتھ ساتھ گھوم پھر رہے تھے… رات گزرگئی۔ سوڈان کی طرف سے کوئی حملہ نہ ہوا۔ کھنڈرات میں
بھی کوئی مزاحمت نہ ہوئی۔ صبح کے اجالے نے اس عالقے کو روشن کیا تو وہاں ہراساں دیہاتیوں کا ہجوم تھا۔ کچھ لوگ
ادھر ادھر سوگئے تھے۔ گھوڑ سواروں نے گھیرا ڈال رکھا تھا۔
٭ ٭ ٭
کچھ دیر بعد تمام لوگوں کو ایک جگہ جمع کرکے بٹھا دیا گیا ۔ ان کی تعداد تین اور چار ہزار کے درمیان تھی۔ ایک طرف
سے ایک جلوس آیا جسے فوجی ہانک کر ال رہے تھے۔ اس جلوس میں بھیڑیوں اور چڑیلوں کے چہروں والے انسان تھے۔ اس
میں مکروہ اور بڑی بھیانک شکلوں والے انسان بھی تھے اور اس جلوس میں وہ تمام مخلوق تھی جو لوگوں کو کھنڈر کے اندر
دکھائی جاتی تھی اور بتایا جاتا تھا کہ یہ آسمان ہے جہاں یہ لوگ مرنے کے بعد گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ان کا
سب سے بڑا گناہ یہ بتایا جاتا تھا کہ یہ جنگ وجدل کے عادی تھے یعنی یہ فوجی تھے۔ اس جلوس سے الگ دس بارہ
لڑکیوں کو بھی لوگوں کے سامنے الیا گیا۔ یہ بہت ہی خوبصورت لڑکیاں تھیں۔ ان کے ساتھ خوبرو مرد تھے۔ ان دونوں جلوسوں
کو لوگوں کے ہجوم کے سامنے ایک اونچی جگہ پر کھڑا کردیا گیا اور انہیں کہا گیا کہ لوگوں کو اپنے چہرے دکھائو۔ سب نے
بھیڑیوں اور چڑیلوں کے مصنوعی چہرے اتار دیئے۔ ان کے اندر سے اچھے بھلے انسانی چہرے نکل آئے جو آدمی مکروہ اور
بھیانک چہروں والے تھے ،وہ بھی مصنوعی چہرے تھے۔ یہ چہرے بھی اتار دیئے گئے۔
لوگوں سے کہا گیا کہ وہ ان آدمیوں اور ان لڑکیوں کے قریب سے گزرتے جائیں اور انہیں پہنچانیں ،لوگ تو اسی پر حیران
ہوگئے کہ یہ آسمان کی مخلوق نہیں ،اسی زمین کے انسان ہیں۔ لڑکیاں بھی پہچان لی گئیں ،ان میں زیادہ تر اسی عالقے کی
رہنے والی تھیں اور تین چار یہودی تھیں۔ جنہیں صلیبی اسی مقصد کے لیے الئے تھے۔ لوگ انہیں دیکھ چکے تو ان مجرموں
کو سامنے الیا گیا جنہوں نے یہ طلسماتی اہتمام کررکھا تھا۔ ان میں چھ صلیبی تھے جو مصر کے اس عالقے کی زبان بولتے
اور سمجھتے تھے۔ انہوں نے بہت سے آدمی اس عالقے سے اپنے ساتھ مال لیے تھے۔ رات گرفتاری کے بعد ان سے اعتراف
کرالیا گیا تھا کہ انہوں نے تین چار مسجدوں میں اپنے امام رکھ دیئے تھے جو لوگوں کو مذہب کے پردے میں غیر اسالمی
نظریات کے معتقد بنا رہے تھے۔ اس گروہ کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو قائل کیا جائے کہ فوج میں بھرتی نہ ہوں کیونکہ یہ
بہت بڑا گناہ ہے۔ یہ گروہ اس مقصد میں کامیاب ہوچکا تھا۔ ان تخریب کاروں نے یہ کامیابی بھی حاصل کرلی تھی کہ اس
عالقے کے لوگوں میں سوڈانیوں کی محبت پیدا کردی تھی اور ان کا مذہب تبدیل کیے بغیر انہیں بے مذہب کردیا تھا۔
لوگوں سے کہا گیا کہ اب وہ کھنڈروں کے اندر جاکر گھومیں پھریں اور اس فریب کاری کا ثبوت اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔
لوگ اندر چلے گئے جہاں جگہ جگہ فوجی کھڑے تھے اور لوگوں کو دکھا رہے تھے کہ انہیں کیسے کیسے طریقوں سے دھوکہ
دیا جاتا رہا ہے۔ بہت دیر بعد جب تمام لوگ اندر سے گھوم پھر آئے تو تقی الدین نے ان سے خطاب کیا اور انہیں بتایا کہ
کھجوروں اور پانی میں انہیں نشہ دیا جاتا ہے۔ اندر جوجنت اور جہنم تھا ،وہ اس نشے کے زیراثر نظر آتا تھا۔ میں ان
موسی علیہ السالم کہاں اور
مجرموں سے کہتا ہوں کہ اندر چل کر مجھے آسمان کی مخلوق چلتی پھرتی دکھائیں کہ حضرت
ٰ
مرا ہوا خلیفہ العاضد کہاں ہے؟ یہ سب فریب تھا۔ یہ وہ نشہ ہے جو حشیشین کا پیر استاد حسن بن صباح لوگوں کو پال کر
انہیں جنت دکھایا کرتا تھا۔ وہ تو ایک وقت میں چند ایک آدمیوں کو نشہ پالتا تھا مگر یہاں اسالم کے ان دشمنوں نے اتنے
وسیع عالقے کی پوری آبادی پر نشہ طاری کردیا ہے۔
تقی الدین نے لوگوں کو اصلیت دکھا کر انہیں بتایا کہ ابتداء میں ایک درویش کی کہانی سنائی گئی تھی جو مسافروں کو اونٹ
اور اشرفیاں دیا کرتا ہے۔ یہ محض بے بنیاد کہانیاں تھیں اور بے سروپا جھوٹ۔ کہانیاں سنانے والوں کو تمہارے دین وایمان کے
دشمن بے دریغ مال ودولت دیتے تھے… تقی الدین نے اس فریب کاری کے تمام پہلو بے نقاب کیے اور جب اس نے مجرموں
کی اصلیت کو بے نقاب کیا تو لوگ جوش میں آکر اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے مجرموں پر ہلہ بول دیا۔ اس وقت لوگوں کا
وہ نشہ اتر چکا تھا جو رات کو انہیں کھجوروں اور پانی میں دیا گیا تھا۔ فوج نے ہجوم پر قابو پانے کی بہت کوشش کی
لیکن انہوں نے تمام مجرموں اور لڑکیوں کو جان سے مار کر چھوڑا۔
تقی الدین نے فوج کو اسی عالقے میں پھیال دیا اور فوج کی نگرانی میں وہاں ایک تو تخریب کاروں کے ایجنٹوں کو گرفتار
کیا اور دوسرے یہ کہ مسجدوں میں قاہرہ کے عالم متعین کردیئے جنہوں نے لوگوں کو مذہبی اور عسکری تعلیم وتربیت شروع
کردی۔ فرعونوں کے کھنڈروں کو لوگوں کے ہاتھوں مسمار کرادیا گیا۔
تقی الدین نے قاہرہ جاکر پہال کام یہ کیا کہ جراح اور شارجا کی خواہش کے مطابق انہیں شادی کی اجازت دے دی اور دوسرا
کام یہ کیا کہ اس نے فوج کی مرکزی کمان کو حکم دیا کہ سوڈان پر حملے کی تیاری کی جائے۔ اس نے کھنڈروں کی مہم
میں دیکھ لیا تھا کہ پڑوسی سوڈانیوں نے مصر کے اتنے وسیع عالقے کو اپنے اثر میں لے لیا تھا اور یہ اثر شدید جوابی
کارروائی کے بغیر ختم نہیں ہوگا۔ اس پر انکشاف بھی ہوا تھا کہ سوڈانی صلیبیوں کے آلۂ کار بنے ہوئے ہیں اور وہ باقاعدہ
لہ ذا ضروری سمجھا گیا کہ سوڈان پر حملہ کیا جائے۔ اس سے اگر سوڈان کا کچھ عالقہ
حملے کی تیاری بھی کررہے ہیں۔ ٰ
قبضے میں آئے یا نہ آئے ،اتنا فائدہ ضرور ہوگا کہ دشمن کی تیاریاں درہم برہم ہوجائیں گی اور ان کا منصوبہ لمبے عرصے لیے
تباہ ہوجائے گا۔ تقی الدین کو سلطان ایوبی کی پشت پناہی حاصل تھی۔
٭ ٭
کھنڈروں کی آواز کا قصہ بھی یھیں ختم ھوا۔"
داستان ایمان فروشوں کی 19:43
قسط نمبر47.۔
"رینی الیگزینڈر کا آخری معرکہ "
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مصر کے قائم مقام امیر تقی الدین نے صلیبیوں کی نظریاتی یلغار کو بروقت فوجی کارروائی سے روک دیا اور اس خفیہ اور
پراسرار اڈے کو ہی مسمار کردیا جہاں سے یہ فتنہ اٹھا تھا مگر وہ مطمئن نہیں تھا کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ یہ اسالم کش
زہر قوم کی رگوں میں اتر گیا ہے۔ اس صلیبی تخریب کاری کو سوڈان سے پشت پناہی مل رہی تھی اور سوڈانیوں کو صلیبیوں
کی پشت پناہی حاصل تھی۔ تقی الدین نے اس اڈے کو بھی تباہ کرنے کے لیے سوڈان پر حملے کی تیاریاں تیز کردیں۔
سلطان ایوبی نے وہاں بھی جاسوس بھیج رکھے تھے جن کی جانبازانہ کوششوں سے وہاں کے بڑے نازک رازمل رہے تھے مگر
ان رازوں سے جو فائدہ سلطان ایوبی اٹھا سکتا تھا ،وہ اس کے بھائی تقی الدین کے بس کی بات نہیں تھی۔ دونوں بھائیوں کا
جذبہ تو ایک جیسا تھا لیکن دونوں کی ذہانت میں بہت فرق تھا۔ دونوں بھائی جس کارروائی کا فیصلہ کرتے تھے وہ شدید
ہوتی تھی۔ فرق یہ تھا کہ سلطان ایوبی محتاط رہتا تھا اور تقی الدین بے صبر ہوکر احتیاط کا دامن چھوڑ دیتا تھا۔ اسے جب
فوجی مشیروں نے کہا کہ سوڈان پر حملے کا فیصلہ دانشمندانہ ہے لیکن محترم ایوبی سے مشورہ لے لینا ضروری ہے تو تقی
الدین نے اپنے مشیروں کے اس مشورے کو مسترد کرتے ہوئے کہا… ''کیا آپ لوگ امیر محترم کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ
آپ ان کے بغیر کچھ سوچ نہیں سکتے اور کچھ کرنہیں سکتے؟ کیا آپ بھول گئے ہیں کہ مصر سے اتنی دور محترم ایوبی
کس طوفان میں گھرے ہوئے ہیں؟ اگر ہم نے ان سے مشورے اور فیصلے کا انتظار کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سوڈانی
حملے میں پہل کرکے ہم پر سوار ہوجائیں گے''۔
آپ ابھی حملے کا حکم دیں''۔ ایک نائب ساالر نے کہا… ''فوج اسی حالت میں رسد کے بغیر کوچ کرجائے گی لیکن ''
اتنی بڑی اور اتنی اہم مہم کے لیے گہری سوچ بچار کی ضرورت ہے۔ ہم کوچ کی تیاری کے تمام تر انتظامات بہت تھوڑے
وقت میں کرلیں گے۔ آپ محترم ایوبی کو اطالع ضرور دے دیں تاکہ وہ اور محترم نورالدین زنگی ادھر بھی دھیان رکھیں''۔
تقی الدین چند ایسے عناصر اور کوائف کو نظر انداز کررہا تھا جو اس کے حملے کو ناکام کرسکتے تھے۔ ایک یہ کہ صلیبیوں
اور سوڈانیوں کے جاسوس مصر میں موجود تھے جو یہاں کی نقل وحرکت دیکھ رہے تھے۔ تقی الدین کی کمزوری یہ بھی تھی
کہ اس کے دشمن کے جاسوس مسلمان بھی تھے جو انتظامیہ اور فوج میں اونچے عہدوں پر فائز تھے۔ اس کے مقابلے میں
تقی الدین کے جاسوس سوڈانیوں کے پالیسی سازوں اور حکام تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ دوسرے یہ کہ سلطان ایوبی نے
١١٦٩ء میں مصر کی جس سوڈانی فوجی کو بغاوت کے جرم میں توڑ دیا تھا۔ اس کے کئی ِایک کمان دار اور عہدے دار سوڈان
میں تھے۔ وہ سلطان ایوبی کی جنگی چالوں سے واقف تھے۔ انہوں نے انہی چالوں کے مطابق اپنی فوج کی تربیت کی تھی۔
صلیبیوں نے انہیں نہایت اچھا اسلحہ اور ضرورت سے زیادہ جنگی سامان دے رکھا تھا۔ یہ گھر کے بھیدی تھے تقی الدین نے
یہ بھی نہ سوچا کہ وہ سوڈان کے جس عالقے میں پیش قدمی کرنے جارہا ہے۔ وہ ایک وسیع صحرا ہے جہاں پانی خطرناک
حد تک کم ہے اور وہ مقام جہاں حملہ کرنا ہے ،اتنا دور ہے جہاں تک رسد کو خطرے میں ڈالے بغیر رواں رکھنا ممکن نہیں
ہوگا۔ مصر کے اندرونی حاالت کو قابو میں رکھنے اور تخریب کاری کے انسداد کے لیے بھی فوج درکار تھی مگر تقی الدین اس
قدر بھڑکا ہوا تھا کہ اس نے مکمل طور پر نیک نیتی اور اسالمی جذبے کی شدت کے زیر اثر حملے کی تیاریاں شروع کردیں
اور سلطان ایوبی کو اطالع نہ دینے کا فیصلہ کرلیا۔
اس کی اس خودمختاری میں وہی جذبہ تھا جو سلطان ایوبی میں تھا۔ اسے احساس تھا کہ سلطان ایوبی کا مقابلہ تند اور تیز
طوفان سے ہے اور صلیبی فیصلہ کن جنگ لڑنے کا اہتمام کیے ہوئے ہیں۔ اس نے جو کچھ سوچا تھا درست تھا۔ اس وقت
سلطان ایوبی کرک سے آٹھ نو میل دور ایک چٹانی عالقے میں اپنا ہیڈ کوارٹر قائم کیے ہوئے تھے۔ یہ اس کا عارضی قیام
تھا۔ وہ اپنے ہیڈکوارٹر کو خانہ بدوش رکھا کرتا تھا جس مقام پر اسے حملہ کرانا یا شب خون مروانا ہوتا ،وہ اس کے قریب
رہتا اور حملہ کرنے والے دستے کے کمانڈر کو بتا دیا کرتا تھا کہ وہ ان کی واپسی کے وقت کہاں ہوگا ،اس کے چھاپہ
مار ) کمانڈو جانباز( صلیبی فوج کی تمام تر کمک تباہ کرچکے تھے۔ چھاپہ ماروں کے چھوٹے چھوٹے گروہ اس صلیبی فوج کے
لیے ناگہانی مصیبت بنے ہوئے تھے جو صحرا میں پھیلی ہوئی تھی۔ صلیبیوں کا نقصان تو بہت ہورہا تھا لیکن چھاپہ ماروں کی
شہادت غیرمعمولی طور پر زیادہ تھی۔ دس جانباز جاتے تو تین چار واپس آتے تھے۔ یہ رپورٹیں بھی ملنے لگی تھیں کہ
لہذا اب چھاپہ ماروں کو جان
صلیبیوں نے ایسے انتظامات کرلیے ہیں جو شب خون اور چھاپے کو کامیاب نہیں ہونے دیتے۔ ٰ
کی بازی لگانی پڑتی تھی۔ سلطان ایوبی اب اپنی چالیں اور فوجوں کا پھیالئو بدلنے کی سوچ رہا تھا۔
معلوم ہوتا ہے کہ صلیبی مجھے آمنے سامنے آنے پر مجبور کررہے ہیں''۔ سلطان ایوبی نے اپنے فوجی نائبین سے کہا… ''
''میں انہیں کامیاب نہیں ہونے دوں گا اور میں اب اپنے اتنے زیادہ جوان مروانے سے بھی گریز کروں گا''۔
میں چھاپہ مار دستوں کی نفری میں اضافہ کرنے کا مشورہ دوں گا''۔ ایک نائب نے کہا… ''اور میں یہ بھی مشورہ دوں ''
گا کہ ہمیں دشمن کی قوت کو صرف اس لیے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ہماری فوج میں جذبہ زیادہ ہے۔ جذبہ سپاہی کو
بے جگری سے لڑا کر مروا سکتا ہے ،فتح کا ضامن نہیں ہوسکتا۔ صلیبیوں کے مقابلے میں ہماری نفری بہت کم ہے۔ ہمیں یہ
بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ صلیبی فوج کا بیشتر حصہ زرہ پوش ہے''۔
سلطان ایوبی مسکرایا اور بوال… ''لوہا جو انہوں نے پہن رکھا ہے ،وہ انہیں نہیں ہمیں فائدہ دے گا۔ کیا آپ نے دیکھا نہیں
کہ صلیبی کوچ کرتے ہیں تو رات کو کرتے ہیں یا صبح کے وقت؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دھوپ سے بچنے کی کوشش
کرتے ہیں ،سورج اوپر اٹھتا ہے تو اس کی تمازت زرہ بکتر کو انگاروں کی طرح گرم کردیتی ہے۔ زرہ پوش سپاہی اور سوار
لوہے کے خود اور آہنی سینہ پوش اتار پھینکنا چاہتے ہیں۔ اس کے عالوہ لوہے کا وزن ان کی حرکت کی تیزی ختم کردیتا
ہے۔ میں انہیں دوپہر کے وقت لڑائوں گا۔ جب ان کے سروں پر رکھا ہوا لوہا ان کا پسینہ نکال کر ان کی آنکھوں میں ڈالے
گا اور وہ اندھے ہوجائیں گے۔ آپ نفری کی کمی کو متحرک طریقۂ جنگ سے اور جذبے سے پورا کریں''۔
اتنے میں سلطان ایوبی کے انٹیلی جنس کے سربراہ علی بن سفیان کا ایک نائب زاہد ان آگیا۔ اس کے ساتھ دو آدمی تھے۔
سلطان ایوبی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ ان دونوں آدمیوں کو اس نے بٹھایا اور پوچھا… ''کیا خبر ہے؟'' دونوں نے اپنے اپنے
گریبان کے اندر ہاتھ ڈالے اور لکڑی کی بنی ہوئی وہ صلیبیں باہر نکالیں جو ان کی گردنوں سے بندھی ہوئی تھیں۔ وہ صلیبی
نہیں مسلمان تھے۔ اپنے آپ کو صلیبی ظاہر کرنے کے لیے وہ صلیبیں گلے میں لٹکا لیتے تھے۔ دونوں نے صلیبیں اتار کر
نیچے پھینک دیں۔ ان میں سے ایک نے اپنی رپورٹ پیش کی۔
یہ دونوں جاسوس تھے جو کرک سے واپس آئے تھے۔ پہلے بھی ذکر آچکا تھا کہ کرک فلسطین کا ایک قلعہ بند شہر تھا
جس پر صلیبیوں کا قبضہ تھا۔ صلیبی شوبک نام کا ایک قلعہ سلطان ایوبی کے ہاتھ ہار چکے تھے۔ وہ کرک کسی قیمت پر
دینا نہیں چاہتے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے دفاعی انتظامات بڑے ہی سخت کردیئے تھے جن میں ایک بندوبست یہ تھا کہ
وہ قلعہ بند ہوکر نہیں لڑنا چاہتے تھے۔ شوبک سے جب عیسائی اور یہودی باشندے مسلمانوں کے ڈر سے کرک بھاگ رہے
تھے ،اس وقت سلطان ایوبی نے اپنی فوج اور انتظامیہ کو یہ حکم دیا تھا کہ بھاگنے والے غیر مسلموں کو روکیں اور انہیں
واپس الکر ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں لیکن سلطان ایوبی نے ایک خفیہ حکم یہ بھی دیا تھا کہ زیادہ تر باشندوں کو جانے
دیں۔ اس حکم میں راز یہ تھا کہ غیر مسلم باشندوں میں سلطان کے جاسوس بھی جارہے تھے۔ اپنے جاسوس دشمن کے اس
شہر میں اور مضافات میں جس پر تھوڑے عرصے بعد حملہ کرنا تھا بھیجنے کا یہ موقع نہایت اچھا تھا۔ مسلمان جاسوس
عیسائی اور یہودی پناہ گزینوں کے بھیس میں کرک چلے گئے تھے۔ وہاں کے مسلمان باشندوں کو ساتھ مال کر انہوں نے خفیہ
اڈے بنا لیے تھے۔ وہ وہاں سے اطالعات بھیجتے رہتے تھے۔ سلطان ایوبی ذاتی طور پر ان کی رپورٹیں سنا کرتا تھا۔
اس روز دو جاسوس آئے تو سلطان ایوبی نے انہیں فورا ً اپنے خیمے میں بال لیا اور باقی سب کو باہر نکال دیا۔ جاسوسوں کی
رپورٹ میں صلیبیوں کی فوج کی نقل وحرکت اور ترتیب کے متعلق اطالعات تھیں۔ سلطان ایوبی ان کے مطابق نقشہ بناتا رہا۔
اس دوران اس کے چہرے پر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ جاسوسوں نے جب کرک کے مسلمان باشندوں کی بے بسی اور مظلومیت
کی تفصیل سنائی تو سلطان کے چہرے پر نمایاں تبدیلی آگئی۔ ایک بار تو وہ جوش میں اٹھ کر کھڑا ہوا اور خیمے میں ٹہلنے
لگا۔ جاسوسوں نے اسے بتایا کہ شوبک سے صلیبی شکست کھا کرکرک پہنچے تو انہوں نے مسلمانوں کا جینا حرام کردیا۔
سلطان ایوبی کو بہت سے حاالت کا تو پہلے سے علم تھا ،ان دو جاسوسوں نے اسے بتایا کہ اب وہاں بازار میں جن
مسلمانوں کی دکانیں ہیں ،وہ بہت پریشان ہیں۔ غیر مسلم تو ان کی دکانوں پر جاتے ہی نہیں ،مسلمانوں کو بھی ڈرادھمکا کر
ان کی دکانوں سے دور رکھا جاتا ہے۔ وہاں مسلمانوں کے خالف نفرت کی باقاعدہ مہم شروع کی گئی ہے۔ عیسائی اور یہودی
مسجدوں کے سامنے اونٹ ،گھوڑے اور دیگر مویشی باندھ دیتے ہیں۔ اذان اور نماز پر کوئی پابندی نہیں لیکن جب اذان ہوتی
ہے تو غیر مسلم شور مچاتے ،ناچتے اور مذاق اڑاتے ہیں۔
جاسوسوں نے بتایا کہ مسلمانوں کا قومی جذبہ ختم کرنے کے لیے وہاں اس قسم کی افواہیں زوروشور سے پھیالئی جارہی ہیں
کہ صالح الدین ایوبی اتنا شدید زخمی ہوکر دمشق چال گیا ہے کہ اب تک مرچکا ہوگا اور یہ بھی کہ سلطان ایوبی کی فوج
کمان کی کمزوری کی وجہ سے صحرا میں بکھر گئی ہے اور سپاہی مصر کی طرف بھاگ رہے ہیں اور یہ بھی کہ مسلمان اب
کرک پر حملہ کرنے کے قابل نہیں رہے اور بہت جلدی شوبک بھی صلیبیوں کو واپس ملنے واال ہے اور یہ بھی کہ سوڈانی
فوج نے مصر پر حملہ کردیا ہے اور مصر کی فوج سوڈانیوں کے ساتھ مل گئی ہے۔ جاسوسوں نے بتایا کہ اب علی الصبح
پادری ،مسلمان محلوں میں گھومتے پھرتے اور ہر مسلمان گھر کے دروازے پر گھنٹیاں بجاتے ،اپنے مذہبی گیت گاتے اور
مسلمانوں کو دعائیں دیتے ہیں۔ وہ اپنے مذہب کا اور کوئی پرچار نہیں کرتے۔ یہ پرچار وہاں کی عیسائی اور یہودی لڑکیاں
کرتی ہیں جو مسلمان نوجوانوں کو جھوٹی محبت کا جھانسہ دے کر ان کے ذہن تباہ کررہی ہیں۔ یہ لڑکیاں مسلمان لڑکیوں کی
سہیلیاں بن کر انہیں اپنی آزادی کی بڑی ہی دلکش تصویر دکھاتی اور انہیں بتاتی ہیں کہ مسلمان فوج جو عالقہ فتح کرتی ہے
وہاں مسلمان لڑکیوں کو بھی خراب کرتی ہے۔
ان رپورٹوں میں سلطان ایوبی کے لیے کوئی بات نئی نہیں تھی۔ ابتداء میں اس کے جاسوس اسے کرک کے مسلمانوں کی
حالت زار بتا چکے تھے ،وہاں کے مسلمانوں کا یہ حال تھا کہ وہ سلطان ا یوبی اور اس کی فوج کے خالف کوئی حوصلہ
شکن افواہ نہیں سننا چاہتے تھے لیکن وہاں جو بھی بات ان کے کانوں میں پڑتی تھی حوصلہ شکن ہوتی تھی۔ وہ ڈرتے بات
نہیں کرتے تھے۔ ان کے گھروں کی دیواروں کے بھی کان تھے۔ وہ اکٹھے بیٹھنے سے بھی ڈرتے تھے۔ جنازے اور بارات کے
ساتھ بھی جاسوس ہوتے تھے اور مسجدوں میں بھی جاسوس ہوتے تھے۔ ان کی بد نصیبی تو یہ تھی کہ جاسوسی ان کے
اپنے مسلمان بھائی کرتے تھے۔ وہ اپنے گھروں میں بھی سرگوشیوں میں باتیں کرتے تھے۔ کسی مسلمان کے خالف صرف یہ
کہہ دینا کہ وہ صلیبی حکومت کے خالف ہے ،اسے بیگار کیمپ میں بھیجنے کے لیے کافی ہوتا تھا۔
لیکن ساالر اعظم!'' ایک جاسوس نے کہا… ''اب وہاں ایک اورچال چلی جارہی ہے ،وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ''
اچھا سلوک ہونے لگا ہے۔ صلیبی حکومت نے اس کی ایک مثال یہ پیش کی ہے کہ ایک عیسائی حاکم نے ایک مسجد کو
بوسیدہ حالت میں دیکھا تو اس کی مرمت کا حکم دیا اور اپنی نگرانی میں مرمت کرادی۔ انہوں نے بیگار کیمپ کے مسلمانوں
کو رہا تو نہیں کیا لیکن کچھ سہولتیں دے دی ہیں۔ روزمرہ مشقت کا وقت بھی کم کردیا ہے لیکن ان کے کانوں میں یہی ڈاال
جاتا ہے کہ تم نے صلیب کے خالف بہت بڑا جرم کیا ہے پھر بھی تم پر رحم کیا جارہا ہے۔ یہ پیار اور محبت کا ہتھیار بڑا
ہی خطرناک ہے۔ اس جھوٹے پیار سے غیرمسلم مسلمان نوجوانوں کو نشے اور جوئے کا عادی بناتے جارہے ہیں اگر ہم نے
حملے میں وقت ضائع کیا تو کرک کے مسلمان اگر مسلمان ہی رہے تو برائے نام مسلمان ہوں گے ورنہ وہ قرآن سے منہ موڑ
کر گلے میں صلیب لٹکا لیں گے۔ اس صورت میں وہ اس وقت ہماری کوئی مدد نہیں کریں گے جب ہم کرک کا محاصرہ کریں
گے۔ اس پیار کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے خالف جاسوسی پہلے سے زیادہ ہوگئی ہے اور گرفتاریاں ہوتی رہتی ہیں۔ ابھی تک
مسلمانوں کا جذبہ قائم ہے اور وہ ثابت قدم رہنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ابھی تک غیر مسلموں کے پیار کو قبول
نہیں کیا مگر وہ زیادہ دیر تک ثابت قدم نہیں رہ سکیں گے''۔
یہی وہ صورت حال تھی جس کی تفصیل سن کر سلطان ایوبی پریشان ہوگیا تھا۔ اسے یہ اطالع بہت تکلیف دے رہی تھی کہ
مسلمان مسلمانوں کے خالف جاسوسی کررہے ہیں۔ اس کے لیے پریشانی کی دوسری وجہ یہ تھی کہ مقبوضہ عالقے میں
صلیبیوں نے مسلمانوں کے خالف پیار کا ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیا تھا اور اس کے ساتھ ہی نوجوانوں کی کردار کشی کا
بھی عمل شروع ہوگیا تھا۔ ان دونوں سے زیادہ خطرناک وہ افواہیں تھیں جو وہاں کے مسلمانوں میں اسالمی فوج کے خالف
پھیالئی جارہی تھیں۔ اس نے اپنے نظام جاسوسی کے نائب زاہدان کو بالیا اور پوچھا… ''کیا تم نے ان کی باتیں سن لی
''ہیں؟
ایک ایک لفظ سنا اور انہیں آپ کے پاس الیا ہوں''۔ زاہدان نے جواب دیا۔''
علی بن سفیان کو قاہرہ سے بال لوں؟''۔ سلطان ایوبی نے پوچھا … ''یا تم اس کی جگہ پر کرسکو گے؟ یہ معاملہ ''
نازک ہے۔ دشمن کے شہر میں مسلمانوں کو افواہوں اور دشمن کے زہریلے پیار سے بچانا ہے''۔
علی بن سفیان کو قاہرہ سے بالنے کی ضرورت نہیں'' … زاہدان نے جواب دیا… ''حسن بن عبداللہ کو بھی ان کے ''
ساتھ رہنے دیں۔ مصر کے حاالت اچھے نہیں ،ملک تخریب کاروں اور غداروں سے بھرا پڑا ہے۔ کرک کے مسئلے کو میں
سنبھال لوں گا''۔
تم نے کیا سوچا ہے؟'' … سلطان صالح الدین ایوبی نے اس سے پوچھا۔ وہ دراصل زاہدان کا امتحان لے رہا تھا۔ وہ جانتا''
تھا کہ زاہدان مخلص اور محنتی سراغ رساں ہے اور اپنے شعبے کے سربراہ علی بن سفیان کا شاگرد ہے۔ اس پر سلطان کو
پورا پورا اعتماد تھا پھر بھی وہ یقین کرنا ضروری سمجھتا تھا کہ یہ شاگرد اپنے استاد کی کمی پوری کرے گا۔ اس نے زاہدان
کا جواب سنے بغیر کہا… ''زاہدان! میں نے میدان جنگ میں شکست نہیں کھائی ،یہ خیال رکھنا کہ میں اس محاذ پر بھی
شکست نہیں کھانا چاہتا جس پر صلیبیوں نے حملہ کیا ہے۔ میں کرک کے مسلمانوں کو اخالقی اور نظریاتی تباہی سے بچانا
چاہتا ہوں''۔
آپ جانتے ہیں کہ کرک میں ہمارے جاسوس موجود ہیں''… زاہدان نے کہا … ''میں انہیں اس مقصد کے لیے استعمال ''
کروں گا۔ وہ وہاں کے مسلمانوں کو آپ کے متعلق اور ہماری فوج اور مصر کے متعلق صحیح خبریں سناتے رہیں گے اور انہیں
آپ کا پیغام دیں گے''۔
وہاں کی مسلمان عورتوں میں قومی جذبے کی کمی نہیں''۔ ایک جاسوس بول پڑا ،اس نے کہا… ''ہم جوان لڑکیوں سے ''
کہیں گے کہ وہ گھر گھر جاکر عورتوں کے ذہن صاف کرتی رہیں گی۔ ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ وہاں کی لڑکیاں لڑنے کے لیے
بھی تیار ہیں''۔
عورتیں اگر گھر اور بچوں کی تربیت کا محاذ سنبھالے رکھیں تو اسی سے اسالم کے فروغ اور سلطنت اسالمیہ کی توسیع ''
میں بہت مدد ملے گی'' … سلطان ایوبی نے کہا۔ ''انہیں اس مقصد کے لیے استعمال کرو کہ مسلمان گھرانوں میں اور
بچوں میں غیراسالمی اثرات داخل نہ ہونے دیں۔ میں اس کوشش میں مصروف ہوں کہ کرک پر جلدی حملہ کردوں اور شوبک
کی طرح وہاں کے بھی مسلمانوں کو آزاد کراوں'' … اس نے زاہدان سے پوچھا … ''اس مقصد کے لیے کسے کرک بھیجو
''گے؟
انہی دونوں کو'' ۔ زاہدان نے جواب دیا …''یہ آنے جانے کے راستوں اور طریقوں سے واقف ہوچکے ہیں اور وہاں کے ''
حاالت اور ماحول سے مانوس ہیں''۔
یہ دونوں آدمی غیر معمولی طور پر ذہین جاسوس تھے۔ سلطان ایوبی نے انہیں ہدایات دینی شروع کردیں۔
٭ ٭ ٭
کرک میں مسلمان باشندوں پر پیار کا جو ہتھیار چالیا جارہا تھا وہ صلیبیوں کی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جرمن نژاد ہرمن کی
چال تھی۔ وہ شوبک کی شکست کے بعد صلیبی حکمرانوں پر زور دے رہا تھا کہ کرک کے مسلمانوں کو پیار کا دھوکہ دے کر
صلیب کا وفا دار بنایا جائے یا کم از کم صالح الدین ایوبی کے خالف کردیا جائے۔ صلیبی حکمران مسلمانوں سے اتنی زیادہ
نفرت کرتے تھے کہ ان کے ساتھ جھوٹا پیار بھی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ تشدد اور درندگی سے مسلمانوں کا قومی جذبہ اور
وقار ختم کرنے کے قائل تھے۔ ہرمن اپنے فن کا ماہر تھا۔ انسانوں کی نفسیات سمجھتا تھا۔ اس نے صلیبی حکمرانوں کو بڑی
مشکل سے اپنا ہم خیال بنایا اور یہ پالیسی مرتب کرالی کہ شہر اور مضافات کے اس عالقے کے مسلمانوں کو جو صلیبی
استبداد میں ہے ،جسے مشتبہ اور جاسوس سمجھا جائے اورجس مسلمان کے خالف ذرا سی بھی شہادت ملے اسے گرفتار کرکے
غائب کردیا جائے لیکن ہر مسلمان شہری کو دہشت زدہ نہ کیا جائے۔ اس پالیسی کی بنیادی شق یہ تھی کہ لڑکیوں کے
ذریعے مسلمان لڑکیوں کو بے پردہ کیا جائے اور مسلمان لڑکیوں کو ذہنی عیاشی اور نشے کا عادی بنا دیا جائے۔ مختصر یہ ہے
لہ ذا اس پالیسی پر عمل شروع کردیا گیا تھا۔ ابتداء افواہوں سے کی گئی تھی۔
کہ ان کی کردار کشی کا انتظام کیا جائے۔ ٰ
ہرمن نے یہ منظوری بھی لے لی تھی کہ مسلمانوں میں غداری کے جراثیم پیدا کرنے کے لیے خاصی رقم خرچ کی جائے۔ چند
ایک مسلمانوں کو خوبصورت اور تندرست گھوڑوں کی بگھیاں دے کر انہیں شہزادہ بنا دیا جائے اور انہیں مسلمانوں کے خالف
مخبری اور ان میں افواہیں پھیالنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ انہیں شاہی دربار میں وقتا ً فوقتا ً مدعو کرکے ان کے ساتھ
شاہانہ سلوک کیا جائے۔ ان کی مستورات کو بھی مدعو کرکے ان کی عزت کی جائے کہ وہ اپنی اصلیت اور اپنا مذہب ذہن
سے اتار دیں۔ ہرمن نے کہا تھا … ''اگر آپ مسلمان کو اپنا غالم بنانا چاہتے ہیں تو اس کے دماغ میں بادشاہی کا کیڑا ڈال
دیں۔ انہیں گھوڑے اور بگھیاں دے کر اس کے دامن میں چند ایک اشرفیاں ڈال دیں۔ پھر وہ بادشاہی کے نشے میں آپ کے
اشاروں پر ناچے گا۔ شراب بھی پئے گا اور اپنی بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں برہنہ کرکے آپ کے حوالے کردے گا۔ اگر آپ مسلمان
کا مستقبل تاریک کرنا چاہتے ہیں تو یہ نسخہ آزمائیں۔ میں آپ کو پہلے بھی بتا چکا ہوں اور اب پھر بتاتا ہوں کہ یہودیوں
نے مسلمانوں کی اخالقی تباہی کے لیے اپنی لڑکیاں پیش کی ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ مسلمان کا سب سے پرانا اور سب سے
بڑا دشمن یہودی ہے۔ اسالم کی جڑیں تباہ کرنے کے لیے یہودی اپنی بیٹیوں کی عزت اور اپنی پونجی کا آخری سکہ بھی
قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں''۔
یہودیوں میں خطرہ یہ تھا کہ وہ اسی خطے کے رہنے والے تھے ،اس لیے مسلمانوں کی زبان بولتے تھے اور ان کے رسم ورواج
اور گھریلو زندگی سے بھی واقف تھے۔ ان کی شکلیں اور کئی دیگر کوائف ملتے جلتے تھے۔ کوئی یہودی لڑکی مسلمانوں کا
لباس پہن کر کسی مسلمان گھر میں جا بیٹھے تو اسے بالشک وشبہ مسلمان سمجھ لیا جاتا تھا۔ اس مشابہت سے یہودی پورا
پورا فائدہ اٹھا رہے تھے اور اسالمی معاشرت میں غیر اسالمی زہر داخل ہونا شروع ہوگیا تھا۔
جس روز سلطان ایوبی نے دو جاسوسوں کو ہدایات دیں اور زاہدان سے کہا تھا کہ وہ کرک میں جاسوسوں کے ذریعے مسلمانوں
کو صحیح خبریں پہنچائے اس سے بیس روز بعد کرک میں ایک پاگل اور مجذوب اچانک کہیں سے نمودار ہوا۔ اس نے ہاتھ
میں لکڑی کی بنی ہوئی گز بھر لمبی صلیب اٹھا رکھی تھی ،جسے وہ اوپر کرکے چالتا تھا… ''مسلمانوں کی تباہی کا وقت
قریب آگیا ہے ،شوبک میں مسلمان اپنی بیٹیوں کی عصمت دری کررہے ہیں۔ مصر میں مسلمانوں نے شراب پینا شروع کردی
ہے۔ خدائے یسوع مسیح نے کہا ہے کہ اب یہ قوم روئے زمین پر زندہ نہیں رہ سکتی۔ مسلمانو! نوح کے دوسرے طوفان سے
بچنا چاہتے ہوتو صلیب کے سائے میں آجائو۔ اگر صلیب پسند نہیں تو خدائے یہودہ کے آگے سجدہ کرو۔ مسجدوں میں تمہارے
سجدے بے کار ہیں''۔
لباس اور شکل وصورت سے وہ اچھا بھال لگتا تھا لیکن باتوں اور انداز سے پگال معلوم ہوتا تھا۔ اس کی داڑھی بھی تھی،
لمبا چغہ پہن رکھا تھا ،سرپر پگڑی اور اس پر رومال ڈاال ہوا تھا جو کندھوں پر بھی پھیال ہوا تھا۔ اس کے چہرے اور کپڑوں
پر گرد تھی جس سے پتا چلتا تھا کہ وہ سفر سے آیا ہے۔ اس کے پائوں گرد آلود تھے۔ اسے کوئی روکتا اور بات کرتا تھا تو
وہ رک جاتا تھا لیکن کوئی جواب نہیں د یتا تھا۔ کوئی بات جیسے سنتا سمجھتا ہی نہیں تھا۔ سوال کوئی بھی پوچھو وہ
اپنا اعالن دہرانے لگتا تھا… ''مسلمانوں کی تباہی کا وقت قریب آگیا ہے وغیرہ''… کسی نے بھی یہ معلوم کرنے کی کوشش
نہ کی کہ وہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے۔ عیسائی اس لیے خوش تھے کہ اس نے ہاتھ میں صلیب اٹھا رکھی تھی اور خدا
یسوع مسیح کا نام لیتا تھا۔ یہودی اس لیے خوش تھے کہ وہ خدائے یہودہ کا نام لیتا تھا اور دونوں کی یہ خوشی مشترک
تھی کہ وہ مسلمانوں کی تباہی کی خوشخبری سنا رہا تھا۔ صلیبی فوج کے چند ایک سپاہیوں نے اس کی للکار سنی تو انہوں
نے قہقہہ لگایا۔ شہری انتظامیہ کی فوج ) جو بعد میں پولیس کہالئی( نے اسے دیکھا تو اسے پاگل کہہ کر نظر انداز کردیا۔
مسلمانوں میں اتنی جرأت نہیں تھی کہ اس کا منہ بند کرتے۔ مسلمان اس کے منہ سے اپنی تباہی کا اعالن سن کر ڈر بھی
گئے تھے اور انہیں غصہ بھی آیا تھا مگر کچھ بھی نہیں کرسکتے تھے۔
یہ مجذوب شہر کی گلیوں اور بازاروں میں گھوم رہا تھا اور اس اعالن کو دہراتا جارہا تھا … ''مسلمانو! صلیب کے سائے
میں آجائو ،تمہاری تباہی کا وقت آگیا ہے۔ مسجدوں میں تمہارے سجدے بے کار ہیں''۔ کہیں کہیں وہ یہ بھی کہتا تھا…
''کرک میں مسلمانوں کی فوج نہیں آئے گی۔ ان کا صالح الدین ایوبی مرچکا ہے''۔ بعض اوقات وہ اوٹ پٹانگ اور بے
معنی فقرے سے بولتا تھا جو ثابت کرتے تھے کہ وہ پاگل ہے۔ بچے اس کے پیچھے پیچھے چلے جارہے تھے۔ بڑے عمر کے
آدمی بھی کچھ دور تک اس کے پیچھے پیچھے چلتے اور رک جاتے تھے۔ وہاں سے چند اور آدمی اس کے پیچھے چل پڑتے
تھے۔ مسلمان اسے غصے کی نگاہ سے بھی دیکھتے تھے اور اپنے بچوں کو اس کے پیچھے جانے سے روکتے تھے۔ صرف ایک
مسلمان تھا جو اس پاگل کے پیچھے پیچھے جارہا تھا۔ وہ پاگل سے دس بارہ قدم دور تھا۔ یہ ایک جواں سال مسلمان تھا۔
راستے میں دو عیسائی نوجوانوں نے اسے طعنے دیئے ،ایک نے اسے کہا …''عثمان بھائی تم بھی صلیب کے سائے میں
آجائو'' ۔ اس نے انہیں قہر بھری نظروں سے دیکھا اور چپ رہا۔ ان عیسائیوں کو معلوم نہیں تھا کہ عثمان کے پاس ایک
خنجر ہے اور وہ اس پاگل کو قتل کرنے کے لیے اس کے پیچھے پیچھے جارہا ہے۔
اس کا پورا نام عثمان صارم تھا۔ اس کے ماں باپ زندہ تھے اور اس کی ایک چھوٹی بہن بھی تھی جس کا نام النور صارم
تھا۔ اس لڑکی کی عمر بائیس تئیس سال تھا۔ عثمان اس سے تین چار سال بڑا تھا جو جوشیال جوان تھا۔ اسالم کے نام پر
جان نثار کرتا تھا۔ صلیبی حکومت کی نظر میں وہ مشتبہ بھی تھا کیونکہ وہ مسلمان نوجوانوں کو صلیبی حکومت کے خالف
زمین دوز کارروائیوں کے لیے تیار کرتا رہتا تھا۔ وہ ابھی کوئی جرم کرتا پکڑا نہیں گیا تھا۔ اس نے جب اس پاگل کی آواز
سنی تو باہر نکل آیا۔ پاگل اتنی بڑی صلیب بلند کیے مسلمانوں کے خالف بلند آواز میں واہی تباہی بکتا جارہا تھا۔ عثمان
صارم نے یہ بھی نہ دیکھا یہ تو کوئی پاگل ہے۔ اس نے صلیب دیکھی اور پاگل کے الفاظ سنے تو اس پر دیوانگی طاری
ہوگئی۔ اپنے گھر جاکر اس نے خنجر لیا اور ک ُرتے کے اندر ناف میں اڑس کر پاگل کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ وہ اسے ایسی
جگہ قتل کرنا چاہتا تھا جہاں اسے کوئی پکڑ نہ سکے۔ وہ صلیبیوں کے خالف مزید کارروائیوں کے لیے زندہ رہنا چاہتا تھا۔ وہ
پاگل سے دس بارہ قدم پیچھے چلتا گیا اور اس کا اعالن سنتا گیا۔ جب دو عیسائیوں نے اسے طعنے دیئے اور ایک نہ کہا
کہ عثمان بھائی تم بھی صلیب کے سائے میں آجائو تو اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ اس کے دل میں قتل کا ارادہ اور
زیادہ پختہ ہوگیا۔
پاگل کے پیچھے اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں اور بچوں کا جلوس جمع ہوگیا تھا۔ قتل کا یہ موقعہ اچھا نہیں تھا۔ دن گزرتا
گیا اور پاگل کی آواز دھیمی پڑتی گئی۔ اس کے پیچھے چلنے والے کم ہوتے گئے۔ سورج غروب ہونے میں ابھی کچھ دیر باقی
تھی۔ ایک مسجد آگئی۔ پاگل مسجد کے دروازے میں بیٹھ گیا اور اس نے صلیب اوپر کرکے کہا… ''اب یہ گرجا ہے ،مسجد
نہیں ہے'' … اس وقت عثمان صارم اس کے قریب جاکھڑا ہوا۔ اسے اچھی طرح احساس تھا کہ یہ بے شک پاگل ہے لیکن
اس کے قتل کی سزا بھی موت ہوگی کیونکہ اس نے صلیب اٹھا رکھی ہے اور یہ مسلمانوں کے خالف نعرے لگا رہا ہے۔
عثمان صارم نے پاگل کے قریب ہوکر دھیمی آواز میں کہا … ''یہاں سے فورا ً اٹھو اور اپنی صلیب کے ساتھ غائب ہوجائو
ورنہ صلیبی یہاں سے تمہاری الش اٹھائیں گے''۔
پاگل نے اسے نظر بھر کر دیکھا ،اس کے سامنے بہت سے بچے کھڑے تھے ،اس نے عثمان صارم کی دھمکی کا جواب دیئے
بغیر بچوں کو ڈانٹ کر بھاگ جانے کو کہا۔ بچے ڈر کر بھاگ گئے تو پاگل مسجد کے اندر چال گیا۔ عثمان صارم کے لیے یہ
موقعہ بہت اچھا تھا۔ اس نے کچھ سوچے بغیر چوکڑی بھری ،دروازے کے اندر گیا اور دروازہ بند کردیا۔ اس نے بہت تیزی سے
خنجر نکاال مگر وار کرنے لگا تو پاگل نے گھوم کر دیکھا۔ عثمان کے خنجر کا وار اپنی طرف آتا دیکھ اس نے صلیب آگے
کرکے وار صلیب پر لیا اور کہا… ''رک جائو جوان ،اندر چلو ،میں مسلمان ہوں''۔
عثمان صارم نے دوسرا وار نہ کیا۔ پاگل جوتے اتار کر مسجد کے اندرونی کمرے میں چال گیا۔ اس نے صلیب اپنے ہاتھ میں
رکھی۔ اندر جاکر اس نے عثمان صارم سے نام پوچھا اور کہا … '' میں مسلمان ہوں ،میری باتیں غور سے سن لو۔ مجھے
''بتائو کہ تم کب سے میرے پیچھے آرہے ہو؟
میں سارا دن تمہارے پیچھے پھرتا رہا ہوں''۔ عثمان صارم نے جواب دیا… ''مگر مجھے قتل کا موقعہ نہیں مل رہا ''
تھا''۔
تم مجھے قتل کیوں کرنا چاہتے ہو؟'' پاگل نے پوچھا۔''
کیونکہ میں اسالم اور صالح الدین ایوبی کے خالف کوئی بات برداشت نہیں کرسکتا''۔ عثمان صارم نے جواب دیا… ''تم ''
پاگل ہویا نہیں ،میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا''۔
پاگل نے اس سے کئی اور باتیں پوچھیں ،آخر اس نے کہا… ''مجھے تم جیسے ایک جوان کی ضرورت تھی۔ اچھا ہوا کہ تم
خود ہی میرے پیچھے آگئے۔ میرا خیال تھا کہ مجھے اپنے مطلب کا کوئی مسلمان بڑی مشکل سے ملے گا۔ میں صالح الدین
ایوبی کا بھیجا ہوا جاسوس ہوں۔ میں نے یہ ڈھونگ صلیبیوں کو دھوکہ دینے کے لیے رچایا ہے۔ میں نے اس بھیس میں سفر
کیا ہے۔ مجھے تم سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔ یاد رکھو کہ مسجد میں کوئی صلیبی آگیا تو میں پھر وہی بکواس شروع کردوں
گا جو دن بھر کرتا رہا ہوں۔ تم غور سے سنتے رہنا جیسے تم مجھ سے متاثر ہورہے ہو۔ میں بہت تیزی سے بولوں گا۔ شام
کی نماز کا وقت ہورہا ہے۔ مسلمانوں میں صلیبیوں کے بھی جاسوس ہیں۔ میں نمازیوں کے آنے تک اپنی بات ختم کرنا چاہتا
ہوں''۔
عثمان صارم نے کبھی جاسوس نہیں دیکھا تھا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ غیرمعمولی طور پر ذہین جاسوس ہے جس نے اسے
چند سوال پوچھ کر پہچان لیا ہے کہ یہ جوان قابل اعتماد ہے۔ جاسوس نے اسے کہا… ''اپنے جیسے چند ایک جوان اکٹھے
کرو اور کچھ مسلمان لڑکیوں کو بھی تیار کرو۔ تمہیں ہر ایک مسلمان گھرانے میں یہ پیغام پہنچانا ہے کہ صالح الدین ایوبی
زندہ ہے اور وہ اپنی فوجوں کے ساتھ یہاں سے صرف آدھے دن کی مسافت جتنا دور ہے۔ اس کی تمام فوج کرک پر حملہ
کرنے کے لیے نہ صرف تیار ہے بلکہ اس فوج نے صلیبی فوج کے ناک میں دم کررکھا ہے۔ مصر میں حاالت پر سکون ہیں،
وہاں صلیبیوں نے جو تخریب کاری کی تھی وہ جڑ سے اکھاڑ دی گئی ہے''۔
صالح الدین ایوبی کب حملہ کرے گا؟''… عثمان صارم نے پوچھا۔ ''ہم اس کی راہ دیکھ رہے ہیں ،ہم تمہیں یقین دالتے ''
ہیں کہ تم باہر سے حملہ کرو گے تو ہم صلیبیوں پر اندر سے حملہ کریں گے۔ خدا کے لیے جلدی آئو''۔
تحمل سے کام لو جوان!'' …جاسوس نے کہا… ''پہلے صالح الدین ایوبی کا پیغام سن لو اور یہ ہر ایک نوجوان کے ذہن''
پر نقش کردو۔ ایوبی نے کہا ہے کہ کرک کے مسلمان نوجوانوں سے کہنا کہ تم ملک اور مذہب کے پاسبان ہو۔ میں نے پہلی
جنگ لڑکپن میں لڑی تھی اور محاصرے میں لڑی تھی۔ فوج کی کمان میرے چچا کے پاس تھی ،اس نے مجھے کہا تھا کہ
محاصرے میں گھبرانہ جانا۔ اگر تم اس عمر میں گھبرا گئے تو تمہاری ساری عمر گھبراہٹ اور خوف میں گزرے گی۔ اگر اسالم
علم بردار بننا چاہتے ہو تو یہ علم آج ہی اٹھا لو اور دشمن کی دیواریں توڑ کر نکل جائو پھر گھوم کر آئو اور دشمن پر
جھپٹ پڑو۔ میں گھبرایا نہیں۔ تین مہینوں کے محاصرے نے ہمیں فاقہ کشی بھی کرائی لیکن ہم محاصرہ توڑ کر نکل آئے اور
ہم نے جس خوراک سے پیٹ بھرے وہ دشمن کی رسد سے چھینی ہوئی خوراک تھی۔ ہمارے جو گھوڑے محاصرے میں بھوک
سے مر گئے تھے ،ہم نے ان کی کمی دشمن کے گھوڑوں سے پوری کی۔
صالح الدین ایوبی نے کہا ہے کہ میری قوم کے بیٹوں سے کہنا کہ تم پر دشمن نے پیار کے ہتھیار سے حملہ کیا ہے۔ ''
ہمیشہ یاد رکھنا کہ کوئی غیر مسلم کسی مسلمان کا دوست نہیں ہوسکتا۔ صلیبی میدان جنگ میں ٹھہر نہیں سکے ،ان کے
منصوبے خاک میں مل گئے ہیں ،اس لیے وہ اب مسلمانوں کی ابھرتی ہوئی نسل کے ذہن سے قومیت اور مذہب نکالنے کے
جتن کررہے ہیں۔ انہوں نے جو ہتھیار استعمال کیا ہے وہ بڑا ہی خطرناک ہے۔ یہ ہے ذہنی عیاشی ،کاہلی اور کوتاہی۔ تم میں
یہ تینوں خرابیاں پیدا کرنے کے لیے عیسائی اور یہودی ایک ہوگئے ہیں۔ یہودی اپنی لڑکیوں کے ذریعے تم میں حیوانی جذبہ
بھڑکا رہے ہیں اور تمہیں نشے کا عادی بنا رہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ حیوانی جذبے اور نشے سے تمہاری عاقبت
خراب ہوگی اور موت کے بعد تم جہنم میں جائو گے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کردار کی یہ خرابیاں تمہارے لیے اس دنیا کو
ہی جہنم بنا دیں گی۔ تم جسے جنت کی لذت سمجھتے ہو وہ جہنم کا عذاب ہے۔ تم صلیبیوں کے غالم ہوجائو گے جو
تمہاری بہنوں کو بے آبرو کرتے پھریں گے۔ تمہارے قرآن کے ورق گلیوں میں اڑیں گے اور تمہاری مسجدیں اصطبل بن جائیں
گی۔
صالح الدین ایوبی نے کہا ہے کہ باوقار قوم کی طرح زندہ رہنا چاہتے ہو تو اپنی روایات کو نہ بھولو۔ صلیبی ایک طرف تم''
پر تشدد کررہے ہیں اور دوسری طرف تمہیں دولت اور گھوڑا گاڑیوں کا اللچ دے رہے ہیں۔ مسلمان ان عیاشیوں کا قائل نہیں
ہوتا… تمہاری دولت تمہارا کردار اور ایمان ہے۔ یہ صلیبیوں کی شکست کا ثبوت ہے کہ وہ تمہاری تلوار سے خوف زدہ ہوکر
اتنے اوچھے ہتھیاروں پر اتر آئے ہیں کہ اپنی بیٹیوں کو بے حیا بنا کر تمہیں اپنا غالم بنانے کے جتن کررہے ہیں۔ میری قوم
کے بیٹو! اپنے کردار کو محفوظ رکھو ،آپنے آپ کو قابو میں رکھو ،ظالم حکمران دراصل کمزور حکمران ہوتا ہے۔ وہ اپنے
مخالفین میں سے کسی کو ظلم وتشدد سے زیر کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کسی کو دولت کا اللچ دے کر۔ تم ظلم وتشدد
سے بھی نہ ڈرو اور کسی اللچ میں بھی نہ آئو۔ تم قوم کا مستقبل ہو۔ ہم قوم کا ماضی ہیں۔ دشمن تمہارے ذہنوں سے تمہارا
اور رخشندہ ماضی نکال کر اس میں اپنے نظریات اور مفادات کی سیاہی بھرنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ اسالم کا مستقبل
تاریک ہوجائے۔ اپنی اہمیت پہچانو۔ دشمن تمہیں صرف اس لیے اپنے تابع کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ تم سے خائف
ہے۔ اپنی نظر آج پر نہیں کل پر رکھو کیونکہ تمہارے دشمن کی نظر تمہارے مذہب کے کل پر ہے۔ تم نے د یکھ لیا ہے کہ
کفار تمہارا کیا حال کررہے ہیں۔ اگر تم ذہنی عیاشی میں پڑ گئے تو تمام تر ملت اسالمی کا یہی حشر ہوگا''۔
جاسوس نے سلطان ایوبی کا پیغام بہت تیزی سے عثمان صارم کو سنا دیا اور اسے عمل کے طریقے بتانے لگا۔ اس نے کہا
…'' ساالر اعظم نے خاص طور پر کہا ہے کہ اپنے اوپر جوش اور جذبات کا غلبہ طاری نہ کرنا۔ عقل پر جذبات کو غالب نہ
آنے دینا۔ اشتعال سے بچنا ،اپنے آپ پر قابو رکھنا۔ احتیاط الزمی ہے۔ جاسوس نے اسے بتایا کہ وہ اور اس کے دو ساتھی
کسی نہ کسی روپ میں اسے خود ہی ملتے رہیں گے اور یہ رابطہ قائم رہے گا۔ فوری طور پر ضرورت یہ ہے کہ مسلمان اپنے
گھروں میں چوری چھپے کمانیں ،تیر اور برچھیاں بنائیں اور گھروں میں چھپا کر رکھیں ،عورتوں کو گھروں کے اندر ہی خنجر
اور برچھی مارنے اور وار سے بچنے کے لیے طریقہ سکھائیں۔ یہودی لڑکیوں کی باتوں پر دھیان نہ دیں ،ان کے ساتھ ایسی
کوئی بات نہ کریں جس سے انہیں کوئی شک پیدا ہو۔ اپنے طور پر کوئی جنگی کارروائی نہ کریں۔ پہلے منظم ہوجائیں پھر
قیادت بنائیں۔ ہر ایک فرد کا ذرا سا بھی عمل قائد کی نظر میں ہونا چاہیے اور کسی فرد کا کوئی اقدام قائد کی اجازت کے
بغیر نہ ہو''۔
سورج غروب ہونے لگا تھا۔ مسجد کا پیش امام آگیا۔ اسے دیکھتے ہی جاسوس نے صلیب اٹھائی اور دوڑتا ہوا باہرنکل گیا۔ باہر
سے پھر وہی اعالن سنائی دینے لگا… ''مسلمانو! صلیب کے سائے میں آجائو ،تمہارا اسالم مر گیا ہے''… امام نے عثمان
صارم کو قہر بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا… ''یہ یہاں کیا کررہا تھا؟ اور تم نے اسے اندر کیوں بٹھا رکھا تھا؟ اسے
ہالک کیوں نہ کردیا؟ تمہاری رگوں میں مسلمان باپ کا خون جم گیاہے؟ میں اتنا بوڑھا نہ ہوتا تو یہاں سے اسے زندہ باہر نہ
جانے دیتا''۔
19:44
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
"قسط نمبر48.۔
" رینی الیگزینڈر کا آخری معرکہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اسے زندہ باہر نہ جانے دیتا''۔میں اس کے پیچھے اسی لیے آیا تھا کہ یہ یہاں سے زندہ نہ نکل سکے''۔ عثمان صارم ''
نے کہا اور امام کو اپنا خنجر دکھا کر کہنے لگا… ''خدا کا شکر ہے کہ اس نے میرا خنجر صلیب پر روک لیا تھا۔ یہ آدمی
پاگل نہیں ،عیسائی اور یہودی بھی نہیں ،یہ مسلمان ہے۔ صالح الدین ایوبی کا پیغام الیا ہے''… اس نے بوڑھے امام کو
سلطان ایوبی کا پیغام سنایا اور کہا… ''میں اس پیغام پر عمل کروں گا۔ آج شام سے ہی بسم اللہ کررہا ہوں لیکن ہمیں
ایک امیر کی ضرورت ہے۔ کیا آپ ہماری قیادت کریں گے؟ یہ سوچ لیں کہ صلیبی حکومت کو خبر مل گئی تو سب سے
پہلے امیر کی گردن اڑائی جائے گی''۔
کیا مسجد میں کھڑے ہوکر میں کہنے کی جرٔات کرسکتا ہوں کہ میں قوم سے الگ رہوں گا؟''۔ امام نے جواب دیا۔ ''
'' لیکن یہ فیصلہ قوم کرے گی کہ میں امیر اور قائد بننے کے قابل ہوں یا نہیں ،میں خدا کے گھر میں کھڑا یہ عہد کرتا
ہوں کہ میری دانش ،میرا مال میری اوالد اور میری جان اسالم کے تحفظ اور فروغ کے لیے اور صلیب کو روبہ زوال کرنے کے
لیے وقف ہوگئی ہے… میرے عزیز بیٹے صالح الدین ایوبی کے پیغام کا ایک ایک لفظ ذہن میں بٹھا لو۔ اس نے ٹھیک کہا ہے
کہ نوجوان قوم اور مذہب کا مستقبل ہوتے ہیں۔ وہ اسے روشن بھی کرسکتے ہیں اور وہ آوارہ ہوکر اسے تاریک بھی کرسکتے
ہیں۔ جب کوئی نوجوان صلیبیوں اور یہودیوں کی بے حیائی کا دلدارہ ہوکر لڑکیوں کو بری نظر سے دیکھتا ہے تو وہ محسوس
نہیں کرتا کہ اس کی اپنی بہن بھی اس جیسے نوجوانوں کی بری نظر کا شکار ہورہی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں قومیں تباہ
ہوتی ہیں… میرے نوجوان بیٹے! خدا کے اس گھر میں عہد کرو کہ تم صالح الدین ایوبی کے پیغام پر عمل کرو گے''۔
عثمان صارم نے گھر جاکر اپنی بہن النور کو الگ بٹھا کر سلطان ایوبی کا پیغام سنایا اور کہا… ''النور! ہمارا مذہب اور ہمارا
قومی وقار تم سے بہت بڑی قربانی مانگ رہا ہے۔ آج سے اپنے آپ کو پردہ نشین لڑکی سمجھنا چھوڑ دو۔ مسلمان لڑکیوں
تک یہ پیغام پہنچا کر انہیں اس جہاد کے لیے تیار کرلو۔ میں تمہیں خنجر ،تیر کمان اور برچھی کا استعمال سکھا دوں گا۔
احتیاط یہ کرنی ہے کہ کسی کو شک بھی نہ ہو کہ ہم لوگ کیا کررہے ہیں''۔
میں ہر طرح کی قربانی کے لیے تیار ہوں''۔ النور نے کہا …''میں اور میری تمام سہیلیاں تو پہلے ہی سوچ رہی ہیں کہ''
ہم اپنی آزادی اور اپنی قوم کے لیے کیا کرسکتی ہیں۔ ہم تو مردوں کے منہ کی طرف دیکھ رہی ہیں''۔
عثمان صارم نے اسے بتایا کہ صالح الدین ایوبی اور اس کی فوج کے متعلق جتنی خبریں یہاں مشہور کی جاتی ہیں ،وہ سب
جھوٹی ہوتی ہیں۔ تمام مسلمان گھرانوں میں جاکر عورتوں کو صحیح خبریں سنائو۔ عثمان صارم نے اسے صحیح خبریں سنائیں
اور یہ بھی بتایا کہ مسلمانوں میں غدار اور صلیبیوں میں مخبر بھی ہیں۔ اس نے بہن کو ایسے تین چار گھرانے بتائے اور کہا
کہ ان عورتوں کو ہاتھ میں لو اور انہیں بتائو کہ ان کے آدمی غدار ہیں۔ انہیں یہ بھی کہو کہ عیسائی اور یہودی لڑکیوں کے
پیار سے بچو۔ ان کا پیار محض دھوکہ ہے۔
کیا میں رینی کو یہاں آنے سے روک دوں؟'' …عثمان صارم نے کہا … ''وہ بہت تیز اور ہوشیار لڑکی ہے''۔''
رینی ایک نوجوان عیسائی لڑکی تھی ،عثمان صارم کے گھر سے تھوڑی ہی دور اس کا گھر تھا۔ اس کا باپ شہری انتظامیہ
کے کسی اونچے عہدے پر فائز تھا۔ لڑکی کا پورا نام رینی الیگزینڈر تھا۔ وہ النور کی سہیلی بنی ہوئی تھی ،عثمان صارم کے
ساتھ بھی اس نے گہرے مراسم پیدا کرلیے تھے۔ اسے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوتی تھی۔ عثمان صارم ابھی اس کے قریب
نہیں ہوا تھا ،یہ وجیہہ جوان سمجھتا تھا کہ یہ عیسائی لڑکی ہے اور یہاں جاسوسی کرنے آتی ہے۔ اس نے رینی کو کبھی
ناپسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا تھا بلکہ اس کے ساتھ ہنسی مذاق بھی کرلیتا تھا تاکہ اسے شک نہ ہو۔ اب جب اسے
یہ ضرورت پیش آئی کہ رینی اس کے گھر نہ آیا کرے تو رینی کو یہ کہنا اس کے لیے مشکل ہوگیا کہ اب ہمارے گھر نہ آیا
کر و مگر اسے روکنا ضروری تھا کیونکہ وہ گھر میں اپنی بہن کو جنگی ٹرینگ دینا چاہتا تھا اور اسے معلوم نہیں تھا کہ اس
گھر میں اب کیا کیا راز آئیں گے۔ اس نے سوچ سوچ کر یہ طریقہ پسند کیا کہ النور سے کہا کہ رینی جب کبھی آئے تم یہ
کہہ کر باہر چلی جایا کرو کہ کسی سہیلی کے گھر جا رہی ہوں۔ اس طرح اسے ٹالتی رہو ،وہ خود ہی آنا چھوڑ دے گی۔
کرک شہر کے لوگ اس پاگل کی باتیں کررہے تھے جو مسلمانوں کی تباہی کی پیشن گوئی کرتا پھر رہا تھا۔ غیر مسلموں کو
وہ بہت ہی اچھا لگا تھا۔ سب اسے ڈھونڈتے پھرتے تھے لیکن وہ کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔ سرکاری طور پر بھی اسے تالش
کیا جارہا تھا
کیونکہ مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے اور ان کا جذبہ سرد کرنے کے لیے اس پاگل کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں چال گیا ہے۔ وہ اسی رات کہیں الپتہ ہوگیا تھا۔ دس بارہ روز اس کی تالش ہوتی رہی۔
صلیبی حکام نے شہر کے باہر بھی گھوڑ سوار دوڑا دیئے۔ انہیں توقع تھی کہ وہ اس شہر سے کہیں دوسرے شہر جارہا ہوگا
مگر وہ کسی کو نہ مال اور دس بارہ دن گزر گئے۔
ان دس بارہ دنوں میں عثمان صارم نے النور اور اس کی تین سہیلیوں کو ہتھیاروں کا استعمال سکھا دیا۔ اس نے انہیں تیغ
زنی بڑی محنت سے سکھائی۔ اس کے عالوہ اس نے مسلمان نوجوانوں کو درپردہ سلطان ایوبی کا پیغام سنا کر زمین دوز محاذ
پر جمع کرلیا۔ ان نوجوانوں نے ان مسلمان کاریگروں کو تیار کرلیا جو برچھیاں اور تیرکمان وغیرہ بناتے تھے۔ یہ سب صلیبیوں
کے مالزم تھے۔ وہ اپنے لیے کوئی ہتھیار نہیں بنا سکتے تھے۔ مسلمانوں کو کوئی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ ان
کاریگروں نے گھروں میں چوری چھپے ہتھیار بنانے شروع کردیئے۔ یہ بہت ہی خطرناک کام تھا۔ پکڑے جانے کی صورت میں
صرف سزائے موت ہی نہیں تھی بلکہ مرنے سے پہلے صلیبی درندوں کی بھیانک اذیتیں تھیں۔ وہاں کوئی مسلمان کوئی معمولی
سے جرم میں یامحض شک میں پکڑا جاتا تو اس سے پوچھا جاتا تھا کہ مسلمان گھرانوں کے اندر کیا ہورہا ہے اور جاسوس
کہاں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس کے جسم کو روئی کی طرح دھننا شروع کردیتے تھے۔ کاریگر جو ہتھیار بناتے تھے وہ عثمان
صارم جیسے نوجوان رات کو مختلف گھروں میں چھپا دیتے تھے۔ دن کے وقت لڑکیاں برقعہ نما لبادوں میں خنجر اور تیرکمان
چھپا کر مسلمانوں کے گھروں میں لے جاتی رہتی تھی مگر ہتھیار بنانے اور گھروں میں پہنچانے کی رفتار بہت سست تھی۔
ادھر سلطان ایوبی کو ایک جاسوس نے اطالع دے دی کہ کرک اور مضافات کے مسلمانوں تک اس کا پیغام پہنچ گیا ہے اور
وہاں کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے زمین دوز محاذ بنا لیاہے۔ یہ اطالع النے واال بھی ایک ذہین اور نڈر جاسوس تھا۔ اس
نے بتایا کہ وہ جاسوس جس نے سلطان ایوبی کا پیغام عثمان صارم تک پہنچایا تھا پاگل کے روپ میں کامیاب رہا ہے۔
سلطان صالح الدین ایوبی اس اطالع پر بہت خوش تھا۔ اس نے کہا … ''جس قوم کے نوجوان بیدار ہوجائیں اسے کوئی طاقت
شکست نہیں دے سکتی''۔
اس کامیابی نے میرا حوصلہ بڑھا دیا ہے''۔ شعبہ جاسوسی کے نائب زاہدان نے کہا …''اگر آپ اجازت دیں تو میں ''
مقبوضہ عالقے کے نوجوانوں کو اپنے جاسوسوں کے ذریعے اتنا بھڑکا سکتا ہوں کہ وہ شعلے بن کر کرک اور یروشلم کو آگ
لگا دیں گے''۔
اور اس آگ میں وہ خود بھی جل مریں گے''۔ سلطان ایوبی نے کہا …''میں نوجوانوں کو شعلے نہیں بنانا چاہتا۔ میں ان''
کے سینوں میں ایمان کی چنگاری سلگانا چاہتا ہوں۔ نوجوانوں کو بھڑکانا کوئی مشکل کام نہیں ۔ ان میں سے کوئی اشرفی
کی چمک اور اللچ سے تمہارے ہاتھ میں کھیلنے لگے گا اور زیادہ تعداد ان کی ہے جو جذباتی الفاظ اور جوشیلے نعروں سے
بھڑک اٹھتے ہیں پھر تم ان سے جو کچھ کرانا چاہتے ہو کرالو۔ انہیں آپس میں بھی لڑا سکتے ہو۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ
وہ جاہل اور گنوار ہیں اور ان کا اپنا دماغ ہی نہیں۔ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے کہ خون کا جوش کچھ
کر گزرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس عمر میں ذہن عیاشی کی طرف مائل ہوتا ہے اور عمل صالح کی طرف بھی۔ تم نوجوان
ذہن کو جو بھی تحریک اور اشتعال دے دو وہ اسی کا اثر قبول کرلے گا۔ تمہارے دشمن ہماری قوم کے ابھرتے ہوئے ذہن میں
عیاشی اور جنسی لذت کے جراثیم ڈال رہے ہیں۔ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم انہیں جہاد کی طرف مائل کرکے دشمن کے
خالف استعمال نہ کرسکیں۔ تم یہ کوشش کرو کہ نوجوان بھڑکیں نہیں بلکہ سردر ہیں اور سوچیں ،رسول مقبول صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی اس حدیث کو سمجھیں کہ اپنے آپ کو جانو اپنے دشمن کو پہچانو۔ ان کی سوچیں بدل دو۔ ان میں قومیت کا
احساس پیدا کرو۔ یہ نوجوان قوم کا بڑا قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہیں بھڑکا کر جلنے سے بچائو۔ انہیں مردانہ دانشمندی نہیں،
دانائی یہ ہے کہ ان کے ہاتھوں دشمن کو مروائو لیکن دشمن کا تصور واضح کرو۔ کوئی مسلمان مجھے برا بھال کہے تو وہ نہ
اسالم کا دشمن ہے ،نہ غدار ہے ،وہ میرا دشمن ہے۔ میں اسے قانون کا سہارا لے کر سزا نہیں دوں گا جو اسالم در سلطنت
اسالمیہ کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔ ملت کا قانون ملت کے امیر کے ذاتی استعمال کے لیے نہیں ہوتا۔ غداری کی سزا
اسے دی جاتی ہے جو ملک اور قوم کی جڑیں کاٹے اور دین کے دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کرے۔
خواہ حکمران خود ہی اس کا مجرم ہو۔ وہ غدار ہے اور سزا کا مستحق''۔
اس صورت میں جبکہ وہاں نوجوان تیار ہوگئے ہیں ہم انہیں کس طرح استعمال کریں''۔ زاہدان نے پوچھا۔''
انہیں جوش میں نہ آنے دو''۔ سلطان ایوبی نے جواب دیا… ''ان کی سوچیں بیدار کرو ،وہاں کے حاالت کے مطابق وہ ''
خود فیصلہ کریں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ وہ جذبات کے غلبے کے تحت نہ سوچیں ،وہاں اور زیادہ ذہین جاسوس بھیجو اور
یہ یاد رکھو زاہدان کہ دشمن ہمیں نہیں ہمارے نوجوان بچوں کا کردار بگاڑنے کی کوشش کررہا ہے یا ہمارے ان حاکموں کا جن
کے ذہن بچوں کی طرح خام ہیں۔ کسی بھی قوم کو جنگ کے بغیر شکست دینا چاہو تو اس کے نوجوانوں کو ذہنی عیاشی
میں ڈال دو۔ یہ قوم اس حد تک تمہاری غالم ہوجائے گی کہ اپنی مستورات تمہارے حوالے کرکے اس پر فخر کرے گی۔
صلیبی اور یہودی ہماری قوم کو اسی سطح پر النے کی کوشش کررہے ہیں'' … سلطان ایوبی کو جیسے اچانک کچھ یاد آگیا
ہو۔ اس نے زاہدان سے کہا … ''میں نے کسی سے کہا تھا کہ کرک کے ان مسلمانوں تک جو ہتھیار بنا رہے ہیں ،آتش گیر
مادہ پہنچا دو یا انہیں بتا دو کہ یہ کس طرح بنتا اور استعمال ہوتا ہے''۔
وہ انہیں بتا دیا گیا ہے''۔ زاہدان نے جواب دیا … ''اطالع ملی ہے کہ مسلمانوں نے یہ مادہ تیار کرنا شروع کردیا ''
ہے''۔کرک میں ایسے حاالت فورا ً ہی پیدا ہوگئے جن میں وہاں کے نوجوانوں کو خود ہی سوچنا اور عمل کرنا پڑا۔مقبوضہ
عالقوں میں صلیبیوں نے قافلے لوٹنے کا بھی سلسلہ شروع کررکھا تھا۔ قافلے اتنے عام نہیں تھے۔ تاجر اور دیگر سفر کرنے
والے اکٹھے ہوتے رہتے تھے۔ ان کی تعداد ڈیڑھ دو سو ہوجاتی تو قافلے کی صورت میں چلتے تھے۔ یہ ایک حفاظتی اقدام
ہوتا تھا۔ قافلے کے ساتھ لڑنے والے مسلح افراد بھی ہوتے تھے۔ گھوڑوں اور اونٹوں کی افراط ہوتی تھی۔ تاجروں کا بے شمار
مال اور دولت ہوتی تھی۔ قافلے میں چند ایک کنبے بھی ہوتے تھے۔ یہ لوگ نقل مکانی کرتے تھے۔ صلیبی استبداد میں آئے
ہوئے مسلمان اکثر وہاں سے ہجرت کرکے مسلمانوں کی حکمرانی کے عالقوں میں جاتے رہتے تھے۔ اتنے بڑے قافلے کو چند
ایک ڈاکو نہیں لوٹ سکتے تھے۔ قافلے والے مقابلہ کرتے تھے۔ صلیبیوں نے یہ کام اپنی فوج کے سپرد کیا تھا۔ انہیں اگر
کسی قافلے کی اطالع مل جاتی تو اپنی فوج کے ایک دو دستوں کو صحرائی لوگوں کے بھیس میں بھیج کر اسے لوٹ لیتے
تھے۔ قافلوں میں صرف مسلمان ہوتے تھے۔ یہ جرم ان صلیبی بادشاہوں نے بھی کرایا اور لوٹے ہوئے مال سے حصہ وصول کیا،
جنہیں آج تاریخ میں صلیبی جنگوں کا ہیرو بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔
اس جرم میں مسلمان امراء بھی شامل تھے۔ وہ چھوٹی چھوٹی اسالمی ریاستوں کے حکمران تھے۔ ان کے پاس فوج بھی
تھی۔ لٹے ہوئے قافلوں کے دوچار آدمی فریاد لے کر ان حکمرانوں کے دربار میں جاتے تھے تو ان کی سنوائی نہیں ہوتی تھی
کیونکہ ان حکمرانوں کو بھی صلیبی لڑکیوں ،شراب اور تھوڑے سے سونے کی صورت میں حصہ دیا کرتے تھے۔
اگر یہ حکمران چاہتے تو صلیبی ڈاکوئوں کا قلع قمع کرسکتے تھے مگر انہوں نے صلیبی ڈاکوئوں کو ایسی کھلی چھٹی دے
رکھی تھی کہ یہ ڈاکو ان کی ریاستوں کے اندر بھی آکر لوٹ مار کر جاتے تھے۔ صلیبیوں نے انہیں اندھا کرکے یہ فائدہ بھی
اٹھایا کہ ان کی ریاستوں کے سرحدی عالقے ہڑپ کرتے گئے۔ انہوں نے بعض چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو مسلسل ڈاکوئوں سے
پریشان کرکے جزیہ بھی وصول کرنا شروع کردیا تھا۔ اس طرح سلطنت اسالمیہ سکڑتی چلی جارہی تھی۔ نورالدین زنگی اور
صالح الدین ایوبی ان مسلمان ریاستوں پر بھی قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ ان حکمرانوں کو وہ صلیبیوں سے زیادہ خطرناک سمجھتے
تھے۔ ایک بار نورالدین زنگی نے صالح الدین ایوبی کو ایک پیغام بھیجا تھا جس میں کئی اور باتوں کے عالوہ ان چھوٹے
چھوٹے مسلمان حکمرانوں کے متعلق لکھا تھا… ''ان مسلمان حکمرانوں نے اپنی عیش وعشرت کے لیے اپنی ریاستیں صلیبیوں
کے پاس گروی رکھ دی ہیں۔ وہ کفار سے تحفے اور زروجواہرات اور اغوا کی ہوئی مسلمان لڑکیاں لیتے اور اسالم کا نام ڈبوتے
جارہے ہیں۔ یہ مسلمان کفار سے زیادہ ناپاک اور خطرناک ہیں۔ وہ بادشاہی کے نشے میں بدمست ہیں اور صلیبی ان کی جڑوں
میں داخل ہوگئے ہیں۔ صلیبیوں کو شکست دینے سے پہلے ضروری ہوگیا ہے کہ ان مسلمان ریاستوں پر قبضہ کرکے انہیں
سلطنت اسالمیہ میں مدغم کیا جائے اور خالفت بغداد کے تحت الیا جائے۔ اس کے بغیر اسالم کا تحفظ ممکن نہیں''۔
ان خطروں کے باوجود کبھی کبھی کوئی بہت بڑا قافلہ صحرا میں جاتا نظر آجاتا تھا۔ کرک سے چند میل دور سے ایک قافلہ
گزر رہا تھا۔ اس میں ایک سو سے زیادہ اونٹ تھے۔ بہت سے گھوڑے بھی تھے ،قافلے میں تاجروں کا مال تھا اور چند ایک
کنبے تھے۔ ایک کنبہ ایسا بھی تھا جس میں دو جوان لڑکیاں تھیں ،یہ بہنیں تھیں۔ قافلہ حسب معمول مسلمانوں کا تھا۔ کرک
کے عالقے سے قافلہ گزر رہا تھا تو صلیبیوں کو پتا چل گیا۔
انہوں نے اپنی فوج کا ایک دستہ بھیج دیا جس نے دن دہاڑے قافلے پر جا حملہ کیا۔ قافلے کے گھوڑ سواروں نے مقابلہ تو
بہت کیا مگر صلیبیوں کی تعداد زیادہ تھی۔ وہاں ریت خون سے الل ہوگئی۔ صلیبیوں نے بچوں تک کو کاٹ ڈاال۔ پندرہ سولہ
جواں سال مسلمان رہ گئے۔ انہیں قیدی بنا لیا گیا۔ دونوں لڑکیوں کو پکڑ لیا۔ اونٹوں اور گھوڑوں کو مال واسباب سمیت کرک
لے گئے۔
یہ قافلہ جب کرک میں داخل ہوا تو آگے آگے قیدی تھے۔ ان کے پیچھے دو گھوڑوں پر دو لڑکیاں سوار تھیں جن کا لباس
بتاتا تھا کہ مسلمان ہیں۔ ان کے پیچھے صلیبی تھے جن کے چہروں پر نقاب تھے اور ان کے پیچھے مال واسباب سے لدے
ہوئے اونٹوں کی قطار تھی۔ لڑکیاں رو رہی تھیں۔ کرک کے شہری تماشا دیکھنے کے لیے باہر نکل آئے ،وہ تالیاں پیٹتے اور
قہقہے لگاتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ لٹا ہوا یہ قافلہ مسلمانوں کا ہے اور قیدی بھی مسلمان ہیں۔ ان قیدیوں میں ایک
جواں سال قیدی آفاق نام کا تھا۔ دونوں مغویہ لڑکیاں اس کی بہنیں تھیں۔ آفاق زخمی بھی تھا ،اس کی پیشانی اور کندھے
سے خون بہہ رہا تھا۔ وہ لٹے ہوئے قافلے کے آگے آگے شہر میں داخل ہوا تو تماشائیوں کو دیکھ کر اس نے بلند آواز سے
کہا… ''کرک کے مسلمانو! ہمارا تماشا دیکھ رہے ہو؟ ڈوب مرو۔ ان لڑکیوں کو دیکھو ،یہ میری نہیں تمہاری بہنیں ہیں۔ یہ
مسلمان ہیں''۔
ایک صلیبی نے پیچھے سے اس کی گردن پر گھونسہ مارا ،وہ منہ کے بل گرا۔ اس کے ہاتھ رسیوں سے پیٹھ پیچھے بندھے
ہوئے تھے۔ ایک قیدی نے اسے اٹھایا تو آفاق پھر چالیا… ''کرک کے مسلمانو! یہ تمہاری بیٹیاں ہیں''… اسے دو تین نقاب
پوشوں نے پیٹنا شروع کردیا۔ اس کی بہنیں چیخ چیخ کر رو رہی تھیں اور فریادیں کرتی تھیں… ''خدا کے لیے ہمارے بھائی
کو نہ مارو ،ہمارے ساتھ جو سلوک کرنا چاہو کرلو ،اسے نہ مارو''… ایک بہن چال رہی تھی… ''آفاق خاموش ہوجائو ،تم ان
کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے''… مگر آفاق چپ نہیں ہورہا تھا۔ تماشائیوں میں مسلمان بھی تھے جو اپنا خون پی رہے تھے مگر
بے بس تھے۔ ان کی غیرت ان کی نظروں کے سامنے سے گزرتی جارہی تھی اور وہ دیکھ رہے تھے۔ ان میں نوجوان مسلمان
بھی تھے اور ان میں عثمان صارم بھی تھا۔ اس نے اپنے نوجوان دوستوں کی طرف دیکھا۔ سب کی آنکھیں الل تھیں اور دل
زور زور سے دھڑک رہے تھے۔
عثمان صارم تھوڑی دور تک اس قافلے کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ آگے ایک غریب سا موچی بیٹھا تھا جو لوگوں کے جوتے
مرمت کیا کرتا تھا۔ اسے کسی مسلمان نے اپنی گھر کی ڈیوڑھی میں سونے کی جگہ دے رکھی تھی۔ دن بھر وہ باہر بیٹھا
جوتے مرمت کرتا رہتا تھا۔ بدقسمت قافلہ اس کے سامنے سے بھی گزرا۔ اس نے بھی آفاق کی للکار اور لڑکیوں کی آہ وزاری
سنی۔ آفاق کے چہرے کو خون سے الل دیکھا ،اس پر صلیبیوں کا ظلم ہوتا بھی دیکھا لیکن اس طرح دیکھا جیسے اس نے
کچھ بھی نہیں دیکھا۔ اس موچی کو نہ کبھی کسی نے مسجد میں جاتے دیکھا تھا ،نہ گرجے میں۔ وہ یہودیوں کی عبادت گاہ
میں بھی کبھی نہیں گیا تھا۔ اس کی طرف وہی توجہ دیتا تھا جسے جوتا مرمت کرانا ہوتا تھا۔ اسے کبھی کسی نے بولتے
نہیں سنا تھا ،وہ خلق کا راندہ ہوا انسان تھا جسے صلیبیوں کے ساتھ بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی اور اسالمیوں کے ساتھ
بھی کوئی واسطہ نہیں تھا۔
عثمان صارم چلتے چلتے اس موچی کے قریب سے گزرنے لگا تو رک گیا۔ قیدی آگے نکل گئے تھے ،اونٹ جارہے تھے۔ جب
آخری اونٹ گزر گیا تو عثمان صارم نے دونوں جوتے اتار کر موچی کے آگے رکھ دیئے اور اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ موچی
کسی کا جوتا مرمت کررہا تھا ،اس نے عثمان صارم کو سر اٹھا کر دیکھا بھی نہیں۔ عثمان نے ادھر ادھر دیکھ کر سرگوشی
میں کہا… ''ان دونوں لڑکیوں کو آج رات آزاد کرانا ہے''۔
جانتے ہو ،یہ لڑکیاں رات کو کہاں ہوں گی؟'' … موچی نے سراٹھائے بغیر اتنی دھیمی آواز میں پوچھا کہ عثمان صارم کے''
سوا کوئی اور نہیں سن سکتا تھا۔
جانتا ہوں''۔ عثمان صارم نے جواب دیا… ''صلیبی بادشاہوں کے پاس ہوں گی لیکن ہم میں سے کسی نے بھی وہ جگہ ''
اندر سے نہیں دیکھی''۔
میں نے دیکھی ہے''۔ موچی نے اپنے کام میں مگن رہ کر کہا… ''وہاں سے لڑکیوں کو نکالنا ممکن نہیں''۔''
تم کس مرض کی دوا ہو؟''… عثمان صارم نے ایسے لہجے میں کہا جس میں جذبات کا لرزہ اور غصہ تھا۔ کہنے لگا ''
''ہماری رہنمائی کرو اگر ہم لڑکیوں تک پہنچ گئے اور پکڑے گئے تو لڑکیوں کی گردنیں کاٹ دیں گے۔ انہیں صلیبیوں کے پاس
نہیں رہنے دیں گے''۔
کتنے جوانوں کی قربانی دے سکتے ہو؟'' موچی نے پوچھا''۔''
جتنے جوان مانگو گے''۔''
کل رات''۔''
آج رات''۔ عثمان صارم نے دبدبے سے کہا… ''آج ہی رات برجیس! آج ہی رات''۔''
امام کے پاس پہنچو''۔ موچی نے کہا۔''
''کتنے جوان؟''
برجیس موچی نے سوچ کر کہا… ''آٹھ… ہتھیار سن لو۔ خنجر۔
برجیس موچی نے سوچ کر کہا… ''آٹھ… ہتھیار سن لو۔ خنجر۔ آتش گیر مادہ''۔
عثمان صارم نے اپنے جوتے پہنے اور چال گیا۔
٭ ٭ ٭
سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا۔ عثمان صارم نے راستے میں اپنے سات ہم جولیوں کو گھروں سے بال کر انہیں امام کے گھر
پہنچنے کو کہا اور خود امام کے گھر چال گیا۔ یہ اسی مسجد کا امام تھا جس میں عثمان صارم کی مالقات ''پاگل'' سے
ہوئی تھی۔ عثمان نے ہی امام کو اپنی زمین دوز جماعت کی امامت پیش کی تھی جسے جماعت کے ہر فرد نے قبول کرلیا
تھا۔ یہ لوگ کسی نہ کسی کے گھر میں مل بیٹھتے اور الئحہ عمل تیار کرتے تھے۔ اب ان دو مغویہ لڑکیوں کا مسئلہ سامنے
آگیا تو عثمان صارم نے ان کی رہائی کا ارادہ کرلیا جو دراصل خودکشی کا ارادہ تھا۔ وہ موچی کے کہنے کے مطابق امام کے
گھر چال گیا۔ امام بے چینی سے اپنی ڈیوڑھی میں ٹہل رہا تھا۔ عثمان صارم کو دیکھ کر رک گیا اور پوچھا …''عثمان! تم
نے اس قیدی کی للکار سنی تھی؟ معلوم ہوتا تھا ،وہ لڑکیاں اس کی بہنیں تھیں''۔
میں اسی للکار پر لبیک کہنے آیا ہوں محترم امام!'' عثمان صارم نے کہا… ''برجیس آرہا ہے اور میرے سات دوست ''
بھی آرہے ہیں''۔
تم کیا کرو گے؟'' امام نے پوچھا… ''تم کرہی کیا سکو گے؟… میں جانتا ہوں کہ ہماری بے شمار لڑکیاں کافروں کے قبضے''
میں ہیں مگر ان دو لڑکیوں نے مجھے امتحان میں ڈال دیا ہے''۔ اس نے منہ اوپر کرکے گہری آہ بھری اور کہا… ''یاخدا
مجھے صرف ایک رات کے لیے جوان کردے یا آج ہی رات میری جان لے لے۔ اگر میں زندہ رہا تو تمام عمر ان لڑکیوں کی
آہ وزاری مجھے سنائی دیتی رہے گی اور میں پاگل ہوجائوں گا''۔
ہمیں اپنی دانش کی روشنی دکھائیں''۔ عثمان صارم نے کہا… ''مجھے امید ہے کہ ہم آپ کو ایک رات سے زیادہ بے ''
چین نہیں رہنے دیں گے''۔
عثمان صارم کے دو ساتھی اندر آئے ،امام نے انہیں بیٹھنے کو کہا اور تینوں سے مخاطب ہوکر کہا… ''آج یوں معلوم ہوتا ہے
جیسے میری دانش جواب دے گئی ہے۔ مجھے اس طرح بے قابو نہیں ہونا چاہیے لیکن کوئی غیرت کو للکارے تو جذبے بھڑک
اٹھتے ہیں۔ جنہیں مطمئن کرنے کے لیے جوان ہونا ضروری ہوتا ہے… لیکن میرے بچو! میں بہت بوڑھا ہوگیا ہوں ،مجھ میں
اب برداشت کی قوت نہیں رہی تم جو کچھ کرنے کا ارادہ کرو سنبھل کر کرنا''۔
ایک ایک کرکے سات نوجوان جمع ہوگئے اور ان کے فورا ً بعد موچی آگیا۔ اس نے بوری اٹھا رکھی تھی جس میں پرانے جوتے
اور اوزار تھے۔ اس نے بوری پھینکی اور کمر سیدھی کی۔ وہ ہنس پڑا۔ وہ جب سیدھا کھڑا ہوا تو کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ
یہ وہ موچی ہے جو دنیا کی گہما گہمی سے رشتہ توڑے ہوئے راستے میں بیٹھا جوتے مرمت کرتا رہتا ہے۔ اس وقت جب وہ
امام کے گھر میں تھا اور دروازہ بند ہوچکا تھا وہ موچی نہیں برجیس تھا… علی بن سفیان کے محکمہ جاسوسی کے ایک
خفیہ شعبے کا تجربہ کار اور نہایت عقل مند جاسوس… اس نے امام سے کہا … ''یہ لڑکے آج ہی ان دونوں لڑکیوں کو
صلیبیوں کی قید سے آزاد کرانے پر تلے ہوئے ہیں ،اس کام میں صرف پکڑے جانے کا یا ناکامی کا ہی خطرہ نہیں بلکہ یقینی
موت کا خطرہ ہے''۔
ہم یہ خطرہ قبول کرتے ہیں محترم برجیس!''… ایک نوجوان نے کہا… ''آپ اس فن کے استاد ہیں ،ہماری رہنمائی ''
کریں''۔
اگر عقل کی بات سنیں تو میں ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں''… برجیس نے کہا … ''صلیبیوں کے پاس بہت سی مسلمان ''
لڑکیاں ہیں ،ان میں سے بعض کو انہوں نے بچپن میں قافلوں اور گھروں سے اغوا کیا تھا اور انہیں اپنی تعلیم وتربیت دے کر
ہمارے خالف جاسوسی اور تمہاری کردار کشی کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ تم لوگ ایک ایک لڑکی کو تو آزاد نہیں کراسکتے
اگر تم سب میرے فن سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہوتو میں کہوں گا کہ دو لڑکیوں کی خاطر تم جیسے آٹھ جوان قربان کردینا عقل
مندی نہیں۔ بربادری اور تحمل ضروری ہے''۔
میں تحمل کو کس طرح قبول کرسکتا ہوں؟''… عثمان صارم نے بھڑک کر کہا۔''
میری طرح''۔ برجیس نے کہا… ''کیا میں پیشے کا موچی ہوں؟ میں جب مصر میں ہوتا ہوں تو میری سواری کے لیے ''
عربی گھوڑا تیار رہتا ہے اور میرے گھر میں دو مالزم ہیں مگر یہاں تین مہینوں سے راستے میں بیٹھا لوگوں کے غلیظ جوتے
مرمت کرتا رہتا ہوں… میں تمہیں دو لڑکیوں کی آزادی کے لیے پورے کرک اور اس سے آگے کے بہت وسیع عالقے کو آزاد
کرانے کے لیے زندہ رکھنا چاہتا ہوں ،برداشت کرو ،انتظار کرو''۔
عثمان صارم اور اس کے ساتوں دوست برداشت کی حدوں سے نکل چکے تھے۔ ان کی باتوں سے پتا چلتا تھا کہ ان میں
انتظار کی بھی ہمت نہیں رہی۔ وہ کسی کی رہنمائی کے بغیر ہی اس جگہ پر حملہ کرنے کو تیار تھے جہاں توقع تھی کہ
لڑکیاں ہوں گی( ۔ انہوں نے امام کی بھی باتیں سننے سے انکار کردیا۔
آخر برجیس نے انہیں بتایا کہ اس کے دو جاسوس اس جگہ معمولی مالزم ہیں جہاں صلیبی حکمران رات کو اکٹھے ہوتے ہیں
اور شراب پیتے ہیں۔ یہ دونوں جاسوس عیسائیوں کے بھیس میں شوبک کی فتح کے بعد وہاں سے بھاگنے والے عیسائیوں کے
ساتھ آئے تھے۔ انہیں یہاں نوکری مل گئی تھی اور وہ کامیاب جاسوسی کررہے تھے۔
تم سب نے وہ عمارت دیکھی ہے جہاں وہ صلیبی حکمران جو ہماری فوج کے خالف لڑنے کے لیے برطانیہ ،اٹلی ،فرانس ''
اور جرمنی وغیرہ سے آئے ہوئے ہیں ،رہتے ہیں۔ اس عمارت میں ایک بڑا کمرہ ہے جہاں وہ شام کے بعد اکٹھے ہوتے ،شراب
پیتے اور ناچتے ہیں۔ ان کی تفریح کے لیے لڑکیاں موجود ہوتی ہیں۔ وہ آدھی رات تک وہاں ادھم مچاتے رہتے ہیں۔ تم نے
دیکھا ہے کہ وہ جگہ ذرا بلندی پر ہے جہاں سے پورا شہر نظر آتا ہے۔ وہاں فوج کا پہرہ بھی ہوتا ہے۔ اس عمارت تک
پہنچنا ممکن نہیں۔ کوئی عام آدمی بلکہ کوئی خاص شہری بھی اس عمارت کے قریب نہیں جاسکتا۔ میں یہ معلوم کرسکتا
ہوں کہ یہ دو لڑکیاں کہاں ہوں گی مگر ان تک رسائی کا طریقہ صرف یہ ہے کہ ہماری فوج باہر سے ابھی حملہ کردے۔ اس
صورت میں تمام حکمران اور فوجی حکام اس عمارت سے چلے جائیں گے اور حملہ روکنے میں لگ جائیں گے مگر آج رات
حملہ نہیں ہوسکتا۔ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ صالح الدین ایوبی کب حملہ کریں گے''۔
ضرورت حملے کی ہے''۔ امام نے برجیس سے وضاحت چاہی… ''دوسرے لفظوں میں ضرورت یہ ہے کہ اس عمارت میں ''
جو لوگ ہیں وہ وہاں سے چلے جائیں اور لڑکیاں وہیں رہ جائیں۔ اس صورت میں آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے اس
عمارت میں داخل ہوکر لڑکیوں کو اٹھا الئیں''۔
جی ہاں!'' برجیس نے اپنے تجربے کی بناء پر خود اعتمادی سے کہا۔ ''اگر شہر کے اندر کوئی بڑا ہی شدید اور ''
خطرناک قسم کا ہنگامہ ہوجائے ،کہیں آگ لگ جائے اور آگ جنگی سازوسامان کو لگے تو شاید حکمران اور دیگر لوگ وہاں
سے نکل کر موقع واردات پر چلے جائیں''۔ برجیس گہری سوچ میں کھوگیا۔ اس نے عثمان صارم اور اس کے ساتھیوں کو
باری باری دیکھا اور کچھ دیر بعد کہا… ''ہاں میرے مجاہدو! اگر ایک جگہ آگ لگا سکتے ہو تو لڑکیوں کی رہائی کی صورت
پیدا ہوسکتی ہے''۔
جلدی بتائو محترم!'' … عثمان صارم نے بے صبر ہوکر پوچھا… ''کہاں آگ لگانی ہے ،کہو تو سارے شہر کو آگ ''
لگادیں''۔
تم سب نے وہ جگہ دیکھی ہے جہاں صلیبیوں کی فوج کے گھوڑے بندھے رہتے ہیں؟'' برجیس نے کہا… ''وہاں اس وقت''
کم وبیش چھ سو گھوڑے ایک جگہ بندھے ہوئے ہیں ،باقی مختلف جگہوں پر ہیں۔ ان کے قریب اتنی ہی تعداد میں اونٹوں کی
بندھی ہوئی ہے۔ ان سے ذرا ہی پرے گھوڑوں کے خشک گھاس کے پہاڑ کھڑے ہیں۔ اس سے تھوڑا ہٹ کر فوج کے خیموں
کے ڈھیر پڑھے ہیں ،وہاں گھوڑا گاڑیاں بھی کھڑی ہیں اور ایسا سامان بے شمار پڑا ہے ،جسے فورا ً آگ لگ سکتی ہے مگر
اس کے اردگرد سنتری گھوم پھر رہے ہوتے ہیں وہاں سے رات کے وقت کسی کو گزرنے کی اجازت نہیں۔ اگر تم اس گھاس
اور خیموں کے انباروں کو آگ لگا سکو تو میں یقین سے کہتا ہوں کہ صلیبی حکمران ساری دنیا کو بھول کر وہاں پہنچ جائیں
گے۔ گھاس ،کپڑے اور لکڑی کے شعلے آسمان تک جائیں گے۔ سارے شہر پر خوف طاری ہوجائے گا۔ آگ لگانے کے ساتھ ہی
اگر تم زیادہ سے زیادہ گھوڑوں کو کھول دو تو وہ ڈر کر ایسا بھاگیں گے کہ لوگوں کو کچلتے پھریں گے مگر سوچنا یہ ہے کہ
''آگ کون لگائے گا؟ گھوڑے کون کھولے گا؟ اور آگ لگانے کے لیے وہاں پہنچا کس طرح جائے گا؟
فرض کرلو ،آگ لگ گئی'' ایک نوجوان نے کہا… ''اس عمارت میں تم میرے بغیر نہیں جاسکو گے وہاں میرے دو ساتھی''
موجود ہیں۔ وہ مجھے بتا دیں گے کہ لڑکیاں کہاں ہیں مگر یہ بھی سوچ لو کہ لڑکیوں کو اٹھا الئیں گے تو انہیں کہیں چھپانا
بھی ہوگا اور اس کے بعد کرک کے مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ صلیبی یقین ہی نہیں کریں گے کہ یہ مسلمان کے سوا
کسی اور کا کام ہوسکتاہے''۔
مسلمان پہلے کتنے کچھ آرام میں ہیں؟''… امام نے کہا… ''میں مشورہ دیتا ہوں کہ ہم یہ کام کر گزریں۔ صلیبیوں کو ''
معلوم ہوجانا چاہیے کہ مسلمان کتنا ہی مجبور اور بے بس کیوں نہ ہو وہ غالم نہیں رہ سکتا اور اس کا وار جگر چاک کردیا
کرتا ہے''۔
برجیس تو تھا ہی کمانڈو قسم کا جاسوس ،وہ کئی راز معلوم کرکے سلطان ایوبی تک پہنچا چکا تھا لیکن اسے اس قسم :
کی تخریب کاری کا کوئی موقع نہیں مال تھا۔ وہ ایسی شدید کارروائی کو ضروری سمجھتا تھا تاکہ صلیبیوں کو معلوم ہوجائے
کہ مسلمان کیا کرسکتا ہے۔ اس نے عثمان صارم اور اس کے ساتھیوں کو سمجھانا شروع کردیا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ اس
اعلی فوجی
سلسلے کی دو کڑیاں بہت نازک تھیں۔ ایک یہ کہ آگ لگانے کے لیے تین چار لڑکیاں جائیں ،وہ سنتری سے کسی
ٰ
حاکم کا پتہ پوچھیں اور سنتری کو مارڈالیں ،برجیس نے لڑکیوں کو بھیجنے کی اس لیے سوچی تھی کہ عورت ،خصوصا ً نوجوان
لڑکی ،جو تاثر پیدا کرسکتی ہے ،وہ کوئی مرد نہیں کرسکتا۔ مرد شک پیدا کرسکتا ہے۔ دوسرا خطرناک مرحلہ یہ آیا کہ کتنے
نوجوان صلیبی حکمرانوں کی عمارت پر حملہ آور ہوں۔ برجیس اور امام نے متفقہ طو رپر کہا کہ زیادہ نہ ہوں۔ یہی آٹھ ہوں
تو بہتر ہے کیونکہ زیادہ ہجوم نظر آسکتا ہے اور کسی نہ کسی کے پکڑے جانے کا خطرہ زیادہ ہوگا۔
پھر یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ اتنی دلیر لڑکیاں کہاں سے ملیں گی۔ عثمان صارم نے کہا کہ ایک اس کی بہن النور ہوگی ،ایک اور
نوجوان نے کہا کہ دوسری اس کی بہن ہوگی۔ باقی چھ نوجوانوں میں کسی کی بہن نہیں تھی۔ امید ظاہر کی گئی کہ یہ دو
لڑکیاں اپنی اپنی ایک سہیلی کو ساتھ لے لیں گی۔ برجیس نے ان لڑکیوں کو ان کا کام سمجھانے کی ذمہ داری اپنے اوپر
لی۔ سورج غروب ہوگیا تھا۔ امام مسجد ایک طرف چال گیا ،باقی سب ایک ایک کرکے باہر نکلے۔ سب سے آخر میں برجیس
باہر نکال۔ وہ پھر وہی موچی تھا جسے کچھ خبر نہیں تھی کہ اس کے اردگرد کیا ہورہا ہے۔ وہ جھکا جھکا اس طرح مری
ہوئی چال چال جارہا تھا جیسے ساری دنیا کے رنج وغم کا بوجھ اس کے کندھوں پر گر پڑا ہو۔
٭ ٭ ٭
عثمان صارم اپنے گھر سے ابھی کچھ دور تھا کہ اسے رینی الیگزینڈر مل گئی۔ وہ عثمان کی بہن النور کی گہری سہیلی بنی
ہوئی تھی۔ دونوں بہن بھائی چاہتے تھے کہ وہ ان کے گھر نہ آیا کرے لیکن عثمان صارم اسے اچانک گھر آنے سے روک کر
کسی شک میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ رینی اس کے ساتھ بے تکلف ہونے کی کوشش کیا کرتی تھی جس سے عثمان کو یہ
خیال بھی آتا تھا کہ وہ اس کا کردار خراب کرکے اس کا قومی جذبہ مارنا چاہتی ہے۔ اس شام رینی راستے میں مل گئی۔
اس نے مسکرا کر دیکھا اور رکنا نہ چاہا مگر رینی رک گئی اور اس کا راستہ روک لیا۔ عثمان صارم کو ایسا کوئی ڈر نہیں
تھا کہ وہ مسلمان ہے اور ایک عیسائی لڑکی کے ساتھ رازونیاز کی باتیں کرتا پکڑا گیا تو سزا پائے گا۔ وہ جانتا تھا کہ صلیبی
اور یہودی انہیں دیکھ کر خوش ہوں گے کہ ان کی ایک لڑکی مشتبہ مسلمان نوجوان کو اپنا گرویدہ بنا رہی ہے۔ وہ بھی رک
گیا اور بوال… ''میں ذرا جلدی میں ہوں رینی''۔
تمہیں کوئی جلدی نہیں عثمان!''… رینی نے دوستانہ لہجے میں کہا… ''کیا تم اتنی آسانی سے مجھ سے پیچھا چھڑا ''
سکو گے؟''۔
میں تم سے پیچھا چھڑانے کی تو نہیں سوچ رہا''۔''
جھوٹ نہ بولو عثمان!'' رینی نے مسکرا کر کہا… ''میں تمہارے گھر سے آرہی ہوں ،تمہاری بہن نے مجھے صاف کہہ دیا''
ہے کہ یہاں اب کم آیا کرو ،عثمان ناراض ہوتا ہے… کیوں عثمان! یہ بات تم نے خود کیوں نہ کہہ دی؟''۔
عثمان صارم کی ذہنی حالت کچھ اور تھی ،وہ جلدی میں تھا اور اس کے جذبات بھڑکے ہوئے تھے۔ وہ ٹالنے کے لیے کوئی
موزوں جواب نہ سوچ سکا۔ اس کے منہ سے وہی بات نکل گئی جو اس کے دل میں تھی۔ اس نے کہا… ''رینی! معلوم
نہیں میں خود کیوں نہ تمہیں کہہ سکا کہ ہمارے گھر نہ آیا کرو۔ اب سن لو۔ ہماری آپس میں کتنی ہی محبت کیو نہ ہو ہم
قومی لحاظ سے ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ تم ذاتی محبت کی بات کرو گی مگر میں قومی محبت کا قائل ہوں جو صلیب
اور قرآن مجید میں کبھی پیدا نہیں ہوسکتی۔ یہ میرا وطن ہے۔ تمہاری قوم یہاں کیا کررہی ہے؟… جب تک تمہاری قوم کے
آخری آدمی کا بھی وجود یہاں رہے گا ہم ایک دوسرے کے دوست نہیں بن سکتے… میرے دل میں جو کچھ تھا ،وہ تمہیں بتا
دیا ہے''۔
اور میرے دل میں جو کچھ ہے وہ بھی سن لو''۔ رینی نے کہا… ''میرے دل سے تمہاری محبت نہ صلیب نکال سکتی ''
ہے ،نہ قرآن مجید۔ میں جب تک تمہیں دیکھ نہ لوں مجھے چین نہیں آتا۔ تمہیں مسکراتا دیکھتی ہوں تو میری روح بھی
مسکرا اٹھتی ہے۔ سن لو عثمان ! اگر تم نے مجھے اپنے گھر آنے سے روکا تو ہم دونوں کے لیے اچھا نہیں ہوگا''۔
تم مجھے دھمکی دے سکتی ہو ،تم حکمران قوم کی لڑکی ہونا!'' عثمان صارم نے تحمل سے کہا۔''
اگر میرے دماغ میں حکمرانی کا نشہ ہوتا تو تم یہاں نہ کھڑے ہوتے ،قید خانے میں گل سڑ رہے ہوتے''۔ رینی نے کہا… ''
'' تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ مجھے تمہارے متعلق کچھ معلوم نہیں؟ کہو تو تمہاری زمین دوز کارروائیوں کی تفصیل سنا دوں۔
کہو تو تمہارے گھر سے وہ سارے خنجر ،تیروکمان اور آتش گیر مادہ برآمد کرادوں جو تم نے اپنے گھر میں میری قوم اور
میری حکومت کے خالف استعمال کرنے کے لیے چھپا رکھا ہے اور جو تمہیں گھر میں رکھنے کی اجازت نہیں۔ النور کو تم
تیغ زنی سکھا رہے ہو اور تمہارے ساتھ جو دوست ہمارے خالف کام کررہے ہیں ،ان میں سے کئی ایک کو جانتی ہوں لیکن
عثمان! تم نہیں جانتے کہ تمہارے اور قید خانے کے درمیان میرا وجود حائل ہے۔ تم جانتے ہوکہ میرا باپ کون ہے اور وہ کیا
نہیں جانتا اور کیا نہیں کرسکتا۔ وہ پانچ مرتبہ گھر میں بتا چکا ہے کہ عثمان کی گرفتاری ضروری ہوگئی ہے۔ میں نے پانچوں
مرتبہ باپ سے منت کرکے کہا ہے کہ عثمان کی بہن میری بڑی پیاری سہیلی ہے اور اس کا باپ ایک ٹانگ سے معذور ہے۔
دو تین بار میرے باپ نے مجھے ڈانٹ کر کہا ہے کہ میں تم لوگوں کے ساتھ تعلق توڑ دوں ،مجھے یہ بھی کہا گیا ہے کہ
مسلمان اس قابل نہیں کہ ان کے ساتھ ا تنی زیادہ محبت اور مروت کی جائے لیکن میں ماں باپ کی اکیلی اوالد ہوں ،وہ
''مجھے ناراض نہیں کرنا چاہتے
19:54
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
" قسط نمبر49.۔" رینی الیگزینڈر کا آخری معرکہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ناراض نہیں کرنا چاہتے'' ۔سورج غروب ہوگیا تھا ،شام تاریک ہونے لگی تھی۔ عثمان صارم خاموش رہا۔ اس کا ذہن کسی اور
طرف تھا۔ وہ کچھ جواب دئیے بغیر چل پڑا۔ ابھی دو ہی قدم اٹھائے تھے کہ رینی نے آگے ہوکر روک لیا
مجھے آزاد کردو رینی!''عثمان صارم نے اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا… ''مجھے پتھر بن جانے دو ،میرا راستہ کوئی اور ''
ہے۔ ہم اکھٹے نہیں چل سکیں گے''۔
محبت قربانی مانگتی ہے''۔ رینی نے نشیلی آواز میں کہا… ''کہو کیا قربانی مانگتے ہو ،میں وعدہ کرتی ہوں کہ تم جو ''
جی میں آئے کرو میں تمہیں قید نہیں ہونے دوں گی''۔
اور میں تم سے وعدہ کرتا ہوں''۔ عثمان صارم نے طنزیہ کہا۔ ''کہ میں تمہیں بتاوں گا ہی نہیں کہ میرے جی میں کیا ''
آئی ہے اور میں کیا کرنے واال ہوں۔ میں تمہارے اس حسین جسم اور ریشمی بالوں کے جادو میں نہیں آوں گا''۔
تو پھر مجھے ثابت کرنا پڑے گا کہ میں تمہارے لیے قربانی کرسکتی ہوں''۔ رینی نے کہا… ''جاو عثمان! تم جلدی میں''
ہو لیکن میں تمہارے گھر آنے سے باز نہیں آوں گی''۔
عثمان صارم دوڑ پڑا۔ رینی اسے دیکھتی رہی اور آہ بھر کر چلی گئعثمان صارم گھر میں داخل ہوا تو برجیس وہاں پہنچ چکا تھا۔ عثمان اندر چال گیا اور اپنے باپ ،ماں اور النور کو تفصیل سے
بتایا کہ صلیبیوں نے مسلمانوں کا ایک قافلہ لوٹا ہے اور دو لڑکیوں کو بھی ساتھ لے آئے ہیں۔ اس نے تمام تر واقعہ سنا کر
کہا وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان لڑکیوں کو آزاد کرانے جارہا ہے اور اس مہم میں النور کی بھی ضرورت ہے۔ عثمان صارم
کے باپ کی ٹانگ صلیبیوں کے خالف لڑتے ہوئے جوانی میں کٹ گئی تھی اور وہ باقی عمر اس افسوس میں کاٹ رہا تھا کہ
وہ جہاد کے قابل نہیں رہا۔ اس نے عثمان سے کہا … ''بیٹا! تم نے اگر اتنے خطرناک کام کا ارادہ کرلیا ہے تو مجھے یہ
سننا نہ پڑے کہ تم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ غداری کی ہے۔ اس کام میں پکڑے جانے کا امکان زیادہ ہے اگر تم پکڑے گئے
اور تمہارے ساتھی نکل آئے تو جان دے دینا اپنے ساتھیوں کے نام پتے نہ بتانا۔ میں تمہیں صالح الدین ایوبی کی فوج کے
لیے جوان کررہا تھا لیکن تمہاری بہن کی شادی کرکے تمہیں رخصت کرنے کا سوچا تھا۔ جاو اور میری روح کو مطمئن کردو۔
ایک بار پھر سن لو میں کسی سے یہ نہیں کہلوانا چاہتا کہ تمہاری رگوں میں صارم کا خون نہیں تھا''۔
باپ نے بیٹی کو بھی اجازت دے دی ،عثمان صارم نے اسے بتایا کہ برجیس ڈیوڑھی میں بیٹھا ہے اور وہ اس مہم کی کمان
اور رہنمائی کرے گا۔ باپ ڈیوڑھی میں برجیس کے پاس چال گیا۔ عثمان نے النور سے کہا کہ وہ فورا ً اپنی ایک یا دو ایسی
سہیلیوں کو بال الئے جو اس کام میں شامل ہونے کی جرٔات رکھتی ہیں۔ النور اسی وقت باہر نکل گئی اور ذرا سی دیر میں
دو سہیلیوں کو بال الئی۔ اتنے میں عثمان صارم کا ایک ساتھی اپنی بہن کے ساتھ آگیا۔ ایک ایک کرکے ساتوں جوان آگئے۔
برجیس نے لڑکیوں کو بتایا کہ وہ کس راستے کہاں جائیں گی۔ راستے میں انہیں ایک سنتری روکے گا ،لڑکیاں اس سے پوچھیں
گی کہ اوپر کو کون سا راستہ جاتا ہے۔ وہ کہیں گی کہ شاہ رینالڈ نے انہیں بالیا ہے لیکن وہ غلط راستے پر آگئی ہیں۔ ان
میں سے ایک لڑکی نوکرانیوں کے بھیس میں ہوگی جس کے سر پر سامان ہوگا۔ سنتری کو ختم کرنا ہوگا ،پھر آگ لگانی
ہوگی۔ آگ لگانے واال سامان ''نوکرانی'' کے سر پر ہوگا۔ گھوڑے اس طرح بندھے ہوں گے کہ لمبے لمبے رسوں کے سرے
زمین میں دبائے ہوئے ہوں گے اور گھوڑوں کی پچھلی ایک ایک ٹانگ سے زنجیر یا رسی بندھی ہوگی جو رسوں سے گزاری
ہوئی ہوگی۔ ان لمبے رسوں کو خنجروں سے کاٹ دینا ہوگا اور چند ایک گھوڑوں کو خنجر بھی مارنے ہوں گے تاکہ وہ منہ
زور ہوکر بھاگ اٹھیں۔
برجیس نے لڑکیوں کو فورا ً لباس اور حلیہ درست کرنے کو کہا اور ایک کو نوکرانی بنا دیا۔ اس کے منہ اور ہاتھوں پر مٹی اور
سیاہی سی مل دی۔ پھر وہ عثمان صارم اور اس کے ساتھیوں کو ہدایات دینے لگا۔ وہ خود اس کے ساتھ جارہا تھا۔ عثمان
صارم کے باپ نے بھی انہیں کچھ مشورے دیئے۔ پھر سب کو خنجر دیئے گئے۔ خاصا وقت گزر گیا تھا لیکن برجیس کہہ رہا
تھا کہ ابھی شہر جاگ رہا ہے۔ اس جگہ کی رونق اس وقت جاگتی تھی جب شہر سو جاتا تھا۔ تیاریوں میں وقت گزرتارہا
اور روانگی کا وقت ہوگیا۔
سب کو اکیلے اکیلے جانا اور ایک طے شدہ مقام پر ملنا تھا۔ لڑکیوں کا راستہ الگ تھا۔ انہیں اندازا ً وقت بتا دیا گیا تھا جب
انہیں آگ لگانی تھی۔ اس وقت برجیس کی جماعت کو حملے کے مقام پر ہونا چاہیے… یہ بے حد نازک اور خطرناک مہم
تھی جس میں وقت کی غلطی اور کسی کی کوئی بے احتیاطی سب کو ایسے قید خانے میں ڈال سکتی تھی جو جہنم سے
کم نہیں تھا۔ سب سے زیادہ خطرہ لڑکیوں کا تھا کیونکہ وہ لڑکیاں تھیں۔ تصور کیا جاسکتا تھا کہ ان کے پکڑے جانے کی
صورت میں ان کا کیا حشر ہوگا۔ النور نے کہا کہ پکڑے جانے کا خطرہ ہوا تو لڑکیاں اپنے خنجروں سے خودکشی کرلیں گی۔
وہ کفار کے ہاتھ زندہ نہیں آئیں گی۔
شہر پر خاموشی طاری ہوتے ہوتے سارا شہر خاموش ہوگیا۔ کہیں کوئی روشنی نظر نہیں آتی تھی۔ صرف ایک جگہ تھی جہاں
رات کے سکوت کا ذرہ بھر اثر نہیں تھا۔ یہ وہ عمارت تھی جہاں صلیبیوں کی متحدہ کمان کا ہیڈکوارٹر تھا۔ وہیں صلیبی
اعلی کمانڈروں کی رہائش بھی تھی۔ یہ لوگ اس ہال میں ایک ایک کر کے آچکے تھے ،جہاں وہ ہر رات
حکمرانوں اور
ٰ
شراب نوشی اور رقص کی محفل جمایا کرتے تھے۔ اس رات ان کا موضوع دو نئی مسلمان لڑکیاں اور مال واسباب تھا جو
قافلے سے لوٹا گیا تھا… کسی نے پوچھا کہ یہ لڑکیاں کسی اور کام بھی آسکتی ہیں؟ اس کا جواب ایک فوجی کمانڈر نے یہ
دیا کہ لڑکیاں بالغ ذہن کی ہیں ،اس لیے انہیں جاسوسی وغیرہ کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ایک کی عمر سولہ سترہ
سال ہے اور دوسری بائیس تئیس سال۔ کچھ عرصہ تفریح کے لیے استعمال ہوسکتی ہیں۔
اعلی کمانڈر نے کہا… ''وہ ان کے ساتھ شادی کرلیں''
اس کے بعد انہیں اپنے دو فوجی افسروں کے حوالے کردینا''… ایک
ٰ
گے''۔
یہ لڑکیاں ان کے ہنسی مذاق اور غلیظ باتوں کا موضع بنی رہیں اور وہ مسلمانوں کے خالف نفرت کا اظہار کرتے رہے۔ اس
وقت لڑکیاں دو الگ الگ کمروں میں تھیں ،وہ رو رو کر بے حال ہورہی تھیں۔ دونوں کے ساتھ ایک ایک خادمہ تھی ،یہ ادھیڑ
عمر عورتیں بڑی خرانٹ اور اس فن کی ماہر تھیں۔ وہ لڑکیوں کو نہال چکی تھیں اور انہیں رات کا لباس پہنا رہی تھیں۔
لڑکیوں نے کچھ بھی نہیں کھایا تھا ،ان کے آگے ایسے ایسے کھانے رکھے گئے تھے جو انہوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں
دیکھے تھے لیکن انہوں نے کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ دونوں کو ایک دوسرے کے متعلق معلوم نہیں تھا کہ کہاں ہے
اور اس کے ساتھ کیا بیت رہی ہے۔ دونوں عورتیں انہیں بڑے ہی حسین سبز باغ دکھا رہی تھیں۔ ایک کو بتایا جارہا تھا کہ
اسے فرانس کے بادشاہ نے پسند کیا ہے جو اسے
زر و جواہرات سے الد دے گا۔ دوسری کو جرمن کے بادشاہ کی ملکہ بننے کے خواب دکھائے جارہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی
انہیں بڑے پیار سے دھمکیاں بھی دی جارہی تھیں کہ انہوں نے اگر ان بادشاہوں کو ناراض کیا تو وہ انہیں فوجی سپاہیوں کے
حوالے کردیں گے۔
یہ لڑکیاں صحرائی دیہات کی رہنے والی تھیں ،کوئی ایسی بزدل بھی نہیں لیکن بے بس ہوگئی تھیں۔ اپنے تحفظ میں کچھ
بھی کرنے کے قابل نہیں رہی تھیں۔ ان کے ماں باپ اور بڑے بھائی نے ان کی عصمت کی خاطر صلیبی استبداد کے عالقے
سے ہجرت کی تھی مگر صلیبیوں کے پھندے میں آگئے۔ لڑکیاں پکڑی گئیں۔ ماں باپ مارے گئے اور بھائی قید ہوگیا۔ خدا کے
سوا ان کی مدد کرنے واال کوئی نہ تھا۔ وہ قید سے نکل بھاگنے کے بھی قابل نہیں تھیں۔ وہ روتی تھیں تو صرف خدا کو یاد
کرتی اور خدا کو ہی مدد کے لیے پکارتی تھیں۔ اپنی عزت کے عالوہ اپنے بھائی آفاق کے لیے وہ بہت پریشان تھیں۔ اس
وقت آفاق بیگار کیمپ میں تڑپ رہا تھا۔ وہ زخمی تھا اور اسے پیٹا بھی بہت گیا تھا۔ پہلے کے قیدی شام کے وقت روز مرہ
کی مشقت سے آئے تھے۔ انہوں نے ان نئے قیدیوں کو دیکھا ان کی بپتا سنی۔ ان میں صرف آفاق زخمی تھا۔ کسی نے اس
کی مرہم پٹی نہیں کی تھی۔ تین چار قیدیوں نے مرہم اور کچھ دیسی دوائیاں چھپا کررکھی ہوئی تھی۔ رات کو انہوں نے آفاق
کے زخم صاف کیے اور مرہم بھر کر اوپر کپڑے باندھ دئیے۔
آفاق کو اپنے زخموں کا درد محسوس نہیں ہورہا تھا۔ اس کا دھیان اپنی بہنوں کی طرف تھا۔ قیدیوں سے وہ پوچھتا تھا کہ
اس کی بہنیں کہاں ہوں گی اور ان کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہوگا۔ اسے بتایا گیا کہ اس قید خانے کی کوئی دیوار نہیں اور
انہیں بیڑیاں بھی نہیں ڈالی گئیں ،پھر بھی وہ یہاں سے بھاگ نہیں سکتا کیونکہ سنتری گھوم پھر رہے ہیں اور اگر وہ یہاں
سے نکل بھی جائے تو جائے گا کہاں ،کہیں نہ کہیں پکڑا جائے گا۔ اس کی سزا اتنی اذیت ناک موت ہوگی جس کا وہ تصور
بھی نہیں کرسکتا۔ اسے بتایا گیا کہ یہاں کئی کئی سالوں سے قیدی پڑے ہیں جو کرک ہی کے رہنے والے ہیں لیکن بھاگنے
کی جرٔات نہیں کرتے۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ پکڑے نہ گئے تو صلیبی ان کے پورے خاندان کو قید میں ڈال دیں گے۔ ان تمام
مجبوریوں اور خطروں کے باوجود آفاق فرار اور بہنوں کو رہا کرانے کی سوچ رہا تھا۔ اس کا جسم چلنے کے بھی قابل نہیں
تھا۔ قیدی دن بھر کے تھکے ماندے بے ہوشی کی نیند سوگئے اور آفاق جاگ رہا تھا۔
٭ ٭ ٭
لڑکیاں پکڑی نہ گئی ہوں''۔ عثمان صارم نے سرگوشی میں کہا۔''
خدا کو یاد کرو عثمان!'' برجیس نے کہا… ''ہم اس وقت موت کے منہ میں ہیں۔ دل سے تمام خوف نکال دو اور خدا ''
کو دل میں بٹھا لو… تمہیں دوسرے لڑکوں پر بھروسہ ہے؟''۔
پورا بھروسہ''۔ عثمان نے کہا… ''ان کی فکر نہ کرو۔ مجھے لڑکیوں کی فکر ہے''۔''
خدا کو یاد کرو''۔ برجیس نے کہا… ''ہم چوری کرنے نہیں آئے ،اللہ مدد کرے گا''۔''
اس وقت عثمان صارم اور برجیس گھر میں نہیں تھے۔ وہ اس عمارت سے جس میں مغویہ لڑکیاں تھیں ،اتنی دور جھاڑیوں
میں چھپے ہوئے تھے جہاں سے عمارت انہیں اپنے سر پر کھڑی نظر آرہی تھی۔ ان کے سات ساتھی ان سے تھوڑی ہی دور
بکھر کر انہی کی طرح چھپے ہوئے تھے۔ برجیس نے انہیں اچھی طرح بتا دیا تھا کہ کون سے اشارے پر انہیں کیا کرنا ہے۔
عثمان صارم کو ان چار لڑکیوں کا غم تھا جو فوجی سامان اور گھاس کو آگ لگانے کے لیے لے گئی تھیں۔ ان میں اس کی
اپنی بہن النور بھی تھی۔ اس وقت تک آگ لگ جانی چاہیے تھی۔ توقع یہ تھی کہ اگر سکیم کامیاب رہی تو آگ کے شعلے
اٹھیں گے ،پھیلیں گے۔ اس عمارت سے تمام کمانڈر وغیرہ آگ کی طرف بھاگیں گے جو ایک قدرتی ردعمل تھا کیونکہ فوجی
سامان کو آگ لگنے کی صورت میں وہ اپنی محفل عیش وطرب میں مگن نہیں رہ سکتے تھے۔ ان کے جاتے ہی ان نوجوانوں
کو عمارت پر ٹوٹ پڑنا تھا مگر لڑکیوں کو گئے بہت وقت ہوگیا تھا۔ شاید سنتری نے انہیں روک کر واپس بھیج دیا ہوگا۔
لڑکیاں ابھی سنتری تک ہی نہیں پہنچی تھی کیونکہ وہاں سنتری تھا ہی نہیں۔ سنتری کا نہ ہونا خطرہ تھا کیونکہ زندہ رہنے
کی صورت میں وہ انہیں آگ لگاتے پکڑ سکتا تھا۔ لڑکیوں نے سنتری کو ڈھونڈنا شروع کردیا۔ وہ خشک گھاس کے پہاڑوں
جیسے ڈھیروں کے پاس سے گزر رہی تھیں۔ اندھیرے میں انہیں خیموں کے انبار نظر نہیں آرہے تھے۔ وہ اکٹھی جارہی تھیں۔
انہیں ایک جگہ ڈنڈے سے بندھی ہوئی مشعل کا شعلہ نظر آیا۔ وہ ادھر چلی گئیں۔ سنتری سامنے آگیا۔ مشعل کا ڈنڈا زمین
میں گڑھا ہوا تھا۔ سنتری نے مشعل اٹھالی اور لڑکیوں کے قریب آکر انہیں روکا۔ وہ لڑکیوں کا بھڑکیال لباس اور سج دھج دیکھ
کر مرعوب ہوگیا۔ ان کے ساتھ ایک نوکرانی تھی جس نے سر پر گٹھڑی سی اٹھا رکھی تھی۔ سنتری نے ان سے پوچھا کہ
وہ کون ہیں اور کہاں جارہی ہیں۔
معلوم ہوتا ہے ہم غلط راستے پر آگئی ہیں''۔ النور نے بڑی شوخ ہنسی سے کہا… ''شاہ رینالڈ کا دعوت نامہ آیا تھا۔ ہم''
نے رات کو آنے کا وعدہ کیا تھا۔ ذرا دیر ہوگئی تو کسی نے بتایا کہ یہ راستہ چھوٹا ہے۔ یہاں تو آگے معلوم ہوتا ہے کہ
''گھوڑے وغیرہ بندھے ہوئے ہیں ،ہم کدھر جائیں؟
ایک معمولی سے سنتری پر رعب طاری کرنے کے لیے شاہ رینالڈ کا نام ہی کافی تھا۔ وہ جانتا تھا کہ صلیبی بادشاہ کس
قماش کے لوگ ہیں۔ رینالڈ نے ان لڑکیوں کو عیش وعشرت اور ناچ گانے کے لیے بالیا ہوگا۔ لڑکیوں کے لباس ،عمریں اور ان
اعلی حکام کے مطلب کی
کی شکل وصورت اور النور کے بات کرنے کا نڈر اور کھلنڈر سا انداز بتا رہا تھا کہ یہ اس کے
ٰ
لڑکیاں ہیں۔ اس نے انہیں راستہ بتانا شروع کردیا۔ ایک لڑکی اس کے پیچھے ہوگئی اور اتنی زور سے خنجر اس کی پیٹھ میں
گھونپا کہ دل کو چیرتا آگے نکل گیا۔ اس کے ہاتھ سے مشعل گر پڑی۔ النور نے مشعل پر دونوں پائوں رکھ کر اس کا شعلہ
بجھا دیا۔ باقی لڑکیوں نے بھی سنتری کے جسم میں اپنا خنجر داخل کردیا۔ سنتری کی آوازبھی نہ نکلی۔ برجیس نے انہیں
بتایا تھا کہ گھاس کو آگ لگے گی تو اس کی روشنی میں انہیں خیموں کے ڈھیر اور گاڑیاں نظر آجائیں گی۔ گھاس کے پہاڑ
تو انہیں اندھیرے میں بھی نظر آرہے تھے جو لڑکی نوکرانی بنی ہوئی تھی ،اس نے جلدی سے سر سے گٹھڑی اتاری۔ اس
میں آتش گیر مادہ اور آگ لگانے کا سامان تھا۔
انہوں نے گھاس کے ایک ڈھیر کو آگ لگا دی۔ پھر دوسرے اور تیسرے کو اور ذرا سی دیر میں تمام ڈھیروں کو آگ لگ گئی۔
اب خطرہ بڑھ گیا تھا کیونکہ روشنی ہوگئی تھی۔ تھوڑی دور انہیں لپٹے ہوئے خیموں کے ڈھیر نظر یہ کپڑا تھا۔ اسے آگ لگانا
مشکل نہ تھا۔ خیمے بھی جلنے لگے۔ خالی گھوڑا گاڑیں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی تھیں۔ لڑکیوں میں غیرمعمولی پھرتی
آگئی تھی۔ انہوں نے تین چار گاڑیوں پر آتش گیر مادہ پھینکا اور آگ لگا دی۔ اتنی دیر میں گھاس کے شعلے آسمان تک
پہنچنے لگے۔ لڑکیاں گھوڑوں کی طرف بھاگیں۔ ابھی تک کوئی بیدار نہیں ہوا تھا۔ لڑکیوں نے خنجروں سے وہ لمبے لمبے رسے
کاٹ دیئے جن کے سرے زمین میں دبے ہوئے تھے اور ہر رسے کے ساتھ چالیس سے پچاس گھوڑے بندھے ہوئے تھے۔ لڑکیوں
نے چند ایک گھوڑوں کو خنجر مارے۔ وہ بدک کر اور شعلوں کے ڈر سے ہیبت ناک آوازسے ہنہنانے لگے اور اندھا دھند
بھاگنے لگے۔ جو گھوڑے کھل نہ سکے ،انہوں نے اودھم بپا کردیا۔ معلوم نہیں کتنے گھوڑے کھل کر ادھر ادھر دوڑنے اور ہنہنانے
لگے۔ اونٹ کھلے تھے اور آرام سے بیٹھے تھے۔ وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور اندھا دھند بھاگنے لگے۔
چاروں لڑکیاں بے لگام گھوڑوں اور بے مہار اونٹوں کے نرغے میں آگئیں۔ دوسری طرف شعلے تھے جن کی تپش دور سے بھی
جسموں کو جالتی تھی اور جانوروں کے اس قدر زیادہ شوروغل اور دھماکوں جیسے ٹاپوئوں سے فوج بیدار ہوگئی۔
مغویہ لڑکیوں کو دلہنیں بنا دیا گیا تھا ،دونوں کے کمروں میں بیک وقت ایک ایک آدمی داخل ہوا۔ یہ صلیبیوں کے جنگجو
حکمران تھے۔ وہ شراب میں بدمست تھے ،خادمائیں باہر نکل گئیں ،لڑکیاں کمروں میں بھاگ دوڑ کر پناہیں ڈھونڈنے لگیں۔ ان
کی عصمت کا پاسبان خدا کے سوا کوئی نہ تھا۔ ایک لڑکی دوزانو گر پڑی اور ہاتھ جوڑ کر رو کر خدا کو مدد کے لیے پکارا۔
صلیبی نے قہقہہ لگایا اور اس کی طرف بڑھا… باہر اسے شوروغل سنائی دیا۔ یہ غیرمعمولی شور تھا۔ اس نے دروازہ کھول کر
دیکھا تو ایسے لگا جیسے پورے شہر کو آگ لگ گئی ہو۔ گھوڑوں اور اونٹوں کی خوف زدگی کا یہ عالم کہ کچھ گھوڑے اس
بلندی پر بھی چڑھ آئے جس پر یہ عمارت تھی۔ اس کا نشہ فورا ً اتر گیا۔ دوسرا بھی باہر نکل آیا۔ دو تین آدمی دوڑتے آئے
اور گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا کہ گھاس ،خیموں اور گاڑیوں کو آگ لگ گئی ہے۔ دوڑتے ہوئے جانوروں نے کئی آدمیوں کو
کچل دیا ہے۔
اگر آگ شہر کو لگتی تو یہ حکام پروانہ کرتے ،وہاں فوج کا سامان جل رہا تھا اور فوج کے سینکڑوں جانور کھل گئے تھے۔
ذرا سی دیر میں تمام حکمران اور کمانڈر اور وہاں جو کوئی بھی تھا دوڑتے نکل گئے۔ وہ اپنی نگرانی میں آگ بجھانے کا
بندوبست کرنا چاہتے تھے۔ اس عمارت کے اردگرد جو مسلح پہرہ تھا وہ بھی وہاں سے ہٹ گیا۔ باڈی گارڈز بھی اپنے حکام
کے پیچھے دوڑتے گئے۔ برجیس نے بلند آواز سے پکارا… ''تم بھی چلو''… اور وہ عمارت کی طرف اٹھ دوڑا۔ اس کے آٹھ
جوان بھی دوڑ پڑے۔ ان کے ہاتھو ں میں خنجر تھے۔ عمارت کے برآمدوں میں جاکر اس نے اپنے ان دو ساتھیوں کو پکارنا
شروع کردیا جو وہاں عیسائیوں کے بھیس میں مالزم تھے۔ ان میں سے ایک مل گیا۔ اس نے برجیس کو پہچان لیا۔ برجیس
نے اس سے پوچھا کہ آج جو لڑکیاں یہاں الئی گئی ہیں۔ وہ کہاں ہیں۔ اسے معلوم نہیں تھا۔ اس نے کمرے دکھا دئیے اور
خود بھی ساتھ ہولیا۔ وہاں اب سہولت یہ پیدا ہوگئی تھی کہ کوئی ذمہ دار آدمی موجود نہ تھا۔ پیچھے نوکر چاکررہ گئے تھے
جو آگے جاکر بلندی سے آگ کا تماشہ دیکھ رہے تھے۔ برجیس کی سکیم پوری طرح کامیاب تھی۔
وہ مالزم کی رہنمائی میں ان کمروں میں جانے لگے جہاں لڑکیاں ہوتی تھیں ،وہاں برآمدوں میں کچھ لڑکیاں کھڑی تھی۔ ان
میں بعض نیم برہنہ تھیں ،ان سے پوچھا گیا کہ آج جو لڑکیاں آئی ہیں وہ کہاں ہیں؟ انہیں بھی معلوم نہ تھا۔ آخر ایک
کمرے میں گئے تو ایک لڑکی مل گئی۔ وہ کمرے میں دبکی ہوئی تھی۔ عثمان صارم اور اس کے بعض ساتھیوں نے اسے دن
کے وقت دیکھا تھا۔ جب ان دونوں کو لٹے ہوئے قافلے کے ساتھ لے جایا جارہا تھا۔ برجیس کی پارٹی کے تمام آدمی نقاب
پوش تھے۔ انہیں دیکھ کر لڑکی نے چیخ ماری۔ برجیس نے اسے بتایا کہ وہ مسلمان ہیں اور اسے رہا کرانے آئے ہیں۔ مگر وہ
لڑکی اتنی ڈری ہوئی تھی کہ ان کے ہاتھ نہیں آرہی تھی۔ انہوں نے اسے زبردستی اٹھا لیا۔ دوسرے کمرے میں اس کی بہن
مل گئی اس کا ردعمل بھی یہی تھا۔ اسے بھی زبردستی اٹھایا گیا۔ دوسری لڑکیاں جو ایک عرصے سے صلیبیوں کے پاس
تھیں یہ منظر دیکھ رہی تھیں۔ وہ آدمیوں کو ڈاکو سمجھ کر ادھر ادھر بھاگ گئیں۔ مغویہ بہنیں چیخ وپکار کررہی تھیں۔ انہیں
برجیس نے غصے سے کہا کہ وہ سب مسلمان ہیں انہیں مسلمان گھرانوں میں لے جاکر چھپائیں گے۔ بڑی ہی مشکل سے
انہیں خاموش کیا گیا اور جانبازوں کی یہ جماعت وہاں سے نکل گئی۔
٭ ٭ ٭
آگ کا منظر بے حد خوفناک تھا ،شعلے توقع سے کہیں زیادہ اونچے جارہے تھے اور دوردور تک پھیل گئے اور پھیلتے ہی
چلے جارہے تھے۔ گھوڑوں اور اونٹوں نے سارے شہر میں قیامت بپا کرکھی تھی۔ سارا شہر جاگ اٹھا تھا۔ گلیوں میں ،سڑکوں
پر اور میدانوں میں ان جانوروں نے اس قدر دہشت گردی پھیال دی تھی کہ لوگ دبک کر گھروں میں بیٹھ گئے تھے اور آگ
نے جو دہشت پھیالئی تھی ،اس سے بعض لوگ گھروں سے بھاگنے کی تیاریاں کرنے لگے تھے۔ افراتفری اور بھگدڑ مچی ہوئی
تھی۔
سلطان ایوبی کے جاسوس بھی وہاں موجود تھے۔ وہ عقلمند اور موقع شناس تھے۔ انہوں نے آگ ،بھاگتے دوڑتے جانور اور
افراتفری دیکھی تو یہ معلوم کیے بغیر کہ یہ معاملہ کیا ہے ،یہ مشہور کردیا کہ صالح الدین ایوبی کی فوجیں شہر میں داخل
ہوگئی ہیں اور شہرکو آگ لگا رہی ہیں۔ یہ افواہ مسلمانوں کے لیے حوصلہ افزا تھی۔ عیسائیوں اور یہودیوں کے ہوش اڑ گئے۔
یہ افواہ آگ کی طرح سارے شہر میں پھیل گئی۔ غیرمسلموں نے بھاگنا شروع کردیا۔
اعلی حکام آگے کی جگہ پہنچے تو وہاں کوئی انسان نہیں تھا۔ انہوں نے بھی یہی سمجھا کہ مسلمانوں
صلیبی حکمران اور
ٰ
کی فوج قلعے میں کہیں نقب لگا کر اندر آگئی ہے۔ انہوں نے فوج کو قلعے کے دفاع کے لیے جنگی ترتیب میں فورا ً چلے
جانے کا حکم دیا اور اسی فوج کے کچھ حصے کو قلعے کے باہر جانے کو کہا۔ دو تین کمانڈر دوڑ کر قلعے کی دیوار پر
چڑھے اور باہر دیکھا۔ باہر خاموشی تھی۔ کسی طرف سے حملہ نہیں ہوا تھا۔ قلعے کا عقبی دروازہ کھول دیا گیا تاکہ فوج
باہر جاسکے۔ رات کے وقت قلعے کا دروازہ نہیں کھوال جاتا تھا لیکن اس خیال سے دروازہ کھول دیاگیا کہ سلطان ایوبی کا
کوئی جانباز دستہ اندر آگیا ہے جس نے بھگدڑ مچا دی ہے۔ یہ باہر کے حملے کا پیش خیمہ ہے ،فوج آرہی ہوگی۔ اس فوج
کو شہر سے دور روکنے کے لیے صلیبیوں نے رات کو ہی فوج باہر بھیج دی اور دروازہ کھولنے کا خطرہ مول لے لیا۔ یہ فیصلہ
دراصل گھبراہٹ میں کیا گیا تھا اور یہ ایک غلط فیصلہ تھا۔ بعض غیرمسلموں نے جو عقب دروازے کے قریب تھے ،دیکھ لیا
کہ وہ دروازہ کھل گیا ہے۔ وہ اندھا دھند دروازے کی طرف بھاگے۔ انہیں دیکھ کر دوسرے شہری بھی ان کے پیچھے گئے۔ وہاں
سے فوج گزر رہی تھی۔ شہریوں کا سیالب آگیا جسے کوئی نہ روک سکا۔
آگ پھیلتی جارہی تھی ،گھوڑا گاڑیوں کے قریب ہی رسد کی بوریوں کے انبار تھے۔ بہت سا دیگر اقسام کا سامان بھی پڑا
تھا۔ آگ پر قابو پانا ضروری تھا۔ شہری گھروں میں چھپ گئے تھے یا بھاگ رہے تھے۔ یہ کام فوج کرسکتی تھی۔ فوج کی
کچھ نفری کو بال لیا گیا اور اس کے ساتھ ہی کسی کو ان مسلمان قیدیوں کا خیال آگیا جو بیگار کیمپ میں پڑے ہوئے تھے۔
فورا ً حکم دیا گیا کہ قیدیوں کو اس اعالن کے ساتھ لے آئو کہ وہ آگ پر قابو پالیں تو انہیں صبح کے وقت رہا کردیا جائے
گا۔ قیدی باہر کے شور سے جاگ اٹھے تھے اور سنتری انہیں ڈنڈے مار مار کر سوجانے کو کہہ رہے تھے۔ اتنے میں حکم آگیا
کہ قیدیوں کو پانی النے اور آگ پر پھینکنے کے لیے لے چلو۔ رہا کا اعالن بھی کیا گیا ،ان میں آفاق بھی تھا۔ اس کا جسم
ٹھنڈا ہوکر اور زیادہ دکھنے لگا تھا۔ اس نے ایک قیدی سے کہا… ''صلیبیوں کی ساری سلطنت جل جائے میں آگ بجھانے
نہیں جائوں گا''۔
پاگل نہ بنو''… ایک قیدی نے اسے کہا… ''ان لوگوں نے کہہ دیا ہے کہ آگ بجھائو اور کل رہا ہوجائو لیکن یہ دھوکہ ''
ہے۔ یہ کافر جھوٹ بولتے ہیں ،تم ہمارے ساتھ چلو اور بھاگ نکلو۔ ہم نہیں بھاگ سکتے کیونکہ یہ لوگ ہمارے گھروں سے
واقف ہیں ،تم نکل جانا''۔
جائوں گا کہاں''۔''
قیدی نے اسے اپنے گھر کا پتہ بتا کر کہا… ''میں کوشش کروں گا کہ موقع محل دیکھ کر تمہیں اپنے گھر پہنچا دوں لیکن
وہاں زیادہ دن نہ رکنا کیونکہ صلیبی میرے سارے کنبے کو سزا دیں گے''۔
قیدیوں کو صلیبی لے گئے اور انہیں تقسیم کرکے مختلف کنوئوں پر لے جایا گیا۔ فوجی پانی نکال رہے تھے ،قیدیوں نے
مشکیزے اٹھانے شروع کردیئے۔ وہ دوڑ دوڑ کر جاتے اور آگ پر پانی پھینکتے تھے۔ ایک دو چکروں میں سنتری ان کے ساتھ
رہے مگر یہ ممکن نہیں تھا۔ قیدی اور فوجی گڈ مڈ ہوگئے۔ کسی کو کسی کا ہوش نہ رہا۔ صلیبی کمانڈر گھبراہٹ میں سب
کو گالیاں دے رہے تھے۔ اتنے میں گھوڑوں کا ڈرا ہوا ریوڑ دوڑتا ہوا آیا۔ آگ بجھانے والے قیدی اور فوجی ان کی زد میں
آگئے۔ سب ادھر ادھر بھاگ اٹھے۔ بعض کچلے بھی گئے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آفاق کو وہ پرانا قیدی اپنے ساتھ لے
گیا۔ مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہ تھا۔ وہ خوش تھے کہ مسلمان فوج آگئی ہے۔ قیدی اپنے گھر میں د اخل ہوا۔ اس کا سارا
خاندان جاگ رہا تھا۔ اسے دیکھ کر سب بہت مسرور ہوئے لیکن اس نے آفاق کو ان کے حوالے کرکے کہا… ''اسے چھپالو
اور جلدی شہر سے نکال دینا۔ میں نہیں رک سکتا۔ صلیبیوں نے کل رہائی کا وعدہ کیا ہے۔ اسے ابھی کوئی نہیں جانتا ،اگر
میں یہاں رک گیا تو شاید کبھی بھی رہائی نہیں ملے گی''۔
کیا یہ سچ ہے کہ صالح الدین ایوبی کی فوج اندر آگئی ہے؟''… قیدی کے باپ نے پوچھا۔'' :
کچھ پتا نہیں''… قیدی نے جواب دیا… ''آگ بہت زور کی ہے ،معلوم نہیں کب بجھے گی''۔''
اگر ہماری فوج نہیں آئی تو پھر ہم یہ خطرہ کیسے مول لے سکتے ہیں؟''… قیدی کے باپ نے کہا۔''
یہ آدمی خود ہی نکل جائے گا''… قیدی نے کہا… ''یہ کل یہاں سے نکل جائے گا''۔''
اس کا ہمیں کوئی خطرہ نہیں''… قیدی کے باپ نے کہا… ''ابھی ابھی تمہارا چھوٹا بھائی دو مسلمان لڑکیوں کو الیا ہے۔''
انہیں اس نے اور صارم کے بیٹے عثمان نے اور ان کے دوستوں نے صلیبیوں کے شاہی خانے سے اغوا کیا ہے۔ دونوں کو ہم
نے گھر میں چھپا لیا ہے''۔
کون ہے وہ لڑکیاں؟ ''… قیدی نے پوچھا۔''
کہتے ہیں انہیں کل ایک قافلے سے صلیبیوں نے اغوا کیا تھا''… باپ نے جواب دیا… ''ان کا بھائی سنا ہے ،قید میں ''
ہے''۔
''آفاق نے تڑپ کر پوچھا… ''کہاں ہیں وہ لڑکیاں؟
ذرا سی دیر میں آفاق اپنی بہنوں کو گلے لگا رہا تھا ،خدا نے ان کی فریادیں سن لی تھیں ،یہ بڑا ہی جذباتی منظر تھا۔ ان
کے ماں باپ مارے گئے تھے۔ وہ لٹ گئے تھے۔ انہیں ایسی معجزہ نما مالقات کی توقع نہیں تھی… جس قیدی کا یہ گھر
تھا ،وہ دوڑ کر باہر نکل گیا۔ وہ قید سے بھاگنا نہیں چاہتا تھا۔ اس کا چھوٹا بھائی ،برجیس اور عثمان صارم کے ساتھ تھا۔
وہ لڑکیوں کو گھر چھوڑ کر کہیں چال گیا تھا۔
وہ اچانک آگیا ،اس نے لڑکیوں سے کہا… ''فورا ً اٹھو شہر سے نکلنے کا موقع پیدا ہوگیا ہے''… آفاق کے متعلق اسے بتایا
گیا کہ ان لڑکیوں کا بھائی ہے اور قید سے فرار ہوکر آیا ہے۔ اس نے آفاق کو بھی اپنے ساتھ لیا اور باہر لے گیا۔ باہر تین
گھوڑے تھے۔ یہ برجیس کا انتظام تھا۔ اس نے دونوں بہنوں کو گھوڑوں پر سوار کیا اور جب تیسرے گھوڑے پر خود سوار ہونے
لگا تو اسے آفاق کے متعلق بتایا گیا۔ اس نے آفاق کو تیسرے گھوڑے پر سوار کیا اور خود چل پڑا اس نے اتنا ہی کہا…
'' خدا حافظ دوستو! زندہ رہے تو پھر ملیں گے''… اور وہ دوڑ پڑا۔ وہ شہر کے عقبی دروازے کی طرف جارہا تھا ،جہاں سے
ڈرے ہوئے شہریوں کا جلوس باہر کو بھاگا جارہا تھا۔ یہ دروازہ برجیس نے پہلے سے دیکھ رکھا تھا۔ شہر سے نکلنے کا موقع
پیدا ہوگیا تھا۔ اس نے کہیں سے تین گھوڑے پکڑے اور لے آیا۔ کسی صلیبی کمانڈر نے دیکھ لیا کہ شہری تو بھاگ رہے ہیں
اس نے ذروازہ بند کرنے کا حکم دے دیا۔ برجیس جب وہاں پہنچا تو دروازہ آہستہ آہستہ بند ہورہا تھا اور شہریوں کا ایک
ہجوم دروازے میں پھنس گیا تھا۔ ایک واویال بپا تھا ،برجیس نے چالنا شروع کردیا… ''پیچھے سے فوج آرہی ہے ،دروازہ کھول
دو ،بھاگو۔ مسلمان آرہے ہیں'' ۔ ہجوم نے آگے کو زور لگایا تو بند ہوتے ہوتے دروازہ کھل گیا۔ انسان رکے ہوئے دریا کی طرح
بند توڑ کر نکل گئے۔
باہر نکل کر برجیس نے آفاق سے کہا کہ کسی ایک بہن کے پیچھے سوار ہوجائو اگر میں تمہارے ساتھ سوار ہوا تو ایک
گھوڑے پر دو مردوں کا وزن زیادہ ہوجائے گا۔ ہمارا سفر لمبا ہے۔ آفاق ایک بہن کے پیچھے سوار ہوگیا۔ دوسری سے اس نے
کہا کہ وہ سواری سے ڈرے نہیں ،گھوڑا اسے گرائے گا نہیں۔ انہوں نے گھوڑے دوڑادئیے۔ برجیس کو معلوم تھا کہ راستے میں
صلیبی فوج خیمہ زن ہے ،اسے یہ بھی معلوم تھا کہ کون سی جگہ فوج نہیں ہے۔ وہ اس سمت ہولیا۔ کرک کے بھاگے ہوئے
لوگ ادھر ادھر بکھرتے جارہے تھے۔ شعلوں کی روشنی دور دور تک جارہی تھی۔ آفاق اور لڑکیوں کو معلوم نہیں تھا کہ انہیں
کس طرح رہا کرایا گیا ہے۔ برجیس خاموش تھا۔ وہ اگر بولتا تو صرف اتنا کہ آفاق سے اس کی خیریت پوچھتا تھا اور اس
کی جو بہن گھوڑے پر اکیلی سوار تھی اس سے پوچھ لیتا تھا کہ وہ ڈر تو نہیں رہی۔ کرک کے شعلے پیچھے ہٹتے جارہے
تھے اور رات گھوڑوں کی رفتار کے ساتھ گزرتی جارہی تھی۔
٭ ٭ ٭
صبح طلوع ہوئی تو برجیس سلطان ایوبی کی فوج کے عالقے میں داخل ہوچکا تھا ،اس نے ایک کمان دار سے اپنا تعارف
کرایا اور سلطان ایوبی کے متعلق پوچھا کہ کہاں ہوگا۔ کمان دار اسے اپنے دستوں کے کمان دار کے پاس لے گیا ،جس نے
اسے بتا دیا کہ سلطان ایوبی کہاں ہوسکتا ہے۔ برجیس اپنی اس کامیابی پر بے حد خوش تھا۔ اس نے صرف لڑکیوں کو
صلیبیوں سے آزاد نہیں کرایا تھا بلکہ کرک میں آتش زنی جیسی تخریبی کارروائی کرکے صلیبی فوج کے غیرمسلم شہریوں کو
جذبے پر خوف طار ی کرآیا تھا۔ وہ سلطان ایوبی کو یہ مشورہ دینا چاہتا تھا کہ کرک پر فورا ً حملہ کردیا جائے۔
کرک کی صبح بڑی بھیانک تھی۔ شعلوں کی بلندی اورتندی ختم ہوگئی تھی لیکن آ گ ابھی تک سلگ رہی تھی۔ صلیبی فوج
کی رسد اور جانوروں کا تمام تر خشک چارہ جل گیا تھا۔ خیموں کے عالوہ بے شمار جنگی سامان نذر آتش ہوگیاتھا۔ کچھ
اونٹ زندہ جل گئے تھے۔ تمام گھوڑے اور اونٹ رات بھر دوڑ دوڑ کر تھک گئے اور اب سارے شہر میں آوارہ پھر رہے تھے۔
جگہ جگہ ان لوگوں کی الشیں پڑی تھیں جو بے لگام گھوڑوں اور بے مہار اونٹوں کی زد میں آکر کچلے گئے تھے۔ فوجی اور
قیدی ابھی تک کنوئوں سے پانی الال کر آگ پر پھینک رہے تھے۔ صلیبی حکام ابھی تک یہ سمجھ رہے تھے کہ سلطان ایوبی
کی فوج اندر آگئی ہے لیکن وہاں ایسے کوئی آثار نہیں تھے۔ انہوں نے قلعے کی دیواروں پر جاکر ہر طرف دیکھا۔ باہر صلیبیوں
کی اپنی فوج قلعے کے اردگرد موجود تھی۔ اسالمی فوج کا دور دور تک نام ونشان نہ تھا۔ اب یہ تفتیش کرنی تھی کہ آگ
کس طرح لگی۔
اس سنتری کی الش ملی جسے لڑکیوں نے خنجروں سے ہالک کیا تھا لیکن گھوڑوں اور اونٹوں نے اسے ایسی بری طرح روندا
تھا کہ خنجروں کے زخم پہچانے نہیں جاتے تھے۔ اس سے تھوڑی دور چار زنانہ الشیں ملیں۔ یہ اس میدان میں پڑی ہوئی
تھیں جہاں گھوڑے اور اونٹ باندھے جاتے تھے۔ یہ تفتیش کرنے واال حاکم کوئی معمولی آدمی نہیں بلکہ صلیبیوں کی انٹیلی
جنس کا ڈائریکٹر ہرمن تھا۔ اس میدان میں الشیں تو اور بھی پڑی تھیں لیکن اسے چار عورتوں کی الشیں ملیں۔ ان کے
چہرے گھوڑوں کے پائوں تلے آ آ کر مسخ ہوگئے تھے۔ جسم کا کوئی حصہ سالمت نہیں تھا۔ یہ الشیں ایک دوسری سے دور
دور پڑی تھیں۔ ان کے کپڑے تارتار ہوگئے تھے۔ خاک وخون میں ان کا اصل رنگ نظر نہیں آتا تھا۔ اتنا ہی پتا چلتا تھا کہ
یہ زنانہ کپڑے ہیں۔ الشیں دیکھ کر بھی یہ ثبوت ملتا تھا کہ یہ عورتوں کی ہیں۔ سب کے جسموں سے کھال اکھڑی ہوئی اور
کئی جگہوں سے گوشت باہر آیا ہوا تھا۔ کئی ہڈیاں ننگی ہوگئی تھیں اور ٹوٹی ہوئی بھی تھیں۔ ہر الش کے گلے میں زنجیر
اور زنجیر کے ساتھ ایک چھوٹی صلیب بندھی ہوئی تھی۔ یہ صلیبیں اس امر کا ثبوت تھا کہ عورتیں عیسائی تھیں۔
ہرمن اور فوجی افسر حیران تھے کہ عورتوں کی الشیں یہاں کیوں پڑی ہیں۔ یہ فوجی عالقہ تھا اور اس طرف سے کسی
شہری کو گزرنے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی یہ عام گزرگاہ تھی۔ یہ تو جانوروں اور رسد وغیرہ کی جگہ تھی ،وہاں چند
اور الشیں بھی پڑی تھیں وہ فوجیوں کی تھیں۔ عورتیں رات کے وقت ادھر کیوں آئیں؟… اس سوال کا جواب دینے واال کوئی
نہ تھا۔ صرف قیاس آرائی کی جاسکتی تھی جو کی گئی۔ کہا گیا کہ فوجی پیشہ ور عورتوں کو ادھر لے آئے ہوں گے مگر
اصل مسئلہ تو یہ تھا کہ آگ کس طرح لگی۔ شہر کے مسلمانوں پر شک کیا جاسکتا تھا لیکن مجرموں کا سراغ لگانا آسان
نہیں تھا۔ حکم دے دیا گیا کہ خفیہ پولیس اور فوج کے سراغ رساں شہر میں مشتبہ مسلمانوں کی چھان بین کریں اور جس پر
ذرا بھی شک ہو اسے قید میں ڈال کر تحقیقات کریں۔
النور اور اس کی تینوں لڑکیوں کے گھر والے بہت پریشان تھے۔ لڑکیاں واپس نہیں آئی تھیں ،ڈر یہ تھا کہ پکڑی نہ گئی ہوں۔
انہوں نے اپنا فرض مکمل کامیابی سے ادا کیا تھا لیکن وہ ابھی تک الپتہ تھیں۔ عثمان صارم اور اس کے دوست ان
تماشائیوں کے ہجوم میں جاکھڑے ہوئے جو آتش زدہ جگہ کھڑے تھے۔ وہاں انہیں پتا چال کہ چار عورتوں کی الشیں ملی ہیں۔
تھوڑی دیر بعد اعالن ہوا کہ چار عورتوں کی الشیں فالں جگہ رکھ دی گئی ہیں۔ تمام شہری انہیں دیکھ کر پہچاننے کی
کوشش کریں۔ تماشائیوں کا ہجوم ادھر چال گیا۔ عثمان صارم اور اس کے دوستوں نے اکٹھی رکھی ہوئی چار الشوں کو دیکھا۔
ان کی صلیبیں ان کے سینوں پر رکھ دی گئی تھیں۔ کوئی بھی کسی الش کو نہ پہچان سکا۔ پہچاننے کے لیے وہاں کچھ تھا
ہی نہیں۔ چہروں سے بھی کھال اتری ہوئی تھی ،بعض کے چہرے اندر کو پچک گئے تھے۔
عثمان صارم کے آنسو نکل آئے ،وہ تماشائیوں میں سے نکل گیا۔ اس کے دوست بھی اس سے جاملے۔ ان سب کو معلوم تھا
کہ یہ الشیں کن کی ہیں۔ ان میں ایک عثمان صارم کی بہن النور کی الش تھی۔ باقی تین الشیں اس کی سہیلیوں کی تھیں۔
چاروں رات کو اپنا فرض ادا کر کے شہید ہوگئی تھیں۔ ان کی شہادت کا عینی شاہد کوئی بھی نہیں تھا۔ الشوں کی حالت
جو کہانی بیان کرتی تھی وہ کچھ ا س طرح ہوسکتی تھی کہ ان لڑکیوں نے سنتری کو ہالک کرکے آگ لگائی۔ بعد میں
گھوڑوں کے رسے کاٹے اور انہی گھوڑوں کی بھگدڑ کی زد میں آگئیں۔ معلوم نہیں کتنے سو گھوڑے اور اونٹ الشوں کو روندتے
رہے۔ دو لڑکیوں کی عصمت بچانے کے لیے چار لڑکیاں قربان ہوگئیں۔ برجیس نے اپنے ہاتھوں ان لڑکیوں کے گلوں میں صلیبیں
لٹکائی تھیں تاکہ بوقت ضرورت وہ صلیبیں دکھا کر ظاہر کرسکیں کہ وہ عیسائی ہیں۔
ان لڑکیوں کا جنازہ نہیں پڑھایاگیا۔ انہیں صلیبیوں نے عیسائی سمجھ کر اپنے قبرستان میں کہیں دفن کردیا۔ ان کے لواحقین نے
ماتم نہیں کیا۔ ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی۔ گھروں میں غائبانہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔ چاروں لڑکیوں کے باپوں
نے ایک ہی جیسے جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسالم کے نام پر وہ چار بیٹے قربان کرنے کو تیار ہیں مگر ان سے
جو قربانی لی جانے لگی وہ بڑی ہی اذیت ناک تھی۔ صلیبی فوج نے تمام مسلمان گھروں کی خانہ تالشی شروع کردی۔ خطرہ
تھا کہ جو ہتھیار انہوں نے گھروں میں چھپا رکھے ہیں ،وہ پکڑے جائیں گے۔ سب نے ہتھیار اندرونی کمروں کے فرش کھود کر
دبا دئیے۔ دوسرا خطرہ یہ تھا کہ جو چار لڑکیاں شہید ہوگئی تھیں ،ان کے متعلق جواب دینا مشکل تھا کہ کہاں چلی گئی
ہیں۔ آگ کی رات کے دوسرے ہی دن امام کو جب لڑکیوں کی شہادت کی خبر سنائی گئی تو اس نے پہلی بات یہ کہی…
'''' تمہارے غیرمسلم پڑوسی اور مسلمان مخبر ضرور پوچھیں گے کہ لڑکیاں کہاں ہیں تو کیا جواب دو گے؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
19:55
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
" قسط نمبر50.۔" رینی الیگزینڈر کا آخری معرکہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
لڑکیاں کہاں ہیں تو کیا جواب دو گے؟'' امام دانشمند اور دوراندیش انسان تھا ،اس نے گہری سوچ کے بعد کہا… ''چاروں
لڑکیوں کے باپ اور بھائی میرے ساتھ آئیں''… وہ آگئے تو اس نے سب کو ایک طریقہ بتایا اور کچھ باتیں ذہن نشین کرائیں۔
وہ سب کو صلیبیوں کی انتظامیہ کے دفتر میں لے گیا اور وہاں کے سب سے بڑے حاکم سے مالقات کی اجازت لے کر بڑے
غصے اور جذباتی لہجے میں کہا… ''میں ان لوگوں کا امام ہوں ،یہ میرے پاس فریاد لے کر آئے ہیں کہ رات آگ لگی تو یہ
سب آگ بجھانے کے لیے اٹھ دوڑے۔ یہ رات بھر کنوئوں سے پانی نکالتے رہے ،شہر میں بھگدڑ مچ گئی۔ کسی کو کسی کا
ہوش نہ رہا۔ یہ لوگ صبح کے وقت گھروں کو گئے تو انہیں پتا چال کہ آپ کی فوج کے کچھ آدمی ان کے گھروں میں گھس
گئے اور ان کی کنواری لڑکیاں اٹھا کر لے گئے۔ ہماری چار لڑکیاں الپتہ ہیں''۔
ہماری فوج پر الزام لگانے سے پہلے سوچ لو''… صلیبی حاکم نے رعب سے کہا۔''
جناب! میں مذہبی پیشوا ہوں''… امام نے کہا… ''میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں دھتکار سکتے ہیں اور اپنی''
فوج کو بے گناہ کہہ سکتے ہیں لیکن خدا سے آپ کوئی اچھا برا عمل نہیں چھپا سکتے۔ آپ ہمارے حاکم ہیں۔ خدا تو
نہیں۔ ان لوگوں نے آپ کی فوج کو نقصان سے بچانے کے لیے ساری رات آگ سے لڑائی لڑی۔ آپ انہیں یہ صلہ دے رہے
ہیں کہ یہ بھی تسلیم نہیں کرنا چاہتے کہ ان کی لڑکیوں کو آپ کے فوجی اٹھالے گئے ہیں''۔
کچھ دیر بحث کے بعد حاکم نے انہیں کہا کہ ان لڑکیوں کو تالش کیا جائے گا۔ امام اس سے یہی کہلوانا چاہتا تھا۔ باہر آکر
جب وہ واپسی کے لیے چلے تو امام نے سب سے کہا کہ اب یہی مشہور کردو کہ رات ان کی لڑکیاں اغوا ہوگئی ہیں۔
چنانچہ یہی مشہور کردیا گیا۔ ان کے پڑوس میں رہنے والے غیرمسلموں نے یقین کرلیا۔ رات شہر کی حالت ہی ایسی تھی کہ
لوٹ مار اور اغواء آسانی سے کی جاسکتی تھی۔
٭ ٭ ٭
برجیس سلطان ایوبی کے خیمے میں بیٹھا تھا ،آفاق کی مرہم پٹی سلطان ایوبی کا جراح کرچکا تھا۔ آفاق کی دونوں بہنیں بھی
خیمے میں بیٹھی تھیں۔ برجیس رات کا کارنامہ سنا چکا تھا۔ سلطان ایوبی بار بار لڑکیوں کو دیکھتا تھا۔ ہر بار اس کی
آنکھیں سرخ ہوجاتی تھیں۔ برجیس نے کہا کہ وہ کرک کو ایسی افراتفری اور بھگدڑ میں چھوڑ آیا ہے کہ فوری طور پر حملہ
کیا جائے تو حملہ کامیاب ہوسکتا ہے۔ شہر میں فوجوں کے لیے رسد نہیں رہی۔ جانوروں کے لیے چارہ نہیں رہا ،جانور ڈرے
ہوئے ہیں ،شہر پر خوف طاری ہے۔ فوجی بھی ڈری ہوئی ہے۔
سلطان ایوبی گہری سوچ میں کھوگیا۔ بہت دیر بعد اس نے سراٹھایا اور اپنے نائبین اور مشیروں کو بالیا۔ اس نے پہال حکم یہ
دیا کہ ان لڑکیوں اور ان کے بھائی کو قاہرہ روانہ کردیا جائے اور ان کی رہائش اور وظیفے کا انتظام کیا جائے۔
آپ میری بہنوں کو اپنی عافیت میں لے لیں''… آفاق نے کہا… ''میں آپ کے ساتھ رہوں گا ،مجھے اپنی فوج میں ''
شامل کرلیں۔ مجھے اپنی ماں اور باپ کے خون کا انتقام لینا ہے۔ اگر آپ مجھے کرک میں داخل کرسکیں تو میں اندر تباہی
مچا دوں گا''۔
جنگ جذبات سے نہیں لڑی جاتی''… سلطان ایوبی نے کہا… ''بڑی لمبی تربیت کی ضرورت ہے۔ تم صرف اپنی ماں اور ''
اپنے باپ کے خون کا انتقام لینے کو بیتاب ہو ،مجھے ان تمام باپوں اور تمام بیٹیوں کے خون کا انتقام لینا ہے جو صلیبی
درندوں کا شکار ہوئی ہیں۔ اپنے آپ کو ٹھنڈا کرو''۔
آفاق کی جذباتی حالت ایسی تھی کہ سلطان ایوبی اسے زبردستی قاہرہ بھیجنے سے گریز کرنے لگا۔ اسے کہا کہ پہلے اپنا
اعلی کمان دار آگئے۔
عالج کرائے ،صحت یاب ہوجائے پھر اس کی خواہش پوری کردی جائے گی… اتنے میں نائب ساالر اور
ٰ
ان میں زاہدان بھی تھا۔ سلطان ایوبی نے آفاق اور اس کی بہنوں کو باہر بھیج دیا۔ اس نے اجالس میں یہ مسئلہ پیش کیا کہ
کیا کرک کو فورا ً محاصرے میں لے لیا جائے؟… اس نے سب کو کرک کی اس وقت کی کیفیت بتائی۔ اس مسئلے پر بحث
شروع ہوگئی۔ زاہدان نے اپنے جاسوسوں اور رپورٹوں کی روشنی میں کہا کہ صلیبی فوج صرف کرک میں نہیں باہر بھی ہے اور
اس کا ایک حصہ ایسی پوزیشن میں ہے جو ہماری فوج کا محاصرہ باہر سے توڑ دے گا۔ انہوں نے ایسا انتظام کررکھا ہے کہ
رسد کی آمدورفت کی حفاظت کے لیے ان کی پوری فوج موجود ہے اگر ان کے پاس وقتی طور پر رسد کی کمی آگئی ہے تو
یہ سمجھ کر حملہ کرنا کہ ہمارا محاصرہ کامیاب ہوگا محض خوش فہمی ہے۔ ان کے پاس صرف وہی رسد اور سامان نہیں تھا
جو جل گیا ہے۔ ان کی ہر ایک فوج کے ساتھ اپنی اپنی رسد اور سامان موجود ہے اور ان کی نفری ہم سے پانچ چھ گنا
ہے۔
اجالس کے دوسرے شرکاء نے اپنے اپنے مشور ے پیش کیے۔ ان کی اکثریت فوری حملے کے حق میں تھی اور بعض نے انتظار
کی تجویز پیش کی۔ تجاویز اور مشورے جیسے کیسے بھی تھے سلطان ایوبی نے سنے۔ اسے یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ
کمانڈروں کا جذبہ شدید تھا۔ ان میں بیشتر نے کہا کہ حملہ جلدی کریں یا دیر سے ،یہ پیش نظر رکھیں کہ ایک بار حملہ
کرکے یہ نہ سننا پڑے کہ محاصرہ اٹھالو کیونکہ ہم کمزور ہیں۔ سلطان ایوبی خاموشی سے سنتا رہا ،اس نے آخر میں فوج کے
جذبے اور دیگر کوائف کے متعلق پوچھا ،اسے تسلی بخش جواب مال۔
میں جلدی حملہ کرنا چاہتا ہوں''… آخر میں سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا… ''لیکن میں جلد بازی کا قائل نہیں'' ،
میرے سامنے صرف کرک کا قلعہ بند شہر نہیں بلکہ صلیبیوں کی وہ تمام فوج ہے جو انہوں نے باہر پھیال رکھی ہے۔ زاہدان
نے ٹھیک کہا ہے کہ کرک کے اندر تباہی سے ہمیں خوش فہمی میں مبتال نہیں ہونا چاہیے تاہم حملہ جلدی ہوگا۔ فاصلہ زیادہ
نہیں۔ ایک ہی رات میں ہمارے دستے کرک تک پہنچ سکتے ہیں ا گر انہیں ایک جنگ قلعے سے باہر لڑنی پڑے گی۔ کوچ
سے بیشتر ہمیں کرک کے مسلمانوں کو تیار کرنا پڑے گا۔ مجھے اندر کی جو تازہ اطالع ملی ہیں ،وہ یہ ہیں کہ وہاں کے
مسلمان درپردہ ایک جماعت کی صورت میں منظم ہوچکے ہیں ،امید کی جاسکتی ہے کہ وہ محاصرے کی صورت میں شہر میں
تخریب کاری کریں گے۔ ان کی لڑکیاں بھی میدان میں نکل آئی ہیں۔ صرف چار لڑکیوں نے صلیبیوں کو جو نقصان پہنچایا ہے
وہ پچاس پچاس نفری کے چار دستے بھی نہیں پہنچا سکتے۔ ہم کوشش کریں گے کہ شہر میں اپنے چھاپہ مار بھی داخل
کردیں''۔
مداخلت کی معافی چاہتا ہوں''… برجیس نے کہا… ''اگر چھاپہ مار بھیجنے ہیں تو فورا ً بھیجئے۔ کرک کے جو شہری ''
بھاگ گئے ہیں وہ یقینا واپس جائیں گے۔ ان کے پردے میں چھاپہ مار داخل کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے بعد ممکن نہیں ہوگا۔
آتش زنی کے واقعہ کے بعد صلیبی محتاط ہوجائیں گے اور شہر کے تمام دروازے بند کردیں گے۔ مجھے اجازت دیں کہ میں ان
کے ساتھ آج ہی روانہ ہوجاوں۔ وہ اپنے ساتھ کوئی ہتھیار نہ لے جائیں۔ وہاں سے ہتھیار مل جائیں گے''۔
آخر فیصلہ یہ ہوا کہ آج ہی رات چھاپہ مار برجیس کی قیادت میں روانہ کردیئے جائیں۔ جہاں تک گھوڑے لے جاسکتے ہیں،
وہاں تک گھوڑوں پر جائیں۔ آگے پیدل جائیں۔ گھوڑے واپس النے کے لیے کچھ آدمی ساتھ بھیج دیئے جائیں۔ اسی وقت زاہدان
سے کہا گیا کہ وہ برجیس کی ہدایات کے مطابق چھاپہ ماروں کو شہری لباس مہیا کرے اور شام کے بعد روانہ کردے۔ سلطان
ایوبی نے اپنے فوجی کمانڈروں کو جنگی نوعیت کی ہدایات دیں اور خاص طور پر کہا … ''یہ یاد رکھنا کہ جس فوج سے ہم
حملہ کرارہے ہیں ،یہ وہ فوج نہیں جس نے شوبک فتح کیا تھا۔ یہ فوج مصر سے آئی ہے جس میں دشمن نے بے اطمینانی
پھیالئی تھی۔ اس فوج کو محاصرے میں لڑنے کا تجربہ نہیں۔ کمان داروں کو چوکنا رہنا پڑے گا۔ مجھے شک ہے کہ اس فوج
میں تخریبی ذہن کے سپاہی بھی ہیں۔ میں نے جو دستے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں وہ ترک اور شامی ہیں اور نورالدین زندگی
کی بھیجی ہوئی کمک کو بھی اپنے پاس محفوظ میں رکھوں گا۔ حاالت تمہارے خالف ہوگئے تو گھبرا کر پیچھے نہ ہٹ آنا۔
میں تمہارے پیچھے موجود رہوں گا… اور یہ بھی یاد رکھو کہ کرک کے مسلمانوں کے ساتھ امیدیں وابستہ نہ کیے رکھنا۔ ان کے
لیے جو ہدایات بھیج رہا ہوں ،وہ ایسی ہرگز نہیں ہوں گی کہ یہ اپنے آپ کو ایسے خطرے میں ڈال لیں کہ ان کی مستورات
کی عزت بھی محفوظ نہ رہے۔ میں ان سے اتنی زیادہ قربانی نہیں مانگوں گا۔ وہ محکوم اور مجبور ہیں۔ ظلم وتشدد کا شکار
ہیں۔ ہم ان کی آزادی اور نجات کے لیے جارہے ہیں ،ان کے بھروسے پر نہیں جارہے''۔
چار پانچ دنوں تک کرک میں یہ کیفیت رہی کہ مسلمانوں کے گھروں پر چھاپے پڑ رہے تھے۔ کئی مسلمان محض شک میں
گرفتار کرلیے گئے تھے۔ بیگار کیمپ کے جن قیدیوں کو اس وعدے پر آگ بجھانے کے لیے لے گئے تھے کہ انہیں رہا کردیا
جائے گا ،انہیں رہا نہیں کیا گیا تھا۔ صلیبیوں نے مظالم کا ایک نیا دور شروع کردیا تھا۔ ان کا نقصان معمولی نہیں تھا۔ وہ
جانتے تھے کہ مسلمانوں کے سوا یہ دلیرانہ تخریب کاری اور کوئی نہیں کرسکتا۔ گرفتار ہونے والوں میں عثمان صارم کے دو
دوست بھی تھے جو لڑکیوں کو رہا کرانے کے لیے ان کے ساتھ تھے۔ انہیں درندوں کی طرح اذیتیں دی جارہی تھیں۔ صلیبی
بربریت کی حدوں سے بھی آگے نکل گئے تھے مگر انہیں کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ صرف یہ دو کم عمر لڑکے تھے جن
کے سینوں میں سراغ تھا لیکن ان کی زبانیں بند تھیں۔ ان کے جسموں میں کچھ نہیں تھا۔ چکر شکنجے میں کس کس کر
اور جھٹکے دے دے کر ان کے جوڑ الگ کردئیے گئے تھے لیکن لڑکے خاموش تھے۔
آخر ہرمن خود قید خانے میں گیا ،اس کی توجہ بھی ان دو لڑکوں پر تھی۔ اسے مسلمان مخبروں نے بتایا تھا کہ آتش زنی
میں ان دو لڑکوں کا بھی ہاتھ ہے۔ مخبر دو مسلمان تھے ،دونوں ان لڑکوں کے پڑوسی تھے۔ وہ معمولی سی حیثیت کے آدمی
ہوا کرتے تھے لیکن اب گھوڑا گاڑیوں میں سواری کرتے تھے اور صلیبیوں کے درباری بن گئے تھے۔ وہ صلیبی حاکموں کو
گھروں میں بھی مدعو کرتے تھے اور اپنی بیٹیوں کے ساتھ بٹھاتے اور فخر کرتے تھے۔ ان کی دو دو تین تین بیویاں تھیں اور
وہ شراب بھی پیتے تھے۔ انہوں نے ان دو لڑکوں کو آتش زنی کی رات کہیں مشکوک حالت میں دیکھا تھا اور انہیں گرفتار
کرادیا۔ ہرمن نے قید خانے میں ان دونوں نوجوانوں کی حالت دیکھی تو اس نے محسوس کیا کہ نزع کی حالت میں پہنچ کر
بھی انہوں نے کچھ نہیں بتایا تو یہ کچھ بھی نہیں بتائیں گے۔ ان کے جسم عادی ہوچکے ہیں۔ وہ انہیں اپنے ساتھ لے گیا۔
انہیں بڑا اچھا کھانا کھالیا ،پیار شفقت سے پیش آیا۔ ڈاکٹروں کو بال کر انہیں دوائی پالئی اور تشدد کے زخموں اور چوٹوں کا
عالج کرایا۔ پھر انہیں سال دیا۔ وہ فورا ً ہی گہری نیند سوگئے۔
ہرمن دونوں کے درمیان بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد ان میں سے ایک نوجوان صاف الفاظ میں بڑبڑانے لگا۔ ''میں کیا جانوں؟ میرا
جسم کاٹ دو ،مجھے کچھ بھی معلوم نہیں اگر کچھ معلوم ہوگا تو کبھی نہیں بتائوں گا ،تم گردن کے ساتھ صلیب باندھتے ہو
میں نے قرآن کی ایک آیت باندھی ہوئی ہے''۔
تم نے آگ لگائی تھی''… ہرمن نے کہا… ''تم نے صلیبیوں کی کمر توڑ دی ہے ،تم بہادر ہو ،مرگئے تو شہید کہالئو ''
گے''۔
اگر مرگیا تو''… نوجوان بڑبڑایا… ''اگر مرگیا تو ،جب تک جسم میں جان ہے ،اس جان میں ایمان بھی رہے گا ،جان نکل''
جائے گی ،ایمان نہیں نکلے گا''۔
ہرمن نے اس کے سوئے ہوئے ذہن میں اپنے مطلب کی باتیں ڈالنے کی بہت کوشش کی لیکن نوجوان کے ذہن نے قبول نہ
کیں۔ اتنے میں دوسرا لڑکا بھی بڑبڑانے لگا۔ ہرمن نے اس کی طرف توجہ دی۔ اسی طرح اس کے ذہن میں بھی باتیں ڈالیں
جو اس نوجوان نے اگل دیں۔ ہرمن کے ساتھ اس کے تین چار سراغ رساں بھی تھے۔ اس نے بہت دیر کی کوشش کے بعد
آہ بھری اور کہا … ''مزید کوشش بے کار ہے ،ان کی زبان سے تم کوئی راز نہیں اگلوا سکو گے۔ یہ بے گناہ معلوم ہوتے
تھے مگر میں تمہیں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ اپنے عقیدے اور جذبے کے پکے ہیں۔ میں نے انہیں مرغن کھانوں میں
اتنی زیادہ حشیش کھالئی ہے جتنی گھوڑے کو کھال دو تو وہ بھی باتیں کرنے لگے مگر ان پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کا
مطلب یہ ہے کہ ان کا قومی جذبہ جسے یہ لوگ ایمان کہتے ہیں ان کی روحوں میں اترا ہوا ہے۔ تم ان کی روحوں پر کوئی
نشہ طاری نہیں کرسکتے۔ دوسری صورت یہی ہے کہ یہ بے گناہ ہوں گے''۔
وہ بے گناہ نہیں تھے ،وہ آتش زنی اور لڑکیوں کو آزاد کرانے کی مہم میں شریک تھے۔ صلیبی جسے گناہ اور جرم کہہ رہے
تھے وہ مسلمان کے لیے عظیم نیکی اور جہاد تھا جو ان لڑکوں نے روح اور ایمان کی قوت سے کیا تھا۔ حشیش نے انہیں بے
ہوش کردیا تھا۔ ان کی عقل کو سال دیا تھا مگر ان کی روحیں بیدار تھیں۔ صلیبی ان کی زبان سے ہلکا سا اشارہ بھی نہ
لے سکے۔ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ لڑکے بے قصور ہیں۔ یہ صلیبیوں کی مجبوری تھی … ان لڑکوں کی آنکھ کھلی تو باہر
ویرانے میں پڑے تھے۔ صلیبیوں نے انہیں بے ہوشی کی حالت میں دور لے جاکر پھینک دیا۔ وہ اٹھے ،ایک دوسرے کو دیکھا
اور گھروں کو چل دیئے۔
جو عیسائی اور یہودی باشندے آتش زنی کی رات شہر سے نکل گئے تھے ،وہ یہ دیکھ کر کہ کوئی حملہ نہیں ہوا اور امن
وامان ہے تو واپس آنے لگے۔ صلیبیوں کی فوج جو باہر خیمہ زن تھی ،اس نے بھی انہیں یقین دالیا کہ کوئی حملہ نہیں ہوا۔
وہ چلے جائیں۔ چنانچہ ایک حکم کے تحت شہر کے دو دروازے ان لوگوں کے لیے کھلے رکھے گئے جو واپس آرہے تھے۔ لوگ
کنبہ در کنبہ داخل ہوگئے۔ کرک کے لوگوں نے دیکھا کہ وہ چپ چاپ اور غریب سا موچی جو دنیا کے ہنگاموں سے بے خبر
راستے میں بیٹھا جوتے مرمت کیا کرتا تھا ،تین دنوں کی غیرحاضری کے بعد پھر راستے میں آبیٹھا ہے۔ اس نے رات ہی
رات پندرہ چھاپہ ماروں کو عثمان صارم اور اس کے نوجوان ساتھیوں کی مدد سے مسلمان گھرانوں میں چھپا دیا تھا۔ ان میں
اب کوئی کسی دکان میں مالزم تھا ،کوئی صلیبیوں کے اصطبل کا سائیس بن گیا تھا ،کوئی مذہب کے طالب علم کے روپ میں
مسجد میں جھاڑو دیتا تھا۔
انہیں اب یہ دیکھنا تھا کہ سلطان ایوبی کے حملے کی صورت میں وہ اندر سے کیا کرسکتے ہیں۔ کرنے واال کام صرف یہ تھا
کہ کہیں سے قلعے کی دیوار میں اتنا بڑا شگاف پیدا کریں کہ اس میں سے گھوڑے بھی اندر آسکیں یا قلعے کا کوئی دروازہ
کھول سکیں۔ وہ انہی کاموں کے لیے زمین ہموار کررہے تھے۔ عثمان صارم نے اپنی نوجوان جماعت میں اضافہ کرلیا تھا۔
لڑکیاں بھی تیار ہوگئی تھیں مگر رینی الیگزینڈر سائے کی طرح عثمان کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔ اسے راستے میں روک لیتی
''تھی ،اس کے گھر چلی جاتی تھی اور ایک روز اس نے عثمان صارم سے پوچھا… ''عثمان! النور کہاں ہے؟
تمہاری قوم کے کسی گناہ گار کے پاس''… عثمان صارم نے جل کر جواب دیا… ''اس پر اللہ کی لعنت''۔''
رحمت کہو عثمان!''… رینی نے کہا… ''تم ہمارے خالف لڑ کر مرنے والوں کو شہید کہا کرتے ہو۔ النور شہید ہوگئی ''
ہے''۔
عثمان صارم چکرا گیا ،اسے کوئی جوا ب نہ بن پڑا''۔''
اور ان دو لڑکیوں کوا ٹھانے والوں میں تم بھی تھے''۔ رینی نے کہا… ''لیکن تم ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے۔ میں نے کہا''
تھا کہ تمہاری قید اور آزادی کے درمیان میرا وجود حائل ہے… کہو اور کتنی قربانی مانگتے ہو''۔
عثمان صارم آخر نوجوان تھا ،جسم میں جتنا جوش اور جذبہ تھا ،اتنی عقل نہیں تھی۔ وہ دانشمند نہیں تھا۔ رینی کی باتوں
''نے اسے پریشان کردیا۔ اس نے جھنجھال کر پوچھا… ''رینی! تم کیا چاہتی ہو؟
ایک یہ کہ میری محبت قبول کرلو''… رینی نے جواب دیا… ''دوسرا یہ کہ ان زمین دوز حرکتوں سے باز آجاو''۔''
تم اپنی قوم اور اپنی حکومت سے محبت کرتی ہو''۔ عثمان صارم نے کہا… ''اگر تمہارے دل میں میری محبت اتنی ہی''
''شدید ہے تو میری قوم سے ہمدردی کیوں نہیں کرتی؟
مجھے نہ اپنی قوم سے محبت ہے نہ تمہاری قوم سے''۔ رینی نے کہا… ''میں تمہیں خطرناک کارروائیوں سے صرف اس''
لیے روک رہی ہوں کہ تم مارے جاو گے۔ حاصل کچھ بھی نہ ہوگا۔ میں جذباتی نہیں ،حقیقت کی بات کررہی ہوں کہ سلطان
ایوبی کرک فتح نہیں کرسکے گا۔ اپنے باپ کی بتائی ہوئی باتوں کے مطابق بات کررہی ہوں۔ جنگ محاصرے کی نہیں ہوگی،
باہر کرک سے دور ہوگی۔ ہمارے کمانڈر سلطان ایوبی کی چالیں سمجھ گئے ہیں۔ شوبک کی شکست سے انہوں نے سبق
حاصل کرلیا ہے۔ اب کرک کے محاصرے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ اگر تم لوگوں نے شہر کے اندر سے کوئی کارروائی کی
تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ مارے جاو گے یا گرفتار ہوکر باقی عمر ناقابل برداشت اذیتوں میں گزارو گے۔ میں تمہیں صرف
زندہ اور سالمت دیکھنا چاہتی ہوں''۔
عثمان صارم سرجھکائے ہوئے وہاں سے چل پڑا۔ اسے رینی کی آواز سنائی دی… ''سوچوعثمان! سوچو۔ میری باتیں ایک
غیرقوم کی لڑکی کی باتیں سمجھ کر ذہن سے اتار نہ دینا''۔
٭ ٭ ٭
میں آپ سب کو ایک بار پھر بتا دیتا ہوں کہ یہ کرک ہے شوبک نہیں''۔ سلطان ایوبی نے اپنے کمانڈروں کو آخری ''
ہدایات دیتے ہوئے کہا… ''صلیبی چوکنے اور بیدار ہیں ،میری جاسوسی مجھے بتا رہی ہے کہ ہمیں ایک جنگ کرک سے باہر
لڑنی پڑے گی۔ شہر کے اندر سے مسلمانوں نے کوئی زمین دوز کارروائی کی تو شاید وہ ہمارے کام نہیں آسکے گی۔ اس کا
نتیجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بے چارے مارے جائیں۔ میں انہیں اتنے بڑے امتحان میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ انہیں بچانے کی
ایک ہی صورت ہے کہ حملہ تیز اور بہت سخت کرو''… ایسے ہی چند اور ضروری احکامات کے بعد سلطان ایوبی نے اس
فوج کو کوچ کا حکم دے دیا جسے کرک کا محاصرہ کرنا تھا۔
کوچ سورج غروب ہونے کے بعد کیا گیا ،فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ صبح طلوع ہونے تک فوج کرک کے مضافات میں پہنچ گئی
جہاں سے محاصرے کی ترتیب میں آگے بڑھی۔ اس فوج کے ساالر کے لیے یہ ایک عجوبہ تھا کہ راستے میں اسے صلیبیوں کا
کوئی ایک دستہ بھی نظر نہ آیا۔ اسے بتایا گیا تھا کہ صلیبیوں نے باہر بھی فوج خیمہ زن کررکھی ہے۔ اسے ایسے راستے
سے بھیجا گیا تھا جس طرف صلیبیوں کی فوج نہیں تھی۔ پھر بھی مزاحمت ضروری تھی جو بالکل ہی نہ ہوئی۔ مسلمانوں
کی اس فوج نے قلعے کا محاصرہ کرلیا۔ قلعے کی دیواروں سے تیروں کی بارش برسنے لگی۔ سلطان ایوبی کی فوج نے اس
کے جواب میں کوئی شدید کارروائی نہ کی۔ اس کے کمان دار ادھر ادھر سے دیواروں پر چڑھنے یا نقب لگانے یا کسی دروازے
کو توڑ کر اندر جانے کے امکانات دیکھتے پھر رہے تھے۔ انہوں نے تیر اندازوں کو بھی خاموش رکھا۔ ان کے ساتھ وہ جاسوس
تھے جو شہر سے واقف تھے۔ وہ انہیں بتا رہے تھے کہ اندر کون سی اہم جگہ کہاں ہے۔
شہر کے اندر ابھی کسی کو خبر نہیں ملی تھی کہ سلطان ایوبی کی فوج نے قلعے کا محاصرہ کرلیا ہے لیکن یہ محاصرہ :
ابھی مکمل نہیں تھا۔ عقب ابھی خالی تھا جہاں دو دروازے تھے۔ اچانک قلعے کے اندر فوجی عالقے میں آگ برسنے لگی۔
یہ آتش گیر مادے والی ہانڈیاں تھیں جو سلطان ایوبی کی ایجاد تھی۔ یہ منجنیقوں سے اندر پھینکی جارہی تھیں۔ شہر کے
لوگوں نے دیکھا کہ ان کی فوج قلعے کی دیوار پر چڑھ گئی اور باہر کو تیر پہ تیر چال رہی تھی۔ شہر میں خوف وہراس
پھیل گیا۔ عیسائی اور یہودی باشندے گھروں میں دبک گئے۔ مسلمان باشندے دعائوں میں مصروف ہوگئے۔ وہ سلطان ایوبی کی
فتح کی دعائیں مانگ رہے تھے۔ کچھ مسلمان ایسے تھے جو دعائوں کے ساتھ بڑی خطرناک سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ یہ
وہاں کے نوجوان تھے جن میں لڑکیاں بھی تھیں اور ان میں سلطان ایوبی کے پندرہ چھاپہ مار بھی تھے۔ شہر کی افراتفری
سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ کہیں اکٹھے ہوگئے اور قلعے کے بڑے دروازے کو اندر سے کھولنے یا توڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔
دروازہ بہت مضبوط اور موٹی لکڑی کا تھا جس پر لوہے کی موٹی موٹی پتریاں بھی مڑی ہوئی تھیں۔ اسے توڑنا آسان نہیں تھا،
باہر سے مسلمان فوج نے دروازے پر منجنیقوں سے ہانڈیاں پھینکیں ،یہ دوسری قسم کی تھیں۔ یہ ٹوٹتی تھیں تو ان میں سے
سیال مادہ بکھر جاتا تھا۔ اس پر فلیتے والے آتشیں تیر چالئے جاتے تو سیال مادہ کو آگ لگ جاتی تھی۔ اس طریقے سے
دروازے کو آگ لگائی گئی لیکن لوہے نے لکڑی کو نہ جلنے دیا۔ دروازہ بہت ہی مضبوط تھا۔ اوپر سے صلیبیوں نے وہ تیر
برسانے شروع کردیئے جو بہت دور تک جاتے تھے۔ یہ منجنیقوں تک پہنچ گئے جن سے کئی آدمی زخمی اور شہید ہوگئے۔
اس خطرے سے بچنے کے لیے منجنیقیں پیچھے کرلی گئیں اور آگ پھینکنے کا طریقہ ناکام ہوگیا۔
آخر مسلمان تیر اندازوں کو حکم دیا گیا کہ قلعے کی دیواروں پر جو دشمن کے سپاہی ہیں ان پر تیر برسائیں۔ سارا دن دونوں
طرف سے تیر اندازی ہوتی رہی۔ ہوا میں صرف تیر اڑتے نظر آتے تھے۔ صلیبی دفاعی پوزیشنوں میں تھے اور دیواروں کی
بلندی پر بھی تھے ،اس لیے زیادہ نقصان مسلمان فوج کا ہورہا تھا۔ مسلمانوں کے نقب زن جو قلعوں کی دیواریں توڑنے کے
ماہر تھے ،ہر طرف گھوم پھر کر دیکھ رہے تھے کہ دیوار میں کہاں شگاف ڈاال جاسکتا ہے۔ وہاں چاروں طرف سے اتنے تیر
آرہے تھے کہ دیوار کے قریب جانا خودکشی کے برابر تھا۔ شام سے کچھ دیر پہلے نقب زنوں کی آٹھ آدمیوں کی ایک جماعت
آگے بڑھی۔ یہ جانباز جب دیوار سے تھوڑی دور رہ گئے تو اوپر سے ان پر اس قدر تیر برسے اور تیروں کے ساتھ اتنی زیادہ
برچھیاں آئیں کہ آٹھوں جانباز وہیں شہید ہوگئے۔ ایک ایک کے جسم میں کئی کئی تیر اور برچھیاں لگیں۔
رات کا پہال پہر تھا ،رینی اپنے گھر میں تھی۔ اس کا باپ تھکا ہوا آیا تھا۔ یہ کہہ کر سوگیا کہ جلدی جاگ اٹھے گا کیونکہ
رات کو بھی اسے کام پر جانا ہے۔ اس نے کہا تھا کہ شہر کے مسلمانوں کے متعلق اطالع ملی ہے کہ وہ اندر سے کوئی
بڑی خطرناک کارروائی کرنے والے ہیں۔ ہمیں ہر ایک مسلمان گھرانے پر نظر رکھنی پڑے گی۔ یہ کہہ کر وہ سو گیا تھا۔
دروازے پر دستک ہوئی تو کسی مالزم کے بجائے رینی نے دروازہ کھوال۔ باہر ایک مسلمان کھڑا تھا جو بڑی اونچی حیثیت کا
مالک تھا۔ صلیبیوں کی طرف سے اسے خوب انعام واکرام ملتا تھا۔ رینی نے اسے بتایا کہ اس کاباپ سویا ہوا ہے ،وہ پیغام
دے دے۔ تھوڑی دیر بعد وہ جاگے گا تو اسے بتا دیا جائے گا۔ مسلمان نے کہا کہ وہ خود بات کرنا چاہتا ہے۔ بات بہت اہم
اور نازک ہے۔
آج رات مسلمان کے بہت سے لڑکے اور لڑکیاں اندر سے قلعے کی دیوار توڑ دیں گے''… رینی کے پوچھنے پر اس نے ''
مختصرا ً بتایا اس نے کہا… ''میں نے ان کا ہمدرد اور ساتھی بن کر یہ راز حاصل کیا ہے۔ مجھے یہ بھی پتا ہے کہ ان میں
باہر سے آئے ہوئے چھاپہ مار بھی ہیں اور نیا انکشاف یہ ہے کہ وہ غریب موچی جو راستے میں بیٹھا رہتا ہے وہ سلطان
ایوبی کا بھیجا ہوا جاسوس ہے اور اس کا نام برجیس ہے… میں تمہارے والد کو یہ خبر دینا چاہتا ہوں تاکہ ان لوگوں کو
پھانسنے کے لیے گھات لگائی جائے''۔
رینی نے چند ایک مسلمان نوجوانوں کے نام لے کر عثمان صارم کا بھی نام لیاا ور پوچھا… ''کیا یہ لڑکے بھی اس مہم میں
''شامل ہیں؟
صارم کا بیٹا عثمان تو اس گروہ کا سرغنہ ہے''… مسلمان مخبر نے بتایا… ''اور ان کا سب سے بڑا سرغنہ امام رازی ''
ہے''۔
آپ تھوڑی دیر تک آجائیں''… رینی نے اسے کہا… ''باپ کو ذرا سی دیر سونے دیں''۔''
مگر وہ جانا نہیں چاہتا تھا۔ صلیبیوں کو خوش کرنے اور ان سے انعام وصول کرنیکا اسے نہایت موزوں موقع مل گیا تھا۔ اس
کے متعلق مسلمانوں کو معلوم نہیں تھا کہ قرآن کے بجائے صلیب کا وفادار ہے۔ اسی روز مسلمان نوجوانوں اور چھاپہ ماروں
نے دیوار توڑنے کی سکیم بنائی تھی۔ اس خفیہ اجتماع میں تین چار بزرگ ،امام اور یہ مسلمان بھی تھا جس نے لڑکوں کو
اچھے مشورے دیئے اور سب سے زیادہ جذبے کا اظہار کیا تھا۔ مسلمانوں کو شک تک نہ ہوا کہ وہ صلیبیوں کا پاال ہوا سانپ
ہے ،سبھی اسے شہر کا امیر اور معزز تاجر سمجھتے تھے جس کے حسن سلوک کی بدولت صلیبی بھی اس کی عزت کرتے
تھے۔
وہ واپس نہیں جانا چاہتا تھا۔ رینی گہری سوچ میں کھوگئی۔ اس نے اسے اندر بٹھانے کے بجائے یہ کہا کہ وہ اسے پوری بات
سنائے اور یہ بھی کہا کہ آئو ذرا باہر ٹہل لیتے ہیں ،اتنی دیر میں باپ جاگ اٹھے گا۔ وہ تو صلیبیوں کا غالم تھا۔ اتنے بڑے
افسر کی بیٹی کے ساتھ خراماں خراماں چل پڑا۔ چلتے چلتے وہ کنویں تک پہنچ ) یہ کنواں شہریوں کے لیے کھودا گیا تھا۔
بہت ہی دور سے پانی نکال تھا۔ رینی کنویں کے منہ پر رک گئی۔ مسلمان مخبر اسے بات سنا رہا تھا وہ بھی کنویں کے
قریب کھڑا تھا۔ رینی نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھے اور پوری طاقت سے دھکا دیا۔ مسلمان پیچھے کو گرا اور سیدھا کنویں
میں گیا۔ اس کی چیخ سنائی دی جو ''دھڑام''کی آواز میں ختم ہوگئی۔
رینی اس مسرت کے ساتھ گھر آگئی کہ اس نے ایک ایسا راز کنویں میں ڈبو دیا ہے جو عثمان صارم کی یقینی موت کا
باعث بن سکتا تھا۔
٭ ٭ ٭
وہاں سے وہ ڈرتی ہوئی عثمان صارم کے گھر گئی۔
ا س کی ماں کے پاس بیٹھی ،النور کی باتیں کرتی رہی۔ اس نے عثمان کے متعلق پوچھا تو اس کی ماں نے بتایا کہ وہ شام
کے بعد ہی گھر سے نکل گیا تھا۔ رینی کو خیال آگیا کہ وہ دیوار توڑنے کی مہم پر چال گیا ہوگا۔ وہ اسے روکنا چاہتی تھی۔
اسے ڈر یہ تھا کہ ان کےاجتماع میں کوئی اور مخبر بھی ہوگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی اور نے فوج کو اطالع دے دی ہو۔
وہ باہر نکل گئی اور اس طرف چل پڑی جس طرف سے ان لوگوں نے دیوار توڑنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس مسلمان نے جیسے
اس نے کنویں میں پھینک دیا تھا ،بتا دیا تھا کہ چھاپہ مار دیوار کے اوپر جاکر صلیبی تیر اندازوں کو ایسے طریقے سے ختم
کریں گے کہ کسی کو پتا نہ چل سکے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں نیچے سے دیوار کھودیں گے۔ اس کی کھدائی مشکل نہیں،
وقت طلب تھی۔ اس پارٹی نے بوقت ضرورت لڑائی کا انتظام بھی کررکھا تھا۔ ان کے پاس خنجر اور برچھیاں بھی تھیں۔ یہ
ایک غیرمعمولی طور پر دلیرانہ مہم تھی جس کی ناکامی کے امکانات زیادہ تھے۔ انہوں نے جگہ ایسی منتخب کی تھی جہاں
پکڑے جانے کا امکان ذرا کم تھا۔
یہ گروہ مقررہ جگہ کی طرف روانہ ہوگیا۔ رینی اس طرف دوڑی جارہی تھی ،وہ عثمان صارم کو روکنا چاہتی تھی۔ اسے شاید
علم ہوگیا تھا کہ یہ لوگ پکڑے جائیں گے اور عثمان صارم مارا جائے گا۔ ان جانبازوں کا جانے کا طریقہ اور راستہ کچھ اور
تھا۔ رینی پہلے وہاں پہنچ گئی جہاں سے دیوار توڑنی تھی۔ وہاں ابھی کوئی نہیں پہنچا تھا۔ اس نے اندھیرے میں ادھر ادھر
دیکھا۔ اچانک پیچھے سے اسے کسی نے پکڑ لیا اور گھسیٹ کر پرے لے گیا۔ یہ ایک فوجی تھا۔ پرے لے جا کر فوجی نے
اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے۔ اس نے باپ کا نام لیا ،اسے کہا گیا کہ وہ وہاں سے چلی جائے مگر وہ وہاں سے نہیں ہٹنا
چاہتی تھی۔ وہاں دراصل فوج کا ایک پورا دستہ چھپا ہوا تھا۔ اس کے کمانڈر نے رینی کو بتایا کہ مسلمانوں کا ایک گروہ
یہاں نقب لگانے آرہا ہے اور اسے پکڑنے کے لیے گھات لگائی گئی ہے… یہ اطالع ایک اور مسلمان مخبر نے فوج کو دی
تھی۔
رینی انہیں یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ وہ گھات سے اٹھ جائیں ،وہ تو صرف عثمان صارم کو بچانا چاہتی تھی۔ اس مسلمان
نوجوان کی محبت نے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا تھا۔ اتنے میں ایک فوجی نے کہا… ''اطالع غلط نہیں تھی ،وہ آرہے
ہیں''… رینی تڑپ اٹھی۔ اس نے چال کر کہا… ''عثمان! واپس چلے جائو''… دستے کے کمانڈر نے اس کے منہ پر ہاتھ
رکھ دیا اور کہا …''یہ بدبخت جاسوس معلوم ہوتی ہے ،اسے گرفتار کرلو''… لیکن گرفتاری کی انہیں مہلت نہ ملی کیونکہ
کچھ دور سے شورشرابہ سنائی دینے لگا تھا۔
جانبازوں کی یہ پارٹی سیدھی گھات میں آگئی تھی۔ صلیبیوں کے دستے کی تعداد زیادہ تھی۔ پیشتر اس کے کہ جانباز
سنبھلتے ،وہ گھیرے میں آچکے تھے۔ مشعلیں جل اٹھیں جن کی روشنی میں جانباز صاف نظر آنے لگے۔ ان کے پاس کھدائی
کا سامان ،برچھیاں اور خنجر تھے۔ بھاگ نکلنے کی کوئی صورت نہیں تھی۔ ان میں گیارہ لڑکیاں تھیں ،صلیبی کمانڈر نے
بلندآواز سے کہا… ''لڑکیوں کو زندہ پکڑو''… چھاپہ ماروں میں سے کسی نے کہا… ''مجاہدو! بھاگنا نہیں۔ ایک ایک لڑکی
کو ساتھ رکھو''۔
اور جو معرکہ لڑا گیا ،وہ بڑا ہی خون ریز تھا۔ چھاپہ مار تو تربیت یافتہ لڑاکے تھے ،خوب لڑے لیکن لڑکوں اور لڑکیوں نے
صلیبیوں کو حیران کردیا۔ لڑکیاں ڈرنے کے بجائے نوجوانوں کو للکار رہی تھیں۔ انہیں زندہ پکڑنے کی کوشش میں متعدد صلیبی
ان کے خنجروں کا شکار ہوگئے مگر صلیبی تعداد میں زیادہ تھے چونکہ یہ معرکہ قلعے میں لڑا جارہا تھا اس لیے صلیبی فوج
کے دو دستے اور آگئے۔ اس معرکے میں ایک نسوانی آواز باربار سنائی دیتی تھی… ''عثمان نکل جائو… عثمان! تم نکل
جائو''… یہ رینی کی آوازتھی۔ اس وقت تک عثمان لڑ رہا تھا۔ اس کے سامنے ایک صلیبی آیا ،عثمان کے پاس خنجر تھا
اور صلیبی کے پاس تلوار اچانک اس صلیبی کی پیٹھ میں ایک خنجر داخل ہوگیا۔ یہ رینی کا خنجر تھا۔ ایک اور صلیبی نے
اسے للکارا ،اس نے مرے ہوئے صلیبی کی تلوار اٹھا لی اور مقابلے پر اتر آئی۔
عثمان صارم اس کی مدد کے لیے آگے بڑھا لیکن کسی صلیبی کی تلوار نے اسے شہید کردیا۔ کچھ دیر بعد جانبازوں میں صرف
دو لڑکیاں زندہ رہیں۔ وہ اکٹھی تھیں اور بہت سے صلیبیوں کے گھیرے میں آگئیں۔ گھیرا تنگ ہورہا تھا۔ انہیں کہا گیا کہ وہ
خنجر پھینک دیں ،دونوں نے ایک دوسری کی طرف دیکھا۔ دونوں نے بیک وقت اپنا اپنا خنجر اپنے اپنے دل پر رکھا اور
دوسرے لمحے انہوں نے خنجر اپنے دلوں میں اتار دیئے۔ رینی کو زخمی کرکے پکڑ لیا گیا تھا۔ اس نے بعد میں پاگل پن کی
کیفیت میں بیان دیا کہ وہ اس سکیم کو ناکام کرکے عثمان صارم کو بچانا چاہتی تھی۔
قلعے کی دیوار توڑنے کی امید ختم ہوگئی۔ شہر کے اندر مسلمانوں کی تخریب کاری بھی ختم ہوگئی۔ مسلمانوں کی قیادت
کرنے والے جانباز شہید ہوچکے تھے۔ برجیس بھی شہید ہوچکا تھا لیکن سلطان ایوبی کی امیدیں صرف ان کے ساتھ وابستہ
نہیں تھیں۔ وہ قلعے سر کرنا جانتا تھا۔ ابھی تو محاصرے کا دوسرا دن تھا مگر اب کے صلیبیوں نے بھی قسم کھالی تھی کہ
وہ کرک کا قلعہ سلطان ایوبی کو نہیں دیں گے۔
،جاری ھے
19:56
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
قسط نمبر51.۔" میرےفلسطین میں آوں گا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
صالح الدین ایوبی نے صلیبیوں کے غیر معمولی طور پر مستحکم کرک پر ایسی بے خبری میں حملہ کیا تھا کہ صلیبیوں کو
اس وقت خبر ہوئی جب سلطان ایوبی کی فوج کرک کو محاصرے میں لے چکی تھی لیکن محاصرہ مکمل نہیں تھا۔ یہ سہ
طرفہ محاصرہ تھا۔ جاسوسوں نے سلطان ایوبی کو یقین دالیا تھا کہ کرک شہر کے مسلمان باشندے ان چھاپہ ماروں کے ساتھ
جنہیں سلطان ایوبی نے پہلے ہی شہر میں داخل کردیا تھا ،اندر سے قلعے کی دیوار توڑ دیں گے۔ محاصرے کے چوتھے
پانچویں روز اندر سے ایک جاسوس نے باہر آکر سلطان ایوبی کو یہ اطالع دی کہ تمام چھاپہ مار اور چند ایک مسلمان شہری
دیوار توڑنے کی کوشش میں شہید ہوگئے ہیں۔ ان میں مسلمان لڑکیاں بھی تھیں اور ان میں ایک عیسائی لڑکی بھی شامل
ہوگئی تھی۔ سلطان ایوبی کو یہ بھی بتایا گیا کہ کسی ایمان فروش مسلمانوں کے اس جانباز جماعت میں شامل ہوکر دشمن
کو اطالع دے دی تھی جس کے نتیجے میں دشمن نے گھات لگائی اور ساری کی ساری جماعت کو شہید کردیا۔ یہ اطالع
بھی دی گئی کہ اب اندر سے دیوار توڑنے کی امیدیں ختم ہوچکی ہیں۔
امیدیں ختم ہونی ہی تھیں ،صلیبیوں نے جب دیکھا کہ دیوار توڑنے والوں میں کرک کے مسلمان نوجوانوں اور لڑکیوں کی الشیں
تھیں تو انہوں نے مسلمانوں کی پکڑ دھکڑ اندھا دھند شروع کردی۔ لڑکیوں تک کو نہ بخشا۔ جوانوں کو بیگار کیمپ میں،
بوڑھوں کو ان کے اپنے گھروں میں اور جوان لڑکیوں کو قلعے کی فوجی بارکوں میں قید کردیا۔ ان میں سے کچھ لڑکیوں نے
خودکشی بھی کرلی تھی کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ کفار ان کے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ صالح الدین ایوبی کو بھی یہی غم
کھانے لگا کہ کرک کے مسلمانوں کو یہ قربانی بہت مہنگی پڑے گی۔ اس نے جب ان جانبازوں کی خبر سنی تو اپنے نائبین
سے کہا… ''یہ کارستانی صرف ایک ایمان فروش مسلمان کی ہے۔ اس ایک غدار نے اسالم کی اتنی بڑی فوج کو بے بس
کردیا ہے۔ ایک وہ ہیں جنہوں نے اللہ کے نام پر جانیں قربان کردیں ،ایک یہ مسلمان ہیں جنہوں نے اللہ کا ایمان کفار کے
قدموں میں رکھ دیا ہے۔ یہ غدار اسالم کی تاریخ کا رخ پھیر رہے ہیں''… سلطان ایوبی غصے سے اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی ران
پر گھونسہ مار کر بوال… ''میں کرک کو بہت جلدی فتح کروں گا اور ان غداروں کو سزا دوں گا''۔
سلطان ایوبی کی انٹیلی جنس کا افسر زاہدان خیمے میں داخل ہوا ،اس وقت سلطان ایوبی کہہ رہا تھا کہ … ''آج رات کو
محاصرہ مکمل ہوجانا چاہیے۔ میں آپ کو ابھی بتاتا ہوں کہ کون سے دستے کرک کے پیچھے بھیجے جائیں''۔
مداخلت کی معافی چاہتا ہوں امیر مصر!''… زاہدان نے کہا… ''اب شاید آپ محاصرہ مکمل نہیں کرسکیں گے۔ ہم نے ''
کچھ وقت ضائع کردیا ہے''۔
کیا تم کوئی نئی خبر الئے ہو؟''… سلطان صالح الدین ایوبی نے اس سے پوچھا۔''
آپ نے جس کامیابی سے دشمن کو بے خبری میں آن لیا تھا ،اس سے آپ پورا فائدہ نہیں اٹھا سکے''۔ زاہدان نے ''
جواب دیا۔ وہ ایسے بے دھڑک انداز سے بول رہا تھا جیسے اپنے سے چھوٹے عہدے کے آدمی کو ہدایات دے رہا ہو۔ سلطان
ایوبی نے اپنے تمام سینئر اور جونئیر کمانڈروں اور تمام شعبوں کے سربراہوں سے کہہ رکھا تھا کہ وہ اسے بادشاہ سمجھ کر
فرشی سالم نہ کیا کریں ،مشورے دلیری اور خوداعتمادی سے دیں اور نکتہ چینی کھل کر کیا کریں۔ زاہدان انہی ہدایات پر
عمل کررہا تھا۔ اس کے عالوہ وہ انٹیلی جنس کا سربراہ تھا۔ اس کی حیثیت ایسی آنکھ کی سی تھی جو اندھیروں میں بھی
دیکھ لیتی تھی اور وہ ایسا کان تھا جو اپنے جاسوسوں کے ذریعے سینکڑوں میل دور دشمن کی سرگوشیاں بھی سن لیا کرتا
تھا۔ سلطان ایوبی کو اس کی اہمیت کا احساس تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کامیاب جاسوسی کے بغیر جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔
خصوصا ً اس صورتحال میں جہاں صلیبیوں نے سلطنت اسالمی میں جاسوسوں اور تخریب کا جال بچھا رکھا تھا۔ سلطان ایوبی
اعلی اور غیرمعمولی طور پر ذہین اور تجربہ کار جاسوسوں کی ضرورت تھی۔ اس میدان میں وہ پوری طرح کامیاب
کو نہایت
ٰ
تھا۔ اس کی انٹیلی جنس کے تین افسر علی بن سفیان اور اس کے دو نائب حسن بن عبداللہ اور زاہدان جانباز قسم کے
سراغ رساں اور جاسوس تھے۔ انہوں نے اس محاذ پر صلیبیوں کے کئی وار بے کار کیے تھے۔
آپ کو معلوم تھا کہ صلیبیوں نے جہاں کرک کا دفاع مضبوط کررکھا ہے وہاں بہت سی فوج کرک سے دور خیمہ زن ''
کررکھی ہے''۔ زاہدان نے کہا… ''آپ کو یہ بھی بتا دیا گیا تھا کہ اس فوج کو باہر سے محاصرہ توڑنے کے لیے استعمال
کیا جائے گا۔ جاسوسوں کی اطالع صاف بتا رہی تھیں کہ اب صلیبی قلعے سے باہر لڑیں گے پھر بھی آپ نے فوری طور پر
محاصرہ مکمل نہیں کیا۔ اس سے دشمن نے فائدہ اٹھا لیا ہے''۔
تو کیا انہوں نے حملہ کردیا ہے؟'' سلطان صالح الدین ایوبی نے بیتابی سے پوچھا۔''
آج شام تک ان کی فوج اس مقام پر آجائے گی جہاں ہماری کوئی فوج نہیں''۔ زاہدان نے جواب دیا… ''میرے جاسوس ''
جو اطالع الئے ہیں وہ یہ ہیں کہ صلیبی فوج گھوڑ سوار اور شتر سوار ہوگی۔پیادہ دستے بہت کم ہیں ،وہ محاصرے کی جگہ
پر آجائیں گے اور دائیں بائیں حملے کریں گے۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ ہمارا محاصرہ ٹوٹ جائے گا۔
صلیبیوں کی تعداد بھی زیادہ بتائی جاتی ہے''۔
میں تمہیں اور تمہارے جاسوسوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو یہ اطالع الئے ہیں''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''میں ''
جانتا ہوں یہ کام کتنا دشوار اور خطرناک ہے۔ میں تم سب کو یقین دالتا ہوں کہ صلیبی ہمارے محاصرے کا جو خال پر کرنے
اور محاصرے توڑنے آرہے ہیں میں انہیں اسی خال میں گم کردوں گا۔ مجھے اللہ کی مدد پر بھروسہ ہے اگر تم میں کوئی غدار
نہیں تو اللہ تمہیں فتح عطا فرمائے گا''۔
ابھی وقت ہے''۔ ایک نائب ساالر نے کہا… ''اگر آپ حکم دیں تو ہم تین چار دستے صلیبیوں کے پہنچنے سے پہلے ''
بھیج دیتے ہیں۔ محاصرے کا خال پر ہوجائے گا اور صلیبیوں کا حملہ ناکام ہوجائے گا''۔
سلطان ایوبی کے چہرے پر پریشانی یا اضطراب کا ہلکا سا تاثر بھی نہیں تھا۔ اس نے زاہدان سے پوچھا… ''اگر تمہاری
''اطالع بالکل صحیح ہے تو کیا تم بتا سکتے ہو کہ صلیبی فوج کس وقت حملے کے مقام پر پہنچے گی؟
ان کی پیش قدمی خاصی تیز ہے''۔ زاہدان نے جواب دیا… ''ان کے ساتھ خیمے اور رسد نہیں آرہی۔ پیچھے آرہی ہے ''
اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ راستے میں کوئی پڑائو نہیں کریں گے اگر وہ اسی رفتار پر آتے رہے تو رات گہری ہونے تک
پہنچ جائیں گے''۔
خدا کرے کہ وہ راستے میں نہ رکیں''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''مگر وہ تھکے ہوئے اور بھوکے پیاسے گھوڑوں اور اونٹوں ''
کے ساتھ حملہ نہیں کریں گے۔ حملے کے مقام پر آکر جانوروں کو آرام اور خوراک دیں گے۔ اس دوران وہ دیکھیں گے کہ ہم
نے جو محاصرہ کررکھا ہے اس میں خال ہے یا نہیں۔ صلیبی اتنے کوڑھ مغز نہیں کہ ایسی پیش بینی اور پیش بندی نہ
کریں''… سلطان ایوبی نے اپنے عملے کے دو تین حکام کو بالیا اور انہیں نئی صورتحال سے آگاہ کرکے کہا… ''صلیبی ہمارے
جال میں آرہے ہیں ،قلعے کے عقب میں ہم نے محاصرے میں جو خال چھوڑ دیا ہے اسے اور زیادہ کھال کردو۔ دائیں اور بائیں
کے دستوں سے کہہ دو کہ ان پر عقب سے حملہ آرہا ہے۔ اپنے پہلوئوں کو مضبوط کرلیں اور دشمن کو اپنے درمیان آنے دیں۔
کوئی تیرانداز حکم کے بغیر کمان سے تیر نہ نکالے''۔
اس قسم کے احکام کے بعد سلطان ایوبی نے پیادہ اور سوار تیراندازوں کے چند ایک دستوں کو جو اس نے ریزرو میں رکھے
ہوئے تھے ،سورج غروب ہوتے ہی ایسے مقام پر چلے جانے کو کہا جو صلیبیوں کے حملے کے ممکنہ مقام کے قریب تھا۔ وہ
عالقہ میدانی نہیں تھا اور صحرا کی طرح ریتال بھی نہیں تھا۔ وہ ٹیلوں ،چٹانوں اور گھاٹیوں کا عالقہ تھا۔ سلطان ایوبی نے
چھاپہ مار دستوں کے کمانڈر کو بھی بال لیا تھا۔ اسے اس نے یہ کام سونپا کہ صلیبیوں کی فوج کے پیچھے فالں راستے سے
یہ رسد آرہی ہے جو رات کو راستے میں تباہ کرنی ہے۔ ایسے اور کئی ایک ضروری احکامات دے کر سلطان ایوبی خیمے سے
نکال ،اپنے گھوڑے پر سوار ہوا۔ اپنے عملے کے ضروری افراد کو ساتھ لیا اور محاذ کی طرف روانہ ہوگیا۔
٭ ٭ ٭
صالح الدین ایوبی خوش فہمیوں میں مبتال ہونے واال انسان نہیں تھا۔ اس نے دور سے محاصرے کا جائزہ لیا اور اپنے عملے
سے کہا… ''صلیبیوں سے یہ قلعہ لینا آسان نہیں۔ محاصرہ بڑے لمبے عرصے تک قائم رکھنا پڑے گا''۔ اس نے دیکھا کہ
قلعے کی سامنے والی دیوار سے تیروں کا مینہ برس رہا ہے۔ قلعے کے دروازے تک پہنچانا ناممکن تھا… سلطان ایوبی کی فوج
تیروں کی زد سے دور تھی۔ جوابی تیر اندازی کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ سلطان ایوبی قلعے کے پہلو کی طرف گیا وہاں اسے
ایک ولولہ انگیز منظر نظر آیا۔ اس کا ایک دستہ حیران کن تیزی سے قلعے کی دیوار پر تیر برسا رہا تھا۔ چھ منجنیقیں آگ
پھینک رہی تھیں۔ دیوار پر جہاں تیر اور آگ کے گولے جارہے تھے وہاں کوئی صلیبی نظر نہیں آرہا تھا۔ وہ دبک گئے تھے۔
سلطان ایوبی دور کھڑا دیکھتا رہا۔ اس کے تقریبا ً چالیس سپاہی ہاتھوں میں برچھیاں اورکدالیں اٹھائے دیوار کی طرف سرپٹ دوڑ
پڑے اور دیوار تک پہنچ گئے۔ قلعے کی دیوار پتھروں اور مٹی کی تھی۔ انہوں نے دیوار توڑنی شروع کردی۔ اسی مقصد کے لیے
اوپر تیر اور آگ کے گولے برسائے جارہے تھے کہ اوپر سے دشمن ان پر دیوار توڑتے وقت تیر نہ چال سکے۔
سلطان ایوبی کے منہ سے بے اختیار نکال… ''آفرین''… مگر اس کی آنکھیں ٹھہر گئیں۔ قلعے کی دیوار پر للکار سنائی دی۔
عین اس جگہ کے اوپر سے جہاں سلطان ایوبی کے جانبز دیوار توڑ رہے تھے۔ بہت سے صلیبیوں کے سر اور کندھے نظر آئے۔
پھر بڑے بڑے ڈول اور ڈرم نظر آئے۔ یہ الٹا دئیے گئے۔ ان میں جلتی ہوئی لکڑیاں اور انگارے نکلے جو ان مجاہدین پر گرے
جو نیچے دیوار توڑ رہے تھے۔ مجاہدین نے آگے جاکر تیر برسانے شروع کردیئے جن میں متعدد صلیبی گھائل ہوگئے۔ دیوار کی
کسی اور طرف سے تیر آئے جنہوں نے مجاہدین تیر اندازوں کو زخمی اور شہید کردیا پھر دونوں طرف سے اس قدر تیر برسنے
لگے کہ ہوا میں اڑتے ہوئے تیروں کا جال تن گیا۔ جانباز دیوار توڑ رہے تھے۔ یہ کام آسان نہیں تھا کیونکہ دیوار بہت ہی
چوڑی تھی۔ نیچے سے اس کی چوڑائی اوپر کی نسبت زیادہ تھی۔ ان جانبازوں پر اوپر سے تیر نہیں چالیا جاسکتا تھا مگر
ان پر جلتی لکڑیاں اور دہتے انگارے پھینکے جارہے تھے۔ آگ کے ڈول اور ڈرم پھینکنے والوں میں بظاہر کوئی بھی مسلمان تیر
اندازوں سے بچ کر نہیں جاتا تھا لیکن وہ تیر کھا کر گرنے سے پہلے آگ انڈیل دیتے تھے۔
نیچے یہ عالم تھا کہ آگ بھڑک رہی تھی اور دیوار توڑنے والے شعلوں اور انگروں میں بھی دیوار توڑ رہے تھے۔ تیروں کا
تبادلہ ہورہا تھا۔ آخر دیوار توڑنے والے جھلس گئے اور ان میں سے چند ایک اس حالت میں پیچھے کو دوڑے کہ ان کے
کپڑوں کو آگ لگی ہوئی تھی۔ وہ دیوار سے ہٹے ہی تھے کہ اوپر سے تیر آئے جو ان کی پیٹھوں میں اتر گئے۔ اس طرح ان
میں سے کوئی زندہ واپس نہ آسکا۔ دس اور مجاہدین دیوار کی طرف دوڑے اور دشمن کے تیروں میں سے گزرتے ہوئے دیوار
تک پہنچ گئے۔ انہوں نے بڑی پھرتی سے دیوار کے بہت سے پتھر نکال لیے۔ اوپر سے ان پر بھی آگ کے ڈرم اور ڈول انڈیل
دیئے گئے۔ آگ پھینکنے والوں سے دو اتنا اوپر اٹھ گئے تھے کہ مجاہدین کے تیر سینوں میں کھا کر وہ پیچھے گرنے کے
بجائے آگے کو گرے اور دیوار سے سیدھے نیچے اپنی ہی پھینکی ہوئی آگ میں جل گئے مگر دیوار توڑنے والوں میں سے بھی
کوئی زندہ نہ بچا۔
سلطان ایوبی نے اپنے گھوڑے کو ایڑی لگائی اور اس دستے کے کمانڈر کے پاس جاکر کہا… ''تم پر اور تمہارے جانبازوں پر
اللہ کی رحمت ہو۔ اسالم کی تاریخ ان سب کو ہمیشہ یاد رکھے گی جو اللہ کے نام پر جل گئے ہیں۔ اب یہ طریقہ چھوڑ
دو ،پیچھے ہٹ آئو۔ اتنی تیزی سے انسان اور تیر ختم نہ کرو۔ صلیبی اس قلعے کے لیے اتنی زیادہ قربانی دے رہے ہیں جس
کا میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا''۔
اور ہم بھی اتنی زیادہ قربانی دیں گے جس کا صلیبی تصور نہیں کرسکتے''۔ کمانڈر نے کہا… ''دیوار یہیں سے ٹوٹے گی ''
اور ہم آپ کو یہیں سے اندر لے جائیں گے''۔
تعالی تمہاری آرزو پوری کرے''۔ صالح الدین ایوبی نے کہا… ''اپنے مجاہدین کو بچا کر رکھو ،صلیبی باہر سے حملہ ''
اللہ
ٰ
کررہے ہیں ،تمہیں شاید باہر لڑنا پڑے گا۔ محاصرہ مضبوط رکھو۔ ہم صلیبیوں کو اندر بھوکا ماریں گے''۔
اس دستے کو پیچھے ہٹا لیا گیا مگر کمانڈر نے سلطان ایوبی سے کہا… ''ساالراعظم کی اجازت ہو تو میں شہیدوں کی الشیں
اٹھوا لوں؟ اس مقصد کے لیے مجھے پھر یہی طریقہ اختیار کرنا پڑے گا''۔
ہاں!'' سلطان ایوبی نے کہا… ''اٹھوا لو۔ کسی شہید کی الش باہر نہ پڑی رہے''۔''
سلطان ایوبی وہاں سے چال گیا۔ اس جانباز دستے نے جس طرح اپنے ساتھیوں کی الشیں اٹھائیں وہ ایک ولولہ انگیز منظر تھا۔
جتنی الشیں اٹھانی تھیں ،اتنے ہی مجاہدین شہید ہوگئے۔ سلطان ایوبی دور نکل گیا تھا۔ جنگ کے دوران وہ اپنا پرچم ساتھ
نہیں رکھا کرتا تھا تاکہ دشمن کو معلوم نہ ہوسکے کہ وہ کہاں ہے۔ وہ اپنی فوج سے دور ہٹ گیا اور بہت دور جا کر وہ
ٹیلوں ،چٹانوں اور گھاٹیوں کے عالقے میں چال گیا۔ وہ گھوڑے سے اترا اور ایک ٹیلے پر جاکر لیٹ گیا تاکہ اسے دشمن نہ
دیکھ سکے۔ اسے قلعہ اور شہر کی دیوار نظر آرہی تھی اور کم وبیش ایک میل لمبا وہ عالقہ بھی نظر آرہا تھا جہاں ابھی
اس کی فوج نہیں پہنچی تھی۔ اس نے ٹیلوں کے عالقے کا جائزہ لیا ،ہر جگہ گھوما پھرا۔
اسی جائزے اور دیکھ بھال میں سورج غروب ہوگیا۔ وہ وہیں رہا۔ شام گہری ہوئی تو اسے اطالع دی گئی کہ اس کے حکم کے
مطابق پیادہ اور سوار تیراندازوں کے دستے آرہے ہیں۔ اس نے اپنے قاصد سے کہا کہ کمانڈروں کو بالیا جائے… جب کمانڈر اس
کے پاس آئے تو چھاپہ مار دستے کا کمانڈر بھی ان کے ساتھ تھا۔ اسے سلطان ایوبی نے راستہ بتا کر اپنے ہدف پر چلے
جانے کو کہا ،پھر وہ دوسرے کمانڈروں کو ہدایات دینے لگا۔
٭ ٭ ٭
آدھی رات گزری تھی کہ دور سے گھوڑوں کی آوازیں اس طرح سنائی دینے لگیں جیسے سیالب بند توڑ کر آرہا ہو۔ چاند پورا
تھا ،چاندنی شفاف تھی۔ صلیبیوں کے گھوڑ سوار ٹیلوں اور چٹانوں سے کچھ دور تک آگئے۔ ان کے پیچھے شتر سوار تھے۔ ان
کی تعداد کے متعلق مورخوں میں اختالف پایا جاتا ہے۔ غیر مسلم مورخوں نے تعداد تین ہزار سے کم بیان کی ہے۔ مسلمان
مورخ پانچ سے آٹھ ہزار تک بتاتے ہیں۔ اس وقت کے واقعہ نگاروں کی جو تحریریں دستیاب ہوسکی ہیں وہ کم سے کم
تعداد دس ہزار اور زیادہ سے زیادہ بارہ ہزار بتاتے ہیں۔ ان کا کمانڈر ایک مشہور صلیبی حکمران ریمانڈ تھا۔ دو مورخوں نے
کمانڈر کا نام رینالٹ لکھا ہے لیکن وہ ریمانڈ تھا۔ وہ اسی حملے کے لیے لمبے عرصے سے وہاں سے دور خیمہ زن تھا۔ اسے
اب رات کو یہ صبح ہوتے ہی سلطان ایوبی کی اس فوج پر حملہ کرنا تھا جس نے کرک کو محاصرے میں لے رکھا تھا۔
صلیبی سوار گھوڑوں اور اونٹوں سے اترے ،گھوڑوں کے ساتھ دانے کی تھیلیاں تھیں جو گھوڑوں کے آگے لٹکا دی گئیں۔ سواروں
کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے اپنے جانور کے ساتھ رہیں اور زیادہ دیر کے لیے سو نہ جائیں۔ جانوروں کے لیے چارہ اور پانی
کے مشکیزے پیچھے آرہے تھے۔ صلیبیوں نے یہ سوچا تھا کہ مسلمانوں پر عقب سے اچانک حملہ کرکے گھوڑوں کو قلعے کے
اندر سے پانی پالئیں گے۔ سلطان ایوبی کے دیدبان صلیبیوں کو بڑی اچھی طرح دیکھ رہے تھے اور گھبرا بھی رہے تھے کیونکہ
صلیبیوں کی طاقت بہت زیادہ تھی۔ اتنی زیادہ طاقت سے وہ محاصرہ توڑ سکتے تھے۔
صحرا بھی دھنلی تھی ،صلیبیوں کو سوار ہونے ،برچھیاں اور تلواریں تیار رکھنے کا حکم مال۔ یہ دراصل حملے کا حکم تھا۔ وہ
ایک بڑی ہی لمبی صف کی صورت میں آگے بڑھے ،جونہی اگلی صف نے ایڑی لگائی ،عقب سے تیروں کی بوچھاڑیں آنے
لگیں ،جن سواروں کو تیر لگے ،وہ گھوڑوں پر ہی اوندھے ہوگئے یا گر پڑے اور جن گھوڑوں کو تیر لگے وہ بے قابو ہوکر بھاگ
اٹھے۔ اونٹ بھی چلے ہی تھے کہ ان میں بھگدڑ مچ گیا۔ صلیبی کمانڈر سمجھ نہ سکے کہ یہ ہوا کیا ہے اور ان کی ترتیب
بکھرتی کیوں جارہی ہے۔ انہوں نے غصے کی حالت میں چالنا شروع کردیا۔ زخمی گھوڑوں اور اونٹوں نے جو واویال بپا کیا اس
نے ساری فوج پر دہشت طاری کردی۔ صبح کا اجاال صاف ہوا تو ریمانڈ کو معلوم ہوا کہ وہ سلطان ایوبی کے گھیرے میں آگیا
ہے۔ اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے۔ وہ اسے بہت زیادہ سمجھ رہا تھا۔ ایسی صورتحال کے لیے وہ
تیار نہیں تھا۔ اس نے حملہ رکوا دیا لیکن اس کے سواروں کی اگلی صف اس خالکے قریب پہنچ چکی تھی جہاں اس پورے
لشکر کو پہنچنا تھا۔
محاصرے والی فوج کو پہلے ہی خبردار کردیا گیا تھا۔ وہ اسے حملے کے استقبال کے لیے تیار تھی۔ اس کے مجاہدین نے گرد
کے بادل زمین سے اٹھتے اور اپنی طرف آتے دیکھے تو وہ تیار ہوگئے۔ گرد قریب آئی تو اس میں سے گھوڑ سوار نمودار
ہوئے۔ مجاہدین نے اپنے آپ کو حملہ روکنے کی ترتیب میں کرلیا۔ وہ دائیں اور بائیں تھے جونہی گھوڑے ان کے درمیان
آئے ،مجاہدین پہلوئوں سے ان پر ٹوٹ پڑے۔ تب صلیبی سواروں کو احساس ہوا کہ وہ اپنے لشکر سے کٹ گئے ہیں اور ان کا
لشکر اپنی جگہ سے چال ہی نہیں۔ سلطان ایوبی اس معرکے کی کمان اور نگرانی خود کررہا تھا۔ صلیبی پیچھے کو مڑے تاکہ
مقابلہ کریں لیکن سلطان ایوبی نے انہیں یہ چال چل کر بہت مایوس کیا کہ صلیبیوں کا کوئی دستہ سرپٹ رفتار سے کسی
طرف حملہ کرتا تھا تو آگے مزاحمت نہیں ملتی تھی۔ البتہ پہلوئوں اور عقب سے اس پر تیر برستے تھے۔ صلیبی کمانڈروں
نے اپنے لشکر کو چھوٹے چھوٹے دستوں میں تقسیم کردیا۔ سلطان ایوبی کے کمانڈروں نے اس کی ہدایت کے مطابق آمنے
سامنے کے مقابلے کی نوبت ہی نہ آنے دی۔ صلیبیوں کے گھوڑے تھکے ہوئے تھے۔ بھوکے اور پیاسے بھی تھے۔ انہیں جنگ
روکنی پڑی۔ وہ چارے اور پانی کے منتظر تھے۔ رسد کو صبح تک پہنچ جانا چاہیے تھا۔
دوپہر تک رسد نہ پہنچی۔ چند ایک سوار دوڑے گئے لیکن وہ مسلمان تیر اندازوں کا شکار ہوگئے۔ اگر وہ زندہ پیچھے چلے
بھی جاتے تو انہیں رسد نہ ملتی۔ وہ رات کو ہی سلطان ایوبی کے چھاپہ مار دستے کی لپیٹ میں آگئی تھی۔ اس دستے نے
بڑی کامیابی سے شب وخون مارا اور رسد تباہ کردی تھی۔ سلطان ایوبی نے اپنے محفوظہ میں سے مزید دستے بال لیے اور
ریمانڈ کے لشکر کو گھیرے میں لے لیا۔ اگر مسلمانوں کی تعداد صلیبیوں جتنی ہوتی تو وہ حملہ کرکے صلیبیوں کو ختم
کردیتے۔ سلطان ایوبی اپنی نفری ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اس لشکر کو لڑاتے لڑاتے ٹیلوں اور گھاٹیوں کے عالقے میں
لے جا کر گھیرے میں لے لیا۔ اسے معلوم تھا کہ جوں جوں وقت گزرتا جائے گا صلیبی بے کار ہوتے جائیں گے مگر صلیبیوں
کو بڑی کامیابی سے گھیر ے میں لے کر اسے خود بھی نقصان ہورہا تھا۔ اس نے جہاں صلیبیوں کی اتنی بڑی قوت کو باندھ
لیا تھا وہاں اس کے اپنے بہت سے ریزور دستے بھی بندھ گئے تھے۔ انہیں اب وہ کسی اور طرف استعمال نہیں کرسکتا تھا۔
اس عالقے کے اندر پانی موجود تھا ،جو جانوروں کو کچھ عرصے کے لیے زندہ رکھنے کے لیے کافی تھا۔ فوج کوزندہ رکھنے
کے لیے زخمی گھوڑوں اور اونٹوں کا گوشت کافی تھا۔ سلطان ایوبی نے شہر کا محاصرہ مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔ صلیبی
چین سے نہیں بیٹھے۔ ہر روز کسی نہ کسی جگہ جھڑپ ہوتی تھی اور دن گزرتے جارہے تھے۔ سلطان ایوبی نے قلعے اور
شہر کے گرد گھومنا شروع کردیا۔ کہیں سے بھی دیوار توڑنے کی صورت نظر نہیں آر ہی تھی۔
٭ ٭ ٭
محاصرے کا سولہواں سترھواں روز تھا ،شام کے وقت سلطان ایوبی اپنے خیمے میں بیٹھا اپنے نائبین وغیرہ کے ساتھ اس
مسئلے پر باتیں کررہا تھا کہ قلعے کو توڑنے کی کیا صورت اختیار کی جائے۔ محافظ نے اندر آکر اطالع دی کہ سوڈان کے
محاذ سے قاصد آیا ہے۔ سلطان ایوبی تڑپ کر بوال… ''اسے فورا ً اندر بھیج دو''… اور اس کے ساتھ ہی اس کے منہ سے
نکل گیا… ''اللہ کرے یہ کوئی اچھی خبر الیا ہو''۔
قاصد اندر آیا تو سلطان ایوبی نے فورا ً پہچان لیا کہ یہ قاصد نہیں ،کسی دستے کا کمانڈر ہے۔ سلطان ایوبی نے بیتابی سے
پوچھا… ''کوئی اچھی خبر الئے ہو؟… بیٹھ جائو''۔
کمانڈر نے نفی میں سر ہالیا اور بوال… ''جس رنگ میں ساالر اعظم دیکھیں ،خبر اس لیے اچھی نہیں کہ ہم سوڈان میں فتح
حاصل نہیں کرسکے اور اس لحاظ سے خبر اچھی ہے کہ ہم نے ابھی شکست نہیں کھائی اور پسپا نہیں ہوئے''۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ شکست اور پسپائی کے آثار بھی نظر آرہے ہیں''۔ سلطان ایوبی نے پوچھا۔''
صاف نظر آرہے ہیں'' ۔ کمانڈر نے جواب دیا… ''میں آپ کا حکم لینے آیا ہوں کہ ہم کیا کریں۔ ہمیں کمک کی شدید ''
ضرورت ہے۔ اگر ہماری یہ ضرورت پوری نہ ہوئی تو پسپائی کے بغیر چارہ نہیں''۔
سلطان ایوبی نے پورا پیغام سننے سے پہلے اس کے لیے کھانا منگوایا اور کہا کہ کھائو اور پیغام سناتے جائو۔ سلطانایوبی کی
غیرحاضری میں اس کا بھائی تقی الدین مصر کا قائم مقام امیر مقرر ہوا تھا۔ اس نے سوڈان اور مصر کی سرحد کے قریب
فرعونوں کے زمانے کے کھنڈروں میں صلیبیوں کا پیدا کردہ ایک بڑا ہی خطرناک نظریہ اور ڈرامہ پکڑا تھا اور اس کے فورا ً بعد
اس نے یہ سوچ کر سوڈان پر حملہ کردیا تھا کہ وہاں مصر پر حملے کی تیاریاں ہورہی تھیں۔ مشیروں اور ساالروں نے اسے
کہا تھا کہ وہ سلطان ایوبی سے اجازت لے کر حملہ کریں مگر تقی الدین نے یہ کہہ کر سوڈان پر حملہ کردیا تھا کہ وہ اپنے
بھائی کو اس لیے پریشان نہیں کرنا چاہتے کہ وہ صلیبیوں کے اتنے طاقتور لشکر کے خالف لڑ رہا ہے۔ اس نے جوش میں آکر
حملہ تو کردیا تھا لیکن یہ کمانڈر پیغام الیا تھا کہ سوڈان میں شکست صاف نظر آرہی ہے۔ عام قاصد کے بجائے تقی الدین
نے ایک کمانڈر کو اس لیے بھیجا تھا کہ وہ سلطان ایوبی کو محاذ کی صحیح صورتحال فنی نقطہ نگاہ سے سنا سکے۔ اس
سے پہلے سلطان ایوبی کو صرف یہ اطالع ملی تھی کہ تقی الدین نے سوڈان پر حملہ کردیا ہے۔
کمانڈر نے جو واقعات سلطان ایوبی کو سنائے وہ مختصرا ً یہ تھے کہ تقی الدین نے حقائق پر نظر ر کھنے کے بجائے جذبے
اور جذبات سے مغلوب ہوکر حملے کا حکم دے دیا۔ اس کا جذبہ وہی تھا جو اس کے بھائی سلطان ایوبی کا تھا لیکن دونوں
بھائیوں کی جنگی فہم وفراست میں فرق تھا۔تقی الدین نے جو فیصلہ کیا نیک نیتی اور اسالمی جذبے کے تحت کیا مگر وہ
اس حقیقت کو نظر انداز کرگیا کہ دشمن پر سوچے سمجھے بغیر ٹوٹ پڑنے کو جہاد یا جنگ نہیں کہتے۔ اس نے سوڈان میں
پھیالئے ہوئے اپنے جاسوسوں کی رپورٹوں پر بھی پوری طرح غور نہ کیا۔ ان کی صرف اس اطالع پر توجہ مرکوز رکھی کہ
سوڈانیوں کو صلیبی کمانڈر ٹریننگ دے رہے ہیں اور وہاں حملے کی تیاریاں تقریبا ً مکمل ہوچکی ہیں۔ تقی الدین نے دشمن کو
تیاری کی حالت میں دبوچ لینے کا فیصلہ کرلیا مگر اس قسم کی انتہائی اہم معلومات حاصل نہ کیں کہ سوڈانیوں کی جنگی
طاقت کتنی ہے؟ وہ کتنی طاقت لڑائیں گے اور کتنی ریزو میں رکھیں گے؟ ان کے ہتھیار کیسے ہیں؟ سوار کتنے اور پیادہ کتنے
ہیں؟ اور سب سے زیادہ اہم مسئلہ یہ تھا کہ میدان جنگ کس قسم کا اور مصر سے کتنی دور ہوگا اور رسد کے انتظامات کیا
ہوں گے؟
وہ خرابیاں تو ابتداء میں ہی سامنے آگئیں ،ایک یہ کہ سوڈانیوں نے بلکہ صلیبی کمانڈروں نے تقی الدین کو سرحد پر روکا
نہیں۔ اسے بہت دور تک سوڈان کے اس عالقے تک جانے کے لیے راستہ دے دیا جو بڑا ہی ظالم صحرا تھا اور جہاں پانی
نہیں تھا۔ دوسرا نقصان یہ سامنے آیا کہ تقی الدین کی
فوج دراصل صالح الدین ایوبی کی چالوں پر لڑنے والی فوج تھی جو انتہائی کم تعداد میں دشمن کے بڑے بڑے دستوں کو :
تہس نہس کردیا کرتی تھی۔ اس فوج کو صرف سلطان ایوبی استعمال کرسکتا تھا۔ سلطان ایوبی آمنے سامنے کی ٹکر سے
ہمیشہ گریز کرتا تھا۔ وہ متحرک قسم کی جنگ لڑتا تھا۔ تقی الدین لشکر کشی کا قائل تھا۔ اس فوج میں تجربہ کار اور
جانباز چھاپہ مار دستے بھی تھے لیکن ان کا صحیح استعمال سلطان ایوبی جانتا تھا۔ سوڈان میں جاکر یوں ہوا کہ فوج ایک
لشکر کی صورت میں بندھی رہی اور دشمن اپنی چال چل گیا۔ دشمن تقی الدین کو اپنی پسند کے عالقے میں لے گیا اور
اس کی فوج پر سلطان ایوبی کے انداز کے شب وخون مارنے شروع کردیئے۔ تقی الدین کے جانوروں اور جوانوں کو پانی کی
ایک بوند بھی نہیں ملتی تھی۔ چھاپہ مار دستوں کے کمانڈروں نے اسے کہا کہ وہ انہیں صحرا میں آزاد چھوڑ دے مگر تقی
الدین نے اسے خدشے کے پیش نظر انہیں کوئی کارروائی نہ کرنے دی کہ جمعیت اور مرکزیت ختم ہوجائے گی۔
جب رسد کا مسئلہ سامنے آیا تو یہ تکلیف دہ احساس ہوا کہ وہ اتنی دور چلے آئے ہیں جہاں تک رسد کو پہنچتے کئی دن
لگیں گے اور رسد کا راستہ محفوظ بھی نہیں۔ ہوا بھی ایسے ہی کہ رسد کے پہلے ہی قافلے کی اطالع ملی کہ دشمن نے
اسے تباہ نہیں کیا بلکہ تمام تر رسد اور جانور اڑالے گیا ہے۔ اس حادثے کی اطالع پر چھاپہ مار دستوں کے ایک سینئر
کمانڈر اور تقی الدین میں گرما گرمی ہوگئی۔ کمانڈر نے کہا کہ وہ لڑنے آئے ہیں اور لڑیں گے لیکن اس طرح نہیں کہ دشمن
شب وخون مار رہا ہے۔ رسد لوٹ کر لے گیا ہے اور ہم مرکزیت کے پابند بیٹھے رہیں۔ تقی الدین نے حکم کے لہجے میں
سخت کالمی کی تو کمانڈر نے کہا… ''آپ تقی الدین ہیں ،صالح الدین نہیں۔ ہم اس عزم اور اس طریقے سے لڑیں گے جو
ہمیں صالح الدین ایوبی نے
سکھایا ہے۔ ہم چھاپہ مار ہیں۔ ہم دشمن کے پیٹ کے اندر جاکر اس کا پیٹ چاک کیا کرتے ہیں۔ آپ کا یہ لشکر بھوکا
مرررہا ہے اور رسد دشمن لے گیا ہے۔ ہم دشمن کی رسد لوٹ کر اپنی فوج کو کھالنے کے عادی ہیں''۔
واقعہ نگار لکھتے ہیں کہ تقی الدین کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ جانتا تھا کہ چھاپہ ماروں کا یہ کمانڈر کس جذبے سے
تعالی کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ میں ان جانبازوں کو
پاگل ہوا جارہا ہے۔ اس نے جذباتی لہجے میں کہا… ''میں ذات باری
ٰ
جو فلسطین میں لڑتے ہوئے آئے ہیں ،ناحق موت کے منہ میں نہیں دھکیلنا چاہتا''۔
پھر آپ کو حملہ بھی نہیں کرنا چاہیے تھا''۔ کمانڈر نے کہا… ''ہم میں کون ہے جو اللہ کے نام پر جان دینے کے یے ''
تیار نہیں ،ہم موت کے منہ میں آچکے ہیں اور یہی مسلمان کی شان ہے کہ وہ موت کے منہ میں جاکر اپنے آپ کو اللہ کے
قریب محسوس کرتا ہے۔ آپ جذبات سے نکلیں ،ہم دشمن کے جال میں آچکے ہیں''۔
تقی الدین کوئی ایسا اناڑی بھی نہیں تھا ،اسے سلطان ایوبی کے یہ الفاظ یاد تھے کہ اپنے آپ کو بادشاہ سمجھ کر کسی کو
حکم نہ دینا اور میدان جنگ میں جاکر اپنی غلطیوں سے چشم پوشی نہ کرنا۔ اس نے اس کمانڈر کی سخت کالمی کو
اعلی کمانڈروں کو بال کر جنگ کی صورتحال اور آئندہ اقدام کے متعلق بات چیت کی۔
گستاخی نہ سمجھا اور اسی وقت تمام
ٰ
فیصلہ ہوا کہ چھاپہ ماروں کو جوابی کارروائیاں کرنے کے لیے پھیال دیا جائے۔ رسد کے راستے کو بھی چھاپہ مار اپنی حفاظت
میں لے لیں۔ فوج کے متعلق یہ فیصلہ ہوا کہ اسے تین حصوں میں تقسیم کرکے دشمن پر تین اطراف سے حملہ کیا جائے۔
تقی الدین نے اپنے پاس جو محفوظہ رکھا وہ خاصا کم تھا۔ اس تقسیم ا ور ترتیب سے یہ فائدہ ہوا کہ فوج اس عالقے سے
نکل گئی جہاں پانی نہیں تھا۔ ریت اور ٹیلوں کا سمندر تھا مگر فوج بکھر گئی۔ دشمن نے تینوں حصوں پر حملے کرکے انہیں
اور زیادہ بکھیر دیا۔ جانی نقصان بہت ہونے لگا ،نہایت تیزی سے کمانڈروں نے اپنے اپنے دستوں کو الگ الگ کرکے اسی
نوعیت کی جنگ شروع کردی جو انہیں سلطان ایوبی نے سکھائی تھی مگر صاف پتا چل رہا تھا کہ وہ جیت نہیں سکیں
گے۔ انہوں نے جذبہ قائم رکھا۔ رسد اور کمک کا سوال ہی ختم ہوگیا تھا۔ وہ شب وخون مارتے اور کھانے پینے کے لیے کچھ
حاصل کرلیتے تھے۔ چھاپہ مار دستے نہایت جانبازی سے شب وخون مارتے دشمن کا نقصان کرتے اور جو ہاتھ لگتا وہ مختلف
دستوں تک پہنچا دیتے تھے۔
مرکزی کمان ختم ہوچکی تھی ،تقی الدین اپنے عملے کے ساتھ بھاگتا دوڑتا رہتا تھا۔ جذبے کی حد تک وہ مطمئن تھا۔ اسے
کہیں سے بھی ایسی اطالع نہ ملی کہ کسی دستے یا جماعت نے ہتھیار ڈال دیئے ہوں۔ جنگ چھوٹے چھوٹے معرکوں اور
فرد فردا ً یہ فیصلہ کرلیا
جھڑپوں میں تقسیم ہوتے ہوتے آدھے سوڈان تک پھیل گئی۔ مسلمان کمانڈروں نے
ً
کہ وہ چھاپہ مار قسم کی جنگ لڑتے رہیں گے۔ سوڈان سے نکلیں گے نہیں۔ دشمن کا نقصان بھی ہورہا تھا۔ ایک وقت
آگیا ،جب دشمن پریشان ہوگیا کہ مسلمانوں کو سوڈان سے کس طرح نکاال جائے۔ مسلمان فوجی صحرائوں ،بیابانوں اور دیہاتی
آبادیوں میں پھیل گئے تھے۔ اب مرکز کو یہ بھی پتا نہیں چلتا تھا کہ جانی نقصان کتنا ہوچکا ہے اور کتنی نفری باقی ہے۔
یہ اندازہ ضرور ہورہا تھا کہ دشمن بھی مصیبت میں مبتال ہے اور اب وہ مصر پر حملہ نہیں کرسکے گا مگر اس طریقہ جنگ
سے کوئی ٹھوس فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کوئی عالقہ فتح نہیں کیا جاسکتا تھا۔ فوج مرتی جارہی تھی۔
ان حاالت میں تقی الدین نے سلطان ایوبی کو اپنے ایک کمانڈر کی زبانی پیغام بھیجا۔ اس نے کہا کہ سوڈان کی مہم صرف
اسی صورت میں کامیاب ہوسکتی ہے کہ اسے کمک مل جائے۔ اس کی تمام فوج چھاپہ مار پارٹیوں میں بٹ گئی تھی۔ ان
پارٹیوں کی کارروائیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے مزید فوج کی ضرورت تھی۔ تقی الدین نے سلطان ایوبی سے پوچھا تھا کہ
کمک نہ مل سکے تو کیا وہ سوڈان میں بکھری ہوئی فوج کو یکجا کرکے مصر واپس آجائے؟ مصر میں جو فوج تھی وہ مصر
کے اندرونی حاالت اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے بھی ناکافی تھی۔ اسے محاذ پر لے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
تھا۔ سلطان ایوبی پسپائی کا قائل نہیں تھا۔ اس کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا کہ وہ اپنے بھائی کو پسپائی کا حکم دے
یا نہیں لیکن حقائق اسے مجبور کررہے تھے۔ وہ کمک نہیں دے سکتا تھا۔ وہ خود کمک کی ضرورت محسوس کررہا تھا۔ وہ
گہری سوچ میں کھوگیا۔
٭ ٭ ٭
تقی الدین کے اس قاصد نے سلطان ایوبی کو صورتحال تو بتا دی لیکن صلیبیوں اور سوڈانیوں نے وہاں جو ایک اور محاذ کھول
دیا تھا ،وہ نہ بتایا۔ غالبا ً اس کمانڈر کو معلوم نہ ہوگا۔ ایسے انکشافات بہت بعد میں ہوئے تھے۔ تقی الدین کی فوج دس دس
بارہ بارہ کی ٹولیوں میں بکھر کر لڑ رہی تھی۔ بعض عالقوں میں خانہ بدوشوں کے جھونپڑے اور خیمے بھی تھے۔ بعض جگہیں
ہری بھری اور سرسبز بھی تھیں اور بیشتر عالقے بنجر ،ویران اور ریگستان تھے۔ ایک شام تین چھاپہ مار مجاہدین واپس اپنے
ایک سینئر کمانڈر کے پاس آئے۔ ان میں دو زخمی تھے۔ انہوں نے سنایا کہ ان کی پارٹی میں اکیس افراد تھے اور بائیسواں
پارٹی کمانڈر تھا۔ دن کے وقت یہ پارٹی ایک جگہ چھپی ہوئی تھی۔ پارٹی کمانڈر ادھر ادھر اس طرح ٹہل رہا تھا جیسے پہرہ
دے رہا ہو یا کسی کی راہ دیکھ رہا ہو۔ ایک سوڈانی شتر سوار گزرا اور پارٹی کمانڈر کو دیکھ کر رک گیا۔ کمانڈر اس کے
پاس گیا اور معلوم نہیں اس کے ساتھ کیا باتیں کیں۔ شتر سوار چال گیا تو پارٹی کمانڈر نے اپنے اکیس جانبازوں کو یہ
خوشخبری سنائی کہ دو میل دور ایک گائوں ہے جہاں مسلمان رہتے ہیں۔ اس شتر سوار نے پارٹی کو اپنے گائوں میں مدعو
کیا ہے۔ رات کو گائوں والے پارٹی کو اپنا مہمان رکھیں گے اور دشمن کی ایک جمعیت کی جگہ بھی بتائیں گے۔
تمام جانباز بہت خوش ہوئے۔ کھانا دانہ ملنے کے عالوہ دشمن پر حملے کا موقع بھی مل رہا تھا۔ سورج غروب ہوتے ہی یہ
سب اس گائوں کی طرف چل دیئے۔ وہاں جا کے دیکھا کہ صرف تین جھونپڑے تھے۔ادھر ادھر درخت تھے اور پانی بھی تھا۔
سپاہیوں کو جھونپڑوں کے باہر ڈیرے ڈالنے کو کہاگیا۔ پارٹی کمانڈر ایک جھونپڑے میں چالگیا۔ باہر مشعلیں جال دی گئیں اور
سب کو کھانا دیا گیا۔ پارٹی کمانڈر نے کہاکہ سب سو جائو ،حملے کے وقت انہیں جگالیا جائے گا۔ تھکے ہوئے سپاہی سو
گئے۔ یہ تین جو واپس آئے ان میں سے ایک سو نہ سکا یا اس کی آنکھ کھل گئی۔ اسے ایک جھونپڑے میں عورتوں کے
قہقہوں کی آوازیں سنائی دیں۔ اس نے جھانک کر دیکھا۔ جھونپڑے میں پارٹی کمانڈر دو نہایت حسین لڑکیوں کے ساتھ ہنس
کھیل رہا تھا اور شراب چل رہی تھی۔ لڑکیاں صحرائی لباس میں تھیں لیکن صحرائی لگتی نہیں تھیں۔ اس سپاہی کو باہرکچھ
دبی دبی آوازیں سنائی دیں۔ چاندنی میں اس نے دیکھا کہ بہت سے آدمی آرہے تھے جن کے ہاتھوں میں برچھیاں اور تلواریں
تھیں۔ سپاہی جھونپڑے کی اوٹ میں ہوگیا اور دیکھتارہا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ جھونپڑے میں کوئی داخل ہوا۔ اس کی آواز
سنائی دی… ''کیوں بھائی کام کردیں؟''… پارٹی کمانڈر نے کہا… ''تم آگئے؟ سب سوئے ہوئے ہیں ،ختم کردو''… اور لڑکیوں
کے قہقہے سنائی دیئے۔
وہ آدمی جو آرہے تھے سوئی ہوئی پارٹی پر ٹوٹ پڑے۔ کچھ تو سوتے میں ختم ہوگئے اور جو جاگ اٹھے انہوں نے مقابلہ
کیا۔ یہ سپاہی چھپاہوا دیکھتا رہا۔ اسے اپنے دو ساتھی بھاگتے نظر آئے۔ موقعہ دیکھ کر یہ سپاہی بھی بھاگ اٹھا اور اپنے دو
ساتھیوں سے جامال۔ وہ دونوں زخمی تھے۔ کسی نے ان کا تعاقب نہ کیا۔ یہ معلوم نہیں ہوسکاکہ پارٹی کمانڈر شتر سوار کے
دیئے ہوئے اللچ میں آگیا تھا یا وہ پہلے سے ہی دشمن کا ایجنٹ تھا اور اپنے آدمیوں کو مروانے کا موقعہ دیکھ رہا تھا۔
بہرحال یہ انکشاف ہوا کہ دشمن نے بکھرے ہوئے مسلمان دستوں کو ختم کرنے یا اپنے ہاتھ میں کرنے کے لیے لڑکیوں کو
استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ دشمن انسانی فطرت کی کمزوریوں کو استعمال کررہا تھا۔ ان حاالت میں لڑنے والے سپاہی کو
پیٹ اور جنس کی بھوک بہت پریشان کیاکرتی ہے۔ دشمن مجاہدین کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر حملے الگ کررہا تھا ور نفسیاتی ہتھیار
بھی استعمال کررہا تھا۔ ایسے چند اور واقعات ہوئے۔ مجاہدین کو خبردار کیا گیا کہ کسی کے جھانسے میں نہ آئیں۔
ایسے بہت سے واقعات میں ایک واقعہ قابل ذکر ہے۔ چھاپہ مار دستے کا ایک کمانڈر عطاالہاشم ایک جگہ بیٹھا ہوا تھا ،اس
کا دستہ تین چار پارٹیوں میں بکھراہوا تھا۔ یہ مصر سے آنے والی رسد کا راستہ تھا۔
19:56
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
"قسط نمبر52.۔" میرےفلسطین میں آوں گا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ مصر سے آنے والی رسد کا راستہ تھا۔ عطاالہاشم نے اپنے صرف ایک دستے سے جس کی نفری ایک سو سے کچھ کم
تھی ،رسد کے تمام تر راستے کو محفوظ کردیا تھا۔ رسد پر چھاپہ مارنے والے دشمن کا اس نے بہت نقصان کیا تھا۔ اس کے
جانباز اچانک جھپٹ پڑے تھے۔ سوڈانیوں نے انہیں ختم کرنے کے بہت جتن کیے لیکن پانچ چھ جانبازوں کو شہید کرنے کے
سوا کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ عطاالہاشم ٹیلوں میں ڈھکی ہوئی ایک جگہ پر بیٹھا تھا۔ اس کے ساتھ چھ سات جانباز
تھے۔ یہ اس نے ہیڈکوارٹر بنا رکھا تھا۔ اسے صحرائی خانہ بدوشوں کے لباس میں دو لڑکیاں ایک ادھیڑ عمر آدمی کے ساتھ
نظر آئیں۔ عطاالہاشم کو دیکھ کر تینوں اس کے پاس آگئے۔ لڑکیاں سوڈانی معلوم ہوتی تھیں لیکن انہوں نے جو لباس پہن رکھا
تھا وہ بہروپ لگتا تھا۔ ان کے چہروں پر گرد تھی ،چہرے اداس تھے اور تھکن بھی معلوم ہوتی تھی۔ لڑکیاں ادھیڑ عمر آدمی
کے پیچھے ہوگئیں۔ یہ جھجک اور شرم کا اظہار تھا۔
اس آدمی نے کچھ مصری اور کچھ سوڈانی زبان میں کہا کہ وہ مسلمان ہے اور یہ دونوں اس کی بیٹیاں ہیں۔ وہ بھوک سے
مررہے ہیں۔ اس نے کھانے کے لیے کچھ مانگا۔ عطاالہاشم سوڈان کی زبان جانتا تھا۔ وہ چھاپہ مار تھا۔ سوڈانی عالقے میں
کمانڈو کارروائیوں کی کامیابی کے لیے اس نے سوڈانی زبان سیکھی تھی۔ اس کے پاس خوراک کی کمی نہیں تھی۔ وہ رسد کا
محافظ تھا۔ دو تین بار رسد گزری تھی جس میں سے اس نے اپنے دستے کے لیے بہت سارا راشن پانی اپنے پاس رکھ لیا
تھا۔ اس نے ان تینوں کو کھانا دیا اور پوچھا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں؟ اور کہاں جارہے ہیں؟۔ اس آدمی نے کسی گاوں کا
نام لے کر کہا کہ ان کا گاوں جنگ کی زد میں آگیا ہے۔ کبھی سوڈانی آجاتے تھے تو کبھی مسلمان۔ دونوں گھر میں کھانے
کی کوئی چیز نہیں چھوڑتے تھے۔ وہ ان لڑکیوں کو فوجیوں سے چھپاتا پھرتا تھا ،آخر تنگ آکر گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ وہ
لڑکیوں کی عزت بچانا چاہتا تھا۔ اس نے بتایا کہ چونکہ وہ مسلمان ہے ،اس لیے اس کوشش میں ہے کہ مصر چال جائے مگر
ممکن نظر نہیں آتا۔ اس نے عطاالہاشم سے کہا کہ وہ انہیں مصر پہنچا دے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے پوچھا … ''تم لوگ
''اس جگہ کب تک رہو گے؟
جب تک رہوں ،تم تینوں کو اپنے ساتھ رکھوں گا''… عطاالہاشم نے جواب دیا۔''
آپ ان دونوں لڑکیوں کو اپنی پناہ میں لے لیں''… ادھیڑ عمر آدمی نے کہا… ''میں چال جاتا ہوں''۔''
میں یہ دیکھ کر حیران ہورہی ہوں کہ آپ کی زندگی کتنی دشوار ہے''… ایک لڑکی نے معصوم لہجے میں کہا اور پوچھا…''
''''آپ کو اپنا گھر اور بیوی بچے یاد نہیں آتے؟
سب یاد آتے ہیں''… عطاالہاشم نے جواب دیا… ''لیکن میں اپنے فرض کو نہیں بھول سکتا''۔''
یوں معلوم ہوتا تھا جیسے کھانا کھا کر پانی پی کر ان کے جسموں میں نئی جان اور نئی روح پیدا ہوگئی ہو۔ ایک لڑکی تو
خاموش رہی ،دوسری کی زبان رواں ہوگئی۔ اس نے جتنی بھی باتیں کیں ان میں عطاالہاشم اور اس کے جانبازوں کے لیے
ہمدردی تھی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ آپ لوگ وطن سے اتنی دور آکر اپنی جانیں کیوں ضائع کرتے ہیں؟
عطاالہاشم اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے تینوں کو اٹھایا اور اپنے آدمیوں کو بالیا۔ انہیں کہا کہ اس سوڈانی کے پاوں رسیوں سے باندھ
کر میرے گھوڑے کے پیچھے باندھ دو۔ انہوں نے اسے گرا کر پاوں باندھ دیئے اور گھوڑا کھول الئے۔ رسی کا ایک سرا گھوڑے
کی زین کے ساتھ باندھ دیا۔ عطاالہاشم نے ایک سپاہی سے کہا کہ گھوڑے پر سوار ہوجائے۔ وہ سوار ہوگیا۔ عطاالہاشم نے
لڑکیوں کو اکٹھا کھڑا کرکے دو تیر انداز بالئے۔ انہیں کہا کہ میرے اشارے پر لڑکیوں کی آنکھوں کے درمیان ایک ایک تیر چال
دیں اور گھوڑ سوار گھوڑے کو ایڑی لگا دے۔ گھوڑے کے پیچھے سوڈانی بندھا ہوا زمین پر پڑا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ گھوڑا
دوڑے گا تو اس کا کیا حشر ہوگا۔ تیر اندازوں نے ایک ایک تیر کمانوں میں ڈال لیا اور گھوڑ سوار نے باگیں تھام لیں۔
عطاالہاشم نے سوڈانی لڑکیوں اور آدمی سے کہا… ''میں تم تینوں کو صرف ایک بار کہوں گا کہ اپنی اصلیت بتا دو جس
مقصد کے لیے آئے ہو ،صاف بتا دو ،ورنہ اپنے انجام کے لیے تیار ہوجاو''۔
خاموشی طاری ہوگئی۔ لڑکیوں نے گھوڑے کے پیچھے بندھے ہوئے اپنے ساتھی کو دیکھا۔ وہ بھی خاموش تھا۔ انہوں نے آنکھوں
ہی آنکھوں میں آپس میں مشورہ کرلیا۔ سوڈانی نے کہا کہ وہ اپنا آپ ظاہر کردے گا۔ عطاالہاشم اس کے پاس بیٹھ گیا اور کہا
کہ وہ سچ بولے گا تو اسے کھوال جائے گا۔ اس آدمی نے کہا… ''اوپتھر دل انسان! تیرے پاس اتنی خوبصورت لڑکیاں الیا ہوں
اور تو انہیں تیروں کا نشانہ بنا رہا ہے۔ انہیں اپنے پاس رکھ اور اپنے دستے کو سمیٹ کر یہاں سے چال جا۔
اگر یہ قیمت تھوڑی ہے تو اپنی قیمت بتا۔ سونے کے سکے مانگ ،کچھ اور مانگ۔ شام سے پہلے الدوں گا''۔ :
عطا الہاشم اٹھا اور سوار سے کہا… ''گھوڑا دلکی چال پندرہ بیس قدم چالو''۔
گھوڑا چل پڑا۔ چند قدم آگے گیا تو سوڈانی بلبال اٹھا۔ عطاالہاشم نے کہا… ''رک جاو''… گھوڑا رکا تو عطاالہاشم نے اس کے
پاس جاکر کہا کہ وہ سیدھی باتیں کرنے پر آجائے۔ وہ مان گیا۔ اس نے بتا دیا کہ وہ سوڈانی جاسوس ہے اور صلیبیوں نے
اسے ٹریننگ دی ہے۔ لڑکیوں کے متعلق اس نے بتایا کہ مصر کی پیدائش ہیں اور صلیبیوں نے انہیں تخریب کاری کے فن کا
ماہر بنا رکھا ہے۔ عطاالہاشم نے اس کے پائوں کھول دیئے اور اسے اپنے پاس بٹھا کر باتیں پوچھیں۔ اس نے بتایا کہ اسے یہ
کام دیا گیا ہے کہ سوڈان میں پھیلے ہوئے مسلمان کمانڈروں کو لڑکیوں یا سونے چاندی کا چکمہ دے کر انہیں اور ان کے
سپاہیوں کو ختم یا قید کرادیا جائے یا انہیں اپنے ہاتھ میں لیا جائے۔ اس نے بتایا کہ عطاالہاشم نے رسد کا راستہ ایسی خوبی
سے محفوظ کررکھا تھا کہ صلیبی اور سوڈانی چھاپہ ماروں کا جانی نقصان بھی ہوا اور رسد بھی نکل گئی۔ اسے یہ مشن دے
کر بھیجا گیا تھا کہ عطاالہاشم کو ان لڑکیوں سے اندھا کرکے اسے قتل کردے یا اسے ایسے پھندے میں لے آئے کہ اسے قتل
یا قید کرلیا جائے اور اگر وہ ایمان کا کچا ثابت ہوا تو اسے اپنے ساتھ مال لیا جائے گا۔ یہ سوڈانی حیران تھا کہ عطاالہاشم
نے اتنی خوبصورت لڑکیوں کو قبول نہیں کیا۔ اس نے جب عطاالہاشم سے پوچھا کہ اس نے لڑکیوں اور زرو جواہرات کی
پیشکش کو کیوں ٹھکرا دیا ہے تو عطاالہاشم نے مسکرا کر کہا۔ ''کیونکہ میں ایمان کا کچا نہیں''۔
عطاالہاشم نے لڑکیوں کو بھی اپنے پاس بال لیا۔ زیادہ باتیں کرنے والی نے پوچھا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ عطاالہاشم
اعلی تقی الدین کے پاس لے جائے گا یا بھیج دے گا۔ اس نے
نے بتایا کہ انہیں وہ کل صبح اپنے ہیڈکوارٹر میں ساالر
ٰ
سوڈانی کو لڑکیوں سمیت اس ہدایت کے ساتھ اپنے آدمیوں کے حوالے کردیا کہ انہیں الگ الگ رکھا جائے۔ ان کی تالشی لی
گئی۔ تینوں کے پاس ایک ایک خنجر تھا۔ آدمی کے پاس ایک پوٹلی تھی جس میں حشیش بندھی ہوئی تھی۔
سورج غروب ہونے واال تھا جب اس کے دستے کی ایک ٹولی واپس آگئی۔ اس نے ٹولی کو کچھ دور تک پھیال دیا۔ اس نے
ہر کسی کو بتا دیا کہ یہ تینوں جاسوس اور تخریب کار ہیں۔ ہوسکتا ہے ان کے ساتھیوں کو معلوم ہوکہ یہ یہاں ہیں اور انہیں
چھڑانے کے لیے حملہ کریں۔ ان انتظامات کے بعد وہ آرام کے لیے لیٹ گیا۔ وہ جگہ نشیب وفراز کی تھی۔ اس نے لیٹنے
سے پہلے دیکھ لیا تھا کہ اس کے سپاہیوں نے لڑکیوں اور مرد کو کس طرح لٹایا ہے۔ وہ خود ایک ٹیلے کے ساتھ لیٹا جہاں
وہ اپنے سپاہیوں کو نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس کی آنکھ لگ گئی۔ کچھ دیر بعد اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس کے ذہن میں یہ
دو لڑکیاں آگئیں۔ وہ اس سوچ میں کھو گیا کہ یہ کتنی خوبصورت اور بظاہر کیسی معصوم سی لڑکیاں ہیں اور ان سے کتنا
غلیظ اور کتنا خطرناک کام کرایا جارہا ہے اگر یہ کسی مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئی ہوتیں تو کسی باعزت گھرانے میں
دلہنیں بن کر جاتیں۔ اسے اپنی بیوی یاد آگئی جو دلہن بن کر اس کے گھر آئی تھی تو انہی کی طرح جوان اور دلکش تھی۔
اپنی بیوی کی یاد اسے رومان انگیز تصورت میں لے گئی۔ اس ویران صحرا میں جہاں وہ موت کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہا
تھا ،ان تصوروں نے اس پر نشہ طاری کردیا۔ میدان جنگ میں سپاہی ایسے ہی تصوروں اور بڑی ہی دلکش یادوں سے دل بہالیا
کرتے ہیں۔
چاندنی نکھر آئی تھی ،صحرا کی چاندنی بڑی ہی شفاف اور خنک ہوا کرتی ہے۔ اس کی خنکی میں ایسا تاثر ہوتا ہے جو
ذہن اور دل سے موت کے خوف کو دھو ڈالتا ہے۔ عطاالہاشم اٹھا اور اس انداز سے خراماں خراماں اس جگہ گیا جہاں لڑکیاں
سوئی ہوئی تھیں ،جیسے وہ حفاظتی انتظام کا معائنہ کرنے جارہا ہو۔ وہ اکٹھی سورہی تھیں۔ ان کے اردگرد سپاہی سوئے ہوئے
تھے۔ سوڈانی آدمی کچھ دور تین سپاہیوں کے نرغے میں سویا ہوا تھا۔ عطاالہاشم نے ایک لڑکی کے پائوں کو اپنے پائوں سے
دبایا۔ لڑکی کی آنکھ کھل گئی۔ عطاالہاشم کو چاندی میں پہچان کر وہ اٹھ بیٹھی۔ عطاالہاشم نے اسے اٹھنے اور ساتھ چلنے کا
اشارہ کیا۔ لڑکی اس مسرت کے ساتھ اٹھی کہ اس پتھر جیسے کمانڈر پر اس کی جواں نسوانیت کا جادو چل گیا ہے۔ وہ اس
کے ساتھ چل پڑی۔ عطاالہاشم نے دیکھا کہ اس کے سپاہی کیسی بے ہوشی کی نیند سوئے ہوئے ہیں کہ انہیں یہ خبر بھی
نہیں کہ کوئی آدمی ان کے درمیان سے لڑکی کو اٹھا کر لے جارہا ہے۔ اسے اپنے سپاہیوں پر غصے کے بجائے ترس آگیا جو
ایک غیر یقینی سے جنگ لڑرہے تھے۔ کسی باقاعدہ کمان اور کنٹرول کے باوجود وہ نظم وضبط کی پابندی کررہے تھے۔
لڑکی کو وہ اپنی جگہ لے گیا۔ لڑکی کے سر پر اب اوڑھنی نہیں تھی۔ چاندنی اس کے بکھرے ہوئے بالوں کو سونے کے تاروں
کا رنگ دے رہی تھی
وہ کچھ دیر لڑکی کو دیکھتا رہا اور لڑکی اسے دیکھتی رہی۔ لڑکی نے نشیلی سے آواز میں مسکرا کر کہا… ''میں حیران :
ہوں کہ آپ ڈر کیوں رہے ہیں۔ مجھے آپ کے پاس آپ ہی کے لیے الیا گیا ہے۔ کیا آپ میری ضرورت محسوس نہیں
کرتے؟''… وہ اسے چپ چاپ دیکھتا رہا جیسے بت بن گیا ہو۔ لڑکی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں کے ساتھ لگا لیا
''اور بولی… ''میں جانتی ہوں آپ نے مجھے کیوں بالیا ہے ،آپ کیا سوچ رہے ہیں؟
میں سوچ رہاں ہوں کہ تمہارا باپ میری طرح کا ایک مرد ہوگا''… عطاالہاشم نے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا کر کہا…''
'' میں بھی باپ ہوں۔ ہم دونوں باپوں میں زمین اور آسمان جتنا فرق ہے۔ وہ باپ کتنا بے غیرت ہے اور میں ہوں کہ غیرت
کی پاسبانی کے لیے اپنے بچوں کو یتیم کرنے کی کوشش کررہا ہوں''۔
میرا کوئی باپ نہیں''… لڑکی نے کہا… ''دیکھا ہوگا ،اس کی صورت یاد نہیں''۔''
''مرگیا تھا؟''
یہ بھی یاد نہیں''۔''
''اور ماں؟''
کچھ بھی یاد نہیں''… لڑکی نے کہا… ''یہ بھی یاد نہیں کہ میں کس گھر میں پیدا ہوئی تھی یا کسی خانہ بدوش کے ''
خیمے میں … مگر یہ وقت ایسی بے مزہ باتیں کرنے کا نہیں''۔
ہم سپاہی یادوں سے مزے حاصل کیا کرتے ہیں''… عطاالہاشم نے کہا… ''میں چاہتا ہوں کہ تمہارے ذہن میں بھی تمہارے''
ماضی کی چند ایک یادیں تازہ کردوں''۔
میں خود ایک حسین یاد ہوں''… لڑکی نے کہا… ''جس کے ساتھ تھوڑا سا وقت گزار جاتی ہوں ،وہ ہمیشہ یاد رکھتا ہے۔''
میری اپنی کوئی یاد نہیں''۔
اپنے آپ کو حسین نہیں ،ایک غلیظ یاد کہو''… عطاالہاشم نے کہا… ''مجھے تمہارے جسم سے صلیبیوں کے سوڈانیوں کے''
مسلمانوں کے اور بڑے ہی غلیظ انسانوں کے گناہوں کی بو آرہی ہے۔ تم میرے قریب آئوگی تو مجھے متلی آجائے گی۔ تمہیں
کوئی مرد یاد نہیں رکھتا۔ تم جیسی لڑکیوں کے شکاری آج یہاں اور کل وہاں ہوتے ہیں۔ دوسرا شکار مل جاتا ہے تو پہلے کو
بھول جاتے ہیں۔ تمہارا یہ حسن چند دنوں کا مہمان ہے۔ تم میری قید میں ہو۔ میں تمہارا یہ چہرہ اسی وقت سزا کے طور
پر زخمی کرکے ہمیشہ کے لیے مکروہ بنا سکتا ہوں مگر ایسی ضرورت نہیں۔ یہ صحرا شراب ،حشیش اور بدکاری تمہیں سال
کے اندر اندر مرجھایا ہوا پھول بنا دے گی جسے لوگ اٹھا کر باہر پھینک دیتے ہیں۔ یہ صلیبی اور یہ سوڈانی تمہیں بھیک
مانگنے کے لیے باہر نکال دیں گے۔ تم بڑے ہی گھٹیا انسانوں کے لیے تفریح کا ذریعہ بن جائو گی''… ''میری ایک بیٹی ہے
جو تم سے دو تین سال چھوٹی ہوگی۔ اس کی شادی ایک باعزت جوان کے ساتھ ہوگی جو میری طرح کمر سے تلوار لٹکا کر
بڑی اچھی نسل کے گھوڑے پر سوار ہوا کرے گا۔ وہ میری طرح میدان جنگ کا شہزادہ ہوگا۔ میری بیٹی دلہن بنے گی۔ اپنے
خاوند کے دل میں اور اس کے گھر میں راج کرے گی۔ لوگ میری بیٹی کو ایک نظر دیکھنا چاہیں گے مگر دیکھ نہیں سکیں
گے۔ میں بھی اس پر فخر کیا کروں گا اور اس کا خاوند اس کے ساتھ اتنی محبت کرے گا کہ وہ بوڑھی ہوجائے گی تو بھی
محبت ختم نہیں ہوگی۔ تمہیں دیکھنے کے لیے کوئی بھی بیتاب نہیں ہوتا کیونکہ تم ایک ننگا بھید ہو ،تمہاری عزت کسی کے
دل میں نہیں اور کوئی بھی نہیں جو تمہیں محبت کے قابل سمجھے گا''۔
آپ میرے ساتھ ایسی باتیں کیوں کررہے ہیں؟''… لڑکی نے ایسی آواز میں پوچھا جو اس کی اپنی نہیں لگتی تھی۔''
میں تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تم جیسی بیٹیاں مقدس ہوتی ہیں''… عطاالہاشم نے جواب دیا… ''ہم مسلمان لوگ بیٹی ''
کو اللہ کا پیغام سمجھتے ہیں اگر تم عصمت اور مذہب کے معنی سمجھ لو تو تم پر اللہ کی رحمت برس جائے گی مگر تم
سمجھ نہیں سکو گی کیونکہ تم اس محبت سے واقف نہیں جو روح کی گہرائیوں تک پہنچا کرتی ہے۔ تم بدنصیب ہو۔ تم نے
مردوں کی ہوس دیکھی ہے ،محبت نہیں دیکھی''۔
عطاالہاشم آہستہ آہستہ بولتا رہا۔ اس کے لب ولہجے اور انداز کا اپنا ایک تاثر تھا لیکن لڑکی اس پر حیران ہورہی تھی کہ یہ
بھی دوسرے مردوں کی طرح مرد ہے مگر اس نے اس کے حسن کو زرہ بھر اہمیت نہیں دی۔ عطاالہاشم جذباتی لحاظ سے
پتھر بھی نہیں تھا۔ وہ تو سرتاپا جذبات میں ڈوبا ہوا تھا۔ لڑکی نے بیتاب سا ہوکر کہا… ''آپ کی باتوں میں ایسا نشہ اور
خمار ہے جو میں نے شراب اور حشیش میں نہیں پایا۔ مجھے آپ کی کوئی بھی بات سمجھ نہیں آرہی لیکن ہر ایک بات
دل میں اترتی جارہی ہے''… لڑکی ذہین تھی۔ اس قسم کی تخریب کاری کے لیے ذہین ہونا الزمی تھا۔ مردوں کو انگلیوں پر
نچانے کی اسے بچپن سے ٹرینگ دی گئی تھی مگر اس مرد نے اس ناگن کا زہر مال دیا۔ اس نے عطاالہاشم سے بہت سی
باتیں پوچھیں جن میں کچھ مذہب سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس کے لہجے اور انداز میں اب پیشہ وارانہ اداکاری نہیں رہی
''تھی۔ وہ اپنے قدرتی رنگ میں باتیں کررہی تھی۔ اس نے پوچھا… ''مجھے آپ لوگ کیا سزا دیں گے؟
میں تمہیں کوئی سزا نہیں دے سکتا''… عطاالہاشم نے کہا… ''کل صبح تمہیں اپنے ساالر اعظم کے حوالے کردوں گا''۔''
''وہ میرے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟''
جو ہمارے قانون میں لکھا ہے''۔''
''آپ مجھ سے نفرت کرتے ہیں؟''
نہیں''۔''
میں نے سنا ہے کہ مسلمان ایک سے زیادہ بیویاں رکھتے ہیں''… لڑکی نے کہا… ''اگر آپ مجھے اپنی بیوی بنا لیں تو ''
میں آپ کا مذہب قبول کرکے ساری عمر آپ کی خدمت کروں گی''۔
میں تمہیں بیٹی بنا سکتا ہوں ،بیوی نہیں''… عطاالہاشم نے کہا… ''کیونکہ تم میرے ہاتھوں میں مجبور ہو ،تم میری پناہ ''
میں بھی ہو اور میری قید میں بھی''۔
وہ باتوں میں مصروف تھے۔ لڑکی کا ساتھی مرد تین سپاہیوں کے نرغے میں لیٹا ہوا تھا مگر وہ جاگ رہا تھا۔ اس نے
عطانالہاشم کو دیکھ لیا تھا کہ وہ لڑکی کو جگا کر لے گیا ہے۔ وہ خوش تھا کہ لڑکی عطاالہاشم کو چکمہ دے کر قتل کردے
گی یا اسے یہاں سے کہیں دور لے جائے گی۔ وہ لیٹا ہوا لڑکی کی واپسی کا انتظار کرتا رہا۔ بہت دیر بعد اس نے سپاہیوں
کو دیکھا ،وہ بے ہوش ہوکے سوئے ہوئے تھے۔ انہیں بے ہوش ہونا ہی تھا کیونکہ اس سوڈانی نے شام کے بعد ان سپاہیوں کے
ساتھ گپ شپ شروع کردی تھی اور انہیں ہنستے کھیلتے حشیش پال دی تھی۔ اس حشیش کی ایک پوٹلی تو برآمد کرلی گئی
تھی لیکن اس نے تھوڑی سی حشیش اپنے چغے میں کہیں رکھی تھی۔ وہاں نکال کر اس نے تین سپاہیوں کو پال دی وہ
چونکہ اس نشے کے عادی نہیں تھے ،اس لیے بے ہوشی کی نیند سوگئے۔ یہ سوڈانی رات کو بھاگنے کے جتن کررہا تھا۔
اس نے دیکھا کہ لڑکی عطاالہاشم کے پاس بیٹھی ہوئی ہے اور بہت دیر گزر گئی ہے تو وہ سمجھا کہ لڑکی اس مسلمان
لہ ذا اس شخص کو یہیں ختم کردیا جائے۔ وہ واپس گیا اور سوئے ہوئے سپاہیوں میں سے ایک
کمانڈر کو دور نہیں لے جاسکیٰ ،
کی کمان اور ترکش میں سے تین چار تیر لے آیا۔ راستے میں چند فٹ اونچی جگہ تھی جس کی اوٹ میں وہ عطاالہاشم کو
نظر نہیں آسکتا تھا۔ وہ اس لیے بھی نظر نہیں آسکتا تھا کہ اس طرف عطاالہاشم کی پیٹھ تھی۔ لڑکی کا منہ ادھر ہی تھا
لیکن وہ اپنے آدمی کو دیکھ نہیں سکی تھی۔ وہ آدمی تیروکمان لے کر آیا تو لڑکی کو چاندنی میں اس کا سر اور کندھے نظر
آئے پھر اسے کمان نظر آئی۔ عطاالہاشم اپنی موت سے بے خبر بیٹھا تھا۔ اس کا خنجر نیام میں پڑا ہوا تھا ور نیام قریب
ہی رکھی تھی۔ لڑکی نے نیام اٹھا کر خنجر نکال لیا۔ عطاالہاشم جھپٹ کر اس سے خنجر چھیننے ہی لگا کہ لڑکی نے نہایت
تیزی سے گھٹنوں کے بل ہوکر اپنے آدمی کی طرف پوری طاقت سے خنجر پھینکا۔
فاصلہ چند گز تھا۔ ادھر سے آہ کی آواز سنائی دی۔ خنجر سوڈانی کی شہ رگ میں اتر گیا تھا اور اس نے زخمی ہوتے ہی
تیر چال دیا تھا۔ نشانہ چونک جانا ضروری تھا۔ تیر عطاالہاشم کے قریب سے گزرا اور دھک کی آواز سنائی۔دی یہ اس نے
دیکھا کہ تیر لڑکی کے سینے میں اتر گیا تھا۔ وہ دوڑ کر اس کی طرف گیا جس طرف خنجر گیا اور تیر آیا تھا۔ وہاں سوڈانی
اپنی شہ رگ سے خنجر نکال رہ اتھا۔ اس نے خنجر نکال لیا اور اٹھا۔ اس خطرے کے پیش نظر کہ وہ حملہ کرے گا۔
عطاالہاشم نے اچھل کر اس کے پہلو میں دونوں پائوں جوڑ کر مارے۔ سوڈانی دور جاپڑا۔ عطاالہاشم بھی گرا اور فورا ً اٹھ کھڑا
ہوا۔ سوڈانی نہ اٹھ سکا۔ اس کی شہ رگ سے خون ابل ابل کر نکل رہا تھا۔ عطاالہاشم نے خنجر اٹھایا اور لڑکی کے پاس
گیا۔ لڑکی سینے میں اپنے ہی ساتھی اور محافظ کا تیر لیے اطمینان سے پڑی تھی۔ وہ ابھی زندہ تھی۔ تیر نکالنے کا کوئی
انتظام نہیں تھا۔
لڑکی نے عطاالہاشم کا ہاتھ پکڑ لیا اور کراہتی ہوئی آواز میں بولی… ''میں نے تمہاری جان بچائی ہے ،اس کے عوض اپنے
خدا سے کہنا کہ میری روح کو اپنی پناہ میں لے لے۔ میرے جسم کی طرح میری روح بھی ان صحرائوں میں نہ بھٹکتی رہے۔
میری عمر گناہوں میں گزری ہے ،مجھے یقین دالئو کہ خدا اس ایک نیکی کے بدلے میرے سارے گناہ بخشش دے گا۔ میرے
سر پر اسی طرح ہاتھ پھیرو جس طرح اپنی بیٹی کے سر پر پھیرا کرتے ہو''۔
عطاالہاشم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا…''اللہ تیرے گناہ بخش دے ،تجھ سے گناہ کروائے گئے ہیں تو بے گناہ ہے۔
تجھے کسی نے نیکی کی روشنی دکھائی ہی نہیں''۔
لڑکی نے درد کی شدت سے کراہتے ہوئے عطاالہاشم کا ہاتھ بڑی مضبوطی سے پکڑ لیا اور بڑی تیزی سے بولنے لگی۔ اس نے
کہا… ''یہاں سے تین کوس دور سوڈانیوں کا ایک اڈا ہے ،وہ لوگ آپ سب کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور غور سے سنو۔ آپ
کی فوج اتنی زیادہ پھیل گئی ہے کہ اس کی قسمت میں اب موت یا قید ہے۔ آپ کے ہر ایک کمانڈر اور ہر ایک ٹولی کے
پیچھے مجھ جیسی لڑکیاں یا مرد لگے ہوئے ہیں۔
میں اس لڑکی کے ساتھ آپ کے چار کمانڈروں کو پھانس کر ختم کراچکی ہوں۔ مصر کی فکر کرو۔ صلیبیوں نے وہاں بڑے :
ہی خطرناک اور خوبصورت جال بچھا دیئے ہیں۔ آپ کی قوم اور فوج میں ایسے مسلمان حاکم موجود ہیں جو صلیبیوں کے
تنخواہ دار جاسوس اور ان کے وفادار ہیں۔ انہیں مجھ جیسی لڑکیاں اور بے پناہ دولت دی جارہی ہے۔ مصر کو بچائو۔ سوڈان
سے نکل جائو۔ اپنے غداروں کو پکڑرو۔ میں کسی کا نام نہیں جانتی جو معلوم تھا ،بتا دیا ہے۔ آپ پہلے مرد ہیں جس نے
مجھے بیٹی کہا ہے۔ آپ نے مجھے باپ کا پیار دیا ہے۔ میں اس کا معاوضہ یہی دے سکتی ہوں کہ آپ کو خطروں سے آگاہ
کردوں۔ اپنے بکھرے ہوئے دستے کو اکٹھا کرلو اور حملہ روکنے کے لیے تیار ہوجائو۔ دو تین دنوں میں آپ پر حملہ ہوگا۔
فاطمیوں اور فدائیوں سے بچو۔ انہوں نے مصر میں بہت سے ایسے حاکموں کے قتل کا منصوبہ تیار کرلیا ہے جو صالح الدین
ایوبی اور اپنی قوم کے وفادار ہیں''۔
لڑکی کی آواز ڈوبتی اور رکتی گئی اور ایک لمبے سانس کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔ صبح طلوع ہوئی تو
عطاالہاشم دونوں الشوں اور زندہ لڑکی کو ساتھ لے کر تقی الدین کے پاس چال گیا۔ اسے سارا واقعہ سنایا اور لڑکی کی آخری
باتیں بھی سنائیں۔ تقی الدین پہلے ہی پریشان تھا۔ وہ سٹپٹا اٹھا۔ اس نے کہا… ''اپنے بھائی کی اجازت اور ہدایت کے بغیر
میں پسپا نہیں ہونا چاہتا۔ میں نے ایک ذمہ دار ذہین کمانڈر کو کرک بھیجا ہے۔ اس کی واپسی تک ثابت قدم رہو''۔
٭ ٭ ٭
سلطان ایوبی نے قاصد کمانڈر کی بیان کی ہوئی جنگی صورتحال پر غور کیا تو اپنے مشیروں کو بال کر انہیں بھی تفصیل
سنائی۔ اس نے کہا…''بکھری ہوئی فوج کو یکجا کرکے پیچھے ہٹانا آسان کام نہیں۔ دشمن انہیں یکجا نہیں ہونے دے گا۔
پسپائی سے اس فوج کے جذبے پر بھی برا اثر پڑے گا جو مصر میں ہے اور جو یہاں میرے ساتھ ہے اور قوم کا دل ٹوٹ
جائے گا مگر حقائق سے فرار بھی ممکن نہیں۔ اپنے آپ کو فریب دینا بھی خطرناک ہے۔ حقائق کا تقاضہ یہ ہے کہ تقی
الدین اپنی فوج کو واپس لے آئے۔ ہم اسے کمک نہیں دے سکتے۔ ہم کرک کا محاصرہ اٹھا کر اس کی مدد کو نہیں پہنچ
سکتے۔ میرے بھائی نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ بڑی ہی قیمتی فوج ضائع ہورہی ہے''۔
اعلی حکام نے کہا… ''ہمیں سوڈان کی جنگ سے دست بردار ہونے کا ''
یہ ذاتی وقار کا مسئلہ نہیں بننا چاہیے''… ایک
ٰ
فیصلہ کرنا چاہیے۔ قائدین اور حکام کے غلط فیصلوں سے فوج بدنام ہورہی ہے۔ ہمیں قوم کو صاف الفاظ میں بتا دینا چاہیے
کہ سوڈان میں ہماری ناکامی کی ذمہ داری فوج پر عائد نہیں ہوتی''۔
بالشبہ یہ میرے بھائی کی غلطی ہے''… سلطان ایوبی نے کہا… ''اور یہ میری غلطی بھی ہے کہ میں نے تقی الدین کو ''
اجازت دی تھی کہ حاالت کے مطابق وہ جو کارروائی مناسب سمجھے مجھ سے پوچھے بغیر کر گزرے۔ اس نے اتنی بڑی
کارروائی حقائق کا جائزہ لیے بغیر کردی اور اپنے آپ کو دشمن کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔ میں اپنی اور اپنے بھائی کی
لغزشوں کو اپنی قوم سے اور نورالدین زنگی سے چھپاوں گا نہیں۔ میں تاریخ کو دھوکہ نہیں دوں گا۔ میں اپنے کاغذات میں
تحریر کراوں گا کہ اس شکست کی ذمہ دار فوج نہیں ،ہم تھے۔ ورنہ ہماری تاریخ کو آنے والے حکمران ہمیشہ دھوکہ دیں گے۔
میں سلطنت اسالمیہ کے آنے والے حکمرانوں کے لیے یہ مثال قائم کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی لغزشوں پر پردہ ڈال کر بے
گناہوں کو تاریخ میں ذلیل نہ کریں۔ یہ ایسی غلطی اور ایسا فریب ہے کو کرٔہ ارض پر اسالم کو پھیلنے کے بجائے سکڑنے پر
مجبور کرے گا''۔
سلطان ایوبی کا چہرہ الل ہوگیا ،اس کی آواز کانپنے لگی۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ اپنی زبان سے پسپائی کا لفظ کہنا
نہیں چاہتا۔ وہ کبھی پسپا نہیں ہوا تھا۔ اس نے بڑے ہی مشکل حاالت میں جنگیں لڑی تھیں مگر اب حاالت نے اسے مجبور
کردیا تھا۔ اس نے تقی الدین کے بھیجے ہوئے کمانڈر سے کہا… ''تقی الدین سے کہنا کہ اپنے دستوں کو سمیٹو اور انہیں
تھوڑی تھوڑی نفری میں پیچھے بھیجو ،جہاں دشمن تعاقب میں آئے وہاں جم کر لڑو اور اس انداز سے لڑو کہ دشمن تمہارے
تعاقب میں مصر میں داخل نہ ہوجائے۔ دستے جو مصر میں پہنچ جائیں ،انہیں اکٹھا رہنے کا حکم دو تاکہ مصر پر دشمن حملہ
کرے تو اسے روک سکو۔ محفوظ پسپائی کے لیے چھاپہ ماروں کو استعمال کرو۔ کسی دستے کو دشمن کے گھیرے میں چھوڑ
کر نہ آنا۔ میں پسپائی بڑی مشکل سے برداشت کررہا ہوں۔ میں یہ خبر برداشت نہیں کرسکوں گا کہ تمہارے کسی دستے نے
ہتھیار ڈال دیئے۔ پسپائی آسان نہیں ہوتی۔ پیش قدمی کی نسبت محفوظ اور باعزت پسپائی بہت مشکل ہے۔ حاالت پر نظر
رکھنا ،تیز رفتار قاصدوں کی ایک فوج اپنے ساتھ رکھنا۔ میں تحریری پیغام نہیں بھیج رہا ہوں کیونکہ خطرہ ہے کہ تمہارا قاصد
راستے میں پکڑا گیا تو دشمن کو معلوم ہوجائے گا کہ تم پسپا ہورہے ہو''۔
سلطان ایوبی نے قاصد کمانڈر کو بہت سی ہدایات دیں اور رخصت کردیا۔ اس کے گھوڑے کے قدموں کی آواز ابھی سنائی :
دے رہی تھی کہ زاہدان خیمے میں داخل ہوا اور کہا کہ قاہرہ سے ایک قاصد آیا ہے۔ سلطان ایوبی نے اسے اندر بال لیا۔ وہ
انٹلی جنس کا عہدیدار تھا۔ وہ مصر کے اندرونی حاالت کے متعلق حوصلہ شکن خبر الیا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہاں دشمن کی
تخریب کاری بڑھتی جارہی ہے۔ علی بن سفیان اپنے پورے محکمے کے ساتھ شب و روز مصروف رہتا ہے۔ حاالت ایسے ہوگئے
ہیں کہ فوجی بغاوت کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
سلطان ایوبی کے چہرے کا رنگ ایک بار تو اڑ ہی گیا۔ اگر صرف مصر کا غم ہوتا تو وہ پرواہ نہ کرتا۔ اس نے مصر کو بڑے
ہی خطرناک حاالت سے بچایا تھا۔ صلیبیوں اور فاطمیوں کی تخریب کاری کی بڑی ہی کاری ضربیں بے کار کی تھیں۔سمندر
کی طرف سے صلیبیوں کا بڑا ہی شدید حملہ روکا تھا۔ خلیفہ تک کو معزول کرکے نتائج کا سامنا دلیری اور کامیابی سے کیا
تھا مگر اب کرک سے اس کی غیرحاضری میدان جنگ کا پانسہ اس کے خالف پلٹ سکتی تھی۔ کرک کے محاصرے کے
عالوہ اس نے قلعے کے باہر صلیبیوں کی فوج کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ یہ فوج گھیرا توڑنے کی کوشش میں حملے پہ
حملہ کیے جارہی تھی ،وہاں خون ریز جنگ لڑی جارہی تھی۔ سلطان ایوبی اپنی خصوصی چالوں سے دشمن کے لیے آفت بنا
ہوا تھا۔ ایسی جنگ اس کی نگرانی کے بغیر نہیں لڑی جاسکتی تھی۔
ادھر سوڈان کی صورتحال نے بھی مصر کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ یہ ایک اضافی مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ سلطان ایوبی کو یہ
خطرہ نظر آرہا تھا کہ تقی الدین نے بھاگنے کے انداز سے پسپائی کی تو دشمن کی فوج اس کی فوج کو وہیں ختم کردے گی
اور سیدھی مصر میں داخل ہوجائے گی۔ مصر میں جو فوج تھی وہ حملہ روکنے کے لیے کافی نہیں تھی۔ ادھر کرک کے
محاصرے کی کامیابی یا جلدی کامیابی مخدوش نظر آرہی تھی۔ دونوں محاذوں کی کیفیت میں مصر میں بغاوت کے خطرے کی
خبر ایسی تھی جس نے سلطان ایوبی کے پائوں ہال دئیے۔ وہ کچھ دیر سرجھکائے ہوئے خیمے میں ٹہلتا رہا ،پھر اس نے
کہا… '' میں صلیبیوں کی تمام تر فوج کا مقابلہ کرسکتا ہوں۔ اس فوج کا بھی جو انہوں نے یورپ میں جمع کر رکھی ہے
مگر میری قوم کے یہ چند ایک غدار مجھے شکست دے رہے ہیں۔ کفار کے یہ حواری اپنے آپ کو مسلمان کیوں کہالتے ہیں؟
وہ غالبا ً جانتے ہیں کہ انہوں نے مذہب تبدیل کرلیا تو عیسائی انہیں یہ کہہ کر دھتکار دیں گے کہ تم غدار ہو ،ایمان فروش
ہو ،اپنے مذہب میں رہو ،ہم سے اجرت لو اور اپنی قوم سے غداری کرو''… وہ خاموش ہوگیا۔ اس کے خیمے میں جو افراد
موجود تھے وہ بھی خاموش تھے۔ سلطان ایوبی نے سب کو باری باری دیکھا اور کہا… ''خدا ہم سے بڑا ہی سخت امتحان
لینا چاہتا ہے۔ اگر ہم سب ثابت قدم رہے تو ہم خدا کے حضور سرخرو ہوں گے''۔
اس نے اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے یہ بات کہہ دی لیکن اس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ اس پر گھبراہٹ طاری ہے
جسے وہ چھپانے کی کوشش کررہا ہے۔
٭ ٭ ٭
سلطان ایوبی کو اتنا ہی بتایا گیا تھا کہ مصر میں بغاوت کا خطرہ ہے اور صلیبیوں کی تخریب کاری بڑھتی جارہی ہے۔ اسے
تفصیالت نہیں بتائی گئی تھیں۔ تفصیالت بڑی ہی خوفناک تھیں۔ اس کی غیرحاضری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمان حکام میں
سے تین چار صلیبیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے تھے۔ تقی الدین نے سوڈان پر حملہ کیا تو چند دن بعد اس نے رسد
مانگی۔ قاصد نے کہا تھا کہ زیادہ سے زیادہ رسد فورا ً بھیج دی جائے مگر دو روز تک کوئی انتظام نہ کیا گیا جو حاکم رسد
کی فراہمی اور ترسیل کا ذمہ دار تھا ،اس سے بازپرس ہوئی تو اس نے یہ اعتراض کیا کہ بیک وقت دو محاذ کھول دئیے
گئے ہیں۔ دو محاذوں کو رسد کہاں سے دی جاسکتی ہے۔ ایک یہ طریقہ ہے کہ مصر میں جو فوج ہے اسے بھوکا رکھا جائے،
بازار سے سارا اناج اٹھا کر قاہرہ کے باشندوں کے لیے قحط پیدا کیا جائے اور محاذوں کا پیٹ بھرا جائے۔
اعلی رتبے کا حاکم تھا ،مسلمان تھا اور سلطان ایوبی کے مصاحبوں میں سے بھی تھا۔ اس کی نیت پر شک نہیں کیا
یہ ایک
ٰ
جاسکتا تھا۔ اس کی بات سچ مان لی گئی کہ اناج وغیرہ کی واقعی کمی ہے تاہم اسے کہا گیا کہ جس طرح ہوسکے محاذ
پر لڑنے والے فوجیوں کی رسد ضرور پہنچے۔ اس حاکم نے انتظام کردیا مگر دو اور دن ضائع کردئیے۔ پانچویں روز رسد کا قافلہ
روانہ ہوا۔ یہ اونٹوں اور خچروں کا بڑا ہی لمبا قافلہ تھا۔ مشورہ دیا گیا کہ قافلے کے ساتھ فوج کا ایک گھوڑا دستہ حفاظت
کے لیے بھیجا جائے۔ اسی حاکم نے جو رسد فراہم کرنے کا ذمہ دار تھا ،فوج کا دستہ بھیجنے پر اعتراض کیا اور جواز یہ
پیش کیا کہ تمام راستہ محفوظ ہے۔ اس کے عالوہ مصر میں فوج کی ضرورت ہے۔ چنانچہ رسد حفاظتی دستے کے بغیر بھیج
دی گئی۔ روانگی کے چھ روز بعد اطالع آگئی کہ رسد راستے میں ہی )سوڈان میں
دشمن کے گھات میں آگئی ہے۔ سوڈانی ،رسد بمعہ جانوروں کے لے گئے ہیں اور انہوں شتربانوں کو قتل کردیا ہے۔ ( :
قاہرہ ہیڈکوارٹر کے باالئی حکام پریشان ہوگئے۔ رسد کا ضائع ہوجانا ،معمولی سی چوٹ نہیں تھی۔ سوڈانی میدان جنگ میں
فوج کی ضرورت کا احساس ان کی پریشانی میں اضافہ کررہا تھا۔ انہوں نے ذمہ دار حاکم سے کہا کہ وہ فوری طور پر اتنی
ہی رسد کا انتظام کرے۔ اس نے کہا کہ منڈی میں اناج کی قلت ہوگئی ہے۔ تاجروں سے کہا جائے کہ اناج مہیا کریں۔ تاجروں
سے بات ہوئی تو انہوں نے اپنے گودام کھول کر دکھا دئیے ،سب خالی تھے۔ گوشت کے لیے ایک بھی دنبہ ،بکرا ،بیل ،گائے
یا کوئی اور جانور نظر نہیں آتا تھا۔ معلوم ہوا کہ مصر میں جو فوج ہے ،اسے بھی پورا راشن نہیں مل رہا جس سے فوجوں
میں بے اطمینانی پھیل رہی ہے۔ تاجروں نے بتایا کہ دیہات سے مال آہی نہیں رہا۔ علی بن سفیان کی جاسوسی کا انتظام بڑا
اچھا تھا۔ یہ انکشاف جلدی ہوگیا کہ باہر کے لوگ دیہات میں آتے ہیں اور وہ اناج اور بکرے وغیرہ منڈی کی نسبت زیادہ دام
دے کر خرید لے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اناج وغیرہ ملک سے باہر جارہا تھا۔ تب سب کو یاد آیا کہ تین چار
سال قبل سلطان ایوبی نے مصر کی پہلی فوج کو جس میں سوڈانی باشندوں کی اکثریت تھی ،بغاوت کے جرم میں توڑ کر اس
کے افسروں اور سپاہیوں کو سرحد کے ساتھ ساتھ قابل کاشت اراضی دے کر کاشتکار بنا دیا تھا۔ وہ لوگ اب مصری حکومت
کو اور منڈیوں کو اناج دیتے ہی نہیں تھے۔ یہ سوڈان پر حملے کا ردعمل تھا۔ یہ انقالب چھ سات دنوں میں آگیا تھا۔ اناج
کی فراہمی کا کام فوج کو سونپا گیا۔ دن رات کی باگ دوڑ سے تھوڑا سا اناج ہاتھ آیا جو فوج کی حفاظت میں سوڈان کے
محاذ کو روانہ کردیا گیا۔
باالئی حکام کے لیے رسد کا مسئلہ بہت ٹیڑھا ہوگیا۔ اس سے پہلے ایسی قلت کبھی نہیں ہوئی تھی۔ انہیں یہ ڈر بھی تھا کہ
سلطان ایوبی نے رسد مانگ لی تو کیا جواب دیں گے۔ سلطان ایوبی کبھی بھی تسلیم نہیں کرے گا کہ مصر میں اناج کا قحط
پیدا ہوگیا ہے۔ اس مسئلے کا حل تالش کرنے کے لیے تین حکام کی ایک کمیٹی بنائی گئی۔ ان میں انتظامیہ کے بڑے عہدے
کا ایک حاکم ،سلیم االدریس تھا۔ اس دور کی تحریروں کے مطابق االدریس اس کمیٹی کا سربراہ تھا۔ دوسرے دو اس سے ایک
ہی درجہ کم عہدے کے غیر فوجی یعنی شہری انتظامیہ کے حاکم تھے۔ رات کے وقت یہ تینوں پہلے اجالس میں بیٹھے تو دو
نے االدریس سے کہا کہ سلطان ایوبی نے دو محاذ کھول کر سخت غلطی کی ہے اور تقی الدین ہاری ہوئی جنگ لڑ رہا ہے۔
فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے''… سلیم االدریس نے کہا۔''
ہم سے حقیقت چھپائی جارہی ہے''۔… دوسرے نے کہا… ''صالح الدین ایوبی قابل قدر شخصیت ہے لیکن آپس میں سچ ''
بات کرنے سے ہمیں ڈرنا نہیں چاہیے۔ ایوبی کو ملک گیری کی ہوس چین سے بیٹھنے نہیں دے رہی۔ وہ ایوبی خاندان کو
شاہی خاندان بنانا چاہتا ہے۔ صلیبیوں کی فوج ایک طوفان ہے۔ ہم اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اگر صلیبی ہمارے دشمن ہوتے
تو وہ فلسطین کے بجاے مصر پر قبضہ کرتے۔ ان کے پاس اتنی زیادہ فوج ہے کہ ہماری اس چھوٹی سی فوج کو اب تک
کچل چکے ہوتے۔ وہ ہمارے نہیں صالح الدین ایوبی کے دشمن ہیں''۔
آپ کی باتیں میرے لیے ناقابل برداشت ہیں''… االدریس نے کہا… ''بہتر ہے کہ ہم جس مقصد کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں ''
اس کے متعلق بات کریں''۔
یہ باتیں میرے لیے بھی ناقابل برداشت ہیں''… ایک نے کہا…''لیکن ایک آدمی کی خواہشات پر ہمیں پوری قوم کے مفاد''
کو قربان نہیں کرنا چاہیے۔ آپ دونوں محاذوں کے لیے رسد کی بات کرنا چاہتے ہیں۔ رسد کی حالت آپ نے دیکھ لی ہے کہ
نہیں مل رہی۔ سوڈان کا محاذ ٹوٹ رہا ہے۔ میں نے یہ سوچا ہے کہ ہم اس محاذ کی رسد روک لیں۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا
کہ تقی الدین پیچھے ہٹ آئے گا اور فوج مرنے سے بچ جائے گی''۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم رسد نہ بھیجیں تو تقی الدین مجبوری کے عالم میں گھیرے میں آجائے''… االدریس نے کہا۔ ''
''ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہماری فوج دشمن کے آگے ہتھیار ڈال دے''۔
آپ کیا سوچ کر یہ باتیں کررہے ہیں؟'' سلیم االدریس نے پوچھا۔''
میری سوچ بڑی صاف ہے'' ۔ اس نے جواب دیا۔ ''صالح الدین ایوبی ہم پر فوجی حکومت ٹھونسنا چاہتا ہے۔ وہ صلیبیوں''
سے مسلسل محاذ آرائی کرکے قوم کو بتانا چاہتا ہے کہ قوم کی سالمتی کی ضامن صرف فوج ہے اور قوم کی قسمت فوج
کے ہاتھ میں ہے اگر ایوبی امن پسند ہوتا تو صلیبیوں اور سوڈانیوں کے ساتھ جنگ نہ کرنے اور صلح جوئی سے رہنے کا
معاہدہ کرلیتا''۔
االدریس سٹپٹا اٹھا۔ وہ سلطان ایوبی کے خالف اور صلیبیوں کی حمایت میں کوئی بات سننا نہیں چاہتا تھا۔ اجالس میں گرما
گرمی ہوگئی۔ کمیٹی کے دو ممبر اسے بات بھی نہیں کرنے دے رہے تھے۔ اس نے آخر تنگ آکر کہا… ''میں اجالس
برخواست کرتا ہوں۔ کل ہی میں آپ کی رائے اور تجاویز قلم بند کرکے محاذ پر امیر مصر کو بھیج دوں گا''… وہ غصے میں
اٹھ کھڑا ہوا
اسالم اور انسان 19:57
صالح الدین ایوبیؒ کے دور کےحقیقی واقعات کا سلسلہ
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
" قسط نمبر53.۔"میرےفلسطین میں آوں گا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وہ غصے میں اٹھ کھڑا ہوا۔ایک ممبر وہاں سے چال گیا ،دوسرا جس کا نام ارسالن تھا ،االدریس کے ساتھ رہا۔ ارسالن کا …
شجرٔہ نسب سوڈانیوں سے ملتا تھا۔ اس نے االدریس سے کہا… ''آپ شخصیت پرست اور جذباتی مسلمان ہیں ،میں نے
حقیقت بیان کی اور آپ ناراض ہوگئے۔ میں اب آپ کو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ میرے خالف صالح الدین ایوبی کو کچھ نہ
لکھنا۔ آپ کے لیے اچھا نہ ہوگا''… اس کے لہجے میں چیلنج اور دھمکی تھی۔ االدریس نے اس کی طرف سوالیہ نگاہوں سے
دیکھا تو ارسالن نے کہا… ''اگر آپ پسند فرمائیں تو میں آپ کے ساتھ علیحدہ میں بات کروں گا''۔
یہیں کرلو''۔ االدریس نے کہا۔''
میرے گھر چلیں''۔ ارسالن نے کہا… ''کھانا میرے ساتھ کھائیں مگر یہ خیال رکھیں کہ یہ مالقات ایک راز ہوگی''۔''
االدریس اس کے ساتھ اس کے گھر چال گیا۔ اندر گیا تو اسے یوں لگا جیسے کسی بادشاہ کے محل میں آگیا ہو۔ ارسالن اتنی
زیادہ اونچی حیثیت کا حاکم نہیں تھا۔ دونوں کمرے میں بیٹھے ہی تھے کہ ایک خوبصورت لڑکی نہایت خوبصورت صراحی اور
چاندی کے دو پیالے چاندی کے گول تھال میں رکھے ہوئے اندرآئی اور ان کے آگے رکھ دیا۔ االدریس نے بو سے جان لیا کہ یہ
شراب ہے۔ اس نے پوچھا … ''ارسالن! تم مسلمان ہو اور شراب پیتے ہو؟''… ارسالن مسکرا دیا اور بوال… ''ایک گھونٹ
پی لیں آپ اس حقیقت کو سمجھ جائیں گے جو میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں''۔
دو سوڈانی حبشی اندر آئے۔ ان کے ہاتھوں میں چمکتی ہوئی طشتریوں میں کھانا تھا۔ کھانا لگ چکا تو االدریس حیرت سے
ارسالن کو دیکھنے لگا۔ ارسالن نے کہا… ''حیران نہ ہوں محترم االدریس! یہ شان وشوکت آپ کو بھی مل سکتی ہے ،میں
بھی آپ کی طرح پارسا ہوا کرتا تھا مگر اب اس طرح کی دو لڑکیاں میرے گھر میں ہیں۔ دمشق اور بغداد کے امیروں اور
وزیروں کے گھروں میں جاکر دیکھو۔ انہوں نے اس طرح کی حسین اور جوان لڑکیوں سے حرم بھر رکھے ہیں وہاں شراب بہتی
ہے''۔
یہ لڑکیاں ،یہ دولت اور یہ شراب صلیبیوں کی کرم نوازیاں ہیں''۔ االدریس نے کہا… ''عورت اور شراب نے سلطنت ''
اسالمیہ کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں''۔
آپ صالح الدین ایوبی کے الفاظ میں باتیں کرتے ہیں''۔ ارسالن نے کہا… ''یہی آپ کی بدنصیبی ہے''۔''
تم کیا کہنا چاہتے ہو؟''… االدریس نے جھنجھال کر پوچھا۔ ''مجھے شک ہے کہ تم صلیبیوں کے جال میں آگئے ہو''۔''
میں فوج کا غالم نہیں بننا چاہتا''۔ ارسالن نے کہا ''میں فوج کو غالم بنانا چاہتا ہوں ،اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ''
سوڈان میں تقی الدین کو رسد اور کمک نہ دی جائے۔ اسے دھوکہ دیا جائے کہ کمک آرہی ہے۔ اسے جھوٹی امیدوں پر لڑاتے
حتی کہ وہ ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوجائے۔ ظاہر ہے سوڈانی اسے قتل کردیں گے اور اس کی فوج ہمیشہ کے لیے ادھر
رہو،
ٰ
ہی ختم ہوجائے گی۔ ہم فوج کو شکست کا ذمہ دار ٹھہرا کر اسے قوم کی نظروں میں ذلیل کردیں گے۔ پھر قوم صالح الدین
ایوبی کی فوج سے بھی متنفر ہوجائے گی… آپ میری بات سمجھنے کی کوشش نہیں کررہے۔ آپ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
اس کا آپ کو اتنا اور ایسا معاوضہ ملے گا جس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے''۔
میں تمہارا مطلب سمجھ گیا ہوں''۔ االدریس نے کہا… ''تم اتنی خطرناک باتیں اتنی دلیری سے کس طرح کررہے ہو؟ کیا ''
تم نہیں جانتے کہ میں تمہیں گرفتار کرکے غداری کی سزا دال سکتا ہوں''۔
کیا میں یہ نہیں کہہ سکوں گا کہ آپ مجھ پر جھوٹا الزام عائد کررہے ہیں''۔ ارسالن نے کہا… ''صالح الدین ایوبی میرے''
خالف ایک لفظ نہیں سنے گا''۔
االدریس سٹپٹا اٹھا۔ وہ حیران تھا کہ اتنے بڑے عہدے کا حاکم کس قدر شیطان ہے اور وہ کتنی دلیری سے باتیں کررہا ہے۔
دراصل االدریس خود مردمومن تھا۔ وہ سمجھ ہی نہیں سکتا تھا کہ ایمان کو نیالم کردینے والے ذلت کی کن پستیوں تک پہنچ
سکتے ہیں۔ اس کے پاس ارسالن کو پابند کرنے اورراہ راست پر النے کا ایک ہی ذریعہ تھا۔ وہ ارسالن کے عہدے سے زیادہ
بڑے عہدے کا حاکم تھا۔ اس نے ارسالن سے کہا… ''میں جان گیا ہوں کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو اور تم کیا کررہے ہو تم
جس جرم کے مرتکب ہورہے ہو ،اس کی سزا موت ہے۔ میں تمہیں یہ رعایت دیتا ہوں کہ سات روز کے اندر اپنا رویہ درست
کرلو اور دشمن سے تعلقات توڑ کر مجھے یقین دال دو کہ تم خالفت بغداد اور اپنی قوم کے وفادار ہو۔ میں تمہیں رسد کی
ذمہ داری سے سبکدوش کرتا ہوں۔ یہ انتظام ہم خود کرلیں گے۔ اگر مجھے ضرورت محسوس ہوئی تو میں تمہیں اس محل میں
جو تمہیں صلیبیوں نے بنا دیا ہے ،نظر بند کردوں گا۔ سات دن بڑی لمبی رعایت ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آٹھویں روز تمہیں
جالد یہاں سے نکالے''۔
االدریس اٹھ کھڑا ہوا ،اس نے دیکھا کہ ارسالن مسکرا رہا تھا۔ ارسالن نے کہا… ''محترم االدریس! آپ کے دو بیٹے ہیں: ،
دونوں جوان ہیں''۔
''ہاں!''االدریس نے کہا اور پوچھا ''کیا ہے میرے بیٹوں کو؟''
کچھ نہیں!'' ارسالن نے کہا ''میں آپ کو یاد دال رہا ہوں کہ آپ کے دو جوان بیٹے ہیں اور یہی آپ کی کل اوالد ''
ہے''۔
االدریس اس اشارے کو سمجھ نہ سکا۔ اس نے کہا… ''شراب نے تمہارا دماغ خراب کردیا ہے''… اور وہ باہر نکل گیا۔
٭ ٭ ٭
ارسالن کے گھر سے نکل کر االدریس علی بن سفیان کے گھر چال گیا اور اسے ارسالن کی باتیں سنائیں۔ علی بن سفیان نے
اسے بتایا کہ ارسالن اس کی مشتبہ فہرست میں ہے لیکن اس کے خالف کوئی ثبوت نہیں مل رہا تاہم وہ جاسوسوں کی نظر
میں ہے۔ االدریس بہت پریشان تھا اور حیران بھی کہ ارسالن اتنی دلیری سے غداری کا مرتکب ہورہا ہے۔ علی بن سفیان نے
اسے بتایا کہ وہ اکیال نہیں ،غداری منظم طریقے سے ہورہی ہے۔ اس کے جراثیم فوج میں بھی پھیال دئیے گئے ہیں۔ اس وقت
سب سے بڑا مسئلہ سوڈان کے محاذ کے لیے رسد کا تھا۔ االدریس نے اسے بتایا کہ اس نے ارسالن کو اس ذمہ داری سے
سبکدوش کردیا ہے اور رسد کا انتظام اب خود کرنا ہے۔ علی بن سفیان نے اسے بتایا کہ ایک سازش کے تحت دیہات سے
اناج اور بکرے وغیرہ سرحد سے باہر بھجوائے جارہے ہیں۔ منڈی میں غلے اور دیگر سامان خوردونوش کا مصنوعی قحط پیدا
کردیا گیا ہے۔ اس نے بتایا کہ اس نے اپنے جاسوسوں اور مخبروں کو یہ کام دے رکھا ہے کہ رات کو ادھر ادھر گھومتے رہا
کریں۔ جہاں کہیں انہیں اناج کی ایک بوری بھی جاتی نظر آئے ،پکڑ لیں۔ طویل بات چیت کے بعد انہوں نے رسد کے انتظام
کا کوئی طریقہ سوچ لیا۔
سلیم االدریس اس قومی مہم اور اپنے فرائض میں اس قدر مگن تھا کہ اس کے ذہن سے ارسالن کا یہ اشارہ نکل گیا کہ
تمہارے دو جوان بیٹے ہیں اور یہی تمہاری کل اوالد ہے۔ االدریس کو اپنے بیٹوں کے کردار پر بھروسہ تھا مگر جوانی اندھی
ہوتی ہے۔ قاہرہ میں سلطان ایوبی کی غیرحاضری میں بدکاری کی ایک لہر آئی تھی جس نے نوجوان ذہن کو لپیٹ میں لینا
شروع کردیا تھا۔ دو تین سال پہلے بھی ایسی ہی ایک لہر آئی تھی جس پر جلدی ہی قابو پالیا گیا تھا۔ اب یہ لہر زمین
کے نیچے سے آئی اور کام کرگئی۔ یہ مختلف کھیل تماشوں کی صورت میں آئی جن میں شعبدہ بازی اور کھیلوں کی صورت
میں جؤا بازی شامل تھی۔ یہ لوگ خیمے اور شامیانے تان کر تماشہ دکھاتے تھے جس میں کچھ بھی قابل اعتراض نہیں تھا
مگر شامیانوں کے اندر خفیہ خیمے تھے۔ جہاں اکیلے اکیلے نوجوان کو اشارے سے بالیا جاتا تھا۔ ان سے پیسے لے کر کپڑوں
پر بنی ہوئی دستی تصویریں دکھانے کا کام لڑکیاں کرتی تھیں جن کی مسکراہٹ اور انداز دعوت گناہ ہوتی تھی۔
وہیں نوجوانوں کو تھوڑی تھوڑی حشیش پالئی جاتی تھی۔ یہ شرمناک اور خطرناک سلسلہ زمین کے اوپر چل رہا تھا مگر اسے
پکڑ کوئی نہیں سکتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ جو کوئی یہ تصویریں دیکھ کر یا حشیش کا ذائقہ چکھ کر آتا تھا وہ اپنے گناہ کو
چھپائے رکھتا تھا۔ اس گناہ میں لذت ایسی تھی کہ جانے والے باربار جاتے تھے۔ وہ اس لیے بھی باہر کسی سے ذکر نہیں
کرتے تھے کہ حکومت تک بات پہنچ گئی تو انہیں نشہ آور لذت سے محروم کردیا جائے گا۔ اس لذت پرستی کا شکار نوجوان
اورفوجی ہورہے تھے۔ ان کے لیے در پر وہ وہ قحبہ خانے بھی کھول دئیے گئے۔ کردار کشی کی یہ مہم کس قدر کامیاب تھی؟
… اس کا جواب کرک کے قلعے میں صلیبیوں کی انٹیلی جنس اور نفسیاتی جنگ کا ماہر جرمن نژاد ہرمن اپنے حکمرانوں کو
ان الفاظ میں دے رہا تھا۔
سپین کے مصوروں نے جو تصویریں بنائی ہیں ،یہ لوہے کے بنے ہوئے مردوں کو بھی مٹی کے بت بنا دیتی ہیں''۔ اس نے''
ایک مرد اور ایک عورت کی ایک فحش تصویر حاضرین کو دکھائی۔ یہ بڑے سائز کی تصویر تھی جو برش سے دلکش رنگوں
میں بنائی گئی تھی۔ صلیبی حکمرانوں نے تصویر دیکھ کر ایک دوسرے کے ساتھ ننگے مذاق شروع کردئیے۔ ہرمن نے کہا…
''میں نے ایسی بے شمار تصویریں بنوا کر مصر کے بڑے بڑے شہروں میں ان کی خفیہ نمائش کا انتظام کردیا ہے۔ وہاں سے
ہماری کامیابی کی اطالعات آرہی ہیں۔ میں نے قاہرہ کی نوجوان نسل میں حیوانی جذبہ بھڑکا دیا ہے۔ یہ ایسا طاقتور جذبہ
ہے جو مشتعل ہوجائے تو انسانی جذبوں کو جن میں قومی جذبہ خاص طور پر شامل ہے ،تباہ کردیتا ) یہ ان تصویروں نے
مصر میں مقیم مسلمان فوج کو ذہنی اور اخالقی لحاظ سے بے کارکرنا شروع کردیا ہے۔ ان تصویروں کی لذت نشہ بھی مانگتی
ہے۔ اس کا انتظام بھی کردیا ہے۔ میرے تخریب کاروں اور جاسوسوں کے گروہ نے صحرائی لڑکیوں کی پوری فوج قاہرہ اور
دوسرے قصبوں میں داخل کردی ہے۔ ۔ یہ لڑکیاں دیمک کی طرح صال الدین ایوبی کی قوم اور فوج کو کھا رہی ہیں۔ وہ
وجوہات کچھ اور تھیں جب میری مہم قاہرہ میں پکڑی گئی تھی۔ اب میں نے کچھ اور طریقے آزمائے ہیں جو کامیاب ہورہے
ہیں۔ اب وہاں کے مسلمان خود میری مہم کی حفاظت کریں گے اور اسے تقویت دیں گے۔ وہ اس ذہنی عیاشی کے عادی
ہوگئے ہیں ،تھوڑے ہی عرصے بعد میں ان کے ذہنوں میں ان کی اپنی ہی قوم اور اپنے ہی ملک کیخالف زہر بھر نا شروع
کردوں گا ۔
صالح الدین ایوبی بہت ہوشیار آدمی ہے''۔ حاضرین سے کسی نے کہا۔ ''وہ جونہی مصر پہنچا تمہاری اس مہم کو جڑ ''
سے اکھاڑ دے گا''۔
اگر وہ مصر پہنچا تو…'' ہرمن نے کہا… ''اس سوال کا جواب آپ ہی دے سکتے ہیں کہ آپ اس کا محاصرہ کامیاب ''
ہونے دیں گے یا نہیں۔ بے شک اس نے ریمانڈ کی فوج کو قلعے سے باہر گھیرے میں لے رکھا ہے اور قلعہ اس کے محاصرے
میں ہے لیکن یہ گھیرا اور یہ محاصرہ اسی کے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ آپ یہاں فیصلہ کن جنگ نہ لڑیں۔ ایوبی
کا محاصرہ کیے رکھنے دیں تاکہ وہ یہیں پابند رہے اور مصر نہ جاسکے۔ سوڈان میں ہمارے کمانڈروں نے تقی الدین کی فوج کو
نہایت کامیابی سے بکھیر دیا ہے۔ وہ اب نہ لڑ سکتا ہے ،نہ وہاں سے نکل سکتا ہے۔ مصر کی منڈیوں کا اور وہاں کی
کھیتیوں کا غلہ میں نے غائب کرادیا ہے۔ آپ کی دی ہوئی دولت آپ کو پورا صلہ دے رہی ہے۔ ایوبی کا ایک وفادار حاکم
ارسالن دراصل آپ کا وفادار ہے۔ وہ ہمارے ساتھ پورا تعاون کررہا ہے۔ اس کے کچھ اور ساتھی بھی ہمارے ساتھ ہیں''۔
ارسالن کو کتنا معاوضہ دیا جارہا ہے؟''۔ فلپ آگسٹس نے پوچھا۔''
جتنا ایک مسلمان حاکم کا دماغ خراب کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے''۔ ہرمن نے جواب دیا… ''عورت اور شراب ،دولت ''
اور حکومت کا نشہ کسی بھی مسلمان کا ایمان خرید سکتا ہے۔ وہ میں نے خرید لیا ہے… میں آپ کو یہ بتا رہا تھا کہ اب
صالح الدین ایوبی مصر جائے گا تو اسے وہاں کی دنیا بدلی ہوئی نظر آئے گی وہ جس نوجوان نسل کی بات فخر سے کیا
کرتا ہے وہ مسلمان ہوتے ہوئے اسالم کے لیے بے کار ہوگی۔ اس کی سوچیں اور اس کا کردار ہمارے ہاتھ میں ہوگا۔ یہ نسل
جنسی جذبے کی ماری ہوگی۔ یہی حال اس فوج کا ہوگا جسے وہ مصر چھوڑ آیا ہے۔ اس فوج میں میرے تخریب کاروں نے
دعوی وثوق سے کرسکتا ہوں کہ
اتنی زیادہ بے اطمینانی پھیال دی ہے کہ وہ بغاوت سے بھی گریز نہیں کرے گی۔ میں آج یہ
ٰ
آپ سے
پہلے میں اپنا محاذ ختم کرچکا ہوں گا۔ دشمن کے کردار اور اخالق کو تباہ کردینے سے فوجوں کے حملوں کی ضرورت باقی
نہیں رہتی''۔
ہرمن کی اس حوصلہ افزا رپورٹ پر صلیبی حکمران بہت خوش ہوئے ،فلپ آگسٹس نے وہی عزم دہرایا جس کا اظہار وہ کئی
بار کرچکا تھا۔ اس نے کہا …''ہماری لڑائی صالح الدین ایوبی سے نہیں اسالم سے ہے۔ ایوبی بھی مرجائے گا ،ہم بھی
مرجائیں گے لیکن ہمارا جذبہ اور عزم زندہ رہنا چاہیے تاکہ اسالم بھی مرجائے اور دنیا پر صلیب کی حکمرانی ہو۔ اس کے
لیے یہ ضروری تھا کہ ایسا محاذ کھوال جائے جہاں سے مسلمانوں کے نظریات اور کردار پر حملہ کیا جائے۔ میں ہرمن کو خراج
تحسین پیش کرتا ہوں کہ اس نے محاذ نہ صرف کھول دیا ہے بلکہ حملہ کرکے ایک حد تک کامیابی بھی حاصل کرلی
ہے''۔
٭ ٭ ٭
سلیم االدریس کے بھی دو بیٹے جوان تھے۔ ایک کی عمر سترہ سال اور دوسرے کی اکیس سال تھی۔ کہا نہیں جاسکتا کہ وہ
بھی لذت پرستی کے اس طوفان کی لپیٹ میں آگئے تھے یا نہیں ،جو صلیبی تخریب کار قاہرہ میں الئے تھے۔ البتہ یہ ثبوت
بعد میں مال کہ بڑے بیٹے کے در پردہ تعلقات ایک جوان اور خوبصورت لڑکی کے ساتھ تھے۔ یہ لڑکی اپنے آپ کو مسلمان
ظاہر کرتی تھی اور بے پردہ رہتی تھی۔ کسی بڑے خاندان کی لڑکی تھی۔ ان کی مالقاتیں خفیہ ہوتی تھیں جس روز ارسالن
نے االدریس سے کہا تھا کہ تمہارے دو بیٹے جوان ہیں اس سے اگلے روز اس لڑکی نے االدریس کے بڑے بیٹے سے کہا کہ ایک
نوجوان اسے بہت پریشان کرتا ہے۔ وہ جدھر جاتی ہے اس کا پیچھا کرتا ہے اور اسے اغوا کی دھمکیاں بھی دیتا ہے۔ اس
بڑے بیٹے نے لڑکی سے پوچھا کہ نوجوان کون ہے تو لڑکی نے نہ بتایا۔ بات گول کرگئی کہنے لگی کہ اس نے زیادہ پریشان
کیا تو اسے بتا دے گی۔
بعد کے انکشافات سے پتا چال کہ اسے کوئی نوجوان پریشان نہیں کرتا تھا بلکہ وہ خود نوجوانوں کو پریشان اور خراب کرتی
پھر رہی تھی۔ اس نے جس شام بڑے بیٹے سے یہ شکایت کی کہ اس سے اگلے ہی روز اس نے االدریس کے چھوٹے بیٹے کو
جس کی عمر سترہ سال تھی ،اپنے جال میں پھانس لیا اور ایسی والہانہ اور بیتابانہ محبت کا اظہار زبانی اور عملی طور پر
کیا کہ لڑکا اپنا آپ اس کے حوالے کربیٹھا۔ دو درپردہ مالقاتوں کے بعد اس نے اسے بھی بتایا کہ ایک نوجوان اسے بہت
پریشان کرتا ہے اور اسے اغوا کی دھمکیاں دیتا ہے۔ لڑکے کا خون جوش میں آگیا۔ اس نے پوچھا کہ وہ کون ہے تو لڑکی نے
کہا کہ اگر اس نے زیادہ پریشان کیا تو بتائوں گی۔ اسی شام وہ اس لڑکے کے بڑے بھائی سے ملی اور اسے کہا کہ وہ
نوجوان مجھے زیادہ پریشان کرنے لگا ہے۔ وہ تمہارے متعلق کہتا ہے کہ اسے میں ایسے طریقے سے قتل کروں گا کہ کسی کو
پتا ہی نہیں چل سکے گا۔ لڑکی نے کہا… ''تم خنجر اپنے پاس رکھا کرو''۔
19:57
ُ
داستان ایمان فروشوں کی
"قسط نمبر54.۔" میرےفلسطین میں آوں گا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تم خنجر اپنے پاس رکھا کرو''۔دوسری شام کی مالقات میں اس نے چھوٹے بھائی کو اسی طرح مشتعل کیا اور اسے کہا ''
کہ وہ خنجر اپنے پاس رکھا کرے۔ چنانچہ دونوں بھائی اس حقیقت سے بے خبر رہے کہ وہ ایک ہی لڑکی کے جال میں
پھنسے ہوئے ہیں۔ خنجر اپنے پاس رکھنے لگے۔ لڑکی دونوں سے الگ الگ ملتی رہی۔ صرف پانچ دنوں میں لڑکی نے دونوں
بھائیوں کو پہلے حیوان ،پھر درندہ بنا دیا۔ اس شام اس نے بڑے بھائی کو شہر سے ذرا باہر ایک اندھیری جگہ ملنے کو کہا۔
چھوٹے بھائی کو بھی اس نے وہی وقت اور وہی جگہ بتائی اور دونوں سے یہ بھی کہا کہ وہ نوجوان جو مجھے پریشان کیا
کرتا ہے۔ آج کہہ گیا ہے کہ شام کو جہاں بھی جاو گی مجھے وہاں پاو گی۔ میں تمہارے چاہنے والے کو تمہارے سامنے قتل
کروں گا۔ لڑکی نے کہا… ''میں نے اسے کہا ہے کہ اگر تم اتنے دلیر ہو تو شام کو اس جگہ آجانا۔ اگر تم نے اسے قتل
کردیا تو میں تمہاری ہوجاوں گی''۔ دونوں بھائی خون ریز معرکہ لڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔
شام کو بڑا بھائی خنجر لیے اس جگہ پہنچ گیا جو اس لڑکی نے بتائی تھی۔ اس نے ایسی استادی کا مظاہرہ کیا کہ جگہ
اندھیری کا انتخاب کیا اور یہ بھی خیال رکھا کہ دونوں بھائی اس کے پہنچنے سے پہلے ہی اکٹھے ہوکر ایک دوسرے کو
پہچان نہ لیں۔ وہ وہاں پہنچی تو بڑے بھائی کو وہاں موجود پایا۔ اسے بتایا کہ وہ نوجوان میرے پیچھے آرہا ہے۔ بڑے بھائی
نے خنجر نکال لیا اور فورا ً ہی بعد چھوٹا بھائی آگیا۔ لڑکی نے بڑے بھائی سے کہا کہ وہ آگیا ہے لیکن میں نہیں چاہتی کہ
خون خرابہ ہو میں اسے کہتی ہوں کہ وہ چال جائے۔ یہ کہہ کر وہ چھوٹے بھائی کے پاس گئی اور اسے کہا کہ وہ پہلے سے
موجود ہے اور اس کے ہاتھ میں خنجر ہے۔ چھوٹے بھائی کی عقل پر جوانی کا تازہ خون سوار تھا۔ اس نے خنجر نکاال اور
اندھیرے میں اپنے بھائی کی طرف دوڑا۔ بڑے بھائی نے حملہ آور کو اتنی تیزی سے آتے دیکھا تو وہ بھی تیزی سے آگے
بڑھا۔ بھائیوں نے ایک دوسرے پر رقابت کے جوش میں بڑے گہرے وار کیے۔ وہ گر کر اٹھے اور ایک دوسرے کو لہولہان کرتے
رہے۔ لڑکی انہیں بھڑکاتی رہی۔
علی بن سفیان کے شعبے کے آدمی رات کو گشت پر رہتے تھے۔ اتفاق سے ایک گھوڑ سوار گشت پر ادھر آنکال۔ لڑکی بھاگ
اٹھی۔ گھوڑ سوار نے اسے دور نہ جانے دیا اور پکڑ کر واپس لے گیا۔ وہاں دونوں بھائی زمین پر پڑے ،آخری سانسیں لے رہے
تھے۔ لڑکی نے ان سے التعلقی کے اظہار کی بہت کوشش کی لیکن اس آدمی نے اسے نہ چھوڑا۔ لڑکی کے دئیے ہوئے اللچ
کو بھی اس نے قبول نہ کیا۔ اس نے پکار پکار کر گشتی پہرہ داروں کو بال لیا۔ اس وقت تک دونوں بھائی مرچکے تھے۔
لڑکی کو اسی وقت علی بن سفیان کے پاس لے گئے۔ الشیں بھی الئی گئیں۔ روشنی میں دیکھا تو دونوں بھائی تھے۔ سلیم
االدریس کو اطالع دی گئی۔ تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے جوان بیٹوں کی الشیں دیکھ کر اس کا کیا حشر ہوا ہوگا۔ لڑکی
نے الٹے سیدھے بیان دئیے مگر وہ اس سوال کا جواب دینے سے گریز کررہی تھی کہ وہ کس کی بیٹی ہے اور کہاں رہتی
ہے۔ االدریس بہت بری ذہنی حالت میں تھا۔ اس نے غصے سے کانپتی ہوئی آواز میں کہا… ''اسے شکنجے میں ڈالو علی،
اس طرح یہ کچھ نہیں بتائے گی''۔
بتانے کے لیے ہے ہی کیا''۔ لڑکی نے بھی غصے میں کہا۔ بڑے بھائی کی الش کی طرف اشارہ کرکے بولی۔ ''اس نے ''
مجھے بالیا تھا ،میں چلی گئی۔ اوپر سے ) چھوٹا بھائی( آگیا۔ دونوں نے خنجر نکال لیا اور لڑ پڑے۔ میں ڈر کے مارے بھاگ
اٹھی اور ایک گھوڑ سوار نے مجھے پکڑ لیا۔ میں اپنے باپ کا نام اس لیے نہیں بتاتی کہ اس کی بھی رسوائی ہوگی''۔
علی بن سفیان کا دماغ حاضر تھا۔ اسے یاد آگیا کہ ارسالن اور االدریس کی آپس میں ترش کالمی ہوئی تھی۔ ارسالن اس کے
مشتبہ کی فہرست میں تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ اس کے گھر کے اندر کیا ہورہا ہے۔ اس نے االدریس کو آنکھ سے اشارہ
کرکے کہا… ''یہ لڑکی کوئی بھی ہے ،یہ قاتل نہیں ،یہ دو جوانوں کو اکیلے قتل نہیں کرسکتی۔ اس نے سچ بات بتا دی ہے۔
میں اس کے خالف کوئی کارروائی نہیں کرسکتا''۔ اس نے لڑکی سے کہا… ''جائو تم آزاد ہو ،آئندہ کسی کے ساتھ اتنی دور
نہ جانا ،ورنہ قتل ہوجاو گی''۔
لڑکی بڑی تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔ علی بن سفیان نے اپنے دو مخبروں سے کہا کہ ان میں سے ایک لڑکی کا راستہ
دیکھ کر دوسرے راستے سے ارسالن کے گھر کے بڑے دروازے سے ذرا دور چھپ جائے اور دوسرا ایسے طریقے سے لڑکی کا
تعاقب کرے کہ لڑکی کو پتا نہ چلے اور وہ جہاں بھی جائے فورا ً اطالع دی جائے۔ دونوں آدمی چلے گئے۔ لڑکی تیز تیز قدم
اٹھاتی جارہی تھی اور اس کا تعاقب ہورہا تھا۔ علی بن سفیان کا شک ٹھیک ثابت ہوا۔ لڑکی ارسالن کے گھر چلی گئی۔
وہاں ایک آدمی موجود تھا۔ اس نے آکر اطالع دی کہ لڑکی اس گھر میں داخل ہوئی ہے۔ جب االدریس کو معلوم ہوا کہ لڑکی
کا تعلق ارسالن کے گھر سے ہے تو اس نے علی بن سفیان کو بتایا کہ ارسالن نے اسے کہا تھا کہ تمہارے دو جوان بیٹے
ہیں مگر االدریس یہ اشارہ نہیں سمجھ سکا تھا۔ صاف ظاہر ہوگیا کہ یہ ارسالن کی کارستانی ہے۔ دونوں بھائیوں کو اسی نے
اعلی کو اطالع دی۔ پولیس کا سربراہ
اس عجیب وغریب طریقے سے ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل کرایا ہے۔ االدریس نے حاکم
ٰ
غیاث بلبیس بھی آگیا۔ علی بن سفیان کو بھی خصوصی اختیارات حاصل تھے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ارسالن کے گھر چھاپہ
مار کر اسے گھر میں ہی نظر بند کردیا جائے۔
اب میں سلیم االدریس کو بتائوں گا کہ میں کیوں اتنی دلیری سے باتیں کرتا ہوں''۔ ارسالن نے اس لڑکی کی کامیابی کی''
روئیداد سن کر کہا… ''میں اسے بتائوں گا کہ میں کیا کرسکتا ہوں''۔ اس نے لڑکی کو شراب پیش کی اور دونوں کامیابی کا
جشن منانے لگے۔
ان کا جشن ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ بغیر اطالع کے کوئی اندر آگیا۔ یہ االدریس تھا۔ اس نے ارسالن اور لڑکی کو نشے اور
عریانی کی حالت میں دیکھا اور لڑکی کو پہچان لیا۔ ارسالن نے نشے کی حالت میں کہا… ''اپنے بیٹوں کو قتل کراکے تم
''میرے ہاتھوں قتل ہونے آئے ہو؟… دربان کہاں ہے؟ یہ شخص میری جنت میں بغیر اجازت کیوں کر آگیا ہے؟
اعلی اندر آیا جس کے پاس امیر مصر کے اختیارات تھے۔ اس کے ساتھ غیاث بلبیس اور علی بن
اتنے میں شہر کا وہ حاکم
ٰ
سفیان تھے۔ لڑکی کو گرفتار کرلیا گیا۔ ارسالن کے تمام مالزموں اور گھر کے دیگر افراد کو باہر نکال کر اس کے محل جیسے
مکان کے اندر اور باہر فوج کا پہرہ کھڑا کردیا گیا۔ اس کے گھر میں ایک تہہ خانہ برآمد ہوا جو بہت ہی وسیع اور گہرا تھا۔
وہاں سے تیر کمانوں اور برچھیوں کے انبار نکلے۔ ایک ڈھیر خنجروں کا تھا ،آتش گیر مادہ بھی تھا۔ ایک صندوق میں حشیش
اور زہر برآمد ہوئے۔ ایک اور کمرے میں سونے کی اینٹیں اور اشرفیوں کی تھیلیاں برآمد ہوئیں۔ اس نے اپنی پرانی دو بیویوں
اور ان کے بچوں کو کہیں اور بھیج رکھا تھا۔ گھر میں تین لڑکیاں تھیں۔ تینوں ایک سے ایک بڑھ کر خوبصورت تھیں اور
تینوں غیرمسلم تھیں۔ رات ہی رات مالزموں کی چھان بین کرلی گئی۔ ان میں تین صلیبیوں کے جاسوس نکلے۔
اعلی نے ارسالن سے پوچھا… ''یہ مال ودولت اور اسلحہ کے یہ ''
کیا تم خود بتائو گے کہ تمہارے عزائم کیا ہے؟'' حاکم
ٰ
انبار تمہیں سزائے موت دالنے کے لیے کافی ہیں''۔
پھر سزائے موت دے دو''۔ اس نے نشے کی حالت میں کہا… ''اگر مجھے جان ہی دینی ہے تو خاموشی سے کیوں نہ ''
''مرجائوں؟
اعلی ''
خدا کی نگاہ میں یہ بہت بڑی نیکی ہوگی کہ تم ہمیں اور اس کے نام لیوائوں کو خطروں سے آگاہ کردو''۔ حاکم
ٰ
نے کہا… ''مجھے امید ہے کہ اسی نیکی کے بدلے خدا تمہارے اتنے گناہ بخش دے گا''۔
تم لوگ تو مجھے نہیں بخشو گے''۔ ارسالن نے کہا۔''
سلطان ایوبی اس سے بھی بڑے گناہ بخش دیا کرتا ہے''۔ علی بن سفیان نے کہا… ''آپ کے بچنے کی صورت پیدا ''
ہوسکتی ہے۔ آپ بتا دیں کہ یہاں کس قسم کی تخریب کاری ہورہی ہے۔ کچھ اور لوگ گرفتار کرادیں''۔
وہ کمرے میں ٹہل رہا تھا۔ باقی لوگ ادھر ادھر بیٹھے تھے۔ االدریس نے اپنی خنجر نما تلوار کمر سے باندھ رکھی تھی۔
ارسالن خاموشی سے ٹہلتے ٹہلتے اس کے قریب گیا اور بڑی ہی تیزی سے اس کی میان سے تلوار نکال کر اپنے سینے اور
پیٹ کے درمیان رکھی ،پیشتر اس کے ہاتھ سے تلوار چھینی جاتی ،اس نے دستے پر دونوں ہاتھ رکھ کر پوری طرقت سے تلوار
اپنے پیٹ میں گھونپ لی۔ وہ اپنے بستر پر گرا۔ دوسرے آدمی تلوار اس کے پیٹ سے نکالنے لگے تو اس نے کہا… ''رہنے
دو ،میری دو تین باتیں سن لو۔ مرجائوں گا تو تلوار نکال لینا۔ میں نے اپنے آپ کو سزا دے دی ہے۔ میں زندہ صالح الدین
ایوبی کے سامنے نہیں جانا چاہتا تھا کیونکہ وہ مجھے اپنا وفادار دوست سمجھتا تھا… میں تمہارے کسی سوال کا جواب نہیں
دوں گا۔ تلوار اپنا کام کرچکی ہے۔ ہوش کرو ،مصر سخت خطرے میں ہے۔ مصر میں جو فوج ہے وہ بغاوت کے لیے تیار ہے۔
فوجوں کی رسد کو میں نے ناپید کیا ہے۔ سپاہیوں کو کھانے کے لیے کچھ نہیں ملتا۔ صلیبی تخریب کاروں نے فوج میں یہ
بات پھیال دی ہے کہ محاذوں پر بکرے ،اناج اور شراب جارہی ہے اور وہاں کے سپاہیوں کو مال غنیمت سے ماال مال کرکے
کرکے عیاشی کرائی جارہی ہے… میرے گروہ میں اچھے عہدوں کے لوگ ہیں۔ میں کسی کا نام نہیں بتائوں گا۔ فاطمی اور
فدائی تباہ کاری کی پوری تیاری کرچکے ہیں۔ تم بغاوت کو روک نہیں سکو گے۔ نئی فوج الئو ،حاالت تمہاری قابو سے…''۔
وہ فقرہ مکمل کیے بغیر مرگیا۔
اس کے گھر سے جو تین لڑکیاں برآمد ہوئی تھیں وہ بھی اس کے فقرے کو مکمل نہ کرسکیں۔ انہوں نے اپنے متعلق بتا دیا
کہ انہیں اخالقی تخریب کاری اور مردوں کو پھانس کر استعمال کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ ارسالن کے گھر راتوں کو محفلیں
جما کرتی تھیں ،جس میں فوج اور انتظامیہ کے افسر آیا کرتے تھے۔ ان کی خفیہ مالقاتیں اور اجالس ان لڑکیوں کے بغیر
ہوتے تھے۔ لڑکیوں نے یہ تصدیق کردی کہ مصر میں بغاوت کے لیے زمین ہموار کردی گئی ہے جس لڑکی نے دونوں بھائیوں کو
ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل کرادیا تھا اس نے قتل کی ساری کہانی سنا دی جو بیان کی گئی ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ
االدریس کے بڑے بیٹے کو پہلے ہی اپنے جال میں محبت کا جھانسہ دے کر لے چکی تھی۔ اسے ارسالن اپنے باپ االدریس
کے خالف استعمال کرنا چاہتا تھا لیکن ارسالن نے منصوبہ بدل دیا اور لڑکی سے کہا کہ دونوں بھائیوں کو ایک دوسرے کے
ہاتھوں قتل کرادو۔
ایک ہی رات میں تقریبا ً اڑھائی سو اونٹ مرکزی دفتر کے سامنے الئے گئے۔ ان پر غلہ اور خوردونوش کا دیگر سامان لدا ہوا
تھا۔ یہ اونٹ تین چار قافلوں کی صورت میں مختلف جگہوں سے پکڑے گئے تھے۔ اناج وغیرہ کو سرحد سے باہر جانے سے
روکنے کے لیے گشتی پارٹیوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ یہ ان کی پہلی کامیابی تھی۔ ان قافلوں کے ساتھ جو آدمی تھے ،انہوں
نے شہر کے چند ایک بیوپاریوں کے نام بتائے۔ ان بیوپاریوں نے تمام غلہ اور دیگر سامان زیرزمین کرلیا تھا۔ آدھی رات کے
بعد وہ یہ سامان باہر کے اجنبی تاجروں کے ہاتھ بیچتے تھے۔ ان آدمیوں نے دیہاتی عالقوں میں بھی چند ایک جگہوں کی
نشاندہی کی جہاں اجنبی سے تاجر موجود رہتے اور تمام تر رسد اکٹھی کرکے لے جاتے تھے۔ شتر بانوں میں سے بعض نے
سرحد کی ایک جگہ بتائی جہاں سے یہ قافلے سوڈان جایا کرتے تھے۔ وہاں ایک سرحدی دستہ موجود تھا۔ انکشاف ہوا کہ اس
دستے کا کمانڈر دشمن سے باقاعدہ معاوضہ یا رشوت لیتا اور قافلے گزار دیتا تھا۔ یہ انکشاف بھی ہوا کہ یہ اہتمام ارسالن کی
زیرکمان ہورہا تھا۔
٭ ٭ ٭
یہ ان سینکڑوں میں سے چند ایک واقعات ہیں جو سلطان ایوبی کی غیرحاضری میں مصر کو لپیٹ میں لیے ہوئےتھے۔
اعلی حکام نے ارسالن کی غداری اور االدریس کے بیٹوں کی موت اور دیگر واقعات پر غور کرنے کے لیے
االدریس اور دیگر
ٰ
اجالس منعقد کیا۔ علی بن سفیان اور غیاث بلبیس نے یہ مشورہ پیش کیا کہ حاالت اتنے بگڑ گئے ہیں کہ ان کے بس میں
اعلی شخصیت قتل ہوجائے۔
نہیں رہے۔ پیشتر اس کے کہ مصر میں بغاوت ہوجائے یا فاطمیوں کے اور فدائیوں کے ہاتھوں کوئی
ٰ
سلطان ایوبی کو مکمل حاالت سے آگاہ کردیا جائے اور انہیں مشورہ دیا جائے کہ ممکن ہوسکے تو وہ کرک کا محاصرہ اپنے
نائبین کے سپرد کرکے قاہرہ آجائیں۔ ایک قاصد کو تو پہلے ہی بھیج دیا گیا تھا مگر اسے تفصیالت نہیں بتائی گئی تھیں۔ اب
سنگین وارداتیں ہوگئیں تو اجالس میں فیصلہ ہوا کہ علی بن سفیان محاذ پر سلطان ایوبی کے پاس جائے۔
کرک کے محاصرے کو دو مہینے گزر گئے تھے مگر کامیابی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ صلیبیوں نے دفاع کے
غیرمعمولی انتظامات کررکھے تھے۔ ایک انتظام یہ تھا کہ شہر میں سامان خوردونوش کا ذخیرہ کافی تھا۔ ایک جاسوس نے اندر
سے تیر کے ساتھ پیغام باندھ کر باہر پھینکا تھا جس میں تحریر تھا کہ اندر خوراک کی کمی نہیں۔ مسلمان باشندوں پر اتنی
سخت پابندیاں عائد کردی گئی تھیں کہ ان کے گھروں کی دیواریں بھی ان کے خالف مخبری اور جاسوسی کرتی تھیں۔ اس
لیے اندر تخریب کاری ممکن نہیں ہورہی تھی ورنہ خوراک کا ذخیرہ تباہ کردیا جاتا۔ شہر میں سلطان ایوبی کے جاسوسوں کی
بھی کمی تھی۔ وہ کبھی کبھی رات کے وقت تیر کے ساتھ پیغام باندھ کر اور موقع محل دیکھ کر باہر کو تیر چال دیتے
تھے۔ فوجوں کو حکم تھا کہ ایسا تیر نظر آئے تو وہ اپنے کمانڈر تک پہنچا دیں۔ صلیبیوں نے محاصرہ توڑنے کی کوششیں ترک
کردی تھیں۔ وہ سلطان ایوبی کی طاقت زائل کرتے جارہے تھے۔ سلطان ایوبی ان کی چال سمجھ گیا تھا۔ اس کے جواب میں
اس نے بھی اپنا طریقہ بدل دیا تھا۔
صلیبیوں کی یہ کوشش ناکام ہوچکی تھی کہ انہوں نے باہر سے حملہ کیا تھا۔ سلطان ایوبی اس حملے کے لیے تیار تھا۔ اس
نے نہایت اچھی چال سے اس فوج کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ اس فوج کو گھیرے میں آئے ڈیڑھ مہینہ گزر گیا تھا۔ گھیرے
میں آئی ہوئی فوج گھیرا توڑنے کے لیے ہر طرف حملے کرتی تھی۔ سلطان ایوبی اس کا کوئی حملہ کامیاب نہیں ہونے دے
رہا تھا۔ البتہ گھیرا کئی میلوں پر پھیل گیا تھا۔ وہ عالقہ سرسبز تھا ،اس لیے صلییوں کو پانی اور جانوروں کو چارہ مل
جاتا تھا۔ ان کے جانور مرتے تھے تو اسے وہ کھالیتے تھے ،مگر یہ کافی نہیں تھا۔ ہزاروں گھوڑوں اور اونٹوں کے لیے یہ چارہ
کافی نہیں تھا۔ پانی کے لیے وہاں کوئی ندی یا دریا نہیں تھا۔ تین چار چشمے تھے جن میں سے دو ڈیڑھ مہینے میں ہی
خشک ہوگئے تھے۔ صلیبی سپاہیوں میں بددلی پیدا ہوگئی تھی۔ انہیں غذا بہت کم ملتی تھی اور پانی کے لیے بہت دور جانا
پڑتا تھا۔ رات کو سلطان ایوبی کے چھاپہ مار گروہ ان پر شب وخون مارتے اور نقصان کرتے رہتے تھے۔ ڈیڑھ ماہ میں یہ فوج
آدھی رہ گئی تھی۔ ان کے جانوروں میں بھی دم نہیں رہا تھا۔ صلیبی حکمران ریمانڈ جو اس فوج کا کمانڈر تھا ،سخت
پریشانی کے عالم میں انتظار کررہا تھا کہ صلیبی حملہ کرکے اسے سلطان ایوبی سے چھڑائیں گے مگر اس کی مدد کو کوئی
نہیں آرہا تھا۔
سلطان ایوبی چاہتا تو چاروں طرف سے حملہ کرکے اس فوج کو شکست دے سکتا تھا لیکن اس سے اپنا جانی نقصان بھی
ہونا الزمی تھا اور جنگ کا پانسہ پلٹ جانے کا خطرہ بھی تھا۔ سلطان ایوبی اپنی طاقت زائل نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ صلیبیوں
کو آہستہ آہستہ مار رہا تھا۔ اسے یہ نقصان ضرور ہورہا تھا کہ اس کی فوج کا تیسرا حصہ اس صلیبی فوج کو گھیرے میں
رکھنے میں الجھ گیا تھا۔ اسے وہ شہر کے محاصرے کی کامیابی کے لیے استعمال نہیں کرسکتا تھا۔ اس کے پاس ابھی ریزرو
دستے موجود تھے اور وہ سوچ رہا تھا کہ قلعہ توڑنے کے لیے وہ انہیں استعمال کرے۔ وہ اب محاصرے کو اور زیادہ طول دینا
نہیں چاہتا تھا۔ اس دور میں محاصرے عموما ً طویل ہوا کرتے تھے۔ ایک ایک شہر کو دو دو سال تک بھی محاصرے میں رکھا
گیا ہے۔ چھ سات ماہ کا محاصرہ طویل نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن سلطان ایوبی محاصرے کو طول دینے کا قائل نہیں تھا۔ وہ
ان حملہ آوروں میں سے بھی نہیں تھا جو کسی ملک کے دارالحکومت کا محاصرہ کرکے اندر والوں کو پیغام بھیجا کرتے تھے
کہ اتنی مقدار زر وجواہرات کی ،اتنے ہزار گھوڑے اور اتنی عورتیں باہر بھیج دو ،ہم چلے جائیں گے۔ سلطان ایوبی عرب کی
سرزمین سے صلیبیوں کو نکالنا چاہتا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ یہ سرزمین اسالم کا سرچشمہ ہے جو ساری دنیا کو سیراب کرے
گا اور وہ اپنی عمر کو بہت کم سمجھا کرتا تھا۔ یہ الفاظ اس نے بارہا کہے تھے کہ میں یہ کام اپنی مختصر سی عمر میں
پورا کردینا چاہتا ہوں ورنہ میں دیکھ رہا ہوں کہ مسلمان امراء اس مقدس خطے کو صلیبیوں کے ہاتھ بیچتے چلے جارہے ہیں۔
ایک رات وہ اپنے خیمے میں گہری سوچ میں کھویا ہوا تھا۔ اس نے یہاں تک سوچا تھا کہ قلعے کے اردگرد اتنی فراغ
سرنگیں کھدوائی جائیں جن میں پیادہ سپاہی گزر سکیں۔ کچھ اور طریقے بھی اس کے ذہن میں آئے وہ اب چند دنوں میں
کرک پر قبضہ کرلینا چاہتا تھا۔ اس کیفیت میں علی بن سفیان اس کے خیمے میں داخل ہوا۔ اسے دیکھ کر سلطان ایوبی
خوش نہیں ہوا کیونکہ اسے اطالع مل چکی تھی کہ مصر کے حاالت خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ چہرے پر تشویش
کے آثار لیے سلطان ایوبی علی بن سفیان سے بغل گیر ہوکر مال اور کہا… ''تم میرے لیے یقینا کوئی خوشخبری نہیں
الئے''۔
بظاہر خیریت ہے''۔ علی بن سفیان نے کہا… ''مگر خوشخبری والی بات بھی کوئی نہیں''۔ اس نے مصر کے حاالت اور''
واقعات سنانے شروع کردیئے۔ علی بن سفیان جیسا ذمہ دار حاکم سلطان ایوبی سے کچھ بھی نہیں چھپا سکتا تھا۔ نہ ہی وہ
اسے خوش فہمیوں میں مبتال کرسکتا تھا۔ حاالت کا تقاضا یہ تھا کہ لگی لپٹی رکھے بغیر بات کی جائے۔ علی بن سفیان نے
تقی الدین کی غلطیوں اور سلطان ایوبی کی بھی ایک دو غلطیوں کا کھل کر ذکر کیا۔ ارسالن کی غداری کا قصہ اور االدریس
کے جوان بیٹوں کی موت کا حادثہ سن کر سلطان ایوبی کے آنسو نکل آئے۔ اگر ارسالن مرنہ چکا ہوتا تو سلطان ایوبی کبھی
یقین نہ کرتا کہ اس کا یہ حاکم جسے وہ اپنا وفادار سمجھتا ہے ،غداری کرسکتا ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ دوست اس سے
غداری کرچکے تھے۔
اگر ارسالن ذرا سی دیر اور زندہ رہتا تو باقی راز بھی بے نقاب کردیتا۔'' علی بن سفیان نے کہا… ''اس کے آخری فقرے''
سے جو موت نے پورا نہ ہونے دیا ،صاف ثبوت ملتا ہے کہ مصر میں بغاوت ہونے ہی والی ہے۔ مصر میں ہماری جو فوج ہے،
اسے ذہنی لحاظ سے پست کردیا گیا ہے۔ میری جاسوسی بتاتی ہے کہ کمان دار تک غلط فہمیوں اور بے اطمینانی کا شکار
ہوگئے ہیں۔ فوج کے لیے غلے اور گوشت کی قلت پیدا کرکے یہ بے بنیاد بات پھیال دی گئی ہے کہ تمام تر رسد محاذوں پر
بھیجی جارہی ہے اور یہ بھی کہ فوج کا مال حاکم بیچ کر کھارہے ہیں۔ دشمن کی سازش پوری طرح کامیاب ہے''۔
دشمن کی سازش اسی ملک میں کامیاب ہوتی ہے جہاں کے چند ایک افراد دشمن کا ساتھ دینے پر اتر آتے ہیں''۔ ''
سلطان ایوبی نے کہا۔ ''اگر ہمارے اپنے بھائی دشمن کا آلٔہ کار بن جائیں تو ہم دشمن کا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔
جس طرح اللہ کے ان شیروں کے جذبے کے زور پر اور ان کی جانیں قربان کرکے صلیبیوں کو میدان جنگ میں ناکوں چنے
چبوا رہا ہوں ،اسی طرح میرے حاکم بھی پکے مسلمان ہوتے تو آج قبلہ اول آزاد ہوتا اور ہماری اذانیں یورپ کے کلیسائوں میں
گونج رہی ہوتی مگر میں مصر میں قید ہوکے رہ گیا ہوں ،میرے جذبے اور میرا عزم زنجیروں میں جکڑے گئے ہیں''۔ اس نے
کچھ دیر کی گہری خاموشی اور سوچ کے بعد کہا… ''مجھے سب سے پہلے ان غداروں کو ختم کرنا ہوگا ورنہ یہ قوم کو
دیمک کی طرح کھاتے رہیں گے''۔
میں یہ مشورہ لے کر آیا ہوں کہ اگر محاذ آپ کو اجازت دے تو مصر چلئے''۔''
میں حقائق سے چشم پوشی نہیں کرسکتا علی!'' سلطان ایوبی نے کہا… ''لیکن میں یہ اظہار کیے بغیر بھی نہیں رہ ''
سکتا کہ میرے ہاتھوں سے صلیبیوں کی گردن اور فلسطین چھڑانے والے میرے بھائی ہیں۔ علی بن سفیان! اگر میں نے غداروں
کو اسالم کے دشمنوں کے ساتھ دوستی کرنے والے مسلمانوں کو ابھی ختم نہ کیا تو یہ کبھی ختم نہ ہوں گے اور ہماری تاریخ
کو یہ گروہ ہمیشہ شرمسار کرتا رہے گا۔ قوم میں ہر دور میں یہ گروہ موجود رہے گا جو دین اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے دشمنوں سے دوستی کرکے اسالم کی جڑیں کھوکھلی کرتا رہے گا''۔ اس نے پوچھا سوڈان کے محاذ کی کیا خبر
ہے؟ میں نے تقی الدین کو پیغام بھیج دیا کہ اس محاذ کو سمیٹنا شروع کردو۔
مصر میں کسی کو بھی معلوم نہیں کہ آپ نے یہ حکم دیا ہے''۔ علی بن سفیان نے کہا۔''
اور کسی کو معلوم ہونا بھی نہیں چاہیے''۔ سلطان ایوبی نے کہا اس نے دربان کو بالیا اور کہا۔ ''کاتب کو فورا ً بال ''
الئو''۔
'…کاتب کاغذ اور قلمدان لے کر آیا تو سلطان ایوبی نے کہا۔ ''لکھو… قابل صد احترام نورالدین زنگی
وہ قاصد بڑا ہی تیز رفتار تھا جس نے سلطان ایوبی کا پیغام اگلی رات کے آخری پہر بغداد میں نورالدین زنگی تک پہنچا دیا۔
سلطان ایوبی نے اسے کہا تھا کہ راستے میں ہر چوکی پر اسے تازہ دم گھوڑا مل جائے گا لیکن وہ گھوڑا صرف تبدیل کرے
خود آرام اور کھانے کے لیے نہ رکے۔ کہیں بھی گھوڑا آہستہ نہ چلے۔ اگر رات کو نورالدین زنگی کے پاس پہنچے تو دربان
سے کہہ دے کہ انہیں جگا دے۔ اگر زنگی خفگی کا اظہار کرے تو کہہ دینا کہ صالح الدین ایوبی نے کہا ہے کہ ہم سب جاگ
رہے ہیں۔ قاصد جب نورالدین زنگی کے دروازے پر پہنچا تو محافظ دستے نے اسے روک دیا اور کہا کہ پیغام صبح دیا جائے
گا۔ قاصد نے گھوڑے تو کئی بدلے تھے مگر کہیں پانی کا ایک گھونٹ پینے کے لیے بھی نہیں رکا تھا۔ تھکن ،بھوک ،پیاس
اور دو راتوں کی بیداری سے وہ الش بن گیا تھا۔ زبان پیاس سے اکڑ گئی تھی۔ وہ پائوں پر کھڑا نہیں ہوسکتا تھا اور اس کے
منہ سے بات نہیں نکلتی تھی۔ اس نے اشاروں میں بتایا کہ پیغام بہت ضروری ہے۔ نورالدین زنگی نے بھی سلطان ایوبی کی
طرح اپنے خصوصی عملے ،دربان اور اپنے باڈی گارڈز کے کمانڈر کو کہہ رکھا تھا کہ کوئی ضروری بات یا پیغام ہو تو اس کی
نیند اور آرام کی پروا نہ کی جائے۔
قاصد کی حالت دیکھ کر باڈی گارڈز نے اندر جاکر نورالدین زنگی کی خواب گاہ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ باہر آگیا اور پیغام اور
قاصد کو مالقات کے کمرے میں لے گیا۔ قاصد کمرے میں داخل ہوتے ہی گر پڑا۔ زنگی نے اپنے مالزموں کو بالیا اور قاصد کی
دیکھ بھال کرنے کو کہا۔ اس نے پیغام پڑھنا شروع کیا۔ سلطان ایوبی نے لکھا تھا۔
تعالی کی رحمت ہو ،میرا پیغام آپ کو خوش نہیں کرے گا۔ آپ کے لیے خوشی اور اطمینان کی بات صرف یہ''
آپ پر اللہ
ٰ
ہے کہ میں نے حوصلہ نہیں چھوڑا۔ آپ کے ساتھ کیا ہوا عہد پورا کررہا ہوں۔ آپ میرے پاس تشریف الئیں گے تو تمام حاالت
سنائوں گا۔ میں نے کرک کو محاصرے میں لے رکھا ہے ،ابھی کامیابی نہیں ہوئی۔ اتنی کامیابی حاصل کرچکا ہوں کہ صلیبیوں
کی ایک فوج نے شاہ ریمانڈ کی سرکردگی میں باہر سے مجھ پر حملہ کیا تھا۔ میں نے محفوظہ سے اسے گھیرے میں لے لیا
ہے۔ اب تک اس کی آدھی فوج ختم کرچکا ہوں۔ بھوکے صلیبی اپنے گھوڑوں اور اونٹوں کو کھا رہے ہیں جو انہیں اتنی دور
سے یہاں الئے تھے۔ میں اس کوشش میں ہوں کہ ریمانڈ کو زندہ پکڑ لوں مگر کرک کا محاصرہ لمبا ہوتا جارہا ہے۔ صلیبیوں
کا دماغ اور طریقہ جنگ پہلے سے بہت بہتر ہے۔ میں محاصرے کو کامیاب کرنے کے طریقے سوچ رہا تھا اور مجھے امید تھی
کہ میرے جانباز مجاہد قلعہ توڑ لیں گے وہ جس جذبے سے لڑ رہے ہیں وہ آپ کو حیران کردے گا مگر سوڈان میں میرا
بھائی تقی الدین ناکام ہوگیا ہے۔ اس کی غلطی کہ اس نے اجنبی صحرا میں جاکر فوج کو پھیال دیا ہے۔ وہ مدد مانگ رہا
ہے۔ میں نے اسے محاذ سمیٹنے اور واپس آنے کو کہہ دیا ہے۔ مصر سے آئی ہوئی خبریں اچھی نہیں ،غداروں اور ایمان
فروشوں نے دشمن کا آلٔہ کار بن کر مصر میں بغاوت اور صلیبی یلغار کے لیے راستہ صاف کردیا ہے۔ علی بن سفیان کو آپ
اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ خود میرے پاس آیا ہے۔ میں اس کے مشورے کو نظرانداز نہیں کرسکتا کہ میں مصر چال جائو…
محترم! میں کرک کا محاصرہ اٹھا نہیں سکتا ورنہ صلیبی کہیں گے کہ صالح الدین پسپا بھی ہوسکتا ہے۔ دشمن کی گردن
میرے ہاتھ میں ہے۔ آئیے اور یہ گردن آپ اپنے ہاتھ میں پکڑ لیں ،اپنی فوج ساتھ الئیں ،میں اپنی فوج مصر لے جائوں گا۔
ورنہ مصر بغاوت کا شکار ہوجائے گا۔ امید ہے کہ آپ میرے دوسرے پیغام کا انتظار نہیں کریں گے''۔
نورالدین زنگی نے ایک لمحہ بھی انتظار نہ کیا۔ شب خوابی کے لباس میں ہی مصروف کار ہوگیا۔ فوجی حکام کو بال لیا۔
انہیں احکام دیئے اور دن ابھی آدھا بھی نہیں گزرا تھا کہ اس کی فوج کرک کی سمت کوچ کرچکی تھی۔ زنگی وہ مرد مجاہد
تھا جس کا نام سن کر صلیبی بدک جاتے تھے۔ اس کے سینے میں ایمان کی شمع روشن تھی۔ وہ فن حرب وضرب کا ماہر
تھا۔ اس نے راستے میں کم سے کم پڑائو کیے اور اتنی جلدی محاذ پر پہنچا کہ سلطان ایوبی حیران رہ گیا۔ اگر قاصد پہلے
سے اسے اطالع نہ دے دیتا کہ زنگی اپنی فوج کے ساتھ آرہا ہے تو دور سے گرد کے بادل دیکھ کر سلطان صالح الدین
سمجھتا کہ صلیبیوں کی فوج آرہی ہے۔ سلطان ایوبی گھوڑا سرپٹ بھگاتا استقبال کے لیے گیا۔ نورالدین زنگی اسے دیکھ کر
گھوڑے سے کود آیا۔ اسالم کی عظمت کے یہ دونوں پاسبان جب گلے ملے تو جذبات کی شدت سے سلطان ایوبی کے آنسو
نکل آئے۔
٭ ٭ ٭
سلطان ایوبی نے نورالدین زنگی کو تمام تر حاالت اور غداروں کی ساری کارستانیاں سنائیں۔ زنگی نے کہا… ''صالح الدین!
تمہاری عمر ابھی اتنی نہیں گزری کہ چند ایک حقائق کو قبول کرسکو۔ یہ اسالم کی بدنصیبی ہے کہ غدار ہماری قوم کا
الزمی حصہ بن گئے ہیں اور قوم ان سے کبھی پاک نہیں ہوگی۔ مجھے صاف نظر آرہا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب غدار
قوم پر باقاعدہ حکومت کریں گے۔ دشمن کے خالف باتیں کریں گے۔ بلند دعوے کریں گے ،دشمن کو کچل دینے کے نعرے
لگائیں گے ،مگر قوم جان نہیں سکے گی کہ ان کے حکمران دراصل اس کے اور اس کے دین کے دشمن کے ساتھ درپردہ
دوستی کرچکے ہیں۔ دشمن انہی کو ڈھال اور انہی کو تلوار بنائے گا اور ان کے ہاتھوں قوم کو مروائے گا… پریشان نہ ہو صالح
الدین! ہم حاالت پر قابو پالیں گے۔ تم مصر پہنچو اور تقی الدین کو مدددے کر سوڈان سے نکالو۔ دائیں بائیں حملے کرکے
دشمن کو الجھائے رکھو تاکہ تقی الدین کا کوئی دستہ کہیں گھیرے میں نہ آجائے۔ مصر میں فوجوں کو یکجا کرو اور مصر میں
جو فوج ہے ،اسے میرے پاس بھیج دو۔ میں اس کے دماغ سے بغاوت کا کیڑا نکال دوں گا''۔
شام کے بعد زنگی نے اپنی فوج کو کرک کے محاصرے پر لگا دیا اور سلطان ایوبی کی فوج پیچھے ہٹ آئی۔ اسے فورا ً قاہرہ
کے لیے کوچ کا حکم دے دیا گیا۔ کچھ غلطی وہاں ہوگئی جہاں سلطان ایوبی نے ریمانڈ کی فوج کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔
زنگی نے جب وہاں اپنے دستے اس ہدایت کے ساتھ بھیجے کہ سلطان ایوبی کی فوج کی بدلی کرتی ہے تو احکام اور ہدایات
پر کسی غلط فہمی کی بنا پر عمل نہ ہوسکا۔ ریمانڈ نے اتفاق سے اس سمت حملہ کیا جہاں اسے توقع تھی کہ مسلمانوں
کا دستہ کمزور ہے۔ اس نے وہاں کسی کو بھی حملہ روکنے کے لیے تیار نہ پایا۔ وہ اس طرف سے نکل گیا اور کچھ فوج
بھی نکل گئی۔ صلیبیوں کی بچی کھچی فوج پھنسی رہ گئی ، ،جسے اگلے روز پتا چال کہ ان کا حکمران کمانڈر بھاگ گیا ہے
تو اس نے بھی اندھا دھند بھاگنے کی کوشش کی۔ صلیبی اپنی جانیں بچانے کے لیے لڑے۔ کچھ مارے گئے اور بعض پکڑے
گئے۔ نقصان یہ ہوا کہ ریمانڈ نکل گیا۔ فائدہ یہ ہوا کہ گھیرا کامیاب رہا اور نورالدین زنگی کی فوج کا یہ حصہ کرک کے
محاصرے کو کامیاب کرنے کے لیے فارغ ہوگیا۔
سلطان ایوبی جب قاہرہ کو روانہ ہونے لگا تو حسرت بھری نظروں سے کرک کو دیکھا۔ اس نے زنگی سے کہا ''تاریخ یہ تو
نہیں کہے گی کہ صالح الدین ایوبی پسپا ہوگیا تھا؟ میں نے محاصرہ اٹھایا تو نہیں!''۔
نہیں صالح الدین!''… نورالدین زنگی نے اس کا گال تھپکا کر کہا… ''تم نے شکست نہیں کھائی ،تم جذباتی ہوگئے ہو'' ،
جنگ جذبات سے نہیں لڑی جاتی''۔
میں آئوں گا میر ے فلسطین!''… سلطان ایوبی نے کرک کو دیکھتے ہوئے کہا… ''میں آئوں گا''۔ اس نے گھوڑے کو ''
ایڑی لگا دی پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
نورالدین زنگی اسے دیکھتا رہا۔ وہ جب اپنے گھوڑے سمیت دور جاکر گرد میں چھپ گیا تو زنگی نے اپنے ایک نائب سے
کہا… ''اسالم کو ہر دور میں ایک صالح الدین ایوبی کی ضرورت ہوگی''۔
یہ واقعہ ١١٧٣ئ)٥٦٩ہجری( کے وسط کا ہے۔
19:58
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔55۔ وہ جو مردوں کو زندہ کرتا تھا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مصر کےدیہاتی اس کی راہ دیکھ رہے تھے۔ ہر کسی کی زبان پر یہی الفاظ تھے… ''وہ آسمان سے آیا ہے ،خدا کا دین الیا
ہے۔ دل کی بات بتاتا ہے اور آنے والے وقت کے اندھیروں کو روشن کرکے دکھاتا ہے۔ مرے ہوئوں کو اٹھا دیتا ہے''۔
وہ کون تھا؟… جنہوں نے اسے دیکھا تھا ،وہ اس کی کرامات سے اس قدر مسحور ہوگئے تھے کہ یہ جاننے کی ضرورت ہی
محسوس نہیں کرتے تھے کہ وہ کون ہے۔ وہ تسلیم کرلیتے تھے کہ وہ آسمان سے آیا ہے ،خدا کا دین الیا ہے اور جو لوگ
اس کی راہ دیکھ رہے تھے وہ اس سوال سے بے نیاز تھے کہ وہ کون ہے۔ قافلے گزرتے تھے تو اسی کی کرامات سناتے
تھے۔ کوئی اکیال دھکیال مسافر کسی گائوں میں جاتا تھا تو اسی کے معجزوں کا ذکر کرتا تھا۔ بعض لوگ اسے نبی اور پیغمبر
بھی کہتے تھے اور کچھ ایسے بھی تھے جو اسے بارش کا دیوتا مانتے تھے اور اس کی خوشنودی کے لیے انسانی جان کی
قربانی دینے کے لیے بھی تیار تھے۔ ان میں سے کوئی بھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا تھا کہ اس کا مذہب کیا ہے اور
وہ کیسا عقیدہ ساتھ الیا ہے۔ لوگ ابھی پسماندگی کے دور میں تھے۔ علم سے بے بہرہ تھے اور قدرت کے ستم کا شکار رہتے
تھے۔ انہیں جہاں امید بندھتی تھی کہ ان کے مصائب کا حل موجود ہے ،وہاں جا کر سجدے کرتے تھے۔ ان کی اکثریت
مسلمان تھی۔ اسالم کی روشنی وہاں تک پوری آب وتاب سے پہنچی تھی۔ مسلمانوں نے مسجدیں بھی بنا رکھی تھی۔ رب
کعبہ کے حضور پانچوں وقت سجدے بھی کرتے تھے مگر اسالم کے سچے عقیدے کو پختہ کرنے کا کوئی انتظام نہ تھا۔ ان
کے امام بے علم تھے جو اپنی امامت کو برقرار رکھنے کے لیے لوگوں کو عجیب وغریب باتیں بتاتے رہتے تھے۔ قرآن کو
انہوں نے ( نعوذباللہ) کالے علم کی ایک کتاب بنا ڈاال تھا اور ایسا تاثر پیدا کررکھا تھا کہ قرآن کو صرف امام سمجھ سکتا
ہے۔ چنانچہ یہ مسلمان قرآن کو ہاتھ لگانے سے بھی ڈرتے تھے۔
ان اماموں نے لوگوں کے دلوں میں ''غیب'' کا ایک لفظ بٹھا دیا تھا اور انہیں باور کرادیا تھا کہ جو کچھ بھی ہے وہ
غیب میں ہے اور غیب میں جھانکنے کی قدرت صرف امام کو حاصل ہے۔ اماموں نے انسان کو ایک کم زور چیز بنا دیا تھا۔
اس مقام سے وسوسے اور توہمات پیدا ہوئے۔ صحرائی آندھیوں کی چیخوں میں انہیں اس مخلوق کی آوازیں سنائی دینے لگیں
جو امام کہتے تھے کہ انسانوں کو نظر نہیں آسکتی۔ بیماریاں جنات اور شرشرار بن گئیں۔ امام معالج اور عامل بن گئے جنہوں
دعوی کیا کہ ان کے قبضے میں جنات ہیں۔ انسان ''غیب کی سزا'' سے اتنے خوف زدہ رہنے لگے کہ ان کے دلوں
نے
ٰ
میں اسالم کا عقیدہ کمزور پڑ گیا اور وہ ہر اس آواز پر لبیک کہنے لگے جو انہیں غیب کی مخلوق اور غیب سے سزا سے
بچانے کا یقین دالتی تھی… یہی وجہ تھی کہ لوگ بیتابی سے اس کی راہ دیکھ رہے تھے جو آسمان سے آیا ہے اور مرے
ہوئوں کو اٹھا دیتا ہے۔
وہ مصر کے اس دیہاتی عالقے میں وارد ہوا تھا جو جنوب مغرب کی سرحد کے ساتھ تھا۔ اس زمانے میں سرحد کا کوئی
واضح وجود نہیں تھا۔ صالح الدین ایوبی نے کاغذوں پر ایک لکیر کھینچ رکھی تھی لیکن وہ بھی کہا کرتا تھا کہ دین اسالم
کی اور سلطنت اسالمیہ کی کوئی سرحد نہیں۔ دراصل سرحد عقیدوں کے درمیان تھی جہاں تک اسالم کی گرفت تھی ،وہ
اسالمی سلطنت تھی اور جہاں سے غیراسالمی نظریات شروع ہوتے تھے ،وہ عالقہ غیر کہالتا تھا۔ مصر کے جس آخری گائوں
میں مسلمانوں کی غالب اکثریت تھی ،وہ امارت مصر کا آخری اور سرحدی گائوں سمجھا جاتا تھا۔ اسی باعث صلیبی ملت
اسالمی کے نظریات پر حملے ِک رتے اور اسالمی عقیدوں کو کمزور کرکے وہاں اپنے عقائد ِکا غلبہ پیدا کرتے تھے۔ اس سے ثابت
ہوتا تھا کہ اس وقت سرحدوں کی حیثیت جغرافیائی کم اور نظریاتی زیادہ تھی۔ اس دور کے واقعات سے یہ بھی ثابت ہوتا
ہے کہ غیرمسلموں نے غلبٔہ اسالم کے ساتھ ہی مسلمانوں پر نظریاتی حملے شروع کردیئے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ مسلمان
جنگ کو جہاد کہتے ہیں اور قرآن نے مسلمانوں پر جہاد فرض کردیا ہے۔ یہاں تک کہ حاالت کے تقاضے کے پیش نظر جہاد کو
نماز پر فوقیت حاصل ہے اور یہ بھی کہ کسی غیرمسلم سلطنت میں مسلمان باشندوں پر ظلم وستم ہورہا ہو تو دوسری
سلطنتوں کے مسلمانوں پر یہ اقدام فرض ہو جاتا ہے کہ مظلوم رعایا کو غیرمسلموں کے ظلم وستم سے بچائیں ،خواہ اس مقصد
کے لیے جنگی کارروائی کرنی پڑے۔
انہی قرآنی احکام نے مسلمانوں میں عسکری جذبہ پیدا کیا
جس کا اثر یہ تھا کہ مسلمان جس ملک پر فوج کشی کرتے یا جس میدان میں بھی لڑتے تھے ان کے ذہن میں جنگ کا :
مقصد واضح ہوتا تھا۔ گو ان پر مال غنیمت حالل قرار دیا گیا تھا لیکن ان کے ہاں لوٹ مار جنگ کے مقاصد میں شامل نہیں
ہوتی تھی ،نہ ہی وہ مال غنیمت کے اللچ سے لڑتے تھے۔ اس کے برعکس صلیبیوں کی جنگ ملک گیری کی ہوس کی آئینہ
دار ہوتی اور وہ لوٹ مار پر زیادہ توجہ دیتے تھے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹنے کا
کام بھی صلیبی فوج کے حوالے کردیا گیا تھا۔ صلیبیوں کو اس کا یہ نقصان اٹھانا پڑتا تھا کہ ہر میدان میں ان کی جنگی
طاقت مسلمانوں کی نسبت پانچ سے دس گنا ہوتی تھی مگر وہ مٹھی بھر مسلمانوں سے شکست کھا جاتے تھے۔ شکست نہ
کھائیں تو فتح بھی حاصل نہ کرسکتے تھے۔ وہ جان گئے تھے کہ قرآن کے احکام نے مسلمانوں میں جنگی جنون پیدا کررکھا
تعالی کے نام پر لڑتے اور جانیں قربان کرتے ہ یں۔ صلیبیوں کے جرنیلوں میں کچھ ایسے بھی تھے جو مسلمانوں
ہے ،وہ اللہ
ٰ
پر مذہبی جنون کی گرفت کمزور کرنے کی ترکیبیں سوچتے اور ان پر عمل کرتے تھے ،وہ جان گئے تھے کہ ایک مسلمان جو
دس غیر مسلموں کا مقابلہ کرتا ہے ،وہ کوئی فرشتہ اور جن بھوت نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے اندر اللہ کی طاقت اور اپنے عقیدے
کی قوت محسوس کرتا ہے جو اسے کسی اللچ سے اور اپنی جان سے بھی بے نیاز کردیتی ہے۔ چنانچہ صالح الدین ایوبی
سے بہت پہلے ہی یہودی اور صلیبی عالموں اور مفکروں نے مسلمانوں کی عسکری روح کو مردہ کرنے کے لیے ان کی کردار
کشی شروع کردی تھی اور ان کے مذہبی عقائد میں پرکشش مالوٹ کرکے ان کے ایمان کو کمزور کرنا شروع کردیا تھا۔
صالح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی کی بدنصیبی یہ تھی کہ وہ جب صلیبیوں کے خالف اٹھے تو اس وقت تک صلیبیوں کی
نظریاتی یلغار بہت حد تک کامیاب ہوچکی تھی۔ اسالم کے دشمنوں نے اس یلغار کو دو طرفہ استعمال کیا تھا۔ اوپر کے طبقے
کو جس میں حکمران ،امراء اور وزراء وغیرہ تھے۔ دولت ،عورت اور شراب کا دلدادہ بنا دیا تھا اور نیچے یعنی پسماندہ لوگوں
میں توہم پرستی اور مذہب کے خالف وسوسے پیدا کردیئے تھے جس طرح زنگی اور ایوبی نے فن حرب وضرب میں نئے
تجربے کیے اور نئی چالیں واضع کیں ،اسی طرح صلیبیوں نے درپردہ کردار کشی کے میدان میں نئے طریقے دریافت کیے۔ تین
چار یورپی مورخین نے یہاں تک لکھا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بعض صلیبی حکمرانوں نے میدان جنگ کو اہمیت
دینی ہی چھوڑ دی تھی۔ وہ اس نظریئے کے قائل ہوگئے تھے کہ جنگ اس طریقے سے لڑو کہ مسلمانوں کی جنگی طاقت
زائل ہوتی رہے۔ زور دار حملہ ان کے مذہبی عقائد پر کرو اور ان کے دلوں میں ایسے وہم پیدا کردو جو مسلمان قوم اور فوج
کے درمیان بداعتمادی اور حقارت پیدا کردیں۔ اس مکتبہ فکر کے صلیبی مفکروں میں فلپ آگسٹس سرفہرست تھا۔ یہ صلیبی
حکمران اسالم دشمنی کو اپنے مذہب کا بنیادی اصول سمجھتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ ہماری جنگ صالح الدین ایوبی اور
نورالدین زنگی سے نہیں ،یہ صلیب اور اسالم کی جنگ ہے جو ہماری زندگی میں نہیں تو کسی نہ کسی وقت میں ضرور
کامیاب ہوگی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کی اٹھتی ہوئی نسل کے ذہن میں قومیت کے بجائے جنسیت بھر دو اور
انہیں ذہنی عیاشی میں ڈبو دو۔
آگسٹس اپنے مشن کی کامیابی کے لیے میدان جنگ میں مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈال کر صلح کرلینے سے بھی گریز نہیں
کرتا تھا۔ ہم جس دور یعنی ١١٦٩ء کے لگ بھگ کی کہانی سنا رہے ہیں ،اس وقت وہ نورالدین زنگی کے ہاتھوں شکست کھا
کر مفتوحہ عالقے واپس کرچکا تھا۔ اس نے زنگی کو تاوان بھی دیا تھا اور جنگ نہ کرنے کے معاہدے پر دستخط کرکے جزیہ
دے رہا تھا مگر جنگی قیدیوں کے تبادلے میں اس نے چند ایک معذور مسلمان سپاہی واپس کیے۔ تندرست قیدیوں کو اس نے
قتل کردیا تھا اور اب وہ کرک کے قلعے میں اسالم کی بیخ کنی کے منصوبے بنا رہا تھا۔ اس کے ذہن میں اسالم دشمنی
خبط کی صورت اختیار کرگئی تھی۔ اس کی بعض چالیں ایسی خفیہ ہوتی تھیں کہ اس کے اپنے صلیبی حکمران اور جرنیل
بھی اسے شک کی نگاہوں سے دیکھنے لگے تھے۔ ) اس پر اپنے ساتھیوں نے یہ الزام عائد کیا کہ وہ اندر سے مسلمانوں کا
دوست ہے اور ان کے ساتھ سودا بازی کررہا ہے۔ ایک یورپی مورخ آندرے آزون کے مطابق اس الزام کے جواب میں ایک بار
آگسٹس نے کہا تھا… ''ایک مسلمان حکمران کو پھانسنے کے لیے میں اپنی کنواری بیٹیوں کو بھی اس کے حوالے کرنے سے
گریز نہیں کروں گا۔ تم مسلمانوں کے ساتھ صلح نامے اور دوستی کے معاہدے کرنے سے گھبراتے ہو ،کیونکہ اس میں تم اپنی
توہین کا پہلو دیکھتے ہو ،تم یہ نہیں سوچتے کہ مسلمان کو میدان جنگ کی
نسبت صلح کے میدان میں مارنا آسان ہے۔ ضرورت پڑے تو اس کے آگے ہتھیار ڈال کر صلح نامہ کرو ،معاہدہ کرو اور گھر
آکر معاہدے اور صلح نامے کے الٹ ردعمل کرو۔ کیا میں ایسا نہیں کررہا؟ کیا تم نہیں جانتے کہ میرے خون کے رشتے کی دو
لڑکیاں ،دمشق کے ایک شیخ کے حرم میں ہیں؟ کیا اس شیخ سے تم لڑے بغیر بہت سارا عالقہ لے نہیں چکے؟ کیا اس نے
دوستی کا حق ادا نہیں کیا؟ وہ مجھے اپنا دوست سمجھتا ہے اور میں اس کا جانی دشمن ہوں۔ میں ہر ایک غیرمسلم سے
کہوں گا کہ مسلمانوں کے ساتھ معاہدے کرو اور انہیں دھوکہ دے کر مارو''۔
٭ ٭ ٭
یہ تھی وہ صلیبی ذہنیت جو ایک کامیاب سازش کے تحت سلطنت اسالمیہ کی جڑوں کو دیمک کی طرح کھا رہی تھی۔ اسی
سازش کا یہ نتیجہ تھا کہ مصر میں بغاوت کی چنگاری شعلہ بننے لگی تھی جسے سرد کرنے کے لیے سلطان صالح الدین
ایوبی کو کرک کا محاصرہ اس حالت میں اٹھانا پڑا ،جب وہ صلیبیوں کی ایک سوار فوج کو قلعے سے باہر شکست دے چکا
تھا۔ اسے محاصرہ نورالدین زنگی کے حوالے کرکے اپنی فوج سمیت قاہرہ جانا پڑا۔ وہ دل برداشتہ تو نہیں تھا لیکن دل پر
ایسا بوجھ تھا جو اس کے چہرے پر صاف نظرآرہا تھا۔ اس کی فوج کے سپاہی اس خیال سے مطمئن تھے کہ انہیں آرام کے
لیے قاہرہ لے جایا جارہا ہے لیکن دستوں کے وہ کمان دار جو سلطان ایوبی کے عزم اور لڑنے کے طریقے کار کو سمجھتے
تھے ،حیران تھے کہ اس نے نورالدین کو فوج سمیت کیوں بالیا اور محاصرہ کیوں اٹھایا ہے۔ وہ تو فتح یا شکست تک لڑنے
کا قائل تھا۔ اس کے ہیڈکوارٹر کے دو تین ساالروں کے سوا کسی کو علم نہیں تھا کہ مصر کے حاالت بہت خراب ہوگئے ہیں
اور سوڈان میں تقی الدین کا حملہ ناکام ہوگیا ہے اور اسے خیریت سے پیچھے ہٹانا ہے۔ سلطان ایوبی کے ساتھ علی بن
سفیان بھی تھا۔ وہی مصر کے اندرونی حاالت کی رپورٹ لے کر آیا تھا۔
سلطان صالح الدین ایوبی نے کرک سے کوچ کے حکم کے ساتھ یہ حکم بھی دیا تھا کہ راستے میں بہت کم پڑائو کیے جائیں
گے اور کوچ بہت تیز ہوگا۔ اس حکم سے سب کو شک ہوا تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ سفر کی پہلی شام آئی۔ فوج رات بھر کے
اعلی کمانڈروں اور اپنی مرکزی کمان کے عہدیداروں کو بالیا۔
لیے رک گئی۔ سلطان ایوبی کا خیمہ نصب ہوگیا تو اس نے اپنے
ٰ
اس نے کہا… '' آپ میں زیادہ تعداد ان کی ہے جنہیں معلوم نہیں کہ میں نے محاصرہ کیوں اٹھایا ہے اور میں آپ کو قاہرہ
کیوں لے جارہا ہوں۔ بے شک محاصرہ ٹوٹا نہیں ،آپ میں کوئی بھی پسپا نہیں ہوا لیکن میں اسے اگر شکست نہیں تو پسپائی
ضرور کہوں گا۔ میرے رفیقو! ہم پسپا ہورہے ہیں اور آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ آپ کو پسپا کرنے والے آپ کے اپنے
بھائی ہیں ،اپنے رفیق ہیں ،وہ صلیبیوں کے رفیق بن چکے ہیں اور انہوں نے بغاوت کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ اگر علی بن سفیان
اس کے نائب اور غیاث بلبیس چوکس نہ ہوتے تو آج آپ مصر نہ جاسکتے۔ وہاں صلیبیوں اور سوڈانیوں کی حکمرانی ہوتی۔
ارسالن جیسا حاکم صلیبیوں کا آلٔہ کار نکال ،وہ االدریس کے دو جوان بیٹے مروا کر خودکشی کرچکا ہے۔ اگر ارسالن غدار تھا تو
''آپ اور کس پر بھروسہ کریں گے؟
حاضرین پر سناٹا طاری ہوگیا۔ بے چینی اور اضطراب ان کی آنکھوں میں چمک رہا تھا۔ سلطان ایوبی نے خاموش ہوکر سب کو
دیکھا۔ اس دور کا ایک واقعہ نگار قاضی بہائوالدین شداد کسی غیرمطبوعہ تحریر کے حوالے سے لکھتا ہے کہ دو قندیلوں کی
کانپتی ہوئی روشنی میں سب کے چہرے اس طرح نظر آرہے تھے جیسے وہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوں۔ وہ آنکھ بھی
نہیں جھپکتے تھے۔ سلطان ایوبی کے الفاظ سے زیادہ اس کا لب ولہجہ اور انداز ان پر اثر انداز ہورہا تھا۔ سلطان ایوبی کی
آواز میں روز واال جوش نہیں بلکہ لرزہ سا تھا جو سب کو ڈرا رہا تھا۔ اس نے کہا… ''میں یہ کہہ کر کہ آپ میں بھی
غدار ہیں ،معافی نہیں مانگوں گا۔ میں آپ کو یہ بھی نہیں کہوں گا کہ قرآن پر حلف اٹھائو کہ آپ اسالم اور سلطنت
اسالمیہ کے وفادار ہیں۔ ایمان بیچنے والے قرآن ہاتھ میں لے کر بھی وفاداری کا یقین دالیا کرتے ہیں۔ میں آپ کو صرف یہ
بتانا چاہتا ہوں کہ ہر وہ انسان جو مسلمان نہیں وہ آپ کا دشمن ہے۔ دشمن جب آپ کے ساتھ محبت اور دوستی کا اظہار
کرتا ہے تو اس میں اس کی دشمنی چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ وہ آپ کو آپ کے بھائیوں کے خالف اور آپ کے مذہب کے
خالف استعمال کرتا ہے اور جہاں اسے مسلمانوں پر حکومت کرنے کا موقع ملتا ہے ،وہ مسلمان مستورات کی عصمت دری اور
اسالم کی بیخ کنی کرتا ہے۔ یہی اس کا مقصد ہے ،ہم جو جنگ لڑ رہے ہیں یہ ہماری ذاتی جنگ نہیں۔ یہ ذاتی حکمرانی
قائم کرنے کے لیے کسی ملک پر قبضے کی کوشش نہیں۔ یہ دو عقیدوں کی جنگ ہے۔ یہ کفر اور اسالم کی جنگ ہے۔ یہ
جنگ اس وقت تک لڑی جاتی رہے گی جب تک کفر یا اسالم ختم نہیں ہوجاتا''۔
گستاخی معاف ساالراعظم!'' ایک ساالر نے کہا… ''اگر ہمیں ثابت کرنا ہے کہ ہم غدار نہیں ہیں تو ہمیں مصر کے ''
حاالت سے آگاہ کریں۔ ہم عمل سے ثابت کریں گے کہ ہم کیا ہیں۔ ارسالن فوج کا نہیں انتظامیہ کا حاکم تھا۔ آپ کو غدار
انتظامی شعبوں میں ملیں گے ،فوج میں نہیں۔ کرک قلعے کا محاصرہ آپ نے اٹھایا ہے ،ہم نے نہیں۔ محترم زنگی کو آپ نے
بالیا ہے ،ہم نے نہیں۔ ہمارا امتحان میدان جنگ میں ہوسکتا ہے ،پرامن کوچ میں نہیں… مصر میں کیا ہورہا ہے''۔
صالح الدین ایوبی نے علی بن سفیان کی طرف دیکھا اور کہا… ''علی! انہیں بتائو وہاں کیا ہورہا ہے''۔
علی بن سفیان نے کہا… ''غداروں نے دشمن کے ساتھ مل کر سوڈان کے محاذ کے لیے رسد روک لی ہے۔ منڈیوں سے غلہ
غائب کردیا ہے۔ دیہاتی عالقوں میں اجنبی لوگ آکر غلہ اور خوردونوش کی دیگر اشیاء خرید کر لے جاتے ہیں ،گوشت ناپید
کردیا گیا ہے۔ رسد اگر بھیجی جاتی ہے تو دانستہ تاخیر کی جاتی ہے۔ یوں بھی ہوا کہ رسد بھیج کر دشمن کو اطالع دے
دی گئی۔ دشمن نے رسد کے قافلے کو راستے میں روک لیا۔ شہر میں بدکاری عام ہوگئی ہے۔ جوئے بازی کے ایسے دلچسپ
طریقے رائج ہوگئے ہیں جن کے ہمارے لڑکے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ دیہاتی عالقوں سے فوج کو بھرتی نہیں ملتی اور جانور
بھی نہیں ملتے۔ فوج میں بے اطمینانی پیدا ہوگئی ہے ،ہمارے قومی کردار کو تباہ کرنے کے سامان پیدا کردیئے گئے ہیں۔
انتظامیہ کے حکام چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے حکمران بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ انہیں یہ اللچ صلیبیوں نے دے رکھی
ہے۔ ان حاکموں کو باہر سے بے دریغ دولت مل رہی ہے چونکہ سلطنت اور امارت کا انتظام انہی لوگوں کے ہاتھ میں ہے،
اس لیے انہوں نے ایسی فضا پیدا کردی ہے جو دشمن کے لیے سازگار ہے۔ سب سے زیادہ خطرناک صورت یہ پیدا ہوگئی ہے
کہ دیہاتی عالقوں میں عجیب وغریب عقیدے پھیل رہے ہیں۔ لوگ غیراسالمی اصولوں کے قائل اور پابند ہوتے جارہے ہ یں۔
اس میں خطرہ یہ ہے کہ ہمیں فوج انہی عالقوں سے ملتی ہے اور ہماری موجودہ فوج انہی عالقوں سے آئی ہے۔ بے بنیاد
اور غیراسالمی عقیدے فوج میں بھی آگئے ہیں''۔
کیا آپ نے اس کا تدارک نہیں کیا؟'' حاضرین میں سے کسی نے پوچھا۔''
جی ہاں!'' علی بن سفیان نے کہا… ''میرا تمام ترشعبہ مجرموں کے سراغ لگانے اور انہیں پکڑنے میں مصروف ہے۔ میں''
نے اپنے جاسوس اور مخبر دیہاتی عالقوں میں بھی پھیال رکھے ہیں مگر دشمن کی تخریب کاری اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ
اس کے آدمیوں کو پکڑنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارے مسلمان بھائی دشمن کے جاسوسوں اور تخریب کاروں
کو پناہ اور تحفظ دیتے ہیں۔ کیا آپ یہ سن کر حیران نہیں ہوں گے کہ دیہاتی عالقوں کی بعض مسجدوں کے امام بھی دشمن
کی تخریب کاری میں شامل ہوگئے ہیں''۔
یہ تو ہونہیں سکتا کہ میں انتظامیہ فوج کے سپرد کردوں''… سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا… ''فوج جس مقصد کے لیے''
تیار کی گئی ہے ،یہ اسی کی تکمیل کا فرض ادا کرتی رہے تو سلطنت کے لیے بھی بہتر ہوتا ہے اور فوج کے لیے بھی۔
جس طرح ایک کوتوال ساالر کے فرائض سرانجام نہیں دے سکتا۔ البتہ ہر ساالر کو یہ ضرور معلوم ہونا چاہیے کہ کوتوال کیا
کررہے ہیں۔ ہر ساالر کو باخبر رہنا چاہیے کہ انتظامیہ کیا کررہی ہے۔ کیا واقعی فرائض میں کوتاہی تو نہیں ہورہی؟… میرے
رفیقو! ہمیں خدا نے تاریخ کی سب سے زیادہ کڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ مصر کے حاالت آپ نے سن لیے ہیں۔ سوڈان کا
حملہ ناکام ہوگیا ہے۔ تقی الدین اپنی غلطیوں کی بدولت سوڈان کے صحرا میں پھنس کے رہ گیا ہے۔ اس کی فوج چھوٹی
چھوٹی ٹولیوں میں بکھر گئی ہے۔ اس کی پسپائی بھی ممکن نظر نہیں آتی۔ میں کہہ نہیں سکتا کہ محترم زنگی کرک فتح
کرلیں گے یا نہیں لیکن اسے بھی میں اپنی ناکامی کہتا ہوں۔ آپ انتہائی مشکل حاالت میں بھی میدان جنگ میں دشمن کو
شکست دے سکتے ہیں مگر دشمن نے جس محاذ پر حملہ کیا ہے ،اس پر دشمن کو شکست دینا آپ کے لیے بظاہر آسان
نظر نہیں آتا۔ آپ تیغ زن ہیں۔ صحرائوں کا سینہ چیر سکتے ہیں مگر مجھے خطرہ نظر آرہا ہے کہ صلیبیوں کے اس محاذ پر
آپ ہتھیار ڈال دیں گے''۔
حاضرین میں چند ایک جوشیلی اور پرعزم آوازیں سنائی دیں۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''اس وقت جو فوج مصر میں ہے وہ
جب شوبک اور کرک کے محاذ سے مصر گئی تھی تو اس کے کمان داروں اور عہدیداروں کا جذبہ بالکل ایسا ہی تھا جیسا آج
آپ کا ہے مگر قاہرہ پہنچ کر جب انہوں نے د شمنوں کے سبز باغ دیکھے تو بغاوت کے لیے تیار ہوگئے۔ اب اس فوج کی
کیفیت یہ ہے کہ آپ اس پر بھروسہ نہیں کرسکتے''۔
ہم ایسے ایک ایک کمان دار اور عہدیدار کو قتل کرکے دم لیں گے''۔ ایک ساالر نے کہا۔''
ہم سب سے پہلے اپنی صفوں کو غداروں سے پاک کریں گے''۔ ایک اور نے کہا۔''
اگر میرا بیٹا''
صلیبیوں کا دوست نکال تو میں اپنی تلوار سے اس کا سرکاٹ کر آپ کے قدموں میں رکھ دوں گا''۔ ایک بوڑھے نائب
ساالر نے کہا۔
میں اس قسم کی جوشیلی اورجذباتی باتوں کا قائل نہیں''… سلطان ایوبی نے کہا۔''
حاضرین کا جوش غضب ناک ہوگیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو سلطان ایوبی کے سامنے بات کرنے سے ڈرا کرتے تھے مگر اب یہ
سن کر کہ ان کی فوج کی وہ نفری جو مصر میں ہے ،دشمن کی تخریب کاری کا شکار ہوکر اپنی سلطنت کے خالف بغاوت
پر اتر آئی ہے تو وہ لوگ آگ بگولہ ہوگئے۔ ایک نے سلطان ایوبی کو یہاں تک کہہ دیا… ''آپ ہمیں ہمیشہ تحمل سے
سوچنے اور بردباری سے عمل کرنے کی تلقین کرتے ہیں مگر بعض حاالت ایسے ہوتے ہیں جنہیں تحمل اور بردباری اور زیادہ
بگاڑ دیتی ہے۔ ہمیں اجازت دیں کہ قاہرہ تک ہم ایک بھی پڑائو نہ کریں۔ ہم آرام اور خوراک کے بغیر متواتر سفر کریں گے۔
ہم اس فوج کو نہتہ کرکے قید کرلیں گے''۔
صالح الدین ایوبی کے لیے ان حکام پر قابو پانا محال ہوگیا۔ اس نے کچھ اور باتیں کہہ سن کر مجلس برخواست کردی۔ علی
الصبح فوج نے کوچ کیا۔ یہ کوچ ترتیب سے ہورہا تھا۔ سلطان ایوبی اپنے عملے کے ساتھ الگ تھلگ جارہا تھا۔ اس نے دیکھا
کہ علی بن سفیان اس کے ساتھ نہیں تھا۔ شام تک فوج کو دو مرتبہ کچھ دیر کے لیے روکا گیا۔ شام گہری ہونے کے بعد
بھی فوج چلتی رہی۔ رات کا پہال پہر ختم ہورہا تھا ،جب سلطان ایوبی نے رات کے قیام کے لیے فوج کو روکا۔ سلطان کھانے
سے فارغ ہوا تو علی بن سفیان آگیا۔
سارا دن کہاں رہے علی؟''… سلطان ایوبی نے پوچھا۔''
گزشتہ رات میرے دل میں ایک شک پیدا ہوگیا تھا''… علی بن سفیان نے جواب دیا… ''اس کی تصدیق یا تردید کے لیے''
سارا دن فوج میں گھومتا پھرتا رہا''۔
''کیسا شک؟''
آپ نے رات دیکھا نہیں تھا کہ تمام ساالر ،کمان دار اور عہدیدار کس طرح اس فوج کے خالف بھڑک اٹھے تھے جو مصر ''
میں ہے؟''… علی بن سفیان نے کہا… ''مجھے شک ہونے لگا تھا کہ یہ اپنے اپنے دوستوں کو بھی اسی طرح بھڑکائیں گے۔
میرا شک صحیح ثابت ہوا۔ انہوں نے تمام تر فوج کو مصر کی فوج کے متعلق ایسی باتیں بتائی ہیں کہ تمام فوج انتقامی
جذبے سے مشتعل ہوگئی ہے۔ میں نے سپاہیوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہم محاذوں پر زخمی اور شہید ہوتے ہیں اور ہمارے
ہی ساتھی قاہرہ میں عیش کرتے اور اسالمی پرچم کے خالف علم بغاوت بلند کرنا چاہتے ہیں۔ ہم جاتے ہی انہیں ختم کریں
گے۔ پھر سوڈان میں پھنسی ہوئی فوج کی مدد کو پہنچیں گے۔ قابل صد احترام امیر! اگر ہم نے کوئی پیش بندی نہ کی تو
قاہرہ میں پہنچتے ہی خانہ جنگی شروع ہوجائے گی۔ ہماری یہ فوج انتقامی جذبے کے زیراثر غصے میں ہے اور ہماری مصر
والی فوج پہلے ہی بغاوت کے بہانے ڈھونڈ رہی ہے''۔
19:59
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔56۔ وہ جو مردوں کو زندہ کرتا تھا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
فوج پہلے ہی بغاوت کے بہانے ڈھونڈ رہی ہے''۔ مجھے اس پر تو خوشی ہے کہ مسلسل معرکوں کی تھکی ہوئی اس فوج
میں یہ جذبہ پیدا ہوگیا ہے''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''مگر ہمارا دشمن یہی چاہتا ہے کہ ہماری فوج دو حصوں میں بٹ کر
آپس میں ٹکرا جائے''۔ وہ گہری سوچ میں پڑ گیا ،پھر کہنے لگا… ''جب ہم قاہرہ سے خاصا دور ہوں گے تو میں ذمہ دار
اور ذہین قاصد بھیج کر مصر والی فوج کو کسی دوسرے راستے سے کرک کی سمت کوچ کا حکم دے دوں گا۔ شاید میں خود
آگے چال جائوں اور اس فوج کو کوچ کرادوں تاکہ یہ فوج جو ہمارے ساتھ ہے جب وہاں پہنچے تو وہاں اسے اس فوج کا کوئی
سپاہی نظر نہ آئے۔ تم نے اچھا کیا ہے علی! میری توجہ ادھر نہیں گئی تھی''۔
٭ ٭ ٭
وہ پراسرار غیب دان جس کے متعلق سرحد کے دیہاتی عالقوں میں مشہور ہوگیا تھا کہ آسمان سے آیا ہے ،خدا کا دین الیا
ہے اور مرے ہوئوں کو زندہ کرتا ہے ،اپنے مصاحبوں کے قافلے کے ساتھ سفر کرتا تھا۔ جنہوں نے اسے دیکھا تھا وہ کہتے تھے
کہ وہ بوڑھا نہیں ،اس کی داڑھی بھورے رنگ کی اور چہرے کی رنگت گوری بتائی جاتی تھی۔ اس نے سر کے بال بڑھا رکھے
تھے۔ لوگ بتاتے تھے کہ اس کی شربتی آنکھوں میں پورے چاند جیسی چمک ہے اور اس کے دانت ستاروں کی طرح سفید
اور شفاف ہیں۔ اس کا قد اونچا اور جسم گٹھا ہوا بتایا جاتا تھا اور وہ بولتا تھا تو سننے والے مسحور ہوجاتے تھے۔ اس کے
ساتھ بہت سے مصاحب اور بہت سے اونٹ تھے۔ سامان والے اونٹ الگ تھے جن میں سے بعض پر بڑے بڑے مٹکے لدے
ہوتے تھے۔ اس کا قافلہ آبادی سے دور رکتا اور وہ وہیں لوگوں سے ملتا تھا۔ کسی آبادی میں نہیں جاتا تھا۔ وہ ایک جگہ
سے کوچ کرتا تو اس کے آگے آگے کچھ لوگ اونٹ اور گھوڑے بھگا دیتے اور راستے میں آنے والے لوگوں اور بستیوں میں خبر
کردیتے تھے کہ وہ آرہا ہے ،یہ لوگ ہر کسی کو اس کی کرامات اور روحانی قوتوں کے کرشمے سناتے تھے۔ لوگ کئی کئی
دن اس کے راستے میں بیٹھے رہتے تھے۔
جس رات علی بن سفیان صالح الدین ایوبی کو بتا رہا تھا کہ محاذ سے قاہرہ کو جانے والی فوج مصر میں مقیم فوج کے
خالف مشتعل ہوگئی ،اس رات وہ غیب دان قاہرہ سے بہت دور ایک نخلستان میں خیمہ زن ہوا۔ اس کا ایک اصول یہ تھا
کہ چاندنی راتوں میں کسی سے نہیں ملتا تھا۔ دن کے دوران کسی کے ساتھ بات نہیں کرتا تھا۔ اندھیر راتیں اسے پسند تھیں۔
اس کی محفل ایسی قندیلوں سے روشن ہوتی تھی جن میں سے ہر ایک کا رنگ دوسری سے مختلف تھا۔ ان روشنیوں کا
بھی ایک تاثر تھا جو حاضرین محفل کے لیے طلسماتی تھا۔ وہ جہاں خیمہ زن ہوا تھا اس کے کچھ دور ایک بستی تھی جس
میں زیادہ تر مسلمان اور کچھ سوڈانی حبشی رہتے تھے۔ اس بستی میں ایک مسجد بھی تھی جہاں کا امام ایک خاموش
طبیعت انسان تھا۔ ایک جواں سال آدمی کوئی ڈیڑھ دو مہینوں سے اس کے پاس دینی تعلیم حاصل کرنے آیا کرتا تھا۔ یہ
آدمی جو اپنا نام محمود بن احمد بتاتا تھا کسی دوسری بستی سے مسجد میں جایا کرتاتھا۔ اس کی دلچسپی امام مسجد اور
اس کے علم کے ساتھ تھی مگر اس کی ایک دلچسپی اور بھی تھی۔ یہ ایک جوان لڑکی تھی جس نے اسے اپنا نام سعدیہ
بتایا تھا۔ سعدیہ کو محمود اتنا اچھا لگا کہ وہ اسے کئی بار اپنی بکریوں کا دودھ پال چکی تھی۔
ان کی پہلی مالقات بستی سے دور ایک ایسی جگہ ہوئی تھی جہاں سعدیہ اپنی چار بکریاں اور دو اونٹ چرانے اور انہیں
پانی پالنے کے لیے لے گئی تھی۔ محمود وہاں پانی پینے کے لیے رکا تھا۔ سعدیہ نے اس سے پوچھا تھا کہ کہاں سے آیا
ہے اور کہاں جارہا ہے؟ محمود نے کہا تھا کہ نہ کہیں سے آرہا ہوں ،نہ کہیں جارہا ہوں۔ سعدیہ سادگی سے ہنس پڑی تھی۔
جواب ہی کچھ ایسا تھا۔ سعدیہ نے محمود سے قدرتی سا سوال پوچھا… ''مسلم یا سوڈانی؟''… محمود نے جواب دیا کہ وہ
مسلمان ہے تو سعدیہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی تھی۔ محمود نے اسے اپنا صحیح ٹھکانہ نہیں بتایا تھا۔ اس کے ساتھ کچھ
ایسی باتیں کیں جو سعدیہ کو اچھی لگی تھیں۔ سعدیہ اس سے سوڈان کی جنگ کے متعلق پوچھنے لگی۔ اس کے انداز سے
پتا چلتا تھا کہ اسے اسالمی فوج کے ساتھ دلچسپی ہے۔ اس نے جب صالح الدین ایوبی کے متعلق پوچھا تو محمود نے اس
کی ایسی تعریفیں کیں جیسے سلطان صالح الدین ایوبی انسان نہیں ،خدا کا اتارا ہوا فرشتہ ہے۔ سعدیہ نے پوچھا… ''کیا
''صالح الدین ایوبی اس سے زیادہ مقدس اور برگزیدہ ہے جو آسمان سے اترا ہے اور مرے ہوئوں کو زندہ کردیتا ہے؟
صالح الدین ایوبی مرے ہوئوں کو زندہ نہیں کرسکتا''۔ محمود نے جواب دیا۔''
ہم نے سنا ہے کہ جو لوگ زندہ ہوتے ہیں ،انہیں صالح الدین ایوبی مار ڈالتا ہے''۔ سعدیہ نے شکی لہجے میں کہا… ''
''لوگ یہ بھی بتاتے ہیں
''کہ وہ مسلمان ہے اور ہماری طرح کلمہ اور نماز پڑھتا ہے؟
''تمہیں کس نے بتایا ہے کہ وہ لوگوں کو مار ڈالتا ہے؟''
ہمارے گائوں میں سے مسافر گزرتے رہتے ہیں اور وہ بتا جاتے ہیں کہ صالح الدین ایو بی بہت برا آدمی ہے''۔ سعدیہ نے''
کہا۔
تمہاری مسجد کا امام کیا بتاتا ہے؟'' محمود نے بتایا۔''
وہ بہت اچھی باتیں بتاتا ہے''۔ سعدیہ نے کہا… ''وہ سب کو کہتا ہے کہ صالح الدین ایوبی اسالم کی روشنی سارے ''
مصر اور سوڈان میں پھیالنے آیا ہے اور اسالم ہی خدا کا سچا دین ہے''۔
محمود اس کے ساتھ اسی موضوع پر باتیں کرتا رہا تھا۔ سعدیہ سے اسے پتا چال کہ اس کے گائوں میں ایسے آدمی آتے رہتے
ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان بتاتے ہیں مگر باتیں ایسی کرتے ہیں کہ کئی لوگوں کے دلوں میں اسالم کے خالف شکوک پیدا
ہوگئے ہیں۔ محمود نے سعدیہ کے شکوک رفع کردیئے اور اپنی ذات ،میٹھی زبان اور شخصیت کا اس پر ایسا اثر پیدا کیا کہ
سعدیہ نے بیتابی سے کہا کہ وہ اکثر یہیں بکریاں چرانے آیا کرتی ہے اور محمود جب کبھی ادھر سے گزرے تو اسے ضرور
ملے۔ محمود اسے جذبات اور حقائق کے درمیان بھٹکتا چھوڑ کر اس کے گائوں کی طرف چال گیا۔ سعدیہ یہ سوچتی رہ گئی
کہ وہ کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ اور کہاں جارہا ہے؟ اس کا لباس اسی عالقے کا تھا مگر اس کی شکل وصورت اور اس
کی باتیں بتاتی تھیں کہ وہ اس عالقے کا رہنے واال نہیں… سعدیہ کے شکوک صحیح تھے۔ محمود بن احمد دیہاتی عالقے کا
رہنے واال نہیں تھا۔ سکندریہ شہر کا باشندہ تھا اور علی بن سفیان کی داخلی جاسوسی (انٹیلی جنس) کا ایک ذہین کارکن
تھا۔ وہ کئی مہینوں سے اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے سرحدی دیہات میں گھوم پھر رہا تھا۔ اس نے کھانے پینے اور رہنے
کا انتظام خفیہ رکھا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ چند اور جاسوس بھی تھے جو اس عالقے میں پھیلے ہوئے تھے۔ وہ کبھی کبھی
اکٹھے ہوتے اور ان کے جو مشاہدات ہوتے تھے ،وہ اپنے کسی ایک ساتھی کے سپرد کرکے اسے قاہرہ بھیج دیتے تھے۔ اس
طرح علی بن سفیان کے شعبے کو پتا چلتا رہتا تھا کہ سرحدی عالقے میں کیا ہورہا ہے۔
محمود بن احمد کو سعدیہ مل گئی تو اس نے اس لڑکی کے ساتھ بھی ایسی باتیں کیں جن سے اسے گائوں اور گردوپیش کے
عالقے کے لوگوں کے خیاالت کا علم ہوسکتا تھا۔ اس نے سعدیہ کے گائوں کی مسجد کے امام کے متعلق خاص طور پر پوچھا
تھا۔ وجہ یہ تھی کہ دو گائوں میں اس نے ایسے امام مسجد دیکھے تھے جو اسے مشکوک سے لگتے تھے۔ وہاں کے لوگوں
سے اسے پتا چال تھا کہ یہ دونوں امام نئے نئے آئے ہیں۔ اس سے پہلے ان مسجدوں میں امام تھے ہی نہیں۔ دونوں جہاد
کے خالف وعظ سناتے اور قرآن کی آیات پڑھ کر غلط تفسیریں بیان کرتے تھے اور یہ دونوں پراسرار غیب دان کو برحق بتاتے
اور لوگوں میں اس کی زیارت کا اشتیاق پیدا کرتے تھے۔ محمود اور اس کے دو ساتھیوں نے ان دونوں اماموں کے متعلق
رپورٹ قاہرہ کو بھیج دی تھی اور اب وہ سعدیہ کے گائوں جارہا تھا۔ اسے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی تھی کہ اس گائوں
کا امام سلطان ایوبی کا مرید اور اسالم کا علمبردار ہے۔ اس نے اسی مسجد کو اپنا ٹھکانہ بنانے کا فیصلہ کرلیا۔
وہ مسجد میں گیا اور امام سے مال۔ اپنا جھوٹا تعارف کراکے اس نے کہا کہ وہ مذہبی علم کی تالش میں مارا مارا پھر رہا
ہے۔ امام نے اسے تعلیم دینے کا وعدہ کیا اور اسے مسجد میں رہنے کی پیشکش کی۔ محمود مسجد میں قید نہیں ہونا چاہتا
تھا۔ اس نے امام سے کہا کہ وہ دوتین روز بعد اپنے گھر جایا کرے گا۔ اس نے امام کو بھی اپنا نام نہیں بتایا تھا۔ امام نے
اس سے نام پوچھا تو اس نے کچھ اور نام بتادیا۔ یہ پوچھا کہ وہ کہاں کا رہنے واال ہے تو اس نے اور کسی سرحدی گائوں
کا نام بتا دیا۔ امام مسکرایا اور آہستہ سے بوال… ''محمود بن احمد! مجھے خوشی ہوئی ہے کہ تم اپنے فرائض سے بے خبر
نہیں۔ سکندریہ کے مسلمان فرض کے پکے ہوتے ہیں''۔
محمود ایسا چونکا جیسے بدک اٹھا ہو۔ وہ سمجھا کہ یہ امام صلیبیوں کا جاسوس ہے لیکن امام نے اسے زیادہ دیر تک شک
میں نہ رہنے دیا اور کہا… ''میں محسوس کرتا ہوں کہ مجھے کم از کم تمہارے سامنے اپنے آپ کو بے نقاب کردینا چاہیے۔
میں تمہارے ہی محکمے کا آدمی ہوں۔ میں تمہارے تمام ساتھیوں کو جو اس عالقے میں ہیں ،جانتا ہوں۔ مجھے تم میں سے
کوئی بھی نہیں جانتا۔ میں محترم علی بن سفیان کے اس عملے کا آدمی ہوں جو دشمن پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے
جاسوسوں پر بھی نظر رکھتا ہے۔ میں امام بن کر جاسوسی کا کام کررہا ہوں''۔
پھر میں آپ کو دانشمند آدمی نہیں کہوں گا؟''۔ محمود بن احمد نے کہا… ''آپ نے جس طرح میرے سامنے اپنے آپ ''
کو بے نقاب کیا ہے ،اس طرح آپ دشمن کے کسی جاسوس کے سامنے بھی بے نقاب ہوسکتے ہیں''۔
مجھے یقین تھا کہ تم میرے آدمی ہو''۔ امام نے کہا… ''ضرورت ایسی آپڑی ہے کہ تمہیں اپنا اصلی روپ بتانا ضروری ''
سمجھا۔ میرے ساتھ دو محافظ ہیں جو یہاں کے باشندوں کے بہروپ میں گائوں میں موجود رہتے ہیں۔ مجھے زیادہ آدمیوں کی
ضرورت ہے۔ اچھا ہوا کہ تم آگئے ہو۔ اس گائوں میں دشمن کے تخریب کار آرہے ہیں۔ تم نے اس آدمی کے متعلق سنا ہوگا
جس کے متعلق مشہور ہوگیا ہے کہ وہ مستقبل کے اندھیرے کی خبر دیتا ہے اور مرے ہوئوں کو زندہ کرتا ہے۔ یہ گائوں بھی
اس کی ان دیکھی کرامات کی زد میں آگیاہے۔ میں نے گائوں والوں کو شروع میں بتایا تھا کہ یہ سب جھوٹ ہے اور الشوں
میں کوئی انسان جان نہیں ڈال سکتا مگر اس کی شہرت کا جادو اتنا سخت ہے کہ لوگ میرے خالف ہونے لگے ہیں۔ میں
سنبھل گیا کیونکہ میں اس مسجد سے نکلنا نہیں چاہتا۔ مجھے ایک اڈے اور ٹھکانے کی ضرورت ہے۔ یہاں کے گمراہ کیے
ہوئے لوگوں کو اسالم کا سیدھا راستہ بھی دکھانا ہے۔ پندرہ بیس روز گزرے ،رات کو دو آدمی میرے پاس آئے۔ میں اکیال تھا۔
ان دونوں کے چہروں پر نقاب تھے۔ انہوں نے مجھے دھمکی دی کہ میں یہاں سے چال جائوں۔ میں نے انہیں کہا کہ میرا اور
کوئی ٹھکانہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہاں رہنا چاہتے ہو تو درس بند کردو اور اس کی باتیں کرو جو آسمان سے آیا ہے اور
خدا کا سچا مذہب الیا ہے۔ میں دونوں کا مقابلہ کرسکتا تھا۔ ہتھیار ہر وقت اپنے پاس رکھتا ہوں لیکن میں لڑ کر قتل کرکے
یا قتل ہوکر اپنا فرض پورا نہیں کرسکتا تھا۔ میں نے عقل سے کام لیا اور انہیں یہ تاثر دیا کہ آج سے وہ مجھے اپنا آدمی
سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ان کی باتوں پر عمل کرے گا تو اسے ایک انعام یہ ملے گا کہ اسے قتل نہیں کیا جائے
گا اور دوسرا یہ کہ اسے اشرفیاں دی جائیں گی''۔
پھر آپ نے اپنے وعظ اور خطے کا رنگ بدل دیا ہے؟'' محمود نے پوچھا۔''
کسی حد تک'' ۔ امام نے جواب دیا… ''میں اب دونوں قسم کی باتیں کرتا ہوں۔ مجھے اشرفیوں کی نہیں۔ اپنی جان کی''
ضرورت ہے۔ میں اپنا فرض ادا کیے بغیر مرنا نہیں چاہتا۔ میں گائوں سے باہر جاکر تمہیں یا تمہارے کسی ساتھی کو ڈھونڈنا
بھی نہیں چاہتا کیونکہ اس کی جان بھی خطرے میں پڑ جاتی۔ خدا نے خود ہی تمہیں میرے پاس بھیج دیا ہے۔ میرے محافظ
اس رات میرے پاس نہیں تھے۔ اب تم ہی میرے ساتھ رہو۔ تم میرے شاگرد کی حیثیت سے میرے ساتھ رہوگے۔ تم سیدھی
سادی گنواروں کی سی باتیں کیا کرنا۔ گائوں میں چار پانچ آدمی ایسے ہیں جو ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں۔ اگر ہمیں قریب
کوئی سرحدی دستہ مل جائے تو ہمارا مقصد پورا ہوسکتا ہے مگر ہمارے سرحدی دستوں کے کسی کمان دار پر بھروسہ کرنا بڑا
خطرناک ہے۔ دشمن نے اشرفیوں اور عورتوں سے انہیں اپنے ساتھ مال لیا ہے۔ وہ تنخواہ ہمارے خزانے سے لیتے اور کام
دشمن کا کرتے ہیں''۔
محمود بن احمد اس کے پاس رک گیا۔ اسی روز امام نے اسے اپنے دونوں محافظوں سے مال دیا۔
شام کو جب سعدیہ مسجد میں امام کے لیے کھانا لے کر آئی تو محمود کو دیکھ کر ٹھٹھک گئی اور مسکرائی۔ محمود نے
پوچھا… ''میرے لیے کھانا نہیں الئو گی؟'' سعدیہ کھانا امام کے حجرے میں رکھ کر دوڑی گئی اور روٹی کے ساتھ ایک
پیالے میں بکریوں کا دودھ بھی لے آئی۔ وہ چلی گئی تو امام نے محمود سے کہا… ''یہ عالقے کی سب سے زیادہ خوبصورت
لڑکی ہے۔ ذہین بھی ہے اور کم عمر بھی۔ اس کا سودا ہورہا ہے''۔
''سودا یا شادی؟''
سودا''… امام نے کہا… '' تم جانتے ہو کہ ان لوگوں کی شادی دراصل سودا ہوتا ہے مگر سعدیہ کا سیدھا سودا ہورہا ہے۔''
ہمیں اس کے متعلق پریشان نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن خریدار مشکوک لوگ ہیں۔ وہ یہاں کے رہنے والے نہیں۔ یہ وہی لوگ
معلوم ہوتے ہیں جو مجھے دھمکی دے گئے ہیں۔ تم اچھی طرح سمجھ سکتے ہو کہ وہ اس لڑکی کو اپنے رنگ میں رنگ کر
ہمارے خالف استعمال کریں گے۔ اس لیے اسے بچانا ضروری ہے اور اس لیے بھی اسے بچانا ضروری ہے کہ یہ لڑکی مسلمان
ہے۔ ہمیں سلطنت کے ساتھ ساتھ سلطنت کی بچیوں کی عصمت کی حفاظت بھی کرنی ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ سودا نہیں
ہوسکے گا۔ سعدیہ کے باپ کو میں نے اپنا مرید بنا رکھا ہے لیکن وہ غریب اور تنہا آدمی ہے اور رسم ورواج سے بھاگ بھی
نہیں سکتا۔ بہرحال سلطنت اور سعدیہ کی عصمت کے محافظ ہمارے سوا اور کوئی نہیں''۔
اس کے بعد محمود امام کا شاگرد بن گیا۔ دن گزرنے لگے اور اس کی مالقاتیں سعدیہ کے ساتھ ہونے لگیں۔ لڑکی چراگاہ میں
چلی جاتی اور محمود وہاں پہنچ جاتا تھا۔ ان کی بے تکلفی بڑھ گئی تو محمود نے سعدیہ سے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں
جو اسے خریدنا چاہتے ہیں۔ سعدیہ انہیں نہیں جانتی تھی۔ اس کے لیے وہ اجنبی تھے۔ انہوں نے اس طرح آکر دیکھا تھا
جس طرح گائے ،بھینس کو خریدنے سے پہلے دیکھا جاتا ہے۔ سعدیہ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ کسی کی بیوی نہیں بنے
گی۔ اسے عرب کا کوئی دولت مند تاجر یا کوئی امیر یا وزیز اپنے حرم میں رکھ کر قید کرلے گا۔ جہاں وہ اپنا گھر بسائے
بغیر بوڑھی ہوکر مر جائے گی یا اسے ناچنا سکھا کر تفریح کی چیز بنا لیا جائے۔ اس نے اپنے گائوں کے فوجیوں سے ایسی
لڑکیوں کے بہت قصے سنے تھے۔ وہ اتنے پسماندہ عالقے میں رہتے ہوئے بھی ذہین تھی اور اپنا برا بھال سوچ سکتی تھی۔
اس نے محمود کو دیکھا تو اسے دل میں بٹھا لیا اور اس نے جب یہ دیکھا کہ محمود اسے چاہنے لگا ہے تو اس نے دل
میں یہ ارادہ پختہ کرلیا کہ وہ فروخت نہیں ہوگی۔ وہ جانتی تھی کہ خریداروں سے بچنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ ایک روز
''اس نے محمود سے پوچھا… ''تم مجھے خرید نہیں سکتے؟
خرید سکتا ہوں''… محمود نے کہا… ''لیکن میں جو قیمت دوں گا وہ تمہارے باپ کو منظور نہیں ہوگی''۔''
''کتنی قیمت دوگے؟''
میرے پاس دینے کے لیے اپنے دل کے سوا کچھ بھی نہیں''… محمود بن احمد نے جواب دیا… ''معلوم نہیں تم دل کی ''
قیمت جانتی ہو یا نہیں''۔
اگر تمہارے دل میں میری محبت ہے تو میرے لیے یہ قیمت بہت زیادہ ہے''… سعدیہ نے کہا… ''تم ٹھیک کہتے ہو کہ ''
میرے باپ کو یہ قیمت منظور نہیں ہوگی لیکن میں تمہیں یہ بتا دوں کہ میرا باپ مجھے بیچنا بھی نہیں چاہتا ،اس کی
مجبوری یہ ہے کہ وہ غریب ہے اور اکیال ہے۔ میراکوئی بھائی نہیں ،میرے خریداروں نے میرے باپ کو دھمکی دی ہے کہ اس
نے ان کی قیمت قبول نہ کی تو وہ مجھے اغوا کرلیں گے''۔
تمہارا باپ اتنی زیادہ قیمت کیوں قبول نہیں کرتا؟''… محمود نے پوچھا… ''لڑکیوں کو بیچنے کا تو یہاں رواج ہے''۔''
باپ کہتا ہے کہ وہ لوگ مسلمان نہیں لگتے''… سعدیہ نے کہا… ''میں نے بھی باپ سے کہہ دیا ہے کہ میں کسی ''
غیرمسلم کے پاس نہیں جائوں گی''… اس نے بیتاب ہوکر کہا… ''تم اگر مجھے اپنے ساتھ لے جانے کے لیے تیار ہوتو میں
ابھی تمہارے ساتھ چل پڑوں گی''۔
میں تیار ہوں''… محمود نے کہا۔''
توچلو''… سعدیہ نے کہا… ''آج ہی رات چلو''۔''
نہیں''… محمود کے منہ سے نکل گیا… ''میں اپنا فرض پورے کیے بغیر کہیں بھی نہیں جاسکتا''۔''
کیسا فرض؟''… سعدیہ نے پوچھا۔''
محمود بن احمد چونکا۔ وہ سعدیہ کو نہیں بتا سکتا تھا کہ اس کا فرض کیا ہے۔ اس نے منہ سے نکلی ہوئی بات پر پردہ
ڈالنے کی کوشش کی مگر سعدیہ اس کے پیچھے پڑ گئی۔ محمود کو اچانک یاد آگیا۔ اس نے کہا … ''میں امام سے مذہبی
''تعلیم لینے آیا ہوں۔ اس کی تکمیل کے بغیر میں کہیں نہیں جائوں گا
اس وقت تک مجھے معلوم نہیں کہاں پہنچا دیا جائے گا''… سعدیہ نے کہا۔''
محمود فرض کو ایک لڑکی پر قربان کرنے پر آمادہ نہ ہوسکا۔ اس کے دل میں یہ شک بھی پیدا ہوا کہ یہ لڑکی دشمن کی
لہذا اس نے سعدیہ کے متعلق چھان بین
جاسوس بھی ہوسکتی ہے جسے اسے بے کار کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ ٰ
کرنا ضروری سمجھا۔
٭ ٭ ٭
صالح الدین ایوبی کی فوج قاہرہ سے آٹھ دس میل دور تھی۔ اسے بتا دیا گیا تھا کہ فوج مشتعل ہے اور مصر کی فوج پر
ٹوٹ پڑے گی۔ سلطان ایوبی نے وہاں پڑائو کا حکم دے دیا اور سپاہیوں میں گھومنے پھرنے لگا۔ وہ خود سپاہیوں کے جذبات کا
جائزہ لینا چاہتا تھا۔ وہ ایک سوار کے پاس رکا تو کئی سوار اور پیادہ اس کے گرد جمع ہوگئے۔ اس نے ان کے ساتھ
غیرضروری سی باتیں کیں تو ایک سوار بول پڑا۔ اس نے پوچھا… ''گستاخی معاف ساالراعظم! یہاں پڑائو کی ضرورت نہیں
تھی۔ ہم شام تک قاہرہ پہنچ سکتے تھے''۔
تم لوگ لڑتے لڑتے آئے ہو''… سلطان ایوبی نے کہا… ''میں تمہیں اس کھلے صحرا میں آرام دینا چاہتا ہوں''۔''
ہم لڑتے آئے ہیں اور لڑنے جارہے ہیں''… سوار نے کہا۔''
لڑنے جارہے ہیں؟''… سلطان ایوبی نے انجان بنتے ہوئے پوچھا… ''میں تو تمہیں قاہرہ لے جارہا ہوں ،جہاں تم اپنے ''
دوستوں سے ملوگے''۔
وہ ہمارے دشمن ہیں''… سوار نے کہا… ''اگر یہ سچ ہے کہ ہمارے دوست بغاوت کرنے پر تلے ہوئے ہیں تو وہ ہمارے ''
دشمن ہیں''۔
صلیبیوں سے بدترین دشمن''… ایک اور سپاہی نے کہا۔''
کیا یہ سچ نہیں ساالراعظم کہ قاہرہ میں غداری اور بغاوت ہورہی ہے؟''… کسی اور نے پوچھا۔''
کچھ گڑبڑ سنی ہے''… سلطان ایوبی نے کہا… ''میں مجرموں کو سزا دوں گا''۔''
آپ پوری فوج کو کیا سزا دیں گے؟''… ایک سوار نے کہا… ''سزا ہم دیں گے ،ہمیں کمان داروں نے قاہرہ کے سارے '' :
حاالت بتا دیئے ہیں۔ ہمارے ساتھی شوبک اور کرک میں شہید ہوئے ہیں۔ دونوں شہروں کے اندر ہماری بیٹیوں اور بہنوں کی
عصمت دری ہوئی ہے اور کرک میں ابھی تک ہورہی ہے۔ ہمارے ساتھی قلعے کی دیواروں سے دشمن کی پھینکی ہوئی آگ
میں زندہ جل گئے ہیں۔ قبلہ اول پر کافروں کا قبضہ ہے اور ہماری فوج قاہرہ میں بیٹھی عیش کررہی ہے۔ آپ کے خالف
بغاوت کی تیاری کررہی ہے ،جنہیں شہیدوں کا پاس نہیں ،اپنی بیٹیوں کی عصمتوں کا خیال نہیں ،انہیں زندہ رہنے کا بھی حق
نہیں۔ ہم جانتے ہیں وہ اسالم کے دشمن کے دوست بن گئے ہیں۔ ہم جب تک غداروں کی گردنیں اپنے ہاتھوں نہیں کاٹیں
گے ہمیں شہیدوں کی روحیں معاف نہیں کریں گے۔ ذرا ان زخمیوں کودیکھئے ،جنہیں ہم اپنے ساتھ الرہے ہیں کسی کی ٹانگ
نہیں ،کسی کا بازو نہیں۔ کیا یہ اس لیے ساری عمر کے لیے اپاہج ہوگئے ہیں کہ ہمارے ساتھی اور ہمارے دوست دشمن کے
ہاتھ میں کھیلیں؟''۔
ہم انہیں اپنے ہاتھوں سزا دیں گے''… اور پھر ایسا شور سپا ہوگیا کہ ساری فوج وہاں جمع ہوگئی۔ صالح الدین ایوبی کے''
لیے اس جوش وخروش پر قابو پانا مشکل ہوگیا۔ وہ سپاہیوں کے جوش اور جذبے کو سرد کرکے ان کا دل بھی نہیں توڑنا چاہتا
تھا۔ اس نے انہیں صبرو تحمل کی تلقین کی۔ کوئی حکم نہ دیا۔ اپنے خیمے میں گیا۔ مشیروں اور نائبین کو بال کر کہا کہ یہ
فوج اگلے حکم تک یہیں پڑائو کرے گی۔ اس نے کہا… ''میں نے دیکھ لیا ہے کہ خانہ جنگی ہوگی ،فوج کا آپس میں ٹکرا
جانا دشمن کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ میں آج رات قاہرہ جارہا ہوں۔ کسی کو معلوم نہ ہوسکے کہ میں یہاں نہیں ہوں۔
سپاہیوں کے جوش کو سرد کرنے کی بھی کوشش نہ کی جائے''۔
اس نے ضروری احکام اور ہدایات دے کر کہا۔ ''ہماری قاہرہ والی فوج جو بغاوت پر آمادہ ہے ،میری نظر میں بے گناہ ہے
اور ہماری قوم کے وہ نوجوان جو جوئے اور ذہنی عیاشی کے عادی ہوتے جارہے ہیں ،وہ بھی بے گناہ ہیں۔ فوج کو ہمارے
اعلی حکام نے غلط باتیں بتا کر بھڑکایا ہے۔ انہی حکام کے ایماء پر دشمن نے ہمارے ملک کے سب سے بڑے شہر میں
ٰ
ذہنی عیاشی کے سامان پھیالئے ہیں۔ اس اخالقی تباہ کاری کو فروغ صرف اس لیے حاصل ہوا ہے کہ ہماری انتظامیہ کے وہ
حکام جنہیں اس تخریب کاری کو روکناتھا ،وہ اسے پھیالنے میں شریک ہیں۔ دشمن انہیں اجرت دے رہا ہے ،جب کسی قوم
کے سربراہ اور امراء دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے لگتے ہیں تو اس قوم کا یہی حشر ہوتا ہے۔ ہماری فوج سوڈان کے ظالم
صحرا میں بکھری ہوئی لڑرہی ہے ،کٹ رہی ہے ،سپاہی بھوکے اور پیاسے مرررہے ہیں اور ہمارے حاکم ان کی کمک ،رسد اور
ہتھیار روکے بیٹھے ہیں۔ کیا یہ دشمن کی سازشیں نہیں جسے ہمارے اپنے بھائی کامیاب کررہے ہیں؟ اس سے دشمن ایک
فائدہ اٹھا رہا ہے کہ تقی الدین اور اس کے وہ عسکری جو جذبہ جہاد سے لڑ رہے ہیں ،وہ مررہے ہیں اور نوبت ہتھیار ڈالنے
تک آگئی ہے اور دوسرا فائدہ یہ کہ ہماری قوم کو بتایا جائے گا کہ یہ دیکھو تمہاری فوج شکست کھا گئی ہے کیونکہ یہ اسی
قابل تھی۔ ہمارے بعض بھائی مصر کی امارت پر قابض ہونے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ وہ سب سے پہلے فوج کو قوم کی
نظروں میں رسوا اور ذلیل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ من مانی کرسکیں۔ مجھے امارت کے ساتھ چپکے رہنے کی کوئی خواہش
نہیں اگر میرے مخالفین میں سے کوئی مجھے یہ یقین دال دے کہ وہ میرے عزم کو پایٔہ تکمیل تک پہنچائے گا تو میں اس
کی فوج میں سپاہی بن کر رہوں گا مگر ایسا کون ہے؟ یہ لوگ اپنی باقی زندگی بادشاہ بن کر گزارناچاہتے ہیں ،خواہ دشمن
کے ساتھ سازباز کرکے بادشاہی ملے اور میں اپنی زندگی میں قوم کو اس مقام پر النا چاہتا ہوں ،جہاں وہ اپنے دین کے
دشمنوں کے سرپر پائوں رکھ کر بادشاہی کرے۔ ہمارے ان اللچی اور غدار حاکموں کی نظر اپنے حال پر اپنے آج پر ہے۔ میری
نظر قوم کے مستقبل پر ہے''۔
اس نے بولتے بولتے توقف کیا اور کہا… ''میرا گھوڑا فورا ً تیار کرو''… اس نے ان افراد کے نام لیے جنہیں اس کے ساتھ
جانا تھا۔ اس نے کہا … ''نہایت خاموشی سے ان سب کو بالئو اور انہیں قاہرہ چلنے کے لیے کہو۔ میرا خیمہ یہیں لگا
رہنے دو تاکہ کسی کو شک نہ ہو کہ میں یہاں نہیں ہوں''… اس نے گہرا سانس لیا اور کہا… ''میں آپ کو سختی سے
ذہن نشین کراتا ہوں کہ جو فوج بغاوت کے لیے تیار ہے ،میں اس کے خالف
کوئی کارروائی نہیں کروں گا۔ تم میں سے کوئی بھی اس فوج کے خالف کدورت نہ رکھے۔ اسی طرح اپنے نوجوانوں کو بھی
قابل نفرت نہ سمجھنا۔ میں ان کے خالف کارروائی کروں گا جو فوج اور قوم کو گمراہ اور ذلیل کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ یہی
فوج جب اپنے دشمن کے سامنے آئے گی اور دشمن اس کا تیروں سے استقبال کرے گا تو فوج کو یاد آئے گا کہ وہ اللہ کی
فوج ہے۔ دماغ سے بغاوت کے کیڑے نکل جائیں گے۔ آپ جب اپنے بچوں کو اپنے دین کا دشمن دکھائیں گے تو ان کا ذہن
ازخود جوئے سے ہٹ کر جہاد کی طرف آجائے گا۔ میں آپ کو صاف الفاظ میں بتا دیتا ہوں کہ اسالم اور سلطنت اسالمیہ کی
بقاء اور وقار فوج کے بغیر ممکن نہیں۔ میں صلیبیوں اور یہودیوں کے عزائم اور ان کے طرز جنگ اور ان کی زمین دوز
کارروائیوں کو دیکھ کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ اسالم کی فوج کو کمزور کرکے اسالم کا خاتمہ کریں گے جس روز اور جس دور
میں کسی بھی مسلمان ملک کی فوج کمزور ہوگئی ،وہ ملک اپنی آزادی اور اپنا وقار کھو بیٹھے گا۔ کسی بھی دور میں کوئی
مسلمان مملکت مضبوط اور باوقار فوج کے بغیر زندہ نہیں رہ سکے گی۔ ہمارا آج کا غلط اقدام اسالم کے مستقبل کو تاریک
کردے گا۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ آنے والی نسلیں ہماری لغزشوں ،ناکامیوں اور کامیابیوں سے فائدہ اٹھائیں گی یا نہیں''۔
امیرمصر!''… ایک مشیر نے کہا… ''اگر ہمارے بھائی غداری کے فن میں ہی مہارت حاصل کرتے رہے تو آنے والی نسلیں''
غالم ہوں گی۔ انہیں معلوم ہی نہیں ہوگا کہ آزادی کسے کہتے ہیں اور قومی وقار کیا ہے۔ کیا ہمارے پاس اس کا کوئی عالج
''ہے؟
قوم کا ذہن بیدار کرو''… سلطان ایوبی نے کہا… ''قوم کو رعایا نہ کہو ،قوم کا ہر فرد اپنی جگہ بادشاہ ہوتا ہے۔ کسی ''
بھی فرد کو قومی وقار سے محروم نہ کرو۔ ہمارے امراء اور حاکموں میں چونکہ بادشاہ اور خلیفہ بننے کا جنون سوار ہے۔ اس
لیے وہ قوم کو رعایا بنا کر اسے اپنے اقتدار کے استحکام کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ یاد رکھو ،قوم جسموں کا
مجموعہ نہیں ،جسے تم مویشیوں کی طرح ہانکتے پھرو۔ قوم میں دماغ بھی ہے ،روح بھی ہے اور قومی وقار بھی ہے۔ قوم کی
ان خوبیوں کو ابھارو تاکہ قوم خود سوچے کہ اچھا کیا اور برا کیا ہے۔ اچھا کون اور برا کون ہے۔ اگر قوم محسوس کرے کہ
صالح الدین ایوبی سے بہتر امیر موجود ہے جو سلطنت اسالمیہ کے تحفظ کے ساتھ اسے سمندروں سے پار بھی وسعت دے
سکتا ہے تو قوم کا کوئی بھی فرد مجھے راستے میں روک لے اور جرٔات سے کہے کہ صالح الدین ایوبی! تم یہ مسند خالی
کردو ،ہم نے تم سے بہتر آدمی ڈھونڈ لیا ہے۔ قوم میں یہ سوچ بھی اور جرٔات بھی اور مجھ میں فرعونیت نہ ہو کہ اپنے
خالف بات کرنے والے کی گردن مار دوں۔ مجھے یہی خطرہ نظر آرہا ہے کہ ملت اسالمیہ ایسے ہی فرعونوں کی نذر ہوجائے
گی۔ قوم کو رعایا اور مویشی بنادیا جائے گا پھر مسلمان مسلمان نہیں رہیں گے یا برائے نام مسلمان ہوں گے۔ مذہب تو شاید
ان کا یہی رہے گا مگر تہذیب وتمدن صلیبیوں کا ہوگا''۔
اتنے میں ایک محافظ نے اندر آکر بتایا کہ گھوڑا تیار ہے اور جن تین چار نائب ساالروں کو بالیا گیا تھا ،وہ بھی آگئے ہیں۔
سلطان ایوبی نے اپنے ساتھ چار محافظ لیے۔ باقی محافظ دستے سے کہا کہ وہ اس کے خالی خیمے پر پہرہ دیتے رہیں اور
کسی کو پتا نہ چلنے دیں کہ وہ یہاں نہیں ہے۔ اس نے اپنے ساتھ جانے والے عملے سے کہا کہ وہ خاموشی سے فالں جگہ
پہنچ جائیں ،وہ ان سے آملے گا۔ اس نے اپنا قائم مقام مقرر کیا اور باہر نکل گیا
٭ ٭ ٭
صحرا تاریک تھا۔ چودہ گھوڑے سرپٹ دوڑے جارہے تھے۔ صالح الدین ایوبی تاریکی چھٹنے سے پہلے قاہرہ پہنچ جانا چاہتا تھا۔
علی بن سفیان کو اس نے اپنے ساتھ رکھا تھا۔ اس کی فوج پڑائو میں گہری نیند سوگئی تھی۔ جاگنے والے سنتریوں کو بھی
اعلی نکل گیا ہے۔ قاہرہ والوں کے تو وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ سلطان
علم نہیں ہوسکتا تھا کہ ان کا ساالر
ٰ
ایوبی مصر میں داخل ہوچکا ہے… رات کا پچھال پہر تھا ،جب سلطان ایوبی کا قافلہ قاہرہ میں داخل ہوا۔ اسے کسی سنتری
نے نہ روکا ،وہاں کوئی سنتری تھا ہی نہیں۔ سلطان ایوبی نے اپنے ساتھیوں سے کہا… ''یہ ہے بغاوت کی ابتدائ۔ شہر میں
کوئی سنتری نہیں۔ فوج سوئی ہوئی ہے ،بے پروا ،بے نیاز ،حاالنکہ ہم دو محاذوں پر لڑ رہے ہیں اور دشمن کے حملے کا
خطرہ ہر لمحہ موجود ہے''۔
اعلی کو بال لیا۔ االدریس کو بھی بال
اپنے ٹھکانے پر پہنچتے ہی ایک لمحہ آرام کیے بغیر اس نے مصر کے قائم مقام ساالر
ٰ
اعلی سلطان
ساالر
مقام
قائم
تھا۔
کرادیا
لیا جس کے دونوں جوان بیٹوں کو غداروں نے دھوکے میں ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل
ٰ
ایوبی کو دیکھ کر گھبرا گیا۔ سلطان ایوبی نے االدریس سے افسوس کا اظہار کیا۔ االدریس نے کہا… ''میرے بیٹے میدان جنگ
میں جانیں دیتے تو مجھے خوشی ہوتی۔ وہ دھوکے میں مارے گئے ہیں''… ''یہ وقت میرے بیٹوں کے ماتم
کرنے کا نہیں ،آپ نے مجھے کسی اور مقصد کے لیے بالیا تھا۔ حکم فرمائیں''۔
اعلی محب اسالم تھا۔ ان دونوں سے سلطان ایوبی نے قاہرہ کے اندرونی حاالت کے متعلق تفصیلی رپورٹ لی
قائم مقام ساالر
ٰ
اور پوچھا کہ ان کی نظر میں کون کون سے حاکم مشتبہ ہیں۔ وہ فوجی حکام کے متعلق خاص طور پر پوچھ رہا تھا۔ اسے
چند ایک نام بتائے گئے۔ اس نے احکام دینے شروع کردیئے جن میں اہم یہ تھے کہ مشتبہ حکام کو قاہرہ میں مرکزی کمان
میں رہنے دیا جائے اور تمام فوج کو سورج نکلنے سے پہلے کوچ کی تیاری میں جمع کرلیا جائے اور بھی بہت سی ہدایات
دے کر سلطان ایوبی نے ایک پالن تیار کرنا شروع کردیا۔ کچھ ہدایات علی بن سفیان کو دے کر اسے فارغ کردیا۔ کچھ دیر
بعد فوج کے کیمپ میں ہڑبونگ مچ گئی۔ فوج کو قبل از وقت جگا لیا گیا تھا۔ فوج اور انتظامیہ کے مشتبہ حکام کو صالح
الدین ایوبی کے ہیڈکوارٹر میں بال لیا گیا تھا۔ وہ حیران تھے کہ یہ کیا ہوگیا ہے۔ انہیں اتنا ہی پتا چال تھا کہ سلطان ایوبی
آگیا ہے۔ انہوں نے اس کا گھوڑا بھی دیکھ لیا تھا لیکن انہیں سلطان ایوبی نظر نہیں آرہا تھا اور سلطان ایوبی انہیں ابھی ملنا
بھی نہیں چاہتا تھا۔ اس نے انہیں کوچ تک فوج سے الگ رکھنے کا بندوبست کردیا تھا۔ یہی اس کا مقصد تھا۔
ابھی صبح کی روشنی صاف نہیں ہوئی تھی۔ فوج ترتیب سے کھڑی کردی گئی۔ پیادوں اور سواروں کی صفوں کے پیچھے رسد
اور دیگر سامان سے لدے ہوئے اونٹ تھے۔ سلطان ایوبی نے فوج کو یہ ٹریننگ خاص طور پر دی تھی کہ جب بھی فوج کوچ
کا حکم ملے تو فوج ایک گھنٹے کے اندر اندر مع رسد اور دیگر سامان کے قافلے کے ساتھ تیار ہوجائے۔ اسی ٹریننگ اور
مشق کا کرشمہ تھا کہ فوج طلوع صبح کے ساتھ ہی کوچ کے لیے تیار ہوگئی تھی۔ سلطان ایوبی اپنے گھوڑے پر سوار ہوگیا۔
اعلی بھی تھا۔ سلطان ایوبی نے فوج کو ایک نظر دیکھا اور ایک صف کے سامنے سے
اس کے ساتھ مصر کا قائم مقام ساالر
ٰ
گزرنے لگا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور اس کے منہ سے باربار یہ الفاظ نکلتے تھے… ''آفرین ،صد آفرین۔ اسالم کے
پاسبانو تم پر اللہ کی رحمت ہو''… صالح الدین ایوبی کی شخصیت کا اپنا ایک اثر تھا جسے ہر ایک سپاہی محسوس کررہا
تھا۔ اس کے ساتھ اس کی مسکراہٹ اور دادو تحسین کے کلمے سپاہیوں پر اس اثر کو اور زیادہ گہرا کررہے تھے۔ امیر اور
اعلی کا سپاہیوں کے اتنا قریب جانا ہی کافی تھا۔
ساالر
ٰ
تمام فوج کا معائنہ کرکے سلطان صالح الدین ایوبی نے مکمل طور پر بلند آواز سے فوج سے خطاب کیا۔ اس وقت کی
تحریروں میں اس کے جو الفاظ محفوظ ملتے ہیں وہ کچھ اس طرح تھے… ''اللہ کے نام پر کٹ مرنے والے مجاہدو! اسالم
کی ناموس تمہاری تلواروں کو پکار رہی ہے۔ تم نے شوبک کا مضبوط قلعہ جو کفر کا سب سے زیادہ مضبوط مورچہ تھا ،ریت
کا ٹیلہ سمجھ کر توڑ ڈاال تھا۔ تم نے صلیبیوں کو صحرائوں میں بکھیر کر مارا اور جنت الفردوس میں جگہ بنا لی ہے۔ تمہارے
ساتھ ،تمہارے عزیز دوست تمہارے سامنے شہید ہوئے۔ تم نے انہیں اپنے ہاتھوں سے دفن کیا۔ ان چھاپہ مار شہیدوں کو یاد کرو
جو دشمن کی صفوں کے پیچھے جاکر شہید ہوئے۔ تم ان کا جنازہ نہ پڑھ سکے۔ ان کی الشیں بھی نہ دیکھ سکے۔ تم تصور
کرسکتے ہو کہ دشمن نے ان کی الشوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہوگا۔ شہیدوں کے یتیم بچوں کو یاد کرو۔ ان کی بیویوں کو
یاد کرو جن کے سہاگ خدا کے نام پر قربان ہوگئے ہیں۔ آج شہیدوں کی روحیں تمہیں للکار رہی ہیں۔ تمہاری غیرت کو اور
تمہاری مردانگی کو پکار رہی ہیں۔ دشمن نے کرک کے قلعے کو اتنا مضبوط کرلیا ہے کہ تمہارے کئی ساتھی دیواروں سے
پھینکی ہوئی آگ میں جل گئے ہیں ،تم اگر وہ منظر دیکھتے تو سر کی ٹکروں سے قلعے کی دیواریں توڑ دیتے۔ وہ آگ میں
''…جلتے رہے اور دیوار میں شگاف ڈالنے کی کوشش کرتے رہے۔ موت نے انہیں مہلت نہ دی
عظمت اسالم کے پاسبانو! کرک کے اندر تمہاری بیٹیوں اور تمہاری بہنوں کی عصمت دری ہورہی ہے۔ بوڑھوں سے مویشیوں''
کی طرح مشقت لی جا رہی ہے۔ جوانوں کو قید میں ڈال دیا گیا ہے۔ مائوں کو بچوں سے الگ کردیا گیا ہے مگر میں جس
نے پتھروں کے قلعے توڑے ہیں ،مٹی کا قلعہ سر نہیں کرسکا۔ میری طاقت تم ہو ،میری ناکامی تمہاری ناکامی ہے''… اس کی
آواز اور زیادہ بلند ہوگئی۔ اس نے بازو اوپر کرکے کہا… ''میرا سینہ تیروں سے چھلنی کردو ،میں ناکام لوٹا ہوں مگر میری
جان لینے سے پہلے میرے کان میں یہ خوشخبری ضرور ڈالنا کہ تم نے کرک لے لیا ہے اور اپنی عصمت بریدہ بیٹیوں کو
سینے سے لگا لیا ہے''۔
اس وقت کا ایک واقعہ نگار االسدی لکھتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے گھوڑے اپنے سواروں کی جذباتی کیفیت کو
سمجھتے تھے۔ سوار خاموش تھے لیکن کئی گھوڑے بڑی زور سے ہنہنائے ،تڑاخ تڑاخ کی آوازیں سنائی دیں۔ سوار باگوں کو زور
زور سے جھٹک کر اپنی بیتابی اورجذبہ انتقام کی شدت کا اظہار کررہے تھے۔ ۔ ان کی زبانیں خاموش تھیں۔ ان کے چہرے
الل سرخ ہوکر ان کے جذبات کی ترجمانی کررہے تھے۔ سلطان ایوبی کے الفاظ تیروں کی طرح ان کے دلوں میں اترتے جارہے
تھے۔ بغاوت کی چنگاریاں بجھ چکی تھیں۔ سلطان ایوبی کامقصد پورا ہورہا تھا۔
سلطنت اسالمیہ کی عصمت کے محافظو! تم کفار کے لیے دہشت بن گئے ہو ،تمہاری تلواروں کو کند کرنے کے لیے آج ''
صلیبی اپنی بیٹیوں کی عصمت اور حشیش استعمال کررہے ہیں۔ تم نہیں سمجھتے کہ صلیبی اپنی ایک بیٹی کی عصمت لٹا
کر ایک ہزار مجاہدین کو بے کار کردیتے ہیں اور اپنے عالقوں میں اپنی ایک بیٹی کے بدلے ہماری ایک ہزار بیٹیوں کو بے
آبرو کرتے ہیں۔ تمہارے درمیان ایک فاحشہ عورت بھیج کر ہماری سینکڑوں بیٹیوں کو فاحشہ بنا لیتے ہیں۔ جائو اور اپنی
بیٹیوں کی عصمتوں کو بچائو۔ تم کرک جارہے ہو جس کی دیواروں کے گھیرے میں قرآن کے ورق بکھرے ہوئے ہیں اور جہاں
کی مسجدیں صلیبیوں کے لیے بیت الخال بن گئی ہیں۔ وہ صلیبی جو تمہارے نام سے ڈرتے ہیں ،آج تم پر قہقہے لگا رہے
ہیں۔ شوبک تم نے لیا تھا اور کرک بھی تم ہی لوگے''۔
سلطان ایوبی نے فوج پر یہ الزام عائد نہیں کیا کہ وہ گمراہ ہوگئی ہے اور بغاوت پر آمادہ ہے۔ اس نے کسی کے خالف شک
وشبے کا اشارہ بھی نہیں کیا۔
20:00
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔57۔ وہ جو مردوں کو زندہ کرتا تھا
اس نے کسی کے خالف شک وشبے کا اشارہ بھی نہیں کیا۔ اس کے بجائے فوج کے جذبے اور غیرت کو ایسا للکارا کہ فوج
جو حیران تھی کہ اسے اتنی سویرے کیوں جگایا گیا ہے۔ اب اس پر حیران تھی کہ اسے کرک کی طرف کوچ کا حکم کیوں
ادنی کمانڈروں کو بالیا اور انہیں کوچ کے متعلق
اعلی اور
نہیں دیا جاتا۔ تمام تر فوج مشتعل ہوگئی تھی۔ سلطان ایوبی نے
ٰ
ٰ
ہدایات دیں۔ کوچ کے لیے کوئی اور راستہ بتایا۔ راستہ اس راستے سے بہت دور تھا جس پر محاذ کی فوج آرہی تھی۔ کوچ
کرنے والی فوج کے ساتھ سلطان ایوبی نے اپنے وہ کمانڈر بھیج دیئے جنہیں وہ اپنے ساتھ الیا تھا۔ انہیں نے خفیہ طور پر
ہدایات دے دی تھیں۔ فوج کو جب کوچ کا حکم مال تو سپاہیوں کے نعرے قاہرہ کے درودیوار کو ہالنے لگے۔ سلطان ایوبی کا
چہرہ جذبات کی شدت سے دمک رہا تھا۔
جب فوج اس کی نظروں سے اوجھل ہوگئی تو اس نے ایک قاصد کو پیغام دے کر اس پڑائو کی طرف روانہ کردیا جہاں محاذ
سے آنے والی فوج رکی ہوئی تھی۔ قاصد کو بہت تیز جانے کو کہا گیا۔ پیغام یہ تھا کہ پیغام ملتے ہی فوج کو قاہرہ کے لیے
کوچ کرادیا جائے۔ فاصلہ آٹھ دس میل تھا۔ قاصد جلدی پہنچ گیا۔ اسی وقت کوچ کا حکم مل گیا۔
غروب آفتاب کے بعد فوج کے ہر اول دستے قاہرہ میں داخل ہوگئے۔ ان کے پیچھے باقی فوج بھی آگئی۔ اسے رہائش کے لیے
وہی جگہ دی گئی جہاں گزشتہ رات تک کوچ کرجانے والی فوج قیام پذیر تھی۔ سپاہیوں کو کمانڈروں نے بتانا شروع کردیا کہ
پہلی فوج کو محاذ پر بھیج دیا گیا ہے۔ آنے والی فوج بھڑکی ہوئی تھی۔ علی بن سفیان نے انہیں ٹھنڈا کرنے کا انتظام
کررکھا تھا۔ سلطان ایوبی نے دانشمندی سے فوجی بغاوت کا خطرہ بھی ختم کردیا اور خانہ جنگی کا امکان بھی نہ رہنے دیا۔
اعلی کمانڈروں کو بال لیا اور اس فوجی حاکم کو بھی بالیا جو سرحدی دستوں کا ذمہ دار تھا۔ اس نے یہ معلوم کرکے
اس نے
ٰ
کہ سرحد پر کتنے دستے ہیں اور کہاں کہاں ہیں ،اتنی ہی نفری کے دستے تیار کرکے علی الصبح مطلوبہ جگہوں کو بھیجنے کا
حکم دیا۔ اسے بتایا جا چکا تھا کہ سرحدی دستے ملک سے غلہ اور فوجی ضروریات کا دیگر سامان باہر بھیجنے میں دشمن
کی مدد کررہے ہیں۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے ان دستوں کے کمانڈروں کو خصوصی احکامات دئیے اور سرحد سے واپس آنے
والے پرانے دستوں کے متعلق اس نے حکم دیا کہ انہیں قاہرہ میں النے کے بجائے باہر سے ہی محاذ پر بھیج دیا جائے۔
٭ ٭ ٭
سعدیہ دونوں وقت مسجد میں امام کو کھانا دینے جاتی تھی۔ محمود بن احمد شاگرد کی حیثیت سے مذہب کی تعلیم حاصل
کررہاتھا۔ وہ اس چراگاہ میں بھی چالجایا کرتا تھا جہاں سعدیہ بکریاں چرایا کرتی تھی۔ وہاں ٹیلے بھی تھے۔ جگہ سرسبز
تھی ،کیونکہ وہاں پانی تھا۔ جگہ گائوں سے ذرا دور تھی۔ سعدیہ اب محمود کو اپنا محافظ سمجھنے لگی تھی اور اسے یقین
ہوگیا تھا کہ محمود اسے کافروں کے قبضے میں جانے سے بچا لے گا مگر محمود اس کی یہ بات نہیں مانتا تھا کہ اسے فورا ً
گائوں سے لے جائے۔ سعدیہ نے اسے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اسے اپنے گائوں چھوڑ آئے اور یہاں آکر تعلیم مکمل کرلے۔
محمود اسے بتا نہیں سکتا تھا کہ اس کا گاوں مصر کے دوسرے سرے پر ہے جہاں وہ اتنی جلدی نہیں جاسکتا۔ اس نے اپنے
جاسوسی کے فن کے مطابق یہ یقین کرلیا تھا کہ سعدیہ دشمن کی آلٔہ کار نہیں۔ اگر محمود کے راستے میں فرض حائل نہ
ہوتا تو وہ کبھی کا سعدیہ کو وہاں سے لے جاچکا ہوتا۔ فرض کے عالوہ امام مسجد اس کے محکمے کا افسر تھا جس کی
موجودگی میں وہ اپنے فرض میں کوتاہی نہیں کرسکتا تھا۔ امام نے اسے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس کے ساتھ رہے۔ اس کا
کہنا حکم کی حیثیت رکھتا تھا۔
ایک روز اچانک گاوں میں رونق آگئی۔ کچھ اجنبی صورتیں نظر آنے لگیں۔ ہر کسی کی زبان پر ایک ہی کلمہ تھا… ''وہ آرہا
ہے ،وہ آسمان سے آیا ہے… مرے ہووں کو زندہ کرنے واال آرہا ہے''… گاوں کا ہر فرد بہت ہی خوش تھا۔ وہ کہتے تھے کہ
ان کی مرادیں پوری کرنے واال آرہا ہے۔ سعدیہ دوڑتی آئی اور محمود بن احمد سے کہا… ''تم نے بھی سنا ہے کہ وہ آرہا
ہے؟ تم جانتے ہو میں اس سے کیا مانگوں گی؟ میں اسے کہوں گی کہ محمود مجھے فورا ً یہاں سے لے جائے ،پھر تم مجھے
لے جاو گے''۔
محمود کچھ بھی جواب نہ دے سکا۔ اس نے ابھی تک اس پراسرار آدمی کو نہیں دیکھا تھا جسے لوگ پیغمبر تک کہتے
تھے… محمود کی ڈیوٹی کے عالقے میں وہ پہلی بار آرہا تھا۔ اس کی کرامات اور معجزوں کی کہانیاں اس عالقے میں کب
کی پہنچ رہی تھیں۔ محمود باہر نکل گیا تو اجنبی لوگوں میں اسے اپنے دو ساتھی جاسوس نظر آئے۔ ان کا عالقہ کوئی اور
تھا۔ محمود نے ان سے پوچھا کہ وہ اس کے عالقے میں کیوں آگئے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ وہ اس غیب دان کو دیکھنے
آئے ہیں مگر وہ جاسوسوں کی حیثیت سے نہیں آئے تھے بلکہ اس سے پوری طرح متاثر تھے۔ انہوں نے اس کی کرامات
کسی جگہ دیکھی تھیں جو انہوں نے محمود کو ایسے انداز سے سنائی کہ وہ مرعوب ہوگیا۔ یہ دونوں اس غیب دان کو برحق
سمجھنے لگے تھے۔ محمود نے سوچا کہ علی بن سفیان کی تربیت یافتہ جاسوس جس سے متاثر ہوجائیں وہ برحق ہوسکتا
ہے۔
محمود اس سرسبز جگہ کی طرف چال گیا جہاں سعدیہ بکریاں اور اونٹنی چرانے کے بہانے اسے مال کرتی تھی مگر وہاں کچھ
اور ہی گہما گہمی تھی۔ اسے دور ہی دو آدمیوں نے روک دیا اورکہا کہ خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر آرہا ہے۔ یہ جگہ اس کے
لیے صاف کی جارہی ہے۔ وہ یہیں قیام کرے گا۔ اس نے دور سے دیکھا کہ ایک ٹیلے میں غار سا بنایا جارہا تھا اور جگہ
ہموار کی جارہی تھی۔ اب وہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ گاوں کے لوگ کام دھندا چھوڑ کر وہاں جمع ہورہے
تھے۔ اجنبی آدمی جو اس جگہ صفائی وغیرہ کا کام کرتے تھے ،باری باری آکر لوگوں کو اس کے معجزے سناتے تھے۔ لوگ
مسرور اور مسحور ہوئے جارہے تھے۔ رات کو بھی لوگ وہاں کھڑے رہے۔ ان کی عقیدت مندی کا یہ عالم تھا کہ مسجد میں
کوئی بھی نہ گیا۔ دوسرے دن کی ابھی صبح طلوع ہوئی تھی کہ لوگ پھر وہیں پہنچ گئے۔ انہیں دور ہی روک لیا گیا۔ رات
کے دوران اجنبی چہروں میں اضافہ ہوگیا تھا۔ یہ لوگ وہاں گڑھے بھی کھود رہے تھے۔ ان کے ساتھ چند اونٹ تھے جن پر
بہت سارا سامان لدا ہوا تھا۔ یہ سامان کھوال جانے لگا تو انہیں بہت سے خیمے نظر آئے جو کھول کر نصب کیے جارہے
تھے۔
شام گہری ہونے لگی۔ راتیں تاریک ہوا کرتی تھیں۔ چاند رات کے پچھلے پہر ابھرتا تھا۔ اس غیب دان کے متعلق بتایا جاتا
تھا کہ صرف تاریک راتوں میں لوگوں کو اپنا آپ دکھاتا ہے۔ شام کے بعد بھی گاوں کے لوگ وہاں موجود رہے۔ ایک طرف
گاوں کی عورتیں بھی کھڑی تھیں ،جن میں سعدیہ بھی تھی جو جگہ آنے والے کے لیے صاف کی جارہی تھیں۔ وہاں مشعل
جل رہی تھیں۔ دو آدمی ان چند لڑکیوں کے پیچھے سے آئے ،جن میں سعدیہ تھی۔ لڑکیاں انہیں دیکھ نہ سکیں۔سامنے سے
تین چار آدمی آئے۔ یہ اجنبی لوگوں میں سے تھے۔ لڑکیوں کے قریب آکر انہوں نے لڑکیوں سے کہا… ''تم یہاں سے جاتی
کیوں نہیں؟''… اور وہ لڑکیوں کو ڈرانے کے لیے ان کی طرف دوڑے ،لڑکیاں بھاگ اٹھیں اور بکھر گئیں۔ کسی نے پیچھے سے
سعدیہ کے اوپر کمبل پھینکا۔ دو مضبوط بازوئوں نے اسے کمر سے دبوچ لیا۔ ایک ہاتھ سے کسی نے اس کا منہ بند کردیا۔
اسے کندھے پر اٹھا کر کوئی دوڑ پڑا۔ ایک تو تاریکی تھی اور دوسرے لڑکیاں بھاگ گئی تھیں۔ اس لیے کوئی بھی نہ دیکھ
سکا کہ سعدیہ کو کوئی اٹھا لے گیا ہے۔
دوسری صبح جیسے طوفان آگیا ہو۔ گاوں کے لوگ چراگاہ کی طرف دوڑ پڑے۔ ایک ہجوم چال آرہا تھا۔ اس کے آگے آگے سولہ
سترہ اونٹ تھے۔ ہر اونٹ پر نہایت خوبصورت پالکی تھی۔ ہر پالکی کے پردے گرے ہوئے تھے۔ ''وہ'' ان میں سے کسی
پالکی میں تھا۔ آگے آگے ڈف اور شہنائیاں بج رہی تھیں۔ بعض لوگ وجد آفریں گونج میں کچھ گنگناتے آرہے تھے اونٹوں کی
گردنوں سے لٹکتی ہوئی بڑی بڑی گھنٹیوں کا ترنم اسی موسیقی کا حصہ معلوم ہوتا تھا۔ ہجوم میں کوئی شورشرابہ نہیں تھا۔
ہر کسی پر تقدس کا رعب طاری تھا۔ یہ مریدوں اور عقیدت مندی کا جلوس تھا جو معلوم نہیں کہاں کہاں سے اس کے ساتھ
چلے آرہے تھے۔ ایسی فضا پیدا ہوگئی تھی جیسے پالکیوں والے اونٹ آسمان سے اتر رہے ہوں۔ یہ قافلہ سرسبز جگہ چال گیا۔
وہاں ٹیلے زیادہ تھے۔ ایک جگہ بہت سے خیمے نصب کردئیے گئے تھے۔ ان میں ایک خیمہ خاصا بڑا تھا۔ تمام لوگوں کو دور
ہٹا دیا گیا پھر کوئی نہ دیکھ سکا کہ پالکیوں میں سے کون کون نکال اور کہاں غائب ہوگیا۔ عقیدت مندوں کا ہجوم دور ہٹ
کر بیٹھ گیا۔ سعدیہ کے گائوں کے لوگ ان سے اس مقدس انسان کی باتیں سننے لگے۔ انسانی فطرت کی یہ خاصیت ہے کہ
انسان جس قدر گنوار اور پسماندہ ہوتا ہے وہ اتنا ہی سنسنی پسند ہوتا ہے۔ وہ باتوں میں سنسنی پیدا کرنے کی کوشش کرتا
ہے۔ یہی کیفیت وہاں پیدا ہوگئی تھی۔
امام بھی اس ہجوم کو دیکھ رہا تھا اور محمود بھی۔ وہ ابھی کوئی رائے قائم نہیں کرسکتے تھے۔ انہیں قاہرہ سے یہ ہدایت
ملی تھی کہ سرحدی عالقے میں کوئی نیا عقیدہ پھیالیا جارہا ہے۔ اس کے متعلق تفصیالت معلوم کرکے بتائو کہ یہ کیا ہے
اور اس کی پشت پناہی میں کون لوگ ہیں۔ قاہرہ کو ابھی کوئی تفصیلی اطالع نہیں ملی تھی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ
یہ کہ جن عالقوں میں پراسرار آدمی جاچکا تھا وہاں کے جاسوس بھی اس کے معجزوں سے مرعوب ہوگئے تھے۔ وہ اس کے
خالف کوئی بات منہ سے نکالنے سے ڈرتے تھے۔ سرحدی دستوں نے بھی ایسا ہی اثر قبول کرلیا تھا۔ اب اس امام کی باری
تھی۔ اسے دیکھنا تھا کہ یہ سب کوئی ڈھونگ ہے ،شعبدہ بازی ہے یا کیا ہے۔ اس نے یہ دیکھ لیا تھا کہ لوگ اس کی
صرف باتیں سن سن کر اتنے متاثر اور مرعوب ہوگئے تھے کہ انہوں نے مسجد میں جانا چھوڑ دیا تھا۔ وہ اس کی جھلک
دیکھنے کو اس جگہ کے گرد بیٹھے تھے جہاں وہ اونٹ سے اتر کر کسی خیمے میں غائب ہوگیا تھا۔
امام اور محمود وہاں کھڑے تھے۔ سعدیہ کا باپ ان کے پاس آن رکا۔ اس نے پریشانی کے عالم میں بتایا کہ سعدیہ رات سے
غائب ہے۔ لڑکیوں نے اسے بتایا تھا کہ انہیں چند آدمیوں نے سامنے سے آکر ڈرایا اور وہاں سے بھگا دیا تھا۔ ایک لڑکی نے
بتایا کہ اس نے وہاں سے پیچھے دو آدمی دیکھے تھے۔ اس سے آگے کسی کو کچھ علم نہ تھا۔ باپ سعدیہ کی تالش میں
چل پڑا۔ محمود بھی اس کے ساتھ ہولیا۔ وہاں اسے سعدیہ کہاں مل سکتی تھی مگر وہ باپ تھا۔ بے چینی سے ادھر ادھر
گھومنے پھرنے لگا۔ محمود اس کے ساتھ رہا۔ انہیں ایک اجنبی نے روک لیا اور پوچھا… ''کیا تم لوگ کسی کو ڈھونڈ رہے
ہو؟''… سعدیہ کے باپ نے اسے بتایا کہ گزشتہ رات اس کی لڑکی الپتہ ہوگئی ہے۔
مجھے ابھی ابھی کسی نے بتایا ہے کہ تم اس لڑکی کے باپ ہو''… اجنبی نے سعدیہ کا حلیہ بتا کر کہا… ''اگر تم اس''
لڑکی کو ڈھونڈ رہے ہو تو وہ تمہیں یہاں نہیں ملے گی۔ اب تک وہ مصر کی سرحد سے باہر اور بہت دور جاچکی ہوگی۔
گزشتہ شام میں نے ایک گھوڑا دیکھا تھا۔ ایک نوجوان اور بڑی خوبصورت لڑکی دوسری لڑکیوں سے ہٹ کر گھوڑے کے پاس
گئی۔ سوار گھوڑے کے قریب کھڑا تھا۔ لڑکی نے اس کے ساتھ کچھ باتیں کیں ،سوار گھوڑے پر سوار ہوکر چند قدم پرے چال
گیا۔ لڑکی ادھر ادھر دیکھتی اس کے پیچھے گئی۔ آگے جاکر وہ خود ہی سوار کے آگے گھوڑے پر بیٹھ گئی۔ سوار گھوڑا دوڑا
لے گیا۔ میں دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ یہ لڑکی کون ہوسکتی ہے جو ایک سوار کے ساتھ اپنی مرضی سے چلی گئی
ہے۔ آج کسی نے بتایا کہ وہ تمہاری بیٹی تھی۔ اسے اب ڈھونڈنے کی کوشش نہ کرو''۔
وہ آدمی چال گیا۔ سعدیہ کے باپ کے آنسو نکل آئے۔ محمود کا ردعمل کچھ اور تھا۔ وہ جاسوس تھا۔ اس نے یہ سوچا کہ یہ
آدمی سفید جھوٹ بول گیا ہے۔ اس کی اطالع اور تمام تر بیان جھوٹ تھا۔ کوئی اسے کیسے بتا سکتا تھا کہ اس شخص کی
بیٹی ایک سوار کے ساتھ بھاگ گئی ہے ،جب اسے دیکھنے واال یہ اکیال شخص تھا۔ جاسوس کو یہ ٹریننگ خاص طور پر دی
جاتی تھی کہ کسی کی بات پر فورا ً اعتبار نہ کرو اور ہر کسی کو شک کی نگاہ سے دیکھو۔ محمود نے اس اجنبی کا پیچھا
کیا۔ وہ ہجوم میں سے ہوتا ہوا ٹیلوں کے پیچھے چال گیا اور خیموں میں کہیں غائب ہوگیا۔ محمود کو یقین ہوگیا کہ سعدیہ
انہی خیموں میں ہے اور اس کے اغوا میں اس آدمی کا ہاتھ ہے۔ یہ سعدیہ کے خریداروں میں سے ہوسکتا ہے جنہوں نے
سودا نہ ہونے پرسعدیہ کے باپ کو لڑکی کے اغوا کی دھمکی دی تھی۔ سعدیہ کے باپ نے اسے نہیں پہچانا تھا۔ یہ اجنبی
سعدیہ کے باپ کو یہ جھوٹا بیان دے کر گمراہ کرنے آیا تھا تاکہ باپ اپنی بیٹی کو یہاں تالش نہ کرے۔
محمود بن احمد کے دل میں سعدیہ کی اتنی شدید محبت تھی کہ اس نے سعدیہ کو وہاں سے نکالنے کا تہیہ کرلیا۔ اس نے
امام کو جا کر یہ ساری بات سنائی۔ امام سراغ رسانی کے شعبے کا ذہین حاکم تھا۔ اس نے بھی یہی رائے دی کہ اس
غریب باپ کو دھوکا دیا جارہا ہے کہ اس کی بیٹی کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ محمود نے امام کے ان دونوں جاسوسوں
سے جو گائوں میں موجود رہتے تھے ،ذکر کیا اور کہا کہ وہ سعدیہ کو وہاں سے نکالے گا اور اسے ان کی مدد کی ضرورت
ہے مگر یہ کام آسان نہیں تھا۔ ٹیلوں کے اندر اب کوئی نہیں جا سکتا تھا۔
٭ ٭ ٭
نورالدین زنگی نے کرک کے محاصرے میں اپنی فوج لگا دی تھی اور قلعہ توڑنے کے طریقے سوچ رہا تھا۔ اس نے پہلے روز
ہی اپنے کمانڈروں سے کہہ دیا تھا کہ جو قلعہ صالح الدین ایوبی سر نہیں کرسکا وہ تم بھی آسانی سے سر نہیں کرسکو گے۔
صالح الدین ایوبی تو ناممکن کو ممکن کردکھانے واال آدمی ہے۔ سلطان ایوبی نے اسے تفصیل سے بتا دیا تھا کہ یہاں کون کون
سے طریقے آزما چکا ہے۔ یہ بھی بتایا تھا کہ قلعے کے اندر کیا کیا ہے۔ رسد اور جانور کہاں ہیں اور آبادی کس طرف ہے۔
اسے یہ معلومات جاسوس نے دی تھیں۔ وہ اندر آگ پھینکنا چاہتا تھا مگر اس کی منجنیقیں چھوٹی تھیں۔ اس کے عالوہ
صلیبیوں کے پاس بڑی کمانیں تھیں جن کے تیر بہت دور تک چلے جاتے تھے۔ یہ تیر منجنیقوں کو قریب نہیں آنے دیتے
تھے۔ اسی لیے قلعے کے دروازے پر بھی آگ نہیں پھینکی جاسکتی تھی۔ مجاہدین کہیں سے قلعے کی دیوار تھوڑنے کی
کوشش کرتے تھے تو اوپر سے صلیبی جلتی ہوئی لکڑیوں اور دہکتے کوئلوں کے ڈرم انڈیل دیتے تھے۔
نورالدین زنگی نے اپنے نائبین کا اجالس بال کر انہیں کہا… ''صالح الدین ایوبی نے مجھے کہا تھا کہ وہ بڑی منجیقیں بنوا کر
اندر آگ پھینک سکتا ہے لیکن اندر مسلمانوں کی آبادی بھی ہے اگر ایک بھی مسلمان جل گیا تو یہ ساری عمر کا پچھتاوا
ہوگا۔ میں اب ایوبی کی سوچ کے خالف فیصلہ کررہا ہوں۔ ۔ میں نے اتنی بڑی منجنیقیں بنانے کا انتظام کرلیا ہے جن کی
پھینکی ہوئی آگ اور وزنی پتھر دور تک جاسکیں گے۔ آپ کو یہ حقیقت قبول کرنی پڑے گی کہ آپ کی پھینکی ہوئی آگ
سے اندر چند ایک مسلمانوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔ میرے دوستو! اگر تم اندر کے مسلمانوں کی حالت جانتے ہوتو کہو گے
کہ وہ مر ہی جائیں تو اچھا ہے۔ وہاں کسی مسلمان کی عزت محفوظ نہیں۔ مسلمان بچیاں صلیبیوں کے پاس ہیں اور مرد
کھلے قید خانے میں بڑے بیگار کررہے ہیں۔ وہ تو دعائیں مانگ رہے ہوں گے کہ خدا انہیں موت دے دے۔ آپ کا محاصرہ
جس قدر لمبا ہوتا جائے گا اندر کے مسلمانوں کی اذیت بھی اسی قدر زیادہ اور اذیتوں کی مدت لمبی ہوتی جائے گی اور پھر
یہ ضروری تو نہیں کہ ہر ایک مسلمان جل مرے گا۔ اگر چند ایک مر گئے تو ہمیں یہ قربانی دینی ہی پڑے گی۔ آپ بھی تو
مرنے کے لیے آئے ہیں۔ اسالم کو زندہ رکھنا ہے تو ہم میں سے کئی ایک کو جانیں قربان کرنی ہوں گی۔ میں آپ کو یہ
اطالع اس لیے دے رہا ہوں کہ آپ میں سے مجھ پر کوئی یہ الزام عائد نہ کرے کہ میں نے ایک قلعہ سر کرنے کے لیے بے
گناہ مسلمانوں کو جال دیا ہے''۔
ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں سوچے گا''… ایک ساالر نے کہا… ''ہم یہاں اپنی بادشاہی قائم کرنے نہیں آئے۔ فلسطین''
مسلمانوں کا ہے۔ ہم یہاں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بادشاہی بحال کرنے آئے ہیں۔ قبلہ اول ہمارا ہے ،صلیبیوں
اور یہودیوں کا نہیں''۔
ہم یہودیوں کے اس دعوے کو کبھی تسلیم نہیں کرسکتے کہ فلسطین یہودیوں کا وطن ہے''۔ ایک اور نے کہا… ''ہم سب ''
جل مرنے کے لیے تیار ہیں ،ہم اپنے بچوں کو بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہیں''۔
نورالدین زنگی کے ہونٹوں پر ایسی مسکراہٹ آگئی جس میں مسرت نہیں تھی اس نے کہا… ''تم جانتے ہی ہوگے کہ فلسطین
کو اپنا وطن بنانے کے لیے یہودی کس میدان میں لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی دولت اور اپنی بیٹیوں کی عصمت صلیبیو ں کے
حوالے کردی ہے اور انہیں ہمارے خالف لڑا رہے ہیں۔ اپنی دولت اور اپنی لڑکیوں کے ہی ذریعے ہماری صفوں میں غدار پیدا
کررہے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا نشانہ صالح الدین ایوبی اور مصر ہے۔ مصر کے بڑے بڑے شہروں میں فاحشہ عورتوں کی تعداد
بڑھتی جارہی ہے۔ یہ سب یہودی عورتیں ہیں ،افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہمارے مسلمان امراء اور دولت مند تاجر یہودیوں
کے جال میں پھنس گئے ہیں۔ ان میں نفاق اور تفرقہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔ اب کفار انہیں آپس میں لڑائیں گے۔ اگر ہم ہوش
میں نہ آئے تو یہودی ایک نہ ایک دن فلسطین کو اپنا وطن بنا کر قبلہ اول کو اپنی عبادت گاہ بنا لیں گے اور مسلمان
مملکتیں آپس میں لڑتی رہیں گی۔ انہیں محسوس تک نہ ہوگا کہ ان کی آپس کی چپقلش کے پیچھے یہودیوں اور صلیبیوں کا
ہاتھ ہے۔ یہ ہوگا دولت ،عورت اور شراب کا کرشمہ جو شروع ہوچکا ہے۔ اگر ہمیں آنے والی نسلوں کو باوقار زندگی دینی ہے
تو ہمیں آج کی نسل کے کچھ بچے قربان کرنے پڑیں گے۔ میں نیا چاند نکلنے تک کرک لے لینا چاہتا ہوں۔ خواہ مجھے اس
کے کھنڈر ملیں اور اندر مسلمانوں کی جلی ہوئی الشیں ملیں۔ ہم انتظار نہیں کرسکتے۔ ہمیں صلیبیوں اور یہودیوں کو بحیرٔہ روم
میں ڈبونا ہے۔ یہ کام ہمیں اپنی زندگی میں کرنا ہے ،مجھے نظر آرہا ہے کہ ہمارے بعد اسالم کا پرچم غداروں اور صلیب
نوازوں کے ہاتھوں میں آجائے گا''۔
نورالدین زنگی نے کاریگروں کی بھی ایک فوج ساتھ رکھی ہوئی تھی۔ اس نے متعلقہ کاریگروں کو بتا دیا تھا کہ کھجوروں کے
بہت لمبے لمبے درخت کاٹ کر منجنیقیں تیار کریں۔ اس نے کاریگروں کے مشوروں سے کچھ اور قسم کے بھی درخت کٹوالیے
تھے اور حکم دیا کہ ان کے تنے اور ٹہنیاں خشک ہونے سے پہلے کام میں الئے جائیں تاکہ ان میں لوہے والی سختی پیدا نہ
ہوجائے۔ کاریگر دن رات مصروف رہتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی زنگی نے وزنی پتھروں کے ڈھیر لگوا دئیے تھے۔ اس کے پاس
صالح الدین ایوبی کا چھوڑا ہوا آتش گیر مادے کا ذخیرہ بھی تھا۔ بہت سا سیال مادہ زنگی اپنے ساتھ لے آیا تھا۔ اس نے
آگ کے گولے تیار کرلیے تھے۔ اسی دوران مصر سے سلطان ایوبی کی بھیجی ہوئی فوج بھی پہنچ گئی۔ نورالدین زنگی کو اس
فوج کے متعلق بتایا گیا تھا کہ بغاوت کے لیے تیار رہے لیکن زنگی نے جب اس کا معائنہ کیا تو اسے بغاوت کا شائبہ تک
نظر نہ آیا۔ زنگی سلطان ایوبی کی طرح دانشمند اور دوراندیش انسان تھا۔ اس نے اس فوج کو چند ایک پرجوش الفاظ سے اس
سے زیادہ بھڑکا دیا جتنا سلطان ایوبی نے بھڑکا کر بھیجا تھا۔
اعلی فوجی کمانڈر قلعے کے اندر ایک کانفرنس بیٹھے تھے۔ ان کی باتوں
ایک روز سورج غروب ہوچکا تھا۔ صلبی حکمران اور
ٰ
سے معلوم ہوتا تھا کہ انہیں محاصرے کے متعلق کوئی پریشانی نہیں۔ انہیں یہ بھی پتا چل چکا تھا کہ سلطان ایوبی مصر جا
چکا ہے اور نورالدین زنگی آگیا ہے۔ کانفرنس والے دن کی صبح انہیں یہ اطالع ملی کہ مصر سے تازہ دم فوج آگئی ہے۔ اس
صورتحال پر غور کرنے کے لیے یہ سب اکٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے ابھی بات شروع کی ہی تھی کہ دھماکے کی طرح آواز
سنائی دی اور ملبہ گرنے کا شور بھی اٹھا۔ صلیبی کمانڈر اور حکمران دوڑتے باہر نکلے۔ ساتھ والے کمرے کی منڈیر پھٹ گئی
تھی۔ اور وہاں ایک وزنی پتھر پڑا تھا۔ دیوار میں شگاف نہیں ہواتھا۔ زناٹہ سا سنائی دیا جو قریب آکر دھماکہ بن کر خاموش
ہوگیا۔ اسی جگہ کے قریب ایک اور پتھر گرا۔ صلیبی وہاں سے بھاگے وہ سمجھ گئے کہ مسلمان منجنیقوں سے پتھر پھینک
رہے ہیں۔ وہ قلعے کی دیوار پر گئے مگر شام اندھیری ہوچکی تھی۔ کچھ نظر نہیں آتا تھا۔
یہ نورالدین زنگی کی تیار کرائی ہوئی ایک منجنیق تھی جسے تجرباتی طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔ یہ ضرورت کے عین
مطابق دور مار تھی مگر اسے چالنا بہت مشکل تھا۔ ایک لمبے ٹہن کے وسط میں مضبوط رسے باندھے گئے تھے جنہیں
گھوڑوں کے زور سے کھینچ کر خم دیا جاتا اور خم کی جگہ پتھر رکھا جاتا تھا۔ انتہائی خم میں لے جا کر رسہ تلواروں سے
کاٹ دیا جاتا تھا۔ اس طریقے سے نقصان یہ ہوتا تھا کہ رسہ کٹ جاتا اور اسے گانٹھ دے کر دوبارہ استعمال کے لیے تیار کیا
جاتا تھا۔ دوسری تکلیف یہ ہوتی تھی کہ جب آٹھ گھوڑوں کو کھچا تنا ہوا رسہ کٹتا تو گھوڑے دور آگے کو اس طرح چلے
جاتے تھے جیسے کسی بے پناہ قوت نے دھکا دیا ہو۔ دو تین بار یوں ہوا کہ دو گھوڑے آگے جاکر گھٹنوں کے بل گر پڑے اور
پچھلے گھوڑے ان کے اوپر گرے۔ دو سوار ایسے زخمی ہوئے کہ محاذ کے قابل نہ رہے۔ زنگی نے پھر بھی آدھی رات کے بعد
تک یہ عمل جاری رکھا جس سے یہ نقصان ہوا کہ صلیبیوں کے ہیڈکوارٹر کی دو چھتیں گر پڑیں اور چند ایک کمروں کی
دیواروں میں لمبے چوڑے شگاف پڑ گئے۔ یہ نقصان کچھ زیادہ تو نہیں تھا لیکن صلیبیوں کی حوصلہ شکنی کی صورت پیدا
ہوگئی تھی۔ چند ایک دیواروں کے شگافوں نے ہیڈکوارٹر کے محافظوں اور دیگر عملے کو وہاں سے بھگا دیا تھا اور صبح تک
اس دور کی پہلی ''بمباری'' کی دہشت ناک خبر سارے شہر میں پھیل گئی تھی۔
مگر آدھی رات کے بعد نورالدین زنگی کی پہلی دور مار منجنیق بے کار ہوگئی تھی۔ پتھر پھینکنے واال حصہ جسے خم دیا جاتا
تھا زیادہ استعمال سے یا زیادہ زور دینے سے ٹوٹ گیا۔ آخری پتھر قلعے کے اندر جانے کے بجائے دیوار کے باہر لگا۔ زنگی
نے اگال پتھر پھینکنے سے روک دیا۔ تاہم یہ تجربہ ناکام نہیں تھا۔ کاریگروں میں دو خاص طور پر دانشمند تھے۔ انہوں نے
بنیادی اصول دیکھ لیا تھا۔ اس اصول پر انہیں کامیاب دور مار منجنیق تیار کرنی تھی۔ انہوں نے اس پر غور کرنا شروع کردیا
کہ رسے کاٹے بغیر پتھر نکلے اور اگر رسے کاٹنے ہی پڑیں تو گھوڑے اس سے پہلے تنے ہوئے رسوں سے آزاد کردئیے جایا
کریں۔ نورالدین زنگی نے انہیں کہا کہ وہ جو کچھ بھی کریں ،وقت ضائع کیے بغیر کریں۔ دن رات سوچیں اور کام کریں۔ انہوں
نے کام شروع کردیا۔ اس کے ساتھ ہی زنگی نے تیروکمان بنانے والے کاریگروں سے کہا کہ وہ دور مار کمانیں تیار کریں۔ اس
نے اپنے کمانڈروں سے کہا کہ اپنے دستوں میں سے غیرمعمولی طور پر طاقتور سپاہی الگ کرلیں جو بڑی کمانوں سے تیر
پھینک سکیں۔
٭ ٭ ٭
سعدیہ کے گائوں کے باہر جہاں وہ بکریاں چراتی اور محمود بن احمد سے مال کرتی تھی ،ایک ایسی دنیا آباد ہوگئی جس کی
رونق وہاں کے لوگوں کے لیے روئے زمین کی نہیں ،آسمان سے اتری ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ بہت دیر گزری سورج غروب
ہوچکا تھا۔ رات تاریک تھی ،لوگوں کو ٹیلوں کے اندر جانے کی اجازت دے دی گئی تھی لیکن ا نہیں ایک طرف بٹھا دیا گیا
تھا۔ کسی کو کسی ٹیلے کے اوپر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ لوگوں کو جہاں بٹھایا گیا وہاں سے کسی کو اٹھنے کی اجازت
نہیں تھی۔ انہیں کوئی حکم نہیں دیا جارہا تھا بلکہ ''اس'' سے ڈرایا جارہا تھا۔ کہتے تھے کہ وہ کسی کی ذرا سی بھی
حرمت سے ناراض ہوگیا تو سب پر مصیبت نازل ہوگی۔ لوگ دم بخود بیٹھے دیکھ رہے تھے۔ ان سے کچھ دور بڑی خوبصورت
دریاں اور ان پر دو قالین بچھے ہوئے تھے۔ پیچھے لمبے لمبے پردے لٹکے ہوئے تھے جن پر ستارے سے چمکتے تھے۔ یہ
چمک ان مشعلوں اور قندیلوں سے پیدا ہوتی تھی جو ایک خاص ترکیب سے رکھی جل رہی تھیں۔ پردوں کے پیچھے عمودی
ٹیال تھا جس کے دامن میں اجنبی لوگ غار کھود رہے تھے۔ اس ٹیلے کے پیچھے کچھ جگہ ہموار تھی ،وہاں رنگارنگ خیمے
نصب تھے۔
تماشائیوں پر ایسا رعب طاری تھا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ سرگوشی میں بھی بات نہیں کرتے تھے۔ یہ رات اس سے
اگلی تھی جس رات سعدیہ اغوا ہوئی تھی۔ سامنے لٹکے ہوئے پردے آہستہ آہستہ ہلنے لگے تھے۔ ستارے آسمان کے ستاروں
کی طرح ٹمٹمانے لگے اور ایسے سازوں کا ترنم سنائی دینے لگا جن کے نام سے بھی کوئی واقف نہیں تھا۔ یہ ایک گونج
سی تھی جس میں طلسماتی سا تاثر تھا۔ صحرا کی خاموش رات میں یہ تاثر روحوں تک اترتا محسوس ہوتا تھا۔ یہ احساس
بھی ہوتا تھا جیسے اس ترنم کی لہریں لوگوں کے اوپر سے گزر رہی ہوں ،جنہیں وہ دیکھ سکیں گے ،چھو بھی سکیں گے،
یہی وجہ تھی کہ لوگ باربار اوپر ادھر ادھر دیکھتے تھے لیکن انہیں نظر کچھ بھی نہیں آتا تھا۔ سازوں کے ترنم میں ایک اور
گونج شامل ہوگئی۔ صاف پتا چلتا تھا کہ بہت سے آدمی مل کر ایک ہی نغمہ گنگنا رہے ہیں۔ اس میں لڑکیوں کی آواز بھی
تھی۔ اس کے ساتھ جب ٹیلے کے سامنے اتنے لمبے لمبے پردے ہلتے تھے تو یہ لگتا تھا جیسے رات فضا اور ماحول پر وجد
طاری ہوگیا ہو۔
لوگ پوری طرح مسحور ہوگئے تو کہیں سے گونج دار آواز اٹھی… ''وہ آگیا ہے ،جسے خدا نے آسمان سے اتارا ہے۔ اپنے دل
اور دماغ خیالوں سے خالی کردو۔ وہ تمہارے دلوں اور دماغوں میں خدا کی سچی باتیں اتار دے گا''۔
پردوں میں جنبش ہوئی۔ پردوں میں سے ایک انسان نمودار ہوا۔ وہ تھا تو انسان ہی لیکن اس مترنم اورمرعوب ماحول میں ان
روشنیوں میں وہ کسی بلندوباال جہان کی مخلوق لگتا تھا۔ اس کے سر کے بال بھورے ریشمی اور لمبے تھے جو اس کے شانوں
پر پڑتے تھے۔ بالوں میں چمک تھی۔ چہرہ بھرا بھرا اور سرخ وسپید ،داڑھی سلیقے سے تراشی ہوئی تھی۔ یہ بھی بھورے
رنگ کی تھی۔ جسم گٹھا ہوا اور اس پر سبز چغہ تھا۔ چغے پر پردوں کی طرح ستارے تھے جو روشنیوں میں چمکتے تھے۔
ایسی ہی چمک اس کی آنکھوں میں تھی۔ اس کے سراپا میں ایسا تاثر تھا جس نے لوگوں کو مبہوت کردیا۔ اس کے ساتھ
سازوں کا گونج دار ترنم اور بہت سی آوازوں کے گنگنانے کی گونج جس نے لوگوں کو دم بخود کیا تھا وہ ان کی کہانیوں کا
اثر تھا جو وہ کبھی سے سن رہے تھے۔ ان معجزاتی کہانیوں کی سنسنی خیزی نے ان کی سوچوں پر غلبہ پا رکھا تھا۔ اس
رات اسے اپنے سامنے دیکھ کر انہوں نے پہلے تو سرجھکائے پھر ہاتھ اس طرح پیٹ پر باندھ لیے جس طرح نماز میں باندھے
جاتے ہیں۔
اس نے پردوں کے سامنے کھڑے ہوکر بازو اوپر کو پھیالئے اور کہا… ''تم پر اس خدا کی رحمت نازل ہو جس نے تمہیں دنیا
میں اتارا جس نے تمہیں آنکھیں دیں تاکہ تم دیکھ سکو جس نے تمہیں کان دئیے تاکہ تم سن سکو۔ جس نے تمہیں دماغ دیا
کہ تم سوچ سکو جس نے تمہیں زبان دی تاکہ تم بول سکو ،تم ہی جیسے انسانوں نے جن کی آنکھیں تمہاری طرح ہیں،
زبانیں تمہاری طرح ہیں ،تمہیں غالم بنا کر خدا کی نعمتوں سے اور دنیا کی آسائشوں سے محروم کردیا ہے۔ اس لیے تمہارا
یہ حال ہے کہ تمہاری آنکھیں دیکھ سکتی ہیں مگر تمہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ تمہارے کان سن سکتے ہیں مگر یہ سچ بات
نہیں سنتے۔ تمہارا دماغ سوچ سکتا ہے مگر اس میں وہم اور جھوٹے قصے بھرے ہوئے ہیں۔ تمہاری زبانیں بول سکتی ہیں مگر
ان کے خالف ایک کلمہ نہیں کہہ سکتیں جنہوں نے تمہیں غالم بنا لیا ہے۔ انہوں نے تمہیں تمہارے گھوڑے اور اونٹوں کو اور
تمہارے جوان بیٹوں کو خرید لیا ہے۔ وہ تمہارے بیٹوں کو اس طرح لڑاتے ہیں جس طرح کتوں کو لڑایا جاتا ہے۔ وہ تمہارے
گھوڑوں اور اونٹوں کو تیروں اور برچھیوں سے چھلنی کروا کر مرواتے ہیں۔ تمہارے بیٹوں کو مروا کر ریگستانوں میں پھینک دیتے
ہیں جہاں انہیں مردے کھانے والے پرندے اور درندے کھا جاتے ہیں… میں وہ آنکھ ہوں جو آنے والے وقت کو دیکھ سکتی ہے
اور دیکھ سکتی ہے کہ انسانوں کے دلوں میں کیا ہے۔ میں وہ کان ہوں جو خدا کی آواز سن سکتا ہے ،میں وہ دماغ ہوں جو
بنی نوع انسان کی بھالئی کی سوچتا ہے اور میں وہ زبان ہوں جو خدا کا پیغام سناتی ہے۔ میں خدا کی زبان ہوں''۔
''تم آزمالو''… اس نے کہا… ''میرے سینے میں تیر مارو''
اس کی آواز میں اور انداز میں جادو کا اثر تھا۔ اس نے پھر کہا… ''یہاں کوئی تیر انداز ہے تو میرے سینے پر تیر
چالئے''… ہجوم پر سناٹا طاری ہوچکا تھا۔ اس نے غصیلی اور بلند آواز سے کہا… ''میں حکم دیتا ہوں کہ یہاں جس کسی
کے پاس تیروکمان ہے وہ سامنے آجائے''۔
چار تیرانداز جو سعدیہ کے گائوں کے رہنے والے نہیں تھے ،آہستہ آہستہ آگے آئے۔ وہ ڈرے سہمے ہوئے تھے… اس نے کہا…
''تیس قدم گن کر چاروں میرے سامنے کھڑے ہوجاو''… انہوں نے تیس قدم گنے اور اس کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوگئے۔
کمانوں میں تیر ڈالو''۔''
چاروں نے ترکشوں میں سے ایک ایک تیر نکال کر کمانوں میں ڈال لیا۔
میرے دل کا نشانہ لے لو''۔''
انہوں نے کمانیں سیدھی کرکے نشانہ لے لیا۔
یہ سوچے بغیر کہ میں مرجاوں گا ،پوری طاقت سے کمانیں کھینچو اور تیر چال دو''۔''
انہوں نے کمانیں جھکالیں ،انہوں نے یہی سوچا تھا کہ وہ مرجائے گا۔
میرے دل کا نشانہ لے کر تیر چالو''… اس نے گرج کرکہا… ''ورنہ جہاں کھڑے ہو وہیں شعلے بن کر بھسم ہوجاو گے''۔''
تیر اندازوں نے اپنی موت کے ڈر سے فورا ً کمانیں اوپر کرلیں اور اس کے دل کا نشانہ لیا۔ دیکھنے واال ہجوم اس طرح خاموش
تھا جیسے وہاں کوئی بھی زندہ نہیں تھا۔ سازوں کا ترنم اس سکوت پر کچھ زیادہ ہی سحر اور پرسوز ہوگیا تھا۔ اس کے
ساتھ ایسے انسانوں کی مترنم گونج پھر ابھری جو نظر نہیں آتے تھے… اس سحر آور موسیقی میں چار کمانوں کی ''پنگ،
پنگ'' کی آوازیں بڑی صاف سنائی دیں۔ چار تیر اس مقدس انسان کے دل کے مقام میں پیوست ہوگئے۔ وہ کھڑا رہا۔ اس
کے بازو اوپر اور کچھ دائیں بائیں پھیلے ہوئے تھے۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔
''چار خنجروں والے آگے آجائیں''… اس نے کہا… ''تیر انداز چلے جائیں''
تیر انداز حیران وپریشان چلے گئے اور چار آدمی ایک طرف سے سامنے آئے۔ اس حکم پر کہ خنجر ہاتھ میں لے لو اور مجھ
سے پندرہ قدم گن کر میرے سامنے کھڑے ہوجائو۔ وہ اس سے پندرہ قدم دور جاکر کھڑے ہوئے اس نے پوچھا… ''تم نشانے پر
خنجر پھینکنا جانتے ہو؟''… چاروں نے جواب دیا کہ وہ جانتے ہیں۔ اس نے کہا… ''چاروں اکٹھے میرے سینے میں خنجر
مارو''۔
چاروں نے پوری طاقت سے خنجر اس پر پھینکے۔ چاروں خنجر اس کے سینے میں لگے اور وہیں رہے۔ خنجروں کی نوکیں اس
کے سینے میں اتری ہوئی تھیں اور وہ کھڑا مسکرا رہا تھا۔ ہجوم سے آوازیں سنائی دینے لگیں…''آفریں… اس کے قبضے میں
موت کے فرشتے ہیں''۔
کیا اسے جواب مل گیا ہے جس نے پوچھا کہ میں الفانی ہوں؟''… اس نے پوچھا۔''
ایک آدمی جو صحرائی لباس میں تھا ،دوڑتا ہوا گیا اور اس کے قدموں میں سجدہ ریز ہوگیا۔ ''اس'' نے جھک کر اسے
اٹھایا اور کہا… ''جا تجھ پر خدا کی رحمت ہو''۔
تو پھر تو مردے میں بھی جان ڈال سکتا ہے'' … ایک بوڑھے دیہاتی نے آگے آکر کہا… ''خدا نے مجھے ایک ہی بیٹا ''
دیا تھا وہ جوانی میں مر گیا ہے۔ مجھے کسی نے بتایا تھا کہ تو مرے ہوئوں کو زندہ کردیتا ہے۔ میں اپنے بیٹے کی الش
اٹھا کر بہت دور سے آیا ہوں۔ میرے بڑھاپے پر رحم کر اسے زندہ کردے''… بوڑھا دھاڑیں مار کر رونے لگا۔
چار آدمی کفن میں لپٹی ہوئی ایک الش آگے الئے۔ الش درخت کی ٹیڑھی ٹہنیوں کے بنے ہوئے سٹریچر پر پڑی تھی۔ انہوں
نے الش اس کے آگے رکھ دی۔ اس نے کہا… ''ایک مشعل لو ،الش کو اٹھائو اور تمام لوگوں کو دکھائو۔ کوئی یہ نہ کہے کہ
یہ پہلے ہی زندہ تھا''۔
الش سب کے سامنے سے گزاری گئی۔ اس کے منہ سے کفن ہٹا دیا گیا تھا۔ ایک آدمی ہاتھ میں مشعل لیے ساتھ ساتھ تھا۔
سب نے دیکھا کہ اس کا چہرہ الش کی طرح سفید تھا۔ آنکھیں آدھی کھلی ہوئیں اور منہ بھی آدھا کھال ہوا تھا۔ سب نے
الش دیکھ لی تو اسے اس مقدس انسان کے سامنے رکھ دیا گیا۔ موسیقی کی لے بدل گئی اور پہلے سے زیادہ پرسوز ہوگئی۔
''اس''نے بازو آسمان کی طرف کیے اور بلند آواز سے پکارا… ''زندگی اور موت تیرے ہاتھ میں ہے ،میں تیرے بیٹے کا بیٹا
ہوں تو نے اپنے بیٹے کو سولی سے اتارا اور مجھے صلیب کا تقدس عطا کیا تھا اگر تیرا بیٹا اور اس کی صلیب سچی ہے
تو مجھے قوت دے کہ میں اس بدنصیب بوڑھے کے بیٹے کو زندگی دے سکوں''… اس نے جھک کر الش کے کفن پر ہاتھ
پھیرا ،منہ سے کچھ بڑبڑایا ،پھر الش کے اوپر ہوا میں اس طرح دونوں ہاتھ پھیرے کہ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ کفن
پھڑپھڑانے لگا۔ مقدس انسان ہوا میں اس پر ہاتھ پھیرتا رہا۔ کفن اور زور سے پھڑپھڑایا۔ بعض لوگ اس قدر ڈر گئے کہ ایک
دوسرے کے قریب ہوگئے۔ عورتوں میں سے کسی عورت کی چیخ بھی سنائی دی۔ یہ منظر اس لیے بھی بھیانک بن گیا تھا
کہ مردے کو زندہ کرنے والے کے سینے میں چار تیر اور چار خنجر اترے ہوئے تھے۔
کفن میں کچھ اور ہی حرکت ہوئی۔ الش بیٹھ گئی۔ اس نے ہاتھ کفن سے باہر نکالے۔ ہاتھوں سے کفن میں سے چہرہ ننگا
''کیا اور آنکھیں مل کر کہا… ''کیا میں عالم پاک میں پہنچ گیا ہوں؟
نہیں!'' اسے زندہ کرنے والے نے سہارا دے کر اٹھایا اور کہا… ''تم اسی دنیا میں ہو جہاں تم پیدا ہوئے تھے جائو اپنے''
باپ کے سینے سے لگ جائو''۔
باپ نے دوڑ کر اپنے بیٹے کو بازوئوں میں لے لیا۔ بیتابی سے اس کا منہ چوم چوم کر اس نے زندہ کرنے والے کے آگے
سجدہ کیا۔ لوگ جو بیٹھے ہوئے تھے اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ آپس میں کھسر پھسر کررہے تھے۔ ان کے سامنے کفن میں لپٹی
ہوئی الش اپنے پائوں پر چل رہی تھی۔ مردہ زندہ ہوگیا تھا۔ باپ نے اسے سارے ہجوم کے سامنے سے گزارا تاکہ سب دیکھ
لیں کہ وہ زندہ ہوگیا ہے۔
…لیکن میں اور کسی مردہ کو زندہ نہیں کروں گا''۔ اس نے کہا''
زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ،تم لوگوں کو صرف یہ دکھانے کے لیے کہ میں خدا کا ایلچی بن کر آیا ہوں ابھی'' …
ابھی خدا سے اجازت لی ہے کہ تھوڑی سی دیر کے لیے مجھے طاقت دے دے کہ میں مرے ہوئے انسان میں جان ڈال
سکوں۔ خدا نے مجھے طاقت دے دی''۔
کیا تم جنگ میں مرے ہوئے سپاہی کو زندہ کرسکتے ہو؟''… مجمع میں سے کسی نے پوچھا۔''
نہیں'' ۔ اس نے جواب دیا… ''جنگ میں مرنے والوں سے خدا اتنا زیادہ ناراض ہوتا ہے کہ انہیں دوسری زندگی نہیں دیتا۔''
اگلے جہان وہ انہیں دوزخ کی آگ میں پھینک دیتا ہے۔ ہر مرد کسی کو قتل کرنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس لیے
پیدا کیا گیا ہے کہ جس طرح اسے ایک باپ نے پیدا کیا ہے اسی طرح وہ بھی کسی کا باپ بنے۔ اسی لیے تمہیں کہا گیا
ہے کہ چارچار بیویاں رکھو۔ مرد اور عورت کا یہی کام ہے کہ بچے پیدا کریں اور جب بچے بڑے ہوجائیں تو ان سے بچے
پیدا کریں۔ یہی عبادت ہے''۔
،جاری ھے
20:00
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔58۔ وہ جو مردوں کو زندہ کرتا تھا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جس وقت وہ معجزے دکھا رہا تھا اس وقت دو آدمی ٹیلے کے پیچھے اس جگہ چھپے ہوئے تھے جہاں رنگ برنگ خیمے
نصب تھے۔ کسی خیمے میں سے لڑکیوں کی باتیں اور ہنسی سنائی دے رہی تھی۔ یہ دو آدمی امام اور محمود بن احمد تھے۔
محمود کو یقین تھا کہ سعدیہ یہیں کہیں ہے۔ محمود میں اتنی مذہبی سوجھ بوجھ نہیں تھی۔ وہ خدا کے اس ایلچی کے
متعلق کوئی رائے قائم کرنے کے قابل نہیں تھا۔ امام نے کہا تھا کہ کوئی انسان مرے ہوئے کو زندہ نہیں کرسکتا۔ اس نے
توجہ ہی نہیں دی تھی کہ پراسرار آدمی لوگوں کو کیا کچھ کرکے دکھا رہا ہے۔ اس نے اس سے یہ فائدہ اٹھایا تھا کہ لوگ
اس کی کرامات دیکھنے میں مگن ہیں اس لیے پیچھے جا کر یہ دیکھا جائے کہ اس میں راز کیا ہے۔ اس کی توجہ صرف
سعدیہ پر تھی۔ محمود صرف سعدیہ کو ڈھونڈ رہا تھا۔ خیموں کی جگہ اندھیرا تھا۔ صرف تین خیموں میں روشنی تھی۔ تینوں
کے پردے دونوں طرف سے بند تھے۔ وہاں پہرے کا کوئی خاص انتظام نہیں تھا۔ دوتین مرد کہیں باتیں کررہے تھے۔ یہ خطرہ
صاف نظر آرہا تھا کہ وہ دونوں کسی کو نظر آگئے تو وہ زندہ نہیں رہیں گے۔ ٹیلے کی دوسری طرف سے ''اس'' کی آواز
سنائی دے رہی تھی اور سازوں کا ترنم بھی سنائی دے رہا تھا لیکن یہ پتا نہیں چلتا تھا کہ سازندے کہاں ہیں۔
امام اور محمود نے روشنی والے ایک خیمے کے قریب جاکر لڑکیوں کی باتیں سننے کی کوشش کی۔ ان کی باتوں نے ان کا
حوصلہ بڑھا دیا۔ ایک نسوانی آواز کہہ رہی تھی… ''یہاں بھی تماشہ کامیاب رہا ہے''… ایک اور لڑکی نے کہا… ''بڑی ہی
جاہل قوم ہے''۔
مسلمان کو تباہ کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ اسے شعبدے دکھا کر تو ہم پرست بنا دو''… یہ ایک اور عورت کی آواز تھی۔''
''معلوم نہیں وہ کس حال میں ہے؟''
نئی چڑیا!''… ایک لڑکی نے کہا… ''تم سب کو ماننا پڑے گا کہ وہ ہم سب سے زیادہ خوبصورت ہے''۔''
وہ آج دن کو بھی روتی رہی تھی''۔ کسی لڑکی نے کہا۔''
آج رات اس کا رونا بند ہوجائے گا''… ایک لڑکی نے کہا… ''اسے خدا کے بیٹے کے لیے تیار کیا جارہا ہے''۔''
لڑکیوں کا قہقہہ سنائی دیا۔ ایک نے کہا… ''خدا بھی کیا یاد کرے گا کہ ہم نے اسے کیسا بیٹا دیا ہے۔ کمال انسان ہے''۔
اس کے بعد لڑکیوں نے آپس میں فحش باتیں شروع کردیں۔ امام اور محمود سمجھ گئے کہ نئی چڑیا سعدیہ ہی ہوسکتی ہے۔
انہیں بہرحال یقین ہوگیا کہ یہ سب شعبدہ بازی ہے اور یہ ڈھونگ پسماندہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے رچایا جارہا ہے۔
امام نے محمود کے کان میں کہا…''ان لڑکیوں کی عریاں باتیں اور شراب کی بو بتا رہی ہے کہ یہ کون لوگ ہیں اور یہ کیا
ہورہا ہے… ہم ویسے ہی نہیں بھٹک رہے''۔
وہ دونوں بڑے خیمے کے قریب چلے گئے۔ یہ خیمہ ایک ٹیلے کے ساتھ تھا اور یہ ٹیال تقریبا ً عمودی تھا۔ ٹیلے اور خیمے کے
پچھلے دروازے کے درمیان ایک آدھ گز فاصلہ تھا۔ انہوں نے اس جگہ جا کر دیکھا۔ خیمے کے پردے درمیان سے رسیوں سے
بندھے ہوئے تھے۔ ایک آنکھ سے اندر جھانکنے کی جگہ تھی۔ انہوں نے جھانکا تو ان کے شکوک رفع ہوگئے۔ اندر ایک لمبی
مسند تھی جس پر خوش نما مسند پوش بچھا ہوا تھا۔ فرش پر قالین بچھا تھا اور دو قندیلیں جل رہی تھیں۔ ایک طرف
شراب کی صراحی اور پیالے رکھے تھے۔ اندر کی سجاوٹ اور شانوشوکت سے پتا چلتا تھا کہ اس مشتبہ قافلے کے سردار کا
خیمہ ہے۔ سعدیہ کے پاس ایک عورت اور ایک مرد تھا۔ سعدیہ کو دلہن کی طرح سجایا جارہا تھا۔
آج سارا دن تم روتی رہی ہو''… عورت اسے کہہ رہی تھی… ''تھوڑی دیر بعد تم ہنسو گی اور اپنے آپ کو پہچان بھی ''
نہیں سکو گی۔ تم خوش نصیب ہو کہ اس نے جو خدا کی طرف سے زمین پر اترا ہے ،تمہیں پسند کیا ہے۔ وہ صرف تمہارے
لیے یہاں آیا ہے۔ اس نے تمہیں بیس روز کی مسافت جتنی دور سے غیب کی آنکھ سے دیکھا تھا۔ تمہارے گائوں میں اسے
خدا الیا ہے اگر یہ نہ آتا تو تم کسی صحرائی گڈرئیے کے ساتھ بیاہ دی جاتیں یا تمہیں بردہ فروشوں کے ہاتھ بیچ دیا
جاتا''۔
سعدیہ پر ان باتوں کا جادو سوار ہوتا جارہا تھا۔ وہ خاموشی سے سن رہی تھی۔ محمود جوش میں آچال تھا۔ امام نے اسے
روک لیا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ سعدیہ کو کس کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ٹیلے کی دوسری
طرف سے کسی نے اعالن کیا… ''وہ جو خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر ہے اور جس کے ہاتھ میں ہم سب کی زندگی اور موت
ہے اور جس کی آنکھ غیب کے بھید دیکھ سکتی ہے ،تاریک رات میں آسمان پر جارہا ہے جس کے ستارے خدا کی آنکھ کی
طرح روشن ہیں۔ تم میں سے کوئی آدمی اس طرف نہ دیکھے جہاں خیمے لگے ہوئے ہیں۔ ٹیلوں کے اوپر کوئی نہ جائے جس
کسی نے اس طرف جانے یا دیکھنے کی کوشش کی :وہ ہمیشہ کے لیے اندھا ہوجائے گا۔ کل رات وہ تم سب کی مرادیں
سنے گا''۔
امام اور محمود وہیں کھڑے رہے۔ خیمے کے اندر جو مرد عورت تھے ،انہوں نے سعدیہ کو ایک بار پھر نصیحت کی کہ وہ آرہا
ہے اس کے سامنے کوئی بدتمیزی نہ کرنا… وہ آگیا۔ وہ سامنے کی طرف سے خیمے میں داخل ہوا۔ امام اور محمود یہ دیکھ
کر حیران رہ گئے کہ ''اس'' کے سینے میں چارتیر اور چار خنجر اترے ہوئے تھے۔ سعدیہ نے تیر اور خنجر دیکھے تو اس
نے خوف سے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے۔ اس کی ہلکی سی چیخ سنائی دی۔ مقدس انسان مسکرایا اور بوال… ''ڈر مت لڑکی!
یہ معجزہ مجھے خدا نے دیا ہے کہ میں تیروں اور خنجروں سے مر نہیں سکتا''… وہ سعدیہ کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا۔
میں نے یہ شعبدہ ایک بار قاہرہ میں دیکھا تھا''۔ امام نے محمود کے کان میں کہا… ''تم بھی ڈر نہ جانا میں جانتا ''
ہوں تیر اور خنجر کہاں پھنسے ہوئے ہیں''۔
وہ'' اٹھا اور خیمے کا پردہ رسیوں سے باندھ دیا۔ ادھر محمود اور امام نے اپنی طرف سے خیمے کا پردہ کھول دیا۔ انہوں''
نے نتائج کی پروا نہ کی۔ دبے پائوں اندر گئے جونہی وہ شخص مڑا وہ امام اور محمود کے شکنجے میں آچکا تھا۔ محمود نے
دبی آواز میں سعدیہ سے کہا… ''جس پر تم بیٹھی ہو اس کا کپڑا اس کے اوپر ڈال دو''۔ سعدیہ تو جیسے سن ہوگئی
تھی۔ اس نے مسند پوش اتار کر اس آدمی پر ڈال دیا۔ اس کا جسم طاقتور نظر آتا تھا مگر امام اور محمود نے اسے بری
طرح جکڑ لیا تھا پھر اس کے اوپر کپڑا ڈال کر باندھ دیا۔ قندیلیں بجھا دی گئیں۔ امام کے کہنے پر پہلے سعدیہ باہر نکلی۔
اپنے قیدی کو محمود نے اپنے کندھوں پر پھینک لیا۔ امام ہاتھ میں خنجر لیے آگے آگے چال۔ وہ سب جس طرف سے خیمے
میں داخل ہوئے تھے اسی طرف سے باہر نکل گئے۔ پکڑے جانے کا خطرہ ہر قدم پر تھا لیکن انہوں نے ایسا راستہ اختیار کیا
جو انہیں فورا ً خطرے سے باہر لے گیا۔ اندھیرے نے اس کی بہت مدد کی۔
٭ ٭ ٭
انہیں دور کا چکر کاٹ کر گاوں میں داخل ہونا پڑا۔ وہ مسجد میں چلے گئے۔ حجرے میں لے جا کر شعبدہ باز کو کھوال گیا۔
ابھی تک تیر اور خنجر اس کے سینے میں اترے ہوئے تھے۔ اسے اٹھانے کی وجہ سے وہ ٹیڑے ہوگئے تھے۔ سعدیہ کو بھی
انہوں نے حجرے میں ہی رکھا کیونکہ خطرہ تھا کہ لڑکی کی گمشدگی کا پتا چل گیا تو وہ لوگ اس کے باپ پر حملہ کریں
گے۔ دراصل حملہ کرنے والے اب یہ دیکھنے کی حالت میں بھی نہیں تھے کہ ان کے ''خدا'' کا بیٹا کہاں ہے۔ وہ کامیاب
جشن منا کر شراب اور بدکاری میں بدمست ہوگئے تھے۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ان کا آقا مع نئی چڑیا کے اغوا
بھی ہوسکتا ہے۔
امام اور محمود نے اسے چغہ اتارنے کو کہا۔ اس نے پہلے تیر اور خنجر کھینچ کر نکالے۔ چغہ اتارا پھر اس سے اندر والے
کپڑے بھی اتروا لیے گئے۔ ان کپڑوں میں کارک کی طرح نرم لکڑی چھپی ہوئی تھی جس پر چمڑہ لگا ہوا تھا۔ یہ لکڑی کچھ
دوہری ہوجاتی تھی اور اتنی لمبی چوڑی تھی جس سے اس کا سینہ ڈھک جاتا تھا۔ تیر اور خنجر اس میں اترے ہوئے تھے۔
اس نے امام اور محمود سے کہا… ''اپنی قیمت بتائو۔ سونے کی صورت میں گھوڑوں اور اونٹوں کی صورت میں ،ابھی ادا
کروں گا۔ مجھے ابھی آزاد کردو''۔
تم اب آزاد نہیں ہوسکو گے''۔ امام نے کہا… ''ہم بھی لوگوں کی طرح تمہارے انتظار میں بیٹھے تھے''۔ امام نے ''
محمود سے کہا… ''تمہیں معلوم ہوگا کہ قریبی چوکی کہاں ہے ،وہاں کے پورے دستے کو ساتھ لے آئو''… اس نے چوکی کا
فاصلہ اور سمت بتائی اور وہ خفیہ الفاظ بھی بتائے جن سے امام سراغ رساں اور جاسوس کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا۔
اپنے دو جاسوسوں کے نام اور ٹھکانہ بتا کر محمود سے کہا… ''انہیں میرے پاس بھیجتے جانا''۔
محمود نے امام کے گھوڑے پر زین ڈالی اور سوار ہوکر نکل گیا۔ اسے امام کے دونوں جاسوس مل گئے۔ انہیں مسجد میں
جانے کو کہہ کر وہ چوکی کی سمت روانہ ہوگیا۔ گاوں سے کچھ دور جاکر اس نے گھوڑے کو ایڑی لگائی۔ کوئی ڈیڑھ گھنٹے
کی مسافت تھی مگر وہ شش وپنج میں مبتال تھا۔ وہ اس چوکی کے کمانڈر کو جانتا تھا۔ وہ الپروا آدمی تھا۔ صلیبیوں اور
سوڈانیوں نے اسے رشوت دے دے کر اپنے ساتھ مال رکھا تھا۔ محمود نے قاہرہ کو اس کی رپورٹ بھیج دی تھی مگر ابھی
تک اس کے خالف کوئی کارروائی نہیں ہوئی تھی۔ محمود کویہی نظر آرہا تھا کہ وہ اپنے دستے کو اس کے ساتھ نہیں بھیجے
گا یا وقت ضائع کرے گا تا کہ دشمن نکل جائے۔ محمود سوچ رہا تھا کہ اگر چوکی سے اسے دستہ نہ مال تو وہ کیا کرے
گا۔ صبح سے پہلے دستے کو گائوں میں پہنچنا ضروری تھا۔ دستہ نہ ملنے کی صورت میں امام اور ان کے جاسوسوں کی
جانیں خطرے میں آسکتی تھیں کیونکہ اس شعبدہ باز کے ساتھ بہت سارے آدمی تھے۔ اس کے مریدوں کا ہجوم بھی اسی کا
حامی تھا۔
امام کے پاس خنجر تھا۔ اس کے جاسوس بھی اس کے پاس آگئے تھے۔ وہ بھی خنجروں سے مسلح تھے۔ انہوں نے شعبدہ
باز کو گرفتار کیے رکھا۔ وہ رہائی کی اتنی زیادہ قیمت پیش کررہا تھا جو امام اور اس کے جاسوس خواب میں بھی نہیں
دیکھ سکتے تھے۔ امام نے اسے کہا… ''میں مسجد میں بیٹھا ہوں ،یہ اسی خدا کا گھر ہے جس نے تمہیں سچا دین دے کر
زمین پر اتارا ہے۔ کیا یہ ہے تمہارا سچا دین؟… دیکھو دوست! میں قاہرہ کی حکومت کا اہلکار ہوں ،میں تمہیں چھوڑ نہیں
سکتا اور میں ایمان بھی نہیں بیچ سکتا''۔
محمود بن احمد چوکی کے خیموں میں داخل ہوا تو کمانڈر کے خیمے میں اس نے روشنی دیکھی۔ گھوڑے کے قدموں کی آواز
سن کر کمانڈر باہر آگیاہ محمود نے اپنا تعارف کرایا اور کمانڈر کے ساتھ خیمے میں چال گیا۔ محمود کے لیے یہ کمانڈر اجنبی
تھا۔ اسے کمانڈر نے بتایا کہ گزشتہ شام پرانے دستے کو یہاں سے بھیج دیا گیا ہے یہ دستہ نیا آیا ہے۔ یہ تبدیلی صالح
الدین ایوبی کے ساتھ محاذ سے آئی تھی۔ محمود نے کمانڈر کو تفصیل سے بتایا کہ انہوں نے بہت بڑا شکار پکڑا ہے اور اس
کے تمام گروہ کو پکڑنے کے لیے چوکی کے پورے دستے کی فوری طور پر ضرورت ہے ،تاکہ ان لوگوں کو رات ہی رات میں
گھیرے میں لے لیا جائے۔
کمانڈر نے فورا ً پورے دستے کو جس کی تعداد پچاس سے زیادہ تھی ،گھوڑوں پر سوار ہونے کا حکم دیا۔ ان کے پاس برچھیاں
اور تلواریں تھیں اور ان میں تیرانداز بھی تھے۔ آٹھ دس سپاہیوں کو چوکی پر چھوڑ دیا گیا۔ یہ دستہ کرک کے محاصرے سے
آیا تھا۔ جذبہ قائم تھا۔ کمانڈر نے سرپٹ گھوڑے دوڑا دئیے۔ مجرم خبر ہونے کی حالت میں نہیں تھے۔ شراب اور نیند نے
انہیں بے ہوش کررکھا تھا۔ کمانڈر نے محمود کی رہنمائی میں گھیرا مکمل کرلیا اور کارروائی صبح تک ملتوی رہی۔ محمود نے
امام کو اطالع دے دی کہ دستہ آگیا ہے۔ سعدیہ ابھی امام کے حجرے میں ہی تھی۔ امام نے ایک جاسوس بھیج کر سعدیہ
کے باپ کو بھی بال لیا۔
٭ ٭ ٭
جو معتقد ،مرید اور زائرین بڑی دور دور سے ''اس'' کی زیارت کو آئے تھے ،وہ رات کے معجزے دیکھ کر کھلے آسمان تلے
سو گئے تھے۔ ان کے مقدس انسان نے انہیں کہا تھا کہ اگلی رات وہ ان کی مرادیں سنے گا۔ یہ ہجوم صبح اس وقت جاگ
اٹھا جب اجاال ابھی دھندال تھا۔ اس دھندلکے میں انہیں بہت سے گھوڑے نظر آئے۔ ان پر سوار جو تھے وہ فوجی تھے۔ لوگ
کچھ سمجھ نہ سکے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ جو مرے ہوئوں کو زندہ کرتا ہے ،وہ مسجد کے حجرے میں ہاتھ پائوں بندھے
بیٹھا ہے۔ وہ اب مسلمانوں کے سچے خدا کی گرفت میں آچکا تھا۔ دستے کا کمانڈر دمشق کا رہنے واال رشد بن مسلم جس
کا عہدہ معمولی تھا لیکن سرحد پر آکر اس نے اپنے دستے سے کہا تھا… ''ساری سلطنت صرف تمہارے بھروسے پر سوتی
ہے۔ صالح الدین ایوبی ہر وقت تمہارے ساتھ ہے۔ اگر وہ تمہیں نظر نہیں آتا تو اسے میری آنکھوں میں دیکھ لو۔ ہم سب
سلطان صالح الدین ایوبی ہیں مگر کسی نے یہاں پرانے دستے کے آدمیوں کی طرح ایمان فروخت کیا تو میں اس کے پائوں
باندھ کر ریگستان میں زندہ پھینک دوں گا۔ میں اس سزا کا حکم قاہرہ سے نہیں لوں گا۔ میں خدا سے حکم لیا کرتا ہوں''۔
رشد بن مسلم نے صبح کے وقت دیکھا کہ خیموں کے اندر کوئی حرکت نہیں تھی۔ اندر والے اتنی جلدی اٹھنے والے نہیں
تھے۔ رشد نے لوگوں سے کہا کہ وہ دور پیچھے ہٹ جائیں اور وہیں موجود رہیں۔ انہیں مقدس انسان قریب سے دکھایا جائے
گا۔ لوگوں کو دور ہٹا کر رشد نے تین چار سوار مختلف ٹیلوں کے اوپر کھڑے کردیئے تاکہ مجرموں میں سے کوئی بھاگنے کی
کوشش نہ کرے۔ باقی سواروں کو اس نے گھوڑوں سے اتار کر چاروں طرف سے پیدل اندر جانے کو کہا اور حکم دیا کہ کوئی
مزاحمت کرے تو اسے فورا ً ہالک کردو۔ کوئی بھاگے تو اسے تیر مار دو… وہاں بھاگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ رشدنے
ننگی تلوار کی نوک چبھو کر تینوں کو جگایا۔ جاگنے کے بجائے انہوں نے جگانے والے کو گالیاں دیں اور کروٹ بدل کر سوئے
رہے۔ تلوار کی نوک اب کے ان کی کھال میں اتر گئی۔ تینوں ہڑبڑا کر اٹھے۔ انہیں باہر نکال لیا گیا۔ دوسرے خیموں میں
بھی جو لڑکیاں اور مرد ملے وہ اسی حالت میں تھے۔ خیموں میں بے شمار سامان تھا۔ ایک خیمے میں بہت سے ساز پڑے
تھے۔
سب کو باہر لے جا کر ان پر پہرہ کھڑا کردیا گیا۔ ان کے اونٹوں اور تمام تر سامان پر قبضہ کرلیا گیا۔ امام رشد بن مسلم
کے ساتھ تھا۔ وہ اس آدمی کو اپنے حجرے میں سے لے آیا جو اپنے آپ کو خدا کے بیٹے کا بیٹا کہتا تھا۔ اس کے ہاتھ
پیٹھ پیچھے بندھے تھے۔ اسے اسی جگہ کھڑا کیا گیا جہاں رات اس نے معجزے دکھائے تھے۔ پیچھے پردے لگے ہوئے تھے۔
اس کے گروہ کو اس کے سامنے بٹھا دیا گیا۔ ان سب کے ہاتھ پیچھے باندھ دیئے گئے۔ وہ ایک خیمے سے برآمد ہوئے تھے۔
امام نے لوگوں کو آگے آنے کو کہا۔ ہجوم آگے آیا تو امام نے کہا… ''اسے کہو کہ یہ خدا کا ایلچی ہے یا اس کا بیٹا ہے تو
اپنے ہاتھ رسیوں سے آزاد کرلے۔ :ہاتھ رسیوں سے آزاد کرلے۔ یہ مرے ہوئوں کو زندہ کرتا ہے۔ میں اس کے گروہ کے ایک
آدمی کو ہالک کروں گا۔ تم اسے کہو کے اسے میرے ہاتھ سے چھڑالے یا وہ مرجائے تو اسے زندہ کردے''… امام نے اس کے
گروہ کے ایک آدمی کو اٹھایا اور رشد کی تلوار لے کر اس کی طرف بڑھا تو وہ آدمی چال اٹھا… ''مجھے بخش دو ،یہ آدمی
مجھے زندہ نہیں کرسکے گا۔ یہ بہت بڑا پاپی ہے۔ خدا کے لیے مجھے قتل نہ کرنا''۔
لوگوں نے یہ تماشا دیکھا مگر ان کے وہم ابھی دور نہیں ہوئے تھے۔ امام اس آدمی کا چغہ اور کپڑے بھی ساتھ لے آیا تھا۔
نرم لکڑی بھی ساتھ تھی۔ امام نے یہ کپڑے پہن لیے۔ کسی کو دکھائے بغیر لکڑی اندر رکھ لی۔ اوپر چغہ پہن لیا۔ اس نے
رشد سے کہا کہ اپنے چار تیرانداز میرے سامنے الئو۔ تیر انداز آئے تو اس نے انہیں کہا… ''تیس قدم دور کھڑے ہوکر میرے
دل کا نشانہ لو اور تیر چالئو''… تیر اندازوں نے رشد بن مسلم کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔ رات کو محمود نے رشد
کو تیروں اور خنجروں کے سینے میں اترنے کی حقیقت بتا دی تھی۔ رشد نے اپنے تیراندازوں کو حکم دیا کہ وہ تیر چال دیں۔
انہوں نے نشانہ لے کر تیر چال دئیے۔ چاروں تیر امام کے دل کے مقام میں پیوست ہوگئے۔ امام نے کہا… ''اب آگے آکر
میرے سینے پر چار خنجر پوری طاقت سے پھینکو''… خنجر پھینکے گئے جو امام کے سینے میں جاکر اٹک گئے۔
امام نے تیر اندازوں سے کہا۔ ''ایک ایک تیر اور کمانوں میں ڈالو''… اس نے مقدس انسان کو ذرا آگے لیا اور لوگوں سے
مخاطب ہوکر بلند آواز میں کہا… ''یہ شخص اپنے آپ کو الفانی کہتا ہے۔ میں تمہیں دکھاتا ہوں کہ یہ اصل میں کیا ہے''…
اس نے تیر اندازوں سے کہا… ''اس کے دل کا نشانہ لے کر تیر چالئو''۔
جونہی کمانیں اوپر اٹھیں ،وہ آدمی دوڑ کر امام کے پیچھے ہوگیا۔ وہ موت کے ڈر سے تھرتھر کانپ رہا تھا اور بھکاریوں کی
طرح جان کی بخشش مانگ رہا تھا۔ امام نے اسے کہا… ''آگے آو اور لوگوں کو بتاو کہ تم صلیبیوں کے بھیجے ہوئے تخریب
کار ہو اور تم شعبدہ باز ہو''… امام نے تلوار کی نوک اسے کے پہلو سے لگا دی۔
لوگو!''… اس آدمی نے آگے جاکر بلند آواز سے کہا… ''میں الفانی نہیں ہوں ،میں تمہاری طرح انسان ہوں۔ مجھے ''
صلیبیوں نے بھیجا ہے کہ تمہارا ایمان خراب کردوں۔ اس کی مجھے اجرت ملتی ہے''۔
اور شمعون کی بیٹی سعدیہ کو اسی نے اغوا کرایا تھا''۔ امام نے کہا۔ ''ہم نے لڑکی رہا کرالی ہے''۔''
امام نے چغہ اتارا ،اندر کے کپڑے اتارے۔ لکڑی الگ کی اور رشد کے ایک سپاہی کے ہاتھ میں دے کر کہا کہ یہ تمام مجمعے
میں گھما الئو۔ امام نے لوگوں سے کہا کہ تیر اور خنجر اس لکڑی میں لگتے ہیں… تمام لوگوں نے یہ بھید دیکھ لیا تو انہیں
آگے بال کر کہا گیا کہ ہر جگہ گھومو اور ہر ایک چیز دیکھو۔ لوگ ڈرتے ہوئے ہر جگہ پھیل گئے۔ پردوں کے پیچھے ایک غار
بنایا گیا تھا۔ وہاں رات کو سازندے بیٹھ کر ساز بجاتے تھے… لوگ خیموں میں گئے تو وہاں شراب کی بدبو پھیلی ہوئی تھی۔
لوگ ہر جگہ گھوم پھر چکے تھے تو انہیں ایک جگہ بٹھا کر بتایا گیا کہ یہ سب ڈھونگ کیا تھا۔ امام نے معلوم کرلیا تھا
کہ جسے اس نے رات کو زندہ کیا تھا ،وہ کون ہے ،وہ اسی کے گروہ کا ایک آدمی تھا جو رسیوں میں بندھا ہوا قیدیوں میں
بیٹھا تھا۔ اسے لوگوں کے سامنے کھڑا کیا گیا۔ ایک اور آدمی لوگوں کو دکھایا گیا جو رات کو بوڑھے کا بہروپ دھار کر اس
آدمی کا باپ بنا تھا۔ چار تیر انداز بھی سامنے آگئے جنہوں نے رات تیر چالئے تھے۔ و ہ بھی اس گروہ کے آدمی تھے۔
غرض تمام تر ڈھونگ لوگوں کو دکھایا گیا۔
اسالم کے بیٹو! غور سے سنو''۔ امام نے لوگوں سے کہا… ''یہ سب صلیب کے پجاری ہیں اور تمہارا ایمان خراب کرنے''
آئے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ کوئی انسان کسی انسان کو زندہ نہیں کرسکتا۔ خود خدا کسی مرے ہوئے کو زندہ نہیں کرتا کیونکہ
خدائے ذوالجالل اپنے بنائے ہوئے قانون کا پابند ہے۔ اس کی ذات واحدہ الشریک ہے۔ اس کا کوئی بیٹا نہیں۔ یہ صلیبی اسالم
کی آواز کو دبانے کے لیے یہ ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں۔ یہ باطل کے پجاری تمہارے ایمان اور جذبے سے اور تمہاری تلوار
سے ڈرتے ہیں۔ تمہارا مقابلہ میدان میں نہیں کرسکتے اس لیے دلکش طریقے اختیار کرکے تمہارے دلوں میں وہم اور وسوسے
ڈال رہے ہیں تاکہ تم اسالم کے تحفظ کے لیے صلیب کے خالف تلوار نہ اٹھائو۔ اسی مصر میں فرعون نے اپنے آپ کو خدا
موسی علیہ السالم نے اس کی خدائی کو دریائے نیل میں ڈبو دیا تھا۔ اپنی عظمت کو پہچانوں میرے دوستو!
کہا تھا۔ حضرت
ٰ
اپنے دشمن کو بھی اچھی طرح پہچان لو''۔
لوگ جو سب کے سب مسلمان تھے ،مشتعل ہوگئے۔ وہ چونکہ پسماندہ اور علم سے بے بہرہ تھے ،اس لیے انتہا پسند تھے۔
انہوں نے گناہ گار انسان کی شعبدہ بازی دیکھ کر اسے ''خدا کا بیٹا'' تسلیم کرلیا اور جب اس کے خالف باتیں سنیں تو
ایسے مشتعل ہوگئے کہ غیض وغضب سے نعرے لگاتے اس آدمی پر اور اس کے گروہ پر ٹوٹ پڑے۔ امام ان مجرموں کو زندہ
قاہرہ لے جانا چاہتا تھا لیکن اتنے بڑے ہجوم سے انہیں زندہ نکالنا ناممکن ہوگیا۔ رشد نے تشدد سے ہجوم پر قابو پانے کا
مشورہ دیا جو امام نے تسلیم نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ تمہاری تلواروں سے یہ سیدھے سادے مسلمان کٹ جائیں گے۔ انہیں
دعوی کیا ہے ،وہ
اپنے ہاتھوں ان لوگوں کو ہالک کرنے دو تاکہ انہیں یقین ہوجائے کہ جس نے خدا کا ایلچی اور بیٹا ہونے کا
ٰ
ایک گناہ گار انسان ہے جسے کوئی بھی انسان قتل کرسکتا ہے۔
امام ،رشد بن مسلم اور محمود ایک طرف گئے ،رشد نے ایک ٹیلے پر جاکر اپنے سپاہیوں کو للکارا اور کہا…''تم جہاں ہو
وہیں رہو ،ان لوگوں کو مت روکو''۔
تھوڑی ہی دیر بعد امام ،محمود ،رشد بن مسلم اور اس کے دستے کے سپاہی رہ گئے۔ تمام ہجوم غائب ہوچکا تھا۔ رات جہاں
شعبدے دکھائے گئے تھے ،وہاں شعبدہ باز اور اس کے گروہ کی الشیں پڑی تھیں۔ لڑکیوں کو بھی قتل کردیا گیا تھا۔ کوئی الش
پہچانی نہیں جاتی تھی۔ سب قیمہ ہوچکی تھیں۔ لوگ خیمے ،پردے اور تمام تر سامان لوٹ کر لے گئے تھے۔ مجرم گروہ کے
اونٹ بھی کھول کر لے گئے اور رشد کے دستے کے نو گھوڑے بھی الپتہ ہوگئے۔ ان کے سوار پیادہ تھے اور گھوڑوں سے دور
تھے۔ لوگوں کو معلوم نہیں تھا کہ یہ اپنی فوج کے گھوڑے ہیں۔ یوں لگتا تھا جیسے آندھی آئی ہے اور سب کو اپنے ساتھ
اڑا لے گئی ہے۔
ہمیں اب قاہرہ چلنا پڑے گا''۔ امام نے رشد اور محمود سے کہا… ''یہ واقعہ حکومت کے سامنے رکھنا ہوگا''۔''
٭ ٭ ٭
ان چند ہی دنوں میں صالح الدین ایوبی نے جو احکام نافذ کیے اور جو اقدام کیے ،وہ انقالبی تھے۔ اتنے انقالبی کہ اس کے
قریبی دوست اور مرید بھی چونک اٹھے۔ اس نے سب سے پہلے ان افسروں کے گھروں پر چھاپے پڑوائے اور تالشی لی جو
اعلی حاکم تھے۔ ان کے
علی بن سفیان اور غیاث بلبیس کی مشتبہ فہرست میں تھے۔ ان میں دو تین مرکزی کمان کے
ٰ
گھروں پر زروجواہرات ،دولت اور بڑی خوبصورت غیرملکی لڑکیاں برآمد ہوئیں۔ بعض کے گھروں میں ایسے مالزم تھے جو سوڈان
کے تجربہ کار جاسوس تھے اور بھی کئی ایک ثبوت مل گئے۔ ان سب کو سلطان صالح الدین ایوبی نے عہدے اور رتبے کا
لحاظ کیے بغیر غیرمعین مدت کے لیے قید خانے میں ڈال دیا اور حکم دیا کہ ان کے ساتھ اخالقی مجرموں جیسا سلوک کیا
جائے۔ اس اقدام سے اس کی مرکزی کمان اور مجلس مشاورت کی چند ایک اہم آسامیاں خالی ہوگئیں۔ اس نے ذرہ بھر پروا
نہ کی۔
سلطان ایوبی نے دوسرا حملہ اس گروہ پر کیا جو اپنے آپ کو مذہب کا اجارہ دار بنائے ہوئے تھا۔ سلطان ایوبی کو مشیروں
نے خلوص نیت سے مشورہ دیا کہ مذہب ایک نازک معاملہ ہے۔ لوگ مسجدوں کے اماموں کے مرید ہیں ،رائے عامہ خالف
ہوجائے گی۔ سلطان ایوبی نے پوچھا… ''ان میں کتنے ہیں جو مذہب کی روح کو سمجھتے ہیں؟ لوگ ان کے مرید صرف اس
لیے بن گئے ہیں کہ ان کی ساری کوششیں اسی پر مرکوز ہیں کہ لوگ ان کے مرید بن جائیں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ امام
اپنی عظمت قائم کرنے کے لیے لوگوں کو اصل مذہب سے بے بہرہ رکھتے ہیں۔ قوم کی بہترین درس گاہ مسجد ہے۔ مسجد
کی چاردیواری میں بٹھا کر کسی کے کان میں ڈالی ہوئی کوئی بات روح تک اتر جاتی ہے۔ یہ مسجد کے تقدس کا اثر ہے
مگر یہاں مسجد کا استعمال غلط ہورہا ہے۔ مسجدوں میں امام پیر اور مرشد بنتے جارہے ہیں۔ اگر میں نے مسجدوں میں
باعمل عالم نہ رکھے تو کچھ عرصے بعد لوگ اماموں ،پیروں اور مرشدوں کی پرستش کرنے لگیں گے۔ یہ بے علم اور بے
عمل عالم اپنے آپ کو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنا لیں گے اور اسالم کے زوال کا باعث بنیں
گے''۔
سلطان ایوبی نے اپنے ایک مفکر اور باعمل عالم زین الدین علی نجاالواعظ کو مشورے کے لیے بالیا۔ اس عالم نے اپنا
جاسوسی کا ایک ذاتی نظام قائم کررکھا تھا ور ایک بار اس نے صلیبیوں کی ایک بڑی ہی خطرناک سازش بے نقاب کرکے
بہت سے آدمی گرفتار کرائے تھے۔ وہ مذہب کو اور مذہب میں جو تخریب کاری ہورہی ہے ،اسے بہت اچھی طرح سمجھتا
تھا۔ اس نے یہ کہہ کر سلطان ایوبی کا حوصلہ بڑھا دیا کہ اگر آج آپ مذہب کو تخریب کاری سے آزاد نہیں کریں گے تو کل
آپ کو یہ حقیقت قبول کرنی پڑے گی کہ قوم آپ کی رہنمائی اور حکم کو قبول کرنے سے پہلے نام نہاد مذہبی پیشوائوں سے
اجازت لیا کرے گی۔ اس وقت تک صلیبی مسلمانوں کے مذہبی نظریات میں توہم پرستی اور رسم ورواج کی مالوٹ کرچکے
ہیں… سلطان ایوبی نے فوری طور پر تحریری حکم نافذ کردیا کہ زین الدین علی بن نجاالواعظ کی زیرنگرانی ملک کی تمام
مسجدوں کے اماموں کی علمی اور معاشرتی جانچ پڑتال ہوگی اور نئے امام مقرر کیے جائیں گے۔ نئے اماموں کے تقرر کے لیے
سلطان ایوبی نے جو شرائط لکھیں ،ان میں امام کا عالم ہونے کے عالوہ فوجی یا سابق فوجی یا عسکری تربیت یافتہ ہونا
ضروری قرار دے دیا۔
۔ سلطان صالح الدین ایوبی فلسفٔہ جہاد اور عسکری جذبے کو مذہب اور مسجد سے الگ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ :
اس نے ملک میں ایسے تمام کھیل تماشے اور تفریح کے ذرائع اور طریقے جرم قرار دے دئیے جن میں جوئے بازی اور تخریبی
سکون کا پہلو نکلتا تھا۔ اس کے حکم سے علی بن سفیان کے محکمے نے تفریح گاہوں اور ان کے زیرزمین حصوں پر چھاپے
مارے ،جہاں سے اٹلی کے مصوروں کی بنائی ہوئی ننگی تصویریں برآمد ہوئیں۔ بہت سے لوگ گرفتار کیے گئے ،جنہیں ملک
دشمنی اور دشمن کا آلٔہ کار بننے کے الزام میں تمام عمر کے لیے تہہ خانوں میں ڈال دیا گیا۔ اس کے بجائے سلطان ایوبی
نے تیغ زنی ،تیر اندازی ،گھوڑ سواری ،بغیر ہتھیار لڑائی ،کشتی جسے پنجہ آزمائی کہتے تھے اور ایسے ہی چند ایک کھیلوں
اعلی نسل کے گھوڑے تک انعام میں
کے مقابلوں کا سرکاری انتظام کردیا۔ پہلے مقابلے میں خود گیا اور اول آنے والوں کو
ٰ
دئیے۔ اس نے درس گاہوں اور مسجدوں میں تعلیمی مقابلوں کا اہتمام کیا۔
سرحدی دستوں پر اس نے زیادہ توجہ دی تھی۔ اسے معلوم ہوچکا تھا کہ شہروں اور دارالحکومت سے دور رہنے والے لوگ
نظریاتی تخریب کاری کا شکار جلدی ہوتے ہیں اور وہی سب سے پہلے دشمن کے حملے یا سرحدی جھڑپوں کی زد میں آتے
ہیں۔ ان لوگوں کے نظریاتی اور جسمانی تحفظ کے لیے اس نے خصوصی انتظام کیے۔ اس نے سرحدوں پر جو دستے بھیجے
تھے ،ان کے کمانڈروں کو اس نے خود ہدایات دیں اور بڑے ہی سخت احکام دئیے تھے۔ یہ تمام کمانڈر جذبے اور ذہانت کے
لحاظ سے ساری فوج میں منتخب کیے گئے تھے۔ رشد بن مسلم انہی میں سے تھا ،جسے محمود کا اشارہ مال کہ ایک
تخریب کار پکڑا ہے تو وہ پورے کا پورا دستہ لے کر اٹھ دوڑا تھا۔ اگر پرانا کمانڈر ہوتا تو اس وقت صلیبیوں یا سوڈانیوں کی
دی ہوئی شراب میں بدمست ہوتا اور تخریب کار اپنے سرغنہ کی رہائی کے لیے گائوں میں تباہی پھیال کر غائب ہوچکے
ہوتے۔
اب رشد بن مسلم ،محمود بن احمد اور امام جس کا نام یوسف بن آذر تھا۔ اس کے کمرے میں بیٹھے ،اس شعبدہ باز کی
کہانی سنا رہے تھے ،جسے لوگ قتل کرچکے تھے۔ علی بن سفیان بھی موجود تھا۔ اس نے تینوں سے ساری واردات سن لی
تھی اور سلطان ایوبی کے پاس لے گیا تھا۔ سلطان ایوبی خاموش تھا کہ اتنی خطرناک نظریاتی یلغار کو ہمیشہ کے لیے ختم
کردیا گیا ہے مگر علی بن سفیان نے کہا… ''صرف یلغار ختم ہوئی ہے ،اس کے اثرات ختم کرنے کے لیے لمبا عرصہ
درکارہے۔ مجھے جو تفصیل معلوم ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ سرحدی دیہات سے ہمیں فوجی بھرتی نہیں مل رہی۔ سرحد کے
ساتھ ساتھ رہنے والے لوگ سوڈانیوں کے دوست بن گئے ہیں۔ وہ امارت مصر کے خالف ہوگئے ہیں۔ جہاد کا جذبہ ختم ہوچکا
ہے۔ وہ لوگ غلہ اور مویشی ہمیں نہیں دیتے۔ سوڈانیوں کو بخوشی دیتے ہیں۔ مسجدیں ویران ہوگئی ہیں ،لوگ توہم پرست
ہوکر شعبدہ بازوں پیروں وغیرہ کی پرستش کرنے لگے ہیں۔ ہمیں ان لوگوں کے ذہنوں کو اپنے صحیح راستے پر النے کے لیے
باقاعدہ مہم شروع کرنی پڑے گی۔ اگر اس صلیبی شعبدہ باز اور اس کے گروہ کو لوگ قتل نہ کردیتے تو ہم اسے سارے
عالقے میں گھماتے پھراتے ''۔
سلطان ایوبی نے اپنے انقالبی احکامات میں سرحدی عالقوں کو خاص طور پر شامل کررکھا تھا۔ اب اس نے اس طرف اور
زیادہ توجہ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے سب سے زیادہ شدید سردردی یہ تھی کہ تقی الدین اور اس کی فوج کو سوڈان
سے نکالنا تھا۔ قاہرہ پہنچتے ہی وہ منصوبہ بندی میں مصروف ہوگیا تھا۔ راتوں کو سوتا بھی نہیں تھا۔ وہ خود سوڈان کے
محاذ پر نہیں جاسکتا تھا کیونکہ مصر کے اندرونی حاالت اس کی توجہ کے محتاج تھے۔ اس نے قاہرہ میں آکر تقی الدین کو
یہ اطالع دینے کے لیے کہ وہ قاہرہ آگیا ہے ،ایک قاصد بھیج دیا تھا۔ قاصد واپس آچکا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ تقی الدین کا
جانی نقصان خاصا ہوچکا ہے اور کچھ نفری دشمن کے جھانسے میں آکر یا جنگ کی صورتحال سے گھبرا کر ادھر ادھر بھاگ
گئی ہے۔ قاصد نے بتایا کہ تقی الدین اپنی باقی مادہ فوج کو یکجا کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے مگر دشمن اس کے سر پر
موجود رہتا ہے۔ تقی الدین کو جوابی حملہ کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ اسے اتنی سی مدد کی ضرورت ہے کہ دشمن پر حملے
کرنے کے لیے چند دستے مل جائیں تاکہ وہ اپنی فوج کو واپس السکے۔
سلطان ایوبی نے اسی وقت اپنے تین چار چھاپہ مار دستے اور چند ایک وہ دستے جنہیں جوابی حملہ کرنے اور گھوم پھر کر
لڑنے کی خصوصی مشق کرائی گئی تھی ،سوڈان بھیج دیئے تھے۔ وہ ہر حملہ دشمن کے عقب میں جاکر کرتے اور دشمن کا
نقصان کرکے اور اسے بکھیر کر ادھر ادھر ہوجاتے تھے۔ چھاپہ ماروں نے دشمن کو زیادہ پریشان کیا۔ ان کا مقصد یہی تھا کہ
دشمن کو تقی الدین کے تعاقب سے ہٹایا جائے۔ وہ خالف توقع بہت جلدی کامیاب ہوگئے۔ ان کی اہلیت اور شجاعت کے
عالوہ ان کی کامیابی کی وجہ یہ تھی کہ دشمن کی فوج تھکی ہوئی تھی اور صحرا بڑا ہی دشوار اور گرم تھا۔ گھوڑے اور
اونٹ جواب دے رہے تھے۔
سوڈان کا حملہ بری طرح ناکام ہوا۔ کامیابی صرف یہ ہوئی کہ تقی الدین کو ،اس کی مرکزی کمان کے ساالروں وغیرہ اور
دستوں کو اور بچی کھچی فوج کو ایسی تباہی سے بچا لیا گیا جو ان کی قسمت میں لکھ دی گئی تھی۔ تقی الدین جب
مصر کی سرحد میں داخل ہوا تو اسے پتا چال کہ وہ سوڈان میں آدھی فوج ضائع کرآیا ہے۔
٭ ٭ ٭
ادھر کرک جل رہا تھا ،نورالدین زنگی کے کاریگروں نے ضرورت کے مطابق دور مار منجنیقیں بنا لی تھیں ،جن سے قلعے کے
اندر پتھر کم اور آگ زیادہ پھینکی جارہی تھی۔ صالح الدین ایوبی اندر کے چند ایک ہدف بتا آیا تھا۔ ان میں رسد کا ذخیرہ
بھی تھا۔ آگ کے پہلے گولے قلعے کی اس طرف پھینکے گئے جس طرف سے رسد کا ذخیرہ ذرا قریب تھا۔ خوش قسمتی
سے گولے ٹھکانے پر گئے۔ اندر سے شعلے جو اٹھے انہوں نے زنگی کی فوج کا حوصلہ بڑھا دیا۔ مسلمانوں نے دور مار
تیروکمان بھی تیار کرلیے تھے۔ انہیں استعمال کرنے کے لیے غیرمعمولی طور پر طاقتور سپاہی استعمال کیے جارہے تھے لیکن
آٹھ دس تیر پھینک کر سپاہی بے حال ہوجاتا تھا۔ زنگی نے ایک اور دلیرانہ کارروائی کی۔ اس نے نہایت دلیر سپاہی چن لیے
اور انہیں حکم دیا کہ قلعے کے دروازے پر ٹوٹ پڑیں۔ انہیں دروازہ توڑنے کے موزوں اوزار دئیے گئے۔
جانبازوں کا یہ دستہ دروازے کی طرف دوڑا تو اوپر سے صلیبیوں نے تیروں کا مینہ برسا دیا۔ کئی جانباز شہید اور زخمی
ہوگئے۔ زنگی نے دور مار تیر اندازوں کو وہاں اکٹھا کیا اور عام تیر اندازوں کا بھی ایک ہجوم بال لیا۔ ان سب کو مختلف
زاویوں پر مورچہ بند کرکے دروازے کے اوپر والی دیوار کے حصے پر مسلسل تیر پھینکنے کا حکم دیا۔ حکم کی تعمیل شروع
ہوئی تو اتنے تیر برسنے لگے جن کے پیچھے دیوار کا باالئی حصہ نظر نہیں آتا تھا۔ جانبازوں کی ایک اور جماعت دروازے کی
طرف دوڑی۔ زنگی نے تیروں کی بارش اور تیز کرادی۔ ذرا دیر بعد دیوار پر لکڑیوں سے بندھے ہوئے ڈرم نظر آئے۔ یہ جلتی
لکڑیوں اور کوئلوں سے بھرے ہوئے تھے ،جونہی انہیں باہر کو انڈیلنے والوں کے سر نظر آئے وہ سر تیروں کا نشانہ بن گئے۔
ایک دو ڈرم باہر کو گرے باقی دیوار پر ہی الٹے ہوگئے۔ وہاں سے شعلے اٹھے جن سے پتا چلتا تھا کہ آگ پھینکنے والے
اپنی آگ میں جل رہے ہیں۔
زنگی کے کسی کمانڈر نے زنگی کے حملے کا یہ طریقہ دیکھ لیا۔ وہ گھوڑا سرپٹ دوڑا کر قلعے کے پچھلے دروازے کی طرف
چال گیا اور وہاں کے کمانڈر کو بتایا کہ سامنے والے دروازے پر کیا ہورہا ہے۔ ان دونوں کمانڈروں نے وہی طریقہ پچھلے دروازے
پر آزمانا شروع کردیا۔ پہلے ہلے میں مجاہدین کا جانی نقصان زیادہ ہوا لیکن جوں جوں مجاہدین گرتے تھے ،ان کے ساتھی قہر
بن کر دروازے کی طرف دوڑتے تھے۔ تیر اندازوں نے صلیبیوں کو اوپر سے آگ نہ پھینکنے دی۔ زنگی نے حکم دیا کہ منجنیقیں
قلعے کے اندر آگ پھینکیں۔ زنگی کی فوج نے دونوں دروازوں پر دلیرانہ حملے دیکھے تو فوج کسی کے حکم کے بغیر دو
حصوں میں بٹ گئی۔ ایک حصہ قلعے کے سامنے چال گیا اور دوسرا عقبی دروازے کی طرف۔ دونوں طرف دیوار پر تیروں کی
ایسی بارش برسائی گئی کہ اوپر کی مزاحمت ختم ہوگئی۔ دونوں دروازے توڑ لیے گئے۔ زنگی کی فوج اندر چلی گئی۔ شہر میں
خون ریز جنگ ہوئی ،وہاں کے باشندوں میں بھگدڑ مچ گئی۔
اس بھگدڑ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صلیبی حکمران اور کمانڈر قلعے سے نکل گئے۔ شام تک صلیبی فوج نے ہتھیار ڈال دئیے۔
زنگی نے قیدی مسلمانوں کو کھلے اور بند قید خانوں سے نکاال پھر صلیبی حکمرانوں کو سارے شہر میں تالش کیا مگر کوئی
ایک بھی نہ مال۔
یہ ١١٧٣ء کی آخری سہ ماہی تھی ،جب کرک کا مضبوط قلعہ سر کرلیا گیا اور مسلمانوں کو بیت المقدس نظر آنے لگا۔
20:01
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔59۔ جب خزانہ مل گیا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
صلیبیوں کی یہ کانفرنس اپنی نوعیت کی پہلی ہنگامہ خیز کانفرنس تھی۔ وہ ہر شکست کے بعد ہر فتح کے بعد ،ہر پسپائی
اور کامیاب پیش قدمی کے بعد مل بیٹھتے تھے۔ تبادلٔہ خیاالت کرتے اور شراب پیتے تھے۔ عورت اور شراب کے بغیر وہ
سمجھتے تھے کہ جنگ جیتی ہی نہیں جاسکتی۔ اپنی بیٹیوں کو مسلمانوں کے عالقوں میں جاسوسی ،تخریب کاری اور مسلمان
حکام کی کردار کشی کے لیے بھیج دیتے تھے اور خود اپنے قبضے میں لیے ہوئے عالقوں سے مسلمان لڑکیاں اغوا کرکے انہیں
تفریح کا ذریعہ بناتے تھے۔ جاسوسوں نے جب انہیں یہ بتایا تھا کہ صالح الدین ایوبی کہتا ہے کہ صلیبی عصمتوں کے بیوپاری
اور مسلمان عصمتوں کے محافظ ہیں تو صلیبی حکمران اور کمانڈر بہت ہنستے تھے ،ان میں سے کسی نے سلطان ایوبی کا
مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ شخص اتنی سی بات نہیں سمجھ سکتا کہ جس طرح صلیب کے بیٹے سپاہی بن کر جسم
استعمال کرتے ہیں ،اسی طرح صلیب کی بیٹیاں بھی مسلمانوں کو بے کار کرنے کے لیے اپنا جسم استعمال کرتی ہیں۔ کسی
اور نے کہا تھا کہ صالح الدین ایوبی کو ابھی تک احساس نہیں ہوا کہ اس کی قوم کے بے شمار چھوٹے چھوٹے حکمرانوں،
قلعہ داروں اور ساالروں کو ہماری ایک ایک لڑکی اور سونے کے سکوں کی ایک ایک تھیلی ایسی شکست دے چکی ہے جس
پر وہ لوگ فخر کررہے ہیں اور اس شکست سے لطف اٹھا رہے ہیں۔ صالح الدین ایوبی ہم سے اسالم کی عصمت کس طرح
بچائے گا؟
یہ صلیبیوں کی پہلی کانفرنس کی باتیں ہیں مگر ١١٧٣ء کے آخر میں بیت المقدس میں صلیبی سربراہ اکٹھے ہوئے تو ان پر
کچھ اور ہی موڈ طاری تھا۔ انہوں نے سلطان ایوبی کا مذاق نہ اڑایا۔ کسی کے ہونٹوں پر بھولے سے بھی مسکراہٹ نہ آئی اور
کسی کو یہ بھی یاد نہ رہا کہ وہ جب مل بیٹھتے ہیں تو شراب کا دور بھی چال کرتا ہے۔ کرک سے وہ بڑے ہی شرمناک
طریقے سے پسپا ہوئے تھے۔ ان میں ریجنالڈ بھی تھا جو کرک کا قلعہ دار بلکہ مالک تھا۔ وہ جنگجو تھا ،فن حرب وضرب کا
ماہر تھا۔ سلطان ایوبی کی فوج کے ساتھ اس نے اپنے زرہ پوش لشکر سے متعدد بار لڑائیاں لڑی تھیں۔ اس محفل میں ریمانڈ
بھی تھا جس نے کرک کے محاصرے کے دوران صالح الدین ایوبی کی فوج کو محاصرے میں لے لیا تھا۔ ان دونوں نے ایسا
پالن بنایا تھا جس کے متعلق وہ بجا طور پر خوش فہمیوں میں مبتال تھے مگر سلطان ایوبی نے کرک کا محاصرہ قائم رکھا،
ریمانڈ کا محاصرہ ایسے انداز میں توڑا کہ ریمانڈ کا لشکر محاصرے میں آگیا۔ اس کی رسد تباہ ہوگئی اور اس کی فوج اپنے
زخمی گھوڑوں اور اونٹوں کو مار مار کر کھاتی رہی۔ آخر اس کی آدھی سے زیادہ فوج کٹ گئی ،کچھ گرفتار ہوئی اور باقی
پسپا ہوگئی۔
ریجنالڈ خوش نصیب تھا کہ نورالدین زنگی کے سرفروشوں نے قلعہ سرکرلیا تو اندر کی بھگدڑ میں ریجنالڈ بچ کر نکل گیا ،ورنہ
وہ اس کانفرنس میں شمولیت کے لیے زندہ نہ ہوتا۔ اس محفل میں صلیبیوں کے ان جنگجو سرداروں کی تعداد بھی خاصی
تھی۔ جنہیں ''نائٹ'' کہا جاتا تھا۔ یہ ایک خطاب تھا جو بادشاہ کی طرف سے عطا کیا جاتا اور اس کے ساتھ سر سے
پائوں تک زرہ بکتری دی جاتی تھی۔ اس کانفرنس میں عکرہ کا پادری بھی تھا اور ان میں مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن
فلپ آگسٹس بھی تھا۔ نائٹوں اور دیگر کمانڈروں کے ساتھ ساتھ اس کانفرنس میں صلیبیوں کی متحدہ انٹیلی جنس کا سربراہ
ہرمن اور اس کے دو تین معاون بھی تھے۔ ابتداء میں اس ہجوم پر خاموشی چھائی رہی جیسے وہ ایک دوسرے کے سامنے
بات کرتے گھبراتے ہوں۔ آخر فلپ آگسٹس نے زبان کھولی جس سے محفل میں زندگی کے آثار نظر آنے لگے۔ اس نے
''محافظ صلیب اعظم'' کو کانفرنس کی صدارت پیش کرکے اسی سے درخواست کی کہ وہ خطاب کرے۔
ان لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے مجھے شرم محسوس ہورہی ہے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں ،عہد توڑے اور بیت ''
المقدس میں ز ندہ اور تندرست آبیٹھے''۔ عکرہ کے پادری نے کہا… ''میں یسوع مسیح کے آگے شرمسار ہوں اور میں صلیب
کو دیکھتا ہوں تو میری نظریں جھک جاتی ہیں۔ کیا تم سب نے صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلفیہ عہد نہیں کیا تھا کہ اس کے
دشمنوں کا خاتمہ کرو گے ،خواہ اس میں تمہیں جانیں بھی قربان کرنی پڑیں؟ کیا تم نے حلف نہیں اٹھایا تھا کہ اسالم کا نام
ونشان مٹانے کے لیے جان اور مال کی اور اپنے جسموں کے اعضا کی قربانی دینے سے گریز نہیں کرو گے؟ تم میں کتنے ہیں
جن کے جسموں پر ہلکی سی خراشیں بھی آئی ہوں؟ کوئی ایک بھی نہیں۔ تم شوبک مسلمانوں کو دے کر بھاگے۔ اب تم
کرک دے کر بھاگ آئے ہو۔ میں اس حقیقت سے بھی بے خبر نہیں کہ جو میدان میں اترتے ہیں ،وہ شکست بھی کھاسکتے
ہیں۔ دو فتوحات کے بعد ایک شکست کوئی معنی نہیں رکھتی مگر یکے بعد دیگرے شکستیں اور دو پسپائیاں مجھے یقین دال
رہی ہیں کہ صلیب یورپ میں قید ہوگئی ہے اور وہ وقت بھی آنے واال ہے جب یورپ کے کلیسائوں میں مسلمانوں کی اذانیں
گونجیں گی''۔
ایسا کبھی نہیں ہوگا''… فلپ آگسٹس نے کہا… ''صلیب اعظم کے محافظ! ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ شکست کے کچھ اسباب''
''تھے جن پر ہم غور کرچکے ہیں اور اب آپ کی موجودگی میں مزید غور کریں گے؟
اور شاید تم اس پر غور نہ کرو کہ اب مسلمانوں کی منزل بیت المقدس ہوگی''… فلپ آگسٹس نے کہا… ''ہم نے ''
مسلمانوں میں اتنے غدار پیدا کرلیے ہیں جو صالح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی کو بیت المقدس کے راستے پر ڈال کر انہیں
راستے میں ہی پیاسا مار ڈالیں گے''۔
پھر یہ کون سے مسلمان ہیں جنہوں نے تم سے دو اتنے مضبوط قلعے لے لیے ہیں؟''… صلیب اعظم کے محافظ نے کہا… ''
'' اس حقیقت کو مت بھولو کہ مسلمان انتہا پسند قوم ہے۔ مسلمان غداری پر آتا ہے تو اپنے بھائیوں کی گردن پر چھری
چال دیتا ہے مگر اس میں جب قومی جذبہ بیدار ہوجاتا ہے تو اپنی گردن کاٹ کر گناہوں کا کفارہ ادا کردیا کرتا ہے۔ مسلمان
اگر غدار بھی ہوجائے تو اس پر اعتماد نہ کرو ،دور نہ جائو ،گزرے ہوئے صرف دس سالوں کے واقعات پر نظر ڈالو۔ اسالم کے
غداروں نے تمہیں کتنے عالقے دلوائے ہیں؟ کیا تم میں ہمت ہے کہ مصر میں قدم رکھو؟ آج مسلمان فلسطین میں بیٹھے ہیں،
کل تمہارے سینے پر بیٹھے ہوں گے۔ یاد رکھو میرے دوستو! اگر صالح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی نے تم سے بیت المقدس
لے لیا تو وہ تم سے یورپ بھی لے لے گا لیکن سوال فلسطین اور یورپ کا نہیں ،سوال زمین کے ٹکڑوں کا نہیں ،اصل مسئلہ
صلیب اور اسالم کا ہے۔ یہ دو مذہبوں اور نظریوں کی جنگ ہے۔ دو میں سے ایک کو ختم ہونا ہے۔ کیا تم صلیب کا خاتمہ
''پسند کرو گے؟
نہیں مقدس باپ ،ایسا کبھی نہیں ہوگا''… محفل میں جوش وخروش پیدا ہوگیا… ''اتنی زیادہ مایوسی کی کوئی وجہ ''
نہیں''۔
پھر تم ان وجوہات پر غور کرو جو تمہاری پسپائی کا باعث بنی ہیں''… محافظ صلیب اعظم نے کہا… ''میں تمہیں جنگ''
کے متعلق کوئی سبق نہیں دے سکتا۔ میں نظریات کے محاظ کا سپاہی ہوں۔ میں کلیسا کا محافظ ہوں۔ مجھے کلیسا کی
کنواریوں کی قسم دس کٹر مسلمان میرے سامنے لے آئو ،انہیں صلیب کا پجاری بنالوں گا۔ ذرا اس پر غور کرو کہ تمہارے اتنے
بڑے لشکر جو زرہ پوش بھی ہیں ،مسلمانوں کی مختصر سی فوج کا مقابلہ کیوں نہیں کرسکتے؟ تمہارے پانچ سو سواروں کو
ایک سو پیادہ مسلمان شکست دے دیتے ہیں؟ صرف اس لیے کہ مسلمان مذہب کے جنون سے لڑتے ہیں۔ وہ تمہارے مقابلے
میں آتے ہیں تو قسم کھا لیتے ہیں کہ فتح یا موت۔ میں نے سنا ہے کہ ان کے چھاپہ مار تمہارے عقب میں چلے جاتے ہیں
اور تمہاری کمر توڑ کر تمہارے تیروں سے چھلنی ہوجاتے ہیں یا نکل جاتے ہیں۔ ذرا سوچو کہ دس دس بارہ بارہ آدمی تمہارے
ہزاروں کے لشکر میں کس طرح گھس آتے ہیں؟ یہ محض مذہبی جنون ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا بھی ان کے ساتھ ہے اور
خدا کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ ہے۔ ایسی دلیرانہ کارروائیوں میں وہ اپنے کمانڈروں سے نہیں قرآن سے
حکم لیتے ہیں۔ میں نے قرآن کا مطالعہ بہت غور سے کیا ہے۔ ہمارے خالف جنگ کو قرآن جہاد کہتا ہے اور ہر مسلمان پر
حتی کہ جہاد کو نماز یعنی عبادت پر فوقیت حاصل ہے… تم بھی جب تک اپنے آپ میں یہی
جہاد فرض کردیا گیا ہے۔
ٰ
جنون پیدا نہیں کرو گے ،اسالم کا تم کچھ نہیں بگاڑ سکتے''۔
٭ ٭ ٭
کچھ ایسے ہی جذباتی اور حقیقی الفاظ تھے جن سے عکرہ کے پادری نے اپنے شکست خوردہ حکمرانوں اور کمانڈروں کو
بھڑکانے اور ان میں نئی روح پھونکنے کی کوشش کی اور وہ یہ کہہ کر چال گیا کہ اب آپس میں بحث ومباحثہ کرو کہ تمہاری
شکست کے اسباب کیا تھے اور اس کی ذمہ داری کس کس پر عائد ہوتی ہے اور اس شکست کو فتح میں کس طرح بدلنا
ہے۔ بیت المقدس کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنالو۔ صالح الدین ایوبی فرشتہ نہیں۔ تمہاری طرح ایک انسان ہے۔ اس کی
طاقت صرف اس میں ہے کہ اس کا ایمان پکا ہے۔
پادری کے جانے کے بعد کانفرنس میں جو گرما گرمی پیدا ہوئی ،وہ اس لحاظ سے تاریخی نوعیت کی تھی کہ اس میں کچھ
فیصلے کیے گئے۔ ان میں ایک فیصلہ یہ تھا کہ جوابی حملہ نہ کیا جائے بلکہ ایوبی اور زنگی کے لیے انگیخت پیدا کی جائے
کہ وہ پیش قدمی کریں اور حملے جاری رکھیں۔ انہیں مرکز سے دور الیا جائے اور بکھیر کر لڑایا جائے۔ اس طرح ان کی
کہ یونانیوں ،بازنطینیوں اور فرینکوں کو فوری
رسد کے راستے لمبے اور غیر محفوظ ہوجائیں گے۔ اس کے ساتھ یہ فیصلہ ہوا
طور پر تیار کیا جائے کہ سمندر کی طرف سے مصر پر بحری حملہ کریں اور ساحل پر فوج اتار کر مصر کے شمال مشرق کے
اتنے سے عالقے پر قبضہ کرلیں جسے مضبوط (اڈا) بنا لیا جائے۔ اسے فلسطین کے دفاع اور مصر پر جارحیت کے لیے
استعمال کیا جائے گا۔ اہم فیصلہ یہ ہوا کہ اسالمی عالقوں میں اخالق کی تخریب کاری تیز کردی جائے اور نظریاتی حملے اور
شدید کردئیے جائیں۔
جیسا کہ پچھلے باب میں بیان کیا جاچکا ہے کہ مصر میں صلیبیوں کی اہم مہم تباہ کردی گئی تھی جو سرحدی عالقے میں
توہمات پیدا کرنے کے لیے عروج پر پہنچ گئی تھی۔ صلیبی جاسوسوں نے وہاں سے آکر اطالع دے دی تھی کہ وہ مہم ناکام
ہوچکی ہے اور جن مسلمانوں کو زیراثر لے لیا گیا تھا ،انہوں نے ہی مہم کے افراد کو ہالک کردیا ہے… اس کانفرنس میں یہ
انکشاف پیش کیا گیا کہ مقبوضہ عالقوں میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن کردی گئی ہے۔ وہ مجبور ہوکر قافلوں کی صورت میں
ترک وطن کرتے ہیں تو راستے میں ان کے قافلے لوٹ لیے جاتے ہیں۔ مال اور مویشی چھین لیے جاتے ہیں اور لڑکیوں کو
اغوا کرلیا جاتا ہے۔ کانفرنس میں اس اقدام کو ضروری سمجھا گیا۔ مسلمانوں کو ختم کرنے کا یہ بھی ایک اچھا طریقہ تھا۔ یہ
نسل کشی کی مہم تھی جو صلیبیوں نے بہت عرصے سے جاری کررکھی تھی۔ پہلے بھی بیان کیا جاچکا ہے کہ مسلمان کی
کمسن اور خوبصورت بچیوں کو اغوا کرکے صلیبی انہیں بے حیائی اور چرب زبانی کی تربیت دے کر انہیں پالیتے پوستے اور
جب وہ جوان ہوجاتیں ،انہیں مسلمانوں میں غداری کے جراثیم پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
کانفرنس میں یہ بھی طے ہوا کہ مسلمانوں میں عیسائیت کی تبلیغ کی جائے۔ اس کے لیے بے شمار دولت کی ضرورت تھی
جو خرچ تو کی جارہی تھی لیکن کچھ دشواریاں پیدا ہوگئی تھی۔ ایک یہ تھی کہ رقم اونٹوں کے ذریعے بھیجی جاتی تھی۔
کئی بار ایسے ہوا کہ مصر کے کسی سرحدی دستے نے پکڑ لیا یا اونٹ لوٹ لیے گئے۔ ضرورت یہ محسوس کی گئی تھی کہ
کوئی ایسا ذریعہ مل جائے جس سے رقم اور انعامات کی دیگر قیمتی اشیاء اسی ملک سے دستیاب ہوجائیں ،جہاں استعمال
کرنی ہوں۔ خاصے عرصے سے اس مسئلے پر سوچ وبچار ہورہا تھا۔ صلیبیوں کی انٹیلی جنس کا کمانڈو ،ہرمن ،علی بن سفیان
کی طرح غیرمعمولی ذہانت کا مالک تھا۔ اس نے کبھی کا سوچ رکھا تھا کہ مصر کی زمین اپنے اندر اس قدر خزانے چھپائے
ہوئے ہے جس سے ساری دنیا کو خریدا جاسکتا ہے مگر ان خزانوں تک پہنچنا آسمان سے ستارے توڑ النے کے برابر تھا۔ یہ
خزانے فرعونوں کے مدفنوں میں محفوظ تھے۔ تاریخ فرعونوں کی اس رسم سے کبھی بھی بے خبر نہیں رہی کہ جب کوئی
فرعون مرتا تھا تو اس کے ساتھ شاہانہ ضروریات کا تمام سامان اس کے ساتھ دفن کردیا جاتا تھا۔
مرے ہوئے فرعون کو قبر چند گز چوڑی نہیں ہوا کرتی تھی بلکہ زمین کے نیچے ایک محل تعمیر ہوجاتا تھا۔ فرعون اپنی
زندگی میں اپنا مدفن تیار کرالیا کرتے تھے اور جگہ ایسی منتخب کرتے تھے جس تک اس کی موت کے بعد کوئی رسائی
حاصل نہ کرسکے۔ مرنے کے بعد مدفن کو اس طرح بند کردیا جاتا تھا کہ معماروں کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ
اسے کھوال کس طرح جاسکتا ہے۔ مرنے والے کے لواحقین معماروں کو قتل کردیا کرتے تھے۔ فرعونوں کا ایک عقیدہ تو یہ تھا
کہ وہ خدا ہیں اور دوسرا یہ کہ مرنے کے بعد انہیں یہی جاہ وجالل حاصل ہوگا۔ چنانچہ پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر اور پھر پہاڑ
کے نیچے زمین کی کھدائی کرکے محل جیسے ہال اور دیگر کمرے بنوا کر اس محل میں زیادہ سے زیادہ ہیرے جواہرات رکھوا
دئیے جاتے تھے۔ اس کے عالوہ بگھیا مع گھوڑوں اور بگھی بانوں کے اور کشتیاں مع مالحوں کے اندر رکھ دی جاتی تھیں۔
خدمت کے لیے کنیزیں اور غالم اور بیویاں بھی ساتھ ہوتی تھیں۔ اس طرح صورتحال یہ بن جاتی تھی کہ ایک انسان کی الش
کے ساتھ جہاں بے انداز مال ودولت دفن ہوجاتا تھا وہاں بہت سے انسان زندہ اندر بھیج کر باہر سے مدفن کا منہ بند کردیا
جاتا تھا۔ تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ دم گھٹنے سے کس طرح مرتے ہوں گے۔ فرعونوں کی الشوں کو مصالحے وغیرہ لگا کر
حنوط کیا جاتا تھا۔ ہزاروں سال گزر جانے کے بعد آج بھی ان کی الشیں محفوظ ہیں ،جن میں کچھ لندن کے عجائب خانے
میں پڑی ہیں۔
فرعونوں کا دور ختم ہوا تو مصر کی حکومت جس کے بھی ہاتھ آئی اس نے فرعونوں کے مدفن تالش کرنے کی کوشش کی۔
یہ مہم ناممکن کی حد تک مشکل ثابت ہوئی۔ مدفنوں کو تالش کرنا ہی ایک مسئلہ تھا۔ اس کے بعد آج تک یہ مہم جاری
ہے۔ مصر نے تاریخ میں بہت سی بادشاہت دیکھیں۔ ہر بادشاہ نے مدفن تالش کیے جسے جو ہاتھ لگا لے اڑا۔ سب سے زیادہ
حصہ انگریزوں کے ہاتھ آیا کیونکہ انگریزوں نے وہاں موجودہ دور میں اپنا اثر قائم کیا تھا جب سائنس ترقی کرچکی تھی۔
سائنس نے اور کھدائی کے مشینی طریقوں نے انگریزوں کی بہت مدد کی۔ ۔ پھر بھی کہتے ہیں کہ مصر کی زمین فرعونوں
کے خزانوں سے ابھی تک ماالمال ہے اور مصر کی تاریخ میں اگر غور سے جھانکیں تو اس میں ایسے پراسرار اور خوفناک
واقعات ملتے ہیں کہ وہ رونگٹے کھڑے کردیتے ہیں۔ کچھ ذاتی طور پر کسی فرعون کی تالش میں نکلے۔ ان میں سے بعض
مدفن میں داخل ہوبھی گئے مگر معلوم نہ ہوسکا کہ کہاں غائب ہوگئے۔ ان میں سے جو بچ کر نکلے وہ دوسرے کے لیے
سراپا عبرت بن گئے۔ اسی لیے یہ عقیدہ آج بھی قائم ہے کہ فرعون خدا تو نہیں تھے لیکن ان کے پاس مرکر بھی کوئی
ایسی طاقت موجود ہے جو ان کے مدفنوں میں جانے والوں کو عبرتناک سزا دیتی ہے۔ لوگوں نے اس عقیدے کو اس لیے
تسلیم کیا ہے کہ جس بادشاہ نے بھی کسی فرعون کے مدفن میں ہاتھ ڈاال ،اس کی بادشاہی کوزوال آیا۔ بعض نے فرعونوں کو
نحوست کا حامل کہا ہے۔
صالح الدین ایوبی کے دور سے پہلے ہی صلیبیوں کو معلوم تھا کہ مصر خزانوں کی سرزمین ہے۔ یہ وجہ بھی تھی کہ وہ مصر
پر قابض ہونا چاہتے تھے۔ سلطان ایوبی کو شکست دینا آسان نظر نہ آیا تو انہوں نے یہ سوچنا شروع کردیا کہ ان مدفنوں کی
تالش مصریوں سے کرائی جائے اور خزانے نکلوا کر استعمال کیے جائیں۔ انہیں کسی طرح یہ پتا چل گیا تھا کہ مصری
حکومت کے پرانے کاغذات میں ایسی تحریریں اور نقشے موجود ہیں جن میں بعض مدفنوں کے متعلق معلومات درج ہیں۔ ان
کاغذات تک پہنچنا آسان نہیں تھا۔ صلیبیوں نے مصر میں بڑے ذہین جاسوس بھیجے تھے ،جو صرف یہ معلوم کرسکتے تھے کہ
یہ کاغذات کہاں ہیں اور کس طرح اڑائے جاسکتے ہیں مگر اس شعبے کے سربراہ کو اپنی گرفت میں لینا ممکن نہ تھا۔ ان
دنوں جب سلطان ایوبی شوبک اور کرک کی جنگوں میں الجھا ہوا تھا اور اس کی غیرحاضری میں مصر سازشوں کی زرخیز
زمین اور بغاوت کا آتش فشاں بن چکا تھا ،صلیبیوں کے ماہر سراغ رساں ہرمن نے کامیابی حاصل کرلی تھی کہ سلطان ایوبی
اعلی کمانڈر احمر درویش کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ احمر سوڈانی تھا ،اس کے خالف کوئی ایسی
کی فوج کے ایک
ٰ
شکایت نہیں تھی کہ وہ غدار ہے۔ سلطان ایوبی کو اس پر اعتماد تھا۔ اس نے سلطان ایوبی کی زیرکمان لڑائیاں لڑی تھیں اور
کمانڈروں کی صف میں نام پیدا کیا تھا۔
بعد کے انکشافات سے معلوم ہوا کہ یہ کمال میر یا ایستھینا نام کی ایک صلیبی لڑکی کا تھا کہ اس نے احمر کے دماغ میں
سوڈان کی محبت ،سلطان ایوبی کی مخالفت اور سوڈان میں مصر کے سرحدی عالقے میں سے کچھ حصے کی خودمختار
ریاست کا اللچ پیدا کیا تھا۔ وہ تھا تو مسلمان لیکن صلیبیوں نے اس کے دماغ میں ڈ ال دیا تھا کہ وہ پہلے سوڈانی بعد میں
مسلمان ہے۔ اب جبکہ نورالدین زنگی نے کرک کا قلعہ توڑ لیا تھا اور سلطان ایوبی مصر میں غداروں کا قلع قمع کررہا تھا۔
احمر درویش نے صلیبی جاسوسوں کے ساتھ کئی ایک مالقاتیں کرلی تھیں۔ اس نے کسی کو شک تک نہیں ہونے دیا تھا ک
وہ دشمن کے ساتھ سازباز کررہا ہے۔ اس نے مرکزی دفاتر میں اتنا اثرورسوخ پیدا کررکھا تھا کہ وہ پرانی دستاویزات تک پہنچ
گیا۔ وہاں سے اس نے جو کاغذات چوری کرائے ،ان میں بظاہر اوٹ پٹانگ سی لکیروں کا ایک نقشہ تھا۔ دراصل یہ کاغذات
نہیں کپڑے اورکاغذ کے درمیان کی کوئی چیز تھی۔ ایسے ہی چند ایک اور کپڑے یا کاغذ تھے جن پر فرعونوں کے وقتوں کی
عجیب وغریب تحریریں تھیں ،جنہیں پڑھنا اور سمجھنا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ یہ کسی کو دکھائی بھی نہیں جاسکتی تھی۔
بہر حال کسی طرح ان تحریروں کے معنی واضح کرلیے گئے۔ انکشاف یہ ہوا کہ قاہرہ سے تقریبا ً اٹھارہ کوس دور ایک پہاڑی
عالقہ ہے جو خوفناک ہے ،بے کار ہے اور جس کے اندر شاید درندے بھی نہیں جاتے ہوں گے۔ اس کے اندر کہیں ایک فرعون
کا مدفن ہے۔
یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ یہ تحریر کہاں تک صحیح اور بامعنی ہے۔ اس میں لکیروں میں ہاتھ سے بنی ہوئی چند ایک
تصویریں بھی تھیں۔ کہانی کا کچھ حصہ ان تصویروں میں چھپا ہوا تھا۔ احمر نے قسمت آزمائی کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اس فرعون
کا نام ریمینس دوم تھا۔ اس کے مدفن کی تالش اور کھدائی کے لیے صلیبیوں نے قاہرہ میں چند ایک ہوشیار ،دانشمند اور
جفاکش جاسوس بھیج دئیے تھے۔ ان کا سربراہ مارکونی اطالوی تھا جسے سیاحت اور کوہ پیمائی کا تجربہ تھا۔ احمر نے ان
آدمیوں کو کامیابی سے بہروپ چڑھا دئیے تھے کہ قاہرہ میں انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔ دو کو تو اس نے اپنے گھر
میں مالزم رکھ لیا تھا۔ اس کے عوض احمر درویش سے یہ سودا ہوا تھا کہ وہ مدفن سے زروجواہرات نکالے ،انہیں اپنے پاس
رکھے۔ سلطان ایوبی کے خالف تخریب
کاری میں استعمال کرے ،فدائیوں کو منہ مانگی اجرت دے۔ سلطان ایوبی کوقتل کرائے اور جب مصر صلیبیوں یا سوڈانیوں کے
قبضے میں آجائے گا تو اسے ایک خودمختار ریاست بنا دی جائے گی ،جس میں کچھ حصہ سوڈان کا کچھ مصر کا شامل ہوگا۔
اسے یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس تالش کے دوران اگر سلطان ایوبی صلیبیوں پر یا سوڈانیوں پر حملہ کرے تو احمر اپنے
زیرکمان دستوں کو سلطان ایوبی کی جنگی چالوں کے الٹ استعمال کرے۔
احمر درویش کا دماغ اتنے بڑے اللچ کے جادو کی گرفت میں آچکا تھا اور اس نے مارکونی کو ان دو صلییوں کے ساتھ جو اس
کے نوکروں کے بہروپ میں اس کے گھر میں تھے ،نقشہ دے کر مدفن کی تالش کی مہم پر روانہ کردیا تھا۔ ایک جاسوس کی
وساطت سے اس نے ہرمن کو اطالع بھیج دی تھی کہ تالش شروع ہوچکی ہے۔ ہرمن نے اس کانفرنس میں صلیبی حکمرانوں
وغیرہ کو بتا دیا کہ اگر یہ مدفن بے نقاب ہوگیا تو اس سے برآمد ہونے والی دولت سے مصر کی جڑیں مصریوں کے ہی
ہاتھوں کھوکھلی کی جاسکیں گی۔
٭ ٭ ٭
١١٧٤ء کی پہلی سہ ماہی کے آخری دن تھے ،قاہرہ سے اٹھارہ کوس دور ایک جگہ تین اونٹ کھڑے تھے۔ ہر اونٹ پر ایک
آدمی سوار تھا۔ ان کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے ،ایک سوار نے چغے کے اندر سے ایک گول کیا ہوا چوڑا کاغذ نکاال۔ اسے
کھول کر غور سے دیکھا اور اپنے ساتھیوں سے کہا… ''جگہ یہی ہے'' … اس کے اشارے پر تینوں اونٹ آگے چل پڑے۔ وہ
ٹیلے آمنے سامنے دیواروں کی طرح کھڑے تھے۔ ان کے درمیان ایک اونٹ گزرنے کا راستہ تھا۔ تینوں ایک قطار میں اندر چلے
گئے۔ اندر کی پہاڑیوں کی شکل وصورت ایسی تھی جیسے کوئی بہت ہی وسیع عمارت ہو جس کی چھتیں غائب ہوں۔ ریت
کے المحدود سمندر میں یہ پہاڑی عالقہ تین چار میلوں میں پھیال ہوا تھا۔ باہر ٹیلے اور چٹانیں تھیں۔ ان کے پیچھے سخت
مٹی کی پہاڑیاں اور ان کے پیچھے ٹوٹی پھوٹی دیواروں کی طرح پہاڑیاں تھیں جن میں بعض بہت چوڑے اور گول ستونوں کی
طرح ایک ہزار فٹ بلندی تک گئی ہوئی تھیں۔ سورج غروب ہونے کے بعد جب شام ابھی گہری نہیں ہوتی تھی ،یہ عالقہ
بہت سے بھوتوں کی طرح نظر آیا کرتا تھا۔ اس کے اندر جانے کی کسی نے کبھی جرٔات نہیں کی تھی۔ کوئی جرٔات کرتا
بھی تو کیوں کرتا۔ اندر جانے کی کسی کو کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی تھی۔ صحرا کے مسافروں کی ضرورت صرف پانی ہوا
کرتی تھی۔ ایسے خشک پہاڑوں اور چٹانوں کے اندر جو دن کے وقت دور سے شعلوں کی طرح نظر آتے تھے ،پانی کا ذرا سا
دھوکہ بھی نہیں ہوسکتا تھا۔
یہ جگہ کسی راستے میں بھی نہیں پڑتی تھی ،میلوں دور سے نظر آنے لگتی تھی۔ لوگ اس کے متعلق کچھ ڈرائونی سی
کہانیاں سنایا کرتے تھے جن میں ایک یہ تھی کہ یہ شیطان بدروحوں کا مسکن ہے۔ خدا نے جب آسمان سے شیطان کو
دھتکارا تھا تو شیطان یہیں اترا تھا۔ اس عالقے کی چونکہ فوجی اہمیت بھی نہیں تھی ،اس لیے فوجوں نے بھی کبھی اس
کے اندر جانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ ایسے عالقے کے اندر ریت ،موت اور صحرائی درندوں کے سوا اور ہو ہی
کیا سکتا تھا۔ اس کے ہولناک خطے کی تاریخ میں غالبا ً یہ پہلے تین انسان تھے جو اس کے اندر چلے گئے تھے۔ انہیں وہیں
جانا تھا کیونکہ ہزاروں سال پرانا نقشہ اسی جگہ کی نشاندہی کررہا تھا۔ صرف ایک لکیر شک پیدا کرتی تھی۔ یہ ایک ندی
کی لکیر تھی مگر وہاں کوئی ندی نہیں تھی۔ اس جگہ اب ایک بڑا ہی لمبا نشیب نظر آتا تھا جس کی چوڑائی بارہ چودہ گز
تھی۔ اس کے اندر کی ریت کی شکل وصورت بتاتی تھی کہ صدیوں پہلے یہاں سے پانی گزرتا رہا ہے۔ اسی نشیب نے جو
قریب ہی کہیں ختم ہونے کے بجائے دریائے نیل کی طرف چال گیا تھا ،شتر سواروں کو یقین دالیا تھا کہ وہ جس جگہ کی
تالش میں ہیں ،وہ یہی ہے۔
ان سواروں میں ایک مارکونی اطالوی تھا اور دو اس کے ساتھی تھے ،تینوں صلیبی تھے۔ انہیں سلطان ایوبی کے ایک کمانڈر
احمر درویش نے فرعون ریمینس دوم کے مدفن کی تالش کے لیے بھیجا تھا۔ نقشے کے مطابق وہ صحیح جگہ پر آگئے تھے۔
اب اندر جاکر یہ دیکھنا تھا کہ یہ جگہ کس حد تک صحیح ہے۔ مارکونی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اپنے آپ کو خدا
سمجھنے والے فرعون اپنی آخری آرام گاہ ایسے جہنم میں بنانے کی سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ احمر اور ہرمن نے ہمیں
ایک بے کار آزمائش میں ڈ ال دیا ہے۔ اس کے ساتھیوں نے اسے اپنا کمانڈر سمجھتے ہوئے کوئی مشورہ نہ دیا۔ وہ حکم کے
پابند تھے۔ مارکونی سخت جان صلیبی تھا۔ ہمت ہارنے کا قائل نہ تھا۔ وہ آگے آگے چلتا رہا۔ وہ جوں جوں اندر جارہے تھے،
چٹانوں کی شکلیں بدلتی جارہی تھیں۔ ان کا رنگ گہرا بادامی بھی تھا ،کہیں بھی اور کہیں کہیں ان کا رنگ مٹیاالل بھی تھا۔
ان میں ریتلی سلوں کی چٹانیں تھیں اور مٹی کے سیدھے کھڑے ٹیلے بھی۔ ڈھالنوں سے ریت بہتی نظر آتی تھی۔
بہت آگے جاکر یہ وادی بند ہوگئی۔ مارکونی نے دائیں طرف دیکھا ،ایک ٹیال درمیان سے اس طرف پھٹا ہوا تھا جیسے :
زلزلے نے دیوار میں شگاف کردیا ہو۔ شگاف میں سے جھانکا ،یہ ایک گلی تھی جو دور تک چلی گئی تھی۔ اونٹ کا گزرنا
مشکل نظر آتا تھا۔ مارکونی نے اپنا اونٹ شگاف کی گلی میں داخل کردیا۔ اس کے گھٹنے دونوں طرف ٹیلوں کی دیواروں سے
لگتے تھے۔ اس نے ٹانگیں سمیٹ کر اونٹ کی کوہان پر رکھ دیں۔ پچھلے سواروں نے بھی ایسا ہی کیا۔ اونٹوں کے پہلو دائیں
بائیں لگتے تھے تو مٹی نیچے گرتی تھی۔ ٹیال دو حصوں میں کٹ کر دور تک چال گیا تھا۔ اونٹوں کے ہچکولوں سے یوں لگتا
تھا جیسے ٹیلے کے دونوں حصے مل رہے ہوں اور دونوں مل کر اونٹوں کو سواروں سمیت پیس ڈالیں گے۔ آگے جاکر اوپر دیکھا
تو دور اوپر ٹیلے کے دونوں حصوں کی چوٹیاں آپس میں مل گئی تھیں۔ آگے اندھیرا سا تھا لیکن دور آگے روشنی سی نظر
آتی تھی جس سے امید بندھ گئی کہ وہ گلی وہاں ختم ہوجائے گی اور آگے جگہ فراخ ہے۔
گلی نے اب سرنگ کی صورت اختیار کرلی تھی جس میں اونٹوں کے پائوں کی آوازیں ڈرائونی سے گونج پیدا کرتی تھیں۔
مارکونی بڑھتا گیا۔ وہاں یہی ایک راستہ تھا اس لیے غلطی کا امکان کم تھا۔ سامنے روشنی کا جو دھبہ تھا ،وہ پھیل رہا تھا،
سرنگ ختم ہورہی تھی… اور جب وہ سرنگ کے دہانے پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ اونٹ سواروں سمیت نہیں گزر سکیں گے۔
سوار اونٹوں کی گردنوں پر آکر نیچے اتر کیونکہ پہلوئوں سے نہیں اترا جاسکتا تھا۔ اونٹوں کو بڑی مشکل سے باہر نکاال گیا۔
آگے دیکھا تو چاروں طرف کسی پرانے قلعے کی بڑی ہی بلند دیواریں نظر آئیں مگر یہ قلعہ قدرتی تھا۔ پہاڑیوں کی شکل
ایسی تھی کہ تین چار سو گز تک ڈھالن تھی اور وہاں سے پہاڑیاں سیدھی اوپر کو اٹھ گئی تھیں ،بعض اونچی تھیں ،بعض کم
بلند۔ معلوم ہوتا تھا جیسے ہر جگہ ہر طرف سے بند ہو۔ گھوم پھر کر دیکھا تو ایک پہاڑی کے ساتھ اتنی جگہ تھی جس پر
پیدل چال جاسکتا تھا۔
مارکونی نے اونٹوں کو بٹھا دیا اور پیدل چل پڑے۔ پہاڑی گوالئی میں ہوگئی تھی۔ پائوں جما کر رکھنا پڑتا تھا کیونکہ ریت اور
مٹی تھی جس سے پائوں ڈھالن کی طرف ہوکر گر سکتا تھا۔ یہ دراصل کوئی باقاعدہ راستہ نہیں تھا۔ چلنے کی صرف جگہ
تھی۔ زمین اور ٹیلے بتا رہے تھے کہ صدیوں سے یہاں کسی انسان نے قدم نہیں رکھا۔ یہ چلنے کی جگہ یا راہ آگے گئی تو
مارکونی اور اس کے ساتھیوں کے دل اچھل کر حلق تک آگئے۔ ڈھالن سخت ہوگئی تھی اور نیچے جا کر کسی بڑی ہی
اونچی دیوار کی منڈیر بن گئی تھی۔ دائیں طرف پہاڑی تھی جس کے پہلو میں وہ قدم جما جما کر چل رہے تھے مگر بائیں
طرف زمین دور نیچے چلی گئی تھی۔ یہ ایک وسیع اور بہت ہی گہری کھائی تھی۔ وہاں سے گرنے کا نتیجہ صرف موت تھا۔
کھائی کے دوسرے کناروں پر اسی طرح کے پہاڑ تھے جس کے ساتھ ساتھ وہ چل رہے تھے۔
ایسے خطرناک مقام پر آکر مارکونی کے ایک ساتھی نے اس سے پوچھا… ''کیا تمہیں یقین ہے کریمینس فرعون کا جنازہ اس
''جگہ سے گزارا گیا ہوگا؟
احمر درویش نے یہی راستہ بتایا ہے''… مارکونی نے کہا… ''جہاں تک میں نقشے کو سمجھ سکا ہوں ،ہمارے گزرنے کا ''
یہی راستہ ہے۔ ریمینس کا تابوت کسی اور طرف سے گزارا گیا تھا۔ ہمیں وہ راستہ معلوم کرنا ہے۔ وہ کوئی خفیہ راستہ تھا
جو صدیوں کی آندھیوں اور زمین کی تبدیلیوں نے بند کردیا ہوگا۔ اگر وہ راستہ مل گیا تو ہم مدفن تک پہنچ جائیں گے''۔
اگر زندہ رہے تو!''۔''
میں اس کے متعلق یقین تو نہیں دال سکتا''… مارکونی نے کہا… ''یہ یقین دال سکتا ہوں کہ مدفن مل گیا تو تم دونوں ''
کو ماال مال کردوں گا''۔
راستہ چوڑا ہوگیا اور کھائی ختم ہوگئی۔ اب وہ دو ایسی پہاڑیوں کے درمیان جارہے تھے جن کے دامن ملے ہوئے تھے مگر
کچھ ہی دور آگے پہاڑیاں مل گئی تھیں۔ وہ وہاں تک پہنچے تو انہیں بائیں طرف اوپر چڑھنا پڑا۔ کوئی ایک سو گز اور اوپر
جاکر انہیں ایک گلی سی نظر آئی جو نیچے کو جارہی تھی۔ وہاں سے اردگرد دیکھا تو دور دور تک پہاڑیوں کے ستون اوپر کو
گئے ہوئے تھے۔ منظر ہیبت ناک تھا۔ وہ نیچے اترتے گئے۔ یہ گلی کئی ایک موڑ مڑ کر انہیں ایک فراخ جگہ لے گئی جو
گوالئی میں تھی۔ یہاں کی گرمی ناقابل برداشت تھی۔ چوٹیوں کے قریب پہاڑیوں میں چمک سی تھی۔ وہاں کی مٹی میں
کسی دھات کی آمیزش تھی۔ اس کی تپش سے گرمی زیادہ تھی۔ ہر طرف پہاڑیاں تھیں ،سوائے چند گز جگہ کے۔ وہاں گئے
تو خوف سے تینوں پیچھے ہٹ گئے۔ وہ بہت گہرا نشیب تھا۔ وسعت بھی زیادہ تھی۔ اس کی تہہ پر ریت چمک رہی تھی
اور سورج کی تپش اتنی زیادہ تھی کہ ریت سے دھواں سا اٹھتا اور لرزتا نظر آتا تھا۔ اس سے اس کی گہرائی کا اندازہ نہیں
ہوتا تھا۔
اس اتنے گہرے نشیب کے آمنے سامنے کے کناروں کو ایک قدرتی دیوار مالتی تھی۔ یہ نیچے سے اوپر تک تھی۔ یہ دراصل :
مٹی اور ریت کا دیوار نما ٹیال تھا جو نیچے سے بھی اتنا ہی چوڑا تھا جتنا اوپر سے۔ اس کی چوڑائی ایک گز سے کم
تھی۔ کہیں سے گوالئی میں تھی جس پر چلنا خطرناک تھا۔ اگر مارکونی کو پار جانا ہی تھا تو یہی ایک راستہ تھا جو پل
صراط کی مانند تھا۔ اس کی لمبائی پچاس گز سے زیادہ ہی تھی۔ مارکونی کے ایک ساتھی نے اسے کہا… ''میرا خیال ہے
اس دیوار پر چلنے کے بجائے تم خودکشی کا کوئی بہتر طریقہ اختیار کروگے''۔
خزانے راستے میں پڑے نہیں مال کرتے''… مارکونی نے کہا… ''ہمیں اس راستے سے پار جانا ہے''۔''
اور پھسل کر نیچے جہنم کی آگ میں گرنا ہے''… دوسرے ساتھی نے کہا۔''
کیا ہم نے صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلف نہیں اٹھایا کہ صلیب کی عظمت اور اسالم کی بیخ کے لیے جانیں قربان کردیں ''
گے؟''… مارکونی نے کہا… ''کیا میدان جنگ میں ہمارے ساتھی صلیب پر جانیں قربان نہیں کررہے؟ میں بزدلوں کی طرح
یہیں سے واپس ہوکر احمر درویش کو یقین دال سکتا ہوں کہ اتنی صدیاں گزر جانے کے بعد اب تمام راستے بند ہوچکے ہیں،
جہاں ندی تھی ،وہاں چٹانیں ہیں اور جہاں نقشہ چٹانیں دکھاتا ہے وہاں کچھ بھی نہیں ہے مگر میں بزدل نہیں بنوں گا،جھوٹ
نہیں بولوں گا۔ میرے دل پر خوف طاری ہوچکا ہے۔ میں اس کے خالف لڑ رہا ہوں ،میرے خوف میں اضافہ نہ کرو دوستو! اگر
تم میرا ساتھ نہیں دو گے تو صلیب سے دھوکہ کرو گے اور اس کی سزا بڑی اذیت ناک ہوگی۔ میں تمہارے آگے آگے چلتا
ہوں ،جہاں پھسلنے کا خطرہ محسوس کرو وہاں اس طرح بیٹھ جانا جس طرح گھوڑے پر بیٹھتے ہیں۔ پھر آگے سرکتے رہنا''۔
٭ ٭ ٭
20:01
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔60۔ جب خزانہ مل گیا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اچانک گرم ہوا کہ جھونکے تیز ہونے لگے ،ریت اڑنے لگی اور اس کے ساتھ عورتوں کے رونے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ دو
یا تین عورتیں اونچی آواز میں رو رہی تھیں۔ مارکونی کے ساتھی گھبرا گئے۔
مارکونی نے کان کھڑے کیے۔ ایک ساتھی نے کہا… ''اس دوزخ میں کوئی عورت زندہ نہیں ہوسکتی۔ یہ بدروحیں ہیں''۔
یہ کچھ بھی نہیں ہے''… مارکونی نے کہا… ''بدروحیں بھی نہیں ،زندہ عورتیں بھی نہیں۔ یہ ہوا کی پیدا کی ہوئی آوازیں''
ہیں۔ اس عالقے میں بعض ٹیلوں میں لمبے لمبے سوراخ ہیں جو دونوں طرف کھلتے ہیں اور بعض چٹانوں کی شکل ایسی ہے
کہ ان سے تیز ہوا کے جھونکے گزرتے ہیں تو اس قسم کی آوازیں پیدا ہوتی ہیں جو تم سن رہے ہو۔ نیچے اتنی گہری اور
اتنی وسیع کھائی ہے اس پر یہ ننگے پہاڑ کھڑے ہیں۔ یہ آوازوں میں گونج پیدا کرتے ہیں۔ یہ گونج ہر طرف بھٹکتی رہتی ہے،
ڈرو نہیں''۔
مگر اس کے ساتھیوں پر ایسا خوف طاری ہوگیا تھا جس پر وہ قابو نہیں پاسکتے تھے۔ یہ آوازیں ہوا کی نہیں تھیں۔ قریب
ہی کہیں عورتیں یا بدروحیں رو رہی تھیں۔ انہوں نے مارکونی کا پیش کیا ہوا فلسفہ تسلیم نہ کیا۔ آوازیں ہی ایسی تھیں۔ ہوا
تیز ہوتی جارہی تھی۔ ٹیلوں سے اور زمین سے ریت کے ہلکے ہلکے بادل اڑنے لگے تھے جن سے اب زیادہ دور تک نظر
نہیں آسکتا تھا۔ مارکونی نے اس قدرتی دیوار پر پہال قدم رکھا جو اس بھیانک نشیب میں کھڑی تھی۔ وہاں جگہ اتنی کچی
تھی کہ ریت اور مٹی میں پائوں دھنس گیا۔ اس نے دوسرا پائوں آگے رکھا اور نیچے دیکھا۔ گہرائی دیکھ کر وہ سر سے پائوں
تک کانپ گیا۔ اب اس گہرائی کی تہہ بالکل ہی نظر نہیں آتی تھی کیونکہ ریت اڑ رہی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے اس کی
تہہ ہے ہی نہیں۔ مارکونی چند قدم آگے چال گیا۔ وہاں اس کے دائیں یا بائیں کوئی ٹیال نہیں تھا۔ وہ تو جیسے ہوا میں کھڑا
تھا۔ ہوا کے تیز جھونکوں نے اس کے جسم کو دھکیل دھکیل کر اس کا توازن بگاڑ دیا۔ رونے کی آوازیں اور بلند ہوگئیں۔
اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا… '' آرام آرام سے پائوں جماتے آئو۔ نیچے بالکل نہ دیکھنا۔ یہ تصور کرتے آنا کہ تم زمین پر
چل رہے ہو''۔
اس کے دونوں ساتھیوں پر پہلے ہی خوف طاری تھا۔ دیوار پر تین چار قدم آگے گئے تو ہوا کی تندی نے ان کے پائوں اکھاڑ
دئیے۔ ان کے جسم ڈولنے لگے۔ مارکونی ان کی حوصلہ افزائی کررہا تھا اور آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا۔ وہ وسط میں پہنچ
گئے اور وہاں مارکونی نے دیکھا کہ دیوار ٹوٹی ہوئی ہے اور ذرا نیچے چلی گئی ہے۔ وہاں چوڑائی اتنی کم تھی کہ کھڑے ہوکر
چال نہیں جاسکتا تھا۔ مارکونی بیٹھ گیا اور گھوڑے کی سواری کی پوزیشن میں ٹانگیں ادھر ادھر کرکے آگے کو سرکنے لگا۔
دیوار کی چوڑائی کم اور گول ہوتی جارہی تھی۔ مارکونی نیچے کو سرک گیا۔ اس کے پیچھے اس کا ایک ساتھی بھی آگے
چال گیا۔ اچانک تیسرے ساتھی کی بے حد گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی… ''مارکونی مجھے پکڑنا''… مگر اس تک کوئی نہ
پہنچ سکا۔ وہ ایک طرف لڑھک گیا تھا۔ کوئی سہارا نہ ہونے کی وجہ سے وہ گر پڑا۔ اس کی چیخیں سنائی دیتی رہیں جو
دور ہی دور ہوتی گئیں۔ پھر دھمک کی آواز آئی ،چیخیں بند ہوگئیں۔ انجام ظاہر تھا۔ مارکونی نے نیچے دیکھا۔ کچھ بھی نظر
نہیں آتا تھا۔ گر کر مرنے والے کی چیخوں کی گونج ابھی تک اس دہشت ناک ویرانے میں بھٹک رہی تھی۔
مجھے اپنے ساتھ رکھو مارکونی!''… دوسرے ساتھی نے کہا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی… ''میں ایسی موت نہیں مرنا ''
چاہتا''۔
مارکونی نے اس کا حوصلہ بڑھایا اور آگے بڑھنے لگا۔ دیوار اوپر اٹھ رہی تھی۔ مارکونی بیٹھے بیٹھے آگے بڑھتا گیا۔
رونے کی آوازیں بدستور آرہی تھیں اور ان کے تیسرے ساتھی کی چیخوں کی گونج اس طرح بھٹک رہی تھی جیسے چیخ اوپر
جاکر ان کے اوپر منڈال رہی ہو… دیوار کچھ چوڑی ہوگئی۔ مارکونی نے گھوم کر اپنے ساتھی کا ہاتھ پکڑا اور اسے اوپر کرلیا۔
آگے وہ ذرا اطمینان سے چل سکتے تھے لیکن ہوا کے جھونکے اتنے تیز تھے کہ ان کے لیے توازن قائم رکھنا ذرا مشکل تھا۔
وہ آہستہ آہستہ بڑھتے گئے اور دیوار ختم ہوگئی۔ آگے زمین اور پہاڑیاں کچھ سخت تھیں۔ دو چٹانوں کے درمیان تنگ سا راستہ
تھا۔ وہ اس میں داخل ہوگئے۔ مارکونی کے ساتھی نے اس سے پوچھا… ''جیفرے مرچکا ہوگا؟ اسے بچایا یا دیکھا نہیں
''جاسکتا؟
مارکونی نے اس کی طرف دیکھا۔ آہ بھری اور نفی میں سرہالیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے کچھ کہے بغیر اپنے
ساتھی کے کندھے پر تھپکی دی اور آگے چل پڑا۔ یہ بھی ایک گلی سی تھی جو فراخ ہوتی جارہی تھی۔ مارکونی نے اپنے
ساتھی سے کہا… ''ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم جہاں جاتے ہیں وہاں ایک ہی راستہ ملتا ہے۔ ایک سے زیادہ راستے ہوں تو
بھٹک جانے کا خطرہ ہوتا ہے''۔
یہ گلی ختم ہوگئی۔ آگے جگہ کشادہ ہوتے ہوتے بہت ہی کھل گئی اور زمین اوپر کو اٹھتی گئی۔ ہوا ابھی تک تیز تھی۔
مارکونی کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس ہیبت ناک عالقے میں کتنی دور اور اندر پہنچ گیا ہے۔ اسے صرف یہ احساس رہ
گیا تھا کہ دنیا سے اس کا رشتہ منقطع ہوچکا ہے۔ وہ صلیب کے نام پر دیوانہ ہوا جارہا تھا۔ فرعون کا مدفن تالش کرنے کا
مقصد اس کے سامنے یہی تھا کہ اس سے نکلے ہوئے خزانوں سے مسلمانوں کو خرید کر انہیں سلطنت اسالمیہ کے ہی خالف
استعمال کیا جائے گا اور دنیا میں صلیب کی حکمرانی ہوگی۔ وہ اپنے ڈرے ہوئے ساتھی کے ساتھ آگے بڑھتا گیا۔ ہوا اسی
طرف سے آرہی تھی ،پہاڑوں کی چوٹیاں دائیں بائیں کوہٹ گئی تھیں اور سامنے آسمان نظر آرہا تھا۔ مارکونی چڑھائی چڑھ رہا
تھا ،وہ رک گیا اور ہوا کو سونگھ کر بوال… ''تم بھی سونگھو ،ہوا میں جو بو ہے وہ صحرا کی نہیں''۔
تمہارا دماغ جواب دے رہا ہے''۔ اس کے ساتھی نے کہا… ''صحرا میں صحرا کی بو نہیں ہے تو اور کس کی ہے؟ تم ''
اطالوی ہو شاید؟ شاید تمہیں اپنے گھر کی بو آرہی ہے''۔
مارکونی کے چہرے پر کچھ اور تاثر تھا ،وہ ہوا کو سونگھ رہا تھا۔ اس نے اپنے ساتھی سے کہا… ''تم شاید ٹھیک کہتے ہو،
میرے دماغ پر صحرا کی صحبت کا اثر ہوگیا ہے۔ یہاں پانی نہیں ہوسکتا۔ میں شاید خیالوں میں کھجوروں ،سبزے اور پانی کی
بو سونگھ رہا ہوں۔ میں اس بو سے اچھی طرح واقف ہوں۔ یہ میرا تجربہ ہے مگر میرے سونگھنے کی حس مجھے دھوکہ دے
رہی ہے۔ اس جہنم میں پانی کی بوند بھی نہیں ہوسکتی''۔
مارکونی!'' اس کے ساتھی نے اس کا بازو پکڑ کر اسے روک لیا اور کہا… ''میں بھی ایک بو سونگھ رہا ہوں ،موت کی''
بو۔ مجھے موت اپنی طرف بڑھتی ہوئی محسوس ہورہی ہے۔ آئو دوست! جدھر سے آئے ہیں ،ادھر ہی لوٹ چلیں اگر تم
سمجھتے ہو کہ میں بزدل ہوں تو مجھے میدان جنگ میں بھیج دو۔ ایک سو مسلمانوں کو کاٹنے سے پہلے نہیں مروں گا''۔
مارکونی زیادہ باتیں کرنے واال آدمی نہیں تھا۔ اس نے اپنے ساتھی کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور مسکرا کر کہا… ''ہم ایک سو
نہیں ،ایک ہزار مسلمانوں کو کاٹیں گے اور مریں گے نہیں۔ میرے ساتھ آئو''۔
وہ ساتھی کو لے کر چڑھائی چڑھنے لگا۔ چڑھائی زیادہ اونچی نہیں تھی ،زمین آہستہ آہستہ اوپر اٹھ رہی تھی۔ سورج آگے نکل
گیا تھا۔ سائے لمبے ہوتے جارہے تھے ،ان دونوں کو تھکن نے چور کردیا تھا… وہ آگے کو جھکے ہوئے بڑھتے گئے اور اوپر
اٹھی ہوئی انتہائی بلندی تک پہنچ گئے۔ ریت نے اس کی آنکھیں بھر دی تھیں۔ مارکونی نے آنکھیں مل کر دیکھا۔ آگے ڈھالن
تھی اور چھوٹی چھوٹی ٹیکریاں۔ وہ ایک نیکری پر چڑھ گیا۔ اس نے اپنے ساتھی کو آواز دی اور بیٹھ گیا۔ اس نے کہا… ''تم
اگر ریگستان سے اچھی طرح واقف ہو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ سراب نظر آیا کرتے ہیں۔ سامنے دیکھو اور بتائو کہ یہ سراب
''تو نہیں؟
اس کے ساتھی نے دیکھا ،آنکھیں بند کیں ،کھولیں اور غور سے دیکھا۔ اس نے کہا… ''یہ سراب نہیں ہوسکتا''۔ وہ واقعی
سراب نہیں تھا۔ انہیں کھجوروں کے کئی ایک درختوں کی چوٹیاں نظر آرہی تھیں۔ پتے ہرے تھے۔ درخت نشیبی جگہ میں
معلوم ہوتے تھے اورکچھ دور بھی تھے۔ مارکونی ٹیکری سے آگے چال گیا۔ وہ اب دوڑ رہا تھا ،اس کا ساتھی اس کے پیچھے
پیچھے جارہا تھا ،وہاں عجیب وغریب شکلوں کی ٹیکریاں تھیں۔ بعض ایسی جیسے کوئی انسان گھنٹوں میں سردے کر بیٹھا
ہو۔ کچھ بڑی تھیں ،کچھ چھوٹی۔ مارکونی ان میں سے راستہ تالش کرتا دوڑتا جارہا تھا۔ سورج پہاڑیوں کی چوٹیوں کے قریب
چال گیا۔ ۔ مارکونی کا سانس پھولنے لگا۔ اس کا ساتھی قدم گھسیٹتا جارہا تھا۔ مارکونی اچانک رک گیا اور آہستہ آہستہ یوں
پیچھے ہٹنے لگا جیسے اس نے کوئی ڈرائونی چیز دیکھ لی ہو۔ اس کا ساتھی اس سے جامال اور حیرت سے اسے دیکھنے
لگا۔
٭ ٭ ٭
ان دونوں کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ انہیں ایک نشیب نظر آرہا تھا۔ یہ کم وبیش ایک میل وسیع اور عریض تھا۔
اس کے اردگرد مٹی اور ریت کی اونچی اونچی قدرتی دیواریں تھیں۔ گہرائی کا یہ عالقہ سرسبزتھا۔ کچھ اونچا نیچا بھی تھا،
وہاں کھجوروں کے بہت سے درخت تھے۔ صاف ظاہر تھا کہ وہاں پانی کی بہتات تھی۔ ایسے جہنم میں ایسا سرسبز گوشہ
فریب نگاہ نہیں تھا۔ وہ اسی خطے کی بو تھی جو مارکونی نے سونگھی تھی۔ مارکونی کو اس جگہ سے کچھ آگے ایسی
پہاڑیاں نظر آرہی تھیں جو ریت اور مٹی کی نہیں بلکہ پتھروں اور پتھریلی سلوں کی تھیں۔ ان کا رنگ سیاہی مائل تھا۔ اس
جہنمی خطے کے باہر سے یہ پہاڑیاں نظر نہیں آتی تھیں اور اس سرسبز جگہ کا تو کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔
مارکونی نے تیزی سے بیٹھ کر اپنے ساتھی کو بھی بازو سے پکڑ کر بٹھا دیا۔ انہیں ایک اور عجیب وغریب چیز نظر آگئی
تھی۔ یہ دو انسان تھے جو نشیب میں اسی طرف آرہے تھے۔ وہ سر سے پائوں تک ننگے تھے ،ان کے رنگ گہرے بادامی اور
ان کے چہرے اچھے خاصے تھے۔ کہیں سے ایک عورت نکلی۔ وہ کسی اور طرف جارہی تھی ،اس کے بال بکھرے ہوئے اور
کمر تک لمبے تھے۔ شکل وصورت سے یہ لوگ حبشی اور جنگی نہیں لگتے تھے۔
یہ بدروحیں ہیں'' ۔ مارکونی کے ساتھی نے کہا… ''یہ انسان نہیں ہوسکتے۔ مارکونی! سورج غروب ہونے واال ہے ،اٹھو'' ،
پیچھے کو بھاگ چلیں۔ رات کو یہ ہمیں زندہ نہیں چھوڑیں گے''۔
مارکونی انہیں بدروحیں سمجھتے ہوئے بھی کہہ رہا تھا کہ یہ انسان ہوسکتے ہیں۔ وہ یقین کرنا چاہتا تھا کہ یہ کون لوگ
ہیں۔ وہ ہوا میں اڑ نہیں رہے تھے ،زمین پر چل رہے تھے۔ دور انہیں تین بچے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے دوڑتے نظر
آئے۔ ان سب کی حرکتیں ایسی تھیں جن سے یقین ہوتا تھا کہ یہ انسان ہیں۔ مارکونی پیٹ کے بل سرکتا آگے چال گیا۔ اس
کا ساتھی بھی اس کے پہلو میں جالیٹا۔ وہ جہاں لیٹ کر دیکھ رہے تھے ،وہاں کی دیوار عمودی نہیں کچھ ڈھالنی تھی اور
ریت زیادہ تھی۔ مارکونی کے ساتھی نے غالبا ً اور آگے ہونے کی کوشش کی یا جانے کیا ہوا ،وہ نیچے کو سرک گیا اور لڑھکتا
ہوا نیچے جاپڑا۔ وہاں سے اوپر آنا ممکن نہیں تھا۔ مارکونی پیچھے کو سرک کر ایک ایسی ٹیکری کی اوٹ میں ہوگیا جہاں
سے وہ نیچے دیکھ سکتا تھا۔ یہ ڈھالن جہاں سے صلیبی گرا تھا ،تیس چالیس گز اونچی ہوگی۔ مارکونی نے اپنے ساتھی کو
اٹھتے دیکھا ،وہ ڈھالن پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ مارکونی اس کی کوئی مدد نہیں کرسکتا تھا۔
وہ دو ننگے آدمی جو اسی طرف آرہے تھے ،دوڑ پڑے۔ مارکونی نے انہیں اوپر سے دیکھ لیا۔ اس کے ساتھی نے نہ دیکھا،
مارکونی اسے آواز نہیں دے سکتا تھا کیونکہ وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا کہ وہاں کوئی اور انسان بھی ہے۔ ان دو آدمیوں نے
مارکونی کے ساتھی کو پیچھے سے دبوچ لیا۔ اس کے پاس خنجر تھا اور ایک چھوٹی تلوار بھی مگر ہتھیار نکالنے کا موقع نہ
مال۔ ان آدمیوں نے اسے نیچے گرالیا۔ وہ عورت جو کہیں جارہی تھی ،دوڑتی آئی۔ ادھر سے بچے بھی آگئے۔ انہوں نے اپنی
زبان میں کسی کو پکارا۔ معلوم نہیں کہاں سے دس بارہ آدمی سب ننگے تھے ،دوڑتے آئے۔ ایک نے مارکونی کے ساتھی کی
کمر سے تلوار نکال لی۔ اسے گرالیا گیا اور مارکونی نے دیکھا کہ تلوار سے اس کے ساتھی کی شہ رگ کاٹ دی۔ سب آدمی
ناچنے لگے۔ وہ کچھ گا بھی رہے تھے اور ہنس بھی رہے تھے۔ اتنے میں ایک ضعیف العمر انسان آگیا۔ اس کے ہاتھ میں
اپنے قد جتنا لمبا عصا تھا۔ اسے دیکھ کر سب ایک طرف ہٹ گئے۔
یہ بوڑھا بھی ننگا تھا۔ اس کے عصا کے اوپر والے سرے پر دو سانپوں کے پھن بنے ہوئے تھے۔ یہ فرعونوں کا امتیازی نشان
ہوا کرتا تھا۔ بوڑھے نے مارکونی کے ساتھی کے جسم کو ہاتھ لگایا۔ وہ اب تڑپ نہیں رہا تھا ،مرچکا تھا۔ بوڑھے نے ایک ہاتھ
ہوا میں بلند کیا اور آسمان کی طرف دیکھ کر کچھ کہا۔ تمام ننگے انسان جن میں چند ایک عورتیں بھی تھیں اور بچے بھی،
سجدے میں گر پڑے۔ بوڑھا ابھی تک کچھ بول رہا تھا۔ اس نے ہاتھ پھر اوپر کیا اور سب سجدے سے سراٹھا کر اٹھ کھڑے
ہوئے۔ بوڑھے کو ڈھالن کی طرف اشارے کرکے بتایا جارہا تھا کہ یہ آدمی ادھر سے نیچے آیا ہے۔ بوڑھے کے اشارے پر وہ
لوگ مارکونی کے ساتھی کی الش کو اٹھا لے مارکونی کو یہ خطرہ نظر آنے لگا کہ یہ پراسرار انسان اوپر آکر ہر طرف دیکھیں
گے کہ نیچے گرنے والے کے ساتھی بھی اوپر ہوں گے وہ کچھ دیر وہیں سے نیچے دیکھتا رہا۔
پھر سورج غروب ہوگیا۔ مارکونی نے موت کو قبول کرلیا اور فیصلہ کرلیا کہ وہ اس جگہ اور ان لوگوں کے بھید کو پانے کی
کوشش کرے گا۔ اس نے ایک ہاتھ میں خنجر اور دوسرے ہاتھ میں چھوٹی تلوار لے لی اور ادھر ادھر دیکھتا ایک اور سمت
چل پڑا۔ شام اندھیری ہوتی جارہی تھی۔ وہ اوپر ہی اوپر سے اس طرف جارہا تھا جس طرف وہ اس کے ساتھی کو لے گئے
تھے۔ وہاں کوئی آہٹ اور کوئی آواز نہیں تھی۔ ڈرائونا ساسکوت تھا۔ وہ دائیں بائیں اور پیچھے دیکھتا آگے ہی آگے چلتا گیا۔
وہ نشیب کی گوالئی کے ساتھ ساتھ جارہا تھا۔ اسے دھیمی دھیمی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ جب یہ آوازیں بلند ہوگئیں تو یہ
ناچنے اور گانے کا ترنم اور ہنگامہ تھا۔ وہ ان آوازوں کی سمت گیا تو اسے ایک اور منظر نظر آیا۔ بائیں طرف ایک اور وسیع
نشیبی جگہ تھی۔ کئی مشعلیں جل رہی تھیں ،وہاں بھی سبزہ تھا ،جہاں کم وبیش پچیس مرد ،عورتیں اور بچے آہستہ آہستہ
ناچ اور گا رہے تھے۔ ان کے درمیان بہت سی آگ جل رہی تھی۔ اس کے ذرا اوپر ایک انسانی الش سر اور پائوں سے باندھ
کر زمین کے متوازی لٹکائی ہوئی تھی۔ اسے گھمایا جارہا تھا۔ یہ مارکونی کا ساتھی تھا جسے بھونا جارہا تھا۔ مارکونی یہ
ہولناک منظر دیکھتا رہا… اور اس نے یہ منظر بھی دیکھا کہ بوڑھے نے اس کے ساتھی کے جسم سے گوشت کاٹ کر سب
میں تقسیم کرنا شروع کردیا۔
مارکونی کے دل پر ایسا گہرا اثر ہوا کہ وہاں سے ادھر کو واپس چل پڑا ،جدھر سے آیا تھا۔ اسے راستہ یاد تھا۔ وہ چوکنا
ہوکر چال جارہا تھا۔ وہ اس دیوار پر پہنچا جو تصوروں سے زیادہ گہرے نشیب میں کھڑی تھی۔ یہیں اس کا ایک ساتھی گرا
تھا۔ وہ جب دیوار کے درمیان اس جگہ پہنچا جہاں سے اس کا ساتھی گرا تھا ،اسے دور نیچے غرانے اور بھونکنے کی دبی
دبی آوازیں سنائی دیں۔ وہ سمجھ گیا کہ صحرائی لومڑیاں اس کے ساتھی کو کھا رہی ہیں۔ اس کے دوسرے ساتھی کو تو
انسان کھا گئے تھے۔ اب ہوا تیز نہیں تھی۔ وہ تاریکی میں سنبھل سنبھل کر چلتا اور سرکتا دیوار سے گزر گیا… رات کے
پچھلے پہر وہ اس جگہ پہنچا ،جہاں تین اونٹ بیٹھے تھے۔ اس نے اتنا بھی انتظار نہ کیا کہ اونٹوں کے ساتھ بندھا ہوا پانی
پی لیتا۔ وہ ایک اونٹ پر بیٹھا۔ دو اونٹوں کو ساتھ لیا اور چل پڑا۔
٭ ٭ ٭
وہ اگلے دن کی شام تھی جب مارکونی ایک معزز مصری سودا گر کے روپ میں احمر درویش کے گھر میں داخل ہوا۔ احمر
''نے اسے دیکھتے ہی پوچھا… ''تم اکیلے ہو ،وہ دونوں کہاں ہیں؟
مارکونی جواب دینے کے بجائے بیٹھ گیا۔ اس کے تو ہوش ہی ٹھکانے معلوم نہیں ہوتے تھے۔ اس نے احمر کو اپنے سامنے
بٹھا لیا اور اسے ایک ایک لمحے لمحے اور ایک ایک قدم کی رواداد سنائی۔ احمر کو مارکونی کے دو ساتھیوں کے مرنے کا
ذرہ بھر افسوس نہ ہوا۔ اس نے جب سنا کہ ایک ساتھی کو ننگے آدم خوروں نے کھا لیا ہے تو اس نے خوشی سے اچھل
کر پوچھا… ''کیا تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ ان میں سے کسی کے بھی جسم پر کپڑا نہیں تھا؟… بوڑھے کے عصا
پر دو سانپوں کے پھن تم نے دیکھے تھے؟… تم نے اچھی طرح دیکھا تھا کہ ان لوگوں نے ہمارے آدمی کا گوشت کھالیا
''تھا؟
میں خواب کی باتیں نہیں سنا رہا''۔ مارکونی نے جھنجھال کر کہا… ''مجھ پر جو بیتی ہے ،میں وہ سنا رہا ہوں۔ میں ''
نے یہ اپنی آنکھوں دیکھا ہے جو سنا رہا ہوں''۔
فرعون بھی یہی سنا رہے ہیں جو تم نے سنایا ہے''۔ احمر درویش نے اٹھ کر مارکونی کے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور اسے ''
مسرت کی شدت سے جھنجھوڑتے ہوئے کہا… ''تم نے بھید پالیا ہے۔ مارکونی! یہی ہیں وہ لوگ جن کی مجھے تالش تھی۔
یہ قبیلہ سولہ صدیوں سے وہاں آباد ہے۔ یہ لوگ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ زمانہ انہیں انسان کا گوشت کھانے پر مجبور
کردے گا۔ تم یہ تحریریں نہیں پڑھ سکتے۔ میں نے پڑھ لی ہیں۔ لکھا ہے کہ خزانوں کی حفاظت سانپ کیا کرتے ہیں لیکن
میرے مدفن کی حفاظت انسان کریں گے جو صدیوں بعد سانپ اور درندے بن جائیں گے۔ میرے مدفن کی حدود میں کوئی
انسان داخل ہوگا اسے میرے محافظ کھاجایا کریں گے۔ وقت اور زمانہ انہیں ننگا کردے گا لیکن میں نے جہاں اپنا دوسری دنیا
کا گھر بنایا ہے وہ جگہ اس کی ستر پوشی کرے گی۔ باہر کا کوئی مردان کی عورت پر نظر نہیں ڈال سکے گا جو نظر ڈالے
گا وہ وہاں سے زندہ نہیں جاسکے گا''۔
میں زندہ واپس آگیا ہوں''۔ مارکونی نے کہا۔''
اس لیے کہ تم نیچے نہیں گئے''۔ احمر نے کہا… ''تم نے جن سیاہ رنگ کے پتھریلے پہاڑوں کا ذکر کیا ہے ،وہ پہاڑ ''
اپنے دامن میں کہیں ریمینس کی حنوط کی ہوئی الش اور خزانے چھپائے ہوئے ہیں… اور یہ ننگے لوگ؟… ان کے آبائو اجداد
اور ریمنس کے وقت سے وہاں پہرہ دے رہے ہیں۔ اور پندرہ سولہ صدیاں گزر گئیں۔ میں بتا نہیں سکتا کہ وہ زندہ کس طرح
رہتے ہیں۔ شاید درندوں کی طرح صحرا کے مسافروں کے شکار میں رہتے اور انہیں بھون کر کھالیتے ہیں ،وہاں پانی کی افراط
ہے۔ کھجوروں کی کمی نہیں۔ ان کا زندہ رہنا حیران کن نہیں ،وہ آج بھی فرعونوں کو خدا سمجھتے ہیں اگر ان کے عقیدے
''ٹوٹ چکے ہوتے تو وہ وہاں نہ ہوتے… تم نے ان کے پاس کوئی ہتھیار دیکھے تھے؟
نہیں!''۔''
ان کی تعداد کا کچھ اندازہ''۔''
رات کو جب اکٹھے تھے تو پچیس تھے''۔''
وہ اس سے زیادہ ہو بھی نہیں سکتے''۔ احمر درویش نے کہا۔''
ہاں!'' مارکونی نے کہا… ''میں نے ان کے پاس دو اونٹ بھی دیکھے تھے۔ اونٹ زیادہ بھی ہوسکتے ہیں مگر میں نے ''
صرف دو دیکھے تھے''۔
پھر وہ باہر آتے ہوں گے''۔ احمر درویش نے کہا… ''وہ باہر ضرور آتے ہوں گے۔ مسافروں کو پکڑنے کے لیے انہیں باہر ''
آنا ہی پڑتا ہو گا… سنو مارکونی! غور سے سنو۔ وہاں کوئی ایسا سیدھا راستہ ضرور ہے جس سے وہ باہر آتے اور اندر جاتے
ہوں گے۔ یہ پہاڑوں کا کوئی خفیہ راستہ ہوگا۔ میں نے تمہیں جو راستہ بتایا تھا۔ وہ آنے جانے کا ایسا راستہ نہیں جس سے
بار بار آیا جایا جاسکے۔ وہاں کوئی اور راستہ ہے جو ان ننگے آدم خوروں سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ میں اس کی ترکیب
سوچ چکا ہوں۔ ترکیب یہ ہے کہ وہاں باقاعدہ حملہ کیا جائے۔ ہوسکتا ہے ہمیں اس دیوار نما ٹیلے سے جس سے تمہارے
ایک ساتھی گر کر مرا ہے اور آدمی گرا کر مارنے پڑیں لیکن یہ قربانی ضروری ہے۔ بتائو پچیس تیس نہتے آدمیوں کو جن
میں بچے اور عورتیں بھی ہیں مارنے کے لیے اور ان میں دو تین کو زندہ پکڑنے کے لیے تمہیں کتنے آدمی درکار ہیں؟ کم
سے کم بتائو۔ تم ان آدمیوں کے رہنما اور سربراہ ہوگے''۔
میں ترکیب سمجھ گیا ہوں''۔ مارکونی نے کہا… ''ایک ترکیب میرے دماغ میں بھی آئی ہے۔ ہم انہیں قتل کرسکتے ہیں۔''
دو تین کو زندہ پکڑ سکتے ہیں لیکن میں آپ کو یہ یقین نہیں دال سکتا کہ وہ اس جگہ کے تمام بھید ہمیں بتا دیں گے۔
اپنے قبیلے کو مرتا دیکھ کر وہ بھی مرنے کے لیے تیار ہوجائیں گے لیکن بتائیں گے کچھ نہیں۔ میں ایسی ترکیب کروں گا کہ
ان میں سے ایک دو آدمی باہر کو بھاگ اٹھیں اور ان کا تعاقب کیا جائے۔ راستہ معلوم ہوجائے گا''۔
''تم دانشمند ہو مارکونی!'' … احمر درویش نے کہا… ''بتائو کتنے آدمی ہوں؟''
پچاس!'' مارکونی نے جواب دیا اور کہا… ''زیادہ تر آدمی میرے منتخب کیے ہوئے ہوں گے۔ میں انہیں تالش کرلوں گا ''
مگر مہم کے آغاز سے پہلے میں اپنی شرطیں پیش کرنا چاہتا ہوں''۔
تمہیں منہ مانگا انعام ملے گا''۔ احمر نے کہا۔''
مجھے خزانے سے حصہ ملنا چاہیے''۔ مارکونی نے کہا… ''اتنی خطرناک مہم میرے فرائض میں شامل نہیں۔ میں جاسوس''
اور تخریب کار ہوں۔ مجھے خزانے کی تالش کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ یہ آپ کی ذاتی مہم ہے۔ میں انعام نہیں منہ مانگا
حصہ لوں گا۔ اگر آپ کا منصوبہ کامیاب ہوگیا تو آپ کو ایک ریاست کی حکمرانی مل جائے گی۔ میں جاسوس کا جاسوس
رہوں گا''۔
یہ مہم اور یہ منصوبہ ذاتی نہیں''۔ احمر درویش نے کہا… ''یہ مصر ،صلیب اور سوڈان کی حکمرانی کا منصوبہ ہے''۔''
مارکونی اپنے مطالبہ پر قائم رہا۔ احمر مجبور ہوگیا۔ اسے احساس تھا کہ مارکونی کے سوا ریمینس کے مدفن تک کوئی اور
نہیں پہنچ سکتا۔ اس کے مطالبے ماننے کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا۔ مارکونی نے کہا… ''معلوم نہیں مجھے کتنے دن صحرا
میں رہنا پڑے۔ میں ایسی سخت اور خشک خوراک پسند نہیں کروں گا۔ مجھے دو تین اونٹ فالتو دئیے جائیں جو میں اور
میرے ساتھی بھون کر کھا سکیں اور مجھے قدومی دی جائے''۔
اعلی درجے کی رقاصہ کو تمہارے ساتھ ایسی خطرناک''
قدومی؟'' احمر درویش نے حیرت سے کہا… ''اتنی نازک اور ایسی
ٰ
مہم میں روانہ کردوں؟ وہ جانے پر بھی راضی نہیں ہوگی''۔
اسے زیادہ معاوضہ پیش کریں ،وہ راضی ہوجائے گی''۔ مارکونی نے کہا… ''میں اس کے لیے ایسا انتظام کروں گا کہ وہ ''
محسوس ہی نہیں کرسکے گی کہ وہ صحرا میں ہے اور کسی خطرناک مہم میں شریک ہے۔ میں اس کی قدروقیمت سے واقف
ہوں''۔
یہ اس دور کا واقعہ ہے جب دولت مند تاجر اپنی چہیتی بیویوں کو سفر میں اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ اپنی بیویوں میں سے
کوئی پسند نہ ہوتو کسی من پسند طوائف یا رقاصہ کو منہ مانگا معاوضہ دے کرہمسفر بنا لیتے تھے۔ فوجوں کے کمانڈر بھی
جنگ کے دوران اپنی بیویوں یا کرائے کی خوبصورت عورتوں کو ساتھ رکھا کرتے تھے۔ اس دور میں خوبصورت اور جوان عورت
کوسونے سے زیادہ قیمتی سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ صلیبیوں اور یہودیوں نے سلطنت اسالمی کی جڑیں کھوکھلی کرنے
کے لیے عورت کا استعمال کیا تھا
مار کونی کا یہ مطالبہ کہ وہ ایک رقاصہ کو اپنے ساتھ رکھے گا ،کوئی عجیب یا غیرمعمولی مطالبہ نہ تھا۔ البتہ قدومی کو
اپنے ساتھ لے جانا کچھ عجیب سا تھا۔ قدومی ایک جواں سال رقاصہ تھی جو صرف امراء اور دولت مند افراد کے ہاں جاتی
تھی۔ وہ سوڈان کی رہنے والی تھی اور مسلمان تھی۔ وہ خوبصورت تو تھی ہی مگر اس کے ناز
و ادا میں جو جادو تھا ،اس نے بڑے بڑے لوگوں کے دماغ خراب کررکھے تھے۔ سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ قدومی مارکونی
کے ساتھ صحرا میں چلی جائے گی۔ مارکونی اس کے بغیر جانے پر راضی نہیں ہورہا تھا۔ احمر درویش کو آخر یہ وعدہ کرنا
پڑا کہ وہ قدومی کو اس کے ساتھ بھیج دے گا۔
اسی روز پچاس آدمیوں کی تالش شروع ہوگئی۔ قاہرہ میں صلیبی جاسوسوں اور تخریب کاروں کی کمی نہیں تھی۔ مارکونی
زیادہ تر آدمی انہی میں سے اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا کیونکہ وہ اس کے اعتماد کے آدمی تھے۔ احمر بھی اسی گروہ کے
آدمیوں کا انتخاب کرنا چاہتا تھا۔ سلطان ایوبی کے اس جرنیل نے اپنا ایک تخریب کار گروہ تیار کررکھا تھا۔ یہ سب مسلمان
تھے۔ ان کے اغراض ومقاصد صلیبیوں والے تھے۔ احمر درویش نے اپنا ایمان نیالم کرکے ان چند ایک مسلمانوں کو بھی ایمان
فروش بنا دیا تھا۔ یہ سب صالح الدین ایوبی کے دشمن بن گئے تھے اور ان کا اٹھنا بیٹھنا حسن بن صباح کے فدائیوں کے
ساتھ شروع ہوگیا تھا۔
قدومی کے پاس مارکونی خود احمر درویش کا پیغام لے کر گیا۔ احمر معمولی حیثیت کا آدمی نہیں تھا ،وہ فوجی حاکم تھا اور
مصر پر عمال ً فوج کی حکومت تھی۔ ویسے بھی قدومی احمر کے زیراثر تھی۔ اس نے بادل نخواستہ ہاں کردی لیکن مارکونی
نے اسے یہ بتا کر کہ وہ فرعون کے مدفن میں سے ہیرے جواہرات نکالنے جارہا ہے ،قدومی پر ایسا نشہ طاری کردیا کہ وہ
فورا ً روانہ ہونے کو تیار ہوگئی۔ مارکونی منجھا ہوا چاالک اور ہوشیار آدمی تھا۔ اس نے قدومی کو ملکہ قلوپطرہ بنا دیا۔ قدومی
ایک رقاصہ تھی جس کے کوئی جذبات نہیں تھے۔ اسے اپنے جسم ،اپنے حسن ،اپنے فن اور زروجواہرات سے پیار تھا۔ وہ ان
عورتوں میں سے تھی جو اس خوش فہمی میں مبتال ہوتی ہیں کہ ان کے حسن وجوانی کو کبھی زوال نہیں آئے گا۔ مارکونی
نے اسے یہ نہیں بتایا تھا کہ فرعون کے مدفن سے برآمد ہونے واال خزانہ کہاں اور کیوں صرف کیا جائے گا۔
پچاس آدمیوں کی تالش میں پندرہ بیس دن لگ گئے۔ ان میں زیادہ تعداد صلیبی تخریب کاروں کی تھی۔ باقی مسلمان تھے۔
وہ بھی صلیبیوں کے ہی تخریب کار تھے۔ سب اونٹوں پر سوار ہوکر قاہرہ سے نکل گئے تھے لیکن وہ اکٹھے روانہ نہ ہوئے۔
تین تین چار چار کی ٹولیوں میں مسافروں اور تاجروں کے روپ میں نکلے۔ قدومی کو ایک پردہ دار بیوی کے بہروپ میں لے
جایا گیا۔ مارکونی اس کا خاوند بنا ،ان دونوں کے ساتھ دو آدمی تھے۔ ایک صلیبی تھا اور دوسرا مسلمان جس کا نام اسماعیل
تھا۔ یہ احمر کے خاص آدمیوں میں سے تھا۔ اپنی ضرورت پر اور کرائے پر بھی ہر جرم کر گزرتا تھا۔ کرائے کے قاتلوں میں
سے بھی تھا۔ معاشرے میں اس کی کوئی حیثیت اور عزت نہیں تھی لیکن حیثیت والے لوگ اسے سالم کرتے تھے۔
مارکونی بھی اسے اچھی طرح جانتا تھا اور اس مہم میں اسے قابل اعتماد سمجھتا تھا۔ یہ سب الگ الگ راستوں سے روانہ
ہوئے تھے۔ انہیں اٹھارہ کوس دور وہ جگہ بتا دی گئی تھی جہاں انہیں اکٹھا ہونا تھا۔ ان کے پاس تیروکمان اور تلواریں تھیں۔
رسے اور کھدائی کا سامان تھا۔
سب سے پہلے مارکونی ،اسماعیل ،قدومی اور ان کا ایک صلیبی ساتھی وہاں پہنچے تھے۔ مارکونی انہیں اس پہاڑی عالقے کے
اندر لے گیا تھا۔ سورج غروب ہوچکا تھا اور انہوں نے خیمے لگا لیے تھے۔ اسی رات ان کے ساتھیوں کو پہنچ جانا تھا۔
اسماعیل قدومی کو جانتا تھا۔ قدومی اس سے واقف نہیں تھی
٭ ٭ ٭
ایک وہ محاذ تھا جس پر نورالدین زنگی لڑ رہا تھا۔ اس نے کرک کا قلعہ فتح کرکے وہاں کے اور مضافات کے عالقوں میں
انتظامات مکمل کرلیے تھے۔ اس کے گشتی دستے دور دور تک گشت کرتے تھے تاکہ صلیبی کسی طرف سے جوابی حملے کے
لیے آئیں تو قبل از وقت اطالع مل جائے۔ ان دستوں کا تصادم صلیبی دستوں سے ہوتا رہتا تھا۔ زنگی تمام انتظامات سلطان
ایوبی کی فوج کے حوالے کرکے بغداد واپس جانے کی تیاریاں کرنا چاہتا تھا۔ وہ سلطان ایوبی کے انتظار میں تھا مگر سلطان
ایوبی دوسرے محاظ پر لڑ رہا تھا جو صلیبیوں اور ان کے پیدا کردہ غداروں نے مصر میں کھول رکھا تھا۔ یہ محاذ زیادہ
خطرناک تھا۔ سلطان ایوبی اس زمین دوز محاذ پر لڑنے کی اہلیت رکھتا تھا۔ وہ خوب مقابلہ کررہا تھا مگر اسے ابھی پتا
نہیں چال تھا کہ ایک محاذ اور بھی کھل گیا ہے۔ یہ تھا ''فرعونوں کے مدفون کی تالش''۔
شام کے کھانے کے بعد سلطان ایوبی اس کمرے میں گیا ،جہاں وہ اپنے ساالروں اور دیگر حکام کو اکٹھا کرکے احکامات اور
اعلی کمانڈروں کے عالوہ علی بن سفیان اور غیاث بلبیس بھی تھے۔ سلطان ایوبی کو اسی
ہدایات دیا کرتا تھا۔ وہاں فوج کے
ٰ
روز نورالدین زنگی کا ایک طویل تحریری پیغام مال۔ اس نے اس پیغام کے ضروری حصے کمانڈروں کو سنائے۔ زنگی نے لکھا
تعالی تمہیں زندہ سالمت رکھے۔ اسالم کو تمہاری بہت ضرورت ہے۔ کرک اور گردوپیش کے
تھا… ''عزیز صالح الدین اللہ
ٰ
عالقے دشمن سے صاف ہوچکے ہیں۔ گشتی دستے جاتے ہیں تو صلیبیوں کا کوئی دستہ کبھی
ہمارے کسی دستے سے الجھ پڑتا ہے۔ صلیبی مجھ پر یہ رعب ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ ابھی یہیں ہیں۔ تمہارے
تیار کیے ہوئے چھاپہ مار دستے تعریف کے قابل ہیں۔ یہ بہت دور تک چلے جاتے ہیں تم نے ان پر جو محنت کی ہے وہ
اس کا صلہ دے رہے ہیں۔ تمہارے جاسوس ان سے بھی دلیر اور عقل مند ہیں۔ ان کی نظروں سے میں اتنی دور بیٹھا ہوا
''دشمن کی ہر ایک حرکت دیکھ رہا ہوں۔
تازہ اطالع یہ ہے کہ صلیبی شاید جوابی حملہ نہ کریں۔ وہ ہمیں اشتعال دال رہے ہیں کہ ہم آگے جاکر ان پر حملہ کریں۔ '
تم جانتے ہو کہ بیت المقدس جو ہماری منزل ہے اور قبلٔہ اول جو ہمارا مقصود ہے کتنی دور ہے۔ میں جانتا ہوں کہ تم ان
فاصلوں سے اور ان مسافتوں سے گھبرانے والے انسان نہیں ہو لیکن فاصلے زیادہ نہیں ،دشواریاں اور رکاوٹیں زیادہ ہیں۔ بیت
المقدس تک ہمیں بہت سے قلعے سرکرنے ہوں گے۔ ان میں چند ایک قلعے تو بہت مضبوط ہیں۔ صلیبیوں نے قبلٔہ اول کا
دفاع دور دور کی قلعہ بندیوں کی صورت میں بہت مضبوط کررکھا ہے۔ جاسوسوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ صلیبی اس کوشش
میں ہیں کہ یونانیوں ،بازنطینیوں اور اطالویوں کا بحری بیڑہ متحدہ ہوجائے اور مصر پر حملہ آور ہوکر شمالی عالقے میں فوجیں
اتار دے۔ تمہیں اس صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ پیش بندی کرلو۔ تمہارے پاس دور مار آتشیں ،گولے پھینکنے والی
منجنیقیں زیادہ ہونی چاہئیں۔ میں یہ مشورہ دوں گا کہ شمالی عالقے کی زمین اجازت دے تو دشمن کے بحری بیڑے کو ساحل
تک آنے دو۔ وہاں مزاحمت نہ کرو ،دشمن کو اس خوش فہمی میں مبتال کردو کہ اس نے تمہیں بے خبری میں آن دبوچا ہے۔
…''فوجیں اتر آئیں تو جہازوں پر آگ برسائو اور صلیبی فوج کو اپنی پسند کے میدان میں گھسیٹ الئو
میں تمہاری مجبوریوں سے بے خبر نہیں ہوں۔ تمہارے قاصد نے تمام حاالت بتائے ہیں۔ رب کعبہ کی قسم ،صلیبیوں کی ساری
بادشاہیاں طوفان کی طرح آجائیں تو بھی امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ امت لہو دینا
جانتی ہے۔ یہ سرفروشوں کی امت ہے مگر ایمان فروشوں نے ہمیں زنجیریں ڈال رکھی ہیں۔ تم قاہرہ میں قید ہوگئے ہو میں
بغداد سے نہیں نکل سکتا۔ عورت ،شراب اور زرو دولت نے ہماری صفوں میں شگاف کرڈالے ہیں۔ اگر ہمارے گھر میں سکون
اور اعتماد ہوتا تو ہم دونوں صلیب کا مقابلہ کرتے مگر کفار نے ایسا طلسم پیدا کیا ہے کہ مسلمان بھی کافر ہوگئے ہیں۔ یہ
کافر مسلمان اتنے مردہ ہوچکے ہیں کہ یہ احساس بھی نہیں رکھتے کہ ان کا دشمن ان کی بیٹیوں کی عصمت سے کھیل رہا
ہے۔ کرک کے مسلمان بہت بری حالت میں تھے۔ صلیبیوں نے ان پر جو مظالم ڈھائے ،وہ سنو تو لہو کے آنسو روئو۔ میں
…اپنی قوم کے غداروں کو کیسے سمجھائوں کہ دشمن کی دوستی دشمنی سے زیادہ خطرناک ہے
تم نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ تمہارے اپنے بھائی اور اچھے اچھے حاکم اور کمان دار تمہارے ہاتھوں قتل ہو رہے ہیں۔''
صالح الدین ایوبی! افسوس اس پر نہیں کہ وہ تمہارے ہاتھوں قتل ہوئے ،افسوسناک امر یہ ہے کہ وہ غدار ہوئے اور یہ بھی
افسوسناک ہے کہ صلیبی خوش ہورہے ہوں گے کہ وہ مسلمانوں کو مسلمان کے ہاتھوں قتل کرا رہے ہیں۔ تم غداروں کو بخش
نہیں سکتے۔ غدار کی سزا قتل ہے… میں تمہار انتظار کررہا ہوں۔ تم جب آئو تو تمہارے ساتھ فوج زیادہ ہونی چاہیے۔ صلیبی
تمہیں قلعہ بندیوں میں لڑا کر تمہاری طاقت زائل کرنا چاہتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بیت المقدس کے راستے میں ہی تم
بے دست پا ہوجاو۔ تم جب آئو تو مصر کے اندرونی حاالت کو پوری طرح قابو میں کرکے آنا۔ سوڈانیوں کی طرف سے چوکنا
رہنا۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے سامنے کچھ مالی مسائل بھی ہیں۔ میں تمہاری مدد کرنے کی کوشش کروں گا۔ بہتر ہے
کہ اپنے مسائل خود ہی حل کرنے کی کوشش بھی کرو کہ قاہرہ سے جلدی نکل آئو لیکن اندر اور باہر کے حاالت دیکھ کر
وہاں سے نکلنا۔ اللہ تمہارا حامی ہے''۔
صالح الدین ایوبی نے مجلس کے حاضرین کو یہ پیغام پڑھ کر سنایا اور انہیں یہ امید افزا خبریں سنائیں کہ فوج میں شامل
ہونے کے لیے دیہاتی عالقے سے لوگ آنے لگے ہیں۔ توہم پرستی کی جو مہم دشمن نے شروع کی تھی وہ ختم کردی گئی
ہے لیکن کہیں کہیں اس کے اثرات باقی ہیں۔ ایک فتور مسجدوں سے بھی اٹھا تھا۔ اسے بھی دبا لیا گیا ہے۔ تین چار
اماموں نے انہیں توہمات کو جو صلیبیوں نے ہمارے مذہب میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی ،لوگوں کے ذہنوں میں ڈالنا
شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے اپنے آپ کو خدا کا ایلچی بنا لیا تھا۔ ہمارے سامنے ایسے لوگ آئے ہیں جو کسی مصیبت کے
وقت براہ راست خدا سے دعا مانگنے کے بجائے اماموں کو نذرانے دیتے رہے کہ وہ ان کے لیے دعا کریں۔ یہ وہم پھیال دیا
گیا تھا کہ عام آدمی خدا سے کچھ نہیں مانگ سکتا ،نہ خدا اس کی سنتا ہے۔ سلطان ایوبی نے کہا…… ''میں نے ان
اماموں کو مسجدوں سے نکال دیا ہے اور مسجدیں ایسے اماموں کے حوالے کردی ہیں جن کے نظریات اور عقیدے قرآن کے
عین مطابق ہیں۔ وہ اب لوگوں کو یہ سبق دے رہے ہیں کہ مسلمان کا خدا عالم اور بے علم کے لیے ،امیر اور غریب کے
لیے ،حاکم اور رعایا کے لیے ایک جیسا ہے۔ وہ ہر کسی کی دعا سنتا ہے۔ اچھے عمل کی جزا اور برے عمل کی سزا دیتا
ہے۔ میں اپنی قوم میں یہی قوت اور یہی جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو اور خدا کو سمجھنے کی
کوشش کریں۔ میرے دوستو! تم نے دیکھ لیا ہے کہ تمہارا دشمن صرف میدان جنگ میں نہیں لڑ رہا۔ وہ تمہارے دلوں میں نئے
عقیدے ڈال رہا ہے۔ یہودی اس مہم میں پیش پیش ہے۔ یہودی اب کبھی تمہارے آمنے سامنے آکر نہیں لڑے گا۔ وہ تمہارے
ایمان کو کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس عمل میں اتنی جلدی کامیاب نہیں ہوسکتا لیکن وہ ناکام بھی نہیں ہوگا۔ وہ
وقت آئے گا جب خدا کی دھتکاری ہوئی یہ قوم مسلمانوں کو کمزور دیکھ کر ایسی چال چلے گی کہ اپنے مقصد کو پالے گئی۔
اس کا خنجر سلطنت اسالمیہ کے سینے میں اتر جائے گا۔ اگر اپنی تاریخ کو اس ذلت سے بچانا چاہتے ہو تو آج ہی پیش
بندی کرلو۔ اپنی قوم کے قریب جاو۔ اپنے آپ کو حاکم اور قوم کو محکوم سمجھنا چھوڑ دو۔ ان میں اتنا وقار پیدا کرو کہ یہ
قومی وقار پر جانیں قربان کردیں''۔سلطان ایوبی نے بتایا کہ صلیبیوں کے پاس عورت اور دولت ہے اور ہمارے ہاں ان دونوں
کا اللچ موجود ہے۔ ہمارے سامنے ایک مہم یہ بھی ہے کہ قوم کے دل سے عورت اور دولت کا اللچ نکال دیں۔ اس کے لیے
اعلی کمانڈر نے کہا… ''ہمیں دولت کی ضرورت بھی ہے،
ایمان کی مضبوطی کی ضرورت ہے۔ ''امیر محترم!'' ایک
ٰ
اخراجات پورے کرنے مشکل ہورہے ہیں۔ ہمیں بعض کاموں میں مشکل پیش آتی ہے''۔ ''میں یہ مشکل آسان کردوں گا''۔
سلطان ایوبی نے کہا… ''تمہیں یہ حقیقت ہمیشہ کے لیے قبول کرنی پڑے گی کہ مسلمانوں کے پاس دولت کی اور فوج کی
کمی رہی ہے اور رہے گی۔ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علی و آلہ وسلم نے پہلی جنگ تین سو تیرہ مجاہدین کی طاقت سے
لڑی تھی۔ اس کے بعد مسلمان جہاں بھی لڑے ،اسی تناسب سے لڑے۔ مسلمانوں کے پاس دولت کی کمی کبھی نہیں رہی۔
دولت چند ایک افراد کے گھروں میں چلی گئی۔ اب بھی ہماری قوم کا یہی حال ہے۔ چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے جو مالک
مسلمان ہیں ،ان کے پاس دولت کے ڈھیر پڑے ہیں''۔ ''دولت کے ڈھیر یہاں بھی پڑے ہیں ،ساالراعظم''۔ غیاث بلبیس نے
کہا… ''اگر آپ اجازت دیں تو ہم ایک نئی مہم شروع کرسکتے ہیں… آپ کو معلوم ہے کہ مصر خزانوں کی سرزمین ہے۔
یہاں جو فرعون بھی مرا وہ اپنا تمام تر خزانہ اپنے ساتھ زمین کے نیچے لے گیا۔ وہ خزانے کس کے تھے؟ یہ اس غریب
مخلوق کی دولت تھی جسے بھوکا رکھ کر اس سے سجدے کرائے گئے۔ اس دور کے انسان نے فرعون کو خدا صرف اس لیے
کہا تھا کہ وہ انسان بھوکا تھا۔ اس کی قسمت فرعونوں کے ہاتھ میں تھی۔ اس کی زندگی اور موت بھی فرعونوں نے اپنے
ہاتھ میں لے لی تھی۔ انسانوں سے زمین کھدوا کر اور پہاڑ کٹوا کر فرعونوں نے اپنے زمین دوز مقبرے بنائے ،تو وہ ایسے
جیسے ان کے محل تھے۔ ان میں انہوں نے وہ دولت ڈھیر کرلی جو لوگوں کی تھی۔ اگر آپ اجازت دیں تو ہم فرعونوں کے
زمین دوز مقبروں اور مدفنوں کی تالش شروع کردیں اور خزانے ملک اور قوم کی خاطر استعمال کریں''۔غیاث بلبیس کی تائید
میں کئی آوازیں اٹھیں…'' یہی صحیح ہے امیر محترم! ہم نے اس سے پہلے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا''… ہم اس مہم
میں فوج کو استعمال کرسکتے ہیں… ''شہری آبادی سے ایک لشکر جمع کیا جاسکتا ہے''… ہاں ہاں ،غیر فوجیوں کو
استعمال کیا جائے اور انہیں اجرت دی جائے''۔مجلس میں ہنگامہ سا بپا ہوگیا۔ ہر کوئی کچھ نہ کچھ کہہ رہا تھا اگر کوئی
خاموش تھا تو وہ صالح الدین ایوبی تھا۔ مجلس میں بہت دیر بعد یہ احساس پیدا ہوا کہ ان کا امیر اور ساالر اعظم خاموش
ہے۔ مجلس پر بھی خاموشی طاری ہوگئی۔ سلطان ایوبی نے سب پر نگاہ ڈالی اور کہا…''میں اس مہم کی اجازت نہیں دے
سکتا جس کی تجویز غیاث بلبیس نے پیش کی ہے''… مجلس پر سناٹا طاری ہوگیا۔ کسی کی توقع نہیں تھی کہ سلطان
ایوبی اس تجویز کو ٹھکرا دے گا۔ اس نے کہا… ''میں نہیں چاہتا کہ مرنے کے بعد تاریخ مجھے قبر چور اور مقبروں کا ڈاکو
کہے۔ تاریخ نے مجھے ذلیل کیا تو اس میں تمہاری بھی ذلت ہوگی۔ آنے والی نسلیں کہیں گی کہ صالح الدین ایوبی کے مشیر
اور وزیر بھی قبر چور تھے۔ صلیبی اس الزام کو خوب اچھالیں گے اور تمہاری قربانیوں اور جذبٔہ اسالم کو ڈکیتی اور راہزنی کا
نام دے کر تمہیں تمہاری ہی نسلوں میں رسوا کردیں گے اور تم ہی نہیں ،ہماری تاریخ ذلیل اور رسوا ہوجائے گی''۔
''گستاخی معاف امیر محترم!''… علی بن سفیان نے کہا… ''تھوڑے سے عرصے کے لیے مصر صلیبیوں کے قبضے میں آیا
تھا۔ انہوں نے سب سے پہلے یہاں کے خزانوں کی تالش شروع کی تھی۔ ۔ قاہرہ کے مضافات میں ہم نے جن کھنڈروں سے
صلیبی تخریب کاروں اور فدائیوں کا ایک گروہ پکڑا تھا ،وہ کسی فرعون کا مدفن تھا۔ وہاں سے وہ سب کچھ لے گئے تھے۔
صلیبیوں کی حکومت زیادہ دیر قائم نہ رہی ،ورنہ وہ یہاں کے تمام خزانے نکال کر لے جاتے۔ محترم غیاث بلبیس نے ٹھیک
کہا ہے کہ یہ خزانے اگر کسی کی ملکیت ہیں تو وہ فرعون نہیں تھے۔
20:03
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔61۔ جب خزانہ مل گیا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تو وہ فرعون نہیں تھے۔ان کے مالک اس وقت کے انسان تھے۔ میں یہ مشورہ پیش کرنے کی جرٔات ضرور کروں گا کہ یہ
خزانے نکال کر آج کے انسان کی فالح وبہبود اور وقار کے لیے استعمال کیے جائیں''۔ ''اور میں تمہیں یہ بھی بتا دوں''…
سلطان ایوبی نے کہا… ''کہ یہ خزانے تمہارے سامنے آئے تو تم بھی فرعون بن جاو گے۔ انسان کو یہ جرٔات کس نے دی
تھی کہ وہ اپنے آپ کو خدا سمجھے؟… دولت اور دولت کی ہوس نے۔ انسان کو انسان کے آگے سجدہ کس نے کرایا تھا؟…
مفلسی اور بھوک نے۔ تم صلیبیوں کی بات کرتے ہو کہ انہوں نے فرعونوں کے ایک مدفن کو لوٹا۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ
جب پہلے فرعون کی الش تمام تر خزانے کے ساتھ زمین میں دبائی گئی تھی ،قبر چوری اسی وقت شروع ہوگئی تھی۔ انسان
وحشیوں اور درندوں کی طرح پہلے فرعون کے مدفن پر ٹوٹ پڑے تھے۔ ان کا دین اور ایمان صرف دولت بن گیا تھا پھر
فرعون مرکز اپنے خزانے زمین میں لے جاتے رہے اور قبر چوری باقاعدہ پیشہ بن گئی۔ اس کے بعد ہر فرعون نے اپنی زندگی
میں ہی اپنا مدفن کسی ایسی جگہ تیار کرایا کہ کوئی اسے کھول نہ سکے اور جب فرعونوں کا دور ختم ہوگیا تو مصر جس
کے قبضے میں بھی آیا اس نے اس چھپے ہوئے خزانوں کی تالش شروع کردی۔ میں جانتا ہوں کہ فرعونوں کے بہت سے
مدفن ایسے ہیں جن کے متعلق کوئی جانتا ہی نہیں کہ کہاں ہیں۔ وہ زمین دوز محل ہیں۔ قیامت تک مصر کے حکمران اور
حملہ آور ان مدفنوں کو ڈھونڈتے رہیں گے''… ''ان تمام حکومتوں کو زوال کیوں آیا؟ صرف اس لیے کہ ان کی توجہ خزانوں
پر مرکوز ہوگئی تھی۔ رعایا کو یہ تاثر دیا گیا کہ دولت ہے تو عزت ہے۔ ہاتھ خالی ہے تو تم بھی اور تمہاری بیٹیاں بھی ان
کی ہیں جن کے پاس دولت ہے…میرے رفیقو! صالح الدین ایوبی کو اس قطار میں کھڑا نہ کرو۔ میں اپنی قوم کو یہ تاثر دینا
چاہتا ہوں کہ اصل دولت قومی وقار اور ایمان ہے لیکن یہ تاثر صرف اس صورت میں پیدا کیا جاسکتا ہے کہ میں خود اور تم
سب جو حکومت کے ستون ہو ،دل سے دولت کا اللچ نکال دو''۔ ''ہم ان خزانوں کی تالش ذاتی اللچ کے لیے نہیں کرنا
چاہتے'' ۔ ایک کمانڈر نے کہا… ''ہم قومی ضروریات کے پیش نظر یہ مہم شروع کرنا چاہتے ہیں''۔ ''میں جانتا ہوں میرا
انکار تم میں سے کسی کو پسند نہیں''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''میری بات سمجھنے کے لیے تمہیں اپنے ذہن بالکل خالی
کرنے ہوں گے۔ میری عقل مجھے بتا رہی ہے کہ باہر سے آئی ہوئی دولت جو قومی ضروریات کے لیے آئی ہو ،حاکموں کے
ایمان متزلزل کرتی ہے۔ یہ دولت کی لعنت ہے اگر میرے پاس گھوڑا خریدنے کے لیے رقم نہیں ہوگی تو میں فوج کے ساتھ
پیدل بیت المقدس جاوں گا۔ گھوڑا خریدنے کے لیے مردوں کے کفن اتار کر نہیں بیچوں گا۔ میرا مقصد بیت المقدس کو صلیبیوں
سے آزاد کرانا ہے۔ گھوڑا خریدنے کے لیے رقم کا حصول میرا مقصد نہیں۔ تم جب خزانوں کی تالش کرنے لگو گے تو قوم میں
ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے طور پر چوری چھپے مقبروں کو اکھاڑنے لگیں گے۔ مصر میں ایسا ہوتا آیا ہے اور جب یہ
خزانے تمہارے سامنے آئیں گے تو تم ایک دوسرے کے اگر دشمن نہ ہوئے تو ایک دوسرے کو شک کی نگاہوں سے ضرور دیکھو
گے۔ جہاں خزانے آجاتے ہیں ،وہاں انسانی محبت ختم ہوجاتی ہے۔ حقوق العباد کا جذبہ ختم ہوجاتا ہے۔ ان زروجواہرات نے
انسان کو خدا بنایا تھا۔ وہ عذاب کہاں ہیں؟ آسمانوں پر نہیں ،زمین کے نیچے ہے۔ میرے رفیقو! میں ایک نئے جرم کی بنیاد
نہیں ڈالنا چاہتا۔ ان خزانوں سے بچو۔ یہ خزانوں کے اللچ کا ہی کرشمہ ہے کہ تمہاری صفوں میں غدار بھی موجود ہیں۔ تم
دو غداروں کو قتل کرتے ہو تو چار اور پیدا ہوجاتے ہیں۔ اپنی تقدیر ،اپنی تدابیر سے بنائو۔ تم مسلمان ہو ،اپنی قسمت کفار
کے ہاتھوں میں نہ دو۔ ورنہ سب غدار ہوجائو گے۔ فرعون مرچکے ہیں۔ انہیں زمین کی تہوں میں دبا رہنے دو''۔ ''آپ کے
حکم کے بغیر ہم ایسی کوئی مہم شروع نہیں کریں گے''۔ کسی نے کہا۔ ''غیاث!'' سلطان ایوبی نے غیاث بلبیس سے
مسکرا کر پوچھا… ''آج تمہیں ان پوشیدہ خزانوں کا خیال کیسے آگیا ہے؟ مجھے یہاں آئے چار سال ہوگئے ہیں۔ اس سے
پہلے یہ تجویز کیوں پیش نہ کی''۔ ''میں نے ایسا کبھی نہیں سوچا تھا امیر محترم!'' غیاث بلبیس نے کہا… ''تقریبا ً دو
مہینے ہوئے کتب خانے کے محرر نے مجھے بتایا تھا کہ پرانے کاغذات میں سے کچھ کاغذات گم ہوگئے ہیں۔ میں نے ان
کاغذات کی نوعیت اور اہمیت پوچھی تو اس نے بتایا کہ وہ ایسے اہم نہیں تھے کہ تالش ضروری سمجھی جائے۔ یہ کچھ
نقشے سے تھے اور فرعونوں کے وقتوں کی تحریریں تھیں۔ بہت ہی بوسیدہ اور کرم خوردہ کاغذات اور کپڑے تھے۔ محرر نے
جب فرعونوں کا نام لیا تو مجھے خیال آیا کہ ان تحریروں اور نقشوں میں فرعونوں
کے خفیہ مقبروں کے متعلق معلومات ہوسکتی ہیں۔ میں نے وہ پلندے دیکھے ،جن میں سے کاغذات گم ہوئے تھے۔ میں نے
یہ سوچ کر زیادہ توجہ نہیں دی کہ ان تحریروں کو آج کون پڑھ اور سمجھ سکتا ہے''۔ ''تم نے صحیح نہیں سوچا غیاث
بلبیس!'' سلطان ایوبی نے کہا… ''مصر میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ان تحریروں اور اشاروں کو سمجھ سکتے ہیں۔ ان
کاغذوں اورنقشوں کی چوری حیران کن نہیں۔ یہ چوری خزانے کے کسی اللچی نے کی ہوگی۔ ان کاغذوں کے ساتھ مجھے کوئی
دلچسپی نہیں ،مجھے چور کے ساتھ دلچسپی ہے۔ وہ کوئی تمہارا ہی رفیق نہ ہو۔ اس چور کا سراغ لگائو''۔ ''مجھے شبہ
ہونے لگا ہے کہ ان کاغذوں کی کچھ اہمیت ضرور ہے''۔ علی بن سفیان نے کہا… ''میں محترم غیاث بلبیس کے ساتھ بات
کرچکا ہوں۔ بہت دنوں سے ہمارے مخبر اور شہر کے اندر کے جاسوس ہمیں کسی پراسرار سرگرمی کی اطالع دے رہے ہیں۔
قدومی یہاں کی ایک مشہور رقاصہ ہے ،جسے امیروں کی محفلوں کی شمع کہا جاتا ہے ،پانچ چھ دنوں سے غائب ہے۔ ایک
رقاصہ کا شہر سے غیرحاضر ہوجانا کوئی اہم واقعہ نہیں ہوا کرتا لیکن قدومی کو میں نے خاص طور پر نظر میں رکھا ہوا ہے۔
میرے مخبروں نے بتایا ہے کہ اس کے ہاں اجنبی اور مشکوک سے دو آدمی آتے رہے ہیں۔ پھر قدومی کے گھر سے ایک روز
ایک پردہ پوش عورت کو نکلتے دیکھا گیا۔ وہ ایک اجنبی تاجر مسافر کے ساتھ جارہی تھی۔ مجھے شک ہے کہ قدومی بھیس
بدل کر نکل گئی ہے۔ دوسرے مخبروں کی اطالعوں سے پتا چلتا ہے کہ کچھ آدمی جنوب کی طرف مشکوک حالت میں جاتے
دیکھے گئے ہیں۔ ان سرگرمیوں سے مجھے شک ہوتا ہے کہ ان کا تعلق ان گمشدہ کاغذات کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے اور یہ
شبہ بھی ہے کہ یہ صلیبی تخریب کار ہوں گے۔ جو کچھ بھی ہے ہم ان سرگرمیوں کا کھوج لگا رہے ہیں''۔ ''ضرور کھوج
لگائو'' ۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''اور ان خزانوں کو اپنے ذہنوں سے اتار دو۔ میں جانتا ہوں کہ قوم کی فالح وبہبود کے لیے
اور صلیبیوں سے فیصلہ کن جنگ لڑنے کے لیے ہمیں مالی استحکام کی ضرورت ہے مگر میں کسی سے مدد نہیں مانگوں گا۔
محترم نورالدین زنگی نے مالی امداد کا وعدہ کیا ہے۔ میں یہ امداد بھی قبول نہیں کروں گا۔ مالی امداد سگے بھائی سے ملے
تو بھی انسانی صالحیتوں کے لیے محنت اور دیانت داری کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے پھر انسان خزانوں کی تالش میں مارا
مارا پھرنے لگتا ہے۔ مصر کی زمین بانجھ نہیں ہوگئی۔ محنت کرو کہ یہ زمین تمہیں ثمر دے۔ قوم کو بتاو کہ حکومت پر اس
کے حقوق کیا ہیں تاکہ وہ اپنے آپ کو رعایا سمجھنا چھوڑ دے اور قوم کو یہ بھی بتائو کہ اس کے فرائض کیا ہے اگر قوم
نے فرائض سے نگاہیں پھیر لیں تو حقوق پامال ہوجائیں گے۔ تم جس زمین کی پاسبانی میں خون نہیں بہائو گے اور جس کے
وقار کے لیے پسینہ نہیں بہائو گے ،وہ تمہارا حق کبھی ادا نہیں کرے گی۔ پھر اس ملک کے حکمران باہر کے خزانوں کی
''تالش میں نکل کھڑے ہوں گے اور قوم افراد میں منتشر ہوکر کفار کی غالم ہوجائے گی
۔٭ ٭ ٭جن خزانوں کو سلطان صالح الدین ایوبی ہاتھ لگانے سے بھی گریز کرتا تھا ،ان تک اس کے اپنے ہی ایک جرنیل کے
بھیجے ہوئے پچاس آدمی پہنچ گئے تھے۔
مارکونی ،اسماعیل ،قدومی اور ایک اور صلیبی شام کو پہنچے۔ ان کے باقی ساتھی جو الگ الگ ٹولیوں میں روانہ ہوئے تھے،
اسی رات پہنچنا شروع ہوئے اور آدھی رات کے بعد پورے پچاس آدمی پہنچ گئے۔ جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے ،یہ جگہ ایسی
تھی جس کے قریب سے کبھی کوئی مسافر نہیں گزرا تھا۔ جگہ ڈرائونی ہونے کے عالوہ کسی راستے پر پڑتی ہی نہیں تھی۔
یہ چونکہ سرحد سے دور تھی ،اس لیے سرحدی دستوں کی نظر میں بھی نہیں تھی۔ مارکونی نے رات کو ہی سب کو اس
خطے کے اندر پہنچا دیا تاکہ باہر سے کوئی دیکھ ہی نہ سکے اور انہیں مکمل آرام دینے کے لیے کہا کہ وہ جتنی دیر سو
سکتے ہیں ،سوجائیں۔ یہاں سے آگے پیدل جانا ہوگا اور یہ سفر جسم کے بجائے اعصاب کو زیادہ تھکائے گا۔ مارکونی خود
قدومی کے ساتھ اپنے خیمے میں چال گیا۔وہ سب اس وقت جاگے جب سورج ان ٹیلوں کے اوپر آگیا جس کے دامن میں سب
سوئے ہوئے تھے۔ مارکونی نے انہیں بتایا کہ وہ کون کون سا سامان ،اوزار اور ہتھیار وغیرہ اپنے ساتھ لیں۔ ان میں مضبوط
رسے ،کدالیں اور موٹی موٹی سالخیں تھیں اور ہتھیاروں میں تیروکمان اور تلواریں۔ راستے کی مشکالت کے متعلق بھی اس نے
سب کو بتا دیااس دیوار کے متعلق بھی انہیں ذہنی طور پر تیار کردیا،کہ اس سے اس کا ایک ساتھی گر کر ہمیشہ کے لیے
الپتہ ہو گیا
اس نے انہیں رونے کی آوازوں سے بھی خبردار کردیا جو اس عالقے میں سنائی دیتی تھیں۔ اونٹوں کو ساتھ نہیں لے جایا
جاسکتا ان کی دیکھ بھال کے لیے اس نے صرف ایک آدمی پیچھے رہنے دیا۔ قدومی کو بھی وہ ساتھ نہیں لے جاسکتا تھا۔
اسے توقع تھی کہ کہیں کوئی راستہ اندر جانے کے لیے مل ہی جائے گا اور وہ قدومی کو اس راستے سے لے جائے گا۔
قدومی کی حفاظت کے لیے بھی ایک آدمی کی ضرورت تھی۔ اس کے لیے صرف اسماعیل موزوں آدمی تھا۔مارکونی نے
اسماعیل سے کہا… ''تم قدومی کے لیے یہیں رہو گے لیکن یہ خیال رکھنا کہ تمہاری حیثیت اس لڑکی کے مقابلے میں کچھ
بھی نہیں۔ اس کے آرام اور حفاظت کے تم ذمہ دار ہوگے۔ میں بہت جلدی واپس آرہا ہوں ،تم دونوں کو ساتھ لے جاوں گا''۔
وہ اپنی پارٹی کو ساتھ لے کر چل پڑا۔ اس راستے سے وہ واقف ہوچکا تھا۔ بے خوف وخطر چلتا گیا ،جوں جوں یہ آدمی
آگے بڑھتے جارہے تھے ان پر خوف مسلط ہوتا جارہا تھا۔ وہ صحرائوں سے پوری طرح واقف تھے مگر ایسا خطہ اور اس قسم
کے پہاڑ انہوں نے کبھی نہیں دیکھے تھے اور وہ جب اس جگہ پہنچے جہاں رونے کی آوازیں آتی تھیں تو سب بدک کر
خالئوں میں دیکھنے لگے۔ بالشک وشبہ عورتیں رو رہی تھیں۔ ان آدمیوں میں دو تین ایسے بھی تھے جنہوں نے اس عالقے
کے متعلق وہ تمام ڈرائونی کہانیاں سن رکھی تھی جو بہت مدت سے مشہور تھیں۔ انہوں نے اپنے صلیبی ساتھیوں کو بھی یہ
کہانیاں سنا کر ڈرا دیا۔ وہ سب ڈر کی گرفت میں پہلے ہی تھے لیکن انہیں جو انعام بتایا گیا تھا ،اس میں اتنی طاقت تھی
جو ان کے خوف کو دبا رہی تھی۔ اس کے عالوہ وہ صلیب کے تنخواہ دار مالزم بھی تھے اور مارکونی ان کا افسر تھا۔ وہ
انعام اور حکم کی پابندی کے تحت چلے جارہے تھے۔رونے کی آوازوں پر وہ بدکے تو مارکونی نے انہیں بتایا کہ یہ عورتیں یا
عورتوں کی بدروحیں نہیں ،یہ ہوا کی آوازیں ہیں مگر وہ ڈرتے رہے اور ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر آگے بڑھتے گئے۔اس
وقت سورج غروب ہورہا تھا ،جب وہ اس وسیع اور بے انتہا گہرے نشیب تک پہنچے جو انہیں قدرتی دیوار پر چل کر پار کرنا
تھا۔ مارکونی کو وہاں کچھ مشکل پیش آئی۔ دیوار پر پاوں رکھنے سے سب گھبراتے تھے۔ مارکونی آگے آگے چال۔ وہ ایک بار
اس خطرے سے گزر چکا تھا۔ اس کے پیچھے دوسرے آدمی نے دیوار پر قدم رکھا اور پھر باقی بھی چل پڑے۔ سورج اس
جہنم میں ہی روپوش ہوگیا تھا۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ کھائی کی گہرائی نظر نہیں آتی تھی۔ مارکونی دیوار عبور کرگیا۔ اسے
ایسی چیخ سنائی دی جو تہہ کی طرف جارہی تھی۔ ذرا دیر بعد ایک اور ہیبت ناک چیخ سنائی دی۔ یہ بھی دور نیچے جاکر
ایک دھیمی سی دھمک میں خاموش ہوگئی۔ ایسی پانچ چیخیں سنائی دیں… یہ گروہ جب دیوار سے گزر کر کچھ آگے جا کر
جمع ہوا تو اس میں پانچ آدمی نہیں تھے۔ مارکونی نے انہیں بتایا کہ اس سے آگے کوئی ایسا خطرہ نہیں ہے اور وہ منزل
کے قریب آگئے ہیں۔ اس نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ان کی واپسی اس راستے سے نہیں ہوگی بلکہ سیدھا اور آسان
راستہ مل جائے گا۔رات بہت گہری ہوچکی تھی ،جب وہ اس جگہ پہنچے جس کے نیچے وسیع سرسبز خطہ تھا ،مارکونی نے
تمام آدمیوں کو وہاں سے تھوڑی دور چھپا دیا۔ دو آدمی اپنے ساتھ لیے اور باقی سب سے کہا کہ ان کے پاس جو کچھ ہے
وہ کھا کر سوجائیں۔ انہیں ضرورت کے وقت جگایا جائے گا۔ مارکونی دو آدمیوں کو ساتھ لے کر اس جگہ کی دیکھ بھال کے
لیے چال گیا۔ نیچے موت کا سکوت تھا۔ کہیں ہلکی سی روشنی بھی نظر نہیں آتی تھی۔ وہ اور زیادہ قریب جانے سے ڈرتا
تھا۔ اس نے حملہ صبح کے لیے ملتوی کردیا اور اپنے آدمیوں کے پاس واپس آگیا۔
٭ ٭ ٭
قدومی اور اسماعیل اکیلے رہ گئے تھے۔ قدومی ان ہنگامہ خیز محفلوں کی عادی تھی جن میں شراب اور دولت پانی کی
طرح بہتی تھی۔ مارکونی اسے اس ہولناک ویرانے میں لے آیا تھا اور اسے ایک آدمی کے ساتھ تنہا چھوڑ گیا تھا۔ اسماعیل
اسے جانتا تھا۔ وہ اسماعیل سے واقف نہیں تھی۔ اسماعیل جرم وگناہ کی دنیا کا انسان تھا۔ اس کی شکل وصورت اتنی
اچھی اور طبیعت اتنی شگفتہ تھی کہ قدومی نے اسے کوئی عام آدمی نہ سمجھا لیکن اسماعیل اس کے ساتھ بات کرنے سے
گریز کررہا تھا۔ شام کے وقت اس نے قدومی کو بھنا ہوا گوشت گرم کرکے دیا اور شراب بھی اس کے آگے رکھ کر کہا کہ
کھانا کھا کر سوجانا۔ کوئی ضرورت ہوتو خیمے سے بال لینا۔ وہ باہر نکل گیا۔ قدومی نے کھانا کھالیا۔ شراب بھی حسب عادت
پی لی لیکن تنہائی اسے پریشان کرنے لگی۔ اسے اپنے حسن اور نازو ادا پر چونکہ فخر تھا اس لیے اسے توقع تھی کہ
اسماعیل اس کے قریب ہونے کی کوشش کرے گا۔ اس فخر میں تکبر اور غرور زیادہ تھا مگر اسماعیل نے اس کی طرف ایسی
کوئی توجہ نہ دی جس کی اسے توقع تھی کہ اسماعیل اس پر ڈورے ڈالے گا مگر اس نے اسے ذرا بھی اہمیت نہ دی۔ اس
کے بجائے اسے یہ تاثر دے دیا کہ اس کی اہمیت دو روز کی مہمان ہے۔ قدومی تو اپنے حسن کی تعریفیں سننے کی عادی
تھی۔ اپنے آپ کو قلوپطرہ کاثانی سمجھتی تھی۔ اسماعیل نے ایساتاثر پیدا کیا جسے قدومی دھتکار نہ سکی۔ اسماعیل کا انداز
ہی ایسا تھا کہ اس کا پیدا کیا ہوا تاثر اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر گیا۔ رات گزرتی جارہی تھی اور قدومی کی آنکھوں
سے نیند غائب ہوتی جارہی تھی۔ وہ اسماعیل کے ساتھ باتوں میں رات گزارنا چاہتی تھی۔ اس خواہش کو وہ دبا نہ سکی۔
اسماعیل نے اسے مایوس نہ کیا۔ رات کا آخری پہر تھا ،جب قدومی کی آنکھ لگ گئی۔اس کی آنکھ کھلی تو وہ اسماعیل کے
خیمے میں تھی اور اسماعیل خیمے سے باہر کمبل میں لپٹا سویا ہوا تھا۔ قدومی نے اسے جگایا اور کہا… ''میں نے خواب
دیکھا ہے۔ عجیب سا خواب تھا۔ پوری طرح یاد نہیں رہا ،کوئی مجھے کہہ رہا تھا کہ سلیمان سکندر کے خزانے کی نسبت
اسماعیل کی باتیں زیادہ قیمتی ہیں''… وہ ہنس پڑی۔ اس کی ہنسی میں رقاصہ کا عکس نہیں ،ایک معصوم لڑکی کی سادگی
تھی۔
سورج نکلنے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی۔ مارکونی اپنے آدمیوں کو اس سرسبز نشیب کے اوپر اپنی سکیم کے مطابق موزوں
جگہوں پر چھپا چکا تھا۔ صبح روشن ہوئی تو نیچے ننگے آدمی اور عورتیں نظر آنے لگیں۔ مارکونی نے اپنے ایک دلیر اور
نڈرآدمی کو نیچے جانے کے لیے تیار کر رکھا تھا۔ اسی ڈھالن سے جس سے اس کا ایک ساتھی لڑھک کر نیچے گرا اور اس
پراسرار قبیلے کی ضیافت بن گیا تھا۔ مارکونی نے اپنے اس آدمی کو نیچے لڑھک جانے کو کہا۔ وہ ڈھالن کے اوپر بیٹھا اور
نیچے سرک گیا۔ کچھ آگے جاکر وہ قالبازیاں کھانے لگا اور زمین پر جاپڑا۔ وہ اٹھ کر چل پڑا۔ تین چار ننگے آدم خوروں نے
اسے دیکھ لیا اور اسے پکڑنے کے لیے دوڑے۔ وہ خوشی سے چال رہے تھے۔ وہ جب اس آدمی کے قریب آئے تو اوپر سے
چار تیر نکلے اور ان کے سینوں میں اتر گئے۔ ادھر سے دو اور ننگے مرد دوڑے آئے ،وہ بھی تیروں کا نشانہ بن گئے۔ مارکونی
نے اوپر ایک چٹان کے ساتھ رسہ بندھوا دیا تھا جسے اس نے ڈھالن سے نیچے پھینک کر اپنے آدمیوں سے کہا کہ اسے پکڑ
کر سب ایک دوسرے کے پیچھے نیچے اتر جائیں۔سب نیچے چلے گئے۔ مارکونی نے اوپر سے رسہ کھول کر نیچے پھینک دیا
اور ڈھالن سے لڑھکتا ہوا نیچے چال گیا۔ یہ سارا گروہ تلواریں نکال کر آگے کو دوڑ پڑا۔ چند اور ننگے مرد سامنے آئے ،انہیں
بھی کاٹ دیا گیا۔ جو ذرا دور تھے ،وہ الٹے پاوں بھاگے۔ نیچے سے سرسبز عالقے کے کئی ایک حصے تھے۔ مارکونی نے
دیکھا کہ بھاگنے والے ایک حصے میں چلے گئے تھے۔ وہ ان کے پیچھے گیا۔ اسے ان آدمیوں کا واویال سنائی دے رہا تھا۔ ان
کی چیخ وپکار پر وہ ان کے تعاقب میں گیا۔ اس کے باقی آدمی خون خرابہ کررہے تھے۔ وہ خود ان دو آدمیوں کے تعاقب
میں رہا… تھوڑی ہی دور اسے آدمی نظر آگئے۔ وہ اب دو نہیں تین تھے۔ وہ تینوں ایک چٹان پر چڑھ رہے تھے۔ مارکونی نے
ان کے پیچھے دوڑتے کچھ فاصلہ رکھا۔ وہ تینوں چٹان کی دوسری طرف اتر گئے۔ وہ بھی چٹان پر چڑھ گیا۔ دوسری طرف
اسے سیاہ پہاڑی کا دامن نظر آیا۔ وہاں ایک غار کا دہانہ تھا جس میں جھک کر گزرا جاسکتا تھا۔ مارکونی اس غار میں چال
گیا۔ اس نے تلوار ہاتھ میں لے رکھی تھی۔اندر سے غار کھلتا جارہا تھا۔ اسے اس میں کسی کے دوڑنے کی ہلکی ہلکی آہٹ
سنائی دے رہی تھی۔ وہ دوڑتا گیا۔ یہ غار نہیں سرنگ تھی جو معلوم نہیں قدرتی تھی یا فرعون ریمینس نے مرنے سے پہلے
بنوائی تھی۔ سرنگ کے کئی موڑ تھے اور اندر گھپ اندھیرا۔ اسے بولنے کی آوازیں سنائی دیں۔ وہ دوڑتا گیا اور اسے دور
سامنے روشنی کا ایک گوال نظر آیا۔ اس میں اسے تین آدمی دوڑتے دکھائی دئیے۔ وہ غار کا دوسرا دہانہ تھا۔ وہ انہیں قتل
نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس کی سکیم کامیاب ہورہی تھی۔ وہ تینوں غار سے نکل گئے۔ وہ بھی غار سے نکل گیا۔ تینوں میں
ایک آدمی گر پڑا۔ مارکونی نے جاکر دیکھا۔ یہ وہی بوڑھا آدمی تھا جس نے اسے اس روز دیکھا تھا جس روز اس کا ساتھی
نیچے گر پڑا اور آدم خوروں کے ہاتھوں میں مارا گیا تھا۔ وہ بہت ہی بوڑھا تھا۔ زیادہ دوڑ نہیں سکتا تھا۔ غار سے باہر ریتلے
اور پتھریلے ٹیلے اور چٹانیں تھیں۔ ایک طرف سیاہ پہاڑ دور اوپر تک چال گیا تھا۔ مارکونی نے بوڑھے کو سہارا دے کر اٹھایا
اور اس کے بھاگتے ہوئے دو آدمیوں کی طرف اشارہ کرکے اشاروں میں اسے سمجھایا کہ ان آدمیوں کو واپس بالئو۔بوڑھے نے
انہیں پکارا۔ وہ رکے تو انہیں اپنی طرف بالیا۔ اس نے مارکونی کے ساتھ مصری زبان میں بات کرتے ہوئے کہا… ''میں
تمہاری زبان بولتا اور سمجھتا ہوں۔ مجھے قتل کرکے تمہیں کچھ حاصل نہ ہوگا''۔مارکونی بھی مصری زبان بولتا اور سمجھتا
تھا۔ اس نے بوڑھے سے کہا… ''میں تمہیں قتل نہیں کرنا چاہتا ،تمہارے ان آدمیوں کو بھی قتل نہیں کروں گا۔ مجھے باہر
جانے کا راستہ بتا دو''۔ ''کیا تم یہاں سے نکلنا چاہتے ہو؟''… بوڑھے نے پوچھا۔ ''ہاں''… مارکونی نے جواب دیا…
'' میں تمہاری بادشاہی سے نکل جانا چاہتا ہوں''۔بوڑھے نے اپنے آدمیوں سے کچھ کہا۔ وہ دونوں بہت ہی ڈرے ہوئے تھے۔
بوڑھے نے مارکونی سے کہا… ''اس کے ساتھ جاو۔ یہ تمہیں سیدھے راستے پر ڈال دیں گے''۔بوڑھا ساتھ چل پڑا۔ وہ ٹیلوں
کے درمیان سے گزرے ،ایک ٹیلے کے اوپر گئے اور ایسی ہی کچھ بھول بھلیوں میں سے گزر کر وہ کھلے صحرا میں پہنچ
گئے۔ مارکونی نے دیکھا کہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ یہاں کوئی راستہ ہے جو اندر کی پراسرار دنیا
میں لے جاتا ہے۔ بوڑھے نے اسے کہا… ''تم اب چلے جائو ،ورنہ خدا کا قہر تمہیں بھسم کردے گا''… مارکونی نے تینوں کو
ساتھ لیا اور یہ کہہ کر اپنے ساتھ واپس لے گیا کہ وہ اپنے آدمیوں کو بھی باہر الئے گا۔ مارکونی کے ہاتھ میں ننگی تلوار
تھی جس سے وہ تینوں ڈر رہے تھے۔ وہ اس کے ساتھ واپس چل پڑے۔مارکونی نے راستہ اور اس کے موڑ اچھی طرح دیکھ
لیے۔ وہ پھر غار کے دہانے میں داخل ہوئے اور اس میں گزرتے سرسبز دنیا میں پہنچ گئے۔ بوڑھا اسے اس جگہ لے گیا جہاں
مارکونی کے ساتھی کو آگ پر بھون کر کھایا گیا تھا۔ مارکونی کے ساتھی اسے ڈھونڈ رہے تھے۔ کئی ایک ننگی الشیں پڑی
تھیں۔ بچوں کو بھی قتل کردیا گیا تھا۔ بوڑھے نے یہ قتل عام شاید پہلے نہیں دیکھا تھا۔ وہ رک گیا اور بڑے تحمل سے
''مارکونی سے پوچھا… ''ان بے گناہوں کو کاٹ کر تم نے کیا پایا؟
اور تم ہمارے آدمی کو بھون کر کھا گئے تھے''… مارکونی نے پوچھا… ''اس نے تمہارا کیا بگاڑا تھا؟''۔ ''وہ گناہ گار ''
دنیا کا انسان تھا''… بوڑھے نے کہا… ''اس نے ہماری مقدس سلطنت میں آکر اسے ناپاک کردیا تھا''۔ ''تم لوگ یہاں
کیوں رہتے ہو؟''… مارکونی نے پوچھا… ''فرعون ریمینس دوم کا مدفن کہاں ہے؟'' ''میں ان دونوں سوالوں کا جواب نہیں
دوں گا''… بوڑھے نے جواب دیا۔مارکونی نے اپنے آدمیوں سے کہا کہ ان کی عورتوں کو لے آئو۔ اس نے حملے سے پہلے
اپنے آدمیوں سے کہہ دیا تھا کہ وہ کسی عورت کو قتل نہ کریں اور نہ چھیڑیں۔ انہیں یرغمال کے طور پر پکڑ لیں۔ مارکونی
کے ساتھی دس گیارہ عورتوں کو سامنے لے آئے۔ ان میں دو تین بوڑھی ،باقی جوان ،نوجوان اور تین کمسن بچیاں تھیں۔ ان
کے رنگ گندمی اور صاف تھے۔ شکل وصورت بھی سب کی اچھی تھی۔ ان کے بال کمر تک گئے ہوئے تھے اور ان میں
چمک تھی۔ ''کیا تم پسند کرو گے کہ تمہاری عورتوں کو تمہارے سامنے بے عزت کرکے انہیں قتل کردیا جائے؟''… مارکونی
نے بوڑھے سے پوچھا۔ ''کیا تم اس سے پہلے مجھے قتل نہیں کردو گے؟… بوڑھے نے پوچھا''۔ ''نہیں!''… مارکونی نے
جواب دیا۔ '' سنو گناہ گار دنیاکے انسان!''… بوڑھے نے کہا… ''تمہاری عورتیں کپڑوں میں ڈھکی رہتی ہیں۔ تم انہیں پردوں
میں چھپا چھپا کر رکھتے ہو مگر وہ بے حیائی سے باز نہیں آتیں۔ تم عورت کی خاطر سلطنتیں قربان کردیتے ہو۔ عورت کو
نچاتے ہو اور انہیں گناہوں کا ذریعہ بناتے ہو۔ ہماری عورتیں بے حیائی نہیں کرتیں۔ کوئی مرد کسی دوسرے مرد کی عورت
کو اس نظر سے نہیں دیکھتا جس نظر سے تم نے میری دنیا کی عورتوں کو دیکھا ہے۔ میں تو تمہاری نظر بھی برداشت نہیں
کرسکتا۔ تم خدائے مقدس ریمینس کے خزانے لوٹ لو ،میری بیٹیوں کی عزت پر ہاتھ نہ ڈالنا''۔ ''میں وعدہ کرتا ہوں کہ
مجھے ان پہاڑوں کا بھید بتا دو''… مارکونی نے کہا… ''میں تمہاری عزت تمہارے حوالے کردوں گا''۔ ''ڈاکو کے وعدے پر
اعتبار نہیں کیا جاسکتا''… بورڑھے کے ہونٹوں پر طنز کی مسکراہٹ آگئی۔ اس نے کہا ''جس آدمی کے دل میں دولت کی
اللچ ہوتی ہے اس کی آنکھ میں غیرت نہیں ہوتی۔ اس زبان پر وعدے آتے ہیں اور اسی زبان سے ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔ تم
اس دنیا کے انسان ہو جہاں دولت پر اپنی بیٹیاں قربان کی جاتی ہیں اور سنو میرے اجنبی دوست! تم مصری نہیں ہو۔
تمہاری آنکھوں میں سمندر کی چمک ہے ،نیل کے پانی کی نہیں۔ تمہارے جسم سے مجھے سمندر پار کی بو آتی ہے''۔
''میں ریمینس کے مدفن کی تالش میں آیا ہوں''… مارکونی نے اسے غصے سے کہا… ''مجھے وہ مدفن بتا دو''۔ ''میں
بتا دوں گا''… بوڑھے نے کہا… ''اس سے پہلے میں تمہیں یہ بتا دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ مدفن کے اندر جاکر تم
زندہ باہر نہیں آسکو گے''۔ ''کیا تمہارے آدمی اندر چھپے ہوئے ہیں جو مجھے قتل کردیں گے؟'' ''نہیں!''… بوڑھے نے
جواب دیا… ''تمہیں قتل کرنے کے لیے میرے پاس کوئی آدمی نہیں رہا۔ تمہارے اپنے آدمی تمہیں قتل کریں گے۔
۔ تمہاری الش یہاں سے کوئی نہیں لے جائے گا''۔ ''تم غیب دان ہو؟''… مارکونی نے پوچھا… ''آنے والے وقت کی خبر
دے سکتے ہو؟'' ''نہیں!''… بوڑھے نے جواب دیا… ''میں نے گزرا ہوا وقت دیکھا ہے جس نے گزرے ہوئے وقت کو عقل
اور دل کی نظر سے دیکھا ہو وہ آنے والے وقت کی خبر دے سکتا ہے۔ موت تمہاری آنکھوں میں آکر بیٹھ گئی ہے''۔مارکونی
نے قہقہہ لگا کر کہا… ''تم جنگلی ہو بڈھے! مجھے بتائو وہ مدفن کہاں ہے جس کی تالش میں میں اتنی دور سے آیا
ہوں'' ۔ ''تمہارے سامنے ہے''… بوڑھے نے کہا… ''وہ اوپر ،آئو''۔مارکونی نے کچھ سوچا اور اپنے آدمیوں سے کہا… ''ان
عورتوں کو عزت سے رکھو۔ اس بوڑھے کے ساتھ گپ شپ لگاتے رہو اور اس کے ان دونوں آدمیوں کو بھی کچھ نہ کہنا۔ ان
کے ساتھ دوستی پیدا کرلو۔ میں قدومی اور اسماعیل کو لینے جارہا ہوں''۔
٭ ٭ ٭
مارکونی اس راستے سے باہر نکل گیا جو اسے بوڑھے نے دکھایا تھا۔ اس اس سمت کا اندازہ تھا جدھر سے وہ اس ہولناک
عالقے میں داخل ہوا تھا۔ وہ اس طرف چل پڑا۔ اس نے کم وبیش دو میل سفر طے کیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ
اس مقام پر پہنچ گیا ہے ،جہاں سے وہ اپنے گروہ کے ساتھ اندر گیا تھا وہ اپنے خیمے تک گیا۔ اس نے اسماعیل اور قدومی
کو ایک ہی خیمے میں اکٹھے بیٹھے دیکھا۔ اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ حکم کے لہجے میں اسماعیل سے کہا… ''میں
''نے تمہیں کہا تھا کہ اپنی حیثیت میں رہنا۔ اس کے پاس بیٹھے تم کیا کررہے ہو؟
کیا میں اس ویرانے میں اکیلی بیٹھی رہتی؟''… قدومی نے کہا… ''میں نے خود اسے اپنے پاس بالیا ہے''۔ ''تمہیں ''
میں اپنے ساتھ صرف اور صرف اپنے لیے الیا ہوں''… مارکونی نے غصے سے کہا… ''میں تمہیں اپنی اجرت دے رہا ہوں۔
میں تمہیں کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا۔ اپنے گھر میں اپنے پاس سو آدمیوں کو بالو۔ یہاں تم میری لونڈی ہو''۔گزشتہ
رات اسماعیل نے اس پرخلوص دل سے ایسا تاثر طاری کردیا تھا کہ اس کے دل میں مارکونی کے خالف شک اور ناپسندیدگی
پیدا ہوگئی تھی۔ اسے وہ اب اپنا ایک گاہک سمجھنے لگی تھی۔ اب مارکونی نے اسے اپنی لونڈی کہہ دیا تو اس کے دل
میں مارکونی کے خالف نفرت پیدا ہوگئی۔ اس نے اچھے اور برے انسان میں فرق دیکھ لیا تھا۔ حاالنکہ اسماعیل نے اسے
بالکل نہیں کہا تھا کہ وہ اچھا آدمی ہے بلکہ یہ کہا تھا کہ وہ کرائے کا گناہ گار اور اجرت لے کر قتل کرنے واال آدمی ہے۔
قدومی مارکونی کو دھتکار نہیں سکتی تھی کیونکہ وہ اپنی طے کی ہوئی اجرت پر آئی تھی جو وہ وصول کرکے گھر رکھ آئی
تھی۔ آگے خزانے کے کچھ حصے کا وعدہ تھا جو مشکوک نظر آتا تھا۔ اس نے برداشت نہ کیا کہ مارکونی اسماعیل کے ساتھ
بدتمیزی سے بات کرے۔اسماعیل مارکونی کو خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے مارکونی کو بازو سے پکڑا اور ذرا پرے لے
جاکر دھیمی سی آواز میں کہا… ''احمر درویش نے تمہیں شاید میرے متعلق کچھ بھی نہیں بتایا۔ میرے متعلق تم کچھ بھی
نہیں جانتے۔ میں تمہیں اچھی طرح جانتا ہوں۔ تم میرے ملک اور میری قوم کی جڑیں کاٹنے آئے ہو۔ میں اتنا بڑا گناہ گار
ہوں کہ کرائے پر تمہارا ساتھ دے رہا ہوں۔ میں تمہیں اپنا بادشاہ تسلیم نہیں کرسکتا۔ اپنی پوری اجرت لوں گا اور اگر خزانہ
برآمد ہوگیا تو اپنا حصہ الگ وصول کروں گا''۔ ''تم ایسی باتیں احمر درویش کے ساتھ کرنا''… مارکونی نے اسے کمانڈروں
کی طرح کہا… ''یہاں تم میرے ماتحت ہو۔ خزانہ جو نکلے گا وہ میری تحویل میں ہوگا۔ میں اسے جہاں چاہوں لے
جائوں''۔ ''سنو سلیمان سکندر!''… اسماعیل نے پہلے کی طرح دھیمی آواز اور ہلکے سے تبسم سے کہا… ''میں جانتا
ہوں تم مارکونی ہو ،سلیمان سکندر نہیں ہو۔میں ایک عادی مجرم ہوں۔ میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ تمہاری باتیں مجھے
مجرم سے مصری مسلمان بنا دیں گی اور میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ مسلمان قومی جذبے کا اتنا اندھا ہوتا ہے کہ اگر
مسلمان کی الش میں یہ جذبہ پیدا ہوجائے تو الش بھی اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ تمہارا فائدہ اسی میں ہے کہ مجھے مجرم رہنے
دو''۔مارکونی نے محسوس کرلیا کہ یہ شخص بہت گہرا ہے اور پیچیدہ بھی ،اس لیے اس سے اس موقع پر دشمنی مول لینی
اچھی نہیں۔ اس نے اسماعیل کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اور دوستوں کی طرح مسکرا کر کہا… ''تم بالوجہ کسی غلط فہمی
میں پڑ گئے ہو۔ میں دراصل یہ نہیں چاہتا کہ یہ طوائف تمہارے یا میرے دماغ پر سوار ہوجائے۔ یہ بہت چاالک عورت ہے۔ یہ
ہم دونوں میں غلط فہمی پیدا کرکے خزانے پر ہاتھ مارنا چاہتی ہے۔ مجھے اپنا دشمن نہ سمجھو۔ احمر درویش نے تمہیں بتایا
نہیں کہ اس نے تمہارے متعلق کیا سوچ رکھا ہے''۔ ''کیا تمہیں امید ہے کہ خزانہ مل جائے گا؟'' ''مل گیا ہے''…
مارکونی نے جواب دیا… ''میں تم دونوں کو لینے آیا ہوں''۔اسماعیل اسے بڑی گہری نظروں سے دیکھتا رہا۔ قدومی بھی اسے
دیکھتی رہی۔
اس کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار بڑے نمایاں تھے۔ مارکونی نے اس آدمی کو آواز دی جسے وہ اونٹوں کی دیکھ بھال :
کے لیے چھوڑ گیا تھا۔ اسے کہا کہ وہ اونٹوں کو ایک دوسرے کے پیچھے باندھ کر لے آئے۔ خیمے بھی لپیٹ لیے گئے۔
مارکونی انہیں وہاں لے گیا جہاں اس کے دوسرے آدمی تھے اور جہاں فرعون ریمینس کا خفیہ مدفن تھا۔ قدومی نے ایسی
سرسبز جگہ دیکھی تو بہت حیران ہوئی۔ ایک اونچی پہاڑی کے دامن میں ننھی سی جھیل تھی۔ پہاڑی کے نیچے سے پانی
پھوٹتا تھا۔ یہ قدرت کا کرشمہ تھا۔ مارکونی قبیلے کے بوڑھے سردار کے پاس چال گیا۔ اسے مدفن کا سراغ لگانا تھا۔ قدومی
اسماعیل کے ساتھ ادھر ادھر ٹہلنے لگی۔ اسے ایک چھوٹے سے بچے کی الش پڑی دکھائی دی۔ بچہ ننگا تھا اور اس کا جسم
خون میں نہایا ہوا تھا۔
20:03
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔ 62جب خزانہ مل گیا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
قدومی خوف سے کانپنے لگی۔ کچھ اور آگے گئے تو دو الشیں اکٹھی پڑی تھیں۔ یہ بڑی عمرکے آدمیوں کی تھیں۔ دونوں میں
تیر پیوست تھے اور جب وہ اسماعیل کے ساتھ فراخ جگہ گئی جہاں مارکونی کے آدمی اوپر سے اترے تھے ،وہاں اسے کئی
اور الشیں نظر آئیں۔ ان میں پانچ چھ الشیں بچوں کی بھی تھیں۔ تمام الشوں کے منہ اور آنکھیں کھلی ہوئیں اور چہروں پر
اذیت اور کرب کے بھیانک تاثرات تھے۔ قدومی کسی بڑی ہی حسین دنیا کی عورت تھی۔ اس نے ایسا ہیبت ناک منظر کبھی
خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا۔ ایک بہت ہی چھوٹے سے بچے کی الش دیکھ کر اس کی چیخ نکل گئی۔مارکونی کے تین
چار آدمی چیخ سن کر دوڑے آئے۔ قدومی کو چکر آگیا تھا اور اسماعیل نے اسے تھام لیا تھا۔ مارکونی کے آدمیوں کو بتایا گیا
کہ وہ الشیں دیکھ کر ڈر گئی ہے۔ ایک آدمی اس کے لیے پانی لینے کو دوڑا۔ قدومی جلدی سنبھل گئی۔ اس نے پوچھا کہ یہ
مرنے والے کون تھے اور انہیں کیوں قتل کیا گیا ہے؟ قدومی نے اسماعیل کی طرف دیکھا۔ اس کا رنگ پیال پڑ گیا تھا۔
اسماعیل نے کہا… ''ہم سے یہ لوگ اچھے تھے جو اس خزانے کی رکھوالی کررہے تھے۔ یہ آدم خور دیانت دار تھے جنہوں
نے جان دے دی ،خزانے کا بھید نہ بتایا۔ اگر یہ فرعون کا مدفن اکھاڑ کر مال ودولت نکال لے جاتے تو انہیں کون پکڑ سکتا
تھا مگر یہ دیانت دار تھے۔ ہم ڈاکو اور قاتل ہیں جو اپنے آپ کو مہذب سمجھتے ہیں۔ یہ مارکونی کی کارستانی ہے''۔
''میں اس خزانے میں سے کچھ بھی نہیں لوں گی جس کی خاطر ان معصوم بچوں اور بے گناہ آدمیوں کو اس بے دردی
سے قتل کیا گیا ہے''… قدومی نے کہا… ''ان کے پاس کوئی ہتھیار نظر نہیں آتا۔ یہ نہتے تھے''۔اس وقت مارکونی بوڑھے
کے ساتھ ایک چٹان کے پیچھے گیا ہوا تھا۔ بوڑھے نے اسے کہا… ''اوپر چلے جائو ،وہاں تمہیں ایک بہت بڑا پتھر جو یہیں
سے نظر آرہا ہے ،اسے تم چٹان ہی سمجھ رہے ہو اگر اسے وہاں سے ہٹا سکو تو تمہیں اس دنیا کا دروازہ نظر آئے گا جس
میں ریمینس دوم کا تابوت اور اس کا خزانہ رکھا ہے۔ اس چٹان کو اس وقت سے کسی نےنہیں ہالیا جب سے یہاں رکھی
گئی ہے۔ پندرہ صدیوں سے اس چٹان کو کسی نے چھوا بھی نہیں۔ ہم پندرہ صدیوں سے اس کی رکھوالی کررہے ہیں۔ میں
تمہیں ریمینس کی موت کے واقعات اس طرح سنا سکتا ہوں جیسے وہ کل میرے سامنے مرا ہو۔ یہ مجھے باپ اور دادا نے
سنائے تھے۔ دادا کو اس کے باپ اور دادا نے سنائے تھے اور اس طرح پندرہ صدیوں کی باتیں میرے سینے میں آئیں جو میں
نے اپنے قبیلے کو سنا دی ہیں ''۔ ''میں یہ باتیں بعد میں سنوں گا''… مارکونی نے بیتاب ہوکر کہا اور وہ چٹان پر چڑھ
گیا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اوپر کی مخروطی چٹان الگ ہے یا الگ کی جاسکتی ہے۔ اس نے ادھر ادھر سے دیکھنے کی
کوشش کی مگر اسے کوئی ایسی جگہ نظر نہ آئی جس سے یہ چٹان الگ معلوم ہوتی ہے۔ وہ نیچے اتر آیا۔ ''میں جانتا
ہوں ،تم یقین نہیں کرو گے کہ اس چٹان کے دو حصے ہیں''… بوڑھے نے کہا… ''اوپر کا حصہ جو پیچھے پہاڑ کے ساتھ مال
ہوا ہے ،پہاڑ اور چٹان کا حصہ معلوم ہوتا ہے ،لیکن ایسا نہیں۔ یہ انسانی ہاتھوں کا کمال ہے۔ اس کی ساخت قدرتی لگتی
ہے لیکن یہ انسانوں کی کاریگری ہے۔ ریمینس نے یہ اپنی نگرانی میں بنوایا تھا۔ اس کے نیچے اور پہاڑ کے سینے میں جو
دنیا آباد ہے ،وہ ریمینس نے اپنی زندگی میں تیار کرائی تھی اور اسے باہر کی دنیا کے انسانوں سے تاقیامت چھپائے رکھنے
کے لیے اس نے یہ چٹان بنوائی ،اور ان آدمیوں کو قید میں ڈال دیا تھا جنہوں نے اس کا مدفن اور چٹان تیار کی تھی۔ وہ
مرگیاتو اس کا تابوت یہاں الیا گیا۔ اس کا ضرورت کا سامان اندر رکھا گیا۔ کاریگروں کو قید سے نکال کر اوپر چٹان رکھوائی
گئی اور ان تمام آدمیوں کو قتل کردیا گیا۔ بارہ آدمیوں کو یہاں غاروں میں آباد کیا گیا۔ انہیں مصر کی بارہ خوبصورت عورتیں
دی گئیں۔ انہیں غاروں میں رہنے کو کہا گیا۔ ان کے ذمے اس جگہ کی رکھوالی تھی۔ آج تم نے جنہیں قتل کردیا اور میں جو
زندہ ہوں ،انہی بارہ آدمیوں اور بارہ عورتوں کی نسل سے ہیں''۔ ''اس چٹان کو ہم وہاں سے ہٹا کس طرح سکتے ہیں؟
مارکونی نے پوچھا۔ ''تمہاری آنکھیں کہاں ہیں؟''… بوڑھے نے پوچھا… ''تمہاری عقل کہاں ہے؟''… اور اس نے کہا… …''
'' چٹان کی چوٹی دیکھو۔ کیا تم اسے رسے کے ساتھ سے نہیں باندھ سکتے؟ اگر تمہارے آدمیوں میں طاقت ہے تو مل کر
رسے کو کھینچیں تو چٹان نیچے آسکتی ہے''۔مارکونی مدفن کو بہت جلد بے نقاب کرنے کے لیے بیتاب تھا۔ اس نے اپنے
آدمیوں کو بالیا۔ رسے منگوائے اور دو رسے اوپر والی چٹان کی ابھری ہوئی چوٹی کے ساتھ بندھوا دئیے۔ اس نے تمام آدمیوں
سے کہا کہ نیچے سے رسہ پوری طاقت سے کھینچیں۔ وہ خود اوپر چال گیا۔ نیچے سے جب سب نے زور لگایا تو اس نے
دیکھا کہ بڑی چٹان ہل رہی تھی۔ ایک بار یہ اتنی زیادہ ہل گئی کہ اسے اس کے نیچے خال نظر آگیا۔ اس کا حوصلہ بڑھ
گیا۔ اس نے نعرے لگانے شروع کردیئے۔ اس کے آدمیوں نے اور زور لگایا تو چٹان سرک گئی۔ مارکونی نے اپنے آدمیوں کو ذرا
آرام کرنے کو کہا۔سورج سیاہ پہاڑ کے پیچھے چال گیا تھا۔ مارکونی کے پاس شراب کا ذخیرہ تھا۔ اس نے شراب کا مشکیزہ
منگوا کر کہا پیو اور اس چٹان کو کنکر کی طرح نیچے پھینک دو۔سب شراب پر ٹوٹ پڑے۔ مارکونی نے پرجوش لہجے میں
کہا… '' میں آج رات تمہیں دو اونٹ بھون کر کھالئوں گا''… تھوڑی دیر بعد شراب نے سب کی تھکن دور کردی اور ان میں
نئی تازگی آگئی۔ اتنے میں سورج افق سے بھی نیچے چال گیا تھا۔ مشعلیں جال کررکھ لی گئیں اور سب نے ایک بار پھر زور
لگانا شروع کیا۔ مارکونی اوپر کھڑا تھا۔ اسے مشعلوں کی ناچتی روشنی میں چٹان کا باالئی حصہ آگے کو جھکتا اور کچھ سرکتا
نظر آیا۔ اس نے اور زیادہ جوش سے نعرے لگانے شروع کردئیے۔ اچانک چٹان مہیب آواز کے ساتھ سرک گئی اور الٹ کر
نیچے کو لڑھک گئی جہاں مارکونی کے آدمی تھے وہ جگہ تنگ تھی۔ ان کے پیچھے بھی ایک پتھریلی ٹیکری تھی۔ اوپر سے
چٹان اتنی تیزی سے آئی کہ نیچے سے آدمی بھاگ نہ سکے۔ روشنی بھی کم تھی۔ پہاڑوں اور چٹانوں میں گھری ہوئی یہ دنیا
بیک وقت کئی ایک چیخوں سے لرز اٹھی اور سکوت طاری ہوگیا۔ مارکونی دوڑتا نیچے آیا۔ ایک مشعل اٹھا کر دیکھا۔ گری
ہوئی چٹان کے نیچے سے خون بہہ رہا تھا۔ کسی کا ہاتھ نظر آرہا تھا ،کسی کی ٹانگ اور کسی کا سر اورکچھ ایسے بھی
تھے جو درمیان میں نیچے آگئے تھے۔مارکونی کو کسی کے دوڑنے کی آہٹیں سنائی دیں۔ کوئی بچ بھی گئے تھے ،وہ بھاگ گئے
تھے۔ اس نے ٹیکری پر دیکھا ،وہاں چار انسان کھڑے تھے۔ ایک بوڑھا تھا ،دوسرا اسماعیل ،تیسرا مارکونی کا ایک ساتھی جو
ہانپ رہا تھا۔ وہ بھاگا نہیں تھا اور چوتھا انسان قدومی تھی جو سراپا خوف بنی کھڑی تھی۔ مارکونی آہستہ آہستہ ٹیکری پر
آیا۔ اس نے چاروں کو باری باری دیکھا۔ سب خاموش تھے۔ سب سے پہلے بوڑھا بوال۔ اس نے کہا… ''میں نے تمہیں خبردار
کردیا تھا کہ مجھے تمہاری آنکھوں میں موت نظر آرہی ہے۔ میں نے اپنے فرض کو نظر انداز کرکے تمہیں یہ بھید بتا دیا تھا
''کہ یہ موت کا بھید ہے اور موت میرا فرض پورا کردے گی… کیا تم واپس چلے جاو گے؟
نہیں!''… مارکونی نے آہستہ سے کہا… ''میرے یہ ساتھی میرے ساتھ ہیں ،یہ میرا ساتھ دیں گے''۔ اس نے ان سے ''
پوچھا… ''معلوم ہوتا ہے ،کوئی زندہ نکل گئے ہیں ،کون کون بھاگا ہے؟'' ''مجھ سے پوچھو''… بوڑھے نے کہا… ''تمہارے
چار آدمی میرے دو آدمیوں کے ساتھ بھاگ گئے ہیں۔ میرے آدمی انہیں باہر کا راستہ نہیں بتائیں گے۔ انہیں اب اندر بھٹک
بھٹک کر مرنا ہے۔ بہتر ہوتا کہ وہ چٹان کے نیچے آکر مرجاتے۔ یہ موت آسان تھی۔ آج رات کے لیے یہ کام بند کردو۔ میں
صبح تمہیں اندر لے جائوں گا''۔٭ ٭ ٭
مارکونی پر اس حادثے کا کوئی اثر معلوم نہیں ہوتا تھا۔ اس نے بوڑھے کو اپنے ساتھ کھانا کھالیا۔ اسماعیل نے بوڑھے کو
ایک چادر دی جو اس نے اپنے اوپر ڈال لی۔ قدومی پر خاموشی طاری تھی۔ وہ ان عورتوں کو بھی دیکھ چکی تھی جنہیں
مارکونی نے یرغمال بنا کے رکھا ہوا تھا۔ وہ اب کسی اور جگہ تھیں۔ ''تم میرے ایک آدمی کو کھا گئے تھے''۔ مارکونی
''نے کہا۔ ''اس سے پہلے تم نے کتنے انسان کھائے ہیں؟'' ''جتنے ہاتھ لگ سکے
بوڑھے نے جواب دیا… ''میں بتا نہیں سکتا کہ ہمارے نسل میں انسانی گوشت کب داخل ہوا جو تاریخ میرے کانوں میں …'
ڈالی گئی ہے اس میں پندرہ صدیوں پرانی ایک پیشن گوئی شامل ہے۔ کسی نے کہا تھا کہ جو لوگ خدائے ریمینس کے مدفن
کی حفاظت کریں گے ،انہیں ریگزار اپنی ٹھنڈی آغوش میں رکھے گا۔ انہیں پانی اور خواہش سے آزاد کردے گا۔ انہیں یہ بھی
ضرورت نہیں رہے گی کہ وہ اپنے ستر ڈھانپیں۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت ہوگی۔ ان میں کوئی اللچ نہیں ہوگا۔
اللچ ہی انسان کو قاتل ،ڈاکو اور بددیانت بناتا ہے۔ وہ کبھی دولت کا اللچ کرتا ہے اور کبھی عورت کا۔ اس کا دین نہیں رہتا۔
اللچ فساد کی جڑ ہے۔ ہمیں اس لعنت سے آزاد کردیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ ریمینس کے محافظ
انسان کا گوشت کھائیں گے۔ یہاں سے باہر جائیں گے۔ انسان کا شکار کھیلیں گے اور کوئی جانور ملے تو اسے بھی کھائیں
گے اگر نہیں کھائیں گے تو ان کی نسل ختم ہوجائے گی''۔ ''کیا تم آج بھی فرعونوں کو خدا سمجھتے ہو؟''… قدومی نے
بوڑھے سے پوچھا۔ ''انسان بڑی کمزور چیز ہے۔ اپنے خدا بدلتا رہتا ہے''… بوڑھے نے کہا… ''اور کبھی انسان خود ہی خدا
بن جاتا ہے۔ اس وقت تم لوگ میرے خدا ہو کیونکہ میری جان اور میری بچیوں کی عزت جو تمہاری قید میں ہیں ،تمہارے
ہاتھ میں ہے۔ میں نے تم پر یہ راز تمہیں خدا سمجھ کر فاش کردیا ہے کیونکہ میں مرنے سے ڈرتا ہوں اور اپنی بچیوں کو
بے آبرو کرنے سے ڈرتا ہوں۔ فرعون نے بھی تمہاری طرح اپنے وقت کی مخلوق کی گردن پر بھوک اور بیگار کی چھری رکھ
کر کہا تھا کہ میں خدا ہوں۔ انسان نے مجبور ہوکر کہا… ''ہاں! تم ہی خدا ہو''… بھوک اور مفلسی انسان کو حقیقت سے
بہت دور لے جا کر پھینک دیتی ہے۔ اس کے اندر کا انسان مرجاتا ہے۔ جسے حقیقی خدا نے اشرف المخلوقات کہا تھا ،اس
کا صرف جسم رہ جاتا ہے جسے پیٹ کی آگ جالتی ہے تو وہ اس انسان کے آگے سجدے کرنے لگتا ہے جو اس کے پیٹ
کی آگ ٹھنڈی کرتا ہے۔ انسان کی اسی کمزوری نے بادشاہ پیدا کیے۔ ڈاکو اور راہزن پیدا کیے۔ انسان کو حاکم اور محکوم،
ظالم اور مظلوم بنایا۔ لوگ کہتے ہیں کہ انسان کو بھوک نے بدی سے آشنا کیا۔ یہ غلط ہے۔ انسان کو بدکار زروجواہرات نے
بنایا ہے… تم کون ہو؟ کیا ہو؟''۔ اس نے قدومی سے پوچھا… ''ان میں سے کس کی بیوی ہو؟ ان میں سے کسے اپنا آدمی
کہہ سکتی ہو؟''… بوڑھے کو معلوم ہوچکا تھا کہ قدومی قاہرہ کی رقاصہ ہے۔قدومی اس کے سوال سے پریشان ہوگئی۔ وہ
پہلے پریشان تھی۔ بوڑھے کے سوال نے اس کا پسینہ نکال دیا۔ بوڑھے نے اسے خاموش دیکھ کر کہا… ''تم اپنے حسین
چہرے اور جوانی کی بدولت اپنے آپ کو خدا سمجھتی ہو اور تمہاری خواہش کرنے والے تمہیں خدا کہتے ہیں۔ مجھے جنگلی
اور وحشی نہ سمجھو۔ میرے پاس کپڑے ہیں جو میں پہن کر کبھی کبھی قاہرہ جایا کرتا ہوں… تمہاری مہذب دنیا کو دیکھتا
ہوں ،پھر واپس آکر کپڑے اتار دیتا ہوں۔ ) میں نے تمہاری دنیا میں بگھیوں پر شہزادے سیر کرتے دیکھے ہیں۔ تمہاری طرح
شہزادیاں دیکھی ہیں۔ ناچنے اور گانے والی بھی دیکھی ہیں اور انہیں جو نچاتے ہیں ،انہیں بھی دیکھا ہے۔ میں نے فرعونوں
کے وقتوں کی باتیں سنی ہیں اور آج کے وقت کے فرعون بھی دیکھے ہیں۔ ان سب کا انجام بھی دیکھا ہے۔ تمہارا انجام
بھی جو تمہیں ابھی نظر نہیں آرہا ،دیکھ رہا ہوں۔ تم نے خزانے کی اللچ میں اتنے بے گناہ انسانوں کا خون کیا۔ اس گناہ کی
سزا سے بچ نہیں سکو گے۔ فرعون بھی نہیں بچ سکے تھے۔ میں صبح تمہیں اندر لے جائوں گا۔ ان کا انجام دیکھنا۔ وہ خدا
ہوتے تو ان کا یہ انجام نہ ہوتا۔ خدا وہ ہوتا ہے جو انجام تک پہنچایا کرتا ہے ،انجام تک پہنچا نہیں کرتا۔ میں نے اس
انسان کو کبھی خدا نہیں مانا جو آج پہاڑی کے نیچے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا ہوا ہے۔ میں اور میرا قبیلہ اس کی حفاظت نہیں
کررہے۔ ہم نے دنیا کے اللچ سے بچنے کے لیے اپنا ایک عقیدہ بنالیا ہے۔ ہم اس عقیدے کی حفاظت کررہے ہیں
بوڑھا ٹھہری ٹھہری آواز میں بولتا جارہا تھا۔ قدومی اسے دیکھ رہی تھی اور بوڑھے کی باتوں میں اسے اپنا انجام نظر آرہا
تھا۔ مارکونی کے ہونٹوں پر طنزیہ سی مسکراہٹ تھی۔ وہ شراب پی رہا تھا۔ اس نے بوڑھے سے کہا… ''تم اپنی عورتوں کے
پاس جائو ،صبح جلدی اٹھنا۔ ہمیں اندر جانا ہے''۔بوڑھا چال گیا تو مارکونی نے قدومی سے کہا… ''آئو ہم بھی سوجائیں''۔
'' میں تمہارے ساتھ نہیں جائوں گی''… قدومی نے کہا۔مارکونی اس کی طرف لپکا۔ قدومی پیچھے ہٹ گئی۔ مارکونی نے اسے
دھمکی دی۔ اسماعیل اس کے آگے آگیا۔ اس نے کچھ نہیں کہا۔ مارکونی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور مارکونی
پیچھے ہٹ گیا۔ وہ جب چال گیا تو قدومی اسماعیل کے سینے پر سر پھینک کر بچوں کی طرح رونے لگی۔
٭ ٭ ٭
صبح جاگے تو مارکونی نے بوڑھے کو ڈھونڈا ،بوڑھا وہاں نہیں تھا۔ عورتوں کو دیکھا ،وہ بھی غائب تھیں۔ انہیں آوازیں دیں۔
ادھر ادھر دیکھا۔ ان میں سے کوئی بھی نظر نہ آیا۔ مارکونی کو اب ان کی اتنی ضرورت نہیں تھی۔ مدفن کا دہانہ کھل چکا
تھا۔ بوڑھا اگر وہاں ہوتا بھی تو اسے معلوم نہیں تھا کہ اندر کیا ہے۔ مارکونی نے اسماعیل ،اپنے ساتھی اور قدومی کو اپنے
ساتھ لیا اور وہ سب اس چٹان پر چڑھ گئے جہاں مدفن کے اندر جانے کا دہانہ تھا۔ مارکونی نیچے اترا۔ یہ ایک کشادہ گڑھا
تھا ،جو سرنگ بن کر ایک طرف چال گیا تھا۔ وہ مشعلیں ساتھ لے گئے تھے ،جو جالئی گئیں۔ کچھ دور آگے جاکر سرنگ بند
ہوگئی۔ مارکونی نے وہاں الٹی کدال ماری تو ایسی آوازیں آئی جیسے اس کے پیچھے جگہ کھوکھلی ہے۔یہ پتھر کا چوکور دروازہ
تھا۔ اس پر ضربیں لگائی گئیں تو کناروں سے خال نظر آنے لگی۔ سالخوں اور ہتھوڑوں وغیرہ کی مدد سے اس تراشے ہوئے
پتھر کو ہال لیا گیا اور بہت سی محنت اور مشقت کے بعد اس چوکور پتھر نے اس طرح راستہ دے دیا کہ پیچھے کو گرا۔
اس کے وزن کا یہ عالم تھا کہ اس کے گرنے سے زلزلے کا جھٹکا محسوس ہوا۔ اندر سے پندرہ سولہ صدیوں کی بدبو جھکڑ
کی طرح باہر آئی۔ سب پیچھے کو بھاگے اور انہوں نے ناک منہ پر کپڑے لپیٹ لیے۔ ذرا دیر بعد مشعلوں کے ساتھ اندر گئے۔
چند قدم آگے سیڑھیاں نیچے جاتی تھیں۔سیڑھیوں پر انسانی کھونپڑیاں اور ہڈیوں کے پنجر پڑے تھے۔ ان کے ساتھ برچھیاں اور
ڈھالیں بھی تھیں۔ یہ پہرہ داروں کی ہڈیاں تھیں۔ انہیں اندر زندہ پہرے پر کھڑا کرکے مدفن کے منہ پر اتنی وزنی سل جما
دی گئی تھی۔ سیڑھیاں انہیں دور نیچے لے گئیں۔ یہ ایک وسیع کمرہ تھا۔ یہ زمین پتھریلی تھی۔ کاریگروں نے لمبی مدت
صرف کرکے دیواریں اور چھت اس طرح تراشی تھی کہ یہ بیسیویں صدی کی عمارت معلوم ہوتی تھی۔ وہاں ایک بڑی ہی
خوش نما کشتی رکھی تھی جس کے بادبان لپٹے ہوئے تھے۔ کشتی میں بھی انسانی کھونپڑیاں اور ہڈیاں پڑی تھیں۔ یہ مالحوں
کی تھیں۔ ایک تاریک راستہ جو کا ریگری سے تراشا گیا تھا ،ایک اور کمرے میں لے گیا۔ وہاں ایک سجی سجائی گھوڑا گاڑی
کھڑی تھی۔ اس کے آگے آٹھ گھوڑوں کی کھونپڑیاں اور ہڈیاں بکھری ہوئی تھی اور بگھی کی آگلی سیٹ پر انسانی ہڈیوں کا
ڈھیر تھا۔ اس کمرے میں کئی اور ہڈیوں کے پنجر تھے۔ اس سے آگے ایک اور کمرہ تھا جو صحیح معنوں میں شیش محل
تھا۔ چھت اونچی اور دیواروں پر چتر کاری کی گئی تھی۔ ایک دیوار کے ساتھ سیڑھیاں اور ان پر ایک پتھر کی کرسی اور
کرسی پر ریمینس کا بت بیٹھا ہواتھا۔ یہ بھی پتھر کا تھا۔سیڑھیوں پر ہڈیوں کے پنجرہ اور کھونپڑیاں پڑی تھیں۔ قدومی نے
ایک کھونپڑی کے ساتھ موتیوں کا ایک ہار دیکھا جس کے ساتھ ایک نیال ہیرا تھا۔ کانوں میں ڈالنے والے زیورات تھے اور
انگوٹھیاں بھی چند اور ڈھانچوں کے ساتھ اس نے ہار اور زیورات دیکھے۔ مارکونی نے ایک ہار اٹھایا ،ڈیڑھ ہزار سال گزر جانے
کے بعد بھی ان موتیوں اور ہیروں کی چمک مانند نہیں پڑی تھی۔ مشعل کی روشنی سے ہیرے رنگا رنگ شعاعیں دیتے تھے۔
مارکونی ہار قدومی کے گلے میں ڈالنے لگا تو قدومی چیخ کر اسماعیل کے پیچھے ہوگئی۔ مارکونی نے قہقہہ لگا کر کہا…
''میں نے کہا تھا کہ تمہیں ملکہ قلوپطرہ بنائوں گا۔ ڈرو مت قدومی! یہ سب ہار تمہارے ہیں''۔ ''نہیں!''… قدومی نے
…لرزتی کانپتی آواز میں کہا
نہیں! میں نے ان کھونپڑیوں اور ہڈیوں میں اپنا انجام دیکھ لیا ہے۔ یہ بھی مجھ جیسی تھیں۔ یہ اس ''خدا'' کی '' …
محبوبہ کا ہار ہے جو یہیں کہیں مرا پڑا ہے۔ میں نے ان کا انجام دیکھ لیا ہے جنہیں تکبر نے ''خدا'' بنایا ہے۔ میں نے
اپنا خدا دیکھ لیا ہے''… وہ اس قدر گھبرائی ہوئی تھی کہ اس نے اسماعیل کو گھسیٹتے ہوئے کہا… ''مجھے یہاں سے لے
چلو۔ مجھے لے چلوں یہاں سے۔ میں ہڈیوں کا پنجر ہوں''… اس کے گلے میں اپنا ہار تھا۔ اس نے یہ ہار اتار کر ہڈیوں پر
پٹخ دیا۔ انگلیوں سے بیش قیمت انگوٹھیاں اتار کر پھینک دیں اور چالنے لگی… ''میں نے اپنا انجام دیکھ لیا ہے۔ میں نے
خدا دیکھ لیا ہے ،مجھے یہاں سے لے چلو''۔مارکونی ایک اور کمرے میں جاچکا تھا۔ اسماعیل نے قدومی سے کہا… ''ہوش
میں آئو ،ہم چلے گئے تو یہ سارا خزانہ دونوں صلیبی اٹھالے جائیں گے''… اسماعیل کو ایک اور راستہ نظر آگیا۔ مشعل اس
کے ہاتھ میں تھی۔ وہ قدومی کو اس طرف لے گیا اور وہ ایک اور فراخ کمرے میں داخل ہوئے۔ وسط میں ایک چبوترے پر
تابوت رکھا تھا ،چہرہ ننگا تھا۔ یہ فرعون ریمینس دوم جس کے آگے لوگ سجدے کرتے تھے۔ الش حنوط کی ہوئی تھی۔ چہرہ
بالکل صحیح تھا۔ آنکھیں کھلی ہوئی تھی۔ اسماعیل اس چہرے کو بہت دیر تک دیکھتا رہا۔ قدومی نے بھی دیکھا ،پھر انہوں
نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ انہوں نے ادھر دھر دیکھا تو وہاں بھی ہڈیوں کے پنجر نظر آئے اور وہیں انہیں بڑے خوش
نما بکس بھی دکھائی دئیے۔ ایک بکس کا ڈھکنا کھال تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ اس میں سونے کے زورات اور ہیرے پڑے تھے۔
ان پر ایک انسانی بازو کی ہڈی اور ایک ہاتھ کی ہڈیاں پھیلی ہوئی تھی۔ بکس کے ساتھ کھونپڑی اور باقی ہڈیاں پڑی تھیں۔
''آہ انسان!''… اسماعیل نے کہا… ''اس شخص نے مرنے سے پہلے یہ زیورات اور ہیرے اٹھانے کی کوشش کی۔ اسے امید
ہوگی کہ یہاں سے نکل بھاگے گا مگر دم گھٹنے سے خزانے کے اوپر مرگیا۔ بوڑھے نے ٹھیک کہا تھا کہ انسان کی دشمن
بھوک نہیں ہوس ہے''۔ اس نے بکس کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا… ''قدومی! تم بھی ہوس لے کے آئی ہو ،میں تمہیں کچھ
دے دوں''۔ ''نہیں اسماعیل!''… قدومی نے اس کا ہاتھ روکتے ہوئے کہا… ''میری ہوس مرچکی ہے ،قدومی مرچکی
ہے'' ۔اسماعیل نے پھر بھی بکس میں ہاتھ ڈاال۔ قدومی نے چال کر کہا… بچواسماعیل!۔اسماعیل استاد تھا۔ وہ ایک طرف گر
کر لڑھک گیا اور اٹھا ،اس نے دیکھا کہ مارکونی تلوار سونپے اس پر حملے آور ہوا تھا۔ اس کی تلوار کا وار بکس پر پڑا۔
مارکونی کی آواز سنائی دی… ''یہ میرا خزانہ ہے''… اتنے میں مارکونی کا ساتھی بھی آگیا۔ اسماعیل کے پاس خنجر تھا،
جس سے وہ تلوار کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔ قدومی کو قریب ہی ایک برچھی پڑی نظر آگئی۔ مارکونی اسماعیل پر وار کررہا
تھا جو وہ مشعل سے روک رہا تھا۔ مارکونی کے ساتھی نے بھی اسماعیل پر حملہ کیا۔ دونوں صلیبی خزانہ دیکھ کر پاگل
ہوچکے تھے۔ قدومی کو انہوں نے نہیں دیکھا کہ وہ کیا کررہی ہے۔ جوں ہی مارکونی کی پیٹھ قدومی کی طرف ہوئی ،قدومی
نے پوری طاقت سے برچھی اس کے پہلو میں اتار دی۔ برچھی نکال کر ایک اور وار کیا اور اسے لڑھکا دیا۔ اس کا ایک ہی
ساتھی رہ گیا۔ وہ قدومی پر تلوار کا وار کرنے کو لپکا تو اسماعیل نے خنجر سے اس کے پہلو سے پیٹ چیر ڈاال۔قدومی جو
خزانے میں سے حصہ لینے گئی تھی ،اپنے گلے کا ہار بیش قیمت دو انگوٹھیاں اور کانوں کے زیورات وہاں پھینک کر اسماعیل
کے ساتھ باہر نکل آئی۔ دہانے والے دروازے سے نکلتے ہوئے اسماعیل نے جلتی ہوئی مشعل اندر ہی پھینک دی۔ وہ دونوں ان
اشیاء کے عالوہ بہت کچھ اندر ہی پھینک آئے تھے۔ قدومی کو جب باہرکی تازہ ہوا لگی تو اس نے اسماعیل سے کہا…
''''ہم کہاں سے آئے ہیں؟ کیا تم مجھے پہچان سکتے ہو؟ میں کون ہوں؟
میں بھی کچھ ایسے ہی محسوس کررہا ہوں''۔ اسماعیل نے کہا۔ ''ہم شاید سارے گناہ اندر ہی پھینک آئے ہیں''۔'' :
اس عالقے سے باہر نکلنے کا راستہ انہیں معلوم تھا۔ وہ باہر نکل گئے
باہر تھوڑے سے اونٹ کھڑے تھے ،باقی معلوم نہیں کہا غائب ہوگئے تھے۔ وہ دو اونٹوں پر بیٹھے اور قاہرہ کی سمت روانہ
ہوگئے۔
٭ ٭ ٭ وہ اگلی رات تھی۔ آدھی رات گزر گئی تھی ،جب غیاث بلبیس نے قدومی اور اسماعیل کی ساری داستان ہر ایک
تفصیل کے ساتھ سن کر لمبی آہ بھری اور کہا… ''مجھے صالح الدین ایوبی کی باتیں اب صحیح معلوم ہورہی ہیں۔ اس نے
کہا تھا ان خزانوں سے دور رہو'' ۔غیاث بلبیس شہری امور کا کوتوال تھا۔ اسماعیل اور قدومی اسے اچھی طرح جانتے تھے۔
وہ گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتے تھے۔ وہ صحرا سے لوٹ کر احمر درویش کے پاس جانے کے بجائے غیاث بلبیس کے پاس
چلے گئے اور اسے ساری واردات سنا کر بتایا کہ اس کا اصل سرغنہ احمر درویش ہے۔ غیاث بلبیس نے اسی وقت علی بن
سفیان کو اپنے پاس بال لیا۔ اسے یہ واردات سنائی۔ احمر معمولی حیثیت کا آدمی نہیں تھا۔ ان دونوں نے سلطان ایوبی کو
جگایا اور اجازت مانگی کہ وہ احمر درویش کو گرفتار کرلیں۔ انہیں اجازت مل گئی۔ انہوں نے فوج کے کچھ آدمی ساتھ لیے
اور احمر درویش کے گھر چھاپہ مارا۔ سارے گھر کی تالشی لی۔ وہاں سے وہ نقشے اور کاغذات برآمد ہوئے جو پرانی
دستاویزات کے پلندے سے غائب تھے۔صبح علی بن سفیان اور غیاث بلبیس کے ساتھ فوج کے ایک بڑے دستے کو اس پراسرار
عالقے کی طرف بھیجاگیا ،جہاں ریمینس کا مدفن تھا۔ سلطان ایوبی نے حکم دیا تھا کہ ثبوت وغیرہ دیکھ کر مدفن کو اس
طرح بند کردیا جائے جس طرح پہلے تھا۔ کسی کو اندر نہ جانے دیا جائے۔ اسماعیل رہنمائی کررہا تھا۔ وہاں گئے تو وہ جگہ
خونچکاں کہانی بیان کررہی تھی۔ فوج کی مدد سے مدفن کے دہانے کو اسی وزنی چوکور پتھر سے بند کردیا گیا۔ جو نیچے
پڑی تھی۔ اسے فوج کی ایک بڑی جمعیت نے رسوں اور زنجیروں سے اوپر کیا اور فرعون ایک بار پھر نظروں سے اوجھل
ہوگیا مگر اب وہ اپنے جیسے دو اور گناہ گاروں کی الشیں اپنے مدفن میں لے گیا۔
یہ قصہ یہی ختم ہوا
20:03
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔ 63اسالم کی پاسبانی کب تک کرو گے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
صلیبیوں کا سن ١١٧٤ء دنیائے اسالم کے لیے اچھا ثابت نہ ہوا۔ یہ مسلمانوں کا سن ٥٦٩ہجری تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی
کو علی بن سفیان نے سال کے آغاز میں یہ خبر سنائی کہ عکرہ میں اپنا ایک جاسوس شہید ہوگیا ہے اور دوسرا پکڑا گیا
ہے۔ یہ اطالع ایک اور جاسوس الیا تھا جو ان دونوں کے ساتھ تھا۔ یہ جاسوس کچھ قیمتی معلومات بھی الیا تھا لیکن ایک
جاسوس کی شہادت اور دوسرے کی گرفتاری نے سلطان ایوبی کو پریشان کردیا۔ علی بن سفیان بھانپ گیا کہ سلطان ایوبی کچھ
زیادہ ہی پریشان ہوگیا ہے۔ فوجی سراغ رسانی اور جاسوسی کا یہ ماہر سربراہ جانتا تھا کہ سلطان ایوبی نے سینکڑوں فوجیوں
کی شہادت پر بھی کبھی پریشانی اور افسوس کا اظہار نہیں کیا لیکن ایک چھاپہ مار یا کسی ملک میں بھیجے ہوئے ایک
جاسوس کی شہادت کی خبر سن کر اس کا چہرہ بجھ جایا کرتا تھا۔
اب ایک جاسوس کی شہادت اور ایک کی گرفتاری کی اطالع پر علی بن سفیان نے سلطان ایوبی کے چہرے پر رنج کا تاثر
دیکھا تو اس نے کہا… ''امیر محترم! آپ کا چہرہ اداس ہوتاہے تو لگتا ہے سارا عالم اسالم ملول ہوگیا ہے۔ اسالم کی آبرو
جانوں کی قربانی مانگتی ہے۔ ایک دن ہم دونوں کو بھی شہید ہونا ہے۔ ہمارے دو جاسوس ضائع ہوگئے ہیں تو میں دو اور
بھیج دوں گا۔ یہ سلسلہ رک تو نہیں جائے گا''۔
یہ سلسلہ رک جانے کا مجھے خدشہ نہیں علی!'' سلطان ایوبی نے رنجیدہ سی مسکراہٹ سے کہا… ''کسی چھاپہ مار ''
کی شہادت میرے ذہن میں یہ سوچ بیدار کردیتی ہے کہ ایک یہ سرفروش ہیں جو ہماری نظروں سے اوجھل ،وطن سے دور،
اپنے بیوی بچوں ،بہن بھائیوں اور ماں باپ سے دور دشمن کے ملک میں تن تنہا اپنا فرض ادا کرتے ہیں اور جان کی قربانی
دیتے ہیں اور ایک یہ ایمان فروش ہیں جو گھروں میں بادشاہوں کی طرح رہتے ،عیش وعشرت کرتے اور اسالم کی جڑیں کاٹنے
میں اپنے دشمن کا ہاتھ بٹاتے ہیں''۔
کیا آپ پسند فرمائیں گے کہ ساالروں ،نائب ساالروں اور تمام کمان داروں کو باقاعدہ وعظ دئیے جایا کریں؟'' علی بن ''
سفیان نے کہا… ''آپ انہیں مہینے میں ایک بار اسالم کی عظمت اور صلیبیوں کے عزائم کے متعلق وعظ دیا کریں۔ میرا
خیال ہے کہ جن کا رجحان دشمن پروری کی طرف ہے ،انہیں بتایا جائے کہ ان کا دشمن کون ہے اور کیسا ہے تو وہ اپنے
خیاالت میں تبدیلی پیدا کرلیں گے''۔
نہیں''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''جب انسان ایمان بیچنے پر آتا ہے تو اس کے آگے قرآن رکھ دو تو وہ اس مقدس کتاب''
کو اٹھا کر ایک طرف رکھ دے گا۔ ایک طرف صرف الفاظ ہوں اور دوسری طرف دولت ،عورت اور شراب تو انسان الفاظ سے
متاثر نہیں ہوتا۔ الفاظ نشہ دے سکتے ہیں ،بادشاہی نہیں دے سکتے۔ ہماری قوم کے غدار بچے نہیں ،وہ گنوار اور جاہل نہیں۔
وہ سب حاکم ہیں۔ فوج اور حکومت کے اونچے عہدے کے لوگ ہیں۔ وہ سپاہی نہیں۔ دشمن کے ساتھ سازباز حاکم ہی کیا
کرتے ہیں۔ سپاہی لڑتے اور مرتے ہیں۔ انہیں جھانسے دے کر بغاوت پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ میں کسی کو وعظ اور خطبہ نہیں
دوں گا۔ خطبے دینے والے حکمران دراصل کمزور اور بددیانت ہوتے ہیں۔ وہ قوم کا دل الفاظ سے اور جوشیلے خطبوں سے
رچایا کرتے ہیں۔ خطبے اور تقریریں کمزوری کی عالمت ہوتی ہیں۔ میں فوج اور قوم سے یہ نہیں کہوں گا کہ ہم فاتح اور
خوشحال ہیں۔ میں حاالت کو بدلوں گا پھر حاالت بتائیں گے کہ ہم امیر ہیں یا غریب ،فاتح ہیں یا شکست خوردہ۔ قوم اور
فوج مجھے سے اناج مانے گی تو میں انہیں الفاظ کی خوراک نہیں دوں گا۔ غداروں کو میں سزا دوں گا۔ انہیں جینے کے حق
سے محروم کردوں گا۔ علی بن سفیان! مجھے الفاظ میں نہ الجھائو۔ اگر مجھے بولنے کی عادت پڑ گئی تو میں جھوٹ بولنا
بھی شروع کردوں گا''۔
اعلی عہدوں کے چند ایک حاکم پکڑے گئے اور سزا پاچکے
مصر میں بغاوت کا جو خطرہ پیدا ہوگیا تھا ،وہ ختم کردیا گیا تھا۔
ٰ
تھے۔ دو نے خود ہی سلطان ایوبی کے پاس آکر اقبال جرم کیا اور معافی لے لی تھی۔ سلطان ایوبی کا یہ کہنا بالکل صحیح
تھا کہ غداری اور بے اطمینانی پیدا کرنے کے ذمہ دار مفادپرست حاکم ہوتے ہیں۔ فوج اور قوم کو گمراہ کرکے سبز باغ دکھائے
جاتے اور بغاوت پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ مصر میں ١١٧٤ء کے آغاز تک فوج میں بغاوت کا نام ونشان تک نہ رہا تھا۔ البتہ
صلیبی جاسوسی اور تخریب کاری میں بدستور مصروف تھے۔ صلیبیوں کے جاسوس اور تخریب کار مصر میں موجود اور سرگرم
تھے۔ یہ سلسلہ روکا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ سلطان ایوبی نے بھی اپنے جاسوس ان عالقوں میں بھیج رکھے تھے جو صلیبیوں
کے قبضے میں تھے۔ سلطان ایوبی اس زمین دوز جنگ کا ماہر تھا۔
پاک فلسطین کی سرزمین کا ایک مقام تھا جو اس لحاظ سے اہم تھا کہ وہاں صلیبیوں کا سب سے بڑا پادری ہے جسے :
صلیب اعظم کا محافظ کہا جاتا تھا ،رہتا تھا۔ وہیں سے صلیبی کمانڈر ہدایات اور حوصلہ افزائی حاصل کرتے تھے اور عکرہ اس
دور میں صلیبیوں کی ہائی کمانڈ کا ہیڈ کوارٹر بن گیا تھا۔ جب نورالدین زنگی نے کرک کا قلعہ فتح کرلیا تو صلیبی عکرہ کو
ہیڈکوارٹر بنا کر بیت المقدس کو سلطان ایوبی اور نورالدین زنگی سے بچانے کی سکیمیں بنا رہے تھے۔ وہاں کے حاالت معلوم
کرنے اور دشمن کی سکیم کی اطالع کرک میں زنگی کو یا قاہرہ میں سلطان ایوبی کو پہنچانے کے لیے تین جاسوس بھیج
دئیے گئے تھے۔ ان کا کمانڈر عمران نام کا ایک نڈر اور ذہین جاسوس تھا۔ یہ علی بن سفیان کا انتخاب تھا۔
یہ تینوں نہایت خوبی سے عکرہ میں داخل ہوگئے تھے۔ جیسا کہ پہلے سنایا جاچکا ہے کہ سلطان ایوبی نے شوبک کا قلعہ
اور شہر فتح کیا تو وہاں سے بے شمار عیسائی اور یہودی کرک کی طرف بھاگ گئے تھے۔ مسلمانوں نے کرک پر چڑھائی
کرکے یہ شہر بھی لے لیا تو وہاں سے بھی غیرمسلم بھاگے اور مختلف مقامات پر چلے گئے۔ ان دونوں مفتوحہ جگہوں کے
اردگرد کے عالقوں کے بھی عیسائی اور یہودی بھاگ گئے تھے۔ سلطان ایوبی کا انٹیلی جنس کا محکمہ بھی اپنی فوج کے
ساتھ تھا۔ علی بن سفیان کی ہدایت کے مطابق کئی جاسوس عیسائیوں کے بہروپ میں عیسائیوں کے عالقوں میں بھیج دئیے
گئے۔ ان میں سے تین کو یہ مشن دیا گیا کہ وہ عکرہ سے جنگی معلومات حاصل کرکے قاہرہ بھیجیں۔ انہیں وہاں صلیبی
فوج کی نقل وحرکت پر نظر رکھنی تھی۔ غیرمسلم آبادی میں مسلمان فوج کی دہشت بھی پھیالنی تھی اور یہ اطالع بھی
دینی تھی کہ وہاں کس قسم کی تباہ کاری (سبوتاژ) کی جاسکتی ہے۔
یہ تینوں لٹے پٹے عیسائیوں کے بہروپ میں عکرہ داخل ہوگئے۔ ان دنوں وہاں یہ حالت تھی کہ عیسائیوں اور یہودیوں کا تانتا
بندھا رہتا تھا۔ وہ سب ہراساں تھے اور پناہیں ڈھونڈ رہے تھے۔ پناہ کےبعد روزگار کا مسئلہ تھا۔ عمران اور ان کے دونوں
جاسوسوں کو وہاں عیسائیوں کی حیثیت سے پناہ مل گئی۔ تینوں ذہین اور تربیت یافتہ تھے۔ عمران سیدھا بڑھے پادری کے
پاس چال گیا۔ اپنے آپ کو کسی ایسے عالقے کا پناہ گزین ظاہر کیا جس پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا تھا۔ اس نے اس طرح
باتیں کیں جیسے اس پر مذہب کا جنون طاری ہے اور وہ خدا کی تالش میں مارا مارا پھر رہا ہے۔ اس نے کہا کہ اس کی
بیوی اور بچے مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ اسے ان بچوں کا اور بیوی کا کوئی غم نہیں ،اس نے بیتابی سے یہ
خواہش ظاہر کی کہ وہ کلیسا کی خدمت کرنا چاہتا ہے کیونکہ اس نے سنا ہے کہ خدا اور روحانی سکون کلیسا میں ہے۔ اس
نے اپنانام جان گنتھر بتایا۔
اور میں نے تو اسالم قبول کر ہی لیا تھا''۔ عمران نے پادری سے کہا… ''ان کے ایک مولوی نے کہا تھا کہ خدا …''
مسجد میں ہے ،میری بیوی اور میرے بچے مجھ سے ناالں اور شاکی تھے کہ میں کوئی کام کاج نہیں کرتا تھا۔ خدا اور
روحانی سکون کی تالش میں مارا مارا پھرتا رہتا تھا۔ میں خدا کے وجود پر یقین رکھتا ہوں۔ وہ خدا ہی تھا جس نے میری
بیوی کو مسلمانوں کے ہاتھوں مروا کر اپنی پناہ میں لے لیا کیونکہ جو اس کا خاوند تھا ،اسے روٹی نہیں دیتا تھا۔ وہ خدا ہی
تھا جس نے میرے بچوں کو بھی سنبھال لیا کیونکہ وہ ماں کے بغیر رہ نہیں سکتے تھے اور میں جو ان کا باپ تھا ،ان کی
طرف سے بے پروا تھا۔ میں مسلمان ہوچال تھا مگر مسلمانوں نے میرے معصوم بچوں کو مار ڈاال۔ انہوں نے ہم پر بہت مظالم
ڈھائے۔ میں جان گیا کہ خدا مسلمان کے سینے میں نہیں ہے ،کہیں اور ہے''۔
اس نے اچانک پادری کے کندھے تھام کر اسے جھنجھوڑا اور دانت پیس کر پوچھا… ''مقدس باپ! مجھے بتاو میں پاگل تو
نہیں ہوگیا؟ میں اپنی جان اپنے ہاتھوں لے لوں گا۔ میں اگلے جہان تمہارا گریبان پکڑ کر خدا کے سامنے لے جاوں گا اور
کہوں گا کہ یہ شخص مذہبی پیشوا نہیں ،ایک ڈھونگ تھا۔ اس نے مذہب کے نام پر لوگوں کو دھوکے دئیے ہیں''۔
اس کی ذہنی کیفیت ایسی ہوگئی کہ صلیب اعظم کا محافظ چونک پڑا۔ اس نے عمران کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا… ''تم
میرے غمزدہ بیٹے ہو۔ خدا تمہارے اپنے سینے میں ہے جو تمہیں خدا کے بیٹے کے معبد میں نظر آئے گا۔ تم عیسائی ہو
جان گنتھر! تم اسی مذہب اور اسی روپ میں خدا کو پالو گے۔ تم جائو ،ہر صبح میرے پاس آجایا کرو۔ میں تمہیں خدا دکھا
دوں گا''۔
میں کہیں نہیں جائوں گا مقدس باپ!''۔ عمران نے کہا… ''میرا کوئی گھر نہیں ،دنیا میں میرا کوئی نہیں رہا۔ مجھے'' :
اپنے پاس رکھیں۔ میں آپ کی اور خدا کے بیٹے کی معبد کی اتنی خدمت کروں گا ،جتنی آپ نے بھی نہیں کی''۔
عمران نے علی بن سفیان سے تربیت لی تھی۔ اسے اور اس کے ساتھیوں کو چونکہ صلیبیوں کے راز معلوم کرنے کے لیے
تیار کیا گیا تھا ،اس لیے انہیں عیسائیت کے متعلق گرجوں کے اندر کے آداب اور طور طریقوں کے متعلق نہ صرف معلومات
دی گئیں بلکہ ریہرسل کو ایسی خوبی سے عملی شکل دی کہ بڑا پادری اور اس کے چیلے اس سے بہت متاثر ہوئے اور
اسے گرجے میں رکھ لیا۔ عمران نے پادری کی خدمت ایسا والہانہ انداز سے شروع کردی کہ وہ پادری کا خصوصی مالزم بن
گیا چونکہ وہ ذہین بھی تھا ،اس لیے اس نے پادری کے دل پر قبضہ کرلیا۔ پادری نے تسلیم کرلیا کہ یہ شخص غیرمعمولی طور
پر ذہین ہے لیکن اس پر مذہب کا جنون اتنی شدت سے طاری ہوگیا ہے کہ اس کی ذہانت بے کار ہورہی ہے۔ پادری نے اس
کی تعلیم وتربیت شروع کردی۔
٭ ٭ ٭
عمران کا ایک ساتھی ایک عیسائی تاجر کے پاس گیا اور بتایا کہ وہ کرک سے بھاگا ہوا عیسائی ہے جہاں اس کا سارا
خاندان مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا ہے۔ اس نے اپنی داستان غم ایسے جذباتی انداز سے سنائی کہ تاجر نے اسے اپنے پاس
مالزم رکھ لیا۔ وہ رحیم ہنگورہ نام کا سوڈانی مسلمان تھا۔ عمران کی طرح ذہین ،دلیر اور خوبرو۔ اس نے اس تاجر کا انتخاب
سوچ سمجھ کرکیا تھا۔ اس نے چند دن صرف کرکے دیکھا تھا کہ وہاں صلیبی فوج کے افسر آتے ہیں اور فوج کے لیے
سامان خریدتے ہیں۔ ٹریننگ اور اپنی عقل کے زور پر وہ تاجر کا قابل اعتماد مالزم بن گیا۔ چند دنوں بعد تاجر نے اسے گھر
کے کام بھی دینے شروع کردئیے۔ رحیم نے ایلی مور نام کے عیسائی سے تاجر کے گھر والوں پر بھی اپنا اثر قائم کرلیا۔ اس
کامیابی کی وجہ یہ تھی کہ اس نے تاجر کی بیوی ،اس کی جوان بیٹی اور بیٹے کو ایسے انداز سے اپنی تباہی کی کہانی
سنائی تھی کہ ان سب کے آنسو نکل آئے تھے۔ اس نے انہیں بتایا کہ اس کا مکان انہی کے مکان جیسا تھا ،ایسی ہی
اعلی نسل کا ایک گھوڑا تھا۔ تاجرکی بیٹی جیسی خوبصورت جوان بہن تھی۔ اس کے گھر
سجاوٹ تھی ،ایسا ہی سامان تھا۔
ٰ
میں حاجت مندوں کو نوکر رکھا جاتا اور بھوکوں کو کھانا کھالیا جاتا تھا۔ اب خدا نے یہ دن دکھایا ہے کہ میں نوکری کررہا
ہوں۔
تاجرکی بیٹی ایلس اس سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہوئی۔ وہ رحیم سے اس کی بہن کے متعلق ہی پوچھتی رہی۔ رحیم نے کہا…
'' وہ بالکل تمہاری طرح تھی۔ تمہیں دیکھ کر مجھے بہن اور زیادہ یاد آنے لگی ہے اگر وہ مرجاتی تو اتنا غم نہ ہوتا۔ غم
یہ ہے کہ مسلمان اسے اٹھا لے گئے ہیں۔ تم سمجھ سکتی ہو کہ اس کا کیا حال ہورہا ہوگا۔ مجھے اب یہی غم کھائے جارہا
ہے کہ اسے مسلمانوں سے کس طرح رہائی دالئوں۔ کبھی دل میں زیادہ ابال اٹھا تو شاید میں پاگلوں کی طرح وہیں جا
پہنچوں ،جہاں بہن کو چھوڑ آیا ہوں۔ بہن تو نہیں ملے گی ،مجھے موت مل جائے گی۔ میں زندہ نہیں رہنا چاہتا''۔
ماں بیٹی نے ضرور سوچا ہوگا کہ اتنا خوبرو جوان جوانی کی عمر میں ہی غم میں گھلنے لگا ہے اور اس کی جذباتی حالت
بتا رہی ہے کہ اس کا غم ہلکا نہ کیا گیا تو یہ پاگل ہوجائے گا یا خودکشی کرلے گا۔ ایلس جو تاجر کی جوان اور غیرشادی
شدہ بیٹی تھی ،رحیم کے درد کو اپنے دل میں محسوس کرنے لگی۔ یہاں تک کہ رحیم جب باہر نکال تو ایلس نے کسی بہانے
باہر جاکر رحیم کو راستے میں روک لیا اور کہا وہ ان کے گھر آتا رہا کرے۔ اس نے رحیم سے کچھ جذباتی باتیں کرکے اس
کا غم ہلکا کرنے کی کوشش کی۔ ماں بیٹی نے تاجر سے بھی کہا کہ اس آدمی کا خیال رکھے۔ دراصل رحیم کی شکل
وصورت اور ڈیل ڈول ایسی تھی کہ وہ کسی اونچے اور کھاتے پیتے خاندان کا بیٹا لگتا تھا۔ اس تاثر میں اگر کوئی کسر تھی
تو وہ اس کی زبان اور اداکاری سے پوری ہوجاتی تھی جس کی اسے ٹریننگ دی گئی تھی۔
تین چار روز بعد وہ تاجر کے پاس بیٹھا تھا کہ اسے اپنا ایک ساتھی جاسوس رضا الجاوہ نظر آگیا۔ رحیم اس کے پیچھے
پیچھے گیا اور اس کے ساتھ ساتھ چلتے اس سے پوچھا کہ وہ کیا کررہا ہے۔
معلوم ہوا کہ اسے کوئی ٹھکانہ نہیں مال۔ رضا تجربہ کار گھوڑ سوار تھا اور گھوڑے پالنے اور سنبھالنے کی مہارت رکھتا تھا۔ :
رحیم اسے تاجر کے پاس لے آیا اور اس کا تعارف فرانسس کے نام سے کراکے کہا کہ یہ بھی کرک کا لٹا پٹا عیسائی ہے۔
اسے کہیں نوکر کرادیا جائے۔ رحیم نے کہا یہ گھوڑوں کے سائیسوں کا انچارج تھا۔ یہی کام کرسکتا ہے۔ تاجر نے کہا کہ اس
کے پاس بڑے بڑے فوجی افسر آتے رہتے ہیں۔ ان کی وساطت سے وہ فرانسس کو مالزمت دال دے گا… دو تین روز بعد رضا کو
اس اصطبل میں مالزمت مل گئی جہاں فوج کے بڑے افسروں کے گھوڑے رہتے تھے۔
تاجر کے پاس فوج کے افسر آتے رہتے اور وہ ان کے پاس جاتا رہتا تھا۔ رحیم نے دیکھا کہ تاجر ان افسروں کو شراب اور
حشیش کے عالوہ چوری چھپے عورتیں بھی دیا کرتا تھا ،اس طرح اس نے ان سب کو اپنی مٹھی میں لے رکھا تھا۔ رحیم
تاجر کو صالح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی کے خالف بڑھکاتا رہتا اور اس خواہش کا اظہار کرتا رہتا تھا کہ صلیبی فوج پورے
عرب اور مصر پر قابض ہوجائے اور کوئی مسلمان زندہ نہ رہے۔ اس خواہش میں وہ بعض اوقات اتنا بیتاب اور بے قابو نظر آتا
تھا جیسے عکرہ کے مسلمانوں کا خون پی لے گا۔ تاجر اسے تسلی دیتا رہتا تھا کہ صلیبی فوج اس کی خواہش پوری کردے
گی۔ وہ صلیبی فوج کے ان افسروں کو بھی برا بھال کہنے لگتا تھا جو عکرہ میں بیٹھے عیش کررہے تھے۔ ان جذباتی باتوں
کے ساتھ ساتھ رحیم عقلمندی کی باتیں بھی کرتا تھا اور مسلمانوں کو شکست دینے کے لیے ایسے جنگی نقشے اور منصوبے
بناتا تھا کہ تاجر اسے غیرمعمولی طور پر دانشمند سمجھتا تھا۔ ایسے ہی جذبات اور دانشمند باتوں کا نتیجہ تھا کہ تاجر نے
اسے وہ فوجی راز دینے شروع کردئیے جو اسے فوجی افسروں سے حاصل ہوتے تھے۔
اس کے ساتھ ہی ایلس رحیم کی گرویدہ ہوگئی۔ رحیم نے ابتدا میں اسے بھی اپنے فرض کی ایک کڑی سمجھا لیکن ایلس کے
والہانہ پن نے رحیم کے دل میں اس کی محبت پیدا کردی۔ رحیم نے دل میں فیصلہ کرلیا کہ اپنا فرض پورا کرکے وہ ایلس کو
اپنے ساتھ قاہرہ لے جائے گا اور اسے مسلمان کرکے اس کے ساتھ شادی کرلے گا مگر ابھی دونوں کو معلوم نہیں تھا کہ
صلیبی فوج کا ایک بڑا افسر اس لڑکی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
رضا الجاوہ بھی تربیت یافتہ جاسوس تھا۔ اصطبل میں اسے فوج کے کسی بڑے افسر کا گھوڑا مل گیا تھا۔ اس افسر نے
محسوس کیا کہ رضا عام قسم کا سائیس نہیں بلکہ عقل ودانش بھی رکھتا ہے۔ وہ باتیں ہی ایسی کرتا تھا ،جب کبھی یہ
افسر اصطبل میں آتا تو رضا اس سے پوچھتا۔ ''صالح الدین ایوبی کو آپ کب شکست دے رہے ہیں؟'' اور پھروہ بتاتا کہ
سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج میں کیا خوبیاں اور صلیبی فوج میں کیا خامیاں ہیں۔ ایک روز اس نے کوئی ایسی بات کہہ
دی جو اگر کوئی جنگی امور کا ماہر نہ کہے تو کم از کم ایک سائیس کے دماغ میں نہیں آسکتی۔ اس افسر نے اسے کہا۔
''تم کون ہو؟ تمہارا پیشہ سائیسی نہیں ہوسکتا''۔
آپ کو کس نے بتایا ہے کہ میرا پیشہ سائیسی ہے؟ ''رضا نے کہا ''میں کرک میں گھوڑوں کا مالک تھا۔ میں خود تو ''
فوج میں نہیں تھا ،میرے دو گھوڑے جنگ میں گئے تھے۔ یہ تو زمانے کے انقالب ہیں کہ گھوڑوں کا مالک آج اصطبل میں
سائیس ہے۔ مجھے اس کا کوئی غم نہیں ،اگر آپ صالح الدین ایوبی کو شکست دے دیں تو میں باقی عمر آپ کے جوتے
صاف کرتے گزار دوں گا''۔
'
صالح الدین ایوبی کی قسمت میں شکست لکھ دی گئی ہے فرانسس!'' اس نے رضا سے کہا۔'' :
لیکن کیسے؟'' رضا نے کہا… ''اگر ہمارے بادشاہوں نے کرک اور شوبک پر حملہ کیا اور مسلمانوں کو اسی طرح محاصرے''
میں لے کر شکست دینے کی کوشش کی جس طرح انہوں نے ہمیں محاصرے میں لیا تھا تو آپ کامیاب نہیں ہوں گے۔ صالح
الدین ایوبی اور نورالدین زنگی جنگ کے استاد ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ انہوں نے ہماری فوج کو قلعوں سے دور روکنے کا
اہتمام کررکھا ہے۔ عقل مندی اس میں ہوگی کہ حملہ کسی ایسی سمت سے کیا جائے جو ایوبی کے وہم وگمان میں بھی نہ
ہو۔ ایوبی اور زنگی قلعوں میں بیٹھے رہیں اور آپ مصر پر چھا جائیں''۔
ایسے ہی ہوگا''۔ افسر نے معنی خیز مسکراہٹ سے کہا… ''سمندر میں کوئی قلعہ نہیں ہوتا ،مصر کے ساحل پر کوئی ''
قلعہ نہیں۔ مصر پر اب صلیب کی حکمرانی ہوگی''۔
یہ ابتدا تھی۔ اس کے بعد رضا نے اس افسر سے کئی ایک راز کی باتیں معلوم کرلیں۔ دشمن اپنا جنگی راز تفصیل سے بیان
نہیں کیا کرتا۔ ہوشیار جاسوس اشاروں میں باتیں اگلوا لیتا اور ان اشاروں کو اپنے فن کے مطابق جوڑ کر وہ کہانی بنا لیتا ہے
جسے راز کہتے ہیں۔
٭ ٭ ٭
رحیم اور رضا ہر اتوار کو صبح گرجے میں جاتے اور عمران سے مالقات کرلیتے اور اسے اپنی رپورٹیں بھی دیا کرتے تھے۔
رحیم نے عمران کو بتا دیا تھا کہ تاجر کی بیٹی ایلس اسے بڑی شدت سے چاہنے لگی ہے۔ عمران نے اسے کہا کہ وہ اس
کی محبت کو ٹھکرائے نہیں ،ورنہ اسے اس جگہ سے نکال دیا جائے اور یہ احتیاط بھی کرے کہ اس کی محبت میں ہی نہ
گم ہوجائے مگر رحیم ایلس کے حسن وجوانی میں گم ہوتا چال جارہا تھا۔ لڑکی نے اسے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ان کی شادی
صرف اس صورت میں ہوسکتی ہے کہ وہ عکرہ سے بھاگ چلیں کیونکہ کوئی فوجی افسر لڑکی کے باپ کے ساتھ دوستانہ
گانٹھ رہا تھا۔ رحیم نے عمران کو یہ صورتحال نہ بتائی۔
عمران نے پادری کا قرب اور اعتماد اس حد تک حاصل کرلیا تھا کہ اس کا ہمراز درباری بن گیا تھا۔ وہ پادری سے ایسے
سوال پوچھتا تھا جن میں ذہانت کی پختگی اور علم کی تشنگی ہوتی تھی۔ پادری اپنی فراغت کے اوقات میں اسے مذہب
کے سبق دیا کرتا تھا۔ وہ عمران کو یہ ذہن نشین کرا رہا تھا کہ عیسائیت کا یہ فرض ہے کہ کرٔہ ارض سے اسالم کا وجود
ختم کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے جنگ کی جائے اور جو بھی ذریعہ کامیاب ہوسکتا ہے ،استعمال کیا جائے۔ ضروری نہیں کہ
مسلمانوں کو قتل کیا جائے۔ انہیں ہر ذریعے سے عیسائیت میں النے کی کوشش کی جائے۔ اگر وہ عیسائیت قبول نہ کریں تو
ان کے ذہنوں سے اسالم بھی نکال دیا جائے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ان میں بدی کا بیج بو دیا جائے۔ اس کا ایک طریقہ
یہ ہے کہ اپنی عورتوں کو استعمال کیا جائے۔ یہ عورتیں مسلمان عورتوں میں بدکاری پیدا کریں اور جوان لڑکیاں مسلمان
نوجوانوں اور ان کے حکمرانوں اور حاکموں کا کردار تباہ کریں۔ چونکہ یہودی بھی مسلمانوں کے دشمن ہیں اور وہ اپنی عورتوں
کو استعمال کرتے ہیں ،اس لیے مسلمانوں کو تباہ کاری کے لیے یہودی عورتوں کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مقصد یہ سامنے
رکھا جائے کہ مسلمانوں کا نام ونشان مٹانا ہے۔ پھر ہر طریقہ اختیار کیا جائے ،وہ خواہ دوسروں کی نظر میں ناجائز ،ظالمانہ
اور شرمناک ہی کیوں نہ ہو۔
عمران پادری سے ایسی باتیں سنتا اور اطمینان کا اظہار کرتا رہتا تھا۔ وہاں فوجی افسر اور حکومت کے افسر بھی آتے رہتے
تھے۔ ان دنوں چونکہ صلیبیوں کو یکے بعد دیگرے دو میدانوں میں شکست کھا کر بھاگنا پڑا تھا ،اس لیے عکرہ میں ہر کسی
کی زبان پر یہی سوال تھا کہ جوابی حملہ کب کیا جائے گا۔ پادری کی ذاتی محفل میں تو اور کوئی بات ہوتی ہی نہیں
تھی۔ عمران وہاں سے قیمتی راز حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا جارہا تھا۔ اس نے یہ بھی معلوم کرلیا کہ صلیبی حکمرانوں
میں اتفاق اور اتحاد نہیں ہے۔ ان کی اپنی بادشاہیاں اور سلطنتیں تھیں ،وہ چونکہ ہم مذہب تھے ،اس لیے صلیب پر ہاتھ رکھ
کر انہوں نے اسالم کے خاتمے کی جنگ شروع کردی تھی مگر اندر سے وہ پھٹے ہوئے تھے۔ ان میں ایسے بھی تھے جو
درپردہ مسلمانوں کے ساتھ صلح اور معاہدہ کرکے اپنی صلیبی بھائیوں کے ساتھ مل کر جنگ کی تیاریاں بھی کرتے رہتے تھے۔
ان میں قابل ذکر سیزر مینوئل تھا جس نے ایک میدان میں نورالدین زنگی کے ساتھ صلح کرکے تاوان ادا کیا اور مسلمانوں کے
جنگی قیدی رہا کردئیے تھے۔ اب سیزر مینوئل دوسرے حکمرانوں کو بڑھکا رہا تھا کہ وہ سب مل کر زنگی پر حملہ کریں۔
حملے کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ ایک زنگی پر اور دوسرا مصر پر۔ اس وقت زنگی کرک میں تھا۔
بہر حال پادری ان کے نفاق پر پریشان رہتا تھا۔ عمران نے اسے یہ نہ کہا کہ جو قوم اپنی لڑکیوں کو بھی اپنے مقاصد کے :
لیے استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتی ،اس کے افراد ایک دوسرے کو دھوکہ دینے سے کیوں گریز کریں گے۔ میدان میں ہار
کر زمین دوز جنگ لڑنے والی قوم کی اخالقی حالت یہی ہوسکتی ہے کہ اپنے بھائیوں سے بھی دغا اور فریب کریں۔ عمران
نے اپنے ذہن میں یہ بات سلطان ایوبی کو بتانے کے لیے محفوظ کرلی کہ اگر اسالم کی صفوں میں غدار نہ ہوں تو صلیبیوں
کو فیصلہ کن شکست دے کر ان سے یورپ بھی لیا جاسکتا ہے۔ غدار مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری بن گئے تھے۔
عکرہ کا پادری اور صلیبی حکمران مسلمانوں کی اس کمزوری پر بہت خوش تھے۔ عمران کو وہاں پتا چال کہ صلیبیوں نے
مسلمانوں کے کردار میں تخریب کاری کی مہم اور تیز کردی ہے۔ اسے مسلمانوں کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے حکمرانوں کے
نام بھی معلوم ہوگئے جو درپردہ صلیبیوں کے اتحادی بن چکے تھے۔ انہیں صلیبی بے دریغ یورپ کی شراب ،دولت اور جوان
لڑکیاں سپالئی کررہے تھے۔
عمران اور رضا تو اپنے فرائض میں مگن تھے مگر رحیم فرض کے راستے سے ہٹتا جارہا تھا۔ اس کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ
اسے تاجر کے گھر کا ہی کوئی کام دیا جائے۔ ایلس کی محبت نے اسے اندھا کرنا شروع کردیا تھا۔ چند دنوں بعد ایلس نے
اسے بتایا کہ اس کی شادی ایک ایسے فوجی افسر کے ساتھ کی جارہی ہے جو عمر میں اس سے بہت بڑا ہے۔ بڑا نہ بھی
ہوتا تو ایلس رحیم کے سوا کسی اور کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ اپنی ماں سے منوا چکی تھی کہ اس افسر
کے ساتھ شادی نہیں کرے گی۔ اس کا باپ نہیں مانتا تھا۔ وہ ان فوجی افسروں سے ہی دولت کما رہا تھا۔ اپنی لڑکی دینے
سے انکار نہیں کرسکتا تھا۔ ایلس نے ایک روز اپنے گلے میں ڈالی ہوئی صلیب رحیم کے ہاتھ پر رکھ کر اس پر اپنا ہاتھ رکھا
اور صلیب کی قسم کھائی تھی کہ وہ رحیم کے سوا کسی اور کو قبول نہیں کرے گی۔ رحیم نے بھی صلیب پر ایسی ہی قسم
کھائی تھی۔
٭ ٭ ٭
ایک روز پادری کے پاس چار پانچ فوجی افسر آئے اور اس کے خاص کمرے میں جابیٹھے۔ عمران نے ان کے چہروں کے
تاثرات سے محسوس کیا کہ کوئی خاص بات ہے۔ عمران پادری کے کمرے میں چال گیا۔ ایک فوجی افسر بات کرتے چپ
ہوگیا۔ پادری نے عمران سے کہا… ''جان گنتھر! تم کچھ دیر باہر ہی رہو۔ ہم کوئی ضروری باتیں کررہے ہیں''۔
عمران دوسرے کمرے میں چال گیا اور دروازے کے ساتھ کان لگا دئیے۔ وہ لوگ آہستہ آہستہ بول رہے تھے ،پھر بھی کام کی
باتیں عمران کی سمجھ میں آگئیں۔ جب فوجی افسر چلے گئے تو عمران وہاں سے ادھر ادھر ہوگیا تاکہ پادری کو شک نہ ہو۔
اس نے یہ ارادہ بھی کیا کہ اسی وقت بھاگ جائے اور کہیں رکے بغیر قاہرہ پہنچے اور سلطان ایوبی کو اطالع کردے کہ حملہ
روکنے کی تیاری کرلے مگر پادری نے اسے بال کر ایسے کام پر لگا لیا کہ وہ فوری طور پر بھاگ نہ سکا۔ اس کے عالوہ اسے
رحیم اور رضا سے بھی رپورٹیں لینی تھیں۔ ممکن تھا کہ ان کے کانوں میں بھی یہ خبر پہنچی ہو ،جو اس نے سنی ہے۔
اس نے سوچا کہ ان سے تصدیق ہوجائے تو تینوں اکٹھے عکرہ سے نکل جائیں۔ اس کام کے لیے وہ تین چار روز انتظار
کرسکتا تھا لیکن اس کی بیتابی اسے ٹکنے نہیں دے رہی تھی۔
دوسرے دن رضا کے پاس گیا۔ رضا اسے اصطبل میں مال۔ اس نے پوچھا کہ اسے کوئی نئی خبر ملی ہے؟ رضا نے بتایا کہ
کچھ غیرمعمولی سی سرگرمی نظر آرہی ہے اور اس نے اڑتے اڑتے سنی ہے کہ صلیبی جوابی حملہ خشکی کے راستے نہیں
کریں گے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سمندر کی طرف سے آئیں گے۔ اب یہ معلوم کرنا ہے کہ ان کے حملے کی تفصیل کیا ہے۔
عمران نے اسے بتایا کہ اس حملے کو صلیبی فیصلہ کن بنانا چاہتے ہیں۔ا س نے جو کچھ سنا تھا ،وہ رضا کو سنا دیا اور
اسے یہ مشن دیا کہ وہ اس حملے کی تفصیالت معلوم کرے۔ عمران صرف تصدیق کرنا چاہتا تھا ،ورنہ وہ تفصیل سے تو آگاہ
ہو ہی چکا تھا۔ اس نے رضا سے کہا کہ اب وہ ایک آدھ دن میں یہاں سے روانگی کی تیاری کرے۔ ان کا فرض پورا ہوچکا
ہے۔ واپسی کے لیے انہیں گھوڑوں یا اونٹوں کی بھی ضرورت تھی ،جو انہیں کہیں سے چوری کرنے تھے۔
عمران رحیم سے ملنا چاہتا تھا تاکہ اسے بھی چوکنا کرکے واپسی کی تیاری کے لیے کہہ دے لیکن رات ہوچکی تھی اور وہ
اس کے ٹھکانے پر جانا نہیں چاہتا تھا کیونکہ تاجر نے اسے رہنے کے لیے جو جگہ دے رکھی تھی وہاں جانا ٹھیک نہیں تھا۔
عمران گرجے چال گیا۔
وہ اگر رحیم کے پاس جاتا بھی تو وہ اسے نہ ملتا۔ وہ اپنے ٹھکانے میں بھی نہیں تھا اور وہ عکرہ میں بھی نہیں تھا۔ :
جب عمران اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے پریشان ہورہا تھا۔ اس وقت ایلس نے رحیم کو کسی اور ہی پریشانی میں ڈال
رکھاتھا۔ ہوا یوں تھا کہ صلیبیوں نے رقص اور کھانے کی محفل منعقد کی تھی۔ ایلس کے امیدوار نے اسے اپنے ساتھ رقص کے
لیے کہا تو ایلس نے اسے ٹھکرا دیا اور وہ اس سے کم عمر کے افسروں کے ساتھ ناچتی رہی۔ اس کے امیدوار نے اس کے
باپ سے شکایت کی۔ اس کا باپ بھی اس محفل میں موجود تھا ،جہاں شراب کی صراحیاں خالی ہورہی تھیں۔ باپ نے
ایلس کو ڈانٹ کر کہا کہ وہ اپنے منگیتر کی توہین نہ کرے اور اس کے ساتھ ناچے۔ ایلس ناراض ہوکر گھر چلی گئی اور باپ
کو یہ فیصلہ سنا آئی کہ وہ اس بوڑھے کے ساتھ شادی نہیں کرے گی۔
اس کا باپ اور امیدوار اس کے پیچھے گئے۔ وہ دور جاچکی تھی۔ گھر جاکر دیکھا ،وہ وہاں نہیں تھی۔ تالش کرتے کرتے وہ
رحیم کے کمرے سے برآمد ہوئی۔ باپ نے اس سے پوچھا کہ وہ یہاں کیا کررہی ہے۔ اس نے تنک کر جواب دیا کہ وہ جہاں
چاہے جاسکتی ہے اور جہاں چاہے بیٹھ سکتی ہے۔ اس کے امیدوار کو شک ہوا کہ یہاں معاملہ گڑبڑ ہے۔ ایلس کو باپ گھر
لے گیا۔ امیدوار نے رحیم سے پوچھا کہ یہ لڑکی یہاں کیوں آئی تھی… رحیم نے جواب دیا کہ وہ پہلے بھی یہاں آیا کرتی ہے
اور آئندہ بھی آئے گی۔ امیدوار بڑا افسر تھا ،اس نے رحیم کو دھمکی دی کہ وہ یہاں سے چال جائے ورنہ اسے زندہ نہیں
رہنے دیا جائے۔ رحیم کے جسم میں جوانی کا خون تھا۔ اس نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ معاملہ بگڑ گیا۔ تاجر نے آکر بیچ
بچائو کرادیا۔ ایلس کے امیدوار نے کہا کہ وہ اس آدمی کو یہاں دیکھنا نہیں چاہتا۔
دوسرے دن تاجر نے رحیم سے کہا کہ وہ اسے مالزمت میں نہیں رکھ سکتا کیونکہ فوج کے اتنے بڑے افسر کو ناراض کرکے وہ
اپنا کاروبار تباہ نہیں کرنا چاہتا۔ اس نے رحیم کو یہ نصیحت کی کہ وہ وہاں سے چال جائے کیونکہ فوجی افسر اسے کسی
جرم کے بغیر قید خانے میں ڈال سکتا ہے۔ رحیم بھول چکا تھا کہ وہ کس مقصد کے لیے یہاں آیا ہے۔ اس نے ایلس کو اپنے
ذاتی وقار کامسئلہ بنا لیا۔ اس کے امیدوار کی دھمکی کا وہ عملی جواب دینا چاہتا تھا۔ تاجر اپنی دکان میں تھا۔ رحیم اس
کے گھر گیا۔ ایلس سے مال اور اسے بتایا کہ اس کے باپ نے اسے نوکری سے نکال دیا ہے۔ ایلس اس کے ساتھ بھاگ جانے
کو تیار ہوگئی۔ بھاگنے کا وقت شام کے بعد کا مقرر کیا گیا ،جب اس کا باپ گھر نہیں ہوتا تھا۔
رات کو اس وقت جب عمران رضا کے پاس بیٹھا اس راز کے متعلق باتیں کررہا تھا ،جس کے لیے انہوں نے جان کا خطرہ
مول لے رکھا تھا۔ رحیم ایلس کے انتظار میں شہر سے باہر اس جگہ کھڑا تھا جو اسے ایلس نے بتائی تھی۔ ایلس نے اسے
کہا تھا کہ وہ باپ کے گھوڑے پر آئے گی اور وہ دونوں ایک ہی گھوڑے پر بھاگیں گے۔ وہ بے صبری سے ایلس کا انتظار
کررہا تھا اور ڈر رہا تھا کہ وہ باپ کا گھوڑا کس طرح چرا کر السکے گی… لڑکی نے گھوڑا چرا لیا تھا۔ اس پر زین ڈال کر
کس لی تھی اور وہ گھوڑے پر سوار ہوکر نکل بھی آئی تھی۔ رحیم نے جب اسے دیکھا تو اسے یقین نہ آیا کہ یہ ایلس ہے۔
اس کی آواز پر وہ گھوڑے پر اس کے پیچھے سوار ہوگیا۔ کچھ دور تک انہوں نے گھوڑے کی رفتار آہستہ رکھی۔ شہر سے دور
جاکر رحیم نے گھوڑے کو ایڑی لگادی۔ کچھ دیر بعد وہ عکرہ سے کافی دور جاچکے تھے۔
٭ ٭ ٭
آدھی رات کے وقت وہ ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں پانی تھا۔ رحیم نے اس خیال سے گھوڑا روک لیا کہ اسے پانی پال لیا
جائے اور آرام بھی کرلے۔ اسے معلوم تھا کہ آگے بہت دور تک پانی نہیں ملے گا۔ اسے یہ یقین ہوگیا تھا کہ وہ پکڑے نہیں
جائیں گے۔ کسی کو کیا خبر کہ وہ کس طرف گئے ہیں۔ اس نے ایلس سے کہا کہ آرام کرلیں۔ سحر کی تاریکی میں روانہ
ہوجائیں گے۔
تم بیت المقدس کا راستہ جانتے ہو؟'' ایلس نے پوچھا۔''
انہوں نے عکرہ سے بھاگتے وقت یہ طے کیا ہی نہیں تھا کہ انہیں کہاں جانا ہے۔ اب لڑکی نے بیت المقدس کا نام لیا تو
رحیم نے کہا… ''بیت المقدس کیوں؟ میں تمہیں وہاں لے جاوں گا جہاں تمہارے تعاقب میں کوئی آنے کی جرٔات ہی نہیں
کرے گا''۔
کہاں؟'' ایلس نے پوچھا۔''
مصر''۔ رحیم نے جواب دیا۔''
''
مصر؟'' ایلس نے حیرت زدہ ہوکے پوچھا… ''وہ تو مسلمانوں کا ملک ہے ،وہ ہمیں زندہ نہیں چھوڑیں گے''۔''
مسلمانوں کو تم نہیں جانتی ایلس!'' رحیم نے کہا۔ ''مسلمان بڑی رحم دل قوم ہے۔ تم چل کے دیکھنا''۔''
نہیں!'' ایلس نے بدک کر کہا… ''مجھے مسلمانوں سے ڈر آتا ہے۔ بچپن سے مجھے مسلمانوں کے متعلق بڑی غلیظ ''
باتیں بتائی گئی ہیں۔ ہمارے ہاں مائیں اپنے بچوں کو مسلمانوں سے ڈرایا کرتی ہیں۔ مجھے مسلمانوں سے نفرت ہے''۔وہ
ڈررہی تھی اور رحیم کے ساتھ لگ گئی تھی۔ اس نے کہا… ''مجھے بیت المقدس لے چلو۔ وہاں ہم شادی کرلیں گے۔ بیت
المقدس کدھر ہے؟ میں سمت بھول گئی ہوں''۔
میں مصر کی طرف جارہا ہوں''۔ رحیم نے کہا۔''
ایلس بگڑ گئی اور پھر رونے لگی۔
''تم مسلمانوں سے نفرت کرتی ہو؟''
''!بہت زیادہ''
''اور مجھے سے تمہیں محبت ہے؟''
''!بہت زیادہ''
''اور اگر میں تمہیں یہ بتا دوں کہ میں مسلمان ہوں تو تم کیا کرو گی؟''
میں ہنسوں گی''۔ ایلس نے کہا… ''مجھے تمہارے لطیفے اور مذاق بہت اچھے لگتے ہیں''۔''
میں مذاق نہیں کررہا ایلس!'' رحیم نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔ میں مسلمان ہوں اور ذرا اس قربانی پر غور کرو جو مجھ''
سے تمہاری محبت نے کرائی ہے۔ میں یہ قربانی بخوشی دے رہا ہوں''۔
کیسی قربانی؟'' ایلس نے کہا… ''تم تو پہلے ہی بے گھر تھے۔ اب ہم اپنا گھر بنائیں گے''۔''
نہیں ایلس!'' رحیم نے کہا… ''میں اب بے گھر ہوا ہوں۔ تم اپنے گھر سے بھاگی ہو۔ میرے ساتھ شادی کرکے تم اپنا ''
گھر بسا لوگی لیکن میرا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوگا۔ میں اپنے فرض کا بھگوڑا ہوں۔ میں اپنی فوج کا بھگوڑا ہوں… میں جاسوس
ہوں۔ عکرہ میں جاسوسی کرنے آیا تھا مگر تمہاری محبت پر میں نے اپنا فرض قربان کردیا ہے''۔
تم مجھے ڈرا رہے ہو''۔ ایلس نے ہنستے ہوئے کہا۔ ''چلو سو جائو۔ میں تمہیں جلدی جگا دوں گی''۔''
میں تمہیں ڈرا نہیں رہا ایلس!'' رحیم نے کہا… ''میرا نام رحیم ہنگور ہے ،ایلی مور نہیں۔ میں تمہیں دھوکے میں نہیں ''
رکھنا چاہتا۔ میں تمہیں یقین دالتا ہوں کہ تمہیں جہاں رکھوں گا ،پورے آرام میں رکھوں گا۔ تمہیں تمہارے باپ کے گھر والی
بادشاہی نہیں دے سکوں گا لیکن تکلیف بھی نہیں ہونے دوں گا۔ تمہاری زندگی آرام سے گزرے گی''۔
مجھے اسالم قبول کرنا پڑے گا؟'' ایلس نے پوچھا۔''
تو اس میں کیا ہرج ہے؟'' رحیم نے کہا… ''تم ایسی باتیں نہ سوچو ،وقت ضائع ہورہا ہے۔ سوجائو۔ ہمارا سفر بڑا لمبا ''
ہے۔ باتوں کے لیے بہت وقت ہے''۔
وہ لیٹ گیا۔ ایلس بھی لیٹ گئی۔ ذرا سی دیر بعد ایلس کو رحیم کے خراٹے سنائی دینے لگے۔ اسے نیند نہیں آرہی تھی۔ وہ
گہری سوچوں میں کھو گئی تھی۔
٭ ٭ ٭
رحیم کی آنکھ کھلی تو صبح کا اجاال سفید ہوچکا تھا۔ وہ گھبرا کر اٹھا۔ اسے اتنی دیر نہیں سونا چاہیے تھا ،آنکھیں مل کر
ادھر ادھر دیکھا۔ وہاں گھوڑا بھی نہیں تھا۔ ایلس بھی نہیں تھی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا ،ایک ٹیلے پر چڑھ کر دیکھا۔ صحرا
کی ویرانی کے سوا اسے کچھ بھی نہیں نظر نہ آیا۔ اس نے ایلس کو آواز دی۔ کوئی جواب نہ مال۔ وہ سوچوں میں کھوگیا،
ایک خیال یہ آیا کہ ان کے تعاقب میں کوئی آگیا ہوگا اور وہ ایلس کو سوتے میں اٹھا کر لے گیا ہے۔ اس صورت میں رحیم
کو زندہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اسے وہ لوگ قتل کر جاتے یا اسے اغوا کے جرم میں پکڑ لے جاتے۔ حیرت اس پر تھی کہ
وہ ایلس کو ایسی خاموشی سے اٹھا کر لے گئے کہ رحیم کی آنکھ ہی نہ کھلی۔ دوسری صورت یہ تھی کہ ایلس خود بھاگ
گئی ہے کہ اس نے رحیم کو صرف اس لیے ٹھکرا دیا ہے کہ وہ مسلمان ہے۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:04
قسط نمبر۔64
اسالم کی پاسبانی کب تک کرو گے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۔ ایلس جہاں کہیں بھی گئی اور اسے جو کوئی بھی لے گیا ،رحیم کو اب یہ سوال پریشان کرنے لگا کہ وہ کہاں جائے ،عکرہ
واپس جانا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ قاہرہ جانے سے بھی ڈرتا تھا۔ اس نے اپنا فرض پورا نہیں کیا تھا۔ اس نے اپنے کمانڈر
عمران کو نہیں بتایا تھا کہ وہ جارہا ہے۔ سوچ سوچ کر اس نے ایک بہانہ گھڑ لیا۔ اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ اب قاہرہ کے
بجائے کرک چال جائے اور وہاں بتائے کہ اسے پہچان لیا گیا تھا کہ وہ مسلمان ہے اور جاسوس ہے۔ وہ بڑی مشکل سے بھاگ
کر وہاں سے نکال ہے۔ اسے مہلت نہیں ملی کہ عمران یا رضا کو اطالع دے سکتا کہ اس کی گرفتاری کا خطرہ پیدا ہوگیا
ہے… یہ اچھا بہانہ تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اسے کوئی یہ تو نہیں کہے گا کہ کوئی ثبوت اور شہادت الئو۔
وہ پانی پی کر کرک کی سمت چل پڑا۔ اسے ایلس کی گمشدگی پریشان کررہی تھی اور اسے افسوس ہورہا تھا کہ اسے کبھی
بھی پتا نہ چل سکے گا کہ ایلس کہاں غائب ہوگئی ہے۔
وہ بمشکل تین میل چال ہوگا کہ اسے دوڑتے گھوڑوں کی ہلکی ہلکی آوازیں سنائی دیں۔ اس نے پیچھے دیکھا ،گرد کا بادل اڑا
آرہا تھا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا ،چھپنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ سوار کون ہیں۔ اسے یہی معلوم
تھا کہ وہ خود کون ہے۔ یہی خطرناک پہلو تھا۔ وہ گھوڑوں کے راستے سے ہٹ کر چلتا گیا۔ گھوڑے قریب آگئے ،تب اس نے
دیکھا کہ وہ صلیبی تھے اور انہوں نے گھوڑے اس کی طرف موڑ لیے تھے۔ وہ نہتا تھا۔ بھاگنے کی بھی کوئی صورت نہیں
تھی۔ سواروں نے اسے گھیر لیا۔ اس نے ان میں سے ایک کو پہچان لیا۔ وہ ایلس کا امیدوار تھا۔ اس نے رحیم سے کہا…
''مجھے پہلے ہی شک تھا کہ تم عیسائی نہیں ہو''۔
اسے پکڑ لیا گیا اور اس کے ہاتھ پیٹھ پیچھے باندھ کر اسے ایک سوار نے الش کی طرح گھوڑے پر ڈال لیا۔ گھوڑے عکرہ کی
سمت روانہ ہوگئے۔ یہ وہ وقت تھا جب عمران رحیم سے ملنے گیا تو وہ اسے نہ مال۔ تاجر کے ایک نوکر نے اسے بتایا کہ
اسے نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ عمران شش وپنج میں پڑ گیا۔ رحیم جا کہاں سکتا تھا۔ اس کے پاس کیوں نہیں آیا؟…
عمران گرجے میں واپس چال گیا۔ رضا سے وہ شام کے بعد مل سکتا تھا۔ انہیں رحیم کو ڈھونڈنا تھا۔ یہ خطرہ بھی محسوس
کیا گیا کہ وہ گرفتار نہ ہوگیا ہو۔ اس صورت میں یہ خطرہ تھا کہ اس نے اپنے دونوں ساتھیوں کی نشاندہی نہ کردی ہو۔
عمران کو یہ سوچ پریشان کررہی تھی کہ رحیم اگر پکڑا گیا ہے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اور رضا بھی پکڑے جائیں۔ پکڑے
جانے اور مارے جانے کا انہیں فکر نہ تھا۔ فکر یہ تھا کہ انہوں نے وہ راز حاصل کرلیا تھا جس کے لیے وہ یہاں آئے تھے
اور اب انہیں یہاں سے نکلنا تھا۔
سورج غروب ہونے میں ابھی بہت دیر باقی تھی۔ رضا اصطبل سے باہر کہیں کھڑا تھا۔ چار گھوڑے اصطبل کے دروازے پر رکے،
ایک سوار نے اپنے آگے کسی کو الش کی طرح ڈال رکھا تھا ،اسے اتارا گیا۔ یہ دیکھ کر رضا کا خون خشک ہوگیا کہ وہ رحیم
تھا۔ اس کے ہاتھ پیٹھ پیچھے بندھے ہوئے تھے۔ سواروں میں ایک بڑا افسر تھا۔ رضا اسے اچھی طرح جانتا پہچانتا تھا۔
دوسروں سے بھی وہ واقف تھا۔ رحیم کو وہ لے جانے لگے تو بڑے افسر نے رضا کو دیکھ لیا۔ اسے ''فرانسس''کے نام سے
بالیا۔ رضا دوڑا گیا لیکن اس کے پاوں نہیں اٹھ رہے تھے۔ وہ سمجھ گیا کہ اسے بھی گرفتار کیا جائے گا۔
چاروں گھوڑے اندر لے جائو''۔ اس افسر نے رضا سے کہا… ''ہمارے سائیسوں کے حوالے کردینا''… اس نے رحیم کے ''
متعلق حکم دیا… ''اسے اس کمرے میں لے چلو''۔
رضا کو چونکہ فرانسس کے نام سے بالیا گیا تھا ،اس لیے وہ جان گیا کہ رحیم نے اس کی نشاندہی نہیں کی۔ یہ صلیی افسر
اسے ابھی تک سائیس فرانسس سمجھ رہے تھے۔ اس نے ایک افسر سے پوچھا۔ ''یہ کون ہے؟ اس نے چوری کی ہوگی''۔
یہ صالح الدین ایوبی کا جاسوس ہے''۔ ایک فوجی نے جواب دیا اور طنزیہ لہجے میں کہا… ''اب یہ تہہ خانے میں ''
جاسوسی کرے گا ،جاو گھوڑے لے جاو''۔
اس دوران رضا اور رحیم نے ایک دوسرے کو گہری نظروں سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا تھا۔ انہوں نے آنکھوں کے
کچھ اشارے مقرر کررکھے تھے۔ اگر ایسی صورتحال میں دو جاسوسوں کا سامنا ہوجائے تو وہ ایک اشارہ تو یہ کرتے تھے کہ
بھاگ جاو ،دوسرا یہ کہ کوئی خطرہ نہیں۔ رحیم نے رضا کو ایسا ہی ایک اشارہ کیا جس سے اسے تسلی ہوگئی کہ اس نے
کسی کی نشاندہی نہیں کی۔ تاہم ان کے لیے یہ خوشی کی بات نہیں تھی۔ اس کا ساتھی پکڑا گیا تھا اور وہ جانتا تھا کہ
تہہ خانے میں اس کا کیا حشر کیا جائے گا۔ رحیم کو اب مرنا تھا مگر بڑی ہی اذیت ناک موت مرنا تھا۔ رضا کو معلوم تھا
کہ رحیم کو کون سے کمرے میں لے جایا جارہا ہے اور اس کے بعد اسے کہاں لے جائیں گے۔
٭ ٭ ٭
عمران گرجے کے ساتھ اپنے کمرے میں پریشانی کی حالت میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ رحیم کہاں غائب ہوگیا ہے۔ اس کے
کمرے کا دروازہ کھال ،وہ رضا تھا۔ اندر آکر اس نے دروازہ بند کر دیا اور گھبرائی ہوئی سرگوشی میں کہا۔ ''رحیم پکڑا گیا
ہے''… اس نے جو دیکھا تھا وہ عمران کو سنا دیا۔ رضا نے اسے یہ بھی بتا دیا کہ رحیم نے اشارے سے اسے بتا دیا ہے
کہ اس نے ہماری نشاندہی نہیں کی۔
اگر نہیں کی تو تہہ خانے میں جاکر کردے گا''۔ عمران نے کہا… ''اس دوزخ میں زبان بند رکھنا آسان نہیں ہوتا''۔ ان ''
دونوں کے لیے یہ فیصلہ کرنا محال ہوگیا کہ وہ فورا ً نکل جائیں یا ایک آدھ دن انتظار کرلیں۔ ایسے نازک
وقت میں ان سے ایک غلطی سرزد ہوگئی۔ وہ یہ تھی کہ وہ جذبات سے مغلوب ہوگئے۔ چھاپہ ماروں (کمانڈو) اور جاسوسوں
کے لیے یہ ہدایت تھی کہ وہ تحمل ،بردباری اور صبر سے کام لیں۔ عجلت اور جذبات سے بچیں۔ اگر ان کا کوئی ساتھی
ایسے طریقے سے کہیں پھنس جائے کہ اس کی مدد کرنے میں دوسروں کے پھنسنے کا بھی خطرہ ہو تو اس کی مدد نہ کی
جائے۔ رضا جذبات میں آگیا۔ اس نے کہا… ''میں رحیم جیسے خوبصورت اور دلیر دوست کو قید سے نکالنے کی کوشش کروں
گا''۔
ناممکن ہے''۔ عمران نے کہا اور اسے ایسے خطرناک ارادے سے باز رکھنے کی کوشش کرنے لگا۔''
میں چونکہ وہیں رہتا ہوں جہاں رحیم کو لے گئے ہیں۔ اس لیے دیکھوں گا کہ اسے وہاں سے نکالنا ممکن ہوسکتا ہے یا ''
نہیں''۔ رضا نے کہا… ''میں نے وہاں اتنی دوستی پیدا کررکھی ہے کہ مجھے معلوم ہوجائے گا کہ رحیم کہاں ہے۔ اگر میں
اس تک پہنچ گیا تو رحیم آزاد ہوجائے گا یا میں اس کے ساتھ ہی جائوں گا اور اگر میں بھی پکڑا گیا تو تم نکل جانا۔ راز
تمہارے پاس ہیں۔ میں رحیم کے بغیر واپس نہیں جائوں گا''۔
ناممکن تھا کہ رضا رحیم کو وہاں سے آزاد کرلیتا لیکن اس کے جذبات اتنے شدید تھے کہ عمران بھی اس کاہمنوا ہوگیا اور
وہ حقائق کو بھول گیا۔ رضا اسے یہ کہہ کر چال گیا کہ رات کو کسی وقت آکر اسے بتائے گا کہ رحیم کی رہائی کی کوئی
صورت ہے یا نہیں۔ اگر کوئی صورت نہ ہوئی تو وہ رات کو نکل جائیں گے۔ عمران کے ذمے یہ کام تھا کہ وہ گھوڑوں کا
انتظام کرلے۔ گھوڑوں کا انتظام آسان نہیں تھا۔ پادری کے باڈی گاڈوں کے گھوڑے وہاں موجود رہتے تھے۔ انہی میں سے دو یا
تین گھوڑے چوری کرنے تھے۔
اس وقت تک رحیم کو قید خانے میں نہیں ڈاال گیا تھا۔ اسے انٹیلی جنس کے دو وحشی قسم کے افسروں کے حوالے کردیا گیا
تھا۔ جاسوس جب پکڑا جاتا ہے تو سزا کا مرحلہ سب سے آخر میں ہوتا ہے۔ پہلے اس سے معلومات لی جاتی ہیں۔
جاسوس اکیال نہیں ہوتا ،پورا گروہ ہوتا ہے۔ گرفتار کیے ہوئے جاسوس سے یہی ایک سوال پوچھا جاتا ہے کہ اس کے ساتھی
کہاں ہیں اور دوسرا سوال یہ پوچھا گیا کہ اس نے یہاں سے کوئی خفیہ بات معلوم کی ہے تو وہ بتا دے۔ رحیم نے جواب
دیا کہ اس کے پاس کوئی راز نہیں۔ تاجر کی بیٹی ایلس کے ساتھ تعلقات کے متعلق پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ ایک
دوسرے کو چاہتے تھے۔ ایلس کی شادی ایک بوڑھے افسر کے ساتھ کی جارہی تھی ،اس لیے وہ گھرسے بھاگنے پر مجبور
ہوگئی۔
''کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم کس طرح پکڑے گئے ہو؟''
نہیں''… رحیم نے جواب دیا… ''میں اتنا جانتا ہوں کہ میں پکڑا گیا ہوں''۔''
تم اور بھی بہت کچھ جانتے ہو''… ایک افسر نے اسے کہا… ''وہ سب کچھ بتا دو جو تم جانتے ہو ،تمہیں کوئی تکلیف''
نہیں دی جائے گی''۔
میں یہ جانتاہوں کہ میں اپنا فرض بھول گیا تھا''… رحیم نے کہا… ''میں اس سزا کو خوشی سے قبول کروں گا۔ مجھے ''
جس قدر تکلیف اور جتنی اذیت دے سکتے ہو دو۔ میں اسے اپنے گناہ کی سزا سمجھ کر قبول کروں گا''۔
''کیا تمہارے دل میں ابھی تک ایلس کی محبت ہے؟''
ابھی تک ہے''… رحیم نے کہا… ''اور ہمیشہ رہے گی۔ میں اسے اپنے ساتھ قاہرہ لے جارہا تھا۔ اسے مسلمان کرکے اس''
کے ساتھ شادی کرنی تھی''۔
''اگر ہم یہ کہیں کہ اس نے تمہارے ساتھ دھوکہ کیا ہے تو تم مان لو گے؟''
نہیں''… رحیم نے کہا… ''جس نے میرے لیے اپنا گھر اور اپنے عزیز چھوڑ دئیے تھے ،وہ دھوکہ نہیں دے سکتی ،اس کے''
ساتھ کسی نے دھوکہ کیا ہے''۔
اگر ہم ایلس تمہارے حوالے کردیں تو کیا تم ہمیں بتا دو گے کے عکرہ میں تمہارے کتنے ساتھی ہیں اور وہ کہاں ہیں؟''…''
''اس سے پوچھا گیا… ''اور یہ بھی بتا دو گے کہ تم نے یہاں سے کون سا راز حاصل کیا ہے؟
رحیم کا سرجھک گیا۔ ایک افسر نے اس کا سر اوپر اٹھایا تو رحیم کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ افسروں کے باربار پوچھنے پر
بھی وہ خاموش رہا ،جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ اس کے اندر ایسی کشمکش پیدا ہوگئی ہے جس میں وہ فیصلہ نہیں کرسکتا
اس کا رویہ اور ردعمل کیا ہونا چاہیے۔ اس کی یہ کیفیت ظاہر کرتی تھی کہا س کے دل میں ایلس کی محبت بہت گہری
اتری ہوئی ہے۔
تمہیں آخر کار ہمارے تمام سوالوں کا جواب دینا ہوگا''… ایک افسر نے کہا… ''اس وقت تک تم ہڈیوں کا ڈھانچہ بن ''
چکے ہوگے ،تم جیو گے نہ مرو گے۔ اگر پہلے ہی جواب دے دو تو ایلس تمہارے پاس ہوگی اور تم آزاد ہوگے۔ اس وقت تم
قید خانے میں نہیں ،یہ ایک افسر کا کمرہ ہے۔ اگر تم سوچنے کی مہلت چاہتے ہو تو آج رات تمہیں اسی کمرے میں رکھا
جائے گا''۔
رحیم خاموش رہا اور خالی نظروں سے افسروں کو دیکھتا رہا۔ افسروں کو ایسا کوئی خطرہ نہیں تھا کہ وہ اس کمرے سے بھاگ
جائے گا۔ برآمدے میں پہرہ تھا۔ گشتی پہرہ بھی تھا۔ رحیم بھاگ کر جا بھی کہاں سکتا تھا۔ ایک افسر نے باہر آکر اپنے
ساتھی افسر سے کہا… ''تم وقت ضائع کررہے ہو ،اسے تہہ خانے میں لے چلو۔ لوہے کی الل گرم سالخ اس کے جسم کے
ساتھ لگائو ،ساری باتیں اگل دے گا۔ نہیں بولے گا تو بھوکا اور پیاسا پڑا رہنے دو''۔
میرا تجربہ مختلف ہے میرے دوست!''… دوسرے افسر نے کہا… ''یہ نہ بھولو ،یہ مسلمان ہے۔ تم نے اب تک کتنے ''
مسلمان جاسوسوں سے راز اگلوائے ہیں؟ کیا تم نہیں جانتے کہ یہ کمبخت ایک بار ڈٹ جائیں تو مرجاتے ہیں ،زبان نہیں
کھولتے۔ یہ شخص کہہ چکاہے کہ ہماری ہر اذیت اپنے گناہ کی سزا سمجھ کر قبول کرلے گا۔ یہ کٹر مسلمان معلوم ہوتا ہے۔
یہ تہہ خانے میں جاکر بھی کہہ دے گا کہ وہ کچھ بھی نہیں بتائے گا۔ ہمارا مقصد اسے جان سے مارنا نہیں ،یہ معلوم کرنا
ہے کہ اس کے ساتھی کہاں ہیں اور یہ معلوم کرنا ہے کہ انہیں اس حملے کا پتا تو نہیں چل گیا جو مصر پر کرنے والے
''ہیں؟
ان کے باپ کو بھی پتا نہیں چل سکتا''… دوسرے افسر نے کہا… ''ہائی کمانڈ کے افسروں کے سواکسی کو حملے کے ''
متعلق علم ہی نہیں۔ یہ جاسوس تاجر کی بیٹی کے عشق میں الجھا ہوا تھا۔ اسے تو دنیا کی ہوش نہیں تھی ،اسے تو یہ
بھی معلوم نہیں کہ اسے ایلس نے گرفتار کرایا ہے۔ یہ ابھی تک اس کی محبت میں گرفتار ہے''۔
میں ایلس کو ہی استعمال کرنا چاہتا ہوں''… ایک نے کہا… ''اسے آج رات اسی کمرے میں رہنے دیتے ہیں ،مجھے امید''
ہے کہ جو راز ہم کئی دنوں میں بھی نہیں اگلوا سکیں گے وہ ایلس جیسی دلکش لڑکی چند منٹوں میں اگلوائے گی''۔
''کیا اس لڑکی پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے؟''
کیا تمہیں ابھی تک شک ہے؟''… دوسرے نے کہا… ''تم نے شاید پوری بات نہیں سنی۔ ایلس نے واپس آکر جو بیان دیا''
ہے ،وہ تم نے پورا نہیں سنا۔ اب چونکہ تفتیش ہم دونوں کے سپرد کی گئی ہے۔ اس لیے تمہارے ذہن میں ہر ایک بات
واضح ہونی چاہیے۔ ایلس اس شخص کو بری طرح چاہتی تھی۔ وہ اسے ایلی مور نام کا عیسائی سمجھتی رہی۔ ایلس کا باپ
اس کی شادی کمانڈر ولیسٹ میکاٹ کے ساتھ کرنا چاہتا تھا۔ وہ دراصل اپنی بیٹی رشوت کے طور پر دے رہا تھا۔ ایلس اس
جاسوس کے ساتھ بھاگ گئی۔ راستے میں اس نے ایلس کو بتا دیا کہ وہ ایلی مور نہیں ،رحیم ہے اور وہ مسلمان ہے۔ ایلس
نے اسے مذاق سمجھا مگر رحیم نے اسے یقین دالیا کہ وہ مذاق نہیں کر
..رھا
رحیم نہیں جانتاتھا کہ ایلس کے دل میں مسلمانوں کی کتنی دہشت اور حقارت بچپن سے بیٹھی ہوئی ہے اور رحیم کو یہ بھی
معلوم نہیں تھا کہ ایلس مذہب کی پکی ہے۔ ہر وقت صلیب گلے میں ڈالے رکھتی ہے۔ اس نے جان لیا کہ اس مسلمان نے
اس کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور وہ قاہرہ جاکر نہ صرف خود اسے خراب کرے گا بلکہ دوسروں سے بھی خراب کرائے گا اور
آخر میں کسی کے ہاتھ فروخت کردے گا۔ ہم نے اپنے بچوں کے ذہنوں میں مسلمانوں کا جو گھنائونا تصور پیدا کررکھا ہے ،وہ
ایلس کے سامنے آگیا''۔
ایلس کے دل میں مذہب کی محبت پیدا ہوگئی اور یہ محبت مسلمان کی محبت پر ایسی غالب آئی کہ اسے حقارت میں''
بدل دیا۔ وہ سب کچھ بھول گئی۔ وہ یہ بھی بھول گئی کہ عکرہ واپس آکر اسے بوڑھے کمانڈر کے ساتھ بیاہ دیا جائے گا۔
اسے صلیب کا یہ فرض یاد آگیا کہ مسلمان کو ہرحال میں دشمن سمجھنا اور اسالم کے خاتمے کے لیے کام کرنا ہے۔ لڑکی
چونکہ ہوشیار اور دلیر ہے ،اس لیے اس نے بھاگنے کا نہایت اچھا طریقہ سوچا۔ رحیم پر ظاہر نہ ہونے دیا اور لیٹ گئی۔ رحیم
اطمینان سے سوگیا تو ایلس گھوڑے پر سوار ہوئی اور ایسی خاموشی سے نکل آئی کہ رحیم کو خبر تک نہ ہوئی۔ راستے سے
واقف تھی۔ عکرہ پہنچ گئی اور اپنے باپ کے سامنے اقبال جرم کرکے اسے رحیم کے متعلق بتایا۔ باپ نے اسی وقت کمانڈر
ولیسٹ میکاٹ کو جگایا اور اسے یہ واقعہ سنایا۔ کمانڈر نے تین سپاہی ساتھ لیے اور رحیم کے تعاقب میں گیا۔ رحیم پیدل
کہاں جاسکتا تھا ،پکڑا گیا اور اب یہ ہمارے ہاتھ میں ہے''۔
رحیم کو معلوم نہیں کہ اسے ایلس نے دھوکہ دیا ہے''۔''
نہیں''… دوسرے نے کہا… ''میں اب ایلس کو استعمال کرنا چاہتا ہوں۔ رحیم کو ہم نہایت اچھا کھانا کھالئیں گے''۔''
٭ ٭ ٭
وہاں کے مالزموں اور دوسرے لوگوں کی زبان پر یہی موضوع تھا کہ ایک مسلمان جاسوس پکڑا گیاہے۔ رضا بھی فرانسس کے
روپ میں ان مالزموں میں شامل تھا۔ وہ بھی مسلمان کو برا بھال کہہ رہا تھا اور دوسروں کی طرح خواہش ظاہر کررہا تھا کہ
جاسوس کو سرعام پھانسی دی جائے یا اسے گھوڑے کے پیچھے باندھ کر بھگا دیا جائے۔ رضا کو معلوم ہوچکا تھا کہ رحیم
ابھی تک اسی کمرے میں ہے۔ سب حیران تھے کہ اسے قید خانے میں کیوں نہیں لے گئے اور جب باورچی خانے کے ایک
مالزم نے انہیں بتایا کہ قیدی کے لیے افسروں کا سا کھانا گیا ہے اور وہ خود کھانا دے آیا تو سب حیرت سے ایک دوسرے
کا منہ دیکھنے لگے۔ رضا باتوں باتوں میں باورچی خانے کے اس آدمی کو الگ لے گیا اور پوچھا… ''کیا تم مذاق کررہے ہو
کہ مسلمان جاسوس کو اتنا اچھا کھانا دیا گیا ہے جو افسر کھاتے ہیں ،پھر وہ جاسوس نہیں ہوگا''۔
بڑا خطرناک جاسوس ہے''… مالزم نے کہا… ''جو افسر تفتیش کررہے ہیں ،میں نے ان کی باتیں سنی ہیں۔ وہ ابھی اسے''
کھال پال کر اس سے باتیں پوچھیں گے ،پھر وہ کسی لڑکی کی باتیں کررہے تھے جو اس قیدی کو پھانس کر اس سے باتیں
اگلوائے گی''۔
رحیم کھانا کھا چکا تو اس کے کمرے میں ایلس داخل ہوئی ،دونوں افسر چلے گئے تھے۔ انہوں نے ایلس کو بال کر اچھی طرح
سمجھا دیا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے اور قیدی سے کیا پوچھنا ہے۔ ایلس کو دیکھ کر رحیم بہت حیران ہوا۔ اسے خواب کا
دھوکہ ہوا ہوگا۔
''تم؟''… اس نے ایلس سے پوچھا… ''کیا تمہیں بھی گرفتار کرکے یہاں الیا گیا ہے؟''
ہاں!''… ایلس نے کہا… ''میں کل رات سے قید میں ہوں''۔''
''تم وہاں سے غائب کس طرح ہوئی تھی؟''… رحیم نے کہا… ''میں مان نہیں سکتا کہ تم خود بھاگ آئی تھی؟''
میں کیوں کر بھاگ سکتی تھی''… ایلس نے کہا… ''میرا تو جینا مرنا تمہارے ساتھ ہے ،تم سوگئے تھے مگر مجھے نیند ''
نہیں آرہی تھی۔ میں اٹھ کر ٹہلنے لگی اور کچھ دور نکل گئی۔ کسی نے پیچھے سے میرا منہ ہاتھ سے بند کردیا اور اٹھا کر
گھوڑے پر ڈال لیا۔ وہ دو آدمی تھے۔ ایک نے ہمارا گھوڑا بھی لے لیا ،میرا منہ بند تھا۔ تمہیں پکار نہیں سکتی تھی ،وہ
مجھے یہاں لے آئے''۔
انہیں کس نے بتایا ہے کہ میں ایلی مور نہیں ،رحیم ہوں؟''… رحیم نے پوچھا… ''اور جنہوں نے تمہیں وہاں جاپکڑا تھا ''
''وہ مجھے بھی کیوں نہ پکڑ الئے؟ انہوں نے مجھے قتل کیوں نہ کردیا؟
میں ان سوالوں کا جواب نہیں دے سکتی''… ایلس نے کہا… ''میں خود مجرم ہوں''۔''
تم جھوٹ بول رہی ہوایلس''… رحیم نے کہا… ''تمہیں دھمکا کر میرے متعلق پوچھا گیا ہے اور تم نے ڈر کے مارے بتا ''
دیا ہے کہ میں کون ہوں۔ مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں ،میں کبھی برداشت نہیں کرسکتا کہ تمہیں کوئی تکلیف ہو''۔
اگر تمہیں میری تکلیف کا خیال ہے تو یہ لوگ تم سے جو کچھ پوچھتے ہیں ،وہ انہیں بتا دو''… ایلس نے کہا… ''انہوں''
نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہیں رہا کردیں گے''۔
بات پوری کرو ایلس''… رحیم نے طنزیہ لہجے میں کہا… ''یہ بھی کہو کہ میں سب کچھ بتا دوں تو مجھے رہا کردیں ''
گے اور تم میرے ساتھ شادی کرلوگی''۔
شادی بھی ہوسکتی ہے''… ایلس نے کہا… ''بشرطیکہ تم عیسائی ہوجائو''۔''
کیا تم یہ امید لے کے آئی ہو کہ میں رہائی کی خاطر اپنا مذہب چھوڑ دوں گا؟''… رحیم نے کہا… ''ایلس! میں فوج کا''
معمولی سا سپاہی نہیں ،جاسوس ہوں۔ عقل رکھتا ہوں ،میں اس گناہ کی سزا بھگت رہا ہوں کہ عقل پر تمہاری محبت کو
سوار کرلیا تھا۔ تم جھوٹ بول رہی ہو ،جس صلیب کی تم قسمیں کھا رہی ہو ،وہ گلے میں ڈال کر جھوٹ بول رہی ہو۔ کیا
یہ غلط ہے کہ تم خود وہاں سے بھاگی ہو؟ کیونکہ تمہارے دل میں مسلمانوں کے خالف نفرت بھری ہوئی ہے۔ تمہیں مجھ پر
اعتماد نہ رہا اور مجھے سوتا چھوڑ کر بھاگ آئیں۔ یہاں آکر تم نے اپنے بوڑھے منگیتر کو میرے پیچھے بھیج دیا۔ میرے دل
میں بھی تمہاری قوم کے خالف نفرت ہے۔ میں تمہاری قوم کو اپنا دشمن سمجھتا ہوں۔ میں نے اپنی جان تمہاری قوم کو
تباہ کرنے کے لیے دائو پر لگائی ہے لیکن تمہاری محبت ،محبت ہی رہے گی۔ اس پر نفرت غالب نہیں آسکے گی۔ میں نے
تمہاری خاطر اپنا فرض فراموش کیا۔ اپنا مستقبل تباہ کیا مگر تم نے ناگن کی طرح ڈنگ مارا''۔
وہ ایسے انداز سے بول رہا تھا کہ ایلس کی زبان بند ہوگئی۔ اس کے دل میں رحیم کی محبت موجود تھی۔ رحیم نے جب
اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دھیمے اور پر اثر انداز میں باتیں کیں تو یہ جوان لڑکی اپنے سینے سے اٹھتے ہوئے
جذبات کے بگولے کی لپیٹ میں آگئی۔ پہلے تو اس کے آنسو پھوٹے پھر اس نے بیتابی سے رحیم کے دونوں ہاتھ تھام لیے
اور روتے ہوئے کہا… '' مجھے تم سے نفرت نہیں۔ تم اپنا فرض بھول گئے تھے ،میں نہ بھول سکی۔ میں مجرم ہوں ،میں نے
تمہیں پکڑوایا ہے۔ اس جرم کی سزا مجھے سخت ملے گی۔ مجھے چند دنوں میں اس بوڑھے کمانڈر کی بیوی بنا دیا جائے گا
جو وحشی ہے اور شراب پی کر درندہ بن جاتا ہے۔ مجھے کچھ نہ بتائو ایلی مور''۔
میں ایلی مور نہیں ہوں''… رحیم نے کہا… ''میں رحیم ہوں''۔''
٭ ٭ ٭
تفتیش کرنے والے دونوں افسر کہیں اور بیٹھے شراب پی رہے تھے۔ وہ مطمئن تھے کہ یہ خوبصورت لڑکی رحیم کو موم کرلے
گی اور صبح سے پہلے پہلے ہمارا کام پورا کردے گی۔ وہاں صرف ایک پہرہ دار تھا جو برآمدے میں بیٹھ گیا تھا۔ کمرے کے
پچھواڑے اندھیرا تھا اور اس اندھیرے میں ایک سایہ اتنی آہستہ آہستہ آگے کو سرک رہا تھا جیسے ہوا کا جھونکا رک رک کر
آگے بڑھ رہا ہو۔ ادھر عمران گرجے سے ملحق اپنے کمرے میں جاگ رہا تھا۔ ذرا سی آہٹ سنائی دیتی تھی تو وہ اٹھ کر
دروازے میں آجاتا تھا۔ اسے ہر آہٹ رضا کی آہٹ لگتی تھی۔ اس نے کمال ہوشیاری سے تین گھوڑے منتخب کرلیے تھے جو
آٹھ گھوڑوں کے ساتھ بندھے تھے۔ اس کے زینیں بھی چوری چھپے الگ کرلی تھیں۔ اسے امید تھی کہ رضا اور رحیم آجائیں
گے مگر جوں جوں رات گزرتی جارہی تھی۔ امید بھی تاریک ہوتی جارہی تھی۔ یہ حقیقت نکھرتی آرہی تھی کہ اس نے رضا
کو یہ اجازت دے کر کہ رحیم کو آزاد کرائے ،سخت غلطی کی تھی۔ یہ ناممکن تھا۔ وہ اب سوچ رہا تھا کہ ایک گھوڑے
کھولے اور نکل جائے مگر اسے رضا کا خیال آجاتا تھا۔ رضا نے اسے کہا تھا کہ وہ رات کو آئے گا ضرور خواہ اکیال آئے۔
اس وقت رضا موت کے منہ میں جاچکا تھا۔ وہ ایک سیاہ سایہ بن کر اس کمرے کے ایک دریچے کے پاس پہنچ گیا ،جس
میں رحیم بند تھا۔ اس نے کان لگا کر اندر کی باتیں سنیں۔ اسے کسی کے یہ الفاظ سنائی دئیے۔ میں تمہیں رہا نہیں
کراسکتی۔ یہ لوگ جو کچھ پوچھتے ہیں ،وہ بتا دو پھر میں اپنے باپ سے کہہ کر تمہارے لیے کچھ کرسکتی ہوں۔ مجھے
اسی مقصد کے لیے تمہارے پاس الیا گیا ہے کہ میری محبت تم سے راز اگلوائے گی۔
دریچے کے کواڑ پر نہایت آہستہ سے کسی نے تین بار دستک دی۔ رحیم اس اشارے کو سمجھتا تھا۔ وہ حیران ہوا کہ یہ اس
کا کون سا ساتھی ہوسکتا ہے۔ ایلس کچھ نہ سمجھ سکی۔ رحیم ٹہلتے ٹہلتے دریچے تک گیا اور کواڑ کھول دیا۔ رضا باہر کھڑا
تھا ،کود کر اندر آگیا۔ اس کے ہاتھ میں خنجر تھا۔ اس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر ایلس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور خنجر
اس کے دل میں اتار دیا۔ اسے قتل کرنا ضروری تھا ،ورنہ وہ شور مچا کر انہیں پکڑا سکتی تھی۔ رضا اور رحیم دریچے سے
کود کر باہر گئے اور اندھیرے سے بھاگ اٹھے۔ رضا اس جگہ سے واقف تھا۔ اس نے راستہ تو اچھا اختیار کیا تھا لیکن
برآمدے میں جو پہرہ دار تھا ،اس نے کسی طرف سے دو سائے بھاگتے دیکھ لیے۔ اس کے شور پر دوسرے سنتری ہوشیار
ہوگئے۔ جانے کہاں سے ایک تیر آیا جو رحیم کے پہلو میں اتر گیا۔ وہ جوان اور توانا آدمی تھا ،گرا نہیں۔ رضا کے ساتھ
بھاگتا چال گیا مگر زیادہ دور تک نہ جاسکا۔ اس کے قدم ڈگمگانے لگے تو رضا نے اسے اپنی پیٹھ پر ڈال لیا۔ تیر پہلو سے
نکالنا ممکن نہیں تھا۔
رحیم رضا سے کہنے لگا کہ وہ اسے وہین پھینک کر بھاگ جائے۔ وہ اب زندہ نہیں رہ سکتا تھا لیکن رضا اپنے دوست کو
اس وقت تک اپنے آپ سے جدا نہیں کرنا چاہتا تھا ،جب تک وہ زندہ تھا۔ اس نے رحیم کی ایک نہ سنی اور تاریک
راستوں میں چھپتا چھپاتا چلتا گیا۔ اسے خیال آگیا کہ وہ اس جگہ سے گزر رہا ہے۔ جہاں تمام مکان مسلمانوں کے ہیں۔
اسے دور دور بھاگ دوڑ اور شور شرابہ سنائی دے رہا تھا۔ ان کا تعاقب کرنے والے کہیں اور تھے۔ رضا کو معلوم تھا کہ عکرہ
کے مسلمان کیڑوں مکوڑوں کی سی زندگی گزار رہے ہیں اور صلیبیوں کی نگاہ میں ہر مسلمان جاسوس اور مشتبہ ہے۔ ذرا سے
شک پر کسی بھی مسلمان کو قید خانے میں ڈال دیا جاتا ہے اور اس کے گھر کی تالشی توہین آمیز طریقے سے لی جاتی
تھی۔ رضا کسی مسلمان کو مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا مگر وہ رحیم کے بوجھ تلے شل ہوچکا تھا اور اسے یہ امید بھی
تھی کہ شاید رحیم کی زندگی بچانے کا کوئی بندوبست ہوجائے۔
اس نے ایک دروازے پر دستک دی۔ کچھ دیر بعد دروازہ کھال۔ رضا تیزی سے اندر چال گیا جس نے دروازہ کھوال تھا ،گھبرا گیا۔
رضا نے مختصر الفاظ میں اپنا تعارف کرایا وہاں تو صرف یہ کہہ دینا ہی کافی تھا کہ وہ مسلمان ہیں۔ رضا کو پناہ مل گئی
مگر رحیم شہید ہوچکا تھا۔ رضا کے کپڑے خون سے لتھڑ گئے تھے۔ اس نے گھر والوں کو سارا واقعہ سنایا اور عمران کے
متعلق بھی بتایا۔ گھر میں تین مرد تھے ،وہ جوش میں آگئے۔ انہوں نے رضا کے کپڑے تبدیل کردئیے۔ رحیم کی الش کے
متعلق فیصلہ ہوا کہ اسے گھر کے کسی کمرے میں دفن کردیا جائے گا۔ رضا عمران کو بالنے کے لیے چال گیا۔
٭ ٭ ٭
رات کے اس وقت جب دنیائے اسالم گہری نیند سوئی ہوئی تھی ،قوم کے غدار دشمن کی بھیجی ہوئی عورتوں اور شراب
میں بدمست پڑے تھے ،ان سے دور ،بہت دور ایک مسلمان اسالم کی ناموس پر اپنی جان پر کھیل گیا تھا اور دو جان کی
بازی لگا کر اس راز کے ساتھ عکرہ سے نکل کر قاہرہ پہنچنے کی کوشش کررہے تھے ،جس پر مصر کی عزت اور اسالم کی
آبرو کا دارومدار تھا۔ اس راز کو وہ خدا کی امانت سمجھتے تھے ،وہاں انہیں دیکھنے واال کوئی نہ تھا کہ وہ اپنا فرض ادا
کرتے ہیں یا عیش کررہے ہیں لیکن انہیں یہ احساس تھا کہ انہیں خدا دیکھ رہا ہے اور وہ خدا کے حکم کی تعمیل کررہے
ہیں۔
عمران کا سر اس تذبذب اور اضطراب میں دکھنے لگا تھا کہ رحیم آجائے گا یا نہیں ،رضا آجائے گا یا نہیں؟؟ قاہرہ تک یہ
خبر پہنچا سکے گا یا نہیں کہ مصر پر حملے کے لیے بحیرۂ روم میں صلیبیوں کا بہت بڑا بیڑہ آرہا ہے۔ عمران اس لیے بھی
قاہرہ یا کم از کم کرک جلدی پہنچنا چاہتا تھا کہ نورالدین زنگی یا سلطان ایوبی یا دونوں کسی اور طرف حملے یا پیش قدمی
کی سکیم نہ بنا لیں۔ ایسی صورت میں انہیں روکنا تھا ،اگر ان کی فوج کسی اور طرف نکل گئی تو مصر کا خدا ہی حافظ
تھا۔ عمران کو ان سوچوں نے اس قدر پریشان کیا کہ اس نے دروازہ اندر سے بند کرکے نفل پڑھنے شروع کردئیے۔ اس شہر
کی خاموشی میں کوئی سرگرمی سنائی دے رہی تھی۔ کچھ بھاگ دوڑ سی تھی۔ یہ اس کی پریشانی میں اضافہ کررہی تھی۔
اس نے دو چار نفل پڑھ کر ہاتھ خدا کے حضور پھیال دئیے اور گڑگڑایا… ''یا خدا! مجھے اپنے فرض کی تکمیل تک زندگی
عطا کر۔ میں یہ امانت ٹھکانے پر پہنچا دوں تو مجھے میرے خاندان سمیت ختم کردینا''۔
اس کے دروازے پر ویسی ہی دستک ہوئی جیسی رحیم کے دریچے پر ہوئی تھی۔ عمران نے دروازہ کھوال۔ رضا کھڑا تھا۔ اسے
اندر بال کر عمران نے دروازہ بند کردیا۔ رضا ہانپ رہا تھا۔ اس نے عمران کو بتایا کہ اس پر کیا گزری ہے اور رحیم شہید
ہوچکا ہے۔ عمران نے جب یہ سنا کہ رحیم کی الش ایک مسلمان گھرانے میں ہے جو اسے گھر میں دفن کردیں گے تو
عمران پریشان ہوگیا۔ وہ عکرہ کے کسی مسلمان کو مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ رضا نے اسے بتایا کہ اس گھر میں تین
مرد اور باقی عورتیں ہیں۔ انہوں نے فورا ً ایک کمرے کے کونے میں کھدائی شروع کردی تھی۔ عمران اس گھر جانا چاہتا تھا
تاکہ دیکھ لے کہ ان کے پکڑے جانے کا کوئی خطرہ تو نہیں۔ رضا نے اسے یقین دالیا کہ وہ ہوشیار لوگ معلوم ہوتے ہیں،
سنبھال لیں گے۔
عکرہ سے نکلنا دشوار ہوگیا تھا۔ شہر کی ناکہ بندی کرلی گئی تھی۔ ایک لڑکی کا قتل اور ایک جاسوس کا فرار معمولی سی
واردات نہیں تھی۔ نکلنا رات کو ہی تھا۔ ان دونوں نے یہ طے کیا کہ اکٹھے نکلیں گے اور دونوں میں سے کوئی پکڑا گیا یا
دونوں پکڑے گئے تو اور جو کچھ بھی کہیں ،یہ نہیں بتائیں گے کہ رحیم کی الش کہاں ہے یا وہ مارا گیا ہے۔ اگلہ مسئلہ
گھوڑوں کا تھا۔ عمران رضا کو اس جگہ لے گیا جہاں آٹھ گھوڑے بندھے ہوئے تھے مگر دور سے دیکھا کہ محافظوں میں سے
ایک وہاں ٹہل رہا تھا۔ عمران رضا کو ایک جگہ چھپا کر آگے گیا اور اس سنتری کے پاس چال گیا۔ اس سے پوچھا کہ آج
اسے پہرہ دینے کی کیا ضرورت پیش آگئی ہے۔ سنتری عمران کو جان گنتھر کے نام سے اچھی طرح جانتا تھا اور بڑے پادری
کے خصوصی خادم کی حیثیت سے اس کا احترام بھی کرتا تھا۔ اس نے عمران کو بتایا کہ آج ایک مسلمان جاسوس کو پکڑا
گیا تھا۔ وہ کسی لڑکی کو قتل کرکے فرار ہوگیا ہے۔ اس لیے حکم آیا ہے کہ ہوشیار رہا جائے۔
اس سنتری کی موجودگی میں گھوڑے کھولنا ممکن نہیں تھا۔ عمران نے اسے باتوں میں لگا لیا اور پیچھے ہوکر اس کی گردن
بازو کے گھیرے میں لے لی۔ سنتری کا دم گھٹنے لگا۔ عمران نے اس کے پہلو سے خنجر نما تلوار کھینچ لی اور اس کے
پیٹ میں گھونپ دی۔ مرنے تک اس کی گردن بازو کے شکنجے میں دبائے رکھی۔ اسے مار کر عمران نے رضا کو بالیا۔ دو
گھوڑوں پر زینیں ڈالیں اور سوار ہوگئے۔ گرجے کے باقی محافظ کمرے میں کہیں سوئے ہوئے تھے۔ عمران اور رضا چل پڑے۔
شہر سے نکلنے کے کئی راستے تھے۔ وہ ایک طرف چل پڑے اور شہر سے نکل گئے۔ اچانک وہ گھیرے میں آگئے اور انہیں
للکارا گیا۔
ہم شہری ہیں دوستو!''… عمران نے کہا… ''ہم بھی تمہاری طرح ڈیوٹی دے رہے ہیں''۔''
تین چار مشعلیں جل اٹھیں جن کی روشنی میں انہوں نے دیکھا کہ وہاں گھوڑ سواروں کا ایک دستہ تھا جو ادھر ادھر پھیال
ہوا تھا تب انہیں احساس ہوا کہ شہر کی ناکہ بندی ہوچکی ہے۔ عمران نے اپنے کپڑے نہیں دیکھے تھے۔ اس کے کپڑوں پر
سنتری کا خون تھا۔ مشعل کی روشنی میں یہ خون صلیبی سواروں کو نظر آگیا۔ اس سے پوچھا گیا کہ یہ خون کس کا ہے تو
عمران نے لگام کو جھٹکا دے کر گھوڑے کو ایڑی لگادی۔ رضا نے بھی ایسا ہی کیا مگر اس نے ذرا دیر کردی۔ عمران نکل
گیا۔ رضا گھیرے میں آگیا۔ عمران کے پیچھے بھی تین سوار گئے۔ اسے رضا کی بلند پکار سنائی دینے لگی… ''عمران رکنا
نہیں ،نکل جائو۔ خدا حافظ''… عمران بہت دور تک یہ پکار سنتا رہا۔ پتا چلتا تھا جیسے وہ گھیرے سے نکلنے کی کوشش
کررہا ہے۔ عمران کا گھوڑا بڑا اچھا تھا۔ اس کے دائیں بائیں سے تیر گزرنے لگے لیکن وہ تعاقب کرنے والوں کو پیچھے ہی
پیچھے چھوڑتا چال گیا۔ وہ راستے سے واقف تھا۔ اس نے کرک کا رخ کرلیا۔ گھوڑا بدلنے کی ضرورت تھی۔
جب صبح کی روشنی سفید ہورہی تھی ،اس کا گھوڑا دوڑنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ اس نے پانی کی تالش کرنے کی کوشش
ہی نہ کی۔ آگے ریتلی چٹانوں کا عالقہ آگیا۔ وہ اس میں داخل ہوا ہی تھا کہ اس کے سامنے چٹان میں دو تیرلگے جس کا
مطلب تھا کہ رک جائو۔ وہ رک گیا اور یہ دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی کہ اسے روکنے والے اس کی اپنی فوج کے
آدمی تھے۔ اسے اپنے کمانڈر کے پاس لے گئے۔ کمانڈر نے اس کی بات سن کر اسے تازہ دم گھوڑا دیا اور دو سپاہی اس کے
ساتھ کرکے اسے کرک کے راستے پر ڈال دیا۔ اس نے خود ہی کہا تھا کہ وہ نورالدین زنگی سے مل کر قاہرہ جائے گا۔ عکرہ
سے جو خبر الیا تھا وہ زنگی تک بھی پہنچنی چاہیے تھی۔
٭ ٭ ٭
عمران جب کرک کے قلعے میں نورالدین زنگی کے سامنے بیٹھا اپنی کہانی سنا رہا تھا۔ زنگی اسے ایسی نظروں سے دیکھ
رہا تھا جیسے اس خوبرو جوان کو دل میں بٹھا لینا چاہتا ہو۔ اس نے اٹھ کر بیتابی سے عمران کو سینے سے لگا لیا اور اس
کے دونوں گال چوم کر پیچھے ہٹ گیا۔ اس نے اپنی تلوار نیام سے نکالی اور پھر نیام میں ڈال کر نیام کو چوما۔ اسے دونوں
ہاتھ پر رکھ کر عمران سے کہا… ''اس وقت جب صلیب ایک خوفناک گدھ کی طرح چاند ستارے پر منڈال رہی ہے ،ایک
مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو تلوار سے بڑھ کر اور کوئی تحفہ نہیں دے سکتا۔ تم بغداد میں کہو ،دمشق میں کہو ،کہیں بھی
کہو ،میں تمہیں ایک محل دے سکتا ہوں۔ تم نے جو کارنامہ کر دکھایا ہے۔ اس کے صلے میں تم دولت کے انبار کے حق دار
ہو لیکن میرے عزیز دوست! میں تمہارے لیے محل کھڑا نہیں کروں گا۔ تمہیں دولت کی شکل میں صلہ نہیں دوں گا کیونکہ
یہی وہ چیزیں ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو اندھا اور اپاہج کردیا ہے۔ یہ قبول کرو ،میری تلوار! اور یاد رکھو اس تلوار نے بڑے
بڑے جابر صلیبیوں کا خون پیا ہے۔ اس تلوار نے بہت سے قلعوں پر اسالم کا جھنڈا لہرایا ہے اور یہ تلوار اسالم کی پاسبان
ہے''۔
عمران نورالدین زنگی کے آگے دوزانو بیٹھ گیا اور اس کے ہاتھوں سے تلوار لے کر چومی ،آنکھوں سے لگائی اور کمر سے باندھ
لی۔ وہ کچھ کہہ نہ سکا۔ اس پر رقت طاری ہوگئی تھی اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
اور اپنی قدروقیمت جان لو میرے دوست!''… زنگی نے کہا… ''ایک جاسوس دشمن کے لشکر کو شکست دے سکتا ہے ''
اور ایک غدار اپنی پوری قوم کو شکست کی ذلت میں ڈال سکتا ہے۔ تم نے دشمن کو شکست دے دی ہے۔ تم جو خبر الئے
ہو یہ دشمن کی شکست کی خبر ہے۔ صلیبی انشاء اللہ مصر اور فلسطین کے ساحل سے آگے نہیں آسکیں گے اور ان کا
بحری بیڑہ واپس نہیں جاسکے گا۔ یہ تمہاری فتح ہوگی اور اس کا صلہ تمہیں خدا دے گا''۔
مجھے قاہرہ کے لیے جلدی روانہ ہوجانا چاہیے''… عمران نے کہا… ''دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔ امیر مصر کو بہت دن پہلے''
اطالع جانی چاہیے''۔
تم ابھی روانہ ہوجاو''… نورالدین زنگی نے کہا… ''میں تمہیں بڑی اچھی نسل کا گھوڑا دے رہا ہوں''۔ اس نے عمران کو''
قاہرہ تک کا وہ راستہ بتا دیا جس پر کئی چوکیاں تھیں۔ ان پر قاصدوں کے گھوڑے بدلنے کا انتظام تھا… ''اور صالح الدین
ایوبی سے پہلی بات یہ کہنا کہ رحیم اور رضا کے خاندانوں کو اپنے خاندان میں جذب کرلو۔ ان کے خاندانوں کی کفالت کا
انتظام بیت المال سے کرو''… اس نے عمران سے پوچھا… ''تم صرف جاسوسی کرسکتے ہو یا جنگ کو بھی سمجھ سکتے
''ہو؟
کچھ سوجھ بوجھ رکھتا ہوں''… عمران نے جواب دیا… ''آپ حکم دیں''۔''
پیغام لکھنے کا وقت نہیں''… زنگی نے کہا… ''صالح الدین ایوبی سے کہہ دینا کہ مجھے کرک تمہارے حوالے کرکے بغداد''
جلدی واپس جانا تھا۔ اطالع مل رہی ہیں کہ ان عالقوں میں صلیبیوں کی تخریب کاری بڑھتی جارہی ہے اور ہمارے چھوٹے
چھوٹے حکمران ان کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں لیکن اس تازہ خبر نے مجھے رکنے پر مجبور کردیا ہے۔ چار پانچ سال
پہلے تم نے بحیرۂ روم میں صلیبیوں کا بیڑہ غرق کیا تھا۔ وہ تمہارے پھندے میں آگئے تھے۔ اب وہ محتاط ہوکر آئیں گے۔
اسی لیے انہوں نے سکندریہ کے شمالی ساحل کو منتخب کیا ہے۔ اگر تم ان سے سمندر میں براہ راست ٹکر لینے کا فیصلہ
کرو تو یہ تمہاری غلطی ہوگی۔ تمہارے پاس صلیبیوں جتنی بحری طاقت نہیں ہے۔ ان کے جہاز بڑے ہیں اور ہر جہاز میں
بادبانوں کے عالوہ بے شمار چپو ہیں۔ چپو چالنے کے لیے ان کے پاس غالموں کی بے انداز تعداد ہے۔ تم اتنی تعداد سے
محروم ہو۔ تمہارے جہازوں کے چپو چالنے والے مالح ہیں اور سپاہی بھی۔ سمندری جنگ میں وہ دونوں کام نہیں کرسکیں گے۔
صلیبیوں کو ساحل پر آنے دو۔ سکندریہ کو بحری لوگوں کا خطرہ ہوگا۔ آتشیں گولے شہر کو آگ لگا دیں گے۔ اس کا کوئی
انتظام کرلینا''۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:04
قسط نمبر۔65
اسالم کی پاسبانی کب تک کرو گے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــ
اس کا کوئی انتظام کرلینا''۔''اگر دشمن نے اسی انداز سے حملہ کیا جیسا کہ عمران خبر الیا ہے تو میں دشمن کے پہلو
پر ہوں گا۔ یہ اس کا بایاں پہلو ہوگا۔ تم دائیں پہلو کو سنبھالو گے اور تمہارے ذمے ایک کام یہ ہوگا کہ صلیبیوں کا کوئی
جہاز واپس نہ جائے۔ آگ لگا دینا اگر تمہارے پاس سمندری چھاپہ مار ہوں تو تم جانتے ہو کہ ان سے کیا کام لیا جاسکتا
ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ سوڈان کی طرف سے چوکنا رہنا۔ وہ سرحد خالی نہ رہے۔ مجھے احساس ہے کہ تمہارے
پاس فوج کم ہے۔ میں یہ کمی پوری کرنے کی کوشش کروں گا۔ سب سے بڑی ضرورت راز داری کی ہے۔ راز داری کی خاطر
میں پیغام تحریری نہیں بھیج رہا۔ فتح کی صورت میں ،میں کرک فوج کے حوالے کرکے بغداد چال جائوں گا''۔
یہ پیغام ذہن نشین کرکے عمران قاہرہ روانہ ہوگیا۔
صلیبیوں کے سن ١١٧٤ء کے ابتدائی دن تھے جب علی بن سفیان نے صالح الدین ایوبی کو اطالع دی کہ عکرہ میں ایک
جاسوس شہید ہوگیا ہے اور دوسرا پکڑا گیا اور ان کا کمانڈر عمران واپس آگیاہے تو جان لینے کے باوجود کہ عمران بڑا ہی
قیمتی راز الیا ہے ،سلطان ایوبی بجھ سا گیا۔ اس نے علی بن سفیان کے ساتھ چندایک باتیں کرکے عمران کو اندر بالیا اور
اٹھ کر اسے گلے لگا لیا ،پھر کہا… ''پہلے مجھے یہ بتائو کہ تمہارا ایک ساتھی شہید کس طرح ہوا اور دوسرا پکڑا کس طرح
''گیا ہے؟
عمران نے پوری تفصیل سے ساری کہانی بیان کردی اور جب اس نے وہ راز بیان کیا جو وہ عکرہ سے الیا ہے تو سلطان
ایوبی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ عمران نے یہ بھی بتایا کہ وہ نورالدین زنگی کو اطالع دے آیا ہے۔ اس نے سلطان ایوبی کو
زنگی کا پیغام سنایا۔ اس سے سلطان ایوبی کا بہت سا وقت بچ گیا تھا۔ اس نے پہال کام یہ کیا کہ رحیم اوررضا کے
خاندانوں کے لیے وظیفہ مقرر کیا اور ان خاندانوں کے متعلق معلومات پیش کرنے کا کہا تاکہ اس کے مطابق ان کی مزید مدد
کی جائے۔ اس کے بعد اس نے عمران سے بہت سی باتیں پوچھیں۔ عمران نے اسے بتایا کہ صلیبیوں کا بحری بیڑہ چار پانچ
سال پہلے کی نسبت زیادہ ہوگا۔ حملہ ایک ماہ کے اندر اندر ہوگا۔ یورپ سے تازہ دم فوج الئی جائے گی جسے سکندریہ کے
شمال میں اترنے والی فوج سکندریہ پر قبضہ کرکے اسے اڈہ اور رسد گاہ بنائے گی اور شمال کی طرف سے مصر پر حملہ
آورہوگی۔ عمران کے کہنے کے مطابق صلیبیوں کی یہ توقع ہے کہ وہ سلطان ایوبی کو بے خبری میں جالیں گے اور نورالدین
زنگی اسے مدد اور کمک نہیں دے سکے گا کیونکہ راستے میں صلیبیوں کی بیت المقدس والی فوج حائل ہوگی۔
یہ ایسا طوفان تھا جو بے خبری میں آجاتا تو مصر پر صلیبیوں کا قبضہ یقینی تھا۔ سلطان ایوبی نے اسی وقت اپنے تمام
سینئر کمانڈروں کو بال لیا۔ علی بن سفیان کو اس نے یہ ہدایت دی کہ وہ دشمن کے جاسوسوں کے خالف اپنی سرگرمیاں اور
تیز کردے تاکہ اپنی فوجوں کی نقل وحرکت کے متعلق کوئی خبر باہر نہ جاسکے۔ سکندریہ کے متعلق اس نے خصوصی ہدایات
دیں۔
٭ ٭ ٭
برطانیہ ابھی اس جنگ میں شریک نہیں ہونا چاہتا تھا۔ انگریزوں کو غالبا ً یہ توقع تھی کہ کسی وقت وہ اکیلے ہی مسلمانوں
کو شکست دے کر ان کے عالقوں پر قابض ہوجائیں گے لیکن پوپ (سب سے بڑے پادری) کے کہنے پر انگریزوں نے صلیبیوں
کو اپنے کچھ جنگی جہاز دئیے تھے۔ سپین کا تمام بیڑہ اس حملے میں شرکت کے لیے تیار تھا ،فرانس ،جرمنی اور بیلجیم
کے جہاز بھی آگئے تھے اور اس متحدہ بیڑے میں یونان اور سسلی کی جنگی کشتیاں بھی شامل تھیں۔ رسد اور اسلحہ کے
لیے ماہی گیروں سے بادبانی کشتیاں لے لی گئی تھیں۔ ان میں بعض خاصی بڑی تھیں۔ اس بیڑے میں ان تمام ممالک سے
تازہ دم فوج آرہی تھی جس سے صلیب پر حلف لیا گیا تھا کہ فتح حاصل کیے بغیر واپس نہیں آئے گی۔
اگر صالح الدین ایوبی نے ہمارا مقابلہ اپنے بحری بیڑے سے کیا تو اس کی اسے مصر جتنی قیمت دینی پڑے گی''۔''
فرانسیسی بحریہ کے کمانڈر نے کہا… ''ہم جانتے ہیں کہ اس کے بحری بیڑے کی کتنی کچھ طاقت ہے''… وہ بحیرۂ روم کے
دوسرے کنارے پر ایک کانفرنس میں بیٹھا کہہ رہا تھا… ''صالح الدین ایوبی اور نورالدین خشکی پر لڑنے والے لوگ ہیں۔ ہمیں
یہ توقع رکھنی چاہیے کہ اس حملے کی خبر مسلمانوں کو قبل از وقت نہیں ہوگی اورصالح الدین ایوبی کو اس وقت خبر
ہوگی جس وقت ہم قاہرہ کو محاصرے میں لے چکے ہوں گے۔ نورالدین زنگی اس کی مدد کے لیے نہیں پہنچ سکے گا اور
ہمارا یہ حملہ فیصلہ کن ہوگا''۔
میں ایک بارپھر کہتا ہوں کہ سوڈانیوں کا استعمال کرنا ضروری ہے''… رینالٹ نے کہا… ''رینالٹ ایک مشہور صلیبی ''
حکمران اور جنگجو تھا۔ اسے بیت المقدس کی طرف سے خشکی پر آنا اور حملہ کرنا تھا۔ وہ شروع سے زور دے رہا تھا کہ
''وہ مصر پر شمال اورمشرق سے حملہ کریں تو جنوب سے سوڈانی بھی مصر پر حملہ کردیں گے۔
آپ پچھلے تجربوں کو بھول جاتے ہیں''… اسالم کے سب سے بڑے دشمن فلپ آگسٹس نے کہا… ''١١٦٩ء میں ہم نے ''
سوڈان کو بے دریغ مدد دی تھی اور اس توقع پر ہم نے سمندر سے حملہ کیاتھا کہ سوڈانی جنوب سے حملہ کریں گے اور
صالح الدین ایوبی کی فوج میں جو سوڈانی ہیں و ہ بغاوت کردیں گے مگر انہو ںنے کچھ بھی نہ کیا۔ دو سال بعد پھر انہیں
مدد دی گئی۔ انہوں نے یہ بھی ضائع کردی۔ اب کے پھر انہوں نے ہمیں مایوس کیا ،ہم کیوں انہیں اپنے منصوبے میں شریک
کریں؟ اگر مصر ہم نے اپنی طاقت سے لے لیا تو سوڈانی ہم سے حصہ مانگیں گے۔ آپ یہ بھول رہے ہیں کہ سوڈانیوں میں
مسلمانوں کی تعداد کم نہیں۔ مسلمان پر بھروسہ کرنا غلطی ہے۔ اگر آپ سچے دل سے اسالم کا نام ونشان مٹانا چاہتے ہیں
تو کسی مسلمان کو اپنا دوست نہ سمجھیں۔ انہیں خرید کر اپنا دوست ضرور بنائیں لیکن دل میں اس کی دشمنی قائم
رکھیں''۔
آپ ٹھیک کہتے ہیں''… ایک اور صلیبی بادشاہ نے کہا… ''آپ لوگوں نے فاطمیوں کو دوست بنایا۔ وہ صالح الدین ایوبی ''
کے دشمن ہوتے ہوئے بھی اسے ابھی تک قتل نہیں کرسکے۔ ہم نے انہیں بڑے بڑے قابل جاسوس اور تخریب کار دئیے جو
انہوں نے اپنی غلطیوں سے پکڑوا کر مروا دئیے۔ اب ہم کسی پربھروسہ نہیں کریں گے ،ہمیں اپنی جنگی طاقت پر بھروسہ کرنا
چاہیے اور اب ہم کامیاب ہوں گے''۔
ان کی جنگی طاقت اتنی زیادہ تھی کہ وہ اس سے زیادہ تکبر کرنے میں حق بجانب بیڑے کا تو کوئی حساب ہی نہ تھا۔
بیت المقدس کی طرف سے جو فوج آرہی تھی۔ وہ سمندر کی طرف سے آنے والی نفری سے دگنی تھی۔ یورپی مورخوں میں
تعداد کے متعلق اختالف پایا جاتا ہے۔ بعض نے تو اس حملے کا صلیبی جنگوں میں ذکر ہی نہیں کیا ،جیسے اس کی کوئی
اہمیت ہی نہیں تھی۔ اس حملے میں کم و بیش صلیبیوں کی چھ بادشاہیاں شامل تھیں۔ کچھ چھوٹے چھوٹے حکمران بھی
تھے ،جو اپنی فوجیں لے آئے تھے۔ ان میں خامی یہ تھی کہ انکی کمان متحد نہیں تھی ،تاہم یہ لشکر نورالدین زنگی اور
سلطان صالح الدین ایوبی کو آسانی سے شکست دے سکتا تھا۔ سلطان ایوبی کی کمزوری یہ تھی کہ اس کی فوج کم تھی۔
اس کے عالوہ مصر میں غداروں نے بدامنی پھیال رکھی تھی اورسب سے بڑا خطرہ یہ کہ سوڈانی بھی حملہ کرسکتے تھے۔
نورالدین زنگی کو بھی کچھ ایسی ہی دشواریوں کا سامنا تھا۔ دنیائے اسالم چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹی ہوئی تھی اور یہ
حکمران عیش وعشرت کے عادی ہوچکے تھے۔ صلیبیوں نے انہیں اپنے زیراثر لے رکھاتھا۔ وہ آپس میں بٹے ہوئے تھے اور
انہیں اسالم کی ناموس کا ذرہ بھر احساس نہ تھا۔
سلطان ایوبی نے اپنے سینئرکمانڈروں کو بال کر اپنی فوج کو تین حصوں میں تقسیم کردیا۔ ایک حصے کو اس نے سوڈان کی
سرحد پر چلے جانے کو کہا۔ اس کے کمانڈر کو یہ ہدایت دی کہ وہ سرحد سے خاصا پیچھے خیمہ زن رہے لیکن فوج کو
مختلف جگہوں پر اس طرح متحرک رکھے کہ گرد اڑتی رہے اور یہ ظاہر ہو کہ فوج کی تعداد بے حساب ہے۔ سلطان ایوبی
نے خصوصی
حکم دیا کہ کسی بھی وقت فوج آرام کی حالت میں نہ رہے۔ دوسرے حصے کو سکندریہ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا گیا
لیکن اس ہدایت کے ساتھ کہ کوچ رات کو ہوگا اور تمام پڑائو دن کے وقت ہوں گے۔ اس کے کمانڈر کو بتایا گیا کہ اسے یہ
حکم بعد میں ملے گا کہ اس کی منزل کیا ہے اور آخری خیمہ گاہ کہاں ہوگی۔ تیسرے حصے کو سلطان ایوبی نے اپنے ہاتھ
میں رکھا۔ اس نے کسی بھی کمانڈرکو نہ بتایا کہ یہ احکام کیوں دیئے جارہے ہیں۔ یہ سب نے دیکھا کہ تمام تر منجنیقیں
اس فوج کو دی گئی تھیں جو سکندریہ کی طرف جارہی تھیں۔
اس کے ساتھ آٹھ روز بعد سلطان ایوبی قاہرہ میں نہیں تھااور نورالدین زنگی کرک میں نہیں تھا۔ وہ دونوں سکندریہ کے مشرق
میں گھوم پھر رہے تھے مگر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ دونوں کسی ملک کے حکمران اور فوجوں کے کمانڈر ہیں اور یہ
وہ انسان ہیں جو صلیبیوں کے لیے سراپا دہشت بنے ہوئے ہیں۔ وہ غریب سے دوشتربان تھے جو معلوم نہیں کہاں سے آئے
تھے اور کہاں جارہے تھے۔ انہوں نے ساحل پر جاکر بحیرۂ روم کی وسعت کو نظروں سے بھانپا اور ناپا۔ وہ تین چار دن میں
دور دور گھوم گئے۔ سلطان ایوبی سکندریہ اور نورالدین زنگی کرک چالگیا۔ سلطان ایوبی نے اپنے امیر البحر کو کچھ احکام
دئیے اور وہ چال گیا۔
٭ ٭ ٭
صلیبیوں کا بیڑہ مکمل خاموشی اور راز داری سے آیا۔ بیت المقدس سے صلیبیوں کی فوج چل پڑی۔ دونوں کی روانگی کے
اوقات میں مطابقت تھی۔ صلیبیوں نے بڑے اچھے موسم کا انتخاب کیاتھا۔ اس موسم میں سمندر خاموش رہتا ہے۔ تالطم اور
طوفان کا خطرہ نہیں ہوتا۔ صلیبی جہازوں کے کپتانوں کو مصر کا ساحل نظر آنے لگا لیکن انہیں سلطان ایوبی کا کوئی جہازنظر
نہیں آرہا تھا۔ سب سے اگلے جہاز کے کپتان نے سمندر میں ماہی گیروں کی ایک کشتی دیکھی۔ اس نے جہاز ان کے قریب
کرکے اوپر سے جھک کر پوچھا… ''جنگی جہاز کہاں ہیں؟ اگر غلط بتاو گے تو تمہیں ڈبو کر مار ڈالیں گے''۔
ماہی گیروں نے کہا… ''مصر کے جہاز اس طرح نہیں رکھے جاتے۔ یہاں سے بہت دور ہیں''۔
جہاز روک کر رسہ پھینکا گیا۔ دو ماہی گیر رسے کے ذریعے جہاز پر چلے گئے۔ انہوں نے کپتان کو مصر کے جنگی جہازوں
کے متعلق جو معلومات دیں ،وہ یہ تھیں کہ کئی جہاز مرمت ہورہے ہیں۔ جو جہاز اچھی حالت میں ہیں وہ اتنی دور ہیں کہ
سکندریہ تک پہنچتے دو دن لگیں گے کیونکہ بادبانوں اور چپوئوں کے لحاظ سے وہ کمزور اور کم رفتار ہیں۔ ماہی گیر نے جو
سب سے زیادہ قیمتی بات بتائی ،وہ یہ تھی کہ چونکہ سلطان ایوبی بحریہ کی طرف توجہ نہیں دیتا ،اس لیے جنگی مالح
عیش وعشرت میں پڑے رہتے ہیں۔ ساحل کے ساتھ جو دیہات ہیں ،وہاں چلے جاتے ہیں۔ ماہی گیروں سے مچھلیاں چھین
لیتے ہیں۔
صلیبی بحریہ کے رہنما کے لیے یہ معلومات خوشخبری سے کم نہ تھیں۔ اس نے اپنا جہاز روک لیا اور ایک کشتی کے ذریعے
اس بیڑے کے کمانڈر کے جہاز تک گیا۔ اسے اس نے یہ معلومات دیں جو اس نے دو ماہی گیروں سے لی تھیں۔ا ن کے لیے
میدان صاف تھا۔ کمانڈر نے بیڑے کو وہیں روک لیا۔ وہ شام کے بعد اندھیرے میں ساحل تک پہنچنا چاہتاتھا۔ اسے وہ جگہ بتا
دی گئی تھی جہاں ساحل کے ساتھ پانی اتنا گہرا تھا کہ جہاز ریت میں پھنسے بغیر ساحل تک آسکتے تھے۔ وہاں فوج کو
آسانی سے اتارا جاسکتا تھا… سکندریہ کی بندرگاہ سے ایک کشتی کھلے سمندر کی طرف چلی گئی جو بظاہر ماہی گیروں کی
تھی۔ ابھی سور ج غروب نہیں ہوا تھا جب یہ کشتی بیڑے تک پہنچ گئی۔ کم وبیش اڑھائی سو جنگی جہاز سمندر میں دور
دور تک بکھرے ہوئے تھے۔ ماہی گیر اپنی کشتی کو بیڑے کے درمیان لے گئے اور پوچھ کر کمانڈر کے جہاز تک پہنچ گئے۔
انہوں نے کمانڈر کو بتایا کہ سکندریہ کے اندر کوئی فوج نہیں ہے۔ صرف شہری آبادی ہے اور مصری بیڑے کے جنگی جہاز یہاں
سے بہت دور ہیں… یہ ماہی گیر مسلمانوں کے جاسوس تھے۔
رات کا پہال پہر تھا۔ جب اگلی صف کے جنگی جہاز ساحل کی طرف بڑھے اور کسی دشواری کے بغیر ساحل پر لنگر انداز
ہوگئے۔ پچھلی صف کے جہاز ان کے قریب ،عقب میں آئے اور لنگر ڈال دئیے۔ تیسری صف بھی قریب آگئی۔ فوج اتارنے کا
انتظام غالبا ً یہ تھا کہ ہر ایک جہاز کو ساحل پر نہیں آنا تھا بلکہ تمام جہازوں کو ساتھ مال کر ان میں سے فوج کو گزر کر
اترنا تھا۔ سکندریہ پر خاموشی سے حملہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اطالع کے مطابق وہاں چونکہ فوج نہیں تھی ،اس لیے قبضہ
مشکل نہ تھا۔ اگلے جہازوں سے جو فوج اتری ،اسے سکندریہ میں داخل ہونے کا حکم دے دیاگیا اور سپاہیوں کو بتایا گیا کہ
شہر ان کا اپنا ہے ،کوئی مزاحمت نہیں ہوگی۔ سپاہی دوڑ پڑے۔ انہیں شہر کو لوٹنا تھا اور ان کی نظر عورتوں پر بھی تھی۔
جونہی سپاہیوں کا یہ ہجوم شہر کے قریب آیا ،شہر کے باہر دائیں اور بائیں سے شعلے اٹھے جن سے رات روشن ہوگئی۔ یہ
گھاس ،لکڑیوں اور کپڑوں کے انبار تھے جن پر تیل ڈاال گیا تھا۔ ان سے روشنی کا کام لینا تھا۔ شہر کی گلیوں میں بھی
مشعلیں جل اٹھیں اور مکانوں کی چھتوں سے تیروں کا مینہ برسنے لگا۔ صلیبی پیچھے کو بھاگے تو دائیں اور بائیں سے ان
پر تیر برسنے لگے۔ ان کے لیے سنبھلنا مشکل ہوگیا۔ زخمیوں کی چیخ وپکار سے رات لرزنے لگی۔ ان صلیبیوں کی تعداد کم
وبیش دو ہزار تھی۔ ان میں سے شاید ہی کوئی زندہ پیچھے گیا ہوگا۔ صلیبی فوج جو ابھی جہازوں میں تھی ،اسے آگے آنے
کا حکم مال۔ جہازوں میں صلیبیوں کی منجنیقیں آتشیں گولے پھینکنے لگیں اور دور مار تیر بھی آنے لگے۔
سب سے پیچھے والے دو تین جنگی جہازوں میں سے شعلے اٹھے۔ صلیبی کپتانوں نے پیچھے دیکھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا
جیسے سمندر سے آگے کے گولے اٹھتے ہیں اور ان کے جہازوں میں آکر گرتے ہیں۔ صلیبیوں نے خوش فہمیوں میں مبتال ہوکر
جہازوں کو ہجوم کی صورت میں اکٹھا کردیا تھا اور وہ سلطان ایوبی کے پھندے میں آگئے تھے۔ دن کے وقت اگلے جہاز کو
جو ماہی گیر ملے تھے ،وہ علی بن سفیان کے محکمے کے آدمی تھے۔ یہ قدرتی سی بات تھی کہ سمندر میں ماہی گیر ملے
تو صلیبی کپتان نے ان سے معلومات حاصل کیں۔ ماہی گیروں نے غلط معلومات دیں۔ انہوں نے صرف یہ بات ٹھیک بتائی
تھی کہ مصری بیڑہ یہاں سے دور ہے۔ وہ واقعی دور تھا۔ سلطان ایوبی نے اپنے امیر البحر کو بتا دیا تھا کہ وہ سمندر پر
نظر رکھے۔ کسی بھی وقت حملہ آجائے گا۔ امیر البحر نے دیکھ بھال کا اچھا انتظام کررکھا تھا۔ اسے قبل از وقت پتا چل
گیا تھا کہ صلیبی بیڑہ سمندر کے وسط تک آگیا ہے۔ چنانچہ امیر البحر اپنے چند ایک جنگی جہاز جن میں آتشیں گولے
پھینکنے والی منجنیقیں تھیں ،ایک طرف دور لے گیا تھا۔ اس نے بادبان بھی اتار لیے تھے اور مستول بھی ،تاکہ دور سے جہاز
نظر نہ آسکیں۔ ان کے بجائے اس نے ایک ایک چپو پر دو دو آدمی لگا دئیے تاکہ رفتار تیزرہے۔
شام کے بعد جب صلیبی بیڑہ ساحل کے قریب گیا تو امیر البحر نے مستول بھی چڑھا دئیے اور بادبان بھی اور چپوئوں کی
رفتار بھی تیز رکھی اور اس طرح وہ صلیبی بیڑے کے عقب میں عین اس وقت پہنچ گیا جب صلیبیوں نے اپنے جہاز ایک
دوسرے کے ساتھ مال دئیے تھے۔ صلیبیوں کو د وسرا دھوکہ ان ''ماہی گیروں'' نے دیا تھا جو سکندریہ سے روانہ ہوئے تھے۔
انہوں نے صلیبی کمانڈر سے کہا تھا کہ وہا ں کے جاسوس ہیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ سکندریہ میں کوئی فوج نہیں۔ حقیقت
یہ تھی کہ شہر کے ان مکانوں میں جو سمندر کی طرف تھے ،وہاں صرف فوج تھی۔ شہریوں کو محفوظ حصے میں بھیج دیا
گیا تھا۔
سلطان ایوبی کا امیر البحر بہت تھوڑے جہاز لے کر گیا تھا۔ انہوں نے نقصان تو بہت کیا لیکن دشمن کے کئی ایک جہاز بچ
کر نکل گئے۔ دوسروں نے مقابلہ کیا۔ جلتے جہازوں نے رات کو دن بنا دیا تھا۔ اس روشنی میں سلطان ایوبی کے جہاز بھی
نظر آنے لگے تھے۔ ان میں سے ایک جہاز صلیبیوں کی منجنیقوں کی زد میں آگیا۔ امیر البحر نے اپنے جہازوں کو پیچھے
ہٹانا شروع کردیا کیونکہ دشمن جہازوں کی افراط کی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گھیرا ڈالنے کی کوشش کررہا تھا۔ سکندریہ
میں سلطان ایوبی کے جانبازوں نے جوش میں آکر ساحل پرہلہ بول دیا اور جہازوں پر آتشیں تیر پھینکنے لگے۔ یہ جانباز مصر
کی فوج کے اس تیسرے حصے کے تھے جسے سلطان ایوبی نے اپنے ہاتھ میں رکھا تھا۔ انہیں غیر فوجی لباس میں سکندریہ
میں مکانوں میں مورچہ بند کیا گیا تھا اور نہایت خاموشی سے شہریوں کو دوسرے مکانوں میں منقل کردیاگیا تھا۔ صالح الدین
ایوبی عقل اور دھوکے کی جنگ لڑ رہا تھا اور کم سے کم طاقت استعمال کررہا تھا۔ اس نے ابھی خاصی نفری اپنے زیر کمان
ریزرو میں رکھی ہوئی تھی۔
رات بھر یہ جنگ جاری رہی۔ سمندر میں کئی جہاز جل رہے تھے ،وہاں قیامت کا منظر بنا ہوا تھا۔ صلیبی بیڑہ چونکہ زیادہ
تھا بلکہ سلطان ایوبی کے جہازوں کی نسبت بہت ہی زیادہ اس لیے صلیبی جہاز تباہی سے نکل کر مسلمانوں کے جہازوں کو
گھیرنے کی کوشش کررہے تھے۔ صورت گھیرے والی بن گئی تھی۔ رات کو پتا نہیں چلتا تھا کہ اپنے جہازوں کی کیفیت کیا
ہے۔سلطان ا یوبی وہاں موجود تھا۔ اس نے اپنے ان جہازوں کو جنہیں اس نے محفوظہ کے طور پر رکھا ہوا تھا ،حکم بھیج دیا
کہ صلیبی جہازوں کو دور کا چکر کاٹ کر الجھائیں۔ رات کے پچھلے پہر باقی جہاز بھی معرکے میں شریک ہوگئے۔ اس میں
بہادری تو ان مالحوں کی تھی جو چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں اپنے جہازوں کو تیر ،آتش گیر مادہ اور گولے پہنچا رہے تھے۔
اپنے جہازوں کو ڈھونڈنا بہت ہی مشکل کام تھا۔
صبح طلوع ہورہی تھی۔ جب امیر البحر ایک کشتی میں ساحل پر آیا۔ اس کے ساتھ چند ایک بحری سپاہی تھے۔ امیر البحر
کے کپڑے خون سے الل تھے اور اس کی ایک ٹانگ جھلسی ہوئی تھی۔ اس کا جہاز نذرآتش ہوگیا تھا اور وہ چند ایک جوانوں
کو سمندر سے نکال الیا تھا۔ اس نے سلطان ایوبی کو بڑی عجلت میں معرکے کی صورتحال بتائی جو مختصر یہ تھی کہ اس
کے آدھے جہاز تباہ ہوچکے تھے لیکن صلیبیوں کو اتنا زیادہ نقصان پہنچایا جاچکا تھا کہ وہ زیادہ دیر لڑنے کے قابل نہیں تھے۔
سلطان ایوبی نے اسے بتایا کہ باقی جہازوں کو بھی بھیج دیا گیا ہے۔ یہ اقدام امیر البحر کی خواہش اور ضرورت کے عین
مطابق تھا۔ اس نے سلطان ایوبی سے کہا… ''صلیبیوں کو سب سے زیادہ نقصان وہ بوجھ دے رہا ہے جو انہوں نے جہازوں
میں الد رکھا ہے۔ رسد کے عالوہ ان کے جہازوں میں فوج بھی ہے اور بعض جہازوں میں گھوڑے ہیں۔ اس بوجھ کی وجہ سے
ان کے جہاز رفتار میں نہیں آتے اور گھومنے میں دیر لگاتے ہیں۔ میرے جہاز خالی ہیں''۔
امیر البحر اتنا زیادہ زخمی تھا کہ اس کا سر ڈول رہا تھا۔ سلطان ایوبی نے اپنے طبیب اور جراح کو بالیا مگر امیر البحر نے
پروانہ کی۔ سلطان ایوبی کا ہیڈکوارٹر ساحل کے چٹانی عالقے میں تھا۔ وہ ایک اونچی چٹان پر کھڑے تھے۔ سورج کی پہلی
کرنوں نے سمندر اور ساحل کا جومنظر دکھایا وہ ہیبت ناک تھا۔ جہاں تک نظر جاتی تھی ،سمندر میں جہازمست سانڈوں کی
طرح سمندر کو چیر رہے تھے۔ بہت سے جہاز جل رہے تھے۔ بعض مستول ٹوٹ جانے اور بادبان بے کار ہوجانے سے ایک ہی
جگہ کھڑے ہچکولے کھا رہے تھے۔سمندر میں بہت سے انسان تیرتے نظر آرہے تھے اور موجیں الشوں کو ساحل پر پٹخ رہی
تھیں ،اپنے جہازوں کا کچھ پتا نہیں چلتا تھا۔ دور مغرب کی طرف سمندر سے مستولوں کے باالئی حصے ابھرے ،پھر بادبان
نظرا ئے۔ جہاز ایک صف میں ایک دوسرے سے دور دور معرکے کی طرف بڑھے آرہے تھے۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''تمہارے
جہاز آرہے ہیں''… اس نے ادھر دیکھا ،وہاں امیر البحر نہیں تھا۔
امیر البحر اپنے جہازوں کو آتا دیکھ کر سلطان کو بتائے بغیر چٹان سے اتر گیا تھا۔ سلطان ایوبی کو وہ اس وقت نظر آیا
جب وہ ایک کشتی میں بیٹھ چکا تھا اور کشتی کا بادبان کھل چکا تھا۔ یہ دس چپوئوں کی کشتی تھی۔ سلطان ایوبی نے
چال کر اسے پکارا… ''سعدی! تم واپس آجاو۔ میں نے تمہاری جگہ ابوفرید کو بھیج دیا ہے''۔
امیر البحر دور نکل گیا تھا۔ اس نے بلند آواز سے کہا… ''یہ میری جنگ ہے۔ خدا حافظ''… اور اس کی کشتی دور ہی دور
ہٹتی گئی پھر نظروں سے اوجھل ہوگئی۔
قاصد نے سلطان ایوبی کو اطالع دی کہ سکندریہ سے شمال مشرق کی طرف تین میل دور صلیبیوں کی کچھ فوج اتر آئی ہے
اور وہاں خون ریز معرکہ لڑا جارہا ہے۔ سلطان ایوبی نے وہاں جانے کے بجائے کچھ احکام جاری کردئیے اور سمندری جنگ کو
دیکھتا رہا… اور اس نے یہ منظر بھی دیکھا کہ صلیبیوں کا ایک جہاز ساحل کے ذرا قریب آگیا تھا۔ سلطان ایوبی کے بیڑے کا
ایک جہاز اس کے قریب آنے کی کوشش کررہا تھا۔ صلیبیوں نے تیروں کی بوچھاڑ ماری لیکن مسلمان مالحوں نے پرواہ نہ
کی۔ وہ اپنے جہاز کو صلیبی جہاز کے اتنا قریب لے آئے کہ کود کر اس میں چلے گئے اور دست بدست لڑ کر جہاز پر قبضہ
کرلیا مگر یہ معرکہ اتنا سہل نہ تھا۔ جیسا بیان کیا گیا ہے۔ مسلمان بحریہ کے سرفروشوں نے خون اور جان کی بے دریغ
قربانی دی۔ وہ تین تین چار چار جہازوں کے گھیرے میں لڑے۔ دشمن کے جہازوں میں کود کود کر لڑے۔ تیروں سے چھلنی
ہوئے مگر اس طرح معرکے میں سے نکلنے کی نہ سوچی ،جس طرح صلیبی اپنے جہاز نکالنے کی کوشش کررہے تھے۔
صلیبیوں کی کمر رات کو ہی ٹوٹ گئی تھی۔ ان کے کمانڈر صلیب کا حلف پورا کررہے تھے اور انہیں صبح تک یہ امید لڑاتی
رہی کہ وہ سلطان ایوبی کی قلیل سی بحری قوت پر قابو پالیں گے لیکن اگلے دن کے پچھلے پہر تک ان کی کیفیت اتنی
بگڑ چکی تھی کہ جہاز بکھر کر ادھر کو ہی جارہے تھے ،جدھر سے آئے تھے۔ وہ اپنی زیادہ تر قوت مسلمانوں کے ہاتھوں
تباہ کرگئے تھے اور ان کی جو تھوڑی سی فوج ساحل پر اتری تھی ،وہ سکندریہ سے تین چار میل دور شمال مشرق میں
کچھ کٹ گئی تھی ،باقی نے ہتھیار ڈال دئیے تھے۔ سلطان ایوبی کی فوج کا دوسرا حصہ ابھی جنگ میں شریک ہی نہیں ہوا
تھا۔ سلطان ایوبی کے پاس قاصد آرہے تھے ،جارہے تھے اور جب اسے یقین ہوگیا کہ صلیبی ناکام ہوگئے ہیں تو اس نے فوج
کے دوسرے حصے کو ایک اور محاذ دے دیا۔ عمران کی اطالع کے مطابق بیت المقدس کی طرف سے بھی صلیبی فوج کو آنا
تھا۔ اس کے لیے نورالدین زنگی گھات میں تھا ،تاہم پیش بندی کے طور پر سلطان ایوبی نے دفاع مضبوط کرلیا۔ تیسرے حصے
کو جو اس نے اپنے زیرکمان ریزرو میں رکھا تھا ،ان صلیبیوں کو پکڑنے پر لگا دیا جو سمندر سے نکل رہے تھے۔
سورج کی آخری کرنوں نے سلطان ایوبی کو یہ منظر دکھایا کہ صلیبیوں کے وہی جہاز نظر آرہے تھے جو جل چکے تھے اور
ابھی ڈوبے نہیں تھے یا وہ جنہیں پکڑ لیا گیا تھا یا ان جہازوں کے بادبان نظر آرہے تھے جو واپس جاتے ہوئے دور ہی دور
ہٹتے جارہے تھے۔ اس کی اپنی بحریہ کے جہاز جو بچ گئے تھے ،ساحل کی طرف آرہے تھے۔ دیکھنے والوں نے اندازہ لگایا
کہ سلطان کی آدھی بحریہ مصر پر قربان ہوگئی تھی۔ کشتیاں ساحل پر آرہی تھیں۔ ان میں اپنے بحری سپاہی آتے تھے جو
زخمی تھے یا سمندر سے نکالے گئے تھے۔ ان کے جہاز تباہ ہوگئے تھے۔ ایک کشتی اس چٹان کے قریب آکے ساحل سے
لگی جس پر سلطان ایوبی کھڑا تھا۔ اس میں کسی کی الش تھی۔ سلطان ایوبی نے بلند آواز سے پوچھا… ''یہ کس کی الش
''ہے؟
امیرالبحر سعدی بن سعد کی''۔ ایک مالح نے جواب دیا۔''
سلطان ایوبی دوڑ کر نیچے اترا۔ الش سے کپڑا ہٹایا۔ اس کے امیر البحر کی الش خون سے الل ہوچکی تھی۔ مالحوں نے بتایا
کہ امیر البحر نے ایک جہاز تک پہنچ کر بحریہ کی کمان لے لی تھی اور جنگ لڑتے رہے۔ انہوں نے اس جہاز پر اپنی کمان
کا جھنڈا چڑھا دیا تھا۔ غالبا ً یہی وجہ تھی کہ صلیبیوں کے چار جہازوں نے انہیں گھیر لیا۔ا ن میں سے دو تباہ ہوئے اور
امیرالبحر کا جہاز بھی تباہ ہوگیا۔ اس وقت تک معرکہ ختم ہوچکا تھا… سلطان ایوبی نے امیرالبحر کی الش کا ہاتھ چوما اور
کہا… ''تم سمندر کے فاتح ہو ،میں کچھ بھی نہیں''۔
اس نے جہاں یہ حکم دیا کہ دشمن کے جو جہاز پیچھے رہ گئے ہیں ،ان سے سامان نکاال جائے ،وہاں جذباتی لہجے میں
کہا… ''تمام کشتیاں سمندر میں ڈال دو اور کسی شہید کی الش سمندر میں نہ رہنے دو۔ انہیں یہیں دفن کرنا جہاں بحیرۂ
روم کی ہوائیں ان کی قبروں کو ٹھنڈی رکھیں''۔
بحری شہیدوں کی تعداد کم نہیں تھی۔
٭ ٭ ٭
بیت المقدس سے صلیبیوں کی فوج کوچ کرچکی تھی اور آدھا راستہ طے کرآئی تھی۔ انہیں کچھ خبر نہیں تھی کہ ان کی
بحریہ اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے۔ اس کے قلب میں صلیبیوں کا مشہور جنگجو حکمران ریجنالٹ تھا۔ اس فوج کے بھی تین
حصے تھے۔ ایک آگے تھا ،دوسرا کچھ دور پیچھے درمیان میں اور تیسرا بہت دائیں کو ہٹ کر آرہا تھا۔ اس کی متحدہ کمان
ریجنالٹ کے پاس تھی اور اسے یہ توقع تھی کہ وہ سلطان ایوبی کو بے خبری میں جالے گا۔ تصوروں میں اسے قاہرہ نظر آرہا
تھا۔ گھوڑا گاڑیوں کے قافلے ،رسد بھی ساتھ ال رہے تھے۔ سکندریہ سے بہت دور شمال مشرق میں ایک وسیع خطہ ریت اور
مٹی کے ٹیلوں اور نشیب وفراز کا ہوا کرتا تھا۔ آٹھ صدیوں نے اس خطے کو اب ویسا نہیں رہنے دیا۔ اس کے قریب باقی
عالقہ صحرا تھا اور اس صحرا میں پانی بھی تھا۔ ریجنالٹ نے ایک پڑائو وہاں کیا۔ اس کی فوج کا اگالحصہ آگے نکل گیا
تھا۔ دائیں طرف واال حصہ دور تھا۔ آدھی رات کا وقت ہوگا۔ ریجنالٹ کے کیمپ میں قیامت بپا ہوگئی۔ اس کے کچھ بھی پلے
نہ پڑا کہ یہ قیامت آسمان سے ٹوٹی ہے یا اس کی اپنی فوج نے بغاوت کردی ہے۔
اس کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ وہ نورالدین زنگی کی گھات میں آگیا ہے۔ زنگی نے کئی دنوں سے اپنی فوج کو ٹیلوں
اور نشیب وفراز کے اس عالقے میں الکے بٹھا رکھا تھا۔ اس نے یہ سوچا تھا کہ یہاں پانی قریب ہے ،اس لیے صلیبی یہاں
پڑائو کریں گے۔ صلیبی فوج کا اگال حصہ آگے نکل گیا تو زنگی کے کمانڈروں کو مایوسی ہوئی۔ انہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ
رات کو پڑائو پر حملہ کرنا ہے۔ وہاں پڑائو نہ ہوا۔ بہت دیر بعد انہیں دور سے گرد کے بادل نظر آئے تو وہ سمجھے کہ
آندھی آرہی ہے۔ صحرائی آندھی بڑی خوفناک ہوا کرتی ہے لیکن یہ آندھی نہیں صلیبی فوج کا درمیانی حصہ تھا جو اسی جگہ
آکر رک گیا ،جہاں نورالدین زنگی کو توقع تھی۔ صلیبیوں نے خیمے نہ لگائے کیونکہ انہیں صبح کوچ کرنا تھا۔ جانوروں کو الگ
باندھ دیا گیا اور پھر سورج ڈوب گیا۔
آدھی رات کو زنگی کے دستے جو گھات میں تھے ،باہر آئے ،یہ سب سوار تھے۔ انہوں نے پہلے تو اندھیرے میں تیروں کا
مینہ برسایا اور جب سوئے ہوئے سپاہیوں میں بھگدڑ مچی تو سواروں نے گھوڑے سرپٹ دوڑا دئیے۔ وہ اندھا دھند برچھیاں اور
تلواریں چالتے گئے اور آگے نکل گئے۔ صلیبی سنبھلنے نہ پائے تھے کہ سواروں نے پھر ہلہ بول دیا۔ صلیبیوں کے بندھے ہوئے
گھوڑوں کی رسیاں کھول دی گئیں۔ یہ سب بھاگ اٹھے۔ ریجنالٹ وہاں سے بھاگ گیا اور دائیں حصے والی فوج میں جاپہنچا۔
یہ حصہ کہیں دور پڑائو کیے ہوئے تھا۔ نورالدین زنگی اسی طرف تھا۔ اس ساری فوج کی رسد پیچھے آرہی تھی۔ زنگی نے
اس کے لیے الگ دستے مقرر کررکھے تھے۔ انہوں نے صبح تک رسد پر قبضہ کرلیا۔ دائیں واال حصہ رات کو ہوشیار ہوگیا تھا۔
ریجنالٹ اسے اپنے حصے کی طرف النے لگا کیونکہ وہ اسی جگہ کو میدان جنگ سمجھتا تھا۔ صبح کے دھندلکے میں یہ فوج
چل پڑی۔ نورالدین زنگی نے عقب سے اس کے پہلو پر حملہ کردیا۔ اس کے بعد اس فوج کو معلوم ہی نہ ہوسکا کہ اس پر
کس طرف سے حملے ہورہے ہیں۔ سلطان ایوبی کی طرح زنگی بھی جم کر نہیں لڑتا تھا۔ چھوٹے چھوٹے دستوں سے حملے
کراکے صلیبیوں کو بکھیرتا جارہا تھا۔
اس نے رات کو سلطان ایوبی کی طرف قاصد بھیج دیا تھا۔ ان دونوں نے سکیم پہلے ہی بنا رکھی تھی۔ زنگی کا ہر عمل اور
اقدام اور دشمن کا ردعمل ان کی سکیم کے عین مطابق تھا۔ ریجنالٹ نے اپنی فوج کے اگلے حصے کو پیچھے آنے کا پیغام
بھیجا۔ چار روز ریجنالٹ اور زنگی میں المحدود وسعت میں معرکے ہوتے رہے۔زنگی نے صلیبیوں کو بکھیر لیا تھا اور ''ضرب
لگاو اور بھاگو'' کے اصول پر لڑ رہا تھا۔ صلیبیوں کی فوج کا آگے واال حصہ واپس ہوا تو رات کو اس کے عقب پر حملہ
ہوا۔ یہ سلطان ایوبی کے چھاپہ مار تھے۔ انہوں نے دو تین شب خون مارے اور غائب ہوگئے۔ پھر یہ سلسلہ چلتا رہا۔ صلیبی
آمنے سامنے کی جنگ لڑنے کی کوشش کررہے تھے لیکن سلطان ایوبی انہیں کامیاب نہیں ہونے دے رہا تھا۔ یہ طریقہ آسان
نہیں تھا۔ چھاپہ مار اگر ایک سو کی تعداد میں جاتے تھے تو بمشکل ساٹھ واپس آتے تھے۔ اس کے لیے خصوصی مہارت،
دلیری اور تیزی کی ضرورت تھی جو سلطان ایوبی نے اپنے چھاپہ مار دستوں میں پیدا کررکھی تھی۔
جنگ بہت دور دور تک پھیل گئی۔ صلیبی فوج میں نہ جمعیت رہی ،نہ مرکزیت۔ انکی رسد زنگی کے قبضے میں آگئی تھی۔
میدان جنگ میں نہ کوئی سامنا ،نہ عقب۔ صلیبی اس جنگ کی سوجھ بوجھ نہیں رکھتے تھے جو مسلمان لڑ رہے تھے۔ پھر
کیفیت یہ ہوگئی کہ جو صلیبی سپاہی بھاگ سکے ،بھاگ گئے اور جن میں تاب نہ رہی ،وہ ہتھیار ڈالنے لگے۔ ریجنالٹ ہار
ماننے کو تیار نہیں تھا۔ اس نے کسی اور جگہ کچھ فوج اکٹھی کرلی اور اسے یہ بھی پتا چل گیا کہ زنگی کہاں ہے۔ اس نے
نہایت اچھی سکیم سے وہاں حملہ کردیا۔ یہ ایک بڑاہی سخت معرکہ تھا۔ صلیبی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے۔
ریجنالٹ کی چالیں اور اپنی فوج پر کنٹرول بہت اچھا تھا مگر چوتھی پانچویں رات زنگی کے شب خون مارنے والے ایک
دستے کے چند ایک جانبازوں نے جان کی بازی لگا دی اور ریجنالٹ کی ذاتی خیمہ گاہ پر جا کر شب خون مارا۔ یہ زنگی
کی سکیم کے تحت اقدام کیا گیا تھا۔ زنگی نے چھاپہ ماروں کی للکار پر حملہ کردیا۔ اس دور میں رات کے وقت لڑائی نہیں
لڑی جاتی تھی۔ یہ رسم مسلمانوں نے ڈالی تھی کہ رات کو بھی حملے جاری رکھتے تھے۔
صبح طلوع ہوئی تو صلیبیوں کا سپریم کمانڈر ریجنالٹ قیدی کی حیثیت سے نورالدین زنگی کے سامنے کھڑا تھا اور زنگی اسے
اپنی شرائط بتا رہا تھا۔ یہ صلیبی کمانڈر ہر شرط ماننے پر آمادہ تھا لیکن بات جب بیت المقدس پر آئی تو ریجنالٹ نے
انکار کردیا۔ زنگی نے اسے کہا تھا کہ بیت المقدس ہمارے حوالے کردو اور آزاد ہوجاو… شام تک سلطان ایوبی بھی آگیا۔
ریجنالٹ کو پورے احترام کے ساتھ رکھا گیا تھا۔ سلطان ایوبی اسے بغل گیر ہوکر مال۔
آپ عظیم سپاہی ہیں''۔ ریجنالٹ نے سلطان ایوبی سے کہا۔''
یوں کہو کہ اسالم عظیم مذہب ہے''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا… ''سپاہی وہی عظیم ہوتے ہیں جن کا مذہب ''
عظیم ہوتا ہے''۔
محترم ریجنالٹ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ ان کا بحری بیڑہ نہیں آیا تھا؟'' نورالدین زنگی نے سلطان ایوبی سے کہا… ''
''انہیں صحیح جواب تم ہی دے سکتے ہو۔ میں تو یہاں تھا''۔
آپ کا بحری بیڑہ پورے طمطراق سے آیا تھا''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''اور واپس بھی چال گیا ہے۔ آپ کے بہت سے ''
جہاز سمندر کی تہہ میں ہوں گے اور جو ڈوبے نہیں ،ان کے جلے ہوئے ڈھانچے سمندر پر تیر رہے ہیں جو فوج جہازوں سے
اتر آئی تھی ،وہ واپس نہیں جاسکی۔ ہم نے آپ کی تمام الشیں پورے احترام سے دفن کردی ہیں''… سلطان ایوبی اسے
جنگ کی صورتحال سنا رہا تھا کہ ریجنالٹ کی آنکھیں اور منہ کھلتا جارہا تھا۔ اسے یقین بھی نہیں آرہا تھا کہ یہ روئیداد
سچی ہے۔
اگریہ سچ ہے تو آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ یہ کیونکر ممکن ہوا؟''… ریجنالٹ نے پوچھا۔''
یہ راز اس روز آپ پر فاش کروں گا جس روز فلسطین سے صلیب کا آخری سپاہی بھی نکل جائے گا''… نورالدین زنگی ''
نے کہا… ''آپ کی یہ شکست آخری نہیں ،کیونکہ آپ اس سرزمین سے نکلنے پر آمادہ نظر نہیں آتے''۔
میں آپ کو اپنے عالقے دے دوں گا''۔ ریجنالٹ نے کہا… ''مجھے رہا کردیں۔ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ بھی کروں گا۔ ''
آپ کی سلطنت بہت وسیع ہوجائے گی''۔
ہمیں اپنی سلطنت کی ضرورت نہیں''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''ہمیں خدا کی سلطنت قائم کرنی ہے۔ اسالم کی سلطنت''
جس کی وسعت کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ آپ کا مقصود اسالم کی بیخ کنی ہے جو ممکن نہیں۔ آپ نے فوجیں
استعمال کردیکھی ہیں۔ بحری بیڑہ بھی آزمالیا ہے۔ اپنی بیٹیوں کو استعمال کردیکھا ہے۔ آپ نے ہماری قوم میں غدار بھی
''پیدا کیے ہیں۔ گزشتہ ایک صدی میں آپ نے کتنی کامیابی حاصل کی ہے؟
کیا یہ میں آپ کو یاد دالئوں کہ ہم نے اسالم کو کہاں کہاں سے نکاال ہے؟'' ریجنالٹ نے کہا… ''اسالم تو بحیرۂ روم ''
کے پاس پہنچ گیاتھا۔ سپین سے اسالم کی پسپائی کیوں ہوئی؟ روم آپ کے ہاتھ سے کیوں نکال؟ سوڈان آپ کا کیوں دشمن
ہوا؟ صرف اس لیے کہ ہم نے تمہارے اسالم کے محافظوں کو خرید لیا تھا۔ آج بھی تمہارے حکمران بھائی ہمارے زر خرید
غالم ہیں۔ ان کی ریاستوں میں مسلمان رہ گئے ہیں ،اسالم ختم ہوگیا ہے''۔
ہم وہاں اسالم کو زندہ کریں گے دوست!''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔''
آپ خواب دیکھ رہے ہیں ،صالح الدین ایوبی!'' ریجنالٹ نے کہا… ''آپ دونوں کب تک زندہ رہیں گے؟ کب تک لڑنے ''
کے قابل رہیں گے؟ اسالم کی پاسبانی کب تک کرو گے؟ میں آپ دونوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ آپ سچے دل
سے اپنے مذہب کے پاسبان اور خیر خواہ ہیں لیکن آپ کی قوم میں مذہب کو نیالم کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے اورہم
خریدار ہیں۔ اگر آپ ہمارے ساتھ جنگ وجدل کے بجائے اپنی قوم کو زرپرستی ،لذت پرستی اور تعیش پسندی سے بچانے کی
مہم چالئیں تو ہم یہاں ایک دن نہ ٹھہر سکیں گے مگر میرے دوستو! آپ اس مہم میں کامیاب نہیں ہوں گے جس کی وجہ
یہ ہے کہ عیاشی آپ کی قوم میں نہیں آئی بلکہ قوم کے سربراہ اورحکمران عیاش ہوگئے ہیں۔ اس حقیقت سے آپ چشم
پوشی نہ کریں کہ جو برائی حکمرانوں کی طرف سے شروع ہوتی ہے وہ قوم میں رواج کی صورت اختیار کرجاتی ہے۔ اسی
لیے ہم نے آپ کے حکمرانوں کو اپنے جال میں پھانسا ہے اور میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کے مجھے قتل کردیں۔ مجھ
جیسے چند اور صلیبی حاکموں کو قتل کردیں ،اسالم کو بہرحال ختم ہونا ہے۔ ہم نے جس مرض کا زہر آپ کی قوم کی رگوں
میں ڈال دیا ہے ،وہ بڑھے گا ،کم نہیں ہوگا''۔
وہ ایسی حقیقت بیان کررہا تھا جس سے نورالدین زنگی اور صالح الدین ایوبی انکار نہیں کرسکتے تھے۔ تاہم وہ صلیبیوں پر
بہت بڑی فتح حاصل کرچکے تھے اور ایک صلیبی بادشاہ جو صلیبیوں کا سپریم کمانڈر تھا ،ان کے پاس جنگی قیدی تھا۔ اس
کے عالوہ اور بھی بہت سے قیدی ہاتھ آئے تھے۔ یہ صرف ایک جاسوس کا کارنامہ تھا جو عکرہ سے اس حملے کی خبر
بروقت لے آیا تھا۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:05
قسط نمبر۔66
اسالم کی پاسبانی کب تک کرو گے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس حملے کی خبر بروقت لے آیا تھا۔ ریجنالٹ اور دوسرے تمام جنگی قیدیوں کو نورالدین زنگی کرک لے گیا اور سلطان ایوبی
اس سے رخصت ہوکر قاہرہ چال گیا۔ اس نے سوچا تک نہ تھا کہ وہ ا ب نورالدین زنگی سے کبھی نہیں مل سکے گا۔ وہ
اس مسرت کے ساتھ قاہرہ گیا کہ زنگی ریجنالٹ جیسے قیمتی قیدی کو بڑی سخت شرائط منوائے بغیر نہیں چھوڑے گا۔
نورالدین زنگی نے بھی ذہن میں کچھ منصوبے بنائے ہوں گے مگر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ مارچ ١١٧٤ء کے ابتدائی دن
تھے کہ بغداد کے کسی عالقے میں شدید زلزلہ آیا جس نے چھ سات دیہات کو تباہ کردیا۔ بغداد میں بھی نقصان ہوا۔ مورخوں
نے اسے تاریخ کا سب سے زیادہ تباہ کن زلزلہ کہا ہے۔ نورالدین زنگی کے دل میں اپنے عوام کے ساتھ اتنی محبت تھی کہ
ان کی امداد کے احکام جاری کرنے کے بجائے خود کرک سے چل پڑا۔ وہ ان کی دستگیری اپنی نگرانی میں کرنا چاہتا تھا،
ویسے بھی اسے کرک سے جانا تھا۔ بغداد اور اردگرد کے حاالت اچھے نہیں تھے۔ وہ کرک سے ریجنالٹ اور دوسرے صلیبی
قیدیوں کو بھی ساتھ لیتا گیا۔
بغداد پہنچ کر اس نے سب سے پہلے زلزلے کا شکار ہونے والے لوگوں کی طرف توجہ دی۔ دارالخالفے سے باہر رہنے لگا۔ وہ
دل وجان سے اپنے لوگوں کی مدد کرتا رہا۔ جہاں رات آتی وہیں رک جاتا۔ اس نے کھانے کی پروا نہ کی کہ کیسا ملتا ہے
اور کس کے ہاتھ کا پکا ہوتا ہے۔ اسے تباہ حال لوگوں کی خوش حالی کا غم کھائے جارہا تھا۔ اپریل کے آخر تک اس نے
تمام متاثرین کو آباد کردیا۔ جب ذرا فرصت ملی تو اس نے اپنے طبیب کو بتایا کہ وہ اپنے گلے کے اندر درد محسوس کرتا
ہے۔ طبیب نے دوا دارو کیا لیکن حلق میں سوزش بڑھتی گئی۔ طبیبوں نے بہت عالج کیا لیکن مرض کا یہ عالم ہوگیا کہ وہ
جان آفرین کے سپرد کردی۔
بات کرنے سے بھی معذور ہوگیا اور مئی ١١٧٤کے پہلے ہفتے میں خاموشی سے جان
ِ
یورپی مورخوں نے لکھا ہے کہ زنگی کو خناق کا عارضہ الحق ہوگیا تھا لیکن بعض مورخوں نے وثوق سے لکھا ہے کہ زنگی کو
حسن بن صباح کے فدائیوں نے زہر دیا تھا۔ ان دنوں جب زنگی زلزلے سے تباہ کیے ہوئے دیہات میں بھاگتا دوڑتا رہتا اور اس
کے کھانے کے اوقات اور پکانے کے طورطریقے بے قاعدہ ہوگئے تھے۔فدائیوں نے اسے کھانے میں ایسا زہر دینا شروع کردیا تھا
جس کا ذائقہ محسوس نہیں ہوتا تھا۔ یہ زہر حلق کی ایسی سوزش کا باعث بنا ،جسے طبیب سمجھ ہی نہ سکے۔ جنرل
محمد اکبر خان ( رنگروٹ) نے اپنی انگریزی کتاب ''گوریال وارفیئر'' میں کئی بڑے بڑے اور مستند مورخوں کے حوالے سے
اسی کی تصدیق کی ہے کہ نورالدین زنگی فدائیوں کا شکار ہوا تھا۔
زنگی کوئی وصیت نہ کرسکا۔ سلطان ایوبی کو کوئی پیغام نہ بھیج سکا۔ سلطان ایوبی کو اس وقت اطالع پہنچی جب زنگی
دفن ہوچکا تھا۔ دوسرے ہی دن بغداد سے ایک اور قاصد یہ اطالع لے کے آیا کہ نورالدین زنگی کی وفات کے ساتھ ہی موصل،
حلب اور دمشق کے امراء نے خودمختاری کا اعالن کردیا ہے ا ور سلطان ایوبی کو یہ اطالع بھی ملی کہ بغداد کے امراء وزاء
نے نورالدین زنگی کے بیٹے الملک الصالح کو جس کی عمر صرف گیارہ سال تھی ،سلطنت اسالمیہ کا خلیفہ مقرر کردیاہے۔
سلطان ایوبی سمجھ گیا کہ یہ امراء نابالغ خلیفہ کو کس راستے پر ڈالیں گے اور وہ کیا گل کھالئیں گے۔
سلطان ایوبی نے علی بن سفیان کو بالیا اور کہا… ''تم نے پانچ مہینے گزرے ،مجھے اطالع دی تھی کہ عکرہ میں اپنا ایک
جاسوس شہید ہوگیا اور دوسرا پکڑا گیا ہے تو میرا دل بیٹھ گیا تھا اور مجھے ایسے محسوس ہونے لگا جیسے صلیبیوں کا یہ
سال دنیائے اسالم کے لیے اچھا نہیں ہوگا… بیٹھ جائو۔ میری باتیں غورسے سنو۔ اب ہمیں اپنے بھائیوں کے خالف لڑنا پڑے
''گا
اسالم کی بقا کچے دھاگے سے لٹک رہی تھی
مئی ١١٧٤ء کا دن دنیائے اسالم کا ایک تاریک دن تھا۔ نورالدین زنگی کی میت کو ابھی غسل بھی نہیں دیا گیا تھا کہ بہت
سے انسانوں کے چہرے مسرت سے چمک اٹھے تھے۔ یہ صلیبی نہیں تھے ،یا یوں کہیے کہ صرف صلیبی نہیں تھے جو زنگی
کے انتقال پر پرسرور تھے ،ان میں مسلمان بھی تھے جو صلیبیوں کی نسبت کچھ زیادہ ہی خوش نظر آتے تھے۔ یہ مسلمان
ریاستوں اور جاگیروں کے امراء اور حاکم تھے۔ وہ سب زنگی کے گھر جمع ہوگئے تھے۔ وہ جنازے کے لیے آئے تھے۔ ان میں
سے بعض بے چین تھے جیسے زنگی کے انتقال سے غم زدہ ہوں مگر بے چینی یہ تھی کہ وہ زنگی کو شام سے پہلے پہلے
دفن کردینا چاہتے تھے۔ وہ اکٹھے تو ہوگئے تھے لیکن ان کے دل پھٹے ہوئے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو شکی نگاہوں سے دیکھ
رہے تھے۔ ان لوگوں کا مذہب ایک ،خدا ایک ،رسول ایک ،قرآن ایک اور دشمن ایک تھا مگر ہر ایک کا دل دوسرے سے
الگ اور جدا تھا۔ ان کی مثال ایک درخت کی ٹہنیوں کی سی تھی جو ٹوٹ کر درخت سے الگ ہوگئی ہوں اور اب الگ
الگ اپنے آپ کو ہرا بھرا رکھنے کی توقع لیے ہوئے ہوں۔
وہ دور دراصل جاگیرداری اور نوابی کا تھا۔ بعض مسلمان ریاستیں ذرا وسیع تھیں اور باقی چھوٹی چھوٹی… ان کے حکمران امیر
کہالتے تھے۔ یہ لوگ مرکزی خالف کے تحت تھے۔ اسالم کے کسی بھی دشمن کے خالف جنگ ہو تو یہ امراء خالفت کو
مالی اور فوجی مدد دیتے تھے مگر یہ مدد صرف مدد تک محدود رہتی تھی ،اس میں کوئی ملی جذبہ نہیں ہوتا تھا۔ وہ امن
اور سکون سے عیش وعشرت کرنے کی خاطر خالفت کا مطالبہ پورا کردیتے تھے۔ عیش وعشرت کی خاطر وہ اپنے سب سے
بڑے ( بلکہ واحد) دشمن صلیبیوں سے درپردہ دوستی کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔ ان میں سے بعض نے صلیبیوں کے
ساتھ درپردہ معاہدے کر بھی رکھے تھے لیکن نورالدین زنگی کا وجود صلیبیوں کے راستے میں ایک چٹان تھا۔ وہ مسلمان امراء
کو کئی بار شرمسار کرچکا تھا اور اس نے انہیں ذہن نشین کرانے کی سرتوڑ کوشش کی تھی کہ صلیبی انہیں اسالمی وحدت
سے توڑ کر ہڑپ کرتے جائیں گے مگر صلیبیوں کی مہیا کی ہوئی یورپی شراب ،نوجوان لڑکیوں اور سونے کی اینٹوں میں اتنی
قوت تھی ،جس نے ان کے کان بند اور عقل پرمہر کررکھی تھی۔ زنگی کی آواز جیسے پتھروں سے ٹکرا کر واپس آجاتی تھی۔
وہ سب سے پہلے جاگیردار اور نواب تھے ،امیر اور حاکم تھے اور ان کے بعد اگر مذہب کی بات چل نکلے تو وہ اپنے آپ
کو مسلمان کہتے تھے۔ ان کا اگر دین تھا تو وہ ان کی ریاستیں اور جاگیریں تھیں۔ یہی ان کا ایمان تھا۔ وہ اسالمی وحدت
کے قائل نہیں تھے۔ جنگ کے سخت خالف تھے کیونکہ انہیں خطرہ محسوس ہونے لگتا تھا کہ صلیبی ان کی جاگیروں پر
قبضہ کرلیں گے۔ ان کے عالوہ ان کے دلوں میں یہ ڈر بھی تھا کہ ان کی رعایا نے اپنے دشمن کو پہچان لیا تو اس میں
روحانی بیداری اور قومی وقار بیدار ہوجائے گا ،پھر رعایا ان کی نوابی کے لیے خطرہ بن جائے گی۔ حقیقت یہ تھی کہ رعایا
ان کے لیے مستقل خطرہ تھی۔ لوگوں میں قومی وقار موجود تھا۔ زنگی کی فوج انہیں لوگوں کی فوج تھی۔ اس کے مجاہدوں
لہذا وہ زنگی
نے دس گنا دشمن کا مقابلہ بھی کیا تھا۔ یہ جذبے کا کرشمہ تھا۔ امراء کو یہ جذبہ ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ ٰ
کو بھی پسند نہیں کرتے تھے اور صالح الدین ایوبی کو تو وہ اپنا دشمن سمجھتے تھے۔ اب زنگی فوت ہوگیا تو وہ خوش
تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ اس قوم میں اب کوئی زنگی نہیں رہا اور جہاد بھی زنگی کے ساتھ ہی دفن ہوجائے گا۔
زنگی دفن ہوگیا ،صلیبیوں پر مسلمانوں کی جو دہشت طاری تھی ،وہ ختم ہوگئی۔ ان کے دل میں اب صالح الدین ایوبی کا
کانٹا رہ گیا تھا جس کے متعلق اب وہ اتنے فکر مند نہیں تھے ،جتنے زنگی کی زندگی میں تھے۔ اب سلطان ایوبی اکیال رہ
گیا تھا۔ اسے مدد اور کمک دینے واال زنگی مرگیا تھا۔ صلیبیوں کو اصل خوشی تو اس پر ہوئی کہ زنگی کے بعد سرکردہ امراء
وزاء نے زنگی کے کمسن بیٹے الملک الصالح کو گدی پر بٹھا دیا تھا جس کی عمر گیارہ سال تھی۔ یہ انتخاب ان امراء نے
کیا تھا جو در پردہ صلیبیوں کے دوست تھے۔ ان کی طرح سلطان کی گدی صلیبیوں کے ہاتھ آگئی تھی۔ ان امراء میں
گمشتگین نام کا ایک امیر جو دراصل قلعہ دار ( قلعے کا گورنر) تھا اور دوسرا سیف الدین والئی موصل تھا۔ دمشق کا حاکم
شمس الدین بن عبدالمالک تھا۔ الجزیرہ اور نواحی عالقوں پر نورالدین زنگی کے بھتیجے کا راج تھا۔ ان کے عالوہ کئی اور
جاگیر دار تھے۔ ان سب نے خود مختاری کا اعالن کردیا۔ وہ بظاہر خالفت کے ماتحت تھے لیکن عمال ً آزاد ہوگئے تھے۔ وہ
اپنی اپنی جگہ بہت مسرور تھے مگر محسوس نہ کرسکے کہ وہ ذروں کی طرح بکھر کر صلیبیوں کا آسان شکار بن گئے ہیں۔
زنگی کی وفات سے عالم اسالم کو جو نقصان پہنچا تھا ،اسے زنگی کی بیوی نے محسوس کیا۔ سلطان ایوبی نے محسوس کیا
اور ان لوگوں نے محسوس کیا جن کے دلوں میں اسالم کی عظمت زندہ تھی۔
٭ ٭ ٭
اس حادثے کو بہت دن گزر چکے تھے۔ سلطان ایوبی اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا۔ کمرے میں مصطفی جودت نام کا ایک
اعلی فوجی افسر بیٹھا بول رہا تھا۔ مصطفی ترک تھا۔ وہ نورالدین زنگی کی فوج میں منجنیقوں کا کمانڈر تھا۔ زنگی کی وفات
ٰ
کے بعد اس نے عالم اسالم میں جو تباہ کن انقالب دیکھا ،اس نے اسے تڑپا دیا۔ اس نے یہ کہہ کر لمبی چھٹی لے لی کہ
لہ ذا وہ ترکی اپنے گھر جانا چاہتا ہے۔ وہ دمشق سے روانہ ہوا ،قاہرہ پہنچ گیا اور
اسے ترکی گئے کئی سال گزر گئے ہیںٰ ،
سلطان ایوبی کے پاس چال گیا۔ مصطفی ان فوجی افسروں میں سے تھا جو افسر کم اور مسلمان زیادہ ہوتے ہیں۔ اسے معلوم
تھا کہ زنگی کے بعد صرف سلطان ایوبی ہے جو عظمت اسالم کی پاسبانی کرسکتا ہے اور کرے گا۔ اسے ڈر تھا کہ سلطان
ایوبی کو اس طرف کے حاالت کا علم نہیں ہوگا۔ چنانچہ وہ سلطان ایوبی کو وہاں کے حاالت سنا رہا تھا۔
اور فوج کس حال میں ہے؟'' سلطان ایوبی نے اس سے پوچھا۔…''
محترم زنگی مرحوم نے فوج میں جو جذبہ پیدا کیا تھا ،وہ زندہ ہے''… مصطفی نے جواب دیا… ''مگر یہ جذبہ زیادہ دیر''
زندہ نہیں رہ سکے گا۔ آپ جانتے ہیں کہ صلیبیوں کے سیالب کو صرف فوج نے روک رکھا ہے۔ محترم زنگی مرحوم کی
زندگی میں عمال ً فوج حکومت کررہی تھی۔ جنگی منصوبے اور فیصلے فوج کے ہاتھ میں تھے لیکن یہ اقدام خالفت کے احکام
کے خالف تھا۔ اب ہم خالفت کے پابند ہوگئے ہیں۔ ہم اپنے آپ کوئی کارروائی نہیں کرسکتے اگر خلیفہ کوئی جنگی منصوبہ
بنائے گا ہی نہیں تو فوج کیا کرے گی؟ صلیبی جانتے ہیں کہ مسلمان امراء میں وہ غیرت ہی نہیں جو قومی عظمت کی
خاطر لڑاتی اور مرواتی ہے اور لوگ جانیں قربان کرتے ہیں۔ صلیبیوں نے امراء کی غیرت خرید لی ہے اور اب وہ ساالروں کو
خریدنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کی تخریبی سرگرمیاں فوج میں بھی اور قوم میں بھی شروع ہوگئی ہیں اگر یہ عمل جلدی
نہ روکا گیا تو صلیبی فوجی حملے کے بغیر ہی سلطنت اسالمیہ کے مالک بن جائیں گے۔ سلطنت اسالمیہ جاگیروں میں تقسیم
ہوگئی ہے۔ امراء کو اب راہ راست پر نہیں الیا جاسکتا۔ وہ صلیبیوں کی شراب میں ڈوب گئے ہیں۔ انہوں نے وہاں لڑکیوں کی
فوج اتار دی ہے۔ آپ سن کر حیران ہوں گے کہ یہ لڑکیاں امراء کے حرموں میں رہتی ہیں۔ ان کے کہنے پر جشن منائے
جاتے ہیں ،جن میں سرکردہ فوجی افسروں کو مدعو کرکے یہ لڑکیاں انہیں بے حیائی سے اپنے جال میں پھانس رہی ہیں''۔
اور اس کے بعد میں جانتا ہوں کیا ہوگا''… سلطان ایوبی نے کہا… ''فوجیوں کو نشے اور بدکاری کا عادی بنایا جائے ''
گا''۔
بنایا جارہا ہے'' ۔ مصطفی نے کہا… ''حشیشین بھی اپنی کارروائیوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔ اب یوں ہوگا کہ جو ساالر یا''
نائب ساالر صلیبیوں کی دشمنی دل سے نہیں نکالے گا اور جہاد کا قائل رہے گا ،حشیشین کے پیشہ ور قاتلوں کے ہاتھوں
پراسرار طریقے سے قتل کرادیا جائے گا''۔
مصطفی نے سلطان ایوبی کو تفصیل سے بتایا کہ کون سا امیر کیا کررہا ہے۔ اس تفصیل کا لب لباب یہ تھا کہ امراء جہاں
خودمختار ہوگئے تھے ،وہاں انہوں نے ایک دوسرے کو دشمن سمجھنا شروع کردیا تھا۔ انہوں نے ایک دوسرے کے خالف فوجی
تیاریاں شروع کردی تھیں۔ صلیبی اس نفاق اور چپقلش کو ہوا دے رہے تھے۔
آپ نے اچھا کیا ہے جو مجھے وہاں کے حاالت بتانے آگئے ہیں''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''اگر آپ نہ آتے تو مجھے ان''
تفصیالت کا علم نہ ہوتا ،البتہ یہ اندازہ کرنا مشکل نہ تھا کہ گیارہ سال کے بچے کو سلطان بنا کر وہ لوگ کیا کرنا چاہتے
ہیں''۔
اور آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟'' مصطفی نے پوچھا… ''اگر آپ نے فوری کارروائی نہ کی تو سمجھ لیں کہ سلطنت اسالمیہ''
کا سورج ڈوب چکا ہے۔ آپ کی کارروائی صرف جنگی ہونی چاہیے''۔
یہ دن بھی مجھے دیکھنا تھا کہ میں بھائیوں کے خالف جنگی کارروائی کی سوچوں گا''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''میں ''
اس سے ڈرتا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد غدار تاریخ میں یہ نہ لکھ دیں کہ صالح الدین ایوبی خانہ جنگی کا مجرم تھا''۔
اگر آپ اس ڈر سے قاہرہ میں بیٹھے رہے تو تاریخ آپ پر یہ شرمناک الزام عائد کرے گی کہ نورالدین زنگی مرگیا تھا تو ''
سلطان صالح الدین ایوبی کا بھی دم نکل گیا تھا۔ اس نے مصر پر اپنی گرفت مضبوط ر کھنے کے لیے سلطنت اسالمیہ کو
قربان کردیا تھا''۔
ہاں!'' سلطان ایوبی نے کہا… ''یہ الزام زیادہ شرمناک ہوگا۔ میں ہر پہلو پر غور کرچکا ہوں ،مصطفی! اگر میں جہاد فی''
سبیل اللہ کے لیے نکلتا ہوں تو میں یہ نہیں دیکھوں گا کہ میرے گھوڑے تلے کون روندا جاتا ہے۔ میری نگاہ میں وہ کلمہ گو
کفار سے بدتر ہے جو کافر کو دوست سمجھتا ہے… آپ واپس چلے جائیں۔ میں نے علی بن سفیان کو وہاں بھیج رکھا ہے
لیکن یاد رہے کہ وہ جاسوسوں کے بھیس میں گیا ہے۔ وہاں کسی کو معلوم نہیں ہوسکے گا کہ علی بن سفیان ان کے درمیان
گھوم پھر رہا ہے اور جائزہ لے رہا ہے کہ وہاں کس قسم کی کارروائی کی ضرورت ہے۔ آپ جاکر یہ دیکھیں کہ کون کون سا
ساالر مشکوک ہے۔ علی بن سفیان کے ساتھ بہت سے آدمی گئے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں وہاں کیا کرنا ہے۔ اس کے
ساتھ ہی میں نے تمام امراء کی طرف اس پیغام کے ساتھ ایلچی بھیجے ہیں کہ امراء ان حاالت میں جبکہ صلیبی ان کے سر
پر بیٹھے ہیں ،ایک محاذ پر مورچہ بند ہوجائیں اور آپس کے اختالفات مٹانے کی کوشش کریں۔ مجھے امید نہیں کہ وہ پیغام
کو سمجھنے کی کوشش کریں گے لیکن میں انہیں صرف ایک بار بتا دینا چاہتا ہوں کہ سیدھا راستہ کون سا ہے ،میں انہیں
یہ نہیں بتائوں گا کہ انہوں نے میرے کہے پر عمل نہ کیا تو میں کیا کروں گا''۔
مصطفی جودت کو رخصت کرکے سلطان ایوبی نے اپنے دربان کو چند ایک ساالروں اور انتظامیہ کو حکام کے نام لے کر کہا کہ
انہیں جلدی سے اس کے پاس بھیجا جائے۔ یہ اس کی ہائی کمانڈ تھی ،جسے اس نے بالیا تھا۔
٭ ٭ ٭
اعلی
قاضی بہائوالدین شداد جو صالح الدین ایوبی کا دست راست اور ہمراز دوست تھا اور جو اس کی مجلس مشاورت میں
ٰ
رتبہ اور مقام رکھتا تھا ،اپنی یادداشتوں میں لکھتا ہے… ''صالح الدین ایوبی کو خدا نے فوالد کے اعصاب عطا کیے تھے۔ اس
نے اپنی شخصیت اور کردار کو اس قدر مضبوط بنا رکھا تھاکہ پہاڑوں جیسے صدمے ہنس کھیل کر برداشت کرلیتا تھا۔ عزم کا
ضدی اور مستقل مزاج تھا۔ امیر ہو یا غالم وہ ہر کسی کا یکساں احترام کرتا تھا۔ البتہ کسی کو دوسروں سے ممتاز سمجھتا
تو صرف بہادری اور شجاعت کی بنا پر سمجھتا تھا۔ اس کے قریب رہنے والے اس سے دو طرح کا تاثر لیتے تھے۔ ایک
رعب کا دوسرا محبت کا۔ اس کے سپاہی جب میدان جنگ میں اسے دیکھتے تھے تو دشمن پر ٹوٹ پڑتے تھے۔ ایک بار یوں
ہوا کہ ایک خادم نے دوسرے خادم پر جوتا اتار کر پھینکا۔ صالح الدین ایوبی کمرے سے نکل رہا تھا۔ جوتا اسے جالگا۔ دونوں
خادم تھرتھر کانپنے لگے لیکن صالح الدین ایوبی نے دونوں طرف سے منہ پھیر لیا اور آگے نکل گیا۔ یہ کردار کی عظمت کا
مظاہرہ تھا۔ دوست تو دوست ،دشمن اس کے سامنے آتے تو اس کے مرید بن جاتے تھے''۔
نورالدین زنگی کی موت نے سلطنت اسالمیہ کو تاریخ کے سب سے بڑے خطرے میں ڈال دیا تھا۔ اس خطرے کا سب سے
زیادہ خطرناک پہلو یہ تھا کہ اپنے ہی امیر اور وزیر صلیبیوں کے دوست اور اسالم کے دشمن ہوگئے تھے۔ مصر کے اندرونی
حاالت ابھی پوری طرح نہیں سنبھلے تھے ،صالح الدین ایوبی مصر سے نہیں نکل سکتا تھا۔ ایسے حاالت میں وہ یہی کرسکتا
تھا کہ سلطنت اسالمیہ کے دفاع کا ارادہ دل سے نکال دے اور صرف مصر کے دفاع کو مضبوط رکھے لیکن میرا یہ دوست ذرہ
بھر نہ گھبرایا۔ اس ضمن میں میرے ساتھ بات کرتے ہوئے اس نے کہا… ''اگر میں اسالم کی پاسبانی سے دستبردار ہوجائوں
تو روز محشر صلیبیوں کے ساتھ اٹھایا جاوں گا''… اسالم کی پاسبانی اور فروغ کو وہ فرمان خداوندی سمجھتا تھا۔ اس نے
اپنے آپ کو کبھی حاکم یا حکمران نہیں سمجھا۔ مجھے صالح الدین ایوبی کی نوجوانی بھی یاد ہے۔ جب وہ پوری طرح عیش
وعشرت میں ڈوب گیا تھا۔ وہ شراب بھی پیتا اور رقص کے سرور کا دلدادہ تھا۔ موسیقی اور رقص کی باریکیوں اور گہرائیوں کو
سمجھتا اور نسوانی حسن کو دل کھول کر خراج تحسین پیش کرتا اور تعیش کے لیے حسین ترین لڑکی کا انتخاب کرتا تھا۔
کبھی کسی کے وہم وگمان میں نہیں آیا تھا کہ یہ نوجوان چند ہی سال بعد اسالم کا سب سے بڑا علمبردار اور اسالم کے
دشمنوں کے لیے برق اور طوفان بن جائے گا۔ اپنے چچا کے ساتھ وہ صلیبیوں کے خالف پہلے ہی معرکے میں گیا تو اس نے
سب کو حیران کردیا اور جب وہ اس معرکے سے واپس آیا تو اس نے پہال کام یہ کیا کہ عیش وعشرت پر لعنت بھیجی اور
اپنی زندگی اسالم کے لیے وقف کردی۔ اس نے قوم کو اور اپنی فوج کو یہ نعرہ دیا کہ سلطنت اسالمیہ کی کوئی سرحد
…نہیں
اسے اس بدلی ہوئی کیفیت میں دیکھنے والے تسلیم نہیں کرتے تھے کہ وہ کبھی عیاش بھی ہوا کرتا تھا۔ کردار کی بلندی اور
پختگی اس کو کہتے ہیں کہ اپنے نفس اور نفسانی خواہشات کو مار دیا جائے۔ یہ پختگی صالح الدین ایوبی کے کردار میں
تھی۔ دونوں کی محفلوں میں وہ کہا کرتا تھا… ''مجھے کافروں نے مسلمان بنایا ہے اگر ہم اپنے ان نوجوانوں کو جو مذہب
سے منحرف ہوگئے ہیں ،کافر کی ذہنیت دکھا دیں تو وہ راہ راست پر آجائیں گے۔ دشمن کے ساتھ انہیں پیار کے جو سبق
دئیے جارہے ہیں ،وہ انہیں قومی وقار سے محروم کررہے ہیں۔ میں اپنی قوم کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ
حدیث یاد کرانا چاہتا ہوں کہ ''اپنے آپ کو جان لو کہ تم کون ہو اور کیا ہو اور اپنے دشمن کو اچھی طرح پہچان لو کہ وہ
کون ہے اور کیا ہے اور تمہارے متعلق وہ کیا ارادے رکھتا ہے''… اس کے کردار کا رخ دشمن نے ہی بدال تھا… صالح الدین
ایوبی اپنے مقصد اور عزم میں اس حد تک مگن رہا کہ اس نے کبھی سوچا ہی نہ تھا کہ وہ عالم اسالم کا سب سے بڑا
قائد ہے۔ مصر کا حاکم کل ہے اور فن حرب وضرب کا ایسا استاد کہ صلیبیوں کے کمانڈر متحد ہوکر بھی ،اس سے خائف رہتے
ہیں۔ اس کی مالی حالت یہ تھی کہ وہ حج نہیں کرسکا۔ جہاد نے اسے مہلت نہ دی۔ آخری عمر میں اس کی یہی ایک
خواہش رہ گئی تھی کہ حج پر جائے مگر اب اس کے پاس اتنی رقم نہیں تھی۔ وہ جب فوت ہوا تو اس کی ذاتی متاع
صرف سنتالیس درہم چاندی کے اور ایک ٹکڑا سونے کا تھا۔ اس کی جائیداد صرف ایک مکان تھا جو اس کے باپ دادا کا تھا۔
یہ اس کے کردار کی پختگی کا حیران کن مظاہرہ تھا کہ اس نے جب اپنے ساالروں وغیرہ کو کانفرنس کے لیے بالیا تو اس
کے چہرے پر گھبراہٹ یا پریشانی کا شائبہ تک نہ تھا۔ کانفرنس کے حاضرین پر خاموشی طاری تھی۔ انہیں یہ توقع تھی کہ
سلطان ایوبی گھبرایا ہوا ہوگا مگر اس نے مسکرا کر سب کو دیکھا اور کہا… ''میرے رفیقو! تم نے بڑے ہی دشوار اور پیچیدہ
حاالت میں میرا ساتھ دیا ہے۔ آج ایسے حاالت نے ہمیں للکارا ہے جو بظاہر ہمارے قابو میں آنے والے نہیں لیکن یاد رکھو اگر
ہم نے ان حاالت پر قابو نہ پایا تو ہم سب کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور خدا کے حضور بھی رسوائی۔ دنیا میں
تاریخ ہماری قبروں پر لعنت بھیجے گی اور روز محشر وہ شہید ہمیں شرمسار کریں گے جنہوں نے اسالم کی آبرو پر جانیں
اعلی حکام کو ہر ایک
قربان کی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب جانیں قربان کردیں''… اس تمہید کے بعد اس نے اپنے
ٰ
تفصیل بتائی اور کہا کہ اب انہیں اپنے بھائیوں کے خالف لڑنا پڑے گا۔ اس نے سب کے چہروں کا جائزہ لیا ،کچھ دیر خاموش
رہا۔ سب کے چہروں کے رنگ بدل گئے تھے۔ اسے اطمینان ہوگیا کہ یہ حکام ہر صورتحال میں اس کا ساتھ دیں گے۔ اس نے
کہا… '' میرا پہال اقدام یہ ہے کہ میں اپنی خودمختاری کا اعالن کرتاہوں ،میں اب مرکزی خالفت کا پابند نہیں رہناچا ہتا
لیکن میں یہ اعالن تم سب کی اجازت کے بغیر نہیں کروں گا۔ مجھے اجازت دینے یا نہ دینے سے پہلے ایک دو پہلوئوں پر
غور کرلو۔ ایک یہ کہ خالفت عمال ً ختم ہوچکی ہے ،جیسا کہ میں نے تمہیں بتایا کہ خلیفہ گیارہ سال کا بچہ ہے۔ اس پر
لہذا آپ کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگنی چاہیے کہ
تین چار امراء نے قبضہ کررکھا ہے۔ یہ امراء صلیبیوں کے دوست ہیںٰ ،
خالفت صلیبیوں کی گود میں چلی گئی ہے۔ اب ہماری فکر خالفت کے خالف ہے اگر تم خودمختار اور آزاد نہیں ہوتے تو
تمہیں خلیفہ کے حکم ماننے پڑیں گے اور یہ حکم سلطنت اسالمیہ کے لیے تباہ کن ہوں گے۔ کیا ان حاالت میں یہ اقدام
صحیح نہیں ہوگا کہ میں مصر کو خالفت سے آزاد کردوں اور اس کے بعد تمہارا ہر قدم ایسا آزادانہ ہو جو اسالم کی بقا کے
''لیے ضروری ہو؟
کیا آپ خالفت کے خالف کارروائی کرنا چاہتے ہیں؟'' ایک ساالر نے پوچھا۔''
میں نے ابھی فیصلہ نہیں کیا''۔ سلطان ایوبی نے جواب دیا… ''کل پرسوں تک میرے وہ ایلچی واپس آجائیں گے جنہیں ''
میں نے امراء کی طرف بھیج رکھا ہے۔ اگر مجھے جنگی کارروائی کا فیصلہ کرنا پڑا تو گریز نہیں کروں گا''۔
آپ مصر کو خودمختار مملکت قرار دے دیں''۔ ایک حاکم نے کہا… ''ہم گیارہ سال کے بچے کو خلیفہ تسلیم نہیں ''
کرسکتے''۔
تو کیا تم سب مجھے سلطان مصر تسلیم کروگے؟'' صالح الدین ایوبی نے پوچھا۔''
تمام حاضرین نے بیک زبان کہا کہ وہ اسے سلطان مصر تسلیم کرتے ہیں۔ صالح الدین ایوبی نے اسی وقت خودمختاری کا
اعالن کردیا اور مصر کو آزاد مملکت قرار دے دیا۔ اس اعالن کے ساتھ ہی اسے اسی وقت قانون کے مطابق سلطان کا خطاب
مل گیا۔
میں امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نہیں ،میدان جنگ کا بادشاہ ہوں''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''تم نے ''
دیکھا ہے کہ میں صلیبیوں کے لشکر کے درمیان گھومتا پھرتا رہا ہوں۔ میں نے دس دس جانبازوں سے دس دس ہزار لشکروں
کو تہہ وباال کیا ہے مگر اپنے بھائیوں کے خالف جنگ کی سوچتا ہوں تو تمام جنگی چالیں ذہن سے نکل جاتی ہیں۔ میری
تلوار نیام سے باہر نہیں آتی۔ مجھے اور تم سب کو یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ ہم آپس میں لڑیں اور صلیبی تماشا دیکھیں''۔
یہ تماشہ ہمیں دکھانا ہی پڑے گا ،سلطان محترم!'' ایک ساالر نے کہا… ''اگر اپنے بھائیوں پر الفاظ کا اثر نہ ہو تو تلوار''
استعمال کرنی ہی پڑے گی۔ ہم میں سے کوئی بھی خالفت کی گدی کا خواہشمند نہیں۔ ہم جو کچھ کریں گے اسالم کی
خاطر کریں گے ،ذاتی مفاد کی خاطر نہیں''۔
٭ ٭ ٭
سلطان ایوبی نے اس سے پہلے دو ایلچی دمشق ،حلب ،موصل اور دوتین اور ریاستوں کے امراء کی طرف بھیج رکھے تھے۔ اس
نے سب کو طویل پیغام بھیجا تھا جس میں اس نے سب کو صلیبی خطرے سے آگاہ کیا اور انہیں متحدہ ہونے کی تلقین کی
تھی۔ وہ انہیں اسالمی وحدت کا قائل کرنا چاہتا تھا۔ دونوں ایلچی مایوس واپس آگئے۔ کسی ایک بھی امیر نے اس کے پیغام
کو قبول نہیں کیا تھا بلکہ بعض نے مذاق اڑایا تھا۔ ایلچیوں نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ وہ سب سے پہلے خلیفہ کے دربار
میں گئے۔ پیغام پیش کیا تو خلیفہ نے خود پڑھنے کے بجائے ان امراء کے حوالے کردیا جن کے ہاتھوں میں وہ کٹھ پتلی بنا
ہوا تھا۔ انہوں نے ہی اسے خالفت کی گدی پر بٹھایا تھا۔ ان امراء نے سلطان ایوبی کا پیغام پڑھا۔ آپس میں کھسر پھسر کی
اور ایک نے خلیفہ سے کہا کہ صالح الدین ایوبی صلیبیوں کے خالف جنگ کا بہانہ کرکے تمام مسلمان ریاستوں کو ایک
ریاست بنانے کی سوچ رہا ہے۔ اس کے بعد وہ اس ریاست کا حکمران بنے گا۔ دوسرا امیر بول پڑا۔ اس نے بھی گیارہ سال
کی عمر کے خلیفہ کو سلطان ایوبی کے خالف بھڑکایا اور کہا… ''آپ اسے حکم دے سکتے ہیں کہ جنگ کرنے یا نہ کرنے
کا فیصلہ صرف خلیفہ کرسکتا ہے۔ اگرصالح الدین ایوبی خلیفہ کی حکم عدولی کرے تو آپ اسے معزول کرکے واپس بال سکتے
ہیں۔ مصر کی امارت کسی اور کے حوالے کی جاسکتی ہے''۔
کمسن خلیفہ نے ایلچیوں کو یہی حکم دیا اور کہا… ''صالح الدین ایوبی سے کہنا کہ وہ ہمارے حکم کا انتظار کرے۔ یہ فیصلہ
ہم کریں گے کہ اسالمی وحدت کی ضرورت ہے یا نہیں''۔
صالح الدین ایوبی کے پاس فوج ہے ،اس میں زنگی مرحوم کے بھیجے ہوئے بہت سے دستے ہیں''۔ ایک امیر نے خلیفہ ''
سے کہا… ''اسے حکم بھیجا جائے کہ وہ دستے واپس بھیج دے۔ اسے اپنی مرضی سے فوج کے استعمال کی اجازت نہیں
ملنی چاہیے''۔
اسے کہنا کہ وہ دستے ،سوار اور پیادہ ،جو اسے خالفت کی طرف سے دئیے گئے تھے ،وہ واپس کردے''۔ خلیفہ نے کہا… ''
''اور تم لوگ اب جاسکتے ہو''۔
اور ایوبی سے کہنا کہ آئندہ خلیفہ کو اس قسم کے پیغام بھیجنے کی جرأت نہ کرے''۔ ایک اور امیر نے کہا۔''
ایلچیوں نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ وہ دوسرے امراء کے پاس گئے۔ سب نے پیغام کا مذاق اڑایا ،بعض نے سلطان ایوبی کے
خالف توہین آمیز الفاظ بھی کہے۔ ایلچی واپس آگئے۔ سلطان ایوبی کے چہرے پر کوئی تبدیلی نہ آئی جیسے اسے ایسے ہی
جواب کی توقع تھی۔ اسے دراصل علی بن سفیان کا انتظار تھا جسے اس نے خفیہ دمشق بھیج رکھا تھا۔ فوجی جاسوسی اور
سراغ رسانی کا یہ ماہر اپنے ساتھ کم وبیش ایک سو لڑاکا جاسوس لے کر دمشق گیا تھا۔ یہ لوگ تاجروں کے قافلے کی
صورت میں تاجروں کے بھیس میں گئے تھے۔ سلطان ایوبی کو ان کی بھی کوئی اطالع نہیں ملی تھی۔ نورالدین زنگی کی
وفات کی اطالع کے فورا ً بعد سلطان ایوبی کو یہ اطالع ملی کہ امیروں نے خودمختاری کا اعالن کردیا ہے۔ یہ اطالع بھیجنے
واال کوئی معمولی سا انسان نہیں تھا ،بلکہ نورالدین زنگی کی بیوی تھی جو نئے خلیفہ کی ماں تھی۔ اس نے خفیہ طور پر
اپنا ایک قاصد قاہرہ کی طرف دوڑا دیا تھا۔ اس نے سلطان ایوبی کو وہی حاالت بتائے جو زنگی کی وفات کے بعد وہاں پیدا
ہوگئے تھے۔
اس نے سلطان ایوبی کو کہال بھیجا تھا… ''اسالم کی آبرو آپ کے ہاتھ میں ہے۔ میرے کمسن بیٹے کو خلیفہ بنا دیا گیا ہے۔
لوگ میرااحترام کرنے لگے ہیں کیونکہ میں خلیفہ کی ماں ہوں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میں خوش قسمت ماں ہوں مگر میرا دل
خون کے آنسو رو رہا ہے۔ میرے بیٹے کو خلیفہ نہیں بنایا گیا بلکہ مجھ سے میرا بیٹا چھین لیا گیا ہے۔ سیف الدین امیر
موصل نے اور دوسرے تمام امیروں نے میرے بیٹے کے گرد گھیرا ڈال لیا ہے۔ میرے خاوند کے بھتیجوں نے بھی خودمختاری
کااعالن کردیا ہے۔ اگر آپ کہیں تو میں اپنے ہاتھوں اپنے بیٹے کو قتل کردوں لیکن اس کے نتائج سے ڈرتی ہوں ،آپ آجائیں۔
یہ آپ بہتر سمجھتے ہیں کہ آپ کس طرح آئیں گے اور کیا کریں گے۔ میں آپ کو خبردار کرنا چاہتی ہوں کہ آپ نے اس
طرف توجہ نہ دی یا وقت ضائع کیا تو قبلۂ اول پر تو صلیبی قابض ہیں ہی ،خانہ کعبہ پر بھی ان کا قبضہ ہوجائے گا۔ کیا
ان الکھوں شہیدوں کا خون رائیگاں جائے گا جنہوں نے زنگی کی اور آپ کی قیادت میں جانیں قربانی کی ہیں؟ آپ مجھ سے
پوچھیں گے کہ میں اپنے بیٹے کو اپنے زیراثر کیوں نہیں رکھتی؟ میں اس کا جواب دے چکی ہوں۔ امراء نے میرا بیٹا مجھ
سے چھین لیا ہے۔ اپنے باپ کی وفات کے بعد وہ صرف ایک بار میرے پاس آیا تھا۔ وہ میرا بیٹالگتا ہی نہیں تھا۔اسے شاید
حشیش پالئی گئی تھی۔ وہ بھول چکا ہے کہ میں اس کی ماں ہوں… بھائی صالح الدین ایوبی! جلدی آئو۔ دمشق کے لوگ
''آپ کا استقبال کریں گے۔ مجھے اسی قاصد کی زبانی جواب دیں کہ آپ کیا کریں گے یا کچھ بھی نہیں کریں گے؟
سلطان ایوبی نے قاصد کو اسی وقت بھیج دیا تھا۔ اس نے زنگی کی بیوہ کو یقین دالیا تھا کہ وہ بڑا سنگین اقدام کرے گا
لیکن سوچ سمجھ کر قدم اٹھائے گا۔ قاصد کو واپس بھیجنے کے فورا ً بعد سلطان ایوبی علی بن سفیان کو دمشق ،موصل،
حلب ،یمن اور تمام تر اسالمی عالقوں میں جاکر وہاں کا جائزہ لینے کے لیے کہا۔ یہ کوئی سرکاری نوعیت کا دورہ نہیں تھا۔
علی بن سفیان کو جاسوسوں کے انداز سے بہروپ میں وہاں جانا تھا۔ اس کا کام یہ تھا کہ معلوم کرے کہ مسلمان امراء جو
خودمختاری کا اعالن کرچکے ہیں ،کیا ارادے رکھتے ہیں۔ صلیبیوں کے ساتھ ان کا رابطہ ہے یا نہیں۔ خلیفہ کی فوج کا رجحان
کیا ہے۔ کیا اس فوج کو خلیفہ کے ایسے احکام کی خالف ورزی کے لیے تیار کیا جاسکتا ہے جو اسالم کے لیے نقصان دہ اور
دشمن کے لیے سود مند ہوں؟ اور علی بن سفیان کو یہ بھی معلوم کرنا تھا کہ ان عالقوں کے عوام کے جذبات اور نظریات
کیا ہیں اور کیا فدائی بھی خلیفہ کے ساتھ مل گئے ہیں؟ یہ جائزہ بھی لینا تھا کہ سلطان ایوبی دمشق یا کسی اور مسلمان
عالقے پر فوج کشی کرے تو وہاں کے عوام کا ردعمل کیا ہوگا۔
سلطان ایوبی کی کامیابی کا راز یہی تھا کہ وہ اندھیرے میں نہیں چلتا تھا۔ اسے جہاں جانا ہوتا ،اپنے جاسوسی کے نظام کے
ذریعے وہاں کے احوال وکوائف ،دشواریوں اور خطروں کا جائزہ لے لیتا تھا۔ جیسا کہ پہلی کہانیوں میں بتایا جاچکا ہے کہ اس
کا جاسوسی کا نظام بہت تیز اور ہوشیار تھا۔ اس کے جاسوس جہاں اداکاری اور بہروپ دھارنے کی مہارت رکھتے تھے ،وہاں وہ
ماہر چھاپہ مار ( گوریلے اور کمانڈو) بھی تھے۔ اسی لیے انہیں لڑاکا جاسوس کہا جاتا تھا۔ وہ بغیر ہتھیاروں کی لڑائی کے بھی
ماہر تھے۔ علی بن سفیان کو خدا نے جاسوسی اور سراغ رسانی کا وصف پیدائش کے ساتھ ہی عطا کیا تھا۔ اب زنگی کی
وفات کے بعد اسالمی ممالک کے حاالت مخدوش ہوگئے اور صلیبی خطرہ سر پر آگیا تو اسے سلطان ایوبی کے اس حکم کو
سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئی کہ ان بدلے ہوئے حاالت کا جائزہ لینا ہے اور یہ جائزہ کس طرح لینا ہے۔ اسے معلوم
تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی اس کی الئی ہوئی رپورٹ کے مطابق کوئی کارروائی کرے گا اور یہ کارروائی بقائے اسالم کے
لیے بے حد ضروری ہوگی۔
٭ ٭ ٭
یہاں ہم کہانی کو کچھ دن پیچھے لے جاتے ہیں۔ جب علی بن سفیان قاہرہ سے روانہ ہوا تھا ،اس نے ایک لمحہ بھی ضائع
کیے بغیر اپنے لڑاکا جاسوسوں میں سے کم وبیش ایک سو افراد کو منتخب کیا۔ انہیں مشن بتایا اور کہا کہ اسالم کی آبرو ان
سے بہت بڑی قربانی مانگ رہی ہے اور اس مشن میں انہیں اپنی مہارت کا پورا پورا استعمال کرنا ہے۔ ان ایک سو آدمیوں
کو تاجروں کا لباس پہنایا گیا۔ علی بن سفیان مصنوعی داڑھی کے ساتھ قافلے کا سردار بنا۔ انہوں نے اونٹوں پر مختلف اقسام
کا سامان الد لیا جو انہیں دمشق وغیرہ کی منڈیوں میں بیچنا اور اس کے بدلے وہاں سے سامان النا تھا۔ ان کے ساتھ بہت
سے اونٹ اور چند ایک گھوڑے تھے۔ تجارتی سامان میں اس پارٹی نے تلواروں اور برچھیوں جیسے ہتھیار چھپا رکھے تھے۔
اس میں آتش گیر مادہ بھی تھا اور آگ لگانے کا دیگر سامان بھی۔ یہ قافلہ رات کے وقت قاہرہ سے روانہ ہوا اور طلوع سحر
تک بہت دور نکل گیا۔
کچھ دیر آرام کرکے قافلہ پھر روانہ ہو۔ علی بن سفیان بہت جلدی منزل پر پہنچنا چاہتا تھا۔ سورج غروب ہوگیا تو بھی اس
نے قافلے کو نہ روکا۔ رات خاصی گزر چکی تھی جب ایک بڑی موزوں جگہ آگئی ،یہ سرسبز خطرہ تھا اور وہاں اونچی نیچی
چٹانیں بھی تھیں۔ ظاہر ہے کہ وہاں پانی بھی تھا۔ قافلہ آرام اور پانی کے لیے رک گیا۔ یہ لوگ تاجر نہیں فوجی تھے۔ ان
کی ہر حرکت میں ڈسپلن تھا ،احتیاط تھی اور ٹریننگ کے مطابق وہ خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے۔ اونٹ اور گھوڑے بھی
ایسے تربیت یافتہ تھے کہ انسانوں کی طرح خاموش تھے۔ علی بن سفیان نے چٹانوں اور ٹیلوں کے اندر جانے کے بجائے باہر
ہی پڑائو کیا۔ فوجی دستوں کے مطابق دو آدمیوں کو پانی کی تالش کے لیے بھیجا گیا۔ سب نے ہتھیار نکال لیے تھے کیونکہ
ان دنوں سفر میں دو خطرے تھے۔ ایک خطرہ صحرائی ڈاکوئوں کا تھا اور دوسرا صلیبیوں کے چھاپہ مار دستوں کا۔ ان کے یہ
دستے دراصل ڈاکو ہی تھے جو مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹتے پھرتے تھے۔
دو آدمی اس خطے کے اندر چلے گئے ،انہیں یہ بھی دیکھنا تھا کہ یہاں دشمن کے چھاپہ ماروں یا گشتی دستوں نے قیام نہ
کررکھا ہو۔ کچھ دور اندر گئے تو کہیں روشنی کا دھوکہ سا ہوا۔ وہ آگے گئے اور ایک ٹیلے پر چڑھ گئے۔ انہیں بڑی اچھی
جگہ نظر آئی جو میدانی سی تھی ،وہاں پانی بھی تھا۔ ہریالی بھی تھی اور کھجور کے درخت بھی تھے ،وہاں دو مشعلیں جل
رہی تھیں۔ ان کی روشنی میں انہیں چھ سات آدمی اور چار لڑکیاں نظر آئیں۔ بہت خوبصورت لڑکیاں تھیں۔ انہوں نے آگ بھی
جال رکھی تھی جس پر وہ گوشت بھون رہے تھے اور پیالوں میں وہ کچھ پی رہے تھے جو شراب ہی ہوسکتی تھی۔ ذرا پرے
گھوڑے اور تین چار اونٹ بندھے تھے۔ بہت سارا سامان بھی ایک طرف پڑا تھا۔ علی بن سفیان کے دونوں آدمی چھپ کر
قریب چلے گئے۔ رات کے سکوت میں ان لوگوں کی باتیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔ ان کا ہنسی مذاق بتا رہا تھا کہ یہ
لوگ مسلمان نہیں۔ لڑکیاں بے حیائی کی حرکتیں بھی کررہی تھیں۔ ان دونوں آدمیوں نے انہیں نظرانداز نہ کیا۔ واپس آکر علی
بن سفیان کو بتایا۔
علی بن سفیان گیا اور چھپ کر قریب سے دیکھا۔ ان آدمیوں اور لڑکیوں کی زبان کچھ اور تھی جو علی بن سفیان سمجھتا
تھا۔ وہ عیسائی تھے۔ علی بن سفیان سوچ رہا تھا کہ وہ ان لوگوں کے پاس چال جائے اور معلوم کرے کہ وہ کون ہیں اور
کہاں جا رہے ہیں یا ان کی نقل وحرکت دیکھتا رہے۔ اس کے ساتھ ایک سو لڑاکا جاسوس تھے۔ اسے ان چھ سات آدمیوں
اور چار لڑکیوں سے کوئی خطرہ نہیں تھا لیکن وہ انہیں سراغ رساں نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اسے شک ہوگیا تھا کہ یہ
صلیبی جاسوس اور تخریب کار ہیں اور کسی اسالمی مملکت میں جارہے ہیں۔ اگر ایسا ہی تھا تو یہ اس کے مطلب کے لوگ
تھے۔ وہ اور زیادہ قریب ہونے کے لیے ٹیلے کے اوپر اوپر سرکتا ہوا آگے گیا تو ٹھٹھک کر رک گیا۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:05
قسط نمبر۔67
اسالم کی پاسبانی کب تک کرو گے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تو ٹھٹھک کر رک گیا۔ وہاں ٹیلہ ختم ہوجاتا تھا۔ اسے اپنے بالکل نیچے دو آدمی نظر آئے جن کے منہ اور سر سیاہ کپڑوں
میں لپٹے ہوئے تھے۔ وہ ٹیلے کی اوٹ سے ان آدمیوں اور لڑکیوں کو دیکھ رہے تھے۔ وہ بالشک وشبہ صحرائی ڈاکو تھے اور
ان کی نظر لڑکیوں پر تھی۔ یہ دو نقاب پوش پیچھے ہٹ آئے۔ انہوں نے آپس میں جس زبان میں باتیں کیں ،وہ علی بن
سفیان کی مادری زبان تھی۔
ان کے پاس ہتھیار ہیں''… ایک ڈاکو نے کہا۔''
ہاں''… دوسرے نہ کہا…''میں نے دیکھ لیا ہے۔ ان کی تلواریں سیدھی ہیں۔ یہ عیسائی ہیں''۔''
یہ عام قسم کے مسافر معلوم نہیں ہوتے''۔''
انہیں سوجانے دو ،سب کو بال التے ہیں''۔''
ہم آٹھ آدمی انہیں سوتے میں ہی پکڑ سکتے ہیں''۔''
پکڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ آدمیوں کو سوتے میں ختم کردیں گے اور لڑکیوں کو گھوڑوں پر ڈال لیں گے''۔''
وہ دونوں اپنے ساتھیوں کو بالنے کے لیے چل پڑے۔ علی بن سفیان نے چھپ چھپ کر ان کا تعاقب کیا۔ وہ کسی اور راستے
سے باہر نکل گئے۔ وہاں ان کے گھوڑے کھڑے تھے۔ وہ گھوڑوں پر سوار ہوئے اور اندھیرے میں غائب ہوگئے۔ علی بن سفیان
کا قافلہ اسی طرف قیام کیے ہوئے تھے جدھر ڈاکو نہیں گئے تھے۔ علی بن سفیان کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا کہ وہ
ان لوگوں کو خبردار کردے یا انہیں اپنے قافلے میں لے جائے۔ گہری سوچ بچار کے بعد اس نے ایک طریقہ سوچ لیا۔ اپنے
آدمیوں میں واپس آیا۔ بیس بائیس آدمیوں کو برچھیوں سے مسلح کرکے اپنے ساتھ لے گیا۔ انہیں موزوں جگہوں پر تیار کھڑا
کردیا اور اچھی طرح سمجھا دیا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ وہ خود بھی چوکس اورہوشیار رہا اور ادھر ادھر گھومتا رہا۔ اسے معلوم
نہیں تھا کہ ڈاکو کس وقت آئیں گے۔ اس نے دیکھا کہ لڑکیاں اور ان کے ساتھ آدمی سو گئے ہیں۔ صرف ایک آدمی برچھی
ہاتھ میں لیے ٹہلتا رہا۔ اس سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ لوگ تربیت یافتہ ہیں۔ اس آدمی کو انہوں نے سنتری کھڑا کیا تھا۔
مشعلیں جلتی رہیں۔
٭ ٭ ٭
سحر ہوچلی تھی جب ٹیلوں کے اندر گھوڑوں کے چلنے کی آہٹ سنائی دی۔ سب ہوشیار ہوگئے۔ لڑکیوں کا سنتری بدل گیا
تھا۔ اب دوسرا آدمی پہرہ دے رہا تھا۔ ڈاکو ٹیلوں کے درمیان تھے اور علی بن سفیان اور اس کے آدمی ٹیلوں کے اوپر تھوڑی
دیر بعد آٹھ نو ڈاکو اس جگہ داخل ہوئے جہاں ان کا شکار سویا ہوا تھا۔ سنتری گھبرا گیا۔ اس نے جلدی سے اپنے ساتھیوں
کو جگایا۔ ڈاکوئوں نے ان کے گرد گھیرا ڈال لیا اور گھوڑوں سے کود آئے۔ لڑکیوں کے ساتھ آدمی جاگ اٹھے مگر ڈاکوئوں نے
انہیں ہتھیار اٹھانے کی مہلت نہ دی۔ ایک نے للکار کر کہا… ''اپنا سامان اور لڑکیاں ہمارے حوالے کردو اور اپنی جانیں
بچائو''… اس نے لڑکیوں سے کہا… ''تم اس طرف آجائو ،ماری جائو گی''… دو ڈاکوئوں نے انہیں دھکیل کر ایک طرف
کردیا۔ ان کے آدمی نہتے تھے۔ پھر بھی دو نے مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ وہ واقعی تربیت یافتہ تھے۔ بے جگری سے لڑے۔
علی بن سفیان کی آواز پر جو اس نے پہلے مقرر کررکھی تھی ،اس کے آدمی عقابوں کی طرح ٹیلوں سے اترے اور ڈاکو ابھی
سمجھ ہی نہ پائے تھے کہ یہ کون لوگ ہیں ،ایک ایک برچھی ایک ایک ڈاکو کے جسم میں داخل ہوچکی تھی۔ اس سے
پہلے ڈاکوئوں کے ہاتھوں لڑکیوں کے ساتھ کے دو آدمی مارے جا چکے تھے ،جس کا علی بن سفیان کو کوئی افسوس نہیں تھا،
وہ غالبا ً یہی چاہتا تھا کہ ان میں سے دو آدمیوں کا خون ہوجائے تاکہ دوسروں پر ،خصوصا ً لڑکیوں پر دہشت طاری ہوجائے۔
علی بن سفیان نے اپنے آدمیوں کو ٹیلوں پر چڑھا دیاا ور ان لوگوں کے پاس بیٹھ گیا۔ لڑکیاں بہت ہی ڈری ہوئی تھیں۔ ان
کے سامنے دو الشیں اپنے ساتھیوں کی اور نو الشیں ڈاکوئوں کی پڑی تھیں۔ علی بن سفیان نے ان کی زبان میں ان آدمیوں
اور لڑکیوں سے باتیں شروع کردیں۔ وہ لوگ اس کے اس قدر ممنون تھے جیسے اس کے مرید بن گئے ہوں۔ اس نے انہیں
موت کے منہ سے نکاالتھا۔ ان سے اس نے پوچھا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جارہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا تو
علی بن سفیان مسکرایا اور بوال… ''اگر تم لوگ مجھ سے یہ سوال پوچھتے تو میں بھی ایسا ہی غلط جواب دیتا۔ میں
تمہاری تعریف کروں گا کہ اتنی خوفزدگی میں بھی تم نے اپنا پردہ نہیں اٹھایا''۔
''تم کہاں سے آئے ہو؟''… ایک نے اس سے پوچھا… ''اور کہاں جارہے ہو؟''
جہاں سے تم آئے ہو''… علی بن سفیان نے جواب دیا… ''اور وہیں جارہا ہوں جہاں تم جارہے ہو۔ہمارے کام مختلف ہیں''،
منزل ایک ہی ہے''۔
انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ،حیران سے ہوئے اور علی بن سفیان کو دیکھنے لگے۔ وہ مسکرا رہا تھا۔ اس نے کہا…
''کیا تم نے دیکھا تھا کہ میں نے کیسی چال سے ان ڈاکوئوں کو ختم کردیا ہے؟ کیا کوئی مسافر یا کوئی قافلہ ایسی چال
''چل سکتا ہے؟ کیا یہ ایک تربیت یافتہ کمانڈر کی استادی نہیں جو میں نے دکھائی ہے؟
''تم مسلمان فوجی بھی ہوسکتے ہو؟''
میں صلیب کا سپاہی ہوں''… علی بن سفیان نے جواب دیا۔''
''کیا تم اپنی صلیب دکھا سکتے ہو؟''
کیا تم اپنی اپنی صلیب مجھے دکھا سکتے ہو؟''… علی بن سفیان نے پوچھاا ور سب کی طرف دیکھ کر کہا… ''تم نہیں''
دکھا سکتے۔ تمہارے پاس صلیبیں نہیں ہیں ،کیونکہ جس کام کے لیے تم جارہے ہو ،اس میں صلیب ساتھ نہیں رکھی جاسکتی۔
میں تم سے تمہارے نام نہیں پوچھوں گا۔ اپنا نام بھی نہیں بتاوں گا۔ اپنا کام بھی نہیں بتاوں گا۔ صرف یہ بتا دینا ضروری
سمجھتا ہوں کہ ہم ایک ہی منزل کے مسافر ہیں اور ہم سے معلوم نہیں کون کون اپنے وطن کو واپس لوٹ سکے گا۔ ہم
ضرور کامیاب ہوں گے۔ خداوند یسوع مسیح نے جس طرح مجھے اور میرے آدمیوں کو تمہاری مدد کے لیے بھیجا ہے ،یہ نشانی
ہے کہ تم صحیح راستے پر ہو اور تم کامیاب ہوگے۔ نورالدین زنگی کی موت اس حقیقت کی نشانی ہے کہ دنیا پر صلیب کی
حکومت ہوگی۔ مسلمانوں کا کون سا امیر رہ گیا ہے جو ہمارے جال میں نہیں آگیا؟ میں تمہیں یہی نصیحت کروں گا کہ ثابت
قدم رہنا''… اس نے لڑکیوں کی طرف دیکھ کر کہا… ''تمہارا کام سب سے زیادہ خطرناک اور نازک ہے۔ خداوند یسوع مسیح
تمہارے قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔ ہم جو مرد ہیں ،وہ اپنی جان دے کر دنیا کی مشکالت سے آزاد ہوجاتے ہیں۔
تمہاری کوئی جان نہیں لیتا۔ تم سے آبرو کی قربانی لی جاتی ہے اور یہی سب سے بڑی قربانی ہے''۔
علی بن سفیان استاد تھا۔ اس کی زبان میں ایسا طلسم تھا کہ وہ سب دم بخود ہوگئے۔ تھوڑی سی دیر میں اس نے ان سے
کہلوالیا کہ وہ صلیبی ہیں اور تخریب کاری کے لیے دمشق اور دیگر عالقوں میں جارہے ہیں۔ وہ بھی تاجروں کے بھیس میں
تھے۔ علی بن سفیان صلیبیوں کے نظام جاسوسی کی خفیہ باتیں اور اصطالحیں جانتا تھا۔ اس وقت تک وہ بے شمار صلیبی
جاسوس پکڑ کر ان سے اقبال جرم کروا چکا تھا۔ اس نے جب ان اصطالحوں میں باتیں کیں تو لڑکیوں اور ان کے ساتھ
آدمیوں کو نہ صرف یہ یقین ہوگیا کہ وہ صلیبی جاسوس ہے بلکہ وہ اسے جاسوسوں کا کمانڈر سمجھنے لگے۔ اس نے انہیں
اعلی
بتایا کہ اس کے ساتھ ایک سو آدمی ہیں۔ا ن میں لڑاکا جاسوس بھی ہیں اور فدائی بھی جو دمشق وغیرہ میں ان
ٰ
افسروں کو قتل کرنے یا غائب کرنے جارہے ہیں جو صالح الدین ایوبی کے مکتب فکر کے پیروکار ہیں۔ اس نے انہیں بتایا کہ
وہ لمبے عرصے سے مصر میں کام کررہا تھا۔ اب اسے ادھر بھیجا جارہا ہے۔
اس گروہ نے علی بن سفیان کے سامنے اپنا پردہ اٹھا دیا ور ایک مشکل پیش کی۔ وہ یہ تھی کہ ان کا کمانڈر ڈاکوئوں کے
ہاتھوں مارا گیا تھا۔ وہ ان عالقوں میں پہلے بھی آچکا تھا ،جہاں وہ جارہے تھے۔ اس کے مارے جانے کے بعد وہ اندھے
ہوگئے تھے۔ انہیں ایک رہنما کی ضرورت تھی۔ علی بن سفیان نے انہیں تسلی دی کہ وہ اپنے مشن سے ہٹ کر ان کی
رہنمائی کرے گا ،وہ اسے اپنا مشن بتا دیں۔ انہوں نے بتادیا۔ انہیں چند ایک ساالروں کے نام بتا کر کہا گیا تھا کہ ان تک
تحفے پہنچانے ہیں اور لڑکیوں کو ضرورت کے مطابق استعمال کرنا ہے۔ ایسے ساالروں اور امیروں تک رسائی حاصل کرنی ہے
جو صلیبیوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ انہیں صلیبیوں کا دوست بنانا ہے۔
اس مرحلے میں آکر میرا اور تمہارا کام ایک ہوجاتا ہے''… علی بن سفیان نے کہا… ''مجھے ان ساالروں اور قائدین کو ''
''ختم کرنا ہے جو دل سے صلیب کی دشمنی نہیں نکال رہے… تم دمشق میں کہاں قیام کرو گے؟
تم دیکھ رہے ہو کہ ہم تاجر بن کر جارہے ہیں''… ایک نے جواب دیا… ''دمشق کے قریب جا کر یہ لڑکیاں باپردہ ''
مسلمان عورتیں بن جائیں گی۔ ہم سرائے میں قیام کریں گے۔ وہاں سے تاجروں کے بھیس میں ساالروں وغیرہ تک جائیں
گے''۔
٭ ٭ ٭
اگلی صبح علی بن سفیان کا قافلہ دمشق کی سمت جارہا تھا۔ یہ صلیبی آدمی اور لڑکیاں بھی اس قافلے میں شامل ہوگئی
تھیں۔ جانوروں میں ڈاکوئوں کے گھوڑوں کا اضافہ ہوگیا تھا۔ صلیبیوں نے علی بن سفیان کو اپنا لیڈر بنا لیا تھا۔ ان کی نظر
میں وہ صلیبی تھا۔ اس نے انہیں کہا تھا کہ وہ اس کے کسی آدمی کے ساتھ بات نہ کریں کیونکہ ان میں مسلمان بھی ہیں
جو بیشک فدائی اور تخریب کار ہیں لیکن ان کا کوئی بھروسہ نہیں۔ راستے میں علی بن سفیان نے ان صلیبیوں کو اپنے
ساتھ رکھا اور ان سے باتیں پوچھتا رہا۔ اسے کام کی بہت سی باتیں معلوم ہوگئیں۔
اگلے روز قافلہ دمشق میں داخل ہوا۔ علی بن سفیان کی ہدایت پر سرائے میں جانے کے بجائے قافلے نے ایک میدان میں
خیمے گاڑ دئیے۔ لوگوں کا ہجوم جمع ہوگیا۔ باہرسے جب تاجروں کے قافلے آتے تھے تو لوگ ان کے گرد جمع ہوجایا کرتے
تھے۔ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ مال دکانوں میں جانے سے پہلے قافلے سے ہی خرید لیا جائے ،وہاں سے کم قیمت پر
اشیاء مل جاتی تھیں۔ علی بن سفیان نے اعالن کیا کہ دس گھوڑے بھی بکائو ہیں۔ اس ہجوم میں دمشق کے تاجر اور دکاندار
بھی تھے۔ دوچار گھنٹوں میں وہاں میلہ لگ گیا۔ علی بن سفیان نے اپنے آدمیوں سے کہہ دیا کہ وہ مال روکے رکھیں اور
جلدی فروخت نہ کریں۔ اتنا زیادہ ہجوم دیکھ کر اس نے اپنے چند ایک ذہین آدمیوں سے کہا کہ وہ لوگوں میں گھل مل
جائیں اور ان کے خیاالت معلوم کریں۔ یہ آدمی اس کام کے ماہر تھے۔ وہ چغے اتار کر ہجوم میں شامل ہوگئے۔ ان میں سے
دو تین شہر میں چلے گئے۔
علی بن سفیان اور اس کے تمام آدمیوں نے مغرب کی نماز مختلف مسجدوں میں تقسیم ہوکر پڑھی۔ صلیبیوں کو وہ خیمہ گاہ
میں چھوڑ گئے تھے۔ مسجدوں میں انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ قاہرہ سے آئے ہیں اور تاجر ہیں۔ لوگوں کے ساتھ گپ شپ
کے انداز میں انہوں نے ان کے خیاالت معلوم کرلیے۔ لوگوں کے خیاالت اور جذبات امید افزا تھے۔ ان میں کچھ بھڑکے ہوئے
بھی تھے۔ وہ نئے خلیفہ اور امراء کے خالف باتیں کرتے تھے اور ان میں اونچی حیثیت کے لوگ بھی تھے جو جانتے تھے
اور سمجھتے تھے کہ دنیائے اسالم کو صلیب للکار رہی ہے اور اپنی خالفت عیاش امراء کے ہاتھ آگئی ہے۔ وہ بہت پریشان
تھے اور کہتے تھے کہ زنگی کے بعد صرف صالح الدین ایوبی ہے جو اسالم کا نام زندہ رکھ سکتا ہے۔
علی بن سفیان نے اپنے آدمیوں کو بتا دیا تھا کہ یہ لڑکیاں اور آدمی صلیبی ہیں اور ان پر یہی ظاہر کرتے رہیں کہ ہم سب
صلیب کے مشن پر آئے ہیں۔ انہیں کوئی شک نہیں ہوا تھا۔ علی بن سفیان نے انہیں بتایا تھا کہ وہ ا ج رات آرام کریں اور
اس کی ہدایت کا انتظار کریں۔ رات کو وہ ایک ساالر توفیق جواد کے گھر چال گیا۔ وہ تاجروں کے بھیس میں تھا اور مصنوعی
داڑھی لگا رکھی تھی۔ اس نے دربان سے کہا کہ اندر اطالع دو کہ قاہرہ سے آپ کا ایک دوست آیا ہے۔ دربان نے اندر اطالع
دی تو علی بن سفیان کو اندر بال لیا گیا۔ توفیق جواد اسے پہچان نہ سکا۔ علی بن سفیان نے بات کی تو توفیق جواد نے
اسے پہچان لیا اور گلے لگا لیا۔ علی بن سفیان کو اس شخص پر بھروسہ تھا۔ اس نے اپنے آنے کا مقصد بتایا اور یہ بھی
بتایا کہ وہ کچھ صلیبی جاسوسوں اور لڑکیوں کو پھانس الیا ہے اور اب یہ سوچنا ہے کہ انہیں کس طرح استعمال کیا جائے۔
اس سے پہلے مجھے یہ بتائو کہ یہاں کے اندرونی اور بیرونی حاالت کیا ہیں؟'' … علی بن سفیان نے اس سے پوچھا… ''
''قاہرہ میں بڑی تشویشناک خبریں پہنچی ہیں''۔
توفیق جواد نے ان تمام خبروں کی تصدیق کی جو قاہرہ پہنچی تھیں۔ اس نے کہا… ''علی بھائی! تم اسے خانہ جنگی کہو
گے لیکن صلیبی خطرے کو روکنے کے لیے صالح الدین ایوبی کو خالفت کے خالف فوج کشی کرنی پڑے گی''۔
اگر ہم قاہرہ سے فوج الئیں تو کیا یہاں کی فوج ہمارا مقابلہ کرے گی؟'' علی بن سفیان نے پوچھا۔''
تم لوگ حملے کے انداز سے نہ آئو''… توفیق جواد نے کہا… ''صالح الدین ایوبی یہ ظاہر کریں کہ وہ خلیفہ سے ملنے ''
آئے ہیں اور خلیفہ کی تعظیم کے لیے فوج کے کچھ دستے ساتھ الئے ہیں اگر امراء کی نیت ٹھیک ہوئی تو وہ استقبال کریں
گے ،دوسری صورت میں ان کا ردعمل سامنے آجائے گا۔ جہاں تک یہاں کی فوج کا تعلق ہے ،میں وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ
فوج تمہارا مقابلہ نہیں کرے گی بلکہ تمہارا ساتھ دے گی مگر یہ بھی ذہن میں رکھو کہ تم جتنا وقت ضائع کرو گے یہ فوج
اتنی تم سے دور ہٹتی جائے گی۔ اس فوج کا وہ جذبہ مارنے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں جو اسالمی فوج کی اصل قوت
ہے۔ تم جانتے ہو علی بھائی! حکمران جو عیش وعشرت کے دلدادہ ہوتے ہیں ،وہ سب سے پہلے دشمن کے ساتھ سمجھوتہ
کرتے ہیں تاکہ جنگ وجدل کا خطرہ ٹل جائے۔ پھر وہ فوج کو کمزور کرتے ہیں اور ایسے ساالروں کو منظور نظر بناتے ہیں جو
،خدائی احکام کے بجائے ان کی خواہشات کے پابند ہوں۔ وہ صالح الدین ایوبی جیسے ساالروں کو پسند نہیں کرتے
اعلی رتبوں کے چند ایک فوجی افسر اپنے جذبے اور ایمان سے دست بردار ہوچکے
یہ عمل یہاں شروع ہوچکا ہے۔ ہمارے
ٰ
ہیں۔ ابھی مجھ جیسے ایسے ساالر بھی ہیں جو صلیبیوں کو کبھی دوست نہیں کہیں گے اور نورالدین زنگی کے جذبہ جہاد کو
''زندہ رکھیں گے مگر وہ اپنے طور پر خالفت کے احکام کے بغیر کیا کرسکتے ہیں؟
کیا میں سلطان ایوبی سے یہ کہہ دوں کہ یہاں کی فوج ہمارا ساتھ دے گی؟''… علی بن سفیان نے پوچھا۔''
ضرور کہہ دو''… توفیق جواد نے جواب دیا… ''البتہ خلیفہ کے محافظ دستے (باڈی گارڈز) اور امراء کے محافظ دستے ''
تمہارے خالف لڑیں گے۔ ان دستوں کی نفری کم نہیں اور ان میں چنے ہوئے سپاہی ہیں۔ جب سے زنگی فوت ہوئے ہیں ،ان
دستوں کی خاطر ومدارت پہلے سے زیادہ ہونے لگی ہے۔ انہیں غالبا ً جنگ کے لیے تیار کیا جارہا ہے''۔
یہاں کے لوگوں میں مجھے جو قومی جذبہ نظر آیا ہے ،اس سے مجھے توقع ہے کہ ہم یہاں آئے تو کامیاب ہوں گے''… ''
علی بن سفیان نے کہا۔
قوم اتنی جلدی بے حس نہیں ہوسکتی''… توفیق جواد نے کہا… ''جس قوم نے اپنے بیٹے شہید کرائے ہوں ،وہ اپنے ''
دشمن کو کبھی نہیں بخشتی اور جس فوج نے دشمن سے دو دو ہاتھ کیے ہوں ،اسے اتنی جلدی سرد نہیں کیا جاسکتا مگر
حکمرانوں کے پاس ایسے ایسے ہتھکنڈے ہوتے ہیں جو قوم اور فوج کو مردہ کردیا کرتے ہیں۔ اب قوم اور فوج میں نفاق پیدا
کیا جارہا ہے۔ قوم کی نظر میں فوج کو گرایا جارہا ہے''۔
میں محترم نورالدین زنگی کی بیوہ سے ملنا چاہتا ہوں''… علی بن سفیان نے کہا… ''وہ خلیفہ کی والدہ بھی ہیں۔ انہوں''
نے سلطان ایوبی کی خدمت میں پیغام بھیجا تھا کہ وہ اسالم کی آبرو کو بچائیں… کیا یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ انہیں یہاں بال
''لیا جائے؟
کل ہی ان سے مالقات ہوئی تھی''… توفیق جواد نے کہا… ''میں انہیں بال سکتا ہوں۔ تمہارا نام سن کر وہ فورا ً آجائیں''
گی''۔
توفیق جواد نے اپنی خادمہ کو بال کر کہا کہ خلیفہ کی والدہ کے ہاں جاو ،میرا سالم کہنا ور ان کے کان میں کہنا کہ قاہرہ
سے کوئی آیا ہے۔
٭ ٭ ٭
جب علی بن سفیان توفیق جواد کے پاس بیٹھا تھا ،اس وقت اس کی خیمہ گاہ میں رونق تھی۔ رات خاصی گزر گئی تھی۔
خریداروں کا ہجوم بہت دیر ہوئی جاچکا تھا۔ علی بن سفیان کے ایک سو آدمیوں نے لمبا سفر طے کیا تھا۔ وہ بازار سے
دنبے اور بکرے لے آئے تھے ،جنہیں ذبح کرکے وہ کھا رہے تھے اور ہنسی مذاق میں مصروف تھے۔ لڑکیاں ایک خیمے میں
تھی۔ صلیبی مرد علی بن سفیان کے آدمیوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ انہوں نے شراب نکال لی ،تاکہ محفل کی رونق دوباال
ہوجائے۔ انہوں نے سب کو شراب پیش کی تو سب نے انکار کردیا۔ صلیبی حیران ہوئے۔ علی بن سفیان نے انہیں بتایا تھا کہ
ان میں مسلمان بھی ہیں اور عیسائی بھی جو مسلمان تھے ،ان کے متعلق بتایا گیا تھا کہ فدائی ہیں ،یعنی وہ برائے نام
مسلمان ہیں۔ اصل میں وہ حسن بن صباح کے فرقے کے تھے جو شراب کو حرام نہیں سمجھتے تھے۔ صلیبیوں کو کچھ شک
ہوا۔ وہ آخر تربیت یافتہ جاسوس تھے۔ انہوں نے دو چار اور ایسی نشانیاں دیکھ لیں جن سے ان کا شک پختہ ہوگیا۔ وہ ایک
ایک کرکے وہاں سے اس طرح اٹھنے لگے جیسے خیمے میں سونے جارہے ہوں۔
انہوں نے لڑکیوں سے کہا کہ وہ اپنے فن کا مظاہرہ کریں اور دیکھیں کہ یہ کون لوگ ہیں۔ ایک لڑکی نے یہ کام اپنے ذمے
لے لیا۔ وہ یہ کہہ کر باہر نکلی کہ یہ خیمہ خالی کردو۔ وہ کچھ دیر ادھر ادھر گھومتی پھرتی رہی۔ بہت دیر بعد علی بن
سفیان کا ایک آدمی اٹھ کر اس کی طرف آیا۔ وہ معلوم نہیں کیوں اٹھا تھا۔ لڑکی نے اسے روک لیا اور کہا کہ خیمے میں
بیٹھے بیٹھے اس کا دل گھبرا رہا تھا۔ اس لیے باہر نکل آئی۔ وہ مردوں کو انگلیوں پر نچانا جانتی تھی۔ اس آدمی کو اس
نے ایسی باتوں میں جکڑ لیا کہ وہ بھول ہی گیا کہ وہ کس طرف جارہا تھا۔ لڑکی نے کہا… ''یہ آدمی جو ہمارے ساتھ ہیں،
بہت برے آدمی ہیں ،ہم تمہاری طرح یہاں کسی اورکام سے آئی ہیں لیکن یہ ہمیں بہت پریشان کرتے ہیں۔ کیا ایسے ہوسکتا
ہے کہ میرے خیمے میں آکر سوئو؟ میں ان سے بچی رہوں گی''… اور اس نے ایسی اداکاری کی کہ یہ آدمی موم ہوگیا اور
اس کے ساتھ اس کے خیمے میں چال گیا۔
خیمے میں چھوٹی قندیل جل رہی تھی۔ لڑکی نے روشنی میں اس آدمی کو دیکھا تو بڑی ہی پرکشش اور جذباتی مسکراہٹ
سے کہا… ''اوہ! تم تو بہت خوبصورت آدمی ہو۔ تم میری حفاظت کرسکو گے''۔ اس نے شراب کی چھوٹی سی صراحی اٹھا
''کر کہا…''تھوڑی سی پیوو گے؟
''!نہیں''
''کیوں؟''
میں مسلمان ہوں''۔''
''اگر اتنے پکے مسلمان ہو تو صلیب کے لیے مسلمانوں کے خالف جاسوسی کرنے کیوں آئے ہو؟''
وہ آدمی چونکا۔ اس نے کہا… ''اس کی مجھے اجرت ملتی ہے''۔
لڑکی جتنی خوبصورت تھی ،اس سے کہیں زیادہ چاالک تھی۔ اپنے یہ دونوں ہتھیار استعمال کرکے اس نے علی بن سفیان کے
اس آدمی کے دل ودماغ پر قبضہ کرلیا۔ اس نے کہا… ''شراب نہ پیو ،شربت پی لو''۔ وہ دوسرے خیمے میں چلی گئی اور
ایک پیالہ اٹھا الئی۔ اس آدمی نے پیالہ ہاتھ میں لے کر منہ سے لگایا تو مسکرا کر پیالہ رکھ دیا۔ لڑکی سے پوچھا… ''اس
''میں کتنی حشیش ڈالی ہے؟
لڑکی کو دھچکہ سا لگا لیکن سنبھل گئی اور بولی… ''زیادہ نہیں۔ اتنی سی ڈالی ہے جتنی تمہیں ذرا سی دیر کے لیے بے
خود کردے''۔
''کیوں؟''
کیونکہ میں تم پر قبضہ کرنا چاہتی ہوں''… اس نے سنجیدگی سے کہا… ''اگر تمہیں میری باتیں بری لگیں تو اپنا خنجر ''
میرے دل میں اتار دینا۔ میں تمہیں اتفاقیہ نہیں ملی تھی۔ میں نے تمہیں اٹھتے اور ادھر آتے دیکھ لیا تھا۔ میں تمہارے
راستے میں کھڑی ہوگئی تھی۔ سفر کے دوران میں تمہیں بڑی غور سے دیکھتی رہی تھی۔ ایسے لگتا تھا جیسے ہم کبھی
اکٹھے رہے ہیں اور ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ تم میرے دل میں اتر گئے ہو۔ تم نے دیکھا ہے کہ میں نے تمہیں شراب
پیش کی تھی ،خود نہیں پی تھی۔ میں شراب نہیں پیتی کیونکہ میں مسلمان ہوں۔ یہ لوگ مجھے زبردستی پالتے ہیں''۔
''وہ چونک کر بوال… ''تم ان کافروں کے ساتھ کیسے آگئیں؟
بارہ سال سے ان کے ساتھ ہوں''… لڑکی نے جواب دیا۔ ''میں یروشلم کی رہنے والی ہوں۔ اس وقت میری عمرہ بارہ ''
سال تھی۔ جب مجھے باپ نے فروخت کیا تھا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرے خریدار عیسائی ہیں۔ انہوں نے مجھے اس
کام کی ٹریننگ دی جس کے لیے میں آئی ہوں۔ میں دمشق اور بغداد کا نام سنا کرتی تھی اور یہ نام مجھے اچھے لگتے
تھے۔ اس سرزمین پر قدم رکھا ہے تو اس کی ہوائوں نے میرے اندر میرا مذہب بیدار کردیا ہے۔ میں مسلمان ہوں۔ مسلمانوں
کی تباہی کے لیے میں کوئی کام نہیں کرسکوں گی''… اس نے جذباتی لہجے میں کہا… ''میرا دل رو رہا ہے ،میری روح رو
رہی ہے''… اس نے اس آدمی کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھ لیے اور کہا… ''تم بھی مسلمان ہو ،آئو بھاگ
چلیں۔ مجھے جہاں لے جاو گے ،چلوں گی۔ ریگستان میں لیے پھرو گے تو خوشی سے تمہارے ساتھ رہوں گی۔ تم بھی اپنی
قوم کو دھوکہ دینے سے باز آجاو۔ ہمارے پاس سونے کے بہت سے سکے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہاں پڑے ہیں۔ آسانی سے
چراالئوں گی''۔
علی بن سفیان کا یہ آدمی تھا تو عقل مند لیکن لڑکی کے جھانسے میں آگیا۔ اسے اپنی ڈیوٹی یاد آگئی تھی۔ اسی لیے اس
نے حشیش نہیں پی تھی۔ وہ حشیش کی بو سے واقف تھا۔ اس نے لڑکی سے پوچھا کہ وہ اور اس کی پارٹی یہاں کیا کرنے
آئی ہے۔ لڑکی نے بتادیا۔ اس آدمی نے کہا… ''میں تمہیں یقین دالتا ہوں کہ تم یہاں مسلمانوں کو دھوکہ نہیں دے سکو گی۔
اگر تم سچے دل سے اس کام سے متنفر ہوگئی ہو تو تم خوش قسمت ہو کہ تم ہمارے دھوکے میں آگئی ہو۔ اب تم ہمارے
ساتھ رہو گی۔ ہم میں سے کوئی بھی صلیب کا جاسوس نہیں۔ہم سب مصر کی فوج کے لڑاکا جاسوس ہیں''… لڑکی جوش
مسرت سے اس کے ساتھ لپٹ گئی۔ اس آدمی نے کہا… ''میں اپنے کمانڈر سے کہوں گا کہ تمہیں دوسری لڑکیوں سے الگ
رکھے اور کسی امیر وغیرہ کے حوالے نہ کرے''۔
لڑکی بیتابی سے اس کے ہاتھ چومنے لگی۔ اس کا فریب کامیاب ہوگیا۔ علی بن سفیان کا اتنا ہوشیار جاسوس ایک لڑکی کے
فریب کا شکار ہوگیا۔
ذرا ٹھہرو''… لڑکی نے کہا… ''میں دیکھ آئوں کہ میرے ساتھی سو گئے ہیں یا نہیں''… وہ خیمے سے نکل گئی۔''
٭ ٭ ٭
علی بن سفیان ساالر توفیق جواد کے گھر بیٹھا نورالدین زنگی کی بیوہ کا انتظار کررہا تھا۔ اسالم کے عظیم مجاہد کی بیوہ نے
قاصد کے ذریعے صالح الدین ایوبی تک اپنے جذبات پہنچا دیئے تھے پھر بھی اس سے ملنا ضروری تھا۔ بہت سی معلومات
لینی اور اقدام طے کرنے تھے۔ کچھ دیر بعد یہ پرعظمت عورت آگئی۔ وہ سیاہ اوڑھنی میں تھی۔ علی بن سفیان کو پہچان
نہ سکی کیونکہ وہ مصنوعی داڑھی میں تھا۔ جب پہچان لیا تو اس کے آنسو بہنے لگے۔ کہنے لگی… ''یہ وقت بھی ہماری
قسمت میں لکھا تھا کہ ہم ایک دوسرے کو یوں چھپ کر اور بہروپ دھار کر ملیں گے۔ تم یہاں سراونچا کرکے آیا کرتے تھے۔
اب اس حال میں آئے ہو کہ کوئی تمہیں پہچان نہ لے اور میں گھر سے اس احتیاط سے نکلی ہوں کہ کوئی میرے پیچھے یہ
دیکھنے کے لیے نہ آئے کہ میں کہاں جارہی ہوں''۔
علی بن سفیان کے آنسو بہہ رہے تھے۔ جذبات کا ایسا غلبہ ہوا کہ وہ بہت دیر بول ہی نہ سکا۔ زنگی کی بیوہ نے کہا…
''علی بن سفیان! میں نے یہ لباس اپنے خاوند کے ماتم کے لیے نہیں پہنا ،میں اس غیرت کے ماتم میں ہوں جو میری قوم
کا زیور ہے۔ ان چھوٹے چھوٹے حکمرانوں نے میرے بیٹے کو آلۂ کار بنا کر قومی غیرت صلیبیوں کے قدموں میں ڈال دی ہے۔
تمہیں شاید معلوم نہ ہو ،کل خلیفہ کے حکم سے اس صلیبی بادشاہ کو جسے میرے خاوند نے جنگی قیدی بنایا تھا ،رہا کردیا
گیا ہے۔ یہ رینالڈ تھا جسے چند ہی مہینے پہلے نورالدین زنگی نے بے شمار صلیبی سپاہیوں کے ساتھ ایک لڑائی میں پکڑا
تھا۔ اسے اور دوسرے قیدیوں کو زنگی کرک سے یہاں لے آئے تھے۔ زنگی بہت خوش تھے۔ کہتے تھے کہ میں صلیبیوں کے
اعلی کمان دار
ساتھ ایسی سودا بازی کرکے اس صلیبی حکمران کو چھوڑ دوں گا جو ان کی کمر توڑ دے گی۔ ایک بادشاہ اور
ٰ
کی گرفتاری معمولی سی بات نہیں ہوتی۔ ہم اس کے بدلے صلیبیوں سے اپنی شرائط منوا سکتے تھے مگر کل میرا بیٹا میرے
پاس آیا اور بڑی خوشی سے کہا۔
ماں! میں نے صلیبی حکمران کو اور اس کے ساتھ تمام صلیبی قیدیوں کو رہا کردیا ہے''… میرے دل پر ایسی چوٹ پڑی ''
کہ میں بہت دیر اپنے آپ سے باہر رہی۔ بیٹے سے پوچھا کہ ان جنگی قیدیوں کے عوض تم نے اپنے جنگی قیدی رہا کرا
لیے ہیں؟ بیٹے نے بچوں کا سا جوا دیا۔ کہنے لگا کہ ہم ان قیدیوں کو لے کے کیا کریں گے۔ ہم آئندہ کسی سے لڑائی نہیں
کریں گے''۔
میں نے بیٹے سے کہا کہ تم آئندہ اپنے باپ کی قبر پر نہ جانا۔ تم جب مرو گے تو میں تمہیں اس قبرستان میں دفن ''
نہیں کروں گی جس میں تمہارا باپ دفن ہے۔ اس قبرستان میں وہ شہید بھی دفن ہیں جو صلیبیوں کے ہاتھوں شہید ہوئے
تھے۔ تمہیں وہاں دفن کرکے میں ان کی توہین نہیں کرنا چاہتی… لیکن میرا بیٹا بچہ ہے۔ وہ کچھ نہیں سمجھتا۔ صلیبیوں نے
اپنے حکمران اور جنگی قیدیوں کو رہا کراکے اسالم کے منہ پر تھپڑ مارا ہے۔ میں حیران ہوں کہ سلطان صالح الدین ایوبی
قاہرہ میں بیٹھا ہوا کیا کررہا ہے۔ وہ کیوں نہیں آتا؟ علی بن سفیان! صالح الدین ایوبی کیا سوچ رہا ہے؟ اسے کہنا تمہاری
ایک بہن تمہاری غیرت کا ماتم کررہی ہے۔ اسے کہنا کہ وہ سیاہ لباس اس روز اتارے گی جس روز تم دمشق میں داخل ہوکر
مجھے دکھا دو گے کہ تم نے ملت اسالمیہ کی آبرو ان عیاش اور ایمان فروشوں سے چھین لی اور اسے بچا لیا ہے ورنہ میں
اسی لباس میں مرجائوں گی اور وصیت کرجائوں گی کہ مجھے اسی لباس میں دفن کیا جائے۔ کفن نہ پہنایا جائے۔ میں روز
قیامت اپنے خاوند اور خدا کے سامنے سفیدکفن میں نہیں جانا چاہتی''۔
میں ان جذبات کو اچھی طرح سمجھتا ہوں''… علی بن سفیان نے کہا… ''آئیے ،حقیقت کی بات کریں۔ سلطان ایوبی آپ''
کی ہی طرح بیتاب اور بے چین ہیں۔ آپ جانتی ہیں کہ ہمیں کوئی کارروائی جذبات اور اشتعال کے زیراثر نہیں کرنی چاہیے۔
یہاں کے حاالت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ہم اس کوشش میں ہیں کہ خانہ جنگی نہ ہو۔ اس کی ایک ہی صورت ہے ،وہ یہ
کہ قوم ہمارا ساتھ دے۔ فوج کے متعلق توفیق جواد مجھے یقین دال چکے ہیں کہ ہماری فوج کے خالف نہیں لڑے گی۔ البتہ
محافظ دستے مقابلہ کریں گے''۔
قوم آپ کے ساتھ ہے''… زنگی کی بیوہ نے کہا… ''میں عورت ہوں ،میدان جنگ میں نہیں جاسکی۔ میں ایک اورمحاذ ''
پر لڑتی رہی ہوں۔ میں نے قوم کی عورتوں میں ملی جذبہ اس حد تک پیدا کررکھا ہے کہ آپ کسی بھی وقت انہیں میدان
جنگ میں لے جاسکتے ہیں۔ میرے انتظامات کے تحت یہاں کی تمام نوجوان لڑکیاں تیغ زنی اور تیز اندازی کی مہارت رکھتی
ہیں۔ عورتوں نے اپنے بچوں ،بھائیوں ،باپوں اور خاوندوں کو شعلے بنا رکھا ہے۔ میں نے جن عورتوں کے ہاتھوں انہیں تربیت
دی ہے ،وہ میرے ہاتھ میں ہیں۔ اگر نوبت خانہ جنگی تک آگئی تو ہر گھر کی عورتیں خلیفہ کی فوج کے خالف مورچہ بنا
لیں گی۔ اگر صالح الدین ایوبی فوج لے کے آئے تو میرا خلیفہ بیٹا اور اس کے حاشیہ بردار اپنے آپ کو تنہا پائیں گے۔ تم
جائو علی بھائی! فوج الئو۔ یہاں کے حاالت مجھ پر چھوڑو۔ قوم کی طرف سے تم پر ایک بھی تیر نہیں چلے گا۔ اگر تم
ضرورت سمجھو کہ میرے بیٹے کو قتل کردیا جائے تو بھول جانا کہ وہ نورالدین زنگی کا اور میرا بیٹا ہے۔ میں اپنے بیٹے کے
جسم کے ٹکڑے کرالوں گی ،سلطنت اسالمیہ کے ٹکڑے ٹکڑے ہوتے نہیں دیکھ سکوں گی''۔
توفیق جواد نے بھی علی بن سفیان کو یقین دالیا کہ خانہ جنگی نہیں ہوگی۔ اس کے بعد انہوں نے سکیم بنائی کہ سلطان
ایوبی کس طرح آئے گا اور یہاں کیا ہوگا۔ یہ طے ہوا کہ سلطان ایوبی خاموشی سے آئے گا اور خلیفہ اور اس کے حاشہ
برداروں کو بے خبری میں آن لے گا۔
وہ صلیبی لڑکی جس نے علی بن سفیان کے ایک آدمی سے معلوم کرلیا تھا کہ یہ ایک سو آدمی صلیب کے آدمی نہیں ،اسے
خیمے میں اکیال چھوڑ کر اور اسے یہ کہہ کر چلی گئی کہ وہ دیکھنے جارہی ہے کہ اس کے ساتھ سو گئے ہیں یا نہیں۔ اس
نے اپنے ساتھیوں کو یہ بتایا کہ وہ دھوکے میں آگئے ہیں۔ یہ سب مصری فوج کے لڑاکا جاسوس ہیں اور ان کا کمانڈر علی
بن سفیان ہے جو سراغ رسانی اور جاسوسی کا ماہر سربراہ ہے۔ اس انکشاف نے ان صلیبیوں کو چونکا دیا اور وہ سوچنے
لگے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ ان کے لیے وہاں رکنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ لڑکی اس مصری جاسوس کے پاس چلی گئی
تاکہ اسے پھانسے رکھے۔ ایک صلیبی باہر نکال اور علی بن سفیان کو ڈھونڈنے لگا مگر وہ اسے نہ مال۔ اس وقت علی بن
سفیان توفیق جواد کے گھر بیٹھا ہوا تھا۔ یہ صلیبی یہی معلوم کرنا چاہتا تھا کہ علی بن سفیان یہاں ہے یا کہیں گیا ہوا ہے۔
اسے غیر حاضر دیکھ کر صلیبی نے خطرہ محسوس کیا کہ علی بن سفیان ان کی گرفتاری کا انتظام کرنے گیا ہے۔ اس نے
اپنے ساتھیوں کوجاکر بتایا کہ وہاں سے فورا ً نکلنے کی ترکیب کریں۔ رات آدھی گزر گئی تھی۔ یہ لوگ شہر سے ناواقف تھے۔
دن کے وقت وہ اپنی منزل ڈھونڈ سکتے تھے۔ رات کو لڑکیوں کو ساتھ ساتھ لیے پھرنا مناسب نہیں تھا۔
ایک نے مشورہ دیا کہ سرائے میں چلتے ہیں۔ وہاں جاکر کہیں گے کہ ہم قاہرہ کے تاجر ہیں ،باہر کھلے میدان میں سو نہیں
سکتے۔ اس لیے سرائے میں رات گزارنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایک آدمی کو چوری چھپے اس کام کے لیے بھیج دیا کہ سرائے
تالش کرے اور وہاں سے معلوم کرے کہ رات کے وقت چار آدمیوں اور چار عورتوں کو جگہ مل سکتی ہے یا نہیں اگر جگہ
مل جائے تو وہ یہاں سے اکیلے اکیلے نکلیں اور سرائے میں پہنچ جائیں۔ ان کے لیے سامان ایک مسئلہ تھا۔ یہ بظاہر تجارتی
سامان تھا لیکن اس میں زروجواہرات اور تحفے تھے جو وہ صلیبیوں کی طرف سے امراء کے لیے الئے تھے۔ وہ چونکہ امراء
کے پاس جانے کے لیے آئے تھے ،اس لیے انہیں ایسا کوئی خطرہ نہ تھا کہ پکڑے جائیں گے۔ انہوں نے بہروپ اس لیے دھار
رکھا تھا کہ امراء کے سوا اور کوئی انہیں نہ پہچان سکے۔ امراء سے مل کر انہیں وہیں رہنا اور تخریب کاری کرنی تھی ،اس
لیے وہ اپنی اصلیت چھپائے رکھنا چاہتے تھے۔
ان کا بھیجا ہوا آدمی سرائے کی تالش میں جارہا تھا۔ گلیاں اور بازار ویران تھے۔ اسے کوئی آدمی نظر نہیں آرہاتھا ،جس سے
وہ پوچھتا کہ سرائے کہاں ہیں ،کچھ دیر ادھر ادھر مارے مارے پھرنے کے بعد اسے سامنے سے ایک آدمی آتا دکھائی دیا۔
اندھیرے میں اتنا ہی پتا چلتا تھا کہ وہ کوئی انسان ہے۔ وہ قریب آیا تو صلیبی نے اس سے سرائے کے متعلق پوچھا۔ اس
نے سر اور آدھے چہرے پر چادر سی ڈال رکھی تھی۔ اس نے صلیبی کو بتایا کہ سرائے شہر کے دوسرے سرے پر ہے۔ پھر
اس سے پوچھا کہ وہ اتنی رات گئے سرائے کیوں ڈھونڈ رہا ہے۔ ایسے وقت میں اس کے لیے سرائے کا دروازہ نہیں کھلے گا۔
صلیبی نے اسے بتایا کہ وہ آج تاجروں کے قافلے کے ساتھ آئے ہیں۔ ان کے ساتھ چار عورتیں ہیں جنہیں وہ خیموں میں نہیں
رکھنا چاہتے۔
ہاں ،یہ ایک مسئلہ ہے''… اس آدمی نے کہا… ''تمہیں شام سے پہلے بندوبست کرلینا چاہیے تھا۔ آئو ،میں تمہاری کچھ ''
مدد کرتا ہوں۔ تم پردیسی ہو۔ یہاں سے جاکر یہ نہ کہو کہ دمشق میں تمہاری مستورات کھلے میدان میں پڑی رہی تھیں۔
مجھے اپنے ساتھ لے چلو۔ مستورات کو ساتھ لے آئو۔ میں سرائے کھلوا کر جگہ دلوا دوں گا''۔
وہ آدمی صلیبی کے ساتھ چل پڑا اور دونوں قافلے کی خیمہ گاہ تک پہنچ گئے۔ صلیبی نے اسے ایک جگہ روک کر کہا…
''تم یہیں ٹھہرو۔ میں انہیں لے کر آتا ہوں''… یہ کہہ کر وہ خیمہ گاہ کے ایک طرف سے گھوم کر کہیں غائب ہوگیا۔
صلیبیوں کے خیمے دوسری طرف اور ذرا ہٹ کر تھے۔ اس آدمی نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ ایک آدمی اس کے ساتھ آیا ہے
جو انہیں سرائے میں جگہ دال دے گا۔ اس کے ساتھی کچھ گھبرائے۔ یہ آدمی بھی دھوکہ دے سکتا تھا لیکن وہ ایسے جال
میں پھنس گئے تھے جس سے نکلنے کے لیے انہیں کوئی نہ کوئی تو خطرہ مول لینا ہی تھا۔ مصری جاسوس جو صلیبی لڑکی
کے جھانسے میں آگیا تھا ،اس نے لڑکی کو یہاں تک بتا دیا تھا کہ خلیفہ اور امراء صلیبیوں کے زیراثر آگئے ہیں ،اس لیے
علی بن سفیان بہروپ میں ایک سو لڑاکا جاسوسوں کے ساتھ آیا ہے اور ان کا مشن یہ ہے کہ یہاں کا جائزہ لیں کہ صلیبی
اثرات کہاں تک پہنچے ہیں اور کیا صالح الدین ایوبی کے لیے جنگی کارروائی ضروری ہے یا نہیں۔
لڑکی نے علی بن سفیان کا یہ مشن اپنے ساتھیوں کو بتادیا تھا۔ یہ بڑی ہی کارآمد اطالع تھی جو صلیبی جاسوس رات ہی
کٹھ پتلی خلیفہ تک پہنچا کر خراج تحسین حاصل کرنا چاہتے تھے اور یہ اطالع وہ اپنے صلیبی حکمرانوں تک بھی پہنچانا
چاہتے تھے تاکہ وہ صالح الدین ایوبی کا راستہ روکنے کا بندوبست کرلیں۔ ان صلیبی جاسوسوں نے یہ ارادہ بھی کیا کہ وہ
علی بن سفیان اور اس کی پوری جماعت کو خلیفہ کے حکم سے گرفتار کرادیں۔ انہوں نے اس لڑکی کو بہت ہی خراج
تحسین پیش کیا جس نے مصری جاسوس کے سینے سے یہ راز نکلوا لیا تھا۔ یہ مصری اب لڑکی کے خیمے میں گہری نیند
سویا ہوا تھا اور لڑکی خیمے میں نہیں بلکہ اپنے ساتھیوں کے پاس تھی۔
انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ علی بن سفیان کے تمام آدمی سوئے ہوئے ہیں۔ سب اکٹھے نکل چلیں۔ سامان اور جانوروں کو یہیں
رہنے دو۔ کل صبح ہوتے ہی وہ مصری جاسوسوں کو پکڑا دیں گے پھر ان کا سامان انہیں مل جائے گا۔ وہ خیمہ گاہ سے
بھاگنا اس لیے چاہتے تھے کہ انہیں ڈر تھا کہ علی بن سفیان رات کو لڑکیاں غائب کردے گا یا ان سب کو مروا دے گا یا
کوئی دھوکہ دے گا۔ بہرحال رکنا ٹھیک نہیں تھا۔ وہ سب خیمہ گاہ سے پرے پرے دبے پائوں چل پڑے اور اس جگہ پہنچے
جہاں ان کا ایک ساتھی ایک آدمی کو کھڑا کرگیا تھا مگر وہ آدمی وہاں نہیں تھا۔ وہ سب ادھر ادھر دیکھ ہی رہے تھے کہ
بیٹھے ہوئے اونٹوں کی اوٹ میں سے بہت سے آدمی اٹھے اور صلیبیوں کو گھیرے میں لے لیا۔ انہیں ایک طرف لے گئے اور
مشعلیں جالئی گئیں۔ علی بن سفیان نے ان سے پوچھا کہ وہ کہاں جارہے ہیں۔ انہوں نے جھوٹ بولے ،علی بن سفیان نے
''پوچھا… ''وہ آدمی کون تھا جو سرائے کی سرائے کی تالش میں مارا مارا پھر رہا تھا؟
ایک صلیبی نے کہا… ''وہ میں تھا''۔
اور جس سے تم نے سرائے کا راستہ پوچھا تھا''… علی بن سفیان نے کہا… ''وہ میں تھا''۔''
یہ محض اتفاق تھا اور اللہ کا کرم کہ علی بن سفیان توفیق جواد کے گھر سے واپس آرہا تھا۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:06
قسط نمبر۔68
اسالم کی پاسبانی کب تک کرو گے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اور اللہ کا کرم کہ علی بن سفیان توفیق جواد کے گھر سے واپس آرہا تھا۔ یہ صلیبی سرائے کی تالش میں جارہا تھا۔ اس
نے علی بن سفیان سے ہی سرائے کا راستہ پوچھا۔ اگر روشنی ہوتی تو صلیبی اسے پہچان لیتا۔ ایک تو اندھیرا تھا ،دوسرے
علی بن سفیان نے سر پر رومال یا چادر ڈال رکھی تھی۔ صلیبی کی ایک بات سن کر وہ جان گیا کہ انہیں کسی طرح پتا
لہ ذا اب بھاگنے کی فکر میں ہیں۔ علی بن سفیان کو معلوم تھا کہ یہ صلیبی بے
چل گیا ہے کہ وہ دھوکے میں آگئے ہیں۔ ٰ
شک جاسوس ہیں لیکن انہیں یہاں امراء میں سے کوئی نہ کوئی پناہ میں لے لے گا۔ چنانچہ اس نے صلیبی کو خوش اخالقی
کا جھانسہ دے کر پھانس لیا اور اس کے ساتھ خیمہ گاہ تک چال گیا۔ وہ سوچتا رہا کہ اب اسے کیا کارروائی کرنی چاہیے۔
صلیبی نے اس پر یہ کرم کیا کہ اسے اپنے خیموں سے دور کھڑا کرگیا۔
علی بن سفیان نے فورا ً اپنے دو تین آدمیوں کو جگالیا اور نہایت عجلت سے انہیں بتایا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ ہدایات دے کر
وہ خود صلیبیوں کے خیموں تک گیا۔ وہ سب لڑکیوں سمیت ایک خیمے میں جمع ہوگئے تھے۔ علی بن سفیان نے دبے پائوں
قریب جاکر ان کی باتیں سنیں۔ وہ صرف یہ جان سکا کہ صلیبی جاسوسوں کو اس کا مشن معلوم ہوگیا ہے لیکن یہ معلوم نہ
ہوسکا کہ یہ راز فاش کس طرح ہواہے۔ اتنی دیر میں اس کے بہت سے آدمی اس کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق برچھوں
سے مسلح ہوکر اونٹوں کی اوٹ میں جاکر بیٹھ چکے تھے۔ صلیبیوں کو وہیں آنا تھا۔ وہ جوں ہی وہاں پہنچے ،علی بن سفیان
بھی آگیا اور سب کو گھیر کر پکڑ لیا گیا۔
دوستو!''… علی بن سفیان نے انہیں کہا… ''تمہاری جاسوسی بہت کمزور ہے ،تمہیں ابھی بہت سی تربیت کی ضرورت ''
ہے۔ کیا جاسوس اس طرح سنسان گلیوں میں پھرا کرتے ہیں؟ اور کیا جاسوس کسی اجنبی کو پہچانے بغیر بات کیا کرتے ہیں؟
یہ فن مجھ سے سیکھو''۔
اگر آپ یہ فن اپنے آدمیوں کو سیکھادیں تو زیادہ بہتر ہوگا''… ایک صلیبی نے کہا… ''کیا آپ ہماری اس مہارت کی ''
تعریف نہیں کریں گے کہ ہم نے آپ کے ایک آدمی سے آپ کی اصلیت معلوم کرلی ہے؟ یہ تو قسمت کا کھیل ہے۔ آپ
جیت گئے ،ہم ہار گئے۔ اگر ہمارا قائد مارا نہ جاتا تو ہم یوں بھٹک نہ جاتے''۔
مجھے وہ آدمی بتاو گے جس نے راز فاش کیا ہے؟''… علی بن سفیان نے پوچھا۔''
اس خیمے میں سویا ہوا ہے''… ایک لڑکی نے ایک خیمے کی طرف اشارہ کرکے جواب دیا… ''وہ میرے دھوکے میں آگیا''
تھا''۔
یہ باتیں اب قاہرہ میں چل کر ہوں گی''… علی بن سفیان نے کہا۔''
صبح طلوع ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ تاجروں کا قافلہ جارہا تھا۔ اونٹوں پر جہاں تجارتی سامان لدا ہوا تھا ،وہاں خیمے بھی
لدے ہوئے تھے۔ علی بن سفیان اور اس کے ایک سو آدمیوں کے سوا کسی کو علم نہ تھا کہ لپٹے ہوئے خیموں میں چار
لڑکیاں اور چار آدمی لپٹے ہوئے ہیں۔ علی بن سفیان نے روانگی سے کچھ دیر پہلے سحر کی تاریکی میں ایک ایک صلیبی کو
ایک ایک خیمے میں لپیٹ کر اونٹوں پر الد کر باندھ دیا تھا۔ اسے کوئی فکر نہیں تھی کہ وہ دم گھٹنے سے مرجائیں گے یا
زندہ رہیں گے۔ قافلہ دمشق سے نکل گیا اور جب شہر اتنی دور پیچھے رہ گیا کہ نظر بھی نہیں آتا تھا ،اس نے صلیبیوں کو
خیموں سے نکاال۔ سب زندہ تھے۔ لڑکیوں کو اونٹوں پر اور مردوں کو گھوڑوں پر سوار کرلیا گیا۔ صلیبیوں نے رہائی کے لیے وہ
تمام زروجواہرات اور سونے کے ٹکڑے پیش کیے جو وہ خلیفہ اور امراء کے لیے الئے تھے۔ علی بن سفیان نے کہا… ''یہ
ساری دولت تو میرے ساتھ ہی جارہی ہے''۔
٭ ٭ ٭
اس وقت ریمانڈ نام کا ایک صلیبی تریپولی کا حکمران تھا۔ یہ وہی عالقہ ہے جو آج لبنان کہالتا ہے۔ دوسرے صلیبی حکمران
یروشلم اور گردونواح میں تھے۔ نورالدین زنگی کی وفات پر وہ سب بہت خوش تھے۔ وہ ایک کانفرنس کرچکے تھے۔ انہوں نے
اپنے منصوبوں پر نظرثانی کرلی تھی ،اس کے مطابق فرنگیوں کا ایک کمانڈر سیرز اپنی فوج حلب تک لے گیا۔ حلب کا امیر
شمس الدین تھا۔ سیرز نے اسے پیغام بھیجا کہ وہ حلب اس کے حوالے کردے یا صلح نامے پر دستخط کرکے تاوان ادا کرے۔
شمس الدین نے اس ڈر سے صلیبیوں کے آگے ہتھیار ڈال دئیے کہ دمشق اور موصل کے امراء سے جنگ میں الجھا ہوا دیکھ
کر اس کی مملکت پر قبضہ کرلیں گے۔ اس ایک ہی کامیابی سے صلیبی دلیر ہوگئے۔وہ جان گئے کہ یہ مسلمان امراء ایک
دوسرے کی مدد کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے دشمن ہیں ،چنانچہ انہوں نے جنگ کے بغیر ہی مسلمانوں کہ بے تیغ کرنے
کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ انہیں خطرہ صرف سلطان صالح الدین ایوبی سے تھا۔ وہ سلطان ایوبی کے کردار سے آگاہ تھے۔انہیں ڈر
یہ تھا کہ سلطان ایوبی دمشق یا ان عالقوں میں کہیں بھی آگیا تو وہ تمام امراء کو متحدہ کرلے گا۔ چنانچہ وہ امراء کو بہت
جلدی اپنے اتحادی بنا لینے کی کوشش کررہے تھے۔ ریمانڈ نے خلیفہ المالک الصالح کو ایک ایلچی کے ذریعے تحائف کے ساتھ
یہ پیشکش بھی بھیج دی تھی کہ وہ اسے ضرورت کے وقت فوجی مدد دے گا۔
اسالم کی بقا اور آبرو کچے دھاگے سے لٹک رہی تھی۔ اس کا دارومدار سلطان صالح الدین ایوبی کے اقدام پر تھا۔ ایک
ساعت جو گزر جاتی تھی ،اسالم کو تباہی کے قریب لے جاتی تھی۔ سلطان ایوبی قاہرہ میں علی بن سفیان کا انتظار کررہا
تھا۔ اسے علی بن سفیان کی رپورٹ کے مطابق کچھ فیصلہ کرنا تھا۔ وہ بغداد ،دمشق اور یمن وغیرہ پر فوج کشی کے لیے
ذہنی طور پر تیار ہوچکا تھا۔ اس کے لیے مشکل یہ تھی کہ مصر کے اندرونی حاالت ٹھیک نہیں تھے اور فوج کم تھی۔ وہ
مصر سے زیادہ سے زیادہ نہیں بلکہ کم سے کم فوج اپنے ساتھ لے جاسکتا تھا اور یہی ایک خطرہ تھا جو اسے پریشان کررہا
تھا کہ اتنی کم فوج سے وہ کیا کامیابی حاصل کرسکے گا۔ اس کے باوجود اس نے فوج کشی کے سوا دوسرا کوئی اقدام سوچا
ہی نہیں۔ وہ دن میں ایک دو بار اپنے مکان کی چھت پر جاکر اس سمت دیکھا کرتا تھا جس سمت سے علی بن سفیان کو
آنا تھا۔ وہ افق پر نظریں گاڑ دیتا تھا۔
ایک روز اسے افق پر گرد کے بادل نظر آئے جو زمین سے اٹھے اور اوپر ہی اوپر اٹھتے اور پھیلتے گئے۔ سلطان ایوبی اوپر
ہی کھڑا رہا۔ گرد کا بادل آگے ہی آگے آتا گیا ،پھیلتا گیا… اور پھر اس میں سے گھوڑوں اور اونٹوں کے ہیولے نظر آنے لگے۔
وہ علی بن سفیان کا قافلہ تھا۔ اس نے راستے میں بہت تھوڑے پڑائو کیے تھے۔ اسے جب قاہرہ کے مینار نظر آنے لگے تو
اس نے اونٹ اور گھوڑے دوڑادئیے۔ اسے احساس تھا کہ گزرتے ہوئے لمحوں کی قیمت کیا ہے اور اس کے انتظار میں سلطان
صالح الدین ایوبی رات کو سوتا بھی نہیں ہوگا۔
پھر وہ لمحہ آگیا جب گرد سے اٹا ہوا علی بن سفیان سلطان ایوبی کے سامنے کھڑا تھا۔ سلطان ایوبی نے اسے نہانے دھونے
کی مہلت نہ دی۔ وہ خبریں سننے کے لیے بیتاب تھا۔ اس کے لیے کھانا وغیرہ وہیں النے کا حکم دے کر اسے دفتر میں لے
گیا۔ علی بن سفیان نے اسے تفصیلی رپورٹ دی۔ نورالدین زنگی کی بیوہ کا پیغام ،اس کے جذبات اور تاثرات سنائے۔ ساالر
توفیق جواد سے جو بات چیت ہوئی تھی وہ سنائی اور آخر میں بتایا کہ وہ دمشق سے ایک تحفہ الیا ہے۔ یہ تحفہ چار
صلیبی جاسوس مرد اور چار لڑکیاں تھیں۔ اس نے سلطان ایوبی سے کہا… ''میں شام سے پہلے پہلے کچھ قیمتی معلومات ان
لوگوں سے حاصل کرلوں گا''۔
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں فوجی طاقت استعمال کرنی پڑے گی''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔''
کرنی پڑے گی اور ہم ضرور کریں گے''… علی بن سفیان نے کہا… ''مجھے امید ہے کہ خانہ جنگی نہیں ہوگی''۔''
سلطان ایوبی نے اپنے دو ایسے فوجی مشیروں کو بالیا جن پر اسے کلی طور پر اعتماد تھا۔ وہ آئے تو اس نے انہیں کہا…
'' میں تم سے اب جو بھی بات کروں ،وہ اپنے سینے میں اتار لینا۔ تم دونوں کے عالوہ علی بن سفیان تیسرا آدمی ہوگا جو
اس راز سے واقف ہوگا''… اس نے انہیں دمشق اور دیگر تمام اسالمی ریاستوں اور جاگیروں کے احوال وکوائف سنائے۔ علی
بن سفیان کی الئی ہوئی رپورٹ سنائی اور کہا… ''اللہ کی فوج اللہ کے حکم کی تعمیل کیا کرتی ہے۔ امیر اور خلیفہ کی
اطاعت ہم پر فرض ہے لیکن امیر اور خلیفہ ہی اللہ کے عظیم مذہب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناموس
کے دشمن ہوجائیں تو اللہ کے سپاہی پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امت
رسول اللہ کی ناموس کو بچائیں۔ اور میرا وجود ملک وملت کے لیے خطرے اور بدنامی کا باعث بنے تو تمہارا فرض ہے کہ
میرا سر میرے دھڑ سے جدا کردو یامجھے بیڑیاں پہنا کر قید خانے میں پھینک دو اور ملک میں احکام خداوندی نافذ کرو۔ آج
یہی فرض ہم پر عائد ہوگیا ہے۔ ہمارا خلیفہ قومی غیرت اور وقار سے دستبردار ہوکر اسالم کے دشمنوں کے ہاتھوں میں چال
گیا ہے۔ ان سے مدد مانگ رہا ہے۔ ان کے جاسوسوں کو پناہ دے رہا ہے۔ اس کے حاشیہ بردار عیش وعشرت میں ڈوب گئے
ہیں۔ سلطنت اسالمیہ کے حصے بخرے کررہے ہیں۔ شمس الدین والی حلب نے صلیبیوں کے آگے ہتھیار ڈال کر تاوان ادا کیا
اور صلح کرلی ہے اور صلیبی عالم اسالم پر حاوی ہوتے جارہے ہیں تو کیا ہمارے لیے یہ ضروری نہیں ہوگیا کہ ہم فوجی
''طاقت سے خلیفہ کو اس مقدس گدی سے اٹھائیں اور اسالم کی آبرو بچائیں؟
بالکل فرض ہوگیا ہے''۔ دونوں مشیروں نے بیک زبان کہا۔''
اب ہمارا اقدام جو کچھ بھی ہوگا وہ ہم چاروں کے درمیان راز ہوگا''۔ سلطان ایوبی نے کہا اور ان کے ساتھ اپنے سوچے ''
ہوئے اقدام کی منصوبہ بندی شروع کردی۔
صلیبی جاسوسوں اور لڑکیوں کو علی بن سفیان اپنے مخصوص تہہ خانے میں لے گیا اور انہیں کہا… ''تم ایسے جہنم میں
داخل ہوگئے ہو جہاں تم زندہ بھی نہیں رہو گے اور مرو گے بھی نہیں۔ اپنے جسموں کو ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا کر جو باتیں تم
میرے سامنے اگلو گے وہ اسی صحتمندی کی حالت میں بتا دو اور اس جہنم سے رہائی حاصل کرو۔ میں تمہیں سوچنے کا
موقعہ دیتا ہوں۔ تھوڑی دیر بعد آئوں گا''۔
وہ جب انہیں بیڑیاں ڈالنے کا حکم دے رہا تھا تو ایک صلیبی نے کہا… ''ہم ساری باتیں بتا دیں گے ،ہمیں سزا دینے سے
پہلے یہ درخواست سن لیں کہ ہم تنخواہ پر کام کرنے والے مالزم ہیں۔ سزا حکم دینے والوں کو ملنی چاہیے۔ ہم جو مرد
ہیں ،سختیاں برداشت کرلیں گے ،ہم ان لڑکیوں کو اذیت سے بچانا چاہتے ہیں''۔
انہیں کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا''۔ علی بن سفیان نے کہا… ''تم میرا کام آسان کردو گے تو لڑکیاں تمہارے ساتھ رہیں ''
گیں۔ اس تہہ خانے سے تم سب کو نکال لیا جائے گا اور باعزت نظربندی میں رکھا جائے گا''۔
انہوں نے جو انکشاف کیے ان سے ان تمام حاالت کی تصدیق ہوگئی جو نورالدین زنگی کی وفات کے بعد پیدا ہوگئے تھے۔
٭ ٭ ٭
…تین روز بعد
مصر کی سرحد سے بہت دور شمال مشرق کی سمت مٹی کے اونچے نیچے ٹیلوں اور گھاٹیوں کا وسیع خطہ تھا ،جس میں
کہیں کہیں سبزہ بھی تھا اور پانی بھی۔ یہ خطہ قافلوں اور فوجوں کے عام راستوں سے ہٹ کر تھا۔ اس کے اندر ایک جگہ
بے شمار گھوڑے بندھے ہوئے تھے۔ ان سے ذرا پرے سوار سوئے ہوئے تھے اور ان سے الگ ہٹ کر چھوٹا سا ایک خیمہ لگا
ہوا تھا جس کے اندر ایک آدمی سویا ہوا تھا۔ تین چار آدمی ٹیلوں کے اوپر ٹہل رہے تھے اور تین چار آدمی اس خطے کے
باہر بکھر کر گھوم پھر رہے تھے… خیمے میں سویا ہوا آدمی سلطان صالح الدین ایوبی تھا۔ ٹیلوں پر اور ٹیلوں کے باہر
گھومنے پھرنے والے آدمی سنتری تھے اور جو سوار سوئے ہوئے تھے ،وہ سلطان ایوبی کے سوار تھے۔ ان کی تعداد سات سو
تھی۔
صالح الدین نے بڑی گہری سوچ وبچار کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ کم سے کم فوج اپنے ساتھ لے کر دمشق جائے گا۔ اگر
اس کا استقبال ایک سلطان کی حیثیت سے ہوا تو زبانی بات چیت کرے گا اور اگر مزاحمت ہوئی تو وہ اسی نفری سے
مقابلہ کرے گا۔ علی بن سفیان نے اسے یقین دالیا تھا کہ خلیفہ اور امراء کے محافظ دستوں نے مزاحمت کی تو ساالر توفیق
جواد اپنی فوج سلطان ایوبی کے حوالے کردے گا۔ زنگی کی بیوہ نے یقین دالیا تھا کہ شہر کے لوگ سلطان ایوبی کا استقبال
کریں گے لیکن سلطان ایوبی نے اپنے آپ کو خوش فہمیوں میں کبھی مبتال نہیں ہونے دیا تھا۔ اس نے یہ فرض کرکے فیصلہ
کیا تھا کہ وہ سات سو سواروں کے ساتھ جہاں جارہا ہے ،وہاں کا ہر ایک سپاہی اور بچہ بچہ اس کا دشمن ہے۔ اس نے
اپنے رسالے ( گھوڑ سوار دستوں) میں سے وہ سات سو سوار منتخب کیے تھے جو بہت سے معرکے لڑ چکے تھے ،ان میں
چھاپہ مار سوار بھی تھے جو دشمن کے عقب میں معرکے لڑنے کا تجربہ رکھتے تھے۔ جنگی مہارت کے عالوہ یہ سوار جذبے
کے جنونی تھے جن کی آنکھیں صلیب کا نام سن کر الل سرخ ہوجایاکرتی تھیں۔ آج کی فوجی زبان میں یہ ''کریک
ٹروپس'' تھے۔
قاہرہ سے ان سواروں کو سلطان ایوبی نے رات کے وقت خفیہ طریقے سے نکاال تھا۔ وہ ایک ایک دو دو کرکے نکلے تھے اور
قاہرہ سے بہت دور ایک پہلے سے بتائی ہوئی جگہ اکٹھے ہوئے تھے۔ سلطان ایوبی بھی خفیہ طریقے سے قاہرہ سے نکال تھا۔
صرف علی بن سفیان اور دو خصوصی فوجی مشیروں کو اس کا علم تھا۔ سلطان ایوبی کا محافظ دستہ بدستور قاہرہ میں اس
کے گھر اور ہیڈکوارٹر میں مستعد رہتا تھا۔ اس سے یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ سلطان ایوبی یہیں ہے۔
تمام یورپی اور مسلمان مورخین اس پر متفق ہیں کہ سلطان ایوبی نے سات سو سوار منتخب کیے۔ خفیہ طریقے سے شہر سے
نکال اور دمشق کو روانہ ہوا۔ قاہرہ اور گردونواح میں صلیبی جاسوس موجود تھے۔ ان میں مصری مسلمان بھی تھے جن میں
کچھ سرکاری مالزمت میں بھی تھے مگر کسی کو خبر تک نہ ہوئی کہ قاہرہ سے سلطان ایوبی اور سات سو سوار غائب ہیں۔
مورخین لکھتے ہیں کہ سلطان ایوبی دمشق میں داخل ہونے تک اپنی نقل وحرکت کو راز میں رکھنا چاہتا تھا۔ اس مقصد کے
لیے وہ رات کو سفر کرتا اور دن کو کہیں چھپ جاتا تھا۔ سات سو گھوڑوں اور سواروں کو چھپانا ممکن نہیں تھا لیکن سلطان
ایوبی ریگزار کا بھیدی تھا۔ ایسے راستے سے جارہا تھا جدھر سے کوئی قافلہ نہیں جایا کرتا تھا اور وہ چھپنے کی جگہ ڈھونڈ
لیتا تھا۔ دو یورپی مورخوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس خفیہ سفر کے دوران وہ سواروں کے ساتھ عام سپاہیوں کی طرح گھال
مال ،گپ شپ لگاتا اور باتوں باتوں میں انہیں آگ کے بگولے بناتا رہا۔ اس کے ساتھ انہیں سمجھاتا رہا کہ آگے حاالت کیا
ہیں اور کیا ہوسکتے ہیں۔ اس نے سواروں کو کسی خوش فہمی میں مبتال نہیں کیا ،کوئی جھوٹی امید نہیں دالئی ،انہیں خطروں
سے آگاہ کرتا رہا۔ سلطان ایوبی کی شخصیت اورکردار میں جو جالل تھا ،وہ ہر ایک سوار کی روح میں اتر گیا اور سوار اڑ
کر دمشق پہنچنے کے لیے بیتاب ہوگئے۔
مورخہ میں البتہ یہ اختالف پایا جاتا ہے کہ یہ ١١٧٤٤ء کا کون سا مہینہ تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ جوالئی کامہینہ تھا ،بعض
نے نومبر لکھا ہے۔ بہرحال یہ واقعہ نورالدین زنگی کی وفات کے بعد کا ہے۔ اگر واقعہ نگاروں کی تحریروں میں چھوٹے
چھوٹے واقعات غور سے پڑھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سلطان ایوبی ستمبر کے ابتدائی دنوں میں دمشق کے لیے روانہ ہوا
تھا۔ اس نے مصر کی ہائی کمانڈ خفیہ طور پر اپنے دو مشیروں کے سپرد کردی تھی۔ سوڈان کی طرف کی سرحد پر مورچہ
بندی اور دفاعی انتظامات مزید مضبوط کردئیے تھے۔ شمال کی طرف بحریہ کو حکم دیا گیا تھا کہ ہر وقت ،دن رات ،سمندر
میں دور دور تک کشتیاں گشت کرتی رہیں اور جنگی جہاز بحری سپاہیوں کے ساتھ ہر لمحہ تیاری کی حالت میں رہیں۔
سلطان ایوبی نے اپنے جانشینوں سے کہہ دیا تھا کہ کسی بھی طرف سے حملہ آئے تو وہ اس کے حکم کا انتظار نہ کریں۔
اس نے یہ بھی حکم دے دیا تھا کہ سرحد پر دشمن ذرا سی بھی گڑ بڑ کرے تو شدید قسم کی جوابی کارروائی کرو۔ ہر وقت
جارحیت کے لیے تیار رہو۔ اگر ضرورت محسوس ہو تو سوڈان کے اندر جاکر مصر کا دفاع کرو۔
سلطان ایوبی مصر کو اپنی فوج اور خدا کے حوالے کرکے چوری چھپے سات سو سواروں کے ساتھ دمشق جارہا تھا۔
٭ ٭ ٭
دمشق کے قلعے سنتری پر گھوم پھر رہے تھے۔ انہیں دور افق پر گرد کے گھنے بادل اٹھتے نظر آئے جو دمشق کی طرف آرہے
تھے۔ وہ کچھ دیر دیکھتے رہے۔ شاید تاجروں اور مسافروں کا کوئی بڑا قافلہ ہوگا مگر اونٹ اتنی گرد نہیں اڑاتے۔ یہ گھوڑے
معلوم ہوتے تھے… گرد بہت قریب آگئی تو اس میں ذرا ذرا گھوڑے نظر آنے لگے اور پھر اوپر اٹھی ہوئی برچھیوں کی انیاں
نظر آنے لگیں۔ ہر برچھی کے ساتھ کپڑے کی لمبوتری جھنڈی تھی۔ یہ بالشک وشبہ کوئی فوج تھی اور یہ فوج خلیفہ کی
نہیں ہوسکتی تھی۔ ایک سنتری نے نقارہ بجا دیا۔ قلعے کی دوسری دیواروں پر بھی نقارے بج اٹھے۔ قلعے میں جو فوج تھی
وہ تیاری کی پوزیشنوں میں آگئی۔ دیواروں کے اوپر تیر اندازوں نے کمانوں میں تیر ڈال لیے۔ قلعے کا کمانڈر بھی اوپر آگیا۔
گرد اڑاتے ہوئے سوار قلعے کے قریب آگئے اور حملے کی ترتیب میں آکر رک گئے۔ قلعہ کے کمانڈر نے سواروں کے کمانڈر کا
جھنڈا دیکھا تو وہ ٹھٹھک گیا۔ یہ صالح الدین ایوبی کا جھنڈا تھا۔ قلعہ دار کو سرکاری طور پر بتایا جاچکا تھا کہ سلطان
ایوبی نے خودمختاری کااعالن کردیا ہے جس کا مطلب یہ تھا کہ اگر وہ اس طرف آئے تو اسے بالروک ٹوک شہر میں داخل
نہ ہونے دیا جائے۔
آپ کس ارادے سے آئے ہیں؟'' قلعہ دار نے پوچھا… ''اگر خلیفہ سے ملنا ہے تو اپنے سوار دور پیچھے لے جائیں اور ''
اکیلے آگے آئیں''۔
خلیفہ سے کہہ دو کہ صالح الدین ایوبی باہر بال رہا ہے''۔ سلطان ایوبی نے بلند آواز سے کہا… ''اور تم سن لو ،میرے ''
سوار پیچھے نہیں جائیں گے ،شہر میں جائیں گے۔ خلیفہ کو اطالع دو کہ وہ باہر نہ آیا تو بہت سے مسلمانوں کا خون اس
کی گردن پر ہوگا''۔
صالح الدین بن نجم الدین ایوب!'' قلعے کے کمان دار نے کہا… ''میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ تمہارا ایک بھی سوار ''
زندہ واپس نہیں جائے گا۔ میں خلیفہ کے حکم کا پابند ہوں۔ تمہارے لیے شہر کا کوئی دروازہ نہیں کھلے گا''۔
قلعے کے باہر جو سپاہی پہرے پر تھے ،انہوں نے خلیفہ کی طرف ایک سپاہی دوڑا دیا تھا۔ یہ ان لوگوں کی ڈیوٹی تھی کہ
خلیفہ کو خطرے سے آگاہ کردیں تاکہ فوج کو تیاری کا حکم دیا جائے۔ ادھر سلطان ایوبی نے اپنے سواروں کو کچھ حکم دیا۔
سواروں نے بجلی کی تیزی سے حرکت کی ،وہ اور زیادہ پھیل گئے۔ سواروں نے کمانیں نکال لیں اور ان میں تیر ڈال لیے۔
ادھر دمشق شہر کابڑا دروازہ بند کردیا گیا اور شہر کی فصیل پر بھی تیر انداز تیار ہوگئے۔
قلعہ دار یعنی قلعے کا کمانڈر غالبا ً خلیفہ کے حکم کا یا شاید اندر سے آنے والی فوج کا انتظار کررہا تھا۔ اس نے کوئی
کارروائی نہ کی۔ مقابلے کے لیے وہ تیار تھا۔ خلیفہ کو باہر کی صورتحال کی اطالع مل گئی ،وہ بچہ تھا۔ ایک بار تو جوش
میں آگیا پھر گھبرا گیا۔ اس کے مشیروں نے اس کا حوصلہ بڑھایا اور اس سے حکم دلوایا کہ فوج باہر نکل کر سلطان ایوبی
کو گھیرے میں لے لے اور ہتھیار ڈلوا کر سلطان ایوبی کو گرفتار کرلے۔ اس اثناء میں شہر کے لوگوں کو بھی پتا چل گیا کہ
سلطان ایوبی فوج لے کر آیا ہے۔ نورالدین زنگی کی بیوہ حرکت میں آگئی۔ اس نے عورتوں کو جو زمین دوز جماعت بنا
رکھی تھی ،وہ بھی سرگرم ہوگئی۔ گھر گھر اطالع پہنچ گئی کہ سلطان ایوبی آیا ہے۔ عورتیں باہر نکل آئیں اور ''خوش آمدید
صالح الدین ایوبی'' کے نعرے لگانے لگیں۔ بعض نے پھول بھی اکٹھے کرلیے۔ مرد بھی نکل آئے۔ نعروں سے دمشق گونجنے
لگا۔ خلیفہ کے حاشیہ برداروں کو شہریوں کا یہ رویہ پسند نہ آیا مگر شہریوں کا سیالب شہر کے دروازے پر ٹوٹ پڑا تھا۔
لوگ شہر کی فصیل پر بھی چڑھ گئے تھے اور سلطان ایوبی کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔
خلیفہ اور اس کے حواریوں کو سب سے بڑی چوٹ یہ پڑی کہ انہیں یہ اطالع ملی کہ فوج نے سلطان ایوبی کے مقابلے میں
آنے سے انکار کردیا ہے۔ سپاہیوں تک تو حکم ہی نہیں پہنچا تھا۔ انکار کرنے والے ساالر اور دیگر کمانڈر تھے۔ کمانڈروں میں
کچھ ایسے تھے جو امراء کے پروردہ تھے۔ وہ اپنے دستوں کو تیاری کا حکم دینے لگے تو خلیفہ کے مخالف کمانڈروں نے
انہیں خبردار کردیا کہ انہوں نے سلطان ایوبی کے خالف ہتھیار اٹھائے تو انہیں گھوڑوں کے پیچھے باندھ کر شہر میں گھسیٹا
جائے گا۔ تین چار کمانڈروں نے ایک دوسرے کے خالف تلواریں نکال لیں۔ معاملہ خون خرابے تک پہنچنے واال تھا کہ زنگی
کی بیوہ آن پہنچی۔ یہ عورت پاگلوں کی طرح بھاگ دوڑ رہی تھی۔ وہ گھوڑے پر سوار تھی۔ گھوڑا بری طرح ہانپ رہا تھا۔
وہ دیکھنے آئی تھی کہ فوج کیا کررہی ہے۔ کہیں خانہ جنگی کی صورت تو پیدا نہیں ہوگئی؟ اس نے یہ منظر دیکھا کہ تین
چار کمانڈر تلواریں نکالے ایک دوسرے کو للکار رہے تھے اور دوسرے بیچ بچائو کررہے تھے۔ ان میں توفیق جواد بھی تھا۔
''زنگی کی بیوہ کو دیکھتے ہی وہ دوڑ کر اس تک گیا اور کہا… ''آپ یہاں کیا کررہی ہیں؟
یہاں کیا ہورہا ہے؟'' اس عظیم مجاہدہ نے پوچھا… ''کیا فوج صالح الدین ایوبی کے استقبال کے لیے جا رہی ہے یا ''
''مقابلے کے لیے؟
زنگی کی بیوہ گھوڑے سے کود کر اتری اور ان کمانڈروں کے درمیان آگئی جو ایک دوسرے کو للکار رہے تھے۔ اس عورت نے
اپنا سرنگا کردیا اور ان سے چال کر کہا… ''بے غیرتو! پہلے اس سر کو تن سے جدا کرو ،اپنی ماں کا سر اس مٹی میں
پھینکو پھر کافروں کی حمایت میں لڑنا۔ تم ان بیٹیوں کو بھول گئے ہو جنہیں کافر اٹھا کر لے گئے تھے ،تم اپنی ان بچیوں
کو بھول گئے ہو جو کافروں کی درندگی سے مرچکی ہیں۔ تم کس کی حمایت میں ایک دوسرے کے خالف تلواریں نکالے ہوئے
ہو۔ میرے بیٹے کے وفادار کافر ہیں ،آئو پہلے میری گردن اڑائو پھر ایوبی کے مقابلے میں جانا''۔
زنگی کی بیوہ کے آنسو بہہ رہے تھے ،منہ سے جھاگ پھوٹ رہی تھی۔ کمانڈروں نے تلواریں نیاموں میں ڈال لیں اور سرجھکا
کر ادھر ادھر ہوگئے۔
کیا فوج نے حکم عدولی کی ہے؟'' یہ خلیفہ کے ایک مشیر کی گھبرائی ہوئی آواز تھی جس نے خلیفہ کے دربار میں ''
سناٹا طاری کردیا۔
محافظوں کے دستے باہر نکالو''۔ ایک امیر نے غصے سے کہا۔ ''جم کر مقابلہ کرو''۔''
تھوڑی ہی دیر بعد محافظوں کے دستے تیار ہوگئے۔ اس وقت شہریوں کا ہجوم اور زیادہ بڑھ گیا تھا۔ عورتیں چال رہی تھیں…
'' دروازے کھول دو۔ ہماری عصمتوں کا پاسبان آیا ہے''۔ مرد نعرے لگا رہے تھے۔ محافظ دستوں کو آگے بڑھنے کا راستہ نہیں
مل رہا تھا۔ اس وقت خالفت کا قاضی ،کمال الدین سامنے آگیا۔ وہ خلیفہ کے دربار میں گیا۔ قاضی کی حیثیت سے سب سے
اونچی اور قابل احترام سمجھی جاتی تھی۔ اس نے خلیفہ سے کہا کہ ''اگر اس نے صالح الدین ایوبی کے مقابلے کے لیے
اپنی فوج بھیجی تو شہری اس فوج پر ٹوٹ پڑیں گے۔ اس سے زیادہ تر نقصان شہریوں کا ہوگا۔ خانہ جنگی ہوگی۔ اپنے
ہاتھوں اپنے بچوں اور عورتوں کو مروانے کے عالوہ سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ صلیبی فوج جو یہاں سے دور نہیں کسی
مزاحمت کے بغیر اندر آجائے گی۔ پھر آپ رہیں گے نہ آپ کی خالفت۔ اینٹ سے اینٹ بج جائے گی۔ شریعت کا حکم یہ
''ہے کہ بھائی بھائی کے خالف نہیں لڑ سکتا۔ ذرا باہر آکر لوگوں کی بیتابیاں دیکھیں۔ کیاآپ اس طوفان کو روک لیں گے؟
شہر کی چابی میرے حوالے کردیں''۔ قاضی کمال الدین نے کہا۔''
چابی قاضی کے حوالے کردی گئی۔ اس نے اپنے ہاتھوں شہر کا دروازہ کھوال۔ شہریوں کا ہجوم رکے ہوئے سیالب کی طرح باہر
نکال۔ قاضی کمال الدین نے چابی سلطان ایوبی کے حوالے کی۔ سلطان ایوبی نے دوزانو ہوکر قاضی کے ہاتھ چومے اور اس کے
ساتھ شہر میں داخل ہوا اور جب نورالدین زنگی کی بیوہ سامنے آئی تو سلطان ایوبی کی سسکیاں نکل گئیں۔ زنگی کی بیوہ
اس سے لپٹ گئی اور بچوں کی طرح بلبالنے لگی۔ اس کی ہچکیاں تھم نہیں رہی تھیں۔ سلطان ایوبی کے سواروں پر عورتوں
نے پھول پھینکے ،بالئیں لیں اور انہیں جلوس میں اندر لے گئیں۔
قلعے کی چابی بھی سلطان ایوبی کے حوالے کردی گئی۔ وہ سب سے پہلے اپنے گھر گیا۔ وہ دمشق کا رہنے واال تھا۔ بڑے
جذباتی انداز سے اس پرانے سے مکان میں داخل ہوا ،جہاں وہ پیدا ہوا تھا۔
کچھ دیر آرام کرنے کے بعد اس نے فوج کے چھوٹے بڑے کمانڈروں کو اپنے مکان میں بال لیا۔ ان کے ساتھ باتیں کرکے معلوم
کیا کہ ان پر کس حد تک اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ فوج کی حالت اور کیفیت پوچھی اور اپنے احکام جاری کیے۔ اسی دوران
اعلی حکام بھی
اسے اطالع ملی کہ خلیفہ اپنے وفادار مشیروں ،وزیروں اور امیروں کے ساتھ الپتہ ہوگیا ہے۔ فوج کے دو تین
ٰ
اس کے ساتھ فرار ہوگئے تھے۔ سلطان ایوبی فورا ً اٹھا اور فرار ہونے والوں کے گھروں پر چھاپے پڑوائے۔ یہ گھر دراصل محل
تھے۔ بھاگنے والے اپنی جانیں بچا کر بھاگے تھے۔ ان کا مال ودولت پیچھے رہ گیا تھا۔ حرم کی عورتیں ،رقاصائیں اور عیش
وعشرت کا سارا سامان پیچھے رہ گیا تھا۔ سلطان ایوبی نے اس تمام دولت پر قبضہ کرکے اس میں سے کچھ بیت المال میں
دے دیا اور زیادہ تر غریبوں اور اپاہجوں میں تقسیم کردیا۔
اس نے خلیفہ اور مفرور امراء وغیرہ کے تعاقب کی ضرورت محسوس نہ کی۔ اس نے مصر اور شام کی وحدت یعنی ایک
سلطنت کا اعالن کردیا اور اپنے بھائی تقی الدین کو دمشق کا امیر (گورنر) مقرر کردیا۔ دوسرے حصوں کے نئے گورنر مقرر
کیے اور اس سلطنت کے استحکام اور دفاع کے انتظامات میں مصروف ہوگیا مگر اس کی انٹیلی جنس کی رپورٹیں اسے بتا
رہی تھیں کہ اس کے امراء جو الملک الصالح کے وفادار تھے ،اسے چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔ یورپی ممالک سے آئی
ہوئی اطالعات سے پتا چال کہ صلیبی بہت بڑا لشکر تیار کررہے ہیں جس سے وہ عالم اسالم پر فیصلہ کن حملہ کریں گے۔
اس کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ تھا کہ اس کے اپنے امراء اسے شکست دینے کے لیے صلیبیوں کی راہ دیکھ رہے تھے۔
لہ ذا اس کے لیے ضروری تھا کہ پہلے ان باغیوں کو ٹھکانے لگائے۔ یہ معمولی سی مہم نہیں تھی۔ دمشق کی فوج کی اہلیت
ٰ
سے وہ واقف نہ تھا۔ اس نے فوری طور پر اس فوج کی ٹریننگ شروع کردی۔ اسے جہاں لڑنا تھا ،وہ پہاڑی عالقہ تھا۔ موسم
سرما میں ان پہاڑوں پر برف بھی پڑتی تھی اور موسم سرما آرہا تھا۔
قاہرہ اور دمشق میں اسے ایک فرق نمایاں طور پر نظر آرہا تھا۔ قاہرہ میں صلیبی اور سوڈانی جاسوسوں اور تخریب کاروں کے
کئی خفیہ اڈے تھے اور وہاں کے لوگوں پر سلطان ایوبی کو پوری طرح بھروسہ نہیں تھا۔ دمشق میں صلیبی تخریب کار موجود
تھے لیکن یہاں قوم کا بچہ بچہ اس کے ساتھ تھا بلکہ اس کے اشارے پر آگ میں کود جانے کو تیار تھا۔ اس لیے یہاں کے
لوگوں کے متعلق یہ خطرہ بہت کم تھا کہ وہ دشمن کے جاسوسوں اور تخریب کاروں کے آلۂ کار بن جائیں گے۔ دمشق اور
شام کے لوگوں نے نورالدین زنگی کے زمانے میں پروقار زندگی گزاری تھی۔ اس کی وفات کے فورا ً بعد ان کا ذاتی وقار ختم
ہوگیا تھا۔ نئے حکمرانوں نے انہیں رعایا بنا لیا تھا۔ امیر وزیر عیش وعشرت اور ذاتی سیاست بازیوں میں مصروف ہوگئے اور
انتظامیہ کے حاکم لوگوں کے لیے وبال جان بن گئے تھے۔ قانون کا احترام ختم ہونا شروع ہوگیا تھا۔ قحبہ خانے اور شراب
خانے بھی کھل گئے تھے۔ چار پانچ مہینوں میں لوگوں کا جینا حرام ہوگیا تھا۔ اناج تک کی کمی ہوگئی تھی۔ لوگوں کو پتا
چال کہ اناج باہر جارہا ہے۔ امراء اور وزراء نے اناج درپردہ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اور درپردہ باہر کہیں بھیج دیتے تھے۔
بازاروں میں ہر چیز کے بھائو چڑھ گئے اور لوگ تنگدستی محسوس کرنے لگے تھے۔
وہاں کے لوگ تنگدستی اور فاقہ کشی تک برداشت کرنے کو تیار تھے لیکن وہ قومی سطح سے گرنے کو تیار نہیں تھے۔ وہ
صلیبیوں کے ساتھ دوستی کرنے پر آمادہ نہیں ہوسکتے تھے۔ وہ محسوس کرنے لگے تھے کہ ان کے حکمران انہیں دشمن کی
جھولی میں ڈال رہے ہیں۔ نورالدین زنگی کے دور حکومت میں جھونپڑیوں اور پھٹے پرانے خیموں میں رہنے والوں کو بھی
معلوم ہوتا تھا کہ سرکاری سطح پر کیا ہورہا ہے۔ جنگ کی صورت میں وہ میدان جنگ کی صورتحال سے آگاہ ہوتے تھے۔
زنگی کے مرتے ہی لوگوں کو اچھوت قرار دے دیا گیا تھا۔ انہیں بتا دیا گیا تھا کہ حکومت کے امور کے متعلق کسی کو
استفسار کی جرأت نہیں ہونی چاہیے۔ دو مسجدوں کے اماموں کو صرف اس لیے مسجدوں سے نکال دیا گیا تھا کہ وہ لوگوں
کو غیرت اور حریت کا وعظ سنا رہے تھے۔ خلیفہ کے محل اور دیگر سرکاری عمارتوں کے قریب آنا عوام کے لیے جرم قرار
دے دیا گیا تھا۔ وہی لوگ جو نورالدین زنگی کو بھی راستے میں روک لیا کرتے اور محاذوں کی خبریں سنا کرتے تھے ،اب
معمولی سے سرکاری اہلکار کو بھی دیکھ کر ہٹ جایا کرتے تھے۔
لوگ گھٹن محسوس کرنے لگے تھے ،جہاد کے نعرے بھی مرتے جارہے تھے۔ نعرے تو مرسکتے ہیں ،جذبے اتنی جلدی نہیں مرا
کرتے۔ لوگوں نے چوری چھپے مل بیٹھ کر سوچنا شروع کردیا تھا کہ وہ کیا کریں۔ نورالدین زنگی کی بیوہ نے عورتوں کی ایک
جماعت بنا لی تھی۔ ان حاالت اور اس گھٹن میں انہیں اطالع ملی کہ صالح الدین ایوبی آگیا ہے اور فوج ساتھ الیا ہے تو
وہ استقبال کے لیے باہر نکل آئے اور جب انہیں پتا چال کہ خلیفہ سلطان ایوبی کو اپنی فوج کے زور سے روکنا چاہتا ہے تو
لوگ فوج پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔ خلیفہ کے محافظ دستوں کی انہوں نے بہت بے عزتی کی تھی۔ یہی وجہ تھی
کہ خلیفہ المالک الصالح اور اس کے حواری امیر چوروں کی طرح دمشق سے بھاگ گئے تھے… اور اب لوگ سلطان ایوبی پر
جانیں فدا کرنے کو بیتاب تھے۔ لوگوں کی اس جذباتی کیفیت نے سلطان ایوبی کا کام آسان کردیا تھا۔
٭ ٭ ٭
عورتوں میں قومی جذبہ پہلے سے ہی تھا ،اب یہ جذبہ دہکتے انگارے بن گیا۔ جواں سال لڑکیوں کا ایک وفد سلطان ایوبی
کے پاس گیا اور یہ عرض داشت پیش کی کہ لڑکیوں کو محاذ پر فوج کے ساتھ بھیجا جائے اور انہیں عسکری تربیت دی
جائے۔ وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کے عالوہ لڑنا بھی چاہتی تھیں۔ سلطان ایوبی نے ان کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا…
'' مجھے جس روز تمہاری ضرورت پڑی ،تمہیں گھروں سے نکال لوں گا۔ ابھی تمہارا محاذ گھر ہے۔ میں تمہیں گھروں کا قیدی
نہیں بنانا چاہتا۔ اگر تم مائیں ہو تو بچوں کو مجاہد بنائو ،اگر تم بہنیں ہو تو بھائیوں کو اسالم کے پاسبان بنائو۔ میں تمہاری
عسکری تربیت کا بندوبست کروں گا مگر یہ نہ بھولنا کہ تمہیں گھروں کا نظام سنبھالنا ہے''… ایسی چند اور باتیں کرکے
اسے جیسے کچھ یاد آگیا ہو۔ اس نے کہا… ''ایک محاذ اور ہے جس پر تم کام کرسکتی ہو۔ تم نے سنا ہوگا کہ ہم نے
خلیفہ کے محل اور امیروں ،وزیروں اور حاکموں کے گھروں سے بہت سی لڑکیاں برآمد کی ہیں۔ ان کی تعداد دو تین نہیں دو
تین سو ہے۔ ہم نے انہیں آزاد کردیا تھا۔ وہ یہیں کہیں شہر میں یا گردونواح میں ہوں گی۔ معلوم نہیں کہ وہ کہاں کہاں کی
رہنے والی تھیں اور اب کہاں کہاں خراب ہوتی پھر رہی ہیں۔ میں ان ذرا ذرا سے مسئلوں کی طرف توجہ نہیں دے سکتا۔
میرے سامنے بڑے بڑے اونچے پہاڑ کھڑے ہیں۔ میں یہ کام تمہارے سپرد کرتا ہوں کہ لڑکیوں کو تالش کرو۔ ان میں بہت سی
ایسی ہوں گی جنہیں خرید کر یا اغوا کرکے حرموں میں داخل کیا گیا ہوگا۔ اب ان کا مستقبل یہی ہے کہ وہ خفیہ قحبہ
خانوں میں چلی جائیں گی۔ سرائے میں مسافروں کی خدمت کریں گی اور ذلیل وخوار ہوتی پھریں گی۔ ان کے ساتھ کوئی
شادی نہیں کرے گا۔ انہیں ڈھونڈو اور ان میں کھوئی ہوئی عزت ازسرنو پیدا کرکے ان کی شادیوں کا انتظام کرو''۔
لڑکیوں نے اس مہم کا آغاز کردیا۔انہوں نے اپنے گھروں کے مردوں کی مدد حاصل کرلی اور چند دنوں میں کئی ایک لڑکیاں
برآمد کرکے انہیں اپنے گھروں میں رکھ کر ان کی تربیت شروع کردی۔ ان بدنصیب لڑکیوں میں سحر نام کی ایک لڑکی تھی
جسے زبردستی رقاصہ بنایا گیا تھا۔ اسے ایک امیر کے گھر سے برآمد کرکے رہا کیا گیا تھا۔ اس نے ایک غریب سے گھرانے
میں پناہ لے رکھی تھی۔ اتفاق سے لڑکیوں کو پتا چال تو اسے وہاں سے لے آئیں۔ اس نے جب دیکھا کہ دمشق کی لڑکیاں
باقاعدہ فوج کی طرح کام کرہی ہیں تو اس کی سوئی ہوئی غیرت بیدار ہوگئی اور اس میں جذبہ انتقام بھی پیدا ہوگیا۔ اس
نے لڑکیوں کو بتایا کہ اس کے ساتھ ایک رقاصہ سرائے کے مالک کے پاس ہے۔ سحر سرائے کے مالک کو جانتی تھی۔ اس
نے بتایا کہ یہ آدمی صلیبیوں کا جاسوس ہے اس نے ایک تہہ خانہ بنا رکھا ہے جہاں فدائی (حشیشین) اور صلیبی جاسوس
راتوں کو جاتے ہیں۔ رقص ہوتا ہے اور شراب کے مٹکے خالی ہوتے ہیں۔ سحر کو بھی ایک رات وہاں لے جایا گیا تھا۔ اس
نے کہا… '' میں ان جاسوسوں کو پکڑوا سکتی ہوں لیکن میں انہیں پکڑوانا نہیں چاہتی۔ سرائے کے مالک کو ان کے ساتھ
اپنے ہاتھوں قتل کرنا چاہتی ہوں مگر یہ کام میں اکیلی نہیں کرسکتی۔ تم میرا ساتھ دو''۔
لڑکیاں تیار ہوگئیں۔ انہوں نے ایک منصوبہ تیار کرلیا۔ اس کے مطابق ایک شام سحر پردے میں سرائے کے مالک کے پاس چلی
گئی۔ وہ اسے دیکھ کر خوش ہوا۔ سحر نے کہا… ''میں فورا ً تمہارے پاس پہنچ جاتی لیکن شہر میں پکڑ دھکڑ ہورہی تھی۔
مجھے ڈر تھا کہ میں تمہارے پاس آئی تو تم بھی پکڑے جائو گے۔ میں ایک غریب سے گھرانے میں یتیم لڑکی بن کر چھپی
رہی۔ اب حاالت صاف ہوگئے ہیں۔ تم پر کسی نے شک نہیں کیا ،اس لیے تمہارے پاس آگئی ہوں''۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:06
قسط نمبر۔69
اسالم کی پاسبانی کب تک کرو گے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تم پر کسی نے شک نہیں کیا ،اس لیے تمہارے پاس آگئی ہوں''۔ سرائے کا مالک اسے اپنی رقاصہ کے پاس لے گیا۔ وہ بھی
بہت خوش ہوئی۔ اس شام کے بعد وہ چند راتیں وہیں رہی۔ اس نے دیکھا کہ خلیفہ اور عیاش امراء کے چلے جانے اور
سلطان ایوبی کے اتنے سخت احکام کے باوجود سرائے کے تہہ خانے میں رونق وہی تھی۔ اس میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔
مسافر اپنے کمروں میں سو جاتے تھے تو تہہ خانے کی دنیا آباد ہو جاتی تھی۔ وہاں اب بھی صلیبی جاسوس اور فدائی آتے
تھے۔ سحر ان کا دل لبھاتی رہی اور راتوں کو ناچتی اور انہیں شراب پالتی رہی۔ یہ لوگ مسافروں کے بہروپ میں سرائے
میں آتے تھے۔ سحر نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ رات کو سرائے کے باہر پہرے کا انتظام بھی ہوتا ہے تاکہ کوئی خطرہ نظر
آئے تو تہہ خانے تک قبل از وقت اطالع پہنچا دی جائے۔ سحر کو وہاں قید کرلیا گیا تھا۔ وہ اکیلی باہر نہیں جاسکتی تھی۔
وہ دل پر پتھر رکھ کر وہاں ناچتی رہی۔ وہ مایوس ہوگئی تھی کہ وہ انتقام لینے آئی تھی مگر قید ہوگئی۔ اس نے کسی پر
اپنی مایوسی کا اظہار نہ ہونے دیا۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ وہ لوگ اس پر اعتبار کرنے لگے۔ بعض راز کی باتیں بھی اس
کے سامنے کرگزرتے تھے۔
ایک رات تہہ خانے کی محفل میں ایک صلیبی جاسوس نے سرائے کے مالک سے کہا… ''ہم ان دو لڑکیوں سے اکتا گئے
ہیں ،کوئی نئی چیز الئو''۔
سحر اور دوسری رقاصہ بھی وہیں تھی۔ دوسری رقاصہ کو تو افسوس ہوا ہوگا ،سحر کو امید کی ایک کرن نظر آگئی۔ سرائے
کے مالک نے کہا کہ ''صالح الدین ایوبی نے ایسی فضا پیدا کردی ہے کہ ا ب دمشق میں کوئی رقاصہ یا کوئی نئی چیز
نہیں مل سکے گی''۔
مل کیوں نہیں سکے گی؟'' سحر نے کہا… ''جن ناچنے گانے والیوں کو امیروں کے گھروں سے پکڑ کر آزاد کردیا گیا تھا''،
وہ ابھی یہیں ہیں۔ میری طرح وہ بھی چھپی ہوئی ہیں اگر تم لوگ مجھے دو تین روز کے لیے باہر جانے دو تو میں انہیں
پردہ دار خواتین کے بھیس میں یہاں لے آئوں گی''۔
سحر کو اس وقت تک قابل اعتماد سمجھ لیا گیا تھا۔ انہوں نے اسے اجازت دے دی اور کچھ رقم بھی دے دی۔ صبح ہوئی
تو سحر پردے میں باہر نکل گئی۔
٭ ٭ ٭
چار پانچ روز بعد سرائے کے چور دروازے سے آٹھ مستورات داخل ہوئیں اور سرائے کے مالک کے کمرے میں چلی گئیں۔
مستورات نے برقعہ نما لبادے اوڑھ رکھے تھے جن میں ان کے چہرے چھپے ہوئے تھے۔ کمرے میں آکر سب نے نقاب اٹھا
دئیے۔ سرائے کے مالک نے آنکھیں مل کر انہیں دیکھا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ سب جوان لڑکیاں تھیں اور ایک سے
ایک بڑھ کر خوبصورت۔ ان کے ساتھ سحر تھی۔ اس نے بتایا کہ ان میں سے کون کس کے پاس تھی اور یہ بھی بتایا کہ
رقص دیکھ کر اور گانا سن کر تم پر مدہوشی طاری ہوجائے گی۔ اس نے کہا… ''آج رات اپنے تمام دوستوں کو تہہ خانے میں
بالئو''۔
سرائے کا مالک پاگلوں کی طرح اٹھ دوڑا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو رات تہہ خانے میں آنے کو کہنے گیا تھا۔ سحر لڑکیوں کو
دوسری رقاصہ کے پاس لے گئی۔ وہ رقاصہ انہیں دیکھ کر حیران ہوئی کہ وہ ان میں سے کسی کو بھی نہیں جانتی تھیں۔ اس
رقاصہ نے ایک لڑکی کے ساتھ اپنی مخصوص اصطالحوں میں بات کی تو وہ لڑکی ذرا جھینپ گئی۔ سحر نے اسے کہا… ''یہ
ڈری ہوئی ہیں ،میں انہیں زمین کے نیچے سے نکال کر الئی ہوں۔ رات کو ان کا فن دیکھ کر تم سمجھ جائو گی کہ یہ کون
ہیں اور کہاں سے آئی ہیں''۔
وہ رقاصہ مطمئن نہ ہوئی۔ اسے کچھ شک ہوتا یا نہ ہوتا ،اسے یہ افسوس ضرور تھا کہ ان لڑکیوں کے سامنے اس کی
قدروقیمت ختم ہوگئی ہے۔ اس نے سحر کو اپنے کمرے میں لے جا کر کہا… ''معلوم ہوتا ہے کہ تمہارا دماغ خراب ہوگیا
ہے۔ یہ نئی لڑکیاں ہیں اور خوبصورت بھی۔ ان کے مقابلے میں ہم دونوں بہت ہی پرانی نظر آئیں گی۔ ہماری قیمت اتنی گر
جائے گی کہ یہ لوگ ہمیں پرانے سامان کی طرح اٹھا کر باہر پھینک دیں گے۔ تم انہیں کہاں سے لے آئی ہو؟ کیوں لے آئی
ہو تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے''۔
میں دراصل اپنی مشقت کم کرنا چاہتی ہوں''۔ سحر نے جواب دیا… ''ان کے آجانے سے ہم دونوں کا کام کم ہوجائے ''
گا''۔
دوسری رقاصہ اس کی یہ دلیل نہیں مان رہی تھی۔ سحر کے پاس اور کوئی دلیل نہیں تھی جس سے وہ اسے مطمئن کرتی۔
دونوں میں تکرار ہوگئی۔ دوسری رقاصہ غصے میں آگئی اور بولی… ''میں سرائے کے مالک سے کہوں گی کہ یہ لڑکیاں ناچنے
والی نہیں ،یہ عصمت فروش لڑکیاں ہیں جنہیں اس نازک جگہ نہیں آنا چاہیے ،کیونکہ یہ تہہ خانے کے راز کو خطرے میں ڈال
سکتی ہیں۔ ان نوجوان لڑکیوں کا کیا بھروسہ؟''… یہ رقاصہ بہت تجربہ کار اور چاالک تھی۔ اس نے سحر کی زبان بند کردی
پھر بھی سحر اس کی بات نہیں مان رہی تھی۔ اس رقاصہ نے آخر یہ دھمکی دی… ''اگر تم انہیں یہاں سے چلتا نہیں کرو
گی تو میں یہاں آنے والوں کو یہ کہہ کر یہاں آنے سے روک دوں گی کہ تم انہیں گرفتار کرانے کے لیے ان لڑکیوں کا جال
پھیال رہی ہو''۔
سحر پریشان ہوگئی۔ دوسری رقاصہ غصے میں باہر جانے کو اٹھی اور دروازے کی طرف چلی۔ سحر نے بڑی پھرتی سے اپنی
قمیض کے نیچے ہاتھ ڈاال اور کمر بند سے خنجر نکال کر دوسری رقاصہ کی پیٹھ میں گھونپ دیا۔ وہ زخم کھا کر گھومی تو
سحر نے خنجر اس کے دل میں اتار دیا اور دانت پیس کر کہا… ''میں تجھے قتل نہیں کرنا چاہتی تھی۔ بدبخت تجھے بھی
میرے ہی ہاتھوں مرنا تھا''… اس نے اسی کے کپڑوں سے خنجر صاف کیا۔ رقاصہ کی الش پر اس کے پلنگ سے بستر اٹھا
کر پھینک دیا اور دروازہ باہر سے بند کرکے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ اپنے خون آلود کپڑے بدلے اور خنجر کمربند میں اڑس
کر قمیض کے نیچے چھپا دیا۔
٭ ٭ ٭
رات سرائے کے مالک کے عالوہ چھ آدمی تہہ خانے کے اس کمرے میں آئے جہاں رقص اور شراب کا دور چال کرتا تھا۔
سرائے کے مالک نے سحر سے دوسری رقاصہ کے متعلق پوچھا تو سحر نے نفرت کے لہجے میں کہا… ''وہ ان لڑکیوں کو
دیکھ کر جل بھن گئی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ان سب سے زیادہ حسین سمجھتی ہے۔ آج رات وہ یہاں نہ ہی آئے تو اچھا
ہے ،محفل کے رنگ میں بھنگ ڈالے گی''۔
لعنت بھیجو!'' سرائے کے مالک نے کہا… ''کل اس سے نمٹ لوں گا۔ اسے پڑی رہنے دو ،اپنے کمرے میں''۔''
سحر نے ان چھ آدمیوں سے کہا… ''ان لڑکیوں کے پاس اچھے کپڑے نہیں ہیں۔ ان کا لباس تم سب کے ذمے ہیں۔ آج رات
وہ جن کپڑوں میں ہیں ،انہی میں تمہارے سامنے آئیں گی''۔
انہوں نے جب لڑکیوں کو دیکھا تو بھول گئے کہ انہوں نے کیسے کپڑے پہن رکھے ہیں۔ لڑکیاں چہروں سے پیشہ ور ناچنے
والیاں لگتی ہی نہیں تھیں۔ ان کے چہرے تروتازہ اور معصوم سے تھے۔ ان کے بالوں کو بھی نہیں سجایا گیا تھا۔ ان کی
کوئی حرکت ظاہر نہیں کرتی تھی کہ یہ پیشہ ور ہیں۔ ان کا انداز سیدھا سادا سا تھا۔ سحر نے انہیں کہا کہ اپنے مہمانوں
کو شراب پیش کرو۔ وہ جب صراحیوں سے پیالوں میں شراب انڈیلنے لگیں تو ایک آدمی نے ایک لڑکی کو چھیڑا۔ لڑکی بدک
کر پیچھے ہٹ گئی۔ اس کا چہرہ الل سرخ ہوگیا۔
''سحر!'' اس آدمی نے کہا… ''انہیں کہاں سے الئی ہو؟ یہ کس کے پاس تھیں؟''
سحر نے قہقہہ لگایا اور بولی… ''اپنا فن بھول گئی ہیں۔ یہ صالح الدین ایوبی کا خوف ہے جو ان سب پر طاری ہے۔ ابھی
کھل جائیں گی''۔
صالح الدین ایوبی!'' ایک نے طنزیہ کہا… ''ہمارے جال میں وہ اب آیا ہے۔ ہم اسے اسی کے امیروں اور ساالروں سے ''
مروائیں گے''… اس نے اپنے ایک ساتھی کے کندھے پر ہاتھ مار کر کہا… ''اس کا خنجر صالح الدین ایوبی کے خون کا
پیاسا ہے۔ جانتی ہونا اسے؟ یہ حسن بن صباح کی امت سے ہے۔ فدائی!'' اس نے ایک لڑکی کے گال پر ہلکی سی تھپکی
دے کر کہا… ''ایوبی کا خوف دل سے اتار دو۔ وہ چند دنوں کا مہمان ہے''۔
تھوڑی سی دیر بعد شراب رنگ دکھانے لگی اوررقص کی فرمائش ہوئی۔ لڑکیاں صراحیوں اور پیالوں کو ادھر ادھر
کرتی اور بھرتی ان چھ آدمیوں کے پیچھے ہوگئیں۔ اچانک سب نے قمیضوں کے نیچے ہاتھ ڈالے ،خنجر نکالے ،سحر نے بھی
خنجر نکال لیا تھا۔ اس نے سرائے کے مالک پر وار کیا اور دوسریوں نے چھ آدمیوں کو پے در پے وار کرکے لڑھکا دیا۔ کسی
..کو بھی سنبھلنے کی مہلت نہ ملی۔ سحر ہر ایک پر وار پہ وار کیے جارہی تھی ،جیسے پاگل ہوگئی ہو
اس نے انتقام لے لیا۔
یہ لڑکیاں شریف گھرانوں کی بیٹیاں تھیں جو سلطان ایوبی کے پاس عرض داشت لے کر گئی تھیں کہ وہ مردوں کے دوش
بدوش لڑنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے ہی سحر کو ایک غریب گھرانے سے برآمد کیا تھا۔ اس نے جب لڑکیوں کو جنگی پیمانے پر
کام کرتے دیکھا تو اسے سرائے کے مالک کا خیال آگیا تھا۔ اس نے لڑکیوں کو بتا دیا تھا کہ سرائے کا تہہ خانہ جاسوسوں
اور تخریب کاروں کا اڈا ہے۔ ان لڑکیوں کی مدد سے وہ انہیں پکڑوانا چاہتی تھی مگر وہاں گئی تو سرائے کے مالک نے اس
کا باہر نکلنا بند کردیا۔ جاسوسوں کی اس فرمائش پر کہ نئی لڑکیاں الئو ،اسے موقع مل گیا۔ اسے نئی لڑکیاں النے کی اجازت
مل گئی۔ اس نے ان لڑکیوں سے ذکر کیا اور کہا کہ وہ نئی لڑکیاں بن کر چلیں اور ان آدمیوں کو ختم کیا جائے۔ لڑکیاں تیار
ہوگئیں ،انہوں نے سکیم بنائی اور اس کے ساتھ چلی گئیں۔ انہوں نے یہ سوچا ہی نہیں کہ ان آدمیوں کو اپنے جال میں
پھانس کر گرفتار کرایا جائے۔ اگر انہیں گرفتار کرایا جاتا تو ان سے بڑی قیمتی معلومات حاصل کی جاسکتی تھی اور ان سے
نشاندہی کروا کے ان کے کئی اور ساتھی پکڑائے جاسکتے تھے مگر لڑکیاں جوشیلی اور جذباتی تھیں۔ وہ اتنا ہی جانتی تھیں
کہ دشمن کو ہالک کیا جاتا ہے۔ وہ جذبۂ جہاد کی تسکین کرنا چاہتی تھیں اور سحر کا سینہ جذبۂ انتقام سے پھٹ رہا تھا۔
وہ انہیں اپنے ہاتھوں سے قتل کرنے کو بیتاب تھی۔ اس نے دوسری رقاصہ کو اسی لیے قتل کیا تھا کہ ان لڑکیوں کی اصلیت
بے نقاب ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ ان کی اصلیت تو بے نقاب ہو ہی چلی تھی۔ انہیں اس قسم کی غلیظ محفل کے طور
طریقوں اور شراب پالنے کے انداز سے واقفیت ہی نہیں تھی۔ انہوں نے بروقت خنجر نکال لیے اور اپنے مقصد میں کامیاب
ہوگئیں۔
وہ سب چور دروازے سے نکلیں اور اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئیں۔ ان کی رپورٹ پر کچھ دیر بعد فوج نے سرائے پر چھاپہ مارا
اور تہہ خانے میں گئے ،وہاں الشیں پڑی تھیں۔ تہہ خانے کے کمروں کی تالشی لی گئی۔ ایک کمرے سے دوسری رقاصہ کی
الش برآمد ہوئی اور سرائے کے مالک کے کمرے سے کئی ایک ثبوت ملے کہ یہ لوگ جاسوس اور تخریب کار تھے… مگر آنے
واال وقت سلطان صالح الدین ایوبی اور سلطنت اسالمیہ کے لیے تاریخ کے سب سے بڑے خطرے الرہا تھا اور سلطان ایوبی دن
رات جنگی منصوبہ بندی اور فوج کی ٹریننگ میں مصروف رہتا تھا۔
یہ قصہ یہی ختم ہوا
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:06
قسط نمبر۔70ناگوں والے قلعے کے قاتل
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دمشق میں جب سلطان صالح الدین ایوبی داخل ہوا تھا تو اس کے ساتھ سات سو سوار تھے۔ تمام مورخین نے یہی تعداد
لکھی ہے لیکن تاریخ سلطان ایوبی کے ان جانباوزں سے بے خبر ہے جن میں سے کوئی تاجروں کے بہروپ میں ،کوئی بے
ضرر مسلمانوں کے بھیس میں اور کوئی شامی فوج کے معمولی معمولی سپاہیوں کے لباس میں ایک ایک بھی ،دو دو اور چار
چار کی ٹولیوں میں بھی دمشق میں داخل ہوئے تھے۔ ان میں زیادہ تر سلطان ایوبی کے خاموش حملے سے پہلے ہی یہاں
آگئے تھے اور کچھ اس وقت داخل ہوئے تھے جب دمشق کے دروازے سلطان ایوبی کے لیے کھل گئے تھے۔ یہ جاسوسوں کا
دستہ تھا جنہیں جانباز جاسوس کہا جاتا تھا ،کیونکہ ہر قسم کی لڑائی ،ہر ہتھیار کے استعمال ،ہر طرح کی تباہ کاری کے ماہر
تھے اور دماغی لحاظ سے مستعد اور ذہین۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ جان کی پروا نہیں کرتے تھے۔ ایسے
ایسے خطرے مول لیتے تھے جن کے تصور سے ہی عام سپاہی بدک جاتے تھے۔ ایسا جذبہ صرف ٹریننگ سے پیدا نہیں ہوتا۔
اس کام کے لیے ایسے جوان منتخب کیے جاتے تھے جن کے دلوں میں اپنے مذہب کا عشق اور دشمن کی نفرت بھری ہوتی
تھی۔ یہ جانباز جنونی قسم کے مسلمان ہوتے تھے۔ سلطان ایوبی نے ایسے جانبازوں کے کئی دستے تیار کررکھے تھے۔
سلطان ایوبی جب سات سو سواروں کے ساتھ دمشق کو روانہ ہوا تھا تو اس نے منتخب لڑاکا جاسوسوں کا ایک دستہ خصوصی
ہدایات کے ساتھ دمشق کو روانہ کردیا تھا۔ ان میں ایک ہدایت یہ تھی کہ اگر دمشق کی فوج مقابلے پر اتر آئے تو یہ
جاسوس شہرکے اندر اپنی سمجھ اور ضرورت کے مطابق تخریب کاری کریں اور وہ دروازے کھولنے کی بھی کوشش کریں۔ ان
میں ایسے بھی تھے جنہیں شہریوں میں دہشت ،بھگدڑ ،افراتفری اور افواہیں پھیالنے کی ٹریننگ دی گئی تھی۔ ان تمام
جانبازوں کی تعداد دو اور تین سو کے درمیان تھی۔ اس وقت کے واقعہ نگاروں نے صحیح تعداد نہیں لکھی۔ صرف یہ لکھا ہے
کہ سلطان ایوبی کی آمد کے وقت دمشق میں دو تین سو جاسوس اور تباہ کار موجود تھے۔ ایک فرانسیسی واقعہ نگار نے
صلیبی جنگوں کے حاالت اور واقعات قلم بند کرتے ہوئے سلطان ایوبی کے لڑاکا جاسوسوں کے متعلق بہت کچھ لکھا ہے۔ اس
نے ان جانبازوں کے اسالمی جذبے کو مذہبی جنون بھی کہا ہے کہ یہ بھی کہا کہ یہ جاسوس نفسیاتی مریض تھے۔ اس
فرانسیسی نے تو مذہبی جنون کی توہین کی ہے کہ اسے نفسیاتی مریض کہا ہے لیکن یہ نفسیاتی کیفیت ہی تھی۔ مسلمان
صاحب ایمان صرف اس صورت میں بنتا ہے۔ جب مذہب اس کی نفسیات کا جز بن جاتا ہے۔
ان جانبازوں کو جاسوسی اور تباہ کاری کی ٹریننگ علی بن سفیان اور اس کے دو نائبین حسن بن عبداللہ اور زاہدان نے دی
تھی اور معرکہ آرائی کی ٹریننگ تجربہ کار فوجیوں کے ہاتھوں ملی تھی۔ اب جبکہ سلطان ایوبی دمشق میں تھا اور علی بن
سفیان قاہرہ میں تھا ،وہاں کے اندرونی حاالت پوری طرح نہیں سنبھلے تھے۔ سلطان ایوبی کی غیرحاضری ،دمشق پر اس کے
قبضے اور خالفت کی معزولی میں مصر میں صلیبی تخریب کاری کا خطرہ بڑھ گیا تھا ،اس لیے علی بن سفیان کو وہیں رہنے
دیا گیا تھا۔ دمشق میں اس کا ایک نائب حسن بن عبداللہ آیا تھا۔ وہی جاسوس جانبازوں کے دستے کا کمانڈر تھا۔ دمشق پر
سلطان ایوبی نے قبضہ کرلیا تو وہاں کی بیشتر فوج ساالر توفیق جواد کی زیرکمان سلطان ایوبی سے مل گئی تھی۔ باقی فوج
اور خلیفہ کے باڈی گارڈ دستے ،خلیفہ اور اس کے حواری امراء کے ساتھ دمشق سے بھاگ گئے تھے۔ توقع تھی کہ سلطان
ایوبی انہیں گرفتار کرنے کے لیے فوج ان کے تعاقب میں بھیجے گا لیکن اس نے ایسی کوئی حرکت نہ کی۔ دو تین ساالروں
نے اسے کہا بھی کہ ان امراء وغیرہ کو پکڑنا ضروری ہے جو بھاگ گئے ہیں۔ وہ کہیں اکٹھے ہوجائیں گے اور اطمینان سے
سلطان ایوبی کے خالف جنگی تیاری کریں گے۔
اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ صلیبیوں سے بھی مدد مانگیں گے جو انہیں مل جائے گی''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''
''لیکن میں اندھیرے میں کبھی نہیں چال۔ پہلے یہ معلوم کرنا ہے کہ وہ گئے کہاں ہیں اور ان کا مرکز کون سا بنے گا۔ آپ
لوگ پریشان نہ ہوں ،میری آنکھیں اور میرے کان بھاگنے والوں کے ساتھ ہی چلے گئے ہیں۔ وہ بدبخت اتنی جلدی حملہ کرنے
کے لیے تیار نہیں ہوسکتے۔ میں صرف یہ دیکھ رہا ہوں کہ صلیبی کیا کریں گے۔ وہ مصر پر بھی یلغار کرسکتے ہیں۔ وہ شام
پر بھی حملہ کرسکتے ہیں۔ وہ شاید اس انتظار میں ہیں کہ میں کیا کروں گا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ میری چال کے بعد اپنی چال
چلنا چاہتے ہوں۔ آپ فوج کو میری بتائی ہوئی تنظیم میں الکر ان کی تربیت اور جنگی مشقیں جاریں رکھیں''۔
٭ ٭ ٭
سلطان ایوبی نے جنہیں اپنی آنکھیں اور کان کہا تھا وہ یہی جاسوس تھے جو مصر سے یہاں آئے تھے۔ ان میں سے کچھ
ایسے بھی تھے جو انہی عالقوں کے رہنے والے تھے ،جب الملک الصالح اور اس کے امراء اور وزراء دمشق سے بھاگے تو ان
کے ساتھ سلطان ایوبی کے بہت سے جاسوس بھی چلے گئے تھے۔ بھاگنے والوں کی تعداد کم نہیں تھی۔ تمام امراء اور وزراء
اور کئی ایک جاگیرداروں اور حاکموں کا عملہ بھی تھا ،فوج کی بھی کچھ نفری تھی اور بڑوں کے خوشامدی لوگ بھی تھے۔
یہ تتر بتر ہوکر بھاگے تھے۔ ان کے ساتھ جاسوسوں کا چلے جانا آسان تھا۔ یہ جاسوس اس مشن پر ساتھ گئے تھے کہ
دیکھیں الصالح اور اس کے پالنے والے امراء کیا جوابی کارروائی کریں گے اور انہیں صلیبیوں کی کتنی ،کچھ اور کیسی مدد
حاصل ہوگی۔ یہ جاسوس جو دمشق سے باہر گئے تھے حسن بن عبداللہ کے خصوصی منتخب افراد تھے۔ وہ اس صورتحال کے
سیاسی پس منظر کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔
ان میں ایک ماجد بن محمد حجازی تھا۔ خوبرو جوان ،جسم نہایت موزوں اور گٹھا ہوا اور اسے خدا نے زبان کی ایسی
چاشنی دی تھی جس میں طلسماتی اثر تھا۔ تقریبا ً ہر جاسوس کی شکل وصورت اور اوصاف ایسے ہی تھے لیکن ماجد بن
محمد ان سب سے برتر لگتا تھا۔ ان جاسوسوں کی اتنی اچھی صحت کا راز غالبا ً یہ تھا کہ انہیں کسی قسم کے نشے کی
عادت نہیں تھی اور وہ عیاشی کو بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ ان کے اخالق میں جو پختگی تھی ،اس نے ان میں فوالد
جیسی قوت ارادی پیدا کررکھی تھی۔ ان کا قول وفعل مذہب کا پابند تھا۔ ماجد حجازی اپنے ساتھیوں کی طرح اس فوالدی
کردار کا نمونہ تھا اور روح کی جو پاکیزگی تھی اس نے اس کے چہرے کو حسین بنا رکھا تھا۔ وہ دمشق سے بھاگا جارہا تھا۔
اعلی نسل کا گھوڑا تھا۔ اس کے پاس تلوار تھی اور گھوڑے کی زین کے ساتھ چمکتی ہوئی انی والی
اس کے نیچے عرب کی
ٰ
برچھی تھی۔
وہ ویرانے میں اکیال جارہا تھا۔ اس نے حلب کی سمت جاتے ہوئے بہت سے لوگوں کو دیکھا تھا۔ اسے کوئی ایک بھی ایسا
نظر نہیں آیا تھا جس کے ساتھ وہ جائے۔ وہ اپنے لیے کوئی ہمسفر ڈھونڈ رہا تھا جو اس کے مشن کے لیے سود مند ہوسکے۔
اعلی افسر ہوسکتا تھا یا کوئی ایسا امیر جسے الملک الصالح کا قرب حاصل ہوتا۔ اس کی سراغ
ایسا ہمسفر فوج کا کوئی
ٰ
رساں آنکھیں الصالح کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ اس نے چند ایک لوگوں سے پوچھا بھی تھا کہ وہ کس طرف گیا ہے مگر اسے
الصالح کا کوئی سراغ نہیں مال تھا۔ اسے معلوم تھا کہ الملک الصالح نورالدین زنگی مرحوم کی عمر یا اس کی خوبیوں جیسا
کوئی آدمی نہیں بلکہ وہ گیارہ سال کی عمر کا بچہ ہے جسے مفادپرست امراء نے اپنے مقاصد کے لیے سلطنت کی گدی پر
بٹھایا ہے اور عمال ً حکمران یہ امراء خود بنے ہوئے ہیں۔ وہ تصور میں السکتا تھا کہ وہ بچہ اکیال نہیں جارہا ہوگا۔ اس کے
ساتھ امیروں ،وزیروں اور درباریوں کا قافلہ ہوگا اور اس قافلے کے ساتھ زروجواہرات اور مال ودولت سے لدے ہوئے اونٹ ہوں
گے۔
ماجد حجازی نے سوچا تھا کہ یہ قافلہ اسے نظر آگیا تو وہ الملک الصالح کا مرید بن کر قافلے میں شامل ہوجائے گا۔ یہ
کامیابی حاصل ہونے کی صورت میں اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ اسے کیا کرنا ہے اور سینوں سے راز کس طرح نکالنے ہیں
مگر اسے اپنے شکار کا کوئی سراغ نہ مال۔ آگے چٹانی عالقہ آگیا۔ جہاں ہریالی بھی تھی۔ ذرا سستانے کے لیے وہ چٹانوں
کے اندر چال گیا… ایک جگہ اسے دو گھوڑے نظر آئے۔ ان سے ذرا پرے ہری بھری گھاس پر ایک آدمی لیٹا ہوا تھا اور اس
کے ساتھ ایک عورت تھی۔ وہ سوئے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ وہ ذرا فاصلے پر رک گیا اور گھوڑے سے اتر کر ایک درخت کے
نیچے لیٹ گیا۔ ایک گھوڑا ہنہنایا تو وہ آدمی اٹھ بیٹھا۔ لباس سے وہ اونچے درجے کا فرد معلوم ہوتا تھا۔ اس نے ماجد
حجازی کو دیکھا تو اسے اپنے پاس بالیا۔ ماجد اس کے پاس چال گیا اور اس سے ہاتھ مالیا۔ عورت بھی اٹھ بیٹھی۔ وہ
عورت نہیں ،جوان لڑکی تھی اور بہت خوبصورت تھی۔ اس کے گلے کا ہار بتا رہا تھا کہ یہ لوگ معمولی حیثیت کے نہیں۔
اس آدمی کی عمر چالیس کے لگ بھگ تھی اور لڑکی پچیس سال سے کم لگتی تھی۔ ماجد نے ان دونوں کو ایک نظر میں
بھانپ لیا۔
''تم کون ہو؟'' اس آدمی نے ماجد سے پوچھا… ''دمشق سے آئے ہو؟''
میں دمشق سے ہی آیا ہوں'' ماجد نے جواب دیا… ''لیکن میں یہ نہیں بتا سکتا کہ میں کون ہوں۔ آپ کیسے سفر میں''
''ہیں؟
غالبا ً ہم ایک ہی سفر کے مسافر ہیں''۔ اس آدمی نے مسکرا کر کہا… ''تم شریف آدمی معلوم ہوتے ہو''۔''
کیا آپ یقین کرنا چاہتے ہیں کہ میں شریف ہوں یا بدمعاش؟'' ماجد حجازی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ اس نے کہا… ''
'' جس کے ساتھ اتنی حسین لڑکی ہو اور لڑکی کے گلے میں اتنا قیمتی ہار ہو اور ساتھ مال اور دولت بھی ہو ،وہ ہر راہی
کو بدمعاش اور ڈاکو سمجھتا ہے۔ میں ڈاکو نہیں ہوں۔ آپ کو ڈاکوئوں سے بچا ضرور سکتا ہوں ،خواہ میری جان چلی
جائے''… اس کے دماغ میں اچانک ایک بات آگئی ہو جو اس نے تیر کی طرح منہ سے نکال دی۔ اس نے کہا… ''دمشق
سے بھاگے ہوئے کچھ لوگ ڈاکوئوں کا شکار ہوگئے ہیں۔ میں نے راستے میں دو الشیں بھی دیکھی ہیں۔ یہ موقعہ ڈاکوئو ں
کے لیے نہایت اچھا ہے کہ لوگ مال ودولت کے ساتھ دمشق سے بھاگ رہے ہیں''۔
لڑکی کا اتنا دلکش رنگ اڑ گیا۔ وہ اپنے آدمی کے ساتھ لگ گئی۔ کچھ ایسی ہی حالت آدمی کی ہوگئی۔ ماجد حجازی جان
گیا کہ یہ کون ہیں اور کیا ہیں۔ ان پر خوف وہراس غالب کرکے اس نے اپنی زبان کے کرشمے دکھانے شروع کردئیے۔ اس نے
صالح الدین ایوبی کو برا بھال کہا اور سلطان الملک الصالح کی مدح سرائی یوں کی جیسے وہ زمین وآسمان کا واحد برگزیدہ
انسان ہو۔ ماجد نے اس پر دہشت کا غلبہ اور زیادہ پختہ کرنے کے لیے کہا… ''صالح الدین ایوبی نے دمشق سے بھاگے ہوئے
آپ جیسے لوگوں کو لوٹنے اور ان سے جوان بیٹیاں اور بیویاں چھیننے کے لیے اپنی فوج کے دستے ادھر بھیج دئیے ہیں… یہ
''لڑکی آپ کی کیا لگتی ہے؟
یہ میری بیوی ہے''۔''
اور دمشق میں آپ کتنی بیویاں چھوڑ آئے ہیں؟'' ماجد حجازی نے پوچھا۔''
چار''۔''
خدا کرے یہ پانچوں خیریت سے آپ کے ساتھ منزل پر پہنچ جائیں''۔ ماجد نے کہا۔''
''ایوبی کی فوج کتنی دور ہے؟'' اس آدمی نے پوچھا… ''تم نے سپاہیوں کو لوٹ مار کرتے دیکھا ہے؟''
ہاں دیکھا ہے''۔ ماجد حجازی نے کہا… ''اگر میں آپ سے کہوں کے میں بھی صالح الدین ایوبی کی فوج کا سپاہی ہوں''
''تو آپ کیا کریں گے؟
وہ کانپنے لگا۔ مسکرایا بھی مگر مسکراہٹ غائب ہوگئی۔ اس نے کہا… ''میں تمہیں کچھ دے دوں گا اور تم سے التجا کروں
گا کہ مجھے کنگال نہ کرو اور میں تم سے یہ التجا بھی کروں گا کہ اس بے چاری کو میرے ساتھ رہنے دو''۔
ماجد حجازی نے قہقہہ لگایاا ورکہا… ''دولت اور عورت سے زیادہ محبت انسان کو بزدل اور کمزور بنا دیتی ہے اگر مجھے
کوئی کہے کہ جو کچھ پاس ہے ،وہ میرے حوالے کردو تو میں تلوار کھینچ کر اسے کہوں گا کہ پہلے مجھے قتل کرو ،پھر
میری الش سے تمہیں جو کچھ ملے وہ لے جانا… محترم! مجھے یہ بتائیں کہ آپ کو ن ہیں؟ دمشق میں آپ کیا تھے؟ اور
اب آپ کہاں جارہے ہیں؟ اگر آپ نے سچ بتا دیا تو ہوسکتا ہے کہ آپ کو مجھ سے زیادہ مخلص اور جانباز محافظ نہ ملے۔
معلوم ہوتا ہے کہ ہماری منزل ایک ہے۔ میں ایوبی کی فوج کا سپاہی ضرور ہوں لیکن بھگوڑا ہوں''۔
اس آدمی نے اپنے متعلق سب کچھ بتا دیا۔ دمشق کے مضافاتی عالقے کا جاگیردار تھا۔ اسے سرکار کے دربار میں ایسی
سرکاری حیثیت بھی حاصل تھی کہ سلطنت کی شہری اور جنگی پالیسیوں میں بھی اس کا عمل دخل تھا۔ سلطان کے باڈی
گارڈ دستے کے زیادہ تر سپاہی اسی کے دئیے ہوئے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیں کہ وہ سلطنت کے باالئی حلقے کا
اہم قسم کا درباری تھا۔ اسے گھر سے نکلتے ذرا دیر ہوگئی تھی۔ الصالح نے اپنے تمام حاشیہ برداروں سے کہا تھا کہ وہ
حلب پہنچ جائیں۔ چنانچہ یہ جاگیردار حلب جارہا تھا۔ اس نے یہ بھی بتا دیا کہ وہ بہت سے زروجواہرات ساتھ لے جارہا
ہے۔ چار بیویاں پیچھے چھوڑ آیا ہے۔ یہ چونکہ سب سے چھوٹی اور خوبصورت تھی اس نے بڑے افسوس کے ساتھ ذکر کیا کہ
اس کے محافظ اور تمام مالزم دمشق میں ہی اس کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ انہوں نے اس کا گھر لوٹ لیا ہوگا۔ یہ اس کی
اپنی ہمت تھی… کہ وہ بروقت اپنا بیش قیمت خزانہ لے کر نکل آیا۔ وہ اب الصالح کے پاس جارہا تھا۔
ماجد حجازی کو اس کی داستان سن کر خوشی ہوئی۔ یہ جاگیردار اس کے کام کا آدمی تھا۔ اس کے ساتھ وہ حلب کے دربار
تک پہنچ سکتا تھا۔ اس نے اپنے متعلق بتایا کہ وہ اس سوار دستے کا کمان دار تھا جو سلطان الدین ایوبی اپنے ساتھ دمشق
الیا تھا لیکن وہ الصالح کا مرید ہے۔ اس لیے وہ اس کے خالف ہاتھ نہیں اٹھا سکتا۔ اس عقیدت مندی کا نتیجہ ہے کہ وہ
ایوبی کی فوج سے بھاگ آیا ہے اور سلطان کے دربار میں جارہا ہے۔ اگر اس نے پسند کیا تو وہ اس کے محافظ دستے میں
شامل ہوجائے گا۔
اگر میں ابھی سے تمہیں اپنا محافظ بنا لوں تو تمہاری اجرت کی شرائط کیا ہوں گی؟'' اس نے ماجد حجازی سے پوچھا۔''
'' میں جیسے دمشق میں بادشاہ تھا ،اسی طرح وہاں بھی بادشاہ ہوں گا ،جہاں جارہا ہوں۔ میرے محافظ بن کر تمہیں افسوس
نہیں ہوگا''۔
اگر آپ مجھے اپنا محافظ بنائیں گے تو آپ کو فوجی مشیر کی ضرورت نہیں پڑے گی''۔ ماجد حجازی نے اسے ''
کہا…''میری اجرت آپ میری قابلیت دیکھ کر خود ہی مقرر کردیں گے۔ میں ابھی کچھ نہیں بتائوں گا''۔
ماجد حجازی اس کا باڈی گارڈ بن گیا۔ یوں کہیے کہ ایک درباری جاگیردار کے ساتھ سلطان ایوبی کا ایک جاسوس لگ گیا۔
اس جاگیردار کے پاس بے اندازہ زروجواہرات تھے جو اس نے ایسے سامان میں چھپا رکھے تھے جو بظاہر معمولی سا تھا۔
اسے فوری طور پر ایک محافظ کی ضرورت تھی۔ ماجد کے ڈرانے سے یہ ضرورت اور شدید ہوگئی تھی۔ اس وقت سورج غروب
ہورہا تھا اور فضا خنک ہونے لگی تھی۔ ماجد کے مشورے پر انہوں نے وہیں قیام کیا… رات گزر گئی تو جاگیردار کو یقین آگیا
کہ ماجد قابل اعتماد آدمی ہے۔
٭ ٭ ٭
لمبی مسافت کے بعد وہ حلب پہنچے۔ اس وقت حلب کا امیر شمس الدین تھا جس نے تھوڑا ہی عرصہ پہلے صلیبیوں کو
تاوان دے کر ان سے صلح کرلی تھی۔ الملک الصالح دمشق سے بھاگ کر وہاں پہنچ چکا تھا۔ اس کے تمام امراء وزراء اس
کے ساتھ تھے اور اس کے باڈی گارڈ کے دستے بھی وہاں پہنچ رہے تھے۔ الصالح نے حلب کی امارت پر قبضہ کرلیا تھا اور
اس کے امراء وغیرہ فوج کو نئے سرے سے منظم کرنے لگے تھے۔ صورتحال ایسی تھی کہ فوج کو ہر اس آدمی کی ضرورت
تھی جس میں تھوڑی سی جنگی سوجھ بوجھ ہو۔ الملک الصالح کے پاس سونے اور خزانے کی کمی نہیں تھی ،کمی فوج،
کمانڈروں اور مشیروں کی تھی۔ وہ اور اس کا ٹولہ سلطان ایوبی کے خالف لڑنے اور خالفت بحال کرنے کو بیتاب تھا۔ ان کی
بیتابیوں سے یوں پتا چلتا تھا جیسے ان کے دشمن صلیبی نہیں سلطان ایوبی ہے۔ انہوں نے خلیفہ کی مہر کے ساتھ ادھر ادھر
کے امراء میں حمص ،حماة اور موصل کے حکمران خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ کسی کی طرف سے امید افزا جواب مال اور
کسی نے تعاون کا صرف وعدہ کیا۔
یہ جاگیردار حلب پہنچا تو الصالح نے اسے خوش آمدید کہا۔ وہ بھی الصالح کی جنگی مجلس مشاورت کا اہم رکن تھا۔ اسے
حلب میں ایک مکان دے دیا گیا۔ وہ آتے ہی اس قدر مصروف ہوگیا کہ صبح کا گیا ،آدھی رات کو گھر آتا تھا۔ اس کی
غیرحاضری میں اس کی بیوی ماجد حجازی میں دلچسپی لینے لگی۔ ماجد نے اس کے ساتھ ایسی بے تکلفی پیدا کرلی جس
میں بدنیتی کا شائبہ تک نہ تھا۔ ماجد نے پروقار انداز اختیار کیے رکھا جس سے لڑکی متاثر ہوئی اور وہ جیسے بھول ہی
گئی ہو کہ ماجد اس کے خاوند کا محافظ ہے۔ ماجد اپنے مشن پر کام کررہا تھا۔ اس نے دوتین دنوں میں لڑکی کے دل پر
قبضہ کرلیا۔ اس نے لڑکی سے پوچھا کہ اس کے خاوند کی باقی چار بیویاں کیسی تھیں۔ اس نے بتایا کہ کوئی ایسی بری تو
نہیں تھی۔ اس شخص نے انہیں پرانی سمجھ کر دھوکہ دیا اور اس لڑکی کو ساتھ لے کر بھاگ آیا۔
اور ایک روز یہ تمہیں بھی چھوڑ کر کسی اور کو لے آئے گا''… ماجد حجازی نے کہا… ''ان امیروں کا یہ شغل ہے''۔''
اگر تمہیں دل کی بات بتا دوں تو میرے خاوند کو تو نہیں بتا دو گے؟''… لڑکی نے پوچھا… ''مجھے دھوکہ تو نہیں دو ''
''گے؟
اگر میری فطرت میں دھوکہ اور فریب ہوتا تو میں تمہارے خاوند کو وہیں جہاں میں تمہیں مال تھا ،آسانی سے قتل کرکے ''
تم پر اور تمہارے مال ودولت پر ہاتھ صاف کرسکتا تھا''۔ ماجد نے کہا… ''میں مرد ہوں ،عورت کو فریب دینا مرد کی شان
کے خالف ہے''۔
میں اب اس راز کو اپنے دل میں زیادہ دیر نہیں رکھ سکتی کہ مجھے تم سے ایسی محبت ہے جس پر میرا قابو نہیں ''
رہا''۔ لڑکی نے کہا… ''اور یہ بھی ایک راز ہے کہ مجھے اس خاوند سے نفرت ہے۔ میں بکی ہوئی لڑکی ہوں۔ کئی بار دل
میں آیا ہے کہ اپنے آپ کو ختم کردوں۔ میں شاید بزدل ہوں۔ اپنی جان لینے سے ڈرتی ہوں۔ میرے ارادے کچھ اور تھے،
میرے خیاالت کچھ اور تھے۔ تم نے میرے ارادوں اور خیالوں پر مٹی ڈال دی ہے اور میرا یہ ارادہ پکا کردیا ہے کہ اپنے آپ
کو ختم کردوں''۔
''کیا تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے ،اس لیے خودکشی کرنا چاہتی ہو؟''
نہیں!'' لڑکی نے کہا… ''میرے ذہن میں صالح الدین ایوبی کا تصور نورالدین زنگی سے زیادہ مقدس اور پیارا تھا۔ تم نے ''
''اس تصور کو توڑ پھوڑ دیا ہے۔ کیا صالح الدین ایوبی اتنا ہی برا ہے ،جتنا تم نے بتایا ہے؟
میں تمہارے راز کو اپنا راز سمجھوں گا''۔ ماجد حجازی نے کہا… ''اس کے عوض تمہیں اپنا ایک راز دیتا ہوں۔ میں تم ''
سے کوئی وعدہ نہیں لوں گا کہ میرے راز کی حفاظت کرنا۔ اگر میرا راز فاش ہوگیا تو نہ تم زندہ ہوگی ،نہ تمہارا خاوند… میں
صالح الدین ایوبی کا جاسوس ہوں۔ میں نے دوچار دنوں میں پھانپ لیا ہے کہ تم اصل میں کیا ہو۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ
صالح الدین ایوبی کا تصور اس سے کہیں زیادہ مقدس ہے جو تم نے اپنے ذہن میں بنا رکھا ہے۔ وہ ان امیروں اور بادشاہوں
کا دشمن ہے جنہوں نے لڑکیوں کو اپنے حرموں میں قید کررکھا ہے۔ وہ اس کے سخت خالف ہے کہ مرد عورت کو صرف
تفریح اور عیاشی کا ذریعہ بنائے۔ وہ مرد اور عورت کی برابری کا اور ایک خاوند اور ایک بیوی کا قائل ہے۔ وہ عورتوں کو
فوجی تربیت دینا چاہتا ہے۔ میں نے تمہارے خاوند کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے جھوٹ بوال تھا کہ ایوبی نے اپنی فوج کے
چند دستوں کو دمشق سے بھاگنے والوں کو لوٹنے اور ان کی لڑکیوں کو اٹھا النے کے لیے بھیجا ہے۔ وہ سچے اسالم کا
علمبردار ہے۔ میں اسی اسالم کی خاطر اور اسی صالح الدین ایوبی کی خاطر یہاں ایک کام کے لیے آیا ہوں''۔
لڑکی کی آنکھوں میں چمک سی پیدا ہوئی۔ اس نے ماجد حجازی کا ایک ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر چوم لیا اور
کہا… '' تمہارا یہ راز کبھی فاش نہ ہوگا۔ مجھے مت بتائو کہ تم یہاں کیوں آئے ہو اور میں تمہاری کیا مدد کرسکتی ہوں؟
مجھے مت بتائو کے صالح الدین ایوبی اصل میں کیا ہے اور تم نے میرے خاوند کو کیا بتایا تھا۔ میں عورتوں کی اس
جماعت کی لڑکی تھی جو نورالدین زنگی کی زندگی میں ہم نے بنائی تھی۔ ہم صلبیوں کے خالف اپنا محاذ قائم کررہی تھیں۔
زنگی کی بیوہ ہماری سرپرست اور نگران تھی۔ میرا باپ پسند نہیں کرتا تھا کہ میں اس جماعت میں رہوں۔ وہ اللچی اور
خوشامدی انسان ہے۔ اس کے لیے صلیب اور ہالل میں کوئی فرق نہیں۔ وہ اسی کا غالم ہے جس سے اسے کچھ رقم ہاتھ
آجائے۔ اس نے مجھے اس آدمی کے ہاتھ بیچ دیا۔ اس سودے کو لوگ شادی کہتے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ مسلمان کی بچی
میدان جنگ میں ہو یا اسے کوئی بھی جنگی اور قومی کام دے دو تو وہ مردوں کو حیران کردیتی ہے اور دشمن کا منہ پھیر
سکتی ہے مگر یہی بچی جب حرم میں قید کرلی جاتی ہے تو چینٹی بن جاتی ہے۔ یہی حالت میری ہوئی۔ اگر میرا یہ
خاوند معمولی حیثیت کا ہوتا تو میں بغاوت کرتی۔ اس سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتی مگر اس آدمی کے پاس
طاقت ہے ،دولت ہے اور الصالح کا جو محافظ دستہ ہے ،اس کے آدھے سپاہی اس کے عالقے کے ہیں جو اس کے بھرتی
…کرائے ہوئے ہیں
میں چونکہ اس کی پہلی بیویوں سے زیادہ جوان اور خوبصورت ہوں ،اس لیے میں ہی اس کا کھلونا بن گئی۔ میری روح
مرگئی ،میرا صرف جسم زندہ رہا۔ باہر کی دنیا سے میرا رشتہ ٹوٹ چکا تھا اور میں جس دنیا میں قید تھی ،وہاں شراب اور
ناچ گانے کے سوا کچھ نہ تھا۔ اگر کچھ اور تھا تو وہ نورالدین زنگی اور صالح الدین ایوبی کے قتل کے منصوبے تھے''… وہ
بولتے بولتے چپ ہوگئی۔ اس نے ماجد حجازی کو جھنجھوڑ کر کہا… ''کیا تم میری باتیں سن رہے ہو؟ میں نے یہ یقین کیے
بغیر کہ تم صالح الدین ایوبی کے جاسوس ہو یا میرے خاوند کے ،تمہیں اپنے دل کی باتیں سنا رہی ہوں۔ اگر میرے خاوند کے
جاسوس ہو تو اسے یہ ساری باتیں سنا دینا جو میں تمہیں سنا رہی ہوں۔ وہ مجھے سزا دے گا۔ میں اب ہر قسم کی سزا
برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں۔ میرے پاس اب جسم رہ گیا ہے۔ یہ جسم پتھر بن گیا ہے۔ روح مرگئی ہے''۔
تمہاری روح زندہ ہے''۔ ماجد حجازی نے کہا… ''میری نگاہیں گہرائیوں سے زیادہ گہرائی تک دیکھ لیا کرتی ہیں۔ میں نے''
دیکھ لیا تھا کہ تمہاری روح زندہ ہے ،ورنہ میں اپنا راز کبھی تمہارے آگے نہ کھولتا۔ میں حسن اور جوانی سے مغلوب ہونے
واال انسان نہیں ہوں ،مرد ہوں۔ اپنی جان اسالم کے نام پر وقف کردی ہے۔ تم بولو۔ اپنا دل ہلکا کرتی جائو ،میں سن رہا
ہوں ،تمہاری داستان میرے لیے نئی نہیں۔ یہ ہر مسلمان عورت کی داستان ہے۔ اسالم کا زوال اسی روز شروع ہوگیا تھا جس
روز ایک مسلمان نے حرم کھوال اور اس میں خوبصورت لڑکیاں خرید کر قید کی تھیں۔ صلیبیوں نے کہا کہ اب اس قوم کو
عورت کے ہاتھوں مروائو۔ انہوں نے ہمارے بادشاہوں کے حرم اپنی بیٹیوں سے بھر دئیے ہیں''۔
یہ میرے خاوند کے گھر میں بھی ہوا''۔ لڑکی نے کہا… ''میں نے اپنی آنکھوں سے صلیبی لڑکیوں کو اپنے خاوند کے ''
پاس آتے اور شراب پیتے دیکھا ہے۔ میں سوائے رونے کے اور کرہی کیا سکتی تھی۔ میں اس لیے نہیں روتی تھی کہ ان
لڑکیوں نے مجھ سے میرا خاوند چھین لیا ہے ،بلکہ اس لیے کہ مجھ سے میرا اسالم چھن گیا تھا ،وہ اسالم جس کی خاطر
میں نے تمہاری طرح اپنی جان وقف کی تھی''۔
آئو جذباتی باتوں سے ہٹ کر اس کام کی باتیں کریں جس کے لیے میں یہاں آیاہوں''۔ ماجد نے کہا اور اس سے پوچھا…''
''''اپنے خاوند پر تمہاراکتنا کچھ اثر ہے؟ کیا تم اس کے دل سے راز کی باتیں نکال سکتی ہو؟
شراب کے دو پیالے پال کر اور اس کا سر اپنے سینے سے لگا کر میں اس سے ہر راز لے سکتی ہوں''۔ لڑکی نے جواب''
دیا… ''تم کیا معلوم کرنا چاہتے ہو؟''… اس نے کچھ سوچ کر اور مسکرا کر کہا… ''میری ایک ذاتی شرط مان لو گے؟…
''اگر میں تمہارا کام کردوں تو مجھے یہاں سے لے جائو گے؟ میری محبت کو ٹھکرا تو نہیں جائو گے؟
ماجد حجازی نے اس کا دل رکھ لیا اور اس کی شرط مان لی۔ اس نے اسے بتایا کہ ''الصالح گیارہ سال کا بچہ ہے۔ وہ
امیروں کے ہاتھ میں کھلونا ہے۔ یہ امیر اور وزیر صالح الدین ایوبی کو ختم کرکے سلطنت اسالمیہ کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا
چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہوگیاتو ان ٹکڑوں کو صلیبی ہضم کرجائیں گے اور اسالم کا نام ونشان مٹ جائے گا۔ سلطان صالح الدین
ایوبی کہتا ہے کہ جس قوم نے اپنے ملک کے ٹکڑے کیے ،وہ کبھی زندہ نہیں رہیں۔ ہمارے یہ امیر صلیبیوں تک سے مدد
لینے کو تیار ہیں۔ صلیبی انہیں ضرور مدد دیں گے اور اس کے عوض وہ انہیں اپنا محکوم بنائیں گے۔ میں یہ معلوم کرنے آیا
ہوں کہ خلیفہ کے ہاں کیا منصوبے بن رہے ہیں اور صلیبی انہیں کیا مدد دے رہے ہیں۔ مجھے یہ خبر جلدی صالح الدین ایوبی
تک پہنچانی ہے تاکہ اس کے مطابق کارروائی کی جائے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ سلطان ایوبی بے خبری میں صلیبیوں کے
حملے کی زد میں آجائے''۔
کیا صالح الدینایوبی مسلمان امیروں پر حملہ کرے گا؟'' لڑکی نے پوچھا۔''
اگر ضرورت پڑی تو وہ دریغ نہیں کرے گا''۔''
لڑکی بہت ہی جذباتی تھی اور وہ ذہین بھی تھی۔ اس کے آنسو نکل آئے۔ اس نے کہا… ''اسالم کو یہ دن بھی دیکھنے
تھے کہ ایک رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت آپس میں لڑے گی''۔
تعالی کا سپاہی ہے۔ وہ''
اس کے سوا کوئی اور عالج نہیں''۔ ماجد حجازی نے کہا… ''صالح الدین ایوبی بادشاہ نہیں ،اللہ
ٰ
کہتا ہے کہ ملک اور قوم کو خطروں اور تباہی سے بچانے کا فرض فوج کے سپرد ہے۔ یہ خطرہ باہر کے دشمن کا ہو یا اندر
کے غداروں اور مفادپرست حکمرانوں کا ،ان سے ملک اور قوم کو بچانا سپاہی کا فرض ہے۔ وہ کہتا ہے کہ وہ فوج کو
حکمرانوں کے ہاتھوں میں کھلونا نہیں بننے دے گا۔ فوج حکمرانوں کی آلۂ کار بنی ہوئی ہے۔ وہ مسلمان کافروں سے زیادہ
خطرناک ہوتا ہے جو کافروں کو دوست سمجھ کر انہیں اپنی جڑوں میں بٹھاتا ہے… اب تمہارا کام یہ ہے کہ اپنے خاوند سے
یہ راز لو کہ یہاں کیا منصوبہ بن رہا ہے''۔
میں راز بھی دوں گی اور دعا بھی کروں گی کہ جب تم یہاں سے دمشق جائو تو تمہارے ساتھ یہ راز بھی ہو اور میں ''
بھی ہوں'' ۔ لڑکی نے کہا۔ ''تریپولی کے صلیبی بادشاہ ریمانڈ کی طرف ایک ایلچی اس درخواست کے ساتھ بھیج دیا گیا ہے
کہ وہ الصالح کی مدد کو آئے''۔ دوسرے ہی دن لڑکی نے ماجد حجازی کو بتایا…''میں نے رات کو شراب پال کر صالح
الدین ایوبی کے خالف بہت باتیں کیں اور اس سے کہا کہ تم لوگ بزدل ہو جو دمشق سے بھاگ کر حلب میں آن پناہ لی
ہے۔ کوئی مسلمان حکمران کی یہ توہین برداشت نہیں کرسکتا جو صالح الدین ایوبی نے کی ہے''… ایسی بہت باتیں کیں تو
بھڑک اٹھا اور بوال… ''ایوبی چند دنوں کا مہمان ہے ،فدائی قاتلوں کے مرشد شیخ سنان سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ
وہ صالح الدین ایوبی کے قتل کا بندوبست کرے اور منہ مانگا انعام لے۔ وہ اپنے تجربہ کار آدمی دمشق بھیج رہا ہے''… اس
نے یہ بھی بتایا کہ اپنی فوج کی تیاری کے لیے بہت وقت مل جائے گا کیونکہ سردیوں کا موسم شروع ہوگیا ہے۔ پہاڑی
عالقوں میں برف پڑنے لگے گی۔ سلطان صالح الدین ایوبی صحرائی فوج کو اتنی سردی اور برف میں نہیں لڑا سکے گا۔
یہ ابتداء تھی۔ شراب اور عورت ایک مرد کے سینے سے راز نکلوا رہی تھی۔ لڑکی نے ہر رات خاوند سے دن بھر کی
کارگزاری معلوم کرنی شروع کردی اور یہ راز ماجد حجازی کے سینے میں محفوظ ہوتے گئے۔ ایک روز خاوند نے ماجد سے
کہا… '' مجھے مالزموں نے تمہارے متعلق ایک قابل اعتراض بات بتائی ہے''… ماجد کانپ اٹھا۔ وہ سمجھا کہ اس کا بھانڈہ
پھوٹ گیا ہے مگر خاوند نے کہا… ''تم میری بیوی کو ورغال رہے ہو ،میری غیرحاضری میں تم اس کے پاس بیٹھے رہتے ہو۔
میں جانتا ہوں کہ میرے مقابلے میں تم خوبرو ہو اور جوان بھی ہو۔ میری بیوی تمہیں پسند کرسکتی ہے مگر میں تمہیں زندہ
نہیں چھوڑوں گا''۔
ماجد حجازی نے اسے یقین دالنے کی کوشش کی کہ یہ اس کی غلط فہمی ہے لیکن اس کے دل میں وہم پیدا ہوچکا تھا۔
اس نے اپنی بیوی سے بھی یہی بات کہی اور اس پر پابندی عائد کردی کہ وہ ماجد حجازی سے نہیں مل سکتی۔
ماجد حجازی ابھی وہاں سے نکلنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ اسے ابھی وہاں کا پورا منصوبہ نہیں مال تھا۔ اس نے لڑکی کے خاوند
کی ڈانٹ ڈپٹ سہہ لی اور اس کی دھمکیوں سے اپنے اوپر مصنوعی خوف کی کیفیت بھی طاری کرلی۔ اس کی منت سماجت
بھی کی۔ اس شخص نے اسے معاف تو کردیا لیکن اسی روز چھ باڈی گارڈ لے آیا۔ اس دور میں امیر کبیر لوگ اپنے گھر میں
باڈی گارڈ رکھنے کو عزت کی نشانی سمجھتے تھے۔ اس آدمی نے ماجد حجازی سمیت سات باڈی گارڈ رکھ لیے اور ان میں
سے ایک کو کمانڈر بنا دیا۔ اس کمانڈر نے ماجد کو یہ خصوصی حکم سنایا کہ وہ چونکہ آقا کی نظروں میں مشتبہ ہے ،اس
لیے وہ مکان کے دروازے تک بھی نہیں جاسکتا اور رات کو تھوڑی سی دیر کے لیے بھی غیرحاضر نہیں ہوسکتا۔ ماجد نے اس
حکم کے آگے بھی سر تسلیم خم کردیا اور اس نے ایسا رویہ اختیار کرلیا جیسے مرگیا ہو۔
دو تین راتیں ہی گزری ہوں گی ،آدھی رات کے وقت یہ لڑکی باہر نکلی۔ بڑے دروازے پر ایک باڈی گارڈ پہرے پر کھڑا تھا۔
لڑکی نے اس سے آقائوں کے جالل اور رعب سے پوچھا… ''تم یہیں کھڑے رہتے ہو یا مکان کے اردگرد چکر بھی لگاتے
ہو؟''… اس نے کچھ جواب دیا تو لڑکی نے کہا… ''تم نئے آدمی ہو۔ ہمارے دمشق والے محافظ بہت ہوشیار اور چوکس تھے۔
تم اگر یہاں نوکری کرنا چاہتے ہو تو تمہیں اسی طرح ہوشیار اور چوکس بننا پڑے گا۔ آقا بڑی سخت طبیعت کے مالک
ہیں''۔ پہرہ دار نے احترام سے سر جھکا لیا۔
لڑکی باڈی گارڈوں کو دیکھنے نکلی تھی۔ وہ ان دو خیموں کی طرف چل پڑی جن میں دوسرے باڈی گارڈ سوئے ہوئے تھے۔
دروازے والے پہرہ دار نے دوڑ کر کمانڈر کو جگا دیا اور بتایا کہ مالکہ معائنے کے لیے آئی ہے۔ کمانڈر گھبرا کر اٹھا اور لڑکی
کے آگے جھک گیا۔ لڑکی نے اسے بھی ہدایات دیں اور ایک خیمے کے آگے رک کر بلند آواز سے باتیں کرنے لگی۔ ماجد
حجازی اسی خیمے میں سویا ہوا تھا۔ اس کی آنکھ کھل گئی۔ وہ باہر آگیا۔ لڑکی نے اس سے یوں بات کی جیسے اسے
اچھی طرح جانتی ہی نہ ہو۔ اس سے پوچھا… ''تم شاید پہلے والے محافظ ہو؟''… ماجد نے تعظیم سے جواب دیا تو لڑکی
نے کمانڈر سے کہا… ''اس آدمی کو جلدی تیار کرو ،یہ میرے ساتھ قصر سلطنت تک جائے گا۔ دو گھوڑے فورا ً تیار کرو''۔
اگر آقا آپ کے متعلق پوچھیں تو میں کیا جواب دوں؟'' کمانڈر نے پوچھا۔''
میں سیر سپاٹے کے لیے نہیں جارہی''۔ لڑکی نے تحکمانہ لہجے میں کہا… ''آقا کے ہی کام سے جارہی ہوں۔ حکومت ''
کے کاموں میں مت دخل دو ،جائو گھوڑے تیار کرو''۔
کمانڈر نے ایک آدمی کو اصطبل کی طرف دوڑا دیا۔ ماجد حجازی تلوار سے مسلح ہوکر تیار ہوگیا تھا۔ لڑکی اسے اصطبل کی
طرف لے گئی۔ کمانڈر کو اس لڑکی کے خاوند نے بتا رکھا تھا کہ ماجد پر نظر رکھے اور اسے گھر کے اندر نہ جانے دے۔ اب
لڑکی نے ماجد کو ہی اپنے ساتھ لے جانے کے لیے منتخب کیا تھا۔ کمانڈر نے دیکھا کہ وہ دونوں اصطبل کی طرف چلے گئے
ہیں تو وہ دوڑ کر اندر لڑکی کے خاوند کو اطالع دینے چال گیا۔ وہ یقین کرنا چاہتا تھا کہ خاوند کو معلوم ہے کہ اس کی
بیوی مشتبہ باڈی گارڈ کے ساتھ جارہی ہے۔ وہ لڑکی کو روک بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ اس کی مالکن تھی… وہ اندر گیا
اور ڈرتے ڈرتے اپنے آقا کے کمرے کے دروازے پر ہاتھ رکھا۔ دروازہ کھل گیا۔ اندر قندیل جل رہی تھی اور کمرہ شراب کی
بدبو سے بھرا ہوا تھا۔ اس نے اپنے آقا کو دیکھا ،وہ بستر پر اس طرح پڑا تھا کہ اس کا سر اور بازو پلنگ سے لٹک رہا
تھا۔ ایک خنجر اس کے سینے میں اترا ہوا تھا۔ اس کے سینے پر خنجر کے کئی زخم تھے۔ کمانڈر نے اس کی نبض دیکھی،
وہ مرا ہوا تھا۔ اس کے کپڑے خون سے الل ہوگئے تھے۔
ماجد حجازی کو لڑکی بتا چکی تھی کہ اس نے اپنے خاوند سے سارا منصوبہ معلوم کرلیا ہے اور اب اس منصوبے پر عمل
شروع ہورہا ہے۔ اس نے خاوند کو روزمرہ کی طرح شراب پالئی اور اتنی پالئی کہ وہ بے ہوش ہوگیا۔ لڑکی اسے بے ہوشی
کی حالت میں چھوڑ کر آسکتی تھی لیکن انتقام کے جذبے نے اسے پاگل کردیا۔ اس نے اسی کے خنجر سے اس کا سینہ
چھلنی کردیا اور خنجر اس کے سینے میں ہی رہنے دیا… ماجد حجازی گھبرایا نہیں۔ وہ تو ہر لمحہ کسی نہ کسی اچانک پیدا
ہونے والی صورتحال کے لیے تیار رہتا تھا۔ اس نے لڑکی کے اس اقدام کو سراہا اور اسے کہا کہ وہ اطمینان سے گھوڑے پر
سوار ہوجائے۔
وہ جونہی گھوڑوں پر سوار ہونے لگے ،رات کی خاموشی میں ایک آواز بڑی ہی بلند سنائی دینے لگی… ''گھوڑے مت دینا،
انہیں روک لو ،وہ آقا کو قتل کرکے جارہی ہے''۔
چھ کے چھ باڈی گارڈ تلواریں اور برچھیاں اٹھائے باہر آگئے۔ ماجد اور لڑکی گھوڑوں پر سوار ہوچکے تھے۔ انہیں اسی راستے
سے گزرنا تھا جہاں باڈی گارڈ تھے۔ ماجد نے لڑکی سے کہا کہ وہ گھوڑ سواری نہیں کرسکتی تو اس کے گھوڑے پر پیچھے
بیٹھ جائے۔ گھوڑا سرپٹ دوڑانا پڑے گا۔ لڑکی نے خوداعتمادی سے کہا کہ وہ گھوڑا دوڑا سکتی ہے۔ ماجد نے اسے کہا کہ وہ
گھوڑا اس کے پیچھے رکھے ،ماجد نے تلوار نکال لی۔ ادھر باڈی گارڈوں کا شور بڑھتا جارہا تھا اور وہ اصطبل کی طرف دوڑتے
آرہے تھے۔ ماجد نے گھوڑے کو ایڑی لگادی۔ اس کے پیچھے لڑکی نے بھی گھوڑا دوڑا دیا۔ کمانڈر کی آواز گرجی… ''رک جائو،
مارے جائو گے''… چاندنی رات تھی ،ماجد نے دیکھ لیا کہ باڈی گارڈ برچھیاں اوپر کیے اس کی طرف آرہے ہیں۔ اس نے
گھوڑے کا رخ ان کی طرف کردیا اور آگے ہوکر تلوار گھمانے لگا۔ گھوڑے کی رفتار اس کی توقع سے زیادہ تیز تھی۔ دو باڈی
گارڈ اس کے سامنے آگئے اور گھوڑے تلے کچلے گئے۔ ایک برچھی اس کی طرف آئی جو اس نے تلوار کے وار سے بے کار
کردی۔
کمانیں نکالو'' ۔ کمانڈر نے چال کر کہا۔ باڈی گارڈ تجربہ کار معلوم ہوتے تھے۔ ذرا سی دیر میں دو تیر ماجد حجازی کے ''
قریب سے گزر گئے۔ اس نے گھوڑا دائیں بائیں گھمانا شروع کردیا تاکہ تیر انداز نشانہ نہ لے سکیںداستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:07
قسط نمبر۔71ناگوں والے قلعے کے قاتل
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تیر انداز نشانہ نہ لے سکیں -اتنے میں وہ تیروں کی زد سے نکل گئے۔ اب یہ خطرہ تھا کہ باڈی گارڈ گھوڑوں پر تعاقب
کریں گے لیکن اسے پکڑے جانے کا ڈر نہیں تھا کیونکہ گھوڑوں پر زینیں کسنے کے لیے جو وقت صرف ہونا تھا ،وہ اس کے
لیے دور نکل جانے کے لیے کافی تھا اور ہوا بھی یہی۔ آبادی سے دور نکل جانے تک اسے تعاقب میں آتے گھوڑوں کی
آوازیں سنائی نہ دیں۔ اس نے لڑکی سے کہا کہ اب گھوڑا اس کے پہلو میں کرلے۔
لڑکی کا گھوڑا جب اس کے پہلو میں آیا تو ماجد نے لڑکی سے پوچھا کہ وہ گھبرائی یا ڈری تو نہیں؟ لڑکی نے جواب دیا کہ
وہ بالکل ٹھیک ہے۔ لڑکی نے اسے دوڑتے گھوڑوں کے ساتھ بلند آواز سے سنانا شروع کردیا کہ اس نے کون سا راز اپنے
خاوند سے حاصل کیا ہے۔ ماجد نے اسے کہاکہ آگے چل کر رکیں گے تو ساری بات سنو گا لیکن لڑکی بولتی رہی۔ ماجد نے
جب باربار اسے کہا کہ چب ہوجائے ،اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کیا کہہ رہی ہے تو لڑکی نے کہا… ''پھر رک جائو،
میں زیادہ دیر انتظار نہیں کرسکوں گی''… ماجد ابھی رکنا نہیں چاہتا تھا اور لڑکی بولتی جارہی تھی۔ آخری لڑکی نے ہاتھ
لمبا کرکے ماجد کے گھوڑے کی باگیں پکڑ لیں۔ اس کے لیے اسے آگے جھکنا پڑا۔ تب ماجد نے دیکھا کہ لڑکی کے دوسرے
پہلو میں تیر اترا ہوا ہے۔ ماجد نے فورا ً گھوڑا روک لیا۔
یہ تیر مجھے وہیں لگ گیا تھا''… لڑکی نے کہا… ''میں اسی لیے تمہیں دوڑتے گھوڑے سے اصل بات سنا رہی تھی کہ ''
مرنے سے پہلے یہ راز تمہیں دے دوں''… ماجد حجازی نے اسے گھوڑے سے اتارا اور زمین پر بیٹھ کر اسے اپنی آغوش میں
لے لیا۔ اس نے تیر کو ہاتھ لگایا۔ وہ خاصا اندر چال گیا تھا ،نکاال نہیں جاسکتا تھا۔ یہ جراح کا کام تھا جو پٹھا چیر کر تیر
نکال سکتا تھا… ''اسے رہنے دو ،میری بات سن لو''… لڑکی نے کہا… اور اس نے ماجد کو سارا منصوبہ سنادیا جو اس نے
خاوند سے سنا تھا… ''میرا خیال ہے کہ یہ شک کسی کو نہیں ہوگا کہ ہم کوئی راز لے کر حلب سے بھاگے ہیں۔ وہ
منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے۔ محافظوں تک کو معلوم ہے کہ میرے خاوند کو شک ہے کہ میرے اور تمہارے درپردہ
تعلقات ہیں۔ وہ یہی کہیں گے کہ میں تمہارے ساتھ محبت کی خاطر بھاگی ہوں''۔
لڑکی ساری بات سنا چکی تو اس نے ماجد کا ماتھا چوم کر کہا… ''اب سکون سے مرسکوں گی''… اور اس پر غشی طاری
ہونے لگی۔
ماجد نے دوسرے گھوڑے کو اپنے گھوڑے کے پیچھے باندھ دیا۔ لڑکی کو اپنے گھوڑے پر ڈال کر اس کے پیچھے بیٹھ گیا اور
اسے ایسی پوزیشن میں ساتھ لگا لیا کہ تیر اسے تکلیف نہ دے ،مگر تیر اپنا کام کرچکا تھا۔
٭ ٭ ٭
وہ جب دمشق میں اپنے کمانڈر حسن بن عبداللہ کے پاس پہنچا ،اس وقت لڑکی کو شہید ہوئے کم وبیش بارہ گھنٹے گزر گئے
تھے۔ اس نے قصر حلب کا تمام تر منصوبہ سنا کر بتایا کہ یہ کارنامہ اس لڑکی کا ہے۔ حسن بن عبداللہ اسی وقت ماجد
حجازی کو اور لڑکی کی الش کو صالح الدین ایوبی کے پاس لے گیا۔ ماجد حجازی نے بتایا کہ لڑکی کیا تھی اور اسے باپ
نے کس طرح ایک جاگیردار کے ہاتھ فروخت کیا تھا۔ ماجد نے لڑکی کی ساری باتیں سلطان ایوبی کو سنائیں۔ بعد میں معلوم
ہوا کہ لڑکی کا باپ بھی دمشق سے بھاگ گیا تھا۔ سلطان ایوبی نے لڑکی کی الش نورالدین زنگی کی بیوہ کے حوالے کردی
اور حکم دیا کہ لڑکی کو فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا جائے۔
لڑکی نے مرنے سے پہلے ماجد حجازی کو جو منصوبہ بتایا تھا ،وہ مختصرا ً یوں تھا کہ سلطان الملک الصالح تمام مسلمان
مملکتوں کے امراء کو سلطان ایوبی کے خالف متحد کررہا تھا اور ان کی فوجوں کو ایک کمانڈر کے تحت النا چاہتا تھا۔
تریپولی کے صلیبی حکمران ریمانڈ کو مدد کے لیے آمادہ کرلیا گیا تھا۔ یہ لڑکی جو نئی خبر الئی تھی ،یہ تھی کہ ریمانڈ اپنی
فوج کو اس طرح استعمال کرے گا کہ مصر اور شام کے درمیان سلطان ایوبی کے لیے رسد اور کمک کے راستے روک دے گا۔
اس نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ سلطان ایوبی جنگ کی صورت میں مصر سے کمک منگوائے گا۔ اس کے عالوہ ریمانڈ سلطان
ایوبی کو گھیرے میں لینے کے لیے اپنے تیز رفتار سوار دستے حرکت میں رکھے گا۔ ضرورت محسوس ہوئی تو ریمانڈ دوسرے
صلیبی حکمرانوں کو بھی مدد کے لیے باللے گا۔ حسن بن صباح کے پیروکار فدائیوں کے ساتھ صالح الدین ایوبی کے قتل کا
سودا طے کرلیا گیا تھا۔ فدائی فوری طور پر دمشق پہنچ رہے تھے۔ اس تمام ترمنصوبے کا ہر حصہ اہم تھا لیکن سلطان ایوبی
نے اس کے جس حصے پر زیادہ توجہ دی وہ یہ تھا کہ دشمن سردیوں کا موسم گزرجانے کے بعد جنگ شروع کرے گا۔ ان
عالقوں میں سردی زیادہ پڑتی تھی ،بارشیں ہوتی تھیں اور بعض جگہوں پر برف بھی پڑتی تھی۔ ایسے موسم میں جنگ نہیں
لڑی جاسکتی تھی اور نہ ہی کبھی لڑی گئی تھی۔ یہاں جس نے بھی حملہ کیا ،کھلے موسم میں کیا۔
لڑکی کی حاصل کی ہوئی معلومات کے مطابق منصوبے میں شامل کیا گیا تھا کہ فوجیں قلعہ بند ہوجائیں۔ فوجوں کی نفری
میں اضافہ کیا جائے اور حملے کی تیاری کی جائے۔ موسم کھلتے ہی ان فوجوں کو شام پر حملہ کرنا تھا۔ صلیبی حکمران
ریمانڈ کو جنگی مدد کا معاوضہ پیش کیا گیا تھا جو سونے کے سکوں کی صورت میں تھا۔ ریمانڈ نے شرط پیش کی تھی کہ
اسے یہ معاوضہ پہلے ادا کردیا جائے۔ الصالح کے حواری امراء نے فیصلہ کیا کہ معاوضہ فورا ً بھیج دیا جائے۔
مسلمانوں کی بدنصیبی''… سلطان ایوبی نے آہ لے کر کہا… ''آج مسلمان کفار کے کندھے سے کندھا مال کر اسالم کے ''
خالف اٹھے ہیں۔ میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح کو اس سے زیادہ اور اذیت کیا ملے گی''۔
قاضی بہائوالدین شداد اپنی یادداشتوں کی دوسری جلد میں لکھتے ہیں… ''میرا عزیز دوست صالح الدین ایوبی اتناجذباتی کبھی
نہیں ہوا تھا ،جتنا اس وقت ہوا جب اسے بتایا گیا کہ سلطان الصالح جسے اسالم کی عظمت کی نشانی سمجھا جاتا ہے اور
مسلمان امراء مل کر اس کے اس عزم کو تباہ کرنا چاہتے ہیں کہ صلیبیوں کو سرزمین عرب سے نکال کر سلطنت اسالمیہ کو
وسعت دی جائے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھی آگئے تھے۔ وہ کمرے میں ٹہل رہا تھا۔رک گیا اور ایسے جوش میں بوال جس
میں جذباتیت زیادہ تھی ،کہنے لگا۔ ''یہ ہمارے بھائی نہیں ،ہمارے دشمن ہیں ،اگر مرتد بھائی کا قتل گناہ ہے تو میں یہ
گناہ کروں گا۔ اگلے جہان دوزخ کی آگ قبول کرلوں گا لیکن اس جہان میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مذہب
کو رسوا نہیں ہونے دوں گا۔ میرا ضمیر پاک ہے۔ اس حکومت پر لعنت ،اس حکمران پر لعنت جو کفار سے دوستی کے
معاہدے کرے اور کفار سے مدد مانگے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ سب دولت اور حکومت کااللچ ہے۔ یہ لوگ ایمان نیالم کرکے
حکومت کا نشہ پورا کرنا چاہتے ہیں''… اس نے تلوار کے دستے پر ہاتھ مار کر کہا… ''وہ سردی میں نہیں لڑنا چاہتے ،وہ
…''برفانی دیواروں میں لڑنے سے ڈرتے ہیں۔ میں سردی میں لڑوں گا ،برف سے لدی چوٹیوں پر اور یخ دریائوں میں لڑوں گا
صالح الدین ایوبی حقیقت پسند تھا ،جذبات سے مغلوب ہوکر اس نے کبھی کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ جنگ کے متعلق اس''
نے کبھی نعرہ نہیں لگایا تھا۔ وہ دوٹوک ہدایات دیا کرتا تھا۔ ہر دستے کے کمان دار کو دفتر میں کاغذ پر لکیریں ڈال کر اور
میدان جنگ میں زمین پر انگلی سے لکیریں کھینچ کر ہدایات دیا کرتا تھا مگر اس دن اسے اپنے اوپر قابو نہیں رہا۔ اس نے
ایسی باتیں بھی کہہ دیں جو وہ عام محفل میں نہیں کہا کرتا تھا۔ وہ شاید یہ جانتا تھا کہ اس محفل میں فوج کے قابل
اعتماد ساالروں اور میرے سوا اور کوئی نہیں''۔
توفیق جواد!''… سلطان ایوبی نے دمشق کی فوج کے ساالر جواد سے کہا… ''میں ابھی تک نہیں جان سکا کہ تمہاری ''
فوج سردیوں میں لڑ سکے گی یا نہیں۔ جواب دینے سے پہلے یہ سوچ لو کہ میں رات کو چھاپہ ماروں کو ایسی جگہوں پر
چھاپے مارنے کے لیے بھیجوں گا جہاں انہیں دریا میں سے گزر کر جانا پڑے گا۔ بارش بھی ہوگی اور برف بھی ہوسکتی
ہے''۔
میں آپ کو یہ یقین دال سکتا ہوں کہ میری فوج میں جذبہ ہے''… ساالر توفیق جواد نے کہا… ''اس کا ثبوت یہ ہے کہ ''
یہ فوج میرے ساتھ ہے۔ الصالح کے ساتھ بھاگ نہیں گئی۔ میرے سپاہی جنگ کی غرض وغایت کو سمجھتے ہیں''۔
اگر سپاہی میں جذبہ ہو اور وہ جنگ کی غرض وغایت کو سمجھتا ہوتو وہ جلتے ہوئے ریگستان میں بھی لڑسکتا ہے اور ''
جمی ہوئی برف پر بھی''… سلطان ایوبی نے کہا… ''اللہ کے سپاہی کو نہ ریگزار کی تپش روک سکتی ہے نہ برف کی یخ
سردی''… اس نے محفل کے حاضرین پر نگاہ دوڑائی اور کہا… ''تاریخ شاید مجھے پاگل کہے گی لیکن میں اس فیصلے سے
ٹل نہیں سکتا کہ میں دسمبر کے مہینے میں جنگ شروع کروں گا۔ اس وقت موسم سرما کا عروج ہوگا۔ پہاڑیوں کا رنگ سفید
''ہوگا ،یخ جھکڑ چلتے ہوں گے اور راتیں ٹھٹھر رہی ہوں گی۔ کیا تم سب میرے اس فیصلے کو قبول کرو گے؟
سب نے بیک زبان کہا کہ وہ اپنے سلطان کا ہر حکم بجا الئیں گے۔ تب اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی اور وہ ایسے
احکام دینے لگا جن میں جذبات کا عمل دخل نہیں تھا۔ اس نے کہا… ''آج ہی رات سے تمام فوج اس حالت میں جنگی
مشقیں کرے گی کہ ہر ایک فرد ،ساالر سے سپاہی تک ،کپڑوں کے بغیر ہوگا۔ صرف کمر جامہ پہنا جائے گا جس کی لمبائی
گھٹنوں تک ہوگی۔ باقی جسم ننگا ہوگا۔ عشاء کی نماز کے فورا ً بعد تمام فوج کپڑے اتار کر باہر نکل جایا کرے گی۔ یہاں
قریب ہی جھیلیں ہیں۔ فوج کو ان میں سے گزارا جائے گا۔ میں تمہیں اس تربیتی منصوبے کی تفصیالت دوں گا۔ تمام طبیب
فوج کے ساتھ ہوں گے۔ ابتداء میں سپاہی ٹھنڈ سے بیمار پڑ جائیں گے۔ طبیب فوراً ،اسی جگہ انہیں گرم کپڑوں میں لپیٹ کر
اور آگ کے قریب لٹا کر عالج کریں گے۔ مجھے امید ہے کہ بیماروں کی تعداد زیادہ نہیں ہوگی۔ دن کے وقت طبیب سپاہیوں
کا معائنہ کرتے رہیں گے۔ اگر طبیبوں کی تعداد کم ہو تو مصر سے بال لو۔ یہاں سے یہ ضرورت پوری کرلو''۔
یہ نومبر ١١٧٤ء کا آغاز تھا۔ رات کو سردی خاصی زیادہ ہوجاتی تھی۔ سلطان ایوبی نے راتوں کو ٹریننگ کا پروگرام مرتب
کرلیا اور اپنے ساالروں اور جونیئر کمانڈروں کو بالیا۔ اس نے مختصر سا لیکچر دیا… ''اب تم جس دشمن سے لڑو گے ،اسے
دیکھ کر تمہاری تلواریں نیاموں سے باہر آنے سے گریز کریں گی کیونکہ تمہار دشمن بھی ''اللہ اکبر'' کے نعروں سے
تمہارے سامنے آئے گا۔ اس کے علم پر بھی وہی چاند تارا ہے جو تمہار ے علم پر ہے۔ وہ بھی وہی کلمہ پڑھتا ہے جو تم
پڑھتے ہو۔ تم انہیں مسلمان سمجھو گے مگر وہ مرتد ہیں۔ وہ اپنی نیاموں میں صلیب کی تلواریں ال رہے ہیں۔ ان کی ترکش
میں صلیب کے تیر ہیں ،تم ایمان کے پاسبان ہو ،وہ ایمان کے بیوپاری ہیں۔ خود ساختہ سلطان الصالح بیت المال کا سونا اور
خزانہ ساتھ لے گیا ہے اور اس نے قوم کو یہ دولت تریپولی کے صلیبی حکمران کو اس مقصد کے لیے دے دی ہے کہ وہ اسے
جنگی مدد دے کر تمہیں شکست دے۔ یہ شکست تمہاری نہیں ،اسالم کی شکست ہوگی۔ یہ خزانہ قوم کا ہے ،قوم کی دی
زکو ة کا ہے۔ یہ خزانہ شراب اور عیاشی میں بہہ رہا ہے اور اسی خزانے سے کفار کے ساتھ دوستانے گانٹھے جارہے
ہوئی
ٰ
''ہیں۔ کیا تم قومی خزانے کے چور کو اپنا سلطان تسلیم کرو گے؟
نہیں نہیں'' کے ساتھ کچھ آوازیں ''لعنت لعنت'' کی بھی سنائی دیں۔ سلطان ایوبی نے کہا…''میں نے جن اصولوں پر''
مصر کی فوج تیار کرلی ہے ،وہی اصول تمہیں بتانا چاہتا ہوں۔ بنیادی اصول یہ ہے کہ دشمن کے انتظار میں اپنے گھروں میں
نہ بیٹھے رہو۔ یہ کوئی اصول نہیں کہ دشمن حملہ کرے تو تم حملہ روکو۔ تمہیں یہ اصول قرآن نے دیا ہے کہ جنگ ہو تو
لڑو ،جنگ نہ ہو تو جنگ کی تیاری میں مصروف رہو۔ جوں ہی تمہیں پتا چلے کہ دشمن تم پر حملہ کرنے کی تیاری کررہا
ہے ،اس پر حملہ کردو۔ یاد رکھو جو مسلمان نہیں ،وہ تمہارا دوست نہیں۔ کافر تمہارے قدموں میں آکر سجدہ کرے تو بھی
اسے اپنا دوست نہ سمجھو۔ دوسرا بنیادی اصول یہ ہے کہ سلطنت اسالمیہ اور قوم کی آبرو کے پاسبان تم ہو۔ اگر تمہارے
حکمران بے غیرت ہو جائیں ،قوم بدکاری میں تباہ ہوجائے اور دشمن غالب آجائے تو آنے والی نسلیں کہیں گی کہ اس قوم
کی فوج نااہل اور کمزور تھی۔ یہ ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا کہ حکمرانوں کی بداعمالیاں فوج کے حساب میں لکھی جاتی
ہیں کیونکہ فتح وشکست کا فیصلہ میدان جنگ میں ہوتا ہے۔ حکمرانوں کی عیش پسندی اور مفاد پرستی فوج کو کمزور کرچکی
…''ہوتی ہے۔ پھر شکست کی ذمہ داری فوج کے کندھوں پر ڈال دی جاتی ہے
پھر کیوں نہ تم ابھی سے اپنے خلیفہ اور حکمرانوں کو ٹھکانے لگا دو جو تمہاری اور قوم کی ذلت ورسوائی کا باعث بن ''
رہے ہیں۔ میں نہیں بتا سکتا کہ میں جس جنگ کی تیاری کررہا ہوں وہ کیسی ہوگی۔ صرف یہ جانتا ہوں کہ وہ بڑی ہی
سخت جنگی ہوگی۔ سخت ان معنوں میں کہ میں تمہیں انتہائی دشوار حاالت میں لڑا رہا ہوں۔ دوسری مشکل یہ ہے کہ
تمہاری تعداد کم ہوگی۔ اس کمی کو تم جذبے اور ایمان کی قوت سے پورا کرو گے''۔
سلطان ایوبی نے انہیں یہ بھی بتایا کہ دشمن کے جاسوس ان کے درمیان موجود ہیں اور ان جاسوسوں کا طریقہ کار کیا ہے۔
٭ ٭ ٭
اور تم یہ مت سوچو کہ صالح الدین ایوبی مسلمان ہے۔ خلیفہ کا درجہ پیغمبر جتنا ہوتا ہے۔ نجم الدین ایوب کے اس مرتد''
بیٹے نے خلیفہ کو قصر خالفت سے نکال دیا ہے اور شام پر غاصبانہ قبضہ کرکے مصر اور شام کا بادشاہ بن گیا ہے۔ اگر تم
خدا کے قہر سے بچنا چاہتے ہو ،زلزلوں اور طوفانوں سے محفوظ رہنا چاہتے ہو تو صالح الدین ایوبی کو شرمناک شکست دے
کر سلطنت کی گدی بحال کرو''… یہ آواز ایک امیر کی تھی جو حلب میں اپنی فوج کو سلطان ایوبی کے خالف بھڑکا رہا
تھا۔ اس نے کہا… '' سردیوں کا موسم نکل جائے گا تو ہم دمشق پر حملہ کریں گے۔ اس دوران ہم فوج میں اضافہ کریں گے
اور تم جنگ کی تیاری کرتے رہو گے''۔
ذہنی تخریب کاری کے بغیر جنگ جیتنا بہت مشکل ہے''… یہ آواز صلیبی فوج کے ایک مشیر کی تھی جسے ریمانڈ نے ''
الصالح کے پاس بھیجا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا… ''ہم تمہارے کسی شہر میں آکر نہیں لڑیں گے۔ ہم مصر سے آنے والی کمک کو
روکیں گے اور موقع دیکھ کر سلطان ایوبی کو کہیں گھیرے میں لے لیں گے۔ آپ کی فوج دمشق پر حملہ کرے گی۔ سردیوں
کے موسم میں نہ آپ حملہ کرسکتے ہیں ،نہ صالح الدین ایوبی۔ آپ اس وقت سے فائدہ اٹھائیں۔ مجھے جو خطرہ نظر آرہا
ہے ،وہ یہ ہے کہ آپ کی قوم آپس میں لڑنے سے گریز کرے گی۔ آپ ان عالقوں میں جو آپ کے قبضے میں ہیں ،اپنی قوم
کو صالح الدین ایوبی کے خالف بھڑکائیں۔ اس کا بہترین حربہ آپ کا مذہب اور قرآن ہے۔اس مقصد کے لیے مذہب ،قرآن اور
مسجد کواستعمال کریں۔ ہم نے مسلمانوں میں یہ کمزوری دیکھی ہے کہ مذہب کے نام پر جلدی بھڑکتے ہیں۔ اگر آپ ہماری
مدد کریں تو ہم آپ کو یہ تخریب کاری دمشق میں بھی کرکے دکھا دیں گے''۔
یہ دیکھ کر میرا سرشرم سے جھک جاتا ہے کہ پانچ سال گزر گئے ہیں ،ہم سے ابھی صالح الدین ایوبی قتل نہیں ہوا''…''
یہ آواز فدائی قاتلوں ( حشیشین) کے مرشد شیخ سنان کی تھی۔ وہ ان فدائیوں سے جنہیں سلطان ایوبی کے قتل کے لیے
بھیجا جارہا تھا کہہ رہا تھا۔ ایوبی پر ہمارے چار حملے ناکام ہوچکے ہیں۔ ناکام بھی ایسے کہ ہمارے آدمی مارے گئے اور زندہ
بھی پکڑے گئے۔ حسن بن صباح کی روح مجھ سے جواب مانگ رہی ہے۔ کیا تم اسے زہر نہیں دے سکتے؟ کہیں چھپ کر
اسے تیر کا نشانہ نہیں بنا سکتے؟ کیا تم اپنی موت سے خوفزدہ ہوگئے ہو؟ اپنے حلف کے الفاظ بھول گئے ہو؟ میں اب یہ
نہیں سننا چاہتا کہ صالح الدین ایوبی ابھی زندہ ہے۔
وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہے گا''… ایک فدائی نے کہا اور اس کے ساتھیوں نے اس کی تائید کی۔''
سلطان ایوبی کی جو فوج مصر میں تھی ،اس کی کمان سلطان ایوبی کے بھائی العادل کے پاس تھی۔ سلطان ایوبی اسے یہ
حکم دے آیا تھا کہ بھرتی تیز کردے اور جنگی مشقیں جاری رکھے۔ اس نے العادل کو سوڈان کی طرف سے خبردار کیا تھا اور
اسے بتا آیا تھا کہ سوڈان کی طرف سے معمولی سی بھی فوج حرکت کرے تو وسیع پیمانے پر جنگی کارروائی کرے اور
سلطان ایوبی نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ کمک اور رسد تیار رکھے۔ دمشق کی مہم کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ
کیسی صورتحال پیدا کردے۔ اب اس نے جو منصوبہ بنایا تھا ،اس کے لیے اسے کمک کی ضرورت تھی۔ جاسوس اور لڑکی نے
اسے بتادیا تھا کہ ریمانڈ مصر اور شام کے درمیان حائل ہوکر سلطان ایوبی کی کمک اور رسد روک لے گا۔ اس اطالع کے پیش
نظر اس نے کمک قبل از وقت منگوا کر اپنے ہاتھ میں رکھ لینا ضروری سمجھا۔ اس کمک کو سردیوں کی جنگ کی ٹریننگ
کی بھی ضرورت تھی۔ اس نے ایک طویل پیغام کے ساتھ ایک قاصد قاہرہ بھیج دیا۔
اس نے العادل کو پیادہ اور سوار دستوں کی تعداد لکھی جو اسے درکار تھی اور یہ ہدایت بھیجی کہ تمام فوج اکٹھی کوچ نہ
کرے بلکہ چھوٹے چھوٹے دستے رات کے وقت ایک دوسرے سے دور دور نقل وحرکت کریں۔ دن کے وقت سفر نہ کیا جائے۔
حتی االمکان کمک کے کوچ کو خفیہ رکھا جائے… العادل اپنے بھائی کا ہی تربیت یافتہ تھا۔ اس نے پیغام ملتے ہی کمک
روانہ کردی اور اسے خفیہ رکھنے کا یہ انتظام کیا کہ فوج کے چند افراد کو عام مسافروں کے لباس میں اونٹوں پر سوار کرکے
اس ہدایت کے ساتھ کمک کے راستے میں بھیج دیا کہ وہ دائیں بائیں ،دور دور چلتے رہیں اور کوئی مشکوک آدمی نظر آئے تو
اس کی چھان بین کریں اور ضرورت محسوس ہو تو اسے پکڑ لیں۔
کمک کے دستے چند دنوں بعد دمشق پہنچنے لگے اور سلطان ایوبی نے انہیں بھی رات کی ٹریننگ میں شامل کردیا۔ اس کے
ساتھ نئی بھرتی کا حکم بھی دے دیا۔
دمشق کے مضافات میں اس دور میں جنگل اور کھڈنالوں کا عالقہ ہوا کرتا تھا۔ وہاں ایک صدیوں پرانے قلعے کے کھنڈر تھے۔
اس کے اندر کبھی کوئی نہیں گیا تھا۔ رات کو لوگ اس کے قریب سے بھی نہیں گزرتے تھے۔ یہ چونکہ فوجی استعمال کے
قابل نہیں رہا تھا ابھی بے موقعہ اس لیے فوج نے اس کی طرف کبھی توجہ نہیں دی تھی۔ سلطان ایوبی کے دور میں دمشق
کے دفاع کے لیے ایک اور جگہ قلعہ تعمیر کرلیا گیا تھا۔ وہ پرانا قلعہ ناگوں واال قلعہ کہالتا تھا۔ مشہور تھا کہ اس میں
ناگوں کا ایک جوڑا رہتا ہے۔ ناگ اور ناگن کی عمر ایک ہزار سال ہوچکی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا تھا کہ یہ قلعہ سکندراعظم
نے بنایا تھا اور یہ بھی کہ یہ دارا ایرانی کا بنایا ہوا ہے۔ بعض اسے بنی اسرائیل کی تعمیر کہتے تھے۔
اس میں تو اختالف پایا جاتا ہے کہ یہ کس کی تعمیر تھی۔ ایک روایت کو سب سچ مانتے تھے۔ کہتے تھے کہ صدیاں گزریں
یہاں فارس کا ایک بادشاہ آیا تھا۔ یہ جگہ اسے اتنی پسند آئی کہ یہاں اس نے یہ قلعہ تعمیر کیا۔ اس کے اندر اپنے لیے
ایک خوش نما محل بنایا مگر اسے آباد کرنے کو اس کی بیوی نہیں تھی۔ اسے کسی گڈریئے کی بیٹی پسند آگئی۔ اس لڑکی
کا منگیتر بھی تھا۔ بادشاہ نے لڑکی کے ماں باپ کو بے بہا دولت دی اور ان سے لڑکی لے لی۔ منگیتر نے بادشاہ سے کہا
کہ وہ اس قلعے میں کبھی آباد نہیں ہوسکے گا۔ بادشاہ نے اسے قلعے میں لے جا کر قتل کردیا اور الش اندر ہی کہیں دفن
کردی۔ لڑکی نے بادشاہ سے کہا کہ اس نے اس کا جسم خرید لیا ہے ،اس کی روح آزاد ہوگئی ہے۔ پہلے روز ہی بادشاہ جب
گڈریئے کی بیٹی کو شاہانہ لباس پہنا کر محل میں داخل ہوا تو فرش بیٹھ گیا اور دیواروں کے ساتھ چھت نیچے آرہی۔ بادشاہ
اور لڑکی ملبے میں دفن ہوگئے۔ بادشاہ کی فوج ملبہ ہٹانے لگی تو ملبے میں دو ناگ نکلے۔ فوج نے انہیں برچھیوں ،تیروں اور
تلواروں سے مارنے کی کوشش کی لیکن ناگوں کو برچھی لگتی تھی نہ تلوار۔ تیر بھی ان کے قریب جاکر رخ بدل لیتے تھے۔
فوج ڈر کر بھاگ گئی۔ یہ بھی مشہور تھا کہ اب بھی رات کو قلعے کے قریب سے گزرو تو ایک لڑکی گڈریوں کے لباس میں
بھیڑ بکریاں چراتی نظر آتی ہے۔ کبھی کبھی ایک جوان آدمی بھی نظر آتا ہے۔ بہرحال سب مانتے تھے کہ اب قلعے میں
جن اور پریاں رہتی ہیں۔
جن دنوں سلطان ایوبی خلیفہ اور امراء کے خالف جنگ کی تیاریاں کررہا تھا ،دمشق میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ ناگوں والے
قلعے میں ایک بزرگ نمودار ہوا ہے جو دعا کرتا ہے تو سب روگ دور ہوجاتے ہیں اور وہ آنے والے وقت کی خبریں بھی دیتا
ہے۔ شہر میں کسی نے اس کی کرامات سنائی تھیں جو فورا ً مشہور ہوگئیں۔ بعض نے اسے امام مہدی بھی کہا تھا۔ لوگ وہاں
جانے کو بے چین ہونے لگے لیکن ڈرتے تھے کہ یہ گڈریئے کی بیٹی اور اس کی منگیتر یا فارس کے بادشاہ کی بدروح ہی نہ
ہو اور یہ جنوں اور بھوتوں کا فریب بھی ہوسکتا ہے۔ بعض لوگوں نے ذرا دور کھڑے ہوکر قلعے کو دیکھا تھا۔ تین چار آدمیوں
نے بتایا کہ انہوں نے سیاہ داڑھی اور سفید چغے والے ایک آدمی کو قلعے سے باہر آتے اور فورا ً ہی اندر جاتے دیکھا تھا۔
لوگوں کو اس بزرگ کی کرامات تو سنائی دیتی تھیں مگر ایسا کوئی آدمی نہیں ملتا تھا جس نے یہ کہا ہو کہ وہ قلعے کے
اندر گیا اور اس کے لیے بزرگ نے دعا کی تھی۔
ایک روز سلطان ایوبی کے محافظ دستے کا ایک سپاہی ڈیوٹی کا وقت پورا کرکے کہیں گھوم پھر رہا تھا ،وہ وجیہہ اور خوبرو
جوان تھا۔ محافظ دستے کے تمام جوان ایسے ہی تھے۔ سامنے سے نورانی چہرے واال ایک آدمی آرہا تھا جس کی سیاہ داڑھی
تھی اور سلیقے سے تراشی ہوئی تھی۔ اس کا چغہ سفید تھا اور سر پر نہایت دلکش عمامہ ،اس کے ہاتھ میں تسبیح تھی۔
محافظ سپاہی کے سامنے آکر وہ رک گیا۔ سپاہی کی تھوڑی کو تھام کر ذرا اوپر اٹھایا اور دھیمی آواز میں کہا… ''مجھے
''غلطی نہیں لگ سکتی ،تم کہاں کے رہنے والے ہو دوست؟
''بغداد کا''… سپاہی نے بڑے میٹھے لہجے میں کہا… ''آپ مجھے پہچانتے ہیں؟''
ہاں دوست! میں تمہیں پہچانتا ہوں''… سیاہ داڑھی والے نے حیرت کے لہجے میں کہا… ''مگر تم شاید اپنے آپ کو ''
نہیں پہچانتے''۔
سپاہی اس کی حیرت پر حیران ہوا اور اس کے بولنے کے انداز سے متاثر بھی ہوا ،اگر اس آدمی کا چہرہ ایسا نورانی ،اس
کی داڑھی اتنی اچھی اور چغہ اتنا سفید نہ ہوتا تو سپاہی اسے کوئی دیوانہ یا مجذوب سمجھ کر ٹال دیتا لیکن اس شخص
کی آنکھوں ،حال ،حلیے اور سراپا نے اسے رکے رہنے پر مجبور کردیا۔
اپنے پردادا کو جانتے ہو ،کون تھا اور کیا تھا؟''… اس شخص نے سپاہی سے پوچھا۔۔''
نہیں''… سپاہی نے جواب دیا۔''
''اور دادا کو؟''
''نہیں''
''تمہارا باپ زندہ ہے؟''
نہیں''… سپاہی نے جواب دیا… ''میں دودھ پینے کی عمر میں تھا ،جب وہ مرگیا تھا''۔''
''ان میں بادشاہ کون تھا؟''… سیاہ داڑھی والے نے پوچھا… ''پردادا؟ دادا؟ یا باپ؟''
کوئی بھی نہیں''… سپاہی نے جواب دیا… ''میں کسی شاہی خاندان کا فرد نہیں ہوں۔ سلطان صالح الدین ایوبی کے ''
محافظ دستے کا سپاہی ہوں۔ آپ کو شاید غلط فہمی ہوئی ہے۔میری شکل وصورت شاید آپ کے کسی پرانے دوست سے ملتی
جلتی ہے''۔
اس شخص نے اس کی بات جیسے سنی ہی نہ ہو۔ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کی دائیں ہتھیلی کی لکیروں کو غور سے دیکھنے
لگا۔ پھر اس کی آنکھوں میں چہرہ اس کے قریب کرکے جھانکا اور بڑی سنجیدہ اور کسی قدر حیرت زدہ آواز میں بوال…
''مجھے یہ تخت کس کا نظر آرہا ہے۔ یہ تاج کس کا نظر آرہا ہے! تمہار آنکھوں میں وہ جاہ وجالل محفوظ ہے جو تم نے
نہیں دیکھا۔ تمہارے دادا کے محافظ دستے میں چالیس جوان تم جیسے تھے۔ آج تم اس انسان کے محافظ دستے کے سپاہی ہو
جو تمہارے دادا کے تخت پر بیٹھا ہے۔ تمہیں کس نے بتایا ہے کہ تم شاہی خاندان کے فرد نہیں ہو؟ میرا علم مجھے دھوکہ
''نہیں دے سکتا۔ میری آنکھیں غلط نہیں دیکھ سکتیں… تم نے شادی کرلی ہے؟
نہیں!''… سپاہی نے مرعوب ہوکر جواب دیا… ''اپنے خاندان کی ایک لڑکی کے ساتھ منگنی ہوگئی ہے''۔''
نہیں ہوگی''… اس شخص نے کہا… ''یہ شادی نہیں ہوگی''۔''
کیوں؟''… سپاہی نے گھبرا کر پوچھا۔''
تمہاری روح کا مالپ کہیں اور ہے''… سیاہ داڑھی والے نے کہا… ''مگروہ کہیں اور قید ہے… سنو دوست! تم مظلوم ہو'' ،
کسی کے فریب کا شکار ہو۔ تم گمراہ ہو ،تمہارے خزانے پر سانپ بیٹھا ہے۔ وہ شہزادی ہے جو تمہاری راہ دیکھ رہی ہے،
تمہیں کوئی بتا دے کہ وہ کہاں ہے تو تم جان کی بازی لگا کر اسے آزاد کرالو گے''۔ وہ چل پڑا۔
سپاہی نے اس کے پیچھے جاکر اسے روکا اور کہا… ''مجھے بتا کر جائو کہ آپ نے میرے ہاتھ اور میری آنکھوں میں کیا
دیکھا ہے۔ آپ کون ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ آپ مجھے گمراہ اور پریشان کرچکے ہیں''۔
میں کچھ بھی نہیں'' اس شخص نے جواب دیا… ''جو کچھ ہے وہ میرے اللہ کی ذات ہے۔ تین چار بڑی پاک روحیں ''
میرے ہاتھ میں ہیں۔ یہ خدا کے ان برگزیدہ لوگوں کی روحیں ہیں جو ماضی کو جانتے اور مستقبل کو پہچانتے تھے۔ میں کچھ
ورد وظیفے کیا کرتا ہوں۔ا یک رات مجھے اشارہ مال کہ ناگوں والے قلعے میں چلے جائو ،تمہیں کوئی ملنے کو بیتاب ہے۔
وہی ورد وظیفے کرنا۔ میں وہاں جانے سے ڈرتا تھا لیکن اشارہ خدا کا ہو تو ڈر کیسا! میں چال گیا اور پہلی رات ہی وظیفے
کے دوران مجھے یہ روحیں مل گئیں۔ انہوں نے مجھے یہ طاقت دے دی کہ انسان کا چہرہ اور آنکھیں دیکھ کر اس کے دادا،
پردادا تک کی تصویریں نظر آجاتی ہیں مگر یہ کیفیت مجھ پر کبھی کبھی طاری ہوتی ہے۔ تمہیں دیکھا تو میں اس عالم میں
تھا۔ کان میں ایک روح کی سرگوشی سنائی دی۔ اس جوان کو دیکھو ،شہزادہ ہے مگر اپنی لوح تقدیر سے بے خبر ہے اور
سپاہیوں کے لباس میں دوسروں کی حفاظت کے لیے پہرہ دیتا رہتا ہے''… یہ کیفیت گزر گئی ہے۔ اب تم مجھے صرف سپاہی
نظر آتے ہو۔
یہ انسانی فطرت کی کمزوری ہے کہ ہر کوئی خزانے اور جاہ وحشمت کے خواب دیکھتا ہے۔ یہ سپاہی تھا۔ اسے خزانے اور
شہزادی کا اشارہ مال تو سیاہ ریش کی منت کی کہ اسے اس کے متعلق کچھ بتائے۔ سیاہ ریش نے مسکرا کر کہا… ''میرے
پاس نجوم کاعلم نہیں ،غیب دان بھی نہیں ہوں۔ اللہ اللہ کرنے واال درویش ہوں۔ کوشش کروں گا کہ تمہیں کچھ بتا سکوں
لیکن جہاں تمہیں بالئوں گا ،وہاں تم آئو گے نہیں''۔
جہاں آپ کہیں گے ،آجائوں گا''۔''
''ناگوں والے قلعے میں آجائو گے؟''
ضرور آئوں گا''۔''
آج رات''… سیاہ داڑھی والے نے کہا… ''غسل کرکے ذہن کو دنیا کے خیالوں سے خالی کرکے آجانا اور یاد رکھو ،کسی ''
سے ذکر نہ کرنا۔ کسی کو نہ بتانا کہ میں تمہیں مال تھا اور تم رات کہیں جارہے ہو یا نہیں… چوری چوری آنا''۔
٭ ٭ ٭
اگر خزانے کا ،شہزادی اور تخت وتاج کا خیال نہ ہوتا تو یہ سپاہی کتنا ہی دلیر کیوں نہ ہوتا ،رات کے وقت ناگوں کے قلعے
میں نہ جاتا۔ سلطان ایوبی کے مکان کے پچھلے دروازے پر اس کا پہرہ رات کے آخری پہر تھا۔ اس وقت سے پہلے وہ گھوم
پھر سکتا تھا۔ وہ جب قلعے کے دروازے پر پہنچا تو خوف نے اس کے دل پر قبضہ کرلیا۔ اس نے بلند آواز سے کہا… ''میں
آگیا ہوں۔ آپ کہاں ہیں؟''… اسے زیادہ دیر انتظار نہ کرنا پڑا۔ ایک مشعل کہیں سے آئی اور اس کی طرف بڑھنے لگی۔ اس
کے دل پر خوف کا شکنجہ اورزیادہ مضبوط ہوگیا۔ مشعل ایک آدمی نے اٹھا رکھی تھی۔ اس نے قریب آکر سپاہی سے پوچھا…
''تم ہی ہو جسے حضرت نے آج راستے میں کہیں دیکھا تھا؟''… سپاہی نے بتایا کہ وہی ہے تو مشعل بردار نے کہا…
''میرے پیچھے آئو''۔
تمہیں جو کچھ نظر آرہاہوں ،وہی ہوں''… اسے جواب مال… ''دل سے خوف نکال دو۔ ذہن سے ہر خیال نکال دو۔ ''
خاموشی سے چلتے آئو''… مشعل بردار چلتا اور بولتا جارہا تھا۔ ''حضرت سے کوئی سوال نہ پوچھنا ،وہ جیسے حکم دیں
ویسے کرنا''۔
تاریک غالم گردشوں اور چھتوں سے ڈھکے کئی ایک راستوں سے گزر کر مشعل بردار ایک دروازے کے آگے رک گیااور بلند
آواز سے بوال… ''یاحضرت! اجازت ہو تو اسے پیش کروں ،جسے آپ نے بالیا ہے''… اندر سے جانے کیا جواب آیا۔ مشعل
بردار ایک طرف ہٹ گیا اور سپاہی کو اشارہ کیا کہ اندر چال جائے۔ سپاہی اندر آگیا تو اس قدر ہیبت ناک کھنڈر میں ایسے
خوش نما سامان سے آراستہ کمرے کو دیکھ کر وہ حیران بھی ہوا اور ڈرا بھی۔ یہ انسانوں کی نظر نہ آنے والی مخلوق کا
مسکن ہوسکتا تھا۔ قالین بچھا ہوا تھا جس پر گائو تکیے سے پیٹھ لگائے سیاہ ریش بیٹھا تھا۔ وہ آنکھیں بند کیے تسبیح کررہا
تھا۔اسی حالت میں اس نے سپاہی کو بیٹھے کا اشارہ کیا۔ وہ بیٹھ گیا۔ کمرے میں خوشبو تھی۔
سیاہ داڑھی والے حضرت نے آنکھیں کھولیں۔ سپاہی کو دیکھا اور تسبیح اس کی گود میں پھینک کر کہا۔ ''گلے میں ڈال
لو''… سپاہی نے تسبیح کو چوما اور گلے میں ڈال لی۔ کمرے میں ایک قندیل جل رہی تھی۔ حضرت نے اپنے ہاتھ پر ہاتھ
مارا تو دوسرے کمرے سے جس کا دروازہ اس کے کمرے میں کھلتا تھا ،ایک لڑکی نکلی۔ اس کے بال کھلے ہوئے اور شانوں
پر بکھرے ہوئے تھے۔ اس نے اتنی خوبصورت لڑکی پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک خوش نما پیالہ تھا
جو اس نے سپاہی کے ہاتھ میں دے دیا۔ سیاہ داڑھی واال اٹھا اور دوسرے کمرے میں چال گیا۔ سپاہی پیالہ ہاتھ میں لیے کبھی
لڑکی کو اور کبھی پیالے کو دیکھتا تھا۔ لڑکی نے اسے کہا۔ ''حضرت کچھ دیر بعد آئیں گے ،یہ پی لو''… لڑکی کے ہونٹوں
پر ایسی مسکراہٹ تھی جس میں اپنائیت اور بے تکلفی تھی۔ سپاہی نے پیالہ ہونٹوں سے لگایا اور ایک گھونٹ پی کر لڑکی
کو دیکھا۔
مجھے تم جیسا خوبصورت جوان کبھی کبھی نظر آتا ہے''… لڑکی نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہا…''پیو۔ میں یہ ''
شربت بڑے پیار سے الئی ہوں۔ حضرت نے کہا تھا کہ آج تمہاری پسند کا ایک نوجوان آرہا ہے ،جسے معلوم نہیں کہ وہ کون
ہے''۔
سپاہی نے دو تین گھونٹ شربت پی لیا۔ اس کے بعد شربت گھونٹ گھونٹ اس کے حلق سے اترتا رہا اور لڑکی اس کے
قریب ہوتی گئی اور پھر سپاہی نے یوں محسوس کیا جیسے لڑکی اپنے طلسماتی حسن اور سحر آگیں جسم کے ساتھ شربت
کی طرح اس کے حلق میں اتر گئی اور رگ رگ میں سما گئی ہو۔ سیاہ ریش حضرت آگیا۔ اس کے ہاتھ میں شیشے کا ایک
گولہ تھا جس کا سائز ناشپاتی جتنا تھا۔ اس نے گولہ سپاہی کے ہاتھ میں دے کر کہا… ''اپنی آنکھوں کے سامنے رکھو اور
اس میں سے قندیل کی لو کو دیکھو اور دیکھتے رہو''۔
سپاہی نے شیشے کے گولے میں سے قندیل کو دیکھا تو اسے اپنی آنکھوں کے سامنے کئی رنگ شعلوں کی طرح تھرکتے نظر
آنے لگے۔ لڑکی کے ریشمی بال اس کے گالوں کو چھو رہے تھے اور لڑکی نے اس طرح اسے اپنی بازوئوں کے گھیرے میں لے
رکھا تھا کہ وہ لڑکی کے جسم کی حرارت اور خوشبو کو محسوس کررہا تھا۔ اس کے کانوں میں ایک سریلی اور پراسرار آواز
پڑنے لگی… ''مجھے تخت سلیمان نظر آرہا ہے ،مجھے تخت سلیمان نظر آرہا ہے''… ذرا سی دیر اس کا یہ احساس زندہ
رہا کہ یہ آواز سیاہ داڑھی والے کی ہے۔ پھر یہ اس کی اپنی آواز بن گئی اور پھر وہ اس دنیا کا حصہ بن گیا جو اسے
شیشے میں نظر آنے لگی تھی۔ اسے تخت سلیمان نظر آرہا تھا جس پر نورانی چہرے واال ایک بادشاہ بیٹھا تھا۔ اس کے
دائیں بائیں اورپیچھے چار پانچ لڑکیاں کھڑی تھیں۔ وہ اتنی خوبصورت تھیں کہ وہ پریاں ہوسکتی تھیں۔
ہاں ،ہاں'' سپاہی نے کہا… ''مجھے تخت سلیمان نظر آرہا ہے''۔''
لڑکی کے بکھرے ہوئے بال اس کے اوپر پھیل گئے۔ سپاہی کو شیشے میں سے نظر آتے ہوئے تخت کے قریب کھڑے ایک
آدمی کی آواز سنائی دی… '' یہ بادشاہ تمہارا دادا ہے جو ہفت اقلیم کا بادشاہ ہے۔ شاہ سلیمان کی پریاں اور جنات اس دربار
میں سجدے کرتے ہیں۔ اپنے دادا کو پہچانو۔ یہ تمہارا ورثہ ہے۔ تخت جارہا ہے''۔
سپاہی نے ہڑبڑا کر کہا… ''وہ تخت لے جارہے ہیں ،یہ دیو ہیں ،بہت بڑ بڑے ،بہت ڈرائونے۔ انہوں نے تخت اٹھا لیا ہے''۔
اور شیشے کے گولے میں کئی رنگوں کے شعلے رہ گئے جو تھرک رہے تھے ،جیسے وجد میں آئے ہوئے رقص کررہے ہوں۔
سپاہی نے محسوس کیا جیسے کوئی چیز اس کی ناک کے ساتھ لگی ہوئی ہو۔ شیشے کا گولہ اس کی آنکھوں کے آگے سے
خود ہی ہٹ گیا اور اس پر غنودگی طاری ہوگئی۔ وہ اس وقت اپنے آپ میں آیا جب لڑکی اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہی
تھی۔ اس نے آنکھ کھولی تو اپنے آپ کو قالین پر پڑے پایا۔ لڑکی کا ایک بازو اس کے سر کے نیچے تھا اور لڑکی اس کے
پاس نیم دراز تھی۔ سپاہی اٹھ بیٹھا۔ وہ حیران تھا اور پریشان بھی۔ اس کے منہ سے پہلی بات یہ نکلی… ''وہ کہتے تھے
کہ تخت تمہارے دادا کا ہے اور یہ تمہارا ورثہ ہے''۔
حضرت نے بھی یہی فرمایا ہے''۔ لڑکی نے بڑی پیاری آواز میں کہا۔''
حضرت کہاں ہیں؟'' سپاہی نے کہا۔''
وہ اب نہیں مل سکیں گے''۔ لڑکی نے جواب دیا… ''تم نے کہا تھا کہ رات کے آخری پہر تمہارا پہرہ ہے ،اس لیے ''
میں نے تمہیں جگا دیا ہے۔ رات آدھی گزر گئی ہے ،تم اب چلے جائو''۔
وہ وہاں سے نکلنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ پوچھ رہا تھا کہ اس نے خواب دیکھا تھا یا یہ حقیقت تھی۔ لڑکی نے اسے بتایا کہ یہ
خواب نہیں تھا۔ یہ حضرت کی خصوصی کرامات تھی۔ ان کے لیے حکم ہے کہ وہ اس کاکوئی راز اپنے پاس نہ رکھیں۔ یہ اس
تک پہنچا دیں جس کا یہ راز ہے مگر یہ کیفیت حضرت پر کسی کسی وقت طاری ہوتی ہے۔ اب معلوم نہیں کب ہو۔ سپاہی
نے لڑکی کی منت سماجت شروع کردی۔ لڑکی نے اسے کہا۔ ''تم میرے دل میں اتر گئے ہو۔ میں نے اپنی روح تمہارے
حوالے کردی ہے۔ تمہارے لیے اپنی جان بھی قربان کردوں گی۔ میں تمہیں کبھی جانے نہ دوں لیکن تمہارے فرض کی ادائیگی
ضروری ہے۔ اب چلے جائو۔ کل رات آجانا ،میں حضرت سے درخواست کروں گی کہ وہ تمہارا راز تمہیں دے دیں''۔
ِ
تخت سلیمان غالب تھا اور دل پر
وہ جب قلعے سے نکال تو اس کے قدم اٹھ نہیں رہے تھے۔ اس کے ذہن پر اپنے دادا کا
لڑکی کا قبضہ تھا۔ تاریک رات میں قلعے کے کھنڈر اسے محل کی طرح خوش نما نظر آرہے تھے۔ وہ مسرور بھی تھا۔ دل
میں کوئی خوف اور کوئی پریشانی نہیں تھی۔
٭ ٭ ٭
صالح الدین ایوبی کی تمام تر توجہ فوج کی ٹریننگ اور منصوبہ بندی پر مرکوز تھی۔ اس نے اپنے لیے اور مرکزی کمان کے
اعلی فوجی حکام کے لیے آرام حرام کررکھا تھا۔ انٹیلی جنس کا انچارج حسن بن عبداللہ جہاں اپنے کاموں میں مصروف تھا،
ٰ
وہاں اسے یہ بھی فکر تھا کہ سلطان ایوبی اپنی حفاظت کا خیال نہیں رکھتا تھا۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:07
قسط نمبر۔72ناگوں والے قلعے کے قاتل
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کا خیال نہیں رکھتا تھا۔ اس کے باڈی گارڈ کے کمانڈر نے حسن بن عبداللہ سے کئی بار شکایت کی تھی کہ سلطان اسے
بتائے بغیر پچھلے دروازے سے نکل جاتے ہیں اور وہ ان کے خالی کمرے کا پہرہ اس خیال سے دیتا رہتا ہے کہ سلطان اندر
ہے۔ کمانڈر سلطان ایوبی کے ساتھ اپنے دو چار گارڈ سائے کی طرح لگائے رکھنا چاہتا تھا۔ کمانڈر کو یہ بھی بتا دیا گیا تھا
کہ اب فدائی پوری تیاری سے سلطان ایوبی کو قتل کرنے آرہے ہیں۔ اس اطالع نے کمانڈر کو اور زیادہ پریشان کردیا تھا مگر
سلطان ایوبی کی بے پروائی کا یہ عالم تھا کہ حسن بن عبداللہ نے اسے کہا کہ وہ باڈی گارڈز کے بغیر باہر نہ نکل جایا
تعالی کے ہاتھ میں ہے،
کریں تو سلطان ایوبی نے مسکرا کر اس کے گال پر تھپکی دی اور کہا… ''ہم سب کی جان اللہ
ٰ
محافظوں کی موجودگی میں مجھ پر چار قاتالنہ حملے ہوچکے ہیں۔ اللہ کو منظور تھا کہ میں زندہ رہوں ،میں اللہ کی راہ پر
چل رہا ہوں اگر اس کی ذات باری مجھے اس سے سبکدوش کرنا چاہے گی تو اس کی رضا کو نہ میں روک سکوں گا ،نہ
میرے محافظ''۔
سلطان محترم!'' حسن بن عبداللہ نے کہا… ''میرے اور محافظ دستے کے فرائض ایسے ہیں کہ آپ کے عقیدوں''
پھر بھی
ِ
اور جذبے سے میں متاثر نہیں ہوسکتا۔ مجھے فدائیوں کے متعلق جو اطالع مل رہی ہیں ،ان کے پیش نظر مجھے رات کو
بھی آپ کے سرہانے کھڑا رہنا چاہیے''۔
میں تمہارے اور محافظوں کے فرائض کا احترام کرتا ہوں حسن!'' سلطان ایوبی نے کہا… ''مگر میں محافظوں کے ساتھ ''
باہر نکلتاہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ جیسے مجھے اپنی قوم پر بھروسہ نہیں۔ عموما ً حکمران اپنی قوم سے ڈرا کرتے ہیں ،وہ
دیانت دار اور مخلص نہیں ہوتے''۔
ڈر قوم کا نہیں''۔ حسن بن عبداللہ نے کہا…''میں فدائیوں کی بات کررہا ہوں''۔''
میں احتیاط کروں گا''۔ سلطان ایوبی نے ہنس کر کہا۔''
ناگوں والے قلعے سے آکر محافظ سپاہی اپنی ڈیوٹی پر چال گیا۔ اس نے وہ دن اس ذہنی کیفیت میں گزارا کہ وہ تصوروں میں
تخت سلیمان اور لڑکی کو د یکھتا رہا۔ شام گہری ہوتے ہی وہ قلعے کی طرف چل پڑا۔ اس کے دل پر کوئی خوف نہیں تھا۔
وہ دروازے میں داخل ہوکر اندھیرے میں کچھ دور اندر چال گیا اور رک گیا۔ اس نے گزشتہ رات کی طرح پکارا… ''میں آگیا
ہوں ،کیا میں آگے آسکتا ہوں؟''… اسے زیادہ دیر انتظار نہ کرنا پڑا۔ مشعل کی روشنی نظر آنے لگی اور مشعل اس سے کچھ
دور آکر رک گئی۔ مشعل بردار نے کہا… ''حضرت کے قدموں میں سجدہ ضرور کرنا۔ آج کسی سے ملنا نہیں چاہتے ،تم
آجائو''۔
گزشتہ رات کی طرح وہ غالم گردشوں وغیرہ سے گزرتا مشعل بردار کے ساتھ حضرت کے دروازے پر رکا۔ حضرت نے اندر آنے
کی اجازت دے دی۔ سپاہی نے اس کے قدموں میں جاکر سر رکھا اور التجا کی… ''یا حضرت! مجھے میرا راز دے دو۔ میں
''کون ہوں؟ مجھے آپ کیا دکھائیں گے؟
سیاہ ریش حضرت نے اپنے ہاتھ پر ہاتھ مارا تو وہی لڑکی دوسرے کمرے سے آئی۔ وہ سپاہی کو دیکھ کر مسکرائی۔ سپاہی
اسے اپنے پاس بٹھانے کو بیتاب ہوگیا۔ سیاہ ریش نے لڑکی سے کہا… ''یہ آج پھر آگیا ہے۔ کیا میں یہاں تماشہ دکھانے کے
''لیے بیٹھا ہوں؟
اس گناہ گار کو بخش دیں یا حضرت!'' لڑکی نے کہا… ''بڑی دور سے امید لے کر آیا ہے''۔''
تھوڑی دیر بعد کل واال شیشہ اس کے ہاتھ میں تھا۔ لڑکی نے پہلے اسے شربت پالیا تھا اور اس کے پیچھے بیٹھ کر اس
کی پیٹھ اپنے سینے سے لگا لی اور بازو اس کے گرد پلیٹ دیئے جیسے ماں نے اپنے بچے کو گود میں لے رکھا ہو۔ سپاہی
کو سیاہ ریش حضرت کی سریلی آواز سنائی دینے لگی… ''مجھے شاہ سلیمان کا محل نظر آرہا ہے۔ مجھے شاہ سلیمان کا
محل نظر آرہا ہے''… یہ آواز دبتی چلی گئی جیسے بولنے واال دور ہی دور ہوتا جارہا ہو۔
اوہ!''… سپاہی نے چونک کر کہا… ''ایسا محل اس دنیا کے کسی بادشاہ کا نہیں ہوسکتا''۔''
میں اس محل میں پیدا ہوا تھا''۔ اسے کسی کی آواز سنائی دینے لگی جو یہی الفاظ دہرا رہی تھی۔ ''میں اس محل ''
میں پیدا ہوا تھا''… پھر یہ اس کی اپنی آواز بن گئی اور پھر اس نے یوں محسوس کیا جیسے اس کے وجود کے اندر یہی
ایک آواز گونجنے لگی ہے۔ ''میں اس محل میں پیدا ہوا تھا''۔ پھر وہ آوازوں سے التعلق ہوگیا۔ اسے ایک محل نظر آرہا
تھا اور وہ خود اس کے باہر ایک باغ میں گھوم پھر رہا تھا۔ اب یہ اسے شیشے کے گولے میں نظر نہیں آرہا تھا بلکہ یہ
محل حقیقت بن گیا تھا جس کی ہر چیز کو ،باغ کو ،پودوں اور پھولوں کو ہاتھ لگا کر محسوس کرسکتا تھا اور سونگھ سکتا
تھا۔ وہ وہاں سپاہی نہیں شہزادہ تھا۔
یہ محل فضا میں تحلیل ہوگیا اور سپاہی نے بہت دیر بعد اپنے آپ کو لڑکی کی آغوش میں پایا۔ اس نے لڑکی سے بہت
کچھ پوچھا۔ لڑکی نے اسے بتایا کہ حضرت کہہ گئے ہیں کہ یہ شخص شہزادہ تھا اور یہ اب بھی شہزادہ بن سکتا ہے۔
حضرت یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ سپاہی کے تخت وتاج پر کس کا قبضہ ہے۔ لڑکی نے اسے کہا… ''حضرت
کہہ گئے ہیں کہ تم اگر سات آٹھ روز یہیں رہو تو وہ سب کچھ معلوم کرسکیں گے اور تمہیں سب کچھ دکھا دیں گے''۔
اگلی رات وہ پھر قلعے کے اسی کمرے میں بیٹھا تھا۔ اس نے چار روز کی چھٹی لے لی تھی۔ اسے لڑکی نے اسی پیالے
میں شربت پالیا اور اس کے ہاتھ میں شیشے کا گولہ دے دیا گیا۔ اس نے کسی کے بتائے بغیر گولہ اپنی آنکھوں کے آگے رکھ
لیا اور قندیل کی لو دیکھتا رہا۔ اسے اس میں رنگا رنگ شعلے ناچتے نظر آئے۔ سیاہ ریش نے اپنے طلسماتی انداز سے کچھ
بولنا شروع کردیا۔ اس سے پہلے وہ دوبار اس عمل سے گزر چکا تھا۔ دونوں بار ایسے ہوا تھا کجہ اسے شیشے کے گولے میں
تخت سلیمان اور اگلی رات شاہ سلیمان کا محل نظر آیا تھا مگر اس کے بعد گولہ اس کے ہاتھ میں نہیں ہوتا تھا۔ اس جب
گولے میں کوئی منظر نظر آنے لگتا تھا تو سیاہ ریش یا لڑکی سپاہی کے ہاتھ سے گولہ لے کر الگ رکھ دیتی تھی۔ اب
تیسری رات بھی یہی ہوا۔ سیاہ ریش اس کے سامنے بیٹھ گیا ور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پراثر لہجے میں جو
دھیما دھیما سا تھا کہہ رہا تھا… ''یہ پھول ہیں ،یہ باغ ہیں ،میں باغ میں موجود ہوں''… وہ یہی الفاظ دہرا رہا تھا اور
لڑکی سپاہی کے ساتھ لگی بیٹھی ،اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی۔
سپاہی کو ایک باغ نظر آگیا۔ زمین اونچی نیچی تھی اور ہریالی سے ڈھکی ہوئی۔ ہر طرف رنگ برنگے پھول تھے اور ان کی
مہک نشہ طاری کرتی تھی۔ سپاہی نے باغ میں ایک ایسی لڑکی کو ٹہلتے اور گنگناتے دیکھا جو اس لڑکی سے بہت ہی زیادہ
خوبصورت تھی جو اس کے ساتھ لگی بیٹھی تھی۔ اس کا لباس ایک ہی رنگ کا تھا اور یہ رنگ ان رنگوں میں سے نہیں تھا
جو وہ اس دنیا میں دیکھا کرتا تھا۔ سپاہی اب ناگوں والے قلعے کے کمرے میں نہیں تھا۔ سیاہ ریش حضرت اور اس کے ساتھ
کی لڑکی سے وہ بے خبر اور التعلق ہوچکا تھا۔ وہ قلعے سے نکل ہی گیا تھا۔ اس نے باغ میں لڑکی کو دیکھا تو اس کی
طرف دوڑ پڑا۔ لڑکی بھی دوڑی اور اس کے گلے کا ہار بن گئی۔ لڑکی کے جسم سے پھولوں کی مہک اٹھ رہی تھی۔ سپاہی
شاہ سلیمان کے خاندان کا شہزادہ تھا۔ وہ دونوں باغ کے اس گوشے میں چلے گئے جو ایک غار کی مانند تھا لیکن یہ غار
رنگا رنگ بیلوں اور ان کے پھولوں نے بنا رکھا تھا۔ اس کے فرش پر مخمل جیسی گھاس تھی۔
لڑکی نے پھولوں کے اس غار کے ایک کونے سے ایک خوش نما صراحی اٹھائی اور پیالہ بھر کر سپاہی کے ہاتھ میں دے دیا۔
یہ میٹھی شراب تھی۔ سپاہی پر لڑکی کے حسن اور محبت کا نشہ تو پہلے ہی طاری تھا۔ شراب کے نشے نے اسے اس سے
بھی زیادہ حسین اور طلسماتی دنیا میں پہنچا دیا اور پھر لڑکی نے اسے کہا کہ وہ ابھی آتی ہے۔ وہ چلی گئی۔ سپاہی کو
اس کی چیخیں سنائی دیں۔ وہ باہر کو دوڑا۔ اسے لڑکی کہیں نظر نہ آئی۔ وہ دوڑتا ہی رہا۔ اسے لڑکی کی دلدوز چیخیں
سنائی دیتی رہیں مگر وہ سپاہی کو کہیں نظر نہیں آتی تھی۔ اس نے غصے سے پاگل ہوکر تلوار نکال لی اور لڑکی کی تالش
میں بائوال ہوتا رہا۔ آخر اسے ایک بڑھیا ملی۔ اس نے اسے بتایا کہ لڑکی اب تمہیں نہیں مل سکے گی۔ وہ جو لڑکی کو لے
گیا ہے وہ تم سے زیادہ طاقتور ہے۔ تم اب اسے کبھی نہیں دیکھ سکو گے۔ وہ جو لڑکی لے گیا ہے ،اب اس تخت پر بیٹھے
گا جس پر تمہیں بیٹھنا تھا۔ اس کے پیچھے مت بھاگو۔ زندہ رہو اور کبھی موقع پا کر اسے قتل کردینا۔ لڑکی تمہاری یاد میں
ہلکان ہوتی رہے گی۔
وہ کون تھا جو اس لڑکی کو لے گیا ہے؟'' سپاہی جب ناگوں والے قلعے کے اس کمرے میں لوٹ کر آیا تو اس نے ''
''پوچھا… ''اور میں نے یہ کیا دیکھا تھا؟
تم نے اپنی گزری ہوئی زندگی دیکھی ہے''۔ سیاہ ریش نے اسے بتایا… ''میں تمہیں واپس لے آیا ہوں''۔''
میں وہاں سے واپس نہیں آنا چاہتا''۔ سپاہی نے بیتابی اور بے چینی سے کہا… ''مجھے وہیں بھیج دو''۔''
کیا کرو گے وہاں جاکر؟'' سیاہ ریش نے اس سے پوچھا… ''جس کی خاطر جانا چاہتے ہو وہ تو کسی اور کے قبضے میں''
ہے۔ اسے جب تک قتل نہیں کرو گے وہ تمہیں نہیں مل سکے گی۔ میں نہیں چاہتا کہ تم کسی کو قتل کرو اور میں یہ بھی
جانتا ہوں تم اس انسان کو قتل کر بھی نہیں سکو گے''۔
یاحضرت!'' سپاہی نے کہا… ''اگر قتل کرنے سے مجھے میرا ورثہ اور میری بیوی مل سکتی ہے تو میں سلطان صالح ''
الدین ایوبی سے بھی اونچے رتبے کے آدمی کو قتل کردوں گا''۔
پھر یہ خون میری گردن پر ہوگا میرے دوست!''… درویش نے کہا۔''
سپاہی اس کے قدموں میں گر پڑا اور اس کے پائوں پر سر رگڑنے لگا۔ وہ ''یاحضرت ،یاحضرت'' کا ورد کیے جارہا تھا اور
وہ رونے بھی لگا تھا۔
سیاہ ریش حضرت نے اسے پھر اسی دنیا میں پہنچا دیا جہاں تخت سلیمانی تھا۔ محل اور باغ تھا۔ اس کے کانوں میں آوازیں
پڑتی رہیں… '' یہ ہے تمہارے دادا کا قاتل ،تمہارے باپ کا قاتل ،تمہارے تخت وتاج کا غاصب اور اس لڑکی کو جو تمہیں
چاہتی ہے ،اس کی قید میں ہے''۔
نہیں نہیں''۔ سپاہی نے گھبرا کر کہا… ''یہ نہیں ہوسکتا ،یہ سلطان صالح الدین ایوبی ہے''۔''
یہی تمہاری قسمت کا قاتل ہے''۔ اس کے کانوں میں آوازیں پڑ رہی تھیں۔ ''یہ تمہارا سلطان نہیں ہوسکتا۔ یہ کرد ہے'' ،
تم عرب ہو'' ۔ کہو… ''صالح الدین ایوبی میرے دادا کا قاتل ہے۔ میرے باپ کا قاتل ہے۔ میرے تخت وتاج کا غاصب ہے…
اب راز کھل گیا ہے۔ انتقام لو ،غیرت مند مرد انتقام لیا کرتے ہیں''۔
اور سپاہی طلسماتی ماحول میں گھومتے پھرتے یہی ورد کرتا رہا… ''صالح الدین ایوبی میرے دادا کا قاتل ہے۔ میرے باپ کا
قاتل ہے۔ میرے تخت وتاج کا غاصب ہے۔ میری محبت کا قاتل ہے۔ میری قسمت کا قاتل ہے''۔
پھر یوں ہوا کہ اس کی نظروں کے آگے صرف صالح الدین ایوبی رہ گیا۔ وہ اسے چلتا پھرتا نظر آتا تھا۔ سپاہی ہاتھ میں
خنجر لیے اس کے پیچھے پیچھے جارہا تھا مگر قتل کا موقع نہیں ملتا تھا۔ سپاہی کو لڑکی نظر آگئی۔ وہ پنجرے میں بند
تھی۔ صالح الدین ایوبی پنجر کے پاس کھڑا قہقہے لگا رہا تھا۔ لڑکی سپاہی کو ادا اور مظلوم نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
سلطان ایوبی کے چہرے پر سفاکی اور بربریت کے سائے گہرے ہوئے جارہے تھے۔ سپاہی کی زبان خاموش ہوتی تھی تو اسے
فضا سے سرگوشیاں سنائی دیتی تھیں… ''صالح الدین ایوبی میرے دادا کا قاتل ہے۔ میرے باپ کا قاتل…'' سلطان صالح
اعلی فوجی حکام سے جنگ کی باتیں کررہا تھا۔ جاسوس جو نئی اطالع الئے
الدین ایوبی اپنے کمرے میں اپنے مشیروں اور
ٰ
تھے ،جن کے مطابق اپنے پالن پر نظرثانی کررہا تھا اور اس وقت یہی محافظ سپاہی باہر پہرے پر کھڑا تھا جسے سیاہ ریش
بزرگ نے نئی دنیا دکھائی تھی۔ مشیروغیرہ بہت دیر بعد کمرے سے نکلے اور سلطان ایوبی اکیال رہ گیا۔ سپاہی کمرے میں
چال گیا ور اس نے تلوار سونت کر کہا… ''تم میرے دادا کے قاتل ہو ،میرے باپ کے قاتل ہو''… سلطان ایوبی نے چونک
کر اسے دیکھا… ''اسے آزاد کردو ،وہ میری ہے''… اور اس کے ساتھ ہی اس نے قہر اور غضب سے سلطان ایوبی پر تلوار
کا وار کیا۔ سلطان خالی ہاتھ تھا۔ وہ پھرتی سے وار بچا گیا۔ اس نے باڈی گارڈز کے کمانڈر کو آواز دی اور لپک کر اپنی
تلوار اٹھالی۔ سپاہی نے اور زیادہ غضب ناک ہوکر اس پر حملہ کیا۔ اگر اس کے مقابلے کا تیغ زن سلطان ایوبی نہ ہوتا تو
اس تجربہ کار سپاہی کا وار خالی نہ جاتا۔ سلطان ایوبی نے اس کے وار صرف روکے اور وار ایک بھی نہ کیا اور جب کمانڈر
دوڑتا اندر آیا تو سلطان ایوبی نے اسے کہا… ''اس پر وار نہ کرنا ،زندہ پکڑو''۔
سپاہی نے گھوم کرکمانڈر پر وار کیا۔ اتنے میں تین چار باڈی گارڈز اندر آگئے۔ سپاہی کے قہر کا یہ عالم تھا کہ اس نے تلوار
کے وار پہ وار کرکے کسی کو قریب نہ آنے دیا۔ وہ چونکہ سلطان ایوبی کو قتل کرنا چاہتا تھا ،اس لیے وہ اسی کی طرف
لپکتا اور للکارتا تھا… ''تم میرے دادا کے قاتل ہو ،میرے باپ کے قاتل ہو ،میرے تخت وتاج کے غاصب ہو''… آخر اس کو
پکڑ لیا گیا۔ اس سے تلوار چھین لی گئی۔
زندہ باد میرے محافظ''… سلطان ایوبی نے غصے کا اظہار کرنے کے بجائے اسے خراج تحسین پیش کیا اور کہا… ''سلطنت''
اسالمیہ کو تم جیسے تیغ زنوں کی ضرورت ہے''… باڈی گارڈ کمانڈر اور دوسرے سپاہی حیران تھے کہ یہ قصہ کیا ہے۔ سلطان
ایوبی نے کمانڈر سے کہا… ''طبیب کو اور حسن بن عبداللہ کو فورا ً بالئو''۔
سپاہی کو چار باڈی گارڈز نے جکڑ رکھا تھا اور وہ چال رہا تھا… ''یہ میری محبت کا قاتل ہے ،یہ میری قسمت کا قاتل
ہے''۔
ایک باڈی گارڈ نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا لیکن سلطان ایوبی نے کہا… ''اسے بولنے دو ،ہاتھ ہٹا لو''۔ اس نے سپاہی
''سے کہا… ''بولو میرے دوست! بتائو تم مجھے کیوں قتل کرنے لگے تھے؟
اسے آزاد کردو''۔ سپاہی نے چال کر کہا… ''تم نے اسے پنجرے میں بند کررکھا ہے۔ حضرت نے مجھے کہا تھا کہ میں ''
تمہیں قتل نہیں کرسکوں گا۔ آئو ،میرا مقابلہ کرو۔ بزدلوں کی طرح اپنے آدمیوں کو اپنی جان بچانے کے لیے تم نے بال لیا
ہے ،تلوار نکالو ،میری تلوار مجھے دو ،میدان میں آئو''۔
سلطان ایوبی اسے بڑی غور سے دیکھتا رہا۔ باڈی گارڈ سلطان ایوبی کے اس حکم کا انتظار کررہے تھے کہ اس سپاہی کو قید
خانے میں ڈال دیا جائے۔ اس کا جرم معمولی نہیں تھا۔ اس نے قاتالنہ حملہ کیا تھا۔ اگر سلطان ایوبی بے خبری میں بیٹھا
ہوتا یا وہ اس محافظ کو اندر آتے دیکھ نہ لیتا تو اس کا قتل ہوجانا یقینی تھا مگر سلطان ایوبی نے اسے قید میں ڈالنے کا
حکم نہ دیا۔ محافظ ہذیانی کیفیت میں بول رہا تھا… اتنے میں طبیب آگیا اور اس سے ذرا بعد حسن بن عبداللہ آگیا۔ اندر کا
منظر دیکھ کر وہ گھبرا گیا۔
اسے لے جائیں''۔ سلطان ایوبی نے طبیب سے کہا… ''یہ غالبا ً اچانک پاگل ہوگیا ہے''۔''
یہ آج ہی چار روز چھٹی کاٹ کر آیا ہے''۔ باڈی گارڈ کمانڈر نے کہا۔ ''جب سے آیا ہے ،خاموش ہے''۔''
اسے گھسیٹ کر باہر لے گئے۔ طبیب بھی ساتھ چال گیا۔ سلطان ایوبی نے حسن بن عبداللہ کو بتایا کہ اس سپاہی نے اس پر
قاتالنہ حملہ کیا ہے۔ حسن بن عبداللہ نے اس شک کا اظہار کیا کہ یہ فدائی ہوگا۔ سلطان ایوبی نے کہا کہ یہ سپاہی کسی
وجہ سے دماغی توازن کھو بیٹھا ہے۔ حسن بن عبداللہ کو سلطان ایوبی نے کہا کہ اس کے متعلق اچھی طرح چھان بین کی
جائے۔
٭ ٭ ٭
بہت دیر بعد طبیب سلطان ایوبی کے پاس آیا اور انکشاف کیا کہ اس سپاہی کو کئی روز مسلسل نشے کی حالت میں رکھا گیا
ہے اور اس پر عمل تنویم ( ہپناٹزم) کیا گیا ہے۔ طبیب نے اس کی سانس سونگھ کر معلوم کرلیا تھا کہ اسے نشہ آور چیزیں
کھالئی یا پالئی گئی ہیں۔ اس نے سلطان ایوبی کو بتایا… ''یہ عمل طب کے لیے کوئی عجوبہ نہیں۔ اس کا موجد حسن بن
صباح ہے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ اس نے ایک نشہ آور شربت تیار کیا تھا جس میں یہ اثر تھا کہ جو پی لے اسے نہایت
حسین اور دل نشیں مناظر نظر آتے تھے۔ اس کیفیت میں اس کے کان میں جو بات ڈالی جائے وہ اسی کو حقیقی روپ میں
دیکھنے لگتا تھا جو دراصل تصور ہوتا تھا۔ حسن بن صباح نے اسی نشے اور عمل تنویم کی بنیادوں پر ایک جنت بنائی تھی
جس میں داخل ہونے والے وہاں سے نکلنے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے۔ وہ منہ میں مٹی اور کنکریاں ڈال کر سمجھتے تھے کہ
مرغن کھانے کھا رہے ہیں۔ کانٹوں پر چلتے تو سمجھتے تھے کہ مخمل پر چل رہے ہیں۔ حسن بن صباح تو مرگیا ،اس کا یہ
شربت اور عمل پیچھے رہ گیا۔ اس کا گروہ قاتلوں کا گروہ بن گیا۔ اپنے مقاصد کے لیے یہ گروہ حسین لڑکیوں اور اس شربت
کا استعمال کرتا ہے۔ اس سپاہی کو آپ کے قتل کے لیے اس عمل کا شکار بنایا گیا ہے''۔
طبیب نے یہ تشخیص کرکے سپاہی کو دوائیاں پال دی تھیں ،جنہوں نے اس کی ہذیانی کیفیت پر قابو پالیا تھا اور وہ گہری
نیند سو گیا تھا۔ حسن بن عبداللہ نے پہلے ہی طبیب سے معلوم کرلیا تھا کہ یہ سپاہی اپنی حقیقی حالت میں نہیں ،وہ
سراغ رساں تھا۔ اس نے باڈی گارڈوں سے معلوم کرلیا کہ یہ سپاہی چار روز کی چھٹی پر گیا تھا لیکن کسی کو یہ معلوم
نہیں کہ اس نے چھٹی کہاں گزاری ہے۔ شہر میں ناگوں والے قلعے کے متعلق جو باتیں مشہور ہوگئی تھیں وہ حسن بن
عبداللہ تک اس کے جاسوسوں کے ذریعے پہنچی تھیں۔ لوگ کہتے تھے کہ قلعے میں ایک بزرگ نمودار ہوا ہے جو غیب کا
حال بتاتا اور مرادیں پوری کرتا ہے۔ حسن بن عبداللہ نے ان باتوں کی طرف توجہ نہیں دی تھی۔ اس قسم کے بزرگوں اور
پیروں پیغمبروں کی آمدورفت لگی رہتی تھی۔ مذوب اور دیوانے آدمی کو بھی لوگ برگزیدہ انسان کہہ کر ان سے مرادیں پوری
کرانے لگتے تھے۔ حسن بن عبداللہ کو ایک جاسوس نے بتایا کہ اس نے ایک سیاہ ریش آدمی کو دوبار قلعے کے اندر جاتے
دیکھا ہے۔
قلعے کے اردگرد گھومنے پھرنے والوں سے پوچھ گچھ کی گئی تو ایک آدمی نے بتایا کہ سیاہ داڑھی اور سفید چغے واال ایک
آدمی قلعے کے اندر آتا جاتا دیکھا گیا ہے۔ ایسی چند شہادتیں حاصل کرکے حسن بن عبداللہ نے سورج غروب ہونے سے پہلے
فوج کے ایک دستے سے چھاپہ مارا۔ مشعلیں ساتھ تھیں۔ قلعہ اندر سے کچھ پیچیدہ سا تھا۔ گری ہوئی دیواروں اور چھتوں کا
ملبہ بھی تھا۔ کئی کمرے سالمت تھے۔ فوجیوں کو ہر طرف پھیال دیا گیا۔ کسی گوشے سے شور اٹھا۔ کچھ سپاہی ادھر دوڑے
گئے ،وہاں دو سپاہی پڑے تڑپ رہے تھے۔ ان کے سینوں میں تیر اترے ہوئے تھے ،کہیں سے تین چار تیر آئے۔ تین چار
سپاہی اور گر پڑے۔ بعض سپاہی اس ڈر سے پیچھے ہٹ آئے کہ یہاں کوئی انسان نہیں ہوسکتا ،یہ جن بھوت ہوں گے۔ حسن
بن عبداللہ حقیقت پسند انسان تھا۔ اس نے سپاہیوں کا حوصلہ بڑھایا اور انہیں بتایا کہ یہ تیر انسانوں کے چالئے ہوئے ہیں۔
اس نے گھیرے کی ترتیب بدل دی اور گھیرا تنگ کرنے لگا ،وہاں کوئی انسان نظر نہیں آرہا تھا ،کہیں سے دو چار تیر آتے
اور دو چار سپاہی زخمی ہوجاتے تھے۔
حسن بن عبداللہ نے فوج کا ایک اور دستہ منگوا لیا۔ رات گہری ہوگئی تھی۔ بے شمار مشعلیں منگوالی گئیں۔ ایک دستے کا
کمانڈر اس کمرے تک پہنچ گیا جہاں سپاہی آتا رہا تھا۔ اس ڈرائونے کھنڈر میں ایسے سجے سجائے کمرے کو دیکھ کر سپاہی
ڈر گئے۔ یہ جنوں کا ہی مسکن ہوسکتا تھا۔ حسن بن عبداللہ کو بالیا گیا۔ اس نے اندر جاکر سامان دیکھا تو اس پر راز
کھلنے لگے۔ اتنے میں چند ایک سپاہیوں نے سیاہ ریش والے آدمی کو کہیں سے پکڑ لیا۔ اس کے ساتھ ایک خوبصورت لڑکی
تھی۔ ان کے بعد چھ اور آدمی کونوں کھدروں میں چھپے ہوئے پکڑے گئے۔ ان کے پاس کمانیں اور تیر تھے۔ سیاہ ریش نے
خدا کا برگزیدہ انسان اور تنہائی میں چلہ کاٹنے واال تارک الدنیا بننے کی بہت کوشش کی لیکن اتنی حسین اور جوان لڑکی
اور تیروکمان سے مسلح افراد اور ان کا فوج کے ساتھ مقابلہ اسے جھٹال رہا تھا۔ اس کے سامان پر قبضہ کرلیا گیا اور ان
سب کو لے گئے۔
تین چار مرتبان ،صراحیاں اور پیالے بھی برآمد ہوئے تھے۔ یہ چیزیں رات کو طبیب کو دے دی گئیں۔ اس نے مرتبانوں اور
صراحیوں کو سونگھ کر ہی بتا دیا کہ ان میں وہ شربت ہے جو حسن بن صباح کی ایجاد تھا… ان تمام آدمیوں اور لڑکی کو
قید خانے میں لے گئے۔
٭ ٭ ٭
صبح طلوع ہورہی تھی۔ جب لڑکی نے اذیتوں کے پہلے مرحلے میں ہی بتا دیا کہ یہ گروہ فدائیوں کا ہے اور یہ لوگ نیا حلف
لے کر آئے تھے کہ سلطان ایوبی کو قتل کرکے لوٹیں گے ،ورنہ مرجائیں گے۔ لڑکی نے بتایا کہ اس محافظ سپاہی کو سیاہ
ریش نے پھانسا تھا اور اسے نشہ پال کر اس پر عمل تنویم کیا جاتا تھا۔ سپاہی کے ذہن میں اس نشے اور عمل کے ذریعے
سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف ایسی نفرت پیدا کی گئی کہ وہ سلطان کو قتل کرنے کے لیے چل پڑا۔ ان لوگوں کو توقع
تھی کہ سلطان ایوبی اس سپاہی کے ہاتھوں قتل ہوجائے گا ،اس لیے وہ اطمینان سے قلعے میں بیٹھے رہے۔ سیاہ ریش
جاسوسی کے لیے گیا تھا لیکن اسے کچھ پتا نہیں چل سکا ،نہ اسے وہ سپاہی کہیں نظر آیا۔ شام کے وقت اچانک فوج
آگئی۔
سیاہ ریش بڑا سخت جان نکال۔ اس نے صاف کہہ دیا کہ اس لڑکی کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔ وہ اس کھنڈر میں ایک
وظیفے کا چلہ کرنے آیا تھا۔ اس کے دوسرے ساتھیوں نے بھی پہلے انکار کیا لیکن حسن بن عبداللہ نے جب انہیں تہہ خانے
میں لے جا کر اذیت رسانی کے عمل میں ڈاال تو انہوں نے باری باری اپنے جرم کا ا عتراف کرلیا۔ سیاہ ریش کو جب ان
کے سامنے کھڑا کیا گیا تو اس کے لیے انکار کی کوئی صورت نہ رہی۔ اس نے جب اپنے ساتھیوں کی حالت دیکھی تو اس
پر لرزہ طاری ہوگیا۔ اسے کہا گیا کہ وہ تمام تر واقعات پوری تفصیل سے سنا دے تو اسے باعزت طریقے سے رکھا جائے گا،
ورنہ اسے مسلسل اذیتوں میں ڈال کر مرنے بھی نہیں دیا جائے گا اور زندہ رہنے کے قابل بھی نہیں رہنے دیا جائے گا۔ اس
نے تہہ خانے میں اذیت رسانی کا سامان اور طریقے دیکھے تو وہ سب کچھ بتانے پر رضا مند ہوگیا۔
اس کے بیان کے مطابق وہ فدائی قاتلوں کے گروہ کا آدمی تھا۔ فدائیوں نے سرغنہ شیخ سنان کا وہ خصوصی تجربہ کار قاتل
تھا لیکن وہ اپنے ہاتھوں قتل نہیں کرتا تھا۔ اس کا طریقۂ کار اسی قسم کا تھا جو اس نے اس واردات میں استعمال کیا تھا۔
یہ حسن بن صباح کی ایجاد تھی۔ اگر اس فرقے کے متعلق کتابیں پڑھی جائیں تو ان میں اس طریقے کی تفصیالت واضح
ہوجاتی ہیں۔ تمام مصنفین نے رائے دی ہے کہ حسن بن صباح کو خدا نے غیر معمولی عقل عطا کی تھی جو اس نے
شیطانی کاموں میں استعمال کی۔ اس سپاہی کو جس طرح سلطان ایوبی کے قتل کے لیے استعمال کیا گیا ،وہ اسے فرقے کا
ایک عام طریقہ قتل تھا۔ اس سپاہی کی مثال سے اس انوکھے طریقۂ قتل کی وضاحت ہوجاتی ہے۔ اگر انسانی نفسیات کا
مطالعہ کیا جائے تو کسی کو یوں اپنا آلۂ کار بنانا حیران کن نہیں لگتا۔ اس سپاہی کے الشعور پر قبضہ کرکے اس پر سلطان
ایوبی کے خالف نفرت ڈالی گئی ،پھر اسے جذبہ انتقام میں بدال گیا۔
سیاہ داڑھی والے نے بتایا کہ چونکہ سلطان ایوبی پر پہلے چار قاتالنہ حملے ناکام ہوچکے تھے۔ اس لیے اس شخص کو بھیجا
گیا تھا کہ وہ اپنا خصوصی طریقہ استعمال کرے۔ سلطان ایوبی پر پہلے چار حملے براہ راست کیے گئے تھے۔ یہ دیکھ لیا گیا
تھا کہ سلطان ایوبی کو سیدھے طریقے سے قتل نہیں کیا جاسکتا۔ سیاہ ریش (جس کا نام واقعہ نگاروں کے ہاں محفوظ نہیں)
اپنے گروہ کے چھ تجربہ کار آدمیوں اور ایک لڑکی کو دمشق لے گیا۔ اس نے ناگوں والے ویران قلعے کو اپنا مسکن بنایا۔ اس
میں یہ گروہ رات کے اندھیرے میں داخل ہوا۔ انہوں نے اپنا سامان بھی رات کو وہاں پہنچایا
اس گروہ کے آدمیوں نے شہر میں یہ افواہ پھیالئی کہ قلعے میں ایک درویش نمودار ہوا ہے جس کے ہاتھ میں غیبی طاقت
ہے اور وہ مستقبل کی باتیں بتاتا ہے۔ ان افواہوں کا مقصد یہ تھا کہ لوگ قلعے میں آئیں اور سیاہ ریش کو غیب سے نمودار
ہونے واال درویش یا پیغمبر تسلیم کرلیں۔ اپنی یہ حیثیت منوا کر وہ کسی ایک یا ایک سے زیادہ آدمیوں کو قبضے میں لے کر
سلطان ایوبی کے قتل کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا مگر خالف توقع لوگ قلعہ میں نہ آئے جس کی وجہ یہ تھی کہ قلعے
کے متعلق بڑی ہی ڈرائونی روایات مشہور تھیں۔ ان میں یہ روایت سب سے زیادہ خطرناک تھی کہ دونوں ناگوں کی عمر ایک
ہزار سال ہوچکی ہے اور اب انسانوں کے روپ میں ظاہر ہوتے ہیں اور کوئی ان کے قریب جائے تو اسے نگل جاتے ہیں۔
گروہ کا سرغنہ منجھا ہوا قاتل تھا۔ اس کے دماغ میں یہ سکیم آئی کہ سلطان ایوبی کے دستے کے کسی سپاہی کو استعمال
کیا جائے۔ چنانچہ وہ کئی روز یہ دیکھتا رہا کہ محافظ دستے کے سپاہی کہاں رہتے ہیں اور ان کی ڈیوٹی کس طرح لگتی ہے۔
وہ سلطان ایوبی کے دفتر تک اور گھر تک نہ پہنچ سکا کیونکہ ان دونوں جگہوں کے قریب کوئی شہری یا فوجی نہیں جاسکتا
تھا۔ یہ ممنوعہ عالقہ تھا۔ تاہم اس استاد نے اس محافظ سپاہی کو دیکھ لیا اور کسی طرح یہ بھی معلوم کرلیا کہ وہ سلطان
ایوبی کے دفتر کے محافظوں میں سے ہے ،یعنی یہ آسانی سے سلطان ایوبی تک پہنچ سکتا تھا۔ اس نے اس سپاہی پر نظر
رکھی۔ ایک روز یہ سپاہی اسے باہر جاتا نظر آگیا۔ سیاہ ریش نے اسے راستے میں روک لیا اور اس کے ساتھ ایسی باتیں
کیں جنہیں کوئی انسان خواہ وہ کتنی ہی مضبوط شخصیت کا ہو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ ان باتوں کے لیے جو لب ولہجہ
اختیار کیا گیا اور جواداکاری کی گئی ،وہ انسانی فطرت پر طلسماتی اثر کرتی ہے۔ یہ سپاہی معمولی سے ذہن کا پسماندہ آدمی
تھا ،جال میں آگیا اور رات کو قلعے میں پہنچ گیا۔
قلعے کے ایک کمرے میں جو اہتمام کیا گیا تھا وہ پتھروں کو موم کرنے کے لیے کافی تھا۔ ایک تو کمرے کی سجاوٹ تھی
اور بیش قیمت قالین ،دوسرے یہ لڑکی تھی جس کے حسن میں اور جسمانی ساخت میں جادو تھا۔ اس کا لباس ایسا تھا
جس میں و ہ نیم عریاں تھی اور اس کے کھلے ہوئے ریشمی بالوں کا تاثر نشہ طاری کرتا تھا۔ سیاہ ریش کے کہنے کے
مطابق یہ لڑکی ،اس کا لباس اور انداز زاہدوں اور پرہیزگاروں میں بھی حیوانی جذبہ بیدار کردیتا ہے۔ تیسری اور اصل چیز وہ
شربت تھا جو وہ لوگ اپنے شکار کو پالتے تھے۔ شیشے کا گوال فریب نظر پیدا کرنے کے لیے تھا۔ اس سپاہی کے ذہن میں
یہ ڈاال گیا کہ وہ شاہی خاندان کا فرد ہے اور اس کا خاندان تخت سلیمان کا وارث ہے۔ تخت سلیمان کا وجود تھا یا نہیں،
دلچسپ کہانیوں میں اس کا بہت ذکر آتا ہے اور ایسے انداز سے آتا ہے کہ یہ ایک حسین اور پراسرار تصور کی طرح لوگوں
کے ذہنوں پر سوار ہوجاتا ہے۔
یہ سپاہی جب اس کمرے میں داخل ہوا تو کمرے کی زیبائش اور قیمتی سامان نے اسے متاثر کیا۔ سیاہ ریش مراقبے کی
حالت میں تھا۔ اس کا بھی اثر تھا۔ اس نے جب اتنی حسین لڑکی دیکھی تو مرعوب ہوگیا۔ لڑکی نے اسے جو شربت پالیا،
اس میں نشہ تھا۔ اس نشے کا اثر یہ تھا کہ انسان حقیقی دنیا سے التعلق ہوکر حسین تصورات کی دنیا میں چال جاتا ہے۔
اس کیفیت میں اس پر عمل تنویم کیا جاتا یعنی اسے ہپناٹائز کرلیا جاتا اور اس کے ذہن میں اپنے مطلب کے تصورات ڈالے
جاتے تھے۔ اس کے ہاتھ میں شیشے کا جو گولہ دیا جاتا تھا ،اس میں سے قندیل کی لو کے کئی رنگ نظر آتے تھے۔ جو
کوئی عجوبہ نہیں تھا۔ شیشے کی ساخت ایسی تھی کہ اس میں سے گزرتی روشنی اپنے ساتوں رنگوں میں نظر آتی تھی۔ ان
رنگوں کا ذہن پر اثر ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ ایک انتہائی حسین لڑکی سپاہی کے ساتھ لگ کر بیٹھ جاتی اور باتوں میں یہ
ظاہر کرتی تھی کہ وہ اسے دل وجان سے چاہتی ہے۔ سیاہ ریش سریلی اور پراسرار آوازمیں بولنے لگتا تھا۔ اس کے الفاظ
سپاہی کے کان میں پڑتے اور اس کے ذہن میں مطلوبہ تصور آراستہ کرتے تھے۔ سیاہ ریش بھانپ لیتا تھا کہ سپاہی اپنے آپ
میں نہیں رہا۔ اس وقت وہ اس کے ہاتھ سے شیشے کا گولہ لے کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیتا اور اس سے ہپناٹائز
کرلیتا تھا۔
سپاہی جسے اپنی آواز سمجھتا تھا وہ سیاہ ریش کی آواز ہوتی تھی ،پھر وہ اسے مرحلے میں داخل ہوجاتا تھا ،جہاں وہ اپنے
تصور کو حقیقی سمجھ کر اس کا حصہ بن جاتا تھا۔ کمزور شخصیت کے سپاہی نے یہ اثرات قبول کرلیے۔ سیاہ ریش اسے
حقیقی دنیا میں واپس لے آیا۔ اس مقصد کے لیے اسے کچھ سونگھایا جاتا تھا۔ سیاہ ریش دوسرے کمرے میں چال جاتا اور
لڑکی سپاہی کے ساتھ اکیلی رہ جاتی۔ وہ سپاہی کے اعصاب اور دماغ پر غالب آجاتی۔ اس مقصد کے لیے وہ ایسی حرکات
اور ایسی باتیں کرتی تھیں جس کے اثر سے کم از کم یہ سپاہی بچ نہیں سکتا تھا۔ سپاہی کو صرف تخت سلیمان دکھا کر
رخصت کردیا گیا اور اس کے ذہن میں ڈال دیا گیا کہ راز ابھی باقی ہے۔ سپاہی کے دل میں تجسس پیدا ہوگیا۔ دوسری بار
اس پر یہی عمل کیا گیا اور اسے کچھ اور دکھا دیا گیا۔ انہوں نے یہ دیکھ لیا تھا کہ سپاہی پوری طرح ان کے جال میں آگیا
اور وہ اس کے ذہن پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ وہ اب ان کی منت سماجت کرتا تھا کہ اسے سارا راز بتایا
جائے۔ اسے کہا گیا کہ وہ کئی روز ان کے پاس رہے۔ اس نے چھٹی لے لی۔ وہ یہی چاہتے تھے۔
ان چار دنوں اور چار راتوں کے عرصے میں اسے مسلسل نشے اور ہپناٹزم کے زیراثر رکھا گیا اور اس کے ذہن الشعور میں
صالح الدین ایوبی کا تصور پیدا کرکے یہ بات ڈال دی گئی کہ سلطان ایوبی سپاہی کے دادا اور باپ کا قاتل ہے اور اس کے
تخت پر بھی اس نے قبضہ کررکھا ہے۔ سپای کو ایک حسین لڑکی کا تصور دکھایا گیا پھر یہ دکھایا گیا کہ سلطان ایوبی نے
اس لڑکی کو پنجرے میں بند کردیا ہے۔ چار روز بعد اسے اسی حالت میں قلعے سے نکال دیا گیا ،وہ اپنی ڈیوٹی پر حاضر
ہوگیا۔ اسے جوں ہی موقع مال ،اس نے سلطان ایوبی پر حملہ کردیا۔
٭ ٭ ٭
سپاہی بے ہوش پڑا تھا۔ طبیب نے اس کے ذہن سے نشہ آور شربت کا اثر زائل کرنے کے لیے دوائی دی تھی۔ وہ حقیقت
اور تصورات کے درمیان بھٹک رہا تھا۔ معلوم نہیں اس کے اعصاب پر کیسے کیسے اثرات تھے کہ اثرات اترتے ہی اعصاب
جواب دے گئے۔ طبیب نے اسے ہوش میں النے کے کچھ اور طریقے اختیار کیے اور دو روز بعد سپاہی نے آنکھ کھولی۔ وہ اس
طرح اٹھا جیسے گہری نیند سوگیا تھا اور خواب دیکھتا رہا تھا۔ اپنے ارد گرد کھڑے آدمیوں کو حیرت سے دیکھنے لگا۔ طبیب
نے اسے پوچھا کہ وہ کہاں تھا؟… اس نے کہا کہ وہ سویا ہوا تھا۔ بہت دیر بعد وہ اپنے آپ میں آیا تو وہ زیادہ کچھ نہ بتا
سکا۔ اس نے بتایا کہ سیاہ داڑھی اور چغے واال ایک آدمی اسے قلعے میں لے گیا تھا ،وہاں اس نے کچھ اور باتیں بھی
بتائیں لیکن اسے بالکل یاد نہیں تھا کہ اس نے تخت سلیمانی وغیرہ دیکھا ہے۔ اسے یہ بھی یاد نہیں تھا کہ اس نے سلطان
ایوبی پر تلوار سے حملہ کیا تھا۔
یہ یقین کرنے کے لیے سپاہی دھوکہ نہیں دے رہا ،اسے سلطان ایوبی کے سامنے لے جایا گیا۔ اس نے فوجیوں کی طرح سلطان
کو سالم کیا۔ سلطان ایوبی نے اس کے ساتھ شفقت اور پیار سے بات کی مگر وہ حیران تھا کہ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے
اور یہ کیا کررہے ہیں۔ آخر اسے بتایا گیا کہ اس نے کیا کیا ہے وہ چال اٹھا… ''یہ جھوٹ ہے۔ میں اپنے سلطان پر حملہ
نہیں کرسکتا''… سلطان ایوبی نے کہا کہ یہ بے گناہ ہے۔ اسے یاد ہی نہیں کرایا جائے کہ اس نے کیا کیا ہے۔
یہ قصہ یہی ختم ہوتا ہے
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:07
قسط نمبر۔73صلیب کے سائے میں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
قتل کا یہ طریقہ صالح الدین ایوبی کے فوجی حاکموں وغیرہ کے لیے بڑا ہی عجیب تھا کہ سلطان ایوبی پر جان قربان کرنے
والے ایک محافظ کے ذہن کو اپنے قبضے میں لے کر سلطان ایوبی پر ہی قاتالنہ حملہ کرایا۔ اللہ نے کرم کیا کہ سلطان ایوبی
بال بال بچ گیا۔ اس واقعہ کے فورا ً بعد سلطان ایوبی نے جو کانفرنس بالئی اس میں دمشق کی انتظامیہ اور فوج کے حکام
بالئے گئے تھے۔ ان سب کے مزاج اکھڑے ہوئے تھے۔ سب غصے سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ سب الصالح اور اس کے امراء اور
وزراء سے بہت جلد انتقام لینے کو بیتاب ہوئے جارہے تھے جنہوں نے سلطان ایوبی کو قتل کرنے کی سازش کی تھی۔ وہ
سمجھتے تھے کہ سلطان نے انہیں قاتالنہ حملے پر غوروخوض کرنے کے لیے بالیا ہے لیکن سلطان آیا تو اس نے اس واقعہ کا
ذکر ہی نہ کیا جیسے اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں تھی۔ اسے اس وقت تک جاسوسوں نے دشمن کی سرگرمیوں کی جو
اطالعات دی تھی ،وہ ان کے مطابق اپنے پالن کی تبدیلی کے متعلق سب کو آگاہ کررہا تھا۔ اس کا رویہ اور انداز سردسا تھا۔
جونہی اس نے اپنا لیکچر ختم کیا ،سب بھڑک اٹھے۔ وہ انتقام کی باتیں کررہے تھے۔ سلطان ایوبی نے بے نیازی سے مسکرا
کر وہی بات کہی جو وہ پہلے بھی کئی با کرچکا تھا۔ ''اشتعال ،غصے اور جذبانیت سے بچو۔ دشمن آپ کو مشتعل کرکے
ایسی کارروائی پر مجبور کرنا چاہتا ہے جس میں عقل کے بجائے جذبات اور غصہ ہو۔ میرا تمام تر منصوبہ ایک قسم کی
انتقامی کارروائی سے بڑھ کر کوئی اہمیت نہیں کہ تم اسالم او ر سلطنت اسالمیہ کے پاسبان ہو۔ تم سب کو جانیں قربانی
کرنی ہیں۔خواہ میدان جنگ میں مارے جائو خواہ دھوکے میں دشمن کے ہاتھوں قتل ہوجائو۔ حکمران اور مجاہد میں یہی فرق
ہے۔ حکمران اپنی حکومت کی اور اپنی ذات کی حفاظت کرتا ہے اور مجاہد اپنے ملک وملت پر قربان ہوتا ہے۔ الصالح اور
اس کے امیر وزیر اپنی بادشاہی کی حفاظت کررہے ہیں۔ احکام خداوندی کی خالف ورزی ہے اس لیے وہ ناکام ہوں گے''۔
اس نے اپنی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ حسن بن عبداللہ سے کہا کہ وہ ایسے تمام کھنڈروں اور پرانی عمارتوں کو جن کا
کوئی مصرف نہیں مسمار کرادے۔ اس نے یہ ہدایات بھی جاری کیں کہ مسجدوں میں اس موضوع پر خطبے دئیے جائیں کہ
دونوں جہاں کا حاکم خدا ہے اور غیب کا حال اس کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ خدا کا کوئی بندہ خدا اور بندوں کے درمیان
رابطے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ خدا ہر کسی کی سنتا ہے اور کسی انسان کے آگے سجدہ ناجائز ہی نہیں گناہ ہے۔ توہم
پرستی سے لوگوں کو بچائو۔ اس نے کہا ''اپنے سپاہیوں کو سمجھائو کہ جس طرح میدان جنگ میں اپنے جسم کو دشمن کی
تلوار سے بچاتے ہو اور روکتے ہو ،اس طرح ذہن اور دل کو بھی دشمن کے وار سے بچائو۔ یہ وار تلوار کا نہیں زبان کا ہوتا
ہے۔ جس کے زخم مل جاتے ہیں ،جسم زخمی ہوکر بھی لڑتا رہتا ہے مگر ذہن اور دل پر زخم آجائے تو جسم بیکار ہوجاتا
ہے۔ تم نے نشے کا اثر دیکھ لیا ہے۔ میرے اپنے محافظ نے مجھ پر ہی حملہ کردیا۔ جب نشہ اترا تو وہ مان نہیں رہا تھا
کہ اس نے مجھ پر حملہ کیا ہے۔ اس نشے میں ایک خوبصورت لڑکی کا نشہ بھی شامل تھا۔ یہ بھی یاد رکھو کہ یہ حالت
صرف ان لوگوں کی ہوتی ہے جنہیں تم اپنا غالم اور مویشی بنا لیتے ہو۔ ان میں ذمہ داری کا اور مسلمان کی عظمت کا
احساس بیدار کرو۔ ان پر ذمہ داریوں اور قومی وقار کا نشہ طاری کردو۔ ملک وملت کا وقار اور اس وقار کا دفاع ان کے ایمان
میں شامل کردو ،پھر ان پر کوئی اور نشہ طاری نہیں ہوسکے گا''۔
سلطان ایوبی نے حملے کا جو پالن بنایا تھا اس کے مطابق قلعہ بہ قلعہ آگے بڑھنا تھا۔ مضبوط اور مشہور قلعے حمص اور
حماة کے تھے۔ حلب شہر الگ تھا ،اس کے دفاعی انتظامات مضبوط تھے اور شہر سے کچھ دور قلعہ تھا جسے قلعہ حلب
کہا جاتا تھا۔ ان کے عالوہ کئی اور قلعہ بندیاں تھیں جن میں زیادہ تر پہاڑی اور دشوار گزار عالقے میں تھیں۔ سب سے بڑی
دشواری اس عالقے کی سردی تھی۔ پہاڑیوں پر برف باری بھی ہوتی تھی جو سردی میں اضافہ کردیتی تھی۔ چونکہ وہاں
سردیوں میں کبھی لڑائی نہیں ہوئی تھی اس لیے مخالفین نے اپنی فوج جو مختلف امراء کے زیرکمان تھی قلعہ بند کردی
تھی۔ اس کے صلیبی مشیروں نے بھی انہیں یہی مشورہ دیا تھا۔ ادھر سلطان ایوبی نے سردیوں میں ہی لڑنے کا تہیہ کرلیا
تھا۔ اسے جاسوس مسلسل خبریں دے رہے تھے۔
ان خبروں میں ایک اطالع یہ بھی تھی کہ حلب کی مسجدوں میں امام اور خطیب لوگوں کو اس موضوع پر وعظ اور خطبے
دے رہے ہیں کہ صالح الدین ایوبی وہ گناہ گار انسان ہے جس نے بادشاہی کے اللچ اور نشے میں اور جنگی طاقت کے گھمنڈ
میں خلیفہ کا نام خطبے سے نکال دیا ہے۔ سلطان ایوبی کو عیاش اور بدکار کہا جارہا تھا اور یہ بھی کہ خطبے میں خلیفہ کا
نام نہ لیا جائے تو خطبہ مکمل نہیں ہوتا اور نامکمل خطبہ گناہ ہے۔ سرائوں ،مسافر خانوں اور بازاروں میں بھی یہی الفاظ
سنے اور سنائے جارہے تھے کہ صالح الدین ایوبی عیاش اور بدکار ہے اور نام کا مسلمان۔ اس کے ساتھ ہی جاسوسوں کی
اطالعوں کے مطابق لوگوں میں صالح الدین ایوبی کے خالف جنگی جنون پیدا کیا جارہا تھا۔ الصالح کی فوج تھوڑی تھی۔ آدھی
لہذا الصالح کے مفاد پرست مسلمان امراء اور
فوج سپہ ساالر توفیق جواد کے زیرکمان سلطان ایوبی کے ساتھ مل گئی تھی۔ ٰ
حکمران شہریوں کو لڑنے کے لیے تیار کررہے تھے۔ ان منصوبوں میں صلیبیوں نے اس طرح جان ڈال دی تھی کہ جن عالقوں
پر ان کا قبضہ تھا وہاں کے صلیبی باشندوں کی خاصی تعداد کو حلب موصل اور دیگر قصبوں اور دیہات میں ان ہدایات کے
ساتھ آباد کر دیا تھا کہ وہ وہاں کے مسلمان کو صالح الدین ایوبی کے خالف بھڑکاتے اور اکساتے رہیں۔
جاسوسوں نے بتایا تھا کہ حلب میں شہریوں نے جنگی تربیت کا انتظام کرلیا ہے۔ ہر کوئی ہتھیاروں کی زبان میں بات کررہا
تھا۔ جنگی جنوں کے ساتھ لوگوں پر اضطراری اور ہیجانی کیفیت بھی طاری ہوئی جارہی تھی۔ البتہ پرانی عمر کے مسلمان
بہت ہی پریشان تھے اور کہتے تھے کہ یہ قیامت کی نشانی ہے کہ مسلمان مسلمان سے ٹکرائے گا مگر ان کی آواز صالح
الدین ایوبی کے خالف نعروں اور بہتان تراشی کے شوروغوغا میں دبتی جارہی تھی۔ یہ آواز صلیبیوں کے عزائم کے خالف تھی
اس لیے انہوں نے اسے دبانے کا خاص اہتمام کیا تھا۔ یہ سارا منصوبہ دراصل تھا ہی صلیبیوں کا۔ کئی ایک مسجدوں سے
پرانے اماموں اور خطیبوں کو نکال دیا گیا تھا کیونکہ وہ منبر پر کھڑے ہوکر مسلمان کو مسلمان کے خالف بھڑکانے کا گناہ نہیں
کرنا چاہتے تھے۔
جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ الصالح نے تریپولی کے صلیبی حکمران ریمانڈ کو زروجواہرات اور بے انداز خزانہ اس کام کی
اجرت کے لیے بھیج دیا تھا کہ صالح الدین ایوبی کے ساتھ جنگ کی صورت میں وہ اسے جنگی مدد دے گا۔ ریمانڈ نے یہ
اجرت وصول کرکے اپنے چند ایک فوجی کمانڈر مشیروں کی حیثیت سے حلب بھیج دیئے تھے۔ ان میں انٹیلی جنس کا ایک
ماہر بھی تھا جو تخریب کاری میں بھی مہارت رکھتا تھا ،ان مشیروں نے آتے ہی حلب میں مسلمان فوجوں کی مشترکہ ہائی
کمانڈ بنا دی تھی۔ فوجیں مختلف قلعوں میں تھیں۔ ان فوجوں کے کمانڈروں میں سیف الدین والی موصل ،ایک قلعہ دار
گمشگین جسے گورنر کا درجہ حاصل تھا۔ سلطان الملک الصالح اور عزالدین قابل ذکر ہیں۔ ریمانڈ نے انہیں یقین دالیا تھا کہ
جنگ کی صورت میں وہ مصر سے صالح الدین ایوبی کی کمک اور رسد کو روکے رکھے گا اور وہ جہاں کہیں محاصرہ کرے گا
صلیبی فوج باہر سے حملے کرکے محاصرہ توڑ دے گی۔
٭ ٭ ٭
دمشق میں سلطان ایوبی دوسرے تیسرے دن تمام کمانڈروں کی کانفرنس بالتا تھا۔ فوجوں کی ٹریننگ خود بھی دیکھتا اور
کمانڈروں سے رپورٹیں بھی لیتا تھا۔ راتوں کو کپڑوں کے بغیر ٹریننگ دے کر اس نے اپنی فوج کو سردیوں میں لڑنے کے لیے
تیار کرلیا تھا۔ قریب چٹانیں تھیں اس نے صحرا میں بھاگنے دوڑنے والے گھوڑوں کو چٹانوں پر چڑھنے اور اترنے کا عادی بنا
دیا تھا۔ ادھر حلب میں بھی دو تین کانفرنسیں ہوچکی تھیں۔ وہاں کے کمانڈروں کو یہ اطالع مل چکی تھی کہ سلطان ایوبی
کی فوج رات کو جنگی مشقیں کرتی ہے لیکن انہوں نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ ایوبی کا دماغ
خراب ہوگیا ہے۔ ہمارے سامنے آئے گا تو اس کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے۔ ان کمانڈروں میں کوئی ایک بھی انٹیلی جنس کی
سوجھ بوجھ نہیں رکھتا تھا۔ یہ اہتمام بھی صلیبیوں نے کیا تھا کہ دمشق میں جاسوس بھیجے تھے اور شیخ سنان نے فدائی
قاتل اور تخریب کار بھیجے تھے مگر ریمانڈ نے اپنا ایک ماہر بھیج دیا تو اس نے اس اطالع پر توجہ دی کہ سلطان ایوبی
راتوں کو کیوں جنگی مشقیں کرا رہا ہے اس نے حلب کے کمانڈروں کی کانفرنس میں بھی یہ مسئلہ پیش نہیں کیا تھا۔ وہ
ابھی اس کی وجہ معلوم نہیں کرسکا تھا۔
سلطان ایوبی نے تو حلب اور موصل وغیرہ میں جاسوسوں کا جال بچھا دیا تھا۔ ان کی زمین دوز مرکزی کمانڈ حلب میں تھی
اور کمانڈر ایک عالم فاضل کے بہروپ میں تھا جو تمام جاسوسوں سے خبریں لیتا اور دمشق بھیجنے کا انتظام کرتا تھا۔ وہ
اپنے جاسوسوں کی حفاظت کا اور انہیں خطرے کے وقت روپوش کرنے کا بندوبست بھی کرتا تھا۔ صالح الدین ایوبی کو برا
بھال کہنے میں وہ پیش پیش تھا۔ جہاں لوگ اس کا احترام کرتے تھے ،وہاں امیر ،وزیر اور اونچی حیثیت کے شہری بھی اسے
عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اس کے جاسوسوں کا گروہ ہر ضروری جگہ موجود تھا۔ الملک الصالح کے محل کے باڈی
گارڈز میں بھی جاسوس موجود تھے۔ دو جاسوس خصوصی پہرہ داروں کی حیثیت سے خلیفہ کی مرکزی کمانڈ کی اس عمارت
تک بھی پہنچ گئے تھے جہاں ان کی جنگی کانفرنسیں منعقد ہوتی تھیں۔ صلیبی جاسوسوں کے کمانڈر نے آتے ہی ایک تو اس
پر توجہ دی کہ دمشق میں جاسوسی کے نظام کو مضبوط اور کارگر بنایا جائے اور حلب میں سلطان ایوبی کے جو جاسوس ہیں
ان کا سراغ لگایا جائے۔
سلطان ایوبی کے ان دو جاسوسوں میں جو حلب کی ہائی کمانڈ کے پہرہ داروں میں شامل ہوگئے تھے ایک خلت نام کا
جاسوس تھا۔ ایک عمارت کے کئی چھوٹے کمرے تھے اور اس میں ایک ہال تھا جو ضیافتوں ،ناچ گانے اور دربار منعقد کرنے
کے کام آتا تھا۔ خوب سجا ہوا تھا۔ جب سے حلب کے امیروں وزیروں نے صلیبیوں کے ساتھ دوستانہ گانٹھا تھا اس ہال کو
اور زیادہ سجا دیا گیا تھا۔ ناچ گانے کا خصوصی اہتمام کیا گیا تھا۔ ناچنے والیاں جو رکھی گئی تھیں وہ چنی ہوئی خوبصورت،
جوان اور فن کی ماہر تھیں۔ ان رقاصائوں میں صلیبیوں نے اپنی لڑکیوں کا اضافہ کردیا تھا۔ یہ پیشہ ور لڑکیاں تھیں جو الصالح
اعلی
کے امیروں وزیروں کو انگلیوں پر نچاتی رہتی تھیں۔ ان کا کام یہ تھا کہ اس کے خصوصی درباریوں ،امراء اور فوج کے
ٰ
اعلی
کمانڈروں پر نظر رکھیں اور بھانپتی رہیں کہ ان میں کوئی سلطان ایوبی کا وفادار تو نہیں۔ اس کے عالوہ یہ لڑکیاں ان
ٰ
حکام وغیرہ کے دلوں میں صلیبیوں کی محبت اور صلیب کی وفاداری پیدا کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔
کبھی کبھی اس ہال میں ضیافت ہوتی تھی جس میں شراب کے مٹکے خالی ہوتے ،رقص ہوتا اور جب شراب اپنا
رنگ دکھاتی تو بدکاری انتہا کو پہنچ جاتی تھی۔ اس بڑے کمرے میں جنگی کانفرنسیں بھی ہوتی تھیں۔ اس کے بڑے دروازے
پر باڈی گارڈز کے دو پہرے دار کمر سے تلواریں اور ہاتھوں میں برچھیاں لیے مستعد کھڑے رہتے تھے۔ تین چار گھنٹوں بعد
پہرے دار بدلتے تھے۔ خلت سلطان ایوبی کا جاسوس تھا۔ اس کے ساتھ ایک اور پہرے دار بھی جاسوس تھا۔ ان دونوں کا پہرہ
اکٹھا لگا کرتا تھا۔ انہوں نے یہاں سے بہت سی معلومات حاصل کیں اور دمشق بھیجی تھیں۔ ایک شام ایک نئی رقاصہ آئی۔
اس شام ہال میں ضیافت تھی۔ مہمان بھی آرہے تھے۔ ناچنے گانے والیاں اور دوسری لڑکیاں بھی آرہی تھیں۔ یہ ریمانڈ کا
بھیجا ہوا جاسوس کا کمانڈر تھا۔ خلت نے معلوم کرلیا تھا کہ یہ کون ہے۔ اسے اب اس کی سرگرمیاں دیکھنی تھیں۔
اس کے عالوہ اس نے ایک اور نیا چہرہ دیکھا۔ یہ ایک لڑکی تھی جسے وہ تین چار دنوں سے دیکھ رہا تھا۔ یہ نئی آئی
تھی۔ خلت اپنے ساتھی کے ساتھ ڈیوٹی ختم کرکے جارہا تھا کہ یہ لڑکی سامنے آگئی۔ وہ ٹھٹھک گیا۔ یہ چہرہ اسے جانا
پہچانا لگا مگر وہ سمجھا کہ چہروں میں مشابہت بھی ہوتی ہے۔ اس نے توجہ ہٹالی لیکن اس لڑکی نے اسے کچھ زیادہ ہی
غور سے دیکھا ور اسے دیکھتی آگے نکل گئی۔ خلت نے گھوم کر دیکھا تو لڑکی رک کر اسے دیکھ رہی تھی۔ دوسرے دن
بھی ایسے ہی ہوا۔ خلت نے یہ معلوم کرلیا تھا کہ یہ رقاصہ ہے۔ وہ کوئی شہزادی معلوم ہوتی تھی ،خلت سپاہی تھا۔ اس کا
ایسی لڑکی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوسکتا تھا۔ شہزادی قسم کی رقاصہ تو امیروں کی ملکیت تھی۔ البتہ خلت کو ایک اور
لڑکی یاد آگئی تھی جس کی شکل وصورت اس رقاصہ سے ملتی جلتی تھی۔
٭ ٭ ٭
وہ گیارہ بارہ سال پہلے کی بات تھی جس کی یاد بھی خلت کے ذہن سے محو ہوتی جارہی تھی۔ اس وقت خلت سترہ
اٹھارہ سال کا نوجوان تھا۔ وہ دمشق سے تھوڑی ہی دور ایک گائوں میں رہتا تھا اور اپنے باپ کے ساتھ کھیتی باڑی کیا کرتا
تھا۔ وہ خوبرو بھی تھا اور اس کی طبیعت بہت شگفتہ تھی۔ ہنسی مذاق زیادہ کرتا تھا اور حاضر جواب بھی تھا۔ اس لیے
گائوں میں بچے سے بوڑھے تک اسے سب بہت چاہتے تھے۔ ہجرت کا سلسلہ تو چلتا ہی رہتا تھا جن عالقوں پر صلیبی
قابض تھے وہاں سے مسلمان کنبے صلیبیوں کے ظلم و ستم سے تنگ ا کر مسلمانوں کی حکمرانی کے عالقوں میں آتے رہتے
تھے۔ مقامی لوگ ان کی مدد امداد کرتے اور انہیں آباد کرلیتے تھے۔ ایسا ہی ایک کنبہ کہیں سے ہجرت کرکے خلت کے
گائوں میں آگیا۔ اس میں حمیرہ نام کی ایک بچی تھی جس کی عمر اس وقت گیارہ بارہ سال تھی۔ خوبصورت بچی تھی۔
گائوں والوں نے اس کنبے کو آباد کرلیا اور کھیتی باڑی کے لیے زمین اور سامان بھی مہیا کردیا۔ حمیرہ کے بہن بھائی چھوٹے
تھے۔ کام کرنے کے قابل صرف باپ تھا۔ خلت نے اس کا ہاتھ بٹانا شروع کردیا۔ حمیرہ کو خلت کی باتیں اچھی لگتی تھیں
اور خلت کو یہ بچی اچھی لگتی تھی۔ وہ خلت کے گھر آجایا کرتی ،گھر ہو یا کھیت حمیرہ اس سے کہانیاں ضرور سنتی
تھی۔ خلت دلچسپ قصے گھڑ لیا کرتا تھا۔ دو چار ماہ بعد حمیرہ کے باپ نے کھیتی باڑی ختم کردی۔ کسی کو معلوم نہیں
تھا کہ اس نے کون سا ذریعہ معاش اختیار کرلیا ہے۔ البتہ اس کنبے کی حالت بہتر ہوتی جارہی تھی۔
حمیرہ خلت میں کھل مل گئی تھی۔ وہ کھیتوں میں کام کرنے جاتا تو حمیرہ وہاں چلی جاتی۔ گھر میں ہوتا تو وہاں آتی۔
اب وہ تیرہ سال کی ہوگئی تھی اور اچھا برا سمجھنے لگی تھی۔ ایک روز خلت نے اس سے پوچھا کہ اس کا باپ کیا کام
کرتا ہے۔ حمیرہ نے بتایا کہ اسے یہ تو معلوم نہیں کہ وہ کیا کرتا ہے اور پیسے کہاں سے التا ہے۔ اسے صرف یہ پتا ہے کہ
اس کا باپ اچھا آدمی نہیں۔ وہ شہر سے کوئی نشہ کرکے آتا ہے۔ حمیرہ نے ایک نئی بات بتائی۔ اس نے کہا… ''یہ
شخص میرا باپ نہیں ہے ،میرے ماں باپ مرگئے تھے۔ میں پانچ چھ سال کی تھی۔ اس نے مجھے سنبھال لیا اور اپنے گھر
لے آیا۔ پھر میں اسی کو اپنا باپ کہنے لگی۔ میرے ساتھ یہ اپنی بیٹیوں جیسا سلوک کرتا ہے مگر اچھا آدمی نہیں''۔
ڈیڑھ دو سال گزر گئے۔ خلت میں حمیرہ کی بچپنے کی دلچسپی محبت میں بدل گئی۔ شباب نے حمیرہ کے چہرے پر بڑا ہی
دلکش نکھار پیدا کردیا تھا اور قد بھی بڑھ کر جاذب نظر ہوگیا تھا۔ ایک روز وہ خلت سے ملی ،بہت پریشان تھی۔ اس نے
خلت کو بتایا کہ اسے شک ہے کہ اس کا باپ اسے شادی کے بہانے کسی اجنبی کے حوالے کرنا چاہتا ہے۔ یہ شک اسے
اس طرح ہوا تھا کہ اس کے باپ کے ساتھ ایک آدمی آیا تھا۔ باپ نے اس آدمی کو بہت خاطر تواضع کی تھی اور کچھ دیر
بعد حمیرہ کو اپنے پاس بالیا تھا۔ اس اجنبی نے حمیرہ کو بڑی غور سے دیکھا تھا۔ حمیرہ نے باپ سے پوچھا کہ اس نے
کیوں بالیا ہے تو باپ نے کوئی ایسا بہانہ پیش کیا تھا جس نے حمیرہ کے دل میں شک پیدا کردیا تھا۔ حمیرہ نے خلت سے
کہا کہ وہ اس کے سوا کسی اور کے پاس نہیں جانا چاہتی۔ خلت نے اسے کہا کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ بات کرکے اس
کے ساتھ شادی کی کوشش کرے گا۔
لہذا اس شخص کو حمیرہ کے مستقبل کے متعلق
یہ تو الگ بات ہے کہ حمیرہ جسے باپ کہتی تھی وہ اس کا باپ نہیں تھا ٰ
کوئی فکر نہیں تھا لیکن اس دور میں عورت کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ بہت سی رقم لے کر لڑکیوں کو کسی کے ساتھ بیاہ
دینے کا رواج عام تھا۔ امیر کبیر لوگوں نے حرم بنا رکھے تھے جن کے لیے وہ نئی سے نئی لڑکیاں خریدتے رہتے تھے۔ اگر
حمیرہ کو اس کا باپ فروخت کررہا تھا تو یہ کوئی جرم یا کوئی انوکھا واقعہ نہیں تھا۔ خلت امیر ماں باپ کا بیٹا نہیں تھا۔
وہ یہی کرسکتا تھا کہ حمیرہ کو بھگا لے جائے اور کہیں غائب ہوجائے۔ وہ سوچ میں پڑ گیا کہ کیا کرے۔ حمیرہ کے ساتھ
اسے محبت اتنی زیادہ تھی کہ وہ آسانی سے اس سے نظریں نہیں پھیر سکتا تھا۔
اس نے سوچنے میں زیادہ ہی وقت صرف کردیا۔ تیسرے دن وہ کھیتوں میں تھا کہ حمیرہ اسے پکارتی اور دوڑتی آرہی تھی۔
اس نے دیکھا کہ تین آدمی اس کے پیچھے دوڑے آرہے تھے جن میں ایک حمرہ کا باپ تھا۔ دوسرے دونوں کو وہ نہیں
پہچانتا تھا۔ گائوں کے بہت سے آدمی باہر آگئے تھے مگر وہ سب تماشائی تھے ،وہ اس لیے حمیرہ کی مدد کو آگے نہیں
آتے تھے کہ اس کے پیچھے بھاگنے والوں میں اس کا باپ بھی تھا۔ حمیرہ خلت کے پیچھے ہوگئی۔ اس نے روتے ہوئے اسے
بتایا کہ یہ دو آدمی اسے اپنے ساتھ لے جانے آئے ہیں اور اس کے باپ نے ان کے ساتھ سودا کرلیا ہے۔
حمیرہ کے باپ نے خلت کے پیچھے سے حمیرہ کو پکڑنے کی کوشش کی تو خلت نے اسے دھکا دے کر کہا۔
خبردار ،اسے ہاتھ نہ لگانا۔ پہلے میرے ساتھ بات کرو''۔''
''یہ میری بیٹی ہے''… باپ نے کہا… ''تم کون ہو مجھے روکنے والے؟''
یہ تمہاری بیٹی نہیں ہے''۔ خلت نے کہا۔''
دوسرے دو آدمی حمیرہ کی طرف بڑھے۔ ایک نے تلوار نکال لی تھی۔ خلت کے ہاتھ میں کدال کی قسم کی کوئی چیز تھی۔
اس نے گھما کر ماری تو یہ ہتھیار تلوار والے کے سر پر پڑا۔ اس کی تلوار گر پڑی پھر وہ خود بھی چکرا کر گرا۔ خلت نے
تلوار اٹھا لی۔ دوسرے آدمی نے بھی تلوار نکال لی۔ خلت کو تیغ زنی کی کوئی مشق نہیں تھی پھر بھی اس نے وار روکے۔
دوسرا آدمی تیغ زن معلوم ہوتا تھا۔ خلت کو لڑنے کا زیادہ موقعہ نہ مال۔ اس کے سر پر کوئی وزنی چیز پڑی۔ اس کی
آنکھوں کے آگے اندھیرا آگیا اور وہ گر پڑا… اس کے ہوش ٹھکانے آئے تو وہ اپنے گھر میں تھا۔ وہ جوش میں آکر اٹھا لیکن
اس کے باپ اور دو تین آدمیوں نے اسے جکڑ لیا۔ اسے بتایا گیا کہ وہ بہت دیر سے بے ہوش پڑا ہے اور حمیرہ اس گائوں
سے رخصت ہوچکی ہے۔ خلت چالنے لگا کہ لڑکی کو فروخت کیا جارہا ہے اوراسے بتایا گیا کہ اس کا نکاح پڑھا کر رخصت
کردیا گیا ہے۔
خلت کے سر کی حالت یہ تھی کہ وہ اٹھتا تھا اس تو اس کا سر چکرا جاتا تھا۔ اسے شدید چوٹ آئی تھی۔ بڑوں نے اسے
نصیحت کی کہ حمیرہ کے معاملے میں اس کا بولنا جائز نہیں کیونکہ اگر بیچا بھی گیا ہے تو اس کا باقاعدہ نکاح کیا گیا
ہے۔ بہرحال خلت کے لیے یہ حادثہ تھا۔ وہ جب ٹھیک ہوکر باہر نکال تو حمیرہ کا باپ اپنے سارے کنبے کے ساتھ گائوں
سے ہمیشہ کے لیے جاچکا تھا۔
٭ ٭ ٭
خلت پر دیوانگی سی طاری ہوگئی۔ اسے حمیرہ کی محبت اور انتقام کا جذبہ پریشان رکھتا تھا۔ کام کاج سے اس کا دل
اچاٹ ہوگیا۔ وہ کبھی کبھی دمشق چال جاتا اور حمیرہ کے باپ کو ڈھونڈتا رہتا۔ ماں باپ نے اسے اچھی اچھی لڑکیاں دکھائیں
لیکن اس نے کسی کو بھی قبول نہ کیا اس کے دل ودماغ پر حمیرہ غالب رہی… ڈیڑھ ایک سال تک اس کی یہی حالت
رہی۔ ایک روز دمشق میں گھومتے پھرتے اسے پتا چال کہ فوج کی بھرتی ہورہی ہے۔ اس نے اس خیال سے کہ اس بہانے وہ
گائوں سے دور رہے گا فوج میں بھرتی ہوجانا بہتر سمجھا اور بھرتی ہوگیا۔ اسے ٹریننگ دی گئی۔ گھوڑ سواری سکھائی گئی،
تیراندازی اور مختلف ہتھیاروں کا استعمال سکھایا گیا۔ اس کے ذہن کو مصروفیت مل گئی تو اس کے دل سے حمیرہ کا دکھ
کم ہونے لگا۔ اپنے جیسے ہزاروں سپاہیوں کے ساتھ رہتے ،گپ شپ لگاتے اور ہنستے کھیلتے اس کے دل کی زندگی عود کرآئی
اور وہ ایک بار پھر شگفتہ مزاج جوان بن گیا۔
یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب صالح الدین ایوبی کا نام ابھی مشہور نہیں ہوا تھا۔ لوگ ابھی نورالدین زنگی کو جانتے تھے۔
اسے ایک بار جنگ میں جانے کا موقعہ مال۔ یہ ایک خونریز لڑائی تھی۔ اس نے پہلی بار اپنے دشمن کو دیکھا۔ اس نے وہ
لٹے پٹے مسلمان کنبے دیکھے جو صلیبیوں کے ظلم وستم کا نشانہ بنے تھے۔ اسے یہ بھی بتایا گیا کہ صلیبی بہت سی
مسلمان لڑکیوں کو اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھ سن کر اس کے اندر قومی جذبہ اور اسالم کی لگن
بیدار ہوگئی۔ اس جذبے اور لگن نے جنون کی صورت اختیار کرلی اور اس جنون نے اسے ان سپاہیوں کی صف میں کھڑا کردیا
✔جو تنخواہ اور مال غنیمت کی خاطر نہیں اللہ کے نام پر لڑا اور جانیں قربان کیا کرتے ہیں۔
تین چار سال بعد جب صالح الدین ایوبی کو مصر کا امیر بنا کر قاہرہ بھیجا گیا تو صلیبیوں نے سوڈانیوں کے ساتھ خفیہ
معاہدہ کرکے سمندر کی طرف سے مصر پر حملہ کیا تو سلطان ایوبی نے نورالدین زنگی سے کمک مانگی۔ زنگی نے اپنے
منتخب دستے قاہرہ روانہ کردئیے۔ ان میں خلت بھی تھا ،اس کا شمار ان ذہین عسکریوں میں ہوتا تھا جو تلوار کے ساتھ
دماغ بھی استعمال کرتے تھے۔ اسے پچاس سپاہیوں کے ایک جیش کا کمان دار بنا دیا گیا۔ مصر میں اس کا ذہن پوری طرح
بیدار ہوگیا۔ سلطان ایوبی نے اپنی انٹیلی جنس کے سربراہ علی بن سفیان سے کہا کہ وہ لڑاکا (کمانڈو) جاسوسوں کا انتخاب
کرے تو خلت کو حاضر دماغی ،ذہانت ،جسم اور زبان کی مستعدی اور پھرتی ،جسم اور شکل وصورت کی دلکشی کی بدولت
لڑاکا جاسوسوں میں لے لیا گیا۔ اسے کمانڈو اور گوریال قسم کے شنجون مارنے کے لیے چند بار بھیجا گیا تھا لیکن جاسوسی
کے لیے ملک سے باہر نہ بھیجا گیا۔ ملک کے اندر جاسوسوں کی سراغ رسانی ،تعاقب اور گرفتاری کے لیے اسے استعمال کیا
جاتا رہا۔ جاسوسوں کو وہ خوب پہچانتا تھا۔
اب ١١٧٤ء میں جب سلطان ایوبی نورالدین زنگی کی وفات کے بعد سات سو سوار لے کر دمشق پر قبضہ کرنے اور الملک
الصالح کی معزولی کی مہم پر روانہ ہوا تو اس نے اپنے جاسوسوں کو پہلے ہی دمشق بھیج دیا تھا جو مختلف بہروپ دھار کر
دمشق میں داخل ہوئے اور پھیل گئے تھے اور جب دمشق پر سلطان ایوبی کا قبضہ ہوگیا اور الصالح ،اس کے امیر وزیر اور اس
کے باڈی گارڈز دمشق سے بھاگے تو علی بن سفیان کے معاون حسن بن عبداللہ نے جو جاسوسوں کے ساتھ دمشق گیا تھا،
کئی ایک جاسوس دمشق سے اس طرف روانہ کیے جس طرف الصالح اور اس کے باڈی گارڈز دستے گئے تھے۔ ان جاسوسوں کو
خصوصی ہدایات اور مختلف مشن دئیے گئے تھے۔ خلت کو بھی ان کے ساتھ گیا تھا۔ اس کے ساتھ ایک اور ساتھی بھی تھا۔
حلب میں پہنچے تو وہاں افراتفری کا عالم تھا۔ الصالح کے حواریوں کو فوری طور پر فوج کی ضرورت تھی۔ انہیں خطرہ تھا
کہ سلطان ایوبی ان کا تعاقب کرے گا اور حملہ کرے گا۔ اس صورتحال میں انہیں جیسا کیسا سپاہی مال انہوں نے رکھ لیا۔
خلت اور اس کے ساتھی نے اپنے آپ کو اس کی فوج کے سپاہی ظاہر کیا جو دمشق سے بھاگ آئے تھے۔ کمانڈروں میں سے
کسی کو ہوش نہیں تھی کہ چھان بین کرتے کہ کوئی مشکوک افراد فوج میں نہ آگئے ہوں۔ سلطان ایوبی کے جاسوسوں نے
بھی اہم جگہیں سنبھال لیں اور حلب میں زمین دوز اڈہ بھی قائم کرلیا۔ خلت چونکہ خوبرو اور تنومند جوان تھا اور زبان کی
چاشنی سے بھی ماال مال تھا اس لیے اسے قصر سلطنت کے محافظوں کے لیے منتخب کرلیا گیا۔ اس نے اپنے ایک ساتھی
کو بھی اپنے ساتھ رکھا۔ اسالم کا عسکری جذبہ اس کی روح میں اتر گیا تھا۔ اس نے حمیرہ کو کبھی یاد نہیں کیا تھا۔اسے
اتنی مہلت ہی نہیں ملتی تھی مگر اس نئی رقاصہ نے اسے حمیرہ یاد دال دی۔ حمیرہ سے جدا ہوئے سات آٹھ سال گزر گئے
تھے۔ اس وقت حمیرہ پندرہ سولہ سال کی تھی۔ یہ رقاصہ بہت خوبصورت تھی۔ اس کے چہرے پر حمیرہ والی معصومیت اور
سادگی نہیں تھی۔ یہ ناممکن تھا کہ یہ رقاصہ حمیرہ ہو۔ تیسری بار رقاصہ اس کے قریب سے گزری تو بھی خلت نے اسے
ٹکٹکی باندھ کر دیکھا۔ رقاصہ بھی اسے دیکھ رہی تھی۔ اب کے وہ رک گئی۔
تمہارا نام کیا ہے؟'' رقاصہ نے پوچھا۔''
''خلت نے اپنا وہ فرضی نام بتایا جو اس نے وہاں لکھوا رکھا تھا اور پوچھا… ''آپ نے نام کیوں پوچھا ہے؟
تم مجھے گھور گھور کر دیکھا کرتے ہو اس لیے نام پوچھ رہی ہوں''۔ حمیرہ نے ایسے لہجے میں کہا جس میں شریف ''
عورتوں والی ذرا سی بھی جھلک نہیں تھی۔ کہنے لگی… ''تم سپاہی ہو۔ اپنے کام پر توجہ رکھا کرو''۔
خلت کو کوفت ہوئی لیکن اسے خوشی بھی ہوئی کہ یہ حمیرہ نہیں ،حمیرہ تو بھولی بھالی لڑکی تھی۔
اسی شام ہال میں ضیافت تھی۔ ریمانڈ کے جاسوسوں کا کمانڈر تین چار روز پہلے آیا تھا۔ اس کا نام ونڈ سر تھا۔ یہ ضیافت
اسی کے اعزاز میں دی جارہی تھی۔ خلت نے معلوم کرلیا تھا کہ یہ جاسوسی کا ماہر ہے اور جاسوسی کے نظام کو بہتر
بنانے کے لیے آیا ہے۔ شام کا اندھیرا گہرا ہوگیا تھا۔ ہال میں مہمان آرہے تھے۔ کھانے چنے جارہے تھے اور شراب کے دور
چل رہے تھے۔ ابھی ونڈ سر نہیں آیا تھا۔ خلت اور کے ساتھی کی ڈیوٹی ہال کے دروازے پر تھی۔ کچھ دیر بعد ونڈ سر آگیا۔
اس نے دونوں پہرے داروں کو غور سے دیکھا پھر اس نے خلت کے چہرے پر نظریں گاڑدیں۔
تم خلیفہ کے محافظ دستے میں کب آئے ہو؟'' ونڈسر نے خلت کی زبان میں پوچھا۔''
یہاں آکر مجھے محافظ دستے میں لیا گیا ہے''۔ خلت نے جواب دیا… ''اس سے پہلے میں دمشق کی فوج میں تھا''۔''
تم مصر بھی گئے تھے؟'' ونڈسر نے پوچھا۔''
''!نہیں''
''ونڈسر نے دوسرے پہرہ دار سے خلت کے متعلق پوچھا۔ ''تم اسے کب سے جانتے ہو؟
ہم دونوں دمشق کی فوج میں اکٹھے رہے ہیں''… اس نے جواب دیا… ''ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں''۔''
اور میں شاید تم دونوں کو اچھی طرح جانتا ہوں''۔ ونڈسر نے مسکرا کر کہا…''ذرا میرے ساتھ آئو''۔''
وہ انہیں پہرے سے ہٹا کر اپنے ساتھ لے گیا۔ وہ گھاگھ سراغ رساں اور جاسوس تھا۔ یہاں پہنچتے ہی اس نے باڈی گارڈز کی
خفیہ چھان بین شروع کردی تھی۔ خلت کو دیکھتے ہی اسے کچھ یاد آگیا تھا اور اس نے جب اس کے ساتھی کو دیکھا تو
اس کا شک پکا ہوگیا۔ شک غلط بھی نہیں تھا۔ خلت اور اس کا ساتھی تین چار سال سے انٹیلی جنس میں تھے اور وہ
اکٹھے رہتے تھے۔ ان کی جوڑی پکی ہوگئی تھی۔ ونڈسر انہیں اپنے کمرے میں لے گیا جو اسی عمارت میں بڑے ہال سے
تھوڑی ہی دور تھا۔ کمرے میں لے جا کر اس نے مشعل کی روشنی میں دونوں کو ایک بار پھر غور سے دیکھا۔
اگر تم مجھے یقین دال دو کہ تم یہاں کے وفادار ہو اور صالح الدین ایوبی کو اپنا دشمن سمجھتے ہو تو میں تمہیں چھوڑوں''
گا ہی نہیں بلکہ ایسے کام پر لگائوں گا جہاں عیش کرو گے''۔ ونڈسر نے کہا۔ ''جھوٹ نہ بولنا۔ پچھتائو گے''۔
ہم یہیں کے وفادار ہیں''۔ خلت نے کہا۔''
''تم نے وفاداری کب سے بدلی ہے؟'' ونڈسر نے پوچھا ''اور کیوں بدلی ہے؟''
''خدا اور رسولۖ کے بعد خلیفہ کا رتبہ ہے''۔ خلت نے کہا۔ ''صالح الدین ایوبی کا کوئی رتبہ نہیں۔''
مصر سے کب آئے ہو؟'' ونڈسر نے پوچھا اور جواب کا انتظار کیے بغیر کہا۔ ''تم شاید مجھے نہیں جانتے میں بھی ''
''تمہاری طرح جاسوس ہوں۔ نام شاید بھول جائوں چہرے نہیں بھوال کرتا۔ علی بن سفیان کہاں ہے؟ مصر میں یا دمشق میں؟
ہم اسے نہیں جانتے''۔ خلت کے ساتھی نے جواب دیا۔ ''ہم سیدھے سادے سپاہی ہیں''۔''
ونڈسر نے دروازے میں جاکر دیکھا اور کسی مالزم کو آواز دی۔ مالزم آیا تو اس نے کسی لڑکی کا نام لے کر مالزم سے کہا
کہ اسے بال الئو۔ وہ لڑکی قریب ہی کسی کمرے میں تھی۔ ذرا سی دیر میں ایک بڑی ہی حسین لڑکی آگئی۔ خلت کو معلوم
تھا کہ یہ صلیبی لڑکی ہے۔ اس کے ساتھ نئی رقاصہ تھی جسے دیکھ خلت کو حمیرہ یاد آجایا کرتی تھی۔ ونڈسر نے صلیبی
لڑکی سے عربی زبان میں بات کی اس سے ہنس کر پوچھا کہ ''اس رقاصہ کو کیوں ساتھ لے آئی ہو۔لڑکی نے جواب دیا کہ
یہ میرے کمرے میں تیار ہوکر آگئی تھی اور میں تیار ہورہی تھی۔ آپ کا بالوا آیا تو سمجھی کہ آپ نے مجھے ضیافت میں
ساتھ چلنے کے لیے بالیا ہے۔ میں اسے بھی ساتھ لے آئی''۔
کوئی بات نہیں''… ونڈسر نے کہا… ''اچھا ہوا یہ بھی آگئی ہے۔ تماشہ دیکھ لے گی''۔ اس نے صلیبی لڑکی سے کہا۔ ''
''میں نے تمہیں کسی اور کام کے لیے بالیا ہے''۔ دونوں پہرہ داروں کی طرف اشارہ کرکے اس نے لڑکی سے کہا… ''ان
دونوں کے چہروں کو دیکھو۔ شاید تمہیں کچھ یاد آجائے''۔
لڑکی نے دونوں کو بڑی غور سے دیکھا۔ ماتھے پر شکن ڈال کر سوچا۔ پھر دیکھا اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔ اس
''نے خلت اور اس کے ساتھی سے پوچھا… ''تم کس وقت ہوش میں آئے تھے؟
دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ،پھر لڑکی کو دیکھا۔ خلت حاضر دماغ تھا۔ وہ جان گیا کہ انہیں پہچان لیا گیا ہے۔ وہ
بچنے کے طریقے سوچنے لگا۔ یہ اب عقل اور ہوش کا کھیل تھا۔ اس نے بھوال بن کر کہا… ''میں سمجھ نہیں سکتا کہ
پہرے سے ہٹا کر آپ نے ہمارے ساتھ کیوں مذاق شروع کردیا ہے۔ ہمارے کمان دار نے دیکھ لیا تو ہمیں سزا دے گا''۔
تم پہرہ دار نہیں ہو''۔ ونڈسر نے کہا… ''تم دونوں کو وہاں کھڑا کرنے کے بجائے بہتر ہے کہ وہاں کوئی بھی کھڑا نہ ہو۔''
وہاں تمہاری کوئی ضرورت نہیں''۔ اس نے خلت کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا… ''یہاں آکر اپنا حلیہ ذراسا تو بدل لیا
ہوتا۔ سلطان صالح الدین ایوبی اورعلی بن سفیان جاسوسی کے ماہر ہیں لیکن ہم بھی اناڑی نہیں۔ اپنے آپ کومصیبت میں نہ
ڈالو۔ فورا ً بتا دو کہ تم دونوں مصر سے آئے ہوئے جاسوس ہو۔ تمہارے ساتھ میری اور اس (صلیبی) لڑکی کی مالقات پہلے
بھی ہوچکی ہے۔ تم مجھے نہیں پہچان سکے کیونکہ میں بگاڑے ہوئے حلیے میں تھا۔ میں نے تمہیں پہچان لیا ہے کیونکہ تم
آج بھی اسی حلیے میں ہو جس میں اڑھائی سال پہلے تھے۔ ذرا ذہن پر زور دو۔ تمہیں یاد آجائے گا۔ مصر کے شمال میں تم
دونوں ایک قافلے کے ساتھ چل پڑے تھے کیونکہ تمہیں شک تھا کہ یہ قافلہ مشکوک ہے۔ تم نے ایک قافلے کے ساتھ سفر
کیا تھا۔ ایک رات بھی قافلے کے ساتھ گزاری تھی مگر تمہاری بدقسمتی کہ تمہاری جب آنکھ کھلی تو تم صحرامیں اکیلے
پڑے تھے۔ قافلہ بہت دور نکل گیا تھا''۔
٭ ٭ ٭
ونڈسر نے انہیں یاد دالیا
خلت اور اس کا یہی ساتھی جاسوسوں کی سراغرسانی کی ڈیوٹی پر تھے۔ یہ اڑھائی تین سال پہلے کا واقعہ ہے… سوڈانیوں
کو شکست تو دی جاچکی تھی لیکن وہ صلیبیوں کی مدد سے مصر پر حملے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ مصر کے اندر
صلیبی جاسوس اور تخریب کار سرگرم تھے۔ ان کے سراغ رسانی کے لیے علی بن سفیان کا جاسوسی نظام کام کررہا تھا۔
سرحدوں پر گشتی دستے بھی تھے۔ مصر کے اپنے جاسوس مسافروں وغیرہ کے بھیس میں سرحدی عالقوں میں گھومتے پھرتے
رہتے تھے۔ ایک بار خلت اپنے اس ساتھی کے ساتھ مصر کے شمال میں گشت پر تھا۔ دونوں اونٹوں پر سوار تھے اور دونوں
غریب سے صحرائی مسافروں کے بھیس میں تھے۔ انہیں ایک قافلہ جاتا نظر آیا جس میں بہت سے اونٹ اور چند ایک گھوڑے
تھے۔ قافلے والوں میں بوڑھے بھی تھے ،جوان بھی تھے ،بچے اور عورتیں بھی تھیں۔
خلت اور اس کا ساتھی جاسوس تھے۔ وہ قافلے کو روک کر نہیں دیکھ سکتے تھے۔ انہیں ہدایت یہ تھی کہ آتے جاتے قافلوں
کو دیکھیں اور ذرا سا بھی شک ہو تو قریبی سرحدی چوکی کو اطالع دیں۔ یہ چوکی والوں کا فرض تھا کہ قافلے کو روک کر
چھان بین کریں اور سامان کی تالشی بھی لیں۔ سرحدی دستے فوجی طاقت کے زور پر یہ کام کرسکتے تھے۔ دو جاسوسوں
سے اتنی زیادہ تعداد کا قافلہ نہیں رک سکتا تھا۔ خلت اور اس کے ساتھی نے ہدایات اور ٹریننگ کے مطابق قافلے والوں پر
یہ ظاہر کیا کہ وہ مسافر ہیں اور آگے جارہے ہیں۔ا س زمانے میں یہی طریقہ تھا کہ مسافر اکٹھے چال کرتے تھے کیونکہ سفر
بہت طویل اور لوٹ مار کا خطرہ زیادہ تھا۔ قافلے والوں نے ان کو اپنے ساتھ مال لیا۔
ان دونوں نے گپ شپ کے انداز سے معلوم کرنا شروع کردیا کہ یہ قافلہ کہاں سے آیا ہے اور کہاں جارہا ہے۔ انہیں معلوم
تھا کہ اگلی سرحدی چوکی کہاں ہے مگر انہوں نے دیکھا کہ قافلہ ایسی سمت کو جارہا تھا جس طرف کوئی چوکی نہیں
تھی۔ وہ عالقہ ہی ایسا تھا کہ گشتی پہرے اور چوکی سے بچ کر نکال جاسکتا تھا۔ اونٹوں پر جو سامان لدا ہوا تھا وہ بھی
مشکوک سا معلوم ہوتا تھا۔ پتا نہیں چلتا تھا کہ ان بڑے بڑے مشکوں اور لپٹے ہوئے خیموں وغیرہ میں کیا ہے۔ بہرحال سامان
معمولی نہیں تھا۔ خلت اور اس کے ساتھی صحرائی خانہ بدوشوں کے انداز سے معلوم کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ قافلے
میں چار جوان لڑکیاں بھی تھیں۔ ان کے لباس تو خانہ بدوشوں بلکہ بدوئوں کی طرح تھے۔ ان کے بالوں کا انداز بھی بتاتا تھا
کہ تہذیب وتمدن سے دور رہنے والی لڑکیاں ہیں لیکن ان کے چہروں اور آنکھوں کے رنگ اور خدوخال کی دلکشی بتا رہی تھی
کہ معاملہ کچھ اور ہے اور یہ بہروپ ہے۔
قافلے میں ایک بوڑھا آدمی تھا۔ اس کا رنگ گورا تھا اور چہرے پر جھریاں مگر اس کے دانت بتاتے تھے کہ اس کی عمر
اتنی زیادہ نہیں جتنی چہرہ بتا رہا تھا۔ اس بوڑھے نے خلت اور اس کے ساتھی کو اپنے ساتھ کرلیا اور بڑے پیارے انداز سے
ان سے پوچھنے لگا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جارہے ہیں۔ خلت اپنے متعلق غلط باتیں بتاتا رہا اور اس سے معلوم
کرنے کی کوشش کرتا رہا کہ قافلہ کہاں سے آیا ہے اور کہاں جارہا ہے اور سامان کیا ہے۔ وہ بوڑھا اتنی اچھی باتیں کرتا تھا
کہ خلت اور اس کا ساتھی اس کی باتوں میں الجھ گئے۔ چلتے چلتے شام ہوگئی پھر رات گہری ہوگئی اور قافلہ چلتا رہا۔
خلت نے قافلے کا رخ بدلنے کے لیے بوڑھے سے کہا کہ فالں طرف سے چلیں تو منزل قریب آجائے گی۔ اس کا مقصد تھا کہ
قافلے کو چوکی کے قریب سے گزارا جائے۔ صاف پتا چل راہ تھا کہ قافلہ چوکی سے بچنے کی کوشش میں ہے۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:08
قسط نمبر۔74
صلیب کے سائے میں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بچنے کی کوشش میں ہے۔ شکوک پختہ ہوتے گئے۔ ،کچھ اور آگے گئے تو پڑائو کرنے لیے نہایت موزوں جگہ آگئی۔ قافلہ رک
گیا اور پڑائو کرلیا گیا۔ خلت اور اس کا ساتھی ذرا الگ ہٹ کر بیٹھے اور سوچنے لگے کہ سب سوجائیں تو سامان کی تالشی
لیں یا ان دونوں میں سے ایک خاموشی سے نکل جائے اور کسی قریبی سرحدی چوکی کو اطالع کردے تاکہ قافلے پر چھاپہ
مارا جائے مگر خطرہ یہ تھا کہ قافلے والوں کو شک ہوجائے گا اور وہ پیچھے رہنے والے اکیلے جاسوس کو قتل کرکے یا اغوا
کرکے تیز رفتاری سے غائب ہوجائیں گے۔ انہوں نے سونے کی نہیں بلکہ جاگتے رہنے کی کوشش کی۔ قافلے والے کھاپی کر
سوگئے۔
اتنے میں دو لڑکیاں جو قافلے کے ساتھ تھیں اس طرح ان کے پاس آئیں جیسے چوری چھپے آئی ہوں۔ وہ اس عالقے کی
صحرائی زبان بول رہی تھیں۔ انہوں نے خلت اور اس کے ساتھی سے کہا کہ اگر وہ انہیں راز کی ایک بات بتائیں تو کیا وہ
ان کی مدد کریں گے؟… '' راز'' ایک ایسا لفظ تھا جس نے صالح الدین ایوبی کے ان دونوں جاسوسوں کو چونکا دیا۔ وہ راز
حاصل کرنے کے لیے ہی ریگزاروں میں مارے مارے پھر رہے تھے اور اس قافلے کے ساتھ وہ راز کی خاطر ہی چلے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ قافلہ بردہ فروشوں کا ہے اور یہ چاروں لڑکیاں اغوا کرکے الئی جارہی ہیں۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ انہیں
کہاں لے جایا جارہا ہے۔ لڑکیوں نے بتایا کہ وہ مسلمان ہیں اور ان لوگوں سے آزاد ہونا چاہتی ہیں۔
باتوں باتوں میں ایک لڑکی خلت کو الگ لے گئی۔ لڑکی کی باتوں میں سادگی بھی تھی اور جاذبیت بھی۔ اس نے خلت سے
کہا کہ وہ اگر اسے اپنے ساتھ لے جائے تو اس کے ساتھ شادی کرے گی اور ساری عمر اس کی وفادار رہے گی۔ اس نے کچھ
ایسی باتیں بھی کیں جسے وہ خلت کو دل دے بیٹھی ہو۔ اس نے محبت اور مظلومیت کا اظہار ایسے الفاظ میں اور ایسے
انداز سے کیا کہ خلت اس کی اور باقی لڑکیوں کی رہائی کے متعلق سوچنے لگا۔ دوسری لڑکی خلت کے ساتھی کے ساتھ
الگ بیٹھی تھی اور وہ بھی اس قسم کی باتیں کررہی تھی۔ کسی عورت کا محض عورت ہونا اس کی قوت ہوتی ہے اور جب
عورت خوبصورت اور جوان ہو اور وہ مظلوم بھی ہو تو مرد پگھل جاتے ہیں۔ یہ کیفیت ان دونوں مردوں کی ہوگئی۔ دونوں میں
جوانی کا جوش تھا۔ ان میں غیرت بھی تھی اور اپنی فوج کا یہ اصول بھی کہ عورت کی پاسبانی کرنی ہے خواہ وہ اپنی
ہو خواہ کسی اور کی۔
دونوں لڑکیوں نے الگ الگ ان دونوں مصری جاسوسوں کو خوش کرنے کے لیے انہیں کوئی بڑی ہی لذیذ چیز کھانے کو دی۔
ایک لڑکی دبے پائوں گئی اور چھوٹا سا ایک مشکیزہ اٹھا الئی۔ اس میں سے اس نے دونوں کو کچھ پالیا جو کوئی شربت
تھا۔ اس کا ذائقہ اتنا اچھا تھا کہ دونوں خاصا زیادہ پی گئے۔ تھوڑی ہی دیر بعد دونوں کی آنکھ لگ گئی اور جب ان کی
آنکھ کھلی تو اگلے دن کا سورج افق سے تھوڑا ہی اوپر رہ گیا تھا۔ وہ ساری رات اور سارا دن سوئے رہے۔ ریگزار کی جھلس
دینے والی تپش بھی انہیں نہیں جگا سکی تھی۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھے۔ وہاں قافلہ بھی نہیں تھا اور ان دونوں کے اونٹ بھی نہیں
تھے اور وہ اس جگہ بھی نہیں تھے جہاں انہوں نے رات پڑائو کیا تھا۔ یہ کوئی اور جگہ تھی۔ اردگرد مٹی اور ریت کے ٹیلے
تھے۔ دونوں دوڑتے ہوئے ایک بلند ٹیلے پر چڑھے۔ ادھرادھر دیکھا ،انہیں ٹیلوں کی چوٹیوں اور ان سے دور صحرا کی ریت کے
سوا کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔
٭ ٭ ٭
وہ بوڑھا آدمی میں تھا جس کے ساتھ تم سفر کے دوران باتیں کرتے رہے تھے''… ریمانڈ کے جاسوسوں کے کمانڈر ونڈسر ''
نے انہیں کہا… '' میں تمہاری باتوں سے جان گیا تھا کہ تم جاسوس ہو اور معلوم کرنا چاہتے ہو کہ ہم کون ہیں اور کہاں
جارہے ہیں''۔
وہ تم نہیں تھے''… خلت نے کہا… ''وہ تو کوئی بوڑھا آدمی تھا''۔''
وہ میرا بہروپ تھا''… ونڈسر نے کہا… ''مجھے خوشی ہے کہ تم مان گئے ہو کہ تم دونوں جاسوس تھے اور اب بھی ''
جاسوس ہو اور میں تمہیں یہ بھی بتا دوں کہ تمہیں بے ہوش کرنے والی لڑکیوں میں سے ایک یہ تھی''۔
ہم اب جاسوس نہیں ہیں''… خلت نے کہا… ''اب ہم خلیفہ کے وفادار ہیں''۔''
تم بکواس کرتے ہو''… ونڈسر نے کہا… ''علی بن سفیان کی میں نے ہمیشہ تعریف کی ہے مگر تمہاری تربیت مکمل ''
نہیں۔ تم نے ابھی تک اپنے آپ کو چھپانا اور اپنا حلیہ بدلنا نہیں سیکھا''۔
ونڈسر نے انہیں بتایا کہ وہ جنگی سامان اور بہت سی رقم سوڈان لے جارہے تھے۔ قافلے میں جو افراد صحرائی لباس میں
تھے ،وہ فوجی مشیر تھے۔ وہ سب صلیبی تھے اور سوڈان جارہے تھے۔ انہوں نے ہی سوڈانی فوج تیار کی اور صالح الدین
ایوبی کے بھائی تقی الدین کو ایسی بری شکست دی تھی کہ وہ اپنی آدھی فوج وہیں چھوڑ آیا تھا۔ اگر صالح الدین ایوبی
عقل استعمال نہ کرتا تو تقی الدین باقی فوج وہاں سے نہیں نکال سکتا تھا۔ ان لڑکیوں نے بھی تمہاری شکست میں بہت
کام کیا تھا۔ ونڈسر نے انہیں بتایا کہ ان کی مالقات جب مصر کے شمال میں ہوئی تھی تو رات پڑائو کے دوران ان میں سے
کوئی بھی نہیں سویا تھا اور ان دونوں لڑکیوں کو اسی مقصد کے لیے خلت اور اس کے ساتھی کے پاس بھیجا گیا تھا کہ
انہیں باتوں میں الجھا کے بے ہوش کردیں۔ ان کی ترکیب کامیاب رہی۔ ان کے بے ہوش ہوتے ہی قافلہ روانہ ہوگیا۔
خلت کو وہ واقعہ اچھی طرح یاد تھا اور یہ واقعہ اس کے دل میں کانٹے کی طرح اترا ہوا تھا۔ اتنے خطرناک جاسوسوں کا
قافلہ اس کے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ اس کے ساتھ ایسے کبھی بھی نہیں ہوا تھا۔ اس خلش کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ اس
نے اس واقعہ کی رپورٹ اپنے ہیڈکوارٹر کو دی ہی نہیں تھی کیونکہ اسے دشمن کے جاسوس دھوکہ دے گئے تھے۔ اس میں
اس کی اور اس کے ساتھی کی بے عزتی تھی۔ انہیں دو لڑکیاں بے وقوف بنا گئی تھیں۔ اب ان میں سے ایک لڑکی اور ایک
آدمی اس کے سامنے کھڑا تھا۔ خلت اپنے ساتھی سمیت اس کا قیدی تھا۔ اب وہ ہتھیار ڈالنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے یہاں
سے نکلنے یا مرجانے کو فیصلہ کرلیا۔
میری ایک پیشکش قبول کرلو''… ونڈسر نے انہیں کہا… ''میں تم پر ایسا رحم کررہا ہوں جو میں نے کبھی کسی پر نہیں''
کیا۔ تم دونوں میرے گروہ میں شامل ہوجائو۔ جتنی اجرت مانگو گے دوں گا ،کہو گے تو دمشق بھیج دوں گا اور اگر قاہرہ جانا
چاہو تو وہاں بھیج دوں گا۔ وہاں تم دونوں صالح الدین ایوبی کے جاسوس بنے رہنا لیکن کام ہمارے لیے کرنا۔ تمہارا کام یہ
ہوگا کہ ہمارے جو جاسوس وہاں کام کررہے ہیں ان کی مدد کرو۔ اگر کوئی ان کی نشاندہی کردے تو انہیں قبل از وقت خبردار
کرکے ادھرادھر کردینا''… وہ بولتا جارہا تھا اور یہ دونوں خاموشی سے سن رہے تھے۔ اسے توقع تھی کہ یہ دونوں مان جائیں
گے۔ اس نے کہا… ''یہ پیشکش قبول کرنے سے پہلے میری یہ شرط ہے کہ یہاں تمہارے جتنے جاسوس ہیں وہ پکڑواو اور یہ
''بتا دو کہ وہ کہاں کہاں ہیں؟
ہمیں تمہاری پیشکش کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں''… خلت نے کہا… ''ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ یہاں کوئی جاسوس ''
ہے یا نہیں''۔
تمہیں شاید معلوم نہیں کہ میں تمہارے جسموں کی کیا حالت بنا دوں گا''… ونڈسر نے کہا… ''اگر تمہیں یہ توقع ہے کہ''
تمہیں فورا ً قتل کردیا جائے گا تو تمہاری یہ توقع پوری نہیں ہوگی۔ میں تمہیں جس تنور میں پھینکوں گا اس میں سے اتنی
جلد نجات حاصل نہیں کرسکوں گے''… اس نے مسکرا کر کہا… ''کیا تم مجھ سے منوالو گے کہ تم جاسوس نہیں ہو؟ کیا
میں ابھی شک میں ہوں؟ تم میں اتنی عقل نہیں کہ مجھے دھوکہ دے سکو۔ تم میں اتنی عقل ہوتی تو اس لڑکی کے ہاتھوں
بے وقوف نہ بنتے۔ اس نے تمہیں اپنی جوانی اور خوبصورتی کے جال میں پھانس لیا تھا''۔
سنو میرے صلیبی دوست''… خلت کھری باتوں پر آگیا۔ بوال… ''ہم دونوں جاسوس ہیں مگر یہ جھوٹ ہے کہ میں یا میرا''
یہ رفیق لڑکیوں کے حسن کے فریب میں آگیا تھا۔ میں پتھر ہوں لیکن مجھ میں ایک کمزوری ہے۔ بہت عرصہ گزرا پندرہ
سولہ سال کی عمر کی ایک لڑکی میرے سامنے فروخت ہوگئی تھی۔ میں نے اسے بچانے کی کوشش میں ایک آدمی کی تلوار
چھین لی تھی… اور ایک کو زخمی بھی کردیا تھا۔ وہ تین تھے اور میں اکیال۔ انہوں نے مجھے گرا لیا اگر میں بے ہوش نہ
ہوجاتا تو اس لڑکی کو بچا لیتا۔ وہ اسے لے گئے اور مجھے لوگ بے ہوشی کی حالت میں اٹھا کر گھر لے گئے''۔
تم کہاں کے رہنے والے ہو؟''… ونڈسر نے پوچھا۔''
دمشق سمجھ لو''… خلت نے جواب دیا… ''میں اب کچھ نہیں چھپائوں گا۔ دمشق کے قریب ایک گائوں ہے۔ میں وہاں ''
کا رہنے واال ہوں اور میرا ساتھی بغدادی ہے۔ میں یہ باتیں تمہارے ڈر سے نہیں بتا رہا۔ تم مجھے اتنی آسانی سے پکڑ نہیں
سکو گے۔ ہمت ہے تو ہمارے ہاتھوں سے برچھیاں لے لو۔ ہم سے تلوا لو جس تنور کا تم ذکر کرتے ہو ،اس میں ہماری الشیں
جائیں گی''۔
ونڈسر کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔ صلیبی لڑکی نے ہنس کر کہا… ''انہیں خوش فہمی مروائے گی''۔ اور نئی رقاصہ
خلت کو گہری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
میں تمہیں بتا رہا تھا کہ میں اس لڑکی کو نہیں بچا سکا تھا''… خلت نے کہا… ''اس لڑکی کی یاد کانٹا بن کر میرے ''
دل میں اتر گئی۔ اس رات جب ہم دونوں تمہارے قافلے کے ساتھ تھے تو تمہاری دولڑکیوں نے مجھے کہا کہ انہیں بیچنے کے
لیے اغوا کرکے لے جایا جارہا ہے تو میری آنکھوں کے سامنے وہ لڑکی آگئی جسے میں بچا نہیں سکا تھا۔ میں نے ان دونوں
لڑکیوں کے چہروں پر اسی لڑکی کا چہرہ دیکھا۔ میرے دل میں جو کانٹا تھا اس نے میری عقل پر پردہ ڈال دیا۔ اگر مجھے
وہ لڑکی یاد نہ آتی تو میں کبھی بے وقوف نہ بنتا''۔
نئی رقاصہ کا جسم بڑی زور سے کانپا۔ وہ پیچھے ہٹ گئی اور پلنگ پر بیٹھ گئی۔ اس کا رنگ زرد ہوگیا تھا۔
اور اب تو موت بھی مجھے بے وقوف نہیں بنا سکتی''… خلت نے کہا… ''اور تمہارا کوئی اللچ مجھے اپنے فرض سے ''
گمراہ نہیں کرسکتا''۔
ادھر ضیافت کے ہال میں ونڈسر کا انتظار ہورہا تھا جنہیں پتا چل چکا تھا کہ کوئی نئی رقاصہ آئی ہے وہ رقاصہ کے انتظار
میں تھے۔ یہ تو کسی نے بھی نہ دیکھا کہ دروازے کے باہر جو وہ سنتری مستنعد کھڑے رہتے تھے ،وہ کہاں چلے گئے ہیں۔
برچھیاں اور تلواریں ابھی تک خلت اور اس کے ساتھی کے پاس تھیں۔ ونڈسر نے جب دیکھا کہ وہ اس کی پیشکش ٹھکرا
چکے ہیں اور دونوں اپنے عقیدے اور فرض کے پکے معلوم ہوتے ہیں تو اس نے انہیں کہا کہ ہتھیار اس کے حوالے کردیں۔
دونوں نے صاف انکار کردیا۔ ونڈسر ان سے زبردستی ہتھیار لینے کے لیے دروازے کی طرف بڑھا۔ وہ باڈی گارڈ ز کو بالنا چاہتا
ہوگا۔ خلت نے تیزی سے دروازہ بند کردیا اور زنجیر چڑھا کر برچھی کی نوک ونڈسر کی طرف کرکے کہا… ''جہاں ہو وہیں
کھڑے رہو''… اس نے آگے بڑھ کر برچھی کی نوک ونڈسر کی شہ رگ پر رکھ دی۔
خلت کے ساتھی نے اپنی برچھی کی نوک صلیبی لڑکی کی شہ رگ پر رکھی۔ ونڈسر اور لڑکی پیچھے ہٹتے ہٹتے دیوار کے
ساتھ جالگے۔ خلت اور اس کے ساتھی نے دونوں کو وہیں دبا لیا۔ خلت نے نئی رقاصہ سے کہا… ''تم ان کے ساتھ کھڑی
ہوجائو۔ اگر تم نے شور مچایا تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گی''۔
اگر تم خلت ہو تو میرا نام حمیرہ ہے''… نئی رقاصہ نے کہا… ''میں نے تمہیں پہلے دن ہی پہچان لیا تھا اور تم ''
مجھے پہچاننے کی کوشش کررہے تھے''۔
تھوڑی دیر پہلے خلت نے اپنے نام کے سوا باقی نشانیاں بتا دی تھیں۔ حمیرہ جب سے یہاں آئی تھی وہ خلت کو دیکھ رہی
تھی مگر خلت کی طرح وہ بھی شک میں تھی۔ وہ بھی یہی سوچتی تھی کہ انسانوں کی صورتیں ایک جیسی بھی ہوسکتی
ہیں۔
کیا تم بھی جاسوس ہو؟'' خلت نے پوچھا۔''
نہیں''… حمیرہ نے جواب دیا… ''میں صرف رقاصہ ہوں مجھ پر کوئی شک نہ کرنا خلت۔ میں تمہارے ساتھ ہوں اور ''
تمہارے ساتھ جائوں گی مرنا ہے تو تمہارے ساتھ مروں گی''۔
الصالح ضیافت میں آگیا۔ اس کے تمام امراء وزراء اور دوسرے مہمان بھی آگئے۔ ان میں صلیبی فوج کے افسر بھی تھے جو
مشیروں کی حیثیت سے یہاں آئے تھے۔ ان کا انداز بادشاہوں جیسا تھا۔ ان میں ریمانڈ کا فوجی نمائندہ بھی تھا۔ وہ سب
ونڈسر کو ڈھونڈرہے تھے۔ وہ ابھی تک غیر حاضر تھا۔ تمام صلیبی لڑکیاں ہال میں پہنچ گئی تھیں۔ صرف ایک نہیں تھی۔
ناچنے والیاں بھی آگئی تھیں ،نئی رقاصہ غیرحاضر تھی۔ الصالح کے آجانے سے سب کی بیتابی بڑھ گئی۔ ایک مالزم سے کہا
گیا کہ وہ ونڈسر اور دونوں لڑکیوں سے کہے کہ سب آگئے ہیں۔
انہیں باندھ کر یہیں پھینک چلتے ہیں''… خلت کے ساتھی نے کہا۔''
کیا تم سانپوں کو زندہ رکھنا چاہتے ہو؟''… خلت نے کہا اور برچھی جس کی نوک ونڈسر کی شہ رگ کو چھو رہی تھی ''
پوری طاقت سے دبائی۔ ونڈسر کا سر دیوار کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ برچھی کی انی اس کی شہ رگ میں داخل ہوکر پیچھے
نکل گئی۔ ونڈسر کا ہلکا سا خراٹہ سنائی دیا۔
اس کے فورا ً بعد ایسا ہی ایک خراٹہ صلیبی لڑکی کے منہ سے نکال۔ اس کی شہرگ کو چیرتی ہوئی برچھی کی انی خلت
کے ساتھی نے پار کردی تھی۔ دونوں نے برچھیاں نکالیں۔ ونڈسر اور لڑکی گر کر تڑپنے لگے۔ خلت اور اس کے ساتھی نے
دونوں کے دلوں پر برچھیاں رکھ کر اوپر سے پورا وزن ڈاال۔ دونوں کے دل چیر گئے۔ اور وہ ٹھنڈے ہوگئے۔ دونوں کی الشوں
کو پلنگ کے نیچے پھینک دیا گیا۔ یہ کمرہ ونڈسر کا تھا۔ دیوار کے ساتھ اس کا چغہ لٹک رہا تھا جس کے ساتھ سر کو
ڈھانپنے واال حصہ بھی تھا۔ حمیرہ نے خود ہی یہ چغہ پہن لیا اور سر بھی ڈھانپ لیا۔ وہیں سے کپڑے اٹھا کر اس نے رقص
واال گھگھرا اتار دیا اور مردانہ لباس کمر سے نیچے تک چڑھا لیا۔ پاپوش بھی بدل لیے اور چہرہ بھی چھپا لیا۔ اسے اب ایک
نظر میں کوئی نہیں پہچان سکتا تھا کہ یہ لڑکی ہے۔
خلت نے دروازہ کھوال۔ باہر دیکھا برآمدے میں مالزموں کی آمدورفت اور بھاگ دوڑ تھی۔ وہ تینوں باہر نکلے۔ دروازہ بند کیا اور
ایک طرف چل پڑے۔ فورا ً بعد وہ اندھیرے میں ہوگئے۔ ادھر ایک کھائی تھی ،اس سے اترے اور خطرے کے عالقے سے نکل
گئے۔ خلت اور اس کے ساتھی کو معلوم تھا کہ انہیں کہاں جانا ہے۔ ان کا کمانڈر ایک عالم فاضل کے روپ میں جہاں رہتا
تھا وہاں چھپنے کی جگہ بھی تھی اور وہاں نکلنے کا بندوبست بھی ہوسکتا تھا۔ اس وقت شہر سے نکلنا خطرے سے خالی
نہ تھا۔ گھوڑے بھی نہیں تھے۔ انہیں حلب سے فرار ہوکر دمشق پہنچنا تھا۔ انہیں یہ اندازہ بھی تھا کہ قتل کا پتا چلتے ہی
شہر میں کیا ہنگامہ برپا ہوگا۔
قتل کا انکشاف ہوتے زیادہ دیر نہیں لگی۔ کسی نے ونڈسر کے کمرے کا دروازہ کھوال۔ پلنگ کے نیچے سے جو خون بہہ رہا
تھا وہ فرش پر پھیلتا ہوا دروازے تک پہنچ گیا تھا۔ ہنگامہ بپا ہوگیا۔ وہاں ایک نہیں دو الشیں تھیں ،دونوں کے زخم ایک
جیسے تھے۔ فوری طور پر پہرہ داروں کا خیال آیا۔ ان کی موجودگی میں بیک وقت دو قتل کون کرسکتا تھا؟ جن سنتریوں کی
ڈیوٹی تھی انہیں بالیا گیا۔ دونوں غائب تھے۔ اس عمارت میں کسی کا بغیر اجازت داخلہ ممنوع تھا۔ یہاں چیدہ چیدہ لوگ
جو حاکم یا معزز شہری تھے ،آسکتے تھے۔ ان کی بھی چیکنگ ہوتی تھی۔ باڈی گارڈز کے کمانڈر کے لیے مصیبت کھڑی
ہوگئی۔ یہ قتل پیشہ وروں کا کام تھا یا سلطان ایوبی کے جاسوسوں کا اور یہ کام فدائی قاتلوں کا بھی ہوسکتاتھا۔ کسی نے
کہا کہ کرائے کے یہ قاتل کسی سے بھی اجرت لے کر قتل کرسکتے ہیں۔
دروازے کے دونوں سنتری نہ ملے تو یہ شک پختہ ہوگیا کہ وہ سلطان ایوبی کے آدمی ہوں گے اور انہوں نے ونڈسر کو اس
وجہ سے قتل کیا ہے کہ وہ جاسوسوں کا سربراہ بن کے آیا تھا۔ رات دیر تک خلت اور اس کا ساتھی نہ ملے تو شہر میں
ان کی تالش شروع ہوگئی۔ یہ انکشاف بہت دیر بعد ہوا کہ نئی رقاصہ بھی غائب ہے۔ شہر کی ناکہ بندی کردی گئی۔
خلت ،اس کا ساتھی اور حمیرہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے اپنے کمانڈر کو اپنا کارنامہ سنایا تو اس نے انہیں
چھپا لیا اور کہا کہ وہ باہر کے حاالت کے مطابق انہیں بتائے گا کہ وہ کب یہاں سے نکلیں۔ اس پر کسی کو شک نہیں
ہوسکتا تھا کیونکہ اسے لوگ عالم اور برگزیدہ انسان سمجھتے تھے۔اداکاری میں اسے مہارت حاصل تھی۔ اس نے اپنے جو دو
شاگرد اپنے ساتھ رکھے ہوئے تھے وہ بھی جاسوس تھے۔ حلب سے دمشق تک وہی اطالعات پہنچاتے تھے۔ اس نے دونوں
شاگردوں کو حکم دیا کہ وہ باہر کی خبر رکھیں کہ کیا ہورہا ہے۔
حمیرہ نے اس ''عالم'' کے سامنے خلت کو سنایا کہ اس پر کیا گزری تھی۔ وہ واقعہ تو سات آٹھ سال پرانا ہوچکاتھا۔ اس
نے سنایا کہ خلت جب حمیرہ کو اس کے باپ ( جو دراصل اس کا باپ نہیں تھا) اور ان دو آدمیوں سے بچانے کے لیے لڑا
تھا تو حمیرہ کے باپ نے پیچھے سے کدال خلت کے سر پر ماری تھی۔ اس سے وہ بے ہوش ہوگیا تھا۔ وہ تینوں حمیرہ کو
گھر لے گئے۔ ایک نکاح خواں کو بالیا جس نے اس سے پوچھے بغیر نکاح پڑھ دیا اور وہ دونوں آدمی حمیرہ کو اپنے ساتھ
گھر لے گئے۔ ایک رات وہ دمشق میں ٹھہرے پھر اسے ان عالقوں میں لے گئے جو صلیبیوں کے قبضے میں تھے۔ اسے ناچ
کی تربیت دی جانے لگی۔ ابتداء میں اس نے مزاحمت کی مگر اس پر اس قدر تشدد کیا گیا کہ وہ بے ہوش ہوجاتی تھی۔
اس دوران اسے خوراک نہایت اچھی دی جاتی تھی۔ اسے کوئی بڑا ہی لذیذ شربت پالیا جاتا تھا جس کے اثر سے وہ ہنسنے
اور ناچنے لگتی تھی۔
تشدد اور نشے سے اسے رقاصہ بنالیا گیا۔ بہت اونچے درجے کے لوگ اسے داد دینے لگے۔ وہ ایسے قیمتی تحفے التے تھے کہ
وہ دنگ رہ جاتی تھی۔ اسے یروشلم بھی لے جایا گیا تھا جہاں دو آدمیوں نے اس کے مالکوں سے کہا تھا کہ وہ منہ مانگی
قیمت لے لیں اور یہ لڑکی انہیں دے دیں۔ انہوں نے صاف بتا دیا تھا کہ وہ اسے جاسوسی وغیرہ کے لیے استعمال کرنا
چاہتے ہیں۔ اس کے مالکوں نے سودا قبول نہیں کیا تھا۔ اسے اغوا کرنے کی کوشش بھی کی گئی تھی جو ناکام بنا دی گئی
تھی۔ اب اسے حلب میں کسی اور امیر کی فرمائش پر بالیا گیا تھا۔ اس نے بتایا کہ پہلے دن اس نے خلت کو دیکھا تو اس
نے بالشک وشبہ دل سے کہا تھا کہ یہ خلت ہے لیکن یہ شک بھی ہوتا تھا کہ ہوسکتا ہے یہ خلت کی شکل وصورت کا
کوئی اور آدمی ہو۔ وہ اسے غور سے دیکھتی تھی۔ آخر یہ اتفاق ہوا کہ ونڈسر نے خلت اور اس کے ساتھی کو پہچان لیا۔
ونڈسر نے اپنی لڑکی کو بالیا تو حمیرہ بھی اس کے ساتھ چلی گئی۔ خلت نے جب اپنے متعلق چند ایک باتیں بتائیں تو
حمیرہ کے شکوک رفع ہوگئے۔
اس نے کہا ''میں اس ذلیل زندگی کی عادی ہوگئی تھی۔ میرے دل میں جذبات مرگئے تھے۔ میں ایک پتھر کی طرح ادھر
دھر لڑھکتی پھر رہی تھی لیکن خلت کو دیکھا تو میرے سارے جذبات زندہ ہوگئے۔ مجھے یقین نہیں تھا کہ یہ خلت ہی ہے
مگر اس کی صورت نے مجھے وہ وقت یاد دال دیا جب میرے دل میں اس کی محبت تھی ۔ میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ
کسی وقت اس سے پوچھوں گی کہ تم خلت ہو؟ اگر یہ خلت نکال تو اسے کہوں گی کہ آئو بھاگ چلیں اور صحرا کے خانہ
بدوشوں کی طرح زندگی بسر کریں گے''۔
اسے خلت تو مل گیا اور وہ اس کے ساتھ بھاگ بھی آئی لیکن حلب سے بچ کر نکلنا ایک مسئلہ تھا۔
٭ ٭ ٭
خلیفہ کی ضیافت اور رقص کی محفل ویران ہوچکی تھی۔ وہاں ونڈسر کا انتظار ہورہا تھا مگر ونڈسر کی الش پہنچی۔ وہاں
اعلی افسر تھے وہ سخت غصے میں تھے۔ ریمانڈ کا فوجی نمائندہ تو سب سے زیادہ بھڑکا ہوا تھا۔ ونڈسر
صلیبی فوج کے جو
ٰ
بہت قیمتی افسر تھا۔ فوجی نمائندہ الملک الصالح اور اس کے امراء اور اس کے فوجی کمانڈروں پر ٹوٹ ٹوٹ پڑتا تھا اور
سب اس سے دبک رہے تھے۔ ان کے دلوں میں صالح الدین ایوبی کی دشمنی اتنی زیادہ تھی کہ وہ صلیبی افسروں کو فرشتے
لہذا ان کی خوشامد کو وہ ضروری سمجھتے تھے۔
سمجھے بیٹھے تھے۔ انہیں کی مدد سے وہ جنگ کی تیاری کررہے تھےٰ ،
فوجی نمائندہ جو کچھ کہتا تھا سب اس کے آگے سر جھکا لیتے اور ہاں میں ہاں مالتے تھے۔ اس نے کہا… ''قاتل رات ہی
رات شہر سے نہیں نکل سکتے۔ صبح سویرے حلب کے ایک ایک گھر کی تالشی لی جائے۔ یہاں کی ساری فوج کو اس پر
الگادو۔ فوج لوگوں کے جاگنے سے پہلے گھروں میں داخل ہوجائے۔ یہاں کے باشندوں کو اتنا پریشان کیا جائے کہ وہ قاتلوں کو
خود ہی ہمارے حوالے کردیں''۔
ایسا ہی ہوگا''… ایک مسلمان امیر نے کہا… ''ہم فوج کو ابھی حکم دے دیتے ہیں کہ سحر کے اندھیرے میں شہر میں ''
پھیل جائے''۔
ایسا نہیں ہوگا''… یہ آواز ایک مسلمان قلعہ دار کی تھی ،اس نے ایک بار پھر گرج کر کہا… ''ایسا نہیں ہوگا ،تالشی ''
صرف اس گھر کی لی جائے گی جس پر پختہ شک اور کوئی واضح شہادت ہوگی''۔
اعلی حکام کے ہجوم پر اس گرج دار آواز نے سناٹا طاری کردیا۔ کسی کو توقع نہیں تھی کہ ریمانڈ کے فوجی
اتنے سارے
ٰ
نمائندے کے حکم کو کوئی مسلمان ایسے جوش سے ٹوکے گا۔ سب نے دیکھا کہ یہ کون ہے ،وہ حماة کا قلعہ دار تھا جس کا
نام جوردیک تھا لیکن واقعہ نگاروں کے مطابق اس واقعہ تک وہ صالح الدین ایوبی کے مخالف کیمپ میں تھا اور الصالح کے
وفاداروں میں سے تھا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ صرف اس ضیافت میں ہی شریک نہیں تھا بلکہ جنگی کانفرنسوں میں
شریک ہوتا تھا۔ سلطان ایوبی کے خالف جنگ کا جو منصوبہ بنا تھا ،وہ اس میں بھی شریک تھا۔
اس نے جب ایک صلیبی کے منہ سے یہ الفاظ سنے کہ حلب کے ہر گھر کی تالشی لی جائے گی تو اس میں اسالمی وقار
بیدار ہوگیا۔ اس نے کہا… ''یہاں مسلمان گھرانے ہیں جن میں پردہ نشین خواتین بھی ہیں۔ ہم ان کی بے عزتی برداشت
نہیں کریں گے۔ شریف گھرانوں میں فوجی داخل نہیں ہوگے''۔
قاتل اسی شہر کے تھے''… ایک صلیبی افسر نے کہا… ''ہم تمام شہریوں سے انتقام لیں گے۔ ونڈسر جیسا قابل افسر ''
قتل ہوگیا ہے۔ ہمیں کسی کی عزت اورکسی کے پردے کی پروا نہیں''۔
اور مجھے تمہارے ایک افسر کے قتل کی پروا نہیں''… جوردیک نے قہر سے کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔''
جوردیک! خاموش رہو!'' نوعمر اورناتجربہ کار سلطا ن نے حکم کے لہجے میں کہا… ''یہ لوگ اتنی دور سے ہماری مدد''
کے لیے آئے ہیں ،کیا تم مہمان نوازی کے آداب سے ناواقف ہو؟ احسان فراموش نہ بنو۔ ہمیں قاتل کو پکڑنا ہے''۔خلیفہ کی
تائید میں کئی آوازیں سنائی دیں۔
میں صالح الدین ایوبی کے خالف ہوسکتا ہوں اور ہوں بھی''… جوردیک نے کہا… ''لیکن اپنی قوم کے خالف نہیں ''
ہوسکتا۔ محترم سلطان! اگر آپ نے شہریوں کو پریشان کیا تو سب آپ کے خالف ہوجائیں گے۔ آپ صالح الدین ایوبی کے
خالف جو محاذ بنا رہے ہیں وہ کمزور ہوجائے گا''۔
ہم نے قوم کی کبھی پروا نہیں کی''… ریمانڈ کے فوجی نمائندے نے کہا… ''ہم قاتلوں کو ڈھونڈیں گے۔ وہ کسی گھر میں''
ہی ہوں گے۔ ہم انہیں باہر نکال لیں گے۔ یہ قتل صالح الدین ایوبی نے کرایا ہے''۔
میرے دوست!''… جوردیک نے کہا… ''تمہارے ایک افسر کا قتل کوئی بڑی بات نہیں۔ تم صالح الدین ایوبی کو قتل ''
کرانے کی کتنی بار کوشش کرچکے ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ تم اسے قتل نہیں کرسکے۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ تم نے کوئی
جرم کیا تھا۔ دشمن ایک دوسرے کو ہر جائز ناجائز طریقے سے مارنے اور مروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ا گر تمہارے ونڈسر کو
ایوبی نے قتل کرایا ہے تو فرق صرف یہ پڑا ہے کہ تم اسے قتل کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکتے اور وہ تمہارے ایک اہم
افسر کو قتل کرانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ تم اس کے کئی ایک اہم افسروں کو قتل کراچکے ہو۔ اس نے شہریوں کو کبھی
پریشان نہیں کیا''۔
تمام مسلمان امراء اور حکام جوردیک کے خالف بولنے لگے۔ وہ صلیبیوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن جوردیک نے
سب کا مقابلہ کیا ور اسی بات پر ڈٹا رہا کہ شہر کے کسی گھر کی تالشی نہیں لی جائے گی۔
تو کیا ہم یہ سمجھیں کہ تم بھی اس قتل میں شریک ہو؟'' ایک صلیبی مشیر نے کہا… ''مجھے شک ہے کہ تم صالح''
الدین ایوبی کے دوست ہو''۔
اگر حلب کے مسلمان گھرانوں کو پریشان کیا گیاتو میں کسی کے بھی قتل میں شریک ہوسکتا ہوں''۔ جوردیک نے کہا… ''
''اورمیں ایوبی کا دوست بھی ہوسکتا ہوں''۔
ہم جب تک یہاں ہیں ہمارا حکم چلے گا''۔ صلیبی نمائندے نے کہا۔''
تم یہاں اجرت پر آئے ہو''۔ جوردیک نے کہا… ''یہاں ہمارا حکم چلے گا۔ ہم مسلمان ہیں۔ حاالت ہمیں آپس میں لڑا ''
رہے ہیں۔ مسلم اور غیرمسلم کی کبھی دوستی نہیں ہوسکتی اگر تم بال اجرت آئے ہو تو میں تمہاری مدد سے دستبردار
ہوتاہوں۔ میں قلعہ داری کے عہدے سے بھی دستبردار ہوتا ہوں اور میں تم سب کو یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ میری قوم
کے کسی ایک بھی بے گناہ فرد کو تکلیف دی گئی تو میں انتقام لوں گا''۔
کسی کے اشارے پر دو آدمی جوردیک کو باہر لے گئے۔ اس کی غیرحاضری میں صلیبی نمائندے نے سب سے کہا کہ حاالت
ایسے ہیں کہ قلعہ دار کو ناراض نہیں کیا جاسکتا۔ یہ شخص اتنی دلیری سے باتیں کررہا ہے تو اس سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ
اس کے قلعے میں جو فوج ہے وہ اس کی مرید ہے اگر ایسا ہے تو یہ صورتحال اچھی نہیں۔ آپس میں صالح مشورہ کرکے
جوردیک کو اندر بالیا گیا اور اسے بتایا گیا کہ شہریوں کو پریشان نہیں کیا جائے گا مگر قاتلوں کو تالش ضرور کیا جائے گا۔
جوردیک نے کہاکہ وہ تین چار دن وہیں رہے گا۔
٭ ٭ ٭
تین چار دنوں بعد جوردیک حلب سے روانہ ہوا۔ وہ اپنے قلعے حماة کو جارہا تھا۔ اس کی موجودگی میں قاتلوں کی تالش اور
سراغ رسانی ہوتی رہی۔ اس کی خواہش کے مطابق کسی گھر کی تالشی نہیں لی گئی تھی۔ وہ مطمئن ہوکر جارہا تھا مگر
صلیبیوں کو اس کے متعلق اطمینان نہیں تھا۔ اس کے ساتھ دس بارہ محافظ تھے۔ جوردیک سمیت سب گھوڑوں پر سوار تھے۔
راستے میں ٹیلوں اور چٹانوں کا عالقہ آتا تھا۔ جوردیک اس عالقے میں داخل ہوا تو بیک وقت کہیں سے دو تیر آئے۔ دونوں
اس کے گھوڑے کے سر میں پیوست ہوگئے۔ تیر اندازوں نے تیر جوردیک پر چالئے ہوں گے۔ گھوڑا بے لگام ہوکر دوڑ پڑا۔ دو
تیر اور آئے۔ وہ بھی گھوڑے کو لگے۔ اب کے نشانہ خطا ہونے کی وجہ یہ ہوسکتی تھی کہ گھوڑا بدک کر ادھر ادھر دوڑ رہا
تھا۔
جوردیک شاہسوار تھا ،و دوڑتے گھوڑے سے کود کر ایک چٹان کی اوٹ میں ہوگیا۔ اس کے محافظ ادھر ادھر بکھر گئے۔ وہ تیر
اندازوں کے تعاقب میں گئے تھے۔ عالقہ ایسا تھا کہ کسی کو پکڑنا آسان نہیں تھا۔ جوردیک سمجھ گیا کہ یہ کرائے کے قاتل
ہیں جنہیں صلیبیوں نے اسے قتل کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ انہیں یہ شک تھا کہ جوردیک سلطان ا یوبی کا دوست ہے۔ وہ
جنگجو تھا۔ چٹان کی اوٹ سے نکل کر اوپر چالگیا۔ اسے صرف چٹانیں نظرا ئیں یا اپنے محافظ جو ادھر ادھر تیر اندازوں کو
ڈھونڈتے پھر رہے تھے۔
ادھر آجائو''۔ کسی نے چال کر کہا… ''ادھر آجائو۔ پکڑ لیے ہیں''۔''
محافظ ادھر کو بھاگے محافظوں نے تین آدمیوں کو گھیرے میں لے رکھاتھا۔ تینوں نقاب پوش تھے مگر ان کے پاس کمانیں نہیں
تھیں۔ترکش بھی کسی کے پاس نہیں تھی۔ ان کے ساتھ گھوڑے تھے۔ انہیں اس حالت میں پکڑا گیا تھا کہ وہ گھوڑوں پر سوار
ہورہے تھے۔ تینوں نے چہرے چھپا رکھے تھے۔ ان کی صرف آنکھیں نظر آتی تھیں انہیں پکڑ کر جوردیک کے پاس لے گئے۔
تمہاری کمانیں اور ترکش کہاں ہیں؟'' جوردیک نے ا ن سے پوچھا۔''
ہمارے پاس صرف تلواریں ہیں''۔ ایک نے جواب دیا۔''
سنو بھائیو!'' جوردیک نے بڑے تحمل سے کہا… ''تمہارے چاروں تیر خطا گئے۔ تم مجھے قتل نہیں کرسکے۔ تم پکڑے ''
بھی گئے ہو۔ تم ہار گئے ہو ،اب جھوٹ سے بچو''۔
کیسے تیر؟'' ایک نے حیرت زدہ ہوکر کہا… ''ہم نے کسی پر تیر نہیں چالئے۔ ہم مسافر ہیں۔ ذرا آرام کرنے کے لیے ''
رکے تھے۔ اب جارہے تھے کہ ان لوگوں نے پکڑ لیا''۔
جوردیک ہنس پڑا اور جواب دینے والے نقاب پوش سے کہنے لگا… ''میں تمہیں اپنا دشمن نہیں سمجھتا۔ اگر ایسا ہوتا تو
اب تک میں تم تینوں کی گردنیں اڑا چکا ہوتا۔ تم کرائے کے قاتل ہو۔ صرف یہ بتا دو کہ میرے قتل کے لیے تمہیں کس نے
بھیجا ہے؟ صاف صاف بتا دو اور جائو''۔
دو نقاب پوشوں نے قسمیں کھائیں ،تیسرا خاموش رہا۔
اپنے آپ کو عذاب میں نہ ڈالو''۔ جوردیک نے کہا… ''کسی کے لیے اپنی جانیں ضائع نہ کرو ،میں تمہیں کوئی سزا ''
نہیں دوں گا۔ فورا ً آزاد کردوں گا''۔
نقاب پوشوں نے پھر پس وپیش کی۔
ان کے نقاب اتار دو'' جوردیک نے اپنے محافظوں سے کہا… ''ان سے تلواریں لے لو''۔''
دو نقاب پوشوں نے نیاموں سے تلواریں نکال لیں اور پھرتی سے پیچھے ہٹ گئے۔ تیسرا نقاب پوش ان دونوں کے پیچھے
ہوگیا۔ اس کے پاس تلوار نہیں تھی۔ جوردیک نے قہقہہ لگا کر کہا… ''کیا تم اتنے سارے محافظوں کا مقابلہ کرسکو گے جبکہ
تمہارے تیسرے ساتھی کے پاس تلوار ہی نہیں ہے؟ میں تمہیں ایک اور موقع دیتا ہوں۔ میں نے ابھی اپنے محافظوں کو حکم
نہیں دیا کہ وہ تمہاری بوٹیاں اڑا دیں''… محافظوں نے ان کے گرد گھیرا ڈال لیا تھا۔
اور میں تمہیں آخری بار کہتا ہوں کہ ہم میں سے کسی نے تیر نہیں چالئے''۔ ایک نقاب پوش نے کہا۔''
محافظوں کا کمانڈر ان تینوں کے پیچھے کھڑا تھا۔ اسے جانے کس طرح کچھ شک ہوا۔ اس نے اس تیسرے نقاب پوش جس
کے پاس تلوار نہیں تھی کا چغہ اوپر سے کھینچا تو اس کے سر کا حصہ پیچھے کو ہوگیا۔ اس نے اس کا نقاب بھی نوچ لیا
اور جب چہرہ بے نقاب ہوا تو سب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی۔ جوردیک نے کہا کہ اسے
اس کے پاس الیا جائے۔ دونوں نقاب پوشوں نے حیران کن پھرتی سے پیچھے کو مڑ کر لڑکی کو پکڑنے والے محافظ کے سینے
میں تلواریں رکھ دیں۔ ایک نے للکار کر کہا… ''جب تک ہمیں پوری بات نہیں بتائو گے اور ہماری نہیں سنو گے اس لڑکی
کو ہاتھ نہیں لگا سکو گے۔ ہم جانتے ہیں ہمیں تمہارے ہاتھوں مرنا ہے لیکن ہم ان میں سے آدھے محافظوں کو مار کر مریں
گے۔ تمہیں یہ لڑکی زندہ نہیں مل سکتی''۔
جوردیک ایک ٹھنڈے مزاج کا آدمی معلوم ہوتا تھا۔ اس نے محافظوں کو پیچھے ہٹا دیا اور نقاب پوشوں سے کہا… ''تم مجھ
سے اور کیا بات سننا چاہتے ہو؟ بات اتنی سی ہے کہ تم کرائے کے قاتل ہو اور یہ لڑکی تمہیں انعام کے طور پر ملی
ہے''۔
دونوں باتیں غلط ہیں''۔ ایک نقاب پوش نے کہا… ''ایک صلیبی حاکم اور ایک جاسوس صلیبی لڑکی کو قتل کرنا گناہ ''
نہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم فرار میں پکڑے گئے ہیں لیکن ہم خوش ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ یہ لڑکی
مسلمان ہے ،مظلوم ہے اسے ہم صلییبوں کے پنجے سے چھڑا کر ال رہے ہیں اور دمشق جارہے ہیں''۔
کیا ونڈسر اور صلیبی لڑکی کو تم نے قتل کیا ہے؟'' جوردیک نے پوچھا۔''
ہاں!'' ایک نقاب پوش نے جواب دیا۔ ''ہم نے ان دونوں کو قتل کیا ہے''۔''
اور کیا تم نے مجھ پر اس لیے تیر چالئے ہیں کہ ہم سلطان صالح الدین ایوبی کے دشمن ہیں''۔ جوردیک نے پوچھا۔''
ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ تم سلطان ایوبی کے دشمن ہو لیکن تمہیں قتل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اللہ ہمارے ''
ساتھ ہے اس کی مدد سے ہم بہت جلد تم سے ہتھیار ڈلوا کر تمہیں تمہاری فوج سمیت اپنا قیدی بنا لیں گے۔ سلطان صالح
الدین ایوبی ،حسن بن صباح اور شیخ سنان نہیں ،وہ للکار کر لڑا کرتا ہے ،چوروں کی طرح قتل نہیں کرایا کرتا۔ ونڈسر اور
لڑکی کا قتل ہمارا ذاتی فعل تھا۔ حاالت کا تقاضا تھا کہ وہ قتل کردئیے جائیں۔ ہم نے قتل کا ارتکاب کیا۔ یہ سلطان ایوبی
کا حکم اور منشا نہیں تھی''… اس نے جوردیک کے گھوڑے کی طرف دیکھا جو کچھ دور مرا پڑاتھا۔ دو تیر اس کی پیشانی
میں اور دو پہلو میں اترے ہوئے تھے۔ نقاب پوش نے کہا… ''گھوڑے پر سوار ہوجائو۔ ہم دونوں میں سے کسی کو تیروکمان
دو۔ تم گھوڑا دوڑائو جس طرح بھی دوڑا سکتے ہو دوڑائو۔ دائیں بائیں ہوتے جائو ،ہم دونوں میں سے کوئی ایک گھوڑے پر سوار
ہوکر تم پر تیر چالئے گا۔ اگر پہال تیر خطا جائے تو تیر انداز کی گردن اڑا دینا۔ یہ تیر ہمارے چالئے ہوئے نہیں تھے۔ جو
تمہاری بجائے تمہارے گھوڑے کو لگے''۔
''تم معمولی سپاہی نہیں لگتے؟'' جوردیک نے کہا ''کیا تم سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج کے آدمی ہو؟''
اور تم کون ہو؟ '' نقاب پوش نے کہا… ''کیا تم صالح الدین ایوبی کی فوج کے آدمی نہیں ہو؟ کیا تم اسالم کے سپاہی''
نہیں ہو؟… تم ا پنی اصلیت کو بھول گئے ہو۔ قلعہ داری کے عہدے نے تمہارا دماغ خراب کردیا ہے۔ تم نے اس سے زیادہ
رتبہ حاصل کرنے کے لیے کافروں سے دوستانہ گانٹھ لیا ہے''۔
تم درخت سے ٹوٹی ہوئی وہ ٹہنی ہو جس کی قسمت میں سوکھ کرتنکا تنکا ہوجانا لکھ دیا گیا ہے'' دوسرے نقاب پوش ''
نے کہا… ''تم اتنے اہم انسان نہیں ہو کہ سلطان ایوبی تمہارے قتل کی ضرورت محسوس کرے۔ تم اپنے کیے کی سزا بھگتنے
کے لیے زندہ رہو گے۔ تم مرو گے تو صلیبیوں کے ہاتھوں مرو گے''۔
تم حلب شراب پینے اور عیش کرنے گئے تھے''۔ پہلے نقاب پوش نے کہا… ''تم اس لڑکی کے ناچ سے لطف اندوز ہونے''
گئے تھے''۔
میں مسلمان لڑکی ہوں''۔ لڑکی بولی… ''مجھے صلیبیوں کی محفلوں میں نچایا گیا اور وہ میرے جسم کے ساتھ کھیلتے ''
رہے۔ ذرا سی دیر کے لیے تصور کرو کہ میں تمہاری بیٹی ہوں۔ میں نے وہاں مسلمانوں کی بیٹیوں کو ناچتے دیکھا ہے۔ تم
اتنے بے غیرت ہوگئے ہو کہ اپنی بیٹیوں کی آبروریزی بھی تم میں غیرت بیدار نہیں کرسکتی۔ میں صلیبیوں میں سات آٹھ
سال گزار کر آئی ہوں۔ میں نے ان صلیبی حاکموں کے ساتھ بھی وقت گزارا ہے جنہیں تم نے اپنا دوست بنا کر یہاں بالیا
ہے۔ میں نے ان کی باتیں سنی ہیں وہ دوستی کا فریب دے کر مسلمانوں کو آپس میں لڑا رہے ہیں''۔
جوردیک پر خاموشی طاری ہوگئی تھی۔ اس کے محافظ حیران تھے کہ اتنا خود سر اور دلیر قلعہ دار ان تینوں کی اتنی
سخت باتیں برداشت کررہا ہے۔ وہ گہری سوچ میں کھو گیا تھا۔ اسے وہ جھڑپ یاد آرہی تھی جو اس نے ریمانڈ کے فوجی
نمائندے سے اس مسئلے پر کی تھی کہ حلب کے باشندوں کے گھروں کی تالشی لی جائے گی۔ اسے یہ خیال آیا کہ اس پر
تیر چالنے والے صلیبیوں کے آدمی ہوں گے۔ اس نے نرم سے لہجے میں نقاب پوشوں سے کہا… ''میں تمہیں اپنے قلعے میں
لے جانا چاہتا ہوں''۔
قیدی بنا کر؟''۔''
نہیں!'' جوردیک نے یہ کہہ کر سب کو حیران کردیا… ''مہمان بنا کر۔ مجھے پر بھروسہ رکھو۔ اپنی تلواریں اپنے پاس ''
رکھو''۔
سب گھوڑوں پر سوار ہوگئے۔ جوردیک کا گھوڑا مرچکا تھا۔ اس نے ایک محافظ کا گھوڑا لے لیا اور یہ قافلہ چل پڑا۔
وہ چٹانی عالقے سے نکلنے والے تھے کہ سرپٹ دوڑتے گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دئیے۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:08
قسط نمبر۔75صلیب کے سائے میں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وہ چٹانی عالقے سے نکلنے والے تھے کہ سرپٹ دوڑتے گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دئیے۔ سب نے اپنے گھوڑوں کو ایڑی لگائیں
اور نظر آگیا کہ دو گھوڑ سوار پوری رفتار سے حلب کی سمت بھاگے جارہے تھے۔ ان کی کمانیں اور ترکش صاف نظر آرہے
تھے۔ وہ یقینا یہاں سے بھاگے تھے۔
یہ ہوسکتے ہیں تمہارے قاتل!'' ایک نقاب پوش نے کہا اور گھوڑے کو ایڑی لگادی۔ دوسرے نقاب پوش نے بھی گھوڑا دوڑا''
دیا۔ دونوں نے تلواریں نکال لیں۔ لڑکی وہیں رہی۔
تمام محافظوں نے گھوڑے تعاقب میں ڈال دئیے۔ ان میں سب سے زیادہ تیز گھوڑے نقاب پوشوں کے تھے۔ آگے کچھ عالقہ
ریت کی ڈھیر یوں اور گھاٹیوں کا تھا۔ بھاگنے والے سواروں نے گھوڑے موڑے ،نقاب پوش تجربہ کار سوار معلوم ہوتے تھے۔
انہوں نے گھوڑوں کا رخ موڑ کر فاصلہ کم کرلیا۔ بھاگنے والوں نے کندھوں سے کمانیں اتار لیں اور ان میں ایک ایک تیر ڈال
لیا۔ گھوڑوں کے رخ بدل کر انہوں نے تعاقب کرنے والوں پر تیر چالئے۔ تیر خطا گئے مگر تعاقب میں خطرہ پیدا کرگئے۔
نقاب پوش پہنچ گئے۔ فاصلہ چند گز رہ گیا تو بھاگنے والوں نے تیر چالنے کی کوشش کی مگر نقاب پوشوں نے انہیں مہلت
نہ دی۔ ایک نے بھاگنے والے گھوڑے کے پیچھے حصے میں تلوار دی ،گھوڑا بے قابو ہوگیا۔ دوسرے نے دوسرے بھاگنے والے پر
تلوار کا وار کیا تو اس کا ایک بازو صاف کاٹ دیا۔ دوسرے کا گھوڑا زخمی ہوکر بے لگام ہوگیا تھا۔ اسے محافظوں نے پکڑ
لیا۔
انہیں جب جوردیک کے سامنے لے جایا گیا تو اصل صورت واضح ہوگئی۔ نقاب پوشوں نے نقاب اتار دئیے اور انہوں نے بتایا
دیا کہ وہ سلطان ایوبی کے جاسوس ہیں۔ ان میں ایک خلت تھاا ور دوسرا اس کا ساتھی اور جو بھاگتے ہوئے پکڑے گئے تھے
وہ مسلمان ہی تھے لیکن جو جوردیک کو قتل کرنے آئے تھے۔ ان میں سے جس کا بازو کٹ گیا تھا ،اسے بڑی بے رحمی
سے کچھ دور پھینک دیا گیا۔ دوسرے سے کہا گیا کہ وہ زندہ واپس جانا چاہتا ہے تو بتا دے کہ اسے کس نے بھیجا تھا ،ورنہ
اس کا بھی بازو کاٹ کر یہیں پھینک دیا جائے گا۔ اس نے بتایا کہ ان دونوں کو ریمانڈ کے فوجی نمائندے نے دو مسلمان
امراء کی موجودگی میں کہا تھا کہ فالں دن اور فالں وقت جوردیک حلب سے روانہ ہورہا ہے اور وہ فالں وقت چٹانی عالقے
میں سے گزرے گا۔ ان دونوں کو بے تحاشہ انعام پیش کیا گیا تھا۔ انہیں جوردیک کے قتل کی یہ ترکیب بتائی گئی تھی کہ
چٹانی عالقے میں چھپ جائیں اور جوردیک کو تیروں کا نشانہ بنا کر بھاگ آئیں۔
مقررہ وقت پر دونوں اس عالقے میں پہنچ گئے اور گزرنے والے راستے کو دیکھ کر ایک بلند چٹان پر چھپ گئے۔ بہت سے
انتظار کے بعد جوردیک آگیا۔ دو محافظ گھوڑ سوار آگے تھے۔ ایک اس کے دائیں اور دوسرا بائیں۔ باقی پیچھے تھے۔ تیر
اندازوں نے نشانے تو ٹھیک لیے تھے لیکن پہلو واال محافظ آگے آجاتا تھا۔ جوردیک اور قریب آیا تو تیر چالتے وقت آگے واال
محافظ آگے آگیا۔ تیر چال دئیے گئے لیکن نشانہ ذرا نیچے ہوگیا تھا۔ دونوں تیر گھوڑے کی پیشانی میں لگے۔ دوسرے دو تیر
اس لیے خطا گئے کہ گھوڑا دو تیر کھا کر بدک گیا تھا اور جب تیر چالئے گئے تو وہ بہت زور سے اچھل پڑا تھا۔ اس سے
تیر جوردیک کو لگنے کے بجائے گھوڑے کے پہلو میں لگے۔
وہاں چھپنے کی جگہیں بہت تھیں اور موزوں بھی تھیں۔ انہوں نے گھوڑے ایسی ہی ایک جگہ چھپا دئیے تھے اور ان کے منہ
باندھ دئیے تھے تاکہ ہنہنا نہ سکیں۔ تیرانداز بھاگ کر کہیں چھپ گئے۔ انہوں نے محافظوں کو دیکھا جو بکھر کر انہیں ڈھونڈ
رہے تھے۔ وہ چھپ کر انہیں دیکھتے رہے پھر ایک طرف سے شور اٹھا کہ ادھر آجائو ،پکڑ لیے ہیں۔ تیر اندازوں نے دیکھا کہ
محافظ تین نقاب پوشوں کو پکڑ کر لے جارہے تھے۔ تیر انداز بہت خوش ہوئے کہ ان کی جان بچی مگر وہ ابھی وہاں سے
بھاگنا نہیں چاہتے تھے کیونکہ ابھی پکڑے جانے کا خطرہ تھا۔ ایک محافظ ایک چٹان پر کھڑا رہا۔ اسے وہاں دیکھ بھال کے
لیے کھڑا کیا گیا تھا ،بہت دیر بعد اس محافظ کو وہاں سے بالیا گیا۔ دونوں تیر انداز اپنے گھوڑوں کے پاس گئے۔ ان کے منہ
کھولے اور سوار ہوکر فرار ہوئے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ جوردیک اپنے محافظوں کے ساتھ وہاں سے چل پڑا ہے۔
اس تیر انداز کو جوردیک نے اپنے ساتھ لے لیا اور سب حماة کی سمت روانہ ہوگئے۔ دوسرا تیر انداز کٹے ہوئے بازو سے
خون بہہ جانے کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر مرچکا تھا۔ راستے میں خلت نے اسے حمیرہ کے متعلق ساری بات سنائی اور یہ
بھی سنایا کہ اس نے ونڈسر کو کس طرح قتل کیا تھا۔ جوردیک کے لیے حیران کن یہ تھا کہ وہ حلب سے نکل کر کس
طرح آئے۔ خلت نے اسے بتایا کہ وہاں ان کا ایک کمانڈر بھی تھا جس کا وہ نام اور حلیہ نہیں بتانا چاہتا تھا۔ اس نے یہ
طریقہ اختیار کیا کہ کپڑے وغیرہ لپیٹ کر نوزائیدہ بچے کے قدبت کی شکل بنا دی اور اس پر کفن چڑھا دیا۔ چار پانچ
جاسوسوں نے ادھر ادھر بتایا کہ فالں کا بچہ مرگیا ہے کفن میں لپٹے ہوئے کپڑوں کو کمانڈر نے ہاتھوں پر اٹھایا۔ خلت ،اس
کا ساتھی ،حمیرہ ( مردانہ لباس میں) اور چار پانچ آدمی جنازے کی شکل میں ساتھ چل پڑے۔ قبرستان شہر سے باہر تھا۔
وہاں تین گھوڑے کھڑے تھے۔ یہ گھوڑے ایک ایسا جاسوس الیا تھا جو حلب کی فوج میں تھا۔ یہ چرائے ہوئے گھوڑے تھے۔
'' جنازہ'' فوجیوں کے سامنے سے گزرا اور قبرستان میں گیا۔ وہاں قبر کھودی گئی۔ جنازہ پڑھا گیا ،خلت ،اس کا ساتھی اور
حمیرہ گھوڑوں پر سوار ہوئے اور نکل گئے۔
قلعے میں جوردیک کا قافلہ رات کو پہنچا۔ خلت وغیرہ کو اس نے باعزت مہمانوں کی طرح رکھا۔ اس نے خلت سے پوچھا…
'' مجھے اب اپنا دوست سمجھو۔ مجھے یہ بتائو کہ صالح الدین ایوبی کیا کررہا ہے تمہیں ضرور معلوم ہوگا۔ اس نے الصالح
کا تعاقب کیوں نہیں کیا تھا''۔
میں اگر سلطان کا منصوبہ جانتا بھی ہوں تو آپ کو نہیں بتائوں گا''۔ خلت نے جواب دیا۔ ''اور میں آپ کو یہ بھی ''
نہیں بتائوں گا کہ میں نے حلب سے کیا کیا معلومات حاصل کی ہیں''۔
صالح الدین ایوبی کے ساتھ میری ذاتی دشمنی تھی''۔ جوردیک نے کہا… ''پھر میں اس کے خالف ہوگیا۔ اس کی وجہ ''
جو کچھ بھی تھی ،میں غلطی پر تھا۔ مجھے اس غلطی کا احساس دشمن نے دالیا ہے۔ میں نے صلیبیوں کی نیت معلوم
کرلی ہے۔ ایک طرف وہ میری فوج اور میرے قلعے کو استعمال کرنا چاہتے ہیں ،دوسری طرف انہوں نے مجھے قتل کرانے کی
کوشش کی۔ مجھے نورالدین زنگی مرحوم اور صالح الدین ایوبی کی باتیں اور اصول یاد آگئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جنگ
ہالل اور صلیب کی ہے۔ یہ کسی عیسائی بادشاہ کی کسی مسلمان بادشاہ کے خالف جنگ نہیں۔ ایوبی کہا کرتا ہے کہ جب
تک دنیا میں ایک بھی مسلمان زندہ ہے ،صلیبی اسے ختم کرنے کی کوشش میں لگے رہیں گے۔ غیر مسلم خواہ کسی بھی
مذہب کا ہو مسلمان کا دوست نہیں ہوسکتا۔ غیر مسلم دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے تو اس میں دشمنی کا زہر مال ہوا ہوگا۔
نورالدین زنگی بھی اسی اصول کا پابند تھا۔ وہ ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ جس روز مسلمان کسی غیر مسلم سے دوستی کریں گے،
اس روز اسالم کا خاتمہ شروع ہوجائے گا''۔
تو کیا آپ صالح الدین ایوبی کا ساتھ دینے پر آمادہ ہوگئے ہیں؟'' خلت نے پوچھا اور یہ بھی کہا… ''میں ایک چھوٹا ''
سا آدمی ہوں۔ معمولی سا سپاہی ہوں۔ مجھے ایسی جرأت نہیں کرنی چاہیے کہ ایک قلعہ دار سے یہ پوچھوں کہ وہ کیا
سوچ رہا ہے اور اس کے ارادے کیا ہیں لیکن مسلمان کی حیثیت سے مجھے یہ حق حاصل ہے کہ کوئی مسلمان گمراہ
ہوجائے تو اسے اتنا کہہ سکوں کہ تم گمراہ ہوگئے ہو''۔
ہاں!'' جوردیک نے کہا… ''تمہیں یہ حق حاصل ہے۔ میں تمہیں ایک پیغام دینا چاہتا ہوں ،یہ سلطان ایوبی کے کانوں ''
میں ڈال دینا۔ میں تحریری پیغام نہیں دینا چاہتا ہوں ،میں اپنا کوئی ایلچی بھی نہیں بھیجنا چاہتا۔ تم ایوبی سے کہنا کہ
حماة کے قلعے کو اپنا سمجھو مگر اپنے کسی معتمد ساالر کو بھی پتا نہ چلنے دینا کہ میں نے یہ پیشکش کی ہے۔ یہ ایک
بڑا ہی نازک راز ہے۔ اسے کہنا کہ صلیبی دوستی کے پردے میں ہمارے عالقوں میں قدم جماتے جارہے ہیں۔ تم سردیوں کے
بعد شاید حملہ کرو مگر یہ خیال رکھنا کہ ادھر سے تم پر پہلے ہی حملہ نہ ہوجائے۔ اگر تم نے پیش قدمی کی تو حماة کے
راستے سے آنا۔ میں انشاء اللہ پرانی دوستی کا حق ادا کروں گا''۔
دوسرے دن جوردیک نے خلت ،اس کے ساتھی اور حمیرہ کو رخصت کردیا۔
٭ ٭ ٭
صلیبی انٹیلی جنس کے کمانڈر ونڈسر کا قتل بے شک اتفاقیہ تھا۔ اس نے سلطان ایوبی کے دو جاسوسوں کے لیے ایسے حاالت
پیدا کردئیے تھے کہ وہ ان کے ہاتھوں قتل ہوگیا لیکن یہ بہت بڑا کارنامہ تھا۔ اس کے قتل سے سلطان ایوبی کو فائدہ پہنچا
کہ اس کے دشمن کی انٹیلی جنس جو پہلے ہی کمزور تھی منظم نہ ہوسکتی۔ اس کے مقابلے میں سلطان ایوبی کا نظام
جاسوسی زیادہ منظم اور ذہین تھا۔ اس کے جاسوس صرف جاسوس نہیں تھے جو پکڑے جائیں تو خاموشی اختیار کرلیں۔ اس
نے جاسوسوں کو بڑی ہی سخت کمانڈو ٹریننگ دے رکھی تھی تاکہ وہ پکڑے جانے کی صورت میں لڑ کر نکلیں اور جسے قتل
کرنا ضروری ہواسے قتل بھی کریں اور ان کے جسم اتنے سخت ہوں کہ زیادہ سے زیادہ اذیت بھوک ،پیاس اور تھکن برداشت
کرسکیں۔ یہ خوبیاں خلت اور اس کے ساتھیوں میں بھی تھیں۔ انہوں نے نہ صرف صلیبیوں کے اتنے ہم افسر کو مار کر
دشمن کو اندھا کردیا بلکہ جوردیک جیسے سخت مزاج قلعہ دار کے ساتھ ایسی باتیں کیں کہ اسے سلطان ایوبی کا حامی بنا
آئے۔
خلت نے سلطان ایوبی کو جب جوردیک کا پیغام دیا تو سلطان کو یوں سکون سا محسوس ہوا جیسے صحرا میں ٹھنڈی ہوا کا
ایک جھونکا بھولے بھٹکے سے آیا ہو۔ اسے ہر طرف دشمن ہی دشمن نظر آتے تھے۔ اپنے بھی دشمن پرائے بھی دشمن۔
لہذا اس نے
جوردیک کے پیغام نے اسے سکون تو دیا لیکن وہ کسی خوش فہمی میں مبتال نہ ہوا۔ یہ دھوکہ بھی ہوسکتا تھا۔ ٰ
اپنے حملے کے پالن میں کوئی ردوبدل نہ کیا۔ اتنا ہی پیش نظر رکھا کہ حماة سے حمایت کی توقع ہے۔
اب دشمن کے کیمپ ( حلب) سے جو اطالعات آرہی تھی ان میں کوئی نئی بات نہیں تھی۔ وہاں کوئی تبدیلی نہیں آئی
تھی۔ وہاں کے کمانڈروں اور مشیروں کو یہی توقع تھی کہ سردیوں میں جنگ کا امکان نہیں۔ ایک اطالع یہ بھی ملی تھی کہ
صلیبی بظاہر سب کے دوست بنے ہوئے ہیں مگر وہ درپردہ بڑے بڑے امراء کو ایک دوسرے کے خالف اکسا رہے ہیں۔ یہ تو
سلطان ایوبی کو معلوم ہی تھا کہ الصالح کے تمام حواری ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ وہ اکٹھے صرف اس لیے ہوگئے تھے
کہ سلطان ایوبی کو وہ اپنا مشترکہ دشمن بنا بیٹھے تھے اور اس دشمنی کی وجہ یہ تھی کہ سلطان ایوبی انہیں عیش
وعشرت کی اور من مانی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا۔ انہیں سلطان ایوبی کا یہ مشن بھی اچھا نہیں لگتا تھا کہ
سلطنت اسالمیہ کی توسیع اور استحکام کو جنون یا صحیح الفاظ میں ایمان بنا لیا جائے۔ وہ ان حکمرانوں میں سے نہیں تھا
جو آرام اور سکون سے حکومت اورعیش کرنے کی خاطر دشمن کو دوست بنا لیا کرتے تھے۔
اسے جنگی نوعیت کی جن معلومات کی ضرورت تھی وہ اس نے حاصل کرلی تھیں۔ اس کی فوج سردی میں لڑنے کے لیے
تیار ہوگئی تھی۔ اب رات کی ٹریننگ میں کوئی سپاہی بیمار نہیں ہوتا تھا۔ ١١٧٤ء کا دسمبر شروع ہوچکا تھا۔ سلطان ایوبی
نے اپنے فوجی کمانڈروں کی آخری کانفرنس بالئی۔ اس میں مرکزی کمان کے تمام افسر شامل تھے اور دستوں کے کمانڈروں کو
بھی بالیا گیا تھا۔ سلطان ایوبی نے انہیں پہال حکم یہ دیا کہ اس لمحے سے فوج کی نقل وحرکت کے متعلق کوئی بات وہ
کتنی ہی بے ضرر کیوں نہ ہو باہر کے کسی آدمی کے ساتھ نہیں کی جائے گی جو عسکری اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتے
ہیں ،وہ گھروں میں بھی کوئی بات نہیں کریں گے۔ فوج کے کوچ کا وقت آگیا ہے۔ یہ ظاہر کیا جائے گا کہ فوج روزمرہ کی
طرح تربیت اور مشق کے لیے جارہی ہے۔
ان ہدایات کے بعد اس نے کہا… ''ہمارے عیش پرست اور ایمان فروش بھائی اسالم کی تاریخ کو اس موڑ پر لے آئے ہیں
جہاں تمہارا اپنے ہی عزیزوں کے خالف لڑنا تم پر فرض ہوگیا ہے۔ کیا کسی نے کبھی یہ بھی سوچا تھا کہ میں اپنے
پیرومرشد نورالدین زنگی مرحوم کے بیٹے کے خالف لڑوں گا؟ مگر صورت یہ پیدا ہوگئی ہے کہ بیٹے کی ماں بھی مجھ پر
لعنت بھیج رہی ہے کہ اس کا مرتد بیٹا ابھی زندہ کیوں ہے۔ میرے رفیقو! تم جس فوج سے لڑنے جارہے ہو ،اس میں تمہارے
چچازاد بھائی بھی ہوں گے ،ماموں زاد اور خالہ زاد بھی ہوں گے۔ مجھے دو بھائی ایسے بھی اپنی فوج میں نظر آئے ہیں جن
کا ایک بھائی ایمان فروشوں کی فوج میں ہے۔ اگر تم خون کے رشتوں کو دل میں جگہ دو گے تو اسالم کے ساتھ جو تمہارا
رشتہ ہے وہ ٹوٹتا ہے۔ کوچ سے پہلے تمہیں عہد کرنا ہوگا کہ تم یہ نہیں دیکھو گے کہ تمہارا مدمقابل کون ہے۔ تمہاری نظریں
اپنے علم پر رہیں گی۔ دل میں یہ حقیقت بٹھا لو کہ تمہارے سامنے کلمہ گو بھائی ہیں مگر ان کی پیٹھ پر صلیبی ہیں۔ میں
اس بھائی کو بھائی نہیں سمجھتا جو اپنے مذہب کے دشمن کو دوست سمجھتا ہے''۔
ایک واقعہ نگار کی تحریر سے پتا چلتا ہے کہ اس لیکچر کے دوران صالح الدین ایوبی کی آواز بھر آئی۔ اس نے خاموش ہوکر
سرجھکا لیا۔ یہ دیکھنا کسی کے لیے مشکل نہ تھا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ وہ کچھ دیر سرجھکا کر خاموش
بیٹھا رہا۔ کانفرنس کے شرکاء پر سکوت طاری ہوگیا۔ سلطان ایوبی نے سراٹھایا اور دونوں ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے اور آسمان
کی طرف منہ کرکے گڑگڑایا… ''خداے عزوجل میں تیرے نام کی خاطر ،تیرے رسولۖ کی ناموس کی خاطر اپنے بھائیوں کے
خالف تلوار اٹھا رہا ہوں۔ اگر یہ گناہ ہے تو مجھے بخش دینا میرے خدا! مجھے تیری رہنمائی کی ضرورت ہے۔ مجھے اشارہ
دو۔ میں گمراہ ہوں ،گناہ گار ہوں''… اس نے سر پھر جھکا لیا اور جانے اسے اپنی ذات سے کوئی اشارہ مال یا خدا نے
اسے کوئی اشارہ دے دیا ،اس نے گرج دار آواز میں کہا… ''ہمیں قبلہ اول کو آزاد کرانا ہے ،تمہیں بیت المقدس پکار رہا ہے۔
میرے راستے میں میرا باپ آیا تو اسے بھی قتل کردوں گا۔ میرے بچے راستے میں حائل ہوئے انہیں بھی قتل کردوں گا''۔
اس کا چہرہ دمکنے لگا۔ جذباتیت کا غلبہ ختم ہوچکا تھا۔ وہ پھر وہی صالح الدین بن گیا جو صرف حقائق کے متعلق مختصر
سی بات کیا کرتا تھا۔ اس نے کمانڈروں کو بتایا کہ دو روز بعد رات کو کوچ ہوگا۔ اس نے پالن کے مطابق فوجوں کی جو
تقسیم کی تھی وہ سب کو بتائی اور ہر حصے کے کمانڈر کو کوچ کا وقت بتایا۔ ہر اول کے کمانڈر کو ضروری ہدایات دیں۔
چھاپہ مار ( کمانڈو) جیشوں کی تقسیم بتائی ،پہلوئوں پر جن دستوں کو رکھنا تھا ،ان کے کمانڈروں کو کوچ کا انداز ،راستہ اور
وقت بتایا اور اس نے سب کو یہ بھی بتایا کہ اس کا اپنا ہیڈکوارٹر گھومتا پھرتا رہے گا۔ اس سے پہلے اس نے مصر کے
راستے پر متحرک رہنے والے چھاپہ مار دستے بھیج دئیے تھے اور مسافروں اور خانہ بدوشوں کے بہروپ میں اس نے اپنی
انٹیلی جنس کی بہت سی نفری ان عالقوں میں بھیج دی تھی جہاں ریمانڈ کی فوج کے آنے کی توقع تھی۔
رسد کے متعلق اسے کوئی پریشانی نہیں تھی۔ کم وبیش ایک سال تک مصر سے رسد اور کمک منگوانے کی ضرورت نہیں
تھی۔ اسلحہ اور جانوروں کا سٹاک بھی اس نے دمشق میں جمع کرلیا تھا۔ اس نے گھوڑ سوار چھاپہ ماروں کو مصر کے راستے
کے اردگرد کے عالقوں میں اس ہدایت کے ساتھ بھیج دیا تھا کہ ریمانڈ کی فوج ادھر آئے تو اس پر شب خون مارنے ہیں اور
اگر ضرورت محسوس ہو تو فورا ً اطالع دیں تاکہ صلیبیوں کو گھیرے میں لینے کا انتظام کیا جائے۔
٭ ٭ ٭
٧/٦دسمبر ١١٧٤ء کی رات کو ہر اول دستے نے دمشق سے کوچ کیا۔ وہ رات بہت ہی سرد تھی۔ یخ جھکڑ چل رہے تھے
جو جسم کو کاٹتے تھے۔ سپاہی اور گھوڑے ان جھکڑوں کے عادی ہوچکے تھے۔ ہر اول کے کمانڈر کو بتا دیا گیا تھا کہ دیکھ
بھال ( ریکی) کا جیش پہلے روانہ ہوچکا ہے۔ اس کے سپاہی وردی میں نہیں تھے۔ وہ مسافروں کے بھیس میں گئے تھے۔
سلطان ایوبی نے انہیں یہ ہدایت دی تھی کہ تیز رفتار قاصد پیچھے آکر ہر اول کے کمانڈر کو آگے کی اطالعات دیتے رہیں۔
ہر اول کو حماة کے قلعے تک جانا تھا جہاں قلعہ دار جوردیک تھا۔ کمانڈر کو سلطان ایوبی نے بتایا تھا کہ حماة کا قلعہ
بغیر لڑے ملنے کا امکان ہے لیکن وہ کسی دھوکے میں نہ آئے۔وہ قلعے سے موزوں فاصلے پر رک جائے اور دیکھے کہ قلعے
والوں کا رویہ کیا ہے۔ اگر جوردیک صلح کرنا چاہے تو اسے قلعے سے باہر بالیا جائے اور سلطان ایوبی کے آنے تک اس کے
ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
سلطان ایوبی نے دیواریں توڑنے والے تجربہ کار آدمیوں کی ایک جماعت کو آگے بھیج دیا تھا۔ ہر اول کی روانگی سے تین
چار گھنٹوں بعد دوزیادہ نفری کے دستے اس طرح روانہ کیے گئے کہ ایک کو ہر اول کے دائیں اور دوسرے کو بائیں رہنا تھا۔
ان کے لیے ہدایت یہ تھی کہ اگر حماة کے قلعے سے ہر اول کا مقابلہ ہوجائے تو یہ دونوں دستے دونوں طرف سے آگے بڑھ
کر قلعے کا محاصرہ کرلیں اور اس پر اس قدر تیر برسائیں کہ دیوار توڑنے والی جماعت دیوار تک پہنچ جائے۔
ان دونوں حصوں کے درمیان سلطان ایوبی جارہا تھا۔ ہر اول اور دونوں پہلوئوں کے دستے سلطان ایوبی کی فوج کا چوتھا حصہ
تھے۔ اس نے باقی تمام فوج پیچھے رکھی تھی۔ اس نے کم سے کم نفری سے دشمن سے جھڑپ لینے کا پالن بنایا تھا۔
رسد کے لیے اس نے چھاپہ مار دستے پھیال دئیے تھے۔ ایسے چھوٹے چھوٹے دستے حماة سے بہت آگے بھی بھیج دئیے
تھے… تاکہ حماة سے کوئی قاصد حلب تک نہ جاسکے اورا گر کہیں سے کمک آجائے تو چھاپہ مار اسے شب خون سے
پریشان کرتے رہیں اور پیش قدمی روکے رکھیں۔
اگال دن گزر گیا۔ رات گہری ہوچکی تھی۔ جب ہر اول کے دستے حماة سے دو تین میل دور تک پہنچ چکے تھے۔ ٩دسمبر
١١٧٤ء کی صبح طلوع ہوئی تو قلعے پر کھڑے سنتریوں کو کہر اور دھند میں ایسے سائے سے نظر آئے جیسے بہت سے انسان
اور گھوڑے ہوں۔ کوئی قافلہ ہوسکتا تھا۔ جوں جوں سورج اوپر اٹھتا گیا دھند چھٹتی گئی اور سائے نکھرتے گئے۔ سنتریوں نے
دیکھا کہ یہ فوج ہے۔ انہیں ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ قلعے کے دائیں اور بائیں بھی فوج موجود ہے جو انہیں نظر نہیں
آسکتی۔ نقارہ بجا دیا گیا۔ ایک کمانڈر دوڑتا اوپر آیا ،اس نے فوج دیکھی تو دوڑتا گیا اور قلعہ دار جوردیک کو اطالع دی۔
گھبرا نہیں''… جوردیک نے کمانڈر سے کہا… ''یہ کسی حملہ آور کی فوج نہیں ہوسکتی۔ صلیبی مجھے قتل نہیں کراسکے''
انہوں نے کوئی اور سازش کی ہوگی۔ انہوں نے الصالح سے یہ حکم لے لیا ہوگا کہ حماة کا قلعہ مجھ سے لے کر کسی اور
کو دے دیا جائے۔ یہ فوج قلعے کے لیے آئی ہوگی۔ تم باہر جائو اور دیکھو کہ یہ کس کا دستہ ہے اور یہ لوگ کیا چاہتے
ہیں''۔
کمانڈر گھوڑے پر سوار باہر نکال اور سلطان ایوبی کے ہر اول دستے کی طرف گیا۔ اس نے علم دیکھا تو یہ سلطان ایوبی کا
تھا۔ وہ ذرا پیچھے ہی رک گیا۔ ہر اول دستے کا کمانڈر اس تک گیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا۔ دونوں نورالدین
زنگی کی فوج میں اکٹھے رہ چکے تھے۔
ایسا بھی ہونا تھا کہ ہم آپس میں لڑیں گے''… ہر اول دستے کے کمانڈر نے اس کے ساتھ ہاتھ مال کر کہا… ''زنگی زندہ''
تھا تو ہم دوست اور رفیق تھے ،وہ مر گیا تو ہم دشمن بن گئے''۔
تم کیوں آئے ہو؟'' قلعے کے کمانڈر نے پوچھا۔''
تم قلعے کو نہیں بچا سکو گے''… ہر اول کے کمانڈر نے کہا… ''میں تمہیں مشورہ دیتا ہوں کہ قلعہ دار سے کہو کہ ''
قلعہ ہمارے حوالے کردے اور خون خرابہ نہ ہونے دے ہم تمہیں زیادہ مہلت نہیں دیں گے۔ تھوڑی دیر میں قلعہ محاصرے میں
آچکا ہوگا۔ تمہاری کمک وغیرہ کے راستے بند کیے جاچکے ہیں۔ہتھیار ڈال دو''۔
قلعے کا کمانڈر کوئی جواب دئیے بغیر واپس چال گیا اور جوردیک کو بتایا کہ صالح الدین ایوبی نے حملہ کردیا ہے اور وہ
ہتھیار ڈالنے کو کہہ رہے ہیں۔ یہ دستے اس کے ہیں… جوردیک نے چال کر کہا… ''قلعے سے جھنڈا اتار لو ،سفید جھنڈا چڑھا
دو ،سلطان صالح الدین ایوبی آیا ہے''۔
وہ دوڑتا باہر نکال گھوڑے پر بیٹھا اور قلعے سے نکل گیا۔ ہر اول دستے کے کمانڈر کے پاس پہنچا۔ سلطان ایوبی بہت پیچھے
تھا۔ جوردیک ایک رہنما اور اپنے محافظوں کو ساتھ لے کر سلطانایوبی کے ہیڈکوارٹر کی طرف روانہ ہوگیا۔ سلطان ایوبی نے
جوردیک کو گلے لگا لیا جوردیک نے اس سے معافی مانگی۔ کچھ جذباتی باتیں کیں اور قلعہ اپنی فوج سمیت سلطان ایوبی
کے حوالے کردیا۔ سلطان ایوبی اپنی مرکزی کمان کے ساتھ قلعے میں داخل ہوا تو اس نے سفید جھنڈے کی جگہ اپنا جھنڈا
چڑھانے کا حکم دیا۔ جوردیک نے قلعے میں مقیم فوج کے چھوٹے بڑے کمانڈروں کو سلطان ایوبی کے سامنے بالیا اور کہا کہ
تم سے ہتھیار نہیں ڈلوائے گئے۔ تمہیں کسی نے شکست نہیں دی۔ اپنے سپاہیوں سے بھی کہہ دو کہ اپنے آپ کو شکست
خوردہ نہ سمجھیں۔ہم سب مسلمان ہیں ،اب ہم صلیبیوں اور ان کے دوستوں کے خالف لڑیں گے۔
سلطان ایوبی جس مہم پر نکال تھا ،اس کی پہلی منزل اسے کسی کاوش کے بغیر مل گئی۔ وہ خدا کے حضور سجدے میں گر
گیا۔ اس کے بعد اس نے جوردیک کے ساتھ آگے کا پالن بنانا شروع کردیا۔ مشکل ایک ہی تھی کہ جوردیک کے دستوں کو
سردی میں لڑنے کی مشق نہیں کرائی گئی تھی۔ تاہم اس قلعے کو اڈہ (بیس) بنالیا گیا۔ جوردیک کے دستوں کو ایسے طریقے
سے تقسیم کیا گیا جس سے یہ دشواری ختم ہوگئی کہ وہ سردی میں نہیں لڑ سکیں گے مگر سپاہی کو پتا چال تو انہوں نے
احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ سلطان ایوبی کی فوج کے ساتھ آگے جائیں گے اور لڑیں گے۔
آگے حمص کا قلعہ تھا۔ سلطان ایوبی نے کوچ کا وقت ایسا رکھا کہ حمص تک رات کو پہنچا جائے۔ اس نے اسی وقت ہر
اول کو آگے بھیجا لیکن اب کے اس نے ڈیپالئے میں کچھ ردوبدل کردیا کیونکہ حمص میں اسے کوئی توقع نہیں تھی کہ قلعہ
بغیر لڑے اس کے حوالے کردیا جائے گا۔ اس نے دیکھ بھال کے لیے ایک پارٹی آگے بھیج دی تھی جس نے راستے میں اطالع
دی تھی کہ قلعے کا محل وقوع کیا ہے اور گردوپیش کے احوال وکوائف کیا ہیں۔سلطان ایوبی نے چند دستے اس طرف بھیج
دئیے ،جدھر سے مدد وغیرہ آنے کی توقع تھی۔ اس نے اپنی رسد حماة کے قلے میں جمع کرلی اور رسد آگے لے جانے کے
راستے کو کئی گشتی پارٹیوں اور چھاپہ ماروں کے ذریعے محفوظ کرلیا۔ اس کے ساتھ حماة کا ایک دستہ بھی تھا۔ سلطان
ایوبی کی کوشش یہ تھی کہ حلب تک اس کے حملے کی خبر نہ پہنچے تاکہ وہ دشمن کو بے خبری میں جادبوچے۔ اس نے
اس کا انتظام کردیا تھا۔ اپنے آدمی حلب کے راستے پر پھیال دئیے تھے جن کے لیے یہ حکم تھا کہ وہ کسی بھاگے ہوئے
فوجی کو یا کسی ایسے غیر فوجی کو جسے یہ معلوم ہوکہ حملہ شروع ہوچکا ہے ،روک لیں۔
رات گہری ہوچکی تھی۔ قلعہ دار اور اس کے کمانڈر ایک وسیع کمرے میں شراب سے دل بہال رہے تھے۔ انہوں نے دو ناچنے
والیاں بال رکھی تھیں۔ کمرے میں طبل وسارنگ اور رقص وسرور کا پررونق ہنگامہ بپا تھا۔ سپاہی بے فکری کی نیند سو گئے
تھے اور جو ڈیوٹی پر تھے وہ سردی سے بچنے کے لیے کسی نہ کسی اوٹ میں کھڑے تھے۔ رات یخ تھی۔ کمانڈروں نے
سب کو بتا رکھا تھا کہ سردیوں کے موسم میں جنگ کاکوئی خطرہ نہیں۔
ہم اسی لیے نورالدین زنگی کے مرنے کی دعائیں کرتے تھے کہ اسی دنیا میں جنت دیکھ لیں''… قلعہ دار نے شراب کا ''
پیالہ اوپر کرکے کہا… ''اب صالح الدین ایوبی آیا ہے ،خدا اسے بھی جلدی اٹھالے گا''۔
اسے ہم اٹھائیں گے''… ایک کمانڈر نے کہا… ''ذرا موسم کھل جانے دو''۔''
قلعے کی دیوار پر کھڑے ایک سنتری نے اپنے ساتھی سے کہا… ''وہ دیکھو ،آگ جل رہی ہے''۔
جلنے دو''… اس کے ساتھی نے کہا… ''کوئی قافلہ ہوگا''۔''
اتنے میں آگ کے تین چار گولے ہوا میں بلند ہوئے جو قلعے کی طرف آئے اور ان دونوں سنتری کے اوپر سے گزر کر قلعے
کے اندر جاگرے۔ ان کے پیچھے اورگولے آئے یہ شعلوں کے گولے تھے۔ پھر کئی اور گولے آئے۔ ان میں سے کچھ سامان پر
پڑے اور آگ لگ گئی۔ نقارے اور گھڑیال بج اٹھے۔ قلعہ دار کی محفل میں اودھم بپا ہوگیا۔ سب دوڑتے قلعے کی دیوار پر
گئے۔ ان پر تیروں کا مینہ برسنے لگا۔ دروازے کے سنتریوں نے شور بپا کردیا کہ دروازہ جل رہا ہے۔ سلطان ایوبی کے حملہ
آور دستے نے دروازے پر آتش گیر مادہ پھینک کر آگ لگا دی تھی۔ چیخ چال کر قلعے کے اندر کی فوج کو بیدار کیا گیا۔
قلعے سے بھی مزاحمت شروع ہوگئی لیکن باہرسے اتنے تیر آرہے تھے کہ سر اٹھانا محال ہورہا تھا۔ سلطان ایوبی کی
منجنیقوں نے قلعے کو جہنم بنا دیا تھا۔ قلعے کے کمان دار چال چال کر اپنے سپاہیوں کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ سپاہی اندھا
دھند تیر چال رہے تھے۔
ہتھیار ڈال دو''… سلطان ایوبی کی طرف سے کوئی للکار رہا تھا… ''ہتھیار ڈال دو ،تمہیں کہیں سے بھی مدد نہیں مل ''
سکتی۔ جانیں بچائو''… یہ اعالن بھی کیا گیا… ''سلطان صالح الدین ایوبی کے آگے ہتھیار ڈال دو ،کسی کو جنگی قیدی
نہیں بنایا جائے گا۔ اطاعت قبول کرلو۔ ہماری فوج میں شامل ہوجائو''۔
رات بھر اعالن ہوتے رہے اور تیروں کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔ صبح کی روشنی پھیلی تو قلعہ دار نے باہرکا منظر اور قلعے کی
دیوار پر اپنے سپاہیوں کی الشیں دیکھ کر سفید جھنڈا چڑھانے کا حکم دے دیا۔ یہ قلعہ بھی سر کرلیا گیا۔ قلعہ دار اور
کمانڈروں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ سلطان ایوبی قلعے میں گیا تو قلعہ دار اور کمانڈروں سے اتنا ہی کہا… ''خدا تمہیں معاف
کرے'' اور حکم دیا کہ ان سب کو ان کے سپاہیوں کے ساتھ دمشق بھیج دیا جائے۔ سلطان ایوبی انہیں اپنی فوج میں شامل
نہیں کرسکتا تھا کیونکہ ان کی وفاداری ابھی مشکوک تھی۔ اس قلعے میں اسلحہ اور سد کا خاصا ذخیرہ تھا۔ وہاں شراب بھی
تھی اور دو ناچنے والیاں بھی۔ شراب باہر انڈیل دی گئی اور ناچنے والیوں کو بھی ان کے آدمیوں کے ساتھ دمشق بھیج دیا
گیا۔ سلطان ایوبی نے حمص کے قلعے کو دوسرا اڈہ بنا لیا اور حماة کے قلعہ کا ایک دستہ وہاں لگا دیا۔
اگال قلعہ حلب کا تھا جو حلب شہر سے ذرا ہی دور تھا وہاں بھی وہی ہوا جو حمص میں ہوا تھا۔ سلطان ایوبی کا حملہ
ناگہانی تھا۔ اس نے قلعے والوں کو بے خبری میں جالیا تھا۔ اس کے سپاہیوں کا مورال دو قلعے سرکر لینے سے اور زیادہ
مضبوط ہوگیا تھا۔ انہوں نے حلب کا قلعہ بھی سرکر لیا اور اس کے دستوں کو کمانڈروں سمیت دمشق بھیج دیا گیا مگر اس
مرحلے پر آکر راز داری ختم ہوگئی۔ ہتھیار ڈالنے والے سپاہیوں میں سے کوئی فرار ہوگیا یا کسی اور نے حلب اطالع دے دی
کہ سلطان ایوبی نے حماة ،حمص اور حلب کے قلعے لے لیے ہیں اور وہ حلب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سلطان ایوبی کو معلوم
نہ ہوسکا کہ اس کا رازداری واال حربہ بیکار ہوچکا ہے۔ اس نے پیش قدمی کی رفتار بھی ختم کردی جس کی وجہ یہ تھی کہ
جو دستے حمص اور حلب کے قلعوں کو محاصرے میں لے کر راتوں کو لڑے تھے ،انہیں آرام کے لیے پیچھے بھیجنا اور ان
کی جگہ تازہ دم دستے آگے النا ضروری تھا۔ اسے اب فوج کو بدلی ہوئی ترتیب میں آگے بڑھانا تھا کیونکہ حلب شہر کی
لڑائی قلعے کے محاصرے سے مختلف تھی۔ نئی ترتیب میں بھی کچھ وقت لگ گیا۔ سلطان ایوبی بہت محتاط تھا کیونکہ
اصل لڑائی تو اب آرہی تھی اور صلیبی فوج کے آنے کا امکان بھی تھا۔
٭ ٭ ٭
حلب اطالع جلدی پہنچ گئی تھی ،صلیبی مشیر وہاں موجود تھے۔ پہلے تو وہ اس پر حیران ہوئے کہ سلطان ایوبی نے سردیوں
میں حملہ کیا ہے۔ پھر وہ خوش ہوئے کہ اس کی فوج صحرائی جنگوں کی عادی ہے۔وہ ان چٹانوں میں لڑ نہیں سکے گی۔
انہیں یہ احساس تھا کہ حلب کی فوج بھی اس عالقے میں نہیں لڑ سکے گی۔ انہوں نے دوترکیبیں سوچیں۔ ایک یہ کہ
سلطان ایوبی کو اپنی پسند کے میدان میں لڑائیں اور دوسری یہ کہ یہاں صلیبیوں کی وہ فوج الئی جائے جو یورپ سے آئی
ہے۔ ریمانڈ کی فوج میں ایسے سپاہیوں کی اکثریت تھی۔ چنانچہ فوری طور پرریمانڈ کو تیز رفتار قاصدوں کے ذریعے اطالع
بھیج دی گئی کہ سلطان ایوبی حلب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسے عقب سے گھیرے میں لیا جائے۔
وقت حاصل کرنے کے انہوں نے یہ انتظام کیا کہ سلطان ایوبی کو حلب کے محاصرے میں زیادہ سے زیادہ دیر تک الجھائے
رکھا جائے تاکہ ریمانڈ کو اپنی فوج النے کے لیے وقت مل جائے۔ صلیبی مشیروں نے رازداری پر پوری توجہ دی۔ انہیں معلوم
تھا کہ شہر میں سلطان ایوبی کے جاسوس موجود ہیں۔ چنانچہ انہوں نے شہر کی ناکہ بندی کردی۔ فورا ً اعالن کردیا گیا کہ
شہر سے باہر کوئی نکلے گا تو اسے خبردار کیے بغیر تیر مار دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی مسجدوں میں اعالن کیا گیا کہ
سلطان ایوبی جنگی طاقت اور بادشاہی کے نشے میں حملہ آور ہوا ہے۔ صلیبی ذہنی تخریب کاری کے ماہر تھے۔ انہوں نے
پروپیگنڈے کی نئی مہم چال دی۔ گھرگھر ،گلی گلی ،مسجد مسجد اس قسم کی افواہیں پھیال دیں کہ سلطان ایوبی کی فوج جس
شہر کو فتح کرتی ہے ،وہاں کی تمام لڑکیوں کو جمع کرکے آبروریزی کرتی ہے۔ شہر کو لوٹ کر آگ لگا دیتی ہے اور یہ بھی
کہ سلطان ایوبی کے خالف نفرت پیدا کرنے کا عمل تو چھ مہینوں سے جاری تھا۔ لوگوں میں سلطان ایوبی کے خالف جنگی
جنون پیدا کردیا گیا تھا۔ آخر کار ان تازہ افواہوں نے لوگوں کو آگ بگوال کردیا اور وہ مرنے مارنے کے لیے تیار ہوگئے۔
شہر کی ناکہ بندی نے سلطان ایوبی کے جاسوسوں کو بیکار کردیا۔ انہوں نے شہر کے باشندوں میں جو قہر اورغضب دیکھا ،اس
کے سامنے وہ بھی بے بس ہوگئے۔ ایک جاسوس شہر سے نکلنے کی کوشش میں مارا گیا۔ وہ سلطان ایوبی کو اطالع دینا
چاہتاتھا کہ شہر کی کیفیت کیا ہے اور وہ کسی خوش فہمی میں مبتال ہو کر نہ آئے۔ جاسوس نے سرپٹ گھوڑا بھگایا مگر دو
تیروں نے اسے گرا دیا۔ جاسوسوں کے کمانڈر نے ( جو عالم کے بہروپ میں تھا) شہریوں میں صلیبی پروپیگنڈے کے خالف مہم
چالئی مگر اس کے آدمیوں نے جہاں بھی بات کی ،منہ کی کھائی۔
الصالح نے صلیبی مشیروں کے مشورے پر والئی موصل سیف الدین کو بھی اطالع بھیج دی کہ مدد کے لیے آئے۔ حسن بن
صباح کے فدائیوں کے پیرومرشد شیخ سنان کو اطالع بھیج دی گئی کہ وہ اجرت مانگے گا ،اسے دی جائے گی۔ صالح الدین
ایوبی کو قتل کرادے ،خواہ اس کے کتنے ہی آدمی کیوں نہ مارے جائیں۔ شیخ سنان کا ایک حملہ ناکام ہوچکا تھا جو اس نے
سلطان ایوبی کے ایک محافظ پر نشہ طاری کرکے اس سے کرایا تھا۔ اب اس نے ان فدائیوں کو بالیا جو زندگی اور موت کو
کچھ سمجھتے ہی نہیں تھے۔ وہ برائے نام انسان تھے ،مرجانا اور کسی کو مار دینا ان کے لیے کوئی مطلب نہیں رکھتا تھا۔
ان میں مفرور قاتل بھی تھے۔ شیخ سنان نے انہیں کہا کہ انہیں منہ مانگی اجرت ملے گی ،وہ سلطان ایوبی کو قتل کردیں۔
ان میں سے نو آدمی تیار ہوگئے۔ الصالح کے حامیوں میں سب سے زیادہ کینہ پرور اور شیطان فطرت آدمی گمشتگین تھا جسے
گورنر کا درجہ حاصل تھا۔ وہ بظاہر سلطان ایوبی کے خالف تھا مگر وہ دوست کسی کا بھی نہیں تھا۔ الصالح کو خوش کرنے
کے لیے اس نے اس کی حمایت کی اور صلیبیوں کے ساتھ دوستی کا اظہار اس طرح کیا کہ اس کے قلعے میں بہت سے
صلیبی جنگی قیدی تھے ،ان سب کو رہا کردیا۔ اب حلب کی اس اطالع پر کہ سلطان ایوبی کی فوج آگئی ہے ،اس نے اپنی
فوج بھیج دی اور خود بھی لڑنے کا وعدہ کیا۔
یہ ایک طوفان تھا جو سلطان ایوبی کے خالف اٹھ کھڑا ہوا۔ اتنے زیادہ دشمنوں کے مقابلے میں اس کی نفری تھوڑی تھی اور
اب اس کے جاسوس بے کار ہوجانے کی وجہ سے اسے پتا ہی نہیں چل رہا تھا کہ دشمن کے کیمپ میں کیا ہورہا ہے۔ وہ
ابھی تک اس خوش فہمی میں مبتال تھا کہ وہ حلب والوں کو بے خبری میں جا لے گا۔ تاہم وہ معمولی قسم کا جنگجو نہیں
تھا۔ اس نے عقب اور پہلوئوں کی حفاظت کا انتظام کررکھاتھا۔ اس نے کم سے کم تعداد سے حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس
کے دیکھ بھال کے دستے آگے چلے گئے۔ آگے عالقہ چٹانی ،پتھریال اور نشیب وفراز کا تھا اور راستے میں ایک درمیانہ سا
دریا بھی تھا۔
٭ ٭ ٭
جنوری ١١٧٥ء کا مہینہ شروع ہوچکا تھا۔ سردی اور زیادہ بڑھ گئی تھی۔ سلطان ایوبی نے فوج کی ایک چوتھائی نفری حملے
کے لیے منتخب کی۔ محفوظہ میں اس نے زیادہ دستے رکھے۔ اس نے جب پیش قدمی کی تو دیکھ بھال کرنے والے دستوں
نے اطالع دی کہ دریا کے اس طرف ایک وسیع وعریض نشیب ہے ،وہاں دشمن کی فوج تیاری کی حالت میں موجود ہے۔ یہی
وہ مقام تھا۔ جہاں سے دریا عبور کیا جاسکتا تھا۔ سردیوں کے موسم میں دریا میں پانی گہرا نہیں تھا۔ اس مقام پر پاٹ
پھیل جانے سے پانی اور بھی کم تھا۔ گھوڑے اور انسان آسانی سے گزر سکتے تھے۔ یہیں دشمن نے اپنی فوج پھیال رکھی
تھی۔ سلطان ایوبی کو بتایا گیا کہ رات کو اس فوج کے چند ایک سنتری بیدار ہوتے ہیں اور دن کے دوران گشتی پارٹیاں ہر
طرف گھومتی پھرتی رہتی ہیں۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:08
قسط نمبر۔76صلیب کے سائے میں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سلطان ایوبی کو بتایا گیا کہ رات کو اس فوج کے چند ایک سنتری بیدار ہوتے ہیں اور دن کے دوران گشتی پارٹیاں ہر طرف
گھومتی پھرتی رہتی ہیں۔ اس اطالع سے شک ہوا کہ حلب والوں کو اس کی آمد کی اطالع مل گئی ہے اور وہ انہیں بے
خبری میں نہیں لے سکے گا۔ اس نے دیکھ بھال کے لیے اس مقام سے دور کے عالقے میں اپنے آدمی بھیجے تاکہ معلوم کیا
جاسکے کہ دریا کسی اور جگہ سے عبور کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔اس کے ساتھ ہی اس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ نشیب میں
دشمن کی فوج کو دھوکہ دے کہ حملہ اور پیش قدمی اسی طرح سے ہوگی۔ اس نے اسی رات چھاپہ مار روانہ کردئیے۔ اس
کا اپنا ہیڈکوارٹر وہاں سے پانچ چھ میل دور تھا۔ دریا کے کنارے دشمن کی جو فوج تھی وہ بھی اس خوش فہمی میں مبتال
تھی کہ اتنی یخ راتوں کو حملہ نہیں ہوسکتا۔
نصف شب کے قریب سپاہی خیموں میں دبکے پڑے تھے۔ کمانڈر بے خبر سو رہے تھے۔ صرف سنتری جاگ رہے تھے۔ ایک
سنتری سردی میں ٹھٹھرا کھڑا تھا۔ پیچھے سے کسی نے اس کی گردن دبوچ لی۔ کسی اور نے اسے اٹھایا۔ یہ سلطان ایوبی
کے دو چھاپہ مار تھے۔ وہ سنتری کو اٹھا کر لے آئے اور اس سے پوچھا کہ گھوڑے کہاں بندھے ہوئے ہیں۔ اس کے سینے پر
دو تلواروں کی نوکیں رکھی ہوئی تھیں۔ سنتری کو معلوم تھا کہ یہ سلطان کے سپاہی ہیں۔ اس نے ان سے التجا کی کہ میں
تمہارا مسلمان بھائی ہوں۔یہ بادشاہوں کے جھگڑے ہیں ،ہم ایک دوسرے کا خون کیوں بہائیں۔ اس نے بتایا کہ گھوڑے ایک جگہ
نہیں بندھے ہوئے۔ چونکہ فوج تیاری کی حالت میں ہے اس لیے گھوڑے ،سواروں کے خیمے کے ساتھ دو دو ،تین تین کرکے
بندھے ہوئے ہیں۔ چھاپہ مار اسے اس کے کیمپ کے قریب لے گئے اور پوچھا دستوں کے کمانڈر کہاں ہیں۔ اس نے اندازہ
کرکے ان خیموں کی سمتیں بتا دیں۔
اسے ساتھ ہی پیچھے لے آئے اور اسے کہا کہ یہاں کھڑے رہو اور تماشہ دیکھو ،وہاں چھوٹے سائز کی ایک منجنیق رکھی
تھی۔ اس میں چھاپہ ماروں نے ایک ہانڈی سی رکھی۔ چار آدمیوں نے اسے پیچھے کھینچا اور چھوڑ دیا۔ ہانڈی غلیلے کی
طرح اڑ گئی۔ دوسری ہانڈی کسی اور طرف پھینکی گئی پھر دو اور پھینکی گئیں۔ یہ سب دشمن کے کیمپ میں گریں۔
سنتریوں نے ''کون ہے ،کون ہے'' کی صدائیں لگائیں۔ کہیں سے جلتے ہوئے فلیتوں والے تیر آئے جو زمین پر لگے۔ ہانڈیاں
وہیں گر کر ٹوٹی تھیں۔ ان کے اندر سے سیال مادہ نکل کر بکھر گیا تھا۔ تیروں کے فلیتوں نے اسے آگ لگا دی۔ دو خیموں
کو بھی آگ لگ گئی۔ زمین شعلے اگل رہی تھی۔ کیمپ میں بھگدڑ مچ گئی۔ گھوڑے رسیاں تڑانے لگے۔ سپاہی اٹھ کر ادھر
ادھر دوڑے تو چھاپہ ماروں نے تیر برسانے شروع کردئیے۔ یہ خیمہ گاہ ایک میل سے زیادہ لمبے چوڑے عالقے میں تھی۔
پیشتر اس کے کمانڈر جوابی کارروائی کرتے چھاپہ مار تباہی مچا کر غائب ہوچکے تھے۔
صحرا بھی نیم تاریک تھی ،کیمپ کی حالت خاصی بری تھی۔ آگ نے بھی نقصان کیاتھا لیکن چھاپہ ماروں کے تیروں سے اور
بدکے ہوئے گھوڑوں تلے آکر بہت سے سپاہی ہالک اور زخمی ہوئے تھے۔ سحر تک انہیں اٹھاتے اور سنبھالتے رہے۔ا چانک
ایک طرف سے کسی نے چال کرکہا… ''ہوشیارہوشیار''… ایک بار پھر قیامت آگئی مگر اب کے چھاپہ مار نہیں تھے۔ یہ
سلطان ایوبی کے ایک دستے کا باقاعدہ حملہ تھا۔ دشمن اس جگہ ہر لمحہ تیاری کی حالت میں رہتا تھا لیکن رات کو چھاپہ
مار اس کی حالت ایسی بدل آئے تھے کہ تیاری ختم ہوگئی تھی۔ دشمن کے سپاہیوں نے جم کر لڑنے کی بہت کوشش کی
لیکن ان کے پائوں جم نہ سکے۔ سلطان ایوبی ان کا دم خم پہلے ہی ختم کراچکا تھا۔ پھر بھی دونوں فریقوں کا خاصا نقصان
ہوا۔ دشمن کے سپاہی پسپا ہونے لگے۔ کمانڈروں نے انہیں بہت للکارا مگر دوسری طرف کی للکار ان کے لڑنے کے جذبے کو
تباہ کررہی تھی۔ سلطان ایوبی کے سپاہی ان پر چال رہے تھے… ''تم کافروں کے دوست ہو ،خدا ہمارے ساتھ ہے ،اپنا حشر
دیکھو ،تم پر خدا کا قہر نازل ہورہا ہے''۔
سلطان ایوبی نے اپنی فوج کے نہایت معمولی سے سپاہی کے ذہن میں بھی اتار دیا تھا کہ تم حق پر ہو اور کفار کے دوست
مرتد ہیں۔ اس کے مقابلے میں خلیفہ کی فوج کے پاس ایسا کوئی مقصد اور کوئی نعرہ نہیں تھا۔
دشمن کے سپاہی بکھر گئے۔ بہت سے پسپا ہوکر دریا پار کرگئے اور کچھ ادھر ادھر وادیوں اور نشیبی جگہوں میں جا چھپے۔
سلطان ایوبی نے حملہ آور دستے کے کمانڈر کو حکم دے رکھا تھا کہ دشمن کی پسپائی کی صورت میں اپنا کوئی دستہ جیش
یا کوئی سپاہی دریا پار نہ کرے۔ اس نے اس کیمپ پر حملہ کرکے دراصل دشمن کو دھوکہ دیا تھا۔ وہ تعاقب نہیں کرنا چاہتا
تھا۔ وہ آگے کے تفصیلی جائزے اور مشاہدے کے بغیر کبھی پیش قدمی نہیں کرتا تھا۔ وہ دریا کہیں دور سے پار کرنا چاہتا تھا
لیکن دشمن نے یہیں سے اسے راستہ دے دیا تو اس نے یہیں سے دریا پار کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ خود آگے گیا۔ اس کے
سپاہی ادھر ادھر چھپے ہوئے دشمن کو ڈھونڈ کر ختم کررہے تھے۔ہتھیار ڈالنے والوں کی تعداد زیادہ تھی۔ اس نے ایک بلند
چٹان پر جا کر میدان جنگ کامنظر دیکھا تو خوشی کے بجائے اس کے چہرے پر اداسی چھاگئی۔
یہ نظارہ دیکھ کر خدا بھی رو رہا ہوگا''۔ سلطان ایوبی نے اپنے پاس کھڑے نائبین سے کہا… ''دونوں طرف کس کا خون ''
بہہ گیا ہے؟… مسلمان کا۔ یہ ہے اسالم کے زوال کی نشانی اگر مسلمان ہوش میں نہ آئے تو کفار انہیں اسی طرح لڑالڑا کر
ختم کردیں گے۔ میرے رفیقو! مجھے کوئی یقین دال دے کہ میں حق پر نہیں تو میں اپنی تلوار الصالح کے قدموں میں رکھ
دوں گا''۔
آپ حق پر ہیں ،سلطان محترم!'' کسی نے کہا… ''ہم حق پر ہیں ،دل سے اب وسوسے نکال دیں''۔''
حلب شہر میں ہر آدمی آگ کا شعلہ بنا ہوا تھا۔ سلطان ایوبی کے دستے دریا پار کرگئے تھے۔ حلب سامنے نظر آرہا تھا۔
سلطان ایوبی نے شہر کودیکھا۔ اس کی وسعت ،ساخت اور دفاعی انتظامات دیکھے اور جائزہ لیا کہ محاصرہ کیا جائے یا سیدھا
حملہ کرکے شہر کے اندر لڑا جائے۔ اسے ابھی تک معلوم نہیں تھا کہ شہر کے اندر کی جذباتی کیفیت کیا ہے۔ اسے توقع
تھی کہ شہری چونکہ مسلمان ہیں ،اس لیے وہ دونوں مسلمان فوجوں کی جنگ کے خالف ہوں گے۔ غالبا ً اسی توقع نے اس
سے وہ کارروائی کرائی جس نے اسے پریشان کردیا۔ اس نے نفری سے نیم محاصرے کی ترتیب میں اپنے دستے آگے بڑھائے۔
لڑائی کی ابتداء تیروں کے تبادلے سے ہوئی لیکن کچھ ہی دیر بعد اس نے محسوس کیا جیسے اس کے دستے پیچھے ہٹ رہے
ہیں۔ حلب کے دفاع میں لڑنے والوں کا یہ عالم تھاکہ ایک طرف سے کم وبیش دو سو گھوڑ سوار نکلے۔ انہوں نے سلطان
ایوبی کے ایک دستے کے ایک پہلوپر حملہ کردیا۔یہ بڑا ہی تیز اور دلیرانہ حملہ تھا جو پیادہ دستے پر کیا گیا تھا۔
اس کے سواروں نے جوابی ہلہ بول کر اپنے پیادہ دستے کو بچانے کی نہایت اچھی کوشش کی لیکن گھوڑوں کے تصادم میں
اپنے ہی پیادے کچلے گئے۔ پھر یوں ہونے لگا کہ شہر سے ایک حبش پیادہ یا سوار نکلتا۔ ان کے پیچھے سے شہر کی
منڈیروں اور بلند جگہوں سے تیروں کی بوچھاڑیں آتیں اور حملہ کرنے والے حبش سلطان ایوبی کی صفوں میں گھس جاتے۔
حلب کا یہ معرکہ بڑاہی خون ریز تھا۔
اس کیفیت میں سلطان ایوبی کے دو تین جاسوس باہر نکل آئے اور سلطان ایوبی کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس تک پہنچ گئے۔
انہوں نے بتایا کہ شہریوں کو کس طرح اس کے خالف بھڑکایا گیا ہے اور شہر کے دفاع میں لڑنے والے اتنے فوجی نہیں جتنے
شہری ہیں۔ سلطان ایوبی کو یہ تو پہلے ہی معلوم تھا کہ حلب کے باشندوں پر اس کے خالف جنگی جنون طاری کیا جارہا
ہے لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ شہری اس پاگل پن سے لڑیں گے۔ وہ ان کی دلیری پر عش عش کر اٹھا لیکن بڑے
افسوس کے ساتھ کہنے لگا… ''یہ ہے مسلمان کی شان ،ان کا عسکری جذبہ دیکھو ،کفار مسلمان کے اسی جذبے کو ختم
کررہے ہیں''۔
سلطان ایوبی نے اپنے دستوں کو پیچھے ہٹا لیا۔ اسے کسی نائب نے مشورہ دیا کہ شہر پر منجنیقوں سے آگ پھینکی جائے۔
سلطان ایوئی نے یہ مشورہ قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس نے کہا کہ شہریوں کے گھر تباہ ہوجائیں گے۔ ان کی عورتیں اور
بچے مارے جائیں گے۔ اسی لیے میں نے تباہ کار چھاپہ ماروں کو نہیں بھیجا۔ اگر یہ شہر صلیبیوں کا ہوتا تو اب تک شعلوں
کی لپیٹ میں اور میرے چھاپہ ماروں کی زد میں ہوتا جو مسلمان میدان جنگ میں آکر لڑتے اور مرتے ہیں انہیں میں روک
نہیں سکتا اور جو گھروں میں بیٹھے ہیں انہیں مارنا نہیں چاہتا۔ اس نے چند اور دستے آگے بال کر شہر کو مکمل محاصرے
میں لے لیا اور حکم دیا کہ دفاع میں لڑا جائے۔ حملہ ہو تو روکا جائے ،حملہ نہ کیا جائے اور محاصرے کو مضبوط رکھا جائے۔
نفری کی بھی کمی تھی اور شہر کو تباہی سے بچانے کا خیال بھی تھا۔
جنوری ١١٧٥ء کا پورا مہینہ محاصرہ جاری رہا۔ حلب کی فوج اور شہریوں نے محاصرہ توڑنے کے لیے حملے کیے لیکن اب وہ
کامیاب نہیں ہوسکتے تھے کیونکہ سلطان ایوبی نے اپنے دستوں کی ترتیب اور سکیم بدل دی تھی۔ یکم فروری ١١٧٥ء کی صبح
سلطان کو اطالع ملی کہ تریپولی کا صلیبی حکمران ریمانڈ حماة کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسے ریمانڈکی فوج کی نفری (پیادہ اور
سوار) کی اطالع بھی دی گئی۔ سلطان ایوبی کو پہلے ہی توقع تھی کہ یہ صورت بھی پیدا ہوگی۔ اس کے لیے وہ تیار تھا۔
اس نے اس کے لیے دستے محفوظ رکھے ہوئے تھے اور ایسی جگہ رکھے ہوئے تھے جہاں سے وہ ریمانڈ کے استقبال کے لیے
بروقت پہنچ سکتے تھے۔ اس نے یہ اطالع ملتے ہی اپنے قاصد کو اس پیغام کے ساتھ ان دستوں کی طرف دوڑایا کہ جس قدر
جلدی ہوسکے الرستان کے عالقے میں پہنچ کر بلندیوں پر تیر انداز بٹھا دو۔ سوار دستے پیچھے رکھو ،میں آرہا ہوں اگر صلیبی
فوج مجھ سے پہلے آجائے تو سامنے کی ٹکر نہ لینا۔ گھات لگانا اور شب خون مارنا۔
الرستان ایک پہاڑی سلسلے کا نام تھا۔ ریمانڈ کو اس میں سے گزر کر آنا تھا۔ ریمانڈ کی پیش قدمی کا راستہ اس کے پالن
کے مطابق موزوں تھا۔ وہ حماة تک پہنچ کر سلطان کے عقب کے لیے اور رسد وغیرہ کے راستوں کے لیے خطرہ بن سکتا
تھا۔ پھر صورت یہ ہوجاتی کہ سلطان ایوبی حلب کی فوج اور ریمانڈ کی فوج (جو یقینا برتر اورزیادہ تھی) کے درمیان پس
جاتا۔ اس نے دوسرا اقدام یہ کیا کہ حلب کا محاصرہ اٹھا دیا اور اسی نے ان دستوں کو کسی اور سمت روانہ کردیا۔ خود
الرستان کی طرف چال گیا۔ وہاں کی چوٹیوں پر برف پڑی ہوئی تھی۔ ریمانڈ خوش تھا کہ اس موسم میں سلطان ایوبی کے
صحرائی سپاہی اس کے یورپی اور اسی عالقے کے رہنے والی عیسائی سپاہیوں سے نہیں لڑ سکیں گے مگر وہ آگے آیا تو برف
پوش پہاڑی سلسلہ کوہ سے اس پر تیر برسنے لگے۔ یہ اس کے لیے بالئے ناگہانی تھی۔
اس نے لڑے بغیر اپنی فوج پیچھے ہٹا لی۔ اسے ہر جگہ گھات کا خطرہ تھا۔ وہ سلطان ایوبی کے لڑنے کے انداز سے اچھی
طرح واقف تھا۔ اس نے بہت پیچھے ہٹ کر پڑائو ڈال دیا۔ وہ اپنے راستے پر نظرثانی کرنا چاہتا تھا۔ موسم بگڑ گیا۔ بارشیں
شروع ہوگئیں۔سات آٹھ دنوں میں گھوڑوں کا خشک چارہ ختم ہوگیا۔ اناج کی بھی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس نے رسد کا
انتظام نہایت اچھا رکھا تھا۔ وہاں تک اسے باقاعدگی سے رسد پہنچ رہی تھی مگر کئی دن پیچھے سے نہ رسد آئی ،نہ کوئی
اطالع۔ اس نے قاصد بھیجا جو واپس آگیا اور پیغام الیا کہ سلطان ایوبی کی فوج نے راستہ روک رکھاہے۔ ریمانڈ بہت حیران
ہوا کہ سلطان ایوبی اتنی جلدی یہاں کیسے پہنچ گیا؟… اس نے اپنے دو افسروں کو پیچھے کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا۔
یہ دو افسر تین چار روز بعد واپس آئے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ سلطان ایوبی نے رسد کا راستہ روک لیا ہے اور یہ بھی کہ
اس نے حلب کامحاصرہ اٹھا لیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا فرض ادا ہوگیا ہے''۔ ریمانڈ نے کہا… ''فوج کو واپس تریپولی لے چلو''۔''
٭ ٭ ٭
یہ اطالع سلطان ایوبی کے لیے حیران کن تھی کہ ریمانڈ لڑے بغیر واپس کوچ کر گیا ہے۔ ریمانڈ نے واپسی کا جو راستہ
اختیار کیا تھا ،وہ دشوار گزار تھا لیکن وہ اس راستے سے نہیں جانا چاہتا تھا جس سے آیا تھا۔ وہ سلطان ایوبی سے لڑنے کا
ارادہ ترک کرچکا تھا۔ یورپی مورخوں نے لکھا ہے کہ وہ لڑنا نہیں چاہتا تھا لیکن حقیقت یہ تھی کہ سلطان ایوبی نے اسے
لڑنے کی پوزیشن میں نہیں رہنے دیا تھا۔ وہ اسی سے گھبرا گیا تھا کہ مسلمان فوج اتنی سردی میں ایسی خوبی سے لڑ رہی
ہے جیسے صحرا میں لڑتی ہے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ سلطان ایوبی اس کے عقب میں اور رسد کے راستے میں جا بیٹھا
تھا۔ تیسری اور سب سے بڑی وجہ کچھ اور تھی جس کا انکشاف بعد میں ہوا۔ وہ دراصل الصالح اور اس کے امراء کو دھوکہ
دے گیاتھا۔ اس نے بے بہا خزانے کی شکل میں اجرت لے لی تھی۔ اسے اب لڑنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اس کا یہ
مقصد ( جو صلیبیوں کا بنیادی مقصد تھا) پورا ہوچکاتھا کہ مسلمان آپس میں ٹکرا جائیں۔ صلیبی مسلمان قوم کی فوج کو دو
حصوں میں کاٹ چکے تھے اور ان دونوں حصوں میں جنگ شروع ہوچکی تھی۔
اس کی نیت کا پتا اس وقت چال جب تریپولی سے اس کا ایلچی الصالح کے نام یہ پیغام لے کر آیا۔ ''میں نے وعدہ کیا
تھا کہ صالح الدین ایوبی نے آپ کو محاصرے میں لیا تو میں محاصرہ توڑ دوں گا۔ مجھے جونہی اطالع ملی کہ صالح الدین
ایوبی نے حملہ کردیا ہے ،میں فوج لے کر آپ کی مدد کو آگیا۔ صالح الدین ایوبی نے فورا ً حلب کا محاصرہ اٹھا لیا۔ میں نے
لہ ذا ہمارا وہ فوجی معاہدہ ختم ہوگیا جس کے تحت آپ نے مجھے سونا وغیرہ بھیجا تھا اور اس کے عوض
وعدہ پورا کردیاہے ٰ
میں نے آپ کو محاصرے سے بچایا۔ میرے فوجی نمائندے اور مشیروں کو فورا ً واپس بھیج دیا جائے''۔
حلب والے سرپکڑ کر بیٹھ گئے۔ صلیبی انہیں ڈنک ماررہے تھے۔ دو مورخوں نے لکھا ہے کہ ریمانڈ کو یہ خطرہ بھی نظر آنے
لگا تھا کہ سلطان ایوبی اس کے دارالحکومت تریپولی پر حملہ کرے گا۔ چنانچہ اس نے اپنا دفاع مضبوط کرنا شروع کردیا۔
الصالح ابھی ناتجربہ کار تھا۔ اس کے ایک دو مشیروں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ سلطان ایوبی سے صلح کرلے مگر سیف الدین
اور گمشتگین وغیرہ نے اسے مدد کا یقین دال کر سمجھوتے اور صلح پر آمادہ نہ ہونے دیا۔ انہی میں سے کسی نے اسے بتایا
کہ صالح الدین ایوبی چند روز کامہمان ہے۔ نو فدائی آچکے ہیں ،وہ مذہبی پیشوائوں اور صوفیوں کے بہروپ میں صالح الدین
ایوبی کے پاس یہ درخواست لے کر جارہے ہیں کہ وہ آپس میں نہ لڑیں اور صلح کرلیں۔ سلطان ایوبی ان کے احترام کے لیے
انہیں اپنے پاس بٹھائے گا۔ اکیلے ان کی بات سنے گا اور فدائی اسے نہایت اطمینان سے قتل کرکے نکل جائیں گے۔
انہوں نے الصالح کو یہ خبر سنا کر جھانسہ نہیں دیا تھا جس وقت سلطان ایوبی الرستان کے سلسلۂ کوہ میں بیٹھا ،اپنے اگلے
.حملے کا پالن بنا رہا تھا تو پیشہ ور فدائی قاتل یہ سوچ رہے تھے کہ اسے کہاں قتل کیا جائے
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:11
قسط نمبر۔77جب خدا زمین پر اتر آیا
مصر میں جہاں آج اسوان ڈیم ہے ،آٹھ سو سال پہلے وہاں ایک خونریز معرکہ لڑا گیا تھا۔ مورخوں نے سلطان صالح الدین
ایوبی کے دور کی اس لڑائی کا ذکر کیا ہی نہیں اگر کیا ہے تو اتنا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کا ایک جرنیل باغی ہوگیا
تھا۔ قاضی بہائوالدین شداد نے اپنی ڈائری میں اس جرنیل کا نام بھی لکھا ہے۔ نام القنض تھا جس کا تلفظ القند ہے۔ وہ
مصری مسلمان تھا۔ اس کی ماں سوڈانی تھی۔ شاید یہ سوڈانی خون تھا جس نے اسے سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف
بغاوت پر اکسایا تھا۔ اس دور کے واقعہ نگاروں اور کاتبوں کی غیر مطبوعہ تحریریں ملی ہیں ،ان سے اس کی بغاوت کا پس
منظر خاصی حد تک واضح ہوجاتا ہے۔
یہ ١١٧٤ء کے آخر اور ١١٧٥ء کے اوائل کا عرصہ تھا جب سلطان صالح الدین ایوبی مصر سے غیرحاضر تھا۔ اس سے پہلے
پوری تفصیل سے سنایا جاچکا ہے کہ نورالدین زنگی مرحوم کی وفات کے فورا ً بعد شام کے حاالت اس صورت میں بگڑ گئے
تھے کہ مفادپرست امراء نے زنگی مرحوم کے گیارہ سالہ بیٹے کو سلطنت کی گدی پر بٹھا دیا اور صلیبیوں سے گٹھ جوڑ کرکے
خود مختاری کے راستے پر چل پڑے تھے۔ سلطنت اسالمیہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر صلیبیوں کے پیٹ میں جارہی تھی۔ سلطان صالح
الدین ایوبی دمشق پہنچا۔ تھوڑی سی معرکہ آرائی اور دمشق کے شہریوں کے تعاون سے اس نے دمشق پر قبضہ کرلیا۔ خلیفہ
اور اس کے حواری امراء اور جرنیل حلب کو بھاگ گئے جہاں انہوں نے صلیبیوں سے جنگی مدد حاصل کی۔ صلیبیوں نے مدد
کا جھانسہ دے کر مسلمان فوج کو مسلمان فوج سے ٹکرا دیا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے حمص اور حماة کے قلعے
سرکرلیے۔ حلب کے محاصرے میں اسے غیرمتوقع مزاحمت کا سامنا ہوا۔ اس کے ساتھ ہی تریپولی کے صلیبی حکمران ریمانڈ
نے حملہ کردیا۔ سلطان صالح الدین ایوبی کو حلب کا محاصرہ اٹھا کر پیچھے آنا پڑا تاکہ صلیبی فوج کو راستے میں روکا
جاسکے۔
سلطان صالح الدین ایوبی کے دستوں کی برق رفتاری نے اس کی چال کو کامیاب کیا اور ریمانڈ لڑائی سے منہ پھیر گیا مگر
یہاں لڑائی ختم نہیں ہوئی تھی۔ اصل جنگ تو یہیں سے شروع ہوئی تھی۔ سلطان صالح الدین ایوبی الرستان سلسلہ کوہ میں
اپنی فوج کو پھیالئے ہوئے تھا۔ اس کا مقابلہ تین دشمنوں کے ساتھ تھا۔ ایک الصالح اور اس کے حواری امراء کی فوج تھی،
دوسرے صلیبی فوج اور تیسرا موسم۔ یہ جنوری فروری ١١٧٥ء کے دن تھے جب پہاڑیوں کی چوٹیاں برف سے ڈھکی ہوئی
تھیں۔ یخ جھکڑ چلتے تھے اور وادیاں ٹھٹھر رہی تھیں۔ سلطان صالح الدین ایوبی وہاں اس طرح الجھ گیا تھا جیسے زنجیروں
میں جکڑا گیا ہو۔
مصر کے متعلق وہ مطمئن نہیں تھا۔ وہاں کی فوج کی کمان وہ اپنے بھائی العادل کے سپرد کرآیا تھا۔ اس فوج میں سے
سلطان صالح الدین ایوبی نے کمک بھی منگوالی تھی۔ مصر پر سمندر کی طرف سے صلیبیوں کا اور جنوب سے سوڈانیوں کے
حملے کا خطرہ تو تھا لیکن زیادہ خطرہ صلیبیوں اور سوڈانیوں کی زمین دوز تخریب کاری کا تھا جو مصر میں جاری تھی۔
دشمن کی جاسوسی اور تخریب کاری کو بہت حد تک دبایا جاچکا تھا مگر یہ کہنا غلط تھا کہ دشمن اس زمین دوز میدان
سے بھاگ گیا ہے۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے انہی خطروں سے نبردآزما ہونے کے لیے اپنی انٹیلی جنس کے ماہر سربراہ
علی بن سفیان کو قاہرہ میں رہنے دیا تھا۔ اس نے العادل کو بھی اس ضمن میں بہت سی ہدایات دے دی تھیں مگر جو
جگہ سلطان صالح الدین ایوبی کی غیرحاضری سے خالی ہوگئی تھی۔ اسے العادل اور علی بن سفیان مل کر بھی پر نہیں
کرسکتے تھے۔
مصر کی سرحدوں اور ساحل کی دیکھ بھال کے لیے سرحدی دستوں کی چوکیاں اور ان کے پہرے تھے۔ سلطان صالح الدین
ایوبی نے العادل کے متعلق یہ حکم دے دیا تھا کہ سوڈانی سرحد پر ذرا سی بھی گڑ بڑ کریں تو شدید جنگی نوعیت کی
جوابی کارروائی کرو اور سوڈان کے اندر جا کر لڑو… مگر ایک ضرورت ایسی تھی جس کی طرف کسی نے بھی توجہ نہ دی۔
یہ تھی سرحدی دستوں کی بدلی۔ ان دستوں میں بیشتر سپاہی اور بعض کمانڈر ایسے تھے جو دو سال سے زیادہ عرصہ سے
لہذا ان کے دلوں میں دشمن کے خالف
سرحد کی ڈیوٹی پر تھے۔ یہ وہ سپاہی تھے جنہوں نے دشمن سے معرکے لڑے تھے ٰ
نفرت بھری ہوئی تھی۔ سوڈانیوں کو تو وہ کچھ سمجھتے ہی نہیں تھے۔ ان سے پہلے جو دستے سرحد پر تھے وہ اچھے
ثابت نہیں ہوئے تھے۔ ان کی موجودگی میں مصر کی منڈی سے اناج اور دیگر ضروری اشیاء سمگل ہوکر سوڈان چلی جاتی
تھیں۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے محاذ سے واپس آکر ان دستوں کو بدل دیا اور وہ دستے بھیجے تھے جو محاذ سے آئے
تھے۔ ان دستوں نے سرحد پر پہنچ کر اودھم بپا کردیا تھا۔ گشتی پہرے والوں کو کوئی چیز ہلتی نظر آتی تھی تو اسے
جادبوچتے تھے۔ وہ تیز رفتار تھے اور ان کی نظریں عقابی تھیں۔ انہوں نے سرحد صحیح معنوں میں مقفل کردی تھی۔
یہ دو اڑھائی سال پہلے کی بات تھی۔ ابتداء میں ان دستوں میں جوش اور جذبہ تھا اور کرنے کو ایک کام بھی تھا جو ایک
مہم تھی۔ وہ جانفشانی سے اس میں مگن رہے۔ چند مہینوں میں ہی انہوں نے یہ مہم سرکرلی اور فارغ ہوگئے۔ یہ فراغت ان
کے جذبے کو دیمک کی طرح کھانے لگی۔ سلطان صالح الدین ایوبی ہر پہلو ،ہر گوشے اور ہر عنصر پر نظر رکھتا تھا لیکن
سرحدی دستوں کی بدلی اتنی معمولی سی بات تھی جس پر وہ ذاتی توجہ نہ دے سکا۔ سرحدی دستوں کا شعبہ الگ تھا
جس کا کمانڈر ساالر ( جرنیل) کے عہدے کا ایک فرد تھا اور یہ القند تھا۔ یہ اس کے فرائض میں شامل تھا کہ وہ سال میں
تین بار نہیں تو دوبار سرحدی دستوں کی بدلی کرتارہتا۔ اس نے یہ بے حد ضروری کارروائی نہ کی۔ اس کوتاہی کے اثرات
سامنے آنے لگے۔
سپاہی ایک ہی قسم کے ماحول اور فضا میں اور ایک ہی قسم کی زمین پر رہتے اور پہرے دیتے اکتاہٹ محسوس کرنے لگے۔
سوڈان خاموش تھا۔ سمگلنگ بند ہوچکی تھی۔ فراغت اور کاہلی سپاہیوں کی نفسیات پر تخریبی اثرات ڈال رہی تھی۔ اس کے
لیے کام بھی نہیں تھا اور ان کے لیے تفریح بھی کوئی نہیں تھی۔ موسم میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آتی تھی۔ ریت کا
سمندر اور ریت کے ٹیلے ایک ہی جیسے تھے جیسے صدیوں سے چلے آرہے تھے۔ آسمان کا رنگ ایک ہی جیسا رہتا تھا۔
اس کیفیت اور سپاہیوں کی اکتاہٹ کا پہال اثر یہ دیکھنے میں آیا کہ وہ گشتی پہرے پر جاتے تو راہ جاتے مسافروں سے یہ
پوچھنے کے بجائے کہ وہ کون ہیں اور کہاں جارہے ہیں اور ان کے پاس کیا ہے ،وہ انہیں روک کر ان سے گپ شپ لگاتے
اور ان سے ادھر ادھر کی باتیں پوچھتے۔ یہ دل بہالنے کا ایک ذریعہ تھا۔
جن چوکیوں کی ذمہ داری کے عالقے میں کوئی گائوں تھا ،سپاہی وہاں چلے جاتے اور گپ بازی سے دل بہال آتے۔ سرحد کے
رکھوالوں کا یہ انداز ملک کے لیے خطرناک تھا مگر وہ سپاہی تھے اور اکتائے ہوئے بھی تھے۔ انسانی فطرت کا تقاضہ تھا کہ
وہ کہیں نہ کہیں سے تسکین حاصل کرتے۔ وہاں آتے جاتے مسافر تھے ،رات بھر کے لیے پڑائو کرنے والے قافلے تھے یا کہیں
کوئی آباد گائوں تھا۔ وہ ہر کسی کے ساتھ گھل مل گئے۔ مصر کے سرحدی لوگوں پر ان کا جو ڈر تھا وہ دور ہوگیا۔ ان کے
کمانڈر بھی سپاہیوں جیسے ہی انسان تھے۔ وہ بھی وقت گزارنے کے اور تفریح کے ذرائع ڈھونڈنے لگے تھے۔
٭ ٭ ٭
جب سلطان صالح الدین ایوبی دمشق کے لیے روانہ ہونے لگا تو اتنی عجلت میں تھا کہ سرحدوں کے متعلق تمام تر ہدایات
دینے کے باوجود اس کے ذہن میں یہ نہ آئی کہ پرانے دستوں کی بدلی کے احکام بھی دے دیتا۔ اسے غالبا ً اطمینان ہوگا کہ
ان کا کمانڈر ،القند تمام تر ضروریات پوری کرتا رہتا ہے۔ سلطان صالح الدین ایوبی کے جانے کے بعد العادل نے فوجوں کی
کمان لی تو اس نے القند سے پوچھا کہ سرحد پر جو دستے ہیں وہ کب سے اس ڈیوٹی پر ہیں۔ القند نے جواب دیا کہ وہ
بہت عرصے سے وہیں ہیں۔
کیا سرحد پرمزید دستے بھیجنے کی ضرورت ہے؟'' العادل نے پوچھا… ''اور کیا پرانے دستوں کو قاہرہ بال کر نئے دستے ''
''بھیجنے کی ضرورت ہے؟
نہیں'' القند نے جواب دیا… ''یہی وہ دستے ہیں جنہوں نے ملک سے اناج ،مویشی اورہتھیار وغیرہ کے چوری چھپے باہر''
جانے کو روکا تھا۔ وہ اب سرحد اور ارگرد کے عالقوں کے عادی ہوگئے ہیں۔ وہ اب دور سے مشتبہ انسان کی بو سونگھ کر
اسے پکڑ لیتے ہیں۔ ان کی جگہ اگر نئے دستے بھیجے گئے تو پرانے دستوں جیسا تجربہ حاصل کرتے انہیں ایک سال سے
زیادہ عرصہ چاہیے۔ ہمیں ایسا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے''۔
العادل اس جواب سے مطمئن ہوگیا تھا۔ اسے بتانے واال کوئی نہ تھا کہ یہی القند رات کو اپنے گھر میں بیٹھا کہہ رہا تھا۔
''یہ سرحدی دستے بیکار ہوچکے ہیں ،میری یہ کوشش کامیاب ہے کہ میں نے ان کی بدلی نہیں ہونے دی۔ انہوں نے سرحد
کے لوگوں کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات پیدا کرلیے ہیں۔ ان کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ ان کے پیٹ تو بھرے رہتے ہیں،
کھانے پینے کی انہیں کوئی شکایت نہیں ،میں ان کے لیے ضرورت سے زیادہ خوراک بھیجتا ہوں لیکن ان کی حالت بھوکے
بھیڑیوں کی سی ہوگئی ہے۔ کوئی قافلہ گزرتا ہے تو وہ قافلے والوں کی عورتوں کو منہ کھول کر دیکھتے رہتے ہیں۔ اب ہم
اپنا کام کرسکتے ہیں''۔
وہ جس کے ساتھ باتیں کررہا تھا وہ کوئی سوڈانی تھا جو اس کے ہاں مہمان کے روپ میں آیا ہوا تھا۔ وہ سوڈان سے اس
کے لیے تحفے الیا تھا اور ان تحفوں کے ساتھ ایک پیغام بھی تھا۔ اس نے القند کو بتایا تھا کہ سوڈانی تیار ہیں مگر نفری
ابھی اتنی زیادہ نہیں ہوئی۔ یہ آدمی پیغام لے کر آیا تھا کہ اس نفری کو کسی طرح مصر میں داخل کرکے چھپا لیا جائے۔
اس کے لیے پہلی مشکل یہ تھی کہ انہیں سرحد پار کس طرح کرائی جائے۔ اسی کے جواب میں القند نے کہا تھا کہ مصر
کے سرحدی دستے بیکار ہوچکے ہیں… القند ان چند ایک ساالروں میں سے تھا جن پر سلطان صالح الدین ایوبی کو بھروسہ
تھا۔ القند نے کبھی شک بھی نہیں ہونے دیا تھا کہ وہ مصر کی امارت کا وفادار نہیں۔علی بن سفیان تک کو اس نے دھوکے
میں رکھا ہوا تھا۔ اس کا یہ کارنامہ کہ اس نے دو اڑھائی سال پہلے سمگلنگ روک دی اور سرحدیں سربمہر کردی تھیں۔ اسے
بہت فائدہ دے رہا تھا۔ کوئی بھی نہ جان سکا کہ وہ سرحدوں کا بھیدی بن چکا ہے۔
اب سلطان صالح الدین ایوبی مصر سے چال گیا تو القند نے العادل کو یقین دال دیا کہ وہ سوڈان کی طرف سے بے فکر
ہوجائے۔ سوڈان کا کوئی پرندہ بھی مصر میں داخل نہیں ہوسکتا۔ ایسا ہی یقین وہ علی بن سفیان کو بھی دالتا رہا اور سوڈان
میں حبشیوں کی ایک فوج مصر پر اس انداز سے حملہ کرنے کے لیے تیار ہوتی رہی کہ حبشی چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں
مصر میں داخل ہوں گے ،چوری چھپے قاہرہ کے قریب جائیں گے اور ایک رات حملہ کرکے رات ہی رات مصر کی امارات کو
قبضے میں لے لیں گے۔
٭ ٭ ٭
دریائے نیل سوڈان سے گزرتا مصر میں داخل ہوتا ہے۔ آگے مصر کے عالقے میں ایک وسیع جھیل کی صورت اختیار کرلیتا
ہے۔ اس کے آگے ایسے عالقے میں داخل ہوتا ہے جو پہاڑی ہے۔ اس سے آگے آبشار کی طرح گرتا ہے۔ اس کے قریب اسوان
ہے۔ سلطان صالح الدین ایوبی کے دور میں اسوان کے گردونواح کی جغرافیائی کیفیت کچھ اور تھی۔ دور دور تک چٹانیں اور
پہاڑیاں تھیں۔ ان پر فرعونوں کی خصوصی نظر کرم رہی تھی۔ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر بت بتائے تھے۔ ان میں
سب سے بڑے بت ابو سمبل کے تھے بعض چٹانوں کی چوٹیاں تراش کر کسی معبدے گنبد کی شکل کی یا کسی فرعون کا
چہرہ بنا دی گئی تھیں۔ پہاڑیوں کے دامن میں غاریں بنائی گئی تھیں جو اندر سے وسیع وعریض تھیں۔ کچھ ایسی تھیں جن
کے اندر کمرے ،سرنگوں جیسے راستے اور بھول بھلیاں سی بنا دی گئی تھیں۔
کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ فرعونوں نے یہ پراسرار سی دنیا کیوں آباد کی تھی۔ یہ بت تراشتے اور غاریں کھود کر اندر کمرے
وغیرہ بناتے تین نسلیں ختم ہوگئی ہوں گی۔ فرعون اس دور کے ''خدا'' تھے۔ رعایا کا کام صرف یہ تھا کہ ان کے آگے
سجدے کرے اور ان کا ہر حکم بجا الئے۔ یہ پہاڑ اسی مظلوم اور فاقہ کش رعایا سے کٹوائے گئے تھے۔ آج وہاں کوئی بت
نہیں ،کوئی غار نہیں ،کوئی پہاڑ نہیں۔ وہاں اسوان ڈیم کی میل ہا میل وسیع جھیل ہے۔ اس ڈیم کی تعمیر سے پہلے
ابوسمبل کے اتنے بڑے بڑے بت جو بجائے خود پہاڑ تھے مشینری سے وہاں سے اٹھائے گئے اور فرعونوں کے دور کی یادگاروں
کے طور پر کہیں محفوظ کرلیے گئے ہیں۔ ڈائنامیٹ سے پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرکے زمین بوس کردیا گیا تھا۔ اگر فرعون انسان
کے ہاتھوں پہاڑوں کو یوں اڑاتا اور زمین سے ملتا دیکھتے تو خدائی کے دعوے سے دستبردار ہوجاتے۔
سلطان صالح الدین ایوبی کے دور میں اس عالقے کے خدوخال کچھ اور تھے۔ ان پہاڑوں کی وادیوں اور غاروں میں ساری دنیا
کی فوج کو چھپایا جاسکتا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے ذاتی طور پر سرحد کے اس عالقے پر زیادہ توجہ دی تھی جہاں
سے دریائے نیل مصر میں داخل ہوتا تھا۔ سوڈانی کشتیوں کے ذریعے مصر میں داخل ہوسکتے تھے۔ اس دریائی راستے پر نظر
رکھنے کے لیے ایک چوکی قائم کی گئی تھی جو دریا سے دور تھی۔ چوکی سے دریا نظر نہیں آتا تھا اور دریا سے چوکی نظر
نہیں آتی تھی۔ یہ فاصلہ دانستہ رکھا گیا تھا تاکہ دریا سے چوری چھپے گزرنے والے اس خوش فہمی میں مبتال رہیں کہ انہیں
دیکھنے اور پکڑنے واال کوئی نہیں۔ دریا پر گشتی پہرے کے ذریعے نظر رکھی جاتی تھی۔ دو گھوڑ سوار ہر وقت گشت پر رہتے
تھے اور ان کی ڈیوٹی بدلتی رہتی تھی۔
مصر سے سلطان صالح الدین ایوبی کی غیر حاضری کے دنوں کا واقعہ ہے کہ دن کے وقت دریا کی دیکھ بھال والی سرحدی
چوکی کے دو گھوڑ سوار گشت پر نکلے اور معمول کے مطابق دور تک نکل گئے۔ ایک جگہ دریا کے کنارے سبزہ زار تھا۔
سایہ دار درخت تھے اور یہ جگہ بہت ہی خوبصورت تھی۔ گشت والے سنتری اس جگہ آکر آرام کیا کرتے تھے۔ ایک عرصہ
سے انہوں نے کسی سوڈانی کو دریا سے آتے نہیں دیکھا تھا۔ ابتداء میں انہوں نے بہت سے آدمی پکڑے تھے جن میں بعض
تخریب کار اور جاسوس تھے۔ اس کے بعد یہ دریائی راستہ ویران ہوگیا تھا۔ اب سنتری صرف ڈیوٹی پوری کرنے آتے اور چوکی
کی نظروں سے اوجھل ہوکر بیٹھ جاتے تھے۔
ان دوسواروں کا بھی ہی یہ معمول تھا۔ اس معمول سے اب وہ تنگ آگئے تھے۔ دریا کے کنارے اتنی سرسبز جگہ بھی انہیں
اچھی نہیں لگتی تھی۔ ہر روز دریا کو دیکھ دیکھ کر وہ اس کے حسن سے اکتا گئے تھے۔ یہاں انہیں باہر کی دنیا کی اگر
کوئی چیز نظر آتی بھی تھی تو وہ صحرائی لومڑی تھی جو دریا سے پانی پیتی اور سنتریوں کو دیکھ کر بھاگ جاتی تھی یا
ماہی گیروں کی ایک آدھ کشتی نظر آتی تھی۔ وہ ماہی گیروں سے پوچھتے کہ وہ کہاں کے رہنے والے ہیں۔ پھر انہوں نے یہ
پوچھنا بھی بھی چھوڑ دیا تھا اور اس کے بعد ماہی گیروں نے بھی وہاں جانا چھوڑ دیا تھا… اس رورز وہ سنتری گشت کے
عالقے میں گئے تو وہ اکتائی ہوئی سی باتیں کررہے تھے۔ جن کا لب لباب یہ تھا کہ اس کے ساتھی قاہرہ ،سکندریہ اور
دوسرے شہروں میں عیش کررہے ہیں اور وہ اس جنگل بیابان میں پڑے ہیں۔ ان کے لب ولہجے میں احتجاج تھا اور بے
اطمینانی بھی۔
وہ اس سرسبز جگہ سے کچھ دور تھے تو انہیں وہاں چار پانچ اونٹ بندھے ہوئے نظر آئے۔ آٹھ دس آدمی بیٹھے ہوئے تھے اور
چار آدمی دریا میں نہا رہے تھے۔ دونوں سوار آگے چلے گئے مگر رک گئے۔ وہ کوئی انسان نہیں ہوسکتے تھے۔ انہیں جس
چیز نے حیرت سے زیادہ خوف میں مبتال کردیا تھا وہ یہ تھی کہ دریا میں چار آدمی نہیں بلکہ چار جوان لڑکیاں نہا رہی
تھیں۔ وہ قہقہے لگارہی تھیں ،گھوڑ سوار یہ سمجھ کر ڈر گئے کہ یہ جل پریاں ہیں یا آسمان سے اتاری ہوئی پریاں یا
فرعونوں کی شہزادیوں کی بدروحیں وہ دونوں رکے رہے اور انہیں دیکھتے رہے۔ انہوں نے وہیں سے واپسی کا ارادہ کرلیا لیکن
جو آدمی بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے ان کی طرف دیکھا۔
دو آدمی اٹھ کر ان کی طرف آئے۔ لڑکیوں نے بھی انہیں دیکھ لیا تھا۔ وہ چاروں دریا سے نکل کر کنارے کی خشک اوٹ میں
چلی گئیں۔ گھوڑ سواروں کا خوف ذرا کم ہوا۔ وہ آخر فوجی تھے۔ قریب جاکر انہوں نے ان دو آدمیوں سے پوچھا کہ وہ کون
ہیں اور یہاں کیا کررہے ہیں۔ دونوں آدمیوں نے جھک کر سالم کیا۔ وہ صحرائی لباس میں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ قاہرہ
کے تاجر ہیں ،بہت سے سرحدی دیہات میں مال فروخت کرکے واپس جارہے ہیں۔
قاہرہ جانے کا یہ راستہ تو نہیں''۔ ایک سوار نے کہا۔''
لڑکیوں کا شوق ہے کہ دریا کے کنارے کنارے جائیں گے''۔ ایک نے جواب دیا… ''ہم اپنے کام سے فارغ ہوگئے ہیں'' ،
واپسی کی کوئی جلدی نہیں۔ دو تین راتیں یہیں قیام کریں گے… اگر آپ کو شک ہو تو چل کر ہمارا سامان دیکھ لیں۔ ہمارے
پاس بہت ساری رقم ہے۔ وہ بھی دیکھ لیں ،تاکہ آپ کو یقین ہوجائے کہ ہم واقعی مصر کے تاجر ہیں''۔
دونوں گھوڑ سوار ان کے ساتھ چل پڑے اور قیام کی جگہ پہنچے تو سب اٹھ کھڑے ہوئے۔ سب نے جھک کر سالم کیا پھر
دونوں کے ساتھ مصافحہ کیا۔ ایک آدمی نے پوچھا کہ وہ ان کا سامان نہیں دیکھیں گے؟ گھوڑ سوار سنتری گھوڑوں سے اتر
چکے تھے۔ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا کہ وہ سامان نہیں دیکھیں گے۔ ایک آدمی نے سلطان صالح الدین
ایوبی کی فوج کی تعریفیں شروع کردیں۔ پھر انہوں نے ان دونوں کی جوانی ،دلیری اور فرض کی تعریفیں کیں۔ا نہوں نے ایسی
کوئی بات نہ کی جس سے ان دونوں کو کوئی شک ہوتا۔ اس دوران چاروں لڑکیاں کپڑے پہن کر اور بال جھاڑ کر آگئی تھیں
لیکن وہ شرمائی شرمائی سی پرے ہٹ کر کھڑی رہیں۔ اس ویرانے میں ان سپاہیوں نے دو اڑھائی سال بعد باہر کے چند
آدمیوں کی محفل دیکھی اور انہیں عورت ذات نظر آئی۔ ان لڑکیوں میں انہوں نے عورت کا ہر ایک روپ دیکھا… ماں ،بہن،
بیوی اور وہ عورت بھی جو ماں ہوتی ہے نہ بہن نہ بیوی… دونوں کی نظریں ان لڑکیوں نے گرفتار کرلیں۔ لڑکیاں انہیں دیکھ
دیکھ کر شرماتی اور منہ چھپا کر مسکراتی تھیں۔ ان کے شرم وحجاب سے پتا چلتا تھا کہ یہ سب اچھے خاندان کے لوگ
ہیں۔
یہ دونوں سرحدی سپاہی ان آدمیوں کی باتوں اور خصوصا ً لڑکیوں میں ایسے محو ہوئے کہ اپنی ڈیوٹی بھول گئے۔ سرحدی
عالقے میں اتنی مدت سے پڑے رہنے اور فارغ ہونے کے جو برے اثرات تھے ،وہ بڑی خطرناک نفسیاتی تشنگی بن کر ان پر
غالب آگئے۔ ایک آدمی دریا کے کنارے برچھی لیے کھڑا مچھلیاں پکڑ رہا تھا۔ وہ پانی پر دانے سے پھینکتا تھا۔ مچھلیاں اوپر
آجاتی تھیں ،وہ اوپر سے برچھی مارتا تو ایک مچھی برچھی کی انی میں پروئی ہوئی باہر آجاتی۔ وہ بہت سی مچھلیاں پکڑ
چکا تھا۔ کسی نے لڑکیوں سے کہا کہ وہ مچھلیاں بھونیں۔ چاروں لڑکیاں دوڑی گئیں۔ انہوں نے آگ جالئی اور مچھلیوں کو
کاٹ کر آگ پر رکھ دیا۔گھوڑ سوار سرحدی سپاہی اپنے کھانے سے بھی اکتائے ہوئے تھے۔ ان کا کھانا اچھا ہوتا تھا مگر ہر
روز ایک ہی قسم کا کھانا کھا کھا کر وہ اس کھانے سے بھی اکتائے ہوئے تھے۔ دریائے نیل کے کنارے ان کے سامنے بھنی
ہوئی مچھلی اور خشک پکا ہوا گوشت رکھا گیا تو دیکھ کر ہی ان پر نشہ طاری ہوگیا۔ سب مل کر کھانے لگے تو کھانا اور
زیادہ لذیذ ہوگیا۔ کھانے کے دوران دونوں نے دیکھا کہ ایک لڑکی ان کے ایک گھوڑے کی گردن اور زین پر ہاتھ پھیرتی اور
گھوڑے کو اشتیاق سے دیکھتی تھی۔ لڑکیاں مردوں کے ساتھ کھانے پر نہیں بیٹھی تھیں۔ گھوڑے واال سپاہی لڑکی کو دیکھ رہا
تھا جو گھوڑے پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔ لڑکی نے ادھر دیکھا تو مسکرا کر اس نے منہ پھیر لیا کیونکہ اس گھوڑے کا سوار اسے
دیکھ رہا تھا۔ ان سپاہیوں نے اتنی خوبصورت لڑکیاں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔
ایک بوڑھے نے سپاہیوں سے کہا… ''ان لڑکیوں نے کبھی گھوڑے کی سواری نہیں کی اور یہ جو لڑکی گھوڑے کے قریب کھڑی
ہے گھوڑ سواری کی شوقین ہے لیکن اسے گھوڑے پر بیٹھنے کا کبھی موقع نہیں مال''۔
ہم ان چاروں کا شوق پورا کردیں گے''… ایک سپاہی نے کہا۔''
کھانے کے بعد وہ سپاہی اٹھا اور اپنے گھوڑے کے پاس چال گیا۔ لڑکی جھینپ کر پرے ہوگئی۔ سپاہی نے اسے کہا… ''آئو۔
میں تمہیں سواری کراتا ہوں۔ باری باری چاروں کو گھوڑے پر بٹھا دوں گا''۔
کسی نے لڑکی سے کہا… ''ان سے شرمائو نہیں۔ یہ تو تمہاری عزت اور ملک کے رکھوالے ہیں ،یہ نہ ہوں تو صلیبی اور
سوڈانی معلوم نہیں تمہارا کیا حشر کریں''۔
لڑکی جھجکتی شرماتی گھوڑے کے قریب گئی۔ سپاہی نے اس کا پائوں اٹھا کر رکاب میں ڈاال اور اسے اٹھا کر گھوڑے پر بٹھا
دیا۔ سپاہی کو کسی نے آواز دی اور کچھ کہا۔ سپاہی اس طرف متوجہ ہوا۔ اچانک گھوڑا دوڑ پڑا۔ لڑکی کی چیخیں سنائی
دیں۔ سپاہی نے گھوم کر دیکھا۔ گھوڑا سرپٹ دوڑا جارہا تھا۔ اس کے اوپر لڑکی ادھر ادھر گرتی اور سنبھلنے کی کوشش کرتی
تھی۔ سب نے شور بپا کردیا کہ گھوڑا بے لگام ہوگیا ہے۔ لڑکی گر کر مرجائے گی۔ سپاہی کے قریب اس کے ساتھی کا گھوڑا
کھڑا تھا۔ وہ اچھل کر اس گھوڑے پر سوار ہوا اور ایڑی لگا دی۔ لڑکی واال گھوڑا ایک چٹان سے گھوم کر نظروں سے اوجھل
ہوگیا۔ سپاہی نے اپنے گھوڑے کی رفتار انتہا تک پہنچا دی۔ اسے معلوم تھا کہ لڑکی گری اور اس کا پائوں رکاب میں پھنسا
رہ گیا تو اس کی ہڈیاں ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گی اور گھوڑا اسے گھسیٹ گھسیٹ کر ہڈیوں سے گوشت اتار دے گا۔
سپاہی نے گھوڑا چٹان سے موڑا۔ آگے کھلی وادی تھی۔ لڑکی کو گھوڑا اٹھائے دوڑا جارہا تھا۔ کچھ آگے جاکر گھوڑا مڑا اور پھر
نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ سپاہی کو لڑکی کی چیخیں اور گھوڑے کے ٹاپو سنائی دے رہے تھے۔ وہ آگے جا کر مڑا۔ اسے گھوڑا
نظر نہ آیا۔ عجیب بات یہ تھی کہ اسے اب کوئی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی۔ نہ گھوڑے کے ٹاپوں نہ لڑکی کی چیخیں۔
وہ سمجھا گھوڑا کسی کھڈ میں جاگرا ہے۔ اس نے گھوڑے کی رفتار کم کردی۔ کچھ اور آگے گیا تو ایک اوٹ سے اسے لڑکی
کی آواز سنائی دی… ''ادھر… جلدی سے میرے پاس آجائو''۔
سپاہی نے ادھر دیکھا تو اس پر خوف طاری ہوگیا۔ گھوڑا کھڑا تھا اور لڑکی اطمینان سے اس پر سوار تھی۔ اس کے چہرے پر
ڈر یا گھبراہٹ نہیں بلکہ ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ سپاہی نے ایک بار تو ارادہ کرلیا کہ گھوڑے کو ایڑی لگائے اور بھاگ
جائے۔ اسے یقین ہوگیا تھا کہ یہ لڑکی شرشراریا بدروح ہے اور اسے دھوکے سے اس ڈھکی چھپی جگہ لے آئی ہے اور اب
اس کا خون پی جائے گی لیکن وہ جیسے جکڑ لیا گیا ہو۔ لڑکی کی مسکراہٹ اور اس کے سراپا میں کوئی ایسی قوت تھی
جس نے سپاہی کے گھوڑے کا رخ لڑکی کی طرف کردیا۔
تم سپاہی ہو ،مرد ہو''۔ لڑکی نے اسے کہا… ''مجھ سے ڈررہے ہو؟''… وہ اس کے قریب گیا تو لڑکی نے اس کا ہاتھ ''
اپنے ہاتھ میں لے کر کہا… ''گھوڑا بے لگام نہیں ہوا تھا۔ میں نے اسے خود ایڑی لگائی اور بھگایا تھا اور چیخیں مار کر یہ
ظاہر کیا تھا کہ گھوڑا بے لگام ہوگیا ہے اور میں گر پڑوں گی۔ مجھے امید تھی کہ تم میرے پیچھے آئو گے۔ میں اناڑی نہیں
شاہ سوار ہوں''۔
تم نے یہ دھوکہ کیوں دیا ہے؟'' سپاہی نے پوچھا۔''
مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے''۔ لڑکی نے کہا… ''میں یہ باتیں سب کے سامنے نہیں کرسکتی تھی۔ تم نے ان ''
آدمیوں میں ایک بوڑھا دیکھا ہے۔ وہ میرا خاوند ہے۔ اس کی عمر دیکھو اور میری جوانی دیکھو۔ میرے ساتھ جو لڑکیاں ہیں۔
ان میں سے ایک میری طرح ایک بوڑھے آدمی کی بیوی بنا دی گئی ہے۔ تم جانتے ہو کہ لڑکی کو جس کے ساتھ باندھ دو
وہ بول نہیں سکتی۔ یہ بوڑھا مجھے خوش کرنے کے لیے اپنے ساتھ لیے پھرتا ہے۔ یہ سب تاجر ہیں۔ ہمیں بھی اپنے ساتھ
لیے پھرتے ہیں''۔
دوسری دو لڑکیاں کون ہیں؟'' سپاہی نے پوچھا۔''
وہ دونوں شادی شدہ ہیں''… لڑکی نے جواب دیا… ''ان کے خاوند جوان ہیں وہ انہیں سیر سپاٹے کے لیے ساتھ التے ''
ہیں ،تم میری مدد کرو''۔
اگر یہ لوگ تمہیں اغوا کرکے الئے ہوتے تو میں ان سب کو چوکی لے جاتا''… سپاہی نے کہا… ''تم اس کی بیوی ''
ہو''۔
میں نے اسے اپنا خاوند تسلیم نہیں کیا''… لڑکی نے کہا… ''تمہیں دیکھا ہے تو میرے دل میں اس بوڑھے کی نفرت اور ''
زیادہ گہری ہوگئی ہے''… اس نے جذباتی لہجے میں کہا… ''تمہیں پہلی نظر میں دیکھ کر میرے دل سے آواز آئی کہ یہ ہے
تمہارا خاوند ،خدا نے تمہیں اس خوبرو جوان کے لیے پیدا کیا ہے''۔
میں اتنا خوبصورت نہیں جتنا تم نے کہا ہے''… سپاہی نے کہا… ''تم مجھے کیوں دھوکہ دے رہی ہو؟ تمہارے دل میں کیا''
''ہے؟
خدا جانتا ہے کہ میرے دل میں کیا ہے''… لڑکی نے مایوس سے لہجے میں کہا… ''وہی تمہارے دل میں رحم ڈالے گا۔ ''
اگر تم میرے دل کی آواز کو دھوکہ سمجھتے ہوتو میں اپنے خاوند کے پاس نہیں جائوں گی۔ گھوڑے کو ایڑی لگائوں گی اور
سیدھی دریا میں گھوڑے سمیت کود جائوں گی۔ خدا سے جاکر کہوں گی کہ تم میرے قاتل ہو''۔
وہ ایک تشنہ سپاہی تھا۔ سرحد کی ڈیوٹی سے اکتایا ہوا تھا۔ وہ سلطان صالح الدین ایوبی ،علی بن سفیان یا العادل نہیں
تھا۔ وہ سپاہی تھا ،جوان تھا اور یہی اس کی شخصیت تھی۔ لڑکی کے حسن وشباب اور اس کے انداز اور اس کی باتوں نے
اسے موم کردیا۔ البتہ اس احساس کا اس نے اظہار کردیا… ''میں کمتر سپاہی ہوں اور تم شہزادیوں سے کم نہیں۔ تم مخمل
سے نکل کر میرے ساتھ اس ریت پر اور ان چٹانوں میں زندہ نہیں رہ سکو گی''۔
اگر خواہش مخمل اور دولت کی ہوتی تو اس بوڑھے خاوند سے بہتر میرے لیے کوئی خاوند نہیں ہوسکتا تھا''۔ لڑکی نے ''
کہا… ''اس نے اپنی دولت میرے قدموں میں ڈال رکھی ہے لیکن میں کسی سپاہی کی بیوی بننا چاہتی ہوں۔ میرا باپ بھی
سپاہی ہے ،دو بڑے بھائی بھی سپاہی ہیں۔ وہ دمشق اور شام کے محاذ پر سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج میں ہیں۔ مجھے
اس بوڑھے کے حوالے میری ماں نے کیا ہے۔ ہم غریب لوگ ہیں۔ میری خوبصورتی میری بدنصیبی کا باعث بنی ہے۔ میں شاہ
سوار ہوں ،یہ میرے خاوند کو معلوم نہیں۔ ہمارے خاندان کی دولت یہی عسکری روایات ہیں۔ میں نے ہمیشہ یہ خواہش کی ہے
کہ سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج میں شامل ہوجائوں اگر یہ ممکن نہ ہو تو کسی سپاہی کے ساتھ شادی کرلوں۔ تم ریت
اور چٹانوں کی باتیں نہ کرو۔ میں اس ریت کی پیداوار ہوں اور جب میرا خون اسی ریت میں جذب ہوجائے گا تو میری روح
مطمئن ہوکر خدا کے حضور جائے گی''۔
''میں تمہاری مدد کس طرح کرسکتا ہوں؟''
آئو'' لڑکی نے کہا… ''آہستہ آہستہ واپس چلتے ہیں۔ وہ لوگ ہمارے پیچھے آرہے ہوں گے۔ راستے میں تمہیں بتائوں گی ''
کہ میں نے کیا سوچا ہے''… و ہ چل پڑے۔ لڑکی نے کہا… ''میں تمہیں یہ نہیں کہوں گی کہ مجھے اپنے ساتھ لے چلو،
یہ جرم ہوگا۔ میرا خاوند قاضی کے پاس چال جائے گا اور ہم دونوں سزا پائیں گے۔ پہلے اس خاوند سے آزاد ہونا ہے۔ اس کا
ایک ہی طریقہ ہے کہ اسے ایسے طریقے سے قتل کیا جائے کہ یہ قتل نہ لگے۔ قتل تم نہیں کرو گے ،میں کروں گی۔ ہوسکتا
ہے اسے شراب میں کچھ مال کر پال دوں اور رات کو دریا کے کنارے لے جا کر دھکا دے دوں اور کہوں کہ وہ نشے میں دریا
میں اتر گیا تھا۔ اس کے لیے دوچار روز انتظار کرنا پڑے گا۔ میں اسے یہیں رکھوں گی''۔
تمہارے پاس کوئی زہر ہے؟''… سپاہی نے پوچھا۔''
لڑکی نے قہقہہ لگایا اور کہا… ''تم بدھو سپاہی ہو۔ میں قاہرہ کے دور اپور کے عالقے کی رہنے والی ہوں جس میں سے یہ
دریا گزرتا ہے۔ ہماری خوراک مچھلی ہے۔ مچھلی کا پتہ زہر سے بھرا ہوتا ہے۔ تم نے دیکھا ہے کہ ہم یہاں بھی مچھلیاں
پکڑتے ہیں۔ میں مچھلی کا پتہ الگ کرکے چھپالوں گی اور اس میں سے چند قطرے بوڑھے کی شراب میں مال دوں گی پھر
اسے سیر کے بہانے دریا کے کنارے لے جائوں گی''۔
''پھر میں تمہیں کس طرح لے جائوں گا؟''
وہ مرگیا تو میں آزاد ہوں گی''۔ لڑکی نے جواب دیا… ''میں سب سے کہہ دوں گی کہ تم میں سے کوئی بھی میرا ''
وارث نہیں جو مجھے اپنی مرضی کی شادی سے روکے۔ میں تمہارے ساتھ چلی جائوں گی۔ تم مجھے اپنے گھر بھیج دینا… اور
''سنو تم مجھے ملتے رہنا۔ اب چلے جائو گے تو پھر کب آئو گے؟
میں صرف گشت پر آسکتا ہوں''… سپاہی نے جواب دیا… ''چوکی دور ہے۔ گشت کے بغیر ہم گھوڑا استعمال نہیں ''
کرسکتے۔ میری گشت اسی ساتھی کے ساتھ کل رات کے دوسرے پہر ہوگی۔ میں یہیں آجائوں گا''۔
ذرا دور رہنا''… لڑکی نے کہا… ''میں تمہیں راستے میں ملوں گی۔ کہیں چھپ کر بیٹھ جائیں گے''۔ لڑکی نے اس کا ''
ہاتھ پکڑ لیا۔ سپاہی نے اس کی طرف دیکھا تو لڑکی نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ سپاہی کے تمام شکوک رفع
ہوگئے۔ اس نے لڑکی کا ہاتھ دل پر رکھ کر دبایا۔
٭ ٭ ٭
وہ جب اس جگہ پہنچے جہاں سے لڑکی کا گھوڑا چٹان کی اوٹ میں ہوگیا تھا ،انہیں تمام آدمی نظر آئے۔ وہ اسی طرف
دیکھ رہے تھے۔ انہیں دیکھ کر وہ ان کی طرف دوڑ پڑے۔ دونوں گھوڑوں سے اترے۔ لڑکی کا بوڑھا خاوند سپاہی کے ساتھ لپٹ
گیا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ دوسرے آدمیوں نے بھی والہانہ انداز سے اس کا شکریہ ادا کیا۔ لڑکی نے انہیں جھوٹ موٹ
کی کہانی سنا دی اور کہا کہ اس سپاہی نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر اسے بچایا ہے ،ورنہ گھوڑا اسے کسی پتھریلے کھڈ
میں گرا کر مار دیتا۔
دونوں سپاہی چوکی کو واپس روانہ ہوئے۔ راستے میں اس سپاہی نے اپنے ساتھی کو بتایا کہ اصل واقعہ کیا ہوا ہے۔ اس کے
ساتھی کے دل میں رشک سا پیدا ہوا لیکن اس نے بتایا کہ اس کی غیرحاضری میں ایک لڑکی عجیب سی نظروں سے اسے
دیکھتی تھی۔ یہ سپاہی اپنے ساتھی کے پیچھے جانا چاہتا تھا مگر پیدل پہنچنا ممکن نہیں تھا۔ باقی آدمی پیچھے کھڑے
رہے۔ وہ بہت آگے چال گیا۔ دو لڑکیاں بھی آگے گئیں جن میں سے ایک اس کے ساتھ باتیں کرنے لگی۔ باتوں باتوں میں
لڑکی نے اس سپاہی کے ساتھ محبت کا اظہار کیا اور اس سے پوچھا کہ وہ اسے پھر کب ملے گا۔ اس نے لڑکی کو بتایا کہ
وہ کل رات کے دوسرے پہر گشت پر آئے گا۔ اس لڑکی نے اسے بتایا کہ اسے ایک بوڑھے کے ساتھ بیاہ دیا گیا ہے اور وہ
اس کے ساتھ بھاگنا چاہتی ہے۔
دونوں کی کہانی ایک جیسی تھی۔ انہوں نے اس مسئلہ پر غور کرنا شروع کردیا کہ وہ لڑکیوں کو کس طرح اپنے ساتھ لے
جائیں گے۔ وہ دونوں اس پر بھی غور کرنے لگے کہ اگر لڑکیاں اپنے خاوندوں کو قتل نہ کرسکیں تو وہ انہیں قتل کریں اور
کس طرح کریں گے… دونوں سپاہی بڑے ہی حسین تصورات میں خمار کی کیفیت میں اپنی چوکی پر پہنچے۔ انہوں نے اپنے
کمانڈر کو رپورٹ دی کہ فالں جگہ قاہرہ کے تاجروں کا قافلہ رکا ہوا ہے جس کے سامان کی تالشی لی گئی ہے اور ہر طرح
اطمینان کرلیا گیا ہے کہ وہ مشتبہ اور مشکوک لوگ نہیں۔ ان سپاہیوں نے لڑکیوں کا ذکر بھی کیا۔ چوکی کے کمانڈر نے رپورٹ
کے پہلے حصے کو توجہ سے نہیں سنا تھا۔ جب لڑکیوں کا ذکر آیا تو اس نے دلچسپی لینی شروع کردی۔ لڑکیوں کی تعداد،
عمر ،شکل وصورت ،قدبت ،رنگ روپ غرض اس نے کوئی بات نہ رہنے دی۔ سپاہیوں نے اس کے اس رویے کو محسوس کیا
اور خاموش رہے۔
چوکی میں ایک اور چوکی کا سپاہی بیٹھا تھا۔ وہ چوکی وہاں سے آٹھ دس میل دور تھی۔ اس کے کمانڈر نے اس سپاہی کو
اس پیغام کے ساتھ بھیجا تھا کہ آج شام کے بعد میری چوکی میں آنا ،ضروری کام ہے۔ کمانڈر نے یہ پیغام النے والے سپاہی
کو یہ کہہ کر روک لیا تھا کہ اکٹھے چلیں گے۔
سورج غروب ہوتے ہی کمانڈر سپاہی کے ساتھ روانہ ہوگیا۔ دوسری چوکی پر پہنچا تو شام گہری ہوچکی تھی۔ یہ چوکی ہری
بھری جگہ تھی۔ وہاں اس شام کچھ اور ہی رونق تھی۔ چوکی کے تمام سپاہی جو ڈیوٹی پر نہیں تھے ،چوکی کے باہر گول
دائرے میں بیٹھے تھے۔ مشعلیں جل رہی تھیں۔ چوکی کا کمانڈر وہاں نہیں تھا۔ اس کے خیمے میں گئے۔ وہاں دو لڑکیاں
بیٹھی تھیں اور تین صحرائی آدمی بھی تھے۔ ان کے قریب ساز اور دف پڑے تھے۔ مہمان کمانڈر کے آتے ہی کھانا چنا گیا…
سب کھا چکے تو چوکی کے کمانڈر کے کہنے پر سازندے اور لڑکیاں باہر چلی گئیں۔ دوسری چوکی کے کمانڈر نے پوچھا کہ یہ
کون لوگ ہیں اور باہر کیا ہورہا ہے۔
یہ لڑکیاں ناچنے والی ہیں''۔ کمانڈر نے جواب دیا… ''اور ان کے ساتھ سازندے ہیں ،یہاں سے گزر رہے تھے۔ پانی پینے ''
کے لیے رکے تو میں نے انہیں بٹھا لیا۔ لڑکیاں اچھی لگیں ،میں نے انہیں کھانابھی کھالیا۔ یہ کہیں جارہے تھے ،میرے کہنے
پر رک گئے۔ آج رات انہیں یہیں رکھوں گا''۔
مجھے یہ سلسلہ اچھا نہیں لگا''۔ دوسرے کمانڈر نے کہا… ''سرحد پر آکر یہ عیاشی سپاہیوں کو خراب کرے گی''۔''
اس کے بغیر سپاہی زیادہ خراب ہورہے ہیں''۔ میزبان کمانڈر نے کہا… ''ایک ہمارے وہ ساتھی ہیں جو شہروں میں عیش''
کررہے ہیں ،ایک ہم ہیں جو معلوم نہیں کب سے یہاں بو گیر کتوں کی طرح آوارہ پھر رہے ہیں۔ کیا تمہیں سپاہیوں نے کبھی
''پریشان نہیں کیا کہ ان کی جگہ دوسرے دستے الئے جائیں؟
میری چوکی میں تو دو سپاہی آپس میں لڑ بھی چکے ہیں''۔ مہمان کمانڈر نے کہا… ''اب تو سپاہیوں کو معمولی سی ''
بات پر غصہ آجاتا ہے''۔
٭ ٭ ٭
سپاہی انہیں چیخ چیخ کر داد دے رہے تھے ،تین چار سپاہیوں نے لڑکیوں کی طرف پیسے پھینکے جو لڑکیوں نے یہ کہہ کر
واپس کردئیے کہ وہ وطن کے محافظوں سے پیسے نہیں لیں گی۔ ان کے سازندوں نے بھی سپاہیوں سے کہا کہ اگر وہ ناچ
گانے سے خوش ہوتے ہیں تو انہیں جب بھی بالیا جائے گا وہ بال اجرت آجایا کریں گے… ان تماشائیوں میں دو کمانڈر تھے۔
ان کے عہدے کوئی زیادہ اونچے تو نہیں تھے پھر بھی وہ ذمہ دار افراد تھے اور وہ دونوں اپنی ذمہ داریوں کو بھول چکے
تھے۔ انہوں نے یہ معلوم کرنے کی بھی کوشش نہ کی کہ ناچنے گانے والی یہ پارٹی آئی کہاں سے ہے اور جا کہاں رہی ہے
اور جو کچھ سازندوں نے اپنے متعلق بتایا ہے ،وہ صحیح بھی ہے یا نہیں۔ کمانڈروں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ تماشائیوں میں
مصر کے صحرائی لباس میں جو چند ایک آدمی بیٹھے ہیں وہ کون ہے اور کہاں سے آئے ہیں… اور ان کمانڈروں نے یہ بھی
نہ دیکھا کہ چوکی کے چار سپاہی گشتی پہرے سے جلدی واپس آگئے ہیں اور ان کی جگہ دوسرے چار سپاہی پہرے کے لیے
گئے ہی نہیں۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:12
قسط نمبر۔78جب خدا زمین پر اتر آیا
دوسرے چار سپاہی پہرے کے لیے گئے ہی نہیں۔ چوکی سے کچھ دور رات کی طرح سیاہ چہروں والے کم وبیش پچاس آدمی
ایک دوسرے کے پیچھے سوڈان کی طرف سے آرہے تھے۔ دو آدمی ان سے بہت آگے تھے۔ پیچھے والے تھوڑا سا چل کر رک
جاتے تھے۔ آگے والے دو آدمی اندھیرے میں ادھر ادھر دیکھتے ،رات کی آوازوں کو سننے کی کوشش کرتے اور گیڈروں کی طرح
بولتے ،پیچھے والے اس آواز پر آگے چل پڑتے۔ دور چوکی سے سازوں کے دھیمے دھیمے نغمے سرحد کی خاموش فضا میں
بکھر رہے تھے… آگے چٹانی عالقہ آگیا۔ سیاہ چہروں والے کالے کالے سائے چٹانوں میں غائب ہوگئے۔ ان کے پاس برچھیاں
تھیں ،تلواریں اور خنجر بھی تھے اور ہر ایک نے چار چار پانچ پانچ کمانیں اور تیروں کا وزنی خزانہ اٹھا رکھا تھا۔
ان کے استقبال کے لیے وہاں تین چار آدمی موجود تھے۔ ان میں سے کسی نے آنے والی پارٹی کے سردار سے ہنس کر کہا…
''لڑکیوں نے کام کردیا ہے''۔
ہاں!''… سردار نے کہا… ''ہم ان کے سازوں کے نغمے سنتے آئے ہیں۔ میں نے دس بارہ آدمی وہاں تماشائیوں کے بھیس''
میں بھیج دئیے تھے۔ ان میں سے ایک نے آکر اطالع دی تھی کہ محفل گرم ہوگئی ہے اور راستہ صاف ہے۔ گشتی سنتری
بھی ناچ گانے میں چلے گئے ہیں''۔
نیل سے بھی اچھی اطالع ملی ہے''… استقبال کرنے والوں میں سے ایک نے کہا… ''ان لوگوں نے لڑکیوں سے صحیح ''
کام لیا ہے۔ دو سپاہیوں کو جوکل رات اس طرف پہرے پر ہوں گے ،پھانس لیا گیا ہے۔ میں نے اطالع بھیج دی ہے۔ کل رات
کم از کم تین بڑی کشتیاں آجائیں گی''۔
وہ آگے چل پڑے۔ چٹانیں اونچی ہوتی گئیں۔ آگے پہاڑیاں آگئیں۔ سردار رک گیا اور اس نے ساری پارٹی کو بھی روک دیا۔ اس
نے استقبال کرنے والوں سے سرگوشی میں کہا… ''یہ نہ بھولنا کہ یہ سب حبشی ہیں ،ان کا مذہب عجیب وغریب ہے اور
ان کی عادتیں اور رسومات تمہیں حیران کردیں گی۔ احتیاط کرنی ہے کہ یہ جیسی کیسی مضحکہ خیز حرکت کریں اسے
احترام کی نگاہ سے دیکھنا۔ ہم انہیں مذہب کے نام پر الئے ہیں۔ انہیں جھانسہ دیا ہے کہ انہیں اس جگہ لے جارہے ہیں
جہاں خدا رہتا ہے۔ وہ خدا جو ریت کو پیاسا رکھتا ،سورج کو آگ دیتا اور آسمان سے بجلی اور پانی برساتا ہے۔ ایک مشکل
پیش آئے گی۔ یہ لوگ جنگ سے پہلے انسانی قربانی دینے کے قائل ہیں''۔
یہ ان کا سردار بتائے گا کہ قربانی مرد کی دینی ہے یا عورت کی یا ایک مرد اور ایک عورت کی۔ اگر ہم نے ان کی یہ
رسم پوری کردی تو پھر انہیں لڑائی میں دیکھنا ،قاہرہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ سلطان صالح الدین ایوبی کی یہ فوج
ان کے سامنے ایک دن سے زیادہ نہ ٹھہر سکے گی۔
سردار نے سب سے کہا… ''سجدے میں گر پڑو ،تم خدا کے گھر میں آگئے ہو''… سب سجدے میں گر پڑے۔ سردار کے
کہنے پر اٹھے اور سردار کے پیچھے چل پڑے۔
یہ سوڈانی حبشی تھے جنہیں مصر میں داخل کیا جارہا تھا۔ انہیں چھپانے کے لیے اس پہاڑی خطے کا انتخاب کیا گیا تھا۔
فرعونوں کے وقتوں کی غار جو دراصل زمین دوز عمارتیں تھیں ،بہت بڑی فوج کو گھوڑوں اور اونٹوں سمیت چھپا سکتی تھیں۔
سوڈان میں خونخوار حبشیوں کو ان کے مذہب اور توہم پرستی کے ذریعے اکٹھا کرکے فوجوں کے خالف لڑنے کی ٹریننگ دی
جارہی تھی۔ لڑنے کے تو وہ ماہر تھے۔ ان کے قبیلوں کی جنگیں ہوتی رہتی تھیں۔ تیر اندازی اور نشانے پر برچھی پھینکنے
کے وہ ماہر تھے۔ سوڈان کے حکمرانوں نے صلیبیوں سے معاہدہ کرکے بہت سے صلیبی فوجی افسروں کو بال لیا تھا۔ وہ ان
حبشیوں کو منظم اور باقاعدہ کمانڈ کے تحت لڑنے کی ٹریننگ دے رہے تھے ،اس سے پہلے سوڈانی فوج دوبار شکست کھا
چکی تھی۔ تیسری جنگ اس وقت ہوئی تھی جب سلطان صالح الدین ایوبی کے بھائی تقی الدین نے سوڈان پر حملہ کیا تھا۔
سوڈانیوں نے یہ حملہ ناکام کرکے تقی الدین کی فوج کو بری طرح بکھیر دیا تھا۔ تقی الدین سلطان صالح الدین ایوبی کی مدد
سے اپنی بچی کھچی فوج واپس لے آیا تھا۔ اس میں سوڈانیوں کی ناکامی یہ تھی کہ انہوں نے تقی الدین کا تعاقب نہ کیا
اور مصر پر حملہ نہ کیا۔ اگر سوڈانی تعاقب کرتے تو تقی الدین کی فوج اتنی تھکی ہاری تھی کہ مصر کو سوڈانیوں سے بچا
نہ سکتی۔
ان ناکامیوں کو دیکھتے ہوئے صلیبیوں نے سلطان صالح الدین ایوبی کا طریقہ جنگ آزمانے کی سکیم بنائی تھی۔ انہوں نے دیکھ
لیا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کم سے کم نفری سے زیادہ سے زیادہ فوج پر شب خون قسم کا حملہ کرتا اور جم کر
لڑنے کے بجائے اپنے دستوں کو گھما پھرا کرلڑاتا اور بڑی سے بڑی گٹھی ہوئی فوج کو بکھیر دیتا ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم
تھا کہ اس قسم کے حملے کے لیے بڑی ہی سخت ٹریننگ اور خاص قسم کے سپاہیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام قسم کی
فوج صرف ہجوم کی صورت میں لڑ سکتی ہے چنانچہ انہوں نے حبشی قبائل میں جنگی جنون پیدا کرکے تھوڑی سی فوج تیار
کرلی تھی اور انہیں شب خون کی ٹریننگ دی تھی۔ وہ قاہرہ والوں کو بے خبری میں دبوچ لینا چاہتے تھے۔ اب سلطان صالح
الدین ایوبی مصر میں نہیں تھا۔ انہیں یقین تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کی غیر حاضری میں وہ میدان مار لیں گے۔
انہیں اس حملے کی کمان کے لیے ایک ایسے جرنیل کی ضرورت تھی جو مصر کی فوج کا ہوتا کہ وقت اور قوت کم سے کم
صرف ہو اور حملہ صحیح ٹھکانوں پر ہو۔ ان کی یہ ضرورت سلطان صالح الدین ایوبی کے ساالر القند نے پوری کردی تھی۔
سوڈان کے حبشیوں کی فوج کو چھپانے کے انتظامات القند نے ہی کیے تھے۔ اس نے مصری فوج کے چار پانچ جونیئر کمانڈر
بھی اپنے ساتھ مال لیے تھے۔ جاسوسوں کے ذریعے اس کا رابطہ سوڈان کے ساتھ تھا۔ اب یہ فوج مصر میں داخل ہورہی
تھی۔
رات گئے تک چوکی پر ناچ گانا ہوتا رہا۔ دوسری چوکی کا کمانڈر وہاں سے اپنی چوکی کے لیے روانہ ہونے لگا تو اس نے
اس چوکی کے کمانڈر سے کہا کہ وہ ان لوگوں سے کہے کہ کل رات اس کی چوکی پر آئیں۔ سازندے مان گئے۔ انہیں اورجانا
ہی کہاں تھا۔ وہ تو سوڈانیوں بلکہ القند کے بھیجے ہوئے لوگ تھے۔ یہ تو انہوں نے جھوٹ بوال تھا کہ وہ کسی کے بالوے پر
اس کے گائوں جارہے تھے۔ ان کے ذمے یہی کام تھا کہ ان دو چوکیوں پر پانی پینے کے بہانے رکیں اور ایسی باتیں کریں کہ
چوکیوں کے کمانڈر ان کے جال میں آجائیں۔ ناچنے والی لڑکیاں دل کش تھیں ،کمانڈر ان کے جال میں آگیا۔ اس نے دریا والی
چوکی کے کمانڈر کو بھی بال لیا… اور پچاس حبشی سرحد پار کرکے پہاڑیوں کے پیٹ میں غائب ہوگئے۔
اگلی رات دونوں رقاصائیں دریا والی چوکی پر جا پہنچیں اور وہاں بھی رونق پیدا کی گئی جو اس چوکی پر کی گئی تھی۔
رات کے دوسرے پہر دریا کے ساتھ ساتھ گشت کرنے والے دو سپاہی واپس آگئے۔ ان کی جگہ دوسرے دو سپاہی روانہ ہونے
لگے۔ انہیں ساتھیوں نے کہا کہ وہ یہ رونق چھوڑ کر نہ جائیں۔ کمانڈر اس وقت لڑکیوں اور ان کے رقص میں مست ہے لیکن
وہ دونوں یہ کہہ کر چل پڑے کہ وہ اپنے فرض میں کوتاہی نہیں کرنا چاہتے۔ یہ وہی دوسپاہی تھے جنہیں دو لڑکیوں نے
محبت کا اظہار کرکے کہا تھا کہ وہ اپنے بوڑھے خاوندوں سے نجات حاصل کرکے ان کے ساتھ جانا چاہتی ہیں۔ انہیں فرض کا
اتنا خیال نہیں تھا جتنا ان لڑکیوں کے پاس پہنچنے کا اشتیاق تھا۔ لڑکیوں نے انہیں کہا تھا کہ وہ انہیں ملیں گی۔
اس سے پہلے وہ آہستہ آہستہ چلتے ،رکتے اور چلتے تھے مگر اس رات چوکی سے ذرا دور ہوتے ہی انہوں نے گھوڑے دوڑا
دئیے۔ ایک جگہ گھوڑے روک کر اترے اور آہستہ آہستہ چلتے الگ الگ ہوگئے۔ دونوں لڑکیوں مختلف جگہوں پر ان کا انتظار
کررہی تھیں۔ وہ دونوں کو دریا سے دور چٹانوں میں لے گئیں۔ دونوں نے ان پر اپنے حسن وجوانی اور محبت کا طلسم طاری
کردیا اورخاوندوں کے قتل کی سکیمیں بنتی رہیں۔ دونوں نے کہا کہ وہ اپنے خاوندوں کو شراب میں خواب آور سفوف پال کر
سال آئی ہیں۔ دونوں سپاہی ایک چٹان کے اس طرف دوسرا کہیں اور ،صرف فرض کو ہی نہیں گردوبیش کو اور دنیا کو بھی
فراموش کیے بیٹھے تھے۔
اس جگہ سے تھوڑی دور آگے جہاں ان سپاہیوں نے تاجروں کے قافلے کو بیٹھے دیکھا تھا۔ دریا کے کنارے چار سائے ادھر ادھر
حرکت کررہے تھے۔ دریا کی ہلکی ہلکی لہریں جلترنگ بجا رہی تھیں۔ یہ آدمی پانی کی سطح پر تاریکی میں دور دیکھنے کی
کوشش کررہے تھے۔ وہ بے چین ہوئے جارہے تھے۔ ایک نے کہا… ''انہیں اس وقت تک آجانا چاہیے تھا''… دوسرے نے کہا…
''انہیں اطالع تو دے دی گئی تھی''۔ ایک نے آنکھیں سکیڑ کر کہا… ''وہ بادبان معلوم ہوتے ہیں''… اس نے ایک دیا
جال کر آہستہ آہستہ دائیں بائیں ہالنا شروع کردیا۔ دریا میں دور دو دیئے جلتے نظر آئے اور بجھ گئے۔
تھوڑی دیر بعد ایک بادبانی کشتی کنارے کے ساتھ آلگی۔ کنارے پر کھڑے ایک آدمی نے کہا… ''کسی کی اونچی آواز نہ
نکلے''… مکمل خاموشی سے سیاہ کالے حبشی کشتی سے کنارے پر کودنے لگے۔ اس کے پہلو میں ایک اور کشتی
آرکی۔ اس میں سے بھی حبشی اترے۔ یہ بہت بڑی کشتیاں تھیں۔ ان میں سے کم وبیش دو سو حبشی اترے۔ پھر ان میں
سے سامان اترنے لگا۔ یہ سب جنگی سامان تھا۔ جونہی کشتیاں خالی ہوئیں مالحوں سے کہا گیا کہ بہت تیزی سے کشتیاں
واپس لے جائیں۔ مالحوں نے بادبانوں کے رسے کھینچے ،رخ بدلے اور کشتیاں ساحل سے ہٹ کر اندھیرے میں غائب ہوگئیں…
اور حبشیوں کی یہ کھیپ بھی چٹانوں میں سے ہوتی ہوئی پہاڑیوں میں گئی اور غائب ہوگئی۔
٭ ٭ ٭
یہ دونوں سپاہی واپس آئے تو چوکی پر ناچ گانے کی محفل ختم ہوگئی تھی۔ سپاہی اپنے اپنے خیموں کو جارہے تھے۔ ناچنے
گانے والوں کے لیے کمانڈر نے الگ خیمہ کھڑا کردیا تھا۔ اسے ایک لڑکی کچھ زیادہ ہی اچھی لگی۔ وہ چہرے مہرے سے
معصوم سی لگتی تھی۔ کمانڈر نے یہ سوچ کر کہ یہ پیشہ ور لوگ ہیں۔ سازندوں سے کہا کہ اس لڑکی کو وہ اس کے خیمے
میں بھیج دیں۔ یہ لوگ دراصل جاسوس اور تخریب کار تھے۔ ان کا مشن ہی یہی تھا کہ ان دو چوکیوں کو اپنے جال میں
الجھائے رکھیں اور ان کے کمانڈروں کو اپنے ساتھ رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو اس کی خواہش فورا ً پوری کردی گئی۔
رقاصہ اس کے ساتھ خیمے میں چلی گئی۔
کمانڈر ادھیڑ عمر تھا ور لڑکی نوجوان۔ خیمے میں جاکر لڑکی کی شوخی ختم ہوگئی۔ وہ تو ناچنے کودنے والی اور بڑی ہی
پیاری مسکراہٹ سے تماشائیوں کا دل بہالنے والی رقاصہ تھی۔ باہر کی مشعلیں بجھ چکی تھیں۔ خیمے میں دیا جل رہا تھا۔
لڑکی ایک طرف بیٹھ کر کمانڈر کو گہری نظروں سے دیکھنے لگی۔
میں نے کبھی شراب نہیں پی''… کمانڈر نے کہا۔''
میرے باپ نے بھی کبھی شراب نہیں پی تھی''… رقاصہ نے کہا… ''تم نے شراب کا نام کیوں لیا ہے؟ میں نے تو نہیں''
کہا تھا کہ شراب پیو۔ تم شاید یہ کہنا چاہتے ہو کہ ہمارے پاس شراب بھی ہوگی اور میں الکر تمہیں پالئوں گی''۔
کہتے ہیں شراب کے بغیر عورت اور عورت کے بغیر شراب بے مزہ اور پھیکی ہوتی ہے''… کمانڈر نے مسکرا کر کہا… ''
''میں شراب کے ذائقے سے واقف نہیں اور میں غیرعورت کی چاشنی سے بھی آشنا نہیں''۔
پھر تم اناڑی گناہ گار ہو''… رقاصہ نے سنجیدگی سے کہا… ''میں تم سے کوئی نقد اجرت نہیں لوں گی۔ میری ایک بات''
مان لو تو میں اسی کو ساری رات تمہارے ساتھ گزارنے کی اجرت سمجھوں گی… بات یہ ہے کہ گناہ میں وہ چاشنی نہیں
جو گناہ نہ کرنے میں ہے۔ تم مرد ہو۔ اس تنہائی میں جب ایک جوان لڑکی تمہارے پاس ہے تمہیں میری یہ بات عجیب
لگے گی۔ تم میری بات مانو گے نہیں۔ ذرا غور کرو۔ تمہارا چہرہ بتا رہا ہے کہ تم نے آج پہلی بار گناہ کا ارادہ کیا ہے۔
رات اتنی سرد ہے مگر تمہارے ماتھے پر مجھے پسینے کے قطرے سے نظر آرہے ہیں''۔
تم ٹھیک کہہ رہی ہو''… ادھیڑ عمر کمانڈر نے کہا… ''ہمیں جب فوجی تربیت دی گئی تھی تو گناہوں سے بچنے کے ''
طریقے بھی بتائے گئے تھے۔ جنگی اور جسمانی تربیت کے ساتھ روحانی اور اخالقی تربیت بھی شامل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے
کہ سلطان صالح الدین ایوبی ایک سو سپاہیوں سے ایک ہزار صلیبیوں کو خون میں نہال دیتا ہے''۔
لیکن ایک کمزور سی لڑکی نے تم سے ہتھیار ڈلوا لیے ہیں''… رقاصہ نے کہا… ''تم اتنی لمبی روحانی اور اخالقی تربیت''
سے دستبردار ہوگئے ہو''۔
کمانڈر پریشان ہوگیا۔ اس نے بے اختیار سا ہوکر کہا… ''مجھے بالکل امید نہیں تھی کہ تم یہاں آکر اس قسم کی باتیں
کروگی۔ میں نے سوچا تھا کہ تنہائی میں آکر تم شوخ ادائوں اور نازو انداز سے مجھے دیوانہ بنا دو گی۔ تمہارے ہونٹوں کی وہ
مسکراہٹ کہاں ہے جس نے مجھے مجبور کردیا تھا کہ تمہارے آدمیوں سے تمہاری بھیک مانگوں؟ میں تمہارے عوض عربی
نسل کے دو گھوڑے دینے کے لیے تیار ہوں''۔
اپنی تلوار بھی دو گے؟''… لڑکی نے گردن کو خم دے کر پوچھا… ''اپنی برچھی ،اپنی ڈھال اور اپنا خنجر بھی دے دو ''
''گے؟
ہاں!''… لیکن و ہ چپ ہوگیا۔ بے چینی کے عالم میں بوال… ''نہیں۔ سپاہی اپنے ہتھیار سے دستبردار نہیں ہوا کرتا''…''
وہ خیمے میں تیزتیز قدم اٹھا کر ذرا سی دیر ٹہال اور اچانک غصے میں پوچھا… ''ایک رقاصہ کے منہ سے یہ باتیں مجھے
''اچھی نہیں لگ رہیں۔ کیا تم مجھ سے بچنا چاہتی ہو؟ کیا تم اس کوشش میں ہو کہ میں تمہارے جسم کو ہاتھ نہ لگائوں؟
ہاں!''… رقاصہ نے کہا… ''میں تم سے اپنا جسم بچانا چاہتی ہوں''۔''
''کیا تم اپنے جسم کو پاک سمجھتی ہو؟''
نہیں''… رقاصہ نے کہا… ''میں اپنے جسم کو ناپاک سمجھتی ہوں ،میں تمہارے جسم کو ناپاک نہیں کرنا چاہتی''۔''
کمانڈر کی عقل میں یہ بات نہ پڑی۔ وہ احمقوں کی طرح منہ کھولے ہوئے رقاصہ کو دیکھنے لگا۔ رقاصہ نے کہا… ''کوئی
بیٹی اپنے باپ کے جسم کو ناپاک نہیں کرنا چاہتی''۔
اوہ!''… کمانڈر نے آہ بھر کر کہا… ''میں بوڑھا ہوں ،تم جوان ہو''… و ہ بیٹھ گیا اور اس نے سرجھکا لیا۔''
رقاصہ نے آگے بڑھ کر اس کے گال ہاتھوں میں تھام کر اس کا سر اوپر اٹھایا اور کہا… ''اتنا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں،
میں کہیں بھاگ نہیں چلی۔ تمہیں کوئی دھوکہ نہیں دے رہی۔ اگر تم صرف مرد کے روپ میں رہنا پسند کرتے ہو تو میں
رقاصہ اور فاحشہ بنی رہوں گی۔ پھر میں کہوں گی کہ ایک اور مرد سے واسطہ پڑا تھا جس پر خدا نے لعنت بھیجی تھی۔
میں تمہیں باپ کے روپ میں دیکھ رہی ہوں۔ میری ایک دو باتیں سن لو پھر جو جی میں آئے کرنا۔ میں پتھر بن جائوں
''گی۔ تم اس کے ساتھ کھیلتے رہنا… تمہاری بیٹی ہے؟
ایک ہے''… کمانڈر نے جواب دیا۔''
''اس کی عمر کتنی ہے؟''
بارہ سال''۔''
اگر تم مرجائو اور تمہاری بیوی غربت سے تنگ آکر تمہاری بیٹی کو ناچنے گانے والوں کے ہاتھ فروخت کردے تو تمہاری ''
''روح کا کیا حشر ہوگا؟… ان صحرائوں میں اور ان پہاڑوں میں بھٹکتی اور چیختی نہیں رہے گی؟
کمانڈر پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھنے لگا۔ اس کے ماتھے پر پسینے کے کئی اور قطرے پھوٹ آئے۔ رقاصہ نے اس کی آنکھوں
کو گرفتار کرلیا۔
…ذرا تصور میں الئو''… رقاصہ نے کہا''
تم مرگئے ہو اور تمہاری بیٹی ایک گناہ گار مرد کے ساتھ خیمے میں بیٹھی ہے اور وہ مرد اسے کہہ رہا ہے کہ شراب ''
الئو ،شراب کے بغیر عورت بے مزہ اور پھیکی ہوتی ہے''۔
کمانڈر کے ہونٹ تھرکے ،اس نے اچانک گرج کر کہا… ''نکل جائو یہاں سے ،فاحشہ ،بدکار!''۔
لڑکی نے آہ بھری اور کہا… ''اگر میرا باپ زندہ ہوتا تو وہ مجھے تمہارے خیمے میں دیکھ کر مجھے بھی اور تمہیں بھی
قتل کردیتا''… اس کے آنسو نکل آئے۔ کمانڈر اٹھ کر خیمے میں ٹہلنے لگا تھا۔ رقاصہ نے اس کی ذہنی کیفیت اور غصے کو
نظر انداز کرتے ہوئے کہا… ''میں تمہیں بوڑھا جان کر تم سے نفرت نہیں کررہی۔ میں نے تو ایسے ضعیف العمر آدمیوں کے
خیموں میں بھی راتیں گزاری ہیں جنہیں عمر نے اندر سے کھوکھال کردیا تھا۔ وہ دولت سے اپنی الشوں میں جان ڈالنا چاہتے
تھے… میں نے تمہیں اتنا بوڑھا نہیں سمجھا۔ بات اتنی سی ہے کہ تمہاری شکل وصورت میرے باپ سے اتنی زیادہ ملتی ہے
کہ میں رقاصہ سے بیٹی بن گئی اور میں نے جو باتیں تمہیں کہی ہیں یہ میرے دماغ میں پہلے کبھی نہیں آئی تھیں۔ میں
صرف ناچنا اور انگلیوں پر نچانا جانتی ہوں۔ تم ذرا سوچو تو سہی ،مجھ جیسی فاحشہ رقاصہ کے دماغ میں اتنی باتیں اور
''ایسی باتیں کیوں آگئی ہیں جنہوں نے صرف تمہیں نہیں مجھے بھی حیران کردیا ہے؟
کمانڈر نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کا غصہ بجھ گیا تھا۔ رقاصہ نے کہا… ''مجھے اپنے ماں باپ کا چہرہ اور جسم اچھی
طرح یاد ہے۔ مجھے اس کے جسم کی بو بھی یاد ہے۔ تمہاری بیٹی کی عمر بارہ سال ہے میری عمر نو دس سال تھی۔
جب وہ مرگیا تھا۔ وہ میرے ساتھ بہت پیار کرتا تھا۔ وہ مصر کی فوج میں سپاہی تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی کے آنے سے
پہلے ہی مر گیا تھا۔ میری ماں جوان تھی اور بہت غریب۔ اس نے مجھے ایک آدمی کے حوالے کردیا۔ اس نے میرے سامنے
رقم لی تھی اور اس آدمی نے میری ماں سے کہا تھا کہ اس کی شادی ایک بڑے اچھے آدمی سے کرا دے گا۔ میں رو پڑی
تو ماں نے مجھے کہا تھا کہ یہ تمہارا چچا ہے اور یہ تمہیں تمہارے باپ کے پاس لے جارہا ہے… میں بارہ سال سے اپنے
باپ کو ڈھونڈ رہی ہوں۔ انہی وعدوں پر مجھے ناچ سکھایا گیا کہ مجھے باپ کے پاس لے جائیں گے۔ وہ تو ذرا بڑی ہوئی تو
میں نے حقیقت کو قبول کیا کہ میرا باپ تو مرچکا ہے۔ اس وقت تک رقص میری عادت بن چکا تھا۔ مجھے کسی نے مارا
پیٹا نہیں ،میں نے باپ کے نام پر رقص کی تربیت لی تھی۔ میرے استاد اور میرے آقا میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے
تھے۔ بہت اچھے اچھے کھانے کھالتے تھے۔ پھر میں جوان ہوگئی تو مجھے اپنی قیمت کا اندازہ ہوا۔ اس قیمت نے میرے
جذبات مار دئیے اور میں خوبصورت پتھر بن گئی مگر تمہیں دیکھ کر مرے ہوئے جذبات جاگ اٹھے ہیں''۔
اس کے آنسو نکل آئے۔ آہ لے کر کہنے لگی… ''یوں معلوم ہوتا ہے جیسے میرے باپ کی روح اسی خیمے کے اردگرد گھوم
پھر رہی ہے۔ اس خیمے میں آنے سے پہلے میں نے ایسا کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ کبھی یوں لگتا ہے ،جیسے میرا وجود
میرے باپ کی روح ہے جو بھٹکتی پھر رہی ہے''۔
تم اگر قیمتی رقاصہ تھی تو ان صحرائوں میں کیا لینے آئی ہو؟'' کمانڈر نے پوچھا۔''
میں اجرت پر آئی ہوں''۔ رقاصہ نے جواب دیا… ''میں ان لوگوں کو نہیں جانتی۔ دوسری رقاصہ کو بھی میں اس سے ''
پہلے نہیں جانتی تھی۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ سرحد پر جانا ہے اور وہاں جو چوکی والے خواہش کریں ،انہیں بال اجرت ناچ
گانے سے خوش کرنا ہے۔ مجھے اجرت کی اتنی خوشی نہیں تھی جتنی اس کی کہ مصر کی عزت کی حفاظت کرنے والے
مجاہدوں کا دل بہالنے جارہی ہوں۔ میرا باپ بھی سپاہی تھا۔ میں دل کو دھوکہ دیتی ہوں کہ میرے رقص سے میرے مجاہد
باپ کی روح بھی بہل جاتی ہوگی… میں ایک دھوکہ ہوں۔ اپنے لیے بھی اور دوسرے کے لیے بھی لیکن میں وطن کے
مجاہدوں کو ناپاک نہیں کرسکتی۔ پچھلی چوکی والے کمانڈر نے مجھے اپنے خیمے میں بالیا تھا۔ میں نے انکار کردیا تھا۔
تمہارے پاس صرف اس لیے آگئی ہوں کہ تمہارے چہرے مہرے اور قد کاٹھ میں مجھے اپنا باپ نظر آیا تھا''۔
رقاصہ اس کے سامنے دو زانو بیٹھ گئی۔ کمانڈر کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر آنکھوں سے لگایا پھر چوما۔ کمانڈر نے دوسرا
''ہاتھ اس کے سر پر رکھ دیا اور پوچھا… ''تمہارا نام کیا ہے؟
میرے آقا مجھے برق کہتے ہیں''۔ رقاصہ نے جواب دیا… ''باپ مجھے زہرہ کہا کرتا تھا''۔''
جائو زہرہ!'' کمانڈر نے ایسے پیار سے کہا جس میں شفقت تھی۔ ''اپنے خیمے میں چلی جائو''۔''
٭ ٭ ٭
رات گزرتی جارہی تھی۔ سازندوں میں سے دو اپنے خیموں میں جاگ رہے تھے۔ دوسری رقاصہ اور باقی سازندے گہری نیند
سوئے ہوئے تھے۔ جاگنے والوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا… ''ہمارا طریقہ صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ ہم ان لڑکیوں کو
یہ کہہ کر ساتھ لے آئے ہیں کہ ناچ گانے سے فوجیوں کا دل بہالنے جارہے ہیں ،ضرورت یہ تھی کہ ان لڑکیوں کو بتا دیتے
کہ ہمارا اصل مقصد کیا ہے''۔
کسی رقاصہ پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا''… دوسرے نے کہا… ''یہ لڑکی جو کمانڈر کے خیمے میں ہے ،جذبات میں آکر ''
الگ تھلگ انعام لے کر اسے بتا سکتی ہے کہ ہم سرحدی چوکیوں کے لیے دھوکہ اور فریب بن کر آئے ہیں۔ ہمیں اپنا راز
کسی رقاصہ کونہیں دینا چاہیے۔ ان دونوں کو اپنی اجرت سے غرض ہے۔ ہم انہیں منہ مانگی اجرت دے چکے ہیں۔ہمارا کام
ہوگیا ہے''۔
اگر ہم نے اسے بتادیا ہوتا کہ ہمارا مقصد کیا ہے تو یہ لڑکی اس کمانڈر کو اچھی طرح اندھا کرلیتی اور یہ بھی ممکن تھا''
کہ وہ اسے اس حد تک پھانس لیتی کہ اسی کی مدد سے ہم حبشیوں کو اندر لے آتے''۔
ہمارے استاد ہم سے زیادہ عقل رکھتے ہیں۔ یہ لڑکیاں ہمارے ہتھیار ہیں۔ ہتھیاروں کو کبھی کسی نے ہمراز نہیں بنایا''۔''
کمانڈر کے خیمے میں یہ حالت تھی کہ کمانڈر اس اطمینان کے ساتھ سوگیا تھا کہ رقاصہ نے اسے گناہ سے صاف بچا لیا اور
اس کے سینے میں باپ کو بیدار کردیا تھا۔ رقاصہ اسے بہت دیر دیکھتی رہی۔ کمانڈر کا چہرہ جب رقاصہ کے آنسوئوں میں
چھپ گیا تو وہ خیمے سے نکل گئی۔ اپنے خیمے میں گئی اور سو گئی۔ رات کی ایک ہی ساعت رہتی تھی جو گزر گئی۔
ناچنے گانے والے جاگے تو سورج اوپر آگیا تھا۔ لڑکیوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ انہیں کہاں جانا ہے۔ سازندے انہیں اپنے ساتھ
لے جانے لگے تو کمانڈر باہر کھڑا تھا۔ زہرہ دوڑ کر اس تک گئی اور کہا… ''میرے سر پر ہاتھ رکھو''۔ کمانڈر نے اس کے
سر پر ہاتھ رکھا تو زہرہ نے اسی کا دوسرا ہاتھ پکڑ کر آنکھوں سے لگایا اور وہ بھیگی آنکھوں سے اس سے رخصت ہوئی۔
وہ دریا کی طرف چلے گئے۔ کہیں سے دو شتر سوار آئے۔ وہ اونٹوں سے اترے۔ اونٹوں کو بٹھایا۔ دونوں لڑکیوں کو سوار کیا اور
چل پڑے۔ یہ شتر سوار اسی گروہ کے افراد تھے جو قریب ہی کہیں ان کے انتظار میں چھپے ہوئے تھے۔ یہ گروہ اس جگہ
پہنچا جہاں تاجروں کا قافلہ چار لڑکیوں کے ساتھ خیمہ زن تھا۔ یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کو یوں ملے جیسے اجنبی ہوں۔
لڑکیاں ناچنے والی لڑکیوں کو مردوں سے الگ دریا کے کنارے لے گئیں۔ ان کا مقصد یہی تھا کہ انہیں مردوں سے الگ کردیا
جائے۔ چاروں لڑکیوں نے زہرہ اور اس کی ساتھی رقاصہ کو اپنے متعلق بتایا کہ وہ ان آدمیوں کو بہو بیٹیاں ہیں اور سیر کے
لیے ان کے ساتھ آئی ہیں۔
ادھر مردوں کی منڈلی میں اصل مشن پر گفتگو ہورہی تھی۔ سازندوں نے اپنی دو راتوں کی کارگزاری سنائی۔ دوسرے گروہ نے
انہیں بتایا کہ ان کے دو راتوں کے ناچ گانے سے کم وبیش ایک سو حبشی اندر آگئے ہیں اور ان لڑکیوں نے دو سپاہیوں کے
ساتھ جو کھیل کھیال ہے اس سے دو سو سے زائد حبشی آگئے ہیں… اپنی اپنی کارگزاری سنانے کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ
کیا کہ ناچ گانے سے حبشیوں کی زیادہ تعداد اندر نہیں آسکتی۔ دریا کا راستہ زیادہ بہتر ہے۔ کشتیوں میں زیادہ آدمی اندر
آسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے طے کیا کہ لڑکیاں ان دو سپاہیوں کے عالوہ دو یا چار اور گشتی سنتریوں کے ساتھ
یہی کھیل کھیلیں تاکہ ہر رات کشتیاں آسکیں۔ یہ فیصلہ بھی ہوا کہ زہرہ اور اس کی ساتھی رقاصہ کو یہیں کہیں قریب رکھا
جائے لیکن اس راز میں شامل نہ کیا جائے۔
سازندوں نے بعد میں زہرہ اور اس کی ساتھی سے کہا کہ ان کا کام ختم ہوچکا ہے۔ یہ جگہ بہت خوبصورت ہے اس لیے
چند دن یہیں فارغ گزارے جائیں۔ انہوں نے لڑکیوں کو ایسے انداز سے اکسایا کہ وہ رک گئیں۔ دوسرے گروہ کی لڑکیوں نے
انہیں اپنے ساتھ بے تکلف کرلیا لیکن ان کے قیام کی جگہ ذرا دور بنائی… اس رات زہرہ سو نہ سکی۔ اسے کمانڈر یاد آرہا
تھا۔ اس کی شخصیت زہرہ کے دل میں اتر گئی تھی۔ ایک تو اس لیے کہ کمانڈر میں اسے اپنے باپ کی تصویر نظر آرہی
تھی اور دوسرے اس لیے کہ یہ پہال مرد تھا جس نے اسے کھلونا سمجھنے کے بجائے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا اور
تیسرے اس لیے کہ کمانڈر نے اسے زہرہ کہا برق نہیں کہا تھا۔
اس کی ساتھی رقاصہ سو گئی تھی اور اس کے گروہ کے سازندے بھی سو گئے تھے۔ وہ اٹھی اور خیمے سے باہر نکل گئی۔
اس نے راستہ دیکھا ہوا تھا۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی چوکی کی طرف چل پڑی۔ وہ اتنی تیز اورا تنا زیادہ چلنے کی عادی نہیں
تھی لیکن اس کے جذبات اسے قوت دے رہے تھے۔ وہ چوکی تک پہنچ گئی۔ کمانڈر کے خیمے سے واقف تھی۔ وہ خیمے
میں چلی گئی۔ کمانڈر گہری نیند سویا ہوا تھا… اس کی آنکھ کھل گئی۔ اندھیرے میں اس نے وہ ہاتھ پکڑ لیا جو کوئی اس
''کے منہ پر پھیر رہا تھا۔ ہاتھ چھوٹا سا تھا جو مردانہ نہیں ہوسکتا تھا۔ اس نے ہڑبڑا کر پوچھا… ''کون ہو؟
زہرہ''۔''
وہ اٹھ بیٹھا۔ زہرہ نے کہا… ''تمہیں دیکھنے آئی ہوں… سو جائو۔ میں جارہی ہوں''۔
کمانڈر نے دیا جالیا اور پوچھا کہ وہ کہاں سے آئی ہے۔ زہرہ نے بتایا تو کمانڈر باہر نکال۔ دو گھوڑے تیار کیے اور زہرہ کو
باہر جا کر ایک گھوڑے پر اسے سوار کرایا ،دوسرے پر خود سوار ہوا اورگھوڑے چل پڑے۔ راستے میں زہرہ جذباتی باتیں کرتی
رہی اور کمانڈر شفقت اور پیار سے سنتا رہا۔ اپنے ٹھکانے سے کچھ دور ہی تھے کہ زہرہ نے اسے روک کر واپس چلے جانے
کو کہا۔کمانڈر نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور واپس آگیا۔
زہرہ جب اپنے ٹھکانے پر پہنچی تو اس کے ساتھ کا ایک آدمی جاگ رہا تھا۔ اس نے زہرہ سے پوچھا کہ وہ کہاں گئی تھی۔
زہرہ نے بتایا کہ وہ ویسے ہی گھومنے پھرنے نکل گئی تھی۔ اس آدمی نے کریدنا شروع کردیا۔ اسے شک تھا ،زہرہ نہیں بتانا
چاہتی تھی کہ وہ کہاں گئی تھی۔
تم ہماری اجازت کے بغیر کہیں نہیں جاسکتی''۔ اس آدمی نے حکم دیا۔''
میں تمہاری زرخرید نہیں ہوں''۔ زہرہ نے کہا… ''میں نے جو اجرت لی تھی اس کے عوض کام پورا کرچکی ہوں۔ میں ''
کسی کے حکم کی پابند نہیں''۔
تم اپنے مالکوں کے پاس شاید زندہ نہیں پہنچنا چاہتی''۔ اس آدمی نے کہا… ''اب ہم سے پوچھے بغیر کہیں جاکے ''
دیکھو'' ۔دونوں سپاہی اپنی گشت کے دوران دریا کے کنارے جاتے رہے۔ دونوں لڑکیاں انہیں الگ الگ لے جاتیں اور اس دوران
حبشیوں سے لدی ہوئی دوبادبانی کشتیاں تاریکی میں کنارے آلگتیں اور حبشیوں کو پہاڑیوں میں اگل کر تاریکی میں غائب
ہوجاتیں۔ ان چار لڑکیوں نے دو اور سپاہیوں کو ''بوڑھے خاوندوں کی نوجوان بیویاں'' بن کر اور ان کے ساتھ بھاگ جانے کا
جھانسہ دے کر اپنے جال میں پھانس لیا تھا۔پہاڑی خطے میں اتنے زیادہ حبشی جمع ہوچکے تھے جو رات کے وقت سرحدی
چوکیوں پر حملہ کرکے وہاں کی نفری کو سوتے میں آسانی سے ختم کرسکتے تھے لیکن ان کے کمانڈروں نے عقل کی بات
سوچی تھی۔ سرحدی چوکیوں پر حملے کی خبر قاہرہ پہنچ سکتی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ قاہرہ سے فوج آجاتی اور
صلیبیوں کی یہ سکیم تباہ ہوجاتی کہ قاہرہ پر اچانک اور بے خبری میں حملہ کریں گے۔
پہاڑیوں میں حبشیوں کی تعداد تیزی سے بڑھتی جارہی تھی اور سوڈان میں صلیبی مشیروں نے وہ صلیبی کمانڈر جنہیں قاہرہ
پر حملہ کرنا تھا مقرر کردئیے۔ انہیں چند دنوں بعد مصر کی سرحد میں داخل ہوکر ان پہاڑیوںمیں آنا اور حملے کی تیاری
کرنی تھی۔ ساالر القند ابھی تک قاہرہ میں اپنے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ اس کی کسی حرکت سے کسی کو شک نہیں
ہوتا تھا کہ وہ بہت بڑی غداری کامرتکب ہونے واال ہے۔ اسے رات کو گھر میں پوری رپورٹ مل جاتی تھی کہ کتنے حبشی
گزشتہ رات آچکے ہیں اور ان کی تعداد کتنی ہوگئی ہے۔ حملے کی قیادت اسی کو کرنی تھی۔ اس نے پالن تیار کرلیاتھا۔
حبشی ہزاروں کی تعداد میں اکٹھے ہوگئے تو انہوں نے اپنے مذہب کامسئلہ کھڑا کردیا۔ پہلے وہ آپس میں کھسر پھسر کرتے
رہے۔ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ انسان کی قربانی دی جائے۔ القند نے وہاں جو آدمی بھیج رکھے تھے انہوں نے انہیں ٹالنے کی
کوشش کی لیکن حبشی اپنے ساتھ جو مذہبی پیشوا الئے تھے وہ ٹلتے نظر نہیں آتے تھے۔ حبشیوں نے انہیں پریشان کرنا
شروع کردیا تھا کہ انسان کی قربانی دو ،ورنہ وہ واپس چلے جائیں گے۔ مذہبی پیشوائوں سے کہا گیا کہ وہ انہی حبشیوں میں
سے کسی کو پکڑ کر ذبح کردیں لیکن وہ کہتے تھے کہ یہ قربانی قبول نہیں ہوتی۔ قربانی کے لیے اسی خطے کا انسان ہونا
چاہیے۔ جس پر حملہ کرنا ہے ،لڑنے والے لوگ اپنی قربانی نہیں دیا کرتے۔
آخر انہیں کہا گیا کہ حملے سے ایک دن پہلے مصر کا ایک آدمی ان کے حوالے کردیا جائے گا۔ حبشیوں کے پروہت نے کہا…
''ہمیں وہ انسان ابھی چاہیے ،ہم بہت دنوں تک اسے خاص غذا دے کر پالیں گے۔ اس پر اپنا خاص عمل کریں گے۔ اپنی
عبادت بھی کریں گے… اور ابھی ہمیں یہ حساب بھی کرنا ہے کہ قربانی مرد کی دینی ہے یا عورت کی یا دونوں کی''۔
اسی رات القند کو اطالع دی گئی کہ حبشی قربانی کے لیے انسان مانگتے ہیں۔ القند نے کہا… ''تو اس میں سوچنے کی کیا
بات ہے۔ کوئی آدمی پکڑو اور ان کے حوالے کردو''۔
لیکن وہ ابھی بتائیں گے کہ انہیں ایک آدمی چاہیے یا ایک عورت یا دونوں''۔''
ان کا جو بھی مطالبہ ہے پورا کرو''… القند نے کہا… ''چند دنوں بعد جب ہم قاہرہ پر حملہ کریں گے تو معلوم نہیں ''
قاہرہ کے کتنے لوگ ہمارے ہاتھوں مارے جائیں گے۔ دو کو اگر پہلے ہی مار دو گے تو کیا قیامت آجائے گی''۔
القند گہری سوچ میں گم ہوگیا۔ اتنے میں ایک صلیبی اندر آیا۔ اس نے مصری لباس پہن رکھا تھا۔ اندر آتے ہی اس نے
مصنوعی داڑھی اتار کر رکھ دی۔ اس نے القند سے پوچھا کہ کیوں پریشان نظر آتا ہے۔
حبشی اپنی رسم پوری کرنا چاہتے ہیں''۔ القند نے جواب دیا۔ ''وہ ابھی سے انسانی قربانی کا مطالبہ کررہے ہیں''۔''
''تو آپ کیا سوچ رہے ہیں؟''
میں سوچ رہا ہوں کہ حملے سے ایک دن پہلے ایک آدمی ان کے حوالے کردیں گے''۔ القند نے جواب دیا۔''
نہیں''۔ صلیبی نے کہا… ''وہ ابھی قربانی دینا چاہتے ہیں تو ابھی ان کی رسم پوری کرنے کا انتظام کریں۔ آپ سوڈان ''
نہیں گئے۔ ہم ان کے مذہب کے ساتھ کھیل کر انہیں یہاں الرہے ہیں۔ا پ شاید انسانوں کو استعمال کرنا نہیں جانتے۔ آپ کو
سلطان صالح الدین ایوبی نے صرف لڑنا سکھایا ہے۔ انسانوں کو تلوار کے بغیر مارنا ہم صلیبیوں سے سیکھیں۔ دوسروں کے
مذہب کو استعمال کریں۔ ان پر انہی کے مذہب کا جنون غالب کرکے ان کی عقل کو اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ ان کی بے
ہودہ اور بے معنی رسموں کی مخالفت کرنے کے بجائے ان کی پیروی کرو بلکہ اپنے ہاتھوں یہ رسمیں ادا کرائو۔ عام انسان کا
ذہن مذہب اور توہم پرستی سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ہم نے جتنے مسلمانوں کو اپنے ساتھ مالیا اور سلطان صالح الدین ایوبی
کے خالف استعمال کیا ہے ،وہ مذہب اور توہم پرستی کے ہتھیاروں سے کیا ہے۔ مسلمان مذہب کے نام پر جلدی ہمارے جال
میں آتا ہے۔ یہ حبشی تو جنگلی ہیں ،انہیں ہم ایک سال سے زیادہ عرصے سے بے وقوف بنا رہے ہیں۔ سوڈان سے روانگی
سے پہلے ہم نے دو سوڈانیوں کو پکڑ کر ان کے حوالے کیا اور بتایا تھا کہ یہ مصری ہیں۔ انہوں نے انہیں ذبح کیا تب وہ
مصر کی طرف روانہ ہوئے تھے''۔
ان سے پوچھو کہ انہیں قربانی کے لیے مرد چاہیے یا عورت''۔ القند نے پوچھا۔''
اور آپ کا وہاں چلنا بہت ضروری ہے''۔ صلیبی نے کہا… ''لیکن آپ کو میں کسی اور طریقے سے ان کے سامنے لے ''
جائوں گا۔ میں آپ کو یقین دالتا ہوں کہ ان حبشیوں سے بڑھ کر آپ کو کوئی وحشی اور خونخوار جنگجو نہیں ملے گا۔ اس
وقت ان کی تعداد چار ہزار کے قریب ہے۔ اگر ہم نے ان پر ان کے مذہب کا بھوت سوار کیے رکھا اور انہیں یہ یقین دالئے
رکھا کہ یہ ہماری نہیں ان کی اپنی جنگ ہے تو ان میں سے صرف ایک ہزار اس تمام فوج کو جو قاہرہ میں ہے ،کٹی
الشوں میں بدل دیں گے۔ ہم نے انہیں یہ بتایا ہے کہ ان کے خدا کے گھر لے جارہے ہیں اور یہ کہ ان کے خدا کی زمین پر
ان کے دشمن نے قبضہ کررکھا ہے''۔
میں چلوں گا''۔ القند نے کہا۔''
القند مصر پر سوڈانیوں کی حکومت چاہتا تھا ،کچھ عرصے پہلے وہ کسی غدار سے اس خواہش کا اظہار کر بیٹھا تو اس نے
اس کی خواہش کو عزم بنا دیا اور اس کی مالقات صلیبیوں سے کرادی تھی۔ صلیبیوں نے اس کے ساتھ یہ سودا طے کیا تھا
کہ مصر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ اسے دے دیا جائے گا اور باقی نصف سوڈان کو جیسا کہ کہا جاچکا ہے کہ
حبشیوں کی فوج کا اہتمام صلیبیوں نے کیا تھا مورخوں نے القند کی بغاوت کو تفصیل سے بیان نہیں کیا۔ اس دور کی عظیم
شخصیت قاضی بہائوالدین شداد نے اپنی ڈائری بےعنوان ''سوانح صالح الدین سلطان… یوسف پر کیا افتاد پڑی؟'' میں تفصیل
سے لکھا ہے کہ القند نے صلیبیوں اور سوڈانی لیڈروں کی مدد سے تہذیب وتمدن سے دور جانوروں اور درندوں کی سی زندگی
بسر کرنے والے حبشیوں پر ان کے مذہب کا بھوت سوار کرکے ان پر جنگی جنون طاری کیا اور القند خود ان کا پیرومرشد بنا۔
حبشیو ں کو بتایا گیا کہ یہ ان کے خدا کا وہ ایلچی ہے جو صدیوں سے خدا کے پاس گیا ہوا تھا (سلطان یوسف سے مراد
سلطان صالح الدین ایوبی ہے۔ اس مجاہد اعظم کا پورا نام یوسف صالح الدین تھا۔ قاضی بہائوالدین شداد اسے پیار اور شفقت
سے یوسف کہا کرتا تھا)۔
وہ رات تاریک تھی۔ مصر کا آسمان آئینے کی طرح شفاف تھا۔ ستارے ہیروں اور سچے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔
قاہرہ شہر گہری نیند سویا ہوا تھا۔ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ چند دنوں بعد ان پر کیا قیامت ٹوٹنے والی ہے۔
مصر کے سرحدی دستے بھی سوئے ہوتے تھے۔ صرف گشتی سنتری جاگ رہے تھے لیکن وہ صرف جاگ رہے تھے۔ بیدار نہیں
تھے۔ دریائے نیل کے ساتھ کی چوکی جو دریائی راستہ بند کرنے کے لیے بنائی گئی تھی اور اس سے چند میل دور دوسری
چوکی جو پہاڑیوں کے عالقے کو سربمہر رکھنے کے لیے قائم کی گئی تھی ،کے گشتی سنتری چار لڑکیوں کے حسین اور
رومانی جال میں الجھے ہوئے تھے۔ لڑکیاں انہیں الگ الگ لے گئی تھیں۔ اس رات یہ گروہ بہت زیادہ چوکنا تھا۔
زہرہ اور اس کی ساتھی رقاصہ اس گروہ سے کچھ دور خیمے میں سوئی ہوئی تھیں۔سازندے بظاہر سوئے ہوئے تھے لیکن وہ
بیدار تھے انہیں بتا دیا گیا تھا کہ آج رات بہت اہم ہے اور وہ بیدار رہیں۔ ان دنوں گروہوں کے لیے یہ حکم تھا کہ کوئی باہر
کا آدمی دریا کے کنارے اور اس پہاڑی سلسلے کے قریب نہ آئے۔ کوئی آئے تو اسے پکڑ کر اندر لے آئو۔
کچھ دیر بعد ایک سازندہ اٹھا۔ پہلے وہ باہر گھوما پھر اس نے چھوٹے خیمے میں جھانکا جس میں دونوں لڑکیاں سوئی ہوئی
تھیں۔ اندھیرے میں اسے کچھ نظر نہ آیا۔ اندر جا کر ٹٹوال۔ اسے کچھ شک ہوا۔ دیا جال کے دیکھا تو زہرہ غائب تھی۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:12
قسط نمبر۔79جب خدا زمین پر اتر آیا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دیا جال کے دیکھا تو زہرہ غائب تھی۔ دوسری گہری نیند سوئی ہوئی تھی ،سازندے نے اسے نہ جگایا۔ اسے معلوم تھا کہ
زہرہ کہاں گئی ہے۔ وہ چوکی کے کمانڈر کے پاس ہی جاسکتی تھی۔ اس میں خطرہ یہ تھا کہ کمانڈر اس کے ساتھ آگیا تو
اپنے سنتریوں کو غائب پا کر انہیں ڈھونڈے گا اور یہ بھی ہوسکتا تھا کہ وہ دریا کے کنارے اس جگہ بھی پہنچ جائے جس
جگہ کو اس رات باہر کی دنیا سے چھپا کر رکھنا تھا… سازندے نے اپنے دو ساتھیوں کو جگایااور انہیں بتایا کہ ان کی ایک
لڑکی غائب ہے۔ وہ چوکی پر ہی گئی ہوگی۔ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ دریا سے دور گھات لگائی جائے اور اگر کمانڈر لڑکی
کے ساتھ واپس آرہا ہو تو دونوں کو پکڑ کر اپنے کمانڈر کے حوالے کردیا جائے اور اگر ضرورت پڑے تو دونوں کو قتل کرکے
الشیں دریا میں پھینک دی جائیں۔
پہاڑیوں کے اندر کی دنیا جاگ رہی تھی۔ یہ وسیع وعریض عالقہ تھا جہاں کوئی نہیں جاتا تھا۔ ایک اس لیے کہ یہ جگہ دور
دراز اور راستوں سے ہٹ کر تھی اور دوسرا اس لیے مشہور تھا کہ اندر فرعونوں کی بھی بدروحیں رہتی ہیں اور ان کی بھی
جو فرعونوں کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔ یہ بھی مشہور تھا کہ بدروحیں آپس میں لڑتی رہتی ہیں اور اگر کوئی انسان اس
عالقے میں چال جائے تو اس کے جسم کا گوشت غائب ہوجاتا ہے اور پیچھے ہڈیوں کا پنجر رہ جاتا ہے… یہ بتایا جاچکا ہے
کہ اس پہاڑی خطے کے وسط میں فرعونوں کے بہت بڑے بڑے بت پہاڑیوں کو تراش کر بنائے گئے تھے۔ پہاڑیوں کو اندر سے
کھوکھال کرکے اندر محل جیسے کمرے اور غالم گردشیں بنائی گئی تھیں۔
اس رات ان زمین دوز محالت میں روشنی ہی روشنی تھی۔ ہزاروں حبشی باہر اس میدان میں جمع تھے ،جسے ہر طرف سے
پہاڑیوں نے گھیر رکھا تھا۔ حبشیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اونچی بات نہ کریں۔ انہیں ان کا خدا دکھایا جانے واال ہے۔ حبشیوں
پر خوف اور عقیدت مندی کے جذبات سوار تھے۔ ڈر کے مارے وہ ایک دوسرے کے ساتھ سرگوشی میں بھی بات نہیں کرتے
تھے۔ وہ ان پہاڑیوں اور چٹانوں سے اچھی طرح واقف ہوچکے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ جس پہاڑی کی طرف وہ منہ کرکے
بیٹھے ہیں اس کی نصف بلندی پر ایک بہت بڑا بت ہے۔ یہ ابوسمبل کا بت تھا جس کے متعلق ان حبشیوں کو بتایا گیا تھا
کہ ان کے خدا کا بت ہے اور ایک رات یہ خدا ایک انسان کے روپ میں ان کے سامنے آئے گا۔
اچانک ایسی گرج دار آواز آئی جیسے گھٹائیں گرجی ہوں۔ حبشی پہلے ہی خاموش تھے ،اس گرج نے ان کی سانسیں بھی
روک دیں۔ اس کے ساتھ ہی انہیں ایک آواز سنائی دی… ''خدا جاگ رہا ہے ،سامنے پہاڑی پر دیکھو… اوپر دیکھو''… یہ آواز
بڑی بلند تھی جو پہاڑیوں اور چٹانوں کے درمیان گونج بن کر کچھ دیر سنائی دیتی رہی۔ فضا میں دو شرارے اڑتے نظر آئے جو
سامنے والی پہاڑی کی طرف گئے اور پہاڑی سے جہاں ٹکرائے وہاں سے ایک شعلہ اٹھا۔ ابو سمبل کا بت اس شعلے کے
پیچھے اور کچھ اوپر تھا۔ شعلے کی ناچتی تھرکتی ہوئی روشنی بت کے مہیب چہرے پر پڑی تو ایسے نظر آنے لگا جیسے
بت آنکھیں جھپک رہا ہو۔ اس کا منہ کھلتا اور بند ہوتا نظر آتا تھا اور یوں بھی لگتا تھا جیسے اس کا چہرہ دائیں بائیں ہل
رہا ہو۔
حبشیوں کا یہ سیاہ کاال ہجوم سجدے میں گر پڑا۔ ان کے مذہبی پیشوا سجدے سے اٹھے۔ سب نے بازو پھیال دئیے۔ ان میں
جو سب سے بڑا تھا اس نے بت سے بڑی ہی بلند آواز سے کہا… ''آگ اور پانی کے خدا ریگستانوں کو جالنے اور دریائوں
کو پانی دینے والے خدا! ہم نے تجھے دیکھ لیا ہے۔ ہمیں بتا کہ ہم تیرے قدموں میں کتنے انسان قربان کریں ،مرد الئیں یا
عورت''۔
ایک مرد ایک عورت''۔ پہاڑیوں میں سے آواز آئی… ''تم نے ابھی مجھے نہیں دیکھا ،میں انسان کے روپ میں تمہارے ''
سامنے آرہا ہوں ،اگر تم نے میرے دشمنوں کا خون نہ بہایا تو تم سب کو ان پہاڑیوں کے پتھروں کی طرح پتھر بنا دوں گا
پھر تم دھوپ میں ہمیشہ جلتے رہو گے۔ تم میں سے جو لڑائی سے بھاگے گا اسے صحرائی ریت چوس لے گی… انتظار کرو،
میرا انتظار کرو''۔
خاموشی اور گہری ہوگئی۔ شعلہ آہستہ آہستہ کم ہونے لگا۔ پہاڑیوں میں سے حبشیوں کے مذہبی ترانے کی آواز آنے لگی۔ یہ
ان کا وہ گیت تھا جو مذہیب تہواروں پر عبادت کے دوران گایا کرتے تھے۔ بہت سے آدمی مل کر گا رہے تھے اور ساتھ دف
بج رہے تھے۔ نیچے بیٹھے ہوئے ہزاروں حبشیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ان میں سے کوئی بھی نہیں گا رہا تھا۔ یہ
غیب کی آواز معلوم ہوتی تھی۔
٭ ٭ ٭
زہرہ چوکی کے کمانڈر کے خیمے میں تھی۔ اس کی باتیں پہلے سے زیادہ جذباتی ہوگئی تھیں۔ اس نے کمانڈر سے کہا…
'' اگر میں تمہیں نہ دیکھتی تو باقی عمر ناچتے اور دوسروں کا دل بہالتے گزار دیتی۔ تمہیں دیکھ کر مجھے یاد آگیا ہے کہ
میں بیٹی ہوں رقاصہ اور فاحشہ نہیں۔ یا تم اپنے آپ کو مار لو تاکہ مجھے یقین ہوجائے کہ میرا باپ مرگیا ہے یا مجھے قتل
کردو اگر یہ نہیں کرسکتے تو مجھے پناہ میں لے لو۔ اپنے گھر بھیج دو۔ آج مجھے واپس نہ جانے دو''۔
تم آج چلی جائو'' ۔ کمانڈر نے جواب دیا… ''میں تمہیں چوکی میں نہیں رکھ سکتا۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں اپنے ''
گھر بھیجنے کا انتظام کردوں گا… اور اگر تم یہاں سے چلی گئی تو مجھے قاہرہ میں اپنا ٹھکانہ بتا دو۔ وہاں آکر تمہیں لے
جائوں گا''۔
تھوڑی دیر بعد کمانڈر نے دو گھوڑے تیار کیے اور زہرہ سے کہا کہ چلو چلیں۔ دونوں گھوڑوں پر سوار ہوئے اور چل پڑے۔
''راستے میں زہرہ نے کمانڈر سے پوچھا… ''رات کو کشتیاں یہاں کیوں آیا کرتی ہیں؟
''کشتیاں؟'' کمانڈر نے حیران سا ہوکر پوچھا… ''کدھر سے آتی ہیں؟''
ادھر سے''۔ اس نے سوڈان کی طرف اشارہ کرکے کہا… ''مجھے اب رات کو نیند کم آتی ہے۔ آدھی رات کو اٹھ کر ''
خیمے سے باہر بیٹھ جاتی ہوں۔ میں نے دو راتیں دیکھا ہے۔ ایک رات تین اور ایک رات دو بادبانی کشتیاں آئیں۔ ان کے
سفید بادبان اندھیرے میں بھی نظر آتے تھے۔ آگے جاکر کشتیاں کنارے لگیں۔ مجھے اس طرح کی آوازیں سنائی دیتی رہیں
جیسے ان سے بہت سے لوگ اتر رہے ہوں۔ مجھے کچھ دور درختوں کے پیچھے سائے سے جاتے اور پہاڑیوں میں غائب ہوتے
نظر آئے''۔
تم نے ہمارے دو سپاہیوں کو کبھی نہیں دیکھا؟'' کمانڈر نے پوچھا… ''دو گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں۔ انہیں دریا کے کنارے''
موجود رہنا چاہیے''۔
نہیں'' ۔ زہرہ نے جواب دیا… ''میں نے کبھی کوئی سپاہی نہیں دیکھا۔ دن کے دوران سپاہی آتے ہیں۔ آگے ایک قافلہ اترا''
ہوا ہے۔ ان کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں ،ایک روز میں نے ایک سپاہی کو ایک لڑکی کے ساتھ بے تکلفی سے چٹانوں کے
پیچھے جاتے دیکھا تھا''۔
زہرہ کو تو علم ہی نہیں تھا کہ سرحدوں پر کیا ہوتا ہے اورکیا ہوسکتا ہے اور سرحدی دستوں کے فرائض کیا ہیں۔ اسے یہ
بھی معلوم نہیں تھا کہ رات کو یا دن کو سوڈان کی طرف سے کشتیوں کو آنا چاہیے یا نہیں۔ اس نے تو ایسے ہی پوچھ لیا
تھا لیکن کمانڈر کے لیے یہ اہم خبر تھی۔ زہرہ اگر صحیح کہہ رہی تھی تو وہ اسے راز کی بات بتا رہی تھی۔ وہ بے شک
اس ڈیوٹی اور سرحدی ماحول سے اکتا گیا تھا مگر زہرہ کی باتوں نے اسے بیدار کردیا۔ اس نے زہرہ سے کہا… ''آئو آج دریا
کے کنارے چلتے ہیں''… اس نے گھوڑے کا رخ موڑ دیا۔
وہ دریا تک پہنچے اور کنارے کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ کمانڈر کی نظریں دریا پر تیر رہی تھیں۔ کچھ وقت گزرا تو اسے دریا
میں دور ایک لو نظر آئی جو دئیے کی معلوم ہوتی تھی۔ پھر ایک اور لو نظر آئی اور پھر دونوں روشنیاں بجھ گئیں۔ ادھر
کنارے پر بھی ایک دیا جال اور بجھ گیا۔ کمانڈر نے ان گشتی سنتریوں کو آواز دی جنہیں وہاں گشت پر ہونا چاہیے تھا۔ اسے
کوئی جواب نہ مال۔ اس نے اور بلند آواز سے پکارا۔ پھر بھی کوئی جواب نہ مال۔ اس نے اور زور سے پکارا۔ اسے اب دریا
میں دو کشتیوں کے بادبان دکھائی دئیے ،وہ پریشان ہوگیا۔ وہ زہرہ کی موجودگی کو بھول گیا اور گھوڑے کو کنارے کے ساتھ
آگے چال دیا۔ زہرہ بھی اسی کے پیچھے گئی۔ کمانڈر سنتریوں کو پکار رہا تھا۔
سنتریوں کو اس کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں لیکن وہ دونوں ایک دوسرے سے الگ الگ چٹانوں کی اوٹ میں ''بوڑھے
خاوندوں کی نوجوان بیویوں'' کے جال میں پھنسے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے کمانڈر کی آواز پہچان لی اور وہاں سے اٹھے۔
وہ جب وہاں جاکر اکٹھے ہوئے جہاں وہ اپنے گھوڑے باندھ گئے تھے تو دیکھا کہ دونوں گھوڑے غائب ہیں۔ وہ وہیں رکے رہے۔
انہیں دور دو گھوڑے جاتے دکھائی دئیے۔
کمانڈر آگے جارہا تھا ،زہرہ کا گھوڑا اس کے پہلو میں تھا۔ انہیں آواز سنائی دی… ''تم جنہیں پکار رہے ہو وہ بہت دور آگے
ہیں''۔
تم کون ہو؟''… کمانڈر نے پوچھا۔ ''آگے آئو''۔''
ہم مسافر ہیں''… اسے جواب مال اور دو گھوڑے کمانڈر کی طرف بڑھنے لگے۔ پھر ایک اور آواز آئی… ''آگے چلیں ہم آپ''
کے ساتھ چلیں گے''۔
کمانڈر نے تلوار نکال لی۔ رات کے وقت مسافروں کا گھوڑوں پر سوار ہونا اور اس عالقے میں ہونا مشکوک تھا۔ وہ دونوں ان
کے قریب آگئے۔ ایک نے کمانڈر سے کہا… ''ادھر دیکھو ،و ہ آرہے ہیں''۔ جونہی کمانڈرنے ادھر دیکھا کسی آدمی نے ایک
بازو کمانڈر کی گردن کے گرد لپیٹ کر بازو کا شکنجہ تنگ کردیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کی تلوار والی کالئی پکڑ لی۔
دوسرے نے لڑکی کو دبوچ لیا۔ کمانڈر کو جس نے پکڑ رکھا تھا ،اس نے اپنے گھوڑے کو ایڑی لگا دی۔ گھوڑا تیز چال تو کمانڈر
اپنے گھوڑے سے گرنے لگا۔ اندھیرے سے دو اور آدمی دوڑے آئے۔ انہوں نے کمانڈر کو بے بس کرلیا۔
یہ سازندے تھے جو دراصل تربیت یافتہ چھاپہ مار سپاہی تھے۔ ان میں سے دو تین زہرہ کے پیچھے گئے تھے اور انہیں
راستے میں دیکھ کر اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے تعاقب میں آرہے تھے۔ سنتریوں کے گھوڑوں پر سوار ہوکر آنے
والے ان کے ساتھی تھے۔ ان میں سے کسی نے کہا… ''انہیں زندہ لے چلو یہی حکم مال تھا ک کوئی مشتبہ آدمی نظر آئے
تو اسے زندہ لے آئو''۔
کمانڈر اور زہرہ کو جب پہاڑیوں کی طرف لے جایا جارہا تھا تو انہوں نے دیکھا کہ کشتیوں میں سے حبشی سامان اتار رہے
تھے۔ یہ جنگی سامان اوررسد تھی۔
٭ ٭ ٭
پہاڑیوں میں دور اندر ہزاروں حبشیوں کا ہجوم ابھی تک خاموش بیٹھا تھا۔ شعلہ کبھی کا بجھ چکا تھا۔ مذہبی گیت کی آوازیں
سنائی دے رہی تھی۔ حبشیوں پر طلسم طاری تھا۔ ان کی جذباتی کیفیت کچھ اور ہوئی جارہی تھی۔ وہ اپنے آپ کو ان
حبشیوں سے برتر سمجھنے لگے تھے جو سوڈان میں رہ گئے تھے… گیت گانے والے خاموش ہوگئے۔ اچانک سامنے پہاڑی پر
چمک نظر آئی تھی جیسے بجلی چمکی ہو۔ چمک پھر پیدا ہوئی جو مستقل روشنی بن گئی۔ یہ روشنی ابوسمبل کے چہرے
پر پڑ رہی تھی۔ کچھ پتا نہیں چلتا تھا کہ روشنی کہاں سے آرہی ہے۔ یوں لگتا تھا جیسے ابو سمبل کا چہرہ اپنی روشنی
سے روشن ہوگیا ہو۔
روشنی بجھ گئی۔ ذرا سی دیر بعد روشنی پھر نظر آئی۔ سب نے دیکھا کہ ابوسمبل کے پہاڑ جیسے بت کی گود میں سے
ایک آدمی اترا اور آگے چل پڑا۔ بت کے پیچھے سے چار آدمی نمودار ہوئے۔ سب ایک ایک سفید چادر میں ملبوس تھے۔
جنہوں نے کندھوں سے پائوں تک جسم کو ڈھانپ رکھے تھے جو آدمی بت کی گود سے آیا تھا وہ کوئی بادشاہ معلوم ہوتا
تھا۔ اس کے سر پر تاج تھا اور تاج پر ایک مصنوعی سانپ کے پھن کا سایہ تھا۔ اس کا چغہ الل رنگ کا تھا۔ روشنی جو
معلوم نہیں کہاں سے آرہی تھی۔ اس آدمی پر پڑ رہی تھی۔ اس کے چغے پر ستارے تھے جو روشنی میں چمکتے اور ٹمٹماتے
تھے اس کے ہاتھ میں برچھی اور دوسرے میں ننگی تلوار تھی ،تلوار بھی چمکتی تھی۔ سفید چادروں والے آدمی اس کے
پیچھے آئے۔
وہ ڈھالن سے اتر رہے تھے اور روشنی ان کے ساتھ ساتھ آرہی تھی۔ اگال آدمی جو بادشاہ لگتا تھا رک گیا۔ پیچھے والے
چاروں آدمیوں نے اکٹھے بڑی بلند آواز سے کہا… ''خدا زمین پر اتر آیا ہے ،سجدہ کرو۔ اٹھو اور غور سے دیکھو''… سارا
ہجوم سجدے میں گر پڑا۔ سب نے سر اٹھائے اور ''خدا'' کو دیکھا۔ اس وقت ''خدا'' نے تلوار اوپر اٹھا لی تھی۔ وہ
ڈھالن سے اترنے لگا۔ سناٹا ایسا طاری ہوگیا جیسے وہاں ایک بھی انسان نہ ہو۔ وہ اترتے اترتے ایسی جگہ آن کھڑا ہوا جو
بلند تھی اور ہجوم کے قریب بھی تھی ،یہ جگہ چوڑی تھی۔ روشنی صرف اس پر اور ان چار آدمیوں پر پڑ رہی تھی جو اس
کے ساتھ تھے۔ اچانک اس روشنی میں چار لڑکیاں داخل ہوئیں۔ ان کے لباس اتنے سے ہی تھے کہ صرف ستر ڈھانپے ہوئے
تھے۔ ان کے جسموں کے رنگ گورے تھے۔ ان کی پیٹھوں پر کندھوں سے ذرا نیچے پرندوں کی طرح پر پھیلے ہوئے تھے۔ ان
کے بال کھلے تھے ،وہ یوں حرکت کرتی تھیں جیسے اڑ رہی ہوں۔ وہ رقص کی ادائوں سے اس بادشاہ (حبشیوں کے
'' خدا'') کے اردگرد گھوم کر وہیں کہیں غائب ہوگئیں شاید چٹان کے پیچھے اتر گئی تھیں۔
اس وقت چار آدمی کمانڈر اور زہرہ کو وہاں ایک غار میں لے گئے اور ایک کمرے میں داخل کردیا۔ ایک آدمی باہر چال گیا۔
وہ واپس آیا تو اس کے ساتھ ایک اور آدمی تھا۔ اسے بتا دیا گیا کہ یہ چوکی کا کمانڈر ہے اور یہ رقاصہ ہے اور انہیں دریا
کے کنارے سے اس وقت پکڑا گیا ہے جب کشتیاں سامان اور مزید حبشیوں کو اتار رہی تھیں۔
تم انہیں بڑے اچھے وقت الئے ہو''۔ اس نے کہا… ''یہ بدبخت حبشی انسانی قربانی مانگ رہے تھے۔ ہم نے القند کے ''
کہنے پر خدا کی آواز میں اعالن کردیا تھا کہ ایک مرد اور ایک عورت کی قربانی دی جائے گی ہمیں کہیں سے ایک مرد اور
ایک عورت کو اغواء کرکے ان کے حوالے کرنا تھا۔ تم نے ہمارا مسئلہ حل کردیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے۔
ہر کام پوری کامیابی سے ہورہا ہے۔ قربانی کے لیے اپنے آپ ہی دو انسان آگئے ہیں''۔
حبشیوں نے خدا دیکھ لیا ہے؟'' ایک نے پوچھا۔''
اگر تم وہاں تھے تو دیکھتے کہ ہم نے کیسی استادی سے انہیں خدا دکھایا ہے''۔ اس نے جواب دیا… ''بت کی سامنے ''
والی پہاڑی سے جلتے ہوئے فلیتے والے دو تیر چالئے گئے۔ تیر اندازوں نے اندھیرے میں ایسا نشانہ باندھا کہ صحیح جگہ پر
تیر گرے۔ ہم نے تیل اور مادہ زیادہ جگہ پھیال دیا تھا۔ پہلے ہی دو تیروں نے اسے آگ لگا دی۔ اینڈرسن تجربہ کار آدمی
ہے۔ اس نے کہا تھا کہ شعلے میں بت ہنستا ،مسکراتا اور جھپکتا نظر آئے گا۔ یہ شعلے کا کرشمہ تھا کہ خود ہمیں یقین
ہونے لگا تھا کہ بت نہ صرف آنکھوں اور ہونٹوں کو حرکت دے رہا ہے بلکہ اس کا چہرہ دائیں بائیں حرکت کررہا ہے''۔
''اور حبشیوں کا ردعمل کیا تھا؟''
سجدے میں گر پڑے تھے'' ۔ اس نے جواب دیا… ''ہمارے آدمیوں کی آوازیں بڑی گونج دار تھیں۔ پہاڑیوں میں ان کی گونج''
کچھ دیر تک سنائی دیتی رہی۔ میں اندھیرے میں دیکھ نہیں سکا۔ مجھے یقین ہے کہ حبشی خوف سے کانپ رہے ہوں گے۔
القند کا ناٹک تو بہت ہی کامیاب رہا۔ شعلہ بجھا تو ہم نے اسے پوشاک پہنا کر بت کی گود میں بٹھا دیا اور چار آدمی
پہلے ہی وہاں چھپے بیٹھے تھے۔ بت پر سامنے کی پہاڑی سے روشنی پھینکنے کا سلسلہ بھی کامیاب رہا۔ ساتھ والی پہاڑی
پر جو آگ جالئی گئی تھی وہ نیچے کسی کو نظر نہیں آئی تھی۔ اس کے قریب بڑا آئینہ رکھ کر بت پر عکس پھینکا تو
یوں لگتا تھا جیسے یہ بت کے چہرے کا نور ہے۔ اس میں سے القند ''خدا'' بن کر اترا تو ہماری لڑکیوں نے سب کو
یقین دال دیا کہ یہ خدا ہے اور وہ پریاں ہیں۔ ہم کسی قدم پر ناکام نہیں ہوئے اب القند کو اندر بٹھا کر تمام حبشیوں کو ان
کے سامنے سے گزارا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا کہ یہ ہے تمہارا ''خدا'' جو جنگ میں تمہارے ساتھ ہوگا''۔
ان دونوں (کمانڈر اور زہرہ) کو آج ہی قربان کردیں گے''۔''
اس کا فیصلہ حبشی کریں گے۔ وہ شاید انہیں تین چار روز پالیں پوسیں گے اور اپنی کچھ رسمیں ادا کریں گے''۔''
انہیں کسی کی آواز سنائی دی… ''مجھے معلوم نہیں تھا کہ لڑنے والے ساالر کو یہ سوانگ بھی بھرنا پڑے گا''… تین چار
آدمیوں کی ہنسی سنائی دی۔ کسی اور نے کہا… ''اس کے بغیر ان حبشیوں کو لڑانا آسان نہیں تھا۔ بہرحال آپ کو اس
سوانگ کی بہت زیادہ قیمت مل رہی ہے''… ''پورا مصر''۔
یہ القند اور اس کے ساتھیوں کی آوازیں تھیں۔ وہ قریب آئے تو ان دونوں نے بتایا کہ ایک مرد اور ایک عورت اتفاق سے ہاتھ
آگئی ہے۔ انہیں حبشیوں کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔ القند نے یہ پوچھا کہ یہ دونوں کون ہیں ،وہ سر سے تاج اتار کر اس
کمرے میں چال گیا جہاں کمانڈر اور زہرہ کو رکھا گیا تھا۔ القند کمانڈر کو نہ پہچان سکا۔ کمانڈر نے اسے پہچان لیا۔ کمانڈر
کے کانوں میں وہ باتیں بھی پڑ گئی تھیں جو باہر ایک آدمی دوسرے کو سنا رہا تھا۔ اس نے اس کے منہ سے کئی بار القند
کا نام سنا تھا اور اسے یہ بھی معلوم ہوگیا تھا کہ اسے اور زہرہ کو قربان کیا جائے گا۔ القند اس کے سامنے آیا تو اسے
اس پر حیرت نہ ہوئی کہ اس کا ساالر یہاں کیسے آگیاہے۔
القند یہ کہہ کر باہر نکل گیا کہ ان دونوں کو حبشیوں کے مذہبی پیشوائوں کے حوالے کردو۔
٭ ٭ ٭
تین چار روز بعد قاہرہ میں العادل نے علی بن سفیان کو بالیا اور کہا… ''تین چار دنوں سے ساالر القند نہیں مل رہا۔ میں
اسے جب بھی بالتا ہوں
''جو اب آتا ہے کہ وہ نہیں ہے۔ اس کے گھر سے بھی یہی جواب مال ہے۔ وہ کہاں جاسکتا ہے؟
اگر سرحدی دستوں کے معائنے کے لیے سرحد کے دورے پر جاتا تو آپ سے اجازت لے کر جاتا''… علی بن سفیان نے ''
جواب دیا… ''فوری طور پر میرے ذہن میں یہی آتا ہے کہ اسے تخریب کاروں نے اغوا یا قتل کردیاہوگا''۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ تخریب کاروں سے ہی جا مال ہو''… العادل نے کہا۔''
کبھی ایسا شک ہوا نہیں تھا''… علی بن سفیان نے کہا… ''میں اس کے گھر سے پتہ کراتا ہوں''۔''
وہ خوداس کے گھر چال گیا القند کے بارہ باڈی گارڈ موجود تھے۔ ان کے کمانڈر سے پوچھا کہ ساالر القند کہاں ہیں؟ اس نے
العلمی کا اظہار کیا۔ کسی بھی باڈی گارڈ کو معلوم نہیں تھا۔ مالزمہ کو باہر بال کر کہا گیا کہ القند کی بیویوں سے پوچھے
کہ القند کہاں گیا ہے۔ مالزمہ اسے اندر لے گئی۔ الگ کمرے میں بٹھایا ،وہ بوڑھی عورت تھی۔ اس نے علی بن سفیان سے
کہا۔ ''اس گھر سے آپ کو پتا نہیں چلے گا کہ ساالر القند کہاں چلے گئے ہیں۔ میں ایک عرصے سے یہاں جو کچھ دیکھ
رہی ہوں ،وہ بتا دیتی ہوں لیکن میری جان کی حفاظت آپ کے ذمہ ہوگی۔ اگر میں مرگئی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
خاوند مدت ہوئی مرگیا تھا۔ ایک ہی بیٹا تھا وہ سوڈان کی لڑائی میں شہید ہوگیا ہے۔ میں نے یہاں نوکری کرلی ہے۔ یہ لوگ
مجھے غریب اور سیدھی سادی عورت سمجھتے رہے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ شہید کی ماں اس ملک اور اس مذہب کے
خالف کوئی بات برداشت نہیں کرسکتی جس کی خاطر اس نے اپنا بیٹاشہید کرایا ہو… اس گھر میں مشکوک سے لوگ آتے
رہتے ہیں۔ میں نے ایک رات آدمی کو اندر آتے دیکھا۔ وہ عربی لباس میں تھا اور اس کی داڑھی تھی۔ مجھے اندر بال کر
کہا گیا کہ میں شراب النے کا انتظام کروں۔ شراب ایک نئی بیگم پالیا کرتی ہے جو مصری یا عربی معلوم نہیں ہوتی۔ میں
نے دیکھا کہ داڑھی واال مہمان داڑھی اتار رہا تھا۔ اس کی داڑھی اور مونچھیں مصنوعی تھیں۔ اس سے پہلے بھی یہاں ایسے
لوگ آتے رہے ہیں جن پر مجھے شک ہے کہ یہ نیک نیت لوگ نہیں۔ میرے کانوں میں اس قسم کے الفاظ بھی پڑے ہیں…
آدھا مصر سوڈان کا… مصر کی امارت… ایک ہی رات میں کام ہوجائے گا… ساالر رات کو نکلے تھے۔ ان کے ساتھ دو اجنبی
صورت آدمی تھے ،میں نے یہ بھی دیکھا تھا کہ ساالر نے محافظوں کے کمان دار سے کچھ باتیں کی تھیں''۔
بوڑھی مالزمہ نے کچھ اور باتیں بتا کر علی بن سفیان پر یہ ثابت کردیا کہ ساالر القند نہ اغوا کیا گیا ہے نہ قتل اور نہ ہی
وہ کسی سرکاری ڈیوٹی پر گیا ہے۔ مصر میں تخریب کاری اور غداری اتنی زیادہ ہوئی تھی اور ہورہی تھی کہ کسی شریف
انسان پر بھی شک نہ کرنا بہت بڑی لغزش تھی۔ القند نے کبھی شک پیدا نہیں ہونے دیا تھا لیکن علی بن سفیان بال کی
کھال اتارنے واال سراغ رساں تھا۔ اس کے لیے مشکل یہ تھی کہ کسی ساالر کے رتبے کے آدمی کے گھر کی تالشی کسی
شہادت کے بغیر نہیں لے سکتا تھا۔ اس کے لیے مصر کے قائم مقام سپریم کمانڈر العادل کی اجازت کی ضرورت تھی۔ اس نے
فوری طور پر یہ کارروائی کی کہ اپنے محافظ کو بھیج کر اپنے شعبے کے تین چار سراغ رساں بال لیے اور انہیں القند کے
مکان پر نظر رکھنے کے لیے ادھر ادھر چھپا دیا۔ انہیں ہدایت دی کہ کوئی مرد یا عورت مکان سے باہر آئے تو چوری چھپے
اس کا تعاقب کیا جائے۔
باہر آکر اس نے باڈی گارڈ کے کمانڈر کو حکم دیا کہ اپنے اور تمام محافظوں کے ہتھیار اندر رکھ دو اور سب میرے ساتھ چلو۔
بارہ آدمیوں کی گارڈ کو نہتہ کرکے علی بن سفیان اپنے ساتھ لے گیا اور العادل کو تفصیل رپورٹ دی۔ العادل نے اسے القند
کے گھر پر چھاپہ مارنے کی اجازت دے دی… وقت ضائع کیے بغیر سپاہیوں کی ایک ٹولی الئی گئی۔ ادھر القند کے گھر میں
کوئی اور ہی صورت پیدا ہوگئی تھی۔ علی بن سفیان جب وہاں سے نکال تھا تو القند کی ایک بیوی جو جوان تھی مالزمہ کو
اپنے کمرے میں لے گئی اور اس سے پوچھا کہ علی بن سفیان نے اس سے کیا پوچھا اور اس نے کیا بتایا ہے۔ بڑھیا نے
جواب دیا کہ وہ ساالر کے متعلق پوچھ رہا تھا میں نے بتایا تھا کہ میں غریب سی مالزمہ ہوں مجھے کچھ خبر نہیں کہ وہ
کہاں ہیں۔
تمہیں بہت کچھ معلوم ہے''… بیگم نے اسے کہا… ''اور تم نے بہت کچھ بتایا ہے''۔''
بڑھیا اپنی بات پر قائم رہی۔ بیگم نے ایک مالزم کو بالیا اور اسے ساری بات بتا کر کہا… ''اس نامراد بڑھیا کی زبان کھولو۔
کہتی ہے میں نے کچھ نہیں بتایا''۔
مالزم نے بڑھیا کے بال مٹھی میں لے کر مروڑے اور ایسا جھٹکا دیا کہ وہ چکرا کر گری۔ مالزم نے اس کی شہ رگ پر پائوں
رکھ کر دبا دیا۔ بڑھیا کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔ مالزم نے دانت پیس کر کہا… ''بتا اسے کیا بتایا ہے''… اس نے پائوں اٹھا
لیا۔
بڑھیا میں اٹھنے کی ہمت کم رہ گئی تھی۔ وہ خاموش رہی۔ مالزم نے اس کی پسلیوں میں الت ماری۔ بڑھیا تڑپنے لگی۔ اس
کے بعد مالزم نے اسے طرح طرح کی اذیتیں دے دے کر ادھ موا کردیا۔ تب اس نے کہا… ''جان سے مار ڈالو۔ اپنے شہید
بیٹے کی روح کے ساتھ غداری نہیں کروں گی۔ تم غدار ہو۔ تم ایمان فروش کی بدکار بیوی ہو''۔
اسے تہہ خانے میں لے جاکر ختم کردو''… بیگم نے کہا… ''رات کو الش غائب کردینا۔ ہمارے سر سے ابھی خطرہ ٹال نہیں۔
وہ ہمارے محافظ کو نہتہ کرکے اپنے ساتھ لے گیا ہے۔ اس بدبخت بڑھیا کو بہت کچھ معلوم ہے۔ اسے راز سمیت زمین میں
دبا دو''۔
بڑھیا فرش پر پڑی تھی۔ اس پر نیم غشی کی کیفیت طاری تھی۔ مالزم نے اسے ہلکی سی گٹھڑی کی طرح اٹھا کر کندھے پر
ڈال دیا۔ کمرے سے نکل کر وہ برآمدے میں جارہا تھا کہ آواز آئی… ''رک جائو''… اس نے گھوم کر دیکھا۔ سپاہی دوڑے
آرہے تھے۔ علی بن سفیان کے حکم پر وہ سب بکھر کر کمروں اور برآمدوں وغیرہ میں پھیل گئے۔ مالزم بھاگ نہ سکا۔ اس
کے کندھے پر بڑھیا کو اتارا گیا۔ بڑھیا کے منہ سے خون نکل رہا تھا۔ اس نے آنکھیں کھولیں ،علی بن سفیان کو دیکھا تو
اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ اس نے کہا… ''اس سے پہلے مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس گھر میں کیا ہورہا ہے۔ تم
آئے تو میرا شک پختہ ہوگیا کہ یہ تو گڑبڑ ہے''… اس کی آواز اکھڑ رہی تھی۔ اس نے بڑی مشکل سے بتایا کہ نئی بیگم
اور اس کے اس مالزم نے اس سے یہ اگلوانے کے لیے کہ اس نے علی بن سفیان کو کیا بتایا ہے اسے بہت مارا ہے۔
علی بن سفیان نے ایک سپاہی سے کہا کہ بڑھیا کو فورا ً طبیب کے پاس لے جائو… بڑھیا نے روک دیا اور کہا ''مجھے کہیں
نہ بھیجو ،میں اپنے شہید بیٹے کے پاس جارہی ہوں۔ مجھے نہ روکو''… اور وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔
سپاہیوں نے القندکے گھر کا کونہ کونہ چھان مارا تہہ خانے میں گئے تو یہ اسلحہ خانہ بنا ہوا تھا۔ گھر سے سونے کے ٹکڑوں
اور نقدی کے انبار برآمد ہوئے۔ ایک مہر بھی برآمد ہوئی جس پر القند کا پورا نام اور اس کے ساتھ ''سلطان مصر'' کندہ
تھا۔ القند کو اپنی فتح کا اتنا یقین تھا کہ اس نے اپنے نام کی مہر بھی بنوالی تھی۔ اس مہر نے شکوک کو یقین میں بدل
دیا۔ القند کے گھر میں چھ بیویاں تھیں اور شراب کا ذخیرہ بھی تھا۔ القند کے متعلق مشہور تھا کہ شراب نہیں پیتا۔ اب اس
کے گھر سے پتا چال کہ رات کو پیا کرتا تھا۔ علی بن سفیان نے اس کی تمام بیویوں سے پوچھ گچھ کی تو اور کارآمد
معلومات حاصل ہوئیں۔ اہم شہادت نئی بیگم کی تھی جس نے مالزم کے ہاتھوں بڑھیا کو مروا دیا تھا۔ باقی تمام بیویوں نے
کہا کہ سارا راز نئی بیگم کے سینے میں ہے۔ اس کے متعلق یہ بھی بتایا گیا کہ اس کی زبان مصری نہیں ،سوڈانی ہے اور
جب باہرکے آدمی آتے ہیں تو صرف یہی لڑکی ان میں اٹھتی بیٹھتی اور ان کے ساتھ شراب پیتی ہے۔ ان بیویوں کے انداز
سے پتا چلتا تھا کہ انہیں اورکچھ بھی معلوم نہیں۔
نئی بیگم کو الگ کرلیا گیا۔ علی بن سفیان نے کہا کہ ''وہ اب کچھ چھپانے کی کوشش نہ کرے ،اس کے متعلق جو کچھ
جانتی ہو بتا دو''۔
نئی بیگم کو علی بن سفیان نے اپنے دو آدمیوں کے ساتھ اپنے مخصوص تہہ خانے میں بھیج دیا اور خود کچھ اور تفتیش
کرکے اور القند کے گھر پر پہرہ لگا کر اپنے دفتر میں چال گیا جہاں القند کے باڈی گارڈ نہتے بیٹھے تھے۔ ان سب کو علی
بن سفیان نے کہا… ''تم مصر اور شام کی متحدہ سلطنت کے فوجی ہو کچھ چھپائو گے تو اس کی سزا موت ہے اور اگر تم
نے حکم کی پابندی کرتے ہوئے ساالر القند کی سرگرمیوں پر پردہ ڈال رکھا ہے تو شاید میں تمہیں کوئی سزا نہ دوں گا''۔
گارڈ کا کمانڈر بول پڑا۔
وہ جانتا تھا کہ وہ کچھ نہیں بتائے گا تو اس کا کیا حشر کیا جائے گا۔ اس نے یہ کہہ کر وہ حکم کا پابند اور انعام واکرام
کا طلب گار تھا ،علی بن سفیان کو بتایا کہ ا لقند کا مسلسل رابطہ صلیبیوں اور سوڈانیوں کے ساتھ تھا اور وہ انہی کے ساتھ
گیا ہے۔ یہ تو ہو نہیں سکتا تھا کہ ایک گھریلو مالزم کو ایک ساالر کے خفیہ پالن کا علم ہوتا۔ مالزم نے بتایا کہ القند نے
جاتے ہوئے کہا تھا کہ بہت دنوں کے بعد آئے گا اور جب تک ممکن ہوسکا اس کی غیر حاضری کے متعلق العلمی کا اظہار
کرتے رہیں۔ مالزم کو یہ معلوم نہیں تھا کہ القند گیا کہاں ہے۔
اس نے جوبیان دیا ،اس سے اس کی تصدیق ہوگئی کہ القند کے پاس صلیبی اور سوڈانی آتے تھے اور القند غداری کا مرتکب
ہورہا تھا۔ انہیں بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ القند گیا کہاں ہے۔
آدھی رات کے قریب علی بن سفیان تہہ خانے میں گیا القند کی نئی بیگم تنگ سی ایک کوٹھڑی میں بند تھی۔ اسے دہشت
زدہ کرنے کے لیے اس کی کوٹھڑی میں ایک ایسے قیدی کو ڈال دیا گیا تھا جو مسلسل اذیتوں سے تڑپتا اور کراہتا تھا۔ وہ
صلیبیوں کا جاسوس تھا۔ اپنے ساتھیوں کی نشاندہی نہیں کرتا تھا۔ نئی بیگم دوپہر سے اس کے ساتھ بند تھی اور اسے تڑپتا
دیکھ رہی تھی۔ اب آدھی رات ہوگئی تھی۔ وہ تو شہزادی تھی ،تہہ خانے اور کوٹھڑی کی صرف بدبو ہی اسے پاگل کرنے کو
کافی تھی۔ اس آدمی کی حالت دیکھ دیکھ کر اس کا خون خشک ہوگیا تھا۔
علی بن سفیان جب اس کے سامنے گیا تو لڑکی چیخنے چالنے لگی اسے باہر نکال کر علی بن سفیان ایک اور کوٹھڑی کے
سامنے لے گیا۔ سالخوں کے پیچھے تنگ سی کوٹھڑی میں ایک سیاہ کاال حبشی بند تھا۔ہیبت ناک شکل اور جسم بھینسے
جیسا۔ اس نے سرحدی دستے کے ایک کمانڈر کو قتل کیا تھا۔ علی بن سفیان نے لڑکی سے کہا کہ باقی رات اسے اس کے
ساتھ بند کیا جائے گا۔ لڑکی چیخ کر علی بن سفیان کے پائوں پر گر پڑی۔
پوچھو مجھ سے کیا پوچھتے ہو!''… اس نے علی بن سفیان کی ٹانگوں سے لپٹ کر کہا۔''
القند کہاں گیا ہے؟ کیوں گیا ہے؟ اس کے ارادے کیا ہیں؟''… علی بن سفیان نے پوچھا۔''
نازک سی لڑکی نے سب کچھ ہی بتا دیا۔ اسے بھی یہ معلوم نہ تھا کہ القند کہاں گیا ہے۔
اس نے بتایا کہ سوڈان سے حبشیوں کی فوج الئی جارہی ہے جو کسی رات قاہرہ پر حملہ کرکے سارے مصر پر قابض ہوجائے
گی یہ لڑکی چونکہ شراب پالنے کا فرض ادا کرتی تھی ،اس لیے القند کے گھر میں آئے ہوئے صلیبی اور سوڈانی مہمان اسے
اپنا سمجھ کر اس کے سامنے بھی باتیں کرتے رہتے تھے۔ یہ لڑکی سوڈان کے کسی بڑے آدمی کی بیٹی تھی۔ اسے القند کے
لیے تحفے کے طور پر بھیجا گیا تھا۔ القند نے اس کے ساتھ شادی کرلی تھی۔ لڑکی بہت ہوشیار اور تیز تھی وہ سوڈان کے
مقصد کو اچھی طرح سمجھتی تھی۔ اس کے بتانے کے مطابق یہ سونا اور نقدی جو اس کے گھر سے برآمد ہوئی تھی ،سوڈان
سے آئی تھی۔ یہ جنگ کے اخراجات کے لیے اور مصری کی فوج سے غدار خریدنے کے لیے تھی۔ اس لڑکی کو اس مقام کا
علم نہیں تھا جہاں حبشیوں کی بہت سی فوج آچکی تھی ،اس نے بتایا کہ فوج کہیں دریا کے کنارے ہے اور اس کا حملہ
شب خون کی قسم کا ہوگا۔
جس قدر معلومات حاصل کی جاسکتی تھیں کرلی گئیں۔ علی بن سفیان نے العادل کو تفصیلی رپورٹ دی اور تجویز پیش کی
کہ دو دو چار چار سپاہی دیکھ بھال کے لیے ہر طرف پھیال دئیے جائیں جو یہ دیکھیں کہ سوڈانی فوج کا اجتماع کہاں ہے
اوریہ بھی معلوم کیا جائے کہ حبشیوں کی فوج اگرواقعی اندر آگئی ہے تو کدھر سے آئی ہے۔ اس نے یہ تجویز بھی پیش کی
کہ سلطان صالح الدین
ا یوبی کو اطالع نہ دی جائے کیونکہ وہ سوائے پریشان ہونے کے کوئی مدد نہیں کرسکے گا۔ العادل سلطان صالح الدین ایوبی
کو اطالع دینا ضروری سمجھتا تھا۔ اسے خدشہ تھا کہ حاالت زیادہ بگڑ سکتے ہیں۔ اس صورت میں سلطان صالح الدین ایوبی
لہ ذا مکمل رپورٹ لکھ کر ایک سینئر کمانڈر کو چار محافظوں کے ساتھ دی گئی اور اسے یہ
کی ضرورت پیدا ہوسکتی ہے۔ ٰ
حکم دیا گیا کہ ہر چوکی پر گھوڑے تبدیل کریں اورکہیں رکیں نہیں۔
٭ ٭ ٭
میدان جنگ میں سلطان صالح الدین ایوبی کا ہیڈکوارٹر کسی ایک جگہ نہیں رہتا تھا۔ وہ دن کو کہیں اور رات کو کہیں اور
ہوتا اور خود گھومتا پھرتا رہتا تھا لیکن اس نے ایسا انتظام کررکھا تھا کہ اس تک پہنچتے وقت دقت نہیں ہوتی تھی۔ جگہ
جگہ رہنما موجود تھے۔ جنہیں خبر پہنچا دی جاتی تھی کہ سلطان صالح الدین ایوبی کہاں ہے۔ یہ ایک راز ہوتا تھا ،اس لیے
رہنما ذہین قسم کے افراد ہوتے تھے جس دن تین دنوں کی مسافت کے بعد پیغام لے جانے واالکمانڈر چار محافظوں کے ساتھ
دمشق پہنچا اس وقت سلطان صالح ا لدین ایوبی الرستان کے سلسلہ کوہ میں تھا۔ سردی کا عروج تھا۔ کمانڈر اس کے
محافظوں کی یہ حالت تھی کہ بھوک ،نیند اور مسلسل سواری سے ان کے چہرے الشوں کی طرح سوکھ گئے تھے۔ زبانیں باہر
نکلی ہوئیں اورسر ڈول رہے تھے۔ پھر بھی وہ فورا ً روانہ ہونے کے لیے تیار ہورہے تھے۔ انہیں زبردستی کھالیا پالیا گیااور وہ
الرستان کے لیے روانہ ہوگئے۔
تریپولی کاصلیبی حکمران ریمانڈ الملک الصالح کی مدد کے لیے آیا اور بغیر لڑے واپس چال گیا تھا کیونکہ سلطان صالح الدین
ایوبی نے آگے گھات لگائی اور عقب سے اس کی رسد روک لی تھی۔ عقب میں بھی سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج دیکھ
کر ریمانڈ اپنی فوج کو کسی اور طرف سے نکال کر لے گیا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اس کا تعاقب مناسب نہ
سمجھا کیونکہ اس سے وقت اور طاقت ضائع ہوتی تھی۔ اس نے زیادہ نفری کے چھاپہ مار دستے ریمانڈ کی رسد کو پکڑ النے
یا دوسری صورت میں تباہ کردینے کے لیے بھیج دیئے۔ موسم سرما کی بارشیں بھی شروع ہوگئی تھیں۔ صلیبیوں کی رسد کا
قافلہ بہت ہی بڑا تھا۔ رات کے وقت رسد کے محافظ گھوڑا گاڑیوں کے نیچے اور خیموں میں پڑے تھے۔ انہیں رسد واپس لے
جانی تھی۔ اگلی صبح انہیں کوچ کرنا تھا۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ دن کے وقت پہاڑیوں اور چٹانوں کی اوٹ سے چند آنکھیں
انہیں دیکھتی رہی تھیں۔ انہیں غالبا ً توقع تھی کہ اتنی سردی میں اور بارش کے دوران ان پر کوئی حملہ نہیں کرنے آئے گا۔
رات کو اچانک ان کے کیمپ کے ایک طرف شور اٹھا۔ شعلے بھی اٹھے۔ خیمے جل رہے تھے۔ یہ سلطان صالح الدین ایوبی
کے چھاپہ ماروں کا شب خون تھا۔ انہوں نے پہلے چھوٹی منجنیقوں سے آتش گیر مادے کی ہانڈیاں پھینکیں ،پھر جلتے ہوئے
فلیتوں والے تیر چالئے تھے۔ شعلوں کی روشنی میں انہوں نے حملہ کردیا۔ برچھیوں اور تلواروں سے بہت سے صلیبیوں کو
ختم کرکے چھاپہ مار پہاڑیوں میں غائب ہوگئے۔ کچھ دیر تک قریبی چٹانوں سے رسد کے کیمپ پر تیر برستے رہے۔ اس کے
بعد چھاپہ ماروں کی دوسری پارٹی نے حملہ کیا۔ صبح تک ڈیڑھ دو میل عالقے میں پھیلے ہوئے کیمپ میں رسد رہ گئی تھی
یا الشیں یا ایسے زخمی جو چلنے کے قابل نہیں تھے۔ بہت سے گھوڑوں کو صلیبی بھگالے گئے تھے۔ بہت سے پیچھے بھی
رہ گئے تھے۔ چھاپہ ماروں کے شب خونوں کے درمیانی وقفے میں صلیبی کچھ گھوڑا گاڑیاں نکال لے جانے میں کامیاب ہوگئے
تھے۔ جو رسد اور گھوڑے رہ گئے وہ سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج نے قبضے میں لے لیے۔
حلب کا محاصرہ اٹھا لیا گیا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی اس اہم شہر کو ایک بار پھر محاصرے میں لینے کی سکیم بنا رہا
تھا۔ دن کے وقت جب چھاپہ ماروں کا کمانڈر سلطان صالح الدین ایوبی کے شب خونوں کی رپورٹ دے رہا تھا۔ دربان خیمے
میں داخل ہوا۔ اس نے سلطان صالح الدین ایوبی کو اطالع دی کہ قاہرہ سے ایک کمان دار ایک پیغام الیا ہے۔ پیغام قاصد
الیا لے جایا کرتے تھے۔ کمان دار کا نام سن کر سلطان صالح الدین ایوبی دوڑ کر باہر آیا اور اس کے منہ سے
''نکال…''خیریت؟… تم کیوں آئے ہو؟
پیغام اہم ہے''… کمان دار نے کہا… ''خدائے ذوالجالل سے خیریت کی امید رکھنی چاہیے''۔''
سلطان صالح الدین ایوبی نے پیغام لیا اور کمان دار کو اندر لے گیا۔ اس نے پیغام پڑھا اور گہری سوچ میں کھوگیا۔
ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ سوڈانیوں کی فوج مصر میں داخل ہوکر کہاں خیمہ زن ہوئی ہے؟''… سلطان صالح الدین ''
ایوبی نے پوچھا۔
دیکھ بھال کے دستے بھیج دئیے گئے ہیں''… کمان دار نے جواب دیا۔''
مجھے توقع تھی کہ میری غیرحاضری میں کوئی نہ کوئی گڑبڑ ضرور ہوگی''… سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا… ''میرے ''
بھائی ( العادل) سے کہنا کہ گھبرائے نہیں۔ قاہرہ کے دفاع کو مضبوط کرلے لیکن صرف دفاعی لڑائی نہ لڑے۔ زیادہ تر دستے
اپنے پاس رکھے اور ان میں سے جوابی حملے کے لیے تجربہ کار دستے الگ کرلے لیکن انہیں شہر ہی میں رہنے دے۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:12
قسط نمبر۔80جب خدا زمین پر اتر آیا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
زیادہ تر دستے اپنے پاس رکھے اور ان میں سے جوابی حملے کے لیے تجربہ کار دستے الگ کرلے لیکن انہیں شہر ہی میں
رہنے دے۔ فوج کی کوئی نقل وحرکت نہ کرے تاکہ دشمن کو یہ امید رہے کہ وہ تمہیں بے خبری میں لے لے گا۔ ظاہر یہ
کرتے رہنا کہ قاہرہ کی فوج کو علم نہیں کہ قاہرہ پر حملہ ہونے واال ہے۔ شہر کو محاصرے میں نہ آنے دینا۔ اس سے پہلے
ہی جوابی حملہ کردینا۔ کوشش یہ کرو کہ دشمن کے حملے سے پہلے ہی ڈھونڈ لو۔ اگر پتا چل جائے کہ وہ کہاں ہے تو
زیادہ نفری سے حملہ نہ کرنا۔ شب خون مارنا۔ سرحدی دستوں کی نفری زیادہ کردو تاکہ دشمن بھاگ کر نہ جاسکے۔ میں
حیران ہوں کہ اتنی فوج سرحد پار کس طرح آئی ہے۔ کسی نہ کسی سرحدی چوکی کی مدد یا کوتاہی کے بغیر یہ ممکن
نہیں ہوسکتا۔ اللہ تمہیں کامیابی عطا فرمائے گا۔ دشمن رسد اور کمک کے بغیر نہیں لڑ سکے گے۔ سرحد کو مضبوطی سے بند
کردینا۔ لڑائی کو طول دینا تاکہ دشمن بھوک سے مرے۔ میں تمہیں عمال ً بتا چکا ہوں کہ دشمن کو بکھیر کر کس طرح لڑایا
جاتا ہے۔ زیادہ نفری کے خالف زیادہ نفری سے آمنے سامنے آکر لڑنا قطعا ً ضروری نہیں''۔
مجھے توقع نہیں تھی کہ القند بھی غدار نکلے گا پھر بھی میں حیران نہیں۔ ایمان کی نیالمی میں کوئی دیر نہیں لگتی۔''
بادشاہی کا صرف تصور ہی انسان کو ایمان سے دستبردار ہونے پر مجبور کردیتاہے۔ اقتدار کا نشہ قرآن کو بند کرکے الگ رکھ
دیتا ہے۔ مجھے افسوس القند پر نہیں ،میں اسالم کے مستقبل کے متعلق پریشان ہوں۔ ہمارے بھائی صلیبیوں کے ہاتھوں فروخت
ہوتے جارہے ہیں۔ا دھر میرے بھائی میرے خالف لڑ رہے ہیں ،میرا پیرومرشد نورالدین زنگی اس دنیا سے اٹھ گیا ہے۔ کل
پرسوں ہم بھی اٹھ جائیں گے۔ا س کے بعد کیا ہوگا؟ یہی سوال مجھے پریشان رکھتا ہے۔ کوشش کرنا کہ جب تک زندہ رہو
اسالم کا پرچم سرنگوں نہ ہونے پائے۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ مجھے باخبر رکھنا''۔
اس نے پیغام النے والے کمان دار کو بہت سی ہدایات دے کر رخصت کردیا۔
٭ ٭ ٭
مصری فوج کے چند ایک دستوں کو دودو چار چار کی ٹولیوں میں تقسیم کرکے بھیج دیا گیا کہ وہ گھوم پھر کر دشمن کے
اجتماع کو ڈھونڈیں۔ا س دوران اس سرحدی چوکی سے جس کا کمانڈر زہرہ کے ساتھ الپتہ ہوگیا تھا ،ایک سپاہی نے قاہرہ آکر
رپورٹ دی کہ چوکی کا کمانڈر چند دنوں سے الپتہ ہے۔ سپاہی نے یہ نہ بتایا کہ ان کی چوکی پر ناچ گانا ہوا تھا اور ایک
رقاصہ کمانڈر کے خیمے میں گئی تھی۔ اس اطالع سے شک ہوا کہ وہ دشمن کے ساتھ مل گیا ہے اور اسی کی مدد سے
دشمن اندر آیا ہے۔ علی بن سفیان نے رائے دی کہ چونکہ وہ چوکی دریائی راستے کی نگرانی کے لیے ہے ،اس لیے دشمن
دریا کے راستے آیا ہوگا۔ فیصلہ ہوا کہ کسی ذہین کمانڈر کو اس چوکی پر محافظوں کے ایک دستے کے ساتھ بھیجا جائے۔
چوکی کا کمانڈر اور زہرہ حبشیوں کے قبضے میں تھے لیکن قید ہوتے ہوئے بھی وہ قیدی نہیں تھے۔
ا نہیں جو لباس پہنایا گیا تھا وہ پرندوں کے رنگ برنگ پروں کا بنا ہوا تھا جس کمرے میں انہیں رکھاگیا تھا ،اسے پروں اور
پھولوں سے سجایا گیا تھا۔ انہیں خاص قسم کی غذ ا کھالئی جارہی تھی۔ حبشیوں کے مذہبی پیشوا ان کے آگے سجدے کرتے
اور کچھ بڑبڑا کر چلے جاتے تھے۔ کسی اور کو ان کے قریب آنے کی اجازت نہیں تھی۔ ایک بار انہیں درختوں کی مضبوط
ٹہنیوں اور پتوں کی بنی ہوئی پالکیوں پر اٹھا کر دریا میں نہالنے کے لیے لے جایا گیا تھا۔ دونوں کو معلوم تھا کہ انہیں ذبح
کیا جائے گا۔ رات کو وہ تنہا ہوتے تھے لیکن باہر آٹھ دس حبشی موجود رہتے تھے۔ کمانڈر نے کئی بار اٹھ کر دیکھا تھا کہ
فرار کی کوئی صورت بن سکتی ہے یا نہیں۔ فرار ممکن نظر نہیں آتا تھا۔
ایک رات حبشیوں کے دو مذہبی پیشوا آئے۔ کمانڈر اور زہرہ سوئے ہوئے تھے۔ انہیں جگایا گیا ،وہ سمجھے کہ ان کی موت آن
پہنچی ہے۔ مذہبی پیشوائوں نے ان کے آگے سجدہ کیا اور دونوں کو باہر لے گئے۔ باہر پالکیاں رکھی تھیں۔ ایک پر کمانڈر اور
دوسرے پر زہرہ کو بٹھایا گیا۔ دو دو حبشیوں نے ایک ایک پالکی اٹھالی۔ مذہبی پیشوا آگے آگے چل پڑے۔ وہ دونوں مل کر
کچھ گنگنانے لگے۔ پالکیوں کے پیچھے دو اور حبشی تھے جن کے پاس برچھیاں تھیں۔ وہ محافظ تھے۔ کمانڈر اور زہرہ خاموش
تھے۔ پہاڑیوں سے نکل کر وہ لوگ دریا کی طرف چل پڑے۔ کمانڈر نے دیکھا کہ چاند افق سے نکل رہا تھا۔ اس سے اس نے
اندازہ کیا کہ رات آدھی گزر گئی ہے۔ اس وقت سے پہلے چاند نہیں ہوتا تھا۔
دریا کے کنارے لے جا کر پالکیاں اتاری گئیں۔ مذہبی پیشوا آگے بڑھ کر کمانڈر اور زہرہ کا لباس اتارنے لگے۔ چاند کی روشنی
میں کمانڈر نے دیکھا کہ برچھیوں والے دونوں محافظ اور پالکیاں اٹھانے والے دونوں حبشی ان کی طرف پیٹ کرکے پہلو بہ پہلو
کھڑے ہوگئے تھے۔ ان کے لیے شاید یہی حکم تھا۔ کمانڈر نے چیتے کی طرح جست لگائی اور ایک حبشی سے برچھی چھین
لی۔ وہ تجربہ کار سپاہی تھا۔ اس نے پیچھے ہٹ کر دوسرے حبشی کے پہلو میں برچھی اتار دی۔ اس حبشی کی برچھی گر
پڑی۔ کمانڈر نے چال کر کہا… ''زہر ہ بھاگ کر آئو ،یہ برچھی اٹھالو''۔
زہرہ دوڑی۔ کمانڈر نے گری ہوئی برچھی کو ٹھڈا مارا تو وہ زہرہ تک پہنچ گئی۔ کمانڈر نے کہا… ''اب مرد بن جائو''…
حبشیوں نے خالی ہاتھ مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ برچھیوں کا مقابلہ نہ کرسکے۔ مذہبی پیشوا بھاگ اٹھے۔ کمانڈر نے
انہیں دور نہیں جانے دیا۔ زہرہ بھی ادھر کو ہی دوڑ پڑی۔ دونوں پیشوا ختم ہوگئے۔ باقی بھی مرنے سے پہلے زور زور سے
کراہ اور چال رہے تھے۔ کمانڈر کی برچھی نے سب کو خاموش کردیا اور وہ چوکی کی طرف دوڑ پڑے۔ بہت آگے گئے تو انہیں
دو گشتی سنتری گھوڑوں پر سوار آتے نظر آئے۔ کمانڈر نے انہیں پکار کر کہا کہ جلدی آگے آئو۔
سنتریوں نے اپنے کمانڈر کو پہچان لیا۔ کمانڈر نے انہیں کہا… ''گھوڑے ہمیں دو ،ہم قاہرہ جارہے ہیں ،تم دونوں واپس چوکی
میں چلے جائو۔اگر کوئی ہماری تالش میں آئے تو کہنا کہ تم نے ہمیں نہیں دیکھا''۔
سپاہی پیدل واپس چلے گئے ،کمانڈر نے زہرہ کو گھوڑے پر سوار کیا اور خود دوسرے گھوڑے پر سوار ہوکر زہرہ سے کہا کہ اگر
تم نے کبھی گھوڑ سواری نہیں کی توگھبرانا نہیں۔ گھوڑا تمہیں گرائے گا نہیں۔ ڈرنا مت۔ اس نے گھوڑے کو ایڑی لگائی۔
گھوڑے سرپٹ دوڑنے لگے اور اس کے ساتھ ہی زہرہ نے ڈر کے مارے چیخنا شروع کردیا۔ کمانڈر نے گھوڑا روک لیااور زہرہ کو
اپنے گھوڑے پر اپنے پیچھے بٹھا لیا اور دوسرے گھوڑے کی باگیں اپنے گھوڑے کے پیچھے باندھ کر زہرہ سے کہا کہ وہ اس
کی کمر کے گرد بازو ڈال لے۔
گھوڑا پھر دوڑ پڑا۔ کمانڈر خطے سے دورہٹ کر اور چکر کاٹ کر جارہا تھا۔ اسے سمت اور راستے کاعلم تھا۔ وہ ابھی دو میل
بھی نہیں گیا ہوگا کہ ایک طرف سے اسے آوازسنائی دی… ''ٹھہر جائو کون ہو؟''… کمانڈر رکا نہیں۔ بیک وقت چار گھوڑے
اس کے تعاقب میں دوڑ پڑے۔ کمانڈر نے اپنے گھوڑے کی رفتار اور تیز کرنے کی کوشش کی لیکن اس کا گھوڑا تھک گیا تھا۔
اس نے کوشش کی کہ دوسرے گھوڑے کو اپنے پہلو میں کرکے اس پر سوار ہوجائے وہ گھوڑا بغیروزن کے بھاگ رہا تھا۔ اس
لیے زیادہ تھکا ہوا نہیں تھا مگرزہرہ کے ساتھ بھاگتے گھوڑے سے دوسرے گھوڑے پر سوار ہونا ممکن نہیں تھا۔ چاند اوپر آگیا
تھا جس سے دور تک نظر آسکتا تھا۔ چاروں گھوڑے بہت قریب آگئے تھے۔
دو تیر آئے جو کمانڈر کے قریب سے گزر گئے۔ ان کے ساتھ آواز آئی… ''اگر نہ رکے تو اب تیر کھونپڑی میں اتر جائیں
گے''۔
کمانڈر کو معلوم تھا کہ وہ رکا تو بھی موت ہے۔ یہ لوگ حبشیوں کے حوالے کرکے آج ہی رات ذبح کردیں گے۔ بھاگتے رہنے
میں بچ نکلنے کی صورت پیدا ہوسکتی ہے۔ اس نے گھوڑا دائیں بائیں گھما گھما کر دوڑانا شروع کردیا تاکہ تیر نشانے پر نہ
آئیں۔ یہ اس کی غلطی تھی۔ اس کے تعاقب میں آنے والے سیدھے آرہے تھے جس سے فاصلہ کم ہوگیا اور وہ گھیرے میں
آگیا۔ اس کے جسم پر پروں کا لباس تھا جس سے وہ پرندہ لگتا تھا۔ یہی حالت زہرہ کی تھی کمانڈر نے ان چاروں کو دیکھا
تو اسے شک ہوا۔ ان میں سے ایک نے پوچھا… ''تم کون ہو؟''… دوسرے نے کہا… ''پوچھتے کیا ہو ،سوڈانی ہے یہ ،دیکھو
تو انہوں نے پہن کیا رکھا ہے''۔
کمانڈر ہنس پڑا اور بوال… ''میرے دوستو ،میں تمہاری فوج کا ایک کمان دار ہوں''… اس نے زہرہ کا تعارف کرایا اور ساری
واردات سنا دی۔
یہ چار سوار دیکھ بھال کے کسی دستے کے تھے۔ وہ یہی دیکھتے پھر رہے تھے کہ سوڈان کی فوج کہاں ہے اور کہیں ہے
بھی یا نہیں۔ وہ کمانڈر اور زہرہ کو ساتھ لے کر قاہرہ کی سمت چل پڑے۔
٭ ٭ ٭
بڑی ہی لمبی مسافت طے کرکے وہ اگلی رات قاہرہ پہنچے۔ انہیں سب سے پہلے علی بن سفیان کے پاس لے جایا گیا اور
رات کو ہی العادل کو جگا کر بتایا گیا کہ چار ہزار سے زیادہ حبشی فوج فالں جگہ چھپی ہوئی ہے اور اس کی قیادت ساالر
القند کررہا ہے۔ العادل نے اسی وقت اپنی فوج کو کوچ کا حکم دے دیا۔ سلطان صالح الدین ایوبی کے طریقہ جنگ کے مطابق
اس نے ہر اول میں سوار دستے رکھے ،جن کی نفری خاصی تھوڑی تھی۔ دو حصے پہلوئوں میں پیچھے رکھے۔ درمیان میں اپنا
مین کوارٹر اپنے پیچھے زیادہ سے زیادہ دستے ریزرو میں رکھے۔ اسے معلوم تھا کہ وہ خطہ پہاڑی ہے۔ اس نے فوج کو قلعے
کا محاصرہ کرنے کی تربیت میں رکھااور کمانڈروں کو وہ جگہ سمجھا کر محاصرے کی ہی ہدایات دیں۔ پہاڑوں پر چڑھنے کے
لیے اس نے چھاپہ مار دستے الگ کرلیے جنہیں اس نے اپنی کمان میں رکھا۔
ادھر صبح کے وقت کسی نے دیکھا کہ مذہبی پیشوائوں اور چار حبشیوں کی الشیں دریا کے کنارے پڑی ہیں۔ القند اور اس کے
صلیبی مشیروں کو اطالع دی گئی۔ کسی حبشی کو پتا نہ چلنے دیا گیا۔ القند کو یہ بھی بتایا گیا کہ جس مرد اور عورت کو
قربانی کے لیے رکھا گیا تھا وہ الپتہ ہیں۔ تب القند نے پوچھا کہ وہ آدمی کون تھا۔ اسے جب بتایا گیا کہ وہ اس قریبی
چوکی کا کمانڈر تھا تو وہ چونکا۔ اسے یاد آگیا کہ اس کمانڈر نے اسے دیکھا تھا۔
وہ سیدھا قاہرہ گیا ہوگا'' القند نے کہا… ''اسے چوکی میں جاکر دیکھنا اور پکڑنا بیکار ہے۔ اب ایک لمحہ بھی ضائع ''
نہیں کرنا چاہیے۔ ہم قاہرہ پر بے خبری میں ہلہ بولنا چاہتے تھے لیکن ہم نے وقت ضائع کیا۔ اب ہم بے خبری میں مارے
جائیں گے۔ میں اپنی فوج کو جانتا ہوں۔ خبر ملتے ہی اڑ کر پہنچے گی… اور ایک کام فورا ً کرو۔ حبشیوں کی الشیں دریا میں
بہا دو۔ اگر ان حبشیوں کو پتا چل گیا کہ ان کے مذہبی پیشوا اور ان کے محافظ مارے گئے اور جنہیں قربان کرنا تھا وہ
بھاگ گئے ہیں تو یہ ہجوم قاہرہ کے بجائے خرطوم کی طرف چل پڑے گا''۔
فورا ً ہی اعالن کردیا گیا کہ دریا کے کنارے قربانی دے دی گئی ہے۔ خدا نے حکم دیا ہے کہ میرے دشمنوں پر فورا ً حملہ
کردو… ان کے جو کمانڈر مقرر کیے گئے تھے انہوں نے حبشیوں کو تعداد کے مطابق الگ الگ کردیا۔ تیر انداز الگ ہوگئے،
جنگی سکیم کے مطابق انہیں ترتیب میں کرلیا گیا۔ انہیں پہاڑیوں کے اندر سے نکال کر دریا کے کنارے اس جگہ کے قریب
سے گزارا گیا جہاں حبشیوں کا خون بکھرا ہوا تھا اور پالکیاں پڑی تھیں۔ وہاں ایک آدمی کھڑا اعالن کررہا تھا… ''یہ خون
اس مرد اور عورت کا ہے جنہیں قربان کیا گیا ہے''۔
یہ فوج دریا کے کنارے قاہرہ کی سمت روانہ ہوئی۔ حبشی جنگی ترانہ گاتے جارہے تھے۔ دن چلتے گزر گیا رات آئی تو پڑائو
کیا گیا۔ اگلی صبح پھر کوچ ہوئی۔پہاڑی خطہ بہت پیچھے رہ گیا۔ یہ دن بھی گزر گیا اور ایک اور رات آئی۔ حبشیوں کو پڑائو
کرنے کو کہا گیا۔ وہ کھا پی کر صحرا میں بکھر گئے اور بے سدھ سوگئے… آدھی رات کے وقت ان کے پچھلے حصے پر
العادل کے ایک چھاپہ مار گروہ نے شب خون مارا۔ گھوڑے سرپٹ دوڑتے آئے اور غائب ہوگئے۔ حبشیوں میں ہڑبونگ مچ گئی۔
بہت دیر بعد ایسا ہی ایک اور ہلہ آیا جو بہت سے حبشیوں کو روندتا کچلتا نکل گیا۔ القند سب سے آگے تھا۔ اسے اطالع
ملی تو اس نے اگلے روز کی پیش قدمی روک دی۔
یہ شب خون بتاتے ہیں کہ ہم مصری فوج کی نظر میں آگئے ہیں''۔ اس صلیبی اور سوڈانی کمانڈروں سے کہا… ''یہ ''
سلطان صالح الدین ایوبی کا خصوصی طریقہ جنگ ہے۔ ہم اب آگے نہیں بڑھ سکتے۔ تم ہزار جتن کرو مصری فوج سے تم
کھلے صحرا میں لڑ نہیں سکتے اور اب تم بھاگ بھی نہیں سکتے۔ اب پیچھے چلو اور پہاڑیوں میں لڑو۔ ہمارا تمام تر منصوبہ
ناکام ہوچکا ہے۔ قاہرہ والے نہ صرف بیدار ہوگئے ہیں بلکہ انہوں نے فوج بھیج دی ہے''۔
کیا ہم صحرا میں مصری فوج کو ڈھونڈ کر اس سے لڑ نہیں سکتے؟'' ایک صلیبی نے کہا۔''
اگر تم لوگ سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج کو سامنے الکر لڑا سکتے تو آج مصر تمہارا ہوتا''۔ القند نے کہا… ''میں ''
اسی فوج کا ساالر ہوں۔ تم مجھ سے بہتر نہیں سمجھتے کہ اس فوج سے کیسے لڑنا ہے''۔
سحر کے وقت حبشیوں کی فوج واپس چل پڑی۔ ہر طرف حبشیوں کی الشیں بکھری ہوئی تھیں۔ القند ٹھیک کہتا تھا کہ اس
کی فوج مصری فوج کی نظر میں آگئی ہے۔ مصری فوج کا دیکھ بھال کا انتظام القند کی ایک ایک حرکت دیکھ رہا تھا۔ وہ
حبشیوں کی فوج کو پیچھے لے چال تو العادل فورا ً سمجھ گیا کہ القند پہاڑیوں میں لڑنا چاہتا ہے۔ اس نے اسی وقت سوار تیر
انداز دستے دور کے راستے سے پہاڑی خطے کی طرف روانہ کردئیے۔ پیادہ دستے بھی بھیجے گئے اور اس نے زیادہ تر دستے
اپنے پاس روکے رکھے۔ ان دستوں کے ساتھ وہ حبشی فوج سے بہت فاصلہ رکھ کر پیچھے پیچھے چل پڑا۔
راستے میں رات آئی۔ حبشیوں کا پڑائو ہوا۔ رات کو العادل کے چھاپہ مار دستے حرکت میں آئے۔ حبشیوں کے ایک جیش کو
بیدار رکھا گیا تھا۔ یہ تیر انداز تھے۔ انہوں نے بہت تیر چالئے جن سے کچھ سوار چھاپہ مار شہید ہوئے لیکن وہ جو نقصان
کرگئے وہ بہت زیادہ تھا۔ سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ حبشیوں کا لڑنے کا جذبہ مجروح ہوگیا تھا۔ وہ کچھ اور سوچ کر آئے
تھے۔وہ آمنے سامنے لڑنے کے عادی تھے مگر یہاں دشمن انہیں نظر ہی نہیں آتا تھا ،وہ تباہی بپا کرجاتا تھا۔ اس کے عالوہ
آگے بڑھتے بڑھتے پیچھے ہٹ رہے تھے۔
اگلے دن حبشیوں نے اپنے ساتھیوں کی الشیں دیکھیں اور پیچھے کو چل پڑے… سورج غروب ہونے میں ابھی بہت دیر باقی
تھی۔ جب وہ پہاڑی خطے میں داخل ہوئے لیکن اب انہیں پہلے کی طرح ایک جگہ جمع نہیں کرنا تھا بلکہ پہاڑیوں کے اوپر،
نیچے اور وادیوں میں لڑنے کی ترتیب میں رکھنا تھا ان کی آدھی نفری پہاڑیوں میں پہنچ چکی تھی۔ جب ان پر بلندیوں سے
تیر برسنے لگے۔ العادل کے برق رفتار دستے پہلے ہی وہاں پہنچ کر مورچہ بند ہوگئے تھے۔ حبشیوں کے کمانڈروں نے چیخ
چال کر انہیں اوٹ میں کہا اور تیر اندازی کا حکم دیا۔ باقی نصف فوج ابھی باہر تھی۔ اسے پیچھے ہٹایا گیا۔ القند نے اس
نفری کو پہاڑیوں پر چڑھا کر آگے جانے اور اوپر سے تیر چالنے کی چال چلی مگر حبشی ابھی پہاڑوں پر چڑنے ہی والے تھے
کہ ادھر سے العادل کی فوج جو ان کے عقب میں جارہی تھی ،پہنچ گئی۔
حبشیوں کی خاصی نفری بلندیوں پر جانے میں کامیاب ہوگئی۔ جہاں سے حبشیوں نے نہایت کارگر تیر اندازی کی۔ العادل کو
نقصان اٹھانا پڑا مگر اس کی سکیم اچھی تھی۔ اس نے ادھر سے دستے پیچھے ہٹا لیے۔ اس کی پہلی ہدایات کے مطابق
دوسری طرف سے تیر انداز اور دیگر دستے پہاڑی خطے کی بلندیوں پر جارہے تھے۔سوار دستوں میں ایک کو دریا کے کنارے
بھیج دیا گیا۔
اسوان کے اس سلسلہ کوہ میں خونریز معرکہ لڑا گیا۔ وادیوں پر تیر برس رہے تھے۔ پھر سوار دستوں کو وادیوں میں ہلہ بولنے
کا حکم مال۔ رات کو حبشی تو دبک گئے لیکن العادل نے منجنیقوں کے دستوں کو حکم دیا کہ وہ جگہ جگہ آتش گیر مادے
کی ہانڈیاں پھینک کر آگ کے گولے پھینکیں۔ تھوڑی دیر بعد پہاڑیوں کی ڈھالنوں پر آگ کے شعلے اٹھے اور ہر طرف روشنی
ہوگئی۔ اس روشنی میں رات کو بھی معرکہ جاری رہا۔ صبح کے وقت حبشی خاموش ہوچکے تھے۔ ان میں سے کچھ زمین دوز
محالت میں چلے گئے تھے۔ انہیں بڑی مشکل سے باہر نکاال گیا۔
دن کے وقت القند کی الش مل گئی۔ وہ کسی کے تیر سے یا تلوار سے نہیں اپنی تلوار سے مرا تھا۔ اس کی اپنی تلوار اس
کے دل کے مقام پر اتری ہوئی تھی۔ صاف پتا چلتا تھا کہ اس نے خودکشی کی ہے۔ چند ایک صلیبی اور سوڈانی کمانڈر زندہ
پکڑے گئے اور حبشی جنگی قیدیوں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ تھی۔
العادل نے وہیں سے قاصد کو سلطان صالح الدین ایوبی کے نام کامیابی کا پیغام دے کر روانہ کردیا اور اسے حکم دیا کہ بہت
جلدی سلطان صالح الدین ایوبی تک پہنچو ،وہ بہت پریشان ہوں گے۔
یہ قصہ یہہی ختم ہوا
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:12
قسط نمبر۔81یہ چراغ لہو مانگتے ہیں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عالم اسالم کے اسی خطے میں جہاں آج شامی مسلمان لبنانی صلیبیوں کے ساتھ مل کر فلسطینی حریت پسندوں کو پوری
جنگی قوت سے کچل رہے ہیں ،وہیں آٹھ سو سال پہلے بہت سے مسلمان امراء اور حاکم اور مسلمان زنگی مرحوم کا نوعمر
بیٹا صلیبیوں سے مدد لے کر سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف صف آرا ہوگئے تھے۔ مسلمان مسلمان کا خون بہا رہا تھا۔
اس وقت فلسطین صلیبیوں کے قبضے میں تھا اور سلطان صالح الدین ایوبی قبلۂ اول کے اس خطے کو کفار سے آزاد کرانے کا
عزم لے کر نکال تھا۔ صلیبی اس سے فلسطین کو نہیں بچا سکتے تھے مگر مسلمان ہی اس کے راستے میں حائل ہوگئے۔ آج
بھی فلسطین پر کفار کا قبضہ ہے اور فلسطینی حریت پسند جو قبلۂ اول کو آزاد کرانے کے لیے اٹھے تھے ،شامی مسلمانوں کی
توپوں اور ٹینکوں سے بھسم کیے جارہے ہیں۔
مارچ ١١٧٥ء میں سلطان صالح الدین ایوبی اسی خطے کے الرستان سلسلۂ کوہ میں کسی جگہ اپنے کوارٹر میں بیٹھا اپنے
مشیروں اور کمانڈروں کے ساتھ اگلے اقدام کے متعلق باتیں کررہا تھا ،جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ اس نے حلب کا
محاصرہ اس لیے اٹھا لیا تھا کہ ملک الصالح نے صلیبی بادشاہ ریمانڈ کے ساتھ جو جنگی معاہدہ کیا تھا ،اس کے مطابق ریمانڈ
سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج پر عقب سے حملہ کرنے کے لیے آگیا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے بروقت محاصرہ
اٹھا لیا اور ایسی چال چلی کہ ریمانڈ کی فوج کے عقب میں چال گیا اور ریمانڈ نے لڑے بغیر بھاگ جانے میں عافیت
سمجھی۔ حلب مسلمانوں کا شہر تھا جو سلطان صالح الدین ایوبی کے دشمن مسلمان امراء اور الملک الصالح کا جنگی مرکز
بن گیا تھا۔ حلب کے مسلمانوں نے خلیفہ اور امراء کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر سلطان صالح الدین ایوبی کا مقابلہ بے
جگری سے کیا تھا۔
وہ حلب پر ایک بار پھر حملہ کرکے غداروں اور ایمان فروشوں کے اس مرکز کو ختم کرنے کی سکیم بنا رہا تھا کہ اسے مصر
سے اطالع ملی کہ مصر میں اس کے ایک جرنیل القند نے صلیبیوں کی مدد سے سوڈانی حبشیوں کی فوج اس مقصد کے لیے
تیار کرلی ہے کہ سلطان صالح الدین ایوبی کی غیرحاضری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مصر پر حملہ کیا جائے اور مصر کی امارت
سلطان صالح الدین ایوبی سے چھین لی جائے لیکن سلطان صالح الدین ایوبی کے بھائی العادل نے حبشیوں کو اسوان کے مقام
پر شکست دی اور القند نے خودکشی کرلی۔ اس کی اطالع ابھی سلطان صالح الدین ایوبی تک نہیں پہنچی تھی ،اس لیے وہ
الرستان میں پریشان بیٹھا تھا۔
عظمت اسالم کا یہ پاسبان ہر طرف سے خطروں میں گھرا ہوا تھا۔ کئی ایک مسلمان امراء کی فوجیں اس کے خالف متحد
تھیں اور صلیبیوں کا خطرہ الگ تھا۔ ان سب کے مقابلے میں سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس بہت تھوڑی فوج تھی۔ اس
نے ایسا اقدام کردکھایا تھا جو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔ اس کے دشمنوں کو یہ توقع تھی کہ اس پہاڑی خطے
میں سردیوں میں کوئی جنگ کی سوچ ہی نہیں سکتا۔ پہاڑیاں جو بلند تھیں وہاں برف پڑتی تھی۔ سلطان صالح الدین ایوبی
نے اپنی فوج کو ٹریننگ دے کر اس وقت حملہ کیا جب سردی عروج پر تھی۔ اس دلیرانہ اور غیر متوقع اقدام سے اس نے
قلیل فوج سے سب کو خوفزدہ کردیا اور ایسی پوزیشن حاصل کرلی کہ دشمن کی کسی بھی فوج کو اپنی پسند کی جگہ
گھسیٹ کر لڑا سکتا تھا۔ اس کی فوج اتنی تھوڑی تھی کہ اسے کبھی کبھی ناکامی کا خطرہ بھی محسوس ہونے لگتا تھا
لیکن سبھی اس سے ڈر رہے تھے۔ اسے یہ ڈر تھا کہ ریمانڈ سکیم اور راستہ بدل کر اس پر حملہ کرے گا لیکن ریمانڈ کی
حالت یہ تھی کہ اس نے اپنے عالقے تریپولی کا دفاع اس ڈر سے مضبوط کرلیا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی حملہ کرے
گا۔
سلطان صالح الدین ایوبی نے جس طرح اسے بھگایا تھا اس سے سلطان صالح الدین ایوبی اسی صورت میں فائدہ اٹھا سکتا
تھا کہ صلیبیوں کا تعاقب کرتا مگر فوج کی قلت نے اسے آگے نہ جانے دیا ور بڑی وجہ یہ تھی کہ مصر میں القند کی
بغاوت نے اسے روک دیا تھا۔ اسے خطرہ نظر آرہا تھا کہ مصر کے حاالت بگڑ جائیں گے۔ اس صورت میں اسے مصر چلے
جانا تھا۔ وہ اس صورتحال سے ڈرتا تھا اگر اسے مصر جانا پڑتا تو مسلمان امراء عالم اسالم کو صلیبیوں کے ہاتھ بیچ ڈالتے۔
اس کا دارومدار اس پر تھا کہ مصر سے اسے کیا اطالع ملتی ہے۔
اپنے مشیروں اورکمانڈروں سے وہ مصر کے متعلق ہی پریشانی کا اظہار کررہا تھا جب اسے اطالع ملی کہ قاہرہ سے قاصد آیا
ہے ،سلطان صالح الدین ایوبی نے بادشاہوں کی طرح یہ نہ کہا کہ اسے اندر بھیج دو۔ وہ اٹھا اور دوڑتا خیمے سے باہر نکل
گیا۔ قاصد اتنے لمبے سفر کی تھکن سے چور گھوڑے سے اتر کر خیمے کی طرف آرہا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے
''گھبراہٹ کے لہجے میں پوچھا… ''کوئی اچھی خبر الئے ہو؟
بہت اچھی سلطان عالی مقام!''… اس نے جواب دیا… ''محترم العادل نے حبشیوں کے لشکر کو اسوان کی پہاڑیوں میں ''
ایسی شکست دی ہے کہ اب سوڈان کی طرف سے لمبے عرصے تک کوئی خطرہ نہیں رہا''۔
سلطان صالح الدین ایوبی نے دونوں ہاتھ جوڑ کر آسمان کی طرف دیکھا اور خدا کا شکر ادا کیا۔ خیمے سے دوسرے لوگ بھی
باہر آگئے تھے۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے انہیں یہ خوشخبری سنائی اورقاصد کو خیمے میں لے گیا۔ اس کے لیے کھانا
''وہیں النے کو کہا اور اس سے اسوان کے معرکے کی تفصیل سن کر پوچھا۔ ''اپنی فوج کی شہادت کتنی ہے؟
تین سو ستائیس شہید''۔ قاصد نے جواب دیا… ''پانچ سو سے کچھ زیادہ زخمی دشمن کا تمام تر جنگی سامان ہمارے ''
ہاتھ لگا ہے۔ ایک ہزار دو سو دس حبشی قیدی پکڑے ہیں۔ صلیبی اور سوڈانی سردار اور کمانڈر جو قید کیے گئے ہیں الگ
ہیں''۔ قاصد نے پوچھا… ''محترم العادل نے پوچھا ہے کہ قیدیوں کے متعلق کیا حکم ہے''۔
صلیبی اور سوڈانی ساالروں اور کمانڈروں کو قید خانے میں ڈال دو''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا اور گہری سوچ میں''
پڑ گیا۔ کچھ دیر بعد کہنے لگا… ''اور وہ جو ایک ہزار اور کچھ حبشی قیدی ہیں انہیں اسوان کی پہاڑیوں میں لے جائو۔ وہ
جن غاروں میں چھپے تھے ،وہ ان سے پتھروں سے بھروائو۔ وہاں فرعونوں کے جو زمین دوز محل ہیں انہیں بھی پتھروں سے
بھرا دو۔ یہ کام ان حبشیوں سے کرائو۔ اگر پہاڑ کھودنے پڑیں تو ان حبشیوں سے کھدوائو۔ وہاں کوئی غار اور پہاڑیوں کے اندر
کوئی محل نہ رہے۔ العادل سے کہنا کہ قیدیوں کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک کرنا۔ روزانہ ان سے اتنا کام لینا جتنا ایک
انسان کرسکتا ہے۔ کوئی قیدی بھوکا اور پیاسا نہ رہے اور کسی پر صرف اس لیے تشدد نہ ہو کہ وہ قیدی ہے۔ وہیں اسوان
کے قریب کھال قید خانہ بنا لو اور کھانے کا انتظام وہیں کرو۔ اس کام میں کئی سال لگیں گے۔ اگر تمہارے سامنے کوئی اور
کام ہو تو وہ ان قیدیوں سے کرائو اور اگر سوڈانی اپنے قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کریں تو مجھے اطالع دینا۔ میں خود ان
کے ساتھ سودا کروں گا''۔
اس پیغام کے بعد سلطان صالح الدین ایوبی نے قاصد سے کہا۔ ''العادل سے کہنا کہ مجھے کمک کی شدید ضرورت ہے،
اپنی ضرورت کا بھی خیال رکھنا۔ بھرتی اور تیز کردو۔ جنگی مشقیں ہر وقت جاری رکھو۔ جاسوسی کا جال اور زیادہ پھیال دو
اگر القند جیسا قابل اعتماد ساالر غداری کا مرتکب ہوسکتا ہے تو تم بھی غدار ہوسکتے ہو اور میں بھی۔ اب کسی پر بھروسہ
نہ کرنا۔ علی بن سفیان سے کہنا کہ اور تیز اور چوکنا ہوجائے''۔
٭ ٭ ٭
مصر سے کمک آنے تک میں کوئی جارحانہ کارروائی نہ کروں تو بہتر ہوگا''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے قاصد کو واپس ''
روانہ کرکے اپنے ساالروں وغیرہ سے کہا۔ ''ابھی ہم ان کامیابیوں کے دفاع میں رہیں گے جو ہم حاصل کرچکے ہیں۔ا پنی
موجودہ صورتحال پر ایک نظر ڈالو۔ تمہارا سب سے بڑا دشمن تمہارا اپنا بھائی ہے۔ تمہارے طاقتور دشمن تین ہیں۔ حلب میں
الملک بیٹھا ہے۔ دوسرا اس کا قلعہ دار گمشتگین ہے جو حران میں فوج تیار کیے ہوئے ہے اور تیسرا سیف الدین ہے جو
موصل کا حاکم ہے۔ یہ تینوں فوجیں اکٹھی ہوگئیں تو ہمارے لیے ان کامقابلہ آسان نہیں ہوگا۔ ریمانڈ کو تم نے پسپا کردیا ہے
لیکن وہ اس انتظارمیں ہے کہ مسلمان فوجیں آپس میں الجھ جائیں تووہ ہمارے عقب میں آجائے۔ میں محصور ہوکر بھی لڑ
سکتا ہوں لیکن لڑنا چاہو ں گا نہیں''۔
کیا ایک کوشش اور نہ کی جائے کہ ملک الصالح ،سیف الدین اور گمشتگین کو اسالم اور قرآن کا واسطہ دے کر راہ راست''
پر الیا جائے؟'' ایک ساالر نے کہا۔
نہیں'' ۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا۔ ''جو لوگ اپنے دل اور دماغ حق کی آواز کے لیے سربمہر کرلیا کرتے ہیں ،وہ''
خدا کے قہر اورعذاب کے بغیر اپنے دل اور دماغ نہیں کھوال کرتے۔ کیا میں کوشش کر نہیں چکا؟ اس کے جواب میں مجھے
دھمکیاں ملیں۔ اگر اب میں صلح اورسمجھوتے کے لیے ایلچی بھیجوں گا تو وہ لوگ کہیں گے کہ سلطان صالح الدین ایوبی
لڑنے سے گھبراتا اور ڈرتا ہے۔ اب میں ان پر خدا کا وہ عذاب اور قہر بن کر گرنا چاہتا ہوں جو ان کے دل اور دماغ کی
مہریں توڑ دے گا۔ یہ قہر تم ہو اور تمہاری فوج''۔ اس نے آہ بھری اور کہا۔ ''تم نے حلب کا محاصرہ کیا تو حلب کے
مسلمان جس دلیری سے لڑے وہ تم کبھی نہیں بھولو گے۔ وہ بے شک ہمارے خالف لڑے لیکن میں ان کی تعریف کرتا ہوں۔
ایسی بے جگری سے صرف مسلمان لڑ سکتا ہے۔ کاش یہ جذبہ اور یہ طاقت اسالم کے لیے استعمال ہوتی۔ تم جانتے ہو کہ
میں بادشاہ نہیں بننا چاہتا۔ میرا مقصد یہ ہے کہ عالم اسالم متحد ہو اور یہ قوت جو بکھر گئی ہے مرکوز ہوکر صلیبی عزائم
کے خالف استعمال ہو اور فلسطین آزاد کراکے ہم سلطنت اسالمیہ کی توسیع کریں''۔
ہم مایوس نہیں''۔ ایک ساالر نے کہا۔ ''نئی بھرتی آرہی ہے ،اس عالقے میں جوان خاصی تعداد میں بھرتی ہورہے ہیں۔ ''
مصر سے بھی کمک آرہی ہے۔ ہم آپ کی ہر توقع پوری کریں گے''۔
لیکن میں کب تک زندہ رہوں گا''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا۔ ''تم کب تک زندہ رہو گے؟ ابلیسی قوتیں زور پکڑ''
رہی ہیں۔ ان کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہے۔ میرے وہ عزیز دوست جن پر مجھے بھروسہ اور اعتماد تھا ،صلیبیوں کے ہاتھوں
میں کھیلے اور میرے ہاتھوں قتل ہوئے۔القند تمہارے ساتھ کامعتمد ساالر تھا۔ کیا تم سن کر حیران نہیں ہوئے کہ القند نے
سوڈان سے حبشیوں کی فوج بالئی اور مصر پر قابض ہونے کی کوشش کی؟ اس نے مجھ پر یہ کرم کیا ہے کہ شکست کھا کر
اپنے ہاتھوں اپنی جان لے لی ہے۔ میں نے اسے سزائے موت نہیں دی۔ حکومت کا نشہ ،دولت اور عورت اچھے اچھے
انسانوں کو اندھا کردیتی ہیں۔ ایمان میں کیا رکھا ہے؟ ایمان سونے کی طرح چمکتا نہیں ،عورت کی طرح عیاشی کا ذریعہ
نہیں بنتا اور ایمان بادشاہ اور فرعون نہیں بننے دیتا۔ ایک بار روح کے دروازے بند کرلو تو ایمان بیکار شے بن جاتا ہے ،پھر
عقل پر پردے پڑ جاتے ہیں''۔
سپین سے تمہارا پرچم کیوں اترا؟ تاریخ کہتی ہے کہ یہ کفار کی سازش کا نتیجہ تھا مگر ان کی سازشیں کیوں کامیاب ''
ہوئیں؟ کیونکہ خود مسلمانوں نے اپنے آپ کو کفار کا آلۂ کار بنایا اور
ا جرت وصول کی۔ سپین ان کا تھا جنہوں نے سمندر پار جاکر کشتیاں جال ڈالی تھیں تاکہ واپسی کا خیال ہی دل سے نکل
جائے۔ سپین کی قیمت وہی جانتے ہیں جنہوں نے یہ قیمت دی تھی۔ سپین شہیدوں کا تھا ،یہ ہوتا آیا ہے اور مجھے ڈر ہے
کہ یہی ہوتا چال جائے گا کہ خون کے نذرانے دے کر ملک حاصل کرنے والے دنیا سے اٹھ جاتے ہیں تو وہ لوگ بادشاہ بن
جاتے ہیں جن کے خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہا تھا۔ انہیں چونکہ ملک مفت ہاتھ آجاتا ہے اس لیے اسے وہ عیاشی کا
ذریعہ بناتے ہیں اور اپنے تخت وتاج کی سالمتی کے لیے دین وایمان والوں اور دل میں قوم کا درد رکھنے والوں کی زبانیں
بند کرتے اور ان کا گال گھونٹ دیتے ہیں۔ انہیں افالس اور فاقوں کی چکی میں پیس کر ان کے جذبوں کو ختم کردیتے
ہیں''۔
سپین میں یہی ہوا۔ کفار نے ہمارے بادشاہوں کو زور جواہرات اور یورپ کی حسین لڑکیوں سے اپنے ہاتھ میں لیا۔ انہیں ''
انہی کی فوج کے خالف کیا۔ مجاہدین کو مجرم بنایا اور سپین کی اسالمی مملکت کو دیمک کھا گئی۔ ہمارے رسول اکرم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروانوں نے لہو کے چراغ جال کر آدھی دنیا کو حق کی آواز سے منور کیا۔ کہاں ہیں وہ چراغ؟
ایک ایک کرکے بجھتے جارہے ہیں ،یہ چراغ لہو مانگتے ہیں مگر لہو دینے والے صلیبیوں کی شراب اور عورت کے طلسم میں
گم ہوگئے ہیں۔ان لوگوں کو یہ سلطنت مفت ہاتھ آئی ہے۔ وہ ان شہیدوں کو بھول چکے ہیں جن کے خون کے عوض خدا نے
قوم کو یہ سلطنت عطا کی تھی اور خدا نے یہ سلطنت بادشاہیاں قائم کرنے اور عیاشی کے لیے عطا نہیں کی تھی بلکہ اس
لیے کہ اسے مرکز بنا کر اسالم کا نور ساری دنیا میں پھیالیا جائے اور بنی نوع انسان کو شر کی قوتوں سے نجات دالئی
جائے مگر شر کا جادو چل گیا اور آج جب قبلۂ اول پر کفار کا قبضہ ہے ہم ایک دوسرے کاخون بہا رہے ہیں''۔
کافر سے پہلے غدار کا قتل ضروری ہے''۔ ایک مشیر نے کہا۔ ''اگر ہم حق پر ہیں تو ہم ناکام نہیں ہوں گے''۔''
مجھے یہ نظر آرہا ہے کہ یہ خطہ خون میں ہی ڈوبا رہے گا''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا۔ ''حکومت شاید ''
مسلمانوں کی ہی رہے مگر ان کے دلوں پر صلیبیوں کی حکمرانی ہوگی''۔
٭ ٭ ٭
جنگی نقطہ نگاہ سے سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنی فوج کو ایسی پوزیشنوں میں تقسیم کررکھا تھا کہ کسی بھی ایسے
قلعے پر جو وہ فتح کرچکا تھا دشمن براہ راست حملہ نہیں کرسکتا تھا۔ ان قلعہ میں اس نے مختصر سی نفری رکھی تھی۔
کیونکہ وہ قلعہ بند ہوکر لڑنے کا قائل نہیں تھا۔ پہاڑی عالقے میں اس نے تمام راستوں اور وادیوں کی بلندیوں پر تیر انداز
بٹھا دئیے تھے جو راستے تنگ تھے ان کے اوپر پہاڑیوں پر اس نے بہت بڑے بڑے پتھر رکھ کر کچھ آدمی بٹھا دئیے تھے
تاکہ دشمن گزرے تو اوپرسے پتھر لڑھکا دئیے جائیں۔ دمشق سے آنے والے راستے کو اس نے کمانڈو قسم کے گشتی دستوں سے
محفوظ کررکھا تھا تاکہ رسد دشمن سے محفوظ رہے۔ ایک جگہ ایسی تھی جسے ''حماة کے سینگ'' کہا جاتا تھا۔ یہ ایک
وسیع وادی تھی جس میں ایک نیکری جو خاصی بلند تھی آگے جا کر سینگوں کی طرح دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔
اسے سلطان صالح الدین ایوبی نے پھندے کی حیثیت دے رکھی تھی۔ اس نے اپنے ساالروں کو تکنیکی لحاظ سے سمجھا دیا
تھا کہ دشمن باہر آکر لڑا تو اسے اس وادی میں گھسیٹ کر لڑایا جائے گا۔
سلطان صالح الدین ایوبی نے تمام عالقے میں ایسی جگہوں پر پوزیشنیں قائم کرلی تھیں جن سے وہ دشمن کو کسی بھی جگہ
النے پر مجبور کرسکتا تھا۔ اس اہتمام کے عالوہ اس کے چھاپہ مار جو ان چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں دور دور تک گھومتے
پھرتے رہتے تھے۔ جاسوسی ( انٹیلی جنس) کا نظام ایسا تھا کہ دشمن کے قلعوں کے اندر بھی سلطان صالح الدین ایوبی کے
جاسوس موجود تھے جو خبریں بھیجتے رہتے تھے۔ا سے یہاں تک معلوم ہوگیا تھا کہ سلطانی کے نام نہاد دعویدار الملک
الصالح نے اپنے گورنر ( حران کے قلعہ دار) گمشتگین کو اور موصل کے حاکم سیف الدین کو مدد کے لیے بالیا ہے اور معلوم
ہوتا ہے کہ یہ دونوں کچھ شرائط کے بدلے مدد دیں گے ،صرف بالوے پر نہیں جائیں گے۔ جاسوسوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ
یہ مسلمان حکمران اور امراء بظاہر اتحادی ہیں لیکن ان کے دل آپس میں پھٹے ہوئے ہیں۔ ہر ایک اپنی جنگ لڑ کر زیادہ
سے زیادہ عالقے پر قابض ہونے کی فکر میں ہے اور صلیبی انہیں مدد کم اور شہ زیادہ دے رہے ہیں اورا ن کی باہمی چپقلش
کو ہوا بھی دے رہے ہیں۔
شمس الدین اور شاہ بخت کی کوئی اطالع نہیں آئی؟'' سلطان صالح الدین ایوبی نے حسن بن عبداللہ سے پوچھا۔''
کوئی تازہ اطالع نہیں'' ۔ حسن بن عبداللہ نے جواب دیا۔ ''وہ بڑی کامیابی سے اپنا کام کررہے ہیں۔ گمشتگین نے کوئی ''
بھی قدم اٹھایا یہ دونوں ساالر اپنا پورا کام کریں گے۔ ان کا پیغام بھی یہی تھا کہ حاالت کے مطابق وہ کارروائی کریں
گے''۔
حسن بن عبداللہ سلطان صالح الدین ایوبی کی انٹیلی جنس کا سربراہ تھا۔ وہ علی بن سفیان کا نائب تھا۔ علی بن سفیان
مصر میں تھا کیونکہ دشمن کی جاسوسی اور تخریب کاری کا زیادہ خطرہ مصر میں تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی حسن بن
عبداللہ کے ساتھ باہر ٹہل رہا تھا۔ اس نے شمس الدین اور شاہ بخت کا نام لیا تھا۔ یہ دونوں گمشتگین کے جرنیل تھے۔
گمشتگین کے متعلق بتایا جاچکا ہے کہ شیطان فطرت مسلمان تھا۔ عہدے اور رتبے کے لحاظ سے وہ گورنر تھا اور حران کے
قلعے میں مقیم تھا۔ اس قلعے میں اورباہر اس نے خاصی فوج جمع کررکھی تھی۔ وہ خالفت کے تحت تھا اور خلیفہ کے
احکام کا پابند لیکن اس نے ذاتی سیاست بازی اورچالبازیوں سے فوجی اور سیاسی لحاظ سے ایسی پوزیشن حاصل کرلی تھی
جہاں وہ کسی کو پلے نہیں باندھتا تھا۔ اس نے صلیبیوں کے ساتھ درپردہ گٹھ جوڑ کررکھا تھا۔ یہاں تک کہ اس کے قلعے میں
نورالدین زنگی کے پکڑے ہوئے صلیبی قیدی تھے جن میں کمانڈر بھی تھے۔ زنگی فوت ہوگیا تو گمشتگین نے کسی کے حکم
کے بغیر تمام قیدی رہا کردئیے۔ اس نے یہ اقدام صلیبیوں کی خوشنودی کے لیے کیا تھا کیونکہ وہ اب صلیبیوں کے خالف
نہیں بلکہ ان سے مدد حاصل کرکے سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف لڑنے کی تیاریاں کررہا تھا۔
اس کے دو ساالر تھے جو ذہانت اور جنگی اہلیت کی بدولت اس کے معتمد تھے۔ یہ دونوں بھائی تھے۔ ایک کا نام شمس
الدین علی اور دوسرے کا شاد بخت علی تھا۔ یہ دونوں ہندوستانی مسلمان تھے۔عراق کے اس وقت کے ایک مورخ کمال الدین
نے عربی میں ''تاریخ حلب'' کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی۔ اس نے ان کا اتناہی ذکر کیا ہے کہ یہ دونوں سگے
بھائی تھے اور نورالدین زنگی کی زندگی میں ہندوستان سے اس کے پاس آئے تھے۔زنگی نے انہیں فوج میں اچھا رتبہ دے کر
حران بھیج دیا تھا۔قاضی بہائوالدین ابن شداد نے بھی ان کا اپنی ڈائری میں ذکر کیا ہے۔ عرب میں چونکہ نام کے ساتھ باپ
کا نام بھی لکھا اور بوال جاتا ہے اس لیے ان دونوں بھائیوں کے نام تحریروں میں اس طرح آتے ہیں۔ ''شمس الدین علی بن
الضیا اورشاد بخت علی بن الضیا''۔ یہ اشارہ کہیں بھی نہیں ملتا کہ ضیا کون تھا۔ تاریخ میں ان دونوں کے نام آنے کا
باعث ایک واقعہ ہے جسے اس دورکے واقعہ نگاروں نے قلمبند کیا ہے۔
واقعہ اس طرح ہے کہ گمشتگین من مانی کا قائل تھا۔ حران میں عمال ً اسی کی حکومت تھی۔ اس نے اپنے ایک خوشامدی
اور بدطینت افسران بن الخاشب ابو الفضل کو قاضی کا رتبہ دے دیا تھا۔ اسالم کے قاضی انصاف اور دانش کی وجہ سے مشہور
تھے لیکن ابو الفضل بے انصافی اور گمشتگین کی خوشنودی کی وجہ سے مشہور ہوا۔اس کی بے انصافی کے قصے شمس اور
شاد بخت تک بھی پہنچتے رہتے تھے لیکن وہ خاموشی اختیار کیے رکھتے تھے۔ وہ فوج کے جرنیل تھے قاضی کے فیصلوں
اور شہری امور کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہ تھا۔ طبعا ً بھی وہ خاموش رہنے والے انسان تھے۔ یہ مشہور تھا کہ گمشتگین پر
ان کا بہت اثر ہے اور یہ ہے بھی حقیقت کہ انہوں نے گمشتگین پر اپنا اثر پیدا کررکھا تھا۔
ان دنوں جب سلطان صالح الدین ایوبی نورالدین زنگی کی وفات کے بعد سات سو سواروں کے ساتھ آیا اور شام اور مصر کی
وحدت کا اعالن کیا تھا ،اس نے اپنے بہت سے جاسوس ان اسالمی عالقوں میں بھیج دئیے تھے جو خالفت کے تحت ہوتے
ہوئے ذاتی ریاستوں کی صورت اختیار کرگئے تھے ( ان جاسوسوں کے چند ایک کارنامے سنائے جاچکے ہیں) ان میں سلطان
صالح الدین ایوبی کا بھیجاہوا انطانون نام کا ایک ترک جاسوس حران چال گیا۔وہ خوبرو اور وجیہہ جوان تھا۔ ترکی کے عالوہ
عربی زبان روانی سے بولتا تھا۔ اس نے گمشتگین تک رسائی حاصل کرلی اور یہ کہانی سنائی کہ اس کا خاندان یروشلم میں
آباد ہے جو اس وقت صلیبیوں کے قبضے میں تھا۔ اس نے بتایا کہ صلیبی وہاں مسلمانوں پر بے رحمی سے ظلم وتشدد کرتے
ہیں اور بالوجہ جسے چاہتے ہیں بیگار پرلگادیتے ہیں۔ انہوں نے اس کی دو جوان بہنوں کو اغوا کرلیا اور
ا س کے بھائیوں اور باپ کو بیگار کے لیے پکڑ لیا ہے۔ وہ فرار ہوکر یہاں تک پہنچا ہے اور صلیبیوں سے انتقام لینے کے
لیے سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج میں شامل ہونا چاہتا ہے۔
اس نے اپنا حال حلیہ بگاڑ رکھا تھا اور پتا چلتا تھا کہ وہ یروشلم سے پیدل آیا ہے اور بھوک اور تھکن نے اسے ادھ موا
کررکھا ہے۔ گمشتگین نے اسے فوجی نظروں سے دیکھا تو اس کا قد بت اسے پسند آیا۔ اس سے پوچھا کہ و ہ گھوڑ سواری
اور تیر اندازی جانتا ہے یا نہیں۔ اس نے کہا کہ اسے ذرا آرام اور کھانے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد دکھائے گا کہ وہ کیا
کرسکتا ہے۔ گمشتگین نے اسے کھال پال کر سال دیا۔ وہ بہت دیر بعد اٹھا تو اسے گمشتگین کے دربار میں پیش کیا گیا۔ ایک
گھوڑا منگوایا گیا۔ باہر لے جاکر ایک باڈی گارڈ کی کمان اور ایک تیر اسے دے کر کہا گیا کہ خود ہی کہیں نشانے پر تیر چال
کر دکھائو پھر گھوڑا دوڑائو۔
قریب ایک درخت تھا جس پر پرندے بیٹھے تھے۔ ان میں سب سے چھوٹا پرندہ ایک چڑیا تھی۔ اس نے اس کا نشانہ لیا اور
تیر چالیا۔ تیر چڑیا کے جسم میں اتر کر اسے اپنے ساتھ ہی لے گیا۔ اس نے ایک اور تیر مانگا جو لے کر وہ گھوڑے پر
سوار ہوا اور کہا کہ وہ قریب آئے تو کوئی چیز اوپر پھینکی جائے۔ وہاں گمشتگین کے باڈی گارڈ کھڑے تھے۔ ایک دوڑا گیا اور
اپنے کھانے کی پلیٹ اٹھا الیا جو مٹی کی تھی۔ انطانون گھوڑے کو دور لے گیا۔ وہاں سے موڑ کر ایڑی لگائی تو گھوڑا سرپٹ
دوڑا۔ انطانون نے کمان میں تیر ڈاال۔ ایک باڈی گارڈ نے پلیٹ ہوا میں اچھالی۔ انطانون دوڑتے گھوڑے سے تیر چالیا اور پلیٹ
کے ٹکڑے ہوا میں بکھیر دئیے۔ اس نے گھوڑا موڑ کر سواری کے کچھ اور کرتب دکھائے۔ یہ تو کسی کو بھی نہ معلوم تھا کہ
وہ تجربہ کار جاسوس اور چھاپہ مار ( کمانڈو) ہے اور اسے ہر ایک ہتھیار کے استعمال اور گھوڑ سواری کا ماہر بنایا گیا ہے۔
اس کے قدبت ،گھٹے ہوئے جسم ،گورے چٹے رنگ اورکرتب دیکھ کر گمشتگین بہت متاثر ہوا اور اسے اپنے باڈی گارڈز میں رکھ
لیا۔ دو باڈی گارڈز گمشتگین کے گھر بھی ڈیوٹی دیا کرتے تھے۔ کچھ دنوں بعد انطانون گھر کی ڈیوٹی پر گیا جہاں اسے آٹھ
دن اور آٹھ راتیں رہنا تھا۔ مسلمان حکمرانوں کی طرح گمشتگین کا حرم بھی بارونق تھا۔ اس میں بارہ چودہ لڑکیاں تھیں۔
انطانون نے پہلے دن جاکر گھر کے تمام دروازوں اور کونوں کھدروں کو دیکھا۔ اس نے وہاں کے تمام مالزم مردوں اور عورتوں
سے کہا کہ وہ چونکہ گھر کی حفاظت کے لیے آیا ہے اس لیے سارے گھر سے واقفیت حاصل کرناضروری سمجھتا ہے۔ اس نے
کمرے تک دیکھ ڈالے۔ وہ بہت چاالک تھا۔ باتوں کا جادو چالنا جانتا تھا۔ حرم میں جانے کی اسے جرأت نہ ہوئی۔ ایک
جوان لڑکی اسے برآمدے میں مل گئی۔ یہ بھی حرم کی ملکیت تھی۔ اس نے انطانون سے شہزادیوں والے رعب سے پوچھا
کہ وہ کون ہے اور یہاں کیا کررہاہے؟
محافظ ہوں''۔ اس نے گردن تان کر جواب دیا۔ ''دیکھ رہا ہوں کہ اس محل جیسے مکان میں آنے اور جانے کے راستے ''
کتنے ہیں اور کہاں کہاں ہیں اور یہ بھی دیکھ رہاں ہوں کہ آپ کے عالوہ یہاں کون رہتا ہے''۔
محافظ تو پہلے بھی یہاں رہتے ہیں۔ کبھی کوئی اندر نہیں آیا''۔ لڑکی نے کہا۔ ''یہ طریقہ ہمیں پسند نہیں''۔''
یہ میرا فرض ہے''۔ اس نے جواب دیا۔ ''اگر حرم سے کوئی ایک بھی حسینہ غائب ہوگئی تو محترم قلعہ دار اس کی ''
جگہ میری بہن کو اٹھا الئیں گے''۔
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم اپنی بہن کی حفاظت کے لیے آئے ہو''۔ لڑکی نے مسکرا کر کہا۔''
اگر میں اس کی حفاظت کرسکتا تو آج ایک لڑکی سے یہ نہ کہلواتا کہ تم کون ہو اوریہاں کیا کررہے ہو''۔ اس نے چہرے''
پر اداسی کا تاثر پیدا کرکے کہا۔ ''میں اپنی بہن کی حفاظت نہیں کرسکا تھا ،اس لیے آپ کی حفاظت میں پوری پوری
احتیاط کررہا ہوں''۔ اس نے آہ بھر کر کہا۔ ''وہ بھی آپ جیسی تھی۔ بالکل آپ جیسی… مجھے روکنے کی کوشش نہ کریں
کہ میں کیا کررہاہوں''۔
اس نے اندھیرے میں جو تیر چالیا تھا وہ نشانے پر لگا۔ اس نے عورت کی جذباتیت پر تیر چالیا تھا۔ وہ بھی جوان لڑکی
تھی۔ پوچھے بغیر نہ رہ سکی کہ وہ اپنی بہن کی حفاظت نہیں کرسکتا تھا تو کیا ہوا تھا؟ کیا اس کی بہن اغوا ہوگئی
تھی؟
اگر اغوا کرنے والے مسلمان ہوتے یا وہ خود کسی مسلمان کے ساتھ گھر سے بھاگ جاتی تو مجھے اتنا افسوس نہ ہوتا''۔''
اس نے کہا۔ ''دل کو یہ کہہ کر تسلی دے لیتا کہ کوئی اس سے شادی کرلے گا یا اسے کسی مسلمان امیر کے حرم میں
دے دیا جائے گا۔ اسے صلیبیوں نے اغوا کیا ہے۔ ایک نہیں دو بہنوں کو۔ میں ان کی حفاظت نہیں کرسکا''۔
لڑکی نے اس سے پوچھا کہ وہ کہاں سے اور کس طرح اغوا ہوئی ہیں۔ اس نے وہی یروشلم والی کہانی سنا دی اور اپنے فرار
کی کہانی ایسی سنسنی خیز بنا کر سنائی کہ لڑکی کا چہرہ بتاتا تھا جیسے یہ تیر اس کے دل میں اتر گیا ہے۔ اس نے
کہا… ''میں وہاں سے پیدل یہ ارادہ لے کر آیا ہوں کہ سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج میں شامل ہوکر صرف اپنی بہنوں
کا ہی نہیں ان تمام بہنوں کا انتقام لوں گا جنہیں صلیبیوں نے اغوا کیا ہے۔ قلعہ دار نے مجھے اپنے محافظ دستے میں رکھ
لیا ہے''۔ اس نے اور بھی بہت سی جذباتی باتیں کیں جو لڑکی کے دل میں اترتی گئیں۔
انطانون اچھی طرح جانتا تھا کہ حرم کی لڑکیوں کے جذبات نازک ہوتے ہیں لیکن اخالقی لحاظ سے وہ کمزور ہوتی ہیں۔ وجہ
دعوی نہیں کرسکتی کہ یہ آدمی اسی کو
صاف ہے۔ ایک آدمی کی ایک درجن یا اس سے بھی زیادہ بیویاں ہوں تو کوئی بھی
ٰ
چاہتا ہے اور جب بیویاں بغیر نکاح کے حرم میں قید رکھی ہوئی ہوں تو انہیں محبت کا اشارہ بھی نہیں ملتا۔ جوان لڑکی
کے کچھ جذبات بھی ہوتے ہیں۔ حرم کی جوان لڑکی یہ بھی جانتی ہے کہ چند سال بعد اس کی قدروقیمت ختم ہوجائے گی۔
انطانون کو معلوم تھا کہ حرم کی لڑکیوں نے اپنے خوابوں اور رومانوں کو دبا کررکھا ہوتا ہے اور وہ چوری چھپے اپنے خاوند یا
آقا کے کسی جوان دوست یا کسی جوان اور خوبرو مالزم کے ساتھ عشق ومحبت کا نشہ پورا کرلیتی ہیں۔
انطانون کے سامنے چونکہ یہی لڑکی اتفاق سے آگئی تھی اس لیے اس نے اسی کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی۔ اپنے
جاسوسی کے مقاصد کے لیے اسے حرم کی ایک لڑکی کے دوستانے کی ضرورت تھی۔ اسے ٹریننگ میں بتایا گیا تھا کہ
گمشتگین جیسے عیاش گورنر اور امراء رقص اور شراب کی محفلیں جماتے ہیں جن میں حرم کی لڑکیاں بھی شریک ہوتی
لہذا راز انہی محفلوں اور ضیافتوں میں بے
ہیں۔ شراب اور عورت کے نشے میں ان لوگوں کی زبانیں بے قابو ہوجاتی ہیں ٰ
نقاب ہوتے ہیں۔ انطانون اور اس کے ساتھی جاسوس علی بن سفیان کے تربیت یافتہ تھے اور سلطان صالح الدین ایوبی نے
انہیں بے دریغ مالی اور دیگر مراعات دے رکھی تھیں۔ کوئی جاسوس دشمن کے عالقے میں پکڑا یا مارا جاتا تو سلطان صالح
الدین ایوبی اس کے خاندان کو اتنا زیادہ مستقل وظیفہ دیا کرتا تھا کہ مالی لحاظ سے اس خاندان کو کسی کی محتاجی
محسوس نہیں ہوتی تھی۔
انطانون نے اس لڑکی پر ایسا اثر پیدا کردیا جو اس کے چہرے سے عیاں تھا۔ اسے امید نظر آنے لگی کہ یہ لڑکی اس کے
جال میں آجائے گی۔ وہ وہاں سے ہٹنے لگا تو لڑکی نے اسے دبی زبان میں کہا۔
پچھلی طرف ایک باغیچہ ہے ،رات کے دوسرے پہر وہاں بھی آکر دیکھ لینا۔ مکان میں کوئی ادھر سے بھی داخل ہوسکتا ''
ہے'' ۔ لڑکی کے ہونٹوں پر جو مسکراہٹ تھی اس نے دل کی بات کہہ دی۔باڈی گارڈز کے فرائض میں رات کو پہرہ دینا نہیں
ہوتا تھا۔ وہ بڑے دروازے کے سامنے نہایت اچھے لباس میں چمکتی ہوئی برچھیاں تھامے نمائش کے لیے موجود رہتے تھے اور
جب باڈی گارڈز اپنے آقا کے ساتھ ہوتے وہ اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہوتے تھے۔ ان کا اصل کام میدان جنگ میں سامنے
آتا تھا جب و ہ اپنے آقا کے ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ انطانون رات کے دوسرے پہر باغیچے میں چال گیا اورٹہلتا رہا۔ یہ مکان
محل جیسا تھا۔ اندر سے گانے بجانے اورناچنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ انطانون نے ان مہمانوں کو بڑے غور سے دیکھا تھا جو
آئے تھے۔ ان میں دو تین صلیبی بھی تھے۔ وہ باغیچے میں کچھ دیر ٹہال تو پچھلے دروازے سے لڑکی نکلی اور اس کے پاس
آگئی۔
آپ کیوں آئی ہیں؟'' انطانون نے انجان بن کر پوچھا۔''
اور تم کیوں آئے ہو''؟ لڑکی نے پوچھا۔''
آپ کا حکم بجا النے''… انطانون نے جواب دیا۔ ''آپ نے حکم دیا تھا کہ رات کے دوسرے پہر باغیچے میں آکر دیکھ ''
لینا۔ کوئی ادھر سے بھی داخل ہوسکتا ہے''… اس نے پوچھا۔ ''آپ اتنی گرما گرم محفل چھوڑ کر باہر کیوں آگئی ہیں''۔
وہاں دم گھٹتا ہے''… لڑکی نے جواب دیا… ''شراب کی بو سے متلی آنے لگتی ہے''۔''
''آپ شراب کی عادی نہیں؟''
نہیں''۔ لڑکی نے جواب دیا… ''میں یہاں کی کسی بھی چیز کی عادی نہیں ہوسکی… بیٹھ جائو''۔ اس نے پتھر کے ''
ایک بنچ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
میں مالکہ کی برابری کی جرأت نہیں کرسکتا''… انطانون نے کہا… ''کسی نے دیکھ لیا تو''۔''
دیکھنے والے شراب میں بدمست ہیں''… لڑکی نے کہا… ''بیٹھو اور اپنی بہنوں کی باتیں سنائو''۔''
انطانون نے اپنے فن کے کماالت دکھانے شروع کردئیے اور لڑکی اس کے قریب ہوتی گئی۔ وہ بات کو بہنوں سے پھیر کر اپنے
آپ پر لے آئی۔ اس میں جو جھجک تھی وہ انطانون نے ختم کردی۔ یہ انطانون تھا جس نے کہا کہ اسے اب چلے جانا
چاہیے ،کہیں ایسا نہ ہو کہ قلعہ دار لڑکی کی تالش کے لیے نوکروں کو دوڑا دے اور وہ پکڑی جائے۔ لڑکی نے کہا کہ اس کی
غیرحاضری کو کوئی بھی محسوس نہیں کرے گا۔وہاں لڑکیوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔ انطانون نے اگلی رات پھر ملنے کا وعدہ
کیا اور چال گیا۔ لڑکی نے اسے اپنے متعلق جو کچھ بتایا تھا وہ یہ تھا کہ اسے شراب سے نفرت ہے۔ اسے جس طرح
عیاشی کا ذریعہ بنایا گیا ہے اس سے بھی اسے نفرت ہے۔ وہ حلب کی رہنے والی تھی۔ اس کے باپ کے ایک دوست نے
اسے گمشتگین کے لیے منتخب کیا اور برائے نام نکاح پڑھا کر باپ نے اسے رخصت کردیا تھا۔ا س کا مطلب یہ تھا کہ لڑکی
پیار کی پیاسی تھی۔
دوسری رات ان کی وہیں مالقات ہوئی۔ لڑکی انطانون کے انتظار میں بے حال ہوگئی تھی۔ وہ آیا تو لڑکی نے اسے پہلی بات
یہ کہی۔ ''اگر تم مجھے ایک خوبصورت لڑکی سمجھ کر کسی اور نیت سے آئے ہو تو واپس چلے جائو۔ مجھے تم سے ایسی
کوئی غرض نہیں''۔
جس روز میں نے بدنیتی کا اظہار کیا اس روز میرے منہ پر تھوک کر اندر چلی جانا''۔ انطانون نے کہا… ''میں تمہیں ''
اپنی بہنوں جیسی پاکیزہ لڑکی سمجھتا ہوں''۔
لیکن مجھے ابھی بہن نہ کہنا''۔ لڑکی نے سنجیدگی کو مسکراہٹ میں بدل کر کہا۔ ''معلوم نہیں میں کسی وقت کیا ''
فیصلہ کر بیٹھوں''۔
یعنی تم میرے ساتھ کہیں بھاگ چلنے کا فیصلہ کرو گی؟''۔''
یہ تم پر منحصر ہے''۔ لڑکی نے کہا۔ ''ساری عمر چوری چھپے ملتے تو نہیں گزرے گی۔ تم یہاں آٹھ یا دس دنوں کے ''
لیے آئے ہو۔ چلے جائو گے تو میں تمہاری صورت کو بھی ترستی رہوں گی''۔
اس رات وہ ایک دوسرے کے دل میں اتر گئے۔ اگلے دن لڑکی اتنی بے قابو ہوئی کہ اس نے انطانون کو دن کے وقت اپنے
کمرے باللیا۔ اس دن گمشتگین حران سے کہیں باہر چال گیا تھا۔ یہ مالقات دونوں کے لیے خطرناک تھی۔ لڑکی جذبات کے
جادو میں بھول گئی تھی کہ ان محالت میں سازشیں بھی ہوتی ہیں اور حرم کی لڑکیاں ایک دوسرے کو خاوند کی نظروں میں
گرانے کے مواقع ڈھونڈتی رہتی ہیں۔ انطانون کی شخصیت اور اس کی باتوں کے طلسم نے اسے اندھا کردیا تھا۔ یہ محبت کی
تشنگی کا نتیجہ تھا۔ انطانون نے اسے شک نہ ہونے دیا کہ اسے اس کے جسم کے ساتھ کوئی دلچسپی ہے۔ وہ لڑکی کے لیے
سراپا خلوص اور پیار بن گیا تھا۔ وہ جب اس کے کمرے سے نکال تو لڑکی کی یہ کیفیت تھی جیسے اس کے ساتھ ہی نکل
جائے گی۔ رات کے دوسرے پہر انہیں پھر ملنا تھا۔
وہ جب وہاں سے نکالتو حرم کی ایک اور لڑکی اسے دیکھ رہی تھی۔ اس لڑکی نے اسے کمرے میں جاتے بھی دیکھا تھا۔
٭ ٭ ٭
گمشتگین رات کو بھی غیر حاضر تھا۔ لڑکی باغیچے میں چلی گئی۔ انطانون بھی آگیا۔اب ان کے درمیان نہ کوئی حجاب رہا
تھا اور نہ کوئی پردہ۔ لڑکی نے اسے کہا۔ ''تم نے کہا تھا کہ تم اپنی بہنوں کا انتقام لینے کے لیے سلطان صالح الدین
''ایوبی کی فوج میں شامل ہونے آئے تھے پھر تم اس فوج میں کیوں بھرتی ہوگئے؟
کیا یہ سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج نہیں؟'' انطانون نے ایسے پوچھا جیسے اسے کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ اس نے ''
''کہا۔ ''یہ اسالمی فوج ہے اور یہ سلطان صالح الدین ایوبی کے سوا اور کس کی ہوسکتی ہے؟
یہ فوج اسالمی ہے لیکن اسے سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف لڑنے کے لیے تیار کیا جارہا ہے''۔ لڑکی نے کہا۔''
یہ تو بہت بری بات ہے''۔ انطانون نے کہا۔ ''تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا مجھے ایسی فوج میں رہنا چاہیے جو سلطان ''
صالح الدین ایوبی کے خالف لڑنے کے لیے تیار ہورہی ہے؟ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ یروشلم میں ان تمام عالقوں میں جہاں
صلیبیوں کا قبضہ ہے ،مسلمان سلطان صالح الدین ایوبی کو امام مہدی بھی کہتے ہیں۔ وہ صلیبیوں کے مظالم سے خوفزدہ رہتے
ہیں۔ مسجدں میں امام بھی کہتے ہیں کہ یہ قوم کو گناہوں کی سزا مل رہی ہے۔ دمشق سے امام مہدی صالح الدین ایوبی
''کے روپ میں نجات دالنے آرہے ہیں… مجھے بتائو میں کیاکروں؟
اگر تم میں ہمت ہے تو مجھے ساتھ لو۔ یہاں سے نکلو''۔ لڑکی نے کہا۔ ''میں تمہیں سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج''
تک پہنچا دو گی۔ تمہیں اس فوج میں نہیں رہناچاہیے لیکن میں یہ نہیں چاہوں گی کہ تم مجھے یہاں چھوڑ کر بھاگ
جائو''۔
کیا تم اپنے خاوند سے اس لیے بھاگنا چاہتی ہو کہ اس نے تمہیں زرخرید لونڈی بنا رکھا ہے یا وہ بوڑھا ہے یا اس لیے کہ''
''وہ سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف ہے؟
مجھے اس شخص سے نفرت ہے''۔ لڑکی نے جواب دیا۔ ''وجوہات تم نے خود ہی بتا دی ہیں۔ اس نے مجھے لونڈیوں ''
کی طرح حرم میں قید کررکھا ہے۔ وہ بوڑھا بھی ہے اور نفرت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ سلطان صالح الدین ایوبی
کا دشمن اور صلیبیوں کا دوست ہے۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:13
قسط نمبر۔82یہ چراغ لہو مانگتے ہیں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کہ یہ سلطان صالح الدین ایوبی کا دشمن اور صلیبیوں کا دوست ہے۔ اس کے حرم میں آنے سے پہلے جوانی کی امنگوں کے
ساتھ میرے دل میں ایک اور جذبہ بھی تھا جو مجھے مجبور کرتا تھا کہ میں شادی نہ کروں اور نورالدین زنگی کے پاس جاکر
کہوں کہ مجھے کوئی سا جنگی فرض سونپ دیں۔ میں صلیب کے خالف لڑنا چاہتی تھی۔ میں نے سلطان صالح الدین ایوبی
کا نام سن رکھا تھا۔ میں نے تیر اندازی سیکھی اور نشانے پر برچھی پھینکنے کی بھی مشق کی مگر میرے جذبے کو اس
بدبخت کے حرم میں قید کرکے اسے شراب سے مار دیا گیا۔ سچ پوچھو تو میں اس قلعے میں آئی تو خوش ہوئی تھی کہ
ایک جنگجو کی بیوی بن کر آئی ہوں اور یہ جنگجو صلیبیوں کے خالف لڑے گا لیکن سلطان نورالدین زنگی کی وفات کے فورا ً
بعد اس نے سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف جنگی تیاریاں شروع کردیں''۔
یہ ابھی تک سلطان صالح الدین ایوبی کے مقابلے میں آیا ہے یا نہیں؟''۔ انطانون نے پوچھا۔''
مقابلے میں آنے کو تیار ہے'' ۔ لڑکی نے جواب دیا۔''لیکن یہ بہت گہرا آدمی ہے ،خلیفہ الملک الصالح اور اس کے درباری''
امراء کا دوست ہے۔ وہ سب سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف لڑ رہے ہیں۔ گمشتگین نے انہیں وعدہ دے رکھا ہے کہ وہ
انہیں اپنی فوج دے گا مگر یہ صلیبیوں کے ساتھ یارانہ گانٹھ کر آزادانہ طور پر سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف لڑنے کا
ارادہ رکھتا ہے۔ اسے امید ہے کہ وہ بہت سے عالقے پر قبضہ کرلے گا۔ اگر ایسا ہوا تو وہ حران اور مفتوحہ عالقوں کا
بادشاہ بن جائے گا''۔
''تم نے اس کے ساتھ کبھی اس مسئلے پر بات کی ہے؟''
کی تھی''۔ لڑکی نے جواب دیا۔ ''اس نے میرے دل میں سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف باتیں ڈالنے کی کوشش ''
کی۔ میں سلطان صالح الدین ایوبی کو اپنا پیر اور پیغمبر مانتی ہوں۔گمشتگین کی کسی بات نے بھی مجھ پر اثر نہ کیا تو
اس نے میرے ساتھ تعلق توڑ لیا۔ مجھے مارتا پیٹتا بھی رہا۔ اس کے بعد اس نے مجھے کہا کہ تم سلطان صالح الدین ایوبی
کے عالقے میں چلی جائو۔ تم بہت خوبصورت ہو اور نوجوان بھی ہو۔ سلطان صالح الدین ایوبی کے تین چار ساالروں کو اپنے
جال میں پھانس کر سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف کردو۔ اس نے یہ بھی کہا کہ تمہارے ساتھ دو بہت ہوشیار اور بہت
خوبصورت صلیبی لڑکیاں ہوں گی۔ تم تینوں مل کر پہاڑوں کو بھی اپنا مرید بنا سکتی ہو۔ اس نے مجھے طریقے بتائے اور کہا
کہ میں جاکر جاسوسی بھی کروں اور اگر میں اس کے یہ سارے کام کردوں تو وہ میرے خاندان کو بے اندازہ زر وجواہرات دے
گا اور مجھے آزاد کرکے میری پسند کے آدمی کے ساتھ میری شادی کردے گا۔میں نے کوئی بھی شرط نہ مانی''۔
تم مان لیتی''… انطانون نے کہا۔ ''یہاں سے نکل کر سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس چلی جاتی''۔''
اس مردود نے اس کے صلیبی دوستوں نے ایسا انتظام کررکھا ہے کہ ان کے دشمنوں کے عالقے میں جاکر کوئی لڑکی یا ''
جاسوس غداری کرے تو اسے اغوا کرکے لے آتے ہیں یا وہیں قتل کردیتے ہیں۔ ان کا تعلق حسن بن صباح کے قاتل فدائیوں
کے ساتھ بھی ہے۔ میری روح مر گئی تھی ،یہ جسم رہ گیا تھا۔ میں نے یہ سوچا تھا کہ ایسا ہی کروں جیسے تم نے کہا
ہے لیکن ہمت نہیں پڑتی تھی۔ تمہیں دیکھا اور تم میرے قریب آئے تو میری روح جاگ اٹھی۔ میں تمہارا احسان ساری عمر
نہیں بھولوں گی کہ تم نے مجھے اپنے دل میں بٹھایا لیکن اتنا ہی کافی نہیں ،آئو یہاں سے نکل چلی''۔
تم یہیں ،اسی قلعے میں صلیب کے خالف اور سلطان صالح الدین ایوبی کے دشمنوں کے خالف لڑ سکتی ہو''۔''
''وہ کیسے؟''
جس طرح تمہارا آقا گمشتگین تمہیں سلطان صالح الدین ایوبی کے عالقے میں جاسوسی کے بھیجنا چاہتا ہے ،اسی طرح ''
سلطان صالح الدین ایوبی کو بھی جاسوسوں کی ضرورت ہے جو یہاں رہ کر اسے ان لوگوں کے ارادوں اور دوسرے رازوں سے
آگاہ کرتے رہیں''۔
تمہیں کیسے پتا ہے کہ سلطان صالح الدین ایوبی کو جاسوسوں کی ضرورت ہے؟'' لڑکی نے پوچھا۔''
میں خود سلطان صالح الدین ایوبی کا بھیجا ہوا جاسوس ہوں''۔ انطانون نے کہا۔ لڑکی اس طرح چونکی جیسے اسے کسی''
نے خنجر گھونپ دیا ہو۔ ''کیوں؟ تم حیران کیوں ہوگئی ہو؟ میں یروشلم سے نہیں ،قاہرہ سے آیا ہوں۔ میری کوئی بہن اغوا
نہیں ہوئی''۔
تم نے جہاں اتنے جھوٹ بولے ہیں وہاں یہ بھی جھوٹ ہوگا کہ تم نے مجھے دلی محبت دی ہے''۔ لڑکی نے کہا۔ ''
''تمہارا پیار اور تمہارے وعدے بھی جھوٹے ہوں گے''۔
میری محبت کا ثبوت یہ ہے کہ میں نے تمہیں اپنا راز دے دیا ہے''۔ انطانون نے کہا۔ ''یوں سمجھو کہ میں نے اپنی ''
زندگی تمہارے قدموں میں رکھ دی ہے۔ تم گمشتگین کو میری اصلیت بتا کر مجھے مروا سکتی ہو۔ کوئی جاسوس اپنا آپ ظاہر
نہیں کیا کرتا۔ مجھے تمہارے جذبے اور تمہاری محبت نے اتنا مجبور کیا کہ میں نے اپنا آپ تم پر ظاہرکردیا ہے۔ محبت کا
دوسرا ثبوت اس وقت دوں گا جب یہاں سے اپنا کام کرکے واپس جائوں گا۔ میں اکیال نہیں جائوں گا ،تم میرے ساتھ ہوگی
لیکن ایک بات صاف صاف سن لو اگر تمہاری محبت اور میرا فرض اکٹھے میرے سامنے آگئے اور خدا نے میرا امتحان لینا
چاہا کہ میں کسے پسند کرتا ہوں تو میں فرض کا انتخاب کروں گا۔ تمہاری محبت کو قربان کردوں گا۔ دھوکہ نہیں دوں گا۔ تم
نہیں جانتی کہ جاسوس سے اس کا فرض کیسی کیسی قربانیاں مانگتا ہے۔ سپاہی میدان جنگ میں لڑتا اور مرتا ہے ،اس کے
دوست اس کی الش گھر لے جاتے ہیں اور بڑی عزت سے دفن کرتے ہیں۔ جاسوس مارا نہیں پکڑا جاتا ہے۔ دشمن اسے قید
خانے میں لے جا کر ایسی ایسی اذیتیں دیتا ہے جو تم سن کر ہی بے ہوش ہوجائو۔ جاسوس مرتا بھی نہیں زندہ بھی نہیں
رہتا۔ جاسوس کے لیے فوالد جیسے مضبوط ایمان کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں ایسا ہی ایمان لے کر آیا ہوں۔ تم سے محبت کی
ہے تو فوالد کی طرح مضبوط رہوں گا مگر ایمان کا حکم نہیں ٹال سکوں گا''۔
لڑکی نے اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا اور چوم کر اپنے منہ پر پھیرا۔ اس نے کہا۔ ''تم مجھے بھی اتنا ہی
''مضبوط پائو گے۔ بتائو میں کیا کروں؟
انطانون نے اسے بتانا شروع کردیا کہ وہ کیا کرے۔ اس کے لیے ضروری ہدایت یہ تھی کہ وہ گانے بجانے اور پینے پالنے کی
ان محفلوں سے غیر حاضر نہ ہوا کرے جس میں صلیبی بھی شریک ہوتے ہیں۔ اگر اسے شراب کے دوگھونٹ پینے پڑیں تو
پی لیا کرے اور ان لوگوں میں گھل مل کر ان کی باتیں سنے۔ سلطان صالح الدین ایوبی کو برا بھال کہے اور ان ساالروں کے
سینوں سے یہ راز نکلوائے کہ ان کے جنگی ارادے کیا ہیں۔ صلیبیوں کی باتیں غور سے سنے۔ انطانون نے اس سے ان دو
ساالروں کے متعلق پوچھا جن کے متعلق بتایا گیا تھا کہ ہندوستان کے رہنے والے ہیں۔
شمس الدین علی اور شادبخت کو میں اچھی طرح جانتی ہوں۔ گمشتگین ان کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتا۔ وہ اکثر یہاں ''
آتے ہیں۔ راگ رنگ میں بھی شریک ہوتے ہیں لیکن شراب نہیں پیتے''۔
تم ان کے قریب ہوجائو'' ۔ انطانون نے کہا۔ ''باتوں باتوں میں ان سے پوچھنا۔ ''کیا ارستان میں برف پگھل رہی ہے؟ ''
''… وہ تم سے پوچھیں گے۔ کیا تم ارستان جارہی ہو؟ تم مسکرا کر کہنا… ارادہ تو یہی ہے۔ اس کے بعد وہ تمہارے ساتھ
کچھ باتیں کریں گے اور شاید یہ بھی پوچھیں کہ ادھر سے کون آیا ہے۔ تم بتا دینا کہ وہ تمہیں مل جائے گا''۔
میں کچھ سمجھی نہیں''۔ لڑکی نے کہا۔''
سب سمجھ جائو گی'' ۔ انطانون نے کہا۔ ''فاطمہ! میں تمہیں کبھی ان جھمیلوں میں نہ ڈالتا لیکن فرض کا تقاضا ہے کہ''
ہم اپنی عزیز ترین شے کو بھی اپنے فرض پر قربان کردیں۔ تم مجھے قربان کردو ،میں تمہیں قربان کردوں۔ گھبرانہ جانا
فاطمہ! آنے واال وقت معلوم نہیں ہمارے لیے کیسے کیسے مصائب اور کیسی کیسی آزمائشیں ال رہا ہے۔ اگر ہم دونوں قید خانے
کے جہنم میں چلے گئے یا مارے بھی گئے تو ہمارا خون ضائع نہیں ہوگا۔ خدائے ذوالجالل ہمیں فراموش نہیں کرے گا۔ اسالم
کی عظمت کی پاسبانی خون دئیے بغیر نہیں ہوسکتی''۔
تم مجھے ثابت قدم پائو گے''۔ فاطمہ نے کہا… ''تم نے میرے اس جذبے کو بھی زندہ کردیا ہے جو میں سمجھتی تھی ''
کہ مرگیا ہے''۔
٭ ٭ ٭
انطانون چال گیا۔ فاطمہ اسے دیکھتی رہی۔ وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا تو فاطمہ نے محسوس کیا کہ وہ اکیلی نہیں۔
اس کے پاس کوئی کھڑا تھا۔ اس نے بدک کر دیکھا۔ حرم کی ہی ایک لڑکی کھڑی تھی۔ وہ بھی فاطمہ کی ہی طرح جوان
اور خوبصورت تھی۔ اس نے کہا… ''فاطمہ! اس محبت کا انجام سوچ لو۔ تم آزاد نہیں ہو۔ میرے جذبات بھی تم جیسے ہیں۔
میں بھی پنجرہ توڑ کر اڑ جانا چاہتی ہوں لیکن یہ ممکن نہیں۔ ہماری قسمت میں جو لکھا تھا وہ ہمیں مل گیا ہے۔ دل کو
کچل ڈالو۔ اگر دل کی تسکین کا سامان کرنا ہی ہے تو اور بہت ہیں۔ اپنے محافظ کو اتنا بڑا درجہ نہ دو''۔
''کون محافظ؟'' فاطمہ نے حیران سا ہوکر پوچھا۔ ''تم کیا کہہ رہی ہو؟''
میں نے ابھی وہ نہیں کہا جو میں نے سنا ہے''۔ دوسری لڑکی نے کہا… ''مجھ سے اب کچھ چھپانے کی کوشش نہ ''
کرو۔ تم نے اس کے ساتھ جو سودا کیا ہے وہ تمہیں بہت مہنگا پڑے گا''۔ یہ کہہ کر وہ چلی گئی اور فاطمہ وہیں کھڑی
اندھیرے خالئوں میں گھورتی رہی۔
اسے یاد آگیا کہ انطانون اسے کہہ گیا تھا کہ اپنا کام آج ہی سے شروع کردو۔اسے یہ بھی یاد آگیا کہ اس نے انطانون سے
کہا تھا کہ تم مجھے ثابت قدم پائو گے۔ اس نے دل ہی دل میں اس لڑکی پر لعنت بھیجی اور اپنے آپ سے کہا کہ حرم
میں ایسی باتیں تو ہوتی ہی رہتی ہیں۔ کوئی لڑکی کسی لڑکی کو ہمدردی سے کچھ سمجھاتی ہے اور بعض آقا کی نظر میں
ایک دوسری کو گرانے کی کوشش کرتی ہیں۔ اسے اب ایک سہارا اور قومی جذبے کی تسکین کا ذریعہ مل گیا تھا مگر وہ
ناتجربہ کار تھی اسے معلوم نہیں تھا کہ حرم میں کچھ بھی کسی سے چھپایا نہیں جاسکتا اور یہ بھی کہ اس ماحول میں
اخالق اور کردار ناپید ہے اور یہاں کسی بھی وقت کوئی بھی انہونی ہوسکتی ہے۔ گناہوں کی اس پراسرار دنیا میں وہ بہت
خطرہ مول لے رہی تھی۔
دو تین روز بعد اس کی مالقات شمس الدین اور شاد بخت سے ہوگئی۔ اس رات بھی گمشتگین نے بزم عیش وطرب منعقد
اعلی افسروں کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے وہ انہیں خوب عیش کراتا تھا۔ ان
کی تھی۔ اپنے ساالروں ،صلیبی مشیروں اور
ٰ
دو تین دنوں کی مالقاتوں میں انطانون نے فاطمہ کو ٹریننگ دے دی تھی۔ فاطمہ اس ضیافت میں خوب دلچسپی لے رہی
تھی۔ گمشتگین حیران ہوتا ہوگا اور خوش بھی کہ اس لڑکی میں تبدیلی آگئی ہے۔ وہ ہر کسی کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں
کررہی تھی۔ وہ شمس الدین کے پاس جا رکی اور ادھر ادھر کی باتیں کرتے کرتے اس نے کہا… ''کیا الرستان میں برف
''پگھل رہی ہے؟
ساالر شمس الدین چونک اٹھا۔ گمشتگین جیسے چاالک اور سخت مزاج قلعہ دار کے حرم کی کسی لڑکی کی زبان سے ایسے
الفاظ نکلنے کی اسے توقع نہیں تھی کیونکہ یہ سلطان صالح الدین ایوبی کے جاسوسوں کے خفیہ الفاظ تھے جو بول کر
جاسوس ایک دوسرے کو پہچانتے تھے۔ ان الفاظ سے جاسوسوں کے سوا اور کوئی واقف نہیں ہوسکتا تھا۔ شمس الدین کو یہ
بھی معلوم تھا کہ اس قلعے میں کوئی جاسوس قید نہیں تھا جس نے یہ الفاظ بتا دئیے ہوں۔ اس نے کوڈ کا اگال مکالمہ
''بوال… ''کیا تم الرستان جارہی ہو؟
فاطمہ نے مسکرا کر کہا۔''ارادہ تو یہی ہے''۔
شمس الدین باتیں کرتے کرتے فاطمہ کو الگ لے گیا۔ دوسرے لوگ شراب اور رقص میں محو تھے۔ شمس الدین نے اس سے
پوچھا۔ ''تم جانتی ہو میں ساالر ہوں''۔
میں کچھ اور بھی جانتی ہوں''۔ فاطمہ کی مسکراہٹ میں طنز نہیں اپنائیت اور ایک مطلب تھا۔''
کون آیا ہے؟'' شمس الدین نے راز داری سے پوچھا۔''
وہ آپ کو مل جائے گا''۔ فاطمہ نے جواب دیا۔''
''تم جانتی ہو کہ مجھے دھوکہ دے کر تمہارا انجام کیا ہوگا؟''
دھوکہ نہیں''۔ فاطمہ نے جواب دیا۔ ''آپ ٹہلتے ٹہلتے بڑے دروازے تک چلے جائیں۔ وہاں دو محافظ کھڑے ہیں۔ پوچھا ''
کہ یروشلم سے کون آیا ہے''۔
شمس الدین دروازے پر چال گیا۔ وہاں دو محافظ کھڑے تھے جنہیں وہ جانتا تھا۔ اس نے پوچھا۔ ''تم میں سے یروشلم سے
کون آیا ہے؟'' انطانون نے آگے بڑھ کر بتایا کہ وہ یروشلم سے آیا ہے۔ شمس الدین نے پوچھا۔ ''تم اگر الرستان کی طرف
سے آئے ہو تو وہاں برف پگھل رہی ہوگی''۔
کیا آپ الرستان جارہے ہیں؟'' انطانون نے پوچھا۔''
ارادہ تو یہی ہے''۔ شمس الدین نے مسکرا کر کہا۔''
''جب اسے یقین ہوگیا کہ انطانون واقعی جاسوس ہے تو اس نے پوچھا۔ ''وہ لڑکی دھوکہ تو نہیں دے رہی؟
نہیں''۔ انطانون نے جواب دیا۔ ''مالقات کا موقع دیں۔ ساری بات بتائوں گا''۔''
مالقات کا موقع پیدا کرلیا گیا۔ شمس الدین آخر ساالر تھا۔ وہ موقع پیدا کرسکتا تھا۔ اس نے انطانون سے پوچھا کہ اس نے
فاطمہ کو کس طرح اپنے جال میں پھانسا ہے اور اسے وہ کس طرح اتنا قابل اعتماد سمجھتا ہے کہ اسے خفیہ (کوڈ) الفاظ
تک بتا دئیے ہیں۔ انطانون نے اسے شروع سے آخر تک سنا دیا کہ یہ لڑکی کس طرح اسے ملی اور ان کے درمیان کیا کیا
باتیں ہوئی تھیں۔
میں ایک خطرہ محسوس کررہا ہوں'' ۔ شمس الدین نے کہا۔ ''تم جوان ہو ،خوبرو اور تنومند ہو ،لڑکی جوان ہے اور اس ''
کی خوبصورتی غیر معمولی ہے۔ جذبات فرض پر غالب آنے کے امکانات مجھے صاف نظر آرہے ہیں۔ تمہارا دن کے دوران اس
کے کمرے میں جانا جذبات کے تحت تھا۔ تم نے احتیاط نہیں کی۔ لڑکی میں محبت اور خلوص کی تشنگی ہے۔ تم نے اسے
محبت بھی دی خلوص بھی دیا۔ ایسی لڑکیوں کے جذبات نازک اور خطرناک ہوتے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ تم اپنے فرض کو
رومانی جذبات کے غلبے سے تباہ کردو گے۔ جوانی اور تشنگی مل کر بارود بن جاتی ہیں… کیا تم مجھے یقین دال سکتے ہو
کہ تمہارے دل میں اس لڑکی کی محبت پیدا نہیں ہوگی؟ میں تمہارے ایمان کا متحان لینا چاہتا ہوں''۔
میں نے اسے اپنے کام کے لیے گرویدہ بنایا ہے''۔ انطانون نے کہا… ''لیکن میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔ یہ لڑکی میرے ''
دل میں اتر گئی ہے۔ میں آپ کو خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قسم کھا کر یقین دالتا ہوں کہ یہ
محبت میرے فرض پر غالب نہیں آئے گی''۔
پھر ان کے درمیان اپنے کام کی کچھ باتیں ہوئیں اور شمس الدین نے اسے کچھ ہدایات دے کر رخصت کردیا۔ اسی روز شمس
الدین نے اپنے بھائی شاد بخت کو بتایا کہ سلطان صالح الدین ایوبی نے یہاں ایک اور آدمی بھیج دیا ہے جس کا نام انطانون
ہے اور و ہ محافظ دستے میں شامل ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ ان دونوں بھائیوں کے دو ذاتی محافظ ،ان کے اردلی اور دو
مالزم بھی سلطان صالح الدین ایوبی کے لڑاکا جاسوس تھے۔ شمس الدین اور اس کے بھائی نے انہیں بھی بتایا کہ ان کا ایک
اور ساتھی آگیا ہے جس نے یہاں آکر اپنے آپ کو ایک خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ اس کا کارنامہ ہے کہ اس نے قلعہ دار
کی ذاتی رہائش گاہ میں سے ایک مچھلی پکڑ لی ہے مگر اس میں خطرہ بھی ہے۔ شمس الدین نے اپنے آدمیوں کو یہ خطرہ
تفصیل سے بتایا اور کہا… ''ابھی تک حران میں ہمارا کوئی جاسوس نہیں پکڑا گیا۔ مجھے ڈر ہے کہ انطانون پکڑا جائے گا۔
ہم اس پر نظر رکھیں گے تاہم تم سب کو تیار رہنا ہوگا۔ اگر وہ پکڑا گیا تو ہماری بے عزتی ہوگی۔ یہ ڈر بھی ہے کہ اذیتوں
سے گھبرا کر وہ ہم سب کی نشاندہی کردے لیکن مجھے سلطان صالح الدین ایوبی کا خیال آتا ہے وہ کہیں گے کہ دو ساالر
اور چھ لڑاکا جاسوس ایک آدمی کی حفاظت نہ کرسکے''۔
آپ اور ہم موجود تھے تو ایک اور آدمی کے بھیجنے کی کیا ضرورت تھی؟'' ایک نے پوچھا۔''
یہی ضرورت تھی جو اس نے پوری کرلی ہے''۔ شمس الدین نے جواب دیا… ''گمشتگین کے حرم تک رسائی ضروری ''
تھی۔ تم ان بحثوں میں نہ پڑو۔ میں جانتا ہوں یہ حسن بن عبداللہ کا فیصلہ ہے جو صحیح ہے۔ میں تمہیں اس کے خطروں
سے آگاہ کررہا ہوں۔ تیار رہنا ہوسکتا ہے اس لڑکی کو اغوا کرکے غائب کرنا پڑے۔ اس کے لیے بھی تیار رہو''۔
ہم تیار ہیں''۔ سب نے کہا… ''لیکن ہمیں بروقت اطالع ملنی چاہیے''۔''
یہ ممکن نہیں کہ اطالع بروقت ملے''۔ شمس الدین نے کہا… ''ہوسکتا ہے مجھے بھی اس وقت پتہ چلے جب انطانون ''
شکنجے میں جکڑا ہوا ہو اور اس کی ہڈیاں توڑی جارہی ہوں''۔
کیا تم دونوں بھائی پسند کرو گے کہ ہم کسی سے مدد لیے بغیر اپنی جنگ آزادی سے لڑیں؟'' گمشتگین ساالر شمس ''
الدین اور سادبخت سے پوچھ رہا تھا۔ ''آپ دونوں جانتے ہیں کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف ہم کئی ایک لوگ
ہیں۔ ہم سب نے بظاہر متحدہ محاذ بنا رکھا ہے لیکن ہم دل سے ایک دوسرے کے ساتھ نہیں۔ الملک الصالح بچہ ہے۔ وہ
جن امراء کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے ،وہ سلطان صالح الدین ایوبی کو شکست دے کر الصالح کو باہر پھینک دیں گے اور
خودمختار حاکم بن جائیں گے۔ موصل کا حاکم سیف الدین بھی ہمارا دوست ہے اور سلطان صالح الدین ایوبی کا دشمن لیکن
وہ بھی اپنی ریاست الگ بنانا چاہتا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ میں نے حران کے گردونواح سے کافی فوج تیار کرلی ہے۔ میں
نے صلیبی حکمران ریجنالڈ کو اور اس کے تمام جنگی قیدیوں کو اس معاہدے کے تحت آزاد کردیا تھا کہ میں سلطان صالح
الدین ایوبی کے مقابلے میں آئوں تو صلیبی اگر میری مدد براہ راست نہ کریں تو عقب سے یا پہلو سے سلطان صالح الدین
ایوبی پر حملہ کردیں یا اسے حملے کا دھوکہ دے کر اس کی توجہ مجھ سے ہٹا دیں۔ اگر ہم کامیاب ہوگئے تو ایک وسیع
وعریض عالقہ آپ کی عمل داری میں ہوگا۔ مجھے امید ہے کہ ہم سلطان صالح الدین ایوبی کو شکست دے سکیں گے۔ وہ
صلیبیوں کو پسپا کرسکتا ہے۔ صلیبی اس کی جنگی چالوں سے واقف نہیں۔ ہم واقف ہیں کہ ہم بھی مسلمان ہیں اگر اس کی
فوج بے جگری سے لڑسکتی ہے تو ہم اس سے زیادہ بہادری کا ثبوت دے سکتے ہیں۔ سلطان صالح الدین ایوبی پہلی بار
حلب میں مسلمانوں پر حملہ آور ہوا تھا۔ حلب والوں نے اس کے چھکے چھڑا دئیے۔ اس سے میری حوصلہ افزائی ہوئی
ہے''۔
شمس الدین اور شادبخت نے اسے بالکل نہ کہا کہ مسلمان کو مسلمان کے خالف نہیں لڑنا چاہیے اور صلیبی جو ہم سب کے
دشمن ہیں ہمیں مدد کا دھوکہ دیں گے ،مدد نہیں دیں گے۔ ان دونوں بھائیوں نے اسے یہ بھی یاد نہ دالیا کہ الملک الصالح
نے صلیبی حکمران ریمانڈ کو سونے کی شکل میں معاوضہ دیا اور یہ معاہدہ کیا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف
جنگ کی صورت میں ریمانڈ اس پر عقب سے حملہ کرے گا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے حلب کا محاصرہ کیا تو ریمانڈ
فوج لے کر آگیا مگر سلطان صالح الدین ایوبی کے صرف چھاپہ مار دستوں نے اسے روک دیا اور ریمانڈ لڑے بغیر واپس چال
گیا تھا۔ شمس الدین اور شادبخت نے گمشتگین کے ساتھ کسی بھی نکتے پر بحث نہ کی۔ اس کی تائید کی اور اسے مشورہ
دیا کہ اس وقت سلطان صالح الدین ایوبی الرستان کی پہاڑیوں میں بیٹھا ہے۔ اس سلسلۂ کوہ ''حماة کے سینگ'' نام کی
جو وادی ہے اسے میدان جنگ بنایا جائے تو سلطان صالح الدین ایوبی کو شکست دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے یہ مشورہ بھی
دیا کہ اپنی جنگ آزادی سے لڑی جائے اور صلیبیوں سے مدد لی جائے۔
مجھے کچھ ایسی اطالعات مل رہی ہیں کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے جاسوس ہمارے درمیان موجود ہیں اور وہ ہر ایک''
خبر اسے پہنچا رہے ہیں''۔ گمشتگین نے کہا… ''آپ دونوں محتاط اور چوکنے رہیں اور چھان بین کریں''۔
کہنے کی ضرورت نہیں''۔ ساالر شہ بخت نے کہا… ''ہم جانتے ہیں کہ سلطان صالح الدین ایوبی کا نظام جاسوسی بہت ''
مضبوط تیز ہے ہم نے یہاں اپنے جاسوس چھوڑ رکھے ہیں جو ہمیں مشتبہ اور مشکوک افراد سے آگاہ کرتے رہتے ہیں''۔
میں اس معاملہ میں بہت سخت ہوں''۔ گمشتگین نے کہا… ''اگر مجھے اپنے بیٹے کے متعلق بھی شک ہوا کہ جاسوس''
ہے تو میں اسے بھی شکنجے میں ڈال دوں گا۔ ذرہ بھر رحم نہیں کروں گا''۔
گمشتگین کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ وہ جن دو ساالروں سے اتنے نازک مشورے لے رہا ہے وہ سلطان صالح الدین
ایوبی کے جاسوس ہیں۔ یہ دونوں بھائی تو بہت ہی خطرناک جاسوس تھے۔ کیونکہ وہ دونوں اس کی فوج کے جرنیل تھے اور
فوجوں کی کمان انہی کے پاس تھی۔ گمشتگین سے فارغ ہوکر وہ جب اکیلے بیٹھے تو انہوں نے آپس میں یہ سکیم بنائی کہ
وہ جب فوج لے کر سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف جائیں گے تو اسے اپنی پیش قدمی کے متعلق پہلے اطالع دے دیں
گے۔ وہ ان کی فوج کو گھیرے میں لے لے گا اور ہتھیار ڈال دئیے جائیں گے۔ دونوں بھائی دیر تک سکیم بناتے اورہر پہلو پر
غورکرتے رہے۔ انہیں ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ گمشتگین کب حملہ کرنا چاہتا ہے۔ انہیں اسے اس پر آمادہ کرناتھا کہ وہ
جلدی حملہ کرے۔
٭ ٭ ٭
انطانون اب گمشتگین کی رہائش گاہ کی ڈیوٹی سے ہٹ گیا تھا کیونکہ اس کی ڈیوٹی کے آٹھ دن پورے ہوچکے تھے۔ فاطمہ
نے اسے کام کی کچھ باتیں بتائی تھیں۔ اب اس کا فاطمہ سے ملنا مشکل ہوگیا تھا۔ وہ ہر لمحے اسے ملنے کے لیے بیتاب
رہتا تھا جس کی ایک وجہ تو اپنے فرض کی ادائیگی تھی اور دوسری وجہ جذباتی اوررومانی تھی۔ فاطمہ نے ایک خادمہ کو
ہاتھ میں لے لیا تھا۔ ایک شام اس خادمہ کے ذریعے فاطمہ نے انطانون کو اطالع بھجوائی کہ رات اسی وقت وہ باغیچے میں
آجائے۔ بڑے دروازے سے اندر جانا ناممکن تھا۔ باغیچے کے پیچھے اونچی دیوار تھی۔ فاطمہ نے کہال بھیجا تھا کہ دیوار کے
باہر رسہ لٹک رہا ہوگا۔ اس رات وہاں بہت بڑی ضیافت تھی۔ گمشتگین نے ایسے تمام بڑے بڑے لوگوں کو مدعو کیا تھا جو
جنگ میں اس کے مددگار ہوسکتے تھے۔ ان میں صلیبی کمانڈر بھی تھے اور چند ایک مسلمان فوجی افسر بھی جو موصل
سے چوری چھپے آئے تھے۔ گمشتگین نے ایسے غیرفوجی آدمیوں کو بھی مدعو کیا تھا جن کے پاس بے انداز دولت تھی۔ اب
سب مہمانوں سے وہ جنگ کے لیے مدد لینا چاہتا تھا۔ ان میں شمس الدین اور شاہ بخت بھی تھے اور ان میں گمشتگین کا
قاضی ابن الخاشب ابو الفضل بھی تھا۔
یہ اجتماع فاطمہ کے لیے بہت اچھا تھا۔ اسے اس کی اہمیت کا علم ہوگیا تھا۔ اس نے اپنے مزاج کے خالف اپنا بنائو سنگار
ایسے طریقے سے کیا تھا جس میں مردوں کے لیے بے پناہ کشش تھی۔ اس کی جوانی اور خوبصورتی کی کشش الگ تھی۔ وہ
پھدکتی پھر رہی تھی۔ ہر مہمان کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کرتی تھی۔ اسے جہاں بھی کوئی صلیبی اور اپنی فوج کا کوئی
اعلی افسر باتیں کرتا نظر آتا وہاں اس طرح پیٹھ کرکے کھڑی ہوجاتی کہ انہیں شک نہ ہوتا۔ وہ اس کی طرف کان لگا دیتی۔
ٰ
وہ شمس الدین اور شاہ بخت کے پاس بھی گئی۔ دونوں نے اسے کہا کہ وہ بہت محتاط رہے اور اس کے کان میں کوئی راز
کی بات پڑے تو انہیں بتا دے۔ انطانون سے زیاہ مالقاتیں نہ کرے لیکن اس نے یہ راز ان سے چھپائے رکھا کہ اس نے آج
رات انطانون کو بال رکھا ہے اور تھوڑی ہی دیر بعد وہ اس سے باغیچے میں ملنے جائے گی پھر واپس آکر اپنا کام کرے گی۔
اس نے شام کا اندھیرا گہرا ہوتے ہی خادمہ سے رسہ دیوار کے اوپر بندھوا کر پچھلی طرف لٹکوا دیا تھا۔ دیوار کی اندر کی
طرف ایک درخت تھا۔ انطانون کو باہر سے رسے کے ذریعے اوپر آنا اور اسی رسے کو اندر کی طرف لٹکا کر درخت کی اوٹ
میں اترنا تھا۔
اعلی درجے کی ناچنے والیاں بالئی گئی تھیں۔ ان کے عالوہ لڑکیوں جیسے خوبصورت نوعمر
اس ضیافت میں باہر سے نہایت
ٰ
لڑکے بھی بالئے گئے تھے۔ جو نیم عریاں ہوکر خاص قسم کا رقص کرتے تھے۔ حرم کی ساری لڑکیاں گمشتگین کی اس ہدایت
یا حکم کے ساتھ موجود تھیں کہ مہمانوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کریں۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ اس
اجتماع کا مقصد کیا ہے۔ شراب کے مٹکوں کے منہ کھول دئیے گئے تھے۔ فاطمہ بھی اس میں آزاد تھی کہ مہمانوں میں سے
کسے ملتی ہے اور اس کے ساتھ کیسی باتیں اور حرکتیں کرتی ہے۔
محفل کی رونق اور سازوں کے ہنگامے میں اضافہ ہوتا جارہا تھا اور فاطمہ بے چین ہوتی جارہی تھی کیونکہ انطانون کے آنے
کا وقت ہوگیا تھا۔ اس وقت وہ ایک صلیبی کمانڈر کے ساتھ باتیں کررہی تھی۔ یہ صلیبی روانی سے عربی زبان بولتا تھا۔
فاطمہ سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف باتیں کررہی تھی تاکہ یہ صلیبی اپنے دل کی باتیں اگل دے۔ ایسا ہی ہوا۔ وہ
فاطمہ کو بتانے لگا کہ وہ کس طرح سلطان صالح الدین ایوبی کو ختم کریں گے۔ ان باتوں کے دوران اس نے فاطمہ کے ساتھ
بے تکلفی پیدا کرلی۔ فاطمہ نے مزاحمت نہ کی۔ اسے کچھ قیمتی راز حاصل ہورہے تھے۔ صلیبی اسے باتوں میں لگائے محفل
سے پرے لے گیا۔ چلتے چلتے وہ اندر والے باغیچے میں چلے گئے۔ وہاں روشنی نہیں تھی۔ وہاں جاکر فاطمہ نے محسوس کیا
کہ انطانون آگیاہوگا اوراس کے انتظار میں پریشان ہورہا ہوگا۔ اس نے صلیبی سے کہا کہ آئو واپس چلیں لیکن صلیبی ابھی واپس
نہیں جانا چاہتا تھا۔ فاطمہ کوئی جھوٹ موٹ وجہ بتائے بغیر بھاگ بھی نہیں سکتی تھی مگر بھاگنے کے سوا چارہ بھی کوئی
نہ تھا۔ بھاگنے کی بظاہر وجہ بھی کوئی نہیں تھی۔
صلیبی نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے ساتھ گھاس پر بٹھا لیا اور اس کے حسن کی تعریفیں شروع کردیں۔ فاطمہ نے اسے
ٹالنے کی کوشش کی۔ صلیبی نشے میں بھی تھا۔ اس نے دست درازی کی تو فاطمہ نے ہنس کر کہا… ''یہ سوچ لو کہ میں
کس کی بیوی ہوں''۔
اسی کی اجازت سے یہ جرأت کررہا ہوں''۔ اس نے کہا اور فاطمہ کو اپنے قریب گھسیٹ لیا۔ کہنے لگا… ''تم جسے اپنا''
خاوند کہہ رہی ہو وہ تمہارا خاوند نہیں ہے''۔ صلیبی نے کہا… ''اس حقیقت سے تم بھی واقف ہو ،اگر وہ تمہارا خاوند ہی
ہے تو اس نے سلطان صالح الدین ایوبی کو شکست دینے اور بادشاہ بننے کے لیے اپنی تمام بیویاں آج رات کے لیے ہم پر
حالل کردی ہیں''۔
وہ بے غیرت ہے''۔ فاطمہ نے غصے کو ہنسی میں دبا کر کہا حاالنکہ وہ جانتی تھی کہ یہ صلیبی جو کچھ کہہ رہا ہے ''
ٹھیک کہہ رہا ہے۔
جو آدمی اپنا ایمان بیچ ڈالتا ہے وہ اپنی بیوی ،اپنی بہن اور اپنی بیٹی کی عزت سے بھی دستبردار ہوجاتا ہے۔ تم بے ''
وقوف لڑکی ہو۔ عیش وعشرت سے کیوں بیزار ہو؟ کہتی ہو میں شراب بھی نہیں پیتی''۔
فاطمہ کو دو باتیں پریشان کررہی تھیں۔ پہلی یہ کہ انطانون آگیا ہوگا اور دوسری یہ کہ گمشتگین اگر غیرت مند ہوتا تو وہ
دوڑتی اس کے پاس جاتی اور اسے بتاتی کہ یہ آدمی مجھ سے دست درازی کرتا ہے مگر وہاں صورت یہ پیدا کردی گئی تھی
کہ کسی مہمان کو خصوصا ً کسی صلیبی کمانڈر کو ناراض کرنا گمشتگین کے حکم کی خالف ورزی تھی۔ وہ اپنی بیویوں کی
عصمت کے عوض سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف جنگی مدد لے رہا تھا۔ فاطمہ جال میں الجھ کے رہ گئی۔ وہ اس
صلیبی کے منہ پر تھوک نہیں سکتی تھی اور اسے دھتکار بھی نہیں سکتی تھی۔ ان مجبوریوں کے باوجود اپنی عزت سے
بھی دستبردار نہیں ہوسکتی تھی۔ اس کے لیے فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ کیا کرے۔
اس نے اسے ذرا سلجھے ہوئے طریقے سے ٹالنے کی کوشش کی جو محض بے کار ثابت ہوئی۔ اسے بڑی شدت سے خیال آیا
کہ انطانون آگیا ہوگا۔ وہ پیچ وتاب کھانے لگی۔ اس ذہنی کیفیت میں فاطمہ بھڑک اٹھی۔ وہ گھاس پر بیٹھے تھے۔ اس نے
صلیبی کو بڑے زور سے دھکا دیا۔ وہ پیٹھ کے بل گرا۔ عورت میں غیرت بیدار ہوجائے تو وہ چٹان کو بھی دھکا دے کر گرا
سکتی ہے۔ یہ صلیبی تو نشے میں تھا۔ اس نے اسے فاطمہ کا مذاق سمجھا اور قہقہہ لگایا۔ قریب ہی مٹی کا ایک بڑا گمال
رکھا تھا۔ فاطمہ کو غصے نے پاگل کردیا۔ اس نے گمال اٹھایا ،یہ بہت وزنی تھا۔ گمال اوپر کو اٹھا کر اس نے صلیبی کے منہ
پر دے مارا۔ وہ پیٹھ کے بل لیٹا قہقہے لگا رہا تھا۔گمالا س کی پیشانی پر گرا اور اس کے قہقہے خاموش ہوگئے۔ فاطمہ نے
گمال پھر اٹھایا۔ صلیبی بے ہوش ہوکر پہلو کے بل ہوگیا تھا۔ فاطمہ نے گمال اپنے سر سے اوپر لے جاکر اس کے سر پر
پھینکا اور وہاں سے غالم گردش میں چلی گئی۔ کسی کمرے میں داخل ہوئی اور اندھیرے میں پچھلے باغیچے میں چلی گئی۔
محفل پر شراب کا نشہ طاری ہوچکا تھا۔ رقص عروج پر تھا۔ شرابیوں کی ہائو ہونے اس قلعہ نما محل کو سر پر اٹھا رکھا
تھا۔ کسی کو ہوش نہ تھا کہ کون زندہ ہے اور قتل ہوگیا ہے۔ اس ہنگامے سے التعلق ہوکر فاطمہ پچھلے باغیچے میں گئی۔
انطانون کی محبت کے جوش اور نشے میں اسے ابھی یہ احساس نہیں تھا کہ وہ ایک انسان کو قتل کرآئی ہے اور مقتول
صلیبی ہے۔ وہ انطانون کو فخر سے سنانا چاہتی تھی کہ اس نے اپنی عزت کی حفاظت میں ایک صلیبی کو قتل کردیا ہے
مگر انطانون وہاں نہیں تھا۔ فاطمہ کا دل اس خیال سے ڈوبنے لگا کہ وہ آکر چال گیا ہے۔ اس نے درخت کے پیچھے جاکر
دیکھا کہ رسہ باہر ہے یا رسہ اندر تھا۔ اس کا مطالبہ یہ تھا کہ انطانون آیا ہے۔ اسی لیے رسہ اندر ہے مگر وہ کہاں ہے؟
واپس گیا ہوتا تو رسہ باہر کو ہوتا۔
وہ وہاں کھڑی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔ اسے اندھیرے میں ایک سایہ سا حرکت کرتا نظر آیا۔ اس نے غور سے دیکھا۔ اس
کی خادمہ معلوم ہوتی تھی۔ فاطمہ نے اسے آہستہ سے آواز دی۔ وہ خادمہ ہی تھی۔ فاطمہ کی طرف دوڑی گئی۔ اس نے
فاطمہ سے کہا… ''اسے یہاں نہ ڈھونڈو۔ وہ آیا تھا۔ میں اس کے انتظار میں چھپ کر کھڑی تھی۔ میں نے اسے دیوار پر
دیکھا۔ اس نے رسہ اندر پھینکا اور اترنے لگا۔ ادھر سے دو آدمی آتے نظر آئے۔ اس وقت وہ رسے سے اتر رہا تھا۔ دونوں
آدمی قریب آگئے۔ میں اسے خبردار نہ کرسکی۔ وہ دونوں درخت کے تنے سے لگ گئے۔ وہ جونہی اترا ان دونوں نے اسے
ایسا جکڑا کہ وہ ان سے آزاد نہ ہوسکا۔ میں آپ کو ڈھونڈتی رہی لیکن میں مہمانوں میں نہیں جاسکتی تھی''۔
فاطمہ کو چکر آگیا اور جب اسے یہ خیال آیا کہ
لیلی کی پراسرار اور طلسماتی دنیا تھی جسے فاطمہ
و ہ ایک صلیبی کو قتل کرآئی ہے تو اس کے ہوش اڑ گئے۔ یہ الف
ٰ
جیسی لڑکی نہیں سمجھ سکتی تھی۔ اسے حرم کی ایک لڑکی نے خبردار بھی کیا تھا کہ وہ ایک محافظ سپاہی کے ساتھ
محبت کا کھیل کھیل کر غلطی کررہی ہے۔ اسے اب یہ مسئلہ پریشان کرنے لگا کہ انطانون کو کس نے گرفتار کرایا ہے۔ ان
دونوں آدمیوں کو پہلے سے معلوم ہوگا کہ وہ آرہا ہے۔ اب فاطمہ کو یہ خدشہ نظر آنے لگا کہ اسے بھی گرفتار کیا جائے گا۔
اسے اپنی خادمہ پر بھی شک تھا۔ وہ بھی تو مخبری کرسکتی تھی۔
وہ کچھ بھی نہ سمجھ سکی۔ خادمہ کو ساتھ لے کر اس نے اوپر سے رسہ کھلوایا اور اسے کہا کہ اسے کہیں چھپا دے۔ وہ
خود انتہائی گھبراہٹ کے عالم میں ساالر شمس الدین اور شاہ بخت کی طرف دوڑ گئی۔ رقص اور شراب کی محفل گرم تھی۔
فاطمہ کو شادبخت نظر آگیا۔ اسے محفل کے اندر سے معلوم ہوا کہ صلیبی کے قتل کا کسی کو پتا نہیں چال ،وہ خراماں
خراماں شادبخت تک گئی اور اسے اشارے سے بالیا۔ الگ جاکر اسے بتایا کہ وہ ایک صلیبی کو قتل کر آئی ہے۔ اس نے
قتل کی وجہ بھی بتائی۔
شادبخت نے یہ خطرہ محسوس کرتے ہوئے کہ فاطمہ کو کسی نے اس صلیبی کے ساتھ ادھر جاتے دیکھا ہوگا جہاں اس کی
الش پڑی ہے اور اس کے پکڑے جانے کا امکان بڑا واضح ہے۔ اس نے کہا… ''تمہیں اب یہاں نہیں رہنا چاہیے تم اگر گرفتار
ہوگئی تو میں ہی بہتر جانتا ہوں کہ گمشتگین تم جیسی خوبصورت لڑکی کا قید خانے میں کیا حال کرائے گا۔ اگر اس کا باپ
مارا جاتا تو و ہ پروا نہ کرتا۔ وہ ایک صلیبی کمان دار کے قتل کا بڑا بھیانک انتقام لے گا''۔
میں کہاں جائو؟'' فاطمہ نے پوچھا۔''
تھوڑی دیر یہیں گھومو پھرو''… شاد بخت نے کہا… ''میرا بھائی شمس الدین آجائے تو اس سے بات کروں گا''۔''
وہ کہاں چلے گئے ہیں؟'' فاطمہ نے خوف سے کانپتی آواز میں پوچھا۔''
کچھ دیر گزری انہیں اطالع ملی تھی کہ پچھواڑے کی دیوار سے رسے سے پھالنگ کر ایک آدمی اندر آگیا تھا۔ معلوم نہیں''
وہ کون ہے اور کس ارادے سے اندر آیا تھا۔ شمس الدین اسے دیکھنے اور اسے قید خانے میں ڈالنے یا جو بھی کارروائی
مناسب سمجھے گا کرنے کے لیے گیا ہے ،اگر تھوڑی دیر تک نہ آیا تو میں خود چال جائوں گا۔ دل مضبوط رکھنا۔ ہم تمہیں
چھپا لیں گے''۔
فاطمہ کے ذہن میں خیال آیا کہ پکڑا جانے واال انطانون ہی ہوگا۔ اسے اطمینان سا ہوا کہ انطانون کو ساالر شمس الدین کے
حوالے کیا گیا ہے اور وہ اسے بچانے کی کوشش کرے گا۔
وہ انطانون ہی تھا۔ اسے دو سپاہیوں نے پکڑا تھا۔ چونکہ یہ شمس الدین کے شعبے کی ذمہ داری تھی کہ اس قسم کے
مجرموں سے پوچھ گچھ کرکے کارروائی کرے اس لیے اسی کو اطالع دی گئی کہ ایک آدمی دیوار پھالنگ کر اندر آتے پکڑا گیا
ہے۔ شمس الدین محفل سے اٹھ کر باہر گیا تو سپاہیوں نے انطانون کو پکڑ رکھاتھا۔ شمس الدین نے یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ
وہ اس مجرم کو نہیں جانتا اس سے پوچھا… ''تم تو شاید محافظ دستے کے جوان ہو۔ دیوار کیوں پھالنگی ہے؟ سچ سچ بتا
دو ورنہ سزائے موت سے کم سزا نہیں دوں گا''۔
انطانون خاموش رہا۔ شمس الدین کو اس خیال سے غصہ آرہا تھا کہ اسے اس نے کہا بھی تھا کہ محتاط رہے اور فرض پر
جذبات کو غالب نہ آنے دے۔ اس نے اس ہدایت پر عمل نہ کیا۔ ایک طرف تو اس نے فن کا یہ کمال دکھایا تھا کہ ایک
ہی کوشش میں محافظ دستے میں بھی شریک ہوگیا اور فورا ً بعد اس نے حرم تک رسائی حاصل کرلی مگر دوسری طرف اس
نے ایسی حماقت کی کہ ایک ہی ہلے میں پکڑا گیا۔ جاسوس کی حیثیت سے یہ اس کا جرم تھا لیکن اس کی سزا اسے
یہاں نہیں دی جاسکتی تھی۔ یہاں سے اسے بچانا اور نکالنا تھا۔ اس کے ساتھ ہی فاطمہ کو بھی وہاں سے نکالنا ضروری تھا
کیونکہ اس انکشاف کا بھی خطرہ تھا کہ انطانون کو فاطمہ نے بالیا تھا اور رسہ لٹکانے کا انتظام اسی نے کیا تھا۔
شمس الدین نے دونوں سپاہیوں کو ایک جگہ بتا کر کہا کہ اسے وہاں لے جائیں اوروہ اسے قید خانے میں لے جانے کا انتظام
کرنے جارہا ہے۔ سپاہی اسے لے گئے تو شمس الدین کسی اور طرف چالگیا۔ اس نے اپنے باڈی گارڈ کو بالیا۔ جو وہیں کہیں
موجود تھا۔ باڈی گارڈ چال گیا۔ اس کے بعد شمس الدین اندر چال گیا اور اپنے بھائی شادبخت کو اپنے پاس بالیا۔ رقص ہورہا
تھا۔ مہمان عش عش کررہے تھے۔ شراب بہہ رہی تھی۔ مشعلوں کے شعلوں اور فانون کی رنگ برنگی روشنیوں نے ناچنے
لیلی کا طلسم تھا۔ سب مدہوش اور
والیوں کے رنگا رنگ لباسوں سے مل کر ایسی رونق پیدا کررکھی تھی جس میں الف
ٰ
مخمور ہوئے جارہے تھے۔ صلیبی کی الش ابھی وہیں پڑی تھی۔ اس طلسماتی ماحول اور فضا میں شمس الدین اور شادبخت کے
درمیان انطانون اور فاطمہ کے متعلق باتیں ہوئی۔ شادبخت نے شمس الدین کو بتایا کہ فاطمہ ایک صلیبی کو قتل کرچکی ہے۔
انہوں نے فاطمہ کو اپنے پاس بالیا اور اسے اپنے کمرے میں جاکر لباس اور حلیہ بدل کر وہاں سے نکلنے کی ترکیب اچھی
طرح سمجھا دی۔ وہ خراماں خراماں وہاں سے غائب ہوگئی۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:13
قسط نمبر۔83یہ چراغ لہو مانگتے ہیں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وہ خراماں خراماں وہاں سے غائب ہوگئی۔ کچھ دیر بعد دربان نے اندر آکر شمس الدین کو اطالع دی کہ باہر فالں کمانڈر کھڑا
ہے۔ شمس الدین باہر گیا۔ ایک کمانڈر گھبرایا ہوا کھڑا تھا۔ اس نے رپورٹ دی۔ ''انطانون نام کے جس محافظ کو دیوار
پھالنگتے پکڑا گیا تھا ،وہ فرار ہوگیا ہے''۔
کیا وہ دو سپاہی مرگئے تھے جن کے حوالے میں انہیں کرکے آیا تھا؟''… کمانڈر نے بتایا ''دونوں سپاہی وہاں بے ہوش ''
پڑے ہیں۔ ان کے سروں پر ضربوں کے نشان ہیں''۔
معلوم ہوتا ہے یہ اکیلے انطانون کا نہیں ایک سے زیادہ آدمیوں کا کام ہے''… کمانڈر نے بتایا۔ ''دونوں سپاہی وہاں بے ''
ہوش پڑے ہیں۔ ان کے سروں پرضربوں کے نشان ہیں''۔
شمس الدین نے موقعہ واردات پر جاکر دیکھا۔ دونوں سپاہی ہوش میں آچکے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ یہاں کھڑے تھے۔
اندھیرے میں پیچھے سے ان کے سروں پر کسی نے ایک ایک ضرب لگائی اور وہ بے ہوش ہوگئے۔ شمس الدین نے بھاگ دوڑ
شروع کردی۔ اس وقت ایک عورت جس نے سر سے پائوں تک برقعے کی طرز کا سیاہ ریشمی لبادہ لے رکھا تھا اور اس میں
سے اس کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں ،گمشتگین کی رہائش گاہ کے بڑے دروازے سے نکلی اور جانے کہاں چلی گئی۔ اس
رات مہمانوں کا آنا جانا تو جاری تھا۔ دربان اور محافظوں نے یہ دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی کہ یہ کون ہے جو
مستور ہوکر جارہی ہے۔
آدھی رات کے بعد جب مہمان رخصت ہوئے تو قلعے کا دروازہ کھول دیا گیا۔ گھوڑے اور بگھیاں گزرنے لگیں۔ انہی میں ایک
گھوڑ سوار گزرا جس کا چہرہ ڈھکا ہوا تھا ،اس کے ساتھ دوسرے گھوڑے پر وہی مستور عورت تھی جو گمشتگین کے گھر سے
اکیلی نکلی تھی۔ یہ انتظام شمس الدین اور شادبخت نے کیا تھا۔ اس نے ان دو سپاہیوں کو ایک جگہ بتا کر کہا کہ انطانون
کو وہاں لے جا کر میرا نتظار کریں۔ اس نے اپنے باڈی گارڈ سے کہا تھا کہ وہ انطانون کو آزاد کرائیں اور اس کے گھر میں
چھپا دیں۔ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ شمس الدین اور شادبخت کے باڈی گارڈ ،دواردلی اور دو مالزم سلطان صالح الدین ایوبی کے
کمانڈو جاسوس تھے۔ انہوں نے بروقت حرکت کی اور انطانون کو چھڑا کر لے گئے۔ ادھر سے فاطمہ بھی کامیابی سے نکل
گئی اور شمس الدین کے گھر پہنچ گئی۔ وہاں انتظامات مکمل تھے۔ جب مہمان نکلے تو انہیں گھوڑے دے کر وہاں سے نکال
دیا گیا۔
یہ رات تو رقص اور شراب کی مدہوشی میں گزر گئی۔ اگلی صبح صلیبی کی الش دیکھی گئی اور گمشتگین کو یہ اطالع بھی
ملی کہ اس کا ایک محافظ اور اس کے حرم کی ایک لڑکی الپتہ ہے ،اس نے یہ حکم دے دیا کہ جن دو سپاہیوں کی
حراست سے انطانون بھاگا ہے ان دونوں کو عمر بھر کے لیے قید خانے میں ڈال دیا جائے۔
انطانون اور فاطمہ کا فرار سب کو بھول ہی گیا کیونکہ گمشتگین کے صلیبی دوستوں نے اپنے ایک کمانڈرکے قتل پر اودھم بپا
کردیا تھا۔ا نہیں دراصل اپنے کمانڈر کے مارے جانے پر اتنا افسوس نہیں تھا جتنا انہوں نے غل غپاڑہ مچایا تھا۔ وہ دراصل
گمشتگین کے ساتھ ناراضگی کا اظہار کرکے اس سے کچھ اور مراعات لینا چاہتے تھے اور یہ شہ دینا چاہتے تھے کہ وہ سلطان
صالح الدین ایوبی پر حملہ کردے۔ صلیبی جانتے تھے کہ مسلمانوں کے حرموں میں ایسے ڈرامے کھیلے ہی جاتے رہتے ہیں جن
میں لڑکیاں اغواء بھی ہوتی ہیں۔ از خود بھی غائب ہوتی ہیں اور وہاں پر اسرار قتل بھی ہوتے ہیں لیکن وہ گمشتگین کو
مجبور کردینا چاہتے تھے کہ سر ان کے قدموں میں رکھ دے۔ جن سے مدد مانگی جاتی ہے وہ اپنی ہر شرط منواتے اور غالم
بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ صلیبیوں کی تونیت ہی کچھ اور تھی۔
یہ صورتحال چھپائی نہ جاسکی۔ حلب تک اس کی خبر پہنچ گئی۔ وہاں کے درباری امراء جو سلطان صالح الدین ایوبی کے
خالف لڑ رہے تھے۔ گمشتگین کو بھی اپنا اتحادی بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے الملک الصالح کی طرف سے گمشتگین کی طرف
ایک ایلچی بھیجا۔ اس کے ساتھ رواج کے مطابق بیش قیمت تحائف تھے۔ ان تحائف میں دو جوان لڑکیاں بھی تھیں۔
گمشتگین آرام کررہا تھا۔ ایلچی اور لڑکیوں کو شمس الدین کے پاس لے گئے کیونکہ گمشتگین کے بعد وہی ساالر تھا جو
سرکاری امور کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ اپنے گھر میں لڑکیوں کو الگ بٹھا کر اس نے ایلچی سے پوچھا کہ وہ کیا پیغام الیا
ہے۔ اس نے جو طویل پیغام دیا وہ مختصرا ً یوں تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی نے حلب کا محاصرہ کیا تو ریمانڈ صلیبی
فوج لے کر آیا تھا جس سے سلطان صالح الدین ایوبی نے محاصرہ اٹھا دیا مگر ریمانڈ بغیر لڑے فوج واپس لے گیا۔ صلیبی
آئندہ بھی ہمیں دھوکہ دیں گے۔ ہم اگر الگ الگ ہوکر سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف لڑیں گے تو ہم سب شکست
کھائیں گے۔ ہمیں متحد ہوجانا چاہیے تاکہ سلطان صالح الدین ایوبی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرسکیں۔
اس پیغام کے ساتھ متحد محاذ بنانے کا ایک منصوبہ تھا جو کچھ اس طرح تھا کہ الرستان کی پہاڑیوں کی برف پگھل رہی
ہے۔ جاسوسوں نے بتایا ہے کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے سپاہی بلندیوں پر نہیں رہ سکتے۔ کیونکہ وہاں پگھلتی برف کا
پانی ان کے لیے رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ ہمارے لیے یہ موقع اچھا ہے۔ ہم سب اپنی فوجوں کو اکٹھا کرلیں تو سلطان صالح
الدین ایوبی کی فوج کو گھیرے میں لے کر اسے شکست دے سکتے ہیں۔ اس منصوبے میں یہ بھی تھا کہ صلیبی حکمران
ریجنالڈ کو اپنے ساتھ مالیا جاسکتا ہے۔ اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ آپ (گمشتگین) اسے اپنا منصوبہ بتائیں اور اسے
اپنا معاہدہ یاد دالئیں جس کے تحت اسے جنگی قید سے رہا کیا گیا تھا۔
شمس الدین نے یہ پیغام شادبخت کو سنایا۔ دونوں بھائیوں نے آپس میں صالح مشورہ کیا اور سوچنے لگے کہ یہ پیغام
گمشتگین تک نہ پہنچنے پائے۔ وہ دونوں اس کوشش میں تھے کہ گمشتگین اکیال سلطان صالح الدین ایوبی سے لڑے کیونکہ
اس طرح اس کی شکست کا امکان تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس فوج تھوڑی ہے۔ اس سے وہ
اکیلے اکیلے غدار حکمران کو آسانی سے ختم کرسکتا تھا… یہ دونوں بھائی اپنی اصلیت کو چھپانے کے لیے پوری پوری احتیاط
کرتے تھے مگر اس موقع پر ان پر جذبات کا غلبہ ہوگیا۔ جذبات کو مشتعل ان لڑکیوں نے کیا۔ وہ اس طرح کہ انہوں نے
لڑکیوں سے ان کا مذہب پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ مسلمان ہیں۔ عمر کے لحاظ سے وہ نوجوان تھیں۔ شمس الدین اور
شادبخت نے افسوس سا محسوس کیا کہ ایک تو مسلمانوں نے اپنے آپ میں یہ کمزوری پیدا کرلی ہے کہ خوبصورت لڑکی کے
عوض اپنا ایمان تک الگ پھینک دیتے ہیں اور دوسرے یہ کہ جن مسلمان لڑکیوں کو شریف گھرانوں میں آباد ہونا ہوتا ہے
انہیں اللچی والدین امراء کے حرموں میں دے دیتے ہیں۔
تم کہاں کی رہنے والی ہو اور ان لوگوں کے ہاتھ کس طرح لگی ہو؟''… شادبخت نے پوچھا۔ ''تمہارے باپ زندہ ہیں؟ ''
''بھائی نہیں ہیں؟
لڑکیوں نے انہیں جو جواب دیا اس سے دونوں بھائیوں کے جذبات بھڑک اٹھے۔ جن عالقوں پر صلیبی قابض تھے وہاں کے
مسلمانوں کا جینا حرام ہورہا تھا۔ کسی مسلمان کی عزت محفوظ نہیں تھی۔ پہلے بھی سنایا جاچکا ہے کہ وہاں کے مسلمان
باشندے قافلوں کی صورت میں نقل مکانی کرتے تھے۔ ان کے ساتھ تاجر بھی چل پڑتے تھے۔ اس طرح ہر قافلے کے ساتھ
لڑکیاں بھی ہوتی تھیں اور مال ودولت بھی۔ صلیبیوں نے قافلوں کو لوٹنے کا انتظام بھی کررکھا تھا۔ یہ تو یورپی مؤرخوں نے
وسطی میں کسی نہ کسی عالقے پر قابض تھے ،ان قافلوں کو اپنی فوج کے
بھی لکھا ہے کہ بعض صلیبی حکمران جو مشرق
ٰ
ہاتھوں لٹواتے تھے۔ لوٹنے والے کمسن لڑکیوں ،جانوروں اور مال ودولت کو اڑالے جاتے تھے۔ لڑکیوں کو وہ منڈی میں نیالم کرتے
یامسلمان امراء کے ہاتھ فروخت کرتے تھے۔ ان میں کچھ لڑکیاں صلیبی اپنے لیے رکھ لیتے اور انہیں جاسوسی اور اخالقی
تخریب کاری کے لیے تیار کرتے تھے۔ انہیں مسلمانوں کے عالقوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔
ان دونوں لڑکیوں کو قافلے سے چھینا گیا تھا اس وقت دونوں تیرہ چودہ سال کی تھیں۔ وہ فلسطین کے کسی مقبوضہ عالقے
سے اپنے کنبوں کے ساتھ کسی محفوظ عالقے کو جارہی تھیں۔ یہ بہت بڑا قافلہ تھا جس پر صلیبی ڈاکوئوں نے رات کے وقت
حملہ کیا اور بہت سی لڑکیوں کو اٹھا لے گئے۔ یہ دونوں چونکہ غیرمعمولی طور پر خوبصورت تھیں ،اس لیے انہیں الگ کرکے
ان کی خصوصی پرورش اور تربیت شروع کردی گئی۔ ان پر غیرانسانی تشدد کیا گیا پھر ان کے ساتھ ایسا اچھا سلوک ہونے
لگا جیسے وہ شہزادیاں ہوں۔ انہیں فی الواقع شہزادیاں بنایا گیا۔ شراب پالئی گئی اور نہایت خوبی سے ان کے ذہنوں کو
صلیبیوں نے اپنے رنگ میں ڈھال لیا۔ چار پانچ سال بعد جب سلطان نورالدین زنگی فوت ہوگیا تو صلیبیوں کی طرف سے ان
دونوں لڑکیوں کو تحفے کے طور پر دمشق بھیجا گیا۔ انہیں صلیبیوں کا ایک مسلمان ایلچی ساتھ الیا تھا۔ یہ صلیبیوں کی
خیرسگالی کا تحفہ تھا۔ وہ الملک الصالح اور اس کے امراء کو سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف اور اپنے حق میں کرنا
چاہتے تھے۔
ان لڑکیوں نے بتایا۔ ''ہمارے ذہنوں سے مذہب اور کردار نکال دیا گیا تھا۔ ہم خوبصورت کھلونے بن گئی تھیں لیکن ہمیں
جب دمشق بھیجا گیا تو ہمارے ذہنوں میں اپنا مذہب اور کردار بیدار ہوگیا۔ ہمارے خون میں جو اسالمی اثرات تھے ،وہ امڈ کر
ہماری روحوں پر چھاگئے۔ ہمیں اپنے ماں باپ اور بہن بھائی تو نہیں مل سکتے تھے۔ ہم ان مسلمان حاکموں اور بادشاہوں کو
اپنے باپ اور بھائی سمجھ لیا لیکن ان میں سے کسی ایک نے بھی ہمیں بیٹی اور بہن نہیں سمجھا۔ صلیبیوں کے ہاتھوں بے
آبرو ہوکر ہمیں اتنا دکھ نہیں ہوا تھا ،جتنا مسلمان بھائیوں کے پاس آکر ہوا کیونکہ صلیبیوں سے ہمیں ایسے ہی سلوک کی
توقع تھی۔ ہم نے ہر اس مسلمان حاکم کے پائوں پکڑے جن کے حوالے ہمیں کیا گیا۔ ہاتھ جوڑے ،اسالم ،خدا اور رسول صلی
اللہ علیہ وسلم کے واسطے دئیے کہ ہم ان کی بیٹیاں ہیں ،مظلوم ہیں ،ان کی عزت ہیں مگر ان کی آنکھوں میں شراب اور
شیطان نے صلیب اور ستارے میں کوئی فرق نہیں رہنے دیا تھا''۔
ہمارے اندر انتقام کا جذبہ بیدار ہوگیا۔ جب سلطان صالح الدین ایوبی دمشق میں آیا تو ہم بہت خوش ہوئیں۔صلیبیوں کے ''
عالقوں میں مسلمان سلطان صالح الدین ایوبی کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ اسے وہ امام مہدی بھی کہتے ہیں۔ وہ دمشق میں آیا تو
ہم نے تہیہ کرلیا کہ اس کے پاس چلی جائیں گی اور اسے کہیں گی کہ ہمیں اپنی فوج میں رکھ لے اور کوئی سا کام ہمیں
دے دیں مگر ہمیں وہاں سے زبردستی بھگا کر حلب لے آئے۔ اب انہوں نے ہمیں آپ کے پاس بھیج دیا ہے۔ ہم آپ سے
بھی توقع نہیں رکھتیں کہ آپ ہمیں بیٹیاں سمجھیں گے۔ ہم اتنا ضرور کہیں گی کہ ہماری عصمت تو ہمارے ہاتھ سے نکل
گئی ہے ،اسالم ہاتھ سے نہ جائے۔ ہم صلیبیوں کے ہاں رہیں تو وہاں بھی سلطان صالح الدین ایوبی اور اسالم کے خالف
منصوبے بنتے دیکھے۔ مسلمانوں کے پاس رہیں تو وہاں بھی سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف ہی باتیں سنیں۔ آپ ہمیں
آزمائیں۔ ہم نے سنا ہے کہ صلیبی لڑکیاں یہاں جاسوسی کے لیے آتی ہیں۔ آپ ہمیں اسالم کے دفاع اور فروغ کے لیے اور
صلیبیوں کی شکست کے لیے کچھ کرنے کا موقع دیں''۔
ان لڑکیوں کی یہ روائیداد ایسی تھی جس نے شمس الدین اور شادبخت کو شدید جذباتی جھٹکا دیا۔ انہوں نے لڑکیوں سے کہا
کہ انہیں اب کسی عیش پرست حکمران کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔
٭ ٭ ٭
وہ باتیں کرہی رہے تھے کہ باڈی گارڈ نے اندر آکر انہیں اطالع دی کہ قاضی صاحب آئے ہیں۔ دونوں بھائی مالقات والے کمرے
میں چلے گئے۔ وہاں حران کا قاضی ابن الخاشب ابوالفضل بیٹھا تھا۔ وہ ادھیڑ عمر آدمی تھا۔ اس نے کہا… ''سنا ہے حلب
سے ایلچی آیا ہے اور پیغام کے ساتھ تحفے بھی الیا ہے''۔
ہاں!''… شادبخت نے کہا۔ ''قلعہ دار سوئے ہوئے ہیں ،میں نے ایلچی کو اپنے پاس روک لیا ہے''۔''
میں وہ دو تحفے دیکھنے آیا ہوں''… ابن الخاشب نے آنکھ مار کر کہا۔ ''ان کی ایک جھلک دکھادو''۔''
دونوں بھائی جانتے تھے کہ یہ قاضی کس قماش کا انسان ہے۔ وہ گمشتگین پر چھایا ہوا تھا۔ شمس الدین نے دونوں لڑکیوں کو
اس کمرے میں بالیا۔ قاضی نے انہیں دیکھا تو اس کی آنکھیں پھٹنے لگیں۔ اس کے منہ سے حیرت زدہ سرگوشی نکلی۔
''''آفرین… ایسا حسن؟
شمس الدین نے لڑکیوں کو دوسرے کمرے میں بھیج دیا۔ قاضی نے کہا ''انہیں میرے حوالے کردو۔ میں خود قلعہ دار کے
سامنے لے جائوں گا''۔ اس کی آنکھوں سے شیطان جھانک راہ تھا۔
آپ قاضی ہیں''… شمس الدین نے اسے کہا۔ ''قوم کی نظروں میں آپ کا مقام گمشتگین سے زیادہ بلند ہے۔ آپ کے ''
ہاتھ میں عدل اور انصاف ہے''۔
قاضی نے قہقہہ لگایا اور کہا۔ ''تم فوجی احمق ہوتے ہو ،تم شہری امور کو نہیں سمجھ سکتے۔ وہ قاضی مرگئے ہیں جن کے
ہاتھ میں اللہ کا قانون اور عدل وانصاف ہوا کرتا تھا۔ وہ اپنے حکمران سے نہیں خدا سے ڈرا کرتے تھے بلکہ حکمران بھی ان
کے ڈر سے کسی کے ساتھ بے انصافی نہیں کرتے تھے۔ اب حکمران اسے قاضی بناتے ہیں جو ان کی بے انصافیوں کو جائز
قرار دے اور جو قانون کو نہیں حکمرانوں کو خوش رکھیں۔ میں اپنے خدا کا نہیں اپنے حکمران کا قاضی ہوں''۔
اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ کفار تمہارے دلوں پر قابض ہوگئے ہیں''۔ شادبخت نے کہا۔ ''ایمان فروش حکمران کا قاضی ''
بھی ایمان فروش ہوتا ہے۔ تم جیسے قاضیوں اور منصفوں نے امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں تک پہنچا دیا ہے
جہاں ہمارے امراء اور حکمران اپنی ہی بیٹیوں کی عصمتوں سے کھیل رہے ہیں۔ یہ آپ کی مسلمان بچیاں ہیں جنہیں آپ
اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہیں''۔
قاضی پر شیطان کا اتنا غلبہ تھا کہ اس نے شمس الدین اور شادبخت کی باتوں کو مذاق میں اڑانے کی کوشش کی اور ہنس
''کر کہا۔ ''ہندی مسلمان مردہ دل ہوتے ہیں۔ تم ہندوستان سے یہاں کیوں چلے آئے تھے؟
غور سے سنو میرے دوست!''… شمس الدین نے کہا۔ ''میں تمہاری عزت صرف اس لیے کرتا رہا کہ تم قاضی ہو ،ورنہ ''
تمہاری اصلیت اتنی سی ہے کہ تم میرے ماتحت کمانڈر تھے۔ تم نے خوشامد اور چاپلوسی سے یہ مقام حاصل کرلیا ہے۔ میں
تمہاری غیرت کو بیدار کرنے کے لیے تمہیں بتاتا ہوں کہ ہم ہندوستان سے کیوں آئے تھے ،چھ سو سال گزرے ،محمد بن قاسم
نام کا ایک نوجوان جرنیل ایک لڑکی کی پکار اور فریاد پر اس سرزمین سے جاکر ہندوستان پر حملہ آور ہوا تھا۔ تم جانتے ہو
ہندوستان کتنی دور ہے۔تم اندازہ کرسکتے ہو کہ اس لڑکے نے فوج کسی طرح وہاں پہنچائی ہوگی۔ تم خود فوجی ہو۔ اچھی
طرح سمجھ سکتے ہو کہ اس نے مرکز سے اتنی دور جاکر رسد اور کمک کے بغیر جنگ کس طرح لڑی ہوگی۔ جذبات سے
نکل کر اس کے عملی پہلو پر غور کرو''۔
اس نے ایسی مشکالت میں فتح حاصل کی جن میں شکست کے امکانات زیادہ تھے۔ اس نے صرف فتح ہی حاصل نہیں ''
کی ،ہندوستانیوں کے دلوں پر قبضہ کیا اور کسی ظلم وتشدد کے بغیر اس کفرستان میں اسالم پھیالیا۔ پھر وہ نہ رہا۔ جنہوں نے
اتنی دور جاکر ایک لڑکی کی عصمت کا انتقام لیا اور اسالم کا نور پھیالیا تھا ،دنیا سے اٹھ گئے اور وہ ملک ان بادشاہوں کے
ہاتھ آیا جو مجاہدین کے قافلے میں تھے ہی نہیں۔ انہیں وہ ملک مفت مل گیا۔ انہوں نے وہاں وہی حرکتیں شروع کردیں جو
آج یہاں ہورہی ہیں۔ ہندو اسی طرح مسلمانوں پر غالب آتے گئے جس طرح یہاں صلیبی غالب آرہے ہیں۔ سلطنت اسالمیہ
سکڑنے لگی اور جب ہم جوان ہوئے تو اس سلطنت کی جڑیں بھی خشک ہوچکی تھیں جسے محمد بن قاسم اور اس کے
غازیوں نے خون سے سینچا تھا۔ مسلمان حکمرانوں نے عرب سے رشتہ توڑ لیا۔ ہم دونوں بھائی جن کے خاندان کو عسکری
روایات سے پہچانا جاتا تھا وہاں سے مایوس ہوکر یہاں آگئے۔ ہم ہندی مسلمانوں کے ایلچی بن کر آئے تھے۔ ٹوٹے ہوئے رشتے
جوڑنے آئے تھے''۔
سلطان نورالدین زنگی سے ملے تو اس نے بتایا کہ وہ ہندوستان کا رخ کس طرح کرسکتا ہے۔ عرب کی سرزمین غداروں ''
سے بھری پڑی ہے۔ زنگی مرحوم دور کے کسی محاذ پر اس لیے نہیں جاتا تھا کہ اس کی غیرحاضری میں ادھر بغاوت
ہوجائے گی جس سے صلیبی فائدہ اٹھائیں گے۔ ہمیں یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ ہندوستان میں ہندو مسلمانوں کے کردار پر
غالب آگیا اور یہاں صلیبی غالب آگیا۔ زنگی نے ہمیں اپنی فوج میں رکھ لیا اور جب گمشتگین سیف الدین اور عزالدین وغیرہ
نے صلیبیوں کے ساتھ درپردہ گٹھ جوڑ شروع کردیا تو سلطان زنگی مرحوم نے ہم دونوں کو گمشتگین کی فوج میں اس مقصد
کے لیے بھیج دیا کہ ہم اس پر نظر رکھیں کہ اس کی خفیہ سرگرمیاں کیا ہیں''۔
یعنی تم دونوں جاسوس ہو''۔ قاضی ابن الخاشب نے طنزیہ کہا۔''
میری بات سمجھنے کی کوشش کرو''… شمس الدین نے کہا… ''تم دیکھ رہے ہو کہ ہمارے مسلمان امراء اس مرد مجاہد ''
کے خالف لڑ رہے ہیں جو اسالم کو صلیب کے عزائم سے محفوظ کرنا چاہتا ہے۔ آج کا ایلچی بہت خطرناک پیغام الیا
ہے''… اس نے پیغام سنا کر کہا… ''گمشتگین پر تمہارا اثر ہے۔ تم اسے روک سکتے ہو تم اگر ہمارا ساتھ دو تو آئو
گمشتگین کو اس پر قائل کریں کہ وہ غداروں کے ساتھ اتحاد کرنے کے بجائے ،سلطان صالح الدین ایوبی کے ساتھ مل جائے۔
ورنہ اسے ایسی شکست ہوگی جو اسے ساری عمر قید خانے میں بند رکھے گی''۔
اس سے پہلے میں تم دونوں کو قیدخانے میں بند کرواتا ہوں''… ابن الخاشب نے کہا… ''دونوں لڑکیاں میرے حوالے ''
کردو''۔
وہ اٹھ کر اس کمرے کی طرف جانے لگا جس میں لڑکیاں تھیں۔ شادبخت نے اسے بازو سے پکڑ کر پیچھے کیا۔ اس نے
شادبخت کو دھکا دیا۔ شادبخت نے اسے منہ پر اتنی زور سے گھونسہ مارا کہ وہ پیچھے کو گرا۔ شمس الدین وہاں کھڑا تھا۔
اس نے اپنا ایک پائوں اس کی شہ رگ پر رکھ کر دبایا اور ایسا دبایا کہ تڑپ کر بے حس ہوگیا۔ دیکھا وہ مرچکا تھا۔ ان
بھائیوں کا ارادہ قتل کا تھا یا نہیں ،وہ مرگیا۔ انہوں نے سوچا کہ اب پکڑے تو جانا ہی ہے۔ انہوں نے اپنے دونوں اردلیوں کو
تلواریں اور تیروکمان دے کر دوسرے گھوڑوں پر سوار ہونے کو کہا۔ وہ اور شادبخت ان کے ساتھ گئے اور قلعے کا دروازہ کھلوا
کر ان چاروں کو بھاگ جانے کو کہا۔ انہیں انہوں نے یہ ہدایت دی تھی کہ سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج تک پہنچ جائیں
انہوں نے ان اردلیوں کو تفصیل سے بتا دیا تھا کہ گمشتگین کا منصوبہ کیا ہے۔
چاروں گھوڑے باہر نکلتے ہی سرپٹ دوڑ پڑے۔ دونوں بھائیوں کو بھی نکل جانا چاہیے تھا۔ معلوم نہیں کیا سوچ کر وہ واپس
آئے۔ گمشتگین جاگ کر آچکا تھا۔ اس نے ایلچی کو دیکھا تو اس نے پوچھا کہ وہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے۔ اس نے بتا
دیا مگر وہاں لڑکیاں نہیں تھیں جو وہ تحفے کے طور پر الیا تھا۔ شمس الدین اور شادبخت نے کہا کہ لڑکیاں جاچکی ہیں
کیونکہ مسلمان تھیں۔ ہم نے انہیں وہاں بھیج دیا ہے جہاں ان کی عزت محفوظ رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ قاضی
کی الش اندر پڑی ہے۔
گمشتگین نے الش دیکھی۔ ایلچی دوسرے کمرے میں ان دونوں بھائیوں کی وہ باتیں سن رہا تھا جو وہ قاضی ابن الخاشب سے
کررہے تھے۔ گمشتگین جل اٹھا۔ اس نے ساالر شمس الدین اور ساالر شادبخت علی کو قید خانے میں ڈال دیا۔
حران کے قلعے سے دوچار گھوڑ سوار سرپٹ گھوڑے دوڑاتے نہایت قیمتی راز سلطان صالح الدین ایوبی کے لیے لے جارہے تھے
اور اس وقت الرستان کی پہاڑیوں میں سلطان صالح الدین ایوبی حسن بن عبداللہ سے پوچھ رہا تھا کہ ان دونوں بھائیوں کی
طرف سے کوئی اطالع نہیں آئی؟
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:13
قسط نمبر۔84جب سلطان ایوبی پریشان ہوگیا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ساالر شمس الدین اورساالر شادبخت کو جب قاضی ابن الخاشب کے قتل اور تحفے کے طور پر آئی ہوئی دو لڑکیوں کو قلعے
سے بھگا دینے کے جرم میں قید خانے میں ڈاال جارہا تھا۔ اس وقت ایسا ہی ایک ایلچی جو اس قلعے میں آیا تھا ،موصل
میں غازی سیف الدین کے پاس پہنچا۔ غازی سیف الدین خالفت کے تحت موصل اور اس کے گردونواح کے عالقے کا گورنر
مقرر کیا گیا لیکن نورالدین زنگی کی وفات کے بعد اس نے اپنے آپ کو والئی موصل کہالنا شروع کردیا تھا۔ وہ سلطان صالح
الدین ایوبی کے خاندان کا ہی فرد تھا مگر کردار اور ذہنیت کے لحاظ سے سلطان ایوبی کے الٹ تھا۔ موصل اسالمی سلطنت
کا حصہ تھا مگر سیف الدین وہاں کا آزاد حکمران بن گیا تھا اور سلطان ایوبی کے مخالفانہ محاذ میں شامل ہوگیا تھا۔ اس کا
اعلی کمانڈ اسی کے پاس تھی۔ سیف الدین چونکہ اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتا
بھائی عزالدین تجربہ کار جرنیل تھا۔ فوج کی
ٰ
تھا ،اس لیے اس کی عادات بادشاہوں جیسی تھیں۔ اس نے حرم میں ملک ملک کی لڑکیاں اور ناچنے والیاں بھررکھی تھیں۔
اس کا دوسرا شوق پرندے رکھنے کا تھا ،جس طرح اس نے حرم میں ایک سے ایک خوبصورت لڑکی رکھی ہوئی تھی ،اسی
طرح اس نے رنگ برنگے پرندے بھی پنجروں میں بند کررکھے تھے۔ اس کی ذاتی دلچسپیاں حرم اور پرندوں کے ساتھ تھیں۔
اسے اپنے بھائی عزالدین کی عسکری اہلیت پر اعتماد تھا اور اسے توقع تھی کہ وہ سلطان ایوبی کو شکست دے کر اپنی
ریاست الگ بنائے رکھے گا۔ اس مقصد کے لیے اس نے حران کے قعہ دار گمشتگین کی طرح اور نام نہاد سلطان الملک الصالح
کی طرح اپنے پاس صلیبی مشیر رکھے ہوئے تھے جنہوں نے اسے امید دال رکھی تھی کہ سلطان ایوبی کے خالف جنگ کی
صورت میں صلیبی اسے جنگی مدد دیں گے۔ اس طرح سلطان ایوبی کے لیے صورت یہ پیدا ہوگئی تھی کہ مسلمانوں کی تین
فوجیں اس کے خالف لڑنے کو تیار تھیں۔ ایک حلب میں ،دوسری حران میں اور تیسری موصل میں۔ یہ تو بڑے بڑے مسلمان
حکمران اور امراء تھے۔ چھوٹے چھوٹے شیخ اور چھوٹی چھوٹی مسلمان ریاستوں کے نواب جن کی تعداد کا علم نہیں ،ان تین
بڑے حکمرانوں کے حامی ،اور معاون تھے۔ انہوں نے ان تینوں کو فوجی اور مالی مدد دینے کا وعدہ کررکھا تھا اور مدد دے
بھی کر رہے تھے۔ انہیں کہا گیا تھا کہ اگر سلطان ایوبی چھا گیا تو جس طرح اس نے شام اور مصرکا الحاق کرکے ایک
سلطنت بنا لی ہے ،اسی طرح وہ ہر ایک مسلمان ریاست کو اپنی سلطنت میں مدغم کرکے سب کو غالم بنا لے گا۔
وہ بظاہر متحد تھے لیکن اندر سے پھٹے ہوئے تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ایک دوسرے سے کمزور رہیں۔ ان کی حالت
چھوٹی بڑی مچھلیوں کی مانند تھی۔ ہر چھوٹی مچھلی بڑی مچھلی سے خائف تھی اور خواہشمند کہ وہ بھی بڑی مچھلی بن
جائے۔ سلطان ایوبی اپنے انٹیلی جنس کے نظام کے ذریعے اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کے مخالفین میں نفاق ہے ،تاہم وہ
کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا۔ وہ ہر لمحہ اس حقیقت کو سامنے رکھتا تھا کہ تین بڑی فوجیں اس کے خالف محاذ آرا
ہیں۔ فوج آخر فوج ہوتی ہے۔ بھیڑ بکریوں کا ریوڑ نہیں ہوتی۔ اسے یہ احساس بھی تھا کہ تینوں افواج کے کمانڈر اور جوان
مسلمان ہیں اور فن سپاہ گری اور شجاعت جو مسلمان کے حصے میں آئی ہے ،وہ خدا نے کسی اور قوم کو عطا نہیں کی۔
صلیبی چار پانچ گنا طاقتور لشکر لے کر آئے تو مسلمان سپاہ نے قلیل تعداد میں انہیں شکست دی اور ان احوال وکوائف میں
بھی شکست دی کہ صلیبیوں کا اسلحہ برتر تھا ور فوجیں زرہ پوش تھیں۔ گھوڑوں کو پیشانیاں اور پچھلے حصے بھی زرہ پوش
تھے۔
سلطان ایوبی نے حلب کا محاصرہ کرکے دیکھ لیا تھا۔ یہ پہال موقع تھا کہ مسلمان فوج مسلمان فوج کے مقابلے میں آئی
تھی۔ حلب کی مسلمان فوج اور وہاں کے شہریوں نے جس بے جگری سے حلب کا دفاع کیا تھا اس سے سلطان ایوبی کے
پائو اکھڑنے لگے تھے۔ وہ اس معرکے کو ذہن سے اتار نہیں سکتا تھا۔ سلطان ایوبی پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ
مسلمانوں پر فوج کشی کررہا ہے۔ یہ الزام عائد کرنے والے اسی عباسی خالفت کے حامی تھے جسے اس نے مصر میں معزول
کیا تھا لیکن حقیقت یہ تھی کہ یہ مسلمان حکمران اور امراء سلطان ایوبی کے اس عزم کے راستے میں آگئے تھے کہ وہ
فلسطین کو آزاد کرائے گا۔ اسے یہ خیال چین نہیں لینے دیتا تھا کہ قبلۂ اول پر کفار کا قبضہ ہے اور وہ یہودیوں کے عزائم
دعوی لیے پھرتے ہیں کہ فلسطین ان کا وطن ہے اور قبلۂ اول مسلمانوں
سے بھی بے خبر نہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہودی یہ
ٰ
کی نہیں ،یہودیوں کی عبادت گاہ ہے۔ یہودی فوج لے کر سامنے نہیں آرہے تھے ،وہ صلیبیوں کو مالی امداد دے رہے تھے اور
انہوں نے جو سب سے زیادہ خطرناک مدد صلیبیوں کو دے رکھی تھی ،وہ غیر معمولی طور پر خوبصورت ،جوان اور نہایت
ہوشیار اور چاالک لڑکیوں کی صورت میں تھی۔ ان لڑکیوں کو جاسوسی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور مسلمانوں کی کردار
اعلی
کشی کے لیے بھی۔ سلطان ایوبی کو یہ حقیقت اور زیادہ پریشان کرتی تھی کہ صلیبی فوجیں بھی موجود ہیں ،جن کے
ٰ
کمانڈر اور حکمران اس کے مسلمان مخالفین کو شہ دے رہے ہیں۔ ان حاالت میں سلطان ایوبی چوکنا تھا۔ وہ اپنی فوج کو
نہایت اچھے طریقے سے ڈیپالئے کیے ہوئے تھا اور اس نے انٹیلی جنس کے نظام کو دشمنوں کے عالقے میں بھیج رکھا تھا۔
اس کا جو جنگی پالن تھا ،اس میں اس نے زیادہ تر بھروسہ چھاپہ مار (کمانڈو) ٹولیوں اور جاسوسوں پر کیا تھا۔
٭ ٭ ٭
موصل میں بھی حلب کا ایلچی پہنچا۔ الملک الصالح اور اس کے درباری امراء نے والئی موصل کے لیے پیغام کے ساتھ جو
تحفے تھے ،ان میں اسی طرح کی دو لڑکیاں تھیں جس طرح حران کے قلعہ دار گمشتگین کو بھیجی گئی تھیں۔ حران میں تو
دو ہندوستانی جرنیلوں ،شمس الدین اور شادبخت نے ان لڑکیوں کو فرار کرادیا۔ قاضی کو قتل کیا اور قید خانے میں بند ہوگئے
تھے لیکن موصل میں جو لڑکیاں گئیں ،انہیں وہاں کے والی سیف الدین نے بسرو چشم قبول کیا۔ اس کے حرم میں یہ نہایت
دل نشیں اضافہ تھا۔ حلب کے ایلچی نے وہی پیغام دیا جو گمشتگین کو دیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ صلیبی حلب والوں کو مدد کے
معاملے میں دھوکہ دے چکے ہیں ،اس لیے ان پر زیادہ بھروسہ نہیں کرنا چاہیے اور ان کی دوستی سے ہمیں دستبردار بھی
نہیں ہونا چاہیے۔ ان کی مدد حاصل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم آپس میں متحد ہوکر سلطان ایوبی پر حملہ کردیں۔ وہ
قرون حماة ( حماخ کے سینگ) کے مقام پر خیمہ زن ہے۔ ہم حملہ کریں گے تو صلیبی اس پر
الرستان کے سلسلۂ کوہ میں
ِ
عقب سے حملہ کردیں گے۔
اس پیغام میں ایک پالن بھی تھا جس میں کچھ اس قسم کی وضاحت کی گئی تھی کہ وہاں برف پگھل رہی ہے۔ جاسوسوں
کی اطالعات کے مطابق سلطان ایوبی کی مورچہ بندیاں برف کے بہتے پانی کی وجہ سے تہس نہس ہوگئی ہیں۔ ہم تین
فوجوں سے اسے انہیں وادیوں میں محاصرے میں لے کر آسانی سے شکست دے سکتے ہیں۔ پیغام میں کہا گیا تھا کہ
گمشتگین کو بھی پیغام بھیجا گیا ہے۔ امید ہے کہ وہ متحدہ محاذ میں اپنی فوج کو شامل کردے گا۔ آپ (سیف الدین) بھی
مزید وقت ضائع کیے بغیر اپنی فوج کو مشترکہ کمان میں لے آئیں ،تاکہ صالح الدین ایوبی کو فیصلہ کن شکست دی جائے۔
سیف الدین نے پیغام ملتے ہی اپنے بھائی عزالدین کو ،دو سینئر جرنیلوں کو اور موصل کے ایک نامی گرامی خطیب ابن
الخدوم ککبوری کو بالیا۔ سب آگئے تو اس نے ایلچی کا یہ پیغام سب کو سنا کر کہا… ''آپ سب میرے اس فیصلے اور
ارادے سے اچھی طرح آگاہ ہیں کہ میں صالح الدین ایوبی کی اطاعت قبول نہیں کروں گا۔ میری رگوں میں بھی وہی خون ہے
جو اس کی رگوں میں ہے۔ آپ لوگ مجھے یہ مشورہ دیں کہ میں فوری طور پر اپنی فوج مشترکہ کمان میں دے دوں یا
نہیں۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ ہماری فوج ظاہری طور پر مشترکہ کمان میں رہے لیکن آپ لوگ اسے الگ تھلگ لڑائیں تاکہ جو
عالقہ ہماری فوج فتح کرے اس کا مالک میرے سوا اور کوئی نہ بن سکے''۔
ایک ساالر نے کہا… ''آپ نے جو فیصلہ کیا ہے اس سے بہتر اور کوئی فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ا پ کے ارادے اتنے بلند ہیں جو
کسی اور کے نہیں ہوسکتے''۔
صالح الدین ایوبی صلیبیوں اور سوڈانیوں کو شکست دے سکتا ہے ہمیں نہیں''۔ دوسرے ساالر نے کہا… ''آپ اپنی فوج ''
متحدہ محاذ میں شامل کردیں لیکن کمان اپنے ہاتھ میں رکھیں۔ ہم اپنی فوج کو اس طرح لڑائیں گے کہ ہماری کامیابیاں حلب
اور حران کی فوج سے الگ تھلگ نظر آئیں گی''۔
'' …ہم آپ کے حکم پر جانیں قربان کردیں گے ،شہنشاہ موصل!'' پہلے ساالر نے کہا''
آپ اپنی فوج متحدہ محاذ میں شامل کردیں لیکن کمان اپنے ہاتھ میں رکھیں۔ ہم اپنی فوج کو اس طرح لڑائیں گے کہ ''
ہماری کامیابیاں حلب اور حران کی فوج سے الگ تھلگ نظر آئیں گی''۔
ہم آپ کے حکم پر جانیں قربان کردیں گے ،شہنشاہ موصل!'' پہلے ساالر نے کہا… ''ہم آپ کو سلطنت اسالمیہ کا ''
شہنشاہ بنائیں گے جس کے خواب صالح الدین ایوبی دیکھ رہا ہے''۔
صالح الدین ایوبی کا سرکاٹ کر آپ کے قدموں میں رکھوں گا''۔ دوسرے نے کہا… ''اس کی فوج الرستان کی وادیوں سے''
زندہ نہیں نکل سکے گی۔ آپ فوری طور پر کوچ کا حکم دیں۔ فوج تیار ہے''۔
دونوں ساالر ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اپنی وفاداری اور ایثار کا اظہار کررہے تھے۔ عزالدین خاموش بیٹھا اپنی باری کا
انتظار کررہا تھا اور خطیب الن المخدوم کبھی ان ساالروں کو اور کبھی سیف الدین کو دیکھتا اور سرجھکا لیتا تھا۔
عزالدین تمہارا کیا خیال ہے؟'' سیف الدین نے اپنے بھائی سے پوچھا۔''
مجھے آپ کے اس فیصلے سے اتفاق ہے کہ ہمیں سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف لڑنا ہے''۔ عزالدین نے کہا… ''
'' لیکن ہمارے ساالروں کو اس قسم کی جذباتی باتیں زیب نہیں دیتیں ،جیسی ان دونوں نے کی ہیں۔ صرف یہ کہہ دینے سے
کہ ایوبی صلیبیوں اور سوڈانیوں کو شکست دے سکتا ہے ،ہمیں نہیں۔ ایوبی کو شکست نہیں دی جاسکتی۔ میں یہ کہوں گا کہ
جس نے کم تعداد میں صلیبیوں کی کئی گناہ زیادہ فوج کو شکست دی ہے ،وہ آپ کو بھی شکست دے سکتا ہے۔ جس نے
صحرائی فوج برفانی وادیوں میں لڑا کر چار قلعے فتح کرلیے اور ریمانڈ کی فوج کو پسپا ہونے پر مجبور کیا ہے ،وہ برف پگھل
جانے کے بعد زیادہ اچھی طرح لڑے گا ،ہمیں کسی خوش فہمی میں مبتال نہیں ہونا چاہیے۔ دشمن کو کمتر نہیں سمجھنا
چاہیے۔ آپ یہ سوچیں کہ وہ حاالت کیسے ہیں جن میں آپ کو لڑنا ہے۔ اس میدان کی بات کریں جہاں آپ لڑیں گے اور
اس دشمن کی فوج کی بات کریں جو آپ کے مقابل ہیں''۔
عزالدین نے سلطان ایوبی کی فوج کی خوبیاں بیان کیں ،پھر سلطان ایوبی کے لڑنے کے طریقے بیان کیے اور جس میدان میں
لڑائی متوقع تھی اس کے کوائف پر روشنی ڈال کر کہا… ''برف پگھل رہی ہے اور بہار کی بارشیں اس سال تاخیر سے برس
رہی ہیں۔ صالح الدین ایوبی کی فوج خیموں میں ہے لیکن گھوڑوں کو خیموں میں نہیں رکھا جاسکتا۔ اس وقت اس کی فوج
کے جانور درختوں کے نیچے یا کھوہوں اور غاروں میں رہتے ہیں۔ گھوڑے اور اونٹ اس حالت میں زیادہ دیر تندرست نہیں رہ
سکتے۔ یہ توقع بھی رکھنی چاہیے کہ ایوبی کے سپاہی پہاڑی عالقے سے اکتا چکے ہوں گے۔ یہ بھی پیش نظر رکھ لیں کہ
ہم نے اپنی فوج حلب اور حران کی فوج سے مال دی تو ایوبی محاصرے میں لیا جاسکے گا لیکن یہ بھی نہ بھولیں کہ
مسلمان سپاہی جب مسلمان سپاہی کے آمنے سامنے آئے گا تو اسالم کا ابدی رشتہ انہیں گتھم گتھا کرنے کے بجائے انہیں
بغل گیر بھی کرسکتا ہے۔ تلواریں جو وہ ایک دوسرے کے خالف نکالیں گے ،جھک بھی سکتی ہیں اور خون بہائے بغیر نیاموں
میں واپس جاسکتی ہیں''۔
عزالدین!'' سیف الدین نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا… ''تم صرف فوجی ہو ،تم صرف خون ،تلوار اور نیام کی باتیں ''
سوچ سکتے ہو۔ یہ چالیں مجھ سے سیکھو کہ مسلمان سپاہی کے خالف کس طرح لڑایا جاسکتا ہے۔ پرسوں ماہ رمضان شروع
ہورہا ہے۔ صالح الدین ایوبی نماز روزے کا جس قدر خود پابند ہے ،اتنی ہی پابندی اپنی فوج سے کراتا ہے۔ اس کی تمام فوج
روزے سے ہوگی۔ ہم اپنی فوج سے کہہ دیں گے کہ جنگ میں روزے کی کوئی پابندی نہیں۔ محترم خطیب تمہارے پاس بیٹھے
ہیں۔ میں ان کی جانب سے اعالن کرادوں گا کہ جنگ میں روزے معاف ہیں۔ ہم حملہ دوپہر کے بعد کریں گے۔ علی الصبح
حملہ کیا تو ایوبی کے سپاہی تروتازہ ہوں گے۔ دوپہر کے بعد ہمارے سپاہیوں کے پیٹ میں کھانا ہوگا اور صالح الدین ایوبی کے
سپاہی بھوکے اور پیاسے ہوں گے۔ میں صرف یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ میرا یہ فیصلہ غلط تو نہیں کہ ہمیں صالح الدین
ایوبی کے خالف لڑنا ہے''۔
آپ کا یہ فیصلہ برحق ہے''۔ ایک ساالر نے کہا۔''
آپ کے فیصلے کو ہم عملی شکل دے کر ثابت کریں گے کہ یہ فیصلہ ہر لحاظ سے صحیح ہے''۔ دوسرے ساالر نے کہا۔''
آپ کے فیصلے کے خالف میں نے کوئی بات نہیں کی''۔ عزالدین نے کہا… ''ایک مشورہ اور دوں گا۔ مجھے آپ محفوظہ''
میں رکھیں۔ اگر ضرورت پڑی تو میں بعد میں حملہ کروں گا۔ پہلے تصادم کی کمان آپ اپنے ہاتھ میں رکھیں''۔
ایساہی ہوگا''… سیف الدین نے کہا… ''فوج کو دو حصوں میں تقسیم کرلو اور فوری تیاری کا حکم دے دو۔ محفوظہ میں ''
جو حصہ رکھنا چاہتے ہو ،اسے اپنے پاس رکھو''۔
٭ ٭ ٭
وہاں خطیب ابن المخدوم بھی موجود تھا۔ سیف الدین نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا… ''قابل صد احترام خطیب!
آپ نے کئی بار قرآن سے فال نکال کر مجھے خطروں سے آگاہ کیا ہے۔ آپ نے میری کامیابی اور سالمتی کے وظیفے کیے
اور خدا کے حضور میرے لیے دعا بھی کی ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ آپ سے بڑھ کر میں کسی کو برگزیدہ نہیں سمجھتا۔ اگر
کسی انسان کے آگے سجدے کی اجازت ہوتی تو میں آپ کے آگے سجدہ کرتا۔ اب ایسی مہم پر جارہا ہوں جس کی کامیابی
مخدوش ہے۔ میں ایک طاقت ور دشمن کے مقابلے میں جارہا ہوں۔ جنگ میں فتح ہوتی ہے یا شکست ،مجھے قرآن سے فال
نکال کر بتائیے کہ میری قسمت میں فتح لکھی ہے یا شکست''۔
امیرمحترم!'' خطیب اٹھ کھڑا ہوا۔ کہنے لگا… ''یہ صحیح ہے کہ آپ نے کئی بار مجھ سے قرآن میں سے فال نکلوائی ''
ہے۔ سلطان نورالدین زنگی مرحوم ومغفور کی زندگی میں آپ ڈاکوئوں کے بہت بڑے گروہ کے تعاقب میں گئے تھے تو میں نے
قرآن میں سے فال نکال کر آپ کو کامیابی کا مژدہ سنایا اور آپ کامیاب لوٹے تھے۔ صلیبیوں کے خالف آپ جب بھی گئے،
میں نے فال نکالی اور آپ کو خطروں سے خبردار کیا اور کامیابی کی خبر دی۔ اللہ کا شکر کہ میری نکالی ہوئی ہر فال
صحیح نکلی مگر ''… خطیب نے پہلے عزالدین کی طرف پھر دونوں ساالروں کو دیکھا اور کہا… ''مگر موصل کے امیر! اب
بغیر فال نکالے میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ جس مہم پر آپ فوج لے جارہے ہیں ،اس میں کامیاب لوٹیں گے یا ناکام''۔
جلدی بتائیے ،میرے محترم استاد!'' سیف الدین نے بیتاب ہوکر کہا۔''
آپ کو ایسی بری شکست ہوگی جس میں آپ وقت پر نہ بھاگے تو آپ ہالک ہوجائیں گے''۔ خطیب نے کہا… ''اس مہم''
پر نہ خود جائیں نہ اپنے بھائی کو بھیجیں ،نہ اپنی فوج کو بھیجیں''۔
سیف الدین کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ یہ بتانا مشکل تھا کہ وہ گھبرایا ہے یا ڈرا ہوا ہے۔ عزالدین اور ساالروں پر بھی
خاموشی طاری ہوگئی۔ خطیب سیف الدین پر نظریں گاڑے ہوئے تھا۔
آپ نے قرآن تو کھوال نہیں''۔ سیف الدین نے کہا… ''قرآن کے بغیر آپ نے فال کیسے نکالی؟ میں کیسے مان لوں کہ ''
''آپ نے مجھے جو بری خبر سنائی ہے ،وہ صحیح ہے؟
سنو موصل کے امیر!'' خطیب ابن المخدوم نے کہا… ''میں آج آپ کو بتاتا ہوں کہ قرآن سے جو فالیں نکال کر میں ''
آپ کو کامیابی کے مژدے سناتا رہا ،ان کا قرآن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔ قرآن کسی جادوگر کی لکھی ہوئی کتاب نہیں۔
قرآن صرف یہ فال بتاتا ہے کہ جو اس مقدس کتاب میں احکامات خاوندی تحریر ہیں ،ان پر جو عمل نہیں کرے گا ،وہ ناکام
اور نامراد رہے گا۔ اس سے پہلے آپ صلیب کے پرستاروں کے خالف لڑنے گئے تو آپ کے کہنے پر میں نے قرآن کی فال
آپ کو بتائی کہ آپ کامیاب لوٹیں گے۔ اس کے بعد آپ جس مہم پر گئے میں نے آپ کو کامیابی کا مژدہ سنایا اور کہا کہ
یہ قرآن کی فال ہے۔ ہر فال نیک تھی جس کی وجہ صرف یہ تھی کہ آپ کی ہر مہم اور ہر کام خدا کے حکم کے عین
مطابق تھا مگر یہ مہم جس پر آپ جارہے ہیں ،خدائی احکام کی صریح خالف ورزی ہے۔ آپ کفار کے ہاتھ مضبوط کررہے ہیں۔
ان سے مدد مانگ کر رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناموس پر فدا ہونے والوں کے خالف لڑنے جارہے ہیں''۔
آپ کیسے کہکہ سکتے ہیں کہ صالح الدین ایوبی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناموس پر فدا ہونے آیا ہے؟''''
سیف الدین نے بھڑک کر کہا… ''میں کہتا ہوں ،وہ ایک وسیع سلطنت کی سلطانی کا خواب دیکھ کر آیا ہے۔ ہم اس کا یہ
خواب پورا نہیں ہونے دیں گے۔ اسے موت یہاں لے آئی ہے۔ اسے موت کے حوالے کرکے ہم صلیب کے پرستاروں کو ختم
کریں گے''۔
آپ مجھے کھوکھلے لفظوں کا فریب دے سکتے ہیں ،خدا کو نہیں''۔ خطیب نے کہا… ''خدا وہ سب کچھ جانتا ہے جو ''
ہم سب نے اپنے اپنے دلوں میں چھپا رکھا ہے۔ فتح اس کی ہے جس نے اپنے نفس پر فتح پالی۔ میں آج آخری پیشنگوئی
کررہا ہوں۔ شکست آپ کا مقدر ہوچکی ہے اگر آپ اسالم کے پرچم تلے چلے جائیں اور اللہ کی راہ میں قتال اور جہاد کے
لیے نکل کھڑے ہوں تو آپ کے مقدر کا لکھا ٹل سکتا ہے''۔
محترم خطیب!'' عزالدین بول پڑا… ''آپ اپنے مذہب اور اپنی مسجد سے سروکار رکھیں۔ جنگی امور اور سلطنتوں کے ''
معامالت کو آپ نہیں سمجھ سکتے۔ آپ ہمارا دل اور ہمارا جذبہ توڑنے کی کوشش نہ کریں۔ ہم ان عناصر سے ماال مال ہیں
جن سے جنگ جیتی جاسکتی ہے''۔
اگر آپ جنگ کو مذہب او ر مسجد سے الگ کرکے لڑیں گے تو نہ آپ کا دل ساتھ دے گا نہ جذبہ''۔ خطیب نے کہا… ''
'' آپ نے صحیح فرمایا کہ میں جنگی امور سمجھنے سے قاصر ہوں لیکن میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ جنگ صرف ہتھیاروں اور
گھوڑوں سے نہیں جیتی جاسکتی ہے اور جنگ اس عسکری قابلیت سے بھی نہیں جیتی جاسکتی جس پر آپ کو ناز ہے اور
جس کے بھروسے پر آپ قرآن کے احکام کی خالف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ ایک عنصر اوربھی ہے جو فتح کو شکست
میں بدل دیا کرتا ہے''۔
سب نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ اس نے کہا… ''جس قوم کا حکمران خوشامد پسند ہوجائے وہ اپنے ساتھ قوم اور
ملک کو بھی لے ڈوبتا ہے۔ وہ حکومت کے امور خوشامدیوں اور غالمانہ ذہنیت رکھنے والوں کے حوالے کردے تو وہ ایک آزاد
اور خود دار قوم کو بھوکی ،ننگی اور غالم رعایا میں بدل دیتے ہیں اور جب یہ حکمران فوج کی کمان خوشامدی ساالروں کو
دے دیتے ہیں تو ملک کو دشمن کھا جاتا ہے۔ خوشامدی ساالر اپنے ماتحتوں سے خوشامد کرواتے ہیں پھر ان کا مقصد قوم اور
ملک کے لیے لڑنا نہیں بلکہ حکمران کی خوشنودی حاصل کرنا بن جاتا ہے۔ میں نے آپ کے اس دربار میں دیکھا ہے کہ
دونوں ساالروں نے آپ کی ہاں میں ہاں مالئی ہے اور ایسی جذباتی باتیں کیں ہیں جو جنگجو نہیں کیا کرتے۔ دونوں نے آپ
کے فیصلے اور ارادے کی تعریف تو کردی ہے لیکن آپ کو خطروں سے خبردار نہیں کیا۔ انہوں نے آپ کو یہ مشورہ نہیں دیا
لہذا ان حاالت میں بہتر یہ ہوگا کہ آپ،
کہ صلیبی تم سب کو گھیرے میں لیے ہوئے ہیں۔ مسجد
ٰ
اقصی پر کفار کا قبضہ ہے۔ ٰ
گمشتگین اور حلب کے امراء وغیرہ صالح الدین ایوبی کے پاس جائیں اور اگر آپ ہی سچے ہیں تو اسے جھوٹا اور سلطنت کا
اللچی ثابت کریں''۔
مگر آپ کے ساالروں نے آپ کو ایسا کوئی مشورہ نہیں دیا۔ آپ کے ساالروں نے آپ کو یہ بھی نہیں بتایا کہ صالح الدین ''
ایوبی نے الرستان کے پہاڑی عالقے کو اڈہ بنا کر اپنے دستے دور دور تک اس طرح پھیال دئیے ہیں کہ آپ اسے محاصرے میں
لینے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔ آپ اس کے چھاپہ ماروں سے اچھی طرح واقف ہیں لیکن آپ کے ساالروں نے آپ کی
آنکھوں پر پٹی باندھ کر یہ پہلو آپ کی نظروں سے اوجھل کردیا ہے کہ ایوبی کے جاسوس اور چھاپہ مار آپ کے سینے سے
راز نکال کر لے جاسکتے ہیں اور آپ کے حرم کی لڑکیوں کو اٹھا کر لے جاسکتے ہیں۔ آپ کی فوج یہاں سے کوچ کرے گی
تو صالح الدین ایوبی کو آپ کی فوج کی رفتار ،تعداد اور کوچ کی سمت کا علم ہوجائے گا''۔
سلطان موصل!'' ایک ساالر نے غصے میں آکر کہا… ''کیا ہم اپنی توہین برداشت کرتے رہیں؟ مسجد میں دن رات بیٹھ ''
کر اللہ ہو ،اللہ ہو کا ورد کرنے واال ہمارا استاد بننے کی جسارت کررہا ہے۔ یہ آپ کے فیصلے کی مخالفت کرکے ہمارے
سامنے آپ کی توہین کررہا ہے''۔
مجھے سن لینے دو''۔ سیف الدین نے کہا… ''میں محترم خطیب کو ابھی تک احترام کی نگاہوں سے دیکھ رہا ہوں''۔''
بولیے محترم خطیب!'' عزالدین نے طنزیہ کہا… ''اس کے بعد آپ کو یہ بتانا ہوگا کہ آپ کی وفاداریاں کس کے ساتھ ''
ہیں۔ ہمارے ساتھ یا صالح الدین ایوبی کے ساتھ''۔
میری وفاداریاں اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہیں''۔ خطیب نے عزالدین سے کہا… ''
'' میں آپ کی تعریف اتنی سی کروں گا کہ آپ نے اپنے بھائی کو دوچار باتیں تو حقیقت کے رنگ میں بتائی ہیں۔ باقی
آپ نے بھی دماغ اور آنکھیں بند کرکے بات کی ہے۔ عماد الدین بھی تو آپ کا بھائی ہے کبھی سوچا آپ نے کہ وہ صالح
''الدین ایوبی کا دوست کیوں ہے اور آپ کی حمایت کے لیے کیوں نہیں آتا؟
آپ ہمارے خاندانی معامالت میں دخل نہ دیں''۔ عزالدین نے کہا… ''آپ دراصل ہم پر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ''
سلطان صالح الدین ایوبی خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر ہے اور ہم سب کو اس کے آگے سجدے کرنے چاہئیں۔ آپ کو صرف یہ کہا
گیا تھا کہ قرآن سے فال نکال کر بتائیں کہ ہماری یہ مہم کامیاب رہے گی یا ناکام''۔
قرآن اپنا حکم صادر کرچکا ہے''۔خطیب نے آواز میں جوش پیدا کرتے ہوئے کہا… ''اب میں آپ کے سامنے حقیقت پوری''
طرح بے نقاب کرتا ہوں۔ صالح الدین ایوبی خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر نہیں ،وہ ایک طوفان ہے ،ایک سیالب ہے جو کفر کو
گھاس کی سوکھی ہوئی پتیوں کی طرح بہالے جانے کے لیے دمشق سے اٹھا ہے۔ آپ سب درخت سے ٹوٹ کر گری ہوئی
ٹہنیاں ہیں۔ آپ کے پتے مرجھا رہے ہیں جو جھڑ کر اس طوفان کے ساتھ غائب ہوجائیں گے۔ ایوبی نے آپ پر چڑھائی نہیں
کی۔ آپ اس کے راستے میں آگئے ہیں۔ آپ کا حشر وہی ہوگا جو سیالب کے راستے میں آنے والوں کا ہوتا ہے''۔
خطیب!'' سیف الدین نے گرج کر کہا… ''میرے دل سے اپنا احترام نہ نکالو''۔''
تم!… سیف الدین!''… خطیب نے بارعب آواز میں کہا… ''تم زمین کے اس ذرا سے خطے کے بادشاہ ہو ،ڈرو اس کی ''
ذات سے جو دونوں جہان کا بادشاہ ہے۔ میرا احترام نہ کرو ،میرے منہ پر تھوک دو مگر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے راستے سے نہ ہٹو۔ تم پر بادشاہی کا نشہ طاری ہے۔ ان بے وقار ساالروں نے تمہاری حکومت کے عہدیداروں نے تمہیں
خوش رکھنے کے لیے تمہیں بادشاہ بنا ڈاال ہے۔ تم نہیں سمجھتے کہ یہ محض خوشامد ہے اور تم بادشاہ نہیں ہو۔ تم نہیں
جانتے کہ یہ بے وقار خوشامدی تمہارے دشمن ہیں ،اپنی قوم کے اور اپنے ملک کے دشمن ہیں۔ تم پر زوال آئے گا تو یہ
تمہیں پہچاننے سے بھی انکار کردیں گے اور اس کے پاپوش چاٹیں گے جو تمہاری گدی پر بیٹھے گا۔ مجھے غصے سے نہ
دیکھ سیف الدین۔ اپنا گھر دوزخ میں نہ بنا۔ تاریخ سے عبرت حاصل کر۔ ان غالموں کی ذہنیت والوں نے ایک سے ایک
جابر بادشاہ کو گدا کیا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ ہوتا رہے گا۔ افسوس اس پر ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کی امت بھی اس تباہی کے راستے پر چل پڑی ہے۔ تیرے جیسے بادشاہ امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تاریخ
کی نظروں سے اوجھل کرکے ہی دم لیں گے''۔
لے جائو اسے یہاں سے''۔ سیف الدین غصے سے کانپتی آواز میں گرجا… ''اسے وہاں بند کردو جہاں سے اس کی آواز ''
میرے کانوں تک نہ پہنچ سکے''۔
ایک ساالر کے پکارنے پر دو باڈی گارڈ اندر آئے۔ انہیں حکم دیا گیا کہ خطیب کو قید خانے میں لے جائیں۔ اسے جب دونوں
بازوئوں سے پکڑ کر لے جارہے تھے تو سیف الدین کو اس کی آوازیں سنائی دیتی رہیں… ''بادشاہی کا اللچ مذہب سے بیگانہ
کرتا ہے ،خوشامد پسند حکمران ملک اور قوم کو بیچ کھاتا ہے۔ کافر کی دوستی دشمنی سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ فلسطین
ہمارا ہے ،فلسطین میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے۔ تمہیں کافر اس لیے آپس میں لڑا رہا ہے کہ فلسطین پر اس
کا قبضہ رہے۔ آپس میں لڑتے رہو گے تو قبلۂ اول تم پر لعنت بھیجتا رہے گا''۔
خطیب المخدوم کو گھسیٹ کر لے جارہے تھے اور وہ بلند آواز سے بولتا جارہا تھا۔ بہت سے فوجی باہر نکل آئے اور آن کی
آن میں یہ خبر تمام تر موصل میں پھیل گئی… ''خطیب المخدوم پاگل ہوگیا ہے… خطیب کو قید خانے میں بند کردیا گیا
ہے''… یہ آوازیں شہر میں گھومتے پھرتے خطیب کے گھر کے دروازے میں داخل ہوگئیں۔ اس گھر میں خطیب کی نوجوان
بیٹی تھی۔ اس گھر میں یہی دو افراد تھے۔ یہ لڑکی اور اس کا باپ خطیب۔ خطیب کی یہ واحد اوالد تھی۔ اس کی بیوی
عرصہ گزرا مرگئی تھی۔ خطیب نے دوسری شادی نہیں کی تھی۔ وہ اس بیٹی کے سہارے جی رہا تھا اور بیٹی اس کی خاطر
زندہ تھی۔
بہت سی عورتیں اس کے گھر میں چلی گئیں۔ یہ گھر سب کے لیے بڑا قابل احترام تھا کیونکہ یہ خطیب کا گھر تھا۔
عورتوں نے لڑکی سے پوچھا کہ اس کے باپ کو اچانک کیا ہوگیا ہے؟ کیا واقعی وہ پاگل ہوگیا ہے؟
ایسا ہونا ہی تھا'' ۔ لڑکی نے کہا… ''ایسا ہونا ہی تھا''… اس کے انداز میں ٹھہرائو سا تھا۔ افسوس اور گھبراہٹ نہیں ''
تھی۔ اس کے بعد اس کے پاس جو بھی عورت آئی لڑکی نے یہی کہا… ''ایسا ہونا ہی تھا''۔
موصل میں خطیب کو قید خانے میں ڈال دیا گیا ،حران میں دو ساالروں شمس الدین اور شادبخت کو گمشتگین نے قید ''
خانے میں ڈال دیا تھا۔ گمشتگین کو پہلی بار پتہ چال کہ اس کے یہ دونوں ساالر دراصل صالح الدین ایوبی کے آدمی ہیں اور
جاسوس ہیں۔ ان دونوں کو قید خانے میں ڈال کر گمشتگین رات کے وقت قید خانے میں گیا۔ شمس الدین اور شادبخت کو ان
کی کال کوٹھریوں سے نکلوا کر انہیں اس جگہ لے گیا جہاں قیدیوں سے راز اگلوانے کے لیے کئی ایک وحشیانہ طریقے اختیار
کیے جاتے تھے ،وہاں دو آدمی اس طرح لٹکے ہوئے تھے کہ چھت کے ساتھ بندھی ہوئی رسیوں سے ان کی کالئیاں بندھی
ہوئی تھیں۔ ان کے پائوں زمین سے کوئی دوفٹ اوپر تھے اور ٹخنوں کے ساتھ کم وبیش دس دس سیر وزن کے لوہے کے
ٹھوس گولے بندھے ہوئے تھے۔ موسم سرد ہونے کے باوجود ان کے جسموں سے پسینہ اس طرح پھوٹ رہا تھا جیسے ان پر
پانی انڈیال گیا ہو۔ ان کے بازو کندھوں سے الگ ہوئے جارہے تھے ،وہاں خون کی بدبو تھی اور گلی سڑی الشوں کا تعفن
بھی''۔
انہیں دیکھ لو''۔ گمشتگین نے دونوں بھائیوں سے کہا… ''اس قید خانے میں آنے تک تم میری فوجوں کے مالک تھے'' ،
شہزادے تھے۔ اب تم بے کار جذبات میں الجھ کر اس دوزخ میں آگئے ہو۔ تم غدار ہو۔ تم میری آستین میں سانپوں کی طرح
پلتے رہے ہو۔ میں تمہیں اب بھی بخش دینے کے لیے تیار ہوں۔مجھے صرف یہ بتا دو کہ جن لڑکیوں کو تم نے یہاں سے
بھگایا اور جو دو آدمی ان کے ساتھ گئے ہیں ،وہ کہاں گئے ہیں اور یہاں سے کیا کیا راز لے کر گئے ہیں''… شمس الدین
اور شاد بخت مسکرا دئیے اور خاموش رہے۔ گمشتگین نے کہا… ''وہ صالح الدین ایوبی کے پاس گئے ہیں ،کیا یہ جھوٹ
ہے؟'' دونوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ گمشتگین نے کہا… ''ان دونوں کو دیکھ لو۔ یہ تو جوان ہیں ،اس لیے ابھی برداشت
کررہے ہیں۔ تم دونوں کو میں نے ان کی طرح لٹکا کر پائوں کے ساتھ وزن باندھ دیا تو تم تھوڑی سی دیر میں اپنا سینہ
کھول کر میرے سامنے رکھ دو گے۔ اس کے بغیر ہی مجھے سب کچھ بتا دو''۔
وہ کوئی راز نہیں لے گئے''… شمس الدین نے کہا… ''یہاں کوئی راز نہیں۔ تمہارے متعلق سلطان ایوبی اچھی طرح جانتا ''
ہے کہ تم صلیبیوں کی مدد سے اس کے خالف لڑنے کی تیاری میں ہو۔ ایوبی پوری تیاری کرکے تمہاری سرکوبی کے لیے آیا
ہے۔ یہاں سے کوئی کیا راز لے جائے گا۔ راز صرف یہ فاش ہوا ہے کہ ہم دونوں بھائی تمہاری فوج کے ساالر تھے۔ تم ہمیں
معتمد سمجھتے رہے لیکن ہم دراصل سلطان ایوبی کے آدمی ہیں''۔
میں دوسرا راز بھی تمہیں بتا دیتا ہوں''… شمس الدین کے بھائی شادبخت نے کہا… ''یہ اتفاق ایسا ہوگیا ہے کہ دو ''
مسلمان لڑکیاں تمہارے پاس تحفے کے طور پر آگئیں۔ ہمیں پتہ چل گیا کہ وہ مظلوم ہیں اور مسلمان ہیں۔ تمہارا بنایا ہوا
قاضی ابو الخاشب تم سے پہلے ان لڑکیوں کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔ ہم نے لڑکیوں کو اپنی بیٹیاں سمجھ کر بھگا دیا
اور ابو الخاشب نے ہمارے لیے ایسے حاالت پیدا کردئیے کہ ہم نے اسے قتل کردیا اور تمہیں پتہ چل گیا۔ تم نے ہمیں قید
کردیا اگر ہم قید نہ ہوتے تو ہمارا ارادہ یہ تھا کہ جب تم سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف ہمیں بھیجو گے تو ہم پوری
فوج کو سلطان ایوبی کے گھیرے میں لے جا کر ہتھیار ڈال دیں گے۔ ہماری یہ آرزو پوری نہ ہوسکی''۔
ہم پھر بھی کامیاب ہیں''… شمس الدین نے کہا… ''تم ہمیں سزائے موت دے دو ،ہمیں چھت سے لٹکا کر ہمارے پائوں ''
کے ساتھ بیس بیس سیر وزن باندھ دو ،ہمارے بازو کندھوں سے الگ کردو ،ہمیں اذیت کا کچھ احساس نہیں ہوگا۔ اللہ کی راہ
پر چلنے والوں کے لیے تیر پھول بن جاتے ہیں۔ جسم فنا ہوجاتے ہیں ،روحیں نہیں مرا کرتیں۔ اللہ کی راہ میں قربان ہونے
والوں کی روحیں اللہ کو عزیز ہوتی ہیں''۔
مجھے وعظ نہ سنائو''… گمشتگین نے کہا… ''مجھے وہ راز بتائو غدارو ،جو تم نے صالح الدین ایوبی کو بھیجا ہے''۔''
تم ہمیں غدار کہتے ہو؟''… شمس الدین نے کہا… ''یہی راز ہے جسے تم چھپانا چاہتے ہو کہ غدار کون ہے۔ تم یہ راز ''
آنے والی نسلوں سے اور تاریخ سے بھی نہیں چھپا سکو گے کہ تم غدار ہو۔ تاریخ پکار پکار کر کہے گی کہ صالح الدین
ایوبی فلسطین کو صلیبیوں سے آزاد کرانے کے لیے نکال تھا مگر گمشتگین نام کا ایک مسلمان قلعہ دار اس کے راستے میں
حائل ہوگیا تھا''۔
تم اگر اتنے پکے مسلمان ہوتے تو ہندوستان ہندوئوں کے حوالے کرکے نورالدین زنگی کے پاس نہ بھاگے آتے''… گمشتگین ''
نے طنزیہ کہا… ''تم غالم ملک سے آئے ہو''۔
ہندوستان کو ہم نے ہندوئوں کے حوالے نہیں کیا تھا''… شادبخت نے جواب دیا… ''وہاں بھی تم جیسے مسلمان موجود ''
تھے ،جنہوں نے ہندوئوں سے دوستی کی اور تمہاری طرح اپنی ذاتی بادشاہی کے خواب دیکھے۔ بادشاہی کا نشہ انہیں لے بیٹھا
اور ہندو سارے ملک پر ہاتھ صاف کرگیا اگر ملک کی قسمت ساالروں کے ہاتھ میں ہوتی تو آج ہندوستان عرب کی سرزمین
کے ساتھ مال ہوا تھا مگر وہاں کی فوج کو بادشاہوں نے اپنا غالم بنا لیا تھا''۔
میں تمہیں دو دن اور سوچنے کا موقع دیتا ہوں''… گمشتگین نے کہا… ''اگر میرے سوالوں کے جواب مجھے دے دو گے ''
تو ہو سکتا ہے تمہیں اس جہنم سے نکال کر تمہارے گھروں میں تمہیں نظر بند کردوں اگر مجھے مایوس کرو گے تو میں
تمہیں سزائے موت نہیں دوں گا۔ انہی کال کوٹھڑیوں میں پڑے گلتے سڑتے رہو گے ،سوچ لو''… اور وہ حکم دے کر کہ انہیں
کوٹھڑیوں میں بند کردیا جائے ،چال گیا۔ گمشتگین نے اپنے قلعے میں صلیبی مشیر رکھے ہوئے تھے۔ اس نے ان پر واضح کردیا
کہ ان کا ایک ساتھی جو قتل ہوگیا ہے وہ کسی سازش کا شکار نہیں ہوا ،بلکہ وہ حرم کی ایک لڑکی کے ہاتھوں قتل ہوا
ہے۔ گمشتگین نے انہیں یہ بھی بتایا کہ اس نے اپنے دو ساالروں کو قاضی کے قتل اور غداری کے جرم میں قید خانے میں
ڈال دیا ہے۔ اس نے ان سے مشورہ لیا کہ وہ فوری طور پر سلطان ایوبی کے خالف فوج بھیجنا چاہتا ہے۔
مجھے معلوم نہیں کہ ان دونوں ساالروں نے کیسے کیسے راز صالح الدین ایوبی کو بھیج دئیے ہیں''۔ گمشتگین نے کہا… ''
'' پیشتر اس کے کہ وہ ان رازوں سے فائدہ اٹھائے ،ہمیں حملہ کردینا چاہیے۔ اس صورت میں مجھے آپ کی مدد کی ضرورت
ہوگی''۔
صلیبی مشیروں نے مدد کا وعدہ کیا اور کہا کہ وہ اپنے ایک آدمی کو آج ہی رات صلیبیوں کے کیمپ کو روانہ کردیتے ہیں۔
اسی رات ایک صلیبی روانہ ہوگیا۔
موصل میں خطیب المخدوم قید خانے کی ایک کوٹھری میں بند تھا اور اس کی نوجوان بیٹی جس کا نام صاعقہ تھا ،گھر میں
اکیلی بیٹھی تھی۔ دن بھر عورتیں اس کے پاس جاتی رہی تھیں اور صاعقہ سب سے یہی کہتی رہتی تھی… ''ایسا ہی ہونا
تھا''… عورتوں نے غور نہیں کیا تھا کہ اس سے اس کا مطلب ہے۔ دو جوان لڑکیوں نے اس کے ان الفاظ اور انداز کو نظر
انداز نہ کیا۔ انہیں کچھ شک ہوا۔ رات جب صاعقہ گھر میں اکیلی تھی۔ یہ دونوں لڑکیاں اس کے گھر میں داخل ہوئیں۔
صاعقہ انہیں اچھی طرح نہیں جانتی تھی۔
تم سارا دن یہ کیوں کہتی رہی ہو کہ ایسا ہونا ہی تھا؟''… ایک لڑکی نے پوچھا۔''
خدا کو ایسے ہی منظور تھا''… صاعقہ نے جواب دیا… ''اس کے سوا میں اور کیا کہہ سکتی ہوں''۔''
کچھ دیر خاموشی طاری رہی۔ آخر دوسری لڑکی نے کہا… ''اگر اس سے تمہارا مطلب کچھ اور ہے تو صاف بتا دو۔ ہوسکتا
ہے کہ ہم کچھ مدد کرسکیں''۔
خدا کے سوا میری کوئی مدد نہیں کرسکتا''… صاعقہ نے کہا… ''میرے والد محترم نے کوئی اخالقی جرم نہیں کیا۔ انہوں ''
نے امیر موصل کو کوئی کھری بات کہہ دی ہوگی۔ وہ ہمیشہ حق بات کہا کرتے ہیں۔ اسی لیے میں کہتی ہوں کہ ایسا ہونا
ہی تھا کیونکہ وہ خوشامد کرنے والے انسان نہیں''۔
یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ انہوں نے کیا کہا اور کیا کیا ہے''… دوسری لڑکی نے کہا… ''ہم یہ کہنا چاہتی ہیں کہ ''
انہوں نے صالح الدین ایوبی کی حمایت میں کوئی بات کہہ دی ہوگی۔ یہ تو تم ہی بتا سکتی ہو کہ وہ موصل کے والی کے
حامی تھے یا صالح الدین ایوبی کے''۔
''تم جسے سچا سمجھتی ہو ،وہ اسی کے حامی تھے''… صاعقہ نے مسکرا کر پوچھا… ''تم کس کی حامی ہو؟''
صالح الدین ایوبی کی''… دونوں لڑکیوں نے جواب دیا۔''
وہ بھی ایوبی کے حامی تھے''… صاعقہ نے جواب دیا… ''سیف الدین کو پتہ چل گیا ہوگا''۔''
وہ زبانی حمایت کرتے تھے یا عمال ً بھی؟''… ایک لڑکی نے پوچھا۔''
''کیا تم جاسوسی کرنے آئی ہو؟''… صاعقہ بھڑک کر بولی… ''کیا موصل کا نوجوان خون بھی کفار کا حامی ہوگیا ہے؟''
ہاں!''… ایک لڑکی نے جواب دیا… ''ہم دونوں جاسوسی کرنے آئی ہیں اور تمہیں یہ یقین دالنے آئی ہیں کہ موصل کا ''
نوجوان خون کفار کا حامی نہیں بلکہ کفار کے پائوں تلے سے عرب کی زمین نکالنے کے لیے بیتاب ہے اور اس عزم پر عمل
کرکے دکھانے کو ابل رہا ہے۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:14
قسط نمبر۔85
جب سلطان ایوبی پریشان ہوگیا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تم ہماری ذہانت کا اندازہ اس سے کرو کہ تمہارے ان الفاظ کو کہ ایسا ہونا ہی تھا ،ہمارے سوا کوئی بھی نہیں سمجھ سکا۔
ہم سمجھ گئی تھیں کہ تمہارے والد محترم سلطان ایوبی کے حامی ہوں گے اور ان کی سرگرمیوں کا علم والئی موصل کو
ہوگیا ہوگا''۔
۔ کچھ دیر کے تبادلۂ خیاالت اور بحث کے بعد صاعقہ کو یقین ہوگیا کہ یہ دونوں لڑکیاں اسے دھوکہ نہیں دے رہیں۔ اس ''
نے ان سے پوچھا کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہیں اور وہ کر کیا سکتی ہیں۔
سب سے پہلے یہ معلوم کرنا ہے کہ محترم خطیب کو قید خانے پریشان تو نہیں کیا جارہا؟''… ایک لڑکی نے کہا… ''اگر''
پریشان کیا جارہا ہے تو انہیں قید خانے سے غائب کرنے کا انتظار کیا جائے گا''۔
یہ کیسے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ قید خانے میں ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے۔ تم والئی موصل کے پاس جائو اور''
اپنے والد سے ملنے کی عرض کرو۔ اگر اس نے اجازت نہ دی تو ہم کچھ کریں گی''۔
''میں کل صبح جائوں گی''… صاعقہ نے کہا… ''اور یہ بھی پوچھوں گی کہ میرے باپ کا جرم کیا ہے؟''
لڑکیاں جانے کے لیے اٹھیں تو خیال آگیا کہ صاعقہ گھر میں اکیلی ہے۔ انہوں نے اسے کہا کہ وہ رات اس کے ساتھ گزاریں
گی لیکن صاعقہ تنہائی میں کوئی ڈر یا خطرہ محسوس نہیں کررہی تھی۔ لڑکیوں نے اپنے گھر والوں کو جاکر بتایا کہ وہ
صاعقہ کے پاس رہیں گی کیونکہ وہ اکیلی ہے۔ وہ اس کے پاس چلی گئیں… سردیوں کا موسم تھا۔ وہ کمرے میں سوئیں۔ آدھی
رات کے وقت ایک لڑکی بیت الخالء میں جانے کے لیے باہر نکلی تو صحن سے آگے جو برآمد تھا ،وہاں اسے ایک سیاہ سا
حرکت کرتا نظر آیا اور وہ کہیں غائب ہوگیا۔ لڑکی ڈری نہیں ،وہ کمرے میں چلی گئی۔ اپنی سہیلی کو جگایا اور اسے بتایا،
دونوں کے پاس خنجر تھے ،خنجر ہاتھ میں لے کر وہ برآمدے میں گئیں ،ادھر ادھر دیکھا۔ انہیں کچھ بھی نظر نہ آیا۔
وہ صحن میں آئیں۔ انہوں نے صاعقہ کو نہیں جگایا تھا لیکن صاعقہ کی آنکھ کھل گئی۔ دونوں سہیلیوں کو کمرے سے
غیرحاضر دیکھ کر وہ باہر چلی گئی۔ سہیلیوں کو پکارا۔ وہ آئیں تو انہوں نے اسے بتایا کہ برآمدے میں ایک سایہ حرکت کررہا
تھا ،کسی انسان کا معلوم ہوتا تھا۔
چلو چل کر سوجائو''… صاعقہ نے ان سے کہا… ''تم جب بھی باہر نکلو گی ،تمہیں ایک سایہ ہلتا جلتا نظر آئے گا'' ،
آگے جاکر کسی سائے کو خنجر نہ مار دینا''۔
''یہ سائے کیسے ہیں؟''… ایک لڑکی نے پوچھا… ''انسان نہیں یہ؟''
مگر اب دونوں لڑکیاں ڈرنے لگی تھیں ،وہ صرف انسانوں سے نہیں ڈرتی تھیں۔ یہ سائے صاعقہ کے کہنے کے مطابق انسانوں
کے نہیں تو پھر یہ جن ہی ہوسکتے تھے۔ صاعقہ نے کہا… ''یہ میرے والد محترم کے عقیدت مندوں کے سائے ہیں۔ انہیں
جن ہی سمجھ لو۔ میں ان کے قریب کبھی نہیں گئی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ میری حفاظت کے لیے یہاں گھومتے پھرتے رہتے
ہیں''۔
محترم خطیب برگزیدہ شخصیت ہیں''… ایک لڑکی نے کہا… ''ان کے عقیدت مند جن بھی ہوں گے''۔''
کچھ ایسی ہی بات ہے''… صاعقہ نے کہا… ''ان سے ڈرنا نہیں اور ان کے قریب بھی نہ جانا''۔''
٭ ٭ ٭
اس رات خطیب کوٹھڑی میں بند تھا۔ اسے ابھی کچھ علم نہیں تھا کہ اس کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے گا۔ ایک سنتری
اس کی کوٹھڑی کے سامنے سے گزرا۔ خطیب نے اسے روک کر کہا… ''مجھے قرآن کی ضرورت ہے ،قید خانے میں قرآن تو
ضرور ہوگا''۔
یہاں؟… قرآن؟''… سنتری نے طنزیہ لہجے میں کہا… ''یہاں قرآن پاک پڑھنے والے نہیں آیا کرتے۔ یہ جہنم ہے۔ یہاں گناہ''
گار آتے ہیں۔ سوجائو''… سنتری آگے چال گیا۔
خطیب حافظ قرآن نہیں تھا۔ اسے بہت سی صورتیں اور آیتیں یاد تھیں۔ اس نے سورۂ الرحمن کی تالوت بلند آواز سے شروع
کردی۔ ایک تو سورۂ الرحمن کا اپنا تاثر ہے جو پہاڑوں کا بھی جگر چاک کرڈالتا ہے۔ اس کے ساتھ خطیب ابن المخدوم کی
سریلی آواز کا سحر انگیز سوز۔ قید خانے کے مقید ماحول پر جیسے وجد طاری ہوگیا ہو۔ اس نے یہ سورۂ مبارکہ ختم کی تو
اسے محسوس ہوا کہ وہ اکیال نہیں۔ دروازے کی طرف دیکھا۔ وردی میں جیل کا کوئی عہدے دار کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں سے
آنسو بہہ رہے تھے۔
تم کون ہو؟''… عہدے دار نے خطیب سے پوچھا… ''میں چھ سال سے اس قید خانے میں نوکری کررہا ہوں۔ قرآن کی ''
آواز پہلی بار سنی ہے اور ایسی آواز بھی پہلی بار سنی ہے جو میرے دل میں اتر گئی ہے۔ میں نے قرآن نہیں پڑھا حاالنکہ
یہ میری مادری زبان میں لکھا گیا ہے''۔
میں موصل کا خطیب ہوں''… خطیب نے جواب دیا۔''
اور آپ کا جرم؟''… عہدے دار نے حیرت سے چونک کر پوچھا۔''
صرف یہ کہ میں قرآن کی زبان میں بات کیا کرتا ہوں''… خطیب نے جواب دیا… ''میرا جرم یہ ہے کہ میں نے اپنے ''
بادشاہ کا حکم نہ مانا اور قرآن کے حکم کو مقدم جانا''۔
پھر پڑھو''… عہدیدار نے التجا کے لہجے میں کہا… ''میرے اندر ایک زہر ہے جو قرآن کے الفاظ نے اور آپ کی آواز نے''
نکالنا شروع کردیا ہے۔ میں آپ کو حکم نہیں دے رہا ،التجا ہے''۔
خطیب نے پہلے سے زیادہ وجد آفریں آواز میں سورۂ الرحمن پڑھی۔ عہدے دار کوٹھڑی کی موٹی موٹی سالخوں کو پکڑے کھڑا
رہا اور اس کے آنسو بہتے رہے۔ خطیب خاموش ہوا تو عہدے دار نے آنکھیں بند کرکے دھیمی آواز میں سورۂ الرحمن کی بعض
آیات دہرانی شروع کردیں۔
اگر آپ کی آواز میں یہ جادو ہے تو آپ کے معتقدوں میں جنات بھی ہوں گے''… عہدے دار نے کہا… ''میں ایک بات ''
پوچھنا چاہتا ہوں۔ میں نے سنا ہے کہ قرآن سے فال نکالی جاتی ہے۔ کوئی سوال پوچھو تو جنات قرآن کے لفظوں میں
جواب دیتے ہیں''۔
لیکن سوال یہ ہے کہ تمہارا سوال کیا ہے!''… خطیب نے کہا… ''قرآن صرف ایمان والوں کو مژدہ سنایا کرتا ہے''۔''
''اور جس کا ایمان پختہ نہ ہو؟''
''اس کے سینے میں ایمان کی قندیل روشن کرتا ہے''… خطیب نے کہا… ''تمہارا سوال کیا ہے؟''
میری ایک آرزو ہے''۔ عہدے دار نے کہا… ''میرے سینے میں آگ جل رہی ہے۔ معلوم نہیں ،یہ ایمان کی قندیل کا ''
شعلہ ہے یا یہ آگ انتقام کی ہے۔ میں اس فوج میں شامل ہونا چاہتا ہوں جو یروشلم کو فتح کرے گی۔ مجھے انتقام لینا
ہے''۔
اگر یروشلم کی فتح کو تم ایمان کہو تو وہاں جلدی پہنچو گے''… خطیب نے کہا… ''انتقام ذاتی فعل ہے ،ایمان اللہ کا ''
حکم ہے… تم انتقام کیوں کہہ رہے ہو؟ اور یروشلم کیوں کہہ رہے ہو؟ بیت المقدس کہو''۔
میں نے کسی قیدی کے ساتھ ایسی باتیں بھی نہیں کی تھیں''… عہدے دار نے کہا… ''آپ خطیب ہیں۔ آپ کے سامنے ''
میں اپنا دل کھول کر رکھنا چاہتا ہوں۔ میری روح کو تسکین کی ضرورت ہے۔ میں بیت المقدس کا رہنے واال ہوں ،وہاں
صلیبیوں کی حکمرانی ہے۔ مسلمانوں کو وہاں بھیڑ بکریاں اور جانور سمجھا جاتا ہے۔ صلیبی جس مسلمان کو چاہیں قتل
کردیں ،جسے چاہیں قید خانے میں ڈال دیں۔ بیگار کا رواج تو عام ہے جس گھر میں لڑکی جوان ہو ،ان کا دم تو خشک رہتا
ہے۔ وہاں کے مسلمان سلطان ایوبی کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ سات سال گزرے ،ایک روز ایک صلیبی نے مجھے پکڑ لیا اور ساتھ
لے گیا۔ اس کا کوئی سامان اٹھا کر اس کے گھر تک لے جانا تھا۔ اس نے مجھے سامان اٹھانے کو کہا تو میں نے انکار
کردیا۔ اس نے میرے منہ پر تھپڑ مار کر کہا کہ مسلمان ہوکر میرا حکم نہ ماننے کی جرأت کررہے ہو؟ میں نے اس کے منہ
پر گھونسہ مارا۔ وہ اگرا تو میں نے اس کے سر کے بال مٹھی میں لے کر اسے اٹھایا اور دوسرا گھونسہ مار کر اسے پھر گرا
دیا''۔
اتنے میں مجھے پیچھے سے کسی نے جکڑ لیا ،پھر صلیبیوں کا ہجوم جمع ہوگیا۔ سپاہی بھی آگئے اور مجھے بیگار کیمپ ''
میں لے گئے۔ میں نے وہاں تین دن گزارے اور تیسری رات میں نے ایک سنتری کو پیچھے سے دبوچا اور اسی کے خنجر
سے اس کا پیٹ چاک کرکے بھاگ نکال۔ میں گھر پہنچا تاکہ رات ہی رات سارے کنبے کو بیت المقدس سے بھگا لے جائوں،
ورنہ سب کے پکڑے جانے کا خطرہ تھا مگر میرا گھر کھنڈر بن چکا تھا۔ اندر گیا تو گھر جال ہوا تھا۔ میں نے ایک مسلمان
پڑوسی کے دروازے پر دستک دی۔ وہ ڈرتا ڈرتا باہر آیا۔ میں نے پوچھا کہ میرے گھر والے کہاں بھاگ گئے ہیں؟ اس نے یہ
خبر سنا کر میرے پائوں تلے سے زمین نکال دی کہ گھر کے مردوں کو صلیبی پکڑ کر لے گئے ہیں اور میری دونوں کنواری
بہنوں کو صلیبی فوجی لے گئے تھے پھر انہوں نے گھر کو آگ لگا دی''۔
میرے دل پر جو گزری اس کا تصور آپ کرسکتے ہیں۔ مجھے معلوم تھا کہ مجھے بہنیں واپس نہیں مل سکتیں اور میں ''
یہاں رکا رہا تو پکڑا جائوں گا اور صلیبی مجھے قتل کردیں گے یا قید خانے میں بند کرکے ساری عمر اذیتیں دیتے رہیں گے۔
میں کسی مسلمان کے گھر چھپنے کی غلطی نہیں کرسکتا تھا کیونکہ وہ پورا گھرانہ مارا جاتا۔ میں رات کو ہی بیت المقدس
سے نکل آیا۔ خون کھول رہا تھا مگر میں بے بس تھا۔ میں نے اس طرف کا رخ کرلیا۔ صبح طلوع ہوئی تو میں نے ایک
صلیبی کو دیکھا جو گھوڑے پر سوار میرے راستے پر سامنے سے آرہا تھا۔ وہ سپاہی نہیں تھا۔ میں نے اسے روک لیا ور اسے
باتوں میں الجھا کر گھوڑے سے اتار لیا۔ اس کا ایک پائوں رکاب میں دوسرا زمین پر تھا کہ میں نے پیچھے سے اس کی
گردن اپنے بازو کے گھیرے میں لے لی۔ اس کے کمر بند کے ساتھ چھوٹی تلوار تھی۔ وہ کھینچ لی اور اسے قتل کردیا۔ اس
کے گھوڑے پر سوار ہوکر میں نے گھوڑے کو ایڑی لگا دی''۔
یہ دوسرا صلیبی تھا جسے میں نے قتل کیا۔ اس سے پہلے میں ایک سنتری کو قتل کر آیا تھا لیکن میرے دل کو اطمینان''
نہ ہوا۔ میں تمام صلیبیوں کو قتل کرنے کے لیے پاگل ہوا جارہا تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے کتنے دن اور کتنی راتیں
سفر کیا اور کہاں کہاں مارا مارا پھرتا رہا۔ مجھے بھوک محسوس نہ ہوئی ،پیاس کا احساس تک نہ رہا۔ بہنیں یاد آتی تھیں
اور میں گھوڑا روک کر صلیبی سے چھینی ہوئی تلوار ہاتھ میں لے کر بیت المقدس کی طرف دیکھنے لگتا تھا۔ میرا جسم
کانپنے لگ جاتا تھا۔ میں نے کئی بار خدا کو پکارا اور خدا سے پوچھا کہ اس نے مجھے کون سے گناہ کی سزا دی ہے ،اگر
میں گناہ گار تھا تو سزا مجھے ملنی چاہیے تھی ،میری بہنیں اور میرا کمسن چھوٹا بھائی بے گناہ تھے۔ مجھے خدا نے کوئی
جواب نہ دیا۔ میں نے سجدے میں گر کر خدا کو پکارا اور مایوس ہوا۔ میں نے خدا سے یہ التجا بھی کی کہ مجھے سکون
مل جائے یا میرے اندر انتقام کی آگ بجھ جائے۔ میرا احساس مردہ ہوجائے''۔
میں موصل کے ایک گائوں میں پہنچ گیا جہاں یہ خطرہ نہیں تھا کہ صلیبی مجھے پکڑ لیں گے لیکن میرے دل کو کسی ''
بے رحم کے ہاتھوں نے ایسا جکڑ رکھا تھا کہ میں ہر لمحہ بے قرار اور بے چین رہتا تھا۔ میں مسجد میں چال گیا۔ امام سے
کہا کہ وہ مجھے دکھا دے کہ خدا کہاں ملے گا ،میری روح کو سکون کہاں ملے گا۔ اس نے میری کوئی مدد نہ کی۔ میں وہاں
سے ایک اور گائوں چال گیا پھر وہاں سے بھی چال گیا۔ اس کے بعد یہی یاد آتا ہے کہ میں مسجدوں میں خدا کو ڈھونڈتا
پھرتا رہا۔ اماموں سے روحانی سکون مانگتا رہا مگر کسی نے میری دستگیری نہ کی۔ مجھے کسی نے خدا کا اتا پتہ نہ بتایا۔
کسی نے کوئی طریقہ نہ بتایا جس سے میں خدا سے ہم کالم ہوسکوں اور اس سے روحانی سکون مانگ سکوں۔ راتوں کو اکثر
بہنوں کو خواب میں دیکھتا تھا۔ وہ روتی نظر آتی تھیں۔ مجھے اس کی سسکیاں اور ہچکیاں اس وقت بھی سنائی دیتی تھیں
جب جاگ اٹھتا تھا۔ روز بروز میرے اندر یہ احساس پیدا ہوتا گیا کہ میری بہنیں مجھ پر لعنت بھیج رہی ہیں''۔
کسی نے بتایا کہ صلیبیوں سے انتقام لینا ہے تو فوج میں بھرتی ہوجائو۔ سلطان نورالدین زنگی فلسطین کو آزاد کرانے کے ''
لیے لڑ رہا ہے۔ یہ تو مجھے معلوم تھا کہ مسلمانوں اور صلیبیوں کی لڑائیاں ہورہی ہیں۔ہمیں بیت المقدس میں معلوم ہوجاتا
تھا کہ کون سی جنگ میں کسے شکست ہوئی ہے۔ بیت المقدس میں صلیبی جب وہاں کے مسلمان باشندوں پر ظلم وستم
اچانک زیادہ کردیتے تھے تو ہم سمجھ جاتے تھے کہ کسی میدان میں انہیں شکست ہوئی ہے جس کا انتقام وہ یہاں کے نہتے
اور بے بس مسلمانوں سے لے رہے ہیں پھر ہمیں وہاں صالح الدین ایوبی کا نام سنائی دینے لگا۔ یہ نام اتنا مشہور ہوا کہ
وہاں کے صلیبی باشندے اس نام سے ڈرتے تھے اور اس سے نفرت کرتے تھے۔ یہ بھی پتہ چال کہ صالح الدین ایوبی طوفان
کی طرح آرہا ہے مگر وہ نہ آیا۔ اس کے بجائے میں یہاں سینے میں ایک گہرا زخم لے کر آگیا۔ میں فوج میں بھرتی ہوگیا
لیکن محاذ پر بھیجنے کے بجائے مجھے اس قید خانے میں بھیج دیا گیا ،یہاں مجھے ترقی بھی مل گئی''۔
یہاں میں نے انسانوں پر ظلم ہوتے دیکھا ،اس سے میں کانپ کانپ اٹھتا تھا۔ یہاں انسانوں کی ہڈیاں توڑی جاتی ہیں۔ بیت''
المقدس میں صلیبی مسلمانوں کا یہی حشر کرتے تھے ،یہاں مسلمانوں کو مسلمانوں پر وہی ظلم کرتے دیکھا۔ مجھے بتایا گیا کہ
یہاں بے گناہوں کو بھی الیا اور اذیت میں ڈاال جاتا ہے۔ ان کا گناہ وہی ہے جو آپ نے کیا ہے۔ میں سمجھ گیا ہوں کہ آپ
کو یہاں الکر کیوں بند کیا گیا ہے۔ یہ کام مجھے بھی کرنا پڑا۔ میں نے بھی انسانوں کو ایسی ایسی اذیتیں دیں جو آپ کو
سنائوں تو آپ بے ہوش ہوجائیں۔ میرے ساتھی پوری طرح وحشی درندے بن گئے ہیں۔ ان میں انسانیت صرف اتنی سی رہ
گئی ہے کہ وہ انسانوں کی طرح چلتے پھرتے اور باتیں کرتے ہیں۔ میں ان سے اس لحاظ سے مختلف ہوں کہ میں چوری
چھپے قیدیوں کے ساتھ ہمدردی کی دو چار باتیں کرلیتا ہوں۔ ان سے پوچھتا ہوں کہ ان کا جزم کیا ہے مگر ہمدردی کے اس
جذبے نے میری روح سے بوجھ اتارنے کے بجائے نہ جانے کیسا بوجھ ڈال دیا ہے۔ مجھے سکون نہیں ملتا۔ مجھے خدا نظر
نہیں آتا ،میری آنکھوں کے سامنے سے میری بہنیں ہٹتی نہیں۔ میں پھر یہی محسوس کرتا ہوں کہ جب تک صلیبیوں سے
انتقام نہیں لوں گا ،میں اسی طرح بے چین رہوں گا''۔
آج آپ کی آواز میں قرآن کے یہ الفاظ سنے… ''گناہ گار اپنے چہروں ہی سے پہچان لیے جائیں گے ،پھر وہ بالوں اور ''
پائوں سے پکڑ لیے جائیں گے… تم اپنے پرور دگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹالئو گے۔ یہی وہ جہنم ہے جسے گناہگار
لوگ جھٹالتے تھے۔ وہ دوزخ اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان گھومتے پھریں گے''۔ تو معلوم نہیں میرے دل میں کیا
ہلچل بپا ہوگئی۔ مجھے ایسے محسوس ہونے لگا ہے جیسے وہ راز انہی لفظوں میں ہے جو ڈھونڈتا پھر رہا ہوں''… اس نے
سالخوں میں سے ہاتھ اندر کرکے خطیب الن المخدوم کا چغہ پکڑ لیا ور بیتاب ہوکر بوال… ''مجھے بتائو یہ راز کیا ہے۔ کیا
میرے دماغ پر خون سوار ہے؟ اگر ایسا ہے تو میں انتقام کس طرح لوں گا؟ میں پاگل تو نہیں ہوجائوں گا؟ اگر خدا ہے تو
''اس سے پوچھ کر مجھے بتائو کہ میرے سوالوں کا جواب کیا ہے؟
تمہارے دماغ پر خون سوار ہے''… خطیب نے کہا۔ ''تم نے خدا کی آواز سن لی ہے۔ میری آواز میں خدا بول رہا تھا۔ ''
تم انتقام لینے کو بیتاب ہو لیکن یہاں تم اسی طرح بے حال اور بے چین رہو گے۔ تم جس فوج کے مالزم ہو ،وہ کبھی بیت
المقدس نہیں جائے گی''۔
''کیوں؟''
کیونکہ یہ فوج پہلے سلطان ایوبی کو شکست دے گی''۔ خطیب نے جواب دیا۔ ''پھر سلطان ایوبی کو قتل کیا جائے گا ''
اور پھر صلیبیوں کے ساتھ دوستی کی جائے گی''۔
عہدے دار کی آنکھیں کھلتی گئیں۔ خطیب اسے بتاتا رہا کہ مسلمان حکمران کیا کررہے ہیں۔ عہدے دار نے کہا۔ ''میں کچھ
عرصے سے اس قسم کی باتیں سن رہا تھا لیکن یقین نہیں آتا تھا۔ میں تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھا کہ ہمارے حکمران قوم
کی ان بیٹیوں کو بھول جائیں گے جو صلیبیوں کی بربریت کا نشانہ بنی ہیں اور جنہیں انہوں نے اغوا کرکے نہ جانے کہاں
سے کہاں پہنچا دیا ہے''۔
وہ بھول چکے ہیں''۔ خطیب نے کہا۔ ''وہ اس حد تک بھول چکے ہیں کہ اغوا کی ہوئی مسلمان لڑکیاں انہیں تحفوں ''
کے طور پر پیش کی جاتی ہیں اور یہ انہیں اپنے حرموں کی زینت بناتے ہیں۔ اس لیے سلطان صالح الدین ایوبی کے دشمن
بن گئے ہیں کیونکہ وہ قرآن کے احکام کا پابند ہے اور قوم کی عصمت کا انتقام لینا چاہتا ہے۔ اسے یہ بھی یاد نہیں رہا کہ
اس کا کوئی گھر ہے یا نہیں۔ اس کی عمر صحرائوں اور پہاڑوں میں گزر رہی ہے۔ میرا بھی جرم یہی ہے کہ میں نے والئی
موصل کو قرآن کے احکام یاددال دئیے تھے اور اسے کہا تھا کہ ایک مرد مجاہد کے خالف لڑو گے تو شکست کھائو گے۔ قرآن
کے جن مقدس الفاظ نے ابھی ابھی تم پر جادو کیا ہے ،میں نے یہی الفاظ موصل کے بادشاہ سیف الدین کو یاد دالئے تھے۔
میں نے اسے کہا تھا کہ تم جیسے گناہ گار چہروں سے پہچانے جائیں گے اور بالوں اور پائوں سے پکڑ لیے جائیں گے۔میں نے
اسے قرآن کا یہ حکم بھی سنایا تھا کہ تم دماغ سے بادشاہی کا نشہ نہیں اتارو گے تو دوزخ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں
گھومو پھرو گے مگر اس نے خدا کا حکم ماننے سے انکار کردیا اور اپنے نفس کا حکم مانا۔ اس نے مجھے قید خانے میں بند
کرادیا''۔
یہ دنیاوی اور جسمانی اذیتیں مجھے کوئی تکلیف نہیں دے سکتیں''۔ خطیب نے کہا۔ ''تم نے میری آواز میں جو سوز اور''
تاثر محسوس کیا ہے ،وہ میری روح کی آواز تھی۔ دنیا کے اس جہنم میں مطمئن ہوں۔ میری آواز اللہ کی آواز ہے۔ میری بیوی
مدت ہوئی مرگئی تھی۔ میں نے اس بچی کی خاطر دوسری شادی نہیں کی۔ ہم ایک دوسرے کی خاطر زندہ ہیں ،وہ گھر میں
اکیلی ہے''۔
میں اس کی حفاظت کروں گا''۔ عہدے دا ر نے کہا۔''
سب کی حفاظت کرنے واال خدا ہے''۔ خطیب نے کہا۔ ''میں تمہیں اپنے گھر کا پتہ بتا دیتا ہوں۔ میری بیٹی صاعقہ ''
سے کہہ دینا کہ ثابت قدم رہے اور میرے متعلق کوئی فکر نہ کرے۔ اگر یہاں قرآن پڑھنے کی اجازت ہو تو میری بیٹی سے
میرا قرآن لے آنا''۔
عہدے دار علی الصبح خطیب کے گھر چال گیا اور اس کی بیٹی کو تسلی دی کہ اپنے باپ کے متعلق وہ پریشان نہ ہو۔ اس
نے صاعقہ کو بتایا کہ وہ اس کے باپ سے بہت متاثر ہوا ہے ،اس کی جو مدد وہ کرسکتا ہے کرے گا لیکن اوپر کے حکم
ادنی مالزم ہے۔ اس نے لڑکی سے کہا کہ محترم خطیب کا قرآن
کے خالف کوئی کارروائی نہیں کرسکتا کیونکہ وہ قید خانے کا
ٰ
دے دے۔ لڑکی نے قرآن دینے سے پہلے عہدے دار کے ساتھ بہت باتیں کرکے یقین کرلیا کہ وہ تہہ دل سے اور جذبے کے
تحت اس کے باپ کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ وہ جذباتی لگتا تھا۔ اس نے جب یہ کہا کہ وہ اس کی خاطر اور اس کے باپ
کی خاطر جان پر بھی کھیل جائے گا تو صاعقہ نے اسے کہا۔ ''آپ کو یہ تو معلوم ہوگیا ہے کہ میرے والد کو کس جرم
میں قید کیا گیا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ سیف الدین انہیں اذیت خانے میں ڈال دے گا تاکہ ان کے دل سے صالح الدین ایوبی
کی حمایت نکل جائے۔ کیا یہ ممکن نہیں ہوسکتا کہ آپ انہیں قید خانے سے فرار ہونے میں مدد دیں؟ ہم دونوں موصل سے
غائب ہوجائیں گے''۔
عہدے دار مسکرایا اور بوال۔ ''جو اللہ کو منظور ہوگا ،میں نے تمہارے والد کی آواز میں اللہ کی آواز سنی ہے اور ان کی
آنکھوں میں ایمان کا نور دیکھا ہے۔ اللہ کی آواز اور ایمان کے نور کو کوئی انسان قید خانے میں محبوس نہیں کرسکتا۔ ہوسکتا
ہے کہ اس آواز اور اس نور کو آزاد کرانے کا نیک کام خدا نے میری قسمت میں لکھ دیا ہو اور اس کے عوض میرے سینے
کی آگ سرد ہوجائے۔ میں تمہیں بتا نہیں سکتا کہ میں کیا کروں گا کیونکہ تم عورت ذات ہو اور نوجوان ہو۔ شاید راز کو راز
نہ رکھ سکو''۔
میں والد محترم کے لیے قرآن لے آتی ہوں''۔ وہ اندر چلی گئی اور بہت دیر بعد آئی۔ اس کے ہاتھ میں قرآن تھا جو ''
عہدے دار کو دے کر اس نے کہا۔ ''میں والئی موصل کے پاس جارہی ہوں کہ وہ مجھے اپنے باپ سے ملنے کی اجازت دے
دے''۔
ہاں!'' عہدے دار نے کہا۔ ''مالقات کا یہی طریقہ ہے''… اور وہ قرآن لے کر چال گیا۔''
٭ ٭ ٭
صاعقہ تیار ہوکر سیف الدین کے دربار میں چلی گئی۔ اسے باہر روک دیا گیا۔ سیف الدین ،صالح الدین ایوبی نہیں تھا کہ ہر
کسی کو ملنے کی کھلی اجازت تھی۔ سیف الدین تو بادشاہ تھا اور اس کے طور طریقے شاہانہ تھے۔ اسے شراب بھی پینی
ہوتی تھی ،حرم کے لیے بھی وقت نکالنا ہوتا تھا۔ رقص کی محفلیں بھی منعقد کرنی ہوتی تھیں اور جو وقت بچتا تھا ،وہ
اپنی بادشاہی کو سلطان ایوبی سے بچانے کے منصوبے بناتے صرف ہوتا تھا۔ اسے اپنی رعایا کا کوئی علم نہ تھا۔ حکومت کے
نشئی رعایا کو استعمال کیا کرتے ہیں ،ان کے نیک وبد کی انہیں کوئی پروا نہیں ہوتی۔ وہ رعایا کے پیٹ میں صرف اتنا سا
اناج جانے دیتے ہیں جس سے رعایا صرف زندہ رہے اور ان کے آگے سجدہ ریز رہے۔
صاعقہ اسی رعایا کی ایک لڑکی تھی۔ دربان نے اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے تو اس نے بتایا کہ موصل کے خطیب ابن
المخدوم ککبوری کی بیٹی ہے۔ دوسروں کی طرح دربان کو بھی یہ معلوم تھا کہ خطیب اچانک پاگل ہوگیا ہے اور اسے قید
خانے میں ڈال دیا گیا ہے۔ خطیب کا احترام ہر کسی کے دل میں تھا اور اس کے پاگل ہوجانے کی وجہ سے سب کے دلوں
میں ہمدردی بھی پیدا ہوگئی تھی۔ دربان نے کسی سے کہہ کر سیف الدین سے اجازت لے لی کہ صاعقہ کو اس کے پاس
بھیجا جائے۔
صاعقہ جب سیف الدین کے سامنے گئی تو وہ اس لڑکی کی خوبصورتی دیکھ کر چونک اٹھا۔ وہ لڑکیوں کا شکاری تھا۔ اس نے
صاعقہ کو دلچسپی سے اپنے پاس بٹھایا۔ وہ سمجھ گیا ہوگا کہ لڑکی اپنے باپ کی رہائی کی درخواست لے کر آئی ہے۔
سنو لڑکی!'' اس نے صاعقہ کی بات سنے بغیر کہا۔ ''میں جانتا ہوں تم کیوں آئی ہو ،لیکن میں نے بہت مجبور ہوکر ''
تمہارے باپ کو قید میں ڈاال ہے اگر اسے ایک دو دنوں بعد ہی رہا کرنا ہوتا تو میں اسے گرفتار ہی نہ کرتا۔ میں اسے رہا
نہیں کرسکوں گا''۔
ان کا جرم کیا ہے؟'' صاعقہ نے پوچھا۔''
غداری''۔ سیف الدین نے جواب دیا۔''
''کیا انہوں نے آپ کے خالف صلیبیوں کے حق میں غداری کی ہے؟''
ریاست کا دشمن صلیبی ہو یا مسلمان''۔ سیف الدین نے جواب دیا۔ ''اس کے ساتھ مل کر ریاست کو نقصان پہنچانا ''
''جرم ہے۔ کیا تمہارا باپ صالح الدین ایوبی کا حامی نہیں تھا؟
مجھے کچھ علم نہیں'' ۔ صاعقہ نے جواب دیا۔ ''میرا خیال یہ ہے کہ صالح الدین ایوبی کا حامی ہونا جرم نہیں''۔''
یہی بات تمہارا باپ بھی نہیں سمجھ سکتا''۔ سیف الدین نے کہا۔ ''میں حیران ہوں کہ بہت سے لوگ صالح الدین ''
ایوبی کو فرشتہ سمجھتے ہیں ،وہ عورت کے معاملے میں درندہ ہے ،دمشق اور قاہرہ میں اس نے اپنا حرم تم جیسی سینکڑوں
لڑکیوں سے بھر رکھا ہے۔ ہر لڑکی تین چار مہینوں بعد اپنے ساالروں کے حوالے کردیتاہے۔ اس کی فوج جہاں حملہ کرتی ہے،
وہاں نہ مسلمان گھرانہ دیکھتی ہے ،نہ غیرمسلم۔ ہر گھر کو لوٹتی اور ہر لڑکی کو اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔ تم جیسی حسین
لڑکی اس سے کبھی محفوظ نہیں رہ سکتی۔ یہ میرا فرض ہے کہ تمہاری عزت کی حفاظت کروں ،خواہ مجھے تمیں اپنے گھر
میں رکھنا پڑے''۔
میری حفاظت خدا کرے گا''۔ صاعقہ نے کہا۔ ''میں صرف یہ التجا کرنے آئی ہوں کہ مجھے تھوڑی سی دیر کے لیے ''
اپنے باپ سے ملنے کی اجازت دی جائے''۔
جب تک قاضی اسے سزا نہیں دیتا ،اجازت نہیں دی جاسکتی''۔''
سزا کیا ہوگی؟'' لڑکی نے پوچھا۔''
موت''۔''
صاعقہ کے آنسو بہنے لگے۔ اس نے لڑکی کو اور زیادہ خوفزدہ کرنے کے لیے کہا۔ ''لیکن یہ موت اتنی آسان نہیں ہوگی کہ
تلوار سے سر تن سے جدا کردیا جائے گا۔ اسے آہستہ آہستہ اذیتیں دے دے کر مارا جائے گا۔ پہلے اس کی آنکھیں نکالی
جائیں گی پھر اس کا ایک ایک دانت زنبور سے کھینچ کر نکاال جائے گا پھر اس کے ہاتھوں اور پائوں کی انگلیاں کاٹی جائیں
گی اور پھر وہ زندہ ہی ہوگا تو اس کی کھال اتاری جائے گی''۔
لڑکی کا جسم بڑی زور سے کانپا۔ اس نے ہونٹ دانتوں میں دبا لیے اور اس کا رنگ پیال پڑ گیا۔ اس نے لرزتی ہوئی آواز میں
پوچھا۔ ''کیا آپ ان پر یہ رحم نہیں کرسکتے کہ ان کا سر تلوار سے کاٹ دیا جائے؟ اگر انہیں سزائے موت ہی دینی ہے تو
''ایک ثانیے میں انہیں کیوں نہیں ختم کردیتے؟
اگر تمہیں اپنی قیامت خیز جوانی پر رحم آجائے تو میں تمہارے باپ پر رحم کرسکتا ہوں''۔''
صاعقہ نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو سیف الدین نے کہا۔ ''باپ کے مرجانے کے بعد تم ایک عام سی اور غریب
سی لڑکی بن کے رہ جائو گی۔ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ تم میرے عقد میں آجائو جس سے تمہارے باپ کو بھی فائدہ پہنچے گا
''اور تمہاری حیثیت موصل کی ملکہ کی ہوجائے گی؟
اگر میرے باپ نے مجھے خودداری کی تعلیم نے دی ہوتی تو ملکہ بننا تو بہت بڑی بات ہے ،میں آپ کے ساتھ ایک رات''
گزارنے پر بھی فخر محسوس کرتی''۔ صاعقہ نے کہا۔ ''میرا باپ میری عصمت کی حفاظت میں اپنی کھال ہنستے کھیلتے
اتروالے گا۔ یہ سودا میرے باپ کے ساتھ کریں۔ اس سے پوچھیں کہ تم جالد کے پاس جانا چاہتے ہو یا اپنی بیٹی کو میرے
پاس بھیجنا چاہتے ہو۔ میرا باپ یقینا ً یہ کہے گا… ''مجھے جالد کے حوالے کردو''… میں صرف یہ درخواست لے کر آئی
تھی کہ تھوڑی سی دیر کے لیے مجھے اپنے باپ سے ملنے دیا جائے۔ اب میں اپنی درخواست میں یہ اضافہ کرتی ہوں کہ
اس کے لیے میں کوئی سودا قبول نہیں کروں گی''۔
کیا تمہارا یہ فیصلہ ہے کہ تم میرے پاس نہیں آئو گی؟'' سیف الدین نے پوچھا۔''
اٹل فیصلہ'' ۔ صاعقہ نے جواب دیا۔ ''آپ موصل کے مالک ہیں۔ مجھے زبردستی اپنے حرم میں داخل کرلیں''۔''
میں نے ایسا جرم کبھی نہیں کیا''۔ سیف الدین نے کہا۔''
صاعقہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ اسے دراصل مالقات کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ وہ تو یہ معلوم کرنا چاہتی تھی کہ اس کے باپ کے
ساتھ قید خانے میں کیا سلوک ہورہا ہے۔ وہ اسے قید خانے کے ایک عہدے دار سے معلوم ہوگیا تھا اور اسے یہ امید بھی
تھی کہ یہ عہدے دار اس کے باپ کو فرار میں مدد دے گا۔ اس نے سیف الدین کو سالم کیا اور چل پڑی۔ سیف الدین نے
اسے جاتے دیکھا تو بوال۔ ''ٹھہرو ،یہ نہ کہنا کہ والئی موصل نے ایک لڑکی کی تمنا پوری نہیں کی تھی۔ تم آج رات اپنے
باپ سے مالقات کرنے کے لیے جاسکتی ہو۔ ایک آدمی تمہارے گھر آئے گا ،وہ تمہیں اپنے ساتھ قید خانے میں لے جائے گا،
تم جتنی دیر چاہو اپنے باپ سے باتیں کرسکتی ہو''۔
صاعقہ شکریہ ادا کرکے چلی گئی۔ سیف الدین کے پیچھے ایک باڈی گارڈ کھڑا تھا۔ صاعقہ چلی گئی تو سیف الدین نے اپنے
باڈی گارڈ سے کہا۔ ''اتنا خوبصورت پرندہ پنجرے میں آنا چاہیے ،میں نے اسے خوفزدہ کرنے کے لیے کہا تھا کہ اس کے
باپ کو کس طرح اذیتیں دے کر مارا جائے گا مگر لڑکی دل گردے کی پکی معلوم ہوتی ہے۔ جانتے ہو میں نے اسے کیوں کہا
''ہے کہ ایک آدمی تمہارے گھر آئے گا ،وہ تمہیں قید خانے میں باپ سے مالقات کرانے لے جائے گا؟
کیا میں ابھی تک آپ کے اشارے سمجھنے کے قابل نہیں ہوا؟'' باڈی گارڈ نے ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ التے ہوئے ''
کہا۔ ''وہ آدمی میں ہی ہوں گا جو اسے شام کے بعد گھر سے قید خانے لے جانے کے بہانے لے آئوں گا''۔
اور تم جانتے ہو کہ اسے کہاں لے جانا ہے؟'' سیف الدین نے پوچھا۔ ''اسے یہ شک نہیں ہوناچاہیے کہ میں نے اسے ''
اغوا کرایا ہے''۔
سب جانتا ہوں'' ۔ باڈی گارڈ نے کہا… ''یہ کام پہلی بار تو نہیں کررہا۔ میں اسے جن بھول بھلیوں سے گزار کر اور اس''
کی جو حالت کرکے آپ کے پاس پہنچائوں گا ،اس سے وہ یہ سمجھے گی کہ دنیا میں آپ واحد انسان ہیں جو اس کے
محسن وغم خوار ہیں۔ آگے آپ جانتے ہیں کہ اس قسم کے پرندے کو پنجرے میں کس طرح بند کرتے ہیں''۔
سیف الدین نے اپنے باڈی گارڈ کے کان میں کچھ کہا۔ باڈی گارڈ کی آنکھوں میں شیطان مسکرانے لگا۔ قیدخانے کا جو عہدے
دار صاعقہ کے پاس آیا اور اسے تسلی دے کر اور قرآن لے کر چال گیا تھا ،رات کی ڈیوٹی پر تھا۔ شام کے بعد وہ قید خانے
میں داخل ہوا۔ دن کی ڈیوٹی والے کو رخصت کیا اور خطیب ابن المخدوم کی کوٹھڑی کے سامنے جاکھڑا ہوا۔ ادھر ادھر دیکھ
کر اس نے قرآن خطیب کو دے کر کہا… ''اپنی بیٹی کے متعلق آپ کوئی غم نہ کریں۔ وہ ہر لحاظ سے مطمئن ہے۔ محفوظ
ہے اور خیریت سے ہے۔ اس نے مجھے ایک بات کہی ہے۔ دعا کریں کہ اللہ مجھے بچی کی تمنا پوری کرنے کی توفیق عطا
فرمائے''۔
وہ کیا بات ہے؟'' خطیب نے پوچھا۔''
عہدے دار نے ادھر ادھر دیکھا اور منہ سالخوں کے ساتھ لگا کر کہا… ''فرار… آپ میں اتنی ہمت ہے؟… میں مدد کروں
گا''۔
جس کام میں اللہ کی خوشنودی شامل ہو ،اس کے لیے اللہ ہمت بھی دے دیتا ہے''۔ خطیب نے کہا۔ ''لیکن میں ''
تمہاری مدد سے فرار نہیں ہوں گا۔ اس کے بجائے یہاں مرجانا پسند کروں گا''۔
''کیوں؟'' عہدے دار نے حیران ہوکر پوچھا… ''کیا آپ مجھے گناہ گار سمجھ کر میری مدد قبول نہیں کرنا چاہتے؟''
نہیں'' ۔ خطیب نے جواب دیا۔ ''میں تمہاری مدد اس لیے قبول نہیں کرنا چاہتا کہ تم گناہ گار نہیں ہو۔ میں تو تمہاری ''
مدد سے یہاں سے نکل جائوں گا۔ تم پیچھے رہ جائو گے اور پکڑے جائو گے۔ میرے جرم کی اور تمہاری نیکی کی سزا تمہیں
ملے گی جو بہت ہی بھیانک ہوگی''۔
میں بھی آپ کے ساتھ ہی جائوں گا'' عہدے دار نے کہا… ''آپ کی کل رات کی باتوں نے یہاں سے میرا دل اچاٹ ''
کردیا ہے۔ میں صالح الدین ایوبی کی فوج میں جارہا ہوں۔ میں چونکہ قیدی نہیں ،اس لیے آسانی سے فرار ہوسکتا ہوں لیکن
اب آپ کو ساتھ لے کے جائوں گا۔میرا اس دنیا میں کوئی نہیں۔ ویسے بھی میرے دل میں آگ ہے جو گزشتہ رات آپ کو
دکھائی تھی ،اسی آگ کو سرد کرنا ہے''۔
ہاں''۔ خطیب نے کہا… ''میں اس صورت میں تمہاری مدد قبول کرسکتا ہوں''۔''
آپ کی بیٹی نے مجھے بتایا تھا کہ وہ والئی موصل کے پاس جارہی ہے''۔ عہدے دار نے کہا… ''وہ آپ سے مالقات ''
کی اجازت مانگے گی''۔
نہیں'' ۔ خطیب نے گھبرا کر کہا… ''اسے سیف الدین جیسے شیطان فطرت انسان کے پاس نہیں جانا چاہیے ،تم اسے کہو''
کہ وہاں نہ جائے''۔
میں تو صبح جاسکوں گا''۔ عہدے دار نے کہا۔''
عہدے دار کوٹھڑی سے ہٹ کر چال گیا۔ خطیب نے قرآن کو چوما ،پھر سینے سے لگا کر اپنے آپ سے کہا… ''اب میں اس
کال کوٹھڑی میں تنہا نہیں ہوں''۔ اس نے غالف اتارا اور دئیے کی روشنی میں بیٹھ کر قرآن کھوال۔ ورق الٹتے الٹتے قرآن
میں سے ایک کاغذ نکال۔ اس کی بیٹی کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا… ''خدا ساتھ ہے ،جنات موجود ہیں ،پیغمبر برحق ہے۔
پیغمبر کا فرمان سنیں۔ ایمان تروتازہ ہے''۔ خطیب کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے کاغذ کا یہ ٹکڑا دئیے کی لو
پر رکھا اور جالڈاال۔ وہ پیغام سمجھ گیا تھا۔ پیغمبر سے اس کی مراد قید خانے کا یہ عہدے دار تھا۔ وہ کہنا یہ چاہتی تھی
کہ یہ آدمی سچا معلوم ہوتا ہے۔ اس کی بات ( فرار) پر عمل کریں۔ ''جنات موجود ہیں'' سے مراد یہ تھی کہ صاعقہ
کی حفاظت کے لیے آدمی موجود ہیں۔
جس وقت خطیب یہ پیغام جال رہا تھا ،اس وقت اس کے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ صاعقہ نے دروازہ کھوال۔ اس کے
ہاتھ میں قندیل تھی۔ باہر جو آدمی کھڑا تھا ،اسے اس نے پہچان لیا۔ وہ سیف الدین کا باڈی گارڈ تھا جو صاعقہ کی مالقات
کے وقت وہاں موجود تھا۔ اس نے صاعقہ سے کہا کہ وہ اسے باپ کی مالقات کے لیے قید خانے لے جانے آیا ہے اور وہ
اسے گھر واپس بھی الئے گا۔
صاعقہ تیار تھی۔ چلنے لگے تو باڈی گارڈ نے صاعقہ سے کہا… ''باپ کے ساتھ صرف خیرخیریت اور گھر کی باتیں کرنے کی
اجازت ہوگی۔ کوٹھڑی کی سالخوں سے تمہیں تین قدم دور کھڑا کیا جائے گا۔ کوئی ایسی بات نہ کرنا جو والئی موصل غازی
سیف الدین کے وقار کے خالف ہو''۔
٭ ٭ ٭
باڈی گارڈ آگے آگے جارہا تھا۔ صاعقہ اس سے دو تین قدم پیچھے تھی۔ دونوں خاموشی سے چلے جارہے تھے ،رات تاریک
تھی۔ وہ اندھیری گلیوں سے گزرتے جارہے تھے۔ وہ ایک گلی کا موڑ مڑے تو باڈی گارڈ رک گیا۔ اس نے پیچھے دیکھا۔ صاعقہ
''نے پوچھا… ''کیا بات ہے؟
تم نے اپنے پیچھے کسی کے قدموں کی آہٹ نہیں سنی تھی؟'' باڈی گارڈ نے اس سے پوچھا۔''
نہیں''۔ صاعقہ نے کہا… ''میں ہی تمہارے پیچھے پیچھے آرہی ہوں''۔''
میں نے کوئی اور آواز سنی تھی''۔ باڈی گارڈ نے زیرلب کہا اور آگے چل پڑا۔''
اتنا ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟'' صاعقہ نے پوچھا… ''کوئی اگر پیچھے سے آتا ہے تو آتا رہے''۔''
باڈی گارڈ نے کوئی جواب نہ دیا۔ یہ گلی ختم ہوگئی۔ اس سے آگے آبادی نہیں تھی۔ زمین اونچی نیچی تھی۔ کھڈ نالے بھی
تھے۔ قید خانہ اسی طرف آبادی سے کچھ دور تھا۔ دونوں کھڈوں سے بچتے جارہے تھے ،وہاں جھاڑیاں اور درخت تھے۔ باڈی
گارڈ ایک بار پھر رک گیا اور پیچھے کو دیکھا۔ اسے پیچھے آہٹ سنائی دی تھی۔ اس نے تلوار نکال لی اور پیچھے کو گیا۔
دو تین جھاڑیوں کے اردگرد گھوم کر دیکھا ،وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔
اب تم نے پیچھے کسی کے پائوں کی آواز سنی ہوگی''۔ باڈی گارڈ نے صاعقہ سے کہا۔ ''یہ آواز بڑی صاف تھی''۔''
صاعقہ نے یہ آہٹ سنی تھی لیکن اس نے جھوٹ بوال۔ کہنے لگی… ''تمہارے کان بجتے ہیں اگر یہ کسی کی آہٹ تھی ہی
''تو خرگوش یا کسی ایسے ہی جنگی جانور کی ہوگی۔ تم ان آہٹوں سے کیوں ڈرتے ہو؟
میں تمہیں جو بات کہنے سے جھجکتا تھا وہ اب کہہ دیتا ہوں''۔ باڈی گارڈ نے جواب دیا… ''تم بہت ہی خوبصورت اور''
جوان لڑکی ہو۔ تمہیں اپنی قیمت کا اندازہ نہیں۔ تمہیں کسی نے اغوا کرکے کسی امیر یا حاکم کے پاس بیچ ڈاال تو وہ ماال
مال ہوجائے گا۔ تم میری ذمہ داری میں ہو۔ کسی نے تمہیں مجھ سے چھین لیا تو والئی موصل میرا سرتن سے جدا کردے
گا۔ تم میرے ساتھ چلو ،میرے پیچھے نہ رہو''۔
صاعقہ اس کے ساتھ ہوگئی۔ کچھ آگے جاکر پگڈنڈی شروع ہوتی تھی۔ وہ وہاں تک چلے گئے اور پگڈنڈی پر چلنے لگے۔ تھوڑا
آگے اس پگڈنڈی سے ایک اور راستہ نکلتا تھا جو کسی اور طرف جاتا تھا۔ باڈی گارڈ صاعقہ کو اس راستے پر لے گیا۔ چند
ہی قدم آگے گئے ہوں گے کہ انہیں کسی کے دوڑتے قدموں کی صاف آواز سنائی دی جو فورا ً ہی خاموش ہوگئی۔ کوئی پیچھے
سے دوڑتا آیا اور دائیں کو چال گیا۔ باڈی گارڈ نے ایک سایہ ایک درخت کے پیچھے غائب ہوتا دیکھ لیا تھا۔ وہ تلوار سونت
کر اس درخت کی طرف دوڑا۔ پیچھے اسے صاعقہ کی گھٹی ہوئی چیخ سنائی دی۔ کسی نے صاعقہ کے اوپر بوری کی طرح کا
تھیال ڈال دیا اور اس سے پہلے اس کے منہ میں کپڑا ٹھونس دیا تھا۔ باڈی گارڈ کو اندھیرے میں اتنا ہی نظر آیا کہ جہاں
صاعقہ اکیلی تھی ،وہاں دو سائے اچھل کود رہے ہیں۔
وہ اس کی طرف دوڑنے ہی لگا تھا کہ عقب سے کسی نے اسے بازوئوں میں جکڑ لیا۔ اس کے بھی منہ میں کپڑا ٹھونس دیا
گیا اور اوپر بوری کی طرح کا تھیال اس پر چڑھا دیا گیا۔ وہ تنومند جنگجو تھا لیکن اسے جکڑنے والے تعداد میں زیادہ تھے
اور وہ بھی طاقتور اور اپنے فن کے استاد تھے۔ ادھر صاعقہ کو دوہرا کرکے تھیلے کا منہ بند کردیا گیا۔ ادھر باڈی گارڈ کو
اسی طرح تھیلے میں بند کردیا گیا۔ انہیں پکڑنے والے انہیں اٹھا کر چل پڑے۔ آگے جاکر ایک ایک تھیال پیٹھ پر اٹھا لیا۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:14
قسط نمبر۔86جب سلطان ایوبی پریشان ہوگیا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آگے جاکر ایک ایک تھیال پیٹھ پر اٹھا لیا۔ اندھیرے میں پاس سے گزرنے والوں کو بھی شک نہیں ہوتا تھا کہ دو انسانوں کو
اغوا کرکے لے جایا جارہا ہے۔ وہ ایک اندھیری گلی میں چلے گئے اور کچھ
دور جاکر ایک تنگ وتاریک مکان میں داخل ہوگئے۔
اندر جاکر وہ صاعقہ کو ایک کمرے میں اور باڈی گارڈ کو دوسرے کمرے میں لے گئے۔ الگ الگ کمروں میں تھیلوں کے منہ
کھول دئیے گئے۔ صاعقہ تھیلے سے نکلی تو اس کے منہ میں سے کپڑا نکال دیا گیا۔ کمرے میں دیا جل رہا تھا۔ صاعقہ کو
''دو آدمی کھڑے نظر آئے۔ اس نے غصے سے لرزتی ہوئی آواز میں کہا… ''تم نے یہ کیا طریقہ اختیار کیا ہے؟
محفوظ طریقہ یہی تھا''۔ کمرے میں کھڑے دو آدمیوں میں سے ایک نے جواب دیا… ''راستے میں کوئی بھی تمہیں ہمارے''
ساتھ چلتا دیکھ سکتا تھا۔ یہ ضروری تھا کہ تمہیں بھی چھپا کر الیا جائے''۔
مجھے پہلے کیوں نہ بتایا کہ تم یہ طریقہ اختیار کرو گے''۔ صاعقہ نے پوچھا… ''میں تو یہ سمجھی تھی کہ یہ تم نہیں''
ہو ،کوئی ڈاکو ہیں اور مجھے سچ مچ اغوا کیا جارہا ہے''۔
ہمارے طریقے کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں''۔ دوسرے آدمی نے کہا۔''
کیا تمہیں یقین ہوگیا تھا کہ وہ مجھے کہیں اور لے جارہا تھا؟'' صاعقہ نے پوچھا۔''
یہ یقین تو ہمیں اسی وقت ہوگیا تھا جب تم اس کے ساتھ گھر سے نکلی تھیں''۔ ایک آدمی نے جواب دیا… ''اگر وہ ''
تمہیں واقعی قید خانے میں لے جارہا تھا تو چھوٹا اور سیدھا راستہ دوسری طرف تھا۔ وہ کھڈنالوں کے ویرانے میں تمہیں لے
گیا اور پگڈنڈی سے ہٹ کر ایک راستے پر چل پڑا۔ ہمیں پختہ یقین ہوگیا کہ وہ تمہیں کہیں اور لے جارہا ہے''۔
اس نے کئی بار تمہارے قدموں کی آہٹ سنی تھی''۔ صاعقہ نے کہا… ''ایسی بے احتیاطی نہیں کرنی چاہیے''۔''
اندھیرے میں فاصلے کا اندازہ نہیں ہوتا تھا''۔ اسے بتایا گیا۔ ''ہم تم دونوں کے تعاقب میں دور نہیں تھے ،دور تک نظر ''
نہیں آتا تھا ،اس لیے تمہارے قریب رہنا ضروری تھا''۔
صاعقہ کے چہرے پر اطمینان تھا۔ وہ باڈی گارڈ کے ہاتھوں الپتہ اور ذلیل وخوار ہونے سے بال بال بچ گئی تھی۔ دوسرے
کمرے میں باڈی گارڈ کو تھیلے میں سے نکال کر اس کے منہ سے کپڑا نکاال گیا۔ اس کے سامنے تین نقاب پوش کھڑے تھے۔
اس کی تلوار انہی نقاب پوشوں کے پاس تھی۔
کون ہو تم؟'' اس نے بڑے رعب سے نقاب پوشوں سے کہا… ''میں والئی موصل کا خصوصی محافظ ہوں۔ تم سب کو ''
سزائے موت دالئوں گا۔ مجھے جانے دو''۔
والئی موصل کی حفاظت اب خدا ہی کرے تو کرے''… ایک نقاب پوش نے کہا… ''تم اپنی حفاظت کی فکر کرو۔ اس ''
''لڑکی کو تم کہاں لے جارہے تھے؟
قید خانے میں اس کے باپ سے مالقات کرانے لے جارہا تھا''۔ باڈی گارڈ نے جواب دیا… ''یادرکھو جس لڑکی کو تم نے''
اغوا کیا ہے اسے تم ہضم نہیں کرسکو گے۔ یہ خطیب ابن المخدوم کی بیٹی ہے اور والئی موصل غازی سیف الدین نے اپنا
خصوصی محافظ اس کے لیے بھیجا تھا۔ اس سے تم اندازہ کرسکتے ہو کہ یہ لڑکی الپتہ ہوگئی تو والئی موصل شہر کے گھر
گھر کی تالشی لے گا۔ تم شہر سے نکل نہیں سکو گے۔ تھوڑی دیر بعد غازی سیف الدین کو پتہ چل جائے گا کہ اس کا
''محافظ اور خطیب کی بیٹی الپتہ ہیں۔ شہر کی ناکہ بندی فورا ً کردی جائے گی۔ لڑکی کہا ں ہے؟
سنو دوست!'' ایک نقاب پوش نے کہا… ''لڑکی یہیں ہے۔ اسے اغوا نہیں کیا گیا۔ اسے اغوا ہونے سے بچایا گیا ہے۔ ''
ہم جانتے ہیں کہ والئی موصل سیف الدین کے لیے یہ لڑکی اہم ہے اور وہ اس کی تالش میں اپنی پوری فوج لگا دے گا
کیونکہ لڑکی خوبصورت اور نوجوان ہے اور اس کا باپ قید خانے میں بند ہے۔ وہ سیف الدین کو دھتکار آئی تھی پھر اس نے
لڑکی کو مالقات کے لیے اجازت دے دی اور کہا کہ اسے ایک آدمی اپنے ساتھ قید خانے میں لے جائے گا۔ مالقات کا وقت
رات کا رکھا گیا۔ تم بتا سکتے ہو کہ مالقات دن کو کیوں نہ کرائی گئی؟ لڑکی نے ہمیں بتایا۔ ہم نے اس کی حفاظت کا
انتظام کرلیا۔ تم اسے گھر سے ہی غلط راستے پر لے چلے تو ہم تمہارے تعاقب میں چل پڑے۔ تم نے دو تین بار رک کر
پیچھے دیکھا تھا۔ وہ ہم ہی تھے۔ تم نے جنہیں جھاڑیوں میں تالش کرنے کی کوشش کی تھی ،وہ بھی ہم ہی تھے۔ ہم تو
دن کی روشنی میں بھی کسی کو نظر نہیں آتے''۔
تم نے اس لڑکی پر ظلم کیا ہے''۔ باڈی گارڈ نے کہا… ''میں اسے اس کے باپ کے پاس لے جارہا تھا''۔''
تم اسے اغوا کرکے لے جارہے تھے''۔ ایک نقاب پوش نے تلوار کی نوک اس کی شہ رک پررکھ کر ذرا سی دبائی اور ''
کہا… ''تم اسے سیف الدین کے لیے لے جارہے تھے۔ ہم جانتے ہیں تمہارا والئی موصل کتنا کچھ رحم دل ہے جس نے
خطیب تک کو قید کرنے سے گریز نہ کیا اور اب اس کی بیٹی کو مالقات کی اجازت دے رہا ہے۔ تم اچھی طرح جانتے ہو
کہ محترم خطیب کا جرم ہے مگر تم یہ نہیں جانتے کہ یہ عالم موصل میں تنہا نہیں۔ وہ قید خانے میں ہے اور اس کی
بیٹی تنہا نہیں۔ میں تمہیں یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ ہم سیف الدین کا تختہ الٹ دیں گے۔ اس کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔ ہم
اسے کسی بھی وقت قتل کرسکتے ہیں لیکن صالح الدین ایوبی نے ہمیں سختی سے حکم دے رکھا ہے کہ کسی کو حسن بن
صباح کے فدائیوں کی طرح قتل نہ کرنا۔ ہم میدان میں للکارتے اور قتل کرتے ہیں''۔
تم صالح الدین ایوبی کے آدمی ہو؟'' باڈی گارڈ نے پوچھا۔''
ہاں!'' نقاب پوش نے جواب دیا…''ہم جانباز دستے کے سپاہی ہیں''… اس نے تلوار کی نوک اس کی شہ رگ پر ''
اورزیادہ دبائی تو باڈی گارڈ کی پیٹھ دیوار کے ساتھ جالگی۔ نقاب پوش نے کہا… ''تم سیف الدین کے خصوصی محافظ ہو اور
ہر وقت اس کے ساتھ رہتے ہو۔ تم اس کے راز دان ہو۔ لڑکیاں اغوا کرکے اسے دیتے ہو۔ پوری تفصیل سے بتائو کہ سلطان
ایوبی کے خالف اس کے ارادے کیا ہیں ،اگر بتانے سے انکار کرو گے یا کہو گے کہ تمہیں کچھ علم نہیں تو تمہارا حال وہی
کیا جائے گا جو سیف الدین قید خانے میں اپنے مخالفین کا کرتاہے''۔
اگر تم سپاہی ہو تو اچھی طرح جانتے ہوگے کہ حاکم اور بادشاہ کے سامنے ایک محافظ کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی''۔ ''
باڈی گارڈ نے جواب دیا… ''میں اس کے ارادوں کے متعلق کیا بتا سکتا ہوں''۔
ایک نقاب پوش نے اس کا سرننگا کرکے اس کے بال مٹھی میں لے کر مروڑے اور جھٹکا دے کر اسے ایک طرف جھکا دیا۔
دوسرے نے اسے ٹانگوں سے گھسیٹ کر گرا دیا۔ ایک نقاب پوش اس کے پیٹ پر کھڑا ہوگیا۔ وہ دو تین بار اس کے پیٹ پر
اچھال تو باڈی گارڈ کے دانت بجنے لگے۔ پھر اسے مختلف اذیتوں کا ذرا ذرا ذائقہ چکھایا گیا اور اسے کہا گیا کہ وہ وہاں
سے زندہ نہیں نکل سکے گا۔
مجھے اٹھنے دو''۔ اس نے کراہتے ہوئے کہا۔''
اسے اٹھایا گیا۔ اس نے کہا… ''سیف الدین سلطان ایوبی کے خالف لڑنا چاہتا ہے''۔
یہ کوئی راز نہیں''۔ ایک نقاب پوش نے کہا۔ ''ہمیں بتائو وہ کب اور کس طرح لڑنا چاہتا ہے۔ کیا وہ حلب اور حرن ''
کی فوجوں کے ساتھ اپنی فوج شامل کرے گا یا الگ لڑے گا''۔
فوج دوسری فوجوں میں شامل کرے گا''۔ باڈی گارڈ نے جواب دیا… ''لیکن ایسی چال چلے گا کہ اس کی فوج کی فتح''
الگ تھلگ نظر آئے۔ حلب اور حرن والوں پر اسے بھروسہ نہیں''۔
اپنے ساالروں کو اس نے کیا ہدایات دی ہیں؟'' ایک نقاب پوش نے پوچھا۔''
اس کا منصوبہ یہ ہے کہ صالح الدین ایوبی کو پہاڑی عالقے میں محصور کرلیا جائے''۔ باڈی گارڈ نے جواب دیا۔''
''صلیبی کتنی مدد دے رہے ہیں؟''
صلیبیوں نے مدد کا وعدہ کیا ہے''۔ باڈی گارڈ نے جواب دیا۔ ''لیکن سیف الدین انہیں بھی دھوکہ دے گا۔ صلیبی فوج ''
کے چند ایک کمانڈر موصل کی فوج کو تربیت دے رہے ہیں''۔
یہ نقاب پوش اور دو آدمی جو دوسرے کمرے میں صاعقہ کے ساتھ تھے ،سلطان ایوبی کے چھاپہ مار جاسوس تھے۔ ان کا
رابطہ خطیب ابن المخدوم کے ساتھ تھا بلکہ خطیب ان کا نگران اور سربراہ تھا۔ یہ گروہ سلطان ایوبی کے لیے آنکھوں اور
کانوں کا کام کرتا تھا۔ موصل سے جو بھی اطالع وہ حاصل کرتے تھے۔ سلطان ایوبی کے جنگی ہیڈکوارٹر کو بھیج دیتے تھے۔
موصل میں وہ مختلف کام دھندا ،مالزمت اور دکان داری کرتے تھے۔ خطیب قید ہوگیا تو یہ رات کو باری باری خطیب کے گھر
کا پہرہ دیتے تھے۔ ان لڑکیوں نے جو صاعقہ کے گھر اسے تنہا سمجھ کر سونے آئی تھیں ،انہی کے سائے حرکت کرتے
دیکھے تھے۔ صاعقہ نے ان لڑکیوں کو یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ سائے نہیں انسان ہیں۔ اس نے ایسا تاثر دیا تھا جیسے یہ
جنات ہیں۔ ان آدمیوں کو معلوم تھا کہ صاعقہ سیف الدین کے پاس باپ سے مالقات کی اجازت لینے گئی ہے۔ واپس آکر اس
نے ان میں سے ایک آدمی کو بتا دیا تھا کہ رات کو ایک آدمی اسے قید خانے میں لے جانے کے لیے آئے گا۔ اس نے یہ
بھی بتا دیا تھا کہ سیف الدین نے اس کے ساتھ ناروا باتیں کیں اور اسے اپنے عقد میں لینے کی پیشکش کی تھی۔
اس آدمی نے اپنے گروہ کو بتایا۔ یہ سب بہت ذہین تھے ،انہیں شک ہوا کہ صاعقہ کو کسی اور طرف لے جا کر اسے غائب
کردیا جائے گا۔ چنانچہ سورج غروب ہونے کے بعد پانچ آدمی صاعقہ کے گھر میں جاکر چھپ گئے تھے۔ صاعقہ باڈی گارڈ کے
ساتھ گئی تو یہ آدمی ان کے تعاقب میں چل پڑے۔ آگے جاکر ان کا شک صحیح ثابت ہوا۔ انہوں نے کامیابی سے صاعقہ کو
بچالیا اور باڈی گارڈ کو بھی پکڑ الئے جو سیف الدین کا راز دان تھا۔ انہوں نے فوجی اہمیت کے بہت سے راز اگلوا لیے۔ ان
میں یہ راز اہم تھا کہ سیف الدین کے بھائی عزالدین نے فوج کو دو حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصے کو اپنی کمان میں
رکھا ہے۔ یہ حصہ محفوظہ کے طور پر استعمال ہوگا ،یعنی اسے بعد میں ضرورت کے مطابق استعمال کیا جائے گا۔ پہلے
حملے کی قیادت سیف الدین کو کرنی تھی۔ دوسری اہم بات جو معلوم ہوئی وہ یہ تھی کہ حلب سے گمشتگین اور سیف
الدین کے ہاں ایلچی یہ پیغام لے کر گئے ہیں کہ تینوں فوجوں کو مشترکہ کمان میں رکھا جائے اور صلیبیوں کی مدد پر زیادہ
بھروسہ نہ کیا جائے۔ باقی معلومات بھی اہم تھیں۔
باڈی گارڈ نے یہ معلومات اگل کر کہا کہ اسے رہا کردیا جائے۔ نقاب پوشوں نے اسے رہائی کے وعدے پر ٹال دیا۔ صاعقہ کو
اسی کمرے میں رہنے دیا گیا۔ اس کے گھر رکھنا مناسب نہیں تھا۔ باڈی گارڈ کو اس مکان کی ایک اندھیری کوٹھڑی میں بند
کردیا گیا۔
٭ ٭ ٭
حرن اور حلب سے تقریبا ً پچاس میل دور صلیبی فوج کا جنگی ہیڈ کوارٹر تھا جہاں زیادہ سرگرمیاں جاسوسی کے متعلق تھیں،
وہاں جو صلیبی حکمران اور کمانڈر تھے۔ وہ سلطان ایوبی کے خالف کھلی جنگ لڑنے کے بجائے اس کے مسلمان مخالفین کو
متحد کرکے اس کے خالف لڑانے کی سکیمیں بنا رہے تھے اور ان پر عمل بھی کررہے تھے۔ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ انہوں
نے مسلمانوں کے بڑے بڑے امراء کو اپنے فوجی مشیر دے رکھے تھے جو انہیں جنگی مشورے دینے کے عالوہ فوجوں کو جنگی
تربیت بھی دیتے تھے۔ اپنی اصل نیت پر پردہ ڈالے رکھنے کے لیے وہ مسلمان امراء کو عیش وعشرت کا سامان بھی مہیا
کرتے رہتے تھے۔ ان کے جاسوس بھی ان امراء کے درباروں میں موجود رہتے اور اپنے ہیڈکوارٹر کو خبریں بھیجتے رہتے تھے۔
حرن سے گمشتگین کا ایک صلیبی مشیر اپنے اس جنگی ہیڈکوارٹر میں پہنچا۔ اس وقت صلیبی کے دو مشہور جنگجو حکمران
ریمانڈ اوریجنالٹ وہاں موجود تھے۔ ریمانڈ وہ حکمران تھا جسے حال ہی میں سلطان ایوبی نے ایک بروقت اور برق رفتار چال
چل کر بھگا دیا تھا ور یجنالٹ وہ مشہور صلیبی حکمران تھا جسے نورالدین زنگی نے ایک معرکے میں جنگی قیدی بنا لیا
تھا۔ اسے اور دیگر صلیبی قیدیوں کو حرن میں گمشتگین کے حوالے کردیا گیا تھا۔ اس وقت گمشتگین خالفت بغداد کا ایک
قلعہ دار تھا۔ز نگی فوت ہوگیا تو اس قلعہ دار نے خودمختاری کا اعالن کردیا اور صلیبیوں کے ساتھ دوستی گہری کرنے کے
لیے ریجنالٹ جیسے قیمتی قیدی کو تمام صلیبی قیدیوں سمیت رہا کردیا… نورالدین زنگی نے کہا تھا کہ ریجنالٹ کے عوض وہ
صلیبیوں سے اپنی شرطیں منوائے گا۔ زنگی مرگیا تو امراء نے عیاشی اور حکومت کے نشے میں اس کے تمام تر منصوبے الٹ
کردئیے اور صلیبی سلطنت اسالمیہ کی بنیادوں پر اترنا شروع ہوگئے۔
حرن سے صلیبی مشیر جو دراصل جاسوس تھا۔ ریمانڈ اور ریجنالٹ کے پاس پہنچا اور حرن کے تازہ واقعات کی تفصیلی رپورٹ
دی۔ اس نے کہا۔ ''حلب سے الملک الصالح نے گمشتگین اور سیف الدین کو تحفوں کے ساتھ پیغام بھیجے ہیں کہ وہ اپنی
فوجیں اس کی فوج کے ساتھ مشترکہ کمان میں دے دیں۔ وہاں یہ عجیب واقعہ ہوا ہے کہ گمشتگین کے دو ساالروں نے حرن
کے قاضی کو قتل کردیا اور دو لڑکیوں کو جو حلب سے الملک الصالح نے پیغام کے ساتھ تحفے کے طور پر بھیجی تھیں ،بھگا
دیا پھر انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ صالح الدین ایوبی کے حامی ہیں اور وہ اسی کے لیے زمین ہموار کررہے تھے۔ یہ
دونوں ساالر سگے بھائی ہیں اور ہندوستان سے آئے ہیں۔ دونوں کو گمشتگین نے قید خانے میں ڈال دیا ہے۔ اس سے ایک ہی
روز پہلے ہمارا ایک ساتھی مشیر گمشتگین کے گھر میں ایک دعوت کے دوران پراسرار طریقے سے قتل ہوگیا ہے۔ اگلے دن
معلوم ہوا کہ گمشتگین کے حرم کی ایک لڑکی اور اس کا ایک باڈی گارڈ الپتہ ہیں''۔
صلیبیوں کی اس کانفرنس میں قہقہہ بلند ہوا اور کچھ دیر تک سب ہنستے رہے۔ ریمانڈ نے کہا۔ ''یہ مسلمان قوم اس قدر
جنسیت پسند ہوگئی ہے کہ اس کے حکمران ،امراء اور وزراء جنگ اور سیاست کے فیصلے بھی جنسی لذت پرستی سے مغلوب
اعلی کمان جن دو ساالروں کے پاس
ہوکر کرتے ہیں۔ ذرا غور کرو کہ گمشتگین جیسے جابر اور جنگجو قلعہ دار کی فوج کی
ٰ
تھی وہ دونوں اس کے دشمن صالح الدین ایوبی کے کیمپ کے ساالر تھے۔ مجھے یقین ہے کہ ان دونوں نے تحفے میں آئی
ہوئی لڑکیوں کی خاطر قاضی کو قتل کیاہوگا اور لڑکیوں کو صالح الدین ایوبی کے پاس بھیج دیا ہوگا اور خود قید ہوگئے۔
گمشتگین کے حرم کی جو لڑکی الپتہ ہوگئی ہے وہ اس محافظ نے بھگائی ہوگی اور ہمارا آدمی معلوم نہیں کس چکر میں قتل
ہوگیا۔ مسلمان امرائ ،قلعہ داروں اور حاکموں کی مقید دنیا بڑی ہی پراسرار دنیا ہے۔ میں آپ کو یقین دالتا ہوں کہ یہ قوم
عیش وعشرت اور لذت پرستی سے تباہ ہوگی''۔
میں دو باتیں کہوں گا''۔ ایک اور صلیبی نے کہا۔ یہ صلیبی اپنی افواج کی انٹیلی جنس کا سربراہ تھا۔ اس نے کہا۔ ''
''آپ نے کہا ہے کہ تحفے میں آئی ہوئی لڑکیاں حرن سے بھگا کر صالح الدین ایوبی کے پاس بھیج دی گئی ہوں گی۔
میں یہ تسلیم نہیں کرتا۔ میں جاسوسی کا ماہر ہوں ،دشمن کے فوجی راز حاصل کرنے کے عالوہ میرے شعبے کا کام یہ بھی
اعلی حکام کے ذاتی کردار اور جنگی چالوں کے متعلق بھی معلومات حاصل کرے
ہوتا ہے کہ دشمن کے فوجی قائدین اور دیگر
ٰ
اور اپنی فوج کو آگاہ کرے۔ میں آپ کو پورے وثوق سے بتاتا ہوں کہ عورت اور شراب کے معاملے میں صالح الدین ایوبی
پتھر ہے۔ یہی ایک وجہ ہے کہ آپ اسے زہر دے کر نہیں امار سکتے ،نہ اسے کسی حسین لڑکی کے جال میں پھانس کر
فدائیوں سے قتل کراسکتے ہیں۔ یہ انسانی فطرت کا اٹل اصول ہے کہ جو انسان ذہنی عیاشی کا عادی نہ ہو ،اس کا عزم
پختہ ہوتا ہے اور جو مہم ہاتھ میں لیتا ہے ،اسے سر کرکے ہی دم لیتا ہے۔ آپ کے دشمن صالح الدین ایوبی میں یہی خوبی
ہے۔ یہ اسی کا اثر ہے کہ اس کا دماغ پورا کام کرتا ہے۔ وہ ایسی ایسی چالیں چلتا ہے جو آپ کے وہم وگمان میں بھی
نہیں ہوتی اور آپ کے پائوں اکھڑ جاتے ہیں ،جہاں تک میں نے اس کے متعلق معلومات حاصل کی ہیں ،ان سے معلوم
ہوتاہے کہ وہ جسمانی ضروریات سے بے نیاز ہے۔ اس نے یہی خوبی اپنی فوج میں پیدا کررکھی ہے ،ورنہ صحرا میں لڑنے
والے سپاہی برف پوش وادیوں میں اور پہاڑوں پر اس یخ موسم میں کبھی نہ لڑ سکتے۔ جب تک آپ اپنے ہاں بھی یہی
خوبی پیدا نہیں کریں گے ،اپنے اس دشمن کو جسے آپ صالح الدین ایوبی کہتے ہیں ،کبھی شکست نہیں دے سکتے''۔
اوردوسری بات یہ ہے کہ دوسرے مسلمان امرائ ،وزراء اور حکمرانوں میں جو زن پرستی پیدا ہوگئی ہے ،وہ میرے شعبے کا ''
کمال ہے۔ یہودی دانشوروں نے ایک صدی سے زیادہ عرصے سے مسلمانوں کی کردار کشی کی مہم چال رکھی ہے۔ یہ دراصل
ان کی کامیابی ہے کہ ہم نے لڑکیوں اور زروجواہرات کے ذریعے مسلمان سربراہوں کا کردار ختم کیا ہے۔ ہم تو انہیں اخالقی
لحاظ سے تباہ کرنے کے لیے حسین اور تیز طرار لڑکیاں باقاعدہ تربیت کے ساتھ ان کے ہاں تحفے کے طور پے بھیجتے ہیں۔
ان بدبختوں نے آپس میں بھی لڑکیوں کو بطور تحفہ بھیجنا شروع کردیا ہے۔ ان کے ہاں قومی کردار ختم ہوچکا ہے۔ یہ ہماری
کامیابی ہے کہ ہم نے ان کے درمیان تفرقہ اور بادشاہی کا اللچ پیدا کردیا ہے''۔
اس قوم کو ہم اسی طرح ختم کریں گے''۔ ریجنالٹ نے کہا ۔ ''اور یہ قوم اپنے کردار کے ہاتھوں تباہ ہوگی۔ صالح ''
الدین ایوبی خوش ہورہاہوگا کہ اس نے ہمارے بھائی ریمانڈ کو پسپا کر دیا ہے ۔ وہ یہ نہیں جانتا کہ ریمانڈ جنگ سے پسپا
ہوا ہے ۔ یہ تو اس کی کی قوم کے سینے میں گھس گیا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہم میدان میں ہی شکست دیں ،ہم کسی
دوسرے محاذ پر بھی لڑ سکتے ہیں ''۔
اس مہم کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے''۔ اس مشیر نے کہا جو حرن سے آیاتھا۔ ''میں نے آپ کو گمشتگین کے ''
اندرون خانہ کے واقعات سنائے ہیں۔ ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہاں صالح الدین ایوبی کے جاسوس اور تخریب کار صرف
اعلی کمان میں پوری طرح سرگرم ہیں۔ ہمیں ان کے خالف کوئی
موجود ہی نہیں بلکہ گمشتگین کے گھر کے اندر اس کی
ٰ
کاروائی کرنی چاہیے''۔
ہمیں کیا ضرورت ہے کہ گمشتگین اور سیف الدین اور الملک الصالح اور ان کے متحدہ محاذ کے دوسرے امراء وغیرہ کو ''
صالح الدین ایوبی کی جاسوسی اور تباہ کاری سے بچائیں''۔ ایک صلیبی کمانڈر نے کہا… ''ہم تو ان کی تباہی کے عمل کو
تیز کریں گے۔ یہ تباہی ہمارے ہاتھوں ہو یا ان کے اپنے ہی کسی بھائی کے ہاتھوں ،کیا آپ ان مسلمانوں کو صالح الدین
ایوبی کے خالف لڑا رہے ہیں ،سچے دل سے اپنا دوست سمجھ بیٹھے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ
سچے صلیبی نہیں۔ آپ شاید ابھی تک یہ نہیں سمجھے کہ ہماری دشمنی نورالدین زنگی کے ساتھ نہیں تھی ،نہ ہی صالح
الدین ایوبی کے ساتھ۔ اگر صالح الدین ایوبی کبھی میرے سامنے آگیا تو میں اس کا احترام کروں گا۔ وہ جنگجو ہے ،میدان
جنگ کا بادشاہ ہے ،تیغ زن ہے ،ہماری دشمنی اس مذہب کے خالف ہے ،جسے اسالم کہتے ہیں۔ ہم ہر اس آدمی کے خالف
لڑیں گے جو اس مذہب کا دفاع کرے گاا ور جو اسے فروغ دے گا ،ہمارے اور صالح الدین ایوبی کے مرنے کے بعد یہ جنگ
ختم نہیں ہوجائے گی۔ اسی لیے ہم مسلمانوں میں ایسی بری عادتیں پیدا کررہے ہیں جو ان کی آئندہ نسلوں میں بھی منتقل
ہوں گی۔ ہم ایسے طریقے اختیار کررہے ہیں کہ مسلمان اپنی روایات کو بھول جائیں اور ہماری پیدا کردہ خوبیوں کے دلدادہ
ہوجائیں''۔
ہمیں ان کے اصل تہذیب وتمدن کو بگاڑنا ہے''۔ ریمانڈ نے کہا۔ ''ہم اس دور میں زندہ نہیں ہوں گے۔ ہم دیکھ نہیں ''
سکیں گے۔ میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ ہم نے کردار کی تباہ کاری کی مہم جاری رکھی تو وہ دور آئے گا کہ اسالم اگر
زندہ رہا تو یہ اسالم کی بدروح ہوگی جو بھٹکتی پھرے گی۔ مسلمان نام کے مسلمان ہوں گے۔ ان کی کوئی آزاد اسالمی
مملکت رہ بھی گئی تو وہ گناہوں اور بدی کا گھر ہوگی۔ یہودی اور عیسائی دانشوروں نے اس قوم میں بدی کی محبت پیدا
کردی ہے''۔
بہرحال اب ضرورت یہ ہے کہ وہ لوگ ہماری مدد کی توقع لیے بیٹھے ہیں''۔ صلیبی مشیر نے کہا۔ ''گمشتگین نے ''
مجھے اسی لیے بھیجا ہے''۔
بہت دیر اس مسئلے پر تبادلۂ خیاالت ہوتا رہا۔ آخر یہ فیصلہ ہوا کہ فوجوں کی صورت میں انہیں کوئی مدد نہ دی جائے۔ مدد
کا جھانسہ دیا جائے۔ انہیں یہ یقین دالیا جائے کہ وہ صالح الدین ایوبی پر حملہ کرکے اسے الرستان کے اندر ہی لڑاتے رہیں
اور ہم اپنی فوجیں اس کے کسی نازک مقام پر لے جا کر اسے مجبور کردیں گے کہ وہ الرستان سے پسپا ہوجائے۔ یہ فیصلہ
بھی کیا گیا کہ حلب ،حرن اور موصل کی فوجوں کے لیے اس مشیر کے ہمراہ کمانوں اور تیروں کا اور آتش گیر مادے کا
ذخیرہ بھیج دیا جائے۔ اس کے عالوہ پانچ سو گھوڑے بھی بھیج دئیے جائیں لیکن یہ خیال رکھا جائے کہ زیادہ تعداد ایسے
گھوڑوں کی ہو جو ہماری فوج کے کام کے نہیں رہے۔ بظاہر تندرست ہوں۔
اور آئندہ یوں کیا جائے کہ ان امراء وغیرہ کو تھوڑا تھوڑا اسلحہ دیا جاتا رہے''۔ ریجنالٹ نے کہا۔ ''اس کے ساتھ ساتھ ''
انہیں عیاشی کی طرف مائل کیا جائے۔ انہیں یہ تاثر دیا جائے کہ انہیں جب کبھی اسلحہ اور گھوڑوں کی ضرورت ہوگی ،وہ
ہم پوری کردیں گے۔ اس طرح وہ خود اپنی ضرورت پوری کرنے سے غافل ہوجائیں گے اور ہماری محتاج رہیں گے۔ اس مددسے
اور اپنے مشیروں کی سے ہم ان کے دلوں اور دماغوں پر غالب آجائیں گے''۔
انتہائی ضروری بات تو رہ گئی ہے ''۔ ایک کمانڈر نے کہا ۔ '' شیخ سنان کے بھیجے ہوئے نو فدائی چلے گئے ''
ہیں ۔ اب کے اُمید ہے کہ وہ صالح الدین ایوبی کو قتل کردیں گے۔ وہ جو حلف اُٹھا کر گئے ہیں اس میں انہوں نے یہ بھی
کہا ہے کہ و ہ جان پر کھیل کر اُسے قتل کریں گے ورنہ وہ زندہ واپس نہیں آئیں گے''۔
اسی روز پانچ سو گھوڑے ،ہزار ہا کمانیں اور الکھوں تیر اور آتش گیر مادے کے سربمہر مٹکے حلب کو اس پیغام کے ساتھ
روانہ کردئیے گئے کہ اس ٹھوس مدد کا سلسلہ جاری رہے گا اور صالح الدین ایوبی پر فورا ً حملہ کردیا جائے۔ سلطان صالح
الدین ایوبی اپنے ہیڈکوارٹر میں بٹھا تھا۔ اس کے پاس سب سے پہلے انطانون اور فاطمہ پہنچے۔ فاطمہ گمشتگین کے حرم کی
وہ لڑکی تھی جس نے ایک صلیبی مشیر کو قتل کیا اور انطانون نام کے محافظ کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔ انطانون سلطان
ایوبی کا بھیجا ہوا جاسوس تھا جو جذبات سے مغلوب ہوگیا تھا ،اسی لیے وہ گرفتار ہوا تھا۔ یہ تو ساالر شمس الدین اور
ساالر شاد بخت کی بدولت تھا کہ اسے دھوکے سے بھگا دیا گیا تھا۔ سلطان ایوبی کی انٹیلی جنس کا سربراہ حسن بن
عبداللہ تھا جو انطانون اور فاطمہ کو سالح الدین ایوبی کے پاس لے گیا تھا۔ انطانون نے اپنی واردات من وعن سنا دی جو
سلطان ایوبی کو پسند نہ آئی لیکن اسے اس لیے معاف کردیا گیا کہ وہ کامیابی سے گمشتگین کے محافظ دستے میں شامل
ہوگیا تھا۔ اس نے دوسرا کارنامہ یہ کیا تھا کہ اس نے فاطمہ کے ساتھ تعلقات پیدا کرکے حرم تک رسائی حاصل کرلی تھی۔
سلطان ایوبی نے انطانون کے متعلق حکم دیا کہ اسے فوج میں بھیج دیا جائے کیونکہ جاسوسی کے نازک کام کے لیے اس کے
جذبات پختہ نہیں ہیں۔ فاطمہ کو دمشق بھیج دینے کا حکم دیاگیا۔
میں انطانون کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہوں''۔ فاطمہ نے کہا۔''
ایسا ہی ہوگا''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ ''لیکن شادی دمشق میں ہوگی۔ میدان جنگ شہادت کے لیے ہے ،شادی کے لیے ''
نہیں''۔
سلطان محترم!'' انطانون نے کہا۔ ''میں نے آپ کو ناراض کیا ہے۔ میں اپنے لیے یہ سزا تجویز کرتا ہوں کہ میں جب ''
تک سلطان کو خوش نہ کرلوں ،میں شادی نہیں کروں گا''۔ اس نے فاطمہ سے کہا ''تم سلطان کے حکم کے مطابق دمشق
چلی جائو۔ وہاں تمہارے رہنے کا اچھا انتظام ہے۔ تمہاری شادی میرے ساتھ ہی ہوگی''۔ اس نے سلطان ایوبی سے کہا۔
''میری یہ عرض مانی جائے کہ میں آپ کے کسی چھاپہ مار دستے میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔ میں نے شب خون مارنے کی
تربیت حاصل کررکھی ہے''۔
اسے ایک چھاپہ مار دستے میں بھیج دیا گیا۔ وہاں سے رخصت ہوتے وقت اس نے فاطمہ کی طرف دیکھا بھی نہیں۔دوسرے
دن جب فاطمہ کو دمشق بھیجا جانے لگا تو وہ لڑکیاں پہنچ گئیں جو الملک الصالح نے گمشتگین کو تحفے کے طور پر بھیجی
تھیں۔ ان کے ساتھ ساالر شمس الدین اور شاد بخت کے بھیجے ہوئے دو آدمی تھے۔ انہوں نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ حرن
میں کیا ہورہا ہے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ دونوں ساالروں کو گرفتار کرلیاگیا ہے۔ لڑکیوں نے سلطان ایوبی کو اپنی کہانی
سنائی۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ فلسطین کے مسلمان آپ کی راہ دیکھ رہے ہیں؟'' ایک لڑکی نے کہا۔ ''وہاں کی لڑکیاں آپ ''
کے گیت گاتی ہیں۔ مسجدوں میں آپ کی دعائیں مانگی جاتی ہیں''۔ اس نے پوری تفصیل سے سنایا کہ مقبوضہ عالقوں میں
صلیبیوں نے مسلمانوں کا جینا حرام کررکھا ہے ارو ان کے لیے دنیا جہنم بنا ڈالی ہے۔
وہاں ہماری بچیوں کی نہیں ،ہماری عظمت کی عصمت دری ہورہی ہے''۔ دوسری لڑکی نے کہا۔ ''میں تو یہ کہوں گی ''
کہ قوم کی عظمت کی عصمت دری ہمارے اپنے حکمران کررہے ہیں۔ ہمیں ان کے پاس تحفے کے طور پر بھیجا گیا ہے۔ ہم
نے انہیں خدا کے واسطے دئیے اور بتایا کہ ہم ان کی بیٹیاں ہیں مگر انہوں نے ایک نہ سنی۔ انہوں نے ہمیں ایک دوسرے
کی طرف تحفے کے طور پر بھیجنا شروع کردیا''۔
فلسطین کے راستے میں بھی وہی حائل ہیں''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ ''میں گھر سے فلسطین پہنچنے کے لیے ہی نکال ''
تھا مگر میرے بھائی میرا راستہ روک کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ تم اب محفوظ ہو۔ ایک لڑکی پہلے بھی یہاں آئی ہے ،اسے دمشق
بھیجا جارہا ہے ،تم بھی اسی کے ساتھ دمشق جارہی ہو''۔
ہم اپنی عصمت کا انتقام لینا چاہتی ہیں''۔ ایک لڑکی نے کہا۔ ''ہمیں یہیں رکھا جائے اور ہمیں کوئی فرض سونپا جائے۔''
ہم اب کسی حرم میں یا کسی گھر میں قید نہیں ہونا چاہتیں''۔
ابھی ہم زندہ ہیں''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ ''تم دمشق چلی جائو۔ وہاں تمہیں کوئی قید نہیں کرے گا ،وہاں لڑکیاں کئی ''
اور طریقوں سے ہماری مدد کررہی ہیں ،وہاں تمہیں کوئی فرض سونپ دیا جائے گا''۔
لڑکیوں کو رخصت کرکے سلطان ایوبی بے چینی سے ادھر ادھر ٹہلنے لگا۔ اس وقت حسن بن عبداللہ اس کے ساتھ تھا۔
سلطان ایوبی نے کہا ۔ ''مصر سے ابھی کمک نہیں پہنچی ،اگر تینوں فوجیں ہم پر حملے کے لیے آگئیں تو ہمارے لیے
مشکل پیدا ہوجائے گی۔ معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کو معلوم نہیں کہ میرے پاس فوج کم ہے اور میں کمک کا انتظار کررہا ہوں
اگر ان کی جگہ میں ہوتا تو میں فورا ً حملہ کردیتا اور دشمن کی کمک اور رسد کا راستہ بھی روک لیتا''۔
مصر سے کمک آہی رہی ہوگی''۔ حسن بن عبداللہ نے کہا۔ ''محترم العادل ایسے تو نہیں کہ وقت ضائع کریں گے۔ ''
مجھے یہ بھی یقین ہے کہ دشمن نے ہماری کمک کا راستہ روکا ہوا نہیں''۔
تمام مورخ لکھتے ہیں کہ اس موقع پر سلطان ایوبی بڑی نازک اور پرخطر صورتحال میں تھا۔ وہ مصر سے کمک کا انتظار
کررہا تھا اگر اس وقت الملک الصالح ،سیف الدین اور گمشتگین کی مشترکہ فوج اس پر حملہ کردیتی تو اسے آسانی سے
شکست دی جاسکتی تھی کیونکہ اس کے پاس فوج تھوڑی تھی۔ پہاڑی عالقے میں وہ صحرا کی چالیں نہیں چل سکتا تھا
لیکن اس کے دشمن نہ جانے کیا سوچتے رہے۔ صلیبی اس پر حملہ کرنے کے بجائے مسلمان امراء کو اس کے خالف لڑانا
چاہتے تھے۔ انہوں نے بھی نہ دیکھا کہ سلطان ایوبی مجبوری کی حالت میں بیٹھا اللہ سے دعائیں مانگ رہا ہے کہ اس
حالت میں دشمن اس پر ہال نہ بول دے۔ وہ تو اس قابل بھی نہیں تھا کہ پانی کی اس ندی کی حفاظت کرسکتا جس سے
اس کی فوج کے گھوڑے اور اونٹ پانی پیتے تھے۔ صلیبی یا اس کے مسلمان دشمن اگر عقل سے کام لیتے تو چھاپہ ماروں
کے ذریعے اس کی کمک اور رسد کا راستہ روک سکتے تھے یا کمک کی رفتار سست کرسکتے تھے۔ سلطان ایوبی نے اس
راستے کو گشتی چھاپہ ماروں کے ذریعے محفوظ رکھا ہوا تھا۔
قاضی بہائوالدین شداد جو اس وقت کا عینی شاہد اور مبصر ہے ،اپنی یادداشتوں ''سلطان یوسف (صالح الدین ایوبی) پر کیا
افتاد پڑی'' میں لکھتا ہے۔ '' اگر خدا انہیں ( دشمنوں) کو فتح دینا چاہتا تو وہ سلطان ایوبی پر اس وقت حملہ کردیتے مگر
خدا جسے ذلیل کرنا چاہتا ہے ،وہ ذلیل ہوکے رہتا ہے۔ (قرآن )٤٣/٨۔ انہوں نے سلطان ایوبی کو اتنا وقت دے دیا کہ مصر
سے کمک پہنچ گئی۔ سلطان نے اسے اپنی فوج میں مدغم کرکے اپنی مورچہ بندی کو نئی ترتیب دے لی اور حملے سے
پہلے اس نے تمام تر گھوڑوں کو پانی پالیا اور پانی کا ذخیرہ بھی کرلیا''۔
سلطان ایوبی کی بے چینی کا یہ عالم تھا کہ رات کو سوتا بھی نہیں تھا۔ اس نے جہاں جہاں اپنی مختصر سی فوج مورچہ
بند کررکھی تھی ،وہاں جاتا ،غور کرتا اور اپنی سکیم کے مطابق یقین کرلیتا تھا کہ اس کے یہ تھوڑے سے سپاہی دشمن کا
قرون حماة میں جہاں ایک پہاڑی سینگوں کی طرح دو حصوں میں بٹ جاتی تھی ،اس نے دشمن کے
حملہ روک لیں گے۔
ِ
لیے پھندا تیار رکھا ہوا تھا مگر اس کا مسئلہ یہ تھا کہ اس جگہ اتنی تھوڑی نفری سے وہ صرف دفاعی جنگ لڑ سکتا تھا۔
جوابی حملہ جو جنگ کا پانسہ پلٹنے کے لیے ضروری ہوتا ہے ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ اس کے جاسوسوں نے اسے یہ بھی
بتا دیا تھا کہ صلیبی کوشش کریں گے کہ مسلمان امراء کو سلطان ایوبی کے خالف اس طرح لڑایا جائے کہ جنگ طول پکڑ
جائے تاکہ سلطان ایوبی پہاڑی عالقے سے باہر نہ نکل سے اور محصور ہوکر دفاعی جنگ لڑتا لڑتا ختم ہوجائے۔
اس کے جاسوس اسے یہ نہیں بتا سکے تھے کہ نو فدائی اسے قتل کرنے کے لیے آرہے ہیں۔ اس کی نظر اپنی جان پر نہیں
میدان جنگ پر تھی۔ اس نے دیکھ بھال کے لیے دور دور تک آدمی پھیال رکھے تھے۔
اس سے دوسرے ہی دن حرن سے سلطان ایوبی کا ایک جاسوس آیا جس نے اطالع دی کہ ساالر شمس الدین اور ساالر شاد
بخت کو قید خانے میں ڈال دیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے قاضی ابن الخاشب کو قتل کردیا ہے۔ جاسوس کو قتل کی وجہ کا
علم نہیں تھا۔ سلطان ایوبی کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ ان دونوں بھائیوں کے ساتھ اس نے بہت سی امیدیں وابستہ کررکھی
تھیں۔ اسے معلوم تھا کہ گمشتگین کی فوج کی کمان ان دونوں کے ہاتھ ہوگی اور ان کی فوج لڑے بغیر تتر بتر کردی جائے
گی۔ جاسوس نے یہ اطالع بھی دی کہ اب میدان جنگ میں فوج کی کمان گمشتگین خود کرے گا اور یہ بھی کہ وہ اپنی
فوج مشترکہ کمان میں دے رہا ہے۔
حسن بن عبداللہ!'' سلطان ایوبی نے کہا۔ ''یہ دونوں بھائی زیادہ دن قید میں نہ رہیں۔ اس آدمی (جاسوس) سے معلوم''
کرو کہ حرن میں اپنے کتنے آدمی ہیں اور کیا وہ ان دونوں ساالروں کو قید خانے سے فرار کراسکتے ہیں؟ مجھے ڈر ہے کہ
ان دونوں کوگ مشتگین قتل کرادے گا۔ اسے پتہ چل گیا ہوگا کہ یہ دونوں ساالر میرے جاسوس ہیں۔ میں انتظار نہیں کرسکتا
کہ حرن کو جاکر محاصرے میں لوں اور قلعہ سر کرکے انہیں رہا کروائوں۔ پیشتر اس کے کہ گمشتگین کوئی اوچھا فیصلہ
کربیٹھے ،انہیں اس کے قید خانے سے آزاد کرائو۔ میں دو ساالروں کے لیے اپنے دو سو چھاپہ ماروں کو مروانے کے لیے تیار
ہوں۔ حرن میں اپنے آدمیوں کی کمی ہو تو یہاں سے چھاپہ مار بھیجو''۔
بندوبست ہوجائے گا''۔ حسن بن عبداللہ نے کہا۔''
٭ ٭ ٭
حلب چونکہ سلطان ایوبی کے مخالفین کا مرکز بن گیا تھا ،اس لیے صلیبیوں نے جو تیروکمان ،آتش گیر مادے کے مٹکے اور
گھوڑے مدد کے طور پر بھیجے تھے ،وہ حلب لے جائے گئے۔ حلب والوں میں صلیبیوں نے یہ خوبی بھی دیکھی تھی کہ انہوں
نے سلطان ایوبی کے محاصرے کا مقابلہ بڑے ہی بے جگری سے کیا تھا۔ اس کے عالوہ حلب سلطنت کی گدی بھی بن گیا
تھا۔ صلیبی مشیروں نے موصل میں سیف الدین کو اور حرن میں گمشتگین کو پیغام بھیجے کہ ان کی مشترکہ فوج کے لیے
مدد آگئی ہے اور وہ فورا ً حلب میں آجائیں۔ مورخین کے مطابق ان کی مالقات حلب شہر سے باہر ایک ہرے بھرے مقام پر
ہوئی جہاں تینوں میں ایسا معاہدہ ہوا جو تحریر میں نہ الیا گیا۔ معاہدے کو آخری شکل صلیبی مشیروں نے دی۔
اس وقت موصل کے قید خانے میں خطیب ابن المخدوم حسب معمول دئیے کی روشنی میں بیٹھا قرآن پڑھ رہا تھا۔ اس کی
بیٹی صاعقہ اسی مکان کے ایک کمرے میں تھی جہاں اسے تھیلے میں ڈال کر لے جایا گیا تھا ،جس باڈی گارڈ کو اس کے
ساتھ پکڑا گیا تھا ،وہ دوسرے کمرے میں بند تھا۔ اس مکان میں ان کے صرف دو آدمی تھے جو صاعقہ اور باڈی گارڈ کو اٹھا
الئے تھے۔ ان کے باقی ساتھی قید خانے کی دیوار باہر کی طرف لگے کھڑے تھے۔ دیوار کا باالئی حصہ قلعے کی دیوار کی
طرح تھا جس میں مورچے سے بنے ہوئے تھے۔ دیوار پر سنتری گھوم پھر رہے تھے۔ ان کی تعداد زیادہ نہیں تھی ،وہ عہدے
دار جس نے خطیب کو فرار کرانے کا وعدہ کیا تھا ،دیوار پر چال گیا۔ وہ سنتریوں کو دیکھتا پھر رہا تھا۔ اس نے اس دیوار
والے سنتری کو جس کے نیچے آدمی کھڑے تھے ،بالیا اور اسے اپنے ساتھ لے گیا۔
اس نے کوئی اشارہ کیا۔ نیچے چھپے ہوئے آدمیوں نے رسہ اوپر پھینکا۔ اسے کا سرا ایک مضبوط ڈنڈے کے درمیان بندھا ہوا
تھا اور ڈنڈے پر کپڑے لپیٹ دئیے گئے تھے تاکہ اوپر دیوار پر گر کر زیادہ آواز نہ پیدا کرے۔ ڈنڈا اوپر جاکر اٹک گیا۔ ایک تو
اندھیرا تھا ،دوسرے عہدے دار سنتری کو دور لے گیا تھا۔ چار آدمی رسے کے ذریعے اوپر چڑھ گئے۔ یہی رسہ اوپر کھینچ کر
اندر کی طرف نیچے گرا دیا گیا۔ چاروں نے خنجر نکال کر اپنے اپنے منہ میں پکڑ لیے اور رسے سے نیچے اتر گئے۔ انہیں
عہدے دار نے اندر کا نقشہ سمجھا رکھا تھا۔ اندر کچھ روشنی تھی۔ کہیں کہیں مشعلیں جل رہی تھیں۔ کوٹھڑی کی ایک قطار
کے آگے برآمدہ تھا جس میں ایک سنتری ٹہل رہا تھا۔ یہ چاروں چھپ گئے۔ سنتری ان کی طرف آیا تو ایک آدمی نے کہا۔
'' ادھر آنا بھائی'' ۔ وہ جونہی ادھر گیا ،دو آدمیوں کی گرفت میں آگیا۔ دل پر خنجر کے دو وار کام کرگئے۔
چاروں آدمی چھپ چھپ کر آگے بڑھ رہے تھے۔ ایک خاصا آگے تھا۔ باقی تین بکھر کر چھپتے چھپاتے اس کے پیچھے جارہے
تھے۔ قید خانے کے اس حصے میں پہنچ گئے جو گوالئی میں تھا۔ خطیب کی کوٹھڑی اسی حصے میں تھی۔ آگے جانے واال
آدمی اس کوٹھڑی تک پہنچ گیا۔ خطیب نے دروازے کی طرف دیکھا۔ اس نے قرآن بند کیا اور اٹھ کر دروازے کی طرف آیا۔
اس آدمی کے ہاتھ میں بڑی سی ایک چابی تھی۔ یہ عہدے دار نے ایک لوہار سے بنوائی تھی۔ اسے قید خانے کی چابیوں
سے پوری طرح واقفیت تھی۔ اس آدمی نے تالے میں چابی لگائی تو تاال کھل گیا۔ د وسرے لمحے خطیب کوٹھڑی سے باہر
تھا۔ وہ واپس چل پڑے۔
دوڑتے قدموں کی آہٹ سنائی دی اور یہ آواز… ''ٹھہر جا ،کون ہے؟''… ادھر سے اسے کہا گیا… ''بھاگ کے آئو دوست''۔
یہ آواز اندھیرے سے ابھری تھی۔ وہ جوں ہی اس جگہ پہنچا ایک خنجر اس کے دل میں اتر گیا۔ وہ آگے کو جھکا تو اس
کی پیٹھ کی طرف سے ایک اور خنجر اس کے دل تک جا پہنچا۔ خطیب کو رسے تک لے آئے۔ سب سے پہلے ایک آدمی
اوپر چڑھا ،پھر خطیب اوپر آیا۔ عہدے دار نے سنتری کو ابھی تک کہیں دور باتوں میں الجھا رکھا تھا۔ وہ سب اوپر آئے پھر
رسہ کھینچ کر باہر کی طرف پھینکا اور سب نیچے اتر گئے۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:14
قسط نمبر۔87جب سلطان ایوبی پریشان ہوگیا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وہ سب اوپر آئے پھر رسہ کھینچ کر باہر کی طرف پھینکا اور سب نیچے اتر گئے۔ عہدے دار کو قید خانے کے باہرسے ایک
گیڈر کے بولنے کی آواز سنائی دی۔ اس نے سنتری کو دوسری طرف بھیج دیا اور خود وہاں آیا جہاں رسہ لٹک رہا تھا۔ وہ
تیزی سے رسہ اتر گیا۔
یہ سب اس مکان میں چلے گئے جہاں صاعقہ اور باڈی گارڈ تھے۔ اپنے باپ کو دیکھ کر صاعقہ کے جذبات بے قابو ہوگئے۔
جب صبح طلوع ہوئی تو موصل سے میلوں دور چار گھوڑے جارہے تھے۔ ایک پر خطیب سوار تھا ،دوسرے پر صاعقہ ،تیسرے پر
قید خانے کا عہدے دار اور چوتھے پر ایک اور آدمی۔ یہ آدمی سلطان ایوبی کے جاسوسوں میں سے تھا۔ وہ باڈی گارڈ کو پکڑ
کر النے والی پارٹی میں بھی تھا۔ اس نے باڈی گارڈ سے بڑے قیمتی راز اگلوائے تھے۔ وہ جب موصل سے بہت دور پہنچ گئے
تھے ،اس وقت باڈی گارڈ کی الش اسی مکان میں کہیں دفن کی جاچکی تھی۔ رات کو جب یہ پارٹی فرار ہوئی تھی ،باڈی
گارڈ کو قتل کردیا گیا تھا۔
اس وقت قید خانے میں بھی قیامت بپا ہوچکی تھی۔ اندر دو سنتریوں کی الشیں پڑی تھیں۔ خطیب غائب تھا۔ عہدے دار کا
بھی کسی کو علم نہ تھا کہ کہاں چال گیا ہے اور دیوار کے ساتھ باہر کی طرف ایک رسہ لٹک رہا تھا۔ والئی موصل کے ہاں
تو ایک روز پہلے سے ہی یہ قیامت بپا ہوچکی تھی کہ سیف الدین نے یہ حکم دے دیا تھا کہ اس کا باڈی گارڈ صاعقہ کو
قید خانے کے بہانے کسی اور جگہ لے جانے اور اس تک پہنچانے کے لیے گیا تھا لیکن لڑکی اتنی خوبصورت تھی کہ باڈی
گارڈ کی نیت خراب ہوگئی اور وہ اسے کہیں بھگا لے گیا۔ یہ تو وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ باڈی گارڈ کو لڑکی سمیت
پکڑ لیا گیا ہے۔
٭ ٭ ٭
حرن کے قید خانے میں ساالر شمس الدین اور شادبخت قید تھے۔ سلطان ایوبی نے حکم دے دیا تھا کہ انہیں وہاں سے نکالنے
کا بندوبست کیا جائے لیکن انہوں نے حرن میں اپنا جوگروہ تیار کررکھا تھا ،وہ پہلے ہی بندوبست کرچکا تھا۔ ان ساالروں نے
فوج اور انتظامیہ کی ہر سطح پر ایک دو آدمی داخل کررکھے تھے۔ ساالروں کے فرار میں دشواری یہ تھی کہ انہیں قید خانے
کے تہہ خانے میں رکھا گیا تھا۔ وہاں سے نکالنے کے لیے کوئی خصوصی طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت تھی۔ خدا نے ان کی
اعلی حکام ،مشیروں اور محافظوں کو ساتھ لے کر روانہ ہوگا۔ شمس
مدد کی۔ گمشتگین کو حلب سے بالوا آگیا اور وہ اپنے
ٰ
الدین اور شادبخت کی گرفتاری کے متعلق صرف گمشتگین کے قریبی حلقوں کو علم تھا۔ قاضی کے قتل کو بھی شہرت نہیں
اعلی کمانڈروں کو قید خانے میں ڈال دیا گیا ہے۔
دی گئی تھی۔ فوج تک کو ابھی معلوم نہ تھا کہ ان کے دو
ٰ
گمشتگین کے جانے کے ایک روز بعد قید خانے کے داروغہ نے دیکھا کہ تین گھوڑ سوار گھوڑے دوڑاتے آرہے ہیں۔ وہ گرد سے
باہر آئے تو اس نے دیکھا کہ ان کے ساتھ دو گھوڑے خالی ہیں۔ دن کا وقت تھا۔ گھوڑے قید خانے کے دروازے پر آکر رک
اعلی کے ساتھ ہوتا تھا۔ ان
گئے۔ ایک سوار نے حرن کی فوج کا جھنڈا بھی اٹھا رکھا تھا۔ یہ جھنڈا میدان جنگ میں ساالر
ٰ
سواروں میں ایک کمان دار تھا اور
دوسرے دو سوار سپاہی تھے۔ وہ محافظ دستے کے معلوم ہوتے تھے۔ قید خانے کا داروغہ جو بڑے دروازے کی سالخوں میں
سے دیکھ رہا تھا۔ اس کمان دار کو جانتا تھا ،وہ باہر آگیا۔ کمان دار سے پوچھا کہ وہ کیوں آئے ہیں؟
بادشاہوں کے حکم نرالے ہوتے ہیں''… کمان دار نے کہا… ''شراب کے نشے میں ان ساالروں کو قید میں ڈال دیا جن کے''
بغیر فوج ایک قدم نہیں چل سکتی۔ اب حکم مال ہے کہ دونوں کو قید خانے سے نکاال جائے''۔
آپ دونوں ساالروں کو لینے آئے ہیں؟''… داروغہ نے پوچھا۔''
ہاں!'' کمان دار نے کہا… ''انہیں جلدی لے جانا ہے''۔''
آپ کے پاس قلعہ دار امیر گمشتگین کا تحریری حکم نامہ ہے؟''… داروغہ نے کہا… ''وہ تو کہیں باہر چلے گئے ہیں''۔''
میں وہیں سے آیاہوں''… کمان دار نے کہا… ''میں رات کو ہی آگیا تھا ،انہیں اب تحریری حکم نامہ جاری کرنے کا ہوش''
نہیں رہا۔ ہماری فوج حلب اور موصل کی فوجوں کے ساتھ مل کر سلطان ایوبی پر حملہ کرنے جارہی ہے۔ اگر ہم نے وقت
ضائع کردیا تو ایوبی حملہ کردے گا۔ خطرہ بڑھ گیا ہے۔ گمشتگین اسی سلسلے میں حلب گیاہے۔ اسے جو خطرہ نظر آرہا ہے،
اس نے اس کے ہوش ٹھکانے کردئیے ہیں۔ اسے احساس ہوگیاہے کہ ان دو ساالروں کے بغیر وہ لڑ نہیں سکے گا۔ اس نے
مجھے حلب کے راستے پر واپس دوڑا دیا کہ ان دونوں کو ان کے جھنڈے کے ساتھ پورے اعزاز سے الئو۔ اسی حکم کے تحت
ہم ان کا جھنڈا اور گھوڑے الئے ہیں''۔
داروغہ اسے اندر لے گیا۔ دونوں سپاہی بھی ساتھ چلے گئے۔ وہ تہہ خانے میں گئے۔ ساالر دو مختلف کوٹھڑیوں میں بند تھے۔
پہلے ایک ساالر کو نکاالگیا۔ کمان دار نے اسے فوجی انداز سے سالم کرکے کہا… ''امیر حرن گمشتگین نے آپ کی رہائی کا
حکم بھیجا ہے۔ آپ کا گھوڑا اور آپ کا ذاتی محافظ ہمارے ساتھ ہے۔ آپ کے لیے حکم ہے کہ تیار ہوکر فورا ً حلب
پہنچیں''۔
معلوم ہوتا ہے شراب کا نشہ اتر گیا ہے''… ساالر نے کہا۔''
میری حیثیت ایسی نہیں کہ آپ کی رائے کی تائید یا تردید کرسکوں''… کمان دار نے کہا… ''میرا کام حکم پہنچانے اور ''
آپ کے ساتھ جانے تک محدود ہے''۔
داروغہ نے ان کی باتیں غور سے سنیں۔ اسے یقین ہوگیا کہ یہ کوئی گڑ بڑ نہیں لیکن دوسرے ساالر کو نکالنے لگے تو داروغہ
کو شک ہوگیا۔ اس ساالر نے کمان دار کو دیکھا تو جذبات سے مغلوب ہوکر بوال… ''تم آگئے؟ سب ٹھیک ہے؟''… اس نے
داروغہ کی موجودگی کو نظر انداز کردیا تھا۔ داروغہ اناڑی نہیں تھا۔ اس کی عمر قید خانے میں گزری تھی۔ اس نے کوٹھڑی
کا تاال کھول دیا تھا۔ دروازہ کھلنا باقی تھا۔ اس نے تاال پھر چڑھا دیا اور بوال۔ ''تحریری حکم نامہ کے بغیر میں انہیں رہا
نہیں کروں گا''۔
کمان دار نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور اس سے چابی چھین لی۔ دو سپاہی جو ساالروں کے باڈی گارڈ بن کے آئے تھے،
داروغہ کی پیٹھ کے ساتھ لگ گئے۔ دونوں نے خنجر نکال کر ان کی نوکیں اس کی پیٹھ پر رکھ دیں۔ کمان دار نے اسے
سرگوشی میں کہا… ''تم سلطان صالح الدین ایوبی کے چھاپہ مار جانبازوں کے قبضے میں ہو۔ تم جانتے ہو سلطان ایوبی کے
چھاپہ مار کیا کیا کرتے ہیں۔ اونچی آواز نہ نکلے''۔
کمان دار نے دروازہ کھوال۔ داروغہ کو دھکیل کر اس طرح کوٹھڑی میں لے گئے کہ قریب سے گزرنے والوں کو بھی شک نہیں
ہوسکتا تھا کہ یہاں کوئی جرم ہورہا ہے۔ اندر لے جا کر اسے سالخوں والے دروازے سے پرے کرلیا گیا۔ ایک سپاہی نے بڑی
تیزی سے ایک رسی جو بمشکل پون گز لمبی تھی ،اس کی گردن کے گرد لپیٹ کر رسی کو مروڑا اور دو تین جھٹکے دئیے۔
داروغہ کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔ وہ ٹھنڈا ہوگیا تو اسے پتھر کے اس چوڑے بنچ پر ڈال دیا گیا جس پر قیدی سویا کرتے
تھے۔ الش پر کمبل ڈال دیا گیا۔ اس ساالر نے بے موقع جذباتی ہوکر یہ مشکل پیدا کردی تھی۔
ان لوگوں نے باہر نکل کر دروازے پر تاال چڑھا دیا اور چابی اپنے ساتھ لے گئے۔ باہر کے دروازے کی چابیاں داروغہ کے پاس
تھیں۔ وہ بھی اس سے چھین لی گئی تھیں۔ یہ پارٹی وہاں سے چلی۔ تہہ خانے سے اوپر آئی تو نیچے کے سنتری نے جاکر
خالی کوٹھڑیوں کو دیکھنا چاہا۔ وہ دور سے دیکھ رہا تھا کہ قید خانے کا داروغہ دو قیدیوں کو رہا کررہا تھا۔ سنتری یہ دیکھ
کر حیران رہ گیا کہ اس نے دونوں قیدی ساالروں کو باہر جاتے دیکھا ہے لیکن ایک کوٹھڑی میں ایک قیدی پڑا ہے۔ اس پر
چونکہ کمبل پڑا تھا ،اس لیے وہ پہچان نہ سکا کہ وہ کون ہے۔ دوسری کوٹھڑی خالی تھی۔ اس نے کمبل میں لپٹے ہوئے
قیدی کو آوازیں دیں مگر وہ نہ بوال۔ دروازہ مقفل تھا۔ سنتری نے سالخوں میں سے برچھی اندر کی۔ اس کی نوک قیدی تک
پہنچ گئی۔ اس نے نوک قیدی کو چبھوئی۔ وہ پھر بھی نہ اٹھا۔ برچھی سے اس نے کمبل ہٹا کر اس کا چہرہ ننگا کردیا۔ یہ
دیکھ کر گھبرا گیا کہ وہ تو قید خانے کا داروغہ تھا۔ آنکھوں اور چہرے سے صاف پتہ چلتا تھا کہ وہ مرا ہوا ہے۔
اس نے وہیں سے چالنا شروع کردیا… ''خبردار ،خبردار ،قیدی نکل گئے''… وہ اوپر کو دوڑا۔ اس کی پکار پر نقارہ بجنے لگا۔
یہ االرم تھا۔ اس وقت فرار ہونے والی پارٹی بڑے دروازے پر پہنچ گئی تھی۔ سنتری دوڑا آرہا تھا۔ بڑے گیٹ کی چابیاں کمان
دار کے پاس تھیں۔ انہوں نے قدم تیز کردئیے اور اندرونی تالے کو چابی لگائی۔ سنتری نے دور سے کہا… ''انہیں روک لو۔
داروغہ کوٹھڑی میں مرے ہوئے ہیں''۔
نقارے کی آواز پر قید خانے کے تمام سنتری اپنی اپنی ڈیوٹی پر پہنچ گئے۔ باہر کی گارڈ دوڑی آئی۔ دروازہ کھول دیا گیا
چونکہ یہ خطرے کا االرم تھا۔ اس لیے باہر سے آنے والی گارڈ کی نفری ٹریننگ کے مطابق بہت تیزی سے دروازے میں داخل
ہوئی۔ سب سے بڑا خطرہ یہ ہوا کرتا تھا کہ قیدیوں نے بغاوت کردی ہوگی یا کہیں آگ لگ گئی ہوگی۔ وہ سنتری جو چیختا
چالتا آرہا تھا ،باہر سے آنے والی گارڈ کے سیالب میں گم ہوگیا۔ اس ہڑ بونگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے والے باہر
نکل گئے۔ گھوڑے باہر کھڑے تھے۔ وہ گھوڑوں پر سوار ہوئے لیکن گھوڑے گھوم کر چلے تو کسی نے انہیں للکارا… ''رک
جائو ،مارے جائو گے''… انہوں نے گھوڑوں کو ایڑی لگادی۔ پیچھے سے ایک ہی بار تیروں کی بوچھاڑ آئی۔ دوتیر کمان دار کی
پیٹھ میں اتر گئے اور ایک تیر ایک ساالر کے گھوڑے کے پیچھے حصے میں لگا۔ کمان دار نے جسم میں دو تیر لے کر بھی
اپنے آپ کو سنبھالے رکھا۔ ساالر شمس الدین کا گھوڑا تیر کھا کر بدکا۔ شمس الدین نے اسے سنبھالنے کی کوشش کی اور
اسے کمان دار کے گھوڑے کے قریب لے جاکر اس کے گھوڑے پر کود گیا۔ کمان دار آگے کو جھک گیا۔ شمس الدین نے اس
کے ہاتھ سے باگیں لے لیں۔ پیچھے سے اور تیر آئے لیکن گھوڑوں کی رفتار اچھی تھی ،زد سے نکل گئے۔
انہوں نے پیچھے دیکھا ،قید خانہ دور رہ گیا تھا لیکن دس بارہ گھوڑ سوار ان کے تعاقب میں گھوڑے دوڑا چکے تھے۔ آگے
عالقہ کھال تھا۔ آبادی دوسری طرف تھی۔ فرار ہونے والوں نے گھوڑوں کو انتہائی رفتار پر ڈال دیا۔ ان کے پاس ہتھیاروں کی
کمی تھی۔ دونوں ساالر نہتے تھے۔ کمان شہید ہورہا تھا۔ وہ مقابلہ کرنے کی حالت میں نہیں تھا۔ آگے چٹانیں اور ٹیلے آگئے۔
ایک ساالر نے کہا… ''بکھر جائو ،اکیلے اکیلے ہوجائو''… وہ منجھے ہوئے سوار تھے۔ تعاقب کرنے والے ابھی دور تھے۔ انہوں
نے دیکھا کہ فرار ہونے والے ایک دوسرے سے دور دور ہوکر چٹانوں میں غائب ہوگئے ہیں۔ وہ سست پڑ گئے اور نکلنے والے
نکل گئے۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:15
قسط نمبر88
گناہوں کا کفارہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس وقت حلب کے باہر تینوں مسلمانوں امراء کی جو کانفرنس منعقد ہوئی تھی برخاست ہوئی۔ انہوں نے سلطان پرحملے کا
پالن بنا لیا تھا۔ زیادہ تر عقل صلیبی مشیروں کی استعمال کی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی طے کیا تھا کہ تینوں فوجوں کی
ترتیب کیا ہوگی۔ حملے کے لیے گمشتگین کی فوج کو آگے رکھنا تھا۔ اس کے پہلوئوں کی حفاظت کی ذمہ داری حلب کی
فوج کی تھی اور پہلے حملے کے بعد دوسرا حملہ جو سلطان صالح الدین ایوبی کے جوابی حملے کو روکنے کے لیے کرنا تھا،
سیف الدین کے سپرد کیا گیا تھا۔ سیف الدین نے اس متحدہ محاذ کو یہ دھوکہ دیا کہ وہ اپنی فوج کا ایک حصہ اپنے بھائی
عزالدین مسعود کی کمان میں چھوڑ آیا تھا۔ مشترکہ کمان کو اس نے یہ بتایا تھا کہ یہ محفوظ ہے جسے وہ ہنگامی حاالت
میں استعمال کرے گا مگر اپنے بھائی کو اس نے کہا تھا کہ وہ حلب اور حرن کی فوجوں کی کیفیت دیکھ کر آگے آئے اگر
جنگ کی حالت ہمارے خالف ہوگئی تو محفوظہ کو موصل کے دفاع میں استعمال کیا جائے اور اگر جوابی حملے میں شریک
ہونا ہی پڑا تو یہ شرکت ایسی ہو کہ موصل کاا ور اپنے مفاد کا زیادہ خیال رکھا جائے۔
ماہ رمضان شروع ہوچکا تھا۔ ان تینوں فوجوں میں اعالن کردیا گیا تھا کہ جنگ کے دوران روزے کی کوئی پابندی نہیں۔ تین
چار روز بعد تینوں افواج اپنے اپنے شہر سے کوچ کرگئیں۔ انہیں قرون حماة کے قریب آکر اکٹھے ہونا اور حملے کی ترتیب
میں آنا تھا۔
اس کوچ سے دو روز پہلے سلطان صالح الدین ایوبی اپنی مورچہ بندی دیکھ رہا تھا اسے اطالع ملی کہ حرن سے دو ساالر
مفرور ہوکر آئے ہیں اور ان کے ساتھ ایک الش ہے۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے گھوڑے کو ایڑی لگا دی۔ وہاں جاکر وہ
گھوڑے سے کود کر اترا اور دونوں ساالروں کو گلے لگایا۔ پھر دونوں سپاہیوں سے گلے مال۔ یہ دونوں اس کے نامور چھاپہ
مارجاسوس تھے۔ کمان دار ابھی اس کا جاسوس تھا اور ایک عرصے سے گمشتگین کی فوج میں تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی
نے الش کے گالوں کا بوسہ لیا اور حکم دیا کہ الش دمشق بھیج دی جائے اور شہیدوں کے قبرستان میں دفن کی جائے۔
آپ یہاں بیٹھے کیا سوچ رہے ہیں؟''… ساالر شمس الدین نے اپنی بپتا سنانے سے پہلے جنگی باتیں شروع کردیں۔''
میں کمک کا انتظار کررہا ہوں''… سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا کہ ''گزشتہ رات اطالع ملی ہے کہ کمک آج رات ''
پہنچ جائے گی۔ اسے قاہرہ سے آنا تھا ،اس لیے اتنے دن لگ گئے ہیں''۔
سلطان ایوبی نے دونوں بھائیوں کو تفصیل سے بتایا کہ اس کی نفری کتنی ہے اور اسے اس نے کس طرح ڈیپالئے کررکھا ہے۔
اس وقت سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنے تمام دستوں کے کمانڈروں کو بالیا اور شمس الدین اور شادبخت سے مالیا۔ پرانے
افسر دونوں کو جانتے تھے۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے دونوں سے کہا کہ وہ اس کے کمانڈروں کو بتائیں کہ جو افواج حملہ
کرنے آرہی ہیں ان کی جنگی اہلیت کیسی اور جذباتی کیفیت کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فوج بہرحال فوج ہوتی ہے۔ دشمن کو
اناڑی اور کمزور سمجھنا ایک جنگی لغزش تصور کی جاتی ہے۔ یہ نہ بھولیں کہ یہ مسلمان افواج ہیں جن کے سپاہی پیٹھ
دکھانے کے عادی نہیں۔ سپاہیوں میں عسکری روح موجود ہے۔ وہ پورے جوش وخروش سے لڑیں گے۔ ان کے ذہنوں میں یہ ڈاال
گیا ہے کہ آپ لوگ درندے ،وحشی اور عورتوں کے شکاری ہیں اور سلطان صالح الدین ایوبی اپنی سلطنت کو وسعت دینے آیا
ہے۔ صلیبیوں نے ان کے دلوں میں آپ کے خالف نفرت بھر رکھی ہے۔
ساالروں نے بتایا کہ جہاں تک ان کی قیادت کا تعلق ہے ،وہ قابل تعریف نہیں۔ ان میں کوئی بھی سلطان صالح الدین ایوبی
نہیں… سیف الدین اور گمشتگین اپنے ذاتی مفاد کے لیے لڑنے آرہے ہیں۔ دونوں اپنے حرم اور شراب کے مٹکے ساتھ الئیں گے۔
ہماری جگہ گمشتگین اپنی فوج کی کمان خود کرے گا۔ یہ قیادت فوج کو طریقے سے لڑا نہیں سکے گی پھر بھی آپ کو
محتاط ہوکر لڑنا پڑے گا۔ وہ آپ کو ان پہاڑیوں میں محاصرے میں لینا چاہتے ہیں۔ تینوں فوجوں کی کمان مشترک ہوگئی ہے
لیکن وہ دل سے متحد نہیں۔
یہ باتیں ہوہی رہی تھیں کہ خطیب ابن المخدوم ،صاعقہ قید خانے کا عہدے دار اور ایک جاسوس پہنچ گئے۔ وہ راستہ بھول
گئے تھے اس لیے دیر سے پہنچے۔ سلطان صالح الدین ایوبی کو معلوم تھا کہ خطیب اس کا حامی ہے اور وہ موصل میں اس
کے جاسوسوں کی رہنمائی اور نگرانی کرتا رہا ہے۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اسے بھی اجالس میں شامل کرلیا اور اسے
کہا کہ وہ موصل کی فوج کے متعلق کچھ بتائے۔
وہ امیر اپنی فوج کو کس طرح لڑائے گا جو شراب اور عورت کا رسیا ہو اور قرآن سے فال نکال کر فیصلے کرتا ہو''… ''
خطیب نے کہا… ''جس کے سینے میں ایمان ہی نہیں وہ میدان جنگ میں زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتا۔ اس نے مجھ سے کہا
کہ میں قرآن سے فال نکال کر بتائوں کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف جنگ میں اسے فتح ہوگی یا شکست۔ میں نے
اسے بتایا کہ چونکہ ا س کا یہ اقدام قرآنی احکام کے خالف ہے اس لیے اسے شکست ہوگی۔ اس نے مجھے قید میں ڈال
دیا۔ وہ قرآن کو جادو کی کتاب سمجھتا ہے۔ میں آپ کو قرآن کی کرامات سناتا ہوں۔ میرا فرار قرآن کی بدولت ممکن ہوا
ہے۔ سیف الدین نے میری بیٹی کو اغوا کرنے کی کوشش کی لیکن میری بیٹی بال بال بچ گئی۔ میں آپ سب کو یہ مژدہ
سناتا ہوں کہ اگر آپ قرآنی احکام کے پابند رہے اور جنگ کو قومی اور مذہبی سطح پر رہنے دیا تو فتح آپ کی ہوگی۔ یہ
جنگ کامذہبی پہلو ہے۔ فنی پہلو کے متعلق میں یہ مشورہ دوں گا کہ چھاپہ ماروں کو زیادہ استعمال کریں۔ آپ کا تو طریقہ
ہی یہی ہے لیکن ان مسلمان بھائیوں کے خالف یہ طریقہ زیادہ استعمال کریں۔ انہیں راتوں کو بھی چین نہ لینے دیں''۔
خطیب کو جس عہدے دار نے فرار کرایا تھا وہ بھی ساتھ تھا۔ اس کی درخواست پر اسے فوج میں شامل کرلیا گیا اور خطیب
کو اس کی بیٹی صاعقہ کے ساتھ دمشق بھیج دیا گیا۔ ساالر شمس الدین اور ساالر شادبخت کو سلطان صالح الدین ایوبی نے
اپنے ساتھ رکھا۔
٭ ٭ ٭
حلب ،حرن اور موصل کی افواج کوچ کرتی آرہی تھی۔ ادھر سلطان صالح الدین ایوبی کے لیے مصر سے جو کمک آرہی تھی
وہ قریب آگئی تھی۔ تاریخ یہ دیکھ رہی تھی کہ سلطان ایوبی تک دشمن کی فوج پہلے پہنچتی ہے یا کمک۔ وہ بہت پریشان
تھا۔ وہ محاصرے سے ڈرتا تھا۔ کمک کے بغیر محاصرہ توڑنا آسان نہیں تھا۔ اس نے دماغی قوت کا آخری ذرہ بھی اس
مسئلے پر صرف کرڈاال کہ وہ محاصرے میں آگیا تو اتنی تھوڑی نفری سے محاصرہ کس طرح توڑے گا۔ وہ اس قدر پریشان ہوگیا
اعلی کمان کے ساالروں سے بھی اس کا اظہار کردیا۔ اس نے کہا… ''چھاپہ مار دستوں کو مکمل طور پر
کہ اس نے اپنی
ٰ
اپنے قابو میں اور اپنی نظر میں رکھنا۔ کمک کا کچھ پتہ نہیں۔ محاصرے کا خطرہ ہے۔ محاصرہ صرف چھاپہ ماری ہی توڑ
سکیں گے''۔
اللہ کو جو منظور ہوگا وہ ہوکر رہے گا''… ایک ساالر نے کہا… ''یہ قلعہ تو نہیں جس میں محصور ہوکر ہم لڑ نہیں ''
سکیں گے۔ ان چٹانوں پر ہم گھوم پھر کر لڑیں گے''۔
اس رات بھی وہ اچھی طرح سو نہ سکا۔ اس کے خیمے میں قندیل جلتی رہی۔ اس نے میدان جنگ اور اس عالقے کا جو
نقشہ بنایا تھا اس کو دیکھتا اور اس پر نشان لگاتا رہا اگر اسے کوئی غیرفوجی دیکھتا تو یہی کہتا کہ وہ شطرنج کھیلنے کی
مشق کررہا ہے۔ سحری کھانے کے لیے جب نقارے بجے اور اس کی فوج جاگ اٹھی تو اس کی بھی آنکھ کھلی۔ اسے دو
خبریں اکٹھی ملیں۔ ایک یہ کہ کمک پہنچ گئی ہے اور دوسری یہ کہ دشمن کی افواج آٹھ کوس تک آگئی ہیں اور شاید کل
ہمارے سر پر آجائیں گی۔ یہ دیکھ بھال کی کسی پارٹی کا کمانڈر تھا۔ اس نے بتایا کہ دشمن کی پیش قدمی تین حصوں میں
ہورہی ہے۔ ایک حصہ آگے ہے دوسرا پیچھے اور تیسرا اس سے پیچھے۔
سلطان صالح الدین ایوبی نے جو معلومات لینی تھیں لے لیں۔ اس نے یہ اطالعات النے والوں کو بھیج دیا اور دربان سے کہا
اعلی کمانڈروں کو فورا ً بال الئے اور انہیں کہے کہ وہ سحری اس کے ساتھ
کہ وہ چھاپہ مار دستوں کے کمانڈر اور کمک کے
ٰ
کھائیں۔ اس نے جلدی جلدی وضو کیا اور کمک آجانے پر شکرانے کے نفل پڑھے پھر خدا سے کامیابی کی التجا کی… تھوڑی
ہی دیر میں چھاپہ ماروں کا کمانڈر آگیا اور اس کے بعد کمک کے چار کمانڈر آگئے۔ سحری کا کھانا بھی آگیا۔ کمک اس کی
توقع سے کم تھی لیکن ان حاالت میں یہی کافی تھی۔ العادل نے اسلحہ جو بھیجا تھا اس سے سلطان صالح الدین ایوبی
مطمئن ہوگیا۔ اسلحہ میں چھوٹی اور بڑی منجنیقیں زیادہ تھیں اور آتش گیر مادہ بھی بہت زیادہ تھا۔ کمک نفری کے لحاظ
سے تھوڑی تھی لیکن یہ نفری چونکہ تجربہ کار تھی اس لیے کارگر تصور کی جاتی تھی۔ البتہ یہ دشواری نظر آرہی تھی کہ
اس فوج اور گھوڑوں کو پہاڑی لڑائی کا تجربہ نہیں تھا۔ اتنے میں انٹیلی جنس کا سربراہ حسن بن عبداللہ بھی آگیا۔ اس نے
بتایا کہ حلب سے اپنا ایک جاسوس آیا ہے جس نے یہ معلومات دی ہیں کہ صلیبیوں نے اس مشترکہ لشکر کو تیروں اور
کمانوں کا ذخیرہ ،آتش گیر مادے کے مٹکے اور پانچ سو گھوڑے بھیجے ہیں۔ جاسوس نے یہ بھی بتایا کہ وہ پیش قدمی کے
بعد آیا ہے ،اس لیے اس نے دیکھا ہے کہ یہ مٹکے اونٹوں پر الد کر الئے گئے ہیں۔ یہ قافلہ الگ تھلگ فوج کے ساتھ ہے۔
منجنیقیں بھی ساتھ ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن منجنیقوں سے آگ کے گولے پھینکے گا اور فلیتے والے آتشیں تیر
چالئے گا۔
اعلی کمانڈر سے کہا… ''تمہیں سب کچھ بتایا جاچکا ہے۔ اپنا کام تم
سلطان صالح الدین ایوبی نے چھاپہ مار دستوں کے
ٰ
جانتے ہو۔ اب پہلے منصوبے میں یہ ترمیم کرلو کہ جب تک دشمن حملہ نہ کرے اس پر کہیں بھی شب خون نہ مارنا۔
اطالع کے مطابق وہ سیدھا قرون حماة کی طرف آرہا ہے۔ شب خون مارو گے تو اس کی رفتار سست ہوجائے گی۔ حملے کے
بعد تمہیں معلوم ہے کہ میں جوابی حملہ نہیں کروں گا۔ دشمن کو میرے حملے کی توقع ہوگی اور میں حملہ سامنے سے
نہیں عقب سے کروں گا۔ تمہارا کام اس وقت شروع ہوگا جب دشمن عقب کے حملے سے گھبرا کر ادھر ادھر نکلنے کی
کوشش کرے گا۔ ان پہاڑیوں میں سے دشمن کا ایک بھی سپاہی نکل کر نہ جائے۔ زیادہ سے زیادہ قیدی پکڑو۔ وہ مسلمان
سپاہی ہیں۔ تمہاری قید میں آئیں گے تو حق اور باطل کو سمجھ جائیں گے۔ یہی میری منشا ہے۔ ہمارے مقابلے میں آکر
ہمارے تیروں سے اور ہماری تلواروں سے جو مرتا ہے اسے مرنے سے میں روک نہیں سکتا''۔
تمہارے سامنے یہ اطالع آئی ہے کہ دشمن آتش گیر مادے کے مٹکے ال رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ صحیح حالت میں ''
ہمارے قبضے میں آجائیں لیکن ان سے تم ایک فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ اپنے کسی دستے کے دس بارہ منتخب چھاپہ ماروں کو یہ
کام سونپو کہ وہ حملے کے دوران شب خون مار کر ان مٹکوں کو توڑ دیں اور آگ لگا دیں۔ دن کے وقت وہ دیکھ لیں کہ
مٹکوں کا قافلہ کہاں ہے۔ سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ دشمن ابھی ندی تک نہیں پہنچا۔ گھوڑوں کو پانی پال لو اور
مشکیزے بھرلو۔ موسم سرد ہے اوریہ صحرا نہیں ،پیاس سے کوئی مرے گا نہیں پھر بھی یہ جنگ ہے اور پیاس پریشان کرے
گی''۔
اسے رخصت کرکے اس نے کمک کے کمانڈروں سے کہا… ''تم لوگ صرف یہ ذہن میں رکھنا کہ یہ مصر کا صحرا نہیں پہاڑی
عالقہ ہے اور ٹھنڈ ہے۔ دھوپ نکلے گی اور بھاگو دوڑو گے توگرمی آجائے گی۔ یہاں تمہیں ضرب لگائو اور کسی اور طرف نکل
جائو ،کا موقعہ ضرور ملے گا۔ تمہیں اس کی تربیت دی گئی ہے لیکن یہاں خیال رکھنا کہ تمہارے لیے زمین محدود ہے۔ صحرا
میں تو کئی کئی کوس کا چکر کاٹ کر دشمن کے اوپر آسکتے ہو اور تمہیں اپنی چال دہرانے کے لیے المحدود میدان مل
سکتا ہے۔ یہاں میں نے دشمن کو جس جگہ گھسیٹ کر النے کا بندوبست کیا ہے۔ وہ میدان ہی ہے لیکن محدود ہے۔ وقت
نہیں کہ تمہیں چٹانوں اورٹنیکریوں سے متعارف کرایا جائے۔ اس لیے اپنی عقل استعمال کرنا۔ تیر اندازوں کو چٹانوں پر رکھنا۔
گھوڑوں کوٹیکریوں پر نہ لے جانا ،جلدی تھک جائیں گے۔ ہمارے گھوڑے کچھ عادی ہوگئے ہیں''۔
اعلی کمان کے ساالروں کے سپرد کردیا۔ ان ساالروں کو
اس نے کمک کو محفوظہ کے طور پر رکھ لیا اور کمانڈروں کو اپنی
ٰ
جنگ کا پالن دیا جاچکا تھا۔
وادیوں میں صبح کی اذان کی کئی مقدس آوازیں گونج رہی تھیں۔ سلطان ایوبی نے غسل کیا۔ اپنی تلوار نیام سے نکالی۔ اس
کی چمک اور دھار دیکھی اور جذبات اچانک ابل پڑے۔ اس نے تلوار دونوں ہاتھوں پر رکھی ،قبلے رو ہوکر ہاتھ اٹھائے ،آنکھیں
بند کرکے اس نے خدا کو پکارا… ''خدائے عزوجل ! تیری خوشنودی اس میں ہے کہ مجھے شکست دے تو میں اس ذلت
کے لیے تیار ہوں ،فتح دے تو تیری ذات باری کا شکر ادا کروں گا۔ آج میں تیرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام
لیوائوں کے خالف لڑ رہا ہوں اگر یہ گناہ ہے تو مجھے اشارہ دے کہ میں اپنی تلوار اپنے پیٹ میں اتار دوں میں ان بچیوں
کی روح کی پکار پر آیا ہوں جن کی عصمتیں صرف اس لیے لٹ گئی ہیں کہ وہ تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امت
سے تھیں۔ مجھے تیرے وہ بے بس بندے پکار رہے ہیں جو مسلمان ہونے کی وجہ سے کفار کے ظلم وتشدد کا نشانہ بنے ہوئے
ہیں۔ میں تیرے عظیم مذہب کی عظمت اور عصمت کی حفاظت کے لیے صحرائوں ،جنگلوں اور پہاڑوں میں بھٹکتا پھر رہا
ہوں۔ میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقبول! میرے سچے رب ذوالجالل! میں
آپ کے قبلہ اول کو آزاد کرانے چال تھا۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میرے راستے میں آگئی ہے۔ مجھے اشارہ
دو کہ ان کا خون بہانا مجھ پر حالل ہے یا نہیں۔ میں گمراہ تو نہیں ہوگیا؟ مجھے اپنے نور کی روشنی دکھا ،اگر میں حق
پر ہوں تو ہمت واستقالل عطا فرما''۔
اس نے سرجھکا لیا اور بہت دیر اسی حالت میں کھڑا رہا۔ پھر اچانک تلوار نیام میں ڈال لی اور باہر نکل گیا۔ اس کے
اعلی کمان کے کمانڈر اور دیگر افراد
قدموں میں کچھ اور ہی شان تھی۔ وہ اس جگہ چال جارہا تھا جہاں اس کے مرکز اور
ٰ
باجماعت نماز پڑھا کرتے تھے۔ جماعت کھڑی ہورہی تھی۔ وہ پچھلی صف میں کھڑا ہوگیا۔اس کے ایک طرف اس کا باورچی
اور دوسری طرف اس کے کسی کمان دار کا اردلی کھڑا تھا۔
٭ ٭ ٭
نماز سے فارغ ہوکر سلطان صالح الدین ایوبی قرون حماة کی طرف روانہ ہوگیا۔ راستے میں اسے باری باری چار قاصد ملے اور
زبانی پیغام دئیے۔ یہ دیکھ بھال کی پارٹیوں کے قاصد تھے جو حرن ،حلب اور موصل کی مشترکہ فوجوں کی نقل وحرکت اور
سرگرمیوں کی خبریں الئے تھے۔ یہ سلسلہ دن رات چلتا رہتا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے قاصدوں کو رخصت کردیا اس
کے ساتھ ساالر شمس الدین تھا۔ یہ سلسلہ دن رات چلتا رہتا تھا۔ اس کے بھائی ساالر شادبخت کو اس نے کسی اور طرف
متعین کردیا تھا۔
دشمن کے متعلق جو خبریں مل رہی ہیں ان کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟'' شمس الدین نے پوچھا… ''کیا ہم اتنی ''
''تھوڑی فوج سے اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ کرسکیں گے؟
میرے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں کہ دشمن کتنا لشکر الیا ہے اور میرے پاس کیا ہے''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے جواب''
دیا۔ '' میں پریشان اس پر ہوں کہ دشمن حملہ کیوں نہیں کرتا۔ میرے ان مسلمان بھائیوں کے پاس صلیبی جاسوس ہیں۔ کیا
صلیبی اتنے اناڑی ہوگئے ہیں کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ مصر سے میری کمک آرہی ہے اور میں کمک کے بغیر لڑ
نہیں سکتا؟ اگر دشمن سرگرم ہوتا تو میرے تمام مسئلے حل ہوجاتے۔ دشمن کا یوں آکے بیٹھ جانا اور مجھے اتنا وقت دے
دینا کہ میں کمک حاصل کرلوں ،اسے ٹھکانے بھی لگا لوں۔ تمام تر فوج کے گھوڑوں کو پانی پال کر پانی کا ذخیرہ بھی
کرلوں ،میرے لیے پریشان کن ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ دشمن کوئی ایسی چال چلے گا جو کبھی میرے دماغ میں نہیں آئی۔
یہ لوگ کھیل تماشے کے لیے تو نہیں آئے''۔
جہاں تک ان لوگوں کو جانتا ہوں''۔ شمس الدین نے کہا۔ ''ان کے پیش نظر کوئی ایسی چال نہیں۔ مجھے اپنے اللہ پر''
بھروسہ ہے۔ خدا نے ان کے دماغوں پر مہر ثبت کردی ہے کیونکہ وہ باطل کی انگیخت اور مدد سے حق کے خالف لڑنے آئے
ہیں۔ ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔ میں کسی گہری اور خطرناک چال کا خدشہ محسوس نہیں کررہا''۔
شمس بھائی!'' سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا۔ ''مجھے بھی اللہ پر ہی بھروسہ ہے لیکن میں جذبات اور فلسفے کے''
بجائے حقیقت کو دیکھا کرتا ہوں۔ حق پر باطل نے بھی کئی بار فتح پائی ہے کیونکہ حق والے اللہ کے بھروسے ہاتھ پر ہاتھ
دھر کے بیٹھ گئے تھے۔ حق خون اور جان کی قربانی مانگتا ہے۔ اگر ہم یہ قربانی دینے کے لیے تیار ہیں تو حق کی فتح
ہوگی۔ باطل میں جو قوت ہے اس کا مقابلہ ہمیں میدان میں کرنا ہے۔ ہمیں حقائق پر نظر رکھنی ہے۔ اپنی پوری صالحیتیں
اور جسم کی تمام تر طاقت استعمال کرنی ہے۔ اس کے بعد کے نتائج اللہ پر چھوڑ دو۔ اپنے آپ کو خوش فہمیوں میں مبتال
نہ کرو''۔
وہ گھوڑے سے اترا۔ ساالر شمس الدین ،دو اور مشیر اور محافظ جو اس کے ساتھ تھے ،گھوڑوں سے اترے۔ سلطان صالح الدین
ایوبی ،شمس الدین اور دونوں مشیروں کو ایک بلند چٹان پر لے گیا۔ ان کے سامنے چٹانوں میں گھرا ہوا وسیع میدان تھا جو
سینگوں کی شکل کی چٹانوں سے آگے پھیلتا چال گیا تھا۔ اس طرف جہاں سلطان صالح الدین ایوبی کھڑا تھا دو چٹانیں آگے
پیچھے تھیں۔ ان کے درمیان وادی یا گلی تھی جو میدان میں کھلتی تھیں۔ یہ گھوم پھر کر اس طرف باہر نکل جاتی تھی۔
میدان میں چٹانوں کے ساتھ ساتھ سینکڑوں چھوٹے بڑے خیمے کھڑے تھے۔ ایک طرف اس فوج کے گھوڑے بندھے تھے جو
خیموں میں تھی۔ سپاہی گھوم پھر رہے تھے ،کچھ ایسے بھی تھے جو دھوپ میں لیٹے ہوئے یا سوئے ہوئے تھے۔ا نہیں دیکھ
کر معلوم ہوتا تھا جیسے انہیں معلوم ہی نہیں کہ ان پر ایک بہت بڑا لشکر کسی بھی وقت حملہ کرنے کے لیے ان کے سر
پر بیٹھا ہے۔ اگر وہ جنگی تیاری میں ہوتے تو ان کے خیمے کھڑے رہنے کے بجائے لپٹے ہوئے کہیں اور رکھے ہوئے ہوتے
اوران کے گھوڑوں پر زینیں کسی ہوئی ہوتیں۔
ان دستوں کے ساالروں اور کمانڈروں کو میں نے جو ہدایات دی ہیں وہ تم تینوں ایک بار پھر سن لو''… سلطان صالح ''
الدین ایوبی نے کہا۔ ''ہوسکتا ہے میں تم سے پہلے مارا جائوں اور جنگ شروع ہوتے ہی مارا جائوں۔ میرے بعد میدان کی
ذمہ داریاں تم سنبھالو گے۔ میں نے انہیں بتایا ہے کہ خیمے لگے رہنے دو۔ گھوڑے زینوں کے بغیر بندھے رہنے دو۔ فراغت کی
حالت میں گھومو پھرو اور ادھر ادھر بیٹھے اور لیٹے رہو لیکن خیموں میں اپنے ہتھیار اور گھوڑوں کی زینیں تیاررکھو۔ دشمن
کے جاسوس تمہیں دیکھ رہے ہیں۔ انہیں یہ تاثر دو کہ تمہیں دشمن کی کچھ خبر نہیں۔ جب دشمن کا لشکر آئے تو گھبراہٹ
کا مظاہرہ کرو۔ ہتھیار اٹھالو۔ خیمے پھر بھی کھڑے رہنے دینا۔ آگے بڑھ کر مقابلہ نہ کرنا۔ دشمن اوپر چڑھ آئے تو لڑتے ہوئے
اتنی تیزی سے پیچھے ہٹنا کہ دشمن کے حملہ آور دستے تمہارے ساتھ ہی ان چٹانوں کے گھیرے میں آجائیں۔ دشمن کو
پسپائی کا تاثر دو''۔
سلطان صالح الدین ایوبی نے دو متوازی چٹانوں کے درمیان گلی کی طرف اشارہ کرکے کہا۔ ''میں نے ان دستوں کو بتا دیا
ہے کہ اس گلی میں آکر پیچھے کو نکل جائیں۔ انہیں جہاں اکٹھا ہونا ہے وہ جگہ بھی انہیں بتا دی ہے''۔ اس نے وہ جگہ
اپنے رفیقوں کو بتا کر کہا۔ '' ان دستوں کو دشمنوں کے عقب میں جانا ہوگا۔ ان چٹانوں پر میں نے دشمن کے استقبال کا
جو بندوبست کررکھاہے وہ تمہیں معلوم ہے۔ یاد رکھو میرے دوستو! ہمیں یہاں کوئی عالقہ اور کوئی قلعہ فتح نہیں کرنا۔ ہمیں
دشمن کو بے بس اور بے کار کرنا ہے تاکہ وہ ہمارے راستے سے ہٹ جائے ،مجھے اپنے مسلمان بھائیوں کو دشمن کہتے ہوئے
شرم آتی ہے مگر حاالت کا تقاضا یہی ہے میں انہیں ہالک نہیں کرنا چاہتا۔ میں نے احکام جاری کردئیے ہیں کہ زیادہ افراد
کو زندہ پکڑو اور جنگی قیدی بنائو۔ میں انہیں تلوار سے زیر کرکے اخالق سے ذہن نشین کرائوں گا کہ تم مسلمان سپاہی ہو
اور تمہارے بادشاہ تمہارے مذہب کے دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں''۔
کسی قوم کو مارنا ہوتو اس میں خانہ جنگی کرادو''۔ ساالر شمس الدین نے کہا… ''صلیبیوں نے کامیابی سے یہ حربہ ''
استعمال کیا ہے''۔
مسلمان قوم کی مثال بارود کی سی ہے''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا… ''یہ قوم جذباتی ہوتی چلی جارہی ہے۔ ''
بارود کے اس ڈھیر میں کہیں سے بھی چنگاری آن گرے یہ دھماکے سے پھٹ جاتا ہے۔ یہ چنگاری مسجد کے امام سے ملے
یا عیش پرست حکمران سے یا دشمن ہمارے ہی بھائیوں کے ہاتھوں یہ چنگاری پھینکے ،جذبات بارود کی طرح پھٹتے ہیں۔ اگر
قوم کی یہ کمزوری جڑ پکڑ گئی تو قوم کا اللہ ہی حافظ ہے۔ قوم اگر زندہ رہی تو کفار اسے دھڑوں میں تقسیم کرکے لڑاتے
رہیں گے اور قوم کے سربراہ اکٹھے ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو دھوکہ فریب دے کر
سلطنت اسالمیہ کا بادشاہ بننا چاہتے ہیں۔ میں ان لوگوں کے دماغوں سے بادشاہی کا کیڑا نکال کر قوم کو راہ راست پر النے
کی فکر میں ہوں۔ میرے پیش نظر اسالم کا تحفظ اور فروغ ہے''۔
٭ ٭ ٭
قرون حماة سے تھوڑی ہی دور حرن کا قلعہ دار گمشتگین جس نے خودمختاری کا اعالن کردیا تھا ،اپنے ساالروں اور چھوٹے
بڑے کمانڈروں کو اکٹھا کرکے کہہ رہا تھا… ''صالح الدین ایوبی صلیبیوں کو شکست دے سکتا ہے۔ وہ جب تمہارے سامنے آئے
گا تو لومڑی کی ساری چالیں بھول جائے گا۔ وہ ہم میں سے نہیں ،وہ کرد ہے۔ تم پکے مسلمان ہو دین دار اور پرہیز گار ہو۔
وہ صرف نام کا مسلمان ،مکار اور عیار ہے۔ وہ یہاں اپنی سلطنت قائم کرکے اس کا بادشاہ بننے کی کوشش میں ہے۔ میں
تمہیں اس کی جنگی کیفیت بھی بتا دیتا ہوں۔ اس کے پاس فوج بہت تھوڑی ہے اور وہ پہاڑیوں میں گھرا بیٹھا ہے۔ تھوڑی
ہی دیر پہلے جاسوسوں نے مجھے اطالع دی ہے کہ اس کی فوج خیموں میں آرام کررہی ہے اور اس کے گھوڑے بھی تیاری
کی حالت میں نہیں۔ اس کی وجوہات دو ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ اسے یقین ہے کہ اسے ہم شکست نہیں دے سکتے۔دوسری
یہ کہ اسے یہ خوش فہمی بھی ہوسکتی ہے کہ ہم اس پر حملہ نہیں کریں گے۔ وہ شاید صلح کے لیے ہمارے پاس ایلچی
بھی بھیجے گا۔ اب ہم اس کے ساتھ کوئی صلح یا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ وہ اب ہمارا قیدی ہے۔ اگر زندہ ہمارے ہاتھ نہ
آیا تو میں تمہیں اس کی الش دکھائوں گا۔ اپنے سپاہیوں سے کہہ دو کہ صالح الدین ایوبی امام مہدی یا پیغمبر نہیں اور اس
کی فوج میں کوئی جن بھوت نہیں۔ ہم اس کی فوج کو بے خبری میں جا پکڑیں گے''۔
اپنے سامعین کو اشتعال دال کر اور ان کا حوصلہ بڑھا کر اس نے انہیں رخصت کردیا اور اپنے ان خیموں میں چال گیا جنہوں
نے جنگل میں منگل بنا رکھا تھا۔ اس کا اپنا خیمہ بہت بڑا تھا جس کے اندر قالین بچھے ہوئے تھے اور بیش قیمت پلنگ
تھا۔ شراب کی صراحی اور نہایت دلکش پیالے رکھے تھے۔ اندر سے خیمہ کسی محل کا کمرہ معلوم ہوتا تھا۔ اس کے ارد گرد
کئی اور خیمے تھے جو فوجی خیموں سے مختلف اور خوبصورت تھے۔ ان میں حرم کی لڑکیاں اور ناچنے گانے والیاں رہتی
تھیں۔ خیموں سے دور دور پہرہ دار کھڑے تھے۔ گمشتگین کے خیمے کے باہر نو آدمی اس کے انتظار میں کھڑے تھے۔ انہیں
دیکھ کر گمشتگین تیز چل پڑا اور قریب جاکر انہیں اندر چلنے کو کہا۔ اندر جاتے ہی لڑکیوں کی ایک قطار ہاتھوں میں
طشتریاں اٹھائے خیمے میں داخل ہوئی۔ کھانا چن دیا گیا اور شراب کی صراحیاں بھی آگئیں۔ گمشتگین ان نو آدمیوں کے ساتھ
کھانے پر بیٹھ گیا۔
یہ نو آدمی کھانے پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے بھنے ہوئے گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑے ہاتھوں میں لے کر مردار خو درندوں کی
طرح کھانا شروع کردیا۔ ساتھ ساتھ وہ شراب پانی کی طرح پی رہے تھے۔ ان کی آنکھیں الل سرخ تھیں جن سے وہ وحشی
اور خونخوار لگتے تھے۔ تین چار خوبصورت لڑکیاں ان کے پیالے شراب سے بھرتی جارہی تھیں اور یہ وحشی کبھی کسی لڑکی
کے بکھرے ہوئے بالوں پر ہاتھ پھیرتے کبھی ان کے عریاں بازوئوں کو پکڑ کر ان پر اپنے گال رگڑتے۔ کھانا اور چھیڑ خانی
چلتی رہی۔ گمشتگین ان کی حرکتیں اور کھانے کا انداز دیکھ کر مسکراتا رہا مگر اس کی مسکراہٹ بتاتی تھی کہ وہ زبردستی
مسکرا رہا ہے اور اسے یہ لوگ بالکل پسند نہیں۔
کھانے پینے سے فارغ ہوکر گمشتگین نے لڑکیوں کو باہر بھیج دیا اور ان نو آدمیوں کے ساتھ کچھ دیر گپ شپ لگا کر کہا…
''اب وقت آگیا ہے کہ میں تمہیں صالح الدین کی طرف رخصت کروں۔ اب کے وار خالی نہیں جانا چاہیے''۔
اگر آپ ہمیں روک نہ لیتے تو اب تک آپ یہ خوشخبری سن چکے ہوتے کہ سلطان صالح الدین ایوبی قتل ہوگیا ہے اور ''
قاتل معلوم نہیں کون تھے''۔ ایک آدمی نے کہا۔
یہ حسن بن صباح کے وہی نو فدائی تھے جنہیں ان کے مرید شیخ سنان نے تریپولی سے سلطان صالح الدین ایوبی کے قتل
کے لیے بھیجا تھا۔ یہ منتخب افراد تھے جو بظاہر انسان تھے لیکن خصلت کے درندے تھے۔ انہوں نے اپنے اپنے دائیں ہاتھ
کی درمیانی انگلی سے خون کے دس دس قطرے نکال کر مقدس پیالے میں گرائے ،ان پر شراب اور حشیش ڈالی اور تینوں
چیزیں مال کر ہر ایک نے ایک ایک گھونٹ پیا اور اپنے مخصوص الفاظ میں حلف اٹھایا تھا کہ وہ سلطان صالح الدین ایوبی
کو قتل کریں گے یا زندہ نہیں رہیں گے۔ شیخ سنان نے انہیں تارک الدنیا صوفیوں کے لباس میں ہاتھوں میں تسبیحیں اور گلے
میں قرآن لٹکا کر اس ہدایت کے ساتھ روانہ کیا تھا کہ وہ سلطان صالح الدین ایوبی تک رسائی حاصل کریں اور اس کے
سامنے یہ مسئلہ رکھیں کہ مسلمان کے خالف نہیں لڑنا چاہیے اور وہ ثالث بن کر آپس میں ٹکرانے والے مسلمان امراء کا صلح
نامہ کرائیں گے۔ اس طرح تنہائی میں سلطان صالح الدین ایوبی کو قتل کردیں گے۔
شیخ سنان نے طریقہ اچھا سوچا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی مذہبی پیشوائوں کو احترام سے اپنے پاس بٹھانے اور ان کی
بات توجہ سے سننے کا عادی تھا۔ اس کی دوسری کمزوری یہ تھی کہ وہ چاہتا ہی یہی تھا کہ کوئی درمیان میں آکر
مخالفین کے ساتھ اس کا سمجھوتہ کرادے تاکہ مسلمان مسلمان کے ہاتھوں قتل نہ ہوں ورنہ صلیبیوں کو جنگی تیاریوں کا اور
حملہ کرکے بہت بڑی کامیابی حاصل کرنے کا موقعہ مل جائے گا۔ اس نے حلب وغیرہ میں اپنے ایلچی بھیجے بھی تھے جو
توہین آمیز جواب الئے تھے۔ اب ''نوصوفی منش'' چغوں میں خنجر اور تلواریں چھپائے اس کی خواہش پوری کرنے کا دھوکہ
لے کر آرہے تھے۔ وہ اسے آسانی سے قتل کرسکتے تھے۔ تریپولی سے وہ روانہ ہوئے اور حرن پہنچے تھے۔ گمشتگین کو اس
کے صلیبی مشیروں نے بتایا تھا کہ یہ سلطان صالح الدین ایوبی کو قتل کرنے جارہے ہیں اس نے ان سے قتل کا طریقہ سنا
تو اسے مسترد کرکے انہیں اپنے پاس شاہی مہمانوں کی حیثیت سے روک لیا اور صلیبی مشیروں سے کہا تھا کہ وہ سلطان
صالح الدین ایوبی پر حملہ کرنے جارہا ہے۔ ان نو فدائیوں کو اپنے ساتھ لے جائے گا اور موزوں موقعے پر اور کسی بہتر
طریقے سے سلطان صالح الدین ایوبی کو قتل کرائے گا۔ چنانچہ وہ انہیں اپنے ساتھ محاذ پر لے آیا تھا۔
اس نے میدان جنگ میں ان کے لیے موقعہ پیدا کرلیا اور ان کا بہروپ بھی تیار کرلیا تھا۔ اس نے کھانے سے فارغ ہوکر
انہیں کہا… '' آج میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں نے صالح الدین ایوبی کے قتل کا کیا طریقہ سوچا ہے۔ تم نے صوفیوں کا جو
روپ دھارا ہے وہ شک پیدا کرسکتا ہے۔ ایوبی کی نظر بڑی گہری ہے۔ اس پر پہلے چار پانچ قاتالنہ حملے ہوچکے ہیں۔ وہ
اور زیادہ محتاط ہوگیا ہے۔ اس کے ساتھ دو بڑے ہی تجربہ کار سراغرساں ہیں ،ایک علی بن سفیان اور دوسرا حسن بن
عبداللہ۔ وہ ایک نظر میں انسان کو بھانپ لیتے ہیں۔ ہمارے جاسوسوں کی اطالع کے مطابق اس وقت حسن بن عبداللہ اس
کے ساتھ ہے اور علی بن سفیان قاہرہ میں ہے۔ صالح الدین ایوبی سے کوئی اجنبی ملنے جاتا ہے تو دو تین ساالر اور حسن
بن عبداللہ اس کی بڑی گہری چھان بین کرتے ہیں۔ انہیں شک ہو تو اس کی تالشی بھی لیتے ہیں''۔
ایوبی یا حسن بن عبداللہ کو یہ خیال آسکتا ہے کہ یہ چپقلش تو کئی مہینوں سے چل رہی ہے ،تمہیں صلح نامے کا خیال''
آج کیسے آیا ہے۔ ایوبی یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ تم کہاں کے مذہبی پیشوا ہو اور وہ کوئی ایسا سوال پوچھ سکتا ہے جس
کا تم لوگ جواب نہ دے سکو یا ایسا جواب دو جو تمہیں بے نقاب کردے۔ وہ خود عالم ہے ،مذہب اور تاریخ کا اس کا گہرا
مطالعہ ہے۔ اس کے عالوہ تمہارے چہروں پر داڑھیوں کے سوا صوفیوں والی کوئی نشاندہی نظر نہیں آتی۔ تم میں سے چار کی
داڑھیاں ابھی چھوٹی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مہینے سے بڑھائی گئی ہیں۔ تمہاری آنکھوں میں حشیش اور شراب کا
نشہ چڑھا ہوا ہے۔ مجھے ان چہروں پر پاکیزگی کا شائبہ تک نظر نہیں آتا''۔
ان نو میں سے کسی نے بھی برا نہ مانا۔ ان کے سرغنہ نے کہا… ''مجھے آپ کی ہر ایک بات سے اتفاق ہے۔ اگر صالح
الدین ایوبی نے ہمیں صوفی یا امام سمجھ کر عزت سے اپنے خیمے میں بٹھا لیا اور کچھ کھانے پینے کے لیے ہمارے آگے
رکھ دیا تو میرے یہ دوست ٹوٹ پڑیں گے۔ ہم میں سے کسی کو بھی علم نہیں کہ امام اور خطیب کھاتے کس طرح ہیں۔ آپ
''نے کیا طریقہ سوچا ہے؟
نہایت سہل اور بے خطر'' ۔ گمشتگین نے کہا۔ ''میں تمہیں صالح الدین ایوبی کے رضاکار محافظ بنا کر قرون حماة بھیج ''
رہا ہوں۔ اس کے محافظ گہری چھان بین کے بعد منتخب کیے جاتے ہیں۔ ان کے خاندانوں کی بھی جانچ پڑتال ہوتی ہے۔
اس لیے یہ ناممکن ہے کہ تم جاتے ہی اس کے محافظ دستے میں شامل ہوجائو گے۔ میں نے ایک طریقہ سوچا ہے جو
مجھے امید ہے کامیاب ہوگا۔ جاسوسوں نے بتایا کہ دمشق کے لوگوں میں ہمارے خالف اور صالح الدین ایوبی کے حق میں اتنا
جوش وخروش اور جذبہ پایا جاتا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر محاذ پر آرہے ہیں۔ وہاں جسے دیکھو تیغ زنی اور تیر اندازی کی
مشق کررہا ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ ایوبی ان رضاکاروں کو باقاعدہ فوج میں تو نہیں رکھتا۔ دوسرے کاموں کے لیے رکھ
لیتا ہے۔ میں اس فضا سے فائدہ اٹھا رہا ہوں''۔
اس نے الگ رکھا ہوا لکڑی کا ایک بکس کھوال۔ اس میں کپڑے تھے ،اس نے فدائیوں سے کہا۔ ''تم سب یہ لباس پہن کر
صالح الدین ایوبی کے پاس جائو گے۔ یہ اس کے محافظ دستے کا مخصوص لباس ہے۔ تم میں سے ایک آدمی کے ہاتھ میں
ایوبی کا جھنڈا ہوگا۔ باقی آٹھ کی برچھیوں کے ساتھ اس کی فوج کی جھنڈیاں ہوں گی۔ تم سیدھے ایوبی کے پاس جائو گے۔
تمہیں روک لیا جائے گا۔ اس تک نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔ تم جوش اور جذبات سے کہنا کہ ہم رضاکار ہیں اور دمشق سے
سلطان صالح الدین ایوبی کی حفاظت کے لیے آئے ہیں۔ یہ بھی کہنا کہ ہم نے بڑی محبت سے محافظ دستے کا لباس سلوایا
اور دل میں سلطان کی عقیدت لے کر آئے ہیں۔ ہمیں سلطان کے ا ردگرد پہرے پر لگایا جائے یا ہمیں جانباز دستے میں
شامل کردیا جائے ہم واپس نہیں جائیں گے۔ تمہیں صالح الدین ایوبی تک جانے نہیں دیں گے ،تم ضد کرنا اور کہنا کہ ہم اتنی
دور سے عقیدت اور جذبات سے آئے ہیں ،ہم سلطان سے ملے بغیر نہیں جائیں گے۔ میں تمہیں یقین دالتا ہوں کہ وہ جذبے
کی بہت قدر کرتا ہے۔ تم سے ملے گا ضرور۔ برچھیاں تمہارے ہاتھوں میں ہوں گی اگر وہ باہر ہوا تو گھوڑوں سے اترنا نہیں۔
قریب جاکر گھوڑوں کو ایڑی لگا دینا اور اس کا جسم برچھیوں سے چھلنی کرکے نکلنے کی کوشش کرنا۔ تم سب نے جان کی
بازی لگانے کا حلف اٹھایا ہے لیکن مجھے امید ہے تم سب نکل آئو گے۔ مجھے پوری توقع ہے کہ اپنے سلطان کو زخمی
حالت میں دیکھ کر محافظوں میں افراتفری مچ جائے گی۔ پیشتر اس کے کہ وہ سمجھ پائیں کہ یہ ہوا کیا ہے تم ان کے
تیروں کی زد سے نکل آئو گے۔ میں تمہیں عرب کی اس نسل کے گھوڑے دے رہا ہوں جن کے تعاقب میں ہوا بھی نہیں
پہنچ سکتی''۔
طریقہ بہت اچھا ہے'' ۔ فدائی قاتلوں کے سرغنہ نے کہا۔ ''ہمارے وہ ساتھی بدبخت ،اناڑی اور بزدل تھے جو اسے سوتے''
وقت بھی قتل نہ کرسکے۔ اسی کے ہاتھوں مارے گئے اور جو زندہ رہے وہ پکڑے گئے۔ اب ہم جارہے ہیں۔ اگر اس کا سر
کاٹ کر نہ السکے تو آپ یہ خبر ضرور سنیں گے کہ سلطان صالح الدین ایوبی قتل ہوگیا ہے''۔
اور اگر ہم اسے قتل کرآئے تو؟'' ایک فدائی نے حرم کی لڑکیوں کے خیموں کی طرف اشارہ کرکے اور شیطانی مسکراہٹ ''
سے کہا۔
گمشتگین شیطان کی مسکراہٹوں کو اچھی طرح سمجھتاتھا۔ا س نے ایسی ہی مسکراہٹ سے کہا۔ ''تم میں سے جو زندہ آئیں
گے اور صالح الدین ایوبی کو قتل کرکے آئیں گے انہیں میں ایک ایک خیمے میں داخل کردوں گا۔ تمہیں جو انعام صلیبی دیں
گے اس سے اتنے زیادہ زروجواہرات میں دوں گا جو تم نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھے اور تم میں سے جو آدمی صالح
الدین ایوبی کا سرکاٹ کر الئے گا۔ اسے اس کی پسند کی دو لڑکیاں ہمیشہ کے لیے دوں گا''۔
فدائیوں نے وحشیوں کی طرح چیخ چیخ کر قہقہے لگانے شروع کردئیے۔ گمشتگین نے بڑی مشکل سے انہیں خاموش کیا اور
کہا… '' آئو تمہیں وہ راستہ بتا دوں جو دمشق سے قرون کی طرف آتا ہے۔ تم یہاں سے دور کا چکر کاٹ کر دمشق کے
راستے پر پہنچو گے لیکن خیال رکھنا کہ راستے میں کوئی بھی پوچھے کہ تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو تو یہی بتانا کہ
تم دمشق سے آئے ہو اور محاذ پر جارہے ہو۔ راستے میں تمہیں صالح الدین ایوبی کے جاسوس اور چھاپہ مار ملیں گے۔ تمہیں
آج ہی رات روانہ ہونا ہے''۔
''آج ہی رات؟'' ایک فدائی نے پوچھا۔ ''کل دن کو نہ جائیں؟''
اتنا وقت نہیں''… گمشتگین نے جواب دیا۔ ''تمہارا چکر بہت لمبا ہے۔ دو دنوں بعد منزل پر پہنچو گے۔ گھوڑوں کو آرام''
دیتے جانا ورنہ تھکے ہوئے گھوڑوں سے وہاں سے بھاگ نکلنا دشوار ہوجائے گا''۔
گمشتگین نے بکس سے کپڑے نکال کر انہیں کہا کہ یہیں پہن لو۔ اس نے دربان سے کہا کہ وہ نو گھوڑے لے آئے جو میں نے
الگ کروا رکھے ہیں۔
آدمی رات کے بعد نو گھوڑ سوار گمشتگین کے کیمپ سے دور اس سمت جارہے تھے جدھر دمشق سے قرون حماة کو راستہ
جاتا تھا۔ اگلے گھوڑ سوار کے پاس سلطان صالح الدین ایوبی کا جھنڈا تھا اور باقی آٹھ کی برچھیوں کی انیوں کے ساتھ
چھوٹی چھوٹی جھنڈیاں بندھی تھیں۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:15
قسط نمبر۔89
گناہوں کا کفارہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اسی روز جس وقت گمشتگین اپنے ساالروں اور کمانڈروں کو اشتعال انگیز تقریر سے جوش دال رہا تھا ،سیف الدین اور حلب
کی فوجیں بھی ایسی ہی اشتعال انگیز تقریریں سن رہی تھیں۔ حلب کا ایک ساالر گھوڑے پر سوار اپنی فوج سے کہہ رہا
تھا۔ ''یہ وہی صالح الدین ہے جس نے حلب کا محاصرہ کیا تھا۔ تم نے اسی صالح الدین کو اس کی اسی فوج کو حلب
سے بھگایا تھا۔ رب کعبہ کی قسم! یہ روایت جھوٹی ہے کہ صالح الدین جس قلعے میں جس شہر کو محاصرے میں لیتا ہے
اسے فتح کرکے دم لیتا ہے۔ وہ حلب کے محاصرے میں کیوں کامیاب نہیں ہوا تھا؟ اس نے محاصرہ اٹھا کیوں لیا تھا؟ صرف
اس لیے کہ تم شیر ہو۔ تم جان پر کھیل جانے والے سرفروش ہو۔ تم نے شہر سے نکل نکل کر اس پر جو حملے کیے تھے
انہیں وہ برداشت نہیں کرسکا۔ فتح اس کی ہوتی ہے جس پر خدا خوش ہوتا ہے۔ خدائے ذوالجالل کی خوشنودی تمہیں حاصل
ہے۔ صالح الدین ایوبی پر خدا کیوں خوش ہوگا۔ وہ لٹیرا ہے۔۔ اس نے دمشق پر قبضہ کیا اور اس شہر کے لوگوں کی اس نے
جو حالت کی ہے وہ وہاں جاکر دیکھو کسی عورت کی عزت محفوظ نہیں رہی۔ ہمیں دمشق چھوڑ کر حلب آنا پڑا۔ ہمیں وہاں
واپس جانا ہے۔ ہمیں صالح الدین ایوبی سے انتقام لینا ہے… اور اللہ کے سپاہیو! یہ نہ سوچنا کہ تم مسلمان ہوکر مسلمان
فوج کے خالف لڑنے جارہے ہو۔ وہ مسلمان کافر سے بدتر ہے جو مسلمانوں کے شہروں کو فتح کرتا پھر رہا ہے۔ تم پر ایسے
مسلمان کا قتل خدا نے فرض کردیا ہے''۔
خالفت کے محافظو! تمہارے دشمن صلیبی نہیں صالح الدین ایوبی اور اس کی فوج ہے۔ صلیبیوں کو دشمن اس شخص نے ''
بنایا ہے۔ نورالدین زنگی نے قوم پر سب سے بڑا ظلم یہ کیا ہے کہ صالح الدین کو مصر کی امارت دے دی ورنہ یہ شخص
چھوٹے سے ایک جیش کی کمان کرنے کے بھی قابل نہ تھا۔ میں اسے اپنی فوج میں سپاہی کی حیثیت سے بھی نہ رکھو۔
آج اس شخص کی موت اسے ان چٹانوں میں لے آئی ہے۔ اب اس کے سامنے تمہاری تلواریں ،تمہاری برچھیاں اور تمہارے
گھوڑے ہوں گے اور اس کے پیچھے چٹانیں اور پہاڑیاں ہوں گی۔ ہم اسے اور اس کی فوج کو پیس کر رکھ دیں گے۔ تمہیں
حلب کی توہین اور بربادی کا انتقام لینا ہے اگر تم نے صالح الدین کو یہاں ،انہی پہاڑیوں میں ختم نہ کیا تو وہ سیدھا حلب
پر آئے گا۔ اس کی نظریں حلب پر لگی ہوئی ہیں۔ وہ تمہیں اپنا غالم بنانا چاہتا ہے۔ تمہاری بہنیں اور بیٹیاں اس کے
ساالروں کے حرم کی زینت بنیں گی اگر میں جھوٹا ہوں تو نورالدین زنگی کا بیٹا جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ سیف الدین والئی موصل
جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ گمشتگین جھوٹا نہیں ہوسکتا اگر اتنے امراء جھوٹے نہیں ہیں تو اکیال صالح الدین ایوبی جھوٹاہے۔ یہی وجہ
ہے کہ اسالم کی تین فوجیں اسے کچلنے کے لیے آئی ہیں۔ تم سب سچے ہو۔ غیرت اور حمیت والے ہو۔ ثابت کردو کہ
غیرت اور حمیت کی خاطر تم اپنے بھائی کا بھی خون بہا سکتے ہو''۔
فوج بظاہر خاموشی سے سن رہی تھی لیکن اس کے اندر اشتعال نے طوفان بپا کررکھا تھا۔ ساالر نے حقائق پر پردہ ڈال کر
فوج کے جذبات کو مشتعل کردیا اور فوج نعرے لگانے لگی۔ ''ہم غالم نہیں بنیں گے۔ صالح الدین ایوبی زندہ نہیں رہے
گا''۔ ایک شور تھا جو زمین وآسمان کو ہال رہا تھا۔
سیف الدین کے کیمپ کی بھی کیفیت جذباتی تھی۔ وہ بھی اپنی فوج کے جذبات کو بھڑکا رہا تھا۔ اس نے سپاہیوں کے لیے
فتوی لے لیا تھا کہ میدان جنگ میں روزہ فرض نہیں۔ تمام فوج خوش
یہ سہولت بھی پیدا کردی تھی کہ دو علماء سے یہ
ٰ
تھی۔ سیف الدین نے کہا کہ ہم اس وقت حملہ کریں گے جب صالح الدین ایوبی کی فوج کا دم خم ٹوٹ چکا ہو۔ پھر ہماری
منزل دمشق ہوگی۔ دمشق میں بے اندازہ دولت ہے جو تمہاری ہوگی۔
٭ ٭ ٭
ادھر لشکروں اور فوجوں کی باتیں ہورہی تھیں۔ ادھر سلطان صالح الدین ایوبی کے کیمپ میں چھ چھ آٹھ آٹھ ،دس دس چھاپہ
ماروں کے حساب سے سکیمیں بن رہی تھیں۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنی فوج سے کوئی خطاب نہیں کیا ،کوئی
جوشیلی تقریر نہیں کی۔ اس کی نظر اس زمین پر تھی جس پر اسے لڑنا تھا۔ اس زمین کے خدوخال سے وہ زیادہ سے زیادہ
جنگی فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ اس نے جو بھی بات کی اپنے سینئر اور جونئیر کمانڈروں سے کی اور وہ بھی حقیقت کی بات
کی۔ کبھی کبھی وہ اس وجہ سے جذباتی ہوجاتا تھا کہ اس کے مسلمان بھائی فلسطین کے راستے مں حائل ہوگئے ہیں اور
مسلمان مسلمان کے ہاتھوں قتل ہوں گے۔ اس کا اس کے پاس کوئی عالج نہیں تھا۔ وہ صلح اور امن کے لیے ایلچی بھیج کر
اپنی توہین کراچکا تھا۔ اب وہ تصادم کے لیے پوری طرح تیار تھا۔ اس نے مصر سے آئی ہوئی کمک کو اپنی سکیم کے مطابق
تقسیم کردیا تھا اور دشمن کے انتظار میں بے چین ہورہا تھا۔ اس نے اپنے مشیروں سے اس خیال کا اظہار بھی کیا تھا کہ
دشمن شاید یہ چاہتا ہے کہ پہاڑیوں سے نکل کر اس پر حملہ کیا جائے۔ سلطان صالح الدین ایوبی چٹانوں سے نکلنے سے
گریز کررہا تھا۔ وہ دشمن کو پہل کرنے
کا موقعہ دے رہا تھا۔ وہ اگر چاہتا تو اپنے چھاپہ ماروں سے دشمن کے کیمپوں میں تباہی مچا سکتا تھا۔ یہ اس کا خصوصی
طریقہ جنگ تھا لیکن اس نے چھاپہ ماروں کو بھی استعمال نہ کیا۔ وہ دشمن کی چال اور حرکت دیکھ رہا تھا۔
دمشق میں نورالدین زنگی مرحوم کی بیوہ نے اپنا ایک اور محاذ کھول رکھا تھا۔ جب سے سلطان صالح الدین ایوبی دمشق
سے نکال تھا ،اس عظیم عورت نے لڑکیوں کی ایک رضا کار فوج تیار کرنی شروع کردی تھی۔ لڑکیوں کو زخمیوں کو میدان
جنگ سے اٹھانے ،خون روکنے اور ابتدائی مرہم پٹی کی تربیت دی جاتی تھی لیکن زنگی کی بیوہ انہیں تیغ زنی ،تیر بازی
اور تیز اندازی کی تربیت بھی دے رہی تھی۔ اس مقصد کے لیے اس نے چند ایک تجربہ کار مرد اپنے ساتھ رکھے ہوئے تھے۔
اسے معلوم تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی محاذ پر عورت کی موجودگی کو پسند نہیں کرتا اور یہ تو سوچا بھی نہیں
جاسکتا کہ وہ لڑکیوں کو فوج میں شامل کرے گا۔ اس کے باوجود زنگی کی بیوہ لڑکیوں کو جنگی تربیت دے رہی تھی۔ وہاں
کیفیت یہ بھی کہ کسی کو یہ کہنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی کہ وہ اپنی بیٹی کو مرہم پٹی وغیرہ کی تربیت
کے لیے بھیجا کرے۔ لوگ اپنی بیٹیوں کو تربیت کے لیے بھیج کر فخر محسوس کرتے تھے۔ دس بارہ سال کی عمر کے بچے
اپنے طور پر لکڑی کی تلواریں بنا کر تیغ زنی کرتے رہتے تھے۔
زنگی کی بیوہ کی فوج میں چار لڑکیوں کا اضافہ ہوا۔ ان میں ایک تو فاطمہ تھی جسے سلطان صالح الدین ایوبی کا ایک
چھاپہ مار جاسوس حرن سے بلکہ گمشتگین کے حرم سے نکال الیا تھا۔ دوسری موصل کے خطیب ابن المخدوم کی بیٹی
منصورہ تھی۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ اسے اپنے باپ کے ساتھ کس طرح موصل سے نکاال گیاتھا۔ باقی دو وہ لڑکیاں تھیں جنہیں
حلب سے گمشتگین کے پاس تحفے کے طور پر بھیجا گیا تھا۔ا نہیں ساالر شمس الدین اور ساالر شادبخت نے حرن کے قاضی
کوقتل کرکے وہاں سے نکاال تھا۔ یہ حمیرہ اور سحر تھیں۔ یہ سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس محاذ پر پہنچی تھیں جہاں
سے انہیں دمشق بھیج دیا گیا تھا۔ ایسی بے ٹھکانہ لڑکیوں کو نورالدین زنگی کی بیوی کے سپرد کردیا جاتا تھا۔ یہ چاروں اس
کے پاس پہنچیں تو انہوں نے وہاں لڑکیوں کو تربیت حاصل کرتے دیکھا۔ یہی ان کی خواہش تھی جو فوری طور پر پوری
ہوگئی۔
انہوں نے زنگی کی بیوہ کو اپنی اپنی آپ بیتی سنائی۔ وہاں انہیں ان لڑکیوں کے سامنے لے گئی اور انہیں کہا کہ وہ تمام
لڑکیوں کو تفصیل سے سنائیں کہ دشمن کے قبضے میں ان پر کیا گزری ہے۔ چاروں نے اپنی اپنی کہانی سنائی۔ خطیب کی
بیٹی منصورہ ذہنی طور پر زیادہ مستعد اور ہوشیار تھی۔ اس نے لڑکیوں سے کہا۔ ''عورت قوم کی آبرو ہوتی ہے ،دشمن جب
کسی شہر پر قبضہ کرتا ہے تو اس کی فوج سب سے پہلے عورتوں پر ہلہ بولتی ہے۔ تم نے ان دو لڑکیوں (حمیرہ اور
سحر) سے سن لیا ہے کہ جو عالقے صلیبیوں کے قبضے میں ہیں وہاں صلیبی مسلمانوں کے ساتھ کتنا ہولناک سلوک کررہے
ہیں۔ وہاں کسی مسلمان لڑکی کی عزت محفوظ نہیں۔ خدانخواستہ دمشق بھی ان کے قبضے میں آگیا تو تمہارا بھی وہی حشر
ہوگا۔ اگر ہم نے خون کی قربانی دینے سے گریز کیا تو صلیبی ہمارے آقا بن کر رہیں گے۔ انہوں نے ہمارے بہت سے امراء کو
خرید لیا ہے۔ اب صلیبی بھی تمہارے دشمن اور مسلمان امراء بھی تمہارے دشمن ہیں اگر تم فتح حاصل کرنا چاہتی ہو تو
انتقام کے جذبے کو زندہ وپائندہ رکھو۔ میرے محترم والد کہا کرتے ہیں کہ جو قوم ان معصوموں کو فراموش کردیتی ہے جو کفار
کی بربریت کا شکار ہوئے تھے وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتی''۔
میری بہنو! میں محترم سلطان صالح الدین ایوبی کی مرید ہوں۔ ان کے نام پر سولی چڑھنے کو تیار ہوں لیکن مجھے ان ''
کا یہ اصول پسند نہیں کہ عورت محاذ پر نہ جائے۔ انہوں نے جو سوچا ہے ٹھیک ہی سوچا ہے لیکن عورت کو کمزور
سمجھا جارہا ہے۔ نوجوان اور خوبصورت لڑکیوں کو حرموں میں ٹھونس دیا جاتا ہے۔ ہمیں مرد کی تفریح کا ذریعہ بنا دیا گیا
ہے۔ اس طرح قوم کی آدھی قوت بیکار ہوکر رہ گئی ہے۔ دشمن لشکر لے کر آتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہماری فوج آدھی
بھی نہیں ہوتی۔ ہم مردوں کے دوش بدوش لڑیں گی اور فوج کی کمی پوری کریں گی۔ میں موصل میں جاسوسوں کے گروہ
میں رہی ہوں۔ میں اس محاذ پر لڑ کر آئی ہوں۔ یہ میرے والد کی غلطی تھی کہ انہوں نے جذبات میں آکر والئی موصل پر
اپنے اصل خیاالت کا اظہار کردیا۔ اگر وہ نہ پکڑے جاتے تو وہاں ارادے کچھ اور تھے۔ ہم وہاں تباہ کاری نہ کرسکے اور ہمیں
وہاں سے نکلنا پڑا''۔
ان چاروں لڑکیوں کی آپ بیتی اور منصورہ کی باتوں نے لڑکیوں کے جذبے کی شدت میں اضافہ کردیا۔ا ن میں سے چار سو
لڑکیاں تربیت حاصل کرکے تیار ہوچکی تھیں۔ انہیں محاذ کے لیے روانہ کیا جانے لگا۔ چاروں لڑکیوں نے چند دنوں میں کچھ
تربیت حاصل کرلی تھی۔ انہیں روک لیا گیا لیکن ان میں انتقام کا جذبہ اتنا زیادہ تھا کہ وہ اسی جیش کے ساتھ محاذ پر
جانے کی ضد کرنے لگیں۔ فاطمہ ،حمیرہ اور سحر کی ضد اتنی سخت تھی کہ تینوں رو پڑیں۔ ان کی آنکھوں میں خون اترا
ہوا تھا۔زنگی کی بیوہ نے انہیں بھی چار سو کے اس جیش میں شامل کرلیا۔ ان کے ساتھ ایک سو مردوں کو بھیجا گیا۔ یہ
رضاکار تھے۔ انہوں نے لڑنے کی تربیت حاصل کرلی تھی۔ ان کا کمانڈر حجاج ابووقاص تھا۔
نورالدین زنگی کی بیوہ نے حجاج وقاص کو ایک تحریری پیغام دے کر کہا۔ ''یہ سلطان صالح الدین ایوبی کو دے دینا۔ میں
نے سب کچھ لکھ دیا ہے۔ تم انہیں یہ بتانا کہ یہ لڑکیاں زخمیوں کی دیکھ بھال کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ تم ایک بار پھر
سن لو۔ ان لڑکیوں اور رضاکار محافظوں کو اپنے ساتھ رکھنا۔ انہیں شب کو شب خون مارنے کی تربیت دی گئی ہے اور لڑکیاں
بھی لڑ سکتی ہیں۔ زخمیوں کو سنبھالنے کے بہانے تم سب لڑو گے۔ فوج کے سامنے رکاوٹ نہ بن جانا۔ جہاں موقعہ ملے
دشمن کو کمزور کرو۔ میں نے لڑکیوں کو بتا دیا ہے کہ دشمن کے ہاتھ زندہ نہ آئیں۔ وہ خود کہتی ہیں کہ پکڑے جانے کا
خطرہ ہوا تو وہ اپنی تلوار سے اپنے آپ کو ختم کردیں گی''۔
چار سو لڑکیوں اور ایک سو رضاکار مردوں کا یہ دستہ گھوڑوں پر سوار دمشق سے روانہ ہوا تو سارا شہر امڈ کر باہر آگیا۔
لوگوں نے جانے والوں پر پھول برسائے۔ اس قسم کی صدائیں بلند ہورہی تھیں۔ ''واپس نہ آنا ،آگے جانا… صالح الدین ایوبی
سے کہنا کہ دمشق کی تمام عورتیں آئیں گی… اللہ تمہیں فتح دے گا… اسالم کا کوئی دشمن زندہ نہ رہے''… شہر کے بہت
سے آدمی گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار دور تک اس جیش کے ساتھ گئے۔
٭ ٭ ٭
رمضان کا مہینہ تھا۔ راستے میں ایک رات پڑائو کرنا تھا۔ افطاری کے وقت سے کچھ دیر پہلے یہ قافلہ ایک جگہ رک گیا۔
لڑکیاں کھانے کی تیاریوں میں مصروف ہوگئیں اور مرد خیمے نصب کرنے لگے۔ اپریل کا مہینہ تھا۔ راتیں سرد ہوجاتی تھیں۔
گھوڑوں کے اس قافلے کے ساتھ اونٹ بھی تھے جن پر خیمے لدے ہوئے تھے ان خیموں میں برچھیاں ،تلواریں اور تیروکمان
لپٹے ہوئے تھے۔ سورج غروب ہونے سے ذرا پہلے بارہ گھوڑ سوار آگئے۔ یہ سلطان صالح الدین ایوبی کے چھاپہ مار تھے۔ جو
دمشق سے محاذ پر جانے والے راستے کی حفاظت میں گھوم پھر رہے تھے۔ انہوں نے لڑکیوں اور رضاکاروں کے قافلے کو دیکھ
لیا تھا۔
ان آٹھ سواروں کو اپنی طرف آتا دیکھ کر میرکارواں حاج ابووقاص آگے بڑھا۔ چھاپہ ماروں کا کمانڈر انطانون تھا۔ اس نے
ابووقاص سے پوچھا کہ وہ کون ہیں اور کہاں جارہے ہیں۔ ابووقاص نے اسے مکمل جواب دیا اور اسے مطمئن کردیا۔ چھاپہ
ماروں کو دیکھ کر بہت سی لڑکیاں دوڑی گئیں اور ان کے گرد جمع ہوگئیں۔ سب کا یہی ایک سوال تھا کہ محاذ کی کیا خبر
ہے۔ انطانون نے انہیں بتایا کہ جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی اور کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ کس وقت شروع ہوجائے۔
فاطمہ بیتابی سے آگے بڑھی اور انطانون کا ہاتھ پکڑ لیا۔ انطانون نے فاطمہ کو گمشتگین کے حرم سے نکاال تھا ابووقاص نے
انطانون سے کہا کہ وہ افطار ان کے ساتھ کریں اور کھانا بھی انہی کے ساتھ کھائیں۔ سب بکھر گئے ہر کوئی کسی نہ کسی
کام میں مصروف تھا۔ انطانون اور فاطمہ نے اتنا سا موقعہ پیدا کرلیا کہ انطانون نے اسے رات کو ملنے کی ایک جگہ بتا دی۔
دمشق سے دور اس ویرانے میں اذان کی صدائے مقدس گونجی۔ سب نے روزہ افطار کیا۔ نماز پڑھی اور کھانا کھایا۔ سب دن
بھر کے تھکے ہوئے تھے۔ جنہیں سونا تھا وہ سوگئے۔ لڑکیوں نے ٹولیوں میں بٹ کر گیت گانے شروع کردئیے۔ چھاپہ ماروں
نے ان سے کچھ دور اپنا ڈیرہ جما لیا۔ انطانون اپنی پارٹی کو یہ کہہ کر چال گیا کہ وہ ادھر ادھر دیکھ بھال کرنے جارہا ہے۔
فاطمہ چپکے سے لڑکیوں میں سے غائب ہوگئی۔ وہ خیمہ گاہ سے دور ایک جگہ کھڑی انطانون کا انتظار کررہی تھی۔ انطانون
بھی آگیا۔ فاطمہ کے ساتھ اس کی پہلی مالقات حرن میں ہوئی تھی۔ اس وقت انطانون سلطان صالح الدین ایوبی کا جاسوس
تھا۔ اس نے اس لڑکی کو صرف اس لیے پھانسا تھا کہ وہ حرن کے حکمران اور سلطان صالح الدین ایوبی کے دشمن گمشتگین
کے حرم کی لڑکی تھی۔ اسے وہ اپنی جاسوس کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ حاالت کچھ ایسے ہوئے کہ فاطمہ نے ایک
صلیبی مشیر کو قتل کردیا اور انطانون گرفتار ہوکر فرار ہوا اور فاطمہ کو ساتھ لے آیا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے فاطمہ کو
دمشق بھیج دیا اور انطانون اپنی درخواست پر چھاپہ مار دستے میں شامل ہوگیا۔ اب اتنے دنوں بعد فاطمہ اسے اچانک مل
گئی تو انطانون نے بڑی شدت سے محسوس کیا کہ اس لڑکی کے بغیر اس کی زندگی روکھی پھیکی ہوگئی ہے اور یہ لڑکی
اس کے دل میں اتر گئی ہے۔ یہ تعلق صرف اتنا ہی نہیں تھا کہ لڑکی کو جاسوسی کے لیے استعمال کرنا تھا۔ کچھ ایسی
ہی کیفیت فاطمہ کی تھی۔
ان کی مالقات جذباتی تھی۔ وہ اپنے اپنے قابو میں نہیں رہے تھے لیکن انطانون نے اس کی بازوئوں سے نکل کر کہا…
'' فاطمہ! ہمارا فرض ابھی پورا نہیں ہوا۔ میں حرن میں بھی اپنا فرض پورا نہیں کرسکا تھا۔ تمہیں وہاں سے نکال النا
کوئی کارنامہ نہیں تھا اور یہ میرے فرائض میں شامل بھی نہیں تھا۔ میں سلطان کے آگے شرمسار ہوں اور میں اپنی قوم کے
آگے بھی شرمسار ہوں۔ میں چھاپہ مار دستے میں اسی لیے شامل ہوا ہوں کہ فرض پورا نہ کرسکنے کے گناہ کا کفارہ ادا
کرسکوں۔ سلطان محترم نے مجھ پر ذمہ داری عائد کردی ہے کہ ان سات چھاپہ ماروں کی کمان اور قیادت مجھے دے دی
ہے۔ اب ایک بار پھر تم میرے راستے میں نہ آجانا۔ مجھے تم سے محبت ہے لیکن مجھے پہلے فرض ادا کرنے دو''۔
میں بھی فرض ادا کرنے آئی ہوں''۔ فاطمہ نے کہا۔ ''میں گمشتگین کو قتل کرنے آئی ہوں''۔''
ناممکن ہے'' ۔ انطانون نے کہا۔ ''محترم سلطان عورت کو محاذ سے بہت دور رکھتا ہے۔ وہ شاید تم سب کو واپس بھیج''
دے گا''۔
میں واپس نہیں جائوں گی''۔ فاطمہ نے غصے سے کہا۔ ''میں ثابت کردوں گی کہ عورت حرم کے لیے نہیں جہاد کے ''
لیے پیدا کی گئی ہے… انطانون! میری یہ خواہش پوری کرو کہ مجھے اپنے ساتھ لے چلو۔ مجھے مردانہ کپڑے پہنا کر اپنے
ساتھ رکھو''۔
ایسا ہو نہیں سکتا''۔ انطانون نے کہا۔ ''اگر میں تمہیں اپنے ساتھ رکھ بھی لوں تو میری توجہ تم پر لگی رہے گی۔ میں''
اپنا کام نہیں کرسکوں گا اور اگر میں پکڑا گیا تو مجھے اس جرم میں قیدخانے میں ڈال دیں گے کہ میں نے ایک لڑکی اپنے
ساتھ رکھی ہوئی تھی۔ میری اور تمہاری نیت کتنی ہی نیک کیوں نہ ہو یہ جرم معمولی نہیں… فاطمہ! جنگ جذبات سے
نہیں لڑی جاتی۔ اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ تم جدھر جارہی ہو جائو۔ ہوسکتا ہے سلطان تم سب کو زخمیوں کی مرہم پٹی
کے لیے اپنے ساتھ رکھ لے''۔
تم پھر مل سکوگے!'' فاطمہ نے پوچھا۔''
شاید کہیں زندہ یا مردہ مل جائوں''۔ انطانون نے جواب دیا۔ ''چھاپہ مار اپنے متعلق بتا نہیں سکتا کہ وہ کس وقت ''
کہاں ہوگا اور اس کی الش کہاں سے ملے گی۔ چھاپہ ماروں کی الشیں مال نہیں کرتیں۔ وہ دشمن کی جمعیت میں جاکر مرا
کرتے ہیں۔زندہ رہا تو سیدھا تمہارے پاس آئوں گا''۔
ہوسکتاہے تم زخمی ہوجائو تم میں ہی تمہاری مرہم پٹی کروں''۔ فاطمہ نے کہا۔''
چھاپہ ماروں کی مرہم پٹی دشمن کیا کرتا ہے''۔ انطانون نے جواب دیا۔ ''فاطمہ جذبات میں نہ آئو۔ ہمیں جذبات کو ''
بھی اورایک دوسرے کو بھی قربان کرنا پڑے گا۔ اگر تم یہ چاہتی ہو کہ تم جیسی لڑکیاں حرموں میں نہ جائیں اور وہ صلیبیوں
کے وحشی پن سے بچی رہیں تو میرا خیال دل سے نکال دو۔ میدان جنگ میں تمہیں جو فرض سونپا جائے صرف اسے دل
میں رکھنا۔ تم گمشتگین کو قتل نہیں کرسکو گی۔ یہ ارادہ بھی دل سے نکال دو''۔
٭ ٭ ٭
سلطان صالح الدین ایوبی کی سرگرمیاں دو ہی تھیں۔ میدان جنگ کا نقشہ دیکھتا اور اس کی لکیروں میں کھویا رہتا یا گھوڑے
پر سوار اپنی فوج کی مورچہ بندیاں دیکھتا رہتا تھا۔ وہ کچھ دیر کے لیے یا موزوں وقت تک کے لیے دفاعی جنگ لڑنے کا
فیصلہ کرچکا تھا۔ وہ اصل جنگ قرون کے اندر لڑنا چاہتا تھا جس کی اس نے سکیم بنا رکھی تھی لیکن ایک پہلو اسے
پریشان کررہا تھا۔بائیں پہلو پر تو چٹانیں اور ان کے پیچھے پہاڑیاں تھیں لیکن دائیں پہلو پر چٹانیں زیادہ نہیں تھیں۔ ان کے
پیچھے کچھ میدان تھا۔دشمن اس طرف پیش قدمی کرکے یا ہلہ بول کر آگے نکل سکتا تھا۔ اس سے سلطان ایوبی کا سارا
پالن تباہ ہونے کا خطرہ تھا۔ اس کے پاس اتنی فوج نہیں تھی کہ اس میدان میں سواروں اور پیادوں کی دیوار کھڑی کرسکتا۔
قریبی چٹان پر اس نے تیر انداز بٹھا دئیے تھے لیکن یہ انتظام کافی نہیں تھا۔ میدان کے لیے اس نے دو دستے سوار اور
پیادہ تیار کرلیے تھے لیکن انہیں ابھی چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی کو یہ میدان پریشان کررہا تھا۔ ان
دستوں کے عالوہ اس نے ایک منتخب دستہ اپنے پاس رکھ لیا تھا۔
وہ ایک چٹان پر کھڑا ادھر دیکھ رہا تھا کہ دور افق سے اسے گرد اٹھتی نظر آئی۔ ایسی گرد فوجی اچھی طرح پہچانتے تھے۔
وہ کوئی سوار فوج آرہی تھی۔ گرد کے پھیالئو سے پتہ چلتا تھا کہ گھوڑے ایک صف میں نہیں چار چار یا چھ چھ کی ترتیب
میں ایک دوسرے کے پیچھے آرہے ہیں۔ دشمن کے سوا اور کون ہوسکتا تھا۔ سلطان ایوبی نے غصے سے پوچھا۔ ''کیااس
راستے پر اپنا ایک بھی آدمی نہیں تھا؟ تیاری کا حکم دو''۔
تیاری کے نقارے بچ اٹھے۔ فوج کو جس طرح دفاع کے لیے تیاری کی مشق کرائی گئی تھی ،وہ اسی طرح تیار ہوگئی۔ ذرا
سی دیر بعد گھوڑے نظر آنے لگے۔ ان کی چال دشمن والی یا حملے والی نہیں تھی۔ سلطان ایوبی نے حکم دیا کہ دوچار
سوار دوڑائو ،دیکھو یہ کون لوگ ہیں… سوار دوڑا دئیے گئے اور جب وہ واپس آئے تو دور سے چالنے لگے۔ ''دمشق سے رضا
کار آئے ہیں۔ ساتھ عورتوں کی فوج ہے''۔
عورتوں کی فوج؟'' سلطان ایوبی نے حیران ہوکر پوچھا۔ ''عورتوں کی فوج؟'' اس نے ذرا توقف سے سکون کی آہ لے ''
کر کہا۔ ''یہ فوج میری بیوہ بہن نے تیار کرکے بھیجی ہوگی۔ زنگی مرحوم کی بیوہ ہی یہ کام کرسکتی ہے''… سلطان
ایوبی نے ہنسنا شروع کردیا۔ عینی شاہدوں کا بیان ہے کہ وہ اتنا کبھی نہیں ہنسا تھا۔ ہنستے ہنستے وہ سنجیدہ ہوگیا اور
اپنے پاس کھڑے ساالروں سے کہنے لگا۔ ''میری قوم کی بچیاں تمہیں فتح یاب کرکے دم لیں گی۔ ہم کیوں نہ مر مٹیں ان
بچیوں کی آبرو پر… لیکن میں انہیں واپس بھیج دوں گا اگر ایک بھی لڑکی دشمن کے ہاتھ چڑھ گئی تو میں مر کر بھی چین
حاصل نہیں کر سکوں گا''۔
وہ چٹان سے اتر کر آگے چال گیا۔ لڑکیوں اور رضاکاروں کی فوج قریب آگئی۔ اس کا کمانڈر ابو وقاص گھوڑے سے اتر کر
سلطان ایوبی کے پاس آیا۔ سالم کے بعد نورالدین زنگی کی بیوہ کا تحریری پیغام دیا۔ اس نے لکھا تھا… ''میرے بھائی! اللہ
تمہارا حامی وناصر ہو۔ میرا شوہر زندہ ہوتا تو تم اتنے سارے دشمنوں کے سامنے اکیلے نہ ہوتے۔میں تمہاری کوئی مدد نہیں
کرسکتی۔ جو مجھ سے ہوسکتا تھا وہ پیش کررہی ہوں۔ ان لڑکیوں کو میں نے زخمیوں کو سنبھالنے اور زخموں کی مرہم پٹی
کی تربیت دالئی ہے۔ دوائیوں کا ذخیرہ بھی بھیج رہی ہوں۔ ایک سو رضا کار بھی ساتھ ہیں… بوڑھے فوجیوں نے انہیں جنگی
تربیت دی ہے۔ تقریبا ً تمام کو شب خون مارنے کی مشق بھی کرائی ہے۔ یہ سب جوش اور جذبے والے ہیں۔ میں جانتی ہوں
کہ ان لڑکیوں کو تم محاذ پر رکھنا پسند نہیں کرو گے۔ میں تمہارے خیاالت سے آگاہ ہوں لیکن یہ خیال رکھنا کہ تم نے انہیں
واپس بھیج دیا تو دمشق والوں کا دل ٹوٹ جائے گا۔ تم نہیں جانتے کہ اس شہر میں لوگوں میں کیا جذبہ ہے۔ مرد تو محاذ
پر جانے کو تیار ہیں۔ عورتیں بھی تمہاری قیادت میں لڑنے کو بیتاب ہیں۔ اس جیش کو سارے شہر نے عقیدت اور ولولے سے
رخصت کیا ہے۔ یہاں تو بچے بھی فوجی تربیت حاصل کررہے ہیں۔ تمہیں فوج کی کمی محسوس نہیں ہوگی''۔
پیغام پڑھ کر سلطان ایوبی کے آنسو نکل آئے۔ اس نے لڑکیوں کی طرف دیکھا۔ وہ تھیں تو لڑکیاں لیکن گھوڑوں پر وہ سپاہی
لگتی تھیں۔ سلطان ایوبی نے سب کو گھوڑوں سے اتار کر اپنے سامنے کھڑا کرلیا۔ اس نے کہا۔ ''میں تم سب کو میدان
جنگ میں خوش آمدید کرتا ہوں ،تمہارے جذبے کا صلہ میں نہیں دے سکتا۔ خدا دے گا۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا
کہ لڑکیوں کو محاذ پر بالئوں گا۔ میں ڈرتا ہوں کہ تاریخ کہے گی کہ صالح الدین ایوبی نے اپنی بیٹیوں کو لڑایا تھا۔ میں
تمہارے جذبات کو مجروح بھی نہیں کرسکتا۔ تمہیں اپنے پاس رکھنے سے پہلے میں تمہیں موقعہ دینا چاہتا ہوں کہ سوچ لو۔
تم میں اپنے کوئی ایسی لڑکی ہے جو اپنی مرضی سے نہیں آئی تو وہ الگ ہوجائے اور وہ لڑکیاں بھی الگ ہوجائیں جن کے
دل میں ذرا بھی شک اور خوف ہے''۔
کوئی ایک بھی لڑکی الگ نہ ہوئی۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ ''میں تمہیں پیچھے محفوظ جگہ رکھوں گا۔ جنگ کے دوران تمہیں
آگے نہیں جانے دوں گا۔ پھر بھی یہ عالقہ ایسا ہے کہ تم دشمن کی زد میں آسکتی ہو۔ ہوسکتا ہے تم میں سے کئی تیروں
سے ماری جائیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی دشمن کے ہاتھ چڑھ جائے۔ یہ بھی سن لو کہ برچھی اور تلوار
کا زخم بہت گہرا اور بڑا ہی بھیانک ہوتاہے''۔
ایک لڑکی کی آواز بلند ہوئی۔ ''آپ تاریخ سے ڈرتے ہیں اور ہم بھی تاریخ سے ڈرتی ہیں۔ ہم واپس چلی گئیں تو تاریخ
کہے گی کہ قوم کی بیٹیوں نے صالح الدین ایوبی کو تنہا چھوڑ دیا ور گھروں میں بیٹھی رہی تھیں''۔
ایک اور لڑکی نے کہا۔ ''خدا صالح الدین کی تلوار میں اور زیادہ قوت دے۔ ہم حرموں کے لیے پیدا نہیں ہوئیں''۔
تیسری لڑکی نے کہا۔ ''تین چاند پہلے میرا بیاہ ہوا تھا۔ اگر آپ نے مجھے واپس بھیج دیا تو میں اپنے خاوند کو اپنے اوپر
حرام سمجھوں گی''۔
تمہارا خاوند خود کیوں نہیں آیا؟'' سلطان ایوبی نے پوچھا۔ ''اس نے اپنی دلہن کو کیوں بھیج دیا ہے''۔''
وہ آپ کی فوج میں ہے''۔ لڑکی نے جواب دیا۔''
پھر تمام لڑکیوں نے چالنا شروع کردیا۔ اس کے سوا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا کہ وہ اپنے جوش اور جذبے کا مظاہرہ کررہی ہیں۔
یہ شور ذرا تھما تو کسی لڑکی کی آواز سنائی دی… ''محترم سلطان! ہمیں لڑنے کا موقعہ دیں ہم آپ کو مایوس نہیں کریں
گی''۔
یہ بھول جائو کہ میں تمہیں لڑائی میں شریک ہونے دوں گا''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ ''تمہیں چھوٹے چھوٹے گروہوں میں''
تقسیم کردوں گا''۔
اس نے اسی روز لڑکیوں کو چار چار کی ٹولیں میں تقسیم کردیا۔ ہر ٹولی کے ساتھ ایک ایک رضاکار لگا دیا گیا۔
رضا کاروں کے متعلق کہا گیا تھا کہ انہیں جنگی ٹریننگ دی گئی ہے لیکن سلطان ایوبی نے انہیں زخمیوں کی مرہم پٹی کا
کام دیا کیونکہ وہ باقاعدہ فوج کے سپاہی نہیں تھے۔ انہیں فوج کے ساتھ مل کر لڑنے کا تجربہ نہیں تھا۔ لڑکیوں اور رضاکاروں
کی خیمہ گاہ قرون سے دور بنائی گئی۔ انہیں سپاہیوں کے حوالے کردیا گیا جو زخمیوں اور الشوں کو اٹھانے اور زخمیوں کی
مرہم پٹی کا کام کرتے تھے۔ ان سپاہیوں نے لڑکیوں اور رضاکاروں کو ٹریننگ دینی شروع کردی۔ فاطمہ ،منصورہ ،حمیرہ اور سحر
ایک ٹولی میں آگئیں۔ ان کا ایک ٹولی میں اکٹھا ہوجانا قدرتی امر تھا کیونکہ وہ اکٹھی دمشق پہنچیں اور ان کے دلوں میں
ایک ہی جیسی خواہش اور ولولہ تھا۔ ان کے ساتھ آذر بن عباس نام کا ایک رضاکار تھا۔ اس کا چھوٹا سا خیمہ الگ تھا اور
اس کے قریب ہی چاروں لڑکیوں کے لیے بڑا خیمہ نصب کیا گیا تھا۔ ان لڑکیوں میں خطیب کی بیٹی منصورہ ،جسمانی اور
دماغی لحاظ سے تیز اور ہوشیار تھی۔ شام سے کچھ دیر پہلے اس نے دیکھا کہ ان کا ساتھی رضاکار آذر ایک چٹان پر چڑھتا
جارہا ہے۔ وہ اوپر چال گیا ور ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ منصورہ بھی اوپر چلی گئی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ وادیوں میں اور
ڈھالنوں پر سپاہی نظر آرہے تھے۔ آذر نے منصورہ سے کہا۔ ''آئو آگے چلیں''۔ وہ اس کے ساتھ چلی گئی۔ آذر قدرتی مناظر
اور پہاڑی عالقے کی تعریفیں کرتا رہا۔
آذر خوبرو جوان تھا۔ اس کی باتوں میں زندہ دلی اور چاشنی تھی۔ اس نے منصورہ کے ساتھ بڑی شگفتہ سی باتیں شروع
کردیں۔ منصورہ نے بھی اس میں دلچسپی لینی شروع کردی۔ وہ سورج غروب ہونے سے ذرا پہلے واپس آئے۔ اتنے سے وقت
میں آذر منصورہ کے دل میں اتر چکا تھا۔ افطاری کے بعد لڑکیاں اپنے خیمے میں بیٹھی کھانا کھا رہی تھیں۔ فوج کے کسی
کمانڈر نے خیمے میں جھانک کر دیکھا اور لڑکیوں سے پوچھا کہ انہیں کوئی تکلیف تو نہیں؟ لڑکیوں نے آرام اور اطمینان کا
اظہار کیا تو کمانڈر خیمے سے ہٹ گیا۔ باہر آذر کھڑا تھا۔ اس نے کمانڈر کو باتوں میں لگا لیا۔ وہ بہت دیر باہر کھڑے باتیں
کرتے رہے۔ منصورہ ان کی باتیں سن رہی تھی۔ آذر نے کمانڈر سے پوچھا کہ اتنی تھوڑی فوج سے وہ تین فوجوں کا مقابلہ
کس طرح کریں گے۔
دشمن کے لیے پھندا تیار ہے''۔ کمانڈر نے کہا۔ ''جنگ اس میدان میں نہیں ہوگی جہاں دشمن کی توقع ہے ،ہم اسے ''
اس جگہ گھسیٹ الئیں گے جہاں ہم نے وسیع پیمانے پر گھات تیار رکھی ہوئی ہے''۔ اس کمانڈر نے آذر کی جذباتی اور
جوشیلی باتوں سے متاثر ہوکر تفصیل سے بتا دیا کہ سلطان ایوبی نے اپنی فوج کو کس طرح تقسیم کیا ہے اور وہ کیا کرے
گا۔ مصر کی کمک کے متعلق بھی تفصیل بتا دی۔
اسی رات کا واقعہ ہے۔ آدھی رات کے لگ بھگ منصورہ کی آنکھ کھل گئی۔ اسے آذر بن عباس کے خیمے سے باتیں سنائی
دیں۔ وہ سمجھی کہ آذر کا کوئی دوست ہوگا لیکن اسے یہ الفاظ سنائی دئیے۔ ''تم ابھی نکل جائو ،کچھ باتیں تم نے خود
معلوم کرلی ہیں۔ باقی میں نے بتا دی ہیں۔ میرے لیے یہاں سے نکلنا ممکن نہیں تھا۔ اچھا ہوا تم آگئے۔ اب راستہ سمجھ
لو''۔ اس آدمی نے آذر کو بتایا کہ وہ کس طرف سے نکلے۔ اسے سارا راستہ سمجھا کر کہا۔ ''تم پیدل جارہے ہو۔ پیدل
ہی جانا چاہیے۔ صبح سے پہلے پہنچ جائو گے۔ جلدی پہنچنے کی کوشش کرنا ،کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کل ہی اندھا دھند
حملہ کریں۔ پھندا تیار ہے اور مضبوط ہے۔ قرون کے اندر نہ آئیں۔ خدا حافظ!''۔
منصورہ کو اس آدمی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ وہ چال گیا تھا۔ منصورہ نے خیمے کا پردہ ذرا سا ہٹا کر باہر دیکھا۔ آذر
اپنے خیمے سے باہر کھڑا تھا۔ وہ ایک طرف چل پڑا۔ منصورہ نے اپنے خیمے کی کسی لڑکی کو جگائے بغیر اپنے سامان سے
خنجر نکاال ور باہر نکل گئی۔
٭ ٭ ٭
آسمان پر ہلکے ہلکے بادل تھے جن کی وجہ سے چاندی بہت ہی دھندلی تھی۔ منصورہ کو آذر سائے کی طرح نظر آرہا تھا۔
کچھ فاصلہ رکھ کر اور اوٹ میں ہو کر اس نے آذر کا تعاقب کیا۔ آذر ایک چٹان کے دامن میں ہوگیا اور چلتا گیا۔ منصورہ
بھی اسی راستے پر ہوگئی۔ راستے میں کوئی سنتری یا کوئی اور فوجی ادھر آتا جاتا نظر نہ آیا۔ اس لیے منصورہ سمجھ گئی
کہ لڑکیوں اور رضاکاروں کے خیمے اگلے مورچوں سے بہت پیچھے لگائے گئے ہیں اور اس سے پیچھے کوئی فوج نہیں۔ منصورہ
کو معلوم نہیں تھا۔ وہاں کئی جگہوں پر فوج موجود تھی لیکن جو آدمی آذر کے پاس آیا تھا وہ اسے ایسا راستہ بتا گیا تھا
جو اسے فوج کی نظر سے بچا سکتا تھا۔ وہ ایک کٹی ہوئی چٹان کے اندر چال گیا۔ منصورہ رکی ،ذرا دیر بعد وہ بھی چٹان
کے کٹائو میں داخل ہوگئی۔
آگے وادی تھی جس میں درخت بھی تھے۔ آذر کسی درخت کے پیچھے رک جاتا ،ادھر ادھر دیکھتا اور چل پڑتا۔ منصورہ کے
بھی چلنے ،رکنے اور چھپنے کا انداز یہی تھا۔ کچھ دور اونچی پہاڑی کا دامن آگیا۔ منصورہ بھی اس میں داخل ہوئی تو یخ
ہوا کے تیزوتند جھونکے نے اس کے پائوں اکھاڑ دئیے اور اس کا جسم سن ہونے لگا۔ آذر نے کسی شک کی بنا پر پیچھے
دیکھا اور رک گیا۔ منصورہ بڑے سے ایک پتھر کے پیچھے بیٹھ گئی۔ آذر آگے کو چل پڑا۔ منصورہ اٹھی اور جس طرف پہاڑی
کا سایہ تھا اس طرف ہوگئی۔
درے سے باہر نکلے تو کھال میدان تھا۔ آذر تیز چل پڑا۔ منصورہ نے بھی رفتار تیز کردی وہ عورت تھی ،بہت سا فاصلہ طے
کر چکی تھی۔ ٹھنڈ بھی تھی اور نیچے پتھر تھے۔ وہ تھک گئی یہ تو اس کا جذبہ تھا جو اسے تعاقب میں چالئے جارہا
تھا۔ اب وہ اس سوچ میں پڑ گئی کہ اس تعاقب میں انجام کیا ہوگا اگر آذر دوڑ پڑا تو وہ اس تک نہیں پہنچ سکے گی وہ
جس شک پر اس کے تعاقب میں گئی تھی وہ یقین میں بدل چکا تھا۔ آذر دشمن کی طرف جارہا تھا۔ منصورہ نے تعاقب کا
یہ پہلو تو سوچا ہی نہیں تھا کہ اسے پکڑے یا پکڑوائے گی کیسے۔ اب تو وہ بہت تیز چل پڑا تھا اگر اسے پکڑنا ہی تھا تو
یہ دوبدو مقابلہ تھا۔ منصورہ کے پاس خنجر تھا۔ اس نے خنجر زنی کی تربیت موصل میں اپنے باپ سے لی تھی لیکن وہ
صرف تربیت تھی۔ دشمن سے کبھی مقابلہ نہیں ہوا تھا۔ یہ دشمن تنو مند مرد تھا۔ کیا منصورہ اسے زیر کرکے پکڑ سکے
گی؟
وہ سوچتی گئی اور تیز چلتی گئی۔ آذر اچانک رک گیا اور اس نے پیچھے دیکھا۔ منصورہ کے قریب ایک درخت تھا وہ پھرتی
سے درخت کی اوٹ میں ہوگئی۔ درخت کے ساتھ جگہ ذرا بلند تھی اور وہاں پتھر تھے۔ منصورہ کا پائوں پتھروں پر پھسال اور
وہ گر پڑی۔ رات کے سکوت میں پتھروں کی آواز بہت اونچی سنائی دی۔ آذر پیچھے کو آیا۔ منصورہ نے اسے آتے دیکھ لیا۔
وہ اٹھی نہیں ،درخت کے پیچھے بیٹھ گئی اور آذر کو دیکھتی رہی۔ اس نے خنجر نکال لیا۔ آذر درخت کے بالکل قریب آگیا
تو منصورہ نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی۔ آذر درخت سے ذرا آگے ہوا تو منصورہ نے اس کے پائوں پر جھپٹا
مارا اور اس کے دونوں ٹخنے پکڑ لیے۔ وہ اب پیٹ کے بل تھی۔ اس نے پوری طاقت سے آذر کے ٹخنے پیچھے کو کھینچے۔
وہ منہ کے بل گرا۔ دوسرے لمحے منصورہ اس کے پیٹ پر گھٹنے رکھ چکی تھی اور اس کے خنجر کی نوک آذر کی گردن پر
تھی۔ یہ عمل دو تین سیکنڈ میں مکمل ہوگیا۔
ایک لڑکی ایک ہٹے کٹے جوان کو اپنے گھٹنوں اور جسم کے تمام تر وزن سے بے بس نہیں کرسکتی تھی لیکن گردن پر
خنجر کی نوک نے آذر کو حرکت نہ کرنے دی۔ اس کی تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر پرے جا پڑی تھی۔
کون ہو تم؟'' آذر نے پیٹ کے بل بے بس پڑے ہوئے پوچھا۔''
جس کے ہاتھ سے تم بچ کر نہیں جاسکو گے''۔ منصورہ نے جواب دیا۔''
''تم عورت ہو؟''
ہاں!'' منصورہ نے جواب دیا۔ ''میں عورت ہوں جسے تم اچھی طرح جانتے ہو۔میرا نام منصورہ ہے''۔''
اوہ ،پاگل لڑکی!'' آذر نے ہنس کر کہا۔ ''تم نے کیا مذاق کیا ہے؟ میں تو ڈر ہی گیا تھا۔ ہٹو ،اترو ،اپنا خنجر ہٹا لو'' ،
میری کھال میں اتر رہا ہے''۔
''یہ مذاق نہیں آذر… تم کہاں جارہے ہو؟''
خدا کی قسم میں کسی اور لڑکی کے پیچھے تو نہیں جارہا''۔ آذر نے دوستانہ لہجے میں کہا۔ ''تم سے زیادہ اچھی کوئی''
لڑکی ہے ہی نہیں۔ میں تمہیں دھوکہ تو نہیں دے رہا''۔
مجھے نہیں تم میری قوم کو دھوکہ دینے جارہے تھے''۔ منصورہ نے کہا۔ ''تم مجھے سب سے زیادہ اچھی لڑکی ''
سمجھتے تھے اور میں نے تمہیں سب سے زیادہ اچھا مرد سمجھا تھا مگر اب نہ میں تمہارے لیے اچھی ہوں ،نہ تم میرے
لیے اچھے ہو۔ فرض نے جذبات پر مہر ثبت کردی ہے۔ تم اپنا فرض ادا کرنے چلے تھے ،میں اپنا فرض ادا کررہی ہوں۔ اگر
تم میرے خاوند ہوتے ،میرے جسم اور روح کے مالک اور میرے بچوں کے باپ ہوتے تو بھی میرا خنجر تمہاری گردن پر
ہوتا''۔
تم نے مجھے کیا سمجھ کر گرالیا ہے؟'' آذر نے کہا۔''
نام کا مسلمان اور صلیبیوں کا جاسوس''۔ منصورہ نے کہا۔ ''تم صلیبیوں کے دوستوں کو بتانے جارہے ہو کہ احتیاط سے ''
حملہ کرنا اور قرون کے اندر نہ آنا''۔
تم گنوار لڑکی کیا جانو جاسوس کسے کہتے ہیں''… آذر نے کہا۔ ''میں دشمن کو دیکھنے جارہا تھا''۔''
میں جانتی ہوں جاسوس کیسے ہوتے ہیں''۔ منصورہ نے کہا۔ ''میں بہت بڑے جاسوس کی بیٹی ہوں۔ ابن المخدوم ککبوری''
کا نام کبھی سنا ہے؟ وہ موصل کے خطیب تھے۔ میں ان کے گروہ کی جاسوس ہوں۔ میں نے اپنے باپ کو موصل کے قید
خانے کے تہہ خانے سے نکلوا کر فرار کرایا اور خود ان کے ساتھ موصل سے فرار ہوکر آئی ہوں۔ تم اناڑی جاسوس ہو۔ تجربہ
کار جاسوس دور جا کر باتیں کیا کرتے ہیں۔کسی کے خیمے کے پاس کھڑے ہوکر راز کی باتیں نہیں کیا کرتے۔ تم رضا کار بن
''کر آئے تھے۔ یہاں کیا کررہے ہو؟
میرے اوپر سے اٹھو''… آذر نے کہا۔ ''خنجر ہٹائو ،میں ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں''۔''
تمہاری زبان آزاد ہے''… منصورہ نے کہا۔ ''کہو ضروری بات کہو ،میں سن رہی ہوں''۔''
آذر خاموش ہو گیا۔ اس کا جسم بے حس ہوگیا۔ اس نے ماتھا زمین سے لگا دیا۔ منصورہ کے سامنے اب یہ مسئلہ آگیا کہ
اسے باندھے کیسے اور وہاں سے کس طرح لے جائے اگر اسے قتل کرنا ہوتا تو اس کے لیے مشکل نہیں تھا۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:17
قسط نمبر۔90
گناہوں کا کفارہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
منصورہ کے سامنے اب یہ مسئلہ آگیا کہ اسے باندھے کیسے اور وہاں سے کس طرح لے جائے اگر اسے قتل کرنا ہوتا تو اس
کے لیے مشکل نہیں تھا۔ وہ اسے زندہ ایوبی کے پاس لے جانا چاہتی تھی چونکہ وہ خود جاسوسوں کے گروہ کے ساتھ رہ
چکی تھی ،اس لیے جانتی تھی کہ جاسوسوں کو زندہ پکڑا جاتا ہے۔ اسے یہ خیال آیا کہ ارد گرد کہیں اپنے سپاہی ہوں گے۔
اس نے بڑی ہی بلند آواز سے کہا۔ ''کوئی ہے تو پہنچو۔ آئو ،آئو ،آئو''۔ پھر اس نے کہا۔ ''آہو ،ہاآہو''۔ کی آوازیں بلند
کیں۔
آذر جو بے حس ہوگیا تھا اچانک اتنی زور سے اچھال کہ منصورہ جو اس کے پیٹ پر گھٹنے دبا کر بیٹھی ہوئی تھی ،لڑھک
کر ایک طرف جا پڑی۔ آذر تلوار کی طرف لپکا۔ منصورہ نے بجلی کی تیزی سے اٹھ کر آذر کو پیچھے سے اتنی زور سے
دھکا دیا کہ وہ آگے کو گرا۔ منصورہ نے تلوار اٹھا لی۔ آذر دوڑ پڑا۔ اس کے لیے مقابلہ کرنے کے بجائے نکل بھاگنا زیادہ
ضروری تھا۔منصورہ شور مچاتی اس کے پیچھے دوڑی۔ اس کے پائوں میں بال کی تیزی آگئی تھی۔ دور کہیں گشتی سنتری
گشت کررہے تھے۔ انہیں منصورہ کا واویال سنائی دیا تو دوڑے آئے۔ آگے ندی تھی۔ آذر کو رکنا پڑا ،منصورہ پہنچ گئی اور دونوں
سنتری بھی پہنچ گئے۔ آذر نے ندی میں چھالنگ لگا دی۔ منصورہ چالئی۔ ''جانے نہ دینا جاسوس ہے۔ زندہ پکڑو''۔
سنتری بھی ندی میں کود گئے اور آذر کو پکڑا گیا۔ اسے باہر الئے لیکن ایک لڑکی کو دیکھ کر وہ غلط فہمی میں مبتال
ہوگئے۔ وہ سمجھے کہ یہ کوئی اور گڑبڑ ہے۔ ان کے پوچھنے پر منصورہ نے انہیں بتایا کہ وہ کون ہے اور محاذ پر کس طرح
پہنچی اور یہ آدمی رضاکار بن کے آیا ہے لیکن مشتبہ ہے۔ اسے سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس لے چلو۔
سنو میرے دوستو!'' آذر نے سنتریوں سے کہا۔ ''تمہیں یہاں کیا ملتا ہے؟ چند سکوں اور دو وقت کی روٹی کی خاطر ''
مرنے آئے ہو۔ میرے ساتھ چلو ،شہزادے بنا دوں گا۔ اس جیسی لڑکیوں کے ساتھ شادی کرائوں گا۔ دولت سے ماال مال کردوں
گا''۔
ہم تمہارے ساتھ چلے چلیں گے''… ایک سنتری نے کہا۔ ''پہلے تم ہمارے ساتھ چلو۔ تم بھی چلو لڑکی… وہاں جاکر ''
دیکھیں گے کہ یہ جاسوس ہے یا تم بھی جاسوس ہو یا دونوں ادھر بدمعاشی کے لیے آئے تھے''۔
٭ ٭ ٭
سلطان ایوبی کے خیمے سے تھوڑی ہی دور حسن بن عبداللہ کا خیمہ تھا۔ سنتری آذر اور منصورہ کو اپنے کمانڈر کے پاس لے
گئے۔ کمانڈر انہیں حسن بن عبداللہ کے پاس لے گیا۔ اسے جگایا اور آذر کو اس کے حوالے کردیا۔ منصورہ نے حسن بن
عبداللہ کو تمام تر واردات سنائی۔ تعاقب کی تفصیل بھی سنائی۔ حسن بن عبداللہ نے منصورہ کو غور سے دیکھ کر پوچھا۔
'' تمہارا چہرہ میرے لیے اجنبی نہیں ،تم شاید موصل سے فرار ہوکر آئی تھیں۔ تمہارے ساتھ موصل کے خطیب ابن المخدوم
بھی تھے''۔
میں ان کی بیٹی ہوں''۔ منصورہ نے کہا۔''
تم نے میری حیرت ختم کردی ہے''۔ حسن بن عبداللہ نے کہا۔ ''ہماری لڑکیاں تم سے زیادہ دلیر ہوسکتی ہیں لیکن یہ ''
ذہانت کم ہی پائی جاتی ہے جس کا مظاہرہ تم نے کیا ہے''۔
مجھے محترم والد نے تربیت دی ہے''۔ منصورہ نے کہا۔ ''میرے کانوں میں صرف دو جملے پڑے اور میں سمجھ گئی کہ''
یہ معاملہ کیا ہے''۔
آذر کی جامہ تالشی لی گئی۔ اس سے کاغذ برآمد ہوئے۔ ان پر نشان لگے ہوئے تھے جو سلطان ایوبی کی فوج کی پوزیشنیں
ظاہر کرتے تھے۔ کاغذوں پر ٹیڑھی ٹیڑھی لکیریں تھیں۔ یہ قرون حماة کا خاکہ تھا۔ صاف معلوم ہوتا تھا کہ سلطان ایوبی کا
مکمل دفاعی پالن دشمن کے پاس جارہا تھا۔
آذر بھائی!'' حسن بن عبداللہ نے آذر کو کاغذات دکھاتے ہوئے کہا۔ ''ان کے بعد کسی شک کی گنجائش رہ گئی ہے تو''
''بتا دو پھر میں تمہیں آزاد کردوں گا۔ اگر بے گناہ ہو تو بولو۔ مجھے یقین دالئو… تم مسلمان ہو؟
خدائے ذوالجالل کی قسم!''۔''
حسن بن عبداللہ نے اس کے منہ پر سیدھا گھونسا اس قدر زور سے مارا کہ آذر کئی قدم پیچھے پیٹھ کے بل گرا۔ حسن نے
دھیمی مگر قہر آلود آواز میں کہا۔ ''جاسوسی کافروں کی کرتے ہو اور قسم ہمارے خدا کی کھاتے ہو۔ میں تم سے یہ نہیں
پوچھ رہا کہ تم جاسوس ہو یا نہیں۔ میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ یہاں تمہارے جتنے ساتھی ہیں ،ان کے نام بتا دو اور بتائو کہ
وہ کہاں کہاں ہیں''۔
میں مسلمان ہوں''… آذر نے التجا کی۔ ''سب کچھ بتا دوں گا ،مجھے بخش دو۔ میں اگلی صف میں لڑوں گا''۔''
پہلے میرے سوال کا جواب دو''… حسن بن عبداللہ نے کہا۔ ''اب تم مجھ پر اپنی کوئی شرط نہیں ٹھونس سکتے''۔''
وہ ہٹ کا پکا معلوم ہوتا تھا۔ بوال۔ ''میں اکیال ہوں''۔
''اس لڑکی نے تمہارے خیمے میں جس دوسرے آدمی کی باتیں سنی تھیں وہ کون تھا؟''
میں نے اسے پہچانا نہیں تھا''… آذر نے جواب دیا۔ ''وہ اندھیرے میں آیا اور اندھیرے میں چال گیا تھا''۔''
حسن بن عبداللہ نے اپنے دو آدمیوں کو بالیا اور کہا… ''اسے لے جائو اور پوچھو کہ اس کے ساتھ کون ہیں اور کہاں
ہیں''… اس نے منصورہ سے کہا۔ ''تم جاکر سو جائو۔ فجر کی نماز کے بعد تمہیں بالئیں گے''۔
٭ ٭ ٭
سلطان ایوبی جب فجر کی نماز پڑھ کر آیا تو حسن بن عبداللہ اس کے ساتھ تھا۔ اس نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ خطیب
ابن المخدوم کی بیٹی نے رات ایک جاسوس پکڑا ہے۔ اس نے سارا واقعہ سنایا تو سلطان ایوبی نے کہا۔ ''اسالم کی بیٹیوں
کا یہی کردار تھا۔ اگر ہم نے اپنے کلمہ گو دشمنوں کو خون سے لکھا ہوا سبق نہ پڑھایا تو وہ قوم کی بیٹیوں کا کردار ختم
''کردیں گے… وہ جاسوس کہاں ہے؟
ابھی آپ اسے نہ دیکھیں''… حسن بن عبداللہ نے کہا۔ ''میں اس کا سینہ خالی کرلوں تو اسے آپ کے پاس لے آئوں ''
گا۔ خوبرو جوان ہے ،اپنے آپ کو دمشق کا باشندہ کہتا ہے۔ یہاں رضاکار بن کے آیا تھا''۔
اس وقت آذر ایک درخت کے ٹہنے کے ساتھ الٹا لٹکا ہوا تھا۔ اس کا سر زمین پر گز ڈیڑھ گز اوپر تھا نیچے انگارے دہک
رہے تھے۔ ایک سپاہی تھوڑی تھوڑی دیر بعد آگ میں کچھ پھینکتا تھا جس کے دھوئیں سے آذر تڑپتا اور کھانستا تھا۔ حسن
بن عبداللہ نے اسے نیچے اتروایا۔ اس کی آنکھیں سوج گئی تھیں۔ سارا خون چہرے پر آگیا تھا۔ وہ کھڑا نہ رہ سکا۔ تھوڑی
دیر غشی کی حالت میں زمین پر پڑا رہا۔ اس کے منہ میں پانی ٹپکایا گیا۔ اس نے آنکھیں کھولیں تو حسن بن عبداللہ نے
کہا۔ ''یہ بسم اللہ ہے ،نہیں بولو گے تو تمہارا ایک ایک جوڑ الگ کیا جائے گا''۔
اس نے پانی مانگا۔ حسن بن عبداللہ نے کہا۔ ''دودھ پالئوں گا ،میرے سوال کا جواب دو''۔ اور اس نے ایک سپاہی سے
کہا۔ '' دودھ لے آئو ،ایک گھوڑا اور ایک رسہ بھی لے آئو۔ رسہ اس کے پائوں کے ساتھ باندھ کر گھوڑے کے ساتھ باندھ
دو''۔
آذر نے دو نام بتا دئیے۔ یہ دونوں رضاکار تھے۔ ان میں رات واال آدمی بھی تھا۔ اس نے دمشق کے اڈے کی بھی نشان دہی
کردی۔ حسن بن عبداللہ نے اسی وقت دونوں رضاکاروں کو پکڑنے کا حکم دے دیا اور آذر کو سلطان ایوبی کے پاس لے گیا۔
کہاں کے رہنے والے ہو؟'' سلطان ایوبی نے پوچھا۔''
دمشق کا''۔''
''کس کے بیٹے ہو؟''
آذر نے ایک جاگیر دار کا نام بتایا۔
''میں شاید اسے جانتا ہوں''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ ''وہ دمشق میں ہے؟''
جب الملک الصالح کی فوج دمشق سے بھاگی تھی تو وہ بھی حلب چال گیا تھا''۔''
اور تمہیں جاسوسی کے لیے پیچھے چھوڑ گیا تھا''… سلطان ایوبی نے کہا۔''
میں خود ہی دمشق میں رہ گیا تھا''۔ آذر نے کہا۔ ''میرے باپ نے ایک آدمی کے ہاتھ حلب سے پیغام بھیجا تھا کہ ''
میں جاسوسی کروں۔ مجھے پوری ہدایات ملی تھیں''۔ اس نے ہاتھ جوڑ کر سلطان ایوبی سے التجا کی۔ ''میں مسلمان ہوں،
مجھے باپ نے گمراہ کیا تھا۔ مجھے اپنے ساتھ رکھ لیں۔ میں اس گناہ کا کفارہ ادا کروں گا''۔
اللہ تمہارے گناہ معاف کرے''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ ''میں اللہ کے قانون میں دخل نہیں دے سکتا۔ میں صرف یہ ''
دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کون سا مسلمان مرد ہے جس کے ہاتھ سے ایک عورت نے تلوار گرائی اور اسے پکڑ لیا ہے… تم نے
''یہاں کیا کیا دیکھا ہے؟
میں نے یہاں بہت کچھ دیکھ لیا تھا''… آذر نے کہا۔ ''باقی معلومات میرے ان دو ساتھیوں نے دی تھیں جو یہاں پہلے ''
سے موجود تھے۔ مجھے کہا گیا تھا کہ یہ دیکھوں کہ منجنیقیں اور تیر انداز کہاں ہیں۔ میں نے یہ دیکھ لیے تھے''۔
تم سے پہلے تمہارا کوئی ساتھی یہ معلومات لے کر یہاں سے گیا ہے؟''… سلطان ایوبی نے پوچھا۔''
نہیں''… آذر نے جواب دیا۔ ''ہم تینوں کے سوا یہاں اور کوئی نہیں''۔''
تمہیں احساس ہے کہ تم کتنے خوبرو اور وجیہہ جوان ہو؟'' سلطان ایوبی نے پوچھا۔ ''اور کیا تم جانتے ہو کہ ایک لڑکی''
''نے تمہیں کس طرح گرا لیا تھا؟
اگر وہ پیچھے سے میرے دونوں ٹخنے نہ پکڑ لیتی تو میں نہ گرتا''۔''
تم پھر بھی گر پڑتے''… سلطان ایوبی نے کہا۔ ''جن کا ایمان فروخت ہوچکا ہوتا ہے وہ بڑی آسانی سے گرا کرتے ہیں ''
اور وہ تمہاری طرح منہ کے بل گرا کرتے ہیں۔ تم حق والوں اور ایمان والوں کے ساتھ ہوتے تو دس کافر مل کر بھی تمہیں
نہ گراسکتے۔ اصل قوت بازو اور تلوار کی نہیں ایمان کی ہوتی ہے''۔
مجھے ایک موقع دیں''۔ آذر نے کہا۔''
اس کا فیصلہ دمشق کا قاضی کرے گا''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ ''میں تمہارے ساتھ یہ باتیں اس لیے کررہا ہوں کہ تم ''
مسلمان کے بیٹے ہو۔ تمہیں ہمارے ساتھ ہونا چاہیے تھا مگر تم ادھر چلے گئے۔ میں جانتا ہوں دمشق کی دو چار لڑکیاں
تمہاری محبت کا دم بھرتی ہوں گی۔ چہرے اور جسم کے لحاظ سے تم اس قابل ہو کہ لڑکیاں تمہیں پسند کریں لیکن اب وہ
لڑکیاں تمہارے منہ پر تھوکیں گی۔ خدا نے بھی تم سے نظریں پھیر لی ہیں… میں کچھ کہہ نہیں سکتا کہ دمشق کے محترم
قاضی تمہیں کیا سزا دیں گے اگر وہ سزائے موت دیں تو جتنی دیر زندہ رہو اللہ سے گناہوں کی بخشش مانگتے رہنا۔ کم از
کم مرنے سے پہلے مسلمان ہوجانا''۔
میرے باپ کو کون سزا دے گا؟''… آذر نے غصے سے کہا۔ ''اس گناہ کی ترغیب مجھے باپ نے دی تھی۔ اسی نے ''
میرے دل میں دولت کا اللچ ڈاال تھا۔ اسی نے میرے دل سے ایمان نکاال تھا''۔
اللہ کا قانون اسے نہیں بخشے گا'' سلطان ایوبی نے کہا۔ ''دولت کا نشہ عارضی ہوتا ہے۔ ایمان کی قوت مرکر بھی ''
ختم نہیں ہوتی''۔
میری ایک عرض سن لیں'' ۔ آذر نے کہا۔ ''میرا باپ کوئی دولت مند انسان نہیں تھا۔ دولت کا پرستار تھا۔ میری دو ''
بہنیں جوان ہوئیں تو اس نے دونوں کو دو امراء کے حوالے کردیا اور دربار میں جگہ حاصل کرلی۔ اس نے اپنی بیٹیوں کی
بہت زیادہ قیمت وصول کی۔ پھر وہ مخبری اور غیبت کرنے لگا۔ مجھے بھی اسی نے اسی کام پر لگا لیا اور میرے دل میں
دولت کا اللچ پیدا کردیا۔ نورالدین زنگی کی وفات کے بعد میرے باپ نے اور زیادہ اونچی حیثیت حاصل کرلی۔ وہ اب تجربہ
کار سازشی اور جوڑتوڑ کا ماہر ہوگیا تھا۔ اس وقت تک وہ خاصی جاگیر حاصل کرچکا تھا۔ آپ کی فوج آئی تو الملک الصالح
اور اس کے درباری امراء اور جاگیردار دمشق سے بھاگ گئے۔ ان میں میرا باپ بھی تھا۔ میں کسی ارادے کے بغیر ہی دمشق
میں رہ گیا تھا۔ کچھ دنوں بعد حلب سے ایک آدمی آیا۔ وہ میرے باپ کا یہ پیغام الیا کہ میں جاسوسی کا کام شروع
کردوں۔ وہ آدمی مجھے دمشق میں ہی اس اڈے پر لے گیا جس کی میں نے نشاندہی کی ہے۔ وہاں مجھے بہت سی رقم دی
گئی اور دو تین دنوں میں بتا دیا گیا کہ مجھے کیا کرنا اور کس طرح کرنا ہے۔ میں اس گروہ میں شامل ہوگیا۔ خوب عیش
وعشرت کی۔ ایک روز ہمارے سرغنہ نے ہمیں کہا کہ محاذ پر رضاکار جارہے ہیں ،تین چار آدمی ان میں شامل ہوجائو۔ ہم
تین آدمی شامل ہوگئے۔ دو پہلے ہی یہاں آگئے تھے پھر مجھے حکم مال کہ میں بھی یہاں آئوں اور آپ کی فوج کی ساری
کیفیت دیکھ کر تمام معلومات مشترکہ کمان تک پہنچائوں۔ میں آگیا۔ میرے ساتھی یہاں کا نقشہ تیار کرچکے تھے۔ انہوں نے
یہ بھی معلوم کرلیا تھا کہ آپ اپنے دشمن کی فوج کو اس جگہ ال کر لڑانا چاہتے ہیں جو چٹانوں میں گھری ہوئی ہے۔ میں
نے چٹانوں پر چھپے ہوئے آپ کے تیرانداز اور منجنیقیں بھی دیکھ لی تھیں''۔
اس کے آنسو بہنے لگے۔ اس نے کہا۔ ''میں پکڑا گیا ہوں تو محسوس کیا ہے کہ میں گناہ کررہا تھا۔ آپ کی باتوں نے
میرے اندر ایمان کی حرارت بیدار کردی ہے اگر میرا باپ اپنی بیٹیوں کو بیچ کر دولت مند نہ بنتا تو میرا ایمان قائم رہتا۔ یہ
گناہ میرے باپ کا ہے۔ سلطان! آپ کا اقبال بلند ہو۔ مجھے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کا موقعہ دو''۔
سلطان ایوبی نے حسن بن عبداللہ کو اشارہ کیا تو آذر کو خیمے سے باہر لے گئے۔
٭ ٭ ٭
اسی روز آذر کو دمشق کو روانہ کردیا گیا۔ اس کے ساتھ دو محافظ تھے۔ تینوں گھوڑوں پر سوار تھے۔ آذر کے ہاتھ رسی سے
بندھے ہوئے تھے۔ سورج غروب ہونے سے ذرا پہلے وہ آدھ راستہ طے کرچکے تھے۔ رات کے لیے رکنا تھا۔ راستے میں دونوں
محافظ اس سے سنتے رہے تھے کہ اس کا جرم کیا ہے۔ آذر نے ان کے ساتھ جذباتی سی باتیں کرکے انہیں متاثر کرلیا تھا۔
شام کے وقت آذر نے انہیں کہا کہ تھوڑی سی دیر کے لیے وہ اس کے ہاتھ کھول دیں۔ محافظوں نے اس خیال سے اس کے
ہاتھ کھول دئیے کہ یہ نہتا ہے ،بھاگ کر کہاں جائے گا۔ انہوں نے دوسری احتیاط یہ کی کہ اسے گھوڑے سے اتار لیا۔ وہ
پیدل تو بھاگ نہیں سکتا تھا۔ وہ بیٹھ گئے اور ان کے پاس کھانے کے لیے جو کچھ تھا کھانے لگے۔
آذر نے موقع دیکھ لیا ور اچانک اٹھ کر بہت ہی تیزی سے دوڑا۔ گھوڑے قریب ہی کھڑے تھے۔ آذر ایک ثانیے میں گھوڑے پر
سوار ہوگیا۔ محافظ پہنچ تو گئے لیکن آذر نے گھوڑے کو ایڑی لگا کر رخ ان کی طرف کردیا۔ وہ دونوں ادھر ادھر ہوگئے اور
اپنے گھوڑوں تک بروقت نہ پہنچ سکے۔ جتنی دیر میں وہ گھوڑوں پر سوار ہوئے اتنی دیر میں آذر بہت سا فاصلہ حاصل
کرچکا تھا۔ محافظوں نے گھوڑے بھگائے لیکن اب تعاقب بے سود تھا۔ شام گہری ہونے لگی تھی۔ زمین اونچی نیچی تھی۔
کہیں کہیں ٹیلے اور چٹانیں بھی تھیں۔ محافظ دور تک گئے مگر آذر غائب ہوچکاتھا۔
دوسرے دن دونوں محافظ سرجھکائے ہوئے ،شکست خوردہ اور بری طرح تھکے ہوئے حسن بن عبداللہ کے پاس پہنچے۔ ایک نے
کہا۔ ''ہمیں گرفتار کرلیں۔ قیدی بھاگ گیا ہے''۔ انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ قیدی کے کہنے پر انہوں نے اس کے ہاتھ
کھول دئیے تھے۔ حسن بن عبداللہ نے انہیں حراست میں لے لیا لیکن گھبراہٹ سے اس کا پسینہ نکل آیا کیونکہ آذر معمولی
قسم کا قیدی نہیں تھا۔ وہ سلطان ایوبی کا سارا پالن اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ فتح وشکست کا دارومدار اس پالن پر تھا۔ حسن
بن عبداللہ سلطان ایوبی کو بتانے سے ڈر رہا تھا کہ پکڑا ہوا جاسوس ہاتھ سے نکل گیا ہے اور اپنے سارے منصوبے بیکار
ہوگئے ہیں۔ چھپانا بھی ٹھیک نہیں تھا۔
سلطان ایوبی کو جب حسن بن عبداللہ نے بتایا کہ قیدی بھاگ گیا ہے تو سلطان کے چہرے کا رنگ بدل گیا کتنی ہی دیر
اس کی زبان سے ایک لفظ نہ نکال۔ سلطان اٹھ کر خیمے میں ٹہلنے لگا۔ اس دور کا ایک واقعہ نگار اسد االسدی لکھتا ہے۔
صالح الدین ایوبی انتہائی خطرناک صورتحال میں بھی نہیں گھبراتا تھا لیکن اس جاسوس کے بھاگ جانے کی خبر سن کر اس
کے چہرے سے خون غائب اور آنکھیں بے نور ہوگئیں… خیمے میں ٹہلتے ٹہلتے ہوا رک گیا اور آسمان کی طرف دیکھ کر بوال۔
''خدائے ذوالجالل! کیا یہ اشارہ ہے کہ میں یہاں سے واپس چال جائوں؟ کیا تیری ذات باری نے میرے گناہ بخشے نہیں؟
میں نے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے تھے ،کبھی پسپا نہیں ہوا تھا'' پھر اس کی آواز رندھیا گئی۔ اسے شاید غیب کا کوئی اشارہ
مل جایا کرتا تھا جو اس موقعہ پر بھی مال۔ اس نے حسن بن عبداللہ سے کہا ان دونوں سپاہیوں کو زیادہ سزا نہ دینا۔ سزا
سے بچنے کے لیے وہ مفرور ہوسکتے تھے لیکن وہ تمہارے پاس آگئے۔ انہیں غلطی کی سزا ضرور دینا ،نیک نیتی اور سچ
بولنے کا صلہ بھی ضرور دینا… ساالروں کو بالئو اس کے چہرے پر رونق اور آنکھوں میں چمک عود کر آئی''۔
تین ساالر آگئے۔ سلطان ایوبی نے ان سے کہا۔ ''وہ جاسوس بھاگ گیا ہے جس کے پاس دفاعی منصوبہ تھا۔ اس نے جو
نقشے بنائے تھے وہ ہمارے پاس رہ گئے ہیں۔ اس نے اپنی آنکھوں سے بہت کچھ دیکھ لیا تھا اور اسے یہ بھی معلوم ہوگیا
تھا کہ ہم دشمن کو کہاں الکر لڑانا چاہتے ہیں۔ بھاگنے والے کے دو ساتھی ابھی ہمارے پاس ہیں۔ حسن بن عبداللہ انہیں
ابھی یہیں رکھنا چاہتا تھا۔ اب ہمارے لیے صورت یہ پیدا ہوگئی ہے کہ ہم نے دشمن کے لیے جو پھندا تیار کیا تھا ،وہ بیکار
ہوگیا ہے۔ وہ اب قرون کے اندر نہیں آئے گا۔ ہوسکتا ہے وہ ہمیں محاصرے میں لے لیں اور ہماری رسد کا راستہ روک لے۔
مجھے مشورہ دو کہ ہم اپنا منصوبہ بدل دیں یا اسی پر قائم رہیں''۔
تینوں ساالروں نے اپنے اپنے مشورے دئیے جو ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ صرف اس بات پر تینوں متفق تھے کہ پالن بدل
دیا جائے… سلطان ایوبی نے اتفاق نہ کیا اور کہا کہ پالن بدلنے کے لیے وقت چاہیے۔ خطرہ یہ ہے کہ اس دوران دشمن نے
لہذا یہ فیصلہ ہوا کہ پالن میں
حملہ کردیا تو ہمارے لیے مشکل پیدا ہوجائے گی۔ کھلی جنگ لڑنے کے لیے فوج کم تھی۔ ٰ
کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔ اس کے بجائے چھاپہ ماروں کو حکم دیا گیا کہ وہ وسیع پیمانے پر شب خون ماریں اور وہ دشمن
کی مشترکہ کمان کے مرکز اور تینوں فوجوں کے مراکز پر زیادہ شب خون ماریں۔ رسد کے راستے کو اور زیادہ محفوظ کرلیا
جائے۔ اس نے چھاپہ ماروں کے ساالر سے کہا کہ وہ اپنے اس دستے کو لے آئے جسے مٹکے توڑنے کا کام سونپا گیا ہے۔
ساالر نئے احکام لے کر چلے گئے۔ سلطان ایوبی نے یہ احکام خوداعتمادی سے دئیے تھے لیکن وہ بہت پریشان تھا۔ اسے پورا
یقین تھا کہ بھاگنے والے جاسوس نے اس کا سارا پالن تباہ کردیا ہے اور اب معلوم نہیں کیا ہوگا۔
کچھ دیر بعد بارہ چھاپہ ماروں کا ایک جیش اس کے سامنے الیا گیا۔ صلیبیوں نے حلب والوں کو آتش گیر مادے کے جو مٹکے
بھیجے تھے وہ میدان جنگ میں الئے گئے تھے۔ سلطان ایوبی کے جاسوسوں نے یہ ذخیرہ دیکھ لیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ
جب دشمن حملہ کرے تو یہ ذخیرہ تباہ کردیا جائے۔ اس کے لیے بارہ جانباز اور جنونی قسم کے چھاپہ مار منتخب کیے گئے
اور انہیں سلطان ایوبی کے سامنے الیا گیا۔ اس نے دیکھا اور ایک چھاپہ مار کو دیکھ کر مسکرایا۔ بوال ''انطانون! تم اس
''جیش میں آگئے ہو؟
مجھے اس جیش میں آنا چاہیے تھا''۔ انطانون نے کہا۔ ''میں نے آپ سے کہا تھا کہ میں اپنے گناہ کا کفارہ ادا کروں ''
گا''۔
میرے عزیز دوستو!'' سلطان ایوبی نے چھاپہ ماروں سے کہا۔ ''تم نے کہاں کہاں قربانیاں نہیں دیں لیکن اب مذہب اور ''
ملت کی آبرو تم سے بہت بڑی قربانی مانگ رہی ہے۔ تم جنگ کا پانسہ پلٹ سکتے ہو۔ تمہیں ہدف بتا دیا گیا ہے۔ اگر تم
نے اسے تباہ کردیا تو آنے والی نسلیں بھی تمہیں یاد رکھیں گی۔ تم دیکھ رہے ہو کہ اپنی فوج تھوڑی ہے اور دشمن کے تین
لشکر ہیں۔ ان سے اپنی فوج کو تم بچا سکتے ہو''۔
ہم مذہب اور ملت کو مایوس نہیں کریں گے''۔ چھاپہ ماروں کے کمانڈر نے کہا۔''
انہیں چند اور ہدایات دے کر رخصت کردیا گیا۔ اگلی صبح ایک سوار سرپٹ گھوڑا دوڑاتا آیا۔ سلطان ایوبی ابھی اپنے خیمے
میں تھا۔ سوار نے اطالع دی کہ دشمن آرہا ہے۔ فاصلہ ایک میل رہ گیا تھا۔ رخ قرون کی طرف تھا۔ اتنے میں ایک اور سوار
آگیا۔ اس نے اطالع دی کہ دائیں طرف سے بھی دشمن کی فوج آرہی ہے۔ اس فوج کے رخ سے سلطان ایوبی نے اندازہ لگایا
کہ دائیں پہلو پر آرہی ہے۔ اس پہلو کے متعلق سلطان ایوبی پریشان تھا۔ وہ اب اور زیادہ پریشان ہوگیا۔ اس کے اعصاب پر
آذر جاسوس سوار تھا جو نہایت قیمتی راز لے کر چال گیا تھا۔ اس نے اندازہ لگایا کہ یہ جاسوس گزشتہ رات پہنچا ہوگا اور
اس کی معلومات پر دشمن نے حملہ کردیا ہے۔ سلطان ایوبی نے تیاری کا حکم دے دیا۔ اس کے قاصد ادھر ادھر دوڑ پڑے۔
قرون کے درمیان خیمے لگے رہے۔ سپاہی خیموں میں رہے یا ادھر ادھر گھومتے پھرتے رہے تاکہ دشمن یہ سمجھے کے وہ تیار
نہیں۔ چٹانوں پر تیر انداز تیار ہوگئے۔
دشمن کی رفتار تیز تھی۔ اس کے ہر اول نے دیکھا کہ خیمے ابھی تک کھڑے ہیں تو ہر اول نے اس خیال سے کہ انہوں نے
سلطان ایوبی کی فوج کو بے خبری میں آلیا ہے ،پیچھے خبر دے دی کہ رفتار تیز کرو۔ سلطان ایوبی ایک بلند چٹان پر چال
گیا جہاں سے سارا منظر اور دائیں طرف کا میدان بھی نظر آرہا تھا۔ یہ دیکھ کر وہ حیران رہ گیا کہ گمشتگین کی فوج
سیدھی قرون کی طرف آرہی ہے۔ سلطان ایوبی کے سپاہیوں نے ہدایات کے مطابق اپنے گھوڑوں پر زینیں اس وقت ڈالیں جب
دشمن بالکل قریب آگیا تھا۔ پیادوں نے آگے بڑھ کر چند ایک تیر چالئے۔ ادھر سے للکار سنائی دینے لگی… ''کچل دو۔ کسی
کو زندہ نہ چھوڑو۔ صالح الدین ایوبی کو زندہ پکڑو۔ سرکاٹ لو''۔
سلطان ایوبی کے سوار آگے بڑھے مگر پیچھے کو آگئے۔ پیادوں اور سواروں نے حملے کی اگلی صف کا مقابلہ کیا اور لڑتے
حتی کہ تمام حملہ آور دستے قرون کے اندر اسی پھندے میں آگئے جہاں انہیں سلطان ایوبی النا چاہتا
لڑتے پیچھے ہٹتے آئے،
ٰ
تھا۔ چٹانوں میں گرا ہوا یہ میدان ڈیڑھ میل کے لگ بھگ وسیع اور عریض تھا۔ جونہی دشمن اندر آیا دونوں طرف کی چٹانوں
سے اس پر تیروں کا مینہ برسنے لگا۔ دشمن کے گھوڑے تیر کھا کر بدکتے ،منہ زور ہوتے اور اپنے ہی پیادوں کو کچلتے
پھرتے تھے۔ دشمن کے کمانڈر سمجھ نہ سکے کہ یہاں خیموں میں جو فوج تھی وہ کہاں غائب ہوگئی ہے۔ انہیں معلوم نہیں
تھا کہ آگے چٹانوں میں ایک کٹائو ہے جو ایک وادی میں چال جاتا ہے اور سلطان ایوبی کی فوج اس میں الپتہ ہوتی جارہی
ہے۔ میدان میں خیمے کھڑے تھے جن کی رسیاں رکاوٹ پیدا کررہی تھی۔
تھوڑی دیر بعد فلیتوں والے آتشیں تیر آنے لگے جو زخمیوں پر چالئے جارہے تھے۔ انہوں نے خیموں کو آگ لگا دی اور میدان
جنگ سے شعلے اٹھنے لگے۔ دشمن کے کمانڈروں کے لیے بڑی مشکل پیدا ہوگئی۔ ان کی جمعیت بکھر گئی تھی۔ دستے گڈمڈ
ہوگئے تھے۔ گھوڑوں کے ہنہنانے کا ،زخمیوں کی چیخ وپکار کا اور کمانڈروں کے واویلے اور للکار کا اتنا زیادہ شور تھا کہ آوازوں
کو الگ کرکے سمجھنا ناممکن تھا۔ کم وبیش دو گھنٹے دشمن کے سپاہی افراتفری کی کیفیت میں اور ان کے کمان دار انہیں
سنبھالنے کی کوشش میں سلطان ایوبی کے تیر اندازوں سے زخمی اور ہالک ہوتے رہے۔ وہ بھی آخر مسلمان سپاہی تھے۔
عسکری جذبہ انہیں پسپا نہیں ہونے دے رہا تھا۔ ان میں سے کئی ایک ان چٹانوں پر چڑھنے لگے جہاں سے تیر آرہے تھے۔
یہ ان کی دلیری کا مظاہرہ تھا لیکن اوپر سے آئے ہوئے تیر انہیں پتھروں کی طرح لڑھکا رہے تھے۔
بہت ہی مشکل سے دشمن کے دستوں کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا گیا۔ انہیں پیچھے ہی ہٹنا تھا مگر پیچھے ہٹے تو انہیں
پتہ چال کہ عقب میں سلطان ایوبی کی فوج کھڑی ہے۔ اعالن ہونے لگے۔ ''ہتھیار ڈال دو ،تم ہمارے بھائی ہو ،ہم تمہیں
ہالک نہیں کریں گے'' ۔ ان اعالنات کے ساتھ ساتھ گھوڑے بڑھتے اور پھلتے آرہے تھے۔ گمشتگین کے گرے ہوئے سپاہیوں میں
اب لڑنے کا دم خم نہیں رہا تھا۔ ان میں سے آدھے مارے گئے یا زخمی ہوگئے تھے جو زندہ تھے ان پر دہشت طاری ہوگئی
تھی۔ وہ کچھ اور توقع لے کر آئے تھے۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ یہ بڑی سہل فتح ہوگی مگر ان کے لیے میدان جنگ جہنم بن
گیا۔ انہوں نے ہتھیار پھینکنے شروع کردئیے۔
٭ ٭ ٭
سلطان ایوبی کی یہ چال تو کامیاب رہی لیکن دوسری طرف دشمن نے اس کے لیے مشکل پیدا کردی۔ یہ دائیں پہلو کا وہی
میدان تھا جس کے متعلق اسے شروع سے ہی فکر تھا۔ اس طرف سے صحرائی آندھی کی طرح دشمن کی فوج آرہی تھی۔
اس کے مقابلے میں سلطان ایوبی کے مختصر سے دو دستے تھے۔ حملہ آوروں کے جھنڈے نظر آنے لگے۔ یہ حلب کی فوج
تھی۔ سلطان ایوبی نے حلب کا محاصرہ کرکے اس فوج کے جوہر دیکھے تھے۔ اسے معلوم تھا کہ یہ فوج گمشتگین اور سیف
الدین کی فوج سے مختلف ہے۔ فنی مہارت اور شجاعت کے لحاظ سے یہ فوج یقینا برتر تھی۔ سلطان نے اپنے آپ کو کبھی
خوش فہمیوں میں مبتال نہیں کیا تھا۔ وہ فورا ً جان گیا کہ اس کے یہ دستے اس فوج کو نہیں روک سکیں گے۔ وہ اپنے ریزرو
کو ابھی استعمال نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے دماغ کو حاضر رکھا۔ اپنے پاس کھڑے ساالروں کو اس نے کوئی ہدایات دے کر
بھیج دیا۔
اس نے ریزرو ٹروپس کے عالوہ منتخب سواروں کا ایک دستہ اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا۔ اس طرف والی چٹان پر جو تیر انداز
تھے ،ان کے کمانڈر کو حکم بھیجا کہ قرون سے ہٹ کر منہ پیچھے کرلیں اور اسی پوزیشن سے نئے حملہ آوروں کو نشانہ
بنائیں۔ اس نے اپنے منتخب سواروں کے کمانڈر کو حکم دیا کہ دستہ میدان میں الئو ،میں خود کمان کروں گا۔ نہایت تھوڑے
وقت میں وہ چٹان سے اترا۔ اس کا دستہ تیار تھا۔ وہ بھی میدان میں آگیا۔ سلطان ایوبی میدان جنگ میں اپنا جھنڈا نہیں
لہرایا کرتا تھا تاکہ دشمن کو پتہ نہ چل سکے کہ وہ کہاں ہے لیکن اس موقعہ پر اس نے بلند آواز سے کہا… ''میرا جھنڈا
اونچا رکھو''… قاضی بہائوالدین شداد اپنی یادداشتوں میں لکھتا ہے۔ ''اس معرکے میں اپنا جھنڈا چڑھا کر صالح الدین ایوبی
اپنے دستوں کو بتانا چاہتا تھا کہ ان کی کمان اور قیادت سلطان خود کررہا ہے اور وہ حلب کے حملہ آوروں کو بھی بتانا
چاہتا تھا کہ ان کا مقابلہ صالح الدین کے ساتھ ہے''۔
سلطان ایوبی نے اشارے اور الفاظ مقرر کررکھے تھے ،اس نے نہایت تیزی سے سواروں کو اس ترتیب میں کر لیا کہ دو گھوڑے
آگے ،چار پیچھے ،ان کے پیچھے چھ ،ان کے پیچھے آٹھ اور باقی تمام آٹھ آٹھ کی ترتیب میں رہے لیکن اس نے ترتیب کہیں
کھڑے ہوکر نہیں بنائی بلکہ تین چار صفوں میں دوڑتے گھوڑ سواروں کو اس ترتیب میں ہونے کا حکم دیا تھا۔سامنے سے دشمن
صف در صف پھیال ہوا آرہا تھا۔ قریب جاکر سلطان ایوبی کے سوار اس ترتیب میں ہوگئے۔ تصادم اس طرح ہوا کہ یہ گھوڑ
سوار ایک کیل کی طرح دشمن کے لشکر میں داخل ہوگئے۔ سلطان ایوبی اس ترتیب کے درمیان میں تھا۔ دشمن کے گھوڑ
سوار دائیں بائیں سے آگے نکل گئے۔ راستے میں جو آیا اسے برچھیوں سے مجروح کرتے گئے۔
دشمن کے سواروں کے پیچھے پیادہ دستے تھے۔ سلطان ایوبی نے دور آگے جاکر سواروں کو پیچھے موڑا اور فورا ً صفوں کو
ترتیب میں الکر پوری رفتار سے پیادہ دستوں پر حملہ کیا۔ پیادوں نے مقابلہ تو بہت کیا لیکن گھوڑے اور سوار انہیں روندتے
اور کاٹتے آگے نکل گئے۔ سلطان ایوبی کے پیادہ دستے سامنے تھے۔ انہوں نے دشمن کے سواروں کا مقابلہ کیا۔ عقب سے
سلطان ایوبی نے ہلہ بول دیا۔ قریبی چٹانوں سے تیر اندازوں نے تیر برسانے شروع کردئیے لیکن حلب کی فوج کا حوصلہ نہ
ٹوٹا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنی کمان نہ بکھرنے دی۔ معرکہ بڑا ہی خون ریز تھا اور بڑا ہی شدید تھا۔ تمام مؤرخین
لکھتے ہیں کہ اگر سلطان ایوبی اس معرکے کی کمان خود نہ لیتا تو اس کا سارا پالن اس پہلو سے تباہ ہوجاتا۔
قاضی بہائوالدین شداد نے مؤرخین سے کچھ اختالف کیا ہے۔ اس کی یادداشتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور فوج حلب کی
نہیں موصل کی تھی اور اس کی کمان ساالر مظفرالدین بن زین الدین کررہا تھا اور یہ کمان اتنی دانشمندانہ تھی کہ مظفرالدین
نے سلطان ایوبی کے اس پہلو کو اکھاڑ پھینکا تھا۔ قیادت کی دانشمندی کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ مظفرالدین سلطان
ایوبی کے ساتھ ساالر رہ چکا تھا اور اس نے یہ فن سلطان ایوبی سے ہی سیکھا تھا۔ نفری زیادہ ہونے کے عالوہ مظفرالدین
کو یہ فائدہ بھی حاصل تھا کہ وہ سلطان ایوبی کی چالوں کو اچھی طرح سمجھتا تھا۔
سلطان صالح الدین ایوبی نے قاصدوں کو اپنے ساتھ رکھا اور ان کے ذریعے چھوٹے سے چھوٹے جیش کے ساتھ بھی رابطہ قائم
رکھا۔ اس نے ایسی چال چلی کہ دشمن کو اس چٹان کے قریب لے گیا جس پر تیر انداز تیار تھے۔ انہوں نے بہت کام کیا۔
سلطان ایوبی نے اپنی نفری میں اتنی کمی محسوس کی کہ اسے ابتدائی پالن بدلنا پڑا۔ اس نے ٹروپس کو بھی بالنے کا
فیصلہ کرلیا لیکن عین اس وقت ایک قاصد نے اسے بتایا کہ ایک طرف سے اپنے چار پانچ سو سوار آرہے ہیں۔ سلطان ایوبی
نے غصے سے پوچھا کہ وہ کون سا دستہ ہے اور کیوں آیا ہے؟ وہ میدان جنگ میں ڈسپلن کا زیادہ پابند ہوجاتا تھا ،حاالنکہ
اسے اس میدان میں کمک کی شدید ضرورت تھی لیکن اس کی اجازت اور ہدایت کے بغیر کسی کی حرکت اسے پسند نہ
آئی ،اس نے قاصد کو دوڑایا کہ خبر الئے کہ یہ سوار کون ہیں۔
قاصد جو خبر الیا اس نے سلطان ایوبی کو سن کردیا۔ خبر یہ تھی کہ یہ چار سو لڑکیاں اور ایک سو رضاکار ہیں۔ ان کی
قیادت حجاج ابووقاص کررہا ہے اور وہ ساالر شمس الدین کی اجازت سے آئے ہیں۔ سلطان ایوبی انہیں روک سکتا تھا لیکن
جس انداز سے یہ پانچ سو گھوڑ سوار آئے اس سے سلطان ایوبی سمجھ گیا کہ کمان واقعی شمس الدین کررہا ہے۔ یہ سوار
دشمن کو چٹان کی طرف دھکیل رہے تھے۔ اس معرکے میں پیادے گھوڑے تلک کچلے جارہے تھے۔ دشمن کی پیش قدمی روک
لی گئی تھی۔ وہ آگے نکلنے کی کوشش کررہا تھا مگر اسے وہیں الجھا لیا گیا۔
مسلمان ،مسلمان کے ہاتھوں کٹ رہا تھا ،اللہ اکبر کے نعرے اللہ اکبر کے نعروں سے ٹکرا رہے تھے۔ زمین کانپ رہی تھی،
آسمان خاموش تھا۔ صلیبی تماشہ دیکھ رہے تھے ،تاریخ دم بخود تھی۔ لڑکیاں اپنے بھائیوں اور باپوں کے دوش بدوش بھائیوں
اور باپوں کے خالف لڑ رہی تھیں۔ لہولہان جنگ ہورہی تھی۔ قوم کی عظمت گھوڑوں کے سموں تلے روندی جارہی تھی اور
خدا دیکھ رہا تھا۔
دن بھر کے معرکے کا یہ انجام ہوا کہ دشمن کا حوصلہ ختم ہوگیا۔ اس کے سپاہیوں نے ہتھیار ڈالنے شروع کردئیے۔ وہ نیم
محاصرے میں آگئے تھے۔ ساالر نکل گئے ،رات زخمیوں کے واویلے سے لرزتی رہی۔ دن بھر کی تھکی ہوئی لڑکیاں رات کو
زخمیوں کو اٹھاتی رہیں۔ صبح ہوئی تو اس میدان کا منظر بھیانک اور ہولناک تھا۔ دور دور تک الشیں بکھری ہوئی تھیں۔
گھوڑے مرے پڑے تھے۔ جنگی قیدیوں کو دور پرے لے گئے تھے۔ ان الشوں میں لڑکیوں کی جو الشیں تھیں وہ اٹھا لی گئی
تھیں۔
بادشاہی کا نشہ انسان کو اس سطح پر بھی لے آتا ہے جہاں ایک انسان اپنی قوم کو دو دھڑوں میں کاٹ کر انہیں آپس ''
میں لڑا دیتا ہے''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے میدان جنگ کا منظر دیکھ کر کہا۔ ''اپنے بھائی اپنی بہنوں کی عصمت
دری کرتے ہیں اگر ہم نے بادشاہی کے رجحان کو ختم نہ کیا تو کفار اس قوم کو قوم کے سربراہوں کے ہاتھوں آپس میں لڑا
لڑا کر ختم کردیں گے''۔
٭ ٭ ٭
قرون حماة اور اس کے پہلو کا معرکہ ختم ہوگیا تھا ،جنگ ابھی جاری تھی۔ معرکے کی رات بارہ چھاپہ مار حلب کی فوج
کے اس ذخیرے تک پہنچ چکے تھے جہاں آتش گیر مادے کے مٹکے رکھے تھے۔ رات کے وقت مٹکے کھول کر اس سے کپڑے
بھگوئے جارہے تھے جن کے گولے بنا کر منجنیقوں سے پھینکنے تھے۔ ہانڈیاں بھی بھر کر سربمہر کی جارہی تھیں۔ ابھی ایک
لہذا یہ فوج آخری حملے کے
فوج ریزرو میں تھی۔ اسے اطالع مل گئی تھی کہ دونوں فوجوں کے حملے ناکام ہوچکے ہیں۔ ٰ
لیے تیار ہورہی تھی۔ حملے کی کامیابی کے لیے آگ پھینکنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ سلطان ایوبی کے بارہ چھاپہ ماروں نے اپنا
ہدف دیکھ لیا۔ ان میں سے چار پانچ کے پاس کمانیں تھیں اور فلیتے والے تیر بھی تھے۔ وہ گھوڑوں سے اتر کر آگے چلے
گئے۔ فلیتے جال کر انہوں نے تیر چال دئیے۔ یکلخت شعلے بلند ہوئے اور وہاں ہڑبونگ بپا ہوگئی۔
چھاپہ ماروں کو بتایا گیا تھا کہ مٹکے بے شمار ہیں ،وہاں بھگدڑ مچی تو چھاپہ ماروں نے ہلہ بول دیا۔ شعلوں سے وہاں بہت
روشنی ہوگئی تھی۔ چھاپہ ماروں کو محفوظ مٹکے بھی نظر آگئے۔ انہوں نے اپنی برچھوں کے ساتھ ہتھوڑیوں کی طرح لوہے کے
ٹکڑے باندھ رکھے تھے۔ دوڑتے گھوڑوں سے انہوں نے مٹکے توڑنے شروع کردئیے۔ ان میں سے ایک نے آگ لگانے کا نتظام
کردیا۔ دشمن نے انہیں گھیرے میں لینے کی کوشش کی۔ یہ ایک خونریز معرکہ تھا۔ بارہ جانباز سینکڑوں کے نرغے میں لڑ
رہے تھے۔ شعلے ہر طرف پھیل گئے تھے۔ سارے کیمپ پر دہشت طاری ہوگئی۔ گھوڑے اور اونٹ رسیاں تڑا کر بھاگنے لگے۔
جہاں سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج تھی وہاں ایک چٹان پر کھڑے کسی آدمی نے چال کر کہا۔ ''آسمان جل رہا ہے ،خدا
کا قہر نازل ہورہا ہے''۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:17
قسط نمبر۔91
گناہوں کا کفارہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سلطان صالح الدین ایوبی کو اطالع ملی تو وہ دوڑتا ایک چٹان پر جا چڑھا۔ اسے دشمن کے کیمپ کی طرف آسمان الل سرخ
ہوتا نظر آیا۔ اس کے منہ سے بے ساختہ نکال۔ ''آفرین ،آفرین۔ اللہ تمہیں صلہ دے''۔
موصل کی فوج فوری طور پر جوابی حملے کے قابل نہ رہی۔ سلطان ایوبی کے چھاپہ مار سرگرم ہوگئے۔ انہوں نے تین راتیں
گمشتگین ،سیف الدین اور الملک الصالح کے کیمپوں میں اتنی تباہی مچائی کہ ان کے مرکز بھی ہل گئے۔ آخر انہوں نے کسی
اور طرف سے حملے کا فیصلہ کرکے کوچ کا حکم دیا۔ تب انہیں پتہ چال کہ ان کے عقب میں سلطان ایوبی کی فوج آچکی
ہے۔ یہاں سلطان ایوبی نے اپنی مخصوص چالوں سے دشمن کو بے حال کردیا۔ وہ مارتا بھی نہیں تھا چھوڑتا بھی نہیں تھا۔
یہ جنگ ''ضرب لگائو اور بھاگو'' کے اصول پر لڑی جارہی تھی۔ دشمن کی فوج بکھرتی جارہی تھی اور اس کے سپاہی
بکھر بکھر کر ہتھیار ڈالتے جارہے تھے۔ یہی سلطان ایوبی کا مقصد تھا۔
١٩رمضان المبارک ٥٧٠ھ (١٣اپریل ١١٧٥ئ) کی صبح سحری سے فارغ ہوتے ہی سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنے پالن کی
آخری کڑی پر عمل کیا جس کی ہدایات وہ ایک روز پہلے جاری کرچکا تھا۔ اس نے کھال حملہ کردیا۔ کوئی قابل ذکر
مزاحمت نہ ہوئی۔ سلطان صالح الدین ایوبی وہاں تک جا پہنچا جہاں گمشتگین اور سیف الدین کی خیمہ گاہیں تھیں مگر وہ
دونوں غائب تھے۔ وہ ایسی بزدلی سے بھاگے کہ اپنی ذاتی خیمہ گاہیں جن میں جنگل میں منگل بنا ہوا تھا ،جوں کی توں
چھوڑ گئے۔ حرم کی لڑکیاں ،ناچنے گانے والیاں اور ان کے سازندے وہیں تھے۔ سلطان ایوبی کی فوج گئی تو لڑکیاں خوف سے
ادھر ادھر بھاگنے لگیں۔ انہیں پکڑ کر سلطان ایوبی کے سامنے لے جایا گیا۔ اس نے ان تمام کو رہا کرکے دمشق بھیجنے کا
انتظام کردیا۔ دلچسپ خیمہ گاہ والئی موصل سیف الدین کی تھی۔ وہاں لڑکیوں کے عالوہ خوشنما پنجرے بھی تھے جن میں
رنگ برنگے پرندے بند تھے۔
اس رات سلطان صالح الدین ایوبی کے سامنے ایک اور لڑکی الئی گئی جو دشمن کے اس کیمپ میں الشوں کو پہچانتی پھر
رہی تھی جس پر سلطان صالح الدین ایوبی کے چھاپہ ماروں نے شب خون مارا اور آتش گیر مادے کے مٹکے تباہ کیے تھے۔
سلطان صالح الدین ایوبی نے اسے پہچان لیا اور کہا۔ ''تم میرے ایک جاسوس انطانون کے ساتھ حرن سے آئی تھیں''۔
جی ہاں!'' اس نے کہا۔ ''میرا نام فاطمہ ہے ،میں لڑکیوں کی فوج کے ساتھ دمشق سے آئی ہوں''۔ وہ زخمی بھی ''
تھی۔ کہنے لگی۔ ''مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ انطانون یہاں شب خون مارنے آیا تھا ،اس کی الش ڈھونڈ رہی ہوں''۔
نہ ڈھونڈو''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔''
وہ بھی کہتا تھا کہ چھاپہ ماروں کی الشیں نہیں مال کرتیں''۔ فاطمہ نے اداس لہجے میں کہا۔ ''اس نے مجھے کہا تھا ''
کہ آئو ایک دوسرے کو فرض پر قربان کردیں۔ مجھے خوشی ہے کہ اس نے گناہ کا کفارہ ادا کردیا ہے۔ میرا فرض ابھی باقی
ہے۔ میں گمشتگین کو قتل کرنے آئی تھی''۔
اس لڑکی کی جذباتی حالت دیکھ کر کوئی بھی اپنے آنسو نہ روک سکا… سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا۔ ''دمشق سے جو
لڑکیاں آئی ہیں ان سب کو واپس بھیج دو۔ انہوں نے دشمن کو شکست دینے میں میری بہت مدد کی ہے۔ اس وقت میں ہی
جانتا ہوں کہ مجھے مدد کی کتنی ضرورت تھی۔ یہ لڑکیاں جیسے غیب سے آئی تھیں لیکن میں انہیں اپنے ساتھ نہیں رکھ
سکتا''۔
لڑکیوں کے احتجاج اور غصے کے باوجود انہیں دمشق بھیج دیا گیا۔ سلطان ایوبی اب کہیں رکنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے دشمن
کو جو شکست فاش دی تھی ،اس سے وہ پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ اس نے حکم دے دیا کہ تمام فوج کو حلب کی
سمت کوچ کے لیے تیار کیا جائے۔ اپنے ساالروں کو وہ اگلے پالن کے متعلق بتا رہا تھا ،ایک گھوڑ سوار گھوڑا دوڑاتا آرہا تھا۔
اس کے ہاتھ میں برچھی تھی اور برچھی میں کوئی چیز اڑ سی ہوئی تھی۔ وہ قریب آیا تو سلطان صالح الدین ایوبی کے
باڈی گارڈوں نے اسے روک لیا۔ سلطان ایوبی نے دیکھا کہ سوار نے کسی انسان کا سر برچھی میں اڑسا ہوا تھا۔ سلطان ایوبی
نے اسے آگے آنے کی اجازت دے دی۔
وہ آذر بن عباس تھا۔ وہی جاسوس جو دمشق جاتے ہوئے محافظوں کی حراست سے بھاگ گیا تھا ،اس نے گھوڑے سے اتر کر
برچھی سے سر اتارا اور سلطان ایوبی کے قدموں میں پھینک کر کہا۔ ''میں آپ کا مفرور قیدی ہوں ،میں نے کہا تھا مجھے
بخش دیں ،میں گناہوں کا کفارہ ادا کروں گا ،آپ نے میری عرض نہ مانی۔ میں نے راستے میں سوچا کہ مجھے جاسوس ،باپ
نے بنایا اور میرے دل میں دولت کا اللچ پیدا کیا ہے۔ میں صرف اس کام کے لیے بھاگا تھا ،میں حلب گیا۔ اپنے باپ کو
قتل کیا ور اس کا سرکاٹ کر لے آیاہوں اگر اس سے میرے گناہوں کا کفارہ ادا نہیں ہوتا تو مجھے پھر قید کرلیں اور اسی
طرح میرا سر کاٹ کر پھینک دیں''۔
سلطان ایوبی نے اسے حسن بن عبداللہ کے حوالے کردیا اور کہا۔ ''اسے اگر قابل اعتماد سمجھا جاسکتا ہے تو اس کے
متعلق کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ اس نے میرے ایک سوال کا جواب دے دیا ہے۔ میں آج تک سوچتا رہا ہوں کہ دشمن کا
جاسوس پوری معلومات لے گیا تھا ،پھر بھی دشمن میرے پھندے میں آگیا۔ اب معلوم ہوا ہے یہ خبر دینے نہیں بلکہ اپنے
باپ کو قتل کرنے گیا تھا''۔
اس سے اگلے دن سلطان ایوبی خیمے میں سویا ہوا تھا۔ باہر بہت سے آدمیوں کی باتوں سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ باہر
کوئی جھگڑا ہورہا تھا۔ سلطان ایوبی نے دربان کو اندر بال کر پوچھا کہ باہر کیا ہورہا ہے۔ دربان نے بتایا کہ نو آدمی آپ کے
محافظ دستے کی وردیاں پہنے اور آپ کا جھنڈا اٹھائے آئے ہیں۔ کہتے ہیں وہ دمشق سے آئے ہیں۔ یہ رضاکارانہ آپ کے
محافظ دستے میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ انہیں روکاتو کہتے ہیں کہ وہ اتنی دور سے عقیدت اور جذبے سے آئے ہیں ،وہ آپ
سے ملنا چاہتے ہیں۔
یہ شیخ سنان اور گمشتگین کے بھیجے ہوئے فدائی قاتل (حشیشین) تھے۔ ان کی چال کامیاب ہوگئی۔ سلطان ایوبی نے دربان
سے کہہ دیا کہ انہیں اندر بھیجو۔ ان سے برچھیاں باہر رکھوالی گئیں۔ وہ خیمے میں گئے اور فورا ً ہی انہوں نے خنجر اور
تلواریں نکال لیں۔ سلطان ایوبی کے دو محافظ بھی ان کے ساتھ آگئے تھے۔ ایک فدائی نے سلطان ایوبی پر حملہ کیا۔ سلطان
نے پھرتی سے حملہ روک لیا اور اپنی تلوار اٹھالی۔ پہلے ہی وار سے اس نے حملہ آور کا پیٹ چاک کردیا۔ خیمے میں جگہ
تھوڑی تھی۔ دوسرے فدائیوں نے بھی سلطان ایوبی پر حملے کیے۔ دونوں محافظوں نے جم کر مقابلہ کیا۔ باہر سے دوسرے
محافظ بھی آگئے۔ خیمے کے اندر تلواریں اور خنجر ٹکرانے لگے۔ باڈی گارڈوں نے قاتلوں کو اپنے ساتھ الجھا لیا۔ وہ خیمے
سے باہر آگئے۔ سلطان ایوبی کی لمبی تلوار نے کسی کو قریب نہ آنے دیا۔ فدائیوں میں سے پانچ چھ مارے گئے۔ باقی بھاگنے
لگے۔ انہیں زندہ پکڑ لیاگیا۔ خیمے کے اندر سے ایک فدائی نکال۔ اس کے کپڑے خون سے الل ہوگئے تھے۔ سلطان ایوبی کی
ادھر پیٹھ تھی۔ زخمی فدائی نے پیچھے سے سلطان پر حملہ کیا۔ ایک باڈی گارڈ نے بروقت دیکھ لیا ،وہ چالیا۔ ''سلطان
نیچے''۔ اور حملہ آور کی طرف دوڑا۔ سلطان ایوبی فورا ً بیٹھ گیا۔ قاتل کی تلوار ہوا کو کاٹتی سلطان کے اوپر سے گزر گئی۔
باڈی گارڈ نے فدائی کے پہلو میں برچھی اتار دی۔ وہ تو پہلے ہی زخموں سے مر رہا تھا ،وہ گرا اور مرگیا۔
سلطان ایوبی اس حملے سے بھی بال بال بچ گیا۔
بعض یورپی مؤرخوں نے لکھا ہے کہ سلطان ایوبی پر یہ قاتالنہ حملہ کرنے والے اس کے اپنے باڈی گارڈ تھے جو ایک عرصے
سے اس کے ساتھ تھے لیکن اس دور کے واقعہ نگاروں کی تحریروں سے شکوک رفع ہوجاتے ہیں۔ بہائوالدین شداد نے اور ایک
مصری واقعہ نگار محمد فرید ابو حدود نے لکھا ہے کہ یہ شیخ سنان کے بھیجے ہوئے نو فدائی تھے جو حلف اٹھا کر آئے
تھے کہ سلطان ایوبی کو قتل کردیں گے ورنہ زندہ نہیں لوٹیں گے۔ وہ سلطان ایوبی کو تو قتل نہ کرسکے البتہ ان میں سے
زندہ کوئی بھی نہ لوٹا۔ جو زندہ رہے انہیں سزائے موت دے دی گئی۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:18
قسط نمبر۔92قوم کی نظروں سے دور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کسی سپاہی کی بہادری کا تذکرہ ہورہا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی کا ایک ساالر کھانے کے بعد کی محفل میں کسی معرکے
کی باتیں کررہا تھا۔ ایک سپاہی کی بہادری کا ذکر آگیا۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''لیکن تاریخ میں نام آئے گا تو وہ آپ کا
اور میرا ہوگا۔ تاریخ لکھنے والوں کی یہ بے انصافی ہے کہ وہ بادشاہوں ،سلطانوں اور ساالروں سے نیچے کسی کی طرف آنکھ
اٹھاکر بھی نہیں دیکھتے۔ فتح اور شکست اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن فتح کا سہرا ہمیشہ سپاہیوں کے سر ہوتا ہے۔ ہمارے
چھاپہ مار جانباز دشمن کے پاس جاکر اس کے دوست بن جائیں تو ہم ان کا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔ معرکوں میں سپاہی لڑنے
کے بجائے اپنی جان کی فکر زیادہ کریں تو آپ فتح کس طرح حاصل کرسکتے ہیں؟ حق یہ ہے کہ تاریخ میں ہمارے ان
سپاہیوں کا ذکر ضرور آئے جو اکیلے اکیلے دس دس کا مقابلہ کرتے ہیں اور اپنے پرچم کو سرنگوں نہیں ہونے دیتے۔ یہ سپاہی
جب کبھی ہاریں گے تو میری اور آپ کی ناالئقی کی وجہ سے ہاریں گے یا انہیں وہ غدار اور ایمان فروش شکست دیں گے
جو ہماری صفوں میں موجود ہیں''۔
خدا نے ہمیں کس گناہ کی سزا دی ہے کہ ہم میں غدار پیدا کردئیے ہیں''… محفل میں کسی نے جھنجھال کر کہا۔''
میں عالم نہیں کہ اس سوال کا جواب دے سکوں''… سلطان ایوبی نے کہا… ''شاید خدائے ذوالجالل نے غداروں کی ''
صورت میں ہم پر یہ خطرہ مستقل طور پر سوار کردیا ہے کہ ہر لمحہ چوکس اور چوکنے رہیں اور ایک کے بعد دوسری فتح
حاصل کرتے کرتے مغرور نہ ہوجائیں… خدا کی باتیں خدا ہی جانے میں ڈرتا ہوں کہ ایمان فروشی کسی دور میں اسالم کے
وقار کو لے ڈوبے گی۔ آپ صلیبیوں کے اس عزم سے بے خبر تو نہیں کہ ان کی جنگ آپ کے نہیں اسالم کے خالف ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ جب تک صلیب زندہ ہے چاند ستارے کے پرچم کے خالف برسرپیکار رہے گی۔ وہ اپنی آنے والی نسلوں کے
لیے یہی عزم ورثے کے طور پر چھوڑ جائیں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہم اپنے ان سپاہیوں کے کارنامے قلمبند کرلیں جو شمالی
مصر کے صحرائوں میں بھی لڑے اور حماة کی برف پوش وادیوں میں بھی۔ ان چھاپہ ماروں کے بھی تذکرے قلمبند کرلیں جو
دشمن کی صفوں کے عقب میں چلے جاتے ہیں اور اتنی تباہی مچاتے ہیں جو پوری فوج بھی نہیں مچا سکتی۔ ان میں سے
کتنے زندہ واپس آتے ہیں؟… دس میں سے ایک۔ وہ بھی زخمی''۔
ہاں سلطان محترم!''… ساالر نے کہا… ''یہ ایک قیمتی ورثہ ہے جو ہم آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑیں گے۔ قومیں ''
شجاعت کی روایات سے زندہ رہتی ہیں''۔
تم شاید نہیں جانتے کہ ہمارے بعض سپاہی ملک سے دور قوم کی نظروں سے دور ایسی جنگ لڑتے ہیں جن کا انہیں ''
ہماری طرف سے حکم ہی نہیں ملتا''… سلطان ایوبی نے کہا… ''ان لوگوں پر اپنے مذہب کے وقار کا جنون سوار ہوتا ہے۔
ان کی اپنی کوئی زندگی نہیں ہوتی ،کوئی ذات نہیں ہوتی۔ وہ دشمن کے قبضے میں ہوتے ہیں تو بھی سرکش اور آزاد رہتے
ہیں۔ قوم کو جب فتح حاصل ہوتی ہے تو قوم ان سے ناواقف رہتی ہے جو پردوں کے پیچھے عجیب وغریب طریقوں سے
جنگ لڑتے اور قوم کا نام روشن کرتے ہیں''۔
اس دور کی غیر مطبوعہ تحریروں میں ایسے ہی چند ایک سپاہیوں کا ذکر ملتا ہے جن کا ذکر سلطان ایوبی کررہا تھا۔ ایک
کا نام عمرو درویش تھا۔ وہ سوڈانی مسلمان تھا ،اس سلسلے کی کہانیوں میں جو آپ کو سنائی جاچکی ہیں ،آپ نے پڑھا ہوگا
کہ سلطان ایوبی کے بھائی تقی الدین نے سوڈان پر فوج کشی کی تھی مگر دشمن کے دھوکے میں آکر سوڈان کے صحرا میں
اتنی دور نکل گیا جہاں تک رسد کا سلسلہ قائم رکھنا ممکن نہیں رہا تھا۔ دشمن نے رسد کے راستے روک لیے اور تقی الدین
کی فوج کو صحرامیں بکھیر کر جمعیت اور مرکزیت ختم کردی تھی۔ اسالمی فوج کو بہت نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ پیش قدمی کی
تو امید ہی ختم ہوگئی تھی۔ پسپائی بھی ممکن نہیں رہی تھی۔ جنگی قیدی بہت ہوئے تھے جن میں تقی الدین کے دو تین
نائب ساالر اور کمان دار بھی تھے۔
ان قیدیوں میں مصریوں اور بغدادیوں کی تعداد زیادہ تھی۔ ان میں کچھ سوڈانی مسلمان بھی تھے۔ سلطان ایوبی نے اپنی
جنگی سوجھ بوجھ اور غیرمعمولی فہم وفراست سے کام لیتے ہوئے تقی الدین کی بکھری ہوئی فوج کو سوڈان سے نکاال تھا۔
اس کے بعد اس نے سوڈانیوں کے پاس اس پیغام کے ساتھ ایلچی بھیجے تھے کہ جنگی قیدیوں کو رہا کردیا جائے۔ سوڈانیوں
نے انکار کردیا تھا کیونکہ ان کا کوئی قیدی سلطان ایوبی کی فوج کے پاس نہیں تھا۔ سوڈانیوں نے جنگی قیدیوں کے عوض
مصر کے کچھ عالقے کا مطالبہ کیا تھا۔ سلطان ایوبی نے جواب دیا تھا… ''تم مجھے ،میری بیوی اور میرے بچوں کو سولی
پر کھڑا کردو ،میں تمہیں سلطنت اسالمیہ کی ایک انچ جگہ نہیں دوں گا۔ میرے سپاہی غیرت والے ہیں۔ اپنی قوم کے وقار
کے لیے جانیں قربان کرنا جانتے ہیں''۔
اس کے بعد سوڈانی حکومت نے مصر پر حبشیوں سے حملہ کرایا تھا جن میں سے کوئی ایک بھی واپس نہیں جاسکا تھا۔ جو
زندہ رہے وہ قید میں ڈال دئیے گئے تھے۔ توقع تھی کہ سوڈانی ان کی رہائی کا مطالبہ کریں گے لیکن انہوں نے کوئی ایلچی
نہیں بھیجا۔ وہ ان حبشیوں کو دھوکے میں مصر میں الئے تھے۔ یہ ان کی باقاعدہ فوج نہیں تھی۔ سلطان ایوبی نے ان حبشی
قیدیوں کی مزدور فوج بنا لی تھی۔ مصر میں ان سے کھدائی ،باربرداری اور اس قسم کے دوسرے کام لیے جاتے تھے۔
سوڈان والے سلطان ایوبی کی فوج کے جنگی قیدیوں کو دراصل اس وجہ سے نہیں چھوڑ رہے تھے کہ انہیں وہ سوڈانی فوج
میں شامل ہوجانے کی ترغیب دے رہے تھے۔ سوڈانیوں کے پاس صلیبی مشیر تھے… وہی سوڈانیوں کو سلطان ایوبی کے خالف
استعمال کررہے تھے۔ یہ منصوبہ انہی کا تھا کہ مصری فوج کے قیدیوں کو بہال پھسال کر سوڈانی فوج میں شامل کرلیا جائے۔
تاریخ اور اس دور کی تحریریں یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ انہوں نے کتنے مسلمان سپاہیوں کو اپنی فوج میں شامل کرلیا تھا۔
البتہ یہ شہادت مل گئی تھی کہ سوڈاینوں کا پیار اور محبت کا اور اچھے سلوک کا حربہ جس پر بھی ناکام ثابت ہوا اسے
انہوں نے بے رحمی سے اذیتیں دیں اور تڑپا تڑپا کر مارا۔
ان قیدیوں میں اسحاق نام کا ایک عہدیدار تھا جو سلطان ایوبی کی فوج کے کسی دستے کا کمانڈر تھا۔ وہ سوڈان کا رہنے
واال تھا اور نوجوانی میں مصری فوج میں شامل ہوا تھا۔ سوڈان کے ایک پہاڑی عالقے میں وہاں کے مسلمان آباد تھے جن کی
تعداد چار پانچ ہزار کے درمیان تھی۔ ان کے مختلف قبیلے تھے لیکن اسالم نے ان میں اتحاد پیدا کررکھا تھا۔ تمام قبیلوں
کے سرداروں نے ایک کمیٹی سی بنا رکھی تھی۔ تمام قبیلے اس کے احکام اور فیصلوں کی پابندی کرتے تھے۔ ان لوگوں نے
روایت بنا رکھی تھی کہ مصری فوج میں بھرتی ہوجاتے تھے۔ سوڈانی فوج میں شمولیت سے گریز کرتے تھے۔ وہ جنگجو بھی
تھے اور خونخوار بھی۔ تیراندازی کے ماہر تھے۔ سوڈانی فوج اور حکومت نے انہیں بہت اللچ دئیے تھے۔ انہیں جنگ کے
ذریعے ختم کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ لیکن ان مسلمان قبائل کو پہاڑیوں کا فائدہ حاصل تھا۔ دوباران پر سوڈانی فوج نے
حملہ کیا لیکن مسلمان تیر اندازوں نے چٹانوں کی چوٹیوں سے وہ تیر برسائے کہ سوڈانیوں کے گھوڑے تیر کھا کر اپنے پیادہ
سپاہیوں کو کچلتے بھاگ گئے۔
٭ ٭ ٭
تقی الدین کی جنگی لغزش سے سوڈان والوں کے ہاتھوں جہاں مصر کی بہت سی فوج قیدی ہوگئی تھی ،وہاں ایک کمان دار
اسحاق بھی تھا۔ اپنے قبیلوں پر اس کا بہت اثرورسوخ تھا۔ جنگی قید میں سوڈانیوں نے اسے کہا کہ اگر وہ اپنے مسلمان
قبیلوں کو سوڈان کی فوج میں شامل ہونے پر راضی کرلے تو اسے نہ صرف رہا کردیا جائے گا بلکہ جس پہاڑی عالقے میں
مسلمان آباد ہیں ،اس تمام عالقے کی الگ ریاست بنا کر اسے اس کا امیر یا سلطان بنا دیا جائے گا۔
میں اس ریاست کا پہلے ہی سلطان ہوں''… اسحاق نے جواب دیا… ''یہ ہماری آزاد ریاست ہے''۔''
وہ سوڈان کا عالقہ ہے''… اسے کہا گیا… ''ہم کسی بھی روز وہاں کے لوگوں کو قید کرلیں گے یا تباہ کردیں گے''۔''
تم پہلے اس عالقے پر قبضہ کرو''… اسحاق نے کہا… ''وہاں کے مسلمانوں کو تہہ تیغ کرو ،تم انہیں اپنی فوج میں شامل''
نہیں کرسکو گے۔ اس عالقے میں اپنا جھنڈا لے جا کر دکھا دو پھر میں انہیں تمہاری فوج میں شامل ہونے پر راضی کرلوں
گا''۔
اسحاق کو قید خانے میں رکھنے کے بجائے ایک خوشنما کمرے میں رکھا گیا جو کسی شہزادے کا محل معلوم ہوتا تھا۔ ایک
سوڈانی ساالر نے اسے اس کمرے میں داخل کرکے اپنی تلوار دونوں ہاتھوں میں لے کر اور دوزانو ہوکر اسے پیش کی اور کہا…
''ہم آپ جیسے جنگجو کی دل سے قدر کرتے ہیں۔ آپ ہمارے قیدی نہیں مہمان ہیں''۔
میں آپ کی تلوار قبول نہیں کروں گا''… اسحاق نے کہا… ''میں مہمان نہیں قیدی ہوں ،میں نے شکست کھائی ہے۔ میں''
آپ سے تلوار اسی طرح لوں گا جس طرح آپ نے مجھ سے لی ہے۔ تلوار ،تلوار کے زور سے لی جاتی ہے''۔
مگر ہم آپ کے دشمن نہیں''… سوڈانی ساالر نے کہا۔''
میں آپ کا دشمن ہوں''… اسحاق نے مسکرا کر کہا… ''تلواروں کا تبادلہ اتنے خوبصورت کمرے میں نہیں میدان جنگ ''
میں ہوا کرتا ہے۔ آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے میری اتنی عزت کی''۔
ہم اس سے زیادہ عزت کریں گے''… ساالر نے کہا… ''آپ کی مسند خرطوم کے تخت کے ساتھ رکھی جائے گی''۔''
اور روز محشر میری مسند دوزخ کے تہہ خانے میں رکھی جائے گی''… اسحاق نے کہا… ''کیونکہ میں نے دنیا میں مسند ''
تخت کے ساتھ رکھی تھی''۔
میں دنیا کی بات کررہا ہوں''۔''
مگر مسلمان آخرت کی بات کیا کرتا ہے۔ جب ہم سب اپنے اعمال نامے خدا کے حضور پیش کریں گے''… اسحاق نے ''
کہا… ''مجھے یہ بتا دیں کہ آپ کے بعد کون آئے گا اور کیا تحفہ الئے گا''۔
سوڈانی ساالر نے مسکرا کر کہا… ''اب کوئی بھی آئے مجھے کیا ،میں سپاہی ہوں۔ آپ بھی سپاہی ہیں۔ میں نے آپ کی
سپاہیانہ شان کو خراج عقیدت پیش کیا تھا۔ آپ نے میرا دل توڑ دیا''۔
آپ نے میری سپاہیانہ شان دیکھی ہی کب ہے؟''… اسحاق نے کہا… ''مجھے تو لڑنے کا موقعہ مال ہی نہیں۔ میرا دستہ''
صحرا کے ایک ایسے حصے میں جاپھنسا جہاں پانی کی بوند نظر نہیں آتی تھی۔ تین چار دنوں میں صحرا نے میرے پیادوں،
سواروں اورگھوڑوں کو ہڈیوں میں بدل دیا۔ سپاہی اور سوار زبانیں باہر نکالے پانی ڈھونڈنے لگے۔ آپ کے ایک دستے نے حملہ
کردیا اور ہم پکڑے گئے۔ ہمیں صحرا نے شکست دی ہے۔ آپ نے میری تلوار کے جوہر کہاں دیکھے ہیں کہ مجھے خراج
عقیدت پیش کررہے ہیں''۔
مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ بہادر ہیں''… ساالر نے کہا۔''
سنی سنائی پر یقین نہ کریں''… اسحاق نے کہا… ''کل صبح ایک تلوار مجھے دیں ،ایک آپ لیں اور میرے مقابلے میں ''
آئیں۔ مجھے امید ہے کہ میں آپ کی تلوار قبول کرلوں گا مگر اس وقت آپ زندہ نہیں ہوں گے''۔
ساالر کچھ اور کہنے لگا تھا کہ اسحاق نے کہا… ''غور سے سن لو محترم ساالر! مجھے تم لوگ کل جو قید خانے میں ڈال
دو گے ،ابھی ڈال دو۔ میں اتنی خوبصورت قید میں مخمو ہوکر اپنا ایمان نہیں بیچوں گا''۔
قید خانے کی غالظت کے بجائے آپ اس دل نشیں ماحول میں بہتر طریقے سے سوچ سکیں گے''… ساالر نے کہا… ''
''میں امید رکھوں گا کہ آپ کے سامنے جو شرط پیش کی گئی ہے ،اس پر آپ غور کریں گے۔ مجھے ایک سپاہی بھائی
سمجھ کر میرا یہ مشورہ قبول کرلیں کہ اپنا مستقبل تاریک نہ کریں۔ خدا نے آپ کی قسمت میں بادشاہی لکھ دی ہے۔ اس
پر لکیر نہ پھیریں''۔
میرے خدا نے میری قسمت میں جو کچھ لکھا ہے وہ میں اچھی طرح جانتا ہوں''… اسحاق نے کہا… ''اور تمہارے خدا ''
نے جو کچھ لکھا ہے میں اسے بھی جانتا ہوں… تم جائو۔ مجھے سوچنے دو''۔
ساالر چال گیا تو کھانا آگیا۔ کھانا النے والی تین لڑکیاں تھیں۔ جوان اور بہت ہی خوبصورت۔ وہ نیم عریاں بھی تھیں۔ کھانے
کی اقسام ایسی جو اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھی تھیں۔ کھانے کے ساتھ خوشنما صراحیوں میں شراب بھی تھی۔
اسحاق نے ضرورت کے مطابق کھایا ور پانی پی لیا۔ دسترخوان سمیٹ لیا گیا اور ایک لڑکی اس کے پاس آگئی۔ اسحاق اسے
دیکھتا رہا اور اس کی ہنسی نکل گئی جس میں طنز تھی۔
کیا آپ نے مجھے پسند نہیں کیا؟''… لڑکی نے پوچھا۔''
میں نے تم جیسی بدصورت لڑکی پہلی بار دیکھی ہے''۔ اسحاق نے کہا۔''
لڑکی کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ وہ تو بہت ہی خوبصورت لڑکی تھی۔ اسحاق نے اس کی حیرت بھانپتے ہوئے کہا…
'' حسن ،حیا میں ہوتا ہے۔ عورت عریاں ہوجائے تو اس کی کشش ختم ہوجاتی ہے۔ عریانی نے تمہارا طلسم توڑ دیا ہے۔ میں
اب تمہارے قبضے میں نہیں آسکوں گا''۔
کیا آپ نے مجھے دیکھ کر بھی میری ضرورت محسوس نہیں کی؟''… لڑکی نے پوچھا۔''
میرے جسم کو تمہاری کوئی ضرورت نہیں''… اسحاق نے کہا… ''میری روح کی ایک ضرورت ہے جو تم پوری نہیں کرسکو''
گی۔ تم جائو''۔
لیکن میرے لیے حکم ہے کہ آپ کے پاس رہوں''… لڑکی نے کہا… ''اگر میں نے حکم کے خالف کوئی کام کیا تو مجھے''
سزا کے طور پر وحشی حبشیوں کے حوالے کردیا جائے گا''۔
دیکھو لڑکی!''… اسحاق نے کہا… ''میں مسلمان ہوں۔ میرا عقیدہ کچھ اور ہے میں تمہیں اس کمرے میں نہیں رکھ سکتا۔''
اگر تم اس کمرے میں رات بسر کرنے کا حکم لے کے آئی ہو تو یہیں رہو اور میں باہر سو جائوں گا''۔
یہ بھی میرا جرم ہوگا''… لڑکی نے کہا… ''آپ مجھے اس کمرے میں رہنے دیں۔ مجھ پر رحم کریں''… لڑکی نے دیکھ ''
لیا تھا کہ یہ شخص پتھر ہے۔ اس نے اسحاق کی منت سماجت شروع کردی۔
تمہارا کام کیا ہے؟''… اسحاق نے پوچھا… ''کس مقصد کے لیے تمہیں میرے پاس بھیجا گیا ہے؟ مجھے اپنا مقصد بتا دو ''
تو اس کمرے میں رہنے دوں گا''۔
میرا کام یہ ہے کہ آپ جیسے مردوں کو موم کردوں''… لڑکی نے جواب دیا… ''آپ پہلے مرد ہیں جس نے مجھے ٹھکرایا''
ہے۔ میں نے مذہب کے شیدائیوں کو اپنا گرویدہ بنایا اور انہیں سوڈان کے سانچے میں ڈھاال ہے''۔ لڑکی نے پوچھا… ''کیا
''واقعی آپ نے مجھے بدصورت سمجھا ہے یا مذاق کیا تھا؟
تم جسے خوشبو کہتی ہو وہ میرے لیے بدبو ہے''… اسحاق نے کہا… ''میری نظر میں تم واقعی بدصورت ہو… جہاں سونا''
چاہتی ہو سوجائو۔ پلنگ پر سوجائو ،میں فرش پر سو جائوں گا''۔
لڑکی فرش پر لیٹ گئی۔
تمہارا نام کیا ہے لڑکی؟''… اسحاق نے پوچھا۔''
آشی''۔''
''اور تمہارا مذہب؟''
میرا کوئی مذہب نہیں''۔''
''تمہارے ماں باپ کہاں رہتے ہیں؟''
معلوم نہیں''… لڑکی نے کہا۔''
اسحاق پر نیند کا غلبہ ہونے لگا ور ذرا سی دیر میں اس کے خراٹے سنائی دینے لگے۔
٭ ٭ ٭
اس شخص کے ساتھ آپ وقت ضائع کررہے ہیں''… اس لڑکی نے کہا جس نے رات اسحاق کو اپنا نام آشی بتایا تھا۔ اس''
اعلی افسر بیٹھے ہوئے تھے۔ آشی نے کہا… ''اس شخص کے اندر جذبات نام کی کوئی چیز
کے سامنے سوڈانی فوج کے
ٰ
نہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ میں نے کیسے کیسے پتھر موم کیے ہیں مگر اس جیسا کوئی نہیں دیکھا''۔
معلوم ہوتا ہے تم نے کوئی کوتاہی کی ہے''… ایک افسر نے کہا۔''
لڑکی نے پوری تفصیل سنائی کہ اس نے اسحاق کو کیسے کیسے طریقوں سے اپنے جال میں پھانسنے کی کوشش کی مگر وہ
ہنس پڑتا تھا یا اسے خاموشی سے دیکھتا رہتا تھا۔ ذرا دیر بعد سو جاتا تھا۔
چار پانچ دن سوڈانی حکام اسحاق کو اپنی بات پر النے کی کوشش کرتے رہے۔ راتوں کواس پر بڑے بڑے حسین طلسم طاری
کرنے کے جتن کیے گئے مگر اسحاق نے بات یہیں پر ختم کی کہ میں مصر کی فوج کے ایک دستے کا کمان دار ہوں،
مسلمان ہوں اور قیدی ہوں۔
آخر اسے محل سے نکال کر قید خانے میں لے گئے اور ایک تنگ سی کوٹھڑی میں بند کردیا۔ سالخوں والے دروازے پر قفل
چڑھا دیا گیا۔ کوٹھڑی میں ایسی بدبو تھی کہ دماغ پھٹا جاتا تھا۔ رات کا وقت تھا۔ ایک سپاہی دیا لے آیا جو اس نے
سالخوں میں اسحاق کو دے دیا۔ اسحاق نے دیا فرش پر رکھا تو اسے کوٹھڑی میں ایک الش پڑی نظر آئی جو خراب ہورہی
تھی۔ الش کا منہ کھال ہوا ور آنکھیں بھی کھلی ہوئی تھیں۔ الش سوج گئی تھی۔ اسحاق نے قید خانے کے سپاہی کو آواز دے
کر بالیا اور پوچھا کہ یہ کس کی الش ہے۔
تمہارا ہی کوئی دوست ہوگا''۔ سپاہی نے جواب دیا… ''کوئی مصری تھا۔ جنگ میں پکڑاگیا تھا۔ اسے بہت اذیتیں دی ''
گئی تھیں۔ پانچ چھ دن ہوئے کوٹھڑی میں مر گیا''۔
الش یہاں کیوں پڑی ہے؟'' اسحاق نے پوچھا۔''
تمہارے لیے''۔ سپاہی نے طنزیہ کہا… ''اسے اٹھا لیا تو تم اکیلے رہ جائو گے''۔ سپاہی ہنستا ہوا چال گیا۔''
اسحاق نے دیا اوپر کرکے الش کو دیکھنا شروع کردیا۔ کپڑوں سے اس نے پہچان لیا کہ مصری فوج کا آدمی تھا۔ اسحاق نے
کوٹھڑی میں جو بدبو محسوس کی تھی وہ غائب ہوگئی۔ اس نے سوجی ہوئی الش کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور کہا… ''تمہارا
جسم گل جائے گا مگر روح تازہ رہے گی۔ تم نے خدا کی راہ میں جان دی ہے۔ تم مجھ سے برتر ہو۔ تم زندہ ہو۔ زندہ رہو
گے۔ سپاہی ٹھیک کہہ گیا ہے ،تم نہ ہوتے تو میں اکیال رہ جاتا''۔
وہ بہت دیر اس کے ساتھ باتیں کرتا رہا اور الش کے پاس لیٹ گیا۔ اس کی آنکھ لگ گئی۔ صبح اسے جگایا گیا۔ اس نے
دیکھا کہ وہی سوڈانی ساالر کھڑا تھا جس نے اسے تلوار پیش کی تھی۔ ساالر نے کہا… ''کسی چیز کی ضرورت ہوتو حاضر
کروں''۔
میں نے تمہارے لہجے کو پہچان لیا ہے''۔ اسحاق نے کہا… ''میں ہارا ہوا ہوں۔ تم مجھے طعنہ دے سکتے ہو۔ اگر تم ''
واقعی میری کوئی ضرورت پوری کرنا چاہتے ہو تو میدان جنگ سے تمہیں مصر کے پرچم بھی ملے ہوں گے۔ ایک پرچم الدو،
میں اس الش پر ڈالنا چاہتا ہوں''۔
ساالر نے قہقہہ لگا کر کہا… ''کیا تمہارے پرچم کو ہم نے سینے سے لگا رکھا ہوگا؟ ہم نے مصر کے کسی جھنڈے کو ہاتھ
لگانا بھی گوارا نہیں کیا''۔ اس نے سپاہی سے کہا… ''اسے باہر نکالو اور نیچے لے چلو۔ الش یہیں رہنے دو''۔
اسحاق کو قید خانے کے تہہ خانے میں لے گئے۔ وہاں ایسی بدبو تھی جیسے بے شمار الشیں پڑی ہوں۔
سوڈانی ساالر آگے آگے تھا۔ ایک جگہ چھ سات مصری الٹے لٹکے ہوئے تھے اور ان کے بازوئوں کے ساتھ وزن بندھا ہوا تھا۔
آگے ایک آدمی کو بہت بڑی صلیب کے ساتھ اس طرح لٹکایا ہوا تھا کہ اس کی ہتھیلیوں میں ایک ایک کیل گڑھا ہوا تھا۔
خون ٹپک رہا تھا۔ ایک جگہ ایک چوڑا اور بہت بڑا پہیہ تھا ،اس پر ایک آدمی پیٹھ کے بل اس طرح بندھا تھا کہ ٹخنوں
سے زنجیریں بندھی تھیں جو فرش میں ٹھوکی ہوئی تھیں۔ بازو اوپر کرکے پہیے کے ساتھ بندھے تھے۔ ایک آدمی پہیے کو ذرا
سا چالتا تو اس آدمی کے بازو اور ٹانگیں اوپر اور نیچے کو کھینچی جاتی تھیں۔ وہ درد سے چیختا تھا۔
اسحاق کو تہہ خانے میں گھما پھرا کر دکھایا گیا کہ یہاں کیسی کیسی اذیتیں دی جارہی ہیں۔ جگہ جگہ خون تھا بعض قیدی
قے کرتے تھے اور چند ایک بے ہوش پڑے تھے۔ اذیت کا ہر ایک طریقہ دکھا کر سوڈانی ساالر نے اسحاق سے پوچھا… ''آپ
کو جو طریقہ پسند ہو وہ بتا دیں۔ ہم آپ کو وہاں لے چلتے ہیں ،اگر آپ اس کے بغیر ہی ہماری بات مان جائیں تو آپ کا
ہی بھال ہوگا''۔
جہاں جی چاہے لے چلو ،قوم سے غداری نہیں کروں گا''۔ اسحاق نے کہا۔''
میں ایک بار پھر بتا دیتا ہوں کہ ہم تم سے کیا کروانا چاہتے ہیں''۔ ساالر نے کہا… ''تمہیں کہا گیا تھا کہ تمام مسلمان''
قبیلوں کو سوڈانی فوج میں لے آئو اس کے عوض تمہیں رہا بھی کیا جائے گا اور مسلمان قبیلوں کے عالقے کا امیر بنا دیا
جائے گا۔ اب تم اپنا یہ حق کھو بیٹھے ہو۔ اب ہماری شرط یہی ہے مگر تمہیں یہ انعام دیا جائے گا کہ کوئی اذیت نہیں
دی جائے گی اور تمہیں سوڈانی فوج میں اچھا عہدہ دیا جائے گا''۔
عہدے کے بجائے مجھے کسی بھی اذیت میں ڈال دو''۔ اسحاق نے کہا۔''
اسے اس طرح الٹا لٹکا دیا گیا کہ ٹخنوں سے زنجیریں ڈال کر چھت سے باندھ دی گئیں ،ساالر نے سپاہیوں سے کہا… ''شام
تک اسے یہیں رہنے دو۔ شام کے وقت اسے الش والی کوٹھڑی میں پھینک دینا۔ مجھے امید ہے کہ اس کا دماغ صاف ہوجائے
گا''۔
٭ ٭ ٭
شام تک وہ بے ہوش ہوچکا تھا۔ ہوش میں آیا تو وہ الش کے پاس پڑا تھا۔ ایک کونے میں تھوڑا سا پانی اور کچھ کھانا رکھا
تھا۔ اس نے پانی پیا اور کھانا کھالیا۔ اس نے الش سے کہا… ''میں تمہاری روح کے ساتھ دھوکہ نہیں کروں گا ،میں جلدی
تمہارے پاس آرہا ہوں''… باتیں کرتے کرتے اس کی آنکھ لگ گئی۔
آدھی رات کے وقت اسے پھر جگا لیا گیا اور پہیے کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ سوڈانی ساالر موجود تھا۔ اس نے کہا… ''ہزاروں
مسلمان ہمارے ساتھ ہیں ،تم شاید پاگل ہوگئے ہو۔ تم اسالم کے لیے قربانی دے رہے ہو لیکن صالح الدین ایوبی اپنی بادشاہی
کو آدھی دنیا پر پھیالنے کے لیے تم جیسے پاگلوں کو مروا رہا ہے۔ وہ بدبخت شراب بھی پیتا ہے اور اس نے پریوں جیسی
لڑکیوں سے حرم بھر رکھا ہے اور تم ہو کہ اس کے نام پر مرتے ہو''۔
ساالر محترم!''… اسحاق نے کہا… ''میں تمہیں اپنے مذہب کے امیر اور سلطان کے خالف جھوٹ بولنے سے روک نہیں ''
سکتا اور تم مجھے اپنے عقیدے پر جان قربان کرنے سے روک نہیں سکتے۔ میری قوم کے کسی بھی قبیلے کا کوئی ایک بھی
مسلمان تمہاری فوج میں شامل نہیں ہوگا۔ مسلمان مسلمان کے خالف تلوار نہیں اٹھائے گا''۔
تم شاید نہیں جانتے کہ عرب میں مسلمان مسلمان کا خون بہا رہا ہے''۔ سوڈانی ساالر نے کہا… ''صلیبی فلسطین میں ''
بیٹھے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ تمام امیروں اور مسلمان حکمرانوں نے صالح الدین ایوبی کے خالف بغاوت کردی ہے''۔
انہوں نے کردی ہوگی''۔ اسحاق نے کہا… ''میں نہیں کروں گا۔ جنہوں نے بغاوت کی ہے وہ اس دنیا میں بھی سزا ''
بھگتیں گے ،اگلے جہان میں بھی… تم اپنا وقت ضائع نہ کرو۔ میرے ساتھ جو سلوک کرنا چاہو کرو اور کسی دوسرے سوڈانی
مسلمان کو پکڑو۔ شاید وہ تمہارا کام کردے''۔
ہمیں بتایا گیا ہے کہ تم صرف اشارہ کردو تو تمام مسلمان ہمارے ساتھ ہوں گے''۔ ساالر نے کہا… ''ہم تم سے یہ کام ''
مفت نہیں کرانا چاہتے۔ تمہاری قسمت بدل دیں گے''۔
میں آخری بار کہتا ہوں کہ میں اپنی قوم کو بیچوں گا نہیں''… اسحاق نے کہا۔''
وہ پہیے کے ساتھ بندھا ہوا تھا۔ نیچے ٹخنے فرش کے ساتھ ،اوپر کالئیاں پہیے کے ساتھ۔ تین چار حبشی اس لمبے کھمبے
کے ساتھ کھڑے تھے جسے دھکیلنے سے پہیہ حرکت میں آتا تھا۔ سوڈانی ساالر نے اشارہ کیا تو حبشیوں نے کھمبے کو ایک
قدم دھکیال۔ رہٹ کی طرح پہیہ چال۔ اسحاق کا جسم اوپر اور نیچے کو کھینچنے لگا۔ اس کے بازو کندھوں اور ٹانگیں کولہوں
سے الگ ہونے لگیں۔ اس کے جسم سے پسینہ اس طرح پھوٹا جیسے کسی نے اس پر پانی انڈیل دیا ہو۔
اب سوچو اور جواب دو''۔ اس کے کانوں میں سوڈانی ساالر کی آواز پڑی۔''
ایمان نہیں بیچوں گا''۔ اسحاق نے کراہتی ہوئی آواز میں جواب دیا۔''
پہیہ اور آگے چالیا گیا۔ اس کی کھال پھٹنے لگی۔
اب اچھی طرح سوچ سکو گے''۔''
میری الش بھی یہی جواب دے گی ،اپنا ایمان نہیں بیچوں گا''۔ اسحاق نے یہ الفاظ بڑی مشکل سے منہ سے نکالے۔''
اسے کچھ دیر یہیں رہنے دو''۔ ساالر نے حکم دیا… ''مان جائے گا''۔''
اسحاق نے قرآن کی آیات کا ورد شروع کردیا۔ ساالر چال گیا۔ اسحاق کے جسم کے جوڑ کھل رہے تھے۔ کھال جیسے اتاری
جارہی تھی۔ اس کا منہ آسمان کی طرف تھا۔ اس نے تصور میں خدا کو اپنے سامنے دیکھا اور کہا۔ ''خداوند دوعالم! میں
گناہ گار ہوں تو مجھے اور زیادہ سزا دو۔ میں آپ کی راہ میں سچا ہوں تو مجھے سکون عطا کرو۔ میں آپ کے حضور
شرمسار نہیں ہونا چاہتا''… اس نے آنکھیں بند کرکے آیات کا ورد شروع کردیا۔
تم چیختے کیوں نہیں؟'' اس کے پاس قید خانے کا جو سپاہی کھڑا تھا اس نے کہا… ''زور زور سے چیخو۔ اس سے ''
تکلیف ذرا کم ہوجاتی ہے''۔
میں تکلیف میں نہیں ہوں''۔ اسحاق نے کہا… ''پہیہ اور آگے کردو''۔''
قید خانے کے سپاہی درندے تھے۔ اس سپاہی نے حبشیوں سے کہا کہ پہیہ ذرا اور چالئیں۔ حبشیوں نے دھکا لگایا تو پہیہ اور
آگے چال گیا۔ اسحاق کے جسم سے کڑاک کڑاک کی آوازیں نکلیں۔ ایک اور سپاہی دوڑتا آیا۔ اس نے اپنے ساتھی سے کہا…
''تمہیں کس نے کہا ہے کہ پہیہ چالئو۔ یہ مر جائے گا۔ اسے ابھی زندہ رکھنا ہے''… پہیہ ذرا نیچے کردیا گیا۔
یہ کہتا ہے مجھے کوئی تکلیف نہیں ہورہی''۔ سپاہی نے اپنے ساتھی سے کہا۔''
''تم ہوش میں ہو؟'' سپاہی نے اسحاق سے پوچھا… ''تم کیا بول رہے ہو؟''
بے ہوشی میں بول رہا ہے''۔ دوسرے نے کہا… ''تم نے چکر جہاں تک پہنچا دیا تھا وہاں انسان مرجاتا ہے۔ یہ ہوش ''
میں نہیں ہوسکتا''۔
میں ہوش میں ہوں دوستو!'' اسحاق کی نحیف آواز سنائی دی… ''میں اپنے خدا کے ساتھ باتیں کررہا ہوں''۔''
دونوں سپاہیوں نے ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھا۔ ایک نے کہا… ''یہ اتنا طاقتور تو نہیں لگتا۔ اس حالت میں تو بھینسوں
جیسے وحشی حبشی بے ہوش ہوجاتے ہیں۔ یہ کوئی عالم ہوگا۔ اس کے پاس خدا کی طاقت ہے''۔
ہاں۔ تم ٹھیک کہتے ہو''۔ اسحاق نے کہا… ''میرے پاس خدا کی طاقت ہے۔ میں خدا کا کالم پڑھ رہا ہوں۔ پہیے کو ''
پورا چکر دے کر دیکھو۔ میرا جسم دو حصوں میں کٹ جائے گا۔ دونوں حصوں سے یہی آواز آئے گی جو تم سن رہے ہو''۔
وہ گنوار سپاہی تھے۔ توہم پرستی ان کا مذہب تھا۔ وہ مسلمان نہیں تھے۔ پیروں فقیروں اور مجذوبوں کو خدا سمجھتے تھے۔
بتوں کی بھی عبادت کرتے تھے۔ اس پہیے کو (جسے چکر شکنجہ کہتے تھے) وہ اچھی طرح جانتے تھے۔ اس کے ساتھ
بندھا ہوا انسان پہیے کی ذرا سی حرکت پر چیخ اٹھتا اور ہر بات مان لیتا تھا۔ ذرا مزید حرکت سے بے ہوش ہوتا اور کچھ
دیر بعد مرجاتا تھا لیکن اسحاق پہیے کے آخری نشان تک زندہ ہی رہا ،ہوش میں رہا۔ سپاہی جان گئے کہ یہ آدمی عام قسم
کا انسان نہیں۔
تم آسمانوں کا حال جانتے ہو؟'' ایک سپاہی نے پوچھا۔''
میرا خدا جانتا ہے''۔ اسحاق نے جواب دیا۔''
تمہارا خدا کہاں ہے''۔''
میرے دل میں''۔ اسحاق نے جواب دیا… ''وہ مجھے کوئی تکلیف نہیں ہونے دیتا''۔''
ہم غریب لوگ ہیں'' ایک سپاہی نے کہا… ''یہاں تم جیسے انسانوں کی ہڈیاں توڑ کر بال بچوں کو روٹی کھالتے ہیں۔ ''
''تم ہماری قسمت بدل سکتے ہو؟
باہر جاکر'' اسحاق نے کہا… ''میں جو کچھ پڑھ رہا ہوں وہ تمہیں بتا دوں گا۔ تمہاری قسمت بدل جائے گی''۔''
ہم پہیہ نیچے کردیتے ہیں''۔ ایک سپاہی نے کہا… ''ساالر کو آتا دیکھیں گے تو اوپر کردیں گے''۔''
نہیں!'' اسحاق نے کہا… ''میں تمہیں یہ بددیانتی نہیں کرنے دوں گا۔ یہی میری طاقت ہے۔ اسے ہم ایمان کہتے ہیں''۔''
ہم تمہاری مدد کریں گے'' ایک سپاہی نے کہا… ''جب کہو گے جو کہو گے ہم کریں گے اگر ہوسکا تو تمہیں قید خانے ''
سے نکال دیں گے''۔
ساالر آگیا۔
''کیوں بھائی؟'' اس نے اسحاق سے پوچھا… ''ہوش میں ہو؟''
میرے اللہ نے مجھے بے ہوش نہیں ہونے دیا''۔ اسحاق نے جواب دیا۔''
ساالر کے اشارے پر پہیہ اور آگے چالیا گیا۔ اسحاق نے صاف طور پر محسوس کیا کہ اس کا جسم دو حصوں میں کٹ گیا ہے
اور اس کا آخری وقت آگیا ہے۔ اس نے کراہتی ہوئی آواز میں کالم پاک کا ورد اور زیادہ بلند آواز سے شروع کردیا۔ پہیہ اور
آگے چالیا گیا۔ اس کے جسم سے ایسی آوازیں آئیں جیسے جوڑ ٹوٹ رہے ہوں۔
خوش نہ ہو کہ ہم تمہیں جان سے مار دیں گے''۔ سوڈانی ساالر نے کہا… ''تم زندہ رہو گے اور تمہارے ساتھ ہر روز یہی''
سلوک ہوگا۔ تمہاری جان لے کر تمہیں اذیت سے آزاد نہیں کرنا چاہتے''۔
اسحاق نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے ورد جاری رکھا۔
ساالر کے اشارے پر پہیہ ذرا نیچے کردیا گیا۔ ساالر کے ساتھ فوج کا ایک اور افسر تھا۔ ساالر اسے الگ لے گیا اور کہا…
''بہت سخت جان معلوم ہوتا ہے۔ اتنی دیر میں یہ بے ہوش بھی نہیں ہوا۔ ہم نے زیادتی کی تو مر جائے گا۔ اسے ابھی
زندہ رکھنا ہے۔ میں نے ایک اور طریقہ سوچا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس کی ایک بیٹی کی عمر چودہ پندرہ سال ہے اور اس
کی بیوی بھی ہے۔ ان دونوں کو یہ دھوکہ دے کر یہاں بالیا جائے کہ یہ شخص قید خانے میں ہے اور مررہا ہے۔ تمہیں اجازت
دی جاتی ہے کہ اسے دیکھ جائو اور اگر یہ مر گیا تو اس کی الش لے جائو''۔
دوسرے افسر نے کہا… ''دھوکے سے ہی بالنا پڑے گا ورنہ وہاں کے مسلمان ہمارے کسی آدمی کو اپنے عالقے میں داخل نہیں
ہونے دیں گے''۔
ان دونوں کو بال کر اس کے سامنے ننگا کرکے کھڑا کردیں گے''۔ ساالر نے کہا… ''پھر اسے کہیں گے کہ ہماری شرط ''
..مان لو ورنہ تمہاری کمسن بیٹی اور بیوی کو تمہارے سامنے بے آبرو کیا جائے گا
دونوں سپاہی جو ساالر کی غیرحاضری میں اسحاق کے ساتھ باتیں کرتے رہے تھے ،قریب کھڑے سن رہے تھے۔ ساالر نے انہی
میں سے ایک کو بھیج کر فوج کے کمانڈر کو بالیا۔ اسے اسحاق کے گائوں کا راستہ بتا کر پیغام دیا اور یہ بھی بڑی اچھی
طرح سمجھا دیا کہ مقصد کیا ہے۔ اسے کہا گیا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ بہت ہی احترام سے بات کرے اور صالح الدین
ایوبی کی تعریفیں بھی کرے ورنہ مسلمان اسے زندہ نہیں نکلنے دیں گے۔
کمانڈر اسی وقت روانہ ہوگیا۔ اسحاق کو چکر شکنجے سے اتار کر اسی کوٹھڑی میں پھینک دیا گیا جس میں کسی مصری
سپاہی کی الش گل سڑ رہی تھی۔ اسحاق سے اٹھا نہیں جارہا تھا۔ سارے جسم سے درد کی بے رحم ٹیسیں اٹھ رہی تھیں
مگر اس نے دھیان خدا کی طرف لگا رکھا تھا۔ اتنے شدید درد کے باوجود وہ اپنے آپ میں سکون محسوس کررہا تھا۔ اس کی
روح میں کوئی درد نہیں تھا۔ جسمانی درد کے احساس سے وہ بے نیاز ہوچکا تھا لیکن اسے معلوم نہ تھا کہ اسے ایسی ذلت
میں ڈالنے کا اہتمام ہورہا ہے جو اس کی روح کو لہولہان کردے گا۔ اس کی کمسن بیٹی اور جوان بیوی کو قید خانے میں
النے کے لیے ایک آدمی چال گیا تھا۔
وہاں سے اس کا گائوں جو پہاڑی عالقے میں تھا ،گھوڑے پر پورے دن کی مسافت جتنا دور تھا۔ صبح ابھی ابھی طلوع ہوئی۔
سوڈانی ساالراپنے ساتھی افسر کے ساتھ چال گیا۔ قید خانے میں دونوں سپاہیوں کی ڈیوٹی ختم ہونے والی تھی۔ دن بھر کے
لیے دوسرے سپاہی آرہے تھے۔ ان دونوں سپاہیوں نے آپس میں بات کی اور ایک فیصلہ کرلیا۔ وہ اسحاق کو برگزیدہ انسان
سمجھ رہے تھے جس کا تعلق براہ راست کسی غیبی قوت کے ساتھ تھا۔ یہ ان کی برداشت سے باہر تھا کہ اس برگزیدہ
شخص کی بیٹی اور بیوی کو قید خانے میں بال کر ذلیل کیا جائے۔ ایک سپاہی نے اس خطرے کا بھی اظہار کیا کہ اس
شخص کی بیٹی اور بیوی کی توہین کی گئی تو سب پر قہر نازل ہوگا۔ ان دونوں کو یہ اللچ بھی تھا کہ باہر جا کر اسحاق
ان کی قسمت بدل دے گا۔
ایک سپاہی نے کہا کہ وہ اسحاق کی بیٹی اور بیوی کو یہاں تک نہیں آنے دے گا۔
٭ ٭ ٭
شام ہوچکی تھی جب پیغام لے جانے واال سوڈانی کمانڈر مسلمانوں کے پہاڑی عالقے میں داخل ہوا۔ پہلے گائوں میں جاکر اس
نے پوچھا کہ اسحاق نام کے ایک سوڈانی مسلمان کا گائوں کہاں ہے جو مصر کی فوج میں عہدیدار ہے۔ اسحاق کا تمام
عالقے پر اثرورسوخ تھا۔ اسے ہر کوئی جانتا تھا ،کمانڈر نے بتایا کہ وہ زخمی حالت میں جنگی قیدی ہوا تھا۔ دوسرے قیدیوں
کی طرح اسے بھی قید خانے میں ڈال دیا گیا تھا۔ اس کی حالت بگڑ رہی ہے۔ اس نے خواہش ظاہر کی ہے کہ اسے اس
کی بیٹی اور بیوی سے مالیا جائے میں ان دونوں کو لینے آیا ہوں۔
ایک آدمی ان کے ساتھ ہوگیا۔ وادیوں سے گزرتے ،کچھ وقت بعد دونوں اسحاق کے گائوں میں داخل ہوئے۔ پھر اس کے گھر
جاپہنچے۔ اس کے بوڑھے باپ سے مالقات ہوئی۔ سوڈانی کمانڈر نے جھک کر مصافحہ کیا اور نہایت اچھے انداز سے کہا۔
'' آپ کا بیٹا اتنا بہادر ہے کہ ہمارے ساالر بھی اسے سالم کرتے ہیں ،وہ بہادری سے لڑا مگر ریگستان نے اسے پیاسا رکھ کر
بے حال کردیا۔وہ زخمی حالت میں پکڑا گیا۔ اس کا عالج اس طرح کیا جارہا ہے جس طرح سوڈانی ساالروں اور حکمرانوں کا
کیا جاتا ہے۔ اتنے اچھے عالج کے باوجود صحت یاب نہیں ہوا۔ اسے بچانے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔ اس نے خواہش
ظاہر کی ہے کہ اپنی بیٹی کو اور اپنی بیوی کو آخری بار دیکھنا چاہتا ہوں''۔
اگر تم لوگ اس کی اتنی زیادہ عزت کرتے ہو تو اسے میرے حوالے کیوں نہیں کردیتے؟'' اسحاق کے باپ نے کہا۔ ''
''ہوسکتا ہے ہمارے جراح اور طبیب اسے ٹھیک کرلیں''۔
فرمان روائے سوڈان نے کہا ہے کہ وہ ہمارا مہمان ہے''۔ کمانڈر نے جواب دیا۔ ''مہمان کو بیماری کی حالت میں رخصت''
کرنا میزبان کی بے عزتی ہے۔ صحت یاب ہوتے ہی اسے باعزت طریقے سے رخصت کردیا جائے گا''۔
کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ اس کی بیٹی اور بیوی اس کے پاس رہیں اور اس کی تیمار داری کریں؟'' بوڑھے باپ نے پوچھا۔''
اگر یہ دونوں وہاں رہنا چاہیں تو انہیں عزت سے رکھا جائے گا''۔ کمانڈر نے کہا… ''ہمارے ہاں بہادروں کی عزت کی ''
جاتی ہے۔ ہمارے مذہب الگ ہیں لیکن ہم اور آپ سوڈانی ہیں۔ ہم زمین کا احترام کرتے ہیں۔ اگر اسحاق صالح الدین ایوبی
کا سپاہی ہے تو کوئی فرق نہیں پڑتا ،ہم بھائی ہیں۔ صالح الدین ایوبی کو ہم بہت بڑا جنگجو مانتے ہیں۔ اس نے صلیبیوں کو
گھٹنوں بٹھا دیا ہے''۔
''پھر تم اسے دشمن کیوں سمجھتے ہو؟'' بوڑھے نے پوچھا۔ ''تم صلیبیوں کو دوست کیوں سمجھتے ہو؟''
محترم بزرگ!'' کمانڈر نے کہا۔ ''اگر میں باتیں کرنے بیٹھ گیا تو یہ میرے فرض میں کوتاہی ہوگی۔ مجھے آپ کی بچی''
اور آپ کی بہو کو صبح سے پہلے آپ کے بیٹے تک پہنچانا ہے۔ آپ کے بیٹے کی خواہش کی تکمیل ہمارا فرض ہے… کیا
''آپ کی بیٹی اور بہو میرے ساتھ ابھی چلنے کو تیار ہیں؟
پردے کے پیچھے سے ایک نسوانی آواز آئی۔ ''ہم تیار ہیں''۔
کوئی مرد ساتھ نہیں جاسکتا؟'' بوڑھے نے پوچھا۔ ''میں بھی تو اپنے بیٹے کو دیکھنا چاہتا ہوں''۔''
سفر لمبا ہے'' کمانڈر نے کہا۔ ''آپ اتنی لمبی گھوڑ سواری برداشت نہیں کرسکیں گے۔ مجھے جو حکم مال ہے وہ بیٹی''
اور بیوی کو النے کا ہے''۔
قید خانے کا سپاہی ڈیوٹی سے فارغ ہوکر گھر گیا۔ بہت جلدی میں اس نے کپڑے بدلے۔ سر کو اس طرح ڈھانپا کہ چہرہ بھی
چھپ گیا۔ اس نے گھوڑے کے لیے چارہ اور پانی گھوڑے کے ساتھ باندھا اور کسی کو بتائے بغیر کہ کہاں جارہا ہے ،روانہ
ہوگیا۔ اس نے وہ راستہ معلوم کرلیا تھا جو اسحاق کے گائوں کو جاتا تھا۔ ساالر جب پیغام لے جانے والے کمانڈر کو راستہ
سمجھا رہا تھا ،یہ سپاہی پاس کھڑا سن رہا تھا۔ اس کے دل میں عقیدت تھی۔ آبادی سے نکل کر اس نے گھوڑے کو ایڑی
لگا دی۔ کمانڈر اس سے بہت پہلے نکل گیا تھا۔ اس لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ اس سے پہلے اسحاق کے گھر پہنچ جاتا۔
سورج بہت اوپر آچکا تھا۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:18
قسط نمبر۔93قوم کی نظروں سے دور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سورج بہت اوپر آچکا تھا۔ اسحاق کے باپ کے پاس دو گھوڑے تھے ،اس نے دونوں تیار کیے۔ اسحاق کی بیٹی اور بیوی جلدی
میں تیار ہوکر سوار ہوگئیں۔ گائوں کے کچھ اور لوگ بھی وہاں آگئے تھے۔ سب سوڈانی کمانڈر کی باتوں میں آگئے اور انہوں
نے اسحاق کی بیٹی اور بیوی کو کمانڈر کے ساتھ رخصت کردیا۔ رات کا سفر تھا ،راستے میں کہیں رکنا نہیں تھا۔ دونوں
مستورات کے دلوں میں اسحاق کے متعلق جو جذبات تھے ان سے ان کی نیند اڑ گئی۔ ان کے لیے گھوڑے کی سواری کوئی
نئی یا مشکل بات نہیں تھی۔ یہاں کے مسلمان اپنے بچوں کو گھوڑ سواری اور تیر اندازی بچپن میں ہی سکھا دیا کرتے تھے۔
تینوں گھوڑے پہاڑی عالقے سے نکل گئے۔ کمانڈر خوش تھا کہ اس نے کامیابی سے دونوں مستورات کو جال میں پھانس لیا
تھا۔ اسحاق اس کوٹھڑی میں بیٹھا تھا جس میں گلی سڑی الش پڑی تھی۔ یہ الش اسے پریشان کرنے کے لیے وہاں رکھی گئی
تھی لیکن اسحاق نے اپنے آپ کو جسمانی احساسات سے بیگانہ کردیا تھا۔ وہ الش کے ساتھ اس طرح باتیں کرتا تھا جیسے
وہ زندہ ہو۔ اسے بدبو کا ذرہ بھر احساس نہیں تھا۔ وہ اب جسم نہیں روح بن گیا تھا۔ سارا دن اسے کوٹھڑی سے باہر نہ
نکاال گیا۔ شام کے بعد بھی اسے کسی نے نہ چھیڑا۔ وہ حیران بھی ہوا کہ اسے کیوں آرام دیا جارہا ہے۔ شاید سوڈانی ساالر
اس سے مایوس ہوگیا تھا۔
کمانڈر دونوں مستورات کے ساتھ پہاڑی عالقے سے نکل کر صحرا میں جارہا تھا۔ وہ ان دونوں کو اسحاق کی بہت اچھی اچھی
باتیں سنا رہا تھا۔ دونوں پوری دلچسپی سے سن رہی تھیں۔ سوڈانی ساالر اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا۔ ''اپنی بیٹی اور
بیوی کی بے عزت کون برداشت کرسکتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ کمانڈر ان دونوں کو لے آئے گا۔ میں اسحاق سے کہوں گا کہ
جب تک تم مسلمان قبیلوں کو سوڈانی فوج میں شامل کرکے سوڈان کا وفادار نہیں بنا دیتے تمہاری بیٹی اور بیوی کو آزاد
نہیں کیا جائے گا''۔
صبح تک ہمارے کمانڈر کو آجانا چاہیے''۔ ساالر کے ساتھی نے کہا۔''
ہوسکتا ہے ذرا پہلے آجائے''۔ ساالر نے کہا۔ ''آدمی ہوشیار ہے''۔''
قید خانے کا جو سپاہی کمانڈر کے پیچھے روانہ ہوا تھا ریتلے ٹیلوں کے عالقے میں سے گزر رہا تھا۔ اس نے آدھے سے زیادہ
راستہ طے کرلیا تھا۔ اس رات چاند نہیں تھا۔ صحرا کی فضا رات کو شفاف ہوجاتی ہے۔ ستاروں کی روشنی بھی مسافروں کو
راستہ دکھا دیتی ہے۔ سپاہی کو رات کی خاموشی میں کسی کی باتیں سنائی دیں۔ بولنے واال اسی کی طرف آرہا تھا۔ ٹیلے
گونج پیدا کررہے تھے۔ سپاہی ایک ٹیلے کی اوٹ میں رک گیا۔ باتیں بلند ہوتی گئیں اور گھوڑوں کے پائوں کی آہٹیں بھی
سنائی دینے لگیں۔ تھوڑی سی دیر بعد سپاہی نے ٹیلے کی اوٹ سے تین گھوڑے گزرتے دیکھے۔ اس نے تلوار نکال لی اس
وقت بھی کمانڈر اسحاق کی باتیں کررہا تھا۔ سپاہی کو یقین ہوگیا کہ یہ کمانڈر ہے اور اس کے ساتھ اسحاق کی بیٹی اور
بیوی ہے۔
اس نے گھوڑا باہر نکاال اور ان کے پیچھے گیا۔ اس کے گھوڑے کے قدموں کی آواز نے کمانڈر کو چونکا دیا۔ وہ تلوار سونت کر
پیچھے کو مڑا لیکن سپاہی گھوڑے کو ایڑی لگا چکا تھا۔ اس نے دوڑتے گھوڑے سے کمانڈر پر ایسا وار کیا کہ اس کا ایک بازو
صاف کاٹ دیا۔ گھوڑا روک کر وہ پیچھے مڑا۔ کمانڈر لڑنے کی حالت میں نہیں تھا۔ اس نے رحم کے لیے پکارا لیکن سپاہی
نے اس کی گردن پر وار کرکے اسے گھوڑے سے لڑھکا دیا۔
دونوں مستورات سن ہوگئیں۔ اسحاق کی بیوی نے اپنی بیٹی سے کہا۔ ''بھاگو۔ ڈاکو معلوم ہوتے ہیں''۔
انہوں نے گھوڑے موڑے۔ سپاہی نے اپنا گھوڑا ان کے راستے میں کرلیا اور کہا۔ ''یہاں کوئی ڈاکو نہیں ہے ،مجھ سے نہ ڈرو۔
میں نے تمہیں ایک ڈاکو سے بچایا ہے۔ میرے ساتھ اپنے گائوں میں چلو۔ میں تمہیں اپنے ساتھ نہیں لے جارہا۔ تمہارے ساتھ
چل رہا ہوں ،میں اکیال ہوں''۔
وہ دونوں حیران وپریشان تھیں کہ یہ معاملہ کیا ہے۔ سپاہی نے کمانڈر کے گھوڑے سے لگام اپنے گھوڑے کی زین کے ساتھ
باندھ دی اور گھوڑے کو بھی ساتھ لے چال۔ راستے میں اس نے دونوں کو بتایا کہ ''اسحاق قید خانے میں بند ہے۔ اسے کہا
جارہا ہے کہ وہ مسلمان قبیلوں کو سوڈانی فوج میں شامل کردے۔ اسحاق نہیں مان رہا۔ سپاہی نے ان دونوں کو یہ نہ بتایا کہ
اسحاق کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے۔ اس نے کہا کہ تم دونوں کو اس کے سامنے عریانی کی حالت میں کھڑا کرکے اور تم
دونوں کی بے عزتی کی دھمکی دے کر اسحاق کو اپنی بات پر النے کے لیے بالیا گیا ہے۔ یہ آدمی جسے میں نے قتل کیا
ہے تم دونوں کو اسی نیت سے لے جانے آیا تھا۔ میں اس کے پیچھے چل پڑا۔ میں نے اپنا فرض ادا کردیا ہے''۔
''تم کون ہو؟'' اسحاق کی بیوی نے پوچھا۔ ''مسلمان ہو؟''
میں قید خانے کا سپاہی ہوں'' اس نے جواب دیا۔ ''میں مسلمان نہیں ہوں''۔''
''پھر تمہیں ہمارے ساتھ کیسے ہمدردی پیدا ہوگئی؟''
میں نے سنا تھا کہ مسلمانوں کے پیغمبر ہوتے ہیں''۔ سپاہی نے کہا۔ ''تمہارا خاوند پیغمبر معلوم ہوتا ہے''۔''
اسحاق کی بیوی نے اس سے پوچھا کہ وہ اس کے خاوند کو کیوں پیغمبر سمجھتا ہے۔ سپاہی نے اصل بات نہ بتائی اور کہا…
'' اب تو میں اسے سچا پیغمبر سمجھتا ہوں ،وہ قید خانے میں قید ہے ،مسلمان ہے ،میں مسلمان نہیں ہوا۔ اسے معلوم ہی
نہیں کہ اس کی بیٹی اور بیوی کو بے عزت کرنے کا انتظام کردیا ہے۔ میرے دل میں خیال آگیا کہ میں تم دونوں کی عزت
کی حفاظت کروں گا۔ میں نے ایسا کام کیا ہے جو میری ہمت سے باہر تھا۔ یہ اسی کی غیبی قوت ہے۔ میں اسے پیغمبر
سمجھتا ہوں''۔
٭ ٭ ٭
سحر کے وقت اسحاق کے گھر کے سامنے چار گھوڑے رکے۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ اسحاق کا باپ اسحاق کی بیوی اور بیٹی
کو ان کے ساتھ ایک اور آدمی کو دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ اندر جاکر سپاہی نے اسے تمام حاالت اور واقعات سنا دئیے لیکن
اسے بھی نہ بتایا کہ اسحاق کے ساتھ قید خانے میں کیا سلوک ہورہا ہے۔
اسحاق کے باپ نے اسی وقت اپنے قبیلے کے لوگوں کو اطالع دے دی۔ لوگ جمع ہوگئے۔ سپاہی نے انہیں بتایا کہ اسحاق کو
اس شرط پر رہائی دینے کا وعدہ کیا جارہا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو سوڈان کی فوج میں شامل کردے اور تمام مسلمان
سوڈان کے وفادار ہوجائیں۔ سپاہی نے بتایا کہ اسحاق کہتا ہے کہ مجھے جان سے ماردو میں اپنی قوم کے ساتھ غداری نہیں
کروں گا۔
تمام لوگ بھڑک اٹھے۔ سوڈان کو بھال برا کہنے لگے۔ کسی نے کہا… ''یہاں صالح الدین ایوبی آئے گا ،یہ خدا کی زمین
ہے''۔
ہم قید خانے پر حملہ کرکے اسحاق کو رہا کرائیں گے''۔ ایک آدمی نے کہا۔''
تمہارے لیے یہ کام آسان نہیں''۔ سپاہی نے کہا۔ ''تہہ خانے میں سے تم کسی کو نکال نہیں سکتے''۔''
تم قید خانے کے سپاہی ہو''۔ اسحاق کے باپ نے کہا۔ ''تم ہماری مدد کرسکتے ہو''۔''
ادنی سپاہی ہوں''۔ اس نے کہا۔ ''میں آپ کے بیٹے کو پیغمبر سمجھتا ہوں۔ میں نے اسے کہا تھا کہ ''
میں غریب اور
ٰ
میری قسمت بدل دو۔ اس نے کہا تھا کہ باہر آکر بدل دوں گا۔ جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے میں اس کا مرید ہوتا جارہا
''ہوں۔ یہ سب لوگ اس پر جانیں قربان کرنے پر تیار ہیں ،کیا میری زندگی بھی ایسی ہوسکتی ہے جیسی تمہاری ہے؟
مسلمان ہوجائو اور یہیں رہو''۔ اسحاق کے باپ نے اسے کہا۔ ''ہم لوگ جنت میں رہتے ہیں ،یہاں پانی کے چشمے ہیں''
اور ہرے بھرے درخت ہیں۔ یہاں کی زمین اتنا اناج دیتی ہے کہ جو کاشت کاری نہیں کرتا وہ بھی بھوکا نہیں رہتا۔ یہ ہمارے
اللہ کی شان ہے۔ تم ہمارے پاس آجائو اور اپنی قسمت بدل لو۔ ہم لوگ آزاد ہیں۔ یہ پہاڑیاں ہمارا قلعہ ہیں جو ہمارے اللہ
نے ہمارے لیے بنایا ہے''۔
سپاہی نے وہیں رہنے کا فیصلہ کرلیا۔ اسحاق کے باپ نے اسے حلقہ بگوش اسالم کرکے اپنے پاس رکھ لیا۔
صبح طلوع ہوچکی تھی۔ سوڈانی ساالر بیتابی سے کمانڈر کا انتظار کررہا تھا مگر اس کا کہیں نام ونشان نہ تھا۔ سورج اوپر
اٹھتا گیا اور ساالر بے چین ہوتا گیا۔ وہ سمجھا کہ کمانڈر راستہ بھول گیا ہوگا۔ اس نے ایک اور عہدیدار کو بالیا اور اسے
وہی باتیں بتا کر جو اس نے پہلے کمانڈر کو بتائی تھیں روانہ کردیا۔
اسحاق کوٹھڑی میں بند رہا۔ یہ دن بھی کوٹھڑی میں گزر گیا۔ اس کی کوٹھڑی میں پڑی ہوئی الش پھٹنے لگی تھی۔ قید خانے
کے سنتری جو انسانوں کے جسم توڑنے اور تہہ خانے کی بدبو کے عادی تھے وہ بھی اسحاق کی کوٹھڑی کے قریب آنے سے
گریز کرنے لگے۔ بڑی ہی بری بدبو تھی۔ ایک سنتری نے ناک پر ہاتھ رکھ کر اسحاق سے پوچھا۔ ''اومردود! تم اس بدبو کو
کس طرح برداشت کررہے ہو؟ یہ لوگ جو کچھ تم سے منوانا چاہتے ہیں مان جائو اور یہاں سے رہائی لو۔ اس مرداری بدبو
سے پاگل ہوجائو گے''۔
مجھے کوئی بدبو محسوس نہیں ہورہی''۔ اسحاق نے کہا۔ ''یہ مردار نہیں شہید ہے۔ میں رات کو اس کے ساتھ لگ کے''
سوتا ہوں''۔
تم پاگل ہوچکے ہو''۔ سنتری نے کہا۔ ''الش کی بدبو کا یہی اثر ہوتا ہے''۔''
اسحاق کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اور اس نے الش کے پاس بیٹھ کر قرآن کی ایک آیت کا ورد شروع کردیا۔
٭ ٭ ٭
یہ رات بھی گزر گئی۔ صبح کے دھندلکے میں جس دوسرے کمانڈر کو ساالر نے بھیجا تھا واپس آگیا۔ ایک تو مسلسل اتنے
طویل سفر سے اس کا رنگ اڑا ہوا تھا۔ اس کے عالوہ وہ جو کچھ دیکھ آیا تھا اسے بیان کرنے سے اس کی زبان ہکال رہی
تھی۔ اس نے ساالر کو بتایا کہ راستے میں کچھ عالقے ریتلے ٹیلوں اور گھاٹیوں کا ہے۔ ایک جگہ گدھ مردار کھا رہے تھے۔
اس نے ایک جگہ تلوار پڑی دیکھی۔ جوتے اور کپڑے بھی دیکھے۔ اس نے گدھوں کو اڑایا تو پتہ چال کہ وہ کسی انسان کو
کھا رہے تھے۔ چہرہ بھی خراب ہوچکا تھا۔ اسے جو چیزیں مثال ً خنجر ،چمڑے کا کمر بند وغیرہ ملیں وہ اٹھا کر لے گیا۔
اسے یقین ہوگیا کہ یہ سوڈانی کمانڈر کی الش تھی۔
اس نے آگے جاکر زمین دیکھی۔ گھوڑوں کے پائوں کے نشان تھے۔ یہ کمانڈر پہاڑی عالقے تک گیا۔ گھوڑوں کے نشان وہاں تک
گئے تھے۔ کچھ کہا نہیں جاسکتا تھا کہ کمانڈر مستورات کو ساتھ الیا تھا یا نہیں اورا سے کس نے قتل کیا ہے۔ سوڈانی ساالر
نے کہا کہ معلوم ہوجائے گا۔ مسلمانوں کے اس عالقے میں سوڈانیوں نے جاسوس چھوڑ رکھے تھے جو انہی مسلمانوں میں سے
تھے۔ ان جاسوسوں کا وہاں اور کوئی بس نہیں چال تھا۔ صرف مخبری کرتے تھے۔ اسحاق کے متعلق انہی لوگوں نے بتایا تھا
کہ اس عالقے پر اسی کا اثرورسوخ ہے۔
ہوا بھی ایسے ہی۔ شام کے بعد جو جاسوس پہنچ گئے۔ انہوں نے ساالر کو پوری خبر سنائی کہ کمانڈر ،اسحاق کی بیوی اور
بیٹی کو لے گیا تھا اور قید خانے کے ایک سپاہی نے اسے راستے میں قتل کردیا اور مستورات کو واپس لے گیا ہے۔ انہوں
نے سپاہی کا نام بھی بتایا۔ ساالر نے یہ مسئلہ سوڈان کے حکمران کے آگے رکھا۔ اس نے صلیبی مشیروں کو بتایا۔ ان
صلیبیوں نے مشورہ دیا کہ خاموش ہوجائو۔ مسلمانوں پر فوج کشی کی حماقت نہ کربیٹھنا۔ انہیں کسی اچھے طریقے سے دوست
بنانے کی کوشش کرو۔ زیادہ سے زیادہ یہ کارروائی کرو کہ اس سپاہی کو خفیہ طریقے سے قتل کرادو تاکہ مسلمانوں کو پتہ چل
جائے کہ ہمارے ہاتھ ہر جگہ پہنچ سکتے ہیں۔ اسحاق پر تشدد جاری رکھو۔
اسحاق کو ایک بار پھر تشدد کے شکنجے میں جکڑ لیا گیا۔ اب تو ساالر اس سے اپنے کمانڈر کے قتل کا انتقام بھی لینا
چاہتا تھا۔ اسے اتنی درندگی کا تختہ مشق بنا دیا گیا جتنا انسانی تصور سے باہر تھا۔ رات کے وقت وہ بے ہوش ہوگیا اور
اسے کوٹھڑی میں پھینک دیا گیا۔ ہوش میں آیا تو کوٹھڑی میں اندھیرا تھا۔ باہر ایک مشعل جل رہی تھی۔ اسحاق نے اپنا
ہاتھ ایک طرف کیا تو ہاتھ کسی کے جسم پر لگا۔ اسے یاد آگیا کہ یہ وہی الش ہے جو پہلے دن سے اس کے ساتھ پڑی ہے
مگر اسے ایسے لگا جیسے الش سانس لے رہی ہو۔ یہ اس کے دماغ کی خرابی ہی ہوسکتی تھی۔ اس کے جسم کی حالت یہ
ہوگئی تھی کہ اٹھنے کے قابل نہیں رہا تھا۔
الش نے حرکت کی۔ اسحاق نے چونک کر دیکھا۔ چہرے پر نظر ڈالی۔ یہ الش نہیں تھی۔ کوئی زندہ انسان تھا اور یہ کوٹھڑی
کوئی اور تھی۔ دوسرا آدمی بھی شاید بے ہوش تھا۔ وہ آہستہ آہستہ ہوش میں آیا اور اس نے آنکھیں کھول دیں۔ اسحاق بڑی
''مشکل سے اٹھا اور پوچھا۔ ''تم کون ہو؟
عمرو درویش''۔ اس آدمی نے مری ہوئی آواز میں کہا۔''
اوہ… عمرودرویش؟'' اسحاق نے حیران ہوکر کہا۔ ''میں اسحاق ہوں''۔''
وہ ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے۔ عمرودرویش بھی صالح الدین ایوبی کی فوج کے ایک دستے کا کمانڈر تھا وہ بھی
انہی مسلمان قبیلوں میں سے تھا جو سوڈانی ہوتے ہوئے سوڈان کی فوج میں بھرتی نہیں ہوتے تھے۔ عمرو درویش بھی جنگی
قید ی ہوگیا تھا۔ اسحاق کا نام سن کر اٹھ بیٹھا۔
تمہیں کیا کہتے ہیں؟''۔ اسحاق نے پوچھا۔''
کہتے ہیں کہ عالم کے روپ میں اپنے عالقے میں جائو''۔ عمرودرویش نے جواب دیا۔ ''اور لوگوں کے دلوں میں صالح ''
الدین ایوبی کے خالف دشمنی پیدا کرو۔ کہتے ہیں کہ ہم تمہیں شہزادوں کی طرح رکھیں گے اور جس لڑکی کو پسند کرو گے،
''وہ تمہارے ساتھ رہے گی''۔ عمرو نے پوچھا۔ ''تم سے کیا منوانا چاہتے ہیں؟
کہتے ہیں اپنے تمام قبیلوں کو سوڈان کا وفادار بنا دو''۔ اسحاق نے جواب دیا۔ ''اس کے عوض مجھے مسلمانوں کے ''
عالقے کا امیر بنانے کا وعدہ کرتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کی الگ فوج بنانا چاہتے ہیں''۔
مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ تمہیں بہت تکلیفیں دے رہے ہیں''۔ عمرو درویش نے کہا۔ ''معلوم نہیں ہمیں ایک ہی کوٹھڑی''
میں کیوں بند کردیا ہے… شاید اس میں کوئی بہتری ہوگی۔ میں چاہتا تھا کہ تم مجھے مل جائو۔ میں نے ایک طریقہ سوچا
ہے۔ اس پر عمل کرنے سے پہلے تمہیں تم سے اجازت لینا چاہتا تھا۔ اچھا ہوا تم مل گئے''۔
تم نے دیکھ لیا ہے کہ یہ لوگ ہمیں چھوڑیں گے نہیں''۔ عمرو درویش نے کہا۔ ''ہم اذیتیں کب تک برداشت کریں گے۔''
آج نہیں تو کل مر جائیں گے۔ یہاں اور کئی سوڈانی مسلمان قید ہیں ،کوئی نہ کوئی ان کے جال میں آجائے گا۔ میں ڈرتا
ہوں کہ ہمارے چند ایک ساتھیوں کو یہ ورغال کر ہماری قوم میں تفرقہ ڈال دیں گے۔ ایک صورت یہ ہے کہ تم ان کی شرط
مان لو۔ اس بہانے آزاد ہوجائو اور اپنے عالقے میں جاکر کچھ بھی نہ کرو۔ رات کے اندھیرے میں مصر کو نکل جائو۔ تمہیں
زندہ رہنا چاہیے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ میں ان کی بات مان لوں ،یہ مجھے جو سبق پڑھانا چاہتے ہیں وہ پڑھ لوں۔ ان کا
بتایا ہوا بہروپ دھارلوں اور اپنے تمام قبیلوں کو خبردارکردوں کہ وہ سوڈانیوں کے کسی چکر میں نہ آئیں۔ اگر میں ان کا
ساتھی بن گیا تو میں تمہیں یہاں سے نکالنے کی کوشش کروں گا''۔
یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ سوڈانی ہمارے عالقے پر حملہ کردیں''۔ اسحاق نے کہا۔ ''ہمارے لوگ اتنی جلدی ہتھیار ڈالنے''
والے تو نہیں لیکن فوج اتنی جلدی ختم نہیں ہوتی۔ فوج آخر فوج ہے''۔
ہمیں قربانی دینی پڑے گی'' ۔ عمرودرویش نے کہا۔ ''ہم مصر سے چھاپہ ماروں کی مدد حاصل کرسکتے ہیں۔ فی الحال ''
ضرورت یہ ہے کہ ہم دونوں میں سے ایک آدمی باہر نکل جائے اگر ہم دونوں اکٹھے ان کی شرط مان کر نکل جائیں تو اور
زیادہ بہتر ہے''۔
میں یہیں رہوں گا''۔ اسحاق نے کہا۔ ''تم انہیں دھوکہ دو۔ اگر ہم نے اکٹھے ان کی بات مان لی تو انہیں شک ہوگا۔ ''
یہ سمجھ جائیں گے کہ ہم نے رات ایک کوٹھڑی میں رہ کر کوئی منصوبہ تیار کیا ہے۔ میں سختیاں برداشت کرتا رہوں گا۔ تم
نکل جائو صبح طلوع ہوتے ہی کوٹھڑی کا دروازہ کھال۔ ایک سپاہی نے اسحاق کو برچھی چبھوئی اور اسے اٹھا کر دھکے دیتا
اپنے ساتھ لے گیا۔ کوٹھڑی کا دروازہ پھر بند ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد سوڈانی فوج کا ایک عہدیدار آیا۔ اس نے سالخوں میں سے
عمرودرویش سے پوچھا۔ ''اگر تم نے آج انکار کیا تو تصور نہیں کرسکتے کہ تمہارے جسم کا کیا حال ہوگا۔ ہم تمہیں مرنے
نہیں دیں گے۔ تم اس دنیا میں دوزخ دیکھ لو گے۔ ہر روز مرو گے اور ہر روز جیو گے''۔
مجھے کسی اچھی جگہ لے چلو''۔ عمرودرویش نے کہا۔ ''میرے جسم کو ذرا سا سکون آنے دو ،یہاں میں کچھ بھی نہیں''
سوچ سکتا''۔
میں تمہیں جنت میں بٹھا سکتا ہوں''۔ سوڈانی عہدیدار نے کہا۔ ''تمہیں جنت کی پریوں میں بٹھا دوں گا اور اگر وہاں ''
بھی تم نے انکار کیا تو جتنے دن زندہ رہو گے پچھتاتے رہو گے۔ ہمیں رو رو کر کہو گے کہ میں نے تمہاری شرط مان لی
ہے تو بھی ہم تم پر اعتبار نہیں کریں گے''۔
وہ کراہ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں پوری طرح کھلتی نہیں تھیں۔ اس نے سرگوشی سی کی۔ ''ایسا نہیں ہوگا ،مجھے کہیں لے
چلو اور بتائو کہ مجھے کیا کرنا ہے''۔
اسے اسی وقت لے گئے اور ویسے ہی خوشنما کمرے میں جارکھا جیسا اسحاق کو دیا گیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ایک طبیب
اعلی قسم کا کھانا کھالیا گیا۔ اس دوران اسی سوڈانی
آگیا۔ اس نے اس کے جسم کا معائنہ کرکے اسے دوائیں لگائیں۔ اسے
ٰ
ساالر نے جو اسحاق کا جسم توڑتا رہتا تھا ،عمرو درویش سے پوچھا۔ ''کیا تم نے ہماری ہر بات ماننے کا فیصلہ کرلیا
''ہے؟
عمرو درویش نے سرہال کر رضامندی کا اظہار کیا۔ کھانا کھاتے ہی وہ لیٹا اور گہری نیند سوگیا۔ اس کی جب آنکھ کھلی تو
رات بھی گزر چکی تھی اور اگال دن گزر گیا تھا۔ وہ بہت دنوں سے قید خانے کے تہہ خانے میں اذیتیں برداشت کررہا تھا۔
جسم بہت حد تک سوکھ گیا تھا۔ ہڈیاں دکھ رہی تھیں۔ اتنے نرم وگداز بستر پر اتنی لمبی نیند سے اس کے جسم میں صحت
کے آثار نظر آنے لگے۔ اسے دوائیاں دی گئیں اور اسے بادشاہوں واال کھانا کھالیا گیا تھا۔ اس کی آنکھ کھلی تو اس کے
سامنے ایک لڑکی کھڑی مسکرا رہی تھی۔ وہ بہت ہی خوبصورت لڑکی تھی۔ اس کے بال ریشمی تھے اور کھلے ہوئے۔ عمرو
درویش فوجی تھا۔ جنگلوں میں پیدا ہوا اور فوج میں اس کی عمر میدان جنگ میں گزر رہی تھی۔ اس لڑکی کو اس نے
خواب سمجھا لیکن لڑکی نے آگے ہوکر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو اسے یقین آیا کہ یہ خواب نہیں۔
لڑکی باہر چلی گئی اور طبیب کو بال الئی۔ طبیب نے اسے دیکھا اور دوائی پال کر چال گیا۔ فورا ً بعد دو صلیبی آگئے۔ وہ
سوڈانی زبان روانی سے بولتے تھے۔ تخریب کاری کے ماہر معلوم ہوتے تھے۔ انہوں نے عمرو درویش کو اس مہم کے لیے تیار
کرنا شروع کردیا کہ وہ اپنے عالقے میں جاکر یہ نہیں بتائے گا کہ وہ قید میں رہا ہے بلکہ یہ بتائے گا کہ میدان جنگ میں
اسے ایک بزرگ ملے تھے جنہوں نے اسے کہا تھا کہ مصری فوج کا سوڈان پر حملہ مصر کے لیے مہنگا ثابت ہوگا۔ مسلمانوں
کے لیے بہتر یہ ہے کہ سوڈان کا ساتھ دیں ورنہ تباہ ہوجائیں گے… صلیبیوں نے اسے یہ بھی بتایا کہ وہ مجذوب عالم کے
بھیس میں مسلمانوں کے دلوں میں صالح الدین ایوبی اور مصر کی حکومت کے خالف نفرت پیدا کرے گا۔
عمرو درویش خندہ پیشانی سے رضا مند ہوگیا۔ اسی وقت اس کی ٹریننگ اور ریہرسل شروع ہوگئی۔ شام کے بعد اس کے آگے
لڑکیوں نے کھانا چنا۔ شراب بھی رکھی گئی جو اس نے قبول نہ کی۔ کھانے کے بعد جب لڑکیاں دستر خوان سمیٹ کر لے
گئیں تو ایک اور لڑکی شب خوابی کے لباس میں آگئی۔
تم کیوں آئی ہو؟'' عمرودرویش نے لڑکی سے پوچھا۔''
آپ کے لیے''۔ لڑکی نے جواب دیا۔ ''میں آپ کے پاس رہوں گی''۔''
''تمہارا نام کیا ہے؟''
آشی!'' لڑکی نے جواب دیا اور اس کے پلنگ پر بیٹھ گئی۔''
آشی!'' عمرو درویش نے کہا۔ ''مجھے تمہاری ضرورت نہیں۔ تم چلی جائو''۔''
میں حکم لے کر آئی ہوں کہ مجھے آپ کے ساتھ رہنا ہے''۔''
مجھ سے یہ لوگ جو بات منوانا چاہتے تھے وہ میں نے مان لی ہے''۔ عمرودرویش نے کہا۔ ''اب مجھے تم جیسے ''
حسین فریب کی کوئی ضرورت نہیں رہی''۔
میں جانتی ہوں''۔ آشی نے کہا۔ ''آپ کے متعلق مجھے سب کچھ بتا دیا گیا ہے۔ میں انعام کے طور پر آئی ہوں۔ ''
مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ کو میری ضرورت ہے۔ سپاہی جب میدان جنگ سے آتے ہیں تو ان کی روح عورت کی
طلب گار ہوتی ہے''۔
میں ہارا ہوا سپاہی ہوں''۔ عمرو درویش نے کہا۔ ''میری روح مرگئی ہے۔ مجھے اپنے جسم سے نفرت ہوگئی ہے۔ مجھے''
اس کی کسی بھی ضرورت کا احساس نہیں رہا۔ قید خانے میں ابلے ہوئے پتے کھاتا رہا تو بھی مطمئن رہا۔ یہاں اتنے اچھے
کھانے کھائے ہیں تو بھی مطمئن ہوں لیکن خوش نہیں ہوں۔ میں شکست خوردہ ہوں''۔
لڑکی ہنس پڑی جسے کسی نے جل ترنگ چھیڑ دیا ہو۔ ''شراب کے دو چار گھونٹ آپ کو مسرتوں سے ماال مال کردیں
گے''۔ لڑکی نے کہا۔ ''حلق سے اتر جائے تو مجھے دیکھنا۔ مجھ میں آپ کو پھولوں کا حسن نظر آئے گا''۔
میری مجبوری یہ ہے کہ میں مسلمان ہوں''۔ عمرودرویش نے کہا۔ ''ہم عصمتوں سے کھیال نہیں کرتے ،عصمتوں کی ''
حفاظت کیا کرتے ہیں''۔
صرف مسلمان لڑکیوں کی عصمتوں کی حفاظت کرتے ہوں گے''۔ لڑکی نے کہا۔ ''میں مسلمان نہیں''۔''
اور تم عصمت والی بھی نہیں''۔ عمرودرویش نے کہا۔ ''پھر بھی میرا فرض ہے کہ تمہاری عصمت کا خیال رکھوں۔ لڑکی''
مسلمان ہو یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھتی ہو ،اپنی قوم کی ہو یا اپنے دشمن کی ،مسلمان اگر ایمان کا پکا ہے تو اس
کی عصمت کی حفاظت کرے گا۔ تم تمام رات میرے پاس بیٹھی رہو ،صبح سب کو بتاتی پھرو گی کہ رات ایک پتھر کے
پاس بیٹھ کر گزاری ہے''۔
کیا میں خوبصورت نہیں؟'' لڑکی نے پوچھا۔''
تم جیسی بھی ہو میرے کسی کام کی نہیں''۔ عمرودرویش نے کہا۔ ''میں تمہارے کام آسکتا ہوں۔ اگر تم اس ذلیل زندگی''
سے آزاد ہونا چاہو تو میں تمہیں جان پر کھیل کر یہاں سے نکال لے جائوں گا اور کسی شریف گھرانے میں آباد کردوں گا''۔
آپ سے پہلے بھی ایک یہاں آیا تھا''۔ آشی نے کہا۔ ''وہ بھی آپ کی طرح باتیں کرتا تھا۔ وہ بھی سوڈانی مسلمان ''
تھا۔ میں آپ کی یہ بات نہیں مان سکتی کہ چونکہ آپ مسلمان ہیں اس لیے آپ عورت میں دلچسپی نہیں لیتے۔ میں نے
مصر کے کئی مسلمان دیکھے ہیں ،وہ عورت کو دیکھ کر بھوکے درندے بن جاتے ہیں۔ میں تین ایسے مصری مسلمان بتا سکتی
''ہوں جنہیں میں نے اور شراب کی اس صراحی نے غدار بنایا ہے۔ وہ کیسے مسلمان ہیں؟
وہ ایمان فروش ہیں'' ۔ عمرودرویش نے کہا۔ ''تم باتیں کررہی ہو میں تمہارے چہرے پر اور تمہاری آنکھوں میں تمہاری ''
''ماں اور تمہارے باپ کی جھلک دیکھنے کی کوشش کررہا ہوں۔ وہ کہاں ہیں؟ زندہ ہیں؟
معلوم نہیں''۔ آشی نے کہا۔ ''آپ سے پہلے جو یہاں آیا تھا اس نے بھی یہی پوچھا تھا کہ تمہارے ماں باپ زندہ ہیں''
یا مر گئے ہیں''۔ وہ اسحاق کی بات کررہی تھی۔ اسحاق کو جب اس کمرے میں الیا گیا تھا تو اسی لڑکی کو اس کے
کمرے میں بھیجا گیا تھا۔ اس نے عمرودرویش سے کہا۔ ''اس سوڈانی مسلمان نے مجھ سے میرے ماں باپ کے متعلق پوچھ
کر مجھے پریشان کردیا تھا۔ ایسا سوال مجھ سے کبھی کسی نے نہیں پوچھا تھا۔ وہ پہال آدمی تھا جس نے پوچھا تو میں
رات بھر سوچتی رہی کہ میرے ماں باپ کون تھے اور کیسے تھے۔ تھے ضرور۔ مجھے کچھ یاد آتا تھا اور ذہن کے اندھیرے
میں غائب ہوجاتا تھا۔ میں نے اپنے آپ کو ان کی یاد سے دور رکھنے کی کوشش شروع کردی مگر میں کامیاب نہیں ہوسکی۔
آج آپ نے ان کی یاد پھر تازہ کردی ہے۔ میں جب محسوس ہی نہیں کرتی تھی کہ میرے ماں باپ ہوں گے تو میں خوش
رہتی تھی۔ آپ سے پہلے آنے والے سوڈانی مسلمان نے میرے اندر ایسے جذبات بیدار کردئیے ہیں کہ میری خوشی پر اب
اداسی کا آسیب سوار رہنے لگا ہے''۔
''تمہارا کوئی بھائی بھی تھا؟''
کچھ بھی یاد نہیں''۔ آشی نے کہا۔ ''میں خون کے رشتوں کو سمجھتی ہی نہیں کہ کیا ہوتے ہیں''۔''
تمہیں نیند آرہی ہو تو سو جائو''۔ عمرودرویش نے کہا۔''
آپ کو نیند آرہی ہو تو میں خاموش ہوجاتی ہوں''۔ آشی نے کہا۔ ''جی چاہتا ہے کہ آپ میرے ساتھ باتیں کرتے رہیں۔ ''
مجھے آپ جیسے آدمی اچھے لگتے ہیں۔ میں جس آدمی کے ساتھ کچھ وقت گزارتی ہوں اس سے مجھے نفرت سی ہوجاتی
ہے۔ مجھے مسکرانا پڑتا ہے۔ وہ سوڈانی مسلمان جو آپ سے پہلے یہاں آیا تھا ،مجھے ساری عمر یاد رہے گا جسے اس
کمرے میں الیا گیا تھا۔ آپ دوسرے آدمی ہیں جن کی میں ہمیشہ قدر کروں گی۔ آپ نے میرے اندر روح اور جذبات کو بیدار
''کردیا ہے۔ آپ مجھے شاید روح کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ دوسرے مجھے جسم کی بھوکی نظروں سے دیکھتے ہیں
میں تمہیں آبرو باختہ لڑکی سمجھتا تھا لیکن تم عقل اور فراست کی باتیں کرتی ہو''۔ عمرودرویش نے کہا۔''
میں حسین اور میٹھا زہر ہوں''۔ آشی نے کہا۔ ''پتھروں کو موم کرنے کی مجھے تربیت دی گئی ہے۔ میں کوئی سیدھی''
سادی لڑکی نہیں۔ جابر حکمران کی تلوار اپنے قدموں میں رکھوا سکتی ہوں اور عالموں کے منہ پھیر سکتی ہوں مگر اپنے آپ
کو وہ موم سمجھنے لگی ہوں جو ذرا سی حرارت سے پگھل جاتی ہے کسی پتھر کو نہیں پگھال سکتی''۔
رات گزرتی جارہی تھی ،نیند کا خمار اور عمرودرویش کی باتیں آشی پر غالب آتی جارہی تھیں۔ نیند سے اس کی آنکھیں بند
ہونے لگیں۔ وہ پلنگ کی پائتی بیٹھی ہوئی تھی۔ وہیں لڑھک گئی… اس کی جب آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو پلنگ پر
اور عمرودرویش کو فرش پر سوتے دیکھا۔ اس نے عمرودرویش کو جگایا نہیں۔ اسے دیکھتی رہی۔ اس کے سینے میں ہلچل بپا
ہوگئی۔ اس نے اپنے گالوں پر اپنے آنسوئوں کی نمی محسوس کی اور حیران ہوئی کہ اس کے جسم میں آنسو بھی ہیں۔ اس
کے آنسو کبھی نہیں نکلے تھے۔ اس نے عمرودرویش کے پاس دو زانو ہوکر اس کا ہاتھ اٹھایا اور آنکھوں سے لگایا۔
عمرودرویش کی آنکھ کھل گئی۔ آشی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نہ آئی۔ اس نے اسے یہ بھی نہ کہا کہ تمہیں فرش پر نہیں
سونا چاہیے تھا۔ وہ خاموشی سے باہر نکل گئی۔ واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں پانی تھا جس سے عمرودرویش نے وضو کیا
اور نماز پڑھنے لگا۔ آشی کمرے سے چلی گئی۔
٭ ٭ ٭
ناشتے کے بعد سوڈانی ساالر دو صلیبیوں کے ساتھ آگیا۔
میری ایک بات غور سے سن لیں''۔ عمرودرویش نے ساالر سے کہا۔ ''مجھے کسی بھی وقت اسحاق کی ضرورت ''
محسوس ہوسکتی ہے۔ آپ اسے پریشان کرنا چھوڑ دیں۔ اسے کسی کھلی اور آرام دہ کوٹھڑی میں رکھیں۔ اسے تہہ خانے سے
نکال کر اوپر لے آئیں۔ وہ میرا دوست ہے۔ مجھے جب اس کی ضرورت ہوئی تو میں اسے منالوں گا۔ اسے دھوکہ بھی دے
لوں گا اگر وہ نہ مانا تو آپ اس کے ساتھ جو سلوک مناسب سمجھیں کریں''۔
سوڈانی ساالر نے کہا کہ ایسا ہی ہوگا۔ صلیبی مشیروں نے عمرودرویش کو ٹریننگ دینی شروع کردی۔ اس نے خوبی سے نقل
کی۔ انہوں نے اسے جو باتیں بتائیں وہ بھی اس نے زبانی یاد کرنی شروع کردیں… چارپانچ روز اس کی تربیت ہوتی رہی۔ دن
کے دوران صلیبی اس کے ساتھ ہوتے تھے اور رات کو آشی اس کے پاس ہوتی تھی۔ یہ لڑکی اس کی مرید بن گئی تھی۔ اس
کمرے میں جاکر وہ اپنے آپ کو پاکیزہ لڑکی سمجھنے لگتی تھی۔
چھٹے ساتویں روز عمرودرویش ایک درویش کے روپ میں اپنے عالقے میں جانے کے لیے تیار ہوگیا۔ اسے درویشوں اور مجذوب
عالموں کے کپڑے پہنائے گئے۔ آشی نے اسے کہا تھا کہ وہ جب اپنی مہم پر روانہ ہو تو اسے بھی ساتھ لیتا چلے۔ اس کی
خواہش پر عمرودرویش نے سوڈانی ساالر سے کہا کہ وہ اس لڑکی کو انعام کے طور پر اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے۔ لڑکی اسے
دے دی گئی۔ اسے مستور کرنے کے لیے لڑکی کو برقعہ نما لبادہ دے دیا گیا۔ تین اونٹ دئیے گئے۔ ایک پر عمرودرویش سوار
ہوا ،دوسرے پر آشی اور تیسرے پر ایک خیمہ اور کھانے پینے کا سامان الد دیا گیا۔ سوڈانی ساالر نے عمرودرویش کو دو باتیں
بتائیں۔ ایک یہ کہ اسحاق کو تہہ خانے سے نکال کر اوپر کھلے کمرے میں بھجوا دیا گیا ہے اور دوسری یہ کہ مسلمانوں کے
عالقے میں اپنے آدمی موجود ہیں جو اسے خود ہی ملیں گے اور اس کی مدد کریں گے۔
عمرودرویش آشی کو ساتھ لے کر ایک خطرناک مہم پر روانہ ہوگیا۔
سوڈانی ساالر اس کے روانہ ہوتے ہی اپنے کمرے میں گیا۔ وہاں چھ آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ سب سوڈانی مسلمان تھے اور
مسلمانوں کے پہاڑی عالقے کے رہنے والے تھے۔ انہیں سوڈان کی حکومت سے بہت انعام واکرام ملتا تھا۔ اپنے عالقے میں وہ
پکے مسلمان بنے رہتے تھے۔
وہ جاچکا ہے''۔ ساالر نے انہیں کہا۔ ''تم دوسرے راستے سے روانہ ہوجائو۔ اکیلے اکیلے جانا۔ اپنے عالقے میں پہنچ جائو''
اور اس پر نظر رکھو جہاں تمہیں شک ہو کہ یہ شخص دھوکہ دے رہا ہے ،اسے ایسے طریقے سے قتل کردو جس سے کسی
کو پتہ نہ چلے۔ میں اور آدمی بھیج رہا ہوں۔ انہیں اپنے گھروں میں رکھ لینا''۔
یہ سب ایک دوسرے کے بعد روانہ ہوگئے۔ سوڈانی ساالر نے دو اور آدمی بالئے۔ وہ صرف سوڈانی تھے ،مسلمان نہیں تھے۔ ان
سے ساالر نے کہا۔ ''ان مسلمانوں کا کوئی بھروسہ نہیں۔ اپنے عالقے میں جاکر سب ایکا نہ کرلیں۔ یہ چھ آدمی ہمارے ہی
ہیں لیکن یہ نہ بھولنا کہ مسلمان ہیں۔ وہاں جاکر ان کی نیت بدل سکتی ہے۔ اگر عمرودرویش ٹھیک رہا تو تمہیں آتش گیر
مادے کی ضرورت ہوگی۔ یہ ان آدمیوں نے گھروں میں چھپا رکھا ہے۔ تم جانتے ہو کہ اسے کب اور کہاں استعمال کرنا
ہے''۔
یہ دونوں بھی روانہ ہوگئے۔
وہ سپاہی جس نے اسحاق کی بیٹی اور اس کی بیوی کو بچایا اور کمانڈر کو قتل کیا تھا ،اسحاق کے گھر رہتا تھا جس روز
عمرو درویش روانہ ہوا اس روز سپاہی کہیں باہر گھوم پھر رہا تھا۔ ایک تیر آیا جو اس کے جسم کو چھوتا ہوا ایک درخت
میں جالگا۔ سپاہی دوڑ پڑا اور اسحاق کے گھر جاپہنچا۔ اس نے اسحاق کے باپ کو بتایا کہ اس پر کسی نے تیر چالیا ہے۔
کوئی بھی نہ سمجھ سکا کہ تیر کس نے چالیا ہے۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ سوڈانیوں نے اسے قتل کرنے کی پہلی کوشش
کی ہے۔
٭ ٭ ٭
سلطان صالح الدین ایوبی کے محکمہ جاسوسی وسراغرسانی (انٹیلی جنس) کا سربراہ علی بن سفیان قاہرہ میں تھا۔ اس وقت
سلطان ایوبی صلیبیوں کے دوست مسلمان امراء سیف الدین گمشتگین کو اور الملک الصالح کی فوج کو شکست دے کر ان
مخالفین کے مرکزی شہر حلب کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کے یہ مسلمان مخالفین ایسی افراتفری اور بوکھالہٹ میں بھاگے تھے
کہ کہیں بھی قدم جما نہ سکے۔ راستے میں تین چار اہم مقام تھے جہاں وہ رک جاتے اور اپنی بکھری ہوئی فوج کو اکٹھا
کرلیتے تو صالح الدین ایوبی کا مقابلہ کرسکتے تھے لیکن انہوں نے پسپائی کے ایسے راستے اختیار کیے جو جنگی لحاظ سے
ان کے لیے مزید نقصان کا باعث بنے۔ سلطان ایوبی نے پیش قدمی جاری رکھی اور ان اہم مقامات پر قبضہ کرلیا۔ اس کی
منزل حلب تھی۔
اسے کچھ علم نہیں تھا کہ مصر کے حاالت کیسی کیسی کروٹیں لے رہے ہیں۔ قاصد اسے رپورٹیں دیتے رہتے تھے جن سے پتہ
چلتا تھا کہ طرح طرح کی سازشیں سر اٹھا رہی ہیں۔ وہ میدان جنگ میں کبھی پریشان نہیں ہوا تھا ،سازشیں اسے پریشان
کردیا کرتی تھیں اور یہ حقیقت اس کے لیے زہر کی طرح تلخ تھیں کہ ان سازشوں اور تخریب کاری کے ہدایت کار صلیبی اور
آلۂ کار مسلمان تھے۔ علی بن سفیان اس کا دست راست تھا بلکہ اس کی آنکھیں اور کان تھا۔ اسے سلطان ایوبی نے مصر
سے غیر حاضری کے دوران مصر میں ہی رہنے دیا تھا اور اپنے ساتھ اس کے معاون حسن بن عبداللہ کو رکھا۔ مصر کی
حکومت سلطان ایوبی کے بھائی العادل کے حوالے تھی۔ اپنے بھائی کی غیرحاضری میں العادل راتوں کو سوتا بھی کم تھا۔
علی بن سفیان کو وہ اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ اس طرح مصر کا امن وامان اور اس خطے میں اسالم کی آبرو کا تحفظ ان دونوں
کی ذمہ داری تھی۔
انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ سلطان ایوبی کی غیر حاضری میں مصر میں تخریب کاری بڑھ رہی ہے۔ اس کے عالوہ سوڈان
کی طرف سے خطرہ تھا۔ دو چار ماہ پہلے العادل نے سوڈانیوں کے ایک عجیب وغریب اور بڑے ہی خطرناک حملے کو
غیرمعمولی کامیابی سے تباہ کردیا تھا لیکن سوڈانیوں کے عزائم میں کوئی فرق نہیں آیا تھا ،کیونکہ ان کا یہ حملہ جو ناکام
ہوا تھا باقاعدہ فوج کا حملہ نہیں تھا۔ سوڈان کی باقاعدہ فوج نقصان کے بغیر تیار کھڑی تھی۔ اس فوج کو صلیبی تربیت دے
رہے تھے اور بعض دستوں کی کمان بھی صلیبیوں کے ہاتھ میں تھی۔
سوڈان کے خطرے کی پیش بندی یوں کی گئی تھی کہ سرحد پر سرحدی دستوں کی نفری میں اضافہ کردیا گیا۔ ان کے عالوہ
علی بن سفیان نے اپنے شعبے کے بے شمار آدمیوں کو سرحد پر پھیال دیا تھا۔ یہ سب جاسوس اور مخبر تھے۔ وہ صحرائی
مسافروں اور خانہ بدوشوں کے بھیس میں سرحد پر گھومتے پھرتے رہتے تھے۔ ان کا رابطہ سرحدی چوکیوں کے ساتھ تھا۔ ان
کی چوکیوں پر ان کے لیے گھوڑے تیار رہتے تھے۔ سرحدی دستوں کے گشتی سنتری بھی ان کے ساتھ رابطہ رکھتے تھے۔ ایک
انتظام اور بھی تھا۔ علی بن سفیان کے چند ایک ماہر جاسوس تاجروں کے بہروپ میں سوڈان کے ساتھ غیرقانونی تجارت
کرتے تھے جسے آج کل سمگلنگ کہا جاتا ہے۔ انہیں مال دے کر سرحد پار کرا دی جاتی تھی۔ یہ لوگ سوڈان جاکر یہ ظاہر
کرتے تھے کہ وہ مصر کے سرحدی دستوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر آئے ہیں۔ سوڈان میں بعض اجناس کی قلت تھی
جس میں اناج خاص طور پر قلیل تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی کی ہدایت کے تحت مصر میں زیادہ اناج اگایا جاتا تھا جس
کا کچھ حصہ جاسوسی کے سلسلے کی سمگلنگ کے لیے الگ کرلیا جاتا تھا۔
سوڈان کے جو تاجر مصری ''تاجروں'' کے ساتھ کاروبار کرتے تھے ان میں زیادہ تر جاسوس تھے جو مصر کے لیے کام کرتے
تھے۔ انہیں جاسوس مصری جاسوسوں ( تاجروں کے روپ میں) نے بنایا تھا۔ جاسوسی کا یہ طریقہ کامیاب ہوا تو سلطان ایوبی
نے حکم دے دیا تھا کہ سوڈان کو اناج اور زیادہ سستا دو تاکہ یہ سلسلہ سارے سوڈان میں جال کی طرح پھیل جائے۔ چنانچہ
جال پھیال دیا گیا اور سوڈانی فوج اور حکومت کی ہر ایک نقل وحرکت قاہرہ میں نظر آنے لگی۔ علی بن سفیان نے سرحد
کے ساتھ اپنے دو تین ہنگامی مرکز بنا دئیے تھے جونہی کوئی خبر ادھر سے آتی سرحد کے کسی مرکز کو دے دی جاتی۔
جہاں سے برق رفتار گھوڑوں کے ذریعے قاہرہ پہنچا دی جاتی تھی۔ اس مقصد کے لیے جو سوار رکھے گئے تھے وہ مسلسل
تمام دن اور رات بغیر آرام کیے سواری کرنے کی مہارت رکھتے تھے۔
سلطان صالح الدین ایوبی کو معلوم تھا کہ سوڈان میں ایک وسیع پہاڑی عالقہ ہے جس میں صرف مسلمان آباد ہیں اور ان
مسلمانوں کی زیادہ تر تعداد مصری فوج میں ہے۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ یہ مسلمان سوڈانی فوج میں بھرتی ہونا پسند
نہیں کرتے۔ اس کی ابتداء اس طرح ہوئی تھی کہ سلطان ایوبی کے دور امارت سے کچھ پہلے مصری فوج میں سوڈانی حبشی
اور سوڈانی مسلمان ہوا کرتے تھے۔ ان کا کمانڈر بھی سوڈانی تھا۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ اس کمانڈر کا نام ناجی تھا۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:19
قسط نمبر۔94قوم کی نظروں سے دور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کہ اس کمانڈر کا نام ناجی تھا۔''داستان ایمان فروشوں کی'' کے اس سلسلے کی پہلی کہانی میں اسی فوج اور اس کے
اعلی ناجی کا تفصیلی تذکرہ کیا گیا تھا۔ سلطان ایوبی سے پہلے ناجی مصر کا مختار کل تھا حاالنکہ یہاں خالفت کی
ساالر
ٰ
گدی بھی تھی اور یہ باقاعدہ امارت تھی۔ کیا خلیفہ اور کیا امیر صحیح معنوں میں بادشاہ تھے۔ صلیبیوں نے مصر کو سلطنت
اسالمیہ سے کاٹنے کے لیے یہاں تخریب کاری اور سازشوں کے اڈے قائم کرلیے تھے۔ ناجی ان کا اتحادی بن گیا تھا۔ اس نے
مصر کی سوڈانی فوج کو اپنے قبضے میں لے رکھا تھا۔ اس فوج کی تعداد پچاس ہزار تھی۔
سلطان ایوبی نے مصر کی امارت سنبھالی تو اس کی پہلی ٹکر ناجی سے ہوئی۔ سلطان ایوبی نے نورالدین زنگی مرحوم سے
منتخب اور جانباز دستوں کی کمک منگوا کر مصر کی پچاس ہزار سوڈانی فوج توڑ دی۔ اس کے بعض ساالروں کو قید میں ڈال
دیا اور نئی فوج تیار کرلی۔ تھوڑے ہی عرصے بعد اس نے یہ حکم نامہ جاری کیا کہ سوڈان کی اس معزول فوج کے جو لوگ
حلف وفاداری کے ساتھ خلوص نیت سے مصری فوج میں شامل ہونا چاہیں انہیں بھرتی کرلیا جائے۔ سوڈان کے وہ تمام مسلمان
جو اس فوج میں تھے ،واپس آگئے۔ وہ جان گئے تھے کہ انہیں غیر مسلم سازش کا آلۂ کار بنایا گیا تھا۔ سلطان ایوبی کی
فوج میں شامل ہوکر انہوں نے جب صلیبیوں کے خالف دو تین معرکے لڑے اور سلطان ایوبی کو انہوں نے قریب سے دیکھا تو
ان کا ایمان تازہ ہوگیا۔ فوجی ٹریننگ کے ساتھ ساتھ انہیں دین وایمان اور ملی وقار کے وعظ بھی سنائے جاتے اور انہیں بتایا
جاتا تھا کہ ان کا دشمن ،ان کے مذہب کا دشمن ہے۔ جس کی نظر میں اسالم کی بیٹیوں کی کوئی عزت اور عصمت نہیں۔
اب سلطان ایوبی کی جو فوج عرب میں لڑ رہی تھی ،اس میں خاصی نفری سوڈانی مسلمانوں کی تھی۔
قاہرہ کی انٹیلی جنس اس صورتحال سے بے خبر تھی کہ سوڈان کی حکومت وہاں کے مسلمانوں کو کئی ایک طریقوں سے
قائل کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ مصری فوج میں جانے کے بجائے سوڈان کی فوج میں بھرتی ہوں۔ سوڈانیوں نے مسلمانوں
اعلی فوجی افسر خفیہ طریقے سے قتل ہوگیا تھا۔ سوڈان
پر تشدد کرکے بھی دیکھ لیا تھا۔ اس کے نتیجے میں سوڈان کا ایک
ٰ
نے اس عالقے میں باقاعدہ فوج بھیجی تھی۔ مسلمانوں نے اسے پہاڑیوں اور وادیوں میں بکھیر کر مار ڈاال یا بھگا دیا تھا۔
مسلمانوں کو عالقے کا فائدہ حاصل تھا۔ چٹانیں اور پہاڑیاں انہیں آڑ مہیا کرتی اور تحفظ دیتی تھیں۔ یہ مسلمان جنگجو بھی
تھے۔
سلطان ایوبی نے ان کے ساتھ علی بن سفیان کے شعبے کی وساطت سے رابطہ قائم رکھا ہوا تھا۔ مصری ''تاجروں'' کے
قافلوں کے ذریعے ان مسلمانوں کو اتنا اسلحہ دے دیا تھا جس سے وہ سال بھر کے محاصرے میں لڑ سکتے تھے۔ انہیں
چھوٹی منجنیقیں اور آتش گیر مادہ بھی پہنچا دیا گیا تھا۔ جو لوگوں نے گھروں میں چھپا رکھا تھا۔ سلطان ایوبی کے منصوبے
میں یہ شامل تھا کہ جنگی کارروائی سے یا دیگر ذرائع سے اس عالقے کو مصر میں شامل کرنا ہے تاکہ یہ مسلمان صحیح
معنوں میں آزاد ہوجائیں۔ یہ عالقہ سرحد سے آدھے دن کی مسافت پر تھا۔ علی بن سفیان نے وہاں اپنے جاسوس بھیج رکھے
تھے جو محض مخبر نہیں تھے ،تجربہ کار لڑاکے اور چھاپہ مار (کمانڈو) تھے۔
یہ مسلمان عسکری نوعیت کا خزانہ اور بڑی کارآمد جنگی قوت تھے حاالنکہ اس کی تعداد بمشکل پانچ ہزار تھی۔ انہیں چھوڑ
کر سوڈان کے پاس حبشی رہ جاتے تھے جن کے ہاں کوئی عسکری تاریخ اور جنگی روایت نہیں تھی۔ وہ مالزموں کی حیثیت
سے لڑتے تھے۔ میدان جنگ میں ان کا رویہ یہ ہوتا تھا کہ ان کے دشمن کے پائوں اکھڑنے لگیں تو شیر ہوجاتے تھے اور اگر
دشمن کا دبائو بڑھ جائے تو محتاط ہوکر لڑتے اور پیچھے ہٹنے لگتے تھے۔ ان کی ٹریننگ کے لیے صلیبی پہنچ گئے تھے یا
مصری فوج کے دو تین غدار ساالر زروجواہرات کی اللچ میں سوڈان چلے گئے تھے۔ صلیبیوں اور ان کے مصری ساالروں کی
بدولت سوڈان کی فوج میں کچھ اہلیت پیدا ہوگئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ سوڈانی حکومت مصر پر کھال حملہ کرنے سے
گھبراتی تھی اور یہی وجہ تھی کہ وہ مسلمانوں کو اپنی فوج میں شامل کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ صلیبی مشیر جانتے
تھے کہ پچاس ہزار حبشیوں کی نسبت پانچ ہزار مسلمان کافی ہیں۔
علی بن سفیان کو اطالع ملی کہ مسلمانوں کے سوڈانی عالقے میں یہ واقعہ ہواہے کہ سوڈان کے قید خانے کے ایک سپاہی
نے سوڈانی فوج کے کمان دار کو قتل کردیا اور مسلمانوں کے عالقے میں پناہ لے لی ہے۔ یہ خبر النے والے جاسوس نے علی
بن سفیان کو پورا واقعہ سنایا۔ اس نے اس سپاہی سے تصدیق کرلی تھی۔ سپاہی سے اس نے یہ بھی معلوم کرلیا تھا کہ
اسحاق نام کا کمان دار قید خانے میں زندہ ہے اور اسے اس مقصد کے لیے تیار کرنے کے لیے قید خانے میں اذیتوں کا نشانہ
بنایا جارہا ہے کہ وہ مسلمانوں کو سوڈان کا وفادار بنا دے۔ جاسوس نے یہ بھی بتایا کہ اس عالقے پر اسحاق کا اثرورسوخ
ہے۔
یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اسحاق کو قید خانے سے رہا کرایا جائے'' علی بن سفیان نے جاسوس سے پوری رپورٹ لے''
کر مصر کے قائم مقام امیر العادل سے کہا… ''آپ جانتے ہیں کہ قید خانوں میں کیسا کیسا تشدد کیا جاتا ہے۔ ہم بھی تشدد
کرتے ہیں۔ پتھر بھی بول پڑتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسحاق سوڈانیوں کے رنگ میں رنگا جائے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ
ہمارے دو تین اور مسلمان کمان دار قید خانے میں ہیں۔ سب پر تشدد کیا جارہا ہے میں تو یہاں تک مشورہ دینے کو تیار ہوں
کہ اپنے کچھ چھاپہ مار مسلمانوں کے عالقے میں بھیج دئیے جائیں۔ میں یہ خدشہ دیکھ رہا ہوں کہ اپنے کمان دار کے قتل
کا انتقام لینے کے لیے سوڈانی فوج مسلمانوں پر حملہ کردے گی''۔
دوسرے ملک میں چھاپہ مار بھیجنے کے لیے ہمیں ہر پہلو پر غور کرنا پڑے گا''۔ العادل نے کہا… ''اس کا نتیجہ کھلی''
جنگ بھی ہوسکتا ہے''۔
ہمارے پاس غور کرنے کے لیے وقت نہیں''۔ علی بن سفیان نے کہا۔ ''ہمیں فوری طور پر کارروائی کرنی پڑی گی۔ کسی''
ذہین قاصد کو پیغام دے کر محترم سلطان کی طرف بھیجا جائے اور ان سے حکم لیا جائے اور دوسری یہ کہ میں خود سوڈان
میں داخل ہوکر مسلمانوں کے عالقے میں چال جائوں۔ وہاں کے حاالت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ صحیح خاکہ صرف میری آنکھ
دیکھ سکتی ہے۔ ہوسکتا ہے وہاں فوج حملہ نہ کرے۔ وہاں صلیبی موجود ہیں ،وہ مسلمانوں کو توہم پرستی میں مبتال کرکے ان
کے نظریات اور عقیدوں کا رخ پھیر سکتے ہیں۔ مسجدوں میں اپنے مولوں بھیج کر لوگوں کو گمراہ کرسکتے ہیں۔ وہ ایسی
چالیں مصر کے اندر آکر بھی کرچکے ہیں۔ مجھے یہی ڈر ہے کہ مسلمانوں کے عقیدے اور ملی جذبے پر حملہ ہوگا۔ آپ
جانتے ہیں کہ ہماری قوم میں یہ خامی ہے کہ دشمن کی جذباتی اور ہیجانی باتوں میں جلدی آجاتی ہے۔ دشمن دیکھ چکا
ہے کہ مسلمان کو میدان جنگ میں مارنا آسان نہیں۔ عقیدوں اور نظرئیوں کی معرکہ آرائی میں دشمن ایسے ہتھیار استعمال
کرتا ہے کہ مسلمان ڈھیر ہوجاتے ہیں اگر آپ اجازت دیں تو میں وہاں چال جائوں اورا پ ابھی ایک قاصد سلطان محترم کی
طرف روانہ کردیں''۔
''آپ کی غیرحاضری میں آپ کی ذمہ داریاں کون سنبھالے گا؟''
غیاث بلبیس'' ۔ علی بن سفیان نے جواب دیا۔ ''اس کے ساتھ میرا ایک معاون زاہدین رہے گا۔ آپ کو میری غیرحاضری''
محسوس نہیں ہوگی''۔
بہت بری طرح محسوس ہوگی''۔ العادل نے کہا… ''آپ دشمن کے ملک میں جارہے ہیں اگر واپس نہ آسکے تو مصر ''
اندھا اور بہرہ ہوجائے گا''۔
میں نہ ہوا تو قوم مر نہیں جائے گی'' ۔ علی بن سفیان نے مسکرا کر کہا… ''افراد قوموں کی خاطر مرتے رہیں تو قومیں''
زندہ رہتی ہیں۔ سلطان صالح الدین ایوبی یہ سوچ لیں کہ وہ مارے گئے تو قوم تباہ ہوجائے گی تو وہ گھر بیٹھ جائیں اور
سلطنت اسالمیہ پر صلیبی ہاتھ صاف کرجائیں۔ مجھے سلطان کا یہ اصول بہت پسند ہے۔ وہ کہا کرتے ہیں کہ دشمن کا انتظار
گھر بیٹھ کر نہ کرو۔ اس پر نظر رکھو۔ وہ تیاری کی حالت میں ہو تو اس کے پہلو یا عقب میں چلے جائو۔ میں اسی اصول
پر سوڈان جارہا ہوں۔ دشمن نے مسلمانوں کے عالقے میں کامیابی حاصل کرلی تو ہم اپنے کون سے کارنامے پر فخر کریں
گے''۔
آپ چلے جائیں''۔ العادل نے کہا… ''یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ احتیاط الزمی ہے ،میں سلطان کے نام پیغام لکھ کر ''
بھیج دیتا ہوں''۔
علی بن سفیان سوڈان میں داخل ہونے کی تیاری کرنے چال گیا۔ العادل نے کاتب کو بالیا اور سلطان ایوبی کے نام پیغام
لکھوانے لگا۔ اس نے سوڈان سے مسلمانوں کے عالقے کی اطالع تفصیل سے لکھوائی۔ یہ بھی لکھوایا کہ یہ پیغام آپ تک
پہنچنے سے پہلے علی بن سفیان سوڈان میں جاچکا ہوگا۔ العادل نے علی بن سفیان کے مشورے بھی لکھوائے اور سلطان
صالح الدین ایوبی سے پوچھا کہ کیا کرنا چاہیے۔
قاصد کو پیغام دے کر العادل نے اسے کہا کہ اسے ہر چوکی سے گھوڑا بدلنا ہے اور گھوڑے کی رفتار کسی بھی حالت میں
سست نہیں ہوگی۔ کھانا پینا دوڑتے گھوڑے پر ہوگا اگر راستے میں دشمن کے چھاپہ ماروں کا خطرہ ہوا تو قاصد پیغام ضائع
کردے گا۔ ان ہدایات کے ساتھ قاصد کو روانہ کردیا گیا۔
٭ ٭ ٭
عمرودرویش شہر سے بہت دور نکل گیا تھا۔ اس کے اردگرد کوئی آبادی نہیں تھی۔ سورج غروب ہورہا تھا۔ عمرودرویش رات
کے قیام کے لیے کوئی موزوں جگہ دیکھ رہا تھا۔ دور اسے درخت نظر آئے جہاں پانی بھی ہوسکتا تھا لیکن اس کے پاس
پانی کا ذخیرہ موجود تھا۔ اونٹوں کو پانی کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ نخلستان سے دور قیام کرنا چاہتا تھا تاکہ صحرائی ڈاکوئوں
سے بچا رہے۔ اس کے ساتھ آشی تھی جو سیاہ برقعے میں مستور تھی۔ یہ قیمتی لڑکی تھی۔ کسی ڈاکو کی نظر پڑ جانے
سے اس کا بچنا ناممکن تھا… اسے ایک جگہ نظر آگئی۔ اس نے اونٹ روکے اور وہیں خیمہ گاڑ لیا۔
اسے دو شتر سوار اپنی طرف آتے نظر آئے۔ آشی کو اس نے خیمے میں بھیج کر پردے گرادئیے اور خود باہر کھڑا ہوگیا۔ اس
کے چغے میں تلوار چھپی ہوئی تھی۔ خنجر بھی تھا اور خیمے میں دو کمانیں اور بہت سے تیر بھی تھے۔ شتر سواروں کو
اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ سوچنے لگا کہ یہ ڈاکو ہوئے تو کیا وہ ان کا مقابلہ کرسکے گا۔ اسے یہ اطمینان تھا کہ آشی صرف
دل بہالنے والی لڑکی نہیں ،وہ لڑ بھی سکتی ہے۔ تیر اندازی کی اسے تربیت حاصل تھی۔ وہ صلیبیوں کی تیار کی ہوئی
تخریب کار لڑکی تھی۔ شتر سوار آرہے تھے۔ عمرودرویش نے منہ انہی کی طرف رکھا اور آشی سے کہا… ''کمان میں تیر ڈال
لو۔ اگر یہ ڈاکو نکلے تو پردے کے پیچھے سے تیر چال دینا''۔
''شتر سوار خیمے کے قریب آکر رکے۔ ایک نے اونٹ کی پیٹھ سے ہی پوچھا۔ ''تم کون ہو؟ کہاں جارہے ہو؟
عمرودرویش نے ہاتھ آسمان کی طرف کرکے جھومتی ہوئی آواز میں کہا… ''جس کے سینے میں آسمان کا پیغام ہو اس کی
کوئی منزل نہیں ہوتی۔ میں کون ہوں؟… مجھے بھی معلوم نہیں۔ کبھی کچھ ہوا کرتا تھا۔ آسمان سے ایک پیغام آیا ،میرے
سینے میں اتر گیا۔ ذہن سے یہ نکل گیا کہ میں کون ہوں۔ میں کہاں جارہا ہوں؟… میرے سینے میں جو روشنی اتر آئی ہے
وہ بتا سکتی ہے ،اس میں میرے ارادوں کا کوئی دخل نہیں۔ میں آگے جارہا تھا۔ صبح کو شاید پیچھے چل پڑوں''۔
دونوں ا ونٹوں سے اتر آئے۔ ایک نے کہا… ''آپ تو کوئی پیر پیغمبر معلوم ہوتے ہیں۔ ہم دونوں مسلمان ہیں۔ کیا آپ غیب
''کی خبر دے سکتے ہیں ،ہم گناہ گاروں کو سیدھا راستہ دکھا سکتے ہیں؟
میں بھی مسلمان ہوں''۔ عمرودرویش نے وجد کی سی کیفیت میں کہا… ''تم بھی مسلمان ہو ،مجھے تمہاری تباہی نظر ''
آرہی ہے۔ میں بھی تمہاری طرح پوچھتا پھرتا تھا کہ سیدھا راستہ کون سا ہے۔ کسی کو معلوم نہیں تھا۔ خون میں ڈوبی ہوئی
الشوں میں مجھے سبز رنگ کا ایک چغہ اور اس میں سفید داڑھی واال ایک انسان کھڑا نظر آیا۔ اس نے مجھے الشوں سے
اٹھایا اور سیدھا راستہ دکھایا۔ پھر وہ الشوں کے خون میں غائب ہوگیا… تم پہاڑیوں میں رہتے ہو تو صحرائوں میں چلے جائو۔
مصر کا نام دل سے اتار دو وہ فرعونوں کا ملک ہے۔ وہاں جو بادشاہ آتا ہے اسے مصر کی مٹی اور وہاں کی ہوا فرعون بنا
دیتی ہے''۔
اب تو وہاں کا بادشاہ صالح الدین ایوبی ہے''۔ ایک شتر سوار نے کہا… ''وہ پکا مسلمان ہے''۔''
اس کا نام مسلمانوں جیسا ہے''۔ عمرودرویش نے ایسے لہجے میں کہا جیسے خواب میں بول رہا ہو… ''وہی تمہاری ''
تباہی ال رہا ہے۔ تم جس مٹی سے پیدا ہوئے وہ اس کی عزت پر خون بہائو۔ تم سوڈان کے بیٹے ہو''۔
مگر سوڈان کا بادشاہ کافر ہے''۔ شترسوار نے کہا۔''
وہ مسلمان ہوجائے گا'' عمرودرویش نے کہا… ''وہ مسلمانوں کی راہ دیکھ رہا ہے۔ اس کی فوج کافروں کی فوج ہے اس ''
لیے وہ اسالم کا نام نہیں لیتا۔ تم سب جائو ،تلواریں ،برچھیاں ،تیروکمان لے کر جائو۔ اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار ہوکر جائو۔
اسے بتائو کہ تم اس کے محافظ ہو ،تم سوڈان کے محافظ ہو''۔
اس نے بلند آواز سے کہا۔ ''جائو۔ اٹھو یہاں سے چلے جائو''۔
دونوں اونٹوں پر سوار ہوئے اور چلے گئے۔ کچھ دور جاکر ایک سوار نے دوسرے سے کہا۔ ''دھوکہ نہیں دے گا''۔
میرا بھی یہی خیال ہے''۔ دوسرے نے کہا۔ ''پکا معلوم ہوتا ہے ،سبق بھوال نہیں''۔''
آشی جیسا خوبصورت انعام ہمیں مل جائے تو ہم اپنے ماں باپ کے بھی خالف ہوجائیں''۔ شتر سوار نے کہا۔''
واپس چلتے ہیں''… دوسرے نے کہا۔ ''بتائیں گے کہ سب ٹھیک ہے… لڑکی شاید خیمے میں ہوگی''۔''
آدمی ہوشیار معلوم ہوتا ہے۔ اس نے لڑکی کو چھپا دیا تھا''… اس نے کہا… ''میرا خیال ہے انہیں کسی حفاظت کی ''
ضرورت نہیں''۔
نہیں ہونی چاہیے''… دوسرے نے کہا… ''سپاہی ہے۔ اس کے پاس ہتھیار بھی ہیں ،تیروکمان بھی ،لڑکی بھی ہوشیار ''
ہے''۔
یہ دونوں سوڈانی جاسوس تھے جنہیں یہ معلوم کرنے کے لیے عمرودرویش کے پیچھے بھیجا گیا تھا کہ یہ کام سکیم کے مطابق
کررہا ہے یا نہیں۔ عمرودرویش نے بڑی اچھی اداکاری کی تھی جس سے یہ دونوں مطمئن ہوکر چلے گئے۔
یہ ڈاکو نہیں تھے''… عمرودرویش نے خیمے میں جاکر آشی سے کہا… ''چلے گئے ہیں''۔''
یہ ڈاکوئوں سے زیادہ خطرناک تھے''… آشی نے کہا… ''تم نے انہیں بڑے اچھے طریقے سے ٹاال ہے''… پھر بولی… ''
''جنہوں نے تمہیں ادھر بھیجا ہے ان کے جاسوس تھے''… آشی نے کہا… ''یہ تمہیں دیکھنے آئے تھے کہ تم انہیں دھوکہ
تو نہیں دے رہے''۔
''تم انہیں جانتی ہو؟''
میں انہی کے درخت کی ایک ٹہنی ہوں''… آشی نے کہا… ''ان سے کٹ کر گر پڑی تو سوکھ جائوں گی''۔''
مجھے تم سے بھی محتاط رہنا پڑے گا''۔''
لڑکی ہنس پڑی اور بولی… ''تم نے خود ہی مجھے انعام کے طور پر مانگا تھا''۔
٭ ٭ ٭
رات وہ خیمے میں گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔ آشی کی آنکھ کھل گئی۔ باہر بھیڑئیے غرا رہے تھے۔ اونٹ ڈر کر اٹھ کھڑے
ہوئے اور عجیب طریقے سے بولنے لگے۔ آشی نے عمرودرویش کو جگایا اور اسے بتایا کہ وہ خوف کے مارے مر رہی ہے۔
عمرودرویش نے باہر کی آواز سنی تو آشی سے کہا… ''یہ بھیڑئیے ہیں۔ قریب نہیں آئیں گے۔ اونٹ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ،کوئی
ڈر نہیں۔ بھیڑئیے ان سے ڈر کر بھاگ جائیں گے''۔
اچانک بھیڑئیے آپس میں لڑ پڑے۔ ایسی خوفناک آوازیں تھیں کہ آشی چیخ مار کر عمرودرویش پر جا پڑی۔ وہ بیٹھا ہوا تھا۔
اس نے آشی کو اس طرح اپنی آغوش اور بازوئوں کی پناہ میں لے لیا جس طرح ماں ڈرے ہوئے بچے کو چھپا لیا کرتی ہے۔
لڑکی کا سارا جسم کانپ رہا تھا۔ اس کے منہ سے بات نہیں نکل رہی تھی۔ بھیڑئیے لڑتے لڑتے دور چلے گئے تھے۔
عمرودرویش لڑکی کو پرے کرنے لگا اور کہا… ''وہ چلے گئے ہیں۔ سوجائو''۔
نہیں''… آشی نے اس کی آغوش سے سر نہ اٹھایا۔ دھیمی سی آواز میں بولی… ''ذرا دیر اور یہیں پڑے رہنے دو''۔''
عمرودرویش کو یہ صورت پسند نہیں تھی۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اسے اپنے حسین جال میں پھانسنے کی کوشش کررہی ہے۔
وہ اور زیادہ پتھر بن گیا۔ لڑکی کا جسم بڑا ہی گداز اور بال بہت ہی مالئم تھے۔ اس نے اتنی حسین لڑکی کو کبھی چھو کر
بھی نہیں دیکھا تھا۔ اب محسوس کرنے لگا کہ لڑکی اسی طرح اس کی آغوش میں پڑی رہی تو وہ اس انگیخت کا مقابلہ
نہیں کرسکے گا۔ وہ آخر انسان تھا اور تنومند مرد تھا۔ اس نے اپنے نفس کا مقابلہ شروع کردیا۔
کچھ دیر بعد لڑکی نے سراٹھایا۔ تاریکی میں اس کے چہرے کے تاثرات نظر نہیں آرہے تھے۔ اس نے ہاتھوں سے عمرودرویش
کا چہرہ ٹٹول کر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا اور کہا۔ ''تم نے ایک رات مجھ سے پوچھا تھا کہ تمہارے ماں باپ کون ہیں
اور کہاں ہیں۔ یہی سوال تمہارے دوسرے ساتھی نے جو تم سے پہلے اس کمرے میں آیا تھا مجھ سے پوچھا تھا۔ مجھے ان
کے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں تھا مگر یہ سوال مجھے پریشان کرتا رہا اور بہت ہی پرانی یادیں بیدار کرتا رہا۔ مجھے کچھ
یاد آتا تھا لیکن ذہن کے اندھیرے میں گم ہوجاتا تھا۔ آج یاد آگیا ہے۔ تم نے مجھے اپنے بازوئوں میں لے کر مجھے اپنی
آغوش میں چھپا لیا تو میرے ذہن میں روشنی سی چمکی۔ اس نے مجھے بہت ہی پرانا وقت دکھا دیا۔ میں اس وقت بہت
چھوٹی تھی۔ مجھے باپ نے اسی طرح سینے سے لگا کر مجھے اپنے بازوئوں میں چھپا لیا تھا''۔
وہ چپ ہوگئی۔ وہ یادوں کی کڑیاں مالنے کی کوشش میں مصروف تھی۔ اچانک بچوں کی سی شوخی سے بولی… ''ہاں وہ
میرا باپ تھا۔ ایسا ہی ریگستان تھا۔ معلوم نہیں رات تھی یا دن تھا۔ ہم ایک قافلے کے ساتھ جارہے تھے۔ بہت سے گھوڑ
سوار آئے اور قافلے پر ٹوٹ پڑے۔ ان کے پاس تلواریں اور برچھیاں تھیں۔ یہ ڈرائونا سا خواب ہے۔ جو آج تمہاری آغوش اور
بازوئوں کی گرمی سے ذہن میں زندہ ہوگیا ہے۔ مجھے باپ نے تمہاری طرح پناہ میں لے لیا تھا… یہ بھی یاد آگیا ہے۔ میرے
باپ کے بازو ڈھیلے پڑ گئے تھے اور وہ پیچھے کو گر پڑا تھا۔ اس نے ایک بار پھر مجھے بازوئوں میں جکڑ لیا۔ ماں بھی یاد
آگئی ہے۔ وہ میرے اوپر گری تھی شاید مجھے بچانے کے لیے گری تھی… پھر یاد آتا ہے کہ وہ ایک طرف لڑھک گئی تھی۔
مجھے خون بھی یاد آتا ہے۔ کسی نے مجھے بازو سے پکڑ کر اٹھالیا تھا اور کسی نے کہا تھا… خالص ہیرا ہے جوان ہوئی تو
دیکھنا… مجھے اپنی چیخیں بھی یاد آگئی ہیں۔ میں آج رات کی طرح چیخی تھی''۔
دماغ پر زیادہ زور نہ دو''… عمرودرویش نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا… ''میں ساری کہانی بوجھ گیا ہوں۔ تم''
مسلمان کی اوالد ہو۔ تم عرب یا فلسطین کی رہنے والی ہو۔ صلیبی مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔ اب بھی جو
عالقے ان کے قبضے میں ہیں ،وہاں وہ مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹ لیتے ہیں۔ وہ زروجواہرات اور تم جیسی خوبصورت بچیوں
کو لے جاتے ہیں۔ میں جان گیا ہوں تم یہاں تک کیسے پہنچی ہو''۔
میں جب کچھ سوچنے سمجھنے لگی تو میں نے اپنے جیسی بہت سی بچیوں کو دیکھا''… آشی نے کہا… ''ہمیں بہت ''
اچھا کھانا ور بہت خوبصورت کپڑے پہنائے جاتے تھے۔ گورے گورے آدمی اور عورتیں ہم سے بہت پیار کرتی تھیں۔انہوں نے
میرے ذہن سے ساری یادیں مٹا دی تھیں۔ میں وہیں بڑی ہوئی تھی ۔ وہ یروشلم تھا ۔ لڑکپن سے ہمیں بے حیائی کے سبق
ملنے لگے۔ شراب بھی پالئی جاتی تھی ۔ عربی زبان سکھائی گئی ،پھر سوڈانی زبان سکھائی گئی ۔ میں جب جوان ہوئی تو
مجھے اس استعمال میں الیا جانے لگا جس میں تم نے مجھے دیکھا ہے۔ تیغ زنی اور تیر اندازی کی ہمیں بہت مشق کرائی
گئی تھیں …… آج تم نے مجھے خوفزدگی کی حالت میں پناہ میں لیا تو مجھے اچانک اپنا باپ یاد آگیا۔ میرے متعلق اس
کے جذبات پاک تھے اور تمہارے جذبات بھی پاک ہیں ۔ اسی لیے میں نے تمہیں کہا تھا کہ مجھے کچھ دیر اور اپنی آغوش
میں پڑا رہنے دو۔ مجھے اپنے باپ کی آغوش کا لطف آرہا تھا ۔ جک تک میں زندہ ہوں تمہاری غالم رہوں گی ۔ میں اب
سوڈانیوں اور صلیبیوں کے لیے کام نہیں آسکوں گی ۔ یہ تمہاری پاکیزہ خیالی اور نیک نیتی کاکرشمہ ہے ۔ میں مسلمان ہوں۔
تم نے میری رگوں میں مسلمان باپ کا خون گرما دیا ہے۔ اب میں تمہیں یہ کام نہیں کرنے دوں گی جس کے لیے تم جا
رہے ہو۔ تم نے میرے اندر ایمان کی قندیل روشن کر دی ہے ''۔
چند دن مجھے یہ کام کرنا پڑے گا''…… عمرودرویش نے کہا …… ''میں کسی اور مقصد کے لیے جا رہا ہوں''۔''
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:28
قسط نمبر۔95
طور کا جلوہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عمرودرویش جب خیمہ اکھاڑ کر سوڈانی مسلمانوں کے پہاڑی عالقے کو روانہ ہونے کی تیاری کررہا تھا تو وہ اس حسین جمیل
لڑکی کے متعلق سوچ رہا تھا جو اس کی ہمسفر تھی۔ لڑکی مسلمان تھی۔ اس کی حیثیت کی وجہ سے عمرودرویش اسے
صلیبیوں کا آلۂ کار بنے رہنے سے باز رکھنا چاہتا تھا مگر وہ چار پانچ سال کی عمر میں صلیبیوں کے ہاتھ لگی تھی۔ انہوں
نے بیس سال کا عرصہ صرف کرکے اس پر جو رنگ چڑھا دیا تھا وہ اتارنا آسان نہیں تھا۔ بیشک لڑکی نے اپنے ذہن میں اس
حقیقت کو خود ہی دریافت کرلیا تھا کہ وہ مسلمان ماں باپ کی بیٹی ہے اور اس نے اپنے دل میں صلیبی آقائوں کے خالف
نفرت پیدا کرکے عمرودرویش سے کہا تھا کہ میں تمہاری مدد کروں گی مگر عمرودرویش سوچ رہا تھا کہ اس لڑکی پر اعتبار
کرے یا نہ کرے۔
رات ایک ہی خیمے میں گزار کر صبح لڑکی نے عمرودرویش سے پوچھا… ''مجھے شک ہے کہ تم مجھے ابھی تک اپنا
دشمن سمجھ رہے ہو''۔
عورت کے جال میں الجھ کر مسلمان قوم نے بہت نقصان اٹھایا ہے آشی!''… عمرودرویش نے جواب دیا… ''تم بہت ہی ''
خوبصورت ہو۔ تمہاری تربیت ایسی کی گئی ہے کہ تمہاری چال ڈھال ،بول چال اور انداز انسان کے اندر حیوان کو بیدار
کردیتاہے۔ میں جوان ہوں۔ کئی سال میدان جنگ میں اور کچھ عرصہ سوڈان کے قید خانے میں جنگی قیدی کی حیثیت سے
گزارا ہے۔ اتنی لمبی مدت گھر کی چاردیواری نہیں دیکھی۔ رات خیمے میں تم میرے ساتھ تنہا تھیں۔ میں رات بھر خدا
ذوالجالل سے مدد مانگتا رہا کہ میں حیوانیت کا مقابلہ کرسکوں۔ میں کامیاب رہا۔ خداوند دو عالم نے میری بہت مدد کی۔ پھر
میں یہ سوچتا رہا کہ تمہیں اپنا دشمن سمجھوں یا دوست ،میں اب بھی یہی سوچ رہا ہوں۔ میں ابھی تمہارا یہ شک رفع
نہیں کرسکتا کہ تمہیں اپنا دشمن سمجھتا ہوں۔ تمہیں ثابت کرنا ہے کہ تم قابل اعتماد ہو''۔
میں تمہیں ایک بار پھر کہتی ہوں کہ تم نے میرے سینے میں ایمان کی شمع روشن کردی ہے''… آشی نے کہا… ''اور ''
میں تمہیں یہ بھی بتا دوں کہ تم اگر اس مہم میں جس پر تمہیں سوڈانیوں نے بھیجا ہے ،سوڈانیوں کو دھوکہ دینا چاہو گے
تو میں تمہارا ساتھ دوں گی۔ میری جان بھی چلی جائے تو پیچھے نہیں ہٹوں گی۔ یہ میں نے ہی تمہیں بتایا تھا کہ یہ جو
دو آدمی تمہارے مرید بن کر گئے ہیں دراصل سوڈانیوں کے جاسوس ہیں''۔
مجھے سوچنے دو آشی!''… عمرودرویش نے کہا… ''میں جان گیا ہوں کہ میرے اردگرد جاسوسوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ ''
میں تمہیں بھی اسی جال کا ایک حصہ سمجھتا ہوں۔ تم ابھی اسی طرح کرنا جس طرح تمہیں بتایا گیا ہے۔ میں بھی اسی
سبق اور ہدایت پر عمل کروں گا جو مجھے دی گئی ہے۔ میں نے تمہیں کہا تھا کہ میں کسی اور مقصد کے لیے جارہا ہوں
مگر میں اس مہم سے انحراف بھی نہیں کرسکتا۔ میں انحراف کا نتیجہ جانتا ہوں کیا ہوگا۔ دو تین تیروں کے رخ ہر لمحہ
میری طرف رہتے ہیں۔ میں انہیں اس وقت دیکھ سکوں گا جب یہ سینے میں اتر جائیں گے''۔
میں ہر حال میں تمہارا ساتھ دوں گی''… آشی نے کہا… ''میں ثابت کروں گی کہ میری رگوں میں مسلمان باپ کا خون''
ہے''۔
وہ اونٹوں پر سوار مسلمانوں کے عالقے کی طرف جارہے تھے۔ تیسرے اونٹ پر ان کا خیمہ اور دیگر سامان لدا ہوا تھا۔ آشی
جو نیم عریاں رہتی تھی ،سیاہ کپڑوں میں ملبوس اور اس کا چہرہ مستور تھا۔ دیکھنے واال کہہ نہیں سکتا تھا کہ یہ آبرو باختہ
لڑکی صلیبیوں کا ایک خوبصورت تیر ہے۔ جو پتھر جیسے انسان کے دل میں اتر جائے تو وہ موم ہوکر صلیبیوں کے سانچے
میں ڈھل جاتا ہے۔ دور ایک گھوڑ سوار اسی سمت جارہا تھا جدھر یہ دونوں جارہے تھے۔ عمرودرویش نے اس سوار کو کئی
بار دیکھا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ یہ سوڈانیوں کے ان جاسوسوں میں سے ہی ہوگا جو اس کے ساتھ سائے کی طرح لگے
ہوئے ہیں۔ یہ شک اسے پریشان کررہا تھا کہ یہ صحرائی راہزنوں کا کوئی آدمی ہوا تو وہ کیا کرے گا۔
''آشی!''… اس نے اپنی ہمسفر سے کہا… ''اس سوار کو دیکھ رہی ہو جو افق پر جارہا ہے؟''
بہت دیر سے دیکھ رہی ہوں''۔''
ہمارے پاس ہتھیار ہیں''… آشی نے دلیرانہ جواب دیا… ''رات کو سوتے وقت ہم پر آپڑے تو میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ ''
دن کے وقت ہم ان کا مقابلہ کریں گے۔ تمہارے ساتھ میں ہی ایک دولت ہوں۔ وہ مجھے زندہ نہیں لے جاسکیں گے''۔
صحرا کے ان خطروں میں وہ چلتے گئے۔ سورج اوپر آکر مغرب کی طرف نیچے جاتا رہا اور انہیں پہاڑیاں نظر آنے لگیں۔ بلند
پہاڑیاں تو دور تھیں ،یہ عالقہ جہاں سے شروع ہوتا تھا وہ جگہ دور نہیں تھی۔ اونٹ چلتے گئے اور وہ عالقہ آگیا جہاں
عمرودرویش کو اپنی مہم کا آغاز کرنا تھا۔ مسلمان کا پہال گائوں تھوڑی ہی دور تھا۔ عمرودرویش خود بھی اسی عالقے کا رہنے
واال تھا۔ گھوڑ سوار جو دور دور جارہا تھا ،رخ بدل کر ادھر آگیا اور ان سے آن مال۔
تمہارا قیام اس جگہ ہوگا''… گھوڑ سوار نے عمرودرویش سے کہا… ''تم مجھے نہیں جانتے ،میں تمہیں جانتا ہوں''… ''
''اسے دیکھ کر آشی نے چہرے سے نقاب اٹھا دیا تھا اور وہ مسکرارہی تھی۔ سوار نے اس سے پوچھا… ''سفر اچھا گزرا؟
بہت اچھا''… آشی نے بے باک مسکراہٹ سے جواب دیا۔''
تم دونوں گھبرانا نہیں''… سوار نے کہا… ''تمہارے سفر کے دوران تمہاری حفاظت کا ایسا انتظام ساتھ ساتھ رہا ہے۔ جسے''
تم دونوں دیکھ نہیں سکے ،ورنہ اتنی خوبصورت لڑکی یہاں تک نہ پہنچ سکتی''۔
تم کون ہو؟''… عمرودرویش نے اس سے پوچھا۔''
سوڈانی مسلمان''… سوار نے جواب دیا۔ اس نے کہا… ''اب یہ نہ سوچو کہ تم کون ہو اور میں کون ہوں تم بھی میری ''
طرح اسی عالقے کے مسلمان ہو۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ یہاں ذرا سی بھی غلطی ہوگئی تو یہاں کے مسلمان ہماری
بوٹیاں اڑا دیں گے''… سوار نے آگے ہوکر راز داری سے کہا… ''اور یہ بھی یاد رکھنا کہ تم نے اپنے کام میں کوئی گڑبڑ کی
تو بغیر اطالع قتل ہوجائو گے۔ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے یہاں تمہیں کیا کرنا ہے۔ آج رات تم آرام کرو گے۔ کل تمہارے
پاس یہاں کے لوگ آنے لگیں گے۔ آشی کو معلوم ہے کہ اسے کیا کرنا ہے''۔
عمرودرویش کو سب کچھ معلوم تھا۔ اسے اس عالقے کے مسلمانوں کو گمراہ کرنا تھا۔ سلطان ایوبی کے خالف نفرت پھیالنی
تھی اور مسلمانوں کو سوڈان کا وفادار بنا کر انہیں اس سوڈانی فوج میں بھرتی ہونے کے لیے تیار کرنا تھا جسے مصر پر
حملہ اور قبضہ کرنے کے لیے تیار کیا جارہا تھا۔ سلطان ایوبی مصر سے غیرحاضر تھا۔ وہ اس وقت سپین میں برسریپیکار تھا۔
صلییبیوں کا یہ منصوبہ تھا کہ سوڈانی فوج کو تیار کرکے مصر پر حملہ کیا جائے مگر سوڈانی مسلمانوں کے جنگجو قبیلے
سوڈان کے باشندے ہونے کے باوجود صالح الدین ایوبی کے معتقد اور مرید تھے۔ عمرودرویش ان کے عقیدوں کو تہس نہس کرنے
آیا تھا۔
سورج غروب ہوگیا تھا۔ جب عمرودریش نے اس سوار کی مدد سے خیمہ گاڑ لیا۔ سوار نے جانے سے پہلے کہا۔ ''کل شاید
مجھے تمہارے ساتھ الگ بات کرنے کا موقعہ نہ ملے۔ لوگ صبح سویرے یہاں آجائیں گے''… اس نے ایک پہاڑی کی طرف
اشارہ کرکے کہا… '' شام کو دھندالہٹ میں بھی وہ اوپر تمہیں چھاتے کی طرح درخت نظر آتا ہوگا اسے یاد رکھنا۔ کل رات
تمہیں ادھر مشعل کا اشارہ کرنا ہے۔ کل جو کپڑا تمہیں استعمال کرنا ہے اسے صبح تیار کرلینا… میں جارہا ہوں۔ اب ذرا ذرا
سی حرکت میں بھی احتیاط کرنا''۔
وہ لڑکی کو اشارے سے باہر لے گیا اور اسے کہا… ''تمہیں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ یہاں کے مسلمان وحشی ہیں۔ ہم
تمہاری حفاظت کے لیے موجود ہیں لیکن تمہیں اپنی حفاظت خود زیادہ کرنی ہوگی۔ اس آدمی کو اپنے قبضے میں رکھنا''۔
اس نے لڑکی کے شانوں پر بکھرے ہوئے بالوں کو چھیڑ کر اور ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ الکر کہا۔ ''ان حسین زنجیروں
میں تو تم شیر کو بھی جکڑ سکتی ہو''۔
''تم بھی تو یہیں کے مسلمان ہو''… آشی نے طنزیہ کہا… ''تم وحشی نہیں ہو؟''
تمہیں دیکھ کر کون وحشی نہیں ہوجاتا''… اس نے کہا اور گھوڑے پر سوار ہوکر شام کے گہرے ہوتے اندھیرے میں غائب ''
ہوگیا۔
یہ سوار ان مسلمانوں میں سے تھا جنہوں نے ایمان بیچ ڈاال تھا اور دشمن کے اس زمین دوز حملے کی قیادت کررہا تھا جو
سیدھے سیدھے مسلمانوں کے عقیدے پر کیا جارہا تھا۔ وہ اسی عالقے کے کسی گوشے کا رہنے واال تھا۔ کسی کو معلوم نہ
تھا کہ وہ قوم کی آستیں کا سانپ ہے۔ اس حملے میں وہ اکیال نہیں تھا۔ یہ آٹھ دس مسلمانوں کا گروہ تھا۔ وہ گھوڑے پر
سوار ایک گائوں کی طرف چال جارہا تھا۔ راستے میں اسے ایک اور آدمی مل گیا۔ وہ اسی کی راہ دیکھ رہا تھا۔
سب ٹھیک ہے؟''… اس نے سوار سے پوچھا۔''
ہے تو سب ٹھیک''… سوار نے جواب دیا… ''کسی بھی وقت معاملہ چوپٹ ہوسکتا ہے۔ اگر صلیبیوں نے مجھے پکے ''
سبق پڑھائے ہیں تو میں کہہ سکتا ہوں کہ لڑکی کے تیور بدلے ہوئے لگتے ہیں۔ وہ کچھ بجھی بجھی اور خاموش خاموش نظر
آتی ہے''۔
آشی تو کہتے ہیں بہت ہوشیار اور تیز لڑکی ہے''۔''
شاید سفر کی تھکن سے تیزی ماند پڑ گئی ہو''… سوار نے کہا… ''عمرودرویش بھی تو وحشی ہے''۔''
وہ باتیں کرتے گائوں میں داخل ہوئے۔ ایک جگہ دو آدمی کھڑے باتیں کررہے تھے۔ سوار اور ساتھی ان کے پاس رک گئے بتایا
کہ وہ سفر میں ہیں اور اپنے گائوں کو جارہے ہیں۔ اپنے گائوں کا نام بھی بتایا اور حیرت زدہ لہجے میں کہا… ''یہاں سے
تھوڑی دور ایک بزرگ اترا ہوا ہے۔ صرف خدا کے ساتھ باتیں کرتا ہے۔ دن کے وقت بھی دائیں اور بائیں دو مشعلیں جال کر
رکھتا ہے۔ ہم اسے دیکھ کر اس کے پاس بیٹھ گئے۔ وہ قرآن پڑھ رہا تھا۔ زبانی پڑھتا ہے۔ اس نے ہماری توجہ نہیں دی۔ ہم
نے اسے بالیا ،وہ نہیں بوال۔ اس کے خیمے کے قریب سے زمین سے دھوئیں کا بادل اٹھا ،بادل اوپر جاکر غائب ہوگیا اور اس
میں سے ایک لڑکی نکلی جس کے حسن کو ہم بیان نہیں کرسکتے۔ ہم ڈر گئے کیونکہ لڑکی انسان نہیں جن معلوم ہوتی تھی
اس نے بزرگ کے آگے سجدہ کیا۔ سجدہ سے اٹھ کر کان بزرگ کے منہ کے ساتھ لگایا۔ بزرگ کے ہونٹ ہلے ،لڑکی ہمارے
سامنے آن کھڑی ہوئی''۔
ہم ڈر کر بھاگنے لگے لیکن زمین نے ہمیں پکڑ لیا۔ شاید لڑکی کی آنکھوں نے ہمیں جکڑ لیا۔ اس نے ہمیں کہا… یہ خدا ''
کا ایلچی ہے۔ تم سب کے لیے پیغام الیا ہے ،اسے پریشان نہ کرو۔ یہ اس وقت خدا کے ساتھ باتیں کررہا ہے ،کل آئو۔ اگر
اس نے تم پر کرم کیا تو تم سب کو طور کا جلوہ دکھائے گا۔ میں ابھی ابھی کوہ طور سے آئی ہوں۔ اس نے بالیا تھا۔ اس
نے میرے کان میں کہا ہے کہ ان سے کہو کہ تمہاری تقدیر بدل دوں گا۔ بے صبر ہوجائو گے تو کہیں اور چال جائوں گا… ہم
لڑکی کے ساتھ بات نہیں کرسکے۔ ہمارے جسم پر اس کا قبضہ ہوگیا تھا۔ ہم کچھ بھی نہیں بول سکے ،بزرگ کی طرف دیکھا
تو اس کے سر پر نور کا ہالہ تھا۔ ہم وہاں سے چلے آئے''۔
ان کا لہجہ سنسنی خیز تھا۔ صاف پتہ چلتا تھا کہ ان پر حیرت اور خوف طاری ہے۔ انسانی فطرت کی یہ کمزوری ہے کہ
حیرت انگیز بات جذبات کو ہال دیتی ہے۔ سنسنی سرور دیتی ہے۔ یہی حال ان دو سننے والوں کا ہوا۔ انہوں نے دو گھروں
کے دروازوں پر دستک دے کر دو تین آدمیوں کو بال لیا اور جو انہوں نے سنا تھا وہ انہیں سنا دیا۔ سوار اور اس کے ساتھی
نے دل پسند اور لذیذ سے اضافے بھی کردئیے۔ لڑکی کا حسن ایسے الفاظ میں بیان کیا کہ سننے والے خدا اور قرآن کے بجائے
اور اس بزرگ کے بجائے اپنے دماغوں پر لڑکی کو سوار کرنے لگے۔ ان آدمیوں نے سوار اور اس کے ساتھی کو مہمان ٹھہرا
لیا۔ دوسرے گھروں کے آدمی بھی آگئے۔
٭ ٭ ٭
ابھی سورج نہیں نکال تھا جب اس گائوں کے تمام آدمی سوار اور اس کے ساتھی کی رہنمائی میں اس جگہ کو روانہ ہوگئے
جہاں عمرودرویش اور آشی نے خیمہ لگا رکھا تھا۔ خیمے کے سامنے چھوٹے سے قالین پر عمرودریش آلتی پالتی مارے بیٹھا،
آنکھیں بند کیے کچھ بڑبڑا رہا تھا۔ ایک ڈنڈا اس کے دائیں طرف اور ایک بائیں طرف زمین پر گڑھا ہوا تھا۔ اس کے اوپر
والے سروں پر تیل میں بھیگے ہوئے کپڑے لپٹے ہوئے تھے جو جل رہے تھے۔ یہ مشعلیں تھیں۔ جب گائوں والے وہاں پہنچے
تو عمرودرویش سے آٹھ دس قدم دور تین آدمی کھڑے تھے۔ گائوں کے لوگ آئے تو ان تینوں کے پاس رک گئے۔
ان تین میں سے ایک نے کہا… ''میں آگے جاکر بزرگ سے بات کرتا ہوں''… وہ تین چار قدم آگے گیا تو یوں پیچھے کو
پیٹھ کے بل گرا جیسے آگے سے اسے کسی نے دھکا دیا ہو۔ وہ اٹھ کر لوگوں میں جاکھڑا ہوا۔ خوف سے وہ کانپ رہا تھا
اس نے خوفزدہ آواز میں کہا… ''آگے نہ جانا مجھے کسی نے آگے سے دھکا دیا ہے۔ یہ کوئی جن تھا جو مجھے نظر نہیں
آیا''۔
دوسرے دو نے کہا… ''ہم آگے جاتے ہیں۔ تم ڈر کر گر پڑے تھے''… وہ دونوں اکٹھے آگے گئے۔ تین چار قدم گئے تو دونوں
پہلے آدمی کی طرف پیٹھ کے بل گرے۔ جلدی سے اٹھے ،لوگ ڈر گئے۔ سب کو یقین ہوگیا کہ اس بزرگ نے پہرے پر جنات
کھڑے کررکھے ہیں جو کسی کو آگے نہیں جانے دیتے۔
خیمے سے ایک لڑکی نکلی یہ آشی تھی۔ اس نے سیاہ ریشمی لباس پہن رکھا تھا۔ٹھوڑی اور منہ باریک پردے میں تھے۔
آنکھیں ننگی تھیں۔ سر سیاہ کپڑے سے ڈھانپ رکھا تھا۔ بال شانوں سے ہوتے ہوئے سینے پر پڑ ے ہوئے تھے۔ وہ تھی مستور
لیکن لباس ایسا تھا کہ نیم عریاں لگتی تھی۔ اس پہاڑی عالقے کے لوگوں نے اس قسم کی لڑکی پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی
۔ وہ اسے جنات میں سے سمجھ رہے تھے ۔ اس کی چال بھی نرالی اور دلکش تھی۔ آشی نے عمر درویش کے آگے سجدہ
کیا۔ سجدے سے ا ُٹھ کر کان اس کے منہ کے ساتھ لگادیا۔ اس کے ہونٹ ہلے آشی اُٹھ کھڑی ہوئی۔
تم لوگ وہیں کھڑے رہو''……آشی نے لوگوں سے کہا …… ''کوئی آدمی آگے آنے کی جرأت نہ کرے۔ خدا کے ایلچی نے ''
پوچھا ہے کہ تم یہاں کیوں آئے ہو۔ تم وہیں کھڑے کھڑے بات کر سکتے ہو''۔
ان تین آدمیوں میں سے آگے گئے اور گر پڑے تھے۔ ایک آدمی بلند آواز سے بوال …… ''اے خدا کی طرف سے آنے والے !
''کیا تو آنے والے وقت کی خبر دے سکتا ہے؟
پوچھ کیا پوچھتا ہے؟''…… عمر درویش نے مخمور سی آواز میں کہا۔''
کیا ہم اس خطے کو اسالم کی ریاست بنا سکیں گے جو سوڈان کی غالم نہ ہو؟''…… اس آدمی نے پوچھا۔''
عمر درویش نے غصے سے زمین پر ہاتھ مارا۔ آشی دوڑ کر اس کے پاس جا بیٹھی اور کان اس کے منہ کے ساتھ لگا دیا۔
عمر دوریش کے ہونٹ ہلے۔ آشی اُٹھ کر لوگوں سے مخاطب ہوئی۔
خدا کے ایلچی نے کہا ہے کہ آگ لگ جائے تو اس خطے کو تم اسالمی ریاست بنالوگے جوسوڈان کی غالم نہیں ''
ہوگی''…… آشی نے کہا …… ''کسی کے پاس پانی ہو تو اس کپڑے پر انڈیل دو''۔
عمر درویش سے ذرا پرے ایک کپڑا اس طرح پڑا تھا جس طرح کسی نے لباس اتار کر گٹھڑی کی صورت رکھ دیا ہو۔ انہیں
تین آدمیوں میں سے جو آگے بڑھے اور گر پڑے تھے ،ایک آگے بڑھا۔ اسکے ہاتھ میں چمڑے کا چھوٹا سا مشکیزہ تھا۔ اس نے
کہا …… '' میرے پاس پانی ہے۔ میں سفر میں ہوں اس لیے پانی ساتھ رکھا ہوا ہے''…… اس نے آگے جا کر مشکیزے کا
منہ کھوال اور کپڑے پر پانی کا چھڑکائو کر دیا۔
آشی نے زمین سے مشعل ا ُٹھا کر عمر درویش کے ہاتھ میں دے دی۔ عمر درویش نے آسمان کی طرف منہ کرکے ہونٹ ہالئے
جیسے سرگوشی کی ہو ،پھر اس نے مشعل کا شعلہ کپڑے کے ساتھ لگا دیا۔ کسی کوتوقع نہیں تھی کہ پانی سے بھیگا ہوا
کپڑا جل ا ُٹھے گا مگر ہوایوں کہ جوں ہی مشعل کا شعلہ کپڑے کے قریب گیا تو کپڑا بھڑک اُٹھا اور تمام تر کپڑا ایک شعلہ
بن گیا۔ کسی ایک آدمیوں کے منہ سے حیرت زدہ آوازیں نکلیں…… ''اللہ ''…… ان کی نظروں کے سامنے پانی جل رہا تھا۔
خدا کے اشارے کو سمجھ لو''……عمر درویش نے کہا …… ''اور مجھے غورسے دیکھو ،میں کون ہوں۔ میں تم میں سے ''
ہوں'' …… اس نے اپنے گائوں کا نام لے کر کہا …… ''میں اسی عالقے کا رہنے والے ہاشم درویش کا بیٹا ہوں۔ میں نبی
نہیں۔ میں پیغمبر نہیں۔ خدا اپنا آخری پیغمبر بھیج چکا ہے''۔ اس نے اپنی انگلیاں چوم کر اور آنکھوں سے لگا کر کہا ……
'' میں بھی تمہاری طرح خدا کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پروانہ ہوں۔ مجھے خدا نے روشنی دکھائی اور حکم دیا
ہے کہ روشنی ان کے پاس لے جائو جو اندھیرے میں ہیں''۔
وہ ایسے لہجے میں بول رہا تھا جیسے اس پر وجد کی کیفیت طاری ہو۔ اس نے کہا …… '' میرے گائوں میں جاکر پوچھو۔
میں صال الدین ایوبی کا کماندارہوں۔ میں اس فوج کے ساتھ تھا جس نے سوڈان پر حملہ کیا تھا۔ اس فوج کا حملہ ناکام ہوا۔
ہم سب کو افسوس ہوا۔ تم سب کو افسوس ہواہوگا لیکن خدائے ذوالجالل نے مجھے مصر کی فوج کی الشوں سے اُٹھایا۔ اور
مجھے اشارہ دیا کہ صالح الدین ایوبی کی فوج کو کیوں شکست ہوئی ۔ میرا افسوس خوشی میں بدل گیا۔ میں نے ایک
درخت کی شاخوں میں خدا کا نوردیکھا۔ یہ ایک روشنی تھی جیسے ایک ستارہ آسمان اُتر کر درخت کی شاخوں میں اٹک گیا
……''ہو۔ اس ستارے میں سے آواز آئی …… ''آگے دیکھ ،پیچھے دیکھ ،دائیں دیکھ ،بائیں دیکھ
میں نے ہر طرف دیکھا۔ آوازآئی …… ''کوئی انسان تجھے زندہ نظر آتا ہے؟''…… مجھے ہر طرف الشیں نظر آئیں۔ یہ سب
میرے ساتھیوں کی الشیں تھیں۔ حالت سب کی بہت بری تھی ۔ زخمی بہت کم تھے۔ زیادہ سپاہی پیاس سے مرے تھے۔ یہ
سب لڑے تھے۔ ستارے کی روشنی سے آواز آئی…… ''کیا تو نے دیکھا نہیں تھا کہ تمہاری تلواریں کند ہو گئی تھیں؟ …… کیا
تو نے دیکھا نہیں تھا کہ تمہارے تیروں کی کوئی رفتار ہی نہیں تھی ؟ تو نے دیکھا نہیں تھا کہ تمہارے گھوڑے کے پائوں
……''زمین میں دھنس گئے تھے؟
تب مجھے یاد آیا کہ میں نے سب کچھ دیکھا تھا جو روشنی کی صدا نے مجھے بتایا تھا۔ میری تلوار کی کاٹ اتنی بھی''
نہیں رہی تھی کہ خراش بھی ڈال سکتی ۔ میں نے اپنے تیر دیکھے تھے جوہوا میں یوں جاتے تھے جیسے ہوا کے جھونکوں
سے گھاس کے خشک تنکے ا ُڑ رہے ہوں۔ ہمارے گھوڑے چلتے نہیں تھے۔ ریگزار نے سورج کی ساری آگ لے لی اور مجھے
اور میرے ساتھیوں کوبھسم کردیا ۔ میں بھی جلی ہوئی الش تھا۔ ستارے سے ایک شرارہ آیا۔ میری آنکھوں میں اُترا اور میرے
وجود میں اتر گیا''۔ آواز آئی ……''ہم نے تجھے دوسری زندگی عطا کی ۔ ہم سے پوچھ ہم نے یہ کرم کیوں کیا؟''…… میں
نے پوچھا ۔ آواز نے جواب دیا…… ''ہمیں مسلمانوں سے محبت ہے۔ مسلمان میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتے
ہیں۔ ہمارے حضور رکوع و سجود کرتے ہیں۔ جن کی یہ الشیں ہیں ،انہیں ہم نے عبرت کا سامان بنایا ہے کہ یہ بھٹک گئے
تھے اور جو بھٹک رہے ہیں انہیں ہم سیدھا راستہ دکھانا چاہتے ہیں۔ ہم نے تجھے منتخب کیا ہے کہ تو ہر صبح قرآن کی
تالوت کرتا ہے۔ جا ہم نے تجھے روشنی دی ہے۔ یہ میرے مسلمان بندوں کو دکھا ''۔
میں اچھی طرح نہیں سمجھا''۔ میں نے کہا …… ''ایے میرے رب کے نور! مجھے پوری بات بتا اور بتا کے میری بات ''
کو ن مانے گا۔ کس طرح مانے گا۔ مجھے بتا کہ ہماری تلواریں کیوں کند ہو گئی تھیں؟ تیروں کی رفتار کہاں گئی تھی؟
روشنی کی آواز نے کہا …… وہ تلوارکند ہو جاتی ہے جس کا وار اپنی ماں پر کیا جاتا ہے۔ وہ تیر کھجور کا سوکھا پتہ بن
جاتا ہے جو اپنی ماں کے سینے پر چالیا جاتا ہے۔ تو نہیں جانتا کہ ماں کون ہے۔ وہ سرزمین جس نے تجھے جنم دیا ہے
اور جس کی مٹی میں تو کھیل کر جوان ہوا ہے ،تیری ماں ہے۔ جا ،سوڈانی کے مسلمانوں سے کہہ کہ سوڈانی کی زمین
تمہاری ماں ہے۔ اس سے محبت کرو۔ اس کی مٹی میں جنت ہے۔ اس جنت کو فتح کرنے کے لیے باہر کا کوئی مسلمان
بھی آئے گا تو وہ دوزخ میں جائے گا۔ تو نے دوزخ دیکھ لیا ہے۔ جا ،اپنے کلمہ گو سوڈانی بھائیوں کو بتا کہ تمہاری ماں ،
تمہاری جنت اور تمہارا کعبہ سوڈان ہے''۔
اے برگزیدہ ہستی کہ جس کا احترام ہم سب پر فرض ہے''…… ایک آدمی نے کہا …… ''کیا تو یہ کہہ رہا کہ ہم سوڈان''
کے اس بادشاہ کے وفادار ہوجائیں جو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا؟''…… یہ آدمی ان تینوں میں سے ایک
تھا جو آگے بڑھے اور گر پڑے تھے۔
خدا کی آوازنے کہا ہے کہ یہ بادشاہ جو کافر ہے مسلمان ہوجائے گا''…… عمر دوریش نے جھومتی ہوئی اثر انگیزآواز میں ''
کہا …… ''وہ مسلمانوں کی راہ دیکھ رہا ہے۔ اس کی فوج کا فروں کی ہے اس لیے وہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم
کا نام نہیں لیتا۔ تم سب جائو ،تلواریں ،برچھیاں ،تیرو کمان لے کر جائو۔ اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار ہو کر جائو۔ اسے بتائو
کہ تم اس کے محافظ ہو۔ تم سوڈان کے بیٹے ہو''…… میں نے خدا سے کہا کہ میری زبان سے یہ بات کوئی نہیں مانے گا۔
میرے مسلمان بھائی مجھے قتل کردیں گے۔ خدا کی آواز جو درخت کے پتوں میں اٹکی ہوئی روشنی سے آرہی تھی ،نے کہا
……''ہمارے سوا پانی کو کون آگ لگا سکتاہے۔ جا ،ہم نے یہ طاقت تجھے اس شہادت کے لیے دے دی کہ لوگ تیری آواز
کو ہماری آواز سمجھیں۔ کوئی انسان پانی کو آگ نہیں لگا سکتا''…… پھر روشنی سے آواز آئی …… ''اگر تیری آواز کو لوگ
موسی کو طور پر دکھایا تھا''۔
پھر بھی باطل جانیں تو انہیں رات کو اپنے پاس بال۔ میں انہیں وہی جلوہ دکھائوں گا جو
ٰ
کیا تم طور کا جلوہ دیکھ کر حق کی آواز کو مانو گے؟''…… عمردرویش نے پوچھا۔''
ہاں ،اے ،خدا کے ایلچی !'' …… ان تین آدمیوں میں سے ایک نے کہا …… ''اگر تو ہمیں طور کا جلوہ دکھادے تو ہم ''
تیری آواز کو خدا کی آواز مان لیں گے''۔
جائو'' …… عمردرویش نے زمین پر غصے سے ہاتھ مار کر کہا …… ''چلے جائو۔ اس وقت آنا جب سورج اپنے شعلے ''
پہاڑوں کے پیچھے لے جائے گا اور آسمان پر ستاروں کی قندیلیں روشین ہوجائیں گی۔ جائو''لوگ جب واپس گئے تو ان کے
دلوں میں کوئی شک نہیں تھا۔ جاتے جاتے وہ چار چار پانچ پانچ کی ٹولیوں میں ہوگئے۔ انسانی فطرت کی کمزوریاں اُبھر
آئیں۔ عقیدے دب گئے۔ جذبے سرد ہوگئے۔ جذبات بھڑک اُٹھے۔ یہ سیدھے سادھے پسماندہ لوگ تھے۔ سنسنی خیزی نے ان
کی عقل کا رخ پھیر دیا ۔ عمر درویش کے الفاظ میں کچھ اثر تھا یا نہیں ،لوگوں نے اس اثرکو قبول کیا جو اس کی آواز
میں اور اس کے بولنے کے انداز میں تھا۔ ان لوگوں میں سے اگر کسی نے شک کا اظہار کیا تو کسی نہ کسی نے کہہ دیا
…… ''کیا تم پانی کو آگ لگا سکتے ہو؟'' …… ابھی رات کو طور کا جلوہ دیکھنا باقی تھا۔ یہ لوگ آشی کو جن سمجھے
رہے تھے جس کا انہوں نے صاف الفاظ میں اظہار کیا۔
یہ وہ مسلمان تھے جنہوں نے سوڈان کی غیر مسلم شہنشاہی کو خوفزدہ کر رکھا تھا۔ سوڈان کی فوجوں کو انہوں نے اس پہاڑ
ی خطے میں بے بس کرکے پسپا کردیا تھا۔وہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پرستاروں اور صالح الدین ایوبی کے
شیدائی تھے۔ سوڈان کے باشندے ہوتے ہوئے وہ اپنے کوہستانی خطے کو آزاد اسالمی ریاست کہتے تھے ،مگر الفاظ کی سنسنی
اور چاشنی اور وجد آفرینی نے انہیں راہ سے بے راہ کر دیا اور ان کی سوچیں بھٹکنے لگیں۔ جنہوں نے فوجوں کو پسپا کیا
تھا ان کے عقیدے پر صرف ایک انسان نے دلکش وار کیا تو ان کے ہتھیار گر پڑے۔ یہ لوگ جدھر گئے افواہیں پھیالتے گئے۔
انہوں نے جو دیکھا اور جو سنا تھا اسے اور زیادہ دلنشیں بنانے کے لیے اضافے کرتے گئے۔
مجھے یہ خدشہ پریشان کر رہا ہے کہ سوڈانی مسلمان سنسنی خیز توہمات کے آگے ہتھیار ڈال دیں گے '' …… یہ آواز ''
سلطان صالح الدین ایوبی کی تھی جو سوڈان سے دور ،بہت ہی دور فلسطین کی دہلیز پر ایک چٹان کے دامن میں اپنے
مشیروں اور ساالروں کے درمیان بیٹھا تھا۔ العادل کا بھیجا ہوا قاصد اس کے پاس پہنچ گیا تھا۔ اس نے العادل کا پیغام پڑھ لیا
تھا۔ مصر کی انٹیلی جنس ( شعبہ جاسوسی اور سراغرسانی ) نے سوڈانی مسلمانوں کے حقوق پوری اطالع مصر کے قائم مقام
امیر العادل کو دی تھی جو العادل نے سلطان ایوبی کے نام ایک پیغام میں لکھ بھیجی تھی ۔ اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ
علی بن سفیان تاجروں کے بھیس میں سوڈان جا رہا ہے۔ پیغام میں العادل نے سلطان ایوبی سے پوچھا تھا کہ سوڈانی
مسلمانوں کے پہاڑی خطے میں اپنے چھاپہ مار بھیجے جائیں یا نہیں۔ اس نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا تھا کہ ہم چھاپہ
مار چوری چھپے بھیجیں گے۔ اگر سوڈانی حکومت کو پتا چل گیا تو کھلی جنگ ہوسکتی ہے ،جب کہ ہماری زیادہ تر فوج
عرب میں لڑ رہی ہے۔ پیغام میں تفصیل سے لکھا گیا تھا کہ سوڈانی حکومت مسلمانوں کو اپنا وفادار بنانے کے لیے ہمارے
جنگی قیدیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سلطان ایوبی نے یہ پیغام پڑھ کر اپنی ہائی کمانڈ کے ساالروں اور مشیروں کو سنایا اورکہا …… ''سوڈان کے یہ مسلمان سوڈان
کی فوج کے لیے قہر ال ٰہی ہیں۔ تم سب دیکھ رہے ہو کہ ان میں جتنے ہماری فوج میں ہیں ،وہ کس بے جگری اور جذبے
سے لڑتے ہیں مگر دشمن جب انہیں طلسماتی الفاظ میں الجھاتااور ذہن کی خیالی عیاشی کی طرف مائل کرتا ہے تو وہ ریت
کے بت بن جاتے ہیں۔ العادل نے لکھا تو نہیں کہ صلیبی سوڈان کے مسلمان عالقے میں کردار کشی اور ذہنی تخریب کاری
کر رہے ہیں لیکن تم سب صلیبیوں کو جانتے ہو۔ وہ اس فن کے ماہر ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ سوڈانیوں کے پاس صلیبی
مشیر موجود ہیں۔ وہ ذہنی تخریب کاری ضرورکریں گے ''۔
سلطان ایوبی نے العادل کے قاصد کو کھانے اور آرام کے لیے بھیج دیا اور کاتب کو بال کر پیغام کا جواب لکھوانے لگا ۔ اس
:نے لکھوایا
''!میرے عزیز بھائی۔ العادل''
خدائے عزوجل تمہارا حامی و ناصر ہو۔ تمہارے پیغام نے سوڈان کے مسلمانوں کے متعلق صورت حال واضح کردی ہے۔ تمہیں
حیران نہیں ہونا چاہیے۔ تم جانتے ہو کہ کفار اسالم کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ وہ ہرحربہ اور ہر ہتھکنڈہ استعمال کررہے ہیں۔ میں
اس اقدام کی تعریف کرتا ہوں کہ علی بن سفیان سوڈان چال گیاہے اور تم نے اسے جانے کی اجازت دی ہے ۔ اللہ علی بن
سفیان کی مدد کرے۔ وہ نہایت ہوشیار اور مستنعد سراغرساں ہے۔ پتھروں کے اندر سے بھید بھی نکال التا ہے۔ وہ واپس آکر
…… تمہیں بتائے گا کہ وہاں کی صورت حال کیا ہے اور اس کے مطابق کیا کاروائی کرنی چاہیے
تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ سوڈان کے مسلمانوں کو چھاپہ ماروں کی مدد دی جائے یا نہیں۔ تم نے اس خطرے کا بھی ''
اظہار کیا ہے چھاپر مار بھیجے تو سوڈانی جوابی کاروائی کریں گے جو کھلی جنگ کی بھی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ تم
نے اچھا کیا ہے کہ میری اجازت ضروری سمجھی ہے ،لیکن میں تمہیں خبردار کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر کبھی حاالت
ہنگامی ہوجائیں تو میری اجازت لینے میں وقت ضائع نہ کرنا۔تمہیں یہ معلوم ہو گیا تھا کہ سوڈان کے قید خانے کے ایک
سپاہی سوڈانی فوج کے دو کمانداروں کو قتل کرکے مسلمانوں کے ہاں پناہ لی اور اسالم قبول کر لیا ہے اور تمہیں یہ بھی
معلوم ہو گیا تھا کہ سوڈانی ہمارے قیدیوں کو ہمارے خالف تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہمارے اسحاق نامی ایک
کماندارکی بیوی اور بیٹی تک کو انہوں نے دھوکے سے اغوا کرنے کی کوشش ہے تو تمہیں سمجھ جانا چاہیے تھا کہ سوڈانی
مسلمانوں میں کچھ غدار بھی ہیں۔ ان حاالت میں تمہیں فوری طور پر چھاپہ ماروں کی کچھ نفری تاجروں اور مسافروں کے
بھیس میں سوڈانی سرحد میں داخل کر دینی چاہیے تھی ۔ تا ہم علی بن سفیان کا چلے جانا قابل تعریف ہے۔
میرے عزیز بھائی! یہ الگ مسئلہ ہے کہ ہمارے پاس فوج تھوڑی ہے اور ہم دوسرا محاذ کھولنے کے قابل نہیں لیکن قرآن ''
کے اس فرمان سے گریز نہ کرو کہ کسی بھی خطے میں مسلمانوں پر کفار ظلم و تشدد کر رہے ہوں یا انہیں اللچ سے یا
دھوکے سے عقیدوں سے گمراہ کر رہے ہوں اور ان کا قومی وقار اور دین و ایمان خطرے میں ڈال دیا گیا ہو تو تمام دنیا کے
مسلمانوں پر جہاد فرض ہوجاتا ہے۔ میں کئی بار کہہ چکا ہوں کہ سلطنت اسالمیہ کی کوئی سرحد نہیں۔ اسالم کے تحفظ کے
لیے ہم کسی بھی ملک کی سرحد میں داخل ہو سکتے ہیں ۔ تم جانتے ہو کہ ہم نے سوڈانی مسلمانوں کو اپنے چھاپہ مار
دے رکھے ہیں جو ان کے ساتھ کاشت کاروں کے روپ میں رہتے ہیں ۔ ہم سوڈانی مسلمانوں کو جنگی سامان بھی دے چکے
…… ہیں ۔ اگر تم ضرورت محسوس کرو تو انہیں اور زیادہ مدد دو
اگر سوڈانی اپنی سرحد بند کرنے کے لیے مصر پر فوج کشی کریں تو گھبرا نہ جانا۔ تم تھوڑی سی فوج سے کئی گناہ ''
فوج کا مقابلہ کر سکتے ہو۔ تم ان کا ایک حملہ تباہ کر چکے ہو۔ دوسرا بھی تباہ کر لو گے۔ سامنے کی ٹکر نہ لینا ،دشمن
کی وہاں گھسیٹ لینا جہاں تم کم تعداد سے زیادہ نقصان کر سکو۔ چھاپہ ماروں کا استعمال زیادہ کرنا اور دمشمن کی رسد
کاٹنے کا انتظام کرنا۔ تمہاری آدمی جنگ علی بن سفیان کے جاسوس جیت لیں گے۔ لیکن مجھے تواقع نہیں کہ سوڈانی حملے
کی حماقت کریں گے۔ اگر ان صلیبی مشیروں نے عقل سے کام لیا تو وہ حملے کی بجائے اپنے پہاڑی عالقے کے مسلمانوں
کو اپنے ساتھ مالنے کی کوشش کریں گے ۔ اگر مسلمان ان کے وفادار ہوگئے اور ان کی فوج میں شامل ہوگئے تو وہ ہر خطرہ
…… ''مول لے سکتے ہیں ،اس لیے تمہاری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ مسلمان ان کی ذہنی تخریب کاری کا شکار نہ ہوں
میدان جنگ میں شکست دیا کرتا ہے ،شکست کھایا نہیں ''
میں وہی بات دہرائوں گا جو سو بارکہہ چکا ہوں ۔ مسلمان
ِ
کرتا ،مگر اس کے جذبات میں جب حیوانی جذبہ بیدار کر دیا جاتا ہے تو وہ تلوار اتار پھینکتا ہے ۔ ملت اسالمیہ کو جب
بھی زوال آیا اسی جذبے کی بدولت آئے گا۔ ہمارا دشمن ہماری قوم میں یہی آگ بھڑکا رہا ہے۔ اس طرح ہم بیک وقت دو
محاذوں پر لڑ رہے ہیں۔ ایک زمین کے اوپر اور دوسرا زمین کے نیچے۔ ہمارا دشمن ہمیں زہر میں بجھے ہوئے تیروں سے
نہیں مارسکا ،وہ اب ہمیں زبان کی مٹھاس اور الفاظ کے جادو سے بیکار اور مفلوج کر رہاہے۔ یہ بڑا ہی خطرناک محاذ ہے۔
……''!ہوشیار رہنا میرے عزیز بھائی
یہاں کے حاالت سازگار ہیں۔ دشمن بری طرح بکھرا ہوا ہے۔ میں اسے مرکزیت اور اجتماع کی مہلت نہیں دوں گا۔ اللہ کی''
مدد ملتی رہی تو میں حلب لے لوں گا۔ مقابلہ شاید اب بھی سخت ہو لیکن میں نے کچھ اور انتظامات کر لیے ہیں۔ صلیبی
ابھی سامنے نہیں آئے۔ شاید ابھی سامنے آئیں گے بھی نہیں۔ وہ بھائیوں کو آپس میں لڑا کر تماشا دیکھ رہے ہیں ۔ اگر ان
……'' کا دشمن آپس میں ہی لڑ لڑ کر مر جائے تو انہیں سامنے آنے کی کیا ضرورت ہے
''اللہ تمہاری مدد کرے۔ مجھے اُمید ہے کہ تم گھبراو گے نہیں۔ خدا حافظ''
٭ ٭ ٭
جس وقت سلطان صالح الدین ایوبی نے یہ پیغام قاصد کو دے کر روانہ کیا اس وقت عمر درویش کے خیمے میں وہ تین آدمی
بیٹھے ہوئے تھے جو لوگوں کے ہجوم میں آگے ہوکر عمر درویش کی طرف بڑھے تھے مگر اس طرح پیچھے کو گر پڑے تھے
جیسے کسی نے انہیں آگے سے دھکا دیا ہو۔ لوگ چلے گئے۔ عمر درویش باہر سے اُٹھ کر خیمے کے اندر چال گیا تھا اور یہ
تین آدمی کچھ دور تک لوگوں کے ساتھ گئے اور ان کی نظر بچا کر ایک ایک کرکے واپس آئے اور عمر درویش کے خیمے
میں چلے گئے تھے۔ یہ اسی گروہ کے آدمی تھے اور وہ اسی عالقے کے مسلمان تھے۔ سوڈانی حکومت سے انہیں بہت انعام
ملتا تھا۔
میرا خیا ل تھا کہ کپڑا نہیں جلے گا''۔ عمر درویش نے کہا …… ''اس کے نیچے آتش گیر سیا ل کم رکھا گیا اور اوپر ''
پانی زیادہ انڈیل دیا گیا تھا''۔
تمہیں ابھی یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ یہ تیل پانی پر ڈال دیا جائے تو بھی تیل جل اُٹھتا ہے''۔ اس آدمی نے کہا ''
جس نے کپڑے پر مشکیزے سے پانی چھڑکا تھا ۔ ''ہم پہلے آزما چکے تھے ''۔
لوگوں پر اس کا اثر کیا ہوا ہے؟'' عمر درویش نے پوچھا۔''
ہم کچھ دور تک ان کے ساتھ گئے تھے''۔ ایک نے جواب دیا …… ''وہ پانی کو آگ لگانے کو تمہارا معجزہ سمجھتے ''
ہیں۔ کوئی یقین نہیں کرتا کہ دنیا کا کوئی انسان پانی کو آگ لگا سکتا ہے۔ تم نے جس انداز سے باتیں کی ہیں وہ ان کے
……'' !دلوں میں اتر گئیں ہیں۔ خدا کی قسم
نہ دوست!'' عمر درویش نے اسے ٹوک دیا اور سنجیدہ لہجے میں بوال …… ''خدا کی قسم نہ کھائو۔ ہم اس حق سے ''
محروم ہو گئے ہیں کہ اس سچے خدا کی قسم کھائیں جس کے احکام کی ہم خالف ورزی کر رہے ہیں ''۔
معلوم ہوتا ہے ابھی تمہارے دل میں سچا خدا موجود ہے''۔ ایک آدمی نے کہا …… ''عمر درویش ! تم اپنا خدا اور اپنا''
ایمان فروخت کر آئے ہو''۔
دوسرے آدمی نے پاس بیٹھی ہوئی راشی کے ران پر ہاتھ پھیر کر کہا …… ''اور قیمت دیکھ کیسی ملی ہے۔ یہ صلیب کے
بادشاہوں کا ہیرا ہے جو سوڈان کے حاکموں نے تمہیں دیا ہے''۔
عمر درویش نے آشی کی طرف دیکھا تو آشی نے اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے آنکھیں سکیڑیں۔ اس کے ماتھے پر
شکن بھی پیدا ہوئے۔ عمر درویش اس اشارے کو سمجھ گیا اور ہنس کر بوال …… ''مجھے یاد نہیں رہا تھا۔ میں اتنی زیادہ
قیمت کے قابل نہیں تھا …… جانے دو ان باتوں کو ۔ آنے والی رات کی باتیں کرو''۔
سب انتظام تیار ہے''۔ ایک آدمی نے کہا …… ''تم نے ہمارا کمال دیکھ لیا ہے۔ دیکھا ہم کس طرح پیچھے کو گرے ''
تھے؟ اورتم اس کی بھی تعریف کرو کہ ہم نے کسی اور کو بولنے نہیں دیا''۔
رات کو تم طور کا جلوہ دکھائو گے''۔ ایک اور آدمی نے کہا …… ''یا د کرلو کہ تمہیں کیا کرنا ہے۔ ہمارے آدمی تیار ''
ہیں''۔
ہمیں چلے جانا چاہیے''۔ تیسرے آدمی نے کہا …… ''اب خیمے سے باہر نہ نکلنا''۔''
وہ تینوں چلے گئے۔
٭ ٭ ٭
سورج غروب ہوتے ہی لوگ آنا شروع ہوگئے ۔ دن کے وقت جو لوگ عمر درویش کی باتیں سن گئے اور پانی کو آگ لگانے
کامعجزہ دیکھ گئے تھے انہوں نے جہاں تک وہ پہنچ سکے ''خدا کے ایلچی '' کی تشہیر کر دی تھی کہ آج رات کو عمر
موسی علیہ السالم کو دکھایا تھا۔ سوڈان کے جاسوس بھی وہاں
درویش کو ِہ طور کا وہی جلوہ دکھائے گا جو خدا نے حضرت
ٰ
موجود تھے۔ انہوں نے افواہیں پھیالنے کا کام جانفشانی سے کیا۔ اس کے نتیجے میں شام کے بعد عمر درویش کے خیمے کے
سامنے لوگوں کا ہجوم دن کی نسبت زیادہ تھا۔ خیمے کے عقب میں اور دائیں بائیں کسی کو کھڑا ہونے کی اجازت نہ تھی ۔
عمر درویش ابھی خیمے میں تھا۔ باہر دو مشعلیں جل رہی تھیں جن کے ڈنڈے زمین میں گھڑے ہوئے تھے۔ لوگ ''خدا کے
ایلچی '' کو دیکھنے کے لیے بے چین ہو رہے تھے ۔ خیمے کے پردے کو جنبش ہوئی۔ آشی سامنے آئی۔ اس کا لباس سیاہ
تھا۔ یہ ایک فراک سا تھا جو کندھوں سے پائوں تک تھا ۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:38
قسط نمبر96
طور کا جلوہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جو کندھوں سے پائوں تک تھا ۔ اس پر ابرق کے ذرے چپکے ہوئے تھے جو مشعلوں کی روشنی میں ستاروں کی طرح ٹمٹماتے
اور چمکتے تھے۔ آشی کے سر پر ریشم کا باریک رومال تھا۔ اس کے بال اسی ریشم جیسے تھے جو شانوں پر اس انداز سے
پڑے ہوئے تھے کو عریاں شانوں کی سپیدی ان میں ستاروں کی طرح نظر آتی تھی ۔ وہ خوبصورت تو تھی ہی اس کا بنائو
سنگھار اور سج دھج ایسی تھی جس میں طلسماتی سا تاثر تھا اور جو حیوانی جذبے کو اکساتی تھی ۔
پہاڑیوں اور جنگلوں میں رہنے والے ان لوگوں کے لیے یہ لڑکی ،اس کی چال اور اس کا لباس عجوبے سے کم نہ تھا ۔ ان
کی نظریں گرفتار ہوگئیں اور ان پر سحر طاری ہوگیا۔ آشی کے ایک ہاتھ میں گز ڈیڑھ لمبے اور اس سے آدھے چوڑے قالین کا
ایک ٹکڑا تھا جو اس نے دونوں مشعلوں کے درمیان بچھادیا۔ اس نے دونوں بازو پھیالئے اور آسمان کی طرف دیکھا۔ خیمے کا
پردہ ہٹا اور عمر درویش مستانہ چال چلتا قالین پر کھڑا ہوگیا۔ اس نے بھی آشی کی طرح بازو دائیں بائیں پھیالئے ،آسمان
کی طرف دیکھا اور کچھ بڑبڑانے لگا۔
اے خدا کی برگزیدہ ہستی جس کا احترام ہم سب پر فرض ہے ،ہم تیرے حضور حاضر ہوئے ہیں''۔ یہ ان تین آدمیوں ''
سے ایک تھا جن کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ اس نے کہا …… ''تیری دن کی باتیں ہمارے دلوں میں اتر گئی ہیں مگر ایک شک
ہے۔ ہمیں طور کا جلوہ دکھا جس کا تونے وعدہ کیا تھا ''۔
مصر فرعونوں کاملک ہے''۔ عمر دوریش نے بلند آواز سے کہا …… '' فرعون مر گئے مگر خدا نے مصر کی بادشاہی ''
جس کو بھی دی وہ فرعون بنا۔ یہ مصر کی زمین کی ،مصر کے پانی کی اور مصر کی ہوا کی تاثیر ہے ۔ جو کلمہ رسول
موسی علیہ واسالم نے فرعونوں کی 'خدائی' کا للکارا اور نیل
صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے وہ بھی فرعون بنے۔ حضرت
ٰ
کے پانی کو کاٹ کر دکھادیا۔ اب مصر ایک بار پھر فرعونوں کے قبضے میں آگیا ہے۔وہاں شراب کی نہریں بہتی ہیں اور پردہ
نشین کنواریوں کی عصمتوں سے کھیال جاتا ہے۔ خدائے ذوالجالل نے ہمارے اس خطے کو یہ سعادت بخشی ہے کہ مصر کو
فرعونوں سے آزاد کرائو۔ خداوند عالم نے تمہیں کو ِہ طور کا جلوہ بخشا ہے۔
عمر درویش نے بازو پھیالئے اور آسمان کی طرف دیکھکر جوشیلی آوازمیں کہا …… ''اپنے بھٹکے ہوئے بندوں کو اپنا وہی نور
موسی علیہ السالم کو دکھایا تھا''۔
دکھا جو تو نے
ٰ
اس نے لپک کر ایک مشعل زمین سے اکھاڑی ۔ رات تاریک ہو چکی تھی ۔ پہاڑ چٹانیں اور درخت اندھیرے کی سیاہی میں
روپوش ہوگئے۔ روشنی صرف ان دو مشعلوں کے شعلوں کی تھی جس میں عمر درویش اور آشی نظر آرہے تھے۔ عمر درویش
نے مشعل اوپر کی اور ایک سمت اشارہ کرکے کہا …… '' ادھردیکھو۔ ادھر ایک پہاڑی ہے۔ تم اس پہاڑی کو نہیں دیکھ
سکتے۔ اس کا جلوہ دیکھو ''۔
اس نے مشعل اور زیادہ اوپر کرکے دائیں بائیں لہرائی۔ اس کے ساتھ ہی سامنے پہاڑی سے ایک شعلہ اُٹھا اور ذرا سی دیر
میں کم ہوتے ہوئے ختم ہوگیا۔ لوگوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ حیرت زدگی نے ان کی زبانیں گنگ کردیں۔
اگر تم خدا کے اس جلوے کو بھی اپنے دلوں میں نہ اتارا تو یہ شعلہ جو تم نے دیکھا ہے تمہارے اس سرسبز عالقے کو ''
ریگزار بنادے گا''۔ عمردوریش نے کہا …… ''میں اسے روک نہیں سکوں گا۔ اسے تم نے دعوت دی ہے''۔
عمر درویش اپنے خیمے میں چال گیا۔ آشی نے لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ چلے جائیں۔ لوگ وہاں سے جانے لگے تو ایک
دوسرے کے ساتھ بات کرتے ہوئے بھی گھبراتے تھے۔ ان کے دلوں میں کوئی شک نہیں رہا تھا۔ وہ جب خیمے سے دور نکل
گئے تو ایک آدمی جو ان کے ساتھ تھا ،دوڑ کر آگے ہوا اور سب کی طرف منہ کرکے ُرک گیا۔ سب نے دیکھا ۔ وہ ایک
گائوں کی مسجد کا پیش امام تھا۔
ذرا رک جائو''۔ امام نے بازو پھیال کرکہا۔ سب رک گئے تو اس نے کہا …… ''اپنے ایمان کو قابو میں رکھو ،مسلمانو! ''
یہ جادو گری ہے۔ جو تم دیکھ آئے ہو یہ شعبدہ بازی ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ کوئی پیغمبر آیا ہے ،نہ
آئے گا۔ خدا ایسے گناہگاروں کو جلوے اور نور نہیں دکھایا کرتا جو اپنے ساتھ بے حیا لڑکیاں لیے پھرتے ہیں ''۔
یہ لڑکی نہیں جن ہے''۔ ایک آدمی نے کہا ۔ ''
جنات انسانوں کے روپ میں نہیں آسکتے ''۔ امام نے کہا …… ''جنات کسی انسان کے غالم نہیں ہوسکتے۔ مسلمانو! ''
دعوی نہیں
اپنے عقیدے کی حفاظت کرو۔ سلطان صالح الدین ایوبی فرعون نہیں ،وہ خدا کا سچا بندہ ہے۔ اس نے پیغمبر کا
ٰ
کیا۔ وہ تمہارے مذہب کا پاسبان اور صلیب کا دشمن ہے''۔
''محترم امام !'' ایک آدمی نے کہا …… '' کیا آپ پانی کو آگ لگا سکتے ہیں؟''
اس کی نہ سنو''۔ ایک اور نے کہا …… ''یہ اپنی امامت قائم رکھنا چاہتاہے''۔''
ہم نے جو دیکھاہے وہ آپ دکھا دیں''۔ ایک اور نے کہا …… ''پھر ہم آپ کی اطاعت قبول کر لیں گے''۔ ''
میرے ساتھ اس پہاڑی پرچلو جہاں سے شعلہ اُٹھا تھا' '۔ امام نے کہا …… '' میں تمہیں دکھا دوں گا کہ یہ کیا ''
شعبدہ ہے۔ اگر میں غلط ہوں تو مجھے اسی جگہ قتل کر دینا جہاں شعلہ بھڑکا تھا''۔
ہم خدا کے کاموں میں دخل دینے کی جرأت نہیں کریں گے '' ۔ ایک آدمی نے کہا ۔ ''
دو تین آدمی بیک وقت بول پڑے۔ وہ بھی امام کے خالف بول رہے تھے۔ انہوں نے لوگوں کو ایسا اشتعال دالیا کہ سب چل
پڑے اور امام کو دھکے دیتے آگے چلے گئے۔ امام اکیال کھڑا رہا ۔
٭ ٭ ٭
کچھ دیر وہاں کھڑے رہ کر امام اس پہاڑی کی طرف چل پڑا ،جس پر شعلہ اُٹھا تھا۔ وہ بہت ہی تیز چال جارہا تھا۔ ایک
پتھریلے ویرانے سے گزر کر چٹا ن کے دامن میں پہنچاتو دو آدمی اس سے کچھ پیچھے چلے جارہے تھے۔ امام چٹان کے
ساتھ ساتھ چال جا رہا تھا۔ پیچھے جانے والے دونوں اور تیز ہوگئے۔ ان کے قدموں کی آہٹیں سن کر امام رک گیا۔ وہ دونوں
اس کے قریب جا رکے۔ ان کے چہرے کپڑوں میں چھپے ہوئے تھے۔ امام نے ان سے پوچھا کہ وہ کون ہیں۔ انہوں نے کوئی
جواب نہ دیا۔ ان میں سے ایک امام کے پیچھے چال گیا۔ امام اس کی طرف مڑا تو دوسرے نے امام کی گردن کے گرد اپنا
بازو لپیٹ لیا ۔ امام نے کمر بند سے خنجر نکاال مگر اس کا خنجر واال ہاتھ ایک آدمی کے ہاتھ کے شکنجے میں آگیا۔ اس
کی گردن دوسرے آدمی کے بازو کے شکنجے میں تھی جو انتا تنگ اور سخت ہوگیا تھا کہ اس کا سانس رک رہا تھا۔
اس نے آزاد ہونے کی آخری کوشش کی ۔ وہ پوری طاقت سے اچھال۔دونوں پائوں جوڑ کر سامنے والے کے پیٹ میں مارے۔
اسے پیچھے اسے ایک آدمی نے جکڑ رکھا تھا۔ سامنے واال امام کی التوں سے پیچھے کو گرا اور اس کے پیچھے واال دھکہ
برداشت نہیں کرسکا۔ وہ بھی پیچھے کو گرا اور امام کی گردن پر اس کے بازو کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ امام نے ایک اور
جھٹکا دیا اور آزاد ہوگیا۔ وہ اب ایک خونریز لڑائی کے لیے تیار ہوکر اُٹھا لیکن وہ دونوں آدمی بھاگ گئے ۔ ان کے بھاگنے
کی وجہ صرف یہ ہو سکتی تھی کہ وہ دونوں اسی عالقے کے مسلمان تھے۔ انہیں پہنچانے جانے کا خطرہ تھا۔ امام نے انہیں
پکارا ،للکارا لیکن وہ غائب ہوگئے تھے۔ امام نے آگے جانا مناسب نہ سمجھا اور وہیں سے واپس چالگیا۔
عمر دوریش کے خیمے میں وہی تین آدمی بیٹھے تھے جو دن کے وقت بھی اس کے پاس آئے تھے۔ انہوں نے عمردرویش کو
بتایا کہ لوگ وہی تاثر لے کر گئے ہیں جو ان پر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ انہوں نے اسے یہ بھی بتایا کہ کل
رات اسے آگے ایک اور گائوں کے قریب جانا ہے اور '' طور کا جلوہ'' ایک اور پہاڑی پر دکھانا ہے ،تینوں چلے گئے۔
آشی عمردرویش کے ساتھ اکیلی رہ گئی۔
کیا تم اپنی کامیابی پر خوش ہو؟''۔ آشی نے پوچھا۔''
آشی !'' عمردرویش نے آہ لے کر کہا ……''میں تمہیں اس قسم کے سوالوں کا جواب دینے سے ڈرتا ہوں''۔''
کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں صلیبیوں اور سوڈانیوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنی رہوں؟'' آشی نے کہا …… '' تم نے میر ''
ے اندر ایمان بیدار کیا ہے اور اب تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتے''۔
میں اعتبار تمہارے عمل پر کروں گا''۔ عمر درویش نے کہا …… ''تمہارے الفاظ پر نہیں ''۔''
مجھے بتائو میں کیاکروں''۔ آشی نے کہا …… ''جو کہو گے کروں گی''۔''
ابھی یہی کرتی رہو جو کر رہی ہو''۔ عمر دوریش نے کہا ۔ '' وقت آنے پر تمہیں بتائوں گا کہ کیا کرنا ہے''۔''
ہو سکتا ہے تمہیں یہ بتانے کا وقت ہی نہ ملے کہ مجھے کیا کرنا ہے''۔ آشی نے کہا …… '' تم نے دیکھ لیا ہے کہ ''
تمہارے اردگرد جاسوسوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ جہاں تم نے ذرا سی مشکوک حرکت کی یہ جاسوس تمہیں غائب یا قتل
کردیں گے اور مجھے اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ اگر تم مجھے پہلے ہی بتا دو کہ تمہارا ارادہ کیاہے تو میں تمہیں بروقت
خبردار کرسکوں گی ۔ مجھے تو وہ بہرحال اپنے گروہ کا فرد سمجھتے ہیں۔
آشی کے انداز میں کچھ ایسی سادگی اور خلوص تھا۔ جس سے عمر ردویش قائل ہوگیا کہ یہ لڑکی اسے دھوکہ نہیں دے گی۔
اس نے کہا …… ''تمہارے کماالت دیکھتا ہوں تو ڈرتا ہوں کہ تم مجھے دھوکہ دوگی''۔
کماالت میں تو تم بھی کم نہیں ہو''۔ آشی نے کہا …… ''اسی لیے تو میں محسوس کر رہی ہوں کہ تم نے اپنی قوم ''
کو دھوکہ دینے کا پختہ ارادہ کرلیا ہے''۔
میں تمہیں اپنا ارادہ بتا دیتا ہوں''۔ عمردرویش نے کہا …… ''اور یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ تم نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا ''
اور مجھے فریب دیا تو تم زندہ نہیں رہو گی ۔ میں قتل ہوجانے سے نہیں ڈرتا اور قتل کرنے سے بھی نہیں ڈروں گا۔ میں
نے راستے میں تمہیں بتا دیا تھا کہ میں کسی اور مقصد کے لیے جا رہا ہوں۔ مجھے اُمید تھی کہ یہاں اپنے عالقے میں آکر
اپنے خفیہ مقصد میں آسانی سے کامیاب ہوجائوں گامگر یہاں آکر دیکھا ہے کہ سوڈانیوں نے مجھے جاسوسوں کے گھیرے میں
لے رکھا ہے ،مجھے دوسرا غم یہ ہو رہا ہے کہ میں نے اپنی قوم کی پیٹھ میں خنجر اتار دیا ہے۔ میں اپنے اصل مقصد کی
خاطر اپنے آپ کو پوشیدہ رکھ رہا ہوں مگر میری کارستانی جسے تم میرا کمال کہتی ہو میری قوم کے مذہبی عقیدے کو زہر
کی طرح مار رہی ہے۔ میں نے اگر یہ جاری رکھا تو یہ مسلمان سوڈانیوں کی غالمی کی زنجیروں میں بندھ جائیں گے اور
ان کا قومی وقار ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا''۔
تم کیا کرنا چاہتے ہو؟'' آشی نے پوچھا۔''
میں اسحاق کے گائوں تک پہنچنا چاہتا ہوں''۔ عمر درویش نے کہا…… '' تم اسحاق کو جانتی ہونا۔ وہی کماندار جو ''
جنگی قیدی کے حیثیت سے قید خانے میں پڑا ہے۔ اسے اپنے رنگ میں رنگنے کے لیے تمہیں بھی ایک رات اس کے پاس
بھیجا گیا تھا''۔
اس شخص کو تو میں ساری عمر نہیں بھول سکوں گی''۔ آشی نے کہا ۔ '' اس کی بھی اتنی ہی مرید ہوں جتنی ''
تمہاری ہوں''۔
میں اس کے گھر تک پہنچنا چاہتا ہوں''۔عمر درویش نے کہا …… ''پھر میں اپنے گائوں جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ میں ''
یہ سوچ کر آیا تھا کہ یہاں آکر غائب ہوجائوں گا اور یہاں کے لوگوں کو بتائوں گا کہ وہ سوڈانیوں کے ہتھکنڈوں سے بچیں''۔
معلوم ہوتاہے تم نے کوئی باقاعدہ منصوبہ نہیں بنایا تھا''۔ آشی نے کہا …… ''ہمیں جس کا م کے لیے بھیجا جاتا ہے ۔''
اس کا ہمیں بڑا واضح منصوبہ دیا جاتا ہے''۔
میں قید خانے میں ظالمانہ اذیتیں سہہ سہہ کر نکال ہوں''۔ عمر درویش نے کہا …… ''اتنی ہی عقل رہ گئی تھی کہ قید''
خانے سے نکلنے کا یہ طریقہ سوچ لیا تھا۔ یہاں آکر حاالت ایسے ہوگئے ہیں کہ اپنے مقصد کی کامیابی نا ممکن نظر آتی
ہے''۔
اب مجھے سوچنے دو''۔ آشی نے کہا …… ''اگر ہم خدا کی راہ میں ثابت قدم رہے تو تم اپنے مقصد میں کامیاب ''
ہوجائو گے۔ کل ہم آگے جا رہے ہیں ۔ کوئی صورت نکل آئے گی''۔
ضرورت یہ ہے کہ ہمیں یہاں کے کسی عقل مند آدمی کے ساتھ مالقات کا موقع مل جائے ''۔ ''
اسی عالقے میں عمر درویش کے خیمے سے دواڑھائی میل دور مصری تاجروں کا ایک قافلہ آیا۔ چا ر آدمی اور چھ اونٹ تھے۔
قافلے کا سردار لمبی داڑھی واال ایک بزرگ سیرت انسان تھا جس نے ایک آنکھ پر سبز رنگ کے کپڑے کا ٹکڑا لٹکا رکھا تھا
جیسے اس کی یہ آنکھ خراب ہو۔ یہ قافلہ دو راتیں پہلے سوڈانی کی سرحد میں داخل ہوا تھا۔ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ
سلطان ایوبی نے مصر سے سوڈان میں اناج سمگل کرنے کی درپردہ اجازت دے رکھی تھی ۔ دوسری اجناس بھی سمگل کی
جاتی تھیں۔ سوڈان میں ان اشیاء کی قلت تھی۔ مصر کے یہ اسمگلر دراصل سلطان ایوبی کی انٹیلی جنس کے آدمی تھے ۔
انہیں مصر کے سرحدی دستے نہیں روکتے تھے اور سوڈان کی سرحد کے پہرہ دار بھی انہیں نظر انداز کر دیتے تھے۔
یہ قافلہ بھی بال روک ٹوک سرحد پار کرکے سوڈان میں داخل ہوگیا تھا۔ لیکن رات کی تاریکی کی وجہ سے سوڈان کے
سرحدی پہرہ دار یہ نہ دیکھ سکے کہ چار تاجروں اور چھ اونٹوں کا یہ قافلہ سوڈان کے کسی شہر کی طرف جانے کی بجائے
اس پہاڑی عالقے کی سمت چال گیا ہے جہاں مسلمان آباد تھے۔ ادھر تاجروں کے کسی قافلے کو جانے کی اجازت نہیں تھی
کیونکہ سوڈان کی حکومت مسلمانوں کو اناج اور دیگر اجناس سے اور تجارت سے محروم رکھنا چاہتی تھی۔ یہ قافلہ رات بھر
چلتا رہا۔ صبح ہو ئی تو اونٹوں کو ٹیلوں کے عالقے میں چھپا دیا گیا ۔ سرحد دور پیچھے رہ گئی تھی۔ ان لوگوں نے سارا
دن وہیں چھپ کر گزارا۔
رات تاریک ہوئی تو یہ قافلہ پھر چل پڑا اور آدھی رات کے وقت پہاڑی عالقے میں داخل ہوگیا۔ یہی قافلے کی منزل تھی۔
سحر کے وقت قافلہ ایک گائوں میں داخل ہوا۔ میر کارواں ایک مکان کے سامنے رکا اور دروازے پر دستک دی۔ کچھ دیر بعد
دروازہ کھال۔ ایک آدمی ہاتھ میں دیا لیے باہر آیا۔ میر کارواں نے اس کے کان میں کچھ کہا ۔ دروازہ کھولنے والے نے کہا ……
''خوش آمدید …… تم سب فورا ً اندر چلو۔ اونٹوں کو ہم سنبھال لیں گے''۔
چاروں تاجر اندر چلے گئے۔ میزبان نے اپنے گھر والوں کو اور پڑوس کے دوتین آدمیوں کو جگایا۔ سب نے اونٹوں کو مختلف
گھروں کے اونٹوں میں بانٹ کر باندھ دیا۔ سامان اتار کر میزبان کے گھر میں رکھ دیا گیا۔ میرکارواں نے کہا کہ سامان فورا ً
کھولو اور غائب کردو۔ سب نے سامان کھوال تو اس میں اناج کی بجائے تیروں کا ذخیرہ تھا۔ کمانیں ،تلواریں اور خنجر تھے
اور تین چار بوریوں میں آتش گیر مادے سے بھری ہوئی ہانڈیاں تھیں۔ یہ سامان غائب کر دیا گیا۔
کیا میں اپنے آپ میں آجائوں ؟'' میرکارواں نے پوچھا …… ''تنگ آگیا ہوں'۔''
کوئی خطرہ نہیں''۔ میزبان نے کہا …… ''سب لوگ اپنے ہیں''۔''
میر کارواں نے لمبی داڑی اتار دی اور آنکھ سے سبز کپڑا بھی اتار دیا۔ یہ داڑھی نقلی تھی ۔ اس کی اصلی داڑھی چھوٹی
تھی اور سلیقے سے تراشی ہوئی۔ سامان ادھر ادھر چھپا کر جب آدمی مہمانوں کے پا س آئے تو ایک آدمی میرکارواں کو
''دیکھ کر ٹھٹھک گیا ۔ میرکارواں مسکرایا اور پوچھا …… ''پہچانا نہیں تھا مجھے؟
اوہ میرے دوست علی بن سفیان!'' اس آدمی نے کہا …… '' خدا کی قسم میں نے نہیں پہچانا تھا''۔ اس نے آہ بھر ''
کر کہا …… '' ہماری خوش نصیبی ہے کہ آپ خود آگئے ہیں ۔ یہاں کے حاالت ٹھیک نہیں ''۔
مجھے اطالع مل گئی تھی کہ سوڈان کے قید خانے کے ایک سپاہی نے دو سوڈانی فوج کے دو کمانداروں کو قتل کردیا ''
ہے ''۔ علی بن سفیان نے کہا …… '' اور مجھے یہ بھی پتا چال ہے کہ سوڈانی ہمارے جنگی قیدیوں کو ہمارے خالف
استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ''۔
لمبی داڑی اور آنکھ پر سبز پٹی اور تاجروں کے چغے کے روپ میں سلطان صالح الدین ایوبی کا ماہر جاسوس اور سراغرساں
علی بن سفیان تھا جو یہاں کے حاالت کا جائزہ لینے آیا تھا۔ اسے جاسوسوں نے قاہرہ جا کر جو خبریں دی تھیں۔ وہ ان
کی روشنی میں باتیں کررہا تھا اور وہ جس گھر میں بیٹھا تھا ،وہ اس کے بھیجے ہوئے جاسوسوں کا مرکز تھا۔ اس کا
میزبان سوڈانی باشندہ تھا۔ یہ سب لوگ سلطان ایوبی کے پرستار تھے۔ ان لوگوں نے علی بن سفیان کو ایک نئی بات بتائی۔
افواہ پھیل رہی ہے کہ خدا کا کوئی ایلچی آیا ہے جو پانی کو آگ لگاتا ہے''…… میزبان نے علی بن سفیان کو بتایا۔ ''
'' اور وہ لوگوں کو اس قسم کی باتیں کہتا ہے کہ خدا نے مجھے یہ پیغام دے کر مردوں سے اُٹھایا ہے کہ مسلمانوں سے
کہو کہ سوڈان کے وفادار ہوجائیں کیونکہ یہ زمین تمہاری ماں ہے ''…… اس نے عمر درویش کے متعلق ساری باتیں سنادیں
لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ عمر درویش رات کو طور کا جلوہ دکھا کر لوگوں کے دلوں میں بے حد خطرناک شکوک پیدا
کرچکا ہے۔
مجھے یہی ڈر تھا کہ دشمن عقیدوں پر حملہ کرے گا''…… علی بن سفیان نے کہا …… '' اسی لیے میں خود آیا ہوں۔ ''
صلیبی تخریب کاری کے ماہر ہیں اور ہماری قوم جذباتی ہے۔ صلیبی الفاظ کا بڑا ہی دلفریب جاال تن دیتے ہیں۔ ہمارے بھائی
کھچے ہوئے اس کے حسین تاروں میں ا ُلجھ جاتے ہیں۔ مجھے فوری طور پر اس فتنے کے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات
ملنی چاہئیں۔ میرا خیال ہے کہ عمر درویش کو میں جانتا ہوں۔ ہماری فوج کے ایک دستے کا کماندار تھا''۔
اس عالقے میں مصری جاسوس چھاپہ مار بھی تھے۔ علی بن سفیان نے میزبان سے کہا کہ وہ چند ایک آدمیوں کو بالنے کا
انتظام کرے تا کہ اس تخریب کاری پر جوابی حملہ کیا جاسکے۔
٭ ٭ ٭
سورج طلوع ہورہا تھا۔ جاسوسوں کو بالنے کے لیے آدمی دوڑادئیے گئے۔ وہ گئے ہی تھے کہ ایک گھوڑا سرپٹ دوڑتا آرہا تھا
اس مکان کے سامنے آرکا۔ سوار اُتر کر اندر آیا تو سب احترام کے لیے اُٹھے۔ یہ امام تھا اور یہ وہی امام تھا جس نے عمر
درویش کے خالف آواز ا ُٹھائی تھی ۔ لوگ اسے دھکے دیتے چلے گئے تھے ،پھر رات کو اس پر دو نا معلوم آدمیوں نے
قاتالنہ حملہ کیا تھا۔ امام وہیں سے واپس آگیا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ مسلمانوں نے اس گائوں اور اس گھر کو جاسوسی اور
دیگر سرگرمیوں کا خفیہ مرکز بنارکھا ہے۔ امام اپنے گھر گیا اور گھوڑے پر سوار ہو کر اس گائوں کو روانہ ہوگیا۔ یہ امام اس
پر یقین رکھتا تھا کہ عمر درویش شعبدہ باز ہے۔ وہ اس گائوں میں رپورٹ دینے اور شعبدہ بازی کے خالف کاروائی کرنے کے
لیے مدد لینے آیا تھا ،آگے علی بن سفیان بیٹھا تھا۔
امام علی بن سفیان سے واقف نہیں تھا۔ تعارف کرایا گیا تو امام نے تفصیل سے سنایا کہ عمر درویش نے کیا شعبدہ دکھایا
ہے اور مسلمان تماشائیوں نے اس کا کس طرح اثر قبول کیا ہے۔
اگر ہم نے یہ سلسلہ نہ روکا تو مسلمان اپنے عقیدوں سے منحرف ہوجائیں گے '' …… امام نے کہا …… '' یہ شخص ''
جو اپنا نام عمر درویش بتاتا ہے آج رات اگلے گائوں کو جا رہا ہے اوریہی شعبدہ دکھائے گا''۔
انہوں نے تھوڑی دیر اسے مسئلے پر غور کیا۔ ایک طریقہ یہ سوچا گیا کہ عمر درویش کو قتل کردیا جائے۔ علی بن سفیان
نے اتفاق نہ کیا۔ اس نے اس قسم کا اظہار کیا کہ اسے یقین ہے کہ عمر درویش کو قتل کیے بغیر راہ راست پر الیا جاسکے
گا اور اسی کی زبان سے کہلوالیا جائے گا کہ اس نے جو معجزے دکھائے ہیں وہ شعبدہ بازی تھی۔ قتل کے خالف دالئل
دیتے ہوئے اس نے کہا کہ اس طرح لوگ اسے اور زیادہ برحق ماننے لگیں گے۔
علی بن سفیان کے ساتھ تاجروں کے بھیس میں جو تین آدمی آئے تھے وہ مصری فوجی کے غیر معمولی طور پر ذہین ،اپنے
فن کے ماہر اور تجربہ کار لڑاکا جاسوس تھے۔ علی بن سفیان انہیں تاجروں کے بھیس میں ساتھ الیا تھا۔ خود لمبی داڑھی اور
ایک آنکھ پر سبز پٹی کا بہروپ چڑھایا۔ گھوڑے منگوائے ۔ چند اور آدمیوں سے کہا کہ وہ گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار ہو کر
اس کے پیچھے پیچھے آئیں۔ اس نے سب کو ہدایات دیں اور امام کے ساتھ اس سمت روانہ ہوگیا جہاں عمر درویش کو خیمہ
زن ہونا تھا۔
عمر درویش صبح طلوع ہوتے ہی اگلے مقام کے لیے روانہ ہوگیا تھا۔ اس کے ساتھی اس عالقے کے لوگوں کے لباس میں ''
اس کی حفاظت کے لیے جا رہے تھے۔ اس کی تشہیر دور دور تک ہوگئی تھی …… وہ ایک اور گائوں سے کچھ دور ُرک گیا
اور خیمہ گاڑ دیا۔ تھوڑی سی دیر میں وہ اور آشی تیار ہوگئے تھے۔ خیمے کے سامنے دو مشعلیں جال کر گاڑ دی گئیں۔ اس
کے ساتھیوں نے گائوں والوں کو جا بتایا کہ انہوں نے خدا کے جس ایلچی کے معجزے سنے ہیں وہ ان کے گائوں کے باہر
خیمہ زن ہے۔ لوگ دوڑے گئے۔ جن لوگوں نے ایک روز پہلے عمر درویش کو دیکھا تھا ۔ وہ بھی دور کافاصلہ طے کرکے آگئے
تھے۔
عمر درویش دونوں مشعلوں کے درمیان چھوڑے قالین پر بیٹھ گیا۔ آشی اپنے اسی بھڑکیلے لباس اور طلسماتی بنائو سنگھار سے
آراستہ تھی۔ عمر درویش کے سامنے کپڑا الٹا پڑا تھا۔ اس نے وہی ادا کاری شروع کر دی جو وہ پہلے کر چکا تھا۔ ایک آدمی
نے وہی سوال پوچھا جو پہلے پوچھا گیا تھا۔ عمر درویش نے وہی باتیں اسی اندازسے دہراکر کہا کہاکسی کے پاس پانی ہو تو
اس کپڑے پر ڈاال جائے۔ علی بن سفیان اپنی پارٹی کے ساتھ پہنچ چکا تھااور اس نے عمر درویش کو پہچان لیا تھا۔ اسے
اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ شخص مصری فوج کے ایک دستے کا کماندار ہے۔
علی بن سفیان کو بتا دیا گیا تھا کہ عمر درویش پانی کو آگ لگاتا ہے۔ علی بن سفیان کو ایک شک تھا۔ یہ تسلیم نہیں کیا
کیا سکتا تھاکہ پانی کو آگ لگ سکتی ہے۔ اس کے دماغ میں جو شک پیدا ہوا تھا ،اس کے مطابق وہ چھوٹے سے
مشکیزے میں پانی اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ جو ں ہی عمر درویش نے کہا کہ کسی کے پاس پانی ہو تواسے کپڑے پر ڈالے تو
ایک آدمی تیزی سے آگے بڑھا۔ اس کے پاس مشکیزہ تھا۔ اس نے کچھ پانی کپڑے پر انڈیل دیا۔
علی بن سفیان آگے بڑھا اور مشعل زمین سے اکھاڑ کر لوگوں سے کہا …… '' تم میں سے کوئی آدمی آگے آئے''۔ ایک
آدمی جو علی بن سفیان کے ساتھ آیا تھا آگے گیا۔ علی بن سفیان نے مشعل اس کے ہاتھ میں دے کر کہا …… '' اس
کپڑے پر شعلہ رکھو'' …… وہ آدمی ہچکچایا ۔ علی بن سفیان نے لوگوں سے کہا …… '' تم میں سے کوئی بھی آدمی اس
پانی کو آ گ لگا سکتا ہے''۔
اس آدمی نے مشعل کا شعلہ کپڑے کے قریب کیا تو کپڑے سے شعلہ بھڑک کراُٹھا ۔ایک آدمی جو عمر درویش کا ساتھی
تھا ۔ بوال …… '' تم کوئی شعبدہ بازہو۔ پیچھے ہٹو ،ورنہ تم پر خدا کی اس برگزیدہ شخصیت کا قہر نازل ہوگا ''۔
عمر درویش خاموشی سے اور حیرت سے علی بن سفیان کو دیکھ رہا تھا۔ علی بن سفیان نے اپنا کمر بند کھول کر
عمردرویش کے آگے رکھ دیا اور اس پر پانی انڈیل کر کہا …… ''اگر تم خدا کے ایلچی ہو تواس کپڑے کو آگ لگائو '' ……
اس نے مشعل عمر درویش کے آگے کر دی مگر عمر درویش اس کے منہ کی طرف دیکھتا رہا۔
لوگوں نے آپس میں کھسر پھسر شروع کردی۔ علی بن سفیان کے ساتھ آئے ہوئے آدمیوں نے عمر درویش کے خالف بولنا شروع
کر دیا۔ امام کی آواز سب سے زیادہ بلند تھی ۔ عمر درویش کے آدمیوں نے اس کی حمایت میں بولنا شروع کر دیا ۔ دونوں
طرف سے بولنے والے جاسوس تھے۔ یہ بھی جنگ تھی ۔ حق اور باطل معرکہ آراء تھے۔ علی بن سفیان نے لوگوں کو ادھر
اُلجھا ہوا دیکھا تو عمر درویش کے سامنے بیٹھ گیا۔
''!عمر درویش!'' …… اس نے دھیمی آواز میں کہا …… ''ایمان کی کتنی قیمت ملی ہے''
تم کو ن ہو؟''…… عمر درویش نے پوچھا۔''
بہت دور سے آیا ہوں'' …… علی بن سفیان نے کہا …… '' تمہاری شہرت سرحد پار سنی تھی اور تمہیں دیکھنے آیا ''
''ہوں''۔ عمر درویش نے بے چینی سے ادھر ادھر دیکھا اور پوچھا …… '' میں تم پر کس طرح اعتبار کرلوں؟
میری داڑھی پر ہاتھ پھیرو''…… علی بن سفیان نے کہا …… '' مصنوعی ہے۔ ایمان کی جو قیمت وصول کی ہے اس سے''
دوگنی دوں گا۔ یہ شعبدہ بازی ختم کرو۔ میں تمہیں ساتھ لے جائوں گا''۔
میں قاتلوں کے گھیرے میں ہوں'' …… عمر درویش نے کہا ۔ ''
میری نہیں مانو گے تو بھی قتل ہوجائو گے'' …… علی بن سفیان نے کہا …… '' تم جانتے ہو کہ یہاں ہمارے بہت ''
''سے آدمی موجود ہیں …… تمہارے ساتھ کتنے آدمی ہیں؟
''مجھے معلوم نہیں '' …… عمر درویش نے کہا اور پوچھا …… '' تمہارا نام کیا ہے؟''
بتا نہیں سکتا'' …… علی بن سفیان نے کہا …… '' میں جو پوچھتا ہوں وہ بتائو…… طور کا جلوہ کیا ہے؟ صا ف صاف ''
بتادو۔ تمہاری حفاظت کے ذمہ داری لیتا ہوں''۔
جب ا ُٹھو گے تو اپنے دائیں طرف دیکھنا '' …… عمر درویش نے کہا …… '' اونچی پہاڑی کے آگے ایک اونچی چٹان ''
ہے۔ ایک بہت بڑا درخت ہے۔ شام سے ذرا بعد وہاں اپنے آدمی چھپا دینا۔ جس طرح پانی کو آگ لگنے کا بھید جان گئے ہو
،طور کا جلوہ بھی جان جائو گے۔ مجھے موقعہ دو کہ یہ تماشا دکھائوں۔ تم وہاں سے شعلہ نہ اُٹھنے دینا۔ میرے فرار کا
اورمیری حفاظت کافرض تم پورا کرو گے۔ بس میری شعبدہ بازی یہی ہوگی کہ یہاں سے نکل بھاگوں۔ مجھے اسحاق کو قید
خانے سے آزاد کرانا ہے…… ا ُٹھو اور اعالن کرو کہ رات کو طور کا جلوہ دکھائوں گا ''۔
علی بن سفیان کی جگہ کوئی اور آدمی ہوتا تووہ عمر درویش کی یہ ادھوری سی بات نہ سمجھ سکتا۔ علی بن سفیان اسی
میدان کا کھالڑی تھا۔ وہ اشارے سمجھ لیتا تھا۔ اس نے اُٹھ کر اعالن کیا …… '' خدا کا یہ برگزیدہ انسان رات کو طور
کاجلوہ دکھائے گا۔ میں نے اس کی بات سمجھ لی ہے۔ تم سب چلے جائو۔ شام کے بعد آنا ''۔
عمر درویش کے آدمی اس کے پاس جا بیٹھے اور پوچھا کہ اس آدمی کے ساتھ کیا باتیں ہوئی ہیں۔ عمر درویش نے جوا ب
دیا …… '' میں نے اسے قائل کر لیا ہے ''۔
لیکن یہ ہے کون ؟'' …… ایک آدمی نے کہا …… '' اسے ضرور پتا چل گیا ہے کہ کپڑے میں آتش گیر سیال ہے جو ''
جل اُٹھتا ہے''۔
تم کیوں فکر کرتے ہو؟''…… عمر درویش نے مسکرا کر کہا …… '' میں آج رات اس کے شکوک رفع کردوں گا ''۔ ''
اگر یہ رات کو آیا تو اسے ہم قتل کردیں گے'' …… دوسرے آدمی نے کہا ۔ ''
ابھی نہیں ''…… عمر درویش نے کہا …… '' کہیں ایسا نہ ہو کہ بنا بنایا کھیل بگڑ جائے۔ اگر یہ رات کو میرے پاس ''
آیا تو میں اسے خیمے میں بٹھالوں گا۔ تم اسے باندھ کر اُٹھا لے جانا''۔
ہم اس کا پیچھا کرتے ہیں'' …… تیسرے آدمی نے کہا …… '' اسے نظر میں رکھنا ضروری ہے''۔''
دو آدمی ا ُٹھے اور ان لوگوں سے جا ملے جو واپس جارہے تھے۔ ان دونوں نے علی بن سفیان کو ڈھونڈا مگر وہ ان میں نہیں
تھا۔ لوگوں سے پوچھا تو کوئی بھی نہ بتا سکا کہ وہ آدمی کہاں ہے جس کی داڑھی لمبی اور ایک آنکھ پر سبز پٹی بندھی
تھی ۔
علی بن سفیان گھوڑے پر سوار ہو کر دور نکل گیا تھا۔
٭ ٭ ٭
عمر درویش خیمے میں آشی کے ساتھ اکیال رہ گیا تو آشی نے اس سے پوچھا…… '' یہ آدمی کون تھا؟ اس نے تمہارے
ساتھ اس طرح باتیں کی تھیں جیسے وہ تم سے اور تمہارے بہروپ سے واقف ہے''۔
سنو آشی !'' …… عمر درویش نے کہا …… '' آج رات کچھ ہونے واال ہے۔ میں بتا نہیں سکتا کہ کیا ہوگا۔ اس آدمی ''
کو میں پہچان نہیں سکا۔ اس نے بتایا بھی نہیں کہ وہ کون ہے لیکن یہ کوئی معمولی آدمی نہیں ۔ مجھے اُمیدنہیں کہ آج
رات ہم فرار ہو سکیں اور یہ توقع بھی ہے کہ میں قتل ہوجائوں گا آج رات تمہیں ثابت کرنا ہوگا کہ تمہاری رگوں میں
مسلمان باپ کا خون ہے ۔ اگر تم نے دھوکہ دینے کی کوشش کی تو تم میرے ہاتھوں قتل ہوگی ''۔
اگر تم مجھے کچھ اور بھی بتا دو کہ کیا ہوگا اورمجھے کیا کرنا ہے تو شاید میں زیادہ اچھے طریقے سے تمہاری مدد ''
کرسکوں گی ''۔ آشی نے کہا …… '' میں تمہاری خاطر قتل ہونے کے لیے تیار ہوں لیکن اس سے تمہارا مقصد پورا نہ ہوا
تو میری جان رائیگاں جائے گی''۔
تمہیں یہ کرناہے '' …… عمر درویش نے کہا …… '' کہ اپنے آدمیوں کی باتوں میں نہ آنا۔ کوشش کرنا کہ ان کا ارادہ ''
قبل از وقت معلوم کرلو اور مجھے خبردار کردو۔ میں بتا نہیں سکتا کہ آج رات کیا ہوگا تم تیار رہنا''۔
تم کئی بار کہہ چکے ہوکہ تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں ''…… آشی نے کہا …… '' لیکن میں نے تمہیں ایک بار بھی نہیں''
''کہا کہ مجھے تم پر اعتبار نہیں ۔ اگر تم یہاں سے آزاد ہو گئے تو کیا تم مجھے بھی اپنے ساتھ لے جائو گے؟
''تم واپس جانا پسند نہیں کروگی؟''
نہیں''…… آشی نے زنجیدہ مگر پرعزم لہجے میں کہا …… '' مرجانا پسند کروں گی ''۔''
تم شہزادی ہو آشی!'' …… عمر درویش نے کہا ۔ '' میں نے یہ تو سوچا ہی نہیں تھا کہ تم میرے ساتھ چلو گی تو ''
تمہارا مستقبل کیا ہوگا۔ تم ان جنگلوں میں رہنا یقینا پسند نہیں کرو گی ۔ میں تمہیں قاہرہ لے جائوں گا ۔ وہاں تمہارے
متعلق سوچنے کے لیے بڑے اچھے دماغ موجود ہیں ''۔
''مجھے تم اپنے ساتھ نہیں رکھو گے ؟'' …… آشی نے پوچھا … … '' مجھے اپنی بیوی نہیں بنائو گے؟ ''
اگر یہ شرط ہے تو میں اسے قبول نہیں کرو گا ''…… عمر درویش نے کہا …… '' لوگ کہیں گے کہ میں نے اپنا فرض ''
تمہیں حاصل کرنے کے لیے ادا کیا ہے۔ میرا گھر جہاں میری ایک بیوی موجود ہے ،تمہارے قابل نہیں ۔ آشی ! میں سپاہی
ہوں ۔ میرا گھر میدان جنگ ہے۔ مجھے اپنی بیوی کی صورت دیکھے تین سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے۔ تم اگر اس لیے
میری بیوی بننا چاہتی ہو کہ میں تمہاری پسند کامرد ہوں تو تم کو مایوس ہوگی۔ تمہاری محبت اور تمہاری دعائیں اس تیر کو
نہیں روک سکیں گی جسے میرے سینے سے پار ہونا ہے …… تم مجھے اپنی خواہش بتادو ''۔
میں ذلت اورخواری کی اس زندگی سے آزاد ہونا چاہتی ہوں '' …… آشی نے کہا …… '' مجھے تمہاری مدد اور سہارے ''
کی ضرورت ہے۔ بعد میں جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ میں تمہارے راستے میں نہیں آئوں گی''۔
اگر زندہ رہا تو تمہیں پوری مدد اور سہارا دوں گا''۔''
آخر وہ گیا کہاں؟'' …… یہ آواز ان جاسوسوں میں سے ایک کی تھی جو عمر درویش کے ساتھ لگے ہوئے تھے۔ وہ اس ''
وقت عمر درویش کے خیمے سے کہیں دور کھڑے علی بن سفیان کے متعلق سوچ رہے تھے۔ اس نے کہا …… '' یہ بھی ہو
سکتا ہے کہ عمر درویش اس کے دل کو اپنے قبضے میں لینے کی بجائے اپنا دل اس کے قبضے میں دے چکا ہو۔ ہمیں اب
بہت ہی محتاط ہونا پڑے گا۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ عمر درویش پر بھروسہ نہ کرنا''۔
وہ لمبی داڑھی واال آدمی آگ کا بھید جان گیا ہے'' …… دوسرے نے کہا …… '' اب یہ دیکھنا ہے کہ عمر درویش نے ''
اس بھید پر پردہ ڈاال ہے یا اس آدمی پر ''۔
آشی کس مرض کی دواہے؟'' …… تیسرے نے کہا …… '' کیا وہ عمر درویش کے دل کا حال معلوم نہیں کر سکتی ؟ یہ ''
تو ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ لڑکی بھی عمر درویش کی سازش میں شریک ہو گئی ہو''۔
اگر کوئی سازش ہے اور آشی اس میں شریک ہے تو اس کے متعلق حکم صاف ہے کہ قتل کردو ''۔ ایک نے کہا ۔ ''
کیا تم اتنی قیمتی چیز کو یوں ضائع کردو گے؟''…… دوسرے نے کہا …… '' اسے اڑا لے جائیں گے اور کسی دولت والے''
کو منہ مانگے داموں یہ ہیرا دے دیں گے۔ وہاں یہ بتائیں گے کہ آشی کو قتل کرکے دفن کر دیا ہے ''۔
تینوں نے ایک دوسرے کو ایسی نظروں سے دیکھا جیسے ان میں اتفاق رائے ہوگیا ۔ ایک نے کہا …… '' آج رات ہمیں 'طور
کا جلوہ ' دکھانا ہے۔ دیکھ لیں گے کہ عمر درویش یا اس کی نیت کیا ہے۔ رات کو ہم میں سے ایک کو آشی کے ساتھ
رہنا ہوگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ لڑکی ہاتھ سے نکل جائے''۔
انہوں نے طے کر لیا کہ رات عمر درویش اور آشی کے ساتھ کون ہوگا۔''چار آدمی کافی ہوں گے ''…… علی بن سفیان نے
کہا …… '' میں عمر درویش کے ساتھ ہوں گا۔ تم سب نے ان تین چار آدمیوں کو پہچان لیا ہے جو عمردرویش کی حمایت
میں بول رہے تھے۔ یہ تمہارے عالقے کے وہ مسلمان ہیں جو سوڈانیوں کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ عمر درویش نے مجھے
انہی کے متعلق بتایا ہے کہ وہ قاتلوں کے گھیرے میں ہے۔ انہیں نظر میں رکھنا۔ ضرورت پڑے تو ختم کردینا لیکن زندہ پکڑنا
بہترہوگا''۔
اس وقت علی بن سفیان ایک مسجد میں بیٹھا تھا۔ امام اسی مسجد کا تھا۔ علی بن سفیان نے اپنا بہروپ اتار دیا تھا۔ اس
نے مسجد میں ہی رات کے لیے اپنے آدمیوں کو مختلف کام بانٹ دئیے اور کہا …… '' مجھے جوشک تھا وہ صحیح ثابت
ہوا ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ رات کو بھی مجھے کامیابی ہوگی ''۔
سورج غروب ہونے سے ذرا پہلے اس پہاڑی پر جو عمر درویش نے علی بن سفیان کو دکھائی تھی۔ ایک آدمی چڑھ رہاتھا۔ وہ
اس احتیاط کے ساتھ چڑھ رہا تھا کہ کوئی دیکھ نہ لے۔ دوسری طرف سے دو آدمی اسی کی طرح جھکے جھکے اوپر جا رہے
تھے اور ایک آدمی کسی اور طرف سے اوپر جا رہا تھا ۔ یہ آدمی جب اوپر چال گیا تو رینگ کر ایک بہت بڑے درخت تک
پہنچا۔ ادھر ادھر دیکھا اور درخت پر چڑھنے لگا۔ دو آدمی ایک بہت بڑے پتھرکے عقب میں بیٹھ گئے۔ یہ جگہ درخت سے
دور نہیں تھی ۔ چوتھا آدمی بھی اوپر چال گیا اور ایک موزوں جگہ چھپ گیا۔ جو آدمی درخت پر چڑھا تھا ۔وہ اوپر ایک
موٹے ٹہن پر اس طرح بیٹھ گیا کہ ٹانگیں اوپر کرکے سکیڑ لیں ۔ شاخیں اور پتے اتنے گھنے تھے کہ یہ آدمی نیچے سے نظر
نہیں آسکتا تھا۔ وہ آہستہ سے ایک پرندے کی طرح بوال ۔ اسے پرندے کی آواز میں تین ساتھیوں کا جواب مال۔
سورج پہاڑ کے عقب میں اتر گیاتھا اور تین آدمی اکھٹے پہاڑی چڑھتے جا رہے تھے۔ ان کے پاس آگ جالنے کا سامان اور
مٹی کے برتن میں آتش گیر مادہ تھا۔ اس کے پاس لمبے خنجر بھی تھے۔ شام کا دھندلکا گہرا ہوتا جا رہا تھا ۔ ان تین
آدمیوں کاانداز ایسا تھا جیسے انہیں کسی بھی طرف سے کوئی خطرہ نہیں۔ وہ باتیں کرتے جارہے تھے ۔ ان کی باتیں ان چار
آدمیوں کو سنائی دینے لگیں جو پہلے سے وہاں چھپے بیٹھے تھے۔ وہ پوری طرح چھپ گئے ۔ وہاں سے دور نیچے عمر
درویش کا خیمہ تھا جو شام کے اندھیرے میں نظر نہیں آتا تھا۔ خیمے کے باہر گاڑھی ہوئی دو مشعلوں کے شعلے دکھائی دے
رہے تھے ۔
خدا کا ایلچی تیار ہوگیا ہے''۔ ان تین آدمیوں میں سے ایک نے ہنس کر کہا جو بعد میں آئے اوپر آئے تھے …… '' ''
سامان کھول کر تیار کرلو'' …… ''آج میرا دل کسی اور طریقے سے دھڑک رہا ہے '' … … دوسرے نے کہا …… '' اس
''کے اندر کوئی وہم بیٹھ گیا ہے ۔ کیا تم محسوس نہیں کر رہے کہ آج کچھ گڑبڑ ہے؟
میں بھی کچھ گڑبڑ اس آدمی کی وجہ سے محسوس کررہاہوں جس نے ایک آنکھ پر سبز پٹی باندھ رکھی تھی '' …… ''
ان میں سے ایک نے کہا …… '' گھبرائو نہیں ۔ ہم طور کا جلوہ دکھا کر سب کے وہم دور کر دیں گے ۔ اگر لوگ مان گئے
تو اس ایک آدمی کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا۔ تم اپنا کام کرو۔ وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔ اندھیرا گہرا ہو رہاہے''۔
ایک آدمی نے مٹی کا برتن کا منہ کھولکر تیل کی طرح سیال زمین پر انڈیل دیا ۔ جگہ چونکہ پتھریلی تھی اس لیے یہ مادہ
جذب نہ ہوسکا۔ اس سے ذرا دور ہٹ کر ایک آدمی نے چھوٹا سا دیا جال کر بڑے پتھروں کے درمیان رکھ دیا تا کہ دور سے
اس کی لو نظر نہ آسکے۔ اس کی روشنی میں تینوں آدمی نظر آرہے تھے۔
اب ادھر مشعل پر نظر رکھو''۔ ایک نے کہا …… '' جوں ہی مشعل اوپر نیچے حرکت کرے دیا تیل پر پھینک دو۔ ''
لوگوں کو طور کا جلوہ نظر آجائے گا''۔
یہ اہتمام اس بڑے درخت کے نیچے کیا گیا تھا جس پر ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ نیچے تینوں آدمی اکٹھے کھڑے ہوگئے۔ اس
نے جھینگر کی آواز پیدا کی۔ ایک بہت بڑے پتھر کے پیچھے سے بھی جھینگر کی آواز سنائی دی ۔ تینوں آدمی بے پرواہ
ہوکے کھڑے رہے۔ اچانک اوپر سے ایک آدمی ان تینوں میں سے ایک آدمی کے کندھوں پر گرا۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:39
قسط نمبر 97
طور کا جلوہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آدمی کے کندھوں پر گرا۔ نیچے واال آدمی اوپر والے کے نیچے آگیا۔ دوسرے دو بری طرح گھبراگئے
اور ادھر ادھر ہوئے۔ ذرا سی دیر میں تین آدمی مختلف اوٹوں سے اُٹھے اور ان دونوں پر جھپٹ پڑے۔ انہیں خنجر نکالنے کی
مہلت نہ ملی۔ ان میں سے جو آدمی اوپر والے کے نیچے پڑا تھا وہ قوی ہیکل تھا ۔ اس نے اوپر والے کو لڑھکا دیا ۔ علی
بن سفیان نے کہا تھا کہ انہیں زندہ پکڑنا ہے مگر اس آدمی کوہالک کرنا ضروری ہوگیا ۔ جو آدمی اس کے اوپر گرا تھا اس
نے خنجر نکاال اور اس قوی ہیکل آدمی کے دل میں اتار دیا۔ دوسرے دو آدمیوں کوان رسیوں سے باندھ دیا گیا جو اسی مقصد
کے لیے ساتھ لے جائی گئی تھی۔
٭ ٭ ٭
عمر درویش کے خیمے کے باہر لوگ جمع ہوگئے تھے۔ ان میں علی بن سفیان بھی تھا اور اس کے ساتھ مصری فوج کے
چھاپہ مار بھی خاصی تعداد میں موجود تھے جو اس عالقے میں مختلف بہروپوں میں رہتے تھے۔ انہیں دن کے دوران اکٹھا کر
لیا گیا اور بتا دیا گیا تھا کہ ان کا مشن کیا ہے۔ ان میں چند ایک گھوڑوں پر سوار تھے۔ ان کے پاس ہتھیار بھی تھے ……
لوگوں میں عمر درویش پر نظر رکھنے والے اور اس کی مدد کرنے والے سوڈانی جاسوس بھی تھے۔ ان کی تعداد پانچ چھ سے
زیادہ نہیں تھی ۔ علی بن سفیان نے انہیں پہچان رکھا تھا۔ وہ بھی مرنے مارنے کے لیے تیار ہو کر آئے تھے لیکن انہیں یہ
اندازہ نہیں تھا کہ ان کے مد مقابل کتنے آدمی ہیں۔
آشی اپنے مخصوص طلسماتی لباس اورحلیے میں باہر نکلی۔ اس نے اداکاری کی ۔ دونوں مشعلوں کے درمیان چھوٹا سا قالین
بچھایا ۔ عمر درویش خیمے سے نکال اور مستانہ چال چلتا قالین پر آن کھڑا ہوا۔ دونوں بازو پھیال کر آسمان کی طرف کیے
اور منہ اوپر کرکے کچھ بڑبڑانے لگا۔ آشی نے اس کے آگے سجدہ کیا پھر اس کے سامنے دوزانو بیٹھ گئی۔
اے خدا کے مقدس ایلچی ! جس کا احترام ہم سب پر فرض ہے'' …… آشی نے کہا …… '' انسانوں کا یہ گروہ طور ''
موسی علیہ السالم کو دکھایا تھا اور جنات بھی جن سے میں ہوں طور کا
کا وہ جلوہ دیکھنے آیا ہے جو خدائے ذوالجالل نے
ٰ
جلوہ دیکھنے آئے ہوئے ہیں ''۔
کیا ان سب کو شک ہے کہ میں خدا کا جو پیغام الیا ہوں وہ برحق نہیں ؟'' …… عمر درویش نے پوچھا۔ ''
اگر گستاخی معاف ہو تو مجھے بخش دینا اے خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبر !'' ایک آدمی نے کہا …… '' طور کا جلوہ ''
دکھا کر ہم گناہ گاروں کے دلوں سے سارے شکوک نکال دیں گے''۔
علی بن سفیان نے اس آدمی کو دیکھا ۔ اسے وہ پہچانتا تھا۔ وہ عمر درویش کے ساتھ کا آدمی تھا۔
ہاں مقدس ہستی ! ''…… علی بن سفیان نے آگے آکر کہا …… '' ہم شک میں ہیں ۔ ہمیں طور کا جلوہ دکھا اور اگر ''
یہ لڑکی جنات میں سے ہے تو اسے کہہ کہ تھوڑی سی دیرکے لیے غائب ہو جائے ،پھر سارے شک ختم ہوجائیں گے''۔
عمر درویش نے درخت والی پہاڑی کی طرف اشارہ کرکے کہا …… '' ادھر دیکھو۔ اندھیرے میں تمہیں کچھ بھی نظر نہیں آرہا
'' …… اس نے زمین سے ایک مشعل اکھاڑی اور بلند کی ۔ اس نے اونچی آواز میں کہا …… '' خدائے ذوالجالل ! تیرے
موسی علیہ السالم کو دکھایا
سادہ اور جاہل بندے شکوک کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں ۔ انہیں وہی جلوہ دکھا جو تو نے
ٰ
تھا اور جس سے فرعونوں کے نشیمن کو جالیا تھا ''۔
اس نے مشعل دائیں بائیں لہرائی پھر اوپر کرکے نیچے کی مگر پہاڑی پرکوئی شعلہ نمودار نہ ہوا۔ عمر درویش نے ایک بار
پھر مشعل کو اوپر سے نیچے کو لہرایا مگر پہاڑی پر چھوٹا سا شرارہ بھی نہ چمکا۔ پہاڑی پر عمر درویش کا ایک آدمی مرا
پڑا تھا اور دو رسیوں سے بندھے ہوئے تھے۔ وہ علی بن سفیان کے چار آدمیوں کے قبضے میں تھے۔ انہیں وہاں سے عمر
درویش کی مشعل کی حرکت نظر آرہی تھی ۔ کسی نے کہا …… '' آج کسی کو طور کا جلوہ نظر نہیں آئے گا '' ……
سب نے قہقہہ لگایا۔
آج طور کا جلوہ نظرنہیں آئے گا '' …… علی بن سفیان نے بلند آواز سے کہا ۔ وہ عمر درویش سے مخاطب ہوا۔ ''
عمر درویش !اگر تو آج پہاڑی سے شعلہ اُٹھا دے تو میں خدا کی بجائے تیری عبادت کروں گا ''۔ ''
ایک آدمی نے خنجر نکاال اور علی بن سفیان کی پیٹھ کر طرف سے آگے گیا۔ وہ دوچار قدم آگے گیا ہوگا کہ پیچھے سے
ایک بازو اس کی گردن کے گرد لپٹ گیا ۔ کوئی بھی نہ دیکھ سکا کہ ایک آدمی خیمے کے عقب سے خیمے کے اندر چال
گیا ہے۔ اس نے خیمے میں سے آشی کو پکارا۔ آشی اندر آگئی۔
فورا ً نکلو ''…… اس آدمی نے آشی سے کہا …… '' ہمارا راز فاش ہو چکا ہے۔ یہ آدمی جس نے کہا ہے کہ آج طور کا''
جلوہ نظر نہیں آئے گا یہاں کا آدمی معلوم نہیں ہوتا ۔ یہ مصر سے آیا ہے۔ ہمارا ایک ساتھی پکڑا گیا ہے۔ یہاں کے مسلمان
جنگلی اور وحشی ہیں ۔ ہوسکتا ہے یہ عمر درویش کو قتل کردیں۔ ہم تو نکل جائیں گے ،تم ان کے ہاتھ آگئی تو تمہارے
ساتھ وحشیوں جیسا سلوک کریں گے ''۔
میں نہیں جائوں گی ''…… آشی نے مسکرا کر کہا …… ''مجھے ان وحشیوں اور جنگلیوں سے کوئی خطرہ نہیں''۔ ''
''کیا تم پاگل ہو گئی ہو ؟ ''
میں پاگل تھی ''…… آشی نے کہا …… ''اب دماغ درست ہوگیاہے۔ اب وہاں جائوں گی جہاں عمردرویش کہے گا ''۔''
باہر علی بن سفیان اور امام لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ وہ انہیں وہاں لے جائیں گے جہاں سے طور کا جلوہ نظر آنا تھا ۔
وہاں انہیں دکھایا جائے گا کہ انہوں نے ایک رات پہلے جو جلوہ دیکھا تھا اس کی حقیقت کیاتھی ۔ علی بن سفیان کے
چھاپہ ماروں نے لوگوں میں سے تین آدمیوں کو اس طرح پکڑ لیا تھا کہ کسی کو پتا نہ چل سکا۔ ان کے پہلوئوں کے ساتھ
خنجروں کی نوکیں لگا کر انہیں الگ اندھیرے میں لے گئے اور ان پر قابو پا لیا گیاتھا ۔ عمر درویش ابھی وہیں کھڑا تھا۔
٭ ٭ ٭
خیمے کے اندر ایک سوڈانی جاسوس آشی کو بچانے کے لیے اسے ساتھ لے جانا چاہتا تھا ،مگر آشی سے انکار کر رہی
تھی ۔ وہ آدمی حیران تھا کہ لڑکی انکار کیوں کر رہی ہے۔ وہ بار بار یہی کہتا تھا کہ مسلمان جنگلی اور وحشی ہیں ۔ آشی
نے کہا …… '' تم بھی مسلمان ہو ،میں بھی مسلمان ہوں۔ میں اب اپنی قوم کو چھوڑ کر نہیں جائوں گی ''۔
باہر غل غپاڑہ بڑھتا جا رہا تھا۔ اس آدمی نے لمبا خنجر نکال لیااور آشی کو قتل کی دھمکی دے کر ساتھ چلنے کو کہا ……
آشی نے تلوارایسی جگہ رکھی ہوئی تھی ۔ جہاں سے فورا ً نکالی جا سکتی تھی۔ عمر درویش نے اسے کہہ رکھا تھا کہ ہتھیار
ہر لمحہ تیار رہنے چاہئیں۔ آشی نے لپک کر تلوار کھینچ لی اور کہا …… ''ہم دونوں میں سے کوئی بھی باہر نہیں جائے
گا''۔
ایک مرد کے لیے یہ بہت بڑا چیلنج تھا کہ اسے ایک عورت للکارے ۔ وہ جان گیا کہ یہ معاملہ گڑبڑ ہے اور اتنی قیمتی
لڑکی ہاتھ سے جارہی ہے۔ اس کو قتل کردیا یا اڑا لے جانا ضروری ہوگیا تھا۔ اسے توقع نہیں تھی کہ آشی تیغ زنی کی
سوجھ بوجھ رکھتی ہے یا نہیں۔ وہ خنجر سے اس پر حملہ آور ہوا۔ آشی نے اس کے خنجر پر تلوار ماری۔ خنجر اس کے
ہاتھ سے چھوٹ گیا لیکن خیمے سے ٹکرا کر اس کے قریب گرا۔ اس نے خنجر اُٹھا لیا۔ آشی نے اس پر تلوار کا وار کیا۔ وہ
تجربہ کار تیغ زن تھا ۔ وار بچا گیا۔ آشی نے کہا …… '' میرا استاد بھی وہی ہے جس نے تمہیں تیغ زنی سکھائی ہے''۔
اس نے آشی کا ایک اور وار اس طرح روکا کہ ایک طرف ہو ا اور آشی کے سنبھلنے تک اس کے اوپر آگیا۔ اس نے آشی
کی کالئی پکڑ لی اور بوال …… '' میں تمہیں قتل نہیں کروں گا آشی ! ہوش میں آئو '' …… آشی نے اس کی ناک پر
ٹکر ماری ۔ وہ پیچھے ہٹا تو وار اس کے خنجر پر کرکے خنجر پھر گرا دیا ۔ وہ وار بچانے کے لیے پیچھے ہٹا تو خیمے نے
اسے روک لیا۔ اب تلوار کی نوک اس کی شہہ رگ پر تھی۔ آشی نے کہا …… ''میں مسلمان باپ کی بیٹی ہوں''…… اس
نے نوک اس آدمی کی شہہ رگ میں دبائی اور بولی …… ''بیٹھ جائو۔ ہاتھ پیچھے کرلو۔ میری طاقت میرا ایمان ہے ۔ میں
اب کھلونہ نہیں ''۔
باہر اب یہ عالم تھا کہ ایک مشعل علی بن سفیان نے ا ُٹھالی تھی اور دوسری امام نے ۔ چار پانچ چھاپہ ماروں نے عمر
درویش کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا۔ اسے انہوں نے مجرموں کی حیثیت سے حراست میں نہیں لیا تھا بلکہ حفاظت کے
لیے اسے اپنی پناہ میں لے لیا تھا۔ خطرہ یہ تھا کہ جو سوڈانی جاسوس اس کے ساتھ لگے ہوئے تھے ۔ وہ اسے قتل
کرسکتے تھے لیکن معلوم ہوتا تھا کہ ان میں سے اب کوئی بھی آزاد نہیں تھا۔ یہ ہدایت علی بن سفیان نے دی تھی کہ
جوں ہی ہنگامہ شروع ہو ،عمر درویش کو پناہ میں لے لیا جائے۔
عمر درویش نے ایک چھاپہ مار سے کہا …… '' خیمے میں لڑکی ہے ،اسے بھی ساتھ لے چلنا ہے۔ وہ مسلمان ہے''۔
خیمے میں گئے تووہاں کچھ اور ہی منظر تھا۔ آشی نے تلوار کی نوک پر ایک آدمی کو بٹھا رکھا تھا ۔ اس آدمی کو پکڑ لیا
گیا۔ عمردرویش سے علی بن سفیان نے کہا …… '' مجھے یقین ہے کہ میرے آدمی اس پہاڑی پر پہنچ گئے ہیں ،اسی لیے
وہاں سے شعلہ نہیں ا ُٹھا ۔ بہتر یہ ہے کہ لوگوں کو ابھی وہاں لے جاکر دکھایا جائے کہ شعلہ کیسے پیدا کیا جاتا ہے تا کہ
جو اس شعبدہ بازی کے جھانسے میں آگئے ہیں ،ان کے ذہن صاف ہوجائیں ''۔
ایک مسئلہ اور ہے جس کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے '' …… عمر درویش نے کہا …… '' اسحاق کو قید خانے ''
سے رہا کرانا ہے ۔ اس عالقے میں سوڈانیوں کے بہت سے جاسوس ہیں ۔ ان میں سے کوئی نہ کوئی یہاں کے حاالت کی
اچانک اور غیر متوقعہ تبدیلی دیکھ کر حکومت اور فوج کو اطالع دے دے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اسحاق کو قید خانے
کے تہہ خانے میں ڈال کر اسے اذیت رسانی سے مار دیا جائے گا۔ میں سوڈانی ساالر کو یہ دھوکہ دے کر آیا تھا کہ میں
یہاں کے مسلمانوں کے ذہن بدل دوں گا ۔ میں نے قید خانے میں اسحاق کے ساتھ بات کر لی تھی اور اسے بتا دیا تھا کہ
میں سوڈانیوں کی بات مان لیتا ہوں اور اپنے عالقے میں جا کر چند دن ان کی مرضی کے مطابق کام کروں گا۔ میرا ارادہ تھا
کہ یہاں آکر لوگوں کو درپردہ بتادوں گا کہ میرا اصل مقصد کیاہے۔ میرا ارادہ یہ بھی تھا کہ قاہرہ بھی اطالع بھیجوادوں گا اور
…… اسحاق کو فرار کرانے کی بھی کوئی صورت پیدا کروں گا
یہاں آیا تو مجھے پتا چال کہ بہت سے سوڈانی جاسوس جو اسی عالقے کے مسلمان ہیں ،میرے ارد گرد پھر رہے ہیں ''
اور میں آزاد نہیں ہوں۔ اتفاق سے یہ لڑکی مسلمان نکلی ……اس نے آشی کے ماضی کے متعلق سب کو تفصیل سنائی اور کہا
…… مجھے ا ُمید نہیں تھی کہ میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائوں گا۔ میں بہت پریشان ہوں۔ ہمارے مسلمان بھائی اس قدر
سادہ اور جذباتی ہیں کہ میری باتوں اور شعبدہ بازیوں کے قائل ہوتے گئے۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا
کروں۔ میں ہر لمحہ سوڈانی جاسوسوں کی نظر میں رہتا تھا۔ خدا نے میری نیت کی قدر کی اور آپ کو بھیج دیا ''۔
اس نے علی بن سفیان کو بتایا کہ اس نے کیا سوچا ہے۔ علی بن سفیان نے اس کی سکیم پر غور کیا ۔ کچھ ردوبدل کی
اور اسے کہا وہ دو چھاپہ ماروں اور آشی کے ساتھ اسی وقت روانہ ہوجائے اور اسحاق کو رہاکرائے ۔ علی بن سفیان نے اسے
بتایا کہ وہ لوگوں کو اس پہاڑی پر لے جائے گا اور انہیں بتائے گا کہ طور کے جلوے کی حقیقت کیا تھی ۔
عمر درویش ،دو چھاپہ مار اور آشی اسی وقت گھوڑوں پر روانہ ہوگئے۔
٭ ٭ ٭
وہ خیمے کی پچھلی جانب سے چپکے سے نکل گئے تھے۔ علی بن سفیان خیمے سے باہر نکال۔ لوگ پریشانی اور حیرت کے
عالم میں باہر ٹولیوں میں کھڑے چہ مگوئیاں کر رہے تھے۔ علی بن سفیان نے بلند آواز سے کہا …… '' اگر تم طور کے
جلوے کی حقیقت دیکھنا چاہتے ہو تو ہمارے ساتھ آئو۔ تم سب جانتے ہو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد
پیغمبری اور نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے۔ اس کے بعد خدا نے کسی کو کبھی جلوہ یا معجزہ دکھایا ہے نہ دکھائے گا۔ اس
آدمی کو تمہارے عقیدے خراب کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ تم نے غور نہیں کیا کہ یہ شخص تمہیں صرف یہ بات کہتا رہاہے
کہ سوڈان کی فوج کو تم نے اس عالقے سے ہمیشہ دور رکھا ہے ۔ اب سوڈانیوں نے تمہارے دلوں پر قبضہ کرنے کے لیے یہ
…… حربہ استعمال کیا ہے
غیور مسلمانو ! دشمن جب اس قسم کے اوچھے حربوں پر اتر آتا ہے تو یہ اس حقیقت کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ میدان ''
میں تمہارے مقابلے میں آنے سے ڈرتاہے۔ تم حق پر ہو۔ یہ خطہ تمہارا ہے۔ یہاں اسالم کی حکومت ہوگی۔ کفار تمہارے دلوں
سے قوم اور مذہب کا احساس ختم کرنے کے جتن کر رہے ہیں۔ آج تمہیں طور کے جلوے دکھائے جا رہے ہیں ۔ کل تمہیں
صلیبی لڑکیوں کے جلوے دکھا کر تم میں بے حیائی پیدا کی جائے گی۔ تمہیں انسان سے حیوان بنا یا جائے گا ،پھر تم
محسوس بھی نہیں کرو گے کہ تم عزت ،غیرت اور وقار سے محروم ہوگئے ہو۔ تم کفار کے غالم ہوگے۔ سوڈان کا بادشاہ
مسلمان نہیں ہے۔ وہ کافر ہے۔ اسالم کا دشمن اور صلیبیوں کادوست ہے۔ کیا تم پسند کرو گے کہ تمہاری بیٹیاں کفار کے
بیٹیوں کی طرح مردوں کے ساتھ شراب پیئیں اور بدکاری کریں؟ کیا تم پسند کرو گے کہ مسجدیں ویران ہوجائیں اور قرآن کے
''ورق زمین پر روندے جائیں ؟
رب کعبہ کی قسم !ہم ایسا نہیں چاہتے ''…… ایک آواز آئی …… '' اسے ہمارے سامنے الئو۔ جو اپنے آپ کو خدا کا ''
ایلچی کہتاہے''۔
وہ بے قصور ہے '' …… علی بن سفیا ن نے کہا …… '' وہ تم میں سے ہی ہے۔ وہ اب اصلی روپ میں تمہارے ''
سامنے آئے گا اور تمہیں بتائے گا کہ کفار کس طرح تمہاری جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ ابھی تم میری باتیں سنو ۔ تم
مسلمان ہو۔ خدا نے تمہیں برتری اور فوقیت عطا فرمائی ہے۔ کفار تمہیں خدا کی عطا کی ہوئی عظمت سے بیگانہ کرنا
چاہتے ہیں ''۔
تم کون ہو؟'' …… کسی نے بلند آواز سے کہا …… '' تمہاری باتوں میں دانائی ہے۔ کیا تم ہمیں دکھا سکتے ہو کہ یہ ''
''سب کیا تھا جو ہمیں دکھایا گیا ہے؟
میں تمہیں دکھاتا ہوں'' …… علی بن سفیان نے کہا …… '' خیمے میں سے ایک برتن اُٹھایا جس میں تیل کی قسم کا ''
آتش گیر سیال تھا۔ اس نے یہ تیل ایک کپڑے پر ڈال کر زمین پر رکھ دیا۔ اس پر پانی ڈاال۔ مشعل اُٹھا کر اس کا شعلہ
کپڑے کے قریب کیا تو کپڑا بھڑک کر شعلہ بن گیا۔ اس نے سب کو بتایا کہ جس کپڑے پر پانی ڈال کر عمر درویش آگ لگاتا
تھا وہ بھی اسی تیل سے بھیگاہو تا تھا ۔
اب میں تمہیں وہ آدمی دکھاتا ہوں جو اس کے ساتھی تھے''…… علی بن سفیان نے کہا ۔ اس نے کسی کو آواز دے کر ''
کہا …… ''انہیں سامنے لے آئو''۔
لوگوں کے ہجوم سے کچھ دور اندھیرے میں وہ آدمی پکڑے کھڑے تھے جو عمر درویش کے سوانگ میں شامل تھے۔ انہیں
چھاپہ ماروں نے نرغے میں لے رکھا تھا۔ اچانک شور ا ُٹھا۔ گھوڑا دوڑنے کی آوازیں سنائی دیں۔ کسی نے بلند آواز سے کہا ……
'' ایک بھاگ گیا'' …… ایک جاسوس نکل گیا۔ دوسروں کو سامنے الیا گیا۔ مشعل اوپر کرکے ان کے چہرے سب کو دکھائے
گئے۔
یہ مسلمان ہیں '' …… کئی آوازیں ا ُٹھیں …… ''انہیں سنگسار کردو''…… لوگ ان کی طرف بڑھے۔ مشعلوں کی روشنی ''
میں تلواریں چمکیں …… '' ُرک جائو'' …… علی بن سفیان نے درمیان میں آکر کہا …… '' خدا کا قانون اپنے ہاتھ میں نہ
لو ۔ ان کی سزا تمہارے بزرگ مقرر کریں گے۔ انہیں حراست میں لے لواور میرے ساتھ آئو ''۔
سارے لوگ علی بن سفیان کے پیچھے چل پڑے۔ وہ انہیں اس پہاڑی کی طرف لے جا رہا تھا جہاں اس کے چھاپہ ماروں نے
ایک آدمی کو ہالک کر دیا تھا اور دو کو رسیوں سے باندھ رکھا تھا۔
٭ ٭ ٭
اس وقت عمر درویش ،آشی اور دو چھاپہ مار دور نکل گئے تھے۔ وہ سوڈان کے دارالحکومت کی طرف جارہے تھے۔
دوستو !'' …… عمر درویش نے دوڑتے گھوڑے سے کہا …… '' ہمیں بہت جلدی پہنچنا ہے …… آشی ! اگر تم سواری ''
سے تھک جائو تو میرے پیچھے بیٹھ جانا۔ سفر بڑا ہی لمبا اور وقت بہت ہی تھوڑا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ کوئی جاسوس ہم
سے پہلے نہ پہنچ جائے ''۔
جاسوس بھی دارالحکومت کو روانہ ہوگیا تھا ۔ یہ وہی تھا جو علی بن سفیان کے آدمیوں کی حراست سے بھاگا تھا۔ وہ ایک
وادی میں چال گیا تھا کیونکہ اسے تعاقب کا ڈر تھا۔ وہ وادی سے نکال اور اس نے دارالحکومت کا رخ کرتے بہت دور کا چکر
کاٹا۔ اتنے وقت میں عمر درویش بہت دور نکل گیا تھا۔ جاسوس کو یہ خبر دینی تھی کہ عمر درویش کا راز بے نقاب ہوگیا
ہے۔ اسے عمر درویش پر شک کا اظہار بھی کرنا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ عمر درویش کو ایک بار پھر قید خانے میں
بند ہونا تھا۔ عمردرویش اس سے پہلے پہنچ کر سوڈانی ساالر کو دھوکہ دینا اور اسحاق کو رہا کرانا چاہتا تھا۔ آشی کو اس
سکیم کا علم تھا اور وہ گواہ کی حیثیت سے ساتھ جارہی تھی ۔
لوگ مشعلوں کی روشنی میں پہاڑی پر چڑھتے جارہے تھے۔ علی بن سفیان آگے آگے تھا۔ پہاڑی کی چوٹی پر اس کے آدمیوں
نے دو جاسوسوں کو باندھ رکھا تھا۔ انہیں مشعلیں اوپر آتی نظر آرہی تھیں۔ ایک آدمی نے دیا اوپر کردیا تھا کہ آنے والوں کو
معلوم ہوجائے کہ انہیں کہاں آنا ہے۔
ہمارے ساتھ چلو'' …… رسیوں سے بندھے ہوئے ایک آدمی نے کہا …… '' جو مانگو گے ملے گا ہمیں چھوڑ دو ''۔''
کیا تم ہر مسلمان کو ایمان فروش سمجھتے ہو؟'' …… اسے جواب مال …… ''دنیا کی دولت اور دوزخ کی آگ میں کوئی''
فرق نہیں۔ تم اپنی قوم کو دھوکہ دے رہے ہو''۔
وہ آرہے ہیں'' …… دوسرے قیدی نے کہا …… '' وہ ہمیں سنگسار کردیں گے۔ یہ بڑی اذیت ناک موت ہوگی …… کہو کیا''
لیتے ہو۔ ہم دوسری طرف سے بھاگ چلتے ہیں۔ سونا دیں گے ''۔
جوں جوں مشعلیں اوپر آرہی تھیں ،دونوں قیدیوں کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی ۔ ایک نے کہا …… '' تمہارے پاس تلواریں
ہیں ۔ ان سے ہماری گردنیں کاٹ دو۔ ہمیں ان لوگوں سے بچائو ''۔
اللہ سے گناہوں کی بخشش مانگو''۔''
مشعلیں ان کے سر پر آن رکیں۔ علی بن سفیان نے لوگوں کو دور دور کھڑا کر دیا۔ لوگ دو آدمیوں کو رسیوں میں بندھا دیکھ
کر حیران ہونے لگے۔
یہ ہیں طور کا جلوہ دکھانے والے''…… علی بن سفیان نے لوگوں سے کہا اور زمین پر دیکھا۔ وہاں آتش گیر سیال گرا ہوا''
تھا۔ ذرا پرے برتن پڑا تھا۔ اس نے کہا …… '' اس برتن میں وہی تیل تھا جو میں نے کپڑے پر ڈال کر دکھایا تھا۔ یہ تیل
یہاں گرایا گیا ہے۔ میں نے چار آدمی شام کے وقت یہاں چھپا دئیے تھے۔ عمردرویش کی مشعل کے اشارے پر ان دونوں نے
اس دئیے سے اس تیل کو آگ لگانی تھی اور یہ طور کاجلوہ تھاجو تم لوگ نہ دیکھ سکے کیوں کہ میرے آدمیوں نے انہیں
لگانے سے پہلے ہی پکڑ لیا تھا''۔
یہ تین تھے '' …… ایک آدمی نے کہا ۔ '' تیسرے نے ہمارا مقابلہ کیا ۔ اس کی الش درخت کے ساتھ پڑی ہے ''۔ ''
علی بن سفیان نے مشعل تیل پررکھا تو تیل جل ا ُٹھا۔ شعلہ اوپر تک آیا اور آہستہ آہستہ بجھنے لگا۔ علی بن سفیان نے
کہا …… '' کیا اس کے بعد کسی شک کی گنجائش رہ جاتی ہے کہ خدا سے تمہارا رشتہ توڑ کر تمہیں آتش پرست بنایا
جارہا تھا '' …… اس نے ان دو آدمیوں سے جو رسیوں سے بندھے ہوئے تھے پوچھا …… '' کیا میں جھوٹ کہہ رہا
''ہوں؟
مجھے بخش دو '' …… ایک نے خوفزدہ آواز میں کہا …… ''تم نے جو کہا سچ کہا ہے''۔ ''
''کیا تم اسی عالقے کے مسلمان نہیں ہو؟''
ہاں!'' …… دونوں نے سر ہالئے۔''
''! کیا تمہیں صلیبیوں اور سوڈانی کفار نے اس کام کی تربیت نہیں دی ''
انہوں نے ہی دی ہے ''۔''
''اور تم اپنی قوم کو دھوکہ دینے اور اپنے مذہب کو تباہ کرنے کا انعام نہیں لیتے؟ ''
ہاں!'' …… ایک نے جوا ب دیا …… ''ہم اس کا انعام لیتے ہیں''۔''
ہمیں بخش دو '' …… دوسرے نے کہا …… ''ہم اپنی قوم کے لیے جانیں قربان کردیں گے''۔''
پیچھے سے ایک جوشیلے مسلمان نے اتنی تیزی سے تلوار کے دو وار کیے کہ دونوں کے سر جسموں سے جدا ہو کر گر پڑے۔
اگر میں قاتل ہوں تو مجھے قتل کر دیا جائے'' …… تلوار چالنے والے نے تلوار لوگوں کے آگے پھینک کر کہا ۔ ''
خدا کی قسم ،یہ شخص قاتل نہیں ہے '' …… امام نے کہا ۔ ''
یہ قتل جائز تھا ''……ایک شور ا ُٹھا۔عمردرویش نے سحر کے آغاز میں گھوڑے روکے۔ چھاپہ ماروں اور آشی سے کہا کہ ذرا''
آرام کرلیں۔ گھوڑوں کو بھی آرام دینا ضروری تھا۔ دارالحکومت کی طرف جانے واال جاسوس آدمی رات تک چال اور ایک جگہ
آرام کرنے کے لیے ُر ک گیا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ عمر درویش آگے آگے جا رہا ہے۔ وہ لیٹا اور سو گیا۔ صبح طلوع ہوتے
ہی عمر درویش نے اپنے قافلے کو گھوڑوں پر سوار کیا اور روانہ ہوگیا ۔ وہ فوجی تھا۔ چھاپہ مار بھی سختیاں برداشت کرنے
کے عادی تھے۔ آشی لڑکی تھی جو محالت میں رہنے کی عادی تھی۔ اسے ٹریننگ تو ملی تھی لیکن اس کی زندگی عیش
وعشرت میں گزر رہی تھی۔
آشی !'' …… عمر درویش نے اسے دوڑتے گھوڑے سے کہا …… '' تمہارا چہرہ اُتر گیا ہے۔ تم شب بیداری کی بھی ''
عادی نہیں ۔ میرے گھوڑے پر آجائو ''۔
آشی مسکرائی اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں ۔ عمر درویش نے اسے ایک بار پھر کہاکہ وہ اپنا گھوڑا چھوڑ دے ۔ آشی نے
انکار میں سر ہال دیا۔ گھوڑے دوڑے جا رہے تھے ۔ کچھ دور آگے جا کر ایک چھاپہ مار نے عمر درویش سے کہا …… ''
لڑکی اونگھ رہی ہے گر پڑے گی''۔
عمر درویش نے اپنا گھوڑا آشی کے قریب کیا اور باگیں کھینچ لیں۔ آشی بیدار ہوگئی ۔ عمر درویش نے اسے کہا وہ اس کے
آگے سوار ہوجائے۔
میں سہارا نہیں لینا چاہتی''…… آشی نے کہا …… سہارا دوں گی۔ مجھے اپنا عہد پورا کرنا ہے۔ مجھے اپنے ماں باپ کے''
قتل کا اور اپنی عصمت کا انتقام لینا ہے۔ میں جاگنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
گھوڑے چلے۔بہت آگے جا کر آشی نیند پر قابو نہ پا سکی ۔عمر درویش اس کے قریب تھا ۔ اگر وہ دیکھ نہ لیتا تو آشی گر
پڑتی۔ اس نے گھوڑے روک کر آشی سے کوئی بات کئے بغیر اسے کمر سے پکڑا اور اپنے گھوڑے پر اپنے آگے بٹھا لیا۔ ایک
چھاپہ مار نے آشی کے گھوڑے کی باگیں اپنی زین کے ساتھ باندھ لیں اور گھوڑے دوڑ پڑے۔ آشی نے سر عمردرویش کے سینے
پر پھینک دیا اور گہری نیند سو گئی۔ اس کے کھلے بال عمر درویش کے چہرے پر پڑنے لگے۔ ایسے مالئم اور ریشمی بالوں
سے لمس سے وہ آشنانہیں تھا مگر ان بالوں نے اس پر وہ اثر نہ کیا جو ایک جوان مرد پر ہونا چاہئے تھا۔ اسے آشی کی
:باتیں یاد آنے لگیں
تمہاری آغوش میں مجھے اپنے ماں باپ کی آغوش کا سرور آیا تھا '' …… آشی نے اسے صحرا میں چند راتیں پہلے ''
کہاتھا …… ''مجھے تو یہ بھی یاد نہیں تھا کہ میرے ماں بھی باپ تھے۔ تم نے میرا ماضی میرے آگے رکھ دیا ہے ''……
پھر عمردرویش کو یوں محسوس ہونے لگا جیسے ہوا کے زناٹوں سے اسے آشی کی سرگوشیاں سنائی دے رہی ہوں …… ''
مجھے اپنے سینے اور اپنے بازوئوں کی پناہ میں لیے رکھو۔ میں مسلمان کی بچی ہوں۔ مجھے صلیبیوں کے حوالے نہ کردینا
…… خون …… خون …… مجھے خون نظر آرہا ہے۔ یہ میرے باپ کا خون ہے۔ یہ میری ماں کا خون ہے۔ دونوں خون مل کر
بیت المقدس کی ریت میں جذب ہوگئے ہیں …… عمر درویش …… تمہاری رگوں میں ہاشم درویش کا خون دوڑ رہا ہے۔ تمہیں
اس کا لہو کا خراج وصول کرناہے جو بیت المقدس کی ریت میں جذب ہو گیا تھا۔ تمہیں فلسطین کی آبرو پکار رہی ہے۔ قبلہ
''! اول کو دل سے اتار نہ دینا ہاشم کے بیٹے
چھاپہ ماروں نے دیکھا کہ عمر درویش نے گھوڑے کو ایڑ لگا دی تھی ۔ چھاپہ ماروں کو بھی اپنے گھوڑوں کی رفتارتیز کرنی
پڑی۔ آشی کے بال اور زیادہ بکھر کر ہواکے زناٹوں سے اس کے چہرے پر اڑنے لگے۔
عمردرویش!'' …… ایک چھاپہ مار نے گھوڑا اس کے قریب کرکے کہا …… '' گھوڑے کسی چوکی سے بدلنے کی تو اُمید ''
نہیں ،گھوڑے کو اس طرح نہ مارو۔ ذرا آہستہ …… ذرا آہستہ ''۔
عمردرویش نے چھاپہ مار کی طرف دیکھااور مسکرادیا ۔ اس نے گھوڑے کی رفتارذرا کم کردی اور بوال …… '' خدائے ذوالجالل
ہمارے ساتھ ہے۔ گھوڑے تھکیں گے نہیں ''۔
اس کی آواز سے آشی کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے گھبرا کر پوچھا …… '' میں کتنی دیر سوئی رہی ؟ میرا گھوڑا کہا ں
''ہے؟
تم تو سو گئی تھی ''۔ عمردرویش نے کہا …… '' لیکن میرے ایمان کی جو رگ سوئی ہوئی تھی وہ جاگ اُٹھی ''
ہے…… ا ُٹھو۔ اپنے گھوڑے پر سوار ہو جائو۔ ہم شام تک منزل پر پہنچ جائیں گے''۔
٭ ٭ ٭
علی بن سفیان اسی گائوں میں چال گیا تھا جسے مسلمانوں نے اپنی زمین دوز سرگرمیوں کا مرکز بنا رکھا تھا۔ اس نے اپنے
چھاپہ ماروں اور جاسوسوں کے سپرد یہ کام کیا کہ تمام عالقے میں پھیل کر عمردرویش کی شعبدہ بازیوں کی حقیقت بتادیں۔
اس نے وہاں کے لیڈروں کو بتایا کہ وہ لوگوں کو تیار کرلیں۔ یہ عالقہ بہرحال سوڈان کا تھا۔ جہاں مسلمانوں کو من مانی
کرنے کی اجازت نہیں تھی ۔ سوڈانی فوج حملہ کرنے کا حق رکھتی تھی۔ مسلمانوں نے اپنے عالقے میں اپنا قانون رائج کر
رکھا تھا۔ انہوں نے جن جاسوسوں کو گرفتار کیا تھا انہیں اپنے بنائے ہوئے قید خانے میں ڈال دیا تھا۔ انہیں سزا دینی تھی
جو سوڈانی قانون کے مطابق جرم تھا۔ ان مجرموں نے جو کچھ بھی کیا سوڈانی حکومت کی بہتری کے لیے کیا تھا۔ علی بن
سفیان نے خطرہ مول لیا تھا ۔ اس نے چھاپہ ماروں کی دو پارٹیاں تیار کرلیں۔
قید خانے میں اسحاق کو ایک اچھے کمرے میں رکھا گیا تھا۔ اسے نہایت اچھا کھانا باعزت طریقے سے دیا جاتا تھا۔ وہ
اچھی طرح سمجھتا تھا کہ اس کے ساتھ اچھاسلوک کیوں ہو رہاہے۔ عمردرویش اسے اپنی پوری سکیم بتا کر گیا تھا ۔ اسحاق
تنہائی میں بیٹھا اسی کے متعلق سوچتا رہتا تھا۔ اسے دو خطرے نظر آرہے تھے۔ ایک یہ کہ عمردرویش نے قید خانے کی
اذیتوں سے تنگ آکر سوڈانیوں کے ہاتھوں میں کھیلنا شروع کردیا ہوگا۔ دوسرا خطرہ یہ کہ عمردرویش کہیں اپنے ہی منصوبے
کی نظر نا ہوگیا ہو۔ اسحاق اپنے فرارکے متعلق بھی سوچتا رہتا تھا لیکن اسے کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ سوڈانیوں کے
لیے وہ قیمتی قیدی تھا جس پر انہوں نے اضافی پہرے لگا رکھے تھے ۔ جب سے عمر درویش اس سے الگ ہوا تھا اسے
کسی نے نہیں کہاتھا کہ وہ اپنی قوم کو سوڈان کا وفادار بنائے …… سوڈانی ساالر جو اس کے پیچھے پڑا رہتا تھا اس کے
سامنے بھی نہیں آیا تھا۔
سورج غروب ہو چکا تھا۔ چار گھوڑے سوڈان کے دارالحکومت میں داخل ہوئے اور سیدھے فوج کے مرکز کے سامنے جا رکے۔
عمردرویش کو معلوم تھا کہ اسے کہاں جانا اور کسے ملناہے۔ اسے ذہنی تخریب کاری کی تربیت یہیں سے ملی تھی ۔ اس
نے محافظ دستے کے کمانڈر کو اس سوڈانی ساالر کا نام بتایا جس نے اسے اس کام کے لیے تیا ر کیا تھا۔ اسے فورا ً ساالر
کے گھر پہنچا دیا گیا۔
ناکام لوٹے ہو یا کوئی اچھی خبر الئے ہو؟'' سوڈانی ساالر نے دیکھتے ہی کہا ۔ ''
اچھی خبر سنیں '' …… عمردرویش نے آشی کی طرف اشارہ کرکے کہا …… '' آپ مجھ پر اعتبار نہ کریں ''۔ ''
آشی تھکن سے چور پلنگ پرگر پڑی۔ وہ مسکرارہی تھی ۔ اس نے عمر درویش سے کہا …… '' انہیں ساری بات خود ہی
بتائو اور ذرا جلدی کرو۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ''۔
ہماری مہم اتنی جلدی کامیاب ہوئی جس کی مجھے بالکل امید نہیں تھی ''۔عمر درویش نے کہا اور پوری تفصیل سے ''
سنایا کہ اس نے کس طرح پانی کو آگ لگائی اور طور کے جلوے دکھائے ہیں۔
اور اس کے بولنے کا جو انداز تھا اس نے تو مجھے حیران ہی کر دیا تھا ''۔ آشی نے عمر درویش کے متعلق کہا۔ '' ''
لوگ اس کے شعبدوں سے اتنے متاثر نہیں ہوئے جتنے اس کی زبان سے ۔
کیا آپ کو ابھی تک کوئی بتانے نہیں آیا کہ وہاں ہم نے کس حد تک کامیابی حاصل کر لی ہے ؟'' …… عمردرویش نے ''
پوچھا۔
کوئی بھی نہیں آیا '' …… سوڈانی ساالر نے کہا …… '' میں تم دونوں کے متعلق پریشان تھا''۔''
عمردرویش کو یہ سن کر اطمینان ہوا کہ ابھی تک کوئی جاسوس نہیں پہنچا۔ جاسوس جو مسلمانوں کی حراست سے فرار ہو
کر آرہا تھا وہ بھی دور تھا۔ اس کی رفتار وہ نہیں تھی جو عمر درویش کی تھی ۔ اس رفتار سے اسے صبح کے وقت
پہنچناتھا۔ عمردرویش کا دھوکہ اسی جاسوس کی غیر حاضری میں ہی چل سکتا تھا۔ اس کے پہنچتے ہی اصل صورت حال بے
نقاب ہوتے ہی عمر درویش کو قید خانے میں بند ہونا تھا۔
اب مجھے اسحاق کی ضرورت ہے ''۔ عمردرویش نے کہا …… '' میں آدھے سے زیادہ مسلمانوں کے ذہن صاف کر ''
چکاہوں ۔ میں نے انہیں اس پر آمادہ کر لیا ہے کہ وہ سوڈان کے وفادار ہوجائیں۔ میں نے صالح الدین ایوبی کے خالف نفرت
اور دشمنی پیداکر دی ہے۔ میں نے ثابت کر دیا ہے کہ صال ح الدین ایوبی فرعونوں کا جانشیں ہے۔ اب مسلمانوں کا اپنا
کوئی قائد کہہ دے کہ ہمیں سوڈان کا وفادار ہونا چاہیے۔ اس عالقے کی تمام تر آبادی آپ کی ہوگی۔ میں نے وہاں معلوم کر
لیا ہے اور میں خود بھی جانتا ہوں کہ یہ قائد اسحاق کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔ اسے وہاں کے مسلمان پیر اور
پیغمبر مانتے ہیں ''۔
مگر اسحاق سے منوائے کون؟'' …… سوڈانی ساالر نے کہا …… ''میں اسے اس خطے کی امارت کی اللچ دے چکاہوں۔ ''
اسے ایسی ایسی اذیتیں دی ہیں جو گھوڑا بھی برداشت نہیں کر سکتا ۔آشی بھی ناکام ہوچکی ہے ''۔
اب مجھے کوشش کرنے دیں '' ۔ عمردرویش نے کہا …… '' اسے قید خانے سے نکال کر اسی کمرے میں بھیج دیں ''
جہاں آپ نے اسے ایک بار رکھاتھا اور مجھے بھی رکھا تھا۔ آپ اس کے دشمن ہیں ۔ میں اس کا ساتھی ہوں ''۔
کیا وہاں آشی کو ایک بار پھر آزمائو گے ؟'' سوڈانی ساالر نے پوچھا۔ ''
نہیں '' ۔ عمردرویش نے جواب دیا …… '' میں اپنی زبان کا جادو آزمائوں گا۔ اسے اگر ابھی اس کمرے میں لے جائیں ''
تو مجھے امید ہے کہ صبح تک میں اسے اپنے جال میں پھانس لوں گا۔ میرے پاس وقت زیادہ نہیں۔اس عالقے سے میری
غیر حاضری لمبی نہیں ہونی چاہیے۔ آپ جانتے ہیں کہ وہاں مصری جاسوس بھی ہیں۔ میں نے وہاں جو جادو چالیا ہے اسے
مصری جاسوس میری غیر حاضری میں بیکار کر سکتے ہیں ''۔
سوڈانی ساالر نے ان دو چھاپہ ماروں کے متعلق پوچھا جو عمردرویش کے ساتھ تھے۔ اس نے بتایا کہ یہ اس کے محافظ اور
مرید ہیں اور یہ اس کے ساتھ رضاکارانہ طور پر آئے ہیں ۔
٭ ٭ ٭
وہ ایک عمارت کا خوشنما کمرہ تھا جس میں اسحاق کو الیا گیا۔ ساالر خود اسحاق کو قید خانے میں سے النے کے لیے گیا
تھا۔ اس نے اسحاق سے کہا …… '' میں تمہارے قومی جذبے اور ایمان کا قائل ہوگیا ہوں۔ تمہارا ایک دوست عمردرویش تم
سے ملنے کا خواہشمند ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہاری مالقات اچھے ماحول میں ہو''۔
مجھے قید خانے سے زیادہ غلیظ اور جہنمی ماحول اور تمہارے محالت سے زیادہ دلفریب ماحول اپنی راہ سے ہٹا نہیں ''
سکتے '' …… اسحاق نے کہا …… '' مجھے تہہ خانے میں لے چلو یا باال خانے میں ،میں اپنا ایمان نہیں بیچوں گا''۔
سوڈانی ساالر ہنس پڑا اور اسے اس کمرے میں لے گیا جہاں عمردرویش اس کے انتظار میں موجود تھا۔ سوڈانی ساالر بھی
کمرے میں رہا۔
تمہارا چہرہ بتارہا ہے کہ تم نے ان کافروں کے ہاتھ اپنا ایمان بیچ ڈاال ہے''۔ اسحاق نے عمردرویش سے کہا …… '' ''
تمہارے چہرے کی رونق اور آنکھوں کی چمک بتا رہی ہے کہ تم بہت دنوں سے قید خانے سے باہر گھوم رہے ہو۔ مجھ سے
''کیوں ملنا چاہتے ہو؟
میں تمہارے چہرے پر بھی یہی رونق اور آنکھوں میں یہی چمک دیکھنا چاہتا ہوں جو تم میرے چہرے پر اور آنکھوں میں ''
دیکھ رہے ہو ''۔ عمر درویش نے کہا …… '' ذرا مجھے مہلت دو۔ ذرا سی دیر کے لیے اپنا دل اور اپنا ذہن مجھے دے دو
۔ تحمل اور اطمینان سے میری بات سنو''۔
سوڈانی ساالر پاس کھڑا تھا۔ وہ خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا ۔ اسحاق اس کا نہایت اہم قیدی تھا اور عمردرویش بھی قیدی
ہی تھا ۔ یہ عمردرویش کا دھوکہ بھی ہو سکتا تھا ۔ وہ ان دونوں کو ایک ایسے کمرے میں آزاد نہیں چھوڑ سکتا تھا جو قید
خانے کا کمرہ نہیں تھا ۔ اس نے چار سنتریوں کا انتظام کردیا تھا ۔ دو کمرے کے سامنے کھڑے تھے اور دو پچھلے دروازے
کے سامنے ۔ برچھیوں اور تلواروں کے عالوہ انہیں تیر و کمان بھی دئیے گئے تھے۔ تا کہ فرار کی کوشش کامیابی نہ ہو
سکے۔ عمردرویش چاہتا تھا کہ ساالر وہاں سے چال جائے مگر ساالر وہاں سے ہٹتا نظر نہیں آرہا تھا ۔ اس کی موجودگی میں
عمردرویش اسحاق کو بتا نہیں سکتا تھا کہ اس کا منصوبہ کیا ہے۔
آشی کو سوڈانی ساالر نے نہانے دھونے اور آرام کے لیے اسی عمارات کے ایک کمرے میں بھیج دیا تھا ۔ وہ سوڈانی ساالر کو
اس کمرے سے لے جا سکتی تھی مگر اس کے ادھر آنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ سوڈانی ساالر الگ ہوکر بیٹھ گیا۔ وہ
جاسوس جو صحیح صورت حال بتانے آرہا تھا شہر سے تھوڑی ہی دور رہ گیا تھا۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ عمردرویش کے
دونوں چھاپہ مار اسی عمارت کے ایک برآمدے میں عمردرویش کے اشارے کاانتظار کر رہے تھے۔ کچھ دیر بعد آشی باہر آئی۔
وہ نہا دھو کر کپڑے بدل کر آئی تھی۔ اس کا حسن نکھر آیا تھا۔ چہرے سے سفر کی تھکن بھی دھل گئی تھی ۔ وہ چھاپہ
ماروں کے پاس جا رکی ۔
ساالر چال گیا ؟'' آشی نے ان سے پوچھا۔ ''
نہیں ''۔ ایک چھاپہ مار نے جواب دیا ۔ ''وہ اندرہے''۔ ''
اسے چلے جانا چاہیے''۔ آشی نے کہا اور وہ اس کمرے کی طرف چل پڑی۔''
عمردرویش نے اسے کمرے میں داخل ہوتے دیکھا تو اسے امید کی کرن نظر آئی۔ سوڈانی ساالر نے اسے دیکھا تو اس کے
ہونٹوں پر وہی مسکراہٹ آ گئی جو اس جیسے مردوں کے ہونٹوں پر آشی جیسی دلکش لڑکی کو دیکھ کر آیا کرتی ہے۔ آشی
ٹہلتے ٹہلتے ساالر کے پیچھے چلی گئی۔ اس نے عمردرویش کو گہری نظروں سے دیکھا۔ عمردرویش کو موقع مل گیا۔ اس نے
آشی کو اشارہ کیا کہ ساالر کو یہاں سے غائب کرو۔
''! اسحاق بھائی !'' عمردرویش نے پوچھا …… ''کیا ہم سوڈان کے بیٹے نہیں ہیں''
میں سب سے پہلے اسالم کا بیٹا ہوں ''۔ اسحاق نے جواب دیا ۔ '' اور میں اب بھی مصری فوج کا کماندار اور ''
سلطان صالح الدین ایوبی کا وفادارہوں۔ اگر سوڈان کی زمین میری ماں ہے تو میں اپنی ماں کو اسالم کے دشمنوں کے حوالے
نہیں کر سکتا۔ عمردرویش ! میں تمہاری طرح اسالم کی عظمت اور اپنی غیرت کو فروخت نہیں کر سکتا ''۔
آشی نے پیچھے سے سوڈانی ساالرکے کندھوں پر دونوں بازو رکھے اور منہ اس کے کان سے لگا کر کہا …… '' چند دنوں میں
''آپ کا دل مرگیاہے ؟
سوڈانی ساالر نے گھوم کر دیکھا تو آشی کے گال اور بکھرے ہوئے بال ساالر کے گالوں سے ٹکڑا گئے۔ آشی مسکرا رہی تھی ۔
اس نے مخمور اور تشنہ لہجے میں کہا …… '' میں اتنی خطرناک اور تھکا دینے والی مہم سے واپس آئی ہوں۔ کل پھرانہی
جنگلیوں کے پاس چلی جائوں گی جس نے پا س پینے کو پانی کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ میں تو شراب کی بو کو بھی ترس
گئی ہوں ''۔
اوہ!'' سوڈانی ساالر نے چونک کر کہا …… '' میں تو اس قصے میں تمہیں بھول ہی گیاتھا۔ میں کسی سے کہہ دیتا ''
ہوں ۔ تم اسی کمرے میں چلو ''۔
اونہہ!'' آشی نے کہا …… '' اکیلے کیا خاک مزہ آئے گا ؟ آپ بھی چلیے ۔ یہاں کوئی خطرہ نہیں ۔ دونوں طرف ''
سنتری کھڑے ہیں ۔ کچھ دیر بعد یہیں آجانا''۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:39
قسط نمبر۔98
طور کا جلوہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اونہہ!'' آشی نے کہا …… '' اکیلے کیا خاک مزہ آئے گا ؟ آپ بھی چلیے ۔ یہاں کوئی خطرہ نہیں ۔ دونوں طرف ''
سنتری کھڑے ہیں ۔ کچھ دیر بعد یہیں آجانا''۔آشی اس فن کی استاد تھی ۔ بچپن سے اب تک اسے مردوں کو اپنے جال
میں پھانسنے اور انگلیوں پر نچانے کی تربیت دی گئی تھی۔ اس نے یہی فن اپنے آقائوں اور استادوں کے خالف آزمانا شروع
کر دیا۔ سوڈانی ساالر اس کی مسکراہٹ کے فریب میں آگیا اور اس کے ساتھ چل پڑا۔ باہر جا کر اس نے ایک مالزم کو
شراب النے کو کہا اور آشی کے ساتھ کمرے میں چالگیا۔ آشی نے اسے اپنے بازوئوں کے گھیرے میں لے لیا اور ذرا سی دیر
میں بوڑھے ساالر پر جوان لڑکی کا طلسم طاری ہوگیا۔ اتنے میں شراب آگئی۔ آشی نے ساالر کو جام پہ جام پالنے شروع
کردئیے۔
٭ ٭ ٭
نیت صاف ہو تو خدابھی مدد کرتاہے''۔ عمردرویش نے اسحاق سے کہا …… '' میں نے جو سوچا تھا وہ ہر لحاظ سے ''
اور ہرپہلو سے عملی شکل میں آگیاہے۔ ساری بات شہر سے نکل کر
سنائو ں گا ۔ دو چھاپہ مار ساتھ الیا ہوں۔ دو سنتری ادھر کھڑے ہیں دو ادھر۔ ہمیں صرف اس طرف کے سنتریوں کو ختم
کرنا ہے جس طرف سے نکلناہے ۔ چار گھوڑے تیار کھڑے ہیں ۔ چھار گھوڑے سنتریوں کے تیار کھڑے ہیں تا کہ فرار کی
صورت میں وہ ہمارا تعاقب کر سکیں۔ اپنے ہاں مصر کے کچھ لوگ آئے ہیں ۔ ایک آدمی بہت دانشمند معلوم ہوتاہے۔ اس نے
اپنا نام نہیں بتایا ۔ قاہرہ میں اطالع پہنچ گئی ہے کہ یہاں کیاہوا ہے۔ ساالر کو لڑکی لے گئی ہے۔ میں ذرا باہر جائزہ لے
لوں۔ لڑکی کو بھی ساتھ لے کر جانا ہے ''۔
کیوں ؟'' …… اسحاق نے پوچھا …… ''اس بدکار کے ساتھ تمہارا کیا تعلق ہے''۔ ''
باہرچل کر بتائوں گا''۔ عمر درویش نے کہا …… ''یہ کوئی ایسا ویسا تعلق نہیں ۔لڑکی مسلمان ہے''۔''
عمردرویش باہر نکال۔ سنتریوں نے اسے سوڈانی ساالر کے ساتھ اس کمرے میں آتے دیکھا تھا ،اس لیے انہوں نے اسے احترام
کی نظروں سے دیکھا۔ وہ اپنے چھاپہ ماروں کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ سنتریوں کو سنبھالنے کا وقت آگیا ہے۔ پھر اس
نے اس کمرے کادروازہ آہستہ سے ذرا کھوال۔ ساالر کے ہوش شراب میں ڈوب چکے تھے۔ اس نے جھوم کر پوچھا۔ ''کون
''ہے؟
میں دیکھتی ہوں''۔ آشی نے کہا …… ''ہوا سے دروازہ کھل گیا ہے'' ۔ اس نے ساالر کو سہارا دے کر پلنگ پر لٹا دیا''
۔ ساالر نے بازو پھیال کر لڑکھڑاتی آواز میں کہا …… ''تم بھی آئو ۔ نشے کو دوگنا کردو''۔
آشی باہر نکل آئی اور آواز پیدا کیے بغیر دروازہ باہر سے بند کر دیا۔ عمردرویش اور آشی نے دونوں چھاپہ ماروں کو ساتھ
لیااور اسحاق والے کمرے کی طرف چلے گئے۔ سوڈانی جاسوس شہر میں داخل ہو چکا تھا اور وہ جاسوسی کے مرکز کی طرف
جارہا تھا ۔ عمردرویش نے دونوں سنتریوں سےکہا …… ''دونوں اندر چلیں اور قیدی کو قید خانے میں لے جائو۔ ساالر نے حکم
دیا ہے کہ ہاتھ باندھ کر لے جانا''۔
دونوں سنتری اکٹھے اندر گئے۔ ان کے پیچھے دروازہ بند ہوگیا ۔ دونوں چھاپہ مار بیک وقت ان پر جھپٹے۔ دونوں کی گردنیں
ایک ایک چھاپہ مار کے بازو کے شکنجے میں آگئیں۔ چھاپہ ماروں نے خنجر پہلے ہی نکال لیے تھے۔ انہوں نے سنتریوں کے
دلوں پر وار کیے اور انہیں ختم کر دیا۔ سوڈانی جاسوس اپنے ٹھکانے پر پہنچ گیااور نائب ساالر کو صحیح رپورٹ دے رہا تھا ۔
عمردرویش نے اسحاق سے کہا …… ''فورا ً نکلو '' …… باہر چار گھوڑے عمردرویش کے کھڑے تھے اور چار سنتریوں کے۔
دوسری طرف کے سنتریوں کو معلوم ہی نہ ہوسکا کہ اندر کیا ہورہاہے۔
یہ سب گھوڑوں پر بیٹھے ۔ رات نے فرار پر پرداہ ڈالے رکھا۔ شہر گہری نیند سویا ہوا تھا۔ فرار ہونے والوں نے گھوڑوں کو
فورا ً ایڑ نہ لگائی ۔ آشی بھی ان کے ساتھ تھی ۔ سوڈانی جاسوس نے اپنی رپورٹ دی تو نائب ساالر اسے سوڈانی ساالر کے
پاس لے گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ کہا ں ہے۔ دونوں ادھر آئے تو راستے میں انہوں نے پانچ گھوڑ سوار جاتے دیکھے۔ وہ ایک
دوسرے کے قریب سے گزر گئے۔ اندھیرے کی وجہ سے کوئی کسی کو نہ پہچان سکا۔
نائب ساالر نے اس برآمدے میں جا کر ادھر ادھر دیکھا جہاں کچھ دیر پہلے دو سنتری کھڑے تھے۔ اس نے کمرے کا دروازہ
کھوال تو اسے دونوں سنتریوں کی الشیں پڑی نظر آئیں۔ خون بہہ بہہ کر ہر طرف پھیل گیا۔ نائب ساالر نے اندر جا کر دوسرا
دروازہ کھوال۔ ادھر دو سنتری آرام سے کھڑے تھے۔ بھاگ دوڑ شروع ہوگئی۔ ایک کمرے میں ساالر پلنگ پر پڑا نشے میں
بدمست آشی کو پکار رہا تھا۔ نائب ساالر نے اسے بالیا اور اُٹھایا۔ آشی نے اسے بہت ہی زیادہ پالدی تھی ۔ اسے جب بتایا
گیا کہ دو سنتری کمرے میں مرے پڑے ہیں تو ذرا ہوش میں آیا۔ جب وہ بات سننے اور سمجھنے کی حالت میں آیا اس
وقت عمردرویش ،اسحاق ،دو چھاپہ مار اور آشی شہر سے بہت دور نکل گئے تھے ۔ تعاقب بیکار تھا ۔ صبح کے وقت
اسے صحیح صورت حال کا علم ہوا۔
٭ ٭ ٭
اگلی رات آدھی گزر گئی تھی جب عمردرویش اپنے قافلے کے ساتھ اپنے پہاڑی عالقے میں داخل ہوا۔ علی بن سفیان ان کے
انتظار میں بے تاب ہورہا تھا۔ ضروری یہ تھا کہ اسحاق اور عمردرویش کو فورا ً مصر بھیج دیا جائے لیکن ایک ضرورت یہ بھی
تھی کہ انہیں اس عالقے میں گھمایا جائے تا کہ جن لوگوں نے سوڈانیوں کی شعبدہ بازیاں دیکھی ہیں انہیں اصل حقیقت
معلوم ہوجائے۔ البتہ فوری طور پہ یہ انتظام کر دیا گیا کہ کچھ آدمیوں کو دیکھ بھال کے لیے مقرر کر دیا گیا تا کہ سوڈانی
فوج حملہ کرے تو قبل از وقت اطالع مل جائے۔ دوسری ضرورت یہ تھی کہ مصری فوج کے کچھ اور چھاپہ مار اس عالقے
میں بال لیے جائیں جو سوڈانی فوج کے حملے کی صورت میں عقب سے شبخون ماریں اور فوج کو اس عالقے سے دوررکھیں۔
اس طرح عمردرویش ،علی بن سفیان اور اس کے چھاپہ ماروں نے وہ معرکہ جیت لیا جو کمانڈروں ،بادشاہوں اور قوم کی
نظروں سے اوجھل رہ کر لڑا گیا تھا ۔ یہ ایک انفرادی جنگ تھی جو ایمان اور قومی جذبے کی قوت سے لڑی گئی تھی ۔
سلطان صالح الدین ایوبی نے اس درپردہ جنگ پر ہمیشہ توجہ مرکوز رکھی تھی ۔ اس کا انٹیلی جنس کا نظام بہت ہوشیار
تھا۔
٭ ٭ ٭
اس وقت جب سوڈانی مسلمانوں نے یہ معرکہ جیت لیا تھا ،سلطان ایوبی مسلمان امراء …… گمشتگین ،سیف الدین اور
الملک الصالح …… کی متحدہ افواج کو شکست فاش دے کر ان کے تعاقب میں جارہا تھا۔ اس نے چند ایک اہم مقامات اور
چھوٹے چھوٹے قلعوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ وہ حلب کی طرف بڑھ رہا تھا جو ایک اہم شہر اور الملک الصالح کی فوج کا مرکز
تھا۔ سلطان ایوبی اس شہر کو محاصرے میں لے کر محاصرہ اُٹھا چکا تھا ۔ وہاں کے مسلمانوں نے اس کا مقابلہ ایسی بے
جگری سے کیا تھا کہ سلطان ایوبی عش عش کر اُٹھا تھا۔ محاصرہ اُٹھانے کی وجہ اس سے پہلے سنائی جا چکی ہے۔
اس کے بعد مسلمان افواج کی آپس میں جو جنگ ہوئی اس کی تفصیالت بھی سنائی جا چکی ہیں۔ سلطان ایوبی نے تینوں
مسلمان فوجوں کو بے تحاشہ نقصان پہنچا کر اس طرح پسپا کیا کہ فوجیں بکھر گئیں۔ سلطان ایوبی نے تعاقب جاری رکھا۔
اس کی زیادہ تر توجہ حلب کی فوج پر تھی کیونکہ یہ بہادری سے لڑنے والی فوج تھی۔ یہ حلب کی سمت پسپا ہو رہی
تھی ۔ سلطان ایوبی اسے راستے میں ہی تباہ کردینا چاہتا تھا ۔ کیونکہ وہ حلب پر قبضہ کرنے کو پیش قدمی کر رہا تھا ۔
اس نے تعاقب کا انداز یہ نہ رکھا کہ اپنی فوج کو اس کے پیچھے ڈال دیا بلکہ اس نے اپنے برق رفتار دستے کسی دوسرے
راستے سے آگے بھیج دئیے اور کچھ چھاپہ مار دونوں پہلوئوں پر بھیج دئیے ۔
حلب کی فوج افراتفری کے عالم میں حلب کو جارہی تھی ۔ آگے جا کر اس کے کمانڈروں نے دیکھا کہ سلطان ایوبی کی فوج
نے راستہ روک رکھا ہے۔ حلب کی فوج ُر ک گئی۔ اس کے سپاہیوں میں لڑنے کی ہمت نہیں رہی تھی۔ ان کا سازوسامان بھی
کم رہ گیا تھا۔ رسد اورخوراک بھی کم تھی ۔ یہ فوج ُرکی تو پہلوئوں پر سلطان ایوبی کے چھاپہ ماروں نے شب خون اور
چھاپے مارنے شروع کردئیے۔ سلطان ایوبی کے کمانڈروں نے اعالن کرنے شروع کردئیے …… ''حلب والو! ہتھیار ڈال دو''۔
سلطان ایوبی محاذ سے پیچھے تھا۔ اسے اطالعات مل رہی تھیں کہ حلب کی فوج ہتھیار ڈالنے کی حالت میں آرہی ہے ۔
اس نے کہا …… ''اگر یہ فوج صلیبیوں کی ہوتی تو میں اس کے ایک بھی سپاہی کو زندہ نہ چھوڑتا مگر یہ میرے اپنے
بھائیوں کی فوج ہے۔ یہ لوگ ہتھیار ڈال دیں گے تو میں انہیں بخشش دوں گا۔ مجھے خوشی پھر بھی نہیں ہوگی۔ مرنے کے
بعد میری روح بھی بے چین رہے گی کہ میرے دور میں مسلمانوں کی تلواریں آپس میں ٹکرائی تھیں۔ اگر ہمارے یہ بھائی اب
بھی دوست اور دشمن کی پہچان کر لیں تو اس شرم ناک غلطی کا ازالہ ہو سکتا ہے''۔
دوسرے ہی دن خدا نے سلطان ایوبی کی دعا سن لی۔ اس نے دو گھوڑ سوار اپنی طرف آتے دیکھے۔ ان میں سے ایک نے
سفید جھنڈا ا ُٹھا رکھا تھا۔ ان کے دائیں بائیں سلطان ایوبی کی اپنی فوج کے دو کماندار تھے۔ قریب آکر گھوڑے ُرک گئے۔
ایک کماندار نے گھوڑے سے اتر کر سالم کیا اور کہا …… ''حلب کے حاکم الملک الصالح نے صلح کا پیغام بھیجا ہے۔ یہ دو
ایلچی جنگ بندی اور صلح کا پیغام الئے ہیں''۔
ایک ایلچی نے پیغام سلطان ایوبی کے ہاتھ میں دیا۔ سلطان ایوبی نے پیغام پڑھ کر کہا …… '' الملک الصالح سے کہنا صالح
الدین ایوبی نے جنگ سے پہلے صلح کا پیغام بھیجا تھا تو تم نے فرعونوں کی طرح میرے ایلچی کی بے عزتی کرکے میرا
پیغام ٹھکرادیا تھا۔ آج خدائے عزوجل نے مجھے یہ طاقت بخشی اور تجھے یہ ذلت دی کہ میں تمہاری فوج کو اس طرح
پیس سکتا ہوں جس طرح دوپتھروں کے درمیان والے پیسے جاتے ہیں لیکن میرے دشمن تم نہیں ہو۔ تم اس باپ کے بیٹے ہو
جس نے صلیبیوں کو گھٹنوں بٹھا رکھا تھا اور تم صلیبیوں سے دوستی گانٹھ کر اپنے باپ کی فوج کے خالف لڑنے آئے تھے
…… اسے کہنا کہ میں نے تمہیں معاف کیا۔ دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف کردے ''۔
سلطان ایوبی نے اپنی شرائط پر صلح کی پیش کش منظور کرلی۔ الملک الصالح کو اس شرط پر اپنی فوج حلب کو لے جانے
کی اجازت دے دی کہ جب اس کی فوج حلب آئے تو حلب کی فوج کوئی مزاحمت نہ کرے ۔
ایک اور دلچسپ واقعہ ہوا۔ الملک الصالح اپنی فوج نکال کر لے گیا ۔ سیف الدین بھی پسپا ہوکرموصل چال گیا تھا اور
گمشتگین نے اپنے قلعے حرن میں جانے کی بجائے حلب کا ُرخ کیا۔ سلطان ایوبی اپنی فوج کو اور آگے لے گیا اور ایک مقام
ترکمان کو عارضی کیمپ بنالیا۔ ایک روز حلب کا ایک قاصد اس کے پاس آیا اور الملک الصالح کا ایک پیغام سلطان ایوبی کو
دیا۔ سلطان ایوبی نے پیغام کھول کر پڑھا تو چونک ا ُٹھا لیکن یہ پیغام اس کے نام نہیں بلکہ سیف الدین کے نام تھا۔ الملک
:الصالح نے سیف الدین کو لکھا تھا
آپ کا خط مل گیا ہے جس میں آپ نے اس پر خفگی کا اظہار کیا ہے کہ میں نے صالح الدین ایوبی کے آگے ہتھیار ڈال''
کر صلح کر لی ہے۔ بے شک میں نے ایسا ہی کیا ہے لیکن میرے لیے اور کوئی راستہ نہ تھا۔ میری فوج اس کی فوج کے
گھیرے میں آگئی تھی ۔ میرے سپاہی تھکے ہوئے ،ڈرے ہوئے اور زخمی تھے۔ میرے ساالروں نے مجھے مشورہ دیا کہ صالح
الدین ایوبی کو صلح کا دھوکہ دیا جائے اور اپنی فوج کو اس کے چنگل سے نکاال جائے۔ میں نے یہی بہتر جانا اور صالح
…… '' الدین ایوبی کو صالح کا پیغام دے دیا
محترم غازی سیف الدین ! آپ مطمئن رہیں۔ میں نے وقت حاصل کرنے کے لیے صلح کی ہے ورنہ میرے پاس آج ایک ''
بھی سپاہی نہ ہوتا۔ میں اب حلب میں اپنی فوج کی تنظیم نو کرارہا ہوں۔ نئی بھرتی شروع کرادی ہے میں نے صالح الدین
ایوبی کی یہ شرط تسلیم کر لی ہے کہ اس کی فوج جب حلب میں آئے گی تو ہماری فوج مزاحمت نہیں کرے گی لیکن وہ
جب یہاں آئے گا تو اس کی فوج کو ایسی مزاحمت ملے گی جو اس کے تصور میں بھی نہیں آسکتی ۔ آپ اپنی فوج کو
ازسرنو تیار کرلیں ۔ ہمیں صال ح الدین ایوبی کے خالف لڑنا اور اس کی طاقت کو ختم کرنا ہے''۔
اس پیغام میں اور بھی بہت کچھ لکھا تھا ۔ مؤرخوں نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ الملک الصالح نے سلطان ایوبی کو صلح کا
دھوکہ دیا تھا اور اس پر بھی کہ الملک الصالح نے سیف الدین کے خط کے جواب میں جو جواب لکھا ،غلطی سے سلطان
ایوبی کو مل گیا تھا یا یہ قاصد سلطان ایوبی کا جاسوس تھا ۔ یورپی مؤرخوں نے لکھا ہے کہ یہ قاصد کی غلطی تھی ۔ دو
نے لکھا ہے کہ پیغام سربمہر کیا گیا تو باہر غلطی سے سلطان ایوبی کا نام لکھ دیا گیا تھا۔ مسلمان مؤرخوں جن میں سراج
الدین خاص طور قابل ذکر ہے لکھتاہے کہ سلطان ایوبی کا نظام جاسوسی ایسا باکمال تھا کہ الملک الصالح کا قاصد اس کا
جاسوس تھا۔ وہ الملک الصالح کا اتنا اہم پیغام سلطان ایوبی کے پاس لے آیا۔
قاضی بہائو الدین شداد نے اپنی یاداشتوں میں لکھتا ہے کہ اس پیغام نے سلطان ایوبی کو اس قدر پریشان کیا کہ کئی گھٹنے
اس نے کسی کے ساتھ بات بھی نہ کی ۔ خیمے میں اکیال پڑا رہا۔ البتہ اسے یہ خوشی ضرور ہوئی کہ اسے دشمن کے
عزائم کا علم ہوگیا۔ اس نے حکم دیا کہ الجزیرہ ،دیار اور بقر سے فورا ً لوگوں کو بھرتی کیا جائے۔ اس نے اپنے مسلمان
بھائیوں کے خالف ایک اور خونریز جنگ کی تیاریاں شروع کردیں۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:40
قسط نمبر۔99
راہ حق کے مسافر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بادشاہ ایک جھونپڑے میں چھپا ہوا تھا۔ یہ واقعہ اپریل ١١٧٥ء (رمضان المبارک ٥٧٠ھ) کا ہے ،جب تین مسلمان حکمران…
نورالدین زنگی کا بیٹا الملک الصالح ،گمشتگین اور سیف الدین غازی… سلطان صالح الدین ایوبی کے مقابلے میں آئے تھے۔ ان
کی پشت پناہی صلیبی کررہے تھے۔ صلیبیوں نے انہیں گھوڑے ،اونٹ ،آتش گیر سیال کے مٹکے اور دیگر اسلحہ دیا تھا۔
صلیبیوں نے ضروری نہیں سمجھا تھا کہ وہ سلطان ایوبی کو میدان جنگ میں ہی شکست دیں۔ اصل مقصد شکست دینا اور
سرزمین عرب پر قبضہ کرکے اسالم کو ختم کرنا تھا۔ فلسطین صلیبیوں کے قبضے میں تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کی دو تین
کمزوریاں بھانپ لی تھیں۔ یہ تھیں اقتدار کی ہوس ،زر ،زن اور عیش پرستی۔ صلیبی یورپ سے یہ توقع لے کر آئے تھے کہ
وہ اپنے برتر اسلحہ ،فوجوں کی افراط اور بحری جنگی قوت سے مسلمانوں کو تھوڑے سے عرصے میں ختم کرکے قبلہ اول اور
خانہ کعبہ پر قابض ہوجائیں گے اور اسالم کا خاتمہ کردیا جائے گا۔
مذہب کوئی درخت نہیں جسے جڑوں سے کاٹ دیا جائے تو سوکھ کر ختم ہوجائے گا۔ مذہب کسی ایک کتاب یا کتابوں کے
انبار کا نام نہیں جسے جال دیا جائے تو مذہب جل کر راکھ ہوجائے گا۔ مذہب ،عقائد اور نظریات کا نام ہے جو انسان کے
ذہن ودل میں محفوظ ہوتے ہیں اور انسان کو اپنا پابند کیے رکھتے ہیں۔ انسانوں کو قتل کردینے سے عقائد اور نظریات ختم
نہیں ہوجاتے ،کسی مذہب کو ختم کرنے کا ذریعہ صرف یہ ہے کہ ذہنوں اور دلوں میں تعیش پسندی اور لذت پرستی ڈال دی
جائے۔ عقائد اور نظریات کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگتی ہے اور انسان آزاد ہوتا چال جاتا ہے۔ یہودیوں اور صلیبیوں نے مسلمانوں
کے لیے یہی جال تیار کیا۔ سرزمین عرب اور مصر میں الکر بچھایا تو مسلمان امراء اس میں آنے لگے ۔ ملت اسالمیہ کی
بدبختی ہے کہ مسلمان اقتدار اور عورت کی خاطر عقیدے قربان کردیا کرتا ہے۔
نورالدین زنگی اور صالح الدین ایوبی کے دور میں یہ میٹھا زہر مسلمان حکمرانوں اور امراء کی رگوں میں اتر چکا تھا اور
صلیبی فلسطین پر قابض ہوچکے تھے۔ متعدد مسلمان ریاستیں ایسی تھیں جن پر صلیبیوں کا قبضہ تو نہیں تھا لیکن ریاستوں
کے امراء کے دلوں پر انہی کا قبضہ تھا۔ صلیبی اور یہودی ،مسلمانوں کی کردار کشی میں اس حد تک کامیاب ہوچکے تھے کہ
کسی بھی مسلمان ساالر کے متعلق یقین سے نہیں کہا جاسکتا تھا کہ وہ سلطنت اسالمیہ کا وفادار ہے۔ زنگی اور ایوبی کے
لیے یہ غدار بہت بڑا مسئلہ بن گئے تھے۔ ١١٧٥ئ٢٢٧٤ ،ء میں سلطان ایوبی اور فلسطین کے درمیان کلمہ گو بھائی حائل
ہوگئے تھے۔صلیبی دور بیٹھے تماشا دیکھ رہے تھے۔ سلطان ایوبی ہر میدان میں صلیبیوں کو شکست پہ شکست دیتا چال آرہا
تھا مگر صلیبیوں نے مسلمان امراء کو ہی اس کے مقابلے میں کھڑا کردیا۔ اس کا بے حد تکلیف دہ پہلو یہ تھا کہ نورالدین
زنگی کا اپنا بیٹا الملک الصالح اسماعیل اس کی وفات کے بعد سلطان ایوبی کے مخالف کیمپ میں چال گیا۔
وہ بادشاہ جو اپریل ١١٧٥ء میں ایک جھونپڑے میں بیٹھا تھا ،الملک الصالح کا اتحادی سیف الدین غازی تھا۔ ان کا تیسرا
اتحادی گمشتگین تھا۔ آپ اس معرکے کی تفصیل پڑھ چکے ہیں جس میں سلطان ایوبی نے ان تینوں کی متحدہ فوج کو ایسی
شرمناک شکست دی تھی کہ تینوں اپنی اپنی فوج کے مرکز (ہیڈکورٹر) کے خیمے سازوسامان سمیت چھوڑ کر بھاگ گئے
تھے۔ ان کے جو جنگی قیدی سلطان ایوبی کی فوج نے پکڑے تھے ،انہیں مسلمان سمجھ کر رہا کردیا گیا تھا۔ یہ سلطان ایوبی
کی قوم پرستی اور کشادہ ظرفی تھی جو اسے مہنگی پڑی۔ یہ قیدی واپس گئے تو انہیں فوج میں لے کر چند دنوں میں
بکھری ہوئی فوجیں منظم کرلی گئیں۔ یہ تو چند دنوں بعد کی بات ہے۔ میدان جنگ سے الملک الصالح ،سیف الدین غازی اور
گمشتگین کا بھاگنا بڑا عجیب تھا۔ انہیں ایک دوسرے کا ہوش نہیں تھا۔ گمشتگین حرن کا قلع تھا جو بغداد کی خالفت کے
تحت تھا لیکن جنگ سے پہلے اس نے خود مختاری کا اعالن کردیا تھا۔ وہ بھاگا تو حرن جانے کے بجائے حلب چال گیا
جسے الملک الصالح نے اپنا دارالخالفہ بنا رکھا تھا۔ وہ اس خوف سے حرن نہیں گیا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی تعاقب
میں آکر اسے پکڑے لے گا۔
سیف الدین ایک اور شہر موصل اور اس کے مضافات کا حکمران امیر تھا۔ وہ حکمران ہی نہیں ،ساالر بھی تھا۔ میدان جنگ
کے دائو پیچ سے واقف تھا ،جنگجو تھا اس نے اپنا ایمان بیچ ڈاال تھا جو مومن کی تلوار بھی ہوتا ہے ،ڈھال بھی۔ وہ میدان
جنگ میں بھی حرم کی چیدہ چیدہ لڑکیوں اور ناچنے والیوں کو ساتھ لے گیا تھا۔ شراب کے مٹکوں کے عالوہ خوبصورت
پرندے بھی اس کے ساتھ تھے۔ وہ عیش وعشرت کا یہ سارا سامان وہیں چھوڑ کر بھاگا تھا۔ اس کے ساتھ بھاگنے والوں میں
اس کا نائب ساالر اور ایک کمان دار بھی تھا۔ اسے موصل جانا تھا لیکن سلطان ایوبی کے چھاپہ مار دشمن کے عقب میں
چلے گئے تھے۔ انہوں نے دشمن کی بکھری ہوئی فوج کے لیے پسپائی محال کردی تھی۔
سیف الدین اور اس کے دونوں ساتھیوں نے شاید چھاپہ ماروں کی کوئی پارٹی دیکھ لی تھی جس سے بچنے کے یے وہ موصل
کے راستے سے بھٹک گئے۔ یہ عالقہ اس دور میں عجیب تھا۔ ریگستان بھی تھا ،چٹانی بھی اور کہیں سرسبز بھی۔ وہاں
انہیں چھپنے کی جگہیں ملتی رہیں۔ وہ موصل سے تھوڑی ہی دور تھے۔ رات گہری ہوگئی تھی۔ انہیں چاندنی رات میں کچھ
مکان نظر آئے۔ سیف الدین نے پہلے ہی مکان کے دروازے پر دستک دی۔ ایک سفید ریش بوڑھا باہر آیا۔ اس کے سامنے تین
گھوڑ سوار کھڑے تھے جو اس قدر بری طرح ہانپ رہے تھے کہ بوڑھے نے پوچھا… ''معلوم ہوتا ہے تم بھی موصل کی فوج
کے سپاہی ہو اور بھاگ کر آئے ہو۔ میں دو دنوں سے سپاہیوں کو گزرتے دیکھ رہا ہوں۔ وہ پانی پینے کے لیے رکتے ہیں اور
موصل کو چلے جاتے ہیں''۔
یہاں سے موصل کتنی دور ہے؟'' سیف الدین نے پوچھا۔''
اگر تمہارے گھوڑوں میں دم ہے تو سحری تک پہنچ سکتے ہو''۔ بوڑھے نے کہا… ''یہ گائوں موصل کا ہی ہے''۔''
اگر تمہارے پاس جگہ ہو تو کیا ہم رات تمہارے ہاں گزار سکتے ہیں؟'' سیف الدین نے پوچھا۔''
جگہ دل میں ہوا کرتی ہے''۔ بوڑھے نے جواب دیا۔ ''گھوڑوں سے اترو اور اندر چلو''۔''
٭ ٭ ٭
ایک کمرے میں تینوں مشعل کی روشنی میں بیٹھے تو بوڑھے نے ان کے لباس غور سے دیکھے۔
ہمیں پہچاننے کی کوشش کررہے ہو؟'' سیف الدین نے مسکرا کر پوچھا۔''
میں دیکھتا ہوں کہ تم سپاہی نہیں ہو؟'' بوڑھے نے کہا… ''تمہارا رتبہ ساالری تک ہوسکتا ہے''۔''
یہ والئی موصل سیف الدین غازی ہیں''۔ نائب ساالر نے کہا… ''تم نے کسی معمولی آدمی کو پناہ نہیں دی ،تمہیں اس ''
کا انعام ملے گا۔ میں نائب ساالر ہوں اور یہ کمان دار ہیں''۔
ایک بات غور سے سن لو میرے بزرگ!'' سیف الدین نے کہا… ''ہوسکتا ہے ہمیں تمہارے گھر زیادہ دن رکنا پڑے۔ ہم ''
دن کے وقت باہر نہیں نکلیں گے ،کسی کو پتہ نہ چلے کہ ہم یہاں ہیں۔ اگر کسی کو پتہ چل گیا تو تمہیں سزا ملے گی اور
اگر تم نے یہ راز چھپائے رکھا تو انعام ملے گا جو مانگو گے ،ملے گا''۔
میں نے والئی موصل کو پناہ نہیں دی''۔ بوڑھے نے کہا… ''آپ بھولے بھٹکے ،مصیبت کے مارے میرے ہاں آئے ہیں'' ،
جتنے دن رہیں گے ،خدمت کروں گا۔ اگر آپ چھپ کر رہنے کے خواہش مند ہیں تو چھپائے رکھوں گا اور مجھے آپ کے
ساتھ اس لیے بھی دلچسپی ہے کہ میرا بیٹا آپ کی فوج میں سپاہی ہے''۔
اگر آپ اسے فوج سے سبکدوش کردیں تو میرے لیے یہ بہت بڑا انعام ہوگا''۔ بوڑھے نے کہا۔''
ہاں'' ۔ سیف الدین نے کہا… ''ہم اسے فوج سے سبکدوش کردیں گے ،ہر باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بیٹا زندہ ''
رہے''۔
میں نے اس کی زندگی کی آرزو کبھی نہیں کی''۔ بوڑھے نے کہا… ''میں نے اسے اپنی قوم کی فوج میں بھیج کر خدا ''
کے سپرد کردیا تھا۔ میں بھی سپاہی تھا۔ آپ ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے جب میں فوج میں بھرتی ہوا تھا۔ اللہ آپ کے والد
مرحوم قطب الدین کو جنت عطا فرمائے۔ میں ان کے دور میں سپاہی تھا۔ ہم نے کفار کے خالف معرکے لڑے ہیں مگر میرے
بیٹے کو آپ اپنے بھائیوں کے خالف لڑانے لے گئے ہیں۔ میں اس کی شہادت کا آرزو مند تھا ،موت کا نہیں''۔
صالح الدین ایوبی نام کا مسلمان ہے''۔ سیف الدین نے کہا… ''اس کے خالف جنگ جائز ہے ،بلکہ فرض ہے''۔''
محترم بزرگ!'' نائب ساالر نے کہا… ''ان باتوں کو آپ نہیں سمجھ سکتے ،ہم بہتر جانتے ہیں کہ کون مسلمان اور کون''
کافر ہے''۔
میرے بیٹو!'' بوڑھے نے کہا… ''عبرت حاصل کرو ،میری عمر پچھتر سال ہوگئی ہے۔ میرا باپ نوے برس کی عمر میں ''
مرا تھا اور اس کا باپ پچاس برس کی عمر میں میدان جنگ میں شہید ہوا تھا۔ دادا نے اپنے وقتوں کے قصے کہانیاں میرے
دعوی کرسکتا ہوں کہ جو میں جانتا
باپ کو سنائے تھے۔ میرے باپ نے وہ میرے سینے میں ڈال دئیے تھے۔ اس طرح میں
ٰ
ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ بادشاہی کی ہوس نے جسے بھی بھائی سے لڑایا وہ ایک نہ ایک دن بھاگ کر کسی غریب کے
جھونپڑے میں جا چھپا۔ جو تم سے پہلے گزر گئے ہیں ان کا بھی یہی انجام ہوا تھا۔ تمہاری تین فوجوں کو صالح الدین
ایوبی کی ایک فوج نے پسپا کیا ہے اور جس حالت میں پسپا کیا ہے وہ دو دنوں سے دیکھ رہا ہوں۔ تمہارے ساتھ دس فوجیں
ہوتیں تو وہ بھی اسی طرح بھاگتیں جو حق پر ہوتے ہیں وہ فتح حاصل کرتے ہیں اور جب انہیں شکست ہوتی ہے تو وہ
بھاگتے نہیں ،ان کی الشیں میدان جنگ سے اٹھائی جاتی ہیں۔ وہ چھپتے نہیں''۔
تم صالح الدین ایوبی کے حامی معلوم ہوتے ہو''۔ سیف الدین نے ایسے لہجے میں کہا جس میں غصے کی جھلک تھی۔ ''
''ہمیں تم پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے''۔
میں آپ کا حامی ہوں''۔ بوڑھے نے کہا… ''میں اسالم کا حامی ہوں۔ میں اپنے تجربے کی روشنی میں آپ کو یہ بتانا ''
چاہتا ہوں کہ آپ نے اپنے بھائیوں کے دشمن کو دوست سمجھا اور یہ نہ سمجھ سکے کہ وہ آپ کے مذہب کا دشمن ہے۔
آپ کی شکست کا سبب یہی ہے۔ آپ مجھ پر بھروسہ کریں اگر صالح الدین ایوبی کی فوج یہاں اچانک آگئی تو آپ کو
چھپائے رکھوں گا ،دھوکہ نہیں دو گا''۔
اتنے میں ایک جوان اور خوبصورت لڑکی کھانا لے کر کمرے میں آئی۔ اس کے پیچھے ایک جوان عورت آئی۔ اس کے ہاتھ
میں بھی کھانا تھا۔ سیف الدین کی نظرین لڑکی پر جم گئیں۔ وہ کھانا رکھ کر چلی گئیں تو سیف الدین نے بوڑھے سے
پوچھا کہ یہ کون ہیں؟
چھوٹی میری بیٹی ہے''۔ بوڑھے نے جواب دیا… ''اور بڑی میری بہو۔ میرے اس بیٹے کی بیوی جو آپ کی فوج میں ''
ہے۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میری بہو بیوہ ہوگئی ہے''۔
اگر تمہارا بیٹا مارا گیا تو میں تمہیں بے انداز رقم دوں گا''۔ سیف الدین نے کہا… ''اور اپنی بیٹی کے متعلق تمہیں ''
کوئی فکر نہیں کرنا چاہیے۔ یہ کسی جھونپڑے میں کسی سپاہی کی دلہن بن کر نہیں جائے گی۔ ہم نے اسے اپنی زوجیت کے
لیے پسند کرلیا ہے''۔
میں نے نہ اپنا بیٹا بیچا ہے ،نہ بیٹی کو بیچوں گا''۔ بوڑھے نے کہا… ''جھونپڑے میں پل کر جوان ہونے والی بیٹی ''
کسی سپاہی کے جھونپڑے میں ہی اچھی لگتی ہے۔ میں آپ سے ایک بار پھر درخواست کرتا ہوں کہ مجھے اللچ نہ دیں۔ آپ
میرے مہمان ہیں۔ میزبانی کا ہر فرض ادا کروں گا''۔
تم سو جائو''۔ سیف الدین نے بوڑھے سے کہا… ''ہمیں تم پر بھروسہ ہے اور خوشی ہے کہ ہماری ریاست میں تم ''
جیسے صاف گو اور بااصول بزرگ موجود ہیں''۔
بوڑھا چال گیا تو سیف الدین نے اپنے ساتھیوں سے کہا… ''اس قسم کے انسان دھوکہ نہیں دیا کرتے… تم نے اس کی بیٹی
''کو غور سے دیکھا تھا؟
اچھا موتی ہے''۔ نائب ساالر نے کہا۔''
حاالت ذرا بہتر ہولیں تو یہ موتی اپنی جھولی میں ہوگا''۔ سیف الدین نے مسکرا کر کہا ،پھر چونک کر اپنے نائب ساالر ''
سے کہنے لگا… '' تم موصل کی خبر لو ،فوج کو یکجا کرو ،صالح الدین ایوبی کی سرگرمیاں بھانپو اور مجھے بہت جلدی بتائو
کے میں موصل آجائوں یا کچھ دیر رکا رہوں… اور تم…'' اس نے کمان دار سے کہا… ''حلب والوں کو بتا دو کہ میں کہاں
ہوں۔ خود جائو یا کسی کو بھیجو''۔
دونوں روانہ ہوگئے۔ سیف الدین جو شراب میں بدمست ہوکر حسین سے حسین تر لڑکیوں سے دل بہال کر محل میں سونے کا
عادی تھا ،ایک کچے سے مکان کے فرش پر سوگیا۔
٭ ٭ ٭
اس سے ایک روز پہلے کا واقعہ ہے کہ میدان جنگ سے ایک سپاہی بھاگا ہوا موصل کی طرف جارہا تھا۔ وہ گھوڑا دوڑاتا تھا،
رکتا تھا اور آہستہ آہستہ چالنے لگتا تھا۔ کبھی گھوڑا روک کر گھبراہٹ کے عالم میں ادھر ادھر دیکھتا تھا۔ وہ عام راستہ سے
کچھ ہٹ کر جارہا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ اس پر خوف طاری ہے اور اس کا ذہن اس کے قابو میں نہیں۔ ایک جگہ اس نے
گھوڑا روکا ،اترا اور قبلہ رو ہوکر نماز پڑھنے لگا۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو زاروقطار رو پڑا ،وہاں سے وہ اٹھا نہیں۔ سر
ہاتھوں میں لے کر بیٹھا رہا۔
یہ فوجیں جب سلطان ایوبی سے شکست کھا کر بکھری اور پسپا ہوئی تھیں ،سلطان ایوبی کے کئی ایک جاسوس ان میں
شامل ہوگئے تھے۔ یہ سلطان ایوبی کی انٹیلی جنس کا طریقہ تھا کہ دشمن جب پسپا ہوتا تھا تو کچھ جاسوس بھاگے ہوئے
سپاہیوں یا جنگ کی زد میں آئے ہوئے گائوں کے مہاجرین کے بہروپ میں دشمن کے عالقے میں چلے جاتے اور دشمن کی
تنظیم نو ،عزائم اور دیگر کوائف دیکھ کر اطالعیں فراہم کرتے تھے۔ دمشق سے جب الملک الصالح اپنی فوج کے ساتھ بھاگا تھا
تو بھی جاسوسوں کی خاصی تعداد فوج اور بھاگے ہوئے شہریوں کے ساتھ چلی گئی تھی۔ جیسا کہ پہلے وضاحت سے بیان کیا
جاچکا ہے کہ سلطان ایوبی آدھی جنگ جاسوسی کے نظام سے جیت لیا کرتا تھا۔ جاسوسی کے لیے جن آدمیوں کو منتخب
کیا جاتا ،وہ غیرمعمولی طور پر ذہین ،ٹھنڈے مزاج والے ،فیصلے کی اہلیت اور خوداعتمادی رکھنے والے ،لڑاکے اور پھرتیلے ہوتے
تھے۔
اپریل ١١٧٥ء میں سلطان ایوبی نے اپنے مسلمان دشمنوں کی متحدہ فوج کو شکست دی تو اس کی انٹیلی جنس کے سربراہ،
حسن بن عبداللہ نے ان جاسوسوں کو جو اس کام کے لیے تربیت یافتہ تھے ،دشمن کی بکھری ہوئی فوج میں شامل ہوکر
حلب ،موصل اور حرن تک جانے اور دشمن کے آئندہ عزائم معلوم کرنے کو بھیج دیا۔ ان میں بعض دشمن کی فوج کے لباس
میں تھے اور بعض دیہاتی لباس میں۔ ان کا جانا بہت ہی ضروری تھا ،کیونکہ یہ خطرہ ہر لمحہ موجود تھا کہ دشمن تنظیم نو
( ری گروپنگ) کرکے جوابی حملہ کرے گا۔ سلطان ایوبی نے دشمن کو جو نقصان پہنچایا تھا ،اس سے اسے اندازہ تھا کہ
دشمن ری گروپنگ میں خاصے دن صرف کرے گا۔ دشمن کی تین فوجیں تھیں۔ سلطان ایوبی کو یہ بھی معلوم تھا کہ اس کے
تینوں دشمن دلی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ نہیں۔ تینوں میں سے ہر ایک کی خواہش یہ تھی کہ وہ سلطان ایوبی کو
شکست دے کر سلطنت اسالمیہ کو مختار کل اور شہنشاہ بن جائے۔ وہ ایک دوسرے کے بھی خالف تھے مگرفی الحال صورت
یہ تھی کہ وہ سلطان ایوبی کو اپنا مشترک دسمن سمجھتے تھے۔ اس لیے یہ امکان موجود تھا کہ وہ تینوں فوجوں کو ایک
فوج کی صورت میں منظم کرلیں گے اور جوابی حملہ کریں گے۔
سلطان ایوبی یہ بھی جانتا تھا کہ عیاشیوں کے دلدادہ میدان جنگ میں نہیں ٹھہر سکتے ،لیکن اسے یہ بھی معلوم تھا کہ اس
کے دشمنوں کو صلیبیوں کی مدد اور پشت پناہی حاصل ہے اور اس کے پاس صلیبی مشیر بھی موجود ہیں۔ اس کے عالوہ
مسلمان ساالروں میں دو تین ایسے تھے جو قیادت کی اہلیت رکھتے تھے۔ ان میں مظفر الدین ابن زین الدین خاص طور پر
قابل ذکر تھا۔ وہ سلطان ایوبی کی فوج میں ساالر رہ چکا تھا ،اس لیے سلطان ایوبی کے دائو وپیچ کو خوب سمجھتا تھا۔
صلیبی مشیروں اور مظفر الدین جیسے ساالروں نے سلطان ایوبی کو بہت چوکس کردیا تھا۔
اسے جو عنصر زیادہ پریشان کررہا تھا وہ اس کی اپنی فوج کی کیفیت تھی جو تسلی بخش کہالئی جاسکتی تھی لیکن یہ
خطرہ تھا کہ وہ فوری طور پر دوسری جنگ نہیں لڑ سکے گا۔ جانی نقصان کم نہ تھا۔ دشمن کو شکست تو دے دی گئی تھی
مگر کچھ قیمت بھی دینی پڑی تھی جو تھوڑی نہیں تھی۔ سلطان ایوبی کے لیے ایک مشکل یہ بھی تھی کہ وہ اپنے مستقر
سے دور تھا۔ رسد اس کے ساتھ تھی لیکن طویل جنگ کی صورت میں رسد کی کیفیت مخدوش ہوسکتی تھی۔ اس نے
قریبی آبادیوں سے بھرتی شروع کرادی تھی۔ لوگ بھرتی ہورہے تھے۔ ان میں زیادہ تر تیغ زنی ،تیر اندازی اور گھوڑ سواری
سے واقف تھے لیکن فوج کی صورت میں لڑانے کے لیے ٹریننگ کی ضرورت تھی۔ ٹریننگ شروع کردی گئی تھی اور اس کے
ساتھ ہی سلطان ایوبی نے پیش قدمی جاری رکھی تاکہ کام کے عالقوں پر قبضہ کرلیا جائے۔ اسے بعض مقامات مزاحمت کے
بغیر مل گئے اور وہ ایسی جگہ پہنچ گیا جہاں دور دور تک سبزہ ہی سبزہ تھا اور پانی کی افراط تھی۔ فوج اور جانور تھک
کر چور ہوچکے تھے۔ جانوروں کی یہ حالت تھی کہ اتنا زیادہ سبزہ اور پانی دیکھ کر وہ بھول ہی گئے کہ ان کا استعمال اور
فرائض کیا ہیں۔
سلطان ایوبی نے وہیں خیمہ زن ہونے کا حکم دیا۔ دیکھ بھال کے دستے موزوں جگہوں پر بھیج دئیے۔ جاسوس پہلے ہی چلے
گئے تھے۔ اسے حکم دینے کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ یہ نظام ایک مشین کی طرح از خود چلتا تھا۔ یہ مقام جہاں سلطان
ایوبی نے قیام کیا تھا ترکمان کے نام سے مشہور تھا۔ اس کا پورا نام حباب الترکمان (ترکمان کا کنواں) تھا۔
بھرتی اور تیز کردو''۔ سلطان ایوبی نے اپنی مرکزی کمان کی پہلی کانفرنس میں کہا …… ''اجتماعی طورپر لڑنے کی ''
تربیت اور زیادہ تیز کردو۔ خدا نے تم پر کرم کیا ہے کہ تمہیں بڑا ہی احمق دشمن دیا ہے اگر ان لوگوں میں کچھ سوجھ
بوجھ ہوتی تو وہ پسپا ہوکر اس جگہ اکٹھے ہوجاتے۔ جنگی جانوروں اور سپاہیوں کے لیے یہ مقام جنت سے کم نہیں۔ یہاں
تمہارے جانور اتنا چارہ کھا لیں گے کہ دس روز بغیر چارے کے لڑ سکیں گے… میرے دوستو! دشمن کو حقیر نہ سمجھنا۔ فوج
کو آرام دو لیکن تیاری کی حالت میں رہنا۔ طبیبوں سے کہو کہ راتوں کو نہ سوئیں ،زخمیوں کو بہت جلد صحت یاب کریں
اور بیماروں کو دن رات نگرانی میں رکھیں… اور یاد رکھو ،ہمارا مقصد اپنے بھائیوں کو قتل کرنا یا انہیں برا بھال کہنا اور
دھتکارنا نہیں۔ ہماری منزل فلسطین ہے اگر آپس میں دست وگریبان ہوتے رہے تو صلیبی اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے۔
نظر فلسطین پر رکھو اور راستے میں جو رکاوٹ آئے ،اسے روندتے چلے جائو''۔
اسی مقام پر سلطان صالح الدین ایوبی کو الملک الصالح کی طرف سے صلح کا پیغام مال تھا جس کا تفصیلی تذکرہ پچھلی
قسط میں کیا گیا ہے۔ سلطان ایوبی نے اپنی شرائط پر صلح نامہ قبول کرلیا تھا۔ اس سے اسے یہ اطمینان ہوگیا تھا کہ اس
کے دشمن نے ہتھیار ڈال دئیے ہیں۔ سلطان ایوبی نے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ اپنے بھائیوں کو دشمن نہیں سمجھتا عالی
ظرفی کا یہ مظاہرہ کیا تھا کہ اس نے دشمن کے جو جنگی قیدی پکڑے تھے ،انہیں مختصر سا وعظ دے کر رہا کردیا تھا۔
الملک الصالح کے صلح نامے پر اپنی مہر ثبت کرنے سے پہلے بھی اس نے کوئی کڑی شرط نہ رکھی کیونکہ وہ اپنے مسلمان
بھائیوں کو ذہن نشین کرانا چاہتا تھا کہ تمہارا دشمن میں نہیں ہوں ،صلیبی ہیں۔
اس پیغام نے اسے جو اطمینان دیا تھا ،وہ تین چار دنوں سے زیادہ نہ رہا کیونکہ اسے الملک الصالح کا ایک اور پیغام مال۔
اس نے کھول کر دیکھا تو یہ اس کے نام نہیں بلکہ سیف الدین غازی کے نام تھا جو غلطی سے قاصد سلطان ایوبی کے پاس
لے آیا تھا۔ ( پچھلی قسط میں اس پیغام کا بھی تفصیلی ذکر کیا گیا ہے) اس پیغام سے یہ ظاہر ہوا کہ سیف الدین غازی
( سلطان ایوبی کا دشمن نمبر دو) نے الملک الصالح کو لکھا تھا کہ اس نے سلطان ایوبی کے ساتھ صلح کرکے غلطی کی ہے
اور اپنے اتحادیوں کو دھوکہ دیا ہے۔ سیف الدین کے اس پیغام کے جواب میں الملک الصالح نے اسے لکھا تھا کہ تم لوگ بے
فکر رہو ،میں نے صالح الدین ایوبی کو صلح کا دھوکہ دیا ہے تاکہ وہ اس حالت میں ہم پر نہ آدھمکے ،جبکہ ہماری فوجیں
فوری طور پر مقابلے کے لیے تیار نہی۔ میں جانتا ہوں کہ صالح الدین ایوبی کی نظر حلب پر ہے۔ اس کی فوج بھی ابھی
حملے کے لیے تیار نہیں۔ میں نے وقت حاصل کرنے کے لیے اسے صلح کا جھانسہ دیا ہے۔ تم لوگ اپنی اپنی فوج کو منظم
کرو۔ صلیبی مشیر میری فوج کو تیزی سے منظم اور تیار کررہے ہیں۔ تم مجھ سے اتفاق کرو گے کہ ہم ابھی لڑنے کے قابل
نہیں۔
اس سے پہلے بتایا جاچکا ہے کہ الملک الصالح نورالدین زنگی کا بیٹا تھا جس کی عمر صرف تیرہ سال تھی۔ نورالدین زنگی
فوت ہوگیا تو انتظامیہ اور فوج کے مفاد پرست حکام باال نے الملک الصالح کو نورالدین زنگی کا جانشین بنا کر اسے سلطان کا
خطاب دیا ،پھر اسے اپنے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنا لیا۔ سلطنت اسالمیہ بکھرنے لگی۔ سلطان ایوبی مصر سے دمشق گیا۔
الملک الصالح اور اس کے حواری دمشق کی فوج کے کچھ حصے بھاگ کر حلب چلے گئے اور اس شہر کو دارالسلطنت بنا لیا۔
الملک الصالح کو حواری استعمال کررہے تھے۔ سلطان ایوبی کو صلح کا دھوکہ انہی لوگوں نے صلیبی مشیروں کے مشورے سے
دیا تھا مگر پیغام سیف الدین کے پاس جانے کے بجائے سلطان صالح الدین کے ہاتھ آگیا۔ یہ اس دور کی تاریخ کا ایک مشہور
واقعہ ہے ،بعض مورخین نے لکھا ہے کہ قاصد یہ پیغام غلطی سے سلطان ایوبی کے پاس لے گیا تھا لیکن مسلمان مورخین نے
جن میں سراج الدین قابل ذکر ہے ،وثوق سے لکھا ہے کہ قاصد سلطان صالح الدین ایوبی کا جاسوس تھا۔ سلطان ایوبی کو
اس پیغام نے پریشان کردیا لیکن اس نے پریشانی سے متاثر ہوکر فوری طور پر کوچ اور حملے کا حکم نہ دیا۔ دشمن کی طرح
اسے بھی اپنی فوج کی کیفیت کو بہتر بنانے کی ضرورت تھی۔ اس کے پیش نظر سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ اس کا دشمن
اپنے مستقر کے قریب تھا اور وہ خود مستقر سے بہت دور۔ رسد کا راستہ طویل اور غیر محفوظ ہوگیا تھا۔ اس کے عالوہ
اندھا دھند پیش قدمی کا قائل نہ تھا۔ جاسوسوں کی مستند رپورٹوں کے بغیر وہ آگے نہیں بڑھتا تھا۔ اس کے بجائے وہ دشمن
کو آگے آنے کی مہلت دیتا تھا۔ چنانچہ اس نے حسن بن عبداللہ سے کہا کہ وہ کچھ اور جاسوس دشمن کے عالقے میں
بھیج دے جو بہت جلدی معلومات حاصل کرکے بھیجیں۔ اس کے عالوہ اس نے کچھ اور ضروری انتظامات کیے۔ اس نے اپنی
مرکزی کمان سے کہا کہ وہ حملہ نہیں کرے گا بلکہ دشمن کو حملے کی مہلت دے گا تاکہ وہ اپنے اڈے سے دور نکل آئے۔
ان ہدایات کے بعد وہ دور دور کی زمین کا جائزہ لینے لگا جہاں اسے دشمن کو لڑانا تھا۔
٭ ٭ ٭
ذکر اس سپاہی کا ہورہا تھا جو میدان جنگ سے بھاگ کر موصل کی سمت جارہا تھا۔ وہ موصل یعنی سیف الدین غازی کی
فوج کا سپاہی تھا۔ اس فوج کا بہت سارا حصہ تو اجتماعی طور پر پسپا ہوا تھا جو سپاہی چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں تھے وہ
بکھر کر اکیلے اکیلے بھاگے تھے۔ یہ سپاہی اکیلے بھاگنے والوں میں سے تھا۔ وہ پریشانی کے عالم میں تھا۔ اس نے ایک
جگہ گھوڑا روکا ،نماز پڑھی اور دعا کرتے رو پڑا۔ پھر وہ اٹھا نہیں ،سر ہاتھوں میں لے کر بیٹھا رہا۔ ایک گھوڑ سوار اس کے
قریب جا رکا۔ سپاہی عالم خیال میں ایسا محو تھا کہ گھوڑے کے قدموں کی آہٹ بھی اسے بیدار نہ کرسکی۔ سوار گھوڑے
سے اترا اور سپاہی کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ تب اس نے بدک کر اوپر دیکھا۔
یہ تو میں بتا سکتا ہوں کہ تم میدان جنگ سے پسپا ہوکر آئے ہو''۔ سوار نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔ ''لیکن تم''
''اس طرح کیوں بیٹھے ہو؟ اگر زخمی ہو تو میں کچھ مدد کروں؟
میرے جسم پر کوئی زخم نہیں''۔ سپاہی نے جواب دیا اور دل پر ہاتھ رکھ کر کہا… ''میرے دل میں گہرا زخم آیا ہے''۔''
یہ گھوڑ سوار جو اس کے پاس آبیٹھا تھا ،سلطان ایوبی کے ان جاسوسوں میں سے تھا جنہیں دشمن کی پسپائی سے فائدہ
اٹھاتے ہوئے دشمن کے عالقوں میں جانے کو بھیجا گیا تھا۔ اس کا نام داود تھا۔ ٹرینگ کے مطابق وہ اس سپاہی کا غور سے
جائزہ لے رہا تھا۔ اسے وہ استعمال کرسکتا تھا۔ اپنی ذہانت سے وہ سمجھ گیا کہ یہ سپاہی جذباتی لحاظ سے اکھڑا ہوا ہے
اور یہ شکست کی دہشت کا اثر ہے۔ اس نے سپاہی کے ساتھ ایسی باتیں کیں کہ سپاہی کے دل میں جو غبار تھا وہ باہر
آگیا۔
سپاہ گری میرا خاندانی پیشہ ہے''۔ سپاہی نے کہا… ''میرا باپ سپاہی تھا ،دادا بھی سپاہی تھا۔ سپاہ گری ہمارا ذریعہ ''
معاش بھی ہے اور ہماری روح کی غذا بھی۔ میں اللہ کا سپاہی ہوں۔ اپنے مذہب اور اپنی قوم کے لیے لڑتا ہوں۔ مجھے
معلوم تھا کہ صلیبی ہمارے مذہب کے بدترین دشمن ہیں اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ہمارا قبلہ اول صلیبیوں کے قبضے
میں ہے۔ میرے باپ نے مجھے دوستی اور دشمنی کی تاریخ زبانی سنائی تھی۔ میں اسالمی جذبے سے فوج میں شامل ہوا
تھا۔ تھوڑا عرصہ گزرا ہمیں بتایا جانے لگا کہ صالح الدین ایوبی صلیبیوں کا دوست ہے اور بدکار آدمی ہے۔ اس سے پہلے ہم
سنتے تھے کہ صالح الدین ایوبی صلیبیوں کے خالف لڑ رہا ہے اور صلیبی اس سے ڈرتے ہیں اور وہ صلیبیوں سے قبلہ اول
…''آزاد کرائے گا۔ ہماری فوج کے امام نے بھی ہمیں صالح الدین ایوبی کے خالف بہت بری بری باتیں بتائیں
ہم اپنی ریاست کے والئی سیف الدین غازی کو سچا سمجھتے رہے۔ ایک روز ہماری فوج کو کوچ کا حکم مال۔ ہم ادھر آئے''
تو جنگ ہوئی۔ جنگ کے دوران ہمیں پتہ چال کہ ہم مسلمان فوج کے خالف لڑ رہے ہیں۔ یہ صالح الدین ایوبی کی فوج تھی۔
اس فوج کے سپاہی نعرے لگا رہے تھے …… حق کے خالف نہ لڑو مسلمانو۔ تمہارے دشمن صلیبی ہیں ،ہم نہیں ،ہمارا ساتھ
دو ،قبلہ اول کو آزاد کرائو ،عیاش حکمرانوں کے لیے نہ لڑو ،میں نے اس فوج کے جھنڈے دیکھے جن پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا
تھا… میرے دوست! میں نے ان سپاہیوں کو جس طرح لڑتے دیکھا ،اس سے صاف پتہ چلتا تھا کہ اللہ ان کے ساتھ ہے،
…''ہمارے ساتھ نہیں۔ ہمیں کچھ پتہ نہیں چلتا تھا کہ تیر کدھر سے آرہے ہیں اور شعلے کہاں سے اٹھ رہے ہیں
ایک جگہ چٹان پھٹی ہوئی تھی۔ میرے دل پر موت کا نہیں ،خدا کا خوف ایسا طاری ہوا کہ میرے بازوئوں میں طاقت نہ ''
رہی کہ تلوار کا وزن اٹھا سکتے ۔ گھوڑے کی باگیں کھینچنے کی ہمت نہ رہی۔ میں نے گھوڑا پھٹی ہوئی چٹان کے اندر
کرلیا۔ میں بزدل نہیں ہوں مگر میرا سارا جسم کانپ رہا تھا۔ باہر تلواریں ٹکرا رہی تھیں ،گھوڑوں کا شور تھا اور مجھے نعرے
سنائی دے رہے تھے… رمضان شریف میں بھائیوں کے خالف نہ لڑو''… مجھے یاد آیا کہ ہمیں حکم مال تھا کہ جنگ میں
روزے معاف ہوتے ہیں۔ مجھے پتہ چال کہ صالح الدین ایوبی کے سپاہی روزے سے تھے۔ میں اس وقت تک ان میں سے تین
سپاہیوں کو قتل کرچکا تھا۔ ان کا خون میری تلوار پر جم گیا تھا۔ سپاہی اپنی تلوار پر خون دیکھ کر خوش ہوا کرتا ہے مگر
میں اپنی تلوار کو دیکھنے سے گھبرا رہا تھا کیونکہ میری تلوار کے ساتھ میرے بھائیوں کا خون تھا۔
مجھ میں اب وہاں سے باہر نکلنے اور لڑنے کی ہمت نہیں تھی۔ میں وہیں دبکا رہا۔ صالح الدین ایوبی کے ایک سوار نے''
مجھے دیکھ لیا اور مجھے للکارا۔ اس نے برچھی مجھ پر سیدھی کی۔ میں نے خون آلود تلوار اس کے گھوڑے کے قدموں میں
پھینک دی اور کہا… …''میں تمہارا مسلمان بھائی ہوں ،نہیں لڑوں گا''… …گمسان کی جنگ کچھ دور تھی۔ یہ سوار شاید
چھاپہ مار تھا اور چھپے ہوئے سپاہیوں کو ڈھونڈ رہا تھا۔ وہ آگے آگیا اور مجھ سے پوچھا… …''تمہیں احساس ہوگیا ہے کہ تم
خدا کے سچے مسلمانوں کے خالف لڑ رہے ہو؟''… …میں نے اپنے گناہ کا اقرار کیا اور کہا کہ یہ گناہ مجھ سے کرایا گیا
ہے۔ مجھے گمراہ کیا گیا ہے۔ اس نے مجھ سے برچھی لے لی۔ تلوار تو میں پہلے ہی پھینک چکا تھا۔ اس نے ایک طرف
اشارہ کرکے کہا… …''خدا سے اپنے گناہ کی بخشش مانگو اور ادھر کو نکل جائو۔ پیچھے نہ دیکھنا۔ میں اللہ کے حکم سے
……''تمہارے جان بخشی کرتا ہوں
میری آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ وہ محفوظ راستہ تھا۔ میں میدان جنگ سے دور نکل آیا۔ رات کو میں ایک جگہ رکا ''
اور سوگیا۔ خواب میں مجھے وہ تین سپاہی نظر آئے جنہیں میں نے جنگ میں قتل کیا تھا۔ ان کے جسموں سے خون بہہ
رہا تھا۔ وہ میرے اردگرد آہستہ آہستہ گھوم رہے تھے۔ ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ وہ مجھے کچھ نہیں کہہ رہے تھے۔
خاموش تھے۔ میرے دل پر ایسا خوف طاری ہورہا تھا جس سے جسم سے جان نکلتی جارہی تھی۔ میں نے بچوں کی طرح
چیخنا شروع کردیا اور میری آنکھ کھل گئی۔ اتنی ٹھنڈی رات میں بھی میرے جسم سے پسینہ پھوٹ رہا تھا۔ خوف سے مرا
……''جارہا تھا۔ میں نفل پڑھنے لگا اور روتا رہا
میں تین چار دنوں سے بھٹک رہا ہوں۔ رات کو میں سو نہیں سکتا۔ دن کو کہیں چین نہیں آتا۔ رات کو خواب میں ان ''
تین سپاہیوں کو دیکھتا ہوں جو میری تلوار سے قتل ہوئے اور دن کے وقت ان ویرانوں میں وہ مجھے اپنے اردگرد گھومتے
محسوس ہوتے ہیں ،نظر نہیں آتے اگر وہ سوار جس نے مجھے چٹان میں چھپا ہوا دیکھ لیا تھا ،مجھے قتل کردیتا تو اچھا
ہوتا۔ اس نے میری جان بخشی کرکے مجھ پر بہت بڑا ظلم کیا ہے اگر میرے پاس تلوار ہوتی تو میں اپنے آپ کو ختم کرلیتا۔
میں نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تین مجاہدوں کو قتل کیا ہے''۔
تم زندہ رہو گے''۔ داود نے اسے کہا…… ''یہ خدا کی رضا ہے کہ تم مرو گے نہیں۔ میدان جنگ سے تم زندہ نکل آئے ''
ہو ،تمہارے پاس خودکشی کرنے کے لیے کوئی ہتھیار نہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خدا نے تم سے کوئی نیکی کا کام
کرانے کے لیے زندہ رکھا ہے۔ خدا نے تمہیں موقع دیا ہے کہ گناہ کا کفارہ ادا کردو''۔
''تم مجھے یہ بتائو کہ صالح الدین ایوبی کے متعلق مجھے جو بری بری باتیں بتائی گئی تھیں وہ سچی ہیں یا جھوٹی؟''
بالکل جھوٹی'' ۔ داود نے جواب دیا …… ''بات صرف یہ ہے کہ صالح الدین ایوبی صلیبیوں کو یہاں سے نکال کر خدا کی''
حکمرانی قائم کرنا چاہتا ہے اور سیف الدین اور اس کے دوست اپنی اپنی بادشاہی کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے صلیب کے
پجاریوں کے ساتھ گہری دوستی کرلی ہے اور ان کی مدد سے یہ سب صالح الدین ایوبی کے خالف لڑنے آئے تھے''… …داود
نے اسے پوری تفصیل سے بتایا کہ صالح الدین ایوبی کیا ہے اور کیا ارادے رکھتا ہے۔ موصل کے حکمران سیف الدین کے
متعلق اسے بتایا کہ وہ اتنا عیاش ہے کہ میدان جنگ میں بھی عیاشی کا سامان ساتھ لے گیا تھا۔
مجھے یہ بتائو کہ میں صالح الدین ایوبی کے ان تین سپاہیوں کو خون کا خراج کس طرح ادا کرسکتا ہوں''۔ سپاہی نے ''
داود سے پوچھا…… ''اگر یہ بوجھ میرے دل سے نہ اترا تو میں بہت بری موت مروں گا۔ اگر مجھے کہو تو میں والئی موصل
سیف الدین کو قتل کردوں''۔
''ایسی بھی کوئی ضرورت نہیں''۔ داود نے کہا…… ''تم پسند کرو گے کہ میں تمہارے ساتھ چلوں؟''
تم کون ہو؟'' سپاہی نے پوچھا…… ''میں نے یہ تو تم سے پوچھا ہی نہیں کہ تمہارا نام کیا ہے اور تم کہاں سے آئے ''
ہو ،کہاں جارہے ہو؟…… میرا نام حارث ہے''۔
میں موصل جارہا ہوں''۔ داود نے جھوٹ بوال…… ''وہیں کا رہنے واال ہوں۔ جنگ کی وجہ سے میں راستے سے دور جارہا''
ہوں اگر تمہارا گائوں راستے میں پڑتا ہے تو وہاں رکوں گا''۔
میرا گائوں دور نہیں''۔ سپاہی حارث نے کہا…… ''تم میرے گھر نہیں رکو گے تو زبردستی روکوں گا۔ تم نے میری زخمی ''
روح کو سکون دیا ہے۔ میں نے اتنی اچھی باتیں کبھی نہیں سنی تھیں۔ میں گھر ہی جائوں گا۔ موصل کی فوج میں اب
''کبھی نہیں جائوں گا۔ مجھے امید ہے کہ تم مجھے نجات کا راستہ دکھا سکو گے
والئی موصل سیف الدین غازی بوڑھے کے کچے سے مکان میں فرش پر گہری نیند سویا ہوا تھا۔ وہ کئی راتیں جاگا تھا۔ آج
رات وہ اتنی گہری نیند سویا کہ مکان کے باہر والے دروازے پر دستک ہوئی تو اس کی آنکھ نہ کھلی۔ رات آدھی گزر گئی
تھی۔ سفید ریش بوڑھے کی آنکھ کھل گئی۔ اس کی بیٹی اور بہو بھی جاگ اٹھیں۔ بوڑھے نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا……
'' معلوم ہوتا ہے کہ صالح الدین ایوبی کا بھگایا ہوا موصل کا کوئی اور کمان دار یا سپاہی آیا ہے۔ راستے میں گھر نہیں ہونا
چاہیے''۔
اس نے دروازہ کھوال تو باہر دو گھوڑے کھڑے تھے۔ سوار اتر آئے تھے۔ حارث نے سالم کیا تو بوڑھا اس کے ساتھ لپٹ گیا
مگر اس نے محبت کی بے تابی کا اظہار الفاظ میں نہ کیا۔ ''میرے عزیز بیٹے! مجھے خوشی ہے کہ حرام موت سے بچ
آئے ہو ،ورنہ جب تک میں زندہ رہتا لوگوں سے یہی سنتا رہتا کہ تمہارا بیٹا اسالمی فوج کے خالف لڑا تھا''…… اس نے
اپنے بیٹے کے ساتھ داود کے ساتھ ہاتھ مالیا۔
اعلی
داود کچھ کہنے لگا تھا۔ بوڑھے نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی ،پھر سرگوشی میں کہا…… ''تمہارا بادشاہ اور ساالر
ٰ
سیف الدین غازی اندر سویا ہوا ہے۔ گھوڑے خاموشی سے دوسری طرف لے جاکر باندھ دو اور اندر آجائو''۔
''سیف الدین غازی؟'' حارث نے حیرت سے کہا… …''یہاں کیسے آگیا ہے؟''
شکست کھا کر''۔ بوڑھے نے سرگوشیوں میں جواب دیا…… ''اندر چلو''۔''
گھوڑے دوسری طرف سے اندر لے جاکر باندھ دئیے گئے۔ داود اور حارث کو بوڑھا اندر لے گیا۔ حارث ہی اس کا وہ سپاہی بیٹا
تھا جس کے متعلق اس نے سیف الدین کو بتایا تھا۔ حارث داود کو اسی کمرے میں لے گیا جہاں اس کی بیوی اور جوان بہن
تھی۔ اس نے باپ سے کہا …… ''اس کا نام داود ہے۔ اس سے بہتر اور کوئی دوست نہیں ہوسکتا''۔
کیا تم بھی بھاگ کر آئے ہو؟'' بوڑھے نے داود سے پوچھا۔''
میں فوجی نہیں ہوں''۔ داود نے جواب دیا …… ''موصل جارہا ہوں ،جنگ نے مجھے راستے سے ہٹا دیا تھا۔ حارث مل ''
گیا تو میں اس کے ساتھ چل پڑا''۔
مجھے یہ بتائو کہ والئی موصل ہمارے گھر میں کیسے آیا ہے؟'' حارث نے اپنے باپ سے پوچھا۔''
سفید ریش باپ نے اسے بتایا کہ وہ کس طرح آیا ہے۔ ''آج ہی رات آیا ہے''۔ اس نے کہا …… ''اس کے ساتھ ایک
نائب ساالر اور کمان دار تھا۔ ان دونوں کو اس نے کہیں بھیج دیا ہے۔ میرے کانوں میں اس کے یہ الفاظ پڑے تھے کہ فوج کو
یکجا کرو اور مجھے بتائو کہ میں موصل آجائوں یا ابھی چھپا رہوں… میں اس وقت دروازے کے قریب تھا''۔
ابھی تو وہ اتنا ڈرا ہوا ہے کہ مجھے کہتا تھا کہ کسی کو پتہ نہ چلنے دوں کہ یہ یہاں ہے''۔ بوڑھے نے جواب دیا… ''
…''میں اپنے تجربے کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ اس کا ارادہ صالح الدین ایوبی کے خالف لڑنے کا ضرور ہے۔ اپنے کمان دار
کو اس نے موصل کے بجائے کسی اور طرف بھیجا ہے''۔
داستان ایمان فروشوں کی ۔ 20:40
قسط نمبر۔100
راہ حق کے مسافر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کسی اور طرف بھیجا ہے''۔''میں اسے قتل کروں گا''۔ حارث نے کہا… …''اس نے مسلمان کو مسلمان کے خالف لڑایا
ہے۔ اللہ اکبر کے نعرے لگانے والوں نے ایک دوسرے کا خون بہایا ہے۔ مجھے پاگل کیا ہے''۔ وہ غصے سے بے قابو ہوکر
اٹھا۔ دیوار کے ساتھ اس کے باپ کی تلوار لٹک رہی تھی۔ وہ لے لی۔
باپ نے پیچھے سے اسے دبوچ لیا۔ داود نے اس کا بازو پکڑ لیا۔ حارث بے قابو ہوا جارہا تھا۔ باپ نے اسے کہا کہ پہلے
میری بات سن لو۔ داودنے بھی اسے روکا اور کہا کہ ایسے فیصلے کرنے سے پہلے سوچ لینا اچھا ہوتا ہے۔ ہم اسے قتل کرکے
ہی چین کا سانس لیں گے لیکن پہلے آپس میں صالح مشورہ کرلیں۔ حارث مان تو گیا لیکن پھنکار رہا تھا۔ غصے کی شدت
سے اس کی آنکھیں سرخ ہوگئی تھیں۔
اسے قتل کرنا کوئی مشکل کام نہیں''۔ بوڑھے نے اپنے بپھرے ہوئے بیٹے کو بٹھا کر کہا… …''وہ گہری نیند سویا ہوا ''
ہے۔ اسے تو میرے یہ ناتواں بازو بھی قتل کرسکتے ہیں۔ اس کی الش کو چھپا یا بھی جاسکتا ہے مگر اس کے جو دو
ساتھی چلے گئے ہیں ،وہ ہمیں چھوڑیں گے نہیں۔ وہ ہمیں شک میں پکڑ لیں گے۔ تمہاری جوان بیوی اور جوان بہن کے ساتھ
بہت برا سلوک کریں گے۔ اگر ہم انہیں بتائیں گے کہ والئی موصل چال گیا ہے تو وہ نہیں مانیں گے کیونکہ اس نے انہیں کہا
ہے کہ وہ یہیں واپس آئیں''۔
معلوم ہوتا ہے کہ آپ سیف الدین کو سچا سمجھتے ہیں''۔ حارث نے کہا… ''آپ مسلمان کے خالف مسلمان کی لڑائی ''
کو بھی جائز سمجھتے ہیں''۔
یہ بھی ایک وجہ ہے کہ میں اسے اپنے گھر میں قتل نہیں کرنا چاہتا''۔ بوڑھے نے کہا۔ ''میں نے اسے صاف الفاظ ''
میں بتادیا ہے کہ میں اسے سچا نہیں سمجھتا۔ اس نے مجھے کہا کہ تم صالح الدین ایوبی کے حامی معلوم ہوتے ہو۔ اس
نے مجھے یہ اللچ بھی دیا ہے کہ اگر تمہارا بیٹا جنگ میں مارا گیا تو اس کے عوض بہت رقم دوں گا۔ میں نے اسے کہا کہ
میں اپنے بیٹے کی شہادت کا خواہش مند ہوں ،حرام موت یا رقم کا نہیں۔ سیف الدین میرے خیاالت جان گیا ہے۔ اگر ہم نے
اسے قتل کرکے الش غائب کردی تو اس کا نائب ساالر فورا ً مجھے پکڑے گا اور کہے گا کہ تم صالح الدین ایوبی کے حامی
ہو ،اس لیے تم نے والئی موصل کو قتل کردیا ہے''۔
داود بھائی!'' حارث نے داود سے پوچھا…… ''تم بتائو میں کیا کروں۔ تم نے میری جذباتی حالت دیکھی تھی۔ تم نے کہا''
تھا کہ خدا نے مجھے گناہ کاکفارہ ادا کرنے کے لیے زندہ رکھا ہے۔ اس سے بڑھ کر نیکی کا اور کام کیا ہوسکتا ہے کہ
حکمران کو قتل کردوں جس نے ہزاروں مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کرایا ہے۔ تم دانش مند انسان ہو''۔
اس ایک آدمی کو قتل کرنے سے کچھ حاصل نہ ہوگا''۔ داود نے کہا…… ''اس کے دوست بھی ہیں جو حلب میں ہیں ''
اور حرن میں بھی۔ ان کے بہت سے ساالر ہیں اور ان کی تین فوجیں ہیں۔ اکیلے سیف الدین کے قتل سے یہ سب صالح
الدین ایوبی کے آگے ہتھیار نہیں ڈال دیں گے۔ ہتھیار ڈلوانے کا طریقہ اور ہوتا ہے۔ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان سب کو
میدان جنگ میں ایسا بے بس کردیا جائے کہ یہ ہتھیار ڈال دیں اور صالح الدین ایوبی کی شرائط ماننے پر مجبور ہوجائیں''۔
یہ کام صالح الدین ایوبی کے سوا اور کون کرسکتا ہے؟'' حارث نے کہا…… ''میرے سینے میں جو آگ بھڑک رہی ہے'' ،
''وہ کس طرح سرد ہوگی؟ مجھے خدا تین مجاہدین اسالم کا خون کیونکر بخشے گا؟
داود بہت خوش تھا کہ اسے والئی موصل یہیں مل گیا ہے۔ وہ حارث اور اس کے باپ کو یہ بتانے سے جھجک رہا تھا کہ
وہ جاسوس ہے۔ جاسوس کو جذبات میں آکر اپنا پردہ نہیں اٹھانا چاہیے مگر پردہ اپنے اوپر ڈالے رکھنے سے وہ کچھ بھی
نہیں کرسکتا تھا۔ اس نے تو یہ سوچ لیا تھا کہ سیف الدین جہاں بھی جائے گا وہ اس کا تعاقب کرے گا اور اس کی
سرگرمیوں کو غور سے دیکھے گا لیکن اتنے دن حارث کے گھر میں ٹھہرنا مشکل نظر آرہا تھا۔ اسے باپ بیٹے کے تعاون کی
ضرورت تھی۔ یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ وہ اعتماد میں لے یا نہ لے ،اس نے ان کے ساتھ اپنے انداز سے باتیں شروع
کردیں۔ اس نے دیکھا کہ حارث تو سیف الدین کو قتل کرنے پر تال ہی ہوا تھا۔ اس کا باپ بھی صالح الدین ایوبی کے اس
دشمن کا نام حقارت سے لیتا تھا۔
اگر میں آپ کو ایسا طریقہ بتائوں جس سے سیف الدین آئندہ اٹھنے کے قابل نہ رہے تو کیا آپ میرا ساتھ دیں گے؟'' ''
داود نے ان سے پوچھا۔
میرے بیٹے کی طرح تم جذبات سے نہیں سوچ رہے تو میں تمہارا ساتھ دوں گا''۔ حارث کے باپ نے کہا۔''
اور میں قتل سے ہٹ کر اور کچھ نہیں سنوں گا''۔ حارث نے کہا۔''
اگر تم اپنی عقل اور اپنے جذبات کی لگام میرے ہاتھ میں دے دو تو تمہارے ہاتھوں ایسا کام کرائوں گا جو تمہاری روح کو''
سکون اور چین سے ماال مال کردے گا''۔ داود نے دونوں کو بڑی غور سے دیکھا۔ حارث کی بیوی اور بہن ذرا الگ ہٹ کر
بیٹھی سن رہی تھیں۔ داوں نے انہیں بھی غور سے دیکھا اور کہا…… ''مجھے قرآن دو''۔
حارث کی بہن نے اٹھ کر قرآن اٹھایا۔ آنکھوں سے لگایا ،چوما اور داود کو دے دیا۔ داود نے بھی قرآن پاک کو آنکھوں سے
لگایا ،چوما اور قرآن کھوال۔ اس نے ایک جگہ انگلی رکھی اور پڑھا۔
شیطان نے ان کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور خدا کی یاد ان کے ذہنوں سے نکل گئی ہے۔ یہ جماعت شیطان کا لشکر''
ہے اور سن رکھوں کہ شیطان کا لشکر نقصان اٹھانے واال ہے جو لوگ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل وخوار ہوں گے''۔
یہ اٹھائیسویں پارے کی اٹھارہویں آیات ( سورۂ الحشر) تھیں جو قرآن کھلتے ہی سامنے آگئیں۔ دائود نے کہا…… ''یہ اللہ پاک
کا کالم ہے۔ میں نے مرضی سے یہ صفحہ نہیں کھوال۔ یہ الفاظ اپنے آپ میرے سامنے آئے ہیں۔ یہ خدا کا فرمان ہے اور یہ
خدا کی بشارت ہے۔ قرآن پاک نے ہم سب کو بتا دیا ہے کہ یہ جماعت شیطانوں کا لشکر ہے لیکن میں اپنے پیر استاد کا
سبق تمہیں پڑھانا چاہتا ہوں۔ بے شک قرآن پاک نے فرمایا ہے کہ جو لوگ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کی مخالفت کرتے ہیں ،وہ ذلیل وخوار ہوں گے لیکن وہ اس وقت تک ذلیل وخوار نہیں ہوں گے جب تک ہم کوشش کرکے ان
کی ذلت وخواری کا سامان پیدا نہیں کریں گے۔ یہ ہم سب پر فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم انہیں ذلیل وخوار کریں''۔
اس نے قرآن پاک دونوں ہاتھوں پر رکھ کر آگے کیا اور سب سے کہا…… ''سب اپنا اپنا دایاں ہاتھ خدا کے اس پاک کالم پر
رکھو اور کہو تم راز سے پردہ نہیں اٹھائو گے اور دشمن کو شکست دینے میں اپنی جانیں قربان کردو گے''۔
تعالی
سب نے جن میں دونوں خواتین بھی شامل تھیں ،قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی ہے۔ داود نے کہا…… ''خداوند
ٰ
نے قرآن پاک تمہاری زبان میں اتارا ہے۔ تم اس مقدس کتاب کا ایک ایک لفظ سمجھتے ہو اگر تم نے اس قسم سے انحراف
کیا تو اس کی سزا قرآن پاک میں لکھی ہوئی ہے۔ تم بھی اسی ذلت ورسوائی میں پھینک دئیے جائو گے جو شیطان کے
''لشکر کے مقدر میں لکھی ہوئی ہے؟
تم کون ہو؟'' بوڑھے نے حیرت زدہ آواز میں داود سے پوچھا…… ''تم کسی بہت بڑے عالم کے مرید معلوم ہوتے ہو''۔''
میرے پاس کوئی علم نہیں'' داود نے کہا…… ''میرے پاس عمل ہے۔ میں قرآن کی روشنی میں جان ہتھیلی پر رکھ کر ''
یہاں آیا ہوں۔ یہ سبق مجھے کسی عالم نہیں ،صالح الدین ایوبی نے دیا ہے۔ میں موصل کا نہیں ،دمشق کا باشندہ ہوں اور
میں سلطان ایوبی کا بھیجا ہوا جاسوس ہوں۔ یہ ہے وہ راز جس کی تم سب نے قسم کھائی ہے کہ اس سے پردہ نہیں اٹھائو
گے۔ مجھے تم سب کے تعاون کی ضرورت ہے۔ مجھے یقین دالئو کہ جو میں کہوں گا وہ کروں گے''۔
ہم قسم کھا چکے ہیں''۔ بوڑھے نے کہا…… ''تم اپنا مقصد اور مدعا بیان کرو''۔''
تعالی کی خوشنودی حاصل ہے''۔ داود نے کہا…… ''میں جس کے سینے سے راز نکال کر سلطان صالح الدین''
مجھے اللہ
ٰ
ایوبی تک پہنچانا چاہتا ہوں ،وہ مجھے اس چھت کے نیچے مل گیا ہے جس کے نیچے میں بیٹھا ہوں۔ خدائے ذوالجالل نے
مجھے فرشتوں کی راہنمائی دی اور یہاں پہنچا دیا ہے۔ مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ سیف الدین اور اس کے دوستوں کے
ارادے اور سرگرمیاں کیا ہیں اگر یہ لوگ جنگ کی تیاریاں کریں تو انہیں تیاری سے پہلے یا تیاری کی حالت میں ختم کیا
جاسکتا ہے۔ ان کے ارادے قبل از وقت معلوم کرنا ضروری ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ سلطان صالح الدین ایوبی تیار نہ ہو اور یہ
لوگ اچانک حملہ کردیں۔ آپ جانتے ہیں کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا''۔
کیا مجھے اجازت ہوگی کہ اپنی فوجوں کو دھوکے میں مسلمانوں کے خالف لڑانے والوں کو قتل کردوں؟''۔ حارث نے ''
پوچھا۔
یہ میں بتائوں گا'' ۔ داود نے جواب دیا…… ''بعض حاالت میں قتل نہ کرنا فائدہ مند ہوتا ہے۔ تمہیں ہر قدم ٹھنڈے مزاج''
سے اٹھانا ہوگا۔ ہمیں سیف الدین پر نظر رکھنی ہے اور اس کا تعاقب کرنا ہے جس طرح یہ یہاں آکر چھپ گیا ہے ،اسی
طرح میں اور حارث چھپے رہیں گے اور دیکھتے رہیں گے کہ یہ کیا کرتا ہے''۔
٭ ٭ ٭
سیف الدین اسی مکان کے ایک کمرے میں گہری نیند سویا رہا۔ صبح طلوع ہوئی۔بوڑھے نے جھانک کر دیکھا وہ سویا ہوا تھا۔
سورج خاصا اوپر آگیا تھا ،جب اس کی آنکھ کھلی۔ حارث کی بہن اور بیوی نے اس کے آگے ناشتہ رکھا۔ اس نے حارث کی
بہن کو غور سے دیکھا اور کہا…… ''تم ہماری جو خدمت کررہی ہو ،اس کا ہم اتنا صلہ دیں گے جو تمہارے تصور میں بھی
نہیں آسکتا۔ ہم تمہیں اپنے محل میں رکھیں گے''۔
اگر ہم آپ کو اسی جھونپڑے میں رکھیں تو کیا آپ خوش نہیں رہیں گے؟'' لڑکی نے ہنس کر پوچھا۔''
ہم تو صحرا میں بھی رہ سکتے ہیں''…… سیف الدین نے کہا…… ''لیکن تم پھولوں کے ساتھ سجا کر رکھنے والی چیز ''
ہو''۔
کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ کے نصیب میں محل میں دوبارہ جانا لکھا ہے؟'' لڑکی نے پوچھا۔''
''ایسی بات تم نے کیوں کہی ہے؟''
آپ کی حالت دیکھ کر''…… لڑکی نے کہا …… ''بادشاہ کا جھونپڑے میں چھپنا یہ ظاہر کرتا کہ اس کی سلطنت چھن ''
گئی ہے اور اس کی فوج ساتھ چھوڑ گئی ہے''۔
فوج نے میرا ساتھ نہیں چھوڑا''…… سیف الدین نے کہا…… ''میں ذرا آرام کے لیے یہاں رک گیا ہوں۔ محل صرف میرے ''
''نصیب میں نہیں ،تمہارے نصیب میں بھی لکھا ہوا ہے۔ کیا تم میرے ساتھ چلنا پسند کرو گی؟
حارث کی بیوی کمرے سے نکل گئی تھی۔ بہن سیف الدین کے پاس بیٹھ گئی اور کہنے لگی… …''اگر میں آپ کی جگہ
ہوتی تو صالح الدین ایوبی کو شکست دئیے بغیر محل کا نام نہ لیتی ،اگر آپ نے مجھے پسند کیا ہے تو میں آپ کو بتا
دیتی ہوں کہ مجھے آپ کا بھاگنا اور چھپنا بالکل پسند نہیں۔ جنگجو بادشاہوں کی طرح باہر نکلیں۔ اپنی فوج کو اکٹھا کریں
اور سلطان صالح الدین ایوبی پر حملہ کردیں''۔
لڑکی بھولی بھالی شکل کی تھی۔ اس کی سادگی میں حسن تھا۔ سیف الدین اسے بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا اور اس
کے ہونٹوں پر ایسی مسکراہٹ تھی جس میں شیطانیت بھی تھی اور محبت بھی۔
میں شہزادی نہیں ہوں''…… لڑکی نے کہا… …''ان چٹانوں اور صحرائوں میں پیدا ہوئی اور یہیں جوان ہوئی ہوں۔ میں ''
سپاہی کی اوالد اور سپاہی کی بہن ہوں۔ آپ کے ساتھ محل میں نہیں ،میدان جنگ میں جائوں گی۔ میرے ساتھ آپ تیغ زنی
''کا مقابلہ کریں گے؟ چٹانوں کے اوپر نیچے میرے ساتھ گھوڑا دوڑائیں گے؟
تم صرف خوبصورت ہی نہیں ،جنگجو بھی ہو''…… سیف الدین نے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیر کر کہا۔ ''ایسے پیارے بال ''
میں نے پہلی بار دیکھے ہیں''۔
لڑکی نے اس کا ہاتھ آہستہ سے پرے کردیا اور کہا…… ''بال نہیں بازو۔ ابھی آپ کو میرے بالوں کی نہیں میرے بازوئوں کی
''ضرورت ہے۔ مجھے بتائیں آپ کا ارادہ کیا ہے؟
تمہارا باپ خطرناک آدمی ہے''…… سیف الدین نے کہا…… ''وہ صالح الدین ایوبی کا حامی ہے اور مجھے شاید پسند نہیں''
کرتا۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے دھوکہ دے گا''۔
لڑکی الہڑ سی ہنسی ہنس پڑی اور بولی…… ''وہ بوڑھا آدمی ہے۔ معلوم نہیں ،آپ کے ساتھ اس نے کیا باتیں کی ہیں۔ ہمارے
سامنے رات سے وہ آپ کی تعریفیں کررہا ہے۔ اس نے صالح الدین ایوبی کا صرف نام سنا ہے۔ اس کے متعلق اور کچھ نہیں
جانتا۔ اس سے آپ نہ ڈریں۔ ضعیف آدمی آپ کا کیا بگاڑ سکتا ہے۔ مجھے آزمائیں''۔
سیف الدین نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو لڑکی پیچھے ہٹ گئی۔ کہنے لگی…… ''میں آپ کو اپنے جسم سے محروم نہیں
کروں گی۔ اپنے آپ کو آپ کے حوالے کردوں گی لیکن اس وقت جب آپ صالح الدین ایوبی کو شکست دے کر آئیں گے۔ آپ
''اس وقت مشکل میں ہیں۔ مجھ سے دور رہیں۔ مجھے یہ بتائیں کہ آپ کا ارادہ کیا ہے؟
سیف الدین عیاش اور زن پرست انسان تھا۔ جوان اور خوبصورت لڑکی اس کے لیے عجوبہ نہیں تھی لیکن اس لڑکی میں اس
نے یہ عجیب بات دیکھی کہ وہ اس کے آگے جھجک نہیں رہی تھی۔ اس کے آگے تو ہر لڑکی سدھائے ہوئے جانور کی طرح
اشاروں پر ناچا کرتی تھی۔ اس لڑکی نے اس پر ایسا وار کیا کہ اس کی غیرت بھڑک اٹھی۔
سنو لڑکی!''…… اس نے کہا…… ''تم نے میری مردانگی کا امتحان لینا چاہا ہے۔ میں اب اس وقت تمہارے جسم کو ہاتھ''
لگائوں گا جس وقت میرے ہاتھ میں صالح الدین ایوبی کی تلوار ہوگی اور میں اسی کے گھوڑے پر سوار ہوں گا۔ مجھ سے
وعدہ کرو کہ تم میرے پاس آجائو گی''۔
مجھے اپنے ساتھ میدان جنگ میں لے چلیں''…… لڑکی نے کہا۔''
نہیں''…… سیف الدین نے کہا…… ''مجھے ابھی فوج تیار کرنی ہے۔ میں نے ایک آدمی کو موصل بھیج دیا ہے۔ میں نے ''
انہیں کہال بھیجا ہے کہ فوجیں اکٹھی کرو اور فورا ً صالح الدین ایوبی پر حملہ کردو ،تاکہ وہ ہمارے شہروں کا محاصرہ کرنے
آگے نہ آسکے۔ آج شام تک میرے دونوں آدمی واپس آجائیں گے تو معلوم ہوگا کہ حلب اور حرن کی فوجیں کس حالت میں
ہیں۔ ہم شکست تسلیم نہیں کررہے۔ جوابی حملہ کریں گے اور فورا ً کریں گے''۔
سیف الدین کی شخصیت یہی کچھ تھی۔ زن پرستی اور ایمان فروشی نے اس کا کردار اتنا کھوکھال کردیا تھا کہ اس نے ایک
الہڑ اور سیدھی سادی لڑکی سے متاثر ہوکر اسے راز کی بھی ایک دو باتیں بتا دیں۔ لڑکی نے اس کا ہاتھ چوم لیا اور کمرے
سے نکل گئی۔
٭ ٭ ٭
اس کے ساتھ جو دو آدمی آئے تھے ،ان میں سے ایک کو اس نے موصل بھیجا ہے اور دوسرے کو حلب''…… حارث کی ''
بہن اپنے باپ کو ،حارث اور داود کو بتا رہی تھی…… ''اس کا ارادہ یہ ہے کہ تینوں فوجوں کو اکٹھا کرکے صالح الدین ایوبی
پر فورا ً حملہ کیا جائے تاکہ وہ آگے آکر ان کے شہروں کو محاصرے میں نہ لے سکے۔ اس کے جو دو آدمی گئے ہوئے ہیں،
وہ آکر اسے بتائیں گے کہ فوجیں لڑنے کی حالت میں ہیں یا نہیں''…… سیف الدین نے اسے جو کچھ بتایا تھا وہ اس نے
اپنے باپ ،بھائی اور داود کو بتا دیا۔
یہ لڑکی جس کا نام فوزی تھا ،کوئی ایسی چاالک اور ہوشیار لڑکی نہیں تھی۔ اسے خدا نے ذہانت اور جذبہ عطا کیا تھا۔ داود
نے اسے بتایا کہ وہ سیف الدین کے دل سے راز نکالے۔ فوزی کو اس نے طریقہ بھی بتایا تھا اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ یہ
شخص عیاش اور بدکار ہے۔ اس لیے اس کے جال سے بچ کر رہنا۔ فوزی نے یہ کام خوش اسلوبی سے کرلیا۔ اس نے سیف
الدین سے جو باتیں کہلوالی تھیں ،ان سے داود کو یہ پتہ چل گیا کہ سیف الدین کا پیچھا کرنا ضروری ہے۔
آدھی رات سے کچھ دیر پہلے بوڑھے کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے دروازے پر دستک سنی اور گھوڑے کو ہنہناتے بھی سنا تھا۔
اس نے دروازہ کھوال ،باہر سیف الدین کا نائب ساالر کھڑا تھا۔ بوڑھا اس کا گھوڑا دوسری طرف لے گیا اور نائب ساالر اندر چال
گیا۔ بوڑھے نے جاکر نائب ساالر سے کھانے کے متعلق پوچھا ،اس نے انکار کردیا۔ بوڑھے سے غالموں کی طرح ا س نے
سلوک کیا۔ سیف الدین نے اسے کہا کہ وہ جاکر سوجائے۔ بوڑھا رعایا کی طرح کے آداب سے وہاں سے نکال۔ اس نے داود کو
جگایا اور دونوں نے دروازے کے ساتھ کان لگا دئیے۔
گمشتگین کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ حلب میں الملک الصالح کے ساتھ ہے''…… نائب ساالر کہہ رہا تھا…… ''میں نے ''
موصل میں جو حاالت دیکھے ہیں وہ کوئی ایسے برے نہیں کہ ہم لڑ ہی نہ سکیں۔ صالح الدین ایوبی ترکمان رک گیا ہے۔
صلیبیوں کے جاسوسوں نے بتایا ہے کہ وہ الجزیرہ ،دیار اور بقر اور اردگرد کے عالقوں سے لوگوں کو فوج میں بھرتی کررہا ہے۔
یوں معلوم ہوتا ہے جیسے وہ فوری طور پر پیش قدمی نہیں کرے گا۔ پیش قدمی ضرور کرے گا جو طوفانی ہوگی۔ اس کی فوج
کی خیمہ گاہ بتا رہی ہے کہ وہ وہاں زیادہ دن قیادم کرے گا۔ وہ غالبا ً اس خوش فہمی میں مبتال ہے کہ ہم لڑنے کے قابل
نہیں رہے۔ ہماری جو فوج موصل پہنچی ہے اس کی نفری ایک تہائی سے کچھ زیادہ کم ہے۔ یہ سپاہی مارے گئے ہیں اور ان
میں الپتہ بھی شامل ہیں''۔
تو کیا یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ ہم اسی فوج سے صالح الدین ایوبی پر حملہ کردیں؟''…… سیف الدین نے پوچھا۔''
صرف ہماری فوج حملے کے لیے کافی نہیں''…… نائب ساالر نے جواب دیا…… ''الملک الصالح اور گمشتگین کو ساتھ مالنا''
ضروری ہے۔ ہمارے مشیروں (صلیبیوں) نے بھی یہی مشورہ دیا ہے''۔
تم نے انہیں بتا دیا ہے کہ میں کہاں ہوں؟''…… سیف الدین نے پوچھا۔''
میں نے یہ جگہ نہیں بتائی''…… نائب ساالر نے جواب دیا…… ''انہیں یہ بتایا ہے کہ آپ ترکمان کے مضافات میں گھوم ''
پھر رہے ہیں اور صالح الدین ایوبی کی نقل وحمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ اگلے معرکے کا
منصوبہ تیار کیا جاسکے… میرا خیال ہے کہ تین چار روز بعد آپ کو موصل چلے جانا چاہیے''۔
مجھے حلب کی خبر معلوم کرلینے دو''… …سیف الدین نے کہا…… ''وہ (کمان دار) کل شام تک واپس آجائے گا۔ تم ''
جانتے ہو کہ گمشتگین شیطان کی فطرت کا انسان ہے۔ اسے اپنے قلعے (حرن) میں چلے جانا چاہیے تھا۔ حلب میں وہ کیا
کررہا ہے؟ میں موصل جانے سے پہلے حلب جائوں گا۔ گمشتگین بے شک ہمارا اتحادی ہے مگر میں اسے اپنا دوست نہیں
کہہ سکتا۔ مجھے الملک الصالح کے ساالروں کو اس پر بھی قائل کرنا ہے کہ وہ صالح الدین ایوبی کے سستانے سے فائدہ
اٹھائیں اور وقت ضائع کیے بغیر حملہ کردیں۔ میں اب یہ مشورہ بھی دوں گا کہ تینوں فوجیں ایک مرکزی کمان کے ماتحت
اعلی ہونا چاہیے۔ ہم نے صرف اس لیے شکست کھائی ہے کہ ہماری فوجوں کی کمان الگ
ہونی چاہئیں اور ان کا ایک ساالر
ٰ
الگ تھی۔ ہمیں ایک دوسرے کے منصوبے اور چالوں کا علم ہی نہیں تھا ورنہ مظفرالدین نے صالح الدین ایوبی کے پہلو پر جو
حملہ کیا تھا وہ کبھی ناکام نہ ہوتا''۔
مرکزی کمان آپ کے پاس ہونی چاہیے''…… نائب ساالر نے کہا۔''
''اور ہمیں اپنے دوستوں سے بھی ہوشیار رہنا چاہیے''…… سیف الدین نے کہا اور پوچھا…… ''صلیبی ہمیں مدد دیں گے؟''
وہ اپنی فوج تو نہیں دیں گے''…… نائب ساالر نے جواب دیا… ''اونٹ ،گھوڑے اور اسلحہ وغیرہ دیں گے''…… نائب ساالر''
''نے پوچھا…… ''یہاں آپ نے کوئی خطرہ تو محسوس نہیں کیا؟
نہیں''…… سیف الدین نے کہا…… ''بوڑھا قابل اعتماد معلوم ہوتا ہے۔ اس کی بیٹی جال میں آگئی ہے لیکن جذباتی اور ''
جوشیلی ہے۔ کہتی ہے پہلے صالح الدین ایوبی کو شکست دو ،اس کی تلوار الئو اس کے گھوڑے پر سوار ہوکر آئو اور میں
تمہارے ساتھ چلی چلوں گی''۔
نائب ساالر نے قہقہہ لگایا۔ حارث ،اس کا باپ اور داود دروازے کے ساتھ کان لگائے سن رہے تھے۔ سیف الدین اور اس کے
نائب ساالر کے فرشتوں کو بھی معلوم نہ تھا کہ اس گھر میں صرف ایک بوڑھا اور دولڑکیاں ہی نہیں ،دو جوان مجاہد بھی
ہیں جو کسی بھی موزوں موقعے پر اسے قتل کردیں گے۔ سیف الدین کو ذرا سا بھی شک نہیں ہوا تھا کہ اس نے فوزی کو
اپنے جال میں نہیں پھانسا ،بلکہ خود اس کے جال میں آگیا ہے۔ داود اور حارث اندر رہے۔ سیف الدین اور اس کا نائب ساالر
ڈیوڑھی کے ساتھ والے کمرے میں بند رہے۔ دن کے دوران فوزی تین چار بار اس کمرے میں گئی ،وہ چونکہ اس سے دو ہاتھ
دور رہتی تھی۔ اس لیے سیف الدین اس کی طرف اور زیادہ کھچا آتا تھا۔ فوزی سے اس نے پوچھا…… ''تمہارا بھائی میری
فوج میں سپاہی ہے ،میں اسے جیش کا کمان دار بنا دوں گا''۔
ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں''… … فوزی نے کہا…… ''اگر وہ زندہ نہ ہوا تو ہم بے آسرا ''
ہوجائیں گے''۔
اس صورت میں تمہارے باپ کو اور تمہارے بھائی کی بیوی کو بھی اپنے ساتھ لے جائوں گا''…… سیف الدین نے کہا۔''
فوزی کا باپ بھی سیف الدین کے پاس جاتا رہا۔ اس نے عملی طور پر سیف الدین کو یقین دال دیا کہ وہ اس کا وفادار ہے۔
رات کو پھر دروازے پر دستک ہوئی۔ بوڑھے نے دروازہ کھوال باہر سیف الدین کا وہ کمان دار کھڑا تھا جسے اس نے حلب
روانہ کیا تھا۔ بوڑھے نے اسے سیف الدین کے کمرے میں بھیج دیا اور اس کا گھوڑا دوسرے گھوڑوں کے ساتھ باندھ کر کمان
دار سے کھانے کے متعلق پوچھنے گیا۔ کمان دار بہت تیز آیا تھا ،کہیں رکا نہیں تھا ،اس لیے راستے میں کچھ کھا نہیں سکا
تھا۔ بوڑھا اندر کھانا لینے کے لیے گیا تو فوزی نے کہا کہ وہ کھانا لے جائے گی اور باتیں سنے گی۔
وہ کھانا لے کر گئی تو کمان دار بولتے بولتے چپ ہوگیا۔ سیف الدین نے کہا…… ''تم بات کرو ،یہ اپنی بچی ہے''۔
فوزی کمان دار کے آگے کھانا رکھ کر سیف الدین کے قریب بیٹھ گئی۔ یہ پہال موقعہ تھا کہ وہ اس کے اتنی قریب بیٹھی
تھی۔ سیف الدین نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ فوزی نے ہاتھ چھڑایا نہیں ،ورنہ صلیبیوں کا یہ دوست ہاتھ سے نکل
جاتا۔
حلب کی فوج کا جذبہ قابل تعریف ہے''۔ کمان دار نے بات شروع کی۔ فوزی نے سیف الدین کی انگلی میں پڑی ہوئی ''
انگوٹھی کو انگلیوں سے مسلنا اور اس کے ہیرے کو بچوں کے سے اشتیاق سے دیکھنا شروع کردیا جیسے اسے کمان کی باتوں
کے ساتھ کوئی دلچسپی نہ ہو لیکن اس کے کان اسی طرف لگے ہوئے تھے۔ کمان دار کہہ رہا تھا۔ ''الملک الصالح نے صالح
الدین ایوبی کو صلح کا پیغام بھیجا ہے''۔
صلح کاپیغام!'' سیف الدین نے بدک کر پوچھا۔''
جی ہاں ،صلح کا پیغام''…… کمان دار نے کہا …… ''لیکن مجھے پتہ چال ہے کہ اس نے صالح الدین ایوبی کو دھوکہ دیا''
ہے۔ اس کے صلیبی دوست اس کی فوج کے سامان کا نقصان پورا کررہے ہیں اور اسے اکسا رہے ہیں کہ وہ موصل اور حرن
کی فوجوں کو مشترکہ کمان میں الکر صالح الدین ایوبی پر فورا ً حملہ کرے۔ اگر صالح الدین ایوبی کی فوج نے سستا لیا اور
اس نے اسی عالقے سے لوگوں کو بھرتی کرکے نفری پوری کرلی تو پھر اسے روکنا محال ہوجائے گا۔ جاسوس خبر الئے ہیں
کہ صالح الدین ایوبی نے ترکمان کے سبزہ زار میں لمبے عرصے کے لیے پڑائو کرلیا ہے اور پیش قدمی کی تیاریاں بہت تیزی
سے کررہا ہے۔ الملک الصالح کے ساالر بھی یہی کہتے ہیں کہ ترکمان کے مقام پر صالح الدین ایوبی پر فوری حملہ ہونا
……''چاہیے
میں نے حلب کی فوج کے ایک صلیبی مشیر کے ساتھ بات کرنے کاموقعہ پیدا کرلیا تھا۔ میں نے انجان بن کر اسے کہا ''
کہ ہم فوری حملے کے قابل نہیں۔ اس نے کہا کہ یہ تمہاری بہت بڑی جنگی لغزش ہوگی۔ صالح الدین ایوبی پر حملے کا
مقصد یہ نہیں ہوگا کہ اسے شکست دی جائے۔ مقصد یہ ہوگا کہ اسے تیاری کی مہلت نہ دی جائے۔ اس ترکمان کے عالقے
میں پریشان رکھا جائے اور ایسی لڑائی لڑی جائے جو طویل ہو ،جنگ نہ ہو ،معرکے لڑے جائیں۔ یہ معرکے صالح الدین ایوبی
کے انداز کے ہی ہوں ،یعنی ضرب لگائو اور بھاگو ،شب خون مارو اور کوشش کرو کہ ترکمان کے سبزہ زار سے جہاں پانی کی
بھی بہتات ہے ،صالح الدین ایوبی کو پیچھے ہٹا دیا جائے تاکہ اس کی فوج کو چارہ اور پانی نہ مل سکے''۔
بہت اچھی ترکیب ہے''…… سیف الدین نے کہا …… ''ایسی جنگ میرا شیر ،ساالر مظفرالدین لڑ سکتا ہے۔ وہ بہت عرصہ''
صالح الدین ایوبی کے ساتھ رہا ہے میں کوشش کروں گا کہ تینوں فوجوں کی مشترکہ کمان مجھے مل جائے۔ میں صالح الدین
ایوبی کو صحرائی لومڑی کی طرح دھوکے دے دے کر ماروں گا''۔
فوزی نے سیف الدین کی تلوار لے لی اور اسے نیام سے نکال کر دیکھنے لگی۔ وہ بالکل بھولی بنی ہوئی تھی۔
میں نے کوشش کی تھی کہ الملک الصالح کے ساتھ میری مالقات ہوجائے''…… کمان دار نے کہا…… ''لیکن ساالروں اور ''
دوسرے حکام نے اسے ایسا گھیرا ہوا ہے کہ میں اسے مل نہ سکا۔ یہ باتیں اس کے ساالروں سے معلوم کی ہیں''۔
تمہیں آج پھر حلب جانا ہوگا''…… سیف الدین نے کہا …… ''الملک الصالح کو یہ پیغام دینا کہ تم نے صالح الدین ایوبی''
کے ساتھ صلح کرکے ہمیں دھوکہ دیا ہے۔ تم نے اس کے حوصلے بڑھا دئیے ہیں۔ اس کے ہاتھ مضبوط کردئیے ہیں۔ وہ ہم میں
سے کسی کو بھی نہیں بخشے گا۔ تم ابھی بہت چھوٹے ہو ،گھبرا گئے ہو ،یا تمہارے ساالروں نے لڑائی سے بچنے کے لیے
تمہیں مشورہ دیا ہے''…… سیف الدین نے اس موضوع کا طویل پیغام دیا اور کمان دار سے کہا…… ''تمہیں سحر کی تاریکی
میں نکل جانا چاہیے۔ دن کے وقت تمہیں اس گائوں میں کوئی نہ دیکھے''۔
یہ تھا وہ پیغام جس کا ذکر تاریخ میں آیا ہے۔ کمان دار کچھ دیر آرام کرکے حلب کو روانہ ہوگیا۔
٭ ٭ ٭
فوزی نے جو کچھ سنا تھا ،وہ داود کو بتا دیا۔ یہ معلومات بھی کام کی تھیں۔ حارث اور اس کا باپ گہری نیند سوگئے۔ داود
کسی کام سے باہر نکال۔ فوزی بھی دبے پائوں نکل آئی۔ داود اپنے گھوڑے کے پاس جارکا۔ فوزی بھی وہیں چلی گئی۔
مجھے اس سے کوئی بڑا کام بتائو''…… فوزی نے کہا…… ''میں تمہارے لیے جان بھی دے سکتی ہوں''۔''
میرے لیے نہیں ،اپنی قوم کے لیے اور اپنے مذہب کے لیے جان دینا''…… داود نے کہا…… ''تم جو کام کر رہی ہو ،وہ ''
بہت بڑا ہے۔ ہم جو جاسوس ہیں ،اسی کام میں اپنی جانیں قربان کردیا کرتے ہیں۔ یہ کام میرا تھا جو میں تم سے کرا رہا
ہوں۔ میں نے تمہیں خطرے میں ڈال دیا ہے''۔
''خطرہ کیسا؟''
تم اتنی چاالک لڑکی نہیں ہوفوزی''…… داود نے کہا …… ''سیف الدین بادشاہ ہے ،وہ اس جھونپڑے میں بھی بادشاہ ''
ہے''۔
تو کیا بادشاہ مجھے کھا جائے گا؟''… … فوزی نے کہا…… ''میں چاالک تو نہیں ،سیدھی سادی بھی نہیں ہوں''۔''
تم نے بادشاہی کی چمک دیکھی تو تمہاری آنکھیں بند ہوجائیں گی''…… داود نے کہا…… ''ان لوگوں نے اسی چمک سے''
اندھا ہوکر ایمان بیچا ہے اور اسالم کی چڑیں کاٹ رہے ہیں۔ میں ڈرتا ہوں کہیں تم بھی اس جال میں نہ آجائو''۔
''تم کہاں کے رہنے والے ہو؟''
میں کہیں کا بھی رہنے واال نہیں''…… داود نے جواب دیا… …''میں جاسوس اور چھاپہ مار ہوں۔ جہاں دشمن کے ہاتھ ''
چڑھ گیا ،وہیں مارا جائوں گا اور جہاں بھی مارا جائوں گا ،وہ میرا وطن ہوگیا۔ شہید کا لہو جس زمین پر گرتا ہے وہ زمین
سلطنت اسالمی کی ہوجاتی ہے۔ اس زمین کو کفر سے پاک کرنا ہر مسلمان کا فرض بن جاتا ہے۔ ہماری مائوں اور بہنوں نے
ہمیں جوان کیا اور خدا کے حوالے کردیا ہے۔ انہوں نے دلوں پر پتھر رکھ لیے ہیں اور اس خواہش سے دست بردار ہوگئی ہیں
کہ ہم انہیں کبھی ملیں گے''۔
تمہارے دل میں اپنے گھر جانے کی ،اپنی ماں کو دیکھنے کی ،بہن سے ملنے کی خواہش تو ہوگی''…… فوزی نے جذباتی ''
لہجے میں کہا۔
انسان خواہشوں کا غالم ہوجائے تو فرض دھرے رہ جاتے ہیں''…… داود نے کہا…… ''جان سے پہلے جذبات قربان کرنے ''
پڑتے ہیں۔ تمہیں بھی یہ قربانی دینی ہوگی''۔
''فوزی اس کے قریب ہوگئی اور بولی۔ ''مجھے اپنے ساتھ رکھ سکتے ہو؟
نہیں''… داود نے کہا۔''
کچھ دن میرے پاس رہ سکتے ہو؟''…… فوزی نے پوچھا۔''
''میرے فرض نے ضرورت سمجھی تو رہوں گا''…… داود نے کہا…… ''مجھے اپنے پاس رکھ کر کیا کروگی؟''
تم مجھے اچھے لگتے ہونا''…… فوزی نے کہا…… ''تم جب سے آئے ہو ،تمہاری باتیں سن رہی ہوں ،ایسی باتیں میں نے''
''……کبھی نہیں سنی تھیں۔ میرے دل میں آتی ہے کہ تمہارے ساتھ رہوں اور
مجھے زنجیر نہ ڈالو فوزی''…… داود نے کہا …… ''اپنے آپ کو بھی جذبات کی زنجیر سے آزاد رکھو۔ ہمارے سامنے بڑے''
کٹھن راستے ہیں۔ ایک دوسرے کا ہاتھ ضرور تھامیں گے ،اکٹھے چلیں گے مگر ایک دوسرے کے قیدی نہیں بنیں گے''…… اس
نے ذرا دیر سوچ کر کہا…… ''فوزی تم زیادہ دور تک میرا ساتھ نہیں دے سکو گی۔ مجھے تمہاری عصمت بھی عزیز ہے۔ کام
جو مردوں کا ہے ،وہ مرد ہی کریں گے''۔
فوزی نے آہ لی اور اداس سی ہوگئی۔ اس نے داود کو سر سے پائوں تک دیکھا اور گھوم کر وہاں سے ہٹنے لگی۔ داود نے
لپک کر اس کا بازو پکڑ لیا اور اپنے قریب کرکے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ فوزی اس کے ساتھ لگ گئی اور
جذبات سے کانپتی آواز میں بولی …… ''جو کام مردوں کا ہے ،وہ عورتیں بھی کرسکتی ہیں۔ میری عصمت کوئی ایسا کچا
دھاگا نہیں کہ ذرا سے جھٹکے سے ٹوٹ جائے گا۔ میں تمہیں اپنی عصمت پیش نہیں کررہی۔ تم مجھے اچھے لگتے ہو،
تمہاری باتیں مجھے اچھی لگتی ہیں۔ تم نے مجھے جو راستہ دکھایا ہے ،وہ میرے دل کو بہت اچھا لگا ہے۔ میں تمہارے
قریب اس لیے ہوگئی ہوں کہ شاید تمہیں میرے وجود سے اپنی ماں کی اور بہن کی بو باس مل جائے۔ تم بہت تھکے ہوئے
ہو نا داود! مجھے میرے بھائی کی بیوی نے بہت سی باتیں بتائی ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ مرد جب تھکا ہوا گھر آتا ہے تو
عورت کے سوا اس کی تھکن اور کوئی دور نہیں کرسکتا۔ عورت نہ ہو تو مرد کی روح مرجھا جاتی ہے۔ میں ڈرتی ہوں کہ
''تمہاری روح مرجھا گئی تو…… تو کیا ہوگا داود؟
داود ہنس پڑا اور اس کے گال تھپکا کر بوال۔ ''تمہاری ان بھولی بھالی باتوں نے میری روح کو تروتازہ کردیا ہے''۔
تمہیں میری کوئی بات بری تو نہیں لگی؟''…… فوزی نے پوچھا…… ''میرے بھائی کو تو نہیں بتائو گے کہ میں تمہارے ''
''پاس آئی تھی؟
نہیں''…… داود نے کہا…… ''تمہارے بھائی کو کچھ نہیں بتائوں گا اور تمہاری کوئی بات بھی مجھے بری نہیں لگی''۔''
ہماری منزل ایک ہے داود'' …… فوزی نے کہا…… ''مجھے معلوم نہیں کہ دل کی بات کس طرح کہی جاتی ہے''۔''
تم نے دل کی بات کہہ دی ہے فوزی!''…… داود نے کہا…… ''اور میں نے سمجھ لی ہے۔ تم نے ٹھیک کہا ہے کہ ''
ہماری منزل ایک ہے ،مگر یہ نہ بھولنا کہ راستے میں خون کی ندی بھی ہے جس پر کوئی پل نہیں۔ اگر تم ہمیشہ کے لیے
میری ہو جانا چاہتی ہو تو ہمارا نکاح لہو کی تحریر ہوگی پھر ہماری الشیں ایک دوسرے سے دور بھی ہوئیں تو ہم اکٹھے
ہوجائیں گے۔ راہ حق کے مسافروں کی شادیاں آسمانوں میں ہوتی ہیں اور باراتیں کہکشاں کے رستے میں جایا کرتی ہیں۔ ان
کی خوشی میں سارا آسمان ستاروں کی چراغاں کیا کرتا ہے''۔
فوزی جب وہاں سے چلی تو اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ اس مسکراہٹ میں مسرت کا تاثر کم اور ایسا تاثر زیادہ تھا
جس میں عزم تھا اور کچھ کر گزرنے کا ارادہ۔
٭ ٭ ٭
دو دنوں کے بعد کمان دار واپس آگیا جو الملک الصالح کے نام سیف الدین کا پیغام لے کر گیا تھا۔ اس کی مالقات الملک
الصالح سے نہیں ہوسکی تھی ،پیغام اس تک پہنچا دیا گیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ وہ پیغام کا تحریری جواب دے گا۔ کمان
دار وہاں بتا آیا تھا کہ سیف الدین کہاں ہے اور جس گھر میں وہ بیٹھا ہے ،اس کی نشانیاں کیا ہیں…… سیف الدین اپنے
پیغام کے جواب کا انتظار کرتا رہا۔ جواب نہ آیا اور وہ پریشان ہونے لگا…… تیسرے چوتھے دن وہ بہت ہی بے چین ہوگیا۔
کیوں نہ میں خود ہی حلب چال جائوں''…… اس نے اپنے نائب ساالر سے کہا…… ''اگر حلب کی فوج نے صالح الدین ''
ایوبی کے ساتھ صلح اور جنگ بندی کا معاہدہ کرلیا ہے تو ہمیں اپنے متعلق بہت کچھ سوچنا پڑے گا۔ گمشتگین (والئی
حرن) کا کچھ بھروسہ نہیں۔ ہم تنہا تو نہیں لڑ سکتے۔ ہمیں صلیبیوں کے ساتھ مل کر کوئی اور منصوبہ بنانا پڑے گا''۔
''کیا یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ الملک الصالح صلح کا معاہدہ توڑ دے؟''
یہ ممکن ہے''…… کمان دار نے کہا …… ''میں نے اس کے جن ساالروں اور کمان داروں سے بات کی ہے ،وہ کہتے تھے''
کہ الملک الصالح نے صالح الدین ایوبی کو دھوکہ دیا ہے ،اگر اس نے دھوکہ نہیں دیا تو بھی زیادہ تر ساالر اور دوسرے حکام
اس معاہدے کو تسلیم نہیں کرتے۔ مشیر (صلیبی) تو فوری حملے کے حق میں ہیں''۔
آپ کو حلب چلے جانا چاہیے''…… نائب ساالر نے اسے کہا…… ''اور میں موصل چال جاتا ہوں''۔''
تم ایک بار پھر حلب چلے جائو''…… سیف الدین نے کمان دار سے کہا…… ''الملک الصالح کو بتا دو کہ میں آرہا ہوں۔ ''
تم روانہ ہوجائو گے تو اگلی رات میں بھی روانہ ہوجائوں گا۔ ہوسکتا ہے وہ مجھے ملنا نہ چاہے۔ شہر سے باہر المبارک آکر
بتا دینا''۔
کیا آپ کا اکیلے جانا مناسب ہے؟''…… نائب ساالر نے پوچھا۔''
ان عالقوں میں کوئی خطرہ تو نہیں''…… سیف الدین نے کہا…… ''میں رات کو جائوں گا ،کسی کو کیا خبر کہ والئی ''
موصل جارہا ہے''۔
صالح الدین ایوبی کے جاسوسوں اور چھاپہ ماروں کا کوئی بھروسہ نہیں''…… نائب ساالر نے کہا…… ''ان سے ہماری کوئی''
جگہ محفوظ نہیں''۔
مجھے جانا ضرور ہے''…… سیف الدین نے کہا…… ''خطرہ مول لینا ہی پڑے گا۔ آج تم موصل کو روانہ ہوجائو۔ میں کل ''
رات حلب کو روانہ ہوجائوں گا''۔
جس وقت یہ باتیں ہورہی تھیں ،اس وقت داود اور حارث کے کان دروازے کے ساتھ لگے ہوئے تھے۔ دونوں وہاں سے ہٹ
گئے اور اپنے کمرے میں چلے گئے۔ داوں گہری سوچ میں کھویا ہوا تھا۔ اسے سیف الدین کا تعاقب کرنا تھا لیکن کس طرح؟
سوچ سوچ کر اس کے دماغ میں ایک ترکیب آگئی۔
ہم سیف الدین کے محافظ بنیں گے اور اس کے ساتھ حلب جائیں گے''…… داود نے حارث سے کہا…… ''ہم اچانک اس ''
کے سامنے جائیں گے اور کہیں گے کہ ہم اس کی فوج کے سپاہی ہیں''۔
اگر اس نے کہہ دیا کہ دونوں موصل چلے جائو تو کیا کرو گے؟''…… حارث نے پوچھا۔''
میں اپنا جادو چالنے کی کوشش کروں گا''… …داود نے کہا۔''
''اگر یہ بھی ناکام ہوگیا تو؟''
پھر یہ بھی حلب نہیں جائے گا''… …داود نے کہا…… ''الملک الصالح نے صالح الدین ایوبی کے ساتھ صلح کرلی ہے تو ''
سیف الدین اس معاہدے کو منسوخ کرانے کے لیے حلب نہیں پہنچ سکے گا''…… اس نے حارث کو سمجھا دیا کہ انہیں کیا
کرنا ہے۔
اسی رات سیف الدین بند کمرے میں اپنے نائب ساالر اور کمان دار کے پاس بیٹھا انہیں آخری ہدایات دے رہا تھا۔ رات کا
پہال پہر تھا۔ پہلے کمان دار وہاں سے نکال ،حارث کے باپ نے اسے گھوڑا کھول دیا تھا ،کچھ دیر بعد نائب ساالر بھی چال
گیا۔ سیف الدین اکیال رہ گیا۔ وہ لیٹ گیا۔ اچانک کمرے کا دروازہ دھماکے سے کھال ،وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ دیکھا ،فوزی سراپا
مسرت اور خوشی بنی ہوئی تھی۔ وہ ڈرتی آئی اور اس کے پاس بیٹھ کر اس نے سیف الدین کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے۔
میرا بھائی آگیا ہے''…… فوزی نے خوشی سے دیوانہ ہوتے ہوئے کہا۔ ''اس کے ساتھ اس کا ایک دوست ہے''۔''
20:41
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔ 101راہ حق کے مسافر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
فوزی نے خوشی سے دیوانہ ہوتے ہوئے کہا۔ ''اس کے ساتھ اس کا ایک دوست ہے''۔''تم نے انہیں بتایا ہے کہ میں یہاں
ہوں؟''…… سیف الدین نے پوچھا۔
ہاں!''…… فوزی نے کہا…… ''میں نے بتا دیا ہے اور وہ اتنے خوش ہیں کہ آپ سے ملنے کی اجازت مانگتے ہیں''۔''
انہیں لے آئو''۔''
٭ ٭ ٭
داود اور حارث سیف الدین کے سامنے گئے۔ فوجی انداز سے سالم کیا اور سیف الدین کے اشارے سے اس کے پاس بیٹھ گئے۔
انہوں نے اپنے کپڑوں اور چہروں پر گرد ڈال لی تھی اور سانسیں اس طرح لے رہے تھے جیسے بہت تھکے ہوئے ہوں۔ سیف
الدین نے ان سے پوچھا کہ وہ کون سے دستے میں تھے۔ حارث چونکہ اس کی فوج کا سپاہی تھا ،اس لیے ان سوالوں کا
جواب اسی نے دیا۔ داود کو تو کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔
تم اتنے دن کہاں رہے ہو؟''…… سیف الدین نے پوچھا۔''
ہمیں بتاتے ہوئے شرم آتی ہے کہ ہماری فوج کس طرح پسپا ہوئی''…… دا1:ود نے کہا…… ''ہمیں بھی پسپا ہونا تھا ''
لیکن میں اسے ساتھ لے کر ایک چٹان پر چھپ گیا اور یہ دیکھنے لگا کہ صالح الدین ایوبی کی فوج تعاقب میں آتی ہے یا
کہیں پڑائو کرتی ہے۔ میں نے جاسوسی شروع کردی۔ آپ کو شاید یاد ہوگا کہ آپ نے صلیبی مشیروں سے چھاپہ مار جیش
تیار کرائے تھے۔ میں بھی ایک جیش میں تھا۔ میں نے گہری دلچسپی سے تربیت حاصل کی تھی۔ جنگ میں یہ تربیت بہت
کام آئی۔ جنگ ختم ہوگئی تو میں نے اس تربیت سے فائدہ اٹھایا اور سوچا کہ میں اگر بھاگوں تو اپنی فوج کے لیے دشمن
کے کچھ راز بھی لیتا چلوں۔ یہ ( حارث) مل گیا۔ اسے میں نے اپنے ساتھ رکھ لیا۔ صالح الدین ایوبی کی فوج پیش قدمی
کرتی رہی اور ہم دیکھتے رہے اگر ہمارے ساتھ سات آٹھ سپاہی ہوتے تو شب خون مار مار کر اس فوج کا بہت نقصان
……''کرتے
ہم نے صالح الدین ایوبی کی فوج کو ترکمان کے عالقے میں پڑائو کرتے دیکھا ہے۔ فوج نے خیمے جس طرح گاڑے ہیں'' ،
اس سے پتہ چلتا ہے جیسے فوج وہاں لمبے عرصے کے لیے ٹھہرے گی۔ مجھے بہت افسوس ہے کہ ہماری فوجیں گھبرا کر
بھاگ آئی ہیں۔ اس سے پوچھیں ،ہم نے رات کو ان کی خیمہ گاہ کے قریب جاکر دیکھا ہے۔ اللہ توبہ ،زخمیوں کا کراہنا
برداشت نہیں ہوتا تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے آدھی فوج زخمی ہے۔ امیر محترم! اللہ آپ کا اقبال بلند کرے۔ آپ بہتر
جانتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے۔ ہم آپ کے غالم ہیں جو حکم دیں گے ،بجا الئیں گے۔ میرا خیال یہ ہے کہ صالح الدین ایوبی
کی فوج لڑنے کے قابل نہیں۔ اگر آپ اپنی فوج فورا ً اکٹھی کرکے حملہ کردیں تو صالح الدین ایوبی کو آپ دمشق پہنچا سکتے
ہیں''۔
سیف الدین داود کی رپورٹ دلچسپی سے سن رہا تھا۔ وہ شکست خوردہ تھا ،اس لیے وہ ایسی باتیں سننے کو ترس رہا تھا
جو اسے یہ تسکین دیں کہ اسے شکست نہیں ہوئی اور وہ بھاگا نہیں بلکہ اس کی فوج اور اس کے اتحادی گھبرا کر بھاگے
تھے۔ داود اس کی یہ نفسیاتی ضرورت پوری کررہا تھا۔ یہ اس کی کمزوری تھی جس کے اثر سے داود کی باتیں اسے ذہنی
سکون دے رہی تھیں۔
ہم موصل جارہے تھے''…… داود نے کہا…… '' اس ( حارث) کا گائوں راستے میں پڑتا تھا۔ یہ کہنے لگا کہ گھر والوں سے''
ملتے چلیں۔ ہم یہاں آئے تو اس کے محترم والد نے بتایا کہ آپ یہاں ہیں۔ یقین نہ آیا۔ آپ کو یہاں دیکھ کر بھی ہمیں یقین
نہیں آرہا کہ آپ یہاں ہیں۔ ہم یہ باتیں آپ تک پہنچانا چاہتے تھے ،خدا نے ہم پر بڑا ہی کرم کیا ہے''۔
ہم تمہاری باتیں سن کر بہت خوش ہوئے ہیں''…… سیف الدین نے بادشاہوں کی طرح کہا…… ''تمہیں اس بہادری کا انعام''
ملے گا''۔
ہمارے لیے اس سے بڑا اور انعام کیا ہوسکتا ہے کہ ہم آپ کی برابری میں بیٹھے آپ کے ساتھ باتیں کررہے ہیں''…… ''
حارث نے کہا… …''ہم آپ کے لیے جانیں دے کر اپنی روحوں کو خوش کرنے کو بے تاب ہیں''۔
معلوم ہوا ہے کہ آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟''…… داود نے پوچھا۔''
وہ دونوں چلے گئے ہیں''…… سیف الدین نے کہا…… ''میں بھی چال جائوں گا''۔''
ہم پوچھنے کی جرٔات نہیں کرسکتے کہ آپ یہاں کیوں رکے ہوئے ہیں''…… حارث نے کہا…… ''اور اب کہاں جارہے ہیں۔''
میں آپ سے بہت شرمسار ہوں کہ آپ کو میرے گھر والوں نے اس گندے سے کمرے میں رکھا اور فرش پر بٹھا رکھا ہے''۔
میری خواہش یہی تھی''…… سیف الدین نے کہا…… ''میں یہیں چند دن گزارنا چاہتا تھا۔ تم کسی کو نہ بتانا کہ میں ''
یہاں ہوں''۔
آپ کہاں جارہے ہیں؟''…… داود نے پوچھا۔'' :
میں حلب جائوں گا''…… سیف الدین نے جواب دیا…… ''وہاں سے موصل چال جائوں گا''۔''
لیکن آپ اکیلے ہیں''…… داود بوال…… ''آپ کے ساتھ کوئی محافظ نہیں''۔''
اس عالقے میں کوئی خطرہ نہیں''…… سیف الدین نے کہا…… ''اکیال چال جائوں گا''۔''
گستاخی کی معافی چاہتا ہوں''… …داود نے کہا…… ''اس عالقے کو دشمن سے خالی نہ سمجھیں۔ جو میں جانتا ہوں ،وہ''
آپ نہیں جانتے۔ صالح الدین ایوبی کے چھاپہ مار گھوم پھر رہے ہیں۔ کسی نے آپ کو پہچان لیا تو ہم دونوں ساری عمر
پچھتاتے رہیں گے کہ ہم آپ کے ساتھ کیوں نہ چلے گئے۔ اتفاق سے ہم آگئے ہیں۔ ہمارے پاس گھوڑے ہیں ،ہتھیار ہیں ،ہم
آپ کے ساتھ چلیں گے ،ویسے بھی کوئی حکمران محافظوں کے بغیر کہیں جاتا اچھا نہیں لگتا''۔
سیف الدین کو محافظوں کی ضرورت تھی۔ وہ تو پہلے ہی ڈرا ہوا تھا۔ داوں نے اسے اور ڈرا دیا۔ اس نے انہیں کہا کہ وہ
اپنے کپڑے صاف کرلیں اور اگلی رات چلنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ وہ اندر چلے گئے اور سیف الدین فوزی کا انتظار کرنے لگا
لیکن فوزی اس کے کمرے میں نہ گئی۔ دن کو داود اور حارث اس کے لیے کھانا لے گئے۔ اس کے پاس بیٹھے رہے اور دن
گزر گیا۔ جس وقت یہ تین مسلمان حکمران صالح الدین ایوبی پر حملہ کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھے ،وہاں سے کچھ دور
صلیبی کمانڈروں اور حکمرانوں کی کانفرنس ہورہی تھی۔ وہ الملک الصالح ،گمشتگین اور سیف الدین کی متحدہ افواج کی
شکست پر غور کررہے تھے۔ ان میں تقریبا ً سب سلطان ایوبی کے مقابلے میں آکر شکست کھا چکے تھے۔
ان تین مسلمان فوجوں کی شکست دراصل ہماری شکست ہے''…… ریمانڈ نے کہا…… ''جہاں تک میں جانتا ہوں ،صالح ''
الدین ایوبی کی فوج کی نفری زیادہ نہیں تھی''۔
مجھے آپ کی رائے سے اتفاق نہیں''…… ایک مشہور فرانسیسی بادشاہ رینالٹ نے کہا…… ''ہمارا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ ''
مسلمان آپس میں ٹکڑائیں تو ان میں سے کسی فریق کو فتح یا شکست ہو۔ ہمارا مقصد صرف اتنا ہے کہ مسلمان آپس میں
لڑتے رہے اور ایک فریق ہمارے ہاتھ میں کھیلتا رہے۔ ہمارا بدترین اور خطرناک دشمن صالح الدین ایوبی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ
اس کے مسلمان بھائی اس کے راستے میں حائل رہیں اور اس کی طاقت ضائع کرتے رہیں۔ اگر اس کے مسلمان حریفوں کی
طاقت ضائع ہورہی ہے تو ہوتی رہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صالح الدین ایوبی کو شکست دے کر اس کے حریف ہمارے خالف
متحد ہوجائیں''۔
میں آپ کو مسلمان عالقوں اور حکمرانوں کی پوری کیفیت سناتا ہوں جو ہمارے مشیروں نے بھیجی ہیں''…… ایک کمانڈر ''
نے کہا…… ''صالح الدین ایوبی کی دشمن تینوں فوجوں کی جذباتی حالت یہ ہے کہ سپاہیوں میں لڑنے کا جذبہ کسی حد
تک کم ہوگیا ہے۔ ان کا جانی نقصان بھی بہت ہوا اور وہ بے شمار اسلحہ اور سامان پھینک آئے ہیں۔ وہ فوری طور پر لڑنے
کے قابل نہیں تھے۔ ہم نے انہیں جو مشیر دے رکھے ہیں ،انہوں نے مسلمان حکمرانوں کو بڑی مشکل سے صالح الدین ایوبی
پر حملہ کرنے کے لیے تیار کیا ہے۔ صالح الدین ایوبی حباب الرکمان کے خوبصورت عالقے میں خیمہ زن ہے۔ وہ فوری طور
پر پیش قدمی نہیں کررہا۔ ہمارے مشیر پوری کوشش کررہے ہیں کہ حلب ،حرن اور موصل کی فوجیں خواہ وہ کسی بھی حالت
میں ہوں ،حملہ کردیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ صالح الدین ایوبی کو بے خبری میں جالیں گے۔ اسے مارنے کا یہی ایک طریقہ
ہے''۔
اور یہ طریقہ شاید کامیاب نہ ہو''…… آگسٹس نے کہا…… ''کیونکہ ایوبی بے خبر کبھی نہیں بیٹھا۔ اس کا جاسوسی کا ''
نظام ہر لمحہ بیدار اور سرگرم رہتا ہے۔ اسے آنے والے واقعات اور حملوں کی اطالع دو دن پہلے مل جاتی ہے۔ ہمارے جو
مشیر مسلمانوں کے ساتھ ہیں ،انہیں سختی سے ہدایت دو کہ اپنے جاسوسوں کو اور زیادہ تیز کردیں اور انکی تعداد بھی بڑھا
دیں۔ انہیں یہ کام دیں کہ تمام عالقوں میں گھومتے پھرتے رہیں اور ایوبی کے جاسوسوں کو پکڑیں۔ جب مسلمان فوجیں حملے
کے یے کوچ کریں تو جاسوس اور چھاپہ مار دور دور بکھر جائیں۔ جہاں کوئی مشکوک آدمی ادھر ادھر جاتا نظر آئے تو اسے
پکڑ لیں…… مسافروں کو بھی روک لیں۔ مقصد یہ ہے کہ ایوبی کو حملے کی خبر اس وقت ہو جب اس کے مسلمان بھائیوں
کے گھوڑے اس کے خیمہ گاہ میں داخل ہوکر اس کی فوج کا کشت وخون شروع کردیں''۔
''
۔
یہ اطالع بھی ملی ہے کہ صالح الدین ایوبی ان عالقوں سے جو اس کے قبضے میں ہیں ،فوج کے لیے بھرتی کررہا ہے اور''
لوگ بھرتی ہورہے ہیں''… …ایک اور کمانڈر نے کہا…… ''یہ سلسلہ رکنا چاہیے۔ اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ جو ہم پہلے
ہی اختیار کررہے ہیں کہ اس پر جلدی حملہ کرایا جائے تاکہ اسے تیاری کی مہلت نہ ملے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ان
عالقوں میں اخالقی تخریب کاری کی وہی مہم چالئی جائے جو ہم نے مصر میں چالئی تھی۔ یہ صحیح ہے کہ ہمارے بہت
سے آدمی اور کئی ایک کارآمد اور قیمتی لڑکیاں پکڑی گئیں اور ماری گئی ہیں لیکن یہ قربانی تو دینی ہی پڑے گی۔ ہم بھی
تو مرتے ہیں۔ صلیب کی خاطر ہمیں خود بھی مرنا ہے اور اپنی اوالد کو بھی مروانا ہے۔ مسلمانوں کے ذہنوں پر حملہ ضروری
ہے۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ ہم صالح الدین ایوبی کو اس خطے سے بے دخل نہیں کرسکے۔ اس نے مصر میں پائوں جما
لیے ہیں اور یہاں بھی آگیا ہے۔ اس کی کامیابی کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ میدان جنگ کا استاد ہے ،دوسری وجہ یہ ہے
کہ وہ انتظامیہ کا ماہر ہے اور تیسری بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنے سپاہیوں میں قومیت اور مذہب کا جنون پیدا کررکھا
ہے۔ ہمارے خالف لڑنے کو وہ مذہبی عقیدہ سمجھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ ہے کہ اس کے چھاپہ مار بھیڑیوں کی طرح ہماری
فوج پر شب خون مارتے ہیں۔ اس جنون اور اس عقیدے کو تباہ کرنا ضروری ہے''۔
ہم نے ہمیشہ انسان کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھایا ہے جسے فرار اور لذت پرستی کہتے ہیں''…… شاہ آگسٹس نے کہا……''
'' جن مسلمانوں کے پاس دولت ہے ،وہ حکمران بننا چاہتے ہیں۔ ہم نے ان کی اسی کمزوری کو استعمال کیا ہے۔ ہمیں کوئی
نیا طریقہ ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ ایک اور مہم شروع کرنی ہے۔ یہ ہے ایوبی کے خالف نفرت کی مہم۔ اس کے
خالف انتہائی گھٹیا باتیں مشہور کردو لیکن یہ کام تم نہیں کرو گے بلکہ مسلمانوں کی زبانیں استعمال کی جائیں گے۔ اپنے
مخالفین اور دشمنوں کو بدنام کرنے کے لیے اپنے کردار اور اخالق کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ اپنے مفاد کو سامنے رکھنا
چاہیے۔ تمہارا دشمن حیثیت ،رتبے اور شہرت کے لحاظ سے جس قدر بلند ہو ،اس پر اتنے ہی گھٹیا اور پست الزام عائد کرو۔
سو میں سے پانچ آدمی تو تمہاری بات مان جائیں گے''۔
اس دوران اپنی جنگی تیاریاں جاری رکھو''…… ایک کمانڈر نے کہا…… ''ہمیں بہت وقت مل گیا ہے۔ آپ نے بہت کامیابی''
سے مسلمانوں میں حکومت پرستی کا مرض پیدا کرکے انہیں آپس میں ٹکرایا ہے۔ اگر ہم مسلمانوں میں اپنے دوست پیدا نہ
کرتے تو آج صالح الدین ایوبی فلسطین میں ہوتا۔ ہم نے اسی کی قوم اس کے راستے میں کھڑی کردی ہے''۔
میں حیران ہوں''…… ریمانڈ نے کہا…… ''کہ یہی مسلمان سپاہی ایوبی کی فوج میں ہیں۔ وہ ہمارے دس دس سپاہیوں پر ''
بھاری ہوتے ہیں مگر یہی مسلمان سپاہی ایوبی کے حریفوں کی فوج میں تھے اور ایسی بری شکست کھا گئے کہ بکھرے ہوے
بھاگے''۔
یہ عقیدے اور نظریے کا کرشمہ ہے جسے مسلمان ایمان کہتے ہیں''…… رینالڈ نے کہا…… ''جو سپاہی یا ساالر اپنا ایمان ''
نیالم کردیتا ہے۔ اس میں لڑنے کا جذبہ نہیں رہتا۔ اسے زندگی اور اجرت عزیز ہوتی ہے۔ اسی لیے ہم نے کردار کشی کو
ضروری سمجھا ہے۔ ان لوگوں میں جنسیت اور نشے کی عادت پیدا کرو ،پھر تمہیں سپاہی اور گھوڑے مروانے کی ضرورت نہیں
پڑے گی''۔
اس کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ حلب میں تینوں مسلمان فوجوں کو یکجا کرکے ایک کمان میں رکھا جائے ،واجبی سی مدد
دی جائے۔ انہیں ایک محاذ پر رکھا جائے لیکن ان تینوں میں تفرقہ بھی پیدا کیا جائے۔
٭ ٭ ٭
رات کا پہال پہر گزر چکا تھا۔ حارث کے گائوں پر نیند کا غلبہ تھا۔ اس کے گھر سے تین گھوڑے نکلے۔ ایک پر سیف الدین
سوار ہوا۔ دوسرے پر حارث اور تیسرے پر داود۔ ان دونوں کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں جو انہوں نے فوجی انداز سے عمودی
پکڑ رکھی تھیں۔ انہیں الوداع کہنے کے لیے حارث کا باپ ،بہن اور بیوی دروازے کے باہر کھڑی تھیں۔ حارث کے ہاتھ میں
مشعل تھی۔ سیف الدین فوزی پر نظریں جمائے ہوئے تھا اور فوزی داود کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی۔ اس نے سیف الدین
کی اور اپنے بھائی کی بھی موجودگی کو نظرانداز کردیا تھا۔ ''خدا حافظ ،خدا حافظ'' کی آوازیں سنائی دیں اور تینوں سوار
چل پڑے۔
گھوڑے تاریکی میں روپوش ہوگئے۔ فوزی ان کے ٹاپ سنتی رہی۔ جوں جوں ٹاپو دھیمے ہوتے گئے ،فوزی کے کانوں میں داوں
کی آواز بلند ہوتی گئی…… '' راہ حق کے مسافروں کی شادیاں آسمانوں میں ہوا کرتی ہیں ،ان کی باراتیں کہکشاں کے رستے
جایا کرتی ہیں''۔
وہ جب اندر جاکر سونے کے لیے لیٹی تو بھی اس کے گرد داود کے یہی الفاظ گونج رہے تھے۔ اچانک یہ سوال اس کے ذہن
میں آیا…… ''کیا میں داود کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہوں؟''…… وہ شرمسار ہوگئی ،پھر اسے اپنے آپ پر غصہ آنے لگا۔
اسے داود کے یہ الفاظ یاد آئے…… ''راستے میں خون کی ندی
بھی ہے جس پر کوئی پل نہیں''…… اس کے ذہن میں خون موجیں مارنے لگا۔ شادی ایک بے کار سا خیال بن کر ذہن :
سے نکل گیا۔
سیف الدین اور اس کے محافظوں نے رات سفر میں گزار دی۔ صبح طلوع ہوئی تو سیف الدین آگے آگے جارہا تھا۔ داود اور
حارث اتنا پیچھے تھے کہ ان کی باتیں سیف الدین کے کانوں تک نہیں پہنچ سکتی تھیں۔ گھوڑوں کے قدموں کی بھی آوازیں
تھیں۔
معلوم نہیں تم مجھے کیوں روک رہے ہو؟''…… حارث نے جھنجھال کر داود سے کہا…… ''یہاں ہم اسے قتل کرکے الش ''
کہیں دبا دیں تو کسی کو ہم پر قتل کا شک نہیں ہوسکتا''۔
اسے زندہ رکھ کر ہم اس کی پوری فوج کو قتل کراسکیں گے''…… داود نے کہا…… ''یہ مرگیا تو اس کی فوج کی کمان ''
کوئی اور لے لے گا۔ مجھے راز معلوم کرنا ہے ،تم اپنے آپ کو قابو میں رکھو''۔
دوپہر سے کچھ پہلے انہیں حلب کے مینار نظر آنے لگے۔ اس سے الگ ہٹ کر المبارک کا سبزہ زار تھا ،جہاں قدرتی چشمے
تھے۔ اس جگہ کے قریب پہنچے تو سیف الدین کا وہ کمان دار جو الملک الصالح کے لیے اس کی مالقات کا پیغام الیا تھا۔
دوڑتا آیا ،اس نے بتایا کہ الملک الصالح انتظار کررہا ہے۔ المبارک کے سبزہ زار میں داخل ہوئے تو الملک الصالح کے دو ساالر
استقبال کے لیے کھڑے تھے۔ اس نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس کے لیے چشمے کے کنارے خیمہ نصب کیا جائے۔ وہ
اسی جگہ قیام کرنا چاہتا تھا۔ تاریخ میں اس سوال کا جواب نہیں ملتا کہ اس نے شہر میں الملک الصالح کے محل میں جانا
کیوں پسند نہیں کیا تھا۔ اس نے داود اور حارث کو اپنے ساتھ رکھا۔ اس کے لیے نہایت خوش نما اور کشادہ خیمہ نصب کردیا
گیا۔ مالزم بھی آگئے اور خیمے نے وہاں محل کا منظر بنا دیا۔ الملک الصالح نے اسے قلعے میں رات کے کھانے پر مدعو کیا
اور وہیں مالقات طے ہوئی۔
٭ ٭ ٭
شام کو سیف الدین اور الملک الصالح کی مالقات ہوئی۔ قاضی بہائوالدین شداد نے اپنی یادداشتوں ''سلطان یوسف پر کیا افتاد
پڑی'' ( سلطان ایوبی کا پورا نام یوسف صالح الدین ایوبی تھا) میں اس مالقات کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے…… ''آخر کار
یہ طے پایا کہ الملک الصالح اور سیف الدین والئی موصل کی مالقات ہوگی۔ مالقات قلعے میں ہوئی جہاں الملک الصالح نے
سیف الدین کا استقبال کیا۔ سیف الدین نے کمسن شہزادے ( الملک الصالح) کو گلے سے لگا لیا اور رو پڑا۔ مالقات کے بعد
سیف الدین اپنے خیمے میں چال گیا جو چشمہ المبارک کے پاس تھا۔ وہاں اس نے بہت دن قیام کیا''۔
دو واقعہ نگاروں نے جو کوائف قلمبند کیے تھے ،وہ اس طرح ہیں کہ سیف الدین نے الملک الصالح سے کہا کہ اس نے اس
کے پیغام کا جواب نہیں دیا۔ الملک الصالح حیران ہوا۔ اس نے بتایا کہ اس نے دوسرے ہی دن تحریری جواب بھیج دیا تھا
جس میں اس نے لکھا تھا کہ آپ فکر نہ کریں ،صلح کا معاہدہ محض دھوکہ ہے جو وقت حاصل کرنے کے لیے سلطان ایوبی
کو دیا گیا ہے۔
مجھے آپ کا کوئی پیغام نہیں مال''…… سیف الدین نے کہا…… ''میں تو اس پر پریشان تھا کہ آپ نے صالح الدین ''
ایوبی کے ساتھ صلح کا معاہدہ کرکے غلطی کی ہے اور ہمیں دھوکہ دیا ہے''۔
الملک الصالح کے ساتھ اس کے دو ساالر بھی تھے۔ انہوں نے اسی وقت اس آدمی کو بالیا جسے پیغام دیا گیا تھا۔ اس نے
بتایا کہ قاصد کون تھا۔ قاصد کو بالنے گئے تو معلوم ہوا کہ جس روز وہ پیغام لے کر گیا تھا ،اس روز کے بعد کسی کو نظر
نہیں آیا۔ اس اطالع پر بھاگ دوڑ شروع ہوگئی۔ قاصد کا کچھ پتہ نہ چال۔ کسی کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ کہاں کا رہنے
واال ہے۔ وہ کہیں اکیال رہتا تھا ،وہاں اس کا سامان پڑا تھا ،وہ خود نہیں تھا…… یہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ
اتنا اہم پیغام صالح الدین ایوبی تک پہنچا دیا گیا ہے۔
یہ معاملہ الملک الصالح کے صلیبی مشیروں تک پہنچا تو انہوں نے یہ فیصلہ دیا…… ''قاصد صالح الدین ایوبی کا جاسوس تھا
یا سیف الدین کی طرف جاتے ہوئے قاصد ایوبی کے جاسوسوں یا چھاپہ ماروں کے ہتھے چڑھ گیا۔ انہوں نے اسے قتل کردیا
ہوگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ صالح الدین ایوبی نے جنگی تیاریاں تیز کردی ہوں گی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ حملے میں
پہل کردے۔ اس کا یہ عالج ہے کہ تینوں فوجوں کو فورا ً اکٹھا کیا جائے اور ایوبی پر حملہ کردیا جائے''۔
صلیبی یہی چاہتے تھے کہ مسلمانوں کے درمیان جنگ جاری رہے۔ ایک ہی دن میں موصل اور حرن پیغام بھیج دئیے گئے کہ
افواج جس حالت میں ہیں ،حلب پہنچیں۔ حرن کے امیر گمشتگین نے کچھ پس وپیش کی لیکن سب کے درمیان بیٹھ کر وہ
کھلی مخالفت نہ کرسکا۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ تینوں افواج ایک ہائی کمانڈ کے تحت ہوں گی اور سپریم کمانڈر سیف
الدین ہوگا۔ گمشتگین نے اپنی فوج شامل تو کردی لیکن خود حلب میں رہنا پسند کیا۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ سیف الدین کے
ماتحت نہیں رہنا چاہتا۔
دو تین دنوں میں تینوں فوجیں حلب میں جمع ہوگئیں۔ صلیبیوں نے اسلحہ اور سامان بھیج دیا تھا۔ انہوں نے
مزید سامان کا وعدہ کیا اور افواج کو کوچ کرادیا۔ حملے کا پالن عجلت میں بنایا گیا تھا۔ کوچ کو پوشیدہ ر کھنے کے لیے
نقل وحرکت رات کو کی گئی۔ دن کو پڑائو کرنا تھا۔ اس کے عالوہ یہ انتظام بھی کیا گیا کہ چھاپہ ماروں کی خاصی تعداد
کوچ کے راستے دائیں بائیں اس ہدایت کے ساتھ پھیال دی گئی کہ کوئی مسافر بھی نظر آئے تو اسے پکڑ کر حلب بھیج دو،
تاکہ فوج کا کوچ خفیہ رہے۔
کوچ سے پہلے سیف الدین نے داود اور حارث کو بالیا۔ انہیں شاباش دی اور کہا کہ انہوں نے مشکل کے وقت میں اس کا
ساتھ دیا ہے۔ جنگ کے بعد انہیں ترقی ملے گی اور انعام بھی۔ اس نے حارث سے کہا…… ''تمہاری بہن کا میرے سر پر
ایک قرض ہے۔ میں اس کے سامنے اس وقت جائوں گا جب میں یہ قرض ادا کرنے کے قابل ہوں گا''۔ حارث کو حیرت
میں دیکھ کر اس نے کہا…… ''فوزی نے کہا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کی تلوار لے کر اور اس کے گھوڑے پر سوار
ہوکر آئو گے تو میں تمہارے ساتھ چلی چلوں گی… …حارث! میں اگر فاتح واپس آیا تو تمہاری بہن موصل کی ملکہ ہوگی''۔
''انشاء اللہ''…… حارث نے کہا…… ''ہم آپ کو فاتح الئیں گے ،کیا تینوں فوجیں اکٹھی جارہی ہیں؟''
اعلی ہوں گا''۔''
ہاں!'' سیف الدین نے جواب دیا…… ''اور میں تینوں کا ساالر
ٰ
زندہ باد''۔ داود نے کہا…… ''اب بھاگنے کی باری صالح الدین ایوبی کی ہے''۔''
داود اور حارث نے غالمانہ انداز سے جوشیلی باتیں کرکے اور فوزی کا نام بھی باربار لے کر اس سے پالن کا خاکہ بھی معلوم
کرلیا اور نقل وحرکت کا انداز بھی پوچھ لیا۔
تم دونوں اپنی فوج میں چلے جائو''۔ سیف الدین نے کہا…… ''میرا محافظ دستہ آگیا ہے۔ میں تم دونوں کو ہمیشہ یاد ''
رکھوں گا''۔
٭ ٭ ٭
تینوں فوجوں کا کوچ رات کو ہوا۔ داود اور حارث موصل کی ایک فوج کے جیش میں شامل ہوگئے تھے۔ حارث کو تو کئی
سپاہی جانتے تھے ،کیونکہ وہ اسی فوج کا تھا۔ داود کے متعلق حارث نے بتایا کہ والئی موصل کا بھیجا ہوا آدمی ہے۔ کوچ
کی حالت میں کسی نے داود کے متعلق چھان بین نہ کی۔ رات کو تینوں فوجیں تین کالموں میں چلتی رہیں۔ آدھی رات کے
بعد عالقہ چٹانی آگیا ،جہاں کئی جگہوں پر کالم کی ترتیب گڈ مڈ ہوگئی۔ داود نے حارث سے کہا…… ''یہاں سے نکلو ،موقعہ
اچھا ہے''۔
رات کے اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں نے گھوڑے آہستہ آہستہ ایک طرف کرنے شروع کردئیے اور فوج سے دور ہٹتے
گئے۔ داود کی سکیم یہ تھی کہ دور جاکر گھوڑے سرپٹ دوڑا دیں گے۔ دن کو تینوں افواج پڑائو کریں گی اور وہ دونوں ترکمان
پہنچ جائیں گے اور صالح الدین ایوبی کو حملے کی خبر دے دیں گے۔ اس طرح اسے حملے کی اطالع ایک دن پہلے مل
جائے گی اور وہ دشمن کے استقبال کا انتظام کرلے گا۔ داود کو اپنی سکیم کی کامیابی پر مکمل اعتماد تھا مگر اسے یہ
معلوم نہیں تھا کہ اردگرد عالقے میں چھاپہ مار اور جاسوس پھیال دئیے گئے ہیں۔
وہ دونوں دور دائیں طرف نکل گئے۔ جب دیکھا کہ فوج سے وہ بہت دور محفوظ فاصلے پر آگئے ہیں تو انہوں نے ترکمان کا
رخ کرلیا لیکن گھوڑے دوڑائے نہیں ،رفتار ذرا سی تیز کردی۔ وہ گھوڑوں کو تھکانے سے بھی گریز کررہے تھے کیونکہ انہیں
منزل تک رکے بغیر پہنچنا تھا۔ رات گزرتی جارہی تھی۔ صبح کا اجاال نکھرنے لگا تو داود گھوڑے سے اترا اور ایک ٹیلے پر
چڑھ کر اس طرف دیکھنے لگا جدھر افواج جارہی تھیں۔ اسے دور گرد کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ اسے اطمینان ہوگیا کہ وہ
افواج سے بہت دور ہیں مگر یہ اس کی غلطی تھی۔ اسے کوئی دیکھ رہا تھا۔ نیچے آکر گھوڑے پر سوار ہوا اور دونوں نے
گھوڑوں کی رفتار تیز کردی۔ یہ ٹیلوں اور ریتلی چٹانوں کا عالقہ تھا۔ وہ دو ٹیوں کے درمیان سے گزر رہے تھے۔ آگے موڑ تھا۔
وہ موڑ پر پہنچے تو آگے سے چار گھوڑ سوار آگئے۔ چاروں نے برچھیاں ان کی طرف کردیں اور رک گئے۔
گھوڑوں سے اترو''۔ گھوڑ سوار نے رعب سے کہا۔'' :
ہم مسافر ہیں''۔ داود نے کہا۔''
مسافر موصل کی فوج کی وردی میں نہیں ہوا کرتے''۔ گھوڑ سوار نے کہا…… ''مسافروں کے پاس یہ ہتھیار نہیں ہوا کرتے''
جو تم نے اٹھا رکھے ہیں…… تم جو کوئی بھی ہو تمہیں ہمارے ساتھ حلب چلنا ہوگا۔ ہم تمہیں چھوڑ نہیں سکتے۔ گھوڑے
موڑو''۔
یہ حلب کے چھاپہ مار تھے جو مشکوک آدمیوں کو پکڑ کر حلب لے جانے کو تمام عالقے میں پھیال دئیے گئے تھے۔ چاروں
سواروں نے ان دونوں کو گھیرے میں لے لیا۔ داود نے حارث سے آہستہ سے کہا…… ''وقت آگیا ہے بھائی''… …حارث نے
اپنے گھوڑے کی لگام کو جھٹکا دیا۔ گھوڑے نے اگلی دونوں ٹانگیں اٹھادیں۔ حارث نے ایڑی لگائی۔ گھوڑے نے جست لگائی۔
حارث نے سامنے والے گھوڑ سوار کے سینے میں برچھی اتار دی لیکن اس کے بائیں جو سوار تھا اس کی برچھی حارث کے
کندھے میں اتر گئی۔ داود تجربہ کار چھاپہ مار تھا۔ اس نے گھوڑے کو ایڑی لگا کر وہیں سے گھمایا اور ایک اور سوار کو بے
خبری میں لے لیا۔ وہ چار تھے اور یہ دو۔ یہ جگہ گھوڑوں کی لڑائی کے لیے موزوں نہیں تھی۔ دونوں طرف ٹیلے تھے۔ تھوڑی
دیر گھوڑے کودتے پھالنگتے رہے ،برچھیاں ٹکراتی رہیں۔ حارث گھوڑے سے گر پڑا۔ داوں کو بھی زخم آئے تھے جن میں دو
تین گہرے تھے لیکن اس نے ہوش ٹھکانے رکھے۔
آخر چاروں سوار مارے گئے یا شدید زخمی ہوکر گر پڑے۔ داود بھی شدید زخمی تھا۔ اس نے دیکھا کہ معرکہ ختم ہوگیا ہے تو
اس نے حارث کے گائوں کا رخ کرلیا۔ حارث کو دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اسے یقین تھا کہ وہ مرگیا ہے اور
اسے یہ بھی یقین تھا کہ وہ خود بھی مرجائے گا لیکن وہ سلطان ایوبی کو حملے سے قبل از وقت خبردار کرنے کے لیے
زندہ رہنے کی کوشش کررہا تھا۔ اس کا خون اتنا زیادہ بہہ گیا تھا کہ اس کی زین اور گھوڑے کی پیٹھ بھی الل ہوگئی تھی۔
اس نے اندازہ کرلیا تھا کہ ترکمان دور ہے اور حارث کا گاوں قدرے کم دور۔ اس کی نظر حارث کے باپ پر تھی۔ اسے امید
تھی کہ وہ زندہ پہنچ گیا تو بوڑھے سے کہے گا کہ اپنے شہید بیٹے کی روح کی تسکین کے لیے ترکمان پہنچو اور سلطان
ایوبی کو خبردار کردو۔
اس نے گھوڑے کو ایڑی لگا دی۔ گھوڑا جتنا زیادہ ہلتا تھا ،داود کے جسم سے خون اتنا ہی زیادہ نکلتا تھا۔ پیاس سے اس کے
حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔ وہ سر کو جھٹک جھٹک کر راستہ دیکھنے کی
کوشش کرتا تھا۔ اس نے آیتہ کریمہ کا ورد شروع کردیا اور تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد آسمان کی طرف منہ کرکے بلند آواز
سے کہتا…… ''زمین وآسمان کے مالک! تجھے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واسطہ ،مجھے تھوڑی سی زندگی عطا
کردے''…… اس کے نیچے گھوڑا بڑی اچھی چال دوڑتا جارہا تھا مگر داود کے زخم کھلتے جارہے تھے اور وہ محسوس کررہا
تھا جیسے اس کے جوڑ بھی الگ ہورہے ہوں۔ ایک بار تو اس کا سر ایسا ڈوال کہ وہ گھوڑے سے گرتے گرتے بچا۔ وہ چونک
کر سنبھل گیا۔
20:42
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔ 102راہ حق کے مسافر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایک بار تو اس کا سر ایسا ڈوال کہ وہ گھوڑے سے گرتے گرتے بچا۔ وہ چونک کر سنبھل گیا۔ وہ ایک بار پھر گھوڑے سے
گرنے لگا۔ اس نے سنبھلنے کی کوشش کی مگر سنبھل نہ سکا۔ اسے اپنے پائوں کے نیچے زمین محسوس ہوئی۔ اس کی
آنکھوں کے آگے اندھیرا تھا۔ وہ ذرا سا اپنے آپ میں آیا تو اسے پتہ چال کہ یہ رات کا اندھیرا ہے اور اسے کسی نے تھام
رکھا ہے۔ اسے وہ دشمن سمجھ کر آزاد ہونے کی کوشش کرنے لگا تو اس کے کانوں میں ایک نسوانی آواز پڑی…… ''داود!
تم گھر میں ہو ،گھبرائو نہیں''…… اس نے آواز پہچان لی۔ یہ فوزی کی آواز تھی۔ وہ غشی کی حالت میں منزل پر پہنچ گیا
تھا۔ آیتہ کریمہ نے اسے روح کی روشنی عطا کی تھی۔
بابا کہاں ہیں؟'' اس نے اندر جاکر پوچھا۔''
وہ باہر چلے گئے ہیں''…… فوزی نے کہا…… ''وہ کل یا پرسوں آئیں گے''۔''
فوزی اور اس کی بھابی اس کے زخم دھونے لگیں تو اس نے پانی مانگا۔ پانی پی کر اس نے کہا…… ''فوزی! تم نے کہا تھا
کہ مردوں کے کام عورتیں بھی کرلیا کرتی ہیں''…… وہ رک رک کر بڑی مشکل سے بول رہا تھا…… ''میرے زخم نہ دھوئو۔
بے کار ہے ،میرے اندر خون نہیں رہا…… میں ٹھیک ہوتا تو برداشت نہ کرتا کہ تمہیں اس گھر سے باہر جانے دیتا مگر یہاں
مسئلہ میری اور تیری ذات کا نہیں۔ یہ ایک امانت کا مسئلہ ہے۔ یہ ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناموس
کا مسئلہ ہے''…… اس نے فوزی کو ترکمان کا راستہ سمجھایا اور اسے پیغام دیا کہ حلب ،حرن اور موصل کی فوجیں کس
طرح مشترکہ کمان میں حملے کے لیے آرہی ہیں ،کدھر سے آرہی ہیں اور ان کا پالن کیا ہے۔ اس نے فوزی کو بتایا کہ اس
کا بھائی اس فرض کی ادائیگی میں شہید ہو گیا ہے۔
فوزی تیار ہوگئی اور اس کے ساتھ حارث کی بیوی بھی تیار ہوگئی۔ ایک گھوڑا گھر میں تھا ،دوسرا داود کا تھا۔ فوزی اور اس
کی بھابی داود کو اس حالت میں چھوڑ کر جانے سے گھبرا رہی تھیں۔
فوزی!'' داود نے نحیف آواز میں کہا…… ''میرے قریب آو''…… وہ اس کے قریب آئی تو اس نے لڑکی کا ہاتھ تھام کر ''
اور مسکرا کر کہا…… '' راہ حق کے مسافروں کی شادیاں آسمانوں میں ہوا کرتی ہیں ،ان کی باراتیں کہکشاں کے رستے جایا
کرتی ہیں۔ ہماری شادی کی خوشی میں آسمان پر ستاروں کی چراغاں ہوگی''…… اور اس کا سر ایک طرف لڑھک گیا۔ فوزی
نے اسے بالیا مگر اس کی بارات کہکشاں کے راستے چل پڑی تھی۔
فوزی کو داود سب کچھ بتا کر شہید ہوا تھا۔ فوزی اور اس کی بھابی نے گھر اللہ کے حوالے کیا۔ گھوڑے پر ز ین ڈالی اور
اس پر فوزی کی بھابی سوار ہوگئی۔ فوزی نے داود کے گھوڑے کو پانی پالیا اور سوار ہوگئی۔ زین پر خون کی تہہ جمی ہوئی
تھی…… دونوں گھوڑے گائوں سے نکل گئے۔ دونوں لڑکیاں اللہ کے بھروسے پر جارہی تھیں۔ اس راستے سے وہ واقف نہیں
تھیں۔ داود نے فوزی کو ایک ستارہ سمجھا دیا تھا۔ وہ اس ستارے کی رہنمائی میں چلتی گئیں۔
ادھر تینوں افواج دن بھر قیام کرکے رات کو چل پڑی تھیں۔ ترکمان زیادہ دور نہیں تھا۔ سلطان ایوبی ترکمان میں آنے والے
طوفان سے بے خبر تھا۔ اس نے دیکھ بھال کا انتظام کررکھا تھا مگر اس کے دشمن نے بھی اب کے اچھے انتظامات کیے
تھے۔ اس نے اپنے چھاپہ ماروں کو بتا دیا تھا کہ ترکمان کے قریب انہیں سلطان ایوبی کے ایسے آدمی ملیں گے جو دیہاتی
لباس میں یا خانہ بدوشوں کے بھیس میں ہوں گے اور وہ دیکھ بھال کررہے ہوں گے۔ مورخ لکھتے ہیں کہ صالح الدین ایوبی
کا اس طوفان سے بچنا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ اس کا بے خبری میں دبوچے جانا یقینی تھا۔ اپنے ساالروں سے وہ کہہ رہا
تھا کہ حلب ،حرن اور موصل والے اتنی جلدی حملہ کرنے کے قابل نہیں ہوسکتے ،حاالنکہ اسے سیف الدین کی طرف الملک
الصالح کا بھیجا ہوا پیغام مل گیا تھا۔
فوزی اور اس کی بھابی پر جیسے دیوانگی طاری تھی۔ انہیں یہ احساس ہی نہیں رہا تھا کہ وہ مستورات ہیں اور ان کے
راستے میں کیسے کیسے خطرے ہیں۔ رات انہوں نے گھوڑوں پر گزار دی۔ صبح کا نور پھیلنے لگا تو وہ ٹیلوں اور ریتلی چٹانوں
کے قریب سے گزر رہی تھیں۔ فوزی نے ایک چٹان کے سہارے ایک آدمی کو بیٹھے دیکھا۔ اس کے کپڑے خون سے الل ہوگئے
تھے۔ اس کا سر ڈھلک گیا تھا۔ فوزی نے اپنی بھابی سے کہا کہ کوئی زخمی معلوم ہوتا ہے لیکن رکیں گے نہیں۔ معلوم
نہیں کون ہے۔ انہیں اس کے قریب سے گزرنا تھا۔ وہ آدمی اٹھنے کی کوشش کررہا تھا۔
گھوڑے قریب گئے تو فوزی نے چیخ کر کہا… ''حارث''… اور وہ گھوڑے سے کود گئی۔
وہ حارث تھا۔ وہ شہید نہیں ہوا تھا لیکن ان کا زندہ رہنا بھی معجزہ تھا۔ اس کے جسم پر برچھیوں کے بہت سے زخم
تھے۔ لڑکیوں نے گھوڑے کے ساتھ پانی کے چھوٹے چھوٹے مشکیزے باندھ رکھے تھے۔ انہوں نے حارث کو پانی پالیا۔ اسے ذرا
''سا ہوش آیا تو اس نے پوچھا…… ''میں گھر میں ہوں؟ دائود کہاں ہے؟
فوزی نے اسے ساری بات بتا دی اور بتایا کہ وہ اس وقت کہاں ہیں اور کدھر جارہی ہیں۔ حارث نے کہا……''مجھے گھوڑے
پر ڈال لو اور ترکمان کی طرف گھوڑے دوڑا دو''۔
دونوں لڑکیوں نے اسے گھوڑے پر بٹھا دیا۔ فوزی اس کے پیچھے بیٹھ گئی۔ حارث روح کی قوت سے زندہ تھا ،ورنہ اس کے
جسم میں خون کا ایک قطرہ نہیں بچا تھا۔ یہ فرض کی لگن کا کرشمہ تھا۔ فوزی نے اس کی پیٹھ اپنے سینے سے لگا رکھی
تھی اور اسے ایک بازو سے پکڑا ہوا تھا۔ وہ سرگوشیوں میں فوزی کو راستہ بتا رہا تھا۔
سلطان ایوبی کی دشمن افواج سیف الدین کی کمان میں ترکمان کے قریب پہنچ رہی تھی۔ ادھر فوزی ،حارث اور حارث کی
بیوی ایک محفوظ سمت سے ترکمان کی طرف جارہی تھیں۔ افق سے آسمان گہرا بادامی ہوتا جارہا تھا اور یہ رنگ اوپر ہی
اوپر اٹھتا جارہا تھا۔ فوزی کی بھابی نے افق کی طرف دیکھا تو اس نے گھبرا کر چال کر کہا…… ''فوزی ،ادھر دیکھو''……
''حارث نے سرگوشی کی…… ''کیا ہے فوزی؟
آندھی'' فوزی نے کہا اور اس کے دل پر گھبراہٹ طاری ہوگئی۔''
اس خطے کے لوگ ان آندھیوں سے واقف تھے۔ یہ عالقہ بے شک چٹانی تھا لیکن کچھ حصے ریتلے تھے اور اردگرد ریگزار
تھا۔ آندھی جب آتی تھی چٹانوں کو ریت میں دفن کرجاتی تھی۔ انسانوں اور جانوروں کے لیے یہ قیامت ہوتی تھی لیکن یہ
جو آندھی آرہی تھی وہ اس خطے کی چند ایک بھیانک آندھیوں میں سے ایک تھی اور اس آندھی نے تاریخی حیثیت حاصل
کرلی۔ میجر جنرل ( ریٹائرڈ) محمد اکبر خان ( رنگروٹ) نے اپنی انگریزی کتاب ''گوریال وار فیئر'' میں ایک یورپی مورخوں
اور مسلمان واقعہ نگاروں کے حوالے دے کر لکھا ہے…… ''جس روز الملک الصالح ،گمشتگین اور سیف الدین کی متحدہ افواج
سلطان صالح الدین ایوبی پر بے خبری میں حملہ کرنے کے لیے ترکمان کے قریب پہنچ گئیں تو ایسی آندھی آئی کہ اپنی ناک
سے ایک بالشت آگے کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ سلطان ایوبی کو معلوم نہیں تھا کہ اس آندھی میں اس پر ایک اور طوفان آرہا
ہے''۔
اعلی کی لغزش
تاریخ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ متحدہ افواج نے سلطان ایوبی پر حملہ کرنے میں تاخیر کردی جو ساالر
ٰ
تھی لیکن راہ حق کے مسافروں کی مدد خدا کیا کرتا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ خدائے ذوالجالل نے دو مسلمان لڑکیوں کے جذبہ
حریت کی الج رکھ لی تھی۔ ایک بہن اپنے زخمی بھائی کو سینے سے لگائے مجاہدین اسالم کو کفر کی یلغار سے خبردار
کرنے کو دوڑی جارہی تھی ،اسے کوئی غم نہ تھا کہ اس کا بھائی مررہا ہے۔
آندھی اتنی تیزی سے آئی کہ کسی کو سنبھلنے کا موقعہ نہ مال۔ متحدہ افواج چٹانوں کی اوٹ میں بکھر کر پناہ گزین ہوئیں۔
گھوڑے اور اونٹ بے لگام ہوگئے۔ کمانڈروں کو اطمینان تھا کہ آندھی گزر جائے گی اور فوجوں کو منظم کرلیا جائے گا ،مگر
آندھی کا زور بڑھتا جارہا تھا۔سلطان ایوبی کی خیمہ گاہ کی بھی حالت بہت بری تھی ،خیمے اڑ رہے تھے۔ بندھے ہوئے
گھوڑوں اور اونٹوں نے قیامت برپا کررکھی تھی۔ ریت کی بوچھاڑوں کے ساتھ کنکریاں اور ریزے جسموں میں داخل ہوتے
محسوس ہوتے تھے۔ چیخیں ایسی ،جیسے بدروحیں اور چڑیلیں چیخ رہی ہوں۔ سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا مگر پتہ چلتا
تھا کہ سورج کو بھی آندھی اڑا لے گئی ہے۔ کمانڈر چالتے پھر رہے تھے۔ سپاہی اڑتے خیموں کو سنبھالتے ،گرتے اور اٹھتے
تھے۔
تین چار سپاہی ایک چٹان کی اوٹ میں دبکے بیٹھے تھے۔ ایک گھوڑا جو آہستہ آہستہ چل رہا تھا ،ان پر چڑھ گیا۔ سپاہیوں
نے ادھر ادھر گرتے چال چال کر کہا…… ''گھوڑا روکو بدبخت ،کہیں اوٹ میں ہوجائو''…… گھوڑا رکا تو ایک سپاہی نے اپنے
ساتھیوں سے کہا…… ''کچھ اور نہ کہنا ،عورت ہے''…… ایک اور نے کہا…… ''یہ دو عورتیں ہیں''۔
وہ فوزی اور اس کی بھابی تھیں۔ سپاہیوں نے یہ سمجھ کر آندھی میں راستہ بھول کر ادھر آنکلی ہیں ،ان کے گھوڑوں کی :
باگیں پکڑ لیں اور انہیں چٹان کی اوٹ میں کرنے لگے۔
ہمیں سلطان ایوبی تک پہنچائو''۔ فوزی نے آندھی کی چیخوں میں چال کر کہا…… ''سلطان صالح الدین ایوبی کہاں ہے؟ ''
ہم بہت ضروری پیغام لے کر آئی ہیں ،ورنہ سب مارے جائو گے''۔
سپاہیوں نے گھوڑے پر ایک لہولہان زخمی کو بھی دیکھ لیا تھا۔ انہوں نے گھوڑوں کی باگیں پکڑیں اور بڑی ہی مشکل سے
سلطان ایوبی کے خیمے تک پہنچے مگر وہاں کوئی خیمہ نہیں تھا۔ اس کی حفاظت کے لیے قناتیں تان دی گئی تھیں۔ لڑکیوں
کو دیکھ کر سلطان ایوبی تیزی سے اٹھا۔ سب سے پہلے حارث کو گھوڑے سے اتارا گیا۔ وہ ابھی زندہ تھا۔ لڑکیاں گھوڑوں سے
اتریں اور تیزی سے بولتے ہوئے فوزی نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ متحدہ فوج حملے کے لیے آگئی ہے۔ حارث نے سرگوشیوں
میں ضروری باتیں بتائیں اور وہ بولتے بولتے ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا۔
اس سے کچھ دیر بعد آندھی کا زور تھمنے لگا۔ سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں کو بالیا اور حکم دیا کہ خیمے سنبھالنے کی
ضرورت نہیں۔ سپاہیوں کو جیشوں اور دستوں میں اکٹھا کرو۔ چھاپہ مار دستے فورا ً بالئو اس نے ساالروں کو بتایا کہ کیا ہونے
واال ہے اور رات کے اندر اندر کیا کیا نقل وحرکت کرنی ہے۔
آندھی کا زور کچھ اور کم ہوگیا لیکن رات کا اندھیرا پھیل گیا۔ سیف الدین کی متحدہ افواج اپنے آپ کو سنبھالنے میں
مصروف ہوگئیں۔ بہت سے سپاہی سو گئے۔ رات کا حملہ اس بدنظمی کی وجہ سے ملتوی کردیا گیا۔ جانور بھی ادھر ادھر
بھاگ دوڑ رہے تھے۔ آدھی رات کے بعد افواج پر نیند کا غلبہ طاری ہوگیا۔ سلطان ایوبی کا کیمپ جاگ رہا تھا اور وہاں بے
پناہ سرگرمی تھی۔ سیف الدین کو معلوم ہی نہ ہوسکا کہ اس کے دائیں اور بائیں سے دو تین میل دور اس فوج کا حصہ
گزرتا جارہا ہے جسے وہ بے خبری میں تباہ کرنے آیا تھا۔
٭ ٭ ٭
صبح طلوع ہوئی۔ متحدہ افواج بری طرح بکھر ہوئی تھیں۔ رسد اڑ گئی تھیں۔ بعض گھوڑوں نے منہ زور ہوکر سپاہیوں کو کچل
ڈاال تھا۔ افواج کو عجلت سے منظم کیا گیا۔ آدھے سے زیادہ دن اسی میں گزر گیا۔ سیف الدین نے تینوں افواج کے ساالروں
کو حکم دیا کہ چونکہ سلطان ایوبی بے خبر ہے ،اس لیے سامنے سے کھال حملہ کردیا جائے۔
دن کے پچھلے پہر حملہ کیا گیا۔ دائیں بائیں چٹانیں اور سرسبز ٹیلے تھے۔ ان سے حملہ آوروں پر تیروں کا مینہ برسنے لگا۔
سامنے سے آگ کے گولے آنے لگے۔ آتش گیر مادے کی ہانڈیاں گرتی اور پھٹتی تھیں۔ سیال مادہ بکھر جاتا تھا۔ اس پر جب
منجنیقوں کے پھینکے ہوئے آگ کے گولے گرتے تھے تو زمین مہیب شعلے اگلتی تھی۔ حملہ رک گیا۔ سیف الدین نے افواج
کو پیچھے ہٹا لیا اور حملے کی ترتیب اور سکیم بدل دی مگر اس کی افواج پیچھے ہٹیں تو عقب سے ان پر ایسا شدید اور
تیز حملہ ہوا کہ افواج کا شیرازہ بکھر گیا۔ یہ حملہ سلطان ایوبی کے اپنے مخصوص سٹائل کا تھا۔ حملہ آوروں کی تعداد
تھوڑی تھی۔ گھوڑے سرپٹ دوڑتے آئے۔ سواروں کی برچھیاں اور تلواریں چلیں اور وہ غائب ہوگئے۔
ایسے ہی حملے پہلوئوں پر ہوئے۔ سیف الدین کی مرکزی کمان ختم ہوگئی۔ رات آئی۔ حملے رات کو بھی جاری رہے۔ سیف
الدین اور پیچھے ہٹا تو اس پر تیروں کی بوچھاڑیں آنے لگیں۔ سلطان ایوبی کے چھاپہ مار رات بھر سرگرم رہے۔ صبح ابھی
دھندلی تھی ،جب سلطان ایوبی نے ایک چٹان پر چڑھ کر میدان جنگ کی کیفیت دیکھی۔ اس کے سامنے اب جنگ کا آخری
مرحلہ تھا۔ اس نے قاصد کو اپنے ریزرو دستوں کے کمانڈر کی طرف دوڑا دیا۔ تھوڑی ہی دیر میں سرپٹ دوڑتے گھوڑوں نے
زمین ہال ڈالی۔ پیادہ دستے دائیں اور بائیں سے نکلے۔ اللہ اکبر کے نعروں سے آسمان پھٹنے لگا۔
سیف الدین کی افواج اس قابل نہیں رہی تھیں کہ اس حملے کی تاب السکیں۔ گھیرا بھی تھا اور گھیرا مکمل تھا۔ سامنے
سے شدید حملہ آگیا۔ سیف الدین کی افواج کا جذبہ تو ختم ہوچکا تھا ،خود سیف الدین دل چھوڑ بیٹھا۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ
کمان اس کے ہاتھ سے نکل گئی ہے اور افواج لڑنے کے قابل نہیں رہیں۔ سوار زخمی سپاہیوں کو روند رہے تھے۔ آخر انہو ں
نے فردا ً فردا ً ہتھیار ڈالنے شروع کردئیے۔ سلطان ایوبی کی وہ فوج جو سیف الدین کے عقب میں تھی ،آگے آرہی تھی۔ دائیں
بائیں سے چھاپہ مار ہلے پہ ہلہ بول رہے تھے۔ سیف الدین کی افواج شکنجے میں پس گئیں۔
سیف الدین کے مرکز تک پہنچے تو وہاں شراب کی صراحیوں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ وہاں سے جو قیدی پکڑے گئے،
اعلی آخری بار ایک چٹان کی اوٹ میں دیکھا گیا تھا پھر نظر نہیں آیا۔ اسے سلطان ایوبی کے
انہوں نے بتایا کہ ان ساالر
ٰ
حکم سے بہت تالش کیا گیا مگر وہ کہیں بھی نظر نہ آیا۔ وہ نکل گیا تھا۔ اپنی افواج کو سلطان ایوبی کے رحم وکرم پر
چھوڑ کر وہ بھاگ گیا تھا۔
رات ایک خیمے میں جو ترکمان کے سبزہ زار میں خاص طور پر نصب کیا گیا تھا ،فوزی اپنے بھائی کی الش کے پاس بیٹھی
کہہ رہی تھی…… ''میں نے خون کی ندی پارکرلی ہے جس پر کوئی پل نہیں ہوتا۔ حارث! میں نے تمہارا فرض ادا کردیا
ہے''۔
سلطان ایوبی اس خیمے میں داخل ہوا تو فوزی نے پوچھا…… ''سلطان! کیا خبر ہے؟ میرے بھائی کا خون رائیگاں تو نہیں
''گیا؟
اللہ نے دشمن کو شکست دی ہے ،تم فاتح ہو ،میری بچی! تم'' ……اور سلطان ایوبی کی آواز رقت میں دب گئی۔ اس ''
کے آنسو بہہ نکلے۔
20:42
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔ 103جانباز ،جنات اور جذبات
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ترکمان کا معرکہ ختم ہوچکا تھا یا سلطان صالح الدین ایوبی کے کم از کم ان نائب ساالروں اور کمانڈروں کی نگاہ میں یہ
معرکہ ختم ہوچکا تھا ،جنہوں نے الملک الصالح ،سیف الدین اور گمشتگین کی متحدہ افواج کو ان کی توقعات کے خالف بے
ترتیب اور بزدالنہ پسپائی پر مجبور کردیا تھا۔ سلطان ایوبی کے فاتح کمانڈروں کے سامنے دشمن کی الشیں پڑی تھیں ،زخمی
تڑپ رہے تھے ،منہ زور گھوڑے اور زخمی گھوڑے اور اونٹ زخمیوں اور الشوں کو کچل رہے تھے۔ دشمن کے جو سپاہی بھاگ
نہیں سکے تھے ،وہ ہتھیار پھینک کر الگ جمع ہوتے جارہے تھے۔ بے انداز تلواریں ،ڈھالیں ،برچھیاں ،کمانیں ،تیروں سے بھرے
ہوئے ترکش ،خیمے ،فوجیوں کا ذاتی سامان جس میں نقدی اور قیمتی اشیاء بھی تھیں ،دور دور تک بکھری ہوئی تھیں۔
سلطان صالح الدین ایوبی اس مقام پر کھڑا تھا جو اس کے دشمن اتحادیوں کے سپریم کمانڈر سیف الدین غازی کا ہیڈکوارٹر اور
اس کی رہائش گاہ تھی۔ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ سیف الدین اپنی افواج کو بکھرتا اور سلطان ایوبی کی فوج کو یقینی
فتح کی طرف بڑھتا دیکھ کر کسی کو بتائے بغیر بھاگ گیا تھا۔ اس کا فرار خفیہ تھا اور شرمناک بھی۔ اس کے ساتھ اس کے
حرم کی منتخب لڑکیاں تھیں ،ناچنے گانے والیاں اور ان کے سازندے تھے۔ سونے کے سکوں اور دیگر نقدی کی بوریاں بھری
ہوئی تھیں۔ یہ رقم افواج کی تنخواہ تھی اور یہ سلطان ایوبی کے آدمیوں کو خریدنے کے لیے بھی استعمال ہوتی تھی۔ سیف
الدین کی یہ رہائش گاہ دلکش کپڑوں کے خیموں ،قناتوں اور شامیانوں سے بنی تھی۔ یہ کپڑے کی دیواروں اور چھتوں کا محل
تھا۔ اس دور کے جنگجو حکمران ایسے محل اور تمام تر آسائشیں اور عشرت کا سامان ساتھ رکھتے تھے۔ سیف الدین بھی
انہیں حکمرانوں میں سے تھا۔ اس نے شراب کی صراحیاں ،رنگا رنگ پیالے اور مٹکے بھی ساتھ رکھے ہوئے تھے۔
سلطان ایوبی کپڑوں کے اس دلفریب محل کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظر پلنگ پر پڑی ،وہاں تلوار پڑی تھی۔ سیف الدین ایسا
بوکھال کر بھاگا تھا کہ تلوار ساتھ لے جانا بھول گیا تھا۔ سلطان ایوبی نے تلوار اٹھالی۔ نیام سے نکالی۔ تلوار چمک رہی
تھی۔ سلطان ایوبی اس تلوار کو دیکھتا رہا۔ اپنے ساتھ کھڑے دو ساالروں کی طرف دیکھ کر اس نے کہا…… ''مسلمان کی تلوار
پر جب عورت اور شراب کا سایہ پڑ جاتا ہے تو یہ لوہے کا بے کار ٹکڑا بن جاتی ہے۔ اس تلوار کو فلسطین فتح کرنا تھا
مگر صلیب نے اسے اپنے گناہوں میں ڈبو کر اپنی طرح لکڑی کا ڈنڈا بنا ڈاال ہے جو تلوار شراب سے بھیگ جائے وہ لہو کے
رنگ سے محروم رہتی ہے''۔
اس سے ملحق ایک وسیع اور خوش نما خیمے میں الجواب ،حسین اور نیم عریاں لڑکیاں ڈری سہمی ہوئی بیٹھی تھیں۔ انہیں
اپنا انجام کچھ اور نظر آرہا تھا۔ فاتح فوج کے قبضے میں آکر وہ جانتی تھیں کہ ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ ایسی دلکش
لڑکیوں کو دیکھ کر کون درندہ نہیں بن جاتا لیکن انہیں جب سلطان ایوبی کا یہ حکم سنایا گیا کہ وہ آزاد ہیں اور وہ جہاں
جانا چاہیں ،بتا دیں تاکہ وہاں تک انہیں حفاظت اور باعزت بھیجا جاسکے تو وہ اور زیادہ خوف زدہ ہوگئیں۔ انہیں اپنی
حفاظت میں لے لیا گیا۔ سلطان ایوبی میدان جنگ میں عورت کے وجود کو برداشت نہیں کیا کرتا تھا۔ ان لڑکیوں سے پوچھا
گیا کہ ان کی تعداد کتنی تھی تو انہوں نے بتایا کہ ان میں سے دو الپتہ ہیں۔ ان کے متعلق یہ بھی بتایا گیا کہ وہ مسلمان
نہیں تھی اور وہی دو سیف الدین پر چھائی رہتی تھیں۔ یہی کہا جاسکتا تھا کہ وہ سیف الدین کے ساتھ بھاگ گئی ہیں۔
اس دور کی جنگوں میں عموما ً یوں ہوتا تھا کہ جنگ ختم ہوتے ہی فاتح فوج مال غنیمت پر ٹوٹ پڑتی تھی۔ زیادہ تر فوجی
اعلی کمانڈر کی رہائش گاہ یعنی مرکز پر دھاوا بولتے تھے کیونکہ وہاں خزانہ ،شراب اور عورتیں ہوتی
شکست خوردہ فوج کے
ٰ
تھیں۔ ایک طوفانی ہڑ بونگ اور بعض اوقات دنگا فساد برپا ہوجاتا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی کے احکام سخت تھے۔ کسی
افسر کو بھی اس کا عہدہ کتنا ہی اونچا کیوں نہ ہو ،اجازت نہیں تھی کہ مال غنیمت کو ہاتھ لگائے۔ مال غنیمت سمیٹنے
اور ایک جگہ جمع کرنے کا کام کسی ایک دستے کے سپرد کیا جاتا تھا۔ اس کی تقسیم سلطان ایوبی خود کرتا تھا۔ ترکمان
کے معرکے کے بعد سلطان ایوبی نے مال غنیمت کے متعلق کوئی حکم نہ دیا۔ اس نے اپنے اور دشمن کے زخمیوں کو اٹھانے،
مرہم پٹی کرنے اور جنگی قیدیوں کو الگ کرنے کا حکم دے دیا تھا۔
سلطان ایوبی میدان جنگ میں نظم ونسق اور ڈسپلن کی سختی سے پابندی کراتا تھا۔ اس معرکے میں دشمن بے ترتیبی سے
بھاگا تھا۔ سلطان ایوبی کے بعض دستوں نے تعاقب بھی کیا تھا لیکن اس کی ٹریننگ ایسی تھی کہ تعاقب میں بھی دستے
اور جیش ترتیب میں اور ایک دوسرے کے ساتھ راستے میں رہتے تھے۔ سلطان ایوبی نے تعاقب رکوا دیا اور دائیں اور بائیں
پہلو کو اسی طرح تیار رکھا تھا جس طرح جنگ سے پہلے تھے۔ حملے میں اس نے دوسرے دستے ،چھاپہ مار اور ریزرو کی
کچھ نفری استعمال کی تھی۔ معرکہ ختم ہونے کے بعد بھی اس نے پہلوئوں کے دستوں کو سمیٹا نہیں تھا۔ اس کے عالوہ اس
نے اپنے محفوظہ (سٹرائیک فورس) کو فورا ً واپس بال کر اسے اپنی کمان میں لے لیا تھا۔
دشمن کے سازوسامان اور جانوروں وغیرہ کے متعلق کیا حکم ہے؟'' ایک ساالر نے سلطان ایوبی سے پوچھا اور کہا… ''
''لڑائی ہمارے حق میں ختم ہوچکی ہے''۔
میں ابھی اس خوش فہمی میں مبتال نہیں ہوا''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ میرے سبق اتنی ''
جلدی بھول نہ جایا کرو۔ ہم نے دشمن کی مرکزیت اور جمعیت کو بکھیرا ہے۔ کیا ہمارے کسی دستے نے اس کے پہلوئوں پر
حملہ کیا تھا؟… نہیں کیا تھا۔ مجھے شک ہے کہ اس کے دونوں نہیں تو ایک پہلو محفوظ ہے۔ وہ آخر تین فوجیں تھیں۔ ان
کے ساالر ایمان فروش ہوسکتے ہیں ،ایسے اناڑی نہیں ہوسکتے کہ ان کے جو دستے لڑائی میں شامل نہیں ہوئے ،انہیں وہ
جوابی حملے کے لیے استعمال نہ کریں۔ ہوسکتا ہے ان کا محفوظہ بھی محفوظ اور تیار ہو''۔
ان کی مرکزی کمان ختم ہوچکی ہے سلطان محترم!'' ساالر نے کہا… ''انہیں حکم دینے واال کوئی نہیں رہا''۔''
صلیبیوں کا خطرہ بھی ہے''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''گو مجھے کسی طرف سے بھی اطالع نہیں ملی کہ صلیبی فوج ''
کہیں قرب وجوار میں موجود ہے لیکن یہ عالقہ چٹانی ہے۔ یہاں ٹیلے اور وسیع نشیب بھی ہیں۔ بعض جگہوں پر جنگ بھی
ہیں اور کچھ حصہ ریگستانی بھی ہے۔ نظر دور تک نہیں دیکھ سکتی۔ دشمن اور سانپ پر کبھی بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔
مرتے مرتے ڈنک مار دیتا ہے۔ مجھے سیف الدین کے ساالر مظفرالدین کی کوئی خبر نہیں۔ تم سب جانتے ہو کہ مظفرالدین
اتنی آسانی سے بھاگنے واال ساالر نہیں۔ میں اس کا انتظار کررہا ہوں۔ اپنی آنکھیں کھلی رکھو۔ دستوں کو یکجا کرلو…
مظفرالدین اگر میرے سبق بھول نہیں گیا تو وہ مجھ پر ایک جوابی حملہ تو ضرور کرے گا''۔
٭ ٭ ٭
قرون حماة کی جنگ میں سیف الدین کے ایک ساالر مظفرالدین بن زین
سلطان ایوبی کا خطرہ بے بنیاد نہیں تھا۔ آپ نے
ِ
الدین کا ذکر پڑھا ہے۔ مظفرالدین سلطان ایوبی کی فوج میں ساالر رہ چکا تھا اور اس کی مرکزی کمان میں اس کے ساتھ
بھی رہا تھا۔ اس لیے اسے اچھی طرح علم تھا کہ سلطان ایوبی جنگی منصوبہ کن عناصر کو سامنے رکھ کر تیار کرتا اور
میدان جنگ میں اس میں کس طرح ردوبدل کرتا ہے۔ مظفرالدین کچھ تو ذہنی لحاظ سے پیدائشی جنگجو تھا ،زیادہ تر تربیت
سلطان ا یوبی سے حاصل کی ،اس لیے اس میں وہ جوہر تھے جو اسے میدان جنگ سے منہ نہیں موڑنے دیتے تھے۔ وہ
سیف الدین کا قریبی رشتہ دار (غالبا ً چچا زاد بھائی) تھا۔ جب سلطان ایوبی مصر سے دمشق آیا اور مسلمان امراء اس کے
خالف صف آرا ہوگئے تو مظفرالدین سلطان ایوبی کو بتائے بغیر اس کی فوج سے نکل کر اس کے دشمن کے کیمپ میں چال
گیا تھا۔
قرون حماة کے معرکے میں مظفرالدین نے سلطان ایوبی کے پہلو پر ایسا شدید حملہ کیا تھا
ترکمان کے اس معرکے سے پہلے
ِ
جس کا مقابلہ سلطان ایوئی نے پہلو کے دستوں کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے کر کیا تھا۔ بہائوالدین شداد کی تحریر کے مطابق
اگر سلطان ایوبی خود قیادت نہ کرتا تو مظفرالدین جنگ کا پانسہ پلٹ دیتا۔ سلطان ایوبی مظفرالدین کو فن حرب وضرب کا
استاد مانتا تھا۔ اب ترکمان میں اسے جاسوسوں نے اس کے متحدہ دشمنوں کی افواج کے متعلق جو معلومات دی تھیں ،ان
میں ایک یہ بھی تھی کہ مظفرالدین بھی ان افواج کے ساتھ ہے۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ وہ قلب میں ہے ،دائیں ہے
بائیں ہے یا وہ محفوظہ کا ساالر ہے۔ سلطان ایوبی نے چند ایک جنگی قیدیوں سے اس کے متعلق پوچھا تھا۔ انہوں نے یہ
تصدیق تو کردی تھی کہ مظفرالدین لشکر کے ساتھ ہے مگر یہ کسی کو علم نہیں تھا کہ کہاں ہے۔
ہوسکتا ہے قیدیوں نے اس پر پردہ ڈال لیا ہو کہ مظفرالدین کہاں ہے''۔ سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں سے کہا… ''میں ''
تسلیم نہیں کرسکتا کہ وہ لڑے بغیر بھاگ گیا ہوگا۔ وہ میرا شاگرد ہے۔ میں اس کی جنگی اہلیت سے بھی واقف ہوں اور اس
کی فطرت سے بھی۔ وہ حملہ کرے گا اگر اسے یقین ہوا کہ وہ شکست کھا جائے گا پھر بھی وہ حملہ کرے گا۔ اسے حملہ
کرنا چاہیے ،ورنہ مجھے مایوسی ہوگی''۔
صالح الدین ایوبی یہ نہ کہے کہ مظفرالدین بھی بھاگ گیا ہے''۔ یہ آواز سیف الدین کے ساالر مظفرالدین کی تھی جو ''
ترکمان کے میدان جنگ سے دو اڑھائی میل دور سنائی دے رہی تھی…… ''میں لڑے بغیر واپس نہیں جائوں گا''۔
اس وقت جب سلطان ایوبی سیف الدین کے رہائشی خیموں میں کھڑا تھا ،سیف الدین کا کوئی کمانڈر یہ پیغام لے کر
مظفرالدین کے پاس پہنچا تھا کہ سلطان ایوبی کو کسی طرح قبل از وقت پتہ چل گیا تھا کہ اس پر حملہ آرہا ہے ،اس لیے
ہم دھوکے میں آگئے۔ اب یہاں لڑنا بے کار ہے۔ بہتر یہ ہے کہ تم بھی واپس چلے جائو اور اپنے دستوں کو کسی اور بہتر
جگہ لڑانے کے لیے بچا کر لے جائو۔ سیف الدین نے اس پیغام میں اپنے متعلق بتایا تھا کہ وہ کسی کو بتائے بغیر میدان
جنگ سے جارہا ہے۔
ہم آپ کا ہر حکم بجا الئیں گے''۔ مظفرالدین کے ایک نائب ساالر نے اسے کہا… ''لیکن اس حالت میں جبکہ ہماری ''
فوج کے لڑنے والے حصے مار ے گئے ،زخمی یا قیدی ہوگئے یا بھاگ گئے ہیں۔ اس تھوڑی سی فوج سے جوابی حملہ کرنا
مناسب معلوم نہیں ہوتا''۔
میں ان دستوں کو ناکافی نہیں سمجھتا جو میرے پاس ہیں''۔ مظفرالدین نے کہا…… ''یہ اس فوج کا ایک چوتھائی ہیں ''
جو ہم ساتھ الئے تھے۔ سلطان ایوبی اس سے بھی کم نفری سے لڑتا اور کامیاب ہوا کرتا ہے۔ میں اس کے پہلو پر حملہ
قرون حماة میں چلی تھی۔ تم سب حملے کے لیے تیار رہو''۔
کروں گا۔ میں اسے وہ چال نہیں چلنے دوں گا جو اس نے
ِ
عالی مقام سیف الدین غازی والئی موصل تین فوجوں کی نفری سے ہار گئے ہیں''۔ نائب ساالر نے کہا…… ''میں اپنے ''
مشورے کو دہرائوں گا کہ اس تھوڑی سی نفری سے حملہ کرنا اسے مروانے والی بات ہے''۔
میدان جنگ میں اپنے حرم ا ور شراب کے مٹکے ساتھ رکھنے والوں کے پاس تین کے بجائے دس فوجیں ہوں تو بھی ان ''
کا انجام یہی ہوتا ہے جو والئی موصل سیف الدین کا ہوا ہے ''۔ مظفرالدین نے کہا…… ''میں بھی شراب پیتا ہوں لیکن
یہاں پانی بھی نہ ملے تو میں پرواہ نہیں کرتا۔ سلطان ایوبی مجھے ایمان فروش اور غدار کہتا ہے لیکن میں اس لیے اس
سے لڑنے سے منہ نہیں موڑوں گا کہ وہ مسلمان ہے۔ یہ دو ساالروں کی ٹکر ہوگی۔ یہ دو پہلوانوں کا دنگل ہوگا۔ یہ تیغ زنوں
کا مقابلہ ہوگا…… اپنے دستوں کو تیار کرو اور یاد رکھو ،صالح الدین ایوبی کے جاسوسوں کی نظریں زمین کے نیچے بھی دیکھ
سکتی ہیں۔ اپنے دستوں کو آج رات اور پرے لے چلو اور ہر طرف دور دور تک اپنے آدمی چھوڑ دو۔ وہ جسے مشکوک حالت
میں گھومتا پھرتا دیکھیں ،اسے پکڑ لیں''۔
اس نے ایک جگہ منتخب کرلی تھی جہاں دستوں کو چھپایا جاسکتا تھا۔ حملے کے لیے اس نے کوئی دن اور وقت مقرر :
نہ کیا۔ اپنے نائب ساالروں سے کہا…… ''سلطان ایوبی میں لومڑی کی چاالکی اور خرگوش کی پھرتی ہے۔ ) مجھے میرے
مخبروں نے بتایا ہے کہ اس نے ابھی مال غنیمت سمیٹا نہیں اور اس نے اپنی فوج کے پہلوئوں کو بھی نہیں سمیٹا۔ اس سے
پتہ چلتا ہے کہ وہ پیش قدمی نہیں کرے گا اور یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہمارے جوابی حملے کا خطرہ محسوس کررہا ہے۔
میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں وہ کس انداز سے سوچا کرتا ہے۔ میں اسے یہ دھوکہ دوں گا کہ ہم سب بھاگ گئے ہیں اور
اب حملے کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ یہ عقل اور فہم وفراست کی جنگ ہوگی۔ وہ دو دنوں سے زیادہ انتظار نہیں کرے گا۔ اس
کی طرح میں بھی اپنے جاسوسوں کو اس کی نقل وحمل دیکھنے کے لیے استعمال کروں گا۔ جونہی وہ مال غنیمت سمیٹنے
لگے گا اور اس کی توجہ دائیں بائیں سے ہٹ جائے گی۔ ہم اس کے پہلو پر حملہ کردیں گے''۔
یہی وہ خطرہ تھا جسے سلطان ایوبی محسوس کررہا تھا۔
٭ ٭ ٭
سیف الدین کے لشکر پر جس طرح سلطان ایوبی نے بے خبری میں اس کی توقعات اور اس کے خوابوں کے خالف حملہ کیا
تھا ،اس کی تفصیالت پچھلی نشست میں سنائی جاچکی ہیں۔ آپ نے پڑھا ہے کہ سلطان ایوبی نے ایک تو اپنے دستے سیف
الدین کی فوج کے دائیں بائیں سے اس کے عقب میں بھیج دئیے تھے ،ان کے عالوہ اس نے اپنے چھاپہ مار بھی روانہ
کردئیے تھے۔ یہ اس کی کمانڈو فورس تھی جس کے ہر کمانڈر اور سپاہی میں غیرمعمولی ذہانت ،دلیری اور پھرتی تھی اور یہ
تربیت یافتہ جاسوس بھی تھے۔ اس فورس نے چارچار سے لے کر بارہ بارہ کی ٹولیوں میں تقسیم ہوکر دشمن کو بہت نقصان
پہنچایا تھا۔ ان میں ایک ٹولی بارہ سپاہیوں کی تھی جس کے صرف تین سپاہی اور ٹولی کاکمانڈر الناصر زندہ تھے۔
الناصر اپنی ٹولی کے ساتھ ترکمان کے معرکے سے ہی سیف الدین کی متحدہ فوج کے دور پیچھے چال گیا تھا۔ اس کا نشانہ
عموما ً دشمن کی رسد ہوتی تھی۔ اب کے بھی وہ اپنی ٹولی کو گھوڑوں پر لے گیا تھا۔ اس کے پاس فیتے والے (آتشیں) تیر
تھے۔ تھوڑا سا آتش گیر مادہ تھا۔ برچھیاں ،تلواریں اور خنجر تھے۔ رسد بہت دور تھی۔ الناصر کو زمین نے یہ سہولتیں مہیا
کی تھیں کہ یہ میدان یا ریگزار نہیں بلکہ دور دور تک چٹانیں ،ٹیلے اور نشیبی عالقے تھے جن میں چھپنا آسان تھا۔ دن کے
دوران ہدف کے قریب گھوڑے چھپائے جاسکتے تھے۔ اتحادیوں کی افواج کی رسد جس میں فوج کے لیے اناج اور جانوروں کے
لیے خشک گھاس اور دانہ وغیرہ تھا ،پیچھے آرہا تھا۔ اس سامان میں تیروکمان اور برچھیاں وغیرہ بھی تھیں۔ الناصر نے پہلی
ہی رات رسد پر کامیاب چھاپہ مارا تھا۔ بہت سی رسد آتشیں تیروں سے جل گئی تھی۔
دن کو وہ اپنی ٹولی کے ساتھ ایک جگہ چھپا رہا تھا مگر سویا نہیں تھا۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ دشمن کے فوجی کھڈ نالوں
میں اور ٹیلوں کی اوٹ میں اس کی پارٹی کو ڈھونڈ رہے تھے۔ اس نے اپنے سپاہیوں کو ادھر ادھر موزوں بلندیوں پر بٹھا دیا
تھا۔ انہوں نے کمانوں میں تیر ڈال رکھے تھے۔ دشمن کے فوجی دور سے ہی واپس چلے گئے تھے۔ سورج غروب ہونے کے
بعد اس نے چھپ کر رسد کا قافلہ دیکھا۔ قافلے نے پڑائو ڈال دیا تھا مگر اس رات شب خون آسان نظر نہیں آتا تھا۔ دشمن
نے اردگرد گشتی پہرے کا بڑا سخت انتظام کردیا تھا۔ یہ پہرہ پیدل بھی تھا اور گھوڑ سوار بھی۔ اس کے باوجود الناصر نے
شب خون کا ارادہ کرلیا۔ دشمن کی ابھی بہت سی رسد باقی تھی۔ یہ سلطان ایوبی کا ایک تباہ کن طریقہ کار تھا۔ دشمن
کی رسد کو چھاپہ ماروں سے تباہ کرادیا کرتا تھا۔ اس کے لیے اس نے ایسے فوجی تیار کررکھے تھے جو جذبے کے لحاظ
سے جنونی اور خبطی تھے۔ ان کی دلیری غیر معمولی اور ذہانت اوسط درجہ سپاہیوں سے خاصی زیادہ تھی۔ ان جانبازوں کی
دیانت داری کا یہ عالم تھا کہ اتنی دور جاکر بھی جہاں انہیں دیکھنے واال کوئی نہیں ہوتا تھا ،وہ فرض شناسی کا جانبازانہ
مظاہرہ کرتے تھے۔
الناصر نے رات کو گھوڑے وہیں بندھے رہنے دئیے جہاں دن کو چھپائے تھے۔ اپنی پارٹی کو پیدل لے گیا۔ ایک جگہ سے وہ
دشمن کی رسد کے پڑائو میں داخل ہوگیا۔ اس نے سامان کے انباروں پر آتش گیر مادہ چھڑک کر آگ لگا دی۔ اپنی ٹولی کو
بکھیر دیا۔ سپاہیوں نے شعلوں کی روشنی میں بھاگتے دوڑتے سپاہیوں کو تیروں کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔ دشمن کے فوجی
انہیں تالش کرنے لگے۔ چھاپہ مار کب تک چھپ سکتے تھے۔ ایک ایک کرکے پکڑے اور مارے گئے۔ ان میں سے وہی تین
زندہ رہے جو الناصر کے ساتھ تھے۔ انہوں نے بہت تباہی مچائی تھی۔ رسد کے ساتھ جو پہرہ دار اور دیگر لوگ تھے ،انہوں
نے ان سب کو گھیرے میں لینے کی کوشش کی۔ الناصر نے اپنے تین ساتھیوں کو الگ نہ ہونے دیا۔ وہ شعلوں سے دور ہٹ
کر اندھیرے میں گھوڑا گاڑیوں اور خیموں کی اوٹ میں چھپتے ،اپنے قریب سے گزرتے سپاہیوں سے بچتے کسی اور ہی سمت
کو نکل گئے۔
الناصر نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اسے کوئی ستارہ نظر نہ آیا۔ چھاپہ ماروں کو ستاروں سے سمت معلوم کرنے کی ٹریننگ
دی جاتی تھی مگر اس رات آسمان گردوغبار کی طرح کے بادلوں میں چھپا ہوا تھا۔ الناصر رسد کے پڑائو سے دور نکل گیا۔
اسے دشمن کی جلتی ہوئی رسد اور سازوسامان کے شعلوں کی سرخی دکھائی دے رہی تھی۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کے
باقی نو سپاہی زندہ ہیں یا شہید ہوچکے ہیں۔ اس نے دل ہی دل میں ان کی سالمتی کے لیے دعا کی اور اپنے تین
ساتھیوں کو ساتھ لیے اندازے کے مطابق اس طرف چل پڑا جہاں اس کی ٹولی کے گھوڑے بندھے ہوئے تھے۔ وہ رات بھر چلتا
رہا۔ دشمن کی رسد کے شعلے نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ فضا میں شعلوں کی جو سرخی نظر آتی تھی ،وہ بھی غائب
ہوگئی۔ اگر یہ سرخی نظر آتی رہتی تو وہ اپنے ٹھکانے تک پہنچ سکتا تھا۔ یہ بھی نہ رہی اور وہ اندھا دھند چلتا گیا۔
زمین کے خدوخال بدل گئے تھے۔ درخت تو کوئی تھا نہیں۔ اس نے پائوں تلے سخت زمین کے بجائے ریت محسوس کی۔
ٹیلے اور چٹانیں بھی نہیں تھیں۔ ریت نے اس کے اور اس کے ساتھیوں کے پائوں وزنی کردئیے۔ پانی اور کھانے کی اشیاء
گھوڑوں کے ساتھ تھیلوں میں بندھی تھیں اور گھوڑے نہ جانے کہاں تھے۔ اس نے پیاس محسوس کی۔ وہ بہت تھک گیا تھا۔
اس کے تینوں ساتھی بھی پیاس کی شکایت کرچکے تھے۔ ان سب کی رفتار بھی ختم ہوتی جارہی تھی۔ الناصر نے وہیں رک
جانا ور آرام کرلینا مناسب سمجھا۔ اس کے ساتھیوں نے اس امید پر چلتے رہنے کا مشورہ دیا کہ کہیں پانی مل جائے گا۔
اس خطے میں پانی کی قلت تو نہیں تھی لیکن وہ اس خطے کے اس حصے میں جانکلے تھے جو ریگزار تھا۔ وہاں پانی کا
نام ونشان نہ تھا۔ وہ کچھ دیر اور چلے اور تھک ہار کر بیٹھ گئے۔
الناصر کی آنکھ کھلی تو اس کے تینوں سپاہی بے ہوشی کی نیند سوئے ہوئے تھے۔ سورج افق سے اٹھ آیا تھا۔ الناصر نے
چاروں طرف دیکھا۔ وہ ریت کے سمندر میں کھڑا تھا۔ اس کا دل ڈوبنے لگا۔ وہ تو صحرائوں میں جناپال اور صحرائوں میں اس
نے لڑائیاں لڑی تھیں۔ وہ ریگزار سے ڈرنے واال نہیں تھا۔ اس کی گھبراہٹ کی وجہ یہ تھی کہ اسے توقع نہیں تھی کہ یہاں
ریگستان ہوگا۔ گھبراہٹ کی وجہ یہ بھی تھی کہ افق تک پانی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے تھے۔ پیاس سے وہ حلق میں
جلن اور چبھن محسوس کررہا تھا۔ اپنے ساتھیوں کی حالت کا وہ اندازہ کرسکتا تھا۔ اس نے سورج کے مطابق اس سمت
دیکھا جدھر ترکمان تھا۔ اسے پہاڑیوں کی ٹیڑھی سی لکیر نظر آئی۔ وہ سیدھا اس سمت نہیں جاسکتا تھا کیونکہ راستے میں
دشمن کی فوج تھی۔
اس نے اپنے ساتھیوں کو جگایا۔ وہ اٹھے تو ان کے چہروں پر بھی گھبراہٹ اور تذبذب کے آثار پیدا ہوگئے۔
ہم دو دن اور بھوکے اور پیاسے رہ سکتے ہیں''۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا… ''اور ان دو دنوں میں ہم اگر منزل ''
تک نہ پہنچ سکے تو پانی تک ضرور پہنچ جائیں گے''۔
تینوں نے اپنے اپنے خیال اور اندازے کا اظہار کیا مگر وہ بہت دور نکل گئے تھے۔ اگر ان کے پاس گھوڑے ہوتے تو مشکل ذرا
آسان ہوجاتی۔ نیند نے ان کے جسموں کو کچھ تازگی دے دی تھی۔
ساتھیو!'' الناصر نے کہا…… ''خدائے ذوالجالل نے ہمیں جس امتحان میں ڈال دیا ہے ،اس میں پورا اترنا اور کوئی گلہ'' :
شکوہ نہ کرنا ہمارا فرض ہے''۔
یہاں رکے رہنا تو کوئی عالج نہیں''…… ایک ساتھی نے کہا…… ''پیشتر اس کے کہ سورج ہمارے سروں پر آکر ہمیں ''
تعالی راستہ دکھائے گا''۔
جالنے لگے ،چل پڑو ،اللہ
ٰ
وہ چل پڑے۔ سمت کا انہوں نے محض اندازہ کیا تھا۔ انہیں دور کا چکر بھی کاٹنا تھا۔ سورج اوپر آتا رہا۔ ریت گرم ہوتی
گئی اور تھوڑی دور یوں نظر آتا جیسے یہ ریت نہیں پانی ہو۔ زمین سے لرزتا ہوا دھواں سا اوپر کو اٹھ رہا تھا۔ وہ چاروں
صحرا کے قہر سے واقف تھے اور عادی بھی۔ انہیں سراب بھی نظر آنے لگے مگر صحرا کے اس دھوکے سے واقف ہونے کی
بدولت انہوں نے ہر سراب کو نظر انداز کیا۔
تعالی ہمیں سزا نہیں دے گا۔ اگر ہم مرگئے تو یہ موت نہیں ''
ساتھیو!'' الناصر نے کہا…… ''ہم ڈاکو نہیں ہیں۔ اللہ
ٰ
شہادت ہوگی۔ دل میں خدا کو یاد کرتے چلو''۔
اگر کوئی ایسا مسافر مل گیا جس کے پاس پانی ہوا تو میں ڈاکہ ڈالنے سے گریز نہیں کروں گا''…… ایک سپاہی نے کہا۔''
سب ہنس پڑے اور سب نے محسوس کیا کہ ہنسنے کے لیے بھی انہیں طاقت صرف کرنی پڑی تھی…… پھر سورج ان کے
سروں پر آگیا۔ اوپر سے سورج اور نیچے سے ریت ان سب کو جالنے لگی۔ الناصر ایک جنگی ترانہ گنگنانے لگا۔ ترانہ ختم
ہوگیا تو انہوں نے ایک آواز اور ایک لے میں ''ال الہ اال اللہ محمد الرسول اللہ'' کا مترنم ورد شروع کردیا۔ ہلکی ہلکی ہوا
چل رہی تھی۔ ریت کے چمکتے ہوئے ذرے ان کے نقوش کو مٹاتے جارہے تھے۔
سورج دوسری سمت نیچے اترنے لگا۔ چاروں کی آواز دھیمی ہوتی جارہی تھی۔ قدم وزنی اور رفتار گھٹ گئی تھی۔ ہونٹ
خشک ہوگئے اور منہ بند نہیں ہوتے تھے۔ ان کے سائے جب دوسرے طرف بڑھنے لگے تو ان کا ایک ساتھی خاموش ہوگیا
کچھ دیر بعد دوسرے کی بھی زبان جواب دے گئی۔ الناصر اور اس کا تیسرا ساتھی سرگوشیوں میں ''ال الہ اال اللہ محمد
الرسول اللہ''کا ورد کررہے تھے۔ کچھ دور گئے تو سرگوشیاں بھی خاموش ہوگئیں۔
ساتھیو!''…… الناصر نے جسم کی بچی کھچی طاقت صرف کرکے کہا…… ''حوصلہ نہ ہارنا۔ ہمارے جسموں میں ایمان کی ''
بہت نمی ہے۔ ہم ایمان کی طاقت سے زندہ رہیں گے''۔ اس نے اپنے ساتھیوں کے چہرے کو باری باری دیکھا ،وہاں خون کا
نام ونشان نہیں تھا۔ سب کی آنکھیں اندر کو چلی گئیں تھیں۔
سورج غروب ہوگیا۔ جوں جوں شام تاریک ہوتی گئی ،ریت ٹھنڈی ہوگئی۔ الناصر نے ساتھیوں کو رکنے نہیں دیا۔ خنکی میں ذرا
تیز چال جاسکتا تھا۔ اگر وہ کوئی عام مسافر ہوتے تو کبھی کے گر چکے ہوتے۔ وہ فوجی اور چھاپہ مار تھے۔ ان کے جسم
عام انسانوں کی نسبت کہیں زیادہ صعوبتیں برداشت کرسکتے تھے۔ وہ چلتے گئے اور کچھ فاصلہ طے کر الناصر نے انہیں رکنے
اور سوجانے کو کہا۔
٭ ٭ ٭
صبح کاذب کے قریب الناصر جاگا۔ آسمان صاف تھا۔ ستاروں کو دیکھ کر اس نے اندازہ کیا کہ رات کتنی رہتی ہے۔ ایک
ستارے کو دیکھ کر اس نے سمت طے کی اور اپنے ساتھیوں کو جگا کر انہیں ساتھ لیا اور سب چل پڑے۔ ان کی رفتار اچھی
تھی مگر پیاس انہیں بولنے نہیں دے رہی تھی۔
یہ ریگستان اتنا وسیع نہیں ہوسکتا''۔ الناصر نے بڑی مشکل سے یہ الفاظ زبان سے نکالے…… ''آج ختم ہوجائے گا ،ہم آج''
پانی تک پہنچ جائیں گے''۔
پانی جو دن کو سراب تھا ،اندھیرے میں امید بن گیا اور وہ اس امید کی طاقت پر چلتے گئے۔ صبح کا اجاال سپید ہوا پھر
افق سے سورج ابھرا۔ ان جانباز مسافروں کو سب سے پہال صدمہ یہ ہوا کہ پانی کی امید دم توڑ گئی۔ ریت تو نہیں تھی،
زمین سخت تھی۔ اس میں دراڑیں پڑی ہوئی تھیں۔ یہ پھٹی پھٹی زمین تھی پائوں کی جہاں ٹھوکر لگتی تھی۔ وہاں سے ریت
اور مٹی اڑتی تھی۔ آٹھ دس میل دور زمین سے ابھرے ہوئے ستون اور مینار سے نظر آتے تھے۔ یہ مٹی کے ٹیلے اور ریتلی
چٹانوں کی چوٹیاں تھیں۔ درخت ایک بھی نظر نہیں آتا تھا۔ زمین کی حالت بتاتی تھی کہ صدیوں سے پیاسی ہے اور یہ
کسی انسان کا خون پینے سے گریز نہیں کرے گی۔
الناصر نے اپنے ساتھیوں کے چہروں کا جائزہ لیا۔ اس سے اسے اندازہ ہوگیا کہ اس کے اپنے چہرے کی حالت کیسی ہے۔
اس کے ایک ساتھی کی زبان کچھ باہر نکل آئی تھی۔ ہونٹوں پر ہلکی ہلکی سوجن تھی۔ یہ عالمتیں خوفناک تھیں۔ صحرا
نے خراج وصول کرنا شروع کردیا تھا۔ سلطان ایوبی کے اس جانباز کا خون پیاسی زمین کی بھینٹ چڑھنے لگا تھا۔ دوسرے دو
سپاہیوں کی ظاہری حالت یہ تو نہیں تھی لیکن صاف نظر آرہا تھا کہ میناروں جیسے ٹیلوں تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ الناصر
ان کا کمانڈر تھا۔ اپنی ذمہ داری کا اسے اتنا زیادہ احساس تھا کہ اس کا دماغ اس کے قابو میں تھا۔ اس کی جسمانی حالت
اپنے ساتھیوں سے بہتر نہیں تھی۔ اس نے بولنے کی کوشش کی۔ یہ اس کی قوت ارادی تھی کہ اس کے منہ سے چند الفاظ
نکل آئے۔ اس نے اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی مگر یہ ایک ناکام کوشش تھی۔
جوں جوں سورج اوپر اٹھتا آرہا تھا ،زمین کے
غیرمرئی شعلے بلند ہوتے جارہے تھے۔ ان چاروں کی رفتار کا اب یہ حال تھا کہ وہ قدم اٹھاتے نہیں ،پائوں گھسیٹتے تھے،
جس سپاہی کی زبان باہر نکل آئی تھی اس کی برچھی اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔ پھر اس نے کمربند سے تلوار کھولی اور
پھینک دی۔ اس نے یہ حرکات بے خیالی میں کی تھیں۔ اس کے ہاتھ اپنے آپ کام کررہے تھے اور وہ ناک کی سیدھ میں
چال جارہا تھا۔ یہ صحرا کا ایک ظالمانہ اثر ہوتا ہے کہ بھٹکا ہوا پیاسا مسافر نیند میں مختلف حرکات کرنے کے انداز سے
اپنے جسم سے بوجھ پھینکنا شروع کردیتا ہے۔ مختلف اشیاء پھینکنے کے بعد وہ اپنے جوتے بھی اتار پھینکتا ہے۔ وہ کہیں
رکتا نہیں ،چلتا جاتا اور چیزیں پھینکتا جاتا ہے۔ صحرائی مسافر جب جگہ جگہ ایسی اشیاء پڑی دیکھتے ہیں تو وہ اس توقع
پر آگے بڑھتے ہیں کہ کچھ ہی دور آگے ایک الش پڑی ہوگی یا اس بدنصیب کی ہڈیوں کا ڈھانچہ ہوگا جو راستے میں اپنی
آخری متاع بکھیرتا گیا ہے۔
صحرا نے الناصر کے ایک ساتھی کو اس مرحلے میں داخل کردیا تھا جہاں وہ دنیا کی اشیاء اور اپنے فرائض سے دستبردار
ہورہا تھا۔ الناصر نے اس کی برچھی اور تلوار اٹھالی اور اس سپاہی سے بڑے پیار سے کہا…… ''اتنی جلدی نہ ہارو میرے
عزیز دوست! اللہ کا سپاہی مرجاتا ہے ،ہتھیار نہیں پھینکا کرتا۔ اپنی عزت اور عظمت کو ریت میں نہ پھینکو''۔
اس کے ساتھی نے اسے دیکھا ،الناصر اسے دیکھتا رہا۔ سپاہی نے اچانک قہقہہ لگایا اور سامنے دیکھتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ
کیا۔ بڑی جاندار آواز میں بوال…… ''پانی…… وہ دیکھو…… باغ…… پانی مل گیا''…… اور وہ آگے کو دوڑ پڑا۔
وہاں پانی تھا نہ پانی کا سراب۔ وہ زمین ایسی تھی جہاں سراب نظر نہیں آیا کرتے۔ سراب ریت کی چمک کا ہوتا ہے۔ اس
پر صحرا کا دوسرا ظالمانہ اثر ہونے لگا تھا۔ یہ تھے واہمے اور ایسے تصورات جو حقیقی روپ میں دکھائی دیتے ہیں۔ پانی کی
جھیلیں اور باغ نظر آتے ہیں۔ عمارتیں دکھائی دیتی ہیں ،یوں بھی نظر آتا ہے جیسے ایک دو میل دور شہر ہے۔ قافلے جاتے
یا اپنی طرف آتے دکھائی دیتے ہیں۔ ناچنے اور گانے والیاں بھی نظر آتی ہیں…… اس بے رحم ویرانے نے الناصر کے ایک
ساتھی کو فریب دینے شروع کردئیے تھے۔ صحرا اس کی جان سے کھیلنے لگا تھا۔ یہ شاید صحرا کی رحم دلی بھی ہے کہ
کسی مسافر کی جان لینے سے پہلے اسے بڑے ہی حسین اور دلفریب تصوروں میں الجھا دیتا ہے تاکہ مرنے واال اذیت سے
محفوظ رہے۔
الناصر کا ساتھی آگے کو دوڑ پڑا۔ وہی سپاہی جو قدم گھسیٹ رہا تھا ،تازہ دم آدمی کی طرح دوڑ رہا تھا مگر یہ دوڑ اس
چراغ کی مانند تھی جو بجھنے سے پہلے آخری بار ٹمٹمایا ہو۔ الناصر اس کے پیچھے دوڑا اور اسے پکڑ لیا۔ اس کے دوسرے
دو ساتھیوں میں ابھی کچھ دم باقی تھا۔ وہ بھی دوڑے اور اپنے ساتھی پر قابو پالیا۔ وہ ان سے آزاد ہونے کو تڑپ رہا تھا
اور چال رہا تھا۔ ''چلو جھیل تک چلو ،وہ دیکھو ،کتنے غزال جھیل سے پانی پی رہے ہیں''۔
ساتھیوں نے اسے پکڑے رکھا اور وہ آہستہ آہستہ ،قدم گھسیٹتے چلتے گئے۔ الناصر نے وہ کپڑا جو اس کے سر پر رکھا تھا،
اس کے چہرے پر بھی ڈال دیا تاکہ وہ کچھ دیکھ ہی نہ سکے۔
٭ ٭ ٭
سورج سر کے عین اوپر آگیا تھا جو ایک اور سپاہی نے بڑی ہی بلند آواز سے کہا…… ''باغ میں رقاصہ ناچ رہی ہے۔ :
لعنت بھیجو پانی پر ،چلو ناچ دیکھیں ،حسن دیکھو…… چلو دوستو ،وہاں پانی مل جائے گا۔ لوگ کھانا کھا رہے ہیں۔ میں سب
کو جانتا ہوں…… چلو…… چلو''۔ اور وہ دوڑ پڑا۔
جس سپاہی کو پہلے واہمہ نظر آیا تھا ،وہ کچھ دیر خاموش رہا تھا ،اس لیے ساتھیوں نے اسے چھوڑ دیا تھا۔ وہ اپنے ساتھی
کو دوڑتا دیکھ کر اس کے پیچھے دوڑ پڑا اور چالنے لگا…… ''رقاصہ بہت خوبصورت ہے۔ میں نے اسے قاہرہ میں دیکھا تھا۔
وہ مجھے جانتی ہے۔ میں اس کے ساتھ کھانا کھائوں گا۔ اس کے ساتھ شربت پیوں گا''۔
الناصر کا سر ڈول گیا۔ وہ صحرا کی صعوبتیں برداشت کرسکتا تھا ،اپنے ساتھیوں کی یہ حالت اس کی برداشت سے باہر تھی۔
انہیں سنبھالنا اس کے بس سے باہر ہوا جارہا تھا۔ اس کی اپنی جسمانی حالت بھی دگرگوں ہوگئی تھی۔ اس کے ساتھ اب
ایک ہی ساتھی رہ گیا تھا جس کا دماغ ابھی ٹھکانے تھا۔ جسمانی لحاظ سے وہ بے شک ختم ہوچکا تھا۔
ان کے جو دو ساتھی باغ اور رقص کے واہمے کے پیچھے دوڑے تھے ،چند قدم دوڑ کر گر پڑے۔ انہیں گرنا ہی تھا۔ ان کے
جسموں میں رہا ہی کیا تھا۔ الناصر اور اس کے ساتھی نے انہیں بٹھا کر اپنے سہارے لے لیا اور ان پر کپڑوں کا سایہ کردیا۔
ان کی آنکھیں بند ہوگئی تھیں اور سرڈول رہے تھے۔
تم اللہ کے سپاہی ہو''۔ الناصر نے دھیمی سی آواز میں کہنا شروع کیا۔ ''تم قبلہ اول اور خانہ کعبہ کے پاسبان ہو۔ تم ''
نے اسالم کے دشمنوں کی کمر توڑ دی ہے۔ تم سے کفار ڈرتے اور کانپتے ہیں۔ تم شعلوں کو روندنے والے مرد مومن ہو۔ اس
صحرا کو ،پیاس کو اور سورج کے قہر کو تم کیا سمجھتے ہو ،تم پر اللہ کی رحمت برس رہی ہے۔ تمہیں فرشتے بہشت کی
ٹھنڈک پہنچا رہے ہیں…… تمہارا جسم پیاسا ہے ،روح پیاسی نہیں۔ ایمان والے پانی کی ٹھنڈک سے نہیں ،ایمان کی حرارت
سے زندہ رہتے ہیں''۔
دونوں نے آنکھیں کھول دیں اور الناصر کو دیکھا۔ الناصر نے مسکرانے کی کوشش کی۔ اس نے جذبات کے غلبے سے جو باتیں
کہی تھیں ،وہ اثر کرگئیں۔ دونوں سپاہی تصوروں اور واہموں کی دنیا سے نکل کر حقیقت میں آگئے۔ وہ اٹھے اور نہایت آہستہ
آہستہ چل پڑے۔
صبح روانگی کے وقت انہیں ٹیلوں اور ریتلی چٹانوں کے جو ستون اور مینار نظر آئے تھے ،وہ قریب آگئے تھے۔ اب وہ بہت
بڑے بڑے ہوگئے تھے۔ امید رکھی جاسکتی تھی کہ وہاں پانی ہوگا۔ وہاں نشیب اور کھڈ نالے بھی ہوسکتے تھے۔ الناصر نے
اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ پانی کے قریب آگئے ہیں اور آج شام سے پہلے پانی مل جائے گا مگر وہ زمین اور وہ ماحول
ایسی اور اتنی گرم حقیقت تھی کہ پانی کی امید شبنم کے قطرے کی طرح اڑ گئی۔ وہ ٹیلوں اور ٹیکریوں کے اور قریب چلے
گئے۔ اچانک ایک سپاہی دوڑ اٹھا۔ وہ نعرے لگا رہا تھا…… ''میرا گائوں آگیا ہے۔ میں سب کے لیے کھانا پکوانے جارہا ہوں۔
کنوئیں سے میرے گائوں کی لڑکیاں پانی نکال رہی ہیں''۔
اس کے پیچھے دوسرا سپاہی دوڑ پڑا اور چالنے لگا…… ''مرغا بیاں…… مرغابیاں''…… وہ دوڑتے دوڑتے منہ کے بل گرا اور
ہاتھ سے مٹی اور ریت اٹھا کر منہ میں ڈال لی۔
الناصر اور اس کا تیسرا ساتھی دوڑے۔ اس کے منہ سے مٹی نکالی۔ کپڑے سے منہ صاف کیا اور اسے اٹھایا ،مگر وہ چلنے کے
قابل نہیں تھا۔ دوسرا سپاہی بھی گر پڑا تھا اور پیٹ کے بل رینگتے ہوئے کہہ رہا تھا…… ''کنوئیں سے پانی پی لوں پھر
تمہارے لیے کھانا پکوائوں گا''۔
الناصر نے اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے اور آسمان کی طرف منہ کرکے کہا۔ ''اے خدائے ذوالجالل! ہم تیرے نام پر لڑنے اور
مرنے آئے تھے ،کوئی گناہ نہیں کیا۔ کہیں ڈاکہ نہیں ڈاال ،اگر کفار سے لڑنا گناہ ہے تو ہمیں بخش دے ،بخش دے صحرائوں کو
آگ لگانے والے خدا! میری جان لے لے۔ میرے خون کو پانی بنا دے۔ میرے ساتھی پی کر زندہ رہیں۔ انہوں نے تیرے رسول
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قبلہ اول کے غاصبوں کے خالف لڑائی لڑی ہے۔ میرے خون کو پانی بنا اور انہیں پال دے''۔
اس کے ساتھی آہستہ آہستہ اٹھے اور ہاتھ ٰآگے کو پھیال کر یوں چلنے لگے جیسے انہیں کچھ نظر آرہا ہو ،جس تک وہ :
پہنچنا چاہتے ہوں۔ الناصر اور اس کے ساتھی نے جو ذہنی لحاظ سے ابھی ٹھیک تھا ،اپنے ساتھیوں کو دیکھا تو وہ بھی قدم
گھسیٹنے لگے۔ اس وقت الناصر کی آنکھوں کے آگے اندھیرا آیا اور چھٹ گیا ،جیسے سیاہ گھٹا کا ٹکڑا چاند کے آگے سے گزر
گیا ہو۔ اندھیرا گزر جانے کے بعد اسے محسوس ہوا جیسے اسے سبزہ زار سا نظر آیا ہو مگر اس کے سامنے ٹیلوں اور چٹانوں
کے مینار اور ستون تھے۔ اس نے ایک لمحے کے لیے سبزہ دیکھا ضرور تھا۔ اس نے اپنے آپ کو سنبھال لیا۔ وہ سمجھ گیا
کہ صحرا اسے بھی فریب دینے لگا ہے۔
٭ ٭ ٭
وہ ٹیلوں کے اندر جارہے تھے۔ یہ ٹیلے چوڑے تھے ،کوئی اونچا تھا۔ کہیں کہیں کوئی ریتلی چٹان بھی نظر آتی تھی۔ وہ اور
آگے گئے تو کسی ندی یا دریا کا خشک پاٹ آگیا۔ صاف پتہ چلتا تھا کہ صدیوں سے یہاں سے پانی نہیں گزرا۔
الناصر آگے آگے اور اس کے ساتھی اس کے پیچھے پیچھے جارہے تھے۔ الناصر چلتے چلتے رک گیا۔ اس نے اپنے سرکو زور
سے جھٹکا دیا ،مگر اسے جو کچھ دکھائی دیا تھا ،وہ بدستور نظر آتا رہا…… خشک پاٹ کے بائیں کنارے پر ریتلی چٹان تھی
جو اوپر جاکر آگے کو جھک آئی تھی۔ شاید ایک دو صدیاں پہلے اس کے دامن سے پانی ٹکراتا رہا تھا۔ وہاں سے یہ پانی
کی ماری ہوئی تھی۔ اس کی شکل برآمدی کی سی بنی ہوئی تھی۔ چھت خاصی اونچی تھی اور وہاں سایہ تھا۔ اس سائے
میں دو گھوڑے کھڑے تھے اور ان کے قریب دو جوان لڑکیاں بیٹھی تھیں۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ان کے رنگ گورے اور نقش
ونگار بہت دلکش تھے۔
''الناصر نے ان سے دور رک کر اپنے ساتھیوں سے پوچھا… ''تمہیں بھی وہ دولڑکیاں اور دو گھوڑے نظر آرہے ہیں؟
اس کے وہ دو ساتھی جو واہموں اور تصوروں کا شکار ہوچکے تھے ،خاموش رہے۔ ایک نے کہا…… ''دھند ہے ،کچھ بھی نظر
نہیں آرہا''…… اور وہ گر پڑا۔
20:43
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔ 104جانباز ،جنات اور جذبات
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اور وہ گر پڑا۔ اس کا وہ ساتھی جو ذہنی لحاظ سے ابھی ٹھیک تھا ،سرگوشی میں بوال…… ''میں انہیں دیکھ رہا ہوں''۔
اللہ ہم پر رحم کرے''۔ الناصر نے کہا…… ''ہم دونوں کے بھی دماغ مائوف ہوگئے ہیں۔ ہمیں بھی وہ چیزیں نظر آنے لگی''
ہیں جو حقیقت میں نہیں ہیں۔ جہنم کے اس ویرانے میں اتنی خوبصورت لڑکیاں نہیں آسکتیں''۔
اگر ان کا لباس صحرائی خانہ بدوشوں جیسا ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ یہ تصور نہیں ،حقیقت ہے''…… اس کے ساتھی''
نے کہا …… ''آگے چلو سائے میں بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ لڑکیاں نہیں ،ہمارے ذہنوں کا فتور ہے''۔
مگر میں ہوش میں ہوں''…… الناصر نے کہا…… ''میں تمہیں پہچان رہا ہوں ،تمہاری بات سمجھ گیا ہوں۔ میرا دماغ میرے''
قابو میں ہے''۔
میں بھی ہوش میں ہوں''…… اس کے ساتھی نے کہا…… ''اگر ہم حقیقت میں لڑکیاں دیکھ رہے ہیں تو جنات ہوں ''
گے''۔
لڑکیاں اس طرح بے حس وحرکت کھڑی انہیں دیکھ رہی تھیں ،جیسے بت ہوں۔ الناصر دلیر آدمی تھا ،وہ آہستہ آہستہ ان کی
طرف بڑھا۔ لڑکیاں غائب نہ ہوئیں۔ وہ ان سے چار پانچ قدم دور تھا۔ جب ایک لڑکی نے جو دوسری سے عمر میں کچھ بڑی
لگتی تھی ،دایاں بازو الناصر کی طرف کیا۔ لڑکی کی مٹھی بند تھی۔ اس نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی آگے کو کر
دی۔ الناصر رک گیا۔ اس نے اتنی خوبصورت لڑکیاں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ سر کی اوڑھنی سے ان کے جو بال شانوں
پر پڑے نظر آتے تھے ،وہ باریک ریشم کے تار لگتے تھے۔ دونوں لڑکیوں کمی آنکھوں کا رنگ بھی دلکش اور عجیب تھا۔
آنکھیں ہیروں کی طرح چمکتی تھیں۔
''تم سپاہی ہو''…… بڑی لڑکی نے کہا…… ''کس کے سپاہی ہو؟''
سب کچھ بتائوں گا''…… الناصر نے کہا…… ''مجھے یہ بتا دو کہ تم صحرا کا دھوکہ ہو یا جنات کی مخلوق میں سے ''
ہو''۔
ہم جو کچھ بھی ہیں ،تم بتائو کون ہو اور ادھر کیا کرنے آئے ہو''…… لڑکی نے پوچھا…… ''ہم صحرا کا فریب نہیں۔ تم ''
ہمیں دیکھ رہے ہو ،ہم تمہیں دیکھ رہی ہیں''۔
ہم سلطان صالح الدین ایوبی کے چھاپہ مار سپاہی ہیں''…… الناصر نے کہا…… ''راستہ بھول کر ادھر آنکلے ہیں ،اگر تم ''
جنات میں سے ہو تو تمہیں حضرت سلیمان علیہ السالم کا واسطہ ،میرے ان ساتھیوں کو پانی پال دو اور اس کے عوض میری
جان لے لو ،یہ میری ذمہ داری میں ہیں''۔
اپنے ہتھیار ہمارے آگے پھینک دو''…… لڑکی نے اپنا بازو نیچے کرتے ہوئے کہا…… ''حضرت سلیمان علیہ السالم کے نام ''
پر مانگی ہوئی چیز سے ہم انکار نہیں کرسکتے۔ اپنے ساتھیوں کو سائے میں لے آئو''۔
الناصر نے اپنے وجود میں ایک لہر دوڑتی محسوس کی ،جیسے سر سے داخل ہوئی اور پائوں سے نکل گئی ہو۔ وہ انسانوں کا
مقابلہ کرنے واال جانباز تھا۔ اس کے شب خون اس کے ساتھیوں کو حیران کردیا کرتے تھے مگر ان لڑکیوں کے آگے وہ بزدل
بن گیا۔ اس کے دل پر ایسے خوف کی گرفت تھی جو اس نے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ وہ جنات کی کہانیاں سنتا رہا
تھا ،جنات سے کبھی آمنا سامنا نہیں ہوا تھا۔ اسے ہر لمحہ توقع تھی کہ یہ دو لڑکیاں اور دو گھوڑے غائب ہوجائیں گے یا
شکلیں بدل لیں گے۔ ان کے خالف وہ کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ وہ بے بس اور مجبور ہوگیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ
وہ سائے میں چلیں۔ ان میں سے ایک تو بے ہوش پڑا تھا۔ اسے گھسیٹ کر سائے میں لے گئے۔
اپنے متعلق بتائو تم کیا کرکے آئے ہو؟''…… لڑکی نے پوچھا۔''
پانی پالئو''…… الناصر نے التجا کی…… ''سنا ہے جنات ہر چیز حاضر کردیا کرتے ہیں''۔''
گھوڑوں کے ساتھ مشکیزے ہیں''…… لڑکی نے کہا…… ''ایک کھول لو''۔''
الناصر نے ایک گھوڑے کی زین کے ساتھ بندھا ہوا مشکیزہ کھوال۔ پانی سے بھرا ہوا تھا۔ اس نے سب سے پہلے بے ہوش
ساتھی کے منہ میں پانی ٹپکایا۔ اس نے آنکھ کھولی اور اٹھ بیٹھا۔ الناصر نے مشکیزہ اس کے منہ سے لگا دیا لیکن اسے
زیادہ پانی نہ پینے دیا۔ باری باری سب نے پانی پی لیا۔ الناصر کا دماغ صاف ہوگیا۔ اس نے سوچا کہ یہ لڑکیاں تصور یا
واہمہ ہوتا تو دماغ میں جان آجانے سے یہ واہمہ غائب ہوجاتا لیکن لڑکیاں وہاں موجود تھیں اور سب سے بڑی حقیقت یہ
تھی کہ اس نے پانی پیا تھا اگر پانی محض تصور ہوتا تو اس سے اس کے جسم میں تازگی نہ آتی۔ اس نے لڑکیوں کو ایک
بار پھر دیکھا اور بڑی غور سے دیکھا۔ اب وہ اسے اور زیادہ حسین نظر آئیں ،وہ یقینا انسان نہیں تھیں۔
الناصر کی ذہنی ،جذباتی اور جسمانی کیفیت یہ تھی کہ اسے اپنے اوپر کوئی اختیار نہیں رہا تھا۔ وہ محسوس کررہا تھا کہ :
وہ اپنی مرضی سے سوچنے کے قابل نہیں رہا۔ اس کے ساتھیوں کے چہروں پر زندگی عود کر آئی تھی۔ یہ اس تھوڑے سے
پانی کا کرشمہ تھا جو ان کے جسموں میں گیا تھا مگر الناصر کی طرح ان پر بھی خوف طاری ہوگیا تھا۔ لڑکیاں انہیں
خاموشی سے دیکھ رہی تھیں۔ باہر کی دنیا جل رہی تھی ،زمین ایسے شعلے اگل رہی تھی جو محسوس ہوتے تھے ،نظر نہیں
آتے تھے لیکن جہاں یہ لوگ بیٹھے تھے ،وہ ان شعلوں سے محفوظ تھے۔ اوپر ریتلی چٹان کی چھت تھی اور جگہ خاصی
کشادہ تھی۔
بڑی لڑکی نے بازو الناصر کی طرف بڑھایا۔ درمیانی انگلی اور شہادت کی انگلی آگے کرکے بازو کو گھوڑوں کی طرف گھما کر
کہا…… ''وہ تھیال کھول الئو اور اپنے ساتھیوں کو دو''۔
الناصر ایسے انداز سے گھوڑے کی زین کے ساتھ بندھا ہوا چمڑے کا تھیال کھول الیا جیسے اس نے یہ حرکت کسی جادو کے
زیراثر کی ہو۔ اس نے تھیال کھوال تو اس میں کھجوروں کے عالوہ کھانے کی کچھ ایسی چیزیں پڑی تھیں جو صرف امیر لوگ
کھایا کرتے تھے۔ خشک گوشت بھی تھا جو کھانے کے قابل تھا۔ اس نے لڑکیوں کو دیکھا۔ بڑی لڑکی نے کہا……
''کھائو''…… الناصر نے یہ چیزیں اپنے ساتھیوں میں تقسیم کردیں۔ ان سب کے پیٹ پیٹھ سے لگے ہوئے تھے۔ انہوں نے
کھانا شروع کردیا۔ کھانا مقدار کے لحاظ سے تھوڑا تھا جو بظاہر ایک آدمی کے لیے کافی تھا لیکن چارو سیر ہوگئے۔ انہیں
ماحول نکھرا ہوا دکھائی دینے لگا۔ لڑکیوں کا حسن پہلے سے کہیں زیادہ پرکشش اور پراسرار ہوگیا۔
تم ہمارے ساتھ کیا سلوک کرو گی؟''…… الناصر نے بڑی لڑکی سے کہا…… ''جن اور انسان کا کوئی مقابلہ نہیں۔ تم آگ ''
ہو ،ہم مٹی اور پانی ہیں۔ ہم سب کا خالق خدا ہے۔ ہمیں اپنے خالق کی مخلوق سمجھ کر ہم پر رحم کرو۔ ہمیں ترکمان کے
راستے پر ڈال دو۔ تم چاہو تو پلک جھپکتے ہمیں ترکمان پہنچا سکتے ہو''۔
الناصر نے اسے اپنی تمام کارگزاری سنا دی۔ اس کی ٹولی نے جس دلیری سے شب خون مارے اور جو نقصان کیا تھا ،وہ
پوری تفصیل سے سنایا ،پھر یہ بتایا کہ وہ کس طرح واپسی کے راستے سے بھٹک گئے ہیں۔
تم اپنے سپاہیوں سے بہتر سپاہی معلوم ہوتے ہو''…… لڑکی نے کہا…… ''کیا تمہاری فوج کا ہر ایک سپاہی یہ کام کرسکتا''
''ہے ،جو تم نے کیا ہے؟
نہیں'' الناصر نے جواب دیا…… ''ہم چاروں کو تم انسان نہ سمجھو۔ ہمیں استادوں نے جو تربیت دی ہے ،وہ ہر ایک ''
سپاہی برداشت نہیں کرسکتا۔ ہم صحرائی ہرن کی طرح دوڑ سکتے ہیں۔ عقاب کی طرح ہماری آنکھیں بہت دور تک دیکھ
سکتی ہیں اور ہم چیتے کی طرح حملہ کرتے ہیں۔ ہم میں سے کسی نے بھی چیتا نہیں دیکھا۔ استادوں نے بتایا تھا کہ چیتا
کیا ہوتا ہے اور وہ کس طرح حملہ کرتا ہے۔ اس جسمانی پھرتی کے عالوہ ہمارے دماغ دوسرے سپاہیوں کی نسبت زیادہ اچھی
طرح سوچ سکتے ہیں۔ ہمیں استادوں نے یہ ہنر بھی سکھایا ہے کہ دشمن کے ملک میں جاکر فوجی راز کس طرح حاصل
کیے جاتے ہیں۔ ہم بھیس بدل لیتے ہیں ،آواز بدل لیتے ہیں ،اندھے بن سکتے ہیں۔ ضرورت پڑے تو ہم آنسو بہا سکتے ہیں اور
جب پکڑے جانے کا خطرہ ہو تو ہم اپنی زندگی سے دستبردار ہوکر لڑتے اور نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم قید نہیں ہوتے،
شہید ہوا کرتے ہیں''۔
اگر ہم جن نہ ہوتی تو تم ہمارے ساتھ کیا سلوک کرتے؟''…… لڑکی نے پوچھا۔''
تم یقین نہیں کرو گی''…… الناصر نے کہا…… ''ہم وہ پتھر ہیں جنہیں عورت کا حسن توڑ نہیں سکتا۔ مجھے یقین ہو ''
جائے کہ تم انسان ہو اور پتہ چل جائے کہ راستہ سے بھٹک گئی ہو تو تم دونوں کو اپنی پناہ میں لے لوں گا اور اپنے
ایمان کی طرح قیمتی سمجھوں گا مگر تم انسان نہیں ہو ،تمہاری حالت بتا رہی ہے کہ تم انسان نہیں ہو۔ تم جیسی لڑکیاں
اس جہنم میں نہیں آسکتیں۔ اب میں تم سے التجا کرتا ہوں کہ ہمیں پناہ میں لے لو''۔
ہم انسانوں کی مخلوق سے نہیں''…… لڑکی نے کہا…… ''ہمیں معلوم تھا کہ تم کیا کررہے ہو ،ہمیں معلوم تھا کہ تم ''
راستے سے بھٹک گئے ہو ،اگر تم گناہ گار ہوتے تو جس صحرا سے تم گزر کر آئے ہو ،وہ تمہارا خون پی جاتا اور تمہارے
جسم کے گوشت کو ریت بنا کر تمہاری ہڈیاں ننگی کردیتا۔ اس صحرا نے بھٹکے ہوئے گناہ گاروں کو کبھی نہیں بخشا۔ ہم
دونوں تمہارے ساتھ تھیں۔ تمہیں جو صعوبتیں برداشت کرنی پڑی ہیں وہ اس لیے تم پر ڈالی گئی ہیں کہ تم خدا کو بھول نہ
سکو اور تمہارے دل سے گناہ کا خیال اور ارادہ نکل جائے۔ ہمیں معلوم تھا کہ ہم جیسی خوبصورت لڑکیوں کو دیکھ کر تم
بھوک اور پیاس کو بھول جائو گے اور تمہارے دل پر شیطان کا قبضہ ہوجائے گا''۔
تم ہمارے ساتھ ساتھ کیوں رہیں؟''…… الناصر نے پوچھا۔''
ہمیں اس نے بھیجا ہے جو صحرائوں میں راستہ بھول جانے والے نیک بندوں کو راہ دکھاتا ہے''…… بڑی لڑکی نے کہا…… ''
''تم پر خدا نے جو رحمت نازل کی ہے ،اس کا تم حساب نہیں کرسکتے
اس نے ہمیں کہا تھا کہ مرد نزع کے عالم میں بھی شیطان کے اثر سے آزاد نہیں ہوتا۔ اس ناپاک قبضے سے آزاد کرانے
کے لیے خدا نے تمہیں عذاب میں ڈاال ہے پھر ہمیں حکم مال کہ ان کے سامنے آجائو اور انہیں پناہ میں لے لو…… ہم جانتے
تھے کہ تم نے دشمن کو کس طرح اور کتنا نقصان پہنچایا ہے''۔
پھر مجھ سے کیوں پوچھا تھا؟''…… الناصر نے پوچھا۔''
یہ دیکھنے کے لیے کہ تم کتنا جھوٹ اور کتنا سچ بولتے ہو''…… لڑکی نے کہا…… ''تم سچے ہو''۔''
ہم جھوٹ نہیں بوال کرتے''…… الناصر نے کہا…… ''شب خون مارنے والے خدا کو گواہ بنایا کرتے ہیں۔ اپنی فوج اور اپنے''
ساالروں کی نظروں سے اوجھل ہوکر ہم اس حقیقت کو دل میں بٹھا لیتے ہیں کہ ہمیں خدا دیکھ رہا ہے۔ ہم خدا کو دھوکہ
نہیں دے سکتے''…… الناصر خاموش ہوگیا اور پوچھا…… ''تم نے میرے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ ہمارے ساتھ کیا
سلوک کرو گی''۔
جو ہمیں حکم مال ہے ،اس کے خالف ہم کچھ نہیں کرسکتے''…… لڑکی نے جواب دیا…… ''ہمارا سلوک برا نہیں ہوگا……''
ہم دیکھ رہے ہیں ک تم اب بول نہیں سکتے۔ تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی آنکھیں بند ہورہی ہیں مگر تمہارے دلوں میں
جو خوف ہے ،وہ تمہیں سونے نہیں دے رہا۔ دل سے خوف نکال دو اور سوجائو''۔
پھر کیا ہوگا؟''…… الناصر نے پوچھا۔''
جو اللہ کا حکم ہوگا''…… لڑکی نے جواب دیا…… ''ہم تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اگر بھاگنے کی کوشش کرو گے تو''
ان ریتلے ستونوں کی طرح ستون بن جائو گے۔ تمہیں دور سے یہ ستون نظر آئے ہوں گے۔ ان کے اوپر کوئی چھت نہیں۔ یہ
مینار لگتے ہیں ،اصل میں انسان ہیں…… انسان تھے۔ ہمیں حکم نہیں کہ تمہیں دکھائوں ،اگر حکم ہوتا تو کسی بھی مینار پر
تم تلوار کی ضرب لگاتے تو اس میں سے خون پھوٹتا''۔
الناصر اور اس کے ساتھیوں کی آنکھیں خوف سے باہر آنے لگیں۔ ان کی سانسیں رک گئیں۔
یہ روئے زمین کا جہنم ہے''…… لڑکی نے کہا…… ''ادھر وہی آتا ہے جو راہ سے گمراہ ہوجاتا ہے اور وہ کہ جو بھولے ''
بھٹکے مسافروں کو راستہ دکھاتا ہے اور کسی کو نظر نہیں آیا کرتا ،انہیں غزال جیسے خوبصورت جانوروں یا ہم جیسی
خوبصورت لڑکیوں کے روپ میں آکر انہیں راہ پر ڈالتا ،پانی پالتا اور انہیں اس دوزخ کی اذیت سے بچا لیتا مگر انسان گناہوں
کا اتنا شیدائی ہے کہ غزال کو دیکھتا ہے تو اس پر تیر چالتا ہے کہ اسے مارے اور اس کا گوشت کھائے اور جب ہم جیسی
عورت کو دیکھتا ہے تو اسے تنہا اور مجبور سمجھ کر اسے عیش وعشرت کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ بھول جاتا
ہے کہ اس کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ وہ لڑکی سے کہتا ہے کہ آئو میرے ساتھ ،تمہارے ساتھ شادی کروں گا ،تم میرے حرم
کی ملکہ ہوگی…… ریت اور مٹی کے یہ بے ڈھنگ اور لمبوترے مینار ایسے ہی آدمی تھے ،تم ان میں شامل نہیں ہوگے……
سوجائو۔ اگر ہمیں دیکھ کر تمہارے دل میں گناہ انگڑائی لے تو اسے بھی سال دینا ،ورنہ تمہارا انجام یہی ہوگا جو تم دیکھ
رہے ہو۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جس لذت کی وہ پیداوار ہے ،اسی لذت کا شیدائی ہوکر تباہ ہوتا ہے اور برے برے
انجام کو پہنچتا ہے۔ انسان کی اس کمزوری نے قوموں کے نام ونشان مٹان دئیے ہیں''۔
لڑکی کے بولنے کے انداز میں جادو کا سا اثر تھا۔ یہ کسی پہلو اس دنیا کی لڑکی نہیں تھی۔ اس کے سینے میں ایک مقدس
پیغام تھا۔ الناصر اور اس کے ساتھیوں پر تقدس طاری ہوگیا اور وہ خود فراموشی کے عالم میں سنتے رہے ،پھر وہ اونگھنے
لگے اور ایک ایک کرکے لڑھک گئے۔ چاروں گہری نیند سوگئے تو بڑی لڑکی نے چھوٹی لڑکی کی طرف دیکھا۔ دونوں مسکرائیں
اور انہوں نے سکون کی لمبی آہ بھری۔ الناصر کو کچھ خبر نہیں تھی کہ جس طرح اس کا مشن کامیاب ہوچکا ہے اسی طرح
اس کی فوج ایک ہی ہلے میں اپنے مشن میں کامیاب ہوچکی ہے۔ اتحادی فوج کو سلطان ایوبی بکھیر کر بھگا چکا تھا۔
اعلی سیف الدین میدان جنگ سے الپتہ ہوچکا تھا اور اب سلطان ایوبی سیف الدین کے ایک ساالر
اتحادی فوج کا ساالر
ٰ
مظفرالدین کا انتظار کررہا تھا۔ اسے خطرہ محسوس ہورہا تھا کہ اگر مظفرالدین میدان جنگ میں ہوا تو وہ جوابی حملہ ضرور
کرے گا۔ سلطان ایوبی کا اندازہ غلط نہیں تھا۔ مظفرالدین وہیں تھا۔ اس کے پاس اس فوج کا چوتھائی حصہ تھا جو سلطان
ایوبی کے حملے کی تاب نہ ال کر بھاگ چکی تھی۔ اس چوتھائی حصے کو جنگ میں شریک ہونے کا موقع ہی نہیں مال تھا۔
یہ شکست خوردہ فوج کا محفوظہ تھا جو محفوظ تھا اور سلطان ایوبی اس کی موجودگی سے بے خبر تھا ،یہ اس کی چھٹی
حس تھی جو اسے بتا رہی تھی کہ خطرہ ابھی موجود ہے۔ اس نے اپنے جاسوسوں کو میدان جنگ کے اردگرد دور دور تک
پھیال دیا تھا تاکہ کسی بھی جگہ کوئی فوج ہو اس کی اطالع فورا ً پہنچائیں۔
وہاں ہر فوجی کے ذہن میں یہی خیال تھا کہ سیف الدین کی فوج مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے اور یہ سوال ہی پیدا نہیں
ہوتا تھا کہ اس فوج کا کوئی سپاہی یا افسر زندہ موجود ہوگا۔ ان میں سے جو زندہ موجود تھے ،وہ سلطان ایوبی کی فوج کی
حراست میں جنگی قیدی تھے۔ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ وہ خطہ ایسا تھا کہ جس کے خدوخال کئی کئی دستوں کو ایک
ایک نشیب میں ،چٹانوں کے جھرمٹ میں یا جنگل میں چھپا سکتے تھے۔ سلطان ایوبی کے جاسوسی نظام کو یہی دشواری
پیش آرہی تھی۔ حاالنکہ یہ وہ نظام تھا جو دشمن کے پیٹ میں جاکر راز نکال الیا کرتا تھا۔
مظفرالدین نے میدان جنگ سے دواڑھائی میل دور ایسی جگہ اپنے دستے چھپا رکھے تھے جو اس خطے کا نشیبی عالقہ تھا،
وہاں جنگل بھی تھا اور اردگرد چٹانیں بھی۔ وہ اپنے خیمے میں بیٹھا سلطان ایوبی پر حملے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ وہ بہت
جلدی میں تھا۔ اس کا ایک نائب ساالر خیمے میں داخل ہوا۔ اس کے ساتھ ایک اور آدمی تھا۔
کوئی نئی خبر ہے؟''…… مظفرالدین نے پوچھا۔''
صلح الدین ایوبی کی فوج میں کوئی تبدیلی نہیں آئی''…… نائب ساالر نے کہا…… ''تفصیل اس سے سن لو ،یہ سب کچھ''
دیکھ آیا ہے''۔
یہ آدمی جاسوس تھا۔ اس نے کہا…… ''صالح الدین ایوبی کی فوج نے ابھی ہماری اس فوج کا سامان نہیں اٹھایا جو بھاگ
گئی ہے۔ زخمیوں کو اٹھالے گئے ہیں۔ الشیں بھی اٹھالی گئی ہیں ،ہماری الشوں کو بھی وہ اپنی الشوں کے ساتھ الگ الگ
قبروں میں دفن کررہے ہیں''۔
مجھے ان کی خبر سنائو جو ابھی زندہ ہیں''…… مظفرالدین نے کہا…… ''مرنے والوں کو قبروں میں اترنا ہے ،وہ اتر رہے''
''ہیں ،کیا ایوبی نے اپنی فوج میں کوئی ردوبدل کیا ہے؟ اس کا دایاں بازو وہیں ہے یا ادھر ادھر ہوگیا ہے؟
قابل صد احترام ساالر!''…… جاسوس نے کہا…… ''میں سپاہی نہیں ،کمان دار ہوں ،میں جو خبر دے رہا ہوں ،وہ کچھ ''
سوچ اور کچھ سمجھ کر دے رہا ہوں۔ میرا مقصد یہ نہیں کہ آپ کو خوش کروں اور آپ کی خفگی سے ڈروں۔ میرا مقصد
بالکل آپ ہی کی طرح یہی ہے کہ سلطان ایوبی کی فتح کو شکست میں بدال جائے۔ آپ کچھ جلدی میں معلوم ہوتے ہیں،
جلدی ضروری کریں ،جلد بازی سے بچیں۔ میں جو کہہ رہا ہوں ،مجھے کہنے دیں۔ مجھے پابند نہ کریں۔ میں جانتا ہوں کہ
آپ کی نظر سلطان ایوبی کے دائیں پہلو پر ہے کیونکہ یہی ہدف آپ کی آسان زد اور رسائی میں ہے مگر میں نے اس کی
فوج کے دوسرے حصوں کو بھی پیش نظر رکھ کر دیکھا ہے کہ ہم اس کے دائیں پہلو پر حملہ کریں گے تو سلطان ایوبی فوج
کے دوسرے حصوں کو کس طرح استعمال کرے گا''۔
وہ ہمیں گھیرے میں لینے کی کوشش کرے گا''…… مظفرالدین نے کہا…… ''گھیرا وسیع رکھے گا ،ہمیں گھمائے پھرائے گا ''
اور گھیرا تنگ کرتا جائے گا۔ میں اس کی چالوں کے متعلق پین گوئی کرسکتا ہوں''۔
صالح الدین ایوبی نے محفوظہ کے ان دستوں کو جن سے اس نے ہمارے قلب پر حملہ کیا اور کامیابی حاصل کی ہے پھر ''
سے سمیٹ لیا اور اگلے دستوں سے ایک کوس پیچھے تیار رکھا ہوا ہے۔ آپ ٹھیک سمجھے ہیں کہ سلطان ایوبی ہمارے حملہ
آور دستوں کو گھیرے میں لینے کی کوشش کرے گا۔ میں قبروں کا جو ذکر کررہا تھا ،وہ بے معنی نہیں تھا۔ سلطان ایوبی کا
دایاں بازو جس جگہ ہے اس سے ڈیڑھ ایک کوس پیچھے ہماری اور ایوبی کی فوج کی الشوں کے لیے قبریں کھودی گئی ہیں۔
ان کی تعداد ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ ہوگی۔ یہ ڈیڑھ ہزار گڑھے ہیں۔ آپ قبر کی لمبائی ،چوڑائی اور گہرائی سے واقف ہیں۔
آپ ایسی سمت سے حملہ کریں کہ ایوبی کے دستے پیچھے ہٹیں۔ آپ انہیں قبروں کے قریب لے جائیں۔ دست بدست لڑنے
کے بجائے تیروں کا اندھا دھند استعمال کریں اور انہیں مجبور کردیں کہ قبروں پر چلے جائیں۔ آپ تصور کرسکتے ہیں کہ
گھوڑے کھلی ہوئی قبروں میں کس طرح گریں گے۔ ان میں سے جن قبروں میں الشیں اتار کر ان پر ڈھیریاں بنا دی گئی ہیں،
وہ بھی ان کے لیے رکاوٹ بنیں گی''۔
ایوبی کے دائیں بازو کی قوت کتنی اور کس قسم کی ہے؟''…… مظفرالدین نے پوچھا۔''
کم از کم ایک ہزار سوار اور ڈیڑھ ہزار پیادے ہیں''…… جاسوس کمان دار نے جواب دیا…… ''یہ دستے تیاری کی حالت ''
میں ہیں۔ آپ انہیں بے خبری میں نہیں لے سکتے''…… اس نے اس نقشے پر جو مظفرالدین کے آگے پڑا تھا ،ایک جگہ
انگلی رکھ کر کہا…… '' یہ ہے دشمن ( ایوبی) کا دایاں بازو ،میرے اندازے کے مطابق اس کا پھیالئو آٹھ سو قدم ہے۔ اس کے
سامنے کی زمین گڑھوں والی ہے۔ نیچی نیچی گول گول ٹیکریاں بھی ہیں۔ اس کے دائیں کا عالقہ صاف ہے۔ حملے کے لیے
یہ راستہ موزوں نظر آتا ہے۔ مگر حملہ سامنے سے کیا جائے۔ دشمن پیچھے ہٹے گا''۔
میرا حملہ سامنے کے بے کار راستے سے بھی ہوگا ،دائیں جانب سے صاف راستے سے بھی''…… مظفرالدین نے کہا…… ''
'' میں قبروں کے گڑھوں اور ڈھیریوں کو استعمال کروں گا''…… اس نے اپنے نائب ساالر سے کہا…… ''کوئی بھی آدمی کہیں
بھی نظر آئے اسے پکڑ لو۔ یہ عالقہ جنگ کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے۔ ادھر سے کوئی مسافر نہیں گزرے گا۔ ادھر سے وہی
گزرے گا جو جاسوس ہوگا''۔
دو مسافروں کو شاید معلوم نہیں تھا کہ یہ عالقہ جنگ کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے۔ ایک اونٹ پر سوار تھا۔ وہ بوڑھا تھا۔ اس
کی داڑھی سفید تھی۔ اونٹ پر کچھ سامان بھی لدا ہوا تھا۔ دوسرے نے اونٹ کی مہار پکڑ رکھی تھی۔ وہ دونوں دیہاتی لباس
میں تھے۔ وہ اس جگہ سے گزر رہے تھے جہاں سے مظفرالدین کے چھپے ہوئے دستے نظر آرہے تھے۔ ایک فوجی نے انہیں
پکارا۔ وہ نہ رکے۔ ان کی رفتار تیز ہوگئی۔ ایک گھوڑ سوار ان کے پیچھے گیا تو وہ رک گیا۔ سوار نے انہیں ساتھ چلنے کو
کہا۔
ہم مسافر ہیں''…… جوان آدمی نے کہا…… ''آپ کا کیا بگاڑا ہے؟ ہمیں جانے دیں''۔''
حکم ہے کہ یہاں سے جو گزرے اسے روک لیا جائے''…… گھوڑ سوار نے کہا اور انہیں اپنے ساتھ لے گیا۔''
انہیں ایک خیمے کے سامنے جاکھڑا کیا اور خیمے میں اطالع دی گئی۔ ایک کمان دار باہر آیا۔ اس نے ان سے پوچھا کہ وہ
کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جارہے ہیں۔ انہوں نے جو جواب دیا ،اس سے کمان دار مطمئن ہوگیا لیکن اس نے انہیں بتایا کہ
انہیں آگے نہیں جانے دیا جائے گا۔ انہیں عزت سے رکھا جائے گا ،قید میں نہیں۔ ان کے اس سوال کا جواب نہ دیا جاسکا
کہ انہیں کب تک یہاں رکھا جائے گا۔ یہ پہلے مسافر تھے جنہیں مظفرالدین کے حکم کے مطابق روکا گیا تھا۔ انہیں دو
سپاہیوں کے حوالے کرکے کہا گیا کہ وہ ان کے خیمے میں رہیں گے۔ ان کی کسی نے نہ سنی۔
انہیں جس خیمے میں رکھا گیا ،وہاں یہی دو سپاہی رہتے تھے۔ رات کو سپاہی سو گئے۔ سفید ریش بوڑھا جاگ رہا تھا۔
خیمے میں اندھیرا تھا۔ بوڑھے نے خراٹوں سے اندازہ کیا کہ دونوں سپاہی سو گئے ہیں۔ اس نے اپنے ساتھی کو ٹھوکر ماری۔
دونوں لیٹے لیٹے سرکنے لگے۔ جب خیمے کے دروازے تک پہنچے تو باہر کو سرک گئے۔ ) باہر خاموشی تھی۔ خیمے سے
کچھ دور جاکر بوڑھے نے اپنے ساتھی سے کہا کہ وہا ں سے الگ ہوجائے اور کسی اور سمت سے خیمہ گاہ سے باہر نکلے۔
دونوں الگ ہوگئے۔ ،ان کی یہ توقع پوری نہ ہوئی کہ وہاں سارا کیمپ سویا ہوا ہوگا۔ سنتری جاگ رہے تھے۔ ایک سنتری نے
اندھیرے میں سائے کو حرکت کرتے دیکھا تو اسے بالنے کے بجائے اس کے پیچھے چل پڑا۔
وہ بوڑھا تھا۔ اس نے سنتری کو دیکھ لیا اور وہ کہیں چھپ گیا۔ سنتری آیا۔ اسے ڈھونڈنے لگا وہاں کچھ سامان پڑا تھا۔ اس
ڈھیر میں کہیں چھپا رہا ،پھر اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں سے دبے پائوں نکل گیا۔ بالکل اسی طرح ایک اور سنتری
نے اس کے ساتھی کو دیکھ لیا۔ مظفرالدین نے جاسوسوں پر نظر رکھنے اور انہیں پکڑنے کے بڑے ہی سخت احکام دے رکھے
تھے۔ اسے معلوم تھا کہ سلطان ایوبی کے جاسوس بہت تیز اور ہوشیار ہیں۔ چنانچہ مظفرالدین نے اس کے جاسوسوں کو
پکڑنے کے لیے خاص قسم کی ہدایات دی تھیں ،انہی ہدایات کے مطابق سنتری بوڑھے اور اس کے ساتھی کو پکارتے نہیں تھے،
ان کا تعاقب کررہے تھے۔
بوڑھے کا ساتھی بھی چھپ گیا۔ ادھر بوڑھا بھی ایک سنتری کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔ تھوڑی دیر بوڑھا اور ایک
جگہ چھپا۔ سنتری اس کے پیچھے آرہا تھا۔ سنتری غلط فہمی میں آگے نکل گیا۔ بوڑھے نے خنجر نکال لیا۔ اس نے ارادہ
کرلیا تھا کہ وہ اس سنتری سے نجات حاصل کرنے کے لیے اسے خنجر سے ہالک کردے گا۔ بوڑھا اٹھا۔ ابھی دیکھ ہی رہا
تھا کہ کدھر کو نکلے کہ اچانک ایک آدمی اس کے قریب آرکا۔ بوڑھے نے ذرہ بھر توقف نہ کیا۔ خنجر اس آدمی کے دل میں
اتار دیا۔ فورا ً بعد دوسرا وار کیا۔ اس آدمی کے منہ سے آواز نکلی اور خاموش ہوگئی۔ وہ آدمی گر پڑا۔
بوڑھا وہاں سے بھاگنے کی راہ دیکھ رہا تھا کہ کسی نے پیچھے سے اسے دبوچ لیا۔ بوڑھے نے جسم کو اتنی زور سے :
جھٹکا دیا کہ اسے دبوچنے واال اس سے الگ ہوکر گرا۔وہ تیز بھاگا مگر کسی چیز سے ٹھوکر کھا کر گر پڑا۔ اس نے جسے
گرایا تھا وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ وہ تیز دوڑا اور بوڑھے کو پیچھے سے پکڑ لیا ،ساتھ ہی اس نے شور مچا دیا۔ مشعلیں جل
اٹھیں۔ تین چار سنتری دوڑے آئے۔ انہوں نے مشعلوں کی روشنی میں دیکھا کہ یہ تو کوئی سفید ریش بزرگ ہے مگر ان سب
سے آزاد ہونے کے لیے ایسی پھرتی اور ایسی طاقت کا مظاہرہ کررہا تھا جو اس عمر میں کم ہی کسی انسان میں ہوتی ہے۔
وہ اکیال تھا۔ سنتری زیادہ تھے ،وہ ان سے آزاد نہ ہوسکا مگر اس کی کوشش میں اس کی سفید داڑھی اتر کر گر پڑی۔ سب
نے دیکھا کہ اس کے چہرے پر چھوٹی چھوٹی سیاہ داڑھی تھی جو سلیقے سے تراشی ہوئی تھی اور وہ ایک جوان آدمی تھا۔
سفید داڑھی مصنوعی تھی۔
اسے پکڑ کر اس جگہ لے گئے جہاں اس نے ایک سنتری کو خنجر کے دو وار کرکے مار ڈاال تھا۔ مشعل کی روشنی میں سب
نے دیکھا کہ وہ کوئی سنتری نہیں بلکہ اسی آدمی کا ساتھی تھا۔ وہ مرچکاتھا۔ اس آدمی نے جو سفید داڑھی لگا کر بوڑھا بنا
ہوا تھا ،اپنے ہی ساتھی کو سنتری سمجھ کر ہالک کردیا تھا۔ یہ دونوں ساتھی الگ الگ ہوکر کیمپ سے نکلنے کی کوشش
کررہے تھے مگر سنتریوں نے انہیں دیکھ لیا۔ یہ دونوں تعاقب سے بچنے کی کوشش میں اکٹھے ہوگئے۔ سفید داڑھی والے نے
اسے سنتری سمجھا اور نہایت عجلت میں اسے خنجر سے مارڈاال۔ الش کی تالشی لی گئی۔ اس کے کپڑوں کے اندر سے
خنجر بآمد ہوا۔ ان کے اونٹ پر جو سامان تھا ،وہ کھول کر دیکھا گیا تو کوئی سامان نہیں تھا۔ بوریوں میں گھاس پھونس بھر
کر سامان کا دھوکہ دیا گیا تھا۔
اس آدمی کو ایک نائب ساالر کے خیمے میں لے گئے۔ نائب ساالر جاگ اٹھا۔ اس نے اس آدمی سے بہت کچھ پوچھا لیکن
اس نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔ اس کی سفید داڑھی جو اس کے چہرے سے اتری تھی ،نائب ساالر کو دکھائی گئی۔ اس
کے متعلق بھی اس نے خاموشی اختیار کی مگر یہ ایسے ثبوت تھے جنہیں وہ جھٹال نہیں سکتا تھا۔ اسے کہا گیا کہ وہ
تسلیم کرلے کہ وہ سلطان ایوبی کا جاسوس ہے اور اس کا ساتھی بھی جاسوس تھا۔ اس نے یہ الزام تسلیم کرنے سے انکار
کردیا۔ اسے مارا پیٹا گیا۔ بہت پریشان کیا گیا لیکن اس نے اعتراف نہ کیا کہ وہ جاسوس ہے۔ رات گزر گئی۔
صبح اسے مظفرالدین کے سامنے لے جایا گیا اور اسے رات کا واقعہ سنایا گیا۔ اس کی مصنوعی داڑھی اور اس کے اونٹ کا
سامان بھی مظفرالدین کے آگے رکھا گیا۔
علی بن سفیان کے شاگرد ہو یا حسن بن عبداللہ کے؟''…… مظفرالدین نے اس سے پوچھا۔ (علی بن سفیان سلطان ایوبی''
کی ملٹری انٹیلی جنس کا سربراہ اور حسن بن عبداللہ اس کا نائب تھا)۔
میں ان دونوں میں سے کسی کو نہیں جانتا''…… ملزم نے جواب دیا۔''
میں جانتا ہوں ان دونوں کو''…… مظفرالدین نے کہا…… ''میں سلطان صالح الدین ایوبی کا شاگرد ہوں ،استاد اپنے '' :
شاگرد کو دھوکہ نہیں دے سکتا''۔
میرا آپ کے ساتھ اور سلطان ایوبی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں''…… ملزم نے جواب دیا۔''
سنو میرے بدقسمت دوست!''…… مظفرالدین نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ ''میں تمہارے ساتھ بحث نہیں کروں''
گا۔ میں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ تم ناالئق اور نکمے ہو۔ تم نے اپنا فرض خوش اسلوبی سے ادا کیا ہے۔ پکڑا جانا کوئی
عیب نہیں۔ تمہاری بدقسمتی کہ تمہارا ساتھی تمہارے ہی ہاتھوں مارا گیا ہے۔ مجھے صرف یہ بتا دو کہ تمہارا کوئی ساتھی
یہاں سے ہوگیا ہے اور وہ ایوبی کو اطالع دے چکا ہے کہ اس جگہ فوج ہے؟ اور یہ بتا دو کہ اس وقت تمہاری فوج کی
ترتیب کیا ہے اور دستے کہاں کہاں ہیں۔ ان سوالوں کا جواب دو اور میں تمہارے ساتھ قرآن کے نام پر وعدہ کرتا ہوں کہ
جنگ ختم ہوتے ہی تمہیں رہا کردوں گا۔ اس وقت تک پوری عزت سے تمہیں اپنے پاس رکھوں گا''۔
مجھے آپ کی قسم پر اعتبار نہیں''…… ملزم نے کہا…… ''کیونکہ آپ قرآن سے منحرف ہوچکے ہیں''۔''
کیا میں مسلمان نہیں؟''…… مظفرالدین نے تحمل سے کہا۔''
آپ یقینا مسلمان ہیں''…… ملزم نے جواب دیا…… ''لیکن آپ قرآن کے نہیں صلیب کے وفادار ہیں''۔''
میں اپنی توہین اس شرط پر برداشت کرلوں گا کہ میں نے جو پوچھا ہے ،وہ مجھے بتا دو''…… مظفرالدین نے کہا…… ''
''تمہاری جان میرے ہاتھ میں ہے''۔
آپ خدا کے ہاتھ سے میری جان چھین نہیں سکتے''…… ملزم نے کہا…… ''آپ ہماری فوج میں رہ چکے ہیں ،آپ کو ''
اچھی طرح معلوم ہے کہ ہماری فوج کا ہر سپاہی اپنی جان خدا کے سپرد کرچکا ہے۔ میں آپ کو یہ بتا دیتا ہوں کہ میں
اپنی فوج کا جاسوس ہوں اور میرا ساتھی بھی جاسوس تھا۔ میں آپ کے کسی اور سوال کا جواب نہیں دوں گا۔ میں زندہ
ہوں ،میری کھال اتارنی شروع کردیں۔ میرے منہ سے اپنے سوالوں کا جواب نہیں سن سکو گے…… اور میں آپ کو یہ بھی بتا
دیتا ہوں کہ شکست آپ کے مقدر میں لکھ دی گئی ہے''۔
اس کے ٹخنوں میں رسی ڈالو اور اس درخت کے ساتھ الٹا لٹکا دو''…… مظفرالدین نے ایک درخت کی طرف اشارہ کرکے ''
حکم دیا اور اپنے خیمے میں چال گیا۔
٭ ٭ ٭
وہ دونوں ابھی تک نہیں آئے''…… حسن بن عبداللہ سلطان ایوبی سے کہہ رہا تھا…… ''ان کے پکڑے جانے کا تو کوئی ''
خطرہ نہیں تھا۔ ہمارے جاسوسوں کو یہاں پکڑنے واال کون ہے۔ انہیں بہت دور بھی نہیں جانا تھا''۔
ہوسکتا ہے ،وہ پکڑے گئے ہوں''…… سلطان ایوبی نے کہا…… ''وہ جو صبح کے گئے ہوئے شام کے بعد تک نہیں آئے ،وہ''
پکڑے گئے ہوں گے۔ ان کا نہ آنا ظاہر کرتا ہے کہ یہاں پکڑنے والے موجود ہیں۔ آج رات کچھ آدمی اور بھیج دو اور ذرا دور
کے عالقے کی دیکھ بھال کرائو''۔
وہ انہی دونوں جاسوسوں کے متعلق بات کررہے تھے۔ سلطان ایوبی نے ہمیشہ اپنے جاسوسی کے نظام پر بھروسہ کیا اور
دشمن کو اسی نظام کی رہنمائی میں ناکوں چنے چبوائے تھے مگر اب اس کا یہ نظام اس کے لیے بے کار ہوتا جارہا تھا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کا مدمقابل اس کا شاگرد مظفرالدین تھا۔گزشتہ رات سلطان ایوبی کے ایک جاسوس کی الش
ترکمان سے کچھ دور ویرانے میں پڑی ملی تھی۔ اس کے پہلو میں تیر اترا ہوا تھا۔ مظفرالدین نے اپنے نائب ساالروں سے کہا
تھا… '' اگر تم صالح الدین ایوبی کے جاسوسوں کے خالف اقدام کرسکو تو وہ اندھا اور بہرہ ہوجائے۔ پھر تم اسے شکست
دینے کی سوچ سکتے ہو''…… اب سلطان ایوبی کے دو اور جاسوس الپتہ ہوگئے تھے۔ سلطان ایوبی ان دونوں واقعات کو
نظرانداز نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس کے حکم پر حسن بن عبداللہ نے چھ چھاپہ مار جاسوس روانہ کردئیے۔
صبح کی اذان کی پہلی اللہ اکبر گونجی تو سلطان ایوبی کی آنکھ کھلی…… وہ خیمے سے باہر نکال تو اس کے خادم نے
مشعل جال کر اس کے خیمے کے آگے رکھ دی۔ ادھر سے ایک گھوڑ سوار گھوڑا دڑاتا آیا۔ سلطان ایوبی کے سامنے رک کر وہ
گھوڑے سے اترا اور کہا۔ ''سلطان کا اقبال بلند ہو۔ اپنے دائیں پہلو کے عالقے کے سامنے کسی فوج کی حرکت سنی گئی
ہے۔ دیکھ بھال کے لیے دو آدمی آگے گئے تھے۔ انہوں نے تصدیق کی ہے کہ فوج آرہی ہے''۔
سلطان ایوبی نے مرکزی کمان کے ساالروں کے نام لے کر کہا کہ انہیں فورا ً بالئو۔ وہ زمین پر بیٹھ گیا اور تیمم کیا۔ اس :
کے پاس وضو کے لیے وقت نہیں تھا۔ وہیں قبلہ رو ہوکر اس نے مصلے بچھائے بغیر نماز پڑھی۔ مختصر الفاظ میں دعا مانگی
اور اپنا گھوڑا منگوایا۔
یہ مظفرالدین کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا''…… سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں سے کہا…… ''یہ صلیبی نہیں ہوسکتے۔ ''
ان کے آنے کی سمت یہ نہیں ہوسکتی۔ اگر یہ اطالع صحیح ہے کہ دشمن ہمارے دائیں پہلو کے دستوں کے سامنے اور دائیں
سے آرہا ہے تو خیال رکھنا ،یہ دو طرفہ حملہ ہوگا۔ اپنے کسی دستے کو پیچھے نہ ہٹنے دینا۔ پیچھے ڈیڑھ ہزار قبروں کے
گڑھے ہیں۔ تمام الشوں کو ابھی دفن نہیں کیا گیا۔ یہ گڑھے ہمارے سواروں کی قبریں بن جائیں گے''۔
سلطان ایوبی گھوڑے پر سوار ہوا۔ اس کے محافظ دستے کے بارہ محافظ اس کے پیچھے چل پڑے۔ وہ سوار تھے۔ اس نے
آدھی درجن تیز رفتار سوار قاصد بھی ساتھ لے لیے تھے اور ساتھ دو ساالر بھی تھے۔ اس نے گھوڑے کو ایڑی لگا دی اور
ایک ایسی چٹان پر جا چڑھا ،جہاں سے وہ اپنے دائیں بازو کے سامنے کا عالقہ اور اپنے دستوں کو دیکھ سکتا تھا۔ صبح کا
دھندلکا چھٹنے لگا تھا۔ وہ چٹان سے اترا اور دائیں بازو کے دستوں کے کمان داروں کو بال کر حکم دیا کہ سواروں کو گھوڑوں
پر سوار کردو اور پیادہ دستوں کے تیر اندازوں کو سامنے والے عالقے کے کھڈوں میں اور بلندیوں کے پیچھے مورچہ بند ہونے
کو دوڑا دو۔
اعلی کمان میرے پاس ہوگی''…… اس نے کمان داروں اور نائب ساالروں سے کہا…… ''
اب سے دائیں پہلو کے دستوں کی
ٰ
''اپنے قاصد اپنے ساتھ رکھ لو اور میرے ساتھ رابطہ رکھو''۔
سلطان ایوبی کی ٹریننگ میں نقل وحرکت کی برق رفتاری پر زیادہ زور دیا جاتا تھا۔ کسی چال کے حکم کی تعمیل حیران
کن رفتار سے ہوتی تھی۔ مظفرالدین کی فوج ابھی اتنی قریب نہیں آئی تھی کہ سلطان ایوبی کے دستوں کی حرکات دیکھ
سکتی۔
٭ ٭ ٭
مظفرالدین نے گھوڑ سواروں سے حملہ کیا ،جوں ہی اس کا پہال سوار دستہ سلطان ایوبی کے دستوں کے سامنے والے عالقے
میں آیا اس کی ترتیب خراب ہوگئی کیونکہ وہاں کھڈ اور ڈھیروں کی طرح نیکریاں تھیں۔ ان کھڈوں میں سلطان ایوبی کے تیر
انداز بیٹھ گئے تھے۔ انہوں نے اپنے قریب سے اور اپنے اوپر سے گزرتے اور سرپٹ دوڑتے گھوڑوں پر تیر برسانا شروع کردئیے۔
سوار گرنے لگے جس گھوڑے کو تیر لگتا تھا وہ بے لگام ہوکر ادھر ادھر بھاگنے دوڑنے لگتا تھا۔ یہ تو ہر معرکے میں ہوتا تھا۔
مظفرالدین کے لیے یہ صورت حال عجیب نہیں تھی۔ البتہ اسے یہ پریشانی ہوئی کہ اس کی توقع کے خالف سلطان ایوبی کے
دائیں بازو کے دستے بیدار تھے اور مقابلے کے لیے تیار۔ اس یلغار میں سلطان ایوبی کے بے شمار تیر انداز کچلے گئے۔ اس
قربانی سے سلطان ایوبی نے یہ فائدہ حاصل کیا کہ مظفرالدین کے حملے کی شدت ختم ہوگئی۔ اب سلطان ایوبی جم کر لڑ
سکتا تھا۔ مظفرالدین یہ جو توقع لے کر حملہ آور ہوا تھا کہ وہ اچانک آپڑے گا اور سلطان ایوبی کو وہ اپنی چالوں کا پابند
کرکے اسے میدان جنگ میں اپنی پسند کے مطابق لڑاتا رہے گا ،اس کی یہ توقع ختم ہوگئی تھی۔
سلطان ایوبی اپنی چالیں چلنے کے لیے آزاد تھا۔ اس کے چند ایک تیراندازوں نے مظفرالدین کے گھوڑوں کے قدموں میں بیٹھ
کر جانیں قربان کردی تھیں ،لیکن اپنے سلطان کو وہ بڑا ہی قیمتی جنگی فائدہ دے گئے تھے۔ مظفرالدین حملہ آور دستہ کئی
ایک گھوڑے اور ان کے سوار مروا کر آگے نکل آیا۔ آگے سلطان ایوبی خود تھا۔ اس نے حملہ آوروں کا پھیالئو دیکھا تو اس
کے مطابق اپنے سواروں کو ایک حکم دے دیا۔ حملہ آور قریب آئے تو سلطان ایوبی کے بائیں سواروں نے گھوڑے بائیں کو
موڑے اور ایڑی لگا دی۔ دائیں کے سواروں نے بھی ایسا ہی کیا۔ حملہ آوروں کے سامنے کوئی مزاحمت نہ رہی۔ مزاحمت کرنے
والے دائیں اور بائیں بھاگ گئے تھے۔
حملہ آوروں کے کچھ گھوڑے دائیں کو مڑے کچھ بائیں کو۔ زیادہ تر ناک کی سیدھ میں چلے آئے۔ سلطان ایوبی کے دائیں بائیں
کو بھاگنے والے سواروں نے اندر کو گھوڑے موڑے۔ اب حملہ آوروں کے گھوڑوں کے پہلو ان کے سامنے تھے۔ انہوں نے ایڑی
لگا دی…… دونوں طرف سے سواروں نے ہلہ بوال تو ان کی برچھیوں کا کوئی وار خالی نہ گیا۔ حملہ آور تو آگے کو دوڑے
جارہے تھے۔ وہ اپنے پہلوئوں کی حفاظت کرنے کے قابل ہی نہیں تھے۔
20:43
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔105جانباز ،جنات اور جذبات
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وہ اپنے پہلوئوں کی حفاظت کرنے کے قابل ہی نہیں تھے۔ ان کی عافیت اسی میں تھی کہ وہ آگے کو نکل جائیں۔ آگے ڈیڑھ
ہزار قبریں تھیں۔ حملہ آور کے پیچھے سلطان ایوبی کے سوار آرہے تھے۔ صورت تعاقب کی بن گئی تھی۔ حملہ آوروں کے
گھوڑے کھلی قبروں سے گزرنے لگے۔
مظفرالدین گھبرا جانے واال ساالر نہیں تھا۔ اس نے کم سے کم تعداد سے حملہ کرایا تھا۔ اس سے اس نے میدان جنگ کا
ذائقہ چکھ لیا اور صورت حال معلوم کرلی۔ اس نے فورا ً سواروں کی دوسری موج چھوڑ دی۔ سلطان ایوبی کے سواروں نے
گھوڑے روک لیے تھے کیونکہ وہ قبروں سے دور رہنا چاہتے تھے۔ وہ اگلے حکم کی تعمیل کرنے ہی لگے تھے کہ مظفرالدین
کے سواروں کا دوسرا دستہ ان کے سر پر آگیا۔ انہیں سنبھلنے کی مہلت نہ ملی۔ یہ عقبی حملہ تھا۔ اس میں سلطان ایوبی
کے سواروں کا بہت جانی نقصان ہوا۔ کئی سوار آگئے کو بھاگے اور ان کے گھوڑے قبروں میں گرے۔ اس کے ساتھ ہی
مظفرالدین نے دائیں طرف سے بھی حملہ کردیا۔
سلطان ایوبی کے لیے صورت حال پریشان کن ہوگئی۔ اس نے قاصد کو اس حکم کے ساتھ دوڑایا کہ محفوظہ عقب سے حملہ
کرے۔ سلطان ایوبی نے دائیں بازو کے دستوں کو جس طرح تقسیم کیا تھا ،وہ بے کار ہوگئی۔ مظفرالدین اسی کے اصولوں پر لڑ
رہا تھا۔ مظفرالدین کی کمزوری یہ تھی کہ اس کے پاس کمک نہیں تھی۔ سلطان ایوبی نے قاصدوں کے ذریعے اپنے دستوں کے
کمانڈروں سے رابطہ رکھ کر انہیں دائیں بائیں بکھیرنا شروع کردیا اور جب عقب سے اس کے محفوظہ نے حملہ کیا تو
مظفرالدین کے اوسان خطا ہوگئے۔ اس کا اپنا مرکز خطرے میں پڑ گیا لیکن اس نے نکل بھاگنے کی نہ سوچی۔
مورخوں کے مطابق دن کے پچھلے پہر تک دونوں فوجوں نے معرکہ لڑا وہ بڑا ہی خون ریز اور بڑا ہی سخت تھا۔ کمان
سلطان ایوبی کے ہاتھ میں تھی ،ورنہ صورت حال کچھ اور ہوتی۔ جہاں تک لڑنے کے جذبے کا اور جنگی قابلیت کا تعلق تھا،
مظفرالدین نے سلطان ایوبی کی زبان سے دادوتحسین کے کلمے کہلوالیے تھے۔ اسے شکست اس لیے ہوئی کہ اس کے پاس
یہی کچھ تھا جو اس نے آخری بازی پر لگا دیا تھا۔ وہ بازی ہار گیا۔ معرکے کے آخری مرحلے میں سلطان ایوبی نے ریزرو
سوار دستے سے ہلہ بوال۔ مظفرالدین کی پوزیشن بہت کمزور ہوچکی تھی۔ اس نے پسپائی میں خیریت سمجھی۔ سلطان ایوبی
نے بہت سے قیدی پکڑے جن میں مظفرالدین کا ایک مشیر فخرالدین بھی تھا۔ یہ کوئی معمولی سا انسان نہیں تھا ،سیف
الدین کا وزیر تھا۔ ترکمان کے معرکے میں جب سیف الدین بھاگا تو فخرالدین مظفرالدین کے پاس چال گیا تھا اور اس کی
حوصلہ افزائی کی تھی کہ وہ سلطان ایوبی پر حملہ کرے۔
یہ معرکہ شوال ( ٥٧١اپریل ١١٧٢٢ئ) میں لڑا گیا تھا۔ بے شک مظفرالدین کو شکست ہوئی تھی اور سلطان ایوبی کے
مسلمان دشمنوں کی کمر ٹوٹ گئی تھی مگر سلطان ایوبی کا اتنا زیادہ نقصان ہوا تھا کہ اگلے دو ماہ تک وہ ترکمان سے
ہلنے کے قابل نہ رہا۔ اس کا دایاں بازو ختم ہوگیا تھا جیسے اس کا اپنا بازو مفلوج ہوگیا ہو۔ اس کے پاس نئی بھرتی آرہی
تھی لیکن وہ رنگروٹوں کے ساتھ پیش قدمی نہیں کرسکتا تھا۔ اس نے اسی روز دمشق اور مصر قاصد دوڑا دئیے کہ کمک
بھیجو۔ اگر اس کا اتنا زیادہ نقصان نہ ہوتا تو وہ آگے جاکر حلب ،موصل اور حرن وغیرہ پر یلغار کرتا اور اپنے ان مسلمان
دشمنوں کو جو فلسطین کے راستے میں حائل ہوگئے تھے ،راہ راست پر لے آتا یا ختم کردیتا۔
یہ میری فتح نہیں''…… سلطان ایوبی نے اس معرکے کے بعد اپنے ساالروں سے کہا…… ''یہ صلیبیوں کی فتح ہے۔ وہ ''
ہمیں کمزور کرنا چاہتے تھے۔ وہ اس مقصد میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے میری پیش قدمی کی رفتار سست کرکے فلسطین
پر اپنے قبضے کے عرصے کو کچھ اور طویل کرلیا ہے۔ ہمارے یہ مسلمان بھائی کب سمجھیں گے کہ کفار ان کے دوست نہیں
ہوسکتے اور ان کی دوستی میں بھی دشمنی ہوتی ہے۔ میں کہہ نہیں سکتا کہ تاریخ لکھنے والے ہماری آنے والی نسلوں کو
کن الفاظ میں سنائیں گے کہ ہم آپس میں لڑے تھے''۔
اسے ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے بھائی جو اس سے شکست کھا کر بھاگ گئے ہیں ،اس کے قتل کا ایک اور منصوبہ
بنا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے اس کا تیسرا دشمن گمشتگین ،حشیشین کے سردار شیخ سنان کے ہاں گیا ہوا تھا۔ اس وقت
شیخ سنان عصیات نام کے ایک قلعے میں مقیم تھا۔ اسے یہ قلعہ صلیبیوں نے دیا تھا جس میں اس نے اپنی فوج رکھی
ہوئی تھی۔ اس قلعے میں اس کے پیشہ ور قاتلوں کا گروہ بھی تھا۔ عصیات اور ترکمان کے درمیان اس جہنم نما عالقے میں
جہاں سلطان ایوبی کے چار چھاپہ مار بھولے بھٹکے پہنچ گئے تھے۔ سورج افق کے قریب چال گیا تھا۔ چھاپہ ماروں کے کمانڈر
الناصر کی آنکھ کھلی۔ وہ اٹھ بیٹھا۔ دونوں لڑکیاں جاگ رہی تھیں۔ الناصر
الناصر کے دل پر گھبراہٹ ہوگئی۔ ان لڑکیوں میں سے ایک نے اس کے ساتھ ایسی باتیں کی تھیں جن سے ظاہر ہوتا تھا
کہ وہ اس کے ساتھیوں کے ساتھ برا سلوک نہیں کریں گی ،پھر بھی الناصر ڈر گیا۔
انہیں جگائو''…… بڑی لڑکی نے کہا…… ''ہمیں دور جانا ہے''۔''
ہمیں راستے پر ڈال کر جائو گی؟''…… الناصر نے پوچھا۔''
تم سب ہمارے ساتھ چلو گے''…… لڑکی نے جواب دیا…… ''ہمارے بغیر تم منزل تک نہیں پہنچ سکو گے''۔''
الناصر نے اپنے ساتھیوں کو جگایا۔ بڑی لڑکی نے چھوٹی لڑکی سے کچھ کہا۔ وہ اٹھی اور دوسرے گھوڑے کے ساتھ بندھے ہوئے
تھیلے سے کچھ نکاال۔ پانی کا مشکیزہ کھوال۔ مشکیزے کا منہ کھول کر اس نے تھیلے میں سے جو چیز نکالی تھی ،وہ
مشکیزے میں ڈال دی۔ اسے ہالیا اور مشکیزہ الناصر کو دے کر کہا…… ''پانی پی لو۔ منزل تک شاید پانی نہ ملے''۔
الناصر اور اس کے ساتھیوں نے پانی پی لیا۔ بڑی لڑکی نے چاروں کو کچھ کھانے کو دیا۔ کچھ دیر گزر گئی تو لڑکی نے تھیلے
اور مشکیزے گھوڑے کی زینوں کے ساتھ باندھ دئیے۔ سورج نیچے جارہا تھا۔
تم نے اس جگہ کو جہنم کہا تھا''…… الناصر نے بلند آواز سے کہا…… ''یہاں تو سبزہ زار ہے ،تم نے جلدی یہاں کس ''
''طرح پہنچا دیا ہے؟
اس کے تینوں ساتھی حیرت سے ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔
کیا تم تینوں کو بھی سبزہ زار نظر آرہا ہے؟''…… لڑکی لڑکی نے پوچھا۔''
ہم سبزہ زار میں بیٹھے ہیں''…… ایک نے کہا۔''
کیا تم ہماری جان تو نہیں لے لو گی؟''…… دوسرے نے کہا…… ''تم جنا ت میں سے ہو''۔''
نہیں''…… لڑکی نے مسکرا کر کہا…… ''ہم تمہیں اس سے زیادہ حسین خطے میں لے جارہے ہیں''۔''
بڑی لڑکی نے الناصر اور اس کے ایک ساتھی کو پہلو بہ پہلو بٹھا کر دونوں کے گرد اپنے بازو لپیٹ دئیے اور بولی…… ''میری
آنکھوں میں دیکھو''۔
دوسری لڑکی نے الناصر کے دوسرے دو ساتھیوں کو اسی طرح آمنے سامنے بٹھا کر اپنے بازو ان کے گرد ڈالے اور انہیں اپنی
آنکھوں میں دیکھنے کو کہا…… چاروں چھاپہ ماروں کے کانوں میں بڑی لڑکی کے مترنم آواز داخل ہورہی تھی…… ''یہ تمہاری
بہشت ہے۔ ان پھولوں کے رنگ دیکھو ،ان کی مہک سونگھو ،ان میں جو پرندے اڑ رہے ہیں ،وہ دیکھو ،کتنے خوبصورت ہیں۔
یہ تمہارا انعام ہے۔ تمہارے پائوں تلے مخمل جیسی گھاس ہے۔ چشمے دیکھو۔ ان کا شفاف پانی میٹھا ہے''۔
لڑکی کی آواز جادو کی طرح ان چاروں کی عقل پر اور آنکھوں اور تمام حصوں پر غالب آتی جارہی تھی۔ الناصر نے بعد میں
حسن بن عبداللہ کو بیان دیا تھا ،اس میں اس نے بتایا کہ لڑکیوں کی آنکھوں میں دیکھ کر انہیں پانی کے شفاف چشمے نظر
آنے لگے۔ ان کے ریشم جیسے بال جو ان کے شانوں پر بکھرے ہوئے تھے ،کسی بڑے ہی دلکش پودے کی پھول دار بیلیں بن
گئیں اور انہوں نے اپنے آپ کو ایک باغ میں پایا جس کے حسن کو اور جس کے پھولوں کے رنگوں کو بیان نہیں کرسکتا،
وہاں ریت اور مٹی کے لمبے لمبے ٹیلے نہیں تھے ،ریگزار نہیں تھا۔ ہرے بھرے درخت اور پودے تھے اور نیچے مخمل جیسی
گھاس کا فرش تھا۔ رن برنگے پرندے پھدک اور چہچہا رہے تھے…… اور وہ اس بہشت میں چلے جارہے تھے۔
٭ ٭ ٭
وہ چاروں مخمل جیسی جس گھاس پر چلے جارہے تھے ،وہ درحقیقت ریت تھی ،کہیں کہیں زمین سخت بھی تھی اور وہ
چاروں ایک گیت گنگناتے جارہے تھے۔ دونوں لڑکیاں ان سے چند قدم پیچھے گھوڑوں پر جارہی تھیں۔ ) ان کا رخ ترکمان کی
طرف نہیں تھا جہاں سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج تھی اور جوان چاروں چھاپہ ماروں کی منزل تھی بلکہ ان کا رخ
عصیات کے قلعے کی طرف تھا جہاں حشیشین کا سردار شیخ سنان رہتا تھا۔ الناصر اور اس کے ساتھیوں کو کچھ علم نہیں
تھا کہ وہ کدھر جارہے ہیں۔ ان کا یہ احساس مردہ ہوچکا تھا کہ وہ جا نہیں رہے ،انہیں لے جایا جارہا ہے۔ ان کے پیچھے
پیچھے جاتی لڑکیاں آپس میں باتیں کررہی تھیں۔ یہ باتیں چھاپہ ماروں کے کانوں تک نہیں پہنچ رہی تھیں۔ سورج غروب
ہوچکا تھا۔
تم نے پانی میں انہیں حشیش کی جو مقدار پالئی ہے ،اس کا اثر کل شام تک رہے گا''…… بڑی لڑکی نے کہا…… ''اور ''
میں نے انہیں جو کھالیا ہے وہ تم نے دیکھا ہے۔ ان سے تم بے فکر ہوجائو۔ مجھے امید ہے کہ سورج نکلنے سے پہلے ہم
عصیات پہنچ جائیں گے''۔
میں تو انہیں دیکھ کر ڈر گئی تھی''…… چھوٹی لڑکی نے کہا…… ''یہ تمہارا کمال ہے کہ تم نے ان پر قابو پالیا اور ان ''
پر یہ ظاہر کیا کہ ہم جنات ہیں۔ یہ مسلمان جنات کے وجود کو مانتے ہیں''۔
یہ عقل کا کھیل تھا''…… بڑی لڑکی نے کہا…… ''میں نے ان کی ذہنی حالت پر قبضہ کیا تھا۔ ان کے چہرے اور ان کی''
چال ڈھال دیکھ کر میں سمجھ گئی تھی کہ صالح الدین ایوبی کے فوجی ہیں اور راستے سے بھٹک گئے ہیں۔ میں یہ بھی
سمجھ گئی تھی کہ ہمیں دیکھ کر یہ چاروں ڈر گئے ہیں ،اگر ہم ڈر جاتیں اور عورتوں کی طرح بزدلی کا مظاہرہ کرتیں تو یہ
چاروں ہمارے ساتھ وہ سلوک کرتے جو تم ساری عمر نہ بھول سکتی۔ اس ویرانے میں کسی کوہم جیسی لڑکیاں مل جائیں تو
وہ انہیں بہنیں اور بیٹیاں نہیں سمجھا کرتا۔ میں نے ان کی جسمانی حالت دیکھی ،پھر میں نے مسلمانوں کی یہ کمزوری
سامنے رکھی کہ جنات کے معاملے میں یہ قوم توہم پرست ہے۔ میں نے اپنے آپ کو جن بنا لیا۔ اس جہنم میں ہم جیسی
لڑکیوں کی موجودگی کو ان کی عقل تسلیم نہیں کرسکتی تھی۔ ہمیں وہ تصور سمجھ سکتے تھے یا جنات۔ میں نے ان سے
جس انداز سے بات کی ،اس سے انہیں یقین ہوگیا کہ ہم جنات ہیں۔ میں اس قوم کی جذباتی کمزوریوں سے واقف ہوں۔
تمہیں ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔ ذرا جلدی سیکھ لو۔ ہم نے سیف الدین جیسے چاالک آدمی کو اپنے اشاروں پر نچا دیا
ہے۔ یہ تو سپاہی ہیں''۔
معلوم نہیں ،میں کیوں اس فن میں کامیاب نہیں ہورہی''…… چھوٹی لڑکی نے کہا…… ''میرا دل ساتھ نہیں دیتا۔ کوشش ''
کرتی ہوں کہ تم جیسے کماالت دکھا سکوں لیکن دل سے آواز آتی ہے کہ یہ فریب ہے''۔
پھر تم ان مردوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنی رہو گی''…… بڑی لڑکی نے کہا…… ''تم پہلی بار باہر نکلی ہو۔ میں نے ''
دیکھا ہے کہ تم کامیاب نہیں ہوئی۔ تم صرف داشتہ بنی رہی۔ اس طرح تم صلیب کی کوئی خدمت نہیں کرسکتی۔ تم اپنے
جسم کو وقت سے بہت پہلے بوڑھا کرلوگی اور یہ مرد تمہیں اٹھا کر باہر پھینک دیں گے۔ ہمارا مقصد یہ نہیں کہ مسلمان
امراء اور حکمرانوں کے لیے تفریح کا سامان بنیں۔ ہمیں ایک جادو بن کر ان کی عقل پر غالب آنا ہے۔ ان چاروں فوجیوں
میں تم نے توہم پرستی کی جو کمزوری دیکھی ہے ،وہ ہمارے صلیبی استادوں اور یہودیوں نے پیدا کی ہے۔ تم نے دیکھا ہے
کہ میں نے انہیں کتنی جلدی اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ میں نے ان چاروں سے ایک بات کہی تھی۔ یہ مجھے میرے استاد
نے بتائی تھی۔ وہ یہ تھی کہ انسان ایک لذت کی پیداوار ہے اور وہ ہمیشہ اس لذت کا خواہاں رہتا ہے۔ اس خواہش کو
دبانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں میں لذت پرستی ابھاری جائے کیونکہ یہی انسان کی وہ
کمزوری ہے جو اسے تباہی تک پہنچاتی ہے۔ تمہیں وہ رات یاد نہیں جب سیف الدین نے ہماری موجودگی میں اپنے ایک
ساالر سے کہا تھا کہ وہ اس پر غور کرنا چاہتا ہے کہ صالح الدین ایوبی سے صلح کرلی جائے۔ میں نے اسی رات اس کے
دماغ سے یہ خیال نکال دیا تھا''۔
عصیات پہنچ لیں تو یہ استادی مجھ میں بھی پیدا کرو''…… چھوٹی لڑکی نے کہا…… ''مجھے اس کام سے نفرت سی ''
ہوتی جارہی ہے۔ میں ان مسلمان حاکموں کا کھولنا بنی رہی ہوں۔ تم دامن بچاتی رہی۔ میں نہیں بچا سکی۔ کبھی کبھی
کہیں بھاگ جانے کا ارادہ دل میں تڑپتا ہے مگر کوئی راستہ نظر نہیں آتا اور کوئی پناہ نہیں ملتی''۔
سب کچھ سیکھ جائو گی''…… بڑی لڑکی نے کہا…… ''تمہیں میرے ساتھ تربیت کے لیے ہی بھیجا گیا تھا۔ میں نے ''
تمہاری کمزوریاں دیکھ لی ہیں۔ یہ دور ہوجائیں گی''۔
الناصر اپنے ساتھیوں کے ساتھ چال جارہا تھا۔ لڑکیوں نے گھوڑے ان سے آگے کرلیے تاکہ یہ چاروں راستے سے ہٹ نہ جائیں۔
وہ ایک آواز میں گیت گاتے جارہے تھے۔ ریت ،مٹی اور پتھر ان کے لیے گھاس بنے ہوئے تھے۔
''انہیں کسی دوسری طرف روانہ کردینا تھا''…… چھوٹی لڑکی نے کہا…… ''انہیں عصیات لے جا کر کیا کروگی؟''
اپنے پیراستاد شیخ سنان کے لیے اس سے بہتر اور کوئی تحفہ نہیں ہوسکتا''…… بڑی لڑکی نے کہا…… ''یہ صالح الدین ''
ایوبی کے چھاپہ مار ہیں اور جاسوس بھی۔ مجھے خاص طور پر بتایا گیا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کا ایک جاسوس پکڑ
کر اس کے ذہن کو اپنے قبضے میں لے لے تو سمجھو کہ تم نے اس کی فوج کے ایک ہزار سپاہی بے کار کردئیے ہیں۔ ایوبی
نے اپنے چھایہ ماروں اور جاسوسوں کو جو تربیت دے رکھی ہے۔ اس سے وہ اوسط درجہ انسانوں سے بہت اوپر چلے گئے
ہیں۔ جسمانی لحاظ سے ان میں غیرمعمولی پھرتی اور قوت برداشت ہوتی ہے اور ذہنی لحاظ سے یہ اپنے فرض کے دیوانے
ہوتے ہیں۔ ان چاروں نے جو شب خون مارے اور اس تھکن کے بعد صحرامیں جو مصیبت ،بھوک اور پیاس برداشت کی ہے،
وہ کوئی اور انسان برداشت نہیں کرسکتا۔ ہماری فوج میں یہ جذبہ نہیں ہے۔ ان چاروں کو میں شیخ سنان کے حوالے کروں
گی۔ اس کے آدمی جو اس فن کے ماہر ہیں ،ان چاروں کے اسی جذبے اور جسمانی خوبیوں کو اپنی طرف منتقل کرلیں گے۔
تمہیں شاید معلوم نہ ہو کہ صالح الدین ایوبی کو قتل کرنے کی کئی کوششیں ہوچکی ہیں مگر کامیاب ایک بھی نہیں ہوئی۔
ان چاروں کو حشیش اور استادی کے ذریعے ایوبی کے قتل کے لیے تیار کیا جاسکتا ہے۔ یہ اس کے اپنے چھاپہ مار ہیں ،اس
تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں''۔
کیا صالح الدین ایوبی پر اس طرح قابو نہیں پایا جاسکتا جس طرح سیف الدین ،گمشتگین وغیرہ کو اپنے قبضے میں لیا گیا''
ہے؟''…… چھوٹی لڑکی نے پوچھا۔
نہیں'' ۔ بڑی لڑکی نے جواب دیا…… ''جو انسان لذت سے دست بردار ہوکر ایک مقدس مقصد کو دل میں بٹھائے ،اسے ہم''
جیسی حسین لڑکیاں اور سونے کے انبار راستے سے نہیں ہٹا سکتے۔ ایوبی ایک بیوی کا قائل ہے۔ نورالدین زنگی میں بھی
یہی خرابی تھی کہ سلطان ہوکر بھی اس نے گھر میں ایک ہی بیوی رکھی اور مرتے دم تک اس کا وفادار رہا۔ یہی خرابی
صالح الدین ایوبی میں ہے۔ کوشش کی جاچکی ہے۔ اس پتھر کو موم نہیں کیا جاسکا۔ فلسطین پر قبضہ برقرار رکھنے کا یہی
طریقہ رہ گیا ہے کہ ایوبی قتل کرادیا جائے''۔
مجھے ایسے آدمی اچھے لگتے ہیں جو ایک عورت کے وفادار رہتے ہیں''۔ چھوٹی لڑکی نے کہا۔ ''میں صلیب کی پرستار''
ہوں اور صلیب کا مقصد سمجھنے کے باوجود کبھی کبھی سوچا کرتی ہوں کہ میں کسی ایک آدمی کے دل میں اتر جائوں اور
وہ میرے جسم اور میری روح کا حصہ بن جائے''۔
جذبات سے نکلو''۔ بڑی لڑکی نے اسے ڈانٹ کر کہا…… ''اپنے اس عظیم مقصد کو سامنے رکھو جو تمہیں صلیب نے دیا''
ہے۔ اپنے حلف کو یاد کرو جو تم نے صلیب ہاتھ میں لے کر اٹھایا تھا۔ میں جانتی ہوں تم جوان ہو اور جذبات پر قابو پانا
آسان نہیں ہوتا لیکن صلیب ہم سے یہ قربانی مانگ رہی ہے''۔
پراسرار قافلہ چلتا رہا۔ الناصر اور اس کے ساتھی لڑکیوں کے گھوڑوں کے پیچھے پیچھے گاتے ،گنگناتے اور قہقہے لگاتے جارہے
تھے۔ جوں جوں رات گزرتی جارہی تھی ،ان کی منزل قریب آتی جارہی تھی۔
٭ ٭ ٭
یہ لڑکیاں کون تھیں؟
یہ اسی قبیلے کی لڑکیاں تھیں جن کے متعدد قصے آپ پڑھ چکے ہیں۔ صلیبی اور یہودی غیرمعمولی حسین اور دلکش بچیوں
کو استادوں کے حوالے کرکے انہیں خصوصی تربیت دیتے تھے۔ انہیں ذہنی تخریب کاری ،کردار کشی اور اپنے دشمن کو اپنے
مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے ڈھنگ سکھاتے تھے۔ انہیں سراپا لذت بنا دیا جاتا تھا۔ لڑکپن میں انہیں یہ ٹریننگ دی
جاتی تھی کہ اپنے دشمن کی سوچوں پر کس طرح قبضہ کیا جاتا ہے۔ ان لڑکیوں میں شوخی اور بے حیائی پیدا کی جاتی
تھی۔ انہیں جذبات سے عاری کردیا جاتا تھا۔ یہودی چونکہ مسلمانوں کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے تھے ،اس لیے وہ
اپنی بچیاں صلیبیوں کے حوالے کردیا کرتے تھے۔ صلیبی اپنی لڑکیوں کو بھی استعمال کرتے تھے اور ان عالقوں میں جن پر
ان کا قبضہ تھا ،مسلمانوں کے قافلوں پر حملے کرتے اور کوئی خوبصورت بچی مل جائے تو اسے اٹھا لے جاتے تھے ،اسے
اپنے مقاصد کے لیے تیار کرلیتے تھے۔
یہ دو لڑکیاں کچھ عرصہ پہلے تحفے کے طور پر صلیبیوں نے والئی موصل سیف الدین کو بھیجی تھیں۔ آپ نے دیکھ لیا ہے
کہ سیف الدین سلطان صالح الدین ایوبی کا دشمن تھا۔ ان دونوں لڑکیوں کو اس مقصد کے لیے بھیجا گیا تھا کہ ایک تو
جاسوسی کرتی رہیں اور دوسرا یہ کہ سیف الدین کو کبھی یہ نہ سوچنے دیں کہ وہ سلطان ایوبی کے ساتھ صلح کرلے۔ تیسرا
مقصد یہ تھا کہ سلطان ایوبی کے خالف جو مسلمان امراء متحد ہوگئے تھے ،انہیں اندر سے ایک دوسرے کے خالف رکھا
جائے۔ یہ کام صرف ان دو لڑکیوں کے ہی ذمے نہیں تھا ،وہاں صلیبیوں کی پوری مشینری در پردہ کام کررہی تھی۔ انہوں نے
ایک مسلمانوں کا ایمان خرید لیا تھا۔ یہ مسلمان ان کے لیے کام کررہے تھے۔
اعلی بن کر ترکمان کے مقام پر سلطان ایوبی پر حملہ کرنے گیا تو بادشاہوں کے دستور کے
سیف الدین اتحادی فوج کا ساالر
ٰ
مطابق اپنے حرم کی چیدہ چیدہ لڑکیاں اور ناچنے والیاں بھی میدان جنگ میں ساتھ لے گیا۔ یہ دو صلیبی لڑکیاں بھی اس کے
ساتھ گئیں۔ انہیں وہ مسلمان اور معصوم سمجھتا تھا مگر بڑی لڑکی اس کے اعصاب پر آسیب کی طرح غالب آگئی تھی۔ حرم
کی باقی لڑکیوں کو اس نے اپنا غالم بنا لیا تھا۔
سیف الدین نے جنگل میں منگل بنایا۔ وہاں آندھی آئی جس کی آپ تفصیل پڑھ چکے ہیں۔ اس آندھی میں فوزی نام کی ایک
لڑکی اپنے بھائی کی الش گھوڑے پر ڈالے ،سلطان ایوبی تک پہنچی اور اسے بتایا کہ تین اتحادی افواج اس پر حملہ کرنے کے
لیے پہنچ چکی ہیں۔ سلطان ایوبی نے تیزی سے حرکت کی اور سیف الدین کے لشکر پر حملہ کردیا۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ
سیف الدین کا لشکر بے خبری میں مارا گیا ،وہاں معرکہ جو لڑا گیا وہ یک طرفہ تھا۔ میدان جنگ صالح الدین ایوبی کے ہاتھ
میں تھا۔ سیف الدین اتحادی افواج کی کمان نہ سنبھال سکا۔ صاف نظر آنے لگا کہ وہ بھاگ جائے گا۔ یہ دو صلیبی لڑکیاں
اس کے ساتھ تھیں۔ وہ اکیلی نہیں تھیں۔ صلیبیوں کے چند ایک مسلمان ایجنٹ سیف الدین کی فوج میں اچھے عہدوں پر
تھے۔ لڑکیوں کا ان کے ساتھ رابطہ تھا۔ لڑکیاں انہیں اطالعات اور خبریں دیتی تھیں اور وہ انہیں صلیبیوں تک پہنچا دیتے
تھے۔
انہوں نے دیکھا کہ جنگ کی صورتحال ایسی ہوگئی ہے کہ اتحادیوں کے سامنے پسپائی کے سوا کوئی راستہ نہیں تو ان دونوں
لڑکیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا۔ صلیبیوں کی یہ لڑکیاں بہت قیمتی تھیں۔ سیف الدین میدان جنگ میں بھاگا ،دوڑا پھر
رہا تھا۔ حرم کی لڑکیاں اس کی رہائش گاہ میں ایک خیمے میں اکٹھی ہوگئی تھیں۔ یہ دو صلیبی لڑکیاں الگ کھڑی تھیں۔ ان
کے آدمی آگئے ،انہیں دو گھوڑے دئیے۔ گھوڑوں کی زینوں کے ساتھ پانی کے چار چھوٹے مشکیزے اور دو تین تھیلوں میں کھانے
کا سامان باندھ دیا۔ خنجر بھی دئیے لیکن ان کا نہایت کارگر ہتھیار حشیش تھی اور اسی قسم کا ایک اور نشہ جس کا کوئی
ذائقہ نہیں تھا ،کسی کو دھوکے میں پالیا جاتا تو اسے پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ پانی یا شربت میں اسے کچھ اور پال دیا گیا
ہے۔ یہ دونوں نشہ آور اشیاء انہیں اس لیے ساتھ باندھ دی گئی تھیں کہ انہیں کسی مرد کے ساتھ کے بغیر سفر کرنا تھا۔
راستے میں اگر وہ کسی کے ہتھے چڑھ جائیں تو اسے دھوکے میں یہ نشہ پال کر بیکار کرنا تھا۔
رات کے وقت جب میدان جنگ میں کشت وخون ہورہا تھا۔ یہ دونوں لڑکیوں کو گھوڑوں پر بٹھا کر دو آدمی ساتھ گئے۔
ترکمان سے بہت دور تک یہ آدمی ساتھ رہے پھر لڑکیوں کو راستہ سمجھا کر واپس آگئے۔ لڑکیوں کی منزل عصیات کا قلعہ
تھا۔ بڑی لڑکی ذہین ،تجربہ کار اور دلیر تھی ،وہ چھوٹی لڑکی کو ساتھ لے کر روانہ ہوگئی۔ صبح تک وہ سرسبز عالقے سے
دور نکل گئی تھیں اور اس عالقے میں داخل ہوگئیں جو اس خطے کا جہنم تھا۔ لڑکیوں کو معلوم تھا کہ اس مقام پر آکر
خشک پاٹ کے اندر اندر جانا ہے۔ عالقہ ڈرائونا تھا اور تنور کی طرح گرم تھا۔ سورج سر پر آیا تو انہیں چٹان نظر آئی جو
نیچے سے اندر کو گئی ہوئی تھی۔ وہ اس کے نیچے رک گئیں۔ کھانا کھا کر انہوں نے کچھ دیر آرام کیا۔ اتنے میں انہیں
الناصر اور اس کے تین ساتھی آتے دکھائی دئیے۔
20:43
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔ 106جانباز ،جنات اور جذبات
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اتنے میں انہیں الناصر اور اس کے تین ساتھی آتے دکھائی دئیے۔ انہیں دیکھ کر بڑی لڑکی سمجھ گئی کہ یہ آدمی کس
جسمانی اور ذہنی کیفیت میں ہیں۔ اپنی تربیت کے مطابق اس نے کامیاب اداکاری کی جس سے الناصر ان دونوں کو واہمہ یا
جن سمجھ بیٹھا۔ لڑکی کی اداکاری کامیاب تھی۔ اس نے انہیں تو پانی اور کھانا دیا پھر انہیں حشیش اور دوسرا نشہ پال دیا۔
اس نے اور اس کے ساتھ کی لڑکی نے انہیں نشہ پال کر پھولوں ،سبزہ زار ،پرندوں اور مخمل جیسی گھاس کی جو باتیں کی
تھیں ،وہ ان چاروں کے ذہن میں بہشت کا تصور پیدا کرنے کی کوشش تھیں۔ یہ حسن بن صباح کا طریقہ تھا کہ لوگوں کو
حشیش پال کر ان کے ذہنوں میں بڑے حسین تصورات پیدا کیا کرتا اور انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا تھا۔ اب ایک
سو سال بعد شیخ سنان اس کا جانشین تھا۔ یہ گروہ اب حشیشین یا فدائی کہالتا تھا۔ بڑی لڑکی کو اس کام کی تربیت
حاصل تھی۔ اسے یوں کہہ لیں کہ حشیش اور باتوں کی مدد سے اپنے شکار یا معمول کو ہیپناٹائز کرلیا جاتا تھا۔ جتنی دیر
حشیش کا نشہ رہتا وہ آدمی اسی تصور کو حقیقت سمجھتا رہتا تھا جو اس کے ذہن میں پیدا کیا جاتا تھا۔
الناصر اور اس کے ساتھیوں کو اس لڑکی نے اپنے قبضے میں لے کر ایک مقصد تو یہ حاصل کرنا چاہا تھا کہ یہ چاروں ان پر
دست درازی نہ کریں یا انہیں اپنے ساتھ نہ لے جائیں۔ دوسرا مقصد اس وقت اس کے سامنے آیا تھا جب اسے پتہ چال کہ یہ
سلطان صالح الدین ایوبی کے ان چھاپہ مار جاسوسوں میں سے ہیں جن کی اس نے بہت شہرت سنی اور جن سے اسے ڈرایا
بھی گیا تھا۔ اس کے تخریب کار ذہن نے سوچ لیا کہ ان آدمیوں کو شیخ سنان کے حوالے کیا جائے ،یہ اس کے کام آسکتے
تھے۔ ان دنوں سلطان ایوبی کو قتل کرنے کا ایک منصوبہ تیار ہورہا تھا۔ اسی مقصد کے لیے حرن کا خومختار حکمران
گمشتگین قلعہ عصیات میں شیخ سنان کے پاس گیا ہوا تھا۔ ترکمان میں مظفرالدین کے حملے کو ناکام کرکے سلطان ایوبی نے
اپنے ساالروں سے کہا کہ اب جنگ ختم ہوئی ہے۔ اس نے مال غنیمت سمیٹنے کا حکم دے دیا۔ مال غنیمت بے انداز تھا۔
غازی سیف الدین کے رہائشی کیمپ سے بے انداز سونا اور نقدی ملی تھی۔ دشمن کی الشوں سے بھی نقدی اور انگوٹھیوں
وغیرہ کی شکل میں سونا مال۔ دیگر سازو سامان اور اسلحہ کا کوئی شمار نہ تھا۔ سلطان ایوبی نے فوج کے کام کا سامان
فوج میں تقسیم کیا۔ دوسرا حصہ دمشق اور ان عالقوں کے غریبوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا جو مصر اور شام کی سلطنت
( وحدت) میں آچکے تھے۔ تیسرا حصہ مدرسہ نظام الملک کو دے دیا۔ ایک یورپی مورخ لین پول کے مطابق ایوبی نے اسی
مدرسے میں تعلیم حاصل کی تھی۔ یہ مورخ لکھتا ہے کہ تاریخ میں واضح شہادت ملتی ہے کہ سلطان ایوبی نے مال غنیمت
میں سے اپنے لیے کچھ بھی نہ رکھا۔
دوسرا مسئلہ جنگی قیدیوں کا تھا۔ یہ سب مسلمان تھے۔ سلطان ایوبی نے انہیں اکٹھا کرکے کہا کہ تم مسلمان ہو اور
مسلمانوں کے خالف لڑنے آئے تھے۔ تمہاری شکست کی وجہ یہی ہے۔ تمہارے حکمران تمہارے مذہب کے بدترین دشمن کے
ساتھ دوستی کرکے اس کے ہاتھ مضبوط کررہے ہیں۔ تمہاری دنیا بھی خراب ہوئی اور عاقبت بھی۔ اپنے گناہ بخشوانے کا یہی
ایک طریقہ ہے کہ اسالم کے سپاہی بن جائو اور اپنے قبلہ اول کو آزاد کرائو…… سلطان ایوبی کی یہ تقریر جوشیلی اور جذباتی
تھی۔ جنگی قیدیوں میں بہت سے نعرے لگانے لگے۔ انہوں نے اپنے آپ کو سلطان ایوبی کی فوج کے لیے پیش کردیا۔ اس
طرح سلطان ایوبی کی فوج میں تربیت یافتہ سپاہیوں اور عہدے داروں کا اضافہ ہوگیا۔ اس کے باوجود سلطان ایوبی نے پیش
قدمی ملتوی کردی۔ فوج کی تنظیم نو کی ضرورت تھی۔ اس نے دمشق اور قاہرہ سے کمک بھی منگوا بھیجی تھی۔ زخمیوں
کے عالج کا اس نے وہیں انتظام کردیا تھا۔ دراصل مظفرالدین کے تصادم نے اس کی حالت کچھ زیادہ ہی خراب کردی تھی۔
٭ ٭ ٭
عصیات کا قلعہ آج کے لبنان کی سرحد کے اندر تھا۔ ایک مصری واقعہ نگار محمد فرید ابو حدید کی تحریر کے مطابق قلعہ
عصیات حسن بن صباح کے فرشتے حشیشین کا مرکز اور مستقر تھا۔ اس قلعے میں شیخ سنان کی حکمرانی تھی جو حسن
بن صباح کا جانشین تھا۔ اس قلعے میں اس نے کچھ فوج بھی رکھی ہوئی تھی۔ عصیات ذراء بڑا قلعہ تھا۔ اس سے دور دور
تین چار چھوٹے قلعے بھی تھے جو شیخ سنان کے حشیشین کے پاس تھے۔ انہیں یہ قلعے صلیبیوں نے دے رکھے تھے۔
صلیبیوں کی کوشش یہ تھی کہ حشیشین کو مسلمان قائدین کے قتل کے لیے اور مسلمان قوم کی کردار کشی کے لیے استعمال
کی جائے لیکن حشیشین جو اسالم کا ایک فرقہ بن کر ابھرنا چاہتے تھے ،کرائے کے قاتل بن کے رہ گئے تھے۔ انہوں نے
صلیبی لیڈروں کو بھی قتل کیا تھا۔ انہیں نقدی دے کر کوئی بھی استعمال کرسکتا تھا۔ سلطان ایوبی کے دور میں صلیبیوں نے
انہیں اتنی مراعات دیں کہ انہیں قلعے تک دے دئیے۔ وہ ان کے ہاتھوں نورالدین زنگی اور صالح الدین ایوبی کو قتل کرانے
کی کوشش کرتے رہے۔
نورالدین زنگی کی موت کے متعلق میجر جنرل محمد اکبر خان رنگروٹ نے بعض مورخوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ
حشیشین کی کارستانی تھی۔ اسے دھوکے میں کچھ کھال دیا گیا تھا جس سے وہ چند دنوں بعد فوت ہوگیا۔ اب صالح الدین
ایوبی کو قتل کرنے کے منصوبے بن رہے تھے۔ حشیشین صلیبیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے تھے۔
اس صبح سورج ابھی نہیں نکال تھا ،جب الناصر اور اس کے تین ساتھی دو صلیبیوں لڑکیوں کے ساتھ عصیات کے قلعے کے
دروازے پر جارکے۔ بڑی لڑکی نے کوئی خفیہ الفاظ بولے۔ تھوڑی دیر بعد قلعے کا دروازہ کھل گیا اور یہ قافلہ اندر چال گیا۔
الناصر اور اس کے ساتھیوں کو کسی کے حوالے کرکے لڑکیاں شیخ سنان کے پاس چلی گئیں۔ وہ ہر پہلو سے بادشاہ تھا۔ اس
کا انداز اور شان وشوکت بادشاہوں جیسی تھی۔ اسے یہ احساس ہی نہیں تھا کہ وہ بوڑھا ہوچکا ہے۔ اسے جب بڑی لڑکی بتا
رہی تھی کہ وہ کہاں سے آئی ہے اور ان کے دوست سیف الدین پر کیا بیتی ہے ،شیخ سنان کی نظریں چھوٹی لڑکی پر
جمی ہوئی تھیں۔
یہاں آئو''۔ شیخ سنان نے بڑی لڑکی سے توجہ ہٹا کر چھوٹی کو اپنے پاس بالیا اور کہا…… ''تم ضرورت سے زیادہ ''
خوبصورت ہو۔ میرے پاس بیٹھو''…… لڑکی کو بازو سے پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیا اور انگلیاں اس کے بالوں میں پھیرنے لگا۔
بوال …… ''تم بہت تھکی ہوئی ،آج میرے پاس آرام کرنا''۔
اس لڑکی نے شیخ سنان کو پہلی بار دیکھا تھا۔ لڑکی نے اسے گھور کر دیکھا جیسے بوڑھے کی یہ حرکت اسے پسند نہ آئی
ہو۔ وہ سرک کر اس سے دور ہٹ گئی۔ شیخ سنان نے اسے پھر بازو سے پکڑا اور اس طرح جھٹکا دے کر اپنے قریب کرلیا
جیسے لڑکی نے پرے سرک کر اس کی توہین کردی ہو۔ اس نے بڑی لڑکی سے کہا…… ''اسے ہمارے متعلق کسی نے نہیں
''بتایا کہ ہم کون ہیں اور ہماری توہین کتنا بڑا جرم ہے؟
میں آپ کی لونڈی نہیں''۔ چھوٹی لڑکی بھڑک کر بولی…… ''میرے فرائض میں یہ شامل نہیں کہ جو مجھے گھسیٹ کر ''
اپنے ساتھ لگالے ،میں اپنا آپ اسی کے حوالے کردوں''۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور بولی…… ''میں صلیب کی غالم ہوں،
حشیشین کی خریدی ہوئی لونڈی نہیں''۔
بڑی لڑکی نے اسے ڈانٹ دیا اور خاموش رہنے کو کہا ،مگر وہ خاموش نہ ہوئی۔ وہ کہنے لگی…… ''مجھے مسلمانوں کے حرم
میں اس شخص نے نہیں دیکھا۔ میں نے کوئی کوتاہی نہیں کی۔ میں نے تمہارے ساتھ سیف الدین اور اس کے مشیروں کی
عقل پر پردہ ڈالے رکھا ہے لیکن میرے فرائض میں یہ شامل نہیں کہ اس بوڑھے کے کمرے میں رہوں''۔
اگر تم اتنی خوبصورت نہ ہوتی تو ہم تمہاری یہ گستاخی کبھی معاف نہ کرتے''۔ شیخ سنان نے کہا اور بڑی لڑکی کو ''
ہدایات دینے کے انداز سے کہنے لگا …… ''اسے لے جائو اور اسے عصیات کے قلعے کے آداب سیکھاو''۔
بڑی لڑکی اسے باہر چھوڑ آئی۔ اس نے شیخ سنان سے کہا…… ''آپ کی ناراضگی بجا ہے لیکن ہم اپنے اوپر والوں کی :
اجازت کے بغیر ہر کسی کا حکم نہیں مان سکتیں۔ میں چونکہ آپ کو جانتی ہوں ،اس قلعے میں پہلے بھی آچکی ہوں ،اب
آپ کے کام کے چار آدمی پھانس الئی ہوں۔ آپ کو اس طرف توجہ دینی چاہیے''…… اس نے شیخ سنان کو الناصر اور اس
کے ساتھیوں کے متعلق پوری تفصیل سنائی۔
میں ان آدمیوں سے پورا کام لوں گا''…… شیخ سنان نے کہا…… ''لیکن میں اس لڑکی کو اپنے کمرے میں ضرور رکھوں ''
گا''۔
یہ کام مجھ پر چھوڑیں''۔ لڑکی نے کہا…… ''وہ کہیں بھاگ تو نہیں چلی۔ کیوں نہ میں اسے آمادہ کولوں کہ وہ ہنسی ''
خوشی آپ کے پاس آئے۔ آجائے گی''۔
٭ ٭ ٭
الناصر اور اس کے ساتھیوں کو شیخ سنان کے دو آدمی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ وہ بے شک نشے میں تھے لیکن ساری رات
پیدل چلتے رہے تھے۔ انہیں ایک کمرے میں لے گئے۔ وہ پلنگوں پر گرے اور سوگئے۔ ادھر لڑکیاں بھی رات بھر کی جاگی
ہوئی تھی ،وہ بھی اس کے کمرے میں جاکر سوگئیں جو انہیں دیا گیا تھا…… دوپہر کے بعد الناصر کی آنکھ کھلی۔ اس نے
ادھر ادھر دیکھا۔ اس کے ساتھی سوئے ہوئے تھے۔ اس نے گردوپیش کو پہچاننے کی کوشش کی۔ یہ ایک کمرہ تھا۔ اس میں
پلنگ تھے اور پلنگوں پر اس کے تین ساتھی گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔ اسے سبزہ زار ،پھولوں والے پودے ،رنگ برنگے
پرندے اور مخمل کی طرح کی گھاس یاد آئی۔ لڑکیاں یاد آئیں۔ صحرا اور صحرا کا بے رحم سفر یاد آیا۔ اسے وہ خواب
سمجھنے لگا۔ صحرا کا سفر اسے حقیقت کی طرح یاد تھا۔ لڑکیوں سے مالقات اور اس کے بعد کے واقعات اسے خواب یا
واہمے لگے مگر وہ اب کہاں ہیں؟ یہ سوال اسے مضطرب کرنے لگا۔
اس نے اپنے ساتھیوں کو نہ جگایا۔ اٹھا اور دروازے میں جاکھڑا ہوا۔ یہ کوئی قلعہ تھا۔ اسے سپاہی آتے جاتے نظر آرہے تھے۔
وہ کس فوج کے تھے؟ یہ کون سا قلعہ تھا؟ اس نے کسی سے پوچھنا مناسب نہ سمجھا۔ یہ قلعہ دشمن کا ہوسکتا تھا تو
کیا وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ قید ہوگیا ہے؟ لیکن یہ کمرہ قید خانے کا نہیں تھا۔ وہ جاسوس اور چھاپہ مار تھا۔ اس نے
کسی سے پوچھے بغیر یہ معمہ اپنی عقل سے حل کرنے کا ارادہ کیا۔ اسے کوئی خطرہ محسوس ہونے لگا تھا۔ دروازے سے
ہٹ کر وہ پلنگ پر جا بیٹھا۔ باہر اسے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ اس نے آنکھیں بند کرلیں اور خراٹے لینے لگا۔ دو آدمی
کمرے میں داخل ہوئے۔
ابھی سوئے ہوئے ہیں''۔ ایک آدمی نے دوسرے سے کہا۔''
سویا رہنے دو''۔ دوسرے نے کہا…… ''معلوم ہوتا ہے ،انہیں کچھ زیادہ پال دی گئی ہے…… ان کے متعلق کیا بتایا گیا ''
''ہے؟
دو صلیبی لڑکیاں انہیں پھانس کر الئی ہیں''۔ پہلے نے جواب دیا…… ''یہ صالح الدین ایوبی کے چھاپہ مار جاسوس ہیں۔''
بہت دلیر اور عقل مند بتائے جاتے ہیں۔ انہیں تیار کرنا ہے''۔
وہ دونوں چلے گئے۔ الناصر کے جسم کا رواں رواں بیدار ہوگیا۔ اسے یقین ہونے لگا کہ وہ بہت بڑے دھوکے کا شکار ہوگیا ہے۔
اسے اب یہ معلوم کرنا تھا کہ یہ کون سا قلعہ ہے۔ کس عالقے میں ہے اور اسے اور اس کے ساتھیوں کو کس مقصد کے لیے
تیار کیا جائے گا۔ وہ اس تلخ حقیقت کو جان گیا تھا کہ کسی قلعے سے فرار ہونا مشکل ہی نہیں ،ناممکن بھی ہوتا ہے۔
لڑکیوں کے کمرے میں یہ کیفیت تھی کہ چھوٹی لڑکی تھوڑی سی دیر سو کر جاگ اٹھی تھی اور کھڑکی کھول کر اس میں
بیٹھی تھی۔ اس نے سفر کے دوران بڑی لڑکی کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کیا تھا۔ وہ نوجوان تھی۔ ابھی پختہ کار نہیں
ہوئی تھی۔ اپنے جیسی دوسری لڑکیوں کی طرح وہ ابھی اپنے جذبات کو دبا نہیں سکی تھی۔ اسے پہلی بار باہر بھیجا گیا
تھا۔ اس کے ساتھ یہ بڑی لڑکی تھی جو تجربہ کار تھی۔ اس نے بھی دیکھا تھا کہ چھوٹی لڑکی اس زندگی میں کامیاب نہیں
ہورہی۔ اسے مردوں کو انگلیوں پر نچانے کا فن نہیں آیا تھا۔ اس نے دراصل اس فن کو قبول ہی نہیں کیا تھا۔ بوڑھے بوڑھے
ساالروں نے اور سیف الدین نے اسے کھلونا بنائے رکھا تھا۔ اب وہ میدان جنگ سے بھاگ کر آئی اور اتنی کٹھن اور صبر آزما
مسافت طے کی ،رات بھر سفر کیا مگر آتے ہی شیخ سنان جیسے بوڑھے نے اسے کہہ دیا کہ میرے کمرے میں رہو۔
بے شک اسے بچپن سے اس غلیط طرز زندگی کی تربیت دی گئی تھی لیکن جوانی میں آکر اس کے اپنے جذبات کا :
سرچشمہ پھوٹا تو اتنے لمبے عرصے کی تربیت کے اثرات دھل گئے۔ جن انسانوں کو اسے پھانسنے اور صلیب کے جال میں
الجھائے رکھنے کے لیے تیار کیا گیا تھا ،ان انسانوں سے اسے نفرت ہوگئی اور اپنے پیشے کو وہ حقارت کی نظروں سے
دیکھنے لگی۔ وہ کھڑکی کے سامنے بیٹھی بڑے ہی تلخ خیالوں میں الجھی ہوئی تھی۔ اس کے آنسو نکل آئے۔ اسے نہ کوئی
پناہ دکھائی دے رہی تھی ،نہ کوئی راہ فرار۔
بڑی لڑکی جاگ اٹھی۔ اپنی ساتھی کو کھڑکی میں بیٹھا دیکھ کر اس کے پاس جابیٹھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر
بولی…… ''ابتداء میں جذبات کی یہی حالت ہوتی ہے۔ ہم جو کچھ کررہی ہیں ،یہ اپنی عیاشی کے لیے نہیں ،صلیب کی
حکمرانی کے قیام کے لیے کررہی ہیں۔ اپنے سامنے یہ مقصد رکھو کہ اسالم کا نام ونشان مٹانا ہے۔ ہمارے سپاہی اپنے محاذ
پر لڑتے ہیں ،ہمیں اپنے محاذ پر لڑنا ہے۔ اپنے ذہن کو وسعت دو۔ اپنے جسم سے دستبردار ہوجائو۔ تمہاری روح پاک ہے''۔
مسلمان اپنی لڑکیوں کو اس طرح استعمال کیوں نہیں کرتے جس طرح ہمیں کیا جارہا ہے؟'' چھوٹی لڑکی نے پوچھا…… ''
'' ہمارے بادشاہ اور ان کی فوجیں مسلمانوں کی طرح کیوں نہیں لڑتیں؟ چوروں کی طرح مسلمانوں کو قتل کیوں کرایا جاتا
ہے؟ صالح الدین ایوبی کے ان چار چھاپہ ماروں کی طرح صلیب کی فوج کیوں ایسے چھاپہ مار تیار نہیں کرتی؟ صرف اس
لیے کہ ہماری قوم میں بزدلی ہے۔ چوری چھپے وار کرنے والے بزدل ہوا کرتے ہیں''۔
بڑی لڑکی سٹپٹا اٹھی اور بولی…… ''ایسی باتیں کسی اور کے سامنے نہ کربیٹھنا ،ورنہ قتل ہوجائو گی۔ اس وقت ہم شیخ
سنان کے پاس ہیں۔ اس سے ہمیں بہت بڑا کام لینا ہے۔ اسے ناراض نہ کرو''۔
مجھے اس شخص سے نفرت ہوگئی ہے''۔ چھوٹی لڑکی نے کہا…… ''یہ کسی ملک کا بادشاہ نہیں۔ کرائے کے قاتلوں کا ''
سرغنہ ہے۔ میں اسے اس قابل نہیں سمجھتی کہ میرے جسم کو ہاتھ بھی لگائے''۔
بڑی لڑکی نے اسے بہت دیر کی بحث کے بعد اس پر آمادہ کرلیا کہ وہ شیخ سنان کے ساتھ اچھی طرح باتیں کرے۔ اس نے
چھوٹی کو یقین دالیا کہ وہ شیخ کو اس کا اللچ اور وعدہ دئیے رکھے گی۔ اس نے چھوٹی لڑکی سے کہا…… ''تم نے میرے
کماالت دیکھے نہیں؟ میں ان بادشاہوں کو مٹھی میں لے کر انہیں گمراہ کرنا جانتی ہوں۔ شیخ سنان کو تو میں کچھ بھی
نہیں سمجھتی''۔
کیا تم ایسی صورت پیدا کرسکتی ہو کہ ہم یہاں سے جلدی نکل جائیں؟''۔ چھوٹی لڑکی نے پوچھا۔''
کوشش کروں گی''۔ بڑی لڑکی نے جواب دیا۔ ''پہلے تو اپنے متعلق یہ اطالع بھجوانی ہے کہ ہم یہاں ہیں''۔''
اتنے میں دو آدمی کمرے میں آئے۔ انہوں نے لڑکیوں سے ان چار آدمیوں کے متعلق پوچھا۔ بڑی لڑکی نے انہیں بتایا کہ وہ
کون ہیں اور انہیں کس طرح اور کیوں الیا گیا ہے۔
وہ کس حال میں ہیں؟'' بڑی لڑکی نے پوچھا۔''
ابھی سوئے ہوئے ہیں''۔ ایک آدمی نے جواب دیا۔''
انہیں قید میں ڈال دو گے؟''۔ چھوٹی لڑکی نے پوچھا۔''
قید میں ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں''۔ اس آدمی نے جواب دیا۔ ''یاں سے بھاگ کر کہاں جائیں گے''۔''
کیا ہم انہیں دیکھ سکتی ہیں؟'' چھوٹی لڑکی نے پوچھا۔''
کیوں نہیں''۔ اسے جواب مال…… ''وہ تمہارا شکار ہے۔ انہیں دیکھو ،بلکہ ضرورت بھی یہی ہے کہ تم ان کے پاس جائو ''
اور انہیں اپنے جال میں لیے رکھو''۔
کچھ دیر بعد چھوٹی لڑکی بڑی کے روکنے کے باوجوداس کمرے میں چلی گئی جہاں الناصر اور اس کے ساتھی سوئے ہوئے
تھے۔ الناصر دراصل جاگ رہا تھا۔ چھوٹی لڑکی کو دیکھ کر وہ اٹھ بیٹھا اور پوچھا…… ''مجھے جو کچھ کرنا ہوگا ،وہ کرکے
دکھائوں گا''۔
لڑکی اس کے قریب آگئی۔ دھیمی آوازمیں بولی…… ''میں جن نہیں انسان ہوں ،مجھ پر بھروسہ کرو''۔
الناصر نے اسے قہر بھری نظروں سے دیکھا۔ لڑکی اس کے ساتھ پلنگ پر بیٹھ گئی۔
20:44
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔ 107لڑکی نے اپنی الش دیکھی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جنات کی دہشت الناصر کے دل ودماغ پر بدستور طاری تھی۔ عرب کا یہ خوبرو جوان سلطان صالح الدین ایوبی کے ان چھاپہ
ماروں میں سے تھا جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا کرتے تھے۔ صلیبیوں کا یہ کہنا تھا کہ سلطان ایوبی کے
چھاپہ ماروں سے موت بھی ڈرتی ہے۔ صحرائوں کی صعوبتوں کا دریاوں کی تندی کو اور سنگالخ دیواروں کو خاطر میں نہ
النے والے یہ جانباز آگ میں بھی کود جایا کرتے تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ دشمن کی رسد وغیرہ کو آگ لگا کر ان میں سے
بعض شعلوں کی لپیٹ میں آکر زندہ جل جایا کرتے تھے مگر جنات اور بھوت پریت ایسی مخلوق تھی جس سے یہ سرفروش
ڈر جایا کرتے تھے۔ ان میں سے کسی نے کبھی جن اور بھوت نہیں دیکھے تھے ،صرف کہانیاں اور روائتیں سنی تھیں جنہیں
وہ سو فیصد سچ مانتے تھے اور دل پر جنات کا خوف طاری کیے رکھتے تھے۔
اگر الناصر قلعہ عصیات تک اپنی مرضی سے اور ہوش میں سفرکرتا تو وہ اتنا ڈرا ہوا نہ ہوتا ،اگر اسے قیدی بنا کر الیا جاتا
تو بھی وہ نڈر رہتا اور فرار کی ترکیبیں سوچتا ،لیکن اسے حشیش کے نشے میں اور اس کے ذہن میں غیر حقیقی تصورات
ڈال کر الیا گیا تھا۔ اب نشہ اتر چکا تھا۔ اس نشے میں وہ سبزہ زار اور باغات میں سے گزر کر آیا تھا۔ اسے یاد آنے لگا
کہ زمین کے اس خطے میں کہیں کہیں سبزہ اور ہو سکتا ہے۔میلوں وسیع عالقہ ایسا جنت نما نہیں ہوسکتا۔ اب اس کے
پلنگ پر وہ لڑکی آبیٹھی تھی جسے وہ جن سمجھا تھا۔ لڑکی اس کے تصوروں سے زیادہ خوبصورت تھی۔ الناصر اسے انسان
تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہورہا تھا۔ لڑکی نے اسے کہا کہ وہ اس پر بھروسہ کرے تو وہ اور زیادہ ڈر گیا۔ اس نے یہ بھی
سن رکھا تھا کہ جنات بڑے دلکش دھوکے دے کر مارا کرتے ہیں۔ا سے یہ قلعہ جنات یا بدروحوں کا مسکن معلوم ہونے لگا۔
اس کے ساتھی ابھی گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔
اس نے دل کو حوصلہ دے کر لڑکی سے پوچھا…… ''میں تم پر کیوں بھروسہ کروں؟ تم مجھ پر اتنی مہربان کیوں ہوگئی ہو؟
''ہمیں یہاں کیوں لے آئی ہو؟ یہ جگہ کیا ہے؟
اگر تم مجھ پر بھروسہ نہیں کرو گے تو تمہارا انجام بہت برا ہوگا''۔ لڑکی نے جواب دیا…… ''تم بھول جائو گے کہ تم ''
کون تھے۔ تمہارے ہاتھ تمہارے اپنے بھائیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہوں گے اور تم اس خون کو پھول سمجھ کر خوش
ہوگے۔ میں ابھی تمہیں اس سوال کا جواب نہیں دے سکتی کہ میں تم پر اتنی مہربان کیوں ہوگئی ہوں۔ یہ جگہ ایک قلعہ
''ہے جس کا نام عصیات ہے۔ یہ فدائیوں کا قلعہ ہے۔ یہاں فدائیوں کا پیغمبر شیخ سنان رہتا ہے۔ فدائیوں کو تم جانتے ہو؟
ہاں جانتا ہوں'' ۔ الناصر نے جواب دیا…… ''بہت اچھی طرح جانتا ہوں اور اب یہ بھی جان گیا ہوں کہ تم کون ہو ،تم ''
بھی فدائی ہو۔ میں جانتا ہوں کہ فدائیوں کے پاس تم جیسی خوبصورت لڑکیاں ہوتی ہیں''۔
میرا ان لوگوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں''۔ لڑکی نے جواب دیا…… ''میرا نام لِزا ہے''۔''
تمہارے ساتھ ایک اور لڑکی تھی''۔''
اس کا نام تھیریسیا ہے''۔ لزا نے جواب دیا…… ''وہ یہیں ہے۔ تمہیں یہاں تک حشیش کے نشے میں الیا گیا ہے''۔''
وہ اس سے زیادہ نہ بول سکی کیونکہ کمرے کے دراوزے میں اچانک تھیریسیا آن کھڑی ہوئی تھی۔ تھیریسیا نے لزا کو سر کے
اشارے سے باہر بالیا۔ لزا باہر نکل گئی۔
یہاں کیا کررہی ہو؟'' تھیریسیا نے پوچھا…… ''اس شخص کے اتنی قریب بیٹھ کر تمہیں خیال نہ آیا کہ مسلمان قابل ''
''نفرت ہوتے ہیں؟ کیا تم غداری کے جرم کا ارتکاب کرنا چاہتی ہو؟
لزا کا ذہن خالی ہوگیا۔ اس کی زبان پر کوئی جواب نہ آیا۔ وہ جذباتی لحاظ سے اپنے پیشے یعنی مسلمان امراء کی کردار
کشی سے متنفر ہوگئی تھی۔ یہ نفرت اس حد تک پہنچ گئی تھی جہاں انسان اپنے ردعمل میں بے قابوہوجاتا ہے اور وہ
انتقام کی راہ اختیار کرلیتا ہے یا فرار کی۔
میں بھی جوان لڑکی ہوں''۔ تھیریسیا نے اسے کہا…… ''مجھے بھی یہ مسلمان چھاپہ مار جس کا نام الناصر ہے ،اچھا ''
لگتا ہے۔ یہ دلکش جوان ہے ،اگر تم یہ کہو کہ یہ تمہارے دل میں اتر گیا ہے تو میں حیران نہیں ہوں گی۔ مجھے یہ احساس
بھی ہے کہ تمہارے دل میں ان بوڑھے مسلمان ا مراء اور ان کے ساالروں کے خالف نفرت بھر گئی ہے ،جن کے ہاتھوں میں
تم کھلونا بنی رہی ہو مگر اپنے فرائض کو سامنے رکھو ،صلیب کی عظمت کو سامنے رکھو ،یہ مسلمان تمہارے دشمن ہیں''۔
نہیں تھیریسیا''۔ لزا نے پریشان لہجے میں کہا…… ''مجھے اس کے ساتھ وہ دلچسپی نہیں جو تم سمجھ رہی ہو''۔''
''پھر اس کے پاس کیوں آبیٹھی تھیں؟''
میں اچھی طرح بیان نہیں کرسکتی''۔ لزا نے اکتائے ہوئے لہجے میں جواب دیا…… ''معلوم نہیں ،ذہن میں کیا آیا تھا کہ''
میں اس کے پاس آبیٹھی''۔
''اس کے ساتھ کیا باتیں ہوئی ہیں؟''
کوئی خاص بات نہیں ہوئی''۔ لزا نے کہا۔''
تم اپنے فرض میں کوتاہی کررہی ہو''۔ تھیریسیا نے کہا…… ''یہ غداری بھی ہے ،جس کی سزا موت ہے''۔''
لیکن سن لو تھیریسیا!'' لزا نے کہا…… ''میں اسے بوڑھے شیخ سنان کے پاس اکیلی نہیں جائوں گی ،اگر اس نے ''
زبردستی کی تو اسے یا اپنے آپ کو ختم کرلوں گی''۔
تھیریسیا تو پتھر بن چکی تھی۔ وہ خوبصورت پتھر تھی جس کا رنگ اور جس کی چمک ہر کسی کے دل کو بھاتی ہے اور
جسے ہر کوئی اپنی ملکیت میں رکھنا چاہتا ہے لیکن پتھر کی اپنی کوئی پسند یا ناپسند نہیں ہوتی۔ لزا بھی اس مقام سے
بہت دور تھی جہاں عورت اپنے جذبات اور اپنی محبت اور نفرت سے دستبردار ہوجایا کرتی ہے۔ تھیریسیا نے اسے کہا……
'' مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ تم اتنی زیادہ جذباتی ہوجائو گی ورنہ ہم یہاں نہ آتیں مگر یہی ایک قلعہ تھا جو قریب
تھا۔ تریپولی تک ہمارا پہنچنا ممکن نہیں تھا۔ میں نے تم سے وعدہ کیا ہے کہ شیخ سنان سے تمہیں بچانے کی پوری کوشش
کروں گی اور یہاں سے جلدی نکلنے کی بھی کوئی صورت پیدا کرلوں گی۔ تم اپنے قیدی میں اتنی دلچسپی کا مظاہرہ نہ
کرو''۔
سچ بتا دوں تھیریسیا'' ۔ لزا نے کہا… ''میں ان چھاپہ ماروں کو یہاں سے فرار کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہوں۔ تم نہ ''
خود یہاں سے نکل سکو گی ،یہ چھاپہ مار ہیں جن کی بہادری کی میں نے حیران کن کہانیاں سن رکھی ہیں۔ انہیں اگر ذرا
سا بھی موقعہ فراہم کیا گیا تو یہ فرار ہوجائیں گے اور مجھے اور تمہیں بھی ساتھ لے جائیں گے۔ اس کے سوا اور کوئی
طریقہ نہیں''۔
میں ان کی استادی اور بہادری کو مانتی ہوں''۔ تھیریسیا نے کہا…… ''لیکن تم نے یہ نہیں سوچا کہ ہم دونوں یا تم ''
اکیلی ان کے ساتھ نکل گئی تو یہ تمہیں اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ ہمیں ہماری منزل پر نہیں پہنچائیں گے۔ جھوٹے سہارے
تالش کرنے کی کوشش نہ کرو…… اور سنو!''۔ تھیریسیا نے کہا…… ''نہالو اور کپڑے بدل لو۔ آج رات کے کھانے پر شیخ
سنان نے ہمیں مدعو کیا ہے۔ میں تمہیں بتائوں گی کہ اس کے ساتھ تمہارا سلوک اور رویہ کیسا ہوگا۔ اس پر یہ ظاہر کرنا
ہے کہ تم اسے ناپسند نہیں کرتیں اور اس سے بھاگنے کی بھی نہیں سوچو گی۔ مجھے ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ حرن کا
خودمختار مسلمان حاکم گمشتگین بھی آیا ہوا ہے۔ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ گمشتگین صالح الدین ایوبی کا سب سے بڑا
دشمن ہے ،اسے اپنا دوست سمجھنا۔ ہم نے بڑی مشکل سے ان مسلمان حکمرانوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور انہیں صالح الدین
ایوبی کے خالف لڑا رہے ہیں''۔
٭ ٭ ٭
لزا کو جب تھیریسیا اپنے ساتھ لے گئی تو الناصر گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ اسے کسی حد تک یقین آگیا تھا کہ لڑکیاں
جنات نہیں لیکن لزا کا اس پر مہربان ہوجانا اسے پریشان کرنے لگا۔ لزا نے اسے بتا دیا تھا کہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو
حشیش کے نشے میں یہاں تک الیا گیا ہے اس سے وہ سمجھ گیا کہ یہ لڑکیاں فدائیوں کے گروہ کی ہوسکتی ہیں۔ اسے یہ
شک بھی ہونے لگا کہ اسے حشیش کے عالوہ اس نوجوان اور خوبصورت لڑکی کے ذریعے اپنے ہاتھ میں لینے اور اپنے مقاصد
کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وہ چونکہ چھاپہ مار تھا جسے دشمن کے عالقوں میں جانا ہوتا تھا ،اس
لیے اسے فدائیوں اور ان کے طور طریقوں کے متعلق اور حشیش کے اثرات کے متعلق خاص طور پر بتایا گیا اور خبردار کیا گیا
تھا۔
اس نے اپنے ساتھیوں کو جگایا۔ جاگ کر وہ بھی اسی طرح حیران ہوئے جس طرح الناصر ہوا تھا۔ وہ تینوں الناصر کے منہ
کی طرف دیکھنے لگے۔
دوستو!'' الناصر نے انہیں کہا…… ''ہم فدائیوں کے جال میں آگئے ہیں۔ اس قلعے کا نام عصیات ہے۔ یہاں فدائی اور ان''
کی فوج رہتی ہے۔ یہ لڑکیاں جنات نہیں ہیں۔ میں ابھی بتا نہیں سکتا کہ ہمارے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ ہمیں احتیاط کرنی
پڑے گی۔ تم سب جانتے ہو کہ فدائی کیا کیا طریقے اختیار کرتے ہیں۔ اگر مجھے اس کمرے سے باہر نکلنے کا موقع مال تو
قلعے سے فرار کی کوئی ترکیب سوچ لوں گا۔ تم خاموش رہنا۔ یہ لوگ کچھ پوچھیں تو انہیں بہت تھوڑا جواب دینا۔ ان
شیطانوں سے بچنا آسان نہیں ہوتا''۔
کیا یہ ہمیں قید میں ڈال دیں گے؟'' الناصر کے ایک ساتھی نے پوچھا۔''
اگر قید میں ڈال دیں تو ہمیں خوش ہونا چاہیے''۔ الناصر نے جواب دیا…… ''مگر یہ لوگ حشیش اور لڑکیوں کے ذریعے''
ہمارے ذہن اس طرح بدل دیں گے کہ ہمیں یاد ہی نہیں رہے گا کہ ہم کون تھے اور ہمارا مذہب کیا تھا''۔
مجھے فرار کے سوا کوئی اور ذریعہ نجات نظر نہیں آتا''…… الناصر کے ایک ساتھی نے کہا۔''
ہم مرجانا پسند کریں گے ،ایمان خراب نہیں ہونے دیں گے''۔ ایک اور نے کہا۔''
ہوشیار رہنا''۔ الناصر نے کہا… ''اللہ پر چھوڑو۔ ہم اتنی جلدی ان کے قبضے میں نہیں آئیں گے''۔''
شام گہری ہونے لگی تھی۔ ایک آدمی دو جلتی قندیلیں کمرے میں رکھ گیا۔ اس نے ان کے ساتھ کوئی بات نہ کی۔انہیں
بھوک نے پریشان کررکھا تھا۔ ان کے کمرے سے دور قلعے کے ایک حصے میں سنان کا محل تھا جہاں عورت اور شراب کی
رونق تھی۔ سنان کے خصوصی کمرے میں کھانے چنے ہوئے تھے۔ شراب کی صراحیاں رکھی تھیں۔ رنگا رنگ کھانوں کی مہک
سے درودیوار مخمور ہوئے جارہے تھے۔ کھانے پر شیخ سنان بیٹھا تھا۔ اس کے ایک طرف تھیریسیا اور دوسری طرف لزا بیٹھی
تھی اور ان کے سامنے گمشتگین بیٹھا کھانا کھا رہا تھا۔
گمشتگین کے متعلق کئی بار بتایا جاچکا ہے کہ وہ حرن نام کے ایک قلعے کا گورنر (قلعہ دار) تھا۔ نورالدین زنگی کی وفات
کے بعد اس نے خودمختاری کا اعالن کرکے حرن قلعے اور گردونواح کے عالقے کو اپنی ریاست بنا لیا تھا۔ وہ سلطان ایوبی
کے مسلمان دشمنوں ( الملک الصالح اور سیف الدین) کا اتحادی تھا۔ اس نے بھی اپنی فوج متحدہ فوج میں شامل کی تھی
جسے سلطان ایوبی نے شکست فاش دی تھی۔ گمشتگین خود اپنی فوج کے ساتھ نہیں گیا تھا۔ تینوں افواج کا سپریم کمانڈر
سیف الدین تھا۔ گمشتگین نے اپنے اتحادیوں کی طرح صلیبیوں کے ساتھ دوستانہ گانٹھ رکھا تھا۔ صلیبیوں نے انہیں فوج کی
صورت میں تو ابھی کوئی مدد نہیں دی تھی۔ اپنے مشیر ،جاسوس اور تخریب کار دے رکھے تھے اور انہیں اپنے ہاتھ میں
اعلی قسم کی شراب ،حسین لڑکیاں اور رقم دیتے رہتے تھے۔
رکھنے کے لیے
ٰ
گمشتگین کو خدا نے سازشی ذہن دیا تھا۔ اپنے دشمن پر وہ زمین کے نیچے سے وار کرتا تھا اور اپنے دوستوں کے خالف
بھی دل میں دشمنی رکھتا تھا۔ اسے پیار صرف اقتدار سے تھا۔ وہ اپنی ریاست کا مطلق العنان بادشاہ بن کر ریاست میں
توسیع کرنے کے خواب دیکھتا رہتا تھا۔ اسے جو کوئی دوستانہ مدد دیتا تھا ،اسے بھی وہ شکی نگاہوں سے دیکھتا تھا۔ سلطان
صالح الدین ایوبی کے قتل کی کوششوں میں گہری دلچسپی لیتا تھا۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ اقتدار پسند حکمران کا
تختہ صرف فوج الٹ سکتی ہے۔ سلطان ایوبی ہی ایک ساالر تھا جس کے دل میں قومی جذبہ موج زن تھا۔ اس کی جنگی
قابلیت کے ساتھ اس کا ایمان اس کی قوت تھا۔ گمشتگین اس کی اسی قوت سے ڈرتا تھا۔ اب جبکہ اس نے اپنی فوج
سیف الدین کی کمان میں دے کر ترکمان روانہ کردی تھی۔ وہ کسی کو بتائے بغیر شیخ سنان کے پاس قلعہ عصیات میں آگیا
تھا۔ وہ یہی مشن لے کے آیا تھا کہ سلطان ایوبی کے قتل کا کوئی ایسا انتظام کیا جائے جو پہلی قاتالنہ کوشش کی طرح
ناکام نہ ہو۔
عصیات میں وہ الناصر اور تھیریسیا کے پہنچنے سے ایک روز پہلے آیا تھا۔ اسے ابھی معلوم نہیں تھا کہ سیف الدین کی
زیرکمان اس کی فوج کا سلطان ایوبی کے ہاتھوں کیا حشر ہوا ہے۔ وہ افواج کو روانہ کرکے اپنے سازشی دورے پر نکل گیا اور
عصیات جا پہنچا تھا۔
٭ ٭ ٭
گمشتگین بھائی!'' شیخ سنان نے اسے کھانے کے دوران کہا…… ''تمہارے دوست تو ترکمان سے بھاگ گئے ہیں''۔ اس ''
نے تھیریسیا سے کہا…… ''انہیں میدان جنگ کی تفصیل سنائو''۔
گمشتگین کو اس خبر سے اتنا صدمہ ہوا کہ وہ کچھ بھی نہ بوال۔ اس کا رنگ اڑ گیا اور وہ صدمے اور حیرت سے تھیریسیا
کی طرف دیکھنے لگا۔ تھیریسیا نے اسے بتایا کہ سلطان ایوبی نے قلیل سی نفری سے کس طرح متحدہ افواج پر حملہ کیا اور
بھگایا ہے۔ سیف الدین کے متعلق تھیریسیا نے بتایا کہ اس کے وہاں سے روانہ ہونے تک سیف الدین میدان جنگ سے الپتہ
تھا۔ گمشتگین خاموشی سے سنتا رہا۔
مجھے میرے دوستوں نے ذلیل کیا ہے''۔ گمشتگین نے غصے سے کہا… ''میں سیف الدین کو تینوں فوجوں کی کمان دینے''
''کے حق میں نہیں تھا مگر میری کسی نے نہ سنی۔ معلوم نہیں میری فوج کس حالت میں ہوگی
بہت بری حالت میں''۔ تھیریسیا نے کہا…… ''صالح الدین ایوبی کے چھاپہ ماروں نے آپ کی فوجوں کو اطمینان اور ''
خیریت سے پسپا بھی نہیں ہونے دیا''۔
سنان بھائی! تم جانتے ہو ،میں یہاں کیوں آیا ہوں''۔ گمشتگین نے کہا۔''
صالح الدین ایوبی کے قتل کے لیے''۔ سنان نے کہا۔''
ہاں!'' گمشتگین نے کہا…… ''آپ جو مانگیں گے پیش کروں گا۔ ایوبی کو قتل کرائو''۔''
میں نے صلیبیوں اور سیف الدین کے کہنے پر ایوبی کے قتل کے لیے چار فدائی بھیج رکھے ہیں''۔ سنان نے کہا…… ''
''لیکن مجھے امید نہیں کہ وہ اسے قتل کرسکیں''۔
مجھ سے الگ اپنا انعام لو''۔ گمشتگین نے کہا…… ''نئے آدمی دو لیکن یہ آدمی مجھے دے دو۔ یہ کام میں خود کرائوں''
گا''۔
یہ آخری چار فدائی ہیں جو میں نے بھیجے ہیں''۔ شیخ سنان نے کہا…… ''میرے پاس قاتلوں کی کمی نہیں لیکن میں ''
صالح الدین ایوبی کے قتل سے دستبردار ہوتا ہوں''۔
''کیوں؟''۔ گمشتگین نے حیران ہوکر پوچھا…… ''ایوبی نے تمہیں کوئی قلعہ دے دیا ہے؟''
نہیں''۔ سنان نے جواب دیا…… ''اس شخص کے قتل کے لیے میں اپنے بڑے ہی قیمتی فدائی ضائع کرچکا ہوں۔ میرے ''
فدائیوں نے اس پر سوتے میں خنجروں سے حملہ کیا مگر وہ خود قتل ہوگئے۔ ایک بار اس پر تیر چالئے گئے ،وہ بھی خطا
ہوگئے۔ میں تو اب یہ سمجھ بیٹھا ہوں کہ صالح الدین ایوبی پر خدا کا ہاتھ ہے۔ اس میں کوئی ایسی قوت ہے کہ اس پر نہ
خنجر اثر کرتا ہے ،نہ تیر۔ میرے جاسوسوں نے مجھے بتایا ہے کہ ایوبی پر جب قاتالنہ حملہ ہوتا ہے تو حملے کو ناکام
کرکے وہ گھبرانے یا غصے میں آنے کے بجائے مسکراتا ہے اور فورا ً بھول جاتا ہے کہ کیا ہوا تھا''۔
مجھے اپنی اجرت بتائو سنان!''۔ گمشتگین نے جھنجھال کر کہا…… ''میں ایوبی کو زندہ نہیں دیکھنا چاہتا۔ تم نے اناڑی''
قاتل بھیجے ہوں گے''۔
وہ سب استاد تھے''۔ شیخ سنان نے کہا…… ''ان سے کبھی کوئی بچ کر نہیں گیا تھا۔ وہ موت سے ڈرنے والے نہیں ''
تھے۔ میرے پاس ان کے بھی استاد موجود ہیں۔ یہ ایسے طریقوں سے قتل کرتے ہیں کہ ان کا کوئی سراغ نہیں ملتا لیکن
گمشتگین! میں اپنے قیمتی فدائیوں کو یوں ضائع نہیں کروں گا…… تم تین فوجوں سے ایوبی کو نہیں مار سکتے ،میرے تین
''چار آدمی اسے کس طرح قتل کرسکتے ہیں؟
تم ایوبی کے قتل سے جو ڈر گئے ہو ،اس کی وجہ کچھ اور ہوگی''۔''
اور وجہ یہ ہے کہ صالح الدین ایوبی کے ساتھ میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں''۔ سنان نے کہا…… ''حسن بن صباح نے تو''
پیغمبر بننا چاہا تھا لیکن اس کے مرنے کے بعد ہمارا فرقہ پیشہ ور قاتل بن گیا۔ میں پیشہ ور قاتل ہوں گمشتگین! ایوبی
مجھے تمہارے قتل کے لیے اجرت دے گا تو میں تمہیں بھی قتل کرادوں گا''۔
لیکن صالح الدین بزدلوں کی طرح کسی کو قتل نہیں کراتا''۔ لزا نے کہا…… ''یہی وجہ ہے کہ وہ بزدلوں کے ہاتھوں قتل''
نہیں ہوتا''۔
اوہ!'' سنان نے لزا کو اپنے بازو کے گھیرے میں لے کر پیار سے کہا…… ''تم نے اسی عمر میں جان لیا ہے کہ جو ''
بزدل نہیں ہوتے ،ان کا بزدل کچھ نہیں بگاڑ سکتے''۔ اس نے گمشتگین سے کہا۔ ''تم سیف الدین اور الملک الصالح اور
صلیبی صرف اس لیے ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے ہو کہ صالح الدین کے دشمن ہو ،ورنہ تمہاری آپس میں کوئی دوستی
نہیں۔ مجھے یہ بتائو کہ ایوبی کو قتل کرکے تم کیا حاصل کرسکو گے؟ وہ مرگیا تو آپس میں لڑوگے…… غور سے سنو
گمشتگین! ایوبی کے قتل کے بعد تمہیں اس سلطنت سے بالشت بھر زمین بھی نہیں ملے گی جو ایوبی نے قائم کرلی ہے۔
اس کے بھائی اور اس کے ساالر متحد ہیں۔ تم اگر کسی کو قتل کرانا ہی چاہتے ہوتو سیف الدین کو قتل کرادو اور موصل پر
قبضہ کرلو۔ اسے تم خود قتل کرسکتے ہو۔ وہ تمہیں اپنا دوست اور اتحادی سمجھتا ہے۔ اسے زہر دال سکتے ہو۔ اس پر حملہ
کراسکتے ہو''۔
گمشتگین گہری سوچ میں کھوگیا ،پھر بوال…… ''ہاں! سیف الدین کو قتل کرادو۔ بتائو کیا مانگتے ہو''۔ :
حرن کا قلعہ''۔ شیخ سنان نے کہا۔''
تمہارا دماغ ٹھکانے ہے سنان؟'' گمشتگین نے کہا…… ''زروجواہرات کی صورت میں اپنی قیمت بتائو''۔''
زرجواہرات کے عوض تمہیں چار آدمی دیتا ہوں''…… سنان نے کہا …… ''لیکن یہ میرے فدائی نہیں ہیں ،یہ صالح الدین ''
ایوبی کے چھاپہ مار ہیں۔ انہیں یہ دونوں لڑکیاں حشیش کے نشے میں ساتھ الئی ہیں۔ میں انہیں کسی کے حوالے نہیں
کرناچاہتا تھا۔ ایسے تجربہ کار آدمی ملتے ہی کہاں ہیں۔ اتفاق سے آگئے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ حشیش اور میری پریاں انہیں
اپنے رنگ میں رنگ کر ایسا قاتل بنا لیں گی کہ اپنے ماں باپ کا بھی خون بہا آئیں گے۔ میں تمہیں مایوس نہیں کرنا
چاہتا۔ ان کو لے جائو۔ تھوڑے دن انہیں اپنی جنت دکھائو۔ انہیں اپنے حرم کے شہزادے بنا دو ،انہیں بتائے بغیر حشیش دو،
پھر انہیں شراب کا عادی بنا دو۔ تمہارے اشاروں پر ناچیں گے''۔
صالح الدین ایوبی کے چھاپہ مار اتنے کچے نہیں ہوتے ،جتنا تم سمجھ رہے ہو''۔ گمشتگین نے کہا۔''
تم جانتے ہو گمشتگین ،ہم فدائی کہالتے ہیں۔ انسان کے ذہن کے ساتھ کھیلتے ہیں''۔ شیخ سنان نے کہا…… ''ہم اپنے ''
شکار کے ذہن میں دل فریب تصور ڈال کر اس کی ایسی حالت کردیتے ہیں کہ وہ تصور کو حقیقت سمجھنے لگتا ہے۔ کسی
انسان کے ذہن میں عورت کا حسین تصور پیدا کردو اور اس کے ساتھ اسے نشہ دئیے جائو تو وہ اس تصور کا غالم ہوجاتا
ہے۔ انسان کو عورت کے تصوروں میں کھوئے رہنے کا عادی بنا دو پھر تم اس کا کردار اور اس کا ایمان بڑے ہی کم داموں
خرید سکتے ہو…… ان چاروں کو لے جائو۔ یہ نہ سوچو کہ انہیں تم اپنے مقصد کے لیے استعمال نہیں کرسکو گے''۔ سنان
نے مسکرا کر کہا…… ''اپنے آپ پر نظر ڈالو۔ عورت ،شراب اور عیش پرستی تمہیں کہاں سے کہاں لے آئی ہے۔ مسلمان
ہوکر تم مسلمانوں کے دشمن بنے ہو''۔
شیخ سنان نے اسے اپنی قیمت بتائی۔ سودا طے ہوگیا کہ گمشتگین الناصر اور اس کے ساتھیوں کو اپنے ساتھ حرن لے جائے
گا۔ سنان نے اسے بتایا کہ وہ ان چاروں کو قید خانے میں نہ ڈال دے بلکہ انہیں شہزادے بنا کر رکھے۔ گمشتگین نے یہ
ہدایات سنیں اور یہ کہہ کر چال گیا کہ ایک دو دونوں میں وہ ان چھاپہ ماروں کو لے جائے گا۔
٭ ٭ ٭
گمشتگین وہاں سے نکال تو شیخ سنان کا ایک آدمی اندر آیا۔ اس نے پوچھا کہ آج جو چار آدمی الئے گئے ہیں ،ان کے
متعلق کیا حکم ہے۔
حرن کا والی گمشتگین آیا ہوا ہے''۔ سنان نے کہا…… ''وہ انہیں ساتھ لے جارہا ہے۔ ان کے کھانے اور آرام وغیرہ کا ''
انتظام کردو۔ ہم انہیں نہیں رکھنا چاہتے۔ انہیں یہ نہ بتانا کہ انہیں کہاں بھیجا جارہا ہے''۔
یہ آدمی چال گیا۔ اس نے الناصر اور اس کے ساتھیوں کے کھانا بھجوایا۔ الناصر نے کھانے سے انکار کردیا۔ اسے شک تھا کہ
کھانے میں حشیش ڈالی گئی ہے۔ بہت ہی مشکل سے اسے یقین دالیا گیا کہ کھانے میں کچھ نہیں مالیا گیا۔ الناصر اور اس
کے ساتھی بھوک سے بے بحال ہوئے جارہے تھے۔ اپنے سامنے اتنا اچھا کھانا دیکھ کر انہوں نے کھانے کا خطرہ مول لے لیا۔
شیخ سنان نے تھیریسیا سے کہا کہ وہ چلی جائے اور لزا کو اس کے پاس چھوڑ جائے۔ تھیریسیا نے کہا کہ وہ تین چار دن
مسلسل سفر میں رہی ہیں ،اس لیے آرام کریں گے۔ سنان میں انسانیت کم اور درندگی زیادہ تھی۔ اس نے لزا کے ساتھ پہلے
تو چھیڑ چھاڑ کی جو لزا تھیریسیا کے کہنے کے مطابق برداشت کرتی رہی اور اس سے گلو خالصی کرانے کے لیے بہانے بھی
تراشتی رہی۔ سنان نے دست درازی شروع کردی۔ لزا کا مزاج بگڑنے لگا۔ اچانک دروازہ کھال۔ دربان نے کسی کی آمد کی
اطالع دی۔ سنان نے غصے سے کہا… …''اس وقت کوئی اندر نہیں آسکتا''…… مگر اندر آنے والے نے اس کے حکم کی پروا
نہ کی۔ وہ دربان کو ایک طرف کرکے اندر آگیا۔
وہ ایک صلیبی تھا جو اسی وقت قلعے میں پہنچا تھا۔ سنان اسے جانتا تھا۔ اسے دیکھتے ہی سنان نے اس کا نام لیا اور
خوشی کا اظہار کیا لیکن یہ بھی کہا…… ''تم آرام کرو ،صبح ملیں گے''۔
میں شاید صبح ہی آپ کے پاس آجاتا''۔ صلیبی نے کہا…… ''لیکن یہاں آتے ہی پتہ چال ہے کہ یہ لڑکیاں آئی ہیں'' ،
مجھے ان سے بہت کچھ پوچھنا ہے۔ میں انہیں اپنے ساتھ لے جارہا ہوں''۔
سنان نے تھیریسیا کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا…… ''اسے لے جائو''…… اور اس نے لزا کو اپنی طرف گھسیٹ کر کہا…
''اسے میں یہیں رکھوں گا''۔
شیخ سنان!'' صلیبی نے قدرے دبدبے سے کہا…… ''میں دونوں کو لے جارہا ہوں ،تم جانتے ہو میں کس کام سے آیا ہوں''
اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ ان لڑکیوں کے کیا فرائض ہیں۔ تمہاری بغل میں بیٹھنا ان کے فرائص میں شامل نہیں''۔ اس نے
لڑکیوں سے کہا…… ''دونوں میرے ساتھ آئو''۔
دونوں اچک کر اٹھیں اور صلیبی کے پاس جاکھڑی ہوئیں۔
کیاتم میرے ساتھ دشمنی کا خطرہ مول لینا چاہتے ہو؟'' شیخ سنان نے کہا…… ''تم میرے قلعے میں ہو۔ میں تمہیں ''
مہمان سے قیدی بھی بنا سکتا ہوں اور تم کوشش کررہے ہو کہ تمہیں مہمان سے قیدی بنا دیا جائے''۔ اس نے گرج کر
کہا…… ''اس لڑکی کو میرے پاس چھوڑ کر باہر نکل جائو''۔
سنان!'' صلیبی نے طنزیہ لہجے میں کہا…… ''کیا تم بھول گئے ہوکہ یہ قلعہ تمہیں ہم نے دیا ہے؟ کیا تمہارے ذہن سے''
یہ حقیقت بھی اتر گئی ہے کہ ہم تمہاری پیٹھ پر ہاتھ نہ رکھیں تو تم اور تمہارے فدائی کرائے کے قاتلوں کے سوا کچھ بھی
نہیں رہیں گے''۔
شخ سنان پر صرف شراب کا نشہ طاری نہیں تھا ،وہ اس قلعے کا بادشاہ تھا ور وہ کسی بھی بادشاہ کو کسی بھی وقت
ایسے طریقے سے قتل کراسکتا تھا کہ کسی کو شک تک نہ ہوتا کہ قاتل سنان یا اس کا کوئی فدائی ہے۔ اس نے صلیبی
افسر بھی قتل کرائے تھے۔ یہ صلیبیوں کی آپس کی عداوت کا نتیجہ تھا۔ ان کا کوئی جرنیل یا کوئی اور فوجی یا غیرفوجی
افسر اپنے کسی حریف افسر کو قتل کرانے کی ضرورت کبھی محسوس کرتا تو اس مقصد کے لیے وہ سنان کی خدمت حاصل
کیا کرتا تھا۔ عصیات کے قلعے میں رہتے تو انسان تھے لیکن یہ بدروحوں کا قلعہ معلوم ہوتا تھا۔ اس کے تہہ خانوں میں
انسان گم ہوجاتے تھے۔ فدائی پاگل لگتے تھے۔ کسی کو قتل کرنا ان کے لیے منہ کا نوالہ ڈال لینے سے زیادہ حیثیت نہیں
رکھتا تھا۔ اس کے محل کا یہ حسن تھا کہ چھتوں اور دیواروں میں رنگا رنگ شیشوں کے ٹکڑے جڑے ہوئے تھے۔ فانوسوں کی
روشنی سے ان سے رنگا رنگ شعاعیں نکلتی تھیں۔ یہاں انسان بھول جاتا تھا کہ اس جنت کے اردگرد بے رحم اور تپتے ہوئے
ٹیلے ہیں۔
اس ماحول اور ایسی حیثیت میں شیخ سنان اپنے آپ کو دیوتا سمجھتا تھا۔ اس میں حیوانیت اور درندگی زیادہ تھی۔ لزا
جیسی لڑکی سے وہ دستبردار نہیں ہونا چاہتا تھا۔ اس نے صلیبی سے کہا…… ''میں تمہیں سوچنے کی مہلت دوں گا۔ اس
قلعے میں خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے بھی گم کردئیے جاتے ہیں۔ خدا کو بھی پتہ نہیں چلتا۔ میں اس لڑکی کو قلعے سے
باہر نہیں جانے دوں گا۔ تم نے مزاحمت کی تو تم بھی قلعے سے باہر نہیں جاسکو گے''۔
میرا ایک ساتھی آگے چال گیا ہے''۔ صلیبی نے کہا…… ''وہ وہاں بتا دے گا کہ میں یہاں ہوں ،تم جانتے ہو کہ میں یہاں''
دو تین روز کے قیام کے لیے آیا ہوں پھر مجھے کہیں اور جانا ہے۔ ہم اس معاہدے کے تحت تمہارے ہاں قیام کرتے ہیں جس
کے تحت تمہیں یہ قلعہ دیا گیا تھا۔ یہ ہماری پناہ گاہ ہے اور ہمارا عارضی پڑائو بھی۔ تم ہماری ہڈیاں غائب کردو تو بھی
تم سے پوچھا جائے گا کہ ہمارا ایک آدمی اور دو لڑکیاں کہاں ہیں''۔ صلیبی نے کچھ سوچا اور کہا…… ''اگر تم صالح الدین
ایوبی کو قتل کردو تو اس جیسی ایک درجن لڑکیاں تمہارے حوالے کردیں گے مگر تم ہماری رقم اور سونا ہضم کرتے رہے،
ایوبی کو قتل نہ کرسکے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے چار فدائی ایوبی کے قتل کے لیے بھیج رکھے ہیں لیکن یہ صرف
افواہ معلوم ہوتی ہے۔ ایوبی ابھی تک زندہ ہے اور فاتح ہے''۔
یہ افواہ نہیں''۔ سنان نے نشے اور غصے سے لرزتے ہوئے کہا…… ''میں نے چار آدمی بھیج رکھے ہیں۔ چند دنوں میں ''
تم خبر سنو گے کہ صالح الدین ایوبی قتل ہوگیا ہے''۔
پھر میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں ہمارے حکمرانوں سے جو انعام واکرام مال ہے ،اس کے عالوہ میں تمہیں اس ''
(لزا) جیسی دو لڑکیاں اپنی طرف سے دوں گا''۔
وہ دیکھا جائے گا''…… سنان نے کہا…… ''میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ اس لڑکی کو تم میری خواب گاہ سے باہر لے ''
جاسکتے ہو ،اسے قلعے سے باہر نہیں لے جاسکو گے۔ جائو ،انہیں لے جائو۔ میں نے قلعے میں صلیبیوں کے لیے جو کمرے
الگ کررکھے ہیں ،وہاں چلے جائو۔ کھائو ،پیو ،عیش کرو اور مجھے سوچ کر جواب دو کہ یہ لڑکی میرے حوالے کرو گے یا
نہیں''۔
صلیبی دونوں لڑکیوں کو ساتھ لیے باہر نکل گیا۔ یہ صلیبی جاسوسی اور تخریب کاری کے محکمے کا افسر تھا۔ وہ مسلمانوں
کے عالقوں میں گھومتا پھرتا رہا تھا اور اب واپس اپنے عالقے میں جارہا تھا۔ عصیات کے قلعے میں صلیبیوں کے لیے عارضی
قیام کا انتظام کیا گیا تھا جو صلیبی جب چاہتا ،اس قلعے میں آسکتا تھا۔ تھیریسیا بھی اسی سہولت کے تحت لزا اور الناصر
کے ساتھیوں کو یہاں الئی تھی اور یہ صلیبی بھی ذرا آرام کے لیے یہاں آیا تھا۔ ایک دو روز بعد اسے آگے چلے جانا تھا۔
قلعے میں آتے ہی اسے کسی نے بتایا کہ دو صلیبی لڑکیاں آئی ہیں جو اس وقت شیخ سنان کے پاس ہیں۔ وہ انہیں دیکھنے
کے لیے اندر چال گیا اور سنان کے ساتھ گرما گرمی کے بعد دونوں لڑکیوں کو وہاں سے لے آیا۔
اس کے جانے کے بعد شیخ سنان نے اپنے خاص آدمی کو بال کر کہا… ''یہ صلیبی اور یہ دونوں لڑکیاں ہماری قیدی نہیں ہیں
لیکن انہیں ان کی مرضی سے قلعے سے نکلنے نہ دیا جائے۔ انہیں اس حق سے محروم کردیا جائے کہ جب چاہیں قلعے میں
آجائیں ،جب چاہیں نکل جائیں۔ ان پر نظر بھی رکھنا…… اور گمشتگین جب چاہے ان چار قیدیوں کو اپنے ساتھ لے جاسکتا
ہے جنہیں آج یہ لڑکیاں باہر سے الئی ہیں''۔
صلیبی کو بتایا گیا کہ حرن کا والی گمشتگین بھی آیا ہوا ہے اور وہ صالح ا لدین ایوبی کے قتل کا انتظام کرتا پھر رہا ہے۔
اسے الناصر اور اس کے ساتھیوں کے متعلق بتایا گیا۔ صلیبی لڑکیوں کو قلعے کے اس حصے میں لے گیا ،جہاں عارضی طور پر
آنے والے صلیبیوں کے لیے کمرے مخصوص کیے گئے تھے۔
٭ ٭ ٭
سلطان صالح الدین ایوبی نے سیف الدین کے ساالر مظفرالدین کا حملہ جس طرح پسپا اور اس کی فوج کو جس طرح تہس
نہس کیا تھا ،وہ پوری تفصیل سے سنایا جاچکا ہے۔ مظفرالدین میدان جنگ سے غائب ہوگیا تھا۔ سلطان ایوبی کی فوج نے جو
قیدی پکڑے ان میں سیف الدین کا ایک مشیر فخرالدین بھی تھا جو موصل میں اس کا وزیر بھی رہ چکا تھا۔ سلطان ایوبی
فخرالدین کو جنگی قیدیوں سے الگ کرکے اپنے خیمے میں لے گیا اور اسے اسی عزت واحترام سے رکھا جس کا وہ حق دار
تھا۔ مال غنیمت تقسیم کرکے سلطان ایوبی نے پہال فیصلہ یہ کیا کہ پیش قدمی یعنی بھاگتے دشمن کا تعاقب نہیں کیا جائے
گا۔ بعض مورخین نے سلطان ایوبی کے اس فیصلے کو اس کی جنگی لغزش کہا ہے لیکن تاریخ اسالم کا یہ مجاہد بہت دور
کی سوچا کرتا تھا۔ یہ صحیح ہے کہ وہ دشمن کی فوج کا تعاقب کرتا تو اس کی فوج کو وہ ہمیشہ کے لیے ختم کردیتا اور
اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ سلطان ایوبی کے مسلمان دشمن اس کے قدموں میں گر پڑتے۔
تعاقب نہ کرنے کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ مظفرالدین کے ساتھ اس نے جو معرکہ لڑا تھا ،اس میں اسے فتح بہت مہنگی
پڑی تھی۔ اس کی فوج کا جانی نقصان بہت ہوا تھا۔ زخمیوں کی تعداد زیادہ تھی۔ اس لیے وہ پیش قدمی کے قابل نہیں تھا۔
اگر وہ پیش قدمی کرنے کا فیصلہ کرتا تو وہ اپنے محفوظہ کو استعمال کرسکتا تھا لیکن اس نے ایسا فیصلہ نہ کیا جس کی
وجہ یہ بھی تھی کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا اور زیادہ خون بہے۔ وہ اپنی قوم کو مزید خون ریزی
سے بچانا چاہتا تھا۔
سلطان ایوبی اس جگہ کھڑا تھا ،جہاں سیف الدین کی ذاتی خیمہ گاہ تھی۔ اس میں سے جو کچھ برآمد ہوا ،وہ بیان کیا
جاچکا ہے۔ سیف الدین کو اپنا خیمہ بذات خود بہت قیمتی تھا۔ یہ ریشمی کپڑوں کا محل تھا۔ قناتیں اور شامیانے ریشمی
تھے ،پردے ریشمی تھے۔ اس کے اندر کھڑے ہوکر شیش محل کا گماں ہوتا تھا۔ سیف الدین کا ایک بھتیجا ،عزالدین فرخ شاہ
سلطان ایوبی کی فوج میں ساالر تھا۔ یہ عجیب جنگ تھی اور عجیب دشمنی کہ بھتیجا چچا کے خالف لڑ رہا تھا۔ اس کے
عالوہ اور بھی کئی ایک فوجی تھے جو اپنے خون کے رشتوں کے خالف لڑ رہے تھے۔ سلطان ایوبی نے سیف الدین کی یہ
خیمہ گاہ دیکھی تو اس نے اس کے بھتیجے عزالدین کو بالیا اور مسکرا کر کہا…… ''اپنے چچا کی جائیداد کے وارث تم ہو،
میں اس کا خیمہ تمہیں پیش کرتا ہوں۔ یہ سمیٹ لو''۔
سلطان ایوبی نے مسکرا کر اسے خیمہ پیش کیا تھا مگر عزالدین کے آنسو نکل آئے۔ قاضی بہائوالدین شداد نے اپنی یادداشتوں
میں اس واقعہ کا ذکر جذباتی انداز میں کیا ہے۔ اس کے مطابق ،سلطان ایوبی نے عزالدین کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر
کہا…… '' عزالدین! تمہارے جذبات کو میں اچھی طرح سمجھتا ہوں ،لیکن قرآن کا حکم مانو۔ اگر میرا بیٹا شرک کا اور جہاد
کے راستے میں فسق وفجور کا مرتکب ہوگا تو میری تلوار اس کا سرقلم کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ تم اپنے شکست خوردہ
چچا کا خیمہ دیکھ کر آنکھوں میں آنسو لے آئے ہو ،میں اپنے شکست خوردہ بیٹے کا کٹا ہوا سر دیکھ کر بھی آنسو نہیں
بہائوں گا''۔
سلطان ایوبی نے اس مقام سے ذرا آگے جاکر لمبے عرصے کے لیے پڑائو ڈال دیا۔ یہ پہاڑی عالقہ تھا۔ اس کا نام ''کو ِہ
سلطان'' مشہور ہوگیا۔ تاریخ میں بھی کو ِہ سلطان آیا ہے۔ وہاں سے حلب پندرہ میل دور تھا۔ حلب کے متعلق پہلے تفصیل
سے سنایا جاچکا ہے۔ الملک الصالح نے اس شہر کو اپنا دارالحکومت اور مستقر بنا لیا تھا اور اب یہ متحدہ افواج کا ہیڈکوارٹر
بن گیا تھا۔ یہ بھی سنایا جاچکا ہے کہ اس شہر کا دفاع اتنا مضبوط اور یہاں کے لوگ (جو سب مسلمان تھے) اتنے دلیر
اور جنگجو تھے کہ سلطان ایوبی کا محاصرہ ناکام ہوگیا تھا۔ اب سلطان ایوبی ایک بار پھر اس اہم شہر کو محاصرے میں لینا
اور اس پر قبضہ کرنا چاہتا تھا لیکن اب کے وہ اپنا اڈا مضبوط کرکے آگے بڑھنے کی سکیم بنا رہا تھا۔
راستے میں دو قلعے تھے۔ ایک کا نام منبج اور دوسرے کا بوزا تھا۔ بعض تاریخوں میں منبج کو ممبس بھی لکھا گیا ہے۔ ان
دونوں قلعوں کے امراء خودمختار مسلمان تھے۔ ایسے کئی اور قلعے اور کئی جاگیریں تھیں جن پر مسلمانوں کی حکمرانی تھی۔
اس طرح سلطنت اسالمیہ قلعہ ،جاگیروں اور ریاستوں میں بنی ہوئی تھی۔ سلطان ایوبی بکھرے ہوئے ان ذروں کو یکجا کر کے
ایک سلطنت بنانا اور اسے ایک خالفت کے تحت النا چاہتا تھا۔ دشواری یہ تھی کہ یہ امراء اور جاگیردار اپنی الگ الگ
حیثیت قائم رکھنے کے لیے خواہش مند تھے۔ وہ اپنی بقاء کے لیے صلیبیوں تک سے مدد لے لیاکرتے تھے۔
سلطان ایوبی نے ایک پیغام بوزا کے امیر کے نام لکھا اور دوسرا منبج کے امیر کے نام۔ بوزا کو عزالدین کو روانہ کیا اور :
منبج کو سیف الدین کے مشیر فخرالدین کو۔ فخرالدین جنگی قیدی تھا لیکن سلطان ایوبی نے عزت واحترام سے اس کا دل
جیت لیا تھا اور فخرالدین نے سلطان ایوبی کی اطاعت قبول کرلی تھی۔ سلطان ایوبی نے جب اسے اپنا خاص ایلچی بنا کر
منبج جانے کو کہا اور اسے یہ اختیارات بھی دئیے کہ وہ اس کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ قلعہ حاصل کرنے کی بات چیت
کرے تو فخرالدین نے اسے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔
کیا آپ مسلمان نہیں ہیں؟''… …سلطان ایوبی نے اسے کہا…… ''آپ نے مجھے یوں حیرت سے دیکھا ہے ،جیسے میں ''
کسی کافر کو اپنا ایلچی اور نمائندہ بنا کر بھیج رہا ہوں۔ کیا آپ کو مجھ پر بھروسہ نہیں یا اپنے ایمان پر اعتماد نہیں؟……
میں منبج کا قلعہ لینا چاہتا ہوں۔ آپ اس کے امیر کو میرا پیغام پہنچا دیں اور اسے قائل کریں کہ خون خرابے کے بغیر قلعہ
ہمیں دے دے اور اپنی فوج ہماری فوج میں شامل کردے''۔
عزالدین اور فخرالدین روانہ ہوگئے۔
٭ ٭ ٭
بوزا کے امیر نے عزالدین کا استقبال تپاک سے کیا۔ سلطان ایوبی کا پیغام پڑھا۔ اس میں لکھا تھا…… ''میرے عزیز بھائی!
ہم ایک خدا اور ایک رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ایک قرآن کے پرستار ہیں مگر ہم سب اس طرح بکھر گئے ہیں
جس طرح ایک جسم کے اعضاریگزار کی ریت پر بکھرے پڑے ہوں۔ کیا یہ جسم حرکت کرسکتا ہے؟ کسی کام آسکتا ہے؟ اس
جسم کا فائدہ صلیبیوں کو پہنچ رہا ہے جو کٹے ہوئے اعضا کو گدھوں کی طرح کھا رہے ہیں۔ ہمیں ایک امت کی صورت متحد
ہونا ہے ،ورنہ ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہ سکے گا۔ میں آپ کو ایک امت کی صورت میں متحد ہونے کی دعوت
دیتا ہوں۔ اپنی موجودہ حیثیت پر غور کریں۔ آپ اپنی امارات کو زندہ رکھنے کے لیے اپنے دشمن کے آگے بھی ہاتھ پھیال
دیتے ہیں۔ میں آپ تک قرآن کا فرمان پہنچا رہا ہوں۔ اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ پہلی ضرورت
یہ ہے کہ اپنا قلعہ سلطنت اسالمیہ کی ملکیت میں دے دیں اور میری اطاعت قبول کرلیں۔ اس صورت میں آپ کی فوج
میری فوج میں مدغم ہوجائے گی۔ آپ قلعہ دار ہوں گے اور قلعے پر سلطنت اسالمیہ کا جھنڈا لہرائے گا۔ اگر آپ کو یہ
صورت قبول نہ ہو تو میری فوج کے محاصرے میں لڑنے کی تیاری کرلیں اور اپنے سامنے حلب ،موصل اور حرن کی متحدہ
فوج کی بربادی اور پسپائی رکھیں ،آپ کو فیصلہ کرنے میں سہولت ہوگی۔
20:44
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔108لڑکی نے اپنی الش دیکھی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آپ کو فیصلہ کرنے میں سہولت ہوگی۔ میری پیش کش قبول کرلیں اور مجھ سے بہتر سلوک کی توقع رکھیں۔ میری آپ کے
ساتھ کوئی دشمنی نہیں۔ میں جو کچھ کررہا ہوں ،احکام خداوندی کے تحت کررہا ہوں''۔
بوزا کے امیر نے یہ پیغام پڑھا تو عزالدین کی طرف دیکھا۔ عزالدین نے کہا…… ''آپ کا قلعہ مضبوط نہیں اور آپ کی فوج
بہت تھوڑی ہے۔ اس فوج کو ہمارے ہاتھوں نہ مروائیں''۔
بوزا کے امیر نے پیشکش قبول کرلی اور سلطان ایوبی کے نام تحریری پیغام دیا کہ وہ آئے اور قلعہ لے لے۔
منبج کے امیر نے بھی اطاعت قبول کرلی۔ فخرالدین نے اس سے پیغام لکھوا لیا اور واپس چال گیا۔
ونوں قلعوں میں گیا۔ وہاں جو فوجیں تھیں ،انہیں قلعے سے نکال کر اپنی فوج میں شامل کرلیا اور aسلطان ایوبی خود د
اپنے دستے قلعوں میں بھیج دئیے۔ دونوں قلعوں میں اس نے رسد وغیرہ رکھ دی لیکن فوج کو قلعہ بند نہ کیا۔ حلب کے
قریب اعزاز نام کا ایک مضبوط قلعہ تھا۔ اس قلعے کے دفاعی انتظامات حلب والوں نے اپنے ذمہ لے رکھے تھے۔ اس کے
قلعہ دار یا امیر نے اپنی وفاداری حلب یعنی الملک الصالح کو دے رکھی تھی۔ سلطان ایوبی حلب کا محاصرہ کرنے پہلے اس
قلعے کو بھی لڑے بغیر لینا چاہتا تھا۔ اس نے اپنے ایک ساالر الحمیری کو تحریری پیغام کے ساتھ اعزاز کو روانہ کیا۔
اعزاز کے امیر نے سلطان ایوبی کا پیغام پڑھا۔ اس پیغام کے بھی الفاظ وہی تھے جو بوزا اور منبج کے امراء کو لکھے گئے
تھے۔ اعزاز کے امیر نے پیغام الحمیری کی طرف پھینک کر کہا…… ''تمہارا سلطان خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے نام پر ساری دنیا کا بادشاہ بننے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ اسے کہنا کہ تم نے حلب کا محاصرہ کرکے دیکھ لیا تھا۔ اب
اعزاز کا محاصرہ کرکے دیکھو''۔
کیا آپ مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا خون بہانا پسند کریں گے؟''…… الحمیری نے کہا…… ''کیا آپ پسند کریں گے کہ ''
''ہم آپس میں لڑیں اور صلیبی ہمارا تماشاہ دیکھیں؟
اپنے سلطان سے کہو کہ جاکر صلیبیوں سے لڑے''…… اعزاز کے امیر نے کہا۔''
''کیا آپ صلیبیوں سے نہیں لڑیں گے؟''…… الحمیری نے پوچھا…… ''کیا آ پ انہیں اپنا دشمن نہیں سمجھتے؟''
اس وقت ہم سلطان صالح الدین ایوبی کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں جس نے ہمیں للکارا ہے''…… امیر نے کہا…… ''وہ ہم''
سے یہ قلعہ بزور شمشیر لینا چاہتا ہے''۔
الحمیری اسے قائل نہ کرسکا۔ اس نے الحمیری کی ذرہ بھر عزت نہ کی اور اسے چلے جانے کو کہا۔
عصیات کے قلعے میں صلیبی گمشتگین کے پاس بیٹھا تھا۔ تھیریسیا اور لزا بھی اس کے ساتھ تھیں۔ گمشتگین اور صلیبی کی
پہلے سے جان پہچان تھی…… صلیبی نے کہا…… ''سنا ہے آپ صالح الدین ایوبی کو قتل کراتے کراتے سیف الدین کے قتل
کا ارادہ کربیٹھے ہیں''۔
کیا آپ نے سنا نہیں کہ سیف الدین نے کیسی بزدلی اور جنگی نااہلی کا مظاہرہ کیا ہے؟''…… گمشتگین نے کہا…… ''یہ''
لڑکیاں بتاتی ہیں کہ اس نے ہماری تینوں فوجوں کا ایسا برا حال کرالیا ہے کہ اب ہم بڑے لمبے عرصے کے لیے لڑنے کے
قابل نہیں رہے۔ میں بکھری ہوئی فوجوں کو اکٹھا کرکے ایوبی کو حلب سے دور روکنا چاہتا ہوں اگر سیف الدین زندہ رہا تو
وہ خفت مٹانے کے لیے ایک بار پھر کمان لینے کی ضد کرے گا اور ہمیں ایک اور شکست ہوگی۔ کیوں نہ اسے ٹھکانے لگا
دیا جائے''۔
سیف الدین اتنی اہم شخصیت نہیں ،جتنا آپ سمجھ رہے ہیں''…… صلیبی نے کہا…… ''جو ہم جانتے ہیں ،وہ آپ نہیں ''
جانتے۔ ہم آپ کے ہر ایک دوست اور ہر ایک دشمن کو آپ سے زیادہ جانتے ہیں ،اسی لیے ہم نے آپ کو اپنے مشیر اور
اپنے جاسوس دے رکھے ہیں۔ میں جو ایوبی کے عالقوں میں بھیس بدل بدل کر اور اپنے آپ کو خطروں میں ڈال کر مارا مارا
پھر رہا ہوں ،وہ صرف آپ کی بقا اور آپ کی ریاست کی توسیع کے لیے ہے۔ میں جو حاالت دیکھ آیا ہوں ،ان کا تقاضا
صرف یہ ہے کہ صالح الدین ایوبی کو قتل کیا جائے۔ نورالدین زنگی مرگیا تو آپ سب آزاد ہوگئے۔ آپ قلعہ دار سے
خودمختار حکمران بن گئے۔ ایوبی مرگیا تو آپ اس سے دگنے عالقے کے حکمران بن جائیں گے جو آپ کے پاس ہے۔ جنگ
وجدل کا خطرہ ہمیشہ کے لیے ٹل جائے گا۔ میں تریپولی جارہا ہوں۔ آپ کی فوج نے گھوڑوں اور اونٹوں کا جو نقصان اٹھایا
ہے ،وہ میں بہت جلدی پورا کردوں گا۔ ہتھیار بھی بھجوائوں گا۔ ہمت نہ ہاریں۔ ایوبی مرگیا تو ہم آپ کو اتنی مدد دیں گے
کہ آپ سیف الدین ،الملک الصالح اور دوسرے تمام خودمختار امراء پر چھا جائیں گے اور آپ کو وہی حیثیت حاصل ہوجائے
گی جو آج صالح الدین ایوبی کو حاصل ہے''۔
اقتدار کی ہوس اور عیش پرستی نے گمشتگین کی عقل پر پردہ ڈال رکھا تھا۔ اس کی عقل میں اتنی سی بات نہیں آرہی
تھی کہ یہ صلیبی اپنی قوم کا نمائندہ ہے
اور وہ جو کچھ کہہ رہا ہے اور کررہا ہے ،وہ اپنے قومی مقاصد کی خاطر کہہ اور کررہا ہے۔ یہ بہت بڑاجاسوس اور تخریب :
کار تھا جو یہ دیکھتا پھر رہا تھا کہ سلطان ایوبی کے طوفان کو کس طرح روکا جاسکتا ہے۔ ہر میدان میں شکست کھا کر
صلیبیوں نے یہی طریقہ بہتر جانا تھا کہ سلطان ایوبی کو قتل کرادیا جائے اور مسلمان حکمرانوں کو ایک دوسرے کا بھی
دوست نہ رہنے دیا جائے ،تاکہ سلطان ایوبی کے مرنے کے بعد یہ آپس میں لڑتے لڑتے ختم ہوجائیں اور صلیبیوں کو جنگ
وجدل کے بعد دنیائے عرب کی حکمرانی مل جائے۔ اسی مقصد کی تکمیل کے لیے انہوں نے مسلمان امراء کے دماغوں میں
زرپرستی اور بادشاہی کا کیڑا ڈال دیا تھا۔
صالح الدین ایوبی کے قتل سے تو شیخ سنان بھی دست بردار ہوگیا ہے''…… گمشتگین نے کہا…… ''وہ کہتا ہے کہ اس ''
نے چار اور فدائی بھیج رکھے ہیں لیکن وہ پرامید نظر نہیں آتا''۔
اتنے زیادہ قاتالنہ حملے ناکام ہونے کے بعد سنان کو ایوبی کے قتل سے دستبردار ہی ہوجانا چاہیے''…… صلیبی نے کہا……''
''ان حملوں کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ فدائی حشیش کے نشے میں جاتے ہیں۔ ایوبی کو صرف وہ آدمی
قتل کرسکتا ہے جو ہوش میں ہو اور دل کی گہرائیوں سے محسوس کرے کہ اسے صالح الدین ایوبی کو اپنے ذاتی یا قومی
جذبے سے قتل کرنا ہے۔ آپ شاید انسانی فطرت کو نہیں سمجھتے۔ ایوبی پر جو قاتالنہ حملہ کرنے جاتا ہے ،اس پر نشے کا
اثر ہوتا ہے۔ جوں ہی آگے سے مزاحمت ہوتی ہے نشہ اتر جاتا ہے اور حملہ آور اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس
کے بجائے آپ کسی کو جذبات سے اندھا کرکے اور اس کے دل میں ایوبی کی نفرت پیدا کرکے اس کے قتل کے لیے بھیجیں
تو وہ اسے قتل کرکے ہی رہے گا''۔
شیخ سنان نے مجھے صالح الدین ایوبی کے چار چھاپہ مار دئیے ہیں''…… گمشتگین نے کہا…… ''اور کہا ہے کہ انہیں ''
تیار کرکے ان سے سیف الدین کو قتل کرائوں۔ یہ چھاپہ مار سیف الدین کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ اس لیے یہ اسے قتل
کرنے میں خوشی محسوس کریں گے۔ میں انہیں موقع فراہم کروں گا۔ سیف الدین کو موت کے جال میں النا میرا کام ہے''۔
کیوں نہ انہی کو صالح الدین ایوبی کے قتل کے لیے تیار کیا جائے؟''…… صلیبی نے کہا…… ''لیکن انہیں حشیش یا کوئی''
اور نشہ نہ دیا جائے ،ان پر جذباتیت کا نشہ طاری کیا جاسکتا ہے''۔
صلیبی نے تھیریسیا اور لزا کی طرف دیکھا اور مسکرایا۔لزا نے کہا…… ''میں چھاپہ ماروں کے کمانڈر کو تیار کرسکتی ہوں جس
کا نام الناصر ہے۔ باقی تین کو آپ سنبھالیں''۔
تم الناصر کو سنبھالو''…… صلیبی نے کہا…… ''دوسروں کو ابھی ان کے حال پر چھوڑ دو جہاں تک میں انسانی فطرت کو''
سمجھتا ہوں ،الناصر خود ہی اپنے ساتھیوں کو سنبھال لے گا''…… اس نے پوچھا…… ''وہ ہیں کہاں؟ انہیں اس جگہ لے آئو۔
الناصر کو الگ کمرہ دو اور اس کے ساتھیوں کو الگ کمرے میں رکھو…… اور تم سب محتاط رہنا۔ سنان نے اس لڑکی پر نظر
رکھی ہوئی ہے۔ یہ لڑکی اسے اتنی پسند آئی ہے کہ اس سے جدا نہیں ہونا چاہتا۔ اس نے مجھے دھمکی دی ہے کہ یہ
لڑکی ( لزا) اس کے حوالے کردوں ورنہ میں اس کا مہمان نہیں قیدی ہوں گا۔ اس نے مجھے سوچنے کی مہلت دی ہے''۔
اس کے متعلق آپ پریشان نہ ہوں''…… گمشتگین نے کہا…… ''میں ان چار چھاپہ ماروں کو اپنے ساتھ لے جارہا ہوں۔'' :
آپ بھی اور یہ لڑکیاں بھی میرے ساتھ چلیں گی''۔
٭ ٭ ٭
الناصر اور اس کے تینوں ساتھیوں کو ان کمروں میں سے ایک میں لے گئے جو صلیبی فوج کے افسروں کے لیے مخصوص تھا۔
الناصر کو الگ کمرہ دیا گیا جو اس نے یہ کہہ کر قبول کرنے سے انکار کردیا کہ وہ اپنے ساتھیوں سے جدا نہیں ہوگا۔ اسے
تھیریسیا اور لزا اپنے جال میں پھانسنے کے لیے الگ رکھنا چاہتی تھیں۔
تم ان کے کمانڈر ہو''…… صلیبی نے اسے کہا…… ''تمہیں اپنے ماتحتوں سے الگ رہنا چاہیے''۔''
ہمارے ہاں اونچ نیچ کا رواج نہیں''…… الناصر نے کہا…… ''ہمارا سلطان اپنی فوج کے ساتھ رہتا ہے۔ میں معمولی سا ''
کمان دار ہوں ،اپنے ساتھیوں سے الگ رہ کر تکبر کا گناہ نہیں کروں گا''۔
ہم تمہاری تعظیم کرنا چاہتے ہیں''…… صلیبی نے کہا…… ''اپنے ہاں جاکر جو جی میں آئے کرنا۔ یہاں تمہیں تمہارے ''
ماتحتوں کے ساتھ رکھ کر ہم تمہاری توہین نہیں کرنا چاہتے''۔
ہمارے چھاپہ مار کمان دار اپنے سپاہیوں کے ساتھ زندہ رہتے ہیں اور ان کے ساتھ مرتے ہیں''…… الناصر نے کہا…… ''ہم''
موت کی منزل کے ہم سفر ہیں۔ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوا کرتے اگر ہم آپ کے مہمان ہوتے تو شاید میں آپ کی بات
مان جاتا۔ ہم آپ کے قیدی ہیں۔ ہماری قسمت ایک ہے جو اذیت اور صعوبت ایک کو ملے گی ،اس سے ہم سب حصہ وصول
کریں گے۔ ایک ساتھی کو زندہ رکھنے کے لیے ہم تین ساتھی اپنی جانیں قربان کردیں گے''۔
کیا تم ہماری قید سے فرار ہونے کی کوشش کروگے؟''…… گمشتگین نے مسکرا کر پوچھا۔''
ہم آزاد ہونے کی کوشش ضرور کریں گے۔ یہ ہمارے فرائض میں شامل ہے''…… الناصر نے کہا…… ''مرکر آزاد ہوجائیں یا تم''
سب کو مار کر۔ ہمیں قید میں رکھنا ہے تو ہمیں زنجیریں ڈال دو ،دھوکے نہ دو۔ ہم میدان کے مرد ہیں۔ ہم سیف الدین اور
گمشتگین جیسے ایمان فروش نہیں ہیں''۔
میں گمشتگین ہوں''…… گمشتگین نے کہا…… ''حرن کا خودمختار حکمران۔ تم نے مجھے ایمان فروش کہا ہے''۔''
میں آپ کو ایک بار پھر ایمان فروش کہتا ہوں''۔ الناصر نے کہا…… ''میں آپ کو غدار بھی کہتا ہوں''۔''
لیکن اب میں ایمان فروش ہوں نہ غدار''…… گمشتگین نے الناصر کو دھوکہ دینے کے لیے جھوٹ بوال…… ''دیکھ لو ،جنگ''
ترکمان میں لڑی جارہی ہے اور میں یہاں ہوں۔ اگر میں تمہارا دشمن ہوتا تو تمہیں اس طرح آزاد نہ رہنے دیتا جس طرح اب
ہو۔ سیف الدین اور الصالح سے الگ ہوچکا ہوں۔ تمہیں عزت اور تعظیم سے اس قلعے سے لے جارہا ہوں اور عزت سے
رخصت کروں گا۔ تم ہوتو معمولی سے کمان دار لیکن تمہارے سینے میں صالح الدین ایوبی کی عظمت اور جذبہ ہے''۔
لیکن میں اپنے ساتھیوں سے الگ نہیں رہوں گا''…… الناصر نے کہا…… ''مجھ سے یہ گناہ نہ کرائیں''۔''
نہ سہی''…… صلیبی نے کہا…… ''اپنے ساتھیوں کے ساتھ رہو''۔''
اس وقت اس کے ساتھی ایک کشادہ اور خوش نما کمرے میں تھے جہاں نرم وگداز بستر بچھے ہوئے تھے۔ وہاں ایک خادم
بھی تھا جس سے ان تینوں نے پوچھا تھا کہ یہ قلعے کا کون سا حصہ ہے اور یہاں کیا ہوتا ہے۔ خادم نے انہیں بتایا کہ یہ
مہمانوں کے کمرے ہیں۔ یہاں صرف وہ مہمان رکھے جاتے ہیں جو اونچے رتبے کے باعزت لوگ ہوتے ہیں۔ یہ تینوں چھاپہ مار
دیکھ رہے تھے کہ ان کے ساتھ قیدیوں واال سلوک نہیں ہورہا۔ وہ بہت تھکے ہوئے تھے۔ ایسے نرم بستروں پر انہیں فورا ً نیند
آگئی اور وہ گہری نیند سوگئے۔
٭ ٭ ٭
صلیبی اور گمشتگین نے الناصر کو بہت دیر اپنے ساتھ رکھا ،اس کے ساتھ عزت سے پیش آتے ہوئے ایسی باتیں کرتے رہے
جن سے الناصر کے جذبے کی تیزی اور تندی کچھ کم ہوگئی۔ یہ ان دونوں کی کامیابی کا پہالقدم تھا۔ لزا اس کمرے سے
نکل گئی تھی۔ الناصر اس وقت اس کمرے سے نکال جب اس کے ساتھی گہری نیند سوگئے تھے۔ وہ برآمدے میں جارہا تھا۔
ایک نسوانی آواز نے اسے سرگوشی میں پکارا۔ وہاں اندھیرا تھا۔ وہ رک گیا۔ ایک تاریک سایہ آگے آیا۔ یہ لزا تھی جس نے
''الناصر کا بازو پکڑ کر کہا…… ''اب تمہیں یقین آگیا ہے کہ میں جن نہیں انسان ہوں؟
مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ یہ کیا ہورہا ہے''…… الناصر نے جھنجھالہٹ سے کہا…… ''میں قیدی ہوں اور میری یوں''
عزت کی جارہی ہے ،جیسے میں شہزادہ ہوں''۔
تمہاری حیرت بجا ہے''…… لزا نے کہا…… ''ذرا سمجھنے کی کوشش کرو ،گمشتگین نے تمہیں بتا دیا ہے کہ اس نے ''
صالح الدین ایوبی کی دشمنی ترک کردی ہے۔ اب وہ ایوبی کے کسی فوجی کو جنگی قیدی نہیں سمجھتا۔ تم اور تمہارے
ساتھی خوش قسمت ہیں کہ تم یہاں آئے ہو اور گمشتگین یہاں تھا۔ دوسری وجہ میری ذات ہے۔ تم میری حیثیت اور رتبے کو
اعلی حکام کی تفریح کا ذریعہ بنتی ہوں۔ یہ سب غلط
نہیں جانتے۔ میں تمہاری نظر میں بدکار لڑکی ہوں جو حکمرانوں اور
ٰ
ہے اور تمہارا وہم ہے''۔
قلعے کا یہ حصہ خوش نما تھا۔ کھال میدان تھا جس کے وسط میں چٹانیں تھیں۔ ان کے اردگرد سبزہ تھا۔ سبزے میں پھول
دار پودے اور درخت تھے۔ قلعہ بہت وسیع وعریض تھا۔ لزا الناصر کو باتوں میں الجھا کر کمروں سے دور چٹان کے دامن میں
لے گئی ،جہاں پھولوں کی مہک تھی۔ وہ جب ادھر جارہے تھے ،اس وقت صلیبی اور تھیریسیا ایک دیوار کے ساتھ کھڑے
چھپ کر دیکھ رہے تھے۔
لزاا سے قابو میں لے لے گی''…… صلیبی نے کہا۔''
لڑکی جذباتی ہے''… تھیریسیا نے کہا…… ''اپنے فرائض سے گھبرا کر اسی کے پاس جا بیٹھی تھی۔ اتنی کچی بھی ''
نہیں''۔
اس عمر میں اسے باہر کی ڈیوٹی پر نہیں بھیجنا چاہیے تھا''…… صلیبی نے کہا…… ''ہم ساتھ ہیں کوئی گڑبڑ نہیں کرے''
گی''۔
لزا الناصر سے کہہ رہی تھی…… ''تم نے مجھ سے پوچھا تھا کہ میں تم پر اتنی مہربان کیوں ہوگئی ہوں۔ تم نے مجھے اپنا
دشمن سمجھ کر یہ بات پوچھی تھی۔ میں تمہیں یقین نہیں دال سکتی کہ دشمنی تمہارے اور میرے بادشاہوں کے درمیان ہے۔
''میری اور تمہاری کیا دشمنی ہوسکتی ہے؟
اور دوستی بھی کیا ہوسکتی ہے؟''…… الناصر نے پوچھا۔''
لزا نے گہری آہ بھری بازو الناصر کے کندھوں پر رکھ کر کہا…… ''تم پتھر ہو۔ میں نے سنا تھا کہ مسلمانوں کے دل ریشم
کی طرح نرم ہوتے ہیں۔ مذہب کو ذرا دیر کے لیے الگ رکھ دو۔ اپنے آپ کو مسلمان اور مجھے عیسائی نہ سمجھو۔ ہم
دونوں انسان ہیں۔ ہمارے سینوں میں دل ہیں۔ کیا تمہارے دل میں کوئی خواہش ،کوئی پسند اور کسی چیز سے پیار نہیں ہے؟
ہے اور ضرور ہے۔ تم مرد ہو۔ تم اپنے دل پر قابو پاسکتے ہو۔ مجھ میں اتنی ہمت نہیں۔ میرا دل بے قابوہوگیا ہے۔ تم میرے
دل میں اتر گئے ہو۔ ہم تمہیں نشے کی حالت میں قلعے میں الئیں تو شیخ سنان نے حکم دے دیا کہ ان چاروں کو تہہ
خانے میں بند کردو۔ اگر تمہیں وہاں لے جاتے تو وہاں سے الش بن کر نکلتے۔ میں تم جیسے خوبصورت جوان کا یہ انجام
برداشت نہیں کرسکتی تھی۔ میں نے شیخ سنان سے کہا کہ یہ تمہارے نہیں ہمارے قیدی ہیں اور یہ تحویل میں رہیں گے۔
اس بوڑھے کے ساتھ مجھے اور تھیریسیا کو بہت دیر جھک جھک کرنی پڑی۔ اس نے ایک شرط بتائی ،کہنے لگا…… ''تم
انہیں تہہ خانے سے بچانا چاہتی ہو تو میری خواب گاہ میں آجائو''…… میرے دل میں اس بوڑھے کے خالف نفرت پیدا
ہوگئی۔ میں نے پس وپیش کی تو اس نے کہا…… ''یہ چاروں تہہ خانے میں جائیں گے یا تم میری خواب گاہ میں
آئوگی''…… مجھے بڑی شدت سے محسوس ہوا کہ میں تمہیں آج سے نہیں ،بچپن سے چاہتی ہوں اور میں تمہاری خاطر اپنا
جسم ،اپنی جان اور اپنی آبرو قربان کردینے کی ہمت رکھتی ہوں''۔
کیا تم نے اپنی آبرو قربان کردی ہے؟''…… الناصر نے تڑپ کر پوچھا۔''
نہیں''…… لزا نے کہا…… ''میں نے اسے وعدے پر ٹاال ہے۔ اس نے مجھے یہ کہہ کر مہلت دے دی ہے کہ ہم قلعے میں
آزاد رہیں گے لیکن ہم اس کے قیدی ہوں گے''۔
میں تمہاری آبرو کی حفاظت کروں گا''…… الناصر نے کہا۔''
کیا تم نے میری محبت کو قبول کرلیاہے؟''…… لزا نے بھولے بھالے لہجے میں پوچھا۔''
الناصر نے کوئی جواب نہ دیا۔ یہ تو اسے ٹریننگ میں بتایا گیا تھا کہ صلیبی لڑکیاں حسن وجوانی اور حسین فریب کا جال
کس طرح بچھایا کرتی ہیں لیکن یہ زبانی ہدایات تھیں جن کی حیثیت وعظ سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں تھی۔ اسے ایسے
جال سے بچنے کی عملی ٹریننگ نہیں دی گئی تھی ،نہ دی جاسکتی تھی۔ اب ایک صلیبی لڑکی نے جال بچھایا تو انسانی
فطرت کی کمزوریاں الناصر کی ذات سے ابھر آئیں اور اس کی عقل ودانش پر غالب آنے لگیں۔ وہ ریگزاروں اور بیابانوں میں
موت کے ساتھ کھیلنے واال انسان تھا۔ اس کے احساسات ریت میں دبے رہتے تھے۔ اس نے لزا جیسی دلکش لڑکی کبھی نہیں
دیکھی تھی۔ جہاں تک دیکھنے کا تعلق تھا ،لزا کے حسن اور طلسماتی اثر والے جسم نے اس پر کچھ اثر نہیں کیا تھا مگر
اب لزا کے کھلے بکھرے ہوئے ریشم جیسے مالئم بال اس کے ایک گال سے کبھی اس کے بازو سے مس کرجاتے تھے۔ اس
کے وجود میں لہر سی دوڑ جاتی اور وہ ہر بار اپنے جسم کے اندر لرزہ سا محسوس کرتا تھا۔
کئی بار ایسے ہوا تھا کہ دشمن کے تیر اس کے جسم کو چھوتے ہوئے گزر گئے تھے۔برچھیوں کی انیوں نے اس کی کھال چیر
دی تھی۔ وہ کبھی ڈرا نہیں تھا۔ جسم کو چھو کر گزرتے تیروں اور برچھیوں نے اس کے جسم پر ایک ثانیے کے لیے بھی
لرزہ طاری نہیں کیا تھا۔ موت کئی بار اس کے ساتھ لگ کر گزر گئی تھی۔ اس کے احساسات میں ذرا سی بھی ہلچل پیدا
نہیں ہوئی تھی۔ وہ اپنے ہاتھوں لگائی ہوئی آگ کے شعلوں میں سے بھی گزرا تھا مگر کمزور سی ایک لڑکی کے بالوں کے
لمس سے اس کے وجود میں بھونچال آگیا۔ اس نے اس لمس سے بچنے کی ویسی کوشش نہ کی جیسی وہ تیروں اور
برچھیوںسے بچنے کے لیے کیا کرتا تھا اور جب لزا اس کے اور زیادہ قریب ہوگئی تو الناصر نے کہا
ہاں!''…… الناصر نے مخمور آواز میں کہا…… ''میں نے تمہاری محبت کو قبول کرلیا ہے لیکن اس کا انجام کیا ہوگا؟ کیا''
''تم مجھے یہ کہو گی کہ میں تمہارے ساتھ چلوں؟ اپنا مذہب چھوڑ دوں اور تم میرے ساتھ شادی کرلوگی؟
میں نے ایسی کوئی بات نہیں سوچی''…… لزا نے کہا…… ''اگر تم نے میرا ساتھ دینے کا ارادہ کرلیا ہے اور تم ہمیشہ ''
کے لیے مجھے اپنی رفیقہ بنانا چاہتے ہو تو میں اپنا مذہب چھوڑ دوں گی۔ تم مجھ سے قربانی مانگو لیکن مجھے وہ محبت
دو جو ناپاک نہ ہو۔ عارضی محبت تو میں جہاں سے چاہوں حاصل کرسکتی ہوں۔ تمہیں میری روح نے چاہا ہے''۔
الناصر پر طلسم طاری ہوچکاتھا۔ رات آدھی سے زیادہ گزر گئی تھی۔ الناصروہاں سے اٹھنا نہیں چاہتا تھا۔ لزا نے اسے کہا کہ
وہ اپنے کمرے میں چال جائے۔ پکڑے جانے کی صورت میں انجام اچھا نہیں ہوگا۔
٭ ٭ ٭
الناصر کمرے میں داخل ہوا تو اس کے ساتھی گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔ وہ لیٹ گیا لیکن اسے نیند نہ آئی۔ لزا اپنے
کمرے میں داخل ہوئی تو تھیریسیا کی آنکھ کھل گئی۔
اتنی دیر؟''…… تھیریسیا نے کہا۔''
تو کیا پتھر ایک پھونک سے موم ہوجایا کرتے ہیں؟''…… لزا نے کہا۔''
اظہار :
ایک دو نئے طریقے بتائے اور دونوں سوگئیں۔ الناصر ابھی تک جاگ رہا تھا۔ تنہائی میں اس نے لزا کی باتوں اور
ِ
محبت پر غور کیا تو اس کا ذہن تقسیم ہوگیا۔ اسے اپنی ٹریننگ یاد آئی جس میں اسے صلیبی لڑکیوں کے جادو بھرے
جھانسوں کے متعلق بتایا گیا تھا۔ لزا اسے حسین فریب نظر آنے لگا لیکن اس کے ذہن میں یہ خیال بھی غالب آجاتا تھا کہ
یہ فریب نہیں۔ جہاں تک جسم اور چہرے مہرے کا تعلق تھا ،الناصر میں بہت کشش اور جاذبیت تھی۔ اپنے ان اوصاف سے
وہ خود بھی آگاہ تھا۔ انسانی فطرت کی کمزوریاں بھی الناصر کو وہم اور وسوسوں اور خوش فہمیوں میں مبتال کررہی تھی۔ وہ
کسی نتیجے پر نہ پہنچا اور اس کی آنکھ لگ گئی۔
اسے ایک آدمی نے جگایا اور کہا کہ اسے تھیریسیا نے اپنے کمرے میں بالیا ہے۔ وہ چال گیا۔ اس کمرے میں تھیریسیا اکیلی
تھی۔
بیٹھو الناصر!''…… تھیریسیا نے کہا…… ''میں تمہارے ساتھ بہت ضروری بات کرنا چاہتی ہوں''…… الناصر اس کے سامنے''
بیٹھ گیاتو تھیریسیا نے کہا …… ''میں تم سے یہ نہیں پوچھوں گی کہ رات لزا تمہیں باہر لے گئی یا تم اسے لے گئے تھے۔
میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ یہ لڑکی بہت بھولی اور معصوم ہے۔ میں جانتی ہوں کہ وہ تمہیں پسند کرتی ہے لیکن میں اسے
اور تمہیں اجازت نہیں دے سکتی کہ اس طرح رات رات بھر باہر بیٹھے رہو۔ لزا کو گمراہ کرنے کی کوشش نہ کرو''۔
میں نے ایسی کوشش نہیں کی''…… الناصر نے کہا…… ''ہم دونوں باتیں کرتے کرتے ذرا دور نکل گئے تھے''۔''
میں لزا کو یہ نہیں کہہ سکتی کہ وہ تمہاری محبت میں ایسی پاگل نہ بنے کہ اسے کسی کا ہوش ہی نہ رہے''…… ''
تھیریسیا نے کہا… ''میں تم سے امید رکھوں گی کہ اس کی کم عمری اور جذباتیت سے فائدہ نہ اٹھائو''۔
لزا تمہاری طرح شہزادی ہے''…… الناصر نے کہا…… ''اور میں تمہارا قیدی ہوں ،میں ایک حقیر انسان ہوں۔ لزا کا مذہب ''
کچھ اور ہے اور میراکچھ اور۔ شہزادی اور قیدی میں اتنی محبت نہیں ہوسکتی''۔
تم عورت کی فطرت سے شاید واقف نہیں''…… تھیریسیا نے کہا…… ''شہزادی اپنے قیدی کو دل دے بیٹھے تو اسے ''
شہزادہ سمجھ کر اپنے آپ کو اس کا قیدی بنا لیا کرتی ہے۔ محبت مذہب کی زنجیریں توڑ دیا کرتی ہے۔ میں اس کے ساتھ
بات کرچکی ہوں۔ وہ کہتی ہے کہ میرا جینا اور میرا مرنا الناصر کے لیے ہے۔ وہ کہے گا کہ اپنا مذہب چھوڑ دو تو میں گلے
سے صلیب اتار کر پھینک دوں گی۔ تم نہیں جانتے الناصر ،لزا نے صرف تمہاری خاطر شیخ سنان کو ناراض کردیا ہے۔ وہ
تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو قید میں ڈال دینا چاہتا ہے لیکن لزا نے اس کے ساتھ دشمنی مول لے کر تمہیں اپنے ساتھ
رکھا ہے۔ سنان نے لزا کو جو شرط بتائی ہے وہ صرف اس لڑکی کے لیے قابل قبول ہوسکتی ہے جسے کسی کی محبت نے
اندھا کررکھا ہو۔ اگر ہم اس قلعے سے جلدی نہ نکل سکے تو لزا یہ شرط مان لے گی''۔
میں ایسا نہیں ہونے دوں گا''…… الناصر نے کہا…… ''میں لزا کی آبرو کی خاطر کٹ مروں گا''۔''
''کیا تمہارے دل میں لزا کی اتنی ہی محبت ہے جتنی اس کے دل میں ہے؟''
اگر وہ لڑکی ہوکر میری محبت کا اعتراف کرتی ہے اور اس کے اظہار سے نہیں ڈرتی تو میں انکار کیوں کرو؟ میں مرد ''
ہوں۔ میرے دل میں لزا کی محبت ہے''۔
میں تم سے صرف یہ التجا کرتی ہوں کہ اسے دھوکہ نہ دینا''…… تھیریسیا نے کہا…… ''تم ہمارے قیدی نہیں ہو'' ،
گمشتگین تمہیں اپنامہمان سمجھ رہا ہے''۔
الناصر کا ذہن جو لزا کے متعلق دو حصوں میں بٹ گیا تھا ،صاف ہوگیا۔ اس پرلزا کی محبت کا نشہ طاری ہوگیا اور وہ اسے
دیکھنے کے لیے بے تاب ہوگیا۔ اس نے تھیریسیا سے پوچھا کہ وہ کہاں ہے۔ تھیریسیا نے اسے بتایا کہ وہ رات بھر جاگتی
رہی ہے ،دوسرے کمرے میں سوئی ہوئی ہے۔ تھیریسیا کا تیر نشانے پرلگا۔ اس نے لزا کے طلسم کو الناصر کی عقل پر پوری
طرح طاری کردیا…… یہی اس کا مقصد تھا۔ یہ لڑکیاں انتہا درجے کی چاالک تھیں۔ یہی ان کی تربیت تھی۔ وہ انسانی
کمزوریوں کے ساتھ کھیلنا خوب جانتی تھیں۔ الناصر وہاں سے اٹھا تو وہ ہوا میں اڑ رہا تھا۔ اپنے کمرے میں گیا تو ساتھیوں
نے اس سے پوچھا کہ وہ کہاں گیا تھا۔ اس نے جھوٹ بوال اور انہیں تسلی دی کہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ وہ اپنے فرض سے
پرے ہٹنے لگا تھا۔
٭ ٭ ٭
صلیبی گمشتگین کے پاس بیٹھا ہواتھا۔ گمشتگین اسے کہہ رہا تھا کہ وہ الناصر اور اس کے ساتھیوں کو ایک دو دنوں میں
حرن لے جانا چاہتاہے۔ اتنے میں تھیریسیا آگئی۔ اس نے ان دونوں سے کہا…… ''ان چھاپہ ماروں کا کمانڈر ہمارے جال میں
آگیاہے''…… اس نے بتایا کہ کس طرح الناصر کے دل پر لزا کا قبضہ مکمل اور پختہ کردیا ہے۔ اس نے کہا…… ''اس آدمی
کو صالح الدین ایوبی کے قتل کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ آدمی کتنے وقت میں اپنی اصلیت
کو بھول کر اپنے سلطان کے قتل کے لیے تیار ہوتا ہے''۔
میں ان چاروں کو ایک دو دنوں میں حرن لے جانا چاہتاہوں''…… گمشتگین نے کہا…… ''کیا تم دونوں یا اکیلی لزا میرے ''
ساتھ چلے گی اور میرے ساتھ رہے گی؟ قتل کے لیے الناصر کو لزا ہی تیار کرے گی''۔
میں لڑکیوں کو اپنے ساتھ لے جارہا ہوں''…… صلیبی نے کہا…… ''میں زیادہ دن رک نہیں سکتا۔ مجھے اپنے حکمرانوں کو''
جلدی یہ اطالع دینی ہے کہ حلب ،موصل اور حرن کی فوجیں بالکل بے کار ہیں اور ان فوجیوں کے ساالر سوائے بھاگنے کے
اور کچھ نہیں جانتے ہیں۔ میں انہیں صورت حال سے آگاہ کرکے صالح الدین ایوبی کو شکست دینے کا کوئی اور طریقہ اختیار
کرنے کا مشورہ دوں گا۔ ہوسکتا ہے کہ ہماری طرف سے آپ لوگوں کوجو مدد ملتی ہے ،وہ بند کردی جائے''۔
ایسا نہ کہو''…… گمشتگین نے منت سماجت کے لہجے میں کہا…… ''مجھے ایک موقعہ دو۔ میں ایوبی کو قتل کرا دوں ''
گا پھر دیکھنا میں کس طرح فاتح بن کر دمشق میں داخل ہوتا ہوں۔ یہ دونوں لڑکیاں یا صرف لزا مجھے دے دو۔ اس نے
چھاپہ ماروں کے کمان دار پر قبضہ کرلیا ہے۔ وہ اسے تیار کرلے گی۔ الناصر صالح الدین ایوبی کے پاس بال روک ٹوک جاسکتا
ہے کیونکہ یہ اس کا چھاپہ مار ہے۔ وہ ایوبی کو آسانی سے قتل کرسکتاہے اور یہ بھی تو سوچو ،لزا کو آپ لے گئے تو
الناصر میرے کسی کام کا نہیں رہے گا''۔
کچھ مباحثے کے بعد صلیبی نے کہا…… ''حرن جانے کے بجائے ہم یہیں رکے رہتے ہیں۔ یہ دونوں لڑکیاں الناصر کو تیار کرلیں
گی اور ہوسکتا ہے کہ اس کے تینوں ساتھیوں کو بھی تیار کیا جاسکے۔ ان کے دلوں میں صالح الدین ایوبی کی نفرت پیدا
کرنی ہے''۔
الناصر کے متعلق میری رائے یہ ہے کہ بہت کچا آدمی ہے''…… تھیریسیا نے کہا…… ''لزا اس کی عقل پر قابض ہوچکی ''
ہے۔ وہ تین مالقاتوں کے بعد وہ لزا کے اشاروں پر ناچنے لگے گا''۔
آج ان چاروں کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھالئو''۔''
کھانے کا وقت ہوا تو الناصر اور اس کے ساتھیوں کو بھی کھانے کے کمرے میں بال لیا گیا۔ ان کے ساتھ دوستانہ بے تکلفی
پیدا کرلی گئی۔ کھانا ابھی رکھا نہیں گیا تھا کہ شیخ سنان کے ایک خادم نے آکر صلیبی سے کہا کہ اسے سنان نے بالیا
ہے۔ صلیبی چال گیا۔
اس لڑکی کے متعلق تم نے کیا سوچا ہے؟''…… شیخ سنان نے پوچھا۔''
میں جب جائوں گا تو اسے اپنے ساتھ لے جائوں گا''…… صلیبی نے جواب دیا۔''
تمہارے جانے تک لڑکی میرے پاس رہے گی''…… سنان نے کہا۔''
میں آج ہی چال جائوں گا''۔''
جائو''…… شیخ سنان نے کہا…… ''اور لڑکی کو یہیں چھوڑ جائو ،تم اسے قلعے سے باہر نہیں لے جاسکو گے''۔''
سنان!''…… صلیبی نے کہا…… ''اس قلعے کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی۔ مجھے للکارنے کی جرٔات نہ کرو''۔''
معلوم ہوتا ہے تمہارا دماغ ابھی ٹھکانے نہیں آیا''…… شیخ سنان نے کہا…… ''آج رات لڑکی کو تم خود میرے پاس لے ''
آنا ،خود جائو یا رہو ،اگرتم رات لڑکی کو نہ الئے تو تم تہہ خانے میں اور لڑکی میرے پاس ہوگی۔ جائو ،ٹھنڈے دل سے سوچ
لو''۔
٭ ٭ ٭
صلیبی کھانے کے کمرے میں داخل ہوا۔ سب بے تابی سے اس کا انتظار کررہے تھے۔ وہ پھنکار رہا تھا۔ کہنے لگا…… ''سنو
دوستو! شیخ سنان نے مجھے للکار کر کہا ہے کہ آج رات لزا اس کے پاس ہوگی۔ اس نے مجھے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ
لزا کو میں خود اس کے پاس لے جائوں اور اگر میں نہ لے گیا تو وہ مجھے تہہ خانے میں ڈال دے گا اور لزا کو لے جائے
گا''۔
آپ اگر تہہ خانے میں چلے گئے تو کیا ہم مرجائیں گے؟''…… الناصر نے کہا…… ''وہ لزا کو نہیں لے جاسکے گا''۔''
لیکن یہ لڑکی تمہاری کیا لگتی ہے الناصر؟''…… اس کے ایک ساتھی نے پوچھا۔''
تم اپنے آپ کو ہمارا قیدی نہ سمجھو''…… گمشتگین نے کہا…… ''یہ مصیبت ہم سب کے لیے آرہی ہے''۔''
تم ہمارے نہیں ،شیخ سنان کے قیدی ہو''…… صلیبی نے کہا…… ''تم ہمارا ساتھ دو۔ ہم باہر جاکر تمہیں آزاد کردیں گے۔ ''
اب یہاں سے نکلنے کی سوچو''۔
مجھے شیخ سنان نے اجازت دے رکھی ہے کہ ان چاروں کو اپنے ساتھ لے جائوں''…… گمشتگین نے کہا…… ''میں انہیں ''
آج لے جارہا ہوں۔ جلدی جلدی کھانا کھالو۔ مجھے شام سے پہلے روانہ ہونا ہے''۔
گمشتگین کا دماغ بہت تیز تھا۔ اس نے کھانے کے دوران سب کو بتا دیا کہ اس نے کیا سوچا ہے۔ کھانا کھا کر اس نے اپنے
خادموں اور باڈی گارڈوں کو بالیا اور کہا کہ وہ فورا ً قلعے سے روانہ ہورہا ہے۔ سامان فورا ً باندھ لیا جائے۔ اسی وقت اس کا
قافلہ تیارہونے لگا۔ اس کے اپنے گھوڑے کے عالوہ چار گھوڑے باڈی گارڈوں کے تھے۔ چار اونٹ تھے جن پر کھانے پینے کے
سامان کے عالوہ خیمے الدے گئے۔ سفرلمبا تھا۔ اس لیے خیمے ساتھ رکھے گئے تھے۔ انہیں ان کے بانسوں پر لپیٹا گیا تھا۔
گمشتگین شیخ سنان کے پاس گیا اور اسے بتایا کہ وہ جارہا ہے اور چاروں چھاپہ ماروں کو بھی ساتھ لے جارہا ہے۔ ان کے
متعلق سودا طے ہوچکا تھا۔ گمشتگین نے زروجواہرات کی صورت میں قیمت ادا کردی تھی۔
مجھے امید ہے کہ میں نے صلیبیوں کے کہنے پر جو چار آدمی بھیج رکھے ہیں ،وہ صالح الدین ایوبی کا کام تمام کرکے ''
ہی آئیں''…… شیخ سنان نے کہا…… ''تم سیف الدین کو ان چھاپہ ماروں سے قتل کرائو۔ تم لوگ لڑ نہیں سکتے۔ اپنے
''دشمنوں کو چوری چھپے قتل کرائو…… تمہارا صلیبی دوست اور اس کی پریاں کہاں ہیں؟
اپنے کمرے میں ہیں''…… گمشتگین نے کہا۔''
''اس نے چھوٹی لڑکی کے متعلق کوئی بات تو نہیں کی؟''
اسے کہہ رہا تھا کہ آج رات شیخ سنان کے پاس چلی جانا''…… گمشتگین نے جواب دیا…… ''وہ آپ سے بہت ڈرا ہوا ''
معلوم ہوتاتھا''۔
یہاں بڑے بڑے جابر آدمی ڈر جاتے ہیں''…… شیخ سنان نے کہا…… ''کمبخت لڑکی کو مجھ سے یوں چھپا رہا تھا جیسے''
وہ اس کی اپنی بیٹی ہے''۔
گمشتگین اس سے رخصت ہوا ،اس کا قافلہ تیار کھڑا تھا۔ وہ گھوڑے پر سوار ہوا۔ دو گمشتگین کے آگے ہوگئے اور دو اس کے
پیچھے۔ ان کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں۔ گھوڑوں کے پیچھے الناصر اور اس کے ساتھی اور اس کے پیچھے سامان سے لدے
ہوئے اونٹ تھے۔ قلعے کا دروازہ کھال۔ قافلہ باہر نکل گیا اور دروازہ بند ہوگیا۔
٭ ٭ ٭
قافلہ قلعے سے دور ہی دور ہوتاگیا اور سورج افق کے عقب میں چھپنے لگا۔ سورج نے غروب ہوکر قافلے اور قلعے کو :
چھپا لیا۔ قلعے میں قندیلیں اور فانوس جل اٹھے۔ شام پوری طرح تاریک ہوگئی تو شیخ سنان نے اپنے دربان سے پوچھا……
''وہ صلیبی لڑکی کو لے کر نہیں آیا؟''…… اسے نفی میں جواب مال۔ اس نے تین چار بار پوچھا تو بھی اسے نفی میں
جواب مال۔ اس نے اپنے خصوصی خادم کو بال کر کہا…… ''اس صلیبی سے جاکر کہو کہ چھوٹی لڑکی کو لے کر جلدی
آئے''۔
خادم ان کمروں میں گیا جہاں صلیبی ٹھہرا کرتے تھے ،وہاں کوئی نہیں تھا۔ لڑکیاں بھی نہیں تھیں۔ تمام کمرے خالی تھے۔
اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ قلعے کے باغ میں گھوم پھر کر دیکھا۔ چٹان کے اردگرد گھوم کر دیکھا۔ وہاں سے بھی مایوس لوٹا
اور شیخ سنان سے کہا کہ صلیبی اور لڑکیاں نہیں ملیں۔ سنان نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ اپنی فوج کے کمانڈر کو بال کر حکم
دیا کہ قلعے کے کونوں کھدروں کی تالشی لو اور صلیبی کو برآمد کرو۔ فوج میں کھلبلی مچ گئی جسے دیکھو بھاگ دوڑ رہا
تھا۔ قلعے میں ہر طرف قندیلیں اور مشعلیں متحرک نظر آتی تھیں۔ صلیبی کہیں سے بھی نہ مال۔ شیخ سنان نے ان آدھ
درجن پہرہ داروں کو بالیا جو دروازے پر ڈیوٹی پر تھے۔ ان سے پوچھا کہ گمشتگین کے قافلے کے عالوہ کس کے لیے دروازہ
کھوال گیاتھا۔ انہوں نے بتایا کہ حکم کے بغیر کسی کے لیے دروازہ نہیں کھوال جاتا اور گمشتگین کے عالوہ کسی اور کے لیے
کھوال ہی نہیں گیا۔ انہوں نے گمشتگین کے قافلے کی تفصیل بھی بتائی۔ اس قافلے کے ساتھ صلیبی اور لڑکیاں نہیں تھیں۔
شیخ سنان اپنے کمرے میں پھنکار رہا تھا۔ رات کا پہال پہر گزر گیا تھا۔ گمشتگین کا قافلہ چال جارہا تھا۔ اس نے اپنا گھوڑا
روک کر شتر بانوں سے کہا…… ''اونٹوں کو بٹھائو اور انہیں باہر نکالو ،مر ہی نہ جائیں''۔
اونٹوں کو بٹھا کر ان پر لدے ہوئے خیمے اتارے گئے ،خیمے کھولے گئے تو ان میں سے صلیبی ،تھیریسیا اور لزا نکلیں۔ وہ
پسینے میں نہائے ہوئے تھے۔ گمشتگین انہیں خیموں میں لپیٹ کر قلعہ عصیات سے نکال الیا تھا۔ وہ قلعے سے بہت دور
نکل گئے تھے۔ فدائیوں سے ایسی توقع نہیں رکھی جاسکتی تھی کہ وہ تعاقب میں آئیں گے۔ یہ فرقہ جنگجو نہیں تھا۔ کسی
کے ساتھ آمنے سامنے کی لڑائی کا خطرہ مول نہیں لیاکرتا تھا۔ پھر بھی گمشتگین نے قافلے کو قیام نہ کرنے دیا۔ لڑکیوں کو
اونٹوں پر سوار کردیا گیا۔ صلیبی چھاپہ ماروں کے ساتھ پیدل چل پڑا۔ اس کا گھوڑا اور لڑکیوں کے گھوڑے قلعے میں رہ گئے
تھے۔ صلیبی اس خطے کی زبان روانی سے بولتا تھا۔ اس نے الناصر کے ساتھ باتیں شروع کردیں۔ ان باتوں میں دوستی اور
پیار کا رنگ غالب تھا۔ الناصر کے دل سے خطرے نکل گئے۔ وہ تو لزاکے قریب ہوناچاہتا تھا۔
لزا کے قریب ہونے کا موقعہ آدھی رات کے بعد مال جب ایک جگہ قافلے کو قیام کے لیے روکا گیا۔ گمشتگین کے لیے خیمہ
کھڑا کردیا گیا۔
20:45
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔ 109لڑکی نے اپنی الش دیکھی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
گمشتگین کے لیے خیمہ کھڑا کردیا گیا۔ باقی سب کے لیے الگ الگ خیمے نصب کیے گئے۔ چھاپہ مار اور باڈی گارڈز وغیرہ
کھلے آسمان تلے لیٹ گئے۔ وہ بہت تھکے ہوئے تھے۔ فورا ً ہی سوگئے۔ الناصر کو نیند نہیں آرہی تھی۔ وہ سوچ رہا کہ لزا کو
خیمے سے جگا الئے یا وہ خود آجائے گی۔ وہ بھول گیاتھا کہ وہ چھاپہ مار ہے اور اس کی فوج کہیں لڑ رہی ہے۔ اسے یہ
خیال بھی نہ آیا کہ اسے اپنی فوج میں جانا ہے اور فرار کا یہ موقعہ نہایت اچھا ہے ،جب سب بے ہوشی کی نیند سوگئے
ہیں ،گھوڑے بھی ہیں ،ہتھیار بھی ہیں اور خوردونوش کا سامان بھی ہے۔ اس کے ساتھی اسی پر بھروسہ کیے سو گئے تھے۔
وہ اپنے کمانڈر کی ہدایات کے پابند تھے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کاکمانڈر اپنی عقل ،اپنا ایمان اور اپنا جذبہ ایک
نوجوان لڑکی کے سپرد کرچکا ہے۔ عورت اپنی تمام تر تباہ کاری کے ساتھ اس کے اعصاب پر سوار ہوچکی تھی۔
اسے ایک سایہ چلتا نظر آیا جو کسی مرد کا نہیں تھا۔ وہ آہستہ آہستہ اٹھ کر بیٹھا ،پائوں پر سرکا اور سوئے ہوئے ساتھیوں
سے دور ہٹ گیا۔ سایہ ادھر ہی آرہا تھا۔ ذرا دیر بعد دو سائے ایک دوسرے میں جذب ہوگئے۔ لزا الناصر کو سوئے ہوئے قافلے
''الناصر! ایک
سے کچھ دور ایک ٹیلے کی اوٹ میں لے گئی۔ اس رات وہ پہلے سے زیادہ جذباتی معلوم ہوتی تھی۔
''بات بتائو ،تمہاری زندگی میں کبھی کوئی عورت داخل ہوئی ہے؟
ماں اور بہن کے سوا ،میں نے کسی عورت کو کبھی ہاتھ نہیں لگایا''…… الناصر نے جواب دیا…… ''تم نے میری زندگی ''
دیکھ لی ہے۔ میں نوجوانی میں نورالدین زنگی کی فوج میں شامل ہوگیا تھا ،جہاں تک یادیں پیچھے جاتی ہیں ،میں اپنے آپ
کو میدان جنگ میں ،ریگستان میں ،اپنے ساتھیوں سے دور دشمن کے عالقوں میں خون بہاتا اور بھیڑیوں کی طرح شکار کی
تالش میں پھرتا دیکھتا ہوں۔ میں جہاں بھی ہوتا ہوں ،اپنے فرض سے کوتاہی نہیں کرتا۔ میرا فرض میرا ایمان ہے''…… وہ
چونک اٹھا۔ ذرا سی دیر کچھ سوچ کر اس نے پوچھا…… ''لزا ،تم نے شاید میرے ایمان کی بنیاد ہال دی ہے۔ مجھے بتائو تم
لوگ مجھے اور میرے ساتھیوں کو کہاں لے جارہے ہو''۔
مجھے یہ بتائو کہ تمہارے دل میں میری محبت ہے یا مجھے دیکھ کر تم حیوان بن جاتے ہو؟''…… لزا نے ایسے لہجے ''
میں پوچھا جس میں پیار اور مذاق کی ہلکی سی بھی جھلک نہیں تھی۔ اس کا انداز گزشتہ رات کی نسبت بدال ہوا تھا۔
تم نے مجھے کہا تھا کہ محبت کو ناپاک نہ کرنا''…… الناصر نے کہا…… ''میں تم پر ثابت کروں گا کہ میں حیوان نہیں۔''
تم مجھے یہ بتائو کہ تمہاری قوم میں ایک سے ایک بڑھ کر خوبرو ،جنگجو ،تنومند اور اونچے رتبے واال مرد موجود ہے۔ تم
''کسی بادشاہ کے سامنے چلی جائو تو وہ تخت سے اتر کر تمہارا استقبال کرے گا پھر تم نے مجھ میں کیا دیکھا ہے؟
لزا نے کوئی جواب نہ دیا۔ الناصر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا…… ''مجھے جواب دو لزا''…… لزا نے سرگھٹنوں
پر رکھ دیا۔ الناصر کو اس کی سسکیاں سنائی دیں۔ وہ پریشان ہوگیا۔ اس نے بار بار اس سے پوچھا کہ وہ کیوں رو رہی ہے۔
وہ روتی رہی۔ الناصر نے اسے اپنے بازوئوں میں لے لیا تو لزا نے سر اس کے سینے پر رکھ دیا۔ الناصر سمجھ نہ سکا کہ
جس طرح اس کی اپنی ذات سے انسانی فطرت کی بنیادی کمزوری ابھر کر اس کی عقل پر غالب آگئی تھی ،اسی طرح لزا
بھی ایک کمزوری کی گرفت میں آگئی تھی۔ یہ وہ کمزوری تھی جو ملکہ کو اپنے غالم کے آگے جھکا دیتی ہے اور جو دولت
کے انبار کو پتھروں کا ڈھیر سمجھ کر اپنے دل کی تسکین کے لیے کسی کٹیا میں جابیٹھتی ہے۔ لزا محبت کی پیاسی تھی۔
وہ محبت جو روح کو مطمئن کردے۔ اسے جسمانی محبت ملی تھی اور ان مردوں سے ملی تھی جن سے اسے نفرت تھی۔
اس نے عصیات کے قلعے کی طرف جاتے ہوئے اور قلعے میں پہنچ کر بھی تھیریسیا کے آگے اپنے جذبات کا اظہار کردیا تھا۔
وہ کچھ سوچے سمجھے بغیر الناصر کے پاس جابیٹھی تھی اور اسے کہا تھا…… ''مجھ پر بھروسہ کرنا''…… اس وقت اس
کے دل میں کوئی فریب کاری نہیں تھی۔ یہ اس کے دل کی آواز تھی۔ وہ اپنی روح کی رہنمائی میں الناصر کے پاس چلی
گئی تھی۔ اگر اسے تھیریسیا وہاں سے اٹھا نہ لے جاتی تو لزا نہ جانے الناصر سے اور کیا کچھ کہتی۔
پھر اسے الناصر کو پھانسنے کو کہا گیا۔ اس نے یہ کمال بھی کردکھایا مگر اس کا دل ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ یہ اس کا فرض
تھا جو اس نے ادا کیا تھا۔ وہ اپنے دل اور فرض کے درمیان بھٹک گئی تھی۔ الناصر کو معلوم نہیں تھا کہ تھوڑی دیر پہلے
جب قافلہ رکا تو خیمے نصب کیے جارہے تھے :تو گمشتگین نے لزا کے کان میں کہا تھا…… ''سب سو جائیں تو میرے
خیمے میں آجانا ،تمہاری قوم کی بھیجی ہوئی بہترین شراب پیش کروں گا۔ تمہیں بڑی استادی سے شیخ سنان سے بچا کر
الیا ہوں''۔
لزا نے اسے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ اس سے ہٹی تو صلیبی نے اسے کہا…… ''خدا نے تمہیں اس بوڑھے درندے سے بچا
لیا ہے۔ تھیریسیا سوجائے تو میرے خیمے میں آجانا۔ جشن منائیں گے''۔
لزا کو اپنی خوبصورتی اور اپنے جسم سے نفرت ہونے لگی۔ وہ اپنے خیمے میں چلی گئی تھی۔ تھیریسیا سو گئی۔ لزا کی
آنکھ نہ لگی۔ وہ اٹھی اور دبے پائوں الناصر کی طرف چل پڑی۔ الناصر اسی کے خیال اور انتظار میں جاگ رہا تھا۔
وہ الناصر کو کوئی جواب دینے ہی لگی تھی کہ الناصر نے چونک کر کہا…… ''سنو ،تمہیں کوئی آہٹ سنائی دے رہی ہے؟
……گھوڑے آرہے ہیں''۔
دھمک بڑی صاف ہے''…… لزا نے کہا…… ''سب کو جگا دیں۔ شیخ سنان نے ہمارے تعاقب میں سپاہی بھیجے ہوں ''
گے''۔
الناصر دوڑ کر ٹیلے پر چڑھ گیا۔ اسے بہت سے مشعلیں نظر آئیں جو گھوڑوں کی چال کے ساتھ اوپر نیچے ،اوپر نیچے ہورہی
تھیں۔ گھوڑوں کے قدموں کی آوازیں بلند ہوتی جارہی تھیں۔ الناصر دوڑتا نیچے آیا ،لزا کو اپنے ساتھ لیااور سوئے ہوئے قافلے
کی طرف دوڑا۔ سب کو جگا دیا۔ اس نے اپنے چھاپہ ماروں کو ساتھ لیا اور ٹیلے کے قریب لے گیا۔ لزا کو اپنے ساتھ رکھا۔
سب کے پاس برچھیاں اور تلواریں تھیں۔ گمشتگین کے باڈی گارڈ اور شتربان بھی برچھیوں اور تلواروں سے مسلح ہوکر مقابلے
کے لیے تیار ہوگئے۔ وہ پندرہ سولہ سوار تھے۔ چھ سات کے ہاتھوں میں مشعلیں تھیں۔ انہوں نے آتے ہی قافلے کو گھیرے
میں لے لیا۔ ایک نے للکار کر کہا…… ''دونوں لڑکیاں ہمارے حوالے کردو۔ شیخ سنان نے کہا ہے کہ دونوں لڑکیاں دے دو گے
تو خیریت سے جاسکو گے''۔
الناصر تجربہ کار چھاپہ مار تھا۔ اس نے اپنے چھاپہ مار پہلے ہی گھیرے سے دور کرکے چھپالیے تھے۔ اس نے اشارہ کیا اور
وہ تین چھاپہ ماروں کے ساتھ ان سواروں پر ٹوٹ پڑا جو اس کے سامنے تھے۔ چھاپہ ماروں نے پیچھے سے برچھیاں ان کے
جسموں میں داخل کردیں…… سوار گرے تو الناصر نے اپنے ساتھیوں سے بلند آواز سے کہا…… ''ان کے گھوڑوں پر سوار
ہوجائو''…… ایک گھوڑا اس نے پکڑ لیا۔ اس پر سوار ہوا تو اپنے پیچھے لزا کو بٹھا لیا۔ اسے کہا کہ بازو مضبوطی سے اس
کی کمر کے گرد لپیٹ لے۔
سنان کے فدائیوں نے ہلہ بول دیا۔ انہوں نے مشعلیں پھینک دی تھیں۔ یہ جلتی رہیں۔ الناصر اور اس کے چھاپہ ماروں نے
بہت مقابلہ کیا۔ ایک گھوڑے کے سرپٹ دوڑنے کی آواز آئی جو دور ہٹتی گئی۔ وہ گمشتگین تھا جو جان بچا کر بھاگ گیا
تھا۔ فدائیوں نے الناصر کے گھوڑے پر لڑکی دیکھ لی تھی۔ اسے وہ زندہ پکڑنے کی کوشش کررہے تھے۔ تین تین چار چار
گھوڑے اسے گھیرے میں لیتے اور سوار برچھیوں سے اس کے گھوڑے کو زخمی کرنے کے لیے برچھیوں کے وار کرتے تھے۔
الناصر تجربہ کار لڑاکا سوار تھا۔ اس نے اپنے گھوڑے کو بچائے رکھا اور دو فدائی گرا لیے۔ اسے دوڑتا گھوڑا یکلخت روکنا اور
تیزی سے موڑنا پڑتا تھا۔لزا کے پائو رکابوں میں نہیں تھا۔ ایک بار الناصر کو گھوڑا تیزرفتار پر ہی موڑنا پڑا۔ لزا سنبھل نہ
سکی اور گر پڑی۔
فدائی گھوڑوں سے کود آئے۔ لزا الناصر کی طرف دوڑی لیکن دو فدائیوں نے اسے پکڑ لیا۔ الناصر نے گھوڑے کو ایڑی لگائی اور
برچھی تانی۔ فدائیوں نے لزا کو آگے کردیا۔ الناصر کو اپنے ساتھیوں کے متعلق کچھ علم نہیں تھا۔ اسے بھاگتے دوڑتے گھوڑوں
کی اور برچھیاں اور تلواریں ٹکرانے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ وہ تین چار فدائیوں میں اکیال تھا۔ اس کا ہر وار خالی
جارہا تھا کیونکہ وہ ان کے قریب آتا تھا تو فدائی لزا کو آگے کردیتے تھے۔ آخر وہ بھی گھوڑے سے کود گیا۔ بے جگری سے
لڑا۔ زخمی ہوا اور اس نے دو فدائیوں کو گرالیا۔ اس نے ایک بار چال کر کہا…… ''خاموش رہو لزا۔ یہ تمہیں نہیں لے
جاسکیں گے''۔
الناصر نے یہ کرکے بھی دکھا دیا کہ فدائی لزا کو نہ لے جاسکے۔ اس نے فدائیوں کو بری طرح زخمی کرکے پھینک دیا۔ اس
معرکے میں وہ قیام گاہ سے دور ہٹ گئے تھے۔ الناصر نے ایک گھوڑا پکڑا۔ لزا کو اس پر سوار کیا۔ خود اس کے پیچھے
سوار ہوا اور گھوڑے کو ایڑی لگا دی لیکن بھاگا نہیں۔ معرکہ خاموش ہوگیا تھا۔ اس نے جاکر دیکھا۔ وہاں صرف الشیں تھیں
اور دو تین فدائی زخموں سے تڑپ رہے تھے۔ اس کے تینوں ساتھی مارے گئے تھے۔ صلیبی بھی مرا پڑا تھا۔ تھیریسیا الپتہ
تھی۔ الناصر نے زیادہ انتظار نہ کیا۔ آسمان کی طرف دیکھا۔ قطبی ستارے کا اندازہ کیا اور گھوڑے کو اس رخ پر ڈال دیا۔ بہت
دور جاکر اس نے گھوڑاروک لیا۔
اب بتائو تم کہاں جانا چاہتی ہو''…… اس نے لزا سے پوچھا……''میں تمہیں صرف اس لیے اپنے ساتھ نہیں لے جائوں گا''
کہ تم تنہا رہ گئی ہو اور مجبور ہو۔ کہو تو تمہیں تمہارے عالقے میں لے چلتا ہوں۔ قید ہوگیا تو پروا نہیں کروں گا۔ تم
امانت ہو''۔
''
اپنے ساتھ لے چلو''…… لزا نے کہا…… ''الناصر! مجھے اپنی پناہ میں لے لو''۔'
گھوڑا رات بھر چلتا رہا۔ صبح طلوع ہوئی تو الناصر نے عالقہ پہچان لیا۔ یہیں کہیں اس نے ایک بار اپنے جیش کے ساتھ
شب خون مارا تھا۔ الناصر کے کپڑے خون سے الل ہوگئے تھے۔ دونوں نے گھوڑے سے اتر کر پانی پیا۔ گھوڑے کو پانی پالیا۔
الناصر نے زخم دیکھے ،کوئی زخم گہرا نہیں تھا۔ خون رک گیا تھا۔ اس نے اس ڈر سے زخم نہ دھوئے کہ خون جاری ہوجائے
گا۔ لزا ٹہلتی ٹہلتی ایک طرف نکل گئی۔ الناصر اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے چٹان کے دوسری طرف گیا۔ لزا بیٹھی ہوئی تھی۔
الناصر کی طرف اس کی پیٹھ تھی۔ وہاں ہڈیاں بکھری ہوئی تھیں جو انسانوں کی معلوم ہوتی تھیں۔ کھونپڑیاں تھیں ،پسلیوں
کے پنجرے تھے ،ہاتھوں ،ٹانگوں اور بازوئوں کی ہڈیاں بھی تھیں۔ ان کے درمیان تلواریں اور برچھیاں پڑی تھیں۔
لزا ایک کھونپڑی کو سامنے رکھے بیٹھی تھی۔ کسی عورت کی کھونپڑی معلوم ہوتی تھی۔ چہرے پر کہیں کہیں کھال تھی۔ سر
کے لمبے لمبے بال کچھ سر کے ساتھ تھے۔ باقی ادھر ادھر بکھرے ہوئے تھے۔ سینے کا پنجرہ کھال کے بغیر تھا۔ پسلیوں
میں ایک خنجر اترا ہوا تھا۔ گلے کی ہڈی پر سونے کا ہار پڑا تھا۔ اس پنجرے کے اردگرد چیتھڑے پڑے تھے جو ریشمی کپڑے
کے تھے…… الناصر آہستہ آہستہ چلتا لزا کے پیچھے جاکھڑا ہوا۔ لزا کھونپڑی میں کھوگئی تھی۔ اچانک اس نے اپنے دونوں ہاتھ
کانوں پر رکھے اور بڑی ہی زور سے چیخ ماری۔ وہ تیزی سے اٹھ کر گھومی۔ الناصر نے اسے بازوئوں میں لے کر سینے سے
لگا لیا۔ لزا نے اپنا چہرہ الناصر کے سینے میں چھپا لیا۔ اس کا جسم تھرتھر کانپ رہا تھا۔ الناصر اسے چشمے تک لے گیا۔
٭ ٭ ٭
جب وہ اپنے آپ میں آئی تو الناصر نے اس سے پوچھا کہ اس نے چیخ کیوں ماری تھی؟
مجھے اپنا انجام نظر آگیا تھا''۔ لزا نے اداس لہجے میں کہا…… ''تم نے وہ خشک الش دیکھی ہوگی۔ کسی عورت کی ''
ہے۔ یہ کوئی مجھ جیسی ہوگی۔اس نے میری طرح حسن کے جادو چالئے ہوں گے۔ ہر کسی کے لیے سہانا فریب بنی رہی
ہوگی اور کہتی ہوگی کہ اس کے حسن کو زوال نہیں اور وہ سدا جوان اور ہمیشہ زندہ رہے گی۔ تم نے اس کی پسلیوں کے
پنجرے میں خنجر پھنسا ہوا دیکھا ہے؟ گلے میں ہار دیکھا ہے؟ یہ ہار اور یہ خنجر جو کہانی سناتے ہیں ،وہ میری کہانی ہے
اور دوسری جو کھونپڑیاں بکھری پڑی ہیں اور ان کے ساتھ جو تلواریں اور برچھیاں پڑی ہیں وہ سو بار سنی ہوئی کہانی سناتی
ہیں۔ میں نے یہ کبھی توجہ سے نہیں سنی تھی۔ آج اس عورت کی کھونپڑی دیکھی تو مجھے یوں نظر آیا جیسے یہ میری
اپنی کھونپڑی ہو۔ اس خشک کھونپڑی پر گوشت چڑھ گیا تو میرا چہرہ بن گیا۔ میں نے ایک گدھ کو دیکھا جو میرے چہرے
سے آنکھیں نکال رہا تھا۔ ایک بھیڑیئے کو دیکھا جو میرے گالبی گالوں کو نوچ رہا تھا۔ ان مردار خوروں نے میرا چہرہ کھا لیا
اور پیچھے کھونپڑی رہ گئی۔ مجھے ایسے نظر آیا جیسے کھونپڑی کے جبڑے اور خوفناک دانت ہل رہے ہوں۔ مجھے آواز سنائی
دی''…… ''یہ ہے تمہارا انجام''…… اور میرے دل کو کسی خوفناک چیز نے دانتوں میں جکڑ لیا''۔
کچھ دنوں بعد وہاں جاکر دیکھنا ،جہاں ہم پر فدائیوں نے حملہ کیا تھا''…… الناصر نے کہا…… ''وہاں بھی تمہیں یہی ''
منظر نظر آئے گا۔ الشوں کے پنجرے ،کھونپڑیاں ،تلواریں اور برچھیاں اور شاید ان سے کچھ دور تھیریسیا کی کھونپڑی بھی پڑی
مل جائے۔ اس کے سینے میں بھی خنجر اترا ہوا ہوگا۔وہ سب عورت کے لیے مرے ہیں۔ یہ سب بھی عورت کے لیے مرے
ہیں''۔
اگر میں نے اپنی روش نہ چھوڑی تو ایک روز صحرا میں گدھ اور بھیڑئیے میرے اس جسم کا گوشت نوچ رہے ہوں گے ''
جس پر مجھے ناز ہے اور جسے حاصل کرنے کے لیے کوئی جان پیش کرتا ہے ،کوئی دولت''…… لزا نے کہا…… ''مگر انسان
عبرت حاصل نہیں کرتا۔ ان کی تباہی اور بربادی نہیں دیکھتا جو اس سے پہلے اس زمین پر اپنے اوپر حسن ،دولت اور
جسمانی طاقت کا نشہ طاری کرکے تکبر اور غرور سے چلتے پھرتے تھے…… میں نے اپنے آپ کو پہچان لیا ہے۔ اپنی اصلیت
جان لی ہے۔ تم بھی سن لو الناصر! خدا نے تمہیں مردوں کی طاقت اور مردانہ حسن دیا ہے۔ تمہیں جو عورت دیکھے گی،
وہ تمہارے قریب آنے کی خواہش کرے گی ،دیکھ لو۔ تم بھی جاکر اپنا انجام دیکھ لو''۔
وہ ایسے انداز سے بول رہی تھی جیسے اس پر آسیب کا اثر ہو۔ اس کی شوخیاں اور فریب کاریاں ختم ہوچکی تھیں۔ وہ :
کسی تارک الدنیا فقیر کے لہجے میں بول رہی تھی۔
میں تمہیں اپنی اصلیت بتا دوں؟'' اس نے الناصر سے پوچھا…… ''میں تمہیں دکھا دوں کہ میری پسلیوں کے پنجرے میں''
کیا ہے؟'' ۔ اس نے اپنے سینے پر ہاتھ مارا اور چپ ہوگئی۔ اس کا ہاتھ سونے کے اس ہار پر جالگاتھا جس میں جواہرات
بھی تھے۔ اس نے ہار کو مٹھی میں لیا۔ زور سے جھٹکا دیا۔ ہار ٹوٹ کر اس کے ہاتھ میں آگیا۔ اس نے ہار چشمے میں
پھینک دیا۔ انگلیوں سے انگوٹھیاں اتاریں جن میں ہیرے جڑے ہوئے تھے۔ یہ بھی چشمے میں پھینک دئیے۔ کہنے لگی……
'' میں ایک فریب ہوں الناصر! میں نے تمہیں بھی فریب دیا تھا…… میرے دل میں تمہاری محبت بھی پیدا ہوگئی تھی مگر
اس پر میرے فرض کی بدروح کا بھی اثر تھا۔ یہ بہت اچھا ہوا کہ فدائیوں نے ہم پر حملہ کردیا اور یہ اور زیادہ اچھا ہوا کہ
میں نے اپنی زندگی میں اپنی کھونپڑی دیکھ لی ،ورنہ میں بتا نہیں سکتی کہ جہاں ہم تمہیں لے جارہے تھے ،وہاں تم پر کیا
روپ چڑھا دیا جاتا ،میری محبت کا کیا حشر ہوتا۔ تم ایک بہت بڑے فریب کا شکار ہونے جارہے تھے۔ میں اب جھوٹ نہیں
بولوں گی۔ تمہیں اس مقصد کے لیے لے جایا جارہا تھا کہ میں اپنی خوبصورتی اور محبت کے جھانسے سے تمہاری عقل پر
قبضہ کرلو اور تمہارے ہاتھوں صالح الدین ایوبی کو قتل کرایا جائے۔ گمشتگین قلعہ عصیات میں اس لیے گیا تھا کہ شیخ سنان
اسے صالح الدین ایوبی کے قتل کے لیے کرائے کے قاتل دے دے۔ سنان نے بتایا کہ اس نے چار فدائی بھیج رکھے ہیں۔ اگر
یہ بھی ناکام ہوگئے تو وہ آئندہ ا س کام کے لیے کوئی فدائی نہیں بھیجے گا کیونکہ وہ بہت سے کارآمد فدائی ضائع کرچکا
ہے۔ آخر یہ سودا طے ہوا کہ گمشتگین تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو اپنے ساتھ لے جائے اور سیف الدین کے قتل کے لیے
تیار کرے۔ اتنے میں ہمارا افسر آگیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ ایوبی کا قتل ضروری ہے''۔
یہ کبھی ممکن نہیں ہوسکتا کہ میں سلطان صالح الدین ایوبی کے سائے کو بھی میلی نگاہ سے دیکھوں''…… الناصر نے ''
کہا…… ''دنیا کی کوئی طاقت مجھے اتنا بے عقل نہیں بنا سکتی''۔
لزا ہنس پڑی ،کہنے لگی…… ''میں نے دل سے اپنے فرائض کو قبول نہیں کیا ،ورنہ ہم فوالد کو بھی پانی بنا دیا کرتی
ہیں''۔ اس نے الناصر کو تفصیل سے بتایا کہ اس کے فرائض اور جذبات میں کتنا تضاد ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ
سیف الدین کے پاس رہی ہے۔ اس نے پوچھا…… ''کیا تم مجھ جیسی ناپاک لڑکی کو قبول کرلو گے؟۔ میں سچے دل سے
اسالم قبول کرلوں گی''۔
اگر تم نے سچے دل سے توبہ کرلی ہے تو میرے لیے یہ گناہ ہوگا کہ میں تمہیں قبول نہ کروں''۔ الناصر نے کہا…… ''
''لیکن سلطان صالح الدین ایوبی کی اجازت کے بغیر میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔ دل سے بوجھ اتار دو۔ اگرتم پاکیزہ
زندگی بسر کرنا چاہتی ہو تو ایسی زندگی تمہیں صرف ہمارے مذہب میں ملے گی''۔ اس نے پوچھا…… ''کیا تمہیں معلوم
ہے کہ جو فدائی ہمارے سلطان کے قتل کے لیے گئے ہیں وہ کس بھیس میں گئے ہیں اور قاتالنہ حملہ کس طرح کریں
''گے؟
کچھ علم نہیں''۔ لزا نے جواب دیا…… ''میرے سامنے اس سے زیادہ کوئی بات نہیں ہوئی کہ چار فدائی بھیجے گئے ''
ہیں''۔
ہمیں اڑ کر ترکمان پہنچنا ہوگا''۔ الناصر نے کہا…… ''مجھے سلطان اور اس کے محافظوں کو خبردار کرنا ہے''۔''
اس نے لزا کو اپنے آگے گھوڑے پر بٹھا لیا اور ایڑی لگا دی۔ اتنی حسین لڑکی اس کے سینے سے لگی ہوئی تھی۔ اس کے
ریشم جیسے بال اس کے گالوں میں لہرا رہے تھے مگر اس کے ذہن میں سلطان ایوبی سما گیا تھا۔ فرض نے اس کے جذبات
کو سال دیا تھا۔ مقصد نے اسے مرد میدان اور انسان کامل بنا دیا تھا…… اور لزا کی تو جیسے روح ہی بدل گئی تھی۔ وہ اس
قوی اور تنو مند جوان کے قبضے میں اور اس کے رحم وکرم پر تھی لیکن اسے جیسے احساس ہی نہیں تھا کہ وہ مرد ہے
اوریہ ایک نوجوان لڑکی۔ اگر کوئی واعظ برسوں وعظ سناتا رہتا تو لزا پر کچھ اثر نہ ہوتا۔ الناصر نے خاموش زبان سے یہ
حقیقت اس کے دل میں اتار دی کہ وہ پاکیزہ زندگی بسر کرنا چاہتی ہے تو ایسی زندگی اسے اسالم میں ملے گی۔
٭ ٭ ٭
سلطان صالح الدین ایوبی کو قلعہ اعزاز کے قلعہ دار کا جواب آگ بگولہ کیے ہوئے تھا۔ اسے یہ قلعہ سرکرنا تھا اور فورا ً بعد
حلب کو محاصرے میں لے کر یہ شہر لینا تھا۔ اسے بوزا اور منبج کے دو قلعے لڑے بغیر مل گئے تھے۔ ان میں جو دستے
تھے انہیں اس نے اپنی فوج میں شامل کرکے ان کی جگہ اپنے دستے بھیج دئیے تھے اور وہ اعزاز اور حلب کی طرف پیش
قدمی کی سکیم بنا رہا تھا۔ اس نے حسب معمول دیکھ بھال کے لیے اپنے فوجی اس عالقے میں بھیج رکھے تھے جہاں اسے
آگے بڑھنا اورمحاصرہ کرنا تھا۔ جاسوسوں نے اسے حلب اور اعزاز کے دفاعی انتظامات بتا دئیے تھے۔ سلطان ایوبی خود بھی
آگے چال جاتا تھا اور اپنی آنکھوں سے زمین کے خدوخال اور دیگر جنگی کوائف کا جائزہ لیتا تھا۔ ایسے دوروں کے دوران وہ
اپنا جھنڈا ساتھ نہیں رکھتا تھاا ور اپنے محافظوں ( باڈی گارڈز) کو بھی ساتھ نہیں لے جاتا تھا ،تاکہ دشمن کو پتہ نہ چل
سکے کہ یہ صالح الدین ایوبی ہے۔ وہ گھوڑا بھی کسی دوسرے کا استعمال کرتا تھا۔ اس کے گھوڑے کو جس کے سفید رنگ
پر کہیں کہیں گہرے الل دھبے تھے ،دشمن کے ساالر پہچانتے تھے۔
اسے کہا گیا تھا کہ وہ محافظوں کے بغیر اتنی دور نہ نکل جایا کرے لیکن اس نے اپنی حفاظت کی کبھی پروا نہیں کی
تھی۔ اب تو اس پر جنون سا طاری تھا۔ وہ اپنے مسلمان دشمنو ں کو ناکوں چنے چبوا چکا تھا۔ان کے تابوت میں آخری
کیل گاڑنی رہ گئی تھی۔ وہ عالقہ ایسا تھا کہ چٹانیں اور ٹیلے بھی تھے اور کہیں کہیں درختوں کے جھنڈ بھی۔ کچھ حصے
میں گہرے کھڈ بھی تھے۔ ایسے عالقے میں سلطان ایوبی کامحافظوں کے بغیر گھومنا پھرنا خطرناک تھا۔
سلطان محترم!'' اس کی انٹیلی جنس کے سربراہ حسن بن عبداللہ نے ایک روز اسے جھنجھال کر کہا۔ ''خدانخواستہ ''
ِ
آپ پر قاتالنہ حملہ کامیاب ہوگیا تو سلطنت اسالمیہ آپ جیسا کوئی دوسرا پاسبان پیدا نہیں کرسکے گی۔ ہم قوم کو منہ
دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ آنے والی نسلیں ہماری قبروں پر لعنت بھیجیں گی کہ ہم آپ کی حفاظت نہ کرسکے
تھے''۔
اگر خدا کو یہی منظور ہے کہ مجھے کسی فدائی یا صلیبی کے ہاتھوں قتل ہونا ہے تو میں ایسی موت کو کیسے روک ''
سکتا ہوں''…… سلطان ایوبی نے کہا…… ''بادشاہ جب اپنی جان کی حفاظت میں مگن ہوجاتے ہیں تو وہ ملک اور قوم کی
آبرو کی حفاظت کے قابل نہیں رہتے۔ اگر مجھے قتل ہونا ہے تو مجھے اپنا فرض جلدی جلدی ادا کرلینے دو۔ مجھے محافظوں
تعالی نے
کا قیدی نہ بنائو۔ مجھ پر بادشاہی کا نشہ طاری نہ کرو۔ تم جانتے ہو ،مجھ پر کتنے قاتالنہ حملے ہوچکے ہیں۔ اللہ
ٰ
مجھے ہر بار بچا لیا ہے۔ اب بھی بچا لے گا''۔
اس کا ذاتی عملہ اس کی سالمتی کے لیے پریشان رہتا تھا۔ پچھلی کہانیوں میں وہ تمام قاتالنہ حملے بیان کیے گئے ہیں جو
اس پر ہوئے تھے۔ ہر حملے کے وقت وہ اکیال تھا لیکن اس کا محافظ دستہ قریب ہی تھا جو ہر بار وہاں پہنچ گیا۔ اب
سلطان ایوبی نے یہ طریقہ اختیار کرلیا تھا کہ وہ اپنے ذاتی عملے اور محافظوں کو کسی جگہ کھڑا کرکے خود ٹیلوں اور چٹانوں
میں غائب ہوجاتا تھا۔ حسن بن عبداللہ نے یہ انتظام کررکھا تھا کہ محافظ دستے کے چند ایک آدمی دور دور رہ کر سلطان
ایوبی پر نظر رکھتے تھے۔ یہ کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ بہت دنوں سے چار آدمی ویرانوں میں گھوم پھر رہے ہیں اور
وہ سلطان ایوبی پر نظر رکھتے ہیں۔
:
یہی وہ چار فدائی تھے جن کے متعلق قلعہ عصیات میں شیخ سنان نے گمشتگین کو بتایا تھا کہ سلطان ایوبی کے قتل
کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ ان چاروں نے دیکھ لیا تھا کہ سلطان ایوبی ،محافظوں کے بغیر گھومتا پھرتا رہتاہے۔ چنانچہ انہوں
نے یہ منصوبہ ترک کردیا تھا کہ جنگ زدہ عالقے کے پناہ گزینوں کے روپ میں سلطان ایوبی کے پاس جائیں گے اور اسے
قتل کردیں گے۔ سلطان ایوبی انہیں بڑا اچھا موقعہ دے رہا تھا۔ ان چار فدائیوں کی سکیم اچھی تھی۔ ان کی کمزوری یہ
تھی کہ وہ اپنے ساتھ تیروکمان نہیں الئے تھے کیونکہ پکڑے جانے کا خطرہ تھا۔ اگرا ن کے پاس ایک بھی کمان ہوتی تو وہ
کسی بھی جگہ چھپ کر سلطان ایوبی کو نشانہ بنا سکتے تھے ،وہاں چھپنے کی جگہیں بہت تھیں۔ آسانی سے فرار ہوا
جاسکتا تھا۔ ان کے پاس لمبے خنجرتھے۔
ادھر سے الناصر لزا کو گھوڑے پر بٹھائے تیزی سے آرہا تھا۔ لزا نے اسے بتا دیا تھا کہ چار فدائی سلطان ایوبی کے قتل کے
لیے گئے ہوئے ہیں۔ الناصر بہت جلدی سلطان ایوبی تک پہنچنا اور اسے خبردار کرنا چاہتا تھا مگر سفر لمبا تھا اور گھوڑے پر
دو سواروں کا بوجھ تھا۔گھوڑااتنی لمبی مسافت دوڑتے ہوئے طے نہیں کرسکتا تھا۔ اس نے راستے میں گھوڑے کو آرام دیا۔ پانی
پالیااور پھر چل پڑا۔ ادھر سلطان ایوبی اپنی حفاظت سے بالکل ہی بے نیاز ہوگیا تھا اور چارفدائی چھپ کر اسے دیکھ رہے
تھے۔ اس عالقے میں کوئی فوج نہیں تھی۔ کوئی آبادی بھی نہیں تھی۔ فدائی جنگ کے درندوں کی طرح شکار کی تالش میں
رہتے اور رات وہیں گزار لیتے تھے۔
سورج غروب ہوگیا۔ الناصر اور لزاکا گھوڑا چلتا رہا۔ اس کی چال بتا رہی تھی کہ اس کی رفتار کم ہوگی ،بڑھے گی نہیں۔
الناصر نے بوجھ کم کرنے کے لیے گھوڑے سے چھالنگ لگا دی اور لگام پکڑ کر پیدل چلنے لگا۔ رات گزرتی جارہی تھی۔ لزا
نے الناصر سے تین چار بار کہا کہ وہ اور زیادہ سواری نہیں کرسکتی۔ اس کی ہڈیاں بھی دکھنے لگی تھیں۔ وہ کچھ دیر آرام
کرنا چاہتی تھی لیکن الناصر جو خود تھکن ،پیاس اور بھوک سے بے حال ہوا جارہا تھا ،نہ رکا۔ اس نے لزا سے کہا……
'' تمہاری اور میری جان سے سلطان صالح الدین ایوبی بہت زیادہ قیمتی ہے ،اگر میں رک گیا اور سلطان ایوبی قتل ہوگیا تو
میں سمجھوں گا کہ میں اپنے سلطان کا قاتل ہوں''۔
صبح طلوع ہوئی۔ الناصر اب قدم گھسیٹ رہا تھا۔ لزاگھوڑے پر سر رکھے سوئی ہوئی تھی۔ گھوڑا معمولی سی چال چل رہا
تھا۔ ایک جگہ پانی اور گھاس دیکھ کر گھوڑا رک گیا۔ لزا نے نیند سے چونک کر کہا…… ''خدا کے لیے اسے مت گھسیٹو۔
اسے ذرا کھا پی لینے دو''…… گھوڑے نے پانی پی لیا تو الناصر اس کی لگام پکڑ کر چل پڑا۔ گھوڑا دوڑنے کے قابل نہیں
رہا تھا۔ الناصر بھی تھک ہار کر سوار ہوگیا۔ لزا کا رنگ پیال پڑ چکا تھا۔ اس کے منہ سے بات بھی نہیں نکلتی تھی۔
الناصر کو یہ تو معلوم ہی نہیں تھا کہ سلطان ایوبی کہاں ہوگا۔ وہ ترکمان کو جارہا تھا۔ سلطان ایوبی آگے چال گیا تھا جسے
بعد میں کوہ سلطان کا نام دیا گیا تھا مگر وہ اب وہاں بھی نہیں تھا۔ اس مقام سے بھی آگے چال گیا تھا۔ الناصر کو ترکمان
اور کو ِہ سلطان کی چٹانیں نظر آنے لگی تھیں اور وہ سوچ رہا تھا کہ کس طرف سے جائے۔ سورج بہت اوپر آگیاتھا۔
اس وقت سلطان ایوبی ایک چٹانی ویرانے میں اپنے عملے کے ساتھ وہاں کا جائزہ لے رہا تھا۔ اس نے عملے کو ایک جگہ
رکنے کو کہا اور اکیال ہی ایک طرف نکل گیا۔ اس کے ذہن میں شاید اپنی فوج کی پیش قدمی کی کوئی سکیم تھی۔ گھوڑے
سے اتر کر وہ ایک چٹان پر چڑھ گیا۔ چاروں فدائی اس چٹان سے تھوڑی ہی دور ایک جگہ چھپ کر اسے دیکھ رہے تھے۔
وہ کچھ دیر اوپر کھڑا ادھر ادھر دیکھتارہا۔
نیچے آنے دو''۔ ایک فدائی نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔''
اس کے محافظ قریب ہی کہیں چھپے ہوئے ہوں گے''۔ دوسرے نے کہا۔''
آج بچ کر نہ جائے''۔ ایک اور بوال۔'' :
صرف ایک آدمی آگے جائے گا''۔ چوتھے نے کہا…… ''وار پیچھے سے کرنا۔ ضرورت پڑی تو باقی آگے جائیں گے''۔''
سلطان ایوبی چٹان سے اترا اور گھوڑے پر سوار ہوکر کسی اور طرف چالگیا۔ فدائی اس کے پیچھے پیچھے گئے۔ حملے کے
لیے یہ جگہ موزوں نہیں تھی۔ الناصر ابھی بہت دور تھا۔ سلطان ایوبی ایک بار پھر گھوڑے سے اترا۔ ایک اور چٹان پر چڑھا۔
تھوڑی دیر بعد وہاں سے اترا اور گھوڑے کی لگام پکڑ کر پیدل چل پڑا۔ فدائی اس سے ذرا ہی دور چھپے ہوئے تھے۔ سلطان
ایوبی ایک جگہ سے گھوم گیا۔ آگے میدان تھا۔ وہ گھوڑے پر سوار ہونے ہی لگا تھا کہ اسے دوڑتے قدموں کی آہٹ سنائی
دی۔ ایک فدائی ایک فٹ لمبا خنجر ہاتھ میں لیے ،اس سے دو تین قدم دور رہ گیا تھا۔ سلطان ایوبی نے دیکھ لیا۔
سلطان ایوبی نے اپنا خنجر نکاال۔ فدائی نے وار کردیا۔ سلطان ایوبی نے اس کی خنجر والی کالئی کے آگے اپنی کالئی رکھ کر
وارروکنے کی کوشش کی مگر فدائی تنومند تھا۔ وار بڑی ہی طاقت سے کیاگیا تھا۔ سلطان ایوبی نے وار کیا جو فدائی بچا گیا۔
چٹان کی اوٹ سے ایک اور فدائی نکال۔ اس نے بھی وار کیا جو سلطان ایوبی نے بچا تو لیا لیکن اس کے کولہے کی کھال
کو چیر گیا۔ سلطان ایوبی گھوڑے کی اوٹ میں ہوگیا۔ ایک فدائی ادھر آیا تو سلطان ایوبی نے بائیں ہاتھ کاگھونسہ اس کے منہ
پر مارا۔ وہ پیچھے کو گرنے لگا تو سلطان ا یوبی نے خنجر اس کے دل کے مقام پر اتار کر زور سے ایک طرف کو جھٹکا
دیا۔ یہ فدائی ختم ہوگیا۔
دوسرے نے اس کے پیچھے سے وار کیا لیکن سلطان ایوبی بروقت سنبھل گیا۔ فدائی کے خنجر کی نوک سلطان ایوبی کے
ایک بازو میں لگی۔ یہ زخم بھی گہرا نہیں تھا۔ باقی دو فدائی بھی سامنے آگئے۔ سرپٹ دوڑتے گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دئیے
جو آن واحد میں سلطان ایوبی کے قریب آگئے۔ فدائی بھاگے۔ ایک کو تو سواروں نے گھوڑوں تلے کچل ڈاال ،دوسرے کو مار
تعالی نے سلطان صالح الدین ایوبی کو اس حملے سے
ڈاال۔ سلطان ایوبی کی پکار پر آخری فدائی کو زندہ پکڑ لیا گیا۔ اللہ
ٰ
بھی بچا لیا۔ اس پر جس وقت حملہ ہوا اس کا عملہ اس سے ساتھ آٹھ سو گز دور ایک بلندی پر کھڑا تھا۔ اتفاق سے ان
میں سے کسی نے دیکھ لیا ،ورنہ یہ حملہ ناکام ہونے واال نہیں تھا۔
یہ قاتالنہ حملہ مئی ١١٧٦ء (ذی القعد ٥٧١ھ ہجری) کا ہے۔ اس کے متعلق مورخین میں اختالف پایا جاتا ہے۔ قاضی
بہائوالدین شداد نے اپنی ڈائری میں اتنا ہی لکھا ہے کہ صالح الدین ایوبی قلعہ اعزاز کے محاصرے کے لیے جارہا تھا کہ چار
وتعالی نے اسے بچا لیا۔ میجر جنرل (ریٹائرڈ) محمد اکبر خان (رنگروٹ) نے
فدائیوں نے اس پر قاتالنہ حملہ کیا۔ اللہ تبارک
ٰ
متعدد حوالوں سے لکھا ہے کہ سلطان ایوبی قلعہ اعزاز کے محاصرے کے دوران دن کے وقت اپنے ایک ساالر جاواال سدی کے
خیمے میں سویا ہوا تھا۔ جب ایک فدائی نے خیمے میں جاکر اس پر خنجر سے وار کیا۔ اتفاق سے سلطان ایوبی کے سر پر
وہ مخصوص پگڑی تھی جو وہ میدان جنگ میں پہنا کرتا تھا۔ اسے تربوش کہتے تھے۔ حملہ آور کا خنجر تربوش میں لگا اور
سلطان ایوبی جاگ اٹھا۔ فورا ً ہی چارپانچ فدائی اندر آگئے اور ان کے ساتھ ہی سلطان ایوبی کے باڈی گارڈ بھی اندر آگئے
جنہوں نے فدائیوں کو ہالک کرڈاال۔ جنرل موصوف نے لکھا ہے کہ یہ فدائی کچھ عرصے سے دھوکے میں سلطان ایوبی کے
محافظ دستے میں شامل ہوگئے تھے۔
یورپی مورخوں نے لکھا ہے کہ حملہ آور سلطان ایوبی کے اپنے باڈی گارڈ تھے۔ ان مورخین نے سلطان ایوبی کے خالف یہ
شہادت مہیا کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ اپنی فوج میں بالکل مقبول نہیں تھا یہاں تک کہ اس کے باڈی گارڈ تک
اس کے وفادار نہیں تھے۔ اس وقت کے واقعہ نگاروں کی غیر مطبوعہ تحریروں سے یہی کہانی سامنے آتی ہے جو سنائی گئی
ہے۔ فدائی نہ اس کے محافظ دستے میں تھے نہ کسی دھوکے سے حملہ آورہوئے تھے۔ا نہیں سلطان ایوبی اکیال مل گیا تھا۔
جو فدائی پکڑا گیا تھا ،اس نے بیان دیا کہ وہ چاروں قلعہ عصیات سے آئے ہیں۔ اسے حسن بن عبداللہ کے حوالہ کردیا گیا
جس نے اس سے قلعہ عصیات کے متعلق تمام تر معلومات لے لیں۔یہ بھی پوچھ لیا کہ اندر کتنی فوج ہے اور اس کے لڑنے
کی اہلیت کیسی ہے۔ یہ معلومات سلطان ایوبی کو دی گئیں۔
کل رات کے آخری پہر ہم عصیات کی طرف کوچ کریں گے''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ اس نے اپنی ہائی کمانڈ کے ساالروں''
کو بالیا اور کہا…… ''فدائیوں کا یہ اڈا اکھاڑنا ضروری ہوگیا ہے۔ اس پر فورا ً قبضہ کرنا ہے۔ فوج کا تیسرا حصہ کافی ہوگا''۔
اس نے بتایا کہ کتنی نفری جائے گی اور اس کی ترتیب کیا ہوگی۔
اس شام سلطان ایوبی کو اطالع دی گئی کہ الناصر نام کا ایک چھاپہ مار واپس آیا ہے۔ حسن بن عبداللہ الناصر سے ساری
رپورٹ لے چکا تھا۔ اسے سلطان ایوبی کے سامنے پیش کرناضروری تھا۔ الناصر کو بڑی ہی بری حالت میں پیش کیا گیا۔
مسلسل سفر ،بھوک اور پیاس نے اسے ادھ مؤا کردیا تھا۔ا س کے ساتھ لزا تھی۔ا س کارنگ اڑا ہوا اور جسمانی حالت دگرگوں
تھی۔ الناصر نے سلطان ایوبی کو پوری تفصیل سے سنایا کہ اس پر کیا گزری ہے۔ اس نے کوئی بات پوشیدہ نہ رکھی۔ لزا کے
متعلق بھی سب کچھ بتایا۔سلطان ایوبی نے لزا سے پوچھا کہ وہ اپنے متعلق فیصلے میں آزادہے۔ لزا شاید اپنے آپ کو قیدی
سمجھ رہی تھی اور اسے بہت برے سلوک کی توقع تھی لیکن یہاں معاملہ الٹ تھا۔ اس نے الناصر کے ساتھ رہنے کی
خواہش ظاہر کی۔ اسے بتایا گیا کہ اسے دمشق بھیج دیا جائے گا جہاں وہ نورالدین زنگی کی بیوہ کی تحویل میں رہے گی اور
الناصر اسے کچھ عرصے کے بعد ملے گا۔ دراصل اس قسم کی لڑکیوں کو ان کی جذباتی باتوں سے متاثر ہوکر قابل اعتماد
نہیں سمجھا جاتا تھا۔ دمشق میں انہیں عزت اور آرام سے رکھا جاتا تھا اور ان کی خفیہ نگرانی کی جاتی تھی۔
الناصر کو زخموں کے عالج اور آرام کے لیے پچھلے کیمپ میں بھیج دیا گیا۔
٭ ٭ ٭
شیخ سنان کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔ گمشتگین اسے دھوکہ دے گیا تھا۔ اس نے گمشتگین کے قافلے کے تعاقب میں
جو آدمی بھیجے تھے ،ان میں سے صرف دو واپس آئے تھے۔ وہ تھیریسیا کو اٹھا الئے تھے۔ لزا کو الناصر بچا لے گیا تھا۔
شیخ سنان تھیریسیا سے انتقام لے رہا تھا۔ اسے اس نے قید میں ڈال رکھا تھا۔ تھی تو وہ بھی بہت ہی خوبصورت لڑکی
لیکن شیخ سنان کی نظر لزا پر تھی۔
دن کا پچھال پہر تھا۔ عصیات کے قلعے کی دیواروں پر کھڑے سنتریوں نے دور گرد کے بادل اٹھتے دیکھے ،گرد آگے ہی آگے
حتی کہ گرد میں سینکڑوں گھوڑے نظر آنے لگے ،پھر پیادہ فوج نظر آئی۔ سنتریوں نے نقارے
آرہی تھی۔ سنتری دیکھتے رہے۔
ٰ
بجا دئیے۔ کمانڈروں نے اوپر جاکر دیکھا۔ شیخ سنان کو اطالع دی۔ وہ بھی سامنے والی دیوار پر چڑھ گیا۔ اس وقت فوج قلعے
کے قریب آکر محاصرے کی ترتیب میں ہورہی تھی۔ شیخ سنان نے مقابلے کا حکم دے دیا۔ قلعے کی دیواروں پر تیرانداز پہنچ
گئے لیکن انہوں نے کوئی تیر نہ چالیا کیونکہ وہ باہر کی فوج کارویہ دیکھنا چاہتے تھے۔سلطان ایوبی کو قلعے کے اندر کی
معلومات مل چکی تھیں۔ الناصر اس کے ساتھ تھا۔ دو منجینقیں نصب کردی گئی۔ الناصر نے انہیں بتایا کہ شیخ سنان کا محل
کہاں ہے اور کتنی دور ہے۔اس کی رہنمائی میں منجنیقوں نے پہلے بڑے پتھر پھینکے جو ٹھکانے پر پڑے۔ سنان کے محل کی
دیواروں میں شگاف پڑ گئے۔
قلعے سے تیروں کا مینہ برس پڑا۔ سلطان ایوبی کے حکم سے منجنیقوں سے آتش گیر مادے کی سربمہر ہانڈیاں اندر پھینکی :
گئیں۔ یہ سنان کے محل کے قریب گر کر ٹوٹیں۔ سیال مادہ دور دور تک پھیل گیا۔ اسے آگ لگانے کے لیے فیتے والے آتشیں
تیر چالئے گئے لیکن آتش گیر سیال پر نہ گرے۔ تیر ٹھکانے پر پھینکنا آسان نہیں تھا۔ انہیں قلعے کی دیوار کے اوپر سے
اندر جانا تھا۔ اتفاق سے قریب کہیں آگ جل رہی تھی۔ ایک ہانڈی اس کے اتنا قریب پھٹی کہ آگ نے اس کے مادہ کو
شعلہ بنا دیا۔ دوسرے ہی لمحے سنان کا محل شعلوں کی لپیٹ میں آگیا ،وہاں بے شمار آتش گیر مادہ گر اور بہہ بہہ کر
پھیل گیا تھا۔
شیخ سنان پر شعلوں نے دہشت طاری کردی۔ اس کی فوج صلیبیوں اور مسلمانوں کی لڑاکا فوج نہیں تھی۔ یہ نشے اور کابلی
کی ماری ہوئی فوج تھی۔ سنان نے حقیقت کو تسلیم کرلیا اور اس نے قلعے پر سفید جھنڈا چڑھا دیا۔ سلطان ایوبی نے جنگ
بندی کا حکم دے دیا اور کہا کہ شیخ سنان سے کہو کہ باہر آئے۔ ہر طرف خاموشی طاری ہوگئی۔
20:45
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 110لڑکی نے اپنی الش دیکھی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سلطان ایوبی نے جنگ بندی کا حکم دے دیا اور کہا کہ شیخ سنان سے کہو کہ باہر آئے۔ ہر طرف خاموشی طاری ہوگئی۔
ذرا دیر بعد قلعے کا دوازہ کھال اور شیخ سنان دو تین ساالروں کے ساتھ باہر آیا۔ سلطان ایوبی اس کے استقبال کے لیے آگے
نہیں بڑھا۔ اس کی نگاہ میں سنان مجرم تھا۔ وہ جب سلطان ایوبی کے سامنے آیا تو سلطان نے اسے اور اس کے ساالروں کو
اتنا بھی نہ کہا کہ بیٹھ جائو۔
''سنان!'' سلطان ایوبی نے کہا…… ''کیا چاہتے ہو؟''
جان امان''۔ شیخ سنان نے شکست خوردہ آواز میں کہا۔''
اور قلعہ؟'' سلطان ایوبی نے پوچھا۔''
مجھے آپ کا فیصلہ منظور ہوگا''۔''
اپنی فوج کے ساتھ قلعے سے فورا ً نکل جائو''۔ سلطان ایوبی نے کہا…… ''تم کوئی سامان اپنے ساتھ نہیں لے جاسکو ''
گے۔ اپنی فوج کو سمیٹو۔ کسی کمان دار اور کسی سپاہی کے پاس کوئی اسلحہ نہ ہو۔ یہاں سے خالی ہاتھ نکلو۔ تہہ خانے
میں جو قیدی ہیں ،انہیں وہیں رہنے دو اور یاد رکھو ،سلطنت اسالمیہ کی حدود میں نہ ٹھہرنا۔ صلیبیوں کے پاس جاکر دم لینا۔
تم نے اب کے جو چار فدائی میرے قتل کے لیے بھیجے تھے وہ بھی مارے گئے ہیں۔ میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ سفید
جھنڈا تم نے چڑھایا ہے۔ میں قرآن کے فرمان کا پابند ہوں۔ میں کہہ نہیں سکتا ،خداتمہیں معاف کریگا یا نہیں۔ اپنے آپ کو
مسلمان کہنا چھوڑ دو ،ورنہ میں تمہیں اور تمہارے فرقے کو بحیرٔہ روم میں ڈبو کر دم لوں گا''۔
جب سورج غروب ہورہا تھا ،دور افق پر انسانوں کی لمبی قطار سرجھکائے چلی جارہی تھی۔ شیخ سنان اسی قطار میں تھا۔
اس قطار میں اس کے سپاہی اور اس کے ساالر بھی تھے اور اس قطار میں اس کے پیشہ ور قاتل بھی تھے۔ وہ اپنے ساتھ
کچھ بھی نہیں لے جاسکے تھے۔ ان کے گھوڑے اور اونٹ قلعے میں رکھ لیے گئے۔ سورج غروب ہونے تک سلطان ایوبی کی
فوج قلعے پر قبضہ مکمل کرچکی تھی۔ تہہ خانے سے قیدیوں کو نکال لیا گیا تھا۔ قلعے سے جو زروجواہرات برآمد ہوئے تھے،
ان کا کوئی شمار نہ تھا۔
٭ ٭ ٭
سلطان ایوبی نے قلعہ ایک ساالر کے حوالے کیا اور رات کو ہی کو ِہ سلطان کو روانہ ہوگیا۔ وہ اب زیادہ انتظار نہیں کرنا چاہتا
تھا۔ چند ہی دنوں میں اس نے پیش قدمی کی اور اعزاز کے قلعے کا محاصرہ کیا۔ حلب والوں نے اس قلعے کو دفاعی
لحاظ سے بہت مستحکم کررکھا تھا۔ یہ دراصل حلب کا دفاع تھا۔ اس میں جو فوج تھی ،وہ تازہ دم تھی۔ میدان جنگ میں
نہیں گئی تھی۔ سلطان ایوبی کو ایسی خوش فہمی نہیں تھی کہ وہ اس قلعے کو فورا ً سر کرلے گا۔ یہ خطرہ بھی تھا کہ
عقب سے حلب کی فوج حملہ کردے گی۔ اس خطرے کو روکنے کاانتظام کرلیاگیا تھا۔سلطان ایوبی کو یہ فائدہ حاصل تھا کہ
حلب کی فوج ترکمان کی لڑائی سے نقصان اٹھا کر آئی تھی۔ اس کا لڑنے کا جذبہ مجروح ہوچکا تھا۔
قلعہ اعزاز کے دفاع میں لڑنے والوں نے بے جگری سے مقابلہ کیا۔ تمام دن اور ساری رات انہوں نے سلطان ایوبی کی فوج
کو قلعے کے قریب نہ آنے دیا۔ دیواریں توڑنے والی پارٹیوں نے بہت کوشش کی کہ کسی جگہ سے دیوار کے قریب چلے جائیں
اور دیوار توڑ سکیں لیکن تیراندازوں نے انہیں قریب نہ آنے دیا۔ اگلے دن بڑی منجنیقوں سے قلعے کے دروازے پر وزنی پتھر
مارے گئے۔ آتش گیر مادہ کی ہانڈیاں بھی دروازے پر پھینک کر آتشیں تیر چالئے گئے۔ شعلوں نے دروازے کو چاٹنا شروع
کردیا۔ اوپر سے اعزاز کے تیر اندازوں نے منجنیقوں کے کئی آدمی زخمی اور شہید ہوئے لیکن اس قربانی کے بغیر قلعہ سر
کرنا ممکن نہیں تھا۔ ایک شہید ہوتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا تھا۔
دروازہ جل رہا تھا اور اس پر لگاتار پتھر پڑ رہے تھے۔ بہت دیر بعد پتھر دروازے میں سے اندر جانے لگے۔ شعلوں نے لکڑی
کو کھا لیا تھا۔ لوہے کا فریم باقی تھا جو پتھروں سے ٹیڑھا ہورہا تھا۔ رات کو شعلے بجھ گئے ،دروازے کا آہنی ڈھانچہ رہ
گیا۔ اس میں سے پیادے گزر سکتے تھے ،گھوڑھے گزارنا مشکل تھا۔ یہاں جانبازی کی ضرورت تھی۔ پیادہ دستوں کو حکم دیا
گیا کہ دروازے کے ڈھانچے میں سے گزر کر اندر جائیں۔ یہ سلطان ایوبی کے ''کریک ٹروپس'' تھے۔ انہوں نے ہلہ بول دیا۔
اعزاز کے سپاہیوں نے ان دستوں کا یہ حشر کیا کہ آگے جو گئے تھے ،انہیں وہیں ڈھیر کردیا۔ پیچھے والے اپنے ساتھیوں کی
الشوں کے اوپر سے اندر گئے۔
یہ معرکہ بڑاہی خون ریز تھا۔ اس سے یہ فائدہ اٹھایا گیا کہ دروازے کا آہنی ڈھانچہ توڑ لیا گیا جو پیادے زندہ تھے وہ اندر
جاکر بکھر گئے اور خوب لڑے۔ پھر گھوڑ سواروں کو اندر جانے کا حکم مال…… سلطان ایوبی نے قلعے کے اندر آتش زنی کا
حکم دے دیا۔ ایک دستہ جگہ جگہ آگ لگانے لگا۔ اعزاز کی فوج ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نظر نہیں آتی تھی۔ یہ قلعہ حلب سے
نظر آتا تھا۔ رات کو حلب والوں نے دیکھا کہ
جہاں قلعہ ہے وہاں سے آسمان سرخ ہورہا ہے۔ شعلے بلند ہورہے تھے۔ یہ اطالع تو حلب میں پہنچ چکی تھی کہ سلطان :
ایوبی نے اعزاز کو محاصرے میں لے رکھا ہے۔ حلب کی ہائی کمانڈ نے اس امکان پر بھی غور کیا تھا کہ سلطان ایوبی پر
عقب سے حملہ کیا جائے مگر ساالروں نے بتایا کہ فوج لڑنے کے قابل نہیں۔
اس وقت سیف الدین حلب میں ہی تھا اور گمشتگین بھی وہیں چال گیا تھا۔ ان دونوں کے درمیان اعزاز اور حلب کے دفاع
کے سلسلے میں ترش کالمی ہوئی جو اس حد تک بڑھی کہ گمشتگین نے سیف الدین کو قتل کی دھمکی دے دی۔ سیف
الدین نے اتحاد توڑ دیا۔ اس کی جو بچی کھچی فوجی تھی وہ حلب سے نکال لے گیا۔ یہ لوگ دراصل ایک دوسرے کے بھی
دشمن تھے۔ الملک الصالح کی عمر اب تیرہ برس سے کچھ اوپر ہوگئی تھی۔ وہ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوگیا تھا۔ اس نے
گمشتگین کا رویہ دیکھا تو اس نے محسوس کرلیا کہ اس کا یہ دوست سازشی ہے۔ اس نے گمشتگین کو قید خانے میں ڈال
دیا۔ تاریخ میں تحریر ہے کہ گمشتگین نے ان حاالت میں کہ حلب اور اعزاز محاصرے میں تھے۔ الملک الصالح کے خالف
کوئی نئی سازش تیار کی تھی جس کا انکشاف ہوگیا اور اسے قید میں ڈال کر دو تین روز بعد قتل کردیا گیا۔
آخر اعزاز کے محافظوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ سلطان ایوبی کو اس کی بہت بڑی قیمت دینی پڑی۔ اس کے جن دستوں نے
قلعے کے اندر معرکہ لڑا تھا ان کی نفری آدھی رہ گئی تھی۔ اعزاز والوں نے ثابت کردیا تھا کہ وہ بزدل نہیں۔ سلطان ایوبی
نے فورا ً حلب کو محاصرے میں لے لیا۔ حلب قریب ہی تھا۔ حلب کے اندر جذبے کی یہ کیفیت تھی کہ رات اعزاز کے
شعلوں نے انہیں دہشت زدہ کردیا تھا۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ ان کی فوج میں اتنا دم نہیں رہا کہ شہر کا دفاع کرسکے۔
انہی شہریوں نے کچھ عرصے پہلے سلطان ایوبی کے چھکے چھڑا دئیے تھے اور اسے محاصرہ اٹھانا پڑا تھا مگر اب یہ شہر
جیسے مر ہی گیاتھا۔ محاصرے کے دوسرے دن الملک الصالح کا ایک ایلچی سلطان ایوبی کے پاس آیا۔ وہ جو پیغام الیا وہ
صلح کی پیش کش نہیں تھی۔ یہ ایک ایسا جذباتی پیغام تھا جس نے سلطان ایوبی کو جھنجھوڑ ڈاال۔ پیغام یہ تھا کہ نورالدین
زنگی مرحوم کی بچی سلطان ایوبی سے ملنا چاہتی ہے۔ اس بچی کا نام شمس النساء تھا۔ یہ الملک الصالح کی چھوٹی بہن
تھی۔ عمر دس گیارہ سال تھی۔ الملک الصالح جب دمشق سے حلب گیا تو اپنی بہن کو بھی ساتھ لے گیا تھا۔ا ن کی ماں
رضیع خاتون بنت معین الدین ( بیوہ نورالدین زنگی) دمشق میں ہی رہی تھی۔ وہ سلطان ایوبی کی حامی تھی۔
سلطان ایوبی نے حلب کے ایلچی کو جواب دیا کہ بچی کو لے آئے۔
بچی آگئی۔ اس کے ساتھ الملک الصالح کے دو ساالر تھے۔ سلطان ایوبی نے بچی کو سینے سے لگا لیا اور وہ بہت رویا۔
بچی کے ہاتھ میں الملک الصالح کا تحریری پیغام تھا جس میں اس نے شکست قبول کرلی تھی اور سلطان ایوبی کو سلطان
تسلیم کرلیا تھا۔ اس نے سلطان ایوبی کی اطاعت بھی قبول کرلی تھی۔ اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ گمشتگین کو قتل کردیا
گیا ہے۔ اس لیے حرن بھی سلطان ایوبی کی ملکیت تصور کیا جائے۔
''تم لوگ بچی کو کیوں ساتھ الئے ہو؟'' سلطان ایوبی نے ساالروں سے پوچھا…… ''یہ پیغام تم خود نہیں السکتے تھے؟''
جواب ساالروں کو دینا چاہیے تھا لیکن انہوں نے بچی کی طرف دیکھا۔ بچی نے سلطان ایوبی سے کہا…… ''ماموں جان!
مجھے بھائی صالح نے بھیجا ہے۔ آپ اعزاز کا قلعہ ہمیں دے دیں اور ہمیں حلب میں رہنے دیں۔ ہم آئندہ آپ سے لڑائی
نہیں کریں گے''۔
سلطان ایوبی نے بچی کے ساتھ آئے ہوئے ساالروں کو غضب ناک نظروں سے دیکھا۔ وہ شرط منوانے کے لیے زنگی مرحوم :
کی بچی کو ساتھ الئے تھے۔
میں اعزاز کا قلعہ اور حلب تمہیں دیتا ہوں شمس النسائ''۔ سلطان ایوبی نے بچی کو گلے لگا کر کہا اور حکم جاری ''
کردیا کہ اعزاز کے قلعے سے اپنی فوج نکال لی جائے اور حلب کامحاصرہ اٹھا لیا جائے۔ اس نے حلب کے ساالروں سے
کہا…… ''میں نے اعزاز اور حلب اس معصوم بچی کو دیا ہے۔ تم بزدل ،بے غیرت اور ایمان فروش اس قابل بھی نہیں کہ
تمہیں فوج میں رہنے دیاجائے''۔
٢٤جون ١١٧٦ء ( ١٤ذی الحج ٥٧١ہجری) معاہدے پر دستخط ہوگئے۔ سلطان ایوبی نے اعزاز اور حلب کو سلطنت اسالمیہ
میں شامل کرلیا اور الملک الصالح کو نیم خودمختاری کی حیثیت دے دی۔ اس کے فورا ً بعد سیف الدین نے بھی سلطان ایوبی
کی اطاعت قبول کرلی…… اور مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں کا دور ختم ہوگیا مگر قوم میں غدار اور ایمان فروش بدستور
سرگرم رہے۔
20:46
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 111رات ،روح اورروشنی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
قبرستان بہت ہی وسیع تھا۔ تمام قبریں ابھی تازہ تھیں۔ مٹی کی ڈھیریاں بے ترتیب تھیں۔ کوئی اونچی کوئی نیچی۔ بعض
قبریں ایک دوسرے سے مل گئی تھیں۔ میدان جنگ کی قبریں ایسی ہی ہوا کرتی ہیں۔ حماة سے حلب تک ایسے تین
قبرستان تیار ہوگئے تھے۔ یہ سرسبز اور شاداب خطہ اداس ہوگیا تھا۔ اس کی فضا خون کی بو سے بوجھل ہوگئی تھی۔ جہاں
پرندے چہچہاتے تھے ،وہاں گدھ منڈال رہے تھے۔
ایسا ایک قبرستان حلب کے مضافاتی قلعہ اعزاز کے قریب تھا۔ قبروں کی مٹی ابھی نمناک تھی۔ سلطان صالح الدین ایوبی
کی فوجوں کا امام چند ایک فوجیوں کے ساتھ وہاں کھڑا فاتحہ پڑھ رہا تھا۔ اس نے جب منہ پر ہاتھ پھیرے تو آنسو اس کی
داڑھی تک پہنچ چکے تھے۔
یہ خطہ اب بانجھ ہوجائے گا۔ یہاں اب کوئی پتا ہرا نہیں ہوگا''… اس نے کہا… ''یہاں ایک ہی رسول صلی اللہ علیہ ''
وآلہ وسلم کی اطاعت کرنے والے ،ایک ہی کلمہ اور ایک ہی قرآن پڑھنے والے ایک دوسرے کے قاتل ہوگئے تھے جس زمین
پر بھائی کے ہاتھوں بھائی کا خون گرتا ہے ،وہ زمین سوکھ جاتی ہے۔ یہاں تکبیر کے نعرے ٹکرائے تھے۔ یہ سب مسلمان
تھے۔ ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ حق کے نام پر جانیں قربان کرنے والے شہید ہوئے اور باطل کے ساتھی اس رتبے
روز محشر اکٹھے اٹھائے جائیں گے۔ خدائے ذوالجالل انہیں یہ تو ضرور کہیں گے کہ خون جو تم نے
سے محروم رہے۔ یہ سب ِ
ایک دوسرے کا بہایا ہے ،اتنا تم مل کر اسالم کے دشمن کا بہاتے تو فلسطین ہی نہیں ،سپین بھی ایک بار پھر تمہارا
ہوتا''۔
گھوڑوں کے قدموں کی ہنگامہ خیز آوازیں سنائی دیں۔ امام کے ساتھ کھڑے کسی فوجی نے کہا… ''سلطان آرہے ہیں''… امام
نے گھوم کر دیکھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی آرہا تھا۔ اس کے ساتھ ساالر اور محافظ دستے کے چھ سوار تھے۔ قبرستان کے
قریب آکر سلطان ایوبی نے گھوڑا روکا ،اترا اور امام کے قریب آکر فاتحہ پڑھ کر اس نے امام سے ہاتھ مالیا۔
سلطان محترم!''… امام نے سلطان ایوبی سے کہا… ''یہ صحیح ہے کہ یہ بھی مسلمان تھے جو ہمارے خالف لڑے ،لیکن''
ِ
میں انہیں اس قابل نہیں سمجھتا کہ ان کی قبروں پر فاتحہ پڑھی جائے۔ انہیں شہیدوں کے ساتھ دفن نہیں کرنا چاہیے تھا۔
ہمارے مجاہدین حق کی خاطر لڑ رہے تھے۔ انہیں آپ نے دشمن کے مقتولین کے ساتھ دفن کرادیا ہے''۔
میں انہیں بھی شہید سمجھتا ہوں جو باطل کی خاطر ہمارے خالف لڑے تھے''… سلطان ایوبی نے کہا… ''یہ اپنے ''
حکمرانوں کی فریب کاری کے شہید ہیں۔ ہم نے اپنے سپاہیوں کو اللہ کا پیغام دیا تھا۔ ان کے خالف لڑنے والے سپاہیوں کو
ان کے بادشاہوں نے جذباتی نعرے اور جھوٹا پیغام دے کر ان کے دلوں میں باطل کو حق بتا کر بٹھا دیا۔ ان کے اماموں نے
انعام واکرام لے کر سپاہیوں کو گمراہ کیا اور اللہ اکبر کے نعرے لگا کر اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام کی
خالف ورزی کرائی۔ میں ان کی الشوں کو ایک ہی گڑھے میں دبا کر یاکہیں پھینک کر ان کی توہین نہیں کرنا چاہتا تھا۔ہمارے
دشمن مسلمانوں کے جن سپاہیوں کو احساس ہوگیا تھا کہا انہیں گمراہ کیا گیا ہے وہ ہمارے ساتھ ہیں اور یہ جو مرگئے ہیں،
ان تک روشنی نہیں پہنچی تھی کیونکہ بادشاہی کے دلدادہ حکمرانوں نے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی''۔
پہلے سنایا جاچکا ہے کہ مسلمان امراء سلطان صالح الدین ایوبی کے دشمن ہوگئے تھے۔ وہ خالفت سے آزادہوکر خودمختار
حکمران بننا چاہتے تھے۔ ان میں ایک نورالدین زنگی مرحوم کا بیٹا الملک الصالح تھا ،دوسراموصل کا امیر سیف الدین غازی
اور تیسرا گمشتگین جو حرن کا قلعہ دار تھا لیکن اس نے خودمختاری کا اعالن کردیا تھا۔ ان تینوں نے اپنی فوجوں کی
متحدہ ہائی کمان بنا لی اور سلطان ایوبی کیخالف محاذ آرا ہوگئے تھے۔ صلیبی ان کی پشت پناہی کررہے تھے۔ صلیبیوں کو
ان کے ساتھ صرف یہ دلچسپی تھی کہ مسلمان آپس میں ٹکرا ٹکرا کر ختم ہوجائیں یا اتنے کمزور ہوجائیں کہ ان (صلیبیوں)
کے خالف لڑنے کے قابل نہ رہیں۔ حکمرانی کے نشے ،صلیبیوں کی دی ہوئی مالی اور جنگی امداد ،شراب اور یہودیوں کی
حسین وجمیل لڑکیوں نے ان امراء کو ایسا اندھا کیا کہ وہ سلطان ایوبی کے راستے میں اس وقت حائل ہوگئے جب نورالدین
زنگی فوت ہوچکا تھا اور سلطان ایوبی مصر سے یہ عزم لے کر آیا تھا کہ صلیبیوں کو عالم اسالم سے بے دخل کرکے قبلہ
اول کو سلطنت اسالمیہ میں شامل کرلے گا۔
ڈیڑھ سال تک حماة سے حلب تک کے اس سرسبز خطے میں مسلمان مسلمان کا خون بہاتا رہا۔ آخر فتح حق کی ہوئی۔ :
سلطان ایوبی نے فتح پائی۔ اس کے دشمنوں نے اس کی اطاعت قبول کرلی لیکن سلطان ایوبی کے چہرے پر مسرت کی ہلکی
سی بھی جھلک نظر نہیں آتی تھی۔ قوم کی عسکری قوت کا بیشتر حصہ تباہ ہوچکا تھا۔ اس لحاظ سے یہ صلیبیوں کی فتح
اور مسلمانوں کی شکست تھی۔ صلیبی اپنے عزائم میں کامیاب ہوگئے تھے۔ سلطان ایوبی اب کئی برسوں تک بیت المقدس
کی طرف پیش قدمی کے قابل نہیں رہاتھا۔
جون ١١٧٦ء کے اس روز جب سلطان ایوبی قلعہ اعزاز کے قریب وسیع قبرستان میں اپنے امام کے پاس کھڑا تھا تو (اس دور
کے واقعہ نگاروں کے مطابق) اس کا چہرہ بجھا بجھا سا تھا۔ اس نے امام سے کہا… ''ہر نماز کے بعد دعا کریں کہ اللہ
تعالی انہیں بخش دے جن کی آنکھوں پر کفر کی پٹی باندھ کر اپنے بھائیوں کے خالف لڑایا گیا تھا''… سلطان گھوڑے پر
ٰ
سوار ہوا اور اس نے قبرستان پر نگاہ ڈالی… ''خدا کو اتنے زیادہ خون کا حساب کون دے گا؟ یہ گناہ میرے حساب میں نہ
لکھ دیا جائے''۔
اپنے ساالروں کی طرف دیکھ کر اس نے کہا… ''ہماری قوم خودکشی کے راستے پر چل پڑی ہے۔ کفار امت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوت اور جذبے سے اس قدر خائف ہیں کہ اس قوت کو دلکش حربوں سے کمزور کررہے ہیں۔ ان کے
پاس یہی ایک ذریعہ رہ گیا ہے۔ ہمارے بعض بھائیوں نے ان کے اس ذریعے کو قبول کرلیا ہے اور تاریخ میں خانہ جنگی کا
باب کھول دیا ہے۔ اگر ہم نے اس باب کو یہیں بند نہ کیا تو میں مستقبل کو جہاں تک دیکھ سکتا ہوں ،مجھے امت رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خانہ جنگی سے خودکشی کرتی نظر آتی ہے۔ کفار آج کے دور کی طرح مالی اور جنگی امداد
دے دے کر امت کو آپس میں لڑاتے رہیں گے۔ چند ایک افراد پر جب تخت وتاج کے حصول کا جنون سوار ہوتا ہے تو وہ
قوم کو آلٔہ کار بنا کر قوم کو لے ڈوبتے ہیں۔ بادشاہی کے یہ بھوکے لوگ قوم کا خون اسی طرح بہاتے رہیں گے۔ یہ اتنا
وسیع قبرستان دیکھو۔ قبریں گنو تو گن نہیں سکو گے۔ ہم پیچھے جو الشیں دفن کرآئے ہیں ،ان کا بھی شمار نہیں۔ میں اتنے
''خون کا حساب کس سے لوں؟ خدا کو میں کیا جواب دوں گا؟
خانہ جنگی کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے''… ایک ساالر نے کہا۔ ''اب آگے کی سوچیں۔ ہمیں بیت المقدس پکار رہا ہے۔ قبلہ''
''اول ہماری راہ دیکھ رہا ہے
اور مجھے مصر پکار رہا ہے''… سلطان صالح الدین ایوبی نے گھوڑاچال دیا اور کہنے لگا… ''وہاں سے بڑی تشویش ناک ''
خبریں آرہی ہیں ،وہاں میرا قائم مقام میرا بھائی ہے۔ وہ مجھے پریشانی سے بچانے کے لیے حاالت کی سنگینی مجھ سے
چھپا رہا ہے۔ علی بن سفیان اور کوتوال غیاث بلبیس بھی مجھے تفصیل سے کوئی بات نہیں بتا رہے۔ صرف اتنی خبر
بھیجتے ہیں کہ دشمن کی زمین دوز تخریبی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ان کا سدباب کیا جارہا ہے۔ پرسوں کے قاصد نے بتایا ہے
کہ قاہرہ میں تخریب کاری زور پکڑتی جارہی ہے۔ معلوم ہوتا ہے شیخ سنان کو ہم نے عصیات سے بے دخل کردیا ہے مگر
اس کا قاتل گروہ قاہرہ میں سرگرم ہے۔ دوکمان دار ایسے طریقے سے قتل ہوگئے ہیں کہ ان کے جسموں پر زخم اور چوٹ کا
کوئی نشان نہیں۔ مرنے کے بعد الشوں کی حالت سے یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ زہر دیا گیا تھا۔ یہ حشیشین کا خاص طریقہ
ہے''۔
تو کیا آپ فوج کو یہیں رہنے دیں گے یا ساتھ لے جائیں گے؟''… ایک ساالر نے کہا۔''
اس کے متعلق میں نے ابھی فیصلہ نہیں کیا''… سلطان ایوبی نے کہا… ''شاید کچھ نفری لے جائوں۔ فوج کی ضرورت ''
یہاں زیادہ ہے۔ صلیبیوں نے مصر میں تخریب کاری اس لیے تیز کردی ہے کہ میں فلسطین کی طرف پیش قدمی کرنے کے
بجائے مصر چال جائوں۔ میں ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہونے دوں گا ،البتہ میرا مصر جانا ضروری ہے''۔
٭ ٭ ٭
سلطان ایوبی کے خدشے بے بنیاد نہیں تھے۔ صلیبیوں کی ذہنیت اور عزائم کو اس سے بڑھ کر اور کوئی نہیں سمجھ سکتا
تھا۔ اس وقت جب وہ قبرستان سے فاتحہ پڑھ کر اپنے جنگی ہیڈکوارٹر کی طرف جارہا تھا۔ شیخ سنان تریپولی پہنچ چکا تھا۔
آپ پڑھ چکے ہیں کہ حسن بن صباح کے بعد اس فرقے کے جس پیرومرشد نے شہرت حاصل کی ،وہ شیخ سنان تھا۔ یہ
شخص حشیشین ( فدائیوں) کا سربراہ تھا۔ سلطان ایوبی اور صلیبیوں کی جنگوں کے دوران فدائیوں کا قاتل گروہ شیخ سنان کی
زیرقیادت بہت ہی زیادہ سرگرم ہوگیا تھا۔ سلطان ایوبی پر متعدد بار قاتالنہ حملے کیے گئے اور ہر حملے کا انجام یہ ہوا کہ
قاتل مارے گئے اور جو بچے وہ پکڑے گئے۔ صلیبیوں نے شیخ سنان کو عصیات نام کا ایک قلعہ دے رکھا جو مئی ١١٧٦ء
میں سلطان ایوبی نے محاصرے میں لے کر شیخ سنان سے ہتھیار ڈلوائے اور اس سے قلعہ خالی کراکے اسے بخش دیا تھا۔
اس محاصرے کی تفصیالت سنائی جاچکی ہیں۔
شیخ سنان جو ١١٧٦ء کے ایک رو زتریپولی ( لبنان) پہنچا۔ اس کے ساتھ اس کے فدائی اور فوج تھی۔ کسی کے پاس کوئی
ہتھیار نہیں تھا۔ سلطان ایوبی نے انہیں نہتہ کرکے رخصت کیا تھا۔ تریپولی اور گردونواح کا وسیع عالقہ ایک صلیبی کمانڈر کے
قبضے میں تھا۔ شیخ سنان اس کے پاس پہنچا اور پناہ مانگی۔ دو روز بعد ریمانڈ نے ادھر ادھر سے دوسرے صلیبی بادشاہوں
اور کمانڈروں کو تریپولی بالیا تاکہ سلطان ایوبی کے خالف آئندہ الئحہ عمل تیار کیا جائے۔ صلیبیوں کی انٹیلی جنس کا ماہر
ڈائریکٹر جرمن نژاد ہرمن بھی اس کانفرنس میں موجود تھا۔
آپ مجھے اس بنا پر نہیں کوس سکتے کہ میں صالح الدین ایوبی سے شکست کھا کر آیا ہوں''… شیخ سنان نے صلیبیوں''
کی اس کانفرنس میں کہا… ''آپ جانتے ہیں کہ ہم فوج کی طرح نہیں لڑ سکتے۔ سلطان ایوبی کا مقابلہ تمہاری فوج بھی
نہیں کرسکتی ،میرے فدائی اس کے محاصرے میں کیسے لڑ سکتے ہیں۔ ضرورت یہ ہے کہ آپ ایوبی کے دشمن مسلمان امراء
کو اپنی فوجیں دیں۔ وہ سب مل کر اس کے سامنے نہیں ٹھہر سکے''۔
شیخ سنان!''… ریمانڈ نے کہا… ''یہ ہم تک رہنے دیں کہ ایوبی کے خالف ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ ہم آپ کو یہ بتانا ''
چاہتے ہیں کہ آپ نے اس کے قتل کے لیے جو چار آدمی بھیجے تھے ،وہ بھی ناکام ہوگئے ہیں ،مارے گئے ہیں اور پکڑے
گئے ہیں۔صالح الدین ایوبی پر آپ کا ایک بھی قاتالنہ حملہ کامیاب نہیں ہوا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ آپ اپنے بے کار
آدمی بھیجتے رہے ہیں جن کے مرجانے یا گرفتار ہوجانے سے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ ہم آپ کو جو مراعات اور رقم
دیتے رہے وہ ضائع ہوگئی ہے''۔
صرف ایک صالح الدین کے قتل نہ ہونے سے آپ کی رقم ضائع نہیں ہوئی''… شیخ سنان نے کہا… ''میں نے مصرمیں ''
صالح الدین ایوبی کی حکومت کو جو دو حاکم قتل کرائے ہیں ،انہیں اپنی رقم کے حساب میں رکھیں۔ ) آپ کے تین طاقتور
مخالف سوڈان میں تھے۔ انہیں میں نے قبروں میں اتارا اور وہاں آپ کا راستہ صاف کیا ہے۔ صالح الدین ایوبی کے مخالف
مسلمان امراء میں سے جو حلب میں الملک الصالح کے ساتھ تھے ،دو صالح الدین کے حامی ہوگئے تھے۔ آپ کے اشارے پر
میں نے انہیں قتل کرایا ہے اور اب مصر میں حاکموں کے خفیہ قتل کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے ،وہ کس نے شروع کیا ہے؟
''کیا آپ اسے بھی ناکام کہیں گے؟
ایوبی کب قتل ہوگا؟''… فرانسیسی صلیبی گے آف نورینان نے میز پر مکا مار کر پوچھا… ''صالح الدین ایوبی کے قتل ''
''کی بات کرو ،آپ نے نورالدین زنگی کو جو زہر دیا تھا ،وہ صالح الدین ایوبی کو کب دو گے؟
جس روز اس قسم کے حاالت پیدا ہوجائیں گے جیسے نورالدین زنگی کے وقت پیدا ہوئے تھے''… شیخ سنان نے کہا … ''
'' زنگی زلزلے کی تباہ کاری کے متاثرین کی امداد کے لیے اکیال بھاگتا دوڑتا رہتا تھا۔ نہ اسے ہوش تھا ،نہ اس کے عملے کو
کہ اس کے لیے جو کھانا پکتا ہے وہ کون پکاتا ہے اور کوئی اس کی نگرانی بھی کرتا ہے یا نہیں۔ اس موقعے سے میرے ان
آدمیوں نے جو میں نے آپ کے کہنے پر اس کے قتل کے لیے بھیج رکھے تھے ،فائدہ اٹھایا اور اس کے کھانے میں وہ زہر
مال دیا جو گلے کی بیماری بن گیا اور وہ تین چار دنوں بعد مرگیا۔ اس کے طبیب آج بھی کہتے ہیں کہ نورالدین زنگی خناق
سے مراہے مگر صالح الدین ایوبی کے کھانے تک پہنچنا ممکن نہیں''۔
اعلی کمانڈر نے پوچھا۔''
کیا آپ اس باورچی کو خرید نہیں سکتے جو اس کا کھانا پکاتا ہے؟''… ایک
ٰ
اس کا جواب ہمارا دوست ہرمن دے سکتا ہے''… شیخ سنان نے کہا اور ہرمن کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔''
شیخ سنان ٹھیک کہتے ہیں''… ہرمن نے کہا… ''اس سوال کا جواب مجھے دینا چاہیے کہ صالح الدین ایوبی کے باورچی''
کو کیوں نہیں خریدا جاسکتا۔ اگر صالح الدین پرہوتا تو وہ اب تک زہر سے مارا جاچکا ہوتا۔ وہ اس کی پروا نہیں کرتا کہ
اس کے کھانے کی کسی نے نگرانی کی ہے یا نہیں۔ اس نے اپنی جان کو خدا کے سپرد کررکھا ہے۔ اس عقیدے کا وہ پکا
ہے کہ اس کی موت کا جو دن مقرر ہے ،اس روز اسے اپنی جان خدا کے حضور پیش کرنی ہے اورا سے کوئی انسان روک
نہیں سکتا۔ اس کے محافظ دستے کا کمانڈر ،خفیہ محکمے کا ایک ذمہ دار آدمی اور اس کا ایک معتمد خاص اس کا کھانا کھا
کر دیکھتے ہیں ،بعض اوقات طبیب آجاتا ہے اور وہ بھی کھانا دیکھتا ہے۔ اس اتنی کڑی نگرانی کے عالوہ دوسری دشواری یہ
ہے کہ صالح الدین ایوبی کے باورچی اور دیگرتمام مالزم اس کے مرید ہیں۔ ان کے دلوں میں اس کی اندھی عقیدت ہے۔
ایوبی انہیں اپنے نوکر نہیں سمجھتا۔ ان کے ساتھ دوستوں اور بھائیوں جیسا سلوک کرتا ہے۔ پوری طرح جائزہ لیا جاچکا ہے۔
صالح الدین ایوبی کے اس ذاتی حلقے میں سے کسی کو خریدنا ،اسے حلقے میں اپنا کوئی آدمی داخل کرنا ممکن نہیں۔ اس
کے پاس افراد ایسے ہیں جو اس کے گرد حصار کھینچے ہوئے ہیں۔ یہ ہیں علی بن سفیان ،غیاث بلبیس ،حسن بن عبداللہ اور
زاہدان۔ یہ سب اتنے ماہر سراغ رساں ہیں کہ ان کی نظریں انسان کے ضمیر اور روح کو بھی دیکھ لیتی ہیں''۔
اسالم کا خاتمہ''… فلپ آگسٹس نے کہا… ''میں سوبار کہہ چکا ہوں کہ ہمیں اسالم کا خاتمہ کرنا ہے۔ یہ ایسا مذہب ''
ہے جو انسان کی روح کو قبضے میں لے لیتا ہے جس کسی نے اسالم کو اپنی روح میں اتار لیا ،اسے دنیا کی کوئی طاقت
شکست نہیں دے سکتی۔ آپ سب نے دیکھ لیا ہے کہ صالح الدین ایوبی کے گرد جن مسلمانوں کا گھیرا ہے ،وہ مذہب کے
اتنے پکے ہیں کہ تم زروجواہرات سے اور اتنی خوبصورت لڑکیوں سے ان کا گھیرا نہیں توڑ سکتے۔ وہ مسلمان کچے ایمان کے
ہیں جنہیں تم خرید لیتے ہو۔ انہوں نے اسالم کو اپنی روح میں نہیں اترنے دیا ،تم نے دیکھا ہے کہ ہمارے کتنے بڑے بڑے
لشکروں کو صالح الدین ایوبی کے کتنے تھوڑے تھوڑے سپاہیوں نے کتنا نقصان پہنچایا ہے۔ جہاں ہمارے گھوڑے تھکن اور پیاس
سے رہ جاتے ہیں ،وہاں صالح الدین ایوبی کے سپاہی تھکن اور پیاس سے بے نیاز رہتے ہیں۔ اس قوت کو یہ لوگ ایمان
اعلی حکام کو ہاتھ میں لینا بے شک ضروری
کہتے ہیں۔ ہمیں ان کا ایمان کمزور کرنا ہے۔ ہرمن! ان کے ایک دو امراء یا
ٰ
ہے۔ اس سے آپ نے بہت فائدہ اٹھایا ہے لیکن کوئی ایسا طریقہ اختیار کرو جس سے اس قوم کے دل میں اپنے مذہب کے
خالف بیزاری پیدا ہوجائے۔پختہ عمر کے آدمیوں کے نظریات بدلنا آسان نہیں ہوتا ،ان کی نسل کو بچپن اور لڑکپن میں اپنا
نشانہ بنالو۔ کچے ذہن کو تم اپنے سانچے میں ڈھال سکتے ہوں۔ ان کے حیوانی جذبے کو بھڑکائو''۔
یہودی یہ کام کررہے ہیں''… ہرمن نے کہا… ''اور اس محاذ پر میں جو کچھ کررہا ہوں ،اس کے نتائج آہستہ آہستہ ''
سامنے آرہے ہیں۔ ایک دن یا چند ایک دنوں میں آپ کسی کے نظریات اورعقیدے نہیں بدل سکتے۔ اس عمل میں وقت لگتا
ہے۔ ایک دور گزر جاتا ہے''۔
یہ عمل جاری رہناچاہیے''… فلپ آگسٹس نے کہا… ''میں یہ توقع نہیں رکھوں گا کہ نتائج ہماری زندگی میں سامنے آئیں۔''
مجھے پوری امید ہے کہ ہم نے کردارکشی کا یہ عمل جاری رکھا تو وہ وقت آئے گا کہ مسلمان برائے نام مسلمان رہ جائیں
گے۔ ان کے ہاں مذہبی فرائض محض رسمی بن جائیں گے اور ان پر ہمارا رنگ چڑھ جائے گا۔ ان کی سوچوں پر صلیب
غالب آجائے گی''۔
شیخ سنان!''۔ ریمانڈ نے شیخ سنان سے کہا۔ ''اگر آپ ہم سے عصیات کے قلعے کے بدلے ایک اور قلعے کا مطالبہ ''
کریں گے تو ہم ابھی یہ مطالبہ پورا نہیں کرسکیں گے۔ ہمارا معاہدہ قائم رہے گا۔ قلعے کے سوا دوسری تمام مراعات آپ کو
حاصل رہیں گی۔ اگر آپ ان مراعات اور مالی وظیفوں کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو قاہرہ میں اور خصوصا ً تمام تر مصر میں
صالح الدین ایوبی کی فوج اور انتظامیہ کی اہم شخصیتوں کا قتل جاری رکھیں اور صالح الدین ایوبی کے قتل کی بھی کوششیں
جاری رکھیں''۔
صالح الدین ایوبی کے قتل کے متعلق میں آپ کو صاف الفاظ میں بتا دیتا ہوں کہ میں اس میں اور کوئی آدمی ضائع نہیں''
کروں گا''… شیخ سنان نے کہا… ''اس شخص کا قتل ممکن نظر نہیں آتا۔ میں بڑے قیمتی فدائی ضائع کرچکا ہوں۔ مجھے
یہ کہنے کی بھی اجازت دیں کہ سلطان صالح الدین ایوبی نے مجھے نئی زندگی دی ہے۔ میں نے اس کے آگے ہتھیار ڈالے تو
مجھے یہ توقع تھی کہ میں نے اس پر جتنے قاتالنہ حملے کرائے ہیں ،ان کا انتقام لینے کے لیے وہ مجھے اور میرے چیدہ
چیدہ فدائیوں کو قتل کردے گا لیکن اس نے میری اور میرے آدمیوں کی جان بخشی کردی۔ میں تو یہ سمجھا تھا کہ وہ ہمیں
دھوکہ دے رہا ہے جونہی ہم پیٹھ پھیریں گے ،وہ ہم پر تیروں کا مینہ برسا دے گا یا ہم پر گھوڑے دوڑا دے گا۔ آپ مجھے
دیکھ رہے ہیں۔ میں اپنے تمام آدمیوں اور پوری فوج کے ساتھ آپ کے سامنے زندہ موجود ہوں۔ آپ مجھے مراعات سے
محروم کردیں۔ میں صالح الدین ایوبی کے قتل سے دستبردار ہوگیا ہوں۔ البتہ قاہرہ میں میرے آدمیوں کی کارگزاری سے آپ کو
مایوسی نہیں ہوگی''۔
قاہرہ میں ایسے حاالت پیدا کردئیے گئے جو صالح الدین ایوبی کو قاہرہ جانے پر مجبور کردیں گے''۔ ہرمن نے کہا… ''
''بہت جلد سوڈانی مصر کی سرحدی چوکیوں پر حملوں کا سلسلہ شروع کردیں گے۔ مصر پر کوئی بڑا حملہ نہیں کیا جائے
گا ،حملے کا دھوکہ دیا جائے گا تاکہ صالح الدین ایوبی شام سے مصر چال جائے''۔
ہرمن جاسوسی اور سراغ رسانی کا ماہر تھا لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کانفرنس میں جو خاص مالزم شراب اور کھانے
کی چیزیں ال اور لے جارہے تھے ،ان میں وکٹر نام کا ایک فرانسیسی سلطان ایوبی کا جاسوس تھا اور انہی خاص مالزموں میں
راشد چنگیز نام کا ایک ترک مسلمان بھی تھا جس نے اپنے آپ کو یونان کا عیسائی ظاہر کرکے یہ نوکری حاصل کی تھی۔
یہ بھی سلطان ایوبی کا جاسوس تھا۔ ہرمن نے ان خاص مالزموں کو جو کانفرنسوں اور کمانڈروں کی محفلوں اور دعوتوں میں
حاضررہتے اور کھانا کھالتے تھے ،گہری چھان بین کے بعد اس مالزمت کے لیے منتخب کیا تھا۔ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ
سلطان ایوبی نے جاسوسوں کا جال پھیال رکھا تھا۔ اسے صلیبیوں کے دور اندر کی باتوں کا قبل از وقت علم ہوجاتا تھا۔ اب
شیخ سنان کی اس کانفرنس کی تمام باتیں اس کے دو جاسوسوں نے سن لی تھیں ،جنہیں چند دنوں تک سلطان ایوبی تک
پہنچ جانا تھا۔ ان دنوں قاہرہ میں زمین دوز تخریب کاری بڑھ گئی تھی۔ مصر کی فوج کے نائب ساالر سے ایک درجہ کم
عہدے کا ایک کمان دار شہر کے باہر مردہ پایا گیا۔ وہ شام کے بعد گھر سے نکال تھا۔ ساری رات گھر نہ آیا۔ صبح اس کی
الش دیکھی گئی۔ اس کے جسم پر کوئی زخم نہیں تھا ،کوئی چوٹ نہیں تھی۔ سراغ رسانوں نے جائے واردات پر ایک تو
مرنے والے کے نقوش پا دیکھے اور دو نقوش کسی اور کے تھے۔ اس کمان دار کے چال چلن کی سب تعریف کرتے تھے۔ اس
کا اٹھنا بیٹھنا غلط یا مشکوک قسم کے لوگوں کے ساتھ نہیں تھا۔ اس کی ایک بیوی تھی جو اس سے ہرلحاظ سے مطمئن
تھی۔ اس کی موت کا باعث معلوم کرنے کی بہت کوشش کی گئی اگر یہ قتل تھا تو قاتل کا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔
تین چار دنوں بعد اسی عہدے کا ایک اور فوجی کمان دار بالکل اسی طرح ایک صبح اپنے کمرے میں مردہ پایاگیا۔ وہ :
فوجی بارکوں کے ایک کمرے میں رہتا تھا۔ اس کے متعلق بھی رپورٹیں بالکل صاف تھیں۔ اس کے دوستوں کے حلقے میں
اپنے ہی دستے کے کچھ آدمی تھے۔ ان میں سے کسی کے ساتھ اس کا لڑائی جھگڑا نہیں تھا۔ قتل کی بظاہر وجہ کوئی نہیں
تھی۔ اسے قتل کہا ہی نہیں جاسکتا تھا۔ کیونکہ جسم پر زخم یا چوٹ کا کوئی ہلکا سا بھی نشان نہیں تھا۔ یہ الش سرکاری
طبیب نے دیکھی۔ الش کے ہونٹوں کے کونوں پر ذراذرا سی جھاگ تھی۔ اس نے یہ جھاگ لکڑی کے ایک لمبوترے ٹکڑے کے
سرے پر لگالی۔ اس نے ایک کتا منگوایا اور یہ جھاگ گوشت کے ایک ٹکڑے پر لگا کر ٹکڑا کتے کو کھال دیا۔
اس نے کتے کو اپنے گھر لے کر جاکر باندھ دیا اور اسے دیکھتا رہا۔ کتے نے کوئی غیرمعمولی حرکت نہ کی ،اسے جو کھانے
کو دیا گیا وہ کھاتا رہا۔ طبیب ساری رات جاگ کر کتے کو دیکھتا رہا۔ آدھی رات کے بعد کتا اٹھا اور جہاں تک رسی اجازت
دیتی تھی ،وہ بڑے آرام سے ٹہلتا رہا۔ وہ بہت دیر ٹہل کر رکا اور گر پڑا۔ طبیب نے دیکھا ،کتا مرچکا تھا۔ طبیب نے رپورٹ
دی کہ دونوں کمان داروں کو ایسا زہر دیا گیا ہے جس سے کوئی تلخی نہیں ہوتی۔ انسان نہایت اطمینان سے مرجاتا ہے۔
سراغ رسانوں نے دونوں کمان داروں کے متعلق گہری تفتیش کی ،یہ معلوم کرنے کی بہت کوشش کی گئی کہ زندگی کے آخری
روز وہ کس کس سے ملے ،کہاں گئے اور انہوں نے کس کے ساتھ کچھ کھایا پیا مگر کوئی سراغ نہ مال۔ شادی شدہ کمان دار
کی بیوی سے بھی پوچھ گچھ کی گئی لیکن اس پر شک کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ دونوں کمان داروں میں مشترکہ وصف یہ
تھا کہ پکے مسلمان تھے۔ میدان جنگ میں ان کی کمانڈ اور دلیری کی تعریف سلطان ایوبی نے بھی کی تھی۔ دونوں سرحدی
دستوں کے کمانڈر رہ چکے تھے اور انہوں نے کئی ایک سوڈانیوں کو سرحد پار کرتے گرفتار کیا تھا۔ سوڈانیوں نے انہیں بہت
رشوت پیش کی تھی جو انہوں نے قبول نہیں کی تھی۔ اب دونوں کو نائب ساالری کی ترقی ملنے والی تھی۔ وہ اس قابل
تھے کہ کسی بھی جگہ حملے کی قیادت آزادانہ کرسکیں۔
علی بن سفیان نے رائے دی کہ قتل کی یہ دونوں وارداتیں صلیبی تخریب کاروں کی ہیں اور قاتل فدائی ہیں۔ اس نے کہا کہ
دشمن نے اب اہم شخصیتوں کے قتل کا سلسلہ شروع کردیاہے۔ تمام کمان داروں اور حکام کو خبردار کردیا گیا کہ کسی اجنبی
یا مشکوک آدمی کے ہاتھ سے کوئی چیز نہ کھائیں اور ایسے آدمیوں پر نظر رکھ کر انہیں پکڑنے کی کوشش کریں جو دوستی
لگانے اور کھانے پینے کی کوئی چیز پیش کرنے کی کوشش کریں۔ سراغ رساں مصروف ہوگئے۔
دوسرے کمان دار کے قتل کے سات آٹھ روز بعد ایک رات فوج کے خیموں کو آگ لگ گئی۔ ہزاروں خیمے ایک جگہ لپٹے
پڑے تھے۔ ان کے انباروں کے اوپر چھپر تھے۔ وہاں پہرہ بھی تھا پھر بھی آگ لگ گئی۔ یہ آگ تخریب کاری کا نتیجہ تھی۔
وہاں اتفاقیہ آگ لگنے کا کوئی امکان نہیں تھا کیونکہ ان چھپروں کے قریب آگ جالنے کی ممانعت تھی۔ اس کی سختی سے
پابندی کی جاتی تھی۔ اس کے عالوہ پراسرار سے کچھ اور واقعات ہوئے تھے۔ سرحدی دستوں کو اور زیادہ چوکس کردیا گیا
تھا۔ سوڈان کی طرف سرحد کے اندر چوری چھپے آنے والوں کی تعداد اور گرفتار بڑھ گئی تھی۔ اس کا اندازہ ان لوگوں کی
گرفتاریوں سے ہوتا تھا۔
٭ ٭ ٭
علی بن سفیان نے اپنی انٹیلی جنس کو اور زیادہ پھیال دیا اور پہلے سے زیادہ ہوشیار کردیا تھا۔ قاہرہ سے کچھ دور دریائے :
نیل کے کنارے پہاڑی عالقہ تھا۔ اس کے اندر کہیں فرعونوں کے زمانے کے کھنڈر تھے۔ اس سے پہلے ایسے واقعات ہوئے تھے
کہ صلیبی اور سوڈانی تخریب کاروں نے ایسے کھنڈروں کو خفیہ اڈوں کے طور پر استعمال کیا تھا۔ مصر میں ایسے کھنڈروں کی
تعداد کچھ کم نہیں تھی۔ اس پہاڑی عالقے کو نظر میں رکھنے کے لیے علی بن سفیان نے اپنے جاسوسوں کو خصوصی ہدایات
کے ساتھ مقرر کررکھا تھا۔ اب کے صلیبی تخریب کاروں نے یہ کامیابی بھی حاصل کرلی تھی کہ انہوں نے دو تین مہینوں کے
عرصے میں علی بن سفیان کے چھ سات جاسوس جو قاہرہ میں مختلف جگہوں پر مختلف بہروپوں میں رہتے تھے ،غائب
کردئیے تھے۔
یہ وہ جاسوس تھے جو صلیبیوں کے جاسوسوں کو پکڑنے کے ماہر تھے لیکن وہ خود پکڑے گئے یا مارے گئے۔ خطرہ یہ تھا کہ
وہ پکڑے گئے تو صلیبی انہیں حشیشین کے حوالے کرکے انہیں مصر کی ہی حکومت اور فوج کے خالف استعمال کریں گے۔
اصل خطرہ تو یہ تھا کہ دشمن کے جاسوسوں نے قاہرہ کے جاسوسوں کو پہچان لیا تھا۔ جاسوسی اور سراغ رسانی کی اس
جنگ میں دشمن جیت رہا تھا۔ علی بن سفیان نے اب ذرا اونچے عہدوں کے ایسے جاسوس جو اپنے فن میں خصوصی مہارت
رکھتے تھے ،استعمال کرنے شروع کردئیے تھے۔ ان میں ایک مہدی الحسن تھا جو یروشلم اور تریپولی تک بڑی کامیاب
جاسوسی کرتا آیا تھا۔ وہ بہت دلیر اور دانشمند جاسوس تھا۔
علی بن سفیان نے یہ پہاڑی عالقہ اسے دے رکھا تھا۔ اس عالقے کے اندر صرف ایک راستہ تھا۔ پیچھے دریا اور باقی ہر
طرف پہاڑیاں اور چٹانیں بھی تھیں۔اندرونی عالقے میں سبزہ اور درخت تھے ،کہیں کہیں پانی کی جھیلیں بھی تھیں۔ اطالع
ملی تھی کہ اس کے اندر مشکوک سے آدمی آتے جاتے دیکھے گئے ہیں۔ فرعونوں کی کسی عمارت کے کھنڈر سامنے نظر
نہیں آتے تھے۔ کسی نے کبھی دیکھے بھی نہیں تھے لیکن یہ یقین ضرور تھا کہ اس کوہسار کے اندر فرعونوں نے کچھ نہ
کچھ بنایا ضرور تھا۔ جو اب تک موجود ہے۔ بہرحال یہ جگہ ایسی تھی جو تخریب کاروں کا خفیہ اڈا بننے کے لیے موزوں
تھی۔
مہدی الحسن وہاں ایک دو اونٹ اور چند ایک بھیڑ بکریاں لے جاکر صحرائی خانہ بدوشیا گڈرئیے کے بہروپ میں جایا کرتا تھا۔
اس کے جانور ادھر ادھر چرتے چگتے رہتے اور وہ گھومتا پھرتا رہتا تھا۔ اس نے کچھ دور اندر تک عالقہ دیکھاتھا ،وہاں اسے
کچھ بھی نظر نہیں آیا تھا۔ بہت آگے جاکر ایک پہاڑی ایسی تھی جس کے دامن سے بیس پچیس فٹ اوپر ایک قدرتی سرنگ
کا دہانہ تھا۔ مہدی الحسن اس سرنگ کے اندر گیا تھا۔یہ اتنی اونچی اور فراخ تھی کہ اس میں سے اونٹ گزر سکتا تھا۔ یہ
پہاڑی کی طرف تک چلی گئی تھی۔ مہدی الحسن دوسری طرف گیا ،وہاں تنگ سی ایک وادی تھی جہاں کوئی اڈا نہیں
ہوسکتا تھا۔ سرنگ بہت لمبی تھی۔ اس کے اندر دائیں بائیں دیواروں میں غاریں سی بنی ہوئی تھیں۔ اتنے بڑے بڑے پتھر
بھی تھے کہ ایک پتھر کے پیچھے آدمی بیٹھ کر چھپ سکتا تھا۔
اس مصری جاسوس نے علی بن سفیان کورپورٹ دی تھی کہ وہ جہاں تک جاسکا ہے ،اسے کوئی مشکوک جگہ نظر نہیں آئی
اور اتنے دن اسے کوئی ایک بھی آدمی اندر جاتا یا باہرآتا دکھائی نہیں دیا۔ علی بن سفیان نے اسے کہا کہ وہ سارا دن وہیں
گزارا کرے اور وہ زیادہ اندر تک نہ جایا کرے کیونکہ پکڑے یا مارے جانے کا خطرہ تھا۔ علی بن سفیان نے اسے یہ بھی کہا
کہ کبھی کبھی وہ اونٹ پرسوار ہوکر رات کو بھی چال جایا کرے اگر کوئی آدمی اسے مل جائے تو اسے بتائے کہ وہ قاہرہ
جارہا ہے۔ اپنے آپ کو کسان ظاہر کرے۔ اس ہدایت کے تحت مہدی الحسن رات کو بھی وہاں گیا تھا۔ا یک رات اسے کسی
کے بھاگتے قدموں کی آواز سنائی دی۔ یہ کوئی جنگلی جانور بھی ہوسکتا تھا اور یہ کوئی انسان بھی ہوسکتا تھا۔ مہدی
الحسن آگے نہ گیا ،کچھ دیر وہاں رکا رہا پھر واپس آگیا۔
وہ دوسرے دن سورج نکلنے سے پہلے دو تین اونٹ اور بھیڑ بکریاں لے کر وہاں چال گیا۔ انہیں کھال چھوڑ کر خود ادھر :
ادھر گھومنے پھرنے لگا ،وہاں سبزہ تھا۔ جھاڑیاں اورگھاس تھی اور جنگلی پودے بھی۔ کچھ آگے جاکر اسے ایک آدمی دکھائی
دیا جو زمین پر جھکا ہوا تھا۔ اس نے قیمتی چغہ پہن رکھا تھا اور اس کی لمبی داڑھی تھی۔ سر پر عمامہ بھی قیمتی تھا۔
مہدی الحسن آہستہ آہستہ اس کی طرف چلنے لگا۔ جھکے ہوئے آدمی نے اس کی طرف دیکھا۔ مہدی الحسن نے اپنی چال
ڈھال میں جاہالنہ پن نمایاں رکھا اور آہستہ آہستہ اس آدمی کے قریب جاکھڑا ہوا۔
چغہ والے کے ہاتھ میں ایک تھیال تھا جس میں ہرے پتے بھرے ہوئے تھے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ایک پودے کی ہری
شاخ تھی۔
آپ کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟''… مہدی الحسن نے گنواروں کے سے لہجے میں احمقوں کی طرح ہنس کر پوچھا… ''کوئی چیز ''
''گم ہوگئی ہے؟ میں بھی تالش کروں؟
میں حکیم ہوں''… اس آدمی نے کہا… ''جڑی بوٹیاں ڈھونڈ رہا ہوں ،ان کی دوائیاں بنائوں گا''۔''
مہدی الحسن نے اس کا چہرہ دیکھ کر پہچان لیا۔ وہ قاہرہ کا حکیم تھا اور خاصی شہرت رکھتا تھا۔ مہدی الحسن نے اس
کے اس جواب کو غلط نہ سمجھا کہ وہ جڑی بوٹیاں ڈھونڈ رہا ہے۔ اس عالقے میں جڑی بوٹیاں موجود تھیں۔ حکیم نے اس
سے پوچھا کہ وہ یہاں کیا کررہا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ یہاں سے تھوڑی ہی دور اپنے ایک کنبے کے ساتھ خیمے میں رہتا
ہے اور یہاں جانوروں کو چرانے اور پانی پالنے الیاہے۔
ان بوٹیوں سے آپ کس مرض کی دوائیاں بنائیں گے؟''… مہدی الحسن نے پوچھا۔''
تم کسی مرض کو نہیں سمجھ سکتے''… حکیم نے جواب دیا… ''بعض مرض ایسے ہوتے ہیں کہ مریض کو بھی معلوم ''
نہیں ہوتا کہ اسے کیا ہے''۔
یہ حکیم مشہور تھا۔ دور دور سے اس کے پاس مریض آتے تھے۔ اتفاق سے مہدی الحسن کو یہاں مل گیا۔ یہ انسانی فطرت
کی کمزوری ہے کہ انسان پر مرض کا وہم بھی طاری ہوجاتاہے اور انسان بڑی لمبی عمر کا اور ایسی جسمانی طاقت کا متمنی
رہتا ہے جو کبھی کم نہ ہو۔ مہدی الحسن کو شاید معمولی سی کوئی تکلیف تھی۔ اس نے اس کا ذکر حکیم سے کیا۔ اس
نے نبض پر ہاتھ رکھا ،پھر اس کی آنکھوں میں جھانکا اور یوں چونکا جیسے اسے ان آنکھوں میں کوئی عجیب چیز نظر آئی
ہو۔ اس نے مہدی الحسن کو سر سے پائوں تک دیکھا۔ حکیم کے چہرے پر حیرت کا تاثر تھا۔
تم میرے دوا خانے میں آسکتے ہو؟''… حکیم نے پوچھا… ''شہر میں آجائو''۔''
میں بہت غریب آدمی ہوں''… مہدی الحسن نے کہا… ''آپ کو پیسے کہاں سے دوں گا''۔''
تم ابھی میرے ساتھ چلو''… حکیم نے کہا… ''میرا اونٹ ادھر چر رہا ہے ،تمہارے پاس بھی اونٹ ہے۔ مجھے پیسوں کی''
ضرورت نہیں۔ امیر لوگ بہت پیسے دے جاتے ہیں۔ غریبوں کا عالج مفت کرتا ہوں۔ تمہاری بیماری اس وقت تو معمولی ہے
لیکن یہ اچانک بڑھ جائے گی۔ مجھے کوئی اور شک بھی ہے''۔
مہدی الحسن دراصل ڈیوٹی پر تھا۔ معمولی سے مرض کی خاطر وہ ڈیوٹی نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ اس نے حکیم سے کہا کہ وہ
شام کو اس کے دوا خانے میں آئے گا۔ اسے راستہ اور جگہ بتا دے۔ مہدی الحسن کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اس کا دواخانہ
کہاں ہے۔ وہ انجان بنا رہا اور حکیم نے اسے سمجھا دیا کہ دواخانہ کہاں ہے۔
٭ ٭ ٭
مہدی الحسن شام کے بعد اس بہروپ میں حکیم کے دواخانے میں چال گیا۔ اس نے اونٹ ساتھ رکھا تھا تاکہ حکیم کو شک
نہ ہو۔ اسے خود حکیم پر کوئی شک نہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ حکیم جڑی بوٹیاں تالش کرتے رہتے ہیں۔ اسے فی الواقع خیال
پیدا ہوگیا تھا کہ جسے وہ معمولی سی تکلیف سمجھتا ہے ،وہ خطرناک بیماری بن سکتی ہے۔ حکیم نے اسے اچھی طرح
دیکھا اور کہا… ''میں دوائی دے دیتا ہوں ،اگر اس سے افاقہ نہ ہو تو وہ کوئی اور بندوبست کرے گا کیونکہ اسے کوئی اور
شک ہے''۔
''مہدی الحسن نے پوچھا اور کیاشک ہے؟''
اللہ نہ کرے ،میرے شک درست ہو''… حکیم نے کہا… ''تم خوبصورت ہو ،صحرا میں گھومتے پھرتے رہتے ہو ،جس جگہ ''
تم مجھے ملے تھے ،وہ جگہ ٹھیک نہیں ،وہاں بدروحیں رہتی ہیں۔ ان میں بعض فرعونوں کے وقتوں کی بڑی حسین لڑکیوں کی
بدروحیں ہیں۔ انہیں فرعونوں نے زبردستی اپنے پاس رکھا اور عیاشی کا ذریعہ بنایا تھا پھر انہیں مروا ڈاال تھا کیونکہ اس کی
جگہ انہیں دوسری لڑکیاں مل گئی تھیں۔روح بوڑھی نہیں ہوتی ،ہمیشہ جوان رہتی ہے۔ جن لڑکیوں کو قتل کیاگیا تھا ،ان کی
روحیں اس سرسبز خطے میں بھٹکتی رہتی ہیں۔ مجھے شک ہے کہ تمہاری شکل وصورت فرعونوں کے دور کے کسی ایسے
جوان سے ملتی جلتی ہے جسے اس دور کی کوئی لڑکی چاہتی تھی مگر وہ کسی فرعون کا شکار ہوگئی۔ تم اس جگہ جاتے
رہتے ہو۔ اس لڑکی کی بدروح نے تمہیں دیکھ لیا ہے اور تمہاری روح کے ساتھ دل بہال رہی ہے''۔
یہ مجھے نقصان تو نہیں پہنچائے گی؟''… مہدی الحسن نے حکیم کی بات سے متاثر ہوکر پوچھا… ''بدروح کی دوستی ''
''اچھی تو نہیں ہوتی۔ کیا آپ اس بدروح سے نجات دال سکتے ہیں؟
میرا شک غلط ہوسکتا ہے''… حکیم نے کہا… ''پہلے دوائی دوں گا۔ افاقہ نہ ہوا تو بدروح کا کچھ کروں گا۔ میرے پاس ''
اس کا بھی عالج ہے۔ تعویذ دوں گا ،عمل کروں گا ،ضرورت پڑی تو اس بدروح کے ساتھ تمہاری مالقات کرادوں گا۔ بدروح
سے نجات حاصل کرنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہوتا ہے۔ بدروح کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی''۔
مہدی الحسن قابل اور ذہین جاسوس تھا لیکن وہ عالم فاضل نہیں تھا۔ اپنی قوم کے ہر فرد کی طرح جنات ،چڑیلوں اور
بدروحوں کے وجود پر یقین رکھتا تھا۔ اس نے ان کی جو کہانیاں اور روائتیں سنی تھیں ،انہیں سچ مانتا تھا۔ حکیم کا ایک
ایک لفظ اس کے دل میں اتر گیا اور اس پر بدروح کا خوف طاری ہوگیا۔ وہ حکیم کے پاس جاسوسی کے لیے نہیں عالج کے
لیے ہی گیا تھا۔ حکیم نے اسے تسلی دی کہ وہ کوئی فکر نہ کرے لیکن وہ فکرمند ہوگیا۔ حکیم نے اسے دوائی کی صرف
ایک خوراک دی اور کہا کہ رات سونے سے پہلے کھالے۔
20:47
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر112
رات ،روح اورروشنی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
رات سونے سے پہلے کھالے۔ اس نے سونے سے پہلے یہ دوائی کھالی۔ اسے فورا ً نیند آگئی۔ اس سے پہلے اس کی اتنی
جلدی آنکھ کبھی نہیں لگی تھی۔ صبح آنکھ کھلی تو اس نے محسوس کیا کہ اس کی طبیعت غیرمعمولی طورپرہشاش بشاش
ہے۔وہ سب سے پہلے علی بن سفیان کے پاس گیا۔ اسے یہ نہ بتایا کہ اس نے اس پہاڑی عالقے میں حکیم کو جڑی بوٹیاں
تالش کرتے دیکھا تھا۔ یہ بتانے والی بات نہیں تھی کیونکہ حکیم کوئی مشکوک انسان نہیں تھا۔ اس کے متعلق یہ بھی مشہور
تھا کہ تعویذ بھی دیتا اور جنات وغیرہ کو بھی قبضے میں رکھتا ہے۔ علی بن سفیان نے مہدی الحسن سے کہا کہ وہ اسی
جگہ جائے ،اسے وہاں کوئی نہ کوئی مشکوک انسان ضرور نظر آئے گا۔ علی بن سفیان دراصل تخریب کاروں کے ایک اڈے کی
تالش میں تھا۔
مہدی الحسن اس طرف جاتے حکیم کے پاس چال گیا۔ وہ گڈریوں کے لباس میں تھا۔ اس نے حکیم سے کہا کہ وہ صبح
سویرے اتنی دور سے یہ بتانے آیا ہے کہ رات اسے بہت گہری نیند آئی ہے اور اب وہ اتنا ہشاش بشاش ہے ،جتنا وہ پہلے
کبھی نہیں ہوا تھا۔
اگر شام تک تم اسی حالت میں رہے تو بدروح نہیں ہوسکتی''… حکیم نے کہا… ''شام کو پھر آجانا''۔''
مہدی اونٹ پر سوار ہوا اور اپنی ڈیوٹی پر روانہ ہوگیا۔
٭ ٭ ٭
اس سرسبز جگہ وہ بہت دنوں سے جارہا تھا اور سارا سارا دن وہاں رہتا تھا۔ رات کو بھی وہاں گیا تھا مگر اب حکیم سے
مالقات کے بعد اسے اس جگہ سے ڈر محسوس ہونے لگا۔ حکیم نے اسے بتایا تھا کہ بدروح نقصان نہیں پہنچائے گی کیونکہ
وہ محبت کی خاطر اس کی روح کے پاس آتی ہے پھر بھی ان دیکھی پراسرار مخلوق کا ڈر قدرتی تھا۔ اسے ایسے محسوس
ہونے لگا جیسے اس کے گرد بدروحیں منڈال رہی ہوں۔ وہ دلیر آدمی تھا۔ ڈرکو دل سے نکالنے کی کوشش کرنے لگا اور اس
بدروح کو تصور میں النے لگا جس کا ذکر حکیم نے کیا تھا۔ اس تصور نے اسے تسکین دی اور وہ ادھر ادھر گھومنے لگا۔
اچانک اس نے محسوس کیا کہ اس کی طبیعت جو اتنی زیادہ ہشاش بشاش تھی ،بجھ رہی ہے اور دل پر گھبراہٹ طاری
ہورہی ہے۔ اس نے اپنے آپ کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی لیکن گھبراہٹ بڑھتی گئی اور اس نے حکیم کو اپنی جو تکلیف
بتائی تھی وہ پہلے کی نسبت زیادہ ہوگئی۔ اس نے اسی وقت حکیم کے پاس جانا چاہا لیکن ڈیوٹی نہیں چھوڑ سکتا تھا۔
برداشت کرتارہا۔ بہت دیر بعد اس کی طبیعت گھبراہٹ سے آزاد ہونے لگی اور آہستہ آہستہ اس حالت میں آگئی جس میں کل
دوائی کھانے سے پہلے تھی۔ اسے یقین ہوگیا کہ یہ بدروح کا اثر ہے۔
دن گزر گیا۔ اس نے اونٹوں اور بھیڑ بکریوں کو اکٹھا کیا اور انہیں وہاں لے گیا جہاں روزانہ لے جاتا تھا۔ اونٹ پر سوار ہوکر
وہ شہر میں حکیم کے پاس چال گیا۔ اسے اپنی طبیعت کی یہ تبدیلی بتائی۔ حکیم نے بدروح کے شک کا اظہار کیا لیکن ایک
روز اور دوائی کھانے کو کہا۔ اس نے دوائی دے دی جو مہدی الحسن نے رات سونے سے پہلے کھالی۔ گزشتہ رات کی طرح
اسے نیند آئی اور صبح طبیعت شگفتہ تھی۔ وہ روزمرہ کی طرح علی بن سفیان کے پاس گیا اور وہاں سے اپنی ڈیوٹی کی
جگہ پر چالگیا۔
اس کی جسمانی حالت اچھی رہی ،ذہنی حالت یہ تھی کہ بدروح کا خیال غالب تھا۔آدھا دن گزرا تو اس کی شگفتگی کم
ہونے لگی جو آہستہ آہستہ ختم ہوگئی اور اس کی جگہ گھبراہٹ اور اداسی آگئی۔ اس نے دھیان ادھر ادھر کرنے کی کوشش
کی اور ٹہلنے لگا۔ پھر آہستہ آہستہ طبیعت ٹھکانے آگئی۔ اس کے کانوں میں ایسی آواز پڑی جیسے دور کہیں کوئی عورت رو
رہی ہو۔ رونے کی آواز بلند ہوئی پھر مدھم ہوتے ہوتے خاموش ہوگئی۔ مہدی الحسن جہاں تھا ،وہیں رہا۔یہ کوئی بدروح رو رہی
تھی اور یہ وہی بدروح ہوسکتی تھی جس کا ذکر حکیم نے کیا تھا۔ مہدی الحسن کے دل پر خوف طاری ہوا جس پر اس نے
قابو پالیا۔ اس نے یہ ارادہ کیا کہ بدروح سے بات کرے لیکن حکیم نے اسے بتایا نہیں تھا کہ بدروح کے ساتھ بات کرنی
چاہیے یا نہیں ،اگر وہ کسی اور جگہ اور مختلف ماحول میں کسی عورت کے رونے کی آواز سنتا تو دوڑ کر مدد کو پہنچتالیکن
یہاں کسی جیتی جاگتی عورت کا کوئی کام نہیں تھا۔ یہ فرعونوں کے دور کی کسی لڑکی کی بدروح تھی۔
شام کو وہ کل کی طرح حکیم کے پاس گیا اور اسے بتایا کہ اس کی حالت کیا ہوئی اور اس نے کیسی آوازیں سنی ہیں۔
حکیم گہری سوچوں میں کھو گیا اور بوال… ''میرا شک یقین میں بدل گیا ہے۔ یہ بدروح ہے ،گھبرائو نہیں۔ میں ابھی ایک
تعویذ
دو ں گا پھر بدروح سے پوچھوں گا کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ اس کے مطابق کچھ اور کروں گا لیکن تمہیں ڈرنا نہیں چاہیے۔ یہ
بدروح تمہارے ساتھ محبت کرتی ہے ،اس لیے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ تم اس جگہ جاتے رہنا۔ اگر تم نے اس
بدروح سے بھاگنے کی کوشش کی تو نقصان کا خطرہ ہے''۔
حکیم نے اسے ایک تعویذ دے دیا جو اس نے اپنے بازو کے ساتھ باندھ لیا۔
میں رات کو اپنا عمل کروں گا''۔ حکیم نے کہا… ''کل صبح میرے پاس آنا ،تمہیں بتائوں گا کہ بدروح کیا ہے۔ تم نے ''
رونے کی جو آوازیں سنی ہیں وہ اسی بدروح کی ہیں۔ یہ بدروح شیطان نہیں ،پھر بھی کوشش کروں گا کہ تمہیں اس سے
نجات مل جائے''۔
مہدی الحسن دل پر تذبذب اور ہیجان لے کر چال گیا۔
٭ ٭ ٭
اگلے روز مہدی الحسن کو علی بن سفیان کی طرف سے کچھ اورہدایات ملیں۔ وہ بھاگم بھاگ حکیم کے پاس گیا۔ حکیم جیسے
اسی کے انتظار میں بیٹھا تھا۔ اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑا ہوا اور اسے اندر لے گیا۔
وہ تمہارے ساتھ صرف ایک مالقات کرنا چاہتی ہے''۔ حکیم نے کہا… ''وہ تمہارے سامنے آئے گی۔ اپنا آپ دکھائے گی۔ ''
تم اسے دیکھ سکو گے۔ ہوسکتا ہے پہلے روز وہ تمہارے سامنے آئے اور غائب ہوجائے۔ وہ دوسری دنیا کی مخلوق ہے۔ شاید
اس دنیا کے انسانوں کے قریب آنے سے گریز کرے۔ اگر اس نے ایسا ہی کیاتو تمہیں اگلے روز پھر جانا پڑے گا''۔
''کہاں؟''
وہیں ،جہاں تم ہر روز جاتے ہو''۔ حکیم نے کہا… ''جہاں تم نے مجھے دیکھا تھا ،تم وہاں رات کو جائو گے''۔''
''آپ بھی ساتھ ہوں گے؟''
نہیں''۔ حکیم نے کہا… ''اس جہان میں گئی ہوئی روح صرف اسے نظر آتی ہے جسے وہ چاہتی ہے اور اگر کوئی گناہ ''
گار بدروح کسی انسان پر نظر رکھ لے تو اسے فورا ً مار ڈالتی ہے۔ یہ بدروح جو تمہیں ملنا چاہتی ہے ،کسی کو پریشان کرنے
والی نہیں۔ اس کے رونے کو سمجھو۔ وہ مظلوم ہے۔ محبت کی پیاسی ہے ،میں نے رات جب اسے حاضر کیا تو وہ زاروقطار
روئی اور اس نے میری منت کی کہ اس شخص کو تھوڑی دیر کے لیے میرے پاس بھیج دو ،پھر ہمیشہ کے لیے چلی جائوں
گی''۔
اگر یہ باتیں کوئی اور کررہا ہوتا تو مہدی الحسن پر اتنا زیادہ اثر نہ ہوتا جتنا اس نے قبول کیا۔ یہ باتیں اس حکیم کی زبان
سے نکل رہی تھیں۔ جس سے مہدی الحسن کے بڑے حاکم بھی متاثر تھے… وہ حکیم بھی تھا اور عالم بھی۔ اس کے بولنے
کا اندازہ ایسا تھا جو سننے والے کی روح میں اتر جاتا تھا۔ اس نے مہدی الحسن کو یقین دالیا کہ رات کو اس بدروح کی
مالقات سے اس پر کوئی خوف طاری نہیں ہوگا اور اسے نقصان کے بجائے شاید کچھ فائدہ بھی ملے۔
ایک احتیاط بھی ضروری ہے''۔ حکیم نے اسے کہا… ''کسی کے ساتھ اس بدروح کے متعلق یا اس کی مالقات کے متعلق''
کوئی بات نہ کرنا اگر تم نے یہ راز فاش کردیا تو نقصان کا خطرہ ہے۔ تم اپنی دنیا کے انسانوں کو دھوکہ دے سکتے ہو ،عالم
غیب میں گئی ہوئی روح کا راز فاش کرو گے تو میں بتا نہیں سکتا کہ تمہارے جسم کے کون سے دو اعضاء ہمیشہ کے لیے
بیکار ہوجائیں گے۔ دونوں ٹانگیں سوکھ جائیں گی یا دونوں بازو یا دونوں آنکھیں بینائی سے محروم ہوجائیں گی۔ اب میں تمہیں
جو بات بتانے لگا ہوں ،یہ بھی ایک راز ہے۔ یہ راز تمہیں اس لیے دے رہا ہوں کہ تم عبرت حاصل کرسکو۔ یہاں کی فوج
اعلی رتبے کے کمان دار رات کے وقت مارے گئے ہیں۔ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کس طرح مرے ہیں۔ مجھے دو تین
کے دو
ٰ
بدروحوں نے بتایا ہے کہ انہیں بدروحوں نے مارا ہے۔ انہوں نے بدروحوں کے راز فاش کردئیے تھے''۔
وہ کس طرح؟'' مہدی الحسن گنوار گڈریا اور صحرائی خانہ بدوش بنا ہوا تھا لیکن وہ دراصل جاسوس تھا۔ وہ ان دو کمان ''
داروں کی موت کا سراغ لینا چاہتا تھا۔ اس نے حکیم سے تفصیل پوچھی۔
میں ایسی راز کی بات کسی کو بتا نہیں سکتا''۔ حکیم نے کہا… ''جتنی اجازت تھی ،اتنی بتا دی ہے۔ تم بالکل خاموش''
رہنا۔ اپنے اس راز کے ساتھ واسطہ رکھو جو میں تمہیں بتا رہا ہوں۔ یہ بھی نہ سوچنا کہ میں تمہاری ذات میں کسی اللچ
اور کسی اجرت کے بغیر اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہوں۔ میں ان روحوں اور بدروحوں کی خواہشات کا پابند ہوں۔ اگر میں
انہیں ناراض کردوں تو میرا علم بیکار ہوجائے اور بدروحیں میرا بھی وہی حشر کردیں جو وہ اپنے دشمنوں کا کرتی ہیں۔ اس
روح نے جو تمہیں دیکھ کر روتی ہے ،مجھے کہاہے کہ میں اس کے ساتھ تمہاری تھوڑی سی دیر کی مالقات کرادوں تو میرا
فرض ہے کہ اس کی خواہش پوری کروں''۔
''اگر میں اس سے نہ ملوں تو کیا ہوگا؟''
وہ بدروح بن کر تمہاری روح پر اپنا سایہ کرے گی''۔ حکیم نے جواب دیا۔ ''تم نے مجھے اپنی جو تکلیف بتائی تھی'' ،
وہ کوئی جسمانی تکلیف نہیں۔ یہ روحانی عارضہ ہے۔ اس نے تم پر ابھی اپنا پورا اثر نہیں ڈاال تھا۔ تم کوئی نیک انسان ہو۔
تمہاری نیکی تمہارے کام آئی ہے۔ تم نے میرے ساتھ اس تکلیف کا ذکر کردیا۔ خدائے ذوالجالل جس پر رحمت فرمانا چاہتے
ہیں ،اس کے لیے وہ کسی انسان کو سبب بنا دیتے ہیں۔ یہ کرشمہ اللہ کی ذات کا ہے کہ تم نے مجھے وہاں دیکھ لیا اور
ہم دونوں ملے۔ اس رحمت سے ڈرو نہیں۔ اگر تم اس بدروح کی مالقات کی خواہش کردوگے تو وہ اس دنیا میں تمہیں بہت
فائدہ دے گی۔ ایک فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ نہایت خوبصورت لڑکی کے روپ میں گوشت پوست کا زندہ جسم بن کر تمہیں
جب چاہو گے مال کرے گی۔ تم اسے بیوی بنا کر گھر رکھ سکتے ہو اور اگر وہ زیادہ مہربان ہوگئی تو مجھے یقین ہے کہ وہ
تمہیں کسی فرعون کے مدفون خزانے کا بھید بتا دے اور ایسا ذریعہ پیدا کردے کہ تم یہ خزانہ نکال کر اس بدروح کو ساتھ
لے کر مصر سے کہیں دور چلے جائو اور کسی خطے کے بادشاہ بن جائو''۔
''مالقات کب ہوگی؟''
آج رات چلے جائو''۔ حکیم نے کہا۔''
حکیم نے اسے ایک اور تعویذ دیا اور اسے بہت سی ہدایات دیں۔ خطروں سے بھی آگاہ کیا اور فائدے بھی بتائے اور زور دے
کر کہا کہ ڈرنا نہیں۔ وہاں پہنچنے کا وقت بھی بتایا جو رات تاریک ہوجانے کے بعد کا تھا۔ مہدی الحسن عجیب وغریب
سے تاثرات لے کر وہاں سے اٹھا اور اپنی روزمرہ کی ڈیوٹی پر چال گیا۔ دن وہاں گزارا اور سورج غروب ہونے سے بہت پہلے
واپس چال گیا۔
رات تاریک ہوئی تو وہ پھر وہاں موجود تھا مگر اب ڈیوٹی پر نہیں ،بدروح کی مالقات کے لیے گیا تھا۔ ایسی تاریک تنہائی
اور ایسے سنسان ماحول میں اسے خوف زدہ ہونا چاہیے تھا لیکن حکیم کی باتیں اسے حوصلہ دے رہی تھیں۔ اس نے بازو کے
ساتھ دو تعویذ باندھ رکھے تھے اور وہ اپنے طور پر کوئی ورد بھی کررہا تھا۔ وہ اس جگہ پہنچ گیا جو اسے حکیم نے بتائی
تھی۔ یہ پہاڑیوں کے اندر تھی۔ درخت بھوتوں کی طرح نظر آرہے تھے۔ ماحول اس قدر خاموش تھا کہ مہدی الحسن کو اپنے
دل کی دھڑکن بھی سنائی دے رہی تھی۔
اسے رونے کی وہی آواز سنائی دی جو اس نے دن کو سنی تھی۔ وہ اس آواز کی طرف چل پڑا۔ کچھ دیر خاموشی طاری
رہی۔ وہ ذرا سا چل کر رک گیا۔ اب کے رونے کی آواز اس کے عقب سے آنے لگی۔ یہ بھی دور تھی۔ وہ اس طرف چل
پڑا۔ اس جگہ سے وہ واقف تھا ،اس لیے آسانی سے چال جارہا تھا۔ یہ آواز بھی خاموش ہوگئی۔
''مہدی الحسن نے بلند آواز سے کہا… ''مجھے اپنا آپ دکھائو گی یا اسی طرح ڈراتی رہوگی؟
اسے اپنے یہی الفاظ صاف سنائی دئیے۔ اگر اسے یہ علم نہ ہوتا کہ یہ اس کی اپنی صدائے بازگشت ہے تو وہ ڈر کے مارے
بھاگ جاتا۔ یہ صحرائی پہاڑیاں تھیں جو دیواروں کی طرح کھڑی تھیں۔ ان میں زیادہ ترعمودی اور کچھ ڈھالنی تھیں۔ مہدی
الحسن کو اپنی آواز تین چار بار سنائی دی۔ اس کی آواز ماحول اور فضا میں گھومتی اور تیرتی محسوس ہوتی تھی۔
اس آواز کی گونج تاریک فضا میں تحلیل ہوگئی تو اسے ایک نسوانی آواز سنائی دی… ''مجھ سے ڈرو نہیں ،آگے آئو''… یہ
آواز دور سے آئی تھی۔ یہ اسے کئی بار سنائی دی اور آہستہ آہستہ ختم ہوگئی۔
آواز پھر آئی… ''اب بے وفائی نہ کرنا ،میں دو ہزار سال سے تمہاری راہ دیکھ رہی ہوں''۔
مہدی الحسن کو یہ الفاظ کئی بار سنائی دئیے ،پھر مہدی الحسن کی آواز ابھری اور باربار سنائی دینے کے بعد خاموش ہوگئی۔
اس طرح دونوں طرف سے آوازیں ابھرتی ،بھٹکتی اورگونجتی رہیں۔ بدروح کی آواز میں التجا تھی جس سے مہدی الحسن کا
خوف دورہوگیا۔ وہ ان پہاڑیوں میں اندرتک چال گیا۔ اسے سامنے چمک دکھائی دی جو آسمانی بجلی کی طرح چمکی اور
بجھ گئی۔ اس چمک میں اس نے دیکھ لیا کہ وہ کہاں ہے۔ اسے اس دمک میں اس سرنگ کا دہانہ نظر آیا تھا جس میں
گزر کر وہ ایک بار دوسری طرف گیا تھا۔ وہ وہیں رک گیا۔
کچھ دیر بعد روشنی پھر چمکی اور اس میں اسے سرنگ کے دہانے میں کوئی انسان کھڑا نظر آیا۔ روشنی جانے کہاں سے
آرہی تھی۔ یہ اتنی لمبی چوڑی تھی کہ دہانے میں کھڑا انسان صاف نظر آتا تھا۔ وہ اس سے کم وبیش پچاس قدم دور تھا۔
اس نے غور سے دیکھا۔ چہرہ بڑی ہی خوبصورت لڑکی کا تھا۔ صرف چہرہ نظر آتا تھا۔ باقی سارا جسم سفید کفن میں لپٹا
ہوا تھا۔ مہدی الحسن ڈرنے لگا۔ اسے نسوانی آواز سنائی دی… ''مجھ سے ڈرو نہیں۔ دوہزار سال سے تمہاری راہ دیکھ رہی
ہوں''۔
وہ آگے بڑھا۔ چند قدم چال ہوگا کہ کفن سے ایک بازو باہر آیا جو مہدی الحسن کی طرف بڑھا۔ ہاتھ کی ہتھیلی اس طرح :
آگے ہوئی جیسے اشارہ کیا ہو کہ آگے نہ آنا۔ مہدی الحسن وہیں رک گیا۔ روشنی بجھ گئی۔ وہ اس انتظار میں کھڑا رہا کہ
روشنی ایک بار پھر چمکے گی اور اسے کفن میں لپٹی ہوئی یہ لڑکی نظر آئے گی مگر اسے آوازسنائی دی۔ ''تم پر اعتبار
کون کرے ،چلے جائو ،چلے جائو''۔
مجھ پر اعتبار کرو'' ۔ مہدی الحسن نے کہا اور آگے کو دوڑا۔ وہ پکارتا جارہا تھا۔ ''میں تمہاری خاطر آیا ہوں۔ میرے ''
قریب آئو''۔
وہ سرنگ کے دہانے میں جارکا۔ اسے سرنگ کے اندر سے آواز سنائی دی… ''کل آنا ،چلے جائو ،تم فانی دنیا کے انسان ہو،
تمہارے وعدے بھی فانی ہیں''۔
مہدی الحسن سرنگ کے اندر چالگیا اور آگے ہی آگے چلتا گیا۔ اسے سرنگ کا دوسرادہانہ دکھائی دیا۔ سرنگ کے اندر کی
نسبت باہر تاریکی کم تھی۔ اس لیے سرنگ کا دہانہ نظر آرہا تھا۔ سرمئی سی اس روشنی میں ایک لمبوترا سایہ دکھائی دیا
جو فورا ً غائب ہوگیا۔ یہ کفن میں لپٹی ہوئی لڑکی جیساتھا۔ مہدی الحسن دوڑ پڑا۔ ٹھوکر کھا کر گرا اور اٹھ کر پھر دوڑا۔
اگلے دہانے میں جاکر اس نے آوازیں دیں مگر اسے اپنی ہی پکار کی صدائے بازگشت کے سوا کوئی جواب نہ مال۔ رونے کی
آواز بھی نہ ابھری۔ بدروح نے بھی اسے نہ پکارا۔ وہ مایوس ہوکر واپس چل پڑا۔ ابھی وہ سرنگ کے وسط ہی میں تھا کہ
اسے سرنگ کے سامنے والے دہانے میں روشنی دکھائی دی مگر اس روشنی میں کفن میں لپٹی ہوئی الش نہیں تھی۔
روشنی بجھ گئی۔ مہدی الحسن سرنگ سے نکل گیا۔ اسے سامنے اور ذرا بائیں کو بلندی پر روشنی کا دھوکہ ہوا مگر وہ کسی
اور طرح کی روشنی تھی جیسے کسی نے کھڈ میں چٹان کے پیچھے آگ جال رکھی ہو۔ مہدی الحسن نے کچھ سوچا اور ادھر
کو چل پڑا جدھر سے آیا تھا۔ وہ اس پہاڑی عالقے سے نکل گیا۔ اس کا اونٹ باہر بندھا تھا۔ وہ اونٹ پر سوار ہوا اور قاہرہ
کی سمت روانہ ہوگیا۔ اس کی ذہنی کیفیت ایسی تھی جس میں ڈر اور خوف نہیں بلکہ اضطراب اورہیجان تھا۔ وہ ان دو
روشنیوں کے متعلق سوچ رہا تھا۔ ایک وہ جس میں اسے کفن میں لپٹی ہوئی الش نظر آئی تھی اور دوسری وہ جو اسے
بلندی پر دکھائی دی تھی۔ بلندی والی روشنی آگ کی تھی۔
وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ گیا۔ رات بہت گزر گئی تھی پھر بھی اسے نیند نہ آئی۔ بار بار کفن میں لپٹی ہوئی لڑکی کا چہرہ
اس کے سامنے آتا تھا اور یہ ارادہ اسے تڑپا دیتا کہ وہ رات وہیں گزارے اور اس لڑکی کو قریب سے دیکھ کر لوٹے۔
٭ ٭ ٭
عادت کے مطابق وہ صبح وقت پر اٹھا۔ مشین کی طرح روزمرہ کے کام کیے۔ علی بن سفیان کے پاس جاکر نئی ہدایات لیں
جن میں ایک یہ تھی کہ اس عالقے میں اس کی ڈیوٹی ختم کردی گئی تھی۔ اسے شہر کے باہر کسی اور جگہ جانے کو کہا
گیا۔
مجھے ابھی وہیں جانے دیں جہاں اتنے دنوں سے جارہا ہوں''۔ مہدی الحسن نے کہا… ''مجھے توقع ہے کہ ان پہاڑیوں ''
میں مجھے کچھ مل جائے گا۔ میں دو تین روز بعد آپ کو بتا سکوں گا کہ یہ عالقہ صاف ہے یا نہیں''۔
علی بن سفیان اس کے مشوروں کو نظر انداز نہیں کرتا تھا۔ وہ کوئی عام قسم کا جاسوس نہیں تھا۔ اس شعبے کا عہدے دار
تھا اور تجربے کے لحاظ سے وہ قابل اعتماد تھا۔ کچھ دیر کی بحث اور غوروخوض کے بعد علی بن سفیان نے اپنے اسی
عالقے میں جانے کی اجازت دے دی۔ مہدی الحسن بدروح سے ملے بغیر اس عالقے کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ یہ شاید پہال
موقع تھا کہ اس نے فرض پر اپنی ذاتی خواہش کو ترجیح دی تھی۔ علی بن سفیان کو ذرا سا بھی شک ہوتا کہ وہ کسی اور
چکر میں اپنی ڈیوٹی بدلنے سے گریز کررہا ہے تو اسے کبھی نہ جانے دیتا۔ ایک تجربہ کار جاسوس اور سراغ رساں اپنے آپ
کو ایسے خطرے میں ڈال رہا تھا جس میں اس کی جان ضائع ہوسکتی تھی۔
مہدی الحسن حکیم کے پاس گیا اور اسے رات کی واردات سنائی۔ حکیم نے آنکھیں بند کرلیں اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑ
بڑاتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں اور مہدی الحسن کی آنکھوں میں جھانکا۔
آج رات پھر جائو''۔ حکیم نے اسے کہا… ''اس پاک جہان کی مخلوق اس ناپاک دنیا کے کسی انسان کے قریب آنے ''
سے ڈرتی ہے۔ تم کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کرنا۔ شاید آج بھی ذرا سی دیر نظر آکر وہ غائب ہوجائے ،تم بے صبر نہ
ہوجانا۔ وہ تمہیں ملنے کو بے تاب ہے ،ضرور ملے گی۔ اگر اس مالقات میں تمہارا فائدہ نہ ہوتا تو میں تمہیں وہاں نہ
بھیجتا۔ تمہاری جان کو بھی کوئی خطرہ نہیں''۔
مہدی الحسن چال گیا۔ اس عالقے میں گھوما پھرا۔ سرنگ کے اندر گیا۔ دوسری طرف گیا۔ سرنگ کے دہانے سے نیچے اترگیا۔
اسے زمین پر کپڑے کی ایک پٹی پڑی نظر آئی۔ اس نے اٹھالی۔ یہ نصف انچ چوڑی اور کوئی نصف گز لمبی ہوگی۔ اسے وہ
دیکھتا رہا اور اپنے پاس رکھ لی۔ وہ پھر سرنگ میں داخل ہوا اور باہر آگیا۔ اس نے اس بلندی کی طرف دیکھا جہاں رات
اسے آگ کا دھوکہ ہوا تھا۔ ادھر ڈھالن تھی۔ وہ سرنگ سے نکل کر ڈھالن پر چڑھنے لگا۔ اسے ایک مردانہ آواز سنائی دی…
''اوپر نہ جانا ،جس کے لیے تم آئے ہو وہ تمہیں رات کو ملے گی''… یہ آواز گونج بن کر بار بار سنائی دینے لگی۔
ہماری دنیا میں آکر کھوج نہ لگائو''۔ وہی آواز پھر سنائی دی۔''
مہدی الحسن رک گیا۔ اسے ایسے محسوس ہونے لگا جیسے یہ آواز اس کے اردگرد گھوم رہی ہے۔ وہ اوپر نہ گیا۔ حیرت زدہ
ہوکر ادھر ادھر دیکھتا رہا۔ اس نے سوچا کہ وہ کوئی حرکت نہ کربیٹھے جس سے یہاں کی کوئی بدروح اسے نقصان
پہنچا دے۔ وہ اس جگہ سے باہر چال گیا اور ایک جگہ بیٹھ کر سوچنے لگا کہ اس جگہ کی حقیقت کیا ہے۔ دن اسی سوچ
میں گزر گیا اور وہ رات کو یہیں واپس آنے کے لیے چال گیا۔
سورج غروب ہونے کے بعد جب وہ اس پہاڑی خطے میں جانے لگا تو وہی بھیس بدال جس میں وہ وہاں جایا کرتا تھا۔ دن
کے وقت جب وہ ڈیوٹی پر جاتا تھا تو اپنا لمبا خنجر ساتھ لے جاتا تھا۔ حکیم نے اسے بڑی سختی سے کہا تھا کہ وہ رات
کو جب بدروح سے ملنے جائے تو اپنے ساتھ کوئی ہتھیار نہ لے جائے۔ گزشتہ رات وہ خنجر اپنے ساتھ نہیں لے گیا تھا۔ اب
شام کو وہ بدروح کی مالقات کے لیے جارہا تھا۔ اس نے گڈریوں کا بھیس بدل لیا۔ خنجر دیوار کے ساتھ لٹک رہا تھا۔ اس
نے خنجر کو دیکھا اور گہری سوچ میں کھو گیا۔ ہدایت کے مطابق اسے خنجر ساتھ نہیں لے جانا تھا لیکن اس نے گہری
سوچ سے بیدار ہوکر خنجر دیوار سے اتار لیا۔ اپنے کپڑوں کے اندر کمر کے ساتھ باندھ لیا اور باہر نکل گیا۔
اس جگہ پہنچ کر اس نے اونٹ کو بٹھا دیا اور اس جگہ چال گیا جہاں سے سرنگ کا دہانہ نظر آتا تھا۔ اسے اپنے عقب میں
کسی کے قدموں کی آواز سنائی دی جو فورا ً خاموش ہوگئی۔ اس کے فورا ً بعد اوپر سے پتھر لڑھکنے کی آواز آئی جو ایسی
بلند تو نہیں تھی لیکن ایسے سکون اور ایسی وادیوں میں جو عمودی پہاڑیوں میں گھری ہوئی تھیں ،یہ آواز لڑھکتے پتھر ساکن
ہوجانے کے بعد بھی سنائی دیتی رہی ،پھر گونج بن کر فضا میں تیرنے لگی ،جیسے کوئی سسکیاں اور ہچکیاں لے رہا ہو۔ ذرا
اور وقت گزرا تو مہدی الحسن کو رونے کی آوازیں سنائی دیں۔
میرے سامنے آئو''۔ مہدی الحسن نے بلند آواز سے کہا… ''میری دنیا ناپاک ہے ،میں ناپاک نہیں ہوں''۔''
تم مجھے پھر چھوڑ کر چلے جائو گے''۔ یہ نسوانی آواز کہیں قریب سے آئی۔''
مہدی الحسن کی آواز اور یہ نسوانی آواز یوں بار بار سنائی دینے لگی جیسے ایک دوسرے کے تعاقب میں دوڑ رہی ہوں۔
روشنی چمکی اور بجھ گئی جس سے مہدی الحسن کو سرنگ کا دہانہ نظر آیا۔ وہ دبے پائوں تیز قدم آگے چال گیا اور سرنگ
کے دہانے سے ذرا نیچے ایک بڑے پتھر کے پیچھے چھپ گیا۔ اس نے ادھر اوپر دیکھا جہاں گزشتہ رات اسے آگ کا دھوکہ
ہوا تھا۔ وہ دھوکہ آج بھی موجود تھا۔ سرنگ کا دہانہ ذرا بلند تھا۔ وہ پیٹ کے بل سرکتا اوپر چال گیا اور وہ چند لمحوں
بعد دہانے کے اندر تھا۔ وہاں سے اس نے چھپ کر ادھر اوپر دیکھا جدھر اسے آگ کا دھوکہ نظر آیا تھا۔ اب چونکہ وہ خود
بھی بلندی پر تھا۔ اس لیے اسے وہاں آگ کی ایسی روشنی دکھائی دی جس کا شعلہ کہیں چھپا ہوا تھا۔
اسے سرنگ کے اندر سے کسی عورت کی آواز سنائی دی
دو ہزار سال سے تمہاری راہ دیکھ رہی ہوں۔ آگے آئو''۔''
مہدی الحسن سرنگ کی دیوار کے ساتھ ساتھ اور اندر کو چل پڑا۔ اسے خیال آیا کہ حکیم نے اسے کہا تھا کہ اپنے ساتھ
کوئی ہتھیار نہ لے جانا ،ورنہ اس لڑکی کی روح سامنے نہیں آئے گی۔ اس کے پاس ڈیڑھ فٹ لمبا خنجر تھا اور بدروح بول
رہی تھی۔ وہ اور آگے چال گیا اور سرنگ کے وسط میں پہنچ گیا۔ سرنگ فراخ تھی۔ اسے کوئی آتا محسوس ہوا۔ وہ دیوار کے
ساتھ لگ کر بیٹھ گیا۔ اس کے قریب سے کوئی گزرنے لگا۔ اتنے گھپ اندھیرے میں بھی اس نے اندازہ لگا لیا کہ یہ وہی
لڑکی ہے اور یہ کفن میں لپٹی ہوئی ہے۔ لڑکی رک گئی اور اس نے رونے کی آواز نکالی۔ مہدی الحسن نے یہ آوازپہلے کئی
بار سنی تھی۔ اس کا دل بہت زور زور سے دھڑکنے لگا۔
کفن میں لپٹی ہوئی الش آگے کو سرکی۔ عین اس وقت دہانے پر روشنی چمکی اور بجھ گئی۔ مہدی الحسن اٹھا اور بجلی کی
تیزی سے پیچھے سے الش کو دبوچ لیا۔ الش کی آواز سنائی دی… ''اوہ بدبخت ،تمہیں کس وقت مذاق سوجھا ہے۔ چھوڑو
مجھے ،شکار انتظار میں کھڑا ہے''۔
مہدی الحسن نے جس شک میں جان کی بازی لگا کر اسے پکڑا تھا ،وہ شک صحیح ثابت ہوا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ یہ
بدروح ہوئی تو اس کے ہاتھ نہیں آئے گی اور اس کی جان نکال لے گی اور اگر یہ کوئی دھوکہ ہوا تو اسے بڑا موٹا شکار مل
جائے گا۔
کفن میں لپٹی ہوئی اس عورت کی آواز سنتے ہی مہدی الحسن سرگوشی میں بوال… ''اونچی آواز نکالی تو خنجر ایک پہلو
میں گھونپ کر دوسرے پہلو سے نکال دوں گا''۔
میں تمہارادل اور کلیجہ منہ کے راستے نکال کر کھا جائوں گی''۔ عورت نے کہا… ''میں روح ہوں''۔''
مہدی الحسن نے اسے ایک بازو سے دبوچے رکھا اور دوسرے ہاتھ سے خنجر نکال کر اس کی نوک عورت کے پہلو میں رکھ
دی۔ سرنگ کے سامنے والے دہانے پر ایک بار پھر روشنی چمکی۔ مہدی الحسن کا ادھر جانا پر خطر تھا۔
میں اسی لیے تمہیں اپنے قریب نہیں آنے دیتی تھی کہ تم فریبی اور فانی دنیا کے انسان ہو''۔ عورت نے رندھی ہوئی ''
اور اثرانگیز آواز میں کہا… ''دو ہزار سال سے تمہاری راہ دیکھ رہی ہوں''۔
تمہارا انتظار ختم ہوگیا ہے''۔ مہدی الحسن نے کہا… ''اب تم روحوں کی پاک دنیا میں واپس نہیں جائو گی۔ تم اب ''
میری ناپاک دنیا کی عورت ہو''۔
میں عورت نہیں''۔ اس نے کہا… ''میں جوان لڑکی ہوں۔ میں حسین لڑکی ہوں ،میں اونچا نہیں بولوں گی۔ میری بات ''
غور سے سن لو۔ میں جانتی ہوں تم کون ہو اور یہاں کیوں آئے ہو۔ تم مجھے اتنے اچھے لگتے ہو کہ میں نے تمہیں حاصل
کرنے کا فیصلہ کرلیا اور یہ طریقہ اختیار کیا ہے''۔
تو چلو میرے ساتھ''۔ مہدی الحسن نے کہا۔''
نہیں'' ۔ لڑکی نے کہا… '' تم میرے ساتھ چلو۔ میں تمہارے ساتھ گئی تو ہم دونوں بھوکے مریں گے۔ تم میرے ساتھ آئے تو''
فرعونوں کا خزانہ ہمارا ہوگا۔ پھر تمہیں ویرانوں میں بھٹکتے پھرنے اور تھوڑی سی تنخواہ کے عوض جاسوسی کرتے پھرنے کی
ضرورت نہیں پڑے گی''۔
''تم یہاں کیا کررہی ہو؟''
خزانہ نکال رہے ہیں''۔ لڑکی نے کہا… ''میں بہت سے آدمیوں کے ساتھ ہوں''۔''
''وہ سب کہاں ہیں؟''
میرے ساتھ چلو ،سب تمہارا استقبال کریں گے''۔ لڑکی نے کہا… ''مجھے روشنی میں دیکھو گے تو خزانوں کو اور اپنی ''
دنیا کو بھول جائو گے''۔
مہدی الحسن جو خوشبو اس لڑکی کے جسم سے سونگھ رہا تھا ،وہ اس پر خمار طاری کررہی تھی۔ اس نے اس لڑکی کو جب
اپنے بازوئوں میں دبوچا تھا تو اس نے محسوس کرلیا تھا کہ یہ جسم ایمان خریدنے کا اثر رکھتا ہے۔ لڑکی کی آواز میں ترنم
تھا۔ اس پر نشہ طاری ہوچکا تھا۔ اس لمحے سرنگ کے دہانے کی طرف وہ نہیں جانا چاہتا تھا کیونکہ ادھر کے متعلق اسے
یقین تھا کہ ادھر آدمی ہوں گے اور روشنی کا انتظام تو ادھر تھا ہی۔
اٹھو''۔ اس نے لڑکی کو اٹھایا اور کہا… ''کفن اتار دو''۔''
لڑکی نے کفن اتار دیا۔ مہدی الحسن نے کفن سے لمبی اور چوڑی پٹیاں پھاڑیں۔ ایک سے لڑکی کے ہاتھ پیٹھ پیچھے باندھ
دئیے۔ دوسری پٹی سے اس کی ٹانگیں ٹخنوں کے قریب سے باندھیں۔ تیسری پٹی اس کے منہ پر باندھ کر اسے کندھے پر
ڈال لیا۔ خنجر ہاتھ میں رکھا اور وہ سرنگ کے پچھلے دہانے کی طرف چل پڑا۔ اسے وہاں سے بہت جلدی نکلنا تھا..
گزشتہ رات جب مہدی الحسن یہاں آیا تھا تو وہ بدروح سے ہی ملنے آیا تھا۔ سرنگ کے دہانے پر وہ روشنی کی چمک میں
اسے نظر آئی اور غائب ہوگئی تھی۔ مہدی نے دہانے پر جاکر ایک تو دہانے کے سامنے بلندی پر روشنی سی دیکھی تھی اور
پھر وہ سرنگ کے اندر گیا تو اس نے دوسرے دہانے میں سے ایک سایہ سا باہر جاتے دیکھا تھا۔ دن کے وقت وہ پھر سرنگ
میں سے گزر کر دوسری طرف گیا تو اسے کپڑے کی ایک باریک سی پٹی زمین پر پڑی نظر آئی تھی۔ اسے پٹی دیکھتے ہی
یاد آگیا کہ میت پر کفن ایسی ہی پٹیوں سے باندھا جاتا ہے۔ وہ چونکہ علی بن سفیان کا تربیت یافتہ جاسوس تھا ،اس لیے
اشاروں کو بہت اہمیت دے رہا تھا۔ وہ جب آج رات بدروح کی مالقات کے لیے چال تھا تو اس
وہ ذرا ذر اسی چیزوں اور
نے حکیم کے منع کرنے کے باوجود خنجر ساتھ لے لیا تھا۔ یہ آزمائش کا ایک طریقہ تھا۔ خنجر کے باوجود بدروح آگئی۔
اس نے دلیری یہ کی کہ آج دہانے پر روشنی نظر آتے ہی وہ دہانے میں چال گیا اور وہاں سے اس نے بلندی پر دیکھا۔ وہاں
آگ کا چھپا ہوا شعلہ تھا۔ دہانے پر چمک وہیں سے آتی تھی۔ مہدی الحسن کو دو واقعات یاد آگئے۔ صلیبیوں کے ایجنٹوں
نے مصر کے ایسے ہی پہاڑی عالقوں میں مصر کے دیہاتیوں کو توہمات میں الجھانے اور انہیں اثر میں لینے کے لیے یہ طریقہ
اختیار کیا تھا کہ ایک پہاڑی پر بڑے شعلے والی مشعل جال کر چھپا رکھی تھی۔ اس کے سامنے لکڑی کا ایسا تختہ رکھتے
تھے جس پر براق چپکا ہوا تھا۔ دوسرے واقعہ میں چمکیلی دھات کی چادر استعمال کی گئی تھی۔ ابرق یا دھات کی چمک
سامنے والی پہاڑی پر پڑتی تھی۔ مشعل اور چادر کے درمیان ایک اور تختہ رکھتے تو چمک بجھ جاتی تھی۔ یہ مشعل اور
چمکیلی چادر ایسی جگہ رکھی جاتی جہاں سے یہ لوگوں کو نظر نہیں آتی تھیں۔
ان دونوں وارداتوں میں صلیبی ایجنٹ پکڑے گئے اور ان کا یہ طریقہ بے نقاب ہوگیاتھا ،ورنہ سیدھے سادے لوگ اسے غیب کی
چمک سمجھتے تھے۔ ان دونوں وارداتوں پر چھاپہ مارنے والوں میں مہدی الحسن بھی تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ سرنگ کے بالکل
بالمقابل پہاڑی پر جو آگ کا دھوکہ سا ہوتا ہے ،وہ مشعل چھپی ہوئی ہے اور سرنگ کے دہانے پر اسی کی چمک پھینکی
جاتی ہے۔
اسے ٹریننگ کے دوران بتایا گیا تھا کہ جو انسان مرجاتا ہے ،وہ ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے تعلق توڑ جاتا ہے۔ خدا اس کی
روح کو یوں بھٹکنے کے لیے نہیں چھوڑ دیتا کہ وہ انسانوں کے پیچھے دوڑتی پھرے۔ جو مرجاتے ہیں وہ نہ جسمانی طور پر
واپس آتے ہیں ،نہ روح یا بدروح کی شکل میں۔ مہدی الحسن کو ٹریننگ میں یہ اٹل حقیقت ذہن نشین کرائی گئی تھی کہ
انسان کو خدا نے اتنی زیادہ جسمانی اور روحانی قوت عطا کی ہے جو پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرسکتی ہے۔ ایمان جتنا مضبوط
ہوگا ،یہ قوت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ جنات اور بھوت اور چڑیلیں انسان کے اپنے ذہن کی تخلیق ہیں۔ صلیبی ہمارا ایمان کمزور
کرنے کے لیے ہم پر واہمے اور توہمات طاری کررہے ہیں۔
یہ سبق قوم کے ہر فرد کو ملنا چاہیے تھا لیکن یہ ممکن نہ تھا۔ سلطان ایوبی نے لڑاکا جاسوسوں (کمانڈوز) کے جو دستے
تیار کیے تھے ،انہیں بڑی کاوش سے ذہن نشین کرایا گیا تھا کہ ایمان کی قوت کیاہوتی ہے۔ انہیں توہمات سے دور رکھا گیا
تھا۔ انہیں عملی سبق بھی دئیے گئے تھے۔
عیسی کو زمین پر اتارا تھا''۔ مہدی الحسن کو علی بن سفیان کا ایک سبق یاد آگیا ''
صلیبیوں نے تمہارے سامنے حضرت
ٰ
تھا۔ '' تمہارے سامنے خدا کو بھی انہوں نے زمین پر اتارا تھا۔ وہ بدروحوں کو بھی الئے۔ تم نے یہ فریب کاری اپنی آنکھوں
دیکھی تھی اور یہ بھی دیکھا تھا کہ یہ فریب کاری کیسی کاریگری سے کی جارہی تھی۔ تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے
کہ یہ شعبدہ بازی تھی۔ یہ اسالمی نظریات کو مجروح اور مسخ کرنے کی کوششیں تھیں جو تم نے ناکام کیں۔ خدا پہلے ہی
زمین پر موجود ہے۔ قرآن کا فرمان ہے کہ کوئی پیغمبر واپس نہیں آئے گا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد یہ
سلسلہ ختم ہوگیا ہے۔ خدائے ذوالجالل نے ہمیں اپنا نور دکھا دیا ہے۔ صلیبی اس کوشش میں مصروف ہیں کہ مسلمان کے
سینے میں اللہ ،رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کا یہ نور بجھ جائے''۔
سلطان ایوبی نے اپنی فوج اور خصوصا ً اپنے جانباز دستوں کے دلوں میں یہ اصول پیوست کررکھا تھا… ''اللہ کے نام پر تم
جو بھی خطرہ مول لو گے ،وہ تمہارے لیے خطرہ نہیں رہے گا کیونکہ تمہیں خدا کی خوشنودی اور مدد حاصل ہوگی۔ اگر آج
تم توہم پرستی کاشکار ہوگئے تو تمہاری اگلی نسل کا ایمان اتنا کمزور ہوگا کہ وہ کفر کے آگے ہتھیار ڈال دے گی''۔
ایسے ہی کچھ اور سبق تھے جو مہدی الحسن کو یاد آگئے تھے۔ اسے اپنی اہمیت کا بھی احساس ہوگیا تھا۔ جیسا کہ بتایا
جاچکا ہے کہ وہ معمولی عہدے یا درجے کا جاسوس نہیں تھا ،اس کی قابلیت اور تجربہ بھی غیرمعمولی تھا۔ دشمن کے
تخریب کار اسے قتل کرسکتے تھے۔ اسی عالقے میں اسے دور سے تیرمارسکتے تھے لیکن اس کے پائے کے جاسوسوں کو
دشمن زندہ پکڑنے یا اپنے جال میں پھانس کر اس پر اپنا طلسم طاری کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ صلیبیوں اور حشیشین کے
پاس ایسے طریقے تھے جن سے وہ کسی بھی انسان کے ذہن پر قبضہ کرکے اسے اپنے حق میں استعمال کرسکتے تھے۔ مہدی
الحسن ان کے کام کا انسان تھا۔ یہ ضروری نہیں تھا کہ انہوں نے صرف اس کو پکڑنے کے لیے اس پہاڑی عالقے میں یہ
ڈھونگ رچایا تھا۔ اس عالقے میں کسی جگہ انہوں نے اپنا اڈا بنا رکھا تھا۔ مہدی الحسن کو انہوں نے گڈریے کے روپ میں
بھی پہچان لیا تھا۔ چنانچہ اسے پھانسنے کا یہ طریقہ اختیار کیا گیا۔
٭ ٭ ٭
مہدی الحسن لڑکی کے ہاتھ پائوں باندھ کر اسے کندھے پر اٹھائے سرنگ کے دوسرے دہانے کی طرف جارہا تھا۔ اسے سارے
سبق یاد آگئے تھے اور اس کے گرد سلطان ایوبی کی آواز گونج رہی تھی… ''جس طرح ایک غدار پوری قوم کو ذلت ورسوائی
میں ڈال سکتا ہے ،اسی طرح ایک حریت پسند جانباز پوری قوم کو بڑے سے بڑے خطرے سے بچا سکتا ہے''۔
مہدی الحسن کے دل میں یہ احساس ایک بڑاہی مضبوط جذبہ بن کر بیدار ہوگیا کہ اس کی قوم جو گہری نیند سورہی ہے ''
وہ اسی کے بھروسے پر سورہی ہے۔ وہ جاسوسوں کی زمین دوز جنگ کا جانباز تھا۔ اسے معلوم تھا کہ قوم بہت بڑے لشکر
کا اور گھوڑ سواروں کے طوفان کا اور تیروں کی بوچھاڑوں کا مقابلہ کرسکتی ہے لیکن دشمنوں کے جاسوسوں اور تخریب کاروں
کا مقابلہ صرف ایک یا دو جاسوس ہی کرسکتے ہیں۔ مہدی الحسن مصر اور اپنی قوم کا واحد پاسبان اور سالمتی کا ضامن بن
''گیا مگر ایک سوال اسے پریشان کررہا تھا … ''کیا حکیم بھی دشمن کے تخریب کاروں کے گروہ کا فرد ہے؟
اس کا ذہن تسلم کرنے پرآمادہ نہیں تھا کہ اتنا عالم ،معزز اور صاحب حیثیت طبیب جس کی عزت حکام باال بھی کرتے تھے،
دشمن کا ساتھی ہوسکتا ہے۔ اس یاد آیا کہ اسے جو سبق دئیے گئے تھے اور اس کے اپنے جو تجربے اور مشاہدے تھے ،ان
سے اس پر یہ حقیقت واضح ہوئی تھی کہ ایمان فروشی کا عہدے اور رتبے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اس نے دیکھا یہ تھا
کہ ایمان کا سوداعموما ً اونچے رتبے کے لوگ کرتے ہیں اور زیادہ بڑا بننے کے اللچ میں آکر بعض انسان ایمان گروی رکھ دیتے
ہیں۔
اس کے سامنے اب مسئلہ یہ تھا کہ لڑکی کو ساتھ لے کر وہ کس طرف سے باہر نکلے اور اپنے اونٹ تک پہنچے۔ لڑکی سے
وہ اس لیے رہنمائی نہیں لینا چاہتا تھا کہ وہ اسے غلط راستے پر ڈال کر کسی اور جال میں پھانس سکتی تھی۔ وہ جس
راستے سے آیا تھا ،اس راستے کو وہ اب غیر محفوظ سمجھتا تھا۔ روشنی پھینکنے والوں نے دہانے پر دو تین بار روشنی
پھینکی تھی مگر لڑکی کو مہدی الحسن نے سرنگ میں دبوچ رکھا تھا۔ لڑکی کی وہ آواز بھی بند ہوگئی تھی جو مہدی الحسن
کو بدروح کا تاثر دیتی تھی۔ ان حاالت میں اسے یہ خطرہ نظر آرہا تھا کہ ادھر اس گروہ کے آدمی نیچے اتر آئے ہوں گے۔
سرنگ کی دوسری طرف اسے معلوم نہیں تھا کہ کسی طرف سے باہر جانے کا راستہ ہے یا نہیں۔
وہ لڑکی کو اٹھائے سرنگ سے باہر نکل گیا۔ ایک طرف دہانے سے کچھ دور جا کر اس نے لڑکی کو زمین پربٹھا دیا اور اس
''کے منہ سے پٹی کھول کر کہا… ''کیاتم بتائو گی کہ میں کس طرف سے جائوں ،جدھر تمہارا کوئی آدمی نہ ہو؟
اگر تم اکیلے جائو تو بتا سکتی ہوں''۔''
تم میرے ساتھ چلو گی''۔ مہدی الحسن نے کہا… ''مجھے پھانسے کی کوشش کروگی تو میں اپنے آپ کو زندہ نہیں رہنے''
دوں گا ،نہ تمہیں زندہ چھوڑوں گا''۔
''میں تمہیں وہ راز بتا دوں جو تم جاننا چاہتے ہو تو اکیلے چلے جائو گے؟''
میں وہ راز جان چکا ہوں''۔ مہدی الحسن نے کہا… ''مجھے راستہ بتائو''۔''
مجھے صرف ایک بار روشنی میں دیکھ لو''۔ لڑکی نے کہا… ''پھر مجھے اپنا سمجھنا ،ایک بار میرے ساتھ چلے چلو'' ،
میں تمہیں دھوکہ نہیں دے رہی''۔
20:48
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔ 113رات ،روح اورروشنی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دھوکہ نہیں دے رہی'' ۔ لڑکی نے مہدی الحسن کی مردانگی کو بھڑکانے کے جتن کیے۔ زروجواہرات کے اللچ بھی دئیے مگر
اسے راستہ نہ بتایا۔ مہدی الحسن نے پٹی سے اس کا منہ بند کردیا اور خود ہی ایک محفوظ راستہ سوچ لیا۔ یہ راستہ
پہاڑیوں کے اوپر تھا۔ اس نے لڑکی کو وہیں بیٹھے رہنے دیا اور اوپر چڑھنے لگا۔ نیچے کسی کی آواز سن کر وہ وہیں دبک
گیا۔ کوئی مرد اس لڑکی کو پکار رہا تھا۔ مہدی الحسن آہستہ آہستہ نیچے آگیا اور لڑکی کے قریب ایک بڑے پتھر کے پیچھے
چھپ کر بیٹھ گیا۔ اس آدمی نے لڑکی کو شاید دیکھ لیا تھا۔
تم بولتی کیوں نہیں؟''… اس آدمی نے پوچھا اور اوپر آنے لگا۔ لڑکی کا منہ بند تھا۔ وہ آدمی اس کے قریب آبیٹھا اور ''
بوال… ''کیا ہوا ہے تمہیں؟ ادھر نہیں گئی؟''۔
مہدی الحسن اس کے عقب میں تھا۔ فاصلہ دوچار قدم تھا۔ اس نے اٹھ کر اس آدمی کی پیٹھ میں خنجر کا بھرپور وار کیا۔
فورا ً بعد دوسراوار کیا۔ جوان آدمی کے دونوں وار دور تک اتر گئے۔ اس آدمی کی آواز بھی نہ نکلی۔ مہدی الحسن نے اسے
گھسیٹ کر اس پتھر کے نیچے پھینک دیا جس کے پیچھے وہ چھپا تھا۔ اس نے لڑکی کو کندھے پر ڈاال اور پہاڑی پر چڑھ
گیا۔ یہ کوئی اونچی پہاڑی نہیں تھی۔ اوپر سے چوڑی تھی۔ وہ اس پر چلنے لگا۔ اس کے لیے آسان طریقہ تھا کہ رات بھر
کہیں چھپا رہتا اور دن کی روشنی میں نکل جاتا لیکن اس کی کوشش یہ تھی کہ بہت جلد قاہرہ پہنچ جائے ،تاکہ حکیم کی
گرفتاری اور اس عالقے کو محاصرے میں لینے کاانتظام صبح سے پہلے ہوجائے۔
اس نے ادھر ادھر دیکھا جہاں مشعل کی روشنی تھی۔ اب چونکہ وہ خود بلندی پر تھا ،اس لیے اسے بالمقابل بلندی پر
مشعل صاف نظر آرہی تھی۔ ایک آدمی دونوں ہاتھوں میں آئینے کی طرح چمکتی چادر (دھات کی یا ابرق کی) اٹھائے ادھر
ادھر عکس مار رہا تھا۔ اس کے ساتھ ایک اور آدمی تھا۔ مہدی الحسن کے لیے اوپر اوٹ تھی۔ وہ اس کی مدد سے روشنی
حتی کہ مشعل اس کی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔
سے بچتا آگے ہی آگے بڑھتا گیا
ٰ
٭ ٭ ٭
اسی پہاڑی خطے میں دور اندر جہاں تک کوئی مسافر اور کوئی گڈریا نہیں پہنچ سکتا تھا ،ایک پہاڑی کے دامن میں غار کا
تنگ سا دہانہ تھا۔ اس کے پیچھے غار اتنا وسیع تھا جو غار نہیں بلکہ بہت ہی کشادہ کمرہ تھا۔ اس میں بہت سے آدمی
بیٹھے تھے۔ دو لڑکیاں بھی تھیں۔
اب تک اسے واپس آجانا چاہیے تھا''… ایک آدمی نے کہا۔''
آجائے گی'' ایک اور نے کہا… ''یہاں کون سا خطرہ ہے۔ آج وہ اسے لے کے ہی آئے گی''۔''
آدمی کام کا ہے''… ایک نے کہا… ''کمبخت بہت تجربہ کار ہے۔ ہم اسے تیار کرلیں گے''۔''
اتنے میں ایک آدمی دوڑتا اندر آیا اور بوال… ''گوپل مرا پڑا ہے اور لڑکی کا کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ کہاں ہے۔ گوپل کو
خنجروں سے ہالک کیا گیا ہے''۔
وہ (مہدی الحسن) کہاں ہے؟''… کسی نے پوچھا۔''
کہیں نظر نہیں آرہا''… اسے جواب مال… ''اس کا اونٹ یہیں ہے ،وہ خود کہیں نظر نہیں آرہا''۔''
سب باہر کو دو مشعلیں اٹھا کر دوڑ پڑے اور سرنگ کے دہانے تک گئے۔ وہاں ان کے ساتھی کی الش پڑی تھی۔ سرنگ میں
جاکر دیکھا۔ لڑکی کا کفن پڑا تھا۔ اس کے لیڈر نے سب سے کہا کہ دو آدمی باہر چلے جائو ،اگر باہر سے کوئی خطرہ آئے
تو اطالع دو اگر وہ نظر آئے تو اسے پکڑ لو۔ مقابلہ کرے تو مارڈالو اور باقی آدمی پھیل جائو۔ وہ یہیں کہیں ہوگا۔ اگر وہ صبح
تک نہ ملے تو یہاں سے نکلو۔
اس وقت مہدی الحسن لڑکی کو کندھے پر اٹھائے ایک مشکل میں پھنسا ہوا تھا۔ وہ سرنگ والی پہاڑی سے دور نکل گیا تھا۔
آگے پہاڑی دیوار کی طرح ہوگئی تھی۔ نہ دائیں ڈھالن تھی نہ بائیں اور یہ بلند تھی۔ یہ بالکل دیوار تھی جس پر بیک وقت
دونوں پائوں نہیں رکھے جاسکتے تھے۔ وہ اس پر اس طرح بیٹھ گیا جس طرح گھوڑے پر بیٹھتے ہیں ،وہ آگے کو سرکنے لگا۔
لڑکی کو کندھے پر سنبھالنا اور توازن قائم رکھنا مشکل ہورہا تھا۔ لڑکی نے اس کے توازن کو بگاڑنے کے لیے تڑپنا شروع کردیا۔
مہدی الحسن کو معلوم تھا کہ یہاں سے گرا تو ہڈیاں ٹوٹ جائیں گی۔ اس سے اس نے اندازہ لگایا کہ یہاں جو بھید ہے وہ
اتنا قیمتی اور نازک ہے کہ یہ لڑکی اسے چھپائے رکھنے کی خاطر مہدی الحسن کو اپنے ساتھ گرا کر خود بھی مرنے کی
کوشش کررہی ہے۔
یہ دیوار ختم ہونے میں نہیں آرہی تھی اور لڑکی اس سے سنبھل نہیں رہی تھی۔ ادھر لڑکی کے گروہ کے آدمی تالش اور :
تعاقب میں پھیل گئے تھے۔ ان کے لیے یہ زندگی اور موت کا سوال تھا۔ تخریب کاری کے اڈے کا پکڑے جانا ان کی شکست
تھی اور ان میں سے جنہیں پکڑے جانا تھا ،ان کے لیے بڑی ہی اذیت ناک موت تھی۔ مہدی الحسن نے لڑکی کے گرد بازو
اس قدر زور سے لپیٹ لیا کہ اس کی پسلیاں ٹوٹنے لگیں۔ وہ تو اپنی روح کی بھی طاقت استعمال کررہا تھا۔ آخر یہی طاقت
اسے دیوار سے گزار لے گئی۔ آگے وہ چوٹی آئی وہ خاصی چوڑی تھی۔ مہدی الحسن نے لڑکی کو زمین پر پٹخ دیا اور غضب
ناک آواز میں بوال… ''کیاتم میرا راستہ روک لو گی؟''… اس نے لڑکی کو اپنے غصے کا ذائقہ چکھانے کے لیے دوچار قدم
پیٹھ کے بل گھسیٹا اور کہا۔ ''میرے لیے کوئی مشکل پیدا کی تو میں تمہیں اسی طرح گھسیٹ کر ساتھ لے جائوں گا۔ مرتی
ہو تو مرجائو''۔
اسے دور نیچے ایک مشعل دکھائی دی۔ وہ بہت تھک گیا تھا اور وہ محسوس کرنے لگاتھا کہ خطرے سے نکل آیا ہے مگر
اس جگہ سے نکلنا ابھی ٹیڑھا مسئلہ بنا ہوا تھا۔ اسے بہت جلدی قاہرہ پہنچنا تھا۔ اس نے لڑکی کے پائوں کھول دئیے۔ ہاتھ
پیٹھ پیچھے بندھے رہنے دئیے۔ اسے آگے کرلیا اور خنجر کی نوک اس کی پیٹھ کے ساتھ لگا کر کہا… ''چلو ،میرے کہے بغیر
دائیں بائیں نہ گھومنا'' ۔ تعاقب میں جو آدمی نکلے تھے ،وہ سرنگ میں اور اس کے اردگرد وادیوں میں گھوم پھر رہے تھے۔
دو آدمی اس جگہ جاکھڑے ہوئے جہاں سے مہدی الحسن اندر آتا جاتا تھا۔ مہدی الحسن ڈھالنیں اترتا اور چڑھائیاں چڑھتا ایک
ایسی چٹان پر جاپہنچا جہاں آگے کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ زمین کا بھیدی تھا۔ اسے اتنا تجربہ تھا کہ اندھیرے میں بھی اجنبی
زمین کے خدوخال بھانپ لیا کرتا تھا۔ اسے یہ سمجھنے میں کچھ دیر لگی کہ نیچے دریا ہے اور یہ دریائے نیل ہے۔ اس نے
لڑکی کے ہاتھ بھی کھول دئیے اور منہ سے بھی پٹی اتار دی۔ چٹان کی ڈھالن کھڑی تھی۔ لڑکی سے کہاکہ بیٹھو اور نیچے
کو سرکو۔
دونوں سرک کر نیچے گئے ،پانی کی آواز صاف سنائی دینے لگی۔ چٹان کی ڈھالن ختم ہوچکی تھی۔ وہ ابھی دریا کی سطح
سے بلند تھے۔ اس نے لڑکی سے کہا کہ دریا میں کودو۔ لڑکی بولی… ''میں تیرنا نہیں جانتی''۔
مہدی الحسن نے خنجر نیام میں ڈاال اور لڑکی کو اپنے بازوئوں میں لے لیا جیسے بغل گیر ہوا جاتا ہے۔ اس نے لڑکی کو
مضبوط گرفت میں لیے ہوئے دریا میں چھالنگ لگا دی۔ دریا کا رخ قاہرہ کی طرف تھا۔ لڑکی کو اس نے دانستہ چھوڑ دیا۔ اس
نے دیکھا کہ لڑکی تیر رہی ہے۔
مجھے معلوم تھا کہ تم تیر سکتی ہو''… مہدی الحسن نے کہا… ''تمہیں ہر ڈھنک سکھا کر ہمارے ملک میں بھیجا جاتا''
ہے۔ زیادہ زور نہ لگائو ،دریا ادھر ہی جارہاہے ،جدھر ہم جارہے ہیں''۔
ان کے ایک طرف چٹانیں اور پہاڑیاں کھڑی تھیں۔ انہیں تالش کرنے والے اس کوہسار کے دوسری طرف بھاگ دوڑ رہے تھے۔
لڑکی نے تیرتے تیرتے ایک بار پھر کوشش کی کہ مہدی الحسن کو اپنے جواں جسم کا اسیر بنا لے لیکن اس نے کوئی اثر نہ
لیا۔بہت دور آگے جاکر جب مہدی الحسن نے دیکھا کہ وہ خطرے کے عالقے سے دور آگیا ہے ،منہ میں دو انگلیاں ڈال کر
خاص انداز سے سیٹیاں بجائیں۔ وہ تیرتا بھی گیا اور وقفے وقفے سے سیٹیاں بھی بجاتا گیا۔ تھوڑی دیر بعد اسے دور سے
ایسی ہی سیٹی سنائی دی ،پھر سیٹیوں کا تبادلہ ہوا ،ایک کشتی ان کے قریب آگئی۔
مہدی الحسن کو معلوم تھا کہ جس طرح سرحد پر گشتی سنتری گھومتے پھرتے رہتے ہیں ،اسی طرح دیا میں بھی گشتی پہرہ
ہوتا ہے۔ خطرے کے وقت ایک دوسرے کو بالنے کے لیے وہ منہ سے اسی طرح سیٹی بجایا کرتے تھے۔ یہ کشتی گشتی
سنتریوں کی تھی۔ مہدی الحسن نے اپنا تعارف کرایا۔ سنتریوں نے اسے اور لڑکی کو کشتی میں بٹھا لیا۔
٭ ٭ ٭
علی بن سفیان گہری نیند سویا ہوا تھا۔ اسے مالزم نے جگایا اور بتایا کہ مہدی الحسن نام کا ایک آدمی ایک لڑکی کو :
ساتھ لے کے آیا ہے۔ مہدی الحسن کا نام ہی کافی تھا۔ علی بن سفیان اچک کر اٹھا اور باہر کو دوڑا۔ مہدی الحسن اور
لڑکی کے کپڑوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ دونوں کو کمرے میں بٹھایا۔ قندیل جل رہی تھی۔ مہدی الحسن نے پہلی بار لڑکی کا
چہرہ دیکھا اور سوچا کہ لڑکی نے ٹھیک کہا تھا کہ مجھے روشنی میں دیکھو گے تو سب کچھ بھول جائو گے۔
مہدی الحسن نے حکیم کا نام لے کر کہا… ''اس کے گھر پر فورا ً چھاپہ ماریں''۔
''مہدی!''… علی بن سفیان نے حیرت زدہ ہوکر پوچھا… ''کس کی بات کررہے ہو؟''
کیا ایمان فروشی کوئی نئی خبر ہے؟''… مہدی الحسن نے کہا اور لڑکی سے پوچھا… ''حکیم تمہارا ساتھی ہے نا؟ یہاں ''
جھوٹ بولو گی تو انجام بڑا ہی بھیانک ہوگا''۔
لڑکی نے سرجھکا لیا۔ علی بن سفیان نے اس کے بھیگے ہوئے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا… ''یہاں تمہارے ساتھ وہ سلوک نہیں
ہوگا جو تم سوچ رہی ہو۔ تمہارے حسن اور جوانی کے لیے ہم پتھر ہیں اور جب ہم بے بس عورت کی عزت کرنے پر آتے
''ہیں تو ہم ریشم کی طرح مالئم اور نرم ہیں… حکیم تمہارا ساتھی ہے؟
لڑکی نے اثبات میں سرہالیا۔
مہدی الحسن نے نہایت مختصر طور پر سنایا کہ وہ کیا دیکھ کر آیا ہے اور حکیم نے اسے بدروح کا کس طرح جھانسہ دیا تھا۔
علی بن سفیان نے مالزم اور اپنے محافظوں کو بالیا اور انہیں مختلف کمان داروں کی طرف پیغامات دے کر دوڑا دیا۔ کوتوال
غیاث بلبیس کو بھی بلوا لیا۔ اس نے اس قسم کے ہنگامی حاالت کے لیے زیادہ نفری کا ایک دستہ تیار کررکھا تھا جو چند
منٹوں میں کارروائی کے لیے تیار ہوجاتا تھا۔ مہدی الحسن کی رپورٹ پر یہ دستہ فورا ً تیار ہوگیا۔ علی بن سفیان نے غیاث
بلبیس کے سپرد یہ کام کیا کہ حکیم کے گھر چھاپہ مارے اور اسے گرفتار کرکے اس کے مکان اور دوائی خانے کو سربمہر
کردے۔ اس نے خود سواروں کو ساتھ لیا۔ ایک گھوڑے پر مہدی الحسن کو دوسرے پر لڑکی کو بٹھایا اور واردات والے عالقے کو
روانہ ہوگیا۔
وہ جگہ بہت دور نہیں تھی۔ لڑکی کے گروہ کے آدمی اس وقت تک تالش سے مایوس ہوچکے تھے۔ انہوں نے تھک ہار کر
فیصلہ کیا کہ وہاں سے نکل بھاگیں۔ انہیں خدشہ یہ تھا کہ لڑکی اگر قاہرہ پہنچ گئی تو وہ نشاندہی کردے گی۔ گروہ میں
اختالف پیدا ہوگیا۔ کچھ آدمی کہتے تھے کہ مہدی الحسن کا اونٹ یہیں ہے۔ وہ اگر نکل گیا ہے تو اتنی جلدی قاہرہ نہیں
پہنچ سکے گا۔ اسی کشمکش میں انہوں نے وہاں سے بھاگنے میں وقت ضائع کردیا۔ آخر وہ اپنا سامان سمیٹ کر غارنما
کمرے سے نکلے مگر انہیں گھوڑوں کے قدموں کے دھماکے سنائی دینے لگے۔ باہر نکلنے کا راستہ بند ہوچکا تھا۔
علی بن سفیان کے سواروں نے مشعلیں جال لیں اور وادیوں میں پھیل گئے۔ لڑکی کو ساتھ رکھا گیا تھا۔ اس نے بتایا کہ اس
کا گروہ کہاں رہتا ہے۔ وہاں گئے تو غار کے اندر سے چار پانچ آدمی پکڑے گئے۔ اندر مختلف قسم کے سامان کے انبار تھے
جن میں آتش گیر مادہ ،تیروکمان اور خنجر تھے اور ایک مضبوط بکس میں سونے اور چاندی کے وہ سکے تھے جو مصر میں
رائج تھے۔ ان آدمیوں میں صرف ایک صلیبی تھا ،باقی قاہرہ کے مسلمان تھے۔ ان کی نشاندہی پر گروہ کے دوسرے افراد کی
تالش شروع ہوئی۔ ساری رات اور اگال پورا دن تالش جاری رہی جس کے نتیجے میں باقی افراد بھی پکڑے گئے جن میں دو
ایسی ہی لڑکیاں تھیں جیسی مہدی الحسن نے پکڑی تھی۔
٭ ٭ ٭
ادھر قاہرہ میں حکیم کے گھر کو گھیرے میں لے کر اس کے دروازے پر دستک دی گئی تو دروازہ ایک مالزم نے کھوال۔
غیاث بلبیس اپنے چند ایک آدمیوں کے ساتھ اندر چال گیا۔ اس کے آدمی کمروں میں گھس گئے۔ ان کے ہاتھوں میں مشعلیں
تھیں۔ حکیم کے سونے کا کمرہ اندر سے بند تھا۔ دروازہ ایک نیم برہنہ لڑکی نے کھوال۔ حکیم پلنگ پر نیم برہنہ پڑاتھا۔ پلنگ
کے قریب صراحی اور پیالے رکھے تھے۔ حکیم نشے کی حالت میں بے ہوش پڑا تھا۔ اس کے مریض اور معتقد تصور بھی نہیں
کرسکتے تھے کہ حکیم اس حالت تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ لڑکی اس کی بیوی نہیں تھی اور وہ مسلمان بھی نہیں تھی۔ یہ
صلیبیوں کا بھیجا ہواتحفہ تھا اور اس کے گھر سے جو دولت برآمد ہوئی ،وہ یقینا حکمت کی آمدنی نہیں تھی۔
حکیم اس وقت ہوش میں آیا جب وہ قید خانے کے تہہ خانے میں بندھا ہوا تھا۔ غیاث بلبیس کو اطالع دی گئی کہ حکیم
بیدار ہوگیا ہے۔ وہ حکیم کے پاس گیا اور اسے کہا کہ وہ اب کچھ بھی چھپانے کی کوشش نہ کرے۔ ذرا سی پس وپیش کے
بعد اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔ اس نے دو نائب ساالروں کے نام لے کر بتایا کہ وہ مصر میں سلطان ایوبی کا تخت
الٹنا چاہتے تھے۔ یہ گروہ صلیبیوں نے تیار کیا تھا۔ حکیم کو یہ لڑکی تحفے کے طور پر اور بے انداز رقم دے کر اس گروہ
میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کی شرط بھی مان لی گئی تھی کہ نئی حکومت میں اسے وزارت کے درجے کا عہدہ دیا جائے
گا۔ حکیم چونکہ بڑے بڑے افسروں میں بھی مقبول تھا اور وہ قابل حکیم بھی تھا ،اس لیے اس کی ہر بات برحق مانی جاتی
تھی۔ اس مقبولیت اور اثرورسوخ سے یہ فائدہ اٹھاتارہتا کہ سلطان ایوبی کے خالف نفرت پھیالتا رہا۔
قاہرہ میں جو تخریب کاری کے واقعات ہوئے تھے ،ان میں حکیم ذمہ داری سے ملوث تھا۔ اس نے اپنی حیثیت اور مقبولیت
سے یہ فائدہ بھی اٹھایا کہ علی بن سفیان کے بعض جاسوسوں کو پہچان لیا تھا۔ ان میں مہدی الحسن بھی تھا جو اس
پہاڑی عالقے میں جانے لگا جس میں تخریب کاروں کا اڈا تھا۔ پہلے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسے قتل کردیا جائے۔ حکیم نے
اسے دیکھ لیا۔ اتفاق سے حکیم نے مہدی الحسن کے متعلق بھی معلوم کررکھاتھا کہ قابل اور جرٔات مندجاسوس ہے۔ حکیم نے
فیصلہ کیا کہ اتنے تجربہ کار آدمی کو قتل کرنے کے بجائے ایسے طریقے سے اپنے جال میں پھانسا جائے کہ وہ اس گروہ کے
لیے کام کرے۔ گروہ کے پاس ایسے طریقے موجود تھے۔ وہ چند ایک مصری جاسوسوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر استعمال کررہے
تھے۔علی بن سفیان کا شعبہ انہیں اپنے دیانت دار جاسوس سمجھتا تھا۔
حکیم نے مہدی الحسن کو پھانسنے کا یہ طریقہ اختیار کیا جو سنایا جاچکا ہے۔ اسے پورا یقین تھا کہ مہدی الحسن اتنی
حسین ''بدروح'' کے جھانسے میں آجائے گا۔ آگے حشیشین اور صلیبی ماہرین کے ذہن کو اپنے قبضے میں لے لیں گے۔ یہ
کوئی مشکل کام نہیں تھا اور جو طریقہ اختیار کیا گیا تھا۔ وہ کوئی عجوبہ نہیں تھا۔ یہ ایک عام طریقہ تھا۔ یہ طریقہ اور یہ
شعبدہ بازی صرف ان پر کامیاب نہیں ہوتی تھی جن کا ایمان مضبوط ہوتا تھا۔ مہدی الحسن انہی ایمان والوں میں سے نکال۔
جو دو کمان دار پراسرار طورپر مرگئے تھے ،ان کے متعلق حکیم نے بتایا کہ انہیں قتل کیا گیا تھا۔ دونوں کو حکیم نے وہ زہر
دیا تھا جس سے ذرہ بھر تلخی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ انسان اپنے اندرکوئی تکلیف یا تبدیلی محسوس نہیں کرتا تھا اور بارہ
گھنٹوں بعد اچانک مرجاتا تھا۔ ان دونوں کو قتل کرنیکی ضرورت یہ پیش آئی تھی کہ سلطان ایوبی اور اس کی حکومت کے
وفادار تھے۔ دین دار مسلمان تھے۔ انہیں خریدنے کی کوشش کی گئی تھی مگر وہ ایمان بیچنے کے بجائے ایمان خریدنے والوں
کے لیے خطرہ بن گئے تھے۔ حکیم پہلے ان میں سے ایک کو اس طرح مال جیسے اتفاقیہ آمنا سامنا ہوگیا ہو۔ باتوں باتوں
میں حکیم نے اسے کسی بیماری کے وہم میں مبتال کیا اور دوائی خانے میں بال کر اسے دوائی کے بہانے زہر دے دیا ،جو
حشیشین کی ایجاد تھا۔ چند دنوں بعد دوسرے کمان دار کے ساتھ بھی حکیم نے ایسی ہی ''اتفاقیہ'' مالقات کی اور اسے
بھی کسی خفیہ بیماری کے وہم میں ڈال کر زہر دے دیا۔
حکیم نے یہ انکشافات از خود ہی نہیں کردئیے تھے۔ اس کی زبان تہہ خانے کی اذیتوں نے کھلوائی تھی۔ اس نے بتایا کہ :
فوج میں ایک طرف تو بے اطمینانی پھیالئی جارہی ہے اور دوسری طرف اس میں نشے اور جنسی لذت پرستی کی عادت پیدا
کی جارہی ہے۔ فوجی افسروں کو حکومت کے خالف کیا جارہا ہے اور جو مضبوط جذبے والے ہیں ،انہیں پراسرار طریقے سے
قتل کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیاہے۔ سوڈان کی فوج عنقریب مصر کی سرحدوں پر مصر کی سرحدی چوکیوں پر حملوں کا
سلسلہ شروع کرنے والی ہے۔ اس سلسلے کی نگرانی اور قیادت صلیبی کریں گے۔ سرحدی دیہات کے لوگوں کو سوڈانی اپنے
زیراثر لیں گے۔
علی بن سفیان اور غیاث بلبیس نے مصر کے قائم مقام امیر العادل کو ان گرفتاریوں ،تفتیش اور انکشافات سے باخبر رکھا لیکن
اور کسی کو اس راز میں شریک نہیں کیا گیا۔ حکیم اور اس کے دوسرے ساتھیوں نے جن نائب ساالروں اور دیگر عہدوں کے
افرادکے نام بتائے تھے۔ انہیں گرفتار کرنا ضروری تھا لیکن العادل (سلطان ایوبی کا بھائی) گھبرا گیا۔ اس نے اس راز کو راز
ہی رکھنے کا حکم دیا اور کہا کہ یہ صورت اتنی نازک ہے کہ اسے سلطان ایوبی خود ہی آکر سنبھالے تو بہتر ہے۔ معاملہ بڑا
ہی نازک تھا۔ اس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ سلطان ایوبی کے پاس خود جائے اور اسے مصر آنے کو کہے یااس سے ہدایات لے
لے۔
العادل کی روانگی خفیہ رکھی گئی۔ تمام مشتبہ نائب ساالروں وغیرہ کے ساتھ ایک ایک جاسوس سائے کی طرح لگا دیا گیا۔
٭ ٭ ٭
میں کوئی نئی خبر نہیں سن رہا''۔ شام میں حلب کے قریب اپنے ہیڈکوارٹر میں العادل سے ساری بات سن کر سلطان ''
ایوبی نے کہا… ''میں کہہ نہیں سکتا کہ قوم میں ایمان فروشی کا جو مرض پیدا ہوگیاہے ،اس کا یہ عالج ہوگا۔ میری نظریں
بیت المقدس پر نہیں یورپ پر لگی ہوئی ہیں مگر میرے ایمان فروش بھائی مجھے مصر سے نہیں نکلنے دے رہے… تم یہ
محاذ سنبھالو ،میں دمشق جاتا ہوں ،وہاں سے مصر چال جائوں گا''۔
سلطان ایوبی نے العادل کو محاذ کی تمام تر صورت حال بتائی ،ہدایات دیں اور کہا کہ اپنے جاسوس اتنی دور تک گئے ہوئے
ہیں کہ صلیبیوں نے اگر حملہ کیا تو تمہیں کم از کم دو تین روز پہلے اطالع مل جائے گی۔ چھاپہ مار جیش ہر وقت تیاری
کی حالت میں رہتے ہیں۔ میں نے انہیں حملے کے ممکنہ راستوں کے اردگرد چھپا رکھا ہے۔ تازہ اطالعات یہ ہیں کہ صلیبی
حملہ نہیں کریں گے۔ اگر میری غیرحاضری سے وہ فائدہ اٹھانے کی سوچ لیں تو گھبرانا نہیں۔ قلعہ بند ہوکر نہ لڑنا۔ دشمن
کو آگے آنے دینا۔ پہال وار دشمن کو کرنے دینا۔ بے شک پیچھے ہٹ جانا ،زمین موزوں ہے۔ بلندیوں پر قبضہ رکھنا۔
اور خاص طور پر یاد رکھو''… سلطان ایوبی نے کہا… ''الملک الصالح ،سیف الدین اور جن امراء نے ہماری اطاعت قبول ''
کی ہے ،صلیبیوں کے حملے کی صورت میں ان پر اعتبار نہ کرنا۔ ان کے ذہنوں سے بادشاہی کی خواہش نکلی نہیں۔ معاہدے
کے مطابق وہ کوئی فوج نہیں رکھ سکتے۔ میں نے ان کے اندر تک جاسوس بھیج دئیے ہیں اور میں نے زندگی میں پہلی بار
اپنے اصول کے خالف یہ انتظام کردیا کہ ہمارے یہ مسلمان بھائی ذراسی بھی مخالفانہ حرکت کریں تو انہیں قتل کردیا
جائے''۔
قاضی بہائوالدین شداد نے اپنی یادداشتوں میں ربیع االمول ٥٧٢ہجری (ستمبر ١١٧٦ئ) کا مہینہ لکھا ہے جب سلطان ایوبی
العادل کو محاذ پر چھوڑ کر دمشق گیا۔ اس کا ایک اور بھائی شمس الدولہ طوران شاہ یمن سے واپس آچکا تھا۔ یمن میں
شمس الدولہ کو بھیجا تھا جو کامیاب لوٹا تھا۔ سلطان ایوبی نے اسے دمشق کا گورنر مقرر کیا اور اکتوبر ١١٧٦ء میں مصر کو
روانہ ہوگیا۔
قاہرہ پہنچتے ہی اس نے تمام مشتبہ افراد کو کسی کے عہدے کا لحاظ کیے بغیر گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ ان کی گرفتاری کے
اگلے روز اس نے وہ تمام سونا اور خزانہ پریڈ کے میدان میں رکھوایا جو غار سے برآمد ہوا تھا۔ اس وقت تک جتنی صلیبی
لڑکیاں پکڑی جا چکی تھی اور اب جو پکڑی گئیں تھیں ،انہیں خزانے کے انبار کے قریب کھڑا کیا گیا۔ ان میں حکیم بھی تھا،
نائب ساالر بھی تھے اور کمان دار بھی۔ سب زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے۔ مصر میں جتنی فوج تھی ،اسے ان کے قریب
سے گزار کر میدان میں کھڑا کیا گیا۔
سلطان ایوبی گھوڑے پر سوار آیا اور فوج کے سامنے رکا۔
مجھے بتایا گیا ہے کہ تمہیں حکومت کے خالف اکسایا جارہا ہے''۔ سلطان ایوبی نے بلند اور گرج دار آواز میں کہا… ''
''اگر تم میں سے کوئی مجھے یقین دال دے کہ اسالم کی عظمت اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کی
خاطر تمہیں میرے خالف اور میری حکومت کے خالف بھڑکا رہا ہے اور وہ قبلہ اول کو کفار سے آزاد کرانے کا عزم رکھتا ہے
اور وہ سپین پر حملہ کرکے اس ملک کو ایک بار پھر سلطنت اسالمیہ کا عزم کیے ہوئے ہے تو وہ سامنے آئے ،میری تلوار
لے لے اور میرے گھوڑے پر سوار ہوجائے۔ میں اس کے حق میں سلطانی سے دستبردار ہوتا ہوں''۔
ہر طرف سناٹا طاری ہوگیا۔
سلطان ایوبی پیچھے کو مڑا اور ملزموں سے کہا… ''میری جگہ لینے واال تم میں ہے۔ وہ کون ہے؟ آگے آئے۔ رب کعبہ کی
قسم! میں سچے دل سے اپنی حکومت اس کے حوالے کردوں گا اور خود اس کے حکم کا پابند رہوں گا''۔
خاموشی۔ گہرا سکوت۔
اللہ کے شیرو!'' سلطان ایوبی فوج سے مخاطب ہوا۔ ''تمہیں بغاوت پر نہ اسالم کی عظمت کے لیے اکسایا جارہا ،نہ ''
رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام مقدس کی خاطر۔ تمہیں جو خزانہ دکھایا گیا ہے اور جو لڑکیاں تمہارے سامنے کھڑی
ہیں ،یہ وہ انعام ہیں جو ان لوگوں کو دیا گیا ہے۔ یہ ان کے ایمان کی قیمت ہے۔ میں ان سب سے کہتاہوں کہ آگے آئیں
اور کہیں کہ میں نے جو کہا ہے ،یہ جھوٹ ہے''۔
کوئی آگے نہ آیا۔ سلطان ایوبی گھوڑے سے اترا اور ملزموں سے حکیم کو بازو سے پکڑا۔ اسے اپنے گھوڑے کے قریب لے جاکر
کہا… ''میرے گھوڑے پر سوار ہوجائو اور کہو کہ ایوبی جھوٹ بول رہاہے''۔
حکیم گھوڑے پر سوار ہوگیامگر اس نے سر جھکا لیا۔
کہو سلطان جھوٹ بول رہا ہے''۔ سلطان ایوبی نے غضب ناک آواز میں کہا۔''
حکیم نے سراٹھایا اور بلند آواز سے کہا… ''سلطان ایوبی نے جو کہا ہے سچ کہا ہے''۔ اور وہ گھوڑے سے کود آیا۔
واقعہ نگار لکھتے ہیں کہ سلطان ایوبی کو پہلی بار غصے میں دیکھا گیا۔ حکیم گھوڑے سے اتر کر سرجھکائے کھڑا تھا۔ سلطان
ایوبی نے تلوار نکالی اور ایک ہی وار میں حکیم کا سرتن سے جدا کردیا۔ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور بڑی ہی بلند آواز
سے چالیا… ''اللہ کے سپاہیو! عظمت اسالم کے پاسبانو! اگر میں نے بے انصافی کی ہے تو یہ لو ،میری تلوار سے میری
گردن اڑا دو''… اس نے اپنی تلوار برچھی کی طرح فوج کی طرف پھینکی۔ تلوار کی نوک زمین میں گڑ گئی اور تلوار
جھولنے لگی۔
اسی روز سلطان ایوبی نے سوڈان کو اپنا ایلچی اس تحریری پیغام کے ساتھ روانہ کردیا کہ اگر سوڈان کی فوج نے مصر کی
سرحد پر ذرا سی بھی بدامنی پیدا کی تو اسے مصر پر حملہ تصور کیا جائے گا اور اس کے جواب میں ہم سوڈان پر حملہ
کرنے میں حق بجانب اور آزاد ہوں گے اور ہم سوڈان پر اسالمی پرچم لہرا کر دم لیں گے۔
20:48
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔ 114ایک منزل کے مسافر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
خون جو سلطان صالح الدین ایوبی کی تلوار سے ٹپک رہا تھا ،وہ صاف کیے بغیر اس نے تلوار نیام میں ڈال لی۔ یہ خون
اس غدار حکیم کا تھا جو صلیبیوں کا جاسوس اور تخریب کار بنا ہوا تھا۔
فوری طور پر جنہیں غداری اور دشمن کے ساتھ سازباز کرنے کے جرم میں گرفتار کیاگیا تھا ،وہ قید خانے کی طرف لے جائے
اعلی حکام کے اجالس میں بے چینی سے
جارہے تھے۔ سلطان ایوبی اپنے ساالروں ،نائب ساالروں ،فوج اور شہری انتظامیہ کے
ٰ
ادھر ادھر ٹہل رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔ وہ بہت کچھ کہہ چکا تھا اور بہت کچھ کہتے کہتے رک گیا۔
اجالس کے حاضرین اس کی جذباتی کیفیت کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ وہ سلطان ایوبی سے نظریں مالنے سے بھی ڈرتے
تھے۔
سلطان عالی مقام!'' ایک ساالر نے کہا… ''ہم صلیبیوں کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔''
سلطان ایوبی نے بڑی تیزی سے نیام سے تلوار نکالی۔ تلوار خون آلود تھی۔ اس نے تلوار حاضرین کے آگے کرکے کہا… ''یہ
خون کس کا ہے؟… یہ تم سب کا خون ہے۔ یہ میرا خون ہے۔ یہ ہمارے اس بھائی کا خون ہے جو ہمارے ساتھ مسجد میں
جمعہ کی نماز پڑھا کرتا تھا۔ اس کے گھر میں قرآن بھی ہے۔ اگر یہ خون غدار ہوسکتا ہے تو صلیبیوں کی ہر سازش کامیاب
ہوگی… صلیبیوں کی یہ سازش کامیاب ہوچکی ہے۔ وہ اسالم کی ان افواج کو جنہیں متحد ہوکر فلسطین کو صلیبی استبداد سے
آزاد کرانا تھا ،آپس میں لڑا کر ہمیں اتنا کمزور کرچکے ہیں کہ ایک لمبے عرصے تک فلسطین کی طرف کوچ کرنے سے معذور
ہوگئے ہیں۔ ہماری منزل بیت المقدس تھی۔ ہمیں آج قاہرہ میں نہیں یروشلم میں ہونا چاہیے تھا مگر اسالم کی جنگی طاقت
تباہ ہوگئی ہے''۔
سلطان ایوبی نے تلوار اپنے دربان کی طرف پھینکی ،پھر نیام بھی اتار کر اسے دی اور کہا… ''اگر یہ خون کسی کافر کا ہوتا
تو میں نیام صاف نہ کراتا۔ یہ ایک غدار کا خون ہے۔ نیام میں اس کی بو بھی نہ رہے''… دربان تلوار اور نیام صاف کرنے
کے لیے باہر گیا۔ سلطان ایوبی نے اجالس کے حاضرین سے کہا… ''صلیبیوں کی سازش کامیاب ہوچکی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ
میں حلب سے آگے نہ جاسکوں۔ دیکھ لو ،میں آگے جانے کے بجائے قاہرہ میں آگیا ہوں۔ اپنے آپ کو دھوکے میں نہ رکھو۔
اب صلیبی آگے بڑھیں گے۔ ہم جب آپس میں لڑ رہے تھے ،وہ ہمیں فیصلہ کن شکست دینے کی تیاریاں کررہے تھے''۔
ہم نے مسلمانوں کو لڑا کر صالح الدین ایوبی کا رخ پھیر دیا ہے''۔ یہ تریپولی (لبنان) کا صلیبی حکمران ریمانڈ کہہ رہا ''
تھا۔ صلیبی جاسوسوں نے وہاں خبر پہنچا دی تھی کہ سلطان ایوبی حلب سے مصر چال گیا ہے اور اس کی جگہ اس کا
بھائی العادل محاذ پر آیا ہے۔ یہ خبر یروشلم تک پہنچ گئی تھی۔ یہ خبر عکرہ تک بھی پہنچ گئی تھی جہاں صلیب اعظم
تھی اور جہاں بڑا پادری بھی تھا جسے صلیب اعظم کا محافظ کہتے تھے۔ وہ فورا ً تریپولی جمع ہوگئے تھے۔ ان کے ہاں بھی
ایسی ہی کانفرنس ہورہی تھی جیسی سلطان ایوبی نے بال رکھی تھی۔
ایوبی یروشلم کو فتح کرنے نکال تھا''۔ ریمانڈ کہہ رہا تھا… ''ہم نے ایک بھی تیر چالئے بغیر اسے مصر کی طرف پسپا ''
کردیا ہے۔ اس کے ہاتھوں ان مسلمان امراء اور حکمرانوں کو بے کار کردیا ہے جو کسی بھی وقت ہمارے خالف ایوبی کی
قوت بن سکتے تھے۔ ہم اس سے بڑی اور کیا کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ اب ہمیں وقت ضائع نہیں کرناچاہیے''۔
یہ کامیابی اتنی بڑی نہیں ہے جتنی آپ نے کہاہے''… ایک صلیبی حکمران بالڈون نے کہا… ''ہم نے حملے کے لیے زمین''
ہموار کی ہے۔ اصل کام تو حملہ ہے۔ اس کی کامیابی کو ہم بہت بڑی کامیابی کہیں گے۔ فوجیں فورا ً جمع کرو اور پیش قدمی
کرو اور سلطان ایوبی کو سنبھلنے کا موقعہ نہ دو''۔
اگر ہم نے اپنے آپ کو بہت جلدی نہ سنبھاال تو میں بتا نہیں سکتا کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے''۔ سلطان ایوبی نے ''
اپنے ساالروں اور دیگر حکام سے کہا… ''آج ہی سے نئی بھرتی شروع کردو۔ سوار زیادہ ہونے چاہئیں۔ سوڈان کے ان جوانوں
کو بھی بھرتی کرو جنہیں سات سال ہوئے بغاوت کے جرم میں فوج سے نکال کر قابل کاشت زمینوں پر آباد کیا گیا تھا۔
انہوں نے مصر میں اتنی خوشحالی دیکھی ہے کہ اب دھوکہ نہیں دیں گے۔ ایسے جوان جو گھوڑ سواری اور تیغ زنی کی
سوجھ بوجھ رکھتے ہوں ،انہیں جنگی تربیت دو۔ میں بہت جلدی مصر سے نکل جانا چاہتا ہوں۔ اگر صلیبیوں کا دماغ خراب
ہوگیا ہو تو دنیائے عرب ان کی دستبرد سے بچ جائے گی اور اگر ان کا دماغ ٹھکانے ہے تو انہیں میری غیرحاضری سے فائدہ
اٹھاتے ہوئے فورا ً حملہ کردینا چاہیے۔ وہ اناڑی نہیں۔ میرے لیے یہ حاالت انہوں نے کسی مقصد کے تحت پیدا کیے تھے جن
سے مجبور ہوکر میں مصر آگیاہوں۔ وہ ہم سے بیت المقدس کو صرف اسی صورت میں بچا سکتے ہیں کہ مقبوضہ عالقوں
سے نکل کر ہمارے عالقوں میں آکر لڑیں۔ اس جنگ کے لیے مجھے بہت سی فوج کی ضرورت ہے''۔
میں اس وقت دوسو پچاس نائٹ ( زرہ پوش سردار) میدان میں السکتا ہوں''۔ تریپولی کی کانفرنس میں ایک مشہور صلیبی''
حکمران رینالٹ آف حومین نے کہا… ''اس حملے کی قیادت میری فوج کرے گی۔ میں نے اس کا پالن بھی تیار کرلیا ہے۔
اس کی بنیاد یہ ہے کہ ہم صالح الدین ایوبی کی طرح چوروں والی جنگ نہیں لڑیں گے۔ ہم طوفان اور سیالب کی مانند پیش
قدمی کریں گے۔ ہم سب اپنی فوجوں کو اکٹھا کرکے کوچ کریں گے تو آپ خود محسوس کریں گے کہ انسانوں اور گھوڑوں کا
یہ طوفان دنیائے عرب کو خس وخاشاک کی طرح اڑاتا مصر کو بھی روند جائے گا اور اس کا زور سوڈان میں جاکر تھمے
گا''۔
اگر صلیبی متحد ہوکر آئیں تو عرب کی سرزمین ہم سب سے اتنا خون مانگے گی جس میں ریگزار کے ذرے تیریں گے''۔''
سلطان ایوبی قاہرہ میں کہہ رہا تھا… ''اب کے ہم سروں سے کفن باندھ کر جائیں گے۔ میرے رفیقو! میری ایک حس مجھے
بتا رہی ہے کہ ہمیں پوری تیاری سے اور پوری طرح سنبھل کر میدان میں اترنا پڑے گا''۔
ایوبی کو مصر میں الجھائے رکھنے کے لیے ہمیں تخریب کاری تیز کرنی ہوگی''۔ ریمانڈ نے کہا اور صلیبیوں کی انٹیلی ''
جنس کے استاد ہرمن سے کہا… ''ہرمن! مصر پر اپنی گرفت اور سخت کردو۔ مجھے توقع یہ ہے کہ ایوبی چین سے بیٹھنے
واال آدمی نہیں۔ اس کی فوج کا جانی نقصان بہت ہوچکا ہے۔ وہ فوری طور پر نئی بھرتی کرے گا… کوشش کرو کہ اسے بھرتی
نہ ملے۔ اگر اس میں کامیابی نہ ہو تو مصر کی فوج کے ذخیرے تباہ کراتے رہو۔ وہاں کی فوج پر نظر رکھو اور وہاں کے
جاسوسوں سے کہو کہ صالح الدین ایوبی کی ایک ایک حرکت کی اطالع فورا ً پہنچاتے رہیں''۔
اور ہرمن!'' ایک صلیبی کمانڈر نے کہا… ''مصر کی خبر ملے نہ ملے ،زیادہ ضروری یہ ہے کہ یہاں کی خبر باہر نہ ''
جانے پائے۔ ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ایوبی جس طرح میدان جنگ میں ہمارے لیے مصیبت بن جاتا ہے ،وہ جاسوسی کے
میدان میں بھی ہم سے ہوشیار ہے۔ ہمارے درمیان اس کے جاسوس موجود ہیں۔ یہاں کی مسلمان آبادی پر گہری نظر رکھو۔
کسی پر ذرا سا شک ہو ،اسے قید کردو ،قتل کردو ،تمہیں پورے اختیارات دئیے جاتے ہیں''۔
میں کسی کے دل میں نہیں اتر سکتا''۔ سلطان ایوبی کہہ رہا تھا۔ ''ایمان فروشوں کے سروں پر سینگ نہیں ہوتے۔ میں''
علی بن سفیان اور غیاث بلبیس کو اجازت دیتا ہوں کہ جس پر شک ہو کہ وہ صلیبیوں کا جاسوس ہے ،اسے قتل کردو۔ اگر
اس پر رحم کرنا چاہو تو اسے قید میں ڈال دو۔ میں ان حاالت میں جب صلیبی متحد ہوکر آتے نظر آرہے ہیں ،کسی کو بخش
نہیں سکتا۔ میں اب تحقیقات اور عدل انصاف کے طور طریقے بھی بدل دینا چاہتا ہوں… ''اوہ علی بن سفیان!'' اس نے
اپنی انٹیلی جنس کے سربراہ سے کہا… ''مجھے یقین ہے کہ تم نے مقبوضہ عالقوں میں اپنا جال بچھا رکھا ہے۔ صلیبیوں
کے ہاں اپنے کچھ اور آدمی بھیج دو اور وہاں کے جاسوسوں سے کہو کہ کوئی خبر اور اطالع زیادہ دیر تک اپنے پاس نہ
رکھیں۔ خطرہ مول لیں اور تیر کی رفتار سے قاہرہ خبریں پہنچائیں۔ مجھے اندھا نہ کردینا علی بن سفیان! اور کوشش کرو کہ
یہاں سے کوئی خبر باہر نہ جاسکے''۔
اگر ہماری افواج کی کمان مشترکہ ہو تو ہم زیادہ بہتر اور مؤثر طریقے سے لڑ سکیں گے''… ریمانڈ نے کہا۔''
میں اتحاد پر زور دوں گا ،مشترکہ کمان پر نہیں''۔ رینالٹ نے کہا… ''مشترکہ کمان کے کچھ نقصانات بھی ہوتے ہیں۔ ''
میدان جنگ میں ہمیں ایک دوسرے سے باخبر رہنا چاہیے اور ایک دوسرے کے راستے میں نہیں آنا چاہیے۔ ہم پیش قدمی کے
لیے عالقے تقسیم کرلیں گے۔ احتیاط صرف یہ کی جائے کہ ہماری نقل وحرکت راز میں رہے''۔
٭ ٭ ٭
دونوں طرف جنگی تیاریوں کا ہنگامہ تھا۔ صلیبی اب کے سلطان ایوبی کو فیصلہ کن شکست دینے کا عزم کیے ہوئے تھے۔
سلطان ایوبی زخم خوردہ تھا۔ آپ تفصیل سے پڑھ چکے ہیں کہ صلیبیوں کی شہ پر تین مسلمان امراء سلطان ایوبی کے خالف
افواج کو فیصلہ کن شکست دے کر ان سے ہتھیار ڈلوائے اور انہوں نے سلطان ایوبی کی اطاعت قبول کرلی تھی مگر اس فتح
کو سلطان ایوبی امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بدترین شکست کہتا تھا کیونکہ صلیبیوں کی سازش کامیاب
ہوگئی تھی۔ اس خانہ جنگی میں اللہ کے وہ ہزار ہا سپاہی مارے گئے یا عمر بھر کے لیے اپاہج ہوگئے جنہیں فلسطین کو
صلیب سے پاک کرنا تھا۔
اس دوران صلیبیوں نے فوج میں اضافہ کرلیا تھا ،فوج کو آرام بھی دے لیا تھا اور جنگی تیاریاں مکمل کرلی تھیں۔ ان کا یہ
دعوی بے بنیاد نہیں تھا کہ وہ طوفان کی طرح آئیں گے اور دنیائے عرب کو خس وخاشاک کی طرح اڑا لے جائیں گے۔ ان
ٰ
کے مقابلے میں سلطان ایوبی کی فوج کے تجربہ کار سپاہی اور کمان دار شہید ہوچکے تھے اور وہ نئی بھرتی کی ضرورت
محسوس کررہا تھا۔ رنگروٹوں کو لڑانا بہت بڑا خطرہ تھا مگر اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اسے مصر میں بھی فوج کی
زیادہ نفری رکھنی تھی کیونکہ سوڈان کی طرف سے خطرہ تھا۔ اس کے عالوہ ملک کے اندر تخریب کاری اور غداری بھی
زیادہ تھی۔
صلیبی طوفان کی طرح آنے کے پالن بنا رہے تھے اور سلطان ایوبی اپنے طریقہ جنگ سے ہٹنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے طے
کررکھا تھا کہ وہ شب خون مارنے اور ''ضرب لگائو اور بھاگو'' کے اصول پر لڑے گا۔ اب کے صلیبیوں نے ایسا پالن تیار
کرنے کی سوچی تھی جس میں سلطان ایوبی کا کمانڈو آپریشن کامیاب نہ ہوسکے۔ وہ اس کی فوج کو گھیرے میں لے کر
آمنے سامنے کی جنگ لڑانے کی ترکیبیں سوچ رہے تھے۔ دونوں طرف یہ کوشش ہورہی تھی کہ اپنی اپنی جنگی تیاریوں،
منصوبوں اور نقل وحمل کو راز میں رکھیں اور ایک دوسرے کے راز معلوم کریں۔ اس مقصد کے لیے دونوں کے ہاں ایک دوسرے
کے جاسوس موجود تھے۔
صلیبی کمانڈروں وغیرہ کو یہ تو معلوم تھا کہ ان کے درمیان سلطان ایوبی کے جاسوس موجود ہیں لیکن ریمانڈ والئی تریپولی
اور دیگر صلیبی حکمرانوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کی کانفرنس میں دو مسلمان جاسوس موجود ہیں۔ پہلے بھی ان کا ذکر
اعلی قسم کے مالزم تھے جو صلیبی
آچکا ہے۔ ایک مسلمان راشد چنگیز تھا اور دوسرا فرانسیسی عیسائی وکٹر تھا۔ یہ
ٰ
اعلی کمانڈروں کی دعوتوں وغیرہ میں شراب اور کھانے وغیرہ کی سروس کی نگرانی کرتے تھے۔ راشد چنگیز نے
بادشاہوں اور
ٰ
اپنا نام عیسائیوں جیسا ظاہر کررکھا تھا۔ ترک ہونے کی وجہ سے اس کا رنگ یورپی باشندوں جیساتھا۔وہ بہت ہوشیار اور چرب
زبان تھا۔ وکٹر کے متعلق تو کسی کو شبہ ہی نہیں تھا کہ وہ عیسائی ہے۔ وہ فرانس کا رہنے واال تھا لیکن اپنے آپ کو
اس نے یونانی عیسائی بتایا تھا۔
صلیبیوں کی اس کانفرنس میں بھی دونوں اپنی مخصوص وردی پہنے موجود تھے کیونکہ صلیبی شراب کے بغیر کوئی کام نہیں
کرتے تھے۔ یہ دونوں شراب پیش کررہے تھے اور ان کی باتیں غور سے سن رہے تھے۔ یہ باتیں بہت ہی قیمتی تھیں جو
انہیں قاہرہ پہنچانی تھیں مگر یہ ابھی مکمل نہیں تھیں۔ وہ صلیبیوں کا پورا پالن معلوم کرکے قاہرہ پہنچانے کا ارادہ کیے
ہوئے تھے۔ علی بن سفیان کو اپنے ان دونوں جاسوسوں پر مکمل اعتماد تھا ،حاالنکہ وکٹر عیسائی تھا۔ صلیبیوں کو یہی خطرہ
محسوس ہورہا تھا کہ صالح الدین ایوبی کو ان کے پالن اور نقل وحرکت کا علم ہوگیا تو وہ جگہ جگہ گھات لگا کر تھوڑی
تھوڑی نفری سے ان کے طوفانی لشکر کو تباہ کردے گا۔ چنانچہ وہاں سلطان کے جاسوسوں کو سراغ لگانے اور انہیں پکڑنے
کے بڑے ہی سخت احکام جاری کردئیے گئے۔ مصر میں بھرتی کی مہم شروع ہوگئی۔ دو تین فوجی دستے ترتیب دئیے گئے
جو ان عالقوں کے دوروں پر نکل گئے۔ جن سے بھرتی مل سکتی تھی۔ فوجی جاہ وجالل اور جنگی مظاہروں اور کھیل
تماشوں کا انتظام کیا گیا۔ مسجدوں کے اماموں کے لیے تیزرفتار قاصدوں کے ذریعے سلطان ایوبی کا یہ پیغام بھیجا گیا کہ وہ
لوگوں کو جہاد کی اہمیت بتائیں اور انہیں یہ بتائیں کہ کفار پوری طاقت کے ساتھ عالم اسالم پر حملہ آور ہورہے ہیں اور یہ
بھی کہ قبلہ اول کفار کے قبضے میں ہے۔ اس صورت میں ہر مسلمان پر جہاد فرض ہوگیا ہے۔ اماموں سے کہا گیا کہ وہ
جوانوں کو مصر کی فوج میں بھرتی ہونے کی تلقین کریں۔
مذہب اور قوم کے وقار کے جذبے سے جواں سال آدمی بھرتی ہونے لگے۔ ان کے ذہنوں میں مقصد واضح تھا مگر بہت سے
جوان مال غنیمت کے اللچ سے بھرتی ہوئے۔ یہ دیہاتی عالقوں کے لوگ تھے۔ ان کے کانوں تک اماموں کی آواز نہیں پہنچی
تھی۔ ان تک فوجی افسر پہنچے جنہوں نے سلطان ایوبی کے اس حکم کی تعمیل کی خاطر کمک بھرتی بہت جلدی کرو،
لوگوں کو جہاد کے وعظ سنانے کے بجائے یہ کہا کہ صلیبیوں کے شہر فتح کیے جائیں گے جہاں اتنی دولت ہے کہ وہ سمیٹ
نہیں سکیں گے۔ چنانچہ وہ دلوں میں جہاد کا جذبہ لے کر بھرتی ہونے کے بجائے مال غنیمت کا اللچ لے کر ہنسی خوشی
بھرتی ہوئے۔ ان اناڑی اور کم فہم فوجی افسروں نے سلطان ایوبی کی توقع کے خالف بے شمار جوانوں کو بھرتی کرلیا مگر
اسے یہ نہ بتایا کہ انہوں نے مقصد پورا نہیں کیا حکم کی تعمیل کی ہے۔ میدان جنگ میں جاکر یہ سپاہی سلطان ایوبی کے
لیے بڑا ہی تکلیف دہ مسئلہ بن گئے۔
ادھر تریپولی سے کچھ دور صلیبی فوج ایک میدان میں اکٹھی ہونے لگی۔ فلسطین کے دوسرے مقبوضہ شہروں میں ایلچی بھیج
دئیے گئے کہ وہ صلیبی فوج کو تیار کریں۔ تریپولی میں سب سے زیادہ سرگرمی حونین کے حکمران رینالٹ کی تھی۔ اس کی
فوج خاصی زیادہ تھی جس میں اڑھائی سو نائٹ تھے۔ نائٹ ایک اعزاز تھا جو غیرمعمولی طور پر ذہین ،دلیر اور قیادت کے
ماہر فوجی افسر کو دیا جاتا تھا۔ اسے خاص قسم کی زرہ بکتر دی جاتی ،سلسلے کی ایک کہانی ''اسالم کی پاسبانی کب
تک کرو گے''میں اس صلیبی بادشاہ کا نام اور واقعہ پڑھا ہوگا۔ ١١٧٤ء کے اوائل میں صلیبیوں نے سمندر سے سکندریہ پر
حملہ کیا تھا لیکن سلطان ایوبی کو اپنے جاسوسوں کے ذریعے حملے کی خبر قبل از وقت مل گئی ) اس نے حملے کے
استقبال کا ایسا بندوبست کررکھا تھا کہ صلیبیوں کا بحری بیڑہ بری طرح تباہ ہوا اور یہ بیڑہ فوج کو ساحل پر نہیں اتار سکا
تھا۔
اس حملے کی دوسری کڑی خشکی کے راستے حملہ کرنا تھا جس کی قیادت رینالٹ کررہا تھا چونکہ مسلمان جاسوس صلیبیوں
کا پورا پالن لے آئے تھے ،اس لیے خشکی پر نورالدین زنگی نے اپنی فوج کی گھات لگا رکھی تھی۔ عقب اور پہلوئوں سے
بھی حملوں کا انتظام کررکھا تھا۔ رینالٹ اس پھندے میں آگیا۔ اس نے بہت ہاتھ پائوں مارے گھات سے نکلنے کی کوشش کی
مگر ایک رات نورالدین زنگی کے چھاپہ ماروں نے رینالٹ کے ہیڈکوارٹر پر شب خون مارا اور رینالٹ کو پکڑ لیا۔ صلیبیوں کا
نہ صرف حملہ ناکام رہا بلکہ انہیں کمرتوڑ شکست ہوئی۔ جانی اور مالی نقصان کے عالوہ سب سے بڑا نقصان تو یہ تھا کہ
ان کا رینالٹ جیسا جنگجو بادشاہ قیدی ہوگیا تھا۔
نورالدین زنگی کے لیے یہ بڑا ہی قیمتی قیدی تھا۔ اس کی رہائی کے لیے وہ صلیبیوں سے بڑی ہی کڑی شرائط منوانا چاہتا
اعلی حکام اور ساالروں نے زنگی کے گیارہ سالہ بیٹے
تھا مگر زندگی نے وفا نہ کی۔ دو ماہ بعد زنگی فوت ہوگیا۔ اس کے
ٰ
الملک الصالح کو سلطنت کی گدی پر بٹھا دیا ،کیونکہ اسے وہ اپنا کٹھ پتلی بنا کر من مانی کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے
سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف محاذ قائم کرلیا اور اسے شکست دینے کے لیے صلیبیوں کے ساتھ دوستی کرلی۔ اس
دوستی کا انہوں نے پہال معاوضہ یہ دیا کہ رینالٹ جیسے قیمتی قیدی کو غیرمشروط طور پر رہاکردیاا ور اس کے ساتھ دوسرے
تمام قیدیوں کو بھی رہا کردیا۔ وہیں سے سلطان ایوبی کی مسلسل معرکہ آرائی اپنے پیراستاد اور عزیز دوست نورالدین زنگی
کے بیٹے سے شروع ہوگئی۔ دوسرے امراء خالفت سے آزاد ہوگئے اور سب نے سلطان ایوبی کے خالف متحدہ محاذ قائم کرلیا
تھا۔ اس کا اور جو نقصان ہوا سو ہوا ،ایک نقصان اب سامنے آیا کہ رینالٹ جسے ان غدار مسلمانوں نے خیرسگالی کے طور
پر یا صلیبیوں کی دوستی حاصل کرنے کے لیے رہا کردیا تھا وہ ایک جنگی قوت بن کر سلطان ایوبی کے خالف نہیں بلکہ
عالم اسالم کہ تہ تیغ کرنے کے لیے فیصلہ کن حملے کے لیے آرہا تھا۔
الملک الصالح نے رینالٹ کے ساتھ جو جنگی قیدی رہا کیے تھے ،وہ بھی اسالم کے لیے بہت بڑا خطرہ بن کر آرہے تھے۔
رینالٹ اپنی شکست اور ذلت کا انتقام بھی لینا چاہتا تھا۔ صلیبیوں کی اس کانفرنس میں اس نے اس تجویز کی مخالفت کی
کہ تمام صلیبی افواج مشترکہ کمان کے تحت ہوں۔ اس مخالفت کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ آزاد ہوکر اپنے عزائم
کے مطابق جنگ لڑنے کا ارادہ کیے ہوئے تھا۔ صلیبیوں میں یہ کمزوری تھی کہ وہ متحدہ نہیں ہوتے تھے۔ ایک دوسرے کی
مدد کرتے تھے لیکن ہر ایک کے دل میں یہ ہوتا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ عالقے فتح کرکے ان کا بادشاہ بن جائے۔ متعدد
مورخین نے لکھا ہے کہ صلیبیوں کو اس کمزوری نے دنیائے عرب میں نقصان پہنچایا اور وہ اتنی زیادہ اور اتنی برتر جنگی
طاقت کے باوجود نمایاں کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ مورخین لکھتے ہیں کہ سلطان ایوبی کی صفوں میں غدار نہ ہوتے تو وہ
صلیبیوں کو دنیائے عرب سے بے دخل کرکے یورپ کے لیے خطرہ بن جاتا۔
اگر آپ صالح الدین ایوبی کو شکست دینا چاہتے ہیں تو ہم سب اپنی اپنی فوج کو مشترکہ کمان کے سپرد کردیتے ''
ہیں''… ریمانڈ آف تریپولی نے کہا… ''ورنہ ہم بکھر کرناکام بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ حملے کی قیادت رینالٹ
کی فوج کرے ،یہ فیصلہ مشترکہ کمان کو کرنا چاہیے''۔
میں آپ سے الگ نہیں ہوں گا''… رینالٹ نے کہا… ''لیکن میں کسی مشترکہ کمان کا پابند نہیں رہوں گا۔ مجھے '' :
اپنی شکست کا انتقام لینا ہے۔ نورالدین زنگی تو مرچکا ہے ،میں صالح الدین ایوبی کو اسی طرح قید میں آپ سب کے
سامنے الئوں گا جس طرح زنگی مجھے قید کرکے دمشق لے گیا تھا ،ورنہ تاریخ ہمیشہ مجھ پر لعنت بھیجتی رہے گی۔ میں
آپ سب سے پوچھتا ہوں کہ جس وقت زنگی نے مجھ پر شب خون مار کر میرے دستوں کو بکھیر دیا اور ان سے ہتھیار ڈلوا
لیے تھے ،اس وقت آپ میں سے کس نے زنگی پر جوابی حملہ کیا تھا؟ کون میری مدد کو پہنچا تھا؟… کوئی نہیں۔ اب
مجھے پابند نہ کریں۔ میں نے اسی روز کے لیے فوج کو تیار کیا تھا۔ میرے انتقام کا دن آگیا ہے۔ میری فوج آپ کی کسی
بھی فوج کی راہ میں حائل نہیں ہوگی۔ جسے بھی میری مدد کی ضرورت ہوگی ،اسے خطرہ مول لے کر بھی مدد دوں گا
لیکن میں آپ سب سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے پابند نہ کریں''۔
نہیں کریں گے''… بالڈون نے کہا… ''ہماری آج کی کانفرنس ابتدائی بات چیت تک محدود رہے گی۔ اس میں میں نے یہ''
طے کرلیا ہے کہ ہماری زمین دوز کوششوں سے مسلمانوں کی خانہ جنگی نے انہیں کمزور کر دیا ہے اور صالح الدین ایوبی
لہ ذا ہمیں برق رفتار اور طوفانی قسم کا حملہ کرنا ہے۔ ہم نے آج اس حملے کا فیصلہ
ادھر آنے کے بجائے مصر چال گیا ہے۔ ٰ
کرلیا ہے۔ اب دو چار دن ہم سب فردا ً فردا ً سوچ لیں۔ ہم میں سے جو بھی غیرحاضر ہیں ،انہیں بھی بال لیں اور ایک دن
مقرر کرکے حملے کا پالن تیار کرلیں۔ ہماری فوجیں تیار ہیں۔ اس دوران ہرمن اپنے شعبہ جاسوسی کو اتنا زیادہ سرگرم کردے
کہ زمین کی تہوں میں سے بھی صالح الدین ایوبی کے جاسوسوں کو نکال کر قید کردے اور یہاں کے مسلمانوں پر کڑی نظر
رکھے۔ ہر مسلمان گھرانے اور ہر مسلمان فرد کی روزمرہ حرکات کو بھی دیکھے۔ ہماری افواج کا اجتماع یہیں شروع ہوگیا
جسے چھپایا نہیں جاسکتا۔ یہ انتظام ہرمن کو کرنا ہے کہ کوئی آدمی یا عورت اس جگہ سے باہر جائے تو یہ یقین کرلیا
جائے کہ وہ جاسوس نہیں''۔
ایسا ہی ہوگا''… ہرمن نے کہا… ''یہاں سے کوئی پرندہ بھی باہر نہیں جائے گا''۔''
٭ ٭ ٭
پہلے سنایا جاچکا ہے کہ اس کانفرنس میں شراب پالنے والے خادموں (مردوں اور لڑکیوں) کے نگران اور انچارج دو آدمی تھے
جو صلیبیوں کی کانفرنسوں اور دعوتوں وغیرہ میں بڑی دلکش وردی میں حاضر رہتے تھے۔ یہ قابل اعتماد آدمی تھے۔ انہیں
گہری چھان بین کے بعد مالزم رکھا گیا تھا مگر یہ دونوں سلطان صالح الدین ایوبی کے جاسوس تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے
کہ وہ کس قدر ہوشیار اور ذہین تھے ،ورنہ ہرمن جیسے استاد جاسوس اور سراغ رساں کی نظروں اور عقل کو دھوکہ دینا ممکن
نہیں تھا۔ دونوں خوبرو جوان اور دراز قد تھے۔ وکٹر کو اپنا نام بدلنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ تھا ہی عیسائی۔ راشد
چنگیز جوترک تھا ،اپنا نام عیسائیوں جیسا رکھے ہوئے تھا۔ یہ دونوں اس کانفرنس میں بھی موجود تھے۔ آدھی رات کے قریب
کانفرنس برخاست ہوئی اور وہ دونوں اپنے کمرے میں چلے گئے۔
ہم دونوں میں سے کوئی بھی نوکری سے غیرحاضر نہیں ہوسکتا''… وکٹر نے کہا… ''یہ خبر کسی اور کے ذریعے قاہرہ ''
''بھیجنی پڑے گی۔ ایسا کون ہوسکتا ہے؟
امام سے بات کریں گے''… راشد چنگیز نے کہا… ''وہی بہتر جانتا ہے کہ کون سا آدمی بہتر ہے۔ قاہرہ تک تیزرفتاری ''
سے پہنچنے کے لیے کسی خاص آدمی کی ضرورت ہوگی مگر ان کا پورا منصوبہ معلوم ہوجائے تو قاہرہ کو اطالع دیں گے۔
ادھوری اطالع پر سلطان ایوبی کوئی غلط چال نہ چل بیٹھے''۔
امام کو اتنی سی اطالع دینا تو ضروری ہے کہ صلیبی بہت بڑے حملے کا فیصلہ کرچکے ہیں''… وکٹر نے کہا… ''تاکہ ''
سلطان اپنی فوج کو تیار کرسکے اور اپنے نقصانات جلدی جلدی پورے کرلے… اور سنو!''… اس نے چنگیز سے کہا… ''جس
وقت یہ لوگ حملے کی باتیں کررہے تھے تو میں نے تمہیں دیکھاتھا۔ تم شراب کا پیالہ ریمانڈ کے آگے رکھتے رکھتے رک
گئے تھے اور صاف پتہ چلتا تھا کہ تم ان کی باتیں غور سے سن رہے ہو۔ میں نے تمہارا چہرہ دیکھا تھا۔ اس پر مجھے
نمایاں چمک نظر آئی تھی۔ میں جانتا ہوں کہ اتنا قیمتی راز مل جانے سے ہیجان اور خوشی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے
لیکن تمہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہرمن بھی وہیں موجود ہوتا ہے۔ ہرمن علی بن سفیان کے پائے کا جاسوس ہے۔ میں نے
تمہیں دیکھ کر فورا ً ہرمن کی طرف دیکھا تھا۔ مجھے شک ہوتا ہے جیسے وہ تمہیں دیکھ رہا تھا۔ محتاط رہو میرے بھائی!
ہم دشمن کے پیٹ میں زندگی بسر کررہے ہیں''۔
ہرمن کے لیے ہم اجنبی نہیں''… راشد چنگیز نے کہا… ''ہمارے متعلق وہ شکوک رفع کرچکا ہے۔ اب ڈرنے کی '' :
ضرورت نہیں''۔
ڈرنے کی نہیں محتاط ہونے کی ضرورت ہے''… وکٹر نے کہا… ''تم نے آج وہ ہدایات سن لی ہیں جو ہرمن کو ملی ہیں۔''
وہ اب ہرکسی کو شک کی نگاہوں سے دیکھیں گے… اور اب تم یوں کرو ،مسجد میں چلے جائو۔ سب سو گئے ہیں۔ امام کو
بتا آئو کہ آج صلیبیوں نے کیا فیصلہ کیا ہے۔ اگر قاہرہ کو کوئی جانے واال ہو تو اس فیصلے کی اطالع علی بن سفیان کو دے
دے اور اگر ادھر سے کوئی آئے تو ہم سے ملے بغیر واپس نہ جائے''۔
شہر کی ایک مسجد کا امام سلطان ایوبی کے لیے جاسوسی کرتا تھا۔ یہ مسجد جاسوسی کا خفیہ اڈا بنی ہوئی تھی۔ مسلمان
جاسوس مسجد میں جاکر امام کو خبریں پہنچاتے اور اس سے ہدایات لیتے تھے۔ وکٹر کبھی مسجد میں نہیں گیا تھا ،وہ کہا
کرتا تھا کہ اسے نماز نہیں آتی اور مسجد کے آداب سے بھی واقف نہیں۔ اس لیے اسے ڈر تھا کہ مسجد میں کوئی
ایسامسلمان اسے پکڑوا دے گا جو صلیبیوں کا جاسوس ہوگا۔ یہ غلط بھی نہیں تھا۔ صلیبیوں کے مخبروں میں مسلمان بھی تھے
جو مسجدوں میں جانے والے نمازیوں پر بھی نظر رکھتے اور ان کی باتیں غور سے سنتے تھے۔ وہ اکثر مسلمانوں کو گرفتار
کراتے رہتے تھے۔ راشد چنگیز نے چونکہ اپنے آپ کو عیسائی ظاہر کررکھا تھا ،اس لیے وہ دن کے دوران مسجد میں نہیں
جاتا تھا۔ صلیبی کمانڈروں وغیرہ کی شبینہ دعوتوں سے فارغ ہوکر اگر ضرورت پڑے تو آدھی رات کے بعد امام کے گھر جاتا
تھا جو مسجد کے بالکل ساتھ مال ہوا تھا۔ اس کا ایک دروازہ مسجد کے صحن میں کھلتا تھا۔
٭ ٭ ٭
راشد چنگیز نے کپڑے بدلے۔ چغہ اور عمامہ پہنا۔ مصنوعی داڑھی چہرے پر باندھی اور کمرے سے نکل کر اندھیرے میں غائب
ہوگیا۔ حکم کے مطابق اسے داڑھی استرے سے صاف کرانی پڑتی تھی۔ اپنے مشن پر جانے کے لیے اس نے ایسی مصنوعی
داڑھی بنا رکھی تھی جو فورا ً لگائی اور اتاری جاسکتی تھی۔ ان دنوں وہاں رات کو بھی رونق رہتی تھی۔ ریمانڈ کی فوج کے
عالوہ رینالٹ بھی اپنے بہت سے افسروں ( نائٹوں) کے ساتھ وہاں گیا ہوا تھا۔ اس کے چند ایک دستے بھی تھے۔ یہ فوجی
اعلی
افسر اور دیگر صلیبی کمان دار ،راتیں عیش وعشرت میں گزارتے تھے۔ پیشہ ور عورتوں کی چہل پہل لگی رہتی تھی۔
ٰ
حکام کی بیویاں اور داشتہ عورتیں بھی ان کے ساتھ تھیں۔ وہاں یہ بھی پتہ نہیں چلتا تھا کہ کون سی عورت کسی کی بیوی
ہے۔ عورتوں کی عارضی اور مستقل خریدوفروخت بھی ہوتی تھی۔
راشد چنگیز اپنے کمرے سے نکال تو اسے چھپ کر جانے میں بہت دشواری ہوئی۔ کمروں اور خیموں کے اندر تو طوفان
بدتمیزی بپا تھا ہی ،باہر بھی کہیں کہیں اسے کوئی بدمست جوڑا نظر آجاتا تھا جس سے بچ کر اسے راستہ بدلنا پڑتا۔ آخر
وہ خطرے کے عالقے سے نکل گیا اور شہرکی گلیوں میں داخل ہوگیا۔ پھر وہ مسجد کے دروازے تک پہنچ گیا۔ وہ جب ادھر
ادھر دیکھ کر مسجد میں داخل ہونے لگاتو اس نے دبے دبے قدموں کی آہٹ سنی جو گلی میں اٹھی اور موڑ پر خاموش
ہوگئی۔ راشد چنگیز نے اس پر غورکیا لیکن یہ سمجھ کر اپنے آپ کو تسلی دی کہ کتا ہوگا اور یہ آہٹ وہم بھی ہوسکتی
تھی۔ وہ مسجد کے صحن میں گیا اور امام کے دروازے پر مخصوص دستک دی۔ دروازہ کھال۔ راشد چنگیزا ندر چال گیا اور امام
کو ساری رپورٹ دے دی۔
صلیبیوں کی زیادہ تر فوج یہاں جمع ہوگی''… چنگیز نے کہا… ''یہ رینالٹ کی فوج ہوگی۔ یہاں کی فوج تو پہلے ہی ''
یہاں موجود ہے۔ قاہرہ تک اس فوج کے کوچ اور عزائم کی اطالع تو پہنچ ہی جائے گی ،اگر ہم کوشش کریں تو اس فوج کو
کوچ سے پہلے کچھ نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں اور اس کے کوچ کو التوا میں ڈال سکتے ہیں''۔
تمہارا مطلب یہ ہے کہ چھاپہ ماروں سے کہا جائے کہ وہ فوج کی رسد کو نذرآتش کردیں''… امام نے کہا… ''میں یہ کام''
کراسکتا ہوں لیکن کرائوں گا نہیں۔ تم نے ایسے کئی واقعات سنے ہوں گے کہ جس مقبوضہ شہر میں ہمارے چھاپہ ماروں نے
صلیبی فوج کو نقصان پہنچایا وہاں کے مسلمان باشندوں کے لیے زندگی دوزخ سے بدتر بنا دی گئی۔ گھر گھر تالشی ہوئی۔
ہماری مستورات کی بے عزتی ہوئی۔ ہماری جوان بیٹیوں کو صلیبی پکڑ کر قید اور قتل کا ظالمانہ سلسلہ شروع ہوگیا۔ میں نے
اپنے ایک قاصد کے ذریعے سلطان ایوبی تک یہ مسئلہ پہنچایا تھا۔ سلطان محترم نے میری توقع کے بالکل مطابق جواب بھیجا
ہے۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ مسلمان باشندوں کی عزت ،جان اور مال کی خاطر کسی شہر میں خفیہ تباہ کاری نہ کی جائے۔
دشمن کی رسد کو اس کی فوج کے ساتھ آنے دیا جائے۔ اسے میرے چھاپہ مار میدان جنگ میں نہیں آنے دیں گے''۔
میں آپ کو مکمل اطالع دو چار دنوں میں دے سکوں گا''… چنگیز نے کہا… ''اب آپ اور زیادہ محتاط ہوجائیں۔ یہاں ''
کے سراغ رساں غیرمعمولی طور پر سرگرم ہوگئے ہیں۔ وہ اب یہاں کے جانوروں اور پرندوں کو بھی شکی نگاہوں سے دیکھیں
گے''۔
یہ طے کرکے کہ ایک آدمی کو صبح قاہرہ روانہ کردیں گے ،چنگیز مسجد سے نکال۔ وہ چوری چھپے نہیں چل رہا تھا تاکہ
کوئی شک نہ کرے۔ وہ گلی کا موڑ مڑا تو اسے پھر کسی کے قدموں کی دبی دبی آہٹ سنائی دی۔ اس نے گھوم کر دیکھا۔
گلی تاریک تھی۔ اسے کچھ بھی نظر نہ آیا۔ اب کے یہ وہم نہیں تھا۔ وہ آگے چل پڑا۔ اپنے ٹھکانے کے قریب جاکر اس نے
مصنوعی داڑھی اتار کر کپڑوں میں چھپا لی۔ اس کے کپڑے ایسے تھے جو کوئی شک پیدا نہیں کرتے تھے کیونکہ ایسے کپڑے
عیسائی بھی پہنتے تھے۔
اب وکٹر اور چنگیز کی کوشش یہ تھی کہ یہ معلوم کریں کہ صلیبی فوج کہاں کہاں حملہ کرے گی اور اس کے کوچ کا
پروگرام کیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ فوج جمع کرنے کے انتظامات شروع ہوگئے تھے۔ قاصدوں کی بھاگ دوڑ بھی شروع ہوگئی
تھی۔ یہ دونوں جاسوس اس سرگرمی سے بظاہر التعلق ہوکر اس کی ہر ایک تفصیل معلوم کرنے میں مصروف تھے۔ ریمانڈ کی
اعلی کمانڈروں اور دیگر
حیثیت میزبان کی تھی کیونکہ یہ اس کا دارالحکومت تھا۔ اس نے ایک رات تمام صلیبی حکمرانوں،
ٰ
اعلی حکام کی ضیافت کا اہتمام کیا۔ یہ رات وکٹر اور چنگیز کے لیے غیرمعمولی مصروفیت کی رات تھی۔ چونکہ مہمانوں میں
ٰ
بادشاہ بھی تھے۔ اس لیے انہیں شراب وغیرہ پیش کرنے میں زیادہ مستعد رہناتھا۔ انہیں معلوم تھاکہ مستعدی کی ضرورت اس
وقت ہوتی ہے ،جب مہمان ہوش میں رہتے ہیں۔ شراب میں بدمست ہوکر جب وہ بداخالقی کے مظاہرے کرنے لگتے ہیں تو
مالزموں کا کام آسان ہوجاتا ہے۔
اس ضیافت میں جتنے مرد تھے ،اتنی ہی عورتیں تھیں۔ ان میں نوجوان لڑکیاں بھی تھیں ،جوان عورتیں بھی اور وہ بھی
بڑھاپے کو جوانی کا دھوکہ دے رہی تھیں۔ وکٹر اور چنگیز کھانا اور شراب وغیرہ النے والے مالزموں کی نگرانی کرتے اور
بھاگتے دوڑتے رہے۔ ایک جوان یورپی عورت نے چنگیز سے دو تین بار شراب مانگی۔ چنگیز نے ہر بار کسی مالزم یامالزمہ کو
بال کر کہا کہ اسے شراب دے۔ اس وقت مہمان ریمانڈ کے محل کے ادھر ادھر بکھرے ہوئے تھے۔ یہ عورت بہت خوبصورت
تھی۔ اس نے دیکھا کہ چنگیزہر مالزم سے کہہ کر شراب منگواتا تو اس نے مسکرا کر کہا… ''میں تمہارے ہاتھ سے تھوڑی
سی پینا چاہتی ہوں ،تم نوکروں کو حکم دے کر ادھر ادھر ہوجاتے ہو''۔
میں الدیتا ہوں''… چنگیز نے نوکروں کے سے لہجے میں کہا۔''
یہاں نہیں''… عورت نے کہا… ''میں باہر باغ میں جارہی ہوں ،وہاں النا''۔''
چنگیز شراب کی ایک خوش نما صراحی لے کے اس جگہ چال گیا جہاں وہ عورت جا بیٹھی تھی۔ یہ محل کا باغ تھا ،وہاں
بھی مہمان بکھرے ہوئے تھے۔ ہر ایک کے ساتھ ایک عورت اور ہاتھ میں شراب کا پیالہ تھا۔ صرف یہ عورت اکیلی تھی اور
چنگیز ذرا حیران بھی ہوا کہ ایسی جوان اور خوبصورت عورت اکیلی کیوں ہے۔ اس پر تو مہمانوں کو مکھیوں کی طرح
بھنبھنانا چاہیے تھا۔ وہ اس کے پیالے میں شراب ڈالنے لگا تو عورت نے پوچھا کہ وہ کہاں کا رہنے واال ہے۔ اس نے یورپ
کے کسی گائوں کا نام لیا اور بتایا کہ وہ لڑکپن سے شاہ ریمانڈ کے شاہی سٹاف میں ہے۔
تم تھوڑی سی دیر میرے پاس رک سکو گے؟''… عورت نے پوچھا اور پیالہ اس کی طرف بڑھا کر کہا… ''لو میرے پیالے ''
میں تم پیو پھر میں پئوں گی''… اس کی آواز میں التجا اور تشنگی تھی۔
آپ دیکھ رہی ہیں کہ میں نوکر ہوں''… چنگیز نے کہا… ''آپ شاہی خاندان کی خاتون ہیں۔ میں اس وقت نوکری کے ''
فرائض ادا کررہا ہوں''۔
اس وقت مجھے اپنا نوکر سمجھو''… عورت نے اس کی کالئی پکڑ لی اور پیاسی مسکراہٹ سے کہا… ''تم شہزادے ہو۔ ''
یہ تو دل بتایا کرتا ہے کہ کون کیا ہے''۔
آپ اکیلی کیوں ہیں؟''… چنگیز نے پوچھا۔''
کیونکہ میرے جذبات مجھے اجازت نہیں دیتے کہ جس سے مجھے نفرت ہو ،اس کے ساتھ ہنسوں کھیلوں''… اس نے ''
جواب دیا… ''جو مجھے اچھا لگتا ہے ،اسے اپنے پاس باللیا ہے۔ تم نے میرے ہاتھ سے پیالہ لیا نہیں''۔
کسی نے دیکھ لیا تو مجھے سولی پر کھڑا کردیا جائے گا''… چنگیز نے کہا۔''
اگر تم نے میرے پیالے سے ایک گھونٹ نہ پیا تو میں تمہیں سولی پر کھڑا کردوں گی''… عورت نے کہا… ''وہ ''
مسکرارہی تھی''۔ اس نے اور آگے ہوکر دھیمی آواز میں کہا… ''پاگل تم مجھے اتنے اچھے لگتے ہو کہ دل کے ہاتھوں
مجبور ہوکر تمہیں ادھر بالیا ہے۔ مجھے ٹالنے کی نہ سوچنا''۔
میں شراب نہیں پئوں گا''…چنگیز نے کہا۔''
نہ پئو''۔ عورت نے کہا… ''مگر میں جب بھی اور جہاں بھی تمہیں بالئوں تمہیں آنا پڑے گا''۔''
راشد چنگیز فہم وفراست کا مالک اور تجربہ کار انسان تھا ،وہ اس پر ذرہ بھر حیران نہ ہوا کہ ایک اونچے طبقے کی :
حسین وجمیل عورت اس کی دوستی کی خواہش کا اظہار کررہی ہے۔ اسے یہ خیال بھی آیا کہ یہ کسی بوڑھے جرنیل کی
جوان بیوی ہوگی یایہ کسی ایسے خاوند کی بیوی ہوگی جو اس وقت کسی اور کی بیوی کے ساتھ مگن ہوگا۔ ایک وجہ تو
صاف تھی۔ چنگیز خوبرو آدمی تھا ،جس کی قدبت میں بڑی کشش تھی۔ یہ پہال موقعہ نہیں تھا کہ کسی عورت نے اسے
اعلی افسروں کو دعوتوں میں شراب پیش کرنے والی لڑکیاں
اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی ہو۔ صلیبی حکمرانوں اور
ٰ
خاص طور پر حسین اور دلکش تھیں۔ ان میں سے دو چنگیز کے ساتھ تعلقات پیدا کرنے کی کوشش کرچکی تھیں لیکن چنگیز
نے اپنے کردار کو ان سے بچائے رکھا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اسے جو فرض دے کر بھیجا تھا ،اس کا تقاضا تھا کہ
وہ اپنے کردار کے قلعے کو مسمار نہ ہونے دے۔
علی بن سفیان نے اسے ٹریننگ کے دوران ذہن نشین کرایا تھا کہ ذہن عیاشی کی طرف مائل ہوجائے تو فرائض ذہن سے
نکلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس کے ذہن میں عورت کو ایک ایسے زہر کی مانند بٹھایا گیا تھا جو ایمان کھا جاتا ہے۔ ریمانڈ
آف تریپولی کے محل میں اس کی حیثیت ایسی تھی کہ وہ جس مالزم یا مالزمہ کو چاہے ،نوکری سے نکلوا سکتا تھا۔ اس
کی اپنی حیثیت کا اثر تو جادو کا ساتھا۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ صلیبیوں کا کوئی کردار نہیں۔ ان کی عورتیں بے حیائی اور
بداخالقی کو قابل فخر سمجھتی ہیں۔ ان وجوہات کی بنا پر چنگیز کے لیے یہ عورت اور اس کی یہ بے تکلفی عجوبہ نہیں
تھی۔
20:48
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔ 115ایک منزل کے مسافر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ان وجوہات کی بنا پر چنگیز کے لیے یہ عورت اور اس کی یہ بے تکلفی عجوبہ نہیں تھی۔
وہ چونکہ خصوصی قابلیت کا جاسوس تھا ،اس لیے اس نے فورا ً سوچ لیا کہ وہ اس عورت کو یہ بتائے بغیر کہ وہ جاسوس
ہے ،اسے جاسوسی کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ اس عورت نے اسے یہ جو کہا تھا کہ جہاں بھی تمہیں بالئوں ،تمہیں آنا
پڑے گا ،اسی میں حکم یا دھمکی نہیں بلکہ دوستانہ بے تکلفی تھی اور اس کے لہجے میں جو تاثر تھا ،اسے چنگیز بھی
اچھی طرح سمجھتا تھا۔ عورت کی مسکراہٹ کے جواب میں وہ بھی مسکرایا۔ اس مسکراہٹ سے اس نے شکاری کو اس کے
بچھائے ہوئے جال میں پھانسنے کی کوشش کی تھی۔
اب مجھے جانے کی اجازت ہے؟''… اس نے کہا… ''میری ڈیوٹی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ آپ مہمانوں میں چلی جائیں''…''
''اس نے ذرا جھجک کر پوچھا… ''آپ کس کی بیوی ہیں؟
اعلی کمانڈر کا نام لے کر کہنے لگی… ''کمبخت کے پاس بے شمار دولت ''
بیوی نہیں داشتہ''۔ عورت نے کہا اور ایک
ٰ
ہے ،یہاں آکر اسے ایک اور مل گئی ہے ،مجھے بھی آزاد نہیں کرتا۔ مجھ پر ان جذبات کا نشہ طاری رہتا ہے جو اپنے دل
کی پسند اور ناپسند کے پابند ہوتے ہیں یا شاید دل ان کا پابند ہوتا ہے۔ یہ وہ جذبات ہیں جو یہ نہیں دیکھتے کہ جو انسان
دل پر قابض ہوگیا ہے۔ وہ بادشاہ ہے یا غالم۔ مجھے تمہاری حیثیت سے کوئی غرض نہیں۔ مجھ سے دور نہ بھاگنا۔ یہ ظلم
ہوگا۔ تم پہلے انسان ہو جسے میرے دل نے پسند کیاہے۔ میں جسمانی آلودگی کی پیاسی نہیں۔ میری روح پیاسی ہے۔ اس کی
پیاس تمہاری آنکھوں کے چشمے بجھا سکتے ہیں… اب جائو ،کل رات میں تمہیں خود ڈھونڈ لوں گی''۔ جس وقت چنگیز اس
عورت کے ساتھ باغ میں تھا ،وکٹر مہمانوں میں گھوم پھر رہا تھا۔ اس کے کان ان چند ایک صلیبیوں کی باتوں پر لگے ہوئے
تھے جنہیں یہ فیصلہ کرنا تھا کہ پیش قدمی کس طرف کی جائے ،حملہ کہاں کیا جائے۔ اسے کام کی کچھ باتیں معلوم ہوئیں
لیکن یہ ابھی تجویزیں اور مشورے تھے۔ راشد چنگیز بھی مہمانوں میں چال گیا اور رینالٹ کے اردگرد گھومنے لگا۔ رینالٹ اپنے
ساتھیوں سے اپنا وہی عزم دہرا رہا تھا جس کا اس نے کانفرنس میں اظہار کیا تھا۔ اس کے پاس اتنی زیادہ جنگی طاقت
تھی جس کے زور پر وہ بڑے اونچے دعوے کررہا تھا۔
رات گزر گئی۔ اگلے دن چنگیز کے پاس ایک آدمی آیا جو اس کے گروہ کا جاسوس تھا۔ اس نے اسے پیغام دیا کہ آدھی رات
کے لگ بھگ امام کے پاس جائے۔ کوئی ضروری بات کرنی تھی… دن گزرا۔ رات آئی۔ چنگیز اور وکٹر ریمانڈ کے کھانے کے
کمرے میں اپنی ڈیوٹی پر چلے گئے۔ رات بہت دیر فارغ ہوئے۔ چنگیز نے ابھی وکٹر کو نہیں بتایا تھا کہ ایک عورت اس کی
دوستی کی خواہاں ہے۔ فارغ ہوکر اس نے وکٹر کو بتایا کہ وہ کپڑے بدل کر امام کے ہاں جارہا ہے۔ وکٹر نے اسے چند ایک
باتیں بتائیں جو امام کو بتانے والی تھیں۔
چنگیز نے کپڑے بدلے اور مصنوعی داڑھی چہرے پر باندھ کر چہرہ عمامے میں چھپا لیا۔ وہ کمرے سے نکل کر اندھیرے میں
چال گیا۔ اس عمارت سے کچھ دور سرسبز میدان تھا جس میں درختوں کی بہتات تھی۔ پھول دار پودے بھی تھے اور اس کے
اردگرد کوئی آبادی نہیں تھی۔ اسے اس قدرتی باغ میں سے گزر کر جانا تھا۔ اس میں داخل ہوا ہی تھا کہ کسی درخت کے
پیچھے سے ایک سایہ نمودار ہوا اور اس کی طرف بڑھنے لگا۔چنگیز نے پہال کام یہ کیا کہ مصنوعی داڑھی اتار کر چغے کی
جیب میں ڈال لی۔ اسے خطرہ تھا کہ اس جگہ وہی آدمی آسکتا ہے جو اس جگہ مالزم ہوگا اور وہ اسے پہچانتا ہوگا۔ اس
نے رفتار سست کرلی اور آہستہ آہستہ ٹہلنے لگا۔
سایہ دائیں طرف آرہا تھا اور جب قریب آیا تو بوال… ''میں نے کہا تھا نا کہ تمہیں خود ڈھونڈ لوں گی''… اور اس کے
ساتھ نسوانی ہنسی سنائی دی۔ یہ وہی عورت تھی۔
محل کی گھٹن نے دماغ خراب کردیا ہے''… چنگیز نے کہا… ''ہوا خوری کے لیے ادھر نکل آیا ہوں''۔''
میں تمہارے کمرے میں آرہی تھی''… عورت نے کہا… ''ادھر آتے دیکھا تو تمہارے پیچھے آنے کے بجائے اس طرف سے ''
آئی تاکہ کوئی دیکھ نہ لے… بیٹھو گے یا ٹہلو گے؟ میں صراحی اور دو پیالے اپنے ساتھ لے آئی ہوں''… وہ ہنس پڑی۔
راشد چنگیز نے اس سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ رہتی کہاں ہے اور اتنی رات گئے کہاں سے آٹپکی ہے اور کیا جس کی وہ
داشتہ ہے ،وہ اسے ڈھونڈے گا نہیں؟ وہ اسی قدر سمجھ سکا کہ یہ عورت جذبات سے مغلوب ہے اور خطرے مول لے رہی
ہے۔ چنگیز نے اس سے راز لینے کے ارادے سے کہا… ''تم اپنے کمانڈر آقا سے نجات چاہتی ہو۔ یہ تب ہی ممکن ہوسکتا
''ہے کہ وہ لڑائی پر چال جائے مگر ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ وہ کون سی فوج میں ہے؟
…''وہ بالڈون کی فوج کی ہائی کمان کا جرنیل ہے''
عورت نے جواب دیا… ''شاید لڑائی پر چال جائے مگر وہ مجھے اور دوسری لڑکی کو بھی ساتھ لے جائے گا''۔ …
''لڑائی کا کوئی امکان ہے؟''… چنگیز نے پوچھا… ''وہ یہاں کیوں آیا ہے؟''
یہاں اسے بالڈون نے اسی مقصد کے لیے بھیجا ہے کہ لڑائی کا امکان پیدا کیا جائے''۔ عورت نے جواب دیا۔''
صالح الدین ایوبی کی فوج کہاں ہے؟''… چنگیز نے پوچھا۔''
میں نے کبھی توجہ نہیں دی''… اس نے جواب دیا… ''تم چاہو تو پوچھ کر بتا دوں گی''۔''
راشد چنگیز نے اس سے کچھ اور باتیں پوچھیں۔ اس عورت کو جو کچھ معلوم تھا اس نے بتایا اور جو معلوم نہیں تھا ،اس
کے متعلق کہا کہ پوچھ کر بتا دے گی۔
کوئی لڑے کوئی مرے تمہیں اس سے کیا؟''… عورت نے جذباتی لہجے میں کہا… ''اگر اس نے مجھے میدان میں جانے''
کو کہا تو میں نہیں جائوں گی۔ میں اس کی بیوی تو نہیں۔میں نہ اپنے موجودہ آقا کی غالم ہوں ،نہ صالح الدین ایوبی کے
ساتھ میری دشمنی ہے۔ مجھے اتنا ذلیل کیاگیا ہے کہ میں ان سب کو جو اپنے آپ کو صلیب کے محافظ کہتے ہیں ،زہر دے
کر مار دیناچاہتی ہوں''… اس نے چنگیز کو بٹھا لیا۔ دونوں پیالے زمین پر رکھ کر ان میں شراب انڈیلی اور ایک پیالہ چنگیز
کی طرف بڑھا کر بولی… ''ایسی تنہائی اور ایسی تاریک رات کے رومان کو لڑائی کی باتوں سے تباہ نہ کرو ،پیو''۔
چنگیز کے لیے مشکل پیدا ہوگئی۔ وہ ڈیڑھ سال سے ان شرابیوں میں زندگی بسر کررہا تھا۔ اپنے ہاتھوں انہیں شراب پالتا تھا
لیکن اس نے خود کبھی نہیں پی تھی۔ اس گناہ گار ماحول میں جہاں اسے گناہوں کی بڑی ہی دلکش دعوتیں ملتی ہیں ،اس
نے اپنے ایمان کو داغ دار نہیں ہونے دیا تھا۔ اب اسے ایک ایسی عورت مل گئی جس کی وساطت سے وہ اپنا فرض بہتر
طریقے سے ادا کرسکتا تھا لیکن یہ عورت اسے شراب پیش کررہی تھی۔ خطرہ تھا کہ اس نے اس جذباتی عورت کی پیشکش
ٹھکرائی تو وہ اس کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ اس کے لیے فیصلہ کرنامشکل ہوگیا کہ فرض کی ادائیگی کی خاطر وہ شراب
کے دو گھونٹ پئے یا اتنی قیمتی عورت کو ضائع کردے۔
مجھے شراب پسند نہیں''۔ اس نے کہا۔''
خدا نے تمہیں مردانہ حسن اور شجاعت کا بڑا ہی دلکش مجسمہ بنایا ہے''… عورت نے کہا… ''لیکن شراب قبول نہ ''
کرکے تم ثابت کررہے ہو کہ تم پتھر کا بے جان مجسمہ ہو''۔
کچھ دیر انکار اور اصرار کا تصادم جاری رہا۔ چنگیز نے اس حسین عورت کو اپنے جال میں پھانسنے کے لیے اس کے ہاتھ
سے پیالہ لے لیا ،پھر پیالہ منہ سے لگالیا۔ عورت نے اس کے پیالے میں اور شراب ڈال دی۔ چنگیز نے کانپتے ہوئے ہاتھوں
سے پیالہ ہونٹوں سے لگا لیا اور آہستہ آہستہ پیالہ خالی کردیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ محسوس کرنے لگا جیسے اس کے خیاالت
اور نظریات کی دنیا میں بھونچال آگیا ہو۔ اس کے اردگرد دیواریں گر پڑیں اور وہ آزادی کے احساس سے لطف اندوز ہونے لگا
جیسے کال کوٹھڑی سے رہا کردیا گیا ہو۔
وہ نسوانی جسم کے لمس سے آشنا نہیں تھا۔ اس نے شادی بھی نہیں کی تھی۔ جاسوسی کے لیے اسے جو منتخب کیا گیا
تھا ،اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ غیرشادی شدہ تھا اور پیچھے کا اسے کوئی غم نہیں تھا مگر اس صورت حال میں جب
ایک دلکش عورت اسے شراب پال کر اس کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی تھی ،اس کا شادی شدہ نہ ہونا اس کی بہت بڑی
کمزوری بن گئی تھی۔ یہ عورت اسے گناہ کی دعوت نہیں دے رہی تھی۔ اس سے محبت کی بھیک مانگ رہی تھی جو روح
کو مسرور اور مخمور کردیا کرتی ہے۔ چنگیز کی فطرت میں چونکہ گناہ کاعنصر نہیں تھا ،اس لیے اس کے ذہن میں کوئی بے
ہودہ ارادہ نہ آیا مگر اس صلیبی عورت کے ریشمی بالوں کے لمس نے اس کی پیاسی پیاسی اور جذباتی باتوں نے اور اس کے
سڈول بازوئوں نے اور اس کے نرم وگداز گالوں نے اسے وہ راشد چنگیز بھی نہیں رہنے دیا تھا جو شراب کے چند گھونٹ
حلق سے اترنے سے پہلے تھا۔ رات گزرتی جارہی تھی۔
وہ جب جدا ہونے کے لیے اٹھے تو عورت نے اس سے پوچھا… ''تم نے مجھ سے لڑائی کے متعلق کچھ باتیں پوچھی
تھیں۔ مجھے سب کچھ معلوم نہیں۔ اگر تم اپنے تمام سوالوں کا جواب چاہتے ہو تو میں کل رات جواب فراہم کردوں گی''۔
اچانک چنگیز کے اندروہ چنگیز بیدار ہوگیا جو سلطان ایوبی کا جاسوس تھا۔ اسے اپنے فرائض یاد آگئے اور اسے یہ بھی یاد
آگیا کہ اس پر شراب اور ایک حسین عورت کا نشہ طاری ہے اور اسے بہت محتاط ہوناچاہیے۔ چنانچہ اس نے عورت
سے کہا… '' مجھے بھی تمہاری طرح لڑائی کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں۔ میں آرام اور سکون کی زندگی کا شیدائی ہوں۔ اگر
میرے سوالوں کا جواب السکو تو مجھے یہ پتہ چل جائے گا کہ ہماری فوج جدھر حملہ کرنے جارہی ہے ادھر مجھے بھی جانا
پڑے گا اور وہ جگہ اور عالقہ کون سا ہوگا۔ شراب ساتھ جائے گی ،مالزم ساتھ جائیں گے۔ اس لیے مجھے بھی ساتھ جانا
پڑے گا''۔
٭ ٭ ٭
واپس آکر اس نے اسی وقت وکٹر کو جگانا مناسب نہ سمجھا۔ اسے رنج ا س بات کا ہورہا تھا کہ وہ امام سے ملنے جارہا
تھا مگر راستے میں اس عورت نے روک لیا اور اسے کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ رات کا آخری پہر تھا۔ صلیبیوں کی اس
عیاش دنیا میں صبح سویرے جاگنے کا کوئی بھی عادی نہیں تھا۔ چنگیز امام کے پاس جاسکتا تھا مگر منہ میں شراب کی
بولیے ہوئے وہ مسجد میں جانے سے ڈر رہاتھا۔ اس کے دل پر یہ بوجھ بھی سوار ہوگیا کہ شراب نوشی بہت بڑا گناہ ہے
جس کا وہ ارتکاب کرچکا ہے۔ اس کے باوجود اسے جب اس عورت کا خیال آیا تو اس میں اسے کوئی عیب نظر نہ آیا بلکہ
اس پر اس کی محبت کا خمار ازسرنو سوار ہوگیا۔ عورت کے خیال کے ساتھ کوئی گناہ وابستہ نہیں تھا۔ یہ پاک محبت کا
سرور تھا جس سے وہ دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھا… وہ لیٹ گیا اور اس کی آنکھ لگ گئی۔
''اسے وکٹر نے جگایا۔ سورج اوپر اٹھ آیا تھا۔وکٹر نے پہلی بات یہ پوچھی… ''امام سے مل آئے تھے؟ کیا بات تھی؟
نہیں'' ۔ چنگیز نے وکٹر کو حیران کردیا… ''میں مسجد تک نہیں جاسکا''… اس نے وکٹر کو تمام تر واقعہ سنا دیا اور ''
کہا… ''اگر میں شراب پئے ہوئے نہ ہوتا تو میں اس عورت سے جدا ہونے کے بعد بھی جاسکتا تھا''۔
پھر تم کوشش کرو کہ آئندہ شراب نہ پئو''۔ وکٹر نے اسے کہا… ''اگر اس عورت کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے اس ''
کے کہنے پر دو گھونٹ پی ہی لیے تھے تو تمہیں اپنے فرض سے کوتاہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ امام تمہارے انتظار میں
پریشان ہورہا ہوگا۔ دن کے وقت جانا ٹھیک نہیں۔ آج رات ضرور جانا''۔ وکٹر نے اس سے پوچھا۔ ''تم اناڑی نہیں ہوچنگیز!
خود سمجھ سکتے ہو کہ اس عورت کی نیت کیا ہے اور کیا وہ تمہارے ساتھ دلی محبت کرتی ہے؟ تمہیں دھوکہ تو نہیں دے
رہی یا تمہیں جسمانی جذبے کی تسکین کا ذریعہ بنانا چاہتی ہوگی۔ یہ تو اس کے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں ہوسکتا کہ تم
جاسوس ہو۔ میں تمہیں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ عورت کے جادو نے فرعونوں جیسے بادشاہوں کو تخت سے اٹھا کر
کوڑے کرکٹ میں گم کردیا ہے۔ خود اپنی قوم کو دیکھ لو۔ صلیبیوں کی بھیجی ہوئی دلکش لڑکیوں نے مصر میں بغاوت تک
کرائی ہے۔ سلطان ایوبی کے قابل اعتماد ساالروں کو غدار بنا لیا ہے''۔
میں اتنا کچا تو نہیں وکٹر بھائی!'' چنگیز نے کہا… ''یہ عورت مظلوم نظر آتی ہے۔ وہ بے شک داشتہ ہے لیکن ''
شہزادی ہے ،عصمت فروش نہیں۔ عیش وعشرت اور مادی آسائشوں کے لحاظ میں اسے شہزادی کہتا ہوں لیکن جذباتی لحاظ
سے وہ مظلوم ہے۔ وہ پاک محبت کی پیاسی ہے۔ میں نے اس کے جسم کے ساتھ دلچسپی کا اظہار کیا ہے نہ کروں گا لیکن
اس کی محبت کو میں ٹھکرا کر اسے مزید مظلوم نہیں بنانا چاہتا۔ تم یہ نہ سمجھو کہ میں اسی کا ہو کے رہ جائوں گا۔
اسے وہ محبت بھی دوں گا جس کی اسے ضرورت ہے اور اس سے وہ راز بھی لے لوں گا جس کی مجھے ضرورت ہے''۔
''تم دل سے اسے چاہنے لگے ہو؟''
ہاں وکٹر!'' چنگیز نے جواب دیا… ''میں تم سے کچھ چھپائوں گا نہیں۔ وہ میرے دل میں اتر گئی ہے''۔''
دل میں اتر جانے والیاں پائوں کی زنجیریں بھی بن جایا کرتی ہیں چنگیز!'' وکٹر نے کہا… ''میں اس کے سوا اور کیا ''
کہہ سکتا ہوں کہ سب سے مقدم اور مقدس فرض ہے۔ فرض اور محبت کے درمیان نشے اور ہوش کے درمیان ،ایمان اور
جذبات کے درمیان کوئی دیوار نہیں ہوتی جسے پھالنگنا دشوار ہو۔ بال جیسی باریک ایک لکیر ہوتی ہے جو ذرا سی لغزش
سے نظر سے اوجھل ہوجاتی ہے اور انسان ادھر سے ادھر چال جاتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس سے راز لیتے لیتے تم اپنے
آپ کو اس کے آگے بے نقاب کردو''۔
راشد چنگیز نے قہقہہ لگایا اور وکٹر کی ران پر ہاتھ مار کر بوال… ''ایسا نہیں ہوگا میرے دوست ،ایسا نہیں ہوگا''۔
اور یاد رکھو'' ۔ وکٹر نے کہا… ''شراب کا تعلق شیطان کے ساتھ ہے جو صفات شیطان میں ہیں ،وہ شراب میں ہیں۔ اس''
کا عادی نہ ہوجانا۔ اس عورت کو خوش کرنے کے لیے اتنی سی پی لینا
جس سے تمہاری عقل ٹھکانے رہے''۔
امام تک یہ پیغام پہنچانا ضروری ہے کہ میں رات کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں آسکا ،آج رات آئوں گا''۔ چنگیز نے ''
کہا۔
بازار چلے جائو''۔ وکٹر نے کہا۔''
ان کے دو چار ساتھی بازار میں دکان دار تھے۔ معمولی سی پیغام رسانی ان کی معرفت ہوسکتی تھی۔ اہم اور نازک راز
انہیں نہیں دئیے جاتے تھے۔ وکٹر خود ہی بازار چال گیا اور ایسے ایک آدمی سے مل کر آگیا۔
٭ ٭ ٭
اگلی رات چنگیز اپنے کام سے جلدی فارغ ہوگیا۔ اپنے کمرے میں جاکر اس نے وردی اتاری ،دوسرے کپڑے پہنے اور مصنوعی
داڑھی کپڑوں میں چھپالی۔ اسے ڈر تھا کہ وہ عورت اسے اچانک مل گئی تو داڑھی کا راز فاش ہوجائے گا۔ اس کا ارادہ یہ
تھا کہ امام سے مل کر واپس اسی جگہ آجائے گا جہاں عورت سے ملنا تھا۔ وہ اسی راستے سے گیا۔ یہی راستہ محفوظ تھا
اور چھوٹا بھی تھا۔ وہ اس جگہ داخل ہوگیا جہاں سبزہ ،پودے اور درخت تھے۔ وسط میں گیا تو اسے مانوس سایہ ایک طرف
سے آتا نظر آیا۔ چنگیز بھاگ نہیں سکتا تھا۔ سایہ قریب سے نمودار ہوا تھا۔ فورا ً ہی اس کے سامنے آگیا اور بوال… ''آج تم
جلدی آگئے ہو ،میری محبت کا اثر ہے''۔
اور تم یہاں اتنی جلدی کیوں آن کھڑی ہوئی تھی؟'' چنگیز نے پوچھا… ''فوج نے ابھی آدھی رات کا گھڑیال تو نہیں ''
بجایا''۔
میرادل کہہ رہا تھا تم گھڑیال کی آواز سے پہلے آجائو گے''… عورت نے کہا۔''
لیکن مجھے یہ توقع نہیں تھی کہ تم اتنی جلدی آجائو گی''۔ چنگیز نے کہا… ''میں کسی کام سے جارہا تھا۔ واپس ''
یہیں آنا تھا''۔
اگر کام ضروری ہے تو جائو''۔ عورت نے کہا… ''میں ساری رات تمہارا انتظار یہیں کروں گی''۔''
اب تو میں یہاں سے ہل بھی نہیں سکوں گا''۔ چنگیز نے اسے بازوئوں کے گھیرے میں لیتے ہوئے کہا۔ عورت کے کھلے''
ہوئے بالوں کی مہک اور کپڑوں پر لگے ہوئے عطر نے اسے دیوانہ بنا ڈاال لیکن اپنے آپ کو اس حد تک ہوش مند اور چوکنا
رکھا کہ امام کے پاس جانا ملتوی کردیا۔ اس نے سوچا کہ یہ عورت آخر صلیبی ہے۔ اس کے دل میں اپنے آقا کے خالف
نفرت ہوسکتی ہے ،اپنی قوم اور صلیب کو دھوکہ نہیں دے سکتی۔ چنگیز یہ خدشہ محسوس کررہا تھا کہ وہ امام کی طرف
گیاتو یہ عورت کسی اور شک کی بنا پر اس کے پیچھے نہ چل پڑے۔ چنانچہ اس نے محبت کی شدت کا اظہار کرکے آگے
جانا منسوخ کردیا۔
عورت نے پیالے زمین پر رکھے اور صراحی سے ان میں شراب ڈال کر ایک پیالہ چنگیز کو دینے لگی۔ چنگیز شراب نہیں پینا
چاہتا تھا۔ اس نے ایک بہانہ سوچ لیا۔
تم اگر زہر کا پیالہ دو گی تو وہ بھی پی لوں گا''۔ چنگیز جذبات سے جھومتے ہوئے بوال… ''شراب نہیں پئوں گا''۔''
''عیسائی ہوتے ہوئے شراب سے کیوں نفرت کرتے ہو؟''
شراب کا نشہ تمہارے حسن اور تمہاری محبت کے نشے پر غالب آجاتا ہے''۔ چنگیز نے کہا… ''جس طرح تمہارے دل ''
نے زرودولت اور عیش وعشرت کو قبول نہیں کیا کیونکہ ان کی مسرت مصنوعی اور جسمانی ہے اسی طرح میرا دل شراب کو
قبول نہیں کرتا کیونکہ اس کا نشہ مصنوعی ہے۔ مجھ پر اپناخمار طاری کرو''۔
عورت نے اس کا سر اپنی آغوش میں رکھ لیا اور اس پر اپنا خمار طاری کردیا۔ اس سے پہلے چنگیز نے اس کے ساتھ جو
باتیں کی تھیں ،ان میں بناوٹ اور جھوٹ تھا ،اب اس کی عقل پر اور اس کے جذبات پر یہ عورت غالب آگئی۔ اسی لذت
آگیں خمار میں اس نے خود پیالہ اٹھایا اور ایک ہی سانس میں خالی کردیا۔
اور ڈالو''۔ اس نے کہا۔''
عورت نے اب اس کا پیالہ بھر دیا ،جو وہ آہستہ آہستہ پینے لگا ،پھر وہ اس عورت میں گم ہوگیا۔
ہم کب تک چوری چھپے ملتے رہیں گے؟'' عورت نے کہا… ''ذرا غور کرو میں کیسی اذیت میں مبتال ہوں۔ میرے جسم ''
کا مالک کوئی اور ہے اور دل کے مالک تم ہو۔ تمہاری محبت نے اس کی نفرت کو اور زیادہ کردیا ہے۔ میں اب اسے
برداشت نہیں کرسکتی۔ آئو یہاں سے بھاگ چلیں''۔
کہاں جائیں گے؟'' چنگیز نے پوچھا۔''
دنیا بہت وسیع ہے'' ۔ عورت نے جواب دیا۔ ''یہاں سے مجھے نکالو۔ میرے جذبات کی جوانی کو ایک بوڑھا کچل اور ''
مسل رہا ہے''۔
''چلے چلیں گے''۔ چنگیز نے کہا… ''تھوڑے دن ٹھہر جائو… میرے سوالوں کا جواب الئی ہو؟''
ہاں!'' عورت نے کہا… ''ہماری فوجیں جمع ہورہی ہیں''… اس نے تفصیل سے بتایا کہ کس کس کی فوج کہاں کہاں ''
اجتماع کرے گی اور ان کا ارادہ کیا ہے لیکن ابھی آخری پالن کا اسے علم نہیں ہوسکاتھا۔ چنگیز اس سے کرید کرید کر
پوچھتا رہا۔
وہ جب وہاں سے اٹھے تو ایک دوسرے کے دل میں پوری طرح سما چکے تھے۔ ''میں امام تک تو نہیں پہنچ سکا لیکن
اس عورت سے کچھ نئی معلومات لے آیا ہوں''۔ چنگیز نے وکٹر کو بتایا کہ ''وہ میرے جال میں آگئی ہے اور میرے ہاتھ
میں کھیلتی رہے گی''۔
میرا خیال ہے کہ تم بھی اس کے جال میں آگئے ہو''۔ وکٹر نے کہا… ''تمہارا انداز بتا رہا ہے کہ اس کا تیر تمہارے ''
دل میں اتر گیا ہے''۔
میں نے تمہیں بتا دیا تھا کہ وہ میرے دل میں اتر گئی ہے''۔ چنگیز نے کہا… ''اب تو اس نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ''
وہ میرے ساتھ بھاگ چلے گی لیکن میں نے اسے کہاہے کہ کچھ دن انتظار کرے۔ میں اسے یہاں سے نکال لے جائوں گا۔ میں
نے ارادہ کرلیاہے کہ صلیبیوں کامنصوبہ معلوم ہوجائے تو یہ راز میں خود قاہرہ لے جائوں گا اور اس عورت کو بھی ساتھ لے
جائوں گا''۔
''اسے کب بتائو گے کہ تم مسلمان ہو اور یہاں جاسوسی کے لیے آئے تھے؟''
مصر کی سرحد میں داخل ہوکر''۔ چنگیز نے جواب دیا… ''یہاں اسے تھوڑے ہی بتا دوں گا''۔''
چنگیز محبت کے نشے میں سرشار تھا۔ وہ صلیبیوں کا راز معلوم کرنے کے لیے جس قدر بے تاب تھا ،اس سے زیادہ بے
چین اس عورت سے ملنے کے لیے تھا۔ وہ خود محسوس کررہا تھا کہ اس کے سوچنے کے انداز میں اور اس کی روزمرہ
حرکات وسکنات میں تبدیلی آگئی ہے۔ پہلی بار اس نے شراب پی لی تھی تو اگلے روز وہ پچھتاوے سے پریشان رہا تھا مگر
گزشتہ رات اس نے اپنی مرضی سے شراب کا پیالہ اٹھا لیا تھا اور اب وہ پچھتاوے سے آزاد تھا۔ یہ بہت بڑی تبدیلی تھی۔
اعلی کمانڈر آرہے ہیں۔ ریمانڈ میزبان تھا۔ اس نے
اس شام اسے اچانک بتایا گیا کہ چند ایک صلیبی حکمران اور ان کے
ٰ
شراب کی محفل کا اہتمام کیا تھا۔ رات جب مہمان آئے تو یہ ہجوم نہیں تھا۔ چند ایک خصوصی مہمان تھے جو اس امر کا
ثبوت تھا کہ یہ دعوت کم اور اجالس زیادہ ہے۔ وکٹر اور چنگیز خاص طور پر سرگرم اور مستعد تھے۔ اس دعوت کے لیے
انہوں نے کھانا پیش کرنے کے مالزموں کو باقاعدہ انتخاب کیا تھا۔ اس محفل میں صلیبیوں کی انٹیلی جنس کا سربراہ ہرمن
بھی موجود تھا… شراب کا دور چلنے لگا اور حملے کی باتیں ہونے لگیں۔ اب کے جو باتیں ہورہی تھیں ،وہ تجاویز نہیں بلکہ
فیصلہ کی حیثیت رکھتی تھیں۔ ان میں پالن کا خاکہ بھی تھا اور ان باتوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا تھا کہ کوچ جلدی کیا
جائے گا۔
ہرمن سے اس کے محکمے کی سرگرمیوں کے متعلق پوچھا گیا۔ اس نے بتایا کہ جہاں جہاں صلیبی فوج ہے ،وہاں محکمے کو
سرگرم کردیا گیا ہے کہ صالح الدین ایوبی کے جاسوسوں کا سراغ لگا کر انہیں پکڑا جائے۔ تریپولی میں جہاں صلیبی فوج کا
سب سے بڑا اجتماع ہورہا تھا۔ جاسوسوں کو پکڑنے کے خصوصی انتظامات کردئیے گئے اور ہرمن نے بتایا کہ یہاں جاسوسوں
کے ایک گروہ کا سراغ مال ہے۔ اس گروہ کو بے کار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہرمن نے کہا… ''صرف ایک آدمی
پکڑا گیا تو اس کے ذریعے پورے گروہ کا سراغ مل جائے گا۔ قاہرہ کے جاسوسوں کو ہدایات بھیج دی گئی ہیں۔ ادھر سے کل
ہی ایک آدمی آیا ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ صالح الدین ایوبی نے بھرتی اور ٹریننگ تیز کردی ہے اور وہ یروشلم کی طرف
پیش قدمی کا ارادہ رکھتا ہے''۔
صلیبیوں کے اجالس میں چنگیز اور وکٹر کو اتنی معلومات حاصل ہوگئیں کہ اگر یہی قاہرہ پہنچا دی جائیں تو سلطان ایوبی
کے لیے کافی تھیں۔ اسے یہ اطالع بہت جلدی ملنی چاہیے تھی کہ صلیبی عنقریب پیش قدمی کررہے ہیں اور ان کا رخ حرن
اور حلب کی طرف ہے۔
محفل برخاست ہوئی۔ چنگیز اور وکٹر آدھی رات کے بعد فارغ ہوئے۔ چنگیز کو امام کے پاس جانا تھا۔ اس نے ہر رات کی
طرح کپڑے بدلے اور مصنوعی داڑھی کپڑوں میں چھپالی۔ آج رات چونکہ بہت دیر ہوگئی تھی ،اس لیے اسے یہ خطرہ نہیں تھا
کہ عورت اسے راستے میں مل جائے گی۔ وہ اطمینان سے باہر نکل گیا۔
٭ ٭ ٭
اس کی توقع غلط ثابت ہوئی۔ وہ اس سرسبز جگہ سے گزر رہا تھا کہ عورت نے اسے روک لیا۔ چنگیز نے یہ بھی نہ
سوچا ،نہ اس سے پوچھا کہ وہ کہاں رہتی ہے اسے کہاں سے دیکھ لیتی ہے۔ وہ تو معلوم ہوتا تھا جیسے اسی جگہ کہیں
رہتی تھی جہاں اسے چنگیز کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی اور وہ باہر آجاتی ہو۔ چنگیز نے اس پر غور نہ کیا۔ اسے
دراصل غور کرنے کی مہلت ہی نہیں ملتی تھی۔ عورت اس کے ذہن اور دل پر غالب آجاتی تھی اور وہ سب کچھ بھول جاتا
تھا۔ آج رات بھی وہ امام کے پاس نہیں جاسکتا تھامگر اس کا اسے افسوس نہ ہوا۔ عورت نے اسے جذبات میں الجھا لیا
تھا۔ آج وہ مظلومیت کا اظہار ایسی دیوانگی سے کررہی تھی جس سے چنگیز کے پائوں اکھڑ گئے۔
مجھے پناہ میں لے لو''۔ عورت نے جذبات سے لرزتی ہوئی آواز میں کہا… ''دیکھنے والے مجھے شہزادی اور ملکہ ''
سمجھتے ہیں مگر میری زندگی ایسا جہنم ہے جسے تم قریب سے دیکھو تو سر سے پائوں تک کانپ اٹھو۔ میں مسلمان ماں
باپ کی بیٹی ہوں۔ میری خوبصورتی نے مجھے ایسی اذیت میں ڈاال ہے جو بڑھتی جارہی ہے۔ ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ پندرہ
سال کی عمر میں میرے باپ نے مجھے ایک عربی تاجر کے ہاتھ فروخت کیا تھا۔ میرا باپ غریب آدمی نہیں تھا۔ ہم چھ
بہنیں تھیں۔ اس کے دل میں پیسے کا پیار تھا۔ بیٹیوں کو وہ بالکل پسند نہیں کرتا تھا۔ میری دو بڑی بہنیں باپ کے سلوک
.سے تنگ آکر اپنے چاہنے والوں کے ساتھ چلی گئی
20:48
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔ 116ایک منزل کے مسافر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
میری دو بڑی بہنیں باپ کے سلوک سے تنگ آکر اپنے چاہنے والوں کے ساتھ چلی گئی .تھیں۔ مجھے اس نے بیچ ڈاال''۔
ایک سال بعد اس تاجر نے مجھے تحفے کے طور پر ایک صلیبی افسر کے حوالے کردیا۔ تھوڑے عرصے بعد وہ لڑائی میں مارا
گیا۔ میں بھاگ گئی مگر جاتی کہاں۔ ایک عیسائی نے مجھے پناہ دی مگر اس نے میرے جسم کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔
میں کوئی سستی سی طوائف نہیں تھی۔ وہ مجھے صلیبی فوج کے بہت اونچے رتبے کے افسروں کو چند دنوں کے لیے داشتہ
کے طور پر دیتا تھا۔ اس آدمی نے اور ان صلیبیوں نے جن کے ہاں مجھے بھیجا جاتا تھا ،مجھے زیورات سے الد دیا اور
مجھے ہر وہ آسائش دی جو محل میں کسی شہزادی کو ملتی ہے۔ اس لحاظ سے میں مطمئن اور مسرور تھی مگر مجھے
روحانی مسرت نہیں ملتی تھی۔ اسی پیشے میں میرا میل جول فوجی افسروں کے ساتھ بڑھ گیا۔ میں تجربہ کار ہوچکی تھی۔
میری رسائی حکمرانوں اور سب سے بڑے عہدوں کے کمانڈروں تک ہوگئی۔ انہوں نے مجھے جاسوسی کی تربیت دے کر ایک
دوسرے کے خالف استعمال کرنا شروع کردیا۔ ایک بار مجھے بغداد میں بھیجا گیا تھا ،وہاں نورالدین زنگی کے ایک ساالر کو
…''اس کے خالف کرنا تھا۔ میں نے یہ کام خوش اسلوبی سے کرلیا تھا
میں اگر اپنے جاسوسی کے کارنامے تمہیں سنانے لگوں تو تم حیران رہ جائو گے اور شاید یقین بھی نہ کرو۔ ایسے قصے ''
بڑے لمبے ہیں۔ اسی دوران اس کمانڈر نے مجھے داشتہ رکھ لیا۔ یہ بوڑھا آدمی ہے۔ مجھے بہت عیش کراتا ہے۔ مجھے بڑے
فخر سے اپنے ساتھ لیے پھرتا ہے۔ وہ شاید لوگوں کو یہ دھوکہ دینا چاہتا ہے کہ وہ بوڑھا نہیں اور وہ مجھ جیسی جوان
عورت کو خوش وخرم رکھ سکتا ہے۔ یہ میری ہر فرمائش پوری کرتا ہے۔ میں اس کے ساتھ عکرہ میں تھی ،وہاں اتفاق سے
ایک مسلمان جاسوس سے مالقات ہوگئی ،وہ دمشق سے آیا تھا''۔
اس کا نام کیا تھا؟''۔ چنگیز نے پوچھا۔''
نام بتا دوں گی تو تمہارے کس کام آئے گا''۔ عورت نے کہا… ''تم اسے جانتے تو نہیں ،میری بات سنو۔ تمہاری محبت''
نے میری زبان کی زنجیریں توڑ دیں اور میرے دل کے دروازے کھول دئیے ہیں۔ میں تمہارے آگے ایسا راز فاش کررہی ہوں جو
مجھے قید خانے میں بھجوا سکتا ہے جہاں انسانی درندے مجھے اذیت ناک طریقوں سے ہالک کریں گے لیکن میں تمہارے ہاتھ
سے مرنا پسند کروں گی… میں کہہ رہی تھی کہ دمشق کا جاسوس پکڑا گیا اور اسے تہہ خانے میں ڈال دیا گیا۔ میں بہت
بڑے افسر کی چہیتی داشتہ تھی۔ میں اس جاسوس کا تماشہ دیکھنے تہہ خانے میں چلی گئی ،اسے ایسی ظالمانہ اذیتیں دی
جارہی تھی کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی۔ اس سے پوچھ رہے تھے کہ اس کے دوسرے ساتھی کہاں اور اس نے اب تک
…''کون سا راز معلوم کیا ہے
اس کی پیٹھ سے خون بہہ رہا تھا اور اس کا چہرہ نیال ہوگیا تھا پھر بھی وہ کہہ رہا تھا۔ ''میری رگوں میں مسلمان ''
باپ کا خون دوڑ رہا ہے۔ اپنے کسی ساتھی کے ساتھ غداری نہیں کروں گا''… میری رگ رگ بیدار ہوگئی۔ میری رگوں میں
بھی مسلمان باپ کا خون دوڑ رہا تھا۔ میرے اندر ایک انقالب زلزلے کی طرح آیا اور میں نے پکا ارادہ کرلیا کہ اس مسلمان
کو اس تہہ خانے سے نکالوں گی۔ میں نے اپنے آقا کا عہدہ ،حسن کا فریب اور تین چار ٹکڑے سونا استعمال کیا اور ایک
صبح میرے آقا نے مجھے یہ خبر سنائی کہ تہہ خانے سے مسلمان جاسوس فرار ہوگیا ہے۔ اس بوڑھے کو معلوم نہیں تھا کہ
وہ تہہ خانے سے فرار نہیں ہوا تھا۔ میں نے اسے وہاں سے نکلوا کر اوپر کے حصے میں منتقل کرادیا تھا جس وقت میرا آقا
مجھے اس کے فرار کی خبر سنا رہا تھا ،اس وقت مفرور جاسوس اسی شہر میں موجود تھا۔ میں نے اپنے ایک مسلمان مالزم
…''سے اس کے چھپنے کا بندوبست کرالیا تھا
وہ بھی تمہاری طرح خوبصورت جوان تھا۔ تہہ خانے میں اسے الش بنا دیا گیا تھا۔ میں نے اسے طاقت کی دوائیں اور ''
غذائیں دیں۔ میں رات کو چوری چھپے اس کے پاس جایا کرتی تھی۔ اس نے میری ذات میں ایمان بیدار کردیا۔ میں نے اسے
بتا دیا تھا کہ میں مسلمان کی بیٹی ہوں۔ یہ آپ بیتی اسے بھی سنائی تھی جو تمہیں سنا چکی ہوں۔ اس نے مجھے کہا کہ
میرے ساتھ چلی چلو۔ میں نے اسے کہا کہ مجھے جاسوسی کے ڈھنگ سکھا دو ،میں اپنے مذہب اور اپنی قوم کے لیے کچھ
کرنا چاہتی ہوں۔ اس نے مجھے عکرہ کے تین آدمیوں کے نام پتے بتائے ،پھر ان کے ساتھ مالقات کا انتظام بھی کردیا۔ یہ
جاسوس تندرست ہوگیا تو میں نے اسے شہر سے نکلوادیا۔ اس کے جانے کے بعد میں چوری چھپے اس کے ساتھیوں سے
…''ملتی رہی۔ وہ مجھے جاسوسی کے سبق دیتے رہے ،پھر میں عملی طور پر ان کے لیے کام کرنے لگی
،ایک تو میں اتنے اونچے رتبے کے فوجی افسر کی داشتہ تھی''
دوسرے میری خوبصورتی اور جوانی کی بدولت دوسرے افسر میری دوستی کے خواہش مند تھے۔ میں عصمت کا موتی تو ،
گنوا ہی چکی تھی ،بے حیائی اور شوخی میری عادت بن گئی تھی۔ گناہ گاروں کے ساتھ زندگی بسر کرکے میں فریب کار
بھی ہوگئی تھی۔ میں نے ان لوگوں کو خوب انگلیوں پر نچایا۔ انہیں بڑے حسین جھانسے دئیے اور بڑے قیمتی راز مسلمانوں
کو دیتی رہی۔ یہ جاسوس مجھے سلطان صالح الدین ایوبی کے متعلق باتیں سنایا کرتے تھے۔ میں اسے فرشتہ سمجھتی ہوں۔
میرے دل میں یہی ایک خواہش ہے کہ اپنی قوم کے لیے کچھ کرتی رہوں اور ایک بار سلطان ایوبی کی زیارت کروں۔ میں
اسی کو حج سمجھوں گی''۔
اب میں اس کمانڈر کے ساتھ یہاں آگئی ہوں۔ صلیبی بڑی ہی زیادہ طاقت سے مسلمانوں پر فوج کشی کررہے ہیں۔ مجھے ''
ان کے تمام راز معلوم ہوچکے ہیں۔ اب مجھے کسی ایسے آدمی کی ضرورت ہے جو ایوبی کا جاسوس ہو''۔
تم نے اتنی دلیری سے یہ راز کیوں فاش کردیا ہے؟'' چنگیز نے اس سے پوچھا۔ ''تم اگر واقعی جاسوس ہو تو بالکل ''
اناڑی ہو۔ تم نے میری محبت پر اعتماد کیا ہے ،اگر میں تمہیں یہ بتا دوں کہ میں تمہاری نسبت صلیب سے زیادہ محبت
کرتا ہوں اور میری وفاداری صلیب کے ساتھ ہیں تو کیا کروگی؟ عقل مند جاسوس اپنے فرض پر اپنے بچوں کی محبت کو بھی
قربان کردیا کرتے ہیں''۔
میں تمہیں حقیقت بتادوں تو تم مان جائو گے کہ میں اناڑی نہیں ہوں''۔ عورت نے کہا… ''میں نے یقین کرلیا تھا کہ تم''
عیسائی نہیں ہو ،تم مسلمان اور مصر کے جاسوس ہو''۔
راشد چنگیز چونکا جیسے اس عورت نے اسے ڈس لیا ہو۔ شراب کا نشہ اور رومان انگیز جذبات کا خمار یوں اتر گیا جیسے
کمان سے تیر نکل گیا ہو۔ اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو اس نے محسوس کیا جیسے اس کی زبان اکڑ گئی ہو۔
''اسے عورت کی دبی دبی ہنسی سنائی دی۔ عورت نے کہا… ''کہو ،میں اناڑی ہوں؟
چنگیز کے لیے جواب دینا محال ہوگیا۔ اگر یہ عورت واقعی مسلمان تھی تو کیاچنگیز کو اس پر اپنا آپ ظاہر کردینا چاہیے
تھا؟ طریقہ یہ تھا کہ ایک گروہ کے جاسوس اپنے ہی ملک کے جاسوسوں کے دوسرے گروہ سے بھی بیگانہ رہنے کی کوشش
کرتے تھے۔ چنگیز کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ عورت کس پائے کی جاسوس ہے۔ یہ بھی تو ممکن تھا کہ وہ دوغال
کھیل کھیل رہی ہو۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ سلطان ایوبی نے سختی سے حکم دے رکھا ہے کہ کسی عورت کو کہیں
جاسوسی کے لیے نہ بھیجا جائے۔ اگر یہ عورت جاسوسی کررہی تھی تو اپنے طور پر کررہی ہوگی۔ وہ زیادہ سے زیادہ یہ
کرسکتی تھی کہ جاسوسوں کو معلومات پہنچا دیتی تھی۔ ایسی عورت پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے تھا۔
خاموش کیوں ہوگئے ہو؟''۔ عورت نے پوچھا… ''کہہ دو میں نے غلط کہا ہے''۔''
تم نے بالکل غلط کہا ہے''… راشد نے جواب دیا… ''اور تم نے مجھے مشکل میں ڈال دیا ہے''۔''
''کیسی مشکل؟''
یہ کہ میں تمہیں گرفتار کرادوں یا محبت کی خاطر خاموش رہوں''۔ چنگیز نے کہا… ''میں عیسائی ہوں اور پکا صلیبی ''
ہوں''۔
وہ زمین پر بیٹھے تھے۔ عورت نے اپنے زانوں کے نیچے سے کچھ نکاال اور یہ چنگیزکی گود میں رکھ کر کہا… ''یہ رہی
تمہاری مصنوعی داڑھی۔ کل جب تم میرے پاس تھے تب یہ تمہارے چغے کی جیب سے نکال لی تھی اور پھر جیب میں ہی
ڈال دی تھی ،آج بھی نکال لی ہے''۔
چنگیز اس کے حسن اور اس کی محبت اور شراب کے نشے میں ایسا گم ہوجاتا تھا کہ اسے ہوش نہیں رہتی تھی۔
میں نے ایک رات یہ داڑھی تمہارے چہرے پر دیکھی تھی''۔ عورت نے کہا… ''تم اس داڑھی میں کمرے سے نکلے تھے۔''
میں نے تمہیں راستے میں روک لیا اور جب تم نے مجھے بازوئوں میں لیا تھا ،میں نے تمہارے چغے کی دونوں جیبوں میں
ہاتھ ڈاال ،میرے ایک ہاتھ نے داڑھی محسوس کرلی''۔
''مصنوعی داڑھی سے تم نے کیسے یقین کرلیا کہ میں جاسوس ہوں؟''
تم جس انداز سے مجھ سے فوجوں کی آمدورفت کی باتیں پوچھتے رہے ہو ،یہ انداز جاسوسوں کا ہے''۔ عورت نے کہا… ''
'' تم نے مجھے جن سوالوں کے جواب النے کو کہا تھا وہ کوئی اور نہیں پوچھ سکتا۔ کسی عام آدمی کے ذہن میں ایسے
سوال آتے ہی نہیں اور شراب سے انکار صرف مسلمان کرسکتا ہے''۔ وہ بولتے بولتے چپ ہوگئی۔ بازو چنگیز کے گلے میں
ڈال کر اور گال اس کے گال سے لگا کر بولی… ''تم مجھ سے ڈر رہے ہو ،کیا تمہارا دل مان نہیں رہا کہ میں مسلمان ہوں؟
میں تمہیں اپنا دل کس طرح دکھائوں۔ ہم دونوں ایک منزل کے مسافر ہیں۔ میں نے تمہیں سلطان ایوبی کا جاسوس سمجھ کر
دل میں نہیں بٹھایا تھا ،تم مجھے معلوم نہیں کیوں اچھے لگے تھے۔ مجھے یوں لگا تھا جیسے ہم آسمانوں میں بھی اکٹھے
تھے۔ زمین پر بھی اکٹھے ہوگئے ہیں اور ہم اکٹھے اٹھائے جائیں گے… کہو تو میں تمہارے جاسوس ہونے کے کئی اور ثبوت
پیش کردوں۔ میں تمہاری حفاظت کروں گی اور میں نے یہ ارادہ بھی کیا ہے کہ ہم دونوں بہت قیمتی راز اپنے ساتھ لے کر
یہاں سے اکٹھے نکلیں گے ،اگر یہ راز قاہرہ بروقت نہ پہنچا تو حرن ،حلب ،حماة ،دمشق اور بغداد تو صلیبیوں کے سیالب
میں ڈوب ہی جائیں گے۔ مصر کو بچانا بھی ممکن نہیں رہے گا۔ سلطان ایوبی بالکل بے خبر ہے۔ وقت ضائع نہ کرو۔ میں
یہاں سے اکیلی نہیں نکل سکتی۔ تمہارا ساتھ ضروری ہے۔ میں تمہیں ساتھ لے کر سیر کے بہانے شہر سے نکل سکتی ہوں۔
تم میرے محافظ ہوگے اور کوئی بھی ہم پر شک نہیں کرے گا''۔
راشد چنگیز پر خاموشی طاری ہوگئی تھی۔ عورت نے اس کے پیالے میں شراب انڈیلی اور پیالہ اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے
مخمور انداز اور جذباتی لہجے میں کہا… ''تم گھبراگئے ہو ،پی لو۔ یہ شراب کا آخری پیالہ ہے۔ اس کے بعد ہم اس سے
توبہ کرلیں گے''۔ اس نے چنگیز پر اپنے ریشمی بالوں کا سایہ کرلیا اور پیالہ اس کے ہونٹوں سے لگا دیا۔ بالوں کے مالئم
لمس اور مہک نے نسوانی جسم کے مس اور حرارت نے اور شراب نے چنگیز کی زبان سے کہلوالیا… ''تم واقعی جاسوس ہو،
ورنہ ڈیڑھ سال جاسوسوں کے سب سے بڑے استاد ہرمن کے سائے میں رہ کر بھی وہ مجھے نہیں پہچان سکا۔ میں تمہاری
ذہانت کا مرید ہوگیا ہوں۔ تم ٹھیک کہتی ہو کہ ہم ایک ہی منزل کے مسافر ہیں۔ تم میرے ساتھ قاہرہ چلو گی''۔
بہت دیر ہوگئی ہے''۔ عورت نے کہا… ''کل یہیں ملنا ،میں تمہیں وہ باتیں بتائوں گی جو تم کسی بھی طرح معلوم نہیں''
کرسکتے''۔
٭ ٭ ٭
رات کا آخر پہر تھا جب راشتد چنگیز اپنے کمرے میں پہنچا۔ اس نے وکٹر کو کبھی جگایا نہیں تھا۔ صبح اسے رات کی
روئیداد سنایا کرتا تھا لیکن اس رات اس پر ہیجانی کیفیت طاری تھی۔ وہ بہت ہی خوش تھا جو عورت اسے دل دے بیٹھی
تھی ،وہ مسلمان تھی اور تجربہ کار جاسوس بھی۔ یہ خوشی کیا کم تھی کہ وہ بہت ہی خوبصورت عورت کے ساتھ تریپولی
سے نکل رہا تھا۔ اس نے اسی وقت وکٹر کے کمرے میں جاکر اسے جگایا اور بتایا کہ یہ عورت تو اپنی جاسوس ہے۔ اس
نے وکٹر کو اس عورت کی ساری کہانی سنا دی۔
تم نے اسے بتا دیا ہے کہ تم جاسوس ہو؟'' وکٹر نے پوچھا۔''
ہاں!'' چنگیز نے جواب دیا… ''مجھے بتا ہی دینا چاہیے تھا''۔''
''میرے متعلق بھی بتا دیا ہے؟''
نہیں!'' چنگیز نے جواب دیا… ''تمہارے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی''۔ وکٹر کو خاموش دیکھ کر اس نے کہا… ''تم ''
سمجھ رہے ہو کہ میں نے غلطی کی ہے۔ میں اناڑی تو نہیں وکٹر!''۔
دعوی بھی نہ کرو کہ تم اناڑی نہیں ''
تم نے یہ بھی اچھا کیا ہے کہ میرا ذکر نہیں کیا''۔ وکٹر نے کہا… ''اور تم یہ
ٰ
ہو''۔
کیا میں نے غلطی کی ہے؟'' چنگیز نے پوچھا۔''
ہوسکتا ہے تم نے بہت اچھا کیا ہو''۔ وکٹر نے کہا… ''اگر یہ غلطی ہے تو یہ کوئی معمولی سی غلطی نہیں۔ تم شاید ''
یہ بھول گئے تھے کہ صرف ایک جاسوس اپنی فوج کی فتح کا باعث بن سکتا ہے اور شکست کا بھی۔ تم جانتے ہو کہ
سلطان ایوبی صلیبیوں کی ان تیاریوں سے بے خبر ہے۔ اگر ہم پکڑے گئے اور یہ راز ہمارے ساتھ قید خانے میں چال گیا یا
جالد کی نذر ہوگیا تو سلطان ایوبی ،جو آج تک ہر میدان کا فاتح کہالتا آیا ہے ،تاریخ میں شکست خوردہ کے خطاب سے
بھی یاد کیا جائے گا''۔
نہیں!'' چنگیز نے وثوق اور خوداعتمادی سے کہا… ''وہ مجھے دھوکہ نہیں دے گی۔ وہ مسلمان ہے۔ میں رات کو اسے ''
ملنے جائوں گا۔ وہ پورا راز اپنے ساتھ الرہی ہے۔ اب ہمیں اپنے امام کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ میں یہ راز خود قاہرہ
لے جائوں گا۔ میرے دل کی شہزادی میرے ساتھ ہوگی… ہاں۔ مجھے خیال آتا ہے کہ میری غیرحاضری سے یہاں کسی کو یہ
شک نہ ہو کہ میں کوئی فوجی راز لے کر بھاگا ہوں۔ یہ عورت بھی میرے ساتھ الپتہ ہوگی۔ تم یہ مشہور کردینا کہ تم نے
مجھے اور اسے چوری چھپے ملتے دیکھا ہے اور میں اس عورت کو بھگا کر یروشلم کی سمت نکل گیاہوں''۔
وکٹر گہری سوچ میں کھوگیا اور راشد چنگیز نشے میں جھومتا رہا۔
جس وقت چنگیز وکٹر کے کمرے میں داخل ہوا تھا۔ اس وقت تھوڑی ہی دور افسروں کے رہائشی کمروں میں سے ایک میں یہ
عورت داخل ہوئی جو چنگیز پر مرمٹی تھی۔ کمرے میں رہنے واال سویا ہوا تھا۔ اس عورت نے بے تکلفی سے اس کا ایک
ٹخنہ پکڑا اور زور سے جھٹکا دیا۔ وہ آدمی ہڑبڑا کر اٹھا۔ عورت نے ہنس کر کہا… ''اٹھو ،اٹھو۔ شکار مار لیا ہے''۔ اس
آدمی نے قندیل جالئی اور اس عورت کو اپنے بازوئوں میں لے کر بستر پر گرا لیا۔ پھر اس صراحی میں جس میں یہ عورت
چنگیز کے لیے شراب لے گئی تھی جو شراب بچی تھی۔ وہ اس آدمی نے پیالوں میں انڈیلی۔ دونوں نے پیالے خالی کیے۔
''اب کہو کیا خبر الئی ہو''
وہ جاسوس ہے''۔ عورت نے کہا… ''اور مسلمان ہے''۔''
ہرمن کا شک صحیح ثابت ہوا ہے''۔''
بالکل صحیح'' ۔ عورت نے کہا… ''شراب کا اور میرا جادو کام کرگیا ہے ،ورنہ ہرمن جیسا ماہر سراغ رساں بھی اسے نہ''
پکڑ سکتا۔ اگر اس کی مصنوعی داڑھی میرے ہاتھ نہ آجاتی تو شاید میں بھی ناکام رہتی۔ مجھے شک تو وہیں سے ہوگیا تھا
جب اس نے پہلے روز شراب پینے سے انکار کردیا تھا۔ میں جان گئی کہ یہ مسلمان ہے۔ میں نے اسے کہاکہ میں پاک
محبت کے لیے ترس رہی ہوں اس آدمی نے کہا… ''یہ کمزوری ہر انسان میں موجود ہے۔ میں نے تمہیں بتایا تھا کہ تمہارا
حسن اس آدمی کو بے نقاب کردے گا۔ عورت مجسم طور پر پاس ہو یا عورت کاصرف تصور ہو ،انسان اپنے آپ میں نہیں
رہتا''۔
یہ آدمی صلیبیوں کی انٹیلی جنس کا افسر تھا اور ہرمن کا نائب۔ ہرمن کو کسی طرح شک ہوگیا تھا کہ راشد چنگیز جاسوس
ہے۔ ایک تو وہ تجربہ کار تھا ،دوسرے اسے حکم مال تھا کہ جس پر ذرا سا بھی شک ہو کہ جاسوس ہے ،اسے پکڑ لو۔
چنانچہ اس نے بڑے سخت انتظامات کردئیے تھے۔ راشد چنگیز کو شاید انہوں نے رات کو مسجد میں جاتے دیکھ لیا تھا۔
ہرمن نے اپنے نائب سے کہا کہ چنگیز کو کسی عورت کے جال میں الکر دیکھو کہ یہ آدمی صاف ہے یا مشتبہ۔ اس محکمے
کے پاس اس مقصد کے لیے ایک سے ایک کایاں عورت موجود تھی۔ اس عورت کو منتخب کیا گیا اور اسے چنگیز کے پیچھے
ڈال دیا گیا۔ یہ عورت اپنے فن کی ماہر تھی۔ اس نے یہ ڈرامہ کھیال جو سنایا گیا ہے۔ چنگیز نے کبھی بھی نہ سوچا کہ ہر
رات وہ کمرے سے نکل کر امام کے پاس جارہا ہوتا ہے تو یہ عورت راستے میں مل جاتی ہے ،یہ آتی کہاں سے ہے اور
اسے کس طرح پتہ چل جاتا ہے کہ چنگیز جارہا ہے۔ وہ سائے کی طرح اس کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔
میں نے اسے اپنی دردناک کہانی جو تم نے بتائی تھی ،سنائی تو وہ جذباتی ہوگیا''۔ عورت نے ہرمن کے نائب کو سنایا…''
''وہ فورا ً قائل ہوگیا کہ میں مسلمان ہوں اور میں واقعی صالح الدین ایوبی کے لیے جاسوسی کررہی ہوں''۔
مسلمان جذباتی قوم ہے''۔ہرمن کے نائب نے کہا… ''بلکہ یہ عجیب وغریب قوم ہے۔ مسلمان مذہب کے نام پر ایسی ''
ایسی قربانیاں دے گزرتے ہیں جو کوئی اورقوم نہیں دے سکتی۔ میدان جنگ میں ایک مسلمان دس سے لیکر پندرہ صلیبی
سپاہیوں کا مقابلہ کرسکتا ہے اور کرتاہے۔ اسے وہ ایمان کی قوت کہتے ہیں۔ میں اعتراف کرتاہوں کہ میں مسلمانوں کی اس
روحانی قوت کا قائل ہوگیا ہوں۔ آٹھ آٹھ یا دس دس چھاپہ ماروں کا ہمارے عقب میں چلے جانا ،شب خون مارنا ،ہماری رسد
کو نذر آتش کرکے غائب ہوجانا ،گھیرے سے نکل جانا ،نہ نکل سکیں تو اپنی لگائی ہوئی آگ میں زندہ جل جانا ،کوئی
''معمولی بہادری نہیں۔ اسے مافوق الفطرت کہا جاسکتا ہے۔ میں تو اسے معجزہ کہا کرتاہوں
مسلمانوں کی اس قوت کو کمزور کرنے کے لیے ہمارے ان دانشوروں نے جو انسانی فطرت کی کمزور رگوں کو سمجھتے ''
ہیں ،ایسے طریقے واضح کیے ہیں جن سے مسلمانوں کے مذہبی جنون کو ان کی کمزوری بنا دیا گیا ہے۔ یہودیوں نے اس
سلسلے میں بہت کام کیا ہے۔ ہم نے یہ کامیابی چند ایک یہودیوں اورعیسائیوں کو مسلمانوں کے عالموں اور اماموں کے بہروپ
میں بھیج کر حاصل کی ہے۔ مسلمان عالقوں کی کئی مسجدوں کے امام اصل میں یہودی اور عیسائی ہیں۔ انہوں نے قرآن اور
حدیث کی ایسی تفسیریں مقبول عام کردی ہیں جن میں مسلمان غلط عقائد کے پیروکار ہوتے جارہے ہیں۔انہیں اب مذہب کے
…''نام پر اپنے بھائیوں کے خالف لڑایا جاسکتا ہے اور ہم نے لڑا کر دکھا بھی دیا ہے
ہم نے مسلمانوں میں جنسی جنون بھی پیدا کردیا ہے۔ اب جس مسلمان کے ہاں دولت اور اقتدار آتا ہے ،وہ سب سے ''
پہلے حرم بناتا اورا سے حسین اور جوان لڑکیوں سے بھرتا ہے۔ یہ زن پرستی نیچے تک چلی گئی ہے۔ ہم نے کئی طریقوں
سے مسلمانوں کے بیٹوں میں تصور پرستی اور ذہنی عیاشی کا رحجان پیدا کردیا ہے۔ اس کے عالوہ مسلمان جذباتی ہیں۔تم نے
دیکھ لیا ہے کہ اس مسلمان جاسوس کے جذبات کو تم نے چھیڑا تو وہ تمہارے جال میں پھنس گیا۔ جذباتیت بہت بڑی
کمزوری ہے۔ ہرمن کہا کرتا ہے کہ مستقبل قریب میں یہ قوم تصوروں کی غالم ہوجائے گی اور حقیقت سے دور ہٹ جائے گی
پھر ہمیں جنگ وجدل کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ مسلمان ذہنی طور پر ہمارے غالم ہوجائیں گے۔ وہ اپنی روایات کو ترک
کرکے ہمارے تہذیب وتمدن کو اپنانے میں فخر محسوس کریں گے''۔
مجھے نیند آرہی ہے'' ۔ عورت نے اکتا کر کہا… ''ابھی تمہارا کام ختم نہیں ہوا ،اگر اسے گرفتار کرنا ہوتا تو اس کے ''
ساتھ یہ ناٹک کھیلنے کی کیا ضرورت تھی۔ تمہیں اتنی زحمت نہ دی جاتی۔ ہم تو کسی کو بھی محض شک میں گرفتار
کرسکتے ہیں مگر اسے ابھی گرفتار نہیں کریں گے۔ اس سے اس کے ان تمام ساتھیوں کا سراغ لینا ہے جو تریپولی میں
جاسوسی کررہے ہیں۔ ان میں تباہ کار چھاپہ مار بھی ہوں گے۔ ہوسکتا ہے اس سے دوسرے شہروں کے جاسوسوں کی بھی
نشاندہی کرائی جاسکے۔ تم اسے پھر مل رہی ہو۔ اسے کہنا کہ تم نے تمام تر راز معلوم کرلیا ہے ،اب چند ایک دوسرے
جاسوسوں کی بھی ضرورت ہے۔ اسے یہ بھی کہنا کہ ایک جگہ صلیبیوں نے بے انداز آتش گیر مادہ اور قیمتی سامان جمع
کررکھاہے جو حملے میں ساتھ جائے گا۔ اسے تباہ کرنا ہے ،اس لیے یہاں کے زمین دوز چھاپہ ماروں سے میری مالقات
کرائو''۔
میں سمجھ گئی ہوں''۔ عورت نے کہا… ''لیکن یہ بھی امکان ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں سے پردہ نہ اٹھائے''۔''
20:49
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔ 117ایک منزل کے مسافر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
لیکن یہ بھی امکان ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں سے پردہ نہ اٹھائے''۔ اس نے اپنا چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔ اس نے قلعے ''
کا دروازہ کھول دیا ہے۔ تمہیں اب اندر جاکر کونے کھدرے کی تالشی لینی ہے۔ تم یہ کام بھی کرسکو گی۔ میں صبح ہرمن
کو تفصیل سے بتا دوں گا کہ تم نے یہ کارنامہ کردکھایا ہے''۔
شام کے کھانے پر جب چنگیز اور وکٹر اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے ،ہرمن آگیا۔ اس نے چنگیز کے ساتھ دوستانہ انداز
سے ہاتھ مالیا اور کہا… '' تمہیں معلوم ہے کہ ہماری افواج تاریخ کی سب سے بڑی مہم پر جارہی ہیں۔ ہم تمہیں بھی ساتھ
لے جارہے ہیں۔ بہت دور کی سیر کرائیں گے۔ وکٹر بھی ساتھ ہوگا چونکہ دو تین بادشاہ ساتھ ہوں گے ،اس لیے تم دونوں کا
ساتھ جانا ضروری ہے''۔
میں ضرور چلوں گا''۔ چنگیز نے کہا۔''
ہرمن کو رپورٹ مل چکی تھی کہ راشد چنگیز جاسوس ہے اور آج رات اس کے محکمے کی ایک جواں سال اور دل نشیں
عورت جس نے اسے بے نقاب کیا ہے ،اس سے اس کے گروہ کے دیگر افراد کے نام اور پتے بھی حاصل کرلے گی۔ ہرمن نے
اس عورت کو نئی ہدایات دی تھیں اور نائب سے کہا تھا کہ چنگیز کے گروہ کا انکشاف ہونے تک یہ عورت اسے اکیلے
ملتی رہے اور اتنی ہوشیار رہے کہ چنگیز کو شک نہ ہو۔
چنگیز کا دھیان اپنے کام میں تھا ہی نہیں۔ وہ لمحے گن گن کر گزار رہا تھا۔ اتنی بڑی کامیابی اس نے کبھی بھی حاصل
نہیں کی تھی کہ اتنا عظیم راز اسے مال ہو اور اتنی حسین لڑکی اس پر مر مٹی ہو۔ اس رات کو تریپولی میں وہ آخری رات
سمجھ رہا تھا۔ مکمل راز لے کر اس عورت کے ساتھ اسے اگلے روز تریپولی سے نکل جانا تھا… وہ آخر فارغ ہوگیا اور اپنے
کمرے میں گیا۔ وکٹر بھی اس کے ساتھ تھا۔ اس نے کپڑے بدلے۔ مصنوعی داڑھی نہ لی۔ خنجر چغے کے اندرچھپا لیا۔
میں تمہیں آخری بار کہہ رہا ہوں کہ اس عورت اور شراب کے نشے سے آزاد ہوکر اور دماغ کو حاضر رکھ کر بات کرنا''۔''
وکٹر نے اسے کہا… ''مجھے خطرہ محسوس ہورہا ہے کہ تم اس عورت کو پوری چھان بین کیے بغیر اسے اپنے سارے راز
دے دوگے''۔
سنووکٹر!'' چنگیز نے عجیب سے لہجے میں کہا… ''میں اس عورت کے خالف کوئی بات نہیں سنوں گا۔ میں نے اس ''
کے ساتھ بڑی لمبی مالقاتیں کی ہیں۔ اس کی پوری کہانی سنی ہے۔ تم اسے نہیں سمجھ سکتے۔ میں بہتر سمجھتا ہوں۔
مجھے پاگل نہ سمجھو۔ یہ میری پہلی اور آخری محبت ہے''۔
وکٹر چپ رہا۔ اس نے چنگیز کے لہجے سے جان لیا تھا کہ وہ اپنے آپ میں نہیں۔ اسے پہ احساس تو تھا کہ چنگیز کی
شکل وصورت اور قدبت میں اتنی کشش ہے کہ اس عورت سے کہیں زیادہ خوبصورت اونچے طبقے کی عورتیں بھی اسے نظر
بھر کر دیکھتی ہیں لیکن اس عورت کے متعلق اسے وہم سا ہوچال تھا کہ چنگیز کو دھوکہ دے رہی ہے اور اگر وہ دھوکہ نہیں
دے رہی تو چنگیز اسے اپنی اصلیت بتا کر اپنے آپ کو خطرے میں ڈال رہا ہے ،اگر یہ عورت مسلمان جاسوس ہی ہے تو
اس پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اسے سرکاری طورپر نہیں بھیجا گیا تھا۔ وکٹر کو اطمینان محسوس نہیں ہورہا تھا۔
چنگیز چال گیا۔ وکٹر گہری سوچ میں کھوگیا۔ چنگیز کے جانے کے بعد وہ سوجایا کرتا تھا مگر اس رات اسے نیند نہیں آرہی
تھی۔ اپنے کمرے میں جاکر وہ لیٹنے کے بجائے بے چینی سے ٹہلنے لگا۔
٭ ٭ ٭
عورت اسی جگہ چنگیز کے انتظار میں کھڑی تھی۔ اس کے قریب زمین پر شراب کی صراحی اور دو پیالے پڑے تھے۔ اندھیرے
میں چنگیز کو سائے کی طرح آتا دیکھ کر وہ دوڑ پڑی اور اس کے ساتھ لپٹ گئی جیسے بچہ ماں کے ساتھ لپٹ جاتا ہے۔
اس نے ایسے والہانہ پن اور خود سپردگی کا مظاہرہ کیا جس نے چنگیز کی عقل پر خمار طاری کردیا اور اس کے جذبات بیدار
ہوگئے۔ اس کایاں عورت نے اپنے حسن وجوانی کے وہ سارے ہتھیار استعمال کیے
تم مجھے دھوکہ تو نہیں دے رہے؟'' اس نے چنگیز سے رندھی ہوئی آواز میں پوچھا… ''تمہاری محبت نے مجھے ایسا ''
بے بس اور مجبور کردیا ہے کہ میں نے اپنا اتنا نازک راز تمہیں دے دیا ہے''۔
عورت اس کی کمر کے گرد ایک بازو لپیٹے اسے وہاں سے لے گئی جہاں صراحی اور پیالے رکھے تھے۔ اسے وہاں بٹھایاا ور
پیالوں میں شراب ڈال کر بولی… ''فتح کی خوشی میں ایک جام''… چنگیز اس قدر مسرور تھا کہ اس نے فورا ً پیالہ لے لیا
اور پی گیا۔ عورت نے اس کے پیالے میں اور شراب ڈال دی۔ چنگیز نے وہ بھی پی لی۔ ان سے آٹھ دس قدم دور ایک
درخت تھا۔ کوئی پیچھے سے رینگتا ہوا آیا اور اس درخت کے تنے کی اوٹ میں بیٹھ گیا۔ رات خاموش تھی۔ :درخت کی
اوٹ میں بیٹھے ہوئے آدمی کو چنگیزا ور عورت کی سرگوشیاں بھی سنائی دے رہی تھی مگر وہ سرگوشیوں میں نہیں ذرا
اونچی آواز میں باتیں کررہے تھے۔
اب بتائو کیا خبر الئی ہو''۔ چنگیز نے عورت سے پوچھا۔''
ایسی خبر الئی ہوں جو سلطان ایوبی نے کبھی خواب میں نہیں سنی ہوگی''۔ عورت نے کہا… ''میں صلیبیوں کی موت ''
کا پروانہ الئی ہوں''… اس نے چنگیز کو صلیبیوں کا پالن اور پیش قدمی کا راستہ بتا دیا اور یہ بھی بتایا کہ وہ کہاں حملہ
کریں گے۔ اس نے صلیبی فوج کی رسد کا راستہ بھی بتایا اور یہ بھی کہ کوچ کب ہوگا۔
''ہمیں یہاں سے جلدی نکل جانا چاہیے''۔ چنگیز نے کہا… ''کل رات نکل چلیں؟''
نہیں!''عورت نے کہا… ''ہمیں جس راز کی ضرورت تھی ،وہ مل گیا ہے لیکن میرے دل میں انتقام کی جو آگ بھڑک ''
رہی ہے میں اسے سرد کرکے جائوں گی۔ صلیبیوں نے اپنی فوج کے لیے بے انداز رسد جمع کرلی ہے۔ خیموں اور ہتھیاروں کا
کوئی حساب نہیں۔ آتش گیر سیال کے مٹکے بھی ہیں۔ اناج کے انبار ہیں۔ یہ ذخیرہ دور دور تک پھیال ہوا ہے۔ اسے تباہ کرنا
کوئی مشکل نہیں۔ پہرے کا اتنا ہی انتظام ہے کہ سات آٹھ سپاہی رات کو گشت کرتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ صلیبیوں نے
یہ ذخیرہ تین چار مہینوں میں جمع کیا ہے ،اگر ہم نے اسے نذرآتش کردیا تو ان کا حملہ تین چار مہینوں کے لیے رک جائے
گا۔ اس عرصے میں سلطان صالح الدین ایوبی اپنی تیاریاں مکمل کرلے گا۔ تم ہرمن کو جانتے ہو۔ میں نے اس کے دل سے
بھی راز نکال لیے ہیں۔ اس نے بتایا ہے کہ سلطان ایوبی نئی بھرتی کررہا ہے اور اس کی پہلی فوج اپنے ہی بھائیوں کے
خالف لڑ کر اتنا جانی نقصان اٹھا چکی ہے کہ لڑنے کے قابل نہیں رہی۔ یہ بدبخت صلیبی سلطان ایوبی کی اس کمزوری سے
فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ اس وقت ضرورت یہ ہے کہ صلیبیوں کا کوچ التوا میں ڈاال جائے۔ اس کا واحد ذریعہ کمزوری یہ ہے کہ
ان کی رسد جال دی جائے۔ ان کے جو ہزاروں گھوڑے ہیں ،انہیں ہالک کرنے کا انتظام بھی ہوسکتاہے''۔
رسد کو آگ کون لگائے گا؟'' چنگیز نے پوچھا۔''
یہ تمہیں معلوم ہوگا کہ یہاں تمہارے کتنے آدمی موجود ہیں''۔ عورت نے کہا… ''ان میں چھاپہ مار بھی ہوں گے۔ یہ ''
''کام ان کے سپرد کیا جائے ،یہاں تمہارے کتنے چھاپہ مار موجود ہیں؟
سلطان ایوبی نے حکم دے رکھا ہے کہ دشمن کے مقبوضہ عالقوں میں تباہ کاری نہ کی جائے کیونکہ چھاپہ مار تو تباہ ''
کاری کرنے کے بعد ادھر ادھر ہوجاتے ہیں۔ سزا بے گناہ مسلمان باشندوں کو ملتی ہے''۔ چنگیز نے کہا… ''صلیبی ان کے
گھروں میں گھس کر ان کی مستورات کو بھی پریشان کرتے ہیں۔ اس لیے ہم نے چھاپہ ماروں کو واپس بھیج دیا تھا۔ یہاں
جاسوس ہیں ،وہ تخریب کاری بھی کرسکتے ہیں۔ وہ یہاں کے چند ایک جوانوں کا تیار کرسکتے ہیں''۔
انہیں کسی جگہ اکٹھا کرنے کا انتظام ہوسکتا ہے؟'' عورت نے پوچھا اور چنگیز کے پیالے میں شراب ڈال کر اپنے ہاتھوں''
پیالہ اس کے منہ کے ساتھ لگا دیا۔
ہم نے ایک مسجد کو خفیہ اڈا بنا رکھا ہے''۔ چنگیز نے شراب کا پیالہ پی کر کہا۔ اس نے مسجدکا محل وقوع بتا دیا ''
اور کہا… '' اس مسجد کا امام ہماری جماعت کا امیر ہے۔ بہت قابل اور دلیر انسان ہے۔ میں آج رات ہی اسے بتا دوں گا۔
وہ کل ان جوانوں کو مسجد میں اکٹھا کرلے گا۔ وہ سب نماز پڑھنے کے بہانے آئیں گے''۔
صرف ایک قابل اور دلیر آدمی سے کام نہیں چلے گا''۔ عورت نے کہا… ''امام کے ساتھ تم ہوگے اور تین چار اور ذہین''
آدمیوں کا ہونا ضروری ہے ،تاکہ اس تباہ کاری کامنصوبہ دانش مندی سے بنے۔ یہ ذخیرہ اس وقت تباہ کیا جائے گا ،جب ہم
دونوں یہاں سے نکل جائیں گے ،ورنہ شہر کی ناکہ بندی ہوجائے گی''۔
صرف امام نہیں''۔ چنگیز نے کہا… ''یہاں ہمارا ایک سے ایک بڑھ کر قابل آدمی موجود ہے''۔ اس نے چند ایک ''
آدمیوں کے نام بتا دئیے اور کہا… ''میں ان سب کو مسجد میں بال سکتا ہوں''۔
یہ عورت چنگیز سے یہی راز لینا چاہتی تھی۔ اس نے اس گروہ کے متعلق کچھ اور باتیں پوچھیں جو چنگیز نے بتا دیں اور
کہا… ''اس محل میں ،میں اکیال نہیں۔ میرے ساتھ وکٹر نام کا جو آدمی ہے ،وہ بھی ہمارے گروہ میں ہے''۔
وکٹر بھی؟'' عورت نے چونک کر کہا۔''
ہاں!'' ۔ چنگیز نے کہا… ''کیا تم ہماری استادی کی تعریف نہیں کروگی کہ ہم نے ایک عیسائی کو بھی اپنا جاسوس بنا ''
''رکھا ہے؟
عورت کچھ دیر خاموش رہی ،پھر بولی… ''کل دن کو میں تمہارے کمرے میں آئوں گی۔ مجھے وہاں آنے سے کوئی نہیں روک
سکتا''۔
عورت جانے کے لیے اٹھی۔ درخت کی اوٹ میں چھپے ہوئے آدمی نے حرکت کی۔ اس نے بیٹھے بیٹھے کمر بند سے خنجر
نکاال اور آٹھ دس قدم کا فاصلہ دو چھالنگوں میں طے کر کے عورت کو پیچھے سے ایک بازو سے جکڑ لیا۔ اس کا خنجر واال
ہاتھ اوپر اٹھا ،تیزی سے نیچے آیا اور خنجر عورت کے سینے میں اتر گیا۔ عورت کی ہلکی سی چیخ سنائی دی اور یہ آواز…
''میرے سینے میں خنجر اتر گیا ہے''۔
چنگیز نے خنجر نکاال اور اس آدمی کو للکار کر اس پر حملہ کیا۔ اس آدمی نے گھوم کر عورت کو آگے کردیا اور کہا…
''میں وکٹر ہوں چنگیز! اس بدبخت کو زندہ نہیں رہنا چاہیے''… عورت سسک رہی تھی۔ وکٹر نے اسے پیچھے سے ایک
بازو میں دبوچ رکھا تھا۔
تم ذلیل عیسائی!'' چنگیز شراب کے نشے میں کہہ رہا تھا… ''سانپ کے بچے نکلے؟''… وہ گھوم کر اس پر حملہ ''
کرنے لگا۔
وکٹر نے عورت کو آگے کردیا اور اسے ڈھال بنا کر بوال… ''ہوش میں آئو چنگیز! تم نے اسے سب کچھ بتا کر سارا کھیل
برباد کردیا ہے ،اگر یہ زندہ رہی تو کل ہم سب گرفتار ہوجائیں گے''۔
چنگیز بپھرے ہوئے چیتے کی طرح اس کے اردگرد گھوم اور پھنکار رہا تھا۔ لڑکی ابھی ہوش میں تھی۔ کراہتے ہوئے بولی…
'' چنگیز! میرے خون کا انتقام تمہارے سر ہے۔ عیسائی ہمارے دوست نہیں ہوسکتے۔ میں اب زندہ نہیں رہوں گی۔ یہ ہمارا
نہیں ،صلیبیوں کا جاسوس ہے''۔
چنگیز نے جست لگا کر وکٹر پر حملہ کیا۔ وکٹر نے باربار اسے کہا کہ وہ دھوکے میں آگیا ہے اور اس عورت کو قتل کرکے
الش دور پھینک آئیں گے مگر چنگیز اب جاسوس نہیں ،وہ مرد بن چکا تھا جس کی محبوبہ کو ایک اور مرد نے پکڑ رکھا تھا
اور اس کے سینے میں خنجر بھی اتار چکا تھا۔ اس نے سامنے سے عورت کو اتنی زور سے دھکا دیا کہ وکٹر پیچھے کو گرا
اور عورت اس کے اوپر گری۔ چنگیز نے وکٹر پر خنجر کا وار کیا۔ وہ ہوشیار اور پھرتیال تھا۔ ایک طرف ہوگیا اور اٹھا۔ چنگیز
نے اس پر ایک اور وار کیا۔ خنجر اس کے کندھے میں لگا۔
وکٹر نے سنبھل کر جوابی حملہ کیا۔ چنگیز کا بھی زندہ رہنا خطرناک تھا۔ وکٹر کا خنجر چنگیز کے پیٹ میں لگا۔ چنگیز نے
خنجر کھا کر وار کیا جو وکٹر کے بازو کو چیر گیا۔ اس نے چنگیز کے سینے میں خنجر مارا۔ چنگیز شراب کے نشے میں
پائوں پر کھڑا رہنے کے قابل نہیں تھا۔ وکٹر نے ایک اور وار اس کے سینے پر ہی کیا اور چنگیز گر پڑا۔ اس نے عورت کے
دل پر ہاتھ رکھا۔ دل خاموش تھا۔ وہ مرچکی تھی۔ چنگیز بھی آخری سانس لے رہا تھا۔ وہ ہوش میں نہیں تھا۔
وکٹر کے کندھے اور بازو سے خون بہہ رہا تھا۔ اس نے عورت کے کپڑے پھاڑے اور بازو ر باندھ لیے۔ کندھے کے زخم میں کپڑا
ٹھونس دیا تاکہ خون بند ہوجائے۔ وہ چل پڑا۔ اس نے رفتار تیز کرلی۔ زخموں پر کپڑاباندھ لینے کے باوجود خون نہ رکا۔ اس
نے پروا نہ کی اور چلتا گیا۔ وہ ایک گلی میں داخل ہوگیا اور دو ایک موڑ مڑ کر وہ ایک فراخ گلی میں چال گیا۔ تریپولی پر
گہری نیند طاری تھی۔ گلیاں سنسان تھی۔ تمام گھروں کے دروازے بند تھے۔ صرف ایک دروازہ کھال ہوا تھا۔ یہ خدا کے گھر کا
دروازہ تھا۔ یہ مسجد تھی۔ وہ اس مسجد میں پہلی بار آیا تھا۔ چنگیز نے اسے بتا رکھا تھا کہ کبھی اس مسجد میں جانے
کی ضرورت پڑے تو مسجد کے صحن میں چلے جانا۔ بائیں دیوار میں ایک دروازہ ہے جو امام کے گھرکا ہے۔ وکٹر نے یہ
مسجد باہر سے دیکھی تھی۔ یہ سلطان ایوبی کے تریپولی میں موجود جاسوسوں کا خفیہ ہیڈکوارٹر تھا اور مسجد کا امام مسجد
کا ہی نہیں جاسوسوں کے اس گروہ کا بھی امام تھا۔ وکٹر نے کھلے دروازے میں داخل ہوکر جوتے اتار دئیے۔
٭ ٭ ٭
رات آدھی گزر چکی تھی۔ امام گہری نیند سویا ہوا تھا۔ دروازے کی دستک نے اسے جگا دیا۔ اس نے دانستہ توقف کیا۔ وہ :
دستک ایک بار پھر سننے کے انتظار میں تھا۔ دستک پھر ہوئی۔ یہ جاسوسوں کی مخصوص دستک تھی۔ پھر بھی اس نے لمبا
خنجر ہاتھ میں لیا اور دروازہ کھوال۔ دھیمی آواز میں کہا… ''چنگیز؟''۔
''وکٹر''۔ وکٹر نے جواب دیا… ''اندر چلیں''
خون کی بو کہاں سے آرہی ہے؟'' امام نے اندھیرے میں وکٹرکا بازو تھام کر پوچھا۔''
یہ میرا خون ہے''۔ وکٹر نے جواب دیا۔''
امام اسے گھسیٹتا ہوا اندر لے گیا۔ دیا جالیا تو اسے نظر آیا کہ وکٹر کے کپڑے خون سے الل اور تر ہورہے تھے۔ وکٹر کے
ساتھ اس کا وہی تعارف تھا جو چنگیز نے غائبانہ کرارکھا تھا۔ امام نے اسے دور سے دیکھا تھا۔ وکٹر کو وہ پس منظر میں
رکھتے تھے جس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ عیسائی تھا بلکہ یہ کہ اسے انہوں نے اندر کی اطالعات فراہم کرنے کا کام
سونپ رکھا تھا۔ یہ جاسوسی کا ایک طریقہ اور ان کی اپنی تنظیم تھی۔ اس لحاظ سے امام ا ور وکٹر ایک دوسرے کے لیے
اجنبی نہیں تھے۔
''تم آئے ہو''۔ امام نے پوچھا… ''چنگیز کیوں نہیں آیا؟''
وہ اب کبھی نہیں آسکے گا''۔''
''کیوں؟'' امام نے گھبرا کر پوچھا… ''پکڑاگیا ہے؟''
اسے اس کے گناہوں نے پکڑا ہے''۔ وکٹر نے جواب دیا۔ ''اور میرے خنجر نے اسے سزائے موت دے دی ہے۔ آپ میرا ''
خون نہیں دیکھ رہے؟ کیا آپ میرا خون بند کرنے کا بندوبست کرسکتے ہیں؟ آپ گھبرائیں نہیں ،خدا کا شکر ادا کریں کہ
چنگیز زندہ نہیں ،ورنہ ہم میں سے ہر کوئی قید خانے کی اذیتوں سے مارا جاتا''۔
امام نے بہت تیزی سے دوائیاں نکالیں۔ پانی الیا اور اس کے زخم دھونے لگا۔ وکٹر کو کپڑے بدلنے کو کہا۔
نہیں'' ۔ وکٹر نے جواب دیا۔ ''میں نے سوچ لیا ہے کہ مجھے کیا کرناہے۔ میں انہی کپڑوں میں واپس جائوں گا۔ میں نے''
آپ کا نمک کھایا ہے۔ میرا عزیز دوست اور بڑے ہی خطرناک سفر کا ساتھی میرے ہاتھوں قتل ہوگیا ہے۔میں آپ سب کے
لیے اپنے آپ کو قربان کرنے کا ارادہ کرچکا ہوں۔ میں اپنی گردن جالد کے آگے جھکا کر آپ سب کو صاف بچا لوں گا''۔
امام اس کے زخم صاف کرکے ان پر سفوف چھڑک رہا تھا ور وکٹر اسے سارا واقعہ سنا رہا تھا۔ اس نے ہر ایک تفصیل سنا
کر کہا… '' مجھے شک ہوگیا تھا کہ یہ عورت فریب کے سوا کچھ بھی نہیں۔ میں نے وہ بوڑھا کمانڈر کبھی نہیں دیکھاتھا
جس کی وہ اپنے آپ کو داشتہ بتاتی تھی۔ اس کا ہر رات چنگیز کے راستے میں آجانا ایک ثبوت تھا کہ وہ قریب ہی کہیں
ہوتی ہے اور چنگیز پر نظر رکھتی ہے۔ میں نے چنگیز سے جب بھی کہا کہ وہ زیادہ احتیاط کرے ،وہ غصے میں آگیا۔ میں
آپ کو بتا چکاہوں کہ وہ شراب بھی پینے لگاتھا۔ مجھے شک ہے کہ شراب میں اسے حشیش مال کر پالئی جاتی تھی ،ورنہ
چنگیز جیسا سخت آدمی اور ایمان کا پکا اتنی جلدی اور اتنی آسانی سے اس فریب میں نہ آتا۔بڑی خوبصورت لڑکیاں اسے
اپنی محبت میں گرفتار کرنے کی کوشش کرچکی تھیں۔ وہ ہنس کر ٹال دیا کرتا تھا۔ اس عورت نے اسے اپنے حسن اور
…''حشیش کی آمیزش والی شراب کے طلسم میں جسمانی نہیں ذہنی طور پر گرفتار کرلیا تھا
اس نے جب یہ بتایا کہ اس نے عورت کو بتا دیا ہے کہ وہ جاسوس ہے تو میرا دل کانپ اٹھا۔ مجھے جیسے عالم غیب''
سے اشارہ مل رہا تھا کہ چنگیز نے اتنی بڑی لغزش کی ہے جس کی سزا صرف اس کی نہیں ہم سب کی موت ہے اور اس
کی یہ لغزش شام اور مصر کی آزادی کی موت کا بھی باعث بن سکتی ہے۔ میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی مگر اس
کی عقل پر عورت نے جو طلسم طاری کردیا تھا ،وہ اسے ہم سے اور اپنے فرائض سے اور اپنے ایمان سے بھی بہت دور لے
گیا تھا۔ میں نے اسی وقت ارادہ کرلیاتھا کہ اب یہی ایک صورت رہ گئی ہے کہ اس عورت کو قتل کردیا جائے اور اگر
چنگیز کا رویہ نہ بدلے تو اسے بھی ختم کردیا جائے۔ ملک اور قوم کو خطرے سے بچانے کے لیے ایک آدمی کا قتل کوئی
بڑی بات نہیں ہوتی۔ یہ تو جاسوسی کا اصول ہے کہ گروہ کے کسی آدمی پر غداری کا شک ہو یا اس کی وساطت سے راز
فاش ہونے کا خطرہ ہو تو اسے ختم کردیاجائے۔ میں نے پھر بھی اس کے قتل سے گریز کیا مگر وہ مجھے قتل کرنے کے
لیے پاگل ہوگیا تھا''۔
یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ تم نے اسے غلط فہمی میں قتل کردیاہو''… امام نے کہا… ''ہوسکتا ہے کہ لڑکی مسلمان '' :
ہی ہو اور وہ سچے دل سے ہمارے لیے کام کررہی ہو''۔
ہوسکتا ہے''۔وکٹر نے کہا… ''لیکن میں نے ثبوت دیکھ لیا تھا۔ میں نے چنگیز کے ساتھ اس کا ذکر نہیں کیا تھا۔ میں ''
نے اس عورت کو اس عمارت سے نکلتے اور واپس جاتے دیکھا تھا جہاں ہرمن کے شعبے کی لڑکیاں رہتی ہیں۔میں نے یہ
بھی معلوم کرلیاتھا کہ یہ عورت کسی کمانڈر کی داشتہ نہیں۔ وہ اس عمارت میں رہتی ہے۔ آج رات میں چنگیز کے پیچھے
چال گیا اور جہاں وہ اس عورت کے ساتھ بیٹھا ،وہاں سے چند قدم دورمیں ایک درخت کے پیچھے بیٹھ گیا۔ عورت نے جس
انداز سے چنگیزسے راز کی باتیں پوچھیں اور جو باتیں پوچھیں وہ اس شک کو یقین میں بدلنے کے لیے کافی تھیں کہ یہ
عورت صلیبیوں کی جاسوس ہے۔ اس نے تریپولی میں ہمارے چھاپہ ماروں کے متعلق پوچھا اور چنگیز کو بتایا کہ صلیبی فوج
کے لیے رسد وغیرہ کا بے انداز ذخیرہ رکھاگیا ہے جس میں آتش گیر سیال کے بے شمار مٹکے ہیں۔ میں بھی جاسوس ہوں۔
مجھے اچھی طرح علم ہے کہ یہاں کہیں بھی اتنا ذخیرہ نہیں رکھا گیا ،اس نے جو جگہ بتائی تھی ،وہاں کچھ بھی نہیں۔ آپ
…''خود کل جاکے دیکھ لینا
چنگیز نے اس کے آگے ہماری ساری جماعت کی نشاندہی کردی اور اس نے میرا نام لے کر مجھے بھی بے نقاب کردیا۔ ''
میں اتنی اہم جگہ پر ہوں جہاں مجھے راز کی گہری باتیں بھی معلوم ہوجاتی ہیں۔ اس عورت نے میرا نام سنا تو وہ اپنی
حیرت کو چھپا نہ سکی۔ وہ بہت دیر خاموش رہی۔ پھر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ ہمارا اتنا خطرناک راز یہ عورت لے جارہی تھی
اور یہ راز سیدھاہرمن کے پاس جارہاتھا۔ اس کے نتائج کا آپ اندازہ کرسکتے ہیں۔ میں نے اٹھ کر عورت کو پکڑ لیا اور خنجر
اس کے سینے میں گھونپ دیا۔ چنگیز مجھ پر ٹوٹ پڑا تھا۔ اسے بہت سمجھایا۔ حقیقت بتائی مگر شراب نے اسے حیوان
بنا رکھا تھا۔ میں نے اس کے خنجر سے زخم کھا کر بھی اسے سمجھایامگر وہ سوچنے سمجھنے کی حالت میں تھا ہی
نہیں۔ میں نے محسوس کرلیا تھا کہ زندہ رہا تو میں اسے قابو میں نہیں السکوں گا اور ہمارا اصل مقصد بری طرح ختم
ہوجائے گا۔میں نے اسے بھی ختم کردیا''۔
تم نے اچھا کیا ہے'' ۔ امام نے کہا… ''میں تمہارا فیصلہ قبول کرتاہوں۔ تم اب تریپولی سے نکل جائو۔ میں انتظام کردیتا''
ہوں''۔
نہیں'' ۔ وکٹر نے کہا… ''صبح چنگیز اور عورت کی الشیں سب دیکھ لیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ ہرمن کو معلوم ہوچکا ''
ہے کہ چنگیز جاسوس تھا۔ اسی نے اس عورت کو اس کے پیچھے ڈاال تھا۔ وہ یہی سمجھے گا کہ ان دونوں کو مسلمان
جاسوسوں نے قتل کیا ہے ،پھر یہاں کے مسلمانوں کے لیے قیامت آجائے گی۔ پہلے ہی احکام مل چکے ہیں کہ کسی پر
جاسوسی کا شک ہوتو اسے قید یا قتل کردیا جائے۔ اب تو یوں سمجھو کہ یہاں کے ہر مسلمان گھرانے پرہرمن نے ایک ایک
جاسوس مقرر کردیا ہے۔ یہ لوگ مسلمانوں کو ظلم وتشدد کا نشانہ بنانے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں… میں واپس اپنی جگہ جارہا
ہوں۔ میں یہ قتل اپنے ذمے لوں گا اور وجہ یہ بتائوں گا کہ میں اور چنگیز رقیب تھے''۔
ہم تم سے اتنی قربانی نہیں لیں گے''۔ امام نے کہا… ''میں تمہارے ساتھ ایک آدمی کو بھیجوں گا جو تمہیں قاہرہ ''
چھوڑ آئے گا''۔
میں اپنی جان کی قربانی دینا چاہتا ہوں''۔ وکٹر نے کہا۔ ''مجھے وہ وقت یاد ہے جب میرے شہر میں صلیبی فوج کے''
دو افسروں نے میری بہن پر ہاتھ ڈاال تھا۔ انہوں نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا تھا کہ میری بہن کو اٹھا کر لے چلیں۔کوئی
عیسائی میری مدد کو نہیں آیا۔ تین مسلمان جوانوں نے ان سپاہیوں کا مقابلہ کیا تھا ،تینوں زخمی ہوگئے تھے لیکن انہوں نے
میری بہن کوبچا لیا تھا۔ وہ تو باالئی افسر اچھا تھا ،جس نے میری شکایت سن لی تھی ورنہ میری بہن بھی نہ رہتی اور
تینوں مسلمانوں کو بھی قتل کرادیا جاتا۔ اسی واقعہ نے مجھے مسلمانوں کا جاسوس بنایا تھا۔ میں آپ کی قوم کو اس احسان
کا صلہ دینا چاہتاہوں۔ میں اپنی جان جالد کے حوالے کرکے تریپولی کے مسلمانوں کی جان اور عزت بچائوں گا''۔
اس نے امام کو بتایا… ''صلیبیوں نے فوجیں جمع کرنی شروع کردی ہیں اور انکا رخ حلب کی طرف ہوگا۔ وہ سب سے پہلے
شام کو تہہ تیغ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ابھی یہ پتہ نہیں چال کہ وہ کب کوچ کریں گے۔ یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ ان
کی ساری فوج ایک ہی عالقے پر حملہ کرے گی یا آگے جاکر تقسیم ہوجائے گی اور ایک ہی وقت کئی مقامات پر حملے
کرے گی۔ سلطان ایوبی تک یہ اطالع بہت جلدی پہنچ جانی چاہیے تاکہ وہ مصر میں نہ بیٹھا رہے''… وکٹر کو جو کچھ
معلوم ہوسکاتھا وہ اس نے امام کو بتا دیا۔
20:49
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 118ایک منزل کے مسافر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وکٹر کو جو کچھ معلوم ہوسکاتھا وہ اس نے امام کو بتا دیا۔ وہ اٹھا اور امام کے روکنے پر بھی نہ رکا۔ کہنے لگا… ''آپ
بالکل مطمئن رہیں۔ آپ کو کوئی نہیں پکڑ سکے گا'' اور وہ باہر نکل گیا۔ وہ شہر سے بھی نکل گیا۔ اس کے زخموں سے
خون بند ہوچکا تھا۔ امام نے دونوں زخموں پر پٹیاں باندھ دی تھیں۔ اس نے اس خیال سے دونوں پٹیاں اتار کر پھینک دیں
کہ جن کے پاس وہ جارہاتھا ،وہ یہ نہ پوچھ بیٹھیں کہ مرہم پٹی کس سے کرائی ہے۔زخموں سے پھر خون رسنے لگا۔ وہ اس
جگہ گیا جہاں چنگیز اور عورت کی الشیں پڑی تھیں۔ رات کے پچھلے پہر کا چاند اوپر اٹھ آیا تھا۔ وکٹر کو شراب کی
صراحی اور دو پیالے پڑے نظر آئے۔ اس نے عورت کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ موت بھی اس کے چہرے کا حسن نہیں بگاڑ
سکی تھی۔ اس کے کھلے ہوئے ریشمی مالئم بال اس کے سینے پر بکھر گئے تھے۔ وکٹر نے شراب کی صراحی کو دیکھا اور
زیرلب کہا… ''انسان نے اپنی تباہی کے کیسے کیسے ذریعے اختیارکیے ہیں''۔
اس نے چنگیز کو دیکھا اور اس کے پاس بیٹھ گیا۔ چنگیزکا جسم برف کی طرح سرد ہوچکاتھا۔ وکٹر نے اس کاہاتھ اپنے ہاتھ
میں لے کر کہا… ''تم اچھی طرح جانتے تھے کہ عورت مرد کی کتنی بڑی کمزوری ہے اور شراب نے بادشاہوں کے تختے
الٹ دئیے ہیں۔ تم نے اس کمزوری کو اپنے اندر ڈال لیا… میں بھی آرہا ہوں میرے دوست! جالد مجھے جلدی ہی تمہارے
پاس پہنچا دے گا۔ ہم ایک ہی منزل کے مسافر ہیں۔ میں آرہا ہوں دوست ،میں آرہا ہوں''۔
وہ اٹھا اور بہت تیز قدم اٹھاتا ہوا اس عمارت کی طرف چل پڑا جس میں افسررہتے تھے۔ اس کے زخموں سے خون بہہ رہا
تھا۔ اس نے نیام سے خنجر نکاال۔ اس پر خون جم گیا تھا۔ اس نے اسے اپنے خون سے ترکیا اور خنجر ہاتھ میں رکھا۔ خون
زیادہ نکل جانے سے وہ کمزوری محسوس کرنے لگا تھا… اس نے ایک دروازے پر دستک دی۔ اسے معلوم تھا کہ جس کے پاس
اسے جانا ہے ،اس کی رہائش یہی ہے۔ کچھ دیر بعد ایک مالزم نے دروازہ کھوال۔ وکٹر نے افسر کانام لے کر کہاکہ اسے جگائو
اور بتائو کہ ایک قاتل آیا ہے۔ مالزم اندر کو دوڑا۔
اندر سے گالیوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ افسر گالیاں بکتا آیا۔ دروازے پر آکر قہر بھری آواز میں پوچھا… ''کون ہو تم،
کسے قتل کرکے آئے ہو؟'' مالزم قندیل اٹھائے دوڑا آیا۔ افسر نے روشنی میں وکٹر کو دیکھ کر پوچھا… ''تم؟ کسی سے
''لڑائی ہوگئی تھی؟
میں دو انسانوں کے قتل کا اقبال کرنے آیا ہوں''۔ وکٹر نے کہا… ''مجھے گرفتار کرلیں''۔''
افسر نے اس کے منہ پر بڑی زور سے تھپڑ مار کر کہا… ''قتل کا تمہیں یہی وقت مال تھا؟ دن کو کیوں نہ قتل کیا؟ میں
تمہارے باپ کا نوکر ہوں جو اس وقت تمہیں گرفتار کروں گا؟ اتنی گہری نیند سے مجھے جگا دیا ہے''۔ اس نے اپنے مالزم
سے کہا… ''اوئے ،لے جائو! اسے قید خانے میں بند کردو''۔
مالزم وکٹر کو بازو سے پکڑ کر چل پڑا تو افسر نے گرج کر کہا… ''اوئے ،رک جائو۔ جنگلی کہیں کے۔ تم نے یہ بھی نہیں
''سوچا کہ یہ راستے میں تمہیں بھی قتل کردے گا۔ اندر الئو اسے ،اس نے کیاکیا ہے؟
میں نے ایک آدمی اور ایک عورت کا قتل کیا ہے جناب!'' وکٹر بلند آواز سے بوال۔''
قتل کیا ہے؟''… افسر نے حیرت اور گھبراہٹ سے پوچھا… ''قتل کیا ہے؟… اگر مسلمان قتل کیا ہے تو جائو اپنی مرہم ''
پٹی کرائو۔ تم اسے قتل نہ کرتے تو وہ تمہیں قتل کردیتا۔ اگر کسی صلیبی کو قتل کیا ہے تو تمہیں بھی قتل ہونا چاہیے۔
اندر آکر بتائو''۔
آپ نے میرے ساتھ ایک بڑا ہی خوبرو آدمی دیکھا ہوگا''… وکٹر نے اندر جاکر کہا۔ اس نے چنگیز کا وہ عیسائی نام بتایا ''
جس سے وہ جانا پہچانا جاتا تھا۔ کہنے لگا… ''میری دوستی ایک عورت کے ساتھ تھی ،میرے اس ساتھی نے اس عورت کو
ورغالیا اور میرے اور اس کے تعلقات توڑ ڈالے۔ اس عورت کے ساتھ دوستی کرلی اور اس سے میری بے عزتی کرائی۔ میں
اس عورت کی دوستی سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا تھا۔ ان دونوں نے مجھے بہت مشتعل کیا۔ میں نے آج رات انہیں اکٹھے
بیٹھے دیکھ لیا۔ میں دراصل انہیں دیکھنے ہی گیا تھا۔ انہیں میں نے ایسی حالت میں دیکھا جو میری برداشت سے باہر تھی۔
میں نے عورت پر حملہ کیا اور اسے خنجر سے مار ڈاال ،پھر اپنے رقیب کے ساتھ خنجر بازی ہوئی۔ مجھے یہ دو زخم آئے
ہیں۔ اسے بھی دو ہی زخم آئے ہیں مگر مہلک ثابت ہوئے ہیں ،کہیں بھاگ جانے کے بجائے آپ کے پاس آگیا ہوں''۔
افسر نے کہا… ''عورت کے لیے قتل ہونا یا قتل کرنا عقل مندی تو نہیں''۔
یہ افسر بالکل سنجیدہ نہیں لگتا تھا۔ وہ شاید وکٹر کو چھوڑ دیتا مگر صبح ہوتے ہی الشیں دیکھی گئیں۔ ہرمن اور اس کے
نائب کو پتہ چال تو دونوں غصے سے پاگل ہونے لگے۔ مقتولہ ان کی بڑی قیمتی اور کارآمد مخبر اور جاسوس تھی
اور چنگیز اس عورت کاشکار تھا جس سے اس گروہ کا سراغ لگانا تھا۔ یہ گروہ محفوظ ہوگیا تھا۔وکٹر کے زخموں سے خون
بہہ رہا تھا۔ کسی نے اس کی مرہم پٹی کی نہ سوچی۔ ہرمن نے اسے پیٹنا شروع کردیا جس سے وکٹر بے ہوش ہوگیا۔ اس
کے بعد وہ کبھی بھی ہوش میں نہ آیا۔ دوسرے دن بے ہوشی کی حالت میں اسے جالد کے حوالے کردیا گیا۔ جالد کے
کلہاڑے نے ایک ہی وار سے اس کا سرتن سے جدا کردیا۔
اس کے سر اور دھڑ کو جب ایک گڑھے میں پھینکاجارہا تھا ،اس وقت امام کا روانہ کیا ہوا ایک جاسوس تریپولی سے دور
نکل گیا تھا۔ اسے اونٹ پر بھیجا گیا تھا کیونکہ قاہرہ تک کا سفر بڑا ہی لمبا اور بڑا ہی کٹھن تھا جسے صرف اونٹ
برداشت کرسکتا تھا۔
٭ ٭ ٭
٥٧٢ھ ہجری ( ١١٧٧عیسوی) کے اوائل کا ایک مہینہ تھا۔ قاہرہ کے فوجی عالقے میں غیرمعمولی رونق اور چہل پہل تھی۔
کسی میدان میں گھوڑے دوڑائے جارہے تھے اور کہیں پیادہ سپاہیوں کو ٹریننگ دی جارہی تھی۔ شتر سواروں کی رونق الگ
تھی۔ قاہرہ سے دور پہاڑی عالقے میں منظر ایسا تھا جیسے جنگ لڑی جارہی ہو۔ یہ سلطان ایوبی کی فوج کی جنگی مشق
تھی۔ ایک وادی میں آتش گیر مادہ پھینک کر آگ لگائی گئی تھی جو بیس پچیس گز تک پھیلی ہوگئی تھی۔ سوار گھوڑے
دوڑاتے ان شعلوں میں سے گزر رہے تھے۔ ایک جنگی مشق دور ریگستان میں ہورہی تھی۔ کسی سپاہی کو پانی اپنے ساتھ
رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔
یہ بڑی ہی سخت ٹریننگ تھی جو نئے رنگروٹوں کو دی جارہی تھی۔ بھرتی ابھی جاری تھی۔ فوج کے تمام ساالر اور دیگر
افسر اس ٹریننگ میں مصروف تھے۔ سلطان ایوبی سلطنت کے دوسرے مسائل اور امور کی طرف رات کو توجہ دیتا تھا۔ اس کا
دن ٹریننگ کی نگرانی کرتے اور ساالروں کو ہدایات دیتے گزرتا تھا۔ اس نے سب سے کہہ دیا تھا کہ اگر صلیبیوں نے شام پر
فوج کشی نہ کی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انہوں نے لڑائی سے توبہ کرلی ہے یا ان کی عقل جواب دے گئی ہے مگر ان
دونوں میں سے ایک بھی بات صحیح نہیں۔ وہ ضرور آئیں گے۔
اس وقت تک کسی نہ کسی مقبوضہ عالقے سے اپنے کسی آدمی کو آناچاہیے تھا''… سلطان ایوبی نے اپنے پاس کھڑے ''
ایک ساالر سے کہا۔ وہ ایک چٹان پر کھڑا جنگی مشق دیکھ رہا تھا۔ اس نے کہا… ''صلیبی آئیں گے ضرور۔ یہ مجھے کوئی
جاسوس ہی بتا سکتا ہے کہ وہ کدھر سے آئیں گے ،کہاں آئیں گے اور ان کی نفری کتنی ہوگی''۔
وہ چٹان سے اتر کر کسی اور طرف جانے لگا تو اسے دور سے گرد اڑتی نظر آئی جو ایک یاد دوگھوڑوں کی تھی۔ سلطان رک
گیا۔گرد قریب آئی تو اس میں سے دو گھوڑے برآمد ہوئے۔ ایک پر علی بن سفیان سوار تھاا ور دوسرے کو سلطان پہچان نہ
سکا۔ وہ تریپولی سے امام کا بھیجا ہوا جاسوس تھا جو وہاں سے اونٹ پر روانہ ہواتھا۔ بہت دنوں بعد قاہرہ پہنچا تھا۔ علی
بن سفیان نے اس سے رپورٹ لی اور اسے گھوڑا دے کر ساتھ لے آیا تاکہ رپورٹ سلطان ایوبی کو فورا ً دی جائے۔
جاسوس نے سلطان ایوبی کو بتایا… ''صلیبی ایک برق رفتار اور طوفانی حملے کے لیے تیاریاں کررہے ہیں۔ فوجوں کا اجتماع
شروع ہوگیا ہے۔ سب سے زیادہ فوج حونین کے شاہ رینالٹ کی ہے ،وہ اس طوفانی یلغار کی قیادت کرنا چاہتا ہے''۔
وہی رینالٹ جسے نورالدین زنگی نے گرفتار کرکے قید میں ڈال دیا تھا''… سلطان ایوبی نے کہا… ''اسے وہ اپنی شرائط ''
پر رہا کرنا چاہتے تھے ،مگر زنگی کی بے وقت موت ریناٹ کی رہائی کا باعث بنی۔ اقتدار اور زروجواہرات کے اللچی امراء
نے نورالدین زنگی کے کمسن بیٹے کو کٹھ پتلی بنایا اور رینالٹ کو رہا کردیا۔ آج وہ رینالٹ اسالم کا خاتمہ کرنے آرہا ہے …
''ہاں! تم آگے سنائو۔ انہیں یلغار کرنی چاہیے تھی اور کون ہوگا؟
تریپولی کا ریمانڈ ہوگا۔ زیادہ تر افواج کا اجتماع وہیں ہورہا ہے اور حملے کی تفصیالت وہیں طے ہورہی ہیں۔ تیسرا بالڈون ''
ہوگا۔ اس کی فوج بھی کم نہیں۔ یہ معلوم نہیں کیا جاسکتا کہ صلیبی فوج کب کوچ کرے گی۔ حملہ شام پر ہوگا۔ حلب،
حرن اور حماة کے نام سنے گئے ہیں۔ کوچ جلدی ہوگا''۔
علی بن سفیان!''… سلطان ایوبی نے کہا… ''مجھے تریپولی سے آخری اطالعات کا انتظار رہے گا''۔''
ان اطالعات کا انتظار نہ کریں جن کی آپ توقع لگائے بیٹھے ہیں''۔ علی بن سفیان کے بجائے جاسوس نے جواب دیا…''
'' صلیبیوں کے عسکری ایوان میں ہمارے آدمی تھے ،دونوں مارے گئے ہیں''… اس نے راشد چنگیز اور وکٹر کا واقعہ سنا دیا۔
دعوی کیا ہے کہ اس کی فوج میں اڑھائی سو نائٹ ہوں
سلطان ایوبی کی آنکھیں الل ہوگئیں۔ جاسوس نے کہا… ''رینالٹ نے
ٰ
گے۔ اپنے ان دونوں جاسوسوں نے مرنے سے پہلے امام کو بتایا تھا کہ صلیبی آپ کو چھاپہ مار اور شب خون مارنے کا طریقہ
استعمال کرنے کی مہلت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کچھ ایسی چالیں سوچ لی ہیں جن سے وہ آپ کو مجبور کردیں گے کہ
آپ پوری فوج کو سامنے ال کرلڑیں۔ انہیں آپ کی اس کمزوری کا علم ہے کہ آپ کے پاس فوج کی کمی ہے۔ اسی کے پیش
نظر وہ بہت زیادہ فوج ال رہے ہیں ،تاکہ آپ گھوم پھر کر نہ لڑسکیں''۔
جاسوس کی یہ اطالع ملنے کے بعد سلطان صالح الدین ایوبی باہر کم نظر آنے لگا۔ وہ کمرے میں بند رہنے لگا۔کاغذ پر ممکنہ
میدان جنگ کا نقشہ بنا کر اس پر پیش قدمی اور دیگرچالوں کی لکیریں کھینچتا رہتا۔ کبھی اچانک اپنے ساالروں کو بال کر ان
عیسی
کے ساتھ بحث میں الجھ جاتا اور انہیں موقع دیتا کہ وہ بھی رائے دیں اور چالیں سوچیں۔ ان ساالروں میں ایک
ٰ
الہکاری تھا جو ایک قابل ساالر ہونے کے عالوہ عالم اور قانون دان بھی تھا۔اسے بعض مورخوں نے سلطان ایوبی کا دست
راست بھی کہاہے۔
ایک روز سلطان ایوبی نے خالف توقع کوچ کا حکم دے دیا۔ اس نے فوج کا خاصاحصہ سوڈان کی سرحد کے ساتھ خیمہ زن
کردیا کیونکہ ادھر سے بھی حملے کا خطرہ تھا۔ اس کے لیے سب سے بڑی مصیبت یہی تھی کہ وہ پیش قدمی کرتا تھا تو
اس کے عقب میں بھی دشمن ہوتاتھا۔ صلیبیوں کے لیے وہ مصر کی ساری فوج نہیں لے جاسکتا تھا۔ اس نے کوچ کیا تو
مورخوں کے اعدادوشمار کے مطابق ،اس کے پاس جو فوج تھی وہ ایک ہزار پیادہ تھی۔ یہ سب مملوک تھے۔ (مملوک آزادکیے
ہوئے غالموں کو کہاجاتا تھا) یہ لڑاکے اور جنگجو تھے۔ ان کے عالوہ آٹھ ہزار گھوڑ سوار تھے جن میں مصری بھی تھے اور
وہ سوڈانی بھی جنہیں ١١٦٩ء میں سلطان ایوبی نے بغاوت کے جرم میں فوج سے نکال کر انہیں زرخیز زمینوں پر آباد کردیا
تھا۔ اب وہ مصر کے وفادار تھے۔ ان پر اعتماد کیا جاسکتا تھا مگر یہ ایک ہزار مملوک اور آٹھ ہزار سوار نئے نئے فوج میں
بھرتی ہوئے تھے۔ انہوں نے ابھی جنگ دیکھی ہی نہیں تھی۔ ان کی ٹریننگ بمشکل مکمل ہوئی تھی۔
سلطان ایوبی اپنی فوج اپنے بھائی العادل کی زیر کمال حلب کے مضافات میں چھوڑ آیا تھا۔ اسے کسی طرح اندازہ ہوگیا تھا
کہ صلیبی اتنی جلدی شام تک نہیں پہنچیں گے۔ اس نے کوچ بہت تیز کرایا اور حلب جاپہنچا۔ وہاں اسے پتہ چال کہ
صلیبیوں نے حرن کے قلعے کو محاصرے میں لے رکھا ہے۔ آپ نے حرن کا مکمل ذکر پچھلی کہانیوں میں پڑھا ہے۔ سلطان
ایوبی نے محاصرہ کرنے والی صلیبی فوج کو محاصرے میں لے لیا۔ اس کی یہ چال ایسی اچانک تھی کہ صلیبی جم کر لڑ نہ
سکے۔ سلطان ایوبی نے بہت سے قیدی پکڑے اور صلیبیوں کو بہت نقصان پہنچایا۔ اس نے پیش قدمی جاری رکھی اور دو اہم
مقامات ،بڈیا اور رملہ پر قبضہ کرلیا۔
یہ فتوحات قدرے آسان تھیں۔ مصرسے آئے ہوئے نئے سپاہیوں کے حوصلے بڑھگئے۔ وہ سمجھے کہ جنگ اسی طرح ہوتی ہے
جس میں فتح ہماری ہی ہوتی ہے۔ اس سے نئے سپاہی غیرمحتاط ہوگئے۔ صلیبیوں نے غالبا ً دانستہ پسپا ہوکر سلطان ایوبی کو
دھوکہ دیا تھا۔ انہوں نے تھوڑی سی فوج کی نمائش کی تھی۔ یہ فرنگی (فرینکس) تھے۔ رینالٹ اور بالڈون کی فوجیں ابھی
سامنے نہیں آئی تھیں۔ وہ اسی عالقے میں موجود تھے۔ اب صلیبیوں نے ایسے سخت اقدامات کیے تھے کہ سلطان ایوبی کے
جاسوس دشمن کے عالقے سے نکل ہی نہ سکے۔ تریپولی کے جاسوس کے بعد ادھر سے کوئی آہی نہ سکا۔
عیسی الہکاری نے رملہ
رملہ کے قریب ایک ندی تھی جس کا پانی تو گہرا نہیں تھا ،ندی گہرائی میں تھی اور چوڑی بھی۔
ٰ
کو فتح کرکے اپنے دستوں کو رملہ کے اردگرد پھیال دیا۔ اچانک ندی کے کنارے کی اوٹ میں صلیبیوں کی فوج یوں نکلی
عیسی الہکاری کے دستے بے خبری
جیسے سیالب کناروں سے باہر آگیا ہو۔ یہ فوج جانے کب سے وہاں چھپی بیٹھی تھی۔
ٰ
میں مارے گئے۔ وہ بکھرے ہوئے بھی تھے۔ مقابلہ نہ کرسکے۔ تریپولی کے جاسوس کی یہ اطالع صحیح ثابت ہوئی کہ صلیبی
ایسی چالیں چلیں گے جن سے سلطان ایوبی اپنے مخصوص طریقہ جنگ سے لڑنے کے قابل نہیں رہے گا۔
اس وقت کے ایک واقعہ نگار ابن اسیر نے لکھا ہے۔ ''فرنگی اس طرح ندی سے نکلے جیسے انسانوں اور گھوڑوں کا سیالب
کناروں سے باہر آکر آبادیوں کو اپنے ساتھ بہائے لے جارہا ہو۔ سلطان ایوبی کی فوج بے خبری میں مکمل گھیرے میں
آگئی''۔
مشہور مورخ جیمز نے لکھا ہے… ''شاہ بالڈون صالح الدین ایوبی سے پہلے اپنی فوج رملہ کے مضافات میں لے آیا تھا۔ :
صالح الدین ایوبی کی فوج نے رملہ کا شہر فتح کرلیا اور اس کے ہر اول کے ایک ساالر ایولن نے شہر کو آگ لگا دی تھی۔
صلیبیوں ( فرنگیوں) کی گھات کامیاب رہی۔ ایوبی گھیرے میں آگیا۔ اس کے دستے بکھر گئے۔ اس نے کئی دستے یکجا کرلیے
اور اپنی خصوصی چال کے مطابق جوابی حملہ کیامگر میدان صلیبیوں کے ہاتھ میں تھا۔ صالح الدین ایوبی کا حملہ نہ صرف
ناکام رہا بلکہ اس کے لیے پسپائی بھی ناممکن ہوگئی''۔
نئے رنگروٹ جو چند ایک مقامات آسانی سے فتح کرکے یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ انہیں کوئی شکست دے ہی نہیں سکتا۔ وہ
ایسے بھاگے کہ انہوں نے مصر کا رخ کرلیا۔ بھاگنے والوں میں ان کی تعداد زیادہ تھی جنہیں بعض غیرمحتاط فوجی افسروں نے
مال غنیمت کا اللچ دے کر بھرتی کیاتھا۔ سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ سب ناتجربہ کار تھے۔ سلطان ایوبی اس کیفیت
میں رہ گیاتھا کہ وہ ایک اونٹ پر سوار ہوکر میدان کارزار سے نکال اور اپنی جان بچائی۔
قاضی بہائوالدین شداد جو اس جنگ کا عینی شاہد ہے ،اپنی یادداشتوں میں لکھتا ہے… ''سلطان ایوبی نے مجھے اس شکست
کی وجہ ان الفاظ میں بتائی تھی… ''صلیبیوں نے میری چال چل کر میری فوج کو اس وقت جنگ میں گھسیٹ لیا جب میں
اسے جنگی ترتیب میں نہیں السکا تھا۔ دوسری وجہ یہ ہوئی کہ میری فوج کے پہلوئوں پر جو دستے تھے ،وہ جگہ آپس میں
بدل رہے تھے۔ یہ بہت بڑی نقل وحرکت تھی۔ صلیبیوں نے اس کیفیت میں حملہ کردیا۔ ان کا حملہ اتنا شدید اوراچانک تھا
کہ میرے نئے سپاہی اور سوار گھبرا کر پیچھے کو بھاگ اٹھے اور انہوں نے مصر کا رخ کرلیا۔ وہ راستے سے بھٹک گئے اور
عیسی الہکاری
دور دور بکھر گئے۔ میں انہیں یکجا نہ کرسکا۔ دشمن نے میری فوج سے بہت سے جنگی قیدی پکڑے۔ ان میں
ٰ
بھی تھا''… سلطان ایوبی نے اپنی فوج کو مروانے کے بجائے حکم دے دیا کہ اپنے اپنے طور پر میدان جنگ سے نکلو اور
قاہرہ پہنچنے کی کوشش کرو''۔
عیسی الہکاری کو رہا کرالیا۔ ایک مصرف واقعہ نگار محمد فرید
سلطان ایوبی نے صلیبیوں کو ساٹھ ہزار دینار زر فدیہ ادا کرکے
ٰ
ابوحدید نے لکھا ہے کہ سلطان ایوبی نے اپنے بھائی شمس الدولہ توران شاہ کو اس جنگ اور اپنی شکست کا حال لکھا تھا
جس میں اس نے عربی کا ایک شعر بھی لکھا تھا۔ اس کے معنی یہ ہیں۔
میں نے تمہیں اس وقت یاد کیا جب صلیبی برچھیاں چل رہی تھیں ،دشمن کی سیدھی اور گندمی رنگ کی برچھیاں ہمارے''
جسموں میں داخل ہوکر ہمارا خون پی رہی تھیں''۔
یہ معرکہ جمادی االول ٥٧٣ہجری (اکتوبر ١١٧٧ز) میں لڑا گیا تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی اس حالت میں قاہرہ پہنچا کہ
اس کا سرجھکا ہواتھا۔ اس کے ساتھ کوئی فوج نہیں تھی۔ اس کا محافظ دستہ بھی ساتھ نہیں تھا۔ اس نے قاہرہ پہنچتے ہی
مزید بھرتی کا حکم دیا۔ شام کے محاذ پر وہ اپنے بھائی العادل اور بڑے قابل ساالروں کو حماة کے عالقے میں چھوڑ آیا تھا۔
20:49
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔ 119جب فرض نے محبت کا خون کیا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج وہ رملہ اسرائیلیوں کے قبضے میں ہے جہاں آٹھ سو سال پہلے سلطان صالح الدین ایوبی نے صلیبیوں سے شکست کھائی
تھی۔ رملہ جو بیت المقدس سے دس میل دور شمال میں واقع ہے ،اردن کے عالقے میں ہے۔ جون ١١٦٧ء کی عرب اسرائیل
جنگ میں اسرائیلیوں نے اردن کے اس تمام عالقے پر قبضہ کرلیا تھا جو دریائے اردن کے مغربی کنارے پر اسرائیل کی سرحد
تک پھیال ہوا ہے۔ دس برس گزر گئے ہیں ،اسرائیلیوں نے یہ عالقہ خالی کرنے کے بجائے اس پر مکمل قبضہ کرلیاہے۔ اور کہا
ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں یہاں سے نکال نہیں سکتی۔ انہوں نے رملہ کو (اور اس تمام مقبوضہ عالقے کو) اس وقت
بھی قتل گاہ بنایاتھا جب انہوں نے اس پر قبضہ کیا تھا ،یہ آج بھی قتل گاہ ہے۔ گزشتہ ایک سال سے رملہ میں جو
مسلمان رہ گئے ،وہ اسرائیل حکومت کے خالف مظاہرے کررہے ہیں اور اسرائیلی انہیں ظلم وتشدد اور رائفلوں کی گولیوں سے
خاموش کررہے ہیں۔
اسرائیلیوں کی ہٹ دھرمی اور عربوں کے آپس میں اختالف بتا رہے ہیں کہ اسرائیلی اس عالقے کو نہیں چھوڑیں گے۔ دس
برس تو گزر گئے ہیں لیکن آٹھ سو سال پہلے جب یہ عالقہ اور یہی رملہ صلیبیوں کے قبضے میں آیا تھا تو سلطان صالح
الدین ایوبی ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھا تھا۔ وہ میدان جنگ سے بڑی مشکل سے جان بچا کر نکال تھا۔ اس کی فوج
ایسی بری طرح بھاگی کہ بکھر کر مصر کا رخ کرلیا۔ فوج کی خاصی نفری صلیبیوں کی قیدی ہوگئی اور کچھ نفری قاہرہ تک
بے سروسامانی کی حالت میں پاپیادہ جاتے صحرا اور سفر کی صعبتوں کی بھینٹ چڑھ گئی۔ ایسی شکست حوصلے اور جذبے
توڑ دیا کرتی ہے۔ سنبھلتے سنبھلتے مدتیں گزر جاتی ہیں لیکن سلطان ایوبی مصر جا کر نہ صرف سنبھال بلکہ اس عالقے میں
واپس گیا جہاں سے شکست کھا کر بھاگا تھا اور اس نے صلیبیوں کے لیے قیامت بپا کردی۔
رملہ آج پھر سلطان صالح الدین ایوبی کاا نتظار کررہا ہے۔
سلطان ایوبی کے سامنے صرف یہ مسئلہ نہیں تھا کہ شکست کا انتقام لینا ہے اور صلیبیوں کی پیش قدمی کو روکنا ہے ،اسے
بہت سے خطروں نے گھیر رکھا تھا۔ اس کی صفوں میں غداروں کی کمی نہیں تھی۔ سوڈان کی طرف سے حملے کا خطرہ
بڑھ گیا تھا۔ سوڈانیوں کو معلوم تھا کہ سلطان ایوبی کے پاس فوج نہیں رہی اور جو ہے وہ شکست خوردہ اور زخم خوردہ ہے۔
یہ خطرہ تو سب سے بڑا تھا کہ صلیبیوں کے پاس فوج دس گنا زیادہ تھی اور اس فوج کے حوصلے کو رملہ کی فتح نے
مضبوط کردیا تھا۔ ایک یہ خطرہ بھی تھا کہ جو مسلمان امراء سلطان ایوبی کے مخالف تھے ،وہ اس کی شکست سے فائدہ
اٹھا سکتے تھے۔ وہ ایک بار پھر متحد ہوکر سلطان ایوبی کی اس فوج کے لیے مصیبت بن سکتے تھے جسے وہ محاذ پر
اعلی اس کا اپنا بھائی العادل تھا جس پر سلطان ایوبی کو مکمل اعتماد تھا۔
چھوڑ آیا تھا۔ اس فوج کا ساالر
ٰ
اور ایک خطرہ صلیبی جاسوسوں کا بھی تھا۔ پسپائی کے وقت صلیبیوں کے جاسوسوں کا بھی مصری فوج کے بھیس میں مصر
پہنچ جانا آسان تھا۔ یہ جاسوس مصر میں افواہیں پھیال کر قوم کی خوصلہ شکنی کرسکتے تھے۔
اس شکست کے بعد العادل قرون حماة تک پیچھے ہٹ آیا تھا۔ اس داستان کی پچھلی اقساط میں آپ نے حماة کی جنگ
کی تفصیل پڑھی ہے۔ یہاں سلطان ایوبی نے اپنے مخالف مسلمان امراء کو شکست دی تھی۔ حماة کا قلعہ بھی تھا۔ صلیبی
سلطان کو شکست دے کر حماة کی طرف بڑھے۔ العادل خود بھی قابل ساالر تھا اور اس کے ساتھ جو ساالر تھے وہ مردان
حر تھے۔ ان کا دین وایمان سلطان ایوبی کی طرح پختہ تھا۔ العادل اپنے بھائی سلطان ایوبی کا شاگرد تھا۔ جنگی چالوں کی
مہارت اس سے سیکھی تھی۔ اسے اندازہ تھا کہ صلیبی اتنی بڑی اور اتنی آسان فتح کے بعد رملہ میں ہی خیمہ زن نہیں
ہوجائیں گے۔ اس نے کسی بہروپ میں اپنے جاسوس پیچھے چھوڑدیے اور خود فوج کے ساتھ حماة کا رخ کیا۔ اسے پتہ چل
گیاتھا کہ سلطان ایوبی مصر چال گیا ہے۔
اس کا اندازہ صحیح ثابت ہوا۔ جاسوسوں نے اسے اطالع دی کہ صلیبیوں کی فوج حماة کی طرف پیش قدمی کررہی ہے۔
العادل نے اپنی فوج کی کیفیت دیکھی۔ اچھی نہیں تھی۔ سپاہیوں کا حوصلہ مجروح ہوگیا تھا۔ گھوڑوں اور اونٹوں کی بھی کمی
ہوگئی تھی۔ رسد کی کیفیت بھی تسلی بخش نہیں تھی۔ البتہ وہ فوج کو بڑی اچھی جگہ لے آیا تھا جہاں سبزہ ،پانی اور
عالقہ پہاڑی تھا۔ العادل نے فوج کو ایک جگہ جمع کرلیا۔ اس نے دیکھا کہ اونٹوں کی خاصی تعداد زخمی ہے۔ اس نے ان
اونٹوں کو ذبح کرا دیا اور فوج سے کہہ دیا کہ پیٹ بھر کر گوشت کھائو۔ اس طرح اس نے رات کو ایک وسیع وادی میں
جشن کا منظر بنا دیا۔ شام کو ہی اس نے حلب اور دمشق کو اس پیغام کے ساتھ قاصد دوڑا دئیے تھے کہ جس قدر رسد،
جانور اور اسلحہ بھیج سکتے ہو ،بھیجو۔
رات جب سپاہی اونٹ کا گوشت کھا کر سیر ہوچکے تو العادل ایک ٹیکری پر چڑھ گیا۔ اس کے دائیں بائیں دو مشعل بردار
کھڑے تھے۔ اس نے انتہائی بلند آواز میں کہا… ''اللہ اور رسول صلی اللہ وآلہ وسلم کے مجاہدو! اس حقیقت کو قبول کرو کہ
ہم شکست کھا کر آئے ہیں۔ کیا تم اس حالت میں اپنی مائوں ،اپنی بہنوں ،اپنی بیویوں اور اپنی بچیوں کے سامنے جائو گے
اور انہیں یہ بتائو گے کہ ہم اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منکروں سے شکست کھا کر آئے ہیں؟ کیا تمہاری مائیں
تمہیں دودھ کی دھاریں بخش دیں گی؟ وہ گھروں میں بیٹھی اس خبر کا انتظار کررہی ہیں کہ ہم نے قبلہ اول کو کفار کے
قبضے سے آزاد کرالیا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ جن عالقوں میں کفار قابض ہیں ،وہاں وہ مسلمان عورتوں کو بے آبروکررہے ہیں۔
ذرا سوچو کہ اپنی مائوں اور بہنوں کو کیا جواب دو گے؟ تم میں سے جو یہاں سے پیچھے جانا چاہتے ہیں ،الگ کھڑے
ہوجائیں ،میں انہیں نہیں روکوں گا۔ انہیں گھروں کو جانے کی اجازت ہے''۔
العادل خاموش ہوگیا۔ فوج پر بھی خاموشی طاری تھی۔ کوئی ایک بھی سپاہی الگ نہ ہوا۔
اعلی ہمیں اپنا مقصد بتائیں''… کسی سپاہی کی آواز گرجی… ''آپ کو کس نے بتایا ہے کہ ہم گھروں کو جانا ''
ساالر
ٰ
''چاہتے ہیں؟
اگر میں پسپائی میں مارا گیا تو یہ میری وصیت ہے کہ میری الش دفن نہ کی جائے''… ایک اور آواز گرجی۔ ''گدھوں ''
اور بھیڑیوں کے لیے پھینک دی جائے''۔
پھر کئی آوازیں سنائی دیں۔ ہر آواز میں جذبے کا جوش تھا۔ العادل کا سینہ پھیل گیا۔ اس نے کہا… ''دشمن تمہارے پیچھے
آرہا ہے۔ تمہیں یہ ثابت کرنا ہے کہ رملہ کی فتح اس کی آخری فتح ہے… آج کی رات اور کل کا دن مکمل آرام کرو۔ کل
رات تمہیں بتا دیا جائے گا کہ ہم کیا کریں گے''۔
العادل نے فوج سے فارغ ہوکر اپنے ساالروں اور کمان داروں کو اپنے خیمے میں بال لیا ور انہیں ہدایات دیں کہ کل رات وہ
اپنے دستوں کو کہاں کہاں لے جائیں گے۔ حماة کا قلعہ قریب ہی تھا۔
صلیبی بہت تیزی سے پیش قدمی کررہے تھے۔ یہ بالڈون کی فوج تھی۔ اسے معلوم تھا کہ آگے حماة کا قلعہ ہے اور العادل
کی فوج اسی قلعے میں ہوگی۔ اسے جاسوسوں کے ذریعے یہ بھی معلوم تھا کہ جو فوج حماة کی طرف پسپا ہوکر گئی ہے
اس کا کمانڈر العادل ہے اور العادل سلطان ایوبی کا بھائی ہے۔ یہ تو معمولی سا فوجی بھی سمجھ سکتا تھا کہ تھکی ہوئی
اور شکست خوردہ فوج اپنے قریبی قلعے میں ہی جائے گی۔ چنانچہ صلیبی بادشاہ بالڈون نے برق رفتار پیش قدمی کرکے حماة
کے قلعے کا محاصرہ کرلیا۔ اس نے اعالن کیا کہ قلعے کا دروازہ کھول دیا جائے ،ورنہ قلعے کو زمین سے مال دیا جائے گا۔
وہ اس خیال میں تھا کہ العادل کی فوج لڑنے کی حالت میں نہیں۔ اعالن کے جواب میں قلعے کی دیوار سے تیروں کی
بوچھاڑیں آئیں۔
بالڈون نے ایک بار پھر اعالن کرایا کہ یہ خون خرابہ بے مقصد ہوگا۔ تم لڑ نہیں سکو گے۔ قلعہ ہمارے حوالے کردو۔ میں :
وعدہ کرتا ہوں کہ کسی قیدی کے ساتھ ناروا سلوک نہیں کیا جائے گا… قلعے کے اوپر سے آواز آئی۔ ''اتنی دور رہو جہاں
تک ہمارے تیر نہ پہنچ سکیں۔ قلعہ تمہیں دینے کے بجائے اسے ہم خود زمین سے مال دیں گے۔ ہمارا خون بے مقصد نہیں
بہے گا۔ تم بے مقصد موت مرو گے''۔
قلعے کی دیواروں پر جو کھڑے تھے ،انہیں صلیبیوں کی فوج یوں دکھائی دے رہی تھی جیسے سمندر کی موجیں ہر طرف سے
قلعے کو نرغے میں لیے ہوئے ہوں۔ اس کے مقابلے میں قلعے میں جو فوج تھی ،وہ نہ ہونے کے برابر تھی لیکن اس قلیل
فوج کے کمانڈر ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہ تھے۔ فوج بہت تھکی ہوئی تھی۔ یہ تعاقب تھا۔ بالڈون اس کوشش میں تھا کہ العادل
کو کہیں آرام کرنے اور اپنی فوج کو ازسرنو منظم کرنے کی مہلت نہ دے۔ وہ العادل کو زندہ پکڑنا چاہتا تھا۔ صالح الدین
ایوبی کا بھائی ہونے کی وجہ سے العادل بڑا ہی قیمتی قیدی تھا۔ اس کے عوض صلیبی سلطان ایوبی سے کڑی شرطیں منوا
سکتے تھے۔ کوئی عالقہ لے سکتے تھے۔ بالڈون کو پوری توقع تھی کہ وہ قلعہ ،قلعے کی فوج اور العادل سمیت لے سکے گا۔
٭ ٭ ٭
بالڈون نے اپنی فوج کو قلعے سے اتنی دور پیچھے ہٹا لیا تھا جہاں تک قلعے والوں کے تیر نہیں پہنچ سکتے تھے۔ اسے ایسا
خطرہ تو تھا ہی نہیں کہ باہر سے کوئی فوج اس پر حملہ کردے گی۔ سلطان ایوبی بھی وہاں نہیں تھا۔ اس کی فوج بھی
نہیں تھی۔ بالڈون کو حماة کا قلعہ اپنے قدموں میں پڑا نظر آرہا تھا۔ شام کے فورا ً بعد وہ اپنے کمانڈروں کو اگلے روز کے
احکامات دے کر اپنی ذاتی خیمہ گاہ میں چال گیا تھا جو فوج سے کچھ دور پیچھے تھی۔ اس دور کے جنگجو بادشاہوں کی
خیمہ گاہیں شیش محل سے کم نہیں ہوتی تھیں۔ بالڈون تو فاتح تھا۔ تین چار صلیبی لڑکیاں اس کے ساتھ تھیں اور چار وہ
مسلمان لڑکیاں تھیں جنہیں صلیبی کمانڈروں نے مفتوحہ عالقے سے پکڑا اور بالڈون کو بطور تحفہ پیش کی تھیں۔ یہ لڑکیاں
عرب کے حسن کا شاہکار تھیں۔
صلیبی لڑکیوں نے انہیں ذہن نشین کرادیا تھا کہ ان کا رونا اور آزاد ہونے کے لیے تڑپنا بے کار ہے۔ انہیں یہ بھی بتایا گیا تھا
کہ وہ خوش قسمت ہیں جو صلیب کے بادشاہ کے حصے میں آئی ہیں جو لڑکیاں صلیبی فوجیوں کے قبضے میں آگئی ہیں ،ان
کا حشر دیکھ کر زمین اور آسمان کانپتے ہیں… ''تمہیں آخر کسی مسلمان امیر یا حکام کے حرم میں جانا تھا جہاں تم
قیدقی ہوتیں۔ دو چار سال بعد جب تمہاری نوجوانی کی کشش ماند پڑنے لگتی تو تمہیں کسی سوداگر کے ہاتھ فروخت کردیا
جاتا۔ تم اگر اپنی فوج کے ہاتھ چڑھ جاتیں تو تمہارے مسلمان بھائی تمہارا وہی حشر کرتے جو ہماری فوج کرتی ہے۔ عورت
کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ،اسے جس کے ساتھ بیاہ دیا جائے یا وہ جس کے قبضے میں آجائے ،وہی انسان اس کا خدا اور اس
کا مذہب بن جاتا ہے۔ پھر کیوں نہ تم اس انسان کے پاس رہو جو میدان جنگ کا بادشاہ ہے۔ ایک ملک کا بادشاہ ہے اور
دل کا بھی بادشاہ ہے''۔
پہلے روز لڑکیاں تڑپی تھیں۔ ان پر تشدد نہ کیا گیا ،انہیں کوئی دھمکی نہ دی گئی۔ بالڈون نے جب دیکھا کہ یہ نوجوان ہیں
اور خوبصورت بھی ہیں تو اس نے اپنی ہائی کمانڈ کے جرنیلوں سے کہا تھا کہ ان لڑکیوں کو ٹریننگ دے کر بہتر طریقے سے
استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایسی قیمتی لڑکیوں کو عیاشی کا ذریعہ بنا کر ضائع نہیں کرنا چاہیے چنانچہ اس نے انہیں اپنے
پاس رکھ لیا تھا مگر اس سے یہ توقع نہیں رکھی جاسکتی تھی کہ وہ انہیں بیٹیاں بنا کر رکھے گا۔ اس نے ان کے ساتھ
وہی سلوک کیا جس کی توقع تھی لیکن انہیں اپنی قوم کی شہزادیوں جیسی اہمیت دی ،انہیں سبز باغ دکھائے اور باتوں
باتوں میں انہیں آسمان تک پہنچا دیا۔
ہمیں اپنی عصمت کی قربانی دینی ہی پڑے گی''… ان میں سے ایک لڑکی نے اس وقت کہا جب چاروں کو تنہائی '' :
میں باتیں کرنے کا موقع مال تھا… ''ہمیں فرار ہونا چاہیے''۔
اور انتقام لینا چاہیے''۔ دوسری نے کہا۔''
لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم ان پر یہ ظاہر نہ کریں کہ ہم نے ان کی غالمی دلی طور پر قبول کرلی ''
ہے''… پہلی لڑکی نے کہا… ''ہمیں اپنا اعتماد پیدا کرنا ہے''۔
میرے والد سلطان ایوبی کی فوج میں ہیں''… ایک اور لڑکی نے کہا… ''آج کل مصر میں ہیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ ''
کافروں کی لڑکیاں اپنی قوم اور اپنی صلیب کی خاطر اپنی عزت کی قیمت دے کر ہمارے بڑے بڑے حاکموں کو صلیب کی
وفادار بنا لیتی ہیں ،کسی کو قتل کرنا ہو تو قتل کرادیتی ہیں۔ ہماری فوج کے راز معلوم کرکے اپنے حاکموں تک پہنچاتی
ہیں''۔
میں جانتی ہوں''… ایک اور لڑکی بولی… ''ان کی لڑکیاں وہی کام کرتی ہیں جو ہمارے مرد جاسوس دشمن کے ملک ''
میں جا کر کرتے ہیں''۔ وہ چپ ہوگئی۔ ادھر ادھر دیکھ کر راز داری سے بولی… ''اگر ہم انہیں کہہ دیں کہ ہم ان کا
مذہب قبول کرتی ہیں تو ایسا موقع پیدا ہوسکتا ہے کہ ہم اس بادشاہ کو قتل کردیں''۔
اور کچھ نہ ہوا تو فرار کا موقع پیدا کیا جاسکتا ہے''… ایک لڑکی نے کہا۔''
جس رات بالڈون کی فوج نے حماة کے قلعے کو محاصرے میں لے رکھا تھا ،اس سے دو راتیں پہلے لڑکیوں نے پیش قدمی کے
دوران صلیبی لڑکیوں سے کہہ دیا تھا کہ وہ ان کی باتیں سمجھ گئی ہیں اور وہ کسی وقت بھی مذہب تبدیل کرلیں گی۔
بالڈون کو بتایا گیا تو اس نے چاروں لڑکیوں کو بیش قیمت ہار پیش کیے اور چاروں کے گلے میں چھوٹی چھوٹی صلیبیں لٹکا
دیں مگر اس نے صلیبی لڑکیوں کو الگ کرکے کہا… ''میں ان چاروں میں سے کسی کے ہاتھ سے کچھ کھائوں ،پئوں گا نہیں۔
ہوسکتا ہے انہوں نے ڈر کی وجہ سے مذہب تبدیل کیا ہو۔ زبان سے مذہب تبدیل کیا جاسکتا ہے ،دل کی تبدیلی آسان نہیں
ہوتی۔ ان کے دلوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرو۔ مسلمانوں کو خریدنا کوئی مشکل نہیں ،لیکن مسلمانوں پر بھروسہ کرنا بھی
خطرے سے خالی نہیں جو مسلمان ایمان کے پکے ہیں ،وہ ایسی ایسی قربانی دے ڈالتے ہیں جس کا ہماری قوم تصور بھی
نہیں کرسکتی۔ یہ لڑکیاں کہیں بھاگ کر نہیں جاسکتیں لیکن ان پر نظر رکھنا کہ یہ مجھ پر وار نہ کرجائیں''۔
٭ ٭ ٭
محاصرے کی پہلی رات یہ چاروں لڑکیاں الگ خیمے میں سوئی ہوئی تھیں۔ بالڈون بھی ان کے ساتھ ہنس کھیل کر سوگیا تھا۔
تمام چھوٹے بڑے کمانڈر بے ہوشی کی نیند سوئے ہوئے تھے۔ فوج کو بھی ہوش نہیں تھی۔ صرف سنتری اور بالڈون کے باڈی
گار ڈ کے چارپانچ سپاہی جاگ رہے تھے۔ قرون حماة کی ایک وادی قلعے کی طرف نکلتی تھی۔ آگے قلعے تک میدان تھا۔
اس وادی سے کم وبیش ایک ہزار پیادہ سپاہی دبے پائوں نکلے۔ ان کے کمانڈر نے انہیں ٹولیوں میں بانٹ کر پھیال دیا۔ وہ
آگے بڑھتے گئے۔ بالڈون کی فوج کے خیمے دور نہیں تھے۔
یہ پیادہ سپاہی العادل کے تھے۔ العادل قلعے میں نہیں تھا۔ اسے اندازہ تھا کہ صلیبی قلعے کا محاصرہ کریں گے ،چنانچہ اس
نے اپنے تمام دستے حماة کی پہاڑیوں میں چھپالیے تھے۔ اس نے قلعے میں اطالع بھجوائی تھی کہ محاصرے سے گھبرائیں
نہیں۔ العادل نے قلعہ دار کو اپنی سکیم بتا دی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ قلعہ دار صلیبیوں کی للکار کا جواب پوری دلیری سے
اور تیروں کی بوچھاڑ سے دے رہا تھا۔ قلعہ دار العادل کا ماموں شہاب الدین الحارمی تھا۔ رات کو العادل کے ایک ہزار پیادوں
نے ٹولیوں میں تقسیم ہوکر اور پھیل کر شب خون کے انداز کا حملہ کیا۔ انہوں نے سب سے پہلے خیمے کی رسیاں کاٹیں
اور اوپر سے صلیبیوں کو برچھیوں سے چھلنی کرنا شروع کردیا۔ خیموں کے نیچے پھنسے ہوئے سپاہی کیا مزاحمت کرسکتے
تھے۔
یہ جم کر لڑنے واال معرکہ نہیں تھا۔ یہ سلطان ایوبی کا مخصوص طریقہ جنگ تھا… ''ضرب لگائو اور بھاگو''… اتنی بڑی
فوج کے خالف ایک ہزار سپاہی جم کر لڑ بھی نہیں سکتے تھے۔ ٹولیوں کو مختلف کام دئیے گئے تھے۔ یہ دو تین ٹولیوں نے
صلیبیوں کے گھوڑوں ،اونٹوں اور خچروں کے رسے کھول دئیے۔ یہ ایک ہزار سپاہی بگولے کی طرح آئے اور دائیں بائیں کو نکل
گئے۔ صلیبیوں کی فوج میں ایسا شور اٹھا کہ ایسی ہڑبونگ مچی کہ زمین وآسمان کانپنے لگے۔
باڈون کی آنکھ کھل گئی۔ اس کے کمانڈر بھی جاگ اٹھے۔ خیمے سے باہر جاکر بالڈون نے دیکھا کہ کہیں آگ لگی ہوئی ہے۔
العادل کے سپاہیوں نے خیموں کو آگ لگا دی تھی۔ حملے کے وقت انہوں نے اللہ اکبر کے نعرے لگائے تھے۔ یہ نعرے
مسلمان لڑکیوں نے بھی سنے تھے۔ وہ سمجھ گئیں کہ یہ مسلمان فوج کا حملہ ہے۔ ایک لڑکی نے کہا کہ بھاگ چلو لیکن دو
لڑکیاں جوش میں آگئیں۔ وہ بالڈون کو قتل کرنے کے لیے تیار ہوگئیں ،وہاں مشعلیں جال دی گئیں۔ بالڈون کے باڈی گارڈ اس
کے اردگرد گھوڑوں پر سوار کھڑے ہوگئے۔
اتنے میں زمین بڑی زور سے ہلنے لگی اور ہزاروں گھوڑوں کی ٹاپ سنائی دینے لگی۔ یہ العادل کے سوار تھے جن کی تعداد
مسلمان مورخ دو ہزار بتاتے ہیں اور یورپی مورخ چار ہزار سے زیادہ۔ ان گھوڑ سواروں نے پھیل کر بڑا ہی شدید اور خون ریز
ہلہ بوال۔ صلیبی مقابلے کی حالت میں نہیں تھے۔ انہیں ابھی معلوم ہی نہیں ہوسکا تھا کہ یہ کیاہورہا ہے اور حملہ آور کہاں
سے آئے ہیں۔ ان کے نعروں سے ثبوت ملتا تھا کہ مسلمان ہیں۔ العادل کے سوار صلیبیوں کے محاصرے کو توڑتے ہوئے اور
راستے میں جو آیا اسے گھوڑوں تلے روندتے یا تلواروں اور برچھیوں کا نشانہ بناتے ہوئے قلعے کی طرف نکل گئے۔ کمانڈروں
کی پکار پر انہوں نے گھوڑے پیچھے کو موڑے اور ایڑی لگا دی۔ وہ ایک بار پھر افراتفری میں بھاگتے دوڑتے صلیبیوں میں سے
گزرے۔
قلعے کی دوسری طرف جو صلیبی فوج تھی ،اس پر حملہ نہیں ہوا تھا۔ اس حصے نے ادھر کا شوروغوغا اور گھوڑوں کی
قیامت خیز آوازیں سنیں تو ان میں بھی بھگڈڑ مچ گئی۔ ادھر کے صلیبی سپاہی ادھر کو بھاگے۔ ان کے ہزار ہا گھوڑے ،اونٹ
اور خچریں کھول دی گئی تھیں۔ انہوں نے بھاگ دوڑ کر سپاہیوں کو کچلنا اور خوف زدہ کرنا شروع کردیا۔ بالڈون کی فوج کا
وہ حصہ بھاگ اٹھا۔
ادھر چاروں مسلمان لڑکیاں الپتہ ہوگئیں۔ ان میں سے ایک اس کوشش میں تھی کہ مسلمان سپاہیوں کو بتائے کہ بالڈون یہاں
ہے مگر وہاں سب سوار تھے اور سرپٹ گھوڑے دوڑا رہے تھے۔ وہ صلیبیوں کی فوج سے دور نکل گئی۔ دو تین سواروں کے
ساتھ چیختی چالتی دوڑی مگر وہاں اس قدر شور تھا کہ کسی نے اس کی آواز نہ سنی ،کوئی اس کی طرف توجہ نہ دے
سکا۔ وہ دور پیچھے نکل گئی۔ ایک سوار نے گھوڑا روک لیا۔ لڑکی نے اسے ہانپتی کانپتی آواز میں بتایا کہ وہ مسلمان ہے
اور اس جیسی تین اور مسلمان لڑکیاں صلیبی بادشاہ کے قبضے میں ہیں۔ بالڈون کی خیمہ گاہ جو اس کا جنگی ہیڈکوارٹر بھی
تھا ،فوج سے الگ اور دور تھی۔ لڑکی کی آوازپر جس سوار نے گھوڑا روکا تھا ،وہ کوئی کمان دار تھا۔ اس نے لڑکی کو گھوڑے
پر بٹھایا اور پیچھے لے گیا۔
وہاں العادل کا ایک ساالر تھا جس نے لڑکی کی پوری بات سنی۔ لڑکی نے بالڈون کے ہیڈکوارٹر کی نشاندہی کی۔ ساالر نے
وہاں شب خون مارنے اور بالڈون کو پکڑنے کے لیے دو جیش تیار کیے اور خود ان کی قیادت کی۔ اس نے سرپٹ گھوڑے دوڑا
کر بالڈون کی خیمہ گاہ کو گھیرے میں لے لیا۔ ان کے ساتھ جلتی ہوئی مشعلیں بھی تھیں۔ ساالر نے بالڈون کو للکارا۔ خیموں
کو آگ لگانے کی دھمکی دی۔ ان میں مالزم ،صلیبی اور تین مسلمان لڑکیاں اور چند ایک سپاہی تھے۔ ان سب کو پکڑ لیا
گیا۔ بالڈون کے متعلق پوچھا گیا مگر کوئی نہ بتا سکا کہ وہ کہاں ہے۔
اس وقت بالڈون گھبراہٹ کے عالم میں آگے چال گیا تھا۔ اسے معلوم ہوگیا تھا کہ یہ مسلمان فوج کا شب خون ہے ،لیکن :
وہاں اس قدر بھگڈر تھی اور اتنے زیادہ گھوڑے دوڑ رہے تھے اور زخمی ایسی بری طرح چیخ رہے تھے کہ صورت حال پر قابو
پانا بالڈون کے بس کا روگ نہیں تھا۔ وہ واپس اپنی خیمہ گاہ کو چل پڑا۔ اس کے ساتھ باڈی گارڈز بھی تھے۔ وہ خیمہ گاہ
سے ابھی کچھ دور ہی تھا کہ ادھر سے ایک سوار گھوڑا دوڑاتا آیا۔ گھوڑا اس کے سامنے روک کر بالڈون سے کہا کہ وہ کہیں
چال جائے اپنی خیمہ گاہ میں نہ جائے ،کیونکہ وہاں مسلمان فوج پہنچ چکی ہے۔ بالڈون نے وہیں سے گھوڑے کا رخ پھیر لیا۔
رات بھر العادل نے ''ضرب لگائو اور بھاگو'' کی کارروائی جاری رکھی۔ جب صبح طلوع ہوئی تو حماة کے قلعے کے اردگرد
صلیبیوں کی الشیں بکھری ہوئی تھیں۔ ان میں زخمی بھی کراہ رہے تھے اور ان میں العادل کے شہیدوں کی الشیں بھی تھیں۔
خچریں ،گھوڑے اور اونٹ دور دور بکھرے ہوئے چر رہے تھے۔ وہاں بالڈون تھا نہ اس کی فوج۔ صلیبی اپنی رسد بھی پھینک
گئے تھے۔ العادل نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ وہ دشمن کا سامان اکٹھا کرے اور اس کے جانوروں کو پکڑے۔ العادل کا یہ
حملہ دلیری ،جذبے ،فن حرب وضرب کے لحاظ سے قابل تعریف حملہ تھا مگر جنگی نقطہ نگاہ سے اس سے کوئی فائدہ نہ
اٹھایا جاسکا۔ ضرورت یہ تھی کہ افراتفری میں بھاگتے ہوئے صلیبیوں کا تعاقب کرکے ان کی جنگی قوت کو مکمل طور پر تباہ
کردیا جاتا ،پھر پیش قدمی کرکے اس عالقے میں داخل ہوا جاتا جو صلیبیوں نے فتح کرلیاتھا۔ قیدی پکڑے جاتے جنہیں اپنے
قیدی چھڑانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ،مگر العادل کے لیے ممکن نہ تھا کہ کامیاب شب خون سے کوئی بڑی کامیابی
حاصل کرسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس فوج کی کمی تھی۔ وہ تعاقب کے قابل نہیں تھا۔ شب خون اور
چھاپہ مارنے سے دشمن کو پریشان اور ادھ موا کیا جاتا ہے۔ اسے شکست دے کر عالقے پر قبضہ کرنے کے لیے پوری فوج
حملہ کرتی ہے۔ العادل نے ایک کام تو کرلیا تھا لیکن اگلے مرحلے کے لیے اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔
البتہ اس نے یہ کامیابی حاصل کرلی کہ اس نے اس قلیل فوج کے جذبے پر رملہ کی شکست کا جو برا اثر پڑا تھا ،وہ صاف
ہوگیا اور سپاہیوں کے جذبے تروتازہ ہوگئے۔ ان کے دلوں میں یہ اعتماد بحاء ہوگیا کہ صلیبی ان سے برتر نہیں اور وہ کسی
بھی میدان میں صلیبیوں کو شکست دے سکتے ہیں۔ ضرورت فوج میں اضافے کی تھی۔ یہ کامیابی بھی حاصل کی گئی کہ
حماة کے قلعے کو بچا لیا گیا ،ورنہ صلیبیوں کو ایک قلعہ بند اڈا مل جاتا۔
العادل اپنے ہیڈکوارٹر میں دانت پیس رہا تھا۔ اس کے ساالروں کی جذباتی حالت اس سے زیادہ مشتعل تھی۔ اگر ان کے پاس
فوج ہوتی تو وہ اس شب خون کے بعد بہت بڑی کامیابی حاصل کرلیتے اور بالڈون اپنی فوج کو زندہ نہ لے جاسکتا۔ العادل
نے کاتب کو بالیا اور اپنے بڑے بھائی سلطان صالح الدین ایوبی کے نام خط لکھوانے لگا۔
''!برادر بزرگوار ،سلطان مصر وشام'' :
اللہ آپ کو سلطنت اسالمیہ کے وقار کی خاطر عمر طویل عطا فرمائے۔ میں اس امید پر خط لکھ رہا ہوں کہ آپ ''
بخیروعافیت قاہرہ پہنچ چکے ہوں گے۔ کسی نے اطالع دی تھی کہ آپ شہید ہوگئے ہیں پھر معلوم ہوا کہ زخمی ہوئے ہیں۔
میں اور میرے ساالر فکر مند رہے۔ آپ نے دانش مندی کی جو راستے سے قاصد بھیج کر ہمیں بتا دیا کہ آپ زندہ وسالمت
ہیں اور قاہرہ جارہے ہیں۔ مجھے توقع ہے کہ آپ نے رملہ کی شکست کو دل پر بار نہیں بنایا ہوگا۔ ہم انشاء اللہ شکست کا
…''انتقام لیں گے۔ کھوئے ہوئے عالقے واپس لیں گے اور بیت المقدس سے بھی آگے جائیں گے
آپ شکست کے اسباب پر غور کررہے ہوں گے۔ میں اس کی ذمہ داری فوج پر عائد نہیں کروں گا۔ ہمیں شکست کے ''
راستے پر اپنے بھائیوں نے اسی روز ڈال دیا تھا جس روز ہمارے خالف صف آراء ہوئے تھے۔ جب دو بھائی آپس میں لڑتے
ہیں تو ان کے دشمن ہمدردی کے پردے میں انہیں ایک دوسرے کے خالف مشتعل کرتے ہیں۔ ہمارے بھائیوں کو بادشاہی کے
نشے نے اندھا کیا۔ وہ دولت جس کی ضرورت سلطنت اسالمیہ کو تھی ،خانہ جنگی میں ضائع ہوئی۔ ہماری فوج کی بہترین
اور تجربہ کار نفری تباہ ہوگئی۔ ان کی فوج جو اسی خالفت کی فوج تھی جس کے ہم ہیں ،صرف اس لیے ضائع ہوگئی کہ
چند ایک افرادنے تخت وتاج کے خواب دیکھنے شروع کردئیے تھے جس قوم کے سربراہوں میں تخت وتاج کا اللچ پیدا ہوگا
اس کو وہ اپنے اپنے عزائم کے مطابق دھڑوں میں تقسیم کرکے آپس میں ضرور لڑائیں گے۔ ہمیں اس طرف بھی توجہ دینی
پڑے گی کہ قوم دھڑوں اور گروہوں میں تقسیم نہ ہونے پائے۔ مذہبی فرقہ بندیاں ہی کیا کم تھیں کہ سلطانی کے حصول کے
لیے قوم گروہوں میں تقسیم ہونے لگی ہے۔ ہمیں شکست تک اسی فرقہ بندی نے پہنچایا ہے مگر اس کی سزا آج ساالروں اور
سپاہیوں کو مل رہی ہے۔ ہماری بہترین فوج خانہ جنگی میں ضائع ہوئی۔ اس کمی کو ہم نے نئی بھرتی سے پورا کیا اور
…''شکست کھائی۔ میدان جنگ سے بے ترتیب بھاگنے والے تمام نئے سپاہی تھے
میں نے اور میرے ساالروں نے رملہ کی شکست کے فورا ً بعد ثابت کردیا ہے کہ فوج نہیں ہاری۔ میرے پاس وہی پیادہ اور ''
سوار نفری تھی جو آپ نے میری کمان میں دی تھی۔ آپ نے مجھے محفوظہ (ریزرو) میں رکھا مگر میدان جنگ کی کیفیت
اس قدر تیزی سے بدل گئی کہ مجھ تک آپ کا کوئی حکم نہ پہنچ سکا۔ یہ بھی پتہ نہ چال کہ آگے کیا ہورہا ہے اور میں
آپ کی کیا مدد کرسکتا ہوں۔ پسپا ہونے والے ایک کمان دار نے جو دائیں پہلو پر تھا ،مجھے بڑی ہی تشویشناک اطالع دی
اور مشورہ دیا کہ میں اپنے دستے استعمال نہ کروں اور حملے کی لغزش نہ کروں۔ میں نے یہی بہتر سمجھا کہ کم از کم ان
دستوں کو جو معرکے میں ابھی شریک ہی نہیں ہوئے ،بچا لوں۔ میں نے اپنے جذبات پر قابو پالیا اورعقل سے کام لیا۔ میں
…''نے حماة کی طرف کوچ کا حکم دے دیا
میرے دستوں کا جذبہ کسی حد تک مجروح ہوگیا تھا۔ میں دعا کرتا رہا کہ دشمن میرے سامنے آئے اور میں اپنے دستوں ''
کے جذبے میں جان ڈالوں۔ میں نے مخبر پیچھے چھوڑ دئیے تھے۔ حماة کے کوہستان میں مجھے مخبروں نے یہ قیمتی خبریں
دیں کہ بالڈون میرے تعاقب میں آرہا ہے۔ وہ اس غلط فہمی میں اپنی تمام تر فوج حماة کے قلعے کو محاصرے میں لینے کو
آیا کہ میں قلعے میں ہوں گا لیکن میں نے آپ کے طریقہ جنگ کے عین مطابق کوہستان کے اندر دستے چھپا دئیے تھے اور
قلعہ دار کو صورت حال اور اپنی متوقع چال کے متعلق تفصیال ً بتا دیا تھا۔ میری توقع اللہ نے پوری کی۔ بالڈون کی فوج پر
جس کی قوت ہم سے دس گنا زیادہ تھی ،میرے جانباز جیشوں نے بڑا ہی دلیرانہ اور کامیاب شب خون مارا یہ آپ کی اس
فوج کا شب خون تھا جس کے متعلق تاریخ کہے گی کہ اس نے شکست کھائی تھی۔ میری خواہش ہے کہ یہ شب خون
…''تحریر میں ال کر کاغذات میں رکھ لیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں یہ نہ کہیں شکست کے بعد قوم مر ہی جاتی ہے
اگر آپ وہ منظر دیکھتے جو اگلے روز کے سورج نے ہمیں دکھایا تو آپ شکست کے صدمے کو بھول جاتے۔ مجھے افسوس ''
ہے کہ بالڈون میرے پھندے سے نکل گیا۔ اسے پکڑا نہیں جاسکا۔ میں اس وقت ایک ٹیکری پر کھڑا کاتب سے یہ خط لکھوا
رہا ہوں۔ مجھے حماة کا قلعہ نظر آرہا ہے۔ اس پر وحدت مصر وشام کا جھنڈا لہرا رہا ہے۔ قلعے کے اردگرد صلیبیوں کی
الشوں کے عالوہ کچھ اور دکھائی دیتا ہے تو وہ ہزاروں گدھ ہیں جو الشوں کو کھا رہے ہیں۔ آسمان سے گدھ اتر رہے ہیں۔
کہیں کہیں سے دھواں اٹھ رہا ہے۔ یہ آگ گزشتہ رات میرے چھاپہ ماروں نے لگائی تھی۔ بالڈون کی فوج جس افراتفری میں
…''بھاگی ہے ،اس سے میں وثوق سے کہتا ہوں کہ بالڈون جوابی حملہ نہیں کرسکے گا۔ تاہم میں اس کے لیے تیار ہوں
اگر میرے پاس اتنے ہی دستے اور ہوتے جتنے اب ہیں تو میں صلیبیوں کا تعاقب کرتا اور شکست کو فتح میں بدل دیتا۔ ''
میں آپ کو یقین دالتا ہوں کہ میرے ساالروں ،کمان داروں اور تمام تر سپاہ کا لڑنے کا جذبہ تروتازہ ہوگیا ہے۔ مجھے امید ہے
کہ آپ آرام سے نہیں بیٹھے ہوں گے۔ فوج کے لیے بھرتی اور نئی تنظیم میں مصروف ہوگئے ہوں گے۔ آپ اطمینان سے تیاری
کریں ،میں چھاپہ مار جنگ جاری رکھوں گا۔ دشمن کو کہیں بھی آرام سے بیٹھنے نہیں دوں گا۔ اس طرح میں کسی عالقے پر
قبضہ تو نہیں کرسکوں گا ،البتہ آپ کو تیاری کا وقت مل جائے گا۔ میں نے دمشق بھائی شمس الدولہ کو پیغام بھیج دیا ہے
کہ مجھے چند ایک دستے اور دیگر سامان بھیجے۔ حلب ،الملک الصالح کو بھی پیغام بھیج دیا ہے کہ معاہدے کے مطابق
مجھے مدد دے۔ میں آپ کو اللہ کے بھروسے پر تسلی دے رہا ہوں کہ میرے متعلق فکر نہ کریں۔ میں اور میرے ساالر آپ
کی خیریت اور سرگرمیوں کے متعلق جاننے کو بے تاب ہیں۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اسی کی ذات باری سے مدد مانگتے ہیں
''اور ہم سب کو اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے۔
''الملک العادل''
العادل نے خط پڑھوا کر سنا۔ اس پر دستخط کیے اور قاصد کو دے کر قاہرہ کو روانہ کردیا۔
٭ ٭ ٭
قاہرہ کی فضا پر مایوسی کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ سلطان صالح الدین ایوبی وہاں پہنچ چکا تھا۔ شہر میں اور شہر کے
مضافات میں یہی ایک آواز ابھرتی سنائی دیتی تھی ،شکست ،شکست ،شکست… شکوک اور شبہات بھی ابھرنے لگے تھے۔
شکست جیسے حادثات اور ایسے واقعات جن کے متعلق لوگوں کو کچھ پتہ نہ چل سکے ،ایسی فضا پیدا کردیتے ہیں جس سے
افواہیں پھوٹتی ،پھلتی ،پھولتی اور پھیلتی ہیں۔ یہ عمل قاہرہ کے اندر بھی اور اردگرد بھی شروع ہوگیا تھا۔ وہاں دشمن کے
تخریب کار اور جاسوس بھی موجود تھے جو یورپ کے باشندے نہیں مصر کے رہنے والے مسلمان تھے۔ اس کی انہیں اجرت
ملتی تھی کہ لوگوں میں یہ مشہور کریں کہ صلیبیوں کے پاس اتنی جنگی قوت ہے جس کے سامنے دنیا کی کوئی فوج نہیں
ٹھہر سکتی۔ سلطان ایوبی کی ہاری ہوئی فوج کے خالف یہ مشہور کیا جانے لگا کہ بے کار اور عیاش فوج ہے۔ جہاں جاتی
ہے ،لوٹ مار کرتی اور مسلمان خواتین کی آبروریزی سے بھی گریز نہیں کرتی۔ سلطان ایوبی کی جنگی اہلیت کے خالف بھی
باتیں شروع ہوگئیں۔
لوگ جس قدر سیدھے سادھے ہوتے ہیں ،اتنے ہی زیادہ افواہوں اور جذباتی باتوں کو مانتے ہیں۔ مصریوں نے دہشت کو بھی
قبول کرنا شروع کردیا تھا۔ زیادہ تر دہشت وہ سپاہی پھیالتے تھے جو اکیلے یا دو دو چار چار کی ٹولیوں میں مصر کی سرحد
میں داخل ہورہے تھے۔ یہ دیہات کے رہنے والے تھے ،جنہیں بھرتی کرکے اور تھوڑی سی ٹریننگ دے کر میدان جنگ میں لے
جایا گیا تھا۔ العادل نے ٹھیک لکھا تھا کہ بادشاہی کے اللچی مسلمان امراء اپنی اور سلطان ایوبی کی فوج کو خانہ جنگی
میں ضائع نہ کرادیتے تو نئی بھرتی کو میدان جنگ میں لے جانے کا خطرہ مول نہ لیا جاتا۔ ایک غلطی بھرتی کرنے والے
چند ایک حکام نے کی تھی جو یہ تھی کہ فوج میں کشش پیدا کرنے کے لیے انہوں نے بھرتی ہونے والوں کو مال غنیمت کا
اللچ دیا تھا جبکہ ضرورت یہ تھی کہ انہیں
جہاد کے فضائل اور اغراض ومقاصد بتائے جاتے اور بتایا جاتا کہ ان کا دشمن کون ہے ،کیسا ہے اور اس کے عزائم کیا ہیں۔
یہ سپاہی پیادہ بھی آرہے تھے۔ اونٹوں اور گھوڑوں پر بھی آرہے تھے۔ جب کوئی سپاہی کسی آبادی میں داخل ہوتا تھا: ،
لوگ اسے گھیر لیتے ،کھیالتے پالتے اور میدان جنگ کی باتیں پوچھتے تھے۔ یہ گنوار سپاہی شکست کی خفت مٹانے کے لیے
اپنے کمانڈروں کو نااہل اور عیاش ثابت کرتے اور صلیبی فوج کے متعلق دہشت ناک باتیں سناتے تھے۔ بعض کی باتوں سے
پتہ چلتا تھا جیسے صلیبیوں کے پاس کوئی مافوق الفطرت قوت ہے جس کے زور پر وہ جدھر جاتے ہیں ،صفایا کرتے جاتے
ہیں۔
ایسے مورخوں کی تعداد زیادہ تو نہیں لیکن دو تین نے جن میں ارنول قابل ذکر ہے۔ لکھا ہے کہ صلیبی ایک خفیہ ہتھیار
الئے تھے اور یہی ان کی فتح کا باعث بنا تھا۔ تاریخ کی مختلف تحریروں میں اس خفیہ ہتھیار کا آگے چل کر کوئی ذکر
نہیں ملتا۔ قاضی بہائوالدین شداد کی ڈائری میں جو عینی شہادت ہے ،ایسے کسی ہتھیار کا ذکر نہیں۔ اس دور کے دیگر وقعہ
نگاروں اور کاتبوں کی تحریریں بھی اس پراسرار ہتھیار کے متعلق خاموش ہیں۔ غالبا ً یہ ہتھیار اس پراپیگنڈے کا ایک خالی
ہتھیار تھا جسے مصر ( اور دیگر مسلمان عالقوں) میں صلیبیوں کی دہشت پھیالنے کے لیے کیا گیا تھا۔ ہوسکتا ہے اس کے
بہت زیادہ ذکر سے مورخوں نے اسے حقیقی سمجھ لیا ہو۔
یہ خفیہ ہتھیار دراصل پراپیگنڈا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ قوم کی نظروں میں فوج کو ذلیل ورسوا کردیا جائے تاکہ سلطان
ایوبی کی فوج قوم کے تعاون اور نئی بھرتی سے محروم ہوجائے۔ دوسرا یہ کہ مسلمانوں پر صلیبیوں کی دھاک بیٹھ جائے۔
تیسرا یہ کہ سلطان ایوبی کے خالف عدم اعتماد کی فضا پیدا ہوجائے۔ چوتھا یہ کہ کچھ اور لوگ سلطانی کے دعوے دار بن
جائیں اور ایک بار پھر خانہ جنگی شروع کرائی جائے۔
سلطان ایوبی دشمن کے اس ہتھیار سے اچھی طرح واقف تھا۔ اس نے قاہرہ پہنچتے ہی اپنی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر علی
بن سفیان ،کوتوال غیاث بلبیس اور ان دونوں کے نائبین کو بال کر پوری وضاحت سے بتا دیا تھا کہ اب وہ دشمن کے اس
زمین دوز حملے کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کریں اور اپنے جاسوسوں اور مخبروں کو زیرزمین کرکے سرگرم کردیں… مگر
لوگ جاننا چاہتے تھے کہ اس شکست کے اسباب کیا ہیں اور اس کا ذمہ دار کون ہے۔
٭ ٭ ٭
رملہ سے قاہرہ تک کی مسافت بڑی ہی لمبی تھی اور سفر بھیانک اور کٹھن تھا۔ راستے میں پہاڑی عالقے بھی تھے ،مٹی
اور ریت کے ٹیلوں کی بھول بھلیاں بھی اور صحرا بھی تھا جو بھولے بھٹکے مسافروں کا خون چوس لیا کرتا ہے۔ سلطان
ایوبی کے وہ سپاہی جو میدان جنگ سے مصر کو چل پڑے تھے ،وہ اس لمبی اور بھیانک مسافت میں بکھر گئے تھے۔ ان
کی واپسی کا منظر ہیبت ناک تھا۔ ان میں جو ریگزار کے سفر سے آشنا نہیں تھے ،وہ جہاں گرتے ،وہاں سے اٹھ نہیں سکتے
تھے۔ ان کی الشیں صرف ایک روز سالم نظر آتی تھیں۔ اگلے روز صحرائی لومڑیاں اور بھیڑئیے ان کی ہڈیاں بکھیر دیتے تھے۔
ٹولیوں میں آنے والے اس انجام سے بچے رہتے تھے اور جو اونٹوں ،خچروں اور گھوڑوں پر سوار تھے ،ان کے زندہ واپس
آجانے کے امکانات زیادہ تھے۔
ایسی ہی ایک ٹولی چلی آرہی تھی۔ یہ سب سپاہی تھے اور وہ اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار تھے۔ راستے میں ان کے اکیلے
دھکیلے ساتھی ان کے ساتھ ملتے گئے اور یہ ٹولی تیس چالیس افراد کا قافلہ بن گیا۔ وہ اس بھیانک ریگزار میں سے گزر
رہے تھے جو آج صحرائے سینائی کہالتا ہے۔ اکٹھے ہونے کی وجہ سے ان کا حوصلہ قائم تھا مگر افق تک پانی کے آثار نظر
نہیں آتے تھے۔ دور دور میدان جنگ سے زندہ نکلے ہوئے فوجی ،ایک ایک دو دو قدم گھسیٹتے جاتے نظر آتے تھے۔ وہ ایک
دوسرے کی کوئی مدد نہیں کرسکتے تھے ،سوائے اس کے کہ کوئی مرجاتا تو اس کا کوئی ساتھی اسے ریت میں دفن کردیتا
تھا۔
20:50
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر120جب فرض نے محبت کا خون کیا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ریت میں دفن کردیتا تھا۔ سواروں کا یہ قافلہ چال آرہا تھا۔ آگے وہ عالقہ آگیا جہاں مٹی کے اونچے نیچے ٹیلے دیواروں،
ستونوں اور مکانوں کی طرح کھڑے تھے۔ کسی نے دور سے ایک ٹیلے پر ایک آدمی کا سر اور کندھے دیکھے اور وہ غائب
ہوگیا۔ دیکھنے والے نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس جگہ چل کر رک جائیں گے ،وہاں کوئی اور بھی ہے۔ پانی نہ مال تو
سایہ مل جائے گا۔ قافلے میں اکثریت ان آدمیوں کی تھی جن کے دماغ تھکن اور پیاس سے مائوف ہوئے جارہے تھے۔ اس
سے پہلے وہ جنگ کی باتیں کرتے رہے تھے مگر اب اس کے منہ سے بات بھی نہیں نکلتی تھی۔ ان کے جانوروں میں ابھی
جان تھی اور وہ اچھی طرح چلے جارہے تھے۔
ایک میل دور کے ٹیلے سوکوس کی مسافت بن گئی۔ قافلہ وہاں پہنچ گیا اور دو ٹیلوں کے درمیان سے اندر چال گیا۔ اندر
ٹیلوں کا سایہ تھا۔ سب جانوروں سے اترے۔ جانوروں کو سائے میں چھوڑ کر سب ایک عمودی ٹیلے کے سائے میں بیٹھ گئے۔
ابھی بیٹے ہی تھے کہ ایک ٹیلے کی اوٹ سے ایک آدمی سامنے آیا اور بت بن کر کھڑا ہوگیا۔ وہ سر سے پائوں تک سفید
کپڑوں میں ملبوس تھا۔ ایک لمبا اور سفید چغہ تھا جو کندھوں سے ٹخنوں تک چال گیا تھا۔ اس کی داڑھی سیاہ تھی ،لمبی
نہیں تھی۔ خوبی سے تراشی ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں عصا تھا جو عموما ً عالم ،فاضل یا خطیب ہاتھ میں رکھتے تھے۔ وہ
خاموش کھڑا تھا۔ اسے دیکھ کر سب پر خاموشی طاری ہوگئی۔ کسی نے آہستہ سے کہا… ''حضرت خضر علیہ السالم ہیں''۔
یہ اس زمین کا انسان نہیں''… ایک اور نے سرگوشی کی۔''
قافلے والوں کو ڈر محسوس ہونے لگا۔ وہ تو پہلے ہی ڈرے ہوئے تھے۔ اس پراسرار آدمی نے ان کے ڈر میں اضافہ کردیا۔ کسی
میں ہمت نہیں تھی کہ اس سے پوچھتا کہ آپ کون ہیں۔ ایسے ظالم صحرا میں اس حیثیت کے کسی آدمی کی موجودگی
حیران کن تھی۔ وہ کوئی فوجی ہوتا تو سپاہیوں کے اس قافلے میں سے کوئی بھی نہ ڈرتا… ان کے ڈر میں اس وقت دہشت
آگئی ،جب اس آدمی کے پہلو میں ایک عورت اس طرح آن کھڑی ہوئی جیسے اس آدمی کے جسم سے نمودار ہوئی ہو۔ وہ
اس کے پیچھے سے سامنے ہوئی اور اس کے پہلو میں کھڑی ہوگئی تھی۔ فورا ً بعد اسی طرح ایک اور عورت اس کے دوسرے
پہلو میں نمودار ہوئی۔ دونوں عورتیں سر سے پائوں تک مستور تھیں ،ان کی آنکھوں کے سامنے جالی کی طرح باریک کپڑا
تھا۔ برقعہ نما لبادے سے ان کے ہاتھ بھی نظر نہیں آتے تھے۔
''تم پر اللہ کی رحمت ہو''… اس آدمی نے کہا… ''کیا میں آگے آکر بتا سکتا ہوں کہ ہم کون ہیں؟''
سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر اس شخص اور عورتوں کی طرف دیکھا۔ کسی نے ڈرے ہوئے لہجے میں کہا… ''آپ
ہمارے پاس آئیں اور بتائیں کہ آپ کون ہیں اور ہمیں آپ جو حکم دیں گے ،ہم اس کی تعمیل کریں گے''۔
وہ ایسی چال چلتا ان تک پہنچا جو عام انسان کی چال نہیں تھی۔ اس کے چلنے میں اور سراپا میں جالل سا تھا۔ دونوں
مستورات اس کے پیچھے پیچھے آئیں۔ سب احترام سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ احترام میں ڈر بھی شامل تھا۔ وہ ٹیلے کے ساتھ
بیٹھ گیا۔ مستورات بھی اس کے پاس گئیں۔ جالی میں سے ان کی آنکھیں نظر آرہی تھیں۔ ان سے پتہ چلتا تھا کہ وہ
خوبصورت عورتیں ہیں لیکن ان میں سے کسی میں بھی اتنی جرٔات نہیں تھی کہ ان آنکھوں کا سامنا کرسکتا۔ سفید پوش
شخص اور ان مستورات کے کپڑوں پر گرد تھی جس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ سفر میں ہیں۔
میں بھی وہیں سے آیا ہوں جہاں سے تم آرہے ہو''… سیاہ ریش نے بھاگے ہوئے مصری سپاہیوں سے کہا… ''فرق یہ ہے''
کہ تم جہاں جارہے ہو ،وہ تمہارا گھر ہے اور جہاں سے آیا ہوں وہ میرا گھر تھا''… اس کے لہجے میں سنجیدگی اور اداسی
تھی۔
ہم کس طرح یقین کریں کہ آپ انسان ہیں''… ایک سپاہی نے پوچھا… ''ہم آپ کو آسمان کی مخلوق سمجھ رہے '' :
ہیں''۔
میں انسان ہوں''… سیاہ ریش بزرگ نے جواب دیا… ''اور یہ دونوں میری بیٹیاں ہیں۔ میں بھی تمہاری طرح رملہ سے ''
بھاگ کر آرہا ہوں۔ اگر میرا پیرومرشد مجھ پر کرم نہ کرتا تو صلیبی مجھے قتل کردیتے اور میری ان دونوں بیٹیوں کو اپنے
ساتھ لے جاتے۔ یہ میرے مرشد کے مزار کی برکت ہے۔ میں رملہ کا رہنے واال ہوں۔ لڑکپن سے مذہب کا علم حاصل کرنے کا
شوق تھا۔ میں نے مسجدوں میں اماموں کی بہت خدمت کی اور ان سے علم حاصل کیا ہے۔ خدا اپنے رسول صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے مذہب کے پرستاروں پر بہت کرم نوازی کرتا ہے۔ ایک رات مجھے خواب میں اشارہ مال کہ بغداد چلے جائو اور
…''وہاں کے خطیب کی شاگردی میں بیٹھ جائو
میں پیدل چل پڑا۔ میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ ماں باپ بہت غریب تھے۔ چھوٹا سا مشکیزہ بھی میرے نصیب میں ''
نہیں تھا کہ میں راستے کے لیے پانی ساتھ لے جاتا۔ علم کا عشق مجھے گھر سے نکال لے گیا۔ سب نے کہا یہ راستے
میں مرجائے گا۔ میری ماں بہت روئی تھی اور میرا باپ بھی بہت رویا تھا مگر میں چل پڑا۔ دن کے وقت پیاس اور بھوک
میری جان نکال لیتی تھی۔ شام کے بعد جب میں اس امید پر کہیں گر پڑتا تھا کہ مرجائوں گا ،میرے قریب پانی کا ایک
پیالہ اور کھانے کے لیے کچھ نہ کچھ رکھا ہوتا تھا۔ پہلی بار میں بہت ڈرا تھا۔ میں اسے جنات کا دھوکہ سمجھتا تھا لیکن
رات کو خواب میں اشارہ مال کہ یہ مرشد کی کرامت ہے۔ مجھے یہ پتہ نہ چال کہ وہ مرشد کون ہے اور کہاں ہے۔ میں کھا
…''پی کر گہری نیند سوگیا۔ صبح اٹھا تو وہاں پیالہ بھی نہیں تھا اور جس چنگیر میں روٹیاں تھیں ،وہ بھی نہیں تھی
بغداد پہنچنے تک راستے میں دو نئے چاند طلوع ہوئے۔ بہت لمبا سفر تھا۔ ہر رات مجھے پیالے میں پانی اور چنگیر میں ''
کھانا ملتا رہا۔ بغداد میں جامع مسجد کے خطیب نے مجھے دیکھا تو میری عرض سنے بغیر بولے کہ میں تمہاری راہ دیکھ رہا
ہوں۔ وہ مجھے اپنے حجرے میں لے گئے۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں ایک چنگیر پڑی تھی اور اس میں ایک
پیالہ رکھا تھا۔ خطیب نے پوچھا کہ تمہیں ہر رات کھانا اور پانی ملتا رہا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ ملتا رہا ہے مگر حیران
موسی
وپریشان ہوں کہ یہ چنگیر اور پیالہ مجھ تک ہر رات کون لے جاتا اور واپس التا رہا تو وہ بولے کہ خدا نے حضرت
ٰ
علیہ السالم کی مدد کرنا چاہی تھی تو دریائے نیل کو حکم دیا تھا کہ راستہ دے دو۔ دریا کے آگے کا پانی آگے اور پیچھے کا
موسی علیہ السالم نکل آئے تھے اور جب فرعون ان کے تعاقب میں
پانی پیچھے رہ گیا اور خشکی کی اس گلی سے حضرت
ٰ
اس گلی میں داخل ہوا تو دریا کے دونوں حصے آپس میں مل گئے اور دریا اسی طرح قہر سے بہنے لگا جیسے بہتا تھا۔
…''فرعون غرق ہوگیا
خطیب مکرم نے کہا کہ ہم اس کی ذات کے تابع ہیں جس نے ہمیں پیدا کیا اور جو ہمیں باری باری اس دنیا سے اٹھاتا ''
ہے۔ اس کا جو بندہ اس کے علم کے عشق سے دیوانہ ہوتا ہے جیسے تم ہوئے۔ اسے وہ صحرائوں میں پیاسا نہیں مرنے دیتا
اور دریائوں میں ڈوبنے نہیں دیتا۔ اس کی ذات باری نے مجھے اشارہ دیا کہ ہم نے اپنے ایک بندے کے لیے مہینوں کے فاصلے
اور ان فاصلوں کی صعوبتیں مٹا دی ہیں۔ تمہارے سینے میں جو علم ہے وہ اس لڑکے کے سینے میں منتقل کردو اور ہم نے
تمہاری خدمت کے لیے جو دو جنات مقرر کررکھے ہیں انہیں کہو کہ اس لڑکے کو راستے میں پانی اور کھانا پہنچاتے رہیں…
میں نے خدائے ذوالجالل کے حکم کی تعمیل کی۔ ہر رات تمہارے لیے یہاں سے کھانا اور پانی جاتا رہا ہے۔ حیران نہ ہو
لڑکے! پریشان بھی نہ ہو۔ بہت کم خوش نصیبوں کے دلوں میں علم کا چراغ روشن ہوتا ہے جس کی خواہش تم لے کر آئے
ہو۔ ارادہ نیک ہو ،دل میں اللہ کی خوشنودی کی خواہش ہو تو جن وانس غالم ہوجاتے ہیں''۔
کیا جنات آپ کے غالم ہیں؟''۔ ایک سپاہی نے پوچھا۔''
وہ نہیں''۔ اس نے جواب دیا… ''میں ان کا غالم ہوں ،کوئی کسی کو غالم نہیں بنا سکتا۔ ہم سب ایک خدا کے ایک ''
جیسے بندے ہیں۔ اونچا اور نیچا ،امیری اور غریبی سے نہیں ہوتا۔ ایمان کی پختگی اور کمزوری سے انسانوں کی درجہ بندی
ہوتی ہے''۔
اس کی باتوں میں ایسا تاثر تھا جس نے سب کے دلوں کو موہ لیا اور سب دم بخود ہوکر سن رہے تھے۔ اس نے کہا… :
''بغداد کے خطیب نے میری روح کو علم سے روشن کردیا۔ انہوں نے میری شادی بھی کرائی۔ وہیں میری یہ دونوں بچیاں
پیدا ہوئیں۔ میں نے بہت چلے کیے اور قدرت کے کارخانے کے دو تین راز پالیے۔ تب ایک رات میرے خطیب استاد نے کہا
کہ اب جا اور ان کی خدمت کر جو علم اپنے ساتھ قبروں میں لیے ابدی نیند سو رہے ہیں۔ انہوں نے مجھے واپس اپنے گھر
رملہ چلے جانے کا حکم دیا۔ دو اونٹ دئیے۔ زاد راہ دیا اور کہا کہ گناہ کا کبھی خیال بھی دل میں نہ آنے دینا۔ رملہ پہنچو
گے تو ایک رات تم اپنے ارادے کے بغیر اٹھ کر چل پڑو گے۔ شاید تمہیں بہت دور جانا نہیں پڑے گا۔ تمہارے قدم اپنے آپ
رک جائیں گے۔ وہ ایک مقدس جگہ ہوگی۔ اس جگہ کو اپنا آستانہ بنا لیا مگر مجھے ایک وقت جو ابھی مستقبل تاریکیوں
میں چھپا ہوا ہے ،نظر آرہا ہے۔ گناہ ہوں گے اور تمہیں
…''د وسروں کے گناہوں کی سزا ملے گی۔ شاید تمہیں ہجرت کرنی پڑے
میں جب اپنی بیوی اور ان دو بچیوں کے ساتھ سفر میں تھا تو آفتاب کی تمازت میرے کنبے کے لیے خنک ہوگئی تھی۔ ''
ہمیں اس جگہ سے بھی پانی مل جاتا تھا جہاں کی ریت کے ذرے پانی کی ایک بوند کو ترستے ،جلتے انگاروں کے شرارے
بن کر اڑتے رہتے ہیں۔ میں رملہ پہنچا تو میرے والدین مرچکے تھے۔ میری بیوی نے اجڑے ہوئے گھر کو آباد کیا… میں علم
ودانش کے سمندر میں غوطے لگاتا رہا۔ میری بچیاں بڑی ہوگئیں اور ان کی ماں کو اللہ نے اپنے پاس بال لیا۔ بچیوں نے گھر
…''سنبھال لیا اور ایک رات جب میں گہری نیند سویا ہوا تھا ،میری آنکھ اس طرح کھل گئی جیسے کسی نے جگایا ہو
میں اٹھ کھڑا ہوا۔ بغداد کے خطیب کی برسوں پرانی بات یاد آئی کہ تم اپنے آپ جاگ اٹھو گے اور ارادے کے بغیر چل ''
پڑو گے۔ ایسے ہی ہوا۔ میرے ذہن میں کوئی ارادہ ،کوئی خیال نہیں تھا۔ میں گھر سے نکل گیا۔ آبادی سے بھی نکل گیا۔
کہیں کہیں ایسا لگتا تھا جیسے کوئی میرے آگے آگے جارہا ہو۔ معلوم نہیں یہ احساس تھا یا حقیقت۔ میں چلتا گیا ،معلوم
نہیں تم نے وہ جگہ دیکھی ہے یا نہیں ،جہاں گہرائی ہے اور گہرائی میں ندی بہتی ہے۔ صلیبیوں کی فوج اسی گہرائی میں
چھپی ہوئی تھی۔ میں نے سنا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کو زمین کی آخری تہہ میں چھپا ہوا دشمن بھی نظر آتا ہے
مگروہاں اس کی آنکھوں پر خدا نے ایسی پٹی باندھی کہ اسے یہ بھی معلوم نہ ہوسکا کہ وہ خود کہاں ہے۔ صلیبی فوج
…''تمہارے فوج کو پھندے میں الکر گہرائی سے نکلی اور حملہ کیا ور تمہارا جو حال ہوا ،وہ تم جانتے ہو
اس جنگ سے برسوں پہلے میں رات کو اپنے آپ یا غیب کی قوت کے زیراثر اس گہرائی میں پہنچ گیا اور ایک جگہ ''
میرے قدم رک گئے۔ چاندنی رات تھی۔ مجھے ایک قبر نظر آئی جس کے اردگرد پتھروں کی دو ہاتھ اونچی دیوار تھی۔ میں
نے آزمانے کے لیے قدم کسی اور سمت کو اٹھائے لیکن میں قبر کی طرف گھوم گیا اور پتھروں کی دیوار میں اندر جانے کو
جو راستہ بنا ہوا تھا ،اس میں داخل ہوگیا۔ میرے ہاتھ اپنے آپ فاتحہ کے لیے اٹھے۔ مجھے ایسے لگا جیسے وہاں چاندنی
زیادہ سفید تھی۔ میرے ذہن میں اپنے آپ خیال آیا کہ خطیب مکرم نے اسی جگہ کی نشاندہی کی تھی۔ میں قبر کے پاس
بیٹھ گیا اور قبر پر ہاتھ رکھ کر عرض کی مجھ غالم کے لیے کیا حکم ہے۔ مجھے اس کے جواب میں کوئی آواز نہ سنائی
دی۔ اپنے آپ ہی خیال آیا کہ مجھے جو فیض ملے گا ،اسی سے ملے گا… میں نے رات وہیں گزار دی۔ صبح کے وقت ندی
میں جاکر وضو کیا اور قبر پر نماز پڑھی۔ وہاں سے جب رخصت ہوا تو مجھ پر خمار سا طاری تھا ،جیسے میں نے خزانہ پالیا
…''ہو
اس کے بعد مجھے اس قبر سے اسی طرح اشارے ملنے لگے کہ کوئی آواز نہیں سنائی دیتی تھی۔ میرے دل میں کوئی ''
بات آئی جو میرا یقین بن جاتی تھی۔ میں نے قبر کی دیواریں اونچی کرکے اوپر گنبد بنوا دیا۔ میں دور دور تک گیا۔ حلب
اور موصل کے عالوہ بیت المقدس تک گیا۔ اب کچھ عرصے سے مجھے اس مزار سے جو اشارے مل رہے تھے ،وہ اچھے
نہیں تھے۔ یہ جس برگزیدہ انسان کا مزار ہے ،اس کی روح تڑپتی محسوس ہوتی تھی۔ قبر پر میں نے سبز چادر ڈالی تھی،
''ایک رات چادر پھڑپھڑائی۔ میں ڈر گیا اور میں نے چادر پر ہاتھ پھیر کر کہا… ''مرشد! میرے لیے کیا حکم ہے؟
مزار کے اندر سے مجھے آواز سنائی دی… ''تو دیکھ نہیں رہا کہ مسلمان شراب پی رہے ہیں؟ اس سے پہلے میں نے آواز''
کبھی نہیں سنی تھی۔ اس نے مجھے کہا کہ میں مسلمانوں کو شراب کی تباہ کاریوں سے خبردار کروں میں نے حکم کی
تعمیل کی ،لیکن شراب پینے والے امراء اور حاکم تھے جن کے کانوں تک میری آواز نہ پہنچ سکی۔ پھر ایک رات قبر کی
چادر نے پھڑپھڑا کر مجھے بتایا کہ مصر سے آئی فوج مسلمانوں کی آبادیوں میں مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کررہی ہے جو
صلیبی فوج کیا کرتی ہے۔ اس وقت سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج دمشق میں بھی تھی اور دمشق سے حلب تک اور وہاں
سے رملہ تک جگہ جگہ موجود تھی۔ اس فوج کے کمان داروں نے جس مسلمان گھرانے میں کوئی قیمتی چیز اور رقم دیکھی،
اٹھالے گئے۔ انہوں نے پردہ نشین خواتین پر دست درازیاں کیں۔ ان کی دیکھا دیکھی سپاہیوں نے بھی لوٹ مار اور آبرو ریزی
شروع کردی۔ یہاں تک پتہ چال کہ ساالروں اور کمان داروں نے مسلمان لڑکیاں اغوا کرکے اپنے خیموں میں رکھی ہوئی ہیں۔
مزار سے مجھے حکم ملتا تھا کہ میں سلطان ایوبی کے پاس جائوں اور اسے بتائوں کہ یہ فوج خالفت بغداد کی ہے۔ مصر
موسی جیسا ہوگا
…''کے فرعونوں کی نہیں۔ اگر فوج نے یہ گناہ جاری رکھے تو اس کا حشر فرعون
ٰ
اس وقت سلطان ایوبی حلب کے قریب خیمہ زن تھا۔ میں اتنی لمبی مسافت طے کرکے اسے ملنے گیا تو اس کے ''
محافظوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم سلطان سے کیوں ملنا چاہتے ہو تو میں نے بتایا کہ میں رملہ سے آیا ہوں اور ایک پیغام
الیا ہوں۔ انہوں نے پوچھا کہ پیغام کس کی طرف سے ہے۔ میں نے بتایا کہ جس نے پیغام دیا ہے ،وہ زندہ نہیں۔ محافظوں
نے قہقہہ لگایا اور ان کے کمان دار نے بلند آواز سے کہا کہ آئو تمہیں ایک پاگل دکھائوں۔ کہتا ہے قبر سے سلطان ایوبی کے
لیے پیغام الیا ہوں۔ ایک نے کہا کہ یہ شیخ سنان کا بھیجا ہوا فدائی ہے۔ سلطان کو قتل کرنے آیا ہے۔ اسے پکڑ لو ،کسی
نے کہا کہ صلیبیوں کا جاسوس ہے ،اسے قتل کردو۔ میں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے یہ ظاہر کیا کہ میں پاگل ہوں۔ میں
وہاں سے بھاگ آیا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سلطان کے محافظوں کے ایک خیمے میں دولڑکیاں بیٹھی ہوئی
تھیں''۔
''
ہم نے اپنی فوج کے ساتھ کوئی عورت نہیں دیکھی''۔ ایک سپاہی نے کہا۔'' :
کیا تم اس وقت سے فوج کے ساتھ ہو ،جب یہ دمشق گئی تھی؟'' سیاہ ریش نے کہا۔''
ہم سب پہلی بار ادھر آئے ہیں''۔ سپاہی نے جواب دیا۔ ''ہم فوج میں اتنے پرانے نہیں ہیں''۔''
میں پرانی فوج کی بات کررہا ہوں''۔ اس نے کہا۔ ''اس فوج کے کمان داروں اور سپاہیوں کو سزا مل چکی ہے۔ تم نئے''
تھے ،تم نے ابھی کوئی گناہ نہیں کیا تھا ،اسی لیے تم زندہ سالمت واپس آگئے ہو ،جنہوں نے مسلمان ہوتے ہوئے مسلمانوں
کے گھر لوٹے تھے اور پردہ دار خواتین پر دست رازی کی تھی ،وہ مارے گئے ہیں جو زیادہ گناہ گار تھے ،ان میں سے کسی
کی ٹانگیں کٹیں اور کسی کے بازو۔ وہ زندہ تھے تو گدھ ان کی آنکھیں نکال رہے تھے اور ان سے بھی زیادہ گناہ گار تھے وہ
صلیبیوں کی قید میں چلے گئے ہیں جو ان کے لیے جہنم سے کم نہیں ہوگی ،ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والی اذیتیں
ہیں۔ وہ بھوکے پیاسے تڑپتے رہیں گے مگر مریں گے نہیں۔ مرنے کی دعائیں مانگیں گے ،ان کی دعائیں قبول نہیں ہوں
گی''۔
کیا ہماری شکست کی وجہ یہی ہے؟'' ایک سپاہی نے پوچھا۔''
مجھے دو سال پہلے اشارہ مل گیا تھا کہ یہ فوج تباہ ہوگی''۔ اس نے کہا… ''اور یہ فوج کفار کو موقع دے گی کہ وہ ''
اسالم کی تذلیل کریں۔ اب یہ فوج اللہ کی درگاہ سے دھتکاری گئی ہے''۔
آپ کہاں جارہے ہیں؟'' کسی نے پوچھا۔''
میں تمہاری طرح اللہ کے قہر سے جو صلیبی فوج کی صورت میں نازل ہوا ہے ،بھاگ کر آیا ہوں''۔ سیاہ ریش نے جواب''
دیا ۔ ''صلیبی فوج طوفان کی طرح آئی۔ تمہاری فوج اسے روک نہ سکی۔ اگر صرف میری اپنی جان ہوتی تو میں اپنے
مرشد کے مزار پر جان قربان کردیتا لیکن اپنی جوان بیٹیوں کی آبرو کو میں قربان نہیں کرسکتا تھا۔ صلیبی دو چیزوں کو نہیں
چھوڑتے۔ رقم اور خوبصورت مستورات۔ مجھے مزار سے حکم مال کہ اپنی بیٹیوں کو ساتھ لو اور مصر کی طرف نکل جائو۔ میں
نے عرض کی کہ میں زندہ کی طرح پہنچوں گا۔ مزار سے آواز آئی کہ تم نے ہماری جو خدمت کی ہے ،اس کے عوض تم
خیریت سے قاہرہ پہنچ جائو گے لیکن وہاں خاموش نہ بیٹھنا۔ ہر کسی کو بتانا کہ گناہ کروگے تو تمہیں ایسی ہی سزا ملے
گی جیسی تمہاری فوج نے بھگتی ہے۔ مجھے مزار نے بہت کچھ بتایا ہے جو میں مصر چل کر بتائوں گا… تم ایک دوسرے کو
دیکھو۔ تمہارے چہرے الشوں جیسے ہوگئے ہیں ،تمہارے جسموں میں جان نہیں رہی۔ مجھے دیکھو میں اپنی بیٹیوں کے ساتھ
پیدل آرہا ہوں۔ میرے پاس کچھ کھانے کے لیے بھی نہیں ،کچھ پینے کے لیے بھی نہیں''۔
کیا آپ ہمیں مصر تک اپنی طرح لے جاسکتے ہیں؟'' ایک سپاہی نے پوچھا۔''
اگر تم یہ وعدہ کرو کہ دلوں سے گناہ کا خیال نکال دو گے''۔ اس نے جواب دیا… ''اور یہ وعدہ بھی کرو کہ میں جس''
مقصد کے لیے مصر جارہا ہوں ،اس میں میرا ساتھ دوگے''۔
ہم سچے دل سے وعدہ کرتے ہیں''۔ بہت سی آوازیں سنائی دیں۔ ''ہمیں اپنا مقصد بتائیں ہم جب تک زندہ ہیں ،آپ کا''
ساتھ دیں گے''۔
میں صرف اپنی اور اپنی بیٹیوں کی عزت بچانے کے لیے رملہ سے نہیں بھاگا''۔ اس نے کہا… ''مجھے مزار نے حکم ''
دیا ہے کہ مصر جاکر لوگوں کو بتائوں کہ تم فرعونوں کی سرزمین کی پیداوار ہو۔ اس مٹی میں گناہوں کی تاثیر ہے۔ حضرت
موسی علیہ السالم کی بے ادبی مصر میں ہوئی تھی۔ مصر میں پیغمبروں
یوسف علی السالم مصر میں نیالم ہوئے تھے ،حضرت
ٰ
کے قبیلے فرعونوں کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔ اے مصر والو! اس مٹی کی تاثیر سے اور اس کی فضا کے اثر سے بچو اور
خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو۔ تمہاری تباہی اور سزا شروع ہوچکی ہے۔ میں یہ پیغام مصر والوں کے لیے لے جارہا
ہوں۔ تم اگر یہ پیغام سارے ملک میں پھیالنے میں میری مدد کرو گے تو تمہاری دنیا بھی بہشت بنی رہے گی اور آخرت میں
بھی تمہارے لیے بہشت کے دروازے کھول دئیے جائیں گے''۔
٭ ٭ ٭
سورج غروب ہونے میں ابھی بہت دیر باقی تھی۔ رملہ کی طرف سے آنے والے دو تین سپاہی قریب سے گزرے۔ سیاہ ریش :
نے کہا کہ انہیں روک لو۔ یہ رات تک زندہ نہیں رہیں گے۔ انہیں روک لیا گیا۔ وہ سسکیوں کی طرح پانی مانگ رہے تھے۔
سیاہ ریش نے انہیں کہا… ''پانی رات کو ملے گا۔ اس وقت تک اس خدا کو یاد کرو جس نے تمہیں رملہ سے زندہ نکاال اور
نئی زندگی دی ہے''۔
کچھ دیر بعد دو آدمی گھوڑوں پر سوار ادھر سے گزرے۔ وہ فوجی نہیں تھے۔ انہوں نے اس قافلے کو دیکھا ،پھر سیاہ ریش کو
دیکھا۔ انہوں نے گھوڑے روک لیے ،کود کر اترے ،گھوڑوں کو وہیں چھوڑ کر دوڑے آئے۔ دونوں نے سیاہ ریش کے سامنے سجدہ
کیا ،پھر اس کے ہاتھ چومے اور پوچھا… ''یا مرشد! آپ کہاں؟'' اس کا جواب سن کر ان دونوں نے سپاہیوں کو بتایا کہ
وہ کتنے خوش نصیب ہیں کہ اللہ کی بھیجی ہوئی بزرگ وبرتر شخصیت کا ساتھ انہیں میسر آیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا
کہ سیاہ ریش نے ایک سال پہلے بتا دیا تھا کہ مصر کی گناہ گار فوج اس مزار کے عالقے میں آگئی تو تباہ ہوجائے گی۔
ادھر ادھر دیکھو''۔ سیاہ ریش نے سب سے کہا… ''جہاں کہیں کوئی بھوال بھٹکا مصر کی طرف جاتا نظر آئے ،اسے یہاں ''
لے آئو۔ رات کو یہاں کوئی بھوکا اور پیاسا نہیں رہے گا''۔
گزرنے کا یہی ایک راستہ تھا۔ باقی تمام عالقہ ٹیلوں کا تھا اور یہ وسیع عالقہ تھا۔ اس کے اندر جانا بے کار تھا۔ باہر سے
ہی پتہ چل رہا تھا کہ یہاں پانی کا نام ونشان نہیں۔ سب کو موت نظر آرہی تھی۔ مصر کی سرحد ابھی بہت دور تھی۔ یہ
لوگ سہارے ڈھونڈ رہے تھے۔ وہ سیاہ ریش کے آگے بچھے جارہے تھے۔ اس کی ہر ایک بات ان کے دلوں میں بیٹھ گئی تھی
مگر پیاس کی شدت سے دو تین سپاہی غشی کی حالت میں چلے گئے تھے۔ سیاہ ریش انہیں تسلیاں دے رہا تھا۔
سورج غروب ہوگیا پھررات تاریک ہوگئی۔ بہت دیر بعد جب صحرا خاموش تھا ،ٹیلوں کے اندر سے ایک پرندے کی آواز سنائی
دی۔ سب چونک اٹھے۔ ایسے جہنم میں جہاں پانی کا تصور بھی نہیں تھا اور موت سر پر منڈال رہی تھی وہاں پرندے کی آواز
غیرقدرتی تھی۔ یہ پرندہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ سب کی سانسیں رک گئیں۔ یہ کوئی بدروح ہوسکتی تھی۔
اللہ تیرا شکر''۔ سیاہ ریش نے سکون کی آہ لے کر کہا… ''میری دعا قبول ہوگئی ہے''۔ اس نے اپنے سامنے بیٹھے ''
ہوئے دو سپاہیوں سے کہا… '' تم دونوں اس طرف جائو۔ چالیس قدم گنو ،وہاں سے دائیں کو مڑ جائو۔ چالیس قدم گنو ،وہاں
سے بائیں کو مڑ جائو۔ آگے کہیں آگ جلتی نظر آئے گی۔ اس کی روشنی میں تمہیں پانی نظر آئے گا۔ شاید کھانے کے لیے
بھی کچھ ہو۔ جو کچھ وہاں پڑا ہو ،اٹھا النا۔ یہ آواز پرندے کی نہیں غیب کا اشارہ ہے''۔
میں نہیں جائوں گا''۔ایک سپاہی نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔ ''میں جنات کی جگہ نہیں جائوں گا''۔''
وہ دو آدمی اٹھ کھڑے ہوئے جو بعد میں گھوڑوں پر سوار آئے تھے اور سیاہ ریش کے آگے سجدہ کیا تھا۔ ایک نے سپاہیوں
سے کہا… ''مت ڈرو ،جنات تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ انہیں حکم مال ہوا ہے کہ یہ بزرگ جہاں جائیں انہیں
کھانا اور پانی پہنچتا رہے گا۔ ہم ان کے معجزوں سے واقف ہیں… دو تین آدمی ہمارے ساتھ چلو''۔
وہ دو تین سپاہیوں کو ساتھ لے کر چل پڑے۔ سیاہ ریش کے کہنے کے مطابق انہوں نے قدم گنے اور مڑے۔ دو ٹیلوں کے
درمیان سے گزرے تو انہیں ایک جگہ آگ جلتی نظر آئی۔ سب کلمہ طیبہ کا ورد کرتے آگے بڑھے۔ آگ کی روشنی میں پانی
سے بھر ہوئے چار پانچ مشکیزے پڑے تھے اور کپڑے کے ایک تھیلے میں کھجوریں بھری ہوئی تھیں۔ انہوں نے مشکیزے اور
تھیال اٹھایا اور سیاہ ریش کے آگے یہ سامان جارکھا۔ اس نے سب میں تھوڑی تھوڑی کھجوریں تقسیم کیں اور دو مشکیزے ان
کے حوالے کرکے کہا کہ ضرورت سے زیادہ پانی نہ پئیں ،پانی بچانے کی کوشش کریں… اس کے بعد کسی شک کی گنجائش
نہ رہی کہ سیاہ ریش کوئی عام قسم کا درویش نہیں ،اللہ کے مصاحبوں میں سے ہے۔ اس نے سب کو تیمم کرایا اور
باجماعت نماز پڑھائی۔ پھر سب سو گئے۔ ابھی سحر تاریک تھی جب اس نے سب کو جگا دیا اور قافلہ مصر کو روانہ ہوگیا۔
سیاہ ریش کو ایک اونٹ پر اور اس کی بیٹیوں کو دوسرے اونٹ پر سوار کرادیا گیا تھا… راستے میں انہیں تین چار سپاہی
ملے جو مصر کو جارہے تھے۔ سیاہ ریش نے انہیں پانی پالیا ،کھجوریں کھالئیں اور دوشتر سواروں کے پیچھے انہیں سوار
کرادیا۔ اس قافلے سے دائیں طرف دور ایک اور قافلہ جارہا تھا۔ کسی نے کہا کہ انہیں بھی ساتھ مال لیا جائے۔ سیاہ ریش نے
کہا کہ وہ ہماری طرح بھاگے ہوئے لوگ معلوم نہیں ہوتے ،ان کا اور ہمارا کوئی ساتھ نہیں۔ بہت دنوں بعد سپاہیوں کا یہ قافلہ
سیاہ ریش کی قیادت میں مصر کی سرحد میں داخل ہوا۔ وہ دو آدمی جنہوں نے سیاہ ریش کے آگے سجدہ کیا تھا۔ راستے
میں سپاہیوں کو سیاہ ریش کے معجزے سناتے گئے تھے۔ انہوں نے سپاہیوں سے کہا تھا کہ اسے جو کوئی اپنے گائوں میں
،رکھ لے گا
اسے رزق کی کوئی کمی نہیں ہوگی اور خدا اس پر ہمیشہ مہربان رہے گا۔ ایک ہی گائوں کے تین چار سپاہی اسے وہاں :
رکھنے کے لیے تیار ہوگئے۔ سیاہ ریش سے کہا گیا کہ وہ ان کے گائوں چلے۔ اس نے کچھ باتیں پوچھیں اور ان کے گائوں
جانے پر آمادہ ہوگیا۔
یہ ایک بڑا گائوں تھا جو قاہرہ سے دور نہیں تھا۔ قافلہ جب اس گائوں میں داخل ہوا تو سپاہیوں کو دیکھ کر گائوں کے لوگ
ان کے گرد جمع ہوگئے۔ ان کے جانوروں کے آگے چارہ ڈاال۔ قافلے والوں کو کھانا اور پانی دیا اور ان سے محاذ کی باتیں
سننے بیٹھ گئے۔ انہیں سیاہ ریش کے متعلق بتایا گیا کہ خدا کے مصاحبوں میں سے ہے اور اسے خدا جنات کے ہاتھوں رزق
پہنچاتا ہے۔ لوگوں کو اس کی مختصر سی داستان حیات بھی سنائی گئی۔
محاذ کا راز مجھ سے پوچھو''۔ سیاہ ریش نے کہا… ''یہ سپاہی ہیں۔ یہ صرف لڑتے ہیں۔ انہیں کچھ علم نہیں ہوتا کہ ''
انہیں لڑانے والوں کی نیت کیا ہے۔ ان چند ایک سپاہیوں نے جنہیں میں صحرا کی آگ سے زندہ نکال الیا ہوں ،اس فوج کے
گناہوں کی سزا بھگتی ہے جو ان سے بہت پہلے ملک شام کو گئی تھی۔ اس فوج نے ہر میدان میں فتح حاصل کی۔ وہاں
کی وادیاں اور وہاں کے صحرا ،سلطان ایوبی زندہ باد کے نعروں سے گونجتے لرزتے رہے۔ اس فوج نے ہر جگہ زروجواہرات اور
عورتیں دیکھیں۔ وہاں کی عورتیں مصر کی عورتوں سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ فتح کے نشے نے اس فوج میں فرعونیت پیدا
کردی۔ دماغوں میں صرف مال غنیمت رہ گیا پھر اس فوج کے ساالروں ،کمان داروں اور سپاہیوں نے قوم کی عزت اور غیرت
کو خیرباد کہا اور مسلمانوں کے گھروں میں بھی لوٹ مار شروع کردی ،جہاں کوئی خوبصورت عورت اور جوان لڑکی نظر آئی،
اسے بے آبرو اور اغوا کیا۔ یہ سب مسلمان مستورات تھیں۔ انہیں خیموں میں رکھا گیا''۔
کیا سلطان صالح الدین ایوبی اندھا تھا؟'' کسی نے قہر آلود آواز میں پوچھا… ''وہ دیکھ نہیں سکتا تھا کہ اس کی سپاہ ''
''کیا کررہی ہے؟
خدا جب سزا دینے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اماموں ،عالموں اور حکمرانوں کی عقل پر بھی پردہ ڈال دیتا ہے''۔ سیاہ ریش''
نے کہا… '' سلطان صالح الدین ایوبی خود فتح کے نشے سے بدمست ہوگیا تھا۔ وہ شاید خدا کے وجود کو اور اس کی الٹھی
کو بھول گیا تھا۔ اس کے گرد اس کے محافظوں اور عیاش ساالروں نے ایسا گھیرا ڈال رکھا تھا کہ کسی مظلوم کی فریاد اس
تک پہنچ ہی نہیں سکتی تھی جو بادشاہ فریادیوں کے لیے انصاف کے دروازے اور اپنے کان بند کرلیتا ہے وہ اللہ کی بخشش
سے محروم ہوجاتا ہے۔ مجھے دو سال سے اشارے مل رہے تھے کہ یہ فوج اعمال بد سے باز نہ آئی تو تباہ ہوگی۔ مجھے
…''راتوں کو غیب کی آوازیں سنائی دیتی رہیں مگر جن کے لیے آوازیں آتی تھیں ،ان کے کان بند تھے
پھر خدا نے یوں کیا کہ ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دیں اور سلطان صالح الدین ایوبی جو میدان جنگ کا بادشاہ ہے اور ''
جسے صلیب کے کفار میدان جنگ کا دیوتا کہتے ہیں ،عقل کا ایسا اندھا ہوا کہ ساری چالیں بھول گیا۔ اس کی چال دشمن
چل گیا اور اسے ایسی شکست ہوئی کہ تن تنہا مصر پہنچا''۔
ہم صلیبیوں سے شکست کا انتقام لیں گے''۔ ایک جوشیلے دیہاتی نے کہا… ''ہم اپنے بیٹوں کو قربان کردیں گے''۔''
فتح اور شکست خدا کے اختیار میں ہے''۔ سیاہ ریش نے کہا… ''اس کی ذات نے حکم شکست کا دیا ہو تو بندوں کا ''
جوش سرد پڑ جاتا ہے۔ میں بھی اسی لیے یہاں آیا ہوں کہ مصر کے بچے بچے کو شکست کا انتقام لینے کے لیے تیار کروں
لیکن سزا کا وقت ابھی ختم نہیں ہوگا تم اگر اپنے بیٹوں کو فورا ً فوج میں بھرتی کراکے محاذ پر بھیج دو گے تو وہ مریں گے
اور شکست کھائیں گے۔ ہر عمل کے لیے ایک وقت مقرر ہے وہ وقت ابھی دور ہے ،جب شکست کو فتح میں بدل دو گے۔
سب سے پہلے خدا کو یاد کرو۔ اس سے اپنے ان بیٹوں کے گناہوں کی بخشش مانگو جنہیں تم نے ملک شام میں بھیجا
تھا''۔
٭ ٭ ٭
شکست کی ذمہ داری میرے سر پر ڈالو''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ وہ اپنے ساالروں ،نائب ساالروں ،کمان داروں اور شہری ''
انتظامیہ کے حکام سے خطاب کررہا تھا… ''شکست کے اسباب بڑے واضح ہیں۔ مجھ سے یہ غلطی ہوئی کہ میں نئی بھرتی
لے کر گیا۔ میں زیادہ انتظار کرتا اور مصر میں بیٹھا رہتا تو دشمن سارے شام میں پھیل جاتا۔ میں نے فوج کی جس کمی کو
نئے سپاہیوں سے پورا کیا ہے ،اس کے متعلق تم جانتے ہو کہ اس کا ذمہ دار کون ہے لیکن میں اب اس بحث میں وقت
ضائع نہیں کروں گا کہ اس کا ذمہ دار فالں ہے اور وہ گناہ فالں نے کیا ہے۔ اگر جرم عائد کرنے ہیں تو مجھ پر کرو۔ فوج
کو میں نے لڑایا ہے ،اگر چالیں غلط تھیں تو میری تھیں۔ اس کا کفارہ مجھے ادا کرنا ہے اور میں کروں گا۔ فتح اور شکست
ہر معرکے کا انجام ہوتا ہے۔ آج ہم اس انجام سے دوچار ہوئے ہیں جس کے لیے تم ذہنی طور پر تیار نہیں تھے۔ اسی لیے
تم سب کے چہروں پر اداسی اور آنکھوں میں بے چینی ہے۔ اگرتم مجھے شکست کی سزا دینا چاہتے ہو تو میں اس کے لیے
بھی تیار ہوں۔ میرے کانوں میں یہ آوازیں بھی پہنچ رہی ہیں کہ میری فوج شام میں جاکر آبرو ریزی ،لوٹ مار اور شراب
خوری کی عادی ہوگئی تھی۔ مجھے یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ میں نے خلیفہ بغداد پر دہشت طاری کرنے کے لیے دانستہ
شکست کھائی ہے اور میں شکست کو فتح میں بدل کر خلیفہ کو اپنا مرید بنانے کی کوشش کروں گا۔ مجھے فرعون تک کہا
جارہا ہے۔ میں کسی بھی الزام کا جواب نہیں دوں گا۔ ان الزامات کا جواب میری زبان نہیں میری تلوار دے گی۔ میں الفاظ
سے نہیں عمل سے ثابت کروں گا کہ یہ کس کے گناہ تھے جن کی سزا مجھے اور میرے مجاہدین کو ملی ہے''۔
اتنے میں دربان نے اطالع دی کہ حماة سے قاصد آیا ہے۔ سلطان ایوبی نے اسے فورا ً اندر بالیا۔ گردوغبار سے اٹے ہوئے اور
تھکن سے چور قاصد نے سلطان ایوبی کو العادل کا پیغام دیا۔ پیغام کھول کر پڑھا تو سلطان ایوبی کی آنکھوں میں آنسو
آگئے۔ اس نے پیغام ایک ساالر کے ہاتھ میں دے کر کہا… ''یہ پڑھ کر سب کو سنائو''۔
جوں جوں ساالر پیغام پڑھتا جارہا تھا ،سب کی آنکھوں میں چمک آتی جارہی تھی۔ سسکیوں کی طرح تین چار سرگوشیاں
سنائی دیں… ''زندہ باد ،زندہ باد''۔
یہ گناہ گاروں کا کارنامہ ہے''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''تم میں سے جو قاہرہ میں تھے ،نہیں جانتے کہ العادل کے پاس''
کتنی فوج ہے۔ تم یہ بھی نہیں جانتے کہ بالڈون کے پاس دس گنا زیادہ فوج تھی۔ اس کے سوار زرہ پوش ہیں۔ اس کے پیادے
لوہے کے خود پہنتے ہیں۔ کیا العادل کے مجاہدین نے ثابت نہیں کردیا کہ ہم شکست کو فتح میں بدل سکتے ہیں؟ کیا تم
مجھ سے یہ توقع رکھتے ہو کہ سرپکڑ کر بیٹھ جائوں؟ اگلی جنگ کی تیاری کرو۔ مجھے فوج کی بھرتی دو۔ تمہیں قبلہ اول
پکار رہا ہے۔ میں دشمن کے ساتھ کوئی سمجھوتہ اور کوئی معاہدہ نہیں کروں گا''۔
العادل کے پیغام نے جہاں سلطان ایوبی کو حوصلہ دیا ،وہاں تمام ساالروں وغیرہ کے بھی مجروح حوصلے تروتازہ ہوگئے۔ ان
میں سے بعض کے دلوں میں سلطان ایوبی اور اس کی فوج کے خالف شکوک پیدا ہوگئے تھے ،وہ صاف ہونے لگے۔ العادل نے
اسی ایک معرکے پر اکتفا نہیں کیا۔ اس نے اپنے دستوں کو تیس سے چالیس کی نفری کے جیشوں کے کمان داروں کو شب
خون مارنے اور غائب ہوجانے کی ہدایات دیں۔ مقصد یہ تھا کہ دشمن کو پریشان رکھا جائے تاکہ وہ پیش قدمی بھی نہ
کرسکے اور آرام سے بیٹھ بھی نہ سکے۔
بالڈون پہلے ہی نقصان اٹھا چکا تھا۔ وہ اس ارادے سے اتنی زیادہ فوج لے کر آیا تھا کہ دمشق تک کے عالقے پر قبضہ کرلے
گا۔ اب اس کی یہ حالت ہوگئی کہ ہر رات خیمہ گاہ کے کسی نہ کسی حصے پر تیروں کی بوچھاڑ ہوتی یا حملہ ہوتا تھا۔
فوج کے بیدار ہونے تک حملہ آور دور نکل گئے ہوتے تھے۔ بالڈون نے فوج کو تمام تر عالقے میں دور دور پھیال دیا۔ العادل
کے چھاپہ ماروں کو پکڑنے کے لیے اس نے بھی ٹولیاں تیار کیں ،جو رات کو گشت پر رہتی تھیں مگر ہر صبح بالڈون کو یہ
خبر سننی پڑتی تھی کہ آج فالں کیمپ پر حملہ ہوا ہے یا فالں ٹولی ماری گئی ہے۔ وہ عالقہ پہاڑی تھا۔ اس سے العادل
کے چھاپہ مار جیش خوب فائدہ اٹھا رہے تھے مگر یہ فائدہ العادل کو بہت مہنگا پڑ رہا تھا۔ چھاپہ مار اتنی دلیری سے شب
خون مارتے تھے کہ دشمن کے کیمپ کے اندر چلے جاتے اور ان میں سے چند ایک جانیں قربان کردیتے تھے۔
اس طریقہ جنگ اور اس قربانی سے العادل کوئی عالقہ فتح نہیں کرسکتا تھا۔ وہ دشمن کو وہاں سے پیچھے بھی نہیں ہٹا
سکتا تھا لیکن یہ فائدہ کچھ کم نہ تھا کہ صلیبیوں کی اتنی بڑی فوج پیش قدمی کرنے کے قابل نہیں رہی تھی۔ اگر بالڈون
پیش قدمی کرتا تو آمنے سامنے جنگ میں العادل اتنی قلیل فوج سے اس کے سامنے دو گھنٹے بھی نہ ٹھہر سکتا۔ اس نے
بالڈون کے کیمپ میں کام کرنے والے مقامی لوگوں میں اپنے جاسوس بھی چھوڑ رکھے تھے۔ وہ دشمن کی ذرا ذرا سی حرکت
کی اطالع العادل کو دے
وہ دشمن کی ذرا ذرا سی حرکت کی اطالع العادل کو دے دیتے تھے۔ ایک بار ان جاسوسوں میں ایک نے صلیبیوں کے اس
خشک گھاس کے پہاڑ جیسے انبار کو آگ لگا دی تھی جو انہوں نے گھوڑوں کے لیے جمع کررکھا تھا۔
العادل کو اطالع مل چکی تھی کہ دمشق سے تھوڑی سی کمک آرہی ہے۔ حلب سے کمک ملنے کی توقع نہیں تھی۔ الملک
الصالح نے پیغام کا جواب دیا تھا کہ صلیبی ( فرینکس جنہیں فرنگی کہا جاتا تھا) قلعہ حرن کو محاصرے میں لینا چاہتے ہیں،
اگر انہوں نے ایسا ہی کیا تو ان پر حلب کی فوج سے حملہ کیا جائے گا۔
٭ ٭ ٭
چند ایک یورپی مورخین نے صلیبی جنگوں کے اس دور کے متعلق لکھا ہے کہ رملہ کی شکست کے بعد اسالمی فوج کو ختم
کردیا گیا۔ اس کے جو دستے بچ گئے تھے ،انہوں نے لوٹ مار کو پیشہ بنا لیا۔ وہ صلیبیوں کے فوجی قافلوں کو لوٹ لیتے
تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ لوٹ مار خود صلیبی کرتے تھے۔ زیادہ تر مورخ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی اس سلسلے
کی کہانیوں میں مورخوں کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے کہ صلیبی فوج مقبوضہ عالقوں میں مسلمان قافلوں کو لوٹ لیا کرتی
تھی اور یہ لوٹ مار اس طرح کی جاتی تھی جیسے یہ کوئی فوجی ڈیوٹی ہو ،جن مسلمان دستوں کے متعلق چند ایک
مورخوں نے لکھا ہے کہ وہ لوٹ مار کرنے لگے تھے ،وہ العادل کے چھاپہ مار جیش تھے جنہوں نے شاہ بالڈون کی اتنی بڑی
فوج کو گوریال آپریشن سے ایک ہی عالقے میں الجھا لیا تھا۔
پہلے کہا جاچکا ہے کہ شب خون ( گوریال آپریشن) العادل کو مہنگا پڑ رہا تھا لیکن اس کے ٹروپس کا جذبہ ایسا تھا کہ کوئی
سپاہی منہ نہیں پھیرتا تھا۔ اکثر جیش مسلسل وادیوں وغیرہ میں ہی گھومتے اور بھٹکتے رہتے تھے۔ اپنی ضروریات پوری کرنے
کے لیے بھی اپنے اڈے پر واپس نہیں آتے تھے۔ا سد االسدی کی غیرمطبوعہ تحریروں کے مطابق وہ چیتوں کی طرح شکار کی
تالش میں رہتے تھے اور جب شکار پر جھپٹتے تھے تو انہیں اپنی جانیں چلی جانے کا کوئی غم نہیں ہوتا تھا۔ وہ دشمن کو
زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش میں شہید اور شدید زخمی ہوجاتے تھے۔ ان کی راتیں دشت وبیاباں میں گزرتیں اور
وہ من پسند کھانوں سے اپنے آپ کو محروم رکھتے تھے۔
20:52 :
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔121جب فرض نے محبت کا خون کیا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اپنے آپ کو محروم رکھتے تھے۔ مگر قاہرہ میں یہ پراپیگنڈہ بہت تیزی سے بڑھتا جارہا تھا کہ اپنی فوج بدکار اور عیاش
ہوگئی ہے اور رملہ کی شکست اسی کی سزا ہے۔ قاہرہ کی انٹیلی جنس کو یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ یہ پراپیگنڈہ کہاں سے
اٹھ رہا ہے۔ کیا یہ نئے سپاہیوں کی غیرمحتاط باتوں کا نتیجہ ہے یا دشمن کے باقاعدہ ایجنٹ سرگرم ہیں؟ یہ بھی دیکھا گیا
کہ لوگ فوج میں بھرتی ہونے سے ہچکچاتے تھے۔ اس شکست سے پہلے مصریوں کا رویہ یہ نہیں تھا علی بن سفیان اور
غیاث بلبیس نے اپنے مخبروں اور جاسوسوں کا جال بچھا دیا مگر اس کے سوا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا کہ لوگ فوج کو بدنام
کررہے ہیں۔ سلطان ایوبی کے خالف بھی باتیں سنی سنائی جانے لگی تھیں۔
وہ سیاہ ریش سفید پوش جو دو بیٹیوں کے ساتھ ایک گائوں میں ٹھہرا تھا ،وہیں کا ہوکے رہ گیا۔ گائوں والوں نے اسے ایک
مکان دے دیا تھا۔ اس نے کھلی محفل میں بیٹھنے اور باتیں کرنے سے پرہیز شروع کردیا تھا کہ اسے مصریوں کے گناہ معاف
کرانے کے لیے تین ماہ کا چلہ کرنا ہے۔ وہ اب مکان سے باہر تھوڑی سی دیر کے لیے نکلتا ،خاموش رہتا ،حاضرین کو ہاتھ
لہرا کر سالم کرتا اور اندر چال جاتا تھا۔ اس کے خاص مصاحبوں میں وہی سپاہی تھے جو اس کے ساتھ آئے تھے اور دو وہ
آدمی تھے جنہوں نے ٹیلوں کے عالقوں میں اس کے آگے سجدہ کیا تھا۔ ان سب نے اس کی اتنی تشہیر کردی تھی کہ دور
کے لوگ بھی اس کی جھلک دیکھنے کو پہنچ جاتے تھے۔
٭ ٭ ٭
ایک شام علی بن سفیان کا ایک جاسوس اپنی خفیہ ڈیوٹی پر قاہرہ کے مضافات میں کسی بہروپ میں گھوم پھر رہا تھا۔
شام ہوگئی۔ وہ نماز پڑھنے کے لیے ایک مسجد میں چال گیا۔ نماز کے بعد امام نے دعا مانگی۔ دعا ختم ہوئی تو ایک نمازی
نے رملہ کی شکست کی بات شروع کردی۔ اس نے سلطان ایوبی کی فوج کے خالف وہی باتیں کیں جو سیاہ ریش نے کی
تھیں۔ اس نمازی نے سیاہ ریش کا حوالہ اس طرح دیا کہ وہ غیب دان ہے اور جنات اسے رزق پہنچاتے ہیں۔ اس نے سفر
کی پوری روئیداد سنائی اور بتایا کہ کس طرح غیب سے انہیں پانی اور کھجوریں ملی تھیں۔ تمام نمازی انہماک سے اس کی
باتیں سنتے رہے۔ اس نے بات ختم کی تو نمازیوں نے اس سے اس قسم کی باتیں پوچھنی شروع کردیں… ''وہ مرادیں پوری
''کرتا ہے؟… العالج مریضوں کو شفا دیتا ہے؟… آنے والے وقت کا حال بتاتا ہے؟… اوالد دیتا ہے؟
سنانے والے نے انہیں بتایا کہ ابھی وہ سب کو یہی ایک بات بتاتا ہے کہ سلطان ایوبی اور اس کی فوج میں فرعونوں والی
خصلتیں پیدا ہوگئی تھیں اور شکست کی وجہ یہی ہے اور وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ نہ خود فوج میں بھرتی ہونا ،نہ کسی کو
ہونے دینا ،ورنہ نقصان اٹھائو گے کیونکہ گناہوں کی سزا کا ابھی وقت پورا نہیں ہوا اور یہ بھی کہ وہ تین ماہ کا چلہ کررہا
ہے۔ اس کے بعد وہ بتائے گا کہ مصر والوں کے گناہ بخشے گئے ہیں یا نہیں۔
یہ آدمی مسجد سے نکل کر گائوں سے باہر کو چل پڑا۔ علی بن سفیان کا جاسوس اس کے پیچھے گیا اور اس سے پوچھا
کہ وہ اس عالم سے کس طرح مل سکتا ہے۔ اس نے اپنا مدعا یوں بیان کیا… ''میں فوج میں ہوں۔ تمہاری باتیں سن کر
میرے دل میں یہ ڈر پیدا ہوگیا ہے کہ اپنی فوج کے گناہوں کی سزا مجھے بھی ملے گی۔ میں بھی دمشق اور حلب کے
محاذوں پرگیا تھا۔ میں نے بھی وہی گناہ کیے ہیں جن کا ذکر تم کررہے ہو۔ مجھے اس عالم بزرگ کے پاس لے چلو۔ اگر وہ
کہے گا کہ فوج سے بھاگ جائو تو بھاگ جائوں گا۔ وہ جو خدمت کہے گا ،کروں گا۔ میں خدا کے قہر سے ڈرتا ہوں''… اس
نے اتنی منت سماجت کی کہ اس کے آنسو نکل آئے۔
میرے ساتھ چلو''۔ اس آدمی نے کہا… ''لیکن کسی سے ذکر نہ کرنا کہ تم اس کے پاس گئے تھے۔ وہ آج کل چلے میں''
ہے ،کسی کے ساتھ بات نہیں کرتا۔ وہ جو پوچھے صرف اس کا جواب دینا ،فالتو بات نہ کرنا''۔
تم اسی گائوں کے رہنے والے ہو؟''۔ جاسوس نے پوچھا… ''تم نے بتایا تھا کہ تم رملہ کے محاذ سے آئے ہوئے سپاہی ''
ہو''۔
اسی لیے تو میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتا ہوں کہ یہ بزرگ خدا کے مصاحبوں میں سے ہے''۔ سپاہی نے کہا… ''
'' میں نے میدان جنگ کا قہر دیکھا ہے اور میں نے سفر کا قہر بھی دیکھا ہے لیکن اس بزرگ نے ریگزار کو گلزار بنا دیا
تھا۔ میں اب فوج میں واپس نہیں جارہا''۔
گائوں دور نہیں تھا۔ وہ باتیں کرتے پہنچ گئے۔ رات گہری ہوچکی تھی۔ سپاہی نے جاسوس کو اندھیرے میں کھڑا رہنے کو کہا
اور اس مکان میں چال گیا جہاں سیاہ ریش سفید پوش رہتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد واپس آیا۔ سپاہی نے کہا کہ وہ پیچھے والے
دروازے سے اندر چال جائے۔ وہ خود اس کے آگے آگے چل پڑا اور دونوں دروازے میں داخل ہوگئے۔ ڈیوڑھی سے گزرے ،صحن
سے گزرے اور ایک کمرے میں داخل ہوگئے۔ صحن میں روشنی تھی دونوں لڑکیاں جنہیں سیاہ ریش نے اپنی بیٹیاں بتایا تھا،
ایک اور کمرے میں تھی۔ انہیں جب صحن میں قدموں کی آہٹ سنائی دی تو دونوں نے دریچے کا کواڑ ذرا سا کھول کر
دیکھا۔ ایک لڑکی اتنی چونکی کہ اس کے منہ سے ''اوہ'' نکل گئی۔
''کیا ہوا؟'' دوسری لڑکی نے پوچھا… ''کون ہے یہ؟''
شاید مجھے دھوکہ ہوا ہو''۔ اس نے جواب دیا… ''میں نے اس شخص کو کہیں پہلے بھی دیکھا ہے''… اور وہ گہری ''
سوچ میں کھو گئی۔
جاسوس نے کمرے میں جاکرسیاہ ریش کے آگے سجدہ کیا۔ اس کے پائوں پر ماتھا رگڑا۔ وہ فرش پر دری بچھا کر بیٹھا ہوا
تھا۔ جاسوس نے گڑگڑا کر التجا کی کہ اسے گناہوں کی بخشش دالئی جائے۔ اس نے وہی باتیں کیں جو وہ سپاہی کے ساتھ
کرچکا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ سیاہ ریش نے اپنی تسبیح اس کے سر پر پھیری اور مسکرا کر اس کے سر پر
ہاتھ رکھا۔
اس سے میری تسکین نہیں ہوگی''۔ جاسوس نے آنسو بہاتے ہوئے کہا… ''اپنی زبان سے مجھے تسکین دیں۔ مجھے کوئی''
حکم دیں جو میں بجا الئوں۔ مجھے حکم دیں کہ میرا جو ایک ہی بچہ ہے ،اسے آپ کے قدموں میں ذبح کردوں۔ مجھے
حکم دیں کہ سلطان ایوبی کو قتل کردو تو میں آپ کا یہ حکم بھی بجا الئوں گا۔ کچھ بولیں۔ کچھ کہیں پھر دیکھیں میں کیا
کرتا ہوں''۔
ایک اور آدمی اندر آگیا تھا اور وہ جاسوس کی باتیں غورسے سن رہا تھا ور اسے بڑی گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے
جاسوس سے کہا… ''تم اتنے بیزار اور بے تاب کیوں ہوئے جارہے ہو؟ تم اب مرشد کے سائے میں آگئے ہو''۔
میرے گناہ اتنے گھنائونے ہیں جو مجھے راتوں کو سونے بھی نہیں دیتے''۔ جاسوس نے کہا… ''میں نے حماة کے قریب ''
ایک گائوں میں ایک مسلمان گھرانے کی لڑکی کو اغوا کرنے کے لیے لڑکی کے جوان بھائی کو قتل کردیا تھا اگر میں فوج
میں نہ ہوتا تو مجھے جالد کے حوالے کردیا جاتا لیکن مجھے کسی نے پوچھا تک نہیں''۔
سیاہ ریش نے آنکھیں بند کرلیں۔ اس کے ہونٹ ہل رہے تھے۔ اس نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے پھر جاسوس کی طرف اشارہ
کیا۔ ذرا دیر بعد وہ مسکرایا اور اس نے آنکھیں کھول دیں۔ جاسوس سے کہا… ''بہت مشکل سے تمہارے ساتھ بات کرنے کی
اجازت لی ہے۔ غور سے سنو۔ ہم تمہارے گناہ بخشوا دیں گے۔ تم کل پھر یہاں آئو۔ کسی کے ساتھ ذکر نہ کرنا ،ورنہ تمہارے
خاندان کا انجام بہت خوفناک ہوگا۔ یہ آدمی ( سپاہی) تمہیں گائوں سے باہر ملے گا اور میرے پاس لے آئے گا۔ تمہارے ماتھے
پر لکھا ہے کہ تمہارے گناہ بخشے جائیں گے بلکہ تمہیں اور تمہارے خاندان کا اتنا رزق حالل ملے گا جو تم نے کبھی خواب
میں بھی نہیں دیکھا۔ اب چلے جائو ،کل آجانا''۔
سیاہ ریش پھر مراقبے میں چال گیا۔ سپاہی نے اور دوسرے آدمی نے جاسوس کو اٹھایا اور صحن میں لے جاکر اسے سیاہ :
ریش کی ایسی معجزہ نما باتیں سنائی جنہوں نے جاسوس کو مسحور کرلیا۔ دونوں لڑکیاں دریچے کے کواڑ کی اوٹ سے اسے
دیکھ رہی تھیں ،جو لڑکی اسے پہلی بار دیکھ کر چونکی تھی ،اس نے دوسری لڑکی سے کہا… ''اسے میں نے پہلے بھی
کہیں دیکھا ہے۔ یہ دھوکہ نہیں ،وہی ہے ،وہی ہے''۔
اعلی علی بن سفیان کو بتا''
یہ وہی معلوم ہوتا ہے جو ہم پہلے بھی پکڑ چکے ہیں''۔ یہ جاسوس اپنے محکمے کے حاکم
ٰ
رہا تھا… '' وہی مراقبہ ،چلہ ،جنات اور لوگوں کے جذبات کو قبضے میں لے کر ان پر اپنا جادو چالنا۔ اپنی فوج کا جو سپاہی
مجھے اس کے پاس لے گیا تھا۔ وہ صرف فوج کے خالف باتیں کرتا تھا۔ وہ اس قسم کی باتیں مسجد میں نمازیوں کے ساتھ
کررہا تھا۔ اس نے میرے ساتھ جو باتیں کیں ،ان سے پتہ چلتا تھا کہ اس کے اور بھی کئی ساتھی ہیں اور وہ مسجدوں میں
جاکر نمازیوں کو فوج کے خالف اکساتے ہیں۔ محاذ کی جھوٹی جھوٹی باتیں سناتے ہیں اور زور اس پر دیتے ہیں کہ فوج میں
بھرتی ہونا گناہ ہے''۔
انہیں ایسی باتیں مسجدوں میں ہی کرنی چاہئیں''۔ علی بن سفیان نے کہا… ''مسجد میں کہی ہوئی بات کو لوگ وحی ''
کا درجہ دیتے ہیں۔ لوگ جذبات کے غالم ہیں۔ اسی کو مرشد مان لیتے ہیں جو ان کے جذبات کو پہلے بھڑکائے پھر الفاظ
میں ان کی تسکین کردے… تم کل پھروہاں جائو۔ مجھے وہ گائوں اور مکان سمجھا دو۔ ادھر اُدھر دیکھ کر زیادہ سے زیادہ
معلومات النے کی کوشش کرنا۔ تمہاری الئی ہوئی اطالع کے بعد ہم وہاں چھاپہ ماریں گے''۔
مجھے ڈر ہے کہ چھاپے سے وہاں کے لوگ مشتعل ہوجائیں گے'' جاسوس نے کہا… ''سپاہی نے بتایا تھا کہ گائوں کا ''
بچہ بچہ اس کا مرید ہوچکا ہے اور دور دور سے لوگ اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں''۔
ہمیں لوگوں کے ساتھ نہیں چلنا'' علی بن سفیان نے کہا… ''لوگوں کے جذبات کا خیال صرف وہ حکمران رکھا کرتے ہیں''
جو ان پر حکومت کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے حکمران لوگوں کے جذبات سے کھیال کرتے ہیں ،تاکہ رعایا خوش رہے اور اس کے
آگے سجدے کرے۔ ہمیں سلطنت اسالمیہ اور انہیں لوگوں کے وقار کا تحفظ کرنا ہے۔ ہم ان لوگوں کو حقیقت دکھائیں گے۔ ہم
انہیں سلطان صالح الدین ایوبی کا غالم اور مرید نہیں بنانا چاہتے۔ ہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ اسالم کے پاسبان تم بھی
اتنے ہی ہو جتنا تمہارا سلطان ہے۔ ہم انہیں اسالم کا دشمن دکھائیں گے۔ ہم قوم پر جذبات پرستی کا نشہ طاری کرکے اسے
سالنا نہیں چاہتے ،قوم کو حقائق کے جھٹکے دے کر جگانا ہے… تم جاکر وہ بھی دیکھو جو تمہیں ابھی نظر نہیں آیا''۔
جاسوس کے وہاں جانے کا وقت رات کا تھا۔ علی بن سفیان نے بھیس بدال اور اس گائوں میں چال گیا۔ اس نے مکان بھی
دیکھ لیا اور اس نے لوگوں کی عقیدت مندی کی بے تابیاں بھی دیکھ لیں۔ لوگوں کی باتیں بھی سنیں۔ فوج کے خالف طوفان
اٹھایا جارہا تھا۔ علی بن سفیان نے مکان کے پچھواڑے کو دور سے دیکھا۔ وہاں چھوٹا سا ایک دروازہ تھا جو بند تھا۔ وہاں
درخت تھا اور دائیں بائیں دو مکانوں کے پچھواڑے تھے۔ اس طرف کوئی انسان نہیں تھا۔ ہجوم مکان کے سامنے تھا۔ دروازہ
کھال اور ایک سفید ریش آدمی پرانے سے چغے میں ملبوس دروازے سے نکال۔ علی بن سفیان اوٹ میں ہوگیا۔ اس نے کھلے
ہوئے دروازے میں ایک خوبصورت اور جوان لڑکی کو کھڑے دیکھا۔ لڑکی نے فورا ً دروازہ بند کردیا۔
سفید ریش آدمی ہاتھ میں الٹھی لیے جھکا جھکا گائوں سے نکل گیا۔ علی بن سفیان اسے دیکھتا رہا۔ دور جاکروہ رک گیا :
اور ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ ایک طرف سے ایک گھوڑ سوار آیا۔ سفید ریش آدمی گھوڑے پر سوارہوگیا اور قاہرہ کی طرف چال
گیا۔ جو آدمی گھوڑا الیا تھا ،وہ گائوں کی طرف چال گیا۔ علی بن سفیان اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور سفید ریش سوار کے
پیچھے گیا مگر فاصلہ رکھا۔ سفید ریش نے کئی بار پیچھے دیکھا۔ علی بن سفیان اس کے پیچھے جاتا رہا۔ آگے جاکر سفید
ریش نے قاہرہ کے راستے کے بجائے گھوڑا دوسرے راستے پر ڈال دیا۔ رفتار معمولی تھی۔ علی بن سفیان نے بھی گھوڑا اسی
راستے پر ڈال دیا۔
قاہرہ شہر نظر آرہا تھا۔ دور نہیں تھا۔ ادھر ادھر ایک ایک دو دو جھونپڑے یا خیمے نصب تھے۔ کہیں خانہ بدوشوں نے ڈیرے
ڈال رکھے تھے۔ سفید ریش سوار نے کئی راستے بدلے اوروہ پیچھے دیکھتارہا۔ علی بن سفیان اس کے پیچھے رہا۔ سفیدریش
کی بے چینی صاف ظاہر ہونے لگی تھی۔ آخر اس نے قاہرہ کا رخ کرلیا اورگھوڑے کی رفتار ذراتیز کرلی۔ علی بن سفیان نے
بھی باگوں کو جھٹکا دیا۔ ہلکی سی ایڑی لگائی اور گھوڑے کی چال بدل کر تیز ہوگئی۔ فاصلہ پندرہ بیس قدم رہ گیا۔ وہ اب
شہر میں تقریبا ً داخل ہوچکے تھے۔ سفید ریش سوار نے گھوڑا روک لیا اور علی بن سفیان کے راستے میں ہوگیا۔ علی بن
سفیان نے بھی گھوڑا اس کے قریب جاکر روکا۔
تم کوئی راہزن معلوم ہوتے ہو''۔ سفید ریش سوار نے کہا اور خنجر نکال لیا۔ بوال… ''میرا پیچھا کیوں کررہے ہو''۔''
علی بن سفیان نے دیکھا کہ اس کی سفید داڑھی سے اس کی عمر ستر برس سے اوپر لگتی تھی مگر چہرہ ،آنکھیں اور
دانت بتاتے تھے کہ چالیس سے بہت کم ہے۔ علی بن سفیان بھی بہروپ میں تھا۔ اس نے اپنے کمر بند سے سوا گز لمبی
تلوار لٹکا رکھی تھی جو اس کے چغے میں چھپی ہوئی تھی۔ اس نے بجلی چمکنے جیسی پھرتی سے تلوار نکال لی۔
داڑھی اتار دو''۔ اس نے سفید ریش کے پہلو میں تلواررکھ کر کہا… ''اور میرے آگے آگے چل پڑو''۔ سفید ریش کی ''
آنکھیں ٹھہر گئیں۔ علی بن سفیان نے تلوار کی نوک اس کی کنپٹی پر رکھ کر داڑھی میں الجھائی اور جھٹکا دیا ،وہاں سے
داڑھی چہرے سے الگ ہوگئی۔ آدھا چہرہ ننگا ہوگیا۔ علی بن سفیان نے اپنی داڑھی اتار دی اور بوال… ''ہم ایک دوسرے کو
اچھی طرح جانتے ہیں ،چلو چلیں''۔
اعلی حاکم تو نہیں تھا لیکن چھوٹا اور غیراہم بھی نہیں تھا۔ مصر کا رہنے واال تھا۔ اس کے متعلق
وہ شہری انتظامیہ کا کوئی
ٰ
علی بن سفیان تک یہ اطالعات پہنچی تھیں کہ معزول کی ہوئی عباسی خالفت کا زمین دوز کارندہ ہے۔ اس خالفت کو جس
کی گدی قاہرہ میں تھی۔ سلطان ایوبی نے سات آٹھ سال پہلے ختم کردیا تھا۔ خلیفہ العاضد تھا جس نے حشیشین ،صلیبیوں
اور سوڈانیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کررکھا تھا۔ سلطان ایوبی نے نورالدین زنگی مرحوم کے ساتھ بات کرکے اس خالفت کو معزول
کیا اور امارت مصر کو خالفت بغداد کے تحت کردیا تھا۔ معزول شدہ خالفت عباسیہ کے پیروکار ابھی تک زمین دوز کارروائیوں
میں مصروف تھے۔ رملہ کی شکست ان کے لیے زریں موقع تھا ،چنانچہ سلطان ایوبی اور اس کی فوج کو بدکار ،عیاش ،اور
شکست کا ذمہ دار ثابت کرنے کی مہم میں عباسی خفیہ طریقوں سے سرگرم ہوگئے تھے۔
علی بن سفیان نے اس آدمی کو حراست میں لے لیا اور اپنے اس قید خانے میں بند کیا ،جہاں وہ ملزموں سے ابتدائی تفتیش
کیا کرتا تھا۔ علی بن سفیان کا جاسوس رات کو سیاہ ریش بزرگ کے بتائے ہوئے وقت پر گائوں کے باہر جاکھڑا ہوا۔ گزشتہ
رات واال سپاہی اسے لینے آگیا۔ سپاہی نے اسے کوئی نئی ہدایات دیں اور ساتھ لے گیا۔ وہ پچھلے دروازے سے اندر گیا مگر
جاسوس کو گزشتہ رات والے کمرے کے بجائے ایک اورکمرے میں لے گئے۔ اسے کمرے میں سیاہ ریش بزرگ نظر نہ آیا ،وہاں
کچھ بھی نہیں تھا۔ دروازہ بند ہوا تو اس نے دروازے کی طرف دیکھا۔ سپاہی بھی باہر نکل گیا تھا۔ اس نے دروازے کو ہاتھ
لگایا تو اسے پتہ چال کہ دروازہ باہر سے بند کردیا گیا ہے۔ اس کمرے کی نہ کوئی کھڑکی تھی ،نہ روشن دان۔ وہ سمجھ گیا
کہ اسے پہچان لیا گیا ہے اور اسے پکڑ لیا گیا ہے۔ فرارممکن نہیں تھا۔ وہ سوچنے لگا کہ کیا کرے۔
خاصی دیر بعد دروازہ کھال۔ ان لڑکیوں میں سے ایک اندر آئی ،جنہیں سیاہ ریش نے اپنی بیٹیاں بتایا تھا۔ وہ اب مستور :
نہیں تھی لیکن یورپی لڑکیوں کی طرح عریاں بھی نہیں تھی۔ اس کا لباس عرب کی مسلمان لڑکیوں جیسا تھا۔ نقش ونگار
عرب اور یورپ کے ملے جلے تھے۔ وہ ا ندر آئی تو باہر سے کسی نے دروازہ بند کرکے زنجیر چڑھا دی۔ کمرے میں قندیل
جل رہی تھی۔ جاسوس نے لڑکی کو دیکھا تو اس کی آنکھیں جیسے حیرت سے ساکن ہوگئی ہوں۔ لڑکی مسکرا رہی تھی۔
پہچاننے کی کوشش کررہے ہو؟''… لڑکی نے کہا… ''اتنی جلدی بھول گئے؟ تم میرے شہر سے بچ کر نکل آئے تھے ،مگر''
اپنے شہر میں آکر میرے قیدی بن گئے۔ اب نہیں نکل سکو گے''۔
جاسوس نے لمبی آہ بھری جس میں سکون بھی تھا ،اضطراب بھی۔ اسے تین سال پہلے کے وہ دن یاد آگئے جب اسے
جاسوسی کے لیے عکرہ بھیجا گیا تھا۔ عکرہ صلیبیوں کے قبضے میں تھا۔ وہاں ان کا بڑا پادری رہتا تھا جسے صلیب اعظم کا
محافظ کہتے تھے۔ صلیبی بادشاہ جو اپنی فوجیں عرب عالقوں میں قبضہ کرنے کی غرض سے لے کر آتے ،عکرہ ضرور جاتے
اور صلیب اعظم کے محافظ کو سالم کرتے تھے۔ اس لیے جنگی لحاظ سے یہ اہم جگہ تھی۔ علی بن سفیان نے وہاں اپنے
جاسوس بھیج رکھے تھے۔ انہوں نے عیسائیوں کے بہروپ میں وہاں ایک خفیہ اڈا بھی قائم کررکھا تھا۔ ان میں سے تین چار
پکڑے گئے اور دوشہید ہوگئے تو وہاں کے زمین دوز کمانڈر نے مزید جاسوس مانگے تھے۔ ان میں اسے بھی بھیجا گیا تھا جو
اب مصر میں ایک کمرے میں بند تھا۔
اس کا رنگ اچھا ،قدبت اور زیادہ اچھا اور چہرہ دل کش تھا۔ دماغی لحاظ سے وہ تیز اور ہوشیار تھا۔ وہ گھوڑے کی سواری
کا اتنا ماہر تھا کہ فوجی نمائشوں اور میلوں میں حیران کردینے والے کرتب دکھایا کرتا تھا۔ اداکاری میں بھی مہارت رکھتا تھا۔
اس نے سیاہ ریش کے سامنے اپنے آنسو نکال لیے تھے۔ وہ عیسائی نام سے عکرہ میں داخل ہوا تھا اور اس نے وہاں کوئی
اپنی دردناک کہانی سنائی تھی اور بتایا تھا کہ وہ حلب کی مسلمان فوج میں نئے سپاہیوں کوگھوڑ سواری اور رسالے کی لڑائی
کی ٹریننگ دیا کرتا تھا لیکن مسلمانوں نے اس کی نوجوان بہن کو اغوا کرکے اسے فوج سے نکال دیا۔
اس کی اداکاری سے متاثر ہوکر اسے سواری کی ٹریننگ دینے کے لیے رکھ لیاگیا لیکن اس کے شاگرد فوجی نہیں تھے بلکہ
جوان لڑکیاں تھیں اور بڑے بڑے فوجی افسروں کے لڑکے۔ اسے پتہ چال کہ ان لڑکیوں کو مسلمان عالقوں میں جاسوسی کے
لیے تیار کیا جارہا ہے۔ پھر مرد بھی اس کے حوالے کیے جانے لگے۔ یہ سب صلیبی جاسوس تھے۔ وہ ان میں گھل مل گیا
تھا اور ان سے اسے بڑی قیمتی معلومات مل جاتی تھیں۔
یہ لڑکی جو اب قاہرہ کے مضافات کے ایک گائوں میں اسے کہہ رہی تھی کہ اب نہیں نکل سکو گے ،عکرہ میں اس کی
شاگرد تھی۔ وہ جاسوسی کا تجربہ رکھتی تھی ،گھوڑ سواری نہیں جانتی تھی۔ علی بن سفیان کا یہ جاسوس اسے اچھا لگنے
لگا تھا۔ پھر استادی شاگردی بڑے گہرے لگائو کی صورت اختیار کرگئی۔ لڑکی نے یہاں تک ارادہ کرلیا تھا کہ وہ اس آدمی کی
خاطر جاسوسی جیسا ذلیل پیشہ ترک کردے گی اور اس کی بیوی بن کر باعزت زندگی گزارنے لگے گی۔ اس مسلمان جاسوس
نے محبت کا جواب محبت سے دیا تھا لیکن اپنے فرض کو نظرانداز نہیں کیا تھا۔ لڑکی نے اپنے کام میں دلچسپی لینی چھوڑ
دی تھی۔ وہ اس آدمی کی ہو کے رہ گئی تھی۔
ایک روز عکرہ میں دو مسلمان جاسوس پکڑے گئے۔ ان میں سے ایک نے اپنے گروہ کے ان تمام آدمیوں کی نشاندہی کردی :
جنہیں وہ جانتا تھا۔ ان میں یہ جاسوس بھی تھا۔ عجیب بات یہ ہوئی کہ اسی لڑکی نے اس سے پوچھا… ''تم جاسوس تو
نہیں ہوسکتے۔ تم مسلمان تو نہیں؟ مجھے پتہ چال ہے کہ یہاں کا جاسوسی کا محکمہ تمہارے متعلق تفتیش کررہا ہے اور تم
پر نظر رکھی جارہی ہے''۔
وہ ہنس پڑا اور الزام کی تردید کی ،مگربے چین ہوگیا۔ رات کو وہ اپنے زمین دوز کمانڈر سے مال۔ کمانڈر نے اسے بتایا کہ
گروہ کے بہت سے آدمیوں کی نشاندہی ہوگئی ہے اور بہترہے کہ وہ یہاں سے نکل جائے۔ وہ کمانڈر کے گھر سے نکال تو اسے
پتہ چل گیا کہ دو آدمی اس کے پیچھے پیچھے آرہے ہیں۔ یہ تعاقب تھا۔ وہ چلتا گیا اور اصطبل میں گیا۔ ایک گھوڑے پر
زین کسی تو دونوں آدمی آگئے۔ اس سے پوچھا کہ وہ کہاں جارہا ہے۔ وہ پھرتیال اور ہوشیار تھا۔ کود کرگھوڑے پرسوار ہوا اور
ایڑی لگا دی۔ ایک آدمی اس کے گھوڑے تلے کچال گیا… وہ عکرہ سے نکل آیا۔
٭ ٭ ٭
میں نے تمہیں پہچان لیا ہے''… اس نے لڑکی سے کہا۔ وہ ایک دوسرے کو تین سال بعد دیکھ رہے تھے۔ اس نے کہا… ''
''مجھے حیران نہیں ہونا چاہیے تھا ،تم آخر جاسوس ہو''۔
تین سال پہلے میں نے تمہاری محبت کے دھوکے میں آکر جاسوسی چھوڑ دینے کا عہد کیا تھا''… لڑکی نے کہا… ''تم ''
اگر مجھے بتا دیتے کہ تم مسلمان ہو اور جاسوس ہو تو بھی میں تمہیں دھوکہ نہ دیتی ،شاید تمہارے ساتھ آجاتی۔ تمہارے
بھاگ آنے کے بعد جب مجھے پتہ چال تھا کہ تم مسلمان جاسوس تھے تو مجھے دکھ نہیں ہوا تھا۔ تمہارے کھو جانے کا
بہت غم تھا''۔
کیا اب تمہارے دل میں میری محبت نہیں؟''… جاسوس نے پوچھا… ''تم اب میرے ملک میں ہو ،میرے ساتھ آئو ،یہاں ''
تمہیں دھوکہ نہیں دوں گا''۔
محبت اب بھی ہے''… لڑکی نے کہا… ''مگر اس پر فرض غالب آگیا ہے۔ یہ تمہارا جرم ہے۔ میں نے تو تمہاری محبت''
کی خاطر جاسوسی چھوڑ دینے کا ارادہ کرلیا تھا مگر تم نے میرے ارادوں کو کچل ڈاال اور جاسوسی کی غالظت میں مجھے
ڈبو آئے۔ تین سال گزر گئے ہیں۔ اتنی لمبی مدت میں میں اپنے آپ کو بری طرح ناپاک کرچکی ہوں۔ اسالم کے خالف نفرت
میری روح میں اترگئی ہے۔ اب نہیں۔ اب تم میرے قیدی ہو۔ میں اپنے گروہ کو دھوکہ نہیں دے سکتی۔ میں جس آدمی کے
ساتھ آئی ہوں ،اسے میں نے ہی بتایا تھا کہ تم جاسوس ہو۔ میں نے اسے عکرہ کی ساری بات سنا دی تھی۔ اگر میں
تمہیں صحن میں گزرتے اتفاق سے نہ دیکھ لیتی تو ہم سب گرفتارہوچکے ہوتے۔ تمہیں میں نے پکڑوایا ہے''۔
یہ آدمی جو غیب دان اور مرشد بنا ہوا ہے ،مسلمان ہے یا صلیبی؟''…جاسوس نے پوچھا۔''
اب پوچھ کر کیا کرو گے؟''… لڑکی نے پوچھا۔''
جاسوسی ایک عادت بن گئی ہے''… جاسوس نے کہا… ''مرنے سے پہلے جاننا چاہتا ہوں۔ اب یہ راز باہر تو نہیں لے ''
جاسکوں گا''۔
یہ مسلمان ہے''… لڑکی نے کہا… ''مسلمانوں کی کمزوریوں سے واقف ہے۔ استادوں کا استاد ہے''۔'
کمرے کا دروازہ کھال سیاہ ریش ایک آدمی کے ساتھ اندر آیا۔ لڑکی سے بوال… ''اگر تمہاری بات پوری ہوگئی ہے تو باہر نکل
جائو''… لڑکی جاسوس کو گہری نظروں سے دیکھتی باہر نکل گئی۔ سیاہ ریش نے جاسوس سے پوچھا… ''مجھے صرف یہ بتا
''دو کہ میرا راز کس کس کو معلوم ہے۔ کیا تم نے علی بن سفیان کو بتا دیاہے کہ میں مشکوک آدمی ہوں؟
نہیں''… جاسوس نے جواب دیا… ''میں جاسوس ضرور ہوں ،جاسوسی کے خیال سے یہاں نہیں آیا تھا''۔''
سیاہ ریش کے ہاتھ میں چمڑے کا چابک (ہنٹر) تھا۔ اس نے پوری طاقت سے جاسوس کو مارا ور کہا… ''میں سچی بات
سننا چاہتا ہوں''۔
دروازہ زور سے کھال۔ وہی لڑکی اندر آئی۔ اس نے سیاہ ریش کے دونوں بازو پکڑ کر التجا کی… ''اسے مارو مت سب کچھ
بتا دے گا''۔
میں کچھ نہیں بتائوں گا''۔ جاسوس نے کہا۔''
سیاہ ریش نے چابک گھمایا تو لڑکی دوڑ کر جاسوس کے آگے ہوگئی۔ چال کر بولی… ''مارو نہیں ،اس کے جسم کی چوٹ
میرے دل کا زخم بن جائے گی''۔
تم اسے بچانا چاہتی ہو؟''… دوسرے آدمی نے گرج کر پوچھا۔''
نہیں''… لڑکی نے روتے ہوئے کہا… ''یہ کچھ نہ بتائے تو تلوار کے ایک ہی وار سے اس کا سرتن سے جدا کردو۔ اذیت ''
دے کر نہ مارو''۔
لڑکی کو گھسیٹ کر باہر لے گئے پھر جاسوس پرتشدد شروع ہوگیا۔ اسے رات بھر سونے نہ دیا گیا۔ اس سے بہت کچھ پوچھا
جارہا تھا۔ اسے بہت کچھ بتایا جارہا تھا مگر وہ بت بنا چوٹ پر چوٹ کھا رہا تھا۔ سحر کا وقت تھا۔ لڑکی پھر اس کمرے
میں آگئی۔ اس وقت جاسوس نیم غشی کی حالت میں تھا۔ وہ فرش پرپڑا تھا۔ اب اسے تلوار کی نوک جگہ جگہ چبھوئی
جارہی تھی۔ لڑکی اس کے اوپر لیٹ گئی اور چیخنے لگی… ''یہ میں برداشت نہیں کرسکتی۔ میں تمہیں بتا چکی ہوں کہ یہ
میری پہلی اور آخری محبت ہے۔ اس کی اذیت میری اذیت ہے۔ یہ اپنا فرض ادا کررہا ہے ،میں اپنا فرض ادا کررہی ہوں۔
ہمارے لیے یہی کافی ہے۔ اسے جان سے ماردو ،اذیت نہ دو''۔
جاسوس نے نیم بے ہوشی کی حالت میں اپنے اوپر پڑی لڑکی کو بازوئوں کے گھیرے میں لے لیا اور مری ہوئی آواز میں بوال…
''تم چلی جائو۔ ایسا نہ ہو کہ میں اپنے فرض سے بھٹک جائوں۔ یہ اذیتیں میرے فرض کا حصہ ہیں۔ تم اپنے مذہب پر
قربان ہوجائو ،مجھے اپنے مذہب پر قربان ہوجانے دو''۔
لڑکی پاگل ہوئی جارہی تھی۔ اسے ایک بار پھر گھسیٹ کر باہر لے گئے۔ سیاہ ریش نے حکم کے لہجے میں کہا… ''اس
بدبخت لڑکی کو کسی کمرے میں بند کردو''۔
٭ ٭ ٭
دن آدھا گزر چکا تھا۔ علی بن سفیان اس جاسوس کے انتظار میں بیزارہوا جارہا تھا۔ا یک روز پہلے اس نے جس آدمی کو :
سفید داڑھی کے بہروپ میں پکڑا تھا اسے بھی گزشتہ رات قید خانے میں ایسی ہی اذیتیں دے کر اس سے کہلوا لیا گیا تھا
کہ یہ سیاہ ریش کون ہے اور اس کی اصلیت اور اس کا مشن کیا ہے۔ دن کے پچھلے پہر علی بن سفیان نے اس شک کی
بناء پر کہ اس کا جاسوس پکڑا نہ گیا ہو۔ فوج کا ایک چھاپہ مار جیش تیار کیا۔ اس مکان کے متعلق پتہ چل ہی چکا تھا
کہ تخریب کار جاسوسوں کا اڈا بن گیا ہے۔
چھاپہ مار اس قدر تیزی سے آئے کہ گائوں میں کسی کو سنبھالنے کا موقع نہ مال۔ وہ گھوڑوں سے اتر کر بندروں کی طرح
مکان کی دیواریں پھالنگ گئے۔ دروازے توڑ دئیے گئے۔ اندر جتنے آدمی تھے ،انہیں پکڑ لیا گیا۔ علی بن سفیان کے جاسوس
کی اب یہ حالت تھی کہ بے ہوش پڑا تھا اور اس پر نزاع کی کیفیت طاری تھی۔ ایک کمرے میں اسے چاہنے والی لڑکی
فرش پر پڑی تھی۔ ایک خنجر اس کے دل میں اترا ہوا تھا۔ وہ اتنا ہی کہہ سکی… ''میں نے خودکشی کی ہے''… اور وہ
مرگئی۔
سیاہ ریش کو اس ہجوم کے سامنے کھڑا کیا گیا جو گائوں کے اندر اور باہر جمع تھا اور اسے کہا گیا کہ وہ لوگوں کو بتائے
کہ اس کی اصلیت کیا ہے اور وہ کس مقصد کے تحت فوج اور سلطان کو بدنام کررہا تھا۔ اس نے بتا دیا۔ ایک لڑکی مرچکی
تھی۔ دوسری کو لوگوں کے سامنے کیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ لڑکی مسلمان نہیں صلیبی ہے۔ یہ بھی سب کو بتایا گیا کہ
ٹیلوں کے عالقے میں آگ کے قریب جو پانی اورکھجوریں پڑی تھیں۔ وہ اس کے گرہو کے آدمیوں نے رکھی تھیں۔ یہ گروہ اس
سے دور دور سفر کرتا تھا۔
علی بن سفیان نے اپنے تہہ خانے میں اس آدمی اور اس کے گروہ سے جو باتیں اگلوائیں ،ان سے پتہ چال کہ اس نے محاذ
سے بھاگے ہوئے نئے فوجیوں کو اپنے اثر میں لے لیا تھا۔ا س کے ساتھ اپنے آدمی بھی تھے۔ یہ تمام لوگ مسجدوں میں اور
ان جگہوں پر جہاں لوگ اکٹھے ہوئے تھے ،مصر کی فوج کے خالف باتیں کرتے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ قوم اور فوج کے درمیان
شکوک اور نفرت کی دیوار کھڑی کی جائے۔ اس سے صلیبی بہت فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ اس مہم میں مصر کی انتظامیہ کے
چند ایک حاکم بھی شامل تھے اور معزول شدہ عباسی خالفت کے خفیہ پیروکاربھی۔ مختصر یہ کہ دشمن تو اس مہم میں
شریک تھا ہی ،خود وہ مسلمان بھی اس میں شامل ہوگئے تھے جن کاکوئی نہ کوئی مفاد وابستہ تھا۔
جب کبھی فوج اورقوم میں نفرت پیدا ہوگی ،سمجھ لو سلطنت اسالمیہ کا زوال شروع ہوگیا''… سلطان ایوبی نے کہا۔ اس ''
نے حکم دیا… '' تمام مسجدوں کے اماموں کو رملہ کی شکست کے اصل اسباب بتانے کا انتظام کرو اور امام ساری قوم کو
عیسی
بتائیں۔ اگر کسی کو ذمہ داریاں اور الزامات عائد کرنے سے تسکین ہوتی ہے تو ساری ذمہ داری مجھ پر ڈالو۔ حضرت
ٰ
علیہ السالم نے سولی پر جان دے کر قوم کے گناہوں کا کفارہ ادا کیا تھا۔ میں فلسطین کے میدان جنگ میں جان دے کراپنی
قوم کے ہر اس فرد کے گناہوں کا کفارہ ادا کروں گا جو تخت وتاج کے نشے میں میری فوج اور مقبوضہ فلسطین کے راستے
میں حائل ہورہاہے اور میرے خون کے قطروں سے آواز آئے گی کہ شکست کی ذمہ داری فوج نہیں تھی اور میری کسی فوج
نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا''۔
20:53
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔ 122تصادم روح بدروح کا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حمص پرسکون قصبہ تھا۔ یہ حلب کے شمال میں آج کے شام اور لبنان کی سرحد کے قریب واقع تھا۔ پرسکون اس لیے تھا
کہ ابھی جنگ کی لپیٹ میں نہیں آیا تھا۔ا س کے مضافات سے کبھی کبھی صلیبی فوج گزرا کرتی تھی۔ اس کے قریب سے
ایک چھوٹا سا دریا گزرتا تھا ،اس لیے حمص فوجوں کی عام گزرگاہ نہیں بن سکتا تھا۔ اس قصبے میں مسلمانوں کی آبادی
اتنی زیادہ تھی کہ اسے مسلمانوں کی بستی کہا جاتا تھا۔ چند ایک گھرانے عیسائیوں کے بھی تھے اور چند ایک یہودیوں کے
بھی۔ تجارت عیسائیوں اوریہودیوں کے قبضے میں تھی۔ یہ لوگ دور کے عالقوں میں کاروبار کے سلسلے میں جاتے رہتے تھے،
اس لیے وہ باہر کی دنیا کی جو خبریں التے تھے ،انہیں سچ سمجھا جاتا تھا۔ وہ صلیبی فوج کے متعلق وہ ڈرائونی باتیں
سنایا کرتے تھے۔
ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ حمص کے مسلمانوں پر صلیبی فوج کی دہشت طاری رہے اور کم از کم اس بستی کا کوئی مسلمان
اسالمی فوج میں نہ جائے لیکن اس کا اثر الٹا ہورہا تھا۔ مسلمانوں نے ڈرنے کے بجائے جنگی تیاریاں شروع کردی تھیں۔ انہیں
ان تیاریوں سے کوئی حکما ً نہیں روک سکتا تھا۔ یہاں صلیبیوں کی حکمرانی نہیں تھی۔ حمص کے مسلمان گھوڑ سواری ،نیزہ
بازی ،تیغ زنی اور تیراندازی کی مشق کرتے رہتے تھے۔ یہ تربیت لڑکیوں کو بھی دی جاتی تھی۔ ان کا قائد بڑی مسجد کا
خطیب تھا جس کا علم اور عمل جہاد پر مرکوز تھا۔ اس نے مسلمانوں کو بتا رکھا تھا کہ قبلہ اول کو آزاد کرانا ہے اور
صلیبیوں کو عرب کی سرزمین سے بے دخل کرنا ہے۔
اور یہ جنگ کیوں لڑی جارہی ہے؟'' خطیب اپنے خطبوں میں اس سوال کا جواب ان الفاظ میں دہراتا رہتا تھا… …''
''صلیبی عرب پر قبضہ کرکے اپنی بادشاہی قائم کرنے کی کوشش میں ہیں اورہم یہاں اللہ کی بادشاہی قائم کرنے کے لیے
جان ومال کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے عرب کو میدان جنگ صرف اس لیے بنایا ہے کہ خدائے ذوالجالل کا عظیم
پیغام عرب کو عطا ہوا ہے اور اس پیغام نے عربوں پر یہ فرض عائد کردیا ہے کہ ہم یہ پیغام جو ہمارے رسول اکرم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غارحرا میں عطا ہوا تھا ،تمام تر بنی نوع انسان تک پہنچائیں۔ طارق بن زیاد نے بحیرہ روم کے مصر
والے ساحل پر کھڑے ہوکر خدائے عزوجل سے کہا تھا… ''اگر تیری ذات باری مجھے ہمت واستقالل عطا فرمائے تو میں تیرا
نام سمندر پار لے جائوں''… اور اس کے سینے سے جذبہ ایمان کا شعلہ جو اٹھا تو اس نے گھوڑا سمندر میں ڈال دیا۔ اس
کی فوج کشتیوں میں یورپ کے ساحل پر اتری۔ زیاد کے بیٹے طارق نے حکم دیا… ''کشتیوں کو آگ لگا دو ،ہم واپس جانے
کے لیے نہیں آئے''۔
مگر آج صلیبی اس عزم کے ساتھ اللہ کی اس سرزمین پر آئے ہیں کہ وہ واپس نہیں جائیں گے۔ انہوں نے اس سرزمین کو''
تہہ تیغ کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ خدا کے اس عظیم پیغام کو جو ساری دنیا میں پھیالنے کے لیے رسول اکرم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا ہوا تھا ،یہیں ختم کردیا جائے۔ یاد رکھو مسلمانوں! اسالم ایک ایسا مذہب ہے جو پتھروں کو موم
کردیتا ہے۔ ہمارے مذہب کے بنیادی اصول انسانوں کی روح میں اتر جاتے ہیں کیونکہ یہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔
حقوق العباد ایک ایسا اصول ہے جو صرف اسالم نے انسان کو دیا ہے۔ اسالم ایک نظریہ ہے صرف عقیدہ نہیں۔ صلیب کے
علمبردار جانتے ہیں کہ اسالم کو فروغ کا موقع مال تو کرٔہ ارض پر پرچم رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس سائے
تلے آجائے گا اور صلیب کا نام ونشان مٹ جائے گا۔ اسی لیے صلیبی اپنی تمام تر جنگی قوت لے کر یہاں آگئے ہیں۔ وہ
…''علم وفضل کے اس سرچشمے کو بند کرنے آئے ہیں
اقصی ''
یہودیوں کے ساتھ ان کا سودا ہوا ہے کہ وہ بیت المقدس کو فتح کرکے ان کے حوالے کردیں گے تاکہ یہودی مسجد
ٰ
کو جو ہمارا قبلہ اول ہے ،ہیکل سلیمانی بنا لیں۔ یہ یہودیوں کا ایک پرانا خواب ہے جسے وہ عملی شکل میں النے کو بے
تاب ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے اپنی بیٹیاں اور اپنی دولت صلیبیوں کے حوالے کردی ہے۔ ان دونوں چیزوں نے ہماری صفوں
میں غدار پیدا کردئیے ہیں۔ تم سب تک صالح الدین ایوبی کا پیغام پہنچا رہا ہوں۔ اسے اپنے دلوں پر نقش کرلو۔ رسالت
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاسبان صالح الدین ایوبی نے اپنی فوج کو اور قوم کو یہ بتا رکھا ہے کہ یہ دو فوجوں کی نہیں،
دو مذہبوں کی جنگ ہے۔ یہ قبلہ اول اور ہیکل سلیمانی کی جنگ ہے۔ اگر ہم نے آج باطل کو ہمیشہ کے لیے ختم نہ کیا تو
ایک روز باطل ہمارے مذہب کو ختم کردے گا۔ ہماری روحیں دیکھیں گی اور تاریخ دیکھے گی کہ فلسطین پریہودی قابض ہیں
اقصی ہیکل سلیمانی میں تبدیل ہورہی ہے
…''اور مسجد
ٰ
حمص کے مسلمانو! تم صالح الدین ایوبی کی فوج کے سپاہی نہیں ہو مگرا للہ کے سپاہی ہو۔ تم پر جہاد فرض کردیا '' :
گیا ہے۔ قرآن کا حکم ہے کہ اپنے وطن اور اپنے مذہب کے دفاع کے لیے گھوڑے اور اسلحہ تیار رکھو اور جہاد کی تیاری میں
مصروف رہو… اور یہ بھی یاد رکھو کہ تمہارے مذہب کا دشمن صرف میدان جنگ میں تمہارے خالف نہیں لڑتا۔ اس کا ایک
محاذ اور بھی ہے۔ وہ افواہوں کے ذریعے تم پر اپنی فوج کی دہشت اور اسالمی فوج کے خالف وسوسے پیدا کرتا ہے۔ سرکردہ
افراد کو حسین لڑکیوں اور سونے کی چمک دمک سے اپنا گرویدہ بناتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں انسان کی بہت بڑی کمزوری ہیں۔
ان میں جب شراب شامل ہوجاتی ہے تو مسلمان اپنا ایمان اپنے ایمان کے دشمن کے قدموں میں رکھ دیتا ہے۔ ایسا ہوچکا
ہے اور ہورہا ہے۔ صلیبی ہمیں خانہ جنگی میں الجھا کر ہماری جنگی قوت کو کمزور کرچکے ہیں۔ یہ گناہ ان چند ایک امراء
کا تھا جو صلیبیوں کے بڑے ہی دلکش جال میں آگئے تھے مگر ان کے گناہوں کی سزا قوم اور فوج کو اور سلطنت اسالمیہ
…''کو ملی
خانہ جنگی کرانے والے قوم اور فوج کو جذبات میں الجھا کر بڑھکاتے اور مرواتے ہیں اور خود اپنے محالت میں ان حرموں''
میں بدمست رہتے ہیں جنہیں صلیبیوں اور یہودیوں نے اپنی لڑکیوں سے رونق دی ہے۔ یاد رکھو ،یہ ساری چٹانیں سونا بن
جائیں اور تمہارے قدموں میں رکھ دی جائیں تو بھی یہ جہاد کا صلہ اور انعام نہیں بن سکتیں۔ جہاد کا انعام روح کو مال کرتا
ہے۔ روح زروجواہرات سے خوش نہیں ہوا کرتی۔ جہاد کا انعام خدا کےپاس ہے۔ تم اللہ کی راہ میں جان دے دو گے تو بھی
زندہ رہو گے۔ یہ جسم کی ہی لعنت ہے ،جس نے جسمانی لذت کو شعار بنایا۔ اس نے اپنے بھائی کا گال کاٹا اور مرتد
کہالیا۔ قرآن پاک تمہیں روحانی لذت سے سرشار کرتا ہے''۔
اور اس طرح اس خطیب نے حمص کے مسلمانوں کو روحانی لذت سے سرشار کررکھا تھا۔ جنگی تربیت اسی کی زیر نگرانی
اور اسی کی ہدایات کے تحت ہوتی تھی۔ وہ خود تیغ اور خنجر زنی کاماہر تھا۔ حمص میں اس تربیت سے رونق رہتی تھی۔
قصبے میں تین مسجدیں تھیں ،جہاں جہاد کی باتیں ہوتی تھیں مگر وہاں جو صلیبی اور یہودی رہتے تھے ،وہ مسلمانوں کے
ہمدرد بن کر حوصلہ شکن خبریں سناتے رہتے تھے۔ مسلمان اپنے خطیب اور اماموں سے ان خبروں کے متعلق پوچھتے اور بے
قرار ہوتے رہتے تھے۔ خطیب نے حمص کے ایک جواں سال آدمی ،تبریز کو اس مقصد کے لیے دمشق بھیج رکھا تھا کہ وہاں
سے صحیح صورت حاصل معلوم کرکے آئے۔
٭ ٭ ٭
تبریز صحیح صورت حال معلوم کرکے حمص کو واپس جارہا تھا۔ اسے دمشق تک جانے کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ راستے میں
ہی اس کا کام ہوگیا تھا۔ اس نے حماة سے بہت دور صلیبی فوج دیکھی تھی جو ایک جگہ پڑائو کیے ہوئے تھی۔ اس نے دور
سے جھنڈوں سے پہچان لیا تھا کہ یہ صلیبی فوج ہے۔ پھر اسے دو شتر سوار ملے تھے جو مسلمان تھے۔ انہوں نے بھی
اسے بتایا تھا کہ یہ صلیبیوں کی فوج ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ یہ فوج مسلمانوں کے ہاتھوں بہت زیادہ نقصان اٹھا
کر آئی ہے۔ تبریز نے انہیں بتایا کہ وہ حمص سے یہ معلوم کرنے آیا ہے کہ صلیبی فوج کہاں تک پہنچی ہے اور عرب کے
کتنے عالقے فتح کرچکی ہے۔
وہ پہاڑیاں تمہیں نظر آرہی ہیں''۔ شتر سواروں نے اسے بتایا تھا… ''یہی راستہ تمہیں ان پہاڑیوں کے اندر لے جائے گا۔ ''
اپنی فوج وہیں ہے۔ دمشق بہت دور ہے۔ تم اپنی فوج کے کسی بھی آدمی سے پوچھ لینا ،تمہیں سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔
ہم اتنا ہی جانتے ہیں کہ رملہ میں لڑائی ہوئی تھی جس میں مسلمان نقصان اٹھا کر ادھر ادھر ہوگئے تھے ،پھر صلیبیوں سے
حماة کے قلعے کے قریب لڑائی ہوئی تھی جس میں صلیبی نقصان اٹھا کر بھاگے… تم آگے چلے جائو لیکن کسی صلیبی سپاہی
کے قریب نہ جانا۔ اسے جونہی پتہ چال تم مسلمان ہو ،وہ تمہیں قتل کردے گا''۔
سورج غروب ہونے کو تھا ،جب وہ حماة کی پہاڑیوں سے گزر رہا تھا۔ ایک فراخ وادی تھی۔ آگے سے چند ایک سوار آرہے
تھے۔ تبریز راستے سے ہٹا نہیں۔ ایک سوار گھوڑا دوڑاتا آیا اور اسے غصے سے کہا کہ وہ راستے سے دور ہٹ جائے۔ ''ساالر
اعلی اور اس کے ساتھ کے سوار تیزی
اعلی آرہے ہیں''… تبریز ذرا سا الگ ہٹ گیا۔ سوار اسے اور پرے ہٹا رہا تھا۔ ساالر
ٰ
ٰ
اعلی ،سلطان ایوبی کا بھائی العادل تھا۔ اس نے دیکھا کہ اس کا محافظ ایک مسافر کے ساتھ بہت
سے آرہے تھے۔ ساالر
ٰ
غصے سے بول رہا ہے اور مسافر شاید راستے سے ہٹ نہیں رہا۔ العادل قریب آکر رک گیا ،تبریز کو اپنے پاس بالیا اور پوچھا
کہ وہ کون ہے اور محافظ کے ساتھ کیوں جھگڑ رہا ہے۔
تبریز نے جواب دیا کہ وہ حمص سے یہ معلوم کرنے آیا ہے کہ سلطان صالح الدین ایوبی کی فوج کس حال میں ہے اور
صلیبی فوج کو کتنی کچھ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ حمص کے مسلمان جنگی تیاریوں میں مصروف
رہتے ہیں اور وہ سلطان ایوبی کی فوج کا انتظار کررہے ہیں… ''ہماری بہنیں بھی جنگ کے لیے تیار ہیں اور ہمارے بچے اور
بوڑھے بھی''۔
علی بن سفیان کا نائب حسن بن عبداللہ جو انٹیلی جنس کا ذمہ دار تھا ،العادل کے ساتھ تھا۔ وہ تبریز کو بڑی غور سے
دیکھ رہا تھا۔ تبریز جاسوس ہوسکتا تھا۔ اس کی سادگی بتا رہی تھی کہ وہ جاسوس نہیں لیکن شک الزمی تھا۔ جاسوس
ظاہری طورپر اس سے زیادہ گنوار اور سادہ لگتے ہیں۔
تمہارے خطیب کا نام کیا ہے؟'' حسن بن عبداللہ نے پوچھا۔''
تبریز نے نام بتایا۔ اس وقت کی جو غیرمطبوعہ تحریریں موجود ہیں ،ان میں یہ نام صاف نہیں۔ اس لیے اسے ہم خطیب
کہیں گے۔ حسن بن عبداللہ نے العادل سے کہا کہ وہ اپنا آدمی ہے اور اس آدمی (تبریز) کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ
وہ اپنا کام جان فشانی سے کررہا ہے ،تبریز کے خالف جو شک پیدا ہوگیا تھا ،وہ رفع ہوگیا۔ العادل کے حکم کے مطابق اسے
مہمان کی حیثیت سے خیمہ گاہ میں بھیج دیا گیا ،جہاں اس کی خاطر ومدارت کی گئی۔
رات حسن بن عبداللہ نے اسے اپنے خیمے میں بالیا اور خطیب کے نام یہ پیغام دیا… ''حاالت دشوار ہیں لیکن اتنے نہیں
جتنے آپ کو وہاں صلیبی بتا رہے ہیں۔ لوگوں سے کہو کہ سچ اسے سمجھیں جو ان کی آنکھوں کے سامنے ہو اور جو انہیں
مسجد میں بتایا جائے۔ ادھر ادھر کی باتوں اور خبروں کو سچ نہ سمجھیں۔ آپ لوگ بڑے خطرناک عالقے میں ہیں۔ اپنی
بستی کے صلیبیوں اور یہودیوں پر نظر رکھیں اور یہ بھی خیال رکھیں کہ وہ آپ کی سرگرمیوں پر نظر نہ ڈال سکیں ،جنہیں
آخر دم تک چھپائے رکھنا ہے''۔
حسن بن عبداللہ نے تبریز کو ایسا پیغام دیا جو حمص کے مسلمانوں کے لیے حوصلہ افزا تھا لیکن اسے یہ نہ بتایا کہ وہ
کون سی سرگرمیاں ہیں جنہیں آخر دم تک چھپائے رکھنا ہے۔ حقیقت یہ تھی کہ حمص کے مسلمانوں کو سلطان ایوبی کے
حکم کے تحت جنگی تربیت دی جارہی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ جب کبھی ضرورت پڑے ،وہ صلیبی فوج پر عقب سے
شب خون ماریں۔ ظاہری طورپر ان کے وفادار رہیں۔ اس مقصد کے لیے حمص میں تین چار تجربہ کار چھاپہ مار بھیج دئیے
گئے تھے جو وہاں اپنے مطلب کی ٹرینگ دے رہے تھے۔ خطیب ان کا کمانڈر تھا۔ ان کے ساتھ ابھی باقاعدہ رابطہ نہیں رکھا
گیا تھا ،کیونکہ ابھی ان لوگوں کی ضرورت نہیں تھی۔
دوسری صبح تبریز حمص کو روانہ ہوگیا۔
٭ ٭ ٭
وہ زمانہ قافلوں کی صورت میں چلنے کا تھا۔ لوگ اکیلے اکیلے بھی سفر کرتے تھے۔ ایسے اکیلے مسافروں کو جہاں چند آدمی
سفر میں نظر آتے تھے ،وہ ان سے جاملتے اور اس طرح قافلے بنتے اور بڑے ہوتے جاتے تھے۔ تبریز آیا اکیال تھا۔ واپس جارہا
تھا کہ اسے مختصرسا ایک قافلہ مل گیا جو حمص کی سمت جارہا تھا۔ اس میں حمص کے یہودی تاجر بھی تھے۔ دو
عیسائی کنبے اونٹوں پر سوار تھے اور کچھ لوگ پیدل جارہے تھے۔ تبریز اس قافلے میں شامل ہوگیا۔ قافلہ چلتا گیا۔ راستہ
لمبا تھا۔ دو راتیں قیام کرنا پڑا۔ تیسرا دن سفر کا آخری دن تھا۔ آدھی رات سے پہلے قافلے کو حمص پہنچ جانا تھا۔ آگے
ایک دریا تھا۔ جو بہت بڑا نہیں تھا۔ اس کی گہرائی زیادہ سے زیادہ کمر تک رہتی تھی۔ لوگ اس میں آسانی سے گزر جایا
کرتے تھے۔
سفر کے آخری روز کا سورج سر پر آیا تو افق سے سیاہ گھٹا اٹھتی نظر آئی۔ قافلہ اور تیز چلنے لگا تاکہ بارش سے پہلے
منزل تک پہنچ جائے یا چٹانی عالقے میں پہنچ کر چھپنے کی جگہ ڈھونڈ لی جائے اور اگر ممکن ہو تو طغیانی آنے سے
پہلے ہی دریا پار کرلیا جائے۔ یہ ان لوگوں کی حماقت تھی۔گھٹا کی رفتار قافلے کی نسبت زیادہ تھی اورگھٹا جانے کہاں سے
برستی آرہی تھی۔ وہ تمام عالقہ چٹانی اور پہاڑی تھا۔ قافلہ دریا کے قریب پہنچا تو گھٹا دنیا کو تاریک کرچکی تھی اور مینہ
ایسا موسالدھار برسنے لگا تھا کہ آنکھیں کھول کر چلنا ممکن نہ رہا۔ ایک بوڑھے عیسائی نے کہا کہ دریا چڑھ رہا ہے ،ابھی
گزر سکتے ہیں ،فورا ً پار ہوجائو۔
اس بوڑھے کے ساتھ والے اونٹ پر ایک جوان اور خوبصورت عیسائی لڑکی سوار تھی۔ قافلہ دریا کے کنارے پر پہنچ چکا تھا۔
اس کا پانی مٹیاال ہوگیا تھا اور اس کی روانی میں طغیانی واال جوش پیدا ہوگیا تھا۔گہرائی میں کوئی اضافہ معلوم نہیں ہوتا
تھا۔ بارش بہت تیز تھی۔ گھٹا نے گہری شام کا منظر بنا رکھا تھا۔ سورج غروب ہونے کو ہی تھا۔ ایک آدمی نے گھوڑا دریا
میں ڈال دیا۔ چند قدم آگے جاکر اس نے چال کر کہا… ''آجائو ،پیدل چلنے والے بھی آجائو ،پانی گہرا نہیں''۔
یہ کسی نے بھی نہ دیکھا کہ شدید اور خطرناک طغیانی کا ریال آرہا ہے۔ اوپر کی طرف بہت مینہ برسا تھا اور وہ پہاڑی
عالقہ تھا جس کی طغیانی بہت ہی تیز ہوا کرتی تھی۔ اونٹ اور گھوڑے شاید اس خطرے کو محسوس کررہے تھے۔ یہی جانور
بڑے آرام اور اطمینان سے دریا میں سے گزر جایا کرتے تھے مگر بارش میں وہ دریا میں بدک رہے تھے ،حاالنکہ پانی گہرا
نہیں تھا۔ اچانک دریا بپھر گیا۔ اونچی اونچی لہریں کسی کو سنبھلنے کا موقع دئیے بغیر آگئیں۔ دریا کے کنارے ڈوب گئے۔
پانی گہرا ہوگیا۔ پیدل چلنے والے ڈوبنے لگے تو وہ تیرنے لگے۔ اونٹوں نے واویال بپا کردیا۔ قافلہ دریا میں بکھر گیا۔ دوسرا
کنارہ دور تو نہیں تھا لیکن طغیانی جو بڑھتی جارہی تھی ،آگے جانے ہی نہیں دے رہی تھی ،پھر قافلے والوں کو ایک دوسرے
کاہوش نہ رہا۔
عیسائی لڑکی کی چیخ سنائی دی۔ تبریزک وہیں قریب تھا۔ اس نے چیخ سن لی اور یہ بھی دیکھ لیا کہ وہ اونٹ جس پر
عیسائی لڑکی سوار تھی ،طغیانی کا مقابلہ نہ کرسکا اور اس کے پائوں اکھڑ گئے۔ طغیانی نے اسے گرا دیا۔ اس کی پیٹھ پر
بیٹھی لڑکی دریا میں جاپڑی۔ طغیانی کا یہ عالم تھا کہ کبھی لہریں اوپر کو اٹھتی اور گرتی تھیں اور کبھی بھنور بن جاتی
تھیں۔ شور اتنا زیادہ تھا کہ کسی کو کسی کی آواز نہیں سنائی دیتی تھی۔ اگر تبریز قریب نہ ہوتا تو لڑکی کی چیخ کوئی
بھی نہ سن سکتا۔ وہ گھوڑے پر سوار تھا اورگھوڑا سیدھا تو نہیں جارہا تھا لیکن طغیانی کا مقابلہ کررہا تھا۔تبریز نے لڑکی کو
پانی میں گرتے دیکھا تو اس نے گھوڑے کو دریا کے رخ میں ڈال دیا لیکن گھوڑااتنی تیزی سے تیر نہیں سکتا تھا۔
تبریز گھوڑے سے کود گیا اور بہت تیزی سے تیرتا لڑکی کے پیچھے گیا۔ ایک لہر نے لڑکی کو اوپر اٹھایا اور تبریز نے دیکھ
لیا۔ طغیانی کا زور بھی تھا اور تبریز کے جوان بازوئوں کی قوت بھی تھی کہ اس نے تھوڑی ہی دورلڑکی کو جاپکڑا۔ وہ ابھی
ڈوبی نہیں تھی لیکن وہ تیر بھی نہیں رہی تھی۔ تبریز کے لیے اسے سنبھالنا بہت مشکل ہوگیا۔ اسی کوشش میں پانی انہیں
بہت آگے لے گیا۔ تبریز نے اسے اپنے اوپر ڈاال اور کنارے کی طرف تیرنے لگا۔ لڑکی دوبارہ اس کی پیٹھ سے لڑھک گئی۔ وہ
ہوش میں نہیں تھی ،اگر تبریز کے جسم میں طاقت اور دل میں بے خوفی نہ ہوتی تو وہ لڑکی کو چھوڑ کر اپنی جان بچانے
کی فکر کرتا۔ طغیانی کا زور اور اس کا شور حوصلے پست کررہا تھا۔
جس جگہ سے قافلہ دریا میں اترا تھا ،وہاں سے کم وبیش دو میل دور تبریز لڑکی کو سنبھالے کنارے سے جالگا ،وہاں :
چٹانیں تھیں۔ بارش ابھی تھمی نہیں تھی۔ تبریز نے لڑکی کو ایک چپٹی چٹان پر لٹایا۔ وہ زندہ تھی ،ہوش میں نہیں تھی۔
اسے معلوم نہیں تھا کہ بے ہوش کو کس طرح ہوش میں الیا جاتا ہے۔وہ لڑکی کو دیکھتا رہا۔ لڑکی بے ہوشی میں ازخودہی
پیٹ کے بل ہوگئی۔ پیٹ پرزور پڑا تو منہ سے دریا کا پانی نکلنے لگا۔ تبریز نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر دبایا تو بہت
سا پانی منہ کے راستے باہر نکل آیا۔ اس نے اور زور سے دبایا۔ پہلوئوں سے بھی پیٹ کو دبایا۔ اس سے لڑکی کا پیٹ پانی
سے خالی ہوگیا۔
گھٹا پھٹنے لگی۔ بارش کا زور کم ہوگیا اور کچھ روشنی بھی ہوگئی۔ تبریز نے لڑکی کو سیدھا کیا۔ لڑکی نے ذرا سی آنکھ
کھولی اور بند کرلی۔ تبریز کا جسم شل ہوچکا تھا۔ اس نے اپنا گھوڑا دریا میں چھوڑ دیا تھا۔ وہ دریا سے نکل گیا تبریز کو
معلوم نہیں تھا کہ گھوڑے کا انجام کیا ہوا۔ تبریز کی تھکن کم ہوگئی تھی۔ سورج غروب ہونے کو تھا۔ اسے خیال آیا کہ رات
آرہی ہے اور پناہ ڈھونڈنا ضروری ہے۔ اسے امید تھی کہ یہ چٹانی عالقہ ہے ،اس میں کہیں نہ کہیں گٹ یا غار مل جائے
گی۔ لمبی مسافت کے مسافر مٹی کے ٹیلوں اور ریتلی چٹانوں میں غاریں بنائے رکھتے تھے جو دوسرے مسافروں کے بھی کام
آتی تھیں۔
اس نے لڑکی کو پیٹھ پر ڈاال اور دو چٹانوں کے درمیان چل پڑا۔ پناہ ملنے کا اسے یقین نہیں تھا ،امید تھی۔ وہ دل میں خدا
سے مدد مانگتا چال جارہا تھا۔ کچھ ادھر ادھر گھومتے پھرتے ،وہ ایک کشادہ سی جگہ جا پہنچا جہاں ایک چٹان کے ساتھ
اسے تین چار اونٹ کھڑے نظر آئے۔ یہ کسی مسافر کے نہیں ہوسکتے تھے کیونکہ ان پر زینیں وغیرہ نہیں تھیں۔ اونٹوں تک
گیا تو اسے آوازیں سنائی دیں۔ ادھر دیکھا تو چٹان میں اسے ایک فراخ اور اونچا دہانہ نظر آیا۔ اس میں تیرہ چودہ سال عمر
کے دو لڑکے کھڑے تھے۔ وہ دونوں بارش میں دوڑے آئے۔
تم دریا سے نکل کر آئے ہو؟'' ایک لڑکے نے پوچھا… ''وہاں آجائو ،بہت اچھی جگہ ہے''۔''
وہ جگہ واقعی بہت اچھی تھی۔ چٹان بھر بھری تھی۔ صاف پتہ چلتا تھا کہ مسافروں نے یا قریب کہیں رہنے والے گڈریوں نے
اسے کاٹ کاٹ کر کمرہ بنا دیا ہے۔ یہ ایک کشادہ گف تھی۔ اندر سے بالکل خشک تھی۔ لڑکوں نے وہاں آگ بھی جال رکھی
تھی۔ تبریز نے لڑکی کو فرش پر ڈال دیا۔ وہ ابھی تک ہوش میں نہیں آئی تھی۔ ایک طرف خشک گھاس اور درختوں کی
خشک ٹہنیوں کا ڈھیر پڑا تھا۔
تم یہاں کیا کررہے ہو؟'' تبریز نے لڑکوں سے پوچھا۔''
ہمارا گھر دریا کے پار ہے''۔ ایک لڑکے نے جواب دیا… ''ہم کبھی کبھی اونٹوں کو ادھر لے آتے ہیں۔ گھاس تو ادھر ''
بھی بہت ہے لیکن ہم یہاں کھیلنے کے لیے آتے ہیں اور اونٹوں کو بھی چرنے چگنے کے لیے ساتھ لے آتے ہیں۔ ایک جگہ
سے دریا چوڑا ہے ،وہاں پانی ہمارے گھنٹوں تک ہوتا ہے۔ آج بھی ہم آگئے اور بارش شروع ہوگئی۔ یہیں آگ جال کر کھیلتے
رہے''۔
گھر کس طرح جائو گے؟'' تبریز نے پوچھا… ''دریا چڑھا ہوا ہے''۔''
اس دریا کا زور زیادہ دیر نہیں رہتا''۔ ایک لڑکے نے بڑے اطمینان سے کہا… ''ہم جہاں سے گزرتے ہیں ،وہاں طغیانی ''
میں خطرہ نہیں ہوتا۔ پانی پھیال جاتا ہے''۔
بارش تھم گئی تھی۔ سورج غروب ہورہا تھا۔ لڑکے اپنے اونٹوں کو لے کر چلے گئے۔ تبریز نے ان سے مدد نہ مانگی۔ یہ بھی
نہ سوچا کہ لڑکی کو اٹھا کر ان کے گائوں چال جائے۔ لڑکوں کے جانے کے بعد اس نے آگ پر خشک ٹہنیاں پھینکیں۔ شعلہ
اٹھا تو اس نے اپنا کرتہ اتارا جو گلے سے ٹخنوں تک لمبا تھا ،اسے آگ پر خشک کرنے لگا۔ وہ دل میں شکر ادا کررہا تھا۔
خدا نے اسے ایسی طوفانی بارش میں ان لڑکوں کو آگ جالنے کے لیے بھیج دیا تھا۔ اس دوران لڑکی نے آنکھیں کھول دیں
اس کے چہرے پر خوف کا تاثر نظر آیا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا پھر تبریز کو دیکھا تو اس کا منہ دہشت سے کھل گیا۔ تبریز
نے اپنا چغہ نما کرتہ اتار رکھا تھا اور طغیانی کے مٹیالے اور گدلے پانی نے اس کے بالوں اور چہرے کو خوفناک بنا رکھا تھا۔
ڈرو نہیں''۔ تبریز نے کہا… ''مجھے پہچانتی نہیں ہو؟ میں تمہارا ہم سفر تھا''۔''
مگر تم مسلمان ہو''۔ لڑکی اٹھ بیٹھی اوربولی… ''مجھے تم پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔ مجھے جانے دو''۔''
جائو'' تبریز نے کہا… ''چلی جائو''۔''
وہ اٹھی۔ اس سے چال نہیں جارہا تھا۔گف کے باہر ایک قدم رکھا تو باہر تاریک رات کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ اندر آگ کی
روشنی تھی۔ اس نے گھوم کر تبریز کو دیکھا جو ٹہنیوں کی آگ کی روشنی میں پراسرار سا انسان نظر آرہا تھا۔ وہ لڑکی کو
دیکھتا رہا۔ لڑکی پائوں پرکھڑی نہ رہ سکی۔ ایک دو قدم آگے آکر گر پڑنے کے انداز سے بیٹھ گئی اور بے بسی سے تبریز کو
دیکھنے لگی۔
تمہاری نسبت مجھے وہ گھوڑا زیادہ عزیز تھا جسے میں نے دریا میں چھوڑا اور تمہیں ڈوبنے سے بچایا''… تبریز نے کہا۔''
میری قیمت بیس گھوڑوں سے زیادہ ہے''۔ لڑکی نے نقاہت زدہ آواز میں کہا… ''تم نے مجھ جیسی لڑکی کبھی نہیں ''
دیکھی ہوگی۔ مجھے ذلیل وخوار کرکے بیچ ڈالو گے۔ تمہیں کون روک سکتا ہے''۔
مجھے خدا روک سکتا ہے''۔ تبریز نے کہا… ''اور خدا نے مجھے روک رکھا ہے۔ یہ ایک معجزہ ہے کہ میں نے تمہیں ''
اس طغیانی سے بچایا ہے ،جس میں اونٹ اوندھا ہوگیا تھا۔ پھر یہ معجزہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ہمیں سر پر یہ چھت اور
جلتی ہوئی آگ مل گئی۔ میں نے خدا سے مدد مانگی تھی۔ خدا صرف ان کی مدد کرتا ہے جن کی نیت صاف ہوتی ہے۔ یہ
آگ دو لڑکے جال گئے ہیں ،وہ فرشتہ تھے۔ میں اپنے مذہب کی روشنی میں بات کررہا ہوں۔ تم اس لیے ڈرتی ہو کہ تمہارا
مذہب باطل ہے اور تم
ا س لیے ڈرتی ہو کہ تمہاری نگاہ اپنے جسم پر ہے جو بہت دلکش ہے اور تمہاری نظر میں اپنا چہرہ ہے جو بہت حسین
ہے۔ میری نگاہ میری اپنی روح پرہے جو تمہارے جسم سے زیادہ دلکش اور تمہارے چہرے سے زیادہ حسین ہے۔میں جانتا ہوں
تھوڑی دیر بعد تم مجھے اپنا جسم پیش کرکے کہو گی کہ مجھے منزل پر پہنچا دو۔ کان کھول کر سن لو ،میں اپنی روح کو
ناپاک نہیں ہونے دوں گا۔ میرے دل میں یہ خرافات ڈالنے کی کوشش نہ کرو کہ میں نے تم جیسی لڑکی کبھی نہیں دیکھی
ہوگی''۔
تبریز کے بولنے کے انداز میں کوئی ایسا تاثر تھا جس نے لڑکی کے ہونٹ سی دئیے اور وہ حیرت اور خوف سے بھری ہوئی
آنکھوں سے تبریز کو دیکھ رہی تھی۔ تبریز کی باتوں میں جو خلوص اور عزم تھا ،وہ صاف محسوس ہورہا تھا۔
آگ کے قریب سرک آئو''۔ تبریز نے کہا… وہ کرتہ آگ پر خشک کررہا تھا۔ لڑکی یوں سرک کر آگ کے قریب ہوگئی ''
جیسے اس میں حکم عدولی کی جرٔات نہیں تھی۔ تبریز نے کرتے کا ایک سرا اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا… ''اسے پکڑو
اور آگ کے اوپر رکھو''۔ اس نے کرتے کو دوسری طرف سے پکڑے رکھا اوردونوں کرتے کو آگ پر ہالنے جالنے لگے۔ لڑکی
کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے۔ ''کرتہ خشک ہوجائے تو تم پہن لینا ،پھر تمہارے کپڑے خشک کرلیں گے''۔
نہیں''۔ لڑکی نے گھبرا کر کہا… ''میں اپنے کپڑے نہیں اتاروں گی''۔''
تم اپنی کھال بھی اتار کر آگ پر رکھ دو گی''۔ تبریز نے کہا۔ ''میرے فرض کے راستے میں آنے کی کوشش نہ کرو ''
لڑکی! میں تم پر ثابت کروں گا کہ وحشی مسلمان ہوتے ہیں یا عیسائی۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تم کتنی پاک دامن ہو۔
تم میری پناہ میں ہو۔ میں تمہیں کوئی سخت بات نہیں کرسکتا۔ تم عورت ہو۔ میرا مذہب حکم دیتا ہے کہ مجبور عورت پر
ہاتھ نہ اٹھائو''۔
''تم نے مجھے کس طرح طغیانی سے نکاال تھا؟'' لڑکی نے پوچھا… ''کیا باقی لوگ پارہوگئے تھے؟''
تبریز نے اسے تفصیل سے بتا دیا اور یہ بھی بتایا کہ اسے باقی لوگوں کے متعلق بالکل معلوم نہیں۔ لڑکی کا ڈر دور نہ ہوا،
کچھ کم ہوگیا تھا اور اس کی جسمانی حالت بھی اچھی ہوتی جارہی تھی۔ تبریز کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ اپنے
بوڑھے باپ کے ساتھ حمص جارہی ہے۔ وہ دونوں اس عالقے سے نقل مکانی کرکے آرہے تھے جو مسلمانوں کی حکمرانی میں
تھا۔ حمص میں ان کے رشتہ دار رہتے تھے۔ لڑکی اپنے باپ کے لیے پریشان تھی۔ قافلہ طغیانی میں سے نکل گیا تھا۔ کوئی
کہیں جاکنارے لگا ،کوئی کہیں جالگا۔ وہ ایک دوسرے کو پکارتے اکٹھے ہونے لگے۔ لڑکی اور تبریز ان میں نہیں تھے۔ وہ اونٹ
بھی الپتہ تھا جس پر لڑکی سوار تھی اور تبریز کا گھوڑا کنارے لگ گیا تھا۔وہ دور کھڑا تھا۔ قافلے کا ایک آدمی اسے پکڑ الیا
اور سب نے یقین سے کہہ دیا کہ حمص کا اتنا خوبصورت جوان جو راستے میں قافلے سے مال تھا ،گھوڑے سے گر کر ڈوب
گیا ہے۔ تبریز کا تو کسی کو دکھ نہیں تھا ،لڑکی کے غم میں اس کا بوڑھا باپ ،دو عیسائی اور ایک یہودی نڈھال ہوئے جارہے
تھے۔ وہ آگے جانے کے بجائے دریا کے کنارے دور تک جانے کی سوچ رہے تھے۔ قافلے کے کچھ اور لوگ کہتے تھے کہ بے
کار ہیں ،وہ ڈوب گئی ہوگی۔ وہ چاروں سوارہوئے اور دریا کے ساتھ چل پڑے۔ اس وقت تبریز لڑکی کو طغیانی سے نکال چکا
تھا اور اسے چپٹی چٹان پر لٹا کر اس کا پیٹ پانی سے خالی کررہا تھا ،وہاں دریا کا موڑ تھا۔ چٹانیں بھی تھیں۔ اس لیے
لڑکی کی تالش میں آنے والے تبریز اور لڑکی کو دیکھ نہ سکے۔ وہ جب اس جگہ آئے ،اس وقت تبریز لڑکی کو پیٹھ پر
اٹھائے چٹانوں کے اندر چال گیاتھا۔ تالش کرنے والے آگے نکل گئے۔ وہ پھر واپس نہیں آئے۔ سورج غروب ہوگیا تو حمص کے
راستے پر ہولیے۔
اتنی قیمتی لڑکی ضائع کرنے پر انہوں نے ہمیں سزائے موت نہ دی تو ہم سمجھیں گے کہ وہ بہت ہی رحم دل ہوگئے ''
''ہیں''۔ بوڑھے نے کہا… ''کیا جواب دو گے کہ وہ کس طرح ڈوبی؟
کہہ دیں گے طغیانی میں اس نے من مانی کی''۔ یہودی نے کہا… ''کہتی تھی کہ الگ اونٹ پر دریا پار کروں گی۔ اس ''
نے ضد کی اور طغیانی کا زور اسے ہم سے دور لے گیا… وہ دریا سے نکل آتی تو ہمیں مل جاتی۔ مرگئی ہے''۔
جو جی میں آئے کہو''۔ ایک عیسائی نے کہا… ''ہماری یہ کوتاہی بخش بھی دی جائے تو کیا تم سب کو افسوس نہیں ''
کہ اتنی کارآمد لڑکی ضائع ہوگئی ہے؟ دوسری لڑکی التے ایک مہینے سے زیادہ عرصہ لگے گا''۔
میں نے کئی بار مشورہ دیا تھا کہ اس کام کے لیے دو لڑکیوں کی ضرورت ہے''۔ بوڑھے نے کہا… ''حمص کے مسلمان ''
جوش سے پھٹے جارہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ وہ جو جنگی تربیت حاصل کررہے ہیں وہ کوئی جذباتی یا وقتی
جوش نہیں۔ میں نے ان کی تربیت بہت غور سے دیکھی ہے۔ میرا تجربہ کہتا ہے کہ یہ شب خون اور چھاپے مارنے کی
باقاعدہ تربیت ہے۔ میں نے اس کے چاروں استاد دیکھے ہیں۔ وہ قاہرہ سے بھیجے گئے ہیں یا دمشق سے اوروہ ماہر چھاپہ
مار معلوم ہوتے ہیں''۔
اگر یہ لوگ ہماری حکمرانی میں ہوتے تو ہم دیکھتے کہ یہ کس طرح جنگی تربیت لیتے ہیں''… ایک عیسائی نے کہا۔''
تم کیا سمجھتے ہو ،یہاں یہ اپنی تربیت مکمل کرلیں گے؟''… یہودی نے کہا… ''ہم انہیں آپس میں ٹکرا دیں گے''۔''
اسی مقصد کے لیے میں اس لڑکی کو دمشق سے الرہا تھا''۔ بوڑھے نے کہا… ''حمص میں فساد پیدا کرنے کا کام مجھے''
سونپا گیا تھا۔ میں نے اس لڑکی کا نام لیا تھا۔ انہوں نے مجھے ہی حکم دیا کہ لڑکی کے باپ بن جائو اور حمص لے جائو۔
کوئی پوچھے تو بتائو کہ نقل مکانی کررہا ہوں''۔
رات کے اندھیرے میں وہ چلتے جارہے تھے اور اپنی اس خفیہ مہم کے متعلق باتیں کرتے جارہے تھے ،جس کے لیے انہیں
حمص جانا تھا۔ بوڑھا صلیبیوں کا تجربہ کار جاسوس تھا اور نفسیاتی تخریب کاری کا ماہر۔ وہ اپنے ساتھیوں سے کہہ رہا تھا…
'' مسلمان تو ہر جگہ جنگی تربیت حاصل کرتے ہیں۔ دمشق میں نورالدین زنگی کی بیوہ لڑکیوں کو باقاعدہ جنگی تربیت دے
رہی ہے۔ بستی بستی یہ جوش دیکھنے میں آیا ہے مگر حمص اور اس کے گردونواح کے عالقے کو ایسی اہمیت حاصل ہے کہ
یہاں مسلمانوں کے چھاپہ ماروں کو اڈا نہیں ملنا چاہیے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ صالح الدین ایوبی کا ایک خفیہ منصوبہ
ہے۔ اسے کامیاب نہیں ہونا چاہیے''۔
حمص سرحد پر ہے''۔ یہودی نے کہا… ''اگر مسلمانوں نے یہاں اڈا بنا لیا تو ہمارے لیے خطرناک ہوگا۔ ہونا تو یہ چاہیے''
کہ یہاں کے مسلمانوں کو صالح الدین ایوبی کے خالف کردیا جائے اور ان کے دلوں پر قبضہ کرلیا جائے''۔
یہ ممکن نظر نہیں آتا''۔ بوڑھے نے کہا… ''مجھے بتایا گیا ہے کہ ہمارے آدمیوں نے بہت افواہیں پھیالئی ہیں مگر ''
مسلمان ان پر کان نہیں دھرتے۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کے خطیب کا ان پر بہت اثر ہے اور یہ بھی پتہ چال ہے
کہ جنگی تربیت اسی کی ہدایات کے مطابق ہورہی ہے۔ مجھے حمص نہیں جانا چاہیے تھا کیونکہ ہم لڑکی گم کر بیٹھے ہیں۔
میں اب اس لیے وہاں تک جانا چاہتا ہوں کہ خطیب کو دیکھوں کہ وہ کون ہے اور کیا وہ عالم ہے یا کوئی فوجی کماندار۔
یہ بھی دیکھنا ہے کہ اسے اپنے ہاتھ میں لیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ مجھے اور تم سب کو حمص کے عیسائی اور یہودی
گھرانوں میں سے ایک یا دو لڑکیوں کا انتخاب کرنا ہے جو اس مہم میں ہماری مدد کرسکیں۔ تم جانتے ہو لڑکیوں کو کیا کرنا
ہے''۔
میں نے تمہیں یہ دمشق میں بھی بتایا تھا کہ یہاں کے مسلمان ایمان کے پکے ہیں''۔ ایک عیسائی نے کہا… ''ابھی ''
تک ہم کسی ایک کو بھی نہیں خرید سکے''۔
میں ساری عمر اس دریا پر لعنت بھیجتا رہوں گا جس نے ہمیں ویرا سے محروم کردیا ہے''۔''
٭ ٭ ٭
میرا نام ویرا ہے'' ۔ لڑکی نے تبریز کے پوچھنے پر بتایا… ''ہم غریب لوگ ہیں۔ مسلمانوں نے دمشق میں ہمارا جینا ''
محال کردیا تھا۔ خدا غریب کی بیٹی کو حسن نہ دے۔ بڑے بڑے امیر مجھے خریدنے کی کوشش کرتے تھے۔ ایک نے تو
مجھے اغوا کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔ میرا باپ مجھے قاضی کے پاس لے گیا۔ اس نے ہماری فریاد سن لی اور میری
حفاظت کا انتظام کردیا مگر وہاں حکومت مسلمانوں کی تھی۔ ہم ڈرتے رہے۔ میرے باپ نے یہی بہتر سمجھا کہ دمشق سے
نکل ہی جائیں۔ حمص میں ہمارے رشتے دار ہیں۔ اب ہم ان کے پاس جارہے تھے۔ معلوم نہیں میرا باپ زندہ ہوگا یا نہیں…
''کیا تم ایک مظلوم اور مجبور لڑکی پر رحم نہیں کرو گے؟
رات گزرتی جارہی تھی۔ بوڑھا عیسائی جسے ویرا اپنا باپ کہتی تھی ،اپنے ساتھیوں کے ساتھ بہت دور نکل گیا تھا''۔'' :
میرا جامہ خشک ہوگیا ہے'' ۔ تبریز نے کرتہ اس کی طرف پھینکتے ہوئے کہا… ''میں باہر نکل جاتا ہوں۔ اٹھو اپنے کپڑے''
اتارو اور یہ پہن لو۔ تمہیں سر سے پائوں تک ڈھانپ لے گا ،پھر اپنے کپڑے خشک کرکے پہن لینا''۔
میں تمہارے ہاتھ میں مجبور ہوں''۔ ویرا رندھی ہوئی آواز میں بولی… ''میرے ساتھ اس درندے کا سا سلوک نہ کرو جو ''
شکار کو مارنے سے پہلے اس کے ساتھ کھیلتا ہے''۔
میں کہہ رہا ہوں یہ بھیگے ہوئے کپڑے اتار دو''۔ تبریز نے غصے سے کہا اور باہر کو چل پڑا۔''
ویرا نے اسے باہر جاتے اور ایک طرف ہوتے دیکھا۔ وہ اوٹ میں ہوگیا جہاں سے ویرا کو نظر نہیں آتا تھا۔ ویرا نے ذرا آگے
ہوکر دیکھا۔ وہ گف کی طرف پیٹھ کیے کھڑا تھا۔ آگ اتنی زیادہ تھی کہ روشنی تبریز کی پیٹھ پر پڑ رہی تھی۔ ویرا نے اپنے
فراک کے اندر ہاتھ ڈاال۔ اس نے اندر کمر کے گرد کپڑا لپیٹ رکھا تھا۔ اس نے کپڑے میں خنجر اڑسا ہوا تھا۔ ویرا نے خنجر
نکال لیا وہ دبے پائوں آگے بڑھی۔ تبریز بے خبر کھڑا تھا۔ ویرا اس سے ایک قدم دور رہ گئی تو اس نے خنجر دائیں طرف
کرکے پہلو میں گھونپنے کووار کیا۔ تبریز بجلی کی تیزی سے گھوما اور لڑکی کے دائیں ہاتھ کی کالئی اتنی زور سے مروڑی کہ
لڑکی گھوم گئی اور اس کے ہاتھ سے خنجر گر پڑا۔
تبریز کے بچنے کا باعث یہ تھا کہ وہ جہاں کھڑا تھا ،وہاں سے چند ہی قدم آگے ایک اور چٹان تھی۔ آگ تبریز کے پیچھے
تھی۔ تبریز کو سامنے والی چٹان پر اپنا سایہ نظر آیا۔ اس نے پیچھے نہ دیکھا کیونکہ سائے کا دایاں بازو دائیں کو پھیال تو
اسے خنجر کا سایہ صاف نظر آگیا۔ ویرا پہلو میں وار کرکے پیٹ چاک کرنا چاہتی تھی۔ سائے کی حرکت دیکھ کر تبریز
پیچھے گھوما اور لڑکی کی کالئی پکڑ لی۔ خنجر گرا تو اس نے ویرا کی کالئی چھوڑ کر خنجر اٹھالیا۔ اس نے نوک لڑکی کی
طرف کی تو وہ اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی اور ہاتھ جوڑ کر التجا کی… ''جو کہو گے مانوں گی ،مجھے قتل نہ
کرنا''۔
میں اس کے سوا تمہیں کچھ نہیں کہوں گا کہ یہ کپڑے اتار دو اور میرا کرتہ پہن لو''… تبریز نے حکم کے لہجے میں ''
کہا… ''تم نے دیکھ لیا ہے کہ تم مجھے قتل نہیں کرسکتیں۔ میری آنکھیں آگے ہیں ،کھونپڑی کے پیچھے نہیں ،یہ میری روح
کی آنکھیں ہیں جن سے میں نے تمہیں دیکھ لیا تھا… کیا میں اپنے سامنے تمہارے کپڑے نہیں اتروا سکتا؟ میں تمہیں کپڑوں
کے بغیر نہیں دیکھنا چاہتا''۔
وہ ایک دفعہ پھر وہیں جاکھڑا ہوا۔ ویرا گف کے ایک کونے میں چلی گئی۔ اس نے بڑی تیزی سے اپنا فراک اتارا ،پھر
زیرجامہ بھی اتار دیا اور تبریز کا کرتہ پہن لیا جس میں وہ گردن سے پائوں تک مستور ہوگئی۔ اس نے تبریز کو آواز دے کر
کہا… ''آجائو''۔
تبریز اندرآگیا۔ ویرا کا فراک اٹھا کر ایک طرف سے اس کے ہاتھ میں دیا ور آگ پر خشک کرنے لگا۔ ویرا اسے کنکھیوں سے
دیکھتی رہی تھی۔ تبریز نے اس سے کوئی بات نہ کی۔ ویرا کو اس کی خاموشی پریشان کررہی تھی۔ اس کا دل مان نہیں رہا
تھا کہ یہ جوان آدمی اسے بخش دے گا۔ اب تو خنجر بھی اس جوان کے پاس تھا… وہ خاموشی سے کپڑے خشک کرتے
رہے۔ جب خشک ہوگئے تو تبریز لڑکی کو یہ کہہ کر باہر نکل گیا کہ یہ پہن لو۔ لڑکی نے ایک بار پھر ڈرتے ڈرتے کپڑے
بدلے اور تبریز کو اندر بال لیا۔
یہ خنجر اپنے پاس رکھو''… تبریز نے خنجر اس کی طرف پھینک کر کہا… ''اور سوجائو ،صبح روانہ ہوں گے''۔''
تم مجھے دھوکہ دے رہے ہو''… ویرا نے کہا… ''یا تم بے حس اور مردہ انسان ہو''۔''
20:54
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔123تصادم روح بدروح کا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یا تم بے حس اور مردہ انسان ہو''۔''
یہ مجھے تمہاری فوج کے سامنے ثابت کرنا ہے کہ میں بے حس اور مردہ نہیں۔ میرے دل میں تمہارے خالف کوئی دشمنی''
نہیں۔ میں تمہارے ان بادشاہوں کا دشمن ہوں جو میرے وطن پر قبضہ کرنے آئے ہیں اور جو ہمارے قبلہ اول پر قابض ہوچکے
ہیں''۔
تمہیں غلط باتیں بتا کر بھڑکایا جارہا ہے''… ویرا نے کہا… ''تم کچھ نہ جاننے والے دیہاتی ہو ،جسے تم قبلہ اول کہتے ''
ہو ،وہ دراصل یہودیوں کا معبد ہے۔ وہ ہیکل سلیمانی ہے۔ صالح الدین ایوبی اپنی سلطنت کو بہت دورتک پھیالنا چاہتا ہے۔
تم جیسے سیدھے سادے مسلمانوں کے مذہب جذبات کو بھڑکانے کے لیے وہ کہہ رہا ہے کہ وہ قبلہ اول ہے اور وہ مسجد
ہے''۔
ہم اپنے خطیب کے سوا کسی کی بات نہیں سنا کرتے''… تبریز نے کہا… ''تم سوجائو ،میں تمہاری کوئی بات نہیں سنوں''
گا''۔
مجھے نیند نہیں آئے گی''… ویرا نے کہا… ''میں تم سے ڈرتی ہوں ،باتیں کرتے رہو… تمہارا خطیب حمص کا رہنے واال ''
ہے یا کہیں باہر سے آیا ہے''۔
حمص کا رہنے واال ہے''… تبریز نے جواب دیا اور اپنا کرتہ پہن کر لیٹ گیا۔''
ویرا کو جاسوسی اور کردار کشی کی ٹریننگ ملی ہوئی تھی۔ دمشق میں اسے اسی مقصد کے لیے بھیجا گیا تھا اور اب اسی
مقصد کے لیے اس کو حمص لے جایا جارہا تھا۔ اس نے حمص کے خطیب اور وہاں کے مسلمانوں کے متعلق تبریز سے
معلومات لینے کے لیے بہت باتیں کیں لیکن تبریز نے کوئی دلچسپی نہ لی اور بے رخی کا اظہار کرتا رہا۔ ویرا کا جسم ٹوٹا
ہوا تھا۔ وہ اس کوشش میں تھی کہ اسے نیند نہ آئے مگر اس کی آنکھ لگ گئی۔
٭ ٭ ٭
ویرا کی آنکھ کھلی تو وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔ باہر صبح کا دھندلکا تھا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا ،تبریز سجدے میں پڑا تھا۔
وہ سجدے سے اٹھا ،پھر سجدہ کیا اور کھڑا ہوگیا۔ وہ صبح کی نماز پڑھ رہا تھا۔ ویرا نے اپنے لباس کا جائزہ لیا۔ اسے رات
نیند نے نہ سونے کے ارادے کے باوجود دبوچ لیا تھا۔ آنکھ کھلی تو وہ تبریز سے ڈر گئی لیکن وہ جس حالت میں سوئی
تھی ،اسی حالت میں جاگی اور اس نے تبریز کو خدا کے حضور سجدے میں پڑے دیکھا۔ اسے وہ خواب سمجھنے لگی۔
مسلمان کے متعلق اس کی رائے یہ تھی کہ وحشی قوم ہے لیکن تبریز جیسا تنومند جوان اس کی طرف توجہ ہی نہیں دے
رہا تھا۔ جس لڑکی نے نازوانداز سے سرکردہ مسلمانوں کو اپنے جال میں پھانس لیا تھا ،اس کے لیے تبریز خواب کی دنیا کا
ہی آدمی ہوسکتا تھا۔
ویرا پاک دامن نہیں تھی۔ بچپن سے اسے ابلیسیت کی تربیت دی گئی تھی۔ اس کے حسن اور جسم کی کشش کو جادو اثر
بنانے کا خاص انتظام کیا گیا تھا۔ جوان ہونے تک بدی اس کی فطرت میں شامل ہوچکی تھی مگر انسانی فطرت کا یہ خاصہ
ہے کہ برسوں کی مسلسل عرق ریزی کے بغیر اس کی اصلیت بدل نہیں سکتی ،اس پر بہروپ چڑھایا جاسکتا ہے۔ ویرا کو
طغیانی نے جو پٹخنیاں دی تھیں اور جس طرح موت کے منہ میں پھینکا تھا ،اس سے اس کے جذبات اس پر غالب آگئے۔ وہ
طغیانی سے تو زندہ وسالمت نکل آئی تھی مگر اس کی دہشت سے ابھی تک نہیں نکلی تھی۔ اس کے ساتھ اس پر تبریز
کی دہشت گردی طاری ہوگئی تھی۔ اس مسلمان جوان سے اسے اور کوئی ڈر نہیں تھا۔ خوف یہ تھا کہ یہ کوئی خانہ بدوش
یا بدو ہوا تو اسے کسی کے ہاتھ بیچ ڈالے گا۔ وہ بک جانے کے بعد کی اذیت ناک زندگی سے ڈر رہی تھی۔
رات گزر گئی۔ تبریز نے اس کے اتنے دلکش جسم کی طرف توجہ ہی نہ دی۔ وہ بے ہوشی کی نیند سوگئی تو بھی تبریز اس
سے دور رہا۔ صبح طلوع ہوئی تو اس کی تھکن ختم ہوچکی تھی اور تبریزکا خوف بھی۔ رات تک وہ اسے گنوار ،بے حس اور
مردہ سمجھتی رہی تھی۔ اب وہ اسے غور سے دیکھنے لگی۔ تبریز کے ہونٹ ہل رہے تھے۔ ویرا کو یوں محسوس ہونے لگا
جیسے یہ شخص براہ راست خدا سے ہم کالم ہو۔ اسے تبریز کے یہ الفاظ یاد آنے لگے کہ خدا صرف ان کی مدد کرتا ہے
جن کی نیت اور روح پاک ہوتی ہے۔ تب اسے خیال آیا کہ اس کی اپنی نیت پاک نہیں۔ وہ تبریز کی قوم کے لیے ایک
حسین دھوکہ بنی ہوئی ہے۔ اس لڑکی نے رات کو یہ بھی فیصلہ کرلیا تھا کہ اپنا آپ تبریز کے حوالے کرکے اسے کہے گی
کہ اس کے عوض حمص پہنچا دو۔
اورروح؟… ویرا کو زندگی میں پہلی بار احساس ہوا کہ اس کا جسم روح سے محروم ہے اور اگر روح ہے بھی تو وہ کردار کی
غالظت میں دب گئی لیکن روح مرا نہیں کرتی۔ ویرا پر جو گزری تھی ،اس سے اس کی روح بیدار ہوگئی تھی جو اسے
شرمسار کررہی تھی۔ اسے تبریز کی شکل وصورت بدلی ہوئی نظر آنے لگی۔ اس کی نگاہ میں وہ فرشتہ بن گیا جو خدا سے
ہم کالم تھا۔ لڑکی کے آنسو نکل آئے تھے۔ جوں جوں آنسو بہتے گئے ،اسے ایسے لگا جیسے اس کا وجود تبریز کے وجود میں
سماتا جارہا ہو۔
تبریز نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ وہ شاید بھول گیا تھا کہ اس گف میں کوئی اور بھی ہے ،یا یہ کہ لڑکی گہری نیند :
سوئی ہے۔ اس نے بلند آواز سے کہا… ''خدائے عزوجل! مجھے گناہوں سے دامن پاک رکھنے کی ہمت عطا فرما۔ میری روح
کو اتنی پاکیزگی عطا فرما کہ تیری اتنی خوبصورت امانت کو خیانت کے بغیر منزل تک پہنچا سکوں۔ تیرا یہ بندہ کمزور اور
ناتواں ہے۔ مجھے شیطان کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور جرٔات عطا فرما''۔
تبریز فرشتہ نہیں تھا۔ وہ انسانی فطرت کی کمزوریوں سے پناہ مانگ رہا تھا۔ اس نے ہاتھ منہ پر پھیریے اور گھوم کر دیکھا۔
ویرا اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کے رخساروں پر آنسو بہے جارہے تھے۔ تبریز اسے کچھ دیر دیکھتا رہا۔ لڑکی نے کوئی حرکت
نہ کی۔
باہر جائو''… تبریز نے اسے کہا… ''اس طرف صاف پانی کا چشمہ ہے ،منہ دھوآئو''… اس نے اپنے سر پر لپیٹا ہوا ''
موٹے کپڑے کا گز بھر لمبا چوڑا رومال اتار کر اسے دیتے ہوئے کہا… ''منہ اچھی طرح دھوئو اور بالوں کو بھی جھاڑ پونچھ
لو۔ میں تمہیں اسی روپ میں تمہارے رشتے داروں کے حوالے کرنا چاہتا ہوں جس طرح تم طغیانی میں گرنے سے پہلے
تھیں''۔
ویرا اس کے ہاتھ سے رومال لے کر ایسے انداز سے باہر نکل گئی جیسے گونگا اور بہرہ بچہ کسی کے اشارے پر چل پڑا ہو۔
تبریز کے پاس کھانے پینے کا جو سامان تھا ،وہ گھوڑے کے ساتھ بندھا تھا۔ اب کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ ویرا
کے انتظار میں بیٹھ گیا۔ ویرا منہ سر دھو کر واپس آئی تو تبریز کو یوں دھچکا سا لگاجیسے کسی نے اسے کانٹا چھبو دیا ہو۔
اس سے پہلے ویرا کے بال مٹی سے اٹے ہوئے اور جڑے ہوئے تھے۔ چہرے کا بھی یہی حال تھا۔ اب بال اور چہرہ دھل گئے
تو تبریز جیسے اسے پہچان ہی نہ سکا۔ وہ ایسے طلسمانی بالوں کو کبھی تصور میں بھی نہیں السکا تھا۔ دور درازرہنے والے
دیہاتی نے ایسا حسن کبھی نہیں دیکھا تھا۔ چہرہ اتنا مالئم اور آنکھوں میں ایسی دل کشی اسے حیران کررہی تھی۔ تبریز اس
تبریز کے ہاتھ سے نکلنے لگا جو کچھ دیر پہلے خدا کے حضور کھڑا تھا ،اس نے بڑی مشکل سے اپنے آپ کو سنبھاال اور
بوال… ''کھانے کے لیے کچھ نہیں۔ ہمیں خالی پیٹ سفر کرنا پڑے گا ،چلو''۔
وہ اٹھنے لگا تو ویرا نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہا… ''ذرا دیر بیٹھو۔ میں کچھ پوچھنا چاہتی ہوں ،کچھ جاننا
چاہتی ہوں''… تبریز رات بھر اس لڑکی کے لیے دہشت بنا رہا تھا ،اب اس کی ذہنی کیفیت یہ تھی جیسے یہ لڑکی اس پر
غالب آگئی ہو۔ کچھ کہے بغیر اٹھتے اٹھتے بیٹھ گیا… ''تم جب خدا کے ساتھ باتیں کررہے تھے تو خدا تمہیں نظر آرہا
''تھا؟
خدا ہمیں نظر نہیں آیا کرتا''… تبریز نے کہا… ''میں عالم نہیں ،اس لیے بتا نہیں سکتا کہ خدا نظر آئے بغیر کس طرح ''
اپنی موجودگی کا احساس دالتا ہے۔ میں اتنا جانتا ہوں کہ خدا میری باتیں ،میری دعائیں سن لیتا ہے''۔
تمہیں یقین ہے کہ یہ خدا تھا جس نے تمہیں اپنی قوت دی کہ تم نے مجھے طغیانی سے نکال لیا؟'' ویرا نے پوچھا۔''
ہمیں خطیب نے بتایا ہے کہ روح پاک ہو تو خدا ہر مشکل میں مدد دیتا ہے''…تبریز نے جواب دیا… ''اگر میں اس ''
ارادے سے تمہیں بچانے کی کوشش کرتا کہ تم بہت خوبصورت ہو اور تمہیں بچا کر کہیں لے بھاگوں گا تو میں بھی تمہارے
ساتھ ڈوب جاتا''۔
مگر میری روح پاک نہیں ہے''… ویرا نے دکھیارے سے لہجے میں کہا… ''خدا نے میری مدد کیوں کی؟ مجھے ڈوبنے سے''
''کیوں بچایا؟
حمص چل کے خطیب سے پوچھیں گے''… تبریز نے کہا… ''مجھے میں اتنی عقل نہیں''۔''
اور تم نے میرے جسم سے کیوں بے رخی کی؟''… ویرا نے اس سے پوچھا۔''
اگر میں ایسا کرتا جیسے تمہیں ڈر تھا تو میں تمہارے خنجرسے نہ بچ سکتا''… تبریز نے جواب دیا… ''تم خدا کی ''
امانت ہو ،اور''… وہ چپ ہوگیا۔ ذرا دیر بعد بے اختیار بوال… ''تم بہت ہی خوبصورت ہو ویرا! آئو چلیں''… وہ بے قرار
سا ہوکر اٹھنے لگا۔ ویرا نے اسے اٹھنے نہ دیا۔ تبریز نے کہا… ''مجھے اپنے قریب زیادہ دیر نہ بیٹھنے دو۔ مجھے اتنے
سخت امتحان میں نہ ڈالو لڑکی! مجھے خدا کے حضور سرخرو ہونے دو''۔
تمہیں اپنے خدا کی قسم!''… ویرا نے کہا… ''مجھے بھی خدا کے حضور سرخرو ہونے کے قابل بنائو ،تم اپنے جیسے ''
انسانوں سے بہت اونچے ہو ،تم خدا کے ایلچی ہو''۔
''تم رو کیوں رہی ہو؟''
میں گناہ گار ہوں''… ویرا نے جواب دیا… ''خدا مجھ سے ناراض ہے۔ جب اونٹ نے مجھے طغیانی میں گرا دیا تھا تو ''
بھی مجھے خدا یاد نہیں آیا تھا۔ میں سمجھتی تھی کہ جو کچھ ہے وہ جسم ہے اور مجھے اپنے جسم کو بچانا چاہیے۔ تم
مجھے طغیانی سے نکال کر یہاں لے آئے تو بھی میرے سامنے یہی مسئلہ آگیا کہ مجھے تم سے اپنا جسم بچانا ہے۔ اپنے
جسم کو بچانے کے لیے ہی میں نے تمہیں قتل کرنے کی کوشش کی تھی مگر ناکام رہی۔ میں طغیانی سے بھی بچ گئی۔ تم
سے بھی بچ گئی لیکن تمہاری عبادت اور دعا نے مجھے بتایا کہ مجھے بچانے والی قوت کوئی اور تھی۔ مجھے بتائو وہ
''مجھے بچانے والی قوت کوئی اور تھی۔ مجھے بتائو وہ قوت کیا ہے؟ کہاں ہے؟
یہ خدا کی قدرت ہے''… تبریز نے جواب دیا… ''یہ روح کی پاکیزگی کا کرشمہ ہے''۔''
میری ساری زندگی ایک گناہ ہے''۔''
مجھے صاف لفظوں میں بتائو''… تبریز نے پوچھا… ''تم رقاصہ ہو؟ امیروں وزیروں کے پاس رہتی ہو؟ میں نے سنا ہے کہ''
ایسی لڑکیاں بہت خوبصورت ہوتی ہیں۔ میں نے ایسی خوبصورت لڑکی کبھی نہیں دیکھی تھی''۔
ویرا خاموش رہی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو آگئے۔ وہ سرک کر تبریز کے قریب ہوگئی۔ تبریز پرے سرک گیا۔ ویرا نے کہا…
''مجھے ڈر آتا ہے۔ طغیانی کی دہشت مجھے ابھی تک ڈرا رہی ہے۔ مجھے اپنے قریب رکھو''۔
نہیں''… تبریز نے عجیب سے مسکراہٹ سے کہا… ''میرے اتنا قریب نہ آئو ،میں بھٹک جائوں گا''۔''
دیکھ لیا ،میں کتنی گناہ گار ہوں؟''… ویرا نے کہا… ''تم اس لیے مجھ سے دور رہنا چاہتے ہو کہ بھٹک نہ جائو۔ میں ''
نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے''… اس نے دیکھ لیا کہ تبریز کے پاس مذہب جذبات ہیں اور جذبہ بھی لیکن اس کی
سوچ میں گہرائی نہیں ہے۔ اگر اسے کسی سانچے میں ڈھاال جائے تو ڈھل جائے گا۔ ویرا نے اس کے ساتھ کھل کر باتیں
''شروع کردیں۔ کہنے لگی… ''اگر میں تمہیں کہوں کہ آئو ہم ساری عمر کے سفر میں اکٹھے رہیں تو کیا جواب دو گے؟
تبریز نے اس کے چہرے کو دیکھا ،ذرا سا مسکرایا اور سنجیدہ ہوگیا۔ بوال… ''آئو چلیں۔ سورج نکل آیا ہے ،سفر مشکل
ہوجائے گا''۔
ویرا اپنی ذات میں ایک انقالب محسوس کررہی تھی جسے وہ اچھی طرح سمجھ نہ سکی۔ وہ اس کے ساتھ اٹھ کر چل پڑی۔
وہ راستے کو کم اور تبریز کو زیادہ دیکھ رہی تھی۔ گزشتہ رات وہ تبریز کو قتل کرکے حمص کو بھاگ جانے کی فکر میں
تھی لیکن وہ اب تیز چلنے سے گریز کررہی تھی۔ وہ زیادہ سے زیادہ دیر تبریز کے ساتھ رہنے کی خواہش لیے ہوئے تھی۔
ایک بار اس نے تبریز کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا… ''آہستہ چلو''۔
ہمیں آہستہ نہیں چلنا چاہیے''… تبریز نے کہا… ''ورنہ ایک اور رات آجائے گی''۔''
آنے دو''۔ ویرا نے کہا… ''میں تیز نہیں چل سکتی''۔''
جہاں رہ جائو گی ،وہاں تمہیں اٹھالوں گا''… تبریز نے کہا… ''آہستہ نہ چلو''۔''
٭ ٭ ٭
سلطان صالح الدین ایوبی کے بھائی العادل نے صلیبی بادشاہ بالڈون کو حماة کے قلعے کے باہر بہت بڑی شکست دی تھی
جس سے بوکھال کربالڈون کی فوج بکھر کر پسپا ہوئی تھی۔ اس معرکے کی تفصیل سنائی جاچکی ہے۔ اس صلیبی بادشاہ نے
بڑی مشکل سے اپنی بکھری ہوئی فوج کو یکجا کیا تھا۔ تب اسے اندازہ ہوا تھا کہ اس کا کتنا جانی نقصان ہوا ہے۔ اس کے
پاس نصف سے کچھ زیادہ فوج رہ گئی تھی۔ وہ تو دمشق تک کے عالقے میں قبضہ کرنے آیا تھا۔ اس کی فوج العادل کے
چھاپہ مار حملے میں مری تھی اور جب صلیبی بھاگے تو ان میں سے بہت سے وادیوں اور ویرانوں میں بھٹک گئے تھے۔ ان
میں سے کئی ایک کو مسلمان گڈریوں ،خانہ بدوشوں اور دیہاتیوں نے مار ڈاال اور ان کے ہتھیاروں اور گھوڑوں پر قبضہ کرلیا
تھا۔
جب بالڈون نے بچی کھچی فوج کو حماة سے دور ایک جگہ جمع کرلیا تو اسے بتایا گیا کہ فوج کے وہ سپاہی اور عہدے دار
جو اکیلے اکیلے آرہے تھے۔ مسلمان کے ہاتھوں قتل ہوگئے ہیں۔ بالڈون شکست سے بوکھالیا ہوا تھا ،اس اطالع سے اس کا
غصہ اور تیز ہوگیا۔ اس نے حکم دیا کہ جہاں کہیں مسلمانوں کا کوئی گائوں نظر آئے ،اسے لوٹ لو۔ جوان لڑکیاں اٹھا الئو
اورگائوں کو آگ لگا دو۔ چنانچہ یہ فوج جب نفری اور دیگر نقصان پورا کرنے اور حملے کی ازسرنو تیاری کرنے کے لیے پیچھے
جارہی تھی ،مسلمانوں کے گائوں تباہ کرتی گئی۔
اب یہ فوج حمص سے چھ سات میل دور خیمہ زن تھی۔ بالڈون اس کوشش میں تھا کہ کوئی صلیبی حکمران اس کے :
ساتھ تعاون کرے اور اپنی فوج اسے دے دے ،جس سے وہ العادل سے شکست کا انتقام لے سکے اور دمشق تک اپنی
حکمرانی جسے وہ صلیب کی حکمرانی کہتا تھا ،قائم کرنے کا عزم پورا کرسکے۔ اسی سلسلے میں وہ ایک اور صلیبی بادشاہ
ریجنالٹ آف شائتون کے ہاں گیا ہوا تھا۔
ویرا کی تالش سے مایوس ہوکر بوڑھا عیسائی اور اس کے ساتھی رات بھر چلتے رہے اور صبح حمص پہنچے۔ قافلے کے
دوسرے لوگ بھی پہنچ گئے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی حمص کا نہیں تھا ،انہیں آگے جانا تھا۔ تبریز کا گھوڑا ان کے ساتھ
تھا۔ انہوں نے گھوڑا ایک مسجد کے امام کے حوالے کرکے بتایا کہ اس کا مالک حمص کا رہنے واال تھا۔ وہ طغیانی میں
گھوڑے سے گر کر ڈوب گیا تھا اور گھوڑا باہر آگیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد گھوڑا پہچان لیا گیا۔ جب گھوڑا تبریز کے گھر پہنچا تو
وہاں کہرام بپا ہوگیا۔
وہاں ایک یہودی تاجر کا گھر تھا۔ یہ ایک دولت مند یہودی تھا۔ وہ جو اپنے آپ کو ویرا کا باپ کہتا تھا ،اپنے ساتھیوں کے
ساتھ اس یہودی کے گھر میں بیٹھا تھا۔ وہ بتا چکا تھا کہ ویرا ڈوب گئی ہے۔ سب افسوس کا اظہار کررہے تھے لیکن ان کا
مسئلہ افسوس کرنے سے حل نہیں ہوسکتا تھا۔ بوڑھے نے یہودی میزبان سے پوچھا کہ حمص کے مسلمانوں کی سرگرمیاں اور
عزائم کیا ہیں۔
بہت خطرناک''… میزبان نے جواب دیا… ''انہیں باقاعدہ ٹریننگ دی جارہی ہے اور یہ قصبہ سلطان ایوبی کے چھاپہ ماروں''
کا اڈا بنتا جارہا ہے۔ خطیب صرف خطیب نہیں فوج کا کمان دار اور استاد معلوم ہوتا ہے''۔
اگر اسے قتل کرادیا جائے تو کیا فائدہ ہوگا''… بوڑھے عیسائی نے پوچھا۔''
کچھ بھی نہیں''… یہودی تاجر نے جواب دیا… ''اس کا نقصان یہ ہوگا کہ مسلمان ہم پر شک کرکے ہم میں سے کسی ''
کو بھی زندہ نہیں رہنے دیں گے۔ یہ قصبہ ان کی سلطنت میں ہے''۔
یہاں جو عیسائی اور یہودی گھرانے ہیں ،کیا ان کی لڑکیاں کچھ نہیں کرسکتیں؟''… بوڑھے نے پوچھا۔''
آپ جانتے ہیں کہ اس کام کے لیے کتنی ٹریننگ اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے''… میزبان نے جواب دیا… ''ہماری ''
لڑکیوں میں کوئی ایک بھی اتنی چاالک نہیں''۔
اور آپ ضروری سمجھتے ہیں کہ یہاں کے مسلمان جنگی ٹریننگ حاصل نہ کریں؟''… بوڑھے نے پوچھا۔''
آپ کیا حکم لے کر آئے ہیں؟''… میزبان نے پوچھا۔''
حکم تو بڑا صاف ہے''… بوڑھے نے کہا… ''ان مسلمانوں کو آپس میں ٹکرانا اور انہیں صالح الدین ایوبی کے خالف کرنا ''
ہے۔ و یرا کے لیے یہ کام مشکل نہیں تھا۔ اس کے بغیر یہ مہم ممکن نہیں رہی۔ ہمیں دو لڑکیاں یہاں النی پڑیں گی''۔
وقت کم ہے''… میزبان نے کہا… ''آپ جانتے ہیں کہ رملہ کی لڑائی کو کتنے مہینے گزر چکے ہیں جس میں صالح الدین''
ایوبی کو شکست ہوئی تھی۔ آپ اگر حقیقت کو قبول کریں تو یہ شکست صالح الدین ایوبی کے عزم اور جذبے کا کچھ نہیں
بگاڑ سکی۔ وہ سنبھل چکا ہے اورا س نے فوج تیار کرلی ہے۔ )قاہرہ سے جاسوس جو خبریں بھیج رہے ہیں ،وہ اچھی نہیں۔
صالح الدین ایوبی قاہرہ سے کوچ کرنے واال ہے۔ ابھی یہ پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کس طرف کوچ کرے گا اور کہاں حملہ کرے
گا۔ ادھر اس کے بھائی العادل کو دمشق سے کمک مل گئی ہے۔ اس نے شاہ بالڈون کو ایسی شکست دی ہے کہ اتنا عرصہ
گزر جانے کے بعد بھی شاہ بالڈون سنبھل نہیں سکا۔ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ صالح الدین ایوبی شب خون اور چھاپوں کی
جنگ لڑتا ہے۔ ہماری فوجوں کی رسد اس سے محفوظ نہیں رہتی۔ اگر حمص کے مسلمانوں نے اسے چھاپہ ماروں کے لیے اڈا
…''مہیا کردیا تو یہ لوگ ہماری رسد اور آگے جانے والی کمک کے لیے مصیبت بن جائیں گے
ان حاالت میں آپ کا یہ طریقہ کار بالکل بے کار ثابت ہوگا کہ تربیت یافتہ لڑکیوں کو یہاں الکر مسلمانوں میں رقابت پیدا ''
کی جائے اور ان کی کردار کشی کی جائے۔ اس کے لیے حاالت اور مقامات مختلف ہوتے ہیں۔ میں آپ کے ان افسروں پر
حیران ہوں جنہوں نے ایک لڑکی یہاں بھیجی تھی''۔
''پھر کیا کیا جائے؟''
صفایا''… میزبان نے اپنے ہاتھ کو تلوار کی طرح دائیں بائیں جنبش دے کر کہا… ''پورے قصبے کو آبادی سمیت ختم کرنا ''
پڑے گا۔ اس صورت میں ہم بھی یہاں نہیں رہ سکیں گے۔ ہم اپنے بیوی بچوں اور مال ودولت کو یہاں سے پہلے نکال دیں
گے۔ مجھے امید ہے کہ صلیبی بادشاہ ہمیں کسی دوسری جگہ آباد کرنے میں مدد دیں گے اور ہمارا مالی نقصان پورا کردیں
گے۔ میں یہودی ہوں۔ میں ہیکل سلیمانی کی خاطر اپنا گھر تباہ کرانے میں تیار ہوں''۔
لیکن اس قصبے کی تباہی کا انتظام کیا ہوگا؟''… بوڑھے نے پوچھا… ''اس کے لیے فوج کی ضرورت ہے''۔''
فوج موجود ہے''… یہودی نے کہا… ''شاہ بالڈون کی فوج پانچ چھ میل دور خیمہ زن ہے۔ آپ کو شاید معلوم نہیں کہ ''
اس فوج نے پسپائی کے راستے میں آنے والی تمام مسلمان بستیوں کو تباہ وبرباد کردیا ہے۔ اس سے حمص بھی تباہ کرایا
جاسکتا ہے۔ میں آج ہی روانہ ہوجائوں گا اور شاہ بالڈون کو بتائوں گا کہ ہمارا قصبہ اس کی فوج کے لیے کس قدر خطرناک
ہے''۔
مقصد یہ نہیں کہ قصبہ تباہ کرایا جائے''… بوڑھے نے کہا… ''بلکہ یہ یہاں کے کسی مسلمان کو زندہ نہ رہنے دیا ''
جائے''۔
اور لڑکیوں کو فوج اٹھالے جائے''۔''
سب متفق ہوگئے اور فیصلہ ہوا کہ میزبان یہودی اسی رات شاہ بالڈون کی خیمہ گاہ کو روانہ ہوجائے۔ وہ باہر نکلے تو انہیں
ایک گھوڑا سوار قصبے میں داخل ہوتا نظر آیا۔ وہ کوئی اجنبی تھا۔ خطیب کا گھر نظر آرہا تھا۔ یہ سوار خطیب کے گھر کے
سامنے گھوڑے سے اترا۔ دروازے پر دستک دی۔ خطیب باہر آیا۔ اجنبی سے ہاتھ مالیا اور اسے اندر لے گیا۔
یہ سوار دمشق یا قاہرہ کا قاصد ہے''… میزبان یہودی نے کہا۔''
٭ ٭ ٭
عشاء کی نماز کے بعد نمازی چلے گئے۔ پانچ چھ آدمی خطیب کے پاس بیٹھے رہے۔ ان میں یہ اجنبی گھوڑ سوار بھی تھا۔
خطیب نے کسی سے کہا کہ مسجد کا دروازہ اندر سے بند کردیا جائے۔
میرے دوستو!''… خطیب نے کہا… ''ہمارا یہ دوست الملک العادل کی طرف سے خبر الیا ہے کہ سلطان صالح الدین ''
ایوبی بہت جلد قاہرہ سے کوچ کرنے والے ہیں۔ آپ سب فوجی ہیں اور شب خون کے استاد ہیں۔ آپ کو یہ بتانے کی
ضرورت نہیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔ تربیت اور مشق تیز کردو۔ العادل نے یہ اطالع بھیجی ہے کہ صلیبی بادشاہ بالڈون کی
فوج جو حماة سے بھاگی تھی ،ہمارے قریب کہیں پڑائو ڈالے ہوئے ہے۔ ہمیں اس پر نظر رکھنی ہے اور اس کی نقل وحرکت
کی اطالع العادل تک پہنچانی ہے۔ انہوں نے یہ حکم بھی بھیجا ہے کہ اگر ہم ضروری سمجھیں تو صلیبیوں کی اس فوج پر
…''شب خون ماریں یا چھاپہ مار کارروائیاں جاری رکھیں تاکہ یہ فوج چین سے نہ بیٹھ سکے
اس کے ساتھ ہی العادل نے یہ بھی کہا کہ اس فوج نے مسلمانوں کے بہت سے گائوں تباہ کردئیے ہیں۔ چونکہ العادل کے''
پاس فوج کی کمی تھی ،اس لیے صلیبی فوج کا تعاقب نہ کیا جاسکا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بالڈون کی فوج اور پیچھے اپنے
عالقے میں چلی جاتی ہے تو اسے نہ چھیڑا جائے کیونکہ خطرہ ہے کہ وہ حمص کو تباہ کردے گی۔ ہمیں تربیت اور مشق تیز
کرنے کو کہا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ سلطان ایوبی کسی طرف حملہ کریں تو بالڈون ان پر عقب یا پہلو سے حملہ کردے۔ اس
صورت میں ہمیں بالڈون کے عقب پر شب خون مارنے ہیں اور اسے یہیں الجھائے رکھنا ہے''۔
خطیب نے ایک آدمی کو یہ کام سونپا کہ وہ اس فوج کو دیکھ آئے۔
اس وقت تبریز اور ویرا اس حالت میں قصبے میں داخل ہوئے کہ ویرا تبریز کی پیٹھ پر تھی۔ راستے میں پانی تو مل گیا تھا
لیکن کھانے کو کچھ نہیں مال تھا۔ ویرا صلیبیوں کی شہزادی تھی۔ وہ پیدل سفر کی عادی نہیں تھی۔ تبریزرات کے لیے کہیں
رکنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے ویرا کو پیٹھ پر اٹھا لیا اور باقی سفر اسی طرح طے کیا۔ اس نے لڑکی کو اپنے گھر کے سامنے
اتارا اور اسے اندر لے گیا۔ اس کے گھر والوں کو یقین نہیں آرہا تھا کہ تبریز زندہ ہے۔ اس کا گھوڑا پہلے ہی گھر پہنچ چکا
تھا۔ اس نے گھر والوں کو بتایا کہ اس پر کیا بیتی ہے۔
ویرا کو معلوم تھا کہ اس کی منزل یہودی تاجر کا گھر ہے۔ اس نے کہا کہ وہ اس کے گھرفورا ً جانا چاہتی ہے۔ شاید اس :
کا باپ زندہ آگیا ہو ،تبریز اس کے ساتھ گیا۔ اسے یہودی تاجر کا گھر معلوم تھا۔ راستے میں اندھیرا تھا۔ ویرا اچانک رک
گئی اور تبریز سے لپٹ گئی۔ کبھی چہرہ اس کے سینے پر رگڑتی اور کبھی اس سے الگ ہوکر اس کے ہاتھ چومتی اور
آنکھوں سے لگاتی۔
ہماری منزل جدا ہیں''… ویرا نے جذبات اور رقت سے بوجھل آواز میں کہا… ''مگر ہم کسی دوراہے پر پھر ملیں گے۔ ''
میں اپنی روح سے بیگانہ تھی ،وہ مل گئی ہے اور میں نہیں جانتی تھی محبت کیا ہے؟ وہ تم نے دے دی ہے۔ دل میں
تمہاری یاد لے کے جارہی ہوں۔ تم مجھے بھول جائو گے''۔
نہیں ویرا''… تبریز کی جذباتی کیفیت ویرا سے زیادہ متزلزل تھی۔ کہنے لگا… ''میں تمہیں بھول نہیں سکوں گا۔ میں نے''
تمہیں راستے میں کہا تھا کہ اب تک ایک باطل مذہب کی پجاری رہی ہو ،باقی عمر اسالم کے سائے میں گزارو۔ میں تمہارا
انتظار کروں گا۔ میرے دل میں اب کوئی لڑکی نہیں سما سکے گی۔ تم اب اسی قصبے میں رہو گی۔ ہم مال کریں گے لیکن
وہاں جہاں کوئی دیکھ نہ سکے''۔
تبریز نے امانت میں خیانت نہیں کی تھی۔ دوران سفریہ لڑکی اس کی مرید ہوگئی تھی۔ پھر یوں ہوا کہ لڑکی تبریز کے دل
میں اتر گئی۔ اب وہ دل پر پتھر رکھ کر اسے یہودی کے حوالے کرنے جارہا تھا… وہ جب اسے یہودی کے گھر لے گیا تو
وہاں اسے بوڑھا عیسائی مال۔ اس نے ویرا کو گلے لگا لیا۔ یہودی تاجر گھر نہیں تھا۔ وہ فیصلے کے تحت شاہ بالڈون کی
خیمہ گاہ کو روانہ ہوگیا تھا۔ تبریز بوڑھے کے اصرار کے باوجود وہاں رکا نہیں۔ وہاں سے وہ مسجد چال گیا۔ دروازہ اندر سے
بند تھا۔ اس نے دستک دی ،دروازہ کھال تو وہ اندر چال گیا۔
٭ ٭ ٭
سلطان صالح الدین ایوبی نے ایک سال کے اندر اپنی فوج تیار کرلی تھی۔ اس نے مزید انتظار نہ کیا ،جس رات حمص کا
ایک یہودی تاجر شاہ بالڈون سے یہ کہنے جارہا تھا کہ وہ اپنی فوج سے حمص کے مسلمانوں کو تباہ وبرباد کردے ،اس رات
سلطان ایوبی کی فوج قاہرہ سے نکل گئی تھی۔ اس کی منزل دمشق تھی۔ کوچ بہت تیز تھا۔ سلطان ایوبی وقت ضائع نہیں
کرنا چاہتا تھا۔ اس دور کے واقعہ نگاروں کے مطابق ،سلطان ایوبی دمشق قیام کرکے وہاں کے حاالت ،غداریوں اور سازشوں کا
جائزہ لے کر اور ان کا سدباب کرکے العادل سے ملنا چاہتا تھا اور وہاں سے اسے جنگی کارروائی کا آغاز کرنا تھا مگر راستے
میں ہی اس نے راستہ بدل دیا۔
اس کی وجہ یہ ہوئی کہ اسے عزالدین کا ایک ایلچی راستے میں مال۔ وہ سلطان ایوبی کے نام قاہرہ پیغام لے کر جارہا تھا۔
اسے معلوم نہیں تھا کہ سلطان ایوبی وہاں سے کوچ کر آیا ہے۔ا دھے راستے میں اس نے ایک فوج آتی دیکھی۔ جھنڈوں سے
پہچانا گیا کہ یہ سلطان ایوبی کی فوج ہے۔ وہ قلب میں چال گیا جہاں سلطان ایوبی تھا۔ ایلچی نے اسے عزالدین کا پیغام
دیا۔ عزالدین نورالدین زنگی مرحوم کے مشیروں میں سے تھا ،جسے امیر کا درجہ حاصل تھا۔ وہ مرد مومن تھا۔ اس لیے زنگی
کا منظور نظر تھا۔ زنگی نے وفات سے پہلے اسے حلب کے صوبے میں قارا حصار کے نام کا قلعہ دے کر اس کا امیر بنا دیا
تھا۔ خاصا عالقہ اس قلعے کے تحت آتا تھا۔ اس سے ملحق ابن العون کی ریاست تھی جو صلیبیوں کے ساتھ صلیبی اور
مسلمانوں کے ساتھ مسلمان بن جاتا تھا۔ اس نے صلیبیوں کی شہہ پر عزالدین کے عالقے میں سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ
شروع کردیا تھا۔ عزالدین اکیال اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔ وہ حلب اور موصل والوں سے مدد نہیں لینا چاہتا تھا کیونکہ
جب سے حلب اور موصل کے حکمرانوں الملک الصالح اور سیف الدین وغیرہ نے سلطان ایوبی کے خالف محاذ قائم کیا تھا،
عزالدین نے ان کے ساتھ تعلقات توڑ لیے تھے۔
اس نے سلطان ایوبی کو جو پیغام بھیجا ،وہ یوں تھا… ''قابل احترام سلطان صالح الدین ایوبی بن نجم ایوب سلطان مصر
وشام! آپ پر اور سلطنت اسالمیہ پر اللہ کی رحمت ہو۔ میری وفاداری کے متعلق آپ کو شک نہیں ہوگا۔ میں نے تل خالد
کی طرف سے صلیبیوں کا راستہ روک رکھا ہے۔ تمام تر عالقہ اور پیش قدمی کے راستے میں میرے چھاپہ ماروں کی نظر میں
رہتے ہیں۔ صلیبیوں نے مجھے راستے سے ہٹانے کے لیے ابن العون کے ساتھ گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ میری
سرحد اس عالقے سے ملتی ہے جو دراصل آرمینیوں کا عالقہ ہے۔ ان آرمینیوں نے میری سرحدی چوکیوں پر حملے شروع
کردئیے ہیں۔ آپ آگاہ ہوں گے میرے پاس فوج کی کمی ہے۔ صلیبیوں اور آرمینیوں نے میرے پاس دوبار ایلچی قیمتی تحائف
کے ساتھ بھیجے تھے۔ وہ مجھے دعوت دے رہے ہیں کہ میں ان کا اتحادی بن جائوں اور آپ کے خالف لڑوں۔ انکار کی
…''صورت میں انہوں نے مجھے حملے کی دھمکی دی ہے
میری جگہ کوئی اور ہوتا تو اپنی زمین کے تحفظ کے لیے یہ دعوت قبول کرلیتا۔ یہ جگہ اتنی دور ہے کہ وقت پڑے تو ''
مدد کو آنے والے بروقت نہیں پہنچ سکتے۔ اس کے باوجود میں نے اس کی دعوت کے بجائے ان کی دھمکی قبول کی ہے اور
میں نے یہ اقدام اللہ کے بھروسے پر کیا ہے۔ میں اپنا قلعہ اور اپنا عالقہ اور اس کے ساتھ اپنی جان قربان کردوں گا۔
صلیبیوں کے ساتھ اتحاد نہیں کروں گا۔ میں نورالدین زنگی مرحوم کی روح کے آگے جواب دہ ہوں اور میں ان الکھوں شہیدوں
کے آگے جواب دہ ہوں جو قبلہ اول کے نام پر قربان ہوچکے ہیں… مجھے معلوم نہیں کہ آپ کا آئندہ اقدام کیا ہوگا۔ مجھے
یہ معلوم ہے کہ رملہ کے حادثے کے بعد آپ تنظیم نو اور دیگر تیاریوں میں مصروف ہوں گے۔مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ
محترم الملک العادل میری مدد کو آنے کے قابل نہیں۔ میں آپ کو اپنے احوال سے خبردار رکھنا ضروری سمجھتا تھا۔ اگر آپ
حکم دیں تو میں اپنے عالقے اور قاراحصار سے دستبردار ہوکر اپنی فوج آپ کے پاس لے آئوں۔ دوسری صورت میں مجھے
ہدایت دیں کہ میں کیا کروں۔ میں کسی قیمت پر صلیبیوں اور آرمینیوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا''۔
سلطان ایوبی نے یہ پیغام پڑھا۔ اسی وقت اپنے ساالروں اور مشیروں کو بالیا۔ پیغام انہیں پڑھ کر سنایا اور یہ حکم دے کر
سب کو حیران کردیا کہ کوچ کا راستہ بدل دو۔ ہم ابن العون کے عالقے پر یلغار کریں گے۔ سلطان ایوبی ڈکٹیٹروں کی طرح
حکم نہیں دیا کرتا تھا اور وہ جذبات سے مغلوب ہوکر بھی کوئی جنگی کارروائی نہیں کیا کرتا تھا مگر اس حکم کے پیچھے
جنگی فہم وفراست کے ساتھ جذبات بھی کارفرما تھے۔
قاراحصار میرے محترم استاد نورالدین زنگی مرحوم کی نشانی ہے''… سلطان ایوبی نے کہا… ''اور عزالدین کے الفاظ میں ''
مجھے زنگی مرحوم کی آواز سنائی دے رہی ہے۔ میں اس شخص کو تنہا نہیں رہنے دوں گا جو ہمارے مقصد اور عزم کے
ساتھ وفاداری کا اظہار کرتا ہے''۔
سلطان محترم!'' ایک ساالر نے کہا… ''ہم حقائق کو سامنے رکھیں تو کسی بہتر فیصلے پر پہنچ سکیں گے''۔''
حقائق یہ ہیں کہ ہمیں پہلے دمشق جاکر وہاں کے حاالت کا جائزہ لینا تھا''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''اب اگر ہم دمشق''
چلے گئے تو ابن العون تل خالد پر حملہ کردے گا اور عزالدین اس کے آگے نہیں ٹھہر سکے گا۔ آگے حلب ہے۔ تم سب
الملک الصالح اور اس کے مشیروں کو اچھی طرح جانتے ہو۔ بے شک وہ اس معاہدے کا پابند ہے جو اس نے ہمارے ساتھ
کررکھا ہے ،لیکن معاہدہ لوہے کی دیوار نہیں ہوتی کہ ٹوٹ نہ سکے۔ وہ فورا ً صلیبیوں کے ساتھ سمجھوتہ کرکے ایک بار پھر
ہمارے خالف لڑنے کو آجائے گا۔ میں صلیبیوں کو حلب نہیں لینے دوں گا اور عزالدین کو میں اکیال نہیں چھوڑوں گا''۔
کچھ دیر عملی پہلوئوں پر بحث ومباحثہ ہوا اور طے ہوا کہ تل خالد کی سمت کوچ ہوگا۔ سلطان ایوبی نے عزالدین کے :
ایلچی کو زبانی پیغام دیا جس میں کہا کہ عزالدین ابن العون سے ملے اور اسے دوستی کا دھوکہ دے لیکن اسے اپنے عالقے
میں دخل انداز نہ ہونے دے۔ اس کے ساتھ دوستی کی شرائط پر بات چیت کرتا رہے اور اسے یہاں تک دھوکہ دے کر وہ
اپنی فوج اس کے حوالے کردے گا۔ سلطان ایوبی نے ایلچی کو بتا دیا کہ اس نے اپنی فوج کو تل خالد کی طرف تیز کوچ کا
حکم دے دیا ہے۔ ایلچی روانہ ہوگیا۔
٭ ٭ ٭
صلیبی جاسوس سلطان ایوبی کی نقل وحرکت دیکھ رہے تھے اور صلیبیوں تک خبریں پہنچا رہے تھے ،جن کے مطابق انہوں نے
اپنے قلعوں اور اپنے عالقوں کا دفاع مضبوط کرلیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ سلطان ایوبی کے اقدامات کے متعلق کوئی پیشن
گوئی نہیں کی جاسکتی۔ صلیبیوں کے مشترکہ ہیڈکوارٹر میں جب جاسوسوں نے یہ اطالع دی کہ سلطان ایوبی کی فوج دمشق
کے راستے سے ہٹ کر کسی دوسری سمت جارہی ہے تو ان کے جرنیلوں نے کہا کہ ایوبی اپنے آزمائے ہوئے میدانوں میں لڑنا
چاہتا ہے۔
حمص کا یہودی تاجر جو حمص کو تباہ کرانے کے لیے شاہ بالڈون کے پاس گیا تھا ،واپس آگیا تھا۔ اسے بالڈون نہیں مال تھا۔
وہ اپنے صلیبی دوستوں سے مدد مانگنے گیا تھا۔ اس کے جرنیلوں نے یہودی سے کہا تھا کہ وہ شاہ بالڈون کے حکم کے بغیر
کوئی اقدام نہیں کرسکتے ،کریں گے ضرور۔ یہودی حمص واپس آیا تو اسے بتایا گیا کہ ویرا زندہ آگئی ہے اور اسے تبریز نام کا
ایک مسلمان الیا ہے۔ تبریز کو عیسائیوں اور یہودیوں نے نقد انعام پیش کیا تھا جو اس نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کردیاتھا
کہ اس نے اپنا فرض ادا کیا ہے۔
اب یہودی تاجرویرا کو بے کار سمجھتا تھا کیونکہ قصبے کو تباہ کرانے کا انتظام ہوچکا تھا۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ ویرا کو واپس
ہیڈکوارٹر میں بھیج دیا جائے لیکن ویرا چاالک لڑکی تھی۔ اس نے کہا کہ وہ خطیب کے اعصاب پر غالب آجائے گی اور
مسلمانوں کو جنگی تربیت دینے والوں کے درمیان رقابت کی دشمنی پیدا کردے گی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ یہاں کے مسلمانوں
کے عزائم معلوم کرنے کے لیے بھی اس کی ضرورت ہے۔ چنانچہ اسے حمص ہی میں رہنے دیا گیا لیکن کسی کو پتہ نہ چال
کہ وہ صرف تبریز کی خاطر وہاں کچھ دن اور رکناچاہتی ہے۔
وہ تبریز سے ملتی رہی۔ رات کو وہ قصبے سے دور نکل جاتے اور بہت دیر وہیں بیٹھے رہتے تھے۔ اس صلیبی لڑکی کے
مقابلے میں تبریز کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی۔ وہ تو امراء وزراء اور بادشاہوں کے محالت میں رہنے والی لڑکی تھی۔ دمشق
میں اس نے انتظامیہ کے دو امراء کو اپنے قدموں میں بٹھا لیاتھا اور ان کے ہاتھ ایسی سازش تیار کرادی تھی۔ جس کی
اطالع پر سلطان ایوبی دمشق جارہا تھا مگر طغیانی کی دہشت اور تبریز کے کردار نے اسے ایسا جھٹکا دیا تھا کہ اس کی
ذات میں روح اور جذبات بیدار ہوگئے تھے۔ وہ تبریز کی پوجا کرنے لگی تھی اور تبریز اس کی محبت میں گرفتار ہوچکا تھا۔
تبریز ایک بات بتائو''۔ ایک رات ویرا نے اس سے پوچھا… ''خطیب اور دوسرے چند ایک آدمی جو تمہیں جنگی تربیت ''
''دیتے ہیں ،وہ کہاں سے آئے ہیں؟
تبریز جواب دینے لگا تو ویرا بول اٹھی… ''رہنے دو ،جانے دو تبریز! ہمیں اس سے کیا ،کوئی کچھ کرتا پھرے۔ ہم اتنی :
خوبصورت رات کو جنگ کی باتوں سے کیوں خراب کریں''۔
اس طرح وہ دو حصوں میں کٹ گئی تھی۔ تبریز کے ساتھ ہوتی تو وہ معصوم اور پاک لڑکی ہوتی تھی۔ اسے یہ بھی یاد نہیں
رہتا تھا کہ وہ جاسوس ہے۔ اس نے ایک ہی بار تبریز سے خطیب اور دوسرے استادوں کے متعلق پوچھا لیکن اسے اس نے
دھوکہ سمجھا اور تبریز کو جواب دینے سے روک دیا۔ یہی ویرا جب یہودی تاجر کے گھر میں بیٹھی ہوتی تو مسلمانوں کی
تباہی کی باتیں کرتی تھی۔
٭ ٭ ٭
ڈیڑھ دو مہینے گزر گئے تھے۔ ایک شام ویرا تبریز کے گھر چلی گئی اور اس کی ماں کے ساتھ باتیں کرتی رہی۔ اس نے
تبریز کو اشارہ کیا جسے وہ سمجھتا تھا۔ وہ چلی گئی۔ شام کا اندھیرا گہرا ہوتے ہی تبریز اس جگہ پہنچ گیا ،جہاں وہ مال
کرتے تھے۔ ویرا آگئی تھی۔ تبریز کو قصبے سے دور لے گئی۔ وہ گھبرائی ہوئی تھی۔ تبریز کے پوچھنے پر بھی اس نے نہ
بتایا کہ اس کی گھبراہٹ کی وجہ کیا ہے۔ انہیں آوازیں سنائی دیں۔ کوئی ویرا کو پکار رہا تھا۔ تبریز نے پوچھا کہ یہ کون
ہے؟ ویرا نے گھبرائی ہوئی آواز میں کہا کہ اس کے آدمی اسے تالش کررہے ہیں… ''چلو اور دور نکل چلیں''… ویرا نے کہا
اور اسے اور دور لے گئی۔ اسے ابھی تک کوئی پکار رہا تھا۔
ان آوازوں کو مت سنو تبریز!'' ویرا نے کہا… ''میں جب تمہارے پاس ہوتی ہوں تو میں اپنے کسی آدمی کی آواز نہیں ''
سننا چاہتی''۔
آگے چٹانیں تھیں۔ ویرا تبریز کو چٹانوں کے پیچھے لے گئی۔ تبریز حیران سا ہوکے اس کے ساتھ چلتا رہا اور وہ ایک جگہ
رک گئے۔ وہاں کسی کی آواز نہیں پہنچی تھی… تبریز چونک اٹھا اور بوال… ''شور سا سنائی دیتا ہے۔ تم بھی سننے کی
کوشش کرو۔ ایسے لگتا ہے جیسے چیخ وپکار ہورہی ہے اور گھوڑے دوڑ رہے ہیں''۔
تمہارے کان بج رہے ہیں''۔ ویرا نے ہنس کر کہا… ''ہوا کے تیز جھونکے چٹانوں سے ٹکرا کر گزر رہے ہیں۔ یہ ان کی ''
آوازیں ہیں''۔
ویرا نے اسے اپنے بازوئوں اور ریشمی بالوں میں گرفتار کرکے اس کی آنکھوں ،کانوں اور عقل پر قبضہ کرلیا۔ تبریز مان گیا کہ
یہ آوازیں ہوا کی ہیں جو بہت دور کے شور کی طرح سنائی دیتی ہیں مگر اسے معلوم نہ ہوسکا کہ یہ آوازیں اس کی اپنی
بستی کے لوگوں کی ہیں اور وہاں قیامت بپا ہوچکی ہے جو یہودی تاجر بپا کرانا چاہتا تھا۔ ویرا کو معلوم تھا ،وہ نہیں چاہتی
تھی کہ یہ آوازیں تبریز کے کانوں تک پہنچیں۔
20:54 :
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔124تصادم روح بدروح کا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ آوازیں تبریز کے کانوں تک پہنچیں۔ یہ انتظام اس طرح ہوا تھا کہ یہودی تاجر ایک بار پھر بالڈون سے ملنے گیا تھا۔ اسے
بالڈون مل گیا تھا۔ یہودی نے اسے بتایا کہ حمص کے مسلمان کیا کررہے ہیں اور وہ کس طرح صلیبی فوج کے لیے خطرہ بن
سکتے ہیں۔ بالڈون کا یہ من پسند شکار تھا۔ اس نے یہودی کو بتایا کہ وہ کسی رات چپکے سے حمص پر حملہ کرائے گا۔
اس نے یہودی سے یہ بھی کہا کہ عیسائی اور یہودی اس رات حملے سے پہلے قصبے سے نکلیں ،اگر وہ دن کے دوران نکلے
تو مسلمانوں کو شک ہوگا کہ کوئی گڑبڑ ہے۔ یہودی نے واپس آکر جب اپنے آدمیوں کو یہ سکیم بتائی تو ویرا نے کہا کہ وہ
تبریز اور اس کے کنبے کو بچانا چاہتی ہے۔
اسے ہم صلیب سے غداری کہیں گے''۔ بوڑھے عیسائی نے کہا۔''
سانپ کے بچوں کو بچانا کہاں کی عقل مندی ہے؟'' یہودی تاجر نے کہا۔''
یہاں مسلمانوں کے دو گھر ایسے ہیں جن کے ساتھ میرے دلی تعلقات ہیں''۔ وہاں کے رہنے والے ایک عیسائی نے کہا۔ ''
'' لیکن میں انہیں بچانے کی نہیں سوچ رہا ،ہمیں مسلمان کا خون چاہیے۔ مسلمان میرا ذاتی دوست ہوسکتا ہے میرے مذہب
کا وہ دشمن ہی ہوگا''۔
میں اسے زندہ رکھنا چاہتی ہوں جس نے مجھے موت کے منہ سے نکاال تھا''۔ ویرا نے غصے سے کہا۔''
ہم نے اسے اتنا انعام پیش کیا تھا جو اس نے کبھی خواب میں نہیں دیکھا ہوگا''۔ یہودی تاجر نے کہا۔ ''اس نے کہا ''
کہ اس نے اپنا فرض ادا کیا ہے۔ ہم نے اسے انعام پیش کرکے اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ اب وہ ہمارا دشمن اور ہم اس کے
دشمن ہیں''۔
میں اسے دشمن نہیں سمجھتی''۔ ویرا نے جھنجھال کر کہا… ''یہ صرف ایک مرد مال ہے جس نے میرے جسم پر ذرہ ''
بھر توجہ نہیں دی۔ تم سب گناہ گار ہو ،تم میں کون ہے جس کی نیت میرے حق میں صاف ہے۔ میری آنکھوں میں اپنے
چہرے دیکھو''۔
تم صرف تبریز کو بچالو''۔ یہودی تاجر نے کہا… ''لیکن اسے کیسے بچائو گی؟ اگر تم نے اسے بتایا کہ کیا ہونے واال ہے''
تو وہ ساری آبادی کو نہیں بتا دے گا؟ اور اگر تم اس کے پورے کنبے کو گھر سے نکل جانے کو کہو گی تو وہ وجہ نہیں
پوچھیں گے؟ تم کیا بتائو گی؟ تم ایک مسلمان کو نیکی کا صلہ دیتے دیتے ،ان تمام مسلمانوں کو چوکنا کردو گی جو ہمارے
لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں''۔
مجھے اناڑی نہ سمجھو''… ویرا نے کہا… ''میں صلیب کو دھوکہ نہیں دوں گی''۔''
حملے کی شام ویرا تبریز کے گھر گئی اور اسے باہر لے گئی۔ اس کے آدمیوں کو معلوم تھا کہ رات کو وہ اکثر کہاں چلی
جاتی ہے۔ اس نے انہیں بتا رکھا تھا کہ تبریز کو محبت کا دھوکہ دے کر وہ اس سے بھید لیتی ہے۔ وہ اسے باہر لے گئی
تو قصبے سے عیسائی اور یہودی دبے پائوں نکلنے لگے۔ انہوں نے ویرا کی تالش میں ایک آدمی بھیجا جو اسے پکارتا رہا،
لیکن ویرا تبریز کو دور ہی دور لے جاتی رہی۔ وہ اسے اتنی دور لے جانا چاہتی تھی جہاں سے اسے قصبے کا شور نہ سنائی
دے۔ ویرا کی تالش میں جو آدمی گیا تھا وہ مایوس ہوکر واپس چال گیا۔
٭ ٭ ٭
قصبے پر نیند کا غلبہ طاری ہوچکا تھا۔ صلیبی فوج کے پیادے دبے پائوں قریب آگئے تھے۔ ان کی تعداد قصبے کی آبادی سے
کئی گنا زیادہ تھی۔ پیادہ فوج بالکل قریب آگئی تو عقب سے گھوڑ سوار بھی آگئے۔ مسلمان گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔ فوج
نے طغیانی کی طرح یلغار کردی۔ فوجیوں نے مشعلیں جال لی تھیں۔ دو تین جھونپڑوں کو آگ لگا دی گئی تاکہ روشنی
ہوجائے۔ صلیبی سپاہی دیواریں پھالنگ کر گھروں میں داخل ہوئے۔ زیادہ تر مسلمان جاگنے سے پہلے ہی مارے گئے۔ جو بروقت
جاگ اٹھے اور ہتھیار اٹھا سکے ،انہوں نے مقابلہ کیا۔ بعض لڑکیوں نے خودکشی کرلی۔ صلیبی گھوڑ سواروں نے قصبے کو گھیر
رکھا تھا۔ کسی کو باہر کو بھاگتا دیکھتے تھے تو اسے برچھی یا تلوار کا شکار کرلیتے تھے۔
یہ تھی وہ چیخ وپکار اور شور جو چٹانوں میں بیٹھے ہوئے تبریز نے سنا تھا۔ اس کا گھر تباہ ہوچکا تھا۔ بچہ بچہ کٹ گیا
تھا۔ شاہ بالڈون نے مسلمانوں کی اس بستی سے بھی اپنی شکست کا انتقام لے لیا تھا۔
تم آج مجھے اتنی دور کیوں لے آئی ہو؟'' تبریز نے پوچھا اور کہا… ''تم آج بولتی کیوں نہیں؟ گھبرائی ہوئی کیوں ''
''ہو؟
اس لیے کہ تم میرا ساتھ نہیں دو گے''۔ ویرا بہت ہوشیار لڑکی تھی۔ کہنے لگی… ''میں تمہیں کہیں اور لے جارہی ہوں''
''… اسے خاموش دیکھ کر بولی۔ ''کل واپس آجائیں گے''۔
''کہاں؟''
کیا تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں؟'' ویرا نے اسے بازوئوں میں لے کر اس کا چہرہ اتنا قریب کرلیا کہ اس کے بکھرے '' :
ہوئے ریشمی بال تبریز کے گالوں کو چھونے لگے۔ یہ وہی بال تھے ،جنہیں گف میں دھال ہوا دیکھ کر تبریز نے اپنی ذات میں
عجیب سا لرزہ محسوس کیا تھا۔ اب تو ویرا کی محبت اس کے دل میں دور تک اتر گئی تھی۔ اس پر خمار سا طاری
ہوگیا… ''ہم کب تک چوروں کی طرح ملتے رہیں گے؟ میں اب تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اگر تمہارے دل میں میری
محبت ہے تو مجھ سے ابھی یہ نہ پوچھو کہ میں تمہیں کہاں لے جارہی ہوں۔ یہ سمجھ لو کہ ہم وہاں چلیں گے جہاں
ہمارے درمیان مذہب کی دیواریں حائل نہیں ہوں گی تم مرد ہو ،مجھے دیکھو ،کمزور سی عورت ہوکر تمہاری محبت کی خاطر
کتنا بڑا خطرہ مول لے رہی ہوں''۔
کمزور دراصل تبریز تھا۔ ویرا اس کی عقل پر غالب آگئی تھی۔ وہ اس کوشش میں تھی کہ تبریز اپنے قصبے میں واپس نہ
جائے۔ وہ جانتی تھی کہ وہاں اسے اپنے گھر کے جلے ہوئے کھنڈر اور گھر والوں کی جلی ہوئی الشیں ملیں گی ،پھر وہ پاگل
ہوجائے گا۔ ہوسکتا تھا ویرا کو کسی شک کی بنا پر قتل ہی کردے۔ ویرا کے دماغ میں کچھ اور آگیا تھا۔ اس نے محبت کی
خاطر اور طغیانی سے بچانے اور اسے باعزت حمص النے کے صلے میں صلیبیوں کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچا لیا تھا اور اب
اپنے گھر کی بربادی دیکھنے کی اذیت سے بچانا چاہتی تھی۔ اس نے تبریز کو اٹھا لیا اور چل پڑی۔ تبریز اس کے ساتھ یوں
جارہا تھا جیسے ہیپناٹائز کرلیا گیا ہو۔
صبح طلوع ہوئی تو حمص جلے ہوئے کھنڈروں میں تبدیل ہوچکا تھا ،وہاں کوئی مسلمان زندہ نہیں رہا تھا۔ بڑی مسجد کے
مینار کھڑے تھے۔ خطیب اور اس کے ساتھی مقابلے کے بغیر شہید ہوگئے تھے۔ اس وقت ویرا تبریز کو ساتھ لیے صلیبی فوج
کی خیمہ گاہ تک پہنچ چکی تھی۔ تبریز کا دماغ بیدار ہوگیا۔ اس نے ویرا سے پوچھا کہ وہ یہاں کیا لینے آئی ہے۔ ویرا نے
اس کے وسوسے اپنی زبان کے کمان سے رفع کردئیے۔ اسے ایک طرف کھڑا کرکے اس نے ایک کمان دار سے بات کی۔ کمان
دار نے اسے کوئی راستہ سمجھایا۔ ویرا تبریز کو ساتھ لیے ادھر چلی گئی۔
وہ جہاں پہنچے وہ شاہ بالڈون کی ذاتی خیمہ گاہ تھی جس پر محل کا گمان ہوتا تھا۔ محافظوں نے بہت کچھ پوچھ کر ویرا
کو بالڈون کے خیمے میں جانے دیا۔ کچھ دیر بعد تبریز کو اندر بالیاگیا۔ بالڈون نے اسے سر سے پائوں تک دیکھا اور کہا…
''یہ لڑکی تمہیں اپنے ساتھ رکھنا چاہتی ہے۔ اس نے ایسی خواہش کا اظہار کیا ہے جسے ہم رد نہیں کرسکتے۔ تمہیں کسی
قسم کا شک یا ڈر نہیں ہونا چاہیے''۔
میں اپنا مذہب تبدیل نہیں کروں گا''۔ تبریز نے کہا۔''
تمہیں مذہب تبدیل کرنے کو کس نے کہا ہے''۔ ویرا نے کہا۔''
پھر کیا ہوگا؟'' تبریز نے پوچھا۔ ''میں یہاں رہ کر کیا کروں گا؟ مجھے واپس جانا ہے''۔''
تبریز!'' ویرا نے اسے اپنی طرف متوجہ کرکے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں اور کہا… ''میں نے تمہیں کیا کہا ''
تھا۔ مجھے بھی وہیں جانا ہے جہاں تمہیں جانا ہے''۔
تبریز کچھ بھی نہ سمجھ سکا۔
٭ ٭ ٭
عزالدین کا ایلچی سلطان صالح الدین ایوبی کا جواب لے کر کبھی کا عزالدین کے پاس پہنچ چکا تھا۔ سلطان ایوبی کی
ہدایت کے مطابق عزالدین نے ابن العون سے ایک مالقات کرلی تھی اور اسے یقین دال دیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ دوستی
کرلے گا اور سلطان ایوبی کو دھوکہ دے گا۔ اس نے ابن العون کو ایسے سبز باغ دکھائے تھے کہ وہ پوری طرح اس کے
جھانسے میں آگیا تھا۔ اس کے بعد ابن العون اسے ملنے قارا حصار آیا تھا۔ قاراحصار زرخیز اور سرسبز عالقہ تھا جسے دیکھ
کر ابن العون کے چہرے پر رونق آگئی تھی۔
اس سے چند ہی روز بعد سلطان ایوبی اپنی فوج کے ساتھ قارا حصار کے قریب جاکر خیمہ زن ہوا۔ اس کی فوج تھکی ہوئی
تھی لیکن وہ آرام میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ یہ خطرہ بھی تھا کہ حملے میں تاخیر ہوگئی تو ابن العون کو فوج
آمد کی خبر مل جائے گی۔ اسے توقع تھی کہ ابن العون کے ساتھ بڑا سخت مقابلہ ہوگا۔ اس خطرے کے پیش نظر اس نے
حلب کی فوج کو بھی بال لیا تھا۔ یہ اس معاہدے کے تحت تھا جو سلطان ایوبی نے الملک الصالح کو شکست دے کر اس
کے ساتھ کیا تھا۔
آدھی رات سے کچھ دیر بعد سلطان ایوبی نے اپنی فوج کو یلغار کے لیے کوچ کا حکم دیا۔ انٹیلی جنس رپورٹوں سے معلوم
ہوگیا تھا کہ آرمینیوں کی چوکیاں کہاں کہاں ہیں اور ان میں کتنی کتنی نفری ہے۔ نفری جتنی بھی تھی وہ بے خبر پڑی
تھی۔ عزالدین کی طرف سے تو انہیں حملے کا خطرہ ہی نہیں تھا اور سلطان ایوبی کا وہاں اتنی خاموشی سے پہنچ جانا ،ان
کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا تھا۔ سلطان ایوبی کی یلغار سہ طرفی تھی۔ ہر حملہ آور کالم کے ساتھ عزالدین کے مہیا
کیے ہوئے گائیڈ تھے۔ سلطان اس کالم کے ساتھ تھا جس نے نہراالسود (دریائے سیاہ) کی طرف سے حملہ کیا تھا۔
یہ دریا ابن العون کے ملک کی سرحد تھا۔ اس پر کشتیوں کا پل بنا ہوا تھا۔ دریا کے کنارے آرمینیوں کا قلعہ مخاضتہ االحزان
تھا۔ ابن العون اسی قلعے میں مقیم تھا۔ اسے سر کرنے سے تمام تر عالقہ فتح ہوسکتا تھا۔ اسی لیے سلطان ایوبی اپنی
فوج کے اس کالم کے ساتھ رہا۔ اس کی قیادت سلطان ایوبی کا بھتیجا فرخ شاہ کررہا تھا جو غیرمعمولی طور پر بہادر اور
حرب وضرب کا ماہر تھا۔ دوسرے دو کالموں نے چوکیوں پر حملے کرکے دشمن کی فوج کو ہالک یا قید کرلیا اور چوکیوں کو
آگ لگا دی۔ دہشت پھیالنے کے لیے بعض بستیوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔
ابن العون کی آنکھ اس وقت کھلی جب سلطان ایوبی کے جانباز کمندیں پھینک کر قلعے کی دیواروں پر چڑھ گئے تھے اور
منجنیقوں سے وزنی پتھر پھینک کر قلعے کا دروازے توڑا جاچکا تھا۔ قلعے میں فوج سوئی ہوئی تھی۔ ابن العون دوڑ کر قلعے
کے ایک مینار پر گیا۔ دور اسے آگ کے شعلے نظر آئے۔ وہ ابھی سوچ بھی نہ پایا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے اور وہ کیا کرے
کہ سلطان ایوبی کا ایک جانباز جیش اس پر ٹوٹ پڑا۔ اس کے محافظوں نے مقابلہ خوب کیا لیکن مارے گئے اور ابن العون
کو قید کرلیا گیا۔
صبح طلوع ہورہی تھی جب ابن العون کو سلطان ایوبی کے سامنے کھڑا کیا گیا۔ سلطان ایوبی حکم دے چکا تھا کہ قلعے کو
مسمار کردیا جائے۔ اس کی فوج اس کام کے لیے کافی نہیں تھی۔ عزالدین بھی سلطان ایوبی کے ساتھ تھا۔ سلطان ایوبی کے
کہنے پر ابن العون کے ہر طرف قاصد اس حکم کے ساتھ دوڑا دئیے کہ تمام فوج ہتھیارڈ ال کر قلعے کے قریب آجائے… فوج
کے آنے تک سلطان ایوبی نے عزالدین کے کہنے پر ابن العون کے ساتھ صلح کی شرائط طے کرلیں۔ ان میں ایک یہ تھی کہ
ابن العون اپنی آدھی فوج سلطان ایوبی کے حوالے کردے۔ دوسری یہ کہ ابن العون کی فوج کی حد مقرر کردی گئی۔ تیسری
یہ کہ ابن العون ساالنہ جزیہ دیتا رہے… اور ایسی چند شرائط تھیں جنہوں نے ابن العون کو برائے نام حکمران رہنے دیا۔
جب ابن العون کی فوج ہتھیار ڈال کر قلعے کے قریب اکٹھی ہوگئی تو سلطان ایوبی نے اس فوج کو حکم دیا کہ قلعے کو
اس طرح مسمار کردے کہ اس کا یہاں نشان بھی نہ رہے۔ شکست خوردہ فوج نے اسی وقت قلعہ مسمار کرنا شروع کردیا اور
سلطان ایوبی اپنی فوج کو مصافہ نام کے ایک گائوں کے قریب لے گیا۔ اس نے حلب کی فوج واپس بھیج دی اور اپنی فوج
کو آرام کی لمبی مہلت دی۔ ابن العون کی جو آدھی فوج اس نے لے لی تھی ،وہ عزالدین کو دے دی مگر سلطان ایوبی کو
معلوم نہ تھا کہ اس کی فوج کی خیمہ گاہ جو سلسلہ کوہستان کے دامن میں ہے ،اس کے اندر اور اس کی بلندیوں پر بالڈون
کی فوج آچکی ہے اور وہ عقاب کی طرح اس پر جھپٹنے کو پرتول رہی ہے۔ سلطان ایوبی نے اس عالقے میں دیکھ بھال کی
ضرورت محسوس نہیں کی تھی کیونکہ اسے کسی فوج کا خطرہ نہیں تھا۔
تقریبا ً تمام مورخوں کی تحریروں سے حیرت کا اظہار ہوتا ہے کہ سلطان ایوبی نے عزالدین کے پیغام پر کیوں اپنا اتنا بڑا :
پالن تبدیل کرکے ابن العون جیسے غیراہم حکمران پر فوج کشی کی جس میں اس نے بے شک فتح حاصل کی لیکن جو
وقت اور جو فوج ضائع ہوئی ،اس کی قیمت زیادہ تھی۔ ارنول نام کا مورخ لکھتا ہے کہ سلطان ایوبی اردگرد کے خطروں کو
کم کرنا چاہتا تھا۔ اس وقت کے واقعہ نگار جن میں اسد االسدی قابل ذکر ہے ،لکھتے ہیں کہ سلطان ایوبی عزالدین کا پیغام
پڑھ کر جذبات کے غلبے میں آگیا تھا۔ بہرحال جنگ کے ماہرین نے سلطان ایوبی کے اس حملے کو سراہا نہیں۔ وہ لکھتے
ہیں کہ سلطان ایوبی کو معلوم تھا کہ قریب ہی کہیں شاہ بالڈون کی فوج ہے جو سلطان ایوبی پر اس وقت حملہ کرسکتی
تھی جب وہ ایک ہی رات میں حاصل کی ہوئی فتح کے بعد کے انتظامات میں مصروف تھا۔ مورخ اس پر بھی حیران ہیں کہ
بالڈون نے اپنی فوج کو اس وقت پہاڑی عالقے میں جنگی ترتیب میں پھیال دیا تھا ،جب سلطان ایوبی کی فوج پہاڑیوں کے
دامن میں خیمے گاڑ رہی تھی۔ شاہ بالڈون نے حملے میں تاخیر کی۔ کسی بھی مورخ کو معلوم نہیں کہ یہ اس کی شاہانہ
حماقت تھی یا کوئی مجبوری ،اگر وہ اسی وقت حملہ کرتا تو سلطان ایوبی کی حالت وہی ہوتی جو رملہ میں ہوئی تھی۔
!شکست اور پسپائی
سلطان ایوبی کو وہاں خیمہ زن ہونے کے بعد بھی پتہ نہ چال کہ شاہ بالڈون اس کے سرپر بیٹھا دانت تیز کررہا ہے۔ بلندیوں
سے بالڈون کے دیکھ بھال والے آدمی سلطان ایوبی کی خیمہ گاہ کو دیکھتے رہتے اور بالڈون کو بتاتے رہتے تھے۔ یہ غالبا ً پہال
موقع تھا کہ سلطان ایوبی کا جاسوسی اور دیکھ بھال کا نظام ڈھیال پڑ گیا تھا۔
تبریز بھی اس فوج کے ساتھ تھا۔ ویرا نے ابھی تک اسے بتایا نہیں تھا کہ وہ اسے اپنے ساتھ کیوں لے آئی ہے۔ وہ شاید
اسے عیسائی بنا کر جاسوس بنانا چاہتی تھی۔ اس میں دونوں باتیں تھیں۔ صلیب کی وفاداری بھی اور تبریز کی محبت بھی۔
شاہ بالڈون کو تبریز کے ساتھ کوئی دلچسپی تھی یا نہیں اسے ویرا کے ساتھ گہری دلچسپی تھی کیونکہ وہ بہت خوبصورت
تھی۔ ایک روزویرا نے بالڈون سے کہا تھا کہ وہ اسے اس کے ہیڈکواٹر میں بھیج دے جو عکرہ میں تھا۔ بالڈون نے اسے روک
لیا تھا۔
یہ اس جگہ کی باتیں ہیں جو حمص کے قریب تھی۔ ایک روز بالڈون کو جاسوسوں نے اطالع دی کہ سلطان ایوبی کی فوج
تل خالد کو جارہی ہے۔ بالڈون کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ سلطان ایوبی ابن العون پر حملہ کرنے جارہا ہے۔ وہ اس
عالقے سے واقف تھا۔ اس نے فورا ً اپنی فوج کو مصافہ کی پہاڑیوں کی طرف کوچ کرنے کا حکم دے دیا۔ اس کا پالن یہ تھا
کہ وہ سلطان ایوبی کو ان پہاڑیوں میں گھسیٹ کر لڑائے گا۔ اس پالن کے مطابق اس نے پہاڑیوں کی موزوں بلندیوں اور ڈھکی
چھپی جگہوں میں اپنی فوج کو پھیال دیا۔ یہ بہت بڑے پیمانے کی گھات تھی۔
اس نے جب حمص کے قریب کی خیمہ گاہ سے کوچ کا حکم دیا تھا ویرا نے اسے کہا کہ وہ اس کے پاس پناہ لینے آئی
تھی۔ تبریز کے متعلق اس نے بالڈون کو ساری کہانی سنا کر بتایا تھا کہ وہ اسے کیوں ساتھ ساتھ لیے پھرتی ہے۔ اب جبکہ
بالڈون لڑنے کے لیے جارہا تھا ،ویرا ور تبریز کا اس کے ساتھ رہنے کا کوئی مقصد نہیں تھا مگر بالڈون نے ویرا کو نہ جانے
دیا۔
میرے ہاں لڑکیوں کی کوئی کمی نہیں''۔ بالڈون نے کہا… ''مگر تم پہلی لڑکی ہو جس نے میرے دل پر قبضہ کرلیا ہے۔''
تم میرے پاس ہوتی ہو تو مجھے روحانی سکون محسوس ہوتا ہے۔ تم کچھ عرصہ اور میرے ساتھ رہو''۔
ویرا اپنے بادشاہوں کو اچھی طرح جانتی تھی۔ بالڈون کی نیت کو سمجھنا ،اس کے لیے مشکل نہیں تھا۔ اس نے صاف الفاظ
میں اسے کہہ دیا… ''اگر بات روحانی سکون کی ہے تو مجھے یہ سکون اس مسلمان سے ملتا ہے ،جس کا سارا کنبہ قتل
کراکے میں اسے ساتھ ساتھ لیے پھرتی ہوں۔ میں بتا نہیں سکتی کہ میں نے اسے اس کے کنبے کے قتل سے بے خبر رکھنے
کا جو گناہ کیا ہے ،اس کا کفارہ میرا ضمیر مجھ سے کس طرح ادا کرائے گا''۔
تمہاری بھی روح ہے؟'' بالڈون نے طنزیہ کہا… ''تمہارا ضمیر ہے؟ راتیں مسلمان امراء کے ساتھ گزارنے والی گناہ کا کفارہ''
''ادا کرنے کی بھی سوچ سکتی ہے؟
آپ کے سامنے میں صرف جسم ہوں ،دلکش جسم''… ویرا نے کہا۔ ''اور جب میں تبریز کے پاس ہوتی ہوں تو روح ہوتی''
ہوں ،پیار کی پیاسی روح''۔
بالڈون بادشاہ تھا۔ اس نے بادشاہوں کی طرح حکم دیا… ''تم میرے ساتھ رہوگی''… اس نے دربان کو بال کر کہا… ''اس
مسلمان کے پائوں میں زنجیر ڈال دو جو ہماری خیمہ گاہ میں رہتا ہے''۔
اور جب بالڈون مصافہ کی پہاڑیوں میں پہنچا ،تب تبریز زنجیروں میں بندھا ہوا قیدی تھا اور ویرا ایسی قیدی جسے زنجیر نہیں
ڈالی گئی تھی ،وہ محافظوں کے پہرے میں تھی۔ یہاں آکر بالڈون اپنی فوج کے ڈیپالئے میں مصروف ہوگیا۔ فارغ ہوا تو اس نے
ویرا کو تڑپانا شروع کردیا۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ تبریز کو اپنے سامنے بال لیتا۔ ویرا کو سامنے کھڑا کرلیتا اور حکم دیتا کہ
تبریز کو کوڑے مارے جائیں۔ کوڑے تبریز کی پیٹھ پر پڑتے تو چیخیں ویرا کی نکل جاتی تھیں۔ بالڈون ویرا سے کہتا… ''تم
اپنے آپ کو مجھ سے بچا نہیں سکتیں ،میں تمہیں اس زبان درازی کی سزا دے رہا ہوں جو تم نے میرے ساتھ کی تھی''۔
تبریز تو جیسے گونگا اور بہرہ ہوگیا تھا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ اسے یقین نہیں آتا تھا کہ اسے
یہ سزا ویرا دال رہی ہے۔ ویرا کی چیخوں اور آہ زاری سے وہ سمجھ گیا کہ ویرا بھی مظلوم ہے۔ تبریز برداشت کرتا مگر
ایک روز ویرا کی برداشت ٹوٹ گئی۔ وہ بالڈون کے پاس چلی گئی۔ اس کے پائوں پکڑ کر معافی مانگی اور کہا کہ جب تک
کہیں گے اور جس طرح کہیں گے ،آپ کے ساتھ رہوں گی۔ تبریز کو چھوڑ دیں۔ بالڈون کے حکم سے تبریز کی زنجیریں کھول
دی گئیں اور اس کی مرہم پٹی کا انتظام کردیا گیا۔ ویرا شاہ بالڈون کی تنہائی کی رونق بن گئی۔
چند دنوں بعد بالڈون نے رات شراب اورویرا کے حسن سے بدمست ہوکر اسے کہا… ''اگر میں صالح الدین ایوبی کو تبریز کی
طرح زنجیروں میں باندھ کر تمہارے سامنے کھڑا کردوں تو مان جائوں گی کہ میں اتنا بوڑھا نہیں جتنا تم مجھے سمجھتی
''ہو؟
میں صالح الدین ایوبی سے کہوں گی کہ میں ملکہ بالڈون ہوں''… ویرا نے کہا… ''اپنی تلوار میرے قدموں میں رکھ دو''۔''
دو روز بعد میں تمہیں یہ کرکے دکھادوں گا ،جو میں نے کہا ہے''… بالڈون نے کہا۔''
ممکن نظر نہیں آتا''… ویرا نے کہا۔''
تم نے دیکھا نہیں کہ صالح الدین ایوبی نے میرے قدموں میں پڑائو ڈال رکھا ہے؟''… بالڈون نے کہا… ''پرسوں صبح کی ''
تاریکی میں ہم اس پر حملہ کریں گے۔ پیشتر اس کے کہ اسے معلوم ہو کہ یہ کیا ہوا ہے ،وہ میرا قیدی ہوگا۔ اسے میری
موجودگی کا علم نہیں''۔
٭ ٭ ٭
تبریز آزاد تھا۔ اس کے متعلق بالڈون نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا کہ وہ چال جائے ،رہے یا کیا کرے۔ وہ شاہی مہمان بنا :
ہوا تھا۔ صبح طلوع ہوئی تو ویرا تبریز کے خیمے میں گئی۔ تبریز بے تابی سے اسے مال اور اس پر برسا۔
زیادہ باتوں کا وقت نہیں''… ویرا نے اسے کہا… ''میں آج تمہارے احسان کا صلہ اور تمہاری محبت کا جواب دینا چاہتی''
ہوں۔ میں جو کہتی ہوں وہ کرنا۔ مجھ سے کچھ نہ پوچھنا۔ میں نے بہت گناہ کیے ہیں۔ تمہارا حمص تباہ ہوچکا ہے۔ وہاں نہ
جانا ،وہاں کھنڈر ہوں گے اور تمہیں وہاں اپنے گھروالوں کی ہڈیاں ملیں گی''… اس نے تبریز کو اس تباہی کی اور تبریز کو
بچانے کی تفصیل سنا کر کہا… ''تمہیں بالڈون کی فوج سے انتقام لینا ہے۔ آج رات اس طرح پہاڑی عالقے سے نکل جائو کہ
تمہیں کوئی دیکھ نہ سکے۔ صالح الدین ایوبی کے پاس جائو اور اسے بتائو کہ صلیبی فوج تمہارے سرپربیٹھی ہے اور پرسوں تم
پر حملہ کرے گی''… ویرا نے اسے بالڈون کے حملے کا سارا پالن بتا دیا اور کہا… ''اب میری طرف نہ دیکھو ،ورنہ یہاں
سے ہل نہیں سکو گے۔ میں نے تمہیں کہا تھا کہ ہماری منزلیں جدا جدا ہیں۔ آج ہم دونوں نے اپنی اپنی منزل پالی ہے''۔
اگر ویرااسے حمص کی تباہی اور قتل عام کی کہانی نہ سناتی تو تبریز وہاں سے اتنی جلدی نہ چلتا۔ وہ آنکھوں میں آنسو
لے کر ویرا سے جدا ہوا… شام تاریک ہوتے ہی وہ چپکے سے نکال اور بچتا بچاتا نکال آیا۔ سلطان ایوبی کی فوج کی خیمہ
گاہ میں آیا اور کہا کہ وہ سلطان کے پاس جانا چاہتا ہے۔ اسے وہاں پہنچا دیا گیا۔ سلطان ایوبی نے اس کی ساری داستان
تحمل سے سنی اور اس سے بالڈون کی فوج اور اس کے پالن کے متعلق پوری اطالع لی۔ اس نے اسی وقت اپنے ساالروں کو
بالیا اور ضروری احکام دئیے۔
شاہ بالڈون نے تیسری رات کے آخری پہر سلطان ایوبی کی خیمہ گاہ پر حملہ کیا مگر وہ صرف خیمے تھے ،فوج نہیں تھی۔
اچانک فضا میں فلیتے والے تیروں کے شرارے اڑے اور خیموں پر گرے۔ خیمے جن کے اندر خشک گھاس اور اس پر آتش گیر
سیال چھڑکا ہوا تھا۔ مہیب شعلے بن گئے۔ بالڈون نے یہ حالت دیکھی تو اس نے اپنے مزید دستوں کو حملے کے لیے بھیجا۔
ان پر دائیں اور بائیں سے تیروں کی بوچھاڑیں پڑیں۔ صبح ہوگئی ،بالڈون کی اس فوج پر جو وادیوں میں چھپی ہوئی تھی،
حملہ ہوگیا۔ تب بالڈون کو احساس ہوا کہ اس نے سلطان ایوبی کو بے خبری میں نہیں لیا بلکہ وہ خود سلطان ایوبی کی
گھات میں آگیا ہے۔
بالڈون ایک بلندی پر جاکھڑا ہوا اور اپنی فوج کا حشر دیکھنے لگا۔ عقب سے اس پر تیر آئے مگر وہ اس کے دو محافظوں کو
لگے۔ وہ بھاگ کر نیچے اترا تو آگے سے سلطان ایوبی کے سپاہی آگئے۔ بالڈون ایک تنگ سے راستے سے نکل بھاگا۔
اکتوبر ١١٧٩ء ( ٥٧٥ہجری) کے اس معرکے میں بالڈون قیدی ہوتے ہوتے بچا۔ سلطان ایوبی نے رملہ کی شکست کا انتقام لے
لیا جس سے اس کی فوج کا حوصلہ بلند اور خوداعتمادی بحال ہوگئی… اور ویرا اور تبریز تاریخ کی تاریکیوں میں روپوش
ہوگئے۔
20:54
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔ 125جب بیٹا مر رہا تھا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ نومبر ١١٨١ء کا واقعہ ہے جب ماں بیٹی کی مالقات ہوئی تھی۔ دو سال پہلے کا واقعہ ہے جب سلطان صالح الدین ایوبی
نے اب العون کو ایسی شکست دی کہ اس کا قلعہ اسی کی فوج کے جنگی قیدیوں سے اس طرح مسمار کرادیا تھا کہ اس کا
نام ونشان نہیں رہا تھا۔ اس کا ملبہ دریا میں پھینک دیا گیا تھا۔ اس کے فورا ً بعد سلطان ایوبی نے صلیبی بادشاہ بالڈون کو
شکست دی تھی۔ یہ دراصل ایک مسلمان جاسوس کا کارنامہ تھا۔ اس نے سلطان ایوبی کو بروقت اطالع دے دی تھی کہ فوج
فالں پہاڑی مقام پر گھات میں بیٹھی ہے۔ آپ نے ان دونوں جنگوں کی تفصیالت پچھلی قسط میں پڑھی ہیں۔
یہ بالڈون کی دوسری پسپائی اور پٹائی تھی۔ اس سے پہلے وہ سلطان ایوبی کے بھائی العادل سے ایسی ہی شکست کھا چکا
تھا۔ اب سلطان ایوبی نے اسے اٹھنے کے قابل نہیں رہنے دیا تھا لیکن وہاں وہ اکیال صلیبی بادشاہ نہیں تھا۔ عالم اسالم میں
کئی صلیبی افواج موجود تھیں۔ ان کے حکمران دل سے ایک دوسرے کے خالف تھے لیکن ان کا دشمن مشترک تھا ،اس لیے
وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔ ہر ایک کے دل میں یہی تھا کہ وہ اکیال زیادہ سے زیادہ عالقوں پر قابض ہوجائے۔ اسی
مقصد کے تحت بالڈون نے اکیلے العادل اور اس کے بعد سلطان ایوبی سے جنگیں لڑی تھیں۔ اس کے پاس فوج اور وسائل کی
کمی نہیں تھی۔ اس کا اسلحہ بھی برتر تھا ور اس کے جانور بھی بہتر تھے لیکن ہار گیا۔
کچھ عرصہ تو اسے بکھری ہوئی فوج اکٹھی کرنے میں لگ گیا۔ اس دوران اسے اطالع ملی کہ سلطان ایوبی ابن العون کو
بھی شکست دے کر اس کی بادشاہی اور جنگی طاقت کمزور کر آیا ہے۔ ابن العون آرمینی تھا۔ آرمینی صلیبیوں کے دوست
تھے۔ ان کی شکست صلیبیوں کے لیے اچھی خاصی چوٹ تھی۔ اس کے ساتھ ہی اسے اطالع ملی کہ ابن العون کی سلطنت
تل خالد اور اس کے قلعے قاراحصار پر حملے میں سلطان ایوبی کی فوج کے ساتھ الملک الصالح کی فوج کے دستے بھی تھے
تو وہ بے چین ہوگیا۔ یہ تو اسے اور دوسرے صلیبی حکمرانوں کو پتہ چل چکا تھا کہ سلطان ایوبی نے الملک الصالح کو
شکست دے کر اپنا خودمختار امیر بنا لیا ہے مگر انہیں یہ توقع تھی کہ الصالح اس معاہدے پر عمل نہیں کرے گا۔ یہ الصالح
کی خصلت تھی۔ وہ بظاہر سلطان ایوبی کے تابع ہوگیا تھا مگر اس نے صلیبیوں کے ساتھ مراسم نہیں توڑے تھے۔ اب بالڈون
کو پتہ چال کہ الصالح نے سلطان ایوبی کو فوج دی تھی تو وہ یروشلم چال گیا جہاں صلیبی بادشاہوں کا ہیڈکوارٹر بن گیا تھا۔
دوسرا ہیڈکوارٹر عکرہ تھا۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ مسلمان پھر متحد ہورہے ہیں؟''… بالڈون نے صلیبی حکمرانوں اور جرنیلوں کی کانفرنس میں کہا…''
''الملک الصالح کو آپ لوگ اپنا اتحادی سمجھتے رہے اور اس نے اپنی فوج صالح الدین ایوبی کو دے دی تھی''۔
ابن العون کی شکست ہماری شکست ہے''… فلپس آگسٹس نے کہا… ''اگر آپ گھات میں بیٹھنے کی بجائے ابن العون ''
کی مدد کو پہنچتے ،صالح الدین ایوبی پر عقب سے حملہ کردیتے تو شکست اس کی ہوتی''۔
جس طرح آپ میں سے کسی کو معلوم نہ ہوسکا کہ صالح الدین ایوبی نے پیش قدمی کا رخ بدل کر تل خالد کا رخ کرلیا''
ہے ،اسی طرح مجھے بھی معلوم نہ ہوسکا''۔
یہ آپ کے نظام جاسوسی کی کوتاہی ہے''… گے آف لوزینان نے کہا… ''ہم بہت دور تھے۔ دیکھ بھال اور جاسوسی کا ''
انتظام آپ کو کرنا چاہیے تھا۔ آپ قریب تھے۔ سلطان ایوبی کی فوج آپ کے قریب سے گزر گئی۔ آپ کو پتہ نہ چل سکا۔
آپ گھات میں چھپے رہے''۔
مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرے ساتھ ایک مسلمان جاسوس ہے''… بالڈون نے کہا… ''میں اسے بے ضرر آدمی سمجھتا ''
رہا۔ وہ میرا قیدی تھا مگر بھاگ گیا اور سلطان ایوبی کو گھات کی خبر دے دی… لیکن اب یہ سوچنا ہے کہ ایوبی اور الصالح
کا معاہدہ اور اتحاد کس طرح توڑا جائے''۔
کیا آپ مسلمانوں کی کمزوریوں کو بھول گئے ہیں یا انہیں نظرانداز کررہے ہیں؟'' ایک اور صلیبی بادشاہ نے کہا۔ ''اس ''
وقت الصالح بچہ تھا ،جب ہم نے اس کے مشیروں ،امیروں اور ساالروں کو تحفے تحائف اور عیاشی کا سامان دے کر اپنے ہاتھ
میں لے لیا تھا۔ اب وہ جوان ہوگیا ہے۔ اسے اب ہاتھ میں لینا زیادہ آسان ہے۔ اپنا حربہ استعمال کریں اور مخصوص تحفہ
اپنے ایلچی کے ہمراہ بھیج دیں۔ اگر آپ جنگی قوت سے اسے ساتھ مالنے کی سوچ رہے ہیں تو یہ خیال ذہن سے نکال
دیں۔ سلطان ایوبی کی فوج اس عالقے میں موجود ہے۔
العادل بھی اپنی فوج کے ساتھ یہیں ہے۔ الصالح کے پاس اپنی فوج کے عالوہ حرن اور موصل کی فوج بھی ہے۔ اگر آپ )
نے حلب پر حملہ کیا تو سلطان ایوبی تمام افواج کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لے گا۔ اگر اس نے ہم پر فتح حاصل نہ کی
تو یہ نقصان ضرور ہوگا کہ الصالح آپ کے ہاتھ سے ہمیشہ کے لیے نکل جائے گا۔ ہمیں فلسطین کا دفاع کرنا ہے۔ ہم نے اپنی
افواج کو مختلف جگہوں پر پھیال دیا ہے اور دیکھ رہے ہیں کہ صالح الدین ایوبی کدھر کا رخ کرتا ہے اور اس کے عزائم کیا
ہیں۔ ان حاالت میں ہم آپ کی مدد نہیں کرسکیں گے۔ آپ اپنے طورپر الصالح کو ہاتھ میں لے لیں''۔
٭ ٭ ٭
١١٨٠ء میں والئی موصل سیف الدین غازی مرگیا۔ اس کی جگہ عزالدین مسعودنے امارت سنبھال لی۔ اسی سال سلطان صالح
الدین ایوبی کا بھائی شمس الدولہ طور ان شاہ سکندریہ میں فوت ہوگیا۔ سلطان ایوبی مصر چال گیا ،وہاں کے حاالت پھر بگڑنے
لگے تھے۔ وہ اپنی فوج اپنے بھائی العادل کی زیرکمان پیچھے چھوڑ گیا تھا۔
١١٨١ء کا سال آگیا۔ بالڈون نے اپنی فوج کی کمی پوری کرلی تھی۔ اسے ٹریننگ بھی دے لی تھی۔ اس نے اپنی فوج کو
سلطان ایوبی کی چالوں کے مطابق جنگی مشقیں بھی کرائی تھیں۔ وہ اگلی جنگ کے لیے تیار تھا لیکن الملک الصالح کو وہ
اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا تھا۔
الصالح اب بچہ نہیں ،جوان تھا۔ سلطنت کے کاروبار کو وہ سمجھنے لگا تھا۔ اس کی کمزوری اس کے مشیر اور ساالر تھے جو
درپردہ صلیبیوں کے حامی تھے۔ جیسا کہ بتایا جاچکا ہے کہ اس نے سلطان ایوبی کے ساتھ صلح کرلی تھی مگر اس کے دماغ
سے ابھی بادشاہی کا خبط نکال نہیں تھا۔ وہ خودمختار حکمران بننے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ ایک روز اسے اطالع ملی کہ
صلیبی بادشاہ بالڈون کا ایلچی آیا ہے۔ اس نے فورا ً اسے اندر النے کی اجازت دے دی۔ یہ ایلچی ذہنی تخریب کاری کا ماہر
اور انسانی نفسیات کی کمزوریوں سے واقف تھا۔ اس نے الملک الصالح کو بتایا کہ وہ کچھ تحفے بھی الیا ہے۔
اعلی نسل کے
تحفوں میں ایک تو بیش قیمت ہیروں اور جواہرات اور سونے کے سکوں کا بکس تھا۔ دو تلواریں تھیں۔ پچاس
ٰ
گھوڑے تھے اور ایک لڑکی تھی۔ الصالح نے باہر جاکر گھوڑے دیکھے۔ ہیرے اور جواہرات دیکھے لیکن جس تحفے پر اس کی
نظریں جم کر رہ گئیں وہ لڑکی تھی۔ وہ بہت دیر لڑکی کو ہی دیکھتا رہا۔ اس کی اٹھتی جوانی کی تمام تر کمزوریاں ایک
جادو بن کر اس کی عقل پر غالب آگئیں۔ ایلچی نے اس کے ہاتھ میں بالڈون کا پیغام دیا جو عربی زبان میں لکھا ہوا تھا۔
اس نے کچھ دیر تو پیغام کی طرف دیکھا ہی نہیں۔ لڑکی اس کے خوابوں سے زیادہ حسین تھی۔
ایلچی نے پیغام کھول کر اس کے آگے رکھا۔ اس نے پڑھا۔ بالڈون نے لکھا تھا… ''عزیز الملک الصالح والئی حلب! میں
ایلچی اور تحفوں کے بجائے اپنی فوج بھیج سکتا تھا لیکن میں آپ کے خالف ہتھیار اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔
آپ میرے دوست اور میرے بچے ہیں۔ ہم نے آپ کی مدد اس وقت کی ہے جب آپ بچے تھے اور صالح الدین ایوبی آپ
کی سلطنت پر قابض ہونے کے لیے آگیا تھا۔ ہمیں افسوس ہے کہ گمشتگین اور سیف الدین نے آپ کو دوستی کے دھوکے میں
رکھا۔ ہم بھی اس دھوکے کو نہ سمجھ سکے۔ اگر آپ اکیلے ہوتے تو آپ کی فوج کبھی شکست نہ کھاتی۔ آپ نے دیکھ لیا
ہے کہ گمشتگین کس قدر فریب کار تھا۔ آپ کو اسے سزائے موت دینی پڑی۔ سیف الدین نے بھی آپ کو ہمیشہ دھوکے میں
…''رکھا۔ وہ حلب پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ یہ ہم تھے جنہوں نے اسے ان عزائم سے باز رکھا
آپ نے آخر صالح الدین ایوبی سے شکست کھائی جس نے آپ کو اس کی اطاعت قبول کرنے پر مجبور کیا۔ آپ اتنے ''
مجبور ہوئے کہ اسے آپ نے ابن العون پر حملہ کرنے کے لیے فوج دے دی۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ آپ جیسا غیور
جنگجو اپنی یہ توہین برداشت نہیں کرسکتا مگر آپ تنہا تھے۔ میں خود جنگ وجدل میں الجھا رہا ،ورنہ آپ کی مدد کو
پہنچتا۔ اب میں آپ کی طرف توجہ دینے کے قابل ہوگیا ہوں۔ آپ نہ بھولیں کہ صالح الدین ایوبی نے آپ کو ایسی
خومختاری دی ہے جس کا مطلب غالمی ہے۔ وہ آپ کو آہستہ آہستہ غالم بنا رہاہے۔ اس نے عزالدین کی مدد کے لیے
آرمینیوں کو شکست دی اور اسے اپنے احساس کی زنجیروں میں جکڑ لیا ہے۔ تمام چھوٹے چھوٹے امراء اس کی اطاعت قبول
…''کرچکے ہیں۔ اب اس کی نظر آپ کے عالوہ موصل اور حرن پر ہے
ذرا غور کریں کہ وہ مصر سے ہمارے خالف لڑنے کے لیے فوج الیا تھا لیکن اس نے تل خالد پر جاحملہ کیا اور آپ سے''
بھی فوج لے لی۔ اب وہ پھر مصر چال گیا ہے۔ اس کے جانے کا جو مقصد ہے ،وہ ہمارے جاسوس ہمیں بتا چکے ہیں۔ وہ
بے بہا خزانہ لے کر گیا ہے جو وہ قاہرہ اپنے خزانے میں رکھ کر واپس آئے گا۔ اس نے آپ کو کیا دیا آپ کی فوج کو اس
نے مال غنیمت میں کتنا حصہ دیا ہے؟ اس نے یروشلم کی طرف پیش قدمی کیوں نہیں کی؟ کیا آپ کو کسی نے بتایا ہے کہ
…''آرمینیوں کی کتنی لڑکیاں وہ اپنے ساتھ لے گیا ہے؟
ان سوالوں کو اپنے ذہن میں الٹ پلٹ کریں۔ آپ پر صالح الدین ایوبی کے کردار اور اس کی نیت کی اصل حقیقت واضح ''
ہوجائے گی۔ آپ کے ساتھ ہماری کوئی دشمنی نہیں۔ ہم اس خطے میں امن وامان قائم کرنے آئے ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں
کہ سلطان ایوبی یہاں سے ہمیں بے دخل کرکے یورپ پر حملہ کرنے اور اپنی سلطنت کو وسعت دینے کی سوچ رہا ہے۔ آپ
کو اور دوسرے امراء کو وہ اپنی تھیلی کے سکے سمجھتا ہے۔ اگر آپ نے اپنے دفاع کا انتظام نہ کیا تو آپ کا نام ونشان
مٹ جائے گا۔ ہم یہاں یورپ کے دفاع کے لیے لڑ رہے ہیں ،اگر آپ میری بات سمجھ گئے ہیں تو مجھے جواب دیں۔ میں
اپنے مشیر بھیجوں گا جو آپ کی مالی اور جنگی ضرورت کا جائزہ لے کر مجھے بتائیں گے۔ میں نے جو گھوڑے بھیجے ہیں،
یہ تحفہ ہے۔ میں آپ کی فوج کے لیے ایسے سینکڑوں گھوڑے بھیج سکتا ہوں۔ یورپ سے ہم نے جدید ہتھیار منگوائے ہیں۔
وہ بھی آپ کو دئیے جائیں گے۔ آپ صالح الدین ایوبی کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ نہ توڑیں ،درپردہ معاہدہ توڑ دیں اور اپنے دفاع
کی تیاری کریں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں''۔
الملک الصالح کے نوجوان اعصاب پر یہودیوں کی اتنی حسین اور دلکش لڑکی نے پہلے ہی قبضہ کرلیا تھا۔ پیغام کے الفاظ
جادو کی طرح اس کے دل میں اترتے گئے۔ اس نے ایلچی کے آرام اور خوراک کا ایسا انتظام کرنے کا حکم دیا جیسے بالڈون
خود آگیا ہو۔ پھر اس نے اپنے آپ کو لڑکی کے حوالے کردیا۔ اس نے اس سے زیادہ خوبصورت لڑکیاں بھی دیکھی تھیں لیکن
اس لڑکی کا جو انداز تھا اور اس کی جو مسکراہٹ تھی ،اس نے اس کے حسن میں طلسماتی اثر پیدا کررکھا تھا۔ الصالح
اندھا ہوگیا۔
رات کو لڑکی اس کی خواب گاہ میں آئی تو اس کے ہاتھ میں صراحی اور پیالے تھے۔ یہ بھی تحفہ تھا۔ لڑکی نے اسے بتایا
کہ یہ فرانس کی شراب ہے جو صرف بادشاہوں کے لیے تیار کی جاتی ہے۔
آپ کے حرم میں تو کچھ بھی نہیں''۔ لڑکی نے اسے کہا… ''کیا آپ ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ آپ کا حرم آباد ''
''ہو؟
میرے حرم کے لیے تم اکیلی کافی ہو''۔ الملک الصالح نے مخمور آواز میں کہا۔''
میں اپنے جیسی لڑکیوں سے آپ کا حرم بھردوں گی''۔ لڑکی نے شراب کا پیالہ اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا… ''کیا''
''یہ صحیح ہے کہ صالح الدین ایوبی کی ایک ہی بیوی ہے اور وہ کسی کو حرم میں عورتیں رکھنے کی اجازت نہیں دیتا؟
ہاں!'' الصالح نے جواب دیا… ''یہ صحیح ہے۔ وہ شراب کی بھی اجازت نہیں دیتا''۔''
آپ کو معلوم نہیں کہ اس کا اپنا ایک خفیہ حرم ہے جس میں غیرمعمولی طور پر حسین لڑکیاں ہیں۔ ان میں مسلمان ''
بھی ہیں ،یہودی بھی اور عیسائی بھی ہیں''۔
فانون کی رنگین اور ہلکی ہلکی روشنی اور فرانس کی شراب کے نشے میں یہ لڑکی طلسم بن کر اس پر چھاتی چلی گئی اور
ذرا سی دیر بعد وہ لڑکی کے ریشمی بالوں کی زنجیروں میں جکڑا گیا… گناہ کی رات کی کوکھ سے سحر نے جنم لیا تو
الصالح نے لڑکی سے کہا… ''یہاں میری ایک بہن بھی ہے۔ تم اس کے سامنے نہ آنا۔وہ ابھی پسند نہیں کرتی کہ میں شادی
کے بغیر کسی لڑکی کے قریب جائوں۔ میں کسی وقت اسے بتائوں گا کہ تم مسلمان ہو اور میرے ساتھ شادی کرنے آئی ہو''۔
اپنی بہن کو آزاد کیوں نہیں کرتے؟'' لڑکی نے کہا… ''اسے مردوں میں اٹھنے بیٹھنے دیں ،وہ شہزادی ہے۔ آپ بادشاہ ''
ہیں۔ صالح الدین ایوبی آپ کی یہ حیثیت ختم کررہا ہے۔ ہم آپ کی بہن کو الگ سلطنت دے کر سلطانہ بنا دیں گے''۔
الملک الصالح تصوروں میں بادشاہ بن گیا۔
٭ ٭ ٭
کیا خبر الئے ہو؟'' بالڈون نے شراب کے نشے میں بدمست لہجے میں اپنے ایلچی سے پوچھا۔'
کیا میں کبھی ناکام بھی لوٹا ہوں؟'' ایلچی نے جواب دیا۔ اس نے الملک الصالح کے محل میں چار روز قیام کیا تھا اور ''
بڑی لمبی مسافت طے کرکے ابھی ابھی واپس آیا تھا۔ اس نے کہا… ''مسلمانوں پر فوج کشی کرکے آپ اتنی جانیں ضائع
کرتے اور اتنے زیادہ گھوڑے مرواتے ہیں۔ مسلمانوں کے حکمرانوں سے صرف ایک لڑکی ہتھیار ڈلوا سکتی ہے''۔
صرف لڑکی نہیں''۔ بالڈون نے کہا… ''مسلمان کو اگر لڑکی کا صرف تصور دے دو تو وہ اپنے نیک وبد کو بھول''
''کر اسی تصور کا ہوجاتا ہے… کہو ،تم کیا کرکے آئے ہو؟
اس نے تحریری جواب نہیں دیا''۔ ایلچی نے کہا… ''کہتا تھا کہ صالح الدین ایوبی کے جاسوس اور چھاپہ مار ہر طرف ''
گھومتے پھرتے رہتے ہیں ،کہیں ایسا نہ ہو کہ پیغام پکڑا جائے۔ اس نے آپ کی ہر بات مان لی ہے۔ وہ صالح الدین ایوبی کا
حامی نہیں البتہ گھبرایا ہوا تھا اور اپنے آپ کو ایوبی کے مقابلے میں تنہا سمجھتا تھا۔ آپ کے پیغام نے اسے بہت حوصلہ
دیا ہے۔ اس نے کہا کہ آپ اپنے مشیر بھیج دیں لیکن عربی تاجروں کے لباس میں ہوں اور یہاں ہر کسی کو یہی بتائیں کہ
وہ شاہی سطح پر تجارت کی بات چیت کرنے آئے ہیں''۔
وہ کسی شک میں تو نہیں؟'' بالڈون نے پوچھا۔''
آپ نے اسے یہودیوں کا جو تحفہ بھیجا ہے ،اس نے کسی شک کی گنجائش نہیں رہنے دی''۔ ایلچی نے جواب دیا… ''
''میں نے وہاں چار روز قیام کیا ہے۔ اس دوران میں اس کے ساالروں سے ملتا رہا ہوں اور اس کے دوسرے حاکموں سے بھی
مال ہوں۔ ان میں بہت سے ایسے ملے ہیں جو ایوبی کے حق میں ہیں۔ میں نے ان میں سے دو کو اپنے ہاتھ میں لے لیا
ہے اور انہیں وعدے دئیے ہیں۔ چوری چھپے انہیں تحفے بھی دئیے ہیں ،وہاں صالح الدین ایوبی کے جاسوس بھی موجود ہیں۔
اس لیے کسی بات کو مخفی رکھنا ممکن نہیں۔ تاہم الملک الصالح کو اپنے ہاتھ میں سمجھئے۔ میں نے لڑکی کو ان دو
جرنیلوں سے متعارف کروایا ہے جنہیں میں نے ہاتھ میں لیا ہے۔ وہ اپنا کام کرتی رہے گی۔ آپ اپنے آدمی جلدی روانہ
کردیں''۔
یہ ایلچی صرف ایلچی نہیں تھا۔ بتایا جاچکا ہے کہ انسانی نفسیات سے کھیلنے واال استاد تھا۔ اس نے کہا… ''صالح الدین
ایوبی اپنے افسروں کو اور اپنی قوم کو نصیحت اور وعظ کرتا رہتا ہے کہ بادشاہی کے خواب ،دولت اور عورت ایسی بدعتیں
ہیں جو انسان کے ایمان کو ختم کردیتی ہیں۔ اسے معلوم نہیں کہ جب یہ تینوں بدعتیں کسی عالم فاضل کے سامنے آجائیں
تو اس کے بھی ایمان کے پائوں اکھڑ جاتے ہیں۔ یہ انسانی کمزوریاں ہیں۔ان کے سامنے وعظ بے کار ہوجاتے ہیں''۔
بالڈون نے اسی وقت تین مشیر تیار کرلیے۔ تجارتی سامان سے لدے ہوئے بہت سے اونٹوں کا ایک قافلہ حلب میں الصالح کے
محل سے ذرا ہی دور رکا۔ اس کے ساتھ کئی ایک آدمی تھے۔ ان میں سے تین آدمی جو عربی لباس میں تھے ،محل کی
طرف چل پڑے۔ دربانوں نے انہیں روک لیا۔ تاجر الملک الصالح سے ملنا چاہتے تھے۔ کہتے تھے کہ وہ ہیرے اور کچھ اور بیش
قیمت سامان الئے ہیں جو بادشاہ خریدتے ہیں اور وہ حلب کے ساتھ تجارت کرنے کی بات چیت کریں گے۔ محافظوں کے
کمانڈر ابن خطیب نے انہیں سر سے پائوں تک دیکھا۔ ان کی باتوں میں دلچسپی لے کر انہیں بے تکلفی سے بولنے کا موقع
دیا۔ وہ ان کی آنکھوں کا سبز اور نیال رنگ اور چہرے کی رنگت کو غور سے دیکھتا رہا۔ اسے معلوم تھا کہ تجارت کی بات
چیت براہ راست بادشاہ کے ساتھ کبھی بھی نہیں ہوئی۔ وہ انہیں الگ لے گیا۔
آپ اپنا اصل مقصد بتائیں''۔ ابن خطیب نے پوچھا۔''
ہم اپنا مقصد بتا چکے ہیں''۔''
یروشلم سے آئے ہو یا عکرہ سے؟''۔ ابن خطیب نے پوچھا۔''
20:55
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔ 126جب بیٹا مر رہا تھا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہم اپنا مقصد بتا چکے ہیں''۔''
یروشلم سے آئے ہو یا عکرہ سے؟''۔ ابن خطیب نے پوچھا۔''
ہم تاجر ہیں''۔ ایک نے جواب دیا… ''ہم ہر ملک میں جاتے ہیں۔ یروشلم اور عکرہ بھی جاتے ہیں ،تم کس شک میں ''
''ہو؟
شک میں نہیں''۔ ابن خطیب نے کہا… ''مجھے یقین ہے۔ میں آپ تینوں کو جانتا ہوں۔ آپ مجھے نہیں جانتے۔ میں ''
آپ کا آدمی ہوں۔ میرا نام ابن خطیب ہے لیکن میرا نام کچھ اور ہے۔ ہرمن اچھی طرح جانتا ہے''۔
ہرمن صلیبیوں کے جاسوسی اور سراغ رسانی کے نظام کا سربراہ اور اس فن کا ماہر تھا۔ ابن خطیب نے کوئی خفیہ لفظ بوال
جو صلیبیوں کے جاسوس ایک دوسرے کی شناخت کے لیے بوال کرتے تھے۔ تاجر جو دراصل بالڈون کے بھیجے ہوئے مشیر تھے،
مسکرائے۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ الملک الصالح کے ہاں صلیبی جاسوس موجود ہیں۔ ابن خطیب نے انہیں یقین دال دیا کہ وہ
انہی کا جاسوس ہے۔
آپ اسی مقصد کے لیے آئے ہیں؟'' ابن خطیب نے پوچھا… ''مجھے سے نہ چھپائیں ،ورنہ آپ کو اندر نہیں جانے دیا ''
جائے گا''۔
ہاں!'' ایک صلیبی نے کہا… ''اسی مقصد کے لیے… اور ہمیں یہ بتائو کہ صالح الدین ایوبی کے جاسوس محل میں ''
''موجود ہیں؟
موجود ہیں لیکن ان پر ہماری نظر ہے''۔ ابن خطیب نے کہا… ''ان سے ہم آپ کو چھپائے رکھیں گے لیکن مجھے آپ ''
کے مقصد سے پوری واقفیت ہونی چاہیے''۔
ان تینوں نے اپنے خفیہ الفاظ اور طریقوں سے یقین کرلیا کہ ابن خطیب انہی کا آدمی ہے۔ انہوں نے اسے اپنا مقصد بتا دیا۔
ابن خطیب نے اندر جاکر الملک الصالح کو اطالع دی کہ تاجر شرف مالقات چاہتے ہیں۔
تم محافظ دستے کے نئے کمان دار ہو؟'' الملک الصالح نے پوچھا۔''
جی حضور!'' اس نے جواب دیا۔''
''کہاں کے رہنے والے ہو؟''
اس نے کسی گائوں کا نام لیا تو الملک الصالح نے کہا… ''ہم ہر وقت ہر کسی سے نہیں مل سکتے۔ آئندہ خیال رکھا جائے،
ان تینوں کو اندر بھیج دو''۔
اس نے باہر جاکر تینوں کو اندر جانے کو کہا اور آنکھ مار کر ہدایت کی کہ بہت سنبھال کر بات کریں۔
٭ ٭ ٭
رات عشاء کی نماز کے بعد ابن خطیب جامع مسجد کے امام کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ دو اور آدمی بھی تھے۔
اب اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہی کہ الملک الصالح ایک بار پھر صلیبیوں کے جال میں آرہا ہے''… ابن ''
خطیب نے کہا… ''میں نے آپ کو پہلے ایلچی اور تحفوں کی اطالع دی تھی۔ وہ صلیبیوں کی طرف سے آئے تھے اور ساتھ
ایک بڑی ہی خوبصورت لڑکی تھی۔ آج پتہ چل گیا ہے کہ وہ ایلچی بالڈون کی طرف سے آیا تھا۔ آج تین تاجر الملک الصالح
سے تجارت کی بات چیت کرنے کے لیے آئے ہیں۔آپ جانتے ہیں کہ میں نے دو سال بیت المقدس میں صلیبیوں کے درمیان
رہ کر جاسوسی کی ہے۔ ان تینوں کے چہرے اور زبان کا لہجہ بتاتا تھا کہ انہوں نے جو عربی لباس پہن رکھا ہے ،یہ بہروپ
ہے۔ میں نے اس کا جاسوس بن کر ان کا اصل روپ دیکھ لیا ہے۔ بیت المقدس کی جاسوسی نے آج مجھے بہت فائدہ دیا
ہے۔ میں ان کے خفیہ ( کوڈ) الفاظ جانتا ہوں اور خفیہ اشارے بھی۔ محترم علی بن سفیان کی تربیت کی برکت آج دیکھی
ہے''۔
ابن خطیب سلطان ایوبی کا جاسوس تھا جو تھوڑا ہی عرصہ گزرا حلب میں آیا اور الملک الصالح کے ایک ایسے نائب ساالر
کی کوشش سے محافظ دستے کا کمانڈر بنا دیا گیا جو سلطان ایوبی کا حامی تھا۔ ابن خطیب علی بن سفیان کا خصوصی پر
ذہین اور بے خوف جاسوس تھا۔ وہ دو سال بیت المقدس میں صلیبی بادشاہوں اور جرنیلوں کے ہیڈکوارٹر میں رہا اور اس نے
کامیاب جاسوسی کی تھی۔ جامع مسجد کا امام ان تمام تر جاسوسوں کا کمانڈر تھا جو سلطان ایوبی نے حلب میں بھیج
رکھے تھے۔ عشاء کی نماز کے بعد جسے کوئی رپورٹ دینی ہوتی ،وہ مسجد میں جاکر امام کو دیتا تھا۔ امام اپنے طورپر
تصدیق کرکے رپورٹ سلطان ایوبی تک پہنچا دیتا تھا۔ ابن خطیب بڑی ہی قیمتی رپورٹ الیا تھا۔
اتنے میں ایک ادھیڑ عمر عورت آگئی۔ وہ سر سے پائوں تک سیاہ برقع نما کپڑے میں مستور تھی۔ اندر آکر اس نے چہرہ
بے نقاب کیا۔ اسے دیکھ کر سب ہنس پڑے۔ وہ الملک الصالح کی خادمہ تھی۔ یہ اس کی خواب گاہ کی دیکھ بھال کرتی اور
اس کی درپردہ زندگی کی راز دان تھی۔ وہ اسی روز امام کو رپورٹ دے چکی تھی کہ صلیبیوں کی طرف سے الملک الصالح
کے پاس ایک لڑکی آئی ہے جو شکل وصورت ،جسم ،رنگ ،نازو ادا اور زبان کی چاشنی کے لحاظ سے سرتا پا ایسا جادو ہے
جس سے کوئی زاہد اور پرہیز گار بھی نہیں بچ سکتا۔ وہ امام کو بتا چکی تھی کہ الصالح کا باقاعدہ حرم نہیں لیکن اس کی
راتیں عورت کے بغیر نہیں گزرتیں۔ عورت اس کی کمزوری بن گئی ہے۔
مگر اس لڑکی نے جو مجھے یہودی معلوم ہوتی ہے ،الصالح کو اپنا غالم بلکہ قیدی بنا لیا ہے''۔ خادمہ نے کہا۔ ''وہ …''
اتنا پاگل ہوگیا ہے کہ مجھے سے باچھیں کھال کر پوچھتا ہے ،یہ لڑکی تمہیں پسند ہے؟ میں اس کے ساتھ شادی کرلوں؟…
میں نے ایک بار اسے کہا کہ اپنی بہن سے پوچھ لیں۔ اس نے مجھے سختی سے کہا کہ اس کی بہن کے ساتھ ذکر نہ
کروں'' ۔ خادمہ بھی جاسوس تھی۔ اس نے تفصیل سے بتایا کہ الملک الصالح پوری طرح اس لڑکی کے جال میں آگیا ہے۔ اب
کوئی اور لڑکی اس کی خواب گاہ میں داخل نہیں ہوسکتی۔
اب سوچنا یہ ہے کہ اسی وقت سلطان ایوبی کو اطالع دے دی جائے یا دیکھ لیا جائے کہ صلیبی کیا کرتے ہیں یا الصالح ''
سے کیا کرواتے ہیں'' ۔ امام نے کہا… ''میری رائے ہے کہ الصالح کوئی ٹھوس کارروائی کرلے جو معاہدے کے خالف ہو تو
سلطان کو اطالع دی جائے''۔
سلطان مصر چلے گئے ہیں'' ۔ ایک اور نے کہا جو بوڑھا تھا اور دانش مند معلوم ہوتا تھا… ''ادھر العادل ہیں۔ وہ سلطان''
سے حکم منگوائے بغیر کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔ اتنے عرصے میں یہاں کے حاالت ایسے ہوسکتے ہیں جو شاید قابو سے
نکل جائیں۔ کیوں نہ کوئی ایسی کارروائی سوچی جائے جو اس سلسلے کو یہیں پر ختم کردے''۔
میں آپ کو ایک مشورہ دیتی ہوں''۔ خادمہ نے کہا۔ ''الصالح کی توجہ صرف لڑکی پر ہے ،وہ بھال برا سوچنے کے بھی ''
قابل نہیں رہا۔ یہ لڑکی دن کے وقت بھی اسے شراب میں مدہوش رکھتی ہے۔ بدبخت پہلے بھی پیتا تھا لیکن صرف رات کو
پیتا تھا اور اتنی زیادہ اس نے کبھی نہیں پی تھی۔ نشے کی حالت میں وہ اپنی بہن کے سامنے نہیں ہوتا تھا۔ اسے دن کو
ملتا تھا۔ اب یہ حالت ہے کہ جب پوچھتی ہے تو میں کہہ دیتی ہوں کہ سلطنت کے کام ایسے ہیں کہ الصالح کو فرصت
نہیں… میرا مشورہ یہ ہے کہ لڑکی کو غائب کردیا جائے تو الصالح کے ہوش ٹھکانے نہیں رہیں گے۔ میں آپ کو یقین دالتی
ہوں کہ وہ سوچ بھی نہیں سکے گا کہ صلیبیوں سے کوئی بات کرے یا نہ کرے''۔
اس کارروائی پر بحث مباحثہ ہوتا رہا۔ ابن خطیب نے کہا کہ وہ تاجروں کو بھی غائب کرسکتا ہے۔ یہ فیصلہ ہوا کہ موقعہ
دیکھ کر پہلے لڑکی کو غائب کیا جائے مگر یہ کام آسان نہیں تھا ،بلکہ ناممکن تھا۔ تاہم انہوں نے اسی کارروائی کا فیصلہ
کرلیا۔
٭ ٭ ٭
٭ ٭ ٭
یہ نومبر ١١٨١ء کے دن تھے۔ اونٹوں کا قافلہ باہر رکا رہا۔ لوگ خریدوفروخت کرتے رہے۔ تینوں صلیبی مشیر عربی تاجروں کے
بھیس میں الصالح سے ملتے مالتے رہے۔ وہ اپنی شرائط خفیہ طور پر طے کررہے تھے۔ ١٧/١٦نومبر (٨/٧رجب ٥٧٧ہجری)
کی رات الصالح نے بہت بڑی ضیافت کا اہتمام کیا جس کی بظاہر کوئی وجہ نہیں تھی لیکن درپردہ اس ضیافت کی تقریب یہ
تھی کہ صلیبی مشیروں کے ساتھ الصالح نے خفیہ معاہدہ کرلیا تھا جس کا علم صرف دو ساالروں کو تھا۔ رات کی ضیافت میں
سینکڑوں مہمان تھے۔ ان میں صلیبی مشیر بھی تھے جو ابھی تک عربی تاجروں کے لباس میں تھے۔ ان کے قافلے کے
شتربان بھی اس میں مدعو تھے لیکن وہ شتربانوں کی حیثیت سے ضیافت میں نہیں آئے تھے۔ ان میں دراصل شتربان کوئی
بھی نہیں تھا۔ ان میں بعض جاسوس تھے اور باقی صلیبی فوج کے افسر۔ ضیافت میں یہودی لڑکی بھی تھی اور الصالح کی
بہن بھی مگر اسے انتظامات کی دیکھ بھال سونپی گئی تھی۔
اس رات محافظ دستے کی پابندیاں بھی کم ہوگئی تھیں۔ مہمانوں کا ریال چال آرہا تھا۔ کوئی خطرہ نہیں تھا۔ کم از کم الصالح
کوئی خطرہ محسوس نہیں کررہا تھا۔ شراب کا دور چل رہا تھا۔ سالم بکرے روسٹ کیے گئے تھے۔ وسیع میدان میں قناتیں اور
شامیانے لگائے گئے تھے۔ جوں جوں رات گزرتی جارہی تھی ،ضیافت کا رنگ نکھرتا آرہا تھا۔ ہر طرف مہمانوں کی چہل پہل
تھی۔
یہودی لڑکی ادھر ادھر پھدکتی پھر رہی تھی۔ وہ کسی سے مل کر آرہی تھی کہ اسے خادمہ نے روک لیا اور کسی ساالر کا
نام لے کر کہا کہ وہ کسی ضروری بات کے لیے بال رہا ہے۔ لڑکی کو معلوم تھا کہ وہ اس کا اپنا آدمی ہے۔ وہ ادھر چلی
گئی اور پھر واپس نہیں آئی۔ الصالح کو ابھی پتہ نہیں چال تھا کہ لڑکی غائب ہوگئی ہے۔ ابن خطیب اس رات ڈیوٹی پر نہیں
تھا۔ اس نے تین تاجروں میں سے ایک کے ساتھ بات کرنے کا موقع پیدا کرلیا اور کہا… ''آپ تینوں یہاں سے نکلیں ،ورنہ
مارے جائیں گے۔ بہت بڑا خطرہ ہے۔ سلطان ایوبی کے چھاپہ ماروں کی اطالع ملی ہے کہ مہمانوں کے بھیس میں یہاں موجود
ہیں''… اس نے اسے ایک جگہ بتا کر کہا کہ تینوں وہاں آجائیں۔ آگے انہیں لے جاکر چھپانے کا انتظام کرلیا گیا ہے۔
اب ہمیں یہاں سے نکلنا ہی ہے''۔ صلیبی نے کہا۔ ''ہمارا کام ہوچکا ہے''۔''
پھر جلدی نکلیں''۔ ابن خطیب نے کہا… ''ورنہ صبح تک آپ کی الشیں یہاں سے نکلیں گی''۔''
اس صلیبی نے یہ بات اپنے ساتھیوں کے کانوں میں جاڈالی اور وہ ایک ایک کرکے وہاں سے اس طرح نکلے کہ کسی کو شک
نہ ہو۔ اگر وہ محل کے اندر ہوتے تو نکلتے دیکھے جاسکتے تھے۔ وہ میدان تھا۔ اندھیرے راستے سے گئے۔ آگے ابن خطیب
تین گھوڑوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ خود بھی گھوڑے پر سوار تھا۔ ضیافت میں رقص وسرور اور مہمانوں کا اتنا شور تھا کہ کسی
کو چار گھوڑوں کے قدموں کی آواز نہ سنائی دی اور الصالح کو علم ہی نہ ہوسکا کہ اس کے خصوصی مہمان فرضی خطرے
سے بھاگ کر حقیقی خطرے میں چلے گئے ہیں۔
٭ ٭ ٭
آبادی سے دور ایک جھونپڑا نما مکان تھا۔ تینوں صلیبی اس میں بیٹھے تھے۔ ابن خطیب خدا کا شکر ادا کررہا تھا کہ ان
کی جانیں بچ گئی ہیں۔ انہوں نے اپنے شتربانوں کے متعلق فکر کا اظہار کیا۔ ابن خطیب نے انہیں تسلی دی کہ سب کو
نکال لیا جائے گا۔ اس نے ان سے پوچھا کہ وہ اسے بتا کر جائیں کہ کیا معاملہ طے ہوا ہے تاکہ وہ اس کے مطابق چوکنا
رہے۔ انہوں نے اسے بتایا کہ الصالح کو درپردہ جنگی سامان اور گھوڑے دیں گے۔ اس کی فوج کو ٹریننگ دیں گے۔ جاسوس
دیں گے اور جب و ہ سلطان ایوبی کے خالف لڑے گا تو صلیبی فوج سلطان ایوبی پر عقب سے حملہ کرے گی۔ مختصر یہ
کہ الصالح سلطان ایوبی کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ توڑ دے گا لیکن اس وقت توڑے گا جب صلیبی اسے اشارہ دیں گے۔
اب ہمیں روانہ ہوجانا چاہیے؟'' ایک صلیبی نے پوچھا۔''
ہاں!'' ابن خطیب نے کہا… ''آپ کی روانگی کا وقت آگیا ہے۔ میرے ساتھ آئو''۔''
ابن خطیب نے کمرے کا دروازہ کھوال۔ یہ دوسرا دروازہ تھا۔ اس نے تینوں سے کہا کہ چلو ،وہ کمرہ تاریک تھا۔ تینوں اس
کمرے میں گئے تو پیچھے سے ایک کی گردن کے گرد ایک بازو لپٹ گیا اور ایک ایک خنجر ہر ایک کے دل میں اتر گیا۔
کمرے کے ایک کونے میں ایک گہرا گڑھا پہلے ہی کھود لیا گیا تھا۔ تینوں کو اس میں پھینک دیا گیا۔
اسی کمرے کے ایک کونے میں یہودی لڑکی بیٹھی ہوئی تھی جو اندھیرے میں کسی کو نظر نہیں آتی تھی۔اس کے ہاتھ پائوں
بندھے ہوئے تھے اور منہ میں کپڑا ٹھونسا ہوا تھا۔ اسے بھی ضیافت سے خادمہ کے ذریعے بال کر کامیابی سے اغوا کرلیا گیا
تھا۔ کمرے میں ابن خطیب کے عالوہ پانچ آدمی تھے۔ انہوں نے لڑکی کے ہاتھ پائوں کھول دئیے اور منہ سے کپڑا نکال دیا۔
لڑکی اپنے صلیبیوں کا حشر دیکھ چکی تھی۔ اس نے کہا کہ مجھے دوسرے کمرے میں لے چلو۔ اسے وہاں لے گئے۔ وہاں ایک
دیا جل رہا تھا۔
کیا تم نے مجھ سے زیادہ خوبصورت لڑکی کبھی دیکھی ہے؟'' لڑکی نے پوچھا۔''
کیا تم نے ہم سے زیادہ ایمان والے کبھی دیکھے ہیں؟'' ابن خطیب نے کہا… ''ہم تمہیں اتنی مہلت نہیں دیں گے کہ ''
تم الصالح کی طرح ہمارے ایمان بھی خرید سکو''۔
میں اپنی جان کی بخشش مانگ رہی ہوں''۔ لڑکی نے کہا… ''مجھے تم لوگ پسند نہیں کرتے تو بتائو کتنا سونا مانگتے ''
ہو۔ صبح تمہارے قدموں میں رکھ دوں گی ،پھر میں یہاں سے یروشلم چلی جائوں گی''۔
ابن خطیب نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا۔ اس نے دو ساتھیوں کے چہروں پر عجیب سے تاثرات دیکھے۔ ابن خطیب نے
بڑی تیزی سے خنجر نکاال اور لڑکی کے دل میں اتار دیا۔ وہ گری تو اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا دوسرے کمرے میں
لے گیا اور گڑھے میں پھینک دیا۔ سب نے مل کر گڑھا مٹی سے بھر دیا۔
امام کو رات کو ہی اطالع دے دی گئی کہ کام مکمل کردیاگیا ہے۔ ادھر الصالح تینوں صلیبیوں اور لڑکی کے متعلق کہہ رہا تھا
کہ بہت دیر سے نظر نہیں آئے… آدھی رات کے کچھ دیر بعد جب آخری مہمان بھی رخصت ہوگیا تو وہ اپنے ہم رازوں سے
یہی پوچھ رہا تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ وہ کہیں بھی نہ ملے۔ وہ لڑکی کے لیے بے قرار ہورہا تھا۔ اس نے خادمہ کی جان
کھالی۔ باقی رات نہ خود سویا ،نہ اس نے اپنی ذاتی مالزموں کو سونے دیا۔ خادمہ نے امام سے کہا تھا کہ لڑکی کے بغیر وہ
ہوش کھوبیٹھے گا۔ اس کی رائے صحیح ثابت ہوئی۔ وہ توپاگل ہوا جارہا تھا۔
٭ ٭ ٭
صبح اس کی حالت پاگلوں سے بھی بدتر تھی۔ اس نے اپنے دو ہم راز ساالروں کو اپنے سامنے کھڑا کر رکھا تھا۔ انہوں نے
ابن خطیب کو بال لیا اور پوچھا کہ اس نے ایک لڑکی اور عربی تاجروں کو باہر جاتے تو نہیں دیکھا؟
میں نے انہیں دیکھا تھا''۔ ابن خطیب نے کہا… ''میں اپنے دستے کے ساتھ باہر مستعد کھڑا تھا۔ آدھی رات سے پہلے ''
تینوں تاجر باہر آئے۔ ان کے ساتھ ایک خوبصورت لڑکی تھی۔ وہ چلے گئے اور اندھیرے میں غائب ہوگئے۔ مجھے دوڑتے
گھوڑوں کے قدموں کی آوازیں سنائی دی تھیں۔ میں نے انہیں واپس آتے نہیں دیکھا''۔
وہ ساالر بھی جو سلطان ایوبی کا حامی تھا ،آگیا۔ اسے معلوم تھا کہ صلیبی اور لڑکی کہاں ہیں۔ اس نے الصالح کو صلیبیوں
کے خالف بھڑکانا شروع کردیا۔ اس نے کہا… ''وہ اتنی خوبصورت لڑکی کو آپ کے پاس نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔ انہوں نے
آپ کو دھوکہ دے کر آپ سے کوئی بڑا ہی نازک راز حاصل کرلیا ہے۔ یا شاید آپ کو بھی معلوم نہیں کہ وہ کیا راز ہوگا''۔
الصالح پر خاموشی طاری ہوگئی۔ اسے غالبا ً یہ احساس ہوگیا تھا کہ لڑکی اسے دن کے وقت بھی شراب میں بے ہوش رکھتی
رہی ہے۔ اس حالت میں معلوم نہیں وہ اس سے کیا کچھ کہلواتی رہی ہے۔ اسے شدید صدمہ ہوا ،وہ رات بھر سویا بھی نہیں
تھا۔ بہت دنوں سے وہ دن رات شراب پیتا رہا تھا۔ اس کے اثرات کے عالوہ غصہ اور پچھتاوا بھی تھا۔ اس نے غصے سے
حکم دیا… '' وہ جو ان کے ساتھ قافلہ آیا تھا ،ان سب کو قید میں ڈال کر مارڈالو۔ ان کے اونٹوں ا ور سامان کو سرکاری
ملکیت میں لے لو''۔
اسی شام الصالح کو پیٹ میں درد کی ٹیس اٹھی۔ طبیب نے دوائی دی لیکن مرض بڑھتا گیا اور رات کو درد پیٹ سے ناف
تک پھیل گئی۔ ٩رجب ٥٧٧ہجری یعنی اگلے روز اس کی حالت طبیبوں کے بس سے باہر ہوگئی۔ طبیب ہر لمحہ اس کے
پاس موجود رہنے لگے مگر افاقہ ہونے کے بجائے درد بڑھتا گیا۔ رات بھی ایسے ہی گزری۔ دوسرے دن اس پر غشی طاری
ہونے لگی۔ طبیبوں نے اسے تو نہ بتایا ،ساالروں وغیرہ کو بتا دیا کہ الصالح کا جانبر ہونا مشکل ہے۔ جامع مسجد کے امام کو
بال لیا گیا۔ اس نے سرہانے بیٹھ کر قرآن خوانی شروع کردی۔ رات کو الصالح نے آنکھ کھولی۔ امام کو دیکھا اور مری ہوئی
آواز میں کہا… ''اگر قرآن برحق ہے تو اس کی برکت سے مجھے صحت یاب کرو''۔
میں یہ کہنے سے نہیں ڈروں گا کہ آپ قرآن کے احکام کی خالف ورزی کرتے رہے ہیں''… امام نے کہا… ''قرآن کی ''
برکت ان کے لیے ہے جو اس کے ہر فرمان پر عمل کرتے ہیں… خدا سے گناہوں کی بخشش مانگیں ،اپنی ماں سے گناہوں
کی معافی مانگیں''۔
اس وقت اس کی بہن شمس النساء پاس کھڑی روی رہی تھی۔ الصالح کے منہ سے نکال… ''ماں… میری ماں کو بالئو۔ اسے
کہو کہ تمہارا گناہ گار بیٹا مر رہا ہے۔ آکر دودھ کی دھاریں اورگناہ بخش دو''۔
امام نے شمس النساء کی طرف دیکھا۔ اس نے بھائی کے ماتھے پر پیار سے ہاتھ پھیر کر کہا… ''ابھی دمشق کے لیے روانہ
ہوجاتی ہوں۔ ماں کو لے کر آئوں گی''… وہ تیز تیز قدم اٹھاتی باہر نکل گئی۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ اپنے محافظوں کے
ساتھ دمشق کے راستے پر جارہی تھی۔
قاضی بہائوالدین شداد نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے۔ ''١٣رجب کے روز الصالح کی حالت اتنی بگڑی کہ قلعے کے دروازے
بند کردئیے گئے۔ الصالح نے ذرا ہوش میں آکر عزالدین کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ عزالدین سیف الدین کے مرنے کے بعد موصل
کا والی بنا تھا۔ وہ موصل میں تھا۔ اب اسے حلب کا والی بھی بنا دیا۔ الصالح نے تمام امراء اور ساالروں کو بال کر وہ حلف
اٹھائیں کہ عزالدین کو اپنا والی تسلیم کرتے ہیں اور اس کے وفادار رہیں گے۔سب نے حلف اٹھایا۔ ٢٥رجب ٥٧٧ہجری الملک
الصالح غشی کے عالم میں فوت ہوگیا۔ موصل کو قاصد دوڑایاگیا کہ عزالدین کو کہہ کر بال الئے کہ اسے حلب کا والی مقرر کیا
گیا ہے''۔ جس وقت شمس النساء دمشق میں اپنی ماں کے قدموں میں بیٹھی ماں سے کہہ رہی تھی کہ اس کا اکلوتا بیٹا
مر رہا ہے اور دودھ کی دھاریں بخشوانے کے لیے اسے بال رہا ہے اور ماں نے کہا تھا کہ میں دودھ کی دھاریں بخش دوں گی،
اس کے گناہ اللہ بخشے گا۔ اس وقت الصالح فوت ہوچکا تھا۔ شمس النساء حلب واپس گئی تو اس کے اکلوتے بھائی کا جنازہ
قلعے سے نکل رہا تھا۔
عزالدین کو قاصد نے الصالح کی موت کا پیغام دیا تو وہ اسی وقت روانہ ہوگیا۔ راستہ چھوٹا کرنے کے لیے وہ کسی اور راستے
سے جارہا تھا۔ راستے میں اس کا گزر سلطان ایوبی کے بھائی العادل کی فوج کی خیمہ گاہ سے ہوا۔ وہ العادل سے ملنے
رک گیا۔ العادل کو معلوم نہیں تھا کہ الصالح مرگیا ہے۔ عزالدین نے اسے یہ خبر سنائی اور یہ بھی کہ اسے حلب کا والی
مقرر کیا گیا ہے۔
العادل نے اسے کہا… ''تم آئندہ خانہ جنگی کو روک سکتے ہو اور حلب کو دمشق سے مال سکتے ہو۔ غدار مرگیا ہے ،تم تو
ایمان فروش نہیں''۔
عزالدین گہری سوچ میں کھوگیا۔ کچھ وقت بعد اس نے العادل سے کہا… ''ہاں! میں حلب اور دمشق کو ایسے رشتے میں
جکڑ سکتا ہوں جو کبھی نہیں ٹوٹے گا لیکن… لیکن اسے مضبوط بنانے کے لیے تم ایک کام بلکہ میری خواہش پوری کرسکتے
…''ہو… میں نورالدین زنگی مرحوم کی بیوہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں ،اگر وہ عظیم عورت مان جائے تو
میں آج ہی دمشق چال جائوں گا''۔ العادل نے کہا۔ ''مجھے امید ہے ،وہ مان جائے گی''۔''
العادل دمشق گیا۔ رضیع خاتون کو یہ خبر سنائی کہ اس کا بیٹا مر گیا ہے۔
اللہ اس کے گناہ معاف کرے''۔ ماں نے کہا۔''
کچھ دیر بعد العادل نے کہا کہ الصالح عزالدین کو اپنا جانشین مقرر کرگیا ہے اور عزالدین نے اس کے ساتھ شادی کی خواہش
ظاہر کی ہے۔ رضیع خاتون نے انکار کردیا۔
یہ شادی آپ کی اور عزالدین کی نہیں ہوگی''۔ العادل نے کہا۔ ''یہ دمشق اور حلب کی شادی ہوگی۔ اس سے آئندہ ''
خانہ جنگی رک جائے گی اور صلیبیوں کے خالف محاذ مستحکم ہوسکے گا''۔
عظمت اسالم کے لیے میں ہرقربانی کے لیے تیار ہوں''۔ رضیع خاتون نے کہا۔ ''میری ذاتی خواہشیں مرچکی ہیں''۔''
٥شوال (١١فروری ١١٨٢ئ) عزالدین اور رضیع خاتون کی شادی ہوگئی۔
اس کے ساتھ ہی جلد چہارم کا اختتام ہوا
20:55
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔ 127سانپ اور صلیبی لڑکی
ـــــــ
سانپ ڈیڑھ بالشت لمبا ہوگا مگر اس نے اسحاق درویش کی اتنے قوی ہیکل گھوڑے کو اوندھا کردیا۔ منزل ابھی بہت دور
تھی۔ صحرائے سینا ابھی آدھا باقی تھا۔ اسحاق درویش ترکی کا رہنے واال تھا۔ جسمانی لحاظ سے وہ تنومند تھا ،خوبرو تھا،
چہرے کی رنگت میں کشش تھی۔ اس کی آنکھیں نیلی تھیں۔ اسے دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ مسلمان ہے یا
صلیبی۔ وہ جتنا تنومند اور خوبرو تھا ،اس سے کہیں زیادہ دماغی لحاظ سے چست اور چاالک تھا۔ وہ اس وقت سلطان صالح
الدین ایوبی کی فوج میں شامل ہوا تھا جب اس کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ اس نے فوجی مالزمت کو ذریعہ معاش نہیں
سمجھا تھا۔ وہ مردمومن کی صحیح تصویر تھا۔ صلیب کے پجاریوں کے عزائم سے آگاہ ہوکر اسالم کی پاسبانی کے لیے دمشق
آیا اور فوج میں شامل ہوگیا تھا۔ جب سلطان ایوبی کو مصر کی امارت سونپی گئی تو اسحاق کو مصر بھیج دیا گیا تھا۔ وہ
بڑے فخر سے اپنے آپ کو ترک کہالتا تھا۔
ترکی کے بے شمار باشندے سلطان ایوبی کی فوج میں تھے۔ سلطان ایوبی کو ان پر بھروسہ اور اعتماد تھا۔ اس نے جب
کمانڈو فورس بنائی تو اس کے لیے زیادہ تر نفری ترکوں کی تیار کی۔ اسی فورس میں سے جاسوس بھی منتخب کیے گئے
تھے۔ ان میں اسحاق ترک بھی تھا۔ وہ غیرمعمولی طور پر ذہین اور دلیر چھاپہ مار تھا۔ اسے کمان دار بنا دیا گیا تھا ،پھر
اسے صلیبیوں کے عالقوں میں جاسوسی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ وہ فرض کا شیدائی تھا۔ جان کی بازی لگا کر زمین کی تہوں
سے بھی راز نکال لیا کرتا تھا مگر اب صحرائے سینا میں ذرا جتنے سانپ نے اسے بڑے ہی کڑے امتحان میں ڈال دیا۔ وہ
ان مسلمان عالقوں میں تھا جن پر صلیبیوں نے قبضہ کررکھا تھا ،وہاں سے حلب چال گیا اور اب وہ ایک نہایت اہم اطالع
لے کر قاہرہ جارہا تھا۔ اس وقت سلطان ایوبی قاہرہ میں تھا۔ اسحاق ترک کو بہت جلدی پہنچنا تھا راستے میں وہ کم سے
کم آرام کررہا تھا۔
وہ سرسبز عالقوں سے نکل گیا تھا۔ آگے ریت کا وہ سمندر تھا جس سے کوئی بھٹکا ہوا مسافر کبھی زندہ نکل کر نہیں گیا۔
صحرا انسان اور حیوان کا دشمن ہے۔ اسحاق ترک ریگزار کا بھیدی تھا… سرسبز عالقے سے اس نے پانی گھوڑے کے ساتھ
باندھ لیا تھا۔ اسے راستے کا بھی علم تھا جہاں ایک دو جگہ پانی مل جاتا تھا۔ اس صحرا میں اس نے لڑائیاں بھی لڑی
تھیں۔ حلب سے آتے ہوئے جب وہ اس میں داخل ہوا تھا تو اسے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا تھا۔ صلیبیوں اور صحرائوں
سے وہ کبھی نہیں ڈرا تھا۔ اسی جنگ وجدل اور مسافت کو وہ زندگی سمجھتا تھا۔ یہ اس کا عقیدہ تھا کہ خدا کی
خوشنودی اسی جہاد میں ہے۔
وہ صحرائی ٹیلوں میں گھوڑے کو ذرا آرام دینے کے لیے رک گیا۔ دوپہر کا سورج کچھ آگے نکل گیا تھا۔ اسحاق ترک ایک
ٹیلے کے سائے میں لیٹ گیا اور اس کی آنکھ لگ گئی۔ گھوڑا بڑی زور سے ہنہنایا۔ اسحاق ترک نے دیکھا کہ جہاں وہ
سویاتھا ،اس سے چار پانچ قدم دور دیڑھ بالشت لمبا سانپ جس کا رنگ سیاہ اور اس پر سفید اور گول دھبے تھے ،تڑپ رہا
تھا۔ دم کی طرف اس کا آدھا جسم کچال ہوا تھا۔ گھوڑا وہیں کھڑا تھا۔ اسحاق سمجھ گیا کہ سانپ کاٹنے سے پہلے یا بعد
گھوڑے کے پائوں کے نیچے آیا ہے۔ وہ اب چلنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ اسحاق ترک نے اس کا سر اپنے پائوں تلے مسل
ڈاال۔
گھوڑے کے زندہ رہنے کی امید ختم ہوگئی تھی۔ صحراکا بچھو اور یہ سانپ اتنے زہریلے ہوتے ہیں کہ جسے ڈس لیں اسے
پانی پینے کی مہلت نہیں ملتی۔ صحرائوں کے مسافرجال دینے والے سورج سے اور لوٹ کر قتل کردینے والے ڈاکوئوں سے اتنا
نہیں ڈرتے ،جتنا اس سانپ اور بچھو سے ڈرتے ہیں۔ یہ سانپ میدانی اور پہاڑی عالقوں کے سانپوں کی طرح آگے کو نہیں
رینگتا بلکہ پہلو کی طرف عجیب سی چال سے رینگتاہے۔ اسحاق نے اپنے گھوڑے کو مایوسی سے دیکھا۔ گھوڑا بڑی زور سے
اعلی نسل کا جنگی گھوڑا تھا جو لق ودق صحرا ،بھوک اور پیاس کو خاطر میں نہیں التا
کانپا۔ اس کا منہ کھل گیا تھا۔ یہ
ٰ
اعلی گھوڑاضائع ہوگیا تھا مگر اس وقت نقصان یہ ہوا کہ اسحاق ترک کو پیدل قاہرہ تک
تھا۔ یہ تو ایک نقصان تھا کہ ایسا
ٰ
پہنچنا تھا۔ وہ بہت جلدی میں تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اس نے یہ راز جو وہ سینے میں لے کے جارہا تھا ،فورا ً سلطان ایوبی
تک نہ پہنچایا تو بہت بڑے جنگی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
اس نے گھوڑے کو حسرت بھری نظروں سے دیکھا۔ اس کی نظر گھوڑے کے ایک پائوں پر پڑی۔ کھر کے ذرا اوپر خون کے چند
قطرے جمے ہوئے تھے۔ یہاں سانپ نے کاٹا تھا۔ گھوڑا مرچکا تھا۔ اسحاق نے گھوڑے کی زین سے کھجوروں کا تھیال اور پانی
کا ایک مشکیزہ کھوال اور چل پڑا۔ اس نے مرے ہوئے سانپ کو دیکھا اور نفرت سے کہا… ''سانپ اور صلیبی کی فطرت ایک
سی ہے''۔
٭ ٭ ٭
وہ ریتلے ٹیلوں کے عالقے سے نکل گیا۔ سورج افق سے کچھ دور رہ گیا تھا۔ اس کا قہر عروج پر تھا۔ وہ اپریل ١١٨٢ء
کے دن تھے جو دنیا کے لیے بہار کے دن تھے مگر صحرائوں میں کبھی بہار نہیں آتی۔ اسحاق ترک کے سامنے افق تک
پھیال ہوا ریت کا سمندر تھا جس میں چھوٹی چھوٹی خشک جھاڑیاں تھیں۔ ریت اس طرح جھلس رہی تھی جیے ایک آدھ
میل آگے پانی ہی پانی ہو اور اس میں سے شفاف بھاپ اٹھ رہی ہو۔ اسحاق ابھی تازہ دم تھا۔ وہ کھجوروں کے تھیلے،
مشکیزے ،تلوار اور خنجر کا بوجھ محسوس نہیں کررہاتھا۔ اس کی چال میں جان تھی اور قاہرہ بہت جلدی پہنچنے کے عزم
میں ابھی کوئی لرزہ پیدا نہیں ہوا تھا۔ وہ چلتا گیا اور سورج غروب ہوگیا۔
وہ ذرا سی دیر کے لیے رکا۔ چند ایک کھجوریں کھائیں ،پانی پیا اور چند منٹ لیٹ کر اٹھ بیٹھا۔ وہ بہت خوش تھا کہ بڑی
ہی قیمتی اطالع سلطان ایوبی کے لیے لے جارہا ہے۔ اسے کچھ کھانے اور پینے کی جیسے ضرورت ہی نہیں تھی۔ اس کی
روح سیر تھی۔ فرض کے شیدائی جب فرض ادا کرلیں تو ان کی روحیں مسرور ہوجاتی ہیں۔ اسحاق ترک بھی روحانی مسرت
سے سرشار تھا۔ وہ اٹھا۔ ستاروں کو دیکھا۔ سمت کا تعین کیا اور چل پڑا۔ صحرا کی رات اتنی خنک ہوتی ہے جتنا دن گرم
اور جھلسا دینے واال ہے۔ رات کو چلنا آسان ہوتاہے۔ وہ چلتا گیا۔ اس نے چلتے چلتے بہت کچھ سوچا۔ یہ بھی سوچا کہ وہ
اتنی لمبی مسافت اتنے کم عرصے میں طے نہیں کرسکے گا۔ اس کایہی ایک عالج تھا کہ کوئی اکیال وکیال گھوڑ سوار یا شتر
سوار مل گیا تو اس سے گھوڑا یااونٹ چھین لے گا اور اگر کوئی قافلہ رکا ہوا نظر آگیا تو گھوڑا یا اونٹ چوری کرلے گا۔
اسی توقع پر چلتا گیا۔
رات گزرتی جارہی تھی۔ اس کے پائوں تلے سے ریگزار پیچھے ہٹتا جارہا تھا اور اسے تھکن کا احساس بھی ہونے لگا تھا
لیکن اسے ٹریننگ ایسی ملی تھی کہ تھکن ،نیند ،بھوک اور پیاس کو کئی روز تک برداشت کرسکتا تھا۔ تھکن کے پہلے
احساس کو اس نے ایک جنگی ترانے کے حوالے کردیا۔ وہ بلند آواز سے ترانہ گانے لگا… رات کے آخری پہر وہ ایک جگہ بیٹھ
گیا۔ تھوڑا ساپانی پیا اور وہیں سوگیا۔ ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا جب اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے بھوک کے احساس
کو دبا لیا۔ پانی بھی نہ پیا۔ منزل ابھی بہت دور تھی۔ کھجوریں اور پانی بچانے کی ضرورت شدید تھی۔وہ اٹھا اور چل پڑا۔
اسے صحرا کا ایک اور خطرہ دور سے ہی نظر آنے لگا۔ یہ ریت کی گول گول ٹیکریاں تھیں جو دور دور تک پھیلی ہوئی
تھیں۔ یہ سب ایک جیسی ہوتی ہیں۔ ان کی بلندی بھی ایک جیسی ہوتی ہے۔ ان میں کوئی اجنبی داخل ہوجائے تو باہر
نکل نہیں سکتا۔ یہ بھول بھلیاں بنی ہوتی ہیں۔ بعض مسافر ایک ہی ٹیکری کے اردگرد گھومتے رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ
وہ سفر طے کررہے ہیں۔ صحرائوں کے بھیدی بھی ان سے ڈرتے ہیں۔ اسحاق ترک کو پہال احساس یہ ہوا کہ یہ ٹیکریاں اس
کے راستے میں نہیں آنی چاہئیں تھیں۔ اس سوال نے اسے پریشان کردیا۔ کیا وہ اس راستے سے بھٹک گیاہے جس سے وہ
واقف تھا؟ وہ اب ادھر ادھر کہیں نہیں جاسکتا تھا۔ اسے انہی میں سے گزرنا تھا وہ بڑھتا گیا اور ٹیکریوں میں داخل ہوگیا۔
اس وقت تک سورج اوپر آچکا تھا اور صحرا تپنے لگا تھا۔ وہ ٹیکریوں میں گھومتا ،موڑ مڑتا گیا۔ ریت اس کے پائوں جکڑنے
کی کوشش کررہی تھی ،وہاں کی ریتلی زمین بتارہی تھی کہ اسحاق سے پہلے یہاں سے کبھی کوئی مسافر نہیں گزرا۔ اسحاق
چلتا گیا۔ سورج سر پر آگیا تو بھی وہ ریت کی انہی ڈھیروں میں گھومتا مڑتا جارہا تھا۔ وہ ایک اور موڑ مڑا تو ٹھٹھک کر
رک گیا۔ اس نے زمین پر اپنے ہی پائوں کے نشان دیکھے جو ایک اور ٹیکری کے گرد مڑ گئے تھے۔ تب اسے احساس ہوا کہ
وہ صحرا کے بے حد خطرناک دھوکے میں آگیا ہے۔ وہ ساتھ والی ٹیکری پر چڑھ گیا۔ ہر سونگاہ دوڑائی۔ اسے یوں نظر آیا
جیسے ساری دنیا ریت کے گول گول اونچے اونچے ڈھیروں کے سوا کچھ بھی نہیں۔
سورج کی آگ اور ریت کی گرمی نے اس کے جسم کی نمی چوسنی شروع کردی تھی۔ ریت نے اس کے پائوں جکڑ جکڑ کر
من من وزنی کردئیے تھے۔ اس نے پانی پیا اور سمت کا اندازہ کرکے نیچے اترا۔ اب اسے دماغ حاضر رکھنا تھا۔ ہر موڑ ذہن
میں محفوظ رکھتا تھا۔ وہ ٹریننگ کے مطابق چل پڑا۔ اب وہ جن دو ڈھیری نما ٹیکریوں کے درمیان سے گزرتا انہیں ذہن میں
نقش کرلیتا۔ آگے چلتا ،پیچھے دیکھتامگر صحرا کے ظالم اثرات اس کے دماغ کو مائوف کرنے لگے تھے۔ اس میں برداشت کی
قوت اوسط درجہ انسانوں سے زیادہ تھی ،ورنہ وہ کبھی نہ اٹھنے کے لیے گر پڑتا۔
سورج افق سے تھوڑا ہی اوپر رہ گیا تھا جب وہ صحرا کے اس دھوکے سے نکل گیا مگر اس کی ٹانگوں میں جسم کا :
بوجھ اٹھانے کی طاقت نہیں رہی تھی۔ یہ فرض کی لگن تھی جو اسے چالئے جارہی تھی۔ اس نے آگے دیکھا تو اسے ایک
قطار میں کئی گھوڑے اس کا راستہ کاٹ کر جاتے نظر آئے۔ گھوڑوں پر سوار بھی تھے۔ اس نے سواروں کو پکارا ،پھر اور زیادہ
اونچی آوازسے پکارا۔ کسی بھی سوار نے اس طرف نہ دیکھا۔ گھوڑے دائرے میں چلنے لگے۔ اسحاق ترک رک گیا۔ اس نے
آنکھیں بند کرکے سرکو زور زورسے جھٹکے دئیے۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ گھوڑے نہیں واہمہ ہے اور یہ سراب ہے جو صحراکا ایک
خطرناک دھوکہ ہوتاہے۔ اس کا ذہن صاف ہوا تو گھوڑے غائب ہوگئے۔ جھلستی ریت اور اس کی بھاپ نما چمک دور تک
دیکھنے نہیں دیتی تھی۔ وہ اب قدم گھسیٹ رہا تھا۔
٭ ٭ ٭
اسے دن اور رات کا بھی احساس نہ رہا۔ ایک جگہ اس کا پائوں پھسال تو وہ گر پڑا اور لڑھکتا ہوا دور نیچے چال گیا۔ اس
سے وہ ذرا سا بیدار ہوا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ وہ نادانستہ مٹی کی ایک ٹیکری پر چڑھ گیا تھا اور وہاں سے گرا تو
نیچے آپڑا۔ تھا۔ اس نے پانی کی شدید ضرورت محسوس کی۔ حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے اور ہونٹ خشک لکڑی کی طرح
اکڑ گئے تھے مگر اس کے پاس نہ پانی کا مشکیزہ تھا ،نہ کھجوروں کا تھیال۔ اس نے اٹھ کر ادھر ادھر دیکھا۔ دونوں کا کہیں
نام ونشان نہ تھا۔ وہ مایوسی اور بے بسی کے عالم میں چال۔ ادھر ادھر دیکھا اسے ہر سو سفید سفید اور شفاف شفاف سے
شعلے نظر آئے جو اس سے کچھ دور دور گول دائرے کی شکل میں اسے گھیرے ہوئے تھے۔ وہ اب الشعوری طور پر یا نیم
غشی کی کیفیت میں چل رہا تھا۔
وہ رک گیا۔ اسے دو آدمی اور ایک عورت کھڑی نظر آئی۔ تینوں اسی کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ان کے عقب میں تھوڑی دور
کھجور کے درخت بھی اسے دکھائی دئیے۔ ان کے قریب ٹیلے تھے۔ اسحاق ترک نے اسے بھی واہمہ اور سراب سمجھا۔ اس
پر جو مایوسی طاری ہوگئی تھی اس میں اضافہ ہوگیا جس سے اس کے جسم میں اگر کچھ سکت رہ گئی تھی ،وہ بھی نہ
رہی۔ اس نے ان آدمیوں اور عورت کو آواز دینے کو بے کار سمجھا۔ سراب اور واہمے بوال نہیں کرتے۔ مسافروں کو اپنی طرف
حتی کہ انسان ہار کر گر پڑتا ہے اور ریت اس کا گوشت پوست چوس کر اسے ہڈیوں کا
گھسیٹتے اور پیچھے ہٹتے جاتے ہیں،
ٰ
ڈھانچہ بنا دیتی ہے۔ اسحاق ترک میں اتنی سی زندگی رہ گئی تھی کہ اس نے ان آدمیوں اور عورت کو واہمہ سمجھا مگر
اس نے چلنے کے لیے قدم اٹھایا تو اس کی ٹانگیں دہری ہوگئیں اور اس کی آنکھوں کے سامنے صحرا ،سراب اور واہمہ گپ
تاریکی میں چھپ گئے۔
اسے باتیں سنائی دیں۔ وہ آہستہ آہستہ ہوش میں آرہا تھا۔ باتیں صاف ہونے لگیں۔ وہ ریت پر گرا تھا۔ ریت آگ پر رکھی
ہوئی لوہے کی چادر کی طرح تپ رہی تھی لیکن ہوش میں آتے وہ خنکی محسوس کررہا تھا۔
وہیں مرنے دیا ہوتا''… اسے ایک مردانہ آواز سنائی دی… ''اٹھائو اور اسے باہر پھینک دو۔ کوئی بھوال بھٹکا مسافر ہے''۔''
ذرا اسے ہوش میں آنے دو''… یہ آواز کسی عورت کی تھی۔ ''مجھے شک ہے ،یہ بے ہوشی میں بڑبڑا رہا تھا… ''قاہرہ''
کتنی دور ہے؟ سلطان… سلطان صالح الدین ایوبی! ہوشیار ہوکر قاہرہ سے نکلنا۔ بڑی قیمتی خبر الیاہوں''… شک رفع کرلینا
چاہیے''۔
اسحاق ترک اسے بھی واہمہ یا خواب سمجھنے لگا۔اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ آوازیں انہی دو آدمیوں اور عورت کی ہیں
جنہیں اس نے صحرا میں اپنے سامنے کھڑے دیکھا تھا۔ انہیں اس نے واہمہ سمجھا تھا لیکن یہ انسان حقیقی تھے۔ واہمہ نہیں
تھے۔
تم اس کے پاس بیٹھو''… ایک آدمی نے کہا… ''اگر ہوش میں آگیا تو اسے پانی پال دینا اور کھانے کے لیے بھی کچھ ''
دے دینا ،پھر ہمیں بتانا کہ یہ کون ہے''… آدمی باہر نکل گئے۔
اسحاق نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔ اس کے کانوں میں گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز پڑی۔ وہ یکلخت بیدار ہوگیا اور اٹھ
بیٹھا۔ اس کے منہ سے بے اختیار نکال… ''یہ گھوڑا مجھے دے دو''۔
لوتھوڑا سا پانی پی لو''… ایک نسوانی آوازنے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس کے ہونٹوں کی طرف ایک پیالہ بڑھ رہا ''
تھا۔ عورت نے کہا… ''تھوڑا پینا ،ایک ہی بار سارا نہ پی لینا ،مرجائو گے''۔
اسے پانی کی ہی ضرورت تھی۔ اس نے دیکھنے سے پہلے کہ پانی پالنے والی کون ہے ،پیالہ اپنے ہاتھ میں لیا اور ہونٹوں
سے لگا کر دو تین گھونٹ پئے۔ پیالہ ہونٹوں سے الگ کرکے بوال… ''میں جانتا ہوں کہ اس حالت میں زیادہ پانی نہیں پینا
چاہیے''۔
اس نے عورت کو دیکھا۔ وہ جوان لڑکی تھی۔ اس کا لباس اسی عالقے کا صحرائی خانہ بدوشوں کی طرح تھا لیکن اس کے
نقش ونگار اور رنگ روپ سے دھوکہ ہوتا تھا کہ وہ خانہ بدوش نہیں۔ اس کے سر پر لپٹے ہوئے رومال میں سے جو بال نظر
آرہے تھے ،وہ بھی خانہ بدوش لڑکیوں جیسے نہیں تھے لیکن اس عالقے میں کوئی امیر کبیر لڑکی تو نہیں آ سکتی تھی ،خانہ
بدوش ہی ہوسکتی تھی۔
تم کسی قافلے کے ساتھ ہو؟''… اسحاق نے لڑکی سے پوچھا۔''
''یہ تاجروں کا قافلہ ہے''… لڑکی نے جواب دیا اور پوچھا… ''تم کہاں سے آئے ہو اور کہاں جارہے ہو؟''
اسحاق ترک نے جواب دینے کے بجائے پانی کا پیالہ منہ سے لگا لیا۔ پانی کی نمی نے اس میں سوچنے کی قوت کچھ
بحال کردی تھی۔ اسے یاد آگیا کہ وہ سلطان ایوبی کا جاسوس ہے اور اسے اپنا آپ کسی پر ظاہر نہیں کرنا چاہیے۔
میں بھی تاجروں کے ایک قافلے کے ساتھ تھا''… اس نے سوچ کر جواب دیا… ''یہاں سے بہت دور ایک رات ڈاکوئوں ''
نے حملہ کردیا جو کچھ تھا ،لے گئے۔ اونٹ اور گھوڑے بھی لے گئے۔ میں وہاں سے بھاگا اور بھٹک گیا''۔
میں تمہارے لیے کچھ کھانے کو التی ہوں''… لڑکی نے کہا اور باہر نکل گئی۔''
وہ ایک خیمے میں تھا جس میں دیا جل رہا تھا۔ اس نے خیمے سے ذرا چھپ کر باہر دیکھا۔ چاندنی رات تھی۔ اسے باہر
تین چار آدمی ادھر ادھر پھرتے دکھائی دئیے۔ اسے لڑکی کی ہنسی سنائی دی۔ پھر اس نے لڑکی کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ وہ
پیچھے ہٹ کر اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ لڑکی نے اس کے آگے کھانا رکھا جووہ کھانے لگا۔
تم اب قاہرہ جارہے ہو؟''… لڑکی نے پوچھا۔''
نہیں''… اسحاق ترک نے جھوٹ بوال… ''سکندریہ جارہا ہوں''۔''
''سلطان صالح الدین ایوبی تو قاہرہ میں ہے''… لڑکی نے مسکرا کر کہا۔ ''سکندریہ جا کر کیا کرو گے؟''
میرا سلطان صالح الدین ایوبی کے ساتھ کیا تعلق ہوسکتاہے؟''… اسحاق نے حیرت سے کہا۔''
ہمارا تو ہے''… لڑکی نے کہا… ''وہ ہمارا سلطان ہے ،ہم مسلمان ہیں ،ہم اس کے حکم پر جانیں قربان کرنے کو تیار ''
رہتے ہیں''۔
لیکن مجھ سے تم نے یہ کیوں کہا ہے کہ سلطان صالح الدین ایوبی قاہرہ میں ہے؟''… اسحاق ترک نے پوچھا۔''
سنو''… لڑکی نے اس کے سر پرہاتھ رکھ کر پیار سے کہا… ''تمہیں گھوڑا چاہیے۔ تم سلطان کے پاس جارہے ہو ،ہم ''
تمہاری مدد کریں گے۔ تمہیں گھوڑا دیں گے۔ تم بہت جلدی سلطان تک پہنچ جائو گے''۔
''تمہیں کیسے پتہ چال؟''
یہ مت پوچھو''… لڑکی نے کہا… ''تم اپنا فرض ادا کررہے ہو ،ہمیں اپنا فرض ادا کرنے دو۔ ہم تمہیں گھوڑا دے کر ''
سمجھیں گے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کردیا ہے''۔
لڑکی کا انداز ایسا تھا کہ اسحاق پسیج گیا۔ اس نے کہا… ''ہاں مجھے بہت جلدی سلطان کے پاس پہنچنا ہے''۔
''کوئی بہت ضروری خبر ہے؟''
مجھے سے ایسی باتیں نہ پوچھو''… اسحاق نے جواب دیا… ''تمہیں ان کے ساتھ دلچسپی نہیں ہونی چاہیے''۔''
میں تمہارے لیے گھوڑے کا انتظام کرتی ہوں''… لڑکی نے اٹھتے ہوئے کہا… ''آرام کرلو۔ رات ابھی''
شروع ہوئی ہے۔ آخری پہر روانہ ہونا''۔
لڑکی خیمے سے نکل گئی۔ اسحاق ترک کی جسمانی حالت ایسی تھی کہ وہ فورا ً سوگیا۔
کون کہتا تھا اسے وہیں پڑا رہنے دیتے؟''… لڑکی نے خیمے سے باہر جاکر اپنے آدمیوں سے کہا… ''مجھے استاد مانتے'' :
ہو؟ یہ ایوبی کا جاسوس ہے۔ کہتا ہے مجھے ایک گھوڑا دے دو ،سلطان کے پاس جلدی پہنچنا ہے۔ وہ جب بے ہوشی میں
بڑبڑا رہا تھا تو میں نے کان لگا کر سنا تھا۔ وہ سلطان ایوبی کا نام لے رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ بڑی قیمتی خبر الیا
ہوں''… لڑکی نے اسحاق ترک کے ساتھ جو باتیں کیں اور جو اس سے کہلوائی تھیں ،سب کو سنادیں۔
یہ تاجروں کا قافلہ نہیں تھا۔ یہ سب صلیبی جاسوس اور تخریب کار تھے جو مصر میں کچھ عرصہ اپنی زمین دوز کارروائیاں
کرکے واپس اپنے یا کسی اور مسلمان عالقے کو جارہے تھے۔ ان کے ساتھ ان کے محافظ بھی تھے۔ ان دس بارہ آدمیوں کے
ساتھ دو جوان لڑکیاں تھیں۔ ان کا استعمال اور رول وہی تھا جو آپ اس سلسلے کی پہلی کہانیوں میں پڑھ چکے ہیں۔ یہ
دونوں خوبصورت اور تربیت یافتہ تھیں۔ یہ گروہ تاجروں کے بھیس میں جارہا تھا۔ ان کے پاس اونٹ بھی تھے اور گھوڑے بھی۔
سفر کے دوران یہاں پانی اور سایہ دیکھ کر رک گئے تھے۔ شام سے کچھ دیر پہلے انہوں نے دور سے اسحاق ترک کو آتے
دیکھا۔ دو صلیبی اور ایک لڑکی اس کی طرف چل پڑے۔ ان کا ارادہ یہ تھا کہ اس آدمی کو اپنے کیمپ سے دور رکھیں۔ وہ
دیکھ رہے تھے کہ یہ آدمی بہت بری حالت میں چال آرہا ہے اور یہ زیادہ دیر چل نہیں سکے گا۔
اسحاق ترک نے انہیں دیکھا تو اسے سراب اور واہمہ سمجھا۔ پھر وہ گر پڑا اور بے ہوش ہوگیا۔ یہ دونوں صلیبی اور لڑکی
اس تک پہنچے۔ سب سے پہلے لڑکی نے کہا تھا کہ یہ کوئی عام قسم کا مسافر نہیں۔ دونوں آمیوں نے رائے دی کہ یہ کوئی
اناڑی مسافرہے ،ورنہ اس حال کو نہ پہنچتا۔ تاہم اسحاق کی شکل وصورت اور جسم سے شک ہوتاتھا کہ یہ کوئی معمولی
آدمی نہیں۔کچھ از راہ مذاق اور کچھ شک کی بناء پر وہ اسے اپنے کیمپ میں اٹھا لے گئے اور ایک خیمے میں لٹا دیا۔ اس
کے منہ میں پانی اور شہد ٹپکاتے رہے۔ اس دوران اسحاق ترک بڑبڑاتا رہا۔ اس پر غشی طاری تھی۔ غشی اور نیند میں ذہن
الشعور بیدارہوتا ہے۔ جاسوس کو یہ خاص طور پر بتایا جاتا تھا کہ وہ دشمن کے عالقے میں بے ہوش ہونے سے بچیں۔ بے
ہوشی میں انسان کی زبان سے بعض اوقات سینے کے راز نکل آتے ہیں۔ اسحاق کو صحرا نے بے بس اور بے ہوش کردیا تھا،
ورنہ اس میں حیران کن قوت برداشت اور قوت مدافعت تھی۔ اگر بے ہوشی میں اس کی زبان بند رہتی تو اس کا اصل روپ
بے نقاب نہ ہوتا۔
اسحاق ہوش میں آیا تو اس قدر ذہین اور چاالک ہوتے ہوئے بھی ایک لڑکی کے جال میں آگیا۔ یہ لڑکی کی استادی تھی۔ وہ
بھی تربیت یافتہ تھی اور وہ حسین تھی۔ اس کی زبان پر یقین کرتے ہوئے وہ اسے مسلمان سمجھ بیٹھا۔ لڑکی نے باہر جاکر
اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ اس کا شک صحیح نکال ہے اور یہ خوبرو شخص سلطان ایوبی کا جاسوس ہے۔
موٹا شکار ہے''… اس گروہ کے سربراہ نے کہا… ''اب اس سے یہ معلوم کرنا ہے کہ وہ کیا راز اپنے ساتھ لے جارہا ہے''
اور یہ راز کہاں سے الیا ہے''۔
اگر اس نے یہ بتا دیا کہ وہ راز کہاں سے الیا ہے تو اس سے یہ بھی پوچھیں گے کہ وہاں اس کے ساتھی کون کون ''
ہیں''… ایک آدمی نے کہا۔
لیکن اس پر یہ ظاہر نہ ہونے پائے کہ ہم کون ہیں''… سربراہ نے کہا… ''میں صالح الدین ایوبی کے جاسوسوں کو اچھی''
طرح جانتاہوں۔ موت قبول کرلیتے ہیں ،کوئی راز نہیں دیتے۔ خاصی استادی سے بات کرنی ہوگی''۔
میں ان مسلمانوں کو زیادہ اچھی طرح جانتی ہوں''۔ لڑکی نے معنی خیز مسکراہٹ سے کہا… ''راز تو راز ،یہ اپنے خنجر''
سے اپنا دل نکال کر میرے قدموں میں رکھ دے گا''۔
تم ان مسلمانوں کو جانتی ہو جن پر حکمرانی اور دولت کا نشہ سوار ہوتاہے''۔ ایک اور صلیبی نے کہا۔ ''تمہارا پاال ''
کبھی کسی غریب مسلمان اور سپاہی سے نہیں پڑا۔ وہ مسلمان دولت اور رتبے کے شیدائی ہوتے ہیں جنہیں تم گمراہ کرلیتی
ہو۔ جن مسلمانوں کے پاس دولت کے بجائے ایمان ہے ،کبھی ان کے قریب جاکر دیکھنا''۔
ان کے پاس ایک اور صلیبی لڑکی بیٹھی تھی جس نے ابھی تک کچھ بھی نہیں کہا تھا۔ سربراہ نے اس کی طرف دیکھا :
اور قدرے طنزیہ لہجے میں اسے کہا… ''کیا تم اس مسلمان کے سینے سے راز نکال سکتی ہو ،باربرا؟'' لڑکی نے اسے خالی
خالی نگاہوں سے دیکھا۔ سربراہ نے کہا… ''تم نے قاہرہ میں ہمیں بہت خراب کیا تھا۔ میرنیا کی استادی دیکھو اور اس سے
کچھ سیکھو۔ میں تمہیں اور کوئی موقع نہیں دوں گا۔ ذرامیرنیا کی عقل پر غور کرو۔ ہم سب اس آدمی کو بھٹکا ہوا کوئی
مسافر اور بے کار آدمی سمجھتے تھے لیکن اس نے اسے پہچان لیا کہ یہ موٹا شکارہوسکتا ہے۔ میں تمہیں اسی لیے مصر
سے نکال کر لے جارہا ہوں کہ تم صلیب کو فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان پہنچاتی ہو''۔
تمہارا انجام بہت برا ہوگا''۔ ایک اور صلیبی نے کہا… ''تمہیں اس پیشے سے محروم کردیا جائے گا جس میں تمہیں ''
شہزادیوں کی طرح رکھا جاتا ہے۔ اس سے نکال دیا گیا تو کسی کی داشتہ بن کر رہنے یا عصمت فروشی کے سوا تمہارا
کوئی ٹھکانہ نہیں ہوگا''۔
اونہہ!'' دوسری لڑکی جس کا نام میرنیا تھا نفرت سے بولی… ''یہ تو ہے اس قابل''۔''
باربرا نے میرنیا کی طرف قہر بھری نظروں سے دیکھا۔ اس کے چہرے کا رنگ غصے سے الل ہوگیا لیکن خاموش رہی۔ وہ بھی
میرنیاکی طرح خوبصورت تھی لیکن جب مصر گئی تھی ،اس کی استادی ماند پڑ گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا
سربراہ بھی مصر میں تھا اور زمین دوز کارروائیاں کررہا تھا۔یہ لوگ کسی جگہ آپس میں مال کرتے تھے۔ سربراہ رتبے واال افسر
تھا اور خوبرو بھی تھا۔ وہ باربرا کو پسند کرتا تھا اور اس نے باربرا کے ساتھ شادی کرنے کا وعدہ بھی کررکھا تھا۔سربراہ
جس جاسوس کی سفارش کردے اسے ترقی اور انعام دال دیا کرتا تھا۔ باربرا بہت خوش تھی مگر میرنیا نے سربراہ پر اپنا جادو
چال لیا۔ اس لڑکی نے اپنی فن کاری سے سربراہ کو باربرا کے خالف بدظن کردیااور اس کے ساتھ محبت کا کھیل کھیلنے
لگی۔ باربرا بجھ کے رہ گئی۔ جاسوسی اور تخریب کاری سے اس کی طبیعت اچاٹ ہوگئی۔ ایسے موقعے بھی آئے کہ وہ شک
میں پکڑی جانے لگی تھی لیکن بچ گئی۔
اسے سلطان ایوبی کے فوج کے کسی بڑے اہم حاکم کے ساتھ لگایا گیا تھا لیکن وہ مطلوبہ کام نہ کرسکی۔ سربراہ کو معلوم
ہوگیا کہ اس کے دل میں میرنیاکے خالف رقابت پیدا ہوگئی ہے۔ اس نے بہترسمجھا کہ پورے گروہ کو واپس لے جائے اور اس
کی جگہ نیا گروہ بھیجا جائے۔ حقیقت بھی یہی تھی کہ باربرا میرنیا سے جلنے لگی تھی۔ سربراہ اس کا دشمن بن گیا تھا۔
میرنیا اس کے ساتھ طنز اور نفرت سے بات کرتی تھی۔ اسے اپنا انجام نظر آرہا تھا۔ اب میرنیا نے اسے کہا کہ یہ تو ہے
ہی اسی قابل تو اس کے اندر انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔
اس آدمی کے سینے سے صرف میں راز نکال سکتی ہوں''۔ میرنیا نے کہا۔ ''یہ باربرا کے بس کا روگ نہیں''۔''
باربرا غصے سے اٹھی اور اپنے خیمے میں چلی گئی۔
٭ ٭ ٭
یہ آدمی رات کو کہیں بھاگ کے نہیں جاسکتا''۔ سربراہ نے کہا… ''ابھی اس کے پاس بھاگنے کی کوئی وجہ بھی نہیں۔ ''
پھر بھی احتیاط الزمی ہے ،اسے بے ہوش کردینا چاہیے''۔
تھوڑی دیر بعد میرنیا اس خیمے میں داخل ہوئی جس میں اسحاق ترک سویا ہوا تھا۔ دیا جل رہا تھا۔ میرنیا کے ہاتھ میں
ایک رومال تھا جو بے ہوش کرنے والی دوائی میں بھیگا ہوا تھا۔ وہ دبے پائوں اسحاق کے پاس گئی اور بیٹھ گئی۔ اس نے
رومال اسحاق کی ناک پر رکھ دیا۔ کچھ دیر بعد رومال ہٹایا اور باہر نکل گئی۔ اپنے ساتھیوں کے پاس جاکر کہنے لگی…
''کل سورج نکلنے کے بعد ذرا ہوش میں آئے گا''۔
اطمینان سے سوجائو''۔ سربراہ نے کہا… ''کل ہم صالح الدین ایوبی کے اس جاسوس کو اس کی خواہش کے مطابق گھوڑا''
ضرور دیں گے لیکن وہ اس گھوڑے پر قاہرہ نہیں ،بیروت جائے گا۔ یہ ہمارا ہم سفر ہوگا''۔
سلطان ایوبی کے ایک جاسوس کو پکڑ لینا ان کے لیے بہت بڑی کامیابی تھی۔ وہ شراب پینے اور خوشیاں منانے لگے۔ میرنیا
اچھل کود رہی تھی مگر باربرا جیسے اس جشن سے التعلق تھی۔ اسی لیے وہ اپنے خیمے میں چلی گئی تھی۔ بہت دیر بعد
سب ایک ایک کرکے اپنے اپنے خیمے میں چلے گئے۔ باربرا بھی جاچکی تھی۔ اس ٹولے کا سربراہ میرنیا کو اپنے ساتھ وہاں
سے دور لے گیا۔باربرا خیمے میں تنہا لیٹی اداسیوں اور ناکامیوں میں الجھی ہوئی تھی۔ اس کے دل میں انتقام کی آگ سلگنے
لگی تھی۔ باہر کے جشن شراب نوشی کا شور اس آگ کو بھڑکا رہا تھا۔ جب شور ختم ہوا تو وہ اور زیادہ بے چین ہوگئی۔
اس نے خیمے کا پردہ ہٹا کر دیکھا۔ اسے اپنا سربراہ اور میرنیا ٹیلے کی طرف جاتے نظر آئے۔ چاندنی رات میں وہ کچھ دور
تک نظر آئے اور غائب ہوگئے۔
باربرا کے کانوں میں میرنیا کے یہ الفاظ گونج رہے تھے… ''صرف میں اس کے سینے سے راز نکال سکتی ہوں''… باربرا :
کے دماغ میں یہ سوچ آئی کہ وہ میرنیا کو ناکام کرسکتی ہے۔ اس کا یہ طریقہ ہوسکتا تھا کہ وہ اسحاق ترک کو بتا دے کہ
ہم سب صلیبی جاسوس ہیں تاکہ وہ اپنا اصل روپ چھپا لے۔ اس نے یہ بھی سوچا کہ وہ اسحاق کو وہاں سے بھگا دے۔ یہ
سب انتقامی سوچیں تھیں۔ وہ سب کے سوجانے کا انتظار کرتی رہی۔ اسے نیند آرہی تھی۔ اس کے خیمے کا پردہ اٹھا۔ اسے
معلوم تھا کہ یہ کون ہے۔ اسے سرگوشی سنائی دی… ''باربرا''۔
چلے جائو مارٹن''۔ باربرا نے غم وغصے سے کانپتی ہوئی آواز میں کہا… ''چلے جائو یہاں سے''۔''
مارٹن جانے کے بجائے خیمے کے اندر چال گیا اور باربرا کے پاس جابیٹھا۔ بوال… ''تمہیں آخر ہوکیا گیا ہے۔ کیا تم یہ
سمجھتی ہو کہ ہمارا یہ لیڈرمیرنیا کے ساتھ دل سے محبت کرتا ہے؟ اور کیا وہ تمہیں دل سے چاہتا رہا ہے؟ یہ سب
بدمعاشی ہے باربرا۔ تم دل پر بوجھ ڈال کر اپنے فرائض سے الپروا ہوگئی ہو۔ اگر سچی محبت کی خواہش مند ہو تو وہ
''میرے دل میں ہے ،میں نے تمہیں کب دھوکہ دیا ہے؟
تم سراپا دھوکہ ہو''۔ باربرا نے جل کر کہا… ''ہم سب دھوکہ ہیں۔ میں اپنے فرائض سے الپروا نہیں ہوئی ،میرا دل تو ''
دنیا سے بھی اچاٹ ہوگیا ہے۔ ہم سب کو بچپن سے فریب کاری کی ٹریننگ دی گئی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ہم
مسلمانوں کو فریب دے کر انہیں صلیب کے مقابلے میں بے کار کردیں مگرہم ایک دوسرے کو بھی فریب دیتے ہیں۔ ہم صلیب
کو گلے میں لٹکا کر بدکاری کرتے تھے ،ایک دوسرے کو دھوکے دیتے ہیں۔ مسلمان ہم سے زیادہ عقل مند ہیں کہ وہ جاسوسی
اور تخریب کاری کے لیے اپنی لڑکیوں کو استعمال نہیں کرتے۔ ہمارے لیڈر نے پہلے مجھے محبت کا جھانسہ دیا۔ میرنیا چونکہ
زیادہ ہوشیارہے۔ اس لیے اس نے لیڈر پر قبضہ کرلیا۔ تم نے مجھ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور نتیجہ یہ نکال کہ ہمارا
سارا گروہ بے کار واپس جارہا ہے۔ اگر تمہارے ساتھ ہم دو لڑکیاں نہ ہوتی تو تم مرد اپنا کام خوش اسلوبی سے کرتے۔ عورت
کا وجود مردوں کے درمیان دشمنی پیدا کرتا ہے''۔
اسی لیے ہم مسلمانوں کے درمیان اپنی تربیت یافتہ عورتوں کو چھوڑ دیتے ہیں''۔ مارٹن نے کہا… ''ان کے درمیان ''
دشمنی پیدا کرنا ہی ہمارا مقصد ہے۔ ہم یہ اس لیے کرتے ہیں کہ اسالم کو زوال آئے اور صلیب کی حکمرانی قائم ہو''۔ اس
نے جھنجھال کر باربرا کو اپنی طرف گھسیٹ کر کہا… ''اتنی پیاری رات کو ایسی خشک باتوں سے بے مزہ نہ کرو باربرا۔ آئو
باہر چلیں۔ دیکھو چاندنی کتنی حسین ہے''۔
میرا دل ٹوٹ چکا ہے''۔ باربرا نے کہا… ''میں ناکام ہوچکی ہوں۔ میرے دل میں نفرت پیدا ہوگئی ہے۔ میں کہیں نہیں ''
جائوں گی۔ تم جائو''۔
ایک روز تم میرے قدموں میں آبیٹھو گی اور کہو گی ،مارٹن! مجھے بچائو۔ دیکھو یہ لوگ مجھے کتوں کے حوالے کررہے ''
ہیں۔ اس وقت میں تمہاری مدد نہیں کرسکوں گا''۔
میں اب بھی کتوں کے حوالے ہوں''۔ باربرا نے حقارت سے کہا… ''میں تم سے کبھی مدد نہیں مانگوں گی۔ یہاں سے ''
چلے جائو''۔
مارٹن غصے سے اٹھا اور باہر نکل گیا۔ وہ خیمے کا پردہ ہٹا کر اسے دیکھتی رہی اور انتظار کرتی رہی کہ مارٹن سوجائے۔
اسے معلوم تھاکہ سربراہ اور میرنیا بہت دیر سے آئیں گے… کچھ دیر بعد وہ خیمے سے نکلی۔ وہ اٹھی نہیں ،پائوں پر بیٹھے
بیٹھے ایک طرف کو سرکتی گئی۔ آگے ذرا گہرائی تھی۔ اس میں اتر گئی ،وہاں سے جھک کر چلتی چشمے کے پیچھے گئی
اور دور کا چکر کاٹ کر اسے خیمے کے قریب پہنچ گئی جس میں اسحاق ترک بے ہوش پڑا تھا۔ باربرا کو معلوم نہیں تھا
کہ اسے بے ہوش کردیا گیا ہے۔ وہ بیٹھ گئی اور پائوں پر سرکتی خیمے کے اندر چلی گئی۔ دیا جل رہا تھا۔ اس نے اسحاق
کو ہالیا مگر وہ نہ جاگا۔ اس کے سر کو پکڑ کر جھنجھوڑا ،اسے بالیا۔ اسحاق ترک پر کچھ اثر نہ ہوا۔
اٹھو بدبخت''۔ اس نے اسحاق کے منہ پر تھپڑ مار کر کہا… ''تم دھوکے میں آگئے ہو۔ ہم سب جاسوس ہیں۔ تم قاہرہ ''
نہیں پہنچ سکو گے ،بیروت کے قید خانے کے تہہ خانے میں اذیت ناک موت مرو گے''۔
اسحاق بے ہوش پڑا رہا جیسے مر گیا ہو۔ باربرا کو خیمے کے باہر ہلکی ہلکی ہنسی کی آوازیں سنائی دینے لگیں ،مگر وہ
گھبرائی نہیں۔ وہ تربیت یافتہ تھی۔ آوازیں قریب آگئیں تو بھی وہ اسحاق کے پاس بیٹھی رہی۔ آوازیں خیمے تک پہنچ گئیں۔
ان میں ایک آواز میرنیا کی تھی ،وہ سربراہ کے ساتھ اپنے قیدی کو دیکھنے آئی تھی۔
ہم سب مسلمان ہیں''۔ باربرا نے اسحاق سے مخاطب ہوکر بلند آواز سے کہا… ''ہم تمہیں ایسا گھوڑا دیں گے جو تمہیں''
دو دنوں میں قاہرہ پہنچا دے گا''۔
باربرا!'' اسے اپنے سربراہ کی آواز سنائی دی۔ اس نے گھوم کے دیکھا ،خیمے میں سربراہ اور میرنیا کھڑے تھے۔ سربراہ ''
نے کہا… ''تم اپنا فرض ابھی ادا نہیں کرسکو گی۔ اسے بے ہوش کردیا گیا ہے''۔
یہ میرا شکار ہے باربرا!''۔ میرنیا نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا… ''یہ صرف مجھے معلوم ہے کہ اس کے سینے سے میں''
کیسے راز نکال سکتی ہوں''۔
سربراہ اور میرنیا ہنس پڑے۔ باربرا اس طنزیہ ہنسی کو سمجھ گئی۔ اپنے آپ کو قابو میں رکھتے ہوئے بولی… ''میں نے ''
کوئی غلطی تو نہیں کی ،اپنا فرض ادا کررہی ہوں''۔
جائو سوجائو''۔ سربراہ نے اسے کہا۔''
وہ اٹھی اور باہر نکل گئی۔ سربراہ نے اسحاق کی نبض پر ہاتھ رکھا ،پھر میرنیا کو ساتھ لے کر باہر نکل گیا۔ اسحاق ترک
سلطان ایوبی کے لیے بڑی ہی اہم اطالع لیے گہری بے ہوشی میں پڑا رہا۔
٭ ٭ ٭
علی بن سفیان!'' قاہرہ میں سلطان ایوبی نے اپنی انٹیلی جنس کے سربراہ علی بن سفیان سے کہا… ''ادھر سے ابھی ''
تک کوئی اطالع نہیں آئی۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ وہاں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کوئی ہلچل نہی۔ میں تسلیم نہیں کرسکتا''۔
اور میں یہ تسلیم نہیں کرسکتاکہ وہاں کوئی تبدیلی یا ہلچل ہو تو ہم تک اطالع نہ پہنچے''… علی بن سفیان نے کہا… ''
'' وہاں ہمارے جو آدمی ہیں وہ معمولی سوجھ بوجھ والے نہیں ،اسحاق ترک کو آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ زمین کا
سینہ چیر کررازاور خبریں النے واال آدمی ہے۔ باقی بھی اسی جیسے ہوشیار اور عقل والے ہیں''۔
صلیبی ان واقعات سے ضرور فائدہ اٹھائیں گے جو اس طرف رونما ہوئے ہیں''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''بالڈون اپنے ''
فرنگی لشکر کے ساتھ حلب اور موصل کے اردگرد موجود ہے''۔
مگر الملک الصالح مرگیا ہے''۔ علی بن سفیان نے کہا… ''اب حلب کا حکمران عزالدین ہے۔ وہ صلیبیوں کے ہاتھ آنے ''
واال نہیں''۔
علی!'' سلطان ایوبی نے قدرے حیرت سے کہا… ''تم بھی خوش فہمیوں میں مبتال ہورہے ہو؟ تم شاید اس خیال سے ''
عزالدین کو پکا مسلمان سمجھتے ہو کہ میں اسے اپنا دوست سمجھتا ہوں اور میں نے اس کی مدد کے لیے اپنا منصوبہ بدل
کر تل خالد پر حملہ کیا اور آرمینیوں سے ہتھیار ڈلوائے تھے مگر میں اپنے مسلمان حکمرانوں اور امراء پر بھروسہ نہیں
کرسکتا۔ عزالدین ہمارا اتحادی ہوسکتا ہے ،اس کے امرائ ،وزراء میں صلیبیوں کے خیر خواہ موجود ہیں۔ علی! تم نے دیکھا
نہیں کہ مومن قسم کے حکمران بھی اپنے وزیروں اور مشیروں کے خوشامدانہ مشوروں کے جال میں آکر مومن رہتے ہوئے بھی
وطن اور قوم کو غلط فیصلوں سے تباہی کی کھائیوں میں پھینک دیتے ہیں؟ میں مشیروں کے خالف نہیں۔ یہ قرآن پاک کا
حکم ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدا نے دیا تھا کہ فیصلے سے پہلے مشورہ کرلیا کرو ،مگر حکمران میں
اتنی عقل ہونی چاہیے کہ مشورہ دینے والوں کی نیت اور کردار کو سمجھے۔ خوشامد حکمرانی کے نشے کو اور تیز کرتی ہے۔
ایک وقت آتا ہے کہ حکمران خوشامد کی سریلی لوریوں سے میٹھی نیند سوجاتاہے۔ سوئے ہوئے ذہن واال حکمران کتنا ہی
غازی اور زاہد کیوں نہ ہو قوم اور وطن کو لے ڈوبتا ہے۔ یہی خطرہ مجھے عزالدین کی طرف سے نظر آرہا ہے''۔
میں اس توقع پر بات کررہا ہوں کہ نورالدین زنگی مرحوم کی بیوہ نے عزالدین کے ساتھ شادی کرلی ہے''۔ علی بن ''
سفیان نے کہا… ''آپ تک یہ اطالع پہنچ چکی ہے کہ محترمہ رضیع خاتون نے یہ شادی صرف اس لیے قبول کی کہ حلب
''اور موصل کی امارتیں ان کی فوجیں ہماری اتحادی رہیں۔ اس خاتون کو شادی کی اور کیا ضرورت ہوسکتی تھی؟
اس کے باوجود مجھے شک ہے''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''اور میرے شک کی وجہ یہ ہے کہ عزالدین صلیبیوں کے ''
خطرے کی برا ِہ راست زد میں ہے۔ وہ اپنے تحفظ کے لیے بھی صلیبیوں کا درپردہ اتحادی بن سکتا ہے۔ مجھے وہاں کی
اطالع جلدی ملنی چاہیے ۔ تم میری آنکھیں اور کان ہو علی ! میں نے اندھیرے میں کبھی پیش قدمی نہیں کی ''۔
کچھ دن اور انتظار کر لیا جائے''۔علی بن سفیان نے کہا ۔''
' … میں زیادہ دیر انتظار نہیں کروں گا ''۔ سلطان ایوبی نے کہا''
20:56
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔ 128سانپ اور صلیبی لڑکی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
میں زیادہ دیر انتظار نہیں کروں گا ''۔ سلطان ایوبی نے کہا …… '' تم جانتے ہو میں نے فوج کو تیاری کا حکم دے رکھا
ہے ۔ یہ تمہارے سامنے کی بات ہے کہ میں دان رات فوج کو جنگی مشقیں کرارہا ہوں ۔ پر راز کی یہ بات بھی ُسن لو کہ
میں حلب اور مو صل کی طرف نہیں جائوں گا ۔میرا ہدف اب بیروت ہوگا ۔ میں اب دفاعی جنگ نہیں لڑوں گا ۔ حلب
وغیرہ کے عالقوں میں اپنی فوج لے جانے کا مطلب یہ ہوگا کہ میں ان عالقوں کے دفاع کے لیے جا رہا ہوں ۔ اب میرا
انداز جارحانہ ہوگا ۔ بیروت فرنگیوں کا دل ہے ،ٹانگوں اور بازئوں پر وار کرنے کی بجائے کیوں نہ ہم دشمن کے دل پر ایک
ہی وار کرکے ختم کر دیں۔ اب میں قوم اور فوج کو جارحیت کی تربیت دے رہا ہوں۔ اپنے عالقوں میں لڑتے رہنے سے ہم
بیت المقدس تک کبھی نہیں پہنچ سکتے……معلوم کرو علی ! معلوم کرو۔ وہاں سے ابھی تک کوئی اطالع کیوں نہیں آئی ۔
مجھے دو راز درکار ہیں ۔ ایک یہ کہ بیروت میں فرنگی فوج کی سرگرمیاں کیا ہیں اور حلب میں ع ّز الدین کی نیت کیا
''ہے۔ کیا ہم ایک اور خانہ جنگی کی طرف تو نہیں بڑھ رہے ؟
بیروت میں اسحاق ترک ہے''۔ علی بن سفیان نے کہا …… ''وہ خود نہ آیا تو کسی اور کو بھیج دے گا ''۔ علی بن ''
سفیان نے کہا …… ''میں یہاں سے کسی کو روانہ کردیتا ہوں''۔
میں زیادہ دن انتظار نہیں کر سکتا علی !''سلطان ایوبی نے کہا …… ''یہاں سے کسی کو روانہ کرو گے ۔ وہ جائے گا ۔''
وہاں کے حاالت معلوم کرے گا اور واپس آئے گا ۔ اس میں کم از کم تین مہینے لگ جائیں گے ،میں چند دنوں تک فوج کو
کوچ کا حکم دے دوں گا ''۔
تو پھر آپ اندھیرے میں پیش قدمی کریں گے؟'' علی نے پوچھا ۔''
چھاپہ ماروں کو ہر اول سے بہت آگے پھیال کر رکھوں گا ''۔ ایوبی نے کہا …… '' میں اللہ کے حکم سے اللہ کی سر ''
زمین کی آبرو کی خاطر جا رہا ہوں۔ میں اپنی سالمتی کے لیے سفر میں آرام سے نہیں بیٹھ سکتا ''۔
یہ اپریل ١١٨٢ء کے دن تھے جب سلطان صالح الدین ایوبی اور علی بن سفیان اپنے اُن جاسوسوں میں سے کسی کا انتظار
بے تابی سے کر رہے تھے جو انہوں نے صلیبیوں کے مقبوضہ مسلمان عالقوں اور حلب وغیرہ میں بھیج رکھے تھے ۔ آپ
پیچھے پڑھ آئے ہیں کہ اس سے دو ماہ قبل نورالدین زنگی مرحوم کا بیٹا الملک الصالح جو والئی حلب بن کر سلطان ایوبی
کے خالف ہو گیا تھا ،مر گیا تھا ۔ سلطان ایوبی کے ساتھ جنگ نہ کرنے اور اُس کا اتحادی رہنے کے معاہدے کے باوجود وہ
درپردہ صلیبیوں کا حواری رہا تھا۔ اُس کی موت صلیبیوں اور سلطان ایوبی کے لیے بہت اہم واقعہ تھا۔ الملک الصالح نے مرنے
سے پہلے عزالدین مسعود کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا ۔ یہ واقعہ بھی اہم تھا اور سب سے زیادہ اہم یہ واقعہ ہوا تھا کہ
عزالدین کی خواہش کے مطابق نورالدین زنگی مرحوم کی بیوہ (الملک الصالح کی ماں) رضیع خاتون نے اُس کے ساتھ شادی
کرلی تھی ۔ رضیع خاتون شادی کی خاطر شادی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ سلطان ایوبی کے بھائی العادل نے اس تک عزالدین
کا پیغام لے کر ا ُسے کہا تھا کہ یہ شادی دمشق اور حلب کی ہوگی ،اس سے آئندہ خانہ جنگی کا خطرہ ختم ہو جائے گا
اور صلیبیوں کے خالف محاذ مضبوط کیا جاسکے گا ۔ رضیع خاتون یہ کہہ کر رضا مند ہوگئی تھی کہ میری ذاتی خواہشیں مر
ِ
عظمت اسالم کی خاطر ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوں۔
چکی ہیں ۔ میں
ا ُس نے قربانی دے دی اورعزالدین کے ساتھ شادی کرلی ۔ حلب اور موصل کی امارتوں پر بڑی مدت سے صلیبیوں کے اثرات
کا م کر رہے تھے جس کے نتیجے میں یہ امارتیں سلطان ایوبی کے خالف متحد ہوگئیں اور تین سال مسلمانوں میں خانہ
جنگی ہوتی رہی تھی ۔ آپ اس کی تفصیالت پڑھ چکے ہیں ۔ اب رضیع خاتون نے عزالدین کے ساتھ شادی کرلی تو صلیبیوں
کو یہ فکر الحق ہوئی کہ رضیع خاتون صلیبیوں کے سب سے بڑے دشمن زنگی کی بیوہ ہے اس لیے وہ حلب اور موصل اور
دیگر مسلمان عالقوں سے صلیب کے اثرات ختم کردے گی ۔ ادھر مصر میں سلطان ایوبی کو یہ پریشانی الحق تھی کہ صلیبی
جنگی کاروائی کریں گے۔ سلطان نے یہ بھی سوچا تھا کہ عرب سے اس کی غیر حاضری سے صلیبی فائدہ اٹھائیں گے۔
سلطان ایوبی نے حاالت کا اور آنے والے حاالت کا بھی جائزہ لیا اور یہ فیصلہ کیا کہ بیشتر اس کے کہ صلیبی پیش قدمی
کرکے حلب اور موصل کا محاصر ہ کرلیں ،وہ مصر سے برق رفتار پیش قدمی کرے اور بیروت کو محاصرے میں لے لے ،یہ بڑا
ہی نازک اور خطرناک فیصلہ تھا ۔ بیروت کو محاصرے میں لینے کے لیے اُسے فوج دشمن کے عالقے میں سے گزار کر لے
جانی تھی ۔ راستے میں ہی تصادم کا خطرہ تھا ۔ بہرحال سلطان ایوبی نے تمام خطروں کا جائزہ لے لیا تھا اور ہر قسم کی
ِ
صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار تھا ۔ اُس نے جاسوسوں کی اطالعات کے بغیر کم ہی کبھی پیش قدمی کی تھی
لیکن اب حاالت کا تقاضا کچھ اور تھا ۔ ا ُسے سب سے زیادہ ضرورت اس اطالع کی تھی کہ عزالدین کی نیت کیا ہے اور کیا
رضیع خاتون کا وہاں کوئی اثرپڑ رہا ہے یا نہیں ۔
علی بن سفیان کے بھیجے ہوئے جاسوس اناڑی نہیں تھے ۔ راز حاصل کرتے اور قاہرہ تک پہنچانے کے لیے وہ جان کی بازی
لگا دیا کرتے تھے۔ انہیں یہ سبق ہمیشہ یاد رہتا تھا کہ آدھی جنگ جاسوس جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی جیت لیا کرتے
ہیں اور یہ بھی کہ صرف ایک جاسوس کی کوتاہی یا غلط اطالع اپنی پوری فوج کو مروا سکتی ہے اور یہ بھی کہ صرف
ایک جاسوس دشمن کی فوج سے ہتھیار ڈلوا سکتا ہے ۔ علی بن سفیان کواسحاق ترک پر پورا پورا بھروسہ تھا ۔ یہ بھروسہ
بجا تھا ۔ اسحاق ترک بڑے ہی اہم راز لے کر قاہرہ کے لیے روانہ ہوا تھا ۔ وہ سلطان ایوبی کو خبر دار کرنے آرہا تھا کہ
بالڈون کا فرنگی لشکر بیروت کے ارد گرد دور دور تک پھیل گیا ہے اور عزالدین صلیبیوں کی طرف جھک رہاہے ،اس لیے
سلطان کہیں بیروت کی طرف فوج نہ لے جائیں اور اگر ا ُدھر کوہی پیش قدمی کا ارادہ ہو تو اسحاق ترک سلطان کو فرنگیوں
کی فوج کے پھیالئو اور پوزیشنوں کا نقشہ بتانے آرہا تھا …… مگر وہ راستے میں ہی صلیبی جاسوسوں کے گروہ کے جال میں
آگیا تھا ۔ ''آخر و ہ کیا اطالع ہے جو تم سلطان صالح الدین ایوبی تک لے جارہے ہو''……صلیبی جاسوسوں کے اس گروہ
کے سربراہ نے اسحاق ترک سے پوچھا اور کہا …… '' ہم بھی مسلمان ہیں ۔ سلطان کے وفادار اور شیدائی ہیں ۔ تمہارے
لیے گھوڑا تیار کھڑا ہے ۔ کھانے پینے کا سامان گھوڑے کے ساتھ باندھ دیا گیا ہے ''۔
اللہ ہمارے سلطان کو ایسے وفاداروں اور شیدائیوں سے محفوظ رکھے '' …… اسحاق نے کہا ۔ ''میں نے اس لڑکی کو ''
کہا تھا کہ آدھی رات کے کچھ دیر بعد مجھے جگا دینا ۔ میں فورا ً روانہ ہونا چاہتا تھا مگر تم نے مجھے جگا یا نہیں ۔ آدھا
دن گزر گیا ہے ۔ وقت الگ ضائع ہوا اور اب میں روانہ ہوا تو گھوڑا اتنا سفر طے نہیں کر سکے گا جتنا رات کو کر سکتا
''۔
تم بہت تھکے ہوئے تھے ''۔میرنیا نے پیار سے کہا …… ''تم ایسی گہری نیند سوئے ہوئے تھے کہ تمہیں جگانا ظلم ''
سمجھا ۔ گھوڑا اتنا اچھا ہے کہ جو وقت ضائع ہوا ہے گھوڑا اسے پورا کردے گا ''۔
اسحاق ترک کو ابھی یہ احساس نہیں ہوا تھا کہ جسے وہ تھکن کے بعد کی گہری نیند سمجھتا رہا ہے وہ کسی دوائی کے
اثر کی بے ہوشی ہے ۔ اتنا زیادہ وقت سونے کے بعد بھی اُس کا جسم ٹوٹ رہا تھا ۔ یہ دوائی کا اثر تھا جسے وہ تھکن
کا اثر سمجھ رہا تھا ۔ وہ سفر کے قابل نہیں تھا لیکن فورا ً روانہ ہونے کے لیے بے قرار تھا ۔ اُس کی آنکھ اس وقت کھلی
تھی جب سورج سر پر آیا ہوا تھا ۔ جاسوسوں کا سربراہ اور میرنیا اُس کے ہوش میں آنے سے پہلے ہی اُس کے پاس بیٹھ
گئے تھے ۔ ا ُس کی آنکھ کھلی تو اس کے ساتھ باتیں کرنے لگے ۔ انہوں نے ایسی باتیں کیں جن سے اسحاق ترک کو ان
پر ذرا سا بھی شبہ نہ ہوا۔ وہ انہیں مسلمان سمجھتا رہا لیکن وہ اُن کے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کررہا تھا کہ وہ
سلطان ایوبی کے لیے کیا اطالع لے کے جا رہا ہے۔
سربراہ باہر نکل گیا ۔ یہ اشارہ تھا کہ میرنیا اسے اپنے جادو سے رام کرے۔ اس دلکش لڑکی نے اُسے جذبات کو مشتعل
کردینے والے انداز سے کہا کہ وہ اسے دل و جان سے چاہنے لگی ہے اور بھی بہت کچھ کہا ۔
قاہرہ چل کر عشق و محبت کے لیے وقت نکال سکوں گا''
۔ اسحاق نے کہا …… ''اگر تم مجھے دل و جا ن سے چاہتی ہو تو مجھے فرض ادا کرنے میں مدد دو''۔ وہ اُٹھ '' :
کھڑا ہوا اور خیمے سے نکل گیا ،کہنے لگا ۔''مجھے فورا ً گھوڑا دو ''۔
کچھ کھا پی لو ''۔ میرنیا نے اسے بازو سے پکڑ کر خیمے میں واپس لے جاتے ہوئے کہا …… '' میں تمہیں بھوکا پیاسا''
تو نہیں جانے دوں گی ''۔ وہ اسحاق سے بغلگیر ہو گئی مگر اسحاق کو فرض نے پتھر بنا دیا تھا ۔ میرنیا نے اُسے بٹھا
دیا اور خیمے کے دروازے میں جا کر بلند آواز سے کہا …… ''کھانا فورا ً الئو ،وقت نہیں ہے ''۔
کھانا باربرا لے کر آئی اور اسحاق کے آگے رکھ کر پیچھے ہٹ گئی ۔ میرنیا اسحاق کے پاس بیٹھی تھی اور باربرا اُدھر جا
کھڑ ی ہوئی جدھر میرنیا کی پیٹھ تھی ۔ اسحاق نے کھانا کھاتے ہوئے باربرا کی طرف دیکھا ۔ باربرا نے ہاتھ میں چھوٹی
سی صلیب چھپا رکھی تھی ۔ ا ُس نے یہ صلیب اسحاق کو دکھائی ،اپنے سینے پر ہاتھ رکھا ۔ مرینا کی طرف اشارہ کیا پھر
باہر کو اشارہ کرکے انگلی ہالئی اور انگلی اپنے ہونٹوں پر رکھی ۔ وہ خیمے سے نکل گئی ۔ یہ اشارے اتنے واضح تھے کہ
اسحاق صاف سمجھ گیا کہ یہ سب صلیبی ہیں اور انہیں کچھ نہیں بتانا۔ وہ چونک اٹھا لیکن استاد تھا۔ اپنے رد عمل کا
اظہار نہ کیا ،شک پختہ ہو گیا ۔ اسے اس سوال کا جواب مل گیا کہ یہ لوگ اس پر اصرار کیوں کر رہے ہیں کہ وہ
سلطان ایوبی کے لیے کیا اطالع لے کر جا رہا ہے ۔ تب اسے یہ خیال بھی آیا کہ اسے نیند پر اتنا قابوتھا کہ ایسی بے
ہوشی کی نیند کبھی نہیں سویا تھا ۔ اسے جاگتے ہی ناک میں عجیب سے بُو بھی محسوس ہوئی تھی ۔ وہ جان گیا کہ
اسے سوتے میں ہی بے ہوش کر دیا گیا تھا ،مگر اسے اس سوال کا کوئی جواب نہ سوجھا کہ دوسری لڑکی اُسے یہ اشارے
کیوں کر گئی ہے ۔ کیا وہ کوئی مسلمان لڑکی ہے جو اُن کے جال میں پھنسی ہوئی ہے؟
میرنیااسے اپنی بڑی ہی پیاری باتوں اورمسحور کردینے والی مسکراہٹوں اورادائوں سے اپنے جال میں پھانسنے کی کوشش کر رہی
تھی اور اسحاق کا دماغ بڑی تیزی سے سوچ رہا تھا کہ وہ کیا کرے اور ان لوگوں سے کس طرح رہائی حاصل کرے ۔ اُس نے
میرنیا سے پوچھا کہ اس قافلے میں کتنے آدمی ہیں ۔ میرنیا نے بتا دیا ۔ کچھ اور باتیں پوچھیں اور کہا …… '' چلو مجھے
گھوڑا دو '' …… وہ باہر نکل گیا ۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ باہر کتنے آدمی ہیں اور اس کے نکل بھاگنے کے امکانات کیا ہیں
؟ باہر اس نے کوئی گھوڑا نہ دیکھا جو اُسے بتایا گیا تھا کہ اس کے لیے تیار کھڑا ہے۔ میرنیا اُس کے پاس آن کھڑ ی ہوئی
۔
گھوڑا کہا ں ہے؟'' اسحاق نے پوچھا ۔''
میں جا کر دیکھتی ہوں''۔وہ چلی گئی ۔''
٭ ٭ ٭
تم ٹھیک کہتے تھے ''۔میرنیا نے اپنے سربراہ کو جا کر بتایا ۔ ''یہ شخص پتھر ہے۔ وہ گھوڑے کے سوا کوئی بات نہیں''
کرتا ۔ ہم جو پوچھتے ہیں اس کا نام نہیں لینے دیتا ''۔
''اسے کوئی شک تو نہیں ہوا؟''
ابھی نہیں ''۔میرنیا نے جواب دیا ۔ ''لیکن وہ بتائے گا کچھ بھی نہیں ''۔''
اس کا مطلب کہ تم ناکام ہو گئی ہو''۔''
انہیں معلوم نہیں تھا کہ باربرانے ان سے انتقام لیا ہے اور اُس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ میرنیا کوئی جادوگرنی نہیں جو نا
ممکن کام بھی کر دکھائے گی۔ وہ تو یہ بھی سوچ رہی تھی کہ سلطان ایوبی کے اس جاسوس کو وہاں سے بھاگ جانے میں
مدد دے لیکن یہ ممکن نظر نہیں آتا تھا ۔
اسحاق پھر خیمے سے نکل گیا ۔ اس نے میرنیا اور اس کے سربراہ کو دیکھ لیا ۔ وہ دور کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ وہ اُن
کی طرف دوڑ ا گیا اور پوچھا کہ گھوڑا کہاں ہے۔
کہیں بھی نہیں ہے ''۔ سربراہ نے بالکل ہی بدلے ہوئے لہجے میں کہا…… '' تم کہیں بھی نہیں جا سکو گے ''۔''
اسحاق نے اپنی کمر پر ہاتھ رکھا ۔ وہاں نہ تلوار تھی نہ خنجر۔ اُس نے ان لوگوں کو اصلیت جان لینے کے باوجود کہا ……
''میں حیران ہوں کہ تم مسلمان ہوتے ہوئے میرے راستے میں آرہے ہو''۔
اگر ہم سے عزت کرانا چاہتے ہو تو بتادو کہ اپنے سلطان کے لیے کیا پیغام لے کر جا رہے ہو''۔سربراہ نے پوچھا۔''
صرف اتنا سا پیغام ہے کہ ہمارے ایک امیر عزالدین نے نورالدین زنگی کی بیوہ کے ساتھ شادی کر لی ہے ''۔ اسحاق ''
نے کہا ۔
یہ خبر پرانی ہو گئی ہے ''۔ سربراہ نے کہا …… ''تمہارا سلطان دو ماہ گزرے یہ خبر سن چکا ہے اور وہ اپنی فوج کو''
شام میں لڑانے کے لیے تیار کر رہا ہے ۔ صحیح بات بتائو''۔
کیا تم صحیح بات بتا دیا کرتے ہو؟''اسحاق ترک نے پوچھا۔''
تمہیں صحیح بات بتانی ہوگی''۔سربراہ نے کہا …… ''اور تمہیں ہمارے ساتھ چلنا ہوگا ۔ تم نہتے ہو۔ نہتے نہ بھی ہوتے''
تو اتنے آدمیوں سے لڑ نہ سکتے …… سنو دوست! میں تمہارے زندہ رہنے اور شہزادوں کی طرح زندہ رہنے کی ایک صورت
پیدا کر سکتا ہوں ۔ میری تجویز منظور کر لو۔ ہمارے ساتھ چلو۔ ہمارے لیے یہی کام کروجو صالح الدین ایوبی کے لیے کر
رہے ہو اور زروجواہرات میں کھیلو''۔ اس نے میرنیا کی طرف اشارہ کرکے کہا …… ''اس قسم کی لڑکیاں تمہاری خدمت کے
لیے حاضر رہا کریں گے۔ کیوں صحرائوں میں مارے مارے پھر رہے ہو''۔
''میں صلیب کے لیے کام کروں؟''
نہیں کرو گے تو ہمارے کسی قید خانے کے تہہ خانے میں بند رہو گے ''۔سربراہ نے کہا ۔'' وہ ایسی جہنم ہوگی کہ نہ''
مرو گے نہ جیو گے ۔ تم اس سزا کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ تصور بھی خوفناک ہوگا ۔ سوچ لو اور ہمارے ساتھ چلو ۔
تم واپس تو نہیں جا سکو گے ''۔
تم مجھ پر کس طرح اعتماد کرو گے ''۔اسحاق ترک نے کہا …… ''میں تمہارے گروہ میں شامل ہو جائوں تو مجھے ''
میرے ہی عالقے میں بھیجو گے۔ تم کس طرح یقین کرو گے کہ میں اپنے ہی عالقے میں نہیں رہ جائوں گا اور تمہیں دھوکہ
نہیں دوں گا ''۔
ہمارے پاس اس کا انتظام ہے ''۔ صلیبی سربراہ نے کہا ۔ ''تم اپنے عالقے کی بات کرتے ہو ،ہم تمہیں تمہارے گھر کے''
تہہ خانے سے بھی نکال الئیں گے ۔ تمہارا خیال ہے کہ تمہارے ملک میں ہمارے جتنے جاسوس ہیں ۔ ان میں تمہارے ملک
کا کوئی باشندہ نہیں ؟ دس جاسوسوں کے ایک گروہ میں صرف دو آدمی ہمارے اور دس تمہارے اپنے بھائی ہوتے ہیں ۔ ان
میں سے کوئی ہمیں دھوکہ دینے کی جرٔات نہیں کر تا۔ وہ جانتے ہیں کہ ایسی جرٔات کرنے والے کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ ہم
صرف ا ُسے قتل نہیں کرتے ۔ سب سے پہلے اس کے بیوی بچوں کوایک ایک کرکے قتل کرتے اور ہر الش اُس کے سامنے
رکھ دیتے ہیں اور جو ہمارے وفادار رہتے ہیں ان کے لیے یہ دنیا بہشت بنی رہتی ہے۔ اُن میں سے جو پکڑا جا تا ہے اُس
کے گھر والوں کے گھر جا کر وہاں ہم نقدی کے انبار لگا دیتے ہیں ''۔
''مجھے سوچنے دو''۔ اسحاق نے کہا …… ''یہاں سے کب روانگی ہوگی؟''
آج ہی ''۔سربراہ نے کہا …… ''آدھی رات کے بعد ۔ تم سوچ لو ۔ یہ بھی سوچ لینا کہ انکار کے بعد تم آزاد نہیں ہو ''
سکو گے''۔
میں جانتا ہوں''۔''
اور تمہیں یہ بھی بتانا پڑے گا کہ کیا راز لے کے جا رہے ہو''۔ سربراہ نے کہا ۔''
بتا دوں گا ''۔اسحاق نے جواب دیا ۔ ''میرا ذہن بہت حدتک آمادہ ہو گیا ہے''۔''
جائو ۔ ابھی آرام کرو''۔ سربراہ نے کہا ۔''
اسحاق ترک خیمے کی طرف چل پڑا ۔
٭ ٭ ٭
دو ماہ پہلے کا ذکر ہے کہ عزالدین نے نورالدین زنگی کی بیوہ رضیع خاتون کے ساتھ شادی کر لی تو رضیع خاتون کو اس
شادی کی صرف یہ خوشی تھی کہ وہ عزالدین کو اپنے زیر اثر رکھے گی اور حلب کی افواج سلطان ایوبی کی افواج کی
اتحادی بن جائیں گی۔ خانہ جنگی میں مسلمانوں کی فوجوں کی بڑی ہی کارآمد نفری ماری گئی تھی ۔ اتنی زیادہ جنگی قوت
ضائع ہوئی جو صلیبیوں کو سرزمین عرب سے نکال سکتی تھی اور فلسطین کو آزاد کرایا جا سکتا تھا ۔ رضیع خاتون کو توقع
تھی کہ عزالدین ا ُسے اپنامشیر بنا لے گا مگر شادی کے کے پہلے روز جب رضیع خاتون نے اُس کے ساتھ اس قسم کی باتیں
کیں تو اس نے دیکھا کہ عزالدین کوئی دلچسپی نہیں لے رہا ۔ اس کے انداز میں اکتاہٹ تھی ۔ وہ اس کمرے میں سویا بھی
نہیں ،محل کے کسی اور کمرے میں چال گیا ۔
رضیع خاتون نے اُس کا یہ رویہ اس لیے برداشت کر لیا کہ اُس نے امارت کو ابھی ابھی ہاتھ میں لیا ہے اس لیے مصروف
بھی ہوگا اور اُس کا ذہن امارت کے جھمیلوں میں اُلجھا ہوگا ۔ وہ خود امارت کے مسئلو ں میں ،خصوصا ً فوج کے معامالت
میں دلچسپی لینا اور کام کرنا چاہتی تھی ۔نورالدین زنگی کی زندگی میں اُس نے بہت کام کیے تھے ۔ اُس نے دمشق کی
جوان لڑکیوں کو جنگی تربیت دے رکھی تھی ۔ وہ صحیح معنوں میں مجاہدہ تھی ۔ اس لیے وہ سلطان ایوبی کی مرید
تھی ۔
صبح ہوئی تو وہ اپنے کمرے سے نکلی۔ ٹہلتی ٹہلتی محل کے اندر اندر کچھ دور چلی گئی۔ بہت بڑا محل تھا ۔ اُسے دور
ایک باغیچہ نظر آیا ۔ اس میں پانچ چھ جوان لڑکیاں ہنس کھیل رہی تھیں ۔ وہ ابھی اُن سے ُدور ہی تھی ۔ ایک ادھیڑ
عمر عورت جس کا چہرہ کرخت سا تھا وہ دوڑی آئی اور رضیع خاتون سے کہنے لگی ۔ ''آپ اپنے کمرے میں چلی
جائیں''۔
''کیوں؟''
محترم امیر کا یہی حکم ہے ''۔ عورت نے بتایا …… ''آئیے ،میں آپ کو وہ جگہ بتا ئوں جہاں آپ گھوم پھر سکتی ''
ہیں ۔ انہوں نے سختی سے حکم دیا ہے کہ آپ کو ادھر نہ آنے دیا جائے ''۔
اگر میں حکم نہ مانوں تو کیا ہوگا ؟''رضیع خاتون نے پوچھا۔''
مجھے گستاخی کا موقع نہ دیں ''۔عورت نے التجا کے لہجے میں کہا …… ''مجھے آقا کا حکم ماننا ہے اور منوانا بھی ''
ہے ''۔
ایک اور ادھیڑ عمر عورت آگئی۔ وہ رضیع خاتون کے پاس ُرک گئی۔ اُس نے رضیع خاتون کو ساتھ لیا اور اُس کے کمرے میں
لے آئی ،کہنے لگی …… '' میں آپ کی خادمہ ہوں اورمجھے ہر وقت آپ کے پاس رہنے کا حکم مال ہے اور یہ حکم
مجھے بھی مال ہے کہ آپ کو ایک خاص حد سے زیادہ باہر نہ جانے دیا جائے ''۔ رضیع خاتون سٹپٹا اُٹھی ۔ اس کی
خادمہ نے کہا …… '' آپ گھبرائیں نہیں ۔ میں جانتی ہوں آپ کیا کیا خواب دیکھ کر یہاں آئی ہیں ۔ آپ کا ہر خواب
خواب ہی رہے گا ۔ مجھے اپنا ہمدرد اور ہمراز سمجھیں۔ اس محل پر صلیبیوں کے گھنائونے سائے پڑے ہوئے ہیں ۔ آپ کا
بیٹا ان کے ہاتھ میں کھلونا بنا رہا ،اب نیا امیر بھی جو آپ کا خاوند ہے صلیبیوں کا حاشیہ بردار بنے گا ۔ یہاں کے بہت
سے وزیر اور مشیر صلیبیوں کے زیر اثر ہیں ''۔
صالح الدین ایوبی کے متعلق محل کے لوگوں کی کیا رائے ہے ؟'' رضیع خاتون نے پوچھا …… کیا اُس کا کہاں کچھ اثر ''
نہیں ؟
اتنا نہیں جتنا صلیبیوں کا ہے ''۔ خادمہ نے رازداری سے کہا ……''محل میں سلطان صالح الدین ایوبی کے جاسوس ''
موجود ہیں ۔ میں خود اسی گروہ سے تعلق رکھتی ہوں ۔ آپ کو میں اچھی طرح سے جانتی ہوں ،اسی لیے آپ کو بتا دیا
ہے کہ میں کیا ہوں۔ میں ابھی آپ کو ساری باتیں نہیں بتائوں گی ۔ آپ عزالدین سے شکایت کریں کہ آپ کو اُس نے اس
کمرے کا قیدی کیوں بنا لیا ہے '' ۔
وہ تو میں کروں گی ''۔''
آپ پر اس کی نیت واضح ہو جائے گئی ''۔ خادمہ نے کہا …… '' بعد کے حاالت تصدیق کر دیں گے کہ میں جھوٹ ''
نہیں بول رہی ۔ حقیقت یہ ہے کہ عزالدین نے آپ کے ساتھ شادی صرف اس لیے کی ہے کہ وہ آپ کو اپنا قیدی بنا لے۔
وہ سلطان صالح الدین ایوبی کے ساتھ آپ کا تعلق ہمیشہ کے لیے توڑنا چاہتا تھا اور وہ آپ کو دمشق سے نکالنا چاہتا تھا ۔
دمشق کے لوگ سلطان صالح الدین ایوبی کے حمائتی اس لیے ہیں کہ آپ وہاں موجود تھیں۔ اب یہ ٹولہ دمشق کے لوگوں کو
سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف اُکسائے گا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مسلمان ایک بار پھر خانہ جنگی میں کٹنے لگیں
گے اور صلیبی اطمینا ن سے ہمارے عالقوں پر چھا جائیں گے ''۔
کیا یہ اطالع سلطان صالح الدین ایوبی تک پہنچائ جا سکتی ہے ؟'' رضیع خاتون نے پوچھا ۔ '' :
یہ انتظام کیا جا چکا ہے ''۔ خادمہ نے جواب دیا ۔ '' ہمارے گروہ کے کماندار نے ایک بڑے ہی دانشمند اور دلیر ''
آدمی کو بال بھیجا ہے۔ اس کا نام اسحاق درویش ہے ۔ وہ ترک ہے۔ میں اُسے اچھی طرح جانتی ہوں ۔ آپ کے بیٹے کی
وفات کے بعد وہ صلیبیوں کے عالقوں میں یہ دیکھنے کے لیے نکل گیا کہ صلیبیوں کہ عزائم کیا ہیں ۔ وہ آجائے گا ''۔
''مجھے مل سکے گا ؟''
ضرور ملوائوں گی '' ۔ خادمہ نے جواب دیا …… '' مجھے اپنے کماندار نے کہا تھا کہ یہ باتیں آپ کو بتادوں ''۔ ''
خادمہ نے رضیع خاتون کو محل کی اندرونی دنیا کے اِسرار بتا کر اُس کے پائوں تلے سے زمین نکال دی ۔ وہ اُن خوابوں
سے بیدار ہوگئی جو دیکھ کر اُس نے والئی حلب عزالدین کے ساتھ شادی کر لی تھی ۔ رضیع خاتون عظیم عورت تھی ۔
پاسبان اسالم صالح الدین ایوبی کی طرح رضیع خاتون
اسالم کی تاریخ سازمجاہدہ تھی ۔ اپنے مرحوم خاوند نورالدین زنگی اور
ِ
ِ
سلطنت اسالمیہ کے اتحاد اور وسعت کے لیے پیدا ہوئی تھی ۔ اگر خادمہ نے اُسے
بھی جیسے صلیبیوں کے خالف لڑنے اور
جو راز بتا یا وہ حقیقت تھا تو اس عظیم مجاہدہ کی کمند ٹوٹ چکی تھی اور اُس کی تلوار کند کرکے اسے قیدی بنا لیا گیا
تھا ۔ اس کی نوجوان بیٹی شمس النساء اسی محل میں تھی جس کے ساتھ ابھی اس کی مالقات نہیں ہوئی تھی ۔
یہاں ہم آپ کو یاد دالدیں کہ شمس النساء کی عمر اپنے باپ نورالدین زنگی کی وفات کے وقت آٹھ نو سال تھی ۔ اُس کا
بڑا ( اور واحد) بھائی الملک الصالح گیارہ سال کا تھا جسے زنگی کی وفات کے بعد مفاد پرست امراء اور فوجی حکام نے
ِ
صورت حال پر قابو پانے کے لیے مصر
سلطان بنا دیا تھا۔ اسے وہ کٹھ پتلی بنانا چاہتے تھے ۔ سلطان ایوبی اس تباہ کن
سے آیا ۔ یہ ایک قسم کی فوج کشی تھی ۔ زنگی کی بیوہ رضیع خاتون کی کوششوں سے دمشق پر سلطان ایوبی کا قبضہ
ہوگیا ۔ الملک الصالح اپنی فوج کی بہت سی نفری کے ساتھ بھاگ کر حلب چال گیا ۔ اپنی بہن شمس النساء کو بھی ساتھ
لے گیا ۔ ا ُن کی ماں دمشق میں رہی اور صلیبیوں کے خالف جہاد میں مصروف رہی ۔ شمس النساء پندرہ سولہ برس کی ہوئی
تو اس کا بھائی بیمار ہو کر نزع کے عالم میں جا پہنچا۔ اُس نے ماں سے مالقات کی خواہش ظاہر کی ۔ شمس النساء
دمشق اپنی ماں کے پاس گئی اور کہا کہ اُس کا اکلوتا بھائی ا ُسے ملنا چاہتا ہے۔ رضیع خاتون نے صاف انکار کر دیا اور کہا
کہ اُس کے لیے وہ اُسی روز مر گیا تھا جس روز وہ سلطان بنا اور اس نے صالح الدین ایوبی کے خالف تلوار اُٹھائی تھی ۔
شمس النساء واپس چلی گی …… اس کا بھائی الملک الصالح مر چکا تھا ۔
اب شمس النساء کی ماں رضیع خاتون اسی محل میں جہاں اس کا بیٹا مرا تھا اپنے بیٹے کے جانشین عزالدین کی بیوی بن
کر آئی ۔ ا ُسے اپنی بیٹی جو اسی محل میں ہی ہو سکتی تھی ،ملنے نہ آئی۔ رضیع خاتون نے خادمہ سے پوچھا کہ اس
کی بیٹی کہاں ہے اور کیا وہ اسے مل سکتی ہے؟
وہ یہیں ہے''۔ خادمہ نے جواب دیا …… '' یہ آپ اپنے آقا سے پوچھ لیں کہ آپ شمس النساء سے مل سکتی ہیں یا ''
'' نہیں۔ اگر اس پر بھی پابندی ہوئی تو میں چوری چھپے مالقات کرادوں گی
تم اپنے گروہ کے جس کماندار کا ذکر کیا ہے اس کے ساتھ میری مالقات ہو سکتی ہے ؟'' رضیع خاتون نے پوچھا۔ ''
کچھ دن گزر جانے دیں ''۔ خادمہ نے جواب دیا۔ ''یہ پتہ چل جائے کہ آپ پر کیا کیا پابندی عائد ہوتی ہے ۔ آنے ''
والے حاالت کے مطابق ہر ایک مشکل کا حل نکل آئے گا ۔ آپ کی شادی اچانک ہوئی اور اتنی جلدی ہوئی کہ ہم سب کہ
کو بعد میں خبر ہوئی ورنہ آپ کو پہلے ہی خبردار کر دیا جاتا تا کہ شادی کی پیش کش کو قبول نہ کریں ''۔
اور میں یہ کس طرح یقین کر لوں کہ تم میری ہمدرد ہو اور میرے ہی خالف جاسوسی نہیں کر رہی؟'' رضیع خاتون نے ''
پوچھا۔
خادمہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔ رضیع خاتون کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی …… ''اگر میں کوئی امیر کبیر
عورت ہوتی ،کسی محل کی شہزادی ہوتی ،کسی شہزادے کی بیوی ہوتی اور میری حیثیت آپ جتنی ہوتی تو آپ مجھ سے
ایسا سوال کبھی نہ پوچھتیں۔ آپ ہر جھوٹ کو سچ مان کر دھوکے کا شکار ہوجاتیں ،میری حیثیت ایسی ہے کہ میرا سچ
بھی جھوٹ لگتا ہے ۔ کیا آپ کو ابھی تجربہ نہیں ہوا کہ صداقت اور جذبہ صرف غریبوں کے دلوں میں رہ گیا ہے ؟ آپ کو
آنے والے حاالت بتائیں گے کہ آپ کو کس پر اعتبار کرنا چاہیے۔ ایک غریب خادمہ پر یا حلب کے بادشاہ پر جو آپ کا
خاوند ہے ۔ آپ مجھ پر اعتبار کرنے کا خطرہ مول لے لیں ،اور ُدعا کریں اللہ آپ کی اور ہماری مدد کرے ''۔
خادمہ کمرے سے نکل گئی ۔ رضیع خاتون اُلجھے ا ُلجھے خیالوں میں بھٹکتی رہی گئی۔ وہ کمرہ جس کی سجاوٹ اور جس کا
سامان شاہانہ تھا اُسے جہنم کی طرح نظر آنے گیا ۔
دو تین روز رضیع خاتون کو عزالدین نظر نہ آیا۔ اُسے کمرے میں کھانا وغیرہ پہنچایا جاتا رہا۔ خادمائیں اُس کی حاضری میں
کھڑی رہیں۔ اس کے آرام اور دیگر ضروریات کا خیال اس طرح رکھا جاتا جیسے وہ کوئی ملکہ ہو مگر یہ شہنشاہی اُسے ذہنی
اذیت دے رہی تھی ۔ وہ ایک سلطان کی بیوہ تھی ۔ اس کی زندگی میں بھی اُس نے اپنے آپ کو کبھی ملکہ یا شہزادی
میدان جنگ میں جائے ،صحرائوں میں لڑے اور اُسے
نہیں سمجھاتھا۔ اُس کی صرف یہ خواہش تھی کہ مردوں کے دوش بدوش
ِ
شہیدوں میں سے اُٹھایا جائے۔
عزالد ین اس کے کمرے میں آگیا اور مصروفیت کی بنا پر اتنے دن نہ آسکنے کی معذرت کی ۔
ایک روز
ّ
میں نے آپ کی غیر حاضری کی شکایت تو نہیں کی ''۔ رضیع خاتون نے کہا …… ''میں دلہن بن کے نہیں آئی ۔ ''
میرے دل میں ایسی بھی کوئی خواہش نہیں کہ آپ ہر وقت میرے ساتھ رہیں یا ہر رات میرے ساتھ گزاریں ۔ میری آدھی سے
زیادہ ازدواجی زندگی تنہائی میں گزری ہے۔ نورالدیّن زنگی مرحوم محاذ پر رہتے تھے اور میں اُن کے نہیں اُن کی الش کے
انتظار میں رہتی تھی ۔ محاذ پر نہ ہوں تو سلطنت کے کاموں اور فوج کی تربیت میں مصروف رہتے تھے ،لیکن وہاں میں
بھی مصروف رہتی تھی ۔ سلطنت کے بعض کاموں کی نگرانی اور شہیدوں کے گھروں کی دیکھ بھال میرے سپرد تھی۔ میں
جوان لڑکیوں کو زخمیوں کی مرہم پٹی ،تیغ زنی ،تیر اندازی اور گھوڑ سواری کی تربیت دیتی تھی ۔ وہاں میں ایک کمرے
میں قید نہیں تھی جس طرح یہاں کر دی گئی ہوں۔ یہ قید مجھے پسند نہیں''۔
میں یہ نہیں کہتا کہ نورالدین زنگی مرحوم نے سلطنت کے کوئی کام اپنی بیوی کے سپرد کرکے اچھا نہیں کیا تھا''۔ ''
عزالدین نے کہا …… '' لیکن میں کسی سے نہیں کہلوانا چاہتا کہ حلب کی قسمت بنانے اور بگاڑنے میں ایک عورت کا ہاتھ
ہے۔ تم میری بیوی ہو۔ میں تم پر کوئی ایسا بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا جس کا تعلق ازدواجی زندگی سے نہیں ''۔
چونکہ رضیع خاتون کو عزالدین کی نیت کا پتہ خادمہ سے چل چکا تھا اس لیے اس نے اپنے اس دوسرے خاوند کی ایسی
باتوں سے اپنے آپ کو اس خود فریب میں مبتال نہ کیا کہ وہ پیار کا اظہار کر رہاہے۔ وہ ایک بار ،آج ہی ،اُس کی نیت کو
بے نقاب کرنے کا ارادہ کیے ہوئے تھی ،وہ کم عمر نہیں پختہ کار عورت تھی ۔
مگر جس طرح مجھے اس کمرے میں قید کر دیا گیا ہے یہ مجھے پسند نہیں ''۔ رضیع خاتون نے کہا ۔ ''میں آپ ''
کے حرم کی کوئی زرخرید لڑکی نہیں ''۔
رضیع خاتون! '' عزالدین نے کمرے میں ٹہلتے ہوئے کہا …… ''تمہیں ازدواجی زندگی ذہن سے اتارنی ہوگی جو تم نے ''
زنگی مرحوم کے ساتھ گزاری ہے ۔ انہوں نے تمہیں جو آزادی دے رکھی تھی ،وہ مجھے پسند نہیں اور یہ کسی بھی خاوند
کو پسند نہیں آسکتی …… کیا تم باہر گھومنا پھرنا چاہتی ہو؟ چار گھوڑوں کی بھگی موجود ہے۔ جب چاہو باہر جا سکتی ہو
''۔
جسے محل کے اندر گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں اُسے باہر جانے کی اجازت کیسے مل سکتی ہے؟'' رضیع خاتون نے ''
پوچھا …… '' کیا واقعی آپ نے حکم دیا ہے کہ میں محل کے اندر کہیں نہیں جا سکتی ''۔
میں نے یہ حکم تمہاری سالمتی کے لیے دیا ہے ''۔عزالدین نے جواب دیا …… '' تم جانتی ہو کہ حلب اور دمشق میں''
کیسی خونریز خانہ جنگی ہوئی تھی ۔ سلطان ایوبی نے تمہارے بیٹے کو شکست دے کر اُسے اطاعت کا معاہدہ کرنے پر مجبور
کر دیا تھا مگر یہاں کے لوگوں کے دلوں سے وہ دشمنی نکلی نہیں۔ محل کے اندر ایسے افراد موجود ہیں جو تمہیں اور
سلطان ایوبی کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں ۔ سلطان ایوبی کی فوج کے ہاتھوں اُن کے گھر تباہ ہوئے اور اُن کے جوان بیٹے
مارے گئے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ تم سلطان ایوبی کی حامی ہو اور دمشق پر تم نے قبضہ کرایا تھا ۔ اِن میں سے کوئی
بھی تمہیں قتل یا اغوا کر سکتا ہے ''۔
وہ آپ کو بھی قتل کر سکتے ہیں کیونکہ آپ صالح الدین ایوبی کے دوست اور اتحادی ہیں ''۔ رضیع خاتون نے کہا ……''
'' تو کیا ہمارا یہ فرض نہیں کہ اس قسم کے افراد کو جو اتحا ِد اسالمی کے خالف ہیں ،پکڑا جائے؟ کیا آپ کے پاس
''ایسے جاسوس اور مخبر نہیں جو تخریبی عناصر کا سراغ لگا کر انہیں پکڑوا سکیں ؟
میں تمام انتظامامت کر رہا ہوں''۔ عزالدین نے ایسے لہجے میں کہا جو اکھڑا کھڑا سا تھا جیسے اس کے پاس کوئی ''
معقول جواب نہیں تھا ۔ ''میں تمہاری جان خطرے میں نہیں ڈانا چاہتا''۔
کیا یہ خطرہ محل کے صرف اندرہے ؟'' رضیع خاتون نے پوچھا ۔ '' آپ نے مجھے چار گھوڑوں کی بگھی پر جہاں میں''
چاہوں باہر گھومنے پھرنے کی اجازت دے دی ہے ۔ کیا باہر مجھے کوئی قتل یا اغوانہیں کر سکے گا ؟'' …… عزالدین کچھ
جواب دینے ہی لگا تھا ۔ رضیع خاتون نے اسے بولنے نہ دیااور کہا …… '' میں نے آپ کے ساتھ شادی صرف اس لیے کہ
ہے کہ نورالدین زنگی مرحوم اپنا جو مقصد ادھورا چھوڑ کر فوت ہو گئے ہیں ،وہ آپ ،سلطان صالح الدین ایوبی اور میں مل
کر پورا کریں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اگر ابھی تک آپ کے زیر سایہ ایسے عناصر پرورش پا رہے ہیں جو ایک اور خانہ
جنگی کے لیے زمین ہموار کر رہے ہیں تو ان کا خاتمہ کیا جائے اور قوم میں اتحاد پیدا کرکے صلیبیوں کو اس سرزمین سے
بے دخل کیا جائے ''۔
''کیا تمہیں یہ شک ہے کہ میں سلطان ایوبی کا اتحادی نہیں؟''
کیا آپ مجھے یقین دالسکتے ہیں کہ اس محل پر صلیبیوں کے وہ اثرات جو میرے بیٹے نے پیدا کیے تھے ختم ہو گئے ''
''ہیں ؟'' رضیع خاتون نے پوچھا۔ ''کیا آپ کے تمام امراء اور ساالر بغداد کی خالفت کے وفادار ہیں ؟
تم یہاں سفیر بن کے آئی ہو یا میری بیوی؟''عزالدین نے قدرے طنز سے کہا۔''
میں جو ارادے لے کے آئی ہوں وہ بتا چکی ہوں''۔ رضیع خاتون نے کہا …… ' میں اپنے بطن سے آپ کے بچے پیدا ''
کرنے اور صرف بیوی بن کے اس کمرے میں رہنے کے لیے نہیں آئی۔ میں محل میں گھوم پھر کر یہ معلوم کرنا چاہتی ہوں
کہ حلب صلیب کے سائے سے محفوظ ہے۔ اگر نہیں تو اس کو محفوظ کرنا ہے۔ میں اپنے اس ارادے سے باز نہیں آسکوں
گی ''۔
میں تمہیں ایک بار پھر کہتا ہوں کہ میرے کسی کام میں دخل نہ دینا ''……عزالدین نے کہا …… '' تم میری بیو ی اور''
یہی تمہاری حیثیت رہے گی۔ اگر تم آزاد ہونے کی کوشش کروگی تو میں نے تمہیں بگھی پر باہر جانے کی جو اجازت دی
ہے وہ روک لونگا ''۔
''اگر میں یہ شرط قبول نہ کروں تو؟''
تو اس کمرے میں قید رہو گی ''۔ عزالدین نے جواب دیا …… '' تم مجھ سے طالق نہیں لے سکتی اور میں تمہیں '' :
طالق نہیں دوں گا ''۔ عزالدین باہر نکل گیا ۔ ''آپ نے غلطی کی ہے ''۔خادمہ نے رضیع خاتون سے کہا ۔ خادمہ
پچھلے دروازے کے ساتھ کان لگا ئے عزالدین اور رضیع خاتون کی باتیں ُسن رہی تھی ۔ عزالدین باہر نکل گیا تو خادمہ
پچھلے دروازے سے اندر آگئی۔ اس نے کہا …… '' اگر آپ ضد کریں گی تو یہ شخص آپ کو فی الواقع ایسی قید میں ڈال
دے گا جو ہوگی آزادی مگر قید سے بدتر ہوگی۔ اب آپ نے ان کی نیت جان لی ہے۔ اب ان کے ساتھ اس سلسلے میں
کوئی بات نہ کریں۔ ان کے سامنے خوش رہیں۔ بظاہر بے حس ہوجائیں۔ آپ جو ارادے لے کے آئی ہیں وہ ہم پورے کریں گے
…… مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی کہ آقا نے آپ کو بگھی پر باہر جانے کی اجازت دے دی ہے۔ ہم آپ کو اپنے کماندار
سے ملوائیں گے اور اگر اسحاق ترک آگیا تو اس کی بھی مالقات آپ سے کرائیں گے ''۔
دروازہ آہستی سے کھال۔ دونوں نے دیکھا۔ رضیع خاتون کی بیٹی شمس النساء تھی ۔ وہ دروازے میں ُرکی ۔ اس کے ہونٹوں پر
مسکراہٹ آئی مگر آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ مسکراہٹ آنسوئوں میں بہہ گئی۔ ماں نے آگے بڑھ کر بیٹی کو گلے لگا لیا اور
دونوں کی ہچکیاں سنائی دینے لگیں۔ خادمہ باہر نکل گئی ۔ کچھ دیر دونوں الملک الصالح کو یاد کرکے روتی رہیں ۔
تم اتنے دن کہاں رہی ''۔رضیع خاتون نے پوچھا۔''
چچا (عزالدین )نے آپ سے ملنے سے منع کردیا تھا ''۔ ''
''وجہ پوچھی تھی اُن سے؟''
انہوں نے گول گول اور مہمل سی وجہ بتائی تھی ''۔ شمس النساء نے جواب دیا …… '' ابھی ابھی انہوں نے کہا ہے ''
کہ اپنی ماں کے پاس جاتی رہا کرو۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ میں بہت مصروف ہوتا ہوں ،تم اپنی ماں کے ساتھ زیادہ
وقت گزارا کرو''۔
انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اپنی ماں پر نظر رکھا کرو اور مجھے بتایا کرو کہ اس کے پاس کون آتا ہے اور کیا باتیں ہوتی ''
''ہیں؟
ہاں''۔ شمس النساء نے معصومیت سے جواب دیا …… '' انہوں نے کچھ ایسی باتیں کیں تو تھی جو میں سمجھ نہیں ''
سکی ۔ میں نے کہہ دیا تھا کہ اچھا بتایا کروں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ تمہاری ماں ضدی ،وہمی اور جھگڑالو معلوم
ہوتی ہے ،اُسے یہ بتایا کروکہ میں بہت مصروف اور پریشان رہتا ہوں ''۔
سنو بیٹی !'' رضیع خاتون نے کہا …… '' اب یہ معصومیت اور بھولپن ترک کردو ۔ تم جوان ہوگئی ہو ۔ میں یہ نہیں ''
کہوں گی اب تمہاری شادی ہو جانی چاہیے۔ مجاہدوں کی بیٹیوں کے ہاتھ پر لہو کی مہندی لگا کرتی ہے۔ زندہ قوموں کی
میدان جنگ سے اُٹھا ئی جاتی ہیں۔تمہاری بد نصیبی یہ ہے تم اپنے
بیٹیوں کی ڈولی کم ہی اُٹھا کرتی ہے۔ اُن کی الشیں
ِ
بھائی اور اس کے مشیروں کے سائے میں پل کر جوان ہوئی ہو۔ یہ سب غدار ہیں۔ تمہارا بھائی بھی غدار تھا ۔ تم نے اپنے
بھائی کی فوج کو اپنے باپ کی فوج اور صالح الدین ایوبی کے خالف لڑتے دیکھاہے۔ تمہارا بھائی ،جسے میں اپنا بیٹا کہنے
سے شرمندگی محسوس کرتی ہوں ،صلیبیوں کا دوست تھا۔ ان صلیبیوں کا دوست جو تمہارے مذہب کے دشمن ہیں۔ تمہارا باپ
ساری عمر اُن کے خالف لڑتا رہا ہے ''۔
بھائی الصالح کہا کرتا تھا کہ صلیبی بڑے اچھے لوگ ہیں ''۔ شمس النساء نے کہا …… '' وہ صالح الدین ایوبی کے ''
خالف باتیں کیا کرتا تھا ''۔
20:56
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 129سانپ اور صلیبی لڑکی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وہ صالح الدین ایوبی کے خالف باتیں کیا کرتا تھا ماں نے شمس النساء کو بتایا کہ صلیبیوں کے عزائم کیا ہیں اور یہ بھی
کہ ا ُن کی دوستی میں بھی دشمنی ہے۔ رضیع خاتون بولتی جا رہی تھی اور شمس النساء کی آنکھیں کھلتی جا رہی تھیں۔
ماں کا ایک ایک لفظ بیٹی کے دل میں اترتا جا رہا تھا ۔ اس میں مامتا کا سحر بھی شامل تھا جس سے بیٹی مسحور
ہوتی جا رہی تھی۔
رسول ۖ خدا کا کلمہ نہیں پڑھتی ''
مسلمان کا کوئی دوست نہیں ''۔رضیع خاتون نے کہا ۔ ''دنیا کی ہر وہ قوم جو
ِ
مسلمانوں کی دشمن ہے اور ان کی دشمنی کی سب سے زیادہ خطرناک صورت ان کی دوستی ہے۔ صلیبیوں نے حلب موصل
اور حرن کے امراء سے دوستی کرکے ہماری قوم کو دو دھڑوں میں کاٹ دیا ۔ تمہارا بھائی اُن کے ہاتھوں میں کھیلتا رہا۔ خدا
اور اس کے رسولۖ کا حکم یہ ہے کہ ا ُمت کا دھڑوں میں تقسم ہونا گناہ ہے کیونکہ یہ تقسیم دھڑوں کو آپس میں لڑاتی ہے۔
قرآن کا حکم بالکل واضح ہے کہ کفار کے مقابلے میں سیسہ پالئی ہو ئی دیوار بنے رہو ،مگر کفار نے عیاشی کا سامان مہیا
کرکے اس دیواری میں شگاف ڈال دئیے تھے۔ شیطان کی باتوں میں جادو کا اثرہوتا ہے ،عورت ،شراب ،زروجواہرات اور بادشاہی
کے خواب انسان کو گہری نیند سالئے رکھتے ہیں۔ شیطان کا یہ کام صلیبیوں نے کیا ''۔
میں نے یہ سب اپنی آنکھوں اس محل میں دیکھا ہے''۔ شمس النساء نے کہا …… '' میں اُس وقت چھوٹی تھی '' ،
کچھ سمجھ نہیں سکی ۔ مجھے جب بھائی الصالح نے سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس اعزاز کا قلعہ مانگنے کے لیے بھیجا
تھا تو میں ہنستی کھیلتی یہاں کے ساالروں کے ساتھ سلطان کے پاس گئی تھی۔ مجھے کسی نے نہیں بتایا تھا کہ یہ سب
کیا ہو رہا ہے۔ مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ خانہ جنگی تھی جو صلیبیوں کی کارستانی تھی ۔ مجھے کچھ بھی معلوم نہیں
تھا ماں! مجھے بتائو ،مجھے بتائو''۔
ہاں بیٹی ! غور سے سنو ''۔رضیع خاتون کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ '' اس محل میں ابھی تک شیطان کی ''
حکمرانی ہے۔ عزالدین نے میرے ساتھ شادی کرکے مجھے اپنی بیوی نہیں اپنا قیدی بنایا ہے۔ میں نے یہ شادی صرف اس لیے
قبول کی تھی کہ خانہ جنگی کے امکانات کو ختم کرکے قوم میں اتحاد پیدا ہو اور صلیبیوں کے خالف محاذ آرائی کی جاسکے
ِ
صورت حال میں اپنے عزم
مگر میں نے زندگی میں پہلی بار دھوکہ کھایا ہے اور یہ بھی معمولی سا دھوکہ نہیں ۔ میں اسی
کی تکمیل کروں گی۔ اس کے لیے مجھے تمہارے ساتھ اور تعاون کی ضرورت ہوگی ''۔
ِ
صورت حال سے ''
مجھے بتائیں ''۔شمس النساء نے کہا …… '' آپ پہلی بار دھوکے میں آئی ہیں اور میں پہلی بار اصل
آگاہ ہوئی ہوں۔ یہ بتا دیں کہ مجھے کیا کرنا ہے ''۔
جاسوسی ''۔ رضیع خاتون نے کہا اور اسے تفصیل سے ہدایات دینے لگی ۔ ''
شمس النساء جب اس کمرے سے نکلی اُس کی ذات اور اُس کے خیاالت میں انقالب آچکا تھا ۔ وہ اس کمرے میں داخل
ہوئی تھی تو ایسے بے پروا اور کھلنڈری سی لڑکی تھی ۔ جب کمرے سے نکلی تو اللہ کی راہ میں قربان ہونے والی مجاہدہ
تھی ۔
٭ ٭ ٭
آپ کو کس نے بتایا ہے کہ میری ماں جھگڑالو اور وہمی ہے؟''شمس النساء نے عزالدین سے کہا …… ''آپ جانتے ہیں ''
کہ ا ُن کی زندگی کیسی گزری ہے ۔ وہ آپ کو بھی میرے باپ نورالدین زنگی مرحوم جیسا نامور جنگجو اور مجاہد اسالم بنانا
چاہتی ہیں''۔
وہ میرے کاموں میں دخل دینا چاہتی ہے''۔عزالدین نے کہا …… ''اُسے یہ وہم ہے کہ میں صلیبیوں کا دوست ہوں''۔''
میں نے انہیں روک دیا ہے''۔شمس النساء نے کہا …… '' اور اُن کا یہ وہم بھی ُدور کر دیا ہے کہ آپ صلیبیوں کے ''
دوست ہیں ۔ انہیں غلط نہ سمجھیں ۔ ان پر غیر ضروری پابندیاں عائد نہ کریں ''۔
میں نے کوئی پابندی عائد نہیں کی ''۔عزالدین نے کہا …… ''بگھی ہر وقت موجود ہے ۔ اپنی ماں کو جب چاہو سیر ''
کرانے لے جایا کرو''۔
ان کے درمیان اسی موضوع پر باتیں ہوتی رہیں۔ عزالدین نے شمس النساء کی باتوں کو صحیح مان لیا ۔ یہ باتیں عزالدین
کے دفتر میں ہو رہیں تھیں۔ شمس النساء وہاں سے نکلی تو باہر عامر بن عثمان کھڑا تھا۔ اُس کی عمر ابھی تیس برس
نہیں ہوئی تھی ۔ وجیہہ اور بڑا ہی پر کشش جوان تھا۔ تیر اندازی اور تیغ زنی میں اس کا مقابلہ کوئی کم ہی کر سکتا تھا۔
دماغ کا بھی تیز تھا ۔ وہ الملک الصالح کے خصوصی محافظ کا کماندار تھا۔ اسی عمر میں اسے جسمانی اور ذہنی ُچستی کی
بدولت اتنا بڑا عہدہ اور اتنی نازک ذمہ داری دے دی گئی تھی ۔ اس کی رہائش محل کے اندر ہی تھی ۔ تھوڑے ہی عرصے
سے وہ شمس النساء میں دلچسپی لینے لگا تھا ۔ شمس النساء کو پہلے ہی وہ اچھا لگتا تھا۔ اس لڑکی میں کھلنڈرا پن سا
تھا ۔ ا ُسے باپ کی عظمت اور عزم سے کسی نے کبھی آگاہ نہیں کیا تھا ۔ اُسے محل میں بے ضرر فرد سمجھا جاتاتھا ۔
اس کا بھائی مر گیا تو عزالدین نے بھی ا ُسے بھولی بھالی اور کھلنڈری لڑکی سمجھ کر آزادی دئیے رکھی۔ اسی لیے وہ عامر
بن عثمان سے ملتی مالتی رہی ۔
اب وہ جوان ہو گئی تھی ۔ عمر سولہ برس تھی ۔ ا ُس دور میں لڑکیاں قد کاٹھ کے لحاظ سے عمر سے زیادہ جوان لگتیں
اور بعض اسی عمر میں ایک دو بچوں کی مائیں بن جایا کرتی تھیں۔ شمس النساء تو حکمران خاندان کی شہزادی تھی ۔
اپنے قدرتی ُحسن سے کچھ زیادہ ہی حسین لگتی تھی۔ عامر بن عثمان میں اُس کی جو دلچسپی تھی اس کا رنگ بدل چکا
تھا ۔ کبھی وہ اُسے چھیڑ کر بھاگ جایا کرتی تھی مگر اب اُسے دیکھ کر شرماجاتی اور اُسے چوری ُچھپے مال کرتی تھی ۔
یہ پاک محبت تھی جس کی شدت نے انہیں روح کی گہرائیوں تک ایک دوسرے کا گرویدہ بنا رکھا تھا ۔ انہوں نے شادی کے
ادنی مالزم تھا ۔ وہ اس لڑکی کے
عہدوپیمان کر رکھے تھے۔ مشکل یہ تھی کہ عامر بن عثمان شمس النساء کے خاندان کا
ٰ
رشتے کی توقع رکھ ہی نہیں سکتا تھا ۔ پھر بھی ا ُس نے گھر والوں کا طے کیا ہوا رشتہ قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔
شمس النساء عزالدین کے دفتر سے نکلی تو عامر بن عثمان باہر کھڑا تھا۔ شمس النساء اسے دیکھ کر مسکرائی اور اشارہ
کرکے چلی گئی ۔ عامر اس اشارے کو اچھی طرح سمجھتا تھا ۔ اس نے سر ہالیا جس کا مطلب یہ تھا کہ ضرور آئوں گا ۔
٭ ٭ ٭
جگہ پودوں اور درختوں میں ڈھکی چھپی تھی ۔ اوپر رات کی تاریکی نے پردہ ڈال رکھا تھا ۔ عامر بن عثمان اور شمس
النساء محل کی رونق اور ہماہمی سے بے نیاز اس جگہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ اُن کے ُپر شباب جذبات پر والہانہ محبت کا نشہ
طاری تھا ۔
میں آج اپنی ماں سے ملی ہوں ''۔ شمس النساء نے بتایا …… '' اور اب انہیں کے ساتھ رہا کروں گی ''۔ ''
تمہاری ماں بھی شاہی خاندان کی خاتون ہیں ''۔ عامر نے کہا …… ''وہ تمہیں کسی شہزادے کے ساتھ ہی بیاہنا پسند ''
کریں گی''۔
نہیں !'' شمس النساء نے کہا …… ''وہ شاہی خاندان کی ضرور ہیں لیکن اُس خیمے میں رہنا پسند کرتی ہیں جو محاذ ''
کے بالکل قریب ہو۔ وہ مجھے بھی سپاہی بنانا چاہتی ہیں ''۔
کیا یہ ا ُمید رکھی جا سکتی ہے کہ تم ان سے میرے متعلق بات کرو گی اور وہ مان جائیں ''۔ عامر نے پوچھا۔ ''
اگر میں نے اُن کی وہ ا ُمیدیں پوری کردیں جو انہوں نے میرے ساتھ وابستہ کردی ہیں تو میں اُن سے اپنی ہر خواہش ''
منواسکتی ہوں ''۔ شمس النساء نے جواب دیا …… '' تمہیں بھی اُن کی امید پوری کرنی ہوگی ''۔
انہوں نے میرا نام لیا تھا ''۔''
نہیں ''۔ شمن النساء نے جواب دیا …… '' انہوں نے مجھے اپنا مقصد بتایا ہے جس کی تکمیل کے لیے انہیں میرے ''
تعاون کی ضرورت ہے اور مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے کہ میں تمہیں یہ مقصد اور اپنے فرائض بتائوں
میں تم سے حلف لینا چاہتی ہوں تم مدد کرو یا نہ کرو ،اس مقصد کو اور میری سرگرمیوں کو راز میں رکھو گے ''۔
اور اگر میں حلف نہ دوں تو؟'' عامر نے ہنستے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔''
شمس النساء پرے ہٹ گئی۔ عامر پر سنجیدگی طاری ہوگئی ۔ شمس النساء نے کہا …… '' میں نے پہلے بھی وعدہ کیا :
ہے اور آج جیسی قسم کہوگے کھا کر اپنا وعدہ دہرائوں گی کہ میری شادی ہوگی تو تمہارے ساتھ ہوگی لیکن اس سے پہلے
ہمیں وہ کام کرنا ہوگا جو ماں نے مجھے بتایا ہے''۔
عامر بن عثمان کو حیرت اس پر ہوئی کہ شمس النساء کو اُس نے ایسی سنجیدگی میں کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ وہ چونکا اور
بوال …… ''کیا تمہارے دل میں میری اتنی سی محبت رہ گئی ہے کہ تم مجھ سے حلف لینا ضروری سمجھتی ہو؟''۔
کچھ کام ایسا ہی ہے کہ حلف ضروری ہے ''۔ شمس النساء نے جواب دیا …… '' میں تو اپنی ماں کا حکم مانتے ''
ہوئے جان بھی دے دوں گی ۔ تم شاید نہ دے سکو گے ''۔
میں تمہاری محبت کی خاطر جان دے دوں گا ''۔''
نہیں''۔ شمن السناء نے کہا …… '' محبت کی خاطر نہیں ،اسالم کی عظمت کی خاطر ۔ اس اسالم کی خاطر نہیں ''
جو اس محل کے اندر ہم دیکھ رہے ہیں ۔ میں ا ُس اسالم کی بات کر رہی ہوں جس کی خاطر میرے محترم والد نے کفار
سے لڑتے عمر گزاری ہے اور جس کی خاطر صالح الدین ایوبی لڑ رہا ہے''۔
میں قرآن کے نام پر حلف دیتا ہوں کہ مجھے جو فرض سونپا جائے گا جان کی بازی لگا کر پورا کروں گا ''۔ عامر بن ''
عثمان نے شمس النساء کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا ۔ ''اگر میں نے اس حلف کی خالف ورزی کی تو مجھے جان
''سے مار دیا جائے اور میری الش کتوں اور گیڈروں کے آگے پھینک دی جائے …… اب بتائو مجھے کیا کرنا ہے؟
جاسوسی''۔ شمس النساء نے کہا …… '' سلطان صالح الدین ایوبی مصر میں ہے ۔ وہ اس خوش فہمی میں مبتال ہیں کہ''
انہوں نے میرے بھائی الملک الصالح کے ساتھ جو دوستی اور آئندہ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا تھا ۔ وہ اس کی وفات کے
بعد بھی قائم ہے ،مگر تم زیادہ اچھی طرح جاتنے ہو کہ معاہدے کے باوجود حلب کی امارت صلیبیوں کے اثرات سے پاک
نہیں رہی ۔ عزالدین کو سلطان صالح الدین ایوبی اپنا دوست سمجھتا ہے لیکن میری ماں کسی اور خطرے کا اظہار کر رہی
ہے''۔
آقا اور تمہاری والدہ کی شادی کے بعد کوئی خطرہ نہیں رہنا چاہیے''۔ عامر نے کہا ۔''
اصل خطرہ شادی سے ہی شروع ہوا ہے''۔ شمس النساء نے کہا …… '' شادی دراصل قید ہے جس میں میری ماں کو ''
ڈال دیا گیا ہے۔ عزالدین نے یہ شادی اس مقصد کے لیے کی ہے کہ دمشق والوں کو کوئی صحیح راہ دکھانے واال نہ رہے……
ہمیں اس محل کے ڈھکے چھپے ہوئے بھید معلوم کرکے قاہرہ تک پہنانے ہیں۔ یہ بھی معلوم کرنا ہے کو صلیبیوں کی نیت
اور ارادے کیا ہیں۔ کیا وہ ایک بار پھر ہماری افواج کو خانہ جنگی میں مروانا چاہتے ہیں یا وہ کوئی اور جنگی اقدام کریں
گے ۔ تم ایسی جگہ پرہو جہاں تمہیں بہت کچھ نظر آسکتا ہے ۔ تم عزالدین کے خصوصی محافظ دستے کے کماندار ہو''۔
میں تمہاری بات سمجھ گیا ہوں''۔ عامر بن عثمان نے کہا …… '' تم نے ٹھیک کہا ہے کہ میں ایسی جگہ پر ہوں ''
جہاں مجھے بہت کچھ نظر آتا ہے ۔ شمسی ! میں جو دیکھتا رہا ہوں اور جو دیکھ رہا ہوں اس پر کھبی غور نہیں کیا
تھا ۔ میں مرد مجاہد سے مالزم بن گیا تھا ۔ جب سپاہی مجاہد سے مالزم بن جاتا ہے تو یہی کچھ معلوم ہوتاہے جو اس
محل میں ہورہا ہے ۔ سپاہی کو اپنی مالزمت سے غرض ہوتی ہے۔ وہ دشمن کا خون بہانے کی بجائے خوشامدی بن جاتا ہے
تا کہ اوپر والے ا ُس پر خوش رہیں۔ انعام و کرام ملتا رہے اور ترقی ملے۔ خون اور خوشامد میں اتنا ہی فرق ہے جتنا فتح
اور شکست میں ۔ مجھے کسی نے کبھی نہیں بتایا کہ سپاہی کہ فرق صرف باہر کے حملے روکنا نہیں بلکہ اندر کے خطروں
کے خالف لڑنا بھی ہے ۔ سپاہی کا فرض یہ بھی ہے کہ اگر ملک اورقوم کو اپنے ہی حکمران کی طرف خطرہ ہو تو اس کا
سینہ تیروں سے چھلنی کرکے اسے قلعے سے باہر پھینک دے…… تم نے مجھے فرض یاد دالدیا ہے ۔ مجھے یہ بتائو کہ کسی
کو قتل کرنا ہے یا صرف اندر کے راز ہی معلوم کرنے ہیں ''۔
دونوں کام کرنے ہیں ''۔شمس النساء نے جواب دیا …… '' راز معلوم کرنے کے یے کسی غدار کو قتل کرنا پڑے گزیر نہ''
کیا جائے''۔
سنو شمسی ''۔عامر بن عثمان نے کہا …… '' اب میں مالزم کی حیثیت سے نہیں مجاہد کی حیثیت سے بات کروں'' :
گا۔ راز کی بات یہ ہے کہ حلب کے حاکموں اور بعض ساالروں پر بھروسہ نہیں کیا سکتا ۔ اگر عزالدین مخلص بھی ہو ،سچے
دل سے سلطان صالح الدین ایوبی کا دوست بھی ہو پھر بھی وہ حلب کی فوج کو مصر کی فوج کا اتحادی نہیں بنا سکے گا
۔ اس کے حاکموں ،مشیروں اوروزیروں کے ایمان کو صلیبیوں نے خرید رکھا ہے …… انہوں نے تمہارے بھائی کی وفات کے فورا ً
بعد عزالدین کو اس طرح پریشان کرنا شروع کر دیا ہے کسی نہ کسی مد میں خرچ کرنے کے لیے اس سے رقم مانگتے رہتے
ہیں ۔ سرکاری خزانہ تیزی سے خالی ہو رہا ہے۔ رقم اور سونا خورد برد ہورہا ہے۔ میرا خیا ل ہے کہ یہ ایک سازش ہے
جس کا مقصد یہ ہے کہ خزانہ خالی کرکے عزالدین کو مجبور کردیا جائے کہ وہ صلیبیوں سے امداد لینے پر مجبور ہوجائے ۔
اس سے اپنے حاکم وغیرہ جتنی رقم مانگتے ہیں وہ دے دیتا ہے ''۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ عزالدین کمزور حکمران ہے''۔ شمن النساء نے کہا ۔''
اس کی کمزوری یہ ہے کہ وہ حکمرانی کی گدی کو چھوڑنا نہیں چاہتا ''۔ عامر بن عثمان نے جواب دیا …… '' میں ''
نے اس کی جو باتیں سنی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حکمرانی قائم رکھنے کے لیے صلیبیوں کے ساتھ سازباز کرلے گا
…… میں اب اس کی اور اس کے مشیروں کی باتیں غور سے سناکروں گا اور تمہیں بتاتا رہوں گا ''۔
یہ بھی ذہن میں رکھنا کہ یہاں صلیبیوں کے جاسوس موجود اور سرگرم ہیں ''۔ شمس النساء نے کہا …… '' اور یہاں ''
ہمارے جاسوس بھی کام کر رہے ہیں ۔ کسی روز ا ُن سے تمہاری مالقات کرائوں گی ۔ شمس النساء نے مسکرا کر پوچھا ''
''تمہاری سوڈانی پری کس حال میں ہے؟ اب بھی ملتی ہے؟
ملتی ہے''۔عامر بن عثمان نے جوا ب دیا ……''گھسیٹتی ہے ۔ پرسوں ملی تو رو بھی پڑی تھی ۔ کہتی ہے ،ایک بار ''
میرے کمرے میں آجائو۔ شمسی ! میں اس لڑکی سے ڈرتا ہوں ۔ تم جانتی ہو کہ اس کے ُحسن میں جادو ہے۔ اس کے
طلسم میں آیا ہوا انسان نکل نہیں سکتا ۔ میں اس سے اس لیے نہیں ڈرتا کہ وہ بہت حسین ہے ،مجھ پر مرتی ہے اور میں
ا ُس کے جال میں پھنس جائوں گا ۔ ڈر یہ ہے کہ وہ والئی حلب عزالدین کے حرم کا ہیرا ہے۔ اسکا نام انوشی ہے لیکن
محل کے اندرونی حلقوں کے افراد اسے سوڈانی پری کہتے ہیں۔ اگر عزالدین یا اُس کے کسی امیر وزیر کو پتہ چل گیا کہ یہ
لڑکی مجھے چاہتی ہے تو لڑکی سے کوئی باز پرس نہیں ہوگا ۔ سزا مجھے ملے گی ۔ مجھے تہہ خانے میں باندھ کر ایسی
اذیتیں دی جائیں گی کہ تم سنو تو مرجائو۔ مجھے یہ بھی ڈر ہے کہ میں نے اُسے مایوس کیے رکھا تو وہ مجھ پر دست
درازی یا بد نیتی کا الزام عائد کرکے مجھے قید میں ڈالوادے گی ''۔
اسے ابھی تک یہ تومعلوم نہیں ہوا کہ تم مجھے چاہتے ہو اور ہماری مالقاتیں ہوتی ہیں؟ شمس النساء نے پوچھا۔ ''
جس روز ا ُسے پتہ چل گیا وہ دونوں کی آزادی کا آخری دن ہوگا ''۔ عامر بن عثمان نے جواب دیا ۔ '' تمہیں شاید ''
'' بخش دیا جائے ،مجھے کوئی نہیں بخشے گا
انوشی دراصل صلیبیوں کا بھیجاہوا تحفہ تھا ۔ حلب میں یہ لڑکی آئی تو الملک الصالح بیمار پڑ گیا اور مر گیا۔ عزالدین نے
آکر حلب کی حکومت سنبھالی تو حکام نے انوشی اس کی خدمت میں پیش کی ۔ اس کے ساتھ عزالدین نے رضیع خاتون
کے ساتھ شادی کر لی۔ یہ ا ُس دورکے حکمرانوں کا دستور تھا کہ بیویاں الگ رکھتے تھے اور حرم میں بغیر شادی کے لڑکیاں
الگ رکھتے تھے ۔ صلیبیوں اور یہودیوں نے مسلمان امراء و زراء کی اس تباہ کن عادت کو اور زیادہ پختہ کرنے کے لیے انہیں
اپنی لڑکیاں تحفے کے طور پر پیش کرنی شروع کردیں تھیں۔ پھر ان لڑکیوں میں انہوں نے جاسوسی کے فن کی تربیت یافتہ
لڑکیاں بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا ۔ انہیں رقابت اور فتنہ فساد پیدا کرنے کی بی تربیت دی گئی تھی ۔
انوشی ایسی ہی تربیت یافتہ لڑکی تھی ۔ وہ عزالدین کے محل کی ضیافتوں میں شراب پالتی تھی ،پیتی بھی تھی ۔ اُس
نے حلب کے دو ایسے حاکموں کو اپنے حسن اور فریب کے جال میں پھانس لیا تھا جو حلب کی قسمت بنا بھی سکتے اور
ِ
دعوت گناہ ۔ عامر بن
بگھاڑ بھی سکتے تھے۔ وہ عزالدین کے تو اعصاب پر غالب آگئی تھی ۔ وہ سراپا بدی تھی اور مجسم
عثمان عزالدین کے قریب رہتا تھا کیونکہ وہ خصوصی محافظ دستے کا کماندار تھا۔ اُس نے عزالدین کی حفاظت کے لیے محافظ
دستے کے عالوہ درپردہ انتظامات بھی کررکھے تھے۔ اس کی نظریں عقاب کی طرح تیز اور ُدور بین تھیں …… انوشی نے اُسے
دیکھا تو یہ خوبروجوان اُسے بہت اچھا لگا ۔ اُس نے عامر پر ڈورے ڈالنے شروع کردئیے لیکن عامر اُس کے ہاتھ نہ آیا۔ عامر
کو معلوم تھا کہ حرم کے اس ہیرے کے ساتھ صرف بات کرتے بھی پکڑا گیا تو انجام ہولناک ہوگا۔ انوشی دوسرے تیسرے روز
عامر بن عثمان سے ملتی اور والہانہ محبت کا اظہار کرتی تھی ۔ عامر اُسے ٹال دیا کرتا تھا۔
میں اس محل کا مالزم ہوں''۔ عامرنے ایک روز اسے کہا تھا ''۔ اگر تمہارے دل میں میری سچی محبت ہے تو '' :
مجھ پر رحم کرواور مجھ سے ُدور رہو''۔
تمہاری طرف کوئی آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا ''۔ انوشی نے اُسے کہا …… '' ایک بار میرے میں کمرے میں ''
آجائو''۔
اسی دوران عامر اور شمس النساء کی چوری چھپے مالقاتیں ہو رہی تھیں۔
٭ ٭ ٭
قاضی بہائوالدین شداد جو ا ُس دور کا عینی شاہدہے ،اپنی یاد داشتوں میں لکھتا ہے ''…… ''عزالدین نے محسوس کر لیا ''
تھا کہ وہ موصل اور شام کی امارتوں کو اپنے ماتحت متحد نہیں رکھ سکے گا ۔ وہ سلطان صالح الدین ایوبی سے بہت ڈرتا
تھا۔ اس کے ماتحت جو امیر اور وزیر تھے وہ عزالدین سے اتنی زیادہ رقموں کا مطالبہ کرنے لگے جو وہ نہیں دے سکتا تھا
کیونکہ خزانے میں اتنی سکت نہیں تھی اور وسائل بھی محدود تھے ''۔
اپنی یادداشتوں میں آگے چل کر قاضی بہائوالدین شداد نے لکھا ہے کہ عزالدین کو یہ خطرہ تھا کہ سلطان ایوبی کو حلب کے
ساتھ دل چسپی ہے اس لیے وہ حلب پر ضرور قبضہ کرے گا ۔ عزالدین سلطان ایوبی کے خالف آمنے سامنے کی جنگ لڑنے
سے گزیز کرتا تھا ۔ ا ُس نے اپنے ایک بڑے ہی قابل اور دلیر ساالر مظفرالدین ککبوری سے مشورہ کیا جو سات تہوں میں
چھپا ہوا ایک راز تھا۔ موصل کا والی عزالدین کا بھائی عمادالدین تھا جو کھلم کھال سلطان ایوبی کے خالف تھا۔ حلب اور
موصل میں یہ انقالب آیا کہ عزالدین نے موصل کی حکمرانی سنبھالی اور عمادالدین حلب آکر والئی حلب بن گیا۔ امارتوں یا
سلطنتوں کا یہ تبادلہ دونوں کے باشندوں کے لیے ایک معمہ تھا۔
متعدد مؤرخین نے اس تبادلے پر اظہار خیال کیا ہے۔ ہر ایک نے مختلف رائے دی ہے۔ اُس وقت کے واقعہ نگاروں کی
تحریروں سے کچھ بھید بے نقاب ہوتے ہیں۔ عزالدین جب موصل کے قلعے میں گیا تو رضیع خاتون اور اس کی بیٹی شمس
النساء اس کے ساتھ تھیں۔ اس کا ذاتی محافظ دستہ بھی ساتھ تھا ۔ جس کا کماندار عامر بن عثمان تھا ۔ یہ بہت ہی بڑا
قافلہ تھا ۔ کئی اونٹوں پر پالکیاں تھیں جن کے پردے گرے ہوئے تھے ۔ رضیع خاتون اور شمس النساء کا اونٹ سب سے آگے
تھا ۔ رضیع خاتون کی خادمہ بھی ساتھ تھی ۔ رات کو راستے میں ایک جگہ قیام بھی کرنا تھا ۔
عزالدین کو موصل پہنچنے کی جلدی تھی اس لیے اس نے قافلے کا سربراہ مقرر کیا اور خود قیام کیے بغیر اپنے چند ایک
محافظوں اور دو تین مشیروں کے ساتھ سفر جاری رکھا۔ عامر بن عثمان کو قافلے کے ساتھ رہنے دیا گیا ۔ سورج غریب ہوتے
ہی خیمے نصب کر دئیے گئے۔ رضیع خاتون کا خیمہ اُن خیموں سے بہت دور نصب کیا گیا جن میں رات حرم کی لڑکیوں کو
رہنا تھا ۔ عزالدین نے خاص طور پر حکم دیاتھا کہ رضیع خاتون اور شمس النساء کو حرم کے خیموں سے ُدور رکھا جائے۔
قیام کی جگہ سر سبز اور چٹانی تھی۔ چٹانوں پر بھی سبزہ تھا ۔ ہری بھری جھاڑیوں کی بہتات تھی ۔
رات کو عامر بن عثمان مشعلوں کی روشنی میں حفاظتی انتظامات دیکھتا پھر رہا تھا ۔ اُن دنوں وہاں کوئی خطرہ نہیں تھا۔
کہیں بھی لڑائی نہیں ہو رہی تھی ۔ سلطان ایوبی مصر میں تھا اور صلیبی کہیں ُدور بیٹھے سلطان ایوبی کی اگلی چال کے
انتظار میں تیاریاں کر رہے تھے ۔ پھر بھی عامر کا یہ فرض تھا کہ خیمہ گاہ اور جانوروں کے اردگرد گشت کا انتظام کرتا۔ وہ
حرم کے خیموں سے ذرا ُد ور گھوم کر گزر رہا تھا۔ اس وقت وہ اکیال تھا ۔ خیموں سے کچھ اور ُدور گیا تو اُسے اپنے سامنے
ایک سایہ کھڑا نظر آیا۔ ا ُ س نے قریب جاکر گھوڑا روک لیا۔
میں نے تمہیں اندھیرے میں اتنی ُدور سے پہچان لیا ہے ،تم قریب آکر بھی مجھے نہیں پہچانتے ''۔ ''
یہ انوشی کی آوازتھی ۔عامر بن عثمان نے آواز پہچان کر کہا ۔'' مجھے ابھی بہت کام کرنا ہے۔ اتنی وسیع خیمہ گاہ اور
اتنے سارے جانوروں کی حفاظت کا انتظام میرے ذمے ہے۔ مجھے مت روکو''۔
انوشی اس کے گھورڑے کے آگے آکر لگام پکڑ چکی تھی ،بولی۔ '' گھوڑے سے اُتر آئو عامر! جن کا تمہیں ڈر تھا وہ
موصل چلے گئے ہیں ۔ اُتر آئو''۔
عامر گھوڑے سے ا ُترا۔ انوشی نے اسے بازو سے پکڑا اور ذرا پرے چٹان کی اوٹ میں بٹھا لیا ۔ عامر نے سدھائے ہوئے جانور
کی طرح کوئی مزاحمت نہیں کی ۔
عامر!'' انوشی نے جذباتی لہجے میں کہا …… '' تم مجھے بدکار اور شیطان لڑکی سمجھ کر مجھ سے بھاگتے پھررہے ''
ہو۔ مجھے معلوم ہے کہ تم میری اصلیت سے اچھی طرح واقف ہو۔ تم اپنے آپ کو زاہد اور پارسا سمجھتے ہو اور تمہیں
جوانی اور اتنے دلکش جسم پر بھی ناز ہے۔ تم نے ابھی اس حقیقت پر غور نہیں کیا کہ کسی بھی روز تمہارا جسم خون
میدان جنگ میں کٹتے اور مرتے ہیں اور
میں ڈوبی ہوئی الش بن جائے گا۔ یہ جنگ و جدل کا دور ہے۔ ایک وہ ہیں جو
ِ
ایک وہ ہیں
جو قلعے اور محل کے اندر ہی خفیہ طریقے سے قتل کر دئیے جاتے ہیں۔ تمہارا انجام ایساہی ہو سکتا ہے۔ اپنے مردانہ
حسن اور جسم کی دلکشی کو دائمی نہ سمجھو ''۔
''کیا تم مجھے قتل کی دھمکی دے رہی ہو؟''
نہیں !'' انوشی نے جواب دیا ۔'' میں تمہیں یہ بتانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ تمہیں اگر یہ خیال ہے کہ میں ''
تمہاری خوبصورتی اور تمہارے جسم پرمرتی ہوں تو یہ خیال دل سے نکال دو ۔ میں جسمانی تعیش کا مجسم ذریعہ ہوں ،مگر
میں جسمانی لذت سے بیزار ہوں۔ انسان کتنی ہی پتھر کیوں نہ بن جائے ،دل کو بھی پتھر ہی کیوں نہ سمجھ لے ،دل
پتھر نہیں بن سکتا ۔ روح مرجھا جاتی ہے مرتی نہیں۔ دل او روح کو وہ محبت زندہ رکھتی جس کا تعلق جسم کے ساتھ
نہیں ہوتا ۔ مجھے اور زیادہ غور سے دیکھو۔ میرا حسن اور اس کا طلسم دیکھو۔ میں گناہ کرتی ہوں اور دوسروں کو گناہوں
کی ترغیب دیتی ہوں۔ مجھے لوگ شہزادی نہیں پری کہتے ہیں۔ تمہارے بادشاہ اور امراء میرے قدموں میں ایمان اور اپنا سر
رکھ دیتے ہیں مگر ایک ایسی تشنگی سے دو چار رہی جسے میں کبھی بھی نہ سمجھ سکی ۔ تمہیں دیکھا تو تم مجھے
اچھے لگے ۔ میں پہلی بار جب تمہارے قریب آئی تھی تو میری نیت صاف نہیں تھی ۔ تم نے جب مجھے ٹال دیا اور اس
کے بعد بڑے اچھے لفظوں میں دھتکار دیا تو مجھے معلوم ہوگیا کہ وہ تشنگی کیا ہے جو مجھے پریشان کیے ہوئے تھی ۔ میں
تمہیں دل کی گہرائیوں سے چاہنے لگی۔ یہ تمہاری صورت کا اثرنہیں تھا ،اور یہ اثر ایسا تھا جس نے میرے دل میں ان
سب کے خالف نفرت پیدا کی ،جو مجھے عیاشی کا کھلونا سمجھتے ہیں اور جو اپنا ایمان اور اپنا قومی وقار میرے ہاتھ
سے لیے ہوئے شراب کے پیالے میں ڈبو دیتے ہیں ''۔
وہ جذبات سے مخمور آواز سے بول رہی تھی اور عامر بن عثمان اس ذہنی کیفیت میں ُسن رہا تھا کہ دل میں یہ ڈر تھا کہ
کسی نے دیکھ لیا تو وہ مارا جائے گا۔ یہ خدشہ بھی تھا کہ شمس النساء اُس کی تالش میں ادھر آنکلی تو اُس کی محبت
کا خون ہو جائے گا ۔ وہ صرف ُس ن رہا تھا ۔ اتنی حسین لڑکی کی ایسی جذباتی اس کے دل پر کوئی اثر نہیں کر رہی
تھیں۔
کیا تم ڈرتے ہو یا تمہارا دل مردہ ہوگیا ہے؟'' نوشی نے اس کے گال ہاتھوں میں تھام کر کہا …… '' اگر میرا دل ''
ُم ردہ نہیں ہوا تو میں مان ہی نہیں سکتی کہ تمہارا دل مرگیا ہے ''۔اس نے کان عامر بن عثمان کےدل کے ساتھ لگا دیا۔
ا ُس کے معطر اور ریشم جیسے بکھرے بکھرے بال عامر کے جواں سال گال ُچھونے لگے ۔ وہ آخر جوان تھا۔ اس کی ذات
میں ہلچل سی بپا ہوئی۔ ا ُسے انوشی کی ہنسی کا ترنم سنائی دیا۔ ہنس کر بولی …… '' دل زندہ ہے ،دھڑک رہا ہے……میں
تم سے کیا مانگتی ہوں؟ کچھ بھی نہیں ،تم مجھ سے مانگو ،ہیرے ،جواہرات ،سونے کے سکے ،کہو کیا چاہیے ''۔
مجھے کچھ بھی نہیں چائیے ،سوڈانی پری''۔''
مجھے انوشی کہو''۔ لڑکی نے کہا …… '' سوڈانی پری کہنے والے محبت سے عاری ہیں۔ گناہگار ہیں ۔ تم ان سب ''
سے بلند ہو ،پاک ہو۔ مجھ سے خزانے لے لو۔ ان کے عوض مجھے محبت دے دو '' …… اُس نے اپنا گال عامر کے گال
کے ساتھ لگا دیا ۔ عامر تڑپ کر پیچھے ہٹ گیا۔ اس کی حالت اب اُس پرندے کی سی تھی جسے پنجرے میں بند کر لیا
گیا ہو۔ وہ تڑپنے اور پھڑکنے لگا۔
معلوم ہوتا ہے تمہارے دل میں کسی اور کی محبت ہے''۔ انوشی نے کہا …… '' میرے طلسم میں کبھی کوئی یوں تڑپا ''
نہیں۔ مجھے کہہ دو کہ تمہیں مجھ سے محبت نہیں ''۔ اُس نے دانت پیس کر کہا ۔ '' تمہیں اتنا بھی احساس نہیں کہ
ایک گناہگار لڑکی تم سے پاک محبت کی بھیک مانگتی ہے اور ہو سکتا ہے وہ گناہوں سے توبہ کرکے تمہارے قدموں میں
سجدہ ریز ہوجائے۔ بدبخت انسان! یہ بھی سوچ لو کہ تم اس لڑکی کو دھتکار رہے ہو جس نے حکومتوں کے تخت اُلٹ دئیے
ہیں اور جو بھائی کے ہاتھوں بھائی کا خون بہا دیتی ہے۔ تم میرے سامنے ایک کیڑے سے بڑھ کر کوئی حیثیت نہیں رکھتے
''۔
پھر مجھے مسل ڈالو''۔ عامر نے کہا…… '' میں تمہارے قابل نہیں '' …… وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔''
میں تم سے کچھ نہیں مانگتی عامر !'' انوشی نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا ۔'' صرف یہ کرو ''
کہ میرے پاس بیٹھے رہا کرو۔ مجھے پناہ میں لے لیا کرو ''۔
عامر اس سے ہٹ کر اپنے گھوڑے کے پاس گیا ۔ انوشی وہیں کھڑی رہی ۔ عامر گھوڑے پر سوار ُہوا اور کچھ کہے بغیر چال
گیا ۔
٭ ٭ ٭
عامر بن عثمان کا گھوڑا آہستہ آہستہ چل رہا تھا ۔ عامر کا سر جھکا ہوا تھا ۔ اس کی ناک میں انوشی کے بالوں کی
خوشبو تروتازہ تھی ۔ وہ گالوں پر انوشی کے بالوں کے لمس کا گداز محسوس کر رہا تھا ۔ وہ اس حسین جال سے نکلنے کی
کوشش کر رہا تھا اور وہ یہ بھی محسوس کر رہا تھا کہ اگر انوشی ایک بار پھر ایسی ہی تاریکی اور تنہائی میں اُسے ملی
تو اُس کی قسمیں ٹوٹ جائیں گی ،پھر وہ کہیں نہیں رہے گا ۔ اُس نے اپنے خیالوں کا ُرخ شمس النساء کی طرف پھیر دیا
۔ تب ا ُسے یاد آیا کہ شام خیمے نصب کرتے وہ ذرا سی دیر شمس النساء کے پاس ُرکا تھا اور انہوں نے ملنے کا وقت اور
جگہ طے کی تھی ۔ اُسے یاد آگیا کہ وہ اُسی جگہ کی طرف جارہا تھا ،راستے میں انوشی نے روک لیا …… اُس نے گھوم
کر پیچھے دیکھا۔ اسے اندھیرے میں انوشی نظر نہ آئی۔ وہ ایک ٹیکری سے ُمڑکر اُس جگہ پہنچا جہاں شمس النساء کو آنا
تھا ۔ عامر نے جس طرح انوشی کا سایہ دیکھا تھا اسی طرح اُسے شمس النساء کا سایہ نظر آیا جو گھوڑے کی طرف بڑھا۔
وہ گھوڑے سے اُترا۔
کہاں رہے؟''شمس النساء نے اس سے پوچھا …… ''بہت دیر سے انتظار کر رہی ہوں''۔''
میرے کام سے تم آگا ہ ہو''۔ عامر نے جھوٹ بوال …… '' اِدھر ہی آرہا تھا کہ ایک جگہ کام سے ُرکنا پڑا اور اتنی ''
دیر ہوگئی ''۔
اپنے آدمیوں کا بھی خیال رکھنا ''۔ شمس النساء نے کہا …… '' وہ سب بہت ہوشیار ہیں ۔ کسی کو اُن پر شک نہیں ''
ہوگا ''۔
شمس النساء ا ُن '' اپنے آدمیوں'' کا ذکر کر رہی تھی جو حلب کے اندر سلطان ایوبی اور رضیع خاتون کے لیے جاسوسی
اور مخبری کرتے تھے۔ ان میں جو محل کے اندر مالزم تھے وہ اسی حیثیت کے ساتھ جا رہے تھے اور جو شہر میں کوئی
کام کاج کرتے تھے انہیں عارضی مزدوروں کے بہروپ میں راستے میں خیمے لگانے اور اکھاڑنے اور دیگر کاموں کے لیے ساتھ
لیے لیا گیا تھا ۔ ان کے متعلق یہ طے کیا گیا تھا کہ موصل شہر میں مختلف کاموں پر لگا دیا جائے گا۔ رضیع خاتون کی
خادمہ نے یہ تمام آدمی شمس النساء اور عامر بن عثمان کو دکھائے تھے۔
آئو کچھ دیر بیٹھ جائیں ''۔ شمس النساء نے اپنا بازو عامر کی کمرکے گرد لپیٹ کر کہا ۔ ''
عامر نے اپنا بازو شمس النساء کی کمر کے گرد لپیٹا۔ شمس النساء اس کے ساتھ لگ گئی۔ ایک قدم اُٹھایا اور ُرک گئی۔ اُس
نے ناک عامر کے سینے سے لگا کر سونگھا اور اس سے الگ ہٹ کر بولی۔ '' تم کہاں تھے؟ کس کے پاس تھے ''۔
میں جانوروں کو دیکھ کر آرہا ہوں''۔ عامر نے جواب دیا ۔''
جانور عطر کب سے لگانے لگے ہیں ؟'' شمس النساء نے دبے دبے غصے سے کہا …… '' تم نے کبھی عطر نہیں لگایا ''
''۔ عامر چپ رہا …… ' ' تمہیں وہ خوبصورت ڈائن مل گئی ہو گی۔ تم اس کے جال میں آگئے ہو''۔
ابھی نہیں آیا شمسی! '' عامر نے کہا …… '' وہ مجھے راستے میں مل گئی تھی ۔ میں تمہیں بتانا نہیں چاہتا تھا ''
تمہیں کسی وہم میں مبتال نہیں ہونا چاہیے ۔ میں اتنا کچا آدمی نہیں ہوں۔ تم نے میرے سینے سے جو خوشبو سونگھی ہے
یہ ا ُسی کی ہے لیکن تم میرے سینے کے اندر دیکھنے اور سونگھنے کی کوشش کرو''۔ عامر کے لہجے میں گھبراہٹ کا ہلکا
ادنی مالزم ہوں ،
ہلکا لرزہ تھا ۔ کہنے لگا …… '' میں بہت پریشان ہوں شمسی ! میں کوئی امیر یا حاکم یا ساالر نہیں ،
ٰ
انوشی مجھے آسانی سے انتقام کا نشانہ بنا سکتی ہے ''۔
معلوم ہوتا ہے آج اُس نے تمہیں کچھ زیادہ ہی پریشان کیا ہے''۔ شمس النساء نے کہا ۔''
بہت زیادہ''۔ عامر بن عثمان نے جواب دیا ۔ '' آج اس نے اپنا دل کھول کر میرے آگے رکھ دیا ۔ اس نے یہاں تک''
کہہ دیا ہے کہ وہ گناہگار اور بدکار ہے۔ اس نے مجھ پر واضع کردیا ہے کہ وہ یہاں بدکاری پھیالنے اور بھائی کوئی بھائی سے
لڑانے آئی ہے۔ اس نے مجھ سے پاک محبت کی التجا کی ہے اور کہا ہے کہ میں اس کے عوض جتنی دولت مانگوں
دےگی۔ میں نے بڑی مشکل سے اس کے بازئووں سے رہائی حاصل کی ہے ۔ خدا کے لیے مجھے بتائو شمسی ،میں کیا
کروں۔ وہ دنیا کی ساری دولت میرے قدموں میں رکھ دے تو بھی میں تمہیں دھوکہ نہیں دے سکتا ''۔
پھر اُسے دھوکہ دو''۔شمس النساء نے کہا ۔ '' اُسے وہی محبت دو جو وہ مانگتی ہے۔ اس کے عوض اس سے وہ راز ''
لو جو ہم مانگتے ہیں ۔ اس نے تمہیں بتا دیا ہے کہ ا ُسے کس مقصد کے لیے یہاں بھیجا گیا ہے۔ تم تجربہ کار اوردانشمند
ہو۔ یہ تم خود سمجھ سکتے ہو کہ اُسے صاف کہہ دو کہ تمہیں اندر کے رازوں کی ضرورت ہے
یا اسے بتائے بغیر اُس سے راز اگلواتے رہو''۔
میں یہ سوچ چکا ہوں ''۔ عامر نے کہا …… '' مگر ڈرتا ہوں کہ تم ایک نہ ایک دن میرے خالف غلط فہمی میں ''
مبتال ہوجائو گی ''۔
میں تمہیں اور اپنی محبت کو خدا کے سپرد کرتی ہوں'' ۔ شمس النساء نے کہا …… '' ماں ہر روز مجھے جو باتیں ''
بتاتی ہے وہ میری روح میں ا ُتر گئی ہیں۔ میری محبت مر نہیں سکتی ،میں اسے اس عظیم مقصد پر قربان کر سکتی ہوں
جو مجھے ماں نے دیا ہے۔ اپنے اللہ اور اپنے حلف کو یاد رکھو گے تو کوئی غلط فہمی پیدا نہیں ہوگی ''۔ اس نے
''پوچھا ۔ '' کیا اُسے معلوم ہو گیا ہے کہ تم مجھے ملتے ہو؟
ا ُ س نے ذکر نہیں کیا ''۔ عامر نے جواب دیا …… '' اُسے یقینا معلوم نہیں ''۔ ''
کام کی بات سن لو ''۔شمس النساء نے کہا …… '' حلب کی روانگی سے کچھ دیر پہلے قاہرہ سے ایک آدمی یہ معلوم''
کرنے آیا ہے کہ عزالدین کی نیت کیا ہے اور صلیبیوں کے منصوبے کیا ہیں۔ اُسے کوئی ٹھوس جواب نہیں دیا جا سکا ۔
سلطان صالح الدین ایوبی بہت جلدی قاہرہ سے فوج کے ساتھ روانہ ہونے کو تیار بیٹھے ہیں۔ اس آدمی نے بتایا ہے کہ سلطان
ایوبی اس وجہ سے جلدی کوچ کرنا چاہتے ہیں کہ صلیبی فوج نے موصل ،حلب اور دمشق کی طرف پیش قدمی کردی تو
قاہرہ سے فوج بروقت یہاں پہنچانا ممکن نہیں ہوگا۔ خطرہ یہ ہے کہ سلطان اپنی فوج لے آئیں اور صلیبیوں کی چال کچھ اور
ہو تو سلطان کی فوج نقصان ا ُٹھا سکتی ہے ۔ ہمیں بہت جلد اپنے مسلمان امراء اور صلیبیوں کے عزائم معلوم کرنے ہیں ''۔
میں نے سنا تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے جاسوس آسمان سے تارے بھی توڑ التے ہیں ''۔ عامر بن عثمان نے ''
''کہا …… '' کیا صلیبی عالقوں میں اس کا کوئی آدمی نہیں ؟
ماں نے بتایا ہے کہ اسحاق ترک ایک بڑا ہی قابل اور ہوشیار آدمی ہے ''۔ شمس النساء نے جواب دیا ۔ '' وہ ''
بیروت گیا ہوا ہے ۔ صحیح خبر وہی الئے گا لیکن اس کی طرف سے کوئی اطالع قاہرہ نہیں پہنچی …… دیکھو عامر !
فوجوں کی نقل و حرکت ہوتی ہے تو یہ راز بے نقاب ہو جاتے ہیں مگر یہاں کوئی ایسی ہلچل نظر نہیں آتی۔ جو راز ہے،
وہ عزالدین اور عمادالدین کے سینے میں ہے۔ یہ اندرونی حلقوں سے مل سکتا ہے اور تمہیں یہ رازانوشی دے سکتی ہے ''۔
مگر جو قیمت وہ مانگتی ہے وہ میں نہیں دے سکوں گا ''۔ عامر نے کہا ۔''
تمہیں یہ قیمت دینی پڑے گی''۔ شمس النساء نے کہا ۔ ' ' میں یہ قیمت دینے کو تیار ہوں۔ میں اپنے بھائی کے ''
گناہوں کا کفارہ اداکرنا چاہتی ہوں ۔ مذہب اور ا ُ ّم ِ
ت رسول ۖ کی عظمت کے لیے ہماری آپس کی محبت اور دلوں کی خواہشیں
کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ ہمیں ان شہیدوں کا قرض ادا کرنا ہے جو اسالم کے نام پر اپنی دلہنوں کو نوجوانی میں بیوہ کر
گئے ہیں …… عامر! کچھ نہ سوچو۔ قربان ہو جائو''۔
٭ ٭ ٭
ا ُس وقت اسحاق ترک بیروت میں تھا۔ بیروت صلیبی حکمران بالڈون کے فرنگی لشکر کی بہت بڑی چھائونی بنا ہواتھا۔ اس
سلسلے کے پچھلی اقساط میں سنایا جا چکا تھا کہ بالڈون کو ایک شکست سلطان ایوبی کے بھائی العادل نے دی تھی اور
تھوڑے ہی عرصے بعد ا ُس نے سلطان ایوبی کی فوج کو گھات میں لینے کی کوشش کی تو خود سلطان ایوبی کی گھات میں
آگیا تھا۔ وہ گرفتار ہوتے ہوتے بچا اور دونوں بار ا ُس کی فوج تتر بتر ہو کر پسپا ہوئی۔ وہ تو جیسے راتوں کو سوتا بھی نہیں
تھا ۔ ان دونوں پسپائیوں کا انتقام لینے کے منصوبے بناتا رہتا تھا ۔ اُس نے الملک الصالح کو اپنا اتحادی بنا لیا تھا مگر اس
کا یہ اتحادی مر گیا ۔ اب وہ عزالدین اور عمادالدین کو سلطان ایوبی کے خالف اپنے محاذ میں شامل کر رہا تھا ۔ اُس نے
قاہرہ میں جاسوس بھیج رکھے تھے جو سلطان ایوبی کے ارادوں کا پتہ چال رہے تھے ۔
20:56
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 130سانپ اور صلیبی لڑکی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جو سلطان ایوبی کے ارادوں کا پتہ چال رہے تھے ۔ اسحاق ترک بیروت پہنچ چکا تھا اور بالڈون کی ہائی کمانڈ تک پہنچنے
کی ترکیبیں سوچ رہا تھا ۔ وہاں جس سے ملتا اپنے آپ کو کسی مسلمان عالقے سے بھاگا ہوا عیسائی بتاتا۔ اس طرح اس
نے بہت سے لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرلیں۔ وہ چونکہ ترکی کا باشندہ تھا ۔ اس لیے سفید فام تھا ۔ ُخوبرو اور تنومند
بھی تھا۔ گھوڑسواری ،نیزہ بازی ،تیر اندازی اور تیغ زنی میں خصوصی مہارت رکھتا تھا۔ اُس کے بازو لمبے اور ان میں طاقت
تھی ۔ دماغ بھی تیز اور باریک بین تھا ۔ دوسروں کا دل موہنے کے لیے ،بھڑکانے کے لیے اور ہرکسی کو اپنا گرویدہ بنالینے
کے لیے وہ بناسب ڈھونگ رچانے کے فن کاماہر تھا ۔ وہ اپنے ساتھیوں سے کہا کرتا تھا کہ میری اصل قوت میرا ایمان اور
میرا کردار ہے۔
ا ُن دنوں بیروت میں سلطان ایوبی کے خالف جنگی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ وہاں کے لوگوں کو فوج میں بھرتی کرنے کے لیے
فوجی میلے ہو رہے تھے جن میں فوجی کرتب دکھاتے اور تیغ زنی وغیرہ کے مقابلے کرتے تھے۔ ایک روز اسحاق ترک ایسے
ہی ایک مقابلے کا تماشہ دیکھنے جا پہنچا۔ یہ صلیبیوں کا ایک پرانا کھیل تھا ۔ دو گھوڑ سوار ہاتھوں میں لمبی برچھیاں
تانے ایک دوسرے کی طرف گھوڑے سرپٹ دوڑاتے اور ایک دوسرے کو برچھی سے گھوڑے سے گرانے کی کوشش کرتے تھے۔
اگر کوئی پہلی بار نہ گرے تو ایک بار پھر ایک دوسرے کی طرف گھوڑے دوڑاتے اور ایک دوسرے کو برچھی سے گرانے کے
لیے وار کرتے تھے۔ سوار زرہ بکتے پہنے ہوئے تھے۔
یہ مقابلہ ہوتا رہا۔ سوار گرتے رہے۔ دوسروں کو مقابلے کے لیے للکارتے رہے۔ ایک سوار نے کئی سواروں کو گرایا۔ اُس نے
کسی اور کو للکارا تو کوئی بھی سامنے نہ آیا۔ اسحاق ترک صحرائی لباس میں تھا ۔ وہ میدان میں آگیا ۔ مقابلہ کرنے والے
سوار فوجی تھے اور زرہ پوش۔ اسحاق کو عام لباس میں میدان میں اُترتے دیکھ کر تماشائیوں نے قہقہہ لگایا۔ وہاں صلیبی
جرنیل اور دیگر کمانڈر وغیرہ بھی تھے۔ وہ بھی خوب ہنسے ۔ جس گھوڑسوار نے سب کو للکارا تھا وہ گھوڑے پر سوار میدان
میں گھوڑے کو اِدھر ا ُدھر بھگا رہا تھا ۔ وہ صلیبی فوج کے ایک دستے کا کمانڈر تھا ۔ اُس نے ازرا ِہ مذاق گھوڑے کا ُرخ
اسحاق کی طرف کیا اور قریب آکر برچھی اسحاق کوماری ۔ اسحاق وار بچا گیا ۔ تماشائیوں نے ایک اور قہقہہ لگایا ۔ پھر
شور ا ُٹھا ۔ '' پاگل۔ پاگل۔ یہ کوئی پاگل ہے۔ اسے جا ن سے مار ڈالو''۔
گھوڑ سوار کمانڈر نے گھوڑا پیچھے کو موڑا۔ اس کے ساتھی کمانڈروں میں کسی نے اسے کہا …… '' اب کے اسے برچھی
میں اڑس کر ساتھ لے جائو ۔ زندہ نہ رہے '' …… کسی اور نے چال کر کہا …… '' یہ تمہاری توہین ہے ۔ ایک پاگل
دیہاتی نے تمہیں للکارا ہے''۔
گھوڑ سوار نے ایڑ لگائی ۔ اسحاق نہتہ تھا ۔ گھوڑے کو اپنی طرف آتے دیکھ کر اس نے چغہ اتار پھینکا اور برچھی کا وار
بچانے کے لیے تیار ہوگیا۔ گھوڑسوار ذرا سا جھکا ۔ برچھی ہاتھ میں لی ۔ قریب آکر اس نے اسحاق پر وار کیا۔ اسحاق کچھ
دور تک گھوڑے کے ساتھ اس طرح دوڑتا گیا جیسے برچھی اس کے جسم میں اتر گئی ہو اور وہ اُس کے ساتھ گھسیٹتا جا رہا
ہو۔ تماشائیوں نے داد و تحسین کا شوربپا کردیا لیکن یہ دیکھ کر سب پر سناٹا طاری ہوگیا کہ اسحاق ترک دوڑتے دوڑتے سوار
کے پیچھے گھوڑے پر سوار ہوگیا تھا ۔ برچھی کو اس نے پکڑ رکھا تھا ۔ سوار نے بھی برچھی کو پکڑ رکھا تھا ۔ اُس نے
گھوڑے کو گھمایا ۔ گھوڑا ایک چکر میں دوڑنے لگا۔ اسحاق اس سے برچھی چھیننے کی کوشش کر رہا تھا ۔
اُس نے برچھی چھین لی اور دوڑتے گھوڑے سے کود کر کھڑا ہوگیا ۔ اُس نے برچھی لہرا کر للکارا ۔ '' مجھے ایک گھوڑا
دے دو۔ کوئی بھی میرے مقابلے میں آجائے۔ زرہ بکتر کے بغیر مقابلہ کروں گا ''۔
گھوڑ سوار کمانڈر گھوڑے سے اُتر کر اسحاق کے پاس آیا۔ اُس نے بازو پھیال رکھے تھے ۔ اسحاق نے برچھی زمین میں گاڑ
دی ۔ صلیبی سوار نے ا ُسے گلے لگا لیا۔ اسحاق نے کہا کہ مقابلہ کروں گا ،مجھے گھوڑا دے دو …… اسے ایک گھوڑا اور
ایک برچھی دے دی گئی ۔ وہ اسی کمانڈر کے مقابلے میں آیا ۔ تماشائی دم بخود تھے۔ انہیں یقین تھا کہ یہ بد قسمت
دیہاتی زرہ بکتر کے بغیر برچھی سے بہت بُ ری موت مرے گا ۔ دونوں گھوڑے دور آمنے سامنے کھڑے ہوگئے۔ اشارے پر گھوڑے
دوڑے ۔ کمانڈر نے برچھی اسحاق کے پیٹ کے سیدھ میں رکھی ہوئی تھی ۔ اسحاق نے اپنے جسم کو ذرا سا موڑ کر کمانڈر
کا وار خطا کردیا۔ اس کے ساتھ ہی برچھی کمانڈر کے پیٹ میں لگی ۔ کمانڈر گھوڑے کی دوسری طرف گر پڑا۔ اس نے غلطی
یہ کی کہ اس طرف واال پائون رکاب سے نکالنا بھول گیا۔ گھوڑا اسے گھسیٹنے لگا۔
اس مقابلے میں کسی تماشائی کو کسی سوار کی مدد کرنے کی اجازت نہیں تھی ۔ سوار مر بھی جایا کرتے تھے۔ کمانڈر :
کو گھوڑا گھسیٹ رہا تھا ۔ اسحاق نے گھوم کر دیکھا تو ا ُس نے اپنے گھوڑے کو گھمایا ،ایڑ لگائی اور کمانڈر کے گھوڑے کے
پہلو میں آکر اپنے گھوڑے سے کود کر اس کے گھوڑے کی پیٹھ پر جا بیٹھا ،لگام کھینچی اور گھوڑے کو روک لیا۔ کمانڈر نے
چونکہ زرہ بکتر پہن رکھی تھی اس لیے اس کا جسم زمین کی رگڑ سے محفوظ رہا ورنہ اس کی کھال اُتر جاتی ۔
کمانڈر نے اسے اپنے بازوئوں کے گھیرے میں لے لیا اور اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے۔ اسحاق ترک نے بتایا کہ وہ مسلمانوں
کے عالقے سے بھاگا ہوا عیسائی ہے۔ وہ اپنے آپ کو عام قسم کا عیسائی تو کہہ نہیں سکتا تھا ۔ ایسی گھوڑ سواری اور
ایسی نیزہ بازی کا ماہر کوئی فوجی ہو سکتا تھا یا کوئی اونچے خاندان کا فرد۔ اس نے کمانڈر کو بتایا کہ مسلمان اسے
زبردستی فوج میں بھرتی کرنا چاہتے تھے اس لیے وہ وہاں سے بھاگ آیا۔
کمانڈر اُسے اپنے ساتھ لے گیا ۔
یہ کمانڈر بالڈون کی فوج کا نائٹ تھا ۔ نائٹ صلیبی فوج کا بہت بڑا اعزاز اور رتبہ ہوتا تھا جو اُس کمانڈر کو دیا جاتا تھا
جو ذاتی طور پر نڈر اورماہر جنگجو ہو اور اجتماعی طور پر بہت بڑے دستے کو جنگی اہلیت سے لڑاسکے۔ اس اعزاز کے لیے
جو اوصاف دیکھے جاتے تھے وہ کسی کسی میں پائے جاتے تھے ۔ یہ اعزاز جسے ملتا اُسے سر سے پائون تک زرہ بکتر مال
کرتی تھی۔ صلیبیوں کے نائٹ جنگی قابلیت اور بے خوفی کی بدولت آج تک مشہور ہیں ۔ اُن کا اتنا رتبہ ہوتا تھا کہ اُن کے
مشوروں سے بادشاہ اپنے فیصلے بدل دیا کرتے تھے۔
اسحاق ترک نے زرہ بکتر کے بغیر اس نائٹ کو پچھاڑ دیا اور اُسے گھوڑے کے پائوں تلے آنے سے بچا بھی لیا تو نائٹ اس
کی قدروقیمت سمجھ گیا ۔ اُسے اپنے گھر لے جاکر نائٹ نے اُسے شراب پیش کی ۔ مسلمان جاسوسوں کے لیے یہ ایک
مشکل پیدا ہو جایا کرتی تھی کہ دشمن کے عالقے میں وہ عیسائیت کا بہروپ دھار لیتے اور اونچے حلقوں میں بھی پہنچ
جایاکرتے تھے مگر وہاں شراب پانی کی طرح پی پالئی جاتی تھی ۔ مسلمان شراب پینے سے گزیز کرتے تھے۔ بہانے تراشتے
فتوی دینے سے ہچکچاتے تھے کہ ان
تھے۔ بعض جاسوس شراب کے سلسلے میں شک میں پکڑے بھی گئے تھے۔ علماء ایسا
ٰ
میں حاالت میں شراب جائز ہے۔ صالح الدین ایوبی نے یہ ہدایت جاری کی تھی کہ شراب پینے کی اجازت نہیں دی جا
سکتی کیونکہ مذہب میں حرام ہونے کے عالوہ یہ خطرہ تھا کہ شراب نوشی عادت بن جاتی ہے ،دوسرے یہ کہ جس نے
کبھی شراب نہ پی ہو وہ ہوش کھو کر اپنی اصلیت بے نقاب کر سکتا ہے۔ البتہ سلطان ایوبی نے کہا تھا کہ دشمن کے ملک
میں شراب پی لو تو اتنی پی لی جائے جو بدمست نہ کرے۔
یہی مشکل اسحاق ترک کے سامنے آگئی۔ وہ ایمان کا پکا تھا۔ اس نے پینے سے انکار کر دیا اور کہا ۔ '' میری قوت آپ
نے دیکھ لی ہے۔ اس کاراز صرف یہی ہے کہ میں شراب نہیں پیتا۔ میرے استاد نے مجھے کہا تھا کہ تمہارے جسم میں
شراب چلی گئی تو تمہارے نیچے جو گھوڑا ہوگا وہ محسوس کرے گا کہ اس کی پیٹھ پر ایک کمزور انسان بیٹتھا ہے۔ پھر
گھوڑا بھی حکم نہیں مانے گا '' …… اسحاق نے گردن سے لٹکتے دھاگے کو کھینچا۔ اُس کے کرتے کے اندر سے چھوٹی سی
صلیب باہر آئی ۔ اسحاق نے کہا …… '' میں نے اپنی طاقت کو اس صلیب کے تحفظ کے لیے صرف کرنے کے لیے صلیب
ہاتھ میں رکھ کر قسم کھائی تھی کہ شراب نہیں پیئوں گا ۔ بدکاری نہیں کروں گا …… میری قسم نہ توڑیں '' ۔
''تم کہاں رہتے ہو؟'' نائٹ نے پوچھا …… '' گھر والے تمہارے ساتھ آئے ہیں؟''
نہیں '' ۔ اسحاق نے جواب دیا …… ''میں گھر والوں سے یہ کہہ کر بھاگا تھا کہ اپنے کسی عالقے میں کوئی تسلی ''
بخش ٹھکانہ بن گیا تو انہیں یہاں لے آئوں گا ''۔
تمہارا ٹھکانہ بن گیا ہے''۔ نائٹ نے کہا …… '' میں تمہیں اپنی باقاعدہ فوج میں نہیں لے رہا۔ تم میرے ذاتی محافظ ''
ہوگے۔ ہر کمانڈر کے ساتھ دو چار محافظ ہوتے ہیں لیکن میں تم جیسے اوصاف کے آدمیوں کا قدردان ہوں۔ میری پسند کا
صرف ایک محافظ میرے پاس ہے۔ تم دوسرے ہوگے۔ تمہاری رہائش کا انتظام کر دیاجائے گا''۔
وہ زمانہ جنگجوئوں کا تھا ۔ اسحاق جیسے طاقتور اور دلیر آدمیوں کی قدرخوب ہوتی تھی۔ نائٹ نے اُس کی رہائش کا انتظام
کر دیا ۔ اس کے لیے عربی گھوڑے اور دیگر سامان کا بندوبست کیا اور اس کی تنخواہ مقرر کر دی ۔ اسحاق ترک کو خدا
نے دماغی صالحیتیں بڑی فیاضی سے عطا کی تھیں۔ انہیں بروئے کار التے ہوئے وہ دودنوں میں اس صلیبی نائٹ کا معتمد بن
گیا۔
میری صرف ایک خواہش ہے ''۔ اس نے نائٹ سے کہا …… '' جس طرح مسلمانوں کا قبلئہ ّاول ہمارے قبضے میں آگیا '
ہے ۔ ا ُن کے خانہ کعبہ پر بھی ہمارا قبضہ ہوجائے۔ اسالم تھوڑے سے عرصے میں ہمیشہ کے لیے مرجائے گا۔ اگر ساری دنیا
پر نہیں دنیائے عرب پر صلیب کی مقدس حکمرانی ہوجانی چاہیے''۔
تم خواب دیکھ رہے ہو میرے دوست!''نائٹ نے کہا ۔ '' مسلمانوں کو اتنی جلدی شکست دینا آسان نہیں۔ اگر ہم نے ''
مسلمانوں کے کعبے کی طرف پیش قدمی کی تو ساری دنیا کے مسلمان اکھٹے ہو جائیں گے ۔ انہیں چھوڑو ،ہم ابھی تک
اکیلے صالح الدین ایوبی کو شکست نہیں دے سکے ''۔
آپ لوگ اپنے ہی پیدا کیے ہوئے وہموں کا شکار ہوگئے ہیں ''۔ اسحاق ترک نے کہا …… '' مسلمانوں میں اتحاد نہیں ''
رہا۔ صالح الدین ایوبی اپنے مسلمان دشمنوں میں اکیال رہ گیا ہے۔ کیا حلب اور موصل کے نئے حکمران ،عزالدین اور
عمادالدین آپ کے حمایتی نہیں ؟ وہ آپ کی مدد کے محتاج اور منتظر ہیں۔ آپ کے جاسوسوں نے مسلمانوں کو کھوکھال کر
دیا ہے۔ میں آپ کو وہاں کی صحیح تصویر بتاتا ہوں '' …… اس نے الفاظ میں ایسی تصویر پیش کی جس سے نائٹ کی
باچھیں کھل گئیں۔ اسحاق نے ایسے مشورے دئیے جو کوئی جرنیل ہی دے سکتا تھا ۔ نائٹ کی آنکھیں کھل گئیں۔
تم مجھے حیران کر دینے کی حد تک ذہین ہو''۔ نائٹ نے کہا …… ''ہم کچھ ایسے ہی منصوبے بنا رہے ہیں جو ''
تمہاری خواہشوں اور عزائم کے مطابق ہیں ''۔
میرے اس مشورے کو ذرا اہمیت دیں کہ صالح الدین ایوبی کی طرح چھاپہ مار جیش تیار کریں ''۔ اسحاق نے کہا …… ''
'' ایک جیش میرے حوالے کردیں۔ میں مسلمان عالقوں اور ان کی نازک رگوں سے اچھی طرح واقف ہوں۔ مجھے دور اندر
تک وہ جگہیں معلوم ہیں جہاں وہ رسد وغیرہ کے ذخیرے رکھتے ہیں۔ اِدھر جنگ ہوئی تو اُدھر اُن کا کوئی ذخیرہ نہیں رہنے
دوں گا ''۔
ایسا ہی ہوگا ''۔ نائٹ نے کہا …… '' ہم تمہیں موقعہ دیں گے ''۔ ''
٭ ٭ ٭
میں نے تمہیں شمس النساء کے ساتھ باتیں کرتے دیکھا تھا ''۔ انوشی عامر بن عثمان سے کہہ رہی تھی ۔ وہ موصل ''
میں تھے۔ عامر نے ا ُسے محبت کا جھانسہ دے دیا تھا ۔ انوشی آدھی رات کے بعد اس کے کمرے میں آگئی تھی ۔ کہنے
لگی …… ''شمس النساء مجھ سے زیادہ خوبصورت تو نہیں ''۔
اس کا نام نہ لو ''۔ عامر نے اکتاہٹ سے کہا …… '' وہ شہزادی ہے۔ مجھے اپنا نوکر سمجھتی ہے اور حکم چالتی ''
ہے۔ میں کبھی اس کے پاس کھڑا ہوتا بھی ہوں تو یہ حکم کی تعمیل ہوتی ہے۔ تم سے بھی میں اسی لیے ڈرتا رہتا ہوں ۔
تمہیں بھی میں شہزادی سمجھتا رہا ،لیکن تم نے میرا ڈر ُد ور کر دیا ہے۔ پھر بھی کھبی کبھی ڈر آہی جاتا ہے کہ تم مجھے
کسی دھوکے میں مبتال کر رہی ہو۔ یہ نہ بھی ہوا تو اپنا یہ انجام مجھے صاف نظر آرہا ہے کہ بڑوں نے مجھے تمہارے ساتھ
دیکھ لیا تو مجھے تہہ خانے میں بند کردیں گے ''۔
اگر تمہیں کسی تہہ خانے میں بند کیا تو میرے اشارے پر موصل کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی ''۔ انوشی نے کہا ''
اور ا ُسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ پیار سے بولی …… '' تمہارا یہ ڈر بجا ہے کہ میں تمہیں کوئی دھوکہ دے رہی ہوں ۔ میرا وجود
ایک دلکش دھوکہ ہے لیکن تم مجھے انسان کے روپ میں دیکھو۔ مجھے اپنی عبادت کرنے دو ''۔
انوشی پر بے خودی سی طاری ہوگئی۔ عامر بن عثمان کی انگلیاں اس کے بالوں میں رینگ رہی تھیں۔ رات گزرتی جا رہی
تھی ۔ انوشی کے لہجے میں خمار آگیا تھا ۔ عامر بن عثمان کے لیے یہ بڑا ہی سخت امتحان تھا ۔ وہ جوان تھا ،تنومند
تھا اور وہ غیر شادی شدہ تھا۔ کئی بار اس کے جذبات اپنے قابو سے نکل چلے تھے۔ اُس نے دل ہی دل میں دھیان خدا
ِ
ذات باری اسے جبر اور ہمت و استقالل عطا فرمائے'' ۔
کی طرف کر دیا اور خدا سے التجائیں کرنے لگا کہ اس کی
رات تھوڑی سی رہ گئی تھی جب انوشی اس کے کمرے سے نکلی۔ پھر ایسی تین چار راتیں آئیں۔ انوشی اُس کے وجود
میں جذب ہو چکی تھی ۔
ا ُ س نے دیکھ لیا تھا کہ عامر حیوان نہیں انسان ہے مگر عامر کی ذات میں جو لرزے بپا ہو رہے تھے ان سے انوشی واقف
نہیں تھی ۔
مجھے ان مسلمان حکمرانوں سے نفرت ہوگئی ہے''۔ ایک رات عامر نے انوشی سے کہا …… ''میں نے صلیبی حکمران ''
نہیں دیکھے۔ ہمارے حکمرانوں سے تو اچھے ہوں گے''۔ اُس نے راز داری سے پوچھا …… '' کیا یہ ممکن نہیں کہ صلیبی
''آکر ان عالقوں پر قبضہ کر لیں ؟
انوشی بہت ہی چاالک لڑکی تھی ۔ بچپن سے استادوں کے ہاتھوں میں کھیلی تھی ۔ اُس کا حسن قلعوں کی دیواریں توڑ دیتا
تھا ۔ جابر حکمرانوں کو وہ اپنا غالم بنا لیا کرتی تھی مگر وہ انسانی فطرت کی کمزوریوں اور فطری تقاضوں اور مطالبوں سے
آزاد نہیں تھی ۔ کوئی بھی انسان خواہ اوصاف اور عادت کے لحاظ سے درندہ ہی کیوں نہ بن جائے ،اس فطرت کی زنجیروں
سے آزاد نہیں ہو سکتا جو خدا نے بنائی ہیں ۔ انوشی اپنی تشنگی عامر بن عثمان کو بتا چکی تھی ۔ یہ اس کی ُدکھتی
رگ تھی جو ا ُس نے عامر کے ہاتھ میں دے دی تھی ۔ سچے پیار کی تشنگی اور عامر کے وجود نے اس کا ڈنک مار دیا تھا
۔ وہ شراب کے نشے کو جانتی تھی محبت کے خمار سے واقف نہیں تھی ۔ یہ خمار جب طاری ہوا اور عامر نے صلیبی
حکمرانوں کے حق میں بات کر دی تو انوشی کی تمام تر تربیت بیکار ہوگئی۔ اس نے عامر کے ساتھ ایسی باتیں شروع
کردیں جو جاسوس اور تخریب کار نہیں کیا کرتے۔
عامر کا مقصد پورا ہوگیا ۔ اس نے بچ بچ کر سوال پوچھنے شروع کرئیے۔ اگر اس وقت انوشی کو اس کے صلیبی استاد یا
گہر نایاب سمجھتے تھے تو یقین نہ کرتے کہ یہ وہ لڑکی ہے جسے وہ
اعلی حکام دیکھتے جو اُسے
عزالدین اوراس کے وہ دو
ِ
ٰ
ِ
سلطنت اسالمیہ
سوڈانی پری کہا کہتے ہیں ۔ وہ معصوم سی بچی بنی ہوئی تھی اور اسے ذرا بھر احساس نہیں تھا کہ وہ
کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی بجائے صلیب کو دیمک کی طرح کھا رہی ہیں۔ عامر بن عثمان اس کی فطرت کے تقاضے پورے
کر رہا تھا ۔
انوشی جب ا ُس رات عامر کے کمرے سے نکلی تو رات کا آخری پہر تھا ۔ وہ بڑے اہم راز عامر کے سینے میں ڈال گئی
تھی ۔
٭ ٭ ٭
قابل اعتماد
بہت دن گزر گئے تھے۔ بیروت میں اسحاق ترک اپنے صلیبی نائٹ کاذاتی محافظ ہی نہیں اس کا ہمراز دوست اور
ِ
ساتھی بن چکا تھا ۔ اس نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ بالڈون کے فرنگی لشکر کے ایک بڑے دستے کا یہ کمانڈر صلیب کا اتنا
خیرخواہ نہیں جتنا اپنی اس خواہش اور عزم کا غالم ہے کہ وہ اگلی جنگ میں بڑھ چڑھ کر کامیابی حاصل کرے اور شاہ
بالڈون سے عرب کا کوئی ٹکڑا انعام کے طور پر حاصل کرلے۔ اس کے دماغ پر خود مختار حکمرانی سوار تھی اوراس کی
سوچیں اسی خواہش کے تابع تھیں۔ اسحاق ترک اپنے استاد علی بن سفیان کی تربیت کے مطابق اس کی نفسیات سے
ِ
فطرت انسانی کی کمزوریوں اور تقاضوں کے سامنے بے بس ہو گئی تھی
کھیلنے لگا۔ جس طرح انوشی جیسی خطرناک لڑکی
اسی طرح صلیبیوں کا یہ نائٹ اپنے نظرئیے سے ہٹ کر اور اپنی خواہشات سے مغلوب ہوکر یہ سوچنے کی ضرورت ہی
محسوس نہیں کر رہا تھا کہ جس اجنبی کو اس نے اپنا دوست بنا لیا ہے وہ صرف اس کی نہیں ،اس کے بادشاہ اور اس کی
صلیب کی شکست کا پیامبر ہے۔
ایک روز نائٹ اسحاق ترک کو بیروت سے ُد ور لے گیا ۔ اسحاق کوپتہ چال کہ نائٹ کا دستہ رات کو بڑی جلدی میں کوچ :
کر گیا ہے ۔ نائٹ اس دستے کومختلف جگہوں پر تقسیم کرنے کے لیے جا رہا تھا ۔ اسحاق محافظ کے طور پر اس کے ساتھ
تھا ۔ دستے تک پہنچے تو دیکھا کہ خیمے نہیں لگائے گئے تھے ۔ اس میں گھوڑ سوار بھی تھے اور پیادے بھی ۔ نائٹ نے
اپنے محاتحت کمانڈروں کو بالکر مختلف جگہیں بتائیں اور حکم دیا کہ ان جگہوں پر وہ خیمے گاڑ لیں اور تیاری کی حالت
میں رہیں ۔ اسحاق پاس کھڑا یہ احکام ُسن رہا تھا ۔
ہو سکتا ہے تمہیں ایک مہینے تک تیاری کی حالت میں رہنا پڑے ''۔ نائٹ نے اپنے چھوٹے کمانڈروں سے کہا …… '' ''
لیکن ا ُکتا نہ جانا۔ ہمیں کل قاہرہ سے آئے ہوئے ایک جاسوس نے اطالع دی ہے کہ صالح الدین ایوبی نے بیروت کومحاصرے
میں لے کر اس شہر پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ہمیں توقع تھی کہ وہ اب بھی دمشق کی طرف سے آئے گا اور سب
سے پہلے اپنے مسلمان امراء کو جن میں حلب ،موصل اور حرن کے امراء خاص طورپر قابل ذکر ہیں ،اپنے ساتھ مالئے گا،
قابل اعتماد اطالع ملی ہے کہ وہ سب سے پہلے ہمارے دل پر وار کرے گا ،اس
اُس کے بعد وہ ہمیں للکارے گا ،مگر اب یہ
ِ
کے بعد وہ اپنے ان امراء سے جنہیں ہم نے اپنا درپردہ دوست بنا رکھا ہے ،نپٹے گا ۔ اگر ہمیں یہ اطالع نہ ملتی تو ہم
بیروت کے اندر اس کے محاصرے میں آجاتے۔ تم میں سے بہت سے ایسے ہیں جنہیں یہ معلوم نہیں کہ صالح الدین ایوبی
محاصرے کاماہر ہے۔ اس کے محاصرے میں آئی ہوئی فوج کے پاس صرف یہ چال رہ جاتی ہے کہ ہتھیار ڈال دے۔ صلیب کی
برکت سے ہمیں پہلے ہی اشارہ مل گیا ہے ''۔
اسحاق سن رہا تھا ۔ اس نے اپنے کپڑوں کے اندر پسینے کی نمی محسوس کی ۔ اسے یہ سن کر غصہ آنے لگا کہ صالح
الدین ایوبی کے اندرونی حلقے میں بھی صلیبیوں کے جاسوس موجود ہیں جنہوں نے اتنی خطرناک اطالع یہاں پہنچا دی ہے۔
اُسے معلوم تھا کہ مسلمان ایمان فروشی پر فورا ً ا ُتر آتے ہیں۔ سلطان ایوبی کے ہمراز حلقے میں کوئی صلیبی تو نہیں جاسکتا۔
اب یہ ذمہ داری اسحاق ترک بڑی شدت سے محسوس کرنے لگا کہ وہ قاہرہ پہنچے اور علی بن سفیان کو بتائے کہ اگر
سلطان نے واقعی بیروت پر فوج کشی کا فیصلہ کر لیا ہے تو سیدھا بیروت نہ جائے۔
اس اطالع سے ہم یہ فائدہ ا ُٹھا رہے ہیں کہ جس طرح ہمارا دستہ اس عالقے میں گھات کی صورت میں بھیجا گیا ہے'' ،
اسی طرح چند اور دستے جن میں گھوڑ سوار زیادہ ہیں ،بیروت کے اردگرد اور دور دور بھیج دئیے گئے ہیں۔ صالح الدین
ایوبی کا استقبال وہ دستے کریں گے جو بیروت میں تیار ہوں گے۔ وہ اُس کی فوج کو یہ تاثر دے کر اُلجھائیں گے کہ اس نے
بیروت کو اچانک آدبوچا ہے۔ وہ جب محاصرے کو تنگ کر رہا ہوگا ہم عقب سے اس پر حملہ کر دیں گے۔ پھر وہ بیروت
کے اندر والی ہماری فوج اور ہمارے باہر والے دستوں میں آکر ہمیشہ کے لیے پس جائے گا ''۔
''! جناب !'' ایک پرانی عمرکے کمانڈر نے کہا …… '' یہ معلوم ہو چکا ہے کہ وہ کس طرف سے آئے گا''
ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا ''۔ نائٹ نے جواب دیا ۔ ' 'ممکن یہ نظر آتا ہے کہ وہ ہمارے عالقوں میں سے گزر کر ''
آنے کا خطرہ مول لے گا۔ شاہ بالڈون نے ہدایت جاری کی ہے کہ راستے میں اُس کے ساتھ جھڑپ نہ لی جائے ۔ اُسے دور
اندر تک اور بیروت تک آنے دیا جائے۔ یہاں ہم اُس کی فوج کو رسد سے محروم کرکے ماریں گے ''۔
اور آپ کو یہ تو معلوم ہوگا کہ بیروت سمندر پر واقع ہے ''۔ اسی کمانڈر نے کہا …… '' وہ اپنی بحری قوت بھی ''
استعمال کر سکتا '' وہ بحری قوت استعمال کرے گا ''۔ نائٹ نے کہا ۔ '' اس کی بہت سی فوج بحری جہازوں سے
آرہی ہے۔ ہم نے اس کا بھی انتظام کر لیا ہے۔ ہم سمندر میں اس کا مقابلہ نہیں کریں گے۔ اُس کی فوج کو اترنے کا موقع
دیں گے۔ اس طرح ہم ا ُس کے جہازوں کو تباہ کرنے یا بھاگنے کا موقع دینے کی بجائے جہازوں پر قبضہ کریں گے…… میرے
دوستو! تم جانتے ہو کہ فوج کو راز کی ایسی باتیں نہیں بتائی جاتیں کیونکہ جس طرح ہمارے جاسوس مسلمان عالقوں میں
موجودہیں اسی طرح ہمارے عالقوں میں مسلمان جاسوس سرگرم ہیں۔ سپاہیوں کے منہ سے نکلی ہوئی بات صالح الدین ایوبی
تک پہنچ سکتی ہے ،مگر بعض حاالت میں اپنے کمانڈروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ آنے والے حاالت کیسے ہوں گے اور ان کا
پس منظر کیا ہے۔ یہ احتیاط کریں کہ سپاہیوں کو پتہ نہ چلنے پائے کہ ہمیں صالح الدین ایوبی کے متعلق کوئی اطالع ملی
ہے ورنہ و ہ اپنا فیصلہ بدل دے گا ''۔
کیا آپ کو مسلمان امراء کی نیت کا عمل ہے؟'' ایک اور کمانڈر نے پوچھا …… '' ایسا نہ ہو کہ وہ ہم پر حملہ ''
کریں ''۔
ان کی طرف سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں ''۔ نائٹ نے کہا …… '' حلب کا والئی عزالدین موصل میں آگیا ہے اور ''
موصل کا امیر عمادالدین حلب چال گیا ہے ۔ یہ تبادلہ ہماری کارستانی سے ہوا ہے۔ وہاں کے حاالت ہمارے قبضے میں ہیں ۔
البتہ یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ ان میں کوئی مسلمان حکمران صالح الدین ایوبی پر حملہ کردے یا اُسے رسد دینے سے
'' انکار کردے۔ بہرحال یہ یقین ہے کہ اپنے مسلمان امراء کی طرف سے صالح الدین ایوبی کو تعاون نہیں ملے گا
رات کو اسحاق ترک نے نائٹ کے ساتھ سلطان ایوبی کے متوقع حملے اور بیروت کے محاصرے پر تبادلہ خیال اور خوشی کا
اظہار کیا کہ اُسے اپنی خواہش کی تکمیل کا موقع مل جائے گا ۔ اُس نے کچھ اور ضروری باتیں معلوم کرلیں۔ اس کے سامنے
اب یہ مسئلہ تھا کہ وہاں سے نکلے اور قاہرہ پہنچے۔ وہ آسانی سے فرار ہو سکتا تھا لیکن اس نے سوچ لیا تھا کہ غائب
لہذا وہ اپنی سکیم میں ردوبدل
ہوجانے سے نائٹ کو شک ہوجائے گا کہ یہ جاسوس تھا جو سب کچھ دیکھ کر چال گیا ہے ٰ
کرلیں گے۔ وہ نائٹ کو بتا کر جانے کی سوچنے لگا۔ ا ُسے ایک بہانہ مل گیا جو یہ تھا کہ وہ اپنے گھر کے تمام افراد کو
مسلمان عالقے میں چھوڑ آیا ہے ،اب چونکہ اس کا ٹھکانہ بن گیا ہے اس لیے وہ انہیں وہاں سے نکالنا چاہتا ہے ورنہ
مسلمان انہیں پریشان کریں گے۔
یہ بہانہ پیش کر کے اس نے نائٹ سے کہا …… '' ایک آدھ مہینے بعد ہم جنگ میں اُلجھ جائیں گے پھر نہ جانے کب
فرصت ملے۔ انہیں ابھی لے آئوں تو بہتر ہے یہ بھی ممکن ہے کہ میں جنگ میں مارا جائوں۔ مرنے سے پہلے انہیں یہاں النا
چاہتا ہوں تا کہ میرے بعد میری بہنیں مسلمانوں کے ہاتھوں خراب نہ ہوتی پھریں''۔
بہانہ معقول تھا ۔ نائٹ نے ا ُسے جو گھوڑا دے رکھا تھا وہی اس کے پاس رہنے دیا اور کہا …… '' ابھی روانہ ہوجائو اور
جس قدر جلدی آسکو واپس آئو''۔
اسحاق ترک اس صلیبی نائٹ سے زیادہ جلدی میں تھا ۔ اُسے بہت جلدی قاہرہ پہنچنا تھا لیکن اس سے پہلے حلب اور
موصل جانا ضروری تھا کیونکہ ا ُس کے کانوں میں وہاں کے حکمرانوں اور امراء کے متعلق کچھ باتیں پڑی تھیں۔ اسے یہ پتہ
نہیں چل سکا تھا کہ سلطان ایوبی جب ان عالقوں میں فوج الئے گا تو موصل کے حکمرانوں اور ساالروں کا رویہ کیا ہوگا۔
اسے معلوم تھا کہ حلب میں ا ُس کے ساتھی جاسوس کون کون ہیں اور وہ کہاں مل سکتے ہیں مگر نائٹ کی زبان سے اس
نے سنا تھا کہ عزالدین موصل اور عمادالدین حلب چال گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا تھا کہ رضیع خاتون بھی
موصل میں ہوگی اوراگر وہ موصل میں ہے تو اُس کی خادمہ بھی ساتھ ہوگی ۔ محل کے اندر کی دنیا سے رابطہ اس خادمہ
کے ذریعے ہوسکتا تھا ۔ بہرحال ا ُسے وہاں کے حاالت اور حاالت کی خبر دینے والے خفیہ ساتھیوں کا کچھ پتہ نہ تھا سوائے
دو کے جو موصل میں تھے۔
وہ ا ُسی رات روانہ ہوگیا ۔ گھوڑا اچھا تھا ۔ اسحاق ماہر سوار تھا ۔ مہینوں کی مسافت دنوں میں طے کرنے کا اُسے تجربہ
تھا ۔ وہ فاصلہ طے کرتا اور خداسے یہی دعائیں مانگتا جا رہا تھا کہ ا ُ س کے قاہرہ پہنچنے سے پہلے سلطان ایوبی کوچ نہ
کر چکا ہو۔ گھوڑا دوڑ سے تھک گیا تو اسحاق نے اسے روکا نہیں ،گھوڑا اپنی سہولت کی چال آہستہ آہستہ چلتا گیا ۔
اسحاق نے آگے جھک کر پیش زین کے ساتھ لگا لیا اور چلتے گھوڑے پر سو گیا۔ سحر کی تاریکی میں اُس کی آنکھ کھلی ۔
اس نے گھبرا کر آسمان کی طرف دیکھا۔ اس کی راہنمائی کرنے واال ستارہ چمک رہا تھا ۔ گھوڑا صحیح سمت جا رہا تھا ۔
صبح کی روشنی میں ایک جگہ گھوڑے کو پانی پالیا اور کچھ کھال کر اُس نے خودبھی ذرا آرام کیا ،گھوڑے کو بھی آرام دیا
اور چل پڑا۔
یہ دن بھی گزر گیا ۔ رات آئی اور گزر گئی۔ صلیبی نائٹ کے دئیے ہوئے عربی گھوڑے نے اسحاق کا خوب ساتھ دیا ۔ سورج
غروب ہونے میں ابھی بہت دیر تھی
جب اُسے موصل کے میناروں کے ک ُلس نظر آنے لگے۔ اسحاق ترک اس شہر سے اچھی طرح واقف تھا اور اسے اپنے دو :
ساتھی جاسوسوں کے ٹھکانوں کا بھی علم تھا ۔ ا ُسے معلوم نہیں تھا کہ وہ اسے کچھ بتا سکیں گے یا حلب کا راستہ دکھا
سکیں گے۔
٭ ٭ ٭
عزالدین کو اطمینان ہوگیا کہ رضیع خاتون اُس کی زوجیت میں خوش ہے اور اب وہ اُس کے کاموں کے متعلق کوئی بات نہیں
کرتی ،نہ کچھ پوچھتی ہے۔ رضیع خاتون نے اُس سے یہ بھی نہیں پوچھا تھا کہ اُس نے عماالدین کے ساتھ امارتوں کا تبادلہ
کیوں کرلیا ہے۔ رضیع خاتون نے جس مقصد کے لیے عزالدین کے ساتھ شادی کی تھی وہ تو پورا نہ ہو سکا تا ہم وہ اس
پہلو کو دیکھ کر مطمئن ہوگئی کہ وہ اس پر اسرار دنیا کے اندر آگئی ہے اور سلطان ایوبی نے یہاں جاسوسی کا جو جال
بچھا رکھا ہے اسے وہ مزید مضبوط اور کارآمد بنا رہی ہے۔ شمس النساء کو اُس نے تربیت دے لی تھی اور اُس کی یہ بیٹی
لڑکپن کے کھلنڈر ے جذبات سے نکل کر مجاہدہ بن گئی تھی ۔ اس لڑکی نے عزالدین کے ذاتی محافظ عامر بن عثمان کو
مخبر اور جاسوس بنا دیا تھا ۔ اس کے لیے اس نے یہ قربانی دی تھی کہ اُسے ایسی چاالک لڑکی کے حوالے کر دیا تھا جو
عامر کو اس سے ہمیشہ کے لیے چھین سکتی تھی ۔
عامر بن عثمان نے انوشی کے سینے سے جتنے راز نکالے تھے وہ شمس النساء کے ذریعے رضیع خاتون تک پہنچا دئیے
تھے ۔ یہ نہایت اہم راز تھے جو قاہرہ تک پہنچانے تھے۔ حلب سے سلطان ایوبی کے جو جاسوس آئے تھے ۔ اُن کے کماندار
سے پوچھا گیا تھا کہ قاہرہ جانے واال کوئی آدمی تیار کرو۔ اس نے کہا تھا کہ اسحاق ترک بیروت سے آجائے گا۔ وہاں کی
خبر تک نہیں ملے گی قاہرہ کے لیے اطالع نامکمل رہے گی۔ علی بن سفیان سے سلطان ایوبی بار بار کہہ رہا تھا کہ
صلیبیوں کے آئندہ اقدام کے متعلق معلومات حاصل کرو۔
انوشی نے عامر بن عثمان کو جو باتیں بتائی تھیں وہ غلط نہیں ہو سکتی تھیں ۔ وہ عزالدین اور اُس کے خصوصی مشیروں
پر اتنی غالب آئی ہوئی تھی کہ وہ اس لڑکی کی موجودگی میں انتہائی نازک باتیں کرتے رہتے تھے ۔ ان لوگوں کے ساتھ
قابل نفرت انسان سمجھتی تھی ۔ وہ تو اپنا فرض ادا کر رہی تھی ۔ اسے ابھی یہ
اُسے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ انہیں وہ
ِ
معلوم نہیں ہواتھا کہ جس عامر کو وہ دل و جان سے چاہتی ہے وہ اپنا فرض ادا کر رہا ہے۔ عامر کا انداز ایسا تھا جیسے
وہ اپنی دلچسپی کی خاطر ایسی باتیں پوچھ رہا ہو۔
عزالدین نے رضیع خاتون کی سیر کے لیے بھگی وقف کر رکھی تھی ۔ ایک شام رضیع خاتون شمس النساء کے ساتھ باہر نکل
گئی۔ شہر کے قریب ہی سبزہ زار تھا جس میں ایک چشمہ بھی تھا ۔ یہ جگہ اتنی خوبصورت تھی کہ صرف شاہی خاندان
کے لیے وقف کر دی گئی تھی ۔ رضیع خاتون کے ساتھ اس کی خادمہ بھی تھی اور محافظ کے طور پر عامر بن عثمان بھی
ساتھ تھا ۔ عزالدین کو عامر پر بھروسہ تھا اور اُس نے عامر کو حکم دے رکھا تھا کہ رضیع خاتون جب بھی سیر کے لیے
باہر جائے تو عامر ساتھ ہو۔ اس جگہ پہنچ کر بھگی کو ُدور کھڑا کردیا گیا ۔ رضیع خاتون اور شمس النساء چشمے کی طرف
چلی گئیں۔ عامر بن عثمان بھی ساتھ رہا ۔ یہ صرف سیر نہیں تھی بلکہ سیرکے بہانے عامر سے معلوم کرنا تھا کہ اُسے اور
کیا کچھ معلوم ہوا ہے۔
اس وقت اسحاق ترک موصل میں اپنے ایک ساتھی کے پاس پہنچ چکا تھا اور یہ ساتھی اُسے بتا رہا تھاکہ رضیع خاتون بھی
ان کے گروہ میں شامل ہو گئی ہے بلکہ سرپرستی کر رہی ہے ۔ ان دونوں کے درمیان کچھ باتیں ہوئیں تو ان کا ایک اور
ساتھی آگیا۔ ا ُس نے اسحاق کو بتایا کہ رضیع خاتون کی خادمہ اس وقت چشمے پر گئی ہے۔ بہتر ہے اسحاق اسے وہاں ملے۔
اسحاق نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ وہ بہت جلدی میں ہے اور کام کی کوئی بات معلوم ہو سکے تو وہ رات ُرکنے کی
بجائے فورا ً قاہرہ کو روانہ ہو جائے ۔اسی لیے ا ُسے بتایا گیا تھا کہ خادمہ چشمے پر ملے گی۔ اس آدمی نے رضیع خاتون کی
لہذا یہ اُمید
سواری ا ُدھر جاتے دیکھی تھی ۔ اسحاق کو یہ تو بتا ہی دیا گیا تھا کو رضیع خاتون بھی اُن کے ساتھ ہے۔ ٰ
رکھی جا سکتی ہے کہ اس کے ساتھ بھی مالقات ہوجائے۔
عامر بن عثمان چشمے کے کنارے رضیع اور شمس النساء کو بتا رہا تھا کہ انوشی کی بتائی ہوئی باتوں کے مطابق یہ یقین ہو
گیا ہے کہ صلیبیوں کے خالف جنگ کی صورت میں عزالدین سلطان ایوبی کی دوستی کو دھوکے میں رکھے گا۔ اگر سلطان
رسد مانگے گا تو رسد بروقت پوری نہیں بھیجے گا۔ اگر سلطان نے فوج مانگی تو یہ بہانہ پیش کیا جائے گا کہ اس کے
تعلقات عمادالدین کے ساتھ اچھے نہیں رہے اور عماالدین موصل پر حملے کے لیے آرمینیوں کے ساتھ سازباز کر رہا ہے۔ اس
لیے فوج قلعے میں موجود رہنی چاہیے۔ عامر نے بتایا کہ عمادالدین کا رویہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ ان حاالت سے سلطان ایوبی
کا باخبر ہونا ضروری تھا کیونکہ وہ ان دونوں کا اپنا اتحادی سمجھتا تھا۔
خادمہ ادھر ادھر ٹہل رہی تھی ۔ ا ُسے کسی کے گانے کی آواز سنائی دی …… '' ریگزاروں کے راہی راہوں میں بھٹکیں،
ستاروں کو دیکھیں'' …… سیرگاہ کے قریب سے کوئی گاتا ہوا گزر رہا تھا ۔ خادمہ کے کان کھڑے ہوگئے۔ یہ جاسوسوں کے
اس گروہ کے خفیہ الفاظ تھے جو وہ ایک دوسرے سے مالقات کے لیے ترنم میں اس طرح استعمال کیا کرتے تھے جیسے
کوئی مسافر اپنا دل بہالنے کے لیے گنگناتا جا رہا ہو۔ خادمہ پودوں کی اوٹ میں آگے چلی گئی۔ اس نے اسحاق ترک کو
پہچان لیا۔ ا ُسے روکا۔ اسحاق نے اسے کہا کہ وقت نہیں ہے۔ خادمہ نے کہا کہ اسی طرح ٹہلتے رہواور وہ رضیع خاتون کے
پاس چلی گئی۔
٭ ٭ ٭
سورج غروب ہو چکا تھا ۔ سیرگاہ پر تاریکی چھا رہی تھی ۔ اسحاق ترک ایک ایسی جگہ رضیع خاتون ،شمس النساء اور
عامر بن عثمان کے پاس بیٹھا تھا جہاں انہیں کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ رضیع خاتون اُسے حلب اور موصل کے تمام اسرار
اور دھوکے بتا چکی تھی ۔ ا ُس نے اسحاق سے کہا …… '' صالح الدین ایوبی سے کہنا میں نے نورالدین زنگی کا مقام
عزالدین کو دیا تھا ۔ میں نے اس ا ُمید پر دل پر پتھر رکھ کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ عزالدین کو زنگی مرحوم کا صحیح جانشین
بنادوں گی اور یہ زنگی کی طرح تمہارا دایاں بازو بنے گا مگر شادی کے بعد راز کھال کہ میں نے عمر بھر کی ایک بھیانک
غلطی کی ہے۔ مجھے قید کر لیا گیا ہے۔اب دمشق کی الج تمہارے ہاتھ ہے۔ بیروت کے عالقے میں تمہارا جس طرح استقبال
ہوگا وہ تم اسحاق سے سن لوگے۔ تم ہی فیصلہ کر سکتے ہو کہ ان حاالت میں جبکہ بیروت کو محاصرے میں لینے کاتمہارا
منصوبہ پہلے ہی بیروت پہنچ گیا ہے ،تم بیروت ہی جائو گے یا اپنا منصوبہ بدل دوگے۔ اس سوال کا جواب علی بن سفیان
دے سکتا ہے کہ یہ راز بیروت کس نے پہنچایا ۔ ہماری قوم میں ایمان نیالم عام ہوگیا ہے۔ عرب کے امراء کی عیاشیوں کا
یہی عالم رہا تو وہ قبلہ اول کی طرح خانہ کعبہ کو بھی بیچ کھائیں گے۔ عیاشی اور حکمرانی مل کر ملکوں کو ٹکڑوں میں
کاٹتی اور قوموں کا نام و نشان مٹا دیتی ہیں…… عزالدین اور عمادالدین پر بھی بھروسہ نہ کرنا۔ یہ تمہیں مدد نہیں مدد کا
دھوکہ دیں گے۔ بیروت کی بجائے حلب اور موصل کو محاصرے میں لے کر ان ایمان فروش حکمرانوں سے ہتھیار ڈلوا لو اور یہ
اہم عالقے اپنی عملداری میں لے لو تو یہ اسالم کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔ اپنے آبائو اجدا کی تاریخ پر ایک نظر ڈالو۔
ہمارے بادشاہوں نے ہمیشہ ملکوں کے سودے کیے ہیں اور ان سودوں پر اسالم کے سپاہی نے لکیر پھیر دی اور قوم کی الج
رکھی ہے۔ دشمن کو صرف سپاہی دیکھتا ہے اور دشمن کے ہاتھوں صرف سپاہی کٹتا اور مرتا ہے اس لیے وطن اور قوم کی
……قدروقیمت صرف سپاہی جانتا ہے
جب یہ عیاش حکمران دشمن کی بھیجی ہوئی شراب ،حسین لڑکیوں اور دولت کے نشے میں بدمست پڑے ہوتے ہیں اُس ''
وقت اللہ کے سپاہی ریگزاروں ،کوہستاوں اور سمندروں میں کٹ رہے ہوتے ہیں ۔ صالح الدین بھائی! تمہاری عمر بھی
صحرائوں میں لڑتے گزر رہی ہے ،میرا پہال خاوند بھی ساری عمر دین کے دشمنوں سے لڑتا رہا ،مگر جب تم ایمان فروش
حکمرانوں کے خالف ا ُٹھتے ہو تو وہ تمہیں اپنی قوم کا قاتل اور غدار کہتے ہیں ۔ ان فتنوں کی پروا نہ کرو۔ یہ سب
صلیبیوں اور یہودیوں کے فتوے ہیں جو ہمارے اپنے بھائی تمہارے خالف داغ رہے ہیں۔ آئو ،طوفان کیطرح آئو۔ خدا تمہارے
ساتھ ہے۔ میں تمہارے لیے زمین ہموار کر رہی ہوں۔ یہاں کا بچہ بچہ تمہارے ساتھ ہوگا …… باقی خبریں اسحاق سے ُسن لینا
''۔
اسحاق ترک کو تمام معلومات دے دی گئیں ۔ وہ ا ُٹھا اور پودوں کو روندتا ہوا باہر نکل گیا ۔ اس کے کچھ ایسا محسوس کیا
جیسے اُس نے کسی کے قدموں کی ہلکی سے آہٹ ُسنی ہو ۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا۔ اُسے یہ شک بھی ہوا جیسے اُسے
کچھ دور ایک سایہ جاتا اور پودوں میں غائب ہوتا نظر آیا ہو۔ اُس نے زیادہ توجہ نہ دی ۔ اس کے ذہن پر مسئلہ سوار تھا
کہ جس قدر جلدی ہوسکے وہ قاہرہ پہنچے ،کہیں ایسا نہ ہو کہ سلطان ایوبی فوج کے ساتھ کوچ کر چکا ہو۔ اسے اس کامیابی
کی بہت خوشی تھی کہ ا ُسے ہر جگہ سے نہایت کارآمد معلومات مل گئی تھیں۔ وہ اپنے ساتھیوں کے پاس گیا۔ بہت جلدی
میں کھانا کھایا اور روانہ ہوگیا ۔ ا ُسے اپنا سفر اس وجہ سے لمبا کرنا پڑا کہ حلب میں آکر اپنے کماندار سے ملنا ضروری
تھا۔
حلب پہنچا ۔ کماندار سے مال۔ اس نے اسحاق کو تازہ دم نہایت اچھی نسل کا گھوڑا دیا ۔ پانی کے چھوٹے مشکیزے اور
کھانے کی چیزوں سے تھیالبھرا گھوڑے کے ساتھ باندھ دیا ۔ اسحاق قاہرہ کے لیے روانہ ہوگیا۔ اُس رات کا ذکر ہے جس رات
اسحاق سیرگاہ میں رضیع خاتون سے مال تھا کہ انوشی طبیعت کی خرابی کا بہانہ کرکے عزالدین اور اس کے قریبی ہمرازوں
کی محفل میں نہ گئی۔
20:57
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 131سانپ اور صلیبی لڑکی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہمرازوں کی محفل میں نہ گئی۔ عزالدین اس کی مزاج پرسی کے لیے گیا تو انوشی کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ وہ بات کرتی تو
زبان ہکالتی تھی ۔ عزالدین نے اپنے طبیب کو بالیا۔ طبیب نے دوا دی جو انوشی نے یہ کہہ کر رکھ لی کہ کھالے گی۔ اُس
نے کہا کہ وہ آرام کرنا چاہتی ہے ،یہ شب بیداری اور زیادہ شراب پی لینے کے اثرات ہیں۔ عزالدین اور طبیب چلے گئے۔
انوشی دروازہ اندر سے بند کرکے لیٹنے کی بجائے کمرے میں ٹہلنے لگی۔ وہ بہت بے چین تھی ۔ اس نے کئی بار کھڑکی کا
پردہ اُٹھا کر باہر دیکھا اور کمرے میں کبھی ٹہلتی ،کبھی ُرکتی اور پھر کھڑکی کا پردہ ہٹا کر باہر دیکھتی ۔
اس نے اپنے زیورات واال خوشنما بکس کھوال۔ اس میں سے ایک انگوٹھی نکالی ۔ اس کے نگینے والی جگہ ڈبیا کی شکل کی
تھی ۔ خوشنما اور وزنی انگوٹھی تھی ۔ اس نے اس پر جڑی ہوئی چھوٹی سی ڈبیا کو جو انگوٹھی کا حصہ تھی ،کھوال۔ اس
میں سفید سفوف بھرا ہوا تھا ۔ اس نے سفوف کو ذرا سی دیر دیکھا اور ڈبیا بند کرکے انگوٹھی اپنی انگلی میں ڈال لی ۔
اس سے ا ُسے کچھ سکون محسوس ہوا جیسے اس نے اپنی بے چینی اور اداسی کا ذریعہ پیدا کر لیا ہے۔
رات آدھی گزر گئی تھی ۔ اس کی ذاتی خادمہ اس کے کمرے کے قریب ایک کمرے میں سوئی ہوئی تھی ۔ انوشی نے اُسے
کہہ دیا تھا کہ آج رات ا ُسے اس کی ضرورت نہیں ۔ آدھی رات کے بعد وہ خادمہ کے کمرے میں گئی اور اسے جگا کر کہا
کہ عامر بن عثمان کو بال الئو۔ اس کی خادمہ اس کی اور عامر کی مالقاتوں کی رازدان تھی ۔ وہ گئی اور عامر بن عثمان
کو بال الئی۔ انوشی نے خادمہ سے کہا کہ وہ کمرے کے باہر بیٹھی رہے۔
عامر!'' انوشی ایسے لہجے میں بولی جس سے عامر واقف نہیں تھا …… ''آج شام وہ کون تھا جو سیر گاہ میں تم ''
سب کے ساتھ بیٹھا تھا ''۔
کوئی بھی نہیں ''۔ عامر نے ال علمی کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا …… '' میرے پاس کوئی نہیں آیا تھا ۔ میں تو ''
خاتون کی سواری کے ساتھ محافظ بن کے جاتا ہوں اور اُن سے ُدور رہتا ہوں ''۔
عامر !'' انوشی نے بالکل ہی بدلے ہوئے لہجے میں کہا …… '' مجھ سے زمین کی تہوں کے راز پوچھ لو ۔ میں نے ''
تمہیں دل کی گہرائیوں سے چاہا ہے مگر تم نے مجھے کوئی سیدھی سادی صحرائی لڑکی سمجھ لیا ۔ تم ،رضیع خاتون ،
شمس النساء اور ان کی خادمہ اکھٹے بیٹھے تھے اور ایک اجنبی تمہارے درمیان بیٹھا تھا ۔ راز ونیاز کی باتیں ہو رہی تھیں۔
ثبوت چاہتے ہو؟ میں نقاب اوڑھ کر اور مستور ہو کر وہاں گئی تھی ۔ تم سب سرگوشیوں میں باتیں کر رہے تھے ۔ پھر وہ
اجنبی وہاں سے اُٹھا اور چال گیا ۔ میں وہاں سے آگئی ''۔
اسحاق ترک جب ان لوگوں سے اُٹھ کرجا رہا تھا تو اس نے کسی کے قدموں کی دبی دبی آہٹ سنی تھی اور کچھ دور ایک
سایہ سا بھی دیکھا تھا ۔ یہ انوشی تھی جو چوری چھپے رضیع خاتون ،شمس النساء اور عامر بن عثمان کے پیچھے گئی تھی
۔
عامر بن عثمان سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔ اس نے کوئی بے معنی سے بات کی ۔ انوشی استاد تھی ۔ وہ سمجھ گئی کہ
اس کے شکوک بے بنیاد نہیں ۔ اس نے کہا …… '' اگر شمس النساء اکیلی ہوتی تو میں سمجھتی کہ اس شہزادی نے تمہیں
''گھیر رکھا ہے مگر یہ معاملہ کچھ اور ہے …… مجھے بتائو کہ تم مجھ سے یہ راز کی باتیں کیوں پوچھتے رہتے ہو ؟
ویسے ہی ''۔ عامر نے ہنسنے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا …… '' ان باتوں کے ساتھ میری کیا دل چسپی ہو ''
''سکتی ہے ۔ میں صرف اس سے لطف ا ُٹھاتا ہوں کہ ہم ان بادشاہوں کو کیا سمجھتے ہیں اور یہ اندر سے کیا ہیں؟
عامر!'' انوشی نے قہر بھری آواز میں کہا …… '' تم جانتے ہو میں کون ہوں۔ میرے اشارے پر اس شہر کی اینٹ سے ''
اینٹ بج سکتی ہے۔ مجھے میرے پیاسے جذبات نے دھوکہ دیا اور میں تمہاری محبت کے نشے میں اپنے فرائض فراموش
کربیٹھی اور تم اپنا فرض ادا کرتے رہے۔ پھر بھی میرے دل میں تمہاری محبت ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ تم میرے کمرے
میں زندہ اور سالمت ہو۔ میں اگر چاہتی تو اس وقت تم قید خانے کی کوٹھری میں بیہوش بڑے ہوتے جہاں اذیتوں کے بعد
غداروں اور جاسوسوں کو ڈاال جاتا ہے۔ میں نے تمہیں اس جہنم سے بچا لیا ہے۔ مجھے صرف یہ بتا دو کہ تم نے میرے
سینے سے راز نکال کر اس اجنبی کو دئیے ہیں اور وہ قاہرہ چال گیا ہے۔ میرا خلوص اور میری محبت دیکھو کہ میں نے اس
آدمی کو نکل جانے کی مہلت دی ۔ میں اُسے اُسی وقت پکڑواسکتی تھی مگر تمہاری محبت نے میرا زہر ُچوس لیا ہے
''…… اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ '' میں جو اتنا دلنشیں دھوکہ ہوں ،دھوکے کا شکار ہوگئی ہوں۔ تم جیت گئے ہو ۔
سچ کہہ دو عامر ،سچ کہہ دو ''۔
ہاں انوشی !'' عامر نے کہا …… تم نے اپنا فرض ادا کیا ہے ،میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے ۔ تم مجھے قید خانے میں ''
'' بند کرادو
انوشی کے آنسو بہہ نکلے تھے لیکن اُس نے قہقہہ لگایا اور کہا ۔ '' بس اتنی سی بات پوچھنی تھی جو تم نے بتا دی :
ہے۔ تمہیں کوئی قید خانے میں نہیں ڈال سکتا ۔ اب میں بھی خوشنما پنجرے سے آزادہونا چاہتی ہوں۔ تم شراب نہیں پیتے۔
میں تمہیں بادشاہوں کا شربت پالئوں گی ''۔
وہ اُٹھی اور ا ُس میز کے پاس جا کھڑی ہوئی جس پر صراحی رکھی تھی ۔ اس کی پیٹھ عامر کی طرف تھی ۔ انوشی نے دو
پیالے اپنے سامنے رکھے۔ ناخن سے انگوٹھی کے ساتھ جڑی ہوئی ڈبیہ کھولی۔ اس میں جو سفوف تھا وہ کچھ ایک پیالے میں
اور باقی دوسرے پیالے میں ڈال دیا ۔ عامر نہ دیکھ سکا ۔ انوشی نے دونوں پیالوں میں صراحی سے مشروب ڈاال ۔ ایک پیالہ
عامر کو دے دیا ،ایک اپنے ہاتھ میں رکھا ۔
سونگھ لو''۔ انوشی نے کہا …… '' یہ شراب نہیں شربت ہے ۔ یہ میری محبت کا جام ہے۔ پی لو''۔اس نے پیالہ ''
ہونٹوں سے لگالیا۔ عامر نے بھی پیاال ہونٹوں سے لگا لیا ۔ دونوں نے پیالے خالی کر دئیے۔ انوشی نے اس کے ہاتھ سے پیالہ
لے لیا اور دونوں پیالے پرے پھینک کر بازو عامر کے گلے میں ڈال دئیے۔ اپنے رخسار اس کے گالوں سے رگڑتی ہوئی بولی
…… '' اب ہم آزاد ہیں ''۔
''انوشی اُچک کر عامر سے الگ ہو گئی اور بولی ۔ '' تم بھی غنودگی محسوس کر رہے ہو؟
ہاں !'' عامر نے جواب دیا …… '' میں گہری نیند سے اُٹھ کر آیا ہوں ۔ نیند پریشان کر رہی ہے ''۔''
اب ہم دونوں اتنی گہری نیند سوئیں گے کہ ہمیں کوئی جگا نہیں سکے گا ''۔ انوشی نے ایسی آواز میں کہا جس میں ''
غنودگی کا نمایاں اثر تھا۔ کہنے لگی ۔ '' میں تم سے زیادہ تھکی ہوئی ہوں۔ گناہوں نے تھکا دیا ہے '' …… اس کا سر
ڈولنے لگا ۔ ا ُس نے سنبھل کر کہا …… '' زیادہ باتوں کی قوت نہیں عامر! تم میری پہلی اور آخری محبت ہو۔ اب ہم
اگلے جہاں میں اکھٹے ا ُٹھائے جائیں گے۔ میں اپنا فرض ادا کر چکی ہوں ،تم اپنا فرض ادا کر چکے ہو۔ میں نے اس شرب
میں وہ زہر مال دیا تھا جو مجھ جیسی لڑکیوں کو دے کر پردیس بھیجا جا تا ہے۔ یہ ضرورت کے وقت کے لیے دیا جاتا ہے۔
اس سے کوئی تکلیف اور تلخی محسوس نہیں ہوتی ۔ بڑ ی میٹھی غنودگی میں انسان ہمیشہ کی نیند سو جاتا ہے۔ میں اس
لیے زندہ نہیں رہنا چاہتی کہ زندہ رہی تو تمہیں سزا دالدوں گی۔ تمہیں اس لیے زندہ نہیں رہنے دیا کو کوئی اور لڑکی یہ نہ
کہے کہ عامر کو اُس سے محبت ہے''۔
عامر بن عثمان لیٹ گیا تھا جیسے وہ انوشی کی باتیں سن ہی نہیں رہا تھا ۔ اس کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں۔ انوشی کا
سر ڈول رہا تھا ۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں سے دورازے تک گئی۔ خادمہ دروازے کے ساتھ کھڑی تھی ۔ اُسے اندر بال کر کہا ……
'' ہم دونوں نے زہر پی لیا ہے ۔ سب کو بتا دینا کہ ہم نے خود زہر پیا ہے۔ کسی اور نے نہیں پالیا۔ کوئی صلیبی ملے تو
اُسے بتا دینا کہ سوڈان کی پری اپنا فرض ادا کرکے مری ہے ''۔
ا ُس کی آواز دب گئی ۔ وہ گرتی گرتی عامر تک پہنچی ۔ خادمہ دوڑتی باہر نکلی۔ تھوڑی دیر بعد کمرے میں کئی لوگ
آگئے۔ انہوں نے دیکھا کہ عامر بن عثمان پلنگ پر ِچ ت پڑا ہے اور انوشی اس کے ساتھ لگی اس طرح لیٹی ہوئی ہے کہ اس
کا سر عامر کے سینے پر اور اس کا ایک ہاتھ عامر کے سر پر تھا ،جس کی انگلیاں بالوں میں اُلجھی ہوئی تھیں۔ دونوں
مرے ہوئے تھے ۔
٭ ٭ ٭
ا ُس وقت اسحاق ترک موصل جا چکا تھا ۔ انوشی نے یہ بات جانتے ہوئے بھی کہ اجنبی سلطان ایوبی کا جاسوس ہو سکتا
ہے اُس کا تعاقب نہ کیا ،نہ گرفتار کرانے کی سوچی ۔ ا ُ سنے زندگی کی یہ چند ہی ساعتیں روحانی سکون پایا تھا جو اُس
نے عامر کے ساتھ پیار کے دھوکے میں گزاری تھیں۔ اس نے اس پیار کا صلہ یہ دیا کہ اسحاق کو جانے دیا ۔
اسحاق ترک قاہرہ سے ابھی کوئی دنوں کی مسافت جتنا ُدور تھا کہ اس کے گھوڑے کو سانپ نے ڈس لیا ۔ اس حادثے کی
تفصیالت اس کہانی کی پچھلی قسط میں سنائی جا چکی ہیں ۔ مندرجہ باال واقعات اس حادثے سے پہلے کے ہیں جو یہ
واضح کرنے کے لیے سنانا ضروری تھے کہ اسحاق ترک کتنی اہم معلومات لے کر قاہرہ جا رہا تھا۔ اسالم کی عزت اور بے
عزتی کا دارومداد اس پر تھا کہ یہ اکیال مجاہد اتنے وسیع اور ایسے ظالم صحرا سے گزر کر قاہرہ بروقت پہنچتا ہے یا نہیں ،
مگر ا ُس کے گھوڑے کو سانپ نے ڈس کر ماردیا اور یہ سوار صحرا کے مظالم سے بے ہوش ہوگیا ۔ ہوش میں آیا تو وہ
صلیبیوں کے خیمے میں پڑا تھا جہاں دو صلیبی لڑکیاں بھی تھیں۔ ایک کانام میرنیا اور دوسری کا باربرا تھا ۔ یہ تفصیالت
پچھلی قسط میں پڑھ لیں تا کہ وہ واقعات ایک بار پھر آپ کے ذہن میں تازہ ہوجائیں۔
اسحاق ترک بے ہوشی میں بڑبڑارہا تھا جس سے صلیبیوں کی اس ٹولی پر ظاہر ہوگیا کہ یہ مسلمان جاسوس ہے اور کوئی :
اہم خبر لے کر قاہرہ جارہاہے۔ دونوں لڑکیوں ،میرنیا اور باربرا کی آپس میں رقابت تھی ۔ دونوں اپنے کمانڈر کو چاہتی تھیں
اور کمانڈر باربرا کو محبت کا دھوکہ دے کر میرنیا کے ساتھ گہری دوستی لگائے ہوئے تھا ۔ باربرا نے انتقام لینے کے لیے
اسحاق کو چوری چھپے بتا دیا کہ وہ صلیبی جاسوسوں کے جال میں آگیاہے۔ اسحاق اس چال میں ایسی بُری طرح آیا کہ اس
نے اعتراف کر لیا کہ وہ سلطان ایوبی کا جاسوس ہے اور حلب سے آیا ہے۔صلیبیوں کے سربراہ نے اس سے پوچھا کہ وہ کیا
خبر لے جارہا ہے؟ اسحاق نے بتایا کہ خبر صرف اتنی سی ہے کہ نورالدین زنگی مرحوم کی بیوہ رضیع خاتون نے عزالدین
کے ساتھ شادی کر لی ہے۔ صلیبی سربراہ نے کہا کہ یہ خبر پرانی ہوگئی ہے اور اب سلطان ایوبی شام کی طرف پیش قدمی
کرنے واال ہے۔
اس صلیبی نے اسحاق ترک سے کہا کہ وہ صلیبیوں کے لیے جاسوسی کرے اور یہ بھی بتائے کہ وہ کیا راز لے کے جارہا تھا
اور بیروت میں جو مسلمان جاسوس ہیں وہ کون کون ہیں اور کہاں کہاں ہیں اور اگر وہ نہیں بتائے گا تو اُسے صلیبی عالقے
میں جا کر کسی قید خانے کے تہہ خانے میں بند کردیا جائے گا۔ اسحاق نے یہ سوچ کر ہتھیار ڈال دئیے کہ وہ ان کی
حراست سے فرار کی کوشش کرے گا۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ صلیبیوں کے لیے جاسوسی کرے گا ۔ اس سے یہ بھی پوچھا
جارہاتھا کہ وہ کیا راز لے کے جارہا ہے۔ اس نے چند ایک باتیں گھڑ لیں جو زیادہ تر شام کے مسلمان امراء سے تعلق رکھتی
تھیں ۔ بیروت کے متعلق اس نے بے خبری کااظہار کر دیا اور یہ بھی کہا کہ اُسے بیروت کے راستے کابھی علم نہیں۔
جیسا کہ پچھلی قسط میں بتایا جا چکا ہے کہ یہ صلیبی جاسوسوں اور تخریب کاروں کی پارٹی تھی ۔ ان کے ساتھ ان کے
محافظ بھی تھے اور دو لڑکیاں۔ اس پارٹی کی نفری آٹھ نو تھی ۔ یہ قاہرہ سے بیروت کو واپس جارہے تھے ۔ ان کے سربراہ
نے اسحاق کو بتایا تھا کہ وہ رات کو روانہ ہو رہے ہیں۔ اسحاق نے جب یہ سنا کہ وہ بیروت جا رہے ہیں تو وہ اور زیادہ
پریشان ہوگیا ۔ وہاں ا ُس کی مالقات اپنے نائٹ سے بھی ہو سکتی تھی لیکن یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں تھا ،اصل مسئلہ تو
یہ تھا کہ ا ُسے سلطان ایوبی کو بالڈون کی فوج کا ڈیپالئے بتانا تھا اور اُسے خبردار کرنا تھا کہ وہ بیروت کا محاصرہ ترک
کردے۔ اس کے بعد اسحاق جان دینے کے لیے تیار تھا مگر وہ قیدی بن چکا تھا اور نہتہ تھا ۔
رات کو اس قافلے نے وہاں سے کوچ کیا ۔اسحاق کے ہاتھ پیٹھ پیچھے باندھ کر ایک اونٹ پر سوار کردیا گیا تھا ۔ اس اونٹ
پر سامان بھی لدا ہوا تھا ۔ سلطان ایوبی کا یہ جاسوس بیروت سے قاہرہ روانہ ہوا تھا مگر قاہرہ پہنچے بغیر بیروت کو واپس
جا رہا تھا ۔ مسافت بڑی ہی لمبی تھی ۔ اسحاق ترک اس اُمید پر جا رہا تھا کہ فرار کی کوئی صورت پیدا کرلے گا۔
٭ ٭ ٭
میں اب ایک دن بھی انتظار نہیں کرسکتا ''۔ صالح الدین ایوبی اپنے ساالروں سے کہہ رہاتھا ……'' فوج تیاری کی ''
حالت میں ہے۔ اس حالت میں فوج کو زیادہ عرصہ رکھنا مناسب نہیں ہوتا۔ سپاہیوں کے عصاب تھک جاتے ہیں ۔ یہ کیفیت
جنگ کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔ اس کے عالوہ صلیبیوں کو تیاری کی حالت میں دبوچ لینا چاہتا ہوں۔ ہم جب بھی لڑے
اپنے عالقوں میں لڑے ہیں اور اسی پر خوش ہوئے کہ ہم نے دشمن کو پسپا کر دیا ہے۔ دشمن ہماری ہی زمین پر حملہ آور
ہوا پسپا ہو کر ہماری ہی زمین پر رہا۔ اب میرا ہر قدم جارحانہ ہوگا ۔ فرنگی فوج بیروت میں ہے۔ مجھے اس کے متعلق
کوئی اطالع نہیں ملی۔ اگر بالڈون نے کوئی نقل و حرکت کی ہوتی تو اطالع آجاتی ۔ میرا قیاس یہ ہے کہ وہ اور دوسرے
صلیبی ہمارے مسلمان امراء کو اپنا حمائتی اور ہمارا دشمن بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ وہ ایک پھر ہمیں خانہ جنگی
میں ا ُلجھائیں گے۔ وہ زمین دوز کاروائیوں میں لگے رہیں ،ہم بیروت کو محاصرے میں لیں گے اور اللہ کی مدد شامل حال رہی
تو یہ عظیم شہر ہمارے قبضے میں آجائے گا ''۔
ساالروں کے اس اجالس میں سلطان ایوبی کی بحریہ کا امیر البحر بھی موجود تھا ۔ ایک مصری واقعہ نگار محمد فرید ابو
حدید نے اسکا نام حسام الدین لولوع لکھا ہے۔ یہ بحری جنگ کا ماہر اور غیر معمولی طور پر قابل امیر البحر مانا جاتا تھا۔
بیروت چونکہ بحیرئہ روم کے ساحل پر واقع تھا اس لیے سلطان ایوبی محاصرہ مکمل کرنے کے لیے سمندر کی طرف سے
بھی فوج بھیجنے کا فیصلہ کر چکا تھا ۔
جن دستوں کو بحری جہازوں سے جانا اور اور ساحل پر اُترنا ہے وہ سکندریہ پہنچ چکے ہیں ۔ حسام الدین کو ہدایات ''
دی جا چکی ہیں ''۔ سلطان ایوبی نے کہا …… '' سمندر سے جانے والے دستے جلدی منزل پر پہنچ جائیں گے ،اس لیے
یہ کچھ دن بعد روانہ ہوں گے تا کہ خشکی والے دستے پہنچ جائیں ،سمندری دستے ساحل پر اتریں گے۔ تیز رفتار قاصد ہمیں
اُترنے کی اطالع دیں گے۔ شہر پر ا ُن کی یلغار طوفانی ہوگی۔ اگر فرنگیوں نے ہتھیار نہ ڈالے تو آپ سب کو اجازت ہوگی کہ
شہرہ کو تباہ و بربادکردیں۔ عورت ،بچے ،بوڑھے اور مریض پر ہاتھ نہیں اُٹھایا جائے گا ۔انہیں پناہ میں لیا جائے گا ۔ فوجیوں
کو ہالک نہیں قید کیا جائے گا ۔ کسی صورت میں لوٹ مار نہیں ہوگی۔ آپ سب کو اجازت ہوگی کہ ان حکام کی خالف
ورزی کرنے والوں کو موقعہ پر قتل کردیں ،خواہ وہ کتنے ہی اونچے عہدے کے عسکری کیوں نہ ہوں۔ خشکی کی طرف سے
جانے والے دستوں کی پیش قدمی امن کے انداز سے نہیں ،جنگی رفتار سے ہوگی۔ پڑائو بغیر خیموں کے ہوں گے۔ کوئی
سامان نہیں کھوال جائے گا ۔ سب کو پانی محدود مقدار میں ملے گا۔ کھانا پکایا نہیں جائے گا ۔ کھجوروں وغیرہ کا ذخیرہ
ساتھ جارہا تھا ۔ جانوروں کو پوری طرح خوراک دی جائے گی ''۔
سلطان نے چادر جتنے چوڑے کپڑے پر قاہرہ سے بیروت تک کا نقشہ تیار کرایا تھا جو اُس نے دیوار کے ساتھ لٹکایا اور پیش
قدمی کے راستے پر انگلی چالتے ہوئے کہا ۔ '' یہ ہوگا ہمارا پیش قدمی کا راستہ ''۔ اجالس کی خاموشی اور زیادہ گہری
ہوگئی ۔ سلطان ایوبی نے سب کے چہروں کو دیکھا اور مسکرا کر بوال …… '' خاموش کیوں ہو؟ کہتے کیوں نہیں کہ ہم
دشمن کے عالقوں میں سے گزر کر جا رہے ہیں …… میرے دوستو ! ہم احتیاط کے اصولوں پر جنگ لڑتے رہے ہیں ۔ پیش
قدمی سے پہلے ہم پہلوئوں کی حفاظت اور پسپائی کا راستہ دیکھتے رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ صلیبی فلسطین پر
قابض ہیں اور وہ دمشق اور بغداد پر قابض ہو کر مکہ اور مدینہ کی طرف بڑھنے کے منصوبے بنائے ہوئے ہیں ۔ زیاد کا بیٹا
طارق سمندر سے دور مصر کے ساحل پر بیٹھا رہتا تو یورپ تک اسالم کا پرچم کبھی نہ پہنچتا ۔ قاسم کا بیٹا محمد اس
خطرناک اور اس قدر لمبی مسافت طے کرکے ہندوستان پہنچا تھا جس سے تاریخ کے ورق بھی پھڑپھڑا اُٹھے تھے۔ صلیبی بہت
دور سے ہماری سرزمین پر آئے تھے ۔ اگر آپ اسالم کی سربلندی چاہتے ہیں تو ہمیں آگ میں سے گزرنا ہوگا۔ اگر صرف
حکومت کرنی ہے تو آئو مصر اور شام کو ٹکڑوں میں بانٹ لیں اور بادشاہ بن کے بیٹھ جائیں۔ پھر اپنی اپنی بادشاہی کو قائم
رکھنے کے لیے صلیبیوں اور یہودیوں سے مدد لیتے رہیں گے اور اپنا دین و ایمان ان کے پاس گروی رکھ دیں گے ''۔
محترم سلطان !'' ایک ساالر نے ا ُ ٹھ کر کہا …… '' ہم احکام اور ہدایات کے منتظر ہیں ۔ ہم میں سے کوئی بھی اس''
سے خوفزدہ نہیں کہ ہم دشمن کے عالقے سے گزریں گے۔ ہمیں یہ بتائیے کہ ان عالقوں سے گزرتے ہوئے ہماری ترتیب کیا
''ہوگی؟ کیا ہر دستہ اپنی حفاظت خود کرے گا ؟
نہیں !'' سلطان ایوبی نے کہا …… '' میں انہیں ہدایات کی طرف آرہا تھا ۔ ہر دستہ اپنی پیش قدمی جاری رکھے گا ''
۔ دائیں بائیں ،آگے اور پیچھے جو کچھ ہوتارہے اس کی طرف آپ دھیان نہیں دیں گے۔رسد اکٹھی نہیں جارہی۔ اسے کئی
حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے
تا کہ دشمن اسے تباہ نہ کر سکے ۔ ساری فوج کی حفاظت چھاپہ مار جیش کریں گے ۔ چھاپہ ماروں کے ساالر صارم مصری
یہاں موجود ہیں۔ انہیں بہت پہلے ہدایات دے دی گئی تھیں۔ انہوں نے چھاپہ ماروں کو تربیت اور مشق دے لی ہے۔ باقی
سب اپنی نظریں بیروت پر رکھیں گے ''۔
سلطان ایوبی نے ہر قسم کی ہدایات دے کر کہا …… '' کوچ آج رات کے پہلے پہر ہوگا اور سب سے ضروری احتیاط یہ
کرنی ہے کہ اس کمرے سے باہر کسی کو پتہ نہ چلے کہ ہماری منزل کیا ہے۔ سپاہیوں اور کمانڈروں تک کے کان میں نہ
پڑے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں ''۔
سلطان ایوبی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ بیروت میں اس کے استقبال کا انتظام کر دیا گیا ہے اور وہ فرنگیوں کو
بے خبری میں شاید نہ دبو چ سکے ۔
رات کو جب فوج کوچ کر رہی تھی ،سلطان ایوبی اپنی ہائی کمان کے ساالروں کے ساتھ راستے میں کھڑا ہر دستے کی
سالمی لے رہا اور دعائیں دے رہا تھا ۔ اُس کے پاس ا ُس کے ایک بیٹے کا بزرگ اتالیق بھی کھڑا تھا ۔ سلطان ایوبی اساتذہ
اور علماء کی بہت قدر کیا کرتا تھا ۔ محمد ابو حدید کی تحریروں کے مطابق جب فوج کا آخری دستہ بھی چال گیا تو
سلطان ایوبی بھی روانہ ہونے لگا ،اس کے بیٹے کے اتالیق نے عربی کاایک شعر پڑھا جس کا ترجمہ یوں ہے۔
آج نجد کے پھول عرار کی خوشبو سے لطف اُٹھالو۔ شام کے بعد یہ پُھول نہیں مال کرتا ''۔ ''
مصری واقعہ نگار لکھتا ہے کہ ا ُس وقت تک سلطان ایوبی کا مزاج ہشاش بشاش تھا مگر یہ شعر سن کر اُس پر اداسی
طاری ہوگئی ۔ اس نے بوقت رخصت اس شعر کو بدشگونی سمجھا ۔ وہ فوج کے پیچھے روانہ ہوگیا۔ راستے میں اُس نے اپنے
ساالروں سے کہا …… '' اس بزرگ سے مجھے توقع تھی کہ الوداعی کے وقت دعا دئیں گے ۔ انہوں نے ایسا شعر سنا دیا
ہے جس نے میرے دل پر بوجھ ڈال دیا ہے '' …… اورہوا بھی یہی کہ اس روانگی کے بعد سلطان ایوبی مصر آہی نہ سکا۔
سرمین عرب پر جنگ و جدل میں ہی گزر گئی ۔ مصر والوں کو عرار کا یہ پھول پھر کبھی نظرنہ آیا۔
اس کی باقی عمر
ِ
.مصر سے سلطان کی روانگی مئی ١١٨٢ء میں ہوئی تھی
صحرا کا وہ خطہ بڑا ہی ہولناک تھا جہاں صلیبی جاسوسوں اور تخریب کاروں کاقافلہ داخل ہوگیا تھا ۔ اسحاق ترک اُن کا
قیدی تھا لیکن اب اُس کے ہاتھ بندے ہوئے نہیں تھے۔ دو دن اور دو راتیں بعد ا ُ س کے ہاتھ کھانے کے وقت کے سوا ہر
وقت بندھے رہتے تھے۔ا ُس نے اس پارٹی کے سربراہ سے کہا تھا کہ وہ بھاگ نہیں سکتا ۔ بھاگ کر جائے گا کہاں۔ پاپیادہ تو
وہ کہیں جا نہیں سکتا ۔ بڑی مشکل سے دو کوس چلے گا اورصحرا اُسے اسی طرح بے ہوش کرکے ختم کردے گا جس طرح
وہ بے ہوش ہو کر پکڑا گیا تھا۔ سربراہ نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرکے ہاتھ کھول دئیے تھے اور اُن سے کہا تھا کہ اس
پر نظر رکھیں۔ اسحاق ترک نے اُن پر اعتماد جما لیا ۔ اُس نے سلطان ایوبی اور دوسرے مسلمان حکمرانوں کو برا بھال کہنا
شروع کردیا تھا۔ ا ُس نے صلیبی سربراہ کو یقین دال دیا تھا کہ وہ ان کا جاسوس بن جائے گا مگر اس سے جب یہ پوچھتے
تھے کہ وہ کیا راز لے کر جا رہا تھا تو وہ صحیح جواب نہیں دیتا تھا ۔
منظور نظر تھی اور باربرا کو سربراہ نے اس حد
دو صلیبی لڑکیوں کی رقابت بدستور چل رہی تھی ۔ میرنیا اپنے سربراہ کی
ِ
تک دھتکار دیا تھا کہ ا ُس کے ساتھ جو بھی بات کرتا طنزیہ انداز سے کرتا تھا۔ باربرا بجھ کے رہ گئی تھی ۔ میرنیا اس
کوشش میں تھی کہ وہ اسحاق ترک کے سینے سے وہ راز نکال لے جو وہ قاہرہ لے کے جارہا تھا ۔ اس دلکش لڑکی نے
راتوں کو اسحاق کے پاس بیٹھ کر ا ُس کے جذبات کو مشتعل کرنے کا ہر دائو آزما لیا لیکن اسحاق پتھر کا بُت بنا رہا ۔
باربراہ کی خواہش یہ تھی کہ اسحاق میرنیا کو کچھ بھی نہ بتائے۔ پارٹی کے سربراہ کے بعد کا رتبہ مارٹن نام کے ایک آدمی
کا تھا ۔ یہ آدمی باربرا کو چاہتا تھا مگر باربرا نے اُسے بُری طرح دھتکار دیا تھا ۔وہ اس لڑکی کو دھمکیاں بھی دے چکا تھا
کہ اُس نے قاہرہ میں جو غلطیاں کی ہیں اُن کی سزا دالئے گا ۔ یہی دھمکی اُسے سربراہ بھی دے چکا تھا ۔ وہ مایوس تو
تھی ہی ،اب خوفزدہ بھی رہنے لگی تھی۔
باربرا کا خون اُس وقت کھولتا تھا جب میرنیا اُس کے ساتھ طنزیہ بات کرتی تھی ۔ ایک روز اس نے باربرا سے کہا …… ''
باربرا ! تم اس کام کے قابل نہیں ہو۔ تمہاری کھوپڑی میں دماغ ہے ہی نہیں۔ تم کسی قحبہ خانے میں ناچنے اور گاہکوں
کادل پرچانے والی عورت ہو۔ میرا کمال دیکھو۔ صحرامیں بھی ایک مسلمان جاسوس پکڑلیا ہے۔ یہ میرا شکا ر ہے۔ تم اس
کے قریب نہ جانا۔ بیروت میں اس کا مجھے انعام ملے گا ''۔
باربرا جل اُٹھی ۔ ا ُ س رات اُس کا دماغ جیسے جواب دے گیا ۔ مارٹن تو اُس کے پیچھے پڑا ہی رہتا تھا ۔ اس رات وہ
خود مارٹن کے پاس گئی اور اُسے کہا کہ میرنیا سے انتقام لینا چاہتی ہے۔ اُس نے اس خوف کا اظہار بھی کیا کہ بیروت
پہنچ کر اُسے سزا ملے گی کیونکہ قاہرہ میں ا ُس سے اپنی زمین دوز سرگرمیوں میں کوتا ہی ہوئی تھی ۔ وہ اپنے آپ کو بے
بس اورتنہا محسوس کر نے لگی تھی ۔ وہ مارٹن سے مدد ،ہمدردی اور پناہ مانگ رہی تھی ۔ مارٹن تو اس کا شیدائی تھا۔
اُس نے باربرا سے مدد کا معاوضہ یہ مانگا کہ ا ُسی کی ہوجائے۔ باربرا کون سی شریف لڑکی تھی ۔ وہ مان گئی ۔ گناہوں
میں پلی ہوئی اور گناہوں کی تربیت یافتہ لڑکی کے لیے یہ معاوضہ جو مارٹن نے مانگا تھا کوئی زیادہ نہیں تھا …… مارٹن نے
فورا ً ایک ترکیب سوچ لی اور باربرا کو بتادی ۔ اس پر عمل درآمد کے لیے اگلی رات مقرر کی گئی ۔
اگلی رات جہاں قیام کیا گیا وہ صحرا کا بڑا ہی ہولناک خطہ تھا ۔ ُدور ُدور تک عجیب و غیریب شکلوں کے ٹیلے کھڑے
تھے۔ بعض ستونوں اور میناروں جسے تھے۔ بعض ٹیڑھی ٹیڑھی دیواروں کی طرح اور کچھ جانوروں کی شکلوں کے بھی تھے ،یہ
ٹیلے بکھرے ہوئے تھے ۔ پانی اور سبزے کا وہاں نام و نشان نہ تھا ۔ رات کو یہ ٹیلے یو ں نظر آتے تھے جیسے دیو کھڑے
ہوں۔ اس خطے میں قافلہ شام کا اندھیرا پھیل جانے کے بعد روکا۔ مارٹن نے اندھیرے سے یہ فائدہ اُٹھایا کہ اپنا گھوڑا اپنے
خیمے کے ساتھ باندھا اور زین اتار کر اس کے قریب رکھ دی ۔
اسحاق کے لیے الگ خیمہ تھا جو مارٹن نے اپنے قریب نصیب کرایا تھا ۔ اسحاق کے متعلق اب سربراہ بھی مطمئن ہوگیا
تھا ۔ رات گھوڑوں اور اونٹوں کے اردگرد محافظ ہوتے تھے ۔ ایسا امکان نہیں تھا کہ اسحاق گھوڑا کھول لے گا ،کسی کو پتہ
چلے بغیر زین کس لے گا اور بھاگ نکلے گا …… قافلے والے تھکے ہوئے تھے ۔ سب سے ہوگئے۔ اسحاق بھی سو گیا ۔
آدھی رات کو کسی کے آہستہ آہستہ ہالنے وہ جاگ اُٹھا اور سرگوشی سنائی دی …… '' اُٹھو ،ساتھ والے خیمے کے پاس
گھوڑا کھڑا ہے ۔ زین پاس پڑی ہے ۔ دیر نہ کرو ،بھاگو''۔
''کون ہو تم؟''
باربرا!'' لڑکی نے جواب دیا …… '' مجھ سے یہ نہ پوچھنا کہ مجھے تم سے کیا ہمدردی ہوسکتی ہے ۔ یہ میں ہی ''
تھی جس نے تمہیں بتایا تھا کہ ہم سب صلیبی جاسوس ہیں اور تمہیں غلط بتایا جا رہا ہے کہ ہم مسلمان ہیں ۔ وقت ضائع
نہ کرنا۔ سب سوئے ہوئے ہیں ۔ جلدی ا ُٹھو۔ گھوڑے والے خیمے سے بائیں طرف ہوجانا ۔ آگے راستہ صاف ہے ۔ وہ اپنے
خیمے میں چلی گئی ۔ وہاں کمان پڑی تھی ۔ اُس نے کمان اور تیروں کی ترکش اُٹھا ئی اور خیمے سے باہر نکل کر اُس
راستے کے قریب بیٹھ گئی جو اس نے اسحاق کو فرار کے لیے بتایا تھا ۔ اسحاق نے بڑی تیزی سے گھوڑے پر زین ڈال کر
کس لی۔ گھوڑا کھوال اور دبے پائوں چل پڑا۔ ریت پر گھوڑوں کے قدموں کی آہٹ نہیں تھی ۔ سب سوئے ہوئے تھے۔خیمے
سے ذرا ُدور جاکر وہ گھوڑے پر سوار ہوا۔ کچھ اور آگے جا کر اُس نے ایڑ لگائی۔ صحراکی خاموش اور خنک رات میں کمان
کی ''پنگ'' سنائی دی اور ایک تیر اسحاق کی پیٹھ میں اُتر گیا ۔ فورا ً بعد دوسرا تیر آیا اور یہ بھی اُس کی پیٹھ میں
لگا ۔ اس کے ساتھ ایک لڑکی کا شور سنائی دیا …… '' بھاگ گیا ۔بھاگ گیا ۔ اُٹھو ،جاگو''۔
سب جاگ ا ُٹھے ۔ مشعلیں جاللی گئیں۔ باربرا شوربپا کیے ہوئے تھی کہ قیدی بھاگ گیا ہے۔ اس کے ہاتھ میں کمان تھی ۔
بہت جلدی گھوڑے دوڑا دئیے گئے ۔ انہیں زیادہ ُد ور نہیں جانا پڑا۔ اسحاق کو دو تیروں نے گھوڑے سے گرادیا تھا اور گھوڑا
کچھ دور پڑا تھا ۔ تیر قریب سے چالئے گئے تھے اس لیے جسم میں گہرے اُترگئے تھے۔ اسحاق ابھی ہوش میں تھا ۔ اُسے
اُٹھا کر لے آئے ۔ سربراہ نے اُس سے پوچھا کہ اُسے بھاگنے میں کس نے مدد دی تھی ؟ اس نے جواب دیا …… '' نہیں ۔
میں نے گھوڑا اور زین دیکھی ۔ سب سو گئے تھے ۔ میں بھاگ اُٹھا '' …… اُس کے فورا ً بعد وہ غشی میں چال گیا اور
غشی میں ہی شہید ہوگیا ۔
میں نے ا ُسے گھوڑے پر سوار ہوتے اور بھاگتے ہوئے دیکھا تھا '' ۔ باربرا نے کہا …… '' اتفاق سے کمان اور ترکش ''
میرے خیمے میں تھے۔ میں نے اُٹھا ئی اور اُس کے پیچھے دوڑی ۔ یکے بعد دیگرے دو تیر چالئے۔ دونوں ۔ اُسے لگ گئے
ورنہ یہ نکل گیا تھا ''۔
آج ہی یہ اتفاق کیوں ہوا کہ کمان اور ترکش تمہارے خیمے میں تھے؟ '' میرنیا نے باربرا سے پوچھا۔ ''
''اور مارٹن ! یہ گھوڑا تمہارا تھا ''۔ سربراہ نے کہا…… '' یہ کہاں تھا اور زین کہاں تھی ؟ ''
یہ گھوڑا قیدی کے خیمے کے قریب بندھا تھا ''۔ ایک محافظ نے کہا ۔ ''
تم میرے اس کارنامے پر مٹی ڈالنا چاہتے ہو؟'' باربرا نے غصے سے کہا …… '' یہ کوئی اہم راز قاہرہ لے جارہا تھا '' :
۔ میں نے ا ُسے صرف بھاگنے سے نہیں روکا بلکہ ایک راز قاہرہ پہنچنے سے روکا ہے''۔
یہ دراصل مارٹن کا تیار کیا ہوا ڈرامہ تھا کہ اسحاق کو بھاگنے کی سہولت دو اور باربرا گھات میں بیٹھ کر اُس پر تیر چالئے
تا کہ یہ کارنامہ باربرا کے کھاتے میں لکھا جائے،مگر ا ُن کا سربراہ تجربہ کار جاسوس اور سراغرساں تھا ۔ اس نے مارٹن اور
باربرا کو گہری نظروں سے دیکھا اور کہا …… '' مارٹن! میں اس پیشے میں تم سے بہت عرصہ پہلے آیا تھا ۔ بیروت
پہنچنے تک تم اور باربرا کوئی بہتر جواب سوچ لو ''۔
یہ ان لوگوں کی ذاتی اور رقابت اور دوستی دشمنی کی سیاست تھی جس کا شکار سلطان ایوبی کا ایک بڑاہی قیمتی ''
جاسوس ہوگیا تھا ''۔
٭ ٭ ٭
سلطان ایوبی کی پیش قدمی بہت تیز تھی ۔ اُس کی فوج آدھی سے زیادہ مسافت طے کرکے اس عالقے میں داخل ہوگئی
تھی جس پر صلیبیوں کا سایہ پڑا ہوا تھا ۔ ا ُس جگہ تک فوجیوں کا حلیہ ایک جیسا تھا ۔ گرد کی تہوں میں کسی کا چہرہ
پہچانا نہیں جاتا تھا۔ مئی کا مہینہ تھا جب صحرا لوہے کی طرح تپ رہا تھا ۔ سب نے منہ سر کپڑوں میں لپیٹ رکھے تھے
۔ کوئی بھی اجازت کے بغیر پانی نہیں پی سکتا تھا ۔ دستے ترتیب میں نہیں رہے تھے ۔ گھوڑوں اور اونٹوں کے سواروں نے
پیادوں کو باری باری گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار کرنا شروع کردیا۔ فضا جل رہی تھی …… اور ایک گونج ُدور ُدور تک سنائی
دے رہی تھی …… '' ال ال ٰہ اللہ ۔ ال ال ٰہ اللہ '' …… کبھی چند سپاہی مل کر کوئی ترانہ گاتے تھے اور فوج جنون اور وجد
کی کیفیت میں چلی جا رہی تھی ۔
سلطان صالح الدین ایوبی فوج کے درمیان جا رہا تھا ۔ اُس نے اپنے آپ کو بھی پانی پینے کی اجازت نہیں دی تھی ۔ اُس
نے گھوڑے سے ذرا اوپر اُٹھ کر دیکھا اور گھوڑے کا ُرخ بدل کر ایڑ لگا دی ۔ اس کی ہائی کمان کے ساالر اور اردگرد عملہ
جس میں تیز رفتار قاصد تھے ا ُس کے پیچھے تھے ۔ آگے وہی عالقہ تھا جہاں اسحاق ترک شہید ہوا تھا ۔ ڈرائونی شکلوں
کے ٹیلے تھے ۔ سلطان ایوبی نے ان ٹیلوں کے درمیان جاکر گھوڑرا روک لیا اور چھاپہ مار دستوں کے کمانڈر صارم سے کہا
…… '' صارم دوست ! یہاں سے تمہارا کام شروع ہوتا ہے ۔ اپنے دستوں کو پھیالدو۔ ہر جیش دوسرے سے ُدور رہے۔ آگے
جانے والے جیش فورا ً چلے جائیں''۔
اور باقی فوج اسی طرح چلتی رہے''۔ صارم مصری کے جانے کے بعد سلطان ایوبی نے دوسروں سے کہا …… '' کچھ ''
بھی ہوجائے فوج پیش قدمی جاری رکھے۔ ہم دشمن کے عالقے میں آگئے ہیں ''۔
احکام اور ہدایات لے کر سلطان ایوبی نے گھوڑا آہستہ آہستہ چالیا۔ اُسے ایک طرف زمین پر ایسے آثار نظر آئے جیسے یہاں
کوئی مسافر ُر کے ہوں۔ وہیں ایک الش پڑی نظر آئی جو ریت میں دبی ہوئی تھی لیکن نظر آتی تھی ۔ سلطان ُرک گیا ۔ یہ
الش کھائی ہوئی تھی ۔ ہڈیاں نظر آ رہی تھیں۔ ایک آدمی نے اس ڈھانچے کو سیدھا کیا۔ پیٹھ میں دو تیر لگے ہوئے تھے۔
چہرے کا گوشت سوکھ گیا تھا ۔
جانے دو''۔ سلطان ایوبی نے کہا …… ' ' کسی قافلے کا مقتول معلوم ہوتا ہے ۔ صحرا میں آکر انسان پاگل ہوجاتے ''
ہیں ''۔
قابل اعتماد جاسوس اسحاق ترک تھا جو اُسے یہ بتانے آرہا تھا کہ بیروت
سلطان ایوبی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ اُس کا اپنا
ِ
نہ جانا۔ صلیبیوں نے وہاں اپنی فوج کو جس طرح پھیال رکھا تھا اس کا نقشہ اُس نے ذہن میں محفوظ کر لیا تھا …… اسحاق
کی ہڈیوں کا پنجرہ اُسے کچھ بھی نہ بتا سکا ۔
چھاپہ مار جیس اس طرح پھیل گئے کہ پیش قدمی کرتی ہوئی فوج کے پہلوئوں میں دو تین میل ُدور تک چلے گئے۔ چند
ہراول سے بھی آگے نکل گئے اور عقب میں بھی چلے گئے ۔ اُن کی جنگ بیروت سے ُدور ہی سے شروع ہو
ایک جیش
ّ
گئی۔ اس ڈرائونے عالقے سے آگے نکل گئے تو رات آگئی۔ فوج چلتی رہی ۔ آدھی رات کے قریب پڑائو کا حکم مال ۔ فوج
ُرک گئی لیکن چھاپہ مار متحرک اور سرگرم رہے۔ ا ُن کے لیے احکام یہ تھے کہ کوئی مشکوک آدمی نظر آئے اور وہ بھاگنے
کی کوشش کرے تو اسے ہالک کردو۔ کوئی قافلہ دیکھو تو اُسے بھی روک لواور فوج بہت ُدور آگے نکل جائے تو اُسے چلنے
کی اجازت دے دو۔
فوج چلتی رہی ۔ ُر کتی رہی ۔ سورج طلوع ہوتا ،مجاہدوں کے اس قافلے کو جھلساتا اور غروب ہوتا رہااور سلطان کو پہلی
اطالع ملی کہ صلیبیوں کی سرحد کی ایک چوکی پر اپنے چھاپہ ماروں نے شبخون مار کر سب کو ختم کر دیا ہے۔ ریگزار
ختم ہوتا جا رہا تھا ۔درخت بھی نظر آنے لگے تھے اور کہیں کہیں سبزہ بھی دکھائی دیتا تھا ۔ چھوٹے چھوٹے گائوں بھی
نظر آنے لگے تھے۔
بیروت میں بالڈون اپنے مختلف فوجی شعبوں سے رپورٹ لے رہا تھا ۔ اُس کے پاس ابھی وہی اطالع تھی کہ سلطان ایوبی :
بیروت کا محاصرہ کریگا ۔ اس نے اس کا انتظام تو کر لیا تھا لیکن اُسے اس سے آگے کوئی اطالع نہیں مل رہی تھی کہ
سلطان ایوبی نے قاہرہ سے کوچ کیا ہے یا نہیں ۔ اس دوران جاسوسوں کا یہ قافلہ بھی بیروت پہنچ گیا تھا جس نے اسحاق
ترک کو پکڑا اور مارا تھا ۔ یہ قافلہ بھی بالڈون کو کوئی خبر نہ دے سکا ۔ بالڈوںن نے دیکھ بھال کے لیے بیس پچیس گھوڑ
سواروں کا ایک جیش آگے بھیجا تھا ۔ وہ بھی واپس نہیں آیا تھا ۔وہ واپس آبھی نہیں سکتا تھا ۔
گھوڑ سواروں کا جیش بہت ُدور نکل گیا تھا ۔ اُسے ُدور سے گرد اُٹھتی نظر آئی جو کسی قافلے کی نہیں ہو سکتی تھی ۔
زمین سے اُٹتھے ہوئے گرد کے یہ بادل فوج کے ہی ا ُڑائے ہوئے ہو سکتے تھے ۔ گھوڑ سوار ٹیلوں کے اندر چلے گئے ۔ ان
کاکمانڈر ایک ٹیلے پر چڑھا اور دیکھنے لگا ۔ کہیں سے ایک تیر آیا جو اُس کی گردن کے آرپار ہوگیا۔ دوسرے سورا رنیچے
تھے ۔ اچانک ان پر تیر برسنے لگے۔ ان میں سے چند ایک نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن صارم مصری کے چھاپہ ماروں
نے کسی کو زندہ نہ جانے دیا ۔ اُن کے ہتھیار اور گھوڑے قبضے میں لے لیے گئے۔
کوئی خبر نہ ملنے کے باوجود بالڈون اور اُس کے جرنیل مطمئن تھے ۔ انہوں نے بیروت کو محاصرے سے بچانے کے لیے
نہایت کارگر انتظامات کر رکھے تھے۔ وہ اس لیے بھی مطمئن تھے کہ سلطان ایوبی آگے بڑھتا جا رہا تھا ۔ چھاپہ ماروں کے
حملوں اور سرگرمیوں کی اطالعات زیادہ آنے لگی تھیں۔ اب تو یہ اطالعات بھی آنے لگیں تھیں کہ اتنے میل دور ُدشمن کے
ایک دستے کے ساتھ جھڑپ میں اتنے چھاپہ مار شہید اور اتنے زخمی ہوگئے ہیں۔ سلطان ایوبی ایسی ہر اطالع پر ایک ہی
…… '' جواب دیتا …… '' شہیدوں کو کہیں دفن کردو …… زخمیوں کو پیچھے بھیج دو
یہ سلطان ایوبی کی جنگی اہلیت کا کمال تھا کہ وہ اپنی فوج کو ایسے عالقے سے صحیح و سالم لے جا رہا تھا جہاں جگہ
جگہ دشمن موجود تھا ۔ ا ُس کے تھوڑی تھوڑی نفری کے چھاپہ مار جیش شبخون مارتے ،دشمن کی جمعیت کو بکھیرتے اور
بیکار کرتے جا رہے تھے ۔ بعض شبخون بڑے پیمانے کی لڑائی کی صورت اختیار کر جاتے تھے ،لیکن چھاپہ مار جم کر نہیں
لڑتے تھے ۔ وہ بھاگتے دوڑتے ،وارکرتے اور دشمن کی بڑی سے بڑی جمعیت کو بکھیر دیتے تھے۔ یہ جھڑپیں اور خون خرابہ
سلطان ایوبی کی فوج سے ُدور ُدور ہوتا تھا ۔
سکندریہ میں حسام الدین لولوع کا بحری بیڑہ تیار تھا ۔ جہازوں میں جانے والی فوج بھی تیار تھی ۔ حسام الدین نے سلطان
ایوبی کی مسافت اور رفتار کے حساب اندازے سے رکھا ہوا تھا۔ ایک روز اُس نے فوج کو جہازوں میں سوار ہونے کا حکم دیا
اور رات کے وقت جہازوں کے لنگر ا ُٹھا کر بادبان کھول دئیے گئے۔ جہاز سمندر کے سینے پر سرکنے لگے ۔ کھلے سمندر میں
جاکر حسام الدین نے جہازوں کو ُدور ُدور پھیال دیا ۔ وہ ماہر امیر البحر تھا ۔ اُس کے جہازوں میں جو فوج جا رہی تھی اُس
کے ساالر اور نائب ساالر سلطان ایوبی کے تربیت یافتہ تھے ۔ وہ اندھا دھند نہیں جارہے تھے ۔ انہوں نے دیکھ بھال کے لیے
تربیت یافتہ فوجی ماہی گیروں کے بہروپ میں چھوٹی چھوٹی بادبانی کشتیوں میں آگے بھیج دئیے تھے۔
20:57
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 132سانپ اور صلیبی لڑکی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انہوں نے دیکھ بھال کے لیے تربیت یافتہ فوجی ماہی گیروں کے بہروپ میں چھوٹی چھوٹی بادبانی کشتیوں میں آگے بھیج
دئیے تھے۔ دنوں راتوں کی مسافت طے ہوچکی تھی ۔ اُفق پر بیروت اُبھرنے لگا تھا مگر کوئی کشتی واپس نہیں آئی تھی ۔
حسام الدین نے جہاز روک دئیے اور دیکھ بھال کے لیے ایک اور کشتی اتاری ۔ رات کو ا ُ س کے ُرکے ہوئے جہاز کے قریب
سمندر سے کسی نے چال کرکہا …… '' رسہ پھینکو۔ رسہ پھینکو ''…… رسہ پھینکا گیا ۔ ایک بحری سپاہی اوپر آیا جو ادھ
موا ہوچکا تھا ۔ وہ اُس کشتی میں تھا جو سمندر میں اتاری گئی تھی ۔ اُس نے بتایا کہ اُن کی کشتی کو صلیبیوں کی ایک
کشتی نے روک لیا تھا ۔ اس میں فوجی تھے۔ حسام الدین کے آدمیوں نے کشتی نکالنے کی کوشش کی ۔ تیروں کاتبادلہ ہوا ۔
یہ آدمی سمندر میں کود گیا ۔ ا ُس کے ساتھی پکڑے گئے یا مارے گئے اور آدمی یہ خبر لے کر آگیا کہ آگے دشمن بیدا
رہے ۔اس سے یہ سمجھ لیا گیا کہ دیکھ بھال کے لیے جو آدمی پہلے بھیجے گئے تھے وہ بھی پکڑے گئے ہیں اور امکان یہی
نظر آتاہے کہ ان آدمیوں سے دشمن کو بحری بیڑے کی آمد کا علم ہو گیا ہے۔
بحری بیڑہ بیروت سے اتنی ُد ور تھا کو سورج غروب ہوتے بادبان کھلے جاتے تو جہاز آدمی رات کو بیروت کے ساحل سے
جالگتے مگر خطرہ یہ تھا کہ ساحل پر صلیبیوں نے آتشیں گولے پھینکنے کے لیے منجنیقیں لگا رکھی ہوں گی۔ جن سے
جہازوں کو بچانا محال ہوجائے گا ۔ مگر ان خطروں سے ڈر کر پیچھے رہنا بھی مناسب نہیں تھا ۔ سلطان ایوبی کو سمندر
کی طرف سے مدد کی شدید ضرورت ہوگی …… اس ثناء میں ایک کشتی نظر آئی ۔ یہ اپنے بحری بیڑے کی تھی۔ اس کے
بحری سپاہی دو صلیبیوں کو سمندر سے پکڑ الئے تھے ۔ یہ اُسی کشتی میں تھے جس نے حسام الدین کے بیڑے کی کشتی
پر حملہ کیا تھا ۔ یہ بھی سمندر میں کود گئے تھے اور تیرتے تیرتے اِدھر اُدھر نکل آئے تھے۔ انہیں ہاتھ پائون باندھ کر
سمندر میں زندہ پھینک دینے کی دھمکی دی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ساحل پر بالڈون کی فوج گھات میں ہے اور جہازوں
کو آگ لگانے کے لیے منجتیقیں تیار ہیں۔ ان سپاہیوں سے مزید پوچھ گچھ سے معلوم ہواکہ بیروت کی فوج اندر کم اور شہر
سے ُدور ُدور زیادہ ہے۔
یہ خبربڑی خوفناک تھی ۔ امیر البحر حسام الدین اور ساالروں نے باہم غور کیا اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ فرنگیوں کو ہماری
آمد کا پتہ چل چکا ہے۔ یہ معلوم نہیں تھا کہ سلطان ایوبی کو علم ہے یا نہیں۔ فیصلہ ہوا کہ سلطان کو خبر کردی جائے۔
اس وقت اُسے بیروت کے قریب ہونا چاہیے تھا۔ اس فیصلے کے تحت اُسی وقت ایک کشتی اُتار دی گئی جس میں دو گھوڑے
اور دو قاصد تھے۔ انہیں بتا دیا گیا کہ وہ سلطان ایوبی کو کیاخبر دیں گے .یہ بادبانی کشتی تھی ۔ ہوا کا ُرخ فوافق تھا ۔
بیروت سے ُد ور جنوب کی طرف ساحل سے جا لگی۔ وہاں چٹانیں تھیں ۔ قاصدوں نے گھوڑے اتارے ،ان پر سوار ہوئے اور
ہوا ہوگئے۔ کشتی وہیں چٹانوں میں چھپا دی گئی ۔
قاصد رات کو پہنچے مگر سلطان ایوبی فرنگیوں کے پھندے میں آچکا تھا ۔ سلطان ایوبی نے اپنے محفوظہ کے ایک دستے کو
جوابی حملے کے لیے استعمال کیا مگر فرنگیوں نے جم کر مقابلہ کیا ۔ اگلے روز محاصرے کے ایک اور حصے پر ایسا ہی
حملہ ہوا ۔ سلطان ایوبی نے اس کے خالف بھی محفوظہ کو بھیجا۔ تب سلطان ایوبی نے محسوس کیا کہ وہ محفوظہ کو
استعمال کیے بغیر جنگ جیت لیاکرتا تھا مگر یہاں اُس کے محفوظہ کی آدھی قوت ابتداء میں ہی لڑائی میں جھونکی گئی
تھی ۔ وہ محاصرے کو کمزوز نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ اُسے کچھ شک ہونے لگا ۔
ا ُس کی دیکھ بھال اور چھاپہ ماروں کا انتظام نہایت اچھا تھا ۔ اُسے اطالعات ملنے لگیں کہ عقب میں ہر طرف دشمن :
موجود ہے۔ ایک چھاپہ مار جیش میں سے صرف ایک سپاہی خون میں ڈوبا ہوا بچ کر آیا ۔ وہ صرف یہ بتا کر شہیدہوگیا کہ
ا ُس کا پورا جیش فرنگیوں کے پورے دستے کے گھیرے میں آگیاتھا ۔ کوئی بھی زندہ نہیں رہا اور یہ کہ ہمارا محاصرہ فرنگیوں
کی بہت بڑی فوج کے محاصرے میں ہے۔
اس کے فورا ً بعد سمندری قاصد پہنچ گئے۔ انہوں نے سمندر کی خبر سنائی اور حسام الدین کے لیے حکم مانگا۔
صلیبیوں کو میں نے اس طرح تیاری کی حالت میں کبھی نہیں دیکھتا تھا ''۔ سلطان ایوبی نے اپنی ہائی کمان کے ''
ساالروں سے کہا …… '' صاف پتہ چل رہا ہے کہ انہیں قبل از وقت پتہ چل گیا ہے کہ ہم بیروت کے محاصرے کے لیے
آرہے ہیں ۔ ہم خود محاصرے میں آگئے ہیں ۔ اپنے مستقر سے اتنی ُدور آکر میں ہاری ہوئی جنگ نہیں لڑ سکتا ''۔ اس
نے حسام الدین کے قاصدوں سے کہا …… '' حسام الدین سے کہو کہ بیڑہ واپس لے جائے اور اس میں جو فوج ہے وہ
سکندریہ اُتر کر دمشق روانہ ہوجائے ''۔
قاصد چلے گئے تو سلطان ایوبی نے موصل کی طرف پسپائی کی ہدایت دینی شروع کردی ،لیکن پسپائی آسان نہیں تھی ۔
اس کے لیے بھی چھاپہ ماروں کو استعمال کیا گیا ۔ راتوں کو دستے آہستہ آہستہ سمیٹے اور نکالے گئے۔ کچھ جھڑپیں ہوئیں
لیکن چھاپہ ماروں اور عقبی دستے نے جان اور خون کی قربانیاں دے کر فوج کو وہاں سے نکال لیا ۔ فرنگیوں نے تعاقب نہ
کیا ۔
موصل کے راستے میں سلطان ایوبی کو موصل سے آیا ہوا ایک جاسوس مال جس نے اُسے اسحاق ترک کی روانگی اور موصل
کے والئی عزالدین کے عزائم کے متعلق پوری اطالع دی ۔ سلطان غصے سے الل ہوگیا ۔ اُس نے حکم دیا موصل کو محاصرے
میں لے لیا جائے۔
قاضی بہائو الدین شداد نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے …… '' سلطان صالح الدین ایوبی بروز جمعرات رجب ،١٠( ٥٧٨
نومبر ١١٨٢ئ) موصل کے قریب پہنچا ،میں اس وقت موصل میں تھا ۔ عزالدین نے مجھے کہا ہے کہ میں خلیفہ کی مدد
حاصل کرنے جائوں ۔ میں دجلہ کے ساتھ ساتھ اتنی تیز رفتاری سے گیا کہ دو دنوں اور دو گھنٹوں میں بغداد پہنچ گیا ۔
خلیفہ نے مجھے کہا کہ وہ شیخ العلماء سے کہیں گے کہ موصل والوں اور سلطان ایوبی کے درمیان صالح سفائی کرادیں۔ صولے
کے والئی نے آذر بائیجان کے حکمرانوں کو مدد کے لیے کہہ دیا تھا مگر اس حکمران نے جو شرائط پیش کیں ،اُن سے بہتر
یہ تھا کہ عزالدین سلطان ایوبی کے آگے ہتھیار ڈال دے''۔
صلح صفائی کی بات چیت ہونے لگی۔ ١٦شعبان ہجری ( ١٥دسمبر ١١٨٢ئ) کے روز سلطان ایوبی نے موصل کا محاصرہ اُٹھا
لیا اور نصیبہ کے مقام پر فوج کو لمبے عرصے کے لیے پڑائو ڈالنے کا حکم دیا۔
بیروت کا محاصرہ صلیبیوں نے نہیں میرے ایمان فروش بھائیوں نے ناکام کیا ہے ''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنے ''
ساالروں سے کہا …… '' میں آپس کے خون خرابے سے بچنا چاہتا تھا مگر یہ ممکن نظر نہیں آتا ''۔
جاری ھے
20:57
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 133سنت ،سارہ اور صلیب
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیروت کے محاصرے کی ناکامی سلطان صالح الدین ایوبی کی دوسری شکست تھی ۔ اس ناکامی میں اُس نے کھویا کچھ بھی
نہیں تھا مگر پایا بھی کچھ نہیں تھا ۔ اس لیے وہ اسے اپنی شکست سمجھتا تھا ۔ اگر سلطان ایوبی کی نہیں تو یہ اُس
کی انٹیلی جنس کی شکست ضرورتھی ۔ بیروت والوں کو قبل از وقت پتہ چل گیا تھا کہ سلطان ایوبی بیروت کو محاصرے
میں لینے آرہا ہے۔ صلیبیوں کو یہ خبر قاہرہ سے ہی ملی ہوگی ،حاالنکہ سلطان نے اپنی ہائی کمانڈ کے ساالروں کے سوا
کسی کو پتہ نہیں چلنے دیا تھا کہ اُس کا ہدف کیا ہے۔
آپ اسے شکست نہ کہیں ''۔ ایک ساالر نے سلطان ایوبی کو مایوسی کے عالم میں دیکھ کر کہا …… '' بیروت وہیں ہے''
جہاں پہلے تھا ۔ وہیں رہے گا ۔ ہم اس شہر پر ایک اور حملہ کریں گے''۔
اتنا بڑا شکار میرے ہاتھ سے نکل گیا ''۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا ……'' میں اسے محاصرے میں لینے اور اس ''
پر قابض ہونے آیا تھا لیکن میں خود محاصرے میں آگیا اور مجھے محاصرہ اُٹھا کر پسپا ہونا پڑا ۔ یہ شکت نہیں تو اور کیا
ہے ؟ ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ یہ شکست ہے۔ میرے مشیروں اور ساالروں میں بھی ایمان فروش موجود ہیں ''۔
خیمے میں سناٹا طاری ہوگیا ۔ اُس وقت سلطان ایوبی نصیبہ کے مقام پر خیمہ زن تھا ۔ بہت ِدن گزر گئے تھے ۔ اُس کی
فوج بہت تھکی ہوئی تھی ۔ بہت سی نفری زخمی بھی تھی ۔ اُس نے قاہرہ سے بیروت تک بہت تیز پیش قدمی کرائی
تھی۔ مہینوں کا فاصلہ دنوں میں طے کیا تھا ۔ فاصلہ طے کرنے کے فورا ً بعد فوج کو صلیبیوں کے محاصرے سے نکلنے کے
لیے خون ریز لڑائی لڑنی پڑی ،پھر تیز رفتار پسپائی ہوئی۔ سلطان ایوبی نے فوج کو مکمل آرام دینے کے لیے نصیبہ کے مقام
پر پڑائو کیا …… آرام فوج کے لیے تھا ۔ سلطان ایوبی کی تو نیند بھی اُڑ گئی تھی ۔ ِدن کو وہ بے چینی سے خیمے میں
ٹہلتا یا باہر نکل کر اِدھر ا ُدھر گھومتا رہتا تھا ۔ اپنے ساالروں کے ساتھ بھی کم ہی بولتا تھا ۔ اسی کیفیت میں اسے ایک
ساالر نے کہا کہ اسے شکست نہ کہیں۔ سلطان ایوبی کا جواب سن کر ساالر خاموش ہوگیا۔ سلطان ایوبی اپنے خیمے میں ٹہل
رہا تھا ۔ وہاں ایک اور ساالر بھی تھا ۔ بہت دیر تک دونوں ساالر خاموش رہے ۔ سلطان ایوبی کے مزاج میں جیسے غصہ
تھا ہی نہیں ،پھر بھی ساالر اس کے ساتھ بات کرتے ڈرتے تھے۔
تم دونوں کیا سوچ رہے ہو؟'' سلطان ایوبی نے پوچھا۔ ''
میں سوچ رہا ہوں کہ آپ اسی طرح مایوسی اور غصے کی حالت میں رہے تو آپ کے فیصلے مزید نقصان کا باعث بنیں ''
گے ''۔ایک ساالر نے کہا …… '' میں نے آپ کو اس حالت میں رملہ کی شکست کے وقت بھی نہیں دیکھا تھا ۔ اپنے
آپ کو ٹھنڈا کریں اور اس جذباتی کیفیت سے نکلنے کی کوشش کریں''۔
اورمیں سوچ رہا ہوں کہ کفار ہماری جڑوں میں اُترگئے ہیں ''۔دوسرے ساالر نے کہا …… '' ہم اس وقت اپنی سرزمین پر''
کھڑے ہیں ۔ ہماری جنگ صلیبیوں سے ہے اور ہمارا مقصد فلسطین کی آزادی ہے مگر مسلمان امراء میں سے کوئی ایک بھی
امیر ہمارے پاس نہیں آیا۔ عزالدین اور عمادالدین کہاں ہیں ؟ کیا انہوں نے ہمارے ساتھ معاہدہ نہیں کیا تھا کہ ضرورت کے
وقت ہمیں اپنی فوج دیں گے ؟ ان کا یہ سر درد یہ بتاتا ہے کہ وہ ابھی تک صلیبیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں تو کیا
''ہم آپس میں لڑتے رہیں گے؟
سلطان ایوبی خیمے میں ٹہل رہا تھا ۔ آسمان کی طرف دیکھ کر اُس نے آہ بھری اور کہا …… '' میرے رسول صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کی ا ُمت کا زوال شروع ہوگیا ہے۔ جب غیر مذہب کے اثرات قبول کیے جاتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہی ہوتا
ہے جو ہم دیکھ اور بھگت رہے ہیں ۔ صلیبی اور یہودی مسلمانوں کو اپنا غالم بنانے کے لیے انسانی فطرت کی سب سے
بڑی کمزوری کو استعمال کر رہے ہیں ۔ یہ کمزوری اللچ ہے ۔ انسانوں پر حکومت کرنے کا اللچ ،بادشاہ اور شہزادہ بننے کا
اللچ اوریہ اللچ کہ میں روئی جیسے مالئم قالینوں پر چلوں اور لوگ ننگے پائون گرم ریت پر چلیں۔ اُن کے پائوں جلیں تو
میرے آگے سجدے کریں۔ جب یہ اللچ ِدل میں ا ُتر جاتا ہے تو دل سے ایمان نکل جاتا ہے۔ عقل پر ایسا پردہ پڑتا ہے کہ
قومی غیرت اور خود داری بے معنی سے جذبے بن جاتے ہیں ۔ جب کوئی انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ غداری کو
قابل فخر اقدام سمجھتا ہے ۔ صلیبیوں نے ہمارے امراء کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے اپنی تہذیب کی بے حیائی
ِ
مسلمانوں میں بھی پھیال دی ہے ۔ جب تہذیب بدل جاتی ہے تو مذہب ایک کمزور سا خول بن کے رہ جاتا ہے جو اُتار کر
پھینکا بھی جا سکتا ہے اور قوم کو دھوکہ دینے کے لیے اپنے اوپر چڑھایا جاسکتا ہے''۔
،دونوں ساالر خاموشی سے سن رہے تھے ۔سلطان صالح الدین ایوبی ٹھہری ٹھہری آواز میں بول رہا تھا ۔ وہ چپ ہوگیا
پھر گہرا سانس لے کر بوال …… '' تم محسوس نہیں کر رہے کہ یہ بھی شکست ہے کہ میں جو عمل کے میدان کا : ،
مرد ہوں ،خیمے میں کھڑا عورتوں کی طرح باتیں کرتا رہا ہوں۔ ہمیں اس وقت بیت المقدس میں ہونا چاہیے تھا ۔ میری
اقصی میں سجدے کرنے کو تڑپ رہی ہے۔ مجھے ا ُن شہیدوں کے خون کا اخراج ادا کرنا ہے جو فلسطین کی
پیشانی مسج ِد
ٰ
آبرو اور آزادی پر قربان ہوگئے ہیں '' …… سلطان ایوبی کی آواز میں یکلخت قہر آگیا۔ اس نے ٹہلتے ٹہلتے ُرک کر ساالروں
کے سامنے کھڑے ہو کر کہا …… '' کیا تم ا ُن بچوں کا سامنا کر سکتے ہو جنہیں میرے حکم اور میرے عزم نے یتیم کیا
ہے؟ کیا تم ا ُن عورتوں کے سامنے جا کر اپنا سر اونچا کر سکتے ہوجن کے خاوند نعرے لگاتے ہمارے ساتھ آئے اور اُن کے
لہولہان جسم گھوڑوں کے ُس ّموں سے قیمہ ہوگئے ؟ تم ا ُن خوبرو اورجوان چھاپہ ماروں کو کیسے بھول سکتے ہو جو ہم سے
بہت ُدور دشمن کے عالقوں میں ُدور جا کر شہید ہوئے ؟ …… میں ا ُ ن میں سے کسی کی ماں کے سامنے جانے سے ڈرتا
ہوں ۔ ڈرتا اس لیے ہوں کہ ا ُ س نے یہ کہہ دیا کہ میرا بیٹا واپس کرو یا مجھے قبلہ اول لے چلو جہاں میں اپنے بیٹے کے
شہادت پرشکرانے کے نفل پڑھوں تو میں اس ماں کو کیاجواب دوں گا ؟
شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا محترم سلطان!'' یہ چھاپہ ماردستوں کے ساالر صارم مصری کی آواز تھی جو سلطان''
ایوبی کے خیمے کے دروازے میں آن کھڑا ہوا تھا ۔ سلطان ایوبی کی اُدھر پیٹھ تھی ۔
آب زمزم ''
کسی شہید کی ماں اپنے بیٹے کے خون کا حساب نہیں مانگے گی ۔ رسول ۖ کا کلمہ پڑھنے والی مائوں کا دودھ ِ
جیسا پاک اور مقدس ہے۔ ا ُس دودھ کے پلے ہوئے بیٹے آپ کے حکم سے نہیں اللہ کے حکم سے لڑا کرتے ہیں۔ آپ اُن کے
خون کا اخراج اپنے ذمے نہ لیں۔ غداروں کے خون کی بات کریں۔ ہماری تلواریں غداروں کے خون کی پیاسی ہیں ''۔
تم نے میرے حوصلے میں جان ڈال دی ہے صارم!'' سلطان ایوبی نے کہا …… '' میرے یہ دونوں رفیق بھی مجھے یہی ''
کہہ رہے تھے کہ مایوس اور جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ''۔
ضرورت ہے بھی کیا !'' صارم مصری نے کہا …… '' شکست شکست ہے مگر دائمی نہیں ۔ ہم اسے فتح میں بدل ''
سکتے ہیں اور بدل کر دکھا ئیں گے ''۔
میدان جنگ کی ہوتی تو میں ایک بازو کٹوا کر بھی مایوس اور پریشان نہ ہوتا ''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔'' ''
اگر بات
ِ
مشکل یہ پیدا ہوگئی ہے کہ دشمن زمین کے نیچے چال گیا ہے ۔ صلیبی اور یہودی ہماری قوم میں ایسے زہریلے اثرات چھوڑ
رہے ہیں جو پُ ر کشش اور طلسماتی ہیں۔ قوم اور فوج کے متعلق مجھے اطمینان ہے۔ سپاہی اور عام آدمی اِن اثرات کو قبول
نہیں کرتا ۔ انہیں وہ چند ایک افراد قبول کرتے ہیں کرچکے ہیں جن کا اثر قوم پر ہے۔ یہ اُمراء اور حاکموں کا طبقہ ہے۔
ان میں بعض مذہبی پیشواء بھی شامل ہیں اور ان میں چند ایک ساالر بھی ہیں جو ریاستوں کے حکمران بننے کے خواب
دیکھ رہے ہیں ۔ یہ ایمان فروشوں کا گروہ ہے جو سیدھے سادے لوگوں کو مذہب کا دھوکہ دے کر ا ُ ن میں مذہب کا جنون
پیدا کرتے اور انہیں مسلمان بھائیوں کے خالف اکساتے ،بھڑکاتے اور اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ غیر مذہب کے
لوگ مسلمان امراء اور اسی سطح کے طبقے کو اپنے زیر اثر لیتے ہیں ۔ پھر یہ طبقہ لوگوں کو مذہب اور محبت کا دھوکہ
دیتا اور انہیں بھوکا اور بے بس رکھتا ہے تا کہ لوگ یہ نہ دیکھ سکیں کہ یہ طبقہ درپردہ کیا کر رہا ہے''۔
مگر ہم عالم نہیں ''۔ ایک ساالر نے کہا …… ''ہم خطیب اور مسجدوں کے امام نہیں کہ تلواریں پھینک کر لوگوں ''
کووعظ اور خطبے سناتے پھریں۔ ہمیں یہ مسئلہ تلوار سے حل کرنا ہوگا۔ ان پتھروں کو گھوڑوں کے سموں تلے روندنا ہوگا''۔
یہ لوگ قرآن کے منکر ہیں ''۔سلطان ایوبی نے کہا …… '' قرآ ن کا حکم بڑا واضح ہے کہ کفار کو دوست مت سمجھو۔''
ان کی باتوں میں نہ آنا۔ تم نہیں جانتے کہ اُن کے ِدل ہمارے خالف کدورتوں سے بھرے ہوئے ہیں''۔
یہ لوگ نام کے مسلمان ہیں''۔ صارم مصری نے کہا …… ''قرآن کا اُن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ''۔ ''
یہ صورت حال بہت نقصان دہ ہے کہ ان لوگوں نے قرآن مجید بھی ہاتھوں میں اُٹھا رکھا ہے اور کفار کے اشاروں پر '' :
بھی ناچ رہے ہیں ''۔ سلطان ایوبی نے کہا …… '' قوم نے ہمیشہ ایسے ہی سربراہوں کے ہاتھوں دھوکہ کھایا ہے جن کے
ہاتھ میں قرآن اور ِد ل میں صلیب ہے۔ یہ لوگ اذان کی آواز پر خاموش ہوجاتے ہیں مگر ان کے ِدلوں میں گرجوں کے گھنٹے
بجتے ہیں ۔ قوم ان کا اصلی روپ نہیں دیکھ سکتی اور ان کے ِدل کی آواز نہیں سن سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک خانہ
جنگی میں ایک دوسرے کا خون بہا چکے ہیں اور دوسرے خانہ جنگی کی تلوار ہماری گردن پر لٹک رہی ہے''۔
ہم اس طوفان کو روک سکیں گے''۔ ایک ساالر نے کہا …… '' لیکن مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ ہم اب ''
کوئی معاہدہ اور کوئی صلح نامہ نہیں کریں ۔ ہمیں اپنے بھائیوں کا خون بہانا پڑے گا اور ہمیں ان کے ہاتھوں مرنا بھی ہوگا
''۔
سلطان ایوبی کے چہرے پر اُداسی کا سایہ آگیا ۔ ان کی آنکھیں جیسے اُفق پر کسی چیز کو دیکھ رہی تھیں۔ صاف پتہ چل
رہا تھا کہ اس کی نظریں آنے والی صدیوں کا سینہ چا ک کر رہی ہیں۔ خیمے میں ایک بار پھر گہرا سکوت طاری ہوگیا ۔
تینوں ساالر اپنے سلطان کے اس تاثر سے جو اس پر کبھی کبھی طاری ہوا کرتا تھا ،اچھی طرح واقف تھے۔
میرے عزیز رفیقو!'' سلطان ایوبی نے کہا…… '' مجھے نظر آرہا ہے کہ میرے رسول ۖ کی اُمت آپس میں لڑلڑکر ختم ''
ہوجائے گی ۔ صلیبی اور یہودی اسے خانہ جنگی میں ا ُلجھائے رکھیں گے۔ حکمرانی کا اللچ بھائی کو بھائی کا دشمن بنائے
گا۔ فلسطین خون سے الل ہوتا رہے گا ۔ مسلمان حکمران سلطنتوں میں بٹ کر عیش و عشرت میں پڑے رہیں گے ۔ ہمارا
قبلہ ّاول ا ُ ِ
مت رسول ۖ کو پکارتا رہے گا اور ا ُس پکار کو کوئی مسلمان نہیں سنے گا ۔ اگر کوئی فلسطین کی سرزمین کو آزاد
کرانے کے لیے ا ُٹھے تو وہ کوئی ہم جیسا دیوانہ ہوگا ۔ ایسے دیوانوں کو خود اپنے مسلمان حکمران دھوکے دیں گے اور درپردہ
دوست بنے رہیں گے۔ تم نے کہا ہے کہ ہم اس طوفان کو روک سکیں گے ،مگر ہمارے مرنے کے بعد یہ طوفان پھر اُٹھے گا
''۔
پھر ایک اور صالح الدین ایوبی پیدا ہوگا''۔ ساالر صارم مصری نے کہا …… '' ایک اور نورالدین زنگی پیدا ہوگا۔ مسلمان ''
مائیں مجاہدین کو جنم دیتی رہیں گی ''۔
اور یہ مجاہدین عیاش حکمرانوں کے ہاتھوں میں کھلونے بنے رہیں گے''۔ سلطان ایوبی نے طنزیہ لہجے میں کہا ……' ' ''
اور وہ وقت بھی آجائے گا جب فوج بھی عیاش سپاہیوں کا گروہ بن جائے گی اور اس کے ساالر کفار کے ہاتھوں میں کھیلیں
گے ''۔ سلطان ایوبی اس انداز سے خاموش ہوگیا جیسے اسے کچھ یاد آگیا ہو۔ اُس نے تینوں ساالروں کی طرف باری باری
دیکھا اور کہا …… '' مگر ہم یہ باتیں کب تک کرتے رہیں گے؟ ہم چاروں ایک دوسرے کو خطبے سنا رہے ہیں ۔اللہ کے
میدان عمل کے مرد ہیں۔ صارم! تم نے میری پہلی ہدایت کے مطابق
سپاہی خطیب نہیں ہوا کرتے۔ ہمیں عمل کرنا ہے۔ ہم
ِ
اپنے چھاپہ مار دستوں کو میری بتائی جگہوں پرپھیال رکھا ہوگا اورء تم جانتے ہو کہ ہماری یہ خیمہ گاہ کس خطرے میں
ہے''۔
سلطان محترم!'' ساالر صارم مصری نے جواب دیا …… '' ہم بیروت کا محاصرہ اُٹھا کر اس طرف ''
اچھی طرح جانتا ہوں
ِ
آئے تھے تو ہماری توقع کے خالف صلیبیوں نے ہمارے تعاقب میں فوج نہیں بھیجی تھی ،لیکن ہم اس خوش فہمی میں
مبتال نہیں ہوئے کہ صلیبی ہمیں بخش دیں گے۔ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں وہ کھال حملہ نہیں کریں گے۔ وہ ہم پر ہمارے
انداز کے شب خون ماریں گے ،بلکہ ا ُن کے چھاپوں اور شبخونوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ خیمہ گاہ سے بہت ُدور سے
فرنگیوں اور ہمارے گشتی دستوں کی چھوٹی چھوٹی جھڑپوں کی خبریں آنے لگی ہیں ۔ میں نے چھاپہ ماردستوں کو ُدور ُدور
تک پھیال رکھا ہے۔ مجھے شک ہے کہ کفار کا اڈہ کہیں باہر نہیں ،بلکہ موصل میں ہے اور والئی موصل عزالدین انہیں پناہ
اور مدد دے رہا ہے ''۔
اگر ایسی بات ہے تو مجھے اس کی اطالع مل جائے گی ''۔ سلطان ایوبی نے کہا …… '' اگر موصل میں ہی صلیبیوں ''
کا خفیہ اڈہ ہوا تو میں اس کا بندوبست کرلوں گا ''۔ اُس نے دوسرے دو ساالروں سے کہا …… '' ہمیں مسلمان اُمراء کے
ا ُن قلعوں پر قبضہ کرنا ہوگا جو موصل اور حلب کے درمیان ہیں۔ میں اِن دونوں شہروں کو ایک دوسرے سے کاٹ دینا چاہتا
ہوں۔ وہ ایک دوسرے کی مدد کرنے کے قابل نہیں رہیں گے ۔ اُن کے قاصدوں کو بھی راستہ نہیں ملے گا۔ میں نے بہت
کوشش کی ہے کہ میری تلوار کسی مسلمان کے خالف نیام سے نہ نکلے لیکن میں ناکام رہا۔ ان حکمرانوں اور اُمراء کو ختم
کروں گا جو صلیبیوں کے دوست ہیں ۔ میں خود قوم کی آڑ میں نہیں بیٹھوں گا ،نہ قوم کا خون بہنے دوں گا۔ میں اُن
ا ُمراء کو گھٹنوں بٹھادوں گا :جو قوم کو گمراہ کر رہے ہیں ''۔
سلطان ایوبی نے نقشہ نکاال اور اپنے ساالروں کو دکھانے لگا۔
٭ ٭ ٭
بیروت میں بالڈون کے محل میں ا ُس نے اپنے ساالروں اور تین چار صلیبی حکمرانوں کو مدعو کر رکھا تھا ۔ بہت بڑی ضیافت
کا اہتمام تھا ۔ بے شمار صلیبی مہمانوں میں دو مسلمان بھی شراب کے پیالے اُٹھائے اِدھر اُدھر گھومتے پھرتے نظر آرہے تھے
۔ جوں جوں شراب اثر دکھا تی جارہی تھی لڑکیوں کے ساتھ مہمانوں کی دست درازی بڑتھی جا رہی تھی اور لڑکیاں پہلے
سے زیادہ بے حیا ہوتی جا رہی تھیں۔ ان دو مسلمانوں کی طرف دوسرے مہمانوں کی نسبت زیادہ توجہ دی جا رہی تھی ۔ دو
لڑکیاں ان کے اِ رد گرد اٹھکیلیاں کرتی پھر رہی تھیں۔ یہ دونوں مہمان لباس اور شکل و صورت سے کسی شاہی خاندان کے
افراد معلوم ہوتے تھے ۔
ایک صلیبی آیا۔ دونوں سے کہا کہ انہیں بالڈون نے اپنے کمرے میں بالیا ہے۔ دونوں شراب کے پیالے رکھ کر چلے گئے۔ وہ
جس غال ِم گردش سے گزر کر بالڈون کے کمرے میں گئے ۔ اس میں ایک آدمی ہاتھ میں برچھی اُٹھائے فوجی انداز سے ٹہل
رہا تھا ۔ اس کا لباس خاص قسم کا تھا ۔ اُس کے پہلو میں جو تلوار لٹک رہی تھی ،اس کی نیام پالش سے چمک رہی
تھی ۔ ا ُس کے سر پر فوالد کی چمک دار خود تھی ۔ محل میں اس لباس میں کئی ایک آدمی سینے تانے اور گردنیں اکڑائے
ٹہل رہے تھے ۔ یہ محل کے خصوصی مالزم تھا جو ساالروں کے کمرے کے سامنے موجود رہتے اورضیافتوں میں برآمدوں اور
غال ِم گردشوں میں ٹہلتے رہتے تھے۔ فانوسوں کی روشنی میں اُن کا لباس اور اُن کی چال اچھی لگتی تھی ۔ یہ دراصل
نمائش کے لیے رکھے گئے تھے اور یہ تربیت یافتہ لڑاکے بھی تھے۔
یہ آدمی جس نے دو مسلمانوں کو بالڈون کے کمرے کی طرف جاتے دیکھا ،گورے رنگ کا تھا ۔ وہ ُرک کر انہیں جاتے ہوئے
دیکھتا رہا۔ وہ دونوں بالڈون کے کمرے میں داخل ہوگئے اور دروانہ بند ہوگیا۔ اس دروازے کے سامنے اسی آدمی جیسے لباس
میں دو آدمی پہرے پر کھڑے تھے ۔ ان میں سے ایک نے اُسے کہا …… '' ہیلو جیکب ،اِدھر کیوں گھومتے پھر رہے ہو؟
ا ُدھر جائو جہاں پریاں ناچ رہی ہیں۔ ہم تو یہاں سے ایک قدم بھی اِدھر اُدھر نہیں ہو سکتے''۔
جیکب نے ا ُن کے مذاق کا جواب دے کر کہا …… '' یہ دو آدمی جو اندر گئے ہیں مسلمان معلوم ہوتے ہیں۔ کون ہیں ''
''یہ ؟
''تمہیں ان سے کیا دل چسپی ہے؟ ''
تم مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ اِن سے مجھے کیا دلچسپی ہے؟'' …… جیکب نے کہا …… '' کیا تم نہیں جانتے کہ ''
مسلمان کے خالف کتنی نفرت پائی جاتی ہے؟ یہ دونوں کسی جنونی صلیبی یہودیوں کے ہاتھوں قتل ہوسکتے ہیں ۔ ان کی
حفاظت کی ذمہ داری ہمیں دے دی گئی ہے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ مسلمان ہیں یا مسلمان عالقے کے عیسائی ''۔
یہ مسلمان عالقے کے مسلمان ہیں ''۔ ا ُسے جواب مال ۔ '' یقین سے نہیں کہا جاسکتا ،جہاں تک ہم جانتے ہیں ،یہ ''
موصل سے آئے ہیں ۔ غالبا ً عزالدین کے ایلچی ہیں ''۔
صالح الدین ایوبی کے خالف مدد مانگنے آئے ہوں گے''۔ جیکب نے کہا …… '' اِن ایلچیوں کو کون بتائے کہ صالح ''
الدین ایوبی ختم ہو چکا ہے۔ رملہ سے شکست کھا کر بھاگا تو بیروت کو محاصرے میں لینے آگیا ۔ اُس کے بحری بیڑے کو
آگے آنے کی جرٔات نہیں ہوئی۔ مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا کہ ہماری فوج نے ایوبی کی فوج کا تعاقب نہیں کیا ،ورنہ آج
ایوبی قید خانے میں ہوتا ''۔
تم اپنا کام کرودوست !'' ایک پہرے دار نے طنزیہ کہا …… '' سلطان صالح الدین ایوبی قید ہوگیا تو اُس کی سلطنت ''
تمہیں نہیں ملے گی ۔ اگر شاہ بالڈون مارا گیا تو بیروت کی بادشاہی تمہارے نام نہیں لکھی جائے گی ''۔
جیکب وہاں سے ہٹ آیا لیکن گھوم گھوم کر بند دروازے کو دیکھتا رہا جس کے پیچھے یہ دونوں مسلمان گم ہوگئے تھے۔ وہ
دونوں عزالدین والئی موصل کے ہی ایلچی تھے۔ اس سلسلے کی پچھلی قسط میں بیان کیا جا چکا ہے کہ سلطان ایوبی جب
بیروت کا محاصرہ ا ُٹھا کر موصل کی طرف گیا تھا تو عزالدین نے بہائوالدین شداد کو خلیفہ کی طرف اس عرضداشت کے ساتھ
دوڑادیا تھا کہ سلطان ایوبی کے ساتھ اس کی صلح کرادیں۔ دوسرے لفظوں میں اُس نے یہ درخواست کی تھی اُسے سلطان
ایوبی سے بچایا جائے۔ خلیفہ نے یہ کام شیخ العلماء کے سپرد کردیا اور سلطان ایوبی نے عزالدین کو بخش دیا ۔ عزالدین نے
بظاہر سلطان ایوبی کے آگے ہتھیار ڈال کر صلح کا معاہدہ کر لیا تھا لیکن اُس نے درپردہ دو ایلچیوں کو صلیبی حکمران بالڈون
کے پاس بھیج دیا تھا ۔ یہ دو ایلچی اب بالڈون کے کمرے میں بیٹھے تھے ۔
والئی موصل نے کہا ہے کہ آپ نے صال ح الدین ایوبی کا تعاقب نہ کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے''۔ ایک ایلچی '' :
نے بالڈون کو بتایا …… '' آپ نے ا ُس کی فوج کو آرام کرنے کا موقعہ دے دیا ہے۔ والئی موصل نے کہا کہ میں تحریری
پیغام نہیں دے سکتا کیونکہ راستے میں پکڑے جانے کا خطرہ ہے۔ میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ دمشق کی طرف پیش قدمی
کریں اور اس شہر کو محاصرے میں لے کر اس پر قبضہ کرلیں۔ آپ کی فوج ایسے راستے سے اور اتنی تیزی سے دمشق
پہنچے کہ صالح الدین ایوبی دمشق بروقت نہ پہنچ سکے۔ میں آپ کے ساتھ وعدہ کرتا ہوں کہ صالح الدین ایوبی جب آپ
کے حملے کی اطالع پر یہاں سے روانہ ہوگا تو موصل اور حلب کی فوجیں آمنے سامنے لڑنے کی بجائے اس کی فوج پر
شبخون مارتی رہیں گی۔ اس سے ا ُس کی پیش قدمی بہت سست ہوجائے گی اور آپ دمشق پر آسانی سے قبضہ کرلیں گے ۔
ہمارے عالقوں میں جو چھوٹے موٹے ا ُراء ہیں ،میں ان سب کو اپنے ساتھ مال لوں گا ۔ آپ ان کے قلعے استعمال کر سکتے
ہیں۔ میں آپ کی فوج کو موصل کے اندر قیام کی اجازت نہیں دے سکتا ،کیونکہ اس سے صاف ظاہر ہوجائے گا کہ میرا اور
آپ کا اتحاد ہے۔ میں صالح الدین ایوبی کو یہ تاثر دے رہا ہوں کہ میں اُس کا دوست ہوں ''۔
ایلچی جب یہ پیغام دے رہا تھے ،اس وقت بالڈون کے ساتھ اُس کے دو جرنیل تھے۔ عزالدین کے ایلچی بھی فوجی مشیر
تھے۔ جنگی امور کو اچھی طرح سمجھتے تھے ۔ بالڈون ان کے ساتھ اس مسئلے پر بحث اور بات چیت کرتا رہا۔اُس نے
دیکھ لیا تھا کہ یہ مسلمان اُس کے جال میں آگئے ہیں۔ چنانچہ اُس نے اپنی شرطیں عائد کرنی شروع کردیں۔
عزالدین کو شاید پوری طرح احساس نہیں کہ صالح الدین ایوبی کو بے خبری میں نہیں دبوچا جا سکتا ''۔ بالڈون نے کہا ''
…… '' ہم دمشق کو محاصرے میں لیں گے تو وہ برق رفتار پیش قدمی کرکے ہم پر عقب سے حملہ کردے گا۔ میں اسے
ممکن نہیں سمجھتا کہ ہم دمشق کی طرف پیش قدمی کریں تو صالح الدین ایوبی کو قبل از وقت خبر نہ ہو۔ وہ عقاب اور
گدھ کی طرح بہت ُد ور سے شکار کودیکھ لیتا ہے اور ایسا جھپٹا مارتا ہے کہ پسپائی بھی محال ہو جاتی ہے۔ ہم ابھی کھلی
جنگ کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ ہم اس کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ فوری طور پر ہم نے یہ بندوبست کردیا ہے کہ چھاپہ
ماردستے بھیج دئیے ہیں جو صالح الدین ایوبی کی فوج کو آرام سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔ اِن دستوں کے لیے ہمیں مستقل
اڈے کی ضرورت ہے ۔ یہ آپ مہیا کر دیں گے تو ہم صال ح الدین ایوبی کی فوج کو صرف چھاپہ مار دستوں سے ہی بے
حال کر سکتے ہیں ۔ وہ نہ لڑنے کے قابل رہے گا ،نہ بھاگ سکے گا ۔ آپ ہمارے دستوں کو پناہ ،مدد اور خوراک وغیرہ
مہیا کرتے رہیں۔ ہم اسلحہ اور سامان بھیجتے رہیں گے ۔ آپ حلب کے والی عمادالدین سے بھی کہہ دیں کہ ہم پر بھروسہ
ِ
بوقت ضرورت پناہ اور مدد دیتا رہے۔ دوسرے اُمراء اور قلعہ دار بھی آپ کے ساتھ ہونے
رکھے اور ہمارے چھاپہ مار دستوں کو
چاہئیں۔ ان کا خیال رکھیں کہ ان میں سے کوئی صالح الدین ایوبی کے پاس جاکر اس کا اتحادی نہ بن جائے''۔
اتحاد کی شرائط طے کر لی گئیں۔ عزالدین نے ان ایلچیوں کو پورا اختیار دے دیا تھا کہ وہ شرائط طے کرکے آئیں اور جو
مراعات صلیبیوں کو دینا مناسب سمجھیں ،دے آئیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنا ایمان ایک صلیبی حکمران کے ہاں صرف اس لیے
گروی رکھ دیا کہ ا ُن کی حکمرانی محفوظ رہے۔ انہوں نے اپنا کام تو کر لیا تو ضیافت میں شریک ہونے کے لیے چلے گئے۔
انہیں دراصل شراب اورشراب پالنے والی لڑکیوں کے ساتھ ہی دلچسپی تھی ۔
اِ ن مسلمانوں پر زیادہ اعتماد نہ کریں''۔ ایک جرنیل نے بالڈون سے کہا …… '' انہوں نے ضرورت محسوس کی تو آپ ''
کو بتائے بغیر صالح الدین ایوبی کے پائوں میں جا بیٹھیں گے''۔
مجھے اپنے چھاپہ ماروں کے لیے ایک اڈہ چاہیے ''۔ بالڈون نے کہا …… '' موصل میرا اڈہ بن گیا تو میں آہستہ آہستہ ''
پوری فوج وہاں لے جائوں گا اور عزالدین کو وہاں سے بے دخل کردوں گا ۔ ہم سب کا منصوبہ یہ ہونا چایے کہ ان مسلمانوں
کو ہم متحد نہ ہونے دیں بلکہ انہیں آپس میں لڑاتے رہیں اور آہستہ آہستہ ان کے عالقوں پر قابض ہوجائیں۔ ہم سب نے دیکھ
لیا ہے کہ مسلمان کو عیش و عشرت اور حکمرانی کا اللچ دے دو تو وہ اپنی خودداری اور اپنا مذہب تمہارے قدموں میں رکھ
دیتا ہے۔ عزالدین ،عمادالدین اور دوسرے چھوٹے موٹے مسلمان اُمراء صرف اس لیے صالح الدین ایوبی کے خالف ہیں کہ وہ
سب خود مختار حکمران بنے رہنا چاہتے ہیں اور عیش و عشرت کی خاطر پُر سکون زندگی کی خواہش رکھتے ہیں ،مگر
صالح الدین ایوبی عیش و عشرت اور حکمرانی کا قائل نہیں۔ وہ ان سب کو ایک محاذ پرمتحد کرکے فلسطین سے ہمیں بے
دخل کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہے لیکن جنہیں وہ متحد کرنے کی کوشش کر رہا ہے ،وہ جنگ و جدل سے ڈرتے ہیں ۔
مجھے اُمید ہے کہ عزالدین اور اُس کا ٹولہ ہمارے ہاتھ سے نکلے گا
نہیں اگر کسی نے نکلنے کی کوشش کی تو اُسے ہم حشیشین کے ہاتھوں قتل کرادیں گے۔
بالڈون نے اپنے جرنیلوں کو چند ایک ہدایات دے کر کہا …… '' عزالدین کے ان دونوں ایلچیوں کی اتنی زیادہ خاطر ''
تواضع کرو کہ ان کی عقل بالکل ہی ماری جائے اور انہیں یاد ہی نہ رہے کہ ان کا مذہب کیاہے؟۔ اس نے جس ہدایت پر
سختی سے عمل کرنے کو کہا وہ یہ تھی کہ اس کمرے میں ان ایلچیوں کے ساتھ جو باتیں ہوئی ہیں وہ کمرے سے باہر نہ
جائیں''۔بالڈون نے کہا …… ''صالح الدین ایوبی کے جاسوس بیروت میں موجود ہیں''۔
دونوں ایلچی شراب اور لڑکیوں کے نشے میں بد مست ہوئے جا رہے تھے۔ مہمان اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے شراب پی رہے تھے
اور خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ جیکب ان دونوں ایلچیوں کو ڈھونڈ رہا تھا ۔ اُن میں سے ایک الگ مل گیا۔ جیکب نے
فوجی انداز سے اُسے سالم کیا اور پوچھا…… '' آپ غالبا ً موصل کے مہمان ہیں ؟ ہم موصل والوں سے بہت محبت کرتے
ہیں ''۔
ہم موصل کے حکمران عزالدین کے ایلچی ہیں ''۔ ایلچی نے شراب کے نشے میں بدمت ہوتے ہوئے کہا …… '' ہم یہ ''
معلوم کرنے آئے ہیں کہ بیروت کے صلیبیوں کے ِدل میں موصل کے مسلمانوں کی کتنی محبت ہے؟'' …… ایلچی کی جس
طرح زبان لڑکھڑا رہی تھی ،اسی طرح ا ُس کی ٹانگیں بھی لڑکھڑا گئیں۔ وہ اتنی زیادہ پی چکا تھا کہ پائوں پر کھڑا بھی نہں
رہ سکتا تھا ۔ ا ُس نے جیکب کے کندھے پر بازو سے ہاتھ مار کر کہا …… '' شراب کا یہی کمال ہے انسان کے دل سے
مذہب نکل جاتا ہے اور اس کی جگہ محبت آجاتی ہے۔ مجھے صلیب سے محبت ہے اور مجھے تمہاری اس برچھی سے
ساالر اعظم بن جائوں گا ۔
محبت ہے ،جس روز یہ برچھی صالح الدین ایوبی کے سینے میں اُتر جائے گی ،اُس روز میں
ِ
جیکب وہاں زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکتا کیونکہ اس کی ڈیوٹی گھومنے پھرنے کی تھی ۔ وہ ایلچی کو جھومتا لڑکھڑاتا چھوڑ
کر اِدھر اُدھر ہوگیا۔ کچھ دیر بعد ا ُ س نے دیکھا کہ ایلچی کو دو آدمی تھام کر لے جارہے تھے۔ وہ ہوش میں نہیں تھا ۔
آدھی رات کے قریب جیکب کی ڈیوٹی ختم ہوگئی۔ ناچ گانا جاری تھا ،جیکب اور اُس کے ساتھیوں کی جگہ دوسرے آدمی
آگئے ۔ جیکب اپنے کمرے میں گیا ۔ وردی اُتاری اور اپنے کپڑے پہن لیے۔ وہ بہت تھکا ہوا تھا ۔ اُسے سوجانا چاہیے تھا
لیکن وہ باہر نکل گیا ۔ اُس کا ُرخ کسی اور طرف تھا لیکن وہ اُس طرف چال گیا جہاں لڑکیاں رہتی تھیں۔ یہ ایک عمارت
تھی جس کا ایک حصہ اتنا خوبصورت تھا جیسے وہاں شہزادیاں رہتی ہوں۔ یہ اُن لڑکیوں کی رہائشگاہ تھی جو جاسوسی کے
لیے اور کردار کی تخریب کاری کے لیے مسلمانوں کے عالقوں میں اُمراء اور ساالروں اور حکمرانوں کو صلیب کے جال میں
پھانسنے کے لیے بھیجی جاتی تھیں۔ انہیں ا ُن عالقوں میں جو صلیبیوں کے قبضے میں آگئے تھے ،مسلمان جاسوسوں کو
پھانسنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔
اسی عمارت کے دوسرے حصے میں ناچنے اور گانے والی لڑکیاں رہتی تھیں۔ ان کی قدروقیمت جاسوس لڑکیوں جتنی نہیں تھی
جو جسمانی حسن کے لحاظ سے جاسوس لڑکیوں سے کم نہیں تھیں۔ اُن کا کام صرف یہ تھا کہ محل کی ضیافتوں پر ناچا
کرتی تھیں۔ باہر کے مہمان آئیں تو ناچ گانا ضرور ہوتا تھا۔ اُس رات موصل کے مسلمان ایلچیوں کے اعزاز میں جو ضیافت
دی گئی تھی ،اس میں ناچ گانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ا ُن میں سارہ نہیں تھی ۔ سارہ بہت خوبصورت لڑکی تھی ۔ اُس کے
خدو خال اور ا ُس کے بالوں اور آنکھوں کا رنگ یورپ کی لڑکیوں جیسا نہیں تھا ۔ وہ بیروت کی ہی رہنے والی ہو سکتی
تھی ،مصر کی بھی اور وہ یونان کی بھی ہو سکتی تھی ۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں کی رہنے والی ہے۔
جیکب کسی اور طرف جا رہا تھا ۔ اُسے یاد آگیا کہ ناچنے گانے والیوں میں اُسے سارہ نظر نہیں آئی تھی۔ اس کی
غیرحاضری کی وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ وہ بیمار ہے یا اس پیشے سے تنگ آکر بھاگ گئی ہے۔ جیکب کومعلوم تھا کہ
سارہ اس پیشے سے خوش نہیں ہے ،کیونکہ وہ خود نہیں آئی ،الئی گئی ہے۔ جیکب بھی اسی محل کے قریب رہتا تھا اور
اس کی ڈیوٹی محل میں ہی ہوتی تھی ۔ ایسی ہی ایک ضیافت کے دوران سارہ اتفاق سے جیکب سے ملی تھی ۔ سارہ کو
سب مغرور لڑکی کہا کرتے تھے ،کیونکہ وہ کسی کے ساتھ بولتی نہیں تھی۔ جیکب میں نہ جانے اُسے کیا نظر آیا کہ اُسے
وہ پسند کرنے لگی ۔ جیکب کو بھی یہ لڑکی اچھی لگنے لگی۔
ایک رات سارہ محل سے فارغ ہوکر اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی ۔ اسے جیکب مل گیا ۔ سارہ نے اسے کہا میں ''
''میں اکیلی جا رہی ہوں ،میرے ساتھ کمرے تک نہیں چلو گے؟
اکیلے جاتے ڈر آتا ہے؟'' جیکب نے کہا …… '' یہاں سے تمہیں کوئی اغوا کرکے نہیں لے جا سکتا ''۔ ''
میں اب اغوا نہیں ہوسکتی '' ۔ سارہ کی مسکراہٹ بجھ گئی۔ کہنے لگی …… '' اب تو اپنے آپ کو خود ہی اغوا ''
کروں گی …… میرے ساتھ چلو ۔ اکیلے جاتے ڈر تو نہیں آتا۔ تمہارے ساتھ کی ضرورت ہے''۔
سارا جیسی حسین لڑکی کا جیکب کو پسند کرنا کوئی عجوبہ نہیں تھا ۔ جیکب مردانہ حسن اور وجاہت کا شاہکار تھا ۔ چند
اور لڑکیوں نے بھی اس کے ساتھ دوستی کی پیشکش کی تھی لیکن جیکب ان سے ُدورہی رہا تھا ۔ ُدور رہنے کی وجہ تھی
کہ یہ سب ناپاک اور عصمت بریدہ لڑکیاں تھیں۔ جیکب نے ا ُن کی پیشکش ٹھکرا کر اپنی قیمت چڑھالی اور اپنی کشش میں
اضافہ کر لیا تھا ۔ وہاں تو یہ عالم تھا کہ بدکاری کو گناہ کی بجائے تفریح بلکہ جائز تفریح سمجھا جاتا تھا ۔ پہلی مالقات
میں جیکب سارہ کو بھی ایسی ہی بدکار لڑکی سمجھا تھا لیکن سارہ میں سنجیدگی اور متانت سی تھی جو جیکب کو اچھی
لگی تھی ۔ سارہ کو جب یہ پتہ چال کہ جیکب شراب بھی نہیں پیتا تو وہ اُسے زیادہ اچھا لگنے لگا تھا ۔ پھر ایک رات
سارہ نے ا ُس کے منہ سے اپنی تعریف کرانے کے لیے پوچھا تھا …… '' تم نے میرے رقص کی کبھی تعریف نہیں کی ۔
''دوسرے مجھے راستے میں روک کر میرے فن اور جسم کی تعریف کیا کرتے ہیں ؟
میری زبان سے تم اپنے فن کی تعریف کبھی نہیں سنو گی '' …… جیکب نے جواب دیا …… '' البتہ تمہارے جسم ''
میں جادو کا سا اثر تھا ۔ بہت اچھا جسم ہے۔ خدا نے تمہارے چہرے مہرے میں جو کشش پیدا کی ہے۔ وہ خدا کے بندوں
کی نظروں کو جکڑ لیتی ہے لیکن یہ جسم ناچتا ہوا اچھا نہیں لگتا ،نہ کسی کو انگلیوں پر نچاتا ہوا اچھا لگتا ہے۔ یہ جسم
ایک مرد کی ملکیت ہوتا ہے۔ وہ مرد چھ کلمے پڑھ کر اس جسم کو احترام اور پیار کے ساتھ مستور کرکے لے جاتا تو اس
جسم پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے ۔ تم خدا کی توہین کر رہی ہو''۔
جیکب ؟'' سارہ نے اسے حیران سا ہو کر کہا …… '' تم کون سے چھ کلموں کی بات کرتے ہو؟ عیسائی اپنی دلہنوں ''
کو مستور کرکے بھی نہیں لے جاتے ''۔
جیکب گھبرا گیا ،پھر اچانک قہقہہ لگا کر بوال …… '' میرے دماغ پر مسلمان سوار رہتے ہیں ۔ میری اپنی تو شادی نہیں
ہوئی ،مسلمانوں کی شادیاں دیکھی ہیں ''۔
اُس نے وضاحت کی کہ ''چھ کلمے '' اُس کے منہ سے نکل گئے ہیں مگر سارہ اُسے عجیب سی نظروں سے دیکھتی رہی
،پھر وہ چپ سی ہوگئی اور خالئوں میں ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگی۔ بے تاب سی ہو کر اُس نے جیکب کے بازو پر ہاتھ
رکھا اور پوچھا …… '' تم مسلمان تو نہیں جیکب؟ میرا کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ تم جاسوس ہو۔ ہو سکتا ہے مالزمت کی
خاطر تم نے اپنے آپ کو عیسائی بنا رکھا ہو یا عیسائی مذہب قبول کر لیا ہو''۔
جیکب مسلمان نہیں ہوا کرتے سارہ!'' جیکب نے کہا …… '' میرانام گلبرٹ جیکب ہے …… تم اتنی پریشان اور اداس ''
کیوں ہوگئی ہو؟ معلوم ہوتا ہے تمہارے دل میں مسلمان کے خالف اتنی نفرت ہے کہ تم ان کلموں کا نام بھی نہیں سننا
چاہتی ''۔
تمہیں راز کی ایک بات بتائوں ؟'' سارہ نے کہا …… '' شاید تم اچھا نہ مانو ،مجھے مسلمان اچھے لگتے ہیں ۔ اس ''
کی وجہ شاید یہی ہے کہ وہ چھ کلمے پڑھ کر اپنی دلہنوں کو مستور لے کے جاتے ہیں ''۔ اس نے آہ بھر کر کہا …… ''
عورت عریاں کردی جاتی ہے تو ا ُسے احساس ہوتا ہے کہ مستور ہونے میں جو روحانی اقرار تھا ،وہ چھن گیا ہے۔ ناچنے
میں بھی لذت نہیں اور اپنے حسن کا جادو طاری کرکے دوسروں کو انگلیوں پر نچانے پر بھی قرار نہیں ۔ میں جب تنہائی
میں آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی ہوں تو آئینے میں مجھے ایک قابل نفرت عورت نظر آتی ہے۔ میں اپنے عکس کو مستور
نہیں کر سکتی ۔ اس پر پردہ نہیں ڈال سکتی۔ البتہ میری روح پر سیاہ پردہ پڑ گیا ہے''۔
تم اس پیشے سے اتنی متنفر ہو تو نکل بھاگو یہاں سے ؟''جیکب نے کہا ۔''
…… کدھر؟'' سارہ نے کہا …… '' یہاں سے بھاگوں گی تو کسی قحبہ خانے والوں کے قبضے میں آجائوں گی''
''کیا تم میرے رقص کو کو پسند کرتے ہو یا مجھے ؟ ……
میں اُس سارہ کو پسند کرتا ہوں جو اس پیشے سے نفرت کرتی ہے ،اُداس اور پریشان رہتی ہے''۔ جیکب نے کہا …… ''
'' میں کہہ چکا ہوں کہ تم خدا کی توہین کر رہی ہو''۔
تم فوج میں کسطرح آگئے ہو؟'' سارہ نے کہا …… '' تمہیں دیہاتی گرجے میں پادری ہونا چا ہیے تھا …… تم ہر روز ''
''کتنی شراب پیتے ہو؟
اس کی بو سے بھی نفرت ہے''۔''
پھر تم مسلمان ہو''۔ سارہ نے وثوق کے لہجے میں کہا …… '' اگر تم نہیں تو تمہارا باپ مسلمان تھا ۔ تم عورت کو ''
مستور دیکھنا چاہتے ہو۔ تمہیں رقص پسند نہیں ۔ تمہیں شراب کی بو سے بھی نفرت ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ تم مجھے
اچھے لگتے ہو۔ مجھے تو جو کوئی بھی دیکھتا ہے ،کھاجانے کی نظروں سے دیکھتا ہے۔ تم میرے دل کے درد کو سمجھتے
''ہونا؟
سمجھتا ہوں سارہ !'' جیکب نے کہا …… '' یہ درد میرے دل نے محسوس کیا تھا ''۔ ''
پھر وہ کئی بار ملے ۔ سارہ جیکب کے ساتھ دل کی باتیں کیا کرتی تھی۔ اُس نے جیکب سے کئی بار کہا تھا کہ تمہاری
چال ڈھال اور تمہارے خیاالت مسلمانوں جیسے ہیں ۔ جیکب نے کئی بار اُس سے پوچھا تھا کہ وہ مسلمانوں کو اتنا زیادہ
پسند کیوں کرتی ہے؟ سارہ نے کبھی کوئی ٹھوس جواب نہیں دیا تھا ۔ البتہ دونوں نے یہ محسوس کیا تھا کہ وہ ایک دوسرے
کے دل میں اُتر گئے ہیں ۔
٭ ٭ ٭
ضیافت کی رات جب جیکب اپنی ڈیوٹی سے فارغ ہو کر کسی اور طرف جارہا تھا ،وہ سارا کی رہائش کی طرف چل پڑا ۔
ضیافت میں سارہ کی غیر حاضری کی وجہ بیماری ہی ہو سکتی تھی ۔ اس عمارت میں کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی
۔ جیکب نے وہاں جانے کا خطرہ مول لے لیا کہ تمام لڑکیاں ضیافت میں گئی ہوئی تھیں اور وہاں مالزم عورتیں بھی نہیں
تھیں۔ جیکب اندھیرے طرف سے گیا ۔ وہ سارہ کا کمرہ جانتا تھا ۔ وہ دبے پائوں کمرے کے دروازے تک پہنچا۔ ہاتھ لگایا تو
کواڑ کھل گیا ۔ ایک کمرے سے گزر کر وہ دوسرے کمرے میں گیا۔ وہاں چھوٹی سی قندیل جل رہی تھی ،جس کی مدھم
سی روشنی میں اُسے سارہ سوئی ہوئی نظر آرہی تھی ۔ اُسے یہ لڑکی دودھ پیتے بچے کی طرح معصوم لگی۔ اُس کا ہاتھ
اپنے ہی بکھرے ہوئے بالوں میں ا ُلجھا ہوا تھا ۔ کھڑکی کھلی تھی ۔ بحیرئہ روم کی ٹھنڈی ہوا کے تیز جھونکوں سے سارہ
کے بکھرے ہوئے بال آہستہ آہستہ ہل رہے تھے۔ وہ گہری نیند سوئی ہوئی تھی ۔ جیکب نے ہاتھ اُس کی پیشانی پر رکھا۔
پیشانی اتنی ہی گرم تھی جتنی ا ُس عمر کی سوئی ہوئی لڑکی کی گرم ہونی چاہیے تھی ۔ جیکب کو یہ اطمینا ن ہوگیا کہ
سارہ کو بخار نہیں۔
20:58
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 134سنت ،سارہ اور صلیب
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کہ سارہ کو بخار نہیں۔'' تم نخلستان کا پھول ہو جو بادشاہوں کی خواب گاہوں میں آکر مرجھا جاتا ہے''۔ جیکب نے دل
ہی دل میں سارہ سے کہا …… '' تم صبح کا ستارہ ہو جو سورج کی چمک سے بجھ جاتا ہے اور رات کو پھر چمک اُٹھتا
ہے۔ تمہاری زندگی راتوں کے اندھیرے میں بیت رہی ہے۔ تمہاری قسمت اندھیرے میں لکھی گئی تھی …… تم مجھے کیوں
اچھی لگتی ہو؟ مجھ سے بار بار کیوں پوچھتی ہو کہ میں نے چھ کلموں کا ذکر کیوں کیا تھا ؟ تم کسی مسلمان کی ماں
کی کوکھ کی پیداوار تو نہیں؟ تمہاری رگوں میں کسی مسلمان باپ کا خون تو نہیں ؟ اس راز سے پردہ کون اُٹھائے؟ میں
تمہارے لیے راز ہوں ،تم میرے لیے راز ہو؟؟۔
جیکب کو یاد آیا کہ صلیبی فوج مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹتے رہتے ہیں۔ ان کی بچیوں کو اُٹھا لے جاتے ہیں اور انہیں اپنے
رنگ میں رنگ کر جاسوسی اور بے حیائی اور رقص کی تربیت دیتے ہیں۔ سارہ بھی شاید انہی بد نصیب لڑکیوں میں سے
ہوگئی ،ورنہ یہ قوم احساسات اور جذبات کے لحاظ سے مردہ اور بے حیائی میں پوری طرح زندہ ہوتی ہے۔ جیکب بھول گیا
کہ وہ کہاں کھڑا ہے ۔ کسی مرد کو ان کمروں میں آنے کی اجازت نہیں تھی ۔ سارہ اُس کے دل میں ایسی اُتری تھی کہ وہ
خطروں سے بے نیاز ہوگیا تھا ۔ اُس سے رہا نہ گیا ۔ اُس نے قندیل بھجا دی اور اس کے ساتھ ہی سارہ کی آنکھ کھل گئی
۔
''جیکب کو اُس کی گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی …… '' کون ہو؟
'' جیکب''
اس وقت یہاں کیوں آگئے ہو؟'' سارہ نے ایسے لہجے میں کہا جس میں محبت بھی تھی ،ہمدردی بھی ۔ '' کسی ''
نے دیکھ لیا تو تم سیدھے قید خانے میں جائو گے ۔ مجھے باہر بال لیا ہوتا ''۔
یہ پریشانی مجھے اس خطرے میں لے آئی ہے کہ تم بیمار ہو؟'' جیکب نے اندھیرے میں ا ُ س کے پلنگ پر بیٹھتے ''
ہوئے کہا …… '' روشنی اس لیے گل کردی ہے کہ کوئی دیکھ نہ لے ۔ میں کسی اورنیت سے نہیں آیا سارہ! معلوم نہیں
''کیا کشش ہے جو مجھے یہاں لے آئی ہے۔ تمہیں بخار تو نہیں ؟
میری روح علیل ہے''۔ سارہ نے کہا …… '' میں تو جب بھی محفلوں اور ضیافتوں میں ناچتی ہوں ،میرا دل ساتھ نہیں''
ہوتا ۔ میرا جسم ناچتا ہے اور روح مر جاتی ہے ،مگر آج مجھے کہا گیا کہ موصل سے دو بڑے ہی اہم مہمان آرہے ہیں تو
روح کے ساتھ میرا جسم بھی بے جان ہوگیا ۔ مجھے متلی آنے لگی اور سرچکرانے لگا ۔ مجھے اِن بادشاہوں کی جنگوں اور
ان کے امن اور دوستی کے معاہدوں کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں لیکن میرے کانوں میں جب یہ بات پڑی کہ موصل سے اہم
مہمان آرہے ہیں تو مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے صلیبیوں اور مسلمانوں میں سے کسی ایک کے ساتھ میرا گہرا تعلق ہے۔
میں ابھی تک یہ نہیں سوچ سکی کہ میرا روحانی تعلق کس کے ساتھ ہے۔ صرف یہ احساس جاگ اُٹھا کہ میں اس محفل
میں نہیں ناچ سکوں گی ۔ میں موصل کے مہمانوں کا سامنا نہیں کر سکوں گی یا وہ مجھے دیکھ کر وہاں سے بھاگ جائیں
گے ''۔
''کیوں؟'' جیکب نے پوچھا …… ''موصل والوں کے ساتھ تمہارا کیا تعلق ہے؟''
میں بتا نہیں سکتی ''۔سارہ نے کہا …… '' میں تو اپنے آپ کو بھی یہ بتانے سے ڈرتی ہوں کہ موصل والوں کے ساتھ''
میرا کیا تعلق ہے''۔
سارہ!'' جیکب نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا …… '' تم اپنا آپ مجھ سے کیوں چھپا رہی ہو؟ کیا تمہیں ''
''کسی قافلے سے اغوا کیا گیا تھا ؟ تم کس باپ کی بیٹی ہو؟
سارہ کوئی جواب نہ دے سکی ۔ جیکب چونک ا ُٹھا۔ دونوں نے کھڑکی کی طرف دیکھا جو کھلی ہوئی تھی ،وہاں ایک سایہ
کھڑا نظر آیا۔ سارہ نے جیکب کے کان میں سرگوشی کی …… '' پلنگ کے نیچے ہوجائو '' …… جیکب نے اندھیرے سے
فائدہ ا ُٹھایا۔ آہستہ سے سرک کر فرش پر بیٹھا اور آواز پیدا کیے بغیر پلنگ کے نیچے چال گیا ۔ سارہ لیٹ گئی۔
سارہ !'' کھڑکی کے ساتھ کھڑے سائے کی آواز آئی۔ یہ ایک بوڑھی عورت کی آواز تھی جو بعض راتیں ناچنے گانے ''
والیوں کو دیکھا کرتی تھی کہ کوئی لڑکی غیر حاضر تو نہیں ۔
اُس کی آواز پر سارہ نہ بولی۔ عورت نے ا ُسے ایک اور آواز دی ۔ سارہ پھر بھی نہ بولی۔ عورت نے تحکمانہ لہجے میں کہا
''…… '' سارہ تم سوئی ہوئی نہیں ہو ۔ مجھے جواب دو ۔ قندیل کیوں بجھی ہوئی ہے؟
سارہ نے منہ سے ایسی آوا ز نکالی جیسے ہڑبڑا کر جاگ ا ُٹھی ہو۔ گھبراہٹ کی اداکاری کرتے ہوئے بولی ۔ '' کون ہو؟ کیا
''ہو گیا ہے؟
میں ا ُدھر آکر بتاتی ہوں''۔ عورت کا سایہ کھڑکی سے ہٹ گیا ۔ وہ دروازے کی طرف سے آنا چاہتی تھی ۔ سارہ نے ''
جھک کر جیکب سے کہا …… '' وہ دوسری طرف سے آرہی ہے ،باہر آئو اور کھڑکی سے کود جائو''۔
نہیں سارہ!'' جیکب نے پلنگ کے نیچے سے نکل کر کہا …… '' میں اسے جانتا ہوں ،آنے دو اسے ۔ میں اس کی ''
مٹھی گرم کردوں گا تو خاموشی سے چلی جائے گی ''۔
یہ خبیث عورت ہے''۔سارہ نے کہا …… '' یہ درپردہ لڑکیوں کی داللی کرتی ہے۔ تم فورا ً نکلو یہاں سے ،ورنہ میرا ''
جھوٹ مجھے مروا دے گا ۔ میں اسے سنبھال لوں گی ''۔
وہ عورت ابھی دروازے تک آئی ہی تھی کہ جیکب کھڑکی سے باہر کود گیا ۔سارہ نے قندیل جال دی ۔ عورت اندر آئی۔
جسم کے لحاظ سے وہ عورت کم اور مردزیادہ تھی ۔ وہ سارہ پر برس پڑی۔سارہ نے اُسے یقین دالنے کی کوشش کی کہ اس
کمرے میں اور کوئی نہیں تھا اور شاید خواب میں بول رہی ہوگی۔ عورت نے اُسے کہا کہ خواب میں عورت کی آواز مرد
جیسی بھاری نہیں ہوجایا کرتی۔
یہ کیا ہے؟'' عورت نے جھک کر پلنگ کے قریب فرش پرگرا ہوا ایک رومال اُٹھایا۔یہ گزبھرلمبا اور اتنا ہی چوڑا کپڑا ''
تھا جو مرد گرمی سے بچنے کے لیے سر پر ڈال لیا کرتے تھے ۔'' یہ کس کا ہے؟ یہ اُس کا ہے جو تمہارے پاس آیا بیٹھا
''تھا ۔ وہ کون تھا ؟ تم نے اُس سے کتنی رقم لی ہے؟
میں عصمت فروش نہیں ''۔ سارہ نے غصے سے کہا …… '' میں رقاصہ ہوں۔ تم جانتی ہو ،میں کسی مرد کو منہ نہیں ''
لگاتی ''۔
سنو سارہ!'' عورت اُس کے پاس بیٹھ گئی اور اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر شفقت سے بولی …… '' یہ تو میں ''
بھی جانتی ہوں کہ تم رقاصہ ہو مگر تم یہ نہیں جانتی کہ رقاصہ فوج کی جرنیل یا شہر کی حاکم نہیں ہوا کرتی۔ میں اتنی
سی بات کہہ دوں گی کہ تمہارے پاس رات کو آدمی آیا تھا وہ تمہیں بیروت کے کسی انتہائی گھٹیا قحبہ خانے میں بیچ ڈالیں
گے یا تمہیں قید میں ڈال دیں گے۔ اس نشے میں بات نہ کرو کہ تم شاہی رقاصہ ہو۔ یہاں تمہارا کوئی مقام نہیں ''۔
تم مطلب کی بات کرو''۔سارہ نے کہا…… '' تم مجھ پر جو مہربانی کرنا چاہتی ہو ،اُس کا معاوضہ کیا لوگی ؟ میں ابھی''
ادا کردیتی ہوں''۔
میں تم سے کچھ بھی نہیں لوں گی''۔ عورت نے کہا ۔ '' میں کسی اور سے معاوضہ وصول کروں گی۔ تمہاری ہاں ''
کی ضرورت ہے''۔
سارہ ا ُس کا مطلب سمجھ گئی۔ باہر سے شاہی مہمان آتے ہی رہتے ہیں ۔ ان میں عیسائی بھی ہوتے تھے ،مسلمان بھی ۔
شاہی حیثیت کے مہمانوں کی خاطر تواضع کے لیے لڑکیاں موجود رہتی تھیں لیکن اُس کے ساتھ جو عملہ آتا تھا ،انہیں اس
قسم کی عیاشیاں مہیا نہیں کی جاتی تھیں۔ یہ عورت ان لوگوں سے مل کر اُن کے پاس لڑکیاں بھیجا کرتی اور منہ مانگا
معاوضہ وصول کرتی تھی ۔ یہ ا ُس کا خفیہ کاروبار تھا ۔ بعض شاہی مہمان ایسے ہوتے تھے جو سرکاری طور پر دی ہوئی
لڑکی سے مطمئن نہیں ہوتے تھے۔ یہ عورت درپردہ محل کے ایک دو مالزموں کے ذریعے اُن کی یہ ضرورت پوری کرتی اور
انعام لیتی تھی۔ سارہ اُس کے ہاتھ کبھی نہیں آئی تھی مگر اب یہ لڑکی اُس کے جال میں آگئی ۔ وہ اگر بتاتی کہ اُس کے
پاس جیکب آیا تھا اور ا ُس کے ساتھ اس کا تعلق پاک ہے تو یہ عورت کبھی یقین نہ کرتی اور دوسرا ظلم یہ ہوتا کہ جیکب
کو قید میں ڈال کر بڑی ہی ظالمانہ اذیتیں دے دے کر ماردیا جاتا۔
سارہ!'' عورت نے کہا …… '' اگر اپنے ہولناک انجام سے بچنا چاہتی ہو تو میری بات مان لو۔ باہرسے دو مہمان آئے ''
ہوئے ہیں۔ بہت دولت مند ہیں ۔ پرسوں سے دو مالزموں سے کہہ رہے ہیں کہ انہیں اچھی قسم کی لڑکیوں کی ضرورت ہے۔
یہ دراصل ا ُن کی عادت ہے۔ اپنے ہاں حرموں میں بیس بیس تیس تیس لڑکیاں جمع کیے رکھتے ہیں ۔ یہاں بھی چاہتے ہیں
کہ ان کے کمروں میں لڑکیوں کی چہل پہل لگی رہے۔ کل تم اِن میں سے ایک کے پاس چلی جانا''۔
کون ہیں وہ؟'' سارہ نے پوچھا …… '' اگر مسلمان ہیں تو میں اُن کے پاس نہیں جائوں گی ''۔''
تو قید خانے میں جائو''۔ عورت نے کہا …… '' ہوش میں آئو۔ اپنے آپ کو دیکھو۔ تم کیا ہو۔ اپنے پیشے کو دیکھو۔ ''
شریف بننے کی کوشش نہ کرو۔ وہ ِدل کھول کر انعام دیں گے جس میں تمہارا حصہ بھی ہوگا ''۔
''اور پکڑے گئے تو؟ ''
میں پکڑنے والوں کا منہ بندرکھا کرتی ہوں''۔ عورت نے کہا …… '' کل رات تیار رہنا۔ اب تم سے بالکل نہیں پوچھوں ''
گی کہ ابھی ابھی تمہارے پاس کون آیا تھا ''۔
عورت چلی گئی۔ سارہ کے آنسو بہنے لگے۔
جیکب بھاگنے واال آدمی نہیں تھا لیکن وہ اس ڈر سے نکل گیا کہ سارہ کی مصیبت آجائے گی۔ اُسے اُمید تھی کہ سارہ اسی
غلیظ ُد نیا کی لڑکی ہے ،وہ اس عورت کو سنبھال لے گی۔ وہ شہر کی طرف چال جا رہا تھا ۔ اس کے ذہن پر سارہ چھائی
ہوئی تھی۔ سارہ سے ا ُسے دلی محبت ہوگئی تھی اور سارہ اس کے لیے معمہ بھی بن گئی ۔ اُسے رہ رہ کر یہی خیال آرہا
تھا کہ سارہ کسی مسلمان باپ کی بیٹی ہے …… وہ چلتے چلتے شہر کی تنگ و تاریک گلیوں میں داخل ہوگیا۔ گلیوں کے
موڑ مڑتا ایک مکان کے سامنے ُرکا اور دروازے پر دستک دی ۔ کچھ دیر بعد دروازہ کھال۔
''کون؟''
حسن ''۔ جیکب نے جواب دیا ۔''
''اتنی رات گئے؟'' دروازہ کھولنے والے نے پوچھا۔ '' فوراًاندر آجائو ۔ کسی نے دیکھا تو نہیں ؟ ''
نہیں'' ۔ جیکب نے جواب دیا …… ''کافروں کی ضیافت سے ابھی فارغ ہوا ہوں۔ ایک ضروری اطالع الیا ہوں''۔''
وہ اندرچال گیا ۔ دروازہ بند ہوگیا۔ اب وہ جیکب نہیں بلکہ حسن االدریس تھا۔ وہ سلطان صالح الدین ایوبی کاجاسوس تھا ۔
اس نے ایک سال پہلے اپنے آپ کو ایک عیسائی ظاہر کرکے اور نام گلبرٹ جیکب بناکر صلیبی فوج میں مالزمت کرلی
تھی ۔ گورے رنگ کا جوان تھا ۔ ٹریننگ کے مطابق وہ اداکاری اور چرپ زبانی کاماہر تھا ۔ اس کی شکل و صورت اور دراز
قد کی بدولت ا ُسے محل کی خصوصی ڈیوٹی کے لیے منتخب کرلیا گیا تھا ۔ یہاں سے وہ قاہرہ کوخبریں بھیجتا رہتا تھا ۔
اس کے گروہ کا لیڈر حاتم اس مکان میں رہتا تھا جس میں داخل ہوگیا تھا ۔
موصل کے دو ایلچی بالڈون کے پاس آئے ہیں '' ۔ حسن نے اپنے لیڈر کو بتایا …… '' میں نے یقین کر لیا ہے کہ یہ ''
دونوں موصل سے آئے ہیں اور دونوں مسلمان ہیں ۔ انہیں بالڈون اپنے کمرے میں لے گیا تھا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ
والئی موصل عزالدین کا کوئی پیغام لے کر آئے ہیں ''۔
اور یہ سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف معاہدے کا پیغام ہوگا ''۔ لیڈر نے کہا …… '' یہ معلوم کر لیا ہے کہ ان ''
کے درمیان کیا طے پایا ہے؟ سلطان ابھی تک اس دھوکے میں ہیں کہ عزالدین اور عمادالدین ہمارے دوست ہیں یا کم از کم
ہمارے خالف نہیں لڑیں گے''۔
ان کی بات چین بند کمرے میں ہوئی ہے''۔ حسن نے کہا …… '' میرا خیال ہے کو جو کچھ طے ہونا تھا ،ہوچکاہے۔ ''
میں نے ان میں سے ایک کے ساتھ بات کی تھی ۔ وہ بہت خوش نظر آرہا تھا ۔ بدبخت نے شراب اس قدر پی لی تھی
کہ اس نے نشے میں مجھے بڑا صاف اشارہ دے دیا کہ وہ دونوں مسلمان ہیں اور موصل سے آئے ہیں۔ مجھے کہتا تھا کہ وہ
ہماری یعنی صلیبیوں کی محبت دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ پائوں پر کھڑا نہ ہوسکا اور گر پڑا''۔
ہم سلطان کو صرف یہ اطالع بجھوائیں کہ بیروت میں موصل کے دو آدمی آئے تھے ،کافی نہیں ''۔ حاتم نے کہا ……'' ''
ہم اپنے سلطان سے بہت شرمسار ہیں کہ ا ُن تک ہماری یہ اطالع نہیں پہنچ سکی کہ بیروت کو محاصرے میں لینے کا منصوبہ
ترک کردیں ،کیونکہ بالڈون کو اس منصوبے کی اطالع قاہرہ سے مل گئی ہے''۔
اس میں ہمارا کوئی قصور نہ تھا ''۔حسن نے کہا ۔ '' اسحاق ترک برقت روانہ ہوگیا تھا۔ وہ دھوکہ دینے واال آدمی نہیں''
تھا ۔ وہ راستے میں صحرا کا شکا ر ہوگیا یا پکڑا گیا ہوگا''۔
بیروت کے محاصرے میں سلطان صالح الدین ایوبی کا جو نقصان ہوا ہے۔ ہمیں اس کا ازالہ کرنا ہے''۔ حاتم نے کہا…… ''
'' ا ُن کے لیے یہ خبر بہت اہم ہے کہ موصل والے بیروت والوں کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کرر ہے ہیں لیکن ہمیں پوری
اطالع دینی چاہیے کہ معاہدے میں کیا کیا شرائط طے ہوئیں اور کیا منصوبہ بنا ہے۔ اس وقت سلطان بہت بڑے خطرے میں
بیٹھے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہوں گے کہ وہ دوستوں کے درمیان محفوظ ہیں لیکن وہ دراصل دشمنوں کے گھیرے میں پڑائو ڈالے
ہوئے ہیں ''۔ حاتم نے حسن سے پوچھا …… '' محل میں تم کوئی ایسا ذریعہ پیدا نہیں کر سکتے جو اندر کی باتیں بتا
سکے ؟''۔
باتیں بند کمرے میں ہوئی ہیں ''۔ حسن نے جواب دیا …… '' بالڈون یا اس کے مشیروں اور ساالروں سے تو پوچھا نہیں''
جاسکتا ۔ ان دونوں آدمیوں کے سینے سے راز نکالنے کی کوشش کی جاسکتی ہے جو موصل سے آئے ہیں۔ میں ذریعہ پیدا
کرنے کی کوشش کروں گا ۔ اگر نہ ہوا تو دوسرا طریقہ اختیار کریں گے ۔ یہ جب واپس جائیں گے تو انہیں راستے سے اغوا
کر لیا جائے گیا یا ضرورت پڑی تو ختم کردیا جائے گا ''۔
انہیں ختم کرنے سے ہمارا مسئلہ حل نہیں ہوگا''۔ حاتم نے کہا …… '' ہمیں بالڈون اور عزالدین کے منصوبے کی ''
ضرورت ہے''۔
میری یہی کوشش ہوگی ''۔ حسن نے کہا …… '' اگر منصوبہ نہ مال تو دونوں کو سلطان ایوبی کے پاس پہنچا دیا جائے ''
گا''۔
اگر انہیں قتل کرنا ہوا تو وہ میں یہیں سے کراسکتا ہوں''۔ حاتم نے کہا …… '' جس قدر جلدی ہوسکے ،مجھے بتائو ''
کہ تم مطلوبہ معلومات حاصل کرسکتے ہو یا نہیں۔ میں صبح ایک آدمی کو سلطان کو یہ خبر دینے کے لیے روانہ کردوں گا کہ
بالڈون کے پاس عزالدین کے ایلچی آئے ہیں اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ ہوگیا ہے ،تاکہ سلطان اس خوش فہمی میں نہ
پڑے رہیں کہ عزالدین ا ُن کا دوست ہے۔ تم بہت تھوڑے وقت میں مکمل اطالع حاصل کرنے کی کوشش کرو''' :۔
میری کامیابی کے لیے ُدعا کریں ''۔ حسن اُٹھا اور باہر نکل گیا ۔ ''
٭ ٭ ٭
صلیبی چھاپہ ماروں کو زندہ پکڑنے کی کوشش کرو''۔ ساالر صارم مصری نے اپنے چھاپہ مار دستوں کے کمانداروں کو ''
ہدایات دے رکھی تھیں …… '' لیکن اپنی جان کو خطرے میں نہ ڈالو جہاں حملہ کرو ،وہاں کاری ضرب لگا ئو اور نکلنے کی
کوشش کرو اور جب تم پر حملہ ہو تو جم کر لڑرو اور دشمن کو نکلنے نہ دو ۔ یہ اتنی زیادہ فوج تمہارے بھروسے پر آرام
کی نیند سوتی ہے اور اتنی زیادہ رسد تمہاری ذمہ داری پر پڑی ہے''۔
چھاپہ ماروں کو اپنی ذمہ داری کا پورا پورا احساس تھا ۔ سلطان ایوبی نے خیمہ گاہ سے ُدور چٹانوں اور بلند جگہوں پر بیس
سے چالیس کی نفری کی چوکیاں قائم کر رکھی تھیں جن کے ذمے دیکھ بھال اور خیمہ گاہ کی حفاظت تھی ۔ ایسی ہی ایک
چوکی جو پہاڑیوں میں گھری ہوئی ایک چٹان پرتھی دشمن کے تیروں کا نشانہ بنی ہوئی تھی ۔ اس کے پیچھے اونچی پہاڑیاں
تھیں اور ایک وادی ۔ اس میں وادی میں سے فوج گزر سکتی تھی ۔ اس ڈھکی چھپی گزرگاہ پر نظر رکھنے کے لیے یہ
چوکی قائم کی گئی تھی ،وہاں دو سوار گھوڑوں کے ساتھ ہر وقت تیار رہتے تھے ،وہاں روز مرہ کا معمول بن گیا تھا کہ
سورج غروب ہونے کے بعد تین چار تیر آتے اور دو سپاہیوں کو ختم کر دیتے ۔ ایک شام ایک گھوڑے کو بیک وقت تین تیر
لگے اور گھوڑا تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ تیر قریب کی پہاڑی سے آتے تھے۔ اس کے فورا ً بعد اندھیرا چھا جاتا تھا ،اس لیے تیر
چالنے والوں کو ڈھونڈا نہیں جا سکتا تھا ۔
ایک روز شام سے پہلے چوکی کے دو سپاہی پہاڑی پر کہیں چھپ کر بیٹھ گئے ۔ سورج غروب ہونے کو تھا ۔ دو تیر آئے ،
دونوں اِن سپاہیوں کی پیٹھوں میں لگے۔ دونوں شہید ہوگئے۔ صبح اُن کی ا َدھ کھائی ہوئی الشیںا ُٹھائی گئیں۔ رات کو بھڑئیے
الشوں کو کھاتے رہے تھے۔ صاف ظاہر تھا کہ صلیبی چھاپہ ماروں کا کام ہے۔ ایک روز دس سپاہیوں کا ایک گشتی جیش
عالقے کی تالشی کے لیے بھیجا گیا ۔ پہاڑی عالقوں میں جا کر چار چار افراد میں تقسیم ہوکر بکھر گئے۔ ایک جگہ دس
بارہ سال کی عمر کا ایک بچہ نظر آیا۔ وہ سپاہیوں کو دیکھ دوڑ پڑااور ایک بلندچٹان کے دامن میں غائب ہوگیا۔ وہ گڈریا ہو
سکتا تھا لیکن وہاں کوئی بھیڑ بکری اور کوئی اونٹ نہیں تھا۔ سپاہی وہاں تک گئے تو انہیں چٹان میں تنگ سا ایک دہانہ
نظر آیا جو کسی غار کا تھا ۔ بچہ اِسی میں چال گیا ہوگا۔
سپاہیوں نے دہانے کے ساتھ کان لگائے تو اندر سے دھیمی دھیمی آواز سنائی دی ۔ کسی بچے کا غار میں چھپ جانا کوئی
عجیب بات نہیں تھی ۔ یہ سپاہی اس بچے سے صلیبی چھاپہ ماروں کے متعلق پوچھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے بہت پکارا
لیکن غار میں خاموشی چھاگئی۔ سپاہیوں نے دھمکی دی کہ جو کوئی اندر ہے ،باہر آجائے ،ورنہ ہم اندر آکر سب کو قتل کر
دیں گے۔ اندر سے ایک جوان عورت نکلی۔ وہ اس عالقے کی زبان میں سپاہیوں کو کوسنے لگی۔ پھر روپڑی اور کہا کہ
مجھے قتل کردو ،میرے بچوں کو بخش دو۔ ا ُس کے دو بچے تھے۔ ایک دس بارہ سال کا جو باہر سے دوڑا تھا اور دوسرا
چند مہینوں کا تھا جو اِس عورت نے اندر سالیا ہوا تھا ۔
سپاہیوں نے اسے بتایا کہ وہ مسلمان سپاہی ہیں مگر عورت انہیں گالیاں دینے لگی اور منت سماجت بھی کرنے لگی۔ اس نے
بتایا کہ دو روز ہوئے اس کے گائوں میں پندرہ سولہ صلیبی سوار آئے اور گائوں پر قبضہ کرلیا …… انہوں نے تمام گھروں کی
تالشی لی ۔ اس عورت کے خاوند کو قتل کردیا۔ قتل اس طرح کیا کہ انہوں نے گائوں کے تمام بچوں ،جوانوں ،بوڑھوں اور
تمام عورتوں کو ایک جگہ اکٹھا کرکے کہا کہ کسی کو پتہ نہ چلنے دیں کہ اس گائوں میں سپاہی رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی
اور گھوڑوں کی خوراک کی ذمہ داری گائون پر ڈال دی ۔ ان کے کماندار نے تلوار نکال لی۔ اس عورت کا خاوند سب سے
آگے کھڑا تھا ۔ کماندار نے خاوند کو بازو سے پکڑکر آگے کیا اور تلوار کے ایک ہی وار سے اُس کا سر تن سے جدا کردیا۔
اُس نے گائوں والوں سے کہا کہ کسی نے اُن کے حکم کی نافرمانی کی تو اُسے ایسی سزا ملے گی۔
ان سپاہیوں نے اپنے لیے تین جھونپڑے خالی کرالیے اور گائوں کی عورتوں کو بال کر اُن سے خدمت خاطر کرانے لگے۔ یہ
عورت رات کو موقعہ پا کر وہاں سے بھاگ آئی۔ ا ُسے معلوم نہیں تھا کہ سپاہی ابھی تک گائوں میں موجود ہیں یا نہیں۔ یہ
گائوں وہاں سے تھوڑی ہی ُد ور تھا۔ سپاہی عورت کو وہیں چھوڑ کر گائوں کی طرف گئے۔ پہاڑی سلسلہ کھل جاتا تھا ،وہاں
وسیع میدان تھا جس میں پندرہ بیس جھونپڑوں کا ایک گائوں تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی کا گشتی جیش گھوڑوں پر سوار
تھا۔ انہوں نے گائوں پر یلغار کرنے کے لیے گھوڑے دوڑا دئیے۔ اُس وقت صلیبی سپاہی جو گائوں پر قابض تھے ،گائوں میں
موجود تھے۔ انہوں نے شاید پہرہ کھڑا کر رکھا تھا۔ گھوڑسوار ابھی گائوں سے کچھ ُدور ہی تھے کہ تمام صلیبی سپاہی باہر
آگئے اُن کے آگے چند ایک بچے او عورتیں تھیں۔
۔ انہوں نے بچوں اور عورتوں کو ایک جگہ اکٹھے کرکے کھڑا کردیا اور خود ننگی تلواریں ہاتھوں میں لے کر اُن کے نیم :
دائرے میں کھڑے ہوگئے۔ ایک نے سلطان ایوبی کے سواروں سے مخاطب ہو کر چال کر کہا …… '' اگر تم آگے آئو گے تو ہم
اِن بچوں اور عورتوں کو قتل کر دیں گے ''۔
سوار بیس پچیس قدم ُدور ُر ک گئے۔ وہ مسلمان بچوں اور عورتوں کو صلیبیوں کے ہاتھوں قتل نہیں کرانا چاہتے تھے۔
بزدلو!'' …… سلطان ایوبی کے چھاپہ مار جیش کے کماندار نے کہا …… '' صلیب کی خاطر لڑنے آئے ہو تو مردوں کر ''
طرح سامنے آکر لڑو۔ عورتوں اور بچوں کی ڈھال کے پیچھے کیوں کھڑے ہو''۔
تم سب واپس چلے جائو''…… صلیبی کماندار نے کہا …… '' ہم گائوں سے چلے جائیں گے''۔ ''
جن بچوں اور عورتوں کو صلیبی سپاہیوں نے یرغمال بنا رکھا تھا ،ان میں سے ایک عورت نے سلطان ایوبی کے سپاہیو ں
سے بلند آواز سے کہا …… '' اسالم کے سپاہیو! ُرک کیوں گئے ہو۔ ہمیں اپنے گھوڑوں تلے روند ڈالو۔ ان کافروں میں سے
کسی کو زندہ نہ جانے دو۔ ہم اپنے بچوں سمیت مرنے کو تیار ہیں ''۔
صلیبی کمان دار نے تلوار کا بھرپوروار کیا۔ اس عورت کا سر اس کے جسم سے کٹ کر گر پڑا۔ سلطان ایوبی کے گشتی جیش
نے اپنے سپاہیوں کو تیروکمان نکالنے کا حکم دیا ۔ پلک جھپکتے انہوں نے کمانیں کندھوں سے اُتاردیں ،آگے کیں اور ترکشوں
سے ایک ایک تیر نکال کر کمانوں میں ڈال لیا ۔ تم صلیبی سپاہی بچوں اور عورتوں کے پیچھے بیٹھ گئے۔
جھوٹے مذہب کے پجاریو!'' …… مسلمان کمان دار نے کہا …… '' سپاہی بچوں اور عورتوں کی پیٹھ پیچھے نہیں چھپا ''
کرتے ''۔
صلیبی ایک غلطی کر بیٹھے تھے۔ وہ شاید بھول گئے تھے کہ گائوں میں مرد بھی ہیں ۔ ان مردوں کو صلیبیوں نے بہت
خوفزدہ کر رکھا تھا ۔ وہ بھی اپنے بچوں اور عورتوں کے قتل سے ڈرتے تھے۔ اتنے میں ایک عورت نے للکار کر کہا ……
'' یہ کافر تو بزدل ہیں ،تم ہمارے خون سے کیوں ڈرتے ہو''…… اس نے اپنے سامنے کھڑے تین چار سال کے بچے کو
اُٹھایا اور ا ُسے آگے زمین پر پھینک کر کہا …… '' میں اپنے اس بچے کی قربانی خوشی سے دیتی ہوں۔ہل ّہ بولو۔ دس کافروں
کی جان لینے کے لیے میں اپنا بچہ قربان کرتی ہوں''۔
ایک صلیبی تلوار نے سونتے اس عورت کو قتل کرنے کو اُٹھا مگر اسے اتنی مہلت نہ ملی۔ ان کے عقب سے گائوں کے ''
تمام آدمی برچھیاں ،الٹھیاں اور جو ہاتھ لگا اُٹھائے صلیبی سپاہیوں پر ٹوٹ پڑے۔ صلیبی بچوں اور عورتوں کے پیچھے تیروں
سے بچنے کے لیے بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ جب مقابلے کے لیے اُٹھے ،مسلمان سپاہیوں نے ہلہ بول دیا ۔ ان میں دو تین
سپاہی چال رہے تھے ۔ '' عورتیں نکل بھاگیں ،بچوں کو ایک طرف کرلو''۔
ان کے گھوڑے صحرائی آندھی کی طرح آرہے تھے۔ عورتوں نے بچوں کو اُٹھایا اور نکل بھاگیں۔ گائوں کے آدمی گھوڑوں سے
بچنے لگے۔ ذرا سی دیر میں دو صلیبیوں کے سوا باقی تمام کو مار ڈاال گیا۔ گائوں والوں نے اُن کی الشوں کا قیمہ بنا دیا ۔
وہ دو زندہ صلیبیوں کو بھی اپنے ہاتھوں مارنا چاہتے تھے لیکن مسلمان جیش کے کماندار نے بڑی مشکل سے انہیں سمجھایا
کہ ان دونوں سے باقی ساتھیوں کا سراغ لگایا جائے گا۔
ان دونوں کو سلطان ایوبی کی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ حسن بن عبد اللہ کے حوالے کر دیا گیا ۔ اس نے اِن سے کہا
کہ وہ اپنے چھاپہ مار دستوں کے متعلق سب کچھ بتا دیں۔ وہ سپاہی تھے۔ انہوں نے سب کچھ بتا دیا۔ یہ بالڈون کی فوج
کے چھاپہ مار تھے۔ کم و بیش ایک ہزار چھاپہ مار سلطان ایوبی کی فوج اور رسد کو نقصان پہنچانے کے لیے بیروت سے
بھیجے گئے تھے ۔ ان کا ابھی کوئی مستقل اڈہ نہیں تھا ۔ وہ تمام عالقے میں پارٹیوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔ انہیں بتایا
گیا تھا کہ وہ اسی طرح چھوٹے چھوٹے گائوں پر قبضہ کرکے وہاں سے خوراک حاصل کریں اور سلطان ایوبی کی فوج کے
لیے مصیبت بنے رہیں۔
انہیں سلطان ایوبی کے سامنے لے جایا گیا۔ اُس نے ان کی باتیں سنیں اور حکم دیا …… '' اِن دونوں کو ُدور لے جاکر قتل
کردیا جائے۔ یہ قاتل اور لٹیرے ہیں ''…… اس نے اپنے ساالروں سے کہا …… '' اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صلیبی چھاپہ
ماروں کو موصل میں یا کسی اور قلعے میں رہنے کی اجازت نہیں ملی ورنہ گائوں کو اڈے نہ بناتے'' ۔ سلطان ایوبی نے
حکم دیا …… '' ایسے ہر ایک گائوں میں تھوڑی تھوڑی نفری بھیج دو ۔ سپاہیوں کو سختی سے کہنا کہ گائوں میں کسی کو
پریشان نہ کریں۔ اپنی اور گھوڑوں کی خوراک فوج کی رسد سے لیں۔ کسی گائوں سے اناج کا ایک دانہ اور چارے کا ایک
تنکا بھی نہ لیا جائے ''۔
٭ ٭ ٭
حسن حاتم کو رپورٹ دے کر واپس آیا تو وہ باقی رات سو نہ سکا۔ اُس کے ذہن پر سارہ سوار تھی ۔ اُسے دن کو ہی :
پتہ چل گیا تھا کہ سارہ کو اس عورت نے پکڑ لیا تھا ۔ اس کی اسے کوئی سزا تو نہیں ملی ؟ حسن کو معلوم تھا کہ وہ
عورت کون ہے لکین اس عورت سے مل کر وہ سارہ کی سفارش نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہ اُسے بتا نہیں سکتا تھا کہ رات
سارہ کے کمرے میں وہی تھا۔ حسن یہ بھی سوچ رہا تھا کہ وہ موصل کے ایلچیوں سے کس طرح معلوم کرے کہ بالڈون کے
ساتھ انہوں نے کیا معاہدے طے کیا ہے ۔ یہ راز انہی سے لیا جا سکتا تھا ۔ اس اجالس میں کوئی مالزم اندر نہیں تھا جس
سے حسن کچھ معلوم کرلیتا۔ وہ جس قدر ذہن پر زور دے کر اس مسئلے کا حل ڈھونڈتا تھا ،سارہ اتنی ہی زیادہ اُس کے
ذہن پر غالب آتی جا رہی تھی ۔
سارہ!'' …… اُس کے منہ سے سرگوشی نکل گئی جو غیر ارادی تھی ۔ اس سے وہ چونک اُٹھا ۔ اسے کچھ ایسا ''
اطمینان ہونے لگا جیسے اس مسئلے کا حل مل گیا ہو اور سارہ اس مسئلے کو حل کردے گی۔ اسے یہ سوال پریشان کرنے
لگا …… '' کیا سارہ کسی مسلمان باپ کی بیٹی ہے؟'' …… اور دوسرا سوال یہ کہ اسے اگر اپنا بچپن یاد آجائے تو کیا وہ
اس کا مسئلہ حل کر سکتی ہے؟ اس کا یہی ایک ذریعہ تھا کہ سارہ موصل کے کسی ایک ایلچی کو اپنا گرویدہ بنالے اور
ا ُس پر شراب اور اپنے حسن کا طلسم طاری کرکے اسکے سینے سے راز نکال لے مگر سوال یہ تھا کہ سارہ مان جائے گی ؟
کہیں اسے ہی نہ پکڑوادے۔
جاسوسوں کو خطرے مول لینے پڑتے ہیں ۔ حسن کو اپنی زبان کے فن کا کمال دکھانا تھا ۔ اسے سارہ کی باتیں یاد آرہی
تھیں جن سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ وہ مسلمانوں کو پسند کرتی ہے۔ حسن کو یہ بھی احساس ہوگیا تھا کہ سارہ کو شک
ہوگیا ہے کہ وہ ( حسن ) مسلمان ہے۔ حسن کادماغ سوچ سوچ کر تھک گیا ۔ اسے ُدور سے صبح کی اذان کی آوازسنائی دینے
لگی۔ ا ُس کے دماغ پر اسالم اور خدا کا تقدس طاری ہوگیا۔ اس کی مدد خدا ہی کر سکتا تھا ۔ اس نے اُٹھ کر وضو کیا
اورکمرے کا دروازہ بند کرلیا ۔ صلیبیوں کی ا س دنیا میں وہ مسلمان نہیں عیسائی تھا ۔ حسن االدریس نہیں گلبرٹ جیکب تھا
عیس ی کا بت صلیب کے ساتھ لٹکا رکھا تھا ۔ دیوار کے
۔ وہ چھوٹے سے کمرے میں اکیال رہتا تھا جہاں اُس نے حضرت
ٰ
ساتھ کسی مصور کی بنائی ہوئی مریم کی تصویر آویزاں کر رکھی تھی ۔ قریب ہی صلیب لٹک رہی تھی ۔ اُس نے یہ بُت ،
تصویر اور صلیب پلنگ کے نیچے رکھ دی ۔ دروازے کے اندر والی زنجیر چڑھا کر قبلہ ُرو ہوا اور نماز پڑھنے لگا۔ وہ ہر روز
اسی طرح چھپ کر نماز پڑھا کرتا تھا مگر اس کی جذباتی حالت کبھی ایسی نہیں ہوئی تھی جیسی اس صبح کی نماز میں
ہوئی۔ ا ُس نے آنسو نکل آئے۔ اس کے منہ سے یہ الفاظ ( تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں )
بلند آواز سے نکل گئے تھے ۔ اُسے پہلی بار محسوس ہوا۔ جیسے خدا اُس کے سامنے کھڑا ہے اور اتنی قریب کھڑا ہے کہ
اوردعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے ۔ اُس کی آنکھیں بند ہوگئیں۔ اُس
وہ خدا کو چھو سکے گا۔ اس نے نماز ختم کرکے دو نفل پڑھے
ُ
کی زبان سے الفاظ اس کے سوچے بغیر پھسلنے لگے …… '' قبلہ ّاول کے خدا! آج تیرا نام لینے والے ،تیرے رسول ۖ کاکلمہ
اقصی میں تیرے حضور سجدہ کرنے سے ڈرتے ہیں ۔ جو تیرے رسول ۖ
پڑھنے والے مسلمان اُن انسانوں کے ڈر سے تیری مسج ِد
ٰ
کے منکر ہیں ۔ آج تیرا قبلہ ّاو ل ویران ہوگیاہے۔ جو زمین تیرے رسول ۖ کے قدموں سے مقدس اور مبارک ہوئی تھی ،اس پر
آج صلیب کا سیاہ سایہ پڑ گیا ہے جس بنی اسرائیل کو تیری ذات نے دھتکار دیا تھا ،وہ آج تیرے قبلہ ّاول کو ہیکل
……سلیمانی کہہ رہی ہے
عیسی علیہ السالم تیرے ''
میرے خدا ! اپنی عظمت کا پتہ دے۔ مجھے بتا تو عظیم ہے یا خدائے یہود۔ مجھے بتا حضرت
ٰ
پاس ہیں یا صلیبیوں کی صلیب پر لٹک رہے ہیں ۔ اپنی عظمت کا پتہ دے۔ قرآن کی عظمت کا پتہ دے۔ اپنے رسول ۖ کی
عظمت کا پتہ دے اور مجھے اس کا سبب بنا کہ میں تیرے رسول ۖ اور تیرے قرآن کی عظمت کا پتہ یہودیوں اور صلیبیوں کو
دوں۔ مجھے ہمت عطا فرما کہ میں ان چٹانوں کو ریزہ ریزہ کر سکوں جو سلطان صالح الدین ایوبی اور قبلہ ّاول کے درمیان
حائل ہوگئی ہیں۔ مجھے روشنی دکھا کہ میں ان اندھیروں میں اپنے فرض کی منزل دیکھ سکوں۔ مجھے اتنے سخت امتحان
میں ڈال کہ میری جان تیرے نام قربان ہوجائے لیکن وعدہ فرما کہ میری جان رائیگاں نہیں جائے گی۔ تجھے تیرے نام پر
قربان ہونے والے شہیدوں کے یتیم بچوں کی قسم! مجھے ہمت اور روشنی عطا فرما کہ میں ان یتیموں کے باپوں کے خون
…… ''کے ایک ایک قطرے کا انتقام لے سکوں
اقصی کی آبرو کی خاطر ل ُٹ گئی ہیں ۔ مجھے ''
تجھے رسول ۖ کی اُمت کی اُن بیٹیوں کی قسم جن کی عصمتیں مسجد
ٰ
جرٔات عطا فرما کہ کفر کے ہرقلعے کو مسمار کر سکوں۔ اپنے غازی بندوں کو ،اپنے حجازی بندوں کو ہمت اور ہدایت عطا
فرما کہ وہ اپنی غیرت کا انتقام لیں
اور آنے والی نسلیں یہ نہ کہیں کہ ہم بے غیرت تھے۔ آج بت بھی تیرے نام پر ہنس رہے ہیں ۔ میرا خون کھول رہا
ہے ۔ مجھے وہ شجاعت عطا کر کہ میں پتھر کے ان بتوں کا مذاق ا ُڑا سکوں۔ میرے خدا! اگر تو یہ نہیں کر سکتا تو میرے
خون کو سرد کردے۔ مجھے ایسا بے غیرت بنادے کہ مجھے یاد ہی نہ رہے کہ غیرت کس چیز کانام ہے۔ میری بینائی واپس
لے لے کہ میں اسالم کی بیٹیوں کے حیا کو بے آبرو ہوتا نہ دیکھ سکوں ۔ میرے کان بند کردے کہ میں تیرا نام نہ سن
سکوں۔ میں ان مسلمانوں کی فریاد نہ سن سکوں جو فلسطین میں صلیبیوں اور یہودیوں کے غالم ہوگئے ہیں''۔
حسن کی آواز بلند ہوگئی…… '' تو کہاں ہے؟ …… تو ہے کہ نہیں ؟…… بول میرے خدا! مجھے زبان دینے والے خدا!
خودبھی بول۔ مجھے بتا سنت برحق ہے یا صلیب یا مجھے فیصلہ کرنے دے کہ سچا کون ہے! سنت یا صلیب۔ قرآن تیری
''آواز ہے یا کسی بندے کی ؟
بڑی ہی ہولناک گڑگڑاہٹ سنائی دی جیسے چھت ہل رہی ہو۔ اس کے فورا ً بعد رعد اتنی زور سے کڑکی کہ حسن کا کمرہ ہل
گیا ۔ کمرے کی دروازوں میں سے حسن کو بجلی کی چمک دکھائی دی ۔ اُس نے اور زیادہ بلند آواز سے کہا …… '' اس
ِ
اقص ی کو ۔ مسافر نہ رہیں ،منزل نہ رہے۔ بجلیاں ان پر بھی گرا جن کے
مسجد
بجلی سے مجھے بھسم کردے یا اپنی
ٰ
سہاگ تیرے نام پر ا ُجڑ گئے ہیں۔ اپنے نام پر یتیم ہونے والوں پر بجلیاں گرا۔ اپنے رسول ۖ کے نام لیوائوں پر بجلیاں گرا تا
کہ کسی کی فریادیں تیرے کانوں تک نہ پہنچ سکیں''۔
رعد پھر کڑکی اوراس کے بعد گھٹائیں گرجنے لگیں۔ بیروت کا ساحل قریب ہی تھا ۔ اُن دنوں سمندر خاموش ہوا کرتا تھا مگر
سمندر جوش میں آگیا۔اسکی لہروں کی مہیب آواز حسن کو یوں سنائی دینے لگی جیسے بحیرئہ روم کی غصے میں آئی ہوئی
موجیں ا ُس کے کمرے کی دیواروں سے ٹکرا رہی ہوں۔ گھٹائوں کی گرج ،رعد کی کڑک اور سمندر کاجوش مل جل کر قیامت
کا شور بن گئے۔ حسن کی آواز اور زیادہ بلند ہوگئی۔
ایسے ہی طوفان میرے اندر اُٹھا کہ میں کفر کے ہر نشان کو ا ُڑاتا اور بہاتا لے جائوں۔ میرے خون کے قطرے بہادے لیکن ''
اقصی کے صحن میں ۔ میں شرمسار ہوں کہ قبلہ ّاو ل کا پاسبان صالح الدین ایوبی یہاں تیرا لشکر لے کر آیا تو میں
مسج ِد ٰ
اُسے خبردار نہ کر سکا کہ بیروت سے ُد ور رہے کہ یہاں کفار کا پھندا تیار ہے۔ یہ میری مجبوری تھی ۔ یہ میرا گناہ تھا ۔
مجھے جرٔات اور شجاعت عطا کر کہ میں گناہ کا کفارہ ادا کرسکوں ،ورنہ یہ بت میری روح کو بھی طعنے دیتے رہیں گے
تیرا تو خدا ہی کوئی نہیں۔ مجھے ان بتوں کے آگے شرمسار نہ کر ،مجھے شہیدوں کی روحوں کے آگے شرمسار نہ کر ،مجھے
روز قیامت میرے ُمردے میں جان نہ ڈالنا
شہیدوں کی روحوں کے آگے شرمسار نہ کر ،اگر میری دعا قبول نہ ہوئی تو ِ
رعد زور سے کڑکی حسن کے کمرے کی چھت ،دروازے اور کھڑکی کے کواڑ بڑی زور سے کھٹکے اور چھت پر یوں آوازیں آنے
طوفان بادوباراں زمین و آسمان کو ہال رہا تھا حسن کے
لگیں جیسے گھوڑے دوڑرہے ہوں۔ موسال دھار بارش شروع ہوگئی تھی ۔
ِ
ِد ل پر ایسی گرفت آگئی جس میں خوف بھی تھا اور جذبات کی شدت بھی ۔ کبھی اُسے ایسے لگتا جیسے وہ خواب دیکھ
رہا ہو۔ ا ُس نے خدا سے اس طرح کبھی باتیں نہیں کی تھیں وہ چھپ کر نماز پڑھتا تھا اور مختصر الفاظ میں ُدعا مانگ کر
حسن سے جیکب بن جایا کرتا تھا ۔
اُس رات جب وہ حاتم کو رپورٹ دے کر آیا تھا ۔ ا ُس کی جذباتی کیفیت کچھ اور تھی ۔ اس پر نیند کا اثر بھی تھا۔اُس
کے سامنے مسئلہ ایسا آگیا تھا کہ وہ سوچ سوچ کر دیوانہ ہونے لگا تھا۔ اُس کے لیے آسان راستہ یہ تھا کہ جس مسئلے کا
کوئی حل نہیں ۔ اسے ذہن سے ا ُتار دے۔ سلطان صالح الدین ایوبی ،علی بن سفیان اور اس کے لیڈر حاتم کو کیا خبرتھی
کہ عزالدین کے ایلچی بالڈون کے پاس آئے ہیں اور کوئی معاہدہ ہو رہا ہے۔ وہ خاموش رہتا۔ اس کے گھر میں اس کے ماں
باپ کو اس کی تنخواہ اور غیر ممالک میں جاسوسی کے فالتو پیسے باقاعدہ پہنچ رہے تھے۔ بیروت میں اُسے اچھی پوزیشن
اور عیش و عشرت کا سامان حاصل تھا مگر وہ ایمان واال مر ِد مومن تھا ۔ اپنے فرائض کو نماز روزے کی طرح متبرک سمجھتا
تھا ۔ ا ُسے احساس تھا کہ قوم کا ہر فرد یہ سمجھ لے کہ یہ کام کوئی اور کرے گا تو یہ رویہ سیدھا شکست ،قوم کی
تباہی اور کفار کی فتح کی طرف لے جاتا ہے۔
٭ ٭ ٭
رات بھر جاگتے ہوئے جوان اور توانا حسن کو نیند نے مصلے پر ہی دبوچ لیا ۔ اس جذباتی کیفیت میں اُسے نیند نہیں :
چاہیے تھی لیکن ا ُس سوچ نے کچھ ایسا قرار اور سکون محسوس کیا کہ روح نے جسم اور دماغ کو سال دیا ۔ وہ وہیں اوندھا
عیس ی علیہ السالم کا بت ،مریم کی تصویر اور صلیب پلنگ کے
ہوگیا۔ اسے اتنی مہلت نہ ملی مصلّٰی چھاپا کر اور حضرت
ٰ
نیچے سے ا ُٹھا کر اپنی اپنی جگہ رکھ دیتا۔ دروازہ کھول دیتا اور جیکب کے بہروپ میں پلنگ پر سوجاتا۔ وہ خوابوں کی ُدنیا
اقصی دیکھی ۔ یہ مسجد اُس نے ایک بار دیکھی تھی جب وہ بیت المقدس میں جاسوسی کے
میں پہنچ گیا۔ اُس نے مسج ِد
ٰ
ایک مشن پر گیا تھا ۔ یہ مسجد ویران تھی ۔ اُس کے کھلے ہوئے دروازے اپنے نمازیوں کی راہ دیکھ رہے تھے مگر مسلمان
اقصی کے صحن کو
چھوٹی چھوٹی مسجدوں یا گھروں میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ صلیبیوں اور یہودیوں کے بچوں نے مسج ِد
ٰ
کھیل کا میدان بنایا ہوا تھا جہاں بے شمار بچے جوتوں سمیت کھیل رہے تھے۔ صلیبیوں نے وہاں کے مسلمانوں کو خوف زدہ
ِ
اقص ی کے مقدس مقام اور مسلمانوں کے لیے اس کی اہمیت سے اچھی طرح واقف تھا ۔ وہ جب
مسجد
کر رکھا تھا ۔ حسن
ٰ
وہاں گیا تھا تو اُس کا نام ریلف نکلسن تھا ۔
20:58
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 135سنت ،سارہ اور صلیب
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اقصی کو دیکھ رہا تھا ۔ اس کے گنبد پر بے شمار کبوتر
اُس کا نام ریلف نکلسن تھا ۔ اب وہ بیروت میں خواب میں مسج ِد
ٰ
ِ
اقصی کے اردگرد گرنے لگے۔
مسجد
بیٹھے تھے۔ کبوتر ایک بار اڑے اور تمام کبوتر فضا میں جاکر شرارے بن گئے۔ یہ شرارے
ٰ
مسجد کے اندر سے صلیبیوں اور یہودیوں کا ایک ہجوم نکال۔ ان سب کے کپڑوں کو آگ لگی ہوئی تھی۔ وہ سب اِدھر اُدھر
بھاگ گئے۔ وہ سب چیخ اور چال رہے تھے مگر کسی کو آواز سنائی نہیں دیتی تھی ۔ فضا سے برستے ہوئے شرارے رنگ
اقص ی کے سبز گنبد پر بیٹھنے لگے۔ اب مسجد میں نہ کوئی صلیبی تھا
برنگ کے پرندے بن گئے اور ایک ایک کرکے مسج ِد
ٰ
نہ یہودی ۔ حسن آہستہ آہستہ مسجد کی طرف چال ۔ آسمان نیال تھا ۔ دن کی روشنی بھی نیلی تھی ۔ مسجد کے دروازے
میں ایسی چمک دکھائی دی جیسے بہت بڑے آئینے پر سورج کی کرنیں پڑی ہوں۔
حسن کی آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔ ا ُس نے آنکھیں بند کرکے کھولیں۔ چمک یا نور کا یہ گوال وہاں نہیں تھا ۔ وہاں سارہ کھڑی
ُمسکرا رہی تھی۔ حسن حیرت زدہ ہو کے ُرک گیا۔ سارہ پائوں سے سرتک چاندکی طرح سفید لبادے میں ملبوس تھی ۔ اُس
کا چہرہ اور دونوں ہاتھ نظر آرہے تھے ۔ اُس کی ُمسکراہٹ سے اُس کے دانت اتنے زیادہ سفید نظر آرہے تھے جتنی سفیدی
اس زمین کے لوگوں نے کبھی نہیں دیکھی ۔ سارہ نے بازو پھیال دئیے۔ اس کے ہونٹ ہلے نہیں تھے ،لیکن حسن کو اس
اقصی ہماری ہے۔ اس مسجد میں جو کافر داخل ہوگا اُس پر آسمان آگ برسائے
مترنم آواز سنائی دی …… '' آجائو ،مسج ِد
ٰ
گا اور جو مسلمان اس مسجد کے تقدس کو بھول گئے ہیں ،ان پر بھی آگ برسے گی۔میں نے اس کے صحن کو زم زم کے
پانی سے دھویا ہے۔ میرے گناہ ُدھل گئے ہیں آئو …… آئو ''۔
حسن کی آنکھ کھل گئی ۔ ا ُس نے پھر آنکھیں موند لیں۔ وہ اس خواب سے دست بردار نہیں ہونا چاہتا تھا مگر موندھی
ہوئی آنکھوں میں اندھیرے کے سوا کچھ نہیں تھا ۔ وہ اب حقیقت کی ُدنیا میں لوٹ آیا تھا ۔ چھت پر ادھر ادھر موسال
دھار بارش کا قیامت خیز شور اور جھکڑ کی چیخیں تھیں۔ اس میں سمندر کی بھی آواز تھی جو پہلے سے زیادہ غصے میں
آگیا تھا ۔ بادو باراں اور بحیرئہ روم کے اس ہنگامے میں حسن کو ایسے لگا جیسے کسی نے اُس کے دروازے پر دستک
عیسی علیہ السالم کو اور مریم
ہوئی۔ یہ اس کا وہم بھی ہوسکتا تھا ۔ وہ وہم سے ہی بیدار ہوگیا۔ اُس نے صلیب ،حضرت
ٰ
کی تصویر ا ُٹھا کر سب کو اپنی اپنی جگہ لٹکا دیا ۔ اس دوران دروازے پر دستک بڑی صاف ہوئی۔ حسن نے مصلّٰی لپیٹ کر
تکیے کے نیچے رکھ دیا اور دروازہ کھول دیا ۔
دروازے میں سارہ کھڑی ُم سکرارہی تھی ۔ بادوباراں کا یہ سماں کہ برآمدے سے پرے کچھ اور نظر نہیں آتا تھا ۔ سارہ کے
کپڑوں اور بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا ۔
تم اس طوفان میں میرے پاس آئی ہو؟'' …… حسن نے اُسے بازو سے پکڑ کر اندر گھسیٹتے ہوئے کہا۔ ''
نہیں جیکب !'' …… سارہ نے جواب دیا …… '' میں کسی اور کے پاس گئی تھی ۔ وہ مال نہیں ۔ گہری نیند سویا ''
ہوا تھا ۔ رات بھر سب شراب پیتے اور بیہودگی کرتے رہے ہیں۔ اب شام کو ہی جاگیں گے۔ میں نے انتظار کیا لیکن مایوس
ہو کر اِ دھر آگئی۔ یہ طوفان آگے نہیں جانے دے رہا تھا ۔ دن کے وقت تو تمہارے پاس آنے سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا
''۔
حسن نے ایک کپڑا اُٹھایا جو ا ُس نے سارہ کے سر پر ڈال دیا اور اپنے ہی ہاتھوں سے اس کے بال اس کپڑے سے خشک
کرنے لگا۔ سارہ کو یہ بے تکلفی بہت پسند آئی۔ حسن نے اس کا چہرہ بھی پونچھ دیا ۔ پھر ایک چادراُسے دے کر کہا ……
'' میں منہ اُدھر پھیر لیتا ہوں تم بھیگے ہوئے کپڑے اُتار کر چادر لپیٹ لو''۔
سارہ نے جب بھیگے ہوئے کپڑے اتارے تو وہ سوچنے لگی کہ اس شخص کو اتنی زیادہ روحانی محبت ہے کہ اُس کے جسم
کی دل کشی کے ساتھ اسے کوئی دل چسپی نہیں یا ابس کا ِدل بالکل ہی مردہ ہے…… سارہ نے جب اُسے کہا کہ میں نے
کپڑے بدل لیے ہیں تو حسن نے منہ پھیرا اور اُس کے کپڑے برآمدے میں جاکر نچوڑالیا۔
اب بتائو تم کہاں گئی تھی '' …… حسن نے پوچھا …… '' اور رات میرے بعد کیا ہوا تھا ؟ وہ عورت اندر آگئی تھی ''
؟
اسی سلسلے میں اِدھر آئی تھی '' …… سارہ نے کہا اور اُسے بتایا کہ رات کو اس عورت نے اُس کے کمرے میں آکر ''
معافی کی کیا شرط پیش کی ہیں۔ اُس نے کہا …… '' میں نے یہ نہیں بتایا کہ تم میرے کمرے میں آئے تھے۔ میں نے
صرف اس لیے یہ شرط مان لی کہ تمہارا نام لیا تو میرے ساتھ تمہیں بھی سزا ملے گی اور تم جانتے ہو کہ یہ سزا کیسی
بھیانک ہوگی۔ تم شاید حیران ہوگئے ہوگے کہ میں کوئی پاک صاف لڑکی نہیں ،پھر بھی میں موصل کے مہمانوں یا کسی
اورکی خواب گاہ میں جانے کو پسند نہیں کرتی۔ میں رقاصہ ضرور ہوں لیکن میں یوں کھلونا بننا نہیں چاہتی جس طرح یہ
بڑھیا مجھے بنانا چاہتی ہے۔ میری اپنی بھی کوئی پسند اور نا پسند ہے ۔ میں نے بہت گناہ کیے ہیں لیکن کسی کی آمدنی
کا اور کسی اورکے گناہوں کا ذریعہ نہیں بنوں گی۔ اس عورت نے کہا ہے کہ وہ مجھے اس چوری چھپے کے کاروبار میں سے
معاوضہ دے گی۔ وہ مجھے معاوضوں کی بھوکی سمجھتی ہے۔ میں نے اُسے کہہ دیا ہے کہ میں اس کی خواہش کے مطابق آج
رات موصل کے ایک مہمان کے پاس چلی جائوں گی لیکن میں اب کوشش کر رہی ہوں کہ حاکموں کو بتادوں کہ اس عورت
نے درپردہ کیا کاروبار شروع کر رکھا ہے''۔
اور وہ کہہ دے گی کہ رات تمہارے کمرے میں آدمی آتے جاتے ہیں ''۔ حسن نے کہا ''
کہتی رہے''۔ سارہ نے کہا …… '' میں تو اب سزا لینے کو بھی تیار ہوں اور خودکشی کے لیے بھی تیار ہوں۔ میں ''
اس عورت کو بے نقاب کرکے رہوں گی ۔ میں رقاصہ ہوں۔ میں عصمت فروشی نہیں کروں گی''۔
میں سامنے آکر یہ کیوں نہ کہہ دوں کہ تمہارے کمرے میں َمیں گیا تھا ''۔ حسن نے کہا …… '' میں کہوں گا کہ میرا ''
تمہارے ساتھ جسمانی نہیں ،جذباتی تعلق ہے''۔
اگر یہ کہنا ہوتا تومیں خود کہہ دیتی کہ میرے کمرے میں جیکب آیا تھا '' ۔ سارہ نے کہا …… '' مگر ایسا کہنا تمہیں
گھوڑے کے پیچھے باندھ کر گھوڑا دوڑادینے کے برابر ہے۔ کوئی نہیں مانے گا کہ میرا تمہارا جذباتی تعلق ہے۔ یہ لوگ کسی
کے جذبات سے واقف نہیں ۔ ان کے ہاں سب کچھ جسمانی ہے …… تم البر کو تو جانتے ہو۔ اٹلی کا رہنے واال ہے۔ نیک
اوررحم دل افسر ہے۔بالڈون پر ا ُس کا خاصا اثرہے۔ صرف ایک بڑا افسر ہے جو مجھ جیسی لڑکیوں کو صاف ستھری نگاہوں سے
دیکھتا ہے۔ میں ا ُسے رات کی بات سنائوں گی اوراپنی عزت بچانے کی کوشش کروں گی۔ اگر میری یہ کوشش ناکام رہی تو
میں سمندر میں کود جائوں گی ۔ اگر سمندر نے میری الش اُگل دی تو تم بھی مجھے دیکھ لینا ،ورنہ الوداع۔ بحیرئہ روم کی
مچھلیاں کھائو گے توشاید اُن میں تم میرے جسم کی بوسونگھ سکو گے ''۔
سارہ!'' حسن نے کہا …… '' تم عیسائی نہیں ہو۔ تمہارے ساتھ رہنے والی کوئی ایک بھی لڑکی نہیں جو جسمانی ''
عیاشی اور معاوضے کو تمہاری طرح ٹھکرادے۔ تم نے آج تک میرے ساتھ جو باتیں کی ہیں ،ان سے مجھے یقین ہوگیا ہے
تمہاری رگوں میں مسلمان کا خون ہے۔اس خون میں اب اُبال آیا ہے جب تم صلیبیوں کی گناہوں کی دلدل میں پھنس گئی
ہو۔ کہو ،میں جھوٹ بول رہا ہوں؟''۔
……''! سارہ نے اُس کی طرف دیکھا ۔ آہ لی اور بولی …… ''سنو جیکب
میں جیکب نہیں سارہ !'' حسن نے کہا …… '' میرا نام حسن االدریس ہے اور ملک شام کا رہنے واال ہوں۔ یہاں ''
میرانام گلبرٹ جیکب ہے''۔
''جاسوس ہو؟''
کوئی اور وجہ بھی ہو سکتی ہے''۔ حسن نے کہا …… '' جاسوسی ہی وجہ نہیں ۔ جس طرح ہم دونوں ایک دوسرے ''
کی ُروح میں ا ُتر گئے ہیں ،اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم دونوں مسلمان کی اوالد ہیں ''۔اُس نے تکیے کے نیچے سے مصلّٰی
نکاال اور دیوار میں سے ایک پتھر ہٹاکر اس کے پیچھے سے قرآن کا ایک چھوٹا سا نسخہ نکاال ۔ سارہ کو دکھا کر کہا ……
'' میں ان کے بغیر نہیں رہ سکتا ،یہ بت ،یہ تصویر اور یہ صلیب دھوکہ ہے ''۔
اگر میں کسی سے کہہ دوں کہ تم عیسائی نہیں ،مسلمان ہو تو کیا کرو گے؟'' سارہ نے ہنس کر کہا …… '' تم ''
جاسوس نہیں ہو سکتے ۔ جاسوس اپنا آپ اس طرح ظاہر نہیں کیا کرتے ''۔
طوفان بادوباراں میں غائب ہو جائوں گا ۔ جاسوس ''
کہہ دو''۔ حسن نے کہا …… '' میں تمہاری نظروں کے سامنے اس
ِ
میری طرح اپنا آپ ظاہر نہیں کیا کرتے اورجب ظاہر ہوتے ہیں تو اتنی آسانی سے ہاتھ بھی نہیں آتے ،جتنا تم سمجھتی ہو
…… لیکن سارہ! مجھے یقین ہے کہ تم کسی سے نہیں کہو گی ''۔
حسن نے آگے بڑھ کر سارہ کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے کر بالکل قریب کرلیا ۔ اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال
کر دھیمی مگر پُ ر اثر آواز میں کہا …… '' تم کسی سے نہیں کہوگی یہ شخص جیکب نہیں حسن ہے۔ تم کہہ ہی نہیں
سکو گی۔ ہماری رگو ں میں رسولۖ کے شیدائیوں کا خون ہے۔ یہ خون سفید نہیں ہوسکتا ۔ یہ خون اپنے قطروں کو دھوکہ
نہیں دے سکتا '' …… سارہ کی آنکھوں کو حسن کی آنکھوں نے جکڑ لیا۔ وہ محسوس کرنے لگی جیسے یہ خوبرو جوان بڑے
ہی حسین آسیب کی طرح اُس کے دماغ اوراس کے ِدل پر غالب آگیا ہو۔ حسن کہہ رہا تھا …… '' تم رقص کے لیے نہیں
اقص ی کو کفار سے آزاد کرانے کے لیے پیدا ہوئی ہو۔ خدا نے مجھے خواب میں بشارت دے دی ہے۔ اب یہ نہ کہنا کہ
مسج ِد
ٰ
تم مسلمان نہیں ۔ تم کہہ ہی نہیں سکو گی۔ بولو سارہ! میں نے تمہیں اپنا راز دیا ہے ،تم مجھے اپنا راز دے دو۔ مجھے
تمہارے جسم سے کوئی سروکار نہیں ۔ میں تمہاری روح کو پاک دیکھنا چاہتا ہوں''۔
گناہ کسی کے بھی تھے ''۔ حسن نے کہا …… '' میں نے آج تک تمہاری زبان سے جو باتیں سنی ہیں اور جس ''
انداز سے تم نے یہ باتیں کی ہیں ،میں نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ گناہ تمہارے دل اور روح میں ُچبھ گئے ہیں ۔ تم صلیبیوں
کے خالف نفرت کا اور مسلمانوں کی پسندیدگی کا اظہار کرتی رہی ہو۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ یہ چبھن تمہیں بے چین
رکھتی ہے''۔
جب سے تم نے میری ُر وح کو پاک پیار سے آشنا کیا ہے ،مجھے عیش و عشرت کی یہ زندگی جہنم سے زیادہ آتشیں ''
اور اذیت ناک محسوس ہونے لگی ہے۔ میں گناہوں میں پلی بڑھی اور گناہوں میں جوان ہوئی ۔ گناہوں کا حسن اب زہریال
ناگ بن گیا ہے۔ میں اب زندہ نہیں رہنا چاہتی ''۔
اپنی جان لینا بھی گناہ ہے''۔ حسن نے کہا …… '' اللہ بخشنے واال مہربان ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ گناہوں کا کفارہ ''
اداکردو ،سب بے قراریاں روحانی سکون میں بدل جائیں گی ''۔
''کیا کروں؟'' سارہ نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا …… '' نماز پڑھا کروں؟ تارک الدنیا ہوجائوں؟ بتائو کیا کروں؟''
جاسوسی ''۔ حسن نے جواب دیا ……'' صرف ایک بار۔ پہلی اور آخری بار…… لیکن تم اُس وقت تک جاسوسی نہیں کر''
سکو گی جب تک یہ نہ سمجھ لو کہ اس کا مقصد کیا ہے۔ انسان اپنے مقصد کی عظمت سے عظیم بنا کرتے ہیں۔ جانتی ہو
نورالدین زنگی کا مقصد کیا تھا ؟ سلطان صالح الدین ایوبی کا مقصد کیا ہے؟ یہ تو بہت بڑے لوگوں کی باتیں ہیں ۔ میں اُن
کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ،لیکن تم نے میری ذات میں اور میری آنکھوں میں ایسا تاثر دیکھا ہوگا جس نے تم سے سچ
بات کہلوالی ہے۔ یہ دراصل میری ذات کا اثرنہیں یہ میرے مقصد کی عظمت ہے جو مجھے ایمان سے زیادہ عزیز ہے۔ مقصد
کی ہی عظمت ہے اور اسی کا تقدس ہے کہ تمہارا یہ حسن اور تمہارے جسم کی یہ کشش جو عبادت گزاروں کو چونکا دیتی
ہے ،مجھ پر اثر نہیں کر سکی ۔ کیوں نہیں کر سکی ؟ صرف اس لیے کہ میں انسانوں اور اشیاء کو روح کی نظروں سے
دیکھا کرتا ہوں''۔
میں سلطان صالح الدین ایوبی کا مقصد اچھی طرح جانتی ہوں''۔ سارہ نے کہا …… '' میں یہ بھی جانتی ہوں کہ ''
صلیبی حکمران مسلمان ا ُمراء اور حکمرانوں کو مدد اورعیاشی کا سامان دے کر انہیں سلطان ایوبی کے خالف لڑا رہے ہیں ……
اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ صلیبی عال ِم اسالم کو صلیب کے سائے میں النا چاہتے ہیں۔ حسن! میں نے یہ مقصد یہاں آکر
پہچانا ہے ،ورنہ میں بھی صلیب کے سیالب میں بہہ گئی تھی ۔ یہ سیالب مجھے یہاں تک لے آیا ہے۔ میں یہ بھی سنائوں
اقصی
اقص ی میرے دل پر غالب آگئی ہے۔ دو راتیں گزریں ،میں نے خواب میں مسج ِد
گی کہ کیسے۔ کچھ دنوں سے مسج ِد
ٰ
ٰ
دیکھی ہے۔ میں نے ابھی تک یہ مسجد نہیں دیکھی۔ مجھے معلوم نہیں یہ کیسی ہے۔ خواب میں یہ مسجد دیکھی اوراُس کے
اندر گئی۔ مسجد خالی اور ویران تھی ۔ مجھے ایک گونج سنائی دی …… '' یہ تیرے خدا کا گھر ہے ،اسے آباد کرو''……
میں دیکھ رہی ہوں کہ آواز کہاں سے آئی ہے لیکن میری آنکھ کھل گئی۔ یہ آواز میرے دل میں اُتر گئی ہے …… کیا اسے
''میں اپنا مقصد بنا سکتی ہوں؟
یہ ہر مسلمان کا فرض ہے''۔ حسن نے کہا …… '' لیکن اس کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں ۔ میں بیروت میں ہر ''
لمحہ موت کا انتظار کرتا ہوں۔ میں جس روز پکڑا گیا ،وہ زندگی کا آخری دن ہوگا''۔
میں قربانی دینے کو تیار ہوں''۔ سارہ نے کہا …… ''مجھے میرا فرض بتائو ''۔ ''
تمہیں اس بوڑھی اور بھدی عورت نے موصل کے جس ایلچی کی تفریح کے لیے جانے کو کہا ہے ،تم اُس کے پاس چلی ''
جائو'' …… حسن نے کہا
سارہ نے اُسے اتنی زیادہ حیرت سے دیکھا کہ اس کی آنکھیں ٹھہر گئیں۔
ہاں سارہ!'' حسن نے کہا …… '' تمہیں یہ قربانی دینی ہوگئی ۔ سلطان صالح الدین ایوبی عورت کو جاسوسی کے '' :
لیے نہیں بھیجا کرتے ۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ایک عورت کی عصمت بچانے کے لیے میں ایک مضبوط قلعہ دشمن کو دینے
کے لیے تیار ہوں۔ ہم عصمتوں کے محافظ ہیں ،مگر سارہ! تم یہاں موجود ہو۔ ہمیں جو فرض ادا کرنا ہے ،وہ صرف تمہارے
ذریعے ہو سکتا ہے۔ تمہارے لیے یہ کوئی نئ بات نہیں ہوگی کہ کسی کی تفریح کا سامان بنو۔ میں تمہیں ایک دو طریقے
بتائوں گا جن سے تم ان بوڑھے مسلمانوں کے سینوں سے راز بھی نکال سکوگی اور اپنی عزت بھی بچالوگی۔ تمہارا مقصد بڑا
پاک اور بلند ہے ۔ مجھے اُمید ہے کہ خدا تمہاری آبروکی حفاظت کرے گا ''۔
مجھے بتائو کرنا کیا ہے''۔ سارہ نے کہا …… '' میں بے آبرو لڑکی ہوں۔ اگرخدا بھی مجھ سے یہی قربانی لے کر خو ش
ہوسکتا ہے تو میں یہ قربانی دینے کے لیے تیار ہوں''۔
یہ دونوں ایلچی موصل کے حکمران عزالدین کی طرف سے آئے ہیں ''۔ حسن نے اُسے بتایا …… '' مجھے یقین ہے ''
کہ وہ سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف بالڈون سے مدد لینے آئے ہیں۔ اس وقت ہماری فوج نصیبہ کے مقام پر خیمہ زن
ہے۔ سلطان کو یہ خوش فہمی ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے درمیان خیمہ زن ہیں مگر وہ اپنے مسلمان دشمنوں کے نرغے میں
آئے ہوئے ہیں ۔ ہمیں یہ معلوم کرکے سلطان کو خبردار کرنا ہے کہ صلیبی کیسا جنگی اقدام کریں گے اور موصل او ر حلب
اور دیگر چھوٹی چھوٹی مسلمان امارتوں کا رویہ کیا ہوگا۔ کیا وہ صلیبیوں کے اتحادی بن جائیں گے ؟'' حسن نے اُسے بڑی
لمبی تفصیل سے اس کا کام سمجھا دیا اور یہ بھی بتایا کہ صلیبی لڑکیاں مسلمان عالقوں میں جاکر کس طرح مسلمان اُمراء
ساالروں اوردیگر حکام پر اپنی پُ ر کشش نسوانیت کا جادو طاری کرکے راز لے آتی ہیں ۔ حسن نے کہا …… '' تمہیں خود
کشی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔ میں تمہیں پاک اور ُپر مسرت زندگی میں داخل کررہا ہوں۔ تم مظلوم لڑکی ہو۔
تمہیں غالبا ً بچپن میں صلیبیوں نے کسی قافلے سے اغوا کیا تھا ۔ انہیں نے تمہیں گناہوں کی زندگی میں داخل کیا ہے''۔
نہیں حسن !'' سارہ نے کہا …… '' میں نے اپنے آپ کوخود ہی اغوا کیا تھا۔ یہ کہانی پھر کبھی سنائوں گی ۔ ''
مجھے ابھی یہ کام کرنے دو۔ ُد عا کرو اللہ مجھے سرخرو کرے اورمیں گناہوں کا کفارہ ادا کرسکوں''۔
بارش تھم گئی تو سارہ اپنے کپڑے پہن کر حسن کے کمرے سے نکلی ۔ وہ جب اُس عمارت میں داخل ہوئی جہاں اُس کا
کمرہ تھا تو ا ُسے وہ عورت مل گئی جو ان سب لڑکیوں کی کمانڈر تھی ۔ اس نے سارہ کو دیکھا اور ُمسکرا کر کہا …… ''
رات کو تیار رہنا۔ میرے آدمی نے موصل کے ایک ایلچی کے ساتھ بات کرلی ہے۔ آج رات نہ کہیں ناچ گانا ہوگا نہ کوئی
ضیافت۔ میں تمہیں اُس کے کمرے میں چھوڑ آئوں گی ''۔
میں تیار رہوں گی ''۔ سارہ نے کہا ۔ ''
٭ ٭ ٭
موصل کے دونوں ایلچیوں کی حالت بھوکے بھیڑوں جیسی تھی ۔ وہ یہاں عزالدین کا اور اپنا ایمان فروخت کرنے آئے تھے۔وہ
اپنی غداری کو کامیاب بنانے کے لیے صلیبی بادشاہ سے مدد لینے آئے تھے۔ یہ بادشاہ اپنے مفاد کی خاطر اور مسلمانوں کے
حکمرانوں کو آپس میں لڑانے کی خاطر انہیں پشت پناہی اور مدد دے رہا تھا ۔ ان مسلمان ایلچیوں کے پاس نہ ایمان رہا تھا
،نہ ذاتی وقار اور نہ قومی وقار۔ ا ُن کی دلچسپی اب اس میں رہ گئی تھی کہ شاہ بالڈون انہیں زیادہ عیاشی کرائے اور انعام
و کرام دے۔ اِ ن دونوں کو بیروت کے گردو نواح اور سمندر کی سیر کرانے کے لیے روک دیا گیا تھا۔ اس دوران ناچنے گانے
والی لڑکیوں کی کمانڈر نے اپنے ایک آدمی کو ا ُن کے پاس بھیجاتھا۔ اس آدمی نے انہیں کہا تھا کہ وہ انہیں ایسی لڑکیاں
الدے گا جو انہوں نے کبھی نہیں دیکھی ہوں گی۔ ان دونوں کی باچھیں کھل گئیں اور معاوضہ طے ہوگیا۔ ان میں سے ایک
کے پاس سارہ کو بھیجنے کے لیے تیار کیا گیا۔
رات سارہ کو سیاہ لبادے میں چھپا کر ایک ایلچی کے کمرے تک پہنچایا گیا۔ ایلچی جو والئی موصل عزالدین کا فوجی مشیر
تھا ،پچاس سال سے اوپر کی عمر کا آدمی تھا ۔گزشتہ رات اُس نے اس قدر شراب پی لی تھی کہ بے ہوش ہوگیا تھا ،
لیکن آج رات وہ اپنے کمرے میں آہستہ آہستہ پی رہا تھا ۔ وہ ایک رقاصہ کا انتظار بے تابی سے کر رہا تھا جس کے ُحسن
کے اُسے افسانے سنائے گئے تھے۔ ا ُس کا دروازہ کھال۔ ایک لڑکی سر سے پائوں تک سیاہ لبادے میں مستور اس کے کمرے
میں داخل ہوئی ۔ دروازہ بند ہوگیا۔ ایلچی اُس کی طرف لپکا ۔ وہ اپنی عمر کو بھی بھول گیا۔
سارہ نے اُس کے بازوئوں سے آزاد ہوکر سیاہ لبادے کو اُتار کر پرے پھینک دیا۔ اُس نے ایلچی کی طرف دیکھا تو حیرت :
حتی کہ اس کی پیٹھ دیوار سے جالگی۔اُس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے کان
سے اُس کامنہ کھل گیا۔ وہ پیچھے ہٹنے لگی
ٰ
''ڈھانپ لیے۔ ایلچی نے سارہ کا چہرہ دیکھا تو اُسے ہچکی سی آئی اور اُس کے منہ سے سرگوشی نکلی…… '' سائرہ؟
سارہ خاموشی سے اُسے دیکھتی رہی جیسے ا ُس کی زبان بند ہوگئی ہو۔ ایلچی نے گھبرائی ہوئی اور حیرت زدہ آواز میں ایک
بار پھر پوچھا۔ '' سائرہ؟ تم سائرہ ہو؟'' …… وہ کھسیانی ہی ہنسی ہنس کر بوال۔ '' نہیں مجھے غلطی لگی ہے ۔
تمہاری شکل میری ایک بیٹی سے بالکل ملتی جلتی ہے۔ اُس کا نام سائرہ ہے''۔
وہ سائرہ میں ہی ہوں جو آپ کی بیٹی ہے''۔ سارہ کی زبان اچانک کھل گئی۔ اُس نے نفرت سے دانت پیس کر کہا ''
…… '' میں ہی آپ کی بیٹی ہوں۔ محالت میں دوسروں کی بیٹیوں کو نچانے والے کی بیٹی بھی ناچ سکتی ہے۔ میں ایک
بے غیرت باپ کی بے غیرت بیٹی ہوں''۔
ایلچی لڑکھڑایا اور پلنگ پر گرپڑنے کے انداز سے بیٹھ گیا۔ اب اس کی زبان بند ہو گئی تھی ۔ سائرہ اسی کی بیٹی تھی۔
باپ بیٹی کو جدا ہوئے دو سال گزر گئے تھے۔
ایمان فروشوں کی بیٹیاں عصمت فروش ہوا کرتی ہیں ''۔ سارہ آگے بڑھی اور باپ کے سامنے ُر ک کر نفرت سے دانت ''
پیسنے لگی۔ ا ُس نے کہا …… '' آج اپنی غیرت اور اپنی عزت کا انجام دیکھ ۔ تو اپنی بیٹھی کی عصمت کا گاہک ہے۔
تیری بیٹی تیری خوابگاہ میں رات گزارنے آئی ہے'' …… سارہ نے تیر کی تیزی سے ایک ہاتھ آگے کیا اور کہا …… '' ال،
میری اُجرت نکال۔ میں رات تیرے ساتھ بسر کرنے آئی ہوں''۔
تو … تو … '' ا ُس کے باپ کی زبان لڑکھڑاکر ہکالنے لگی …… '' تو گھر سے بھاگ آئی تھی ۔ میں بے غیرت نہیں ''
ہو ں تو بے غیرت ہے''۔
جو باپ اپنی جوان بیٹی کے سامنے بیٹی کی عمر کی لڑکیوں سے ساتھ بے حیائی کی حرکتیں کرتا ہے اور اپنی بیٹی ''
جیسی لڑکیوں کو نچاتا اور شراب کے نشے میں بدمست ہوکر ان کے ساتھ بیٹی کے سامنے دست درازی کرتا ہے ،اُس باپ کی
بیٹی غیرت والی نہیں بن سکتی۔ وہ بھی رقاصہ اور طوائف بنتی ہے۔ اپ اُس کی شادی کردے تو وہ اپنے خاوند کو دھوکے
دیتی اور درپردہ کئی خاوند بنائے رکھتی ہے۔ سن میرے باپ! تجھے تیرا ماضی اور اپنا حال بتاتی ہوں۔ میں نے تیرے گھر
میں دمشق میں ہوش سنبھاال تو تجھے عورتوں سے درپردہ عیش کرتے دیکھا۔ نورالدین زنگی مر گئے تو تو الملک الصالح کے
ساتھ حلب کو بھاگ گیا۔ تو مجھے اور میری ماں کو بھی ساتھ لے آیا۔ حلب میں تو شراب بھی پینے لگا۔ تب میں لڑکپن
میں تھی ۔ تیرے پاس گورے چٹے صلیبی آنے لگے۔ انہوں نے تجھے دولت دی ۔ بڑی خوبصورت لڑکیاں دیں اور تو کھلے عام
شراب پینے لگا۔ تیرے گھر میں شراب کی محفلیں جمنے لگیں۔ لڑکیاں ناچنے لگیں۔ صلیبیوں نے میرے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی
……''تو تُو خوش ہوا
پھر الملک الصالح مرگیا ۔ ترے پاس صلیبی پہلے سے زیادہ آنے لگے۔ تو پہلے سے زیادہ عیاش ہوگیا۔ عزالدین نے تجھے ''
بہت بڑا عہدہ اور ُرتبا دیا۔ میں تیری چہیتی رقاصہ لڑکیوں میں اُٹھنے بیٹھنے لگی ۔ اُن سے میں نے رقص سیکھا۔ تجھے پتہ
چال تو تُ و خوش ہوا۔ صلیبیوں نے مجھے دیکھا تو انہوں نے تیرے سامنے مجھے اپنے سینوں سے لگایا۔ تو نے بُرا کیوں نہ
منایا؟ صرف اس لیے کہ وہ میرے بدلے تجھے یورپ کی ایک لڑکی دے دیتے تھے تو تو نے اپنا ایمان بیچ ڈاال۔ صالح الدین
ایوبی کے خالف سازشیں کیں۔ تیرا کردار ختم ہوگیا تو یہ بھی نہ دیکھ سکا کہ اپنی بیٹی کو بھی تو نے اپنی راہ پر ڈال دیا
ہے۔ پھر ایک صلیبی نے مجھے سبز باغ دکھائے اور میں تیرے گھر کو خیر بادکہہ کر اپنے خیالوں میں جنت کو روانہ
ہوگئی ۔ مجھ سے یہ مت پوچھ کہ میں جس طرح آج تیری خواب گاہ میں آئی ہوں ،اس طرح کتنی خواب گاہوں کی رونق
بنی ہوں۔ ا ُس صلیبی نے مجھے محبت کا فریب دے کر مجھے بیچ ڈاال۔ میں تجھ جیسے بے شمار دولت مندوں کی تفریخ کا
ذریعہ بن کر بیروت پہنچی ،جہاں مجھے شاہی رقاصہ کی حیثیت سے رکھ لیا گیا۔ آج اپنا باپ میری عصمت کا گاہک
ہے''۔
ایلچی نے سر اپنے ہاتھوں میں تھام لیا تھا ۔ اس کا جسم کانپ رہا تھا ۔ '' :آج تو اپنے ایمان کی قیمت وصول کرنے آیا
ہے''۔ سارہ نے حقارت آمیز لہجے میں کہا …… '' تو فلسطین اور قبلہ ّاول کا سودا کرنے آیا ہے۔ اپنی بیٹی کی قیمت
دینے آیا ہے''۔ سارہ کی آواز بھرا گئی ۔ اُس نے کہا …… '' یہ میری زندگی کی آخری رات ہے۔ میں باپ کے گناہوں کی
سزا بھگت کر اس ُدنیا سے جارہی ہوں''۔
اُس کے باپ نے آہستہ آہستہ سر اُٹھایا۔ اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ بہہ کر اس کے گالوں کو تر کر رہے تھے۔ اُس نے اُٹھ
کر دیوار لٹکتی ہوئی تلوار ا ُتاری۔ نیام سے نکالی اور سارہ کے آگے کرکے کہا …… '' یہ لو۔ اپنے ہاتھوں مجھے ختم کردو۔
شاید میرے گناہوں کا کفارہ ادا ہوجائے''۔
سارہ نے اُس کے ہاتھ سے تلوار لے لی اور کہا …… '' آج رسول ۖ کی اُمت اس مقام پر آپہنچی ہے جہاں ایک باپ اپنی
بیٹی کے ہاتھ میں تلوار دے کر یہ کہنے کی بجائے کہ جا بیٹی قبلہ ّاول کو اس تلوار سے آزاد اور آباد کر ،یہ کہہ رہا ہے کہ
مجھے اس تلوار سے قتل کرکے میرے گناہوں کا کفارہ ادا کردے''۔ اپنے باپ کی جذباتی حالت اور شرمساری کے آنسو دیکھ
کر سارہ کا لہجہ بدل گیا۔ باپ کا احترام لوٹ آیا۔ ا ُس نے کہا …… '' مرکر بھی گناہوں کا کفارہ ادا نہیں کیا جا سکتا ۔
ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ زندہ رہو اور دشمن کو قتل کرو۔ میں آپ کو بتائوں؟
باپ نے شکست خوردگی کے انداز سے بیٹی کی طرف دیکھا۔
شاہ بالڈون کے ساتھ آپ نے جو معاہدہ کیا ہے اور سلطان صالح الدین ایوبی کو شکست دینے کے لیے جو منصوبہ تیار ''
اور طے کیا ہے ،وہ مجھے بتا دیں''۔ سار ہ نے کہا …… '' میں یہ سلطان تک پہنچا دوں گی۔ اس سے بڑی نیکی اور
کوئی نہیں ہو سکتی۔ آپ کے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے '' …… باپ خاموشی سے سن رہا تھا ۔ سارہ نے کہا ……
'' ہم دونوں کی نجات اس میں ہے کہ ہم دونوں یہاں سے فرار ہو کر سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس پہنچ جائیں اور
''آپ اسے ساری بات اپنی زبانی سنا دیں''۔ میں تیار ہوں۔ باپ نے کہا …… '' لیکن ہم یہاں سے نکلیں گے کیسے ؟
انتظام ہو جائے گا''۔ سارہ نے کہا''
باپ نے بیٹی کو گلے لگا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔ اس کے اپنے گناہوں نے اس سے ہتھیار ڈلوا لیے تھے۔
٭ ٭ ٭
لڑکیوں کی کمانڈر عورت بہت خوش تھی کہ ا ُسے بڑا موٹا گاہک مل گیا ہے۔ وہ اطمینان سے سو گئی۔ اُسے معلوم تھا کہ
سارہ صبح واپس آئے گی مگر سارہ حسن االدریس کے کمرے میں تھی ۔ اُس نے جب حسن کو بتایا کہ اس کا گاہک اس
باپ تھا تو حسن کو چکر آگیا تھا ۔ سارہ نے حسن کو بتایا کہ اُس کے باپ نے گھر کا ماحول کس قدر گناہ آلود بنا رکھا
تھا اور وہ کس طرح انہی گناہوں کی شیدائی ہو کر ایک صلیبی کے ساتھ گھر سے بھاگی اور کس طرح اس مقام تک
پہنچی ۔ سارہ نے اُسے بتایا کہ اُس کا باپ سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس جانے کو تیار ہے۔
میں نے تمہیں کہا تھا کہ تمہارا مقصد پاک ہے''۔ حسن نے کہا ……'' مجھے اُمید ہے کہ خدا تمہاری آبرو کی حفاظت ''
کرے گا ۔ خدا نے میری اُمید پوری کردی ہے…… اب میں تمہارے باپ سے ملوں گا اور اُسے کہوں گا کہ تیار رہنا''۔
دن کو حسن سارہ کے باپ سے مال۔ بچ بچ کر بات کی ۔ اس کی غیرت کو جھنجوڑا اور جب دیکھا کہ وہ بہت ہی نادم
ہے تو حسن نے ا ُسے وہاں سے نکلنے کا سہل طریقہ بتایا۔ اس کے ساتھ ساری بات طے کرکے وہ سارہ سے اُس محفوظ جگہ
مال جہاں وہ کبھی کبھی مال کرتے تھے۔ سارہ کے باپ نے اپنے میزبانوں سے خواہش ظاہر کی کہ وہ اکیلے ذرا سیر کے لیے
جانا چاہتا ہے۔ ا ُسے گھوڑا دے دیا گیا۔ وہ اپنے ساتھی ایلچی کو یہ بتا کر چال گیا کہ شام تک لوٹ آئے گا۔ وہ شہر سے
نکال تو ایک جگہ حسن گھوڑے پر سوار اس کے انتظار میں کھڑا تھا ۔ ایک اور جگہ سارہ چھپی ہوئی تھی ۔ اُسے باپ نے
اپنے گھوڑے پر سوار کرلیا اور وہ نصیبہ کی سمت روانہ ہوگئے۔
وہ بچ بچ کر اور چھپ چھپ کر چلتے رہے۔ بہت ُد ور نکل گئے توانہوں نے گھوڑے دوڑا دئیے۔ سفر بہت لمباتھا جو انہوں نے
ایک رات اور ایک دن میں طے کیا ۔ بیروت کے سراغ رسانوں کے لیے شاہ بالڈون قہر بنا ہوا تھا ۔ موصل کا ایک ایلچی
الپتہ ہوگیا تھا ۔ ایک شاہی رقاصہ جو شاہ بالڈون کو ذاتی طور پر اچھی لگتی تھی ،غائب تھی اور گلبرٹ جیکب نام کا
ایک خصوصی باڈی گارڈ بھی الپتہ تھا ۔ تینوں کا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ لڑکیوں کی کمانڈر عورت کی زبان بند تھی ۔
وہ کسی کو بتانے سے ڈرتی تھی کہ اُس نے سارہ کو گمشدہ ایلچی کے کمرے میں بھیجا تھا۔ بیروت میں صرف ایک آدمی
کو معلوم تھا کہ یہ تینوں
کہا ں ہیں۔ اس آدمی کا نام حاتم تھا مگر حاتم گمنام سا فعل ساز تھا ۔ اُسے وہی لوگ جانتے تھے جو اُس سے گھوڑوں کو
نعل لگوایا کرتے تھے۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ غریب سا نعل ساز سلطان ایوبی کے اُس جاسوس گروہ
کا لیڈر ہے جو بیروت کے اندر سر گرم ہے۔ سراغ رساہ اپنے قیافوں اور قیاس آرائیوں سے بائولے ہوئے جا رہے تھے۔
حسن اال دریس ،سارہ اور اس کا باپ سلطان صالح الدین ایوبی کے پاس پہنچ چکے تھے۔ سلطان ایوبی عادت کے مطابق
خیمے میں ٹہل رہا تھا سارہ کا باپ اُسے بتا چکا تھا کہ بالڈون کے ساتھ اُس نے کیا منصوبہ تیار کیا ہے۔ سلطان ایوبی نے
ا ُسی وقت اپنے ساالروں کو بال لیا اور نقشہ سامنے رکھ کر انہیں بتانے لگا کہ صلیبیوں کا منصوبہ کیا ہے اور ان کے خالف وہ
کیا کاروائی کرنا چاہتا ہے۔
ختم ہوا)سنت ،سارہ اور صلیب(
20:58
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 136چلے قافلے حجاز کے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس خبر نے سلطان صالح الدین ایوبی کو حیران نہ کیا کہ حلب اور موصل کے حکمرانوں ،عمادالدین اور عزالدین نے صلیبیوں
کے ساتھ اس کے خالف در پردہ گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔ یہ تو جیسے اس دور میں رسم بن گئی تھی کہ چھوٹے بڑے مسلمان
امراء صلیبیوں کے ساتھ درپردہ دوستانہ گانٹھنے لگے تھے۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ سلطان ایوبی ان سب کو ایک
خالفت کے تحت الکر انہیں ایک متحد قوم بنانا چاہتا تھا مگر یہ امراء اپنی الگ الگ ریاستیں برقرار رکھ کر ان کے حکمران
بنے رہنے کو اپنا مقصد بنائے ہوئے تھے۔ انہیں توقع تھی کہ ان کا یہ مقصد صلیبیوں کی دوستی سے پورا ہوسکتا ہے۔
آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ ان سب میں اہم حکمران عزالدین اور عمادالدین تھے۔ ان کی ریاستیں ،حلب اور موصل ،محل
وقوع ،وسعت ،دفاعی استحکام وغیرہ کے لحاظ سے جنگی اہمیت کی حامل تھیں۔ صلیبی اس کوشش میں تھے کہ مسلمانوں
کے یہ دونوں مقام ان کے قبضے میں آجائیں یا یہ سلطان ایوبی کے قبضے میں نہ چلے جائیں ،کیونکہ ان پر سلطان ایوبی کا
قبضہ ہوجانے سے افواج اور رسد وغیرہ کے لیے دو ایسے اڈے مل جاتے تھے جہاں سے وہ آسانی سے بیت المقدس پر فوج
کشی کرسکتا تھا۔
رب کعبہ کی قسم! میں حلب اور موصل پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا''۔ سلطان ایوبی نے متعدد بار کہا تھا… ''میں کسی ''
مسلمان ریاست میں سے اپنی فوجیں گزارنا بھی پسند نہیں کروں گا۔ میرا مدعا یہ ہے کہ یہ امراء یہ حکمران صلیبیوں کے
خالف متحد ہوجائیں۔ خالفت بغداد کے وفادار ہوجائیں جو قرآن کا حکم ہے۔ میں انہیں اپنے زیرزنگین نہیں کروں گا۔ میں
خلیفہ نہیں ہوں ،میں تو خود خلیفہ کا پیروکار اور خادم ہوں''۔
خالفت کے تحت آجانے سے ان لوگوں کو یہ خطرہ نظر آرہا تھا کہ ان کی عیاشیاں بند ہوجائیں گی اور صلیبیوں کی طرف
سے انہیں لڑکیوں اور شراب کے جو تحفے ملتے تھے ،وہ بند ہوجائیں گے۔ وہ حکومت ،دنیا کی جھوٹی شان وشوکت اور عیش
وعشرت کے عادی ہوگئے تھے۔ ان کی نظروں میں سلطنت اسالمیہ کی کوئی وقعت نہیں رہی تھی۔
١١٨٣ء کے اوائل میں سلطان صالح الدین ایوبی نصیبہ کے مقام پر خیمہ زن تھا۔ یہاں سے اسے بیت المقدس کی طرف پیش
قدمی کرنی تھی مگر اسے مسلمان امراء کی نیت میں فتور نظر آرہا تھا۔ وہ اب یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہا تھا کہ
حلب اور موصل کے والیان کی درپردہ سرگرمیاں کیا ہیں اور صلیبی کیا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
اسے اپنے جاسوس حسن االدریس نے بیروت سے آکر پوری اطالع دے دی۔ اس جاسوس نے دوسرا
کا رنامہ یہ کر دکھایا کہ عزالدین کے ایک فوجی مشیر اور اس کی بیٹی جو گھر سے بھاگ کر بیروت میں صلیبیوں کے پاس
رقاصہ تھی ،اپنے ساتھ لے آیا۔ حسن االدریس سلطان ایوبی کے پاس آیا اور بتایا کہ عزالدین نے بیروت دو ایلچی صلیبیوں کے
پاس جنگی امداد کے لیے بھیجے ہیں۔ سلطان اس اطالع پر حیران ہوا ،البتہ یہ اطالع اس کے لیے اہم تھی۔ اس نے اسی
وقت ساالروں کو بال لیا اور نقشہ سامنے رکھ کر انہیں بتایا کہ صلیبیوں کا منصوبہ کیا ہے۔
عزالدین کا جو ایلچی بیروت صلیبیوں سے مدد لینے گیا تھا ،اس کا نام احتشام الدین تھا۔ اب سلطان ایوبی کے پاس اس کی
حیثیت ایک قیدی کی تھی لیکن سلطان ایوبی نے احترام سے اسے اپنے ساالروں کے ساتھ بٹھایا۔ احتشام الدین کو تقریبا ً ہر
ایک ساالر جانتا تھا۔ کوئی اسے حقارت سے گھور رہا تھا اور کسی کے چہرے پر خوشی کے آثار تھے کہ وہ ان کے درمیان
بیٹھا ہے اور قید ہے۔ سلطان ایوبی نے حسن االدریس کی رپورٹ سن لی تھی۔
مجھے امید ہے کہ ہمارا دوست احتشام الدین آپ کو خود ہی بتائے گا کہ عزالدین اور عماد الدین کی نیت کیا ہے''۔ ''
سلطان ایوبی نے کہا… ''میں احتشام الدین پر الزام عائد نہیں کرتا کہ یہ ہمارے خالف لڑنے کے لیے صلیبیوں سے جنگی
امداد لینے گیا تھا۔ اسے والئی موصل عزالدین نے بھیجا تھا۔ یہ عزالدین کا مالزم ہے''۔
سلطان محترم!'' ایک ساالر نے کہا… ''مجھے امید ہے کہ آپ مجھے یہ کہنے سے نہیں روکیں گے کہ احتشام الدین ''
اپنے حکمران کا معمولی سا مالزم نہیں۔ یہ اس کا فوجی مشیر ہے۔ یہ ساالر ہے۔ اسے اپنے حکمران کو ایسا مشورہ نہیں دینا
چاہیے تھا کہ صلیبیوں سے مدد حاصل کی جائے''۔
مجھے حکم دیا گیا تھا''۔ احتشام الدین نے جواب دیا… ''اگر میں حکم عدولی کرتا ''تو آپ کو جالد کے حوالے کردیا ''
جاتا''… ایک نائب ساالر نے کہا… ''آپ نے موت کے ڈر سے اپنے بادشاہ کا ایسا حکم مانا جو آپ کی اپنی قوم اور اپنے
مذہب کی ذلت کا باعث ہے۔ کیا ہم اپنے گھروں سے دور ،اپنی اوالد سے بے خبر ،اپنے آپ سے بے نیاز یہاں اپنی عمریں
لمبی کرنے بیٹھے ہیں؟ ایک مدت سے ہم ان چٹانوں میں مارے مارے پھر رہے ہیں اور رات اس پتھریلی زمین پر سوتے ہیں۔
جبکہ آپ حلب کے محل میں شہزادوں جیسی زندگی بسر کررہے ہیں۔ آپ شراب پیتے ہیں ،ناچنے والی حسین یہودی ،صلیبی
اور مسلمان لڑکیاں آپ کا دل بہالتی ہیں اور آپ نرم بستر پر سوتے ہیں ،جن پر مخمل کے پلنگ پوش بچھے ہیں۔ ہم یہاں
مرنے آئے ہیں۔ ہمارے رفیقوں کی الشیں جانے کہاں کہاں گم ہوگئی ہیں۔ ہمارے سپاہیوں کی ہڈیاں سارے عالقے میں بکھر گئی
ہیں۔ تم کسی شہید کی کوئی ہڈی دیکھو گے تو کہو گے یہ کسی جانور کی ہڈی ہے۔ عیش وعشرت نے تمہاری نظروں میں
''شہیدوں کو شراب میں ڈبو دیا ہے۔ دوست اور دشمن کو ایک کردیا ہے ،ہم مرنے آئے ہیں تو تمہیں جینے کا کیا حق ہے؟
احترام!'' سلطان ایوبی نے کہا… ''احتشام الدین نے میرے پاس آکر گناہوں کا کفارہ ادا کردیا ہے اگر اسے طعنے دینے ''
ہوتے تو میں بھی دے سکتا تھا''۔
سلطان ذی شان!'' ایک اور ساالر نے کہا۔''
خدا کے لیے مجھے صرف سلطان کہو''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''مجھے شان وشوکت سے دور رہنے دو ،مجھے بادشاہ ''
''بنانے کی کوشش نہ کرو۔ میں سپاہی ہوں ،مجھے سپاہی رہنے دو… کہو تم کیا کہنا چاہتے ہو؟
میں احتشام الدین کو اور اپنے ان تمام ہتھیار بند بھائیوں کو جو یہاں موجود ہیں ،یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جو ساالر اپنے ''
حکمران کا اتنا غالم ہوجاتا کہ اسے خوش کرنے کے لیے اس کا غلط حکم بھی مان لیتا ہے ،وہ اپنی قوم کی عزت کا قاتل
ہوتا ہے۔ قوم کی عزت کے محافظ ہم ہیں ،سلطنت کا بادشاہ یا سلطان نہیں قوم ہوتی ہے۔ آج ہم جس دور میں سے گزر
رہے ہیں ،یہ سپاہی کا دور ہے ،یہ جہاد کا دور ہے۔ اگر خلیفہ اور سلطان سلطنت کا کاروبار دیانتداری سے نہیں چالئیں گے تو
اللہ کے سپاہیوں پر بھی سلطان بننے کا نشہ طاری ہوجائے گا تو ال الہ اال اللہ کی الشوں پر گرجوں کے گھنٹے بجیں گے''۔
اسالم پر جو بھی دور آئے گا وہ اللہ کے سپاہی کا دور ہوگا''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''جب تک اسالم زندہ ہے ،کفار ''
اسالم کے دشمن ہی رہیں گے۔ آج ہمارے ساالروں کے دلوں میں جاہ وحشمت کی جو خواہش پیدا ہوگئی ہے ،وہ کسی بھی
وقت اسالم کو لے ڈوبے گی۔ مجھے نظر آرہا ہے کہ اسالم زندہ رہے گا مگر اس شیر کی طرح زندہ رہے گا جسے سدھا لیا
گیا ہو اور اسے فراموش کرادیا گیا ہو کہ وہ بادشاہ ہے۔ یہ شیر بکریوں سے بھی ڈرتا رہے گا۔ مسلمان کفار کی انگلیوں پر
ناچیں گے۔ اللہ کا سپاہی موجود ہوگا مگر اس کے ہاتھ میں تلوار نہیں ہوگی۔ اگر تلوار ہوگی تو وہ کسی صلیبی کی دی ہوئی
ہوگی جسے وہ نیام سے باہر نکالنے کے لیے صلیبی سے اجازت لے گا''۔ سلطان ایوبی بولتے بولتے چپ ہوگیا۔ اس نے
نظریں گھما کر سب کو دیکھا اور بوال… ''میں بھی باتوں میں الجھ گیا ہوں۔ میرے رفیقو! ہمیں کام کرنا ہے۔ اگر ہم اس
بحث میں پڑ گئے کہ یہ گناہ کس کا ہے اور وہ خطا کس کی ہے اور کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے تو ہم صرف باتیں ہی
کرتے رہیں گے… احتشام الدین تمہیں بتائے گا کہ حلب اور موصل کے حکمرانوں نے صلیبیوں کے ساتھ کیا طے کیا ہے اور
ہمیں کس قسم کے دشمن سے کس قسم کی لڑائی لڑنی پڑے گی''۔
٭ ٭ ٭
احتشام الدین اٹھا اور سب کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ سب کو نظریں گھما کر دیکھا اور بوال… ''میرے دوستو! میں تمہاری
نظروں میں حقارت اور قہر دیکھ رہا ہوں۔ تمہیں حق پہنچتا ہے کہ میرے لیے سزائے موت تجویز کرو ،مگر میں تمہارے لیے
عبرت کا سامان ہوں۔ یہ درست ہے کہ میں نے والئی موصل عزالدین کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنا ایمان فروخت
کیا اور اس کا ایلچی بن کر بیروت گیا اور صلیبیوں سے مدد مانگی ،مگر یہ بھی درست ہے کہ جس طلسم نے میری عقل اور
میرے ایمان کو اپنے قبضے میں لیا ،اس سے تم میں سے کوئی بھی نہیں بچ سکتا۔ کیا تم میں سے ساالر اور حاکم غداری
کا جرم کرتے نہیں پکڑے گئے؟ ان میں سے بہت سے ایسے تھے جن پر سلطان کو اتنا اعتماد تھا جتنا انہیں اپنی ذات پر
ہے مگر وہ ایمان فروش نکلے۔ میں تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ انسانی فطرت میں ایک ایسی کمزوری ہے جو انسان کو عیش
وعشرت میں ڈال دیتی ہے اور جہاں کے روز وشب میں حکومت اور معاشرے میں گناہ کی ترغیب دینے والی باتیں ہوں ،وہاں
زاہد بھی عیش پسند اور گناہ گار بن جاتے ہیں۔ ہر کوئی امیر اور سلطان بننے کے خواب دیکھنے لگتا ہے۔ ہر کسی کی ذات
…''کا قلعہ مسمار ہوجاتا ہے
اگر تم مجھے گناہ گار سمجھتے ہو تو میری تلوار سے میرا سرتن سے جدا کردو ،اگر مجھے توبہ کا موقع دیتے ہو تو میں''
عظمت اسالم کی پاسبانی اور سلطنت اسالمیہ کی توسیع کے لیے تمہاری بہت مدد کرسکتا ہوں''۔
صلیبی شاید تم سے آمنے سامنے کی ٹکر نہیں لیں گے''۔ احتشام الدین نے کہا… ''انہوں نے ہمیں ہماری اپنی تلواروں ''
سے مروانے کا انتظام کرلیا ہے۔ انہیں اپنی فوجیں مروانے کی ضرورت نہیں رہی۔ وہ مسلمانوں کو مسلمانوں کے خالف لڑانے
کے لیے انہیں مدد اور شہ دے رہے ہیں۔ یہ چھوٹی بڑی مسلمان امارتیں اور ریاستیں جو دراصل خالفت بغداد کے صوبے ہیں،
سب در پردہ صلیبیوں کے غالم بن گئے ہیں تاکہ خودمختار رہیں۔ا پنے مرکز سے کٹ کر خودمختاری اسی صورت میں حاصل
کی جاسکتی ہے کہ دشمن کی مدد لو اور اپنے بھائی کو دشمن کہو۔ خانہ جنگی میں صرف ایک فریق سچا اور محب وطن
ہوتا ہے۔ دوسرا فریق دشمن کا دوست ہوتا ہے۔ دشمن اسے خلوص سے مدد نہیں دیتا بلکہ اپنے فائدہ اور اپنے عزائم کی
…''تسکین کے لیے مدد دیتا ہے
صلیبی ہمارے مخالف دھڑے کو مدد دے رہے ہیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ وہ موصل کو اپنے چھاپہ مار دستوں کا اڈا بنا ''
رہے ہیں۔ وہ کچھ عرصے تک چھاپوں اور شب خونوں کی جنگ لڑیں گے۔ رفتہ رفتہ وہ حلب کو اور دیگر تمام مسلمان
ریاستوں کو اپنے اڈے بنا لیں گے جو آپ کے خالف استعمال ہوں گے۔ میں جب بیروت میں تھا تو مجھے پتہ چال تھا کہ
صلیبی موصل سے کچھ دور پہاڑی عالقے میں بے شمار اسلحہ اور سامان چھپا کر رکھیں گے۔ اس میں آتش گیر مادہ بہت
زیادہ ہوگا۔ اسے وہ اپنے چھاپہ ماروں کے لیے استعمال کریں گے اور بعد میں کھلی جنگ میں بھی۔ وہ کھلی جنگ اسی
صورت میں لڑیں گے جب بہت سی مسلمان امارتوں میں اپنے اڈے بنا کر مستحکم کر چکے ہوں گے۔ میں ابھی یہ معلوم
نہیں کرسکا کہ وہ اسلحہ اور آتش گیر مادہ کس مقام پر رکھیں گے۔ یہ معلوم کرنا آپ کے جاسوسوں کا کام ہے''۔
سلطان ایوبی نے ساالروں کو بھیج دیا ،سوائے حسن بن عبداللہ کے جو جاسوسی اور سراغ رسانی کے محکمے کا سربراہ تھا
اور ساالر صارم مصری کو بھی سلطان ایوبی نے اپنے پاس روک لیا۔ یہ چھاپہ مار دستوں کا ساالر تھا۔
میرا قیاس صحیح نکال ہے''۔ سلطان ایوبی نے ان دونوں سے کہا… ''مجھے معلوم تھا کہ صلیبی موصل اور حلب کو در ''
پردہ طریقوں سے اپنے اڈے بنانے کی کوشش کریں گے اور ہمارے مسلمان بھائی ان کے ساتھ پورا تعاون کریں گے۔ تم نے
احتشام الدین کی زبانی سن لیا ہے کہ بالڈون اور دوسرے صلیبی موصل سے کچھ دور کہیں جنگی سامان اور آتش گیر سیال کا
بہت بڑا ذخیرہ جمع کررہے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ جس طرح ہمیں رسد کے ذخیرے کی ضرورت ہے ،اسی طرح صلیبیوں کو
بھی ضرورت ہے۔ ہم میں سے جس کا ذخیرہ ختم یا تباہ ہوگیا وہ آدھی جنگ ہار جائے گا۔ ہمارے کچھ دستے ٹولیوں میں
تقسیم ہوکر موصل اور حلب کے درمیان بیٹھے ہیں۔ انہیں میں نے عزالدین اور عمادالدین کا آپس کا رابطہ توڑنے کے لیے بٹھایا
ہے۔ اب بیروت اور ان دونوں جگہوں کے راستے روکنے ہیں۔ یہ مہم ذرا مشکل اور خطرناک ہوگی کیونکہ چھاپہ ماروں کو اپنے
مستقر سے دور جانا ہوگا''۔
یہ مجھے دیکھنا ہے کہ یہ مہم مشکل ہے یا آسان''۔ صارم مصری نے کہا… ''اور یہ میرا فرض ہے کہ مشکل کو آسان ''
کروں۔ آپ حکم دیں''۔
کوئی قافلہ نظر آئے ،اسے روک لو''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''تالشی لو ،مزاحمت ہو تو پورا معرکہ لڑو۔ کوشش کرو کہ ''
قیدی زیادہ ہوں''۔ اس نے حسن بن عبداللہ سے کہا… ''اور حسن! تم مجھے یہ کام کرکے دکھائو کہ معلوم کرو کہ صلیبی
اسلحہ اور آتش گیر سیال کا ذخیرہ کہاں جمع کررہے ہیں۔ ہوسکتا ہے ،وہ ذخیرہ کر بھی چکے ہوں۔ اگر تم جگہ معلوم کرسکو
تو میں اس کی تباہی کا انتظام کردوں گا''۔
یہ انتظام انشاء اللہ میرا ہوگا''۔ صارم مصری نے کہا۔''
یہ ذہن میں رکھو کہ کچھ عرصے تک ہماری جنگ آنکھ مچولی جیسی ہوگی''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''صلیبی کھلی ''
جنگ لڑنے کے بجائے شب خونوں اور تخریب کاری کی جنگ لڑیں گے۔ وہ شاید مجھے مشتعل کرنے کی کوشش کریں گے کہ
میں ان پر کھال حملہ کروں۔ میں ایسی حماقت نہیں کروں گا ،ہم کئی جگہوں پر گھات لگائیں گے۔ میں سب سے پہلے اپنے
ان امراء کو ساتھ مالئوں گا جو صلیبیوں کے دوست بنتے جارہے ہیں۔ میں ان سے تعاون کی بھیک نہیں مانگوں گا۔ میں اب
تلوار کی نوک پر ان سے تعاون لوں گا۔ میں ان میں سے کسی کا بھی خون بہانے سے دریغ نہیں کروں گا۔ یہ برائے نام
مسلمان ہیں۔ مسلمان کے خالف کافر کے ساتھ دوستی کرنے واال مسلمان بھی کافر ہوتا ہے۔ مجھے اب پروا نہیں کہ تاریخ
مجھے کیا کہے گی۔ اگر مجھے آج کوئی کہے کہ آنے والی نسلیں مجھے اپنے بھائیوں کا قاتل اور خانہ جنگی کا مجرم کہیں
گی تو بھی میں اپنے ارادوں سے باز نہیں آئوں گا۔ میں تاریخ اور آنے والی نسلوں کے آگے نہیں ،خدا کے آگے
جواب دہ ہوں۔ خدا کے سوا نیت کو اور کوئی نہیں جانتا۔ میرے اور فلسطین کے درمیان اگر میرے بیٹے حائل ہوں گے تو :
میں انہیں بھی قتل کردوں گا۔ اگر ہم نے آج قبلہ اول کو صلیبیوں سے آزاد نہ کرایا تو ہمارے بعد صلیبی اور یہودی خانہ کعبہ
پر بھی قابض ہوجائیں گے۔ مجھے اپنے امراء اور حکمرانوں کے تیور اور طور طریقے بتا رہے ہیں کہ وہ بادشاہ بنیں گے اور ان
کی اوالد بھی بادشاہ ہوگی اور یہ لوگ فلسطین کو یہودیوں کے تسلط میں دے دیں گے۔ تلوار کے سوا میرے پاس اب کوئی
عالج نہیں رہا''۔
ہم آپ کے حکم کے منتظر ہیں''۔ صارم مصری نے کہا… ''اگر آپ میری رائے لیں تو میں یہی کہوں گا کہ مرکز سے ''
خودمختاری یا نیم خودمختاری مانگنے والوں کو غداری کی سزا ملنی چاہیے''۔
اور میں انہیں سزا دوں گا''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔''
سلطان صالح الدین ایوبی نے صارم مصری اور حسن بن عبداللہ کو جنگی نوعیت کی ہدایات دے کر رخصت کردیا''۔''
٭ ٭ ٭
وہ دونوں چلے گئے تو سلطان ایوبی ایک اور مسئلے پر غور کرنے لگا۔ اس نے جب بیروت سے محاصرہ اٹھایا تھا اور وہ
نصیبہ کے مقام پر آکر خیمہ زن ہوگیا تھا ،اس سے کچھ عرصے پہلے اسے بحیرٔہ قلزم کے مشرقی عالقے کے متعلق یہ
اطالعات ملی تھیں کہ صلیبی فوجی دستے اس عالقے میں قافلوں کو لوٹ لیتے ہیں۔ صلیبی صرف مسلمان قافلوں کو لوٹتے
تھے۔ مال ودولت کے عالوہ اونٹ اور گھوڑے لے جاتے اور کمسن اور نوجوان لڑکیوں کو بھی اٹھا لے جاتے تھے۔ زیادہ تر
راہزنی ان دنوں ہوتی تھی جن دنوں مصر کے حاجیوں کے قافلے جاتے اور آتے تھے۔ ان ڈاکوئوں کو فوجی پیمانے پر ہی روکا
جاسکتا تھا لیکن سلطان ایوبی کے پاس اتنی فوج نہیں تھی۔ اس کے عالوہ اس کے دماغ میں فلسطین اور وہ مسلمان امراء
سوار تھے جو صلیبیوں کے ساتھ درپردہ صلح اور مدد کے معاہدے کررہے تھے۔ اس لیے سلطان ایوبی ادھر توجہ نہیں دے سکا
تھا۔
آپ پڑھ چکے ہیں کہ بیروت کے محاصرے میں سلطان ایوبی نے بحری بیڑہ بھی استعمال کیا تھا جس کا امیر البحر حسام
الدین لولو تھا۔ محاصرہ ابتداء میں ہی ناکام ہوگیا تو سلطان ایوبی نے حسام الدین کو پیغام بھیجا تھا کہ وہ بیڑہ سکندریہ لے
جائے۔ اس کے فورا ً بعد قاہرہ سے سلطان ایوبی کو پیغام مال کہ صلیبیوں نے قافلوں کو لوٹنا باقاعدہ پیشہ بنا لیا ہے اور اب
کوئی قافلہ منزل تک پہنچتا ہی نہیں۔ سلطان ایوبی نے قاہرہ کو جواب دینے کے بجائے سکندریہ امیر البحر حسام الدین کو
حکم بھیجا کہ وہ اپنے بیڑے کے اس حصے کی جاکر کمان لے لے جو بحیرٔہ قلزم میں ہے۔
سلطان ایوبی کا حکم یہ تھا… ''بحیرٔہ قلزم میں تمہارا مقابلہ دشمن کے بحری بیڑے سے نہیں ہوگا بلکہ تم خشکی پر گھات
لگا کر ان ڈاکوئوں کو پکڑو گے جو مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹتے ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ ڈاکو صلیبی فوجی ہیں جو
باقاعدہ منصوبے اور اوپر والوں کے احکام کے تحت لوٹ مار کررہے ہیں۔ یہ صحرا میں نہیں رہتے۔ سمندر کے کنارے رہتے
ہیں۔ تم فوج کا ایک منتخب دستہ لے جائو اور سمندر میں گھومتے پھرتے رہو ،جہاں تمہیں ڈاکوئوں کا شبہ ہو وہاں سپاہیوں
کو کشتیوں سے اتار کر خشکی پر بھیجو اور ڈاکوئوں کا خاتمہ کرو۔ میرے اگلے حکم تک تم قلزم میں ہی رہو گے''۔
حسام الدین حکم ملتے ہی بحیرٔہ قلزم میں چال گیا۔ اس دور میں بحیرٔہ روم اور قلزم کو مالنے کے لیے نہر سویز نہیں تھی۔
وسطی کا نقشہ دیکھیں تو
بحیرٔہ قلزم میں سلطان ایوبی نے چند ایک جنگی جہاز اور کشتیاں رکھی ہوئی تھی۔ اگر آپ مشرق
ٰ
آپ کو بحیرٔہ قلزم اور اس کے اوپر خلیج سویز نظر آئے گی۔ اس سمندر کے مغربی کنارے پر مصر اور مشرقی کنارے پر
سعودی عرب ہے۔ شمال میں صحرائے سینائی اور خلیج عقبہ ہے۔ بعض قافلے جو مصر سے حج کے لیے جاتے تھے وہ اونٹوں
اور گھوڑوں سمیت کشتیوں کے ذریعے خلیج سویز عبور کرتے تھے۔ اکثر قافلے خشکی پر ہی جاتے تھے اور بحیرٔہ قلزم کے
ساتھ ساتھ سفر کرتے تھے۔ کیونکہ سمندر کے قریب گرمی میں کمی رہتی تھی۔
حسام الدین نے وہاں جاتے ہی ساحل کے ساتھ ساتھ خشکی پر چھاپے مارنے شروع کردیئے اور چند ایک ڈاکوئوں کو پکڑ کر
وہیں قتل کردیا لیکن اسے ان میں صلیبی افواج کا کوئی ایک بھی سپاہی نہ مال۔
حسام الدین کو ایک روز اطالع ملی کہ مصر سے ایک بہت بڑا قافلہ حجاز کے لیے روانہ ہوگیا ہے۔ اس وقت قافلے کو
صحرائے عرب میں ہونا چاہیے تھا۔ حسام الدین نے تین چار سپاہیوں کو خانہ بدوشوں کے لباس میں گشت کے لیے بھیجا مگر
انہیں کہیں قافلہ نظر نہ آیا۔ یہ ایک بدقسمت قافلہ تھا جو ساحل سے دور دور جارہا تھا۔ ایک رات قافلے نے ایک جگہ قیام
کیا۔ اس میں تاجر بھی تھے اور حجاج بھی۔ کئی ایک پورے پورے کنبوں کے ساتھ لیے جارہے تھے۔ ان میں بچے بھی تھے،
بوڑھے بھی اور چند ایک کمسن اور نوجوان لڑکیاں بھی تھیں۔ اونٹوں اور گھوڑوں کی تعداد خاصی تھی اور افراد کم وبیش چھ
سو تھے۔ یہ سب کھا پی کر سوگئے تھے۔
قافلہ سحر کی تاریکی میں جاگا۔ کسی نے اذان دی۔ سب نے تیمم کرکے باجماعت نماز پڑھی اور جب روانگی کی تیاری :
ہونے لگی تو کہیں سے بلند للکار سنائی دی… ''سامان مت باندھو۔ سب ایک طرف کھڑے ہوجائو۔ کسی نے مقابلہ کرنے کی
کوشش کی تو وہ زندہ نہیں رہے گا''۔
قافلے میں کئی ایک گھبرائی ہوئی آوازیں سنائی دیں… ''ڈاکو ،ڈاکو''۔
صبح کی روشنی صاف ہوگئی۔ قافلے والوں نے دیکھا۔ ان کے اردگرد صحرائی لباس میں ملبوس سینکڑوں آدمی کھڑے تھے۔ ان
میں بعض گھوڑوں پر سوار تھے۔ ان کے ہاتھوں میں برچھیاں اور بعض کے پاس تلواریں تھیں۔ ان کے سر اور چہرے صافوں
میں لپٹے ہوئے تھے۔ قافلے کی تعداد زیادہ تھی ،اس لیے یہ عارضی قیام گاہ وسیع تھی۔ ڈاکوئوں نے گھیرا تنگ کرنا شروع
کردیا۔ قافلے والے مسلمان تھے۔ خاموشی سے ہتھیار ڈال دینا ان کا اصول نہیں تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ قافلوں پر حملے ہوا
کرتے ہیں ،اس لیے وہ مسلح تھے اور لڑنے کے لیے تیار تھے۔
عورتوں اور بچوں کو درمیان میں ایک جگہ کرلو''۔ کسی نے آہستہ سے کہا اور یہ ہدایت کانوں کان بکھرے ہوئے قافلے ''
تک پہنچ گئی۔
عورتیں اور بچے قیام گاہ کے وسط کو جانے لگے۔ ڈاکو آگے بڑھنے لگے ،قافلے میں سے تلواریں نکل آئی۔ کچھ برچھیاں بھی
تھیں۔ ڈاکوئوں نے ہلہ بول دیا۔ اس کے بعد گھوڑوں کے دوڑنے کا ،للکار کا اور تلواریں ٹکرانے کا شور تھا جس میں عورتوں
اور بچوں کی چیخیں سنائی دیتیں اور شور میں ڈوب جاتی تھیں۔ ڈاکوئوں میں سے زیادہ تر گھوڑوں پر سوار تھے ،اس لیے
پلہ انہی کا بھاری تھا اور وہ تربیت یافتہ اور تجربہ کار فوجی تھے۔ قافلے والے بھی جم کر مقابلہ کررہے تھے اور نعرے بھی
لگا رہے تھے۔ ایک آواز بار بار سنائی دیتی تھی… ''لڑکیوں کو درمیان میں رکھنا… لڑکیوں کو الگ نہ ہونے دینا''۔
ایک لڑکی کی بلند آواز سنائی دی… ''ہمارا غم نہ کرو ہم تمہارے ساتھ ہیں''۔
قافلے والوں کو اگر گھوڑوں پر سوار ہونے کا موقع مل جاتا تو وہ زیادہ بہتر طریقے سے لڑ سکتے ،مگر ان کے گھوڑے ابھی
زینوں کے بغیر بندھے ہوئے تھے۔ وہ صلیبیوں کے گھوڑوں تلے روندے جارہے تھے۔ ان میں بعض گر بھی رہے تھے۔ زیادہ تر
نقصان قافلے والوں کا ہورہا تھا۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ عورتوں اور بچوں کو اپنے حصار میں لیے ہوئے تھے۔ وہ
گھوم پھر کر نہیں لڑ سکتے تھے۔ معرکہ پھیلتا بھی جارہا تھا۔ قافلے میں سات آٹھ جوان لڑکیاں تھیں۔ ان میں سکندریہ کی
رہنے والی ایک رقاصہ بھی تھی جس کا نام رعدی تھا۔ وہ اپنے پیشے سے اسی عمر میں متنفر ہوگئی اور حج کے لیے
جارہی تھی۔ اس کے ساتھ وہ آدمی تھا جس سے اسے محبت ہوگئی تھی۔ وہ اسی کے سہارے اپنے آقائوں سے بھاگ آئی
تھی۔ انہوں نے ابھی شادی نہیں کی تھی۔ دونوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ مکہ معظمہ جاکر شادی اور پھر حج کریں گے۔
رعدی رقاصہ تھی ،اس لیے اس کا جسم پھرتیال تھا۔ کچھ دیر تک وہ اس آدمی کے ساتھ رہی جس کے ساتھ وہ حج کو
جارہی تھی۔ اس آدمی کے پاس تلوار نہیں تھی جو اس زمانے میں لوگ لباس کا حصہ سمجھ کر اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ اس
کے بجائے اس کے پاس خنجر تھا۔ اس نے رعدی کو اپنے ساتھ رکھا اور اس کا چہرہ اور سر اس طرح کپڑے میں لپیٹ دیا
کہ پتہ نہ چلے کہ یہ لڑکی ہے۔ اس آدمی نے ایک ڈاکو کو جو گھوڑے پر سوار نہیں تھا ،پیچھے سے پیٹھ پر خنجر مارا۔
خنجر اتنا گہرا اترا کہ فورا ً باہر نکل نہ سکا۔ ڈاکو نے گھوم کر اس آدمی کے پہلو میں برچھی کی طرح تلوار گھونپ دی ،پھر
دونوں گر پڑے۔
اس ڈاکو کی پیٹھ کے ساتھ تیروں سے بھری ہوئی ترکش بندھی ہوئی تھی اور اس کے کندھے اور گردن میں کمان بھی لٹک
رہی تھی۔ رعدی نے اس کی کمان اور ترکش اتارلی۔ یہ تینوں قیام گاہ کے کنارے پر تھے۔ قریب ہی کچھ سامان پڑا تھا جس
میں خیمے بھی تھے۔ رعدی سامان اور خیموں کے ڈھیر میں چھپ گئی۔ صلیبی ڈاکوئوں کے گھوڑے دوڑتے ہوئے اس کے
سامنے سے گزرتے تھے ،رعدی کی کمان سے تیر نکلتا اور گھوڑ سوار اوندھا ہوجاتا۔ اس طرح اس نے کچھ سواروں کو گرا لیا
اور اس کے بعض تیر گھوڑوں کو لگے جو بے قابو ہوکر اور زیادہ تباہی مچانے لگے۔
رعدی کو کوئی بھی نہ دیکھ سکا مگر اس نے ایک سوار پر تیر چالیا جو سوا ر کے بجائے گھوڑے کی گردن میں اتر گیا۔
گھوڑا بے قابو ہوکر گھوما اور دور کا چکر کاٹ کر سامان اور خیموں کے اسی ڈھیر پر آگیا جس میں رعدی چھپی ہوئی تھی۔
گھوڑا سامان کے ساتھ ٹکرایا اور ڈھیر پر گر پڑا۔ سوار دور جاپڑا۔ ڈھیر سے ایک چیخ سنائی دی۔ گھوڑا رعدی کے اوپر گرا
تھا لیکن وہ ابھی مرا نہیں تھا۔ اس کی گردن میں تیر اترا ہوا تھا۔ وہ فورا ً اٹھا اور اندھا دھند بھاگ گیا۔ سوار اٹھا تو اسے
لپٹے ہوئے خیموں میں ایک سر نظر آیا جو کسی عورت کا تھا۔ سوار نے خیمے ہٹا کر دیکھا ،اسے ایک بڑی ہی خوبصورت
لڑکی نظر آئی۔ وہ اٹھنے کے قابل نہیں تھی اور وہ بے ہوش بھی نہیں تھی۔ صلیبی نے اسے اٹھایا تو وہ کراہنے
لگی۔
دو روز بعد حسام الدین ایک بحری جہاز میں اپنے کیبن میں بیٹھا ہوا تھا ،دروازے پر دستک ہوئی۔ بری فوج کے دستے کا
کمانڈر دروازہ کھول کر اندر آیا۔ اس کے ساتھ ایک آدمی تھا جس کا چہرہ اترا ہوا اور الش کی طرح سفید تھا۔
صلیبی ڈاکوئوں نے بہت بڑے قافلے کو لوٹ لیا ہے''۔ دستے کے کمانڈر نے حسام الدین سے کہا… ''یہ آدمی ان کی قید''
سے بھاگ آیا ہے ،باقی اس سے سن لیں''۔
اس آدمی نے تفصیل سے بتایا کہ قافلے پر کس طرح حملہ ہوا تھا… ''ہم نے بہت مقابلہ کیا لیکن ہمارے گھوڑے زینوں کے
بغیر ابھی بندھے ہوئے تھے ،ورنہ ہم گھوڑ سواروں کو کامیاب نہ ہونے دیتے۔ قافلے کے تھوڑے سے آدمی زندہ ہیں جو ڈاکوئوں
کے قبضے میں ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اب تک انہیں قتل کیا جا چکا ہوگا۔ میں بھی انہی قیدیوں میں تھا۔ ہم تو مرد تھے،
شرمناک صورت یہ پیدا ہوگئی ہے کہ پانچ جوان لڑکیاں اور دس کمسن لڑکیاں ان کے قبضے میں ہیں۔ قافلے میں بڑا قیمتی
سامان تھا۔ نقدی ہر ایک کے پاس تھی۔ نوے گھوڑے اور تقریبا ً ڈیڑھ سو اونٹ ہیں''۔
''وہ اب کہاں ہیں؟''
وہاں ڈرائونے ڈرائونے سے سیدھے کھڑے ٹیلے ہیں''۔ اس نے جواب دیا… ''ٹیلوں میں ڈاکوئوں نے کمروں جیسے غار بنا ''
رکھے ہیں۔ ان کے پاس پانی کا ذخیرہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان کا مستقل اڈا ہے۔ ویرانے میں ہوتے ہوئے یہ جگہ ویران
نہیں لگتی''۔ اس نے جو جگہ بتائی وہ سمندر سے بیس میل دور تھی۔ اس نے کہا… ''کچھ ڈاکو بھی ہماری تلواروں اور
برچھیوں سے مرے ہیں لیکن زیادہ نقصان ہمارا ہوا ہے۔ ہم جو زندہ رہ گئے ہیں ،انہیں وہ اپنے ساتھ لے آئے۔ شام تک وہ
ہمارے تمام اونٹ ،گھوڑے اور سارا سامان اٹھا کر اپنے ٹیلوں والے اڈے پر لے آئے۔ رات کو انہوں نے شراب پی اور ہمارا
سامان کھول کھول کر دیکھنے لگے۔ ان کا ایک سردار بھی ہے۔ لڑکیاں اس کے حوالے کردی گئی تھیں۔ میں نے پھر لڑکیوں
کو نہیں دیکھا۔ وہ ہم سے سامان اٹھوا کر ایک وسیع غار میں رکھوا رہے تھے ،بہت سی مشعلیں جل رہی تھیں۔ میرے زیادہ
تر ساتھی زخمی تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں بھاگنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ان میں سے کسی نے بتایا کہ اگر خیریت
سے نکل جائو تو سمندر تک پہنچنے کی کوشش کرنا ،وہاں اپنی فوج کی گشتی کشتی مل جائے گی۔ اس میں اپنے عسکری
…''ہوں گے۔ انہیں بتانا کہ ہم پر کیا مصیبت ٹوٹی ہے
مجھے یاد آگیا کہ ہم مصر کی سرحد سے نکل رہے تھے تو وہاں اپنے عسکری ملے تھے۔ انہوں نے ہمیں کہا تھا کہ ''
راستے میں کوئی مشکل پیش آجائے تو ساحل پر چلے جانا ،وہاں سے تمہیں فوج کی مدد مل جائے گی… ڈاکو شراب میں
بدمست ہوئے جارہے تھے۔ ہم سامان اٹھا اٹھا کر غار میں رکھ رہے تھے۔ مجھے اندھیرے میں بھاگنے کا موقع مل گیا۔ ان
ٹیلوں میں سے نکلنے کا راستہ نہیں ملتا تھا۔ دوبار میں گھوم پھر کر وہیں پہنچ گیا جہاں سے بھاگا تھا۔ میں نے اللہ کو یاد
کیا اور قرآن کی جو آیات یاد تھیں ،وہ پڑھنے لگا اور آدھی رات کے بعد ٹیلوں کی گلیوں سے نکل آیا۔ سمندر کی سمت کا
خیال نہ رہا۔ میں اندھا دھند چلتا رہا اور صبح ہونے تک اتنی دور آگیا جہاں ڈاکو دیکھ نہیں سکتے تھے۔ سارا دن اللہ کو یاد
…''کرتا رہا۔ پانی کا یہ چھوٹا مشکیزہ ساتھ تھا۔ تھوڑی سی کھجوریں بھی تھیں۔ انہوں نے مجھے زندہ رکھا
تھکن سے چال نہ گیا تو دوپہر کے وقت ایک ریتلے ٹیلے کے دامن میں گر پڑا۔ ٹیلے کے سائے میں نیند آگئی۔ سورج ''
غروب ہوا تو آنکھ کھلی۔ ستارے روشن ہوئے تو سمت کا اندازہ ہوا ،بہت دیر بعد ہوا میں سمندر کی بو محسوس ہونے لگی۔
میں ہوا کے مخالف چلتا چال آیا اور شاید سحر کا وقت تھا جب میں ساحل پر آگیا اور جسم نے جواب دے دیا۔ میں گراور
بے ہوش ہوگیا یا سوگیا۔ کسی نے مجھے جگایا۔ سورج بہت اوپر آگیا تھا۔ مجھے جگانے واال کوئی عسکری تھا۔ ساحل کے
ساتھ مجھے ایک کشتی نظر آئی۔ اس میں بھی عسکری تھے۔ وہ سب میرے پاس آئے ،میں نے انہیں یہی قصہ سنایا جو آپ
کو سنا رہا ہوں۔ انہوں نے مجھے کشتی میں بٹھا لیا ،کھالیا پالیا اور مجھے یہاں لے آئے۔ یہاں ان (کمانڈر) کے حوالے کردیا۔
یہ مجھے آپ کے پاس لے آئے''۔
ہماری رہنمائی کے لیے تم ہمارے ساتھ چلو گے''۔ حسام الدین نے کہا… ''لیکن تمہاری حالت ایسی بری ہے کہ فورا ً ''
ہمارے ساتھ نہیں چل سکو گے۔ تھکن نے تمہیں الش بنا دیا ہے''۔
میں فورا ً آپ کے ساتھ چلنے کو تیار ہوں''۔ اس آدمی نے کہا… ''میں آرام کس طرح کرسکتا ہوں ،جب مسلمان لڑکیاں ''
ڈاکوئوں کے قبضے میں ہیں ،اگر اس سفر میں مجھے تھکن سے مرنا ہے تو میں مرنے کے لیے تیار ہوں۔ مجھے قرآن کی
آیات نے اس جہنم سے نکاال ہے ،مجھ پر قرآن کا فرض عائد ہوتا ہے کہ ان معصوم بچیوں کو ظالموں کے چنگل سے
چھڑائوں۔ میں اس فرض پر جان دینا چاہتا ہوں''۔
''ڈاکوئوں کی تعداد کتنی ہے؟''
پانچ سو سے زیادہ ہوگی''۔ اس نے جواب دیا۔''
پانچ سو آدمی کافی ہوں گے؟'' '' :حسام الدین نے بری دستے کے کمانڈر سے پوچھا… ''مجھے ساتھ ہونا چاہیے''۔''
کافی ہوں گے'' ۔ کمانڈر نے جواب دیا… ''ان میں کم از کم ایک سو سوار اور باقی پیادے ہوں گے۔ ہمیں چھاپہ مارنا ''
ہے ،اس لیے ہدف تک خاموشی برقرار رکھنی ہوگی۔ گھوڑے جتنے زیادہ ہوں گے اتنا ہی شور کا خطرہ ہوگا۔ اس شخص سے
اس جگہ کی مزید تفصیل پوچھ لیتے ہیں اور ابھی روانہ ہوجائیں گے۔ یہ چونکہ بھٹکتا اور گرتا پڑتا آیا ہے ،اس لیے اتنی دیر
سے پہنچا ہے۔ میں نے سمت کا اندازہ کرلیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہم شام کے چلے آدھی رات کے قریب ہدف پر پہنچ
جائیں گے''۔
چھوٹی منجنیقیں ساتھ لے لینا'' ۔ حسام الدین نے کہا… ''ہانڈیاں (آتش گیر سیال والی) اور فلیتے والے تیر بھی ساتھ ''
ہوں… اور اسے شام تک مکمل آرام کرنے دو… سب کو بتا دینا کہ مقابلہ ڈاکوئوں سے نہیں ،صلیب کے تجربہ کار فوجیوں کے
ساتھ ہے''۔
بری فوج کا کمانڈر اس آدمی کو اپنے ساتھ لے گیا۔
٭ ٭ ٭
صحرا کا وہ خطہ جہاں صلیبی ڈاکوئو ں نے اپنا اڈا بنا رکھا تھا ،قلعے سے کم نہ تھا بلکہ اس لحاظ سے قلعے سے زیادہ
مضبوط اور ناقابل تسخیر تھا کہ وہاں ٹیلوں نے بھول بھلیوں جیسی گلیاں بنا رکھی تھیں ،جو تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مڑ جاتیں
یا شاخوں میں تقسیم ہوجاتی تھیں۔ اس خطے کے درمیان ایک وسیع میدان تھا۔ اس کے اردگرد ٹیلوں میں صلیبیوں نے اونچے
اور لمبے چوڑے کمرے کھود رکھے تھے۔ اونٹوں اور گھوڑوں کے رہنے کی جگہ الگ تھی۔ حسام الدین کا بری فوج کا دستہ
پوری خاموشی سے آدھی رات سے پہلے اس خطے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ صلیبیوں نے پکڑے جانے کا خطرہ غالبا ً کبھی
بھی نہیں محسوس کیا تھا ،ورنہ وہ ادھر ادھر پہرے کا انتظام کرتے۔
حسام الدین نے گھوڑوں کو پیچھے رکھا تاکہ ان کے ہنہنانے کی آواز دشمن تک نہ پہنچے۔ دستے کا کمانڈر چار سپاہیوں کو
ساتھ لے کر ٹیلوں کی ایک گلی میں چال گیا۔ گھومتا مڑتا بہت آگے گیا تو اسے گھوڑوں کی ہلکی ہلکی آوازیں سنائی دینے
لگیں۔ وہ گھوڑوں کی رات کی آوازوں سے واقف تھا۔ ایک جگہ وہ ایک بلند ٹیلے پر چڑھ گیا۔ وہ شب خون کا ماہر تھا اور
اسے چھپے ہوئے ہدف پر پہنچنے کا تجربہ تھا۔ وہ ٹیلے کے اوپر گیا۔ اوپر چڑھائی تھی ،وہاں سے اترنا پڑا ،پھر ایک اور
بلندی پر چڑھا۔ اسے آدمیوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں جو ہلڑ بازی کی طرح تھیں۔ وہاں سے بھی اسے اترنا پڑا۔ وہ ایک
گلی میں جارہا تھا کہ قریب ہی اسے کسی کے بولنے کی آواز سنائی دی۔ اس نے اپنے سپاہیوں کو اشارہ کیا اور سب اپنے
ہتھیار تان کر ٹیلے کے ساتھ ہوگئے۔ آگے موڑ تھا۔
دو آدمی باتیں کرتے موڑ مڑے ،وہ شراب پئے ہوئے تھے جو ان کے لہجے سے ظاہر تھا۔ سپاہیوں سے دوچارقدم آگے گئے تو
پیچھے سے سپاہیوں نے تلوار ان کے پہلوئوں سے لگا دیں۔ کمانڈر نے ان کی زبان میں جو فلسطینی ،عربی اور عبرانی کی
آمیزش تھی کہا کہ آواز نکالی تو مارے جائو گے۔ انہیں وہاں سے دور لے گئے۔ انہوں نے جان کے خوف سے بتا دیا کہ ان
کے ساتھی کہاں ہیں اور ان تک کون سا راستہ جاتا ہے۔ مسلمان کمانڈر ،ان میں سے ایک کو اپنے ساتھ بلندی پر لے گیا
جہاں سے وہ میدان نظر آتا تھا۔ جہاں اس کے ساتھی جشن منا رہے تھے۔ کمانڈر نے اوپر سے دیکھا اور وہ حیران رہ گیا۔
اس بے رحم صحرامیں جو جہنم سے کم نہ تھا ،ان صلیبیوں نے جنت کا منظر بنا رکھا تھا ،جہاں مسافر پیاسے مرجاتے تھے،
وہاں یہ لوگ شراب پی رہے تھے۔ ان میں سے کچھ ادھر ادھر بے سدھ پڑے تھے۔ بعض ٹولیوں میں بیٹھے گا رہے تھے یا
ہلڑ بازی میں مصروف تھے۔ ایک جگہ ایک لڑکی ناچ رہی تھی۔ مشعلیں اس طرح جل رہی تھیں کہ ان کے ڈنڈے عمومی
ٹیلوں میں گاڑے ہوئے تھے۔
بہت سے اندر ہیں''… صلیبی قیدی نے کمانڈر کو بتایا… ''وہ شراب پی کربے ہوش پڑے ہوں گے ،ایسا جشن صرف اس ''
وقت منایا جاتا ہے جب کوئی بہت بڑا قافلہ لوٹا جاتا ہے۔ تین چار راتیں جشن منایا جاتا ہے''۔
''تعداد کتنی ہے؟''
چھ سو کے قریب ہوگی''… اس نے جواب دیا… ''کمانڈر ایک نائٹ ہے ،وہ اس وقت لڑکیوں کے درمیان بدمست پڑا ''
''ہوگا
کمانڈر نے بلندی سے میدان کا جائزہ لیا۔ اسے مشعلوں کی روشنی میں جو کچھ نظر آرہا تھا۔ وہ اس نے دیکھ لیا۔ جو نظر
نہیں آتا تھا وہ اسے صلیبی قیدی نے بتا دیا۔ وہ ایسے راستے معلوم کررہا تھا جن کی ناکہ بندی کی جاسکے۔ اس نے اپنے
قیدی کو ساتھ لیا اور وہاں سے اتر آیا۔ دوسرے قیدی اور اپنے ساتھیوں کو بھی ساتھ لے کر وہ حسام الدین کے پاس گیا اور
اسے بتایا کہ کس قسم کی کارروائی کرنی چاہیے۔
٭ ٭ ٭
میدان میں مشعلوں کی روشنی میں ہلڑ بازی کرنے والے صلیبیوں کی تعداد کم ہوگئی تھی۔ اب ان میں سے چند ایک ہی
جاگ رہے تھے۔ حسام الدین نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ ڈاکوئوں کو زندہ باہر النا۔ کمانڈر نے اس پر اعتراض کیا اور کہا…
''میں ان سے انتقام لینا چاہتا ہوں۔ میں ان کی الشیں یہیں گلنے سڑنے کے لیے اور صحرائی لومڑیوں کے لیے پڑی رہنے
دوں گا۔ آپ انہیں زندہ قیدی بنا کر ان کے حکمران کے ساتھ کوئی سودا کرنا چاہتے ہیں''۔
نہیں''… حسام الدین نے کہا… ''مجھے بھی انتقام لینا ہے۔ مجھے اپنے ان مسلمان قیدیوں کے خون کا انتقام لینا ہے''
20:59
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 137چلے قافلے حجاز کے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
خون کا انتقام لینا ہے۔ جنہیں صلیب کے ایک جنگجو بادشاہ ارناط نے عکرہ لے جا کر قتل کیا تھا۔ جنگی قیدیوں کو قتل
نہیں کیا جاتا مگر ارناط نے ہمارے تمام قیدیوں کو پہلے بھوکا رکھا۔ ان سے مشقت کرائی پھر انہیں قطار میں کھڑا کرکے قتل
کیا تھا۔ اس واقعہ کو سات سال گزر گئے ہیں۔ میں اسے ساری عمر نہیں بھول سکتا۔ آج انتقام کا موقع مال ہے۔ میں یہ
نہیں سننا چاہتا کہ یہ صلیبی ڈاکو ہمارے ساتھ لڑتے ہوئے مارے گئے۔ انہیں زندہ الئو لیکن میں انہیں زندہ نہیں رہنے دوں گا۔
میں انہیں اسی طرح قتل کروں گا جس طرح صلیبیوں نے ہمارے قیدی قتل کیے تھے''۔
حسام الدین کے سپاہی تین راستوں سے میدان میں داخل ہوئے۔ انہوں نے جلتی ہوئی مشعلوں سے اپنی مشعلیں جالئیں۔ جو
صلیبی جاگ رہے تھے ،انہوں نے نشے کی حالت میں گالیاں دیں۔ وہ لڑنے کی حالت میں نہیں تھے۔ حملہ آور سپاہیوں نے
انہیں زندہ پکڑنے کے بجائے تلواروں سے ختم کردیا ،جو سوئے ہوئے تھے وہ شوروغل سے جاگ اٹھے۔ بیشتر اس کے کہ وہ
سمجھ پاتے کہ یہ کیا ہورہا ہے ،وہ برچھیوں کی انیوں پر دھر لیے گئے۔ انہیں ہتھیار اٹھانے کی مہلت نہ ملی۔ غار نما
کمروں میں سے چند ایک برچھیاں اور تلواریں لے کر نکلے لیکن کچھ مارے گئے ،باقی ہتھیار پھینک کر الگ کھڑے ہوگئے۔ ان
کا نائٹ اس حالت میں مدہوش پڑا تھا کہ اس کے جسم پر کوئی کپڑا نہ تھا۔ وہ گالیاں بکنے لگا۔ مسلمان سپاہیوں کو وہ
اپنے سپاہی سمجھ رہا تھا۔ اس کے کمرے سے تین مسلمان لڑکیاں برآمد ہوئیں۔
دوسرے کمروں سے بھی چند ایک لڑکیاں نکلیں۔ یہ سب مسلمان تھیں۔ ان کی حالت بہت بری تھی۔ وہ مسلمان سپاہیوں کو
شاید ڈاکوئوں کا کوئی دوسرا گروہ سمجھ رہی تھیں ،اسی لیے وہ دہشت سے دبکی ہوئی تھیں۔ جب انہیں پتا چال کہ یہ
مسلمان سپاہی ہیں تو لڑکیاں پاگلوں کی سی حرکتیں کرنے لگی۔ وہ روتی تھیں اور کبھی صلیبیوں کو دانت پیس پیس کر
گالیاں دیتیں اور کبھی مسلمان سپاہیوں کو کوسنے لگتیں۔ انہوں نے انہیں بے غیرت اور بزدل کہا ور ان میں سے بعض بار بار
کہتی تھیں… '' اگر تم مسلمان ہو تو ان کافروں کو قتل کیوں نہیں کرتے؟ کیا ہم تمہاری بہنیں اور بیٹیاں نہیں؟ کیا ہماری
''عصمتیں تمہاری بیٹیوں کی عصمتوں جیسی نہیں؟
اس وقت حسام الدین اور بری دستے کا کمانڈر کمروں کی تالشی لے رہے تھے۔ باہر اب کوئی لڑائی نہیں ہورہی تھی۔ صلیبیوں
کو ایک جگہ بٹھا دیا۔ ان کے گرد مسلح سپاہی کھڑے تھے ،جن میں بہت سے سپاہیوں نے کمانوں میں تیر ڈال رکھے تھے۔
٭ ٭ ٭
صبح جب صلیبیوں کا نشہ اترا تو وہ سمندر کے کنارے بیٹھے تھے۔ لڑکیوں کو حسام الدین نے اپنے بحری جہاز میں رکھا۔
قیدیوں کی تعداد کم وبیش پانچ سو تھی۔ باقی مارے گئے تھے۔ انہوں نے ٹیلوں کے اندر جو سامان اور رقم جمع کررکھی تھی،
وہ قیدیوں سے اٹھوا کر ساحل پر الئی گئی۔ ان قیدیوں کے کمانڈر سے جو معلومات حاصل ہوئیں ،ان سے یہ انکشاف ہوا کہ
یہ ایک مشہور صلیبی بادشاہ رینالڈڈی شائتون کی فوج کا دستہ تھا۔ مسلمان قافلوں کو لوٹنے کے لیے اتنی نفری کا ایک دستہ
یہاں موجود رہتا تھا۔ کچھ عرصے بعد دوسرا دستہ بھیج دیا جاتا تھا۔ سامان جو لوٹا جاتا ،اس میں سے کچھ حصہ سپاہیوں کو
ملتا اور باقی سب اپنے بادشاہ کو بھیج دیا جاتا تھا۔ اونٹ اور گھوڑے بھی سرکاری ملکیت میں چلے جاتے تھے۔
لڑکیوں کے متعلق یہ احکام تھے کہ کمسن بچیاں جو غیرمعمولی طور پر خوبصورت ہوتی تھیں ،وہ صلیبیوں کے ہیڈکوارٹروں میں
بھیج دی جاتی تھیں جہاں انہیں ٹریننگ دے کر جوانی کی عمر میں جاسوسی اور تخریب کاری کے لیے مسلمانوں کے عالقوں
میں بھیجا جاتا تھا۔ جوان لڑکیوں میں کوئی بہت ہی خوبصورت ہو تو اسے بھی ہیڈکوارٹروں کے حوالے کردیا جاتا تھا۔ باقی
لڑکیوں کو یہ صلیبی سپاہی اور کمانڈر اپنے پاس رکھ لیتے تھے۔
اس قافلے کے ساتھ بھی بچیاں ہوں گی''… حسام الدین نے پوچھا۔''
بارہ چودہ تھیں''… صلیبی کمانڈر نے بتایا… ''صرف ایک بھیجی گئی ہے''۔''
''اور باقی؟''
قتل ہوچکی ہیں''۔''
''اور قافلے کے جن آدمیوں کو ساتھ الئے تھے؟''
انہیں سامان اٹھانے کے لیے الئے تھے ،پھر انہیں قتل کردیا تھا''۔''
اس نے جوان لڑکیوں کے متعلق بتایا کہ ان میں ایک رقاصہ تھی۔ بہت خوبصورت تھی۔ اس کا جسم ،حسن اور اس کا رقص
ہماری اس ضرورت کے مطابق تھا جس کے لیے ہم لڑکیاں حاصل کرتے ہیں۔ اس رقاصہ کو اسی شام بھیج دیا گیا تھا۔ فورا ً
بھیجنے کی وجہ یہ بتائی تھی کہ ایسی قیمتی اور دلکش لڑکی کو سپاہیوں میں رکھنا خطرناک ہوتا ہے۔ کوئی بھی سپاہی
اسے آزادی کا جھانسہ دے کر بھگا لے جاسکتا ہے۔
انہوں نے اس قافلے کو قتل کیا ہے جو حج کو جارہا تھا''… حسام الدین نے کمانڈر سے کہا… ''قافلہ حجاز تک نہ پہنچ''
سکا۔ ان بدنصیبوں کے بجائے میں ان کے قاتلوں کو حجاز بھیجوں گا اور وہاں انہیں قتل کرائوں گا''۔
حسام الدین تمام قیدیوں کو اس جگہ لے گیا جہاں انہوں نے قافلے کو لوٹا اور قتل عام کیا تھا ،وہاں لومڑیوں ،بھیڑیوں اور
گیڈروں کی کھائی ہوئی الشیں بکھری ہوئی تھیں۔ حسام الدین نے قیدیوں سے قبریں کھدوائیں۔ اس نے سب کی نماز جنازہ
پڑھائی اور سب کو دفن کردیا۔ اس نے قاہرہ سے حکم لیے بغیر ان تمام قیدیوں کو ایک ہی بحری جہاز میں ٹھونسا اور جدہ
منی کے میدان میں قتل کردیا جائے۔
کی طرف لے گیا ،وہاں انہیں اتارا اور اس پیغام کے ساتھ حجاز روانہ کردیا کہ انہیں
ٰ
پیغام میں اس نے تفصیل سے لکھا کہ ان کا جرم کیا ہے۔
یورپی مؤرخوں نے صلیبی سپاہیوں اور ان کے کمانڈر کے قتل کو بہت اچھاال اور غلط رنگ میں پیش کیا ہے۔ انہیں انہوں نے
جنگی قیدی کہا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کون سی جنگ کے جنگی قیدی تھے۔ وہ کسی قلعے میں نہیں تھے۔ مسلمان
مؤرخوں نے اصل واقعہ لکھا ہے۔ ان کی تحریروں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ امیر البحر حسام الدین لولو کا قافلہ تھا جس
سے سلطان صالح الدین ایوبی بالکل بے خبر تھا۔
٭ ٭ ٭
اس صلیبی ڈاکو دستے کے کمانڈر نے جس رقاصہ کے متعلق بتایا تھا کہ اسے اسی شام یہاں سے بھیج دیا گیا تھا۔ وہ رعدی
تھی۔ اس کے کہنے کے مطابق اسے اتنی جلدی اس لیے بھیج دیا گیا تھا کہ گھوڑے کے نیچے آکر اس کی حالت اچھی نہیں
تھی۔ کمانڈر نے اس ڈر سے اسے بھیج دیا کہ اس پر یہ الزام عائد نہ ہوسکے کہ اس رقاصہ کو اس کے تشدد نے اس حالت
تک پہنچایا ہے۔ یہ کمانڈر جس وقت حسام الدین کو اپنا بیان دے رہا تھا ،اس وقت رقاصہ رعدی چار صلیبی سپاہیوں کے
ساتھ وہاں سے بہت دور پہنچ چکی تھی۔ وہ گھوڑے پر سوار تھی۔ اس کی حالت بہت بہتر ہوگئی تھی۔ راستے میں اس نے
سپاہیوں سے کئی بار کہا تھا کہ وہ اسے قاہرہ لے چلیں جہاں وہ انہیں بے شمار رقم دے گی مگر سپاہی نہ مانے۔ آخر ایک
سپاہی نے اسے کہا… ''تم دیکھ رہی ہو کہ ہم تمہیں شہزادیوں کی طرح ساتھ لے جارہے ہیں ،تم اتنی زیاہ خوبصورت ہو اور
تمہارے جسم میں ایسا جادو ہے کہ جسے اشارہ کرو ،وہ تمہارے قدموں میں جان دے دے گا لیکن ہم تمہارے جسم سے چار
قدم دور رہتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ تم ہمارے پاس امانت ہو اور یہ امانت ہمارے بادشاہ کی ہے جو صلیب کا بادشاہ ہے۔ اگر
تمہارا کہا مان لیں یا تمہیں اپنی ملکیت سمجھ لیں تو ہمیں نہ بادشاہ بخشے گا ،نہ صلیب''۔
ہماری منزل کہا ہے؟''… رعدی نے پوچھا۔''
بہت دور''… اسے جواب مال… ''سفر کٹھن ہے اور لمبا بھی۔ ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ ہمیں اس عالقے میں سے بھی''
گزرنا پڑے گا جو مسلمانوں کے قبضے میں ہے''۔
رعدی کو یہ چار صلیبی واقعی شہزادیوں کی طرح لے جارہے تھے۔ ''تم کسی بڑے حاکم کی بیٹی معلوم ہوتی ہو یا کسی
دولت مند تاجر کی بیٹی۔ تم اپنے خاندان کے ساتھ حج کو جارہی تھی؟''… ایک صلیبی نے پوچھا۔
تمہیں کسی نے بتایا نہیں کہ میں رقاصہ ہوں؟''… رعدی نے جواب دیا… ''میرا کوئی باپ نہیں ،کوئی بھائی نہیں ،میری ''
اسم عیلیہ میں مشہور رقاصہ اور مغنیہ ہے۔ مجھے بالکل علم نہیں کہ میں اس کے کس چاہنے والی کی بیٹی ہوں۔ ماں
ماں
ٰ
نے بچپن میں ہی مجھے رقص کی تربیت دینی شروع کردی تھی ،مجھے رقص اور گانا اچھا لگتا تھا۔ میں سولہ سترہ سال
کی ہوئی تو ماں نے مجھے ایک بہت امیر آدمی کے گھر بھیجا۔ وہ بوڑھا آدمی تھا ،شراب پئے ہوئے تھا ،بوڑھے نے مجھے
کہا کہ وہ میری محبت میں دیوانہ ہوا جارہا ہے۔ مجھے اس بوڑھے سے نفرت ہوگئی ،مجھے یہ احساس ہوا کہ یہ میرا باپ
…''نہیں ہے ،نہ اس کے دل میں میری محبت ہے ،یہ میرا گاہک ہے
میں وہاں سے اکیلی بھاگ گئی۔ ماں کو بتایا تو اس نے مجھے سمجھایا کہ یہ ہمارا پیشہ ہے ،میں نہ مانی۔ ماں نے ''
مجھے مارا پیٹا ،میں نے کہا کہ میں ناچوں گی ،گائوں گی لیکن کسی کے گھر نہیں جائوں گی۔ ماں نے میری شرط مان لی۔
جن کے پاس دولت تھی ،وہ ہمارے گھر آنے لگے۔ میں چونکہ کسی کے گھر نہیں جاتی تھیں ،اس لیے میری قیمت چڑھ گئی۔
تین سال گزر گئے اور اس دوران میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کوئی میرے حسن اور میرے رقص کے بجائے میرے ساتھ
محبت کرے جس میں عیاشی اور بدمعاشی کا دخل نہ ہو۔ آخر ایک آدمی مجھے مل گیا۔ وہ دوبار میرے ہاں آیا تھا۔ وہ
مجھے اچھا لگتا تھا۔ مجھ سے سات آٹھ سال بڑا تھا۔ میری اور اس کی مالقاتیں ہونے لگیں۔ میں بگھی میں سیر کے
''بہانے چلی جاتی اور وہ وہاں موجود ہوتا
وہ تو شہزادہ تھا ،شراب پیتا تھا ،میں نے ایک شام اسے کہا کہ شراب چھوڑ دو۔ اس نے قسم کھا کر کہا کہ وہ آئندہ'' :
شراب نہیں پئے گا۔ اس نے وعدہ پورا کر دکھایا۔ ایک روز اس نے مجھے کہا کہ ناچنا چھوڑ دو ،میں نے قسم کھا کر کہا کہ
میں اس پیشے پر لعنت بھیجوں گی لیکن جب تک اس گھر میں ہوں ،یہ ممکن نہیں۔ اس نے کہا کہ میں عیاش باپ کا
عیاش بیٹا ہوں ،میرے باپ کے حرم میں تم سے چھوٹی عمر کی بھی لڑکیاں ہیں۔میں اس گھر میں رہ کر نیک نہیں بن
سکتا۔ میں نے اسے کہا کہ میں ناچنے والی ماں کی ناچنے والی بیٹی ہوں۔ تمہیں اپنے باپ کی عیاشی خراب کررہی ہے اور
مجھے اپنی ماں کا پیشہ خراب کررہا ہے۔ آئو کہیں دور چلے چلیں اور میاں بیوی کی طرح پاک زندگی بسر کریں۔ وہ مان
…''گیا
وہ مسلمان تھا ،میرا کوئی مذہب نہیں۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ میرا باپ مسلمان تھا ،عیسائی یا یہودی تھا۔ میں نے''
اسے کہا کہ مجھے مسلمان سمجھو اور بتائو کہ مذہب کیا ہے۔ مجھے محبت دو ،مجھے پاک زندگی دو ،اس نے بہت سوچا
ور بوال کہ پاک ہونا ہے تو حجاز چلو۔ میں نے حجاز کی بہت باتیں سنی تھیں۔ مجھے ایسے گانے بہت پسند آتے تھے جن
میں حجاز اور حجاز کے قافلوں کا ذکر ہوتا۔ میں ایک گانا اکیلے میں بھی گنگنایا کرتی تھی… ''چلے قافلے حجاز کے''…
اس نے حجاز کا نام لے کر میری آرزو کو شعلہ بنا دیا۔ میں نے اسے کہا کہ میں تیار ہوں۔ ہمت کرو ،میری آرزو پوری کردو۔
اس نے پوچھا۔ تم جانتی ہو کہ میں تمہیں حجاز کیوں لے جارہا ہوں؟ میں نے کہا کہ وہ بہت خوبصورت سرزمین ہے۔ اس
نے کہا کہ صرف خوبصورت نہیں ،وہ پاک سرزمین ہے ،وہاں خانہ کعبہ ہے ،وہاں آب زمزم ہے اور وہا ں جو جاتا ہے اس کی
روح پاک ہوجاتی ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہاں ہم حج کعبہ کریں گے اور پاک ہوکر شادی کریں گے پھر وہیں رہیں
…''گے
میں اس وقت کو بھول نہیں سکتی جب وہ میرے ساتھ یہ باتیں بچوں کی طرح کررہا تھا اور میں جیسے اس کی آنکھوں ''
میں اتر کر اس کی روح میں سما گئی تھی۔ میری ذات فنا ہوگئی تھی ،میرا وجود اس کے وجود میں تحلیل ہوگیا تھا اور
میں نے اسے کہا تھا کہ کل چلنا ہے تو ابھی چلو۔ اس نے کہا کہ قافلے جاتے رہتے ہیں ،میں معلوم کرلوں گا… پھر ایک
شام اس نے کہا کہ آج رات یہیں آجانا۔ قافلہ روانہ ہوگیا ہے۔ ہم اس سے جاملیں گے۔ میں نے اسے کہا کہ میں گھر چلی
گئی تو رات کو کوئی آنے نہیں دے گا۔ ابھی لے چلو۔ اس نے کہا آجائو۔ میں نے بگھی والے کو کچھ نہ بتایا۔ شام گہری
ہوگئی تھی۔ چھپ کر اس کے ساتھ چلی گئی۔ اس نے مجھے ایک کھنڈر میں چھپا دیا اور چال گیا۔ وہ کچھ دیر بعد دو
…''گھوڑے لیکر آگیا۔ وہ گھوڑے پر سوار تھا ،دوسرا گھوڑا خالی تھا۔ دونوں کے ساتھ پانی اور کھانے کا سامان بندھا تھا
ہم اگلی شام قافلے سے جاملے اور رات وہاں جاپہنچے جہاں تم نے میرے خواب میری محبت کے لہو میں غرق کر دئیے۔''
وہ مارا گیا میں پکڑی گئی۔ حجاز کا قافلہ لوٹا گیا اور خانہ کعبہ سے دور ہی اللہ کے حضور چال گیا… خدا نے میرے گناہ
بخشے نہیں ،میرے ماتھے کی قسمت میں کعبہ کا سجدہ نہیں لکھا تھا۔ میرا وجود ناپاک تھا جو اللہ کو پسند نہیں تھا کہ
اس کے کعبے تک پہنچے''۔
تم مذہب میں پناہ لینا چاہتی ہو تو ہمارے مذہب کو قریب سے دیکھنا''… ایک سپاہی نے کہا۔۔''
تم نے میرا ایک پاک تصور ریزہ ریزہ کردیا ہے''… رعدی نے کہا… ''کیا تمہارے مذہب نے یہ حکم دیا ہے جس کی تم ''
''نے تعمیل کی ہے؟ جو تصور لے کر نکلی تھی وہ ایسا بھیانک تو نہیں تھا؟
یہ ہمارا مذہب نہیں''… سپاہی نے کہا… ''یہ ان انسانوں کا حکم تھا جن کے ہم مالزم ہیں''۔''
تم سے تو میں اچھی ہوں جس کے قدموں میں شہزادے زروجواہرات کے ساتھ اپنا سر بھی رکھتے تھے''… رعدی نے کہا…''
''مگر میں صحرائوں کی خاک چھاننے نکل آئی… حکم وہ مانو جو اپنی روح سے نکلے۔ میں اس کے مذہب کی مرید ہوں
جس نے مجھے پاک محبت دی اور پاکیزہ تصور دیا۔ اس سے میں سمجھی کہ اس کا مذہب بھی پاک ہوگا۔ وہ مجھے میرے
''تصوروں کی سرزمین حجاز کی طرف لے جارہا تھا۔ تم مجھے کہاں لے جارہے ہو؟
ہم انسانوں کے حکم کے پابند ہیں''… سپاہی نے کہا۔''
میں خدا کے حکم کی پابند ہوں''… رعدی نے کہا۔''
خدا نے تمہیں دھتکار دیا ہے''… ایک اور سپاہی بوال… ''تم اس وقت ہماری پابند ہو۔ ہم جہاں تمہیں لے جارہے ہیں ''
وہاں سوچنا کہ خدا کو راضی کس طرح کیا جائے۔ کوئی نیکی کرنا ،شاید خدا تمہیں بخش دے''۔
میں جانتی ہوں ،تم مجھے کہاں لے جارہے ہو اور کیوں لے جارہے ہو''… رعدی نے کہا… ''میرا وجود سراپا گناہ ہوگیا'' :
اور میں کوئی نیکی نہیں کرسکوں گی''۔
تم کوئی نیکی سوچ بھی نہیں سکتی''… ایک سپاہی نے کہا… ''تم گناہ کی پیداوار ہو۔ گناہوں میں تم نے پرورش پائی ''
''ہے۔ ایک گناہ گار کے ساتھ گھر سے بھاگ کر جارہی تھی… تم نیکی کیا کرو گی؟
ان بے گناہوں کے خون کا انتقام لوں گی جنہیں تم نے قتل کیا ہے''… رعدی نے دانت پیس کر کہا۔''
چاروں سپاہیوں نے بڑی زور سے قہقہہ لگایا اور ایک نے کہا… ''ہم پر تمہارا احترام فرض ہے۔ ہمیں حکم ہی ایسا مال ہے،
ورنہ تم ایسے الفاظ دوبارہ زبان سے نہ نکالتی''۔
رعدی انہیں دیکھتی رہی اور اس کے دل میں نفرت گہری ہوتی گئی۔
موصل میں ایک درویش کی شہرت آنا ً فانا ً پھیل گئی۔ وہ ایک ضعیف العمر انسان تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ کسی خوش
نصیب انسان کے ساتھ ہی بات کرتا ہے اور وہ جس کی بات کرتا ہے ،اس کی ہر مراد پوری ہوجاتی ہے۔ کسی نے اسے شہر
کی دیواروں کے باہر ایک جھونپڑہ دے دیا تھا۔ اس کی کرامات سارے شہر میں مشہور ہوگئیں۔ لوگ اس کے جھونپڑے کے گرد
ہجوم کیے رکھتے۔ وہ ذرا سی دیر کے لیے باہر آتا ،بازو اوپر کرکے لوگوں کو خاموش رہنے کا اشارہ کرتا ،ہجوم پر خاموشی
طاری ہوجاتی۔ وہ اشاروں میں انہیں تسلی دیتا اور جھونپڑے میں چال جاتا۔ اس کے ساتھ چار پانچ خوبرو آدمی تھے جن کے
چہرے سفید اور گالبی تھے اور وہ سر سے پائوں تک سبز لبادوں میں ملبوس تھے۔
پھر یہ مشہور ہوگیا کہ درویش موصل والوں کے لیے خوشخبری الیا ہے۔ شہر میں اجنبی سے کچھ لوگ نظر آتے تھے ،وہ
لوگوں کو درویش کے متعلق کچھ ایسی باتیں سناتے تھے جو ہر کسی کے دل میں اتر جاتی تھیں۔ ہر کسی کو اپنی اپنی مراد
عیسی علیہ السالم
پوری ہوتی نظر آتی تھی۔ چند دنوں میں یہ مشہور ہوگیا کہ درویش امام مہدی ہے۔ بعض اسے حضرت
ٰ
کہنے لگے ،پھر ایک روز لوگوں نے دیکھا کہ درویش والئی موصل عزالدین کی بگھی پر محل کو جارہا تھا۔ عزالدین کے
محافظوں نے اس کا استقبال کیا اور وہ محل میں چال گیا۔ کئی گھنٹوں بعد وہاں سے نکال اور شاہی بگھی پر چال گیا۔ لوگ
جب اس کے جھونپڑے کو گئے تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ درویش کو بگھی کہیں دور لے گئی تھی۔ شام کو بگھی واپس
آئی۔ اس میں بگھی بان اور دو محافظ تھے ،لوگوں نے بگھی روک لی اور محافظوں سے پوچھا کہ درویش کہاں چال گیا ہے۔
ہمیں کچھ علم نہیں ،وہ کہاں ہے؟''… ایک محافظ نے لوگوں کو بتایا… ''اس نے پہاڑیوں کے قریب بگھی رکوالی اور ''
ہمیں کہا کہ تم چلے جائو۔ ہم نے اس کے ساتھ ایک آدمی سے پوچھا کہ درویش کہاں جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ان
پہاڑیوں میں سے کسی کی چوٹی پر بیٹھے گا۔ اسے افق سے ایک نشانی نظر آئے گی۔ درویش پہاڑی کی چوڑی سے اتر آئے
گا اور والئی موصل کو بتائے گا کہ وہ کیا کرے ،پھر موصل کی فوج جدھر جائے گی ،ادھر پہاڑ اسے راستہ دے دیں گے۔ صحرا
سرسبز ہوجائیں گے ،دشمن کی فوجیں اندھی ہوجائیں گی اور والئی موصل جہاں تک پہنچ سکے گا وہاں تک اس کی حکمرانی
ہوگی۔ صالح الدین ایوبی عزالدین کے آگے ہتھیار ڈال دے گا۔ صلیبی اس کے غالم ہوجائیں گے اور موصل کے لوگ آدھی دنیا
کے بادشاہ ہوں گے۔ سونے چاندی میں کھیلیں گے… ہمیں یہ معلوم نہیں کہ وہ کون سی پہاڑی کی چوٹی پر بیٹھے گا''۔
موصل کے کچھ دور کوہستانی عالقہ تھا ،وہاں کوئی آبادی نہیں تھی ،جہاں کہیں پہاڑوں میں گھرا ہوا میدان تھا ،وہاں دو چار
جھونپڑے نظر آتے تھے۔ عالقہ ہرابھرا تھا ،گڈریئے مویشی لے کر وہاں جاتے تھے۔ ایک روز گڈریوں کو ادھر جانے سے روک دیا
گیا۔ لوگوں کو دور سے گزرنے کی اجازت تھی۔ موصل کی فوج کے سنتری گشت کررہے تھے۔ ان کے ساتھ باہر کے اجنبی
لوگ بھی تھے۔ کوہستان کا ایک وسیع عالقہ تھا جس کے قریب جانے سے لوگوں کو منع کردیا گیا۔ ان پابندیوں کا نتیجہ یہ
ہوا کہ یہ خطہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ اس کے متعلق عجیب وغریب باتیں سننے میں آنے لگیں۔ یہ تو ایک دن
میں ہر کسی کی زبان پر چڑھ گیا کہ درویش کو آسمان سے ایک نشانی نظر آئے گی پھر آدھی دنیا پر موصل والوں کی
بادشاہی ہوگی۔
٭ ٭ ٭
صرف ایک چار دیواری تھی جس کے اندر چار آدمی بیٹھے کچھ اور قسم کی باتیں کررہے تھے۔ ان میں ایک حسن االدریس :
بھی تھا۔ پچھلی قسط میں آپ تفصیل سے پڑھ چکے ہیں کہ حسن االدریس سلطان ایوبی کا جاسوس تھا جو بیروت سے نہایت
قیمتی خبر الیا تھا اور اس خبر کے ساتھ والئی موصل عزالدین کے ایلچی احتشام الدین اور اس کی رقاصہ بیٹی سائرہ کو بھی
سلطان ایوبی کے پاس لے آیا تھا۔ یہ ایک بے مثال کامیابی تھی۔ اسالم کی تاریخ پر اس جاسوس نے بہت بڑا احسان کیا
تھا۔ احتشام الدین نے سلطان ایوبی کو بتایا تھا کہ صلیبی موصل کے قریب پہاڑیوں کی کھوہ میں اسلحہ اور آتش گیر سیال
اور رسد کا بہت بڑا ذخیرہ جمع کریں گے جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اس کوہستان کو اپنی فوج کا اڈہ بنائیں گے۔ موصل
کو تو وہ اپنے چھاپہ ماروں کا اڈہ بنا رہے تھے۔ اس حقیقت کو سلطان ایوبی اور ساالر سمجھ سکتے تھے کہ جس فوج کا اڈہ
اور رسد قریب ہو ،وہ آدھی جنگ جیت لیتی ہے۔ صلیبی فوج کو یہ تلخ تجربہ ہوچکا تھا کہ انہوں نے جب کبھی پیش قدمی
کی یا حملہ کیا ،سلطان ایوبی کے چھاپہ ماروں نے عقب میں جاکر ان کی رسد تباہ کردی یا رسد اور فوج کے درمیان حائل
ہوکر رسد روک لی۔ آگے سلطان ایوبی نے یہ انتظام کررکھا ہوتا تھا کہ پانی جہاں کہیں ہوتا تھا ،وہاں قبضہ کرلیتا تھا۔ جہاں
کہیں گھاس اور چارہ ہوتا وہاں بھی وہ قبضہ کرلیتا یا گھاس وغیرہ کٹوا لیتا یا تباہ کردیتا تاکہ صلیبیوں کے گھوڑوں اور اونٹوں
کو چارہ نہ مل سکے ،اس کے عالوہ وہ بلندیوں پر اپنے تیر اندازوں کی ٹولیاں بٹھا دیتا تھا۔
آپ پڑھ چکے ہیں کہ سلطان ایوبی نے اپنی انٹیلی جنس کے سربراہ حسن بن عبداللہ سے کہا تھا کہ وہ معلوم کرے کہ
صلیبی کس مقام پر ذخیرہ کررہے ہیں ،اس نے چھاپہ مار دستوں کے ساالر صارم مصری سے کہا تھا کہ جب ذخیرے کا مقام
معلوم ہوجائے تو اسے تباہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ سلطان ایوبی کی دوربین نگاہوں نے دیکھ لیا تھا کہ صلیبی اب مکمل
تیاری کرکے کھلی جنگ لڑیں گے۔ اس سے پہلے وہ صلیبی عالقوں پر حملہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اسے جب احتشام الدین کی زبانی صلیبیوں کے عزائم کی اطالع ملی تو اس نے یہ منصوبہ بنایا کہ صلیبیوں کو کہیں بھی قدم
نہ جمانے دئیے جائیں۔ اس نے ایک حکم یہ دیا کہ معلوم کرو کہ صلیبی کوہستان میں کہاں ذخیرہ جمع کررہے ہیں اور دوسرا
حکم یہ دیا کہ سنجار کی طرف پیش قدمی کرو اور قلعے کو محاصرے میں لے لو۔ سنجار موصل سے کچھ دور ایک اہم قلعہ
اور جنگی اہمیت کا ایک قصبہ تھا۔ اس کا امیر شرف الدین بن قطب الدین تھا۔ سنجار کو اپنے قبضے میں لینے کا اقدام
سلطان ایوبی کے اس منصوبے کی کڑی تھی جس کے متعلق اس نے کہا تھا کہ وہ اب کسی سے تعاون کی بھیک نہیں مانگے
گا بلکہ تلوار کی نوک پر تعاون حاصل کرے گا۔ اسے معلوم تھا کہ یہ چھوٹے چھوٹے مسلمان امراء خودمختار حکمران رہنا
چاہتے ہیں ،اس لیے صلیبیوں کے ساتھ درپردہ معاہدے کررہے ہیں۔ سنجار کے امیر شرف الدین کے متعلق سلطان ایوبی کو
یقین ہوگیا تھا کہ وہ والئی موصل عزالدین کا دوست ہے اور اس دوستی کی بنیاد یہی ہے کہ سلطان ایوبی کے خالف محاذ
مضبوط کیا جائے۔
حسن بن عبداللہ نے اپنے جاسوسوں کا جائزہ لیا۔ موصل میں اس کے جاسوس موجود تھے لیکن وہ محسوس کررہا تھا کہ
کسی زیادہ ذہین اور جرٔات مند جاسوس کو ان کے پاس بھیجا جائے کیونکہ اسے خیال تھا کہ صلیبیوں کا ذخیرہ معلوم کرنا
مشکل کام ہوسکتا ہے۔ حسن االدریس نے اپنی خدمات پیش کیں۔ حسن بن عبداللہ اسے نہیں بھیجنا چاہتا تھا کیونکہ وہ لمبے
عرصے تک بیروت رہا تھا ،اس لیے اسے پہچانا جاسکتا تھا۔ حسن االدریس بھیس اور اپنا لب ولہجہ بدلنے کا ماہر تھا۔ اس
نے حسن بن عبداللہ سے کہا کہ وہ اگر بیروت چال جائے تو ایسا بہروپ دھارے گا کہ جو اسے پہچانتے ہیں ،وہ بھی نہیں
پہچان سکیں گے۔ موصل میں تو اسے کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ آخر اسی کو روانہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور سلطان ایوبی
نے خود اسے کچھ ہدایات دیں۔
میرے عزیز دوست!''… سلطان ایوبی نے اپنے ہاتھ سینے پر رکھ کر حسن االدریس سے کہا۔ ''تاریخ میں نام سلطان ''
ایوبی کاآئے گا۔ شکست کھائوں گا تو تاریخ مجھے شرمسار کرے گی اور فتح حاصل کرکے مروں گا لوگ میری قبر پر پھول
چڑھائیں گے اور آنے والی نسلیں مجھے خراج تحسین پیش کریں گی۔ یہ بہت بڑی بے انصافی ہوگی۔ فتح کا سہرا تمہارے سر
ہوگا ،تمہارے ان ساتھیوں کے سر ہوگا جو دشمن کے اندر جاکر خبر التے اور میری فتح کا باعث بنتے ہیں۔ خدا اس حقیقت
کو دیکھ رہا ہے ،تمہارے سر پر سہرا خدا اپنے ہاتھوں باندھے گا۔ میں شکست کھائوں گا تو یہ میری اپنی غلطی ہوگی کہ
میں نے تمہاری اطالع کے مطابق عمل نہ کیا اور میں فتح حاصل کروں گا تو یہ تمہاری فتح ہوگی کیونکہ میری آنکھیں اور
میرے کان تم ہو۔ میری روح تمہاری قبر پر پھول چڑھاتی رہے گی۔ عظیم تم ہو :اور تمہارے جاسوس ساتھی۔ میری کوئی
عظمت نہیں ،میں پوری فوج لے کر سنجار جارہا ہوں۔ تم اکیلے جارہے ہو۔ میں جو فتح پوری فوج کے ساتھ حاصل کروں گا،
وہ تم اکیلے کرلو گے۔ جائو میرے دوست! خدا حافظ''۔
جب حسن االدریس ایک غریب مسافر کے بھیس میں ایک اونٹ پر سوار ہوکر نصیبہ کی خیمہ گاہ سے نکال ،اس وقت سورج
غروب ہوچکا تھا۔ وہ دور نکل گیا تو اسے بے شمار گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دینے لگے۔ وہ رک گیا۔ اسے معلوم تھا یہ گھوڑے
کس کے ہیں ،یہ صالح الدین ایوبی سنجار کو محاصرے میں لینے جارہا تھا۔ اس نے نصیبہ سے اپنا کیمپ اکھاڑا نہیں تھا۔ اپنا
ہیڈکوارٹر اور کچھ عملہ وہیں رہنے دیا ور اپنے محفوظہ ( ریزروٹروپس) کو بھی تیاری کی حالت میں نصیبہ چھوڑ گیا تھا۔
٭ ٭ ٭
تم یہاں یہ معلوم کرنے آئے ہو کہ صلیبی پہاڑوں میں اپنا ذخیرہ کہاں رکھیں گے''… موصل کے جاسوسوں کے کمانڈر نے ''
کہا… ''اور ہم یہاں یہ معلوم کرنے کی سوچ رہے ہیں کہ یہ درویش کون ہے جو انہی پہاڑوں میں کہیں جا بیٹھا ہے۔ کوئی
عیسی''… اس نے حسن االدریس کو پوری تفصیل سے بتایا کہ اس درویش کو شہر میں اور
اسے امام مہدی کہتا ہے اور کوئی
ٰ
اردگرد کے عالقے میں کیسی شہرت حاصل ہوئی ہے… ''ان پہاڑیوں کے قریب سے گزرنے کی بھی اجازت نہیں۔ کچھ تو اپنی
فوج کے سنتری ہیں اور کچھ اجنبی سے آدمی ہیں جو کسی کو آگے نہیں جانے دیتے۔ درویش کسی پہاڑی کی چوٹی پر بیٹھا
ہے۔ اسے خدا آسمان سے کوئی اشارہ دے گا ،رات کو لوگ اپنی چھتوں پر کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے رہتے ہیں۔ کوئی
ستارہ ٹوٹتا ہے تو وہ چال اٹھتے ہیں ،وہ رہا اشارہ۔ لوگ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھولتے جارہے ہیں''۔
یہ چاروں جاسوس تھے۔ انہیں خصوصی ٹریننگ دی گئی تھی جس میں یہ تعلیم بھی شامل تھی کہ توہم پرستی حرام ہے اور
خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جو کچھ ہے وہ انسان خود ہے۔ جہاں موصل کے ہر باشندے کے دماغ پر یہ
درویش غالب آگیا تھا ،وہاں یہ چار جاسوس درویش کی حقیقت معلوم کرنے کی فکر میں تھے۔
میرے دوستو! میری بات ہنسی میں نہ ٹال دو تو کہوں''۔ حسن االدریس نے کہا۔ ''جہاں درویش ہے وہاں صلیبیوں کا ''
ذخیرہ ہے اور یہ کوئی معمولی ذخیرہ ہوتا تو اس عالقے کے لوگوں کے لیے ممنوع قرار دے کر درویش کا ڈھونگ نہ رچایا
جاتا۔ تم جانتے ہو کہ اتنے وسیع عالقے کے اردگرد پوری فوج کا پہرہ کھڑا کردو تو بھی کوئی نہ کوئی اندر چال ہی جاتا ہے
لیکن صرف یہ کہہ دینا کہ یہاں خدا کا بھیجا ہوا ایک درویش بیٹھا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اس عالقے میں کوئی آئے تو
کوئی ادھر دیکھنے کی جرٔات بھی نہیں کرتا''۔
یہ اعالن میں کہا گیا ہے کہ جس نے اس عالقے میں جانے کی اور درویش کو دیکھنے کی کوشش کی تو وہ کوڑھی ہوجائے''
گا اور اس کے بچے اندھے ہوجائیں گے''… حسن االدریس کے ایک اور ساتھی نے کہا… ''تم نے یہ بتا کر کہ صلیبی وہاں
کچھ رکھیں گے ،ہمارا آدھا مسئلہ حل کردیا ہے۔ اب ہمیں کیا کرنا ہے؟ صرف یہ معلوم کرنا ہے کہ درویش صلیبیوں کا کوئی
''ڈھونگ ہے یا یہ معلوم کرنا ہے کہ انہوں نے وہاں ذخیرہ کیا ہے؟
درویش کو ذخیرہ کے ساتھ تباہ کرنا ہے''۔ حسن االدریس نے کہا۔''
اور لوگوں کو اس وہم سے بچانا ہے جو ان پر طاری کردیا گیا ہے''۔ جاسوسوں کے کمانڈر نے کہا… ''صلیبیوں کی عقل ''
کی تعریف کرو۔ وہ اس جگہ ایک درویش کو بٹھا کر اپنے ذخیرے کو لوگوں کی نظروں سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے
ساتھ ہی وہ موصل کی فوج اور لوگوں کو اور والئی موصل کو بھی خدا کے اشارے کا جھانسہ دے کر جنگی تیاریوں سے باز
رکھنا چاہتے ہیں۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ فوج بھی اور لوگ بھی خدا کے اس اشارے کے انتظار میں بیٹھ گئے ہیں جو
درویش کو ملے گا''۔
والئی موصل کا درویش کے متعلق کیا رویہ ہے؟'' حسن االدریس نے پوچھا۔''
درویش اس کے محل میں اس کی چھ گھوڑوں کی بگھی پر گیا تھا''… کمانڈر نے جواب دیا… ''اور درویش اسی بگھی ''
میں پہاڑیوں میں گیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عزالدین بھی اس سازش میں شامل ہے یا وہ اس سازش کا شکار ہے
جو کچھ بھی ہے ،ہمیں معلوم ہوجائے گا۔ رضیع خاتون محل میں موجود ہے۔ اس سے معلوم ہوجائے گا کہ محل میں درویش
کی حیثیت کیا ہے''۔
انہوں نے اس عالقے اور درویش کی حیثیت معلوم کرنے پر غور کرنا شروع کردیا۔
20:59
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 138چلے قافلے حجاز کے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
غور کرنا شروع کردیا۔ سنجار کے قلعے کی دیواروں پر سنتری نیم بیدار تھے۔ وہ زمانہ جنگ وجدل کا تھا مگر سنجار کے امیر
شرف الدین بن قطب الدین کو کوئی خطرہ محسوس نہیں ہورہا تھا۔ وہ صلیبیوں کا حاشیہ بردار تھا۔ اس لیے ان سے اسے
کوئی خطرہ نہیں تھا۔ والئی حلب عماد الدین اور والئی موصل عزالدین نے اسے کہا کہ اسے جب بھی ضرورت پڑی وہ دونوں
اس کی مدد کو پہنچیں گے۔ وہ اس خوش فہمی میں مبتال تھا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کو اس کی نیت کا علم نہیں۔ وہ
شراب اور عورت میں بدمست ہوکر گہری نیند سویا ہوا تھا۔ صلیبیوں نے اسے دو بڑی حسین لڑکیاں تحفے کے طور پر بھیجی
تھیں۔ یہ لڑکیاں اسے بیداری کے خوابوں میں مگن رکھتی تھیں۔
قلعے کی دیوار کے اوپر سے ایک شرارہ سا گزر گیا۔ اس کے فورا ً بعد ایک اور پھر ایک اور… سنتری پر دہشت طاری ہوگئی۔
یہ شرارے قلعے کے اندر گرے اور بھیانک شعلے بن گئے۔ قریب ہی کوئی سامان پڑا تھا اور اس کے قریب ایک مکان تھا۔
دونوں کو آگ لگ گئی۔ یہ آتش گیر سیال کی ہانڈیاں تھیں جو سلطان ایوبی کی فوج نے منجنیقوں سے پھینکی تھیں۔ ان کے
ساتھ جلتے ہوئے فلیتے بندھے ہوئے تھے۔ ہانڈیاں مٹی کی تھیں جو گر کر ٹوٹیں تو اندر کا سیال پھیل گیا اور جلتے ہوئے
فلیتوں نے اسے آگ لگا دی۔
قلعے میں قیامت بپا ہوگئی۔ قلعے کے اوپر رات روشن ہوگئی۔ ہر کوئی جاگ اٹھا۔ امیر شرف الدین کو جگایا گیا ،اس نے
کھڑکی میں سے شعلے دیکھے تو واہی تباہی بکتا باہر آیا۔ کسی وقت شرف الدین مرد میدان ہوا کرتا تھا مگر صلیبیوں نے
اسے شراب اور لڑکیوں سے اس حال تک پہنچا دیا تھا کہ اس رات اس کے قدم نہیں اٹھتے تھے۔ راتوں کو ریگزاروں اور
سنگالخ وادیوں میں بال تھکے لڑنے واال جنگجو چلنے کے قابل نہیں رہا تھا… پھر قلعے کا رات کی ڈیوٹی واال کمان دار اوپر
سے دوڑا آیا اور شرف الدین کو بتایا کہ قلعہ محاصرے میں ہے۔
کس بدبخت نے محاصرہ کیا ہے؟'' اس نے پوچھا۔''
سلطان صالح الدین ایوبی نے''۔ کمان دار نے جواب دیا۔ ''وہ باہر سے للکار رہے ہیں کہ قلعے کے دروازے کھول دو'' ،
ورنہ ہم قلعے کو جال کر بھسم کردیں گے''۔
شرف الدین کا نشہ اتر گیا… وہ سوچ میں پڑ گیا۔ بہت دیر بعد بوال… ''دروازہ کھول دو ،ہم خود باہر جائیں گے''۔
کچھ دیر بعد قلعے کا دروازہ کھال ور شرف الدین باہر نکال۔ اس کے ساتھ مشعل بردار تھے۔ ادھر سے سلطان ایوبی نے اپنے
ایک ساالر سے کہا کہ وہ آگے جاکر شرف الدین کو اس کے پاس لے آئے۔ وہ خود ہی آرہا تھا۔ اس کے استقبال کے لیے
سلطان ایوبی ایک قدم آگے نہ بڑھا۔ شرف الدین سلطان ایوبی کے سامنے جاکر گھوڑے سے اترا اور بازو پھیال کر اس کی
طرف دوڑا لیکن سلطان ایوبی نے ایسا سرد رویہ اختیار کیا کہ بددلی سے اس کے ساتھ ہاتھ مالیا۔
شرف الدین!'' سلطان ایوبی نے کہا… ''اپنی فوج اور جنگی سامان کے سوا قلعے میں سے جو کچھ لے جانا چاہتے ہو''،
صبح طلوع ہونے سے پہلے نکال کر لے جائو ،پھر ادھر کا رخ نہ کرنا''۔ اس نے اپنے ایک ساالر سے کہا… ''کچھ نفری
اپنے ساتھ لے جائو اور نظر رکھو کے قلعے سے فوج اور جنگی سامان باہر نہ جائے۔ فوج کی گنتی کرو اور اسے اپنی فوج
میں شامل کرلو''۔
میں آپ کا غالم ہوں سلطان!'' شرف الدین نے کہا۔ ''قلعہ اور فوج آپ کی ہوگی۔ مجھے قلعے میں رہنے دیں''۔''
قلعے کی ضرورت تھی تو مقابلہ کرتے''۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ ''تم جیسے بزدلوں اور ایمان فروشوں کو حق حاصل نہیں''
کہ اتنے بڑے قلعے کے امیر کہالئیں''۔
میں اور آپ کا مقابلہ کرتا؟'' شرف الدین نے کہا۔ ''میں نے سنا کہ آپ آئے ہیں تو میں باہر آگیا۔ مسلمان مسلمان کے''
خالف کیسے لڑ سکتا ہے؟''۔
جیسے پہلے لڑ چکا ہے'' ۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ ''شرف الدین! تم صلیبیوں کے دوست ہو اور نام کے مسلمان ،ذرا اپنی''
حالت دیکھو ،تم سپاہی سے کیا بن گئے ہو۔ ایمان بیچ کر عیاشی خریدنے والوں کی یہی حالت ہوتی ہے۔ شراب اور عورت
نے تم میں جرٔات نہیں رہنے دی۔ تم جھوٹ بھی بولتے ہو ،اگر تم میں ذرا سی بھی غیرت ہوتی تو اپنا قلعہ یوں لڑے بغیر
اور مرے بغیر میرے حوالے نہ کرتے''۔
سلطان عالی مقام!'' شرف الدین نے التجا کی۔ ''مجھے قلعے میں رہنے دیجیے''۔''
سلطان نے اپنے ایک ساالر سے کہا۔ ''اسے قلعے میں لے جائو اور قید میں ڈال دو۔ اس کی خواہش پوری کردو''۔
تین چار آدمی آگے بڑھے تو شرف الدین نے سلطان ایوبی کے قریب ہوکر کہا… ''میں موصل جانا چاہتا ہوں''۔
ہاں۔ عزالدین تمہارا دوست ہے''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''اس کے پاس چلے جائو''۔''
سنجار پر سلطان ایوبی نے قبضہ کرلیا اور تقی الدین کو اس کا قلعہ دار اور امیر مقرر کیا۔
اس سے آگے آمد ایک قلعہ تھا۔ سلطان ایوبی نے رات باقی حصہ سنجار قلعے میں گزارا اور صبح آمد کی طرف کوچ کرگیا۔
آمد جسے آج کل امیدہ کہا جاتا ہے ،دجلہ کے کنارے ایک مشہور قصبہ تھا اور اس کا بھی امیر مسلمان تھا۔ یہ قصبہ ایک
قلعہ تھا۔ سلطان ایوبی نے اسے محاصرے میں لے لیا ،وہاں کی فوج اور شہریوں نے مقابلہ کرنے کی کوشش کی مگر آٹھویں
روز امیر نے ہتھیار ڈال دئیے۔ سلطان ایوبی نے وہاں کا جو امیر اور قلعہ دار مقرر کیا اس کا نام نورالدین تھا جو کارا ارسالن
کا بیٹا تھا۔
٭ ٭ ٭
رعدی چار صلیبیوں کے ساتھ ابھی سفر میں تھی۔ اس کی جسمانی حالت ٹھیک ہوگئی تھی۔ صلیبیوں نے اس کے آرام کا
بہت خیال رکھا تھا لیکن اس رات کے بعد جب اس نے انہیں اپنی زندگی کی کہانی سنائی تھی ،ان کے ساتھ کوئی بات نہ
کی۔ اس کے ذہن میں صلیبی کے یہ الفاظ گونج رہے تھے۔ ''تمہیں خدا نے دھتکار دیا ہے ،کوئی نیکی کرو ،خدا تمہیں بخش
دے گا''… اس کی جسمانی حالت تو ٹھیک تھی لیکن جذباتی حالت بہت بری تھی۔ وہ جس کے ساتھ حج کو جارہی تھی،
اس کی یاد اسے تڑپاتی رہتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی اس کے تصوروں میں حجاز کے قافلے سوئے منزل چلتے رہتے تھے۔ وہ
جب بہت پریشان ہوجاتی تو یہ سوچنے لگتی کہ خدا اسے اس کے گناہوں کی سزا دے رہا ہے۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ
گناہوں سے بخشش کس طرح مانگی جاتی ہے۔
رعدی اپنے چار محافظوں کے ساتھ منزل کے قریب آگئی تھی۔ یہ اب موصل کے عالقے میں داخل ہوگئے تھے۔ ایک روز
انہوں نے ایک شتر سوار دیکھا جس نے انہیں دیکھ کر اونٹ روک لیا تھا۔ اس نے سر اور چہرہ سیاہ پگڑی میں لپیٹ رکھا
تھا۔ صرف آنکھیں نظر آتی تھیں۔ اس کی نظریں رعدی پر جمی ہوئی تھیں۔ صلیبی سپاہی اپنی فوجی وردی میں نہیں تھے،
اس لیے کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ یہ صلیبی سپاہی ہیں۔ انہیں ڈاکو یا مسافر کہا جاسکتا تھا۔
اس شتر سوار کی آنکھیں دیکھی تھیں؟'' ایک صلیبی نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا۔''
بہت غور سے دیکھی تھیں'' ۔ دوسرے سپاہی نے جواب دیا۔ ''میں ان نظروں کو پہچانتا ہوں۔ اب ہمیں زیادہ ہوشیار رہنا''
پڑے گا۔ یہ لڑکی اتنی خوبصورت ہے کہ کسی ڈاکو کی نظر میں آگئی تو مشکل پیدا ہوجائے گی۔ آگے عالقہ پہاڑی ہے''۔
وہ دن بھر چلتے رہے۔ شام کے بعد دو چٹانوں کے درمیان موزوں جگہ دیکھ کر انہوں نے گھوڑے روک لیے اور کھانے پینے کا
اہتمام کرنے لگے۔ کھانے کے بعد وہ بے سدھ ہوگئے۔ صرف ایک سپاہی ہر رات کی طرح جاگتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد اسے کوئی
آہٹ سنائی دی۔ یہ کسی گیڈر وغیرہ کے چلنے سے ڈھالن سے پتھر لڑھکا ہوگا لیکن سپاہی چوکنا ہوگیا۔ اس نے کان کھڑے
کرلیے ،آہٹ سنائی دی۔ اس نے اپنے ایک ساتھی کو جگایا اور اسے کان میں بتایا کہ اسے کسی کی آہٹ سنائی دے رہی
ہے۔ وہ بھی اٹھا۔ دونوں نے کمانوں میں تیر ڈال لیے اور ایک ایک طرف ا ور دوسرا دوسری طرف کھڑا ہوگیا۔
رات تاریک تھی ،کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ اب کوئی آہٹ سنائی نہیں دیتی تھی۔ رات کے سکوت میں یکے بعد دیگرے دو مرتبہ
'' پنگ پنگ'' کی آواز سنائی دی۔ پیشتر اس کے کہ دونوں سپاہی ان آوازوں کی سمت معلوم کرسکتے ،ایک ایک تیر دونوں
کی پسلیوں میں اتر گیا۔ ان کے ساتھی دن بھر کے تھکے ہوئے گہری نیند سورہے تھے۔ ان دونوں نے تیر کھا کر انہیں آوازیں
دیں تو وہ ہڑبڑا کر اٹھے ،بھاگتے قدموں کی آوازیں سنائی دیں تو ایک مشعل بھی جل اٹھی جو ان دونوں سپاہیوں کی طرف
بڑھ رہی تھی۔ فورا ً بعد وہ سات آٹھ آدمیوں کے محاصرے میں آگئے۔ ان میں ایک نے چہرہ اور سر پگڑی میں لپیٹ رکھا تھا۔
یہ وہی معلوم ہوتا تھا جو دن کے وقت اونٹ پرسوار تھا اور اس نے رک کر رعدی کو گہری نظروں سے دیکھا تھا۔
دونوں سپاہی تھے ،انہوں نے تلواروں سے مقابلہ کیا لیکن سات آٹھ برچھیوں نے ان کے جسم چھلنی کردئیے اور رعدی :
حملہ آوروں کے قبضے میں آگئی۔ وہ الگ کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر خوف کی ہلکی سی بھی جھلک نہیں تھی۔ مشعل
کے ناچتے ہوئے شعلے میں اس کا حسن ایسا پراسرار لگ رہا تھا جیسے وہ اس دنیا کی مخلوق نہ ہو۔
رعدی کو گھوڑے پر سوار کرلیا گیا۔ سیاہ پگڑی واال بھی گھوڑے پر سوار ہوا اور دونوں گھوڑے پہلو بہ پہلو چلنے لگے۔ اس
آدمی نے رعدی سے پوچھا… ''اپنے متعلق کچھ بتائو گی؟''… رعدی نے اپنے متعلق سب کچھ بتا دیا۔
٭ ٭ ٭
رعدی کو جہاں لے جایا گیا ،وہ کوئی محل یا مکان نہیں بلکہ ایک چوکور خیمہ تھا۔ اس کا آدھا حصہ زمین کے اوپر اور باقی
نصف زمین میں تھا۔ قناتیں اور اوپر شامیانہ پھول دار ریشمی کپڑے کا تھا۔ اندر قالین بچھا ہوا اور چوڑا پلنگ تھا۔ فانوس
روشن تھے۔ گمان نہیں ہوتا تھا کہ یہ خیمہ ہے۔ شراب کی صراحی بھی رکھی تھی۔ وہاں تین آدمی موجود تھے جن کے
متعلق فورا ً پتہ چل گیا کہ صلیبی ہیں۔ انہوں نے رعدی کو دیکھا تو وہ خاموشی سے اور حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔ سیاہ
نقاب پوش اس کے ساتھ تھا۔ اس نے پگڑی کا نقاب اتار پھینکا اور بوال… ''ایسا تحفہ پہلے کبھی دیکھا ہے؟… اور یہ رقاصہ
ہے''۔
رعدی خاموش کھڑی رہی۔ فانونس کی روشنی میں اس کا حسن اور زیادہ طلسماتی لگتا تھا۔ وہ یہاں بھی خوفزدہ نہیں تھی۔
اسے پلنگ پر بٹھایا گیا اور پوچھا گیا کہ وہ کون ہے اور کہاں جارہی تھی۔ رعدی نے اپنی زندگی کی کہانی ایک بار پھر سنا
دی۔ اس کی کہانی سے وہاں کوئی بھی متاثر نہ ہوا۔ ان لوگوں کے پاس متاثر ہونے والے جذبات کی کمی تھی۔ اس سوال
کے جواب میں کہ وہ کہاں جارہی تھی ،اس نے کہا… ''مجھے کسی صلیبی بادشاہ کے پاس لے جایا جارہا تھا''۔
تو کیا تم نے چار صلیبیوں کو قتل کردیا ہے؟'' ایک آدمی نے غصے سے اس آدمی سے پوچھا جو رعدی کو الیا تھا۔''
وہ صلیبی نہیں لگتے تھے''۔ اس نے جواب دیا… ''تم نے مجھے کہا کہ دو تین لڑکیاں لے آئو تاکہ اس ویرانے میں دل ''
بہالنے کا کوئی ذریعہ ہو۔ مجھے اتفاق سے یہ نظر آگئی۔ میں نے ان چاروں کو مشکوک مسلمان سمجھا۔ پیچھا کیا اور انہیں
قتل کرکے لڑکی لے آیا''۔
''تمہارے ساتھ کون کون تھا؟''
صرف دو آدمی تھے''۔ اس نے جواب دیا… ''باقی پانچ موصل کے مسلمان تھے جو یہاں پہرے کا کام کرتے ہیں''۔''
اگر یہ راز فاش ہوگیا کہ تم نے اپنے کسی حکمران کا تحفہ اس کے محافظوں کو قتل کرکے اڑا لیا ہے تو اس کا نتیجہ ''
''جانتے ہو کیا ہوگا؟
وہ خاموش رہا۔ اچانک ایک آدمی خیمے میں اترا اور بوال… ''یہ راز فاش نہیں ہوگا۔ تم ڈرتے ہو کہ ہم جو مسلمان تمہارے
ساتھ ہیں ،یہ راز فاش کردیں گے۔ ایسا نہیں ہوگا''۔
''یہ کون ہے؟''
یہ میرا خاص آدمی ہے''۔ سیاہ پگڑی والے نے جواب دیا اور موصل کے کسی بڑے آدمی کا نام لے کر کہا… ''اس نے ''
دیا ہے ،قابل اعتماد اور عقل مند ہے''۔
میں آپ کا ہی آدمی ہوں'' اس نے کہا… ''موصل اور اس عالقے کے جو راز آپ کے پاس جاتے ہیں ،وہ میرے اور ''
میرے ساتھیوں کے حاصل کیے ہوئے ہوتے ہیں''۔
اس سے کچھ اور باتیں پوچھی گئیں جن کے جواب میں اس نے ایسے انداز سے باتیں کیں کہ سب نے اسے قابل اعتماد
سمجھ لیا۔ کسی کو ذرا سا بھی شبہ نہ ہوا کہ یہ صالح الدین ایوبی کا بڑا ہی خطرناک جاسوس ہے جس کا اصل نام حسن
االدریس ہے۔ خدا نے اس کے چہرے مہرے اور جسم کی ساخت میں ایسی جاذبیت پیدا کی تھی کہ دیکھنے واال اسے نظر انداز
نہیں کرسکتا تھا۔ اس نے اپنی زبان اور لب ولہجے میں ایسا جادو پیدا کرلیا تھا جسے سننے واال مسحور ہوجاتا تھا۔ وہ
اداکاری اور لہجہ بدل کر بات کرنے کا ماہر تھا۔ موصل میں سلطان ایوبی کے جو جاسوس تھے ،ان کا رابطہ حکام کے حلقے
تک بھی تھا۔ انہوں نے معلوم کرلیا تھا کہ اس درویش سے والئی موصل عزالدین بھی متاثر ہے۔ اس نے موصل کے ہر
باشندے کی طرح تسلیم کرلیا تھا کہ درویش کو آسمان سے اشارہ ملے گا اور اس کے بعد عزالدین اپنی فوج کو باہر نکالے گا
پھر یہ فوج فتح پر فتح حاصل کرتی چلی جائے گی۔
جاسوسوں کو عزالدین کے عقیدے کے متعلق اس کی بیوی رضیع خاتون (بیوہ نورالدین زنگی) نے اطالع دی تھی۔ اس :
خاتون کے متعلق آپ پچھلی اقساط میں پڑھ چکے ہیں۔ وہ سلطان ایوبی کی عقیدت مند تھی۔ محل کی خبریں اسی کے
ذریعے باہر آتی تھیں۔ اس نے جاسوسوں کو تفصیل سے بتایا تھا کہ عزالدین صلیبیوں کے جال میں بری طرح پھنس گیا ہے۔
صلیبیوں نے اس پر جادو ساکردیا ہے۔ یہ درویش اگر صلیبیوں کا کوئی ڈھونگ نہیں اور درویش ہی ہے تو یہ کوئی پاگل ہے۔
اس کا یہ کہنا ہے کہ خدا اسے فتح کا اشارہ دے گا ،ہمارے اسالمی عقیدے کے منافی ہے۔ اس پیغام کے ساتھ رضیع خاتون
نے جاسوسوں سے کہا تھا کہ اس درویش کو بے نقاب کریں اور ممکن ہو تو قتل کردیں۔ رضیع خاتون نے اس شک کا بھی
اظہار کیا کہ صلیبی ان پہاڑیوں کے اندر کچھ اور کررہے ہیں۔ معلوم کرو کہ یہ کیا ہے اور اس کی اطالع سلطان ایوبی تک
پہنچائو۔
حسن االدریس درویش کی پراسرار دنیا میں داخل ہوگیا تھا اور اس نے ان صلیبیوں میں اعتماد حاصل کرلیا تھا جو پہاڑیوں میں
رہتے تھے مگر اسے ایک حد سے آگے پہاڑیوں میں نہیں جانے دیا جاتا تھا جو راز تھا ،وہ اس حد سے آگے تھا۔ وہاں
پہاڑیاں اونچی تھیں اور ان میں گھری ہوئی چٹانیں تھیں۔ حسن االدریس درویش کو دیکھنا چاہتا تھا مگر وہ اسے نظر نہیں آتا
تھا۔ وہ کسی سے پوچھتا نہیں تھا ،تاکہ اس پر کوی شک نہ کرے۔ اس نے اس قدر اعتماد حاصل کرلیا تھا کہ وہ اسے رعدی
کے اغوا کے لیے بھی ساتھ لے گئے تھے۔
رعدی اس نیم زمین دوز سائبان میں رہنے والے دو تین صلیبیوں کے تفریح کا سامان بن گئی تھی۔ ان میں جو ان کا سربراہ
تھا ،وہ رعدی کو تفریح کے ذریعے سے کچھ زیادہ اہمیت دینے لگا تھا۔ اس لیے وہ اس لڑکی کو ہر کسی کا کھلونا بننے کی
اجازت نہیں دیتا تھا۔ یہ رعدی کے حسن کا اثر بھی تھا جو بازاری قسم کی ناچنے والیوں کی نسبت پاک اور معصوم لگتا تھا
اور یہ اثر اس کی باتوں کا بھی تھا جو ناچنے والیوں جیسی نہیں تھیں۔ ایک رات اس سربراہ نے اس سے پوچھا… ''کیا تم
''میری خوشنودی کے لیے ناچتی ہو اور کیا تم میرے ساتھ راتیں گزارنے میں خوشی محسوس کرتی ہو؟
نہ آپ کو خوش ہونا چاہیے ،نہ میں خوش ہوں''۔ رعدی نے متانت سے کہا… ''مجبوری نے مجھے کھلونا بنا دیا ہے۔ ''
میں دل کی بات کہنے سے ڈروں گی نہیں۔ مجھے آپ سے نفرت ہے۔ میں آپ کے ہر حکم کی تعمیل شدید حقارت سے
کرتی ہوں''۔
تم جانتی ہو کہ اس بدزبانی کی پاداش میں ،میں تمہارا سر تن سے جدا کرسکتا ہوں؟'' سربراہ نے کہا۔ ''میں تمہارا یہ''
حسین چہرہ گدھوں کے آگے پھینک سکتا ہوں''۔
اور یہ میرے لیے بہت بڑا انعام ہوگا''۔ رعدی نے کہا… ''میرے لیے یہ بہت سخت سزا ہے کہ میرا سر میرے تن کے ''
ساتھ ہے اور آپ جیسا گدھ میری
رو ح کو کھا رہا ہے۔ آپ اپنے آپ کو جنگجو اور بہادر سمجھتے ہیں ،ایک بے بس اور مجبور لڑکی کو قید میں رکھ کر
فخر محسوس کرتے ہیں ،مردانگی اور تلوار کے زور سے آپ مجھے اپنی لونڈی بنانا چاہتے ہیں۔ میرے دل پر اس طرح حکومت
کریں کہ آپ مجھ سے یہ نہ پوچھیں کہ میں آپ کی خوشنودی کے لیے آپ کا حکم مانتی ہوں؟ بلکہ میں آپ سے پوچھوں
''کہ میرے رقص اور میرے وجود سے آپ کو مسرت حاصل ہوتی ہے یا نہیں؟
''اگر میں تمہارے سامنے سونے کی ڈلیاں رکھ دو تو دل سے مجھے اپنا آقا تسلیم کرلو گی؟''
نہیں''۔ رعدی نے جواب دیا… ''مجھے جس انعام کی ضرورت ہے ،وہ تمہارے پاس نہیں ہے۔ وہ جس کے پاس تھا وہ ''
مرگیا۔ وہ انسان تھا ،جسے میرے جسم کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں تھی… اور تم؟… تم گدھ ہو ،گیڈر ہو ،بھیڑیے ہو''۔
''اس نے تمہیں محبت دی تھی''۔ سربراہ نے کہا… ''اگر میں تمہیں وہی محبت دے دوں تو؟''
میں نہیں ،میری روح محبت کی پیاسی ہے''۔ اس نے کہا۔ سربراہ نے شراب کا پیالہ اٹھایا۔ منہ سے لگانے لگا تو ''
رعدی نے پیالہ پکڑ لیا اور اس کے ہاتھ سے لے کر رکھا نہیں بلکہ پرے پھینک دیا ور کہا… ''مجھے باتوں پر اکسایا ہے تو
میری باتیں سن لو۔ شراب پی لو گے تو تمہاری عقل اور جذبات پر بھی پردے پڑ جائیں گے۔ تم نے پوچھا ہے کہ تم مجھے
وہی محبت دے دو تو میں قبول کرلوں گی؟ مجھے پہلے اپنی محبت دکھائو۔ یہ سچی ہوئی تو مجھے اپنے ساتھ جلتے ہوئے
صحرا میں لے چلو گے تو ہنسی خوشی چلوں گی۔ تمہارے ساتھ جل کر مرجائوں گی''۔
سربراہ نے اسے دیکھا۔ اس نے اس لڑکی کے جسم کے روئیں روئیں کو دیکھا تھا۔ کئی روز سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے بھورے
مگر لڑکی نے نفرت اور حقارت کا اظہار ایسی بے خوفی
بھورے ،بکھرے بکھرے بالوں کے گداز سے بھی لطف اندوز ہوا تھا۔
سے کردیاا ور اس کے ہاتھ سے پیالہ چھین کر پرے پھینک دیا تو اس شخص کی مردانگی جواب دے گئی۔ اس نے اپنے آپ
میں ایسی بے بسی محسوس کی جیسے یہ لڑکی اس پر طلسم بن کر غالب آگئی ہو۔ یہ مرد کی فطرت ہے کہ دس مردوں کا
مقابلہ کرسکتا ہے ،درندوں سے بھی لڑ جاتا ہے مگر ایک عورت جسے وہ پسند کرتا ہے ،وہ اسے کہہ دے کہ مجھے تم سے
نفرت ہے تو وہ ریت کی ڈھیری بن جاتا ہے۔ یہی جذباتی حالت اس شخص کی ہوئی جس نے جوانی میدان جنگ میں گزاری
اور مسلسل موت سے کھیل رہا تھا۔
میں تمہیں اپنے کسی ساتھی کے ہاتھ کھلونا نہیں بننے دوں گا''۔''
میں حکم کی پابند ہوں''۔ رعدی نے کہا… ''میں خودکشی نہیں کروں گی۔ یہ بزدلی ہے۔ میں بھاگنے کی بھی کوشش ''
نہیں کروں گی ،یہ دھوکہ ہے۔ میں خودکشی کرچکی ہوں،اپنا من مار دیا ہے''۔
وہ آہستہ آہستہ اٹھا اور اس طرح قدم پھونک کر رعدی کی طرف بڑھا جیسے اس لڑکی نے اسے ہیپناٹائز کرلیا ہو۔ اس نے
آہستہ آہستہ اپنا ہاتھ اٹھایا اور رعدی کے بالوں پر ہاتھ پھیر کربوال… ''تم میرے تصوروں سے بھی زیادہ خوبصورت ہو''۔ اس
نے ہاتھ پیچھے کرلیا اور بوال… ''میں نے آج پہلی بار محسوس کیا کہ تمہاری آواز میں سوز ہے ،تم رقاصہ ہو۔ مغنیہ تو
''نہیں؟
میں گاتی بھی ہوں''۔ رعدی نے کہا… ''لیکن نغمہ وہ سنائوں گی جو مجھے پسند ہوگا ،جس میں میرا درد ہوگا''۔''
وہ گنگنانے لگی ''چلے قافلے حجاز کے''۔
سائبان کے اندر کے ماحول پر وجد طاری ہوگیا۔ آواز رعدی کے دل سے نکل رہی تھی۔ اس نغمے میں اس کی محبت کے
بین تھے۔ دل کی آہیں تھیں ،آرزوئوں کا سوز تھا اور اس کے ان خوابوں کا حسن تھا جو حجاز کے راستے میں شہید ہوگئے
تھے۔ رعدی کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے ،اس کی لے اور پرسوز ہوگئی… اور عجیب بات یہ ہوئی کہ صلیبی سربراہ کی
ایسی غنودگی آنے لگی جو اسے پہلے کبھی نہیں آئی تھی۔ اسے ہر رات شراب مدہوش کرتی اور وہ اسی مدہوشی میں
سوجایا کرتا تھا۔
وہ گہری نیند سوگیا تو رعدی کی نظر اس خنجر پر پڑی جو پلنگ کے قریب تپائی پر پڑا تھا۔ رعدی نے آہستہ سے خنجر
نیام سے نکاال۔ اس کی نوک پر انگلی رکھی اور خنجر مضبوطی سے پکڑ کر سوئے ہوئے صلیبی کے قریب گئی۔ اس نے خنجر
کی نوک اس کی شہ رگ کے قریب کی ،پھر دل کے قریب لے گئی۔ ہاتھ اوپر اٹھایا تو اسے آواز سنائی دی… ''شی''…
اس نے ادھر دیکھا۔ سائبان کا پردہ اٹھائے وہی خوبرو آدمی کھڑا تھا جس نے کہا تھا کہ وہ صلیبیوں کا جاسوس ہے۔ وہ حسن
االدریس تھا۔
٭ ٭ ٭
حسن االدریس نے رعدی کو اشارے سے اپنی طرف بالیا۔ رعدی نے خنجر نیام میں ڈاال اور پردے تک گئی… حسن االدریس :
نے اسے بازو سے پکڑا اور باہر لے گیا ،بوال… ''آج رات یہ اکیال ہے ،دوسرے بہت دنوں کے لیے چلے گئے ہیں۔ یہ شخص
میری ذمہ داری اور حفاظت میں ہے لیکن میں سوئے ہوئے کو قتل نہیں کروں گا۔ اسے جو قتل کرنے آئے گا ،وہ میرے ہاتھوں
مارا جائے گا… تم تو اسے کہہ رہی تھی کہ میں خود کشی نہیں کروں گی کہ یہ بزدلی ہے اور میں بھاگوں گی نہیں کہ یہ
''دھوکہ ہے ،مگر سوئے ہوئے کو قتل کرنے لگی تھیں ،کیا یہ دھوکہ نہیں؟
تم اسے بتا دو گے کہ میں نے اس کی شہ رگ اور دل پر خنجر رکھا تھا؟'' اس نے پوچھا اور آہ لے کے بولی… ''بتا ''
دینا۔ وہ مجھے قتل کردے گا۔ اس سے میرا بھال ہوجائے گا اور وہ تمہیں انعام دے گا ،اس سے تمہارا بھال ہوجائے گا''۔
مجھے اس شخص سے اتنی ہی نفرت ہے جتنی تمہارے دل میں ہے''۔ حسن االدریس نے کہا… ''میں اسے کچھ نہیں ''
بتائوں گا''۔
''اور مجھ سے اس کا انعام مانگو گے؟'' رعدی نے پوچھا… ''بلکہ مجھے انعام کے طور پر مانگو گے؟''
نہیں'' حسن االدریس نے کہا… ''مجھے کسی انعام کی ضرورت نہیں''… وہ لڑکی کو ذرا پرے لے گیا اور اپنائیت کے ''
لہجے میں بوال… ''میں بھی تمہارے طرح حجاز کا مسافر ہوں۔ ہم نے جس رات تمہیں ان آدمیوں سے چھینا تھا ،اس رات
تم نے اپنی زندگی کی کہانی سنائی تھی۔ تم نے اپنے جذبات اور اپنی ایک خواہش کا بھی ذکر کیا تھا۔ میں اس رات سے
سوچ رہا ہوں کہ تمہیں کون سی نیکی بتائوں جس سے تم خدا کی خوشنودی حاصل کرسکتی ہو''۔ حسن االدریس کی زبان
کے سحر نے رعدی کو مسحور کرلیا۔ وہ بولتا رہا ،وہ سنتی رہی۔ سلطان ایوبی کے اس جاسوس نے اس حسینہ کے دل پر
قبضہ کرلیا… رعدی وہاں سے اٹھنے پر آمادہ نہیں تھی… حسن االدریس نے اسے جانے پر مجبور کیا تو وہ چلی گئی۔
وہ تین چار راتیں ملے۔ حسن االدریس نے رعدی کو اپنی جذباتی باتوں اور نیک نیتی کے جادو میں گرفتار کرلیا تھا۔ رعدی
اس سے حجاز کی باتیں پوچھتی تھی اور وہ جذباتی انداز میں اسے حجاز کی دلکش باتیں سناتا تھا۔ دن کے وقت حسن
االدریس اس کوشش میں لگا رہتا کہ معلوم کرسکے کہ جہاں اسے نہیں جانے دیا جاتا ،وہاں کیا ہے مگر وہ کچھ بھی معلوم نہ
کرسکا۔ ایک رات اس نے لڑکی کو اعتماد میں لے لیا اور کہا کہ ان لوگوں نے ان پہاڑوں میں کیا چھپا رکھا ہے۔ رعدی نے
فورا ً جواب دیا۔ '' جنگی سامان ہے۔ اس ( سربراہ) نے مجھے بتایا تھا۔ کہتا تھا کہ اس میں آگ لگانے واال تیل اتنا زیادہ
ہے کہ مسلمانوں کے سارے شہروں کو جال کر بھی ختم نہ ہو… بے شک میں اس شخص کی لونڈی بلکہ داشتہ ہوں لیکن یہ
میرے آگے غالموں جیسی حرکتیں کرتا ہے''۔
''کیا تم اس سے خوش ہو کہ تم اتنے اونچے رتبے والے صلیبی کی داشتہ ہو اور یہ تمہارا غالم ہے؟''
نہیں!'' رعدی نے اداس لہجے میں جواب دیا… ''میں اپنے جسم کی بات کررہی ہوں۔ میری روح کبھی خوش نہیں ''
ہوگی۔ مجھے جو حجاز کے راستے سے اغوا کرکے الئے تھے ،وہ کہتے تھے کہ خدا تم سے ناراض ہے۔ کوئی ایسی نیکی کرو
کہ خدا تمہارے گناہ بخش دے اور جو مجھے حجاز لے جارہا تھا اور جسے میں نے چاہا تھا ،کہتا تھا کہ حج کرکے ہم پاک
ہوجائیں گے ،پھر وہیں شادی کریں گے۔ میں تو گناہوں میں ڈوبتی چلی جارہی ہوں۔ میں کیا نیکی کروں گی۔ خدا مجھے سزا
دیتا چال جائے گا''۔
زم زم کا پانی ہی نہیں ،آگ بھی تمہیں پاک کرسکتی ہے''… حسن االدریس نے ہنس کر کہا… ''تم حجاز نہ پہنچ سکی''،
پاسبان حجاز کو خوش کردو تو خدا تمہاری روح کو گناہوں سے پاک کردے گا ،تم نجات پالو گی''۔
''کون ہے پاسبان حجاز؟'' رعدی نے حیران ہوکر پوچھا… ''اور یہ کون سی آگ ہے جو مجھے پاک کرسکتی ہے؟''
پاسبان حجاز سلطان صالح الدین ایوبی ہے''۔ حسن االدریس نے کہا… ''اور آگ یہ ہے جو ان پہاڑوں میں کنستروں اور ''
مٹکوں میں تیل کی صورت میں بھری پڑی ہے۔ اس سے حجاز تک کو آگ لگائی جائے گی۔ تم کسی طرح مجھے وہاں تک
پہنچا دو ،جہاں آگ اور جنگ کا سامان بھرا پڑا ہے''۔
رعدی کچھ سمجھ نہ سکی۔ حسن االدریس نے اسے بڑی لمبی کہانی سنائی۔ سلطان ایوبی کا عزم اور اس کا کردار بتایا۔
صلیبیوں کے عزائم بتائے اور اسے ایسی باتیں سنائیں کہ اس کے دل میں صلیبیوں کی نفرت پیدا ہوگئی اور اسے حق اور
باطل کا تضاد معلوم ہوگیا۔
٭ ٭ ٭
دوسرے دن حسن االدریس نے دیکھا کہ رعدی گھوڑے پر سوار صلیبی سربراہ کے ہمراہ پہاڑیوں کے اس حصے کی طرف :
جارہی تھی جدھر حسن االدریس کو اور صلیبی پہرہ داروں کو بھی جانے کی اجازت نہیں تھی… رات کو سربراہ رعدی سے دل
بہال کر گہری نیند سوگیا۔ یہ نیند بہت ہی گہری تھی کیونکہ رعدی نے حسن االدریس کا دیا ہوا چٹکی بھر سفوف اس کے
شراب کے پیالے میں ڈال دیا تھا۔ جاسوس بے ہوش کرنے واال سفوف اپنے ساتھ رکھا کرتے تھے۔ رعدی اس جگہ پہنچ گئی
جہاں حسن االدریس اس کے انتظار میں کھڑا تھا۔
وہاں تو بہت بڑا غار ہے'' ۔ رعدی نے اسے بتایا… ''ان لوگوں نے کھود کھود کر اسے زیادہ وسیع کرلیا ہے۔ اتنا چوڑا اور''
لمبا کہ دہانے سے دوسرا سرا نظر نہیں آتا۔ اندر آگ لگانے والے تیل کے ہزار ہا مٹکے اور کنستر رکھے ہیں۔ ساتھ ہی
برچھیاں ،تیروکمان ،اناج ،خیمے ،کپڑے اور بے انداز سامان پڑا ہے… میں نے اس صلیبی سردار سے بچوں کی طرح کہا کہ میں
ان پہاڑیوں کے اندر سیر کرنا چاہتی ہوں۔ اس نے کہا کہ کل دن کو لے چلوں گا۔ تم تو میری ملکہ ہو۔ کسی کو بتانا مت
کہ میں تمہیں ادھر لے گیا تھا۔ وہ مجھے لے گیا''… رعدی نے اسے بتایا کہ اس غار میں سامنے دو آدمی پہرے پر کھڑے
رہتے ہیں اور غار کا دہانہ کھال رہتا ہے۔ غار سے سو ڈیڑھ سو گز دور پہرہ دار دستے کے خیمے ہیں۔ رعدی نے کہا… ''غار
سے ذرا پرے ایک خیمہ ہے جس کے باہر ایک ضعیف آمی بیٹھا اونگھ رہا تھا۔ سربراہ نے اسے پائوں کی ٹھوکر سے بیدار
کرکے کہا… ''اوئے درویش! کوئی تکلیف تو نہیں؟ کھانا ٹھیک ملتا ہے؟… بوڑھے نے صغیف آواز میں پوچھا۔ ''جناب ،مجھے
کب رہا کرو گے؟ مجھے اب جانے دو''… سربراہ نے نفرت سے کہا… ''ابھی انتظار کرو ،بہت انعام ملے گا''… یہ شاید
وہی درویش ہے جس کا تم نے ذکر کیا تھا''۔
ہاں!'' حسن االدریس نے کہا… ''یہ صلیبیوں کا وہی ڈھونگ ہے جس نے موصل کے باشندوں اور ان کے والئی عزالدین ''
کو بھی دیوانہ بنا رکھا ہے… آئو رعدی! ہم دونوں مل کر خدا سے تمہارے گناہوں کی بخشش حاصل کریں گے''۔
دونوں چل پڑے مگر چھپ چھپ کر۔ رات کا اندھیرا فائدہ دے رہا تھا۔ وہ چٹانوں کی تنگ گلیوں سے گزرتے ،رکتے ،ادھر ادھر
دیکھتے ،کان کھڑے کیے ہوئے اس جگہ پہنچ گئے ،جہاں دو پہرہ دار کھڑے تھے۔ ان کے قریب ایک مشعل جل رہی تھی جس
کا ڈنڈا زمین میں گڑھا ہوا تھا۔ حسن االدریس اور رعدی ان سے پندرہ بیس قدم دور چھپے رہے۔ دونوں اپنی اپنی جان کی
بازی لگانے آئے تھے۔ خدا دیکھ رہا تھا۔ حسن االدریس کھانسا اور رعدی کو ایک طرف کردیا اور خود بیٹھ گیا۔ ایک سنتری
''کون ہے؟'' پکار کر ادھر آیا۔ اندھیرے میں اسے کچھ نظر نہ آیا۔ حسن االدریس نے پیچھے سے اس کی گردن بازو کے
گھیرے میں جکڑ لی اور دوسرے ہاتھ سے خنجر کے تین چار وار اس کے دل کے مقام پر کیے۔ سنتری گر پڑا۔
حسن االدریس انتظارکرتا رہا۔ دوسری سنتری نے اپنے ساتھی کو پکارا۔ اسے جواب نہ مال تو وہ آہستہ آہستہ ادھر آیا۔ وہ جب
اپنے مرے ہوئے ساتھی کے قریب پہنچا تو اندھیرے میں اسے کوئی زمین پر پڑا نظر آیا۔ اس نے جھک کر دیکھا اور وہ حسن
االدریس کے شکنجے میں آگیا۔ رعدی نے انتظار نہ کیا۔ وہ غار کی طرف دوڑی اور زمین سے مشعل اکھاڑ کر غار کے اندر
چلی گئی۔ حسن االدریس نے دوسرے سنتری کو بھی ختم کردیا۔ پہرے داروں کا دستہ خیموں میں سویا ہوا تھا۔ حسن االدریس
نے رعدی کو پکارا مگر وہ وہاں نہیں تھی۔ وہ غار کی طرف دوڑا۔ وہاں مشعل بھی نہیں تھی۔
اتنے میں غار میں ایک شعلہ اٹھا۔ رعدی دوڑتی باہر آئی۔ اس کے کپڑوں کو آگ لگی ہوئی تھی۔ اس نے غار کے اندر آتش
گیر سیال کا ایک مٹکا اوندھا کرکے مشعل سے اسے آگ لگا دی تھی۔ اسے معلوم نہ تھا کہ یہ سیال کس طرح بھڑک کر
جل اٹھتا ہے۔ شعلے نے پھیل کر رعدی کو بھی زد میں لے لیا۔ جب حسن االدریس نے اسے پکڑا ،اس وقت اس کا اتنا
حسین چہرہ سیاہ ہوچکا تھا اور اس کے ریشم جیسے بال جل چکے تھے۔ حسن االدریس نے اس کے کپڑوں کی آگ بجھاتے
اپنے ہاتھ جال لیے۔ کپڑوں کی آگ تو بجھ گئی مگر رعدی پر غشی طاری ہورہی تھی۔ اس کی آنکھیں جھلس کر بند ہوگئی
تھیں۔
حسن االدریس نے اسے کندھے پر اٹھایا اور دوڑ پڑا۔ ممنوعہ عالقے سے نکل کر اسے اگلے عالقے سے پوری واقفیت تھی۔ غار
میں ُر کی ہوئی آگ نے بند کنستروں اور مٹکوں کو اتنی حرارت دے دی کہ ایک مہیب دھماکہ ہوا جس سے زمین زلزلے کی
طرح کانپی۔ ہزاروں من بند آتش گیر سیال ایک ہی بار پھٹ گیا تھا۔ اس نے جہاں تباہی کا سارا سامان تباہ کیا ،وہاں
صلیبیوں کا چھپایا ہوا تمام تر اسلحہ اور دیگر سامان بھی بھسم ہوگیا۔
دھماکے نے موصل شہر کو جگا دیا۔ لوگوں پر دہشت طاری ہوگئی۔ حسن االدریس شہر میں داخل نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ :
شہر کے دروازے بند تھے۔ وہ شہر کے بجائے نصیبہ کی طرف چل پڑا۔ وہ خطرے سے نکل گیا تھا۔ اس نے رعدی کو کندھے
پر ڈال رکھا تھا۔ بہت دور جاکر وہ تھک گیا۔ ُرکا اور رعدی کو زمین پر لٹا دیا۔ رعدی نے سرگوشی کی… ''آگ نے مجھے
پاک کردیا ہے''… وہ ہنسی اور خواب میں بڑبڑانے کے لہجے میں بولی… ''قافلہ حجاز کو جارہا ہے۔ وہاں جاکر شادی کریں
گے''۔
رعدی ،رعدی''۔ حسن االدریس نے اسے بالیا۔''
خدا نے میرے گناہ بخش دئیے ہیں نا؟'' رعدی نے پوچھا۔ وہ اٹھ بیٹھی اور بازو آگے کرکے بولی… ''وہ جارہے ہیں'' ،
دیکھو۔ وہ قافلے حجاز کو جارہے ہیں۔ میں بھی جارہی ہوں''۔
وہ ایک طرف گری۔ حسن االدریس نے اسے بالیا ،ہالیا ،آخر نبض پر ہاتھ رکھا… رعدی کی روح حجاز کے قافلے کے ساتھ
جاچکی تھی۔
حسن االدریس نے خنجر سے قبر کھودی۔ صبح تک وہ دو اڑھائی فٹ گہرا اور رعدی کے قد جتنا لمبا گڑھا کھود سکا۔ اس نے
رعدی کو اس میں لٹایا اور اوپر مٹی ڈال دی۔
جب کچھ روز بعد سلطان صالح الدین ایوبی کو صلیبیوں کے ذخیرے کی تباہی کی اطالع ملی تو اس وقت وہ ایک مشہور مقام
تل خالد کی طرف پیش قدمی کررہا تھا۔ تل خالد ایک بڑی ریاست تھی جس کا حکمران سوکمان القطبی شاہ ارمن تھا۔ وہ
اس وقت ہر زم کے مقام پر تھا جہاں اسے والئی موصل عزالدین کو فوج اور دیگر جنگی مدد دیتا۔ سلطان ایوبی کو اس
مالقات کا علم قبل از وقت ہوگیا۔ اس نے شاہ ارمن کے دارالحکومت تل خالد کو محاصرے میں لینے کے لیے پیش قدمی
کردی۔
20:59
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 139دوسرا درویش
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
صلیبیوں کے لیے یہ چوٹ معمولی نہیں تھی کہ انہوں نے مسلمان کے عالقے موصل کے قریب پہاڑیوں کے غاروں کو وسیع
کرکے اتنا زیادہ اسلحہ اور آتش گیر سیال چھپا کر رکھا تھا جس سے وہ سلطنت اسالمیہ کی تمام تر قلعہ بندیوں کو کھنڈروں
میں بدل سکتے تھے ،مگر سلطان ایوبی کے تباہ کار جاسوسوں نے اسے اڑا دیا۔ یہ سامان چونکہ پہاڑی کے اندر وسیع غار
میں تھا۔ اس کے دھماکے نے دور دور تک زمین یوں ہال دی تھی جیسے زلزلہ آیا ہو۔ یہ تو کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ
یہ تباہی کس طرح بپا کی گئی ہے جس سے صرف صلیبیوں کی ہی نہیں بلکہ صلیبیوں کے سب سے بڑے اتحادی عزالدین
کی بھی کمر ٹوٹ گئی تھی۔ انہوں نے سلطان ایوبی کے خالف جو درپردہ معاہدہ کررکھا تھا ،اس معاہدے کے پرخچے اڑ گئے
تھے۔ صلیبیوں کو یقین تھا کہ یہ سلطان ایوبی کے جاسوسوں کا کام ہے۔ انہوں نے سوچا ہی نہیں کہ یہ اتفاقیہ حادثہ بھی
ہوسکتا ہے۔
پچھلی قسط میں تفصیل سے بیان کیا جاچکا ہے کہ صلیبی موصل کے والی عزالدین کو اپنا اتحادی بنا کر موصل کے پہاڑی
عالقے کو اپنا فوجی اڈہ اور اسلحہ بارود اور دیگر رسدکا بہت بڑا ذخیرہ بنانا چاہتے تھے مگر رعدی نام کی صرف ایک لڑکی
نے اپنے ساتھی حسن االدریس کے تعاون سے ان کا ذخیرہ تباہ کردیا۔ اس عالقے سے لوگوں کو دور رکھنے کے لیے ایک
درویش کی نمائش کرکے اس کی زبانی یہ مشہور کرادیا گیا تھا کہ یہ درویش اس عالقے کی ایک پہاڑی پر بیٹھے گا اور اسے
خدا موصل کی فتح کا اشارہ دے گا پھر موصل یعنی عزالدین کی سلطنت دور دور تک پھیل جائے گی۔ اس درویش کا یہ
انجام ہوا کہ اسلحہ اور آتش گیر سیال کی تباہی کے ساتھ ہی تباہ ہوگیا۔
دوسرے دن موصل کے لوگوں پر دہشت طاری تھی۔ انہیں بتانے واال کوئی نہ تھا کہ رات یہ دھماکہ اور زمین کا لرزہ کیسا تھا
اور پہاڑیوں میں سے یہ جو سیاہ بادل اٹھ اٹھ کر آسمان کو جارہے ہیں ،یہ کیسے ہیں۔ آتش گیر سیال کئی روز جلتا رہا تھا۔
اس کے ساتھ وسیع غار میں اندر جو سامان رکھا تھا ،وہ بھی جل رہا تھا۔ ڈر کے مارے کوئی ادھر جاتا نہیں تھا۔ سب اسے
درویش کی کرامات یا قہر سمجھ رہے تھے۔ ایسی دہشت زدگی کی اذیت ناک کیفیت میں انہیں ایک صدا سنائی دی… ''وہ
جہنم کی آگ میں جل گیا ہے۔ وہ اپنے جہنم میں جل گیا ہے''۔
یہ ایک اور درویش تھا جو سبز قبا میں ملبوس تھا۔ سر کے بال لمبے اور سفید تھے ،داڑھی بھی لمبی اور سفید تھی۔ اس
کے چہرے پر بڑھاپے کی جھریاں تھیں۔ ایک ہاتھ میں لمبا عصا اور دوسرے میں قرآن تھا۔ یہ اسی درویش کی مانند تھا جو
اسی کی طرح اچانک نمودار ہوا اور جب وہ بازار میں آیا تو خوف سے کانپتے ہوئے لوگوں نے اسے روک کر گھیر لیا۔ اس
کی آنکھیں نیم وا تھیں۔ اس نے رک کر کہا… ''وہ جہنم میں جل گیا ہے جو کہتا تھا خدا اشارہ دے گا۔ اس کے انجام سے
عبرت حاصل نہ کرنے والو! تم سب اسی جہنم میں ،اسی دنیا میں جلو گے۔ خدا نے تمہیں رات کو بجلی کی کڑک کی آواز
سے اشارہ دے دیا ہے۔ وہ سیاہ دھواں دیکھو۔ اللہ کے قہر سے ڈرو۔ اس کتاب کو مانو جو میرے ہاتھ میں ہے۔ یہ اللہ کا
کالم ہے۔ یہ قرآن پاک ہے''۔
خدا کے لیے ہمیں کچھ بتا''۔ ایک بوڑھے نے آگے ہوکر پوچھا۔ ''یہ سب کچھ کیا تھا؟ وہ کون تھا؟ تم کون ہو؟ ہمیں ''
بتا کہ رات زمین کیوں لرزی تھی اور یہ سیاہ دھواں کیسا ہے؟''۔
وہ مجذوب تھا''۔ نئے د رویش نے کہا… ''پاگل تھا ،اس نے اللہ کے رازوں کی دنیا میں دخل دیا۔ اللہ کے سوا کوئی ''
اور فتح کا یا کسی خوشخبری کا اشارہ نہیں دے سکتا۔ فتح اور شکست ،خوشی اور غم اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس نے اپنے
آپ کو اللہ کا ایلچی کہا اور گناہ گار ہوا۔ اس نے سزا پالی۔ جاکر دیکھو ،اس کی ایک ہڈی بھی نظر نہیں آئے گی۔ وہ جس
پہاڑ پر بیٹھا تھا ،اس پہاڑ کو بھی سزا ملی۔ وہ سیاہ دھواں دیکھو ،پہاڑ ابھی تک جل رہا ہے۔ اس جھوٹے درویش کو اب
بھی سچا مانو گے تو تم بھی جلو گے''۔
''ہمیں بتا سچا کون ہے؟'' لوگوں نے پوچھا… ''کیا تو سچا ہے؟''
نہیں'' ۔ اس نے جواب دیا اور قرآن بلند کرکے کہا… ''اللہ کا یہ کالم سچا ہے۔ اس درویش کو بھول جائو ،اس کتاب کی''
بات مانو جو اشارے اللہ نے اس میں دئیے ہیں ،وہ کوئی انسان نہیں دے سکتا''۔
وہ آگے چل پڑا۔
٭ ٭ ٭
٭
وہ دن بھر موصل میں یہی صدا لگاتا پھرتا رہا… ''وہ جہنم کی آگ میں جل گیا ہے ،وہ اپنی آگ میں جل گیا ہے ،جہاں
اسے لوگ روک لیتے ،وہ اس موضوع پر وعظ دیتا کہ غیب کا حال کوئی انسان نہیں جانتا اور خدا کے اشارے یہی ہیں جو
قرآن میں ہیں۔ اس نے ظہر کی نماز ایک مسجد میں پڑھی ،عصر کی کسی دوسری مسجد میں اور مغرب کی ایک اور مسجد
میں پڑھی۔ وہ جس مسجد میں گیا وہاں نمازیوں کے ہجوم جمع ہوگئے۔ اس نے ہر مسجد میں یہی وعظ دیا کہ برحق صرف
قرآن پاک ہے اور اے لوگو! قرآن کے اشاروں پر عمل کرو''۔
وہ مغرب کی نماز پڑھ کر نکال تو رات گہری ہورہی تھی۔ وہ ایک ویرانے کی طرف چل پڑا۔ لوگ بھی اس کے پیچھے چل
پڑے۔ اس نے سب کو روک کر کہا… ''اب میرے پیچھے کوئی نہ آئے۔ میں ساری رات ویرانے میں عبادت کروں گا اور
تمہارے گناہوں کی بخشش مانگوں گا''۔
اس نے لوگوں پر ایسا تاثر پیدا کردیا تھا کہ ان کے دلوں میں پہلے درویش کی دہشت نکل گئی تھی۔ اس نے لوگوں سے
وہیں رکنے کو کہا تو وہ رک گئے۔ اس نے دعائیہ الفاظ کہے اور اندھیرے میں غائب ہوگیا۔ لوگ وہیں کھڑے چہ میگوئیاں کرتے
رہے۔ کسی میں اس کے پیچھے جانے کی جرٔات نظر نہیں آتی تھی مگر ایک آدمی ایسا تھا جو اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے
ہوئے لوگوں کی نظریں بچا کر درویش کے پیچھے جارہا تھا۔ درویش لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوکر تیز چلنے لگا تھا۔ اس
کے پیچھے جانے والے آدمی نے بھی قدم تیز کرلیے۔ اس کے قدموں کی آواز پر درویش رکا اور پیچھے دیکھا۔ وہ آدمی جسے
اندھیرے میں درویش سائے کی طرح نظر آرہا تھا ،فورا ً رکا اور بیٹھ گیا۔ درویش کو کچھ بھی نظر نہ آیا تو وہ چل پڑا لیکن وہ
بار بار گھوم کر دیکھتا تھا۔
کچھ اور آگے گئے تو یہ آدمی درویش کے قریب پہنچ گیا۔ درویش نے بلند آواز سے کچھ پڑھنا شروع کردیا۔ یہ کسی آیت کا
ورد تھا۔ اس نے قدم سست کرلیے۔ پیچھے والے آدمی نے اپنے کمر بند سے خنجر نکاال اور دبے پائوں وہ فاصلے طے کیا جو
اس کے اور درویش کے درمیان رہ گیا تھا۔ اس نے خنجر واال ہاتھ اوپر کیا۔ وہ پیچھے سے درویش پر وار کرکے اسے ختم
کرنے کو تھا۔ خنجر ابھی اوپر ہی تھا کہ درویش بجلی کی تیزی سے گھوما۔ اس نے اپنا موٹا عصا اوپر کو گھمایا۔ عصا اس
آدمی کی خنجر والی کالئی پر لگا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے اس آدمی کے پیٹ میں ایسی الت جمائی کہ وہ آدمی دہرا
ہوگیا۔ درویش کے ایک ہاتھ میں قرآن تھا ،اس لیے وہ ایک ہی ہاتھ سے لڑ سکتا تھا۔ اس نے عصا اس آدمی کے سر پر
مارا۔ اس کا خنجر اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔
درویش نے خنجر اٹھا لیا۔ وہ آدمی آہستہ آہستہ اٹھ رہا تھا۔ درویش نے اسے کہا… ''خنجر میرے ہاتھ میں ہے ،پیٹ کے بل
لیٹے رہو''۔
وہ آدمی پیٹ کے بل لیٹ گیا۔ درویش نے منہ سے کسی جانور کی آواز نکالی۔ ایسی ہی آواز دور سے بھی سنائی دی۔ اس
نے پھر آواز نکالی۔ اندھیرے میں دوڑتے قدموں کی آہٹیں سنائی دیں۔ دو آدمی درویش کے قریب آرکے۔ درویش نے ہنس کر
کہا… ''اس بدبخت نے وہی حرکت کی ہے جس کا ہمیں پہلے ہی خطرہ تھا۔ مجھے تو امید تھی کہ دن کے وقت موصل
کے کسی دریچے سے تیر آئے گا اور میرے دل میں اتر جائے گا لیکن انہوں نے مجھے رات کو اس سے قتل کرانے کی
کوشش کی ہے۔ یہ لو اس کا خنجر''… درویش نے زمین پر لیٹے ہوئے آدمی کو عصا کی ہلکی سے ضرب لگا کر کہا… ''اٹھ
''مردود! تو مسلمان ہے؟
ہاں میرے بزرگ!'' اس شخص نے ادب سے کہا… ''میں مسلمان ہوں''۔''
درویش اور اس کے دونوں ساتھیوں نے قہقہہ لگایا۔ درویش نے اسے کہا… ''مجھے بزرگ نہ کہو دوست! میں تم سے زیادہ
جوان ہوں''۔
تمہارا بہروپ کامیاب رہا ہے''۔ درویش کو اس کے ایک ساتھی نے کہا۔''
اس آدمی کو تینوں اپنے ساتھ دور ایک خیمے میں لے گئے جس کے قریب چار پانچ اونٹ بندھے تھے۔ اردگرد چٹانیں :
تھیں۔ اس آدمی کو خیمے میں بٹھایا گیا۔ ایک دیا جل رہا تھا ،اس نے دیکھا کہ درویش کا چہرہ تو جھریوں بھرا تھا جیسے
وہ اسی سال کا بوڑھا ہو لیکن اب اس کی آواز جوانوں جیسی تھی۔ درویش نے سفید داڑھی اور سر کے لمبے بال اتار دئیے۔
اس کے ایک ساتھی نے اسے پانی میں بھیگا ہوا کپڑا دیا جو درویش نے اپنے منہ پر رگڑا۔ بڑھاپے کی جھریاں غائب ہوگئیں۔
ان میں سے جوان چہرہ برآمد ہوا ،وہ ایک جوان آدمی کا چہرہ تھا ،جس پر سلیقے سے تراشی ہوئی چھوٹی چھوٹی داڑھی
تھی۔
تم اصل میں کون ہو؟'' حملہ کرنے والے نے اس سے پوچھا۔''
جسے تم قتل کرنے آئے تھے''۔ اس نے کہا… ''اب تم بتا دو کہ تمہیں کس نے میرے قتل کے لیے بھیجا تھا۔ کچھ ''
چھپانے کی کوشش کرو گے تو بہت بری موت مرو گے''۔
میرے پاس چھپانے کے لیے کچھ بھی نہیں''۔ اس آدمی نے جواب دیا… ''مجھے محل کے ایک حاکم احمد بن عمرو نے''
کہا تھا کہ شہر میں ایک درویش پھر رہا ہے۔ اس نے مجھے تمہارا حلیہ اور تمہاری صدائیں بتائی تھیں اور کہا تھا کہ اس
درویش کو اندھیرے میں قتل کرنا ہے۔ کسی کو پتہ نہ چلے۔ احمد بن عمرو نے کہا تھا کہ درویش کو قتل کرکے آئو گے تو دو
سو دینار ملیں گے''۔
''کیا احمد بن عمرو مجھے بوڑھا درویش سمجھ رہا تھا؟''
اس نے بتایا نہیں''۔ اس آدمی نے جواب دیا… ''اس نے یہی کہا تھا کہ درویش کو قتل کرنا ہے''۔''
درویش کا بہروپ دھارنے والے اس کے دونوں ساتھی صالح الدین ایوبی کے زمین دوز گروہ کے آدمی تھے جو موصل میں کام
کررہے تھے۔ پچھلی کہانی میں جس درویش کا ذکر آیا ہے ،اس کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے سلطان ایوبی کے گروہ کے
ان آدمیوں نے ایک آدمی کو درویش بنایا اور اسے شہر میں گھمایا تھا۔ لوگ توہم پرست تھے ،درویشوں کو خدا کی آواز
سمجھتے تھے۔ پہلے درویشوں کو صلیبیوں نے اپنے ایک فریب کی کامیابی کے لیے استعمال کیا تھا۔ سلطان ایوبی کے آدمیوں
نے اپنے ایک جوان ساتھی کو درویش کے بہروپ میں پیش کرکے لوگوں کو توہم پرستی سے ہٹا کر قرآن کی طرف مائل کرنے
کی کامیاب کوشش کی تھی۔
اعلی حاکم تھا
احمد بن عمرو جو موصل میں بن عمرو کے نام سے مشہور تھا ،والئی موصل عزالدین کی انتظامیہ کا ایک
ٰ
جس کی حیثیت وزیر جتنی تھی۔ اسے اطالع ملی کہ ایک درویش شہر میں پہلے درویش کے خالف صدائیں لگاتا پھر رہا ہے
لہذا اسے قتل کرنا ضروری ہے ،ورنہ لوگوں کو پہلے درویش
تو وہ سمجھ گیا کہ یہ سلطان ایوبی کے حامی گروہ کا آدمی ہےٰ ،
کی اصلیت کا علم ہوجائے گا اور انہیں یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ پہاڑوں میں کیا جل رہا ہے۔ سلطان ایوبی کے اس آدمی
کو قتل کرنے کے لیے محل کے حفاظتی دستے کا ایک سپاہی منتخب کیا گیا اور اسے دو سو دینار کا اللچ دے کر
'' درویش'' کے قتل کے لیے بھیجا گیا۔ کرائے کا یہ قاتل جسے بوڑھا سمجھ رہا تھا ،وہ ایک جوان آدمی نکال۔ اسے معلوم
نہیں تھا کہ بوڑھے کے بہروپ میں یہ جوان آدمی تجربہ کار لڑاکا جاسوس اور چھاپہ مار ہے۔
بن عمرو کے بھیجے ہوئے اس قاتل کو دئیے کی روشنی میں خیمے میں بٹھا کر بہت کچھ پوچھا گیا ،لیکن اس سے کوئی راز
معلوم نہ ہوسکا۔ وہ صلیبیوں کے کسی باقاعدہ جاسوس یا تخریب کار گروہ کا آدمی نہیں تھا۔ وہ اجرت پر صرف قتل کرنے
آیا تھا۔ جس آدمی نے درویش کا بہروپ دھارا تھا ،اس نے اپنے دونوں ساتھیوں کی طرف دیکھا۔ تینوں نے آنکھوں ہی آنکھوں
میں کچھ طے کرلیا۔ ان میں سے ایک اٹھا اور خیمے سے رسی کا ایک گز بھر لمبا ٹکڑا اٹھایا۔ وہ کرائے کے اس قاتل کے
پیچھے ہوا اور تیزی سے رسی اس کے گردن کے گرد لپیٹ کر ایسا پھندا بنایا کہ یہ آدمی تڑپنے لگا اور ذرا سی دیر میں
ٹھنڈا ہوگیا۔ دوسرے دن احمد بن عمرو والئی موصل عزالدین کے دیوڑھی نما کمرے میں اس کے پاس کھڑا تھا۔ وہ غصے میں
تھا اور عزالدین کے چہرے پر پریشانی تھی۔ احمد بن عمرو کے ہاتھ میں ایک کاغذ ان کے سامنے فرش پر ایک الش پڑی
تھی جس کی گردن کے گرد رسی لپٹی ہوئی تھی اور اس رسی کے ساتھ یہ کاغذ بندھا ہوا تھا جو عزالدین کے پاس تھا۔ یہ
حفاظتی دستے کے اس سپاہی کی الش تھی جسے اس نے نئے درویش کو اندھیرے میں کہیں جاکر قتل کرنے کو بھیجا تھا۔ بن
عمرو ساری رات اس سپاہی کا انتظار کرتا رہا تھا۔ صبح اسے اطالع ملی کہ اس کے گھر کے سامنے ایک الش پڑی ہے۔ وہ
باہر آیا۔ زمین پر اس کے سپاہی کی الش پڑی تھی۔ آنکھیں کھلی ہوئی تھی ،زبان باہر آگئی تھی۔ گردن کے گرد رسی تھی
اور رسی کے ساتھ کاغذ بندھا تھا۔
کاغذ پر لکھا تھا۔ ''عزالدین والئی موصل کے نام… تمہارے ایک حاکم احمد بن عمرو نے اس آدمی کو میرے قتل کے لیے :
بھیجا تھا۔ میں اس کی الش عزت واحترام سے احمد بن عمرو کی دہلیز پر رکھ چال ہوں۔ یہ بدنصیب سپاہی مجھے قتل
نہیں کرسکتا۔ تم بھی اسی طرح کے بدنصیب ہو جو سلطان ایوبی کا ابھی تک کچھ نہیں بگاڑ سکے اور آئندہ بھی کچھ نہیں
بگاڑ سکو گے۔ کفار کی دوستی سے تم ذلت کے سوا کچھ حاصل نہیں کرسکو گے۔ ہم تمہیں چین سے جینے نہیں دیں گے۔
ایک روز تمہاری الش بھی تمہارے محل کی دہلیز پر پڑی ہوگی۔ احمد بن عمرو جیسے حاکموں اور مشیروں سے بچو۔ یہ
خوشامدی ٹولہ تمہارا کبھی وفادار نہیں ہوسکتا۔ یہی لوگ تمہارے زوال کا باعث بنیں گے۔ ہماری طاقت دیکھو ،تمہارا فوجی
مشیر احتشام الدین بیروت صلیبیوں کے ساتھ درپردہ معاہدے کے لیے گیا لیکن ہم نے اسے الپتہ کردیا۔ وہ اب سلطان ایوبی کے
پاس ہے۔ تمہارے صلیبی دوستوں نے پہاڑیوں کو کھود کر ان کے اندر جنگی سامان رکھا۔ ہم نے یہ سامان نذرآتش کرکے تمہاری
ریاست کو زلزلے کا جھٹکا دیا۔ تم نے اپنے ایک سپاہی کو میرے قتل کے لیے بھیجا اور ہم نے تمہارے سپاہی کی الش تم
تک پہنچا دی۔ ہم جنوں اور بھوتوں کی طرح تم پر غالب رہیں گے مگر تم ہمیں دیکھ نہیں سکو گے۔ تمہارا زوال شروع
ہوچکا ہے۔ تمہاری نجات اسی میں ہے کہ سلطان ایوبی کی اطاعت قبول کرلو اور اپنی فوج اس کے حوالے کردو۔ ہمیں قبلہ
اول آزاد کرانا ہے۔ اس دنیاوی بادشاہی اور جاہ وجالل سے باز آجائو۔ تخت وتاج نے کسی کا کبھی ساتھ نہیں دیا''۔
احمد بن عمرو نے الش اپنے گھر کے سامنے سے اٹھوائی اور عزالدین کے سامنے جا رکھوائی۔ عزالدین نے بھی یہ تحریر
پڑھی اور کاغذ بن عمرو کو دے کر گہری سوچ میں کھو گیا۔احمد بن عمرو غصے کا اظہار کررہا تھا لیکن عزالدین کا غصہ
سرد پڑ چکا تھا۔
مجھے اطالع ملی ہے کہ مسجدوں میں بھی اس نئے درویش کے چرچے ہورہے ہیں''… عزالدین نے کہا … ''اور اب اس ''
تحریر سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ کوئی درویش نہیں بلکہ صالح الدین ایوبی کا کوئی آدمی ہے''۔ اس نے کاغذ مروڑ کر
الش پر پھینک دیا۔
میں اسے تالش کرلوں گا''… احمدبن عمرو نے غصے سے کہا… ''اور سرعام اس کا سرتن سے جدا کرائوں گا''۔''
ٹھنڈے دل سے سوچو''… عزالدین نے کہا… ''اس ایک آدمی کو قتل کردینے سے تم صالح الدین ایوبی کو کوئی نقصان ''
نہیں پہنچا سکتے۔ ہمیں کچھ اور کرنا ہے ،کچھ اور سوچنا ہے۔ میں چاہتا تھا کہ صلیبی صالح الدین ایوبی پر حملہ کردیتے،
مگر معلوم نہیں وہ آگے کیوں نہیں آرہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں صالح الدین ایوبی سے براہ راست ٹکر لوں ،پھر وہ میری مدد
اس طرح کریں گے کہ ان کے چھاپہ مار دستے صالح الدین ایوبی کے پہلوئوں اور عقب پر اور اس کی رسد پر شب خون
مارتے رہیں گے۔ اس طرح مجھے میدان جنگ میں برتری اور کامیابی حاصل ہوگی''۔
اور ضرور ہوگی''… احمد بن عمرو نے فرش پر پائو مارتے ہوئے کہا۔''
اس تحریر میں صحیح لکھا ہے کہ تم خوشامدی ہو''… عزالدین نے کہا… ''میں ایک الجھن میں پڑا ہوا ہوں اور تم خوش''
کرنے کے لیے بچوں کی طرح باتیں کررہے ہو۔ کیا تم مجھے کوئی بہتر مشورہ نہیں دے سکتے؟''… اس نے تالی بجائی۔ ایک
نوجوان خادمہ دوڑی آئی۔ اس نے جھک کر سالم کیا۔ عزالدین نے کہا… ''دربان سے کہو کہ یہ الش اٹھوالے اور کہیں دفن
کردے''… یہ کہہ کر وہ دوسرے کمرے میں چال گیا جو اس کا خاص کمرہ تھا۔ احمد بن عمرو بھی ساتھ تھا۔ عزالدین پھر
ادھر آیا اور خادمہ سے کہا… ''صراحی اور پیالے لے آئو۔ دربان سے کہو کسی کو ادھر نہ آنے دے''۔
٭ ٭ ٭
خادمہ نے الش دیکھی تو وہ ڈر گئی۔ اس کی نظر مروڑے ہوئے کاغذ پر پڑی۔ وہ عربی پڑھ سکتی تھی۔ اس نے تحریر پڑھی
اور کاغذ اپنے کپڑوں کے اندر چھپا لیا۔ دوڑ کر باہر گئی۔ دربان سے کہا کہ الش اٹھوا کر دفن کرادے اور صراحی اور دو پیالے
سنہری تھال میں رکھ کر عزالدین کے کمرے میں چلی گئی۔
شاہ آرمینیا نے میرے پیغام کا جواب دے دیا ہے''… عزالدین بن عمرو سے کہہ رہا تھا… ''اس نے مجھے اپنے ''
دارالحکومت تل خالد میں ملنے کے بجائے مجھے ہر زم بالیا ہے۔ وہ تل خالد سے روانہ ہوگیا ہے۔ میں دو روز بعد اسے
ملنے جارہا ہوں''۔
خادمہ نے پیالوں میں جلدی جلدی شراب ڈالنے کے بجائے کپڑے سے پیالے پونچھنے شروع کردئیے۔ اس کے کان عزالدین :
کی باتوں پر لگے ہوئے تھے۔
میرا خیال ہے شاہ آرمینیا تل خالد سے ہرزم جانے کی غلطی کررہا ہے''… احمد بن عمرو نے کہا۔''
کیونکہ صالح الدین ایوبی تل خالد کی طرف پیش قدمی کررہا ہے''… عزالدین نے کہا… ''تمہیں یہ ڈر ہے کہ شاہ آرمینیا''
کی غیر حاضری میں صالح الدین ایوبی تل خالد کو محاصرے میں لے لے گا… ایسا نہیں ہوگا۔ اگر ایسا ہوا بھی تو ہم صالح
الدین ایوبی کی فوج پر عقب سے حملہ کردیں گے۔ ہم اس لڑائی کو طول دیں گے اور صلیبیوں کو اطالع دیں گے کہ وہ بھی
صالح الدین ایوبی پر حملہ کردیں۔ مجھے یقین ہے کہ صالح الدین ایوبی کی فوج پس کے رہ جائے گی''۔
آپ کب جارہے ہیں؟''…احمد بن عمرو نے پوچھا۔''
دو روز بعد''… عزالدین نے جواب دیا۔''
خادمہ شراب پیش کرنے میں اس سے زیادہ تاخیر نہیں کرسکتی تھی۔ اس نے پیالوں میں شراب ڈالی اور دونوں کو پیش کی۔
عزالدین نے اسے کہا کہ وہ چلی جائے۔ وہ ڈیوڑھی نما کمرے میں گئی تو وہاں سے الش اٹھائی جاچکی تھی۔ خادمہ ابھی
وہاں سے باہر نہیں جاسکتی تھی۔ اسے ڈیوٹی پر رہنا تھا۔ وہ بیٹھ گئی اور سوچنے لگی۔ اچانک اس کے منہ سے ''ہائے''
نکلی۔ اس نے دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھ لیے اور دوہری ہوگئی۔ دربان اور دوسرے مالزم دوڑے آئے۔ اس نے کراہتے ہوئے بتایا کہ
اسے پیٹ میں اچانک درد اٹھا ہے۔ اس کی جگہ فورا ً دوسری خادمہ بال کر وہاں بٹھا دی گئی اور اسے طبیب کے پاس لے
گئے۔ طبیب کو اس نے بتایا کہ اسے پیٹ میں درد ہے۔ اسے دوائی دی گئی۔ اس نے کہا کہ وہ کام کے قابل نہیں رہی۔
کچھ دیر بعد اس کی طبیعت سنبھل گئی۔ طبیب نے اسے دو دنوں کی چھٹی لکھ دی اور اسے کہا کہ اپنے گھر چلی
جائے ۔ وہ اپنے گھر کو جانے کے بجائے غالم گردشوں وغیرہ سے گزرتی عزالدین کی بیوی رضیع خاتون کے کمرے میں چلی
گئی۔ رضیع خاتون کے متعلق پہلے تفصیل سے بتایا جاچکا ہے کہ نورالدین زنگی مرحوم کی بیوہ تھی۔ عزالدین نے اس کے
ساتھ شادی کرلی تھی۔ رضیع خاتون نے اس امید پر شادی قبول کرلی تھی کہ عزالدین کو وہ سلطان ایوبی کا دوست اور
اتحادی بنا دے گی اور مسلمان امراء اور حکمران متحد ہوکر فلسطین سے صلیبیوں کو نکال دیں گے مگر عزالدین نے جس نیت
سے شادی کی تھی وہ رضیع خاتون کی نیت سے الٹ تھی۔ دمشق ،بغداد اور ان مقامات کے گردونواح کے تمام عالقوں پر
رضیع خاتون کا اثر تھا اور رضیع خاتون اپنے مرحوم خاوند نورالدین زنگی کی طرح سلطان ایوبی کی معتقد اور اس کے نیک
عزائم کی حامی تھی۔ اس نے جوان لڑکیوں کی فوج بنا رکھی تھی۔
عزالدین نے اس عظیم خاتون کے ساتھ اس نیت سے شادی کی تھی کہ اسے سلطان ایوبی کے خالف استعمال کرے اور اگر
یہ ممکن نہ ہوسکا کہ اسے زوجیت کی قید میں رکھے تاکہ دمشق اور بغداد کے لوگ اس کی قیادت سے محروم ہوجائیں۔
رضیع خاتون نے شادی کے بعد اس کی نیت پہچان لی تھی۔ پہلے تو اس نے احتجاج کیا لیکن عورت عقل والی تھی۔ اس
نے عزالدین پر اپنا اعتماد پیدا کرکے جاسوسی شروع کردی اور شہر میں سلطان ایوبی کے جو جاسوس تھے ،ان کے ساتھ
درپردہ رابطہ قائم کرلیا۔ اس کی بیٹی ( جو زنگی کی بیٹی تھی) شمس النساء جوان تھی۔ وہ بھی جاسوسی کررہی تھی۔ ماں
بیٹی نے سلطان ایوبی تک بڑے ہی قیمتی راز پہنچائے تھے۔ اس کے ساتھ ہی رضیع خاتون نے عزالدین کے دو ساالروں اور
ایک مشیر کو اپنے ہاتھ میں کرلیا تھا۔ عزالدین کو اس نے یقین دال دیا تھا کہ وہ اب سلطان ایوبی کے حق میں نہیں رہی یا
کم از کم اس کے خالف نہیں رہی۔ رضیع خاتون خوبصورت عورت تھی۔ اس نے نسوانیت کی شیرینی اور زبان کی چاشنی
سے عزالدین کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی محل کے اندر بھی جاسوسوں کا گروہ بنا لیا تھا۔
وہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی کہ عزالدین کی نوجوان خادمہ اندر آئی۔
پیٹ درد کا بہانہ کرکے آئی ہوں''… خادمہ نے رضیع خاتون سے کہا… ''طبیب نے آج اور کل کی چھٹی دے دی ''
ہے''… اس نے قمیض کے اندر سے وہ کاغذ نکاال جو اس نے الش سے اٹھایا تھا۔ کاغذ رضیع خاتون کو دیا اور اسے بتایا کہ
یہ کاغذ ایک سپاہی کی الش کے ساتھ تھا۔
رضیع خاتون نے تحریر پڑھی اور بولی… ''آفرین ،ہمارے مجاہد کام کررہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کم بختوں نے
ہمارے آدمی کو قتل کرانے کی کوشش کی تھی۔ مجھے اطالع مل چکی ہے کہ ہمارے اس درویش نے لوگوں کے دلوں سے
صلیبیوں کے درویش کی دہشت اور وہم نکال دیا ہے''۔
یہ تحریر اسی کی ہے''… خادمہ نے کہا… ''میں اس کا ہاتھ پہچانتی ہوں''۔''
رضیع خاتون نے ہنس کر کہا… ''مجھے معلوم ہے کہ تم اس کا ہاتھ ہی نہیں ،اس کا دل بھی پہچانتی ہو ،لیکن یہ خیال
رکھنا کہ دلوں کے جال میں نہ الجھ جانا۔ فرض پہلے''۔
خادمہ شرما سی گئی۔ کہنے لگی… ''ابھی تک اپنے جذبات کو فرض کے راستے میں نہیں آنے دیا۔ میں فہد کو بھی یہی کہا
کرتی ہوں کہ اسے مجھ سے دلی محبت ہے تو اپنے فرض کو جذبات پر حاوی رکھے''۔
فہد وہی جواں سال آدمی تھا جس نے نئے درویش کا روپ دھارا تھا۔ وہ بغداد کا رہنے واال تھا۔ اس میں جاسوس بننے کی
تمام تر خوبیاں موجود تھیں۔ خوبرو جوان تھا ،دو سال سے موصل میں مقیم تھا اور کامیابی سے جاسوسی کررہا تھا اور
نظریاتی محاذ پر بھی اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ نمایاں کامیابیاں حاصل کرلی تھیں۔ اسی سلسلے میں اس کی مالقات
عزالدین کی خادمہ سے ہوئی تھی اور دونوں ایک دوسرے کے دل میں اتر گئے تھے۔ خادمہ شہر میں رہتی تھی لیکن اس کا
زیادہ وقت محل میں گزرتا تھا۔ جاسوسی کی زمین دوز کارروائیوں کے عالوہ بھی ان دونوں کی مالقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔
میں جو خبر الئی ہوں ،وہ ابھی بتائی ہی نہیں''… خادمہ نے رضیع خاتون سے کہا… ''عزالدین دو روز بعد شاہ آرمینیا ''
سے ملنے ہر زم جارہے ہیں۔ میں نے شراب پیش کرنے کے دوران اس سے یہ بات سنی ہے۔ وہ احمد بن عمرو کو بتا رہے
تھے کہ شاہ آرمینیا نے انہیں پیغام بھیجا ہے کہ وہ تل خالد سے ہرزم روانہ ہورہا ہے اور عزالدین اسے وہاں ملیں… میں رات
تک فارغ نہیں ہوسکتی تھی۔ میں نے پیٹ درد کا بہانہ بنایا اور آپ تک پہنچی ہوں''۔
رضیع خاتون نے اپنے زانو پر ہاتھ مار کر کہا… ''صالح الدین ایوبی تل خالد کی طرف پیش قدمی کررہا ہے ،مجھے معلوم
نہیں کہ تل خالد میں اپنے جاسوس ہیں یا نہیں۔ یہ خبر صالح الدین ایوبی تک پہنچنی چاہیے۔ ہوسکتا ہے وہ ان دونوں کو
ہرزم میں پکڑ لے۔ یہ کام تم ہی کرو۔ فہد یا اس کے کسی اور ساتھی تک پہنچو اور اسے یہ خبر سنا کر میرا پیغام دو کہ
صالح الدین ایوبی ابھی تل خالد کے راستے میں ہوگا ،یہ خبر اس تک پہنچا دو۔ ابھی جائو''۔
خادمہ چلی گئی۔
٭ ٭ ٭
کچھ ہی دیر بعد عزالدین رضیع خاتون کے کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر گھبراہٹ بڑی صاف تھی۔ رضیع خاتون کو
معلوم تھا کہ وہ کیوں پریشان ہے ،پھر بھی اس پریشانی کی وجہ پوچھی۔
میں صالح الدین ایوبی کی دشمنی اور صلیبیوں کی دوستی کے پتھروں میں پس رہا ہوں''… عزالدین نے ہارے ہوئے لہجے ''
میں کہا۔
میری تمام دلچسپیاں آپ کے ساتھ ہیں''… رضیع خاتون نے کہا… ''مگر میں صالح الدین ایوبی کے حق میں کوئی بات ''
کرتی ہوں تو آپ کو شک ہوتا ہے کہ میں اس کی حامی اور آپ کے خالف ہوں۔ آپ کی پریشانی کی وجہ یہ نہیں کہ آپ
کے اور صالح الدین ایوبی کے درمیان عداوت پیدا ہوگئی ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ آپ نے اس قوم کو دوست سمجھ لیا ہے
جو آپ کی دوست نہیں ہوسکتی ہے ،وہ آپ کے مذہب کی دشمن ہی رہے گی۔ صلیبی اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے آپ
کو دھوکہ دیں گے اور ضرور دیں گے''۔
تو کیا میں صالح الدین ایوبی کے قدموں میں جاکر تلوار رکھ دوں؟''… عزالدین نے طنزیہ لہجے میں پوچھا… ''اگر میں ''
ایسا کر گزروں تو اپنی فوج کے سامنے کس منہ سے کھڑا ہوں گا''۔
صالح الدین ایوبی آپ کو اپنا محکوم نہیں ،اپنا اتحادی بنانا چاہتا ہے''… رضیع خاتون نے کہا۔'' :
تم اس شخص کی نیت کو نہیں سمجھ سکی''… عزالدین نے کہا… ''وہ سلطنت اسالمیہ کی بات کرتا ہے مگر اسے اپنی''
ذاتی سلطنت بنائے گا''۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ اس سے لڑیں گے''… رضیع خاتون نے کہا… ''اگر آپ کا یہی ارادہ ہے تو پریشان ہونے کے''
بجائے جنگ کی تیاری کریں۔ فوج میں اضافہ کریں''۔
میری پریشانی یہ ہے کہ صالح الدین ایوبی نے جاسوسوں اور تباہ کاروں کا جال بچھا دیا ہے''… عزالدین نے کہا… ''
'' تمہیں معلوم ہے کہ میرا اتنا قابل فوجی مشیر احتشام الدین بیروت بالڈون سے معاہدہ کرنے گیا اور وہاں سے غائب ہوگیا۔
مجھے اطالع ملی ہے کہ وہ صالح الدین ایوبی کے ساتھ ہے۔ ہمارے تمام راز اس کے پاس ہیں۔ میں نے صلیبیوں سے اسلحہ
آتش گیر سیال اور دیگر سامان کا ذخیرہ اپنے قریب جمع کرایا تھا۔ وہ تباہ ہوگیا ہے۔ آج میرے حفاظتی دستے کے ایک
سپاہی کی الش میرے پاس آئی ہے''۔
اسے کسی نے قتل کیا ہے؟''… رضیع خاتون نے انجان بن کر پوچھا۔''
ہاں''… عزالدین نے اصل بات پر پردہ ڈال کر کہا… ''اسے کسی نے قتل کردیا ہے ،اسے ایک خاص کام کے لیے بھیجا ''
گیا تھا۔ اس کے قاتل صالح الدین ایوبی کے آدمی معلوم ہوتے ہیں''۔
اس الش کے ساتھ فہد کا لکھا ہوا جو کاغذ تھا وہ رضیع خاتون کے پاس تھا لیکن وہ انجان بنی رہی۔ اس نے سوچا کہ
عزالدین گھبرایا ہوا ہے ،اس پر اور زیادہ گھبراہٹ طاری کی جائے۔
میدان جنگ میں نہیں لڑتا''… رضیع خاتون نے کہا… ''وہ جب''
آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ صالح الدین ایوبی صرف
ِ
اپنے گھر میں سویا ہوا ہوتا ہے تو اس کے دشمن سمجھتے ہیں جیسے وہ ان کے سر پر بیٹھا ہے۔ اس وقت وہ تل خالد کی
طرف جارہا ہے لیکن یوں معلوم ہوتا ہے جیسے وہ موصل میں بیٹھا ہے اور اپنی نگرانی میں تباہی کرارہا ہے۔ صلیبیوں کی
فوج کا اندازہ کریں۔ صالح الدین ایوبی کی فوج سے دس گناہ زیادہ ہے مگر صلیبی آگے بڑھ کر اس پر حملہ کرنے کی جرٔات
نہیں کرتے۔ صلیبیوں کے مقابلے میں آپ کے پاس جو فوج ہے وہ آپ جانتے ہیں۔ آپ کو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ آپ کی
فوج میں ایسے کمان دار موجود ہیں جو آپ کے وفادار نہیں۔ وہ آپ کو دھوکہ دے سکتے ہیں''۔
عزالدین اور زیادہ گھبرا گیا اور بوال… ''میں اس حد تک پہنچ چکا ہوں جہاں سے آسانی سے واپس نہیں آسکتا۔ میں دو روز
بعد کہیں باہر جارہا ہوں ،اگر حاالت نے ساتھ دیا تو کامیاب ہوجائوں گا''… وہ چپ ہوکر گہری سوچ میں گھو گیا۔ کچھ دیر
بعد بوال… ''رضیع! میں نے ایک امید تمہارے ساتھ وابستہ کررکھی ہے''۔
میں آپ کی ہر امید پوری کروں گی''… رضیع خاتون نے کہا… ''اگر آپ مجھے صالح الدین ایوبی کے خالف کوئی ''
کارروائی کرنے کو کہیں گے تو میں کر گزروں گی۔ میں آپ کے ایک بچے کی ماں بن چکی ہوں۔ مجھے بتائیں میں آپ کی
کون سی امید پوری کرسکتی ہوں۔ مجھے کسی کڑی آزمائش میں ڈالیں''۔
میں باہر جارہا ہوں''… عزالدین نے کہا… ''مجھ سے ابھی یہ نہ پوچھنا کہ میں کہاں جارہا ہوں۔ اسے ابھی راز میں ''
رکھنا ہے ،اس کے بعد میں صالح الدین ایوبی کے خالف کوئی کارروائی کروں گا۔ اگر حاالت میرے خالف ہوگئے تو میں تم
سے امید رکھوں گا کہ تم میری طرف سے سلطان ایوبی کے پاس جائو گی اور اس کے ساتھ میرا سمجھوتہ کرا دو گی۔
''ہوسکتا ہے کہ اس وقت میں اس کے پاس جائوں تو وہ مجھے ملنے سے بھی انکار کردے
رضیع خاتون نے اسے یہ مشورہ دیا کہ وہ شکست سے پہلے ہی سلطان صالح الدین ایوبی کے ساتھ سمجھوتہ کرلے۔ اس نے
عزالدین سے یہ بھی نہ پوچھا کہ وہ کہاں جارہا ہے۔ اسے خادمہ بتا گئی تھی کہ وہ ہرزم شاہ آرمینیا سے ملنے جارہا ہے
اور یہ سلطان کے خالف محاذ بن رہا ہے۔ رضیع خاتون کو وہ ابھی نہیں بتانا چاہتا تھا کہ وہ کہاں جارہا ہے ،کیونکہ اسے وہ
راز رکھنا چاہتا تھا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ سلطان ایوبی کی جاسوسہ سے باتیں کررہا ہے۔ تاہم رضیع خاتون نے اسے
یقین دالیا کہ وہ جب بھی کہے گا سلطان ایوبی کے ساتھ اس کا سمجھوتہ کرا دیا جائے گا۔ عزالدین کی گھبراہٹ سے رضیع
خاتون کو خوشی محسوس ہورہی تھی۔
عزالدین سرجھکائے ہوئے کمرے سے نکل گیا۔ رضیع خاتون کی ذاتی خادمہ جو اسی کی عمر کی تھی ،اندر آئی اور رضیع
خاتون سے پوچھا کہ والئی موصل بہت پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ یہ خادمہ بھی رضیع خاتون کے زمین دوز گروہ کی فرد تھی۔
ایمان اور کردار سے منحرف ہوکر انسان کی یہی حالت ہوا کرتی ہے''۔ رضیع خاتون نے کہا… ''یہ حکمران جو قوم ''
سے الگ ہوکر اپنی اپنی ریاستوں کے بادشاہ بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں ،کسی درخت کی ان ٹہنیوں کی مانند ہیں جو
درخت سے الگ ہوگئی ہیں۔ ان کی قسمت میں اب یہی لکھا ہے۔ ان کے پتے جھڑ جائیں گے ،بکھر جائیں گے اور یہ ٹہنیاں
سوکھ کر مٹی میں مل جائیں گے۔ یہ حکومت کا اللچ ہے جس نے میرے خاوند کو شراب اور عورت کا شیدائی بنایا ہے۔ اس
شخص نے صلیبیوں کا میٹھا زہر اپنی رگوں میں انڈیل لیا ہے۔ عزالدین میدان جنگ کا بادشاہ تھا۔ اس کی تلوار سے صلیب کا
دل کٹتا تھا لیکن آج اس کے دل پر خوف طاری ہے۔ اس شخص کی جرٔات جواب دے گئی ہے۔ مجھ سے ،ایک عورت سے
مدد مانگ رہا ہے۔ بادشاہی کا نشہ ،شراب اور عورت انسان کا یہی حشر کیا کرتی ہیں۔ اس کی قسمت میں شکست لکھ دی
گئی ہے جب ایک ساالر تخت وتاج کا خواہاں ہوجاتا ہے تو اس کی پوری فوج دین وایمان سے دستبردار ہوجاتی ہے ،پھر
ملک وملت کا وقار خاک میں ملتا ہے اور دشمن سر پر سوار ہوجاتا ہے''۔
٭ ٭ ٭
وہ نوجوان خادمہ جو فہد کو یہ پیغام دینے نکلی تھی کہ عزالدین شاہ آرمینیا سے ملنے ہرزم جارہا ہے ،اس ٹھکانے پر گئی
جہاں فہد کو ہونا چاہیے تھا مگر وہاں تاال لگا ہوا تھا۔ فہد عموما ً شتر بانوں کے بھیس میں رہتا تھا۔ وہ دو اونٹ اپنے ساتھ
رکھتا تھا اور تاجروں وغیرہ کا سامان ادھر ادھر لے جاتا تھا۔ وہ اس جگہ گئی جہاں وہ اپنے اونٹوں کے ساتھ بیٹھا یا کھڑا
ہوتا تھا۔ وہ وہاں بھی نہیں تھا۔ اس نے ایک شتربان سے پوچھا کہ فہد کہاں ہے ،شتر بان کی حیثیت سے اس کا نام کچھ
اور تھا۔ اسے بتایا گیا کہ وہ اونٹوں پر سامان الد کر فالں جگہ چال گیا ہے۔ خادمہ ادھر کو چل پڑی… اور اسے پتہ نہ چال
کہ ایک اور آدمی اس کے تعاقب میں آرہا ہے۔
یہ آدمی تھا تو موصل کا مسلمان لیکن صلیبیوں کا جاسوس تھا اور اس کا تعلق عزالدین کے محل کے عملے سے تھا۔ اس
نے خادمہ کو طبیب کے پاس پیٹ کے شدید درد کی حالت میں دیکھا تھا۔ وہ اس لڑکی کو جانتا تھا ،اس نے اس لڑکی کو
اس وقت بھی دیکھا تھا جب وہ دوائی لے کرمحل سے نکل رہی تھی۔ اسے یہ تو معلوم نہ تھا کہ یہ رضیع خاتون سے مل
کر آئی ہے ،اس نے یہ دیکھا تھا کہ لڑکی اتنی تیز چل رہی تھی جیسے اسے کوئی تکلیف نہ ہو۔ یہ آدمی صلیبیوں کا تیار
کیا ہوا جاسوس تھا۔ اسے اس لڑکی پر شک ہوا۔ عزالدین کا اپنا جاسوسی کا نظام اتنا اچھا نہیں تھا۔ صلیبیوں نے اسے بتائے
بغیر وہاں اپنے جاسوس چھوڑ رکھے تھے۔ ان کے ذمے دو کام تھے۔ ایک یہ کہ عزالدین پر نظر رکھیں کہ وہ کہیں درپردہ
سلطان ایوبی کا دوست تو نہیں بن رہا۔ دوسرا یہ کہ ان افراد کی نشاندہی کریں جو عزالدین کے محل میں اور موصل میں
موجود ہیں اور جاسوسی کررہے ہیں۔
صلیبیوں کے اس جاسوس نے اس لڑکی کا تعاقب شروع کردیا اور جب دیکھا کہ وہ اور زیادہ تیز چل رہی ہے اور کسی کو
ڈھونڈتی پھرتی ہے تو اس کا شک پختہ ہوگیا۔ اسے اب یہ دیکھنا تھا کہ وہ کسے ڈھونڈ رہی ہے۔ اگر یہ لڑکی واقعی جاسوس
ہے تو اس سے ایک یا ایک سے زیادہ جاسوسوں کو پکڑا جاسکتا تھا۔ لڑکی کو اب ایک شتربان نے بتایا تھا کہ وہ کہاں گیا
ہے۔ وہ اس طرف جارہی تھی اور جاسوس اس کے پیچھے جارہا تھا۔
ایک جگہ اونٹوں سے سامان اتارا جارہا تھا۔ فہد بھی سامان اتار رہا تھا۔ اس نے لڑکی کو دیکھ لیا۔ قریب سے گزرتے ہوئے
لڑکی نے فہد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور آگے نکل گئی۔ فہد کو معلوم تھا کہ وہ کہاں اس کا انتظار کرے گی۔ جاسوس
اس کے پیچھے لگا رہا۔ لڑکی کو معلوم نہ تھا۔ فہد نے جلدی جلدی اپنے اونٹوں سے سامان اتارا اور لڑکی کے پیچھے گیا۔
اس نے ایک اونٹ کی مہار پکڑ رکھی تھی۔ دوسرے اونٹ کی مہار اس اونٹ کے پیچھے بندھی تھی۔ لوگ آجارہے تھے۔ فہد
لڑکی کے ساتھ ہوگیا۔ لڑکی رکی نہیں۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے اپنے دھیان سے جارہی ہو ،فہد بھی بظاہر اس کی طرف
توجہ نہیں دے رہا تھا لیکن لڑکی اسے پیغام دے رہی تھی۔
چند قدموں تک لڑکی نے پیغام سنا دیا اور کہا… ''یہ کام کرکے آئو گے تو وہاں ملوں گی جہاں ہم کچھ دیر بیٹھا کرتے ہیں،
''ابھی نہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اپنے فرض سے بھٹک جائیں… تمہیں معلوم ہوگا۔ سلطان کی فوج کہاں ہوگی؟
مجھے معلوم ہے''… فہد نے جواب دیا… ''میں ابھی روانہ ہوجائوں گا''۔''
خدا حافظ''… لڑکی نے کہا۔''
فی امان اللہ''۔''
لڑکی ایک طرف مڑ گئی۔ وہ ایک گلی تھی۔ تب اس نے گھوم کر دیکھا۔ ایک آدمی اس کے پیچھے آرہا تھا۔ اسے یاد آیا کہ
اس آدمی کو اس نے فہد کی تالش کے دوران تین چار مرتبہ دیکھا تھا۔ اسے یہ بھی خیال آیا کہ اس آدمی کو اس نے محل
میں بھی دیکھا ہے۔ ذہن پر زور دیا تو اسے یاد آیا کہ یہ شخص محل میں مالزم ہے۔
21:00
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 140دوسرا درویش
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ شخص محل میں مالزم ہے۔ لڑکی کو کچھ شک ہوا۔ اس نے اس آدمی کی نیت معلوم کرنے کے لیے گلیوں کے دو تین
موڑ مڑے۔ یہ آدمی اس کے پیچھے رہا۔ لڑکی آبادی سے باہر نکل گئی۔ یہ آدمی بھی باہر نکل گیا۔ کچھ دور درختوں کا جھنڈ
تھا۔ لڑکی وہاں بیٹھ گئی۔ یہ آدمی آگے نکل گیا۔ اسے غالبا ً یہ شک ہوگا کہ لڑکی کسی کے انتظار میں بیٹھی ہے۔ وہ بہت
آگے چال گیا۔
لڑکی ہوشیار تھی۔ وہ جلدی سے قریب کی جھاڑیوں میں چھپ گئی۔ وہاں سے سرکتی جھاڑیوں سے نکلی اور ایک گلی میں
غائب ہوگئی۔ وہ آدمی دور جاکر واپس آیا۔ اب اس نے دوسرا راستہ اختیار کیا تھا۔ اسے توقع تھی کہ لڑکی کے پاس کوئی
آدمی بیٹھا ہوگا مگر اس نے قریب آکر دیکھا ،وہاں لڑکی نہیں تھی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ لڑکی کا نام ونشان نہیں تھا۔
لڑکی اپنے گھر پہنچ چکی تھی۔
٭ ٭ ٭
سلطان صالح الدین ایوبی آرمینیا کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا خطرہ مول لے رکھا تھا۔ صلیبی
افواج کسی بھی وقت متحد ہوکر اس پر حملہ کرسکتی تھیں اور وہ اکیال تھا۔ مسلمان امراء اس کے خالف تھے۔ اپنی اپنی
ریاست اور حکمرانی الگ الگ قائم کرنے کے لیے وہ اپنا ایمان صلیبیوں کے ہاتھ بیچ چکے تھے۔ خانہ جنگی تک ہوچکی تھی
جو صلیبیوں کی درپردہ کوششوں کا نتیجہ تھا۔ اب سلطان ایوبی ان تمام مسلمان امراء کو بزور شمشیر اپنے محاذ پر متحد
کرنے کا عزم لیے ہوئے تھا۔ اس نے کہا تھا کہ ان میں سے جو میری صفوں میں نہیں آتا ،وہ خودمختار بھی نہیں رہے گا۔
اس نے چند ایک قلعوں پر قبضہ کرلیا تھا اور وہاں کے امراء اور قلعہ داروں نے اس کی اطاعت قبول کرلی تھی۔ اب وہ ان
حکمرانوں کی طرف بڑھ رہا تھا جو کچھ طاقت رکھتے تھے۔ وہ کمال دلیری سے ان دشمنوں کے درمیان فوج کو گھما پھرا رہا
تھا اور یہ بہت بڑا خطرہ تھا۔
اگر تمہارے ارادے نیک ہیں توتمہیں ڈرنا نہیں چاہیے''… سلطان ایوبی تل خالد کے راستے میں ایک پڑائو کیے پڑا تھا۔ اس''
نے اپنے خیمے میں ساالروں کو بال رکھا تھا ،کہہ رہا تھا… ''میں جانتا ہوں کہ تم کیا سوچ رہے ہو۔ اگر تم میں سے کوئی
میرے اس فیصلے سے متفق نہیں کہ میں صلیبیوں کی طرف سے بے خبر ہوکر غلط سمت کو چل پڑا ہوں تو میں اسے حق
بجانب سمجھوں گا۔ میں اسے یہ نہیں کہوں گا کہ وہ میرا حکم مانے اور میرے غلط فیصلے پر عمل کرے۔ میں اسے یہی
کہوں گا کہ وہ میرے مقصد کو سمجھے اور دل سے تمام خوف اور وسوسے نکال دے۔ ہماری منزل یروشلم ہے۔ بیت المقدس،
قبلہ اول… خدا نے ہمیں اس کڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے کہ ہمارے بھائی ایمان فروش نکلے۔ انہیں قبلہ اول نہیں حکمرانی
چاہیے… یاد رکھو میرے رفیقو! جب تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں یہ تحریر ہوگا کہ ہمارے دور کی فوج بزدل اور نااہل
تھی۔ شکست کی لعنت ہمیشہ فوج کے حصے میں آتی ہے۔ حکمران اگر کفار کے درپردہ دوست ہی ہوئے ،آنے والی نسلیں
…''فوج پر لعنت بھیجیں گی
ہمیں خدا کے حضور بھی جانا ہے۔ خدا نے ہم پر فرض عائد کیا ہے وہ ہمیں پورا کرنا ہے یا اس فرض کی ادائیگی میں ''
جان دینی ہے۔ مرکز سے الگ ہونے والوں کے لیے میرے دل میں کوئی رحم نہیں۔ اگر ہم نے آج الگ الگ ریاستیں بنانے کے
رجحان کو نہ روکا تو ایک دن یہی رجحان اسالم کے زوال کا باعث بنے گا۔ کہنے کو یہ اسالمی ملک ہوں گے لیکن اپنی
بادشاہیاں اور عیش وعشرت قائم رکھنے کے لیے اپنے طاقتور دشمن کے ساتھ سمجھوتے کرتے اور اپنا ایمان نیالم کرتے پھریں
گے۔ اپنے طاقتور دشمن کو خوش کرنے کے لیے درپردہ ایک دوسرے کی جڑیں کھوکھلی کرتے رہیں گے۔ ان کا کمزور سا دشمن
بھی ان کے لیے طاقتور ہوگا۔ ایک حکمران اپنی پوری رعایا کو بے وقار بنا دے گا۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ قوم کے
…''بکھرے ہوئے شیرازے کو آج ہی سمیٹ لیں
میں اب یہ باتیں بار بار اس لیے کررہا ہوں کہ اپنا نقطہ نظر جو وقت کی ایک ضرورت ہے ،تمہارے دلوں پر نقش ہوجائے''
اور ایسا نہ ہو کہ اپنے کسی ایسے بھائی کو دیکھ کر جو ہمارے مذہب کا دشمن ہو ،تمہاری تلوار جھک جائے۔ قوم کی
مرکزیت اور اتحاد کو ختم کرنے واال بھائی دشمن سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے… میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ ہم تل خالد کے
محاصرے کے لیے جارہے ہیں اور یہ ہمارا آخری پڑائو ہے۔ اس کے آگے تل خالد ہے۔ محاصرے کے لیے میں تم سب کو بتا
چکا ہوں کہ کس کس کے دستے ہوں گے۔ محفوظہ میرے ہاتھ میں ہوگا۔ چھاپہ مار دستے ٹولیوں میں تقسیم ہوکر ان راستوں
کو زد میں لے لیں گے جن سے صلیبی فوج کے آنے کا خطرہ ہوسکتا ہے یا آرمینیا کی فوج محاصرہ توڑنے کے لیے آسکتی
…''ہے۔ جاسوسوں کی اطالع کے مطابق صلیبی حملے کا خطرہ نہیں ،پھر بھی احتیاط الزمی ہے
ہم آرمینیا پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے ،ہمیں شاہ آرمینیا سے اپنی شرائط تسلیم کرانی ہیں۔ میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ ''
عزالدین شاہ آرمینیا کی مدد کا طلب گار ہے۔ ہمیں آرمینیا پر خطرہ بن کر سوار ہوجانا ہے تاکہ شاہ آرمینیا عزالدین کو مدد
نہ دے سکے لیکن میں تمہیں کسی خوش فہمی میں مبتال نہیں کرنا چاہتا۔ یہ عین ممکن ہے کہ آرمینیا کی فوج اور شہری
ہمارا مقابلہ اتنا سخت کریں کہ ہمیں پسپا ہونا پڑے۔ اس صورت میں عزالدین بھی ہم پر حملہ کرسکتا ہے اور حلب کا والی
عمادالدین بھی۔ ہمیں گرتا دیکھ کر چھوٹے چھوٹے امراء بھی ہمیں گھوڑوں تلے روندیں گے۔ ان نتائج اور خطروں کو سامنے رکھ
کر ہمیں لڑنا ہے۔ میں تمہیں نقشہ دکھا چکا ہوں کسی کے دل میں کوئی شک ہو تو رفع کرلو۔ یہ محاصرہ اور حملہ ہمیں
اتنی بڑی مشکل میں ڈال سکتا ہے کہ ہم شکست بھی کھا سکتے ہیں''۔
رات کا پہال پہر تھا جب سلطان صالح الدین ایوبی اس آخری پڑائو میں اپنے ساالروں کو اپنی پہلے سے دی ہوئی ہدایات یاد
دال رہا تھا۔ اس کے سامنے نقشہ پڑا تھا۔ دربان نے خیمہ میں آکر اس کے کان میں کچھ کہا۔ سلطان ایوبی نے اسے کہا…
فورا ً اندر بھیج دو۔
دربان نے خیمے کا پردہ اٹھایا اور سر سے اشارہ کیا۔ فہد خیمے میں داخل ہوا۔ اس نے موصل سے یہاں تک کہیں رکے بغیر
مسافت طے کی تھی۔ اس کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ ہونٹ خشک تھے اور آنکھیں بند ہوئی جارہی تھیں۔ جاسوسی اور سراغ
رسانی کے محکمے کا سربراہ حسن بن عبداللہ خیمے میں موجودتھا۔
معلوم ہوتا ہے تم نے آرام کیے بغیر سفر کیا ہے''۔ فہد نے اکھڑی ہوئی سانسوں سے کہا… ''میرا گھوڑا شاید زندہ نہ رہ''
سکے''۔
''کیا خبر ہے؟''
شاہ آرمینیا اپنے دارالحکومت میں نہیں''۔ فہد نے کہا… ''وہ ہرزم میں خیمہ زن ہے۔ عزالدین اسے ملنے ہرزم جارہاہے۔ ''
ظاہر ہے کہ یہ ہماری فوج کے خالف معاہدہ ہوگا۔ شاہ آرمینیا کے ساتھ اپنی فوج کے بھی دو دستے ہوں گے اور عزالدین
بھی اپنی فوج کے دو تین دستے اپنے ساتھ ال رہا ہے''۔
یہ بادشاہ شاہی شان وشوکت سے ایک جگہ اکٹھے ہورہے ہیں''۔ سلطان ایوبی نے مسکرا کر کہا ،پھر پوچھا… ''موصل ''
میں صلیبیوں کے کیا رنگ ڈھنگ ہیں''۔
صلیبی ٹھنڈے ٹھنڈے سے معلوم ہوتے ہیں''۔ فہد نے جواب دیا… ''ان کے ذخیرے کی تباہی کی اطالع آپ کو مل چکی''
ہے۔ ہم نے وہاں کے لوگوں کے دلوں سے پہلے درویش کا وہم اور فریب نکال دیا ہے''۔
شاہ آرمینیا اور عزالدین کی ہرزم میں مالقات کے متعلق تمہیں کہاں سے اطالع ملی ہے؟'' سلطان ایوبی نے پوچھا… ''
''''میں کیسے یقین کرلوں کہ یہ اطالع صحیح ہے؟
رضیع خاتون کی اطالع غلط نہیں ہوسکتی''۔ فہد نے کہا۔''
اللہ اس عظیم خاتون کو اپنی رحمتوں سے نوازے''۔ سلطان ایوبی نے کہا اور جذبات کے غلبے سے اس کی آواز بھرا ''
گئی۔
رضیع خاتون نے آپ کو سالم کہا ہے''۔ فہد نے کہا… ''اور یہ بھی کہ عزالدین کے پائوں لڑنے سے پہلے ہی اکھڑ گئے ''
ہیں۔ اس پر گھبراہٹ طاری ہے اوراگر اسے ایک ضرب اور پڑی تو وہ گھٹنے ٹیک دے گا''۔
''موصل میں کوئی فوجی ہلچل ہے؟'' سلطان ایوبی نے پوچھا… ''کوئی جنگی تیاری؟''
صلیبی جاسوس اور مشیر سرگرم ہیں''۔ فہد نے جواب دیا… ''کوئی جنگی تیاری نظر نہیں آتی۔ عزالدین صلیبیوں سے ''
جس قسم کی اعانت مانگ رہا ہے ،وہ آپ کو اچھی طرح معلوم ہے۔ شہر میں ہمارے آدمی پوری کامیابی سے اپنا کام کررہے
ہیں اور رضیع خاتون اور ان کی بیٹی شمس النساء کی کوششوں سے قلعے اور محل کے اندر کا ہر گوشہ اور ہر راز ہماری
نظر میں ہے''۔
صد آفرین میرے دوست!'' سلطان ایوبی نے اٹھ کر اس کے گال کو تھپکایا اور کہا… ''تمہیں معلوم نہیں کہ تم جو اطالع''
الئے وہ کتنی کارآمد اور قیمتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ فوجوں کا اب اتنا خون خرابہ نہیں ہوگا ،جتنا محاصرے اور حملے میں
ہوتا'' ۔ اس نے ساالروں سے مخاطب ہوکر کہا… ''اب ہم تل خالد کا محاصرہ نہیں کریں گے۔ فوج ادھر ہی رہے گی۔ چھاپہ
ماروں کا صرف ایک دستہ میرے ساتھ ہرزم کی سمت جائے گا''۔
٭ ٭ ٭
ہرزم ایک خوبصورت جگہ تھی۔ ہر طرف سبزہ زار ،چشمے اور ہرے بھرے درخت تھے۔ ہریالی سے ڈھکی ہوئی چٹانیں بھی
تھیں۔ اس خطے کو قدرت نے تو حسن دیا ہی تھا ،آرمینیا کے بادشاہ نے اسے آکر جنت ارض بنا دیا۔ شامیانوں اور قناتوں نے
محل کا منظر بنا دیا۔ ان کے اندررنگین روشنیوں والے فانوس لٹکائے گئے تھے۔ چھ چھ گھوڑوں کی بگھیاں بھی تھیں اور
محافظ دستے کے سوار اور گھوڑے طلسماتی سی شان کے حامل تھے۔ رقص وسرور کا خاص انتظام تھا۔ آرمینیا کی سب سے
زیادہ حسین اور ناچنے والی لڑکیاں ساتھ الئی گئیں تھیں۔ حرم کی منتخب لڑکیوں کے خیمے الگ تھے۔ شاہ آرمینیا نے مروین
کے امیر کو بھی وہاں مدعو کیا تھا۔ مروین ہرزم کے قریب ہی ایک عالقہ تھا جس کا امیر قطب الدین غازی تھا۔ مروین اس
کی جاگیر تھی… شامیانوں ،قناتوں اور خیموں سے کچھ دور شاہ آرمینیا کی دو دستے فوج خیمہ زن تھی۔
شاہ آرمینیا امیر مروین کے ساتھ دو تین روز شکار کھیلتا رہا ،پھر ایک روز والئی موصل عزالدین آگیا۔ اس کے ساتھ بھی اپنی
فوج کے دو منتخب دستے تھے۔ رات کو رقص وسرور کی محفل جمی۔ شراب کی صراحیاں خالی ہوئیں ،عورت اور شراب نے
وہ کیفیت پیدا کردی کہ یہ مسلمان حکمران ،ان کے امرائ ،وزراء اور ساالر قبلہ اول کے ساتھ خانہ کعبہ کو بھی بھول گئے۔
رات عیش وعشرت میں گزار کر وہ سارا دن گہری نیند میں سوئے رہے۔ اس رات جب وہ شراب اور عورت کے نشے میں
مخملیں قالینوں پر رنگین فانوسوں کے نیچے بدمست ہورہے تھے ،اس رات سلطان صالح الدین ایوبی وہاں سے دو اڑھائی میل
دور چھاپہ ماروں کے ایک دستے کے ساتھ پتھریلی زمین پر سویا ہوا تھا۔ اس نے چھوٹا سا سفری خیمہ ساتھ رکھا تھا تاکہ
نصب کرنے اور گاڑھنے میں زیادہ وقت صرف نہ ہو۔ وہ یہاں سلطان نہیں چھاپہ مار بن کے آیا تھا۔
اس نے خانہ بدوشوں کے بہروپ میں اپنے جاسوس ہرزم کے اس شاہانہ کیمپ کا جائزہ لینے اور تمام تر ضروری معلومات
حاصل کرنے کے لیے بھیج دیئے تھے۔ ان میں فہد بھی تھا۔ اس نے پھٹے پرانے کپڑے پہن رکھے تھے۔ یہ تین چار جاسوس
اپنے اونٹوں کی مہاریں پکڑے کیمپ کے اردگرد گھومتے رہے تھے۔ انہیں کوئی وہاں ہٹ جانے کو کہتا تو وہ ہاتھ پھیال کر
کھانے کی بھیک مانگتے۔ فہد شاہی شامیانوں کے قریب سے گزرا تو اسے وہ نوجوان خادمہ نظر آئی جس نے اسے رضیع
خاتون کا پیغام دیا تھا۔ فہد نے اسے پہچان لیا۔ یہ لڑکی عزالدین کی خصوصی خادمہ تھی جو یہاں بھی اس کے ساتھ آئی
تھی۔
فہد نے بھکاریوں کی طرح صدا لگائی… ''شہزادی! آپ کا غالم سفر میں ہے ،کچھ کھانے کو مل جائے''۔
بھاگ جائو یہاں سے''۔ لڑکی نے دور سے کہا… ''ورنہ پکڑے جائو گے''۔''
فہد کو موصل میں تو کوئی نہیں پکڑ سکا''۔ فہد نے اپنی اصلی آواز میں کہا… ''تم یہاں پکڑوا دو''۔''
اوہ!'' لڑکی ادھر ادھر دیکھ کر اس کے قریب آگئی… ''تم پہنچ گئے ہو؟ دیکھ لو۔ میری خبر غلط تو نہیں تھی… لیکن ''
یہاں نہ رکو۔ چلے جائو… تم رات کہاں ہوگے؟ آج رات شاید میں جلدی فارغ ہوجائوں۔ مل بیٹھے مدت گزر گئی ہے''۔
تم نے ہی کہا تھا کہ جذبات پر فرض کو غالب نہ آنے دینا''۔ فہد نے کہا… ''ہمارا فرض ابھی ادا نہیں ہوا۔ زندہ رہے ''
تو ملیں گے''۔
''تم نے سب کچھ دیکھ لیا ہے؟'' لڑکی نے پوچھا۔ ''سلطان کہاں ہیں؟''
سلطان جلدی آجائے گا''۔ فہد نے جواب دیا۔''
اوئے کون ہے یہ؟'' کسی کی آواز آئی۔ ''ہٹائو اس بدبخت کو یہاں سے''۔''
لڑکی فہد کو ڈانٹنے لگی اور فہد وہاں سے چال گیا۔ لڑکی ایک خیمے کی اوٹ سے اسے جاتا دیکھتی رہی۔ اس خیال سے
اس کے آنسو نکل آئے کہ فہد کا فرض کیسا اذیت ناک ہے اور کتنا خطرناک ہے۔ وہ اس خوبرو اور تنومند جوان کو دل وجان
سے چاہتی تھی مگر وہ چوری چھپے ملتے تھے تو اپنے جذبات کی کم اور فرائض کی باتیں زیادہ کرتے تھے۔ کئی معرکے جو
ان کی فوج نے جیتے تھے ،وہ فہد اور اس لڑکی جیسے جاسوسوں کی بدولت جیتے تھے۔ یہ دشمن کے گھر میں رہ کر زمین
دوز معرکہ لڑتے تھے۔ ان کی جان ہر لمحہ موت کے منہ میں رہتی تھی۔ اس نوجوان اور حسین خادمہ کے جذبات ابل آئے
اگر اس کا فرض راستے میں حائل نہ ہوتا تو وہ فہد کو یہاں مارا مارا پھرنے نہ دیتی۔ وہ جانتی تھی کہ فہد انہی پتھریلی
وادیوں میں کہیں سو جاتا ہوگا۔
ہم خدا کے حضور ملیں گے''۔ لڑکی نے اپنے آپ سے کہا اور اپنے کام کو چلی گئی۔''
رات کا پہال پہر تھا۔ آج رات ہرزم کے شاہی کیمپ میں کوئی گانا بجانا نہیں تھا۔ خاموشی طاری تھی۔ شاہ آرمینیا کے
شامیانے میں اس کے پاس عزالدین اور امیر مروین قطب الدین غازی بیٹھے تھے۔ عزالدین کہہ رہا تھا… ''اس میں کسی شک
کی کوئی گنجائش نہیں رہی کہ صالح الدین ایوبی اپنی سلطنت وسیع کررہا ہے۔ اگر ہم اس کے اتحادی بن جائیں تو وہ ہمیں
اپنا امیر بنا کر رکھے گا۔ ہم خودمختار نہیں ہوں گے۔ حال ہی میں وہ مسلمان امراء کے کئی قلعوں پر قبضہ کرچکا ہے اور
اس کی فوجی طاقت کے خوف سے یہ تمام امراء اور
قلعہ دار اس کی اطاعت قبول کرچکے ہیں۔ اگر میں نے اسے نہ روکا تو وہ صرف موصل پر نہیں ،حلب پر بھی ہاتھ صاف
کرنے کی کوشش کرے گا مگر میں اکیال اس کے خالف نہیں لڑ سکتا۔ عمادالدین میرے ساتھ ہے لیکن اس صورت میں صالح
الدین ایوبی اپنی فوج لٹیروں کی طرح لیے دندناتا پھر رہا ہے ،عمادالدین کو اپنی فوج حلب سے نہیں نکالنی چاہیے۔ حلب کا
دفاع زیادہ ضروری ہے کیونکہ یہ مقام بہت اہم ہے''۔
میں جانتا ہوں''۔ شاہ آرمینیا نے کہا… ''صلیبیوں کی بھی نظریں حلب پر لگی ہوئی ہیں''۔''
اسی لیے میں صلیبیوں کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کرتا''۔ عزالدین نے کہا… ''وہ ہم سے مدد کے عوض حلب مانگیں ''
گے''۔
اور وہ ضرور مانگیں گے''۔ قطب الدین غازی نے کہا… ''میں بہتر یہی سمجھتا ہوں کہ آپ کو آپس میں کوئی معاہدہ ''
کرلینا چاہیے۔ آپ دونوں کی فوجیں مل کر صالح الدین ایوبی کو شکست دے سکتی ہیں''۔
مجھے معلوم ہوا ہے کہ صالح الدین ایوبی کی فوج تل خالد کی طرف جارہی ہے''۔ عزالدین نے کہا۔''
میری اس کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں''۔ شاہ آرمینیا نے کہا… ''میرا خیال ہے وہ میری سرحدوں سے دور رہے گا۔ میں ''
نے اس کی پیش قدمی کی سمت کا جائزہ لیا ہے۔ وہ کہیں اور جارہا ہے''۔
مجھے صلیبیوں پر بھروسہ نہیں''۔ عزالدین نے کہا… ''وہ مجھے ہر طرح کی مدد دیتے ہیں لیکن جنگ صرف سامان اور''
مشیروں سے نہیں لڑی جاسکتی۔ میں انہیں کہتا ہوں کہ میں صالح الدین ایوبی کی فوج کو جنگ میں الجھا لیتا ہوں اور وہ
اس پر حملہ کردیں۔ میں نے انہیں یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ وہ دمشق اور بغداد کو محاصرے میں لے لیں اگر وہ ایسا کریں
تو صالح الدین ایوبی ہمارے عالقوں سے نکل جائے گا مگر وہ نہ جانے کیا سوچ رہے ہیں''۔
وہ ہم سب کو اپنا محکوم بنانے کی سوچ رہے ہیں''۔ شاہ آرمینیا نے کہا… ''سلطان ایوبی نہ رہا تو صلیبی ہمیں کھا ''
جائیں گے۔ ہمیں ان پر بھروسہ کرنا ہی نہیں چاہیے''۔
پھر آپ میری مدد کریں''۔ عزالدین نے کہا… ''میں آگے بڑھ کر صالح الدین ایوبی سے لڑتا ہوں۔ آپ اس پر حملہ ''
کریں''۔
اس موضوع پر وہ بہت دیر تبادلہ خیاالت کرتے رہے۔ آخر شاہ آرمینیا نے اس شرط پر عزالدین کی تجویز مان لی کہ اس کی
فوج کے انسانوں اور جانوروں کی خوراک کی ذمہ داری عزالدین لے۔ عزالدین نے یہ شرط مان لی اور طے ہوا کہ عزالدین
سلطان ایوبی کے ساتھ آمنے سامنے کی ٹکر لے گا اور شاہ آرمینیا کی فوج سلطان ایوبی کی فوج پر عقب سے حملہ کردے
گی۔ عزالدین تجربہ کار جنگجو تھا۔ جنگ لڑنا اور لڑانا جانتا تھا۔ اس نے وہیں جنگ کی منصوبہ بندی کرلی۔
٭ ٭ ٭
آدھی رات سے کچھ دیر پہلے کا ذکر ہے۔ جب عزالدین اور شاہ آرمینیا جنگ کا پالن بنا رہے تھے۔ رات گھوڑوں کے ٹاپوئوں
سے لرزنے لگی۔ شاہ آرمینیا نے دربان کو بال کر غصے سے کہا… ''یہ جن سواروں کے گھوڑے کھل کر بھاگ رہے ہیں ،انہیں
صبح یہاں لے آئو۔ بدبخت بے خبری کی نیند سو جاتے ہیں''۔
مگر یہ گھوڑے اس کے دستے کے نہیں تھے۔ یہ سلطان صالح الدین ایوبی کے چھاپہ مار سوار تھے جن کی تعداد چالیس اور
پچاس کے درمیان تھی۔ یہ ان کا شب خون تھا۔ ذرا سی دیر میں باہر قیامت بپا ہوگئی۔ چھاپہ مار دو حصوں میں تقسیم ہوکر
سرپٹ آئے اور گزر گئے۔ ان کے ہاتھوں میں مشعلیں تھیں جن سے وہ فوج کے خیموں کو جالتے گزر گئے۔ کئی خیموں کو
آگ لگ گئی تھی۔ سوئے ہوئے سپاہی ہڑبڑا کر اٹھے۔ فورا ً بعد سواروں کی ایک اور موج آئی جو برچھیوں اور تلواروں سے
اپنے سامنے آنے والوں کو کاٹتے گزر گئے۔ جلتے ہوئے خیموں نے روشنی کردی تھی۔ پھر تیروں کا مینہ برسنے لگا۔ ان میں
جلتے ہوئے فلیتوں والے تیر بھی تھے۔ بندھے ہوئے گھوڑوں اور اونٹوں کا وہ غل کہ دہشت طاری ہوئی جارہی تھی۔ زخمیوں
کی چیخ وپکار قیامت خیز تھی۔
پھر جانوروں کے رسے کھل گئے۔ گھوڑے اور اونٹ ڈر کر ادھر ادھر بھاگنے دوڑنے لگے۔ اس غل غپاڑے اور چیخ وپکار میں
کیمپ کے اردگرد سے بلند آوازیں سنائی دے رہی تھیں… ''ہتھیار ڈال دو۔ عزالدین ہمارے سامنے آجائو ،شاہ آرمینیا تل خالد
ہمارے محاصرے میں ہے''۔
ان میں سے کوئی بھی سامنے نہ آیا۔ عزالدین نے اپنے ایک وفادار کمان دار سے کہا کہ وہ اسے ایک گھوڑا ال دے۔ بڑی
مشکل سے اسے گھوڑا ال کر دیا گیا۔ وہ سوار ہوا اور افراتفری کے اس قیامت خیز عالم میں نکل گیا۔ اس نے اپنے دستوں
کی ،اپنے ذاتی عملے کی اور اپنے ساتھ جو لڑکیاں الیا تھا ،ان کی بھی پروا نہ کی۔ جان بچا کر بھاگ گیا۔
اس دور کا ایک واقعہ نگار اسد االسدی لکھتا ہے کہ سلطان ایوبی گھیرا تنگ کرکے ان حکمرانوں کو گرفتار کرسکتا تھا لیکن
اس نے مصلحتا ً ایسا اقدام نہ کیا۔ اس کی وجہ یہی ہوسکتی تھی کہ وہ ان حکمرانوں کو اپنا اتحادی بنا کر ان کی فوجوں کو
فتح فلسطین کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ وجہ خواہ کچھ ہی تھی۔ فروری ١١٨٣ء (٥٧٩ہجری) کا یہ معرکہ سلطان ایوبی
نے چھاپہ ماروں سے اسی طرح لڑایا اور اس نے آگے بڑھ کر کسی کو گرفتار کرنے کی کوشش ہی نہ کی۔ اس شب خون کی
نگرانی اس نے خود کی تھی۔
شاہ آرمینیا نے بھاگنے کے بجائے وہیں رکے رہنا مناسب سمجھا۔ رات گزرگئی۔ صبح ہوئی تو کیمپ میں جلے ہوئے خیموں کی
راکھ بکھری ہوئی تھی ،الشیں پڑی تھیں ،زخمی تڑپ رہے تھے ،گھوڑے اور اونٹ ادھر ادھر گھوم پھر رہے تھے۔ حملہ آوروں کا
کچھ پتہ نہ تھا ،کہاں ہیں۔ شاہ آرمینیا جانتا تھا کہ سلطان ایوبی یہیں کہیں قریب ہی ہوگا۔ وہ سوچنے لگا کہ سلطان ایوبی
کو کہاں تالش کرے۔ اتنے میں اسے دو سوار آتے نظر آئے۔ وہ شاہ آرمینیا کے سامنے آکر اترے اور سالم کیا۔ وہ سلطان ایوبی
کے فوجی حکام تھے۔
سلطان صالح الدین ایوبی نے سالم بھیجا ہے''۔ ایک نے کہا… ''انہوں نے کہا ہے کہ وہ کسی کو گرفتار کرنے کا ارادہ ''
نہیں رکھتے۔ عزالدین واپس موصل چال جائے اور آرام سے بیٹھ کر سوچے اور شاہ آرمینیا کے لیے سلطان محترم نے پیغام دیا
ہے کہ ان کی فوج تل خالد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ آپ کو شام تک وہاں سے اطالع مل جائے گی۔ آپ کے پہنچنے تک
آپ کا دارالحکومت ہمارے قبضے میں ہوگا۔ اگر آپ سلطان شام ومصر کی شرائط قبول کرلیں تو تل خالد سے فوج واپس
آسکتی ہے۔ اگر آپ مقابلے کا فیصلہ کرتے ہیں تو نتائج کو پہلے ذہن میں رکھ لیں۔ ہمیں پیغام کا جواب دیں۔ آپ ہمارے
محاصرے میں ہیں''۔
سلطان صالح الدین ایوبی کو میرا سالم کہو''۔ شاہ آرمینیا نے کہا… ''میں اپنے ایک وزیر کو شام سے پہلے سلطان کے ''
پاس بھیج رہا ہوں''۔
دونوں سوار چلے گئے۔ شاہ آرمینیا کا یہ وزیر بکتیمور تھا جو اس کے ساتھ تھا۔ شاہ آرمینیا نے اسے کہا کہ ''ہمیں ان
لوگوں کے اختالفات اور عداوت میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ ادھر تل خالد محاصرے میں ہے اور ہم یہاں ہیں۔ جائو اور صالح
الدین ایوبی سے کہو کہ اپنی فوج واپس بال لے۔ ہم اس کے کسی دشمن کے ساتھ کوئی معاہدہ اور کوئی اتحاد نہیں کریں
گے''۔
بکتیمور دانش مند وزیر تھا۔ اس نے سلطان ایوبی کے ساتھ بات کی۔ سلطان ایوبی نے بڑی سخت شرائط پیش کیں اور
منوالیں۔ بکتیمور نے تحریری وعدہ دے دیا کہ شاہ آرمینیا کی فوج سلطان ایوبی کے کسی دشمن کی مدد کو نہیں جائے گی۔
سلطان ایوبی نے محاصرہ اٹھا لیا اور شاہ آرمینیا سے ملے بغیر تل خالد کو روانہ ہوگیا۔
٭ ٭ ٭
دیار بکر تھا جو اس زمانے میں عمیدہ کہالتا تھا۔ اس مقام کو جنگی اہمیت حاصل تھی اور اس کی اہمیت
ایک اور اہم مقام
ِ
یہ بھی تھی کہ اس کے گردونواح کے عالقے کے لوگ جنگجو اور فن سپہ گری کے ماہر تھے۔ سلطان ایوبی کی فوج میں
بہت سے سپاہی اسی عالقے کے تھے۔ اپنی فوج کی کمی سلطان اسی عالقے سے پوری کیا کرتا تھا۔ یہاں کے لوگ تو
سلطان ایوبی کے حامی تھے مگر ان کا حکمران اپنی حکمرانی قائم رکھنے کی خاطر سلطان ایوبی کا مخالف تھا اور مسلمان
ہوتے ہوئے صلیبیوں کے ساتھ درپردہ دوستی کی کوشش میں تھا۔
دیار بکر کی طرف پیش قدمی کا حکم دیا۔ یہ برق رفتار پیش قدمی تھی۔ سلطان ایوبی نے :
سلطان ایوبی نے اپنی فوج کو
ِ
دیار بکر کو محاصرے میں لے کر اس جگہ پر قبضہ کرنا ہے اور فتح کی صورت میں
اپنے ساالروں کو اتنا ہی بتایا تھا کہ
ِ
وہاں کے موجودہ امیر کی کوئی شرط تسلیم نہیں کی جائے گی اور کوئی رحم نہیں کیا جائے گا۔
میرا خیال ہے کہ ان امراء پر ظلم نہ کیا جائے''۔ ایک ساالر نے کہا… ''ان کی افواج کو اپنی فوج میں شامل کرکے ''
انہیں برائے نام امیر رہنے دیا جائے''۔
میں اب کسی سانپ کو قوم کی آستیں میں نہیں پلنے دوں گا''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''مجھے اطالعات ملی ہیں کہ ''
یہ شخص اپنے عالقے کے لوگوں کو ہماری فوج میں شامل ہونے سے روک رہا ہے اور وہ خالفت کے خالف کارروائیاں کررہا
ہے۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ مرکز سے خودمختاری مانگنے والے یا درپردہ کوششوں سے الگ ہونے والے غدار ہوتے ہیں اور یہ غدار
بہت خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ وہ قوم کے دشمن سے مدد لیتے ہیں اور اپنی قوم یعنی خالفت کے خالف استعمال کرتے
ہیں۔ میں ان لوگوں کا سرکچل دینا چاہتا ہوں تاکہ جب آپ کا اصل دشمنی یعنی صلیبی آپ کے سامنے آئیں تو آپ کی پیٹھ
دیار بکر اللہ کے سپاہیوں
پیچھے سے کوئی وار کرنے واال نہ ہو اور کوئی سانپ زمین سے نکل کر آپ کو ڈنک نہ مار سکے۔
ِ
کا خطہ ہے۔ ہماری فوج کی ایک چوتھائی نفری اسی خطے کی ہے۔ اگر ہم نے ان جنگجوئوں کے غدار حکمران کو بخش دیا
فن سپاہ گری بھی
…''تو اس خطے کے لوگوں کا ایمان بھی تباہ ہوجائے گا اور ِ
ساری قوم یا کسی ملک کے تمام لوگ غدار یا بے ایمان نہیں ہوا کرتے۔ حکمران اگر ایمان فروش ہو تو قوم کے جوہر ختم''
ہوجاتے ہیں۔ اچھی بھلی قومیں بے وقار ہوجاتی ہیں۔ جذبے مرجاتے ہیں اور پھر قومیں آزاد قوموں کی طرح زندہ نہیں رہتیں۔
ہمیں اپنے اس قسم کے حکمرانوں کو ختم کرنا ہے اور سلطنت اسالمیہ کا ایک مرکز بنانا ہے۔ آپ نے دیکھا ہے کہ خالفت
بغداد مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ اگر خالفت کا حکم چلتا تو ہمیں فوج کشی نہ کرنی پڑتی۔ یہ فوج کا فرض ہے کہ ملک کے
اندر انتشار کو اور نااہل اور ایمان فروش حکمران کو ختم کرے۔ میں پھر وہی الفاظ دہراتا ہوں کہ تاریخ یہی کہے گی کہ چھٹی
صدی ہجری کی فوج نکمی تھی جس نے نہ خالفت کا وقار بحال کیا نہ دشمن کو نیست ونابود کیا''۔
دیار بکر کا محاصرہ اتنی تیزی سے ہوا کہ اندر والوں کو مزاحمت کی مہلت نہ ملی۔ سلطان ایوبی نے ہدایت جاری کی تھی
ِ
کہ شہریوں کا نقصان کم سے کم ہو۔ اندر اپنے جاسوس موجود تھے ا ور سلطان ایوبی خود بھی شہر سے اور حکمران کے
محل اور ہیڈکوارٹر سے واقف تھا۔ اس لیے منجنیقوں سے جو پتھر اور آتش گیر سیال کی جو ہانڈیاں پھینکی گئیں ،وہ سرکاری
عمارتوں پر پھینکی گئیں۔ باہر سے اعالن کیے گئے کہ امیر ہتھیار ڈال کر باہر آجائے لیکن قلعے کی دیواروں پر کھڑے امیر
نےجوابی اعالن کرایا کہ تھیار نہیں ڈالے جائیں گے۔ لڑو اور شہر لے لو۔
دیار بکر کی فوج نے جم کر مقابلہ کیا۔ سلطان ایوبی محاصروں کا ماہر تھا لیکن اس نے مزاحمت دیکھی تو سمجھ گیا کہ یہ
ِ
محاصرہ طول پکڑے گا اور اس کے لیے کچھ زیادہ ہی قربانی دینی پڑے گی۔ دیواریں توڑنے والے افراد رات کی تاریکی میں
دیوار تک پہنچ گئے لیکن اوپر سے ان پر آگ پھینکی گئی اور وزنی پتھر بھی پھینکے گئے۔ بڑے دروازے پر منجنیقوں سے
آتش گیر سیال کی ہانڈیاں پھینک کر فلیتے والے تیر مارے گئے جس سے
دروازے کا لکڑی کا حصہ جل گیا مگر اس کا لوہے کا ڈھانچہ گھنا تھا جس میں سے گزرنا ممکن نہیں تھا تاہم گزرنے کی
کوشش کی جاسکتی تھی۔ فضا میں تیر اڑ رہے تھے۔
دیار بکر نے
سلطان ایوبی حیران تھا کہ اندر والے ایسا سخت مقابلہ کیوں کررہے ہیں۔ یہ راز بعد میں کھال تھا کہ امیر
ِ
محاصرے کی اطالع ملتے ہی شہر میں اعالن کرادیا تھا کہ صلیبیوں نے شہر کا محاصرہ کرلیا ہے۔ اس اعالن پر شہر کے لوگ
لڑنے اور مرنے کے لیے تیار ہوگئے تھے اور انہوں نے فوج کے دوش بدوش شہر کی دیوار پر آکر محاصرہ کرنے والوں پر تیروں
اور برچھیوں کا مینہ برسا دیا۔ یہ دیکھا گیا تھا کہ چاروں طرف دیوار پر فوج کے ساتھ شہری بھی تھے۔ شہر کے لوگوں کا
حوصلہ بلند تھا لیکن سلطان ایوبی نے شہریوں کو لڑتے دیکھ کر بھی یہ حکم نہ دیا کہ شہر پر بھی آگ برسائی جائے۔
محاصرہ آٹھ روز جاری رہا۔ زیادہ تر نقصان سلطان ایوبی کی فوج کا ہورہا تھا کیونکہ اس کی ٹولیاں آگے بڑھتی اور تیروں کا
نشانہ بنتی تھیں۔ پھر ایک معجزہ ہوا۔ شہر کی دیوار سے نعرے گرجنے لگے… ''یہ صلیبی نہیں ہیں ،یہ سلطان صالح الدین
دیار بکر کے عالقے کے
ایوبی ہے۔ ان کے جھنڈے دیکھو ،مسلمانو! تم آپس میں لڑ رہے ہو''۔ تب سلطان ایوبی کی فوج میں
ِ
جو سپاہی اور کمان دار تھے ،انہوں نے بلند آواز سے پکارنا شروع کردیا… ''ہم تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی ہیں ،دروازے
کھول دو''۔
یہ انکشاف بھی بعد میں ہوا تھا کہ شہر کے اندر سلطان ایوبی کے جو جاسوس اور زمین دوز کارندے تھے ،انہوں نے بھاگ :
دوڑ کر لوگوں کو بتایا تھا کہ محاصرہ کرنے والے صلیبی نہیں ،مسلمان ہیں اور یہ سلطان صالح الدین ایوبی ہے۔ یہ مہم آسان
نہیں تھی۔ جاسوس آزادی سے لوگوں کو سرکاری اعالن کے خالف کچھ کہہ نہیں سکتے تھے۔ اس مہم میں کچھ جاسوس پکڑے
بھی گئے تھے ،انہوں نے کامیابی حاصل کرلی۔ نویں روز اندر کی فوج اور شہریوں کی سوچ اور جذبہ بدل گیا۔ شہریوں نے
حکمران اور اس کے حاشیہ برداروں کی دھمکیوں اور چیخ وپکار کی پروا نہ کرتے ہوئے شہر کے دروازے کھول دئیے۔ جب
سلطان ایوبی شہر میں داخل ہوا تو شہر کے لوگوں نے بے تابی سے نعرے لگا لگا کر اس کا استقبال کیا۔ عورتوں نے منڈیروں
اور دریچوں سے اس کی فوج پر اپنے دوپٹے اور رومال پھینکے۔
دیار بکر کے امیر کو شہر سے نکل جانے کا حکم دیا اور یہ شہر نورالدین ابن قاراارسالن اور
سلطان صالح الدین ایوبی نے
ِ
ایک اور امیر کو دے دیا۔ قاضی بہائوالدین شداد نے اس کا نام ابن نکن لکھا ہے جو نورالدین کے ہی خاندان کا فرد تھا۔
سلطان ایوبی نے انہیں ضروری ہدایات دیں۔وہاں کی فوج کو اپنی فوج کا حصہ بنایا اور حکم دیا کہ اس عالقے سے مزید فوج
تیار کی جائے۔
دیار بکر کو اپنی عمل داری میں لیا اور حلب کی سمت کوچ
مئی ١١٨٣ء (محرم الحرام ٥٧٩ہجری) میں سلطان ایوبی نے
ِ
کیا۔ اس کے سب سے بڑے دشمن حلب کا والی عمادالدین اور موصل کا والی عزالدین تھے۔ اب وہ ان کی طرف توجہ دینا
چاہتا تھا۔
21:01
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 141نہ میں تمہاری ،نہ مصر تمہارا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
فتح حاصل کرکے کون خوش نہیں ہوتا؟ سلطان صالح الدین ایوبی کو کسی معرکے ،محاصرے یا بڑی جنگ میں فتح ہوتی تھی
تو اس کے چہرے پر نورانی سی رونق آجاتی تھی۔ اس کی فوج جشن مناتی ،سپاہی رقص کرتے ،گاتے اور راتوں کو سوتے
تھے۔ بکرے ،دنبے اور اونٹ ذبح ہوتے۔ سپاہی خود پکاتے اور سلطان ایوبی ان کے لیے مشروبات کے مٹکے کھول دیا کرتا تھا
مگر ١١٨٣ء (٥٧٩ہجری) کے دوران اس کے چہرے پررونق نہیں تھی ،نہ ہی اس کی فوج جشن منا رہی تھی ،حاالنکہ اس نے
ایک سال کے عرصے میں متعدد قلعے سرکر لیے اور شاہ آرمینیا جیسے طاقتور حکمران سے شکست کے عہدنامے پر دستخط
کراکے اس سے اپنی شرائط منوالی تھیں۔
مؤرخوں نے اس دور کو سلطان ایوبی کی فتوحات کا دور کہا ہے مگر اس کی جذباتی کیفیت یہ تھی جیسے ہر فتح کے بعد
اس کے چہرے پر بڑھاپے کی ایک لکیر کا اضافہ ہوگیا ہو۔ یہ لکیریں بڑھاپے اور اداسی کی تھیں۔ وہ ان میں سے کسی ایک
فتح اور کسی ایک کامیابی پر بھی خوش نہ تھا۔ اسے جب چھاپہ ماروں کا ساالر صارم مصری فاتحانہ انداز سے رپورٹ دیتا
تھا کہ گزشتہ رات چھاپہ ماروں نے فالں جگہ شب خون مار کر دشمن کو اتنا نقصان پہنچایا ہے تو سلطان ایوبی آہستہ سے
سر ہال کر اسے خراج تحسین پیش کرتا اور پھر اس کا سر یوں جھک جاتا تھا جیسے اس کے ضمیر پر ایسا بوجھ آپڑا ہو
جو اس کی برداشت سے باہر ہو۔
مجھے مبارکباد اس روز کہنا جس روز تم صلیبیوں کو شکست دو گے''… ایک روز سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں سے کہا۔ ''
دیار بکر کی فتح کے بعد مبارکباد کہنے آئے تھے۔ اس روز تو اس کی آنکھیں الل ہوگئیں جیسے وہ آنسوئوں کو روکنے
وہ اسے
ِ
کی کوشش کررہا ہو۔ اس نے کہا… ''تم محسوس نہیں کررہے کہ ہم گھروں سے نکلے تھے ،صلیبیوں کو شکست دینے اور
انہیں اپنی سرزمین سے نکالنے کے لیے مگر انگلیوں پر گنو کہ تم کتنے برسوں سے اپنے ہی بھائیوں سے لڑ رہے ہو اور
حساب کرو کہ ہم ایک دوسرے کا کتنا خون بہا چکے ہیں۔ کیا تم اسے فتح کہتے ہو؟ میں اس خانہ جنگی میں جو بھی فتح
حاصل کرتا ہوں ،وہ میری اور تمہاری نہیں ،وہ صلیبیوں کی فتح ہوتی ہے۔ جب دو بھائی آپس میں لڑتے ہیں تو خوشی اور
کامیابی ان کے دشمن کی ہوتی ہے۔ میں اسے فتح نہیں کہتا جو ہم نے اپنے بھائیوں پر حاصل کی ہے''۔
صلیبی کیوں دبک گئے ہیں؟''… ایک ساالر نے کہا… ''ہم آپ کو ان پر بھی فتح حاصل کرکے دکھا دیں گے''۔''
انہیں وہاں سے نکلنے اور لڑنے کی کیا ضرورت ہے ،جہاں وہ دبک کر بیٹھ گئے ہیں''… سلطان ایوبی نے کہا… ''جنگ کا''
پہال اصول کیا ہے؟… دشمن کی عسکری قوت کو تباہ کرنا۔ صلیبیوں نے ہماری عسکری قوت کو ہمارے بھائیوں کے ہاتھوں تباہ
کرانے کا کامیاب انتظام کررکھا ہے۔ ہم آپس میں لڑ لڑ کر کمزور ہوتے جارہے ہیں اور صلیبی اس صورتحال سے اور اس وقت
سے فائدہ اٹھاتے ہوئے روزبروز طاقتور ہوتے جارہے ہیں۔ فلسطین پر ان کا قبضہ مضبوط ہوتا جارہا ہے۔ حکمرانی صدا اللہ کی
ہے مگر حکمرانی کا نشہ جب انسان پر طاری ہوتا ہے تو مذہب اورملت کا وقار تو دور کی بات ہے وہ اپنی بیٹیوں کو ننگا
نچانے لگتا ہے۔ جھوٹ اور فریب کاری کو وہ جائز اور ضرورت سمجھنے لگتا ہے۔ صلیبی امت رسول مقبول صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کو ریاستوں میں تقسیم کرتے چلے جارہے ہیں اور اللہ کی فوج کو ان ریاستوں میں تقسیم کرکے اسالم کی عسکری
قوت کو پارہ پارہ کررہے ہیں''۔
ہمیں ان عالقوں سے فوج کے لیے بہت بھرتی مل رہی ہے''… ایک ساالر نے کہا… ''بڑے اچھے سپاہی اور سوار بڑی ''
خوشی سے آرہے ہیں''۔
لیکن مجھے اس کی کوئی خوشی نہیں''… سلطان ایوبی نے سب کو چونکا دیا۔ اس نے کہا… ''یہ لوگ صرف اس لیے ''
ہماری فوج میں بھرتی ہورہے ہیں کہ جس شہر کو فتح کیا جاتا ہے ،وہاں ہماری فوج لوٹ مار کرتی ہے اور وہاں سے حسین
عورتیں ملتی ہیں''۔
ہم نے اپنی فوج کو اپنی لوٹ مار اور آبروریزی کی اجازت کبھی نہیں دی''… ایک اور ساالر نے کہا۔''
مگر ہمارا دشمن ہماری فوج کے خالف یہی مشہور کررہا ہے کہ صالح الدین ایوبی نے اپنی فوج کو لوٹ مار کی اور مفتوح''
کی جوان لڑکیاں اٹھالے جانے کی اجازت دے رکھی ہے۔ دشمن نے ہماری فوج کے خالف یہ بے بنیاد باتیں اس لیے مشہور
کررکھی ہیں کہ خود مسلمانوں کے دلوں میں اسالمی فوج کے خالف نفرت پیدا ہوجائے اور ہمیں کہیں سے بھی لوگوں کا
تعاون نہ ملے بلکہ ہم جس شہر کا محاصرہ کریں وہاں کے لوگ مسلمان ہوتے ہوئے بھی ہماری اس فوج کے خالف لڑیں جو
اسالمی فوج ہے اور جو ہر لحاظ سے حزب اللہ کہالنے کی حق دار ہے۔ یاد رکھو میرے دوستو! قوم بغیر فوج کے اور فوج
قوم کے والہانہ تعاون کے بغیر دشمن کے لیے آسان ہوتی ہے۔ اپنے دشمن کو پہچانو۔ تمہارا دشمن دانشمند ہے ،اس نے ہماری
قوم اور فوج میں نفرت پیدا کرنے کا بڑا اچھا اہتمام کیا ہے۔ قرآن نے سیسہ پالئی ہوئی دیوار بن جانے کا حکم صرف قوم یا
صرف فوج کو نہیں دیا۔ سیسہ پالئی ہوئی دیوار قوم اور فوج مل کر بنتی ہے۔ اس دیوار میں شگاف ڈالنے کا یہ طریقہ کارگر
ہے کہ فوج کو نااہل ،بزدل ،زانی اور ڈاکوکہہ کر قوم کی نظروں سے گرا دیا جائے''۔
دیار بکر کے لوگوں پر تو ایسا کوئی اثر نہیں دیکھا''… صارم مصری نے کہا… ''انہیں جونہی پتہ چال کہ محاصرہ کرنے ''
ِ
والے ہم ہیں اور ان کا حکمران اپنی فوج کے خالف لڑا رہا ہے تو لوگوں نے شہر کے دروازے کھول دئیے تھے''۔
وہاں ہمارے جاسوس زیادہ تعداد میں تھے''۔ سلطان ا یوبی نے کہا۔ ''وہاں کی تمام بڑی مسجدوں کے امام ہمارے آدمی ''
زکوة کے وعظ نہیں دئیے ،اس کے ساتھ وہ لوگوں کو صلیبیوں کے
تھے۔ انہوں نے وہاں کے لوگوں کو صرف نماز ،روزہ ،حج اور
ٰ
عزائم اور اپنے ایمان فروش امراء اور حاکموں کے متعلق بھی بتاتے رہے ہیں اور یہ بھی کہ جب ایک مسلمان دوسرے کا خون
بہاتا ہے تو عرش معلی لرز جاتا ہے اور خدا اس بستی پر اپنا قہر نازل کرتا ہے جہاں کے مسلمان مسلمانوں کے خالف لڑتے
دیار بکر میں صلیبیوں کے جاسوس اور تخریب کار بھی درویشوں ،صوفیوں اور
اور خون بہاتے ہیں۔ تمہیں یہ معلوم نہیں کہ
ِ
عالموں کے بہروپ میں موجود تھے اور نظریاتی تخریب کاری کررہے تھے لیکن ہمارے آدمیوں نے ان میں بعض کو خفیہ طریقوں
سے اغوا اور قتل کیا اور ان کی آواز کو بیکار کردیا مگر ہم اس وقت جس عالقے میں ہیں ،یہاں صلیبیوں کی تخریب کاری
کامیاب ہورہی ہے''۔
یہ جو سپاہی اور سوار لوٹ مار کے اللچ سے بھرتی ہورہے ہیں ،کیا یہ پوری فوج کو خراب نہیں کریں گے؟'' ساالر نے ''
پوچھا۔
تم نے دیکھا نہیں کہ انہیں کس قسم کی تربیت دی جارہی ہے؟''… سلطان ایوبی نے کہا… ''میں نے تمہیں تربیت اور ''
جنگی مشقوں کا جو نیا طریقہ بتایا ہے وہ انہیں صحیح سوچ پر لے آئے گا۔ میں فوج میں ان کی تقسیم ایسے طریقے سے
کررہا ہوں کہ یہ فوج پر نہیں بلکہ فوج ان پر اثرانداز ہوگی۔ تم بہت جلدی میرا یہ تحریری حکم بھی دیکھ لو گے کہ مفتوحہ
عالقے میں اپنا کوئی سپاہی لوٹ مار کرتا یا کسی عورت پر ہاتھ ڈالتا دیکھا جائے تو اسے تیر کا نشانہ بنا دیا جائے یا قریب
جاکر اس کی گردن اڑا دی جائے۔ دشمن کے بے بنیاد الزامات کو غلط ثابت کرنے کا یہی ایک طریقہ ہے کہ فوج اپنے کردار
سے مفتوح لوگوں پر اور اپنی قوم پر بھی دل موہ لینے واال اثر پیدا کرے۔ مجھے یہی خطرہ نظر آرہا ہے کہ صلیبی اور یہودی
ہر دور میں اسالم کی فوج اور قوم کے درمیان منافرت پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ قوم کی کردار کشی الگ اور فوج
کی الگ کریں گے اور اس طرح دونوں کا ایمان اور قومی جذبہ برباد کرکے انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنائے رکھیں گے۔ یہ
کام وہ مسلمانوں کے ہاتھوں کرائیں گے''۔
٭ ٭ ٭
سلطان صالح الدین ایوبی دریائے فرات کے کنارے خیمہ زن تھا۔ اس نے کئی ایک چھوٹی چھوٹی مسلمان ریاستوں کے :
حکمرانوں کو مطیع بنا لیا اور متعدد قلعوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ یہ وہ مسلمان حکمران تھے جو درپردہ صلیبیوں کے دوست اور
سلطان ایوبی کے مخالف تھے۔ سلطان ایوبی کی منزل بیت المقدس تھی جس پر صلیبیوں نے قبضہ کرکے اسے یروشلم کا نام
دے رکھا تھا مگر اپنے مسلمان حکمران ا ور امراء سلطان ایوبی کے راستے میں حائل ہوگئے تھے۔ سلطان ایوبی فوج کو چند
دن آرام دینے کے لیے فرات کے کنارے رک گیا تھا ،وہاں گھوڑوں ،خچروں ،اونٹوں اور رسد کی کمی پوری کی جارہی تھی۔
سورج غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے سلطان ایوبی فرات کے کنارے ٹہل رہا تھا۔ اس کے ساتھ گھوڑ سوار دستوں کا ساالر اور
چھاپہ مار دستوں کا ساالر صارم مصری تھا۔ ان سے کچھ دور سفید جبے میں ملبوس ایک آدمی کھڑا تھا جس نے دعا کے لیے
ہاتھ اٹھا رکھے تھے۔ سلطان ایوبی ادھر چل پڑا۔ قریب پہنچا تو دیکھا کہ وہاں چار قبریں ہیں۔ ان میں سے ایک قبر کے
:سرہانے ایک ڈنڈا گڑا تھا اور اس کے ساتھ لکڑی کی ایک تختی تھی جس پر الل رنگ سے عربی زبان میں لکھا تھا
عمرالملوک
اللہ تیری شہادت قبول کرے
نصرالملوک
!اس کے ساتھ کی قبر پر بھی ایسی تختی لگی ہوئی تھی جس پر اسی قسم کی الل تحریر تھی
نصرالملوک
اللہ میری شہادت قبول کرے
سلطان ایوبی نے دونوں تحریریں پڑھیں اور اس آدمی کی طرف دیکھا جو قبروں پر فاتحہ پڑھ رہا تھا۔ وہ وضع اور لباس سے
عالم فاضل لگتا تھا۔ سلطان ایوبی نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے ذرا جھک کر کہا… ''میں اس گائوں کا امام ہوں ،جہاں
کہیں پتہ چلتا ہے کہ شہید کی قبر ہے وہاں چال جاتا ہوں اور فاتحہ پڑھتا ہوں۔ میرا یہ عقیدہ ہے کہ جس جگہ شہید کے
خون کا قطرہ گرتا ہے وہ جگہ مسجد جتنی مقدس ہوجاتی ہے۔ میں لوگوں کو یہی بتایا کرتا ہوں کہ مجاہد وہ عظیم شخصیت
ہے جس کے گھوڑے کے سموں کی اڑائی ہوئی گرد کا احترام خدا نے بھی کیا ہے اور جہاد فی سبیل اللہ کو خدائے ذوالجالل
نے افضل عبادت کہا ہے''۔
مگر اللہ کے نام پر جانیں قربان کرنے والے ایسے ہی گمنام لوگ ہوتے ہیں جن کی قبریں آپ دیکھ رہے ہیں۔ تاریخ میں ''
ان کا نہیں میرا نام آئے گا مگر مجھے عظمت دینے والے یہ لوگ تھے''… اس نے اپنے ساالروں کی طرف دیکھا اور قبروں
کی دونوں تختیوں کی تحریروں پر ہاتھ پھیر کر کہا… ''یہ الفاظ الل رنگ میں انگلی ڈبو کر لکھے گئے ہیں۔ لکھنے واال ایک
ہی آدمی معلوم ہوتا ہے''۔
الل رنگ نہیں سلطان محترم!''… چھاپہ ماروں کے ساالر صارم مصری نے کہا… ''یہ خون ہے۔ عمرالملوک کی قبر کی ''
تختی نصرالملوک نے اپنے خون سے لکھی تھی اور اس نے اپنے ہی خون سے اپنی قبر کی بھی تختی لکھی اور شہید ہوگیا
تھا۔ سولہ سترہ دن گزرے رات کو دریا سے ہم نے ایک بہت بڑی کشتی پکڑی تھی جس میں دشمن کے چھاپہ ماروں کے لیے
رسد جارہی تھی۔ آپ کو اس کی اطالع دی گئی تھی۔ یہ کشتی ہمارے آٹھ چھاپہ ماروں نے پکڑی تھی۔ ان میں سے یہ چار
شہید ہوگئے تھے۔ ہمیں پہلے اطالع مل گئی تھی کہ ایک بڑی کشتی رات کو گزرے گی جس میں دشمن کی رسد اور اسلحہ
…''ہوگا۔ میں نے اپنے آٹھ چھاپہ مار بھیجے۔ یہ ایک چھوٹی سی کشتی میں تھے
آدھی رات دوسرے کنارے کے ساتھ ساتھ وہ کشتی جارہی تھی۔ ہمیں اطالع ملی تھی کہ اس میں چار پانچ آدمی ہوں گے ''
لیکن ہمارے چھاپہ ماروں کی کشتی اس کے قریب گئی تو اس میں کم وبیش بیس آدمی تھے۔ اس سے پہلے کہ ہمارے یہ
چھاپہ مار دشمن کی کشتی میں کود جاتے ،دشمن کے آدمی جو تلواروں سے مسلح تھے ،ہمارے کشتی میں کود آئے۔ ہمارے یہ
چھاپہ مار دریائی چھاپوں کا تجربہ رکھتے تھے۔ وہ اپنی کشتی سے دریا میں کودے اور دشمن کی کشتی پر چڑھ کر اس کے
بادبانوں کے رسے کاٹ دئیے۔ دونوں کشتیوں میں خون ریز معرکہ لڑا گیا۔ ہمارے چھاپہ ماروں نے بڑی کشتی سے اپنی کشتی
پر تیر پھینکے جس میں دشمن کے آدمی تھے۔ بہرحال ہمارے جانباز عقل اور دائوپیچ سے معرکہ لڑکر دونوں کشتیاں لے آئے۔
…''دشمن کے آدمی جو مرے نہیں تھے ،دریا میں کود کر دوسرے کنارے پر چلے گئے
کشتیاں کنارے لگیں ،مجھے اطالع ملی تو میں انہیں دیکھنے گیا۔ صبح طلوع ہورہی تھی۔ ایک کشتی میں عمرالملوک کی ''
اور اس کی دو ساتھیوں کی الشیں تھیں اور باقی سب زخمی تھے۔ نصرالملوک سب سے زیادہ زخمی تھا۔ دو گہرے زخم
برچھی کے اور تین زخم تلوار کے تھے۔ وہ ہوش میں تھا ،مرہم پٹی کے لیے لے گئے تو اس نے مجھ سے کہا کہ اسے ایک
تختی دی جائے جو وہ اپنے دوست کی قبر پر لگانا چاہتا ہے۔ میں نے ترکھانوں سے اسے تختی منگوا دی۔ اس دوران اس
نے اپنی مرہم پٹی نہ ہونے دی۔ تختی آئی تو اس نے اپنے خون میں شہادت کی انگلی ڈبو
ڈبو ڈبو کر عمرالملوک کا نام اور یہ تحریر لکھی اور تختی مجھے دے کر کہا کہ یہ عمر کی قبر پر لگا دی جائے۔ میں :
…''نے یہ تختی ایک ڈنڈے کے ساتھ لگا کر عمرالملوک کی قبر کے سرہانے لگا دی
نصرالملوک کے زخموں سے خون نکلتا رہا۔ بند نہیں ہورہا تھا۔ تیسرے دن اس کی حالت بگڑ گئی۔ میں اسے دیکھنے آیا تو''
جراح نے مایوسی کا اظہار کیا۔ خود نصرالملوک کو محسوس ہونے لگا تھا کہ وہ زندہ نہیں رہ سکے گا۔اس نے مجھے کہا کہ
اسے ویسی ہی ایک تختی دی جائے۔ میں نے تختی منگوا دی۔ اس نے تختی اپنے پاس رکھ لی۔ رات کو مجھے اطالع ملی
کہ نصر شہید ہوگیا ہے۔ میں گیا تو اس کے ایک زخمی ساتھی نے تختی مجھے دی اور بتایا کہ نصر نے اپنے ایک زخم سے
پٹی کھول لی۔ خون نکل رہا تھا۔ اس نے اپنے خون میں انگلی ڈبو ڈبو کر یہ تحریر لکھی… ''نصرالملوک… اللہ میری شہادت
قبول کرے''… اس کے ساتھی نے بتایا کہ نصر نے کہا تھا کہ اسے اپنے دوست عمرالملوک کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ اس
طرح یہ دونوں تختیاں ایک ہی شہید کے خون سے لکھی گئی ہیں''۔
یہ د ونوں مملوک تھے محترم امام!''… سلطان ایوبی نے امام سے کہا… ''آپ جانتے ہوں گے کہ مملوک کس نسل سے''
ہیں۔ یہ ان غالموں کی نسل سے ہیں جنہیں آزاد کرادیا گیا تھا۔ ہمارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غالمی کو
ممنوع قرار دیا اور فرمایا تھا کہ انسان انسان کا غالم نہیں ہوسکتا۔ ذرا دیکھو ،ان غالموں نے کیسا کارنامہ کردکھایا ہے۔ یہ آٹھ
تھے لیکن بیس آدمیوں سے اتنی بڑی کشتی چھین کر لے آئے ہیں۔ مجھے اپنی فوج میں مملوکوں اور ترکوں پر جتنا بھروسہ
ہے اور کسی پر نہیں''۔
اب انسان پھر انسان کا غالم بنتا جارہا ہے''… امام نے کہا… ''حکمرانی حاصل کرنے کے جتن اسی لیے کیے جاتے ہیں''
کہ انسانوں کو غالم بنایا جائے لیکن انسان سمجھتا نہیں کہ تخت وتاج نے کسی کے ساتھ کبھی وفا نہیں کی۔ فرعون بھی
مٹی میں مل گئے۔ خدا نے ہر اس انسان کو عبرتناک سزا دی ہے جس نے تخت وتاج سے پیار کیا اور ہر اس انسان کا
خون بہایا جس سے اسے اپنی بادشاہی کے لیے خطرے کی بو آئی''۔
سلطان ایوبی کے محافظ دستے کا کمانڈر ایک آدمی کو ساتھ لیے آرہا تھا۔ اس آدمی کی حالت بتا رہی تھی کہ بڑے لمبے
سفر سے آیا ہے۔ کمانڈر نے قریب آکر کہا… ''قاہرہ سے قاصد آیا ہے''۔
کیا خبر الئے ہو؟''… سلطان ایوبی نے اس سے پوچھا۔''
خبراچھی نہیں''… قاصد نے کہا اور کمربند سے ایک کاغذ نکال کر سلطان ایوبی کو دیا۔''
سلطان ایوبی اپنے خیمے کو چل پڑا۔ خیمے میں بیٹھ کر اس پیغام کو کھوال۔ یہ اس کے جاسوسی اور سراغ رسانی کے
سربراہ علی بن سفیان کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا۔ لکھا تھا… ''ہمارا سب سے زیادہ دین دار اور دلیر نائب ساالر حبیب القدوس
دس دنوں سے الپتہ ہے۔ صلیبیوں کی تخریب کاری زوروں پر ہے۔ ہم یہاں زمین دوز جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایمان فروشوں کی
تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس مسئلے پر آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم دشمن کو کامیاب نہیں ہونے دیں
گے۔ پریشانی حبیب القدوس نے پیدا کردی ہے۔ اس کا کوئی سراغ نہیں مل رہا۔ اس کا صرف الپتہ ہوجانا پریشان کن نہیں،
ہم ایک اور خطرہ محسوس کررہے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ حبیب القدوس کے ماتحت جتنے دستے ہیں ،وہ ان میں اتنا ہر
دل عزیز ہے کہ سپاہی اس کے اشارے پر جانیں قربان کرتے ہیں۔ اگر وہ خود دشمن سے جامال ہے تو یہ خطرہ ہے کہ وہ
اپنے دستوں کو جو اس کے زیراثر ہیں ،سلطنت کے خالف بغاوت پر آمادہ کرسکتا ہے۔ میں اسے تالش کرنے کی کوششوں
سے دستبردار یا مایوس نہیں ہوا۔ میں آپ سے صرف یہ اجازت لینا چاہتا ہوں کہ اگر تالش کے دوران وہ سامنے آجائے اور
ضرورت محسوس ہو کہ اسے مار ڈاال جائے تو اسے مار دیا جائے۔ آپ کے قائم مقام ا میر مصر نے اس کی اجازت نہیں دی۔
صرف یہ اجازت دی ہے کہ میں آپ کو براہ راست خط لکھ کر اجازت لے لوں۔ اگر میں اسے تالش نہ کرسکا تو آپ مجھ
سے بازپرس کریں گے اور اگر وہ میرے ہاتھ سے مارا گیا تو بھی آپ پسند نہیں کریں گے۔ اس نائب ساالر کا ہمارے دشمن
کے پاس رہنا ہمارے لیے بہت بڑا خطرہ ہے''۔
:سلطان ایوبی نے اسی وقت کاتب کو بالیا اور پیغام کا جواب لکھوانے لگا
عزیز علی بن سفیان! تم پر خدا کی رحمت ہو۔ حبیب القدوس پر مجھے اتنا ہی اعتماد تھا جتنا تم پر ہے ،جو انسان ''
اپنا ایمان فروخت کرنے پر آجائے وہ خدا سے نہیں ڈرتا ،وہ مجھ جیسے حقیر انسان کو بھی دھوکہ دے سکتا ہے۔ ایمان ایک
قوت ہے مگر یہ ہیرے اور جواہرات کی طرح چمکتا نہیں۔اس میں عورت کے حسن وجمال کی کشش نہیں اور ایمان میں تخت
اور تاج بھی نہیں۔ جب انسان پر دنیا کی لذتوں کا سرور اور زروجواہرات کی ہوس پیدا ہوجاتی ہے تو ایمان سے دستبردار
ہونے میں کچھ وقت نہیں لگتا… حبیب القدوس کو تالش کرنے کی کوشش کرو اگر کبھی ضرورت محسوس ہو کہ اسے قتل
کردیا جائے تو تمہیں میری طرف سے اجازت ہے لیکن یہ معلوم کرنے کی بھی کوشش کرنا کہ اسے اغوا تو نہیں کیا گیا؟
حاالت تمہاری نظر میں ہیں۔ جو بہتر سمجھو وہ کرو۔ مفاد سلطنت اور مذہب مقدم ہے۔ ایک انسان کی زندگی اور موت اس
کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتی ،جہاں فوج کی اتنی زیادہ تعداد ماری جارہی ہے ،سپاہی اپنی جانیں دے رہے ہیں ،وہاں
ایک غدار حاکم کو مار دینے سے پہلے اتنا زیادہ نہ سوچو کہ تمہارا قیمتی وقت اس پر صرف ہوتا رہے۔ اللہ سے گناہوں کی
بخشش مانگتے رہو۔ ہم سب گناہ گار ہیں۔ پاک ذات صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے۔ تم حق
پر ہو تو اللہ تمہارے ساتھ ہے''۔
سلطان ایوبی نے پیغام کے نیچے اپنی مہر لگائی اور پیغام قاصد کے حوالے کردیا اور اسے کہا کہ وہ رات بھر آرام کرکے علی
الصبح روانہ ہوجائے۔
وہ تاریخ اسالم کا پرآشوب دور تھا۔ ادھر سرزمین عرب مسلمانوں کے خون سے الل ہورہی تھی۔ صلیبیوں اور یہودیوں نے
مسلمانوں میں غدار اور سازشی پیدا کرکے مسلمانوں کو خانہ جنگی میں الجھا دیا تھا۔ ادھر مصر میں یہی کفار مسلمان
حاکموں میں غدار پیدا کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ لوگوں میں سلطان ایوبی کی حکومت کے خالف نفرت پیدا کررہے
تھے اور سلطان ایوبی کی فوج پر بڑے ہی شرمناک الزامات کی تشہیر کررہے تھے۔ انہوں نے یہ مہم زمین دوز طریقے سے
چال رکھی تھی۔ علی بن سفیان اور قاہرہ کا کوتوال غیاث بلبیس اس مہم کے اثرات زائل کرنے اور مجرموں کو پکڑنے میں
سرگرم رہتے تھے۔
ایک نائب ساالر کا غائب ہوجانا معمولی واقعہ نہیں تھا مگر اس کا کچھ بھی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ حبیب القدوس کے
متعلق کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ بھی غداری کا مرتکب ہوسکتا ہے لیکن اس دور میں غداری ایک عام سی چیز
بن کے رہ گئی تھی۔ حبیب القدوس الپتہ ہوا تو سب نے یہی کہا کہ وہ کوئی فرشتہ تو نہیں تھا۔ اس کی تین بیویاں تھیں
اور یہ کوئی معیوب امر نہیں تھا۔ اس کی حیثیت کے حاکموں نے چار چار بیویاں رکھی ہوئی تھیں اور جو ذرا زندہ دل تھے،
ان کے ہاں ایک دو داشتہ عورتیں بھی ہوتی تھیں۔ حبیب القدوس کی زندگی میں شراب اور راگ رنگ کا ذرہ بھر دخل نہ
وصلو ة کا پابند تھا اور میدان جنگ میں دشمن کے لیے سراپا قہر۔ شجاعت کے عالوہ فن حرب وضرب میں مہارت
تھا۔ صوم
ٰ
رکھتا تھا۔ جنگی منصوبہ بندی ایسی کہ کم سے کم نفری سے کثیرتعداد دشمن کا ستیاناس کردیتا تھا۔
اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اپنے دستوں میں ہر دل عزیز تھا۔ اس کے ماتحت جو کمان دار اور سپاہی تھے ان
کے لڑنے کا انداز یہ ہوتا تھا جیسے وہ حکم سے نہیں عقیدت سے لڑ رہے ہوں۔ بعض اوقات تو یہ گمان ہوتا تھا کہ یہ
دستے اس کی ذاتی فوج ہیں اور یہ سلطان ایوبی کے حکم سے نہیں،حبیب القدوس کے اشارے پر ہی لڑتے ہیں۔ ان کی تربیت
اس نے اتنی سخت کررکھی تھی اور انہیں اتنی جنگی مشقیں کراتا تھا کہ آج کی زبان میں یہ ''کریک ٹروپس'' بن گئے
تھے۔ ان کی نفری تین ہزار پیادہ اور دو ہزار سوار تھی۔ تیر اندازی میں اتنے ماہر جیسے اندھیرے میں آواز پر تیر چالئیں تو
تیر بولنے والے کے منہ میں لگے۔
علی بن سفیان جاسوسی اور سراغ رسانی کا ماہر تھا۔ غیاث بلبیس کوتوال تھا اور سول انٹیلی جنس میں مہارت رکھتا تھا۔
ان دونوں کی رائے یہ تھی کہ حبیب القدوس کو دشمن نے اس کی اسی خوبی کی وجہ سے اپنے جال میں لیا ہے کہ وہ
اپنے پانچ ہزار نفری کے دستوں کو باغی کرسکے گا۔ پانچ ہزار نفری معمولی نفری نہیں تھی۔ ان دستوں کو نہتہ کردینے کی
بھی تجویز پیش ہوئی تھی جو علی بن سفیان اور غیاث بلبیس نے یہ دلیل دے کر مسترد کردی تھی کہ اس طرح یہ باغی
نہ ہوئے تو بھی باغی ہوجائیں گے۔ اس کے بجائے انہوں نے ان دستوں میں کسی نہ کسی بہروپ میں اپنے جاسوس چھوڑ
دئیے تھے جو بارکوں میں سپاہیوں کی گپ شپ سنتے رہتے تھے۔ کمان داروں پر بھی ان کی نظر تھی۔
گہری نظر حبیب القدوس کے گھر پر رکھی گئی تھی۔ اس کی تین بیویوں میں ایک کی عمر تیس اور چالیس کے درمیان تھی
اور دو چوبیس پچیس سال کی تھیں۔ ان سے پوچھا گیا۔ انہوں نے اتنا ہی بتایا تھا کہ ایک شام اس کے پاس دو آدمی آئے
تھے۔ حبیب القدوس ان کے ساتھ نکل گیا تھا ،پھر واپس نہیں آیا۔ مالزموں سے بھی بہت گہری تفتیش کی گئی۔ ان سے
بھی کوئی سراغ نہ مال۔ بیویوں کے متعلق درپردہ معلوم کیا گیا۔ ان میں کوئی بھی مشکوک نہیں تھی۔ صرف اتنا پتہ چال کہ
چھوٹی عمر کی دو بیویوں میں سے ایک کے ساتھ جس کا نام زہرہ تھا ،اسے سب سے زیادہ پیار تھا۔ یہ اس کے ایک سوار
دستے کے کمان دار کی بیٹی تھی۔
اس کمان دار سے پوچھاگیا کہ اس نے اپنی عمر کے آدمی کو اپنی جوان بیٹی کیوں دی تھی؟ کیا حبیب القدوس نے اسے
ماتحت سمجھ کر مجبور کیا تھا؟
نہیں'' ۔ کمان دار نے جواب دیا… ''نائب ساالر حبیب القدوس اسالم اور جہاد کے اتنے ہی متوالے ہیں جتنا میں ہوں۔ ''
میں نے ان کے ساتھ لڑائیاں لڑی ہیں ،وہ کہا کرتے تھے کہ مومن کی تلوار نیام سے نکل آئے تو نیام میں اس وقت تک
نہیں آنی چاہیے جب تک دشمن کا ایک بھی سپاہی سامنے موجود ہے اور وہ کہا کرتے تھے کہ کفر کا فتنہ ختم ہونے تک
جہاد جاری رہتا ہے۔ غداروں سے وہ اتنی نفرت کرتے تھے کہ ایک سرحدی لڑائی میں سوڈانیوں نے اچانک حملہ کیا تو
ہمارے دو سوار بھاگ اٹھے۔ نائب ساالر نے دیکھ لیا ،انہیں پکڑنے کا حکم دیا۔ انہیں پکڑ الئے۔ نائب ساالر نے ان سے کچھ
پوچھے اور کہے بغیر دونوں کو انہی کے گھوڑوں کے پیچھے اپنے ہاتھوں سے باندھا اور گھوڑوں پر دو سوار بٹھا کر حکم دیا کہ
…''گھوڑے دوڑائو اور رکو اس وقت جب گھوڑے خود تھک کر رک جائیں
جب گھوڑے واپس آئے تو ان کا پسینہ بہہ رہا تھا اور سانس لینا مشکل ہورہا تھا۔ ان کے پیچھے بندھے ہوئے سپاہیوں کا ''
یہ حال تھا کہ ان کے جسم پر کپڑے نہیں تھے اور ان کی کھالیں اتر گئی تھیں۔ جسم پر گوشت بھی پورا نہیں تھا۔ لڑائی
اس طرح ختم ہوگئی تھی کہ سوڈانیوں میں سے زیادہ تر مارے گئے ،کچھ پکڑے گئے اور باقی بھاگ گئے۔ حبیب القدوس نے
تمام دستوں کو اکٹھا کرکے ان سپاہیوں کی الشیں دکھائیں اور کہا کہ اللہ کی راہ میں لڑنے سے بھاگنے والوں کی یہ سزا
…''دنیاوی ہے ،اگلے جہان ان کے جسم سالم ہوں گے اور انہیں دوزخ میں پھینک دیا جائے گا
ہم سب جہاد اور شہادت کے جذبے سے سرشار ہیں۔ ایک روز میری بیٹی میرے ساتھ تھی۔ میں نے اپنی بیٹی کو بھی ''
وہی تربیت دے رکھی ہے جو باپ نے مجھے دی تھی۔ میرا ایک بیٹا اس وقت سلطان کی فوج کے ساتھ شام میں ہے۔ میں
اپنی بیٹی کو بتایا کرتا تھا کہ ہمارے نائب ساالر حبیب القدوس سلطان صالح الدین ایوبی جیسے مجاہد ہیں۔ میری بیٹی کو
اس روز نائب ساالر نے دیکھ لیا اور پوچھا کہ یہ کون ہے؟ میں نے بتایا کہ یہ میری بیٹی ہے اور یہ مجاہدہ ہے۔ بہت دنوں
بعد انہوں نے مجھے کہا کہ وہ اس کی بیٹی کے ساتھ شادی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ میں نے اپنی بیٹی کی ماں سے بات کی
تو اس نے کہا کہ بیٹی پہلے ہی کہتی ہے کہ وہ کسی ایسے آدمی کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے جو اسالم کی پاسبانی میں
اپنی جان کی بازی لگانے واال ہو۔ اس طرح میں نے بڑی خوشی سے اپنی بیٹی کی شادی نائب ساالر سے کردی اور میری
بیٹی نے انہیں دلی طور پر قبول کر لیا۔ اب سنا ہے کہ وہ الپتہ ہیں ،میں آپ کو یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ ان کے متعلق
اگر دل سے کسی کو رنج ہے تو وہ صرف میری بیٹی ہے۔ وہ اسی کو زیادہ چاہتے تھے ،باقی دو بیویاں کہتی ہیں کہ یہ
مرگیا تو کسی اور کے ساتھ شادی کرلیں گی''۔
٭ ٭ ٭
مجھے اب یقین سا ہونے لگا ہے کہ اس کا دماغ ہمارے قبضے میں آگیا ہے''… یہ آواز قاہرہ سے بہت دور ان کھنڈروں ''
سے ابھری تھی جہاں کسی فرعون نے اپنے زمانے میں محل بنایا تھا۔ اس زمانے میں یہ جگہ بہت خوبصورت اور سرسبز
ہوگی۔ عالقہ پہاڑی تھا اور دریائے نیل کے کنارے پر تھا۔ پہاڑیوں پر درخت اور سبزہ تھا اور وہاں دریا کچھ اندر کو آجاتا تھا۔
کسی فرعون نے یہ محل بنایا تھا۔ سلطان کے دور میں یہ ڈرائونا کھنڈر بن چکا تھا۔ دیواروں اور ستونوں پر کائی اگی ہوئی
تھی۔ چیلوں جتنے بڑے چمگاڈروں کے سیاہ بادل اس کھنڈر میں سمٹے رہتے تھے۔ کھنڈروں کے برآمدوں اور کمروں میں انسانی
ہڈیاں اور کھونپڑیاں بکھری ہوئی تھیں۔ اس دور کے ہتھیار بھی ادھر ادھر پڑے نظر آتے ہیں ،ادھر اب کوئی نہیں جاتا تھا،
مشہور ہوگیا تھا کہ وہاں جنوں ،چڑیلوں اور بدروحوں کا بسیرا ہے جو زندہ انسانوں کا شکار کرتی ہیں۔
اس ہولناک کھنڈر میں جس کے میلوں دور سے بھی کوئی نہیں گزرتا تھا ،ایک آدمی کہہ رہا تھا کہ مجھے اب یقین سا ہونے
لگا ہے کہ اس کا دماغ ہمارے قبضے میں آگیا ہے۔ پھر اس نے کہا… ''نہیں آئے گا تو یہاں سے زندہ نہیں نکلے گا''۔
ہم اسے اس لیے نہیں الئے کہ یہاں الکر اسے قتل کردیں''… دوسرے نے کہا… ''اگر قتل کرنا ہوتا تو اسے اس کے گھر ''
سے اٹھانے اور اتنی دور النے کے بجائے وہیں قتل نہ کردیتے؟ اسے اس کام کے لیے تیار کرنا ہے جس کے لیے اسے الئے
ہیں''۔
حشیش اپنا کام کررہی ہے''۔''
تم کسی کو نشہ پال کر اس سے ایسی باتیں کراسکتے ہو جن کا اس کی عقل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ حشیش سے''
تم کسی کے ایمان اور نظریئے کو نہیں بدل سکتے۔ یہ شخص پانچ ہزار نفری کی جنگی قوت کا حامل ہے۔ ہمیں صرف اسے
نہیں ،اس کی پوری نفری کو اپنے ہاتھ میں لے لینا اور اسے مصر کی فوج کے خالف لڑانا ہے ،پھر مصر ہمارا ہوگا اور پھر
صالح الدین ایوبی کی حالت اسی شیر جیسی ہوگی جو بہت سے شکاریوں کے گھیرے میں ہوگا۔ وہ سب کو چیرپھاڑ دینے کو
جھپٹے گا مگر اسے صرف موت ملے گی… اگر سلطان ایوبی کا یہ نائب ساالر حبیب القدوس اپنے دستوں کو اشارہ کردے تو وہ
کچھ سوچے بغیر اس کا حکم مانیں گے''۔
حبیب القدوس اسی کھنڈر کے ایک کمرے میں بیٹھا تھا جسے صاف کرلیا گیا تھا۔ اس کے نیچے نرم گدے بچھے ہوئے اور اس
کے پیچھے گول تکیے تھے۔ آسائش کا سارا سامان موجود تھا۔ اس کے سامنے ایک آدمی بیٹھا تھا جس نے اس کی آنکھوں
میں آنکھیں ڈال رکھی تھی اور وہ کہہ رہا تھا… ''مصر میری مملکت ہے ،صالح الدین ایوبی عراقی کرد ہے۔ اس نے میری
مملکت پر قبضہ کررکھا ہے۔ صالح ا لدین ایوبی نے میری مملکت کی حسین لڑکیوں سے اپنا حرم بھر رکھا ہے۔ میرے پانچ
ہزار جانباز پورے مصر پر قبضہ کرلیں گے''۔
حبیب القدوس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ اس کے چہرے پر رونق تھی ،وہ بڑبڑانے کے لہجے میں کہنے لگا… ''میری تلوار
کہاں ہے؟ میرا گھوڑا تیار کرو۔ میں صالح الدین ایوبی کو قتل کروں گا۔ میرے پانچ ہزار جانباز ایک دن میں مصر کی فوج سے
ہتھیار ڈلوالیں گے''۔
صلیبی میرے دوست ہیں''… اس آدمی نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے کہا… ''وہ میری مدد کو آئیں گے۔ ''
دوست وہ جو برے وقت میں مدد دے''۔
میری تلوار کہاں ہے؟'' حبیب القدوس ذرا صاف آواز میں بولنے لگا… ''مصر بہت خوبصورت ہوگیا ہے۔ مصر کی لڑکیاں ''
زیادہ حسین ہوگئی ہیں ،مصر میرا ہے ،مصر میرا ہے''۔
ایک لڑکی اندر آئی جس کا لباس ایسا تھا کہ برہنہ لگتی تھی۔ اس کے بال مالئم اور کھلے ہوئے تھے۔ اس کا جسم ہلکے
گالبی رنگ کا اور سڈول تھا۔ وہ حبیب القدوس کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی۔ اس نے اپنا ایک بازو حبیب القدوس کے کندھوں
پر ڈال دیا۔ حبیب القدوس اپنا گال اس کے ریشمی بالوں سے مس کرنے لگا۔ اس نے مخمور لہجے میں کہا… ''مصر بہت
حسین ہوگیا ہے''۔
لڑکی ایک طرف ہٹ گئی اور بولی… ''لیکن مجھ پر سلطان ایوبی کا قبضہ ہے''۔
حبیب القدوس نے لپک کر اسے اپنے بازوئوں میں لے لیا اور اپنے قریب گھسیٹ کر بوال… ''تم پر کوئی قبضہ نہیں کرسکتا۔
تم میری ہو ،مصر میرا ہے''۔
جب تک صالح الدین ایوبی زندہ ہے یا جب تک مصر پر اس کی بادشاہی ہے ،نہ میں تمہاری نہ مصر تمہار ہے''۔''
میں اسے قتل کردوں گا''۔ حبیب القدوس نے کہا… ''میں اسے قتل کردوں گا''۔''
رک جائو''۔ ایک سخت غصیلی آواز کمرے میں گونجی۔ یہ ایک صلیبی تھا جو مصری زبان بول رہا تھا۔ یہ وہی تھا '' :
جسے کھنڈر میں کسی دوسری جگہ ایک مصری بتا رہاتھا کہ اب یقین ہونے لگا ہے کہ اس شخص (حبیب القدوس) کا دماغ
ہمارے قبضے میں آرہا ہے اور اس نے کہا تھا کہ اسے حشیش کے نشے کے بغیر اپنے کام میں النا ہے۔ وہ اس کمرے میں آیا
جہاں حبیب القدوس کے دماغ کو حشیش کے نشے کے زیراثر اپنے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ اس نے غصے
میں کہا… ''تم حسن بن صباح کے پجاری حشیش اور خفیہ قتل کے سوا کچھ بھی نہیں جانتے۔ لڑکی کو اس کے پاس رہنے
دو اور تم میرے ساتھ آئو''۔
وہ اس آدمی کو اپنے ساتھ لے گیا۔ باہر لے جاکر اسے کہا… ''اب اسے حشیش نہ دینا۔ اس کا نشہ اتر جانے دو۔ ہمیں اس
کے ہاتھوں صالح الدین ایوبی کو قتل نہیں کرانا۔ ہمیں اس کے دستوں کو بغاوت پر آمادہ کرنا ہے۔ میں بہت دیر سے پہنچا
ورنہ اس کا یہ حال نہ ہونے دیتا۔ ہوش میں رکھ کر اسے صالح الدین ا یوبی کا دشمن بنانا ہے۔ تم لوگوں نے اسے جس
خوبی سے اغوا کیا ہے اس کی میں دل سے تعریف کرتا ہوں اور اس کی تمہیں اتنی قیمت دی جارہی ہے جو پہلے تمہیں
کہیں سے نہیں ملی ہوگی مگر تم نے اسے حشیش دے دے کر ہمارا کام مشکل بنا دیا ہے۔ اسے اب وہ سفوف اور شربت دو
جس سے نشے کا اثر اتر جاتا ہے''۔
صلیبیوں کی جاسوسی اور تخریب کاری اور مسلمان نوجوانوں کی کردارکشی کے طریقے اناڑیوں والے نہیں تھے۔
21:01
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 142نہ میں تمہاری ،نہ مصر تمہارا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
صلیبیوں کی جاسوسی اور تخریب کاری اور مسلمان نوجوانوں کی کردارکشی کے طریقے اناڑیوں والے نہیں تھے۔ ان کے اس فن
کے ماہرین انسانی فطرت کی کمزوریوں اور مطالبات سے اچھی طرح واقف تھے۔ ان کی نظر سلطان ایوبی کی فوج اور انتظامیہ
کے ہر افسر پر تھی۔ ادھر عرب کے امرائ ،وزراء اور مختلف ریاستوں کے مسلمان حکمرانوں کی خامیوں سے بھی وہ آگاہ
تھے۔ ان کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ حکمران اور حاکم ان کے زیراثر ہوجائیں اور سلطان ایوبی کے خالف
لڑنے پر آمادہ ہوجائیں۔ یہودی اپنی دولت اور اپنی لڑکیوں کی صورت میں ان کی پوری مدد کررہے تھے۔ ان کفار کے ماہرین
نے مسلمان حکمرانوں وغیرہ کو چند ایک زمروں میں تقسیم کررکھا تھا۔
ایک زمرے میں انہیں رکھا گیا تھا جو ایک دو خوبصورت اور شوخ لڑکیوں ،شراب اور زروجواہرات کے عوض اپنا ایمان بیچ
ڈالتے تھے۔ دوسرے زمرے میں وہ تھے جو اپنی الگ ریاست بنا کر اس کے خودمختار بادشاہ بننے کے خواب دیکھا کرتے
تھے۔ تیسرے میں وہ تھے جو ملک وملت کے وفادار اور پکے مسلمان تھے۔ ان میں سے صلیبی یہ دیکھتے تھے کہ کون
اثرورسوخ واال ہے جسے ہاتھ میں لیا جائے تو وہ سلطان ایوبی کی خفیہ پالیسیوں اور پرگراموں سے قبل از وقت اطالعات دے
سکتا ہو اور ان میں کون ایسا ہے جس کا فوج کے کچھ حصے پر اثر ہو اور وہ اسے حصے کو اپنی سلطنت کے خالف باغی
کرسکتا ہو۔ ان پکے دین داروں ا ور مجاہدوں کو ہاتھ میں لینے کے لیے ان کے پاس کچھ طریقے تھے جن میں ایک اغوا کرنا
اور اسے اپنا اتحادی بنانا تھا۔ ایک طریقہ قتل کا بھی تھا لیکن قتل کم ہی کرائے جاتے تھے۔ اگر ضرورت پڑے تو قتل حسن
بن صباح کے پیشہ ور قاتلوں سے کرایا جاتا تھا۔
نائب ساالر حبیب القدوس ایسا حاکم تھا جس کو قتل کرانے سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔ اسے ہاتھ میں لینا تھا۔ جیسا
کہ بتایا جاچکا ہے کہ مصر کی فوج کی پانچ ہزار نفری اس کی مرید تھی۔ صلیبیوں کے مسلمان ایجنٹوں نے انہیں بتایا تھا کہ
یہ شخص ایمان نہیں ،جان دینے واال ہے اور اس میں اتنا شدید جذبہ اور غیرمعمولی اہمیت ہے کہ اگر اسے اپنے انہی دستوں
کے ساتھ ایک الکھ کے لشکرکے خالف لڑایا جائے تو شام کا سورج اتنی جلدی افق میں نہیں گرے گا جتنی جلدی اس کے
آگے دشمن کی الشیں اور ہتھیار گریں گے۔
صلیبیوں نے تجربہ کرلیا تھا۔ وہ اس طرح کہ انہوں نے کبھی اس کے پاس کوئی نوجوان اور غیرمعمولی طورپر خوبصورت لڑکی
ایک نادار ،یتیم اور مظلوم لڑکی کے بہروپ میں مدد لینے کے لیے بھیجی۔ کبھی کسی لڑکی کو کسی اور ذاتی کام سے بھیجا۔
ضیافتوں اور کھیل تماشوں میں بڑی بڑی حسین لڑکیاں اس کے پیچھے ڈالیں مگر وہ اس جال میں نہ آیا ،جیسے پتھر ہو۔ مصر
میں بغاوت کرانا صلیبیوں کے لیے ضروری ہوگیا تھا کیونکہ سلطان صالح الدین ایوبی شام اور فلسطین کے عالقوں کے بکھرے
ہوئے مسلمان امراء کو دالئل سے یا تلوار سے اپنا مطیع بناتا چال جارہا تھا اور اس کے بعد ا سے فلسطین کا رخ کرنا تھا۔
اس کی توجہ فلسطین سے ہٹانے کے لیے ایک طریقہ یہ ہوسکتا تھا کہ مصر میں اس کی جو فوج ہے اسے بغاوت پر آمادہ
کیا جائے۔
اس سے پہلے صلیبی سوڈانیوں کو مصری فوج کے خالف استعمال کرنے کی کوشش کرچکے تھے۔ سوڈانی فوج نے حملہ کیا تھا
مگر سوڈانی فوج میں اکثریت وہاں کے حبشیوں کی تھی اور وہ توہم پرست تھے۔ دوسرے یہ کہ وہ ہجوم کی صورت میں
لڑتے اور ہجوم کی صورت میں بھاگتے تھے۔ صلیبیوں نے انہیں مصر کے خالف ہی رکھا لیکن لڑنے کی نہ سوچی۔ اب بغاوت
مصر کی فوج ہی سے کرائی جاسکتی تھی۔ اس کے لیے انہوں نے جو موزوں ساالر دیکھا وہ حبیب القدوس تھا۔ جاسوسوں اور
ماہرین نے اس کے اغوا کا فیصلہ کیا اور حسن بن صباح کے فرقے کے فدائیوں کو منہ مانگی اجرت دے کر ان سے اغوا
کرالیا۔
اغوا کا طریقہ یہ اختیار کیا کہ ایک شام دوآدمی اس کے گھر گئے اور کسی گائوں کا نام لے کرکہا کہ وہاں کی مسجد کی
چھت بیٹھ گئی ہے اور پوری مسجد ازسرنو تعمیر کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات کو گائوں کے لوگ جمع ہورہے ہیں اور وہ
بھی چلیں تاکہ لوگ دل کھول کر مالی مدد دیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایسی جذباتی باتیں کیں کہ وہ ان کے ساتھ چل
پڑا۔ شہر سے باہر نکل گئے تو چار اور آدمی ملے۔ ان سب نے اسے جکڑ لیا اور اس کھنڈر میں لے گئے۔ وہاں پہنچتے ہی
اسے دھوکے میں حشیش پال دی۔ صلیبی جو اس سے بات کرنے اور اسے اپنا ہم خیال بنانے پر مامور تھا وہ کسی اور کام
سے کہیں چال گیا۔ اسے اغوا کرانے والے کھنڈر میں موجود رہے۔ کھنڈر کے ایک کمرے میں اس کے لیے آسائش کی ہر چیز
پہنچا دی گئی۔ دو لڑکیاں بھی تھیں جو حسین ہونے کے عالوہ دلوں کو موہ لینے اور پتھر جیسے پختہ کردار کے آدمیوں کو
بھی حیران بنا دینے کے فن کی ماہر تھیں۔
ان سب کو معلوم تھا کہ اس نائب ساالر کو کیوں اغوا کیا گیا ہے۔ انہوں نے انعام واکرام کے اللچ میں از خود ہی اس کے
ذہن کو اپنے مخصوص طریقے سے اپنے سانچے میں ڈھالنے کی کوششیں شروع کردیں۔ یہ طریقہ حشیش کی ایک خاص قسم
سے نشہ طاری کرنے کا تھا جس کے دوران مطلوبہ فرد کے ذہن میں باتوں کے ذریعے نہایت دلکش تصورات ڈالے جاتے تھے۔
یہ ایک قسم کا ہیپناٹائز کرنے کا طریقہ تھا۔ اس میں نیم عریاں خوبصورت لڑکیاں بھی استعمال کی جاتی تھیں۔ یہ گروہ کئی
دنوں سے حبیب القدوس پر یہ طریقہ استعمال کررہا تھا اور اس نے ان کے ساتھ مطلب کی باتیں شروع کردی تھیں جن سے
انہیں امید بندھ چلی تھی کہ انہوں نے اس کے دماغ کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
٭ ٭ ٭
ادھر قاہرہ میں مصری فوج اور کوتوالی کے جاسوس اس کی تالش میں پریشان ہورہے تھے۔ سب کا یہی خیال تھا کہ وہ
سوڈانیوں یا صلیبیوں کے پاس چال گیا ہے۔ علی بن سفیان کو معلوم تھا کہ حبیب القدوس کا اثر اپنے دستوں پر کس قدر
زیادہ ہے ،اس لیے اس نے مصر کے قائم مقام امیر کی اجازت سے سلطان ایوبی کو اطالع دے دی تھی۔ توقع یہی تھی کہ وہ
اپنے معتمد کمان داروں کو کوئی پیغام بھیجے گا۔ جاسوسوں اور سراغ رسانوں نے ہر طرف نظر رکھی لیکن معلوم یہی ہوتا
تھا کہ اس کا پیغام کسی کی طرف نہیں آیا۔ یہ بھی دیکھا جارہا تھا کہ ان دستوں میں سے کون سا کمان دار غائب ہوتا
ہے لیکن اتنے دنوں میں کوئی بھی غیرحاضر نہ ہوا۔
اتنے میں وہ صلیبی کھنڈرات میں آگیا جسے حبیب القدوس کے ساتھ بات چیت کرنی تھی۔ اس نے پہال کام یہ کیا کہ حشیش
رکوائی اور حبیب القدوس کا نشہ اتارا۔ صلیبی نے پوری رات نشے کے اثرات اترنے کا انتظار کیا۔ اگلے روز وہ حبیب القدوس
کے پاس بیٹھ گیا۔ وہ ابھی سویا ہوا تھا۔ اس کی جب آنکھ کھلی تو اس نے ادھر ادھر دیکھا اورجب اس کی نظر صلیبی پر
پڑی تو وہ فورا ً اٹھ بیٹھا اور صلیبی کو بڑی غور سے دیکھنے لگا۔
مجھے افسوس ہے کہ ان لوگوں نے آپ کے ساتھ بہت برا سلوک کیا''۔ صلیبی نے کہا… ''آپ اتنے حیران اور پریشان ''
نہ ہوں۔ یہ بدبخت آپ کو حشیش پالتے رہے اور آپ کو بڑے خوبصورت خواب دکھاتے رہے ہیں۔ آپ حشیش اور فدائیوں کے
اس طریقے سے یقینا واقف ہوں گے۔ آپ کی توہین کی گئی ہے جس کی میں معافی چاہتا ہوں۔ میں آپ کو کوئی خواب
نہیں دکھائوں گا۔ بڑی خوبصورت حقیقت آپ کے سامنے رکھوں گا۔ اپنے آپ کو قیدی نہ سمجھیں۔ میں آپ کا رتبہ اونچا
کروں گا ،کم نہیں ہونے دوں گا''۔
یہ لوگ دھوکے میں مجھے یہاں لے آئے تھے''۔ حبیب القدوس نے کہا… ''پھر شاید مجھے کہیں اور لے گئے تھے''۔ ''
اس نے نگاہیں گھما کر ہر طرف دیکھا اور حیران سا ہوکے بوال… ''وہ کوئی بہت ہی خوبصورت جگہ تھی… مجھے یہاں کون
''الیا ہے؟
اپنے آپ کو بیدار کریں''۔ صلیبی نے کہا… ''یہ سب حشیش کا اثر تھا۔ آپ پہلے روز سے یہیں ہیں''۔''
''مجھے اغوا کیا گیا تھا؟'' حبیب القدوس نے حقیقت کو سمجھتے ہوئے ذرا رعب سے کہا… ''تم کون ہو؟''
میں آپ کا ایک مسلمان بھائی ہوں''۔ صلیبی نے کہا… ''مجھے آپ سے لینا کچھ بھی نہیں ،کچھ دینا ہے''۔''
''اگر میں لینے دینے سے انکار کردوں تو؟''
تو زندہ واپس نہیں جاسکیں گے''۔ صلیبی نے کہا… ''آپ قاہرہ سے اتنی دور ہیں کہ آپ کو میں نے آزاد کردیا تو آپ ''
راستے میں مرجائیں گے''۔
مجھے وہ موت زیادہ پسند ہوگی''۔ حبیب القدوس نے کہا… ''میں اپنے دشمن کی قید میں نہیں مرنا چاہتا''۔''
نہ آپ قید میں ہیں ،نہ میں آپ کا دشمن ہوں''… صلیبی نے کہا… ''ان خبیثوں نے آپ کے ساتھ توہین آمیز سلوک ''
کرکے آپ کو بدظن کردیا ہے۔ مجھے آپ سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں''۔
''ان باتوں کے لیے مجھے اغوا کرکے اتنی دور النے کی کیا ضرورت تھی؟''
اگر میں یہ باتیں قاہرہ میں آپ کے ساتھ کرتا تو ہم دونوں قید خانے کے تہہ خانے میں ہوتے''۔ صلیبی نے کہا… ''
''وہاں قدم قدم پر علی بن سفیان اور کوتوال غیاث بلبیس نے جاسوس کھڑے کر رکھے ہیں''۔
حبیب القدوس کا ذہن صاف ہوچکا تھا۔ اس کا دماغ سوچنے کے قابل ہوگیا تھا۔ وہ جان گیا کہ وہ صلیبی تخریب کاروں کے
''چنگل میں آگیا ہے۔ اس نے پوچھا… ''تم صلیبیوں کے آدمی ہو یا سوڈانیوں کے؟
میں مصر کا آدمی ہوں''۔ اس نے جواب دیا… ''اور آپ بھی مصری ہیں۔ آپ بغدادی ،شامی یا عربی نہیں۔ مصر مصریوں''
کا ہے۔ یہ نورالدین زنگی اور صالح الدین ایوبی کے خاندان کی جاگیر نہیں۔ یہ اسالمی ملک ہے۔ یہاں اللہ کی حکمرانی ہوگی
اور اس کا انتظام اور کاروبار مصری مسلمان چالئیں گے۔ کیا آپ نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ ہم پر حکومت کرنے والے
''بغداد اور دمشق سے آئے ہیں اور انہوں نے مصر کو شام کے ساتھ مال کر ا یک سلطنت بنا لیا ہے؟
''تم مجھے مصر کو صالح الدین ایوبی سے آزاد کرانے پر اکسا رہے ہو؟''
میں جانتا ہوں کہ آپ صالح الدین ایوبی کو پیغمبر نہیں تو پیرومرشد ضرور سمجھتے ہیں''… صلیبی نے کہا… ''میں اس ''
کے خالف کوئی بات نہیں کروں گا۔ ایوبی میں بہت سی خوبیاں ہیں۔ میں بھی اسے اتنا ہی پسند کرتا ہوں جتنا آپ کرتے
ہیں مگر ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ وہ کب تک زندہ رہے گا۔ اس کے بعد مصر اس کے جس بھائی یا بیٹے کے ہاتھ آئے گا،
اس میں صالح الدین ایوبی کی خوبیاں نہیں ہوں گی۔ مصر ایک فرعون کے قبضے میں آجائے گا''۔
''مجھ سے تم کیا کام لینا چاہتے ہو؟''
اگرآپ میری بات سمجھ گئے ہیں تو میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ آپ کیا کرسکتے ہیں''… صلیبی نے جواب دیا… ''اگر''
آپ کے دل میں شک ہے تو مجھ سے پوچھیں۔ پہلے اپنا شک رفع کریں۔ آپ سوچ لیں۔ آپ ابھی ابھی جاگے ہیں۔ ان
بدبختوں کی دی ہوئی حشیش کا بھی آپ پر اثر ہے۔ میں آپ کے لیے ناشتہ بھجواتا ہوں۔ اتنے دنوں آپ کو کسی نے نہانے
نہیں دیا۔ میں آپ کو ایک چشمے پر لے چلوں گا''۔
وہ اٹھا اور باہر نکل گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک اور آدمی آیا۔ اس نے کہا… ''میرے ساتھ چلیں۔ ناشتے سے پہلے نہالیں''۔
کھنڈر سے اسے کسی ایسے راستے سے نکاال گیا جو پہاڑیوں میں چال گیا تھا۔ کچھ آگے ایک چشمہ تھا جس کا شفاف پانی
چھوٹے سے قدرتی تاالب میں جمع ہورہا تھا۔ وہ پہاڑیوں سے گھوم کر چشمے کی طرف گئے تو وہاں ہر طرف پہاڑیاں تھیں۔
اس نے پیچھے دیکھا ،کھنڈر ایک پہاڑی کے پیچھے آگیا تھا۔ اس کے ساتھ جو آدمی آیا تھا وہ اس کے آگے آگے جارہا تھا۔
حبیب القدوس نے لپک کر ایک بازو اس کی گردن کے گرد لپیٹ دیا اور بازو کا شکنجہ تنگ کرکے اس نے دوسرے ہاتھ سے
اس کی پیٹ میں پوری طاقت سے تین چار گھونسے مارے۔ یہ آدمی دم گھٹنے سے مر گیا۔ حبیب القدوس نے اسے گھسیٹ
کر ایک گھنی جھاڑی کے پیچھے پھینک دیا اور خود بھاگ اٹھا۔ اس نے ایک پہاڑی میں سے راستہ دیکھ لیا تھا۔ وہاں پہنچا
تو ایک آدمی برچھی تانے کھڑا تھا۔ اس نے اتنا ہی کہا… ''واپس''… وہ نہتہ تھا ،سرجھکا کر پیچھے کو مڑا۔ چند قدم ہی
چال ہوگا کہ صلیبی اس کے سامنے آن کھڑا ہوا۔ وہ مسکرا رہا تھا۔
میں آپ کو دانشمند سمجھتا ہوں''۔ صلیبی نے کہا… ''آپ اس عالقے سے نکل نہیں سکتے۔ احمق نہ بنیں ،نہا لیں۔ ''
میرے ساتھ آئیں''۔
وہ جھیل سے نہا کر نکال اور کپڑے پہنے۔ صلیبی اسے اپنے ساتھ لے آیا۔ راستے میں اس نے صلیبی سے پوچھا… ''یہ
''لڑکیاں تمہارے ساتھ ہیں؟
اس ویرانے میں ایسی رونق ساتھ رکھنا ضروری ہے''۔ صلیبی نے کہا… ''کیا آپ کی تین بیویاں نہیں؟… اگر آپ کو ان'' :
کے ساتھ دلچسپی نہیں تو نہ سہی۔ اگر آپ تنہائی یا گھبراہٹ محسوس کریں تو ان لڑکیوں میں سے کسی کو بھی اپنے ساتھ
رکھ سکتے ہیں''۔
اتنے میں ایک لڑکی ناشتہ لے کر آئی۔ حبیب القدوس اسے دیکھتا رہا۔ لڑکی اس کے پاس بیٹھ گئی اور صلیبی باہر نکل گیا۔
لڑکی نے باتوں اور ادائوں سے اس پر طلسم طاری کردیا۔ بہت دیر بعد جب صلیبی واپس آیا اور لڑکی چلی گئی تو حبیب
القدوس کو افسوس سا ہوا۔
ساالر اعلی ہوں گے''… صلیبی نے اسے کہا… ''آپ کے دستوں میں جو تین ہزار پیادے اور دو ہزار ''
آپ آزاد مصر کے
ِ
سوار ہیں ،وہ آپ کے مرید ہیں۔ آپ ان کی مدد سے مصر کی حکومت پر قبضہ کرسکتے ہیں''۔
''صالح الدین ایوبی حملہ کرے گا تو کیا میں انہی دستوں سے مصر کو اس سے بچا لوں گا؟''
سوڈانی مسلمان جو کبھی مصر کی فوج میں ہوا کرتے تھے ،ہمارے ساتھ ہوں گے''… صلیبی نے کہا۔ ''صالح الدین ایوبی''
کی فوج میں جو مصری ہیں ،ان تک ہم خبر پہنچائیں گے کہ یہ خانہ جنگی نہیں بلکہ مصری مصر کو آزاد کرانے کے لیے لڑ
رہے ہیں۔ آپ اپنے دستوں سے بغاوت کرائیں۔ آپ کو جنگی طاقت دینا ہمارا کام ہے''۔
اس آدمی نے لمبی تفصیل سے اسے اپنا منصوبہ بتایا۔ حبیب القدوس اب انکار نہیں کررہا تھا بلکہ یوں سوال کررہا تھا جیسے
وہ قائل ہوگیا ہو۔
میں واپس قاہرہ نہیں جائوں گا تو بغاوت کیسے کرائوں گا؟''… حبیب القدوس نے پوچھا۔''
آپ واپس نہیں جائیں گے''… صلیبی نے کہا… ''آپ یہیں سے اپنے قابل اعتماد ساتھیوں کو پیغام دیں گے۔ اس کا انتظام''
ہم کریں گے… آپ نے ہمارے ایک قیمتی آدمی کو مار ڈاال ہے۔ ہم آپ کو قتل کرسکتے ہیں۔ ہمارے بازو اتنے لمبے ہیں کہ
آپ کے خاندان کے بچے بچے کو قتل کرسکتے ہیں۔ اگر آپ نے ہمیں دھوکہ دیا تو ہم ایسا کرکے دکھا بھی دیں گے''۔
پھر مجھے یہاں لمبے عرصے کے لیے رہنا پڑے گا''… حبیب القدوس نے کہا۔''
کچھ عرصہ تو لگے گا''۔ صلیبی نے جواب دیا۔''
میری ایک ضرورت پوری کردو''… حبیب القدوس نے کہا… ''تم نے مجھے دو لڑکیاں پیش کی ہیں ،میں گناہ سے بچنا ''
چاہتا ہوں۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ میں اتنی حسین لڑکی میں الجھ کر اپنا اصل مقصد بھول جائوں۔ اس کے بجائے یہ انتظام
کردو کہ میری سب سے چھوٹی بیوی کو جس کا نام زہرہ ہے ،یہاں لے آئو۔ اسے میں پیغام رسانی کے لیے بھی استعمال
کرسکوں گا''۔
اسے اغوا کرنا پڑے گا''… صلیبی نے کہا… ''اگر اسے ہم یہ کہیں گے کہ آپ اسے بال رہے ہیں تو وہ ہم پر اعتبار نہیں''
کرے گی۔ وہ ہمیں پکڑوا بھی سکتی ہے۔ ہم آپ کو اس کا جو نعم البدل دے رہے ہیں ،اسے آپ قبول کرلیں اور پیغام رسانی
کے لیے اپنے کسی آدمی کا اتا پتہ دیں''۔
پھر مجھ پر اعتماد کرو'' ۔ حبیب القدوس نے کہا… ''مجھے قاہرہ پہنچا دو۔ میں ایک ماہ کے اندر بغاوت کردوں گا''۔''
یہ نہیں ہوسکتا''۔ صلیبی نے کہا… ''محترم! ہم جو کچھ کررہے ہیں وہ مصر کے مفاد میں ہے اور اس میں آپ کا بھی''
فائدہ ہے۔ میں یا میری تنظیم کا کوئی بھی فرد مصر کا حکمران بننے کا خواب نہیں دیکھ رہا۔ آپ سمجھنے کی کوشش
کریں''۔
میں سمجھ گیا ہوں''۔ حبیب القدوس نے کہا… ''اور میں سوچ سمجھ کر بات کررہا ہوں۔ میری بیوی زہرہ تک میرا ''
پیغام پہنچائو کہ میرے پاس آجائے۔ جو کام وہ کرسکتی ہے وہ کوئی اور نہیں کرسکتا۔ اس کے آنے کے بعد دیکھوں گا کہ اس
منصوبے کو کس طرح کامیاب بنایا جاسکتا ہے''۔
وہ ایک بھکارن تھی جس نے زہرہ کو راستہ میں روک لیا تھا۔ وہ دو تین دن سے دیکھ رہی تھی کہ زہرہ حبیب القدوس کے
گھر سے ہر روز بعد دوپہر اپنے ماں باپ کے گھر جاتی ہے۔ بھکارن نے اس کے آگے ہاتھ پھیال کر کہا… ''نائب ساالر حبیب
القدوس نے آپ کو بالیا ہے۔ یہ ان کے ہاتھ کی تحریر ہے''… زہرہ نے کاغذ ہاتھ میں لے کر تحریر پڑھی۔ یہ اس کے خاوند
کے ہاتھ کی تھی۔ بھکارن نے کہا… ''وہ جہاں کہیں بھی ہیں ،خود گئے ہیں۔ اتنے بڑے آدمی کو کوئی اٹھا کر نہیں لے
جاسکتا۔ وہ صرف آپ کو چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ زہرہ کے بغیر میں زندہ نہیں رہ سکتا… اور میں آپ کو یہ بھی بتا
دوں کہ آپ نے مجھے پکڑوانے کی کوشش کی یا کوتوال کو اطالع دی تو دونوں کو قتل کردیا جائے گا۔ حبیب القدوس کے
پاس آپ کا جانا ضروری ہے''۔
میں تم پر کس طرح اعتبار کرلوں؟'' زہرہ نے پوچھا۔'' :
میں بھکارن نہیں''۔ عورت نے جواب دیا۔ ''یہ میرا بہروپ ہے۔ میں بھی آپ کی طرح شہزادی ہوں ،ہمارا مقصد نیک ''
اور مقدس ہے۔ آپ دل میں کوئی وہم نہ رکھیں''۔
اس عورت نے اور بھی بہت سی باتیں کیں جن سے زہرہ متاثر ہوگئی۔ اس نے اس عورت کے کہنے کے مطابق رات کو ایک
جگہ چوری چھپے پہنچنے کا وعدہ کردیا۔ اس نے اس ڈر سے کسی سے ذکر نہ کیا کہ اس عورت نے کہا تھا کہ اس کی اور
اس کے خاوند کی زندگی اور موت کا اور مصر کی آزادی اور غالمی کا سوال تھا۔
اسے رات مقرر کی ہوئی جگہ زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا۔ دو آدمی جنہیں وہ اندھیرے کی وجہ سے پہچان نہ سکی ،اسی بھکارن
کے ساتھ آئے۔ بھکارن کو اس نے آواز سے پہچانا مگر وہ اب بھکاریوں کے بہروپ میں نہیں تھی۔ وہ کوئی جوان اور
خوبصورت عورت تھی۔ اس نے زہرہ سے کہا۔ ''اللہ کے بھروسے پر ان کے ساتھ چلی جائو۔ دل میں کوئی ڈر نہ رکھنا''…
اسے ایک گھوڑے پر بٹھایا گیا۔ وہ دونوں بھی گھوڑوں پر سوارہوئے اور زہرہ ایک ایسے سفر پر روانہ ہوگئی جس کی منزل کا
اسے علم نہ تھا۔ عورت وہیں کھڑی رہی۔ شہر سے دور جاکر سواروں نے زہرہ سے کہاکہ اس کی آنکھوں پر پٹی باندھنا
ضروری ہے۔ زہرہ ان میں اکیلی تھی۔ مزاحمت نہیں کرسکتی تھی۔ اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔
دو روز بعد پتہ چال کہ نائب ساالر حبیب القدوس کی چھوٹی بیوی بھی الپتہ ہوگئی ہے۔ سراغ رسانوں نے ابتدائی تفتیش کی
تو وہ ماننے کو تیار نہ ہوئے کہ اسے اغوا کیا گیا ہے۔ حبیب القدوس کے متعلق ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ وہ صلیبیوں یا
سوڈانیوں کے پاس چال گیا ہے۔ اب لوگ یہ بھی کہنے لگے کہ اس کی بیوی بھی اس کے پاس چلی گئی ہے۔ کسی کو
معلوم نہ ہوسکا کہ وہ کس وقت اور کس طرح گئی ہے۔ اس وقت تک وہ حبیب القدوس کے پاس پہنچ چکی تھی۔ اس کی
آنکھیں اس کمرے میں کھولی گئی تھیں جہاں اس کا خاوند اس کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ پوری رات اور اگال آدھا دن سفر
میں رہی تھی۔ راستے میں اسے کھانے پالنے کے دوران ا نکھوں سے پٹی کھولی گئی تھی اور اسے ساتھ لے جانے والے
آدمیوں نے اس کے ساتھ کوئی بال ضرورت یا ایسی ویسی بات نہیں کی تھی۔ اسے انہوں نے یہ یقین بار بار دالیا تھا کہ اسے
ڈرنا نہیں چاہیے۔
حبیب القدوس کو دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی۔ اس کے ساتھ صلیبی بھی تھا۔ حبیب القدوس نے زہرہ سے کہا… ''یہ
ہمارا دوست ہے اور اپنے آپ کو یہاں قیدی نہ سمجھنا۔ تم بہت تھکی ہوئی ہو۔ آج رات آرام کرلو۔ کل صبح تمہیں بتائیں
گے کہ ہم کیا کرنے والے ہیں۔ تم اکثر کہا کرتی ہو کہ مردوں کی طرح جہاد میں شریک ہونا چاہتی ہو۔ میرے اس دوست نے
تمہارے لیے بڑااچھا موقعہ پیدا کردیا ہے''۔
صلیبی انہیں اکیال چھوڑ کر باہر نکل گیا۔
٭ ٭ ٭
زہرہ ابھی نوجوانی کی عمر میں تھی اور اس کے حسن میں خاصی کشش تھی۔ جسم چھریر اور طبیعت میں کچھ شوخی بھی
تھی۔ شام سے ذرا پہلے وہ دو لڑکیاں جنہیں حبیب القدوس نے تاالب میں نہاتے دیکھا تھا ،اس کے کمرے میں آئیں اور زہرہ
کو بے تکلف سہیلیوں کی طرح اپنے ساتھ لے گئیں۔ یہ تھا تو ہیبت ناک کھنڈر لیکن لڑکیاں جہاں رہتی تھیں وہ کمرہ سجا
ہوا اور وہاں رنگین فانوس تھے۔ اس کمرے میں کھنڈر کا گماں نہیں ہوتا تھا۔ زہرہ تھوڑے سے وقت میں ان میں گھل مل
گئی۔ ان میں سے ایک لڑکی نے اسے کہا… ''تمہارے ماں باپ کتنے ظالم ہیں جنہوں نے تم جیسی نوخیز کلی کو اس بوڑھے
''کے قدموں میں پھینک دیا ہے۔ تمہیں اس نے خریدا تو نہیں تھا؟
ہاں'' زہرہ نے رنجیدہ لہجے میں کہا… ''اس نے مجھے خریدا تھا۔ میں بھاگ کر کہیں جا بھی تو نہیں سکتی''۔''
''اگر کوئی پناہ مل جائے تو بھاگ جائو گی؟''
اگر یہ پناہ میری موجودہ زندگی سے بہتر ہوئی تو میں ضرور بھاگوں گی''… زہرہ نے کہا اور پوچھا… ''اس نے مجھے ''
''یہاں کیوں بالیا ہے؟ تم لوگ کون ہو؟ کیا یہ مجھے بیچ رہا ہے؟
اگر تم ہمارے پاس آجائو تو شہزادی بن کے رہو گی''… ایک لڑکی نے اسے کہا… ''ہم تمہیں بتا دیں گی کہ ہم کون ہیں''
لیکن اس سے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ تم ہمارے ساتھ رہنے کے قابل بھی ہو یا نہیں… تم ہمارے ساتھ باہر جاکر ہماری طرح
''کپڑے اتار کر تاالب میں نہا سکو گی؟
اس حیوان سے مجھے آزاد کرادو تو جو کہو گی ،کروں گی''… زہرہ نے کہا۔''
ایک آدمی زہرہ کو کھانے کے لیے بالنے آگیا۔ اس نے کہا کہ نائب ساالر کھانے پر انتظار کررہے ہیں۔ زہرہ چلی گئی تو وہی
صلیبی آگیا جو حبیب القدوس کے ساتھ بات چیت کرتا رہا تھا۔ لڑکیوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے بتایا… ''یہ لڑکی
ہمارے کام کی ہے اور وہ اس بوڑھے خاوند سے سخت نفرت کرتی ہے۔ اگر تم اجازت دو تو اسے اپنے رنگ میں رنگ لیتی
ہیں۔ تم نے دیکھ لیا ہے ،یہ کتنی خوبصورت ہے۔ اس میں شوخی بھی ہے اور اس کا جسم سختی برداشت کرسکتا ہے۔
تربیت کی ضرورت ہے''۔
لیکن میں یہ سوچ رہا ہوں کہ یہ شخص تو یہ کہتا تھا کہ اسے اپنی بیوی پر اعتماد ہے اور وہی پیغام رسانی کا کام ''
کرسکتی ہے''… صلیبی نے کہا… ''اگر یہ لڑکی اس شخص سے نفرت کرتی ہے تو اسے دھوکہ دے گی اور ہم سب کو
پکڑوائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں اس معاملے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔ یہ آدمی ہمارے فریب میں آگیا ہے۔
مجھے مصری مسلمان اور وطن پرست سمجھتا ہے۔ ہمارا کام کرنے کو تیار ہوگیا ہے۔ اگر یہ لڑکی اسے دھوکہ دینے کی سوچ
سکتی ہے تو ہم اسے استعمال کرسکتے ہیں۔ میں اسے پرکھوں گا۔ تم رات کو تھوڑی دیر کے لیے اسے میرے پاس لے آنا
کسی بہانے باہر چلی جانا''۔
کھانے کے کچھ دیر بعد لڑکیاں پھر اسے ہنسنے کھیلنے اور گپ شپ کے لیے لے آئیں۔ اسے پہلے سے زیادہ بے تکلف بلکہ
کسی حد تک بے حیا کرلیا۔ صلیبی آگیا اور لڑکیاں کسی بہانے سے باہر نکل گئیں۔ صلیبی نے زہرہ سے وہی باتیں کیں جو
لڑکیاں اس کے ساتھ کرچکی تھیں۔ صلیبی نے اسے اپنے معیار کے مطابق پرکھا اور اسے بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کرنے
لگا تو زہرہ نے اپنا بازو چھڑا کر کہا… ''میں ایسی عام اور سستی چیز نہیں کہ ذرا سے اشارے پر آپ کی گود میں گر
پڑوں گی''۔
صلیبی کو اس کی یہ بات پسند آئی۔ لڑکی ہر کسی کے ہاتھ آنے والی نظر نہیں آتی تھی۔ البتہ اس نے یہ دیکھ لیا کہ زہرہ
میں وہ جوہر موجود ہیں جو ان کی جاسوس اور تخریب کار لڑکیوں میں ہوتے تھے۔ ذرا تربیت کی ضرورت تھی۔ اسے بھی
زہرہ نے بتایا کہ اسے اپنے خاوند سے نفرت ہے لیکن وہ چونکہ مجبور ہے اور نفرت کا اظہار نہی کرسکتی ،اس لیے وہ
سمجھتا ہے کہ وہ اسے چاہتی ہے۔
21:02
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 143نہ میں تمہاری ،نہ مصر تمہارا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
لیکن وہ چونکہ مجبور ہے اور نفرت کا انظہار نہی کرسکتی ،اس لیے وہ سمجھتا ہے کہ وہ اسے چاہتی ہے۔
اب بھی نفرت کا اظہار نہ کرنا''… صلیبی نے اسے کہا… ''میں تمہیں اس سے آزاد کرالوں گا اور تم شہزادیوں کی طرح '
زندگی بسر کروگی… تم یہیں بیٹھو۔ میں تمہاری سہیلیوں کو تمہارے پاس بھیج دیتا ہوں''۔
وہ کمرے سے نکل گیا اور لڑکیوں کے پاس چال گیا۔ انہیں کہا… ''لڑکی کام کی ہے۔ اسے اپنے سائے میں لے لو۔ حبیب
القدوس اسے بری طرح چاہتا ہے۔ اس لڑکی کو ہم اس بات پر الئیں گے کہ وہ اس کے ساتھ دیوانہ وار محبت کا عملی اظہار
کرتی رہے تاکہ وہ اپے قابل اعتماد کمان داروں وغیرہ کے ساتھ اس لڑکی کی معرفت رابطہ قائم کرسکے۔ یہ تمہارا کام ہے کہ
لڑکی کو اپنے جال میں لے لو۔ اسے اپنی زندگی کا شاہانہ پہلو دکھائو اور تم جانتی ہو کہ اسے کس طرح اور کس مقصد کے
لیے تیار کرنا ہے''۔
زہرہ حبیب القدوس کے ساتھ والہانہ محبت کا اظہار کرتی رہی اور صلیبی اور اس کے ساتھی لڑکیوں کو بتاتی رہی کہ اسے
حبیب القدوس سے نفرت ہے۔ دونوں لڑکیوں نے اسے اپنے ساتھ رکھنا اور باہر لے جانا شروع کردیا۔ اسے چشمے کے تاالب پر
لے گئیں تو وہ لڑکیوں کے ساتھ پانی میں کھیلنے لگی۔ پھر یہ ان کا روزمرہ کامعمول بن گیا۔ رات وہ حبیب القدوس کے
ساتھ گزارتی تھی ،دن کا زیادہ تر وقت دونوں لڑکیاں اسے اپنے ساتھ رکھتیں اور کبھی صلیبی بھی اس کے ساتھ دوستانہ باتیں
کرتا تھا۔ زہرہ چار پانچ دنوں میں ان لڑکیوں جیسی ہوگئی۔ اس کی شوخیاں بے حیائی کا رنگ اختیار کرنے لگیں اور لڑکیاں
آہستہ آہستہ سے اپنی پراسرار زندگی کے متعلق بتانے لگیں۔
اس دوران صلیبی نے حبیب القدوس کے ساتھ بغاوت کا منصوبہ تیار کرلیا۔ حبیب القدوس نے یہ منصوبہ تیار کرنے میں بہت
اعلی حکام اور دوا نتظامیہ
مدد دی۔ اب صلیبی کو اس پر اعتبار آگیا تھا۔ اس نے حبیب القدوس کو مصری فوج کے ایک دو
ٰ
کے حاکموں کے نام بتائے جو درپردہ سلطان صالح الدین ایوبی کے خالف تھے اور بغاوت کی سوچ رہے تھے۔ انہوں نے ہی یہ
فیصلہ کیا تھا کہ کسی طرح اسے ہاتھ میں لیا جائے۔ صلیبی نے اسے یہ نہ بتایا کہ وہ صلیبی ہے۔ وہ اپنے آپ کو مصری
وطن پرست ہی بتاتا رہا۔ اس کا مقصد بغاوت کرانا تھا۔
زہرہ ان دونوں لڑکیوں میں اس قدر شیروشکر ہوگئی تھی کہ اب یہ کہنا کہ وہ کسی شریف باپ کی بیٹی یا ایک مسلمان
نائب ساالر کی بیوی ہے ،غلط تھا۔ حبیب القدوس اسے اپنی وفادار بیوی سمجھتا تھا۔ ایک روز اس نے لڑکیوں سے کہا کہ وہ
اس کھنڈر سے اوپر پہاڑیوں میں گھری ہوئی دنیا سے تنگ آگئی ہے۔ لڑکیوں نے اسے کہا کہ وہ اسے ان پہاڑیوں سے پرے کی
دنیا دکھا الئیں گی۔ چنانچہ وہ اسے ایک پہاڑی راستے سے گزارتی ایک جھیل کے کنارے لے گئیں اور اس کے کنارے کنارے
جب وہ اور آگے گئی تو اسے دریائے نیل نظر آیا۔ اسی کا پانی پہاڑی کے اندر آکر جھیل بنا ہوا تھا۔ ایک جگہ پہاڑی کی
اوٹ میں ایک کشتی چھپی ہوئی تھی جس میں دو چپو تھے۔ یہ جگہ بہت ہی خوبصورت تھی۔ زہرہ ان لڑکیوں کے ساتھ
وہاں ہنستی کھیلتی رہی۔
یہاں فرعونوں کی شہزادیاں کھیال کرتی تھیں''… ایک لڑکی نے کہا۔''
اور تم دونوں ان کی بدروحیں لگتی ہو''… زہرہ نے ہنس کر کہا۔''
تمہارے مقابلے میں ہم دونوں واقعی بدروحیں لگتی ہیں''… دوسری لڑکی نے کہا۔''
سنو زہرہ!''… ایک لڑکی نے اس سے کہا… '' تمہیں معلوم ہوگیا ہوگا کہ تمہارا یہ بوڑھا خاوند یہاں کیوں چھپا بیٹھا ہے ''
''اور تمہیں کیوں الیا گیا ہے؟
وہ تو پہلے روز ہی اس نے بتا دیا تھا''… زہرہ نے کہا… ''میں یہ کام کردوں مگر کہتے ہیں کہ چند دن رک جائو''۔''
''اور تم جانتی ہو کہ ہم آزاد مصر کی شہزادیاں ہوں گی؟''
مجھے اس خاوند سے آزاد کرادینا تو میں اپنے آپ کو شہزادی سمجھنے لگوں گی''… زہرہ نے کہا۔''
یہ طے ہوچکا ہے لیکن تمہارے خاوند کو معلوم نہیں''… لڑکی نے کہا… ''کیا تم اس کام کے لیے تیار ہو جو اس سلسلے''
''میں تمہیں کرنا ہوگا؟
وقت آئے گا تو دیکھنا''… زہرہ نے کہا… ''اگر مجھے یہ کام نہ کرنا ہوتا تو اپنے خاوند کو یہاں قتل کرچکی ہوتی۔ یہاں''
اچھا موقعہ تھا''۔
٭ ٭ ٭
دوسرے دن بھی وہ لڑکیوں کے ساتھ دریا کے کنارے چلی گئی۔ لڑکیاں اسے جس راستے دریا تک لے جاتی تھیں ،وہ ایسا
راستہ تھا کہ وہ اکیلی جاتی تو اسے یہ راستہ کبھی نہ ملتا۔ یہ راستہ قدرتی تھا لیکن خفیہ۔ زہرہ نے انہیں ایک دو بار کہا
تھا کہ کشتی پر دریا میں چلیں لیکن لڑکیوں نے اسے روک دیا تھا۔ حبیب القدوس پر بھی اب پہلے جیسی پابندی نہیں رہی
تھی۔ اس نے یقین دال دیا تھا کہ وہ آزاد مصر کا حامی ہے اور سلطان صالح الدین ایوبی کا تختہ الٹ کر دم لے گا۔ اب
اس کا یہ حال تھا کہ صلیبی اس کے ساتھ اس موضوع پر اتنی باتیں نہیں کرتا تھا جتنی وہ خود کرنے لگا۔ اس شخص میں
انقالب آگیا تھا۔
ایک دوروز بعد اس کھنڈر میں دو اور آدمی آئے۔ ان میں ایک سوڈانی تھا اور دوسرا مصری۔ انہیں حبیب القدوس سے مالیا
گیا۔ وہ ان دونوں کو نہیں جانتا تھا۔ ان کے پاس مصر ،سوڈان اور عرب کے نقشے تھے۔ کچھ اور کاغذات بھی تھے۔ انہوں
نے حبیب القدوس کے ساتھ بغاوت کے حقیقی پہلوئوں پر بڑی طویل بات کی۔ حبیب القدوس نے نہ صرف دلچسپی کا اظہار
کیا بلکہ انہیں ایسے مشورے دئیے جو ان کے ذہن میں نہیں آئے تھے۔ انہوں نے حبیب القدوس کو چند اور لوگوں کے نام
بتائے جو مصر کی فوج اور انتظامیہ میں تھے اور درپردہ سلطان ایوبی کے خالف زمین ہموار کررہے تھے۔ ان دونوں آدمیوں نے
یہ بھی بتایا کہ مصر پر مصری فوج کے جو دستے ہیں ،انہیں غلط احکام دے کر سرحدی دفاع میں اتنا شگاف پیدا کرلیا جائے
گا جس سے سوڈان کی فوج کے کچھ دستے اندر آکر بغاوت میں جان ڈال سکیں گے۔
بغاوت کامیاب ہونے کی صورت میں مصر کا امیر کون ہوگا؟''… حبیب القدوس نے پوچھا۔''
اعلی آپ ہوں گے ،اس لیے سب نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ امیر آپ ہی ہوں''
چونکہ تنظیم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ساالر
ٰ
گے''… مصری نے کہا… ''صالح الدین ایوبی یقینا حملہ کرے گا اور جنگ طول پکڑ سکتی ہے ،اس لیے آزاد مصر کا پہال ا
میر ساالر ہی ہونا چاہیے کیونکہ جنگی حاالت میں کسی غیرعسکری کو امارت کی گدی پر بٹھانا مناسب نہیں ہوگا۔ آپ میں
جو خوبیاں ہیں وہ اور کسی ساالر میں نہیں''۔
حبیب القدوس کا سینہ اور زیادہ پھیل گیا اور اس کی گردن تن گئی۔
امید ہے کہ آپ کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا کہ ضرورت پڑنے پر ہم نے صلیبیوں سے بھی مدد لینے کا انتظام کرلیا ''
ہے''… سوڈانی نے کہا۔
انہیں معاوضہ کس شکل میں دیا جائے گا؟''… حبیب القدوس نے پوچھا۔''
ان کے لیے یہی معاوضہ کافی ہے کہ ہم صالح الدین ایوبی کے خالف لڑیں گے اور مصر کو آزاد کرائیں گے''۔ مصری نے ''
کہا… ''انہیں مصر نہیں چاہیے ،وہ فلسطین کو ایوبی سے بچانے کی فکر میں ہیں۔ مصر ایوبی کے ہاتھ سے نکل گیا تو وہ
اس فوج سے جو مصر میں موجود ہے ،محروم ہوجائے گا اور اسے یہاں سے جو رسد اور دیگر جنگی امداد ملتی ہے وہ بند
ہوجائے گی اور اگر اس نے مصر پر حملہ کیا تو اس کے ساتھ جو مصری سپاہی ہیں ،وہ اپنے مصری بھائیوں کے خالف نہیں
لڑیں گے''۔
حبیب القدوس نے انہیں نہایت اچھی ترکیبیں بتائیں اور یقین دالیا کہ اس کے ماتحت پانچ ہزار نفری کے جو دستے ہیں ،وہ
اس کے اشارے پر بغاوت پر آمادہ ہوجائیں گے۔ اب یہ طے کرنا تھا کہ ان دستوں کو بغاوت پر آمادہ کرنے کے کیا کیا طریقے
اور ذریعے اختیار کیے جائیں۔
صورت ایک ہی بہتر ہے کہ میں واپس چال جائوں''… حبیب القدوس نے کہا… ''مگر مجھے واپس نہیں جانا چاہیے کیونکہ''
مجھ سے پوچھا جائے گا کہ میں کہاں رہا۔ مجھے اپنی بیوی نے بتایا ہے کہ علی بن سفیان ا ور غیاث بلبیس یہ کہہ رہے
ہیں کہ میں اپنی مرضی سے دشمن کے پاس چال گیا ہوں۔ اس شک کی بناء پر وہ مجھے حراست میں لے لیں گے ،پھر
ہمارا کھیل شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائے گا۔ میں نے دراصل یہ غلطی کی ہے کہ بیوی کو یہاں بال لیا ہے۔ اس کو
اگر واپس بھیجا تو اس کے ساتھ بھی اچھا سلوک نہیں ہوگا۔ مجھے یہیں رہنا چاہیے۔ ذرا مجھے سوچنے دیں کہ میں اپنے
کون کون سے کمان دار سے آپ کا رابطہ کرائوں''۔
اب حبیب القدوس کی وفاداری پر کوئی شک نہ رہا۔
٭ ٭ ٭
حلب کا محاصرہ کھیل نہیں ہوگا''… سلطان صالح الدین ایوبی فرات کے کنارے خیمے میں بیٹھا ،اپنے ساالروں سے کہہ رہا''
تھا… ''تم سب کو یاد ہوگا کہ ہم نے پہلے بھی ایک بار اس شہر کو محاصرے میں لیا تھا لیکن حلب والے ایسی بے جگری
سے لڑے تھے کہ ہمیں محاصرہ اٹھانا پڑا تھا۔ یہ حلب والوں کی بہادری تھی جس نے ہمیں آنے پر مجبور کردیا۔ اب وہ
حاالت نہیں ہیں ،پھر بھی ہمیں ہر خطرے کی پیش بندی کرلینی چاہیے۔ یہاں سے فوج میں جو بھرتی لی گئی ہے ،اس پر
ابھی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ مصر سے کمک منگوانی پڑے گی۔ ہوسکتا ہے کہ میں نائب ساالر حبیب القدوس کے دستوں کو
بال لوں''… یہ کہہ کر سلطان ا یوبی خاموش ہوگیا۔ اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ اس نے دبی دبی سی آوازمیں کہا…
''میں مان نہیں سکتا کہ حبیب القدوس مجھے دھوکہ د ے گیا ہے… وہ آخر کہاں گیا؟… میں جب مصر سے روانہ ہونے لگا
تھا تو اس نے مجھے کہا تھا کہ آپ مصر کا غم دل سے نکال دیں ،صلیبیوں یا سوڈانیوں نے آپ کی غیرحاضری میں مصر پر
حملہ کیا تو صرف میرے تین ہزار پیادے اور دو ہزار سوار ان کے حملے کو پسپا کردیں گے اور اگر کسی نے مصر کے اندر
سے سراٹھایا تو اس کا سر اس کے دھڑ کے ساتھ نہیں رہے گا… ہم اللہ کے سپاہی ہیں لیکن وہ اللہ کا شیر ہے''۔
معلوم ہوتا ہے اس کی انہی خوبیوں کو دیکھتے ہوئے دشمن نے اسے غائب کردیا ہے''… ایک ساالر نے کہا۔ ''اس کا'' :
آدھی فوج پر بڑا گہرا اثر ہے۔ اس لحاظ سے وہ اپنی ذات میں ایک طاقت ہے۔ دشمن نے ہمیں اس طاقت سے محروم کیا
ہے''۔
اگر وہ نہ مال تو اس کے دستوں کو یہاں بال لوں گا''… سلطان ایوبی نے کہا… ''لیکن اتنی جلدی نہیں بالئوں گا۔ مصر ''
کا دفاع زیادہ ضروری ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ مصر کو باہر سے اتنا زیادہ خطرہ نہیں جتنا اندر سے ہے۔ ایمان فروش ہمارے اندر
بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے فلسطین کو ہم سے بہت دور کردیا ہے''۔
اور اس وقت قاہرہ سے دور پہاڑیوں میں گھرے ہوئے ایک ڈرائونے کھنڈر میں سلطان ایوبی کا قابل اعتماد اور بڑا ہی قابل
نائب ساالر مصر میں بغاوت کا اہتمام کرچکا تھا۔ کھنڈر میں اس رات جشن منایا جارہا تھا۔ا گر باہر کے لوگ اس رات کھنڈر
میں آتے تو ڈر کر بھاگ جاتے۔ وہ ان چند ایک انسانوں اور اتنی حسین لڑکیوں کو جنات یا بدروحیں سمجھتے۔ صحیح معنوں
میں جنگل میں منگل بنا ہوا تھا۔ آٹھ دس آدمی تھے ،ان میں سے حبیب القدوس صرف اس صلیبی کی جو پہلے دن سے اس
کے ساتھ تھا ،مصری اور سوڈانی کو جن کے ساتھ اس نے بغاوت کے منصوبے کو آخری شکل دی تھی ،جانتا تھا۔ د وسروں کو
اس نے پہلی بار دیکھا۔ یہ سب اسی کھنڈر میں حبیب القدوس کے آنے سے پہلے موجود تھے لیکن پہاڑیوں کے اندر اور اوپر
چھپ چھپ کر پہرہ دیتے رہتے تھے۔ وہ انہی کا ایک ساتھی تھا جسے حبیب القدوس نے فرار کی کوشش میں قتل کردیا
تھا۔ اب پہرے کی ضرورت نہیں تھی۔ حبیب القدوس ان کا قابل اعتماد دوست بن چکا تھا۔ اسے انہوں نے خفیہ طریقوں سے
آزما بھی لیا تھا۔
آج رات یہ پورا گروہ جشن میں شامل تھا۔ ضیافت کا ویسا ہی انتظام تھا جیسا کہ کسی محل میں ہوتا ہے۔ شراب کی
صراحیاں خالی ہورہی تھیں ،ان کی دونوں لڑکیوں نے رقص بھی کیا تھا۔ حبیب القدوس جشن میں شریک تھا لیکن اس نے
شراب پینے سے انکار کردیا تھا ،اسے مجبور نہ کیا گیا۔ زہرہ نے د وسری لڑکیوں کی طرح شراب پیش کی لیکن خود نہ پی۔
صلیبی نے مصری اور سوڈانی سے کہہ دیا تھا کہ زہرہ کے متعلق محتاط رہیں ،ورنہ حبیب القدوس بگڑ جائے گا۔ زہرہ نے
دوسری لڑکیوں کی طرح بے حیائی کا مظاہرہ نہ کیا لیکن جشن میں دلچسپی اور جوش وخروش سے حصہ لے رہی تھی۔
آدھی رات تک سب شراب میں مدہوش ہوچکے تھے۔ مصری اورصلیبی دونوں لڑکیوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔ بعض تو بے ہوش
ہوگئے تھے۔ زہرہ نے حبیب القدوس کو آنکھ سے اشارہ کیا۔ وہ وہاں سے اٹھ گیا۔ زہرہ نے اس کمرے میں جاکر جھانکا جہاں
مصری اور سوڈانی لڑکیوں کو لے گئے تھے۔ وہ دونوں آدمی اور لڑکیاں برہنہ حالت میں پڑی تھیں۔ ان میں سے کوئی بھی
ہوش میں نہیں تھا۔ زہرہ کو معلوم تھا کہ ہتھیار کہاں رکھے ہیں۔ وہ ایک برچھی ،ایک تلوار ،دو کمانیں اور تیروں سے بھرے
دو ترکش اٹھا الئی۔ حبیب القدوس اس کے انتظار میں کھڑا تھا۔ اس نے زہرہ کے ہاتھ سے تلوار لے لی۔ ایک کمان اور ترکش
اپنے کندھوں سے لٹکایا اور دوسری زہرہ کے کندھوں سے لٹکا دی اور برچھی اسی کے پاس رہنے دی۔
ان سب کو قتل نہ کردیا جائے؟''… زہرہ نے حبیب القدوس سے پوچھا۔''
یہاں سے فورا ً نکلنا زیادہ ضروری ہے''… حبیب القدوس نے کہا۔ ''مجھے دریا تک لے چلو''۔''
زہرہ نے دریا تک راستہ دیکھ رکھا تھا ،اگر پہلے یہ راستہ نہ دیکھا ہوتا تو وہ دونوں وہاں سے کبھی نہ نکل سکتے۔ زہرہ آگے
آگے چل پڑی۔ وہ دبے پائوں جارہے تھے اور ان کے کان ادھر ادھر کی آوازوں پر لگے ہوئے تھے۔ حبیب القدوس نے تلوار اور
زہرہ نے برچھی تان رکھی تھی۔ زہرہ حبیب القدوس کو کشتی تک لے گئی جو چھپا کر رکھی گئی تھی۔ دونوں نے کشتی
کھولی۔ اس میں بیٹھے اور نہایت آہستہ آہستہ چپو مارنے لگے تاکہ آواز پیدا نہ ہو۔ ہر لمحہ ڈر تھا کہ کہیں نہ کہیں سے
کوئی آدمی نکل آئے گا یا کہیں سے تیر آئے گا… کچھ بھی نہ ہوا۔ کشتی پہاڑیوں کے تنگ راستے سے نکل گئی اور دریا کا
شور شروع ہوگیا۔
21:02
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 144نہ میں تمہاری ،نہ مصر تمہارا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہر لمحہ ڈر تھا کہ کہیں نہ کہیں سے کوئی آدمی نکل آئے گا یا کہیں سے تیر آئے گا… کچھ بھی نہ ہوا۔ کشتی پہاڑیوں کے
تنگ راستے سے نکل گئی اور دریا کا شور شروع ہوگیا۔''اللہ کا نام لو اور ایک چپو تم سنبھال لو''… حبیب القدوس نے
زہرہ سے کہا… ''تم جہاد میں حصہ لینے کی خواہش مند رہتی تھی۔ اللہ نے تمہیں موقعہ دے دیا ہے۔ ہم ابھی خطرے سے
نکلے نہیں۔ کشتی کو دریا کے درمیان لے چلتے ہیں''۔
ایک چپو زہرہ نے اور دوسرا حبیب القدوس نے لے لیا اور دونوں کشتی کھینچنے لگے۔ پہاڑیوں کے سیاہ بھوت پیچھے ہٹنے اور
چھوٹے ہونے لگے۔ ان دنوں دریائے نیل کنارے سے کنارے تک بھرا ہوا اور پورے جوبن پر تھا۔ کناروں کے ساتھ ساتھ بہائو
پرسکون تھا ،درمیان میں بہت تیز اور سرکش لہریں اٹھ رہی تھیں۔ حبیب القدوس کو وہاں تک نہیں جانا چاہیے تھا لیکن
کنارے کے ساتھ ساتھ جانا بھی پرخطر تھا۔ جونہی کشتی تیزبہائو میں پہنچی ،یوں لگا جیسے کسی قوت نے اسے اپنی طرف
گھسیٹ لیا ہو۔ کشتی تیزی سے بہنے ،اوپر اٹھنے اورگرنے لگی۔ حبیب القدوس نے زہرہ سے کہا… ''گھبرا نہ جانا۔ ہم ڈوبیں
گے نہیں۔ میں ذرا سمت دیکھ لوں''۔
آپ میری فکر نہ کریں''… زہرہ نے کہا… ''ڈوب گئے تو کیا ہوجائے گا۔ ان کافروں کی قید سے تو نکل آئے ہیں''۔''
حبیب القدوس نے آنکھیں سکیڑ کر پہاڑوں کی طرف دیکھا جو اب زمین کے ابھار کی طرح نظر آرہے تھے ،پھر اس نے آسمان
کی طرف دیکھا اور پرجوش لہجے میں بوال… ''میں اس جگہ کو پہچانتا ہوں۔ اس پہاڑی خطے کی صحرا والی طرف اپنے
دستوں کو پہاڑی جنگ کی مشق کراچکا ہوں۔ ادھر دریا والی طرف سے میں واقف نہیں تھا۔ ہم سیدھے قاہرہ جارہے ہیں۔ نیل
ہمیں بڑی تیزی سے قاہرہ لے جارہا ہے… اللہ کا شکر ادا کرو ،زہرہ۔ یہ خدائی مدد ہے۔ اللہ نیتوں کو پہچانتا ہے… لیکن ہمیں
قاہرہ سے پہلے ایک اور جگہ رکنا ہے۔ کچھ دور آگے دریا کا موڑ ہے۔ اس کے قریب ہماری فوج کی ایک چوکی ہے۔ دریائی
گشت کے لیے ان کے پاس کشتیاں ہیں۔ اس چوکی کی نفری سے میں ان سب آدمیوں کو پکڑ سکوں گا مگر وہ بیدار ہوجائیں
گے''۔
مجھے امید ہے کہ کل دوپہر تک ان میں سے کوئی بھی بیدار نہیں ہوسکے گا''… زہرہ نے کہا… ''میرے ہاتھ سے انہوں''
نے شراب خاصی زیادہ پی لی تھی اور میں نے آخری بھری ہوئی صراحی سے انہیں جو ایک ایک پیالہ پالیا تھا ،اس میں
خاکی سے رنگ کا تھوڑا سا سفو ف مال دیا تھا''۔
''وہ کیا تھا؟''
ان لڑکیوں پر میں نے جس طرح ا عتماد پیدا کرلیا تھا ،وہ تو آپ کو ہر رات تنہائی میں بتاتی رہی ہوں''… زہرہ نے ''
کہا… ''کل کی بات ہے کہ انہوں نے حشیش دکھائی اور اس کا استعمال سمجھایا ،پھر انہوں نے مجھے ایک ڈبیہ کھول کر
یہ سفوف دکھایا اور کہا کہ بعض آدمیوں کو بے ہوش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ چٹکی بھر سفوف شربت میں یا پانی یا کھانے
میں مال دو تو آدمی بے ہوش ہوجاتا ہے۔ اسے جہاں جی چاہے ،اٹھا لے جائو… آج رات جب میں شراب کے مٹکے سے
آخری صراحی بھرنے گئی تو اس ڈبیہ سے آدھا سفوف اس میں مال دیا۔ اگر اس کا اثر ویسا ہی ہے جیسا لڑکیوں نے بتایا ہے
تو انہیں کل شام تک ہوش میں نہیں آنا چاہیے''۔
حبیب القدوس نے آنکھیں سکیڑ کر پہاڑوں کی طرف دیکھا اور پرجوش لہجے میں بوال… ''میں اس جگہ کو پہچانتا ہوں''۔
اس کے آنسو پھوٹ آئے۔ یہ جذبات کی شدت اور خراج تحسین کے آنسو تھے۔ اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا… ''میں نے
تمہیں بہت سخت آزمائش میں ڈال دیا تھا زہرہ! میں نے تمہیں جس دنیا کا بھید لینے کو کہا تھا ،وہ گناہوں کی غلیظ مگر
بڑی حسین دنیا ہے۔ تم نے میرے لیے بہت بڑی قربانی دی ہے''۔
آپ کے لیے نہیں اسالم کی عظمت کے لیے''… زہرہ نے کہا… ''میں آپ کی شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے یہ ''
مقدس فرض ادا کرنے کا موقعہ دیا۔ آپ شاید مجھ پر اعتبار نہ کریں ،گناہوں کی پرکشش دنیا میں جاکر بھی اپنا دامن گناہ
سے پاک رکھا ہے۔ یہ بھی اچھا ہوا کہ مجھے یہاں الیا گیا تو انہوں نے مجھے آپ کے ساتھ تنہا رہنے دیا ،ورنہ آپ مجھے
بتا نہ سکتے کہ یہ لوگ آپ کو بغاوت کرانے کے لیے اغوا کرکے الئے ہیں اور مجھے ان لڑکیوں میں بے حیا اور شوخ لڑکی
بن کر یہ ظاہر کرنا ہے کہ مجھے آپ سے نفرت ہے اور میں اس سے بھاگنا چاہتی ہوں۔ آپ نے جب مجھے ان لڑکیوں کی
خصلتیں اور ان کے کماالت بتائے اور کہا کہ میں بھی ایسی ہی بن جائوں تو میں گھبرا گئی تھی ،کیونکہ میں تو تصور میں
بھی ایسا نہیں کرسکتی تھی لیکن یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کہ یہ حرکتیں اور یہ سب باتیں مجھ سے بغیر کوشش کے
ہوگئیں اور خدا نے مجھے کامیابی عطا فرمائی۔ اگر یہ لڑکیاں مجھے دریا تک کا راستہ نہ دکھاتیں تو ہم وہاں سے کبھی نہ
نکل سکتے… کیا آپ نے مجھے اسی کام کے لیے یہاں بالیا تھا
نہیں!''… حبیب القدوس نے کہا… ''یہ صورت تمہارے آنے سے ازخود پیدا ہوگئی ہے۔ میں نے کچھ اور سوچا تھا۔ '' :
تمہیں استعمال اپنی رہائی کے لیے ہی کرنا تھا۔ تمہیں فرضی پیغام رساں بنانا تھا لیکن ان لڑکیوں نے تم میں کسی اور ہی
دلچسپی کا اظہار کیا تو میرے دماغ میں یہ ترکیب آگئی جس پر تم نے نہایت خوبی سے عمل کیا اور اب ہم آزاد ہیں… میں
نے ان لوگوں پر اعتماد کرلیا تھا۔ میرا خیال تھا کہ یہ لوگ غیرمعمولی طور پر چاالک ہوتے ہیں لیکن ہم لوگ اپنے ہوش
میں ایمان قائم رکھیں تو یہ لوگ احمق ہیں۔ میرے ساتھ جس آدمی کو تم نے دیکھا تھا ،یہ اپنے آپ کو مصری مسلمان ظاہر
کرتا تھا۔ میں پہلے روز ہی جان گیا تھا کہ یہ صلیبی ہے اور میں صلیبیوں کے جال میں آگیا ہوں''۔
٭ ٭ ٭
وہ پہاڑی خطہ بہت دور رہ گیا تھا۔ نیل کے د رمیان کی رو بہت ہی تیز ہوگئی اور زیادہ جوش میں آگئی تھی۔ کشتی اس
کے رحم وکرم پر اوپر اٹھتی گرتی اور اٹھتی جارہی تھی۔ چپو بیکار تھے ،دریا کے جوش اور قہر میں جو اضافہ ہوگیا تھا ،اس
سے اندازہ ہوتا تھا کہ دریا تنگ ہوگیا ہے اور آگے موڑ ہے۔ یہ وہی موڑ تھا جس سے کچھ آگے فوج کی چوکی تھی… اچانک
کشتی رکی اور گھوم گئی۔ حبیب القدوس نے چپو تھام لیے۔ د ریا کا شور بہت بڑھ گیا تھا۔ کشتی ایک چکر میں گھومنے
لگی۔ کشتی بھنور میں آگئی تھی۔ حبیب القدوس نے پوری طاقت سے چپو مارے مگر بھنور کے چاکر کی طاقت بہت زیادہ
تھی۔ کشتی قابو میں نہیں رہی تھی۔ اسے اپنے دونوں مسافروں سمیت دریا کی تہہ میں جانا تھا۔
زہرہ!''… حبیب القدوس نے چال کر کہا… ''میری پیٹھ پر آجائو''۔''
زہرہ اس کی پیٹھ پر سوار ہوگئی اور بازو اس کی گردن کے گرد لپیٹ لیے۔ حبیب القدوس نے اسے کہا۔ ''مجھے اور زیادہ
مضبوطی سے پکڑ لو اور مجھ سے الگ نہ ہونا''… یہ کہہ کر اس نے چکر میں بھنور کے زور پر تیرتی کشتی سے دریا میں
اس طرح چالنگ لگائی کہ بھنور سے باہر پہنچ جائے۔
وہ زہرہ کے ساتھ پانی کے اندر چال گیا اور جسم کی تمام تر قوتیں مرکوز کرکے ابھر آیا۔ وہ بھنور کی زد سے نکل گیا لیکن
یہ موڑ تھا اور دونوں طرف چٹانیں تھیں۔ پانی سکڑ گیا تھا اور موجیں زیادہ اونچی اور غضبناک ہوگئی تھیں۔ زہرہ تیرنا نہیں
جانتی تھی۔ اس نے خدا سے مدد مانگنی شروع کردی۔ حبیب القدوس اس کے بوجھ تلے سیالبی موجوں سے لڑ رہا تھا۔ وہ
اسے چٹان کے ساتھ پٹختی تھیں اور وہ چٹان سے بچنے کے لیے ہاتھ پائوں مارتا تھا۔ اس کی کوشش یہ تھی کہ اپنا اور
زہرہ کا منہ پانی سے باہر رکھے لیکن موجیں اسے بار بار ڈبو کر اوپر سے گزر جاتی تھیں۔
پھر مو جیں اسے موڑ سے نکال لے گئیں اور دریا چوڑا ہوگیا۔ حبیب القدوس کے بازو اور ٹانگیں شل ہوچکی تھیں۔ اس نے
طاقت کے آخری ذرے یکجا کیے اور اس تندرو سے نکلنے کو زور لگایا۔ اس نے محسوس کیا کہ زہرہ کی گرفت ڈھیلی ہوگئی
ہے۔ اس نے زہرہ کو پکارا مگر وہ نہ بولی۔ اس کے بازو بالکل ڈھیلے ہوگئے… حبیب القدوس سمجھ گیا کہ زہرہ کے منہ اور
ناک کے راستے پانی اندر چال گیا ہے۔ اسے بچانا اور تیرنا بہت مشکل ہوگیا۔ اس نے ایک ہاتھ سے اسے سنبھاال اور زور
لگایا تو تند رو سے نکل گیا۔ کنارا ابھی دور تھا۔ اب تیرنا آسان تھا۔ اس نے مدد کے لیے چالنا شروع کردیا۔
اس کا جسم اکڑ چکا تھا اور زہرہ گری جارہی تھی کہ ایک کشتی اس کے قریب آئی۔ اسے آواز سنائی دی… ''کون ہو؟''…
اس نے آخری بار بازو مارے اور لپک کر کشتی کا کنارا پکڑ لیا۔ اس نے کہا… ''اسے میرے اوپر سے اٹھا لو''… زہرہ کو
کشتی والوں نے اوپر گھسیٹ لیا۔ وہ بے ہوش ہوچکی تھی۔ کشتی میں اس کی فوج کے سپاہی تھے۔ ان کی چوکی یہیں تھی۔
وہ حبیب القدوس کی پکار پر ادھر آئے تھے۔
چوکی میں جاکر اس نے بتایا کہ وہ نائب ساالر حبیب القدوس ہے۔ چوکی کے کمان دار نے اسے پہچان لیا اور بہت حیران
ہوا۔ زہرہ بے ہوش پڑی تھی۔ حبیب القدوس نے اسے پیٹ کے بل لٹا کر پیٹھ اور پہلوئوں پر اپنا وزن ڈاال تو اس کے منہ اور
ناک سے بہت پانی نکال۔ وہ ابھی ہوش میں نہیں آئی تھی۔ حبیب القدوس نے کمان دار سے کہا کہ دو بڑی کشتیوں میں دس
دس سپاہی سوار کرو اور پہاڑی خطے تک چلو۔ اس نے بتایا کہ پہاڑیوں کے اندر جو کھنڈر ہے ،اس میں دس بارہ صلیبی
تخریب کار بے ہوش پڑے ہیں ،انہیں النا ہے اور ہوسکتا ہے وہاں کچھ اور آدمی پہنچ چکے ہوں ،مجھے خشکی کی طرف سے
اندر جانے کے راستے کا علم نہیں۔
میں ایک راستہ جانتا ہوں''۔ کمان دار نے کہا… ''خشکی سے آسان رہے گا''۔''
بیس گھوڑ سواروں کے آگے حبیب القدوس اور چوکی کا کمان دار تھا۔ صبح کی روشنی ابھی دھندلی تھی۔ جب وہ پہاڑیوں میں
داخل ہوگئے۔ خاموشی کی خاطر انہوں نے گھوڑے باہر ہی رہنے دئیے اور پیدل آگے گئے۔ حبیب القدوس کی جسمانی حالت کو
دریا نے چوس لیا تھا۔ پھر بھی چال جارہا تھا۔ وہ اپنی بیوی کو بے ہوشی کی حالت میں چوکی میں چھوڑ آیا تھا۔ اس کے
لیے زیادہ ضروری تخریب کاروں کی گرفتاری تھی۔ وہ پہاڑیوں اور چٹانوں کے درمیان بھول بھلیوں جیسے راستوں سے گزرتے
گئے۔ کچھ دیر بعد انہیں کھنڈر نظر آنے لگا۔
سب سے پہلے حبیب القدوس کو صلیبی نظر آیا۔ اس کے قدم ڈگمگا رہے تھے اور سر ڈول رہا تھا۔ اسے پکڑا گیا تو وہ کچھ
بڑبڑایا۔ سات آٹھ آدمی وہیں بے ہوش پڑے تھے ،جہاں رات کو گرے تھے۔ کمرے میں مصری اور سوڈانی اور دونوں لڑکیاں بے
ہوش پڑی تھیں۔ ان سب کو سپاہیوں نے اٹھا لیا۔ ان کا سامان بھی اٹھا لیا گیا اور ان سب کو گھوڑوں پر ڈال کر چوکی
میں لے گئے۔ اس وقت تک زہرہ ہوش میں آچکی تھی۔
دن کا پچھال پہر تھا ،جب یہ تخریب کار ہوش میں آنے لگے۔ اس وقت قاہرہ کے راستے میں تھے۔ وہ گھوڑوں کے ساتھ
بندھے ہوئے تھے اور وہ بیس سپاہیوں کی حراست میں تھے۔ حبیب القدوس نے ان کے ساتھ کوئی بات نہ کی۔ قافلہ چلتا
رہا۔
آدھی رات کے بعد علی بن سفیان کے مالزم نے اسے جگایا اور کہا کہ امیر بالتے ہیں۔ وہ فورا ً پہنچا۔ وہاں غیاث بلبیس
بھی موجود تھا۔ علی بن سفیان یہ د یکھ کر حیران رہ گیا کہ حبیب القدوس بھی بیٹھا تھا۔ اس نے ان تمام فوجی اور
غیرفوجی حاکموں کے نام بتائے جو اسے کھنڈر میں معلوم ہوئے تھے۔ یہ غدار تھے۔ انہیں بغاوت میں شامل ہونا اور کامیاب
کرانا تھا۔ قائم مقام امیر کے حکم سے اسی وقت ان سب کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور سب کو گرفتار کرلیا گیا۔ ان
کے گھروں سے جو زروجواہرات برآمد ہوئے ،وہ ان کے جرم کو ثابت کررہے تھے۔
٭ ٭ ٭
اس وقت سلطان صالح الدین ایوبی حلب کو محاصرے میں لینے کے لیے اس شہر کے قریب ایک مقام میدان االخدر پر خیمہ
زن تھا۔ اس نے شام اور دوسرے مقامات سے اپنی فوج کے تھوڑے تھوڑے دستے بال لیے تھے۔ حلب کے متعلق وہ اپنے
ساالروں سے کہہ چکا تھا کہ اس شہر کے لوگ اسی طرح بے جگری سے لڑیں گے جس طرح وہ پہلے محاصرے میں لڑے
تھے۔ گو اس کے جاسوسوں نے جو حلب کے اندر تھے ،اسے یہ اطالع دی تھی کہ اب اتنے برسوں کی خانہ جنگی سے
حلب کے لوگوں کے خیاالت بدل گئے ہیں۔ خیاالت بدلنے کے لیے سلطان ایوبی نے بھی زمین دوز اہتمام کیا تھا۔ اب وہاں کا
حکمران سلطان عمادالدین تھا جسے لوگ زیادہ پسند نہیں کرتے تھے ،پھر بھی سلطان ایوبی کسی خوش فہمی میں مبتال نہ
ہوا۔ اس نے ادھر ادھر سے دستے میدان االخدر میں جمع کرلیے۔
وہ اپنے ساالروں کو آخری ہدایات دے رہا تھا کہ قاہرہ کا قاصد پہنچا۔ اس نے جو پیغام دیا ،اسے پڑھ کر اس کا چہرہ چمک
اٹھا۔ اس نے بلند آواز سے کہا… ''میرا دل کہہ رہا تھا کہ حبیب القدوس مجھے دھوکہ نہیں دے گا۔ اللہ اسالم کی ہر بیٹی
کو زہرہ کا جذبہ اور ایمان دے''۔ علی بن سفیان نے اسے نائب ساالر حبیب القدوس کی واپسی کی ساری روئیداد لکھی تھی
جس میں اس کی بیوی زہرہ کا تفصیلی ذکر تھا۔ اس نے اسی وقت پیغام کا جواب لکھوایا جس میں ان غداروں کے لیے جو
پکڑے گئے تھے ،یہ سزا لکھی کہ انہیں گھوڑوں کے پیچھے باندھ کر گھوڑے شہر میں دوڑائے جائیں اور گھوڑے اس وقت روکے
جائیں جب ان غداروں کا گوشت ہڈیوں سے الگ ہوجائے۔
دو ر وز بعد سلطان ایوبی نے حلب پر چڑھائی کردی جو محاصرہ نہیں ،یلغار تھی۔ بڑی منجنیقوں سے شہر کے دروازوں پر
پتھر اور آتش گیر سیال کی ہانڈیاں ماری گئیں۔ شہر کی دیواروں پر اور اندر بھی ہانڈیاں پھینک کر آتشیں تیروں کامینہ برسا
دیا گیا۔ دیواریں توڑنے والے جیش دیواریں توڑنے لگے لیکن شہر والوں اور فوج کی طرف سے مزاحمت میں اتنی شدت نہیں
تھی۔ قاضی بہائوالدین شداد نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ حلب کے حکمران عمادالدین کے امرائ ،وزراء اس کی خامیوں
سے آگاہ تھے۔ اس نے صلیبیوں سے جنگی امداد کے عالوہ سونے کی صورت میں دولت بہت لی تھی۔ اس کے امرائ ،وزراء
کی نظر اس پر تھی۔ انہوں نے ایسے مطالبات پیش کیے کہ عمادالدین جو پہلے ہی سلطان ایوبی کی طوفانی یلغار سے خوفزدہ
تھا ،ان مطالبات سے گھبرا گیا۔
اس نے حلب کے قلعہ دار ( گورنر) حسام الدین کو سلطان ایوبی کے پاس اس درخواست کے ساتھ بھیجا کہ اسے موصل کا
تھوڑا سا عالقہ دے دیا جائے۔ سلطان ایوبی نے اس کی یہ شرط مان لی۔ یہ خبر جب شہر کے لوگوں نے سنی تو اور لوگ
نے اپنا کوئی نمائندہ سلطان ایوبی کے پاس بھیج کر اس کے ساتھ صلح کرلیں یا جو کارروائی وہ کرنا چاہتے ہیں ،کریں۔
شہر کے معززین نے عزالدین جردوک النوری اور زین الدین کو اپنی نمائندگی کے لیے سلطان ایوبی کے پاس بھیجا۔ جردوک :
النوری مملوک تھا۔ وہ ١١جون ١١٨٣ء (١٧صفر ٥٧٩ہجری) کے روز سلطان ایوبی کے پاس گئے اور اپنی تمام فوج کو شہر
کے باہر بال کر سلطان ایوبی کے حوالے کردیا۔ فوج کے ساتھ حلب کے معززین اور امرائ ،وزراء بھی آئے تھے۔ سلطان ایوبی
نے سب کو بیش قیمت لباس پیش کیے۔
چھٹے روز جب سلطان ایوبی اس فتح سے مسرور تھا۔ اسے اطالع ملی کہ اس کا بھائی تاج الملوک جو اسی جنگ میں
زخمی ہوگیا تھا ،چل بسا ہے۔ سلطان ایوبی کی مسرت گہرے غم میں بدل گئی۔ تاج الملوک کے جنازے میں عمادالدین بھی
شامل ہوا۔ اس کے بعد عمادالدین حلب سے نکل گیا۔ سلطان ایوبی نے حلب کی حکومت سنبھال لی۔ بہائوالدین شداد کے
بیان کے مطابق اس نے اپنی تمام فوج کو جو لمبے عرصے سے مسلسل لڑ رہی تھی ،رخصت پر گھروں کو بھیج دیا اور خود
حلب کے انتظامی امور میں مصروف ہوگیا۔ اس کی منزل بیت المقدس تھی۔
،اس کے ساتھ ہی قصہ *نہ میں تمہاری ،نہ مصر تمہارا* ختم ہوا جاتا ھے
21:03
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 145ایوبی نے قسم کھائی تھی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
صالح الدین ایوبی کے چہرے پر اس روز رونق تھی اور آنکھوں میں وہ چمک جسے اس کی ہائی کمانڈ کے ساالر اور اس کے
قریب رہنے والے سول حکام بڑی اچھی طرح پہچانتے تھے۔ اس کے چہرے پر ایسی رونق اور آنکھوں میں ایسی چمک اس
وقت آیا کرتی تھی ،جب وہ کوئی تاریخی فیصلہ کرچکتا تھا۔ وہ محرم ٥٨٣ہجری (مارچ ١١٨٧ئ) کا مہینہ تھا۔ سلطان ایوبی
دمشق میں تھا۔ وہ ان تمام مسلمان امرائ ،حکمرانوں اور قلعے داروں کو اپنا مطیع اور اتحادی بنا چکا تھا جو صلیبیوں کے
دوست بن کر اس کے خالف محاذ آراء ہوگئے تھے۔ ان میں سب سے زیادہ اہم حلب اور موصل کے والئی عزالدین اور
عمادالدین تھے۔ انہوں نے برسوں پر پھیلی ہوئی خانہ جنگی کے بعد سلطان ایوبی کے آگے ہتھیار ڈال دئیے تھے۔ ان کی
فوجیں سلطان ایوبی کی مشترکہ کمان کے تحت آگئی تھیں۔
وہ دمشق اس وقت گیا تھا جب اس نے یہ عہد پورا کرلیا تھا کہ فلسطین کی طرف پیش قدمی سے پہلے ایمان فروشوں کو
گھٹنوں بٹھائوں گا
تا کہ ان میں سے کوئی بھی اس کے اور قبلہ اول کے درمیان حائل نہ ہوسکے۔ ان غداروں کوبزور شمشیر راہ راست پر الکر
سلطان ایوبی نے اپنی زبان سے یہ نہیں کہا تھا کہ فاتح ہوں۔ وہ کہا کرتا تھا کہ اسالم کی تاریخ کایہ باب بڑا ہی شرمناک
ہوگا جس میں یہ واقعات بیان کیے جائیں گے کہ صالح الدین ایوبی کا دور سیاہ دور تھا جب صلیبی بیت المقدس پر قابض
تھے اور مسلمان آپس میں لڑ رہے تھے۔ البتہ وہ ضرور کہا کرتا تھا کہ غداروں کو اپنا اتحادی بنا کر ہم نے صلیبیوں کے عزائم
تباہ کردئیے ہیں۔
اس روز دمشق میں اس نے اپنی ہائی کمانڈ کے ساالروں ،مشیروں اور فوج سے تعلق رکھنے والے غیرفوجی حکام کو کانفرنس
کے لیے بالیا تو سب نے سلطان کے چہرے پر مخصوص رونق اور آنکھوں میں وہ چمک دیکھی جو کبھی کبھی دیکھنے میں آیا
کرتی تھی ۔ سب سمجھ گئے کہ ان کے سلطان نے اپنی منزل کو روانہ ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس میں کسی کو شک
نہ تھا کہ ا ُس کی منزل بیت المقدس ہے۔ اب انہیں اس کی زبان سے یہ سننا تھا کہ کس روز اور کس وقت کوچ ہوگا اور
کوچ کس ترتیب سے ہوگا اور راستہ کون سا ہوگا۔
میرے دوستو! میرے رفیقو!''… سلطان صالح الدین ایوبی ٹھہری ہوئی آواز میں ان سے مخاطب ہوا… ''آپ سب یقینا ''
میری تائید کریں گے کہ ہم بیت المقدس کی طرف پیش قدمی کے لیے تیار ہیں۔ آج میں آپ سے جو باتیں کروں گا اور آپ
اپنے شکوک رفع کرنے کے لیے مجھ سے جو سوال پوچھیں گے اور جو اعتراض کریں گے وہ ہماری تاریخ ہوگی۔ ہمارے الفاظ
اور ہمارے عہد تاریخ کی تحریر بنیں گے اور یہ تحریر ہماری آخری نسل تک جائے گی۔ یہ بھی نہ بھولنا کہ ہم اس دنیا میں
یہ تحریر چھوڑ کر جائیں گے اور خدا کے حضور اپنے اعمال لے کرجائیں گے۔ یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ ہمیں اپنی آنے
والی نسلوں کے آگے اور خدائے ذوالجالل کے آگے شرمسار ہونا ہے یا سرخرو۔ فتح کی ضمانت ہم میں سے کوئی بھی نہیں
دے سکتا مگر ہم سب یہ عہد کرسکتے ہیں کہ ہم لڑیں گے ،مریں گے ،واپس نہیں آئیں گے''۔
سلطان ایوبی نے سب کو دیکھا۔ اس کی نگاہیں سب پر گھومیں۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔ اس نے کہا ''میں
تمہیں خوش فہمیوں میں مبتال نہیں کروں گا لیکن آپ میں سے کسی کے دل میں یہ ڈر ہو کہ صلیبیوں کے پاس جتنی فوج
ہے ہم اس سے آدھی فوج تیار کرسکتے ہیں اور ہم اتنی دور لڑنے جارہے ہیں۔ میں آپ کو یاد دالنا چاہتا ہوں کہ ہم ہمیشہ
تھوڑی سی کم نہیں بلکہ بہت کم تعداد سے کئی گنا زیادہ دشمن سے لڑے اور فتح پائی ہے۔ جنگ تعداد سے نہیں جذبے اور
عقل سے لڑی جاتی ہے۔ ایمان مضبوط ہو تو بازو ،تلواریں اور دل بھی مضبوط ہوجاتے ہیں۔ ہمارے پاس ایمان کی کمی نہیں،
عقل کی بھی کمی نہیں۔ اپنے ایمان کو مضبوط رکھیں اور عقل کو استعمال کریں''۔
ہم میں کوئی ایک بھی نہیں جو اپنی اور دشمن کی فوجی طاقت کا موازنہ کررہا ہو''… چھاپہ ماروں کے ساالر صارم ''
مصری نے اٹھ کر کہا اور اپنے ساتھیوں پر نظریں دوڑائیں۔ ہر ایک نے اس کی تائید کی۔ صارم مصری نے کہا۔ ''البتہ یہ
دیکھنا ضروری ہے کہ ہم بیت المقدس تک کس طرف سے اور کس انداز سے پہنچیں گے۔ احتیاط الزمی ہے۔ ہم تکبر سے گریز
اور حقیقت کو تسلیم کریں گے''۔
میں نے آپ کو یہی بتانے کے لیے بالیا ہے''… سلطان ایوبی نے کہا… ''میں نے پیش قدمی اور جنگ کا منصوبہ آپ ''
کے مشوروں سے تیار کیا ہے اور میں نے کئی راتوں کی سوچ کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ ہماری پہلی منزل حطین ہوگی۔ آپ
سب حطین کی جنگی اہمیت سے آگاہ ہیں ،وہاں مجھے وہ زمین مل جائے گی جہاں میں صلیبیوں کو لڑانا چاہتا ہوں۔ جنگ
کا یہ اصول جو میں آپ کو پہلے بھی کئی بار بتا چکا ہوں اپنے ذہن پر نقش کرلو کہ جنگ میں آپ کی بہترین دوست وہ
زمین ہے جس پر آپ دشمن کو الکر لڑاتے ہیں۔ زمین ایسی منتخب کرو جو آپ کو فائدے اور دشمن کو نقصان دے۔ یہ زمین
ہمیں حطین کے عالقے میں میسر آئے گی ،بشرطیکہ آپ برق رفتاری ،رازداری اور پہل کاری سے اس زمین تک پہنچ جائیں اور
…''دشمن کو تمام فائدوں سے محروم کردیں
حطین کے عالقے میں بلندیاں بھی ہیں اور پانی بھی۔ آپ بلندیوں اور پانیوں پر قبضہ کرلیں تو سمجھ لیں کہ آپ آدھی ''
جنگ جیت گئے لیکن دشمن کو ایسی زمین پر النا آسان نہیں۔ اگر ہمارے منصوبے کی ایک بھی کڑی پر عمل نہ ہوسکا تو
سارا منصوبہ تباہ ہوجائے گا اور تباہی ہمیں وہاں تک لے جائے گی جہاں سے واپسی ناممکن ہوگی۔ میرا خیال ہے کہ ہم اس
ماہ کے وسط دمشق سے کوچ کرسکیں گے۔ میں نے حلب اور مصر قاصد بھیج دئیے ہیں۔ انہیں تیز رفتاری سے ،کم سے کم
پڑائو کرکے فوجیں بھیجنی ہیں ،جو ہمیں راستے میں ملیں گی۔ ہمیں اپنی تمام فوجوں کو ایک جگہ جمع کرنا ہے۔ باہر سے
آنے والی فوج اور یہاں کی فوج کو مال کر اور ان کے ساالروں کو مکمل منصوبہ بتا کر فوجوں کی تقسیم کرنی ہے۔ ہماری
…''پیش قدمی فوج کے مختلف حصوں کی پیش قدمی ہوگی۔ ہر حصے کا راستہ الگ ہوگا
میں نے راز داری برقرار رکھنے کا انتظام حسب معمول کردیا ہے۔ آپ کے سوا کسی اور کو ،کسی کمان دار اور کسی سپاہی''
کو معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ ہم کہاں جارہے ہیں۔ ہمارے جاسوس دشمن کے عالقے میں موجود ہیں۔ وہ دشمن کی ذرا ذرا
سی حرکت کی اطالعات باقاعدگی سے بھیج رہے ہیں۔ اب ضرورت یہ ہے کہ دشمن کے ان جاسوسوں کو اندھا ،بہرہ اور
گمراہ کردیا جائے جو ہمارے عالقے میں موجود ہیں۔ حسن بن عبداللہ نے اس کا بھی انتظام کردیا ہے۔ ایک بات میں آپ کو
ابھی بتا دینا چاہتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ فوج کا ایک حصہ میرے ساتھ ہوگا جسے میں کرک لے جائوں گا''۔
سلطان ایوبی اچانک خاموش ہوگیا۔ اس کا سرجھک گیا ،کچھ دیر بعد اس نے سرکو جھٹکا دے کر اوپر کیا اور بوال… ''چار
سال گزرے میں نے ایک قسم کھائی تھی ،مجھے یہ قسم پوری کرنی ہے''۔
٭ ٭ ٭
سلطان صالح الدین ایوبی کی یہ قسم ایک تاریخی واقعہ تھا۔ اس نے کانفرنس میں چار سال پہلے کا یہ واقعہ سب کو یاد
دالیا۔ اس سلسلے کی پہلی کہانیوں میں تفصیل سے سنایا جاچکا ہے کہ صلیبی حکمران اخالق اور کردار سے ایسے عاری تھے
کہ مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹ لیتے تھے۔ یہ کام ان کی فوج کیا کرتی تھی جن دنوں حاجیوں کے قافلے حجاز کو جاتے اور
واپس آتے تھے ،ان دنوں صلیبی فوج کے دستے ان قافلوں کو لوٹنے کے لیے راستوں میں گھات لگاتے تھے۔ ایک صلیبی
حکمران ارناط جو اس وقت کرک پر قابض تھا ،یہ کام اپنے حکم اور اپنے خاص دستوں سے کرایا کرتا تھا۔ اپنے اس جرم پر
وہ ناز بھی کیا کرتا اور حاجیوں کے قافلے کو لوٹ کر فخر سے اس کا ذکر کیا کرتا تھا جیسے اس نے مسلمانوں پر بہت
بڑی فتح حاصل کی ہو۔ اس کی اس راہزنی کا ذکر صرف مسلمان مؤرخوں نے ہی نہیں کیا۔ یورپی مؤرخوں نے تفصیل سے
لکھا ہے کہ وہ قافلوں کو لوٹنے کا انتظام کس طرح کیا کرتا تھا۔
٨٤۔ ١١٨٣ء میں اس کے ایک دستے نے حجاز سے مصر کو واپس جانے والے حاجیوں کے ایک قافلے پر حملہ کیا اور لوٹ لیا
تھا۔ ایک مصری واقعہ نگار محمد فرید ابو حدید نے لکھا ہے کہ صالح الدین ایوبی کی بیٹی بھی اس قافلے میں تھی لیکن
اور کسی مؤرخ یا اس وقت کے واقعہ نگار نے یہ نہیں لکھا کہ اس قافلے میں سلطان ایوبی کی بیٹی تھی۔ قاضی بہائوالدین
شداد کی ڈائری مستند دستاویز ہے کیونکہ وہ واقعات کا عینی شاہد ہے۔ البتہ ایک اشارہ ایک واقعہ نگار کی تحریر سے ملتا
ہے جو اس طرح ہے کہ جب سلطان ایوبی کو اطالع ملی کہ ارناط کی فوج نے مصر کے ایک قافلے کو لوٹ لیا ہے تو
سلطان ایوبی کی غضب ناک اور گرج دار آواز سنائی دی تھی… ''وہ میری بیٹی تھی۔ میں اس کا انتقام لوں گا۔ وہ میری
بیٹی تھی''۔
قافلے میں کوئی نوجوان لڑکی تھی جسے صلیبی اٹھا لے گئے تھے۔ سلطان ایوبی نے اسی وقت قسم کھائی تھی… ''ارناط :
کو میں آج سے اپنا ذاتی دشمن سمجھتا ہوں ،میں قسم کھاتا ہوں کہ اس سے اپنے ہاتھوں انتقام لوں گا''۔
سب جانتے ہیں کہ ان کے سلطان نے اس انداز اور لب ولہجے میں کبھی بات نہیں کی۔ وہ بھڑک کر بات کرنے اور بڑ
مارنے کو پسند نہیں کرتا تھا۔ اس کی ہر بات فیصلہ ہوا کرتی تھی۔ اس نے جب انتقام کی قسم کھائی تو سب سمجھ گئے
کہ یہ سلطان کا عزم اور فیصلہ ہے۔ یوں تو ہر صلیبی حکمران اسالم کا دشمن تھا لیکن ارناط اسالم کی اور رسول کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کرتا تھا۔ مسلمان قیدیوں کو سامنے کھڑا کرکے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وہ
رب کعبہ کو تمہاری مدد کرے۔ پڑھو اپنے رسول کا کلمہ کہ تم آزاد ہوجائے
دشنام طرازی کرتا اور کہا کرتا …'' بالئو اپنے ِ
''… اور وہ قہقہے لگایا کرتا تھا۔ اس کی اس عادت سے سلطان ایوبی بھی واقف تھا ،اس لیے وہ ارناط کا جب نام لیتا تو
نفرت کا بھرپور اظہار کیا کرتا تھا۔
آج چار سال بعد سلطان ایوبی جب صلیبیوں کے خالف فوج کشی کی ہدایات اپنے ساالروں کو دے رہا تھا تو اس نے یہ سارا
واقعہ یاد دال کر کہا… '' اس بدبخت کافر ( ارناط) سے مجھے اپنے ہاتھوں سے انتقام لینا ہے۔ اللہ مجھے یہ موقعہ اور ہمت
عطا فرمائے کہ میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتک کا انتقام لے سکوں''… اس نے ساالروں کو مزید ہدایات
دیتے ہوئے کہا… ''مجھے امید ہے کہ ہم تین ماہ بعد اس موسم میں حطین کے عالقے میں پہنچیں گے جب سورج کے
شعلے پانی کے قطروں کو ریت کے ذروں میں بدل دیتے ہیں اور جب ریت کے یہ جلتے ہوئے ذرے انسانوں کو بھون ڈالتے
ہیں اور جب ریگزار میں سراب اور آسمانوں کو اٹھنے والے ریت کے بلولوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا ،میں صلیبیوں کو اس وقت
لڑائوں گا جب سورج سر پر ہوگا۔ صلیبی لوہے کے خودوں اور زرہ بکتر میں جل جائیں گے۔ لوہے کا جو لباس وہ تیروں،
تلواروں اور برچھیوں سے بچنے کے لیے پہنتے ہیں ،وہ ہر صلیبی کا اپنا اپنا جہنم بن جائے گا''۔
مؤرخوں اور جنگ کے یورپی ماہرین اور مبصروں نے سلطان ایوبی کے اس اقدام کی تعریف کی ہے کہ اس نے جنگ کے لیے
جس موسم کا انتخاب کیا وہ جون جوالئی کے دن تھے ،جب ریگزار بھٹی سے نکالی ہوئی سل کی طرح گرم ہوتا ہے۔ صلیبی
فوجی آہنی چادروں کے لباس میں محفوظ ہوتے تھے۔ ان کے نائٹ (سردار) سر سے پائوں تک زرہ بکتر میں ملبوس ہوتے
تھے۔ تیر اور تلوار کا ان پر کچھ اثر نہیں ہوتا تھا مگر سلطان ایوبی نے لوہے کا یہ لباس ان کی بہت بڑی کمزوری بنا دیا
تھا۔ ایک تو وہ چھاپہ مار قسم کی جنگ لڑتا تھا۔ تھوڑی سی نفری سے پہلوئوں پر برق رفتار حملے کرتا اور حملے آور
دستے ضرب لگا کر وہاں رکتے نہیں تھے۔ اس چال سے صلیبی فوج کو پھیلنا پڑتا اور رفتار تیز کرنی پڑتی لیکن زرہ بکتر کا
وزن رفتار اتنی نہیں ہونے دیتا تھا ،جتنی سلطان ایوبی کے دستوں کی ہوتی تھی۔
سلطان ایوبی نے زرہ بکتر کا دوسرا توڑ یہ سوچا کہ وہ اس وقت جنگ شروع کرتا تھا جب سورج سر پر اور ریگستان شعلہ
بنا ہوتا تھا۔ زرہ بکتر تنور کی طرح تپ جاتی تھی۔ پیاس سے جسم خشک ہوجاتا تھا اور پانی پر سلطان ایوبی جنگ سے
پہلے قبضہ کرلیتا تھا۔ ریگستان کی جھلسا دینے والی تپش اسالمی فوج کے لیے بھی دشواریاں پیدا کرتی تھی ،لیکن اس کے
لباس ہلکے پھلکے ہوتے تھے۔ اس کے عالوہ سلطان ایوبی کی ٹریننگ بڑی سخت تھی۔ وہ گھوڑوں ،اونٹوں اور تمام فوج کو
لمبے لمبے عرصے کے لیے ریگستان میں رکھتا اور خود بھی ان کے ساتھ رہتا تھا۔ اس نے فوج کو بھوکا پیاس رہنے کی
ٹریننگ بھی دے رکھی تھی۔ رمضان کے مہینے میں وہ ٹریننگ اور جنگی مشقیں زیادہ کیا کرتا تھا کہ اس مبارک مہینے میں
خدائے ذوالجالل اپنے ہاتھوں ہماری تربیت کرتے ہیں۔
جسمانی ٹریننگ کے عالوہ اس نے سپاہیوں کی ذہنی بلکہ روحانی تربیت کا بھی انتظام کررکھا تھا۔ سپاہیوں کو یہ ذہن نشین
کرایا جاتا تھا کہ وہ اللہ کے سپاہی اور دین اسالم کے محافظ ہیں ،کسی بادشاہ یا سلطان کی فوج کے مالزم نہیں۔ وہ مال
غنیمت سپاہیوں میں تقسیم کرتا تھا لیکن انہیں تاثر یہ دیا جاتا تھا کہ جنگ مال غنیمت کے لیے نہیں لڑی جاتی اور مال
غنیمت جہاد کا انعام بھی نہیں۔ انعام اللہ دیتا ہے۔ سب سے بڑی چیز غیرت تھی جو اس نے ساری فوج میں پیدا کررکھی
تھی۔ وہ سب سے زیادہ ذکر ان مسلمان لڑکیوں کا کرتا تھا جنہیں صلیبی اٹھا لے جاتے تھے اور ان خواتین کا بھی جو
صلیبیوں کے مقبوضہ عالقوں میں صلیبیوں کی درندگی کا شکار ہورہی تھیں۔
قوم کے شہیدوں کو اور قوم کی مظلوم بیٹیوں کو بھول جانے والی قوم کی قسمت میں کفار کی غالمی لکھ دی جاتی ''
ہے''… یہ الفاظ سلطان ایوبی کی زبان پر رہتے تھے۔ وہ سپاہیوں میں گھومتا پھرتا رہتا تھا ،ان کی گپ شپ اور ان کی
کھیل کود میں شامل ہوجایا کرتا تھا۔ ان سے وہ کہا کرتا تھا… ''انتقام فوج لیا کرتی ہے ،اگر فوج نے فرض ادا نہ کیا تو
اس کے لیے اس دنیا میں بھی ذلت ہے اور اگلی دنیا میں بھی''۔
٭ ٭ ٭
سامنے صلیب الصلبوت رکھی تھی اور اس کے پاس اس صلیب کا محافظ کھڑا تھا جو عکرہ کا بڑا پادری تھا۔ عیسائیوں کے
عیسی علیہ السالم کو مصلوب کیا گیا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس چوبی
عقیدے کے مطابق یہ وہ اصل صلیب تھی جس پر حضرت
ٰ
عیسی علیہ السالم کے خون کے نشان موجود ہیں۔ اسے صلیب اعظم بھی کہتے ہیں۔ اسی لیے
صلیب پر ابھی تک حضرت
ٰ
عکرہ کا پادری '' محافظ صلیب اعظم'' کہالتا تھا اور اس کا حکم بادشاہوں کے حکم سے زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ بادشاہ بھی
اس کے حکم کے پابند ہوتے تھے۔ عیسائیوں اور یہودی لڑکیوں کو اسی کی اجازت سے مسلمانوں کے عالقوں میں جاسوسی،
کردار کشی اور نظریاتی تخریب کاری کے لیے بھیجا جاتا تھا جو لڑکی اس کام کی ٹریننگ مکمل کرکے باہر بھیج جاتی ،اسے
صلیب کا محافظ اعظم اپنی دعائوں کے ساتھ رخصت کیا کرتا تھا۔
ان لڑکیوں سے صلیب الصلبوت پر ہاتھ رکھوا کر وفاداری کا اور صلیب کو دھوکہ نہ دینے کا حلف لیا جاتا تھا۔ ایسا ہی حلف
صلیبی فوج کے ہر افسر اور ہر سپاہی سے بھی لیا جاتا تھا۔ اس کے بعد ایسی ہی ایک چھوٹی سی صلیب اس کے گلے
میں لٹکا دی جاتی تھی۔
ناصرہ کے مقام پر صلیبی حکمران جمع تھے۔ ان میں گائی آف لوزیناں ،ریمانڈ آف تریپولی ،گرینڈ ماسٹر گراڈ ،مائونٹ فیرت،
ہمفرے آف توران ،امارلک اور شہزادہ ارناط آف کرک قابل ذکر ہیں… اور وہاں عکرہ کا پادری ''محافظ صلیب اعظم'' بھی
موجود تھا۔ ان کے لیے جو شامیانے اور قناتیں لگائی گئی تھی ،وہ کپڑوں کا ایک خوش نما محل تھا۔ محل کی طرح اس کے
کمرے ،برآمدے اور غالم گردشیں تھیں ،رنگا رنگ روشنی والے فانوسوں کی روشنی نے اسے مرمر اور خارا محالت سے زیادہ
حسین بنا رکھا تھا۔ اس کے اردگرد رہائشی شامیانوں اور قناتوں کے کمرے تھے اور ان کے اردگرد صلیبی نائٹوں کے خیمے اور
ان کی فوج کے منتخب دستے خیمہ زن تھے۔ شراب کے مٹکوں کے ساتھ ان حسین اور دلکش لڑکیوں کی کچھ تعداد بھی
موجود تھی جن کا طلسماتی حسن اور شوخیاں بھائی کو بھائی اور باپ کو بیٹے کا دشمن بنا دیتی تھیں۔
ایک شامیانے تلے جس پر پختہ محل کے کمرے کا گمان ہوتا تھا ،صلیب الصلبوت رکھی ہوئی تھی
ا ور اس کے پاس عکرہ کا پادری کھڑا تھا۔ اس کے سامنے صلیبی حکمران اور ان کے جرنیل اور منتخب نائٹ بیٹھے تھے۔
سب کو معلوم تھا کہ یہ ایک تاریخی اجتماع ہے اور تاریخ کا ایک نیا باب لکھا جانے لگا ہے۔ اس باب کا عنوان تھا …
''صالح الدین ایوبی کو ہمیشہ کے لیے ختم کردو''۔
صلیب کے محافظو!''… عکرہ کے پادری نے کہا… ''یہ ہے وہ صلیب جس پر تم سب نے ہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا تھا۔ ''
آج یہ صلیب تمہارے سامنے اس لیے عکرہ سے الکر رکھی گئی ہے کہ اس کے ساتھ تم نے جو عہد کیا تھا وہ تمہارے دلوں
میں تازہ ہوجائے۔ اب تمہیں ایک خونریز اور فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار ہونا ہے۔ یہ جنگ تمہیں لڑنی ہے۔ تم سب جنگجو
ہو ،جرنیل ہو ،تمہاری عمر میدان جنگ میں گزر گئی ہے۔ میں اس میدان کا آدمی نہیں ہوں۔ میں تمہارے مذہب کا پیشوا
ہوں۔ میں تمہیں یہ بتانے آیا ہوں کہ صالح الدین ایوبی کو شکست دے کر دنیائے عرب پر صلیب کی حکمرانی قائم کرنی ہے۔
یروشلم تو ہے ہی ہمارا ،یہ مت بھولو کہ مکہ اور مدینہ پر بھی قبضہ کرنا ہے اور اس مقدس صلیب کو مسلمانوں کے خانہ
…''کعبہ کے اوپر رکھنا اور اسے یسوع مسیح کی عبادت گاہ بنانا ہے
یاد رکھو کہ تم مدینہ سے تین میل دور تک پہنچ گئے تھے مگر مسلمانوں نے تمہیں اس سے آگے نہ بڑھنے دیا۔ تمہیں ''
بھی اسی جنون سے لڑنا ہے جس جنون سے مسلمان اپنے کعبے کے تحفظ کے لیے لڑے تھے۔ صالح الدین ایوبی کی نظریں
یروشلم پر لگی ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ یہ بیت المقدس ہے اور یہاں کا قبلٔہ اول ہے۔ اگر اس سے یروشلم کو بچانا چاہتے ہو تو
نظریں مکہ پر رکھو۔ ذہن میں یہ یاد رکھو کہ ہماری جنگ صالح الدین ایوبی سے نہیں ،یہ صلیب اور اسالم کی جنگ ہے۔ یہ
دو مذہبوں کی ،دو عقیدوں کی جنگ ہے۔ یہ جنگ ہم نہ جیت سکے تو ہماری اگلی نسل لڑے گی۔ وہ اسالم کا خاتمہ نہ
کرسکی تو اس سے اگلی نسل لڑے گی ،تاکہ دونوں میں سے ایک مذہب ختم ہوجائے گا۔ خاتمہ اسالم کا ہوگا اور ساری دنیا
…''پر صلیب کی حکمرانی ہوگی
ہم نے مسلمانوں کو شکست دینے کے لیے دوسرے طریقے بھی اختیار کیے ہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔ تم سب کو ''
یاد ہوگا کہ ہم اس مہم میں کتنی لڑکیاں ضائع کرچکے ہیں۔ ہم بے شمار دولت اور اسلحہ بھی ضائع کرچکے ہیں جو مسلمان
امراء کو صالح الدین ایوبی کے خالف دیتے رہے۔ ہم نے ان لڑکیوں اور زروجواہرات سے یہ حاصل کیا ہے کہ مسلمانوں میں
شراب اور عیاشی کی عادت پیدا کردی ہے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ ہم چھ سات سال انہیں آپس میں لڑاتے رہے۔
ان کی اس خانہ جنگی سے ہم نے یہ فائدہ ضرور اٹھایا ہے کہ مسلمانوں کی جنگی قوت خاصی حد تک ضائع کردی ہے اور
سلطان ایوبی کے بہترین اور تجربہ کار سپاہی اور ان کے کمانڈر خانہ جنگی میں مروا دئیے ہیں۔ اس خانہ جنگی سے ہم نے
یہ فائدہ بھی اٹھایا ہے کہ سات آٹھ سال صالح الدین ایوبی کو اس کے اپنے عالقوں سے باہر نہیں نکلنے دیا۔ اس عرصے
میں ہم نے جنگی تیاریاں مکمل کرلیں اور یروشلم کا دفاع اتنا مضبوط کرلیا ہے کہ صالح الدین ایوبی کے لیے ان راستوں تک
…''پہنچنا جو یروشلم کو جاتے ہیں۔ ناممکن ہوگیا ہے
مگر اس نے وہ کیفیت پھر حاصل کرلی ہے جو ان کی خانہ جنگی سے پہلے تھی۔ حلب اور موصل کی فوجیں بھی اسے ''
مل گئی ہیں۔ تمام مسلمان امراء اس کے حامی ہوگئے ہیں۔مظفرالدین اور ککبوری جیسے ساالر جو اس کے خالف لڑے اور
ہمارے دوست بن گئے تھے ،اس کے پاس چلے گئے ہیں۔ غداروں کو اس نے اتنا کمزور اور بے بس کردیا ہے کہ وہ اب
ہمارے کسی کام کے نہیں رہے۔
21:03
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 146ایوبی نے قسم کھائی تھی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
غداروں کو اس نے اتنا کمزور اور بے بس کردیا ہے کہ وہ اب ہمارے کسی کام کے نہیں رہے۔ اب کوئی مسلمان حکمران ایسا
نہیں رہا جو صالح الدین ایوبی پر عقب سے حملہ کرے۔ ہم نے حشیشین کو بھی آزما دیکھا ہے۔ وہ چار پانچ قاتالنہ حملوں
میں بھی اسے قتل نہیں کرسکے۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ کار اور کوئی حل اور راستہ نہیں رہا کہ ہم مل کر سلطان
صالح الدین ایوبی پر یلغار کریں لیکن اپنے جرنیلوں نے یہ مشورہ دیا ہے کہ حملے میں پہل اسے کرنے دیں۔ اس کی مجھے
دو وجوہات بتائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ اپنی فوجوں کو اتنی دور نہیں لے جانا چاہیے کہ رسد کے راستے مسدود اور خطرناک
ہوجائیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ صالح الدین ایوبی جس طریقے کی جنگ لڑتا ہے ،اس سے ہمیں اپنی فوج دور دور تک
پھیالنی پڑتی ہے۔ اب جبکہ دشمن کے عالقے میں ہمارا کوئی حامی نہیں رہا ،اس لیے ہمیں حملے کا خطرہ سوچ سمجھ کر
…''مول لینا چاہیے
ہمیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ جاسوسوں کی اطالع کے مطابق صالح الدین ایوبی یروشلم کی طرف پیش قدمی کا ''
فیصلہ کرچکا ہے۔ یہ تمہیں دیکھنا ہے کہ اس کی پیش قدمی کا راستہ کون سا ہوگا اور وہ سیدھا یروشلم کی طرف آئے گا یا
کیا کرے گا۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ ہم اکیلے اکیلے اس کے خالف نہیں لڑ سکتے۔ اب تم متحد ہوگئے ہو۔
صلیب اعظم کو یہاں اٹھا النے کا مقصد یہ ہے کہ تم سب ایک ہی بار صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھائو کہ تم دشمن کے
خالف یک جان ہوکر لڑو گے اور ذاتی رنجشوں اور ذاتی مفادات کو نظرانداز کرکے متحدہ مفاد کے لیے لڑو گے اور یہ مفاد
صلیب اعظم اور یسوع مسیح کے عقیدے کا ہوگا اور تم سب اسالم کے خاتمے کے لیے لڑو گے''۔
سب اٹھے۔ انہوں نے صلیب پر ہاتھ رکھے اور عکرہ کے پادری نے حلف کے جو الفاظ کہے ،وہ سب نے دہرائے۔
دوسرے دن سب بہت دیر سے جاگے۔ رات جب پادری نے انہیں چھٹی دی تو وہ شراب اور رقص میں مگن ہوگئے۔ وہ اپنی
اپنی پسند کی لڑکیاں ساتھ الئے تھے۔ ان کے حسن وجمال ،نیم عریاں جسموں ،کھلے بکھرے ہوئے ریشمی بالوں ،ناز وادا اور
شراب نے اس خطے کو جنت ارضی بنائے رکھا۔ دوسرے دن کا سورج طلوع ہوچکا تھا مگر صلیبیوں کے اس شاہانہ کیمپ میں
نیند نے موت کا سکوت طاری کررکھا تھا۔
شہزادہ ارناط کے خیمے سے ایک جواں سال لڑکی نکلی۔ بہت ہی خوبصورت اور لمبے قد کی لڑکی تھی۔ اس کا رنگ دلکش
تھا اور اس کی آنکھوں میں سحر تھا لیکن یہ رنگ اور یہ آنکھیں صلیبی یا یہودی لڑکیوں جیسی نہیں تھی۔ یہ سوڈان ،مصر
یا دمشق جیسے عالقوں کی پیداوار معلوم ہوتی تھی۔ اس کے حسن کی یہی ضمانت کافی تھی کہ ارناط اسے اپنے ساتھ الیا
تھا۔
اسے دیکھ کر ایک بوڑھی خادمہ دوڑتی اس تک پہنچی۔ وہاں جو فوج ان حکمرانوں کے ساتھ گئی تھی ،اس کی اتنی نفری
نہیں تھی جتنی تعداد نوکروں اور نوکرانیوں کی ساتھ تھی۔ اس لڑکی کو ارناط پر نسیس للی کہا کرتا تھا۔ وہ شکل وصورت اور
قد بت سے شہزادی ہی لگتی تھی۔ اس نے خادمہ سے کہا کہ صرف میرے لیے ناشتہ جلدی الئو اور بگھی تیار کرو ،میں اس
عالقے کی سیر کو جارہی ہوں۔
ارناط گہری نیند سویا ہوا تھا ،اسے جاگنے کی کوئی جلدی نہیں تھی ،وہاں تو صرف پادری صبح سویرے جاگا اور عبادت کرکے
پھر سوگیا تھا۔ للی کے لیے کوئی کام نہیں تھا۔ ناشتہ آنے تک وہ تیار ہوگئی اور جب ناشتہ کرچکی تھی تو بگھی آچکی
تھی۔ یہ دو گھوڑوں کی خوبصورت بگھی تھی۔ کرک سے ارناط کے ساتھ وہ اسی بگھی میں آئی تھی۔
بگھی میں بیٹھنے سے پہلے اس نے بگھی بان سے کہا… ''یہ عالقہ بہت خوبصورت لگتا ہے۔ میں سیر کے لیے جانا چاہتی
''ہوں۔ تم اس جگہ سے واقف تو نہیں ہوگے؟
اچھی طرح واقف ہوں شہزادی محترمہ!'' بگھی بان نے جواب دیا… ''اگر آپ سیر کے لیے جانا چاہتی ہیں تو میں کمان''
اور ترکش لیے چلتا ہوں۔ آپ شکار بھی کھیل سکتی ہیں۔ یہاں ہرن زیادہ تو نہیں لیکن کہیں کہیں نظر آجاتے ہیں۔ خرگوش
عام ہیں ،پرندے ہیں''۔
للی نے مسکرا کر کہا… ''کیا تم مجھے تیر انداز سمجھتے ہو؟''… جائو لے آئو۔
کوئی مشکل نہیں'' ۔بگھی بان نے کہا… ''آپ لڑائی پر تو نہیں جارہیں۔ شکار پر چالیا ہوا تیر خطا ہوگیا تو کیا ہوجائے ''
گا''۔
وہ دوڑتا گیا اور کمان اور ترکش اٹھایا۔
بگھی خیمہ گاہ سے بہت دور چلی گئی۔ یہ خطہ سرسبز تھا۔ درخت بھی خاصے تھے اور اونچی نیچی ٹیکریاں تھیں۔ مارچ
اپریل کے دن تھے ،بہار کا موسم تھا۔ اس سے یہ خطہ اور زیادہ خوبصورت ہوگیا تھا۔ بگھی آہستہ آہستہ چلی جارہی تھی۔
ایک جھنڈ کے نیچے للی کے کہنے پر بگھی رک گئی اور وہ اتری۔ اس کا بگھی بان سیبل نام کا عیسائی تھا اور انہی
عالقوں کا رہنے واال تھا۔ اس کی عمر تیس سال سے کچھ اوپر ہوگی۔ خوبرو اور دراز قد جوان تھا۔ اسی لیے اسے ارناط نے
بگھی کے لیے منتخب کیا تھا۔ للی کو بھی یہ آدمی پسند تھا۔ زندہ دل اور فرمانبردار تھا۔ للی جب ارناط کے پاس آئی ،اس
سے ایک سال بعد سیبل ان کے پاس آیا تھا۔
مسلمانوں کی سرحد کہاں سے شروع ہوتی ہے؟'' للی نے بگھی سے اتر کر پوچھا۔''
جہاں تک کسی کی فوج پہنچ کر ڈیرے ڈال دے ،وہ اس کی سرحد بن جاتی ہے''۔ بگھی بان نے جواب دیا… ''میں آپ''
کو اتنا بتا سکتا ہوں کہ یہاں سے آٹھ دس میل دور سمندر کی طرح ایک وسیع جھیل ہے جس کا نام گیلیلی ہے۔ اس کے
کنارے طبریہ نام کا ایک قصبہ ہے۔ اس سے کچھ ادھر حطین نام کا ایک مشہور گائوں ہے۔ اس جھیل سے آگے سے مسلمانوں
کا عالقہ شروع ہوجاتا ہے''۔
یعنی مسلمانوں کا عالقہ یہاں سے دور نہیں''۔ للی نے کہا… ''کیا ہم بگھی پر جھیل تک جاسکتے ہیں؟''۔''
ہم کرک سے بگھی پر آئے ہیں''۔ سیبل نے کہا… ''جھیل تو یہ قریب ہے۔ یہ دو گھوڑے بغیر تھکے وہاں تک پہنچا ''
سکتے ہیں''۔
للی نے بچوں کی طرح اس سے راستہ پوچھنا شروع کردیا اور بگھی بان زمین پر لکیریں ڈال کر اسے راستہ سمجھانے لگا۔
دمشق کو بھی راستہ جاتا ہوگا؟'' للی نے پوچھا۔''
بگھی بان نے اسے دمشق تک کا راستہ سمجھا دیا۔
٭ ٭ ٭
للی نے ترکش سے تیر نکاال اور درختوں میں پرندے دیکھنے لگی۔ اس نے ایک پرندے پر تیر چالیا جو خطا گیا۔ للی نے قہقہہ
لگایا۔ بگھی بان نے اسے شست لینے کا طریقہ سمجھایا۔ اس نے کچھ تیر ادھر ادھر چالئے۔
اور آگے چلو''۔ للی نے بگھی میں بیٹھتے ہوئے کہا… ''اس جگہ چلوں جہاں ہرن ہوں۔میں ہرن کو تو مار لوں گی''۔''
سیبل اسے ڈیڑھ دو میل دور لے گیا۔ ایک جگہ بگھی روک کر اس نے کہا کہ تھوڑی دیر انتظار کریں ،شاید کوئی ہرن یا
خرگوش نظر آجائے۔ وہ خود ایک طرف کو چل پڑا۔ کوئی بیس قدم دور ایک درخت تھا۔ سیبل اس کے ساتھ کندھا لگا کر
کھڑا ہوگیا۔ وہ شہزادی للی کے لیے ہرن یا خرگوش دیکھ رہا تھا۔ للی کی طرف اس کی پیٹھ تھی۔ للی نے کماند میں تیر
ڈاال اور سیبل کی پیٹھ کا نشانہ لیا۔ اسے کوئی دیکھتا تو یہ یہی کہتا کہ للی مذاق کررہی ہے۔ اس نے کمان کھینچی ،اس
کے ہاتھوں میں کمان کانپ رہی تھی۔ ایک آنکھ بند کیے وہ سیبل کی پیٹھ کا نشانہ لیے ہوئے تھی۔
اس نے کمان اور زیادہ کھینچی اور تیر چال دیا۔ تیر سیبل کے کندھے کے بالکل قریب درخت کے تنے میں لگا۔ سیبل گھبرا
کر ہٹا اور مڑا۔ اس نے درخت میں اترے ہوئے تیر کو پھر للی کو دیکھا مگر للی ہنس نہیں رہی تھی۔ اس کے چہرے پر
ایسی سنجیدگی تھی جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ پھر بھی اس نے ہنس کر کہا… ''آپ مجھ پر تیراندازی کی
مشق کررہی ہیں؟''… اور وہ للی کی طرف چل پڑا۔
للی نے ترکش سے اور تیر نکال کر کمان میں ڈال لیا اور بولی… ''وہیں رک جائو اور ادھرادھر نہ ہونا''۔
سیبل رک گیا اور للی نے کمان سامنے کرکے ایک بار پھر کھینچ۔ سیبل نے چال کر کہا… ''شہزادی آپ کیا کررہی ہیں''۔
شہزادی کی کمان سے تیر نکال ،سیبل کی نظریں اسی پر تھیں۔ وہ بیٹھ گیا اور تیر زناٹے سے اس کے قریب سے گزر گیا۔
سیبل شہزادی کا احترام اور اپنی حیثیت کو بھول گیا۔ للی ترکش سے ایک اور تیر نکال رہی تھی۔ سیبل بڑی ہی تیزی سے
اس کی طرف دوڑا۔ للی اتنی جلدی تیر نکال کر کمان میں نہ ڈال سکی۔ سیبل اس پر لپکا تو للی دوڑ کر پرے ہوگئی لیکن
سیبل مرد تھا اور جوان بھی تھا۔ دوڑ کر للی تک پہنچا اور اسے پکڑ لیا۔ اس سے کمان چھین لی اور اس کے کندھوں سے
ترکش بھی اتارلی۔
میں ان غالموں میں سے نہیں ہوں جن پر ان کے آقا ہر طرح کا ظلم کرتے ہیں''۔ سیبل نے کہا اور ایک تیرکمان میں ''
''ڈال کر کمان للی پر تانی۔ بوال … ''کیا تم مجھ پر مشق کرنا چاہتی ہو؟ کیا میری خدمات اور فرمانبرداری کا یہ صلہ ہے؟
للی نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کے ہونٹ کانپے اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ سیبل نے کمان پرے پھینک دی اور
آہستہ آہستہ اس کے قریب گیا۔
میں کچھ بھی نہیں سمجھ سکا کہ آپ نے مجھ پر تیر کیوں چالئے اور آپ کی آنکھوں میں آنسو کیوں آگئے ہیں؟'' ''
سیبل نے پوچھا۔
تم میری کوئی مدد نہیں کرسکتے؟'' للی نے ایسے لہجے میں کہا جو کسی شہزادی کا نہیں ایک ڈری ہوئی لڑکی کا لہجہ''
تھا۔
''میں آپ کی خاطر جان تک د ے سکتا ہوں''۔ سیبل نے کہا۔ ''کیسی مدد؟''
انعام سے ماالمال کردوں گی''۔ للی نے کہا… ''مجھے انعام کے طور پر مانگو گے تو یہ بھی قبول کروں گی۔ مجھے ''
جھیل گیلیلی سے آگے مسلمانوں کے عالقے میں لے چلو… دمشق تک چلو۔ وہاں یہ بگھی اور دونوں گھوڑے تمہارے ہوں گے۔
انعام الگ دلوائوں گی''۔
مجھے شک ہے ،آپ کے د ماغ پر کوئی اثر ہوگیا ہے''۔ سیبل نے کہا… ''چلئے ،واپس چلیں''۔''
اگر میری بات نہیں مانو گے تو واپس جاکر شہزادہ ارناط سے کہوں گی کہ تم نے یہاں مجھ پر دست درازی کی تھی''۔ ''
للی نے اس کی سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا۔
اچھا ہوا ،آپ نے بتا دیا''۔ سیبل نے کہا… ''اب آپ واپس نہیں جائیں گی ،نہ میں واپس جارہا ہوں۔ آپ کے ہاتھ پائوں''
باندھ کر بگھی میں ڈال لوں گا اور کسی شہر میں جاکر آپ کو بردہ فروشوں کے ہاتھ بیچ ڈالوں گا… مجھے بتائو مسلمانوں
''کے پاس کیوں جانا چاہتی ہو؟
تب للی کو احساس ہوا کہ وہ ایک جال میں پھنس گئی ہے۔ وہ بیٹھ گئی اور سر گھٹنوں میں دے کر سسکنے لگی۔ سیبل
اسے دیکھتا رہا۔ یہ لڑکی اس کے لیے اجنبی نہیں تھی لیکن اب وہ اسے غور سے دیکھنے لگا۔ اس کے بال ،اس کی رنگت
اور اس کی ڈیل ڈول صلیبی لڑکیوں جیسی نہیں تھی۔ اسے معلوم تھا کہ صلیبیوں کے پاس مسلمانوں کی اغوا کی ہوئی لڑکیاں
بھی ہیں۔ یہ بھی شاید مغویہ ہوگی لیکن اسے تو وہ تین سالوں سے خوش وخرم دیکھ رہا تھا۔ وہ اس کے پاس بیٹھ گیا۔
اگر مسلمان ہو تو بتا دو''۔ سیبل نے کہا۔ ''تمہیں شاید اغوا کیا گیا تھا''۔''
اور تم شہزادہ ارناط کو بتا کر انعام لو گے''۔ للی نے کہا… ''اور اسے بتائو گے کہ میں نے بھاگنے کی کوشش کی ''
تھی''… اسے سیبل کے گلے میں ایک ڈوری لٹکتی نظر آئی۔ اس نے یہ ڈوری کھینچی تو چھوٹی سی صلیب ڈوری سے
باندھی ہوئی باہر آگئی۔ للی نے کہا… ''اسے ہاتھ میں لے کرقسم کھائو کہ مجھے دھوکہ نہیں دو گے ،ارناط کو نہیں بتائو گے
کہ میں نے تم پر تیر کیوں چالئے تھے''۔
سیبل اس کی اصلیت سمجھ گیا اور بوال۔ ''صلیب پر کھائی ہوئی قسم جھوٹی ہوگی''۔ اس نے صلیب کی ڈوری گلے سے
اتاری اور صلیب پرے پھینک دی۔ کہنے لگا… ''مسلمان صلیب پر قسم نہیں کھایا کرتے''۔
للی نے چونک کر سیبل کو دیکھا جیسے اسے سیبل کے ا لفاظ پر یقین نہ آرہا ہو۔ اس نے صلیب کو دیکھا جو پرے زمین
پر پڑی تھی۔ کوئی صلیبی کتنا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو ،صلیب کی توہین نہیں کرتا۔ سیبل کو بہرحال یقین آگیا تھا کہ للی
کسی مسلمان کی بیٹی ہے۔
میں نے تم پر اپنا راز فاش کردیا ہے''۔ سیبل نے کہا… ''اب تم مجھے بتا دو کہ تمہیں کب اور کہاں سے اغوا کیا گیا''
تھا''۔
میں حج کعبہ سے اپنے والدین کے ساتھ مصر کو واپس جارہی تھی''۔ للی نے ڈرے ہوئے بچے کی طرح کہا… ''بہت بڑا''
قافلہ تھا۔ اس وقت میری عمر سولہ سترہ سال تھی۔ چار ساڑھے چار سال گزر گئے ہیں ،کرک کے قریب ان کافروں نے
قافلے پر حملہ کیا اور مال واسباب لوٹ لیا۔ انہوں نے بہت کشت وخون کیا تھا۔ مجھے معلوم نہیں کہ میرے والدین مارے
گئے تھے یا زندہ ہیں۔ یہ کافر مجھے اپنے ساتھ لے آئے۔ یہ شاید میری بدقسمتی تھی کہ میں اتنی خوبصورت تھی کہ والئی
کرک شہزادہ ارناط نے مجھے پسند کرلیا اور اپنے لیے رکھ لیا۔ اگر میں اتنی خوبصورت نہ ہوتی تو معلوم نہیں کیسے کیسے
…''درندوں کے ہاتھوں اب تک مرچکی ہوتی
شہزادہ ارناط کے آگے میں بہت روئی مگر بے کار تھا۔ اس نے کہا کہ میں اپنی بادشاہی چھوڑ دوں گا ،تمہیں نہیں چھوڑوں''
گا۔ پھر اس نے مجھے شہزادیوں کی طرح رکھا۔ اس نے میرے ساتھ شادی نہیں کی اور مجھے اپنا مذہب قبول کرنے کو بھی
نہیں کہا۔ میں اس کی عیاشی کا ذریعہ بنی رہی۔ اس کے پاس کئی اور جوان لڑکیاں تھیں۔ وہ میری دشمن بن گئیں لیکن
ارناط صرف مجھے ساتھ رکھتا اور میری بات مانتا تھا۔ میں نے اپنی اس حالت کو قبول کرلیا۔ میں اور کر بھی کیا سکتی
تھی۔ عورت کی قسمت یہی ہوتی ہے کہ جس کے قبضے میں آجائے ،اس کی ملکیت اور اسی کی غالم ہوتی ہے''۔
وہ بولتے بولتے چپ ہوگئی۔ سیبل کو غور سے دیکھ کر بولی… ''کیا تم یہ ساری باتیں شہزادہ ارناط کو سنا دو گے؟ پھر وہ
مجھے کیا سزا دے گا؟''۔
اگر وہ واقعی سیبل ہوتا تو یہی کرتا جو تمہیں ڈر ہے''۔ بگھی بان نے کہا… ''میں شامی مسلمان ہوں۔ میرا نام بکر بن''
محمد ہے''۔
تم ان جاسوسوں میں سے تو نہیں جن کے متعلق ارناط کہا کرتا ہے کہ ہمارے ملک میں چھپے ہوئے ہیں؟'' لڑکی نے'' :
پوچھا اور بولی… ''میرا نام کلثوم ہوا کرتا تھا''۔
میں جو کچھ بھی ہوں''۔ بکر نے جواب دیا۔ ''مسلمان ہوں ،میں تمہیں دھوکہ نہیں دوں گا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ ''
ایک اغوا کی ہوئی مسلمان لڑکی کی مالقات کسی ایسے مسلمان سے ہوگئی جو صلیبیوں کے پاس عیسائیوں کے بہروپ میں
مالزم تھا۔ ایسے واقعات پہلے بھی ہوچکے ہیں۔ یہاں تک بھی ہوا ہے کہ بھائی جاسوس بن کر صلیبیوں کے کسی شہر میں
گیا تو وہاں اس کی مالقات اپنی بہن سے ہوگئی جو بہت عرصہ پہلے تمہاری طرح اغوا ہوئی تھی۔ حیران نہ ہو کلثوم! تم
حج کعبہ سے واپس آرہی تھی۔ خدا نے تمہارا حج قبول کرلیا ہے۔ میں عالم فاضل نہیں کہ تمہیں بتائوں کہ خدا نے تمہیں
یہ سزا کیوں دی ہے۔ البتہ اب یوں نظر آتا ہے جیسے خدا نے تم سے کوئی نیکی کا کام کرانے کے لیے اس جہنم میں
''پھینکا تھا… تم صرف فرار ہونا چاہتی ہو یا فرار کا کوئی مقصد بھی ہے؟
بہت بڑا مقصد''۔ کلثوم نے کہا… ''تم شاید نہیں جانتے کہ عکرہ کے پادری نے ان صلیبیوں کو یہاں کیوں بالیا ہے۔ رات''
ارناط جب اپنے خیمے میں آیا تو وہ نشے میں جھوم رہا تھا۔ اس نے مجھے بازوئوں پر اٹھا لیا اور بوال… ''بہت بڑے ملک
کی ملکہ بننے والی ہو ،صالح الدین ایوبی چند دنوں کا مہمان ہے۔ وہ ہمارے جال میں آرہا ہے۔ بہت جلدی آرہا ہے''… میں
نے خوشی کا اظہار کیا اور اس سے پوچھا کہ ان کا منصوبہ کیا ہے۔ اس نے مجھے پوری تفصیل سے بتا دیا کہ یہاں جتنے
صلیبی حکمران آئے ہیں ،انہوں نے صلیب پر ہاتھ رکھ کر اتحاد اور ایک دوسرے سے وفاداری کا حلف اٹھایا ہے''۔
میرے فرار کا مقصد یہی ہے کہ سلطان ایوبی تک یہ خبر پہنچائوں کہ صلیبیوں کے ارادے اور منصوبے کیا ہیں اور انہوں نے''
کتنی فوج جمع کرلی ہے اور اسے کہاں کہاں تقسیم کرکے پھیالیا ہے۔ ارناط نے مجھے بتایا ہے کہ یہ لوگ حملہ کرنے نہیں
جائیں گے بلکہ سلطان ایوبی کو حملے کاموقعہ دیں گے تاکہ وہ اپنے مستقر سے دور آجائے اور اس کی رسد کے راستے لمبے
ہوجائیں۔ ان کا ارادہ یہ بھی ہے کہ اگر سلطان ایوبی نے کچھ عرصے تک حملہ نہ کیا تو یہ لوگ تین اطراف سے پیش
قدمی اور یلغار کریں گے''۔
تمہیں اچانک یہ خیال کیوں آیا ہے کہ خبر سلطان ایوبی تک پہنچنی چاہیے؟'' بکر بن محمد نے پوچھا اور اسے بتایا… ''
''کلثوم! میں اسی میدان کا مجاہد ہوں ،اگر میں تمہیں کہوں کہ تم ارناط کے کہنے پر سلطان ایوبی کو غلط خبر دینے
''جارہی ہو تاکہ وہ گمراہ ہوجائے تو اس کا کیا جواب دو گی؟
یہ کہ تم کم عقل آدمی ہو''… کلثوم نے جواب دیا… ''اگر تم سلطان ایوبی کے جاسوس ہو تو تم بے وقوف جاسوس ہو۔''
تم اپنی فوجوں کو صلیبیوں کے ہاتھوں مروائو گے۔ اگر ارناط سلطان ایوبی کو گمراہ کرنے کی سوچتا تو وہ کوئی اور ذریعہ
اختیار کرسکتا تھا؟ اگر وہ یہ کام مجھ سے ہی کرانا چاہتا تو مجھے رات کو بگھی پر بٹھا کر مسلمانوں کے عالقوں کے
قریب نہ چھوڑ آتا… سنو بکر! غور سے سنو۔ میں نے تم پر پہال جو تیر چالیا تھا ،اس کا ارادہ اچانک بجلی کی طرح میرے
دماغ میں آیا تھا۔ میں تو صرف سیر کے لیے نکلی تھی۔ یہ تم تھے جس نے کہا تھا کہ تیروکمان ساتھ لے چلیں ،یہاں شکار
…''ہوگا
یہاں آکر میں نے تم سے مسلمانوں کی سرحد اور دمشق کے جو راستے پوچھے ،وہ یہ معلوم کرنے کے لیے پوچھے تھے کہ''
اس سرحد سے کتنی دور ہوں اور کیا میں آسانی سے وہاں تک پہنچ سکتی ہوں؟ تم نے جب بتایا کہ وہ عالقہ چند میل دور
ہے تو میں سوچنے لگی کہ تمہیں کوئی اللچ دے کر ساتھ لے چلوں لیکن تمہیں میں عیسائی سمجھتی رہی اور بالکل امید
نہیں رکھتی تھی کہ تم میری مدد کروں گے بلکہ امید یہ تھی کہ تم ارناط سے انعام لینے کے لیے اسے بتا دو گے کہ یہ
لڑکی مسلمانوں کی جاسوس ہے۔ میرے لیے کوئی راستہ نہیں تھا۔ تم مجھ سے تھوڑی دور درخت کے ساتھ لگ کر کھڑے
ہوگئے تو میں نے درخت پر ایک پرندے پر تیر چالنے کے لیے تیر کمان میں ڈاال۔ اس وقت میری نظریں تمہاری پیٹھ پر جم
…''گئیں
تب مجھے اچانک خیال آیا کہ تم اتنے قریب ہو کہ تیر تمہاری پیٹھ میں گہرا اتر جائے گا اور مجھے دوسرا تیر چالنے ''
کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ تم مرجائو گے تو میں بگھی بھگا کر اس راستے پر ہولوں گی جو تم نے مجھے سمجھا دیا تھا۔
میں نے کوئی اور خطرہ سوچا ہی نہیں تھا۔ شاید مجھ میں عقل کم اور جذبات زیادہ تھے اور ان جذبات میں انتقام کا جذبہ
زیادہ تھا۔ میں نے کانپتے ہاتھوں سے تیر چال دیا۔ مجھ میں یہ اتنی سی بھی عقل نہ رہی کہ تمہیں کہہ دیتی کہ تیر غلطی
سے نکل گیا ہے۔ تم فورا ً مان لیتے کیونکہ تم جانتے ہو کہ میں نے کبھی کمان ہاتھ میں نہیں لی تھی۔ میں نے یہی راہ
نجات دیکھی کہ تمہیں مار ہی ڈالوں اور مسلمانوں کے عالقے کی طرف بھاگ جائوں مگر میں کامیاب نہ ہوسکی''۔
اس سے پہلے تمہیں کبھی بھاگنے کا خیال نہیں آیا؟'' بکر بن محمد نے پوچھا۔''
21:04
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 147ایوبی نے قسم کھائی تھی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بکر بن محمد نے پوچھا۔''ابتدا میں بھاگنے کا ہی خیال میرے دماغ پر سوار رہا مگر مجھے حقیقت کو قبول کرنا پڑا کہ ''
میں بھاگ نہیں سکتی''۔ اس نے جواب دیا… ''اس میں کوئی شک نہیں کہ ارناط نے مجھے صحیح معنوں میں شہزادی بنا
دیا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ مجھے کسی لڑکی سے کبھی ایسی محبت نہیں ہوئی تھی ،جیسی تم سے ہوئی ہے۔ میں اس کے
ساتھ شراب بھی پیتی رہی۔ اس سے میں بچ نہیں سکتی تھی۔ جسمانی طور پر میں اس زندگی میں تحلیل ہوچکی تھی۔
ایسی شاہانہ زندگی تو کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھ سکتی تھی لیکن تنہائی میں میرا دل مسلمان ہوجاتا تھا اور یہ خیال
مجھے تڑپا دیتا تھا کہ میں حج کعبہ سے آئی ہوں۔ کبھی کبھی میں خدا سے گلے شکوے بھی کیا کرتی تھی اور اکثر یوں
…''ہوتا کہ میں خدا کو بھول جاتی تھی
اسی دوران سلطان ایوبی نے کرک کا محاصرہ کیا اور آتشیں گولے پھینک کر شہر کا بہت سا حصہ تباہ کردیا تھا۔ میں تیار''
ہوگئی تھی کہ اپنی فوج شہر میں داخل ہوجائے گی اور میں ارناط کو اپنے ہاتھوں قتل کردوں گی مگر ہوا یوں کہ ایک ماہ
بعد سلطان ایوبی نے محاصرہ اٹھا لیا اور واپس چال گیا۔ ارناط قہقہے لگاتا میرے پاس آیا اور بوال… ''میں نے اسے پھر بے
وقوف بنا لیا ہے۔ میں نے اس کے ساتھ معاہدہ کرلیا ہے کہ آئندہ حاجیوں کے قافلوں پر ہاتھ نہیں اٹھائوں گا اور میں نے اس
…''کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا بھی معاہدہ کرلیا ہے
میرے دل کو بہت صدمہ ہوا۔ سلطان ایوبی کو واپس نہیں جانا چاہیے تھا۔ مجھے رہا کرائے بغیر اسے محاصرہ نہیں ا ٹھانا''
چاہیے تھا''۔
سلطان ایوبی کے سامنے اس سے زیادہ بڑی مہم ہے''۔ بکر نے کہا… ''اسے بلکہ ہمیں بیت المقدس آزاد کرانا ہے جہاں ''
ہمارا قبلٔہ اول ہے۔ ہمیں ارض فلسطین کو آزاد کرانا ہے جو ہمارے نبیوں اور پیغمبروں کی سرزمین ہے اگر سلطان ایوبی ایک
ایک مسلمان لڑکی کو آزاد کرانے نکل کھڑا ہو تو وہ اپنی منزل مقدس سے د ور بھٹکتا اور لڑتا ختم ہوجائے گا… قومیں اتنے
مقدس مقصد کی خاطر اپنے بچوں کو قربان کردیا کرتی ہیں''۔
ارناط کی ایک بری عادت نے مجھے یہ فراموش نہ کرنے دیا کہ میں مسلمان ہوں''۔ کلثوم نے کہا… ''وہ رسول خدا ''
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا رہتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ سلطان ایوبی اپنے قبلٔہ اول تک پہنچنے
کے لیے ہاتھ پائوں مار رہا ہے اور ہم اس کے خانہ کعبہ کو مسمار کرنے اور اپنی عبادت گاہ بنانے کے لیے جارہے ہیں''۔
صلیبیوں کے ان عزائم کا تذکرہ یورپی مؤرخوں نے بھی کیا ہے کہ صلیبیوں نے خانہ کعبہ اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کا روضٔہ مبارک مسمار کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا تھا اور ایک بار وہ مدینہ منورہ سے تین میل دور تک پہنچ بھی گئے
تھے۔ کرک کا جو محاصرہ سلطان ایوبی نے کیا اور ایک ماہ بعد اٹھا لیا تھا ،یہ بھی ایک تاریخی واقعہ ہے۔ محاصرہ اٹھانے
کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ارناط نے جنگ نہ کرنے اور آئندہ حاجیوں کے قافلوں پر حملے نہ کرنے کا معاہدہ کرلیا تھا۔ وہ تو
سلطان ایوبی کو معلوم تھا کہ صلیبی معاہدے توڑنے کے لیے کیا کرتے ہیں۔ محاصرہ اٹھانے کی اصل وجہ یہ تھی کہ وہ بیت
المقدس کی فتح کی تیاریوں میں مصروف تھا۔ ارناط نے اس معاہدے کے دو ہی سال بعد حاجیوں کے ایک اور قافلے پر حملہ
کیا تھا۔ اس معاہدے کی میعاد ١١٨٨ء تک تھی۔ سلطان ایوبی نے ١١٨٧ء میں حطین کی طرف پیش قدمی کی تھی اور اس
عہد کے ساتھ وہ دمشق سے نکال تھا کہ ارناط کو اپنے ہاتھوں قتل کرے گا۔
کلثوم بکر کو بتا رہی تھی… ''ارناط کے ساتھ میں خوش بھی رہی اور میرے دل میں انتقام بھی موجود رہا۔ وہ کبھی کبھی
مجھے بتایا کرتا تھا کہ سلطان ایوبی کے جاسوس بھیس بدل کر آجاتے ہیں اور یہاں کے راز لے جاتے ہیں۔ اس نے یہ بھی
بتایا تھا کہ بڑی ہی حسین صلیبی اور یہودی لڑکیاں مسلمانوں کے عالقوں میں مسلمانوں کی طرح کے ناموں سے اونچے رتبوں
اور عہدوں والے حاکموں کو جال میں پھانس لیتی اور انہیں صلیب کے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ارناط مجھے ان
لڑکیوں کی کہانیاں سنایا کرتا تھا۔ یہ سن کر مجھے کئی بار خیال آیا کہ یہ لڑکیاں اپنے مذہب کے لیے اپنی آبرو قربان
کردیتی ہیں۔ عصمت ہی وہ موتی ہے جس کے تحفظ کے لیے عورت جان پر کھیل جاتی ہے لیکن یہ لڑکیاں اتنی بڑی
…''قربانیاں دے ڈالتی ہیں
میری آبرو تو لٹ ہی چکی تھی۔ میں نے ارادہ کرلیا کہ اپنے مذہب کے لیے قربانی دوں گی مگر مجھے موقعہ نہیں '' :
ملتا تھا۔ اب یہاں آکر ارناط نے مجھے ایسے راز دے دیا ہے جو سلطان ایوبی تک پہنچنا چاہیے۔ شاید خدا نے مجھے اسی
نیکی کے لیے اس جہنم میں بھیجا تھا! کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ اس خبر سے سلطان ایوبی کو کوئی فائدہ پہنچے
''گا؟
بہت زیادہ''۔ بکر بن محمد نے کہا… ''لیکن یہ خبر تم لے کر نہیں جائو گی۔ اگر تم یا ہم دونوں یہاں سے غائب ''
ہوگئے تو شہزادہ ارناط فورا ً سمجھ لے گا کہ ہم دونوں جاسوس تھے۔ اس طرح یہ اپنے منصوبوں میں رد وبدل کردیں گے اور
ہم سلطان ایوبی تک جو خبر پہنچائیں گے ،وہ ا س کی شکست کا باعث بن سکتی ہے''۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اتنی اہم خبر سلطان ایوبی تک نہیں پہنچ سکتی''۔ کلثوم نے کہا۔''
پہنچ سکتی ہے اور پہنچائی بھی جائے گی''۔ بکر نے کہا… ''لیکن کرک واپس جاکر یہ انتظام ہوگا''۔''
تم جائو گے؟'' کلثوم نے پوچھا… ''میں یہاں سے بھاگنا بھی چاہتی ہوں''۔''
میں نہیں جائوں گا''۔ بکر نے کہا… ''تم بھی نہیں جائو گی۔ کرک میں میرے ساتھی موجود ہیں۔ خبریں لے جانے کا ''
کام ان کی ذمہ داری ہے۔ میرا کام خبریں حاصل کرنا ہے۔ اب یہ کام تم کروں گی۔ تمہارا کام ختم نہیں ہوا ،ابھی شروع ہوا
ہے۔ میں تمہیں بتائوں گا کہ سلطان کو کس قسم کی معلومات کی ضرورت ہے۔ یہ معلومات تم مجھے دو گی اور میں انہیں
دمشق تک پہنچائوں گا''۔
تو مجھے اس جہنم میں ہی رہنا پڑے گا؟'' کلثوم نے اداس سی ہو کے پوچھا۔''
ہاں''۔ بکر نے جواب دیا۔ ''تمہیں اس جہنم میں اور مجھے موت کے منہ میں موجود رہنا پڑے گا… کلثوم! تمہیں یہ ''
قربانی دینی پڑے گی۔ سلطان کہا کرتے ہیں کہ ایک جاسوس یا ایک چھاپہ مار اپنی پوری فوج کی فتح یا شکست کا باعث
بن سکتا ہے لیکن جاسوس ہر لمحہ موت کے منہ میں کھڑا رہتا ہے۔ جاسوس جب دشمن کے ہاتھ چڑھ جاتا ہے تو فورا ً قتل
نہیں کردیا جاتا۔ اسے اذیتیں دی جاتی ہیں ،اس کی کھال آہستہ آہستہ اتاری جاتی ہے۔ اسے مرنے نہیں دیا جاتا ،اسے جینے
بھی نہیں دیا جاتا لیکن اپنے مذہب اور اپنے وطن کے لیے کسی نہ کسی کو اپنی زندہ کھال اتروانی ہی پڑتی ہے۔ قوموں کا
نام ونشان اس وقت مٹنا شروع ہوتا ہے جب ان میں قربانی کا جذبہ ختم ہوجاتا ہے… تم نے جہاں چار سال گزار دئیے ہیں،
وہاں چار مہینے اور گزار دو۔ تم اب ارناط کو اپنا آقا نہ سمجھو۔ اس کے ساتھ پہلے سے زیادہ محبت کا اظہار کرو لیکن دل
میں یہ سمجھو کہ تم نے ایک ایسے زہریلے ناگ پر قبضہ کررکھا ہے جو تمہارے ہاتھ سے آزاد ہوگیا تو عالم اسالم کو ڈس
لے گا''۔
مجھے بتائو''۔ کلثوم نے بے تاب ہوکر کہا… ''خدا کے لیے مجھے بتاتے رہو کہ میں اپنے خدا کے حضور کس طرح ''
سرخرو ہوسکتی ہوں''۔
بکر نے اسے بتانا شروع کردیا۔ اسے مکمل ہدایات دیں اور کہا… ''سب کے سامنے یہ ظاہر نہ ہونے دینا کہ میرا اور تمہارا
کوئی اور تعلق بھی ہے۔ یہاں ہمارے جاسوسوں کا سراغ لگانے والے صلیبی جاسوس بھیس بدل کر گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ یہ
بھی یاد رکھو کہ صرف ہم دونوں جاسوس نہیں ،ہمارے اور بھی بہت سے ساتھی ہیں۔ وہ ہر اس شہر میں موجود ہیں جہاں
صلیبی حکمران اور جرنیل موجود ہیں۔ ان میں ایک سے ایک بہادر اور عقلمند ہے۔ دل میں خوش فہمی نہ رکھنا کہ ہم دونوں
کوئی بہت بڑا کارنامہ کررہے ہیں۔ خدا پر احسان نہ کرنا ،یہ ہمارا فرض ہے جو ہمیں ادا کرنا ہے ،خواہ ہمیں کیسی ہی اذیت
میں کیوں نہ ڈال دیا جائے''۔
کلثوم جب خیمہ گاہ میں اپنے خیمے کے سامنے بگھی سے ا ُ تری ،اس وقت وہ شہزادی للی تھی اور بکر بن محمد سیبل
تھا۔ کلثوم جب بگھی سے اتر رہی تھی اس وقت سیبل بگھی کے پاس کھڑا غالموں کی طرح جھکا ہوا تھا۔ خیمے میں گئی
تو ارناط ایک نقشے پر جھکا ہوا تھا۔ کلثوم نے اسے کہا کہ وہ سیر کے لیے نکل گئی تھی اور شکار بھی کھیال تھا۔
کیا مارا؟'' ارناط نے نقشے سے نظریں ہٹائے بغیر پوچھا۔''
کچھ بھی نہیں''۔ کلثوم نے جواب دیا… ''سب تیر خطا ہوگئے لیکن جلدی ہی شکار مارنے کے قابل ہوجائوں گی''۔ یہ''
''کہہ کر وہ بھی نقشے پر جھک گئی۔ اس نے پوچھا… ''پیش قدمی کا نقشہ ہے یا دفاع کا؟
پیش قدمی صالح الدین ایوبی کرے گا''۔ ارناط نے بے خیال کے عالم میں کہا… ''اور دفاع بھی اسی کو کرنا پڑے گا ''
کیونکہ ہم اسے جال میں ال رہے ہیں۔ اس کا دم خم ختم کرکے ہم پیش قدمی کریں گے۔ ہمیں روکنے واال کوئی نہ ہوگا۔ تم
اپنے خیمے میں جائو للی! مجھے بہت کچھ سوچنا ہے۔ آج رات ہماری جو کانفرنس ہوگی ،اس میں جنگ کا منصوبہ اور نقشہ
بنایا جائے گا۔ مجھے جو مشورے دینے ہیں ،ان میں کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے''۔
٭ ٭ ٭
اس کا نام کلثوم ہے اور بکر بن محمد اس کے ساتھ ہے ،وہ ارناط کا بگھی بان ہے''۔ سلطان ایوبی کی انٹیلی جنس '' :
کا نائب سربراہ حسن بن عبداللہ اسے کرک کے جاسوسوں کی بھیجی ہوئی پوری خبر سنا چکا تھا۔
سلطان کی آنکھیں الل ہوگئیں۔ اس نے کہا… ''کون بتا سکتا ہے کہ ہماری کتنی بیٹیاں ان کفار کے قبضے میں ہیں اور ان
کی عیاشی کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔ میں ارناط کو نہیں بخشوں گا۔ خیال رکھنا حسن! اس لڑکی کو وہاں سے نکالنا ہے لیکن
ابھی نہیں''۔
کرک میں ہمارے جو آدمی ہیں ،وہ اسے موزوں وقت پر نکال الئیں گے''۔ حسن بن عبداللہ نے کہا۔''
عکرہ کا پادری اور یہ صلیبی اتحادی ناصرہ میں تین روز رہے اور انہوں نے پالن اور نقشہ تیار کرلیا تھا۔ کلثوم نے ارناط سے
سب کچھ معلوم کرلیا تھا اور بکر کو بتا دیا۔ صلیبیوں کو بھی سلطان ایوبی کے کئی راز معلوم ہوگئے تھے۔ ان کے جاسوس
موصل ،حلب ،دمشق ،قاہرہ اور ہر جگہ موجود تھے۔ انہوں نے صلیبیوں کو صحیح اطالعات بھیجی تھیں۔ صلیبیوں کو یہ بھی
پتہ چل گیا تھا کہ مصر سے بھی فوج آرہی ہے۔ صلیبیوں کو یہ بھی معلوم ہوگیا تھا کہ سلطان ایوبی بہت جلدی پیش قدمی
لہ ذا انہوں نے دفاع میں لڑنے ،پھر سلطان ایوبی کو گھیرے میں لینے کا پالن تیار کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے
کرنے واال ہےٰ ،
انہوں نے مختلف جگہوں پر فوج خیمہ زن کردی تھی۔ انہیں ابھی یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ سلطان ایوبی کدھر سے آئے گا
اور میدان جنگ کون سا ہوگا۔ اپنے اندازے کے مطابق انہوں نے سلطان ایوبی کی فوج کی نفری ،پیادہ اور سوار کا حساب لگا
لیا تھا۔
حسن بن عبداللہ نے کرک سے آئے ہوئے اپنے آدمی سے تفصیلی رپورٹ لی۔ اس جاسوس نے کلثوم اور بکر کے متعلق بھی
بتایا۔ حسن بن عبداللہ نے یہ رپورٹ سلطان ایوبی کو دی۔
یہ اطالع ان تمام اطالعات کی تصدیق کرتی ہے جو ہمیں دوسری جگہوں کے جاسوسوں نے بھیجی ہیں''… سلطان ایوبی ''
نے کہا… ''یہ تو ہمیں پہلے ہی معلوم ہوچکا ہے کہ صلیبی میرا انتظار کررہے ہیں۔ اب کرک کی اطالع نے اس کی تصدیق
کردی ہے۔ اس میں نئی بات یہ ہے کہ چند ایک صلیبیوں نے اتحاد کرلیا ہے اور مجھے ان کی متحدہ فوج سے لڑنا ہوگا۔
اس کے عالوہ یہ اطالع نئی ہے کہ جنگی طاقت کتنی ہے۔ ان کے ساتھ دو ہزار دو سو نائٹ ہوں گے۔ یہ بالشبہ بہت بڑی
طاقت ہے۔ نائٹ سر سے پائوں تک زرہ بکتر میں ملبوس اور محفوظ ہوتا ہے۔ نائٹوں کے گھوڑے عام جنگی گھوڑوں کی نسبت
زیادہ طاقتور اور پھرتیلے ہوتے ہیں۔ میں انہیں گرمیوں کے عروج میں لڑائوں گا''۔
اور ان زرہ پوش نائٹوں کے ساتھ آٹھ ہزار سوار ہوں گے''۔ حسن بن عبداللہ نے کہا… ''پیادہ فوج کی تعداد تیس ہزار ''
سے زیادہ بتائی گئی ہے''۔
میرے لیے یہ خبر نئی ہے کہ شاہ آرمینیا کی فوج بھی صلیبیوں کے پاس آرہی ہے''… سلطان ایوبی نے کہا… ''یہ ''
صلیبیوں کی تیس بتیس ہزار فوج کے عالوہ ہوگی۔ یہ مال کر دشمن کی نفری چالیس ہزار ہوجائے گی۔ کرک کی اطالع اور
دوسری جگہوں سے آنے والی اطالعات سے یہ یقین ہوگیا ہے کہ صلیبی دفاعی جنگ لڑیں گے اور مجھے گھیرے میں لے لیں
گے۔ اس کے مطابق میرا یہ فیصلہ صحیح معلوم ہوتا ہے کہ میں حطین کے مضافات میں لڑوں گا۔ اس عالقے سے میں اچھی
طرح واقف ہوں''۔
٭ ٭ ٭
میرے رفیقو! اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس فرض کی ادائیگی کے لیے نکل کھڑے ہوں ،جو خدائے ذوالجالل نے ہمیں '' :
سونپا ہے''… سلطان صالح الدین ایوبی نے دمشق میں اپنے بڑے کمرے میں ساالروں اور نائب ساالروں سے خطاب کرتے ہوئے
کہا… ''ہم اقتدار کے لیے آپس میں لڑنے اور مرنے کے لیے پیدا نہیں کیے گئے تھے۔ ہم نے آپس میں بہت کشت وخون کرلیا
ہے۔ اس دوران دشمن نے ارض فلسطین میں اپنے پنجے گہرے اتار لیے ہیں۔ قوم نے ہمارے ہاتھ میں تلوار دی ہے اور اس
اعتماد کے ساتھ دی ہے کہ ہم دشمنان دین کا خاتمہ کریں گے اور عرب کی مقدس سرزمین کو کفار کے ناپاک وجودسے پاک
…''کریں گے
آپ کئی برسوں سے مسلسل لڑ رہے ہیں لیکن اصل جنگ اب شروع ہورہی ہے۔ اپنے ذہنوں میں اس جنگ کے مقصد کو ''
تازہ کرلو۔ یہ فیصلہ کرلو کہ ہمیں ایک آزاد اور باوقار قوم کی حیثیت سے زندہ رہنا ہے اور ہمیں اپنے خدا کے عظیم مذہب
کو کفر کے گھنائونے سائے سے آزاد رکھنا ہے۔ ہمیں سلطنت اسالمیہ کو وہاں تک لے جانا ہے جہاں تک محمد بن قاسم لے
گیا تھا اور جہاں تک طارق بن زیاد لے گیا تھا۔ ان کے بعد آنے والوں کا فرض یہ تھا کہ اللہ کا پیغام وہاں سے بھی آگے
لے جاتے ،جہاں تک قوم کے یہ بیٹے لے گئے تھے مگر اللہ کی سلطنت ایسی سکڑی کہ ہمارے دین کے دشمن ہمارے گھر
میں آن بیٹھے ہیں اور وہ خانہ کعبہ اور روضٔہ مبارک کو مسمار کرنے کے منصوبے بنائے ہوئے ہیں۔ کیوں؟… یہ کیوں کر ممکن
ہوا؟… جہاں بادشاہی کا جنون دماغوں پر قابض ہوتا ہے ،وہاں سرحدیں سکڑتی ہیں اور تخت وتاج کی خاطر امراء اپنے مذہب
…''اور اپنی غیرت کو بھی ترک کردیا کرتے ہیں
ہمارے زوال کا باعث تخت وتاج کا نشہ اور زروجواہرات کی محبت ہے۔ کہاں وہ وقت کہ ہم دنیا پر چھاگئے تھے اور کہاں''
ہمارا وقت کہ دنیا ہم پر چھا گئی ہے اور ہم آخرت کو فراموش کیے بیٹھے ہیں۔ ہم میں دوست اور دشمن کی پہچان نہیں
رہی۔ عسکری جذبے پر فانی دنیا کی جھوٹی لذتوں کا جادو چل گیا ہے۔ یاد رکھو میرے رفیقو! میں آپ کو کئی بار کہہ چکا
ہوں کہ قوم کی قسمت تلوار کی نوک سے لکھی جاتی ہے اور یہ تحریر ان مجاہدوں کی ہوتی ہے جن کے ہاتھ میں تلوار
ہوتی ہے۔ جب ساالر تخت پر بیٹھ کر سر پر تاج رکھ لیتے ہیں تو ان کے ہاتھوں میں طاقت نہیں رہتی کہ تلوار نیام سے
باہر کھینچ سکیں۔ ان کے دلوں میں اپنے عقیدے اور اپنی قوم کے وقار کے تحفظ کا جذبہ نہیں رہتا پھر مذہب کا استعمال
یہی رہ جاتا ہے کہ اپنی رعایا کہ مذہب کے نام پر دھوکے دو اور دشمن کے ساتھ در پردہ دوستی کرلو تاکہ آرام سے اللہ کے
…''نیک اور سادہ لوح بندوں پر حکومت کرسکو
ہم آج اسالم کی عظمت کی خاطر صرف اس لیے گھروں کو خیرباد کہنے اور دشمن پر ٹوٹ پڑنے کے قابل ہوئے ہیں کہ ''
ہم نے اقتدار کے پجاریوں کو ختم کردیا ہے۔ ہم نے آستین کے سانپوں کا سرکچل ڈاال ہے۔ اگر ہم ہار گئے تو اس کی وجہ
اس کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ ہماری نیت میں فتور تھا''۔
سلطان ایوبی ایسی جذباتی اور لمبی تقریر کرنے کا عادی نہیں تھا لیکن جس مہم کے لیے وہ نکل رہا تھا ،اس کے لیے سب
کو ذہنی اور روحانی طور پر تیار کرنا ضروری تھا۔ یہ اس کے وفادار اور قابل اعتماد ساالر اور نائب ساالر تھے۔ ان میں مظفر
الدین جیسا قابل اور دلیر ساالر بھی تھا جو کسی وقت میں اس کا ساتھ چھوڑ کر اس کے مخالف کیمپ میں چال گیا اور اس
کے خالف لڑا بھی تھا۔ اس کے ساتھ تقی الدین اور افضل الدین ،فرخ شاہ اور ملک العادل جیسے ساالر بھی تھے جو اس کے
اپنے خاندان اور اپنے خون کے رشتے کے تھے۔ ساالر ککبوری اس کا دست راست تھا۔ ،ان میں کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو
فنی ،تکنیکی اور جذباتی لحاظ سے کمتر ہوتا لیکن سلطان ایوبی پہلی بار ارض فلسطین میں حملے کے لیے جارہا تھا اور اس
کی منزل بیت المقدس تھی۔
21:04
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 148ایوبی نے قسم کھائی تھی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
منزل بیت المقدس تھی۔ یہ مہم آسان نہیں تھی ،صلیبیوں کی جنگ قوت زیادہ بھی تھی اور برتر بھی۔ صلیبیوں کو یہ فائدہ
حاصل تھا کہ انہیں دفاع میں اپنی زمین پر لڑنا تھا ،جہاں انہیں رسد کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا اور وہ اپنے مستقر کے
قریب تھے۔ سلطان ایوبی اپنے مستقر سے دور جارہا تھا جہاں تک رسد کے راستے مخدوش تھے۔ جنگی فنون کے مطابق زیادہ
دشواریاں حملہ آور کوہ پیش آتی ہیں اور حملہ آور کی نفری دشمن سے اگر سہ گنا نہیں تو دوگنی ضرور ہونی چاہیے مگر
سلطان ایوبی کی نفری کم تھی۔ اسے یہی یقین تھا کہ یہ جنگ بہت طول پکڑے گی اور گھروں کو واپس آنا ممکن نہیں ہوگا۔
اس لیے اس نے یہ ضروری سمجھا کہ اپنے ساالروں کو بتا دے کہ وہ طارق بن زیاد کی اس کارروائی کو ذہن میں رکھیں جس
میں اس نے بحیرٔہ روم پار کرکے کشتیاں جال ڈالی تھیں کہ واپسی کا خیال ہی ذہن سے نکل جائے۔
قاضی بہائوالدین شداد نے اپنی یادداشتوں بعنوان '' سلطان (صالح الدین ایوبی) پر کیا افتا پڑی'' میں لکھا ہے… ''سلطان کا
عقیدہ یہ تھا کہ خدا نے کفار کے خالف لڑنے کا جو حکم دیا ہے ،یہ اس کا فرض اولین ہے جسے دنیا کے ہر کام اور ہر
فرض پر فوقیت حاصل ہے۔ کفار سے لڑنا اور اللہ کی حکمرانی قائم کرنا ،اس کا ایسا فرض ہے جو خدا کے حکم سے اسے
سونپا گیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ ملکوں کو اللہ کی سلطنت میں شامل کرنا اور بنی نوع انسان کو اطاعت ال ٰہی کی طرف النا…
اس نے تمام فوجوں کو ،جہاں جہاں وہ تھیں ،ایشترا کے مقام پر جمع ہونے کا جو حکم بھیجا ،اس میں اللہ کے حکم کے
الفاظ بھی لکھے''۔
سلطان ایوبی کی نظریں مستقبل کی تاریکیوں میں جھانک رہی تھیں ،اس نے حطین کے مقام کو میدان جنگ بنانے کا فیصلہ
کیا تھا۔ حطین فلسطین کا ایک گمنام سا گائوں تھا لیکن سلطان ایوبی نے اسے وہ عظمت بخشی کہ عیسائی دنیا کے جنگی
مبصر آج بھی تجزیے کرتے نظرے آتے ہیں کہ صلیبی جنگوں کے اس ہیرو نے کس قسم کی چالوں اور سٹریٹجی سے اتنے
طاقتور اور برتر اسلحہ والے دشمن کو ایسی شرمناک شکست دی تھی کہ صلیبیوں کے ایک کے سوا باقی تمام حکمران جنگی
قیدی ہوگئے تھے۔
جنگی علوم کی باریکیاں سمجھنے والے مبصروں اور مؤرخوں نے سلطان ایوبی کی دیگر خوبیوں کے عالوہ اس کے انٹیلی جنس
اور کائونٹر انٹیلی جنس اور کمانڈو آپریشن کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ یہ ہے بھی حقیقت کہ بکر بن محمد جیسے جاسوس
اپنی جانیں موت کے منہ میں رکھ کر اہم معلومات حاصل کررہے تھے اور سلطان ایوبی تک پہنچا رہے تھے۔ کلثوم جیسی
مظلوم لڑکیاں شاہانہ زندگی اور عیش وعشرت کو ٹھکرا کر اپنے طور پر اسالمی فوج کی مدد کررہی تھیں۔ تاریخ ان گمنام
غازیوں اور شہیدوں کے نام بتانے سے قاصر ہیں جنہوں نے پس پردہ اور زمین دوز جہاد کیا اور حطین کو تاریخ اسالم کی
عظمت کا نشان بنا دیا۔
سلطان ایوبی ہمیشہ جمعہ کے مبارک دن لڑائی کے لیے کوچ کیا کرتا تھا کہ یہ قبولیت کا دن ہے۔ اس مبارک روز ہر مسلمان
خدا کے حضور جھکا ہوا ہوتا ہے اور جب سپاہی اپنی قوم کو عبادت میں مصروف چھوڑ کر جہاد کے لیے نکلتا ہے تو ساری
قوم کی دعائیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں۔ حطین کو کوچ کرنے کے لیے بھی اس نے جمعہ کا دن منتخب کیا۔ یہ ١٥مارچ
١١٨٧ء کا دن تھا۔ اس نے فوج کا صرف ایک حصہ ساتھ لیا اور کرک کے قریب جاکر خیمہ زن ہوا۔
صلیبی جاسوسوں نے فورا ً اپنی اتحادی فوج کو خبر پہنچا دی کہ سلطان ایوبی کرک کے قریب خیمہ زن ہوگیا ہے۔ اس سے
یہ مطلب لیا گیا کہ وہ کرک کا محاصرہ کرے گا لیکن اس کا مقصد یہ تھا کہ مصر اور شام کے قافلے حج کعبہ سے واپس
آرہے تھے ،ان پر کرک کے قریب ہی حملے ہوا کرتے تھے۔ والئی کرک شہزادہ ارناط اس معاملے میں بڑا ہی بدنیت تھا۔
سلطان ایوبی ان قافلوں کو خیریت سے وہاں سے گزارنے کے لیے اس عالقے میں چال گیا تھا۔ اس کے عالوہ اس کا مقصد یہ
بھی تھا کہ صلیبیوں کو دھوکہ دے اور وہ اپنا دفاع
پھیالد ینے پر مجبور ہوجائیں۔ اس نے اپنے ساالروں کو بتا دیا کہ قافلے گزار کر وہ کہاں جائے گا۔
٭ ٭ ٭
کرک کے محل میں تو جیسے زلزلہ آگیا تھا۔ شہزادہ ارناط کو نصف شب کے بعد جگا کر بتایا گیا کہ کوئی بہت بڑی فوج
شہر سے کچھ دور خیمے گاڑ رہی ہے۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھا۔ یہ سلطان ایوبی کے سوا کون ہوسکتا تھا۔ کلثوم اس کی خواب گاہ
میں تھی۔ وہ ارناط کے ساتھ دوڑتی شہر کے بڑے دروازے کے اوپر والی دیوار پر گئی۔ وہاں سے سینکڑوں مشعلیں نظر آرہی
تھیں۔ زیادہ تر مشعلیں متحرک تھیں۔ خیمے گاڑے جارہے تھے ،رات کی خاموشی میں گھوڑوں کے ہنہنانے کی آوازیں صاف
سنائی دے رہی تھیں۔
ارناط نے اپنی فوج کو محاصرے میں لڑنے کے لیے دیواروں پر مورچہ بند کردیا۔
دروازوں پر دفاعی انتظامات مضبوط کردیئے گئے۔ ارناط بھاگ دوڑ رہا تھا۔ اسے کلثوم کا کوئی خیال نہیں تھا۔ کلثوم واپس :
گئی تو ارناط کا محافظ دستہ بیدار ہوکر حکم کا منتظر کھڑا تھا اور ایک جگہ وہ شاہی بگھی کھڑی تھی جس پر کلثوم ناصرہ
گئی اور سیر کے لیے بھی گئی تھی۔ اس کے پاس بکر بن محمد چاک وچوبند کھڑا تھا ،وہاں ہر آدمی اپنی ڈیوٹی پر پہنچ
گیا تھا۔
کلثوم نے حکم کے لہجے میں بکر سے کہا… ''سیبل! بگھی ادھر الئو''۔
بکر بگھی الیا تو کلثوم اس میں بیٹھ گئی اور اسے کسی طرف لے گئی۔ ارناط کے حرم کی عورتیں بھی جاگ کر باہر آگئی
تھیں ،انہوں نے کلثوم کو جوان کے لیے پرنسس للی تھی ،بگھی بان کو حکم دیتے اور بگھی میں بیٹھ کر جاتے دیکھا تو ان
میں سے ایک نے دانت پیس کرکہا… ''یہ بدبخت کسی مسلمان کی اوالد اپنے آپ کو ملکہ سمجھنے لگی ہے۔ اسے ٹھکانے
لگانا ہی پڑے گا''۔
وقت آگیا ہے''۔ دوسری نے کہا… ''صالح الدین ایوبی کا محاصرہ بہت خوفناک ہوتا ہے۔ وہ آگ پھینکے گا ،منجنیقوں ''
سے پتھر پھینکے گا۔ اندر بھگدڑ اور تباہی مچے گی اور یہ وقت ہوگا جب ہم اس منہ چڑھی ڈائن کو ٹھکانے لگا دیں گی''۔
تمہارا چاہنے واال وہ جرنیل بھی تو کچھ نہیں کرسکا''۔ تیسری نے کہا۔''
اور بہت ہیں کچھ کرنے والے''۔ اس نے جواب دیا۔ ''کل شام تک شہر کی حالت دیکھنا ،پھر شہزادہ ارناط کسی اور ''
شہزادی للی کو تالش کرے گا''۔
اس وقت کلثوم نے بگھی ایک اندھیری جگہ رکوا رکھی تھی۔ بکر بگھی کے ساتھ کھڑا تھا۔ کلثوم اس سے پوچھ رہی تھی…
''ہمارے آدمی اندر سے کوئی دروازہ کھولنے کا انتظام کرسکیں گے؟''۔
کوشش کی جائے گی''۔ بکر نے کہا… ''اگر یہ فوج ہماری ہے تو میں حیران ہوں کہ ہمیں پہلے اطالع کیوں نہیں دی ''
گئی۔ سلطان ایوبی ایسی غلطی نہیں کیا کرتے ،مجھے کچھ شک ہے۔ یہ صبح پتہ چلے گا کہ یہ کس کی فوج ہے''۔
کیا ہم یہاں سے فرار ہوسکیں گے؟''۔ کلثوم نے پوچھا۔''
حاالت پر منحصر ہے''۔''
میں اس افراتفری میں ارناط کو آسانی سے قتل کرسکتی ہوں''۔''
ایسی حرکت نہ کرنا''… بکر بن محمد نے کہا… ''فوج شہر میں داخل ہوگئی تو ہم نظر رکھیں گے کہ وہ فرار ہونے کی''
''کوشش نہ کرے… کوئی نئی خبر؟
ارناط سلطان ایوبی کو دیکھ رہا تھا کہ کس طرف پیش قدمی کرتا ہے''۔ کلثوم نے کہا… ''اب حاالت کچھ اور ہوگئے ۔ ''
پہلے کہتا تھا کہ وہ اپنی فوج کے ساتھ جھیل گیلیلی کو جارہا ہے''۔
زیادہ دیر نہ رکو''۔ بکر نے کہا… ''چلو واپس چلیں''۔''
٭ ٭ ٭
صبح طلوع ہوئی تو کرک کی دیواروں پر دور مارکمانوں والے تیر انداز مستعد کھڑے تھے۔ پتھر اور آگ کی ہانڈیاں پھینکنے والی
منجنیقیں نصب ہوچکی تھیں۔ فوج تیاری کی حالت میں کھڑی تھی اور شہزادہ ارناط دیوار پر کھڑا سلطان ایوبی کی فوج کو
دیکھ رہا تھا۔ یہ یقین ہوگیا کہ یہ سلطان ایوبی کی فوج ہے۔ یہ معلوم نہ ہوسکا کہ سلطان خود بھی ساتھ ہے مگر اس فوج
میں محاصرے والی کوئی حرکت اور سرگرمی نہیں تھی۔ خیمے لگے ہوئے تھے اور سپاہی روزمرہ معمول میں لگے ہوئے تھے۔
یہ دن گزر گیا ،پھر پانچ چھ دن گزر گئے۔ ارناط پر انتظار اور اضطراب کی کیفیت طاری رہی۔ اسے جو نظر نہیں آرہا تھا ،وہ
یہ تھا کہ رات کو سلطان
ا یوبی نے اپنے گھوڑ سوار چھاپہ مار اس راستے پر دور تک پھیال دئیے تھے جن پر حجاج کے قافلوں کو گزرنا تھا۔ چند
دنوں بعد پہال قافلہ آتا نظر آیا۔ یہ مصر کا قافلہ تھا۔ گھوڑ سوار اس کے ساتھ ہوگئے۔ قافلہ سلطان ایوبی کی خیمہ گاہ کے
قریب پہنچا تو سلطان دوڑ کر آگے بڑھا اور حجاج سے مصافحہ کیا۔ اس نے عقیدت اور احترام سے سب کے ہاتھ چومے اور
اپنی خیمہ گاہ میں انہیں آرام اور کھانے کے لیے روکا اور اس کے چھاپہ مار دور تک حجاج کے ساتھ گئے۔ ایک ہی روز بعد
شامی حجاج کا قافلہ بھی آگیا۔ اس کا بھی سلطان ایوبی نے استقبال کیا۔ کھانا کھالیا اور اپنے حفاظتی انتظامات میں اسے
رخصت کیا۔
اتنے دن کرک کے اندر صلیبی فوج تیاری کی حالت میں رہی اور شہر پر خوف طاری رہا۔ سلطان ایوبی کے جاسوس اپنی
سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ ایک صبح ارناط کو اطالع ملی کہ سلطان ایوبی کی فوج جارہی ہے۔ا رناط اس کے سوا کچھ بھی
نہ دیکھ سکا کہ حجاج کے دونوں قافلے سلطان ایوبی کی فوج کی حفاظت میں گزر گئے ہیں۔سلطان ایوبی کے صرف جاسوسوں
کو معلوم تھا کہ اصل قصہ کیا تھا۔ اس نے کوچ سے پہلے انہیں اطالع بھجوا دی تھی کہ فوج کہیں اور جارہی ہے اور وہ
(جاسوس) ارناط کی نقل وحرکت کی اطالعات دیتے رہیں۔
٢٧مئی ١١٨٧ء ( ١٧ربیع االول) کے روز سلطان ایشترا کے مقام پر جا کر خیمہ زن ہوا ،وہاں مصر اور شام کی فوجیں اس :
سے جاملیں۔ اس کا سب سے بڑا بیٹا الملک االفضل جس کی عمر سولہ سال تھی ،ایک مشہور ساالر مظفرالدین کے ساتھ
جامال۔ اس طرح اس کی ساری فوج جمع ہوگئی۔ اس نے تمام ساالروں ،نائب ساالروں کو آخری ہدایات کے لیے جمع کیا اور
کہا… '' میرے رفیقو! اللہ تمہارا مدد گار ہو۔ دلوں سے اپنے عزیزوں ا ور اپنے گھروں کا خیال نکال دو اور دلوں میں قبلٔہ اول
کو بسا لو اور دلوں میں خدائے ذوالجالل کا اسم مبارک نقش کرلو جس نے ہمیں یہ سعادت بخشی ہے کہ قبلٔہ اول کو آزاد
…''کرائیں اور اپنی بیٹیوں کی بے عزتی کاانتقام لیں جو کفار کے ہاتھوں بے آبرو ہوئیں
اب ہم جو بات کریں گے ،وہ حقیقت کی کریں گے۔ ہماری تعداد دشمن کے مقابلے میں کم ہے ا ور آپ کا مقابلہ سات ''
صلیبی بادشاہوں کی متحدہ فوج کے ساتھ ہے جس میں دو ہزار دو سو سر سے پائوں تک زرہ بکتر میں ڈوبے ہوئے نائٹ ہیں۔
ان کی دوسری فوج نیم زرہ پوش ہے۔ اس فوج کو یہ سہولت حاصل ہے کہ اپنے مستقر کے قریب ہے اور یہ سارا عالقہ اس
کا اپنا ہے جہاں اسے رسد کی کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ ہمیں دو جنگیں لڑنی ہیں ،ایک براہ راست دشمن کے خالف اور
دوسری ان دشواریوں کے خالف جو ہمیں درپیش ہیں۔ یہ دشواریاں دشمن کی طرف منتقل کرنی ہیں''۔
اس نے نقشہ پھیال کر اپنی تلوار کی نوک سے سب کو بتایا کہ اس کا میدان جنگ کون سا ہوگا۔ جو ساالر اس جگہ سے
واقف تھے ،انہوں نے چونک کر سلطان ایوبی کی طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ سلطان ایوبی ان کے استعجاب
کو سمجھ گیا اور مسکرایا۔
یہ حطین کے مضافات کا میدان ہے''۔ اس نے کہا… ''آپ سوچ رہے ہیں کہ یہ زمین سوکھے ہوئے درخت کی کھال کی''
طرح خشک ،اونچی نیچی اور موسم کی بے رحمی سے کٹی پھٹی ہے اور یہ زمین اتنی پیاسی ہے کہ انسانوں اور ہمارے
گھوڑوں کا خون پی جائے گی۔ آپ نے دیکھا نہیں کہ اس کے اردگرد اونچی نیچی ٹیکریاں ہیں۔ہاں ،یہ سب بے آب وگیاہ اور
پیاسی ہیں۔ یہ لوہے کی طرح تپ رہی ہیں۔ آپ کی آنکھوں میں جو سوال ہے ،وہ میں سمجھتا ہوں ،وہ کون سی فوج ہے
جو اس جہنم نماا عالقے میں لڑے گی؟… وہ ہماری فوج ہوگی۔ آپ کے ہلکے پھلکے سواروں کے دستے (الئٹ کیولری) یہاں
تتلیوں کی طرح اڑتے پھریں گے اور وہ لوہے کے لباس میں ملبوس نائٹوں اور نیم زرہ پوش صلیبی سواروں کو نچاتے پھریں
گے۔ دشمن کے یہ سوار اور پیادے لوہے کی تپش سے بہت جلدی پیاس سے بے حال ہوجائیں گے اور لوہے کا وزن انہیں اتنی
…''پھرتی سے حرکت نہیں کرنے دے گا ،جس تیزی سے ہمارے سوار بھاگیں دوڑیں گے
آپ جانتے ہیں کہ میں ہر کارروائی جمعہ کے مبارک روز کیا کرتا ہوں۔ میں اس وقت آگے بڑھوں گا ،جب مسجدوں میں ''
قوم خطبہ سن رہی ہوگی۔ یہ وقت قبولیت کا ہوتا ہے۔ میں نے ہر قصبے اور ہر گائوں میں اطالع بھجوا دی تھی کہ جمعہ
کے روز دعائوں میں اپنے ان مجاہدین کو شامل رکھا کریں جو جمعہ کی نماز سے محروم ہوکر میدان جنگ میں زخمی ہوکر
گرتے ہیں۔ اٹھتے ہیں اور جمعہ نہ پڑھ سکنے کا خراج لہو کے نذرانوں سے ادا کرتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوگا جب سورج سر
…''پر ہوگا اور زمین کو لوہے کی پھٹی کی طرح گرم کردے گا
اور یہ دیکھو ،یہ گیلیلی کی جھیل ہے اور یہ دریا ہے''۔ اس نے تلوار کو چھڑی کی طرح نقشے پر مار مار کر بتایا… ''
''اور یہ واحد تاالب ہے جس میں پانی ہے۔ باقی تمام تاالب خشک ہوگئے ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جسے صلیب کے پجاری
جون کہا کرتے ہیں۔ ہمیں پانی اور دشمن کے درمیان آنا ہے۔ میں الفاظ میں دشمن کو پانی سے محروم کرچکا ہوں ،اس کو
عملی طور پر پیاسا مارنا آپ کا کام ہے۔ دشمن حطین کے میدان میں لڑنے سے گریز کرے گا ،میں اسے یہیں لڑائوں گا۔ فوج
کو میں نے چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ مظفرالدین اور میرا بیٹا االفضل ہم میں نہیں ہیں۔ وہ ایک
حصے کو ساتھ لے کر دریائے اردن جھیل گیلیلی کے جنوب سے پار کرگئے ہیں۔ یہ دستے طبور (جبل طور) تک پہنچیں گے،
شاید پہنچ چکے ہوں گے۔ یہ ایک دھوکہ ہے جو میں دشمن کو دے رہا ہوں''۔
اس نے فوج کے باقی تین حصوں کی تفصیالت اور ان کے مشن بتائے۔ ان تین میں سے ایک حصہ (مین باڈی) اپنی کمان
میں رکھا۔ مؤرخین کے مطابق یہی حصہ ریزرو اور ٹاسک فورس کے طور پر استعمال کرنا تھا۔ یہ فیصلہ کن کارروائی کے لیے
تھا۔ ان حصوں کو مختلف مقامات سے دریا پار کرایا گیا۔ صلیبی اپنے مخبروں اور دیکھ بھال کے دستوں کے ذریعے یہ نقل
وحرکت دیکھ رہے تھے لیکن یہ نہ سمجھ سکے کہ سلطان ایوبی کا پالن کیا ہے۔ سلطان ایوبی نے جھیل گیلیلی کے مغربی
کنارے پر طبریہ کے مقام پر ایک پہاڑی پر جا کر ڈیرے ڈالے۔
٭ ٭ ٭
صلیبیوں کو ایک اور دھوکہ بھی ہوا۔ سلطان ایوبی اکثر چھاپہ مار قسم کی جنگ لڑا کرتا تھا ،شب خون زیادہ مارتا تھا۔ کم :
سے کم نفری سے دشمن کی زیادہ تعداد پر ''ضرب لگائو اور بھاگو'' کے اصول پر حملے کرتا اور دشمن کو پھیال دیتا تھا۔
صلیبی اس کی اسی جنگ کے لیے تیار تھے۔ اس کی فوج کا جو حصہ مظفرالدین اور االفضل کی زیرکمان دریا پار کرگیا تھا،
اس نے صلیبیوں کی فوج کی چوکیوں ( آئوٹ پوسٹوں) پر شب خون مارنے شروع کردئیے تھے۔ اس سے صلیبیوں کو یہ دھوکہ
ہوا کہ سلطان ایوبی اپنے مخصوص انداز سے لڑے گا لیکن اب اس نے کوئی اور ہی انداز سوچ رکھا تھا۔ چھاپہ ماروں کو اس
نے حسب معمول وہی مشن دئیے جو ہر جنگ میں انہیں دیا کرتا تھا۔
صلیبی فوج قلعہ بندیوں میں تھی اور باہر بھی تھی۔ سلطان ایوبی نے تیز رفتاری سے فوج کو اس طرح ڈیپالئے کیا کہ جھیل
گیلیلی اور جو ایک دو پانی کے تاالب تھے ،وہ اس کے قبضے میں آگئے۔ صلیبیوں کی فوج کے ایک حصے (فرنگیوں) نے
سیفوریہ کے مقام پر اجتماع کیا لیکن سلطان ایوبی آگے بڑھ کر مقابلہ کرنے کے بجائے طبریہ کے مقام پر رکا رہا۔ وہ صلیبیوں
کو حطین کے قریب النا چاہتا تھا۔ صلیبی آگے آتے نظر نہ آئے تو اس نے پیادہ دستے ذرا سا آگے بڑھا دئیے اور خود ہلکا
رسالہ ( الئٹ کیولری) لے کر طبریہ پر حملہ کردیا اور حکم دیا کہ طبریہ کو تباہ وبرباد کرکے شہر کو آگ لگا دی جائے۔ اس
حکم پر عمل کیا گیا۔
طبریہ کا قلعہ ذرا ہٹ کر تھا۔ فوج قلعہ میں تھی ،شہر کو بچانے کے لیے فوج قلعے سے نکل کر شہر کو روانہ ہوئی۔ سلطان
ایوبی نے اس کا راستہ روک لیا۔ سلطان ایوبی نے اپنی فوج کے دوسرے حصے مختلف سمتوں کو روانہ کردئیے تھے۔ صلیبیوں
کی فوج جو قلعے سے آئی تھی ،اس کی کمان شاہ ریمانڈ کے ہاتھ میں تھی۔ طبریہ کی ٹیکریوں پر اس کی اور سلطان ایوبی
کی آمنے سامنے کی لڑائی ہوئی۔ قاضی بہائوالدین شداد اس لڑائی کا آنکھوں دیکھا حال ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ ''دونوں
فوجوں کے سواروں نے ایک دوسرے پر ہلہ بوال۔ ہر اول کے سوار تیر چالتے آرہے تھے ،پھر پیادہ دستوں کو بھی میدان میں
اتار دیا گیا۔ صلیبیوں کو موت نظر آنے لگی تھی اور مسلمانوں کو پیچھے دریا اور سامنے دشمن نظر آرہا تھا۔ پیچھے ہٹنے کے
لیے ان کے پاس کوئی جگہ نہیں تھی ،اس لیے دونوں فوجیں اتنے قہر سے لڑیں جس کی مثال تاریخ پیش نہیں کرسکتی''۔
سارا دن لڑائی جاری رہی۔ رات مسلمان چھاپہ ماروں نے دشمن کو پریشان رکھا۔ دشمن کی فوج اور گھوڑے پیاسے تھے لیکن
پانی پر مسلمان قابض تھے۔ چھاپہ مار دشمن کو پانی کی تالش میں جانے بھی نہیں دیتے تھے۔ اگلے روز صلیبیوں نے
ٹیکریوں پر چڑھ کر لڑائی لڑی۔ مسلمان بڑھ بڑھ کر حملے کرتے تھے مگر صلیبی بلندیوں سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔ مسلمانوں کا
رسالہ چونکہ ہلکا تھا ،اس لیے انہوں نے ٹیکریوں کا گھیرا کرکے اوپر چڑھنا شروع کیا ،پیادہ تیر اندازوں نے ان کے سروں کے
اوپر تیر برسائے۔ اتنے میں صلیبیوں نے دیکھا کہ ان کے کمانڈر کا جھنڈا نظر نہیں آرہا۔ یہ فورا ً ہی معلوم ہوگیا کہ ان کا
بادشاہ ریمانڈ میدان جنگ سے بھاگ گیا ہے ،حاالنکہ اس نے صلیب اعظم پر ہاتھ رکھ کر اپنے اتحادیوں کا وفادار رہنے اور
پیٹھ نہ دکھانے کا حلف اٹھایا تھا۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ صلیب اعظم حطین کی اس جنگ میں ساتھ الئی گئی تھی۔
صلیبیوں کے بھاگنے کے راستے مسدود ہوچکے تھے۔ وہ اب دفاعی جنگ لڑ رہے تھے۔ بلندیاں ان کی مدد کررہی تھیں۔ یہ دن
بھی گزر گیا۔ مسلمان فوج نے بے انداز خشک گھاس اور لکڑیاں جمع کرکے صلیبیوں کے اردگرد آگ لگا دی۔ رات کو سلطان
ایوبی کی فوج گھاس اور لکڑیاں جمع کرتی اور آگ تیز کرتی رہی۔ دن بھر کے پیاسے اور تھکے ہوئے صلیبی ٹیکریوں پر
جھلسنے لگے۔ ان میں سے ایک دستے نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن مسلمانوں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی زندہ نہ
جانے دیا۔ دوسرے دن صلیبی فوج نے ہتھیار ڈال دئیے اور جرنیلوں سمیت سلطان ایوبی کی قید میں آگئے۔
٭ ٭ ٭
سلطان ایوبی کی فوج کے د وسرے تین حصے مختلف جگہوں پر اس قسم کی جنگ لڑ رہے تھے کہ کبھی صلیبیوں کے :
پہلو پر حملہ کرتے اور نکل جاتے اور کبھی عقب پر حملہ کرکے ادھر ادھر ہوجاتے۔ ایک دو پیادہ دستے اس انداز سے دشمن
کے سامنے رہے کہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹ آتے۔ اس طرح دشمن حطین کے میدان میں آگیا مگر اس وقت تک وہ اور اس
کے گھوڑے پیاس سے ادھ موئے ہوچکے تھے۔
٣جوالئی ١١٨٧ء کے روز سلطان ا یوبی نے اپنے پالن کی اس کڑی پر کارروائی شروع کی جو اس نے حطین کے لیے بنایا تھا۔
یہ بھی جمعہ کا مبارک دن تھا۔ اسے پہلے سے جاسوسوں نے جن میں کلثوم اور بکر قابل ذکر ہیں ،یہ بتا دیا تھا کہ سات
لہ ذا سلطان ایوبی کی جنگی طاقت جو تھی ،سو تھی ،اس نے اپنی چالوں ،فوج کی تقسیم ،چھاپہ
صلیبیوں نے اتحاد کرلیا ہےٰ ،
ماروں کے استعمال ،دیکھ بھال کے انتظام اور میدان جنگ میں برق رفتار نقل وحرکت کے انداز میں ردوبدل اور کارگر طریقے
اور دائو سوچ لیے تھے۔ دشمن کو وہ بڑی خوبی سے حطین میں لے آیا تھا۔ اردگرد کی قلعہ بندیوں اور آبادیوں پر وہ قابض
ہوچکا تھا۔ پانی اس کے قبضے میں تھا اور اب موسم کا قہر اس کے حق میں تھا۔
دشمن جب حطین میں آیا تو وہ جان نہ سکا کہ وہ سلطان ایوبی کی نہایت خوبی سے تقسیم اور ڈیپالئے کی ہوئی فوج کے
نرغے میں آگیا ہے۔ سلطان ایوبی کے چھاپہ ماروں نے دشمن کی دیکھ بھال کی چوکیوں اور گشتی جیشوں ،آئوٹ پوسٹوں اور
رسد کے لیے قیامت بپاکررکھی تھی۔ رات کو وہ دشمن کو نہ آرام کرنے دیتے تھے ،نہ جرنیلوں کو سوچنے کی مہلت دیتے
تھے۔
٤جوالئی ١١٨٧ء کے روز سلطان ایوبی کی فوج کے درمیانی حصے نے آمنے سامنے حملہ کیا۔ ٹیکریوں کی وجہ سے میدان
جنگ تنگ تھا۔ صلیبی ادھر ادھر سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تو مسلمانوں کا الئٹ رسالہ حرکت میں آجاتا۔ تیرانداز
بلندیوں پر تھے جہاں سے وہ صلیبیوں پر تیروں کا مینہ برسا رہے تھے۔ سلطان ایوبی کی کیفیت یہ تھی کہ کبھی اوپر جاتا
اور کبھی نیچے آتا اور اس کے صبا رفتار قاصد پیغام ال اور لے جارہے تھے۔ صلیبی نائٹوں کو زرہ بکتر جال رہی تھی۔ ان کے
گھوڑے پیاسے تھے ،پانی سامنے نظر آرہا تھا جو پیاس کو بڑھا رہا تھا۔
صلیبیوں نے کمک منگوا کر ایک جوابی حملہ کیا جو ان کی آخری امید تھی۔ جہاں انہوں نے حملہ کیا وہاں کی کمان تقی
الدین کے ہاتھ تھی۔ اس نے حملہ روکنے کے لیے اپنے دستوں کو نیم دائرے کی شکل میں کردیا۔ دشمن سیدھا اور سرپٹ آیا۔
تقی الدین نے نیم دائرے کے سرے بند کردئیے اور صلیبی گھیرے میں آگئے۔ مسلمان سواروں نے انہیں کاٹ اور کچل ڈاال۔
اب جنگ کی یہ صورت تھی کہ صلیبی حطین کے میدان میں دفاعی جنگ لڑ رہے تھے۔ حطین سے دور ان کا اگر کوئی
دستہ رہ گیا تھا تو اسے مسلمانوں نے وہیں بے کار کردیا جہاں وہ تھا۔ یہ پہال اور آخری موقع تھا کہ عکرہ کا پادری
''محافظ صلیب اعظم'' صلیب الصلبوت میدان جنگ میں موجود تھا ،یعنی جس صلیب پر صلیبیوں نے اسالم کو ختم کرنے
کے حلف اٹھائے تھے ،وہ صلیب میدان جنگ میں الئی گئی تھی مگر صلیبی بادشاہوں نے پیٹھ دکھانی شروع کردی۔ گائی آف
لوزینان اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ بھاگ رہا تھا کہ اسے مسلمان سواروں نے دیکھ لیا اور انہیں زندہ پکڑ لیا۔
عکرہ کا پادری مارا گیا اور صلیب اعظم مسلمانوں کے قبضے میں آگئی۔ مشہور مؤرخوں نے اس صلیب کے متعلق کچھ نہیں
لکھا۔ اس دور کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ بیت المقدس کی فتح کے بعد سلطان ایوبی نے صلیب وہاں کے عیسائیوں کو
احترام سے لوٹا دی تھی۔
شام تک جنگ حطین کا فیصلہ ہوچکا تھا۔ صلیبیوں کے جانی نقصان کا کوئی شمار نہ تھا۔ باقی فوج نے ہتھیار ڈال دئیے
تھے۔ سلطان ایوبی کے سامنے جو قیدی الئے گئے ،ان میں ریمانڈ کے سوا باقی چھ اتحادی تھے اور ان میں کرک کا شہزادہ
ارناط بھی تھا جسے اپنے ہاتھوں قتل کرنے کی قسم سلطان ایوبی نے کھائی تھی۔ مؤرخ لکھتے ہیں اور اس کا تفصیلی ذکر
قاضی بہائوالدین شداد نے کیا ہے کہ سلطان ایوبی نے صلیبی بادشاہ جیفرے کو شربت پیش کیا۔ جیفرے نے آدھا شربت پی کر
گالس ارناط کو دے دیا۔
ارناط شربت پینے لگا تو سلطان ایوئی نے اپنے ترجمان سے گرج کر کہا… ''اسے (ارناط سے) کہو کہ اسے میں نے نہیں،
اپنے بادشاہ نے شربت دیا ہے۔ عربی میزبان صرف اس دشمن کو شربت پیش کرتے ہیں جس کی وہ جان بخشی کردیتے ہیں۔
میں نے ارناط کو شربت پیش نہیں کیا''… بہائوالدین شداد لکھتا ہے کہ سلطان ایوبی کی آنکھوں سے جیسے شعلے نکل رہے
تھے۔
21:04
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 149ایوبی نے قسم کھائی تھی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بہائوالدین شداد لکھتا ہے کہ سلطان ایوبی کی آنکھوں سے جیسے شعلے نکل رہے تھے۔ سلطان نے مالزموں سے کہا کہ ان
سب کو کھانے پر بٹھائو۔ جب سب کھانے والے خیمے میں جاکر کھانا کھا چکے تو سلطان نے پھر جیفرے اور ارناط کو اپنے
خیمے میں بالیا۔ اس نے ارناط سے کہا کہ تم ہمیشہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کرتے رہے ہو۔ تمہاری
نجات اس میں ہے کہ اسالم قبول کرلو۔ ارناط نے انکار کردیا۔ سلطان ایوبی کو یہی توقع تھی۔ اس نے بڑی تیزی سے تلوار
نکالی اور ایک ہی وار سے ارناط کا ایک بازو جسم سے الگ کردیا اور چال کر کہا… ''مردود! تو نے میرے رسول صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی ،اگر یہ گالیاں مجھے دیتا تو آج تو زندہ ہوتا''… مؤرخ لکھتے ہیں کہ سلطان ایوبی کے خیمے
میں اس کے جو دو تین ساالر تھے ،انہوں نے تلواروں سے ارناط کو ختم کردیا۔ سلطان نے نفرت کے لہجے میں حکم دیا…
''اس ناپاک الش کو باہر پھینک دو''۔
قاضی بہائوالدین شداد لکھتا ہے… ''سلطان ایوبی نے اس کی الش خیمے سے باہر اور اس کی روح جہنم کے اندر پھینک
دی''۔
بادشاہ جیفرے نے اپنے اتحادی کا یہ انجام دیکھا تو اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ وہ سمجھ گیا کہ اب اس کی باری
ہے۔ سلطان ایوبی نے اسے دیکھا تو آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا اور تحمل سے کہا… ''بادشاہ بادشاہوں کو
قتل نہیں کیا کرتے لیکن اس کے گناہ ایسے تھے کہ مجھے اسے اپنے ہاتھوں قتل کرنے کی قسم کھانی پڑی۔ آپ نہ ڈریں''۔
قیدی بادشاہوں کو قیدیوں کے خیموں میں بھیج دیا گیا اور سلطان ایوبی سجدے میں گر پڑا۔
کرک کے محل میں رات خاموش تھی ،وہاں ارناط بھی نہیں تھا اور اس کے جرنیل اور درباری بھی نہیں تھے ،وہاں اس کے
حرم کی عورتیں تھیں ،کلثوم تھی اور ان کے نوکر اور نوکرانیاں تھیں اور قلعے میں مختصر سی فوج تھی۔ وہاں ابھی ارناط
کی موت کی اطالع نہیں پہنچی تھی۔ رات کا پہال پہر گزر چکا تھا ،اس وقت تک کلثوم سو جاتی تھی۔
ایک عورت دبے پائوں کلثوم کی خواب گاہ میں داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں خنجر تھا۔ وہ کلثوم کے پلنگ تک پہنچی۔
کمرے میں کوئی روشنی نہیں تھی۔ عورت نے خنجر واال ہاتھ بلند کیا اور پوری طاقت سے خنجر کا وار کیا لیکن اسے کوئی
چیخ نہ سنائی دی۔ خنجر پلنگ میں اتر گیا تھا۔ اس نے بستر پر ہاتھ پھیرا ،وہاں کلثوم نہیں تھی۔ عورت یہ سمجھ کر کہ
کلثوم کہیں نکل گئی ہوگی ،پلنگ کے ساتھ چھپ کر بیٹھ گئی۔
ذرا سی دیر بعد کمرے میں دبے پائوں کسی کی آہٹ سنائی دی جو پلنگ تک گئی۔ عورت نے اٹھ کر اس پر خنجر کا وار
کیا۔ فورا ً بعد اس کے اپنے پیٹ میں خنجر اتر گیا ،پھر دونوں طرف سے خنجروں کے وار ہوئے ،دونوں باہر کو دوڑیں اور باہر
جا کر گر پڑیں۔ حرم کی دوسری عورتوں نے دیکھا کہ ان میں کلثوم نہیں تھی۔ یہ دونوں حرم کی عورتیں تھیں جو کلثوم کو
قتل کرنے گئی تھیں۔ اسی روز دونوں نے اس کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا مگر یہ غلط فہمی رہی کہ قتل کرنے کون جائے
گی۔ اندھیرے کمرے میں دونوں نے ایک دوسری کو کلثوم سمجھا۔
اس وقت کلثوم محل سے ہی نہیں ،کرک سے ہی نکل گئی تھی۔ اسی روز بکر بن محمد کو اپنے جاسوس ساتھیوں کے
ذریعے اطالع ملی تھی کہ حطین میں صلیبیوں کو بہت بری شکست ہورہی ہے۔ کرک کے جاسوسوں نے ہی بکر کو مشورہ دیا
تھا کہ وہ کلثوم کو لے کر نکل جائے۔ کلثوم کے لیے رات قلعے کا دروازہ کھلوانا مشکل نہیں تھا۔ سب جانتے تھے کہ یہ
شہزادہ ارناط کی چہیتی ہے۔ بکر بن محمد سیبل کے روپ میں اس کے ساتھ اور اسے شاہی بگھی میں لے جارہا تھا۔ حرم
کی کوئی عورت کلثوم کو جاتے نہیں دیکھ سکی تھی۔
شہر سے دور جاکر انہیں وہ دو گھوڑے مل گئے جو جاسوسوں کے انتظام کے تحت وہاں انتظار میں کھڑے تھے۔ بگھی وہیں
چھوڑ دی گئی۔ کلثوم اور بکر گھوڑوں پر سوار ہوئے اور غائب ہوگئے۔ دوسرے دن راستے میں انہیں اپنی فوج کے ایک قاصد
نے بتایا کہ صلیبیوں کو شکست ہوچکی ہے ،ارناط مارا جاچکا ہے اور سلطان ایوبی ابھی حطین میں ناصرہ کے عالقے میں ہے۔
کلثوم سلطان کے پاس جانا چاہتی تھی۔
وہ جھیل گیلیلی پہنچ گئے… اور جب کلثوم کو سلطان ایوبی کے سامنے لے جایا گیا تو وہ سلطان کے پائوں پر گر پڑی۔
میری بیٹی!''… سلطان ایوبی نے اسے اٹھا کر شفقت سے گلے لگایا اور کہا… ''میری فتح میں تم جیسی نہ جانے کتنی''
بیٹیوں کا ہاتھ ہے''۔
میں اس کی الش دیکھنا چاہتی ہوں''… کلثوم نے کہا۔''
سب کی الشیں دریا میں پھینک دی گئی ہیں''… سلطان ایوبی نے کہا… ''اسے میں نے اپنے ہاتھوں سزا دی ہے… تمہیں''
کل قاہرہ بھجوا دیا جائے گا۔ مجھے ابھی بہت دور جانا ہے ،جہاں بھی رہو بیٹی! میرے لیے دعا کرتی رہنا کہ میں آگے ہی
آگے دور ہی :دور جاتا رہوں اور جہاں شام کو سورج ڈوب جاتا ہے۔ وہاں تک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کا پیغام پہنچا دوں''۔
حطین کی فتح اس لیے بہت اہم تھی کہ اس سے سلطان ایوبی نے ارض فلسطین کا دروازہ توڑ لیا اور اس میں داخل ہوگیا
تھا۔ اتنا وسیع عالقہ لے کر اس کے لیے بیت المقدس کی فتح آسان ہوگئی تھی۔ اس نے اس عالقے کو فوجی مستقر بنالیا
اور بیت المقدس کی طرف پیش قدمی کی تیاری اور اسلحہ اور رسد ذخیرہ کرنے لگا۔
21:05
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 150فصل صلیبی جس نے کاٹی تھی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حطین میں سلطان صالح الدین ایوبی نے جو فتح حاصل کی تھی ،وہ معمولی نوعیت کی نہیں تھی۔ سات صلیبی حکمران
متحد ہوکر سلطان ایوبی کی جنگی قوت کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے اور اس کے بعد مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ پر قبضہ
کرنے آئے تھے لیکن وہ اپنی جنگی قوت کا یہ حشر کرا بیٹھے جیسے صحرا کا ٹیلہ آندھی سے ریت کے ذروں کی صورت
میں صحرا میں بکھر جاتا ہے۔
چار مشہور اور طاقتور حکمران جنگی قیدی بنے جن میں یروشلم (بیت المقدس) کا حکمران گائی آف لوزینان قابل ذکر ہے۔
صلیبی فوج کا مورال ٹوٹ گیا اور سلطان ایوبی کی فوج کا مورال بلند ہوگیا۔
جنگ ختم ہوچکی تھی ،چھاپہ ماروں کی جنگ جاری تھی۔ وہ بھاگنے والے صلیبی سپاہیوں کو پکڑ رہے تھے۔ صلیبیوں کے
حوصلے اس حد تک پست ہوچکے تھے کہ قاضی بہائوالدین شداد کے الفاظ میں ''ایک شخص نے جس کے متعلق مجھے یقین
ہے کہ سچ بولتا ہے ،مجھے بتایا کہ اس نے اپنی فوج کے سپاہی کو د یکھا جو تیس صلیبی سپاہیوں کو خیمے کی ایک ہی
رسی سے باندھے ہوئے الرہا تھا''۔ ایسے مناظر تو کئی ایک دیکھنے میں آئے کہ ایک ایک مسلمان سپاہی کئی کئی صلیبی
سپاہیوں کو نہتہ کرکے ہانک کر ال رہا ہے۔ بعض یورپی مؤرخوں نے صلیبیوں کی اس شکست کے اسی قسم کے کئی واقعات
لکھے ہیں اور سلطان صالح الدین ایوبی کی جنگی اہلیت کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
بحیرٔہ روم کے ساحل پر اسرائیل کے شمال میں عکرہ ایک مشہور شہر تھا جسے بعض نے عل ّہ بھی لکھا ہے۔
اس شہر کی شہرت کی وجہ یہ ہے کہ وہاں صلیب اعظم کا محافظ پادری رہتا تھا۔ پچھلی قسط میں سنایا جاچکا ہے کہ وہ
عیسی علیہ السالم کو اسی پر
صلیب عکرہ کے بڑے گرجے میں رکھی تھی جس کے متعلق عیسائیوں کا عقیدہ تھا کہ حضرت
ٰ
مصلوب کیا گیا تھا۔ اسے صلیب الصلبوت کہتے تھے۔ سلطان ایوبی کے خالف لڑنے والے بلکہ دنیائے عرب پر قبضہ کرنے کے
لیے لڑنے والے عیسائی اسی صلیب پر حلف اٹھاتے تھے۔ اسی لیے انہیں صلیبی کہا گیا تھا۔ حلف اٹھانے والے ہر صلیبی کے
لہذا جتنے صلیبی فوجی جنگ میں گرتے تھے ،اتنی
گلے میں لکڑی کی چھوٹی سی صلیب تعویذ کی طرح ڈال دی جاتی تھی۔ ٰ
فصل صلیبی کہا ہے۔
ہی صلیبیں گرتی تھیں۔ عالمہ اقبال نے اس کو
ِ
حطین اور اس کے گردونواح کے میل ہا میل عالقے میں اور اس سے بھی دور دور جہاں جہاں جنگ لڑی گئی تھی ،صلیبیوں
کی الشیں بکھری ہوئی تھیں۔ مرنے والے تڑپ تڑپ کر مرے تھے۔ معمولی طور پر زخمی ہونے والے بھی مر گئے تھے جس
کی وجہ زخم نہیں پیاس تھی۔ آہن پوش نائٹوں کے لیے زرہ بکتر تنور بن گئی اور ان کی موت کا باعث بنی تھی۔ زخمیوں
کو پانی پالنے واال کوئی نہ تھا ،نہ کوئی ان کی مرہم پٹی کرنے واال تھا۔ ان میں مسلمان زخمی اور شہید بھی تھے۔ انہیں
رات مشعلوں کی روشنی میں اٹھا لیا گیا تھا۔
آج کے دور کا ایک مؤرخ انتونی ویسٹ اس دور کے مؤرخوں کے حوالے سے لکھتا ہے کہ حطین کے میدان جنگ میں الشوں
کی تعداد تیس ہزار سے اوپر تھی۔ الشیں اٹھانے کا کوئی انتظام نہ کیا گیا۔ ان کے جو ساتھی زندہ رہے ،وہ جنگی قیدی
ہوگئے یا تتر بتر ہوکر بھاگ گئے تھے۔ انتونی ویسٹ نے لکھا ہے کہ ان الشوں کو مردار خور پرندوں اور درندوں نے کھایا۔
مردار خور اتنے نہیں تھے جتنی الشیں تھیں۔ بہت سی الشیں چند دنوں میں ہڈیوں کے سالم ڈھانچوں میں بدل گئیں۔ بلندی
سے دیکھنے والے کو حد نگاہ تک زمین ہڈیوں کی وجہ سے سفید نظر آتی تھی۔ ان ہڈیوں میں ہزاروں چھوٹی چھوٹی صلیبیں
بکھری ہوئی تھیں جیسے پکے ہوئی فصل سے پھل گر کر خشک ہوگیا ہو۔
سلطان صالح الدین ایوبی نے یہ فصل کاٹ ڈالی تھی۔ اسے اس عالقے کو الشوں سے صاف کرنے کی ضرورت نہیں تھی
کیونکہ اسے وہاں رکنا نہیں تھا۔ اس کی منزل بیت المقدس تھی لیکن وہ باتیں عکرہ کی کررہا تھا۔ عکرہ کے متعلق ہم بتا
چکے ہیں کہ صلیب الصلبوت کی بدولت اسے وہی مقام حاصل ہوگیا تھا جو ہمارے لیے مکہ معظمہ کا ہے۔ تمام صلیبی
حکمران عکرہ جاکر صلیب کے محافظ اعظم سے دعا لیتے اور صلیب اعظم کو چوم کر میدان جنگ میں جاتے تھے لیکن اب
یہ صلیب سلطان صالح الدین ایوبی کے خیمے کے باہر پڑی تھی۔ اس کا محافظ اعظم پادری مارا جاچکا تھا۔ یہ بھی ایک
وجہ تھی کہ صلیبی دل چھوڑ بیٹھے تھے۔
٭ ٭ ٭
ہمیں اب سیدھا عکرہ پر یلغار کرنی ہے''… سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں اور نائب ساالروں سے کہا… ''اللہ کا شکر'' :
ادا کرتا ہوں کہ مجھے پورا محفوظہ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑی''… اس نے سب پر نگاہیں دوڑائیں اور مسکرا کر
کہا… ''یہ نہ سمجھو کہ مجھے آپ کی اور آپ کے دستوں کی تھکن کا احساس نہیں۔ اس کا اجر تمہیں اللہ دے گا۔ تمہارا
اقصی میں ہوگا۔ اگر ہم یہاں آرام کرنے بیٹھ گئے تو صلیبی کہیں جمع ہوکر تازہ دم ہوجائیں گے۔ میں انہیں زخم
حج مسجد
ٰ
چاٹنے کی بھی مہلت نہیں دینا چاہتا''۔
ساالر قدرے حیران ہوئے۔ انہیں توقع تھی کہ سلطان بیت المقدس کی طرف پیش قدمی کا حکم دے گا مگر اس نے عکرہ پر
حملے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اس کے پیچھے صلیب الصلبوت رکھی تھی۔ اس نے صلیب کو دیکھا اور کچھ دیر دیکھتا رہا۔ حاضرین
پر خاموشی طاری رہی۔ اس نے اچانک تیزی سے ساالروں کی طرف گھوم کر کہا… ''میرے رفیقو! یہ د و عقیدوں کی جنگ
عیسی علیہ السالم کا نہیں ،یہ خون
ہے۔ یہ حق اور باطل کا تصادم ہے ،اس صلیب پر جما ہوا خون دیکھو۔ یہ خون حضرت
ٰ
اس پادری کا نہیں جسے عیسائی دنیا اس صلیب کا محافظ مانتی تھی اور یہ خون ان راہبوں کا بھی نہیں جنہوں نے یہ اتنی
بڑی صلیب میدان جنگ میں اٹھا رکھی تھی۔ وہ سب اللہ کے سپاہیوں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں لیکن یہ خون ان میں سے
کسی کا بھی نہیں۔ یہ باطل کا خون ہے ،یہ بے بنیاد عقیدے کا اور یہ انسانوں کے بنائے ہوئے نظریئے کا خون ہے''۔
سلطان ایوبی کی آواز میں جذبات کا جوش پیدا ہوگیا۔ اس نے کہا… ''میں ہر جنگی مہم جمعہ کے روز شروع کرتا ہوں۔ پیش
قدمی جمعہ کے روز کرتا ہوں ،جمعہ مبارک دن ہے۔ میں ہر مہم کی ابتداء جمعہ کے خطبے کے وقت کیا کرتا ہوں کیونکہ یہ
وقت قبولیت ایزدی کا ہوتا ہے اور جب تم دشمن سے لڑ رہے ہوتے ہو ،تم پر تیروں کا مینہ برس رہا ہوتا ہے ،دشمن کی
منجنیقیں تم پر آگ اور پتھر برسا رہی ہوتی ہیں ،اس وقت قوم کے ہر فرد بشر کے ہاتھ اللہ کے حضور تمہاری سالمتی اور
فتح کے لیے اٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ تم نے دیکھا نہیں کہ میں نے کوچ جمعہ کے روز کیا تھا اور اس جنگ کی ابتدا بھی
جمعہ کے روز کی تھی؟ اور تم فاتح ہو۔ تمہیں اللہ کی خوشنودی حاصل ہے۔ یہ ہمارے عظیم عقیدے اور نظریئے کی فتح ہے۔
یہ چاند ستارے اور چوبی صلیب کا معرکہ تھا جو چاند ستارے نے جیت لیا… میں تم سے یہ باتیں کیوں کہہ رہا ہوں؟ اس
لیے کہ تم میں سے کسی کے دل میں اپنے عقیدے کے متعلق کچھ شک ہو تو وہ رفع ہوجائے اور تم اللہ کی رسی کو اور
…''زیادہ مضبوطی سے پکڑ لو
تم شاید حیران ہورہے ہو کہ میں نے عکرہ پر حملے کا فیصلہ کیوں کیا ہے۔ جذباتی لحاظ سے اس کی وجہ یہ ہے کہ ''
صلیبیوں نے ایک بار مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ کی طرف پیش قدمی کی تھی۔ شہزادہ ارناط (کائونٹ ریجنالڈ) مکہ معظمہ
سے صرف دو کوس دور رہ گیا تھا۔ میں نے ارناط سے مکہ معظمہ کو بری نظر سے دیکھنے کا انتقام لے لیا۔ اب مجھے
اقصی کی جو
صلیبیوں کے حکمرانوں اور نائٹوں سے انتقام لینا ہے۔ عکرہ ان کا مکہ ہے۔ میں اسے تہہ تیغ کروں گا۔ مسجد
ٰ
بے حرمتی ہورہی ہے ،میں اس کا انتقام لوں گا… اور جنگی لحاظ سے بیت المقدس سے پہلے عکرہ پر قبضہ کرنا اس لیے
ضروری ہے کہ اس سے صلیبیوں کے حوصلے پست ہوجائیں گے''۔
سلطان ایوبی نے بہت بڑا نقشہ جو اس نے اپنے ہاتھ سے بنا رکھا تھا ،کھول کر سب کے آگے پھیالیا اور حطین پر انگلی
رکھ کر کہا… ''تم اس وقت یہاں ہو''… وہ اپنی انگلی اس طرح عکرہ تک تیزی سے لے گیا جیسے اس نے کچھ کاٹنے کے
لیے خنجر کی نوک چالئی ہو۔ کہنے لگا… ''میں صلیبیوں کے حکمرانوں کو دو حصوں میں کاٹ کر ان حصوں کے درمیان
آجائوں گا ۔ عکرہ پر قبضہ کرکے میں ٹاِئ ر ،بیروت ،حیفہ ،عسقالن اور چھوٹے بڑے تمام ساحلی شہروں اور قصبوں کو تباہ و
بربادکروں گا۔ کسی بھی صلیبی کو خواہ وہ فوجی ہے یا غیرفوجی ان عالقوں میں نہیں رہنے دوں گا۔ ساحلی عالقوں پر قبضہ
اس لیے بھی ضرورت ہے کہ یورپ کی کچھ اور بادشاہ یہاں اپنے صلیبی بھائیوں کی مدد کے لیے اپنی فوجیں ،مال ودولت اور
جنگی سامان بھیجیں گی۔ ساحل تمہارا ہوگا تو دشمن کا کوئی بحری جہاز ساحل کے قریب نہیں آسکے گا۔ یہاں سے ہم بیت
المقدس کی طرف پیش قدمی کریں گے۔ ہمیں جنگ جاری رکھنی ہے''۔
اگر آپ فلسطین ( موجودہ اسرائیل) اور لبنان کا نقشہ دیکھیں تو آپ کو جھیل گیلیلی کے کنارے پر حطین اور اس کے بالمقابل
سمندر کے کنارے عکرہ نظر آئیں گے۔ جنوب میں یروشلم (بیت المقدس) ہے۔ حطین سے عکرہ پچیس میل اور حطین سے
بیت المقدس ستر میل ہے۔ آج کے لبنان اور فلسطین پر صلیبی قابض تھے۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ سلطان صالح الدین ایوبی نے
پالن بنایا تھا کہ حطین سے عکرہ تک اس طرح پیش قدمی کرے گا کہ راستے میں آنے والے عالقوں پر قبضہ کرتا جائے گا
اور وہاں کے صرف مسلمان باشندوں کو وہاں رہنے دے گا اور صلیبیوں کو وہاں سے نکال دے گا۔ جنگی علوم کے ماہرین نے
اسے نہایت عمدہ پالن کہا ہے۔ سلطان ایوبی نے یہ پالن صلیبیوں کی جنگی قوت کو دو حصوں میں کاٹنے کے لیے ہی بنایا
تھا۔ اس کی فوج صلیبیوں کے مقابلے میں صلیبیوں کے اتنے زیادہ جانی نقصان کے باوجود کم تھی لیکن اس کی جنگی چالیں
صلیبیوں سے برتر اور نقل وحرکت کی رفتار بہت تیز تھی۔
٭ ٭ ٭
عکرہ کا دفاع بہت مضبوط ہے''… سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں سے کہا… ''ہمارے جاسوسوں نے بتایا ہے کہ وہاں جوان''
اور تندرست مسلمان باشندے قید میں پڑے ہیں۔ عورتیں اور بچے بھی قید میں ہیں ،وہاں کے عیسائی شہری شہر کے دفاع
میں جان کی بازی لگا کر لڑیں گے۔ چونکہ مسلمان قید میں ہیں ،اس لیے وہ اندر سے ہماری کوئی مدد نہیں کرسکیں گے۔
میں لمبا محاصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ تمہاری یلغار طوفانی ہونی چاہیے۔ عکرہ تک ہماری پیش قدمی کی حفاظت چھاپہ مار کریں
گے۔ پیش قدمی پھیل کر ہوگی۔ راستے میں کوئی بستی آباد نہ رہے مگر سپاہی مال غنیمت کے لیے رکیں نہیں۔ اس کام کے
لیے الگ جیش مقرر کردئیے گئے ہیں''۔
عکرہ میں مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ کوئی بوڑھا یا ا پاہج مسلمان آزاد ہوگا۔ باقی سب دہشت زدگی کی زندگی گزار رہے
تھے۔ بہائوالدین شداد نے ان مسلمانوں کی تعداد جو قید میں تھے ،چار ہزار سے زائد لکھی ہے۔ شداد کے عالوہ اس دور کے
دو واقعہ نگاروں نے پانچ اور چھ ہزار کے درمیان لکھی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیں کہ عکرہ مسلمانوں کے لیے قید
خانہ تھا۔ کسی مسلمان کی بہو بیٹی کی عزت محفوظ نہیں تھی۔ صلیبیوں کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان چلتی پھرتی الشیں بن
کے رہ جائیں اور ان کے بچوں میں مذہب اور قومیت کا احساس ہی پیدا نہ ہو ،وہاں کی مسجدیں ویران ہوگئی تھیں۔
٤جوالئی ١١٨٧ء کے بعد وہاں کے مسلمانوں پر صلیبیوں نے ظلم وتشدد کا اضافہ کردیا۔ گھروں میں جو مسلمان تھے ،انہیں بھی
ہانک کر کھلے قید خانے میں لے گئے۔ یہ ایک طرح کا بیگار کیمپ تھا۔ وہاں مسلمانوں سے مویشیوں کی طرح کام لیا جاتا
تھا۔ ٥جوالئی ١١٨٧ء کے بعد انہیں کام کے لیے باہر نہ نکاال گیا اور ان پر پہرہ اور سخت کردیا گیا۔ اس سے ان بدنصیبوں
نے اندازہ لگا لیا کہ صلیبیوں کو کہیں شکست ہوئی ہے یا اسالمی فوج نے شہر کا محاصرہ کرلیا ہے۔ عورتیں خدا کے حضور
گڑگڑانے لگیں۔ سجدوں پہ سجدے کرنے لگیں۔ قید خانے میں سسکیاں سنائی دینے لگیں ،مائوں نے ننھے ننھے بچوں کے ہاتھ
پکڑ کر دعا کے لیے اٹھائے اور کہا… ''بیٹا! کہو اللہ اسالم کو فتح دے ،کہو میرے اللہ باہر کے مسلمانوں کو ہمت دے کہ
ہمیں ظالموں کی بستی سے نکال لے جائیں''۔
سینکڑوں بچے اور سینکڑوں عورتیں اللہ کے حضور دست دعا تھیں۔ بچے اپنی مائوں کو سسکتا دیکھ کر رونے لگے تھے۔ انہیں
آہ وبکا سنائی دی اور اس کے ساتھ کوڑوں کے زناٹے بھی سنائی دینے لگے۔ سب سہم گئے ،انہوں نے دیکھا کہ بہت سے
قیدی الئے جارہے تھے۔ یہ شہر کے وہ باشندے تھے جو گھروں میں تھے۔ ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی ساتھ لے آئے
تھے ،ان پر کوڑے برسائے جارہے تھے۔
٧/٦جوالئی کی درمیانی رات آدھی گزر گئی تھی جب شہر میں بڑبونگ بپا ہوگئی اور آگ کے شعلے کہیں کہیں سے بلند ہونے
لگے۔ تیر اس کھلے قید خانوں میں بھی گرنے لگے۔ ان قیدیوں کے اردگرد خشک زردار جھاڑیوں کی گھنی باڑ بچھی ہوئی تھی
اور رسوں کے جال بھی تنے ہوئے تھے۔ رات کو قید خانے کے اردگرد جگہ جگہ مشعلیں جال کر رکھ دی گئیں تاکہ قیدیوں پر
نظر رکھی جاسکے۔ کسی قیدی نے باہر سے آیا ہوا ایک تیر اٹھا کر مشعل کی روشنی میں دیکھا تو اس نے چال کر کہا…
''میں اس تیر کو پہچانتا ہوں ،یہ اسالمی فوج کا تیر ہے''۔
رسوں کے جال میں سے ایک تیر سنسناتا آیا جو اس قیدی کے سینے میں اتر گیا۔ یہ کسی صلیبی سنتری نے اس مسلمان
کو خاموش کرنے کے لیے چالیا تھا۔ شہر جاگ اٹھا۔ شہر اور قلعے کی دیواروں پر بھاگ دوڑ اور شور میں اضافہ ہوتا جارہا تھا
اور کمانوں سے تیر نکلنے کی آوازیں بڑھتی جارہی تھی۔ باہر ''اللہ اکبر'' کے نعرے گرجنے لگے تھے ،دھمک دھمک کی
آوازیں بھی سنائی دینے لگی تھیں۔ یہ بڑے بڑے پتھر تھے جو سلطان ایوبی کی فوج کی منجنیقیں دیوار کے کسی ایک مقام
پر پھینک رہی تھیں۔
یہ سلطان صالح الدین ایوبی کا محاصرہ تھا جو محاصرہ کم اور یلغار زیادہ تھی۔ شہر میں آگ پھینکنے والی منجنیقوں کے
عالوہ دروازوں اور دیوار پر وزنی پتھر پھینکنے والی بڑی منجنیقیں بھی استعمال کی جارہی تھیں۔ بلند مچانیں ساتھ الئی گئی
تھیں ،ہر ایک مچان میں دس اور بیس تک سپاہی کھڑے ہوسکتے تھے۔ ان کے نیچے پہئے تھے ،انہیں گھوڑے یا اونٹ
کھینچتے تھے۔ یہ متحرک مچانیں دیوار تک لے جائی جاتی تھیں مگر صلیبی شہر کے دفاع میں بے جگری سے لڑ رہے تھے۔
شہر ی بھی اپنی فوج کے دوش بدوش لڑ رہے تھے۔ وہ سلطان ایوبی کی متحرک مچانوں پر تیروں کی بوچھاڑیں مار کر
مسلمان سپاہیوں کو ختم کردیتے تھے۔ بعض مچانیں جو دیوار کے قریب چلی گئی تھیں ،ان پر صلیبیوں نے جلتی ہوئی مشعلیں
پھینکیں اور آتش گیر سیال کی ہانڈیاں پھینک کر انہیں جال ڈاال۔
اندر قیدی کیمپ میں اب یہ کیفیت تھی کہ ہزار ہا قیدی ایک ہی آواز میں ال الہ اال اللہ کا ورد کررہے تھے۔ عورتوں نے
جھولیاں پھیال رکھی تھیں اور بہتے آنسوئوں سے مردوں کے ساتھ آواز مال کر کلمہ شریف کا ورد کررہی تھیں۔ پھر کسی نے
بلند آواز سے کہا… ''نصر من اللہ وفتح وقریب''… فورا ً ہی تمام مردوں ،عورتوں اور بچوں کی آوازیں ایک آواز بن گئی جو
جنگ کے شوروغل سے زیادہ بلند تھیں اور سارے شہر میں سنائی دے رہی تھی۔
دو تین سنتری اندر آگئے ،وہ قیدیوں کو خاموش کرانے کی کوشش کرنے لگے ،تین چار جوشیلے جوان اٹھے اور سنتریوں پر
ٹوٹ پڑے۔ پھاٹک کھال تھا ،باقی قیدی باہر کو دوڑے مگر تیروں کی بوچھاڑ نے آگے والوں کو گرا دیا ،پھر گھوڑے سرپٹ دوڑتے
آئے۔ سواروں کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں ،قیدی اندر کو بھاگے اور جو پیچھے رہ گئے تھے ،وہ سواروں کی برچھیوں سے
شہید ہوگئے۔ فرار کامیاب نہ ہوسکا۔ عورتیں اور بچے اللہ کے حضور سجدے کرنے لگے اور پھر سب ایک ہی آواز میں کالم
پاک کا ورد کرنے لگے۔
رات بھر سلطان ایوبی کے جانباز جیش دیوار تک پہنچنے اور شگاف ڈالنے یا سرنگ کھودنے کے لیے آگے بڑھتے رہے اور اوپر
سے صلیبی ان پر تیر ،پتھر اور آگ پھینکتے رہے۔ سلطان ایوبی بے دریغ قربانی دے رہا تھا۔ شہر کی دیوار کے ایک مقام پر
بڑی منجنیقوں سے وزنی پتھر مارے جارہے تھے۔ صبح طلوع ہوئی تو دیوار پر ہر طرف عکرہ کے شہری اور فوجی مکھیوں کی
طرح نظر آرہے تھے۔ وہ تیر برسا رہے تھے ،یہ بھی نظر آیا کہ دیوار ایک جگہ سے پھٹ رہی تھی۔ سلطان ایوبی گھوڑے پر
سوار ذرا پیچھے کھڑا دیکھ رہا تھا۔ اس نے حکم دیا کہ جہاں سے دیوار پھٹ رہی ہے ،اس کے اوپر اور دائیں بائیں سے
دشمن پر تیروں کا مینہ برسا دو۔ اس نے دوسری طرف سے بھی تیر انداز بال کر اسی مقام پر مرکوز کردئیے۔ اس نے سرنگیں
کھودنے والے جیش سے کہا کہ دوڑ کر دیوار تک پہنچیں۔
جانبازوں کا جیش پہنچ گیا۔ دیوار کے اوپر اتنے زیاد اور اتنے تیز تیر برسائے جارہے تھے کہ اوپر والوں کے لیے سر اٹھانا
محال ہوگیا۔ جانبازوں نے دیوار میں اتنا شگاف ڈال لیا جس میں سے دو آدمی بیک وقت گزر سکتے تھے۔ سپاہیوں میں اس
قدر جوش وخروش تھا کہ وہ حکم کے بغیر شگاف کی طرف اٹھ دوڑے اور ایک دوسرے کے پیچھے اندر چلے گئے۔ صلیبیوں نے
دیوار کے اوپر سے نیچے آتے اتنا وقت لگا دیا کہ بہت سے مسلمان سپاہی اندر چلے گئے۔ صلیبیوں نے بے جگری سے مقابلہ
کیا مگر ان مسلمان عورتوں اور معصوم بچوں کی دعائیں جو اندر قید میں پڑے کفار کا ظلم وستم سہہ رہے تھے ،عرش تک
پہنچ چکی تھیں۔ سلطان ایوبی کی دراصل قوت تو یہ تھی۔
٭ ٭ ٭
شہر کے اندر بھگدڑ بپا ہوگئی۔ وہاں یہ خبر پہلے ہی پہنچ چکی تھی کہ صلیب الصلبوت مسلمانوں کے قبضے میں چلی گئی
ہے اور اس کا محافظ اعظم مارا گیا ہے۔ حطین کی جنگ سے بھاگے ہوئے صلیبی سپاہی بھی اس شہر میں آئے تھے۔ کچھ
زخمی بھی پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے اپنی شکست اور پسپائی کو برحق ثابت کرنے کے لیے بڑی دہشت ناک افواہیں پھیالئی
تھیں۔ ان کے اثرات اس وقت سامنے آئے جب سلطان ایوبی کے جانبازوں نے دیوار توڑ ڈالی اور رکے ہوئے سیالب کی طرح
اندر جانے لگے۔ صلیبیوں نے مقابلہ کیا لیکن شہریوں میں بھگدڑ بپا ہوگئی۔ وہ شہر سے بھاگنے کے لیے دروازوں پر ٹوٹ پڑے
اور سپاہیوں کے روکنے کے باوجود تین دروازے کھول دئیے۔
شہریوں کا ہجوم دروازوں میں پھنس گیا۔ مسلمان سواروں نے اپنے کمان داروں کے حکم سے گھوڑوں کو ایڑی لگا دی۔ گھوڑے
شہریوں کو کچلتے ہوئے اندر چلے گئے ،پھر مجاہدین کے سیالب کو کوئی نہ روک سکا۔ تمام دروازے کھل گئے اور صلیبی
ہتھیار ڈالنے لگے۔ سورج غروب ہونے سے پہلے عکرہ کا حکمران سلطان صالح الدین ایوبی کے سامنے کھڑا تھا۔ سلطان ایوبی
نے صلیبی فوج کے جرنیلوں اور دیگر کمانڈروں کو الگ کردیا اور اس جگہ چال گیا جہاں مسلمانوں کے پورے پورے کنبے قید
میں پڑے تھے۔ ان کے سنتری بھاگ گئے تھے اور قیدی پھاٹک اور رسوں کا جال توڑنے کی کوشش کررہے تھے۔
سلطان ایوبی ان سے دور ہی رک گیا۔ یہ تو انسانی الشیں تھیں ،اس نے عورتوں اور بچوں کو دیکھا تو اس کی آنکھوں میں
آنسو آگئے۔
جائو ،رسے کاٹ دو۔ انہیں آزاد کردو''… سلطان ایوبی نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا… ''اور انہیں یہ نہ بتانا کہ میں شہر''
میں موجود ہوں ،میں ان کا سامنا نہیں کرسکتا''۔
سلطان ایوبی کے حکم پر چند ایک سوار سرپٹ گھوڑے دوڑا کر پہنچے۔ انہوں نے لکڑی کا پھاٹک توڑ دیا۔ کئی جگہوں سے
رسوں کا جال کاٹ کر جھاڑیاں ہٹا دیں۔ قیدیوں کا ہجوم بھگدڑ کے انداز سے نکل رہا تھا۔ سواروں نے ان پر قابو پانے کے
لیے چال چال کر کہا… '' آرام سے نکلو ،اب تمہیں پکڑنے کوئی نہیں آئے گا۔ وہ دیکھو ،قلعے پر تمہارا جھنڈا لہرا رہا ہے''۔
انہوں نے ہمارے گناہوں کی سزا بھگتی ہے''… سلطان ایوبی نے اپنے پاس کھڑے ایک ساالر سے کہا… ''یہ غداروں کے ''
گناہ تھے جن کی سزا ان معصوموں کو ملی۔ اپنے دین کے دشمنوں کو دوست سمجھنے والوں نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ قوم
کا کیا حشر ہوگا۔ اگر میرا راستہ تخت وتاج کے شیدائی اور غدار نہ روک لیتے تو ہمارے ان ہزاروں بچوں اور بیٹیوں کی یہ
عیسی علیہ ا لسالم نے محبت اور امن کا سبق دیا تھا لیکن صلیب کے پجاریوں میں مسلمانوں کے
حالت نہ ہوتی… حضرت
ٰ
خالف اتنی نفرت بھری ہوئی ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کے فرمان کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ دنیا میں صرف دو مذہب باقی رہیں
گے۔ اسالم اور عیسائیت۔ اگر ہم نے دل سے دنیا کی جھوٹی لذتوں کو نہ نکاال تو عیسائیت ہماری اس کمزوری سے اسالم کا
خاتمہ کردے گی''۔
سلطان ایوبی اس جگہ گیا جہاں صلیبی جرنیل اور دیگر کمانڈر الگ کھڑے تھے۔ اس نے کہا… ''ان سب کو ساحل پر لے
جائو اور سب کو قتل کرکے سمندر میں پھینک دو۔ دوسرے جنگی قیدیوں میں سے چھانٹی کرلو ،جنہیں زندہ رکھنا چاہتے ہو،
انہیں دمشق بھیج دو اور باقی سب کو ختم کردو۔ کسی نہتے شہری پر ہاتھ نہ اٹھانا۔ ان میں سے جو شہر سے جانا چاہتے
ہیں انہیں مت روکو ،جو یہاں رہنا چاہتے ہیں ،انہیں عزت سے رہنے دو''۔
٨جوالئی ١١٨٧ء عکرہ پر قبضہ مکمل ہوچکا تھا۔
رات جب سلطان ایوبی کھانے سے فارغ ہوا تو اسے اطالع دی گئی کہ ایک نہایت اہم قیدی اس کے سامنے الیا جارہا ہے۔
''کون ہے وہ؟''
ہرمن''۔ سلطان کو بتایا گیا۔ ''صلیبیوں کا علی بن سفیان''۔''
قارئین نے اس سلسلے کی پچھلی کہانیوں میں ہرمن کا نام کئی بار پڑھا ہوگا۔ یہ علی بن سفیان کی طرح صلیبیوں کی انٹیلی
جنس کا سربراہ تھا اور کردار کشی کا ماہر ،جو صلیبی اور یہودی لڑکیاں مسلمان عالقوں میں جاسوسی اور کردار کشی کے لیے
بھیجی جاتی تھیں ،انہیں ٹریننگ دینے واال ہرمن تھا۔ وہ اپنی بہت سی لڑکیوں کے ساتھ عکرہ میں تھا اور پکڑا گیا۔ وہ شہر
سے نکل رہا تھا لیکن ایوبی کا ایک جاسوس اس کے تعاقب میں تھا۔ اس نے ہرمن کو اس کے بہروپ میں بھی پہچان لیا۔
وہ لڑکیوں کو کسان عورتوں جیسا لباس پہنا کر ساتھ لے جارہا تھا۔ جاسوس نے ایک کمان دار کو بتایا۔
کمان دار نے دو تین سپاہیوں کے ساتھ ہرمن اور اس کے زنانہ قافلے کو گھیر لیا۔ ہرمن لڑکیوں کے عالوہ اپنے ساتھ سونا
بھی لے جارہا تھا۔ اس نے لڑکیاں کمان دار اور اس کے سپاہیوں کے سامنے کھڑی کردیں اور سونا ان کے آگے رکھ دیا۔ بوال…
''جسے جو لڑکی پسند ہے لے لے اور یہ سونا بھی آپس میں بانٹ لو''۔
مجھے تمام لڑکیاں پسند ہیں''۔ کمان دار نے کہا… ''اور میں سارا سونا لے لوں گا۔ تم بھی میرے ساتھ چلو''۔''
وہ ان سب کو ساتھ لے آیا اور ان سب کو سونے سمیت سلطان ایوبی کے ذاتی عملے کے حوالے کردیا۔ ہرمن سلطان ایوبی
کے لیے اہم اور قیمتی قیدی تھا۔ اسے سلطان ایوبی کے کمرے میں داخل کردیا گیا۔
تم میری زبان جانتے ہو ہرمن!''… سلطان ایوبی نے کہا… ''اس لیے میری زبان میں بات کرو۔ میں تمہارے فن اور ''
تمہاری دانشمندی کا اعتراف کرتا ہوں۔ تمہاری قدر جتنی میں کرسکتا ہوں ،اتنی تمہارے حکمران نہیں کرسکے۔ میں تمہارے
ساتھ کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں''۔
اگر آپ مجھ سے باتیں کیے بغیر میرے قتل کا حکم دے دیں تو زیادہ اچھا ہوگا''۔ ہرمن نے کہا… ''اگر مجھے عکرہ ''
کی فوج کے جرنیلوں اور کمانڈروں کی طرح قتل ہونا اور میری الشوں کو مچھلیوں کی خوراک بننا ہے تو باتیں کرنے سے کیا
حاصل؟''۔
تم قتل نہیں ہوگے ہرمن!''… سلطان ایوبی نے کہا… ''میں جسے قتل کرایا کرتا ہوں ،اس کی صرف صورت دیکھا کرتا ''
ہوں ،اس سے کبھی بات نہیں کرتا''۔
سلطان نے دربان کو بالیا اور اسے کہا کہ ہرمن کو شربت پیش کرے۔ ہرمن کے چہرے پررونق آگئی۔ وہ عرب کے اس رواج
سے واقف تھا کہ عربی میزبان دشمن کو پانی یا شربت پیش کرے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے دل سے دشمنی
نکال دی ہے اور اس نے جاں بخشی کردی ہے۔ دربان نے شربت پیش کیا جو ہرمن نے پی لیا۔
آپ مجھ سے یہ پوچھنا چاہیں گے کہ کون کون سے عالقے میں ہماری کتنی کتنی فوج ہے''… ہرمن نے کہا… ''اور آپ''
یہ جاننا چاہیں گے کہ ان کی لڑنے کی اہلیت کیسی ہے''۔
نہیں''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''یہ تم مجھ سے پوچھو کہ تمہارے کس عالقے میں کتنی فوج ہے۔ میرے جاسوس تمہارے''
سینے کے اندر بیٹھے رہے ہیں… اور اب مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ کہاں کتنی فوج ہے۔ حطین میں تمہاری فوج تھوڑی
نہیں تھی۔ تھوڑی فوج میری تھی۔ اب اور تھوڑی رہ گئی ہے۔ ارض مقدس سے اب مجھے کوئی فوج نہیں نکال سکتی۔ تم یہ
خبر سنو گے کہ صالح الدین ایوبی مرگیا ہے ،پسپا نہیں ہوا''۔
اگر آپ کے تمام کمان دار اس کمان دار کے کردار کے ہیں جو مجھے پکڑ الیا ہے تو میں آپ کو یقین کے ساتھ کہتا ہوں''
کہ آپ کو بڑی سے بڑی فوج بھی یہاں سے نہیں نکال سکتی''۔ ہرمن نے کہا… ''میں نے اسے جو لڑکیاں پیش کی تھیں،
انہوں نے آپ کے پتھروں جیسے ساالروں اور قلعہ داروں کو موم کیا اور صلیب کے سانچے میں ڈھاال ہے اور سونا ایسی چیز
ہے جس کی چمک آنکھوں کو نہیں ،عقل کو اندھا کردیتی ہے۔ میں سونے کو شیطان کی پیداوار کہا کرتا ہوں۔ آپ کے کمان
دار نے سونے کی طرف دیکھا تک نہیں ،میری نظر انسانی فطرت کی کمزوریوں پر رہتی ہے۔ لذت اور ذہنی عیاشی ایمان کو
کھا جاتی ہے۔ میں نے آپ کے خالف یہی ہتھیار استعمال کیا ہے۔ جب یہ کمزوریاں کسی جرنیل میں پیدا ہوجاتی ہیں یا
پیدا کردی جاتی ہیں تو شکست اس کے ماتھے پر لکھ دی جاتی ہے۔ میں نے آپ کے ہاں جتنے غدار پیدا کیے ہیں ،ان میں
پہلے یہی کمزوریاں پیدا کی تھیں۔ حکومت کرنے کا نشہ انسانوں کو لے ڈوبتا ہے''۔
میری فوج کے کردار کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟'' سلطان ایوبی نے پوچھا۔''
اگر آپ کی فوج کا کردار ویسا ہی ہوتا ،جیسا میں بنانے کی کوشش کررہا تھا تو آج آپ کی فوج یہاں نہ ہوتی''… ہرمن''
نے کہا… '' اگر آپ بدکردار حکمرانوں ،امیروں ،وزیروں اور ساالروں کو ختم نہ کرچکے ہوتے تو وہ آپ کو کبھی کے ہماری قید
میں ڈال چکے ہوتے۔ میں آپ کی تعریف کروں گا کہ آپ نے دل میں حکومت کی خواہش نہیں رکھی''۔
ہرمن!'' سلطان ایوبی نے کہا… ''میں نے تمہاری جان بخشی کی ہے ،تمہیں اپنا دوست کہا ہے ،مجھے یہ بتائو کہ میں''
اپنی فوج کے کردار کو کس طرح مضبوط اور بلند رکھ سکتا ہوں اور میرے مرنے کے بعد یہ کردار کس طرح مضبوط رہ سکتا
ہے''۔
محترم سلطان!'' ہرمن نے کہا… ''میں آپ کو جاسوسی اور سراغ رسانی کا استاد سمجھتا ہوں۔ آپ صحیح مقام پر ''
ضرب لگاتے ہیں۔ آپ کا جاسوسی کا نظام نہایت کارگر ہے ،علی بن سفیان ،حسن بن عبداللہ اور بلبیس جیسے جاسوسی کے
ماہرین کی موجودگی میں آپ ناکام نہیں ہوسکتے مگر میں آپ کو یہ بتا دو کہ یہ صرف آپ کی زندگی تک ہے۔ ہم نے آپ
کے ہاں جو بیج بویا ہے ،وہ ضائع نہیں ہوگا۔ آپ چونکہ ایمان والے ہیں ،اس لیے آپ نے بے دین عناصر کو دبا لیا ہے۔ خانہ
جنگی کس نے کرائی تھی؟… ہم نے۔ ہم نے آپ کے امراء کے دلوں میں حکومت ،دولت ،لذت اور عورت کا نشہ بھر دیا ہے۔
…''آپ کے جانشین اس نشے کو اتار نہیں سکیں گے۔ میرے جانشین اس نشے کو تیز کرتے رہیں گے
محترم سلطان! یہ جنگ جو ہم لڑ رہے ہیں ،یہ میری اور آپ کی یا ہمارے بادشاہوں کی اور آپ کی جنگ نہیں۔ یہ کلیسا''
اور کعبہ کی جنگ ہے جو ہمارے مرنے کے بعد بھی جاری رہے گی۔ ہم میدان جنگ میں نہیں لڑیں گے۔ ہم کوئی ملک فتح
نہیں کریں گے ،ہم مسلمانوں کے دل ودماغ کو فتح کریں گے۔ ہم مسلمانوں کے مذہبی عقائد کا محاصرہ کریں گے ،ہماری یہ
لڑکیاں ،ہماری دولت اور ہماری تہذیب کی کشش ،جسے آپ بے حیائی کہتے ہیں ،اسالم کی دیواروں میں شگاف ڈالیں گی ،پھر
مسلمان اپنی تہذیب سے نفرت اور یورپ کے طور طریقوں سے محبت کریں گے۔ وہ وقت آپ نہیں دیکھیں گے ،میں نہیں
دیکھوں گا۔ ہماری روحیں دیکھیں گی''۔
سلطان ایوبی جرمن نژاد ہرمن کی باتیں بڑی غور سے سن رہا تھا۔ ہرمن کہہ رہا تھا… ''ہم نے فارس ،افغانستان یا ہندوستان
پر جا کرقبضہ کیوں نہیں جمایا؟ ہم نے عرب کو کیوں میدان جنگ بنایا ہے؟… صرف اس لیے کہ ساری دنیا کے مسلمان اسی
خطے کی طرف منہ کرکے عبادت کرتے ہیں اور یہاں مسلمانوں کا کعبہ ہے۔ ہم مسلمانوں کے اس مرکز کو ختم کررہے ہیں۔
اقصی سے آسمانوں پر گئے تھے ،ہم نے اس کی منڈیر پر
آپ کا عقیدہ ہے کہ آپ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد
ٰ
صلیب رکھ دی ہے اور وہاں کے مسلمانوں کو یہ بتا رہے ہیں کہ ان کا یہ عقیدہ غلط ہے کہ ان کے رسول صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کبھی یہاں آئے اور یہاں سے معراج کو گئے تھے''۔
ہرمن!'' سلطان ایوبی نے کہا… ''میں تمہارے نظریئے اور عزائم کی تعریف کرتا ہوں ،اپنے مذہب کے ساتھ ہر کسی کو ''
اسی طرح وفادار ہونا چاہیے جیسے تم ہو۔ زندہ وہی قوم رہتی ہے جو اپنے مذہب اور اپنی معاشرتی اقدار کی پاسبانی کرے
اور ان کے گرد ایسا حصار کھینچے کہ کوئی باطل نظریہ انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ میں جانتا ہوں کہ یہودی ہمارے ہاں
نظریاتی تخریب کاری کررہے ہیں اور وہ تمہارا ساتھ دے رہے ہیں۔ میں بیت المقدس جارہا ہوں اور اسی غرض سے جارہا ہوں
تعالی نے یہاں
جس غرض سے تم یہاں آئے ہو۔ یہ ہمارے عقیدوں کا مرکز ہے۔ میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ
ٰ
سے معراج کی سعادت بخشی تھی۔ میں اسے صلیب کے قبضے سے چھڑائوں گا''۔
قصی پھر ہماری عبادت گاہ بن جائے ''
پھر کیا ہوگا؟'' ہرمن نے کہا… ''پھر آپ اس دنیا سے اٹھ جائیں گے۔ مسجد ا
ٰ
گی۔ میں جو پیشن گوئی کررہا ہوں ،یہ اپنی اور آپ کی قوم کی فطرت کو بڑی غور سے
د یکھ کر کررہا ہوں۔ ہم آپ کی قوم کو ریاستوں اور ملکوں میں تقسیم کر کے انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنا دیں گے اور
فلسطین کا نام ونشان نہیں رہے گا۔ یہودیوں نے آپ کی قوم کے لڑکوں اور لڑکیوں میں لذت پرستی کا بیج بونا شروع کردیا
ہے۔ ان میں سے اب کوئی نورالدین زنگی اور صالح الدین ایوبی پیدا نہیں ہوگا''۔
سلطان ایوبی کا ذہن فارغ نہیں تھا۔ اس نے ہرمن سے مسکرا کر ہاتھ مالیا اور کہا… ''تمہاری باتیں بہت قیمتی ہیں۔ میں
تمہیں دمشق بھیج رہا ہوں ،وہاں تمہیں معزز قیدیوں میں رکھا جائے گا''۔
''اور یہ لڑکیاں جو میرے ساتھ ہیں؟''
سلطان ایوبی گہری سوچ میں کھوگیا۔ کچھ دیر بعد بوال… ''میں عورتوں کو جنگی قیدی نہیں بنایا کرتا ،انہیں قتل کرکے
سمندر میں پھینک سکتا ہوں''۔
محترم سلطان! یہ بہت ہی خوبصورت لڑکیاں ہیں''۔ ہرمن نے کہا… ''آپ انہیں ایک نظر دیکھیں تو آپ انہیں قتل نہیں''
کریں گے ،قید میں بھی نہیں ڈالیں گے۔ آپ کے مذہب میں لونڈی کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت ہے ،لونڈیوں کو حرم میں
رکھا جاسکتا ہے''۔
میرے مذہب نے ایسی عیاشی کی اجازت کبھی نہیں دی''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''میں اپنے گھر میں یا کسی بھی ''
مسلمان کے گھر سانپ نہیں پال سکتا''۔
مگر ان کا کوئی قصور نہیں''۔ ہرمن نے کہا… ''انہیں اس کام کے لیے بچپن سے تیار کیا گیا تھا''۔''
اسی لیے میں ان کے قتل کا حکم نہیں دے رہا''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''میں انہیں چلے جانے کی اجازت دیتا ہوں۔ ''
میں تمہاری اس سوچ کی تعریف کرتا ہوں کہ تم یہ شیریں زہر میری قوم میں پھیالنا چاہتے ہو لیکن میں بھی تمہاری طرح
نظر آگئی تو اسے
سوچ سکتا ہوں۔ انہیں کہہ دو کہ عکرہ سے نکل جائیں۔ ان میں کوئی بھی یہاں کہیں یا جہاں کہیں
قتل کردیا جائے گا''۔
سلطان ایوبی نے دو تین دنوں میں عکرہ میں اپنی حکومت قائم کردی۔ مسجدوں کو صاف کرایا۔ جو مال غنیمت ہاتھ آیا تھا،
اس میں سے خاصا حصہ اپنی فوج میں تقسیم کیا۔ کچھ ان مسلمان گھرانوں کو دیا جو قید میں پڑے رہے تھے مگر اس کی
دلچسپیوں کا مرکز فلسطین کا نقشہ تھا۔ اس کی انگلی آج کے لبنان اور اسرائیل کے ساحل کے ساتھ ساتھ نقشے پر چل رہی
تھی اور اس کے دل ودماغ پر بیت المقدس غالب تھا۔ اسے ادھر ادھر کی کوئی ہوش نہیں تھی۔ اسے معلوم تھا کہ اس کا
کون سا دستہ کہاں ہے۔ چھاپہ مار دستوں کی تقسیم نہایت اچھی تھی۔ ان کا دوسرے دستوں کے ساتھ باقاعدہ رابطہ تھا۔
سلطان عالی مقام!'' سلطان ایوبی کو حسن بن عبداللہ کی آواز سنائی دی۔''
حسن!'' سلطان نے نقشے سے آنکھیں ہٹائے بغیر کہا… ''جو کہنا ہوتا ہے ،فورا ً کہہ دیا کرو۔ ہمارے پاس وقت نہیں کہ ''
ہر بات سرکاری طور طریقوں سے کریں۔ میرا مقام اس روز عالی ہوگا جس روز میں فاتح کی حیثیت سے بیت المقدس میں
داخل ہوں گا''۔
تریپولی سے اطالع آئی ہے کہ ریمانڈ مرگیا ہے''۔''
''زخمی تھا؟''
نہیں سلطان!'' حسن بن عبداللہ نے جواب دیا… ''وہ صحیح وسالمت تریپولی پہنچا تھا۔ دوسرے دن اپنے کمرے میں مرا''
ہوا پایا گیا۔ ہوسکتا ہے کہ اس نے خودکشی کی ہو''۔
وہ اتنا خوددار اور غیور نہیں تھا''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''وہ پہلے بھی کئی بار شکست کھا کر میدان سے بھاگ چکا''
ہے۔ بہرحال مجھے اس کے مرنے کا افسوس ہے۔ اس نے مجھے قتل کرانے کے لیے حشیشین سے تین حملے کرائے تھے''۔
مؤرخین نے ریمانڈ آف تریپولی ( موجودہ لبنان) کی موت کی مختلف وجوہات لکھی ہیں۔ قاضی بہائوالدین شداد نے پھیپھڑوں
کی بیماری لکھی ہے لیکن زیادہ تر نے لکھا ہے کہ اسے حشیشین نے زہر دے دیا تھا۔ ریمانڈ دوغلے کردار کا اور سازشی ذہن
کا صلیبی حکمران تھا۔ مسلمانوں میں خانہ جنگی کرانے میں اس کا بھی ہاتھ تھا۔ صلیبی حکمرانوں میں منافرت پھیالنے سے
بھی باز نہیں آتا تھا۔ اس کا یارانہ حسن بن صباح کے فدائیوں کے ساتھ تھا۔ سلطان ایوبی پر اس نے ایک دو قاتالنہ حملہ
کرائے تھے۔ اس نے ایک دو صلیبی حکمرانوں کو بھی فدائی حشیشین سے قتل کرانے کی کوشش کی تھی مگر نہ صرف ناکام
رہا بلکہ جنہیں وہ قتل کرانا چاہتا تھا ،انہیں اس کے منصوبے کا علم بھی ہوگیا تھا۔ اس دور کے کاتبوں اورواقعہ نگاروں کی
غیرمطبوعہ تحریروں میں ایسے اشارے ملتے ہیں کہ ریمانڈ اتحادیوں کے ساتھ صلیب الصلبوت پر حلف اٹھا کر حطین کے میدان
میں گیا تھا لیکن بھاگ آیا۔ تریپولی پہنچا تو اگلے ہی روز اپنے کمرے میں مردہ پایا گیا۔ زندگی کی آخری رات حشیشین کا
سردار شیخ سنان اس کے پاس گیا تھا۔
21:05
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 151فصل صلیبی جس نے کاٹی تھی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
زندگی کی آخری رات حشیشین کا سردار شیخ سنان اس کے پاس گیا تھا۔ اس سے پہلے ایک ا ور مشہور صلیبی حکمران
بالڈون مرگیا تھا۔ یہ فرنگیوں ( فرینکس) کا جنگجو بادشاہ تھا۔ آپ نے اس کا ذکر ان کہانیوں میں کئی بار پڑھا ہوگا۔ بیت
المقدس اس کی عملدار میں تھا۔ بالڈون جنگی امورکا ماہر تھا۔ وہ جانتا تھا کہ سلطان ایوبی بیت المقدس کو فتح کرنا چاہتا
ہے۔ بالڈون نے بیت المقدس کو بچانے کا یہ اہتمام کیے رکھا کہ اپنی فوجیں مسلمان عالقوں میں گھماتا پھراتا اور لڑتا رہا اور
یہ اس کی قابلیت کا ثبوت ہے کہ اس نے عزالدین ،سیف الدین اور گمشتگین کو متحد کرکے سلطان ایوبی کے خالف محاذ آرا
کردیا تھا اور اس محاذ کو وہ جنگی سازوسامان ،شراب ،زروجواہرات ا ور حسین لڑکیوں سے مستحکم کرتا رہتا تھا۔ بوڑھا آدمی
تھا ،جنگ حطین سے چند روز پہلے مرگیا۔ اس کی جگہ گائی آف لوزینان نے بیت المقدس کی حکومت سنبھال لی تھی۔
٭ ٭ ٭
تاریخ آج تک کمانڈو اور گوریال آپریشن کی ایسی مثال پیش نہیں کرسکی جیسی سلطان ایوبی کے چھاپہ مار دستوں نے کی
تھی۔ چھاپہ مار دشمن کے ہاں تباہی بپا کرسکتے ہیں لیکن کسی عالقے پر قبضہ نہیں کرسکتے۔ قبضہ فوج کیا کرتی ہے
بشرطیکہ وہ فوج تیز ہو اور چھاپہ ماروں کی بپا کی ہوئی افراتفری اور تباہی کے فورا ً بعد حملہ کردے۔ سلطان ایوبی نے چھاپہ
ماروں اور فوج کو مشن دے دیا تھا ،جو مختصرا ً یوں تھا کہ بیت المقدس کے اردگرد ،دوردور تک کے عالقوں سے صلیبی کو
بے دخل اور تباہ کرنا ،ساحلی عالقوں کی قلعہ بندیوں پر قبضہ کرنا اور دشمن کا جس قدر اسلحہ اور رسد ہاتھ آئے ،اسے
محفوظ مقامات پر ذخیرہ کرنا۔
سلطان ا یوبی نے اپنی فوج کو واضح مقصد دے رکھا تھا۔ یہی اس کی اصل قوت تھی۔ سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں سے
کہہ رکھا تھا کہ جس شہر اور قصبے پر قبضہ کرو ،وہاں کے مسلمانوں کی حالت اپنے سپاہیوں کو دکھائو ،انہیں وہ مسجدیں
دکھائو جنہیں صلیبیوں نے ویران کیا اور بے حرمتی کی تھی۔ انہیں وہ مسلمان خواتین دکھائو جو صلیبیوں کے ہاتھوں بے آبرو
ہوتی رہیں۔ انہیں اچھی طرح دکھائو کہ ہمارا دشمن کیسا ہے اور اس کے عزائم کیا ہیں۔
یہی وجہ تھی کہ سلطان ایوبی کی فوج کا چھوٹے سے چھوٹا دستہ بڑے سے بڑے دستے پر قہر بن کر ٹوٹا۔ سپاہیوں نے وہ
سب کچھ دیکھ لیا تھا جو سلطان ایوبی انہیں دکھانا چاہتا تھا۔ یہ دیوانگی کی کیفیت تھی ،ایک جنون تھا ،سلطان ایوبی کے
کانوں میں ایک ہی آواز پڑتی تھی… ''فالں قصبے پر قبضہ کرلیا گیا ہے… فالں مورچے سے صلیبی پسپا ہوگئے ہیں''…
سپاہی آرام کے بغیر مسلسل لڑ اور بڑھ رہے تھے مگر ایک روز سلطان ایوبی سر سے پائوں تک ہل گیا۔
وہ اپنے کمرے میں نقشے پر جھکا ہوا اپنی ہائی کمان کے ساالروں اور مشیروں سے اگال پالن تیار کررہا تھا ،باہر شور اٹھا۔
''میں تمہارے سلطان کو بھی قتل کردوں گا۔ تم صلیب کے پجاری ہو ،چھوڑ دو مجھے… نعرٔہ تکبیر… اللہ اکبر''… یہ ایک
ہی آدمی کی آواز تھی۔ اس کے ساتھ کئی اور آوازیں سنائی دے رہی تھیں… ''یہاں سے لے جائو اسے… سلطان خفا ہوں
گے… ماردو ،جان سے مار دو اسے… اس کے منہ پر پانی پھینکو… پاگل ہوگیا ہے''۔
سلطان ایوبی دوڑ کر باہر نکال۔ اسے توقع تھی کہ کوئی صلیبی سپاہی ہوگا مگر وہ اس کی اپنی فوج کا ایک کمان دار تھا
جس کے دونوں ہاتھ خون سے الل تھے اور اس کے کپڑوں پر خون ہی خون تھا۔ اس کی آنکھیں خون کی طرح گہری الل
تھیں اور اس کے ہونٹوں کے کونوں سے جھاگ پھوٹ رہی تھی۔ اسے چار آدمیوں نے بازوئوں سے جکڑ رکھا تھا ،وہ قابو میں
نہیں آرہا تھا۔
چھوڑ دو اسے''۔ سلطان ایوبی نے گرج کرکہا۔''
سلطان!'' اس کمان دار نے قہر بھری آواز میں کہا۔ ''یہاں آکر تمہاری سب فوج بے غیرت ہوگئی ہے ،کفار کیوں زندہ ''
''نکل رہے ہیں۔ تم ہمارے سلطان بنے پھرتے ہو ،تم نے ان مسلمان عورتوں اور بچوں کو دیکھا تھا جو قید میں پڑے تھے؟
سلطان کے محافظ دستے کے کمانڈر نے لپک کر اس کمان دار کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ کمان دار نے اس کمانڈر کے بازو کو
پکڑ کر اتنی زور سے جھٹکا دیا کہ کمانڈر اس کے کندھوں کے اوپر سے ہوتا ہوا سلطان ایوبی کے سامنے جاپڑا۔
مت روکو اسے بولنے سے''… سلطان ایوبی نے ایک بار پھر گرج کر کہا… ''آگے آئو دوست! امجھے بتائو انہوں نے ''
''تمہیں کیوں پکڑ لیا ہے؟
بات یہ کھلی کہ وہ ایک جیش کا کمان دار تھا۔ اسے یہ فرض سونپا گیا تھا کہ جو مسلمان کنبے قید میں پڑے رہے تھے،
ان کے گھروں میں اناج وغیرہ پہنچائے اور ان میں جو بیمار ہیں ،انہیں فوج کے طبیبوں کے پاس بھیجے۔ اس کام کے لیے
سو سو سپاہیوں کے دو جیش مقرر کیے گئے تھے۔ یہ کمان دار مظلوم مسلمانوں کے گھروں میں جاتا رہا۔ ان سے اسے معلوم
ہوتا رہا کہ عیسائیوں نے ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا تھا۔ یہ تفصیالت بڑی ہی دردناک اور بڑی ہی شرمناک تھیں۔ اس کمان
دار نے اپنی فوج کے سپاہیوں کو مسجدیں صاف کرتے دیکھا۔ ایک مسجد میں دو عورتوں کی برہنہ الشیں نکلیں جو گل سڑ
رہی تھیں۔ یہ اس کمان دار نے دیکھ لیں۔
الشیں نکالنے اور مسجد کو صاف کرنے والے سپاہیوں کے آنسو بہہ رہے تھے۔ ان میں سے ایک کہہ رہا تھا۔ ہماری بہنوں اور
بیٹیوں کی یہ حالت ہوتی رہی اورہمارے سلطان نے کفار کو اجازت دے دی ہے کہ جو یہاں سے جانا چاہے ،اپنے کنبے کو لے
کر چال جائے۔
اس کمان دار کا خون کھول اٹھا۔ وہ آگے گیا تو پندرہ بیس لڑکیاں اسے جاتی نظر آئیں ،ان کے ساتھ اس کا ایک ساتھی
کمان دار چند ایک سپاہیوں کے ساتھ جارہا تھا۔ لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں ،کمان دار نے اپنے ساتھی سے پوچھا کہ یہ
لڑکیاں کون ہیں اور ان کے ساتھ سپاہی کیوں جارہے ہیں؟
یہ وہ لڑکیاں ہیں جنہوں نے مصر اور شام میں غدار پیدا کیے تھے''… کمان دار نے اسے بتایا۔ وہ اسے قافلے کے ساتھ ''
چل پڑا۔ اس کے ساتھی نے اسے سنایا… ''ان کی کارستانیاں تم سنتے رہے ہو۔ ان کا سردار (ہرمن) پکڑا گیا ہے۔ یہ سب
صلیبی ہیں۔ سلطان نے ان کے سردار کو قید میں ڈال دیا ہے اور لڑکیوں کے متعلق حکم دیا ہے کہ انہیں شہر سے دور لے
جا کر ان عیسائیوں کے حوالے کردو جو عکرہ سے جارہے ہیں''۔
اور تم انہیں زندہ چھوڑ آئو گے؟'' کمان دار نے پوچھا۔''
ہاں ،حکم یہی مال ہے''۔''
کیا یہ ہماری ان بہنوں سے زیادہ پاک اور مقدس ہیں جن کی برہنہ الشیں مسجدوں سے نکل رہی ہیں اور جنہیں قید میں''
''رکھ کر بے آبرو کیا جاتا رہا ہے؟
اس کے ساتھی نے آہ بھر کر کہا… ''میں حکم کا پابند ہوں''۔
کمان دار رک گیا اور اس قافلے کو جاتے دیکھتا رہا۔ا چانک اس نے تلوار نکال لی اور ان کی طرف دوڑ پڑا۔ اس نے نعرہ
لگایا… ''میں کسی کا پابند نہیں''… اس نے تلوار اس قدر تیز چالئی کہ پلک جھپکتے ہی تین چار لڑکیوں کے سر کاٹ
ڈالے۔ ان کا محافظ کمان دار اسے پکڑنے کو دوڑا۔ لڑکیاں چیختی چالتی ادھر ادھر بھاگیں۔ کمان دار ایک ایک لڑکی کے
پیچھے گیا اور مزید تین چار لڑکیوں کو ختم کردیا۔ ایک سپاہی اسے پکڑنے کے لیے قریب گیا تو اس نے اس سپاہی کے پیٹ
میں تلوار برچھی کی طرح گھونپ دی۔ پھر اس کے قریب کوئی نہیں جاتا تھا۔ اس نے باقی لڑکیوں کو دیکھا جو ادھر ادھر
بھاگ گئی تھیں۔
اس طرح وہ شہر سے باہر نکل گئے۔ اسے کچھ عیسائی شہر سے جاتے نظر آئے۔ کمان دار نے ان پر حملہ کردیا۔ اس کے
سامنے جو آیا ،اسے اس نے قتل کیا اور یہی نعرے لگاتا رہا… ''میں بے غیرت نہیں ہوں۔ اللہ اکبر''۔
اس کے ساتھی کمان دار کے واویلے پر کئی ایک سپاہی اکٹھے ہوگئے جنہوں نے اسے گھیر کر پکڑ لیا۔ اسے گھسیٹ کر الرہے
تھے کہ اس عمارت کے قریب سے گزرے جہاں سلطان ایوبی اپنے عملے کے ساتھ قیام پذیر تھا۔ کسی نے کہا کہ اسے
سلطان کے عملے کے حوالے کردو۔ وہ ڈرتے تھے کہ سلطان کے حکم کی خالف ورزی ہوئی ہے ،کسی نہتے شہری پر ہاتھ
اٹھانے کا جرم قرار دیا گیا تھا۔ یہ کمان دار چال رہا تھا۔ اس کا شور سن کر سلطان ایوبی باہر نکل آیا۔
سلطان ایوبی نے یہ واردات سنی اور کمان دار کی لعن طعن بھی سنی۔ سب ڈر رہے تھے کہ سلطان اسے قید میں ڈال دے
گا لیکن سلطان نے اسے گلے لگا لیا اور اندر لے گیا۔ اسے شربت پالیا اور اسے ذہن نشین کرایا کہ ان کا مقصد صلیبیوں کا
قتل نہیں بلکہ اپنے قبلٔہ اول کو آزاد کرکے اس تمام سرزمین عرب سے صلیبیوں کو نکالنا ہے۔ کمان دار کی ذہنی حالت
ٹھکانے نہیں تھی۔ اسے سلطان ایوبی نے اپنے طبیب کے حوالے کردیا۔
فوج کو اتنا جذباتی نہیں ہونا چاہیے''۔ سلطان ایوبی نے ساالروں اور مشیروں سے کہا… ''لیکن ایمان دیوانگی کی حد تک''
ہی پختہ ہونا چاہیے۔ ہمارا یہ کمان دار ہوش اور عقل کھو بیٹھا ہے۔ اگر مسلمان اپنے دین کے دشمن کو دیکھ کر دیوانے
ہوجائیں تو اسالم کا پرچم وہاں تک پہنچ جائے جہاں یہ زمین ختم ہوجاتی ہے''۔
ہرمن کی جو لڑکیاں اس کمان دار سے بچ کر بھاگ گئی تھیں ،ان میں سے دو سمندر کے کنارے جا پہنچیں۔ سمندر دور نہیں
تھا۔ وہ خوف سے کانپ رہی تھیں اور پناہ ڈھونڈ رہی تھیں۔ وہ ایک جگہ چھپ کر بیٹھ گئیں۔ فورا ً بعد ایک کشتی کنارے
آلگی۔ اس میں دو مالح تھے ،تیسرا کوئی افسر معلوم ہوتا تھا۔ وہ سلطان ایوبی کی بحریہ کا ایک افسر تھا جس کا نام
الفارس بیدرین لکھا گیا ہے۔ بحریہ کا سب سے بڑا کمانڈر عبدل الحسن تھا جو رئیس البحرین (دو سمندروں ،بحروم اور بحیرٔہ
احمر) کا ''ہائی ایڈمرل'' کہالتا تھا۔ اس کے نیچے امیر البحر حسام الدین لولو تھا۔
سلطان ایوبی کے حکم سے بحری بیڑہ جس کا ہیڈکوارٹر سکندریہ میں تھا ،بحیرٔہ روم میں گشت کرتا تھا کہ یورپ سے
صلیبیوں کے لیے کمک اور سامان وغیرہ آئے تو ان کے جہازوں کو راستے میں ہی روکا جاسکے۔ حسام الدین لولو ،بحیرٔہ احمر
میں تھا۔ سلطان ایوبی چونکہ ساحلی عالقے پر قبضہ کرنا چاہتا تھا ،اس لیے مصری بیڑے کو حکم بھیجا تھا کہ چھ بحری
جہاز ساحل کے ساتھ بھیج دئیے جائیں۔ یہ جنگی جہاز تھے جن میں منجنیقوں کے عالوہ دور مار تیر انداز اور لڑاکا دستے
بھی تھے۔
رئیس البحرین نے الفارس بیدرین کی کمانڈ میں چھ جہاز بھیجے تھے اور الفارس اپنے بحری جہاز سے کشتی میں آیا تھا۔ وہ
احکام لینے کے لیے سلطان ایوبی کے پاس جارہا تھا۔ ساحل پر اسے یہ دو صلیبی لڑکیاں نظر آئیں جو کسانوں کے لباس میں
تھیں۔ الفارس ان کے قریب چال گیا اور پوچھا کہ وہ کون ہیں اور یہاں کیا کررہی ہیں؟ لڑکیوں نے بتایا کہ وہ خانہ بدوش
قبیلے کی ہیں جو جنگ کی زد میں آگیا تھا۔ ان کے بہت سے مرد مارے گئے اور باقی ادھر ادھر بھاگ گئے ہیں۔
اور ہم چھپتی پھر رہی ہیں''۔ ایک لڑکی نے کہا… ''عیسائیوں سے ہم اس لیے ڈرتی ہیں کہ وہ ہمیں مسلمان سمجھتے…''
ہیں اور مسلمان ہمیں عیسائی سمجھتے ہیں''۔
''تم مسلمان ہو یا عیسائی؟''
ہمارا مذہب وہی ہے جو ہمارے مالک کا ہوگا''۔ دوسری لڑکی نے کہا… ''ہمیں کسی نہ کسی کے ہاتھ فروخت ہی ہونا ''
ہے''۔
الفارس بیدرین بحری لڑائی کا ماہر اور غیرمعمولی طور پر دلیر کمانڈر تھا۔ ان خوبیوں کے عالوہ اسے اس لیے بھی پسند کیا
جاتا ہے کہ وہ شگفتہ طبیعت کا زندہ مزاج آدمی تھا۔ اس دور میں اس کی حیثیت کے آدمی بیک وقت دو دو تین تین بیویاں
رکھتے تھے لیکن اس نے شادی ہی نہیں کی تھی۔ وہ جنگ وجدل کا زمانہ تھا۔ بحریہ کو کئی کئی مہینے سمندر میں رہنا
پڑتا اور خشکی دیکھنی نصیب نہیں ہوتی تھی۔ ہر بحری جہاز کا کپتان اپنی بیوی یا بیویوں کو ساتھ رکھتا تھا۔
الفارس کو ان لڑکیوں کے حسن نے ایسا متاثر کیا کہ اس کے اندر یہ احساس بیدار ہوگیا کہ وہ تین مہینوں سے زیادہ عرصے
سے سمندر میں گھوم پھر رہا ہے ،اس نے لڑکیوں سے پوچھا کہ وہ اس کے ساتھ رہنا پسند کریں تو انہیں اپنے جہاز میں
رکھے گا۔
ہم بے بس اور کمزور لڑکیاں ہیں ،ہمارے ساتھ دھوکہ نہیں ہونا چاہیے''۔''
میں تمہیں فروخت نہیں کروں گا''۔ الفارس نے کہا۔ ''مصر لے جائوں گا اور دونوں کے ساتھ شادی کرلوں گا''۔''
لڑکیوں نے ایک دوسری کی طرف دیکھا۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ طے کیا اور الفارس کے ساتھ چلنے کی رضا مندی ظاہر
کردی۔ الفارس نے اپنی کشتی کے مالحوں سے کہا… ''انہیں میرے جہاز میں لے جائو۔ انہیں میرے کمرے میں کھانا دو اور
انہیں وہیں چھوڑ کر واپس یہیں آجائو اور میرا انتظار کرو''۔
لڑکیوں کو کشتی میں بٹھا کر الفارس رومانی گیت گنگناتا عکرہ کو چل دیا۔
الفارس!'' سلطان ایوبی نے اسے کہا… ''میں تمہارے نام سے واقف ہوں۔ تمہارے دو تین بحری کارنامے بھی سنے ہیں ''
لیکن اب صورتحال کچھ اور ہے۔ پہلے تم اکا دکا معرکہ لڑتے رہے ہو۔ اب بڑے پیمانے کی بڑی جنگ کا امکان ہے۔ میں بیت
المقدس فتح کرنے آیا ہوں لیکن اس سے پہلے میں تمام بڑی بڑی بندرگاہوں پر قبضہ کرنا اور شمال سے جنوب تک کے
ساحلی عالقوں کو اپنی تحویل میں لینا ضروری سمجھتا ہوں۔ ان ساحلی شہروں میں بیروت ،ٹائر اور عسقالن بہت اہم ہیں۔
تمہارے ساتھ میرا رابطہ قاصدوں سے ہوگا۔ تمہاری دو تین کشتیاں ساحل کے ساتھ موجود رہنی چاہئیں۔میں خشکی پر جدھر
جائوں گا تمہیں اطالع دیتا رہوں گا۔ تمہارے جہاز سمندر میں گشت کرتے رہیں گے… تمہارے جہازوں میں اسلحہ اور رسد کی
''کمی تو نہیں؟
ہم ہر لحاظ سے تیار ہوکر آئے ہیں''۔ الفارس بیدرین نے جواب دیا۔''
بڑے پیمانے کی جنگ کا بھی امکان ہے''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''صلیبیوں نے حطین میں جو شکست کھائی ہے اور'' :
جس برے طریقے سے یہ بھاگے ہیں ،یہ دنیائے صلیب کے لیے معمولی سا واقعہ نہیں۔ ان کے چار حکمران میری قید میں
ہیں ،ایک کو میں نے قتل کردیا ہے۔ ریمانڈ مر گیا ہے۔ ان کا بڑا ہی قابل اور دلیر بادشاہ بالڈون بھی مرگیا ہے۔ اس کے
فرنگی بہت بڑی طاقت ہیں ،مجھے قاہرہ سے علی بن سفیان نے اطالع دی ہے کہ انگلستان کا بادشاہ رچرڈ اور جرمنی کا
بادشاہ فریڈرک ارض فلسطین پر صلیب کی حکمرانی قائم رکھنے کے لیے اپنی فوجوں اور بحری بیڑے کے ساتھ آنے کی تیاری
کررہے ہیں۔ وہ آئے تو میں فیصلہ کرسکوں گا کہ انہیں خشکی پر آنے دوں یا سمندر میں ہی روکنے کی کوشش کروں۔
انگلستان کے بحری بیڑے کے متعلق سنا ہے کہ زیادہ طاقت ور ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے بارود تیار کیا ہے اور ایسی
نلکیوں میں بھرا ہے جنہیں آگ لگائو تو نلکیاں اڑتی ہوئی آتی اور جہازوں کو آگ لگا دیتی ہیں۔ میں ایسی نلکیاں حاصل
کرنے کی کوشش کروں گا۔ ہم خود بنا لیں گے… بہرحال تم ساحل کے ساتھ اپنے جہازوں کو رکھنا۔ رئیس البحرین المحسن
کھلے سمندر میں رہے گا''۔
الفارس نے مزید احکامات لیے اور چال گیا۔ کشتی اس کے انتظار میں کھڑی تھی۔ اپنے بحری جہاز میں جاکر اس نے د وسرے
جہازوں کے کپتانوں کو بالیا ،انہیں ہدایات اور احکامات دے کر رخصت کردیا اور اپنے کیبن میں چال گیا جہاں دو لڑکیاں اس
کے انتظار میں بیٹھی تھیں۔ وہ بھولی بھالی بنی رہیں اور اس سے پوچھتی رہیں کہ وہ سمندر میں کیا کرتا ہے۔ الفارس لمبے
عرصے سے سمندر میں تھا۔ اس پر ہنسنے کھیلنے کی کیفیت طاری ہوگی۔ ان لڑکیوں کو مردوں کی اس کیفیت میں النے اور
انہیں اپنے رنگ میں استعمال کرنے کی مہارت حاصل تھی۔
٢٠جوالئی ١١٨٧ء کے روز سلطان صالح الدین ایوبی عکرہ سے نکال۔ اس کے چھاپہ مار دستوں نے اس کے لیے راستہ صاف
کررکھا تھا۔ ساحل کے ساتھ ساتھ اس نے کئی ایک قلعے اور قصبے فتح کرلیے۔ ٣٠جوالئی ١١٨٧ء کے روز اس نے بیروت کا
محاصرہ کیا۔ صلیبیوں نے اس اہم شہر کو بچانے کی بہت کوشش کی لیکن سلطان ایوبی نے بے دریغ قربانی دے کر بیروت
لے لیا۔ وہاں بھی مسلمانوں کی وہی حالت تھی جو عکرہ میں تھی۔
٢٩جوالئی تک بیروت کو اپنی عمل داری میں لے کر سلطان ایوبی نے ایک اور مشہور ساحلی شہر ٹائر کا رخ کیا۔ وہ
جاسوسوں اور دیکھ بھال کے جیشوں سے رپورٹیں لیے بغیر پیش قدمی نہیں کیا کرتا تھا۔ اسے بتایا گیا کہ اپنی فوج بہت
زیادہ عالقے میں پھیل گئی ہے اور ادھر ادھر سے بھاگے ہوئے صلیبی ٹائر میں جمع ہوکر منظم ہورہے ہیں۔ تمام فرنگی بھی
ساحلی عالقے سے پسپا ہوکر ٹائر چلے گئے تھے۔ سلطان ایوبی نے ٹائر پر حملے کا ارادہ ترک کردیا۔ وہ بیت المقدس کے
لیے فوج بچا کر رکھنا چاہتا تھا۔
اس دوران الفارس بیدرین کے بحری جہاز ساحل سے دور گشت اور دیکھ بھال کرتے رہے۔ دونوں لڑکیاں اس کے جہاز میں
رہیں۔ وہ اس کے دل پر غالب آگئی تھیں لیکن اس نے اپنے فرائض میں کوتاہی نہ کی۔ جب کوئی بحری جہاز ساحل کے
قریب لنگر انداز ہوتا تھا ،چھوٹی کشتیاں اس کے اردگرد گھومنے لگتی تھیں۔ یہ غریب دیہاتیوں کی کشتیاں تھیں جو پھل ،انڈے
اور مکھن وغیرہ مالحوں اور فوجی دستوں کے پاس بیچتے تھے۔ جہازوں کے کپتان ان میں سے کسی کو رسہ پھینک کر جہاز
میں اٹھا لیتے اور اس سے خشکی کی دنیا کی خبریں سنتے تھے۔
ایک روز الفارس کا جہاز ساحل پر چال گیا۔ اسے وہاں سے بری فوج کے کسی کمان دار سے کچھ پوچھنا تھا۔ دونوں لڑکیاں
جہاز کے عرشے پر جنگلے کا سہارا لیے کھڑی تھیں۔ چھوٹی چھوٹی تین چار کشتیاں آگئیں۔ ان میں پھل وغیرہ تھا۔ ان کے
مالح جہاز والوں کی منتیں کرنے لگے کہ وہ ان سے کچھ لے لیں۔ ایک کشتی میں ایک ادھیڑ عمر آدمی تھا ،جس کے جسم
پر تہمند کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ بہت غریب معلوم ہوتا تھا۔ اس نے دونوں لڑکیوں کو جہاز میں کھڑے دیکھا تو کشتی
قریب لے گیا۔
کچھ لے لو شہزادی!'' اس نے کہا… ''بہت غریب آدمی ہوں''۔''
لڑکیوں نے اسے نظر بھر کر دیکھا تو اس نے بائیں آنکھ سے خفیف سا اشارہ کردیا۔ دونوں نے حیران سا ہوکے ایک دوسری
کی طرف دیکھا۔ اس آدمی نے ادھر ادھر دیکھ کر سینے پر انگلی اوپر نیچے اور پھر دائیں بائیں چال کر صلیب کا نشان بنایا۔
ایک لڑکی نے اپنے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی پر دوسرے ہاتھ کی شہادت کی انگلی رکھ کر کراس بنایا۔ آدمی مسکرایا۔
ایک لڑکی نے جہاز کے مالح سے کہا کہ اس آدمی کو اوپر الئو۔
مالحوں کو معلوم تھا کہ یہ لڑکیاں ان کے جہاز کے کپتان کی ہیں جو تمام جہازوں کا کمانڈر ہے۔ انہوں نے فورا ً رسوں کی :
سیڑھی پھینکی۔ وہ آدمی ٹوکری میں مختلف چیزیں رکھ کر اوپر لے آیا اور ٹوکری لڑکیوں کے آگے رکھ دی۔ لڑکیاں چیزیں
دیکھنے لگیں۔ کسی اور کو ان کے قریب آنے کی جرٔات نہیں ہوسکتی تھی۔
تم یہاں کیسے پہنچ گئی ہو؟'' کشتی کے مالح نے پوچھا۔''
اتفاق کی بات ہے''۔ ایک لڑکی نے جواب دیا… ''ہرمن پکڑا گیا ہے''… اس نے اس آدمی کو سارا واقعہ سنا دیا اور ''
الفارس کے متعلق بتایا کہ وہ انہیں خانہ بدوش سمجھ کر اپنے ساتھ لے آیا ہے۔
''کچھ سوچا ہے کیا کروگی؟'' مالح نے پوچھا۔ ''جائو گی کہاں؟''
ابھی تو صرف جان بچانے کا بندوبست کیا ہے''۔ لڑکی نے جواب دیا… ''کمانڈر الفارس کی رگوں پر ہم نے قبضہ کرلیا ''
ہے۔ کہیں موقعہ مال تو بھاگنے کی کوشش کریں گی۔ اگر تم رہنمائی کرو تو یہیں رہ کر کچھ اور کریں گی''۔
یہ غریب سا ماہی گیر مالح صلیبیوں کا جاسوس تھا اور وہ ان لڑکیوں کو اچھی طرح جانتا تھا۔ وہ بھی اسے جانتی تھیں۔
اس نے کہا… '' ساحل پر اتر کر بھاگنے کی کوشش نہ کرنا۔ بہت بری موت مروگی۔ بیروت تک مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا ہے۔
ہماری صلیبی فوج ہر جگہ سے پسپا ہورہی ہے۔ اب ٹائر ایک جگہ رہ گئی ہے جہاں تمہیں پناہ مل سکتی ہے۔ ابھی اسی
جہاز میں رہو۔ میں تمہیں ملتا رہوں گا۔ ہمارے لیے حاالت بہت ہی خطرناک ہوگئے ہیں۔ ہر طرف مسلمان سپاہی دندناتے پھر
رہے ہیں''۔
''تم یہاں کیا کررہے ہو؟''
صلیب پر ہاتھ رکھ کر جو حلف اٹھایا تھا ،وہ پورا کرنے کی کوشش کررہا ہوں''۔ اس نے جواب دیا… ''ان چھ جہازوں ''
کی نقل وحرکت دیکھ رہا ہوں۔ انہیں تباہ کرانے کا انتظام کروں گا''۔
''اپنے جہاز کہاں ہیں؟''
ٹائر کے قریب''۔ اس نے بتایا… ''یہ جہاز ادھر گئے تو اپنے جہازوں کو پہلے سے اطالع کردوں گا۔ اب اتفاق سے تم ''
کمانڈر کے جہاز میں آگئی ہو۔ تم میری مدد کرسکو گی اور میں تمہیں اس جہاز سے نکال کر ٹائر پہنچا سکوں گا۔ مجھے اب
جانا چاہیے۔ اشارے مقرر کرلو۔ میں ان جہازوں کے ساتھ سائے کی طرح لگا ہوا ہوں۔ یہ جہاز کہیں بھی ساحل کے قریب
لنگر ڈالے گا ،وہاں اسی بھیس میں موجود ہوں گا''۔
انہوں نے اشارے مقرر کرلیے۔ لڑکیوں نے اس کی ٹوکری میں سے کچھ چیزیں اٹھالیں۔ اسے پیسے دئیے اور وہ رسوں کی
سیڑھی سے اپنی کشتی میں اتر گیا۔
٭ ٭ ٭
٢ستمبر ١١٨٧ء کے روز سلطان ایوبی نے ایک اور مشہور ساحلی شہر عسقالن کا محاصرہ کرلیا۔ یہاں بھی وزنی پتھر پھینکنے
والی منجنیقیں اور پہیوں پر چلنے والی مچانیں استعمال کی گئیں۔ سرنگیں کھودنے والے جیش رات کو دیوار توڑنے کی کوشش
کرتے رہے۔ قریب ہی ایک بلندی تھی۔ وہاں سے منجنیقوں سے شہر کے اندر پتھر اور آتشیں گولے پھینکے گئے۔ دوسرے دن
محصورین نے گھبرا کر شہر کے دروازے کھول دئیے اور ہتھیار ڈال دئیے۔
اس شہر پر فرینکس نے ١٩ستمبر ١١٥٣ء میں قبضہ کیا تھا۔ پورے چونتیس برس بعد یہ شہر آزاد کرایا گیا۔
عسقالن سے بیت المقدس چالیس میل مشرق کی سمت واقع ہے۔ سلطان ایوبی کے تیز رفتار دستوں کے لیے یہ دو دن کا
سفر تھا۔ اس کے بعض دستے اور چھاپہ مار جیش پہلے ہی بیت المقدس کے قریب پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے صلیبیوں کی
بیرونی چوکیاں تباہ کردی تھیں۔ بچے کھچے صلیبی بیت المقدس پہنچ رہے تھے۔سلطان ایوبی نے اپنے بکھرے ہوئے دستوں کو
عسقالن میں اکٹھا ہونے کا حکم دیا اور بیت المقدس پر حملے کی تیاری کرنے لگا۔
سلطان ایوبی کی فتوحات اور طوفانی پیش قدمی کی خبریں دمشق ،بغداد ،حلب ،موصل اور ادھر قاہرہ تک پہنچ چکی تھیں۔
آخری خبر یہ پہنچی کہ سلطان عسقالن میں ہے اور بیت المقدس پر حملہ کرنے واال ہے۔ قاضی بہائوالدین شداد جو اس حملے
میں سلطان ایوبی کے ساتھ تھا ،اپنی یادداشتوں میں لکھتا ہے کہ سلطان ایوبی کی فوج مسلسل فتوحات کی بدولت تھکن کے
احساس سے بیگانہ تھی۔ وہ جوں جوں ان مقبوضہ عالقوں میں مسلمانوں کی حالت دیکھتی گئی ،قہر بنتی گئی جو بیت
المقدس پر ٹوٹنے کو بے تاب تھا۔ یہ تو سلطان کی جنگی قوت تھی۔ قاضی شداد لکھتا ہے کہ عسقالن میں سلطان ایوبی کے
پاس روحانی قوت بھی پہنچنے لگی۔ یہ دمشق ،بغداد اور دیگر بڑے شہروں کے علماء درویش اور صوفی منش لوگ تھے۔ وہ
سلطان ایوبی کے ساتھ بیت المقدس میں داخل ہونے آئے تھے۔ انہوں نے آکر سلطان ایوبی کو دعائیں دیں اور اس کی فوج کو
بیت المقدس کی اہمیت اور تقدس بتایا اور سپاہیوں کو آگ بگوال کردیا۔ سلطان ایوبی علماء اور درویشوں کا بہت احترام کیا
کرتا تھا۔ انہیں اپنے ساتھ دیکھ کر اس کی تھکن ختم ہوگئی اور اس نے جوش وجذبات سے کہا… ''اب دنیا کی کوئی طاقت
مجھے شکست نہیں دے سکتی''۔
عسقالن سے کوچ سے دو چار روز پہلے سلطان ایوبی کے پاس حلب سے ایک مہمان آیا جسے دیکھ کر سلطان حیران رہ گیا۔
اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا… یہ نورالدین زنگی مرحوم کی
بیوہ رضیع خاتون تھی جس نے عزالدین کے ساتھ شادی کرلی تھی۔ وہ گھوڑے پر سوار تھی۔ کود کر گھوڑے سے اتری اور :
دوڑ کر سلطان ایوبی کو گلے لگا لیا۔ دونوں کے جذبات ابھر آئے اور ان پر رقت طاری ہوگئی۔
ذرا دیر بعد اونٹوں کی ایک لمبی قطار آرکی۔ ان پر کم وبیش دو سو لڑکیاں سوار تھیں۔
یہ کیا؟'' سلطان ایوبی نے رضیع خاتون سے پوچھا۔''
زخمیوں کی مرہم پٹی کے لیے تربیت یافتہ لڑکیاں''۔ رضیع خاتون نے جواب دیا۔ ''میں نے انہیں لڑائی کی تربیت بھی ''
دے رکھی ہے۔ تیر اندازی کی بھی انہیں خاصی مشق ہے… مجھے معلوم ہے کہ تم عورت کو میدان جنگ میں نہیں دیکھنا
چاہتے لیکن میرے اور ان کے جذبے کو کچلنے کی کوشش نہ کرنا۔ تم نہیں جانتے کہ شام میں جو ان لڑکیوں پر قابو پانا
محال ہورہا ہے ،جسے دیکھو وہ محاذ پر پہنچنے کے لیے بے تاب ہے۔ اگر تم اجازت دو تو میں ایک ہزار لڑکیاں محاذ پر
بھیج دوں۔ سپاہیوں کی طرح لڑیں گی ،جن مائوں کے بیٹے یہاں لڑ رہے ہیں ،وہ مائیں ان کی خیریت کی نہیں ،فتح کی خبر
سننا چاہتی ہیں۔ آبادیوں میں ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے… ''محاذ کی کیا خبر ہے؟''… کہو صالح الدین! کتنی لڑکیاں
''بھیجوں؟
میں انہیں اپنے ساتھ رکھ لوں گا''… سلطان ایوبی نے کہا… ''اور کسی کو نہ بھیجنا''۔''
اس اونٹ پر ایک منبر لدا ہوا ہے''… رضیع خاتون نے کہا۔ یہ کہتے ہی اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ذرا خاموش ''
رہنے کے بعد کہنے لگی… '' تمہیں شاید یاد نہیں ،میرے مرحوم شوہر (نورالدین زنگی) نے یہ منبر اس عہد کے ساتھ بنواکر
اقصی میں رکھے گا۔ بہت خوبصورت منبر
پاس رکھ لیا تھا کہ بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کرائے گا تو یہ منبر مسجد
ٰ
اقصی
مسجد
منبر
یہ
نے
تم
کہ
دیکھوں
میں
ہے۔ یہ دمشق میں رکھا تھا ،اٹھا الئی ہوں۔ اللہ تمہیں فتح دے صالح الدین اور
ٰ
میں رکھ کر میرے مرحوم شوہر کا عہد پورا کردیا ہے''۔
سلطان ایوبی پر رقت طاری ہوگئی۔ اس کے منہ سے سسکی سی نکلی… ''اللہ یہ عہد مجھ سے پورا کرائے''۔
ایک جواں سال لڑکی ان کے قریب آکھڑی ہوئی اور سلطان ایوبی کو مسکرا کر سالم کیا۔ رضیع خاتون نے کہا… ''پہچانا نہیں
صالح الدین؟ یہ میری بیٹی شمس النساء ہے''… سلطان ایوبی نے لپک کر اسے گلے لگا لیا اور پھر وہ اپنے آنسو نہ روک
سکا۔ اس نے اس لڑکی کو اس وقت دیکھا تھا جب یہ بہت چھوٹی تھی۔
یہ تمہارے ساتھ محاذ پر رہے گی''۔ رضیع خاتون نے کہا… ''لڑکیاں اس کی کمان میں رہیں گی۔ مجھے واپس جانا ''
ہے''۔
٭ ٭ ٭
وہ علماء اور درویش وغیرہ جو سلطان ایوبی کے پاس آگئے تھے ،ورد ،وظیفے اور دعائوں میں مصروف رہتے یا سپاہیوں میں
گھومتے پھرتے اور انہیں روحانی حوصلہ دیتے رہتے۔ وہ عسقالن سے باہر وہاں تک بھی گئے جہاں دستے اور جیش موجود
تھے۔ ان کے وعظ اور خطبوں کے الفاظ کچھ اس قسم کے تھے… ''نوے سال سے کفار تمہارے قبلٔہ اول پر قابض ہیں۔ قرآن
کے احکام پڑھو تو قبلٔہ اول کو کفار کے ناپاک قبضے سے چھڑانے تک کسی مسلمانوں کو نیند نہیں آنی چاہیے تھی۔ وہ مسجد
اقصی جہاں سے ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بالوے پر معراج پر تشریف لے گئے تھے ،کفار کی عباد گاہ
ٰ
بنی ہوئی ہے۔ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح مقدس ہم پر لعنت بھیج رہی ہے۔ ہم پر نیند ،کھانا ،پینا اور
…''ہم پر اپنی بیویاں حرام ہونی چاہئیں تھیں مگر نوے سال سے ہم گہری نیند سورہے ہیں اور عیش وعشرت میں مگن ہیں
اللہ کے سپاہیو! ہمارے حکمرانوں نے صلیبیوں اور یہودیوں کے خوبصورت جال میں پھنس کر ان کے خالف خانہ جنگی کی''،
جنہوں نے قبلٔہ اول کو آزاد کرانے کا عہد کیا تھا۔ بیت المقدس وہ پاک جگہ ہے جہاں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے مبارک قدم آ ئے اور ان کی جبین مبارک نے یہاں سجدے کیے۔ حضرت ابراہیم علیہ السالم ،حضرت سلیمان علیہ السالم،
تعالی عنہ اور ہمارے جانے کتنے انبیاء نے یہاں ورد فرمایا مگر نوے سال سے یہاں مسلمانوں پر جو قہر
حضرت عمر رضی اللہ
ٰ
اقصی پر صلیب کھڑی ہے۔ مسجدیں اصطبل بنی ہوئی ہیں۔ مسلمانوں کا
مسجد
گے۔
دیکھو
جاکر
میں
شہر
ٹوٹ رہا ہے ،وہ تم
ٰ
قتل عام اس طرح ہوا ہے کہ گلیوں میں خون ندی کی طرح چلتا رہا۔ مسلمان قیدوبند کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور ہماری
…''بیٹیاں کفار کی لونڈیاں بنا دی گئی ہیں
اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناموس پر مرمٹنے والو! اللہ نے یہ سعادت تمہیں عطا کی ہے کہ بیت '' :
المقدس کو آزاد کرائو ،پاک کرو اور اگر تم ناکام رہو تو وہاں سے تمہاری الشیں اٹھائی جائیں… اور تم سن کر حیران ہوگے کہ
عیسی علیہ السالم نے بنی نوع انسان کو محبت کا سبق دیا تھا ،وہاں صلیب کے پجاریوں نے
جس بیت المقدس میں حضرت
ٰ
یہاں تک درندگی کی ہے کہ جب انہیں کسی محاذ پر فتح ہوتی تو وہ بیت المقدس میں جشن مناتے جس میں ہماری بیٹیوں
کو برہنہ کرکے نچاتے اور چند ایک تندرست وتوانا مسلمانوں کو ذبح کرکے ان کا گوشت پکا کر کھاتے… اب تمہیں ایک ایک
معصوم کے خون کے ایک ایک قطرے کا انتقام لینا ہے۔ دمشق سے سلطان نورالدین زنگی مرحوم کی بیوہ وہ منبر الئی ہے جو
اقصی میں رکھنے کے لیے بنوایا تھا۔ یہ خاتون دو سو لڑکیوں کے ساتھ بہت دور کا سفر کرکے آئی ہے۔ یہ
مرحوم نے مسجد
ٰ
عہد تمہیں پورا کرنا ہے''۔
اس دوران سلطان ایوبی اپنے دستوں کو یکجا کرکے ان کی تقسیم کرتا رہا اور جاسوسوں کی رپورٹوں کے مطابق بیت المقدس
کے محاصرے کا پالن بناتا رہا۔
اس کے ساتھ ہی قصہ * فصل صلیبی جس نے کاٹی تھی * ختم ہوا جاتا ہے
21:06
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
اقصی کی دہلیز پر
قسط نمبر 152ایوبی مسجد
ٰ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
لڑکیاں جو بحریہ کے کمان دار الفارس بیدرون کے جہاز میں تھیں اسی کی طرح شگفتہ مزاج تھیں۔ سمندر کی تنہائی میں یہ
دونوں لڑکیاں الفارس کے دل کو نئی زندگی دے رہی تھیں لیکن یہ اس کے لیے معمہ سا بن گئی تھیں اور ان کے لیے الفارس
عجیب آدمی بنا ہوا تھا۔ لڑکیوں نے اسے بتایا تھا کہ وہ خانہ بدوش ہیں۔ ان کا قبیلہ جنگ کی زد میں آگیا تھا اور وہ دونوں
بڑی مشکل سے چھپتی چھپاتی ساحل تک پہنچی ہیں مگر الفارس دیکھ رہا تھا کہ دونوں کی عادتیں اور طور طریقے خانہ
بدوشوں والے نہیں۔ خانہ بدوش حسین ہوسکتی تھیں مگر ان میں یہ شائستگی نہیں ہوسکتی تھی جو ان دونوں میں تھی۔ ان
دونوں لڑکیوں میں کسی حد تک بے حیائی بھی تھی جو خانہ بدوش عورتوں میں عموما ً نہیں ہوا کرتی تھی۔
لڑکیوں کے لیے الفارس عجیب آدمی تھا۔ لڑکیوں کو توقع تھی کہ وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو ہر اس مرد نے ان
کے ساتھ کیا ہے جس کے ذہن پر قبضہ کرنے کے لیے انہیں بھیجا گیا تھا۔ الفارس نے ان میں اس قسم کی دلچسپی کا اظہار
نہ کیا جس سے یہ لڑکیاں ابتداء میں مایوس ہوئیں لیکن انہوں نے اس کی ایک اور کمزوری بھانپ لی۔ وہ یہ تھی کہ وہ
فرض کے معاملے میں جہاں بڑا ہی سخت گیر اور سخت کوش تھا وہاں فراغت کے وقت کھلنڈرہ بچہ بن جایا کرتا تھا۔ ان
لڑکیوں کے ساتھ وہ ہم راز سہیلیوں کی طرح کھیلتا اور ان کے حسن اور ان کی شوخیوں سے لطف اٹھاتا تھا۔ ان کے بکھرے
بکھرے ریشمی بالوں سے کھیلتا اور ان میں مگن ہوکر دنیا کو بھول جاتا تھا۔
ایک روز ایک لڑکی نے جب دوسری لڑکی کمرے میں نہیں تھی ،اس کے جذبات کو مشتعل کرنے کی یا یہ سمجھنے کی
کوشش کی کہ اس آدمی کے اندر جذبات ہیں بھی یا نہیں تو الفارس نے یہ کھلے اشارے سمجھتے ہوئے کہا۔ ''میں نے جب
تمہیں پہلے روز ساحل پر کہا کہ میں تمہیں اپنے جہاز میں پناہ دے سکتا ہوں تو تم نے کہا تھا کہ ہمارے ساتھ دھوکہ نہیں
ہونا چاہیے۔ میں نے کہا تھا کہ تمہیں مصر لے جائوں گا اور شادی کرلوں گا… میں اپنے اس وعدے پر قائم رہنا چاہتا ہوں۔
شادی سے پہلے میں کوئی ایسی حرکت نہیں کروں گا جس سے تمہیں یہ شک ہو کہ میں وقتی طور پر دل بہالنے کے لیے
تمہیں یہاں الیا ہوں۔ میں تمہاری مجبوری اور بے بسی سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا۔ مصر جانے تک تم سوچ لو۔ اگر میرے
ساتھ رہنا پسند نہیں کروگی تو جہاں کہو گی ،وہاں بھیج دوں گا''۔
لڑکی نے بے تابی سے بازو اس کے گلے میں ڈال دئیے اور گال اس کے گال کے ساتھ لگا کر کہا… ''ہم دونوں تمہیں چھوڑ
کر کہیں نہیں جائیں گی۔ تم پہلے مرد ملے ہو جس کے دل میں انسانیت کی پاکیزگی ہے ،شیطانیت اور حیوانیت نہیں''۔
لڑکی نے والہانہ محبت کااظہار ایسے الفاظ میں اور ایسے انداز سے کیا کہ الفارس کو پانی پر تیرنے واال بحری جہاز فضا کی
وسعتوں میں اڑتا محسوس ہونے لگا۔ یہی اس کی کمزوری تھی جو انسانی فطرت کی سب سے زیادہ خطرناک کمزوری ہے۔
سمندر میں اتنا طویل عرصہ دن رات گشت کرتے رہنے سے اور وقتا ً فوقتا ً چھوٹی موٹی جھڑپیں لڑنے سے اس کے اعصاب پر
جو تھکن اور ذہن پر جو کوفت تھی ،وہ ختم ہوگئی۔ اعصاب پرسکون ہوگئے۔ اب تو اس کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگیا تھا۔
اس کے ہاتھ میں چھ جہازوں کی کمانڈ تھی اور وہ فلسطین کے ساحل سے کچھ دور گشت کرتا رہتا تھا۔ سلطان صالح الدین
ایوبی بجلی کی طرح ارض فلسطین پر ٹوٹ پڑا تھا۔ اس نے ساحلی عالقوں پر قبضہ کرلیا اور اب عسقالن میں بیت المقدس
پر حملے کی تیاری کررہا تھا۔ الفارس کی ذمہ داری یہ تھی کہ سمندر کی طرف سے صلیبیوں کے لیے مدد اور رسد وغیرہ
آئے تو اسے ساحل تک نہ پہنچنے دے۔ اس ذمہ داری نے اس کی نیندیں بھی حرام کررکھی تھیں۔ یہ دو لڑکیاں اس کے
اعصاب کو سہال لیا کرتی تھیں۔
الفارس نے ان لڑکیوں سے ایک روز کہا کہ ان میں خانہ بدوشوں والی عادتیں نہیں ،ان کے بجائے ان میں شائستگی اور
نفاست ہے۔ یہ ان میں کہاں سے آگئی ہے۔
ہم بڑے بڑے عیسائی گھروں میں نوکری کرتی رہی ہیں''… ایک لڑکی نے جواب دیا… ''انہوں نے ہمیں میزبانی کے آداب ''
اور اونچے درجے کے مہمانوں کے ساتھ سلوک اور برتائو کے طور طریقے سکھا دئیے تھے۔ اگر آپ معمولی آدمی ہوتے تو ہم
آپ کے ساتھ خانہ بدوشوں جیسا سلوک کرتیں۔ ہماری باتیں اور حرکتیں خانہ بدوشوں جیسی ہوتی۔ آپ بحریہ کے اتنے بڑے
کمانڈر ہیں اور آپ کے دل میں ہماری اتنی زیادہ محبت ہے کہ ہم آپ کے ساتھ اجڈوں جیسا سلوک نہیں کرسکتیں''۔
دوسرے پانچ جہازوں کے کپتانوں کو پتہ چل چکا تھا کہ ان کا کمانڈر الفارس اپنے جہاز میں دو لڑکیاں الیا ہے۔ سب یہ خبر
سن کر ہنسے یا مسکرائے تھے لیکن سب نے محسوس کیا تھا کہ جہاز میں جنگ کے دوران اپنی بیوی کو تو رکھا جاسکتا
ہے ،اجنبی لڑکیوں کو رکھنا خطرے سے خالی نہیں۔ انہوں نے الفارس سے بات کی تھی اور اس نے سب کو مطمئن کردیا تھا۔
سب اس لیے جلدی مطمئن ہوگئے تھے کہ وہ الفارس کو عرصے سے جانتے تھے۔ وہ بدکار آدمی نہیں تھا۔ فرائض سے کوتاہی
برداشت نہیں کرتا تھا۔
٭ ٭ ٭
بیت المقدس کے اندر کی کیفیت غیرمعمولی تھی۔ یہاں مسلمانوں پر جو ظلم وتشدد ہورہا تھا ،اس کی مثال کم از کم فلسطین
کے مقبوضہ عالقوں میں نہیں ملتی تھی۔ اس ظلم وتشدد کی تاریخ پرانی تھی۔ ١٠٩٩ء میں صلیبیوں نے بیت المقدس فتح کیا
تھا۔ یہ مسلمانوں کی بے اتفاقی اور اقتدار کی خاطر غداری کرنے والوں کا کرشمہ تھا۔ تاریخ میں حملہ آوروں نے اس سے
زیادہ بڑے اور اہم شہر فتح کیے ہیں لیکن صلیبیوں نے بیت المقدس فتح کیا تو اسے اس قدر اہمیت دی جیسے انہوں نے
آدھی دنیا فتح کرلی ہو ،سارے یورپ بلکہ تمام تر عیسائی دنیا اور کلیسا کی نظریں بیت المقدس پر لگی ہوئی تھیں۔
اس اہمیت کی وجہ یہ تھی کہ بیت المقدس کو عیسائی اپنا مقدس مقام سمجھتے تھے۔ ان کے عقیدے کے مطابق حضرت
عیسی علیہ السالم کو اسی عالقے میں کہیں مصلوب کیا گیا تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلٔہ اول
ٰ
اقصی کا تقدس خانہ
ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہیں سے معراج پر تشریف لے گئے تھے۔ اس لحاظ سے مسجد
ٰ
کعبہ سے کم نہ تھا۔ مسلمان بیت المقدس کو اپنا نظریاتی مرکز سمجھتے تھے۔ یہ ہمارے عقیدوں کا مرکز تھا۔ (اور اب بھی
ہے) عیسائی مسلمانوں کے اس نظریاتی سرچشمے پر قبضہ کرکے ہمارے نظریات اور عقائد کو باطل قرار دینا چاہتے تھے۔
صلیبیوں کی انٹیلی جنس کے سربراہ ہرمن نے غلط نہیں کہا تھا کہ صلیبی جنگیں مسلمانوں اور عیسائیوں کے بادشاہوں کی
نہیں ،یہ کلیسا اور کعبہ کی جنگیں ہیں جو اس وقت تک لڑی جاتی رہیں گی جب تک دونوں میں سے ایک ختم نہیں
ہوجاتا۔
جس طرح ہندوئوں نے مسلمانوں کے خالف جنگ کو اور مسلمانوں کو شکست دینے کو اور مسلمانوں کو نہ صرف میدان جنگ
میں بلکہ دھوکے سے بھی قتل کرنے کو مذہبی فریضہ قرار دے رکھا ہے ،اسی طرح عیسائیوں کے پادریوں نے بھی مسلمان کے
کار ثواب قرار دے رکھا تھا۔ عیسائیوں کو جنگ کے احکام بڑے پادری (پوپ) کی طرف سے ملتے تھے۔ آپ نے پڑھ
قتل کو ِ
عیسی علیہ
حضرت
پر
جس
تھا
موجود
میں
جنگ
میدان
ساتھ
کے
صلیب
اس
پادری
کا
عکرہ
میں
جنگ
کی
حطین
لیا ہے کہ
ٰ
السالم کو مصلوب کیا گیا تھا۔ یہ ثبوت ہے اس حقیقت کا کہ کعبہ کے خالف جنگ کلیسا نے شروع کی تھی اور یہ دو
مذہبوں اور دو نظریات کی جنگ تھی۔
ادنی سپاہیوں تک سے صلیب الصلبوت پر
یہ بتایا جاچکا ہے کہ صلیبی جنگوں میں شامل ہونے والے بادشاہوں ،جرنیلوں اور
ٰ
صلیب سے وفاداری اور جان ومال کی قربانی کا حلف لیا جاتا تھا۔ اس حلف سے وہ صلیبی کہالئے اور بیت المقدس کے لیے
جو جنگیں لڑی گئیں ،انہیں صلیبی جنگیں کہا گیا۔ عیسائی دنیا میں مسلمانوں کے خالف جنگ اور سرزمین عرب پر قبضہ
کرنے کو ایسا جنون بنا دیا گیا تھا کہ عورتیں اپنے زیورات اور مال ودولت کلیسا کے حوالے کردیتی تھیں۔ جنون کی انتہا یہ
تھی کہ جوان لڑکیوں نے اپنی عصمتیں صلیب کی فتح اور مسلمانوں کی شکست کے لیے پیش کردیں۔ کلیسا نے کھلی اجازت
دے دی کہ مسلمانوں کی کردار کشی اور نظریاتی تخریب کاری کے لیے عیسائی لڑکیوں کو استعمال کیا جائے۔ لڑکیوں کو یقین
دالیا گیا کہ کلیسا کے مقاصد اور عزائم کی خاطر عصمت قربان کرنے والی لڑکی بہشت میں جائے گی۔
اسی عقیدے کے تحت خوبصورت لڑکیوں کو باقاعدہ تربیت دے کر مسلمانوں کے عالقوں میں بھیجا گیا۔ یہ مسلمان امراء کے
حرموں میں داخل ہوئیں اور وہ تباہی بپا کی جو آپ اس سلسلے کی کہانیوں میں پوری تفصیل سے پڑھ چکے ہیں۔ اس مقابلے
میں مسلمان آپس میں ٹکراتے رہے اور صلیبیوں کے پھیالئے ہوئے اس حسین جال میں ایسے آئے کہ مذہبی نظریات اور عقائد
کو نظرانداز کرکے تخت وتاج کے شیدائی ہوگئے۔ انہوں نے ایمان نیالم کردئیے۔ پھر بھی کچھ لوگ ابھی زندہ تھے جن کی
روحیں ایمان کے نور سے منور تھیں۔ وہ بیت المقدس کی پاسبانی کرتے اور لہو کے نذرانے دیتے رہے مگر یہ قانون فطرت ہے
کہ ایک غدار ساری قوم کو بے وقار کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے اور جب غدار صاحب اقتدار ہو تو دشمن سے دس گنا زیادہ
فوج بھی شکست کھا جاتی ہے۔
اسی کانتیجہ تھا کہ صلیبی ١٥جوالئی ١٠٩٩ء (٢٣شعبان ٤٩٢ہجری) کے روز بیت المقدس پر قابض ہوگئے۔ اس فتح میں جن
مسلمان امراء اور ریاستوں کے حکمرانوں نے صلیبیوں کو مدد دی اور جس طرح مدد دی ،وہ ایک طویل اور شرمناک کہانی ہے۔
مثال کے طور پر اتنا ہی بتانا کافی ہوگا کہ جب صلیبی فوج بیت المقدس کی طرف بڑھ رہی تھی تو شہزاء کے امیر نے نہ
صرف یہ کہ اس فوج کو نہ روکا بلکہ اسے رسد بھی دی اور رہبر (گائیڈ) بھی دئیے۔ حماة اور تریپولی کے مسلمان امراء نے
بھی صلیبی فوج کو راستہ دے کر رسد بلکہ تحائف بھی دئیے اور اپنے قبلٔہ اول کی طرف روانہ کیا۔ راستے میں کئی ایک
مسلمان ریاستیں آتی تھیں۔ انہوں نے اپنی ریاست اور حکومت کے تحفظ کی خاطر صلیبیوں کے دلکش اور حسین تحفے قبول
کیے اور ان کے عوض صلیبی فوج کی ضروریات پوری کیں۔
عرقہ کا امیر مردمومن تھا جس کی جنگی طاقت صلیبیوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھی لیکن اس نے صلیبی فوج کے
جرنیلوں کے مطالبے پر بھی انہیں کچھ نہ دیا بلکہ ان کے چیلنج کو قبول کرکے انہیں مقابلے کے لیے للکارا۔ صلیبی فوج نے
عرقہ کو محاصرے میں لے لیا۔ ١٤فروری سے ١٣مئی ١٠٩٩ء تک عرقہ کے مسلمانوں نے ایسی بے جگری سے مقابلہ کیا کہ
صلیبی فوج نے بہت سا جانی نقصان اٹھا کر محاصرہ اٹھا لیا اور راستہ بدل کر آگے چلی گئی۔ اگر یہ تمام مسلمان امراء
اپنے اپنے عالقے میں بیت المقدس کی طرف بڑھتی ہوئی صلیبی فوج کے سامنے مزاحم ہوتے رہتے تو ان کا اپنا نقصان تو
ضرور ہوتا لیکن صلیبی فوج کا خون قطرہ قطرہ بہہ کر ختم ہوجاتا۔ یہ فوج اپنے پالن سے دو اڑھائی سال تاخیر سے بیت
المقدس پہنچتی اور اس کے جسم میں خون کا ایک قطرہ نہ ہوتا۔
٭ ٭ ٭
یہ کہنا غلط نہیں کہ صلیبیوں کو بیت المقدس تک مسلمان امراء نے تازہ دم اور رسد سے ماال مال کرکے پہنچایا۔ اس کی
سزا ان مسلمانوں کو ملی جو بیت المقدس میں آباد تھے۔ وہاں مسلمان زائرین بھی گئے ہوئے تھے ،وہ بھی کچلے گئے۔
٧جون ١٠٩٩ء کے روز صلیبیوں نے اس عظیم اور مقدس شہر کا محاصرہ کیا ،وہاں حکومت مصر کا گورنر افتخار الدولہ تھا ،جس
نے محاصرے میں بے مثال شجاعت اور عسکری ذہانت سے مقابلہ کیا۔ شہر کے جیش قلعے سے نکال کر صلیبیوں پر حملے
کرائے گئے مگر صلیبیوں کے پاس سازوسامان کی افراط تھی اور فوج تو بے شمار تھی۔ ١٥جوالئی ١٠٩٩ء صلیبی فوج شہر میں
داخل ہوگئی۔
تمام تر یورپ اور ہر عیسائی ملک میں جشن منائے گئے مگر بھیانک اور ہولناک جشن وہ تھا جو فاتح صلیبیوں نے بیت
المقدس کے اندر منایا۔ صلیبی سپاہی مسلمانوں کے گھروں میں گھس گئے۔ لوٹ مار کی ،کسی گھر میں کسی فرد کو ،خواہ وہ
بوڑھا تھا یا دودھ پیتا بچہ ،زندہ نہ چھوڑا۔ زندہ رہنے دیا تو صرف جوان لڑکیوں کو جوان کی درندگی کی اذیتوں سے مریں۔
گلیوں میں بھاگتے ہوئے مسلمان بچوں ،عورتوں اور مردوں کو وحشیانہ طریقے سے قتل کیا گیا۔ صلیبی ننھے ننھے بچوں کو
برچھیوں کی انیوں میں اڑس کر اوپر اٹھاتے اور چیخ چیخ کر قہقہے لگاتے تھے۔ کھلے عام آبروریزی اور مقتولین کے سرکاٹ
کر انہیں ٹھڈ مارنا صلیبیوں کا من پسند کھیل بن گیا تھا۔
مسلمانوں کو ایک ہی پناہ نظر آتی تھی جس کے متعلق انہیں یقین تھا کہ جان کی امان ملے گی اور کسی بھی مذہب کا
اقصی میں
اقصی۔ مسلمان اپنے بال بچوں کو لے کرمسجد
پیروکار وہاں ان پر زیادتی کرنے کو گناہ سمجھے گا۔ یہ تھی مسجد
ٰ
ٰ
چلے گئے جنہیں وہاں پائوں رکھنے کو بھی جگہ نہ ملی۔ وہ باب دائود اور دوسری مسجدوں میں چلے گئے۔ خود عیسائی
اقصی کو اپنی عبادت
مؤرخین لکھتے ہیں کہ ان پناہ گزین مسلمانوں کی تعداد ستر ہزار کے لگ بھگ تھی۔ صلیبی جو مسجد
ٰ
گاہ کہتے تھے ،اس کے احترام کا ذرہ بھر خیال نہ کیا۔ وہ پناہ گزینوں پر ٹوٹ پڑے۔ کسی ایک کو زندہ نہ چھوڑا۔ مسجد
اقصی ،باب دائود اور تمام مسجدیں الشوں سے اٹ گئیں اور خون باہر بہنے لگا۔ مؤرخین نے ان الفاظ میں یہ کیفیت بیان کی
ٰ
ہے… ''صلیبیوں کے گھوڑوں کے پائوں ٹخنوں تک مسلمان شہریوں کے خون میں ڈوب گئے تھے''۔
لڑکیوں کو مسجدوں اور مسلمانوں کے دیگر مقدس مقامات میں لے جا کر بے آبرو کیا جاتا تھا۔ سب سے زیادہ بدنصیب یہ
لڑکیاں تھیں اور ان کے جنگی قیدی۔ جنگی قیدیوں کو مویشی بنا لیا گیا تھا۔ انہیں کھانے کو کم دیا جاتا اور مشقت زیادہ لی
جاتی۔ جن کاموں میں پہلے گھوڑے اور اونٹ استعمال ہوتے تھے ،ان میں اب جنگی قیدی استعمال ہونے لگے۔ ان کے ہاتھوں
مسجدیں مسمار کرائی گئیں۔ جنہوں نے انکار کیا ،انہیں بے دردی سے قتل کیا گیا۔ کسی وحشی صلیبی نے ایک جنگی قیدی
کو قتل کرکے اس کے جسم کا گوشت کاٹا اور پکا کر کھا گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ گوشت لذیذ ہے۔ اس کے
بعد صلیبیوں نے انسان خوری ( بلکہ مسلمان خوری) شروع کردی۔ جب کبھی کوئی جشن یا تقریب مناتے ایک دو تندرست اور
توانا مسلمان کو قتل کرکے ان کا گوشت کھاتے تھے۔
اس کی تردید عیسائی مؤرخین نے کی ہے لیکن انسان خوری کے واقعات خود یورپین مؤرخوں نے ہی اپنی تحریروں میں بیان
کیے ہیں۔
اقصی میں مختلف مسلمان
مسجدوں کو حرام کاری کے لیے استعمال کرنے کے عالوہ صلیبیوں نے ان میں گھوڑے باندھے ،مسجد
ٰ
سالطین اور دیگر دولت مند زائرین نے سونے اور چاندی کے فانونس اور قندیلیں لگوائی تھیں۔ تحفے کے طور پر سونے اور
چاندی کی کئی ایک اشیاء رکھی تھیں۔ صلیبیوں نے یہ تمام فانوس ،قندیلیں اور بیش قیمت اشیاء اٹھا لیں اور مسجد کے منڈیر
پر صلیب نصب کردی۔
٭ ٭ ٭
سلطان صالح الدین ایوبی کو بیت المقدس کی بے حرمتی اور وہاں کے مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم کی یہ روئیداد اس کے باپ
نجم الدین ایوبی نے بچپن سے سنانی شروع کردی تھی۔ نجم الدین ایوبی کو یہ روئیداد اس اس کے باپ (سلطان ایوبی کے
دادا) شادی نے سنائی تھی۔ یہ روئیداد سلطان ایوبی کے خون میں شامل ہوگئی تھی۔ اس نے قسم کھائی تھی کہ وہ بیت
المقدس کو آزاد کرائے گا ،اب جبکہ وہ اس مقدس شہر کو فتح کرنے نکال تھا تو اس کے دو بیٹے ،الملک االفضل اور الملک
الظاہر جوان تھے اور اس کی فوج میں تھے۔ بیت المقدس کے متعلق جو باتیں اسے اپنے باپ نے سنائی تھیں ،وہ اس نے
اپنے بیٹوں کو یوں سنا دی تھیں جیسے ایک قیمتی ورثہ ان کے حوالے کیا ہو۔
بے مقصد جینے سے قبل از وقت مرجانا بہتر ہے''۔ اس نے اپنے بیٹوں کی جنگی تربیت مکمل کرکے انہیں اپنی فوج ''
میں شامل کرتے وقت کہا تھا… ''یہ الفاظ تمہارے دادا مرحوم کے ہیں جو انہوں نے مجھے اس وقت کہے تھے جب میں
چچا شیر کوہ کے ساتھ صلیبیوں کے خالف پہلی جنگ لڑنے کے لیے چال تھا۔ انہوں نے کہا تھا ،مجھے نظر آرہا ہے کہ تم
کسی جگہ کے حکمران بنو گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم سلطان بن جائو۔ یاد رکھو بیٹے! تم آج سے میرے بیٹے نہیں،
قوم کے بیٹے ہو۔ قرآن کا حکم ہے کہ ماں باپ کی خدمت کرو۔ اب تمہارے ماں باپ قوم اور سلطنت ہے۔ اوالد کو ماں باپ
پر حکم چالنے اور ان کا دل دکھانے سے اللہ نے منع کیا ہے۔ خیال رکھنا یوسف! قوم کا دل نہ دکھانا۔ دیکھنا کہ تم پر قوم
…''کے کیا کیا حقوق ہیں۔ یہ ادا کرنا
اور میرے عزیز بیٹو! تمہارے دادا نے کہا تھا کہ جو لوگ قوم کی آن پر اللہ کی راہ میں شہید ہوئے ہیں ،انہیں نہ بھولنا۔''
جو قوم اپنے شہیدوں کو بھول جاتی ہے ،اس قوم کو خدا بھول جاتا ہے۔ جس قوم سے خدا نظریں پھیر لیتا ہے ،تم نہیں
جانتے کہ یہ دنیا اس کے لیے جہنم بن جاتی ہے۔ اس کی عبادت گاہیں اصطبل اور اس کی بیٹیاں دشمن کی عیاشی کا
سامان بن جاتی ہیں۔ اس قوم کی تقدیر اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے… جب تمہیں حکومت کی مسند پر بٹھایا جائے گا
تو قوم کو رعایا نہ سمجھنا۔ بندوں پر حکومت کا حق صرف اللہ کا ہے ،بندوں پر حکومت کرکے اللہ کی برابری کاگناہ کرو
گے تو انجام مصر کے فرعونوں واال ہوگا۔ حکومت کا مطلب وہ ذمہ داری ہوتی ہے جو قوم کی طرف سے اللہ اس کے
حکمران پر عائد کرتا ہے۔ حکمران کی اپنی کوئی ذات نہیں رہتی۔ وہ فرد کی حیثیت سے مرجاتا ہے۔ وہ قوم کا امین اور
قوم کا حصہ بن جاتا ہے۔ قوم کو فاقے کرنے پڑیں تو حکمران کو اپنا پیٹ نہیں بھرنا چاہیے۔ وہ اپنے منہ میں نوالہ ڈالے تو
اسے یقین کرلینا چاہیے کہ قوم کے ہر فرد کے منہ میں ایسا ہی نواال جارہا ہے۔ وہ جب گھوڑے پر سوار ہوتو دیکھے کہ اس
…''کی گردن مسجد کے مینار کی طرح اکڑ کر سیدھی تو نہیں ہوگئی؟
اقصی کو کفار سے آزاد کرالو ''
اور میرے عزیز بیٹو! تمہارے دادا نے کہا تھا کہ گردن اس روز اونچی کرنا جس روز مسجد
ٰ
اقصی میں فتح کے نفل پڑھ لو گے اور اس مسجد کی دہلیز جہاں سے
گے۔ اطمینان کی نیند اس رات سونا جس رات مسجد
ٰ
ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معراج کے لیے اللہ کے حضور گئے تھے ،اپنے آنسوئوں سے دھوئوگے… اور میرے بیٹو!
وہ بچے جو بیت المقدس کی گلیوں اور مسجدوں میں قتل ہوئے تھے اور قوم کی وہ دو بیٹیاں جو وہاں بے آبرو ہوئی تھیں،
مجھے راتوں کو سونے نہیں دیتیں۔ جس مسجد میں میرے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک قدم گئے اور
جس مسجد میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک جبیں نے سجدے کیے تھے ،اس مسجد کی اینٹیں رات بھر
میرے اوپر گرتی رہتی ہیں۔ میں بدک بدک جاتا ہوں۔ کبھی ورد سے کراہتی ہوئی ایسی صدائی سنائی دیتی ہیں جیسے مسجد
اقصی میں قتل ہونے والے بچے بزبان گریہ اذانیں دے رہے ہوں… وہ تمہیں پکار رہے ہیں میرے بیٹو! وہ مجھے پکار رہے
ٰ
…''ہیں
اور تمہارے دادا نے بڑھاپے سے کانپتے ہوئے ہاتھ مجھے دکھا کر کہا تھا کہ میں نے اپنی جوانی تمہیں دے دی ہے جو کام''
میں نہیں کرسکا وہ تم کرو۔ بیت المقدس جائو اور یہی تمہارے جینے کا مقصد ہوگا۔ سلطنت کی مسند پر بیٹھ کر اپنے دشمن
کو اس لیے نظر انداز کیے رکھو گے کہ اطمینان سے قوم پر حکومت کرسکو تو اس مسند کی عمر طویل نہیں ہوگی۔ شہیدوں
کی روحیں جنات بن کر تمہاری مسند کو الٹ دیں گی۔ جینے کا مقصد وہ رکھو جو خدا کو عزیز ہو اور جس میں قرآن کا
…''حکم شامل ہو
میرے عزیز بیٹو! آج میں اپنے باپ کا ورثہ تمہارے سپرد کرتاہوں۔ آج سے تم میرے نہیں سلطنت اسالمیہ کے بیٹے ہو۔ ''
میں نے تمہاری ماں سے کہہ دیا کہ بھول جا تیری کوکھ نے کوئی بیٹے جنے تھے۔ اگر انہیں بھول نہ سکی تو ان کی زندگی
کی دعا نہ کرنا ،میں انہیں وہاں ذبح کرانے لے جارہا ہوں جہاں ابراہیم علیہ السالم نے اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ پر قربان
کرنے کے لیے اس کی گردن پر چھری رکھی تھی۔ اگر دعا کرنی ہے تو اللہ سے یہ التجا کرنا کہ تو نے جو دودھ ان بچوں
اقصی کا فرش دھو ڈالے… اور اللہ کرے گا ایسا ہی ہوگا۔ عہد کرو میرے
کو پالیا ہے ،یہ نور سے منور خون بن کر مسجد
ٰ
بیٹو! میں زندہ نہ رہا تو بیت المقدس کو تم آزاد کرائو گے''۔
اس نے دونوں بیٹوں کو ١٠٩٩ء کی خونچکاں داستاں سنائی اور جب اس نے بیٹوں کو جانے کی اجازت دی تو انہوں نے
سلطان ایوبی کو اس طرح سالم نہ کیا جس طرح بیٹے اپنے باپ کو کیا کرتے ہیں۔ وہ اٹھے اور االفضل جو بڑا تھا ،بوال…
'' سلطان عالی مقام! صرف شہید ہونا کوئی کارنامہ نہیں ،ہم شہادت سے پہلے بیت المقدس کی گلیوں میں دشمنوں کا اتنا
اقصی سے صلیب اپنے ہاتھوں اتار
خون بہائیں گے کہ آپ کے گھوڑے کے پائوں پھسلیں گے اور ہم دیکھیں گے کہ آپ مسجد
ٰ
کر صلیبیوں کے غلیظ خون میں پھینک رہے ہیں''۔
مگر یہ خون نہتے شہریوں کا نہیں ہوگا ،االفضل''… سلطان ایوبی نے کہا۔''
یہ خون زرہ پوش صلیبیوں کا ہوگا''… االفضل نے کہا… ''یہ خون اس لوہے سے ٹپکے گا جس سے صلیبیوں نے اپنے ''
جسم ڈھانپ رکھے ہیں۔ ایمان کی تلوار باطل کے فوالد کو کاٹنے کی طاقت رکھتی ہے''۔
اللہ تمہاری زبان مبارک کرے''… سلطان ایوبی نے کہا۔''
بیٹوں نے فوجی انداز سے باپ کو سالم کیا اور باہر نکل گئے۔
اب سلطان ایوبی بیت المقدس سے چالیس میل دور بحیرٔہ روم کے کنارے عسقالن میں اس چیتے کی طرح بیٹھا تھاجو اپنے
شکار پر جھپٹنے کے لیے تیار ہو۔ جذباتی طور پر وہ فورا ً بیت المقدس کی طرف پیش قدمی کرنے کو تیار تھا لیکن وہ جنگ
کے حقائق کو دیکھ رہا تھا۔ یہ چالیس میل کا فاصلہ تو جیسے آتش فشاں چٹانوں سے بھرا پڑا تھا۔ بیت المقدس کا دفاع ہی
ایسا تھا۔ صرف شہر کے اردگرد ہی دیوار نہیں تھی بلکہ اس شہر کے اردگرد دور دور تک کے عالقے میں چھوٹی چھوٹی قلعہ
بندیاں اور صلیبی فوج کی چوکیاں ( آئوٹ پوسٹیں) تھیں۔ گشتی پہرے کا انتظام بھی تھا۔ گھوڑ سوار پارٹیاں ان راستوں پر
گھومتی پھرتی رہتی تھیں جن سے بیت المقدس تک پہنچا جاسکتا تھا۔ اب یہ دفاعی انتظامات پہلے سے زیادہ سخت کردئیے
گئے تھے۔ بیت المقدس کے اندر جو فوج تھی اس کے جرنیلوں کو سلطان ایوبی کی ہر ایک نقل وحرکت کا علم تھا مگر ان
میں اب اتنی ہمت نہیں رہی تھی کہ سلطان ایوبی کو عسقالن میں روک لیتے یا اس پر جوابی حملہ کرتے۔ حطین تک
سلطان ایوبی نے ان کی عسکری قوت کا بہت زیادہ خون نکال لیا تھا۔
بیت المقدس کا حکمران گائی آف لوزینان تھا جو حطین میں جنگی قیدی ہوگیا اور اب دمشق کے قید خانے میں تھا۔ وہ جو
فوج اپنے ساتھ لے گیا تھا اس کا کچھ حصہ مارا گیا۔ کچھ جنگی قیدی ہوا اور باقی فوج ایسی بھاگی کہ اب اس کے افسر،
سپاہی اور زرہ پوش نائٹ زخمی یا خوفزدگی کی حالت میں بیت المقدس میں آرہے تھے۔ نائٹوں کے مورال میں کچھ جان
تھی کیونکہ انہیں اپنے رتبے اوراعزاز کا پاس تھا۔ دیگر فوج نے شہر میں جاکر دہشت پھیال دی۔ جرنیلوں نے نائٹوں کو ازسرنو
منظم کرلیا۔ اس طرح بیت المقدس کے اندر کی تعداد ساٹھ ہزار ہوگئی تھی۔ چونکہ یہ تمام آبادی کو معلوم ہوگیا تھا کہ
سلطان ایوبی شہر پر شہر فتح کرتا آرہا ہے ،اس لیے شہری بھی لڑنے مرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ شہر کے دفاع کو اور زیادہ
مستحکم کرلیا گیا۔
شہرکے ایک دو دروازوں کو دن کے دوران کھال رکھنا پڑتا تھا کیونکہ میدان جنگ سے بھاگے ہوئے صلیبی اکیلے اکیلے اور دو
دو ،چارچار کی ٹولیوں میں آتے رہتے تھے۔ سلطان ایوبی کے جاسوس پہلے ہی شہر میں موجود تھے ،اب بھاگے ہوئے صلیبیوں
کے بھیس میں چند اور جاسوس اندر چلے گئے اور شہر کے دفاعی انتظامات اور دیوار کو اچھی طرح دیکھ کر نکل بھی آئے۔
مسلمانوں پر پابندیاں پہلے سے زیادہ سخت کردی گئیں۔
٭ ٭ ٭
بیت المقدس سے دس بارہ میل عسقالن کی طرف صلیبیوں کی ایک چوکی تھی جس میں ایک سو کے قریب صلیبی فوجی
رہتے تھے ،انہوں نے خیمے نصب کررکھے تھے۔ ستمبر ١١٨٧ء کی ایک رات ان کی چوکی کے قریب ایک دھماکہ سا ہوا ،پھر
دو تین اور ایسے ہی دھماکے ہوئے۔ ان کے فورا ً بعد شعلے اٹھے اور تین چار خیمے جلنے لگے۔ سپاہی جاگ کر ادھر ادھر
بھاگے۔ جونہی فوجیوں میں ہلچل مچی ،ان پر ہر طرف سے تیر آنے لگے۔ جلتے خیموں کی روشنی میں وہ نظر آرہے تھے۔یہ
آتش گیر سیال کی ہانڈیاں تھیں جو سلطان ایوبی کے ایک چھاپہ مار جیش نے چھوٹی منجنیق سے پھینکی تھیں۔ یہ چوکی
میں گر کر ٹوٹیں تو جہاں یہ گری تھیں وہاں جلتے ہوئے فلیتوں والے تیر چالئے گئے۔ آتش گیر سیال جل اٹھا۔
صلیبی ادھر ادھر بھاگے تو انہیں پتہ چال کہ وہ گھیر میں آئے ہوئے ہیں اورزندہ نکل نہیں سکیں گے۔ چھاپہ ماروں نے للکارنا
شروع کردیا… '' زندہ رہنا چاہتے ہو تو ہتھیار ڈال کر ایک طرف کھڑے ہوجائو''… شعلوں کی دہشت اور تباہ کاری تو اپنی
جگہ تھی ،سلطان ایوبی کے چھاپہ ماروں کی للکار نے صلیبیوں کا رہا سہا دم خم بھی ختم کردیا۔ وہ ہتھیار ڈال کر چھاپہ
ماروں کی حراست میں آگئے۔ ان کی تعداد پچیس تیس رہ گئی تھی۔ ان سے ہتھیار اور گھوڑے وغیرہ لے کر پیچھے بھیج دیا
گیا۔
صبح طلوع ہوئی تو اس جلی ہوئی چوکی میں سلطان ایوبی کے ہر اول دستے کاایک جیش پہنچ چکا تھا۔ اس سے فوج کی
پیش قدمی خاصے دور عالقے تک محفوظ ہوگئی۔ چھاپہ ماروں کی حالت جنگل کے درندوں کی سی ہوگئی تھی۔ دو دو جانباز
جھاڑیوں ،ٹیکریوں اور چٹانوں میں چھپ چھپ کر گھومتے پھرتے رہتے تھے۔ جہاں انہیں گشتی سواروں یا پیادہ سپاہیوں کی
آواز آتی ،وہ چھپ جاتے اور جب صلیبی قریب آتے یہ ان پر ٹوٹ پڑتے۔ دو آدمی اگر چھ آدمیوں پر ٹوٹ پڑیں تو دو کا کیا
حشر ہوتا ہوگا۔ اس سے چھاپہ مار شہید بھی ہوتے تھے ،زخمی بھی۔
یہ ان کی انفرادی جنگ تھی۔ انہیں کوئی کمانڈر نہیں دیکھ رہا تھا۔ وہ کہیں ادھر ادھر چھپے رہتے تو کوئی پوچھنے واال نہیں
تھا لیکن جسمانی ٹریننگ کے ساتھ ساتھ انہیں جو روحانی اور ذہنی ٹریننگ دی گئی تھی اس نے انہیں آگ بگوال کررکھا تھا۔
حطین کی فتح کے بعد سلطان ایوبی نے جو بڑے شہر فتح کیے تھے ،وہاں کے مسلمانوں کی حالت فوج کو دکھائی گئی تھی۔
انہیں مسجدوں کی بربادی اور بے حرمتی دکھائی گئی تھی اور انہیں بتایا گیا تھا کہ یہ جنگ کسی بادشاہ کی بادشاہی کے
تحفظ کے لیے نہیں لڑی جارہی بلکہ یہ اسالم کے تحفظ اور اس عظیم مذہب کے دشمن کے خالف لڑی جارہی ہے۔ اس
ٹریننگ سے یہ جنگ ان کے ایمان کا جزو بن گئی تھی۔
عسقالن میں سلطان ایوبی رات کو سوتا بھی کم ہی تھا۔ چھاپہ ماروں کی طرف قاصد آتے رہتے تھے اور بیت المقدس سے
کوئی جاسوس بھی آجاتا تھا۔ یہ رات کو بھی آتے تھے ،سلطان ایوبی نے حکم دے رکھا تھا کہ کہیں سے کوئی پیغام کسی
بھی وقت آئے تو اسے اسی وقت دیا جائے ،خواہ وہ گہری نیند سورہا ہو۔ چھاپہ ماروں کی رپورٹیں یہی ہوتی تھیں کہ فالں
مقام پر صلیبیوں کی ایک چوکی پر حملہ کیا گیا۔ اتنے صلیبی مارے گئے اور اتنے چھاپہ مار شہید اور زخمی ہوئے ہیں اور
فالں راستہ صاف کرلیا گیا ہے۔ اس کے مطابق سلطان ایوبی نقشے پر پیش قدمی کے راستے کی لکیر میں ردوبدل کرتا رہتا
تھا۔
٭ ٭ ٭
سلطان ایوبی نے ساالروں اور نائب ساالروں کی آخری کانفرنس منعقد کی۔ اس میں بحریہ کے کپتان الفارس بیدرون کو بھی بالیا
گیا۔ الفارس کے پاس جب قاصد پہنچا ،اس وقت اس کا جہاز عسقالن کے بیس میل دور کھلے سمندر میں تھا۔ کشتی اس تک
پہنچتے آدھا دن لگ گیا اور الفارس اسی کشتی میں رات کو عسقالن پہنچا۔ قاصد نے اسے بتایا تھا کہ سلطان نے تمام
ساالروں کو بالیا ہے۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ بیت المقدس پر حملے کے متعلق اجالس ہوگا۔ جہاز سے قاصد کے ساتھ روانہ ہوتے
وقت اس نے دونوں لڑکیوں کو بتایا کہ وہ عسقالن جارہا ہے۔
سلطان نے بالیا ہے؟''ایک لڑکی نے پوچھا۔''
کیوں بالیا ہے؟'' دوسری نے پوچھا۔''
میرے سرکاری فرائض کے متعلق تم پوچھنا کیوں ضروری سمجھتی ہو؟'' الفارس نے انہیں کہا… ''تمہیں کئی بار کہہ چکا ''
ہوں کہ میری ذات کے سوا کچھ اور نہ پوچھا کرو''۔
دونوں ہنس پڑیں۔ ایک بولی۔ ''اگر ہم اس قابل ہوتیں تو آپ کی غیرحاضری میں آپ کے جہاز کو سنبھالے رکھتیں اور
دشمن کے جہاز آجاتے تو ان سے لڑائی کرتیں''۔
تم جس قابل ہو ،میں تم سے وہی کام لوں گا''۔ الفارس نے کہا… ''میری غیرحاضری میں زیادہ وقت نیچے ہی گزارنا۔ ''
اوپر جاکر مالحوں اور عسکریوں کے کام میں دخل نہ دینا''۔
''آپ کب واپس آئیں گے؟''
رات شاید نہ آسکوں''۔ الفارس نے جواب دیا۔ ''کل شام تک آسکوں گا''۔''
الفارس لڑکیوں میں پوری طرح گھل مل گیا تھا۔ وہ اس سے سلطان ایوبی کے آئندہ اقدامات کے متعلق اکثر پوچھتی تھیں۔ یہ
بھی پوچھا کرتیں کہ بحیرٔہ روم میں مصر اور شام کا بحری بیڑہ بندرگاہوں میں ہے یا سمندر میں اور کل کتنے جہاز ہیں ،ان
میں فوج کتنی ہے۔ الفارس نے انہیں ٹالنے کے بجائے صاف کہہ دیا تھا کہ وہ اس سے ایسے سوال نہ پوچھا کریں۔ اس کے
باوجود اپنے حسن اور نازوادا کا طلسم طاری کرکے اس سے کوئی ایسی بات پوچھ ہی بیٹھتیں تھیں جو فوجی راز ہوتا تھا۔
الفارس جذباتی مدہوشی سے فورا ً بیدار ہوجاتا اور انہیں پیار سے ڈانٹ دیا کرتا تھا۔
نشے کی حالت میں انسان دل میں چھپائی ہوئی بات اگل دیا کرتا ہے۔ نشہ خواہ شراب کا ہو یا کسی دوائی کا مگر الفارس
شراب نہیں پیتا تھا ،نہ جہاز میں کسی کو شراب یا کوئی اور نشہ آور چیز رکھنے کی اجازت تھی۔ الفارس بدکار بھی نہیں
تھا مگر وہ اپنے آپ پر ان لڑکیوں کا نشہ طاری کرلیا کرتا تھا جس سے اس کی تھکن دور ہوجاتی اور وہ تازہ دم ہوجایا کرتا
تھا۔ یہ لڑکیاں تربیت یافتہ تھیں۔ انہوں نے دیکھا کہ الفارس میں نہ شراب کی عادت ہے ،نہ اس کے جذبات سفلی اور
حیوانی ہیں تو انہوں نے اس پر پیار اور محبت کا نشہ طاری کرنا شروع کردیا تھا مگر الفارس اپنے فرائض اور ذمہ داری کا
اتنا پکا تھا کہ جذبات پر مدہوشی طاری ہوتی تو بھی اپنے فرض سے کوتاہی نہیں کرتا تھا۔
٭ ٭ ٭
ایک رات الفارس گہری نیند سویا ہوا تھا۔ لڑکیاں اپنے کیبن میں تھیں ،دونوں اوپر چلی گئیں اور عرشے کے جنگلے کے سہارے
سمندر پر چاندنی کے بکھرے اور چمکتے ہوئے موتیوں سے لطف اٹھانے لگیں۔
روزی!'' ایک لڑکی نے دوسری سے کہا… ''مجھے اپنے سامنے گہرا اندھیرا نظر آتا ہے۔ الفارس لگتا موم ہے لیکن کوئی ''
ایسی ویسی بات پوچھو تو پتھر بن جاتا ہے۔ میرا خیال ہے ہم اپنا یہاں کام نہیں کرسکیں گی۔ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ
''اینڈریو آئے تو اسے کہیں کہ ممکن ہو توہمیں یہاں سے لے جائے؟
اینڈریو وہ آدمی تھا جو چھوٹی سی کشتی جہازوں کے قریب لے جا کر کھانے پینے اور ضروریات کی اشیاء جہاز کے مالحوں
اور سپاہیوں کے ہاتھ بیچتا تھا۔ آپ نے پچھلی قسط میں پڑھا ہے کہ یہ آدمی ان لڑکیوں کو اتفاق سے مال تھا۔ وہ غریب
ماہی گیروں کے بہروپ میں اپنی کشتی پر الفارس کے جہاز کے قریب چیزیں بیچنے آیا تھا۔ اس نے لڑکیوں اور لڑکیوں نے
اسے پہچان لیا تھا اور انہوں نے رسیوں کی سیڑھی نیچے کروا کر اسے چیزیں خریدنے کے بہانے اوپر بال لیا تھا۔ اس نے
لڑکیوں کو بتایا تھا کہ وہ الفارس کے ان چھ جہازوں کے ساتھ سائے کی طرح لگا ہوا ہے اور وہ موقع ملتے ہی ان جہازوں کو
تباہ کرا دے گا۔ لڑکیوں نے اسے بتایا تھا کہ وہ کس طرح الفارس سے ملی تھیں اور انہوں نے خانہ بدوش بن کر اس جہاز
میں پناہ لے لی ہے۔ لڑکیوں نے اسے یہ بھی بتایا کہ وہ پناہ کے بہانے جاسوسی اور تباہ کاری کریں گی۔
اس آدمی کا نام اینڈریو تھا اور وہ تخریب کار جاسوس تھا۔ پہلی مالقات کے بعد وہ دوبار اپنے بہروپ میں آیا اور لڑکیوں :
سے مال تھا۔ لڑکیوں نے اسے بتایا تھا کہ الفارس ان کے جال میں نہیں آرہا اور وہ کوئی راز نہیں دیتا۔ اینڈریو یہ معلوم کرنا
چاہتا تھا کہ یہ جہاز کب تک اس ڈیوٹی پر رہیں گے اور یہ ٹائر کی طرف جائیں گے یا نہیں۔ اس نے لڑکیوں سے کہا تھا …
'' معلوم ہوتا ہے تم اپنا فن بھول گئی ہو۔ اس جہاز میں اکیال الفارس نہیں ،اس کا نائب بھی ہے اور اس کے نیچے ایک
افسر اور بھی ہے۔ ان میں سے کسی کو گانٹھ لو۔ ان میں رقابت پیدا کردو۔ الفارس کے نائب کو اس کا دشمن بنا دو۔ اپنا
جادو چالئو۔ تم کیا نہیں جانتیں؟ سب جانتی ہو''۔
اس رات ایک لڑکی دوسری سے مایوس ہوکر کہہ رہی تھی کہ روزی ،اینڈریو آئے تو اسے کہتے ہیں کہ ہمیں یہاں سے نکال
لے جائے۔
سنو فلوری!'' روزی نے اسے جواب دیا… ''اینڈریو ہمیں یہاں سے نہیں نکال سکے گا۔ یہ جنگی جہاز ہے۔ تم دیکھ رہی''
ہو کہ رات کو عرشے پر بلکہ وہ اوپر دیکھو ،مستول پر مچان بنائے ایک بحری سپاہی کھڑا ہے۔ فرار کی کوشش میں ہمارے
ساتھ اینڈریو کے پکڑے جانے کا بھی امکان ہے۔ ہمیں اتنی جلدی مایوس نہیں ہونا چاہیے''۔
دوسرا حربہ استعمال کریں؟'' فلوری نے پوچھا۔''
کرنا پڑے گا'' ۔ روزی نے کہا… ''الفارس کا نائب کپتان تو پہلے ہی ہمیں بھوکی نظروں سے دیکھتا اور مسکراتا رہتا ہے۔ ''
یہ لوگ بڑے لمبے عرصے سے سمندر میں ہیں۔ ان کے سروں پر موت منڈالتی رہتی ہے۔ خدا نے مرد میں عورت کی جو
کمزوری پیدا کی ہے ،وہ اسی کیفیت میں ابھرتی ہے۔ اشارے کی دیر ہے۔ یہ بتا دو کہ یہ کام میں کروں یا تم کرو گی۔
تمہیں مجھ سے زیادہ تجربہ حاصل ہے''۔
میں ہی کرلیتی ہوں''۔ فلوری نے کہا۔''
لیکن اس کام کے اصول یاد رکھنا''… روزی نے کہا… ''راز لے لینا لیکن اس کی قیمت صرف دکھا دینا ،ادا نہ کرنا۔ اس ''
شخص میں اتنی تشنگی بلکہ دیوانگی پیدا کرنا کہ یہ شخص تمہیں یا الفارس کو قتل کرنے کی باتیں کرنے لگے''۔
الفارس کا نائب رئوف کرد تھا۔ وہ ان لڑکیوں کو دیکھتا اور مسکراتا رہتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ یہ الفارس کی بیویاں یا داشتہ
نہیں اور یہ خانہ بدوش ہیں ،جنہیں الفارس نے اپنے جہاز میں پناہ دی ہے۔ رئوف کرد کے دل میں لڑکیوں نے ہلچل بپا کردی
تھی۔ اس رات جب یہ لڑکیاں عرشے پر جنگلے کا سہارا لیے باتیں کررہی تھیں ،رئوف اپنی ڈیوٹی پر کھڑا انہیں دیکھ رہا
تھا۔ الفارس سلطان ایوبی کے بالوے پر جاچکا تھا۔ اب جہاز رئوف کرد کی تحویل میں تھا۔
فلوری عرشے کے جنگلے کے ساتھ کھڑی رہی۔ روزی ٹہلنے کے انداز سے وہاں سے چل پڑی اور رئوف کرد کے قریب سے
گزرتے مسکرائی۔ رئوف کرد نے اسے اپنے پاس بالیا اور رسمی سی باتیں کیں۔ روزی چلنے لگی تو رئوف کردنے اسے رکنے کو
کہا۔
21:06
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
اقصی کی دہلیز پر
قسط نمبر 153ایوبی مسجد
ٰ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
روزی چلنے لگی تو رئوف کردنے اسے رکنے کو کہا۔''میں آپ کے پاس رکی رہتی تو وہ (فلوری) ناراض ہوگی''۔ روزی نے
''کہا۔''ناراض کیوں ہوگی؟
اپنے اپنے دل کی بات ہے''۔ روزی نے کہا… ''ایک روز الفارس نیچے سو رہے تھے اور میں اوپر آپ کے پاس کھڑی ''
تھی تو اس ( فلوری) نے دیکھ لیا۔ بعد میں کہنے لگی… ''میری ملکیت پر قبضہ نہ کرو۔ رئوف میرا ہے۔ جب ہم مصر
جائیں گے تو میں اس کے ساتھ چلی جائوں گی''… یہ الفارس کو پسند نہیں کرتی اور اس ڈر سے آپ کے قریب نہیں آتی
کہ الفارس ناراض ہوگا''۔
رئوف کرد کے جذبات میں زلزلے بپا ہوگئے۔ مردانہ فطرت کی کمزوری نے اس سے ہتھیار ڈلوا لیے۔ اس نے فلوری اور روزی
سے زیادہ خوبصورت لڑکیاں بھی دیکھی تھیں لیکن ان کے حسن اور ڈیل ڈول میں جو کشش تھی وہ اس نے کسی لڑکی میں
کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اب اسے یہ پتہ چال کہ ان میں سے ایک اسے چاہتی ہے تو اس کا دماغ جذبات کے بنائے اس
راستے پر چلنے لگا جس پر مرد جاتے نظر آتے ہیں ،واپس آتے دکھائی نہیں دیتے۔ روزی اسے طلسم ہوشربا میں چھوڑ کر
چلی گئی۔ اس نے اپنے کیبن میں اترنے والی سیڑھیوں پر پائوں رکھ کر پیچھے دیکھا۔ رئوف کرد آہستہ آہستہ فلوری کی طرف
جارہا تھا۔
آج رات سوئو گی نہیں جواشی؟'' رئوف کرد نے فلوری کا وہ نام لیا جو اس نے الفارس کو بتایا تھا۔ روزی نے اپنا نام از''
میز بتایا تھا۔ خانہ بدوشوں کے نام اسی قسم کے ہوا کرتے تھے۔
رئوف کرد کو اپنے قریب کھڑا دیکھ کر وہ ٹریننگ کے مطابق ایسے انداز سے شرمائی اور مسکرائی کہ اس انداز سے کنواری
دلہن بھی نہ شرماتی ہوگی۔ رئوف کرد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو فلوری سکڑ گئی۔
''ازمیر نے مجھے تمہارے متعلق کچھ بتایا ہے''… رئوف کرد نے کہا… ''کیا یہ سچ ہے؟''
فلوری نے اس کی طرف دیکھا اور فورا ً گردن گھما کر سمندر کی طرف دیکھنے لگی۔ رئوف کرد نے اپنا سوال دہرایا اور فلوری
کے اس ہاتھ پر ہاتھ رکھا جو جنگلے پر رکھا تھا۔ فلوری نے آہستہ آہستہ اپنا ہاتھ الٹا کرکے انگلیاں رئوف کرد کی انگلیوں
میں الجھا دیں… تھوڑی ہی دیر بعد فلوری اس جگہ رئوف کرد کے ساتھ بیٹھی تھی ،جہاں اس کی ڈیوٹی تھی۔ جہاز نے لنگر
ڈال رکھے تھے۔ دو تین چار بتیاں سمندر پر تیر رہی تھیں۔ یہ الفارس کے جہاز تھے جو گشت کررہے تھے۔
آدھی رات کو رئوف کرد کی جگہ اس کے ایک ماتحت افسر کو ڈیوٹی پر آنا تھا۔ رئوف کرد نے فلوری سے کہا کہ وہ اس
کے کیبن میں چلے اور وہ آتا ہے۔ فلوری چلی گئی۔
جہاز کے عرشے سے صبح کی اذان کی آواز آئی تو فلوری رئوف کرد کے کیبن سے نکلی۔ اس نے الفارس کے اس نائب کو
یقین دال دیا تھا کہ وہ اسے دل وجان سے چاہتی ہے اور الفارس کو وہ خاوند کی حیثیت سے کبھی قبول نہیں کرے گی۔ اس
نے رئوف کرد سے یہ بھی کہا… ''الفارس مجھے کہتا تھا کہ رئوف کے ساتھ بات نہ کرنا ،بہت برا آدمی ہے۔ حقیقت یہ ہے
کہ وہ خود بہت برا آدمی ہے۔ اس نے ہمیں پناہ تو دی ہے لیکن ہماری مجبوری سے پورا پورا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اگر ہم
اتنی مجبور نہ ہوتی تو اتنی زیادہ قیمت کبھی نہ دیتیں''۔
رئوف کرد کے دل میں اپنی محبت کا دھوکہ اور الفارس کی دشمنی پیدا کرکے وہ اس کے کیبن سے نکل آئی اور جو باتیں
اسے الفارس نے کبھی نہیں بتائی تھیں وہ رئوف کرد نے اسے بتا دیں۔
اس رات سلطان ایوبی سویا نہیں ،رات اجالس میں گزر گئی۔ وہ ایسا کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا جس سے بیت
المقدس کا محاصرہ ناکام ہوجائے۔ اس نے ساالروں وغیرہ کو بیت المقدس تک پہنچنے کا راستہ نقشے پر دکھایا۔ اس نے نقشے
پر ان جگہوں پر نشان لگا رکھے تھے جہاں کچھ دن پہلے صلیبیوں کی چوکیاں تھیں اور اب وہاں اپنے چھاپہ مار تھے یا ہر
اول کی تھوڑی تھوڑی نفری تھی یا وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ راستہ صاف تھا۔ ایسی جگہوں پر بھی اس نے نشان لگا رکھے
تھے جہاں صلیبیوں کی قلعہ بندیوں کی ساخت کی چوکیاں ابھی موجود تھیں اور ان میں نفری کچھ زیادہ تھی۔ سلطان ایوبی
نے سب کو بتایا کہ اس نے ان پر قبضہ کرنے کی کوشش ہی نہیں کی کیونکہ وہ اپنی جنگی طاقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔
اس کا عالج اس نے یہ بتایا کہ یہ سب چوکیاں بلندیوں پر ہیں ،اس لیے انہیں نظرانداز کرکے ذرا سا دور سے گزرنا ہے۔ ان
میں جو فوج ہے ،وہ ان میں بیٹھی رہے۔ یہ تھوڑی تھوڑی نفری باہر آکر ہمارا راستہ روکنے کی جرٔات نہیں کرے گی۔
لیکن دور سے ہمیں دیکھ کر ان میں سے قاصد بیت المقدس جا کرخبر دیں گے''۔ ایک ساالر نے کہا… ''پھر ہم بیت ''
المقدس والوں کو بے خبری میں نہیں لے سکیں گے''۔
بے خبری میں جا لینے کی امید دل سے نکال دو''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''صلیبیوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم ''
بیت المقدس جارہے ہیں۔ ان کا انداز بتاتا ہے کہ وہ بیت المقدس کے راستے میں ہمارے مقابلے میں نہیں آئیں گے۔ ایک تو
شہر میں پہلی فوج ہے جو کسی جنگ میں شریک نہیں ہوئی۔ یہ شہر کے دفاع کے لیے محفوظ اور تیار رکھی گئی ہے ،وہاں
سے جاسوس اطالع الئے ہیں کہ یہ فوج دن رات محاصرے میں لڑنے اور محاصرہ توڑنے کی مشق کرتی رہتی ہے۔ اس میں
اضافہ یوں ہوا ہے کہ ہم نے جو مقامات فتح کیے وہاں کی بھاگی ہوئی فوج بھی بیت المقدس چلی گئی ہے۔ اس میں زرہ
پوش نائٹ بھی ہیں۔ ہمارے جاسوسوں نے بتایا ہے کہ محاصرے کے دوران یہ نائٹ دروازوں سے باہر آکر حملے کریں گے اور
لہذا یہ نہ
ہر حملے کے بعد شہر میں چلے جائیں گے۔ انہوں نے یہ طریقہ ہم سے سیکھا ہے۔ جھپٹا مارو اور غائب ہوجائو۔ ٰ
سمجھو کہ تم دشمن کو بے خبری میں جالو گے۔ دشمن تمہارے انتظار میں تیار کھڑا ہے ،پھر بھی میں نے انتظام کررکھا ہے
کہ صلیبیوں کی کسی چوکی سے کوئی قاصد بیت المقدس نہ پہنچ سکے۔ بیت المقدس اور ان کی چوکیوں کے درمیان ہمارے
…''چھاپہ مار موجود ہیں۔ کسی کو زندہ نہیں جانے دیں گے
فوج کی تعداد کے متعلق جاسوس مختلف اطالعات الئے ہیں۔ ان سے میں نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ بیت المقدس کے اندر''
صلیبیوں کی باقاعدہ فوج کی تعداد ساٹھ ہزار سے کچھ زیادہ ہوسکتی ہے ،کم نہیں ہوگی۔ یہ بھی ذہن میں رکھنا کہ وہاں
مسلمان قید اور نظر بندی میں ہیں ،اس لیے وہ اندر سے ہماری کوئی مدد نہیں کرسکیں گے۔ اس مقابلے میں عیسائی شہری
اپنی فوج کے دوش بدوش محاصرے میں بے جگری سے لڑیں گے۔ عیسائیوں نے اپنے بچوں کو بھی تیراندازی کی تربیت دے
رکھی ہے۔ شہر کی دیواروں کے اوپر سے ہم پر تیر صحیح معنوں میں موسال دھار بارش کی طرح آئیں گے۔ یہ بھی ذہن میں
رکھو کہ صلیبی تیر پھینکنے کے لیے ایک نئی کمان الئے ہیں جس کی شکل صلیب کی سی ہے۔ اس سے تیر دور بھی جاتا
ہے اور نشانہ بھی صحیح ہوتا ہے''۔
سلطان ایوبی نے نقشے پر حاضرین کو تمام جگہیں اور راستے وغیرہ دکھائے پھر محاصرے کے متعلق ہدایات دیں اور سب سے
پوچھا کہ یہ آخری اجالس ہے ،اس لیے کسی کے ذہن میں کوئی ذرا سا بھی شک ہو تو وہ رفع کرلے اور کوئی سوال خواہ
وہ کتنا ہی بے معنی کیوں نہ ہو ،پوچھ لے۔ قاضی بہائوالدین شداد جو اس تاریخی جنگی مہم میں سلطان ایوبی کے ساتھ تھا،
اپنی ڈائری '' سلطان یوسف پر کیا افتاد پڑی'' میں لکھتا ہے… ''سلطان ایوبی نے (اس آخری اجالس میں) رسول اکرم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث سنائی… ''جس کے لیے کامیابی کا دروازہ کھل جاتا ہے ،اسے فورا ً داخل ہوجانا
چاہیے ،معلوم نہیں ،یہ دروازہ کب بند ہوجائے۔ سلطان ایوبی بہت تیزی سے مقبوضہ عالقے اور قلعے فتح کرتا آرہا ہے ،اس
لیے وہ بیت المقدس پر یلغار کو التوا میں ڈالنے کے سخت خالف تھا۔ اس نے کہا… ''خدا نے ہماری کامیابی کا دروازہ کھول
دیا ہے۔ بند ہونے سے پہلے اس میں داخل ہوجائو''۔
میرے رفیقو!'' اس نے نقشہ الگ رکھتے ہوئے کہا… ''حطین کی جنگ سے پہلے میں نے تمہیں ایک دو باتیں کہی ''
تھیں ،انہیں دہرانا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس کے بعد ہم باتیں نہیں کرسکیں گے۔ کوئی نہیں بتا سکتا کہ ہم ایک دوسرے کو
زندہ ملیں گے بھی یا نہیں۔ اس سے پہلے ہم نے صرف لڑائیاں لڑی ہیں۔ خانہ جنگی میں ایک دوسرے کا خون بہایا اور
دشمن کو وقت اور مواقع فراہم کیے ہیں کہ ہمارے عالقوں میں اپنے قلعے مضبوط اور بیت المقدس کا دفاع مستحکم کرلے ،پھر
ہم زمین دوز جنگ لڑتے رہے۔ صلیبی طلسماتی حسن والی اور نازو ادا اور چرب زبانی کی ماہر لڑکیاں ہمارے امیروں ،وزیروں،
فوجی اور شہری حاکموں کے پاس بھیجتے رہے۔ صلیبیوں نے تخریب کاری اور سازش کے ماہرین ہماری صفوں میں داخل کیے۔
ان لڑکیوں اور ان آدمیوں نے جو تباہی مچائی ،اس سے تم میں سے کوئی بھی بے خبر نہیں۔ علی بن سفیان ،غیاث بلبیس
اور ان کے محکموں نے بڑی جانفشانی سے اس نظر نہ آنے والے محاذ پر دشمن کا مقابلہ کیا۔ میرے ہاتھوں تجربہ کار حکام
…''اور ساالر غداری کے جرم میں قتل ہوئے۔ بغاوتیں ہوئیں اور ہم نے دبائیں
دشمن کا مقصد کیا تھا؟… نظریاتی تخریب کاری اور ہمارے مذہب اور ایمان کو کمزور کرنا اور ہماری اٹھتی ہوئی نسل کو ''
ذہنی عیاشی کا عادی بنا دینا۔ دشمن نے ہمارے درمیان ایمان فروش پیدا کیے۔ دشمن کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے قبلٔہ اول پر
قابض رہے اور ہمارے ایمان فروش بھائیوں کی مدد سے مکہ معظمہ پر بھی قابض ہوجائے ،تم بھولے نہیں ہوگے کہ پانچ سال
گزرے جب میں شمالی عالقوں میں دشمن سے الجھا ہوا تھا ،ریجنالڈ (شہزادہ ارناط) مدینہ منورہ سے تھوڑی ہی دور رہ گیا
تھا۔ یہ میرے بھائی الملک العادل اور امیر البحرحسام الدین لولو کا کمال تھا کہ انہوں نے بروقت حرکت کی اور اس صلیبی
…''کو پسپا کیا۔ میں نے اسے اپنے ہاتھوں قتل کرکے انتقام لے لیا ہے
دشمن کا مقصد ہمارے مذہب کے سرچشموں کو بند کرنا اور انہیں عیسائیت کا منبع بنانا ہے۔ ہمیں دشمن کے مقصد اور ''
لہ ذا ضروری ہے کہ اس جنگ کے اس پہلو کو سامنے رکھو ،یہ ہماری نظریاتی جنگ ہے۔ مذہب تلوار
عزائم کو تباہ کرنا ہے۔ ٰ
کے زور سے پھیال تھا یا نہیں لیکن مذہب کے تحفظ کے لیے میں تلوار کو ضروری سمجھتا ہوں۔ قوم نے تلوار سپاہی کے ہاتھ
میں دی ہے اور قوم کی تاریخ نے نظر ہم پر لگا دی ہے۔ خدائے ذوالجالل کی نظریں بھی قوم کے سپاہی پر لگی ہوئی ہیں۔
خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح مبارک ہمیں دیکھ رہی ہے۔ ذرا غور کرو ،ہماری ذمہ داری کتنی مقدس اور
ہمارا فرض کتنا عظیم ہے۔ اللہ کا سپاہی حکومت نہیں کرتا ،اللہ کی حکومت کا تحفظ کیا کرتا ہے''۔
سلطان ایوبی نے جذباتی سی آہ لے کر کہا… ''آہ میرے رفیقو! سولہ ہجری کا ربیع االول یاد کرو جب عمرو بن العاص اور
ان کے ساتھی ساالروں نے بیت المقدس کو کفار سے آزاد کرایا تھا۔ حضرت عمر اس وقت خلیفہ تھے۔ وہ بیت المقدس گئے۔
اقصی میں نماز پڑھی تھی اور اس نماز کی اذان بڑی مدت بعد حضرت
حضرت بالل ان کے ساتھ تھے ،ان سب نے مسجد
ٰ
بالل نے دی تھی۔ حضرت بالل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد ایسے خاموش ہوئے تھے کہ لوگ ان
اقصی میں آکر حضرت عمر نے انہیں کہا
کی پرسوز آواز کو ترس گئے تھے۔ انہوں نے اذان دینی چھوڑ دی تھی لیکن مسجد
ٰ
اقصی اور بیت المقدس کے درودیوار نے بڑی لمبی مدت سے اذان نہیں سنی۔ آزادی کی پہلی اذان تم نہ دو
کہ بالل! مسجد
ٰ
گے؟''… حضور مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد پہلی بار حضرت بالل نے اذان دی اور جب انہوں نے کہا
اقصی میں سب کی دھاڑیں نکل گئی تھیں''۔
''اشھدان محمد رسول اللہ'' تو مسجد
ٰ
اقصی اذان کو ترس رہی ہے۔ نوے برسوں سے اس عظیم مسجد کے''
میرے عزیز دوستو! ہمارے دور میں ایک بار پھر مسجد
ٰ
اقصی کی اذانیں ساری دنیا میں سنائی دیتی ہیں۔ صلیبی ان اذانوں
درودیوار کسی مؤذن کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ یاد رکھو ،مسجد
ٰ
کا گال گھونٹ رہے ہیں… اس مقدس مقصد کو سامنے رکھو۔ ہم کوئی عام سی جنگ لڑنے نہیں جارہے ہیں ،ہم اپنے خون سے
تاریخ کا وہ باب پھر لکھنے جارہے ہیں جو عمرو بن العاص اور ان کے ساتھیوں نے لکھا اور ان کے بعد آنے والوں نے اس
درخشاں باب پر سیاہی پھیر دی تھی ،اگر چاہتے ہو کہ خدا کے حضور ماتھوں پر روشنی لے کر جائو اور اگر چاہتے ہو کہ
آنے والی نسلیں تمہاری قبروں پر آکر پھول چڑھایا کریں تو تمہیں بیت المقدس میں یہ منبر رکھنا ہوگا جو بیس سال گزرے
نورالدین زنگی مرحوم ومغفور نے وہاں رکھنے کے لیے بنوایا تھا''۔
اس نے یہ منبر سب کو دکھایا اور کہا… ''یہ منبر زنگی مرحوم کی بیوہ اور اس کی بیٹی الئی ہیں۔ ہمیں اس بیٹی کی
الج رکھنی ہے جو قوم کی دو سو بیٹیاں کو ساتھ الئی ہے کہ ہم میں سے کوئی میدان جنگ میں پیاسا نہ مرجائے۔ کوئی
زخموں سے اس لیے نہ مرجائے کہ مرہم پٹی کرنے واال کوئی نہ تھا۔ تم جانتے ہو کہ میں میدان جنگ میں عورتوں کو النے
کے حق میں کبھی نہیں ہوا تھا۔ ان لڑکیوں کو میں نے اس لیے رکھ لیا ہے کہ غیرت اور قومی وقار کی یہ عالمت ہمارے
سامنے رہے اور ہم سب یاد رکھیں کہ ہماری اسی قسم کی بٹیاں بیت المقدس میں کفار کی درندگی اور عیاشی کا شکار ہورہی
ہیں۔ یاد رکھو میرے رفیقو! قوم کی بیٹی اور قوم کے شہید کو فراموش کردینے والی قوم کو خدا بھی فراموش کردیا کرتا ہے
اور اس کی لوح تقدیر پر عمر بھر کی لعنت لکھ دی جاتی ہے… یہ فیصلہ تمہیں کرنا ہے کہ تم روز قیامت لعنتیوں میں
اٹھائے جائو گے یا ان میں جن کے متعلق رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا سے کہیں گے کہ یہ ہیں وہ سرفروش
جنہوں نے کفر کے طوفان کو روکا اور تیرے مذہب کا نام بلند کیا تھا''۔
سلطان ایوبی ایسی جذباتی باتیں کرنے کا عادی نہیں تھا لیکن ( قاضی بہائوالدین شداد اور اس دورکے واقعہ نگاروں کی
غیرمطبوعہ تحریروں کے مطابق) بیت المقدس کے معاملے میں وہ اس قدر جذباتی تھا کہ جب بھی اس کا ذکر کرتا ،اس کی
آنکھوں میں آنسو آجاتے یا وہ غصے میں ایک ہاتھ کی ہتھیلی پر دوسرے ہاتھ کے گھونسے مارنے لگتا اور بے چینی سے اٹھ
کر ٹہلنے لگتا تھا۔ اس آخری جنگی اجالس میں اس نے ساالروں وغیرہ کے جذبات کی یہ حالت کردی کہ وہ جب باہر نکلے
تو انہوں نے آپس میں کوئی بات نہ کی۔ ان کی چال ڈھال ہی بدل گئی تھی۔ وہ سیدھے اپنے اپنے دستوں میں گئے اور
اپنے کمان داروں کی بھی جذباتی حالت وہی کردی جو ان کی اپنی اور سلطان ایوبی کی تھی۔ سب چلے گئے تو سلطان
ایوبی نے بحریہ کے کمانڈر الفارس بیدرون کو اپنے پاس بالیا اور اس سے پوچھا کہ سمندر کی کیا خبر ہے۔ الفارس نے اسے
تفصیل سے بتایا کہ اس کے جہاز گشت کرتے رہتے ہیں اور سکندریہ سے اسے پیغام ملتے رہتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے
کہ صلیبیوں کے بحری بیڑے کے کوئی آثار نہیں۔ ٹائر کی بندرگاہ میں ان کے جنگی جہاز موجود ہیں۔ میرے جاسوس چھوٹی
بادبانی کشتیوں میں ماہی گیروں کے بہروپ میں وہاں جاتے رہتے ہیں۔ ٹائر اور اس سے آگے صلیبیوں کے بیڑے میں کوئی
اضافہ نہیں ہوا۔ جو بیڑہ موجود ہے ،یہ تیاری کی حالت میں ہے اور صلیبیوں نے جہازوں میں جل کر اڑنے والے بارود کی
نلکیاں لگا دی ہیں جو دور سے آتی ہیں اور بادبانوں کو آگ لگا دیتی ہیں۔
یہ نلکیاں اتنی ہی دور سے آسکتی ہیں جتنی دور تمہارے جلتے ہوئے فلیتوں والے تیر جاسکتے ہیں''… سلطان ایوبی نے ''
کہا… ''ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں''۔
ہم میں سے کسی کے بھی دل میں ڈر نہیں''۔ الفارس نے کہا… ''بحری چھاپہ مار اس حد تک تیار ہیں کہ بحری جنگ''
کے دوران وہ چھوٹی کشتیوں میں دشمن کے جہازوں کے قریب جا کر ان میں سوراخ کرنے اور ان پر آگ پھینکنے کو تیار
ہیں''۔
بشرطیکہ جنگ رات کو ہو''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''دن کے وقت کسی چھاپہ مار کو سمندر میں نہ اتارنا۔ جوش میں ''
آکر جانیں ضائع ہوں گی… محتاط رہنا الفارس! جس طرح تم ماہی گیروں کے بہروپ میں اپنے جاسوس ٹائر تک بھیجتے ہو،
اسی طرح دشمن کے جاسوس تمہارے جہازوں کے قریب آتے ہوں گے۔ اپنے جہازوں کو ایک دوسرے سے دور رکھنا تاکہ اچانک
حملے کی صورت میں سب گھیرے میں نہ آجائیں۔ انہیں اس طرح پھیال رکھو کہ دشمن کو گھیرے میں لے سکو۔ آپس میں
رابطہ دن میں جھنڈیوں سے اور رات کو بتیوں سے رکھو''۔
جب الفارس سلطان ایوبی سے رخصت ہوا ،سحر کا وقت ہوگیا تھا۔ وہ نماز کے لیے وہیں رک گیا۔
الفارس!'' اسے اپنے قریب آواز سنائی دی۔ اس نے دیکھا ،وہ انٹیلی جنس کا کمانڈر حسن بن عبداللہ تھا ،اس نے الفارس''
سے ہاتھ مال کر پوچھا… '' مبارک ہو بھائی! ایک ہی بار دو لڑکیوں سے شادی کرلی ہے؟ دونوں کو ساتھ رکھا ہوا ہے؟ اپنے
''ساتھ مروانے کا ارادہ ہے؟
اوہ حسن!'' الفارس نے اندھیرے میں اسے پہچانتے ہوئے کہا… ''وہ تو یار ،پناہ گزین لڑکیاں ہیں ،یہیں ساحل پر چھپی ''
ہوئی تھیں۔ خانہ بدوش ہیں۔ کہتی تھیں کہ ان کا سارا قبیلہ جنگ کی زد میں آکر گھوڑوں تلے کچال گیا ہے''۔
اور یہ محض اتفاق ہے کہ یہ دو لڑکیاں زندہ رہیں اور ساحل تک پہنچ گئیں''۔ حسن بن عبداللہ نے کہا… ''صلیبیوں نے''
باقی سب خانہ بدوشوں کو گھوڑوں تلے روند ڈاال اور اتنی زیادہ خوبصورت دو لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیا… سمندر میں رہ کر تم
خشکی پر رہنے والے انسانوں کی فطرت کو شاید بھول گئے ہو''۔
الفارس ہنس پڑا اور بوال… ''حسن بھائی! جاسوسی کرتے کرتے تم اب چیلوں اور کوئوں کو بھی صلیبیوں کے جاسوس :
سمجھنے لگے ہو۔ تم یہی کہنا چاہتے ہو نا کہ یہ لڑکیاں دشمن کی جاسوس ہوں گی''۔
ہوسکتی ہیں'' ۔ حسن نے کہا… ''تم کچھ زیادہ ہی زندہ دل ہو ،الفارس! ان لڑکیوں کو ٹائر کے قریب ساحل پر اتار آئو۔''
اجنبی لڑکیوں کو جنگی جہاز میں رکھنا مناسب نہیں''۔
یہ نیکی نہیں ہوگی کہ میں انہیں مصر لے جا کر ان کے ساتھ شادی کرلوں؟'' الفارس نے کہا… ''یا ایک کے ساتھ شادی''
کرلوں اور دوسری کی شادی کسی اور اچھے آدمی سے کرادوں؟ غریب لڑکیاں ہیں۔ انہیں ساحل پر اتار دوں تو تم جانتے ہو کہ
صلیبی ان کے ساتھ کیا سلوک کریں گے''۔
ہوسکتا ہے ،وہ صلیبی ہی ہوں''۔ حسن بن عبداللہ نے کہا… ''سنو الفارس! تم بچے نہیں ہو ،معمولی سپاہی بھی نہیں ''
ہو۔ بحریہ کے تجربہ کار کمانڈر ہو۔ سوچنے اور سمجھنے کی کوشش کرو ،مجھے بتایا گیا ہے کہ تم فرصت کا سارا وقت ان
لڑکیوں کے ساتھ ہنستے کھیلتے گزارتے ہو۔ ہزار قسمیں کھائو ،میں نہیں مانوں گا کہ تم نے انہیں پاک صاف اور نیک لڑکیاں
بنا کے رکھا ہوا ہے۔ وہ اگر تمہیں دھوکہ نہ دیں تو تم اپنے آپ کو دھوکہ دے سکتے ہو۔ حسین اور جوان عورت کاجادو
فرائض سے گمراہ کردیتا ہے… بہت کچھ ہوسکتا ہے الفارس! ان لڑکیوں کو کہیں چھوڑ آئو''۔
''اگر میں نے تمہارا کہا نہ مانا تو؟''
تو مجھے دیکھنا پڑے گا کہ یہ لڑکیاں کیسی ہیں''۔ حسن بن عبداللہ نے کہا… ''اگر مشکوک ہیں تو میں انہیں تمہارے ''
جہاز سے اتروا کر اپنے پاس بال لوں گا مگر میں تم پر چھوڑتا ہوں۔ ہم پرانے د وست ہیں۔ تم خود ہی کوشش کرو کہ میں
فرض کی ادائیگی میں دوستی کو قربان نہ کردوں''۔
مجھ سے کسی بے ہودگی کی توقع نہ رکھو حسن!'' الفارس نے کہا… ''تم دوستی کی بات کرتے ہو۔ میں تو فرض کی ''
ادائیگی میں اپنی جان بھی قربان کردوں گا۔ یہ لڑکیاں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ مجھے ان پر ذرا سا بھی شک ہوا تو
انہیں ساحل پر اتاروں گا نہیں ،زندہ سمندر میں پھینک دو گا''۔
واپس کس وقت جارہے ہو؟'' حسن بن عبداللہ نے پوچھا۔''
نماز پڑھ کر کچھ دیر سوئوں گا۔ بہت تھک گیا ہوں''۔ الفارس نے کہا… ''پھر چال جائوں گا۔ شام تک کشتی جہاز تک ''
پہنچا دے گی''۔
٭ ٭ ٭
الفارس سے فارغ ہوکر حسن بن عبداللہ اس کمرے کی طرف چال گیا جہاں اس کے محکمے کے آدمی رہتے تھے۔ ان میں سے
ایک کو باہر بال کر اسے کہا کہ الفارس بیدرون کا جہاز فالں مقام پر لنگر انداز ہے۔ وہ کشتی میں جہاز تک جائے اور الفارس
کے نائب رئوف کرد سے کہے کہ اسے حسن بن عبداللہ نے بھیجا ہے۔ رئوف کرد کے نام حسن نے پیغام دیا کہ اس آدمی کو
کسی ڈیوٹی پر لگا لے۔ اسے دونوں لڑکیوں کے متعلق معلوم کرنا ہے کہ جہاز میں ان کی کوئی درپردہ سرگرمی تو نہیں؟ اگر
ہے تو لڑکیوں کو جہاز سے ہٹا کر اپنے پاس بال لیا جائے۔
حسن بن عبداللہ نے اپنے اس آدمی کو ہدایات دیں اور ایک بادبانی کشتی کا انتظام کرکے اسے رخصت کردیا۔ ہوا کا رخ بڑا
اچھا تھا اور ہوا تیز تھی۔ کشتی جلدی جہاز تک پہنچ گئی۔ جہاز سے رسہ لٹکا کر اس آدمی کو اوپر کرلیا گیا۔ وہ رئوف کرد
سے مال۔ اسے پیغام دیا اور اپنا مقصد زبانی بھی بتایا اور یہ بھی بتایا کہ وہ تجربہ کار جاسوس ہے۔ رئوف کرد کا چہرہ بتا
رہا تھا کہ اسے یہ آدمی اچھا نہیں لگا لیکن اس آدمی کے خالف وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ
سلطان ایوبی کے دل میں جتنی قدر ایک جاسوس کی ہے ،اتنی ساالر کی بھی نہیں اور ایک جاسوس کی رپورٹ پر ایک
ساالر کو سزائے موت دی جاسکتی ہے ،چنانچہ اس نے حسن بن عبداللہ کے اس جاسوس کی خاطر تواضع کی۔
آپ لڑکیوں کو پہلے دن سے دیکھ رہے ہیں''۔ جاسوس نے رئوف کرد سے پوچھا… ''ان کے متعلق آپ کو ذرا سا بھی ''
شک ہے تو بتا دیں۔ ہم انہیں عسقالن تفتیش کے لیے لے جائیں گے''۔
میں نے ابھی تک ان کی کوئی حرکت مشکوک نہیں دیکھی''۔ رئوف کرد نے جواب دیا… ''زیادہ تر الفارس کے کمرے ''
میں رہتی ہیں''۔
رئوف کرد کو فورا ً فلوری کا خیال آگیا تھا۔ اگر جاسوس ایک روز پہلے آتا تو رئوف کرد کا جواب یہ ہوتا کہ ان لڑکیوں کو
یہاں سے لے جائو کیونکہ چھ جہازوں کا کمانڈر ان لڑکیوں کے ساتھ مگن رہتا ہے مگر فلوری نے گزشتہ رات اسے بتایا تھا کہ
وہ اسے دل وجان سے چاہتی ہے۔ روزی ان کی ہم راز تھی۔ اب رئوف کرد کسی قیمت پر فلوری سے جدا نہیں ہونا چاہتا
تھا۔ اس کے دل میں الفارس کی دشمنی پیدا ہوگئی تھی لیکن وہ الفارس کو لڑکیوں سے محروم نہیں کرسکتا تھا کیونکہ وہ
خود فلوری سے محروم ہوجاتا۔
مجھے اب آپ کے ساتھ رہنا ہے''۔ جاسوس نے کہا… ''الفارس کو معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ میں جاسوسی کے لیے یہاں''
آیا ہوں۔ آپ نے حکم پڑھ لیا ہے۔ میں خود دیکھوں گا کہ لڑکیاں کیسی ہیں اور کیا کرتی ہیں۔ مجھے اگر ان پر جاسوسی کا
نہیں ،صرف یہ شک بھی ہوا کہ الفارس ان میں فرائض کے اوقات میں محو رہے ہیں تو میں ان لڑکیوں کو یہاں نہیں رہنے
دوں گا۔ اگر الفارس کو پتہ چل گیا کہ میں یہاں جاسوسی کررہا ہوں تو مجھے آپ کے خالف یہ بیان دینا پڑے گا کہ میرے
متعلق الفارس کو آپ نے بتایا ہے کیونکہ آپ کے سوا کسی کو علم نہیں کہ میں یہاں کیوں آیا ہوں''۔
یہ جنگی جہاز تھا جس میں جہاز کا عملہ بھی تھا اور اس میں بحری لڑائی کی تربیت یافتہ بری فوج بھی تھی۔ جہاز کی
صفائی وغیرہ ،کھانا پکانے اور دیگر کاموں کے لیے فوجی مالزم بھی تھے۔ وہاں ایک آدمی کا اصل روپ چھپائے رکھنا مشکل
نہ تھا۔ الفارس کمانڈر تھا۔ وہ ان چھوٹے چھوٹے مالزموں اور سپاہیوں میں سے کسی کو الگ کرکے نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ
آدمی ا جنبی ہے جسے اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ رئوف کرد جگہ جگہ گھوم پھر سکتا تھا مگر رئوف کو یہ شخص
بالکل پسند نہیں آیا تھا۔
جاسوس نے اسی روز دونوں لڑکیوں کو دیکھ لیا اور اس نے اسی روز رئوف کرد سے کہہ دیا… ''یہ لڑکیاں خانہ بدوش نہیں
اور یہ مصیبت زدہ بھی نہیں۔ مجھے شک ہوگیا ہے''۔
اتنے دنوں سے ہمارے ساتھ ہیں''۔ رئوف کرد نے کہا… ''مجھے ان پر کوئی شک نہیں ہوا''۔''
آپ کی آنکھ وہ نہیں دیکھ سکتی جو میری آنکھ دیکھ سکتی ہے''۔ جاسوس نے کہا… ''ٹھنڈے عالقوں کی خانہ بدوش ''
عورتوں کے رنگ ایسے ہی ہوتے ہیں لیکن ان کی آنکھوں کا رنگ ایسا نہیں ہوتا اور ان میں یہ نفاست اور نزاکت نہیں
ہوتی… محترم! ہماری جنگ ایسی ہی لڑکیوں سے رہتی ہے۔ یہ لڑکیاں یہاں نہیں رہیں گی''۔
کچھ دن دیکھ لو''۔ رئوف کرد نے کہا… ''کہیں ایسا نہ ہو کہ جو واقعی مصیبت زدہ ہوں اور تم انہیں کسی اور مصیبت ''
میں ڈال دو''۔
ہاں!'' جاسوس نے کہا۔ ''میں جلد بازی نہیں کروں گا ،کچھ دن دیکھ کر یقین کروں گا''۔''
٭ ٭ ٭
سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں سے ٹھیک کہا تھا کہ بیت المقدس میں جو صلیبی جرنیل ہیں ،انہیں معلوم ہے کہ اسالمی فوج
بیت المقدس پر آرہی ہے۔ ادھر جب سلطان ایوبی اپنے ساالروں کو آخری ہدایات دے رہا تھا ،ادھر بیت المقدس میں صلیبی
ہائی کمانڈ اپنے جرنیلوں کو محاصرے میں لڑنے کے لیے تیار کررہی تھی۔
ہم صالح الدین ایوبی کو راستے میں نہیں روکیں گے''… ان کا کمانڈر ان چیف کہہ رہا تھا… ''بے شک اس کی فوج ''
تعداد میں کم ہے لیکن اسے اسلحہ اور رسد کی کوئی پریشانی نہیں۔ اس کے امدادی انتظامات مضبوط اور قابل اعتماد ہیں۔
اسے بیت المقدس کا محاصرہ کرنے دو۔ ہمارے پاس لمبے عرصے کے لیے خوراک اور دیگر سامان موجود ہے۔ اگر محاصرہ
طویل اور خوراک کم رہ گئی تو ہم مسلمانوں کو بھوکا اور پیاسا رکھیں گے۔ اس سے خوراک بچے گی اور کھانے والے بھی کم
ہوجائیں گے۔ مجھے سب سے زیادہ بھروسہ نائٹوں پر ہے۔ انہیں باہر نکل کر حملے کرنے اور واپس آنا ہے۔ میں آپ سب کو
یقین دالتا ہوں کہ محاصرہ ناکام رہے گا''۔
آپ نے فوج کی حالت کو پیش نظر نہیں رکھا''۔ ایک جرنیل نے کہا… ''شہر میں فوج کی آدھی نفری ایسی ہے جو ''
حطین سے عسقالت تک کی لڑائیوں سے بھاگی ہوئی ہے اور ان کا لڑنے کا جذبہ سرد پڑ گیا ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا
کہ ان پر صالح الدین ایوبی کی فوج کا خوف طاری ہوگیا ہے۔ تازہ دم دستے وہی ہیں جو شہر میں موجود رہے ہیں ،میدان
جنگ میں نہیں گئے''۔
ہم نے اس مسئلے کا حل نکال لیا ہے''… کمانڈر ان چیف نے کہا… ''پادری فوج میں گھومنے پھرنے لگے ہیں۔ وہ ''
سپاہیوں کو انجیل کے حوالے دے کر ذہن نشین کرا رہے ہیں کہ اسالمی فوج کو شکست دینا کیوں ضروری ہے اور یہ مذہبی
فریضہ ہے… اگر جرنیل اور دیگر کمانڈر اسے مذہبی جنگ سمجھ کر لڑیں گے تو سپاہی بھی مذہبی جوش وخروش سے لڑیں
گے۔ اگر ہم بیت المقدس کی جنگ ہار گئے تو بحیرٔہ روم بھی ہمیں پناہ نہیں دے سکے گا۔ صالح الدین ایوبی کیوں کامیاب
ہوا ہے؟ صرف اس لیے کہ وہ اپنے مذہب کا پکا ہے جسے وہ ایمان کہتا ہے۔ ہم نے اسے خانہ جنگی سے تباہ کرنے کی
کوشش کی مگر اس نے خانہ جنگی بھی جیت لی۔ ہم نے جن مسلمان حکمرانوں کو اس کے خالف کیا تھا وہ اس کے مطیع
ہوگئے۔ ہم نے اپنی بیٹیوں کی عصمتوں سے اس کی جنگی طاقت اور سلطنت کو کمزور کرنے کی کوشش کی مگر یہ قربانی
بھی ضائع ہوئی۔ یہ شاید ہماری غلطی تھی کہ ہم نے عورت کو استعمال کیا اور اس امید پر بیٹھ گئے کہ صالح الدین ایوبی
گھر بیٹھے مرجائے گا''۔
ہماری کوئی قربانی ضائع نہیں ہوئی''۔ بطریق اعظم جو وہاں موجود تھا ،بوال… ''آپ کی یہ سوچ غلط ہے کہ دو مذہبوں ''
کی جنگ صرف فوجیں لڑا کرتی ہیں۔ا پنے مذہب کے فروغ اور دشمن مذہب کی تباہی کے لیے بے شک تلوار ضروری ہے
لیکن دشمن کے ذہن اور اس کی روح کو گمراہ کرنے کے لیے یہ طریقے ضروری تھے جن کے متعلق آپ کہہ رہے ہیں کہ
قربانیاں ضائع ہوئیں۔ ہم اپنی ان بیٹیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے غیرمعمولی حسن کی بدولت بڑے
اونچے
د رجے کے حاکموں کی بیویاں بننا اور شاہانہ زندگی گزارنی تھی مگر انہوں نے اپنا آپ اور اپنا مستقبل صلیب پر قربان کردیا
اور وہ مسلمانوں کے حرموں اور درباروں میں ذلیل وخوار ہوئیں۔ مسلمانوں میں خانہ جنگی انہوں نے کرائی۔ مسلمان حکمرانوں
کے ایمان ان لڑکیوں نے خریدے۔ ایک ہی حکمران کے اہم حاکموں میں رقابت پیدا کرکے انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنا
…''دیا
صلیب کے جرنیلو! یہ مت بھولو کہ دشمن کو مارنے کا بہترین طریقہ ہے کہ اس میں ذہنی عیاشی اور جنسی جذبات ''
پرستی پیدا کردو۔ اسے راگ رنگ اور جھوٹی لذتوں کا عادی بنا دو۔ اس کے حکمرانوں کو تخت وتاج اور زروجواہرات کی ہوس
میں مبتال کردو۔ مسلمان دنیا بھر کا مانا ہوا اور دلیر سپاہی ہے۔ جنگی جذبہ اور مذہبی جنگ (جہاد) کا جتنا جنون مسلمانوں
اعلی جرنیل مسلمانوں نے پیدا کیے ہیں ،اتنے ہم نہیں کرسکے۔ یہ ان کی روایت ہے۔ اگر
میں ہے ،اتنا ہم میں نہیں۔ جتنے
ٰ
ہم نے ان کے ذہن بدلنے کی کوشش نہ کی تو ان کا جذبہ ،مذہبی جنون اور ان کی روایت زندہ رہے گی۔ اگر ان کی روایت
زندہ رہی تو صلیب زندہ نہیں رہ سکے گی۔ اسالم یورپ تک گیا ،ہندوستان اور اس سے اوپر چین تک گیا۔ چین کا امیرالبحر
مسلمان رہا۔ وہاں کے بعض جرنیل اب بھی مسلمان ہیں ،ہندوستان کے مشرق بڑے بڑے جزیروں میں چلے جائو تو وہاں بھی
…''تمہیں عربوں کی یعنی اسالم کی حکمرانی نظر آئے گی
آپ یہ طوفان صرف تلوار سے نہیں روک سکتے۔ ہمیں اسالم کے اس مرکز کو جسے مسلمان خانہ کعبہ کہتے ہیں ،مردہ ''
کرنا پڑے گا۔ بیت المقدس پر قبضہ برقرار رکھنا پڑے گا۔ مسلمان حکمران اور بادشاہ جہاں کہیں بھی ہیں ،انہیں جنگی اور
مالی مدد دے کر بے کار کرنا ہوگا اور اس کے ساتھ ہی ان کے حرموں میں اپنی تجربہ کار لڑکیاں اسی طرح داخل کرتے
رہیں گے جس طرح عرب کی ریاستوں میں کرتے رہے ہیں۔ ہم نے یہ طریقہ یہودیوں سے سیکھا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کی
کردار کشی اور مذہبی بیخ کنی کا نہایت دانشمند منصوبہ بنا رکھا ہے اور وہ اس پر عمل کررہے ہیں۔ وہ ہماری مدد کررہے
ہیں۔ میں آپ کو یقین دالتا ہوں کہ وہ وقت تیزی سے آرہا ہے کہ بیت المقدس پر ہمارا مستقل قبضہ ہوجائے گا۔ اس کے
اردگرد دور دور کے عالقے بھی ہمارے قبضے میں ہوں گے۔ مسلمان ریاستوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔
اگر دشمن نہ ہوئے تو ان میں اتحاد بھی نہیں ہوگا۔ یہودیوں کے دانشوروں نے صحیح کہا ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو بادشاہ
سمجھیں گے لیکن ان کی بادشاہی اور آزادی کی باگ دوڑ ہمارے ہاتھ میں ہوگی۔ یہ کام آپ ہم پر چھوڑیں۔ یہ درپردہ اور
زمین دوز کام دانشوروں کا اور مذہبی پیشوائوں کا ہے۔ آپ فوجی ہیں۔ میدان جنگ کی بات کریں۔ آپ کا بڑا ہی خطرناک
دشمن بیت المقدس پر آرہا ہے۔ آپ اس کو شکست دینے کی سوچیں''۔
٭ ٭ ٭
وہ اتوار کی صبح تھی اور ١١٨٧ء کے ماہ ستمبر کی بیس تاریخ تھی ،جب سلطان ایوبی حیران کن تیز رفتاری سے بیت :
المقدس پہنچ گیا۔ ہجری کیلنڈر کے مطابق ١٥رجب ٥٨٣ہجری کا روز تھا۔ صلیبیوں کو سلطان ایوبی کا انتظار تھا لیکن انہیں یہ
توقع نہیں تھی کہ وہ اس قدر تیزی سے آئے گا۔ اس نے راستے میں صلیبیوں کی بلندیوں والی قلعہ بندیوں اور پوسٹوں کو
نظر انداز ( بائی پاس) کیا اور فوج کو گزار کر لے گیا تھا۔ رات کا وقت تھا ،قلعہ بندیوں سے صلیبیوں نے بیت المقدس کو
قبل از وقت اطالع دینے کے لیے قاصد روانہ کیے ہوں گے لیکن کوئی بھی وہاں تک نہ پہنچ سکا جس کا ثبوت یہ ہے کہ
جب سلطان ایوبی کے ہر اول دستے شہر تک پہنچے تو اس وقت اوپر دیوار پر دو چار سنتری کھڑے تھے۔ شہر کے دروازے
بند تھے ،اندر سے گرجوں کے گھنٹوں کی آوازیں آرہی تھیں۔
نقارے اور بگل بج اٹھے۔ دیوار پر ہر طرف انسانوں کے سر ابھرنے لگے۔ ان سروں پر فوالدی خودیں تھیں اور کمانیں صاف نظر
آرہی تھیں۔ ان سروں میں اضافہ ہوتا چال گیا اور پھر یوں نظر آنے لگا جیسے دیوار کے اوپر انسانی سروں کی ایک فصیل
کھڑی کردی گئی ہو۔ شہر کے مغرب کی جانب کچھ عالقہ چٹانی تھا۔ سلطان ایوبی نے اپنے خصوصی دستوں کو وہاں خیمہ
زن کردیا اور خود شہر کے اردگرد یہ دیکھنے کے لیے گھومنے پھرنے لگا کہ دیوار کس جگہ سے کمزور ہے اور نقب کہاں لگائی
جاسکتی ہے یا کہیں سے سرنگ کھودی جاسکتی ہے یا نہیں۔ سلطان ایوبی کے نقب زن جیش جانبازی میں مشہور تھے۔
اسالمی فوج شہر کے ہر طرف موجود تھی لیکن بڑا اجتماع مغرب کی جانب تھا جس جانب شہر کی دیوار کے دو مستحکم
برج تھے۔ ایک دائود برج اور دوسرا تن کر ڈبرج تھا۔ ان میں دورمار تیرانداز تھے اور وہاں منجنیقیں بھی نصب تھیں۔ سلطان
ایوبی شہر کے اردگرد دیوار کا جائزہ لیتا پھر رہا تھا۔ اس دوران مغرب کی جانب والے دستوں کے ساالر نے آگ اور پتھر
پھینکنے والی منجنیقیں نصب کرنی شروع کردی۔ صلیبیوں نے بہادری کا یہ مظاہرہ کیا کہ اپنی دفاعی سکیم کے مطابق شہر کا
ایک دروازہ کھول دیا۔ اس میں سے زرہ پوش نائٹ گھوڑوں پر سوار ہاتھوں میں برچھیاں تانے سرپٹ گھوڑے دوڑاتے نکلے اور
منجنیقیں نصب کرنے والے مجاہدین پر ہلہ بول دیا۔ ان کے پیچھے دروازہ بند کردیا گیا۔
گھوڑوں کے گھومنے پھرنے کے لیے جگہ کافی تھی۔ نائٹ آہن پوش تھے۔ اس لیے ان پر تیر کوئی اثر نہیں کرتے تھے۔ ان کا
ہلہ ( چارج) اس قدر تیز ،شدید اور غیرمتوقع تھا کہ مجاہدین کو پراثر مزاحمت کی مہلت نہ ملی۔ ان میں سے کئی نائٹوں
کی برچھیوں سے زخمی اور شہید ہوئے اور پیچھے آنے والے گھوڑوں تلے کچلے گئے۔ گھوڑے بگولے کی طرح آئے تھے ،اپنی
اڑاتی ہوئی گرد میں گھومیں اور جب دروازے کے قریب پہنچے تو دروازہ بند ہوگیا۔ وہ اپنے پیچھے خاک وخون میں تڑپتے کئی
ایک مسلمان مہندس (منجنیقیں چالنے والے) چھوڑ گئے۔
سپاہی انہیں اٹھانے کو دوڑے تو دو تین نسوانی آوازیں سنائی دیں… ''پیچھے رہو ،یہ ہمارا کام ہے''۔ اس کے ساتھ ہی بہت
سی لڑکیاں دوڑتی آئیں۔ انہوں نے درختوں کی ٹہنیوں کے بنے ہوئے سٹریچر اٹھا رکھے تھے۔ بعض لڑکیوں کے کندھوں سے پانی
کے چھوٹے مشکیزے لٹک رہے تھے۔ اوپر سے صلیبیوں کے تیر آرہے تھے جن سے دو تین لڑکیاں گر پڑیں۔ بہت سے مسلمان
تیر انداز دوڑ کر لڑکیوں اور اوپر سے آنے والے تیروں کے درمیان آگئے اور انہوں نے برجوں پر تیز تیراندازی شروع کردی جو
تیر انداز پیچھے تھے ،انہوں نے بھی برجوں اور دیوار کے اوپر بڑی ہی تیز تیراندازی شروع کردی۔ اوپر سے تیروں کا مینہ تھم
گیا اور دونوں طرف کے تیروں کے سائے میں لڑکیاں زخمیوں کو اٹھا الئیں اور پیچھے درختوں کے سائے میں لے گئیں۔
اسداالسدی جو اس دور کا واقعہ نگار تھا ،اپنی ایک غیرمطبوعہ تحریر میں لکھتا ہے کہ سپاہی ہر جنگ میں زخمی ہوتے
تھے۔ انہیں اٹھا کر جراحوں کے خیموں تک پہنچا دیا جاتا تھا مگر انہیں اٹھانے والے انہی کی طرح مرد اور سپاہی ہوتے تھے
اور اس معاملے میں کوتاہی بھی نہیں کرتے تھے لیکن بیت المقدس کے محاصرے میں لڑکیوں نے زخمیوں کو اٹھایاا ور جراحوں
کے جیش کے ساتھ ان کی مرہم پٹی میں ہاتھ بٹایا اور زخمیوں کے سر اپنی گودیوں میں رکھ کر پانی پالیا تو کئی ایک
زخمی جو ہوش میں تھے جوش میں اٹھ کھڑے ہوئے اور للکارنے لگے۔ ''یہ زخم ہمیں لڑنے سے نہیں روک سکتے''… اور
ایسی آوازیں بھی سنائی دیں۔
21:06
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
اقصی کی دہلیز پر
قسط نمبر 154ایوبی مسجد
ٰ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اور ایسی آوازیں بھی سنائی دیں۔''ہم بیت المقدس کے اندر جاکر زخموں پر پٹی باندھیں گے''… اور جب زخمیوں نے دیکھا
کہ تین چار لڑکیوں کو بھی تیر لگے ہیں تو زخمیوں کو سنبھالنا مشکل ہوگیا۔ لڑکیوں نے سب کے جوش اور جذبے میں آگ
بھر دی تھی۔ اسی مقام پر منجنیقیں نصب کرنے کے لیے مہندسوں کا ایک اور جیش آگے بڑھا۔ تیراندازی تیز کردی گئی۔
منجنیقیں نصب ہوگئیں۔ ان سے وزنی پتھر اور آگ کے گولے پھینکے جانے لگے جو دیوار پر بھی گرتے تھے اور اندر بھی۔
دروازہ ایک بار پھر کھال اور نائٹوں کے گھوڑے منجنیقوں کی طرف ہوا کی رفتار سے آئے تو ان کے پہلو سے مسلمان سوار ان
پر ٹوٹ پڑے۔ عقب سے مزید مسلمان سوار ان کی واپسی کا راستہ روکنے کو آگئے۔ مسلمانوں نے نائٹوں کے گھوڑوں کو
برچھیوں اور تلواروں سے زخمی کرنا شروع کردیا۔ نائٹوں کی زرہ بکتر انہیں محفوظ رکھے ہوئے تھی۔
گھوڑوں کے ساتھ نائٹ بھی گرنے لگے۔ زمین پر انہیں گھائل کرنا اتنا مشکل نہ تھا مگر وہ تجربہ کار لڑاکا سوار تھے۔ سب
کو نہ گرایا جاسکا۔ اس کے بجائے وہ کئی ایک مسلمان سواروں کو گرا گئے۔ وہ واپس ہوئے تو مسلمان سواروں نے انہیں
روکنے کی کوشش کی مگر جو نائٹ گھوڑوں کی پیٹھوں پر رہے وہ اندر چلے گئے اور دروازہ بند ہوگیا… اس کے بعد یہ سلسلہ
چلتا رہا۔ برج دائود کے سامنے اس طرح کے جو معرکے لڑے گئے وہ رفتار ،شدید ،خونریزی اور دونوں طرف کی شجاعت کے
لحاظ سے بے مثال مانے جاتے ہیں۔ دونوں فوجوں کے عزم اور جذبے کی پختگی کا اندازہ ان معرکوں سے ہوتا تھا۔ مؤرخ
بیان کرتے ہیں کہ بیت المقدس نے دونوں فوجوں پر جنون کی کیفیت طاری کردی تھی۔ وہ صلیبی سوار جو زخمی ہوئے اور
باہر ہی گر پڑے وہ اس لحاظ سے بدقسمت تھے کہ انہیں اٹھانے واال کوئی نہ تھا۔ ستمبر کی گرمی اور دوپہر کا سورج انہیں
زرہ بکتر میں جال جال کر مار رہا تھا۔ ان کے مقابلے میں مسلمان زخمیوں کو لڑکیاں فورا ً اٹھا لے جاتیں ،انہیں پانی پالتیں،
ان کے منہ سر دھوتیں ،ان کے کپڑے تبدیل کرتیں اور ان میں کچھ لڑکیاں مشکیزے اٹھائے چٹانوں میں کہیں سے پانی الال کر
ادھ موئی ہوئی جا رہی تھیں۔
دیوار کی دیگر اطراف سے بھی پتھر اور آتش گیر سیال کی ہانڈیاں پھینکی جارہی تھیں۔ باہر کہیں کہیں زمین بلند تھی۔ وہاں
سے پتھر اور ہانڈیاں ( آتش گیر گولے) دیوار کے اوپر سے دور اندر چلے جاتے تھے۔ ان کے پیچھے فلیتے والے تیر بھی چلتے
جاتے تھے۔ انہوں نے شہر میں کئی جگہوں پر آگ لگا دی۔ دھواں باہر سے نظر آرہا تھا۔
٭ ٭ ٭
صلیبی فوج جو پہلے سے شہر میں اندر موجود تھی ،اس کا مورال مضبوط تھا۔ دوسرے عالقوں سے جو فوجی بھاگ کر آئے
تھے ،ان میں ایسے بھی تھے جو اپنی شکست کا انتقام لینے کے لیے حوصلہ مند اور جوشیلے تھے اور ان میں ایسے بھی
تھے جن پر دہشت طاری تھی۔ یہ سب جم کر مقابلہ کررہے تھے۔ ان کے جوش وخروش سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ سلطان
ایوبی کو پسپا کردیں گے۔ ایک اور دروازے سے بھی سوار باہر جاکر محاصرے پر حملہ کرنے لگے تھے مگر شہریوں کی کیفیت
فوجیوں سے مختلف تھی۔ شہریوں میں عکرہ اور عسقالن وغیرہ سے آئے ہوئے پناہ گزین عیسائی بھی تھے ،وہ تو سراپا
دہشت بنے ہوئے تھے۔ انہوں نے سارے شہر میں دہشت پھیال رکھی تھی۔ ان کے سامنے سلطان ایوبی کی فوج نے کئی
بستیاں سلطان کے حکم سے نذرآتش کی تھیں۔
بیت المقدس کے تمام گرجوں کے گھنٹے مسلسل بج رہے تھے۔ دن اور رات ایک ہوگئے تھے۔ عیسائی گرجوں میں ہجوم کیے
ہوئے تھے اور پادریوں کے ساتھ آواز مال کر بلند آواز سے دعائیہ گیت گا رہے تھے۔ شہر کے باہر سلطان ایوبی کی فوج کے
نعرے شہر کے اندر یوں سنائی دیتے تھے جیسے گھٹائیں گرجتی آرہی ہوں۔ شہر میں جلتے شعلے عیسائیوں کا دم خم ختم
کررہے تھے۔ سلطان ایوبی کے جو جاسوس شہر میں عیسائیوں کے بھیس میں موجود تھے ،وہ اس طرح نفسیاتی حملے کررہے
تھے کہ دہشت ناک افواہیں پھیال رہے تھے۔ ایک افواہ یہ پھیالئی گئی کہ سلطان ایوبی بیت المقدس پر قبضہ نہیں کرے گا
بلکہ شہر کو تباہ وبرباد کرکے تمام عیسائیوں کو قتل کردے گا اور ان کی جوان لڑکیوں کو اور تمام مسلمان آبادی کو اپنے
ساتھ لے جائے گا۔ دہشت کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ سب کو معلوم تھا کہ صلیب الصلبوت سلطان ایوبی کے قبضے
میں ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یسوع مسیح عیسائیوں سے ناراض ہیں۔
اس دور کے مفکروں کی جو تحریریں ملتی ہیں ،ان سے پتہ چلتا ہے کہ عیسائیوں کو اپنے وہ گناہ خوفزدہ کررہے تھے جن کا
تختہ مشق انہوں نے وہاں کے مسلمانوں کو بنایا تھا (اس کی تفصیل بیان کی جاچکی ہے) انہوں نے مسلمانوں کا قتل عام
کیا ،بچوں کو برچھیوں پر اٹھا کر قہقہے لگائے اور مسلمان خواتین کی بے حرمتی کی تھی۔
۔ مسجدوں اور قرآن کی بے حرمتی کی تھی اور نوے برسوں سے مسلمان ا ن کے وحشیانہ سلوک اور بربریت کا مسلسل
شکار ہورہے تھے۔ عیسائیوں نے اپنے عقیدے کے مطابق گرجوں میں جاکر اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا شروع کردیا۔
موجودہ صدی کا ایک امریکی تاریخ دان انتھونی ویسٹ بہت سے مؤرخوں کے حوالوں سے لکھتا ہے کہ بیت المقدس کے
عیسائی محاصرے میں اس قدر دہشت زدہ ہوگئے تھے کہ بہت سے عیسائی گلیوں میں نکل آئے۔ ان میں سے بعض سینہ
کوبی کرنے لگے اور بعض اپنے آپ کو کوڑے مارنے لگے۔ یہ خدا سے گناہ بخشوانے کا ایک طریقہ تھا۔ جو عیسائی لڑکیاں
جوان تھیں ،ان کی مائوں نے ان کے سروں کے بال بالکل صاف کردئیے اور انہیں پانی میں غوطے دینے لگیں۔ ان کا عقیدہ
تھا کہ اس طرح یہ لڑکیاں بے آبرو ہونے سے بچ جائیں گی۔ پادریوں نے بہت کوشش کی کہ لوگوں کو اس خوف اور دہشت
سے نجات دالئیں مگر ان کے وعظ بے اثر ہوگئے تھے۔
مسلمان آبادی کی کیفیت کچھ اور تھی۔ تین ہزار سے زیادہ مسلمان مرد ،عورتیں اور بچے قید میں تھے۔ گھروں میں جو
مسلمان تھے وہ نظربندی کی زندگی گزار رہے تھے۔ عیسائیوں سے ڈرتے کسی مسجد میں نہیں جاتے تھے۔ تمام مسلمانوں کو
پتہ چل گیا کہ سلطان ایوبی نے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا ہے۔ انہوں نے عیسائیوں کی خوفزدگی اور بزدلی کے مظاہرے
دیکھے تو کئی ایک جوشیلے مسلمان جوانوں نے چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دینی شروع کردیں۔ قید میں جو مسلمان تھے ،انہوں
ِ
آیات قرآنی اور درود شریف کا ورد شروع کردیا۔ عورتیں گھروں میں تھیں یا قید میں ،انہوں نے اللہ کے
نے بلند آواز سے
حضور آہ و زاری اور حمدوثنا شروع کردی۔
عیسائی انہیں دیکھتے تھے مگر چپ رہے کیونکہ وہ پہلے ہی یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ انہوں نے مسلمانوں پر جو وحشیانہ اور
غیرانسانی ظلم وتشدد کیا ہے ،انہیں اس کی سزا مل رہی ہے۔ وہ آنے والی سزا کے تصور سے کانپ رہے تھے ،اس لیے اب
وہ مسلمانوں کو اذان اور ورد وظیفے سے روکنے کی جرٔات نہیں کرتے تھے۔ مسلمانوں نے عیسائیوں کا یہ رویہ دیکھا تو جواں
سال مسلمان گلی گلی چالنے لگے… ''امام مہدی آگیا ہے… ہمارا نجات دہندہ آگیا ہے… شہر کی دیواروں کے اوپر سے آرہا
ہے… دروازے توڑ کر آرہا ہے''۔
شہر کے اندر حق اور باطل کی،گرجوں کے گھنٹوں اور اذانوں کی معرکہ آرائی تھی۔ باہر گھوڑوں ،تلواروں ،برچھیوں اور تیروں
کے معرے لڑے جارہے تھے۔ جوں جوں گرجوں میں دعائیہ گیت بلند ہوتے جارہے تھے ،تالوت قرآن پاک بھی بلند سے بلند
ہوتی جارہی تھی۔ ننھے ننھے بچے بھی خدا کے حضور سجدہ ریز تھے… مگر باہر سلطان ایوبی کو ابھی تک کوئی جگہ نہیں
مل رہی تھی جہاں سے دیوار میں شگاف ڈلوا سکتا یا سرنگ کھدوا سکتا۔ دیوار کے اوپر سے تیر موسال دھار بارش کی مانند
آرہے تھے۔ مسلمان مہندسوں اور پتھر النے والے سپاہیوں کے ہاتھوں سے خون بہہ رہا تھا۔ زرہ پوش نائٹ ابھی تک باہر نکل
نکل کر حملے کررہے تھے اور انتہائی خونریز معرکے لڑے جارہے تھے۔
٭ ٭ ٭
چالیس میل دور بحیرٔہ روم میں الفارس بیدرون کے چھ جہاز پھیلے ہوئے گشت کررہے تھے ،تاکہ ٹائر میں صلیبیوں کا جو
بحری بیڑہ ہے ،وہ فوج اور سامان لے کر ادھر نہ آسکے۔ دونوں لڑکیاں اس جہاز میں تھیں مگر اسے اب لڑکیوں کی طرف
توجہ دینے کی مہلت نہیں ملتی تھی۔ سلطان ایوبی اور رئیس البحرین المحسن نے اسے بڑی نازک ذمہ داری سونپی تھی۔
کبھی کبھی وہ خود مستول کے اوپر بنی ہوئی مچان پر چڑھ جاتا اور سمندر کی وسعت کو گہری نظروں سے دیکھتا رہتا تھا۔
دوسرے جہازوں میں بھی جاتا رہتا ،تاکہ ہر جہاز کا عملہ اپنے فرائض سے غافل نہ ہوجائے۔
اس کے جہاز میں اس کا نائب رئوف کرد فلوری سے ملتا رہتا تھا جو بہت حد تک چوری چھپے کی مالقاتیں ہوتی تھیں۔
حسن بن عبداللہ کا بھیجا ہوا جاسوس دونوں کو دیکھتا اور ان پر گہری نظر رکھتا تھا۔
مصر کا بحری بیڑہ بحیرٔہ روم میں دور دور تک گشت کرتا تھا ،کیونکہ خطرہ تھا کہ یورپ ،خصوصا ً انگلستان سے بیت المقدس
کو بچانے کے لیے مدد آئے گی۔ سلطان ایوبی کی طوفانی پیش قدمی اور صلیبیوں کے ہر قلعے اور شہر پر یلغار دیکھی تو
انہوں نے جرمنی کے شہنشاہ فریڈرک اور انگلستان کے شہنشاہ چرڈ کو ان الفاظ کے پیغام بھیج دیئے تھے کہ عرب سے
صلیب اکھڑ رہی ہے اور بیت المقدس کو بچانا مشکل نظر آرہا ہے۔ ان پیغامات کا لب لباب یہ تھا کہ آئو اور ہمیں بچائو۔
سلطان ایوبی کی توقع یہی تھی کہ بیت المقدس کی جنگ بحیرٔہ روم میں بھی لڑی جائے گی جو بڑی خوفناک جنگ ہوگی
مگر جرمنی اور انگلستان سے کسی حرکت کی کوئی اطالع نہیں آرہی تھی۔ شکست خوردہ صلیبیوں کا بحری بیڑہ ٹائر کی
بندرگاہ میں دبکا ہوا تھا۔ تاہم سلطان ایوبی کا رئیس البحر دشمن کی بحریہ کی اس خاموشی کو کسی خطرے کا پیش خیمہ
سمجھ رہا تھا ،اس لیے پوری طرح چوکنا تھا۔
٭ ٭ ٭
محاصرے کی چوتھی رات تھی۔ کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔ صلیبی نائٹوں اور دیگر سواروں نے باہر آ آکر بڑے ہی
دلیرانہ حملے کیے اور جانوں کی قربانی دی تھی۔ سلطان ایوبی نے جب چار دنوں کے اپنے زخمیوں اور شہیدوں کا حساب کیا
تو اس کے ماتھے کے شکن گہرے ہوگئے۔ اس کے پاس اسلحہ اور سامان کی کمی نہیں تھی۔ مفتوحہ جگہوں سے اس نے
لمبی جنگ کے لیے اسلحہ وغیرہ اکٹھا کرلیا تھا مگر کمی نفری کی تھی۔ نفری تیزی سے کم ہورہی تھی اور بیت المقدس
کی دیوار اس کے لیے بدستور چیلنج بنی ہوئی تھی۔
پانچویں دن سلطان ایوبی نے مغرب کی جانب یعنی دائود برج کے سامنے سے کیمپ اکھاڑ دیا اور وہاں کی لڑائی بند کرادی۔
اس نے شمال کی طرف ایک جگہ دیوار کو کمزور دیکھا تھا۔ مغرب سے جب منجنیقیں ہٹائی جارہی تھی اور دور پیچھے جو
خیمے لگے ہوئے تھے ،وہ اکھاڑے جارہے تھے تو یوں معلوم ہوتا تھا جیسے سلطان ایوبی محاصرہ اٹھا کر جارہے ہیں۔ دیوار کے
اوپر جو شہری عیسائی تھے انہوں نے شہر میں خبر پھیال دی کہ محاصرہ اٹھ گیا ہے اور مسلمانوں کی فوج پسپا ہورہی ہے۔
سلطان ایوبی دیوار سے دور فوج کو منتقل کررہا تھا اور شام ہوگئی۔
شہر میں جہاں آہ وزاری ،دہشت زدگی اور دعائوں کا واویال تھا ،وہاں خوشی کے نعرے گرجنے لگے۔ رات ہی رات عیسائی
گرجوں میں جمع ہوکر خدا کا شکر ادا کرنے لگے۔ عیسائی جو شام تک اپنے گناہوں کی بخشش مانگ رہے تھے ،مسلمان
شہریوں پر ظلم وتشدد کا ازسرنو آغاز کرنے کا پروگرام بنانے لگے۔ اس کی ابتدا انہوں نے طعنوں اور گالیوں سے کی۔ مسلمان
بجھ کر رہ گئے۔
دوسرے دن (٢٥ستمبر ١١٨٧ئ) بروز جمعہ دیوار پر کھڑے صلیبیوں نے دیکھا کہ شمال کی جانب جبل زیتون پر سلطان ایوبی
کا جھنڈا لہرا رہا ہے اور اس سے آگے دیوار سے ذرا ہی دور مسلمانوں نے منجنیقیں نصب کردی ہیں اور کم وبیش دس ہزار
فوج ( سوار اور پیادہ) حملے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ سلطان ایوبی ہر جنگی مہم کا آغاز جمعہ
کے روز اس وقت کیا کرتا تھا جس وقت مسجدوں میں خطبے دئیے جارہے ہوتے تھے۔ اس کاعقیدہ تھا کہ دعائوں کی قبولیت
کا وقت ہوتا ہے۔ بیت المقدس پر بھی اس نے پوزیشن اور پالن بدل کر جمعہ کے رزو فیصلہ کن حملہ کیا۔
شہر پر پہلے سے زیادہ پتھر اور ہانڈیاں گرنے لگیں۔ شہر میں فورا ً خبر پھیل گئی کہ مسلمانوں کی اور زیادہ فوج آگئی ہے اور
اب شہر ایک دو دن کا مہمان ہے۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ شہر میں دہشت زدگی کی لہر آئی۔ لوگ گھروں سے نکل کر گلیوں
اور بازاروں میں واویال کرنے لگے۔ مسلمانوں کی اذانیں ایک بار پھر سنائی دینے لگیں۔ عیسائیوں کی حالت زار سے خود پادری
متاثر ہوئے۔ وہ صلیبیں ہاتھوں میں اٹھائے گلی گلی ،کوچہ کوچہ پھرنے لگے۔ وہ بھی روتے تھے اور د عائیں مانگتے تھے۔
صلیبی سواروں نے ایک بار پھر نکل کر منجنیقوں پر ہلہ بوال مگر سلطان ایوبی نے اب یہ معرکہ اپنی نگرانی میں لے لیا :
تھا۔ اس کے سوار تین اطراف سے صلیبی سواروں کی طرف سرپٹ رفتار سے بڑھے اور انہیں پیس کر رکھ دیا۔ صلیبی
مہندسوں تک پہنچ ہی نہ سکے اس کے بعد صلیبیوں نے دو اور ہلے بولے لیکن مسلمان شاہسواروں نے انہیں دروازے سے زیادہ
آگے نہ آنے دیا۔ سلطان ایوبی نے پہلی بار اپنے ایک نقب زن جیش ( سرنگیں کھودنے اور دیواریں توڑنے والوں) کو آگے بڑھایا۔
اس کا طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ ہر ایک کے ہاتھ میں لمبی ڈھال تھی جس کے پیچھے وہ سر سے پائوں تک چھپا ہوا تھا۔
ان ڈھالوں کے عالوہ ا نہیں اوپر سے آنے والے تیروں سے بچانے کے لیے سلطان ایوبی کے ہزاروں تیر اندازوں نے نہایت تیزی
سے دیوار کے اسے حصے پر تیر برسانے شروع کردئیے جس حصے کے نیچے نقب لگائی یا سرنگ کھودنی تھی۔ کہتے ہیں کہ
تیر اس قدر زیادہ برسائے جارہے تھے کہ دیوار ان کے پیچھے چھپ گئی تھی اور دیوار کے اوپر کسی صلیبی کا سر نظر نہیں
آتا تھا۔
وہاں ایک دروازہ تھا جس کے اوپر عمارت بنی ہوئی تھی۔ اس دروازے کے پیچھے بھی ایسا ہی ایک مضبوط دروازہ تھا۔ دونوں
کے کے درمیان ڈیوڑھی تھی جس کے اوپر عمارت تھی۔ سلطان ایوبی اس کے نیچے سرنگ کھدوانا چاہتا تھا۔ اس دروازے سے
کچھ دور دیوار ذرا کمزور نظر آتی تھی ،وہاں بڑی منجنیقیں جو نورالدین زنگی مرحوم نے اپنی زندگی میں بنوائی تھیں ،کئی
کئی من وزنی پتھر مار رہی تھیں۔ دیوار خاصی چوڑی تھی لیکن مسلسل ایک ہی جگہ سنگ باری سے اس میں شگاف پڑنے
لگا تھا۔ پتھروں کے دھماکے شہر والوں کا خون خشک کررہے تھے۔
دن کے وقت نقب زن جیش ڈھالوں کی اوٹ میں تیروں کے سائے میں دروازے تک پہنچ گئے۔ اب اوپر سے ان پر کوئی تیر
نہیں چال سکتا تھا۔ رات کے وقت سینکڑوں جانبازوں نے مل کر دروازے یعنی ڈیوڑھی کے نیچے تیس گز سے زیادہ لمبی
سرنگ کھود لی ،جو ڈیوڑھی جتنی چوڑی تھی۔ اوپر کی عمارت کو مضبوط شہتیروں سے سہارا دیا گیا۔ اس مہم میں دو دن
صرف ہوئے۔ شہتیر آگے پہنچانے میں کئی مجاہد شہید ہوگئے۔ پھر اس سرنگ میں گھاس اور لکڑیاں بھر کر ان پر آتش گیر
سیال اور مادہ پھینکا گیا اور اسے آگ لگا دی گئی۔ تمام نقب زن جانباز وہاں سے بھاگ آئے۔
آگ نے شہتیروں کو بھی جال دیا اور اوپر سے عمارت دھنسنے لگی پھر مہیب گڑ گڑاہٹ سے گر پڑی۔ ادھر دیوار سے جس
جگہ وزنی پتھر مارے جارہے تھے ،وہاں بھی شگاف ہوگیا۔ اب ملبے کے اوپر سے گزر کر شہر میں داخل ہونا تھا مگر یہ بڑا
ہی خطرناک اقدام تھا ،یہاں سے ملبہ ہٹانے کی مہم شروع ہوئی۔
٭ ٭ ٭
شہر میں گرجوں کے گھنٹے اور زیادہ تیزی سے بجنے لگے۔ اذانوں کی مقدس اور فاتحانہ آوازیں اور زیادہ بلند ہونے لگیں۔
صلیبی جرنیلوں اور حکمران ٹولے کے بھی حوصلے پست ہوگئے۔ انہوں نے کانفرنس بالئی جس میں جرنیلوں نے یہ تجویز پیش
کی کہ تمام تر فوج اور جتنے بھی عیسائی شہری رضاکارانہ طور پر ہمارے ساتھ آسکتے ہیں ،ایک ہی بار باہر نکل کر سلطان
ایوبی کی فوج پر ہلہ بول دیں۔ یہ تجویز طریق اعظم ہرکولیز نے اس لیے منظور نہ کی کہ شکست کی صورت میں شہر میں
عورتیں اور بچے رہ جائیں گے جو مسلمانوں کے انتقام کا نشانہ بنیں گے۔ آخر کار یہ تجویز منظور ہوئی کہ سلطان ایوبی کے
ساتھ صلح کی بات چیت کی جائے۔ اس کی نمائندگی ایک عیسائی سردار بالیان کو دی گئی۔
باہر سے سلطان ایوبی کی فوج نے دیکھا کہ دروازے کی گری ہوئی عمارت کے ملبے پر سفید جھنڈا لہرا رہا ہے۔ تیر :
اندازوں کو روک دیا گیا۔ جھنڈے کے ساتھ تین چار آدمی نمودار ہوئے۔ ایک نے بلند آواز سے کہا… ''ہم سلطان صالح الدین
ایوبی کے ساتھ صلح کی بات چیت کرنا چاہتے ہیں''… سلطان ایوبی سن رہا تھا۔ اس نے کہا کہ انہیں آگے لے آئو۔
سلطان ایوبی نے ان کا استقبال کیا اور انہیں اپنے خیمے میں لے گیا۔ بات صلیبی سردار بالیان نے شروع کی اور کہا کہ
مسلمان فوج محاصرہ اٹھا کر واپس چلی جائے اور سلطان ایوبی اپنی شرائط بتائے۔ صلیبی دراصل بیت المقدس سے دستبردار
نہیں ہونا چاہتے تھے۔ سلطان ایوبی بیت المقدس لیے بغیر ٹلنے واال نہیں تھا مگر اس کا ابھی ایک بھی سپاہی شہر میں
دعوی نہیں کرسکتا تھا کہ اس نے شہر لے لیا ہے۔ ابھی صلیبی یہ کہہ سکتے تھے کہ
داخل نہیں ہوسکا تھا۔ وہ ابھی یہ
ٰ
شہر پر ان کا قبضہ ہے۔
ادھر صلح کی بات چیت ہورہی تھی ،ادھر محاصرے کی جنگ جاری تھی۔ سلطان ایوبی معاہدوں اور مذاکرات کا قائل نہیں
تھا۔ بات چیت کے ساتھ اس نے جنگ جاری رکھی تھی ،دیوار کا شگاف کھل گیا تھا۔ ادھر مجاہدین نے جوش میں آکر گری
ہوئی عمارت کے ملبے پر ہلہ بول دیا۔ دیوار کے شگاف میں سے بھی جانباز اندر جانے لگے اور نقب زن جیش فوج کی
سہولت کے لیے شگاف کوکھال کرنے لگے مگر صلیبی اس شہر سے دستبردار نہ ہونے کا پختہ عزم کیے ہوئے تھے۔ انہوں نے
دونوں جگہوں سے حملہ آوروں کو باہر دھکیل دیا۔ باہر سے دستے سیالب اور طوفان کی طرح بڑھے۔ آگے جانے والے صلیبیوں
کے تیروں اور برچھیوں سے گرے۔ پیچھے والے انہیں روندتے ہوئے آگے گئے۔ بڑا ہی خونریز معرکہ لڑا گیا۔ اس دوران کسی
جانباز نے شہر کے بڑے دروازے کے برج سے الل کراس واال جھنڈا اتار پھینکا اور وہاں اسالمی جھنڈا چڑھا دیا۔ عیسائی شہریوں
نے ایسی بھگدڑ مچائی کہ صلیبی فوج کے لیے رکاوٹ اور مسئلہ بن گئے۔
اقصی میں داخل ہوگئے اور اوپر سے صلیب اتار کر
سلطان ایوبی کے جانباز دیوانے ہوئے جارہے تھے۔ ان میں سے کچھ مسجد
ٰ
دور پھینک دی ،وہاں بھی اسالمی پرچم لہرانے لگا لیکن شہر میں دونوں فوجیں ایک دوسرے کا بری طرح کشت وخون کررہی
تھیں۔ یہ ضرور نظر آرہا تھا کہ صلیبیوں کی جارحیت اور مزاحمت کی شدت تیزی سے کم ہورہی تھی۔
سلطان ایوبی صلیبیوں کے وفد کے ساتھ صلح کی بات چیت کررہا تھا۔ اسے باہر کی اور شہر کی ابھی کچھ خبر نہیں تھی۔
اس نے بالیان سے کہا… ''میں نے بیت المقدس کو اپنی طاقت سے آزاد کرانے کی قسم کھائی تھی۔ اگر آپ لوگ یہ شہر
مجھے اس طرح دے دیں جیسے میں نے فتح کیا ہے تو میں صلح کی بات سن لوں گا''۔
صالح الدین!'' بالیان نے ذرا دبدبے سے کہا… ''اس شہر کا نام ابھی یروشلم ہے ،بیت المقدس نہیں۔ اگر صلح نہیں کرنا''
چاہتے تو ہم آپ کو مجبور نہیں کریں گے لیکن یہ سن لو کہ اس شہر میں آپ کے چار ہزار فوجی ہمارے جنگی قیدی ہیں
اور جو مسلمان شہری ہماری قید میں ہیں ،ان کی تعداد تین ہزار ہے۔ ہم ان تمام قیدیوں کو اور شہر کے ہر ایک مسلمان
باشندے کو خواہ وہ عورت ہے یا بچہ ،جوان ہے یا بوڑھا ،قتل کردیں گے''۔
سلطان ایوبی کی آنکھیں غصے سے الل ہوگئیں اور اس کے ہونٹ کانپے۔ وہ کچھ کہنے لگا تھا کہ خیمے کا پردہ اٹھا۔ اس کا
ایک کمان دار اندر آیا تھا۔ سلطان ایوبی نے اسے اشارہ سے اپنے پاس بالیا۔ کمان دار نے اس کے کان میں سرگوشی کی…
اقصی پر جھنڈے چڑھا دئیے گئے ہیں''۔
''شہر لے لیا گیا ہے۔ بڑے دروازے اور مسجد
ٰ
سلطان ایوبی کو بالیان کی دھمکی کا جواب مل گیا۔ اس کی الل انگارہ آنکھوں میں غیرمعمولی چمک پیدا ہوئی۔ اس نے
بڑے زور سے اپنی ران پر ہاتھ مار کر صلیبی سردار بالیان سے کہا… ''فاتح مفتوح کے ساتھ صلح کی بات نہیں کیا کرتے،
کوئی ایک بھی مسلمان تمہارا قیدی نہیں''… واقعہ نگاروں نے لکھا ہے کہ سلطان ایوبی بڑے تحمل سے بات کیا کرتا تھا
مگر بالیان کی دھمکی کے ساتھ ہی فتح کی خبر سن کر اس کی آواز میں قہر اور گرج پیدا ہوگئی۔ اس نے کہا… ''تم سب
قیدی ہو ،تمہاری ساری فوج میری قیدی ہے ،شہر میں رہنے واال ہر ایک عیسائی میرا قیدی ہے۔ اس شہر سے اب وہ عیسائی
نکل کر جاسکے گا جو میرا مقرر کیا ہوا زرفدیہ ادا کرے گا۔ جائو اندر جا کر دیکھو ،یہ یروشلم ہے یا بیت المقدس''۔
بالیان ا ور اس کے ساتھ آئے ہوئے صلیبی گھبرا گئے۔ خیمے سے نکل کر دیکھا۔ سلطان ایوبی کی فوج کا بیشتر حصہ شہر
میں داخل ہوچکا تھا اور بڑے دروازے پر اسالمی پرچم لہرا رہا تھا۔
یہ اتفاق تھا یا سلطان ایوبی نے پالن ہی ایسا بنایا تھا یا خدائے ذوالجالل کا منشا یہی تھا کہ سلطان ایوبی بروز جمعہ
٢اکتوبر ١١٨٧ء بمطابق ٢٧رجب ٥٧٣ہجری شہر میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوا۔ غور فرمائیے یہ رجب کی ستائیسویں رات
تھی اور یہ وہ رات ہے جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی مقام سے معراج کو تشریف لے گئے تھے۔ تمام مسلم
اور غیر مسلم مؤرخین نے بیت المقدس کی فتح کی یہی تاریخ لکھی ہے۔
٭ ٭ ٭
سلطان ایوبی جب شہر میں داخل ہوا تو مسلمان گھروں سے نکل آئے۔ عورتوں نے سروں سے
اوڑھنیاں اتار کر اس کے راستے میں پھینک دی۔ سلطان ایوبی کے باڈی گارڈوں نے گھوڑوں سے اتر کر اوڑھنیاں راستے سے
اٹھا لیں کیونکہ سلطان اپنی پرستش اور خوشامد سے سخت نفرت کرتا تھا۔ ظلم وتشدد کے مارے ہوئے مسلمان چیخ چیخ کر
نعرے لگا رہے تھے اور بعض سجدے میں گر پڑے۔ آنسو تو سب کے جاری تھے۔ یہ بڑا ہی جذباتی اور دردناک منظر تھا۔
عینی شاہدوں کے مطابق سلطان ایوبی اس قدر جذباتی ہوگیا تھا کہ نعروں کے جواب میں ہاتھ بلند کرکے ہالتا تھا لیکن اس
کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نہیں تھی بلکہ وہ ہونٹوں کو بھینچتا اور دانتوں میں دبانے کی کوشش کرتا تھا۔ یہ کوشش جذباتیت کو
دبانے اور سسکیاں روکنے کی تھی۔
21:07
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
اقصی کی دہلیز پر
قسط نمبر 155ایوبی مسجد
ٰ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ کوشش جذباتیت کو دبانے اور سسکیاں روکنے کی تھی۔ عیسائی شہری گھروں میں دبکے خوف سے کانپ رہے تھے۔ انہوں
نے اپنی جوان لڑکیوں کو چھپا لیا تھا۔ کہتے ہیں کہ اکثر لڑکیوں کو مردانہ لباس پہنا دئیے گئے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ
مسلمان سپاہی خواتین کی بے حرمتی کا انتقام لینے کے لیے ان کی بیٹیوں کو بے آبرو کریں گے لیکن یورپی مؤرخ لین پول
لکھتا ہے کہ صالح الدین ایوبی نے اپنے آپ کو ایسا عالی ظرف اور کشادہ دل کبھی ثابت نہیں کیا جتنا اس وقت کیا۔ جب
اس کی فوج صلیبی فوج سے شہر کا قبضہ لے رہی تھی۔ اس کی فوج کے سپاہی اور افسر گلی کوچوں میں امن وامان برقرار
رکھنے کے لیے گھوم پھر رہے تھے اور ان کی نظر اس پر تھی کہ کوئی مسلمان شہری کسی عیسائی شہری پر انتقاما ً حملہ
نہ کردے۔ سلطان ایوبی کے احکام ہی ایسے تھے۔ البتہ کسی عیسائی کو شہر سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔
اقصی میں گیا۔ جذبات کی شدت سے وہ مسجد کی دہلیز پر گھٹنوں کے بل جیسے گر پڑا
سلطان ایوبی سب سے پہلے مسجد
ٰ
ہو۔ وہ دہلیز پر سجدہ ریز ہوگیا اور بہائوالدین شداد اور احمدبیلی مصری کے مطابق سلطان ایوبی کے آنسو اس طرح بہہ رہے
تھے کہ اس عظیم مسجد کی دہلیز دھل رہی تھی مسجد کی حالت بہت بری تھی۔ کئی ایک مسلمان حکمرانوں نے وقتا ً فوقتا ً
مسجد میں سونے اور چاندی کے فانون اور شمع دان رکھے تھے ،انہوں نے عقیدت کے طور پر مسجد میں طرح طرح کے پیش
قیمت تحائف بھی رکھے تھے۔ صلیبی تمام فانوس شمع دان اور قیمتی تحائف اٹھا لے گئے تھے۔ فرش سے جگہ جگہ خارا
اور مرمر کی سلیں غائب تھیں۔ مسجد مرمت طلب تھی۔
مرمت کی طرف توجہ دینے سے پہلے سلطان ایوبی نے شکست خوردہ عیسائیوں کے متعلق فیصلہ کرنا ضروری سمجھا ،اس نے
اپنی مشاورتی مجلس سے مشورہ کیا اور حکم نامہ جاری کیا کہ ہر عیسائی مرد دس اشرفی (دینار) عورت پانچ اشرفی اور ہر
بچہ ایک اشرفی زر فدیہ ادا کرکے شہر سے باہر نکل جائے۔ کوئی بھی عیسائی وہاں نہیں رہنا چاہتا تھا۔ برج دائود کے نیچے
واال دروازہ کھول دیا گیا ،جہاں مسلمان حاکم فدیہ وصول کرنے کے لیے بیٹھ گئے اور عیسائی آبادی کا انخال شروع ہوگیا۔ سب
سے پہلے عیسائیوں کا سربراہ بالیان شہر سے نکال۔ اس کے پاس انگلستان کے بادشاہ ہنری کی بھیجی ہوئی بے اندازہ رقم
تھی۔ اس میں سے اس نے تیس ہزار اشرفی طالئی زر فدیہ ادا کی اور اس کے عوض دس ہزار عیسائیوں کو رہا کرالیا۔
باب دائود پر باہر جانے والے عیسائیوں کا تانتا بندھ گیا۔ وہ پورے پورے خاندان کا زرفدیہ ادا کرکے جارہے تھے۔ یہ رواج تھا
کہ مفتوحہ شہر کو فوج بری طرح لوٹ لیتی تھی… بیت المقدس تو وہ شہر تھا جہاں صلیبیوں نے فتح کے بعد مسلمانوں کا
قتل عام کیا اور ان کے گھر لوٹ لیے اور ان کی بیٹیوں اور مسجدوں کی بے حرمتی کی مگر مسلمانوں نے یہ شہر فتح کیا
تو لوٹ مار کے بجائے یوں ہوا کہ سلطان ایوبی کے فوجیوں نے اور باہر سے فورا ً پہنچ جانے والے مسلمان تاجروں نے
عیسائیوں کے گھروں کا سامان خریدا تاکہ وہ زرفدیہ دینے کے قابل ہوجائیں۔ اس طرح وہ عیسائی خاندان بھی رہا ہوگئے جن
کے پاس زر فدیہ پورا نہیں تھا۔
اس موقع پر ایک تضاد دیکھنے میں آیا جو کئی ایک مؤرخوں اور اس دور کے واقعہ نگاروں نے بیان کیا ہے۔ بیت المقدس کے
سب سے بڑے پادری بطریق اعظم ہرکولیز نے یہ حرکت کی کہ تمام گرجوں کی جمع شدہ رقم اپنے قبضے میں لے لی۔
گرجوں سے سونے کے پیالے اور دیگر پیش قیمت اشیاء چرالیں۔ کہتے ہیں کہ یہ دولت اتنی زیادہ تھی کہ اس سے سینکڑوں
غریب عیسائیوں کے خاندانوں کو رہا کرایا جاسکتا تھا مگر ان کے اس سب سے بڑے پادری نے کسی ایک کا بھی زرفدیہ نہ
دیا۔ وہ اپنا فدیہ ادا کرکے نکل گیا۔ کسی مسلمان فوجی نے دیکھ لیا کہ یہ شخص بہت سی دولت ساتھ لے جارہا ہے۔ اس
فوجی کی رپورٹ پر کسی حاکم نے سلطان ایوبی سے کہا کہ اسے اتنی دولت اور اتنا سونا نہ لے جانے دیا جائے۔
اگر اس نے زرفدیہ ادا کردیا ہے تو اسے نہ روکا جائے''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''میں ان لوگوں سے کہہ چکا ہوں کہ ''
کسی سے فالتو رقم نہیں لی جائے گی جو کوئی جتنا ذاتی سامان ساتھ لے جاسکتا ہے ،لے جائے۔ میں اپنے وعدے کی خالف
ورزی نہیں ہونے دوں گا''۔
بطریق اعظم اپنے گرجوں سے چرائی ہوئی دولت اور قیمتی سامان لے گیا۔
سلطان ایوبی نے زر فدیہ ادا کرنے کی میعاد چالیس دن مقرر کی تھی۔ چالیس دن پورے ہوئے تو ابھی تک ہزاروں غریب :
اور نادار عیسائی شہر میں موجود تھے۔ نوے برس پہلے جب صلیبیوں نے بیت المقدس فتح کیا تو دور دور سے عیسائی یہاں
آکر آباد ہوگئے تھے۔ انہیں توقع نہیں تھی کہ کبھی یہاں سے نکلنا بھی پڑے گا۔ یہ حالت دیکھ کر سلطان ایوبی کا بھائی
العادل اس کے پاس آیا۔
محترم سلطان!'' العادل نے کہا… ''آپ جانتے ہیں کہ اس شہر کی فتح میں میرا اور میرے دستوں کا کتنا ہاتھ ہے۔ اس''
کے عوض مجھے ایک ہزار عیسائی بطور غالم دے دیں''۔
اتنے غالم کیا کرو گے؟'' سلطان صالح الدین ایوبی نے پوچھا۔''
یہ میری مرضی پر ہوگا ،میں جو چاہوں کروں''۔''
سلطان ایوبی نے العادل کو ایک ہزار عیسائی دینے کا حکم دے دیا۔ العادل نے ایک ہزار عیسائی منتخب کیے اور انہیں باب
دائود لے جاکر سب کو رہاکردیا۔
سلطان محترم!'' العادل نے واپس آکر سلطان ایوبی سے کہا… ''میں نے ان تمام عیسائی غالموں کو شہر سے رخصت ''
کردیا ہے۔ ان کے پاس زرفدیہ نہیں تھا''۔
میں جانتا تھا ،تم ایسا ہی کرو گے''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''ورنہ میں تمہیں ایک بھی غالم نہ دیتا۔ انسان انسان کا ''
غالم نہیں ہوسکتا۔ اللہ تمہاری یہ نیکی قبول کرے''۔
یہ واقعات افسانے نہیں ،مؤرخوں نے بیان کیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ عیسائی عورتوں کا ایک ہجوم سلطان ایوبی کے پاس
آیا۔ پتہ چال کہ یہ ان صلیبی فوجیوں کی بیویاں ،بیٹیاں یا بہنیں ہیں جو مارے گئے ہیں یا قید ہوگئے ہیں اور ان کے پاس
زرفدیہ نہیں۔ سلطان ایوبی نے سب کو صرف رہا ہی نہ کیا بلکہ انہیں کچھ رقم دے کر رخصت کیا۔ اس کے بعد اس نے عام
حکم جاری کردیا کہ تمام عیسائیوں کو جو شہر میں رہ گئے ہیں ،زرفدیہ معاف کیا جاتا ہے ،وہ جاسکتے ہیں۔ صلیبیوں کی
صرف فوج قید میں رہی۔
اقصی کی صفائی اور مرمت کروائی تھی۔ اس دور کی تحریروں کے مطابق سلطان ایوبی
اس سے پہلے سلطان ایوبی نے مسجد
ٰ
خود سپاہیوں کے ساتھ اینٹیں اور گارا اٹھاتا رہا۔ ١٩اکتوبر ١١٨٧ء جمعہ کا مبارک دن تھا۔ سلطان ایوبی جمعہ کی نماز کے
اقصی میں گیا تو وہ منبر جو نورالدین زنگی مرحوم نے بنوایا تھا اور مرحوم کی بیوہ اور بیٹی الئی تھی ،اس کے
لیے مسجد
ٰ
ساتھ تھا۔ اس نے منبر اپنے ہاتھوں مسجد میں رکھا۔ جمعہ کا خطبہ دمشق سے آئے ہوئے ایک خطیب نے پڑھا۔
اقصی کی آرائش کی طرف توجہ دی۔ مرمر کے پتھر منگوا کر فرش میں لگوائے اور مسجد
اس کے بعد سلطان ایوبی نے مسجد
ٰ
اقصی میں
مسجد
بھی
آج
تھے،
لگوائے
ہاتھوں
اپنے
نے
ایوبی
سلطان
جو
پتھر
خوبصورت
وہ
کو جی بھر کر خوبصورت بنایا۔
ٰ
موجود ہیں اور ان کی خوبصورتی میں کوئی فرق نہیں آیا۔
٭ ٭ ٭
بیت المقدس کی فتح تاریخ اسالم کا بہت بڑا واقعہ اور عظیم کارنامہ تھی مگر سلطان ایوبی کا جہاد ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔
اسے سرزمین عرب اور فلسطین کو صلیبیوں سے پاک کرنا تھا۔ اس نے بیت المقدس کو جہاں ایک مضبوط چھائونی اور
عسکری مستقر بنایا ،وہاں اس مقدس مقام کو علم وفضل کا مرکز بنا دیا۔ ٥رمضان المبارک ٥٧٣ہجری (٨نومبر ١١٨٧ئ) کے روز
اس نے بیت المقدس سے کوچ کیا۔ اس کا رخ شمال کی طرف تھا۔ اس نے اپنے بیٹے الملک الظاہر کو جو کسی اور جگہ
تھا ،پیغام بھیجا کہ اپنے دستے لے کراس کے پاس آئے۔ سلطان ٹائر پر حملہ کرنے جارہا تھا۔ یہ صلیبیوں کی مضبوط چھائونی
تھی اور بندرگاہ تھی۔ سلطان ایوبی نے بحریہ کے کمانڈر الفارس بیدرون کو پیغام بھیجا کہ وہ ٹائر سے کچھ دور تک آجائے اور
جب سلطان اس شہر کا محاصرہ کرے تو الفارس صلیبی بیڑے پر حملہ کردے۔ سلطان ایوبی نے الفارس کو حملے کے جو دن
بتائے وہ دسمبر کے آخر یا جنوری کے شروع کے دن تھے۔
جاسوس اس وقت تک بحیرٔہ روم کی تہہ میں مچھلیوں کی خوراک بن چکا تھا اور رئوف کرد اس کے اس انجام سے اچھی
طرح واقف تھا۔ کچھ روز پہلے جاسوس نے رئوف کرد سے کہا تھا کہ ان لڑکیوں کو وہ یہاں نہیں رہنے دے گا۔ اس نے دیکھا
تھا کہ جب جہاز ساحل کے قریب لنگر انداز ہوتا ہے تو چھوٹی چھوٹی کشتیاں اس کے قریب آجاتی اور ماہی گیر قسم کے
لوگ مختلف چیزیں فروخت کرتے ہیں۔ ان میں ایک آدمی کو اس نے تین چار جگہوں پر دیکھا تھا۔ لڑکیاں اسے رسے کی
سیڑھی لٹکا کر اوپر بالتی ہیں اور اس سے کچھ خریدنے کے بجائے اس کے ساتھ باتیں کرتی رہتی ہیں۔ جہاز اگر دس پندرہ
میل دور ساحل کے ساتھ کہیں لنگر انداز ہوا تو وہاں بھی یہ آدمی کشتی لے کر آگیا۔ جاسوس کو اس آدمی پر شک تھا۔
فلوری نے رئوف کرد کی عقل مار ڈالی تھی۔ وہ اس سے راز کی باتیں پوچھتی اور وہ اسے سب کچھ بتا دیتا تھا۔ الفارس
بہت مصروف رہتا تھا۔ وہ دوسرے جہازوں میں بھی چال جاتا تھا۔ ایک روز رئوف کرد نے فلوری کے طلسم سے مسحور ہوکر
اسے بتا دیا کہ جہاز میں ایک خطرناک آدمی ہے ،اس کے ساتھ کوئی بات نہ کرنا۔ رئوف کرد ان لڑکیوں کو ابھی تک خانہ
بدوش سمجھ رہا تھا اور وہ ان کے اصلی ناموں ،فلوری اور روزی سے واقف نہیں تھا۔ لڑکیاں دراصل تجربہ کار جاسوس تھیں۔
وہ سمجھ گئیں کہ جس آدمی کے متعلق رئوف کردنے بات کی ہے وہ جاسوس ہے۔ رئوف کرد کو گوارا نہ تھا کہ فلوری جہاز
سے چلی جائے۔ اس نے ان لڑکیوں کو یہ بھی بتا دیا کہ یہ جاسوس ہے۔
ایک رات الفارس کسی دوسرے جہاز میں گیا ہوا تھا۔ آدھی رات کے وقت رئوف کرد اور فلوری عرشے پر جنگلے کے ساتھ
ایسی جگہ چھپے ہوئے تھے جہاں پیچھے اور دائیں بائیں سامان پڑا تھا۔ حسن بن عبداللہ کا جاسوس دانستہ یا اتفاقیہ ادھر
آنکال۔ رئوف کرد گھبرانے یا کوئی جھوٹ بولنے کے بجائے اٹھ کر اسے ذرا پرے لے گیا اور کہا کہ وہ اس لڑکی کو اللچ وغیرہ
دے کر پوچھ رہا تھا کہ وہ دونوں کون ہیں۔ اس نے جاسوس سے کہا کہ میں چال جاتا ہوں ،تم اس کے پاس بیٹھ جائو اور
اپنے تجربے اور علم کے مطابق اس سے باتیں کرکے بھید لو کہ یہ ہیں کون؟
جاسوس کو فلوری کے پاس بھیج کر اس نے روزی کو جگایا اور اسے کہا کہ شکار فالں جگہ ہے ،تم بھی چلی جائو۔ میں
ادھر ادھر دیکھتا رہوں گا کہ کوئی دیکھ نہ لے۔
روزی اوپر آئی ،رئوف کرد نے اسے گز بھر لمبی رسی دی اور وہ اس جگہ چلی گئی جہاں جاسوس اور فلوری بیٹھے تھے۔
وہاں اندھیرا تھا۔ روزی ان کے پاس بیٹھ گئی۔ جاسوس گپ شپ کے انداز سے ان کی اصلیت کا بھید حاصل کرنے کی کوشش
کررہا تھا۔ روزی نے رسی اس کی گردن کے گرد لپیٹ دی۔ لڑکیاں تربیت یافتہ تھیں۔ فلوری نے فورا ً رسی کا دوسرا سرا پکڑ
لیا۔ پیشتر اس کے جاسوس اپنا بچائو کرنے کے لیے ہاتھ پائوں مارتا ،اس کی گردن کا پھندا لڑکیوں نے رسی اپنی اپنی طرف
کھینچ کر تنگ کردیا۔ وہ ذرا دیر تڑپا پھر اس کا جسم ساکت ہوگیا۔
رئوف کرد ذرا پرے کھڑا تھا۔ وہاں اگر کوئی مالزم تھا تو اسے اس نے کوئی کام بتا کر وہاں سے ہٹا دیا تھا۔ لڑکیوں نے
جاسوس کی الش سمندر میں پھینک دی۔ روزی چلی گئی۔ فلوری وہیں بیٹھی رہی۔ رئوف کرد اس کے پاس چال گیا اور دونوں
ایک دوسرے میں گم ہوگئے۔
٭ ٭ ٭
الفارس کو معلوم ہی نہ تھا کہ اس کے جہاز میں کوئی جاسوس آیا یا رئوف کرد نے کسی نئے آدمی کو جہاز میں کسی کام
پر لگایا تھا۔ اس کے قتل کے دو چار روز بعد الفارس کو خیال آیا کہ اس کے اپنے اور دوسرے پانچ جہازوں میں جاکر مالحوں
اور سپاہیوں کی کیفیت دیکھی تھی۔ وہ خشکی کی رونق سے دور فراغت اور بے یقینی کیفیت سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ اگر
کبھی کبھی بحری معرکہ ہوجایا کرتا تو ان کی ذہنی حالت یہ نہ ہوتی۔ چنانچہ اس نے فیصلہ کیا کہ ایک رات وہ تمام
جہازوں کو اکٹھا کرکے لنگر ڈال دے گا اور جشن منائے گا۔ مالح اور سپاہی گائیں بجائیں گے اور سب کواچھا کھانا دیا جائے
گا۔
اس نے رئوف کرد اور اپنے ماتحت افسروں سے بات کی۔ اس وقت دونوں لڑکیاں بھی موجود تھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ناچیں
گی۔ الفارس زندہ دل انسان تھا۔ وہ خود بھی جشن اور راگ رنگ کی ضرورت محسوس کررہا تھا۔ اس نے ابھی کوئی رات
مقرر نہ کی ،کیونکہ اسے خشکی سے سلطان ایوبی کے قاصد کا انتظار تھا۔ دسمبر کا آخری ہفتہ تھا۔
دو روز بعد قاصد آگیا۔ اس نے بتایا کہ سلطان ایوبی ٹائر سے تھوڑی ہی دور رہ گیا ہے اور الفارس اپنے جہازوں کو ٹائر کے
قریب لے جائے تاکہ محاصرے کے وقت وہ کم وقت میں ٹائر پہنچ سکے۔ قاصد نے خاص طور پر کہا تھا کہ اب دن اور رات
چوکس رہیں کیونکہ صلیبی جہاز قریب ہی موجود ہیں… الفارس نے قاصد کو رخصت کیا اور اس شام اپنے بکھرے ہوئے جہازوں
کو ایک جگہ اکٹھا ہونے کا اشارہ دے دیا۔ اس نے رئوف کردکو بتایا کہ چند روز بعد شاید انہیں بحری جنگ لڑنی پڑے ،اس
لیے دو رات بعد جشن منالیا جائے۔
رئوف کرد نے بتا دیا کہ فالں رات جہاز اکٹھے ہوں
اور رونق میلہ ہوگا۔
اینڈریو کی کشتی آتی رہتی تھی۔ حسن بن عبداللہ کے جاسوس نے اسے کئی جگہوں پر دیکھا تھا۔ اب جہاز ساحل کے قریب
آکر رکا تو اینڈریو آگیا۔ لڑکیوں نے حسب معمول اسے اوپر بال لیا اور اس سے کچھ خریدا اور اس کے کان میں یہ قیمتی
اطالع ڈال دی کہ فالں رات جہاز اکٹھے کھڑے ہوں گے اور عرشوں پر جشن ہوگا۔ اینڈریو دیکھ رہا تھا کہ دور سے الفارس کے
دوسرے جہاز آرہے تھے۔ وہ لڑکیوں کو یہ کہہ کر چال گیا… ''اس رات اسی طرف میری کشتی آجائے گی۔ سیڑھی پھینک کر
اتر آنا''۔
٭ ٭ ٭
وہ رات آگئی۔ چھ جہاز بادبان لپیٹے پہلو بہ پہلو کھڑے تھے۔ جہازوں کے کپتان اور دیگر افسر الفارس کے جہاز میں اکٹھے
ہوگئے تھے۔ پرتکلف کھانا ہورہا تھا۔ مالح اور سپاہی اپنے اپنے جہازوں میں ناچ ،کوچ اور گا رہے تھے۔ الفارس کے جہاز میں
دونوں لڑکیاں رقص کررہی تھیں۔ دف اور ساز موجود تھے۔ جہازوں پر بہت سی مشعلیں جال دی گئی تھیں۔ رات کو دن بنا دیا
گیا تھا۔
یہ رونق جب عروج پر پہنچی تو رات خاصی گزر چکی تھی۔ صلیبیوں کے دس بارہ جنگی جہاز بتیاں بجھائے ہوئے الفارس کے
جہازوں کی طرف بڑھے آرہے تھے۔ وہ نئے چاند کی ترتیب میں تھے۔ وہ قریب آگئے تو بھی کسی کو پتہ نہ چال۔ ادھر
چھوٹی سی ایک کشتی الفارس کے جہاز کے قریب ہورہی تھی۔ اچانک الفارس کے جہازوں پر جلتے ہوئے گولے گرنے لگے اور
تیروں کی ایسی بوچھاڑیں آئیں کہ کئی مالح اور سپاہی تڑپنے لگے۔ الفارس اور اس کے کپتانوں نے اس اچانک حملے سے
نکلنے کی کوشش کی مگر جہازوں کا نکالنا ممکن نہ تھا۔ سپاہیوں نے تیروں سے جواب دیا۔ منجنیقوں سے آگ پھینکی۔ ایک
صلیبی جہاز کو آگ لگی مگر صلیبی اپنا کام کرچکے تھے۔ ان کے جہاز واپس چلے گئے۔
معرکہ جس طرح اچانک شروع ہوا تھا ،اسی طرح اچانک ختم ہوگیا۔ قاضی بہائوالدین شداد کی تحریر کے مطابق الفارس کے
پانچ جہاز جل کر تباہ ہوگئے۔ دو کپتان اور بہت سے بحری سپاہی شہید ہوگئے۔ قاضی شداد نے اس کی تاریخ ٢٧شوال
٥٨٣ہجری (٣٠دسمبر ١١٨٧ئ) لکھی ہے۔
چونکہ جہاز جل رہے تھے ،اس لیے روشنی بہت تھی۔ کسی نے دیکھا کہ ایک کشتی جارہی ہے جس میں دو مرد اور دو
عورتیں تھیں۔ الفارس نےاپنے جہاز سے ایک کشتی اتروائی اور اس کشتی کو پکڑنے کی کوشش کی گئی۔ اس کشتی سے تیر
آنے لگے۔ ادھر سے بھی تیر چلے اور کشتی کو گھیر لیا گیا۔ دونوں مرد اور ایک لڑکی تیروں کا نشانہ بن گئی۔ ایک بچ گئی۔
بعد میں اسی لڑکی کے بیان سے تباہی کی اصل حقیقت کھلی۔
اس وقت سلطان ایوبی ٹائر سے کچھ دور خیمہ زن تھا۔ یہاں سے اسے سیدھا ٹائر پر یلغار کرنی تھی۔ کوچ سے ایک ہی روز
پہلے اسے اطالع ملی کہ چھ میں سے پانچ جہاز تباہ ہوگئے ہیں۔ سلطان ایوبی بجھ کر رہ گیا۔ وہ ایسی بری خبر سننے کے
لیے تیار نہیں تھا اور وہ اتنی جلدی دل چھوڑنے واال بھی نہیں تھا۔ اس نے پیش قدمی ملتوی کردی اور الفارس اور دوسرے
کپتانوں کو بالیا۔ الفارس نے اسے صاف الفاظ میں بتا دیا کہ مالح اور سپاہی فراغت اور سمندر سے اکتائے ہوئے تھے ،اس
لیے اس نے جشن کا اہتمام کیا تھا۔
سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں اور مشیروں کا اجالس بالیا اور یہ صورتحال سب کے سامنے رکھی۔ سب نے یہ مشورہ دیا کہ
سخت سردی پڑ رہی ہے اور بارشیں شروع ہوچکی ہیں۔ اس موسم میں جنگ جاری نہیں رکھی جاسکتی۔ اس کے عالوہ
سپاہی مسلسل جنگ اور تیز رفتار کوچ اور پیش قدمی سے اتنے تھک چکے تھے کہ انہیں جذبات میں الکر لڑاتے رہنا ظلم ہے
اور اس کا نتیجہ شکست بھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بحری بیڑے کی تباہی کی مثال دے کر کہا کہ اتنا طویل عرصہ سپاہیوں
کو گھروں سے دور رکھنے کے اثرات ایسے ہی ہوتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بیت المقدس کی عظیم فتح ہمارے لیے کوئی
اور حادثہ بن جائے۔
سلطان ایوبی ڈکٹیٹر نہیں تھا۔ اس نے یہ مشورہ منظور کرلیا اور حکم دیا کہ مفتوحہ عالقوں سے جو عارضی فوج بنائی گئی
تھی ،وہ توڑ دی جائے اور ان لوگوں کو کچھ رقم دے کر گھروں کو بھیج دیا جائے۔ اس نے اپنی باقاعدہ فوج کے بھی کچھ
حصے کو تھوڑی تھوڑی چھٹی دے کر گھروں کو بھیج دیا اور ٣٠جنوری ١١٨٨ء کے روز عکرہ کو روانہ ہوگیا۔ مارچ ١١٨٨ء تک
وہ عکرہ میں رہا۔
21:07
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
اقصی میں گرے
قسط نمبر 156آنسو جو مسج ِد
ٰ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
صلیبی جنگ عروج کو پہنچ گئی تھی۔ بیت المقدس کی فتح نے سارے یورپ کو زلزلے کے بڑے ہی شدید جھٹکے کی طرح
جھنجھوڑ ڈاال تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے اپنی زندگی کا مشن پورا کردیا تھا لیکن بیت المقدس صلیبیوں کے قبضے سے
چھڑا لینا ہی کافی نہیں تھا۔ اس مقدس شہر کا دفاع مستحکم کرنا تھا جو صرف شہر کی دیواریں مضبوط کرلینے تک محدود
نہیں تھا۔ بیت المقدس کو صلیبیوں سے بچائے رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ اردگرد دور دور کے عالقے پر قبضہ کیا جائے اور
ساحل کو بھی اپنی تحویل میں رکھا جائے۔ بہت سے اہم مقامات پر سلطان ایوبی نے پہلے قبضہ کرلیا تھا جو باقی رہ گئے
تھے ان پر سلطان ایوبی کی فوج حملے کرتی اور قابض ہوتی چلی جارہی تھی۔
مفتوحہ مقامات سے عیسائی آبادی بھاگتی چلی جارہی تھی جن مقامات پر عیسائیوں کا قبضہ تھا ،وہاں انہوں نے مسلمانوں کا
جینا حرام کررکھا تھا۔ ان کے لیے مسلمانوں کا قتل عام روزمرہ کا معمول اور مذہبی فریضہ تھا۔ اس کے برعکس سلطان ایوبی
جو جگہ فتح کرتا تھا وہاں کے عیسائی باشندوں کو اپنی فوج کے حفاظت میں نکال دیتا تھا ،سوائے جنگی قیدیوں یعنی صلیبی
فوجیوں کے۔ارض فلسطین کی اب یہ کیفیت تھی کہ سلطان ایوبی ہر ایک دستے کو خواہ وہ اس کے ہیڈکوارٹر سے کتنی ہی
دور کیوں نہ تھا ،رابطے اور اپنے احکام کا پابند رکھے ہوئے تھا۔ چھاپہ مار جیش عقابوں اور چیتوں کی طرح پہاڑیوں ،جنگلوں
اور صحرائوں میں گھومتے پھرتے رہتے تھے ،جہاں انہیں صلیبی فوج کا کوئی دستہ یا رسد کا قافلہ نظر آیا ،وہ اس پر ٹوٹ
پڑتے ،شب خون مارتے اور انہیں ہالک ،زخمی اور تتر بتر کرکے ان کے گھوڑے ،اسلحہ اور رسد اٹھا التے۔
ان چھاپہ ماروں نے جو شب خون مارے ،وہ ہماری تاریخ کی ولولہ انگیز ،ایمان افروز اور مافوق الفطرت شجاعت کی داستانیں
ہیں۔ ہر ایک کا بیان شروع ہوجائے تو یہ داستان بڑی لمبی مدت تک ختم نہ ہو۔ یہ ارض فلسطین کے پاسبان تھے جو
اکیلے اکیلے ،دو دو اور چار چار کی ٹولیوں میں کئی کئی سو نفری کے دستوں اور دشمن کے کیمپوں پر شب خون مارتے اور
شب کی تاریکی میں گم یا اپنے خون میں ڈوب جاتے تھے۔ انہوں نے دشمن سے رسد چھین کر اپنی فوجوں کو دی اور خود
دشمن کی تالش میں بھوکے بھٹکتے رہے ،لڑتے اور کٹتے رہے ،اپنی لگائی ہوئی آگ میں زندہ جلتے رہے۔ انہیں کفن نصیب نہ
ہوئے ،کسی نے ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی اور وہ کسی قبر میں دفن نہ ہوئے۔
وہ قہر تھے جو دشمن پر ٹوٹتے رہے۔ انہی کے بھروسے سلطان ایوبی بیت المقدس کی فتح کے بعد پورے فلسطین میں شیر
کی طرح دندناتا ،دھاڑتا اور گرجتا رہا۔ سلطان ایوبی کی ان گوریال اور کمانڈو (چھاپہ مار) پارٹیوں کے متعلق مشہورومعروف
یورپی مؤرخ لین پول لکھتا ہے… ''یہ بے دین (مسلمان) ہماری نائٹوں (جنگجو سرداروں) کی طرح وزنی زرہ بکتر نہیں پہنتے
تھے لیکن ہمارے زرہ پوش نائٹوں کو ناکوں چنے چبوا دیتے تھے۔ ان پر حملہ کیا جاتا تو بھاگتے نہیں تھے۔ ان کے گھوڑے
ساری دنیا میں تیز رفتار مانے گئے تھے۔ وہ جب دیکھتے تھے کہ (صلیبی) ان کے تعاقب سے ہٹ گئے ہیں تو وہ پھر واپس
آجاتے تھے۔ ان ( مسلمان چھاپہ ماروں) کی حالت ان کبھی نہ تھکنے والی مکھیوں جیسی تھی جنہیں اڑائو تو ایک لمحے کے
لیے اڑ کر پھر تمہارے اوپر بیٹھ جاتی ہیں ،اگر انہیں ہر وقت دور رکھنے کی کوشش کرتے رہو تو وہ دور رہتے تھے۔ جونہی یہ
کوشش ترک کردی جاتی ،وہ شب خون مارجاتے… وہ پہاڑی عالقے کی طوفانی بارش کی طرح چھوٹی چھوٹی پارٹیوں میں آتے
اور صلیبی فوج کی ترتیب توڑ کر غائب ہوجائے۔ ہمارے نائٹوں کو وہ قدم قدم پر پریشان کرتے اور ہماری فوج کی پیش قدمی
کو سست کیے رکھتے''۔
٭ ٭ ٭
یہ خطہ جو آج اسرائیل کہالتا ہے ،سلطان ایوبی کے دور میں ارض مقدس تھا جسے صلیبیوں سے پاک کرنے کے لیے اللہ کے
ایک ایک سپاہی نے وہاں اپنے خون کا نذرانہ دیا۔ سلطان ایوبی نے بعض بستیاں تباہ وبرباد کرادی تھیں۔ بعض اوقات یوں لگتا
تھا جیسے اس کے دل میں رحم کا ایک ذرہ بھی نہیں رہا لیکن اس نے رحم دلی کے ایسے مظاہرے کیے کہ صلیبی مؤرخوں
نے بھی اسے خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اس سے رحم کی بھیک مانگنے کے لیے صلیبیوں کی ایک ملکہ بھی آئی اور ایک
غریب صلیبی عورت بھی۔
صلیبی ملکہ کا نام سبیال تھا۔ وہ مشہور حکمران ریمانڈ کی بیوی تھی۔ جنگ حطین کے وقت وہ طبریہ کے قلعے کی ملکہ
تھی۔ آپ پچھلی اقساط میں پڑھ چکے ہیں کہ ر یمانڈ جنگ حطین کے میدان سے بھاگ گیا تھا۔ اس کی بیوی نے طبریہ کا
قلعہ سلطان ایوبی کے حوالے کردیا تھا اور سلطان ایوبی نے اسے قید نہیں کیا تھا۔ اسی جنگ میں سلطان ایوبی نے بیت
المقدس کے حکمران گائی آف لوزینان کو جنگی قیدی بنا لیا تھا۔ بیت المقدس کی فتح کے بعد جب سلطان ایوبی عکرہ کے
مقام پر خیمہ زن تھا ،اسے اطالع ملی کہ ملکہ سبیال اسے ملنے آرہی ہے۔ سلطان ایوبی نے اسے آنے سے نہ روکا بلکہ آگے
بڑھ کر اس کا استقبال کیا۔
صالح الدین!''… ملکہ سبیال جو شکست کھا چکنے کے بعد بھی ملکہ ہی کہالنا پسند کرتی تھی ،کیونکہ اپنے خاوند کے ''
قتل کے بعد وہ تریپولی کی حکمران تھی ،بولی… ''کیا آپ کو معلوم ہے کہ کتنے ہزار یا کتنے الکھ عیسائی گھروں سے بے
گھر ہوگئے ہیں؟ ان پر ظلم آپ کے حکم سے ہوا ہے''۔
اور جن بے گناہ مسلمانوں کا آپ نے قتل عام کرایا اور کرایا جارہا ہے ،وہ کس کے حکم سے کرایا جارہا ہے؟''… سلطان''
ایوبی نے اس کا جواب سنے بغیر کہا… ''اگر میں خون کا بدلہ خون سے لوں تو ایک بھی عیسائی زندہ نہ رہے… آپ کیوں
''آئی ہیں؟… یہی شکایت مجھ تک پہنچانے؟
نہیں''۔ ملکہ سبیال نے جواب دیا… ''میں ایک درخواست لے کر آئی ہوں… گائی آف لوزینان آپ کے پاس جنگی قیدی ''
ہے ،میں اسے رہا کرانے آئی ہوں''۔
میں آپ سے یہ نہیں پوچھوں گا کہ آپ اسے کیوں رہا کرانا چاہتی ہیں''… سلطان ایوبی نے کہا… ''میں یہ ضرور ''
''پوچھوں گا کہ کس شرط پر میں اسے رہا کروں؟
اگر آپ کا بیٹا یا بھائی قید ہوجائے تو کیا آپ اسے رہا کرانے کی کوشش نہیں کریں گے؟''… ملکہ سبیال نے پوچھا۔''
میرے وہ کمان دار ،عہدے دار اور سپاہی جو آپ کے جنگی قیدی ہیں ،وہ سب میرے بیٹے اور میرے بھائی ہیں''… سلطان''
ایوبی نے کہا… '' اگر میں خود قید ہوگیا تو میں بھی آپ سے رہائی کی بھیک نہیں مانگوں گا۔ میرا کوئی بیٹا اور میرا کوئی
بھائی میری رہائی کے لیے آپ کے پاس نہیں جائے گا''۔
صالح الدین!'' ملکہ سبیال نے کہا… ''آپ خود بادشاہ ہیں۔ کیا آپ محسوس نہیں کرتے کہ ایک بادشاہ کا قید میں پڑے''
رہنا ،اس کی کتنی توہین ہے۔ وہ یروشلم اور گردونواح کے دور دور کے عالقے کا حکمران تھا''۔
یروشلم نہیں بیت المقدس''… سلطان صالح الدین ایوبی نے کہا… ''گائی اس خطے کا غاصب تھا ،کسی غاصب کو ہم ''
بادشاہ نہیں کہا کرتے۔ اگر آپ یہ کہتیں کہ وہ اسالم کا خاتمہ کرکے یہاں صلیب کی حکمرانی قائم کرنے آیا تھا تو میں آپ
کی بھی اور اس کی بھی قدر کرتا۔ میں ہر اس انسان کی قدر دل وجان سے کرتا ہوں جو اپنے مذہب اور عقیدے کا قدر دان
ہوتا ہے۔ اس کا مذہب چاہے بے بنیاد اور جھوٹے عقیدوں کا ہی مجموعہ کیوں نہ ہو۔ میں نہ اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتا
ہوں ،نہ کسی کی بادشاہی کو تسلیم کرتا ہوں۔ بادشاہی صرف اللہ کی ذات کی ہے اور ہم اس کی بادشاہی کے محافظ ہیں۔
ہم اللہ کے سپاہی ہیں''۔
ہم بھی خدا کی حکمرانی کے لیے کوشاں ہیں''… ملکہ سبیال نے کہا۔''
اگر آپ اس خدا کی قائل ہوتیں جس کا میں قائل ہوں تو آپ ایک بادشاہ کی رہائی کے بجائے یہ درخواست لے کرآتیں ''
کہ اس بادشاہ کے سپاہیوں کو رہا کردو''۔ سلطان نے کہا… ''آپ کو اس سے انکار نہیں ہونا چاہیے کہ یہ خطہ ہمارا ہے،
آپ کا نہیں۔ یہاں صلیبی امن پسند باشندوں کی طرح رہ سکتے ہیں ،بادشاہ بن کر نہیں۔ اپنے صلیبی دوستوں کو بتا دیں کہ
انسانوں کی قتل وغارت سے باز آجائو اور یہاں سے نکل جائو۔ آپ کا ہر حربہ ناکام ہوچکا ہے۔ آپ نے اپنی معصوم بیٹیوں
کو گناہوں کی تربیت دی اور ان کی عصمتیں دائو پر لگائیں۔ آپ نے ہمارے مذہبی پیشوائوں کے بہروپ میں اپنے تخریب کار
بھیج کر میری قوم کے عقیدوں کو مجروح کرنے کی کوشش کی۔ آپ نے زروجواہرات ،شراب اور دلکش لڑکیوں کے ذریعے میری
قوم میں غداری کا بیج بویا اور خانہ جنگی کرائی۔ آپ نے حشیشین سے مجھے قتل کرانے کی کئی بار کوشش کی۔ آپ نے
مسلمانوں میں خانہ جنگی کرائی اور ہماری جنگی طاقت کو تباہ کردیا… ہاں ملکہ صلیب میں اعتراف کرتا ہوں کہ آپ اس
…''میں کامیاب ہوئیں کہ اسالمی سلطنت کو ٹکڑوں میں کاٹ دیا اور مسلمان نے مسلمان کا خون بہایا
میں جانتا ہوں کہ آپ اس کے بعد میرے پاس نہیں آئیں گی''… سلطان ایوبی نے کہا… ''میں آپ کو یہ بھی بتا دینا ''
چاہتا ہوں کہ آپ میرے اس خیمے سے ہی ہمیشہ کے لیے نہیں چلی جائیں گی بلکہ آپ اس خطے سے جارہی ہیں ،پھر آپ
کبھی ادھر کا رخ نہیں کریں گی۔ آپ جب ادھر کا کبھی رخ کریں گی تو بحیرٔہ روم کا پانی آپ کے جہازوں کے لیے ابلتا
ہوا سمندر بن جائے گا۔ میں آپ کو کسی بحث میں الجھانا نہیں چاہتا ،آپ کو ایک پیغام دے رہا ہوں اور آپ سے یہ د
…''رخواست کرتا ہوں کہ یہ پیغام اپنی صلیب کے تمام پجاریوں تک پہنچا دینا
کہاں ہے آپ کی صلیب الصلبوت جس پر آپ سب حلف اٹھا کر آئے تھے کہ سرزمین عرب کو تہہ تیغ کریں گے۔ مسجد ''
اقصی اور خانہ کعبہ کو مسمار کرکے اپنی عبادت گاہیں بنائیں گے؟… وہ صلیب میرے قبضے میں ہے اور آپ کے عزائم میرے
ٰ
رحم وکرم پر ہیں۔ آپ جسے یروشلم کہتے ہیں ،وہ پھر بیت المقدس ہے اور ہمیشہ بیت المقدس رہے گا''۔
آپ کی فوج بہتر اور زیادہ ہے''… ملکہ سبیال نے کہا… … ''ہماری فوج کی قیادت ناقص ہے''۔''
حقیقت سے چشم پوشی نہ کرو ملکہ!''… سلطان''
ا یوبی نے کہا… ''اپنے آپ کو دھوکہ نہ دو۔ خود فریبی شکست کی عالمت ہوتی ہے۔ میری فوج کبھی بھی صلیب کی
فوج سے زیادہ نہیں ہوئی۔ کبھی بہتر بھی نہیں ہوئی۔ میری فوج کو کبھی زرہ نصیب نہیں ہوئی۔ میرے ساالروں کو ایسی
حسین لڑکیاں کبھی نہیں ملیں جو آپ کے ساالروں کے خیموں میں رہتی ہیں۔ میری فوج کا اسلحہ آپ سے بہتر نہیں۔ البتہ
راز کی ایک بات آپ کو بتا دیتا ہوں۔ میری فوج کے پاس صرف ایک قوت ہے جس سے آپ کی فوج محروم ہے۔ اسے ہم
ایمان اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہتے ہیں۔ اگر آپ کا عقیدہ سچا ہوتا تو آپ کی قوم خدا کو عزیز ہوتی مگر
اس خدا کو جو وحدہ الشریک ہے ،آپ نے ایک بیٹے کا باپ بنا رکھا ہے۔ آپ خدا کو انسان کی سطح پر لے آئے ہیں اور
اس کی حکومت کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنے آپ کو بادشاہ کہتے اور کہالتے ہیں''۔
کیا آپ مجھے اسالم قبول کرنے کی دعوت دے رہے ہیں؟''۔ ملکہ سبیال نے کہا۔''
ملکہ سبیال!''… سلطان ایوبی نے اس کے لہجے میں طنز کی جھلک دیکھتے ہوئے کہا… ''میرے خدا نے قرآن کی ''
معرفت مجھے بتایا ہے کہ ہم نے انہیں دماغ دیئے ہیں لیکن وہ سوچتے نہیں ،ہم نے انہیں آنکھیں دی ہیں لیکن وہ دیکھتے
نہیں ،ہم نے انہیں کان دئیے ہیں لیکن وہ سنتے نہیں… اور خدائے ذوالجالل نے فرمایا ہے کہ ہم ان لوگوں کو جب سزا دینے
پر آتے ہیں تو ان کے دلوں اور دماغوں پر مہر ثبت کردیتے ہیں… آپ اسالم قبول نہ کریں۔ میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ
فتح اسے ملتی ہے جس کے دل میں ایمان ہوتا ہے۔ میری قوم کے قائدین کے دلوں سے جب آپ نے دولت ،عورت اور
شراب کے ذریعے ایمان نکال دیا تھا تو ہم آپس میں لڑتے اور ایک دوسرے کا خون بہاتے رہے۔ خدا نے ہمیں سزا دی۔ ساری
قوم گناہ گار نہیں ہوا کرتی ،قائدین گناہ گار ہوتے ہیں مگر سزا پوری قوم کو ملتی ہے۔ قوم گناہ گار نہیں ہوتی ،اسے گمراہ
…''کیا جاتا ہے
میری اصل قوت یہ ہے کہ میں نے شکست کھائی تو اس کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ میں نے اپنے ساالروں سے بھی ''
یہی کہا کہ غلطی ہے تو ہم سب کی۔ بدقسمتی ہے تو ہم سب کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں شکست ہوئی ہے اور اب
قومی وقار کا تقاضا یہ ہے کہ شکست کو فتح میں بدلو۔ اگر شکست کی ذمہ داری ایک دوسرے پر پھینکتے اور اپنے آپ کو
بے گناہ ثابت کرتے رہو گے تو ایک اور شکست سے دوچار ہوگے اور سلطنت اسالمیہ جو آج دو دھڑوں میں بٹ گئی ہے ،کل
کئی ٹکڑوں میں بٹے گی اور کفار ایک ایک ٹکڑے کو نگل لیں گے… محترمہ! ہماری خانہ جنگی کا ذمہ دار الملک الصالح تھا
یا سیف الدین غازی ،آپ تھے یا گمشتگین مگر میں نے اپنے ساالروں سے کہا کہ یہ بھی میری ذمہ داری ہے۔ میں نے ہر
حربہ استعمال کیا اور اللہ کے سپاہیوں نے اپنے خون سے سلطنت کے ٹکڑے جوڑ دئیے۔ خون سے جوڑے ہوئے ٹکڑے پھر
کبھی الگ نہیں ہوتے ملکہ سبیال!… آج دیکھ لیں ،وہ وقت یاد کریں جب آپ کی فوجیں مدینہ منورہ تک جا پہنچی تھیں
مگر آپ میرے پاس اپنے ایک بادشاہ کی رہائی کی بھیک مانگ رہی ہیں۔ یہ کس عمل کا نتیجہ ہے؟… صرف اس عمل کا
کہ اللہ کی ذات نے مجھ پر جو فرض عائد کیا تھا ،وہ میں نے جان کی بازی لگا کر ادا کیا اور اللہ نے مجھے انعام سے
نوازا''۔
ملکہ سبیال سلطان ایوبی کی باتیں انہماک سے سن رہی تھی لیکن اس کے ہونٹوں پر جن میں جوانی ،کشش اور حسن ابھی
قائم تھا ،طنزیہ سی مسکراہٹ تھی۔
میں آپ کو اسالم قبول کرنے کی دعوت نہیں دے رہا''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''آپ کی مسکراہٹ بتا رہی ہے کہ ''
میرے خیمے سے نکل کر آپ میری باتوں کو ذہن سے اس طرح پھینک دیں گی جس طرح آپ کی فوج نے حطین اور بیت
المقدس میں ہتھیار پھینکے تھے ،میں آپ کو یہ باتیں صرف اس لیے سنا رہا ہوں کہ یہ میرے خدا اور میرے رسول صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کا حکم ہے کہ جن کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے ،ان کی پٹی کھول دو اور انہیں دکھائو کہ حق کیا اور
باطل کیا ہے… غور کرو ملکہ محترمہ! آپ کے خاوند نے حسن بن صباح کے فدائیوں سے مجھے قتل کرانے کے لیے چار
قاتالنہ حملے کرائے۔ ایک بار میں گہری نیند سویا ہوا تھا ،جب انہوں نے مجھ پر حملہ کیا لیکن ہوا کیا؟ وہ خود قتل
ہوگئے۔ ایک بار میں ا کیال ان کے گھیر ے میں آگیا تھا لیکن میں بچ گیا اور وہ مارے گئے… اور اب آپ اس حقیقت سے
کس طرح انکار کرسکتی ہیں کہ آپ کا خاوند جو مجھے فدائیوں سے قتل کرانے کی کوشش کرتا رہا ،انہی کے ہاتھوں خود قتل
…''ہوا۔ اسے کوئی نہ بچا سکا
غور سے سنو ملکہ! حطین کے میدان سے آپ کا خاوند لڑے بغیر بھاگ گیا۔ آپ نے لڑے بغیر طبریہ کا قلعہ میرے حوالے''
کردیا۔ آپ سب نے جس صلیب الصلبوت پر لڑنے اور لڑتے ہوئے مرنے کی قسم کھائی تھی۔ وہ اسی میدان جنگ میں آپ کے
اسی پادری کے خون میں ڈوب گئی جسے آپ اس صلیب کامحافظ اعظم کہتے تھے۔ یہ صلیب اب میرے قبضے میں ہے اور
آپ میرے پاس التجا لے کر آئی ہیں کہ گائی کو رہا کردوں''۔
آپ مجھے یہ باتیں کیوں یاد دال رہے ہیں؟'' ملکہ سبیال نے جھنجھال کر کہا۔''
اس لیے کہ آپ خدا کے ان واضح اشاروں کو سمجھیں''۔ سلطان ایوبی نے جواب دیا۔ ''آپ کی آنکھوں پر شہنشاہیت ''
کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔ آپ کو شہنشاہیت پر بھروسہ ہے اور آپ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کریں گی کہ آپ کو اس
پر بھی ناز ہے کہ آپ عورت ہیں اور حسین عورت ہیں۔ میں یہ کہہ کر آپ کو خوش کرسکتا ہوں کہ آپ واقعی حسین ہیں
مگر یہ کہہ کر آپ کو مایوس کروں گا کہ میں کوئی فیصلہ آپ کے حسن سے متاثر ہوکر نہیں کروں گا۔ آپ کا یہ نیم عریاں
ِ
صراط مستقیم سے ہٹا نہیں سکتا''۔
جسم مجھے
ملکہ سبیال ایک عام عورت کی طرح ہنس پڑی اور بولی… ''مجھے بتایا گیا تھا کہ آپ پتھر ہیں''۔
سلطان ا یوبی نے مسکرا کر کہا… ''آپ کے لیے میں یقینا پتھر ہوں مگر میں ایسا موم ہوں جو ایمان کی حرارت سے پگھل
جاتا ہے اور اسے رحم کا جذبہ بھی پگھال دیتا ہے۔ جسمانی لذت اور آسائش انسان کو نہ اپنے کام کا رہنے دیتی ہے ،نہ قوم
کے کام کا اور اسے خدا بھی دھتکار دیتا ہے''۔
میں آپ کے دل میں رحم کا جذبہ ہی بیدار کرنے آئی ہوں''… ملکہ سبیال نے کہا… ''گائی کو رہا کردیں ،میں نے سنا ''
ہے کہ سچے مسلمان کے گھر اس کا دشمن چال جائے تو وہ اسے بھی بخش دیتا ہے''۔
اس کے بعد ملکہ سبیال منت سماجت پر آگئی۔ سلطان ایوبی نے اسے کہا کہ وہ گائی کو اس شرط پر چھوڑ دے گا کہ وہ
تحریری عہد کرے کہ میرے خالف ہتھیار نہیں اٹھائے گا۔ ملکہ سبیال نے کہا کہ تحریری عہد نامہ دیا جائے گا اور یہ بھی
تحریر کردیا جائے گا کہ گائی اس عہد سے پھر جائے اور پھر کبھی گرفتار ہوجائے تو اسے قتل کردیا جائے۔ آخر یہی طے
ہوا۔ ملکہ سبیال چلی گئی۔ سلطان ایوبی نے اسی روز گائی آف لوزنیان کی رہائی کا حکم نامہ قاصد کو دے کر دمشق روانہ
کردیا۔ تین چار دنوں بعد گائی کو سلطان ایوبی کے پاس الیا گیا۔ سلطان ایوبی نے اپنے ترجمان سے جس کی معرفت وہ
صلیبیوں کے ساتھ بات چیت کیا کرتا اور ان کی سمجھا کرتا تھا ،کہا کہ اسے اس عہد نامے کا ترجمہ اس کی زبان میں سنا
دو اور اگر یہ چاہے کہ اس کا ترجمہ اس کی زبان میں بھی تحریر کیا جائے تو کردو اور اس پر اس کے دستخط کرالو۔
اور اسے یہ بھی کہہ دو کہ میں اس کے ساتھ کوئی بات نہیں کرنا چاہتا''۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''اسے کہہ دو کہ ''
میں جانتا ہوں کہ یہ عہدنامے کی خالف ورزی کرے گا اور میرے خالف لڑے گا۔ اسے کہہ دو کہ میں نے ملکہ سبیال سے
متاثر ہوکر اسے رہا نہیں کیا۔ میں اسے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں اس جیسے گناہ گار آدمی کو بھی بخش سکتا ہوں میں اللہ
کی راہ میں لڑ رہا ہوں ،کسی سے میں ذاتی انتقام نہیں لینا چاہتا… اور یہ جہاں جانا چاہتا ہے ،وہاں تک اسے محافظوں کی
حفاظت میں پہنچا دو''۔
گائی آف لوزینان جو بیت المقدس کا حکمران تھا اور جنگ حطین میں جنگی قیدی ہوا تھا ،عہدنامے پر دستخط کرکے سلطان
ایوبی کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ سلطان نے ہاتھ بڑھایا۔ گائی نے پرجوش طریقے سے ہاتھ مالیا اور کہا… ''ایوبی! تم عظیم
ہو''… اور خیمے سے نکل گیا۔
گائی کی رہائی کو یورپی مؤرخوں نے کھل کر بیان کیا ہے اور اسے ملکہ سبیال کا کارنامہ لکھا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے
جیسے سلطان صالح الدین ایوبی نے ملکہ سبیال سے متاثر ہوکر اور گائی کو اپنے جیسا بادشاہ سمجھ کر رہا کیا تھا اور جیسے
اسے عام اور غریب لوگوں کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں تھی۔ قاضی بہائوالدین شداد نے جو صلیبی جنگوں میں سلطان ایوبی
کے ساتھ تھا اور اس کی وفات تک اس کے ساتھ رہا ،اپنی یادداشتوں میں ایک غریب عیسائی عورت کا واقعہ تحریر کیا ہے۔
یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب گائی آف لوزینان کی رہائی کے بعد صلیبیوں نے ساحلی شہر عکرہ کا محاصرہ کررکھا تھا۔ (اس
محاصرے کا تفصیلی ذکر آگے آئے گا) صلیبی فوج کے کیمپ کے ساتھ ہی ان عیسائی شہریوں کا کیمپ تھا جو دوسری جگہوں
اور بیت المقدس سے نکل کر یہاں جمع ہوگئے تھے۔ محاصرہ دو سال طویل ہوگیا تھا۔ سلطان ایوبی کے ایک تو چھاپہ مار
تھے جو محاصرہ کرنے والی صلیبی فوج کے کسی نہ کسی حصے پر شب خون مارتے رہتے تھے ،دوسرے کچھ غیرفوجی
مسلمان تھے جو انہی عالقوں کے رہنے والے تھے۔ انہیں اجازت دی گئی تھی کہ صلیبی فوج کو پریشان کرتے رہیں ،چونکہ
عیسائی شہری اپنی فوج کے ساتھ تھے ،اس لیے وہ فوج کی بہت مدد کرتے تھے۔
مسلمان غیرفوجی گروہ ان عیسائی شہریوں کو بھی پریشان کرتے رہتے تھے۔ رات کو ان کے کیمپ میں گھس جاتے اور ان کا
سامان اٹھا التے تھے۔ کبھی کبھی وہ ایک دو عیسائیوں کو بھی اٹھا التے اور انہیں جنگی قید میں دے دیتے۔ عیسائی شہری
اپنی فوج سے شکایت کرتے رہتے تھے کہ ''مسلمان چور اور ڈاکو'' رات کو آکر ان کا سامان چوری کرلیتے ہیں۔ فوج نے
پہرے کا انتظام کردیا۔ اس کے باوجود ''چوری چکاری'' اور اغوا کا سلسلہ جاری رہا۔
ایک رات ایک آدمی عیسائیوں کے کیمپ سے تین ماہ عمر ایک بچی اٹھا الیا۔ ماں کی یہ ایک ہی بچی تھی اور وہ بھی
دودھ پیتی بچی۔ اس نے واویال بپا کردیا۔ وہ صلیبی کمانڈروں کے پاس گئی۔ وہ پاگل ہوئی جارہی تھی۔ کسی کے ہاتھ نہیں
اعلی کمانڈر تک وہ جاپہنچی۔ اس نے اس عورت کو اجازت دے دی کہ سلطان صالح الدین ایوبی کا
آتی تھی۔ صلیبیوں کے
ٰ
کیمپ قریب ہی ہے ،اس کے پاس چلی جائو۔ سب کو یقین تھا کہ بچی کو مسلمان اٹھا لے گئے ہیں۔
مامتا کی ماری ہوئی ماں پوچھتی بھٹکتی سلطان ایوبی کے کیمپ میں آن پہنچی۔ قاضی بہائوالدین شداد لکھتا ہے کہ اس وقت
وہ سلطان ایوبی کے پاس کھڑا تھا اور سلطان کہیں جانے کے لیے گھوڑے پر سوار ہوچکا تھا۔ کسی نے اسے بتایا کہ ایک
غریب سی عیسائی عورت روتی آئی ہے اور سلطان سے ملنا چاہتی ہے۔ سلطان ایوبی نے کہا کہ اسے فورا ً لے آئو ،اس پر
یقینا ہماری طرف سے زیادتی ہوئی ہوگی۔
عورت جب سلطان ایوبی کے سامنے آئی تو وہ گھوڑے کے قریب زمین پر پیٹ کے بل لیٹ گئی۔ وہ بار بار ماتھا زمین پر
رگڑتی اور روتی تھی۔ سلطان ایوبی نے اسے کہا کہ اٹھو اور بتائو کہ تم پر کس نے زیادتی کی ہے؟
مجھے اپنے فوجی کمانڈروں نے کہا ہے کہ صالح الدین ایوبی کے پاس چلی جائو۔ وہ بہت رحم دل ہے اور فریاد سنے ''
گا''… عورت نے کہا… ''آپ کے آدمی میری دودھ پیتی بچی اٹھا الئے ہیں''۔
قاضی بہائوالدین شداد لکھتا ہے کہ عورت جس انداز سے روتی تھی اور جو فریادیں کرتی تھی ،اس سے سلطان ایوبی کی
آنکھوں میں آنسو آگئے۔ بچی کو اغوا ہوئے چھ سات دن گزر چکے تھے۔ سلطان ایوبی گھوڑے سے اتر آیا۔ اس نے حکم دیا
کہ ابھی معلوم کرو کہ بچی کون الیا ہے۔ اس نے عورت کو کھانا کھالنے کو کہا اور جہاں کہیں وہ جارہا تھا ،وہاں نہ گیا۔ وہ
مسلمان شہری جو عیسائی کیمپ میں سامان وغیرہ اٹھانے جاتے تھے ،فوج کے ساتھ رہتے تھے۔ ان میں جو آدمی بچی اٹھا
الیا تھا ،وہ وہاں موجود تھا۔ وہ سلطان ایوبی کے پاس آگیا۔ اس نے بتایا کہ بچی اسی نے اغوا کی تھی اور اسے وہ فروخت
کرآیا ہے۔ سلطان ایوبی نے حکم دیا کہ اس آدمی کے ساتھ اس شخص کے پاس جائو جس نے اس سے بچی خریدی ہے اور
اس نے جو قیمت دی تھی ،وہ اسے دے کر بچی لے آئو۔
سلطان ایوبی بچی کی واپسی تک اپنے خیمے میں موجود رہا۔ بچی دور نہیں گئی تھی۔ جلدی مل گئی۔ اس کی قیمت واپس
کردی گئی۔ سلطان ایوبی نے اپنے ہاتھوں بچی ماں کے ہاتھوں میں دی۔ ماں نے بچی کو فورا ً اپنی چھاتیوں کے ساتھ لگا لیا
اور ایسی بے تابی سے پیار کیا کہ ( شداد کے الفاظ میں) ہم سب پر رقت طاری ہوگئی۔ سلطان ایوبی نے اسے ایک گھوڑی
پر رخصت کیا۔
بیت المقدس پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا اور ارض فلسطین میں صلیبیوں کو ہر مقام پر شکست ہوئی تو صلیبی دنیا میں
پھونچال آگیا۔ اس وقت تین بادشاہیاں جنگی لحاظ سے بہت طاقتور مانی جاتی تھیں۔ ایک تھی فرانس ،دوسری جرمنی اور
تیسری انگلستان۔ ان کے پوپ ( پاپائے روم اربانوس ثانی) نے خود ہر ایک کو پاس جاکر انہیں جنگ کے لیے تیار کیا۔ اس
:کی زبان پر ہر جگہ یہی الفاظ تھے
اگر تم صالح ا لدین ایوبی کے خالف نہ اٹھے تو سارے یورپ میں صلیب اٹھ جائے گی اور ہر جگہ تمہیں اسالمی جھنڈے ''
لہراتے نظر آئیں گے۔ یہ جنگ صالح الدین ایوبی کی ذاتی جنگ نہیں ،یہ عیسائیت اور اسالم کی جنگ ہے۔ صلیب اعظم
مسلمانوں کے قبضے میں ہے۔ یروشلم پر مسلمانوں کا جھنڈا لہرا رہا ہے۔ ہزار ہا عیسائی عورتیں مسلمانوں کے قبضے میں چلی
گئی ہیں۔ وہ مسلمان فوج میں تقسیم کی جارہی ہیں ،کیا تم گھر بیٹھے اسالم کے بڑھتے ہوئے طوفان کو روک سکو گے؟ تم
عیسی علیہ السالم کو مصلوب کیا گیا تھا ،مسلمانوں کے قبضے میں
کس طرح برداشت کررہے ہو کہ وہ صلیب جس پر حضرت
ٰ
چلی جائے؟
''
پوپ نے اس قسم کی جھوٹی سچی باتیں سنا کر بڑے بڑے صلیبی بادشاہوں کو مشتعل کردیا۔ جرمنی کا بادشاہ فریڈرک دو
الکھ فوج لے کر سب سے پہلے آگیا۔ یہ فوج اتنی زیادہ تھی کہ اس نے کسی صلیبی بادشاہ کو اپنا اتحادی نہ بنایا۔ اس نے
اپنا پالن بنا رکھا تھا۔ اس کے مطابق اس نے دمشق پر حملہ کیا۔ اس کی بدقسمتی یہ تھی کہ وہ سلطان ایوبی کے طریقہ
جنگ سے واقف نہیں تھا۔ وہ دو الکھ نفری کے لشکر کے بھروسے پر سرزمین عرب پر قبضہ کرنے آیا تھا۔ دمشق پر اس کے
حملے کو دوسری صلیبی جنگ کہتے ہیں ،جو فریڈرک نے اپنی کثیر افواج کے زعم میں لڑنے کی کوشش کی اور جس میں
دمشق کی وہ ایک اینٹ بھی نہ اکھاڑ سکا۔ مسلمان چھاپہ ماروں نے اس کی رسد پر ایسے دلیرانہ چھاپے مارے کہ اس کے
سینکڑوں گھوڑے اور گھوڑا گاڑیاں اپنے ساتھ لے آئے۔ رسد جو ان کے ہاتھ لگی ،وہ انہوں نے اپنی فوج کے حوالے کردی۔
فریڈرک بری طرح ناکام ہوا۔ اس کے پاس رسد کی کمی ہوگئی اور فوج کا جانی نقصان بھی بہت ہوا۔ اس نے پیچھے ہٹ کر
دمشق پر ازسرنو حملے کی تیاریاں شروع کردیں لیکن مسلمان چھاپہ ماروں نے اس کی فوج کو چین سے نہ بیٹھنے دیا۔ پانی
کے ذخیروں پر مسلمانوں نے قبضہ کرلیا تھا۔ اس کی تاریخ ٢٠جنوری ١١٩١ء (٢٢ذی الحج ٥٧٦ہجری) لکھی گئی ہے۔ اس کے
ماتم میں جرمنوں نے اپنے کیمپ میں جگہ جگہ لکڑیاں جمع کرکے اس طرح آگ لگائی جیسے ان کا کیمپ جل رہا ہو۔ ادھر
مسلمان سپاہیوں نے وہ رات خوشی سے دف اور نقارے بجاتے اور ناچتے گاتے گزار دی۔
جرمن فوج کی کمان اس کے بیٹے نے سنبھال لی۔ اسے معلوم تھا کہ شاہ فرانس فلپس آگسٹس اور شہنشاہ انگلستان رچرڈ
بھی آرہے ہیں۔ وہ بحری جہاز سے آرہے تھے ،فریڈرک کے بیٹے نے فلسطین کے ساحی شہر عکرہ کی طرف کوچ کا حکم دے
دیا۔ سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں کو ہدایات دے رکھی تھیں ،ان کے مطابق اس کی فوج پر جوابی حملہ نہ کیا بلکہ اسے
جانے دیا۔ ان ساالروں کو معلوم تھا کہ راستے میں اپنے چھاپہ مار جیش موجود ہیں۔ ان چھاپہ ماروں کا انداز یہ تھا کہ
دشمن کی فوج کے آخری حصے پر شب خون مارتے اور غائب ہوجاتے۔ یہ زیادہ نفری کے جیش تھے۔ رات کو جرمن پڑائو
کرتے تو چھاپہ مار آتش گیر سیال کی ہانڈیاں چھوٹی منجنیقوں سے جرمنوں کے کیمپ پر پھینکتے اور ان کے پیچھے جلتے
ہوئے فلیتوں والے تیر چالتے جن سے کیمپ میں آگ لگ جاتی۔
جرمن فوج جب عکرہ پہنچی تو اس کی نفری صرف بیس ہزار رہ گئی تھی۔ یہ فوج جب ارض مقدس میں داخل ہوئی تھی
تو اس کی نفری دو الکھ تھی۔ اس میں سے کچھ دمشق پر حملے کے دوران تباہ ہوئی ،کچھ بیماری ،بھوک اور پیاس کی نذر
ہوگئی ،کچھ دمشق سے عکرہ تک کوچ کے دوران چھاپہ ماروں کا شکار ہوگئی اور ان سپاہیوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں
تھی جو فوج سے بھگوڑے ہوگئے تھے ،جو بیس ہزار نفری رہ گئی تھی وہ بری طرح بد دل ہوچکی تھی۔ اس کے دل سے
صلیب کا احترام اور اپنا حلف صاف ہوچکا تھا۔
ادھر سے شاہ فرانس اور شہنشاہ انگلستان سمندر کے راستے چلے آرہے تھے۔ سلطان ایوبی کو جاسوسوں نے قبل از وقت بتا
دیا تھا کہ انگلستان کی فوج جو اس وقت قبرص میں پہنچ چکی تھی ،کیسی ہے اور اس کی نفری کتنی ہے۔ اس کی نفری
ساٹھ ہزار تھی۔ فرانس کی فوج کی نفری بھی تقریبا ً اتنی ہی تھی۔ بیس ہزار جرمن فوج تھی۔ صلیبیوں کی کچھ فوج پہلے
سے ارض مقدس میں موجود تھی۔
سلطان ایوبی کو جاسوسوں نے یہ اطالع بھی دی کہ گائی آف لوزینان جو یہ عہدنامہ کرکے سلطان ایوبی کی جنگی قید سے
رہا ہوا تھا کہ آئندہ مسلمانوں کے خالف ہتھیار نہیں اٹھائے گا ،کائونٹ کونراڈ کے ساتھ مل کر الگ فوج جمع کرچکا ہے جس
میں سات سو نائٹ ( زرپوش سردار) ہیں ،نو ہزار فرنگی فوج اور بارہ ولندیزی اور دیگر یورپی افسر اور سپاہی ہیں۔ اس طرح
صرف اس فوج کی نفری تقریبا ً بائیس ہزار ہوگئی تھی۔ ایک اندازے کے مطابق صلیبی فوج کی مجموعی نفری چھ الکھ تھی جو
اسلحہ اور دیگر جنگی سازوسامان کے لحاظ سے اسالمی فوج سے برتر تھی۔
سلطان ایوبی کے ساتھ دس ہزار مملوک تھے ،یہ اس کی منتخب فوج تھی جس پر اسے پورا پورا بھروسہ تھا۔ عکرہ نہایت
اہم مقام تھا۔ یہ بندرگاہ بھی تھی جسے قدرت نے ایسا بنایا تھا کہ بحریہ کا بہت بڑا اور محفوظ اڈہ بن سکتی تھی۔ عکرہ
شہر میں سلطان ایوبی کی فوج کی نفری دس ہزار تھی۔ سلطان ایوبی بیت المقدس سے کمک نہیں لے سکتا تھا کیونکہ یہی
وہ شہر تھا جس کی خاطر صلیبیوں نے اتنا زیادہ لشکر اکٹھا کیا تھا۔ اس شہر کے د فاع کو کمزور نہیں کیا جاسکتا تھا۔
دوسرے شہروں اور قلعوں سے بھی فوج کو نہیں نکاال جاسکتا تھا۔ انگلستان کا بحری بیڑہ بہت طاقتور اور خوفناک تھا۔ سلطان
ایوبی کو اچھی طرح احساس تھا کہ اس کا مصری بحری بیڑہ انگلستان کے بیڑے کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
سلطان ایوبی کے لیے یہ اتنا بڑا اور زیادہ خطرناک چیلنج تھا جو اسے قبول کرنا تھا مگر اس کا مقابلہ مخدوش نظر آرہا :
تھا۔ اسے ایک خطرہ اور بھی نظر آرہا تھا جو یہ تھا کہ اس کی فوج چار سال سے لڑ رہی تھی۔ اس کے چھاپہ مار اتنی
لمبی مدت سے جنگلوں اور پہاڑوں میں لڑ اور مر رہے تھے اور وہ وہیں زندگی بسر کررہے تھے۔ جنگ کے جسمانی پہلو کو
دیکھا جائے تو یہ فوج لڑنے کے قابل نہیں رہی تھی۔ مذہب کی لگن کے جذبے کے زور پر وہ اس قلیل اور تھکی ہوئی فوج
کو چھ الکھ تازہ دم صلیبی فوج کے خالف کس طرح لڑا سکتا تھا۔
قاضی بہائوالدین شداد جو اس کی مجلس مشاورت کا رکن اور اس کا مشیر خاص اور ہم راز بھی تھا ،لکھتا ہے کہ سلطان
ایوبی کی حالت یہ ہوگئی تھی کہ راتوں کو سوتا بھی نہیں تھا۔ ہر وقت گہری سوچ میں غرق رہتا اور ذہن میں جنگ کے
نقشے بناتا رہتا تھا۔ اس کی صحت گر رہی تھی اور ایک بار وہ بیمار پڑ گیا۔ چوتھے روز اٹھ بیٹھا لیکن اس کی صحت میں
پہلی والی جان نہیں رہی تھی۔ اس کی عمر ٥٤برس ہوگئی تھی۔ وہ نوجوانی میں میدان جنگ میں اترا تھا اور ابھی تک
جنگلوں ،پہاڑوں اور صحرائوں میں لڑ رہا تھا۔ اس نے بیت المقدس کی فتح کی قسم کھائی تھی جو اس نے پوری کردی تھی۔
اس کے بعد اس نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ وہ اپنے جیتے جی بیت المقدس سے اسالمی پرچم نہیں اترنے دے گا۔ یہ تھا
وہ عہد جس نے اسے نیند اور آرام سے محروم کردیا تھا۔
٭ ٭ ٭
امریکی تاریخ دان اور محقق اینتھونی ویسٹ نے ہیر لڈلیم ،لین پول ،گبن اور ارنول جیسے مشہورومعروف مؤرخوں کے حوالے سے
تعالی کے حضور گڑگڑا کر دعا کرتا رہا کہ خدا اسے اس
اقصی میں جا بیٹھا اور سارا دن خدا
لکھا ہے۔ ''سلطان ایوبی مسجد
ٰ
ٰ
نازک موقعہ پر اسالمی فوج کی صحیح عسکری قیادت کی توفیق عطا فرمائے۔ ایک شخص کے بیان کے مطابق جس نے اسے
مسجد میں پڑے دیکھا تھا ،اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ شام ہوئی تو وہ مسجد سے نکال۔ اس وقت اس کے
چہرے پر اطمینان اور سکون تھا''۔
اقصی میں جاکر سجدہ ریز ہوا اور اس نے رو رو کر خدائے ذوالجالل سے مدد اور رہبری
یہ صحیح ہے کہ سلطان ایوبی مسجد
ٰ
مانگی تھی لیکن اس وقت کے عینی شاہدوں اور واقعہ نگاروں نے لکھا ہے کہ وہ دن کے وقت نہیں بلکہ رات کے وقت
اقصی گیا تھا۔ اس نے ساری رات نوافل ،دعا اور ورد وظیفے میں گزاری اور صبح کی نماز پڑھ کر باہر آیا تھا۔
مسجد
ٰ
اس رات وہ مسجد میں اکیال نہیں تھا۔ مسجد کے صحن میں ایک کونے میں کوئی آدمی اپنے اوپر کمبل ڈالے بیٹھا تھا۔ وہ
کبھی ایک سجدے کرتا ،کبھی دو اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ہاتھ منہ پر پھیرتا اور پھر سجدے میں چال جاتا تھا۔ اسے نماز
پڑھنی نہیں آتی تھی یا وہ کوئی ایسا ورد یا وظیفہ کررہا تھا جس میں اسی طرح سجدے اور دعا کرنی تھی۔ یہ شخص اس
وقت مسجد کے کونے میں آبیٹھا تھا جس وقت عشاء کی نماز پڑھ کر آخری نمازی مسجد سے نکل گیا تھا۔ اس کا چہرہ
کمبل میں چھپا ہوا تھا۔
صبح جب مؤذن نے اذان دی تو وہ اٹھا اور اپنے آپ کو کمبل میں چھپا کر مسجد سے نکل گیا تھا۔ ایک آدمی جو مسجد
کے دروازے میں داخل ہورہا تھا ،اسے دیکھ کر رک گیا۔ کچھ دیر دیکھتا رہا پھر اس کے پیچھے چل پڑا۔ کمبل والے نے گھوم
کر دیکھا اور قدم تیز کرلیے۔ اس کے تعاقب میں جانے واال بھی تیز تیز چلنے لگا۔ آگے ایک اور آدمی کھڑا تھا۔ کمبل واال
اس کے پاس رکا اور کچھ کہہ کر آگے چال گیا۔ دوسرا آدمی وہیں کھڑا رہا۔ تعاقب میں جانے والے نے اس سے پوچھا کہ یہ
کون تھا۔
''اوہ! یہ تم ہو''۔ اس آدمی نے کہا۔ ''تم اس کا تعاقب کررہے ہو؟''
میں نے اس کے پائوں دیکھے ہیں''… تعاقب کرنے والے نے کہا… ''یہ مرد نہیں ،عورت ہے۔ تمہاری رشتہ دار ہے؟ تم ''
''اسے جانتے ہو؟
احتشام دوست!''… اس آدمی نے کہا… ''میں جانتا ہوں تم اپنا فرض ادا کررہے ہو۔ ہر کسی پر نظر رکھنا تمہارے فرائض''
میں شامل ہے اور میرا فرض ہے کہ میں تم سے کچھ بھی نہ چھپائوں ،لیکن ایک عورت کا مسجد میں جانا گناہ تو نہیں''۔
بالکل نہیں''… احتشام نے کہا… ''مجھے شک اس سے ہوا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو کمبل میں کیوں لپیٹ رکھا ہے؟''
… سنو العاص رات کو ہم تین آدمی مسجد کے اردگرد پہرے پر پھرتے رہے ہیں کیونکہ سلطان نے رات مسجد میں گزاری ہے۔
انہیں معلوم نہیں کہ ہم بہروپ میں ان کی حفاظت کے لیے پہرہ دیتے رہے ہیں۔ سلطان کسی کو بتائے بغیر مسجد میں آئے
تھے۔ انہیں معلوم نہیں کہ ان کے باوردی محافظوں کے عالوہ بھی کوئی ان کی حفاظت پر مامور ہے۔ یہ حسن بن عبداللہ کا
انتظام ہے۔ تم خود فوج کے کمان دار ہو اور مجھے اچھی طرح جانتے ہو ،اس لیے تمہیں یہ سب کچھ بتا رہا ہوں''۔
اقصی کے اتنی قریب کھڑے ہوکر مسلمان ''
ضرور بتائو احتشام!''… العاص نے جواب دیا… ''بیت المقدس میں اور مسجد
ٰ
''جھوٹ نہیں بول سکتا۔ میں تمہیں بتا دوں گا کہ یہ کون ہے۔ تم یہ بتائو کہ تم نے اس پر کیوں شک کیا ہے؟
میں نے رات اسے صحن کے کونے میں دیکھا''… احتشام نے جواب دیا… ''سلطان کی حفاظت کے لیے ضروری تھا کہ ''
اسے وہاں سے اٹھا دیا جاتا۔ عشاء کا وقت گزر گیا تھا۔ اس آدمی کو چلے جانا چاہیے تھا۔ اس وقت سلطان اندر منبر کے
سامنے عبادت اور وظیفے میں مصروف تھا۔ یہ آدمی جو کمبل میں لپٹا ہوا تھا۔ سلطان پر قاتالنہ حملہ کرسکتا تھا لیکن کسی
کو مسجد سے اٹھایا اور نکاال نہیں جاسکتا۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ یہ شخص عجیب طریقے سے عبادت کررہا تھا۔ سجدے
سے اٹھتا اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیتا۔ اس نے باقاعدہ نماز نہیں پڑھی۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو بتایا۔ میرے دونوں
ساتھیوں نے باری باری اندر آکر اس طرح اسے دیکھا کہ اسے پتہ نہ چلے کہ اسے کوئی دیکھ رہا ہے۔ میرے اس ساتھی نے
باہر آکر بتایا کہ اس پر نظر رکھو لیکن اسے اٹھانا نہیں ،کیونکہ میں نے اس کے بالکل پیچھے بیٹھ کر اس کی سسکیاں سنی
…''ہیں اور اس کے بعض الفاظ ایسے سنے ہیں جیسے یہ اپنے گناہوں کی بخشش اور صلیبیوں کی شکست کی دعا کررہا ہے
21:07
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
اقصی میں گرے
قسط نمبر 157آنسو جو مسج ِد
ٰ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
صلیبیوں کی شکست کی دعا کررہا ہے'' ''اس سے مجھے اور زیادہ شک ہوا۔ وہ اتنا بے خبر نہیں ہوسکتا تھا کہ اسے یہ
بھی پتہ نہ چل سکتا کہ اس کے پیچھے کوئی آکر بیٹھ گیا ہے۔ ہم کوئی فیصلہ نہ کرسکے کہ کیا کیا جائے۔ اس شش وپنج
میں رات گزر گئی۔ صبح کی اذان کے ساتھ ہی یہ آدمی مسجد سے نکال۔ ہم نے باری باری ساری رات اس پر نظر رکھی
تھی۔ میں نے مسجد کی روشنی میں
د یکھا کہ یہ جب باہر آرہا تھا تو کمبل میں سے اس کے پائوں نظر آرہے تھے اور میں نے اس کے ہاتھ بھی دیکھے جو اس
نے فورا ً کمبل میں چھپا لیے تھے۔ میں اس کے تعاقب میں چل پڑا''۔
ہاں میرے دوست!''… العاص نے کہا… ''تم نے ٹھیک دیکھا ہے۔ یہ مرد نہیں عورت ہے اور بڑی ہی خوبصورت اور جوان''
عورت ہے اور میں تمہیں یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ یہ ایک گناہ گار عورت ہے جو دس سال ہمارے خالف جاسوسی کرتی رہی
ہے''۔
''یہ صلیبی ہے؟''
صلیبی تھی''… العاص نے جواب دیا … ''اب مسلمان ہے۔ میں نے اسے ایک مسلمان گھر میں رکھا ہوا ہے۔ اسے تم ''
مجذوب کہہ سکتے ہو۔ درویشوں کی طرح باتیں کرتی ہے''۔
اور تم لوگ اس کی باتوں میں آگئے ہو''… احتشام نے کہا… ''تم میدان جنگ میں لڑنے والے فوجی ان عورتوں کی ''
چالبازیوں کو نہیں سمجھ سکتے''۔
تو میرے ساتھ آئو''… العاص نے کہا… ''تم اسے دیکھو ،اس کی باتیں سنو ،اپنا شک رفع کرو۔ ہمیں بھی کچھ بتائو۔ یہ ''
تمہارا فن ہے تم بہتر سمجھ سکتے ہوں۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں اس کی باتوں کا قائل ہوگیا ہوں۔ میں نے اسے پناہ
دلوائی ہے۔ میرے ساتھ آئو''۔
اور احتشام العاص کے ساتھ چال گیا۔
٭ ٭ ٭
وہ ایک بزرگ کا مکان تھا جو مدت سے بیت المقدس میں رہتا تھا۔ احتشام اور العاص اس کے ڈیوڑھی میں جا بیٹھے۔ یہ
بزرگ انسان جو عالم فاضل بھی تھا ،نماز کے لیے مسجد میں چال گیا تھا۔ احتشام نے العاص سے کہا کہ ''اس عورت کو
دیکھنے سے پہلے میں تم سے پوچھوں گا کہ یہ عورت کہاں سے آئی ہے۔ اس کے متعلق تم جو کچھ جانتے ہو ،مجھے بتا
دو''۔
یہ پچھلی گرمیوں کا واقعہ ہے''… العاص نے احتشام کو سنایا… ''میں مصر کی سرحد سے تھوڑی دور چھاپہ ماروں کے ''
ایک دستے میں تھا ،بیت المقدس فتح ہوچکا تھا۔ ہماری زندگی ٹیلوں ،ٹیکریوں اور صحرا میں گزر رہی تھی۔ اس عالقے میں
ہمارا وہ کام نہیں رہ گیا تھا جو ادھر کے چھاپہ مار ابھی تک کررہے ہیں۔ آخر ہمیں واپسی کا حکم مل گیا۔ مجھے ایک
جیش کی کمان دے دی گئی۔ میرے ساتھ سولہ چھاپہ مار تھے۔ ہر ایک جیش اپنے اپنے طور پر واپس آرہا تھا۔ ایک جگہ
ٹیلے ستونوں کی طرح کھڑے تھے اور بعض کی شکلیں بڑی ڈرائونی اور عجیب عجیب سی تھیں۔ میرے ایک چھاپہ مار نے
مذاق سے کہا کہ یہ جنات اور چڑیلوں کے محل ہیں ،یہاں خوبصورت اور بدکار عورتوں کی بدروحیں بھی ہوں گی۔ ہم یہ سن
…''کر ہنس پڑے اور ان ٹیلوں میں داخل ہوگئے
ہمیں ان ٹیلوں نے کیا ڈرانا تھا ،ہم نے تو ان ٹیلوں سے زیادہ خوفناک جگہوں میں راتیں گزاریں ہیں۔ ہم اس جگہ بھی ''
رات کو سوئے ہیں جہاں انسانی ہڈیوں کے ڈھانچے اور کھونپڑیاں بکھری ہوئی تھیں لیکن ان ٹیلوں کے اندر گئے تو ہم ٹھٹھک
کر رک گئے۔ میں نے زندگی میں پہلی بار محسوس کیا کہ خوف کیا ہوتا ہے۔ میرا سارا جیش رک کر کلمہ شریف کا ورد
کررہا تھا… سامنے ایک ٹیلے کے سائے میں ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی جو مادر زاد برہنہ تھی۔ اس کے سامنے ایک عورت
پیٹھ کے بل لیٹی ہوئی تھی۔ وہ بھی برہنہ تھی۔ بیٹھی ہوئی عورت جوان لگتی تھی ،اس کا چہرہ بادامی رنگ کا تھا ،ہونٹ
ریت کے ڈھیلے کی طرح خشک اور پھٹے پھٹے۔ اس کا منہ کھال ہوا تھا ،بال بکھرے ہوئے تھے ،برہنہ جسم کی ہڈیاں نظر
…''آرہی تھیں۔ اس حالت میں بھی پتہ چلتا تھا کہ وہ بہت خوبصورت ہے
یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ یہ دونوں انسان ہوتیں۔ یہ راستہ نہیں تھا کہ کوئی قافلہ یہاں سے گزرا ہوتا اور ڈاکوئوں نے ''
انہیں لوٹ لیا ہوتا اور یہ بچ بچا کر یہاں چھپ گئی ہوتیں۔ میں اپنے سپاہیوں کو ڈرانا نہیں چاہتا تھا مگر میں خود ڈر گیا
اور انہیں دیکھتے ہی مجھے یقین ہوگیا کہ یہ گناہ گار عورتوں کی بھٹکتی ہوئی روحیں ہیں۔ میں اس امید پر د ور ہی رکا رہا
کہ یہ غائب ہوجائیں گی مگر جو عورت بیٹھی ہوئی تھی ،بیٹھی رہی اور جو لیٹی ہوئی تھی ،وہ لیٹی رہی۔ بیٹھی ہوئی
عورت پھٹی پھٹی نظروں سے ہمیں دیکھتی رہی۔ میرے ایک ساتھی نے آہستہ سے کہا… ''پیچھے کو لوٹ چلو''… ایک اور
نے کہا… ''ہاں… پیچھے چلو لیکن ان کی طرف پیٹھ نہ کرنا''… ہمارا ان سے فاصلہ پندرہ قدم ہوگا ،ہم سب نہایت آہستہ
آہستہ ایک ایک قدم پیچھے ہٹے۔ تب بیٹھی ہوئی عورت نے سرکا اشارہ کیا جیسے ہمیں بال رہی ہو۔
میں نے ایک قدم اور پیچھے اٹھایا تو اس نے سر سے پھر اشارہ کیا۔ مجھے صاف نظر آیا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ
نکلے تھے۔ میں بتا نہیں سکتا کہ میں نے واقعی کوئی آواز سنی تھی یا میرے دل میں خیال آیا تھا۔ مجھے اپنے آپ میں
آواز سنائی دی… ''بھاگو مت العاص! دیکھ لو۔ یہ انسان ہی نہ ہوں''… اچانک میرا ہاتھ اپنی کمر پر پڑا اور اس ہاتھ سے
تلوار نیام سے نکال لی۔ میرے قدم اپنے آپ آگے کو اٹھنے لگے۔ مجھے اپنے ساتھیوں کی آوازیں سنائی دیں۔ وہ مجھے آگے
…''جانے سے روک رہے تھے۔ میری زبان پر آیتہ الکرسی کا ورد تھا
میں اس سے تین چار قدم دور رک گیا۔ وہ آہستہ آہستہ اٹھی۔ پھر اس نے میری طرف قدم اٹھایا۔ اس کا سر ڈولنے لگا۔ ''
اس نے دوسرا قدم ا ٹھایا۔ اس کی آنکھیں بند ہوگئیں اور وہ اس طرح گری کہ اس کا سر میرے پائوں کے قریب آکر اور اس
کے بال میرے پائوں پر بکھر گئے۔ میں برہنہ عورت کو ہاتھ لگانے سے گھبرا رہا تھا۔ وہ برہنہ نہ ہوتی توبھی میں گھبرایا ہوا
تھا لیکن مجھے دیکھنا تھا کہ یہ انسان ہے یا کوئی شرشرار۔ میں بیٹھ گیا اور اس کی نبض دیکھی۔ نبض چل رہی تھی۔
مجھے خیال آیا کہ جنات اور چڑویلوں کی نبض شاید نہیں ہوتی۔ میں نے اس سے ہٹ کر اس عورت کی نبض پر ہاتھ رکھا
جو لیٹی ہوئی تھی۔ اتنی جھلسا دینے والی گرمی کے باوجود اس عورت کا جسم غیرمعمولی طور پر سرد تھا جیسے رات کو
صحرا کی ریت سرد ہوجاتی ہے۔ اس کی نبضوں میں جان نہیں تھی۔ اس کا منہ کھال ہوا اور آنکھیں ایک جگہ ٹھہری ہوئی
…''تھیں۔ جسم سفید تھا ،میں نے اس میں موت کی تمام نشانیاں دیکھیں
اور وہ جو میرے سامنے گری تھی ،اس کا جسم گرم تھا۔ یہ بدروحیں یا جنات نہیں ہوسکتی تھیں۔ اللہ نے مجھے عقل اور''
دلیری عطا فرمائی۔ میں نے اپنے جیش کو بالیا۔ ہمارے پاس پانی کے چھوٹے مشکیزے تھے۔ کھانے کا سامان بھی تھا جو تین
ٹٹوئوں پر لدا ہوا تھا۔ میرا جیش پیادہ تھا۔ میں نے کہا کہ فورا ً پانی اور دوچاردریں الئو۔ میرے ساتھی پانی اور چادریں لے
آئے۔ سورج ابھی سر پر نہیں آیا تھا۔ وہاں عمودی ٹیلے کا سایہ تھا۔ میں نے بے ہوش عورت پر چادر ڈالی اور اسے سیدھا
کرکے ٹیلے کے دامن میں کردیا۔ اس کے جسم کو اچھی طرح لپیٹ دیا۔ دوسری چادر نیچے بچھا کر اس پر لٹا دیا اور اس
…''کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے ،اس کا منہ کھال ہوا تھا۔ اس میں پانی ٹپکایا جو اس کے حلق میں اترتا چال گیا
مجھے ساتھی روکتے رہے کہ اپنے آپ کو مصیبت میں نہ ڈالوں لیکن مجھ پر اب نہ ڈر کا اثر تھا ،نہ اپنے ساتھیوں کی ''
باتوں کا اثر۔ کچھ دیر بعد اس کی آنکھیں آہستہ آہستہ کھلیں۔ اس کے ہونٹ بند ہوئے اور پھر کھل گئے۔ میں نے اس کے
منہ میں اور پانی ٹپکایا ،پھر ایک کھجور کی گٹھلی نکال کر کھجور اس کے منہ میں رکھی ،وہ کھانے لگی۔ اس نے اٹھنے کی
کوشش کی تو میں نے اسے سہارا دے کر بٹھا دیا''۔
٭ ٭ ٭
العاص احتشام کو سنا رہا تھا… ''اسے میں نے کھانے کو دیا جو کچھ ہمارے پاس تھا۔ اس نے اور پانی پیا ،پھر ہم نے اسے
کھانے پینے سے روک دیا کیونکہ اس کا پیٹ بہت دنوں سے خالی معلوم ہوتا تھا۔ اس نے نحیف آواز میں کہا… ''میں
تمہاری زبان سمجھتی اور بولتی ہوں… یہ مرگئی ہے''… پھر اس نے پوچھا کہ ہم کون ہیں۔ میں نے بتایا کہ ہم اسالمی فوج
کے چھاپہ مار ہیں۔ بیت المقدس کو جارہے ہیں۔ اس نے کہا ''پھر مجھے تم سے رحم کی توقع نہیں رکھنی چاہیے''… میں
نے اسے کہا کہ تم مسلمان معلوم نہیں ہوتی۔ اس نے کہا… ''میں جھوٹ نہیں بولوں گی لیکن سچ بولوں گی تو تم پچھتائو
گے کہ تم نے مجھے مرنے کیوں نہ دیا''… میں نے اسے کہا… ''تم صرف یہ یقین دال دو کہ تم انسان ہو''… اس کے
…''ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ آگئی۔ اس کے چہرے کا رنگ بدل رہا تھا۔ اس کے جسم میں خون حرکت میں آرہا تھا
اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ کھانے اور پانی سے اسے نیند آرہی تھی۔ وہ بچوں کی طرح لڑھک گئی اور گہری نیند ''
سوگئی۔ ہم نے بہت قتل وغارت کی تھی۔ بہت شب خون مارے تھے۔ ہمارے کئی ساتھی ہمارے سامنے شہید ہوئے تھے ،مرنا
اور مارنا ہمارے لیے بچوں کا کھیل تھا لیکن ایک عورت پر ،خواہ وہ ہماری دشمن ہی تھی ،ہاتھ اٹھانا ہمارے لیے گناہ کبیرہ
تھا۔ میں نے ا پنے جیش سے کہا کہ سورج سر پر آرہا ہے۔ جھکے ہوئے ٹیلے دیکھو اور ان کے سائے میں آرام کرلو۔ یہ
…''جاگے گی تو اسے ساتھ لے جائیں گے
میرے ایک دو ساتھیوں نے کہا کہ جاسوس معلوم ہوتی ہے لیکن باقی سب کہہ رہے تھے کہ اس جگہ جاسوس عورتوں کا ''
کیا کام ،یہ انسان نہیں۔ میری رائے یہ تھی کہ چونکہ ہمارے چھاپہ مار جیش مصر اور فلسطین کی سرحدوں کے ساتھ ساتھ
سرگرم تھے ،اس لیے ان لڑکیوں کو یہاں بھیجا گیا ہوگا کہ ہمیں گمراہ کریں لیکن مجھے یقین نہیں آتا تھا۔ ان کے ساتھ ایک
…''دو مردوں کا ہونا ضروری تھا
غروب آفتاب سے ذرا پہلے وہ جاگی اور اٹھ بیٹھی۔ میں اس کے قریب جابیٹھا۔ اس نے پانی پیا اور کھانے کو کچھ اور ''
مانگا۔ میں نے اسے کھانا دیا۔ اب وہ اچھی طرح بول سکتی تھی۔ اس نے مری ہوئی عورت کی طرف اشارہ کرکے کہا…
''اسے دفن کردو''۔ میرے سپاہی دین دار تھے۔ ایک نے اپنی چادر دے دی۔ الش کو چادر میں لپیٹ دیا گیا۔ سپاہیوں نے
قبر کھودی اور اسے دفن کردیا''۔العاص نے احتشام کو بتایا… ''اس عورت نے یہ بتانے کے بجائے کہ وہ کون ہے وہ دونوں
کہاں سے آرہی تھیں اور کہاں جارہی تھیں ،اس نے پوچھا… ''تم نے اپنے خدا کو کبھی دیکھا ہے؟''… میں نے جو جواب
زبان پر آیا دے دیا۔ اس نے کہا… ''میں نے تمہارا خدا دیکھ لیا ہے۔ ابھی ابھی اسے دیکھا ہے۔ تم کہو گے کہ تم نے
خواب دیکھا ہے لیکن یہ خواب نہیں تھا۔ خدا نے مجھے کہا ہے کہ میں نے تجھے وہ آنکھیں دے دی ہیں جو آنے والے
وقت کے اندھیرے میں دیکھ سکیں گی۔ خدا نے مجھے یہ بھی کہا ہے کہ تو نے گناہ کی پھر کبھی سوچی تو تیرے اپنے
ہاتھ خنجر سے تیری آنکھیں نکال دیں گے۔ خدا نے مجھے یہ بھی کہا ہے کہ میں تجھے اس جگہ لے جارہا ہوں جہاں سے
…''میں نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پاس بالیا تھا
اس نے ایسی بہت سی باتیں کیں جن سے پتہ چلتا تھا کہ صحرا کے سفر اور صعوبتوں نے اس کے دماغ پر اتنا اثر کیا ''
ہے کہ اس کا دماغ مائوف ہوگیا ہے۔ مثال ً اس نے یہ بھی کہا… ''تم نے میرا جسم کیوں ڈھانپ دیا ہے؟ اسے ننگا رہنے
دیتے تو کیا ہوجاتا؟… میں اب جسم نہیں ،صرف روح ہوں۔ روح پاک ہوجائے تو جسم کے گناہ دھل جاتے ہیں''… وہ زیادہ تر
اسی قسم کی باتیں کرتی رہی۔ ان سے مجھے یقین تو ہوگیا کہ یہ انسان ہے ،بدروح نہیں اور مجھے اس کے بتانے کے بغیر
ہی پتہ چل گیا کہ یہ ان صلیبی لڑکیوں میں سے ہے جو ہمارے امیروں ،وزیروں اور ساالروں کو غدار بنانے اور راز لے کر اپنے
ملک کو بھیجنے کے لیے ہماری طرف بھیجی جاتی ہیں لیکن اس کی ان باتوں سے مجھے یہ شک ہونے لگا کہ اس کے
دماغ پر کچھ بھی اثر نہیں ہوا اور یہ اس قسم کی باتیں کرکے مجھے بے وقوف بنا رہی ہے تاکہ میں اسے وہاں تک حفاظت
…''سے پہنچا دو جہاں یہ جانا چاہتی ہے
میں نے اسے کہا کہ مجھے صحیح صحیح بتا دو کہ تم دونوں کہاں جارہی تھیں۔ میں نے اسے دھمکیاں دیں ،پھر یہ بھی ''
ظاہر کیا کہ میں بے وقوف بن چکا ہوں اور وہ مجھے استعمال کرسکتی ہے مگر اس کے انداز اور اس کی مجذوبانہ باتوں میں
کوئی تبدیلی نہ آئی۔ سورج غروب ہونے کے بعد میں نے اسے سامان والے ٹٹو پر بٹھا دیا اور ہم چل پڑے۔ سفر رات کو ہی
کرنا ہوتا تھا۔ دن کو صحرا جلنے اور جالنے لگتا تھا۔ میں نے اپنے جیش سے کہہ دیا تھا کہ مجھ پر کوئی شک نہ کرنا ،اگر
…''اسے تنہا میں لے جائوں تو اس سے میرا مقصد صرف یہ ہوگا کہ میں اس سے بھید لینے کی کوشش کررہا ہوں
میرا جیش آگے آگے چلتا رہا اور میں اس عورت کے ٹٹو کے ساتھ بہت پیچھے رہا۔ وہ اب سنبھلتی جارہی تھی لیکن اس''
کی باتیں درویشوں کی طرح ہی رہیں۔ آدھی رات کے بعد ہم نے پڑائو کیا۔ اسے میں نے سب سے الگ رکھا اور خود بھی
اس کے ساتھ رہا۔ میں نے اس سے ایک بار پھر پوچھا کہ وہ کہاں جانا چاہتی ہے۔ اس نے جواب دیا… ''قید خانے میں
بھی خدا ہوتا ہے''… پھر میں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا وہ یہ تھا کہ میں نے سفلہ پن کا حیوانیت کا مظاہرہ کیا۔ مجھے
توقع تھی کہ وہ میرے ساتھ سودا بازی کرے گی یا کہے گی کہ میں اسے کسی ایسے شہر میں پہنچا دو جو صلیبیوں کے
قبضے میں ہو لیکن اس پر کچھ بھی اثر نہ ہوا۔ اس نے میری طرف توجہ ہی نہ دی۔ اگلی رات اس نے بتایا کہ وہ کون ہے
…''اور کہاں سے آئی ہے
اس نے بتایا کہ وہ ڈیڑھ سال سے قاہرہ رہی ہے ،وہاں کسی امیر کبیر تاجر کی بیٹی بنی رہی۔ ایک مسلمان حاکم کی ''
داشتہ رہی اور دو حاکموں کو اس کا دشمن بنایا ،پھر تینوں کو آپس میں ٹکرایا۔ قاہرہ کے سرکاری کاموں میں گڑبڑ کرائی۔ دو
صلیبی جاسوسوں کو قید خانے سے رہا کرایا۔ ایک بڑے خطرناک جاسوس اور تخریب کار کو جسے سزائے موت دی جانے والی
تھی ،ان مسلمان حاکموں کی مدد سے فرار کرایا۔ اس نے اور بھی بہت سے کام کیے۔ آخر میں وہ جاسوسی اور سراغ رسانی
…''کے استاد اور سربراہ علی بن سفیان کو قتل کرانے کا بندوبست کررہی تھی
اسے جنگ حطین کے نتیجے کی اطالع ملی۔ اسے یہ بھی معلوم ہوا کہ صلیب الصلبوت سلطان ایوبی کے قبضے میں آگئی''
ہے اور اس صلیب کا محافظ اعظم میدان جنگ میں مارا گیا ہے۔ اسے یہ بھی پتہ چال کہ کچھ صلیبی حکمران مارے گئے اور
جنگی قیدی ہوگئے ہیں اور بیت المقدس کا حکمران گائی آف لوزینان بھی قید ہوگیا ہے۔ یہ خبریں اس کے دماغ پر ہتھوڑوں
کی طرح پڑتی رہیں ،پھر اسے دو اور خبریں ملیں۔ ایک یہ کہ اس کا پیر استاد ہرمن (جو لڑکیوں کو ٹریننگ دے کر مسلمان
عالقوں میں بھیجا کرتا تھا) قید ہوگیا ہے اور بیت المقدس پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا ہے۔ ان خبروں نے اس کا دماغ ہال
ڈاال۔ اسے تربیت دے کر اور تیار کرکے قاہرہ بھیجا گیا اور گناہوں کی تربیت کہیں لڑکپن کے آغاز میں شروع کی گئی تھی۔
اس کے اندر جذبات کی جگہ فریب اور دھوکہ بھر دیا گیا لیکن مذہب کے معاملہ میں یہ کوری نہیں تھی۔ اسے بتایا گیا تھا
کہ اسے صلیب الصلبوت اور یسوع مسیح کی خوشنودی کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ اسے تربیت کے بعد ا خری اشیر باد عکرہ
…''کے بڑے گرجے میں صلیب الصلبوت کے پادری نے دی تھی جسے محافظ اعظم کہتے ہیں
عیسی ''
اس نے اسے بتایا تھا کہ صلیب کی حکمرانی ناقابل تسخیر ہے اور اس کا مرکز یروشلم ہے جس کے قریب حضرت
ٰ
علیہ السالم کو مصلوب کیا گیا تھا۔ اسے بتایا گیا تھا کہ اسالم کوئی مذہب نہیں اور مسلمانوں کو عیسائیت میں النا یا انہیں
قتل کرنا ثواب کا کام ہے اور یہ کہ جو لڑکیاں صلیب کے نام پر عصمتیں قربان کررہی ہیں ،انہیں اگلے جہان بہشت کی
حوریں بنایا جائے گا۔ ایسی ہی کچھ اور باتیں تھیں جو اس کے ذہن میں دل پر نقش کرکے عقیدہ بنا دی گئیں اور وہ گناہوں
کار ثواب سمجھتی رہی
…''کو نیکی سمجھتی رہی۔ فریب کاری اور دھوکہ دہی کو ِ
اسے جب پتہ چال کہ صلیب الصلبوت بھی نہیں رہی۔ اس کا محافظ اعظم پادری بھی نہیں اور یسوع مسیح کی حکمرانی ''
کا مرکز یروشلم بھی نہیں رہا تو اس کے عقیدے ٹوٹ پھوٹ گئے۔ اس نے یہ بھی دیکھا کہ قاہرہ میں جو اس کے مرد
ساتھی یعنی صلیبی جاسوس تھے ،وہ وہاں سے بھاگنے لگے تھے ،پھر ایک روز وہ اپنے کسی ساتھی کی تالش میں نکلی تو
پتہ چال کہ وہ غائب ہے۔ اسے ایک اور ساتھی مال۔ اس نے اسے کہا کہ ہماری مدد کرنے واال کوئی نہیں۔ مسلمان ہوکر کسی
…''سے شادی کرلو یا یہاں سے بھاگ جائو
اب تو اس پر دیوانگی طاری ہونے لگی۔ اس نے اپنی اس سہیلی کو ساتھ لیا۔ اپنے چاہنے والے ایک مسلمان حاکم سے دو''
گھوڑے شوقیہ سواری اور سیر سپاٹے کے لیے لیے اور دونوں شام کے وقت نکلیں۔ اندھیرا گہرا ہوا تو شہر سے نکل آئیں۔
انہوں نے کھانے اور پانی کا کچھ انتظام کررکھا تھا مگر انہیں صحرا کے سفر کی ذرا سی بھی سوجھ بوجھ نہیں تھی ،نہ
انہیں اپنی منزل کا کچھ پتہ تھا۔ انہیں ا مید تھی کہ راستے میں انہیں صلیبی فوج کا کوئی دستہ مل جائے گا۔ ان کی
…''بدقسمتی اور بہت بڑی حماقت تھی کہ راستے کے متعلق کچھ بھی نہ جانتے ہوئے چل پڑیں
رات تو گزر گئی۔ انہوں نے گھوڑے سرپٹ دوڑائے تھے۔ دوسرے دن جب سورج اوپر آکر صحرا کو جالنے لگا تو گھوڑے ''
تھکن اور پیاس سے بے حال ہونے لگے۔ ان لڑکیوں کا اپنا حال بہت برا ہونے لگا۔ انہیں صحرا میں پانی اور سبزہ زار کے
سراب نظر آنے لگے اور وہ ان کے پیچھے گھوڑے دوڑانے لگیں۔ اس روز تو گھوڑوں نے کچھ ساتھ دیا مگر دوسرے دن بھی
…''انہیں کچھ کھانے کو اور پانی نہ مال تو دونوں گھوڑے پہلے رکے ،پھر گرے اور پھر کبھی نہ اٹھے
اس کے بعد جو ان دونوں کا سفر شروع ہوااسے احتشام دوست! تم اچھی طرح سمجھ سکتے ہو۔ تم جانتے ہو کہ ظالم ''
صحرا اس قسم کے مسافروں کو کس انجام تک پہنچایا کرتا ہے۔ اس لڑکی نے اپنی زبان سے مجھے بتایا کہ میں نے جو
دھوکے لوگوں کو دئیے تھے ،اس سے زیادہ ظالمانہ دھوکے مجھے صحرا نے دیئے۔ میں نے صحرا میں ندیاں بہتی دیکھیں ،ان
کے قریب گئی تو وہ دور ہٹتی گئیں۔ ہم دونوں ان کے پیچھے بھاگتی رہیں۔ میں نے نخلستان دیکھے ،گلستان دیکھے اور میں
نے صحرا میں بحری جہاز اور بادبانی کشتیاں تیرتی دیکھیں۔ ہم ہاتھ اوپر کرکے ہالتی ،چالتی اور ان کے پیچھے دوڑتی رہیں،
…''بعض جگہوں پر ہمیں پانی مل بھی گیا۔ ہم نے ایسی ہر جگہ کئی کئی دن گزارے
لڑکی نے مجھے بتایا کہ صحرا میں اس کا وہ وجود مرگیا جس نے قاہرہ کے حاکموں پر جادو کررکھا تھا۔ اسے ہمارے خدا''
کا خیال آگیا اور اس کے اندر یہ احساس کانٹے کی طرح چبھنے لگا کہ صلیب الصلبوت کے محافظ اعظم نے اسے دھوکہ دیا
ہے اور اب وہ دوسروں کے گناہوں کی سزا بھگت رہی ہے۔ اس پر یہ حقیقت کھلی کہ اپنی عصمت پیش کرکے کسی کو
دھوکہ دینا ثواب کا کام نہیں ہوسکتا۔ اسے یہ خیال بھی آگیا کہ مسلمان اپنی لڑکیوں کو اس طرح استعمال نہیں کرتے۔ ایک
روز صحرا میں اسے یہ احساس بھی ہوا جیسے وہ اور ،اس کی سہیلی مرچکی ہیں اور وہ دوزخ میں پھینک دی گئی ہیں یا
…''وہ بدروحیں بن چکی ہیں اور دوزخ کی طرح جلتے ہوئے میدان میں بھٹک رہی ہیں
ایک رات اس نے اپنی سہیلی سے کہا کہ وہ اپنے عقیدے سے دلبرداشتہ ہوگئی ہے اور اب وہ مسلمانوں کے خدا کو پکارے''
گی۔ دونوں کے ہونٹ اور زبانیں لکڑی کی طرح ہوگئی تھیں۔ حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے اور وہ بڑی مشکل سے بات کرتی
تھیں۔ اس کی سہیلی نے بہت برا منایا کہ وہ اپنے عقیدے سے منحرف ہورہی ہے اور اپنے دشمن کے عقیدے کو اپنانا چاہتی
ہے۔ اس نے اس کی نہ سنی۔ اس کی جب سہیلی سو گئی تو یہ اس سے کچھ دور چلی گئی۔ اس نے سجدے کیے اور ہاتھ
اٹھا اٹھا کر خدا کو پکارتی اور گناہوں کی بخشش مانگتی رہی۔ وہ ساری رات روتی رہی۔ سجدے کے سوا عبادت کا اسے
…''کوئی اور طریقہ نہیں آتا تھا
اسی رات اس کے دماغ میں اثر ہوگیا یا واقعی خدا نے اسے کوئی اشارہ دیا۔ یہ کہتی ہے کہ اسے اپنے سامنے دھوئیں ''
کی طرح ایک باریش انسان کھڑا نظر آیا۔ اس نے کہا… ''اگر تو نے دل سے توبہ کی ہے تو اس ریگستان میں جہاں سے
انسانوں کا گزر نہیں ہوا کرتا ،وہ انسان آئیں گے جن کے خدا کو تو نے پکارا ہے۔ تو یہاں سے زندہ نکل جائے گی''… اسے
یاد نہیں کہ اس سے کتنی مدت بعد میں اپنے جیش کے ساتھ وہاں سے گزرا۔ اسے زندہ دیکھا اور اس کی سہیلی مرچکی
…''تھی
تم جانتے ہو کہ یہ برہنہ کیوں تھیں۔ صحرا کا بھٹکا ہوا مسافر جب جلنے لگتا ہے تو پہلے اپنا سامان پھینکتا ہے ،پھر ''
حتی
اپنے جسم سے ایک ایک کپڑا اتارتا اورپھینکتا جاتا ہے۔ یہ کام وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں کرتا اور چلتا رہتا ہے،
ٰ
…''کہ وہ کہیں گر پڑتا ہے۔ اس لڑکی کو یاد نہیں کہ اس نے اور اس کی سہیلی نے کپڑے کب اور کہاں اتار پھینکے تھے
ہم دس بارہ روز بعد بیت المقدس پہنچے۔ اس کی صحت بحال ہوگئی تھی۔ اس کی خوبصورتی نکھر آئی تھی لیکن یہ ''
باتیں مجذوبوں کی طرح کرتی رہی۔ اگر یہ ایسی باتیں تمہارے ساتھ کرتی تو تم بھی اس سے متاثر ہوجاتے۔ اس نے بار بار
کہا… ''بیت المقدس پر اب صلیبیوں کا قبضہ نہیں ہوسکتا۔ خدا انہیں راستے میں غرق کرے گا''… وہ اسی طرح کی پیشن
…''گوئیاں کرتی رہی۔ رات کو اس کی عبادت شروع ہوتی تھی ،طریقہ یہی تھا کہ سجدے کرتی ،روتی اور دعا مانگتی تھی
اب یہ جن کے گھر رہتی ہے ،انہیں میں بہت عرصے سے جانتا ہوں۔ یہ عالم فاضل بزرگ ہیں۔ میں ان کا معتقد ہوں۔ ''
میں نے اسے ان کے حوالے کردیا''۔
٭ ٭ ٭
العاص یہ باتیں سنا رہا تھا اور یہ بزرگ نماز پڑھ کر آگیا۔ اس نے احتشام سے کہا… ''یہ ضروری نہیں کہ خدا سے یہ
فضیلت اسی کوعطا ہوتی ہے جس کے پاس علم وفضل ہوتاہے۔ معلوم نہیں کس وقت کیسی فریاد اس کے سینے سے نکلی جو
خدا نے سن لی اور اس لڑکی کو یہ مقام عطا کردیا۔ یہ مجذوب ہے۔ میرا تجربہ کہتا ہے کہ یہ پاگل نہیں اور یہ دھوکہ بھی
نہیں دے رہی۔ اس نے اپنی خواہش پر اسالم قبول کرلیا ہے۔ میں نے اسے نماز پڑھانے اور سکھانے کی بہت کوشش کی ہے
لیکن اس کی عبادت کا اپنا ہی طریقہ ہے۔ خدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مانتی ہے اور جب بولتی ہے تو
پتہ چلتا ہے کہ اسے غیب سے کوئی اشارہ مال ہے''۔
اقصی میں جاتی رہتی ہے؟'' احتشام نے پوچھا۔''
یہ مسجد
ٰ
نہیں''۔ بزرگ نے کہا… ''رات کو پہلی بار مسجد میں گئی ہے۔ العاص صبح آیا تو میں نے اسے بتایا کہ وہ مسجد میں''
چلی گئی ہے۔ العاص اس کے پیچھے چال گیا اور اسے شاید راستے میں مل گئی''۔
''یہیں سے شک پیدا ہوتا ہے کہ یہ اسی رات کیوں مسجد میں گئی جس رات سلطان مسجد میں موجود تھے؟''
میں اس کا جواب نہیں دے سکتا''۔ بزرگ نے کہا۔''
احتشام نے کہا کہ میرا فرض ہے کہ میں لڑکی کو حسن بن عبداللہ کے پاس لے جائوں۔ یہ اس کی مرضی ہے کہ اسے آپ
کے حوالے کردے یا سلطان کے پاس لے جائے۔
لڑکی کو جب بتایا گیا کہ اسے احتشام کے ساتھ جانا پڑے گا تو وہ خاموشی سے اس کے ساتھ چل پڑی۔ العاص بھی ساتھ
گیا۔ حسن بن عبداللہ نے اس کی کہانی العاص اور احتشام سے سن کر لڑکی سے کچھ باتیں پوچھیں تو اس نے یہی جواب
دیا… ''اب تو سمندر سے آئے ہوئے بیڑے تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ مجھ سے کیوں ڈرتے ہو… مجھے اپنے سلطان کے
پاس لے چلو۔ اس نے رات کو جو دعا کی تھی ،وہ خدا نے قبول کرلی ہے''۔
بہت کوشش کے باوجود اس نے کچھ نہ بتایا تو اس کے متعلق سلطان ایوبی کو اطالع دی گئی۔ سلطان کو اسی روز عکرہ
جانا تھا۔ اس نے کہا کہ لڑکی کو لے آئو… لڑکی سلطان ایوبی کے سامنے گئی تو دوزانو ہوکر سلطان کا دایاں ہاتھ چوما ،پھر
اٹھی اور سلطان ایوبی کی آنکھوں میں قریب ہوکر دیکھا۔ اس نے اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے لہجے میں کہا… ''ان
آنکھوں سے رات سجدے میں آنسو گرے تھے۔ مجھے تمہارے دشمن کے جہاز ان آنسوئوں میں ڈوبتے نظر آرہے ہیں۔ بیت
المقدس کی دیواروں تک کوئی نہیں پہنچ سکے گا… خون کا سمندر بہہ جائے گا… وہ راستے میں مرجائیں گے… وہ تباہ ہورہے
ہیں۔ آنسو جو خدا کے حضور سجدے میں بہتے ہیں ،انہیں فرشتے موتی سمجھ کر اٹھا لیتے ہیں۔ خدا ان موتیوں کو ضائع
نہیں کرتا۔ نیت صاف ہو تو راستے صاف ملتے ہیں''۔
بہت کوشش کی گئی کہ لڑکی کو اس کے اصلی روپ میں الیا جائے لیکن وہ ایسی باتیں کرتی رہی جیسے اسے آنے واال وقت
نظر آرہا ہو۔ اسے آخر مجذوب سمجھ کر اسی بزرگ کے حوالے کردیا گیا اور اسے ہدایت دی گئی کہ وہ اس پر نظر رکھے۔
٭ ٭ ٭
اقصی میں خدا کے حضور جو آنسو بہائے تھے ،وہ فرشتوں نے موتی سمجھ کر اٹھا لیے۔
سلطان صالح الدین ایوبی نے مسجد
ٰ
سب سے پہلے اسے یہ اطالع ملی کہ جرمنی کا شہنشاہ فریڈرک مرگیا ہے۔ اس سے چند دن بعد ایک صلیبی حکمران کائونٹ
ہنری کے مرنے کی اطالع ملی۔ یہ بھی صلیبی فوج کا ایک اتحادی تھا اور بیت المقدس کو مسلمانوں کے قبضے سے چھڑانے
آیا تھا۔ قاضی بہائوالدین شداد نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ کائونٹ ہنری کی موت کو صلیبیوں نے ظاہر نہیں ہونے دیا۔
اس کا انکشاف اس طرح ہوا کہ سلطان ایوبی کے بحری چھاپہ ماروں نے صلیبیوں کی دو جنگی کشتیاں پکڑیں جو فلسطین کے
ساحل سے کچھ دور سے گزر رہی تھیں۔ اس میں پچاس صلیبی بحری سپاہی تھے۔ انہیں قیدی بنا لیا گیا۔
اس سے اگلے ہی روز صلیبیوں کی ایک بڑی کشتی پکڑی گئی۔ اس میں ایک کوٹ تھا جس پر ہیرے جواہرات لگے ہوئے
تھے۔ یہ کسی بادشاہ کا کوٹ ہوسکتا تھا۔ صلیبی قیدیوں نے بتایا کہ یہ کائونٹ ہنری کا کوٹ ہے اور وہ مرگیا ہے۔ اس کشتی
میں ایک قیدی اور بھی تھا جو بحری کمانڈر معلوم ہوتا تھا۔ اس کے متعلق انکشاف ہوا کہ کائونٹ ہنری کا بھانجا ہے۔ ان
سب کو جنگی قید میں ڈال دیا گیا۔
کائونٹ ہنری کی موت کے متعلق تین مختلف روائتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ دریا میں ڈوب گیا تھا۔ مسلمان مؤرخ کہتے ہیں کہ
صرف ایک گز گہرے پانی میں گرا اور مرگیا۔ ایک روایت یہ ہے کہ وہ دریا میں نہانے اترا تو بیمار پڑ گیا اور مرگیا۔
سلطان ایوبی جس کے متعلق سب سے زیادہ سنجیدہ بلکہ متفکر تھا ،وہ انگلستان کا جنگجو بادشاہ رچرڈ تھا جو بلیک پرنس
( سیاہ شہزادہ) کے نام سے مشہور تھا اور اسے ''شیر دل رچرڈ'' بھی کہا جاتا تھا۔ وہ جنگ کا ماہر تھا۔ ذاتی طور پر
بہت دلیر اور اسے قدرت نے یہ وصف عطا کیا تھا کہ اس کا قد لمبا اور بازو بھی لمبے تھے۔ اس سے اسے یہ فائدہ حاصل
تھا کہ اس کی تلوار دشمن تک پہنچ جاتی تھی مگر دشمن کی تلوار اس تک مشکل سے ہی پہنچتی تھی۔ صلیبی دنیا میں
سب کی نظریں اسی پر لگی ہوئی تھیں۔ اس کی جنگی قوت بھی زیادہ تھی اور اس کی بحری جنگی قوت اس وقت دنیا
کی سب سے زیادہ طاقتور تھی۔ سلطان ایوبی کو یہی خطرہ نظر آرہا تھا۔
آپ نے اس سلسلے کی کہانیوں میں سلطان ایوبی کے ایک امیر البحر حسام الدین لولو کا نام پڑھا ہوگا۔ رئیس البحرین
عبدالمحسن تھا۔ سلطان ایوبی کو جب یہ اطالع ملی کہ رچرڈ اپنے بحری بیڑے کے ساتھ آرہا ہے تو اس نے المحسن کو یہ
حکم بھیجا کہ وہ رچرڈ کے بیڑے کے سامنے نہ آئے اور اپنے جہاز بکھیر کر رکھے۔ حسام الدین لولو کو اس نے چند ایک
جہازوں اور جنگی کشتیوں کے ساتھ عسقالن بال لیا تھا اور اسے کہا تھا کہ دشمن کے جہازوں پر نظر رکھے لیکن آمنے سامنے
کی ٹکر نہ لے۔ اس کے بجائے بحری چھاپہ ماروں کو دشمن کے اکیلے دھکیلے جہازوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کرے۔
سلطان ایوبی نے دیکھ لیا تھا کہ سمندر میں بھی اسے چھاپہ مار جنگ لڑنی پڑے گی۔ یہ وہ دن تھے جو سلطان ایوبی کے
لیے بڑے ہی اذیت ناک تھے۔ وہ رات کو سوتا بھی نہیں تھا ،اس نے اپنی مجلس مشاورت میں کہا کہ ہمیں ایک ساحلی
شہر قربان کرنا پڑے گا اور وہ عکرہ ہی ہوسکتا ہے۔ میں دشمن کو یہ تاثر دینا چاہتا ہوں کہ جو کچھ ہے عکرہ میں ہے اور
اگر عکرہ لے لیا گیا تو مسلمانوں کی کمر ٹوٹ جائے گی پھر بیت المقدس کو مسلمانوں کے قبضے سے چھڑانا آسان ہوجائے
گا۔ سلطان ایوبی نے مجلس مشاورت کو بتایا کہ وہ دشمن کو عکرہ میں النے میں کامیاب ہوگیا تو دشمن عکرہ کی دیواروں
کے ساتھ ہی سر پٹختا رہے گا۔ مجلس مشاورت نے اسے اجازت دے دی کہ جس طرح وہ مناسب اور سود مند سمجھتا ہے
کرے۔
٭ ٭ ٭
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بیت المقدس اور ارض مقدس کو سلطان ایوبی کے وہ آنسو ہی بچا سکتے تھے جو
اقصی میں سجدے میں گر کر
اقصی میں بہائے تھے اور وہ دعائیں بچا سکتی تھیں جو اس نے اس رات مسجد
اس نے مسجد
ٰ
ٰ
اقصی میں ہی مانگی تھیں جس نے سلطان ایوبی کی آنکھوں میں جھانک کر
مانگی تھیں… دعائیں اس لڑکی نے بھی مسجد
ٰ
کہا تھا… ''تمہارے دشمن کے جہاز تمہارے آنسوئوں میں ڈوبتے نظر آرہے ہیں''۔
یہ تو کوئی مؤرخ نہیں بتا سکتا کہ رات سلطان ایوبی نے خدائے ذوالجالل سے کیا کیا باتیں کی تھیں ،البتہ یہ حقیقت ہر
مؤرخ نے بیان کی ہے کہ رچرڈ کا وہ بحری بیڑہ جس سے ایوبی جیسا مر ِد خدا بھی خوفزدہ تھا ،انگلستان سے روانہ ہو تو
بحیرٔہ روم میں داخل ہوتے ہی ایک خوفناک طوفان کی لپیٹ میں آگیا۔ تمام جہاز بکھر گئے۔ ایک اندازے کے مطابق اس بیڑے
میں پانچ سو بیس جہاز تھے۔ ان میں چند ایک بڑے جنگی جہاز تھے۔ یہ سب فوج ،گھوڑوں ،رسد اور سازوسامان سے بھرے
ہوئے تھے۔
طوفان میں بیڑہ ایسا بکھرا کہ رچرڈ کو اپنی جان کے اللے پڑ گئے۔ طوفان کے بعد جب کئی دنوں کی تگ ودو سے بیڑہ یکجا
کیا گیا تو پتہ چال کہ پچیس جہاز غرق ہوگئے ہیں اور دو بہت بڑے باربردار جہاز بھی ڈوب گئے ہیں۔ ان میں بے ا نداز
اسلحہ اور دیگر سامان تھا۔ رچرڈ کو جو سب سے زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑا ،وہ ایک خطیر رقم تھی جو وہ اپنے ساتھ ال
رہا تھا۔ یہ بے بہا خزانہ تھا جو بحیرٔہ روم کی تہہ میں چال گیا۔
رچرڈ قبرص کے جزیرے میں لنگر انداز ہوا تو اسے پتہ چال کہ اس کے بیڑے کے تین چار جہازوں کو طوفان نے قبرص کے
ساحل پر پہنچا دیا ہے۔ ان میں سے ایک میں اس کی نوجوان بہن جوآنا بھی تھی اور اس کی منگیتر بیرنگاریا بھی۔ ان
دونوں کے متعلق اس نے سمجھ لیا تھا کہ ڈوب مری ہیں لیکن وہ زندہ سالمت تھیں ،البتہ قبرص کے بادشاہ آئزک نے رچرڈ
کے لیے یہ مسئلہ کھڑا کررکھا تھا کہ اس نے اپنے ساحل کے ساتھ آنے والے ان تین جہازوں سے سامان نکلوا کر اپنے قبضے
میں لے لیا اور تمام آدمیوں کو رچرڈ کی بہن اور منگیتر سمیت قید میں ڈال دیا تھا۔ رچرڈ کو آئزک کے خالف جنگ لڑنی
پڑی۔ آئزک کو شکست دے کر اسے ایک خیمے میں قید کیا مگر آئزک رات کو اس طرف سے خیمہ پھاڑ کر جدھر کوئی پہرہ
دار نہیں تھا ،فرار ہوگیا۔ رچرڈ پندرہ بیس روز اسے جزیرے میں ڈھونڈتا پھرا۔ آخر وہ اسے مل گیا۔ رچرڈ نے اس کاگھوڑا لے
لیا۔ یہ غیر معمولی طور پر تیز رفتار گھوڑا تھا۔ رچرڈ ارض مقدس میں لڑنے آیا تو یہی گھوڑا اس کے پاس تھا۔
٭ ٭ ٭
رچرڈ جب ارض مقدس کے ساحل کے قریب آیا تو اس وقت اس کے اتحادی صلیبی عکرہ کو محاصرے میں لے چکے تھے۔
سب سے پہلے جس کی فوج نے محاصرہ کیا وہ گائی آف لوزینان تھا جسے ملکہ سبیال نے اس عہدنامے پر رہا کرایا تھا کہ
وہ سلطان کے خالف نہیں لڑے گا۔ اس کے ساتھ فرانس کے بادشاہ فلپس آگسٹس کی فوج آن ملی اور محاصرہ مستحکم ہوگیا۔
شہر کے اندر مسلمان فوجوں کی تعداد دس ہزار تھی اور رسد کم وبیش ایک سال کے لیے کافی تھی۔ محاصرہ ١٣اگست
١١٨٩ء کے روز شروع ہوا۔
شکل کی دیوار تھی اور تین اطراف کو سمندر Lعکرہ کے شہر کے محل وقوع کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس کے ایک طرف
تھا۔ سمندر میں صلیبیوں کا بحری بیڑہ موجود تھا۔ جہاز بکھیر کر کھڑے کیے گئے تھے۔ دیوار سے دور صلیبی فوج نے ڈیرے
ڈال دئیے تھے۔ اس طرح خشکی کے تمام راستے بند ہوگئے تھے۔ سلطان ایوبی شہر کے اندر نہیں ،باہر تھا۔ اس نے اپنے
جاسوسوں کے ذریعے اور اپنی نقل وحرکت کی جھلک دکھا کر دشمن کو عکرہ میں گھسیٹ لیا تھا۔ صلیبیوں نے جب اس
شہر کامحاصرہ کیا ،اس وقت انہیں یہی بتایا گیا تھا کہ سلطان ایوبی شہر میں ہے مگر جب انہوں نے تمام فوج محاصرے میں
لگا دی تو اس کے ایک حصے پر عقب سے حملہ ہوا۔ تب انہیں پتہ چال کہ سلطان ایوبی باہر ہے اور اس نے اس صلیبی
فوج کو محاصرے میں لے لیا جس نے عکرہ کو محاصرے میں لے رکھا تھا۔
سلطان ایوبی کی یہ دشواری تھی کہ اس کے پاس فوج کی کمی تھی۔ تاہم اسے توقع تھی کہ وہ محاصرہ توڑ لے گا لیکن وہ
یہ بھی چاہتا تھا کہ محاصرہ زیادہ مدت تک رہے تاکہ صلیبیوں کی طاقت یہیں پر صرف ہوتی رہے۔ ٤اکتوبر ١١٨٩ء کے روز
صلیبیوں پر زبردست حملہ کیا۔ صلیبی مقابلے کے لیے تیار تھے۔ بڑی ہی خونریز جنگ ہوئی ،جس میں نو ہزار صلیبی مارے
گئے لیکن ان کے پاس چھ الکھ کا لشکر تھا۔ نو ہزار کے مرجانے سے کوئی فرق نہ پڑا۔ انہوں نے شہر کو فتح کرنے پر زیادہ
توجہ مرکوز رکھی لیکن ان کی فوج دیوار کے قریب جانے سے ڈرتی تھی کیونکہ دیوار کے اوپر سے مسلمان ان پر تیروں کے
عالوہ آتش گیر سیال کی ہانڈیاں پھینکتے تھے۔
صلیبیوں نے دیوار کے قریب پہنچنے ،شہر کے اندر پتھر اور آگ برسانے اور دیوار پھالنگنے کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ بہت :
اونچے دبابے ( برج) تیار کیے جو لکڑی کے بنے ہوئے تھے۔ ان کے نیچے لکڑی کے پہئے لگائے اور یہ برج اتنے بڑے تھے کہ
ان میں کئی سو سپاہی سما جاتے تھے۔ انہیں مسلمانوں کے پھینکے ہوئے آتشیں سیال اور آگ سے بچانے کے لیے ان کے
فریموں پر تانبا چڑھا دیا گیا تھا۔ یہ برج جب دیوار کے قریب لے جائے گئے تو دیوار سے مسلمانوں نے ان پر آتش گیر سیال
کی ہانڈیاں پھینکنی شروع کردیں۔ سیال برجوں پر بھی پھیال اور ان کے اندر جو سپاہی کھڑے تھے ،ان پر بھی پڑا۔ جب چند
ہانڈیاں پھینکنے کے بعد برج بھیگ گئے تو صرف ایک ایک جلتی ہوئی لکڑی آئی ،ہر برج سے ایک لکڑی ٹکرائی اور برج
مہیب شعلوں کی لپیٹ میں آگئے۔ ان میں سے ایک بھی سپاہی زندہ نہ رہا۔
دیوار کے باہر ایک خندق تھی جسے پار کرنا صلیبیوں کے لیے مشکل تھا۔ انہوں نے اس خندق کو مٹی سے بھرنا شروع کردیا
لیکن شہر کے اندر کی فوج اس قدر دلیر تھی کہ اس کے جیش باہر آکر صلیبیوں پر حملہ کرتے اور واپس چلے جاتے۔
صلیبیوں نے خندق بھرنے کے لیے یہاں تک کیا کہ اس میں اپنے مرے ہوئے سپاہیوں کی الشیں پھینک دیں ،پھر ان کے جتنے
سپاہی مرتے ،ان سب کی الشیں خندق میں پھینک دیتے۔ عقب سے ان پر سلطان ایوبی نے وسیع پیمانے کے شب خونوں
کے انداز کے حملے کیے مگر صلیبیوں کا محاصرہ ٹوٹنے کے بجائے مستحکم ہوتا گیا۔
شہر والوں کے ساتھ سلطان ایوبی نے پیامبر کبوتروں کے ذریعے رابطہ قائم کررکھا تھا۔ دوسرا ذریعہ یہ تھا کہ ایک آدمی جس
عیسی العموام تھا ،چمڑے میں پیغام باندھ کر کمر کے ساتھ باندھ لیتا اور سمندر میں اتر جاتا۔ وہ رات کو یہ کام کرتا
کا نام
ٰ
تھا۔ وہ دشمن کے لنگر انداز جہازوں کے نیچے سے گزر آیا کرتا تھا۔ وہ پیغام التا اور لے جاتا تھا۔ ایک رات وہ اسی طرح
آیا۔ اسے شہر میں لے جانے کے لیے سونے کے
ایک ہزار سکوں سے بھری ہوئی تھیلی اور تحریری پیغامات دئیے گئے۔
اسالم اور انسان 21:08
صالح الدین ایوبیؒ کے دور کےحقیقی واقعات کا سلسلہ
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
اقصی میں گرے
قسط 158/آنسو جو مسج ِد
ٰ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تحریری پیغامات دئیے گئے۔ قاضی بہائوالدین شداد لکھتا ہے… ''وہ جب خیریت سے شہر میں داخل ہوجایا کرتا تھا تو ایک
عیسی خیریت سے پہنچ گیا ہے۔ ہم اس کے
کبوتر اڑا دیتا تھا جو ہمارے پاس آجاتا تھا۔ اس سے ہم سمجھ لیتے تھے کہ
ٰ
کبوتر کو واپس اڑا دیتے تھے جس رات وہ ایک ہزار سونے کے سکے لے کر گیا ،اس سے اگلے دن اس کا کبوتر نہ آیا۔ ہم
عیسی کی الش عکرہ کے ساحل کے ساتھ تیرتی ہوئی
سمجھ گئے کہ وہ پکڑا گیا ہے۔ کئی روز بعد شہر سے اطالع ملی کہ
ٰ
ملی تھی۔ سونے کے سکے اس کے جسم کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔ الش کی حالت بہت بری تھی۔ وہ سونے کے وزن سے
تیر نہ سکا اور ڈوب گیا''۔
عکرہ کا حاکم میر فراقوش تھا اور سپہ ساالر علی ابن احمد المشطوب تھا۔ وہ بار بار سلطان ایوبی کو یہی پیغام بھیجتے تھے
کہ وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے لیکن باہر سے صلیبیوں پر حملے جاری رکھے جائیں اور کسی نہ کسی طرح شہر میں فوج ،اسلحہ
اور رسد پہنچائی جائے۔
یہی سلطان ایوبی کے سامنے ایک پیچیدہ مسئلہ تھا کہ شہر تک مدد کس طرح پہنچائے۔ اس کی اپنی حالت یہ تھی کہ بخار
سے اس کا جسم جل رہا تھا۔ اس کی ایک وجہ شب بیداری ،دوسری وجہ اعصاب پر بوجھ اور تیسری وجہ یہ تھی کہ وہاں
الشوں کے انبار لگے ہوئے تھے۔ گلی سڑی الشوں کی اتنی زیادہ بدبو تھی کہ وہاں ٹھہرا نہیں جاسکتا تھا۔ اس نے سلطان
ایوبی کی بیماری میں اضافہ کیا۔ تین چار روز تو وہ اٹھ بھی نہ سکا۔ اسے عکرہ ہاتھ سے جاتا نظر آرہا تھا۔
اقصی میں گرے * ختم ہوا جاتا ھے
،اس کے ساتھ ہی قصہ * آنسو جو مسج ِد
ٰ
21:08
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 159پھر شمع بجھ گئی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سلطان صالح الدین ایوبی اپنے خیمے میں بیمار پڑا تھا۔ اس سے تھوڑی ہی دور عکرہ کے باہر اس کے جانباز دستے اس
صلیبی لشکر پر حملے کررہے تھے جس نے عکرہ کو محاصرے میں لے رکھا تھا۔ فلسطین کی تاریخ میں سب سے زیادہ خونریز
معرکے لڑے جارہے تھے مگر محاصرہ ٹوتا نظر نہیں آرہا تھا۔ شہر کے ا ندر سلطان ایوبی کی محصور فوج کی نفری دس ہزار
تھی اور محاصرہ کرنے والے صلیبیوں کی تعداد پانچ الکھ سے زیادہ تھی۔ سلطان ایوبی صلیبیوں کے عقب میں یعنی شہر سے
باہر تھا۔ اس کے پاس دس ہزار مملوک تھے جن پر اسے بہت بھروسہ تھا۔ مملوک عقب سے صلیبیوں پر بڑے ہی جانبازانہ
حملے کرتے تھے مگر کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوتی تھی۔ دشمن کی تعداد زیادہ ہونے کے عالوہ محاصرہ نہ ٹوٹ سکنے کی
وجہ یہ تھی کہ صلیبیوں نے عکرہ کے اردگرد مورچے کھود لیے تھے جو سلطان ایوبی کی فوج کے لیے خطرناک تھے۔ سوار
جب حملہ کرتے تو گھوڑے مورچوں میں گر پڑتے تھے۔
عکرہ کے باہر میلوں وسعت میدان جنگ بنی ہوئی تھی۔ الشوں کا کوئی شمار نہیں تھا۔ عکرہ کی دیوار کے باہر دیوار جتنی
لمبی اور اتنی چوڑی خندق تھی جسے عبورکرنا مشکل تھا۔ صلیبیوں نے اس خندق کے ایک حصے میں اپنے مرے ہوئے
فوجیوں کی الشیں اور مرے ہوئے گھوڑے پھینکنے شروع کردئیے تھے ،تاکہ یہاں سے خندق بھرجائے اور خندق سے گزر کر دیوار
تک پہنچا جائے۔ جنگ کا شوروغل اتنا زیادہ تھا کہ فضا میں سوائے گدھوں کے کوئی اور پرندہ نظر نہیں آتا تھا۔ گدھ کہیں
اترتے ،الشوں کو کھاتے اور اڑ جاتے تھے۔
ان گدھوں کے درمیان تقریبا ً ہر روز ایک کبوتر عکرہ سے اڑتا اور سلطان ایوبی کے کیمپ میں جااترتا تھا اور بہت دیر بعد
کیمپ سے اڑ کر عکرہ کو واپس چال جاتا تھا۔ محاصرے اور خونریز معرکوں کے دوران ایک روز یہ کبوتر عکرہ سے اڑا۔ انگلینڈ
کا بادشاہ رچرڈ اپنے خیمے سے باہر کھڑا تھا۔ اس کے ساتھ اس کی بہن جوآنا بھی تھی۔
اس کبوتر پر نظر رکھو''۔ رچرڈ نے حکم دیا۔ ''جونہی نظر آئے ،اس پر باز چھوڑ دو۔ یہ کبوتر ہماری شکست کا باعث ''
بن سکتا ہے''۔
اس کے پاس اس کی بہن جوآنا اور اس کی منگیتر بیرنگاریا کھڑی تھیں۔ رچرڈ کی عمر خاصی ہوگئی تھی اور اب اس نوجوان
لڑکی کو اپنے ساتھ اس ارادے سے الیا تھا کہ بیت المقدس فتح کرکے اس سے کی شادی کرے گا۔ اس کی بہن جوآنا تھوڑا
ہی عرصہ پہلے تک سسلی کے بادشاہ کی بیوی تھی۔ بادشاہ مرگیا تو جوآنا جوانی میں بیوہ ہوگئی۔ وہ اس قدر خوبصورت
تھی کہ کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ اس لڑکی کی شادی ہوئی تھی۔ رچرڈ انگلستان سے آئے ہوئے اسے سسلی سے اپنے ساتھ
لے آیا تھا۔
رچرڈ کو جوآنا کی ہنسی سنائی دی۔ رچرڈ نے اس کی طرف دیکھا تو جوآنا نے اس سے پوچھا۔ ''میرے بھائی! کیا اس
کبوتر کے مرجانے سے صالح الدین ایوبی بھی مرجائے گا''۔
یہ کبوتر پیامبر ہے جوآنا!''… رچرڈ نے کہا… ''اس کی ایک ٹانگ کے ساتھ عکرہ والوں کا پیغام بندھا ہوتا ہے جو صالح''
الدین ایوبی کے پاس جاتا ہے۔ صالح الدین ایوبی پیغام کا جواب اسی کبوتر کے ساتھ بھیجتا ہے۔ صالح الدین ایوبی ہم پر
باہر سے جو حملے کرتا ہے ،وہ عکرہ والوں کے پیغاموں کے مطابق ہوتے ہیں۔ عکرہ والوں کا جوش اور جذبہ اور ہتھیار نہ
ڈالنے کا عزم اس کبوتر کی وجہ سے قائم ہے ،ورنہ کوئی محصور فوج اتنے شدید حملے زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرسکتی۔
تم دیکھ رہی ہو کہ ہماری منجنیقوں کے پھینکے ہوئے پتھروں نے کئی جگہوں سے دیوار کا اوپر کا حصہ گرادیا ہے اور ہماری
پھینکی ہوئی آگ نے شہر میں تباہی بپا کررکھی ہے مگر وہ ہتھیار نہیں ڈال رہے''۔
آپ کا اصل مقصد اور منزل یروشلم ہے جو ابھی بہت دور ہے''۔ جوآنا نے کہا… ''اگر عکرہ کی فتح میں کئی سال گزر''
گئے تو کیا آپ اپنی زندگی میں یروشلم تک پہنچ سکیں گے؟ ہمارے جاسوس اور مسلمان جنگی قیدی بتاتے ہیں کہ شہر کے
اندر صرف دس ہزار تعداد کی فوج ہے۔ ہماری تعداد ابتدا میں چھ الکھ تھی۔ اب پانچ الکھ رہ گئی ہوگی۔ محاصرہ پچھلے
سال (١١٨٩ئ) ١٣اگست کے روز شروع ہوا تھا۔ اب ١١٩١ء کا اگست آگیا ہے۔ دو سال… میرے بھائی! دو سال… ابھی آپ
دس ہزار نفری کے محصورین سے ہتھیار نہیں ڈلوا سکے۔ میں جانتی ہوں کہ آپ کو محاصرے میں شامل ہوئے ابھی چند
مہینے گزرے ہیں لیکن چند مہینوں میں آپ نے عکرہ کی تھوڑی سی دیوار توڑنے اور منجنیقوں سے شہر کے کچھ حصے کو
آگ لگانے کے سوا کیا کامیابی حاصل کی ہے؟ مجھے تو یہ نظر آرہا ہے کہ اس شہر کے کھنڈر ہی آپ کو ملیں گے''۔
رچرڈ نے اپنی منگیتر کو وہاں سے چلے جانے کو کہا۔ وہ چلی گئی تو رچرڈ اپنی بہن سے مخاطب ہوا۔ ''صلیب :
الصلبوت اور یروشلم کے وقار اور تقدس کا مطالبہ یہ ہے کہ تم بھول جائو کہ تم میری بہن ہو۔ تم اس صلیب کی بیٹی ہو جو
مسلمانوں کے قبضے میں ہے اور یروشلم جہاں ہمارے پیغمبر کی عبادت گاہ ہے ،اس پر بھی مسلمان قابض ہیں۔ تم جانتی ہو
کہ ہمیں اسالم کو ختم کرنا ہے اور تم یہ بھی دیکھ رہی ہو کہ مسلمان خودکشی کی طرح لڑ رہے ہیں۔ یہ لوگ موت کی
پرواہ نہیں کرتے۔ یہ فتح حاصل کرنے کے لیے لڑتے ہیں۔ میں پہلی بار یہاں آیا اور انہیں لڑتے دیکھا ہے۔ ان کے جذبے کے
جنون کی جو کہانیاں سنی تھیں وہ اپنی آنکھوں دیکھ رہا ہوں۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا تھا کہ مسلمان کو عورت مار سکتی
ہے۔ ان کے درمیان جو خانہ جنگی ہوئی تھی ،وہ ہمارے بادشاہوں نے ان پر ایک سازش کے تحت بادشاہی ،زروجواہرات،
شراب اور عورت کا نشہ طاری کرکے کرائی تھی مگر صالح الدین ایوبی ایسا پتھر نکال کہ اس کے عزم کو متزلزل نہ کرسکے۔
اس نے اپنے ان بھائیوں کو جو ہمارے ہاتھ میں آگئے تھے ،تلوار کے زور سے اپنا مطیع کرلیا یا ان کے دلوں میں اسالمی
جذبہ بیدار کرلیا''۔
میں نے بھی یہ سنا ہے''۔ جوآنا نے کہا… ''میں نے ان لڑکیوں کے ا یثار کی کہانیاں بھی سنی ہیں جنہیں مسلمان ''
امراء اور حاکموں کے پاس جاسوسی اور دیگر تخریب کاری کے لیے بھیجا جاتا تھا۔ میرے خیال میں یہ طریقہ کامیاب نہیں
رہا''۔
میں اسے ناکام بھی نہیں کہتا''… رچرڈ نے کہا… ''اگر مسلمانوں کے قومی جذبے کو تباہ کرنے کے لیے یہ لڑکیاں ''
استعمال نہ کی جاتیں تو یہ لوگ بہت عرصہ پہلے نہ صرف یروشلم کو فتح کرچکے ہوتے بلکہ آدھے یورپ پر بھی قابض
ہوچکے ہوتے۔ ہم نے عورت کے حسن اور جسم کے جادو سے اور ان میں سے بہت سے امیروں ،وزیروں اور ساالروں کو سلطان
بنانے کے اللچ سے ان کا اتحاد توڑ دیا تھا۔ ان کی جنگی قوت انہیں آپس میں لڑا کر تباہ کردی تھی مگر یہ پھر متحد
ہوگئے ہیں''۔
آپ یہ باتیں مجھے کیوں سنا رہے ہیں؟'' جوآنا نے کہا… ''آپ کے بولنے کے انداز میں مایوسی کیوں ہے؟ میں آپ کی''
''کیا مدد کرسکتی ہوں؟
میں نے تمہیں کہا تھا کہ تم بھول جائو کہ تم میری بہن ہو۔ تم صلیب کی بیٹی ہو۔ صلیب کی فتح کے لیے تم بہت ''
کچھ کرسکتی ہو… تم دیکھ رہی ہو کہ ہم مسلمانوں کے خالف لڑ بھی رہے ہیں اور ہماری آپس میں مالقاتیں بھی ہوتی رہتی
ہیں۔ ہم ایک دوسرے کی طرف اپنے ایلچی بھیجتے رہتے ہیں۔ میری مالقات صالح الدین ایوبی کے بھائی العادل سے بھی
ہوچکی ہے۔ میں ان سے اپنی شرائط منوانے کی کوشش کررہا ہوں جو وہ نہیں مان رہے ہیں۔ میں انہیں کہہ رہا ہوں کہ
یروشلم اور صلیب الصلبوت ہمارے حوالے کردو اور تم ان عالقوں سے نکل جائو جن پر صلیبیوں کا قبضہ تھا۔ صالح الدین ایوبی
نے ایک بھی شرط ماننے سے انکار کردیا ہے''۔
''آپ صالح الدین ایوبی سے کیوں نہیں ملتے؟''
وہ مجھ سے ملنا نہیں چاہتا''… رچرڈ نے جواب دیا… ''وہ بیمار بھی ہے ،معلوم ہوتا ہے اس کا بھائی العادل اس جیسا ''
پرعزم اور پکا مسلمان ہے۔ وہ صالح الدین ایوبی کی جگہ لے رہا ہے۔ میں نے اس میں یہ کمزوری دیکھی ہے کہ جوان ہے
اور زندہ دل بھی لگتا ہے۔ میں اس شخص کے دل پر قبضہ کرنے کی سوچ رہا ہوں۔ میں اسے دوست بنا سکوں گا لیکن جو
''کام تمہارا ہے ،وہ میں کیسے کرسکتا ہوں؟… کیا تم نے اسے پسند نہیں کیا تھا؟
''آپ مجھ سے وہ کام لینے کی سوچ رہے ہیں جو ہماری تربیت یافتہ لڑکیاں بہت مدت سے کررہی ہیں؟''
ہاں!'' رچرڈ نے کہا… ''اس کے دل پر قبضہ کرو۔ محبت کا والہانہ اظہار کرو اور اسے کہو کہ تم اس کے ساتھ شادی ''
کرنا چاہتی ہو۔ میں درمیان میں آجائوں گا اور صالح الدین ایوبی سے کہوں گا کہ وہ اگر ساحلی عالقے اپنے بھائی اور میری
بہن کو دے دے تو میں اپنی بہن کی شادی العادل کے ساتھ کرنے کو تیار ہوں۔ تم العادل کو تیار کرنا کہ وہ اپنا مذہب ترک
کرکے عیسائیت کو قبول کرلے۔ اسے یہ اللچ دو کہ وہ ساحلی عالقے کی اتنی وسیع سلطنت کا سلطان بن جائے گا۔ مجھے
امید ہے کہ تم اسے صالح الدین ایوبی کے خالف کرسکو گی''۔
جوآنا کچھ دیر خاموش رہی۔ رچرڈ اسے دیکھتا رہا۔ آخر جوآنا نے آہ لی اور بولی۔ ''میں کوشش کروں گی''۔ :
مسلمانوں کو اسی دھوکے سے مارا جاسکے گا''۔ رچرڈ نے کہا… ''میں میدان جنگ میں انہیں شکست دینے کی پوری ''
کوشش کروں گا لیکن بہت لمبی مدت درکار ہوگی۔ میں شاید اس وقت تک زندہ نہ رہوں۔ مجھے واپس انگلستان بھی جانا ہے،
وہاں کے حاالت مخدوش ہیں۔ مخالفین میری غیرحاضری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں''۔
٭ ٭ ٭
جو کبوتر رچرڈ کے اوپر سے گزر کر آگیا تھا ،وہ صالح الدین ایوبی کے خیمے کے سامنے بنی ہوئی ایک کھپریل پر آن بیٹھا۔
دربان نے دوڑ کر اس کی ٹانگ سے بندھا ہوا پیغام کھوال اور خیمے میں لے گیا۔ سلطان ایوبی کمزوری محسوس کررہا تھا۔
ا سے آرام کی سخت ضروری تھی لیکن وہ اٹھ بیٹھا اور پیغام پڑھنے لگا۔ شہر کے اندر کی فوج کے ساتھ سلطان ایوبی کا
رابطہ پیامبر کبوتروں کے ذریعے قائم تھا۔ یہ پیغام عکرہ کے د ونوں حاکموں المشطوب اور بہائوالدین قراقوش کا تھا۔ قاضی
بہائوالدین شداد جو سلطان ایوبی کی مجلس مشاورت کااہم رکن اور اس کا ہم راز دوست بھی تھا ،اپنی یادداشتوں میں لکھتا
ہے کہ یہ دونوں غیرمعمولی طور پر دلیر اور ذہین ساالر تھے ،محاصرے میں ان کی حالت بہت بری ہوگئی تھی۔ شہر تباہ
ہورہا تھا لیکن یہ دونوں ہتھیار ڈالنے کی لیے تیار نہیں تھے۔ باہر والے ہر وقت یہ خبر سننے کے لیے تیار رہتے تھے کہ
عکرہ کی فوج نے ہتھیار ڈال دئیے ہیں۔
اس پیغام میں بھی المشطوب اور قراقوش نے سلطان ایوبی کو وہی کچھ لکھا تھا جو وہ ہر پیغام میں لکھتے ہیں۔ اب کے
انہوں نے زیادہ زور دے کر لکھا تھا کہ ہم سے یہ توقع نہ رکھنا کہ ہم جیتے جی ہتھیار ڈال دیں گے لیکن آپ کی مدد یہ
ہمارے لیے بے حد ضروری ہوگئی ہے کہ صلیبیوں پر باہر سے حملے زیادہ کردیں۔ سپاہیوں سے کہیں کہ وہ اسی جذبے سے
لڑیں جس جذبے سے شہر والے مقابلہ کررہے ہیں۔ آدھا شہر جل چکا ہے۔ فوج بھی آدھی رہ گئی ہے لیکن شہریوں کے جذبے
کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے ایک وقت کا کھانا چھوڑ دیا ہے۔ عورتیں بھی ہمارا ساتھ دے رہی ہیں۔ لوگ کھانا خود کم کھاتے
اور فوج کو زیادہ کھالتے ہیں۔
انہوں نے دیوار کی یہ کیفیت لکھی کہ صلیبیوں کی منجنیقوں کی مسلسل سنگ باری سے دیوار کئی جگہوں سے ٹوٹ گئی
ہے۔ باالئی حصہ ختم ہوچکا ہے۔ برج گر پڑے ہیں۔ دشمن نے باہر خندق کو کئی جگہوں سے اپنے سپاہیوں کی الشوں اور
مرے ہوئے گھوڑوں اور مٹی سے بھرلی ہے۔ جہاں سے وہ دیوار کے قریب آکر دیوار پر چڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ جب
ڈھولوں کی آوازیں سنیں ،عقب سے صلیبیوں پر بہت ہی سخت حملہ کریں۔ ہم ڈھول اس وقت بجایا کریں گے جب صلیبی
دیوار پر حملہ کیا کریں گے۔آپ ایسے جانباز تیار کریں جو سمندر کی طرف سے ہم تک اسلحہ پہنچائیں۔
سلطان ایوبی کمزوری اور بخار کے باوجود اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے پیغام کا جواب لکھوایا جس میں اس نے عکرہ والوں کی
حوصلہ افزائی کی۔ یہ بھی لکھا کہ جانباز پہلے ہی شہر تک اسلحہ پہنچانے کے لیے جاچکے ہیں۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔
اسالم پر بڑا ہی سخت وقت آن پڑا ہے۔یہ میری ہی کوشش تھی کہ صلیبی بیت المقدس کی طرف بڑھنے کے بجائے عکرہ کا
محاصرہ کریں تاکہ میں انہیں یہیں الجھا کر ان کی جنگی طاقت کمزور کردوں۔ تم لوگ عکرہ کے دفاع کے لیے نہیں ،مسجد
اقصی کے دفاع کے لیے لڑ رہے ہو۔
ٰ
یہ پیغام کبوتر کے ذریعے بھجوا کر سلطان ایوبی نے اپنے ساالروں کو بالیا اور انہیں کہ میرے پاس ہر ایک کمان دار اور ہر
ایک سپاہی کے پاس جانے کا وقت نہیں رہا۔ میرے جسم میں جو طاقت رہ گئی ہے ،اسے میں جہاد میں صرف کرنا چاہتا
ہوں۔ اپنے کمان دار اور سپاہیوں سے کہو کہ اپنے اللہ ،اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اپنے مذہب کے لیے لڑو۔
اب یہ نہ سوچو کہ تم اپنے سلطان کے حکم سے لڑ رہے ہو ،یہ بھی نہ سوچو کہ تمہیں اب زندہ رہنا ہے۔ اس کا اجر
تمہیں اللہ دے گا۔
قاضی بہائوالدین شداد لکھتا ہے کہ سلطان ایوبی ایسا جذباتی کبھی نہیں ہوا تھا۔ اس کی جذباتی حالت بالکل اس ماں سے :
ملتی جلتی تھی جس کا بچہ کھو گیا ہو۔ وہ سوتا نہیں تھا۔ آرام نہیں کرتا تھا۔ میں نے اسے کئی بار کہا کہ سلطان! اپنی
صحت کا خیال رکھو۔ تم اپنے اعصاب کو تباہ کررہے ہو۔ اللہ کو یاد کرو۔ فتح وشکست اسی کے ہاتھ میں ہے… سلطان کے
آنسو نکل آئے۔ اس نے جذباتیت سے کانپتی ہوئی آواز میں کہا… ''بہائوالدین شداد! میں صلیبیوں کو بیت المقدس نہیں دوں
گا۔ میں اس مقدس جگہ کی بے حرمتی نہیں ہونے دوں گا جہاں سے میرے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا کے
حضور گئے تھے۔ اس جگہ میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا تھا… وہ گرج کر بوال… نہیں… بہائوالدین! نہیں۔
میں مرکے بھی صلیبیوں کو بیت المقدس نہیں دوں گا''۔
قاضی شداد آگے چل کر لکھتا ہے کہ ایک رات وہ اس قدر بے چین تھا کہ میں بہت دیر اس کے ساتھ رہا۔ اسے نیند نہیں
آرہی تھی۔ میں نے اسے قرآن کی دو تین آیتیں بتائیں اور کہا کہ یہ پڑھتے رہو۔ اس نے آنکھیں بند کرلیں اور اس کے ہونٹ
ہلنے لگے۔ وہ آیتیں پڑھ رہا تھا۔ پڑھتے پڑھتے سوگیا۔ سوتے میں بڑبڑایا… ''یعقوب کی کوئی خبر نہیں آئی؟… وہ شہر میں
داخل ہوجائے گا''… پھر وہ سوگیا لیکن میں دیکھ رہا تھا کہ وہ نیند میں بھی بے چین تھا۔
سلطان ایوبی کے خیمے سے عکرہ کی دیوار نظر آتی تھی۔ اس کے باہر صلیبی لشکر یوں دکھائی دیتا تھا جیسے چیونٹیاں
کسی چیز پر اکٹھی ہوگئی ہوں۔ رات کو عکرہ کی دیواروں پر مشعلیں چلتی پھرتی رہتی تھیں اور رات کے اندھیرے میں آگ
کے گولے دیوار کے اوپر سے اندر جاتے نظر آتے تھے۔ دیوار سے بھی ایسے گولے باہر آتے تھے۔ سلطان ایوبی کے چھاپہ مار
راتوں کو دشمن پر شب خون مارتے رہتے تھے۔
٭ ٭ ٭
نیند میں سلطان ایوبی جس یعقوب کا نام لے رہا تھا۔ وہ اس کی بحریہ کا ایک بڑا ہی دلیر کپتان تھا۔ عکرہ شہر کے اندر
رسد ا ور اسلحہ پہنچانا نا ممکن ہوگیا تھا۔ پچھلی قسط میں بیان کیا جاچکا ہے کہ شہر کے ایک طرف سمندر تھا اور ادھر
صلیبیوں کے بحری جہاز بکھرے ہوئے تھے۔ شہر والوں کو سامان پہنچانا بڑا ہی ضروری تھا۔ سلطان ایوبی نے اپنے اس بحری
بیڑے سے اس مہم کے لیے رضاکار مانگے تھے۔ یعقوب نے اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔ اس وقت کے واقعہ نگاروں ،قاضی
بہائوالدین شداد اور دو اور مؤرخوں نے یعقوب کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ وہ حلب کا رہنے واال تھا۔ اس نے بحریہ اور فوج
کے سپاہی منتخب کیے۔ ان کی تعداد چھ سو پچاس تھی۔ انہیں یعقوب اپنے جہاز میں لے گیا اور بیروت چال گیا وہاں سے
اس نے جہاز کو ( جو بڑا جنگی جہاز تھا) رسد اور اسلحہ سے بھر لیا۔ یہ اتنا زیادہ سامان تھا جو عکرہ والوں کو بڑے لمبے
عرصے تک لڑنے کے قابل بنا سکتا تھا۔
یعقوب نے اپنے سپاہیوں سے کہا کہ جانیں قربان کردینی ہیں ،یہ سامان عکرہ تک پہنچانا ہے۔ جہاز جب عکرہ سے کچھ ہی
دور رہ گیا تھا کہ صلیبیوں کے چالیس جہازوں نے اسے گھیر لیا۔ یعقوب کے جانبازوں نے بے جگری سے مقابلہ کیا۔ جہاز چلتا
رہا اور یعقوب اسے عکرہ کے ساحل کی طرف لے جاتا رہا۔ جانبازوں نے دشمن کے جہازوں کو بہت نقصان پہنچایا۔ ایک
فرانسیسی مؤرخ ڈی ونسوف نے لکھا ہے کہ وہ جنات اور بدروحوں کی طرح لڑے لیکن دشمن کے گھیرے سے نہ نکل سکے۔
آدھے سے زیادہ مسلمن سپاہی تیروں کا نشانہ بن گئے۔
یعقوب نے جب دیکھا کہ جہاز بادبان برباد ہوجانے سے کھلے سمندرکی طرف بہہ گیا ہے اور اب دشمن جہاز پر قبضہ کرلے گا
تو اس نے اپنے جانبازوں سے چال کر کہا… ''خدا کی قسم! ہم وقار سے مریں گے ،دشمن کو نہ یہ جہاز ملے گا نہ اس
میں سے کوئی چیز اس کے ہاتھ آئے گی… جہاز میں سوراخ کردو۔ سمندر کو جہاز کے اندر آنے دو''… عینی شاہدوں کا بیان
ہے کہ جو جانباز زاندہ رہ گئے تھے ،انہوں نے عرشے کے نیچے جاکر جہاز کو توڑنا شروع کردیا۔ تختے ٹوٹے تو سمندر جہاز
میں داخل ہونے لگے۔ کسی بھی جانباز نے جہاز سے کود کود کر جان بچانے کی کوشش نہ کی۔ سب جہاز کے ساتھ سمندر
کی تہہ میں چلے گئے۔
اس واقعہ کی تاریخ ٨جون ١١٩١ء لکھی گئی ہے۔
سلطان ایوبی کو اس واقعہ کی اطالع ملی تو وہ خیمے سے نکال۔ اس کا گھوڑا ہر وقت تیار رہتا تھا۔ اس نے بلند آواز سے
حکم دیا… ''دف بجائو''۔ دف بج اٹھے… یہ حملے کا سگنل تھا۔ ذرا سی دیر میں اس کے دستے حملے کی تیاری کے لیے
جمع ہوگئے… سلطان ایوبی نے اتنا ہی کہا… ''آج دشمن کو چیر کر دیوار تک پہنچنا ہے''… اس نے گھوڑے کو ایڑ لگائی
اور اس کے تمام دستے سوار اور پیادے اس کے پیچھے گئے۔ یہ بظاہر اندھا دھند حملہ تھا لیکن سلطان ایوبی نے پہلے ہی
فوج کو ترتیب بتا رکھی تھی۔ صلیبیوں نے مسلمانوں کو یوں قہر وغضب سے آتے دیکھا تو ان کے پیادہ دستے کمانوں میں تیر
ڈال کر دیوار کی مانند کھڑے ہوگئے۔ صلیبی فوج کے مورچے بھی تھے۔ انہوں نے تیر برسانے شروع کردئیے۔
حملے کی قیادت سلطان ایوبی خود کررہا تھا۔ اس لیے اس کے مملوک بجلیوں کی طرح صلیبیوں پر ٹوٹے مگر صلیبیوں کی
تعداد بہت ہی زیادہ تھی۔ مسلمان یوں لڑے جیسے وہ زندہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ گھوڑ سوار گھوڑے گھما گھما کر التے اور
حملے کرتے تھے۔ یہ معرکہ اس وقت ختم ہوا جب شام تاریک ہوگئی۔ صلیبیوں کا نقصان بہت ہی زیادہ ہوا تھا مگر وہ
کامیابی حاصل نہ کی جاسکی جس کے لیے سلطان ایوبی نے حملہ کرایا تھا۔
ایسا حملہ پہال اور آخری نہیں تھا۔ عکر ہ دوسال محاصرے میں رہا۔ اس دوران سلطان ا یوبی نے عقب سے ایسے کئی حملے
کرائے۔ ہر حملے میں جانبازوں نے بہادری کی ایسی مثالیں پیش کیں جو اس سے پہلے وہ خود بھی پیش نہیں کرسکے تھے۔
اس دوران سلطان ایوبی کو مصر سے بھی کمک ملی اور کئی ایک مسلمان عمارتوں نے اسے اپنی فوجیں اور سامان بھیجا۔
اگر ہر حملے کا ذکر تفصیل سے کیا جائے تو سینکڑوں صفحے درکار ہوں گے۔ یہ جہاد کا جذبہ نہیں ،بلکہ جنون تھا۔ ان
حملوں سے عکرہ کا محاصرہ تو نہ توڑا جاسکا لیکن صلیبیوں پر یہ خوف طاری ہوگیا کہ مسلمان ا نہیں یہاں سے زندہ نہیں
نکلنے دیں گے۔ صلیبیوں کا چونکہ لشکر زیادہ تھا ،اس لیے ان کا جانی نقصان بھی زیادہ ہوتا تھا۔ اتنی زیادہ الشوں اور
زخمیوں کو د یکھ دیکھ کر صلیبیوں کا حوصلہ مجروح ہورہا تھا۔ مسلمانوں کے قہر کا اثر خود رچرڈ کے دل پر پڑ رہا تھا۔
اس دوران رچرڈ سلطان ایوبی کے پاس صلح کے لیے اپنے ایلچی بھیجتا رہتا تھا۔ اس کا ایلچی العادل کے پاس آیا کرتا اور
العادل صلح کا پیغام سلطان ایوبی تک پہنچایا کرتا تھا۔ اس کے مطالبات یہ تھے کہ بیت المقدس جسے وہ یروشلم کہتے تھے،
انہیں دے دیا جائے۔ صلیب الصلبوت انہیں واپس دے دی جائے اور صلیبی جن عالقوں پر حطین کی جنگ سے پہلے قابض
ہوچکے تھے ،وہ عالقے صلیبیوں کو واپس دے دئیے جائیں… سلطان ایوبی یروشلم کا نام سن کر بھڑک اٹھتا تھا۔ تاہم اس نے
العادل کو اجازت دے رکھی تھی کہ وہ رچرڈ کے ساتھ صلح کی بات چیت جاری رکھے۔ تقریبا ً تمام مؤرخ لکھتے ہیں کہ رچرڈ
اور العادل دوست بن گئے تھے اور العادل جب رچرڈ کے پاس جاتا یا رچرڈ اسے ملنے آتا تو رچرڈ کی بہن جوآنا بھی ساتھ
ہوتی تھی۔ اس دوستی کے باوجود العادل رچرڈ کی شرائط تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا تھا۔
ان مالقاتوں کے ساتھ عکرہ کی جنگ جاری تھی۔ خونریزی بڑھتی جارہی تھی اور عکرہ والوں کی حالت بہت ہی بری ہوتی
جارہی تھی۔ محاصرہ کرنے والوں میں د وسرے صلیبی بادشاہ بھی تھے جن میں قابل ذکر فرانس کا بادشاہ تھا۔ انگلستان کا
بادشاہ رچرڈ ان سب کا لیڈر بن گیا تھا۔
٭ ٭ ٭
میں نے یہ کامیابی حاصل کرلی ہے کہ اس نے میری محبت قبول کرلی ہے''… جوآنا نے اپنے بھائی رچرڈ سے کہا… ''
''لیکن میں نے اس میں وہ کمزوری نہیں دیکھی جو آپ بتاتے تھے کہ ہر مسلمان امیر اور حاکم میں پائی جاتی ہے۔ وہ
میرے ساتھ شادی کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے لیکن اپنا مذہب چھوڑنے کے بجائے مجھے اسالم قبول کرنے کو کہتا ہے''۔
معلوم ہوتا ہے تم نے اپنا جادو اس طرح نہیں چالیا جس طرح اس فن کی ماہر لڑکیاں چالتی رہتی ہیں''… رچرڈ نے کہا…''
'' یہ میں نے بھی دیکھ لیا ہے کہ العادل کردار کا پکا ہے۔ میں اسے کہہ چکا ہوں کہ اگر وہ تمہارے ساتھ شادی کرنا چاہتا
ہے تو عیسائیت قبول کرلے اور اپنے بھائی سے کہے کہ ساحلی عالقہ اسے دے دے جس پر اس کی اور تمہاری حکمرانی
ہوگی۔ اس نے جواب دیا کہ اپنا مذہب ترک کرنا ہوتا تو اتنے خون خرابے کی کیا ضرورت تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ
تم میری بہن کو پسند کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ اپنی بہن سے پوچھو ،میں اسے اتنا ہی چاہتا ہوں جتنا وہ مجھے
چاہتی ہے۔ میں نے اسے کہا کہ مجھے ان کے میل مالقات اور محبت پر کوئی اعتراض نہیں… شکار جال میں آگیا ہے۔ اب
یہ تمہارا کمال ہوگا کہ اسے شیشے میں اتار لو''۔
مجھے یاد آیا''… جوآنا نے کہا… ''میری دونوں خادمائیں کہیں نظر نہیں آرہیں۔ رات یہیں تھیں۔ صبح سے غائب ہیں''۔''
میرا خیال ہے وہ اب غائب ہی رہیں گی''۔ رچرڈ نے کہا۔ ''وہ مسلمان تھیں''۔''
وہ سسلی کی مسلمان تھیں''… جوآنا نے کہا… ''اور وہ اس وقت سے میرے ساتھ تھیں ،جب میری شادی ہوئی اور میں''
سسلی گئی تھی''۔
مسلمان کہیں کا بھی رہنے واال کیوں نہ ہو ،سب کا جذبہ ایک سا ہوتا ہے''… رچرڈ نے کہا… ''اسی لیے ہم اس قوم کو''
خطرناک سمجھتے ہیں اور ہم اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ ان کا اتحاد ٹوٹ جائے۔ ان دونوں نے یہاں آکر دیکھا کہ ہم
ان کی قوم کے خالف لڑ رہے ہیں تو وہ ان کے پاس چلی گئیں''۔
رچرڈ ٹھیک کہہ رہا تھا۔ اس وقت یہ دونوں عورتیں سلطان ایوبی کے پاس پہنچ چکی تھیں۔ ان کی چھان بین کرکے انہیں
سلطان کے پاس لے جایا گیا۔ انہوں نے سلطان سے ملنے کی خواہش کی تھی اور کہا تھا کہ وہ کچھ باتیں صرف سلطان کو
بتانا چاہتی ہیں۔انہوں نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ وہ سسلی میں جنی پلی ہیں اور لڑکپن میں شاہی محل میں مالزم ہوگئی
تھیں ،جب جوآنا بادشاہ کی بیوی بن کر آگئی تو ان دونوں کو جسمانی چستی اور اچھی شکل وصورت کی وجہ سے جوآنا کی
خاص خادمائیں بنا دیا گیا… سسلی میں مسلمانوں کی اکثریت تھی ،اس لیے وہاں اسالم زندہ تھا۔ ان دونوں کو بھی اپنا مذہب
یاد رہا۔ جوآنا بیوہ ہوگئی تو شہنشاہ رچرڈ آگیا۔ وہ جوآنا کو اپنے ساتھ الیا تو ان دونوں کو بھی ساتھ آنا پڑا۔ یہاں انہوں نے
عیسائیوں کو مسلمانوں کے خالف لڑتے دیکھا تو کفار کی نوکری سے ان کا دل اچاٹ ہوگیا۔
یہ دونوں عورتیں صرف جسمانی طورپر ہی چست اور چاالک نہیں تھیں ،ذہنی طور پر بھی ہوشیار تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ
جوآنا رچرڈ کی منگیتر کو بتا رہی تھی کہ اس نے صالح الدین ایوبی کے بھائی العادل کو پھانس لیا ہے۔ وہ کہتی تھی کہ
العادل کے دل میں اس کی اور اس کے دل میں العادل کی محبت پیدا ہوگئی ہے اور اگر العادل نے اپنا مذہب ترک کردیا تو
ان کی شادی ہوجائے گی پھر صالح الدین ایوبی کو مارنا اور یروشلم پر قبضہ کرنا آسان ہوجائے گا۔ ان عورتوں نے اس شک
کا بھی اظہار کیا کہ العادل اور جوآنا کہیں ملتے مالتے بھی ہیں۔ یہ خبر سلطان ایوبی تک پہنچانے کے لیے دونوں عورتیں
وہاں سے بھاگ آئیں۔ قاضی بہائوالدین شداد نے اپنی یادداشتوں میں ان عورتوں کے نام نہیں لکھے ،یہ لکھا ہے کہ سلطان
ایوبی نے ان دونوں کو نہایت عزت واحترام اور انعام واکرام کے ساتھ دمشق بھیج دیا۔
٭ ٭ ٭
سلطان ایوبی نے ان عورتوں کی اطالع پر تو یقین کرلیا لیکن اسے یہ یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کا سگا بھائی اسے دھوکہ
دے رہا ہے۔ اسے اپنے ہر ساالر پر اعتماد تھا لیکن العادل اور اپنے دو بیٹوں (االفضل اور الظاہر) کی موجودگی میں وہ بہت
سی پریشانیوں سے آزاد تھا۔ صلیبیوں پر عقب سے جو حملے کیے جاتے تھے ،ان کی قیادت یہ تینوں کرتے یا وہ خود کرتا
تھا۔ اس کے عالوہ العادل ہی صلیبی حکمرانوں ،خصوصا ً رچرڈ سے ملتا اور بات چیت کرتا تھا۔ تاہم اس نے العادل کے ساتھ
بات کرلینا مناسب سمجھا مگر عکرہ کی جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی تھی۔ مسلمانوں کی کمک آرہی تھی۔
العادل کہیں نظر نہیں آتا تھا۔ اس کے متعلق سلطان ایوبی کو یہی اطالعات ملتی تھیں کہ آج اس نے فالں جگہ حملہ کیا
ہے اور آج فالں جگہ۔ سلطان ا یوبی کو اپنے بیٹے بھی نہیں ملتے تھے۔ اب تو اس کی اپنی یہ حالت تھی کہ صحت کی
خرابی کے باوجود جنگ میں شریک رہتا تھا۔
عکرہ کی دیوار ایک جگہ سے مسلسل سنگ باری سے گر پڑی تھی۔ صلیبی وہاں سے اندر جانے کی کوشش کرتے تو مسلمان
جانوں کی بازی لگا کر انہیں روکتے تھے۔ دور سے نظر آنے لگا تھا کہ یہ شگاف دونوں فریقوں کی الشوں سے بھرتا جارہا
ہے۔ آخر اندر سے کبوتر یہ پیغام الیا… ''اگر کل تک ہمیں مدد نہ پہنچی یا آپ نے باہر سے محاصرہ توڑنے کی کوشش نہ
کی تو ہمیں ہتھیار ڈالنے پڑیں گے ،کیونکہ شہریوں کے بچے بھوک سے بلبال رہے ہیں۔ شہر جل رہا ہے اور فوج تھوڑی رہ
گئی ہے اور جو رہ گئی ہے وہ مسلسل دو سال بغیر آرام کیے لڑ لڑ کر الشیں بن گئی ہیں''۔
سلطان ایوبی کے آنسو نکل آئے۔ اس نے اسی وقت اپنے تمام تر دستے یکجا کرکے بڑا ہی شدید حملہ کیا۔ ایسی خونریزی
ہوئی کہ تاریخ کے ورق پھڑپھڑانے لگے۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ انسانی ذہن ایسی خونریزی کو تصور میں نہیں السکتا۔ رات کو
بھی مسلمانوں نے صلیبیوں کو چین نہ لینے دیا۔ آدھی رات کے بعد سلطان ایوبی اس طرح اپنے خیمے میں آیا اور پلنگ پر
گرا جیسے اس کا جسم زخموں سے چور ہوگیا ہو۔ اس نے ہانپتی کانپتی آواز میں حکم دیا کہ صبح پھر ایسا ہی حملہ ہوگا
مگر صبح کی روشنی نے اسے جو منظر دکھایا ،اس سے اس پر نیم غشی کی کیفیت طاری ہوگئی۔ عکرہ کی دیواروں پر
صلیبیوں کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔ صلیبیوں کا لشکر شگاف سے ا ندر جارہا تھا… یہ جمعہ کا دن تھا۔ تاریخ ١٧جمادی الثانی
٥٨٧ہجری (١٢جوالئی ١١٩٢ئ) تھی۔
المشطوب اور قراقوش نے صلیبیوں سے شرائط طے کرلی تھیں۔ اس کے باوجود سلطان ایوبی کو یہ منظر بھی دیکھنا پڑا کہ
فرنگی تقریبا ً تین ہزار مسلمان قیدیوں کو رسوں سے باندھے عکرہ سے باہر الئے۔ ان میں فوجی تھے اور شہری بھی۔ انہیں
ایک جگہ کھڑا کردیا گیا اور چاروں طرف سے صلیبیوں کی فوج کے سوار اور پیادہ دستوں نے ان بندھے ہوئے نہتے قیدیوں پر
حملہ کردیا۔ سلطان ایوبی کی فوج کو بالکل توقع نہیں تھی کہ صلیبی اس قدر درندگی اور ذلت کا مظاہرہ بھی کرسکتے ہیں۔
جب صلیبی فوج قیدیوں پر ٹوٹ پڑی۔ مسلمان فوج کسی کے حکم کے بغیر اٹھ دوڑی اور صلیبیوں پر پورے قہر سے حملہ کیا
مگر تمام قیدی شہید کیے جاچکے تھے۔ دونوں فوجوں میں بڑا سخت تصادم ہوا۔
٭ ٭ ٭
اس دوران رچرڈ پر بھی سلطان ایوبی کی طرح بیماری کے شدید حملے ہوئے۔ دنیائے صلیب کو اس پر بڑا ہی بھروسہ تھا۔ اس
میں کوئی شک نہیں کہ وہ شیردل تھا مگر عکرہ کے محاصرے میں جہاں وہ کامیاب ہوا تھا ،وہاں اس کا حوصلہ بھی ٹوٹ
گیا تھا ،اسے توقع نہیں تھی کہ مسلمان اتنی بے جگری سے لڑتے ہیں۔ اس کی منزل اب بیت المقدس تھی۔ اس نے ساحل
کے ساتھ ساتھ کوچ کیا۔ آگے عسقالن اور حیفہ جیسے بڑے شہر اور قلعے تھے۔ سلطان ایوبی نے اس کا ارادہ بھانپ لیا۔ وہ
ان شہروں اور قلعوں پر قبضہ کرکے یہاں اپنے اڈے بنانا اور بیت المقدس پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔
سلطان ایوبی نے بیت المقدس کی خاطر بہت بڑی قربانی دینے کا فیصلہ کرلیا۔ اس نے حکم دیا۔ ''عسقالن کو تباہ کردو،
قلعے اور شہر کو ملبے کا ڈھیر بنا دو''… ساالروں اور مشیروں پر سکتہ طاری ہوگیا۔ اتنا بڑا شہر؟ اتنا مضبوط قلعہ؟… سلطان
ایوبی نے گرج کر کہا… ''شہر پھر آباد ہوجائیں گے۔ انسان پیدا ہوتے رہیں گے مگر بیت المقدس کو صلیبیوں سے بچائے
اقصی پر قربان کردو''۔
رکھنے کے لیے صالح الدین ایوبی شاید پھر پیدا نہ ہوہ… اپنے تمام شہر اور بچے مسجد
ٰ
سلطان ایوبی بے شک جذباتی ہوگیا تھا لیکن اس نے فن حرب وضرب اور حقائق سے چشم پوشی نہ کی۔ اپنے چھاپہ مار
دستوں کو صلیبی لشکر کے پیچھے ڈال دیا۔ یہ دستے بکھر کر رچرڈ کے لشکر پرجو کوچ کررہا تھا ،عقبی حصے میں شب
خون مارتے اور غائب ہوجاتے۔ اس طرح اس لشکر کا کوچ بہت ہی سست رہا۔ دشمن کی رسد محفوظ نہ رہی۔ رچرڈ عسقالن
جارہا تھا ،وہاں پہنچا تو قلعہ اور شہر ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے۔ وہاں جو مسلمان فوج تھی ،اسے بیت المقدس کے دفاع
کے لیے بھیج دیا گیا تھا۔ رچرڈ کے راستے میں جتنے قلعے آئے وہ سب مسمار ہوچکے تھے۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ رچرڈ کا
دماغ خراب ہونے لگا تھا کہ مسلمان ایسی قربانی بھی دے سکتے ہیں۔ وہ جان گیا کہ بیت المقدس پر قبضہ آسان نہیں۔
اس پر یہ افتاد بھی پڑی کہ فرانس کا بادشاہ اس کا ساتھ چھوڑ گیا۔ انہوں نے عکرہ لے تو لیا تھا لیکن مسلمانوں نے اس
کامیابی میں ان کی کمر توڑ دی تھی۔ سلطان ایوبی عکرہ کے ہاتھ سے نکل جانے کا بہت افسوس تھا لیکن اس کی یہ چال
کامیاب تھی کہ اس نے صلیبیوں کا جنگی طاقت کا گھمنڈ توڑ دیا تھا۔ اس نے اب پھر اپنا مخصوص طریقہ جنگ شروع کردیا
تھا۔ یہ شب خونوں اور چھاپوں کا سلسلہ تھا۔ یورپی مؤرخوں نے لکھا ہے کہ مسلمان چھاپہ مار رات کی تاریکی میں طوفان
کی طرح آتے اور صلیبی فوج کے عقبی حصے پر شب خون مار کر بے تحاشہ نقصان کرتے اور غائب ہوجاتے تھے۔ اس طرح
صلیبیوں کے لیے ایک ماہ کا سفر تین ماہ کا ہوجاتا تھا۔ سلطان ایوبی نے صلیبیوں کے کوچ کی رفتار سست کرکے بیت
المقدس کا دفاع مضبوط کرلیا۔
٭ ٭ ٭
جوآنا کچھ کرو… صلیب کی خاطر کچھ کرو''… رچرڈ نے اپنی بہن سے کہا… ''العادل کو ہاتھ میں لو۔ ہم لڑ کر بیت ''
المقدس نہیں لے سکتے''۔
وہ مجھے چاہتا ہے''… جوآنا نے جواب دیا… ''کوچ کے دوران بھی میری اس سے مالقات ہوچکی ہے ،میں یہ بھی کہہ ''
سکتی ہوں کہ وہ مجھے والہانہ طور پر چاہنے لگا ہے لیکن کہتا ہے کہ مسلمان ہوجائو۔ وہ میری کوئی شرط ماننے پر آمادہ
نہیں ہوتا''۔
ادھر سلطان ایوبی نے العادل ،اپنے بیٹوں کو ساالروں کو بال رکھا تھا۔ اس کی زبان پر اب دو ہی لفظ رہتے تھے… ''اسالم
اور بیت المقدس''… اس نے ان سب کو بیت المقدس کے دفاع کی ہدایات دیں۔ کانفرنس کے بعد العادل اسے تنہائی میں مال
اور کہا… ''رچرڈ مجھے اپنی بہن پیش کررہا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اپنا مذہب ترک کردوں''۔
''تمہیں اسالم سے زیادہ محبت ہے یا رچرڈ کی بہن سے؟''
دونوں سے''۔''
تو اسے ا پنے مذہب میں الئو اور شادی کرلو''… سلطان ایوبی نے کہا… ''میں اجازت دیتا ہوں''۔''
میں آپ سے شادی کی اجازت لینے نہیں آیا''… العادل نے کہا… ''میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ رچرڈ جیسا دلیر اور ''
جنگجو بادشاہ بھی ان ذلیل ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے اس کی بہن اچھی لگتی ہے لیکن میں
آپ کو یقین دالتا ہوں کہ اپنے مذہب سے غداری نہیں کروں گا''۔
اور وہ بھی اپنے مذہب سے غداری نہیں کرے گی''۔''
جائے جہنم میں''… العادل نے کہا… ''ان حربوں سے رچرڈ بیت المقدس نہیں لے سکتا''۔''
سلطان ایوبی کے چہرے پر رونق آگئی۔ :۔ یورپی مؤرخوں نے رچرڈ کی اس حرکت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ وہ
لکھتے ہیں کہ رچرڈ نے اس شرط پر اپنی بہن العادل کو پیش کی تھی کہ وہ عیسائی ہوجائے لیکن رچرڈ کی بہن نے العادل
کو دھتکار دیا تھا۔
یہ پردہ اسی وقت چاک ہوگیا تھا ،جب رچرڈ بیت المقدس کے قریب جاکر خیمہ زن ہوا۔ یہاں عکرہ کی جنگ سے زیادہ
خونریز معرکوں کی توقع تھی لیکن رچرڈ نے اپنی وہی شرائط پیش کرنی شروع کردیں جو وہ پہلے کرچکا تھا۔ ایک بار سلطان
ایوبی نے اس کے ایلچی کی بے عزتی کردی اور اسے فورا ً واپس چلے جانے کو کہہ دیا۔ اس دوران سلطان ایوبی کو پتہ چال
کہ رچرڈ اتنا زیادہ بیمار ہوگیا ہے کہ اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں رہی۔ سلطان ایوبی رات کو اپنے خیمے سے نکال ارو
رچرڈ کے خیموں کا رخ کرلیا۔ اس نے صرف العادل کو بتایا کہ وہ کہاں جارہا ہے۔ العادل نے ہنس کرکہا کہ فالں جگہ
رچرڈکی بہن میرے انتظار میں کھڑی ہوگی۔ اسے بھی ساتھ لے جانا۔
جوآنا وہاں کھڑی تھی۔ اس نے گھوڑے کے قدموں کی آہٹ سنی تو دوڑ کر آئی اور بولی… ''تم آگئے العادل؟''… سلطان
ایوبی گھوڑے سے اترا اور جوآنا کو گھوڑے پر بٹھا کر خاموشی سے رچرڈ کی خیمہ گاہ کی طرف چل پڑا۔ جوآنا کچھ کہہ رہی
تھی۔ سلطان ایوبی نے عربی زبان میں کہا… ''تمہاری زبان میرا بھائی سمجھ سکتا ہے میں نہیں سمجھتا''… یہ جوآنا نہ
سمجھ سکی۔
سلطان ایوبی رچرڈ کے خیمے میں داخل ہوا۔ رچرڈ واقعی سخت بیمار تھا۔ اس نے سلطان ایوبی کے ساتھ بات کرنے کے لیے
اپنا ترجمان بال لیا۔ سلطان ایوبی نے پہلی بات یہ کہی… ''اپنی بہن کو سنبھالو۔ میرا بھائی اپنا مذہب ترک نہیں کرے گا…
اور مجھے بتائو کہ تمہیں تکلیف کیا ہے۔ میں تمہیں دیکھنے آیا ہوں۔ یہ نہ سمجھنا کہ تمہیں مرتا دیکھ کر میں حملہ کردوں
گا۔ صحت یاب ہوجاو گے تو دیکھا جائے گا''۔
رچرڈ حیرت سے اٹھ بیٹھا اور بے ساختہ بوال… ''تم عظیم ہو صالح الدین ایوبی… تم سچے جنگجو ہو''… اس نے اپنی
تکلیف بتائی۔ سلطان ایوبی نے کہا… ''ہمارے عالقے میں بیمار ہونے والے کو ہمارے ہی طبیب ٹھیک کرسکتے ہیں جس طرح
انگلستان کی فوج یہاں آکر بے کار ہوجاتی ہے ،اسی طرح تمہارے ڈاکٹر بھی یہاں آکر اناڑی ہوجاتے ہیں۔ میں اپنا طبیب
بھیجوں گا''۔
21:09
ُ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر 160/پھر شمع بجھ گئی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اسی طرح تمہارے ڈاکٹر بھی یہاں آکر اناڑی ہوجاتے ہیں۔ میں اپنا طبیب بھیجوں گا''۔''صالح الدین! ہم کب تک ایک
دوسرے کا خون بہاتے رہیں گے؟''… رچرڈ نے کہا… ''آئو ،صلح اور دوستی کرلیں''۔
لیکن میں دوستی کی وہ قیمت نہیں دوں گا جو تم مانگ رہے ہو''… سلطان ایوبی نے کہا… ''تم خون خرابے سے ڈرتے''
ہو ،بیت المقدس کی خاطر میری پوری قوم اپنا خون قربان کردے گی''۔
وہاں سے واپس آکر سلطان ایوبی نے اپنا طبیب رچرڈ کے عالج کے لیے بھیجا۔ اسے صحت یاب ہوتے ہوتے بہت دن گزر
گئے۔ سلطان ایوبی جنگ کے لیے تیار ہوچکا تھا لیکن حملے کے بجائے رچرڈ کی طرف سے صلح کی نئی شرطیں آئیں۔ رچرڈ
بیت المقدس سے دستبردار ہوگیا تھا۔ اس نے صرف یہ رعایت مانگی کہ عیسائی زائرین کو بیت المقدس میں داخلے کی
اجازت دے دی جائے اور ساحل کا کچھ عالقہ صلیبیوں کو دے دیا جائے۔ سلطان ایوبی نے یہ شرائط مان لیں۔ اس کی وجہ
یہ بیان کی گئی ہے کہ سلطان ایوبی کی فوج مسلسل لڑ رہی تھی اور شہادت اتنی زیادہ ہوچکی تھی کہ اب کم تعداد سے
اتنی بڑی فوج سے لڑنا ممکن نہیں رہا تھا۔ قاضی بہائوالدین شداد نے یہ بھی لکھا ہے کہ دو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا
تھا۔ سپاہی دن رات لڑتے رہے تھے۔ وہ ذہنی طور پر شل ہوچکے تھے۔ بعض دستوں میں احتجاج بھی شروع ہوگیا تھا۔
سلطان ایوبی جسمانی طور پر تھکی ہوئی اور ذہنی طورپر پژ مردہ فوج کے بل بوتے پر بیت المقدس کو خطرے میں ڈالنے سے
گریز کررہا تھا۔
رچرڈ مسلمانوں کی بے خوفی اور جذبے سے گھبرا رہا تھا۔ اس کی صحت بھی جواب دے گئی تھی۔ اس کے عالوہ اس کے
اپنے ملک میں اس کے مخالفین سراٹھا رہے تھے۔ انگلستان کا تخت وتاج خطرے میں پڑ گیا تھا۔
اس معاہدے پر ٢ستمبر ١١٩٢ء (٢٢شعبان ٥٨٨ہجری) کے روز دستخط ہوئے۔ رچرڈ ٩اکتوبر ١١٩٢ء کے روز اپنی فوج کے ساتھ
انگلستان کے لیے روانہ ہوا۔ اس معاہدے کی میعاد تین سال مقرر کی گئی۔ رچرڈ نے بوقت رخصت سلطان ایوبی کو پیغام
بھیجا کہ میں معاہدے کی میعاد گزرنے کے بعد یروشلم فتح کرنے آئوں گا… اس کے بعد کوئی صلیبی بیت المقدس کو فتح نہ
کرسکا۔ اس صدی میں جون ١٩٦٧ء میں عربوں کی بے اتفاقی نے اور ان کی انہی کمزوریوں نے جو کفار سلطان ایوبی کے دور
میں مسلمان امراء میں پیدا کرنے کی کوشش کررہے تھے ،بیت المقدس یہودیوں کے حوالے کردیا ہے۔
رچرڈ کی روانگی کے بعد سلطان ایوبی نے اعالن کیا کہ اس کی فوج کے جو افراد حج کے لیے جانا چاہتے ہیں ،اپنے نام دے
دیں ،انہیں سرکاری انتظامات کے تحت حج کے لیے بھیجا جائے گا۔ فہرستیں تیار ہوگئیں اور ان سب کو حج کے لیے روانہ
کردیا گیا۔ خود سلطان ایوبی کی دیرینہ خواہش تھی کہ حج کعبہ کو جائے مگر جہاد نے اسے مہلت نہ دی اور جب مہلت
ملی تو اس کے پاس سفر خرچ کے لیے پیسے نہیں تھے۔ اسے سرکاری خزانے سے پیسے پیش کیے گئے جو اس نے یہ کہہ
کر قبول نہ کیے کہ یہ خزانہ میرا ذاتی نہیں۔ اس نے اپنے آپ کو حج کی سعادت سے محروم کردیا ،سرکاری خزانے سے
ایک پیسہ نہ لیا۔ مصری واقعہ نگار محمد فرید ابوحدید لکھتا ہے کہ وفات کے وقت سلطان ایوبی کی کل دولت ٤٧درہم چاندی
کے اور ایک ٹکڑا سونے کا تھا۔ اس کا ذاتی مکان بھی نہیں تھا۔۔
سلطان صالح الدین ایوبی ٤نومبر ١١٩٢ء کے روز بیت المقدس سے دمشق پہنچا۔ اس کے چار ماہ بعد سلطان خالق حقیقی سے
جامال۔ دمشق پہنچنے سے وفات تک کا آنکھوں دیکھا حال قاضی بہائوالدین شداد کے الفاظ میں پیش کیا جاتا ہے۔
اس کے بچے دمشق میں تھے ،اس نے سستانے کے لیے اسی شہر کو پسند کیا۔ اس کے بچے اسے دیکھ کر تو خوش …''
ہوئے ہی تھے ،دمشق اور گردونواح کے لوگ اپنے فاتح سلطان کو دیکھنے کے لیے ہجوم د ر ہجوم آگئے۔ سلطان صالح الدین
ایوبی نے اپنی قوم کی یہ بے تابانہ عقیدت مندی دیکھی تو اگلے ہی روز (٥نومبر بروز جمعرات) دربار عام منعقد کیا جس
میں سلطان کو ملنے اور اگر کسی کو کوئی شکایت ہو تو بیان کرنے کی ہر کسی کو اجازت تھی… مرد ،عورتیں ،بوڑھے ،بچے،
امیر ،غریب ،حاکم اور عوام سلطان صالح الدین ایوبی سے ملنے جمع ہوگئے۔ شاعروں نے اس تقریب میں سلطان ایوبی کی
…''شان میں نظمیں سنائیں
سلطان صالح الدین ایوبی کو مسلسل جہاد اور سلطنت کی مصروفیات نے نہ دن کو کبھی چین لینے دیا ،نہ راتوں کو ''
اطمینان کی نیند سونے دیا تھا۔ وہ جسمانی طور پر بھی نڈھال ہوچکا تھا اور ذہنی طور پر بھی۔ تھکے ہوئے اعصاب کو تازہ
دم کرنے کے لیے اس نے دمشق کے عالقے میں ہرنوں (غزال) کے شکار کو شغل بنا لیا۔ وہ اپنے بھائیوں اور بچوں کے
ساتھ شکار کھیال کرتا تھا۔ اس کا ارادہ تھا کہ کچھ روز آرام کرکے مصر چال جائے گا مگر دمشق میں بھی سرکاری کاموں نے
…''اس کا پیچھا نہ چھوڑا
…
میں اس وقت بیت المقدس میں ( وزیر) تھا۔ ایک روز دمشق سے مجھے سلطان صالح الدین ایوبی کا خط مال۔ اس نے ''
مجھے دمشق میں بالیا تھا۔ میں فورا ً روانہ ہونے لگا مگر مسلسل موسالدھار بارشوں نے راستوں کو دلدل بنا دیا تھا۔ اس قدر
کیچڑ اور اتنی بارش میں میں انیس روز بعد بیت المقدس سے نکل سکا۔ میں ٢٣محرم الحرام بروز جمعہ وہاں سے روانہ ہوا
اور ١٢صفر بروز منگل دمشق پہنچا۔ اس وقت سلطان صالح الدین ایوبی کے مالقات کے کمرے میں امراء اور دیگر حکام سلطان
ایوبی کاانتظار کررہے تھے۔ سلطان ایوبی کو میری آمد کی اطالع دی گئی۔ اس نے مجھے فورا ً اپنے خاص کمرے میں بال لیا۔
میں جب اس کے سامنے گیا تو وہ بازو پھیال کر اٹھا اور مجھ سے بغل گیر ہوگیا۔ میں نے اس کے چہرے پر ایسا اطمینان
…''اور سکون کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے
اگلے روز اس نے مجھے بالیا۔ اس کے خاص کمرے میں پہنچا تو اس نے مجھ سے پوچھا کہ مالقات کے کمرے میں کون ''
لوگ بیٹھے ہیں۔ میں نے اسے بتایا کہ ( اس کا بیٹا) الملک االفضل ،چند ایک امراء اور بہت سے دوسرے لوگ آپ کی
مالقات کے لیے بیٹھے ہیں۔ اس نے جمال الدین اقبال سے کہا کہ ان لوگوں سے میری طرف سے معذرت کرکے کہہ دو کہ
…''آج میں کسی سے نہیں مل سکوں گا۔ اس نے میرے ساتھ کچھ ضروری باتیں کیں اور میں چال آیا
دوسرے دن اس نے مجھے علی الصبح بال لیا۔ میں گیا تو وہ اپنے باغیچے میں بیٹھا ،اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ ''
اس نے پوچھا کہ مالقات کے کمرے میں کوئی مالقاتی ہے؟ اسے بتایا گیا کہ فرنگیوں (فرینکس) کے ایلچی آئے بیٹھے ہیں۔
سلطان ایوبی نے کہا کہ فرنگی ایلچیوں کو یہیں بھیج دو۔ اس کے بچے وہاں سے چلے گئے۔ اس کا سب سے چھوٹا بچہ
امیر ابوبکر جس سے سلطان ایوبی کو بہت پیار تھا ،وہیں رہا۔ جب فرنگی آئے تو بچے نے ان کے بغیر داڑھیوں کے چہرے
اور ان کا لباس دیکھا تو بچہ ڈر کر رونے لگا۔ بچے نے بغیر داڑھی کے کبھی کوئی انسان نہیں دیکھا تھا۔ سلطان ایوبی نے
فرنگیوں سے معذرت کی کہ ان کے حلیے کو دیکھ کر بچہ رو پڑا ہے مگر سلطان نے بچے کو اندر بھیجنے کے بجائے فرنگیوں
…''سے کہا کہ وہ آج ان سے نہیں مل سکے گا۔ اس نے انہیں بغیر بات چیت کیے رخصت کردیا
ان کے جانے کے بعد اس نے کہا… ''جو کچھ پکا ہے لے آئو''… اس کے آگے ہلکی پھلکی غذا رکھی گئی جس میں ''
کھیر بھی تھی۔ اس نے بہت تھوڑا کھایا۔ میں نے محسوس کیا جیسے اس کی بھوک مرچکی ہو۔ میں نے اس کے ساتھ کھانا
کھایا۔ اس نے بتایا کہ وہ مالقاتیں کم کررہا ہے کیونکہ وہ بدہضمی اور کمزوری محسوس کرتا ہے۔ کھانے کے بعد اس نے مجھ
سے پوچھا… ''حاجی واپس آگئے ہیں؟''… میں نے اسے بتایا کہ راستے میں کیچڑ زیادہ ہے۔ شاید کل تک حاجی آجائیں۔
سلطان نے کہا… ''ہم ان کے استقبال کے لیے جائیں گے''… یہ کہہ کر اس نے ایک حاکم کو بال کر حکم دیا کہ حاجی
آرہے ہیں اور راستے میں کیچڑ اور پانی ہے۔ فورا ً آدمیوں کو بھیجو اور جس راستے سے حاجی آرہے ہیں ،اس راستے سے
کیچڑ اور پانی صاف کردو۔ میں اس سے اجازت لے کرچال آیا۔ میں دیکھ رہاتھا کہ اس کا جوش وخروش اور اس کی مستعدی
…''ماند پڑ گئی تھی
دوسرے دن وہ گھوڑے پر سوار ہوکر حاجیوں کے استقبال کے لیے نکال۔ میں بھی گھوڑے پر سوار ہوکر اس کے پیچھے گیا۔''
اس کا بیٹا الملک االفضل بھی آگیا۔ لوگوں میں جنگل کی آگ کی طرح یہ خبر پھیل گئی کہ سلطان باہر آیا ہے۔ لوگ کام
کاج چھوڑ کر اٹھ دوڑے۔ وہ اپنے فاتح سلطان کو قریب سے دیکھنا اور اس سے ہاتھ بھی مالنا چاہتے تھے۔ جب سلطان
عقیدت مندوں کے اس بے صبر اور بے قابو ہجوم میں گھر گیا تو اس کے بیٹے الملک االفضل نے گھبراہٹ کے عالم میں
مجھے کہا کہ سلطان نے سواری واال لباس نہیں پہن رکھا۔ (یہ زرہ بکتر کی قسم کا لباس ہوا کرتا تھا ،سلطان صالح الدین
ایوبی اس لباس کے بغیر کبھی باہر نہیں نکال تھا) ہمیں پریشانی ہوئی۔ سلطان کے ساتھ باڈی گارڈ بھی نہیں تھے۔ مجھ سے
رہا نہ گیا۔ ( سلطان ایوبی پر اس سے پہلے قاتالنہ حملے ہوچکے تھے ،اب بھی حملہ ہوسکتا تھا) میں ہجوم کو چیرتا ہوا
سلطان تک پہنچا اور اسے کہا کہ آپ اپنے مخصوص لباس میں نہیں ہیں۔ وہ اس طرح چونکا جیسے نیند سے جگا دیا گیا ہو۔
اس نے کہا کہ میرا لباس یہیں الیا جائے مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا جو اسے لباس الدیتا۔ مجھے کچھ زیادہ ہی خطرہ
…''محسوس ہونے لگا
مجھے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے کوئی حادثہ ہونے واال ہو۔ میں نے اسے کہا کہ میں یہاں کے راستوں سے واقف نہیں۔''
کیا کوئی ایسا راستہ ہے جہاں لوگ کم ہوں اور آپ واپس جاسکیں؟ اس نے کہا کہ ایک راستہ ہے۔ اس نے گھوڑا اس رخ کو
موڑ لیا۔ لوگوں کا ہجوم بے پناہ تھا۔ سلطان صالح الدین ایوبی نے گھوڑا باغوں کے درمیانی راستے پر ڈال دیا۔ میں اور الملک
االفضل اس کے ساتھ تھے۔ میرا دل بوجھل تھا۔ میں اس کی جان کو بھی خطرے میں محسوس کررہا تھا اور اس کی صحت
…''کو بھی۔ ہم المبینہ کے چشمے سے ہوتے ہوئے قلعے میں داخل ہوئے
جمعہ کی شام سلطان ایوبی نے غیرمعمولی کمزوری محسوس کی۔ آدھی رات سے ذرا پہلے اسے بخار ہوگیا۔ یہ صفرادی ''
بخاری تھا جسم کے اندر زیادہ تھا ،باہر کم لگتا تھا۔ صبح (٢١فروری ١١٩٣ئ) وہ نقاہت سے نڈھال ہوچکا تھا۔ جسم کو ہاتھ
لگانے سے حرارت کم لگتی تھی۔ میں اسے دیکھنے گیا۔ اس کا بیٹا الملک االفضل اس کے پاس تھا۔ سلطان نے بتایا کہ اس
نے رات بڑی تکلیف میں گزاری ہے۔ اس نے ادھر ادھر کی باتیں شروع کردیں۔ ہم نے گپ شپ میں ان کا ساتھ دیا۔ اس
سے اس کی مزاجی شگفتگی بحال ہوگئی۔ دن کے دوسرے پہر تک وہ خاصا بہتر ہوگیا۔ ہم وہاں سے اٹھنے لگے تو اس نے
کہا کہ الملک االفضل کے ساتھ کھانا کھا کر جائیں۔میرے ساتھ قاضی الفضل بھی تھا۔ وہ کسی اور کے ہاں کھانا کھانے کا
عادی نہ تھا۔ وہ معذرت کرکے چال گیا۔ میں کھانے کے کمرے میں چال گیا۔ صالح الدین ایوبی سے رخصت ہوتے ہوئے مجھے
یوں لگا جیسے میں اپنا دل سلطان ایوبی کے پاس چھوڑ چال ہوں۔ کھانے کے کمرے میں گیا۔ دسترخوان بچھ چکا تھا۔ بہت
سے افراد بیٹھے تھے۔ الملک االفضل اپنے باپ کی جگہ بیٹھا تھا۔ بے شک االفضل صالح الدین ایوبی کا بیٹا تھا لیکن سلطان
کی جگہ بیٹے کو بیٹھا دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ کھانے پر جو لوگ بیٹھے تھے ان کی بھی جذباتی حالت میرے جیسی تھی۔
…''ان میں سے بعض کے تو آنسو نکل آئے
اس روز کے بعد سلطان ایوبی کی صحت بگڑتی چلی گئی۔ میں اور قاضی الفضل روزانہ کئی کئی بار اس کمرے میں جاتے ''
تھے ،جہاں سلطان صالح الدین ایوبی بیمار پڑا تھا۔ اسے تکلیف میں ذرا سا بھی افاقہ ہوتا تو ہمارے ساتھ باتیں کرتا تھا ،ورنہ
اکثر یوں ہوتا کہ وہ آنکھیں بند کیے پڑا رہتا اور ہم اسے دیکھتے رہتے۔ اس کی جان کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ تھا کہ
اس کا طبیب خاص غیرحاضر تھا۔ ( قاضی بہائوالدین شداد نے یہ نہیں لکھا کہ طبیب خاص کہاں چال گیا تھا) سلطان کا عالج
…''چار طبیب مل کر کررہے تھے مگر مرض بڑھتا جارہا تھا
بیماری کے چوتھے روز چاروں طبیبوں نے فیصلہ کیا کہ سلطان صالح الدین ایوبی کے جسم سے خون نکال دیا جائے۔ اسی ''
وقت سلطان کی حالت زیادہ بگڑ گئی اور اس کے بعد اہم غدود بے کار ہوگئے۔ اس سے اس کے جسم میں اندر کی رطوبتیں
خشک ہونے لگیں۔ سلطان ایوبی نقاہت کی آخری حد تک جا پہنچا۔ چھٹے دن ہم نے اسے سہارا دے کر بٹھایا۔ اسے ایک
دوائی دی گئی جس کے بعد ہلکا گرم پانی پینا ضروری تھا۔ پانی الیا گیا۔ اسے ہلکا گرم ہونا چاہیے تھا۔ سلطان ایوبی کے
منہ سے پیالہ لگایا گیا تو اس نے کہا کہ پانی بہت گرم ہے۔اس نے نہ پیا۔ پانی ذرا ٹھنڈا کرکے الیا گیا تو سلطان ایوبی نے
کہا کہ یہ بالکل ٹھنڈا ہے۔ اس نے غصے یا خفگی کا اظہار نہ کیا۔ مایوسی کے لہجے میں اتنا ہی کہا… ''اوخدا! کوئی بھی
…نہیں جو مجھے ہلکا گرم پانی دے سکے
میری اور الفضل کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ( دنیائے صلیب پر دہشت طاری کردینے واال انسان بالکل بے بس ہوگیا تھا)… ''
ہم دونوں دوسرے کمرے میں آگئے۔ قاضی الفضل نے کہا… ''قوم کتنے عظیم انسان سے محروم ہوجائے گی۔ بخدا اس کی جگہ
کوئی اور ہوتا تو پانی کا یہ پیالہ اس کے سر پر دے مارتا جو اس کی پسند کا پانی نہیں الیا تھا''… ساتویں اورا ٹھویں روز
صالح الدین ایوبی کی حالت اتنی زیادہ بگڑ گئی کہ اس کا ذہن بھٹکنے لگا۔ نویں روز اس پر غشی طاری ہوگئی۔ وہ پانی
بھی نہ پی سکا۔ شہر میں خبر پھیل گئی کہ سلطان ایوبی کی حالت تشویشناک ہوگئی ہے۔ تمام شہر پر موت کی اداسی
طاری ہوگئی۔ ہر جگہ اور ہر زبان پر اس کی صحت یابی کی دعائیں تھیں۔ تاجر اور سوداگر ایسے ڈرے کہ انہوں نے بازاروں
…''سے اپنا مال اٹھانا شروع کردیا۔ الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا کہ ہر ایک فرد کس طرح اداس اور کتنا پریشان تھا
میں اور قاضی الفضل رات کا پہال پہر سلطان ایوبی کے پاس رہتے اور اسے دیکھتے رہتے تھے۔ وہ بول اور دیکھ نہیں سکتا''
تھا۔ باقی رات ہم باہرکھڑے رہتے۔ کوئی اندر سے آتا تو اس سے پوچھ لیتے کہ سلطان کی حالت کیسی ہے۔ ہم جب علی
الصبح وہاں سے باہر نکلتے تو باہر لوگوں کا ہجوم کھڑا دیکھتے۔ اب لوگ ہم سے یہ پوچھنے سے بھی ڈرتے تھے کہ سلطان
کی صحت کیسی ہے۔ وہ ہمارے چہروں سے جان لیتے تھے کہ سلطان کی حالت ٹھیک نہیں۔ ہجوم چپ چاپ ہمیں دیکھتا
اور ہم ہجوم کو دیکھ کر سر جھکا لیتے تھے… دسویں روز طبیبوں نے اسے انتڑیاں صاف کرنے والی دوا دی جس سے اسے
کچھ افاقہ ہوگیا۔ اس کے بعد جب سب کو پتہ چال کہ سلطان ایوبی نے جو کا پانی پیا ہے تو سب نے خوشی منائی۔ اس
رات ہم چند گھنٹے اس کے پاس جانے کا انتظار کرتے رہے لیکن محل میں چلے گئے جہاں جمال الدین اقبال بیٹھا تھا۔ اس
سے صالح الدین ایوبی کی حالت پوچھی۔ وہ اندر چال گیا اور توران شاہ سے پوچھ کر ہمیں بتایا کہ سلطان کے دونوں
پھیپھڑوں میں نمی اورہوا آنے جانے لگی ہے۔ ہم نے خدا کا شکر ادا کیا۔ ہم نے جمال الدین سے کہا کہ خود جاکر دیکھے کہ
باقی جسم پر پسینے کے آثار ہیں یا نہیں۔ اس نے اندر جاکر دیکھااور واپس آکر بتایا کہ پسینہ بہت آرہا ہے۔ یہ ایک
…''خوشخبری تھی۔ ہم سکون اور اطمینان سے چلے آئے
دوسرے دن جو منگل کا دن تھا ،صفر کی ٢٦تاریخ اور سلطان صالح الدین ایوبی کی عاللت کا گیارہواں روز تھا ،ہم سلطان ''
کو دیکھنے گئے۔ اندر نہ جاسکے۔ ہمیں بتایا گیا کہ پسینہ اس قدر زیادہ نکل رہا ہے کہ بستر میں سے ہوتا ہوا فرش پر ٹپک
رہا ہے۔ یہ خبر اچھی نہیں تھی۔ جسم کی رطوبت تیزی سے ختم ہورہی تھی… طبیبوں نے حیرت سے بتایا کہ جسم اندر سے
…''خشک ہوجانے کے باوجود سلطان کے جسم میں ابھی توانائی موجودہے
صالح الدین ایوبی کے بیٹے الملک االفضل نے دیکھا کہ سلطان کی صحت یابی کی کوئی امید نہیں رہی تو اس نے امراء ''
اور وزراء سے حلف وفاداری لینے کا فوری انتظام کیا۔ اس نے تمام قاضیوں کو رضوان محل میں بالیا اور انہیں کہا کہ نئے
حلف کا مسودہ تیار کریں جس میں صالح الدین ایوبی جب تک زندہ ہے ،اس کی وفاداری کا حلف نامہ ہو اور ان کی وفات
کے بعد الملک االفضل کی وفاداری کا۔ االفضل نے معذرت اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا حلف نامہ کبھی تیار
…''نہ کراتا لیکن سلطان ایوبی کی حالت تشویشناک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے
حلف نامہ تیار ہوگیا۔ دوسرے دن حلف اٹھانے کے لیے متعلقہ امراء اور وزراء کو بالیا گیا۔ سب سے پہلے دمشق کے گورنر ''
سعدالدین مسعود نے حلف اٹھایا۔ اس کے بعد نصرالدین آیا جو سہیون کاگورنر تھا ،اس نے اس شرط پر حلف اٹھایا کہ جس
قلعے کا وہ گورنر ہے وہ سلطان ایوبی کی وفات کے بعد اس کی (نصرالدین کی) ذاتی ملکیت سمجھا جائے گا۔ تمام امرائ،
وزرا اور گورنروں نے حلف اٹھالیا۔ دو تین نے اپنی شرائط منوا کر حلف اٹھایا۔ حلف نامے کے الفاظ یہ تھے… ''اس لمحے
سے میں متحدہ مقصد کی خاطر الملک النصر ( صالح الدین ایوبی) کا وفادار رہوں گا جب تک کہ وہ زندہ ہے۔ اس کی
حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے ان تھک اور مسلسل کوشش کرتا رہوں گا۔ اس کی خاطر اپنی جان ،اپنا مال ،اپنی تلوار اور
اپنی فوج اور اپنی رعایا کو وقف کیے رکھوں گا۔ میں اس کا ہر حکم مانوں گا اور اس کی ہر خواہش کی تکمیل کروں گا اور
اس کے بعد االفضل کے بیٹوں کے لیے۔ میں خدا کو حاضر ناظر جان کر اس کے احکام کی تعمیل کروں گا۔ اس کے لیے میں
…''اپنی جان ،اپنا مال ،اپنی تلوار اور اپنی فوج کو وقف کیے رکھوں… میں اپنے حلف وفاداری میں خدا کو گواہ ٹھہراتا ہوں
حلف نامے کی دوسری شق یہ تھی… ''اگر میں اپنے حلف کی خالف ورزی کروں تو میں حلفیہ تسلیم کرتا ہوں کہ صرف ''
اس خالف ورزی کی بنا پر میری بیویاں مطلقہ ہوجائیں ( یعنی بیویاں میری نہیں رہیں گی) اور مجھے تمام ذاتی اور سرکاری
خادموں سے محروم کردیا جائے
…''گا اور مجھے الزم ہوگا کہ میں ننگے پائوں یا پیادہ حج کعبہ کو جائوں
٢٦صفر ٥٨٩ہجری (٣مارچ ١١٩٣ئ) منگل کی شام تھی اور سلطان صالح الدین ایوبی کی بیماری کا گیارہواں روز۔ اس کی ''
توانائی بالکل ختم ہوگئی اور امید دم توڑ گئی۔ رات کو ایسے وقت مجھے قاضی الفضل اور ابن ذکی کو بالیا گیا جس وقت
سے پہلے کبھی نہیں بالیا گیا تھا۔ وہ قانون ،علم اور سائنس کا عالم تھا۔ صالح الدین ایوبی کا بہت احترام کرتا تھا۔ جب
اقصی میں پہلے جمعہ کا خطبہ دینے کے لیے سلطان ایوبی نے اسی کو منتخب کیا
سلطان ایوبی نے یروشلم فتح کیا تو مسجد
ٰ
…''تھا۔ بعد میں اسے دمشق کا قاضی مقرر کردیا گیا تھا
ہم گئے تو الملک االفضل نے کہا کہ ہم تینوں ساری رات اس کے ساتھ رہیں۔ وہ سوگوار تھا اور گھبرایا ہوا بھی۔ قاضی ''
الفضل نے اعتراض کیا اور کہا رات بھر لوگ باہر کھڑے سلطان کی صحت کی خبر سننے کا انتظار کرتے ہیں۔ اگر ہم ساری
رات اندر رہے تو وہ کچھ اور سمجھ لیں گے اور شہر میں غلط خبر پھیل جائے گی۔ االفضل سمجھ گیا۔ اس نے کہا کہ ہم
لوگ چلے جائیں۔ ہمارے بجائے اس نے امام ابوجعفر کو اس مقصد کے لیے بال لیا کہ اگر رات کو صالح الدین ایوبی پر نزع
کا عالم طاری ہوگیا تو امام اس کے سرہانے قرآن پڑھے گا۔ ہم وہاں سے آگئے''۔
اس کے بعد امام ابوجعفر نے سلطان صالح الدین ایوبی کی آخری رات کی جو روئیداد سنائی ،وہ میں تحریر کرتا ہوں۔ اس''
نے بتایا کہ اس نے سلطان کے سرہانے قرآن خوانی کی۔ اس دوران سلطان پرکبھی غشی طاری ہوجاتی ،کبھی ہوش میں آجاتا
اورکبھی اس کا ذہن بھٹک جاتا۔ آدھی رات کے بعد ٢٧صفر ٥٨٩ہجری (٤مارچ ١١٩٣ئ) کی تاریخ شروع ہوچکی تھی۔ امام ابو
جعفر نے بتایا… ''میں بائیسویں پارے کی سورٔہ الحج پڑھ رہا تھا۔ میں نے جب پڑھا… ''خدا ہی قادر مطلق ہے ،برحق ہے
اور وہ مردوں کو زندہ کردیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے''… تو میں نے سلطان صالح الدین ایوبی کی نحیف سی
سرگوشی سنی۔ وہ کہہ رہا تھا… ''یہ سچ ہے۔ یہ سچ ہے''… یہ اس کے آخری الفاظ تھے۔ اس کے فورا ً بعد صبح کی اذان
سنائی دی۔ میں نے قرآن پاک بند کردیا۔ اذان ختم ہوتے ہی سلطان صالح ا لدین ایوبی نہایت سکون اور اطمینان سے اپنے
خالق حقیقی سے جامال''… امام ابوجعفر نے مجھے یہ بھی بتایا کہ اذان شروع ہوئی تو وہ ایک آیت پڑھ رہا تھا… ''اللہ
کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ہم اسی سے مدد مانگتے ہیں''… تو سلطان ایوبی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔ اس کا چہرہ د
…''مک اٹھا اور وہ اسی کیفیت میں اپنے خدا کے حضور گیا
میں جب پہنچا اس وقت صالح الدین ایوبی فوت ہوچکا تھا۔ خلفائے راشدین کے بعد اگر قوم پر کوئی کاری ضرب پڑی ہے''
تو وہ سلطان ایوبی کے انتقال کی تھی۔ قلعے ،شہر ،وہاں کے لوگوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں پر غم کی ایسی گھٹا چھا گئی
جو صرف خدا جانتا ہے کہ کتنی گہری تھی۔ میں نے لوگوں کو اکثر کہتے سنا ہے کہ انہیں جو شخص سب سے زیادہ عزیز
ہے ،اس کے لیے وہ اپنی جان قربان کردیں گے لیکن میں نے کبھی کسی کو کسی کے لیے جان قربان کرتے نہیں دیکھا۔ البتہ
میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ سلطان ایوبی کی زندگی کی آخری رات ہم سے کوئی پوچھتا کہ سلطان ایوبی کی جگہ کون
…''مرنے کو تیار ہیں تو ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی جانیں قربان کرکے سلطان ایوبی کوزندہ رکھتے
اس روز شہر میں جسے دیکھا بے ا ختیار آنسو بہاتے دیکھا۔ لوگ رونے کے سوا کچھ اور سوچتے ہی نہیں تھے۔ کسی '' :
شاعر کو مرثیہ سنانے کی اجازت نہ دی گئی۔ کسی امام ،کسی قاضی اورکسی عالم نے لوگوں کو صبر کی تلقین نہ کی۔ وہ
خود رو رہے تھے ،ہچکیاں لے رہے تھے۔ صالح الدین ایوبی کے بچے روتے چیختے ،گلیوں میں نکل گئے۔ انہیں روتا دیکھ کر
لوگ دھاڑیں مار مار کر روتے تھے… ظہر کی نماز کا وقت ہوگیا۔ اس وقت سلطان ایوبی کی میت کو آخری غسل دے کر کفن
پہنایا جاچکا تھا۔ غسل عدالت کے ایک اہلکار الدالئی نے دیا تھا۔ غسل کے لیے مجھے کہا گیاتھا مگر میرا دل اتنا مضبوط نہ
تھا۔ میں نے انکار کردیا۔ میت باہر الکر رکھی گئی۔ جنازے پر جو کپڑا ڈاال گیا وہ قاضی الفضل نے دیا تھا۔ جب جنازہ لوگوں
کے سامنے رکھا تو مردوں کے دھاڑوں اور عورتوں کی چیخوں سے آسمان کا جگر چاک ہونے لگا۔ دمشق کی عورتوں کے بین
…''سنے نہیں جاتے تھے
قاضی محی الدین ابن ذکی نے نماز جنازہ پڑھائی۔ میں کچھ نہیں بتا سکتا کہ جنازے میں کتنے لوگ تھے۔ البتہ یہ بتا ''
سکتا ہوں کہ سب نماز جنازہ میں کھڑے تھے مگر نماز پڑھنے کے بجائے سب ہچکیاں لے رہے تھے اور بعض بے قابو ہوکر
دھاڑیں مار اٹھتے تھے۔ اردگرد عورتوں کا بے انداز ہجوم بین کررہا تھا۔ نمازجنازہ کے بعد میت باغیچے کے اس مکان میں
رکھی گئی جہاں مرحوم نے عاللت کے دن گزارے تھے۔ عصر سے کچھ دیر پہلے سلطان ایوبی کو قبر میں اتار دیا گیا۔ لوگ
گھروں کو واپس گئے تو یوں لگتا تھا جیسے الشوں کا ہجوم چال جارہا ہو۔ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ قبر پر قرآن خوانی
…''کرتا رہا
بہائوالدین ابن شداد نے یہ یادداشتیں خلیفہ کی اجازت سے قلم بند کی ہیں اور اس تحریر کو الملک النصر ابو ظفر یوسف ''
ابن نجم ایوب صالح الدین ایوبی کی وفات پر ختم کیا ہے۔ خدا اس پر رحمت فرمائے۔ اس تحریر سے میرا مقصد خدا کی
خوشنودی ہے اور میرا مقصود یہ بھی ہے کہ اسے یاد رکھو جو نیک تھا اور صرف نیکی پر دھیان رکھو''۔
ان یادداشتوں کے بعد یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ سلطان ایوبی کی ایک خواہش یہ تھی کہ فلسطین کو صلیبیوں سے پاک
کریں۔ اس کی یہ خواہش پوری ہوگئی۔ اس کی دوسری خواہش یہ تھی کہ فتح فلسطین کے فریضہ کے بعد فریضٔہ حج ادا کرے
مگر اس کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ اس کی وجہ بیماری نہیں تھی بلکہ یہ کہ اس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے۔ اس
کی ذاتی جیب خالی تھی۔ بالل نو کی درانتی سے فصل صلیبی کاٹنے واال مرد مجاہد ،مصر ،شام اور فلسطین کا سلطان جس
کے قدموں میں سلطنت کے خزانے تھے ،وہ اتنا غریب تھا کہ حج کو نہ جاسکا اور اسے جو کفن پہنایا گیا تھا۔ وہ قاضی
بہائوالدین شداد ،قاضی الفضل ابن ذکی نے درپردہ پیسے جمع کرکے خریدا تھا… آج فلسطین صالح الدین ایوبی کا ماتم اسی
طرح کررہا ہے جس طرح ٤مارچ ١١٩٣ء کے روز دمشق کی بیٹیوں نے بین کیے تھے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ضرورت اس امر کی ہےکہ انتظار سلطان محمود غزنوی رحمت اللہ علیہ سے بہتر ہے اپنے اندر وہ ایمان ،تقوی ،جرآت ہو
ہم کٹ تو جائیں لیکن جھک نہ سکیں۔ اللہ تعالی ہمارا خاتمہ بل خیر ایمان پر کرے اور ہمیں غزوہ الہند کے مجاہدین میں
شامل فرمائے ۔ آمین
اس کے ساتھ ہی داستان ایمان فروشوں کی تاریخ کا باب ختم ہوا جاتا ہے۔ اس ناول کی پانچ جلدیں تھیں